Jump to content
URDU FUN CLUB

Page3

Members
  • Content count

    74
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    3

Page3 last won the day on June 17

Page3 had the most liked content!

Community Reputation

284

2 Followers

About Page3

  • Rank
    Great Writer

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. Wah ji wah kia baat hai ...dosto sb kuch waisay ka waisa hai....maza AAA gaya
  2. I m Ready to play comptition with my writing skills :)
  3. Admin Sir Aik Monthly Comptition Ka Pol HOna Chayeh Jiss Main Har Month Ki Shuru Main Mukhtalif Compitions Hon like Poetry,Writing a story etc.
  4. Dear sir agar app forum main aik compition thread ka izafa kar dain gay tu meharbani ho ge.koi bhe hisa na le ga mgr main apni post send karta rahoon ga.meharbani farma kar meri is suggestion per goar farmayain. Thanks
  5. No nude gymnastic...wow admin sir amazing thinking.
  6. Kia baat hai...bohat achi chunni hoi tehreer.....keep it up
  7. Kia Hum VIP Nahi Hain???? Arz kia hai.... Hum dua likhtay rahay woh daga padhtay rahay Aik nuqtay nain mehram se mujram bana dia Reply kar daina admin sir
  8. الارم۔۔۔ بہت کام کی چیز
  9. بچپن سدا نہ باغی بلبل بولے سدا نہ باغ بہاراں سدا نہ ماپے حسن جوانی سدا نہ صحبت یاراں کسی پنجابی شاعر نے اس ایک شعر میں ایسی دنیا سمو دی ہے جسکی سچائی کو کوئی خاص و عام نہیں جھٹلا سکتا۔سدا رہنے والی ذات صرف خدائے برتر کی ہے۔اور ہر نفس کو واپس لوٹ جانا ہے۔حسین رنگوں اور دنیا کے پرکیف نظاروں سے مزین بچپن ہمیشہ یاد رہتا ہے وہ دادی اماں کی کہانیاں کہ چاند میں ایک بڑھیا رہتی ہے۔گھنٹوں رات میں دادی اماں کی بات کا نتیجہ اخذ کرنے کے لئے چاند کو دیکھتے رہنا۔کھیل کے میدان میں اٹکھیلیاں کرنا۔ کچھ بھی تو نہیں بھولتا۔۔۔۔ہاں بھولتا ہے تو صرف ایسا زخم جو کسی دوست سے ملا ہو۔مگر دوست ہمیشہ یاد رہ جاتے ہیں۔بچپن کے یار بھی بڑے عجیب تھے ناں؟ آہ۔۔گیا بچپن اور آئی جوانی سب کچھ بکھر گیاکانچ کے کھلونے جیسا ایک سپنا جو ٹوٹ گیا۔ ہائے میرا بچپن مجھ سے بچھڑ گیا۔ جب ابو سب کے لئے ایک جیسا کھلونا لاتے تھے۔اور سب سے بہت پیار کرتے تھے۔ پاکٹ منی دیتے تھے۔اور سب بھائی بہنوں کو پالتے تھے۔ کیسا عجیب دور آتا ہے ناں بچپن کے بعد ۔۔۔۔۔کہ ایک باپ سب بھایئوں کو پال لیتا ہے مگر کئی بھائی ایک باپ کو نہیں پال پاتے۔۔۔ ایک ماں سب پیدا ہونے والے بچوں کو سینے سے لگاتی ہے ان کے ہاتھ پیر چومتی ہے مگر سب پیدا ہونے والے بچے جوان ہو کر ایک ماں کے پیر نہیں چوم سکتے حالانکہ جنت کی چوکھٹ چومنے جیسا احساس ہے۔ جب بچپن میں تھے تو ماں باپ سے محبت کی مثالیں اپنے ہوم ورک کی کاپیوں میں لکھا کرتے تھے ۔دوستوں کے سامنے اپنے والدین کی تعریفیں کیا کرتے تھے۔ مگر جب بچپن گیا تو انہی والدین کا بوجھ اٹھانے کے لئے دوسرے بھایئوں سے مشورے کرتے ہیں کہ ابو کو کون رکھے گا اور امی کو کون اپنے پاس رکھے گا؟ وقت بھی بڑی ظالم تلوار کا نام ہے جو رشتوں کو اپنی تیز دھاری سے کاٹتی ہے اور درد کا ایک نیا احساس دیتی ہے۔ بچپن کی میٹھی بولیاں ابھی تک کانوں کے پردوں کو لرزاتی ہیں۔وہ وقت وہ لمحے یاد آتے ہیں تو آنکھیں چھلک جاتی ہیں ہونٹ لرز جاتے ہیں جسم میں ایک کپکپی نمودار ہوتی ہے۔مگر یہ عمل کچھ ہی دیر کا ہوتا ہے پھر ایک آواز بچپن کے حسین باغ سے کھینچتی ہوئی دنیائے درد میں لے آتی ہے۔۔۔وہ آواز جس کی مٹھاس کبھی خود محسوس کیا کرتے تھے ۔۔۔ابا جان آپ کیا سوچ رہے ہیں؟؟؟
  10. ایک کہانی انسان جس کی تخلیقات سے زمانہ سنورتا چلا گیا۔جس کی کاوشوں سے ہر جاندار شے کی بہتری عمل میں آئی۔جب روشنی کا نام و نشان نہ تھا تو اسی انسان نے آگ سے روشنی پیدا کی حرارت کا یہ عمل نسل در نسل چلتا رہا۔کچھ وقت نے کروٹ بدلی تو انسان نے بجلی بنانے کا عمل شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری زمین پانی سے بننے والی روشنی جس کا نام بجلی رکھا گیا جگمگا اٹھی۔ایسی کئی سہولتیں انسان کے مقدر کا حصہ بنیں۔ مگر ترقی انسان نے کی تھی نہ کہ کسی امیر یا غریب نےنہ کسی گورے نے نہ کالے نے مگر اس امتیازی ایکٹنگ کو ہر خاص و عام نے زندہ رہنے کے لئے آکسیجن سمجھ لیا۔ایک ابن آدمؑ ایک خوبصورت کمرے میں جس کی چھت کو چاک کی بڑی بڑی اینٹوں سے ڈھانپ دیا جاتا ہے تا کہ کسی پر مٹی کا ایک ذرہ بھی نہ گرے ۔اے سی کمرے میں نصب کیا جاتا ہے۔خوبصورت اور دلکش فرنیچر بیٹھنے کے لئے سجایا جاتا ہے۔یہ ایک طالب علم کا کمرہ ہے یہ اس کا مدرسہ ہے اسکی پہلی پروان کو پرکھنے کے لئے ایک عمدہ ماحول۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف ایک اور ابن آدمؑ مٹی کے بچھونے پر اپنی ادھ ننگی ٹانگوں کو پھیلائے نیم کے درخت کے نیچے بیٹھا ہے۔اس کو سردی لگتی ہے تو کھلی کھلی دھوپ کا سہارا لیتا ہے اور گرمی ستاتی ہے تو درختوں کی چھاوں میں بیٹھ جاتا ہے۔۔۔۔ دونوں ہی آدمؑ کے بیٹےہیں۔دونوں کی شکل و شباہت بھی انسانوں جیسی ہے بولتے بھی انسانوں جیسا ہی ہیں۔پھر اس دور کے لوگوں نے اتنا بڑا امتیاز کیوں رکھا ہے؟؟؟؟؟ شاکر نے بیمار ماں کے چہرے پر اپنا الٹا ہاتھ رکھا اور چہرے کی حرارت کو نوٹ کیا۔ ارے ماں تمہیں تو بہت سخت بخار ہے؟میں تمہارے لئے دوائی لے کر آتا ہوں۔ پندرہ سالہ شاکر ماں سے جھوٹا وعدہ کرتا ہو باہر نکل جاتا ہے۔جس کی جیب میں ایک پھوٹی کوڑی نہیں وہ اپنی بیمار ماں کے لئے دوائی لینے چلا ہے۔ کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر کے پاس پہنچا اور اپنے ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے التجا کی۔ڈاکٹر صاحب میری ماں بہت بیمار ہے۔میرے ساتھ چلیں اس کو چیک کریں وہ چل بھی نہیں سکتی ہے۔ جناب ڈاکٹر صاحب جس نے کبھی میڈیکل کالج میں دوستوں سے جھوٹے وعدے کیے تھے اور کتاب کے پہلے صفحے پر پڑھا ہوا تھا کہ ایک ڈاکٹر کا فرض ہے کہ وہ مریضوں کی مدد کے لئے کہیں بھی پہنچ جائے چاہے اس کو کچھ ملے یانہ ملے۔ ڈاکٹر نے شاکر کے پھٹے ہوئے کپٹروں اور عمر سے اندازہ لگاتے ہوئے کہا ارے کوئی اس بھکاری کو ہسپتال سے باہر نکلالے۔کہیں بھی مانگنے کے لئے آ جاتے ہیں۔ شاکر سارا دن ماں کے علاج کے لئے ڈاکٹروں کے کلینک ہسپتال میں جاتا رہا مگر کسی نے اس غریب کی کوئی بات نہ سنی۔تھپڑوں اور گالیوں سے اسے خوش آمدید کہتے رہے۔ شاکر کے پاس تھا ہی کیا؟؟ سوائے ما ں کے جو لوگوں کے جھوٹے برتن صاف کر کے بیٹے کو ایک گورنمنٹ سکول میں پڑھا رہی تھی تاکہ شاکر بڑا ہو کر ایک اچھا انسان بن سکے۔ آخر کار شاکر تھک ہار کر لوگوں کی گالیاں تھپڑ کھا کر شام کو مایوس گھر پہنچا تو اسکی دنیا اجڑ چکی تھی۔اس کے گھر کے سامنے لوگ جمع تھے۔۔۔۔وہ بھاگتا ہو گھر میں داخل ہو تو مری ہوئی ماں کے قدموں میں گر گیا۔۔۔اس کے آنسو ماں کے پیروں کو چوم رہے تھے۔اس کی چیخوں میں سسکیوں میں سب کچھ نکل رہا تھا۔ایک معصوم بچہ اور وہ بھی اکیلا ایک آخری سہارا ماں کا تھا وہ بھی جاتا رہا۔۔۔۔۔ چھبیس سال کے بعد پولیس انسپکٹر صاحب آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟شہر میں دن بدن موتیں واقع ہو رہی ہیں ۔آخر پولیس کیا کر رہی ہے؟یہ آج 17واں ڈاکٹر قتل ہوا ہے۔آخر کون ہے جو اتنی بے رحمی سے صرف ڈاکٹروں کا قتل کر رہا ہے؟؟؟؟؟؟ ختم شد ہر جرم کی ایک کہانی ہوتی ہے۔۔۔۔اور ضروری نہیں ہر کہانی میں ایک مجرم سچ مچ کا مجرم ہوتا ہے۔۔۔اسے مجرم بنایا جاتا ہے۔۔۔۔کوئی مجرم ماں کے پیٹ سے مجرم بن کے نہیں آتا۔ از۔۔۔اسد علی حسنین
×