Jump to content
You are a guest user Click to join the site
URDU FUN CLUB

Badil

Members
  • Content Count

    39
  • Donations

    $0.00 
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

46

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

145 profile views
  1. آخری صفحات نیہں کھل رہے۔
  2. نایس ٹوسٹ ڈاکڑ خان۔ سب کا خیال تھا یاسر کی بہن ہو گی۔ جو صدف نکلی۔ کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا۔ کہ چدی چدای کھل کے چُد جائے گی۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن اس واقعہ کے آفڑ شاکس زور دار ہو سکتے ہیں۔ یاسر کے ایکشن میں آنے کے بھی کافی امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوا۔ تو کہانی ڈاکڑ خان کے منفرد سٹایل میں ڈھل سکتی ہے۔ یعنی سیکس۔ ایکشن۔ سسپنس۔ تھرل تمام مصالوں سے بھرپورزبردست کہانی۔ جو صرف خان کا ہی کام ہے۔
  3. جی آیاں نوں۔ زرا تعارف تو کروایں۔ ہی کپل کیا کرتا ہے۔
  4. مکمل ترجمہ شدہ سٹوری ہے۔سوری مزا نیہں أیا۔
  5. سٹوری میکر۔ مجھے سمجھ نہیں آئ کہ یہ کہانی تو آخر تک میں پڑھ چکا ہوں۔ یہ دوبارہ سے کیسے شروع ہو گی؟
  6. ونڈر فل ڈاکٹر اچھے جا رہے ہو۔ دونوں سین اچھے ہیں۔ لطف اور مزے سے بھرپور۔ یاسر کو سب کچھ پلیٹ میں سجا سجایا مل جاتاہے۔ کبھی اس سے تھو ڑی محنت بھی کروایں۔ اور کہانی میں تھوڑا رومانس بھی ڈالیں۔ اور ہائ کلاس کی لٹرکیوں کاکوی ایسا سین ڈالیں جس میں یاسرکا گینگ ریپ ہو۔ آہنی گرفت کی اپڈیٹ کے منتظر ہیں۔
  7. طبل جنگ مسئلہ کشمیر کیا ہے ؟ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35A کیا ہے ؟ اور سب سے بڑھ کر وہ الحاق کیا ہے جو کشمیر کے راجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ کیا جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوئی اور آج قابض بن چکی ہے۔ 14/15 اگست 1947 جب انڈیا اور پاکستان وجود میں آئے اس وقت کشمیر ایک خود مختار شاہی ریاست تھی اور کشمیر کے پاس انڈیا یا پاکستان میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ الحاق کرنے کا آپشن موجود تھا کشمیر میں اکثریت مسلمان تھی جبکہ وہاں کا حکمران ہندوں راجہ ہری سنگھ تھا پاکستان اپنی طرف سے پورا زور لگا رہا تھا کہہ کشمیر خود کو پاکستان میں ضم کردے یا کم سے کم پاکستان کے ساتھ الحاق کرے دوسری طرف بھارت اپنی جگہ انہیں کوششوں میں سرگرم تھا جبکہ کشمیری عوام جس کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی وہ پاکستان کے ساتھ نا سہی لیکن بھارت کے ساتھ الحاق پر بالکل بھی تیار نہیں تھی کہانی تب مشکوک ہوئی جب کشمیری عوام نے راجہ ہری سنگھ کا جھکاو بھارت کی طرف جھکتا ہوا دیکھا اور کشمیری مسلم اکثریت میں بغاوت نے سر اٹھا لیا مسلمان اکثریت نے راجہ ہری سنگھ کے سامنے اپنے مطالبات رکھتے ہوئے کہا کہہ چونکہ ہندوستان کا بٹوارا مذہب اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہوا ہے تو اگر الحاق ہی کرنا ہے تو پاکستان سے کرو کیونکہ کشمیر میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ راجہ ہری سنگھ چونکہ ہندو تھا اس لیے وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کے سخت خلاف تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے اپنا اقتدار بھی عزیز تھا اس لیے اسے وہی ملک عزیز تھا جو اس کے اقتدار کی تاحیات ضمانت دیتا اور ایسی صورتحال میں ایک ہندو کے لیے ہندو ہی بہتر انتخاب تھا قبائلی حملہ 22 اکتوبر 1947 راجہ ہری سنگھ کا جھکاو بھارت کی طرف دیکھ کر کشمیری مسلم اکثریت نے قبائلی جنگجووں کو اپنا دکھڑا سنایا اور مدد کی اپیل کی جس کے نتیجے میں 20 ہزار سے زائد قبائلی جنگجوں کشمیر میں داخل ہوگئے چونکہ کشمیری مسلم اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق پر راضی تھی وہ راجہ ہری سنگھ کو پاکستان کے ساتھ الحاق پر کسی بھی طرح راضی کرنا چاہتے تھے اس لیے اس کار خیر میں پاکستانی حکومت نے بھی یقینن اپنا حصہ ضرور ڈالا ہوگا اور یہی راجہ ہری سنگھ کے بھارت سے الحاق کی وجہ بنی۔ ادھر قبائلی جنگجو کشمیر میں داخل ہوئے ادھر راجہ ہری سنگھ اقتدار سے ہاتھ دھونے کے ڈر سے مدد کے لیے بھارت چلا گیا بھارت نے مدد کے بدلے الحاق کی شرط رکھ دی جسے راجہ ہری سنگھ نے فورن قبول کرلیا لیکن راجہ ہری سنگھ حاضر دماغ تھا اس نے الحاق ایسا کیا کہہ انڈیا کے ہاتھ بھی کچھ نا آیا الحاق راجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ جس الحاق پر دستخط کیے تھے اس کی تمام 6 شقیں ملاحظہ فرمائیں۔ 1۔ بھارت کا ریاست کشمیر میں اختیار اس دستاویز میں درج شقوں کے مطابق ہوگا 2۔ بھارتی پارلیمنٹ کو کشمیر میں صرف ان معاملات میں قانون سازی کا اختیار ہوگا جو 1935 ایکٹ کے شیڈول میں درج ہیں۔ 3۔ 1935 ایکٹ میں یا بھارت آزادی ایکٹ 1947 میں کسی ترمیم کے ذریعے اس الحاق میں درج شرائط میں ردوبدل نہیں کرسکتا۔ 4۔ بھارتی پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جس کے ذریعے جموں و کشمیر میں جبراً زمین کا حصول کیا جائے، اور اگر بھارت کو اپنے کام کے لیے زمین کی ضرورت پڑی تو وہ زمین ریاست کشمیر ان کو حاصل کرکے دے گی ان شرائط پر جو باہمی طور پر طے پائی جائیں گی۔ 5۔ اس معاہدے کی کوئی شق مجھے اس کا پابند نہیں کرتی کہ میں بھارت کے آئندہ بننے والے آئین کو منظور کروں اور نہ ہی مستقبل کے آئین کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے میرے اختیار پر کوئی پاپندی عائد ہوتی ہے۔ 6۔ اس معاہدے میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو اس ریاست میں اور اس کے اوپر میری خود مختاری کو متاثر کرے، سوائے اسکے جیسا کہ اس دستاویز میں بیان کردیا گیا ہے، ریاست کشمیر پر میرے اختیار، اقتدار اور استحقاق جو مجھے بحیثیت حکمرانِ ریاست حاصل ہیں کم نہیں ہونگے نہ ہی ان قوانین کی تنقیذ جو اس وقت نافذ العمل ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ مضبوط الحاق جو راجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ کیا جس کے نتیجے میں بھارت نے کشمیر میں اپنی فوج داخل کی اور پاک بھارت پہلی جنگ کا آغاز ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگ کی صورتحال خطرناک حد میں داخل ہوچکی تھی پھر اقوام متحدہ نے جنگ بندی کروائی تب تک پاکستان نے کشمیر کا 38% حصہ فتح کرلیا تھا جو آج الحمداللہ پاکستان کے پاس ہے۔ اندازہ کریں پاکستان نے اس وقت اپنے سے 2 برابر ملک بھارت سے جنگ لڑ کر کشمیر کا 38% حصہ اپنے نام کیا جب پاکستان کی عمر صرف 2 مہینے 10 دن تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہہ بھارت راجہ ہری سنگھ کے ساتھ کیے ہوئے اس تمام الحاق کی دھجیاں اڑا کر وہاں پر قابض ہوچکا ہے۔ آرٹیکل 370 آرٹیکل 370 کو سمجھنے کے لیے اب ہمیں 1949 میں جانا پڑے گا 1949 بھارت کے کشمیر کے ساتھ الحاق کے بعد جب بھارتی آئین بنایا جارہا تھا تب کشمیر کی حیثیت کا مسئلہ کھڑا ہوگیا بھارت نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ کشمیر کی حیثیت کو آئین کے اس حصے میں ڈال دیا جائے جو عارضی، انتقال اور خصوصی معاملات سے متعلق ہے۔ اس کیلئے بھارتی آئین میں ایک نیا آرٹیکل شامل کیا گیا جس کا نمبر 370 ہے۔ 1۔ اس آرٹیکل 370 کے مطابق بھارت کے آئین میں جو کچھ بھی لکھا ہو، ریاست کشمیر کے ضمن میں پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حق صرف ان معاملات تک محدود ہے جو کشمیری حکومت کے مشورے سے صدر جمہوریہ طے کریں گے 2۔ جو دستاویز الحاق سے مطابقت رکھتے ہیں ان کا تعین بھی صدر ہی کرینگے اور بھارتی آئین کے کونسے حصے کشمیر میں لاگو ہونگے اس کا تعین بھی صدر ہی کریں لیکں بشرطیہ کہ کشمیری حکومت کی اس سے منظوری ہونے کے بعد 3۔ اس آرٹیکل میں صدر کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اس آرٹیکل کو جب چاہے ختم کردیں، لیکن صدر یہ اختیار صرف اس صورت میں استعمال کرے گا جب کشمیری حکومت اس کو منظور کرلے گی۔ یہ تھا آرٹیکل 370 جو تفصیل سے آپ کی گوش گزار کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آرٹیکل 35A اب آرٹیکل 35A کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے آپ کو 1953 میں جانا پڑے گا 1953 میں اُس وقت کے خودمختار حکمران شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعے آئین میں دفعہ 35A کو بھی شامل کیا گیا، جس کی مطابق بھارتی وفاق میں کشمیر کو واضع طور پر ایک علیحدہ ریاست کی حیثیت دی گئی آرٹیکل 35A آرٹیکل 370 کی ہی ایک مضبوط اور مکمل قانونی شکل ہے فرق بس یہ ہے 1949 میں بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کو عارضی، انتقال اور خصوصی معاملات کے طور پر آئین میں شامل کیا گیا جبکہ 1953 میں آرٹیکل 35A کو مکمل قانونی حیثیت دے کر بھارتی آئین میں شامل کرلیا گیا تھا آرٹیکل 35A کے مطابق 1۔ کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے اگر وہ وہاں پیدا ہوا ہو 2۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں زمین جائیداد نہیں خرید سکتا 3۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شخص کشمیر میں سرکاری نوکری نہیں حاصل کرسکتا 4۔ کوئی بھی دوسری ریاست کا شخص جمو کشمیر میں ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتا۔ آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت دیتا ہے اور راجہ ہری سنگھ کے بھارت کے ساتھ ہونے والا الحاق بھی چیخ چیخ کر یہی کہہ رہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل بھارتی پارلمنٹ نے آرٹیکل 35A کو ختم کرکے نا صرف اس الحاق کی خلاف ورزی کی جو راجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ کیا بلکہ بھارتی سابقہ حکومت کے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون آرٹیکل 370 کی بھی نفی کردی۔ آرٹیکل 370 ہو یا آرٹیکل 35A یہ دونوں آرٹیکل ایک دوسرے کے بغیر کچھ نہیں کسی بھی ایک آرٹیکل کو ختم کردیا جائے دوسرا آرٹیکل اپنی موت خود مرجائے گا۔ اور ایسا ہوچکا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے کشمیر کے ماضی اور حال کو تفصیل سے جان لیا اور اب کشمیر کے مستقبل پر روشنی ڈالتے ہیں آرٹیکل 35A کو ختم کرکے بھارت نے اپنے مزموم مقاصد عالمی دنیا کو بتا دیے ہیں بھارت پوری طرح دنیا کے سامنے ایکسپوز ہوچکا ہے جبکہ کشمیری عوام اور حکمرانوں کا کہنا ہے کہہ بھارت کے اس عمل کی ان کے نزدیک کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ کشمیر کا مستقبل بھارت فلسطین کی کہانی کشمیر میں بھی دہرانا چاہتا ہے بھارت کا مقصد یہ ہے کہہ آرٹیکل 35A یا آرٹیکل 370 کو ختم کرکے بھارتیوں کو وہاں پر پراپرٹی خریدنے کی اجازت دے دی جائے پھر وہاں پر انڈیا کے لوگوں کو سرکاری جاب آفر کی جائیں اور شہریت دے کر ووٹ کا حق بھی دیا جائے آسان بھاشا میں کشمیر میں ہندو آبادی میں اضافہ کیا جائے کیونکہ انڈیا تب تک کشمیر حاصل نہیں کرسکتا جب تک ریفرنڈم کروا کر وہاں کی عوامی رائے میں بھارتی اکثریت حاصل نہیں کرلیتا۔ اور آرٹیکل 35A میں ترمیم ایک طرح کا طبل جنگ ہے جو بھارت نے بجا دیا ہے اب اگر عالمی طاقتیں اس پر خاموش تماشائی بنی رہی تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہہ بھارت نے یہ کام امریکہ و اسرائیل کے زیر سایہ ہی کیا ہے پاکستان کو اس پر زبردست اقدامات اٹھانے چاہیے اور ایک جامع اور جارحانہ پالیسی اپنا کر عالمی طاقتوں کے سامنے کشمیری عوام کی بھرپور جنگ لڑنی چاہیے اور پاکستانی عوام کو بھی ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے رہنا چاہیے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال یہ عمران خان کی زبردست خارجہ پالیسی کا کمال ہی ہے کہہ انڈیا کشمیر ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر جلد بازی میں ایسے ایسے قوانین بنا رہا جو بعد میں انڈیا ہی کے گلے میں پڑنے والے ہیں اس پر موجودہ پاکستانی حکومت کو برا بھلا کہنے کی ضرورت نہیں۔ جاہل لوگ جان لیں آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35A اے کی منسوخی سلامتی کونسل کی قرادادوں کی کھلی توہین ہے اس آگ میں انڈیا ہی جلنے والا ہے جیسا کے میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہہ انڈیا اس عمل کے بعد دنیا کے سامنے پوری طرح ایکسپوز ہوکر سرٹیفائیڈ قابض ملک بن چکا ہے۔ ذاتی طور پر میرا مسئلہ کشمیر کو لے کر اقوام متحدہ یا عالمی طاقتوں پر 0% سے بھی کم یقین ہے انہوں نے اگر اس مسئلے کو حل کروانا ہوتا تو بہت پہلے ہوچکا ہوتا۔ لہذا کشمیر نے جب بھی آزاد ہونا ہے جنگ سے ہی آزاد ہونا ہے اور میری تعلیمات کے نزدیک وہ جنگ غزوہ ہند ہی ہوگی یہ پوسٹ کشمیر پر لکھی گئی تمام تاریخوں کو سٹڈی کرنے کے بعد کم سے کم اور آسان الفاظ میں لکھی گئی یے۔ اسے شئیر کریں کاپی کریں جو بھی کرنا ہے کریں لیکن یہ پیغام پاکستان کے تمام نوجوانوں تک ضرور پہنچائیں تاکہ مسئلہ کشمیر کے متعلق نوجوانوں میں شعور بیدار کیا جاسکے۔ شکریہ
  8. ولیمے کی دعوت چل رہی تھی۔ سردار بیٹے سے پتر بوٹی کھا بوٹی۔ اندے نال للی وڈی ہوندی اے۔ سردارنی شرماتے ہوے سردار جی تسی وی کھاو ناں۔
  9. ریل میں نیا جوڑا سفر کر رہا تھا۔ ناز نخرے چل رہے تھے۔ لڑکی بولی میرے سر میں بہت درد ہے۔ لڑکا بولا جان ابھی درد ختم ہو جاتا ہے۔ لڑکی کے سر کو کس کر کے بولا۔ اب ٹھیک ہوگیا۔ لڑکی بولی ہاں آرام گیا ہے برتھ سے بڑےمیاں بولےبیٹابواسیر کا علاج بھی کر لیتے ہو۔
  10. لندن کی انڈر گراونڈ ٹرین میں آج بے تہاشہ رش تھا تمام سیٹیں فل تھیں۔ ایک لڑکے نی لڑکی کو گود میں بیھٹبے کی آفر کی۔ اور وہ بیٹھ گئ۔ تھوڑی دیر بعد لڑکا بولا آپ ٹایپسٹ ہو۔ لڑکی ہاں لیکین آپ کو کیسے پتا چلا۔ لڑکا بولا آپ کی خوبصورت انگلیوں سے۔ کچھ دیر بعد لڑکی بولی آپ انجینر ہو۔ لڑکا ہاں مگر آپ کو کیسے پتا چلا۔ لڑکی آپ کا جیک مجھے اٹھا رہا ہے۔
  11. نرسری کے بچوں کا ٹرپ سیر کو گیا۔ رات کو ایک بچہ بری طرح رونے لگا۔ مس نے پوچھا بیٹا کیا ہوا۔ بولا مس میں تو امی کی تھنی میں انگلی ڈال کے سوتا ہوں۔ مس نے سوچا سب کی نیید خراب کرے۔ نالا ڈیلا کیا اور بولی یہ لو میری تھنی میں انگلی ڈال کے سو جاو۔ رات کو مس کی آنکھ کھلی تو بولی بیٹا یہ میری تھنی تو نہیں ھے۔ بچہ بولا مس یہ میری انگلی بھی نہیں ھے۔
  12. Dear Admin.We the member of the group requst you to please remove the title of WRITER from sheikoo and also block him permanently on this forum . We don't want to seek his any comments in future . Its matter of loyalty with the forum.
  13. سلام۔ بھایو ساری تکرار اور بحث مباحثے کا نتیجہ کیا نکلا۔ ڈاکڑ اور اڈمن نے بہت فراغی کا ثبوت دیا لیکن شیخو کا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ بھائ اگر دوسرے فورم سے پیسے ملتے ہیں تو پھر ٹھیک ہے۔ اگر وہاں بھی فری ہی پوسٹ کرنا ہےتو پھر یہاں کیا برا تھا۔ وہاں کے قارئین کو یہاں کا لنک دیا جا سکتا تھا۔ اصل بات ہوتی ہے فورم سے لایلٹی کی۔ وہ نظر نہیں آتی۔ استاد بھی ماننا اور تنقید کر کے ڈی گریڈ بھی کرنا۔ چلو اب فیصلہ ہو گیا۔ آپ آزاد پنچھی ہو۔ جہاں جی چاہے آشیانہ بناو۔جن فضاوں میں چاہو پرواز کرو۔ لیکن صاحب ایک بات یاد رکھنا۔ شاہین کا جہاں اور ھے۔ کرگس کا جہاں اور۔
  14. گویا ڈاکڑر خان کسی بھی وقت اس دھاگے میں موتی پرونا شروع کر سکتے ہیں
×
×
  • Create New...