Jump to content
You are a guest user Click to join the site
URDU FUN CLUB

Parvez

VIP GOLD PRO
  • Content Count

    105
  • Donations

    $0.00 
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

179

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. آپ کی اب تک کوئ کہانی نہیں پڑھی. امید ہے اچھا لکھتے ہوں گے. یہ کہانی پڑھیں گے انتظار ہے
  2. میں 13 14 سال کا ہوں گا. کراچی میں ہمارے جاننے والے رہتےتھے. آپ یہ کہہ لو کہ رشتہ دار تھے. لڑکی مجھ سے سال دو سال بڑی ہوگی. جب بھی جاتے تھے تو جو بچپن کی باتیں ہوتی تھیں وہی کرتے کھیل وغیرہ کھیلتے . اکثر ہم ایسا کرتے تھے کہ اخبار میں لفظ پڑھ کر دوسرے کو ڈھونڈنے کا کہتے تھے. اب مجھے یاد نہیں پڑھ رہا کہ کیسے اس نے پہلی بار کیا. اکثر وہ اپنی چوت کو چارپائ کے پائے پر رگڑتی تھی. میں بھی اس کی دیکھا دیکھی اپنے لنڈ کو رگڑتا تھا. اس وقت سیکس کا اتنا پتا نہیں تھا. جب بھی جاتا وہ یہی کرتی. باتیں ہوتیں تھیں جس طرح آپ نے لکھا کہ شادی کے بعد اس طرح کرتے ہیں حاملہ کیسے ہوتے ہیں کیسے ڈالا جاتا ہے درد ہوتا ہوگا . پھر ایک بار بات ہوئ کہ ہم شادی کریں گے تم میرے اندر ڈالنا. اور میرے سے ہی شادی کرنا اس طرح کی باتیں ہوئیں. پھر ایک دن اس کی اور میری والدہ کمرہ میں باتیں کرہی تھیں. وہ مجھے لے کر کچن میں لے گئ. اور قمیض اوپر کر کے میرا منہ اپنے چھوٹے چھوٹے مموں پر رکھ دیا. اس وقت اتنی سمجھ نہیں تھی. کچھ دیر اس نے اپنے ممے مجھ سے چسوائے.یاد پڑتا ہے کہ کچھ نمکین سا ذائقہ تھا. اس کے بعد کافی عرصہ کچھ نہیں ہوا . 15 16 سال کا ہوا تو سیکس ناول ایک دوست کے ہاتھ میں دیکھا اس سے زبرستی پڑھنے کو لیا. اس ناول کا واقعہ آج بھی ذہن میں ہے. پھر ناول پڑھنے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے. ایک بار اس کے گھر میں گیا تو اس سے میں نے سیکس ناول کی کہانیوں کا ذکر کیا. ناول تو ساتھ لے جا نہیں سکا. جو پڑھا ہوا تھا وہ میں نے ایک دو صفحات ہر لکھا. اس ناول میں مموں کو ابھار لکھا گیا تھا. میں نے ذہن میں رکھ لیا کہ جب وہ پڑھے گی تو لازماً ابھارکا پوچھے گی کہ یہ کیا ہوتا ہے تو میں اس کا پستان پکڑ کر کہوں گا کہ اس کو کہتے ہیں.میری والدہ اس کی امی کے ساتھ کچن میں کھانے پکانے میں مصروف تھیں.میں اس کے ساتھ کمرہ میں آگیا. اس کو کاغذ پڑھنے کے لیے دیا. جب وہ پڑھ رہی تھی میں اس کے چہرہ کو دیکھ رہا تھا جس پر عجیب سا رنگ آکر گزر رہا تھا . آج میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ جنسی طور پر گرم ہونا شروع ہوگئ تھی. میں نے شاید اشارہ کیا کچھ ٹھیک یاد نہیں ,خیر میری توقع کے عین مطابق اس نے پوچھ لیا کہ یہ ابھار کیا ہوتا ہے. میں نے اسے کہا کہ بتاؤں کیا ہوتا ہے اس نے کہا کہ ہاں بتاؤ. میں نے جھٹ جلدی سے اس کا دایاں مما پکڑلیا.جس طرح ہم سٹوریز میں پڑھتے ہیں کہ کرنٹ لگ گیا بالکل یہی ہوا اس کے ساتھ میرا اس کا مما پکڑنا تھا کہ وہ تو جیسے کرنٹ لگ کر اچھل پڑی. اسے بالکل بھی توقع نہیں تھی کہ میں ایسا کروں گا . اس نے ہلکے سے مجھے بد تمیز کہا اور باہر کو بھاگ گئ. اس کے پستان کی سختی میں آج بھی اپنے ہاتھ میں محسوس کرتا ہوں. یہ بتاتا چلوں کہ جب وہ چوت رگڑتی تھی اور میرا اس کہ مما پکڑنےمیں کوئ دو سال کا وقفہ ہوگا . اس کے ممے اب مناسب تھے 30 32 کے درمیان کرلو. اتنی گرم ہونے کے باوجود سمجھ نہیں آیا کہ بھاگ کیوں گئ کمرہ سے. شاید وہ جو خود ساختہ حرکتیں کرتی تھیں تو اس کی والدہ نے دیکھ لیا ہو اس پر سختی کی گئ ہو. اس کے بعد کچھ خاص موقع نہیں ملا. اب شادی شدہ ہے 3 بچے ہیں. اور ہم ابھی تک کنوارے ہا ہا. اب بھی جب سال بعد ملنا ہوتا ہے تو بس ملنا ہی ہوتا ہے. میں خاندان میں اب کسی وجہ سے کچھ نہیں کرتا. یہ واقعہ تو بچپن کا تھا.
  3. بہت خوب ڈاکٹر صاحب مزہ آگیا. شکر ہے زیادہ مسئلہ نہیں بنا. ویسے چھوٹی عمر میں مطلب 14-16 سال کی عمر میں بات ہوتے ہوتے کسنگ پر پہنچ جاتی تھی اور آگے بھی آہستہ آہستہ بڑھ جاتے تھے, کیا وقت تھا آج تو وقت بہت تیز ہوگیا ہے آسان کے ساتھ ساتھ مشکل بھی. کیوں کہ چھوٹی عمر میں ہی سب کو ہر چیز کا پتا ہے.
  4. ڈاکٹر صاحب آپ سے گزارش ہے کہ آپ جس میں کامیاب ہوئے, جس میں ناکام ہوئے, جس میں پکڑے گئے اور جس میں بال بال بچے ان سب کا ایک ایک واقعہ سنادیں. مجھے معلوم ہے آپ کی مصروفیات زیادہ ہیں. سب سے پہلے آپ کی لائف پھر اسٹوریز کا سلسلہ. ان سب کے بعد وقت بچے تو اپنے حقیقی واقعات سے ہمیں ضرور لطف اندوز کریں . آپ کے قلم کے لکھے ہوئے کا الگ ہی مزہ ہوگا. العارض پرویز
  5. اگر اردو میں نہیں لکھ سکتے تو ٹھیک ہے رومن میں لکھ دیں جی جناب آپ نے ٹھیک کہا, میں نے آغاذ کردیا ہے.
  6. کچھ سال پہلے کا واقعہ ہے. غالباً 2016کا . میرے ایک دوست کے پاس ایک عورت آئ. اپنے بچوں کی مدد کے سلسلے میں. میاں سے تنگ تھی. شایدکام کاج نہیں کرتا ہوگا. . دوست کی پہلی ملاقات تو سرسری ہوئ. دوسری ملاقات میں میں ساتھ تھا. یہ دوست میرا یہ سمجھو کہ یار تھا یار. . اس نے دوسری ملاقات میں عورت کے ذہن میں ڈال دیا کہ میرے دوست میں اور مجھ میں کوئ فرق نہیں ہم ایک دوسرے کا آئینہ ہیں. کسی حد تک اس نے تسلیم بھی کرلیا. میرے سامنے میرے دوست نے اس کا ہاتھ پکڑا اور چوم لیا اس کی شرم ختم کرنے کے لیے. دوست نے مجھے کہا کہ اسے گھر کے قریب چھوڑ دو. میں نے اسے بایئک پر بٹھالیا باتیں ہوتی رہیں, میں نے اس سے نمبر لے لیا اور اپنا نمبر دے دیا. قائد آباد اسے چھوڑا رکشہ پر بٹھایا اور کرایہ دے دیا. محبت کی ترسی ہوئ لگ رہی تھی. پھر فون پر باتیں ہوتی رہیں. میاں کی جب بھی بات کی تو ہمیشہ بات ٹال دیتی. آہستہ آہستہ سیکس پر بھی بات آگئ. لگتا نہیں تھا کہ سیکس کرنے دیگی. عورت ذات کو سمجھنا بڑا مشکل ہے. اگلی ملاقات اس عورت سے میرے دوست کی جگہ پر ہوئ. اس دوران میرے دوست نے اس سے کوئ رابطہ نہیں رکھا. جب جگہ پر آگئ تو باتیں وغیرہ ہوئیں. پہلی بار اس نے نقاب اتارا. ورنہ پہلی ملاقات میں نقاب میں ہی تھی. شکل گہرا سانولا تھا قد مناسب تھا نہ موٹی نہ پتلی. میں اس کے قریب بیٹھ کر بات کررہا تھا بات کرتے کرتے میں نے نے اسے کہا اپنا ہاتھ دکھاؤ. اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا. جیسے ہی میرا ہاتھ اس کے ہاتھ میں آیا تو اس نے میرے ہاتھ کو زور سے دبایا. اس کے ہاتھ کا دبانا تھا کہ سمجھو میری رگوں میں کرنٹ دوڑ گیا لنڈ میرا انتہائ سخت ہوکرکھڑا ہوگیا. اس دوران مجھے دوست کو کال کرنی تھی جو اوپر کے پورشن میں موجود تھا. میں کال کرنے کے لیے کھڑا ہو تو اس نے میرے کھڑے لنڈ کو دیکھ لیا . بات ختم کرکے اس سے کہا کہ آؤ کمرہ میں چلتے ہیں. اس کے ہاتھ دبانے سے میں سمجھ گیا کہ یہ سیکس کے لیے راضی ہے اور بے تاب بھی. اندر لے جاکر کرسی پر بیٹھ گئے. بات کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ تھام کر چوم لیے. اس نے منع نہیں کیا. ہاتھوں کو سہلاتے سہلاتے اس کے گال پر کس کی. اس دوران میں شہوت کے ہاتھوں مجبور ہوکر بے تابی سے چومنے لگا اور مسلنے لگا اس کے شلوار کے پانچے سے میں نے اندر ہاتھ ڈالا تو اس سے کہا کہ آرام سے آرام سے میں اس کے بعد اسے لے کر نیچے آگیا اور لٹاکر بوسوں کی بارش کردی. اس کے ساتھ پھر لیٹ گیا اور چومتے کسنگ کرتے ہوئے اس کے مموں کوپکڑ لیا. آہ ہ ہ ہ ممے تو میری سب سے بڑی کمزوری ہیں. ممے اس کے شادی شدہ اور بچے ہونے کے باوجود بھی اتنے ڈھلے نہیں ہوئے تھے. مموں کو مسلتا رہا مسلنے کے ساتھ ساتھ میں نے اس کی قمیض اوپر کرکے پیٹ ننگا کردیا. پیٹ اس کا بالکل برابر تھا. پیٹ کو میں چومتا رہا. پھر میں نے اس کی قمیض اتار دی شروع میں اس نےجھجک دکھائ لیکن مان گئ پھر. قمیض کے ساتھ ہی شلوار بھی اتار دی. اس نے کہا کہ مجھے تو ننگا کردیا اپنے بھی تو کپڑے اتارو. میں نے بھی اپنے کپڑے اتار دیے. وہ گہرا رنگ ہونے کے باوجود صاف ستھری تھی. چوت بھی صاف شفاف تھی. میں پھر اس کو مسلسل چومتا چاٹتا رہا. مموں کو جی بھر کر چوسا. کبھی گال پر کس کبھی مموں پر کبھی پیٹ پر.پھر اس نے کہا کہ کچھ نہ کرو میرے اوپر لیٹ جاؤ. میں کوئ پندرہ بیس منٹ بس اس کے اوپر لیٹا رہا. ہر لڑکی کو اپنا مزہ لینے کا الگ طریقہ ہوتا ہے شاید اس میں اسے زیادہ مزہ آرہا تھا .لنڈ میرا تنا ہوا تھا. ڈر لگ رہا تھا کہ ایسے ہی فارغ نہ ہوجاؤں کیوں کہ اس طرح سینہ سے سینہ جسم کا ہر حصہ جسم سے ٹچ ہو لنڈ چوت سے لگ رہا ہو تو جذبات پر قابو رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے .خیر میں اٹھا. لنڈ پر کنڈم چڑھایا. کنڈم دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئ. لنڈ کو اس کی چوت پر رکھا اور ڈال دیا, . توقع کے خلاف اس کی چوت تنگ تھی. جس پر مجھےحیرت ہوئ کیوں کہ اس کے تین سے چار بچے تھے. چار سے پانچ جھٹکے دیے اور نکال لیا. کیوں کافی دیر رومانس کرتا رہا تو جذبات انتہائ عروج پر تھے. پھر ممے جسم چومنے لگ گیا. پھراندر ڈالا تو اس نے کہا کہ اندر ڈلے رہنے دو تو کچھ دیرمیں نے ایسے ہی اندر رکھا. . پھر نکال کر چار پانج جھٹکے دیے. پھر اسی طرح اس کے گال چومے مموں کو چوما اور پورے جسم کو چوما. اس کے بعد اندر ڈال کر مسلسل جھٹکے مار کر فارغ ہوگیا. آہ ہ ہ ہ ہ. بڑا پر لطف سیکس تھا. انتہائ مزہ آیا. اس نے بھی بھرپور انجوائے کیا. سیکس کے دوران میں نے اسے بڑی منانے کی کوشش کی, کہ دوست کو بلا لیتا ہوں تاکہ مل کر ایک ساتھ کریں. آخر کو اس کے توسط سے مجھے چوت ملی تھی. دوست اوپر والے پورشن میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ استعمال کرتا رہا. . عورت کی عمر کے بارے میں بتاتا چلوں کہ اندازاً 35 سال کے آس پاس ہوگی, ممے 34کے ہوں گے کولہے بھی مناسب تھے . شوہر اس کا ناکارہ تھا کماتا نہیں تھا. جس طرح سے اس نے پہلی ملاقات میں جسم دے دیا تو اسے ایک دوست کی تلاش تھی جو اسے سمجھے جس کامیں نے بہت حد تک ازالہ کیا. جب لنڈ سے کنڈم اتارا تو بڑے غور سے آکر لنڈ کو دیکھنے لگی ہا ہا.. اس کو جو مددچاہیے تھی اس کی مدد کی . وہ محبت اور سیکس کو بہت ترسی ہوئ تھی. یہ تھا میرا پہلا واقعہ . آپ لوگوں کے کمنٹس کا انتظار رہے گا.
  7. اچھا قسمت میں جو لکھا ہوتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے انسان کا مقدر پر اختیار نہیں. اللہ کا کرم ہوا کہ کوئ بڑی چوٹ نہیں لگی. کوئ معذوری نہیں ہوئ. مالی نقصان تو کسی طرح پورا ہوجائے گا. جسمانی نقصان پورا نہیں ہوپاتا. شکر اللہ کا.
  8. اور ڈاکٹر صاحب یہ بھی بتائیں ایکسیڈنٹ کیسے ہوا ؟؟؟
  9. وعیلکم السلام شروع کی دو لائنوں نے تو میری جان نکال دی. آگے آپ نے لکھا کہ معمولی زخم آئے ہیں تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ آپ خیریت سے ہیں. اللہ آپ کو لمبی زندگی عطا فرمائے آمین. اپنابہت سا خیال رکھیں. آپ کی گاڑی فوری ٹھیک ہوجائے. جو دوست اس علاقہ کے ہیں وہ برائے مہربانی آپ سے رابطہ کریں.
  10. بجا فرمایا آپ نے. کل میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیے کوئ واقعہ شیئر نہیں کرسکا. جلد ہی پوسٹ کرتا ہوں . بات یہ ہے کہ اگر ہر کوئ حصہ ڈالے گا تو مزہ آئے گا. کوشش تو ہے کہ دوست احباب اپنی انگلیوں کو حرکت دیں.
  11. جناب سسپنس تو جتنا زیادہ ہو اتنا زیادہ مزہ آتا ہے
  12. ہائے دوستوں میں نے ایک تھریڈ بنایا ہے user general discussion میں نام ہے سیکس پر مبنی زندگی کے حقیقی واقعات گزارش ہے کہ جب آپ کو وقت ملے تمام سلسلہ وار ناولز کی ماہانہ وار اپڈیٹ پڑھ چکے ہوں, مزید اپڈیٹ آنے میں ابھی وقت ہو تو جو میں نے تھریڈ بنایا ہے اس میں اپنی رائے واقعات کا اظہار کریں. اور بھی جو تھریڈ ہیں انہیں بھی رونق بخشیں . لنک یہ ہے شکریہ
  13. ہائے دوستوں میں نے ایک تھریڈ بنایا ہے user general discussion میں نام ہے سیکس پر مبنی زندگی کے حقیقی واقعات گزارش ہے کہ جب آپ کو وقت ملے تمام سلسلہ وار ناولز کی ماہانہ وار اپڈیٹ پڑھ چکے ہوں, مزید اپڈیٹ آنے میں ابھی وقت ہو تو جو میں نے تھریڈ بنایا ہے اس میں اپنی رائے واقعات کا اظہار کریں. اور بھی جو تھریڈ ہیں انہیں بھی رونق بخشیں . لنک یہ ہے شکریہ
×
×
  • Create New...