Jump to content
URDU FUN CLUB

khoobsooratdil

Junior Moderators
  • Content Count

    2,937
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    41

khoobsooratdil last won the day on October 31 2018

khoobsooratdil had the most liked content!

Community Reputation

701

About khoobsooratdil

  • Rank
    Super Moderator

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. کہاں میرے بوبز کی جان لیوا لکیر۔۔۔۔😍ا اورکہاں تم، لکیر کے فقیر۔۔۔😜
  2. سوانجنا @سوانجھڑو 82 سال کی عمر میں فٹنس چاہتے ہیں تو یہ چند پتے کھالیجئے! اس وقت شاہ صاحب نے اس درخت کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس درخت کے خشک پتے ہماری خوراک ہوتی تھی۔ ہم صبح ہتھیلی بھر کر پانی کے ساتھ یہ کھا لیتے تھے اور پھر دن بھر کسی چیز کی طلب نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی کمزوری ہوتی۔ یہ ہم سادھوئوں کی خوراک تھی میں ایک دن انٹرنیٹ پر نئی تحقیق کی فائلیں چھان رہا تھا کہ میری نظر ایک فائل پر پڑی The Miracle Tree ’’یعنی معجزاتی درخت‘‘ میں فوراً اس کی طرف لپکا اور اسے پڑھنا شروع کیا، کہ یہ معجزاتی درخت 300بیماریوں کا کامل علاج ہے جو کسی نہ کسی غذائی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس درخت کے خشک پتے 50گرام طاقت میں برابر ہیں۔ 4گلاس دودھ، 8مالٹے، 8 کیلے، 2پالک کی گڈیاں، ۲کپ دہی،18ایمائنو ایسڈز، 36 وٹامن او 96اینٹی اوکسیڈینٹ ‘میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا کہ یہ پودا کتنا طاقتور ہے، سبحان اللہ، وٹامن اے گاجر میں بہت زیادہ ہے مگر اس میں چار گناہ زیادہ ہے۔ فولاد پالک میں بہت زیادہ ہے مگر اس میں چار گناہ زیادہ ہے۔ پوٹاشیم کیلے میں بہت زیادہ ہے مگر اس میںتین گنا زیادہ ہے۔ وٹامن سی مالٹے میں بہت زیادہ ہے مگر اس میں سات گنا زیادہ ہے اسی طرح ان افادیت کی ایک لمبی فہرست ہے، جب اتنے فوائد پڑھ چکا تو درخت کی شناخت کی فکر پیدا ہوئی۔ بالکل سمجھ نہ آئے کہ کون سا پودا ہے، گرم ماحول اور ریتلی زمین میں آسانی سے کاشت ہوتا ہے۔ میں پہلے تو یہی سمجھا کہ یہ درخت اسی امریکن خطے کا کوئی پودا ہے آن لائن سرچ میں اس کے بیج دیکھے جودس ڈالر کےصرف بیس بیج تھے۔ سوچا پاکستان لے چلوں اور اپنے ملک میں اس نادر پودے کو لگائو، اگلی رات یہ میرے ذہن پر ایک نقش کی طرح سوار رہا۔ میں نے صبح دوبارہ اس کا نام جاننے کی کوشش کی تو گوگل پر ایک لمبی لسٹ آئی اس میں اس درخت کا نام پڑھ کر جھٹکا سا لگا کہ یہ درخت اتنی اہمیت کا ہے، گائوں کے لوگ اس کی پھلیوں کا اچار ڈالتے رہے اور پرانے لوگ نظر تیز کرنے کیلئے سرمہ میں اس کا جوس ڈالتے تھے، اندھراتا (شب کوری) میں مستند سمجھا جاتا تھا۔ کاش وہ لوگ اس وٹامن اے کے خزانے کے راز سے واقف ہوتے، میں نے پہلی بار یہ درخت چالیس سال قبل ایک درویش سید میراں شاہ مرحوم کے باغ میں دیکھا، انہوں نے اس کا تعارف کچھ اس طرح کروایا کہ آئو آپ کو آج اپنے باغ کی سیر کروائوں‘ وہ مختلف پودوں پر سیر حاصل بات کرتے ہوئے جب اس درخت کے قریب پہنچے تو فرمانے لگے میری عمر سو سال کے لگ بھگ ہے میں نے جوانی سادھو کے بھیس میں کئی ملکوں کا سفر کیا، ہم لوگ برما، انڈونیشیا، ملائیشیا میں پیدل پھرے، چونکہ اس لمبے سفر میں اپنے ساتھ زیادہ خورددنوش کا سامان نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت شاہ صاحب نے اس درخت کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس درخت کے خشک پتے ہماری خوراک ہوتی تھی۔ ہم صبح ہتھیلی بھر کر پانی کے ساتھ یہ کھا لیتے تھے اور پھر دن بھر کسی چیز کی طلب نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی کمزوری ہوتی۔ یہ ہم سادھوئوں کی خوراک تھی۔ میں نے دل ہی دل میں اسے اتنی اہمیت نہ دی، اور آگے بڑھ گئے، اب کئی برس کے بعد میں پاکستان پہنچا تو خصوصی طور پر شاہ کے باغ میں گیا اور اس عظیم پودے کو دوبارہ دیکھا اور اپنی نادانی پر خفت ہوئی۔ دوستو! اب میرا یہ ماننا ہے کہ جس صحن میں یہ درخت نہیں وہ گھر صحت مندنہیں۔ میں نے 2010میں پہلی بار یہ دوا اپنے دوست احسان صاحب کو ان کی والدہ کی بیماری پر تجویز کی، احسان صاحب کہنے لگے والدہ کی عمر 82سال ہے اور ان کے جسم میں بہت کمزوری آچکی ہے اب کھڑا ہونا ہی مشکل ہورہا ہے۔ میں نے تفصیل سے انہیں اس پودے کا بتایا کیونکہ وہ بانٹی میں ڈگری ہولڈر ہیں۔ انہوں نے اس کی تفصیل پڑھی اور والدہ کو استعمال کروائی ایک دن احسان صاحب نے بتایا کہ والدہ بالکل ٹھیک ہیں صحت اتنی بہتر ہوئی کہ انہوں نےرمضان کے روزے بھی رکھے پھر اس دوا سے اپنے خاندان کے21 آدمیوں کی شوگر کنٹرول کرکے صحتمند ڈگر پر لے آئے۔ لاہور میں ایک حکیم صاحب کو بتانے کی دیر تھی انہوں نے تین سو گرام سوہانجنا پائوڈر کے 6 ہزار روپے ذیابیطس کے علاج کے لینے شروع کردیئے، حالانکہ بہاولپور کے علاقہ میں یہ خودرو جنگل کے طور پر ہیں، اب فیصل آباد زرعی یونیورسٹی اس کا لٹریچر عوام میں تقسیم کررہی ہے، اور فری بیج بھی دیئے جارہے ہیں‘ آن لائن بھی اس کا لنک موجود ہے بہرحال میں نے یہاں امریکہ میں ۲۵ ڈالر میں ایک پائونڈ پائوڈر خریدا ہے۔ اس کے خشک پتوں کا قہوہ پریشانیوں اور دبائو میں سکون بخشتا ہے اور بھرپور نیند لاتا ہے، قبض کے مریضوں کے لئے آب حیات ہے، خون کی کمی کی وجہ سے چہرے کی چھائیوں کو بھگانے میں تیر بہدف ہے، کسی بھی طرح کی کمزوری کا واحد حل ہے، حاملہ عورتوں اور بچوں کو بھی استعمال کروایا جاسکتا ہے، افریقہ کے قحط کے دوران ایک چرچ نے یہ پودے غذائی کمی کے شکار لوگوں میں تقسیم کئے، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا اس کی گرویدہ ہوگئی آئیے آج ہی سوہانجنا کا پودا گھر میں لگا کر صحتمند زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ پودا ۳۰۰ بیماریوں کا علاج جو غذا کی کمی کے باعث کسی نہ کسی روپ میں ابھرتی ہیں۔ اب اس طاقت کے خزانے کا راز اب تک پہنچ چکا ہے جسے تمام عمر استعمال میں لانا اور اگلی نسل کو منتقل کرنا ہے۔ نوٹ۔ یہ دوا بطور غذا گھروں میں رواج دیں اور صحتمند نسلوں کے مربی بنیں غیر فطری علاج اسٹیرائیڈ آرٹی فیشل وٹامنز کی رنگ برنگی دوائیوں کی بجائے قدرت کے اس خزانے سے فائدہ اٹھائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے انسان کے لیے صحت کے ایک خزانے کی شکل میں پیدا کیا ہے
  3. تھینکس سیماب جی مجھے شدت سے آپ کی شاعری کا انتظار ہے جہاں پہلے پڑھی تھی وہاں سے تو ڈیلیٹ ہو چکی اب پلیز یہاں کچھ شئیرنگ کر دیں
  4. کی رولا پایا اے یار اپنا منہ ویکھ جیویں دو صفحے آلی کاپی ہندی اے
  5. ویلکم سیماب جی آپکی بولڈ شاعری کے فین ہیں ہم پلیز کچھ ہمارے ساتھ بھی شئیر کریں
  6. عشق ہو تیری زات ہو پھر عشق حسن کی بات ہو کبھی میں ملوں کبھی تو ملے کبھی ہم دونوں چپ چاپ ہوں کبھی گفتگو کبھی تزکرے کبھی زکر ہو کوئی بات ہو کبھی میں تیری کبھی تو میرا کبھی ایک دوجے کے ہم رہیں کبھی رنجشیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں کبھی الفتیں کبھی جیت ہو کبھی ہار ہو نا نشیب ہوں نا اداس ہوں صرف تیرا عشق ہو میری زات
  7. تمہیں کیسے بتائیں ہم محبت اور کہانی میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا کہانی میں تو ہم واپس بھی آتے ہیں محبت میں پلٹنے کا کوئی رستہ نہیں ہوتا ذرا سوچو! کہیں دل میں خراشیں ڈالتی یادوں کی سفاکی کہیں دامن سے لپٹی ہے کسی بھولی ہوئی ساعت کی نم ناکی کہیں آنکھوں کے خیموں میں خراغِ خواب گل کرنے کی سازش کو ہوادیتی ہوئی راتوں کی چالاکی مگر میں بندہ خاکی نہ جانے کتنے فرعونوں سے اُلجھی ہے مرے لہجے کی بے باکی مجھے دیکھو مرے چہرے پہ کتنے موسوں کی گرد اور اس گرد کی تہہ میں سمے ی دھوپ میں رکھا اک آئینہ اور آئینے میں تاحد نظر پھیلے محبت کے ستارے عکس بن کر جھلملاتے ہیں نئی دنیاؤں کا رستہ بتاتے ہیں اسی منظر میں آئینے سے الجھی کچھ لکیریں ہیں لکیروں میں کہانی ہے کہانی اور محبت میں ازل سے جنگ جاری ہے محبت میں اک ایسا موڑ آتا ہے جہاں آکر کہانی ہار جاتی ہے کہانی میں کچھ کردار ہم خود فرض کرتے ہیں محبت میں کوئی کردار بھی فرضی نہیں ہوتا کہانی میں کئی کردار زندہ ہی نہیں رہتے محبت اپنے کرداروں کو مرنے ہی نہیں دیتی کہانی کے سفر میں منظروں کی دھول اڑتی ہے محبت کی مسافر راہ گیروں کو بکھرنے ہی نہیں دیتی محبت اک شجر ہے اور شجر کو اس سے کیا مطلب کہ اس کے سائے میں جو بھی تھکا ہارا مسافر آکے بیٹھا ہے اب اس کی نسل کیا ہے دنگ کیسا ہے کہاں سے آیا ہے کس سمت جانا ہے شجر کا کام تو بس چھاؤں دینا ہے دھوپ سہنا ہے اسے اس سے غرض کیا ہے پڑاؤ ڈالنے والوں میں کس نے چھاؤں کی تقسیم کا جھگڑا اُٹھا یا ہے کہاں کس عہد کو توڑا کہاں وعدہ نبھایا ہے مگر ہم جانتے ہیں چھاؤں جب تقسیم ہوجائے تو اکثر دھوپ کے نیزے رگ و پے میں اترتے ہیں اور اس کے زخم خوردہ لوگ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں۔۔۔ ۔۔
  8. کہنے کو محبت ہے لیکن ، اب ایسی محبت کیا کرنی،؟ جو نیند چُرا لے آنکھوں سے، جو خواب دکھا کر آنکھوں کو، تعبیر میں کانٹے دے جاۓ، جو غم کی کالی راتوں سے، ہر آس کا جگنو لے جائے، جو خواب سجاتی آنکھوں کو، آنسو ہی آنسو دے جائے، جو مشکل کر دے جینے کو، جو مرنے کو آسان کرے، وہ دل جو پیار کا مندر ہو، اس مندر کو برباد کرے، اور یادوں کو مہمان کرے، اب ایسی محبت کیا کرنی،؟ جو عمر کی نقدی لے جائے، اور پھر بھی جھولی خالی ہو، وہ صورت دل كا روگ بنے، جو صورت دیکھی بھالی ہو، جو قیس بنا دے انساں کو، جو رانجھا اور فرہاد کرے، جو خوشیوں کو برباد کرے، اب ایسی محبت کیا کرنی،؟ دیکھو تو محبت بارے میں، ہر شخص یہی کچھ کہتا ہے، سوچو تو محبت کے اندر، اک درد ہمیشہ رہتا ہے، پھر بھی جو چیز محبت ہوتی ہے، کب ان باتوں سے ڈرتی ہے، کب انکے باندھے رکتی ہے، جس دل میں اسنے بسنا ہو، بس چپکے سے بس جاتی ہے، اک بار محبت ہو جائے، پھر چاہے جینا مشکل ہو، یا جھولی خالی رہ جائے، یا آنکھیں آنسو بن جائیں، پھر اسکی حکومت ہوتی ہے، آباد کرے، برباد کرے، اک بار محبت ہو جائے، کب ان باتوں سے ڈرتی ہے، کب کسی کے روکے رکتی ہے، اب ایسی محبت کیا کرنی،؟؟ :-)
  9. ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺭ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ۔ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺗﻮ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﮭﭧ ﭘﭧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍٓﻧﮑﮫ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﭼﻮﺭ ﻧﮯ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﯿﭩﮯ ﻟﯿﭩﮯ ﺑﻮﻟﯽ ’’ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﻢ ﺷﮑﻞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﭼﮭﮯ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﻮ، ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﺌﮯ ﮨﻮ۔ ﭼﻠﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﻟﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﺠﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﻮ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺫﺭﺍ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺗﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ ﭼﻮﺭ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺪﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ’’ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮﮞ ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻞ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ 3 ﺩﻓﻌﮧ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻣﺎﺟﺪ ۔ ۔ ﻣﺎﺟﺪ ۔ ۔ ﻣﺎﺟﺪ !!! ﺑﺲ ﭘﮭﺮ ﺧﻮﺍﺏ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﺫﺭﺍ ﺑﺘﺎﻭٔ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮨﻮﺋﯽ؟ ‘‘ ﭼﻮﺭ ﺳﻮﭺ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﮐﺎ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﺎﺟﺪ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﭨﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﺁﮐﺮ ﭼﻮﺭ ﮐﯽ ﺧﻮﺏ ﭨﮭﮑﺎﺋﯽ ﻟﮕﺎﺋﯽ۔ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﺑﻮﻟﯽ ’’ ﺑﺲ ﮐﺮﻭ ﺍﺏ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﯿﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﺑﮭﮕﺖ ﭼﮑﺎ۔ ‘‘ ﭼﻮﺭ ﺑﻮﻻ ’’ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺭﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﺭ ﮨﻮﮞ ﺧﻮﺍﺑﻮنﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟی
  10. ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﮨﺮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﺻﻼﺣﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﻲ ﭘﮍﮬﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﯿﺠﯿﮯ۔۔ ﺻﻨﻒ ﻧﺎﺯﮎ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺩﮬﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﻮﻥ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺟﯿﻮﻥ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﺮﻭﻉ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺟﺲ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺷﺮﻡ ﺣﯿﺎﺀﮐﺎ ﭘﯿﮑﺮ، ﻋﺰﺕ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﮔﮩﻮﺍﺭﮦ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺑﺮﮮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﺳﺮﺣﺪﻭﮞ ﭘﺮ ﭘﮍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﮨﻢ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺰﺕ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻡ ﻭ ﺣﯿﺎﺀﮐﯽ ﺍﻋﻠﯽٰ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﯿﮟ، ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﻋﻔﺖ ﻭ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﮑﺮ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﮐﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻃﺒﻘﮯ ﮐﺎ ﺭﺟﺤﺎﻥ ﻣﺎﮈﺭﻥ ﺍﺯﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺣﺎﻻﺕ ﮔﻤﺒﮭﯿﺮ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﮔﺎﻣﺰﻥ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﯾﻠﻨﭩﺎﺋﻦ ﮈﮮ، ﺍﭘﺮﯾﻞ ﻓﻮﻝ ﻭﺩﯾﮕﺮ ﻏﯿﺮ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺳﺮﮔﺮﻣﯿﺎﮞ ﺍﺱ ﺑﮯ ﮨﻨﮕﻢ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﮨﯿﮟ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻏﯿﺮ ﻣﻠﮑﯽ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﺯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﮨﻦ ﺳﮩﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﻠﭽﺮ ﺍﻭﺭ ﺛﻘﺎﻓﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻃﺒﻘﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﺣﺼﮧ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﻗﺪﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺼﻮﺭﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﻮ ﭘﺮﻭﺍﻥ ﭼﮍﮬﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﺴﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯿﻮﻥ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺗﺐ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺗﻮﺟﮧ ﺑﺤﺚ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﺎﺕ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﯽ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﻼﺱ ﻓﯿﻠﻮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭ، ﮔﻠﯽ، ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻧﮩﺎ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﮩﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺧﺎﺹ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﺷﮩﺰﺍﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻃﻮﯾﻞ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﯽ ﻗﻄﺎﺭﯾﮟ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻟﺠﺰ ﮐﮯ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﮐﺜﯿﺮ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺩﻭﺷﯿﺰﺍﺋﯿﮟ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺗﻠﺨﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﺨﺘﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﻭﺍﻗﻒ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺩﺭﻧﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺟﮭﺎﻧﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻭ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻧﻘﺶ ﮐﺮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺩﻥ ﮐﺎ ﭼﯿﻦ ﻭ ﺁﺭﺍﻡ، ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﺲ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺍﺗﻔﺎﻗﯽ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﺮ ﭘﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﻨﺎﺋﯿﮟ، ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻟﺐ ﭘﺮ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭘﮍﮬﺎ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﻧﮩﺎﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﯾﮧ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﻻﯾﻌﻨﯽ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﮐﮭﯿﺘﯽ ﮐﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻧﻨﮭﺎ ﺳﺎ ﭘﻮﺩﺍ ﻭﻗﺖ ﺑﯿﺘﻨﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻨﺎﺁﻭﺭ ﺩﺭﺧﺖ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻋﻔﺖ ﻭ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﮑﺮ ﻣﻌﺎﺷﺮﺗﯽ ﺧﺮﺍﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﯾﮧ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﺑﮯ ﺧﻮﺩ ﯼ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺩﮨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺎ ﻣﮑﻤﻞ ﺣﻖ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﯿﺮ ﺷﺮﻋﯽ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﻞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺁﺝ ﮐﺎ ﺟﯿﺘﺎ ﺟﺎﮔﺘﺎ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﯾﮧ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﺻﺒﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﺮﺻﮯ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﻭﺭ ﮐﺮﺍ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮧ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺩﮨﺎﻧﯽ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻮ ﮔﻮﯾﺎ ﻭﮦ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻟﭩﻮ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺟﺐ ﻣﺤﺒﺖ ﭘﺮ ﻣﺮ ﻣﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﻭﻋﺪﮮ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺗﻠﺨﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﺮ ﺣﺪ ﮐﻮ ﭘﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﺰﻡ ﮐﺮﭼﮑﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺣﻖ ﺩﺍﺭ ﭨﮭﮩﺮﺍﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻣﻘﺼﺪ ﺑﮯ ﺍﯾﻤﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﺯﻭﺍﻝ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺳﯿﮍﯼ ﮐﻮ ﻋﺒﻮﺭ ﮐﺮﭼﮑﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺩﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﻔﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺤﯿﻂ ﯾﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﯾﺖ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﮍﻡ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﻠﻨﺪﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﺗﻔﺎﻗﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﻡ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﻮﺱ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﮐﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﯽ ﺷﻔﻘﺖ، ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻏﯿﺮﺕ، ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺲ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻣﻤﺘﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﯾﮧ ﻋﻔﺖ ﻭ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﮑﺮ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺮﭼﯽ ﮐﺮﭼﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﺘﯽ ﭨﻮﭨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﯽ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﯼ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ ﺑﯿﻮﭘﺎﺭﯼ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻣﺪﻋﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻟﻮﭦ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺘﺎ۔ ﯾﻮﮞ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺩﺭ ﺩﺭ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﯾﮧ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﺗﮏ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺧﻮﺩﮐﺸﯿﻮﮞ، ﻣﻨﺸﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ، ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺧﺮﺍﺑﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﺌﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻧﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺑﺪﻧﻤﺎ ﺩﺍﻍ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﮕﮧ ﺟﮕﮧ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﺳﻤﺒﺮ 2012 ﺀﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺧﻮﺩﮐﺸﯿﻮﮞ ﮐﮯ 80 ﻓﯿﺼﺪ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻃﺒﻘﮧ ﻣﻠﻮﺙ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﻥ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺧﺎﺹ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮫ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﻠﮏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﻤﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺳﺮﮔﺮﻡ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﻋﮑﺎﺳﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺭﻭﺯ ﻣﺮﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﻮﺟﻮﻥ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺟﮍﺗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﯾﮩﯿﮟ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﺭﮨﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﺑﻌﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺐ ( ﺧﺪﺍ ﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ ) ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺁﺝ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﻣﭩﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﯿﮟ۔ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﻮ ﺧﻮﺏ ﺳﻮﭺ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﯿﮟ، ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﺱ ﻧﺎﺑﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺟﻮ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﭩﮏ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ۔ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﺮﮔﺰ ﺗﻠﺦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮔﺰﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﮬﻨﮓ ﺳﯿﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﮐﻮﻥ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﺑﺮﺍ؟، ﺍﺱ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﮑﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﭼﻠﻨﺎ ﺳﯿﮑﮭﺎﯾﺎ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﺎ۔ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺣﻘﯿﺖ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﺑﮭﻼ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﻮﺟﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻟﺘﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺻﻨﻒ ﻧﺎﺯﮎ ﮐﻮ ﭨﺸﻮ ﭘﯿﭙﺮﺯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺭﻗﻢ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﺍﺱ ﺧﻠﻖ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﺣﺪ ﺗﮏ۔ ﮨﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮐﺮ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺵ ﻭ ﺣﻮﺍﺱ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﻣﺸﺎﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺗﻠﺨﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺎﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮭﺘﺎﻭﮮ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﺮﺗﯿﮟ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﮨﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﮐﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﮮ۔ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺁﭖ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﺟﺴﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺳﻮﭼﺎ ﺗﮏ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﮭﮯ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﺍﻭﺭ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﭘﺮﺳﺖ ﺍﻋﻠﯽٰ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺑﺲ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﭘﺮﺳﺖ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯾﺎﮞ ﻋﺎﺋﺪ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺧﻮﺏ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﺗﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﺍﻥ ﮐﭩﮭﻦ ﺣﺎﻻﺕ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮﮨﺮ ﮔﺰ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ﺳﺐ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺧﻮﺩﮐﺸﯿﺎﮞ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﮟ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺑﺮﺍﺋﯿﺎﮞ ۔ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﮩﻮﺍﺭﮦ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻣﺜﺎﻟﯽ ﮐﮩﻠﻮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﺣﻘﺪﺍﺭ ﭨﮭﮩﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔
  11. ﺳﯿـﺪﯼ ﻋﺸﻖ ﮐﻮ ﺣﻖ ہے ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺴﻤﺎﺭ ﮐﺮﮮ ﺍُﺱ ﭘﮧ ﺁﻣﯿﻦ ﮐﺮﻭﮞ گی ﺟﻮ ﯾﮧ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﺮﮮ ہم ﻧﮯ ﺍﮮ ﻋﺸﻖ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺮﺷﺪ ﻣﺎﻧﺎ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺟﺮٰﺍﺕ ہے ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﮮ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﺮﻭ ﻭﺍﺟﺐ ہے یہ ﯾﮧ ﻭﮦ ﻭﺭﺩ ہے ﺟﻮ ﭘﺎﮔﻞ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ہے ﻋﺸﻖ ﺑﮭﻼ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺧﺮﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺮﺩﻥ ﺗﻮ ﺟﮭﮑﺎ ﻟﯽ ہے ﻭﮦ ﺍﺏ ﻭﺍﺭ ﮐﺮﮮ ﮨﺎﮞ ﺍُﺳﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﻣﯿﮟ "ﻭﻟﯽ"ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ہوﻧﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺍﻋﻼﻥ ﺳﺮِ ِ ﺩﺍﺭ ﮐﺮﮮ ﺁﺝ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﺎ ﻧﮧ ہو ﺟﺎﺋﮯ میرﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺑﺪﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮐﺮﮮ ﻋﺸﻖ ﺳﯿﺪ ہے ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ہے ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﭼﮭﻮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺻﺎﺣﺐِ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﺮﮮ ﺳﻮﺭﮦِ ﻧﻮﺭ ﻣﻠﮯﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﺴﻞ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺗﮯ ہوﺋﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﮮ
×
×
  • Create New...