Jump to content
Good Morning ×
URDU FUN CLUB

Asifa Kamran

Members
  • Content Count

    532
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Asifa Kamran

  1. ایک برطانوی خیراتی ادارے میک میلن کینسر سپورٹ کے مطابق پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے بعد ایک لاکھ ساٹھ ہزار برطانوی مردوں کی جنسی قوت کم یا مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے۔ اس کمزوری کی وجہ پروسٹیٹ کینسر کی سرجری، ریڈیوتھراپی یا شعاعوں اور ہارمون تھراپی سے علاج کے منفی اثرات بتائے گئے ہیں۔ اس طرز علاج سے بعض مریضوں کے اعصاب مستقل طور پر خراب ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی جنسی قوت ضائع ہو جاتی ہے جبکہ بعض کیسوں میں جنسی کمزوری عارضی طور پر ہوتی ہے۔ دوسری طرف بعض مریضوں کو پروسٹیٹ کینسر کا علاج کرنے کے بعد پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل کی وجہ سے جنسی روابط قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پروسٹیٹ کینسر کے دو میں سے تین مریضوں کا کہنا ہے کہ وہ جنسی کمزوری کا شکار ہیں۔ خیراتی ادارے کا کہنا ہے کہ 2030 تک برطانیہ میں کینسر کے مریضوں کی تعداد دوگنی ہو جائے گی۔ برطانیہ میں سالانہ چالیس ہزار مرد پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ میک میلن ادارے کا کہنا ہے کہ مردوں کو کینسر کے علاج کے بعد جنسی مشکلات پیش آنے پر علاج کی ضرورت محسوس کرنی چاہیے۔ پروسٹیٹ کینسر کے زندہ بچ جانے والے جیم اینڈریو، جن کی عمر 63 سال ہے، نے کہا کہ جب انہیں اس بیماری کا پتہ چلا تو ان کا پہلا ردِ عمل یہ تھا کہ وہ اس بیماری کی وجہ سے مر جائیں گے۔ انہوں نے بتایا ’ اس مرض سے مرنے کے مقابلے میں علاج کی وجہ سے جنسی کمزوری کا مسئلہ بہت چھوٹا لگ رہا تھا لیکن جب محھے اندازہ ہوا کہ میں بچ جاؤں گا تو میری جنسی قوت تباہ ہو چکی تھی۔ ‘ ان کا کہنا تھا کہ’کسی معالج نے میرے ساتھ اس کے بارے میں بات نہیں کی اور کوئی اس کے بارے میں بات نہیں کرتا۔ ‘ میک میلن کے چیف میڈیکل آفیسر پروفیسر جین ماہر کا کہنا ہے کہ پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے بعد جنسی کمزوری پیدا ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے بارے میں کچھ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ’متاثرہ مردوں کی تعداد سے اس بات کی ضرورت کا اندازہ ہوتا ہے کہ کینسر کے علاج سے پہلے مریض کے ساتھ جنسی کمزوری کے معاملے پر گفتگو ہونی چاہیے۔ ‘ ان کا ماننا ہے کہ اس طرح بہت سے مردوں کا پروسٹیٹ کینسرکے علاج کے بعد جنسی کمزوری کے معاملے میں مدد کی جا سکے گی۔
  2. بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیاح کے ساتھ اجتماعی جنسی زيادتی کی گئی ہے۔ یہ واقعہ ضلع دتیہ میں ہوا ہے جہاں پولیس نے گینگ ریپ کے الزام میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ضلع دتیہ کے ایس پی سی ایس سولنکی نے خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ جمعہ کو رات گئے پیش آیا۔ سولنکی کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ تھیں جو بھارت سیاحت کی غرض سے سائیکل پر سوار ہو کر ملک کا دورہ کر رہے تھے اور رات کو جب یہ واقعہ پیش آيا تو وہ ایک گاؤں کی سیر کر رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں میاں بیوی اوچھا کے مندروں سے واپس ہوکر آگرہ کی طرف رواں تھے جنہیں راستے میں پہلے لوٹا گیا پھر خاتون کے ساتھ ان کے شوہر کی موجودگی میں اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کو گوالیار کے ایک ہسپتال میں بھرتی کیا گيا اور ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق خاتون جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گيا۔ پولیس نے اس سلسلے میں شک کی بنیاد پر آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے لیکن اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ اصل مجرم پکڑے گئے یا نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جو افراد حراست میں لیے گئے ہیں ان سے پوچھ گچھ جاری ہے اور اس میں ملوث مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور بد معاش ہیں جنہوں نے انہیں مارا پیٹا اور ان کا لیپ ٹاپ سمیت سامان بھی لوٹ لیا۔ چند ماہ قبل ہی دلی میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آيا تھا جس کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے ہی ملک میں خواتین کے تحفظ سے متعلق طرح طرح کے سوالات اٹھتے رہے ہیں اور دباؤ کے بعد حکومت نےنئے قوانین وضع کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔
  3. جنوبی افریقہ کے وزیرِ صحت نے کہا کہ ہے کہ ملک میں سکولوں کی کم از کم 28 فیصد طالبات ایچ آئی وی کا شکار ہیں جب کہ اس کے مقابلے پر صرف چار فیصد لڑکے ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔ آرون موتسوالیدی نے کہا کہ اس کی وجہ بڑی عمر کے وہ مرد ہیں جو ان لڑکیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 2011 میں سکولوں کی 94 ہزار طالبات حاملہ ہوئیں جب کہ سویٹین اخبار نے بتایا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں 77 ہزار اسقاطِ حمل کیے گئے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جنوبی افریقہ کی دس فیصد آبادی میں ایڈز کا وائرس موجود ہے۔ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے موتسوالیدی کی کوششوں کو سراہا جاتا ہے۔ جب 2009 میں صدر جیکب زوما نے موتسوالیدی کو وزیرِ صحت مقرر کیا، اس کے بعد سے جنوبی افریقہ نے ایڈز کے علاج کا دنیا کا سب سے بڑا پروگرام شروع کیا تھا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ایڈز کی ادویات تک رسائی حاصل کرنے والے مریضوں کی تعداد پونے سات لاکھ سے بڑھ کر 15 لاکھ ہو گئی ہے۔ سویٹین اخبار کے مطابق ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے موتسوالیدی نے کہا ’یہ بات واضح ہے کہ ان لڑکیوں کے ساتھ نوجوان نہیں، بلکہ بڑی عمر کے لوگ جنسی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ ہمیں ان معمر افراد کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہیے جو ہمارے بچوں کو تباہ کر رہے ہیں۔‘ موتسوالیدی نے کہا کہ بعض حاملہ لڑکیوں کی عمریں دس اور 14 کے درمیان ہیں اور وہ ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔ انھوں نے کہا، ’سرکاری ہسپتالوں میں 77 لڑکیوں کا اسقاطِ حمل ہوا ہے۔ ہم مزید اس حالت میں نہیں رہ سکتے۔ ہمیں اس چیز کو روکنا ہو گا۔‘ گذشتہ برس جنوبی افریقہ میں دو لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد ایڈز کے باعث ہلاک ہوئے تھے۔
  4. کسی زمانے میں جب بچہ پیدا ہوتا تھا کہ تو باپ کو پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ بچہ دن کے کس وقت، کن طبی حالات میں پیدا ہوا، تاہم اب حالات بدل چکے ہیں۔ یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بچے کی پیدائش کے وقت باپ کی موجودگی کا رحجان فروغ پا رہا ہے۔ سنہ انیس سو پچاس کی دہائی میں بچے کی پیدائش کے وقت باپ کی موجودگی بہت ہی کم ہوتی تھی۔ اس زمانے میں ڈیلوری روم میں خاتون کو ہسپتال کی ٹرالی میں ڈیلوری ٹیبل تک پہنچایا جاتا تھا۔ اس وقت ڈیلوری روم میں نرسیں ڈاکٹر کے ساتھ کھڑی ہوتی تھیں اور ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کی وجہ سے بچے کی پیدائش ہو جاتی تھی تاہم اس وقت بچے کا باپ کہاں تھا؟ برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر لورا کنگ کا کہنا ہے کہ سنہ پچاس میں آدمیوں کا یہ خیال تھا کہ ڈیلوری روم ان کی جگہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں پیدا ہونے والے بچوں کے والد اپنے بچے کی پیدائش کے دوران ان کی ڈیلوری روم میں موجودگی کے خیال کے لیے ہی تیار نہیں تھے۔ لورا کنگ کے مطابق اس عرصے کے دوران متعدد خواتین بھی اس خیال کو پسند نہیں کرتی تھیں کہ ان کے خاوند بچوں کی پیدائش کے وقت ڈیلوری روم میں موجود رہیں۔ ڈاکٹر کنگ کے مطابق سنہ انیس سو بیس، تیس اور چالیس کی دہائی میں آپ کو ایسی متعدد مثالیں ملتی ہیں جس میں میاں بیوی یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے کبھی ایک دوسرے کو برہنہ نہیں دیکھا۔ ڈاکٹر کنگ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسے جوڑوں کے چھ چھ بچے ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی ایک دوسرے کو مکمل برہنہ نہیں دیکھا۔ سنہ انیس سو پچاس کی دہائی میں یہ رحجان بدلنے لگا اور چند باپ اپنے بچوں کی پیدائش کے وقت ڈیلوری روم میں اپنی موجودگی کو ترجیح دینے لگے۔ سنہ انیس سو اڑتالیس میں برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس متعارف کروائی گئی جس کے تحت زیادہ تر خواتین اپنے بچوں کی پیدائش گھر کے مقابلے میں ہسپتالوں میں کروانے لگیں۔ اس بارے میں ڈاکٹر کنگ کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو اکاون میں لندن یونیورسٹی کالج ہسپتال نے بچوں کی پیدائش کے وقت ڈیلوری روم میں مردوں کی موجودگی کی حوصلہ افزائی کی۔ تاہم اس بارے میں اصل تبدیلی سنہ انیس سو ستر کی دہائی میں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان اعدادوشمار کو حاصل کرنا بہت مشکل ہے تاہم سنہ انیس سو ساٹھ کی دہائی کے آخر سے لیکر سنہ انیس سو ستر کی دہائی کے آخر تک یہ شرح ستر سے اسی فیصد تک ہے۔ سنہ انیس سو ستر کی دہائی میں جب فرینک سپینسر کی بیٹی جیسیکا کی پیدائش ہوئی تو فرینک سپینسر نے ڈاکڑوں سے اجازت لیکر ڈیلوری روم میں آئے۔ اب وقت بہت زیادہ بدل گیا ہے۔ اب لوگ ٹی وی پر ’ون بارن اِن ایوری منٹ‘ جیسے پروگرام دیکھتے ہیں۔ اب شوہر بچوں کی پیدائش کے دوران ہسپتال میں اپنی بیوی کے ساتھ موجود ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ پیدا ہونے والے بچوں کی ’کارڈ‘ کو کاٹ کر بچے کی جنس کا اعلان کرتے ہیں۔ سنہ انیس سو باسٹھ میں امریکی ڈاکٹر رابرٹ بریڈلے کی تحقیق کے مطابق پیدائش کے وقت ڈیلوری روم میں باپ کی موجودگی سے ماؤں کو ریلیکس ہونے میں مدد ملتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چودہ فیصد باپ اب بھی اپنے بچوں کی پیدائش کے وقت اپنی بیوی کے پاس نہیں ہوتے۔
×
×
  • Create New...