Jump to content
You are a guest user Click to join the site
URDU FUN CLUB

مہر صاحب

Members
  • Content Count

    4
  • Donations

    $0.00 
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

13

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. قسط نمبر 2 میں نے اچانک گھوم کر اس جسم کو دبوچ لیا اور اپنے ساتھ بیڈ پر گرا لیا. اب پوزیشن ایسی تھی کہ وہ جسم میرے نیچے تھا اور اس کے گول گول ابھار میری چھاتی میں دب رہے تھے. میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور ایک لمبی فرنچ کس کے بعد اپنے لب اس کے شیریں لبوں سے جدا کیے. اس نے اپنی آنکھیں کھولیں جن میں وصل کا خمار امڈ رہا تھا اور میں اس کی گستاخ زلفوں کو اس کے رخساروں سے ہٹانے میں مگن تھا. چند لمحوں بعد اس کی شیریں آواز میرے کانوں میں رس گھولتی گئی اور اس نے پوچھا تایا ابا کیسے ہیں؟ میں نے اس کے ہونٹوں پہ کِس کی اور بولا اب تو طبیعت ٹھیک ہے انکی. تم سناؤ کالج سے کب آئیں؟ عمارہ: دو لیکچر ہی لیے تھے کہ اماں نے واپس بلوا لیا. گھر آ کر پتا چلا کہ تایا ابا کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے بلوایا گیا. میں: اچھا ہوا تم آ گئیں. تمھیں تو پتا ہے کہ میں جب بھی مشکل وقت سے ٹکراتا ہوں تو تمھارا میرے ساتھ ہونا ہی میری جیت کا سبب بنتا ہے. تمہیں یاد ہے نا پچھلے سال بیساکھی کے میلے پر مہر صاحب کی عزت کی خاطر اپنے سے تین گنا طاقتور پہلوان سے بھڑ گیا تھا. سچ پوچھو تو مجھے بلکل بھی یقین نہیں تھا کہ میں اس سے جیت جاؤں گا لیکن صرف تمھاری اس ایک جھلک نے میرے اندر کے سکندر حیات کو جھنجھوڑ دیا اور میرے ضمیر نے مجھے کہا کہ آج باپ اور معشوق کے سامنے رسوا نا ہونا اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ جو پہلوان ساری زندگی کوئی مقابلہ نا ہارا تھا وہ میرے سامنے ٹک نا سکا. یہ تمھارا دلفریب چہرا ہی مجھے قوت دیتا ہے. میں فرطِ جذبات میں بولے جا رہا تھا کہ اچانک اس نے اپنے لب میرے لبوں میں پرو دیے پھر تھوڑی دیر بعد وہ الگ ہوئی اور بیٹھ کر میرا سر اپنی گود میں رکھ لیا اور میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی. یہ اس کی ان عادات میں سے ایک تھی جو مجھے بہت پسند تھی. عمارہ میری پہلی اور آخری محبت تھی شاید محبت کا لفظ ہمارے رشتے کے سامنے ہیچ تھا. ہم عشق کے اس درجے پر تھے کہ جہاں سارے طواف محبوب کے لیے تھے. عمارہ مجھ سے دو سال چھوٹی تھی. جب وہ پیدا ہوئی تو میری دادی نے اسے میرے سپرد کر دیا تھا اور یوں اس کا اور میرا ساتھ سانسوں کی ڈوری ٹوٹنے تک جوڑ دیا گیا. عمارہ تھی بھی بلا کی خوبصورت، غزال آنکھیں، مہتاب چہرہ، کالی زلفیں جو چہرے پہ گریں تو شام ہو جائے، قُطب جنوبی کی طرح رخسار پر چمکتا تل، تیکھا ناک غرض وہ حسن کی مورت تھی. اگر وہ حسن کی مورت تھی تو میں بھی مردانہ وجاہت کا نمونہ تھا. مختصر یہ کہ ہم دونوں کی جوڑی ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھی. اسکی انگلیوں نے جادو چلایا اور نا جانے کب میں نیند کی آغوش میں جا پہنچا. میری آنکھ کسی کے بلانے پر کھلی. آنکھیں کھولی تو چچی آواز دیں رہیں تھیں کہ پتر اٹھ جاؤ شام ہو گئی ہے ہسپتال نہیں جانا؟ میں نے چچی سے بولا کہ آپ اور اماں تیار ہوں میں بس فریش ہو کہ آیا. چچی چلی گئیں اور میں نہانے گھس گیا. فریش ہو کر نکلا اور ڈریسنگ کے سامنے بال سنوارنے لگا. میرے کمرے کا دروازہ کھلا اور عمارہ اندر داخل ہوئی. اس نے ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا جو اس پر کمال جچ رہا تھا. پوچھنے لگی اٹھ گئے آپ؟ میں: ہاں اٹھ گیا. تم کب گئیں؟ عمارہ: آپ سو گئے تھے تو مجھے مناسب نہیں لگا یہاں رکنا ویسے بھی اماں آ جاتیں تو انہوں نے خفا ہونا تھا. میں نے آ گے بڑھ کر اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور ایک کس کر کے بولا خفا کیوں ہونا تھا آخر منگیتر ہو تم میری. وہ مجھ سے اپنا آپ چھڑوانے لگی اور میں نے اور زور سے اسے پکڑ لیا. آخر وہ بولی چھوڑیں مجھے کوئی آ گیا تو کیا سوچے گا. میں نے ایک کس اور کی اور چھوڑ کر بولا ویسے بڑی تیاری شیاری کی ہوئی ہے کدھر جانے کا ارادہ ہے؟ عمارہ: آپ بھی کمال کرتے ہیں. تایا ابا کا پتا کرنے جا رہی ہو. اگر نا گئی تو ناراض ہو جائیں گے. میں بولا چلو اماں اور چچی کو کہو کہ گاڑی میں انکا انتظار کر رہا ہوں. میں گاڑی میں آ کے بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد اماں، چچی اور عمارہ بھی آ گئیں. ہسپتال کی پارکنگ میں گاڑی روک کر اماں لوگوں کو ساتھ لیے اندر کی جانب چل پڑے. ابا کو روم میں شفٹ کر دیا تھا. کمرہ کافی بڑا تھا ایک طرف صوفہ رکھا گیا تھا اور ایک طرف بیڈ تھا جو مریض کے ساتھ آنے والوں کے آرام کے لیے تھا. چھوٹا سا کچن کمرے کے ساتھ ہی تھا جہاں ضرورت کا سامان موجود تھا. ہم کمرے میں پہنچے تو چچا ساتھ والے بیڈ پر . ابا آنکھیں موندے آرام کر رہے تھے. عمارہ ان سے لپٹ گئی تو ابا نے آنکھیں کھولیں اور عمارہ کے سر پر پیار دیتے ہوئے بولے آ گیا میرا پتر میں تو سمجھا تھا کہ اپنے تایا کو ملنے ہی نہیں آؤ گی. عمارہ بھی لاڈ سے بولی یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ یہاں ہوں اور میں آپ سے ملنے نا آؤں. اماں اور چچی نے بھی طبیعت کا پوچھا اور صوفے پر بیٹھ گئیں. عمارہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئی. ابا اب میری طرف متوجہ ہوئے اور مسکراتے ہوئے بولے ہاں جی مہر جی آپ نے گدی سنبھال ہی لی اب لگتا ہے مجھے اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جانا چاہیے. میں: نہیں ابا جی آپ کے ہوتے ہوئے میں کیسے آپ کی جگہ لے سکتا ہوں. آپ جلد ہی صحتیاب ہو کر دوبارہ ڈیرہ چلائیں گے. اتنی دیر میں چچا آئے اور بولے کہ آپ بڑے مہر صاحب کو آرام کرنے دیں. چچا سے میں عمر کا پوچھ کر تھوڑی دیر میں انے کا بول کر باہر نکل گیا. پارکنگ میں آ کر گاڑی میں بیٹھا اور عمر کو کال کی. وہ قریب ہی ہوٹل پر کھانا کھانے گیا ہوا تھا میں اسے وہیں رکنے کا بول کر ہوٹل کی طرف چل پڑا. عمر کھانے سے فارغ ہو چکا اور چائے کے دو کپ سامنے رکھے کسی سوچ میں گم تھا. میں جا کر سامنے بیٹھا اور پوچھا کس سوچ میں گم ہو جگر؟ عمر: یار تم نے اس بندے کا پتا کرنے کے لیے کہا تھا نا میں: یاں کیا پتا چلا؟ عمر: یار مجھے تو کوئی گہری سازش لگ رہی ہے. میں اکتا کر بولا یار تو اپنے اندازے اپنے پاس رکھ تفصیل بتا عمر: جب تیرا فون آیا تو میں نے فوراً ہی اپنے ایک آدمی کو فون کیا اور گاڑی کی لوکیشن کا پوچھا اس نے بتایا کہ گاڑی ہمارے گاؤں سے نکل کر شریف بھٹی کے گاؤں کی طرف جا رہی ہے. یہ سن کر میرا ماتھا ٹھنکا میں نے اسے گاڑی کی لوکیشن فالو کرنے کا بولا اور اپنے ایک خبری کو فون کر کہ بولا کہ شریف بھٹی کے ڈیرے پر نظر رکھے میرا اندازہ بالکل ٹھیک نکلا اور گاڑی شریف بھٹی کے ڈیرے پر جا رکی. عمر نے اپنی بات جاری رکھی اور بولا کہ پھر میں نے اپنے خبری کو فون کیا اور صورتحال کے بارے میں پوچھا. اس نے جواب دیا کہ وہ ابھی تک وہاں نہیں پہنچا تھوڑی دیر میں پہنچ کر آگاہ کرے گا. عمر اتنی بات کر کے خاموش ہو گیا. میں عجیب کشمکش میں مبتلا ہو گیا تھا. نظر واٹو ابا جان کے خاص آدمیوں میں سے ایک تھا. وہ آج جس مقام پر تھا سب بڑے مہر صاحب کی نظرِ کرم کا نتیجہ تھا اور وہ شریف بھٹی کے ساتھ نہیں نہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے. بھٹیوں کے ساتھ ہماری دشمنی کئی نسلوں سے چلی آ رہی تھی. ہماری زمینیں بھی ساتھ ساتھ تھیں تو وہاں اکثر ہمارے آدمیوں اور ان کے آدمیوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں. یوں سمجھ لیں کہ لائن آف کنٹرول والی صورتحال تھی. میں عمر کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا پھر کیا ہوا؟ عمر: کوئی آدھے گھنٹے بعد مجھے خبری کا فون آیا اس نے بتایا کہ جب وہ پہنچا تو وہاں سے وہ نکل رہے تھے کوئی سات کے قریب گاڑیا‌ں تھیں نظر وٹو کی گاڑی کو اس نے پہچان لیا تھا وہ خود بھی گاڑی میں موجود تھا. باقی گاڑیوں کو وہ نہیں دیکھ سکا لیکن ایک اور گاڑی اس نے پہچان لی تھی. اتنا کہ کر عمر خاموش ہو گیا
  2. امید ہے کہ کل تک باقی امید پہ دنیا قائم ہے
  3. کوشش کروں گا کہ زیادہ دیر نا ہو
  4. اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ایک کہانی لکھنے کی کوشش کی ہے امید ہے آپکو پہلی اپڈیٹ پسند آئے گی. وقتاً فوقتاً اپڈیٹ کرتا رہوں گا. اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئیے گا. لیپ ٹاپ کی سکرین ایک جھٹکے سے بند ہوئی تو میں بھی جو نجانے کتنی دیر سے ماضی کے سمندر میں غوطہ زن تھا حال کی زمین پر قدم جما چکا تھا. آنسو میری پلکوں سے آبِ بے قابو کی طرح نکلے اور رخساروں پر بہہ گئے. میری آنکھوں کے سامنے گزرے ہوئے آٹھ سالوں کے واقعات کسی فلم کی طرح چلنے شروع ہو گئے اور مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میرا دل مجھے ملامت کر رہا ہو کہ کاش اس وقت تم نے اپنے غصے کو قابو میں رکھا ہوتا تو آج اپنوں کے ساتھ ہوتے. کبھی کبھی انسان غصے میں اتنا پاگل ہو جاتا ہے کہ اس کا خود پر قابو نہیں رہتا اور جب وہ قابو میں آتا ہے تب تک حالات کا دھارا اپنا منہ کسی اور جانب موڑ چکا ہوتا ہے. میں مہر سکندر حیات ایک جاگیردار گھرانے کا چشم و چراغ، تین بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور والدین کا لاڈلا. شروع سے ہی والد صاحب کے ساتھ رہا چونکہ والد صاحب ایک جاگیردار تھے علاقے کی جانی پہنچانی شخصیت، ضلع ملتان کے ضلعی ناظم اور ایک سیاسی جماعت کے ضلعی صدر بھی. وہ بچپن سے ہی مجھے اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ سکندر حیات میرے بعد میری گدی سنبھالے گا.والد صاحب کے ساتھ رہنے کی وجہ سے تقریباً ان کے سب ملنے والے مجھے پہچانتے تھے جس کی وجہ سے میں اپنا ایک الگ سماجی حلقہ بنا چکا تھا. اسکول سے چھٹی کے بعد ڈیرے پر جاتا اور وہاں کے تمام معاملات کو دیکھتا تھا یہاں تک کہ ہوٹل سے جو کھانا آتا تھا وہ تب تک نہیں آتا جب تک میرے یا والد صاحب کے دستخط چٹھی پر نا ہوتے. کیونکہ والد صاحب مجھے اپنا جانشین منتخب کر چکے تھے اس لیے بڑے بھائیوں نے کبھی سیاسی معاملات میں کوئی مداخلت نا کی گویا میں اپنے والد کی چھوٹی سی سلطنت کا اکلوتا وارث تھا. وقت اپنی ڈگر پر چلتا رہا اور میں عمر کے انیسویں سال میں داخل ہو گیا تھا. میں اپنی عمر سے بڑا نظر آتا تھا باڈی بلڈنگ کے شوق نے میرا جسم بہت مضبوط بنا دیا تھا. پڑھائی، سیاست اور جم یہی میرے مشاغل تھے. میں ملتان کے ایک نامور کالج میں زیر تعلیم تھا. وقت اچھا گزر رہا تھا کہ ایک دن مجھے اپنے بھائی کی کال موصول ہوئی کہ بابا کی طبیعت بہت خراب ہے تم جلدی نشتر ہسپتال پہنچو. یہ خبر گویا میرے سر پر کسی بم کی طرح گری اور میں فوراً کالج سے نکل پڑا. چند لمحوں بعد میری کار سڑک کے وسط میں فراٹے بھرتی نشتر ہسپتال کی طرف گامزن تھی. داخلی دروازے پر میرا کزن(چچا کا بیٹا) میرے ہی انتظار میں کھڑا نظر آیا. اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی میں نے سوال داغا میں: عمر! ابا جان کو کیا ہوا؟ مجھے اپنی آواز کھوکھلی محسوس ہوئی. عمر: صبح ناشتہ کر رہے تھے کہ اچانک دل کی طرف درد اٹھی مجھے کہنے لگے کہ میری دوا لے کے آؤ کمرے سے جب میں واپس آیا تو وہ زمین پر ڈھے چکے تھے. نوکرانی رامو کاکا کو آوازیں دے رہی تھی اور تائی اماں رو رہی تھیں. میں نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے گاڑی نکالی اور انہیں ہسپتال لے آیا. ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ تایا ابا کو دل کا دورہ پڑا تھا بروقت علاج کی وجہ سے جان بچ گئی تھوڑی دیر اور ہو جاتی تو شاید...... میں نے خدا کا شکر ادا کیا. ہم باتیں کرتے کرتے آئی سی یو تک پہنچ گئے تھے. جہاں اندر والد صاحب کا علاج چل رہا تھا. باہر میرے بڑے بھائی مہر زبیر حیات، منجھلے بھائی مہر حسن حیات اور ان کے ساتھ چچا مہر بدر حیات کھڑے تھے. ساتھ ہی اماں جی اور چچی جان مصلے پہ بیٹھی دعائیں مانگ رہی تھیں. ان کے قریب پہنچ کے میں نے پوچھا میں: بھائی ابا کی طبیعت کیسی ہے اب؟ زبیر: اب وہ ٹھیک ہیں. کچھ دیر بعد انہیں کمرے میں شفٹ کر دیں گے. میں: گاؤں میں کسی کو بتایا تو نہیں؟ زبیر: نہیں اب تک تو نہیں میں نے رامو کاکا کو بول دیا تھا کہ جب تک چھوٹے مہر صاحب حکم نا دیں تب تک کسی کو نا بتایا جائے. میں: اچھا! تو کیا خیال ہے چچا جان اب بتا دیا جائے کیونکہ یہ بات چھپنے والی تو ہے نہیں. چچا بدر! ہاں پتر میرا وی خیال اے ہن دس دینا چاہیے نہیں تو پنڈ میں سو گلیں ہو گی کہ مہر صاحب ہمیں اپنا نہیں سمجھتے. میں : تو ٹھیک ہے چچا آپ راموکاکا سے کہو کے وہ گاؤں میں خبر کر دے اور ساتھ یہ بھی بتا دے کہ اب بڑے مہر جی کی طبیعت ٹھیک ہے. حسن بھائی جو کافی دیر سے خاموش کھڑے تھے بولے حسن: چھوٹے مہر میرا خیال ہے کہ آپ خود حویلی جائیں اور ڈیرے پر گاؤں کے معززین کو بلا کر خود اطلاع کر دیں. کیونکہ ابا جی کی غیر موجودگی میں آپ ہی انکی نشست سنبھالتے ہیں اور اس طرح یہ خبر زیادہ عام بھی نہیں ہو گی. ٹھیک ہے میں بولا. میں گاؤں جا رہا ہوں شام تک واپس آ جاؤں گا تب تک آپ یہیں رہیں. اماں اور چچی کو میں ساتھ لے جاتا ہوں شام کو لے آؤں گا. میں آگے بڑھا اور اماں کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور انہیں تسلی دے کر بولا کہ آپ اور چچی میرے ساتھ گھر چلیں شام کو واپس آجائیں گے. اماں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں میں مہر صاحب کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی. میرے سمجھانے پر وہ جانے کے لیے راضی ہو گئیں. ہمارا گاؤں ملتان سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے. تھوڑی دیر میں ہی ہم حویلی پہنچ گئے گاڑی کھڑی کر کے اماں جی کو ان کے کمرے میں پہنچایا اور چچی سے کھانے کا بول کر میں ڈیرے پر پہنچا. راموکاکا کو پہلے ہی بول دیا تھا کے اردگرد کے علاقوں کے معززین کو خبر کر دیں. میں ڈیرے پر پہنچا تو علاقے کے معززین چہروں پر حیرت لیے وہاں موجود تھے. میں نے سب سے مصافحہ کیا اور اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گیا جو کہ باقی نشستوں سے ذرا اونچی تھی. چند لمحوں کی خاموشی کے بعد میں نے بات شروع کی. میں: صاحبان! آپ کو تکلیف دینے کا مقصد صرف یہ ہے کہ کچھ دنوں کے لیے بڑے مہر صاحب کی جگہ میں اس کرسی پر بیٹھوں گا. آج صبح انہیں دل کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا. صحت یابی کے بعد وہ دوبارہ اپنی گدی سنبھالیں گے. میں بات کرتے وقت ان سب کے چہرے پڑھ رہا تھا. سب کے چہرے افسوس کی وجہ سے اترے ہوئے تھے کہ اچانک ایک چہرہ میری نظروں سے گزرا جس کے تاثرات نے مجھے چونکا دیا. میری بات ختم ہوئی تو سب نے باری باری بڑے مہر صاحب کی صحت کے متعلق پوچھنا شروع کر دیا اور میں انہیں جواب دیتا رہا لیکن میری نظریں اس شخص کا جائزہ لے رہی تھیں. تھوڑی دیر بعد ملاقات ختم کی اور انہیں تلقین کی کہ یہ خبر اپنے تک ہی رکھیں. سب لوگ اٹھ کر چلے گئے تو میں نے راموکاکا کو اندر بلایا. میں: راموکاکا! وہ شخص جو دوسری لائن کی آخری کرسی پر بیٹھا تھا وہ کون تھا. راموکاکا! پتر جی وہ اپنے ایم این اے نہیں ہیں نظر وٹو یہ ان کا بندہ تھا. وہ خود نہیں آ سکے اس لیے اسے بھیج دیا. میں راموکاکا کی بات سن کر بظاہر مطمئن ہو گیا لیکن مجھے اس بندے پر شک تھا. میں نے فوراً عُمر کو فون ملایا اور اسے اس بندے کے متعلق بول کر حویلی کی جانب ہو لیا. عمر جانتا تھا اسے کیا کرنا ہے وہ میرا چچازاد ہونے کے ساتھ ساتھ میرا دوست، جگر اور ہمراز بھی تھا. عُمر میرا ہم عمر ہی تھا اور ہم شروع سے ہی ساتھ ساتھ تھے پہلے سکول اور اب کالج میں بھی ساتھ تھے. حویلی پہنچ کر کھانا کھایا اور پھر اپنے کمرے کی جانب ہو لیا. ہماری حویلی کے دو حصے تھے ایک میں چچا کی فیملی رہتی تھی جوکہ چچا، چچی، عمر اور ان کی بیٹی عمارہ پر مشتمل تھی اور دوسرے حصے میں ہماری فیملی. میرا کمرہ دوسری منزل پر تھا تو میں سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں جا پہنچا. گرمی کا موسم تھا اے سی چلایا اور حسبِ عادت شرٹ اتاری اور بیڈ پر ڈھے گیا. تھکن کی وجہ سے جلد ہی نیند کی آغوش میں پہنچنے والا تھا کہ اپنے جسم پر گیلا پن محسوس کر کے واپس شعور کی وادی میں قدم رکھ دیا. کوئی وجود میرے اوپری جسم کو چوم رہا تھا. اس کے لبوں کی گرماہٹ میں اپنی کمر پر محسوس کر رہا تھا.
×
×
  • Create New...