Jump to content
URDU FUN CLUB

goldfishpk

Members
  • Content count

    42
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

goldfishpk last won the day on April 20 2015

goldfishpk had the most liked content!

Community Reputation

87

About goldfishpk

  • Rank
    Junior Member

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. ہم سمجھ گئےاور لپٹ کر آخری دھکے لگائے۔اور ایکدوسرے سے چمٹ گئے۔اس بار جسمانی وائبریشن بھی اچھی تھی ۔پانی نکلا اور مزہ آگیا۔ہم لپٹے رہے اسی حالت میں۔پھر کچھ دیر بعد علیحدہ ہوگئے۔ساتھ ساتھ لیٹ گئے۔پرنس تم اتنے عرسے بعد آئے لیکن ساری حسرتیں نکال دی۔میں اکثر دل میں سوچتی تھی کہ ایک ہی مرد پر دل آیا تھا اور اسی سے چودائی نہ کرسکے۔لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ تم بھی مجھے نہیں بھولے ہو گے ۔پرنس جب میں نے تمھیں ٹیوشن پڑھانا چھوڑ تو جوسلین سے بھی قطع تعلق کر لیا،بلکہ ہمارے تعلقات میں سردمہری تو اس سے بھی ایک سال پہلے آگئی تھی۔میں اس کی رازدار تھی اس کی شاگرد تھی،ہم نے مل کر کئی شکار کیے تھے۔لیکن تمھاری باری وہ مجھے ٹھینگا دکھا گئی الٹا مجھے ذلیل بھی کیا،تو میں اس سے متنفر ہوگئی ،لیکن تمھاری چاہت میں ٹیوشن پڑھانے آتی رہی۔جوسلین بھی مجھے اسی لیے برداشت کرتی رہی کہ مجھ سے بہتر ٹیوشن پڑھانے والی اس کی نظر میں نہیں تھی۔میں ثمینہ کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ میرے لیے یہ انکشاف تھا کہ ثمینہ اور جوسلین ایکدوسرے کی ساتھی تھی مجھے ثمینہ سے سب کچھ معلوم کرنا تھا،اور وہ شروع ہوگئی۔اس نے وہی سب کچھ کہا جو غزل نے بتایا تھا ،بلکہ اس سے زیادہ بتایا۔اور یہ بھی کہا کہ اس کے حلقے میں مشہور ہے کہ جوسلین نے ایک انمول بچہ رکھاہوا ہے جسے اس نے سونے میں تول دیا ہے۔جوسلین کسی کواس بچے کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتی۔ثمینہ چلی گئی اور مجھے وہ کچھ کہہ گئی جو میں نہیں جاننا چاہتا تھا ۔میں سوچنے لگا کہ کیا میں اس سے ملنے ایسے ہی چلا گیا تھا یا ایک پروگرامنگ تھی یعنی طے شدہ تھا،اس وقت میں دھواں دھواں ہو رہا تھا،میں پیدل ہی فلیٹ سے نکل پڑا ۔پتہ نہیں کہاں کہاں گھومتا رہا،دن سے شام ہوگئی اور شام سے رات ہوگئی ،موبائل کی بیل بجتی رہی ،لیکن میں نے نہ اٹھایا،آخر میرے پاس ایک گاڑی آ کر رکی، اس میں جوسلین تھی،اس نے مجھے بازو سے پکڑا اور گاڑی میں بٹھایا،میں گاڑی میں بیٹھ گیا،وہ مجھے گھر لے گئی،،مجھے نہیں پتہ اس نے مجھے کیسے ڈھونڈا ،لیکن ڈھونڈلیا،،اس نے مجھ سے کچھ نہ پوچھا شاید اس کے دل میں چور تھا ، مجھے بھی اب کسی سے کوئی مطلب نہیں تھا۔اب دنیا بے اعتباری ہوچکی تھی،ایک آدمی صحرا میں سفر کرتا ہے اورپیاس سے نڈھال ہو،اور دور کہیں اسے نخلستان نظر آئے وہ ہر قدم مرتا ہوا وہاں پہنچتا ہے تو وہاں جا کر پتہ چلتا ہے کہ یہ تو سراب تھا،ریت اور دھوپ کا عکس مل کر اسے چشمہ دکھا رہے تھے تو اس آدمی کا کیا حال ہومیں ٹھیک ٹھاک تھا مگر ٹھیک نہیں تھا،دو دن وہ بلواسطہ مجھے سمجھاتی رہی مجھے ٹٹولتی رہی لیکن کچھ نہ سن سکی، تیسرے دن وہ یونیورسٹی گئی لیکن جلدی ہی واپس آگئی ،اور مجھےڈاکومنٹ پکڑائے ،آج شام کی تمھاری فلائیٹ ہے،،میں چاہتی ہوں تم اس ورکشاپ میں حصہ لو،وہ اپنے طریقے سے مجھے بہلا رہی تھی۔مجھے مصروف کر رہی تھی۔لیکن یہ سب تب چلتا ہے جب اندر ترنگ ہو اب اندر تنگ تھا۔میں نہیں جانا چاہتا تھا ،بلکہ مجھے کسی سہارے کی ضرورت تھی،لیکن اچانک کوان لی کی آواز آئی، ۔چلے جاؤ میرے بچے ،اور میں نے سر ہلا دیا،دیوتا جیسے استاد کا حکم سر آنکھوں پر،جوسلین خود مجھے ایئر پورٹ چھوڑ کر آئی،پرنس تمھیں میری ایک دوست وہاں ریسیو کرنے آئے گی ،تمھاری رہائش وغیرہ کا سار انتظام اسی کے پاس ہے،کسی بات کی فکر نہ کرنا،جوسلین نے پانچویں بار اپنی بات دہرائی،میں جہاز میں بیٹھا اور جب جہاز اتر ا اور میں ایئر پورٹ سے باہر نکلا تو سامنے۔۔۔۔۔۔۔۔ زونگینگ کوان لی کھڑے تھے،دیوتاؤں کی مسکراہٹ جیسے،میں ان کے گلے لگ گیا،مجھے سہارا چاہیے تھا سہارا مل گیا،میرے بچے بہت بوجھ ہے تمھارے دل پر اس بوجھ کو اتار دو۔۔کیونکہ تقدیر کی اپنی پروگرامنگ ہے ۔اس نے مجھے میرا وارث دینا تھا۔باقی سب بہانے تھے ۔۔اور میرے دل سے سارا بوجھ اتر گیا،کوان لی نے یہی کہا تھا کہ آجاؤ میرے بچے،،اور میں اس فلائیٹ میں نہیں گیا تھا بلکہ دو دن بعد لاہور سے چائنہ کیلیے فلائیٹ لے لی تھی، مارشل آرٹ کے استادوں کا ملک چائنہ،کوان لی مجھے اپنے گھر لے گیا،شہری ہنگاموں سے دور اس کا گھر ایک خوبصورت وادی میں تھا ۔جس کے ایک طرف سرسبز پہاڑ تھے اور اس کا گھر بھی پہاڑ کے دامن میں ایک مسطح پہاڑ پر تھا ،ایکطرف سارا قصبہ تھا، جب ہم اس سے گزرےتو ہر شخص کوان لی کو سر جھکا کر سلام کرتا نظر آیا ،چائنیز طرزِ تعمیر کا خوبصورت گھر کافی وسیع تھا،اب میں نے یہیں رہنا تھا ،میں سب کچھ وہیں چھوڑ آیا تھا،کوان لی کی بیوی اسی کی طرح درویش صفت تھی،اس رات مجھے بڑی اچھی نیند آئی۔اگلے دن ناشتے کے بعد ہم بیٹھ گئے،یہ کوان لی کا ڈوجو یعنی پریکٹس ہال تھا،میرے بچے،جوسلین سے جب میں ملا تھا تبھی میں اس سے متنفر ہو گیا تھا،وہ ان لوگوں میں سے تھی جو دو منہ والے ہوتے ہیں،ان کا ایک چہرہ بڑا خوشنما ہوتا ے اور دوسرا بڑا زہریلا ،ایسا زہریلا جس کا کوئی علاج نہیں،اس نے تمھیں ایسےخوشنما جال میں پھنسایا تھا کہ تم ساری عمر اس کے اثر سے نکل نہیں سکتے تھے،اس نے تمھیں کہا کہ اپنی مرضی سے آؤ جبکہ یہ پھندا تھا ،پھر اس نے جو تمھیں بنانے کا پروگرام بنایا تھا وہ سب تمھیں اپنے زیرِ اثر رکھنے کیلیے تھاتم کچھ بننے کے چکر میں اس کے اشاروں پر چلتے رہتے اور کبھی اس کے اثر سے نہیں نکل سکتےتھے،کیونکہ اس کا یہ پروگرام کبھی ختم نہیں ہونے تھے ،اس کے پاس چالیں بہت تھیں۔خود کو تمھارا عاشق ظاہر کرنے کیلیے وہ تمھاری بیوی کی طرح خدمت کرتی رہی،،اسنے تمھارے خیالات سوچوں اور دل و دماغ پر قبضہ کرلیا تھا،تمھیں بس جوسلین ہی نظر آتی ھی اور بس،،قسمت نے یہاں سے پلٹا کھایا جب میں تم سے ملتاہوں،اس کے پروگرام میں مارشل آرٹ کا گرینڈ ماسٹر تھا لیکن تمھیں متاثر کرنے کیلیے اس نے سب سے بہترین ڈھونڈا۔یہ فن اس کیلیے لڑنے بھڑنے کیلیے تھا اور بس۔۔اگر میری جگہ کوئی بھی اور ہوتا تو اس کا پروگرام چلتے رہنا تھا ،بلکہ اسنے تمھیں مارشل آرٹ کی ٹریننگ سے نکلنے ہی نہیں دینا تھا،وہ دیکھ چکی تھی کہ مارشل آرٹ سے محبت تمھاری گھٹی میں پڑی ہے،لیکن کیسے یہ اسے بھی نہیں پتہ تھا،یہ قدرت کی پروگرامنگ تھی،،اس نے تم پر دولت کی بارش کر دی،یہ بھی اس کی ایک گہری چال تھی،حتی کہ اس نے مجھے بھی سونے میں تول دیا،تمھارے ملک میں آنٹیاں بچے پالتی ہیں اور خرچے لگا دیتی ہیں،بس یہی کچھ اس کیلیے تم تھے ۔ اور یہ بچے کا جیب خرچ تھا۔بس بچہ ذرا انمول تھا ، اس کاکوئی تم پر احسانات نہیں تھے بلکہ وہ ان احسانات کو غیر محسوس طریقے سے گنوا کر تمھیں اپنے کنٹرول میں رکھتی تھی ۔بڑی اونچے درجے کی فنکار تھی،،وہ ایک خوبصورت ناگن تھی۔ جو اپنے شکارکو اپنے بس میں کرلیتی ہے۔ نگینہ اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ،لیکن گھاؤ تو اس کا بھی بہت گہرا ہے،،آج سے تم مجھ سے وعدہ کرو گے کہ تم اپنی خرافات میں میری دی ہوئی کوئی طاقت استعمال نہیں کرو گے،ایک وقت آئے گا ان خرافات سے تمھارا دل بھر جائے گا،نگینہ کو بھی خود ڈھونڈو گے ،جب اسے سزا ملنی ہوگی وہ تمھیں مل جائے گی،اب جو تم سیکھو گے وہ کنگفو کا چھپا ہوا خزانہ ہے ۔اور خزانے ظرف والوں کے حوالے کرتے ہیں،تا کہ وہ اس کی صحیح حفاظت کریں،اور صحیح جگہ استعمال کریں،،تم لکھنا چاہتے ہو،لکھو ہم اس پر بھی بات کریں گے،قدرت نے یہ صلاحیت بھی تم میں رکھی ہے،اور کمال کی رکھی ہے،کوان لی نے آنکھیں بند کر لیں،میں نے بھی آنکھیں بند کر لیں،ہم اسی جگہ ایکدوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے،میرے بچے ہم اسوقت خواب میں ہیں ،اور ہمارے ان جسموں کو جدیدپیراسائیکالوجی میں آسٹرل باڈی کہتے ہیں،یہاں کی رفتار بہت تیز اور اختیارو طاقت کمال کا ہے،جیسے ہم خواب میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں ہو آتے ہیں، یا مشکل سے مشکل کام کر لیتے ہیں،،اسی طرح اس جسم سے ہم دنیا میں بھی کام لے سکتے ہیں،جیسے جیسے تمھاری مشق بڑھتی جائے گی اس جسم سے آہستہ آہستہ تم بھی کام لینا سیکھ جاؤ گے اور یہ جسم طاقتور ہوتا جائے گااور پھر اسی جسم کو دنیا میں بھی استعمال کر سکو گےبالکل میری طرح ۔کوان لی نے اپنے مکان کے ساتھ والے پہاڑ پر کک ماری اور وہ ریزہ ریزہ ہو گیا ،،ایک گھنٹے بعد ہم نے آنکھیں کھولی تو میرا نیا سفر شروع ہوچکا تھا۔ مراقبے کے علاوہ میں صبح سے شام تک جسمانی پریکٹس بھی کرتا،اور رات کو آرام کرتا،میں نے جو کچھ پہلے سیکھا تھا وہ ہی بہت کچھ سمجھتا تھا ،لیکن اب جو سیکھ رہا تھا تو سمجھا کہ اصل کنگفو تو یہ ہے کوان لی سے میری وابستگی،ایک استاد سے شاگرد کی تھی،پھر یہ روحانی رشتے میں تبدیل ہوگئی،اور پھر میں جیسے جیسے اس دیوتا کے قریب ہوتا گیا میں ان کا گرویدہ ہوتا گیا،انہوں نے کمال شفقت اور مہربانی سے مجھے سمیٹ لیا،اور اپنے بیٹے جیسا پیار دیا، کوان لی کی کوئی اولاد نہیں تھی،وہ اپنے بڑے سے مکان میں پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔کوان لی،جڑی بوٹیوں اور آکو پنکچر سے علاج کرتا تھا یہی اس کی مصروفیت تھی،جڑی بوٹیوں سے علاج کنگفو کا ایک حصہ ہی ہے۔ کوان لی نے میری زندگی بدل دی،اگر وہ مجھے نہ ملتے تو میں آج بھی کسی آنٹی کا بچہ ہوتا ۔لیکن کوان لی نے مجھے فرش سے اٹھا کہ عرش پر بٹھا دیا،دلآویز کی دادی کے بعد کوان لی مجھے مخلص ترین رشتہ ملا،اتنا مخلص کہ میں اس کے اشارے پر جان بھی دے سکتا ہوں کوان لی کی بیوی لی جُو،آن۔(یعنی خوبصورت اور نرم دل) نے مجھے ماں کاپیار دیااور میرے اندر جو خلا تھا وہ اس نے پر کر دیا،وہ جانتی تھی کہ کوان لی نے مجھے اپنی وراثت کیلیے چن لیے ہے۔میاں بیوی میں بہت پیار تھا اور کوان لی اور اور اس کی بیوی نے محبت کی شادی کی تھی،ان کی نوک جھونک سے میں بہت لطف اندوز ہوتا تھا،اکثر مجھے انکی نوک جھونک میں کودنا پڑتا لیکن پھر میں ہی نشانہ بن جاتا،اسی طرح ہم بڑی خوش و خرم زندگی گزار رہے تھےاور مجھے یہاں آئے ہوئے چھ مہینے ہو گئے تھے،اس دوران مجھ میں بہت سی تبدیلیاں آئی ،اب میں نے حیران ہونا چھوڑدیا تھا کہ مافوق الفطرت بننا اصل میں انسان کی ہی قسمت میں ہے،ان دنوں میں نےپہلا آرٹیکل لکھا اور کوان لی نے اس کا چائنیز میں ترجمہ کر کے چھپوا دیا ،جب وہ چھپا تو مجھے خوشی ہوئی کہ میں لکھ سکتا ہوں۔نہیں بلکہ اس پہلے میں ایک نفسیات پر مقالہ لکھ چکا تھا وہ میں نے جوسلین کو دے دیا تھا،وہ شاید نہ چھپا ہو،اس طرح میں مقالہ جات کی طرف رجحان سازی رکھتا تھا ،سماجی ،معاشرتی،رسم رواج ،انسانی نفسیات،سیکس ،مذاہب،تواریخ ،میرے پاس لکھنے کو موضوع بہت تھے،خیر اس خشک موضوع سے آپ کو بچاتے ہوئے اس کو قصہ مختصر کردیتے ہیں،مزید چھ مہینے گزر گئے،مجھے ایک سال ہوگیا،اس دوران میں انٹرنیٹ پر مطالعہ اور پریکٹس اور کوان لی اور اس کی بیوی کی محبت بس یہ تین کام تھے مجھے،اور ان تین کاموں میں چھ مہینے اور گزر گئے مجھے کوان لی کے پاس ڈیڑھ سال ہوگیا تھا۔میں نے پچھلی زندگی کو بھلا دیا تھا،کچھ آرٹیکل اور لکھ دیے، کوان لی کھانا کھاتے ہوئے کسی سوچ میں گم تھا ،میں نے لی جُوآن کی طرف دیکھا اور اشارے سے پوچھا کیا بات ہے،،ان میں کوئی نوک جھونک تو نہیں ہو گئی،انہوں نے ہاتھ کہ اشارے سے فرضی مکھی اڑائی اور مجھے کہا فکر نہ کرو،میں یہ اشارے بازیاں دیکھ رہا ہوں ،کوان لی نے لی جُوآن سے کہا،انہوں نے کندھے اچکائے اور منہ بنا لیا،، میں نے چوپ اسٹک سے چاول کھاتے ہوئے کوان لی سے سے پوچھا کیا بات ہے ماسٹر ؟میرے بچے جو کچھ ہم سیکھتے ہیں کسی نہ کی جگہ اس کا ہمیں امتحان بھی دینا پڑتا ہے چاہے وہ زندگی کی کوئی مشکل ہو یا دنیا کا کوئی میدان،لی جُوآن نے اسے دیکھ اور پھر سمجھ گئی ہو کہ کیا بات ہے،ایک ہفتے بعد ہم اس قصبے سے نکلے اور کسی شہر میں پہنچ گئے،وہاں ایک عمارت میں ہمارا قیام ہوا،مجھے وہاں صرف مارشل آرٹسٹ نظر آئے تو سمجھ آئی کہ یہاں کوئی مقابلے وغیرہ ہو رہے ہیں،لیکن شام کو جب ماحول دیکھا تو پتہ چلا کہ یہاں صرف ماسٹرز آتے ہیں،اور یہ سال میں ایک بار ہوتا ہے ،مارشل آرٹ پر کئی مقابلے چائنہ میں ہوتے رہتے ہیں،لیکن یہ سب سے خاص اورہٹ کر تھا۔یہ عوا م الناس کےنہیں خواص لاخواص کے مقابلے تھے ہم نے اکھٹے شام کو دو مقابلے دیکھے،دونوں ہی ٹاپ کلاس تھی مجھے مزہ آیا،مقابلے فل کونٹیکٹ باڈی کے تھے ،یعنی جسم کے ہر حصے کو ہٹ کیا جا سکتا تھا۔ویسے تو موئے تھائی،کیوکشن ،کراٹے،تائیکوانڈو ۔جیت کون ڈو وغیرہ فل کونٹیٹ فنون تھے ،لیکن جس مقابلے میں چاہیں فل کونٹیکٹ رکھ سکتے ہیں،آنے والے ماسٹرز کوان لی کو جانتے تھے اور اسے دیکھ کر حیران تھے کیونکہ وہ ایسے مقابلے پسند نہیں کرتا،لیکن میں سمجھ گیا وہ یہاں کیوں آیا ہے وہ اپنے شاہکار کو دکھانے آیا تھا،شاید ان سب میں ایسی باتیں چلتی تھیں،یہ بھی تھا کہ ماسٹرز کے اس مقابلے میں وہ مجھے لا کر بتا رہا ہو کہ اس نے مجھے اپنی وراثت دے دی ہے،کیونکہ ا سپر کئی لوگ طنز بھی کرتے تھے کہ یہ تو قبر میں جائے گا لیکن کسی کو کچھ سکھائے گا نہیں۔ ویسے یہاں ہر بندہ کوان لی کے سامنے ایکبار جھک کے تعظیم ضرور دیتا تھا، ،دوسرے دن کوان لی کا مزاج بڑا خاص تھا،سامنے ایک ریڈبیلٹ ماسٹر ماسٹر بیٹھا ہوا تھا ،میں نے اسے آج ہی دیکھا تھا ۔خطرناک لگتا ہے ،میں نے جان بوجھ کر کہا، نالائق شاگردوں کوا یسا ہی کہنا چاہیے ۔،دیکھو اسے ،اس نے ریڈبیلٹ کیلیے ایک عمر صرف کر دی ہےاور خود کو دیکھو تم ابھی صِرف 21 کے ہو، ابھی تمھارا اس سے مقابلہ ہو گا،کیا ،میں نے مصنوعی حیرانگی سے کہا ۔کسی نالائق شاگرد کی طرح میرا نام مت ڈبو دینا،کوان لی نے ناراضگی سے کہا ، نوک جھونک کی عادت انہیں میرے ساتھ بھی پڑ گئی تھی،مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ کوان لی میرا فن دکھانا چاہتا ہے،آخر انہوں نے بھی تو کبھی خود کو منوایا تھا۔ کچھ ہی دیر میں اور ریڈبیلٹ والا آمنے سامنے کھڑے تھے،ہم نے جھک کر ایکدوسرے کو تعظیم دی،ریڈبیلٹ والا پرسکون نظر آ رہا تھا ،اس نے سٹانس بنایا اور اٹیک کرنا چاہا،میں اسی بات کا انتظار کر رہا تھا،میرا مکا اس کی تھوڑی کی طرف گیا،اس نے پھرتی سے اٹیکنگ پوزیشن سے خوبصورت بلاکنگ کی،لیکن وہ میرا مقصدنہیں سمجھا تھا ،،میرا مکا اس کی بلاکنگ سمیت اس کی تھوڑی کولگا،میں نے تو ضرب لگائی ہی نہیں تھی میں نے تو پش کیا تھا،ریڈبیلٹ اوپر کو اچھلا،میں اس کے پیچھے اچھلا ،میرا گھٹنا اس کی کمر پر تباہی لے آیا ،وہ اور اوپر ہوا،اور پھر نیچے کی طرف گرا اور میر ی کہنی اس کے سینے پر پڑی ،جب اس کا جسم نیچے گرا تو وہ بے ہوش ہوچکا تھا اور میں اس کے پاس ایسے اترا جیسے کوئی اڑتا ہوا نیچے آتا ہے،چار سیکنڈ پورے نہیں ہوئے اور ریڈبیلٹ ناک آؤٹ ہوچکا تھا۔جیسے انہونی ہوگئی تھی،کسی کو ایک لمحے کیلیے کچھ سمجھ نہ آئی ،میں ایسے وہاں کھڑا تھا جیسے کوئی ہےتو آجائے،اور سب سے بڑی کرسی پر بیٹھے ماسٹر نے وہیں سے چھلانگ لگائی اور میرے سامنے آکھڑا ہوا۔اسی کی سرپرستی میں تو یہ ساری فائیٹ ہو رہی تھیں،اوروہ استادوں کا ستاد تھا اور اس کا کلب ایسی جگہ تھی جہاں ماسٹرز بنتے تھے اور بنے ہوئے ختم ہو جاتے تھے۔کیونکہ اس کلب کو چلانے والا پورے چائنہ کا گرینڈماسٹر تھا،تمام چائنہ میں بیلٹوں اور کلبوں کی سطح کا سب سے بڑا استاد،پورے چائنہ میں اس کے ہزاروں شاگرد تھے ۔جس کے سر پر ہاتھ رکھ دیتا اس کا نام گونجنے لگتا تھااور جس کو وہ رد کردیتاوہ کہیں کا نہیں رہتا تھا، استادوں کا ا ستاد میرے سامنے آکھڑا ہوا تھا،اسے نہیں پتہ تھا کہ ریڈبیلٹ والا تو چارا تھا اصل نشانہ تو وہ خود تھا،اسی لیے کوان لی نے اس کے بیٹے ریڈبیلٹ والے سے میرا مقابلا کروایا تھا،اورمیں نے اسے کسی بچے کی طرح ہرایا تھا تا کہ وہ اپنے بیٹے کا بدلہ لینے جذبات میں خود ہی سامنے آجائے،، ہال میں مکمل خاموشی تھی،انگلش میں اسے پن ڈراپ خاموشی کہتے ہیں، اب نہ میں نے اس کو کوئی حملہ کرنے دینا تھا تا کہ وہ یہ نہ کہہ سکے کہ کوان لی کہ شاگرد پر اس نے حملہ کی ااور ا سنے بلاک کرلیا اور نہ اس پر ایسا حملہ کرنا تھا کہ وہ اسے بلاک کرسکے،مجھے کوان لی کے نام کی عزت رکھنی تھی،مقابلہ شروع ہوا، استادوں کے استاد کے تیور سے ہی میں سمجھ گیا کہ اس نے قاتلانہ حملہ کرنا ہے،کچھ حملے ضرب لگانے کیلیے اور کچھ توڑنے کیلیے اور کچھ ختم کرنے کیلیے ہوتے ہیں، استادوں کے استاد کو سمجھنا چاہیےتھاکہ میں عظیم کوان لی کا شاگرد ہوں،جیسے ہی مقابلہ شروع ہوا۔میں نے اس پر حملہ کر دیا۔میرا مکا اس کے چہرے کی طرف بڑھا ،یہ ایک آسان حملہ تھا ،اس نے اپنی کھڑی ہتھیلی سے میرا مکا ایک سائیڈ میں نکالنا چاہا ۔لیکن یہ تو تھا ہی ا سکی ہتھیلی کیلیے ،اس کے ہاتھ پر جیسے قیامت آگئی۔نیچے سے دوسرا مکا اس کی طرف گیا۔اس نے بلاک تو کرنا ہی تھا۔لیکن میں بھی چاہتا تھا کہ وہ بلاک کرے،میری تیکنیک ہی کچھ ایسی تھی۔کہ وہ بلاک کرے اور میں اسے نشانہ بناؤں کیونکہ میں اسے زیادہ موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔میرے دوسرے مکے نے اس کے دوسرے ہاتھ کا ستیاناس کردیا تھا۔اس کے ہاتھ کڑی پریکٹس سے پتھر بن چکے تھے۔لیکن وہ اگر پتھر تھا تو میرے لیے فولاد بھی موم تھا۔اب کی بار اس نے کک سے حملہ کیا،بڑی اچھی بات تھی اس نے یہی کرنا تھامگر میں تو وہاں نہیں تھا۔ میں اسکی سایڈ میں آچکا تھا۔اور میر ی کک اس کی طرف بڑھی اورپاؤں اس کی گردن پر پڑا۔ وہ پہلے ہی ایک غلطی کرچکا تھا،اور اب دوسری کرنے لگا تھا۔اب میرا پاؤں اس کی گردن پر پڑا تو زمیں کی طرف آیا،میں نے اس کی گردن کوزور سے جھٹکا لگایا تھا ،استادوں کا استاد منہ کے بل زمیں کی طرف آیا،لیکن اس نے گھٹنے زمیں پر ٹیک کر اپنے ہاتھ بھی ٹکا دیے اس طرح وہ زمیں چاٹنے سے بچ گیا۔لیکن یہ تو چال تھی،،اس کے گھٹنے زور سے لگےتھے اور ہاتھ پہلے ہی کمزور ہوچکے تھے۔میں نے چشم ِ زدن میں پاؤں گردن سے ہٹایا اور استادوں کے استا د کے کنپٹی پر مکا مارا۔اسکے ہاتھ اور گھٹنے زمیں پر تھے اور ذلت کو برادشت کر رہے تھےاسے بلاکنگ کا موقع ہی نہ ملا،میرے مکے سے وہ لڑکھتا ہو دور جا گرا اور بے ہوش ہو گیا، یہی تو کوان لی چاہتا تھا ۔ہال کو جیسے سانپ سونگھ گیا،پھر اضطرارای حالت میں دو ماسٹر میری طرف بڑھے،لیکن کوان لی ان کے سامنے آیا ان کو ایک ایک مکا مارا ،وہ دور جا گرے ۔یہ کوان لی کی دانشمندی تھی،نہیں تو ان ماسٹرز کے پیچھے اور لوگ بھی مجھ پر ٹوٹ پڑنے تھے ،ظاہر ہے پھر ان کا ساتھ اچھا نہیں ہونا تھا ،اور جو کوان لی چاہتا تھا وہ نہیں ہونا تھا ۔کوان لی کو سامنے دیکھ کر لوگوں کو ہوش آیا،سب کوان لی کے سامنے جھک گئے،ظاہر ہے وہ اسکے فن کا اعتراف کررہے تھے کوان لی کا شاگرد ،میں بھی اس کے سامنے جھک گیا،ہم وہاں دو گھنٹے رکے ،اتنے میں ریڈبیلٹ اور اس کا باپ ہوش میں آچکے تھے ،اور ہم سے مل کرہمیں جھک کرتعظیم دی،کوان لی نے مختصرراستے سے مجھے استادوں کے استاد سے اوپر کا درجہ دے دیا تھا،اب یہ بات کلبوں میں پھیلنے والی تھی،اس کے بعد کوان لی مجھے کئی کلبوں اور بدھسٹ ٹیمپلز میں لے گیا، کئی جگہ میں نے اپنے فن کا مظاہر ہ بھی کیا،ہر جگہ ہمیں تعظیم ملی،یقیناً یہ کوان لی کی عظمت تھی اور اب وہ مجھے اپنی جگہ دے رہا تھا،یہ یا ترادنیا سے میرا تعارف تھا ۔اور لوگ مجھے مان رہے تھے،مجھے عزت دے رہےتھے۔کیوں نہ دیتے عظیم کوان لی نے مجھے اپنا جانشین کہا تھا ۔ایک مہینے بعد ہم اسی قصبےمیں گھر واپس آگئے۔کوان لی اب بڑے اطمینان میں رہتا تھا،مجھے اس کے پاس ایک سال اور 8 مہینے ہوگئے تھے،بیٹا میرے پاس جوکچھ تھا وہ میں نے تمھیں دے دیا ہے۔میری ساری زندگی کی محنت اور میری ساری دولت یہی کچھ تھا جو میں تمھارے حوالے کر چکاہوں،میں خوش ہوں اور تم بھی کسی ظرف والے شاگرد کی تلاش میں رہنا ،، اسی طرح چراغ سے چراغ جلتے ہیں،،تمھیں واپس پاکستا ن جانا پڑے گا کوئی لینے آئے تو انکار مت کرنا،خدا نے تمھارے لیے ایک اور نعمت لکھی ہوئی ہے،ایک چیز تمھارے لیے رکھی ہے ،وہ لے لینا،یہ باتیں تو ان کی ہوتی ہیں جو جانے والے ہوں،اور چند دن بعد کوان لی چلا گیا بڑی خاموشی سے ۔وہ جیسے اسی انتظار میں تھا کہ میری تکمیل ہو اور وہ جائے، اس کی یاد میں رونے والے بہت تھے،لیکن ایک ایسی ہستی بھی تھی جو با لکل خاموش ہوگئی تھی،او ر وہ تھی لی جُوآن ۔ایک مہینے بعد وہ بھی چل بسی،شاید وہ اتنا ہی جدائی برداشت کر سکی تھی۔،لیکن جاتے ہوئے وہ سارا پیسہ جو کوان لی نے جوسلین سے لیا تھا ،وہ مجھے دے دیا۔چائنہ میں جتنے مذاہب ہیں وہ سب روح پرست ہیں،یعنی وہ روح کو اپنے آپ قائم و دائم مانتے ہیں، اور کوان لی کے چاہنے والوں کی نظر میں کوان لی آج بھی زندہ ہے،اور ان کی دعائیں سنتا ہے،میرا عقیدہ روح کے بارے میں ان جیسا تو نہیں ہے،لیکن اتنا تو میں بھی مانتا ہوں کے روح کو فنا نہیں ہے،اور جو کوان لی خوابوں میں مجھے سکھاتا تھا اور پہاڑوں کو ایک ٹھوکر سے گرا دیتاتھا وہ آج بھی زندہ ہے اور میرے ساتھ ہے۔مجھے کوان لی کے جانے کا دکھ تو بہت ہی ہوا، لیکن میں سنبھل گیا،اب میں تھا مراقبے تھے،لکھنا لکھانا تھا،لیکن میں لکھنے سے مطمن نہیں تھا،میں عالمی طور پر کچھ لکھنا چاہتا تھا،اور لکھا بھی۔ چار ماہ بعد ایک عورت مجھے ملنے آئی ،میں حیران رہ گیا،وہ جوسلین کی ایک رشتہ دار تھی، جوان لڑکی تھی،کبھی کبھار وہ جوسلین سے ملنے آجاتی تھی،اور جوسلین بھی اس سے مل لیتی تھے ،ویسے وہ ہر رشتے دار سے دور بھاگتی تھی۔تم یہاں ،؟ میں اسے دیکھ کر حیران ہوا،ہاں میں یہاں تمھیں لینے آئی ہوں،۔کو ان لی نے کہا تھا کوئی تمھیں لینے آئےتو چلے جانا،کس لیے آئی ہیں،میں پوچھے بنا نہ رہ سکا،اس نے خاموشی سے مجھے اپنا موبائل پکڑا دیا،اس میں جوسلین کی ویڈیو تھی ،اور وہ اس ویڈیو میں ایک غزل کے چند اشعار پڑھ رہی تھی، دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں ترکِ محبت، ترکِ تمنا کر چکنے کے بعد ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں سناٹا جب تنہائی کے زہر میں بجھتا ہے وہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں، کیسے بتائیں تمہیں جن باتوں نے پیار تمہارا نفرت میں بدلا ڈر لگتا ہے وہ باتیں بھی بھول نہ جائیں تمہیں (ظہور نظر) جوسلین نے مجھے بلایا تھا،مجھے جانا ہی تھا۔تیسرے دن ہم لاہور پہنچ گئے ۔ تقریباً رات کے نو بجے تھے جب میں فلیٹ پہنچا۔ میں سیدھا بیڈروم میں گیا۔جوسلین کو دیکھاوہ ہڈیوں کا ڈھانچا بن چکی تھی،مجھے یقین نہیں آیا یہ وہی پھولوں جیسی جوسلین ہے۔میں اس کے پاس بیٹھ گیا،میں نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔مجھے دیکھ کر جوسلین کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔کہاں چلے گئے تھے تم۔۔۔ کتنا ڈھونڈا میں نےتمھیں ۔اچھا ہوا تم آ گئے ۔میرے پاس وقت کم ہے اور تم سے بہت سی با تیں کرنی ہیں۔وہ رات میں اسی کے پاس بیٹھا رہا ۔جوسلین کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔وہ ٹمٹاتا ہوا چراغ تھی۔ ساری رات میں اسے جینے کی امید دیتا رہا لیکن وہ میری کسی بات میں نہ آئی ،مختصراً اس رات کا احوال بیان کرتا ہوں،جوسلین نے وہی لہنگا پہنا ہوا تھا جو اس نے ہماری پہلی رات پہنا تھا،اور اس کے گلے میں وہی چین تھی جو میں نے اسے گفٹ دی تھی۔ ۔۔۔۔۔پرنس آج تم پہلے سے زیادہ بھرپور نظرآرہے ہو۔یقیناً کوان لی نے تمھیں سب کچھ سونپ دیا ہے۔مجھے خوشی ہے کہ جاتے جاتے تمھاری تکمیل دیکھ لی،آج تم میرے خیالوں اور ارادوں سے کہیں زیادہ آگےچلے گئے ہو۔ پرنس میری جان صرف اسلیے اٹکی ہوئی ہے کہ میں تم سے معافی مانگ سکوں،مجھے انداز ہو گیا تھا کہ تمھیں میری مکاریوں کا پتہ چل گیا ہے ۔ میں تبھی سمجھ گئی تھی جب کوان لی نے تمھیں میرے سحر سے آزاد کردیا تھا۔تمھارے جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں توخود کو بھی دھوکا دے رہی تھی،مجھے تو جانے کب تم سے محبت ہوگئی تھی۔وہی محبت جس سے میں ناآشنا تھی۔وہی محبت جو میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی،میرے لیے انسان بس کھیلنے کیلیے ہوتے ہیں۔اسی محبت نے مجھے ایسا پکڑا کہ ریزہ ریزہ کردیا ۔میں سمجھی مجھے سزا مل رہی ہے ۔لیکن جب میں نے اقرار کرلیا تو مجھے سکون ہوگیا۔تب مجھے اندازہ ہوا کہ محبت سزا نہیں ہے یہ تو جزا ہے میری کسی بھولی بسری نیکی کی۔محبت کے اقرار کے بعد مجھے پچھتاووں نے گھیر لیا۔مجھے محسوس ہوا کہ اپنے آپ سے لڑتے لڑ تے محبت کا اقرار کرنے میں بہت دیر کر دی ہے ۔دیکھو پچھتاووں اور تمھاری یاد نے میر ا کیا حال کر دیا ہے۔وہ آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔بس تمھاری آخر دید کی منتظر تھی،پلیز مجھے معاف کر دو۔جوسلین نے ہاتھ جوڑ دیے ،آنسوؤں کی وجہ سے میرا گلا رُندھا ہوا تھا مجھ سے بولا نہ گیا ،میں نے سرہلا دیا۔مجھے آخر ی بار اپنی گود میں لے لو،میں تمھاری بانہوں میں مرنا چا ہتی ہوں،جوسلین نے انتہائی جذباتی لہجے میں کہا۔میں نے اس کے پاس بیٹھ کر اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔جوسلین نے پاس رکھی ایک فائل اٹھائی اور مجھے پکڑا دی،تم نے مجھے معاف کر دیا نہ،اس نے پھر پوچھا،ہاں جوسلین میری جان ،میرے دل سے سب کچھ دُھل گیا ہے اور صرف تمھاری محبت ہے ۔رات گئی اور صبح ہو چکی تھی ۔جوسلین مجھے محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔ وہ دیکھتی رہی،دیکھتی رہی،آخر اس کی رشتہ دار نے آگے بڑھ کر اس کی آنکھیں بندکر دیں۔ جوسلین جا چکی تھی۔اس نے سچ کہا تھا وہ بس میرا انتظار کر رہی تھی۔ اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا جانے کیوں آج تیرے نام پہ رونا آیا۔ اس کے جنازے میں ا سکی برادری اور سب اس کے چاہنے والے شامل تھے۔اسےعیسائیوں کے قبرستان میں دفنایا گیا۔اسکی وہ رشتہ دار جو مجھے لینے گئی تھی۔وہ ان دنوں میرے ساتھ تھی۔اس کا نام ماریہ تھا اس نے مجھے بتایا ۔ جوسلین تمھیں دو سال سے ڈھونڈ رہی تھی ۔ ایک سال سے وہ بیمار رہنے لگی۔تب سے میں ان کے ساتھ رہتی ہوں۔کوان لی سے وہ پہلے بھی رابطہ کر چکی تھی اس کا خیا ل تھا تم دنیا میں کوان لی کے علاوہ اور کسی کہ پاس نہیں جاسکتے ۔ بیمار ہونے کے بعدبھی جوسلین نے کئی بار رابطہ کیا۔ چھ مہینے پہلے کوان لی نے کہا کہ تم اسی کے پاس ہو ۔حیرانگی کی بات ہے ہے انہی دنوں جوسلین نے خود سے تمھاری محبت کا اعتراف کیا تھا ۔اس سے پہلے وہ تم سے ناراض تھیں، تمھاری غیرموجودگی میں شکوہ کناں تھیں ۔پھر وہ اپنے احسانا ت یاد کرتی تھیں جو تم پر کیے،انہیں پتہ چل گیاتھا کہ تم امریکہ جانے والے ائیرپلین میں سوار ہی نہیں ہوئے تھے۔یہ شروع شروع کا وقت تھا آہتہ آہستہ انکو تمھاری غیرموجودگی ستانے لگی،وہ خود کو یہی ظاہر کرتی رہیں کہ انہیں تمھاری ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے خود کو مصروف کرنے کی بہت کوشش کی۔انکی دوستیاں بھی کافی تھیں۔لیکن کہیں ان ک سکوں نہ آیا۔ایک سال اسی طرح گزر گیا۔بڑی مضبوط ارادے کی تھیں،لیکن اپنے آپ سے لڑتے لڑتے بیمار رہنے لگی،بستر پر رہنے لگی، ان دنوں انہوں نے مجھے اپنے پاس بلا لیا، سارادن مجھ سے تمھاری باتیں کرتیں۔بس جیسے ہی انہوں نے اپنے آپ سے تمھاری محبت کا اعتراف کیا۔کوان لی جوسلین سے رابطہ کرتے ہیں کہ تم ان کے پاس ہو۔کوان لی نے کہا کہ جوسلین خود تمھیں لینے وہیں آجائے ۔جب جوسلین کو یہ پتہ چلا کہ تم یہیں ہو تو وہ سوچوں میں پڑ گئی کہ پتہ نہیں تم کیا کچھ کہو ۔وہ کہتی تھیں مجھے پرنس کے سامنے جانے کی ہمت نہیں ہے۔ان سوچوں نے اسے اور بیمار کر دیا،میں انہیں سمجھاتی رہی،کہ آپ ایکبار پرنس سے ضرور ملیں۔انہیں سوچوں اور پچھتاووں نے ان کی حالت مزید خراب کر دی،22 مہینوں میں پھولوں جیسی جوسلین کملا کر ہڈیوں کا ڈھانچا بن گئی،جوسلین موت کی متظر تھی اور ہر پل تمھیں یاد کرتی تھی۔لیکن اسے موت بھی نہیں آرہی تھی۔ تب اسے خیال آیا کہ وہ تم سے معافی مانگے گی،حیرت کی بات ہے پھر کوان لی نے خود رابطہ کیا ۔کہا کہ انہوں نے تمھیں سمجھایا ہے کوئی بھی آ کہ لے جائے جوسلین کی تو حالت خراب تھی اس نے مجھے بھیج دیا۔کیا؟ کوان لی نے تم لوگوں سے کب رابطہ کیا تھا؟تقریباً دو ماہ پہلے کیا تھا(میں نے اسے نہیں بتایا کہ وہ تو 4 ماہ پہلے وفات پا چکے ہیں،اس بات کا تو جوسلین کو بھی پتہ نہیں چلا)جوسلین نے مجھے جو فائل پکڑائی تھی ،اس نے اپنی ساری جائیداد میرے نام کردی تھی۔یہ فلیٹ بینک بیلنس،گاڑیاں۔جاگیر کی ہرچیز۔ایک سال سے یہ سب انتظام ماریہ سنبھال رہی تھی۔اس نے میرا ساتھ دیا۔اور تمام جائیداد کا انتظام سنبھالنے میں مجھے کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ویسے بھی جوسلین کا لےپالک ہوتےہوئے ہر کوئی یہی توقع کرتا تھا کہ اس کی وراثت مجھے ملے گی۔کوان لی نےکہا تھا اگر کوئی تمھیں لینے آئےتو چلے جانا،وہاں بھی ایک نعمت تمھاری منتظر ہے،اور وہ نعمت یہی اربوں کی جائیداد تھی۔اس فائل میں ایک پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی تھی جو میرے اصل نام پر تھی،اس کے پیچھے ایک نوٹ لکھا ہوا تھا۔شاگرد استاد سے آگے ہی جاتے ہیں۔یہ لکھائی جوسلین کی تھی،میں نے ماریہ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے،اس نے بتایا کہ میں نے کبھی نفسیات پر مقالہ لکھا تھا وہ جوسلین نے چھپوا دیا تھا۔اسی پر مجھے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری ملی تھی۔ جوسلین ایک ایسی ناگن تھی جس کے سحر سے بچنا نا ممکن تھا۔لیکن وہ ناگن محبت کے ہاتھوں خود ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئی۔اور مجھے بھی توڑ گئی،،مجھے سنبھلنے کیلیے کچھ وقت چاہیے تھا۔ماریہ میرے ساتھ ہی فلیٹ میں تھی،اچھی جوان،خوبصورت لڑکی تھی۔ اسمارٹ تھی، 27 سال اس کی عمر تھی۔لگتا تھا اس کے گھر سے اس کا رابطہ ختم ہوگیا ہے اسی لیے ابھی تک یہیں ٹِکی ہوئی تھی۔محبت میں دھوکے والی بات تھی ۔ میں نے اسے زیادہ نہیں ٹٹولا،وہ کھانا پینا،فلیٹ کے کام،میرا خیال رکھتی تھی۔جوسلین کی وفات کے دسویں دن بعد جب میں سارا دن کی غزلیں سنتارہتا تھا۔ماریہ کمرے میں داخل ہوئی۔اس نے ایک گاؤن پہناہوا تھا،دروازے پر کھڑے ہو کر اس نے گاؤن اتار دیا،نیچے اس نے کچھ نہیں پہنا تھا۔وہ نشیلی چال چلتی ہوئی میرے پاس آئی۔اس کے جسم کے نشیب و فراز مجھے بہلانے لگے۔ماریہ نے میرے پاس آکر مجھے بھی ننگا کیا۔اور میرا عضو چوسنے لگی۔اس نے سٹارٹ اچھا کیا تھا،یہیں سے شروع کرنا چاہیےتھا۔مجھے جوش آنے لگا ۔اورجسم میں لہریں اٹھنے لگیں،لہریں طوفان بننے لگی۔میں نے ویسے بھی سنبھل جانا تھا،لیکن اس نے دوائی دی تو جلدی آرام آگیا۔چوستے چوستے اس نے میری طرف دیکھا اور میری آنکھوں میں دلچسپی دیکھ اور جوشیلے انداز میں چوسنے لگی۔ماریہ نے پتہ نہیں کیا سوچ کے یہ قدم بڑھایا تھا،یا تو وہ میرا غم بٹا رہی تھی ۔یا میری کشش سے اس کی بھوک جاگ گئی تھی۔یا وہ میرے ساتھ اپنا مستقبل محفوظ کر رہی تھی۔لیکن اس وقت مجھے کسی بات سے کوئی غرض نہیں تھی۔مجھے دلچسپی تھی تو اس کام سے جو وہ اسوقت کر رہی تھی۔ماریہ اتنی ماہر نہیں لگتی تھی، لیکن مجھے اچھا لگ رہا تھا۔ماریہ نے مجھے اچھا مزہ دیا اور پھر میرے اوپر آکہ چوت کو عضو کے اوپر اچھی طرح ٹھیک کیا موری میں ٹوپی ڈالی اورآہستہ آہستہ اس پر اپنا وزن ڈال کراندر لینے لگی۔ماریہ کی چوت تنگ تھی،اور وہ اناڑی بھی لگ رہی تھی۔مجھے اس کی مدد کرنی پڑی جب اس کے اندر پورا چلا گیا تو اس نے سانس لیا،مجھے محسوس ہوا ماریہ کو درد ہوا ہے،میں پیچھے ٹیک لگا کے بیٹھا اور اس کی کمر سے پکڑ کر اسے سہارا دیا اور اس سے چودائی کروانے لگا۔کچھ دیر اسے درد محسوس ہوا جو اس کے چہرے پر دیکھا جا سکتا تھا ،پھر مزہ اسے بہانے لگا اور درد بھولنے لگا۔اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ماریہ کا جسم دلکش اور سیکسی تھا،اس کے نقش خوبصورت تھے۔سچی بات ہے یارو بعض اوقت تو لڑکی جوان ہو تو اتناہی کافی ہے۔خوبصورتی کا دوسرا نام ہی لڑکی ہے۔ماریہ اوپر نیچے ہو رہی تھی اور مجھ میں چودائی کا شوق جاگ رہا تھا۔کوان لی کے پاس رہتے ہوئے مجھے اس چودائی کے شوق نے بڑا ستایا تھا۔لیکن ایک تو مجھے کوان لی کا احترام بہت تھا اور ان میان بیوی کی محبت نے میرے قدم روکے رکھے۔ دوسرا اس سے چھپ کر کرنا مشکل تھا۔آخری چار مہینے جو میں چائنہ میں اکیلا رہا تھا تب میں نے قصبے میں سے ایک لڑکی کوپھنسا لیا تھا،لڑکی اچھی تھی ،خوبصورت تھی۔اور بھی اس میں کافی باتیں تھیں،اس نے مجھے کافی مزہ دیا۔ماریہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھی میں اس کی کمر سے پکڑ کراسے چودائی کرواتا رہا،پھر وہ تقریباً میرے اوپر ہی لیٹ گئی اور کچھ آگے پیچھے حرکت کرنے لگی،چوت کے اندر باہر ہونا چاہیے تھا اور وہ ہو رہا تھابلکہ جوش اور لذّت سے ہو رہا تھا۔پرنس مزہ آرہاہے نہ تمھیں،ماریہ نے پوچھا، ہاں یار اچھا لگ رہا ہے،،میں کوشش کرو گی تمھیں مزہ دوں اور تمھاری تنہائی ختم ہوجائے،ماریہ نئے تعلقات کی شروعات کررہی تھی۔ تنہائی ختم کر دی میری جان،اب تم روز مجھے مزہ دو گی،یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے،،ویسے بھی تمھیں دیکھ کر کون کافر خود پر قابو رکھ سکتا ہے۔ماریہ کی باتیں بتاتی تھیں کہ جوسلین نے اس سے کوئی راز نہیں رکھا،اب ماریہ پھر سیدھی بیٹھ گئی تھی اور گھوڑے پر سواری اچھی کر رہی تھی ۔۔اس کی تنگ چوت عضو کو بتا رہی تھی کہ ابھی مجھے زیادہ استعمال نہیں کیا گیا ہے،،،عضو اسے کہہ رہا تھا تم فکر نہ کرو میں تمھیں اچھی طرح استعمال کروں گا۔تمھیں نئے جہانوں کی سیر کراؤں گا،چوت نے کہا میرے محبوب نے مجھے دھوکا دیا اور سیل توڑ کے بھاگ گیا ،عضو نے کہا فکر نہ کرو میں دھوکہ نہیں دوں گا۔چوت اور عضو ملتے رہے اور رگڑ سے چنگاری نکلتی رہی۔چنگاری سے آگ بھڑکی جب خوب بھڑکی تو اس پر پانی ڈالنے کا وقت آگیا،تو ماریہ میرے اوپر گر پڑی ،پانی آگ پر پڑا ،اور خوب پڑا، ماریہ کے بعد کئی لڑکیوں آئی اور گئی ،پھر میں نے ان کی تعداد بھی یاد رکھنی چھوڑ دی۔ کوان لی کے بقول یہ خرافات بھی ایک دن ختم ہوجائیں گی ۔دولت بھی بڑھتی گئی۔اور لکھنے کا مشغلہ بھی جاری رہا۔ اپنی طرز میں دنیا یاتر ا بھی کی۔کنگفو بھی جاری تھا،لیکن ابھی تک کوئی شااگرد نہیں ملا جسے اپنی وراثت دے کر جاسکوں۔مجھے دلآویز نہ بھولی۔پھر مجھے راجو ملامیں نے دلآویز کو ڈھونڈنےکیلیے راجو کو لگا دیااسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے 2012 آگیا۔پھر وہ ملی اور ہم میں دوستی تو ہوگئیمیں ابھی تک اس کے سامنے نہیں آیا تھا،وہ مجھے ساحل کے نام سے جانتی تھی۔ ایک رات میں نے جان بوجھ کر اس سے اپنے بارے میں اس کے خیالات جاننے کیلیے اسے اکسایا تو اس نے بتایا کہ اسے شہزادے سے نفرت ہے ۔وہ تو سوگئی کیونکہ اسے صبح کالج جاناتھا لیکن مجھے بکھری یادوں میں تنہا چھوڑ گئی اسی یادوں میں رات گزر گئی آنکھوں میں نیند کیا آنی وہ پلک جھپکنا بھی بھول گئیں۔ اگلی صبح جب میں ماضی کو اچھی طرح بھگت چکا تو نیند آ ہی گئی۔ یادِ ماضی۔۔ عذاب ہے ۔۔یارب چھین لے۔۔ مجھ سے ۔۔حافظہ میرا دلآویز تقریباً تیار تھی اس نے مجھ سے ملنے کی خود خواہش کر دی تھی لیکن رستے میں نفرت کی دیوار کھڑی ہوئی تھی ۔اور اس نفرت کا مجھے کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا ۔ چودنا تو دور کی بات میں تو اس کے سامنے بھی نہیں آسکتا تھا ۔ دن رات میں اس سے نفرت نکالنے کا سوچتا دلآویز سے جو معلومات اکٹھی کی تھیں ،ان کا ازسرِ نو جائزہ لیتا ۔ہر بات کا تجزیہ کرتا ۔ لیکن کوئی حل نہیں مل رہا تھا ۔ اب دلآویز ملنے کا اصرار کرنے لگی تھی۔ اس نے مجھے اپنی تصویر ایم ایم ایس کر دی اور میری تصویر مانگتی تھی ۔دلآویز کا جو برین واش اس کا ماں نے سالوں میں کیا تھا میں نے وہ مٹا دیا تھا اور دلآویزکی نئی شخصیت بنا دی تھی ،میرا برین واش اس کے جذبات اور احساسات سے ملتا تھا میرا برن واش اس کے مزاج اور حساسیت کے مطابق تھا ۔ میری باتیں وہ تھیں جو اس کی عمر کی امنگوں کے مطابق تھیں ، اب نگینہ چاہتی بھی تو کچھ نہیں کر سکتی تھی ،اب نگینہ کو گھر میں مکمل باغی لڑکی کا سامنا تھا ،اور دلآویز اپنی مرضی کی زندگی گزار رہی تھی ۔ کہتی تھی تم اصل میں میرے لیئے ساحل ثابت ہوئے ہو، نگینہ یہی سمجھ رہی ہوگی کہ ،دلآویز کو اس کے رویئے نے باغی بنا دیا ہے۔ نگینہ کو پتہ نہیں تھا کہ شہزادہ واپس آچکا تھا ۔ میں اکثر دلآویز کی تصویر موبائل میں دیکھتا رہتا ۔ دلآویز اپنی ماں نگینہ کی جوانی تھی ۔ سرخ و سپید رنگت ۔گول مٹول چہرہ ۔بڑی بڑی نیلی آنکھیں ۔اور ان نیلی آنکھوں میں ایک جہان آباد تھا ۔بلاشبہ دلآویز اپنی نام کی طرح دلآویز ہی تھی اپنی ماں کی کاپی ہونے کے باوجود دلآویز نگینہ سے کئی گنا زیادہ خوبصورت تھی ۔ جانے کتنی دیر دلآویز کی تصویر دیکھتا رہتا اور سوچتا رہتا ۔ اسی دوران وہ تصویریں بھی دیکھ لیتا جو راجو نے کھینچ کے دی تھیں ، کیونکہ یہ ایک ہی فولڈر تھا جس میں صرف دلآویز کی تصویریں ہی پڑی تھیں اس میں ایک تصویر اس لڑکے کی تھی جو مجھ سے پانچ چھ سال بڑا تھا ۔اور نگینہ اور دلآویز کے ساتھ بازار گیا تھا وہ مجھے جانا پہچانا لگا تھا ،لیکن میں نے اس پر کبھی غور نہیں کیا کیو نکہ میں ان کے برادری کے کئی چہروں سے شناسا تھا ۔آج بھی عادتاً دلآویز کی تصویریں (دلآویز روزانہ اپنی تصویر بھیجنے لگی تھی) دیکھتے ہوئے اس لڑکے کی بھی تصویر بھی سامنے آگئی۔ بےخیالی میں اس کی تصویر دیکھی اور آگے کرنے لگا تو ذہن میں ایک جھماکا ہوا ۔یہی تو تھا اس رات نگینہ کو چودنے والا ۔ بے شک اس کی عمرکی وجہ سے اس میں تبدیلی آئی تھی ،مگر یہی تو تھا جس کی وجہ سے میری زندگی تبدیل ہوگئی ہوتھی ۔ میں اس چہرے کو کیسے بھول سکتا تھا ،،،، نگینہ کے ساتھ یہ بھی برابر کا مجرم تھا ۔ میں بے اختیار اٹھ بیٹھا ۔ میرے یادوں میں نگینہ ہی چھائی رہی اور یہ پس منظر میں چلا گیا تھا ۔ مجھے یقین نہیں آیا کہ اس کا نگینہ سے ابھی تک تعلق ہے ۔ اس کا مطلب تھا نگینہ کا اس سے بڑا گہرا یارانہ تھا ۔ مجھے راجو کی یاد آئی اس کا نمبر ملانے لگا تھا کہ پھر ایک خیال آیا تو رک گیا یہ بات تو اب دلاویز بھی بتا سکتی تھی اور بہتر بتا سکتی تھی ۔رات کو جب دلآویز سے بات ہوئی تو میں نے کہا ۔ کئی دنوں سے میں تمھیں چھپ چھپ کے دیکھ رہا ہوں ،کئی بار تمھارے گھر آچکا ہوں ۔ اچھا تو مجھے کیوں نہیں بتایا میں بھی تمھیں ایک نظر دیکھ لیتی،دلآویز نے بڑے لاڈ سے کہا۔تم میرے سامنے کیوں نہیں آتے ساحل پلیز اپنی ایک تصویر ہی بھیج دو ۔دلآویز نے پھر وہی بات چھیڑ دی ۔یار دلآویز ،میں نے دو تین بار تمھارے گھر ایک لڑکے کو آتے جاتے دیکھا ہے کون ہے وہ میں نے رقیبانہ لہجے میں کہا ۔۔ وہ میرا منگیتر ہو گا ،تمھیں بتایا تھا اپنے منگیتر کا میں نے ، مجھے ذرا بھی اچھا نہیں لگتا ،دلاویز نے مجھے جتانا مناسب سمجھا ۔ ،دلآویز کی بات میرے اندر دھماکے کرنے لگی ،لیکن کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے میں تصدیق کر لینا چاہتا تھا ۔میں تمھیں اس کی تصویر بھیج رہا ہوں ۔دیکھ کربتاؤ کون ہے یہ ،میں نے اپنے لہجے میں حسد سموتے ہوئے پوچھا ،تا کہ دلآویز کچھ اور نہ سوچے،فوراً تصویر ایم ایم ایس کر دی۔تصویر دیکھتے ہی دلآویز کی آوازسنائی دی ،،،،،، ہاں یہی میرا منگیتر ہےدلآویز کی بات نے مجھے کسی گہری گھائی میں پھینک دیا ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ نگینہ کا شہروز اور دلآویز کا شہروز ایک ہی تھا ، نگینہ کہ خیالات تو بڑے سخت تھے اس بارے میں ۔بڑی غیرت مند بنتی تھی ۔ نگینہ کی بات آج بھی میری یادوں میں نقش تھی شہزادے میں بے غیرت نہیں ہوں ،کہ جس لوڑے پہ ماں چڑھتی ہے اسی لوڑے پر بیٹی کو بھی چڑھا دوں ۔ ۔۔ دلاویز کی آواز خیالوں سے واپس مجھے دنیا میں لے آئی۔کیا بات ہے ساحل تم چپ کیوں ہوگئے ؟ رقیب کی تصویر کو دیکھ کے چپ ہی لگنی تھی ۔میں نے پہلی بار دلاویز سے واضح اظہار کیا۔ اب ایکشن کا وقت آگیا تھا ۔ تم نے تو بتایا تھا کہ یہ تمھارے ماموں کا بیٹا ہے ۔ اپنی یاداشت کے مطابق میں نے دلآویز سے پھر تصدیق کی ۔ ہاں یار ماموں کا ہی بیٹا ہے ۔میرے بچپن کا منگیتر ہے ۔میں تو مہروز کو تمھارا منگیتر سمجھ رہا تھا تم نے بتایا تھا یہ تمھارے ماموں کا بیٹا ہے (یہ وہی لڑکاتھا جو دلآویز کو یونیورسٹی چھوڑنے گیا تھا اور میں نے ان کا پیچھا کیا تھا )۔مہروز تو شہروز کا چھوٹا بھائی ہے ،اور شہروز میرا منگیتر ہے شاید میں اس کی وضاحت نہیں کی ہوگی اسلیے تمھیں غلط فہمی ہوگئی ۔ویسے تمھیں آج کیا ہو گیا ہے ، عجیب طرح سے باتیں کر رہے ہو ،نہیں کچھ نہیں جان ،بس ایسے ہی رقیب پھر رقیب ہوتا ہے ۔میں نے چاہت کے اظہار میں ایک قدم اور بڑھا دیا ۔واہ آج تو بڑے رومانٹک ہو رہے ہو ،مگر ملنے سے ڈرتے ہو ۔ملوں گا اب ہم ضرور ملیں گے۔ سچ میں ؟ دلاویز خوشی سی چلائی ۔ بتاؤ نہ کب ملیں گے ؟کیسے ملیں گے کہاں ملیں گے؟ پلیز جلدی کرو نہ ۔میں تمھیں سارا پروگرام بنا کے بتاتا ہوں تا کہ تمھاری کڑی نگرانی کرنے والی کو بھی کوئی شک نہ پڑے اور ہماری ملاقات بھی ہو جائے ۔ہماری اور باتیں ہونے لگی ۔ اور میں نے آج کال جلدی بند کر دی ۔ میرے اندر جیسے آگ لگی ہوئی تھی ،نگینہ کے سامنے آنے کا وقت آگیا تھا ۔کتنی پارسا بنتی تھی ،واہ نگینہ تمھیں ملا بھی تو بھائی کا بیٹا ۔ ساری دنیا کے مرد کیا مر گئے تھے ۔ اس کا مطلب تھا کہ نگینہ کو مجھ سے ضد کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے دلآویز اپنے اصل شہزادے کو سونپ دی تھی ۔ خیالات آتے گئے ۔ میں نے فوراً راجو کا نمبر ملایا ۔یس باس راجو نیند سے اٹھا تھا ۔رات کافی گہری ہوگئی تھی ۔ راجو تمھیں یاد ہو گا تقریباً دو مہینے پہلے تم نے دلآویز اور اس کی ماں کی تصویر بھیجی تھی ۔یس باس یا ہے راجو کی آواز سے فوراً نیند غائب ہوگئی ،اس کے ساتھ ایک لڑکے کی بھی تصویر تھی وہ تمھارے پاس ہے کہ ڈیلیٹ کر دی ؟سوری باس وہ تو میں نے آپ کو دینے کے بعد ڈیلیٹ کر دی تھی راجو نے مایوسی سے کہا ،آپ حکم کریں باس میں آپ کو دوبارہ لا دوں گا ۔ نہیں اس کی تصور تمھیں بھیج دیتا ہوں ،غور سے اسے دیکھ لو ،مجھے شک ہے دلآویز اور اس کی ماں آپس میں چودائی کرتے ہیں ۔ مجھے ان کے سیکس کی ویڈیو چاہیے ۔ جو مرضی کرو جتنا مرضی خرچہ کرو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ۔مجھے ان کی ویڈیو چاہیئے ۔ مل جائے گی باس بس ان کی ٹائمنگ اور ٹھکانے کا پتہ لگنے دیں کہ یہ کہاں ملتے ہیں ،اور پھر ویڈیو آپ کے پاس ہو گی۔ٹائمنگ اور ٹھکانہ میں بُھولا نہیں تھا۔راجو ان کا ٹھکانا ان کا گھر ہی ہے اور ٹائمنگ وہ ہے جب دلاویز یونیورسٹی چلی جاتی ہے اور سرور خان جنرل سٹور پر چلا جاتا ہے ۔ روزانہ نہیں تو ہر دوسرے تیسرے روز ضرور ملتےہوں گے اور ایک بات یہ بھی ہے اس دوران ان دونوں کے سوا گھر میں کوئی نہیں ہوتا ہو گا،وہ دونوں تو اپنے کام میں مگن ہوں گے ،جب بھی شہروز آئے تم بھی گھر میں گھس جانا کیونکہ لاک کھولنا تمھارے لیے کوئی مسلہ نہیں ہے پھر ویڈیو بنا لینا ، میں نے راجو کو تفصیل سے سمجھایا ۔سمجھ گیا باس ،اب آپ بے فکر ہوجائیں ۔ٹھیک ہے راجو مجھے جلدی رپورٹ چاہیئے ۔ اور ڈرنا نہیں ،کچھ ہوا تو میں سنبھال لوں گا ۔ میں نے کال بند کر دی ۔عموماً میں اس وقت سو جاتا تھا مگر آج نیند نہیں آئی ،بے چینی سی کوئی بے چینی تھی ۔جاگتے جاگتے صبح ہوگئی ۔ مجھے راجو کا انتظار تھا ،راجو کو کم از کم تین چار دن تو لگیں گے ہی ۔ اب کچھ طبعت ڈھیلی ہوئی اور میں سو گیا ۔ پھر شام کو ہی اٹھا ۔ انتظار کروا ،کر واکے آخر چوتھے دن راجو نے ویڈیو لا دی دیکھنے کے بعد ویڈیو میں نے اپنے موبائل میں محفوظ کر لی ۔ راجو تم نے ایک بار پھر زبردست کام کیا ہے ،مجھے خوشی ہوئی کہ تم نے میری باتوں پر عمل کیا ہے تم میں کافی تبدیلیاں نظر آرہی ہیں ،دیکھ لو لباس اور انداز بدلنے سے سڑک چھاپ اتر گئی ہے اور تم کسی اچھے گھرانے کے نوجوان لگ رہے ہو،آنٹیوں کو چھوڑ دیا ہے تم نے کہ نہیں ؟ میں نے اس سے یہ بات پوچھنی ہی تھی ۔چھوڑدیا ہے باس ۔راجو کی آنکھیں کہ رہی تھیں کہ وہ سچ بول رہا ہے ۔دوبئی چوک تو نہیں جاتے۔وہاں بڑی بڑی کاریں آکر رکتی ہیں اور بیگمات اپنی پسند کے بچے کو ساتھ لے جاتی ہیں،جو وہاں اسی مقصد کیلیے آتے ہیں،بیگمات یا تو پیسے دیکر اسی صبح واپس بھیج دیتی ہیں اور اگر پسند آ جائے تو اس کا ماہانہ لگا دیتی ہیں میں نےراجو کو پرکھنے کیلیے اس جگہ کا تفصیلی بتایا ،لیکن راجو کی آنکھوں میں کوئی دلچسپی نظر نہ آئی،،شاید اس کے دل میں میری باتیں اثر کر گئی تھیں۔پھر بھی میں آسانی سےاعتبار نہیں کرسکتا تھا ،اسے میری آنکھیں اسے دیکھ رہی تھیں ،ٹھیک ہے راجو ، اب اپنی گلی اور رشہ دار چھوڑ کہ کوئی لڑکی دیکھو، کوئی ایسی لڑکی جو تمھاری سمجھ کے مطابق سیکس کرنا چاہتی ہو، ایک بات کبھی نہیں بھولنا ہمیشہ یاد رکھنا ، ہر لڑکی پر لائین نہیں مارتے ۔صرف اس پر ٹرائی کرتے ہیں جو سیکس کر چکی ہو یا سیکس کرنا چاہتی ہو۔لڑکی کے منہ پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ کیا چاہتی ہے ۔ لڑکی کی چال ڈھال ،مزاج ،انداز ،آنکھیں ،آنکھوں میں سب کچھ لکھا ہوتا ہے ۔ہر چہرے پر ایک چھاپ ہوتی ہے ۔ہر پرسنالٹی کا ایک تاثر ہوتا ہے ۔ جیسے فرسٹ امپریشن اِز لاسٹ امپریشن کہتے ہیں نہ یہی ہر پرسنالٹی کا تاثر ہوتا ہے ؟ بس چہروں کو پڑھنا سیکھ لو اور پھر مزے ،جس پر ہاتھ ڈالو گے تمھاری گود میں آگرے گی ۔ ٹھیک ہے ،فی الحال اتنا ہی ۔تم پھر کبھی آنا تمھیں فیس ریڈنگ کے بنیادی پوائنٹ سمجھاؤں گا ۔ساتھ میں اس ویڈیو کے لانے کی کہانی بھی سنوں گا۔اوکے باس میں چلتا ہوں ۔ بائے ۔راجو کے جانے کے بعد میں نے جوش میں فوراً دلآویز کو فون کیا ۔یہ میرا ،اسے دن کو پہلا فون تھا۔دلآویز نے کال ڈراپ کر دی ۔ فوراً اس کا میسج آیا ، ابھی بات نہیں ہو سکتی میسج کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کل گھر سے تو یونیورسٹی جانا لیکن یونیورسٹی کی بجائے میرے فلیٹ پر آجانا ۔ میں نے اسے میسج کیا ۔ میں تمھیں لینے آؤں گا تو تمھارے لیئے ٹھیک نہیں ہو گا ۔ ،تم ٹیکسی میں آجانا میں نے اسے اپنا ایڈریس بتایا ۔میں اور بھی میسج کرتا مگر دلآویز کا میسج آگیا ۔رات کو بات کریں گے ،مجھے افسوس ہوا کہ جوش میں یہ بات کیوں بھول گیا تھا ۔ اوکے کا میسج ارسال کر کے میں رات کا انتطار کرنے لگا ۔نگینہ اور شہروز کے راز سے آگاہی کے بعد چار دن سے مجھے ایک پل بھی چین نہیں تھا ،انتظار تو میں اس وقت سے کر رہا تھا جب سے دلآویز ملی تھی ۔اور انتظار تو میں اس وقت سے کر رہا تھا جب مجھے نگینہ کے گھر سے جان بچا کے بھاگنا پڑا تھا اور انتظار تو اس وقت سے تھا جب نگینہ نے مجھے شہزادہ بنایا تھا ۔ہر پل میں نے انتظار ہی تو کیا تھا ۔اب نگینہ کی باری ختم ہونے والی تھی اب میری باری تھی ۔رات کو دلآویز سے پورا پروگرام طے ہوا ،اسے اچھی طرح اپنا ایڈریس سمجھایا ، اس رات نہ میں سویا نہ دلآویز سوئی نہ ہماری کال بند ہوئی ۔ کچھ وقت کے تعطل کے بعد صبح دلآویز کے گھر سے نکلتے ہی ہماری کال پھر شروع ہو گئی ۔ دلآویز ٹیکسی میں بیٹھ گئی ۔ اس دوران خامشی رہی ۔میری کال اس کیلیے حوصلہ تھی ۔ مقررہ جگہ پر اترنے کے بعد ہمای بات شروع ہو گئی ۔میں اسے گائیڈ کرتا رہا ۔اور میں نے فلیٹ کا دروازہ کھول دیا ۔ سامنے دل آویز چادر میں لپٹی کھڑی تھی ۔ دلآویز اندر آگئی اور میں نے دروازہ بند کر دیا ۔ہم ایکدوسرے کے سامنے بیٹھ گئے ۔دلآویز مجھے اشتیاق سے دیکھنے لگی ،ہم خاموش تھے ۔ کچھ دیر میں ہی دلآویز مجھے غور سے دیکھنے لگی ۔ پھر جیسے دلاویز چونک پڑی ،تم ،(ارتھ کوئیک شاکنگ )تم شہزادے ہو ، مجھے یقین نہیں آرہا ۔اس کا مطلب ہے مما کا خوف صحیح تھا ،تم اب تک ہمارے پیچھے ہو ،تم کیا سمجھتے ہو تم مجھے دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاؤ گے ۔ جن سے نفرت کی جاتی ہے نہ ،ان کو آسانی سے نہیں بھلایا جاتا ،اور تم تو وہ ہو جس سے میں نے دن رات نفرت کی ہے ۔ دلآواز کے الفاظ اس کے منہ میں تھے کی اچانک اس نے مجھ پر جھپٹا مارا ۔مگر میں اس کے لیئے پہلے سے تیار تھا ۔ میں نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے نہیں تو اس کے لمبے ناخن میرا چہرہ بگاڑ دیتے ۔ نفرت کی وجہ سے دلآویز میں جنونی طاقت آگئی تھی ، لیکن وہ مجھے نہیں جانتی تھی ،میں وہ کمزور شہزادہ نہیں تھا اب میں کوان لی کا وارث ہوں،جو کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔میں نے دلآویز کو صوفے پر پھینکا اور اس کہ پیٹ پر گھٹنا رکھ کہ اس کے ہاتھ پکڑ لیے ۔اس کو دبانے لگا ۔دلآویز کے چہرے سے تکلیف کا اظہار ہونے لگا۔ میں تقریباً دلآویز پر چڑھا ہوا تھا ۔اس دوران دلاویز انگلش میں مجھے گالیاں دیتی رہی ۔ میں نے بھی اپنی طاقت کے اظہار میں کمی نہ کی ، کچھ ہی دیر میں دلآویز کو سمجھ آگئی کہ وہ میرے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔دلاویز بتاؤ اس وقت میں تمھاری عزت لوٹ سکتا ہوں کہ نہیں ؟ بتاؤ کیا تم میرے بس میں ہو کہ نہیں ؟ میں جو چاہوں تمھارے ساتھ کر سکتا ہوں ۔اور کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔بولو،اس وقت میں تمھاری عزت لوٹ سکتا ہوں کہ نہیں ؟ تم اس وقت میرے بس میں ہو،اور کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ تم کہاں ہو ،میں تمھاری عزت لوٹ کر تمھیں مار کر بھی پھینک دوں تب بھی میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اس کا جسم ڈھیلا ہوا ۔ اور جنونیت ختم ہونے لگی ۔ آرام سے بیٹھ کے میری بات سنو ، میں نے اسے چھوڑتے ہوئے کہا،دلاویز کو سنبھلنے میں کچھ دیرلگنی تھی اتنی دیر پہلے سے رکھے لیپ ٹاپ پر اس کی مما اور شہروز کی فلم لگا کر لیپ ٹاپ ٹیبل پر گھما کےاس کی طرف کر دیا ۔ دلاویز چونک کر اسے دیکھااور پھر حیران ہوئی پھر اس کے چہرے پر تکلیف اور دکھ آگیا ،اس کے چہرے پر شاک کی کیفیت تھی ،یہ تمھارا منگیتر اور تمھاری پیاری مما ہے جو آپس میں چودائی کر رہے ہیں،جس دن دادی کا چالیسواں تھا اور تم اس رات اپنی نانی کے ساتھ چلی گئی تھی سرور خان تمھیں چھوڑنے چلا گیا تھا ۔ اس رات بھی شہروز اور تمھاری مما آپس میں یہی کام کر رہے تھے ،میں نے انہیں دیکھ لیا اور اگلی صبح تمھارے باپ کو بتانا تھا لیکن تمھاری پیاری مما اور شہروز نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا اور مجھے قتل کی دھمکیاں دینے لگے ایک مہینہ مسلسل مجھے دھمکاتے رہے ،دوسری طرف تمھاری ماں میرے اوپر بیٹا بنا کے مہربانیاں کرتی رہی ، ادھر ان کا کھیل بھی جاری تھا ،جب تم سکول اور تمھارا باپ کام پر چلا جاتا تھا ۔تو ان کا کھیل شروع ہو جاتا تھا ۔ میرا ضمیر مجھے سونے نہ دیتا ،میں نے نگینہ کو بتا دیا کہ مجھ سے اب یہ بات چھپائی نہیں جا سکتی تھی لیکن اس سے پہلے میں تمھارے باپ کو کچھ بتاتا نگینہ نے مجھ پر جھوٹا الزام لگا کر مجھے تمھارے باپ کے ہاتھوں مروانا چاہا ۔ اب تم مجھے بتاؤ ایک پندرہ سال کا لڑکا ایک چالیس سال کی صحت مند عورت پر حملہ کیسے کر سکتا ہے ؟کیا میں اتنا نادان تھا کے سرورخان گھر میں تھا اور میں نے تمھاری ماں کی عزت لوٹنی چاہی ۔ اب تم مجھے بتاؤ دلآویز کہ تمھاری مما کو کونسا ڈر تھا جو میرے بعد بھی اسے چین نہیں لینے دیتا تھا ۔ اس نے تمھارے دل میں میرے لیئے نفرت بھری ، اس نے مکان بدلے اس نے تمھارے باپ کا کام بھی چھڑوایا ۔ تمھاری ماں نے تمھاری زندگی جہنم بنا دی ،یہی ڈر تھا اسے کہ کہیں میں تمھیں یا تمھارے باپ کو سچ نہ بتا دوں ۔لیکن میں اپنی زندگی بچا نے کیلیے تمھاری برادری سے دور رہ رہا تھا ادھر اس نے تم پر پہرے بٹھا دیئے پھر سرور خان اور تمھارے دل میں میرے لیئے زہر ہی زہر بھر دیا ۔ اب بھی اگر تم مجھے غلط سمجھتی ہو تو یہاں سے جاسکتی ہو، لیکن دلآویز ٹس سے مس نہیں ہوئی ،دلآویز رو رہی تھی ،اس کی نظریں لیپ ٹاپ کی اسکرین پر تھی جس پر ویڈیو کب کی ختم ہوچکی تھی ۔دلآویز اگر میں نے تمھاری مما کی عزت لوٹنے کی کوشش کی تھی تو تمھاری اس وقت بھی لوٹ سکتا ہوں ،لیکن تم آزاد ہو جاؤ چلی جاؤ، دلآویز کے پاس رونے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ اسے بہت بڑا دھچکا لگا تھا ۔وہ جیسے سکتے میں تھی ۔ آخر میں اٹھا اور دلآویز کے پاس بیٹھ کر اسے اپنے بازوؤں میں لے لیا ۔ دلآویز اونچی اونچی آواز میں رونے لگی ۔ میں اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر دلاسا دیتا رہا ،اور اسے رونے بھی دیا ۔ رو ،رو کے دلآویز کی آنسو خشک ہوگئے ،اس کی ہچکیاں تھم گئی ، رونے دیئے جائے تو دل ہلکا ہوجاتا ہے ، تو تم نے اس رات موبائل پر خود کشی کا ڈرامہ کیا تھا ،دلاویز کی پہلی بات ہی دھماکا تھی ،ہاں وہ ایک ڈرامہ تھا تمھارے قریب آنے کیلیے تمھیں سچ بتانے کیلیے ۔ میں نے اقرار کیا ۔تو تم نے پہلے دن ہی مجھے یہ ویڈیو کیوں نہ دکھائی ؟ اتنے ڈرامےکیاضرورت تھی ۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ ویڈیو میں صرف دو دن پہلے ہی حاصل کر سکا ہوں ،اور دوسری بات یہ کہ میں تمھیں اس کے بغیر جو بھی بتاتا تم نے مجھے جھوٹا ہی سمجھنا تھا ۔ میں موبائل پر اپنی آواز کے ذریعے جو کر سکتا تھا وہ کیا، اور تمھاری مما نے جو تمھارا برین واش کیا تھا اس کا خاتمہ کر کے تمھیں زندگی کا احساس دلایا اور تمھاری شخصیت کو صحیح روپ دیا تا کہ تمہیں اچھے برے کا خود احساس ہو ۔۔ تم کب سے میرے پیچھے ہو ؟ دلآویز نے پھر سوال کر دیا ۔ کچھ عرصہ پہلے تم اپنے کزن کے ساتھ یونیورسٹی گئی اور ایک امیر زادے نے تمھیں بڑا تنگ کیا تھا ،وہ امیر زادہ میں ہی تھا ۔ میں ایک کام سے یونیورسٹی جارہا تھا پہلے تو تمھارے کزن کی خراب ڈرائیونگ کی وجہ سے میں نے اسے تنگ کیا پھر جب تمھاری نیلی آنکھیں دیکھی تو تمھارے پیچھے لگ گیا،جب مجھے یونیورسٹی سے پتہ چلا کہ تم دلآویز ہی ہو ،تو میں نے تمھارا پیچھا کر کے تمھارا گھر بھی دیکھ لیا اور پھر تم سے رابطہ کیا ،میں نے تمھیں سچ بتانا چاہا لیکن میرے پاس کوئی ثبوت نہ تھا۔میں تو کب سے تم لوگوں کو ڈھونڈ رہا تھا مگر تم پتہ نہیں کہاں جا چھپے تھے کہ میں تم لوگوں کو ڈھونڈ نہ سکا۔میری بات مکمل ہوئی تو دلآویز بھی خاموش ہوگئی۔ اب میں کیا کروں ؟ دلاویز نے خالی ذہن سے سوال کیا مطلب یہ ویڈیو ابا کو دکھا دوں ؟ دلاویز نے وضاحت سے پوچھا،اگر تم یا میں یہ ویڈیو تمھارے ابا کو دکھاتے ہیں ۔تو وہ تمھاری ماں کو مار دے گا اور خود جیل چلا جائے گا ۔ یقیناً تم یہ نہیں چاہو گی ۔ لیکن اب میں شہروز سے شادی نہیں کر سکتی ،مجھے تو وہ پہلے ہی ناپسند تھا اب تو مجھے اس سے اور مما سے نفرت ہوگئی ہے ۔ میں اسے یہ ویڈیو دکھا کر منگنی توڑنے پر مجبور کر دوں گا۔ لیکن مما اور شہروز بدستور ملتے رہیں گے،اس کا کیا حل ہے ،دلاویز نے ایک اور نکتہ اٹھا دیا ۔اس کیلیے تم یا میں یہ ویڈیو تمھاری مما کو دکھائیں گے اور اسے یہ کھیل ختم کرنے پر مجبور کریں گے ،نہیں تو یہ ویڈیو تمھارے باپ کی بجائے تمھارے ماموؤں کو دے دیں گے ۔ میرے پاس ہر سوال کا جواب تھا ۔ دلاویز نارمل ہوئی تو اسے خیال آیا کے ہم لپٹے ہوئے ہیں وہ شرما کہ مجھ سے علیحدہ ہوگئی ۔ بہتر یہی ہے اب تم چھٹی کے وقت ہی گھر جاؤ ،میں ناشتہ بنانے لگا ہوں تم نے کرنا ہے تو بتا دو ، نہیں تم ٹہرو میں ناشتہ بناتی ہوں ،دلآویز خود کو دلی صدمے سے بہلا رہی تھی اور دوسری طرف میرے ساتھ اس کا سلوک ایک محبوبہ جیسا تھا ۔ تم اتنے امیر کیسے بن گئے ،دلآویز نے ناشتہ بناتے ہوئے پوچھا ۔ جب میں تمھارے گھر سے بھاگا تو مجھے ایک مہربان مل گئی ،اس نے مجھے اپنے پاس رکھ لیا،وہ میری محسن تھی میری استاد تھی ، اس نے مجھے جینا سکھایا ۔ دنیا کو جیتنا سکھایا ،اس نے مجھے بہت کچھ دیا اور جاتے جاتے اپنی جائیداد بھی میرے نام کر گئی ۔جوسلین کو یاد کرت ہوئے آج بھی افسردگی آجاتی ہے ۔اس کے انجام نے رلا دیا تھا ۔ کتنی جائیداد ہے تمھارے پاس دلآویز نے بے اختیار پوچھا ۔ جب میں نے اسے اپنی جائیداد کی تفصیل بتائی تو وہ کافی حیران اور متاثر ہوئی ۔ ناشتہ کر کے ہم باتیں کرنے لگے ،دلاویز ویڈیو کو ہضم کر رہی تھی پھر ہم کچھ دیرشطرنج کھیلتے رہے اسے اس کا بالکل پتہ نہیں تھا کچھ دیر اسے یہ سکھاتا رہا ۔ پھر دلآویز میرے لیے دوپہر کا کھانا بنانے لگی ۔ اس وقت اس کے وجود سے گھر جگمگ کر رہا تھا ،دلآویز جاگتی آنکھوں خواب دیکھ رہی تھی ،میرا فلیٹ چل پھر کے دیکھ رہی تھی ۔کمروں میں کچھ ادھر ادھر سیٹنگ کر رہی تھی ۔ساتھ ساتھ اس کی باتیں بھی شروع تھی ۔اس وقت اس کی آنکھوں میں چمک تھی اور چہرے پر قوس قزح کے رنگ تھے وہ اس محبت سے سرشار تھی جس کا میں اظہار کر چکا تھا ،اب اسے ہماری شادی کا یقین ہوگیا تھا ۔ کھانا تیار کر کے ہم کھانا کھانے لگے ،اس کا روپ ایک مکمل محبوبہ تھا ۔دلآویز نے جب میرے منہ میں لاڈ سے نوالے ڈالے تو میرا دل پگھل گیا ۔۔ ۔ آؤعالمِ مدہوشی میں اک سجدہ کریں ۔۔۔۔۔ لوگ کہتے ہیں پرنس کو خدا یاد نہیں ہے ۔ اگر نگینہ مجھے اس رات شہزادہ نہ بناتی اور دادی کے باندھے ہوئے بند کو نہ توڑتی تو ہو سکتا ہے آج میری اوردلآویز کی شادی ہوجاتی اور میں ایک خوشگوار زندگی گزار رہا ہوتا ۔ دلآویز میری شکار تھی لیکن میں اسے دھوکہ نہیں دے سکتا تھا ۔ اس کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا تھا ۔دلآویز چلی گئی اور مجھے تنہا کر گئی ،نئی پریشانیوں میں ڈال گئی ۔رات کو پھر جب فون پر بات ہوئی تو میں بہت سنجیدہ تھا ۔ ہماری باتیں ہونے لگی ۔دلآویز پرجوش تھی ،دلآویز اگر میں تمھارے باپ کے سامنے آتا ہوں تو وہ آج بھی مجھے قتل کرنا چاہے گا اور اگر اسے تمھاری مما کی وڈیو دکھا کے سچ بتا تا ہوں تو تمھاری مما ماری جائے گی اور باپ سولی پر چڑجھ جائے گا ۔ سوچ لو تم کیا چاہتی ہو،میں نے سوچوں میں الجھا دیا ۔دلاویز سمجھ گئی کہ ہماری شادی کا مطلب اس کے ماں باپ کی موت ہے ۔دلآویز ہم میں دوستی تو ہوسکتی ہے لیکن شادی نہیں ہوسکتی ۔دلآویز بھی یہ حقیقت سمجھتی تھی۔لیکن وہ یہ نہ سوچ سکی کہ اگر اس کے باپ کو سچ ہی نہیں بتانا تھا تو میں انکو دھونڈ کیوں رہا تھا ؟ اب اسے سیکس کی طرف لانے لگا ۔لطیفے، مزاق ۔ لڑکے لڑکیوں کے قصے کہانیاں ۔ شادی سے دوری اور سیکس سے نزدیکی میری باتوں کا محور تھا ۔دلاویز شرماتی لجاتی میری باتیں سنتی رہتی ۔ وہ میرا مدعا سمجھ گئی اور اس طرف سے کنی کترانے لگی۔ پتہ نہیں اس طرف سے نگینہ نے اس کے زہن میں کیا گانٹھا ہوا تھا۔ایک رات بات کھل گئی ۔ مما نے بتایا کے ایک لڑکی کی پہلے رات اس کے شوہر نے اسے چودا کہ اسے اسی رات ہسپتال جانا پڑا ۔ اس کی بلیڈنگ ہی نہیں رک رہی تھی ، اسی طرح ایک لڑکی کو پہلی رات اتنا چودا کے اس کا رحم کا ستیا ناس ہوگیا ۔ اگلے دن وہ گھر گئی تو کبھی واپس نہ آئی، دلآویز کے سارے واقعات میں یہی تھا کہ سیکس کرنے سے بہت درد ہوتا پھر بلیڈنگ نہیں رکتی ، اور شادی کے بغیر سیکس سے بچہ ہوجاتا ہے تو دنیا جینے قابل نہیں چھوڑتی ۔ میں سر پکڑ کے رہ گیا ،نگینہ پھر میرے سامنے آکہ کھڑی ہو گئی تھی ظاہر ہے نگینہ اسے یہ معاشرے کے غلط چہرے حفظِ ماتقدم کے طور پر دکھا چکی تھی ۔ہمارے معاشرے میں شادی کے دوسرے تیسرے دن ہونے والی طلاقیں اس بات کی نشانی تھی کہ کہیں کوئی زبردست مِس ٹیک ہوئی ہے اس کا مطلب تھا کے دلآویز کے دل میں سیکس کے حوالے سے زبردست ڈر پایا جاتا ہے اس نے شرماتے لجاتے جو بتایا تھا اس سے کہیں زیادہ اس کے دل میں تھا ۔دلآویز میں تمھیں جی بھر کے پیار کرنا چاہتا ہوں ، میرا روں، رواں تمھیں پکارتا ہے تمھارے لیئے دن رات تڑپتا ہوں ۔ میری آنکھیں تمھاری دید کی منتظر ہیں ۔ یہ صرف شادی کے بعد ہوتا ہے دلآویز ایک ہی جواب دیتی ،شادی تو ہونی نہیں تو کیا ہم ساری عمر ایکدوسرے کیلیے ترستے رہیں گے ۔ اپنی ماں کو دیکھو اس نے زندگی کا مزہ لینے کیلیے کیا کچھ نہیں کیا اور ہم بس ترستے رہیں گے ۔ میں نے ناراض ہو کہ کال بند کر دی ۔شاید وہ کل میرے پاس دوڑی چلی آئے ۔ دلاویز کی کالیں اور میسجز آتے رہے مگر میں کوئی جواب نہیں دیا ۔ اگلی صبح یونیورسٹی ٹائمنگ کے وقت دلآویز میرے دروازے پر تھی ،میں نے دروازہ کھول کے اسے اندر آنے دیا مگر اس سے بدستور ناراض رہا ۔دلآویز مجھے مناتی رہی مجھے لبھاتی رہی مگر میں ناراض ہی رہا مان جاؤ نہ میرے ساحل ۔ دلآویز نے اپنی بانہیں میری گلے میں ڈال دی ۔ اچھا تو میں دیکھتی ہوں تم کیسے نہیں مانتے ، دلآویز میرے اوپر چڑھ گئی،مجھے گدگدی کرنے لگ گئی۔ ہم زور آزمائی کرنے لگے۔ دلاویز کی زلفیں کھل کے گھٹا بن گئی تھیں ۔ اس کے چہرے سے ایسا لگ رہا تھا کہ یہ گھٹا ابھی بارش بن کے برس پڑے گی ۔ جسم کے ساتھ جسم لگا ہوا تھا اور یہ جسم دلآویز کا ستا رہا تھا۔اسے بتا رہا تھا کہ تم کسی خوشی سے محروم ہو میرا عضو اسے کچھ سمجھا رہا تھا ۔ اس کا سینہ میرے سینے میں کُھبا ہوا تھا ۔ دلآویز کے چہرے پر شفق کے رنگ بکھرے ہوئے تھے اس کی آنکھوں میں لال ڈورےتیر رہے تھے ،دلآویز بھی یہ تبدیلی سمجھ رہی تھی ،آخر وہ اٹھ کے بیٹھ گئی تو میں نے بھی صوفے پر لیٹے ہوئے اس کی گود میں سر رکھ دیا۔ ہم ایکدوسرے کو دیکھنے لگے، کتنی دیر گزر گئی میری آنکھیں اس سے کچھ کہ رہی تھیں ۔ دلآویز کی زلفوں نے میرے چہرے پر پھر گھٹا کر دی تھی ۔ماحول اس پر اثر انداز ہونے لگا،جس چیز سے وہ بھاگتی تھی۔آج وہ جذبات اس کے سامنے آگئے تھے ۔ساحل تم میرے لیئے ساحل ہی بن کے آئے ہو ، تمھارے ساتھ ان خوبصورت لمحوں کے کیلیے ساری زندگی قربان کر سکتی ہوں اور پھر دلاویز نے اپنے پھولوں جیسے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے ۔ ہم بڑی نرمی سے ایکدوسرے کے ہونٹ چوسنے لگے ۔ زبان اور ہونٹوں کے سنگم سے رنگین لمحات جنم لینے لگے ۔ دلآویز کا حُسن اس وقت اتنا سحر پھونک رہا تھا کہ بیان سے باہر تھا ۔ جب میں نے اس کی آنکھیں چومی تو شرم سے اس کے چہرے پر قوس قزح جیسی رنگینی تھی ۔ اس کے گال چومے تو دلاویز سمٹ کے مجھ سے لپٹ گئی کتنی دیر تو ایسے ہی ہم ایکدوسرے سے پیار بھرے لمحات گزارتے رہے ۔ گالوں کو چومتا چوستا تو ہونٹ اپنے پاس بلا لیتے ،ہونٹوں کا رس پینے لگتا تو آنکھیں بلا لیتی ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کس کے پاس رکوں کسے کے پاس نہ رکوں ۔ میں ادھر سے ادھر بھٹکتا رہا ۔ مجھے احساس ہوا جیسے دلآویز سر جھکا کر بیٹھی ہے اس سے اس کا جسم تھکنے لگا تھا ۔میں اٹھ کے بیٹھ گیا ۔ ہم صوفے پر بیٹھے تھے ۔میں نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا دلآویز نے بانہیں میری گردن میں ڈال دی اور پھر کسنگ شروع ہو گئی ،اس کے نازک ہونٹ چومنے لگا ۔چوسنے لگا ۔ اس کی آنکھیں اس کے گال اس کی گردن ، گردن سے اس کے کندھے جتنے قمیض میں نظر آتے تھے ،میں دلآویز کو پیار کرنے لگا ۔میرا پیار اور میری قربت میرے ہاتھ اسے نئے جہاں کی سیر کرا رہے تھے ۔ اس کے جذبات میں اتھل پتھل ہونے لگی ،جسم میں تناؤ آنے لگا تو میں نے اس کی قمیض میں ہاتھ ڈال دیا ، دلآویز ہچکچائ اس ہچکچاہٹ میں ڈر تھا ۔ جان صرف تمھیں پیار کروں گا ،جی بھر کے پیار کروں گا ،میں صوفے پر تھا تو وہ میری طرف منہ کر کے میری ٹانگوں پر بیٹھی تھی ، میں نے اس کی قمیض اتار دی اور اس کے جسم کو چوسنے لگا ،بے تحاشا چومنے لگا۔ میرے ہاتھ آوارہ ہوگئے ، اس کے بدن سے مزہ لیتا رہا، پھر میں مموں کی طرف مڑ گیا ۔ دلآویز نے پھر ہچکچا کر مجھے روکنا چاہا ۔بس پیار ہی تو کر رہا ہوں تمھاری مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو گا ۔میں نےاس کی برا اتار دی ، مجھے اس کے ممے بڑے دل کش لگے ۔ اور بے اخیتار اس کے ممے چوسنے لگا۔ میرے ہاتھ انہیں نرمی سے مسلنے لگے ۔ نیچے سے دلآویز کو میرا عضو ستانے لگا،مموں پر پہنچ جانے سے آگے سفر آسان ہو جاتا ہے ۔ میرا سفر بھی آسان ہونے لگا،دلآویز اس مزے ،میں بہکنے لگی ۔ دلاویز نے اپنی مرضی سے کھیل شروع کیا تھا لیکن اگلے مرحلوں میں اس کی شرم اور اس کا ڈر آڑے آ رہا تھا ۔ جیسے جیسے جسم کی گرمی بڑھ رہی تھی ویسے ویسے شرم بھی جا رہی تھی ۔ مگر ڈر ابھی تھا ۔یہ تو چودائی کے بعد ہی جانا تھا ۔ جب اتنی گرمی ہوگئی کہ اسکی شلوار اتر سکتی تھی تو میں اسے گود میں اٹھا کہ بیڈروم میں لے گیا۔ دلاویز کو بیڈ پر لٹا کر میں نے اپنی ٹی شرٹ اتار دی ۔پھر کچھ لمھے اس کے ممے چوستا ہوا نیچے آتا گیا اور تھوڑی سی شلوار نیچے کرتے ہوئے ٹانگیں چومتے ہوئے اس کی شلوار بھی اتار دی ۔دلاویز نے آنکھیں بند کر لی ،میں دیکھ رہا تھا ایک سایہ سا اس کے چہرے پر لہرایا تھا ، اس کی آنکھیں بند تھی میں نے فوراً اپنا پاجامہ اتارا اور اسے کے ساتھ لیٹ کر دلآویز کو ساتھ لپٹا لیا ۔ دلاویز کو محسوس ہو گیا کہ میں بھی ننگا ہوں ۔وہ کچھ اور ہی مجھ میں سمٹ گئی ۔ میں نے محسوس کیا چودائی کے لمحات قریب پا کہ اس کے جسم میں کپکپی تھی ۔ نگینہ نے یہ سائیڈ بھی زہن میں رکھی ہوئ تھی اور دلآویز کے دل میں اس کا ڈر بٹھا دیا تھا ،لیکن میرے زہن میں یہ بات نہیں تھی ۔اس لیئے نہ ہی اس کے حل کا مجھے موقع ملا تھا اب ، اس کا ایک ہی حل تھا اور وہ تھی چودائی ۔ ساحل پتہ نہیں تم میں کیا بات ہے ،میں بڑی بے بس ہوگئی ہوں ۔مجھے لگ رہا ہے جیسے تم ایک طاقتور مقناطیس ہو اور میں لوہے کا بے جان ٹکڑا ہوں ۔میں دلاویز کی ذہنی کیفیت سمجھ رہا تھا ۔نگینہ کی برسوں کی برین واش سیکس کے لمحات میں اسے کچھ اور کہ رہے تھے اور میری قربت اور اس کا جسم کچھ اور کہہ رہے تھے ۔ میں اپنے تمامتر تجربے سے اس کے جسم میں سیکس کی بھوک جگانے لگا۔ ہونٹوں سے مموں کو چوستا ہوا ،ہاتھ سے اس کی چوت کے لبوں کے اندر پہلے انتہائی حساس مقام کو چھیڑنے لگا ۔ کچھ ہی دیر میں دلاویز کا جسم تپنے لگا۔ سیکس کی بھوک جب جسم ہر حاوی ہو گئے تو میں نے اس کی ٹانگوں کھول کہ جگہ بنائی اور گھٹنے ٹکا کے عضو اس کی چوت پر رکھا ۔زیتوں کا تیل کی شیشی دراز سے پہلے ہی نکال چکا تھا کچھ اپنے عجو پر لگایا کچھ اس کی چوت میں لگایا۔ میں تو ویسے بھی صنفِ نازک کو درد دینے کا قائل نہیں تھا ،پھر دلآویز تو نفسیاتی طور پر بگڑا ہوا کیس تھا ۔اچھی طرح تسلی کے بعد میں اس کی چوت میں عضو ڈال دیا جتنی نرمی سے ڈال سکتا تھا ، عضو چوت میں گھستا گیا ۔ دلاویز کی آنکھیں بند تھیں اور ہونٹ بھنچے ہوئے تھے ۔میں نے سوچا اتنی تکلیف ہونی تو نہیں چاہیئے۔ادھر اپنا عضو اس کے پردہ بکارت پر جا کے روک دیا ۔ مجھے احساس ہوا دلاویز کا پردہ بکارت تھوڑا سخت ہے ۔اب پیچھے نہیں ہٹنا چاہیئے تھا ۔میں نے دل کڑا کے عضو پیچھے کر کے اس کے پردہ بکارت کے مطابق دھکا لگا دیا ۔عضو پردہ توڑتا ہوا چوت میں گھستا گیا اور ٹھک جا کے گہرائی میں رکا ۔دلآویز کی زور دار چیخ ابھری ۔ اس کا رنگ ہلدی کی طرح زرد ہو گیا ۔۔ میں پریشان ہوگیا ،اتنے سخت ری ایکشن کی مجھےتوقع نہیں تھی ۔ میں تو معمولی سی تکلیف ہونے دیتا ہوں اور بعض اوقات معمولی بھی نہیں ہوتی ۔دلآویز کانپتے ہوئے جسم سے تھوڑا اٹھ کے چوت کو دیکھا تو اب اس کی چیخییں شروع ہو گئی ۔ چوت میں تیزی سے خون نکل رہا تھا ۔زوردار چیخ کی وجہ سے میں عضو پہلے ہی باہر نکال چکا تھا ۔ اور دلآویز ہسٹریائی کیفیت میں چیختی چلی گئی ۔ نگینہ کی مکاری مجھے مات دینے پھر آگئی تھی یہ ساری نفسیاتی الجھن اسی کی پیدا کی ہوئی تھی ، میں نے ایک زناٹے دار تھپڑ دلآویز کو دے مارا اور پھر دوسرا دے مارا ،ایک بار تو دلآویز کو بھی پتہ چلا ہو گا کہ کوئی تھپڑ پڑا ہے ، اس سے اتنا ضرور ہوا کہ وہ ہسٹریائی کیفیت سے نکل آئی ۔ دلاویز رونے لگی ، چوت سے خون ابھی تک نکل رہا تھا ۔شاید یہ اس کی ذہنی اُپچ تھی یا پردہ سخت تھا ۔بہرحال میں نے بیڈ کی سائیڈ سے دراز کے نیچے والا باکس کھولا اس میں میڈیسن پڑی ہوئی تھیں ،سب سیکس کے متعلق تھیں ،اس میں سے دو ٹیکے نکالے ۔ٹرانسامین کا ٹیکہ اس کی نس میں خون روکنے کے لیئے لگایا اور ڈکلوران اس کے چوکنے میں درد کے لیئے لگایا ۔ اس کاروائی کو دیکھ کے دلآویز نفسیاتی طور پر بھی بہتر ہوگئی۔ ساری چادر خراب ہو گئی ۔احتیاط کے طور پر میں نیچے موٹا کپڑا رکھا ہوا تھا امید تھی میٹرس بچ جائے گا،میرا موڈ سخت خراب ہوگیا ،میں ننگا ہی باہر آ کے صوفے پر بیٹھ گیا اور فریج سے بیئر نکال کے پینے لگا ۔ چودہ پندرہ منٹ گزرے ہوں گے کہ دلآویز باہر آگئی ، اس کے چہرے پر شرمندگی تھی ۔ اور چوت والا حصہ دھلا ہوا تھا ۔ میری نظر اس کے جسم پر تھی ، کیا خوب ، قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور۔۔ گویا قیامت میرے سامنے کھڑی تھی ۔ میں اسے بےخود دیکھتا رہا ۔ دلاویز نے بھی میری محویت محسوس کر لی ۔دلکش سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آگئی ۔ دلآویز میرے پاس آکہ گھٹنوں کے بل قالین پر بیٹھ گئی ۔ نیلی آنکھیں میں ساری مستی شراب کی سی تھی ۔ لگتا تھا کہ دلآویز کا ڈراتر گیا تھا ۔ دلاویز نے میرا عضو پکڑ لیا ۔ ہاتھوں سے اس کی منت کرنے لگی کہ کھڑا ہو جا،عضو تو اسے دیکھتے ہی کھڑا ہونے کیلیے تیار تھا ، ٹن کر کے اس نے دلآویز کو سیلوٹ کیا۔ دلاویز اس وقت مکمل سیکسی موڈ میں تھی ،اس نے میرا عضو منہ میں لے لیا۔ آہ ۔ میں نے تو سوچا بھی نہ تھا کہ وہ ایسا کرے گی، لگتا تھا یہ کچھ دیر پہلے کی بدحواسی کا ازالہ تھا ۔ دلآویز کو اس کا پتہ تو نہیں تھا لیکن اس کی کوشش کامیاب تھی ، تھوڑا سا میں نے اسے سمجھایا اور پھر مزا لینے لگا ۔ کچھ دیر مزے لینے کے بعد میں نے اسے نیچے قالیں پر ہی لٹا دیا ،کشن اس کے سر کے نیچے رکھا اور اس کی ٹانگیں کھول کر پھر چودائی کی پوزیشن بنا لی ۔ آرام سے اس کے اندر ڈالا اور آہستہ آہستہ اس کی چودائی کرنے لگا ۔ دلآویز کے چہرے پر سکون تھا جیسے کوئی برسوں کا پیاسا کنویں پر پہنچ گیا ہو ۔ میری چودائی میں روانی تھی ۔ میں اسے چودنے کا بھر پور مزہ لے رہا تھا۔ میری زندگی میں یہ واحد لڑکی تھی جس کیلیے مجھے دس سال انتظار کرنا پڑا ۔ یہی وہ لڑکی تھی جس کیلیئے مجھے پر سکوں گھر سے نکالا گیا ۔ یہی وہ لڑکی تھی جسے پانا میری ضد تھی ،مگر پایا میں نے اسے اس کی مرضی سے تھا ۔ اب بڑے مزے سے اس چودائی کو انجوئے کر رہا تھا،کہتے ہیں شراب اور دشمنی جتنی پرانی ہو اتنا ہی مزہ دیتی تھی ۔ آج دلآویز مجھے بھرپور مزہ دے رہی تھی ۔ حُسنِ دلآویز کاجادو سر چڑھ کے بول رہا تھا ۔ میں نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کے اس کے ممے منہ میں لیے اور چوستے ہوئے دلآویز کی چودائی کرنے لگا ۔ اس اسٹائل میں تھوڑی سی مشکل ہوتی ہے پر لڑکی کو بہت مزہ آتا ہے ۔ دلآویز بھی اگلی وادی میں قدم رکھ چکی تھی اب میں نے رفتار تیز کر دی ۔ تھوڑ ا بیٹھ کے تھوڑا جھک کہ اس کے ممے اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کے چودائی کرنے لگا ۔ دوہرا مزہ اسے دینے کا مقصد چودائی کی حقیقت سے واقف کرانا تھا ۔ تا کہ پھراپنے مزے کیلیئے مجھے مزہ دیتی رہے ۔ پھر میں نے تھوڑا مشکل صحیح مگر اس کے ممے منہ میں لے کر چودائی کرنے لگا ،اوہہ ،،،ساحل ،،، کیا کر دیا ہے تم نے مجھے ،،دل کر رہا ہے تم ایسے کرتے رہو ،،بہت مزہ آرہا ہے میری جان،، دلآویز اب سیکس میں بہہ چکی تھی ،،اب اس کا دل دھکوں کو کرتا ہو گا،، ،،،یہی سوچ کر میں بیٹھ کر اسے زوردار دھکے مارنے لگا ،،،،، میرے دھکے رفتار اور طاقت میں اتنے ہی تھے جتنے پہلی بار اس کی چوت برداشت کر سکتی تھی ،،،،، ساحل تھوڑا تیز کرو نہ،دلآویز اور مانگ رہی تھی، ،، میں نے رفتار بڑھا دی ،،،،، دلآویز پہلے سسکنے لگی ،پھر آہیں بھرنے لگی،میں سمجھ گیا کہ اسے درد ہو رہا ہے مگر مزہ بھی آرہا ہے ، ،، ،، اب میرے جھٹکوں سے اس کا جسم ہل رہا تھا ،پھر اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے میں نے دھکوں کی شدت کم کر دی ،،،،پہلی بار کی چودائی اور ہوتی ہے اور ایک ہفتے بعد چودائی اور ہو جاتی ہے،،، مزے کیلیے میں اس کے اوپر لیٹ گیا اور اس کے چہرے کے سامنے چہرہ کر کے اسے چودنے لگا ،،، میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دلآویز کے چہرے پر شرم آنے لگی،،،، ایسے لمحوں میں چودائی کا بڑا مزہ آتا ہے ،،،،،،،بھلا بازاری عورتوں میں ایسی دلکشی کب مل سکتی ہے،،،،،،، یہ جذبات ہی تو ہوتے ہیں جو انسانی حرکات میں رنگ بھرتے ہیں ،،،، اب ایسے ساتھی کا کیا فائدہ جس میں اپنی بھوک سے کوئی دلکشی ہی نہ رہے ،،، چوادئی ہوتی ہے تو پھر پانی بھی نکلتا ہے اور یہ چودائی کا حاصل ہوتا ہے ،،،اسوقت ہم بھی منزل پر پہنچنے والے تھے،،،، ہمارے جسم مقناطیسی انداز میں لپٹے ہوئے تھے ،،، اور پھر دلآویز پہلی بار اپنی منزل پر پہنچی ،،،، اس کا پانی نکلنے لگا ،،،، میں بھی ارادے سے اس کے ساتھ تھا ،، ، میرا بھی پانی نکلنے لگا ،،، ہم نے ایکدوسرے کو جکڑا ہوا تھا ،،اسوقت حالت ہی ایسی ہو جاتی ہے کہ بانہوں میں جکڑ نے کو دل کرتا ہے ۔۔۔فارغ ہو کر ہم ساتھ ساتھ لیٹ گئے ،،،، دلآویز کے چہرے پر پرسکون مسکان تھی ،ہم لیٹے رہے ۔ پھر ہم صوفے پر بیٹھ گئے ،،، اب پھر میرا دل کر رہا تھا اور میں اسے گھوڑے پر چڑھانا چاہتا تھا ۔ میں اس کی چوت کے لبوں کے اندر پہلے حساس ترین مقام کو چھیڑنے لگا ، اور اس کے مموں کو منہ میں لے کر چوسنے لگا،کچھ ہی دیر میں دلآویز بے حال ہونے لگی ،اب تم چودائی کرو، کیا میں مجھے نہیں آتی چودائی کرنا ،پلیز اتنا مزہ آرہا تھا ،بڑا اچھا لگ رہا تھا تم ویسے ہی کرو۔ میں تمھیں سکھاتا ہوں کہ کیسے کرنا ہے ،ایسے کرو میرے اوپر ،عضو پر آکہ بیٹھو ، میں صوفے پر ٹیک لگا کہ تھوڑا لیٹا بیٹھ گیا ،، اے ،،،ہاں یوں اوپر بیٹھو ۔تھوڑا سا پیچھے ہو جاؤ ،آں ہاں ۔ٹھیک ، اب ہاتھ سے میرا عضو پکڑو ،ہاں ٹھیک ہے ،اسے اپنی چوت کی موری پر رکھو ،اب اپنا وزن آہستہ آہستہ اس پر ڈالو اور عضو کو اندر لو،ہاں ایسے ۔پورا لے لو ،آہ،، ہاں مزہ آگیا ،میں نے اس کی کمر سے پکڑ لیا ،اور اسے سہارا دے کے اوپر نیچے کرنے لگا ۔ ہاں تھوڑا اوپر نیچے ہوا کرو ۔اسطرح ،با لکل صحیح ۔ مزہ آ رہا ہے کہ نہیں ۔ دلآویزہ، او، دلآویزہ ؟۔ہاں کچھ کہا مجھے میرے ساحل ، میں یہ پوچھ رہا تھا کہ مزہ آیا ہے کہ نہیں۔؟ بہت مزہ آرہا ہے ساحل ، صحیح کہا تم نے کون کمبخت شادی کا انتظار کرے ۔ پیار کے ان لمحات پر زندگی واری جاسکتی ہے ۔آہ ساحل جسم کو کیا ہوگیا ہے ،رفتار اپنے آپ تیز ہو رہی ہے ۔ دل کرتا ہے تیز اور تیز کروں ،،، دلآویز کو مزہ آگیا ،وہ بہت اچھی سواری کر رہی تھی ،،،مزہ تو مجھے بھی آگیا،بلکہ جو سرُور مجھے آ رہا تھا ،وہ دلآویز نہیں سمجھ سکتی تھی،،، میرے رگ و پے میں ایسی طمانیت بھرتی جا رہی تھی ،،، جس کا دلآویز تصور بھی نہیں کر سکتی تھی،،،دس سال میرے دل و دماغ میں وہ رات ابھرتی رہی،،،اور میں عہد کرتا رہا کے یہ رات نگینہ کو واپس کر کے رہوں گا،،،،، برسوں کا انتظار اور یہ وصال ۔۔۔۔ کوئی اس کے سکوں کو محسوس نہیں کر سکتا ،، دلآویز کبھی مدہم کبھی تیز کبھی بیٹھ کہ کبھی لیٹ کہ چدائی کر رہی تھی،،، چوت اور ممے چھیڑ کے میں نے اس کی چابی بھر دی تھی اور اب اس چابی کی گرم سے دلآویز چدائی کرتی رہی ۔۔درمیاں میں کبھی میں اسے روک کے اسی اسٹائل میں رہتے ہوئے نیچے سے چودنے لگتا تھا ،مقصد اسے آرام دینا تھا ، تا کہ دلآویز اس جگہ اسی اسٹائل میں چدائی کرتی رہی،،،اسے نہیں پتہ تھا چار آنکھیں ہماری ہر حرکت نہایت باریک بینی سے دیکھ رہی ہیں،،، دلآویز چدائی کرتی رہی ،،، آہ ساحل مجھے کیا ہو رہا ہے ،،،، جسم میں جیسے سارا خون ایک ہی طرف جا رہا ہے ۔اوہ ۔۔۔ ساحل میری جان نکل رہی ہے ۔پلیز مجھے سنبھالو ، مجھے بانہوں میں لے لو ۔ دلاویز میرے اوپر گر کے مجھے بازوؤں سے جکڑ لیا ،اس کا وقت پورا ہو گیا تھا ،پانی نے اپنے نکلنے کی جگہ بنا لی تھی ،،،،لیکن میں نیچے سے اسے چودتا رہا،میرا وقت بھی آنے والا تھا،مجھے نیچے سے زور لگانا پڑا مگر دلاویز کے مزے کو رکنے نہیں دیا ۔ میں نے اپنی عادت کے خلاف صفائی کیئے بغیر کیچڑ میں ہی چودتا رہا ،میں بس آنے والا تھا ،اور پھر وہی کیفیت جب میں دلآویز سے لپٹ گیا ۔ بڑا پانی نکلا ،چودائی کے ساتھ ساتھ پانی کا تعلق جذبات سے بھی تھا ۔ اس کے بعد بس پھر میں تھا اور دلآویز تھی ۔نہ ہم رکے نہ ہم تھکے ، میں اسے سواری کراتا رہا وہ مجھے چوادئی کیلیے مجبورکرتی رہی ،آخر یونیورسٹی سے چھٹی کا ٹائم آگیا اور دلآویز مجھے الوداع کہ کر چلی گئی ۔ جب وہ چلی گئے دوسرے کمرے میں اپنا لیپ ٹاپ چیک کیا ،مائکرو کیمرے کے ذریعہ چوادئی کا کھیل اس میں ریکارڈ ہو گیا تھا۔ پورے گھر میں کیمرے تو پہلے ہی لگے ہوئےتھے کبھی کبھار اس کھیل میں ان کی ضرورت پڑ جاتی ہے ، آخر نگینہ کو بھی تو کچھ دکھانا تھا کہ نیئں ، کچھ سین ایڈیٹ کر کے میں نے ان کو کمبائین کر دیا ۔ خاص کر وہ سین اس میں ضرور ڈالا جس میں دلآویز گھوڑے پر سواری کر رہی تھی ۔ اس سین کیلیے ہی تو اسے سواری کروائی تھی ،کیونکہ اس سین سے پتہ چلتا تھا کہ سواری کرنے والا اپنی مرضی سے چودائی کر رہا ہے ،اب نگینہ سے ملنے کا وقت آگیا تھا کیونکہ ایک کام میں پہلے پورا کر چکا تھا ا ور دوسرا دلآویز والا اب ہوگیا تھا ۔ اگلا دن میری زندگی کا اہم دن تھا ،جب میں نگینہ سے ملا تھا ۔ اس دن کے لیئے میں نے بہت انتظار کیا تھا ۔ جب دلاویز یونیورسٹی اور بعد میں سرور خان جنرل سٹور پر چلا گیا تو میں کچھ فاصلے میں اپنی کار میں بیٹھا ان کو جاتے دیکھ رہا تھا جونہی وہ گئے میں کار لاک کر کے نگینہ کے گھر کی طرف چل پڑا اس کے گھر والی بیل بجائی ۔ کون ہے ؟ اندر سے نگینہ کی آواز آئی ،دروازہ کھولیں جی ۔مجھے شہروز نے بھیجا ہے ۔ شہروز نے کیوں بھیجا ہے بڑبڑانے کی آواز آئی جیسے ہی تھوڑا سا دروازہ کھلا ، میں دھکا دے کے اندار داخل ہو گیا نگینہ دروازے کی ٹکر سے گر پڑی تھی ۔ میں نے ریوالور نکال کے اس پر تان لیا اور دوسرے ہاتھ سے دروازہ بند کر دیا ۔ نگینہ نے مجھے پہچاننے میں دیر نہیں لگائی ۔ شہزادے تم ۔اس کی آواز میں حیرانگی اور خوف تھا اس کی نظریں میرے ریوالور پر تھیں ، اندر چلو میں نے ریوالور ہلاتے ہوئے کہا ۔ نگینہ نے تھوڑا پس و پیش کیا تو میں نے اسے بالوں سے پکڑا ،نگینہ نے چیخنے کی کوشش کی تو ریوالور اس کہ منہ میں گھسیڑ دیا اوراسے کھینچتا ہوا کمرے میں لے آیا ۔ اس دوران میرے چہرے پہ ایسے تاثرات تھے جیسے ابھی نگینہ نے کوئی مکاری کی نہیں اور ادھر میں نے اس کو شوٹ کر دینا ہے ۔ اسی لیئے نگینہ بھی چپ چاپ اندر چلی آئی ۔ اندر آکے میں نے اسے بیڈروم پر دھکا دے دیا ،اور خود اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔ جی نگینہ جی کیا حال ہے آپ کا ؟ مجھے آج دیکھ کہ حیران تو بڑی ہوئی ہو گی ۔ سچی بات ہے کہ تمھیں یہ سرپرائیز دے کر مجھے بہت مزہ آیا ، اب تمھیں میرے آنے کی کوئی امید نہیں رہی تھی اور اب میں آگیا۔ کیا دھانسو انٹری ہے میری یار ۔ میرا دل خوش ہوا ۔ قسم سے مزہ آ گیا ۔ نگینہ میری آمد کے جھٹکے سے سنبھلنے کی کوشش کر رہی تھی ۔اور سیدھا میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کہ گھور رہی تھی اسے ریوالور کی کوئی پرواہ نہیں رہی تھی ۔(ریوالور صرف نگینہ کو دکھانے کیلیے تھا ورنہ مجھے اس کی کئی ضرورت تھی ) زیادہ ڈرامے بازی نہ کرو ۔ گولی مارنے آئے ہو وہی کرو ۔ نگینہ دھاڑی ۔اوہو ، تو تم بہادر بننے کی کوشش کر رہی ہو ، لیکن ذرا یہ بھی تو سوچو تمھارے بعد دلآویز کا کیا ہو گا ؟ یاد ہے تم نے مجھے کیا کہا تھا ۔ شہزادے دلآویز تمھاری کسی طرح نہیں ہو سکتی ۔ یکدم نگینہ پژمردہ نظر آنے لگی ۔ شہزادے میں مانتی ہوں میں تمھاری مجرم ہوں مجھے جو مرضی سزا دے لو ، مگر خدا کہ واسطے دلآویز کو معاف کر دو ۔ خدا کا واسطہ تو میں نے بھی دیا تھا نگینے ۔ میں نے اسے یاد دلایا ۔ نگینہ ایک لمحے کیلیے مایوس ہوئی پھر اس نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلا ۔ اور بیڈ سے اتر کر بڑی ادا سے چلتی ہوئی میرے ساتھ آ کہ بیٹھ گئی ، بال کھلے ہوئے تھے اور دوپٹہ اس کا پہلے ہی گر گیا تھا ۔شہزادے اب اتنے کٹھور بھی نہ بنو ۔ ہم نے کچھ وقت اچھا بھی گزارا ہے ۔ اس کے ہاتھ میرے گھٹنوں پر تھے اور اس کے ممے کپڑوں سے باہر آنے کیلیئے اُتاولے ہو رہے تھے۔ نگینہ کی دعوتِ گناہ دیتی آنکھوں میں امید کی کرن تھی ،پتہ نہیں تمھارا جسم اب کیسا ہے ،میں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی ،نگینہ کی آنکھوں میں چمک آگئی اس نے پھرتی سے اپنی قمیض اتار دی ، میں نے ریوالور سے برا کی طرف اشارہ کیا تو اس نے برا اور پھر کھڑے ہو کر شلوار بھی اتار دی ۔ میں نے کھڑا ہو کر اس کے گرد گھوم کر اسے دیکھا ، اور گانڈ پر ایک تھپڑ دے مارا،آؤچ ،،،،،نگینہ مڑ کہ شاکی نظروں سے مجھے گھورنے لگی ، دل تو کرتا تھا اسے اذیت ناک انداز میں چودوں ،مگر اب وہ چلتی پھرتی موت تھی ،اور اس بات کا ابھی اسے بھی نہیں پتہ تھا ،نگینہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت نے تم پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا ہے ۔ اور تم آج بھی کئی جوان لڑکیوں سے بہتر ہو،لیکن تم ایک ناگن ہو اور تمھاری ظاہری خوبصورتی کا فریب میرے لیئے بیکار ہے ،میں نے اپنی بات کہتے ہوئے اسے دھکا دیا نگینہ بیڈ سے جا ٹکڑائی اور گر پڑی ۔ اسےٹھکرا کے اس کی تذلیل کر کے میرے سینے میں ٹھنڈ پڑ گئی ، تمھاری یہ جرات نگینہ خان کی بے عزتی کرو،نگینہ پھرتی سے اٹھی اور خونخوار انداز میں مجھے پر جھپٹی ۔میں نے بیٹھےبیٹھے لات لمبی کر دی اپنے ہی زور میں بڑھتے ہوئے نگینہ کے پیٹ پر لات پڑی اور پیچھے جا گری ۔میں نے اٹھ کے اس کے تیں چار ٹھڈے مار دیئے ۔ نگینے میں وہ کمزور شہزادہ نہیں ہوں ۔ آج میں پرنس ہوں پرنس اور تم جیسی خون آشام آنٹیاں میرے پاؤں چاٹتی پھرتی ہیں ۔میں نے غصے میں اسے دو تین ٹھڈے اور دے مارے ۔ ایک ہاتھ سے اپنے بالوں کو ٹھیک کرتا ہوا میں صوفے پر بیٹھ گیا ،میرے ریوالور والا ہاتھ پھر اس کی طرف تھا ،نگینہ کچھ دیر بعد اٹھی اور بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر وہیں بیٹھ گئی ،اس کے چہرئے پر مسکینی چھائی ہوئی تھی ۔ بیٹا ۔ ۔۔۔۔۔ جو بھی ہو میں تمھاری ماں ہوں میں نے تمھیں پالا ہے ۔۔۔ میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔ دلآویز کو چھوڑ دو ۔ ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ۔ اس کے ننگے جسم کو دیکھتے ہوئے مجھے بے اختیار ہنسی آگئی ۔ میں تمھارا بیٹا نہیں ہوں ۔کیونکہ نہ تم نے مجھے پیدا کیا ہے اور نہ میں نے تمھارا دودھ پیا ہے ،میں نے ایک ایک لفظ کو چباتے ہوئے کہا ۔ نگینہ کا غصے سے چہرہ سیاہ پڑنے لگا ۔ اور شدتِ غضب سے اس کا جسم کانپنے لگا۔ نگینہ پھر مجھ پر جھپٹی ،میں بھی تیار تھا ۔ میں نے فوراًکھڑے ہو کہ اسے دھکا دیا، وہ گری اور میں اسے کے پیٹ پر بیٹھ گیا۔اور زناٹے دار چارپانچ تھپڑ جڑ دیئے ،نگینہ کا دماغ تو گھوم گیا ۔ میں نے پھر لگا تار پانچ چھ تھپڑ اور ٹھوک دیئے ۔ نگینہ کا دماغ ٹھکانے پر آگیا ،تم جان گئی ہو گی کہ تم سیر تھی تو اب میں سوا من ہوں ۔ نگینہ اپنے ننگے جسم کیساتھ بے بسی سے مجھے گھورتی رہی ۔اسے نہیں پتہ تھا کہ اس کے سامنے کون ہے ،میں نے اپنا موبائل نکال کر دلآویز کی ویڈیو لگائی اور اسکرین نگینہ کی طرف کر دی ۔یہ دیکھو جس دلآویز کو مجھ سے بچانے کیلیے تم نے مجھے قتل کرنا چاہا آج تمھاری دلآویز ، اب میری ہے ۔ تم نے آنے والے وقتوں کیلیے اس کا برین واش کر دیا تھا ۔اور میں نے ا سکے برین واش کو اتار کے اپنے لوڑے پر چڑھا دیا ۔ اور تمھاری طرح زبردستی سے نہیں ،دلآویز کی اپنی مرضی سے اسے چودا ہے ،تمھیں اس ویڈیو میں نظر آئے گا کہ کتنے شوق سے دلآویز گھوڑے پر سواری کر رہی ہے ۔ویسے ایک بات ہے نگینے تمھاری بیٹی تم سے زیادہ پٹاخہ ہے میں نے ایک آنکھ دبا کہ نگینہ کے ہی اسٹائل میں کہا ،نگینہ گم سم چپ چاپ اسکرین دیکھے جارہی تھی ۔ جو تم نے مجھے دیا تھا وہ میں نے تمھیں آج واپس لوٹا دیا نگینے ،تمھاری بیٹی شہزادی بن گئی اور اس کی چوت کارستہ کھل گیا ہے ،اب یہ رستہ کھلا رہے گا اور لوگ یہاں سے گزرتے رہیں گے۔ تم سے بہتر کون جانتا ہو گا کہ چوت کا رستہ ایک بار کھلنے کے بعد کبھی بند نہیں ہوا۔ نگینہ کو پھر جوش آیا اس نے پیچھے سے مجھےدونوں گھٹنے مارے لیکن میں انہی کا تو انتظار کر رہا تھا ۔ جیسے ہی مجھے اس کے جسم میں حرکت محسوس ہوئی میں نے دونوں کہنیاں پیچھے کی طرف اس کی رانوں پر دے ماری ، کہنیوں کی نوک اور رانوں کے گوشت کے ٹکراؤ سے نگینہ کی بھرپور تسلی ہوگئی ،کسی وقت یہی گھٹنے میری ہار کا سبب بنے تھے اور اب میرے لیے یہ بچکانہ حرکت تھی اوپر سے میں نے اس کے تین چار تھپڑ دے مارے ۔ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا کہ تم ہار گئی ہو ۔اور تمھیں ہرانے کیلے میں نے بہت کچھ سیکھا ہےاتنا کچھ کے تم میرے سامنے ایک بونی ہو اور بس۔تمھارا سارا خاندان مل کر بھ اب مجھ اکیلے کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ تم نے بہت بڑی غلطی کی تمھیں مجھ کو بھولنا نہیں چاہیئے تھا ،یہ لو ایک ویڈیو اور دیکھو میں نے وہیں نگینہ کے ننگے پیٹ پر بیٹھے نگینہ اور شہروز کی ویڈیو لگا دی،ویڈیو دیکھتے ہوئے نگینہ کی بس ہوگئی اب لگ رہا تھا اس نے ہار مان لی ہے ۔اچھا تو تم نے اس ویڈیو کے ذریعے دلآویز کو اپنا بنایا ہو گا،نگینہ فوراً بات کی تہہ تک پہنچ گئی ۔ میں اٹھا اور صوفے پر بیٹھ گیا ،اس شہروز کے متعلق ایک بات یاد آرہی ہے ،۔ٍٍٍشہروز کے متعلق کیا تھی وہ بات ؟ میں نے سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔ کس بات کا کہہ رہے ہو، نگینہ بے اختیار پوچھ بیٹھی ۔ شہزادے میں بے غیرت نہیں ہوں ،کہ جس لوڑے پہ ماں چڑھتی ہے اسی لوڑے پر بیٹی کو بھی چڑھا دوں ۔ یاد آیا کچھ؟ میں نے نگینہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔ نگینہ نے کیا کہنا تھا چپ چاپ وہیں لیٹی رہی ۔ٹھیک ہے میں چلتا ہوں ۔میں اٹھ کے انگڑائی لیتے ہوئے کہا ۔۔ دلآویز کو تم اسکی ویڈیو یا اس کے سیکس کرنے کے متعلق تم کوئی بات نہیں کرو گی ورنہ تمھاری ویڈیو سرور خان اور تمھارے بھائیوں تک پہنچ جائے گی۔ تب تمھاری برادری تمھیں موت تو دے گی مگر بڑی ذلت کے ساتھ اور تم مر تو سکتی ہومگر ذلت پسند نہیں کرو گی ۔ٹھیک ہے میری جان ، اوکے نگینہ ۔ میں چلتا ہوں، بائےبائے، میں نے واپس چلنے کیلیے قدم بڑھائے ۔ مجھے گولی مارتے جاؤ شہزادے ۔گولی مار دو مجھے اب یہ زندگی نہیں جی سکتی ،، نگینہ چلائی ۔ اوہ ایک بات تو رہ ہی گئی ۔ میں دروازے کے پاس رک کہ اس کی طرف مڑا ۔ ویسے شہروز اور دلآویز کو یہ نہیں پتہ کہ تم ادھر ادھر بھی منہ مار لیتی ہو ، تمھیں یاد ہو گا کہ تم کچھ مہنیے پہلے ایک لڑکے سے ملی تھی زاہد اس کا نام تھا جوان تھا ،پپو تھا۔ زاہد نے جلد ہی تمھیں پھنسا لیا تھا ۔ وقت اور جگہ تمھارے پاس شروع سے ہے ،تم دونوں نے خوب چودائی کی تھی ،یاد آیا کچھ ، ہاں یاد تو آیا ہو گا،اصل میں وہ لڑکا بازاری عورتوں کا بڑا رسیا تھا ،وہاں سے اسے جنسی بیماریاں لگ گئی تھیں جن میں ایڈز نمایاں ہے ،اب سمجھ تو گئی ہو گی کہ تم ،شہروز اور سرور سب ہی مختلف بیماریوں کا نشانہ بن گئی ہو ، ۔ تمھیں کچھ محسوس ہونا شروع ہوگیا ہو گا ۔ دلآویز شہروز کو دینا تمھاری ضد تھی لیکن اب یہ ضد بیٹی کی زندگی کی مانگتی ہے ۔ یقیناً اب تم یہ شادی بھی نہیں کر سکو گی ۔ جب مجھے تمھارا پتہ چلا تھا اسی وقت میں نے اس لڑکے کو کسی کے ذریعے تمھاری ٹپ پہنچائی تھی ۔ اسے یہی بتایا گیا تھا کہ تم بڑی دھانسو قسم کی بچے باز ہو اور ساتھ ہی لاجواب پیس بھی ہو ،باقی کام خود بخود ہوگیا ۔۔ اب تم روز موت کا انتظار کرو گی اور دھیرے دھیرے سسک سسک کہ مرو گی ۔ نگینہ کی رنگت ہلدی کی طرح زرد ترین ہوگئی ۔ اس کی آنکھوں کی چمک ختم ہوگئی اور ویرانی ڈیرے جمانے لگی ۔ (چیک میٹ)چوت کا کھیل سب سے پرانا کھیل ہے شہزادےاور شہزادیاں اس کھیل کا حصہ بنتے رہتے ہیں ،اس کھیل میں ہمیشہ ایک شکار اور ایک شکاری ہوتا ہے کبھی میں شکار تھا آج میں شکاری ہوں۔(آئی ایم پرنس)۔میں ہوں پرنس۔ دائم آباد رہے گی دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا ۔
  2. ،لیکن میں جوسلین کو سمجھانے کے بعد اب تپنے لگا تھا،،اور اسی غصے میں،،ایک دن میں مولوی کہ گھر جاپہنچا،،میں کار میں تھا یہ جوسلین نےلیکر دی تھی،،اور میرے پاس کافی تحائف تھے،،یونیورسٹی کے بعد میں سیدھا ادھر گیا تھا ،،مولوی گھر میں ہی تھا،،مجھے دیکھ کر حیران رہ گیا،،مجھے گھر میں لے گیا،،شہزادے میں تو سمجھا تھا کہ تم ہمیں بھول گئے،،مولوی جوش میں تھا ،،مولوی صاحب بس معاملات حل ہونے میں کافی دیر لگ گئی ۔ چچا مجھے لندن لے گئے اور پھر وہیں سے سارے معاملات کنٹرول کیے۔مولوی کی بیوی اور اس کی بیٹیاں بھی آگئی وہ بھی مجھے دیکھ کر حیران ہوگئی،،میں ان کے شکوے شکائیتوں کے محبت سے جواب دیتا رہا،اور ان کو لائے ہوئے تحائف دینے لگا،،مولوی اور اس کی بیوی تحائف پا کر خوش ہو گئے،،مجھے دعائیں دینے لگے،، البتہ شازیہ ،نازیہ،سعدیہ،اور رافعہ مجھ سے خوش نہیں تھیں،وہ کچھ نہیں کافی روٹھی روٹھی تھیں،،گھنٹے بعد مولوی تو اٹھ کر چلا گیا،،اور میں وہیں بیٹھا رہا۔مکان کا ماحول بدلا ہوا تھا، کچن اینٹوں کا اچھا بن گیا تھا ،اور اس میں سہولتیں بھی لگ رہی تھیں،جبکہ اندر داخل ہوتے میں غسل خانے کو بھی دیکھ چکا تھا جو کہ اب واش روم بن چکا تھا،،لڑکیوں کے کپڑوں سے بھی آسودگی کا پتہ چل رہا تھا،غرضیکہ کافی تبدیلی آچکی تھی،،لڑکیوں کے رویے سمیت بہت کچھ بدل چکا تھا،، باتیں چلتی رہی کچھ ہی دیر میں وہاں مختلف عمروں کے بچے آنے لگے ان کے ساتھ بستے تھے،،میں سمجھ گیا وہ ٹیوشن پڑھنے آئے تھے،کچھ ہی دیر میں اچھی خاصی تعداد ہوگئی،،وہاں تو ٹیوشن اکیڈمی کھلی ہوئی تھی،اب مجھے آسودگی کی وجہ سمجھ آنےلگی،،تینوں بہنیں پڑھانے لگی جبکہ نازیہ اور اس کی ماں میرے پاس ہی بیٹھی رہی،،نازیہ کیا تم نہیں پڑھاتی بچوں کو،،میں تو صبح پڑھا کے تھک جاتی ہوں اسوقت آرام کرتی ہوں،صبح تم ٹیوشن پڑھاتی ہو،میں نے پوچھا،نہیں بیٹا یہ ایک سکول میں ٹیچر لگ گئی ہے وہاں پڑھاتی ہے ،میں حیران ہوگیا،،مولوی کے گھر یہ کیسی کایا پلٹ آگئی ہے،ہاں میں ساتھ میں ایم ،اے بھی کر رہی ہوں اس کے بعد بی ایڈکا رادہ ہے،نازیہ نے بتایا ،کیا کسی پرائیویٹ سکول میں پڑھا رہی ہو،میں نے وضاحت سے پو چھا،ہاں لیکن سیلری اچھی ہے اور سکول ٹاپ کا ہے،،میں سوچنے لگا ایسے سکول میں نازیہ کونوکری کیسے ملی،،بہرحال قصہ مختصر شام کو میں جانے لگا تو مولوی نے مجھے روک لیا کہ اتنے عرصے بعد آیا ہوں ،اب ایک رات ان کے ساتھ رہوں،اس نے مجھ سے کوئی توقع تو لگائی ہوئی تھی ،اب اتنے عرصے بعد پھر صحیح ،میں بھی یہی چاہتا تھا اس لیے تھوڑی پس وپیش کے بعد رک گیا،رات گئے تک باتیں ہوتی رہیں، ،،میں تقریباً ایک سال اور کچھ مہینے بعد لوٹا تھا،اسوقت بھی سردیاں جا چکی تھیں،موسم نارمل تھا ، پھر بھی میرا بسترکمرے میں لگا دیا گیا اور وہ بھی لڑکیوں کے کمرے میں،ویسے بھی مجھے موسم کی کوئی پرواہ نہیں تھی ،اب میں ہر موسم میں اپنے جسم کا درجہ حرارت اسی کے مطاق کرلیتا تھا،کافی رات ہوئی تو میں تو سونے چلا گیا،،مولوی اور اس کی بیوی بھی سو گئی،،لڑکیاں میرے ساتھ ہی اپنے کمرے میں آگئی،کمرہ بدلہ ہوا تھا،جستی پیٹیوں کی جگہ بڑی سی دیوار گیر الماری بن چکی تھی،ایک سٹڈی ٹیبل،اور کچھ سامان بھی آچکا تھا، دیوار پر شیشہ ابھی بھی لگاہوا تھا ،لیکن میخ کی جگہ لوہے کا بڑا کیل لگا ہوا تھا جو کہ میرے خیال دیوار کی دوسری طرف ضرور گیا ہوا تھا، چارپائیوں کی جگہ چا ر سنگل بیڈ آگئے تھے ،نازیہ نے کمرے کادورازہ بند کردیا،اور میں نے اسے پیچھے سے بانہوںمیں لے لیا،،شازیہ ،سعدیہ اور رافعہ میری طرف دیکھ رہی تھی،میں نازیہ کے پاس واپس آنا چاہتا تھا اور اب آ پہنچا تھا،لیکن وہ ناراض تھیں ،میں نے ان کو منا لیامیرے پاس لندن جانے کا حوالہ تھا،،،وہ کچھ نہ کہہ سکیں،،اور پھر شازیہ ،نازیہ،سعدیہ،اور رافعہ میرے اوپر گر سی پڑیں، بہت ظالم ہو تم ،اور بہت یاد آئی اس ظالم کی،رافعہ نے کہا،،شازیہ ،سعدیہ اور نازیہ خاموش تھیں لیکن ان کے جسم بو ل رہے تھے،،جلد ہی ہم کپڑوں کی قید سے آزاد ہوگئے ،رافعہ بلا جھجک میرے عضو کو چوسنے لگی،،میں نے باقی بہنوں کی طرف دیکھا تو وہاں کوئی خاص بات نہ تھی،حیرانگی تب ہوئی جب سعدیہ بھی رافعیہ کے ساتھ عضو کو چوسنے لگی،،چاروں بہنوں کے انداز میں چدکڑ پن نمایاں تھا،میں سمجھ گیا میرے بعد انہوں نےکوئی اور ڈھونڈلیا تھا،سعدیہ اور رافعہ بڑی مہارت سے عضو کو چوس رہی تھیں،،مجھے بڑا سواد آیا،، ،واہ مزہ آگیا ،میں نے سعدیہ کے منہ پر آتے بال ایک طرف کرتے ہوئے کہا،،چاروں بہنوں کے بال کھلےہوئےتھے ، میں نے دیکھا وہ کٹے ہوئے تھے،مجھے دھچکا لگا ،ان کے بال لمبے اور خوبصورت تھے خاص کر نازیہ کے بالوں میں ا س رات میں باتیں کرتے ہوئے انگلیاں پھیرتا رہا تھا،شازیہ اور نازیہ مجھے چومنے لگی،،شازیہ میرے ساتھ کسنگ کرنے لگی،،جبکہ نازیہ اپنی چوت کو چھیڑنے لگی،،نازیہ کیلیے ہی تو آیا تھا،،پر یہ کیا،ایسی لڑکیاں تو یونیورسٹی میں بہت تھیں،بس ہاتھ بڑھانے کی دیر تھی،سعدیہ اور رافعیہ نےعضو چوس چوس کر مجھے پاگل کردیا ،اورمزید پاگل میں اس وقت ہوا جب ان کی جگہ نازیہ اور شازیہ نے لے لی،نازیہ میرا عضو چوس رہی تھی،،یہ میرے لیے جھٹکا تھا،نازیہ کے بعد میں شازیہ کو پیار کرتا تھا،اور وہ بھی میرے عضو کو بڑی مہارت سے چوس رہی تھی،،رومانوی طبعیت کی شازیہ اب عضو سے رومان لڑا رہی تھی،سعدیہ اور رافعہ میری طرف کسنگ کرنے آئی تھیں ،لیکن میں نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا،وہ ہنسنے لگی،،ارے تم تو لندن سے آئے ہو،پھر یہ کیا،میں کوئی جواب دیئے بناء آنکھیں بند کر کے سرور لینے لگا،،چاروں بہنیں ایک جیسے مہارت اور طریقے سے عضو چوستی تھیں،مجھےبڑا مزہ آیا،،رافعہ اور سعدیہ کسنگ کرنے لگی،،اور بڑا اچھا لیسبن کرر ہی تھیں،وہ چار تھیں تو میں بھی تیاری کر کے آیا تھا،میں آدھا گھنٹا پہلے جب واش روم میں گیا تھا تو ٹائمنگ گولی کھا چکا تھا،اور اب میں نے جوش سے بھرپور سب سے پہلے نازیہ کو ہی پکڑا اور اسے بیڈ پر لٹا کر اس کی ٹانگیں اٹھائی اور اندر ڈال کر چودائی کرنے لگا،،میں اس وقت کسی رحم کے موڈ میں نہیں تھا،پیار کے موڈ میں آیا تھا لیکن اب ان بہنوں کی چدکڑی دیکھ کے میرا موڈبدل گیا تھا،میری رفتار اور طاقت کا فی تھی لیکن نازیہ مزہ لے رہی تھی،،میں اور طاقت سے دھکے لگاے لگا،لیکن نازیہ مزہ ہی لے رہی تھی،،میں نے جی بھرکے چودا اور نازیہ کا پانی نکل آیا،،اس کے بعد سعدیہ بیڈ پر ڈوگی اسٹائل میں آگئی اورمیں نے اندر ڈا ل کے خوب رگڑائی کی،یہ وہی سعدیہ تھی جسے ڈوگی اسٹائل میں مزہ نہیں آیا تھا،،سعدیہ کا جسم سیکسی تھا میں اس کا سیکسی جسم کو چود چود کر تھکا دیا لیکن وہ بھی مزے ہی لیتی رہی،،بلکہ مجھے لگا اسے یہی چاہیے تھا،،اس سے زیادہ میں طاقت لگانا نہیں چاہتا تھا ورنہ چوت کا بھرکس نکل جانا تھا،سعدیہ نے بھی مزے لیکر پانی نکال دیا،،شازیہ سٹڈی ٹیبل پہ بیٹھ گئی،،شاید وہ کچھ منفرد چاہتی تھی،،میں نے اس کی ٹانگیں کھولی اور ان میں کھڑا ہو کر چوت میں عضو ڈال دیا،،اب شازیہ بیٹھی تھی ٹانگیں کھول کر،اور میں کھڑا چود رہا تھا،شازیہ نے بازوپیچھے ٹکائے ہوئے تھے،،اس کے ممے ہل رہے تھے اور جسم چودائی میں خوش تھا،مولوی سے سب سے زیادہ شازیہ ہی ڈرتی تھی،لیکن اسوقت شازیہ ہی سب سے زیادہ بے دھڑک لگ رہی تھی ،شازیہ چودائی سے مسرور سسکاریاں لینے لگی،میں نے اس کی طرف پریشان نظروں سے دیکھا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا ،،پاپا اور مما اس وقت گہری نیند میں ہیں میں نے انہیں لیکسوٹانل گولی کھلا دی ہے بلکہ اس گولی پر لگا دیاہے،میں وحشیانہ انداز میں چودنے لگا،ٹیبل جیسے گرنے لگی ہو،لیکن شازیہ سکوں سے مزے لیتی رہی،،اب مزید حیرانگی میرے لیے ٹھیک نہیں تھی،اور میں نے وہ تصور توڑ دیا جس میں ان کے پاس آیا تھا،اوہ مزہ آگیا شہزادے،،تم اسوقت سے بہترین بہتر چودائی کرنے لگے ہو،ایسا مزہ تو کبھی آیا ہی نہیں ،عجیب مدہوش کرتا مزہ ہے،بالکل منفرد انداز ہے تمھارا ،شازیہ ایسے کہ رہی تھی جیسے بڑی چودکڑ ہو،لگتا ہے لندن میں گوریوں کوچودتے رہے ہو،میں بھی ہنسنے لگا،اور شازیہ کوچود چود کر مزہ لینے لگا،توقعات ختم کردیں تو پھر کوئی دکھ نہیں ہوتا،اور اب میں مزہ لے رہا تھا،،شازیہ نے کچھ وقت لیا اور پھر اس کا بھی پانی نکل گیا،،،اب مجھے تو چودائی میں رکنا اچھانہیں لگ رہا تھا اسلیےرافعہ کی طرف بڑھا لیکن وہ دیوار کے ساتھ جا لگی اور گانڈ میری طرف نمایاں کر لی،،آؤ نہ کچھ یادیں تازہ ہو جائیں،رافعہ نے معنی خیز لہجے میں کہا،میں نے کچھ کہے بغیر اس کی چوت میں عضو ڈالا اور دھکے لگانے لگا،،تھوڑا تیز کرو نہ،رافعہ نے طنز کیا،تو میں سمجھ گیا وہ اس دن کا بدلہ آج مجھے زِچ کر کے لینا چاہتی ہے،میں نے اتنی رفتار اور طاوقت کر دی جتنی اس رات کی تھی،لیکن رافعہ مزے لیتی رہی ،بلکہ لہر میں آگئی،،اسی لہر میں اس نے مجھے کہا،،،،بس شہزادے،،،،اور میں پھر شروع ہوگیا،اسے اندازہ نہیں تھا کہ میں اس دوران کیا سے کیا بن چکا ہوں،اگر میں پہلے والا پرنس ہوتا تو شاید رافعہ کامیاب ہی ہو جاتی،اس کی برداشت کا اندازہ میں کرچکا تھا اب میں نے اس کے پہلوؤں پر ہاتھ رکھا اور پہلا درد ناک جھٹکا دیا،آہ رافعہ کراہی،میں نہ رکا،اور دے دھکے پہ دھکا،رافعہ پہلے تو کراہتی رہی،لیکن پھر آہستہ آہستہ چیخنے لگی،بہنیں اس کے پاس جمع ہوگئی ،ان کے چہرے پر حیرت تھی ،شاید ان کے خیال میں رافعہ ہر قسم کی چودائی کروا سکتی تھی۔ہلکی ہلکی چیخیں روکنے کیلے رافعہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ چکی تھی لیکن میں نہیں رکا،پھر رافعہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے،روک دو پلز روک دو وہ روتے ہوئے بولی لیکن میں اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھے اسے چودتا رہا رافعہ نے میرے ہاتھ سے نکلنا چاہا لیکن اسے نہیں پتہ تھا کہ یہ کس کا ہاتھ ہے،،میں اسے چودتا رہا ویسے بھی میرا وقت پورا ہونے والا تھا،اسلیے مجھے پانی نکالنا تھا،رافعہ میرے ہاتھوں میں دوہری ہو رہی تھی،،شازیہ آگے بڑھی اور اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا تو میں پیچھے ہوگیا،لیکن رافعہ بے ہوش ہوچکی تھی، میں نے اسے بیڈ پر لٹا دیا،سعدیہ میری طرف غصےسے دیکھ رہی تھی،اس نے خود مصیبت کو دعوت دی تھی شازیہ نے اسے کہا،اسے کچھ نہیں ہوگا ،،یہ آدھے گھنٹے میں ہوش میں آجائے گی،،میں نے اس کی نبض دیکھتے ہوئے کہا،میں ایسی حالت سے واقف ہوں ،پریشانی کی کوئی بات نہیں ،بس درد برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے بے ہوش گئی ہے،کچھ دیر میں ہوش میں آجائے گی،اب میرا کچھ کرو،،میں کھڑا تھا اور میراعضو بھی کھڑا تھا،شازیہ اور نازیہ نے یہ ڈیوٹی سنبھال لی اور نیچے بیٹھ کر میرا عضو چوسنے لگی،،میں نے آنکھیں بند کر لیں،کچھ ہی دیر میں میرے جسم میں کپکپاہٹ ہوئی اور میرا پانی نکل آیا،شازیہ اور نازیہ نے اپنے سینے آگے کر دیے،،میں نے ان پر سارا پانی گرا دیا،کبھی یہ ریشمی ممے میرے لیے ایک خواب تھے اور اس خواب کے تصور میں مجھے یہاں آنا پڑا ، بہرحال بالکل ننگی فلم جیسا منظر تھا،ٹھیک آدھے گھنٹے بعد رافعہ ہوش میں آگئی بہنوں کے چہرے پر بھی اطمینان آگیا،اور وہ سونے کی تیاری کرنے لگی،،جبکہ میں سو بھی چکا تھا،صبح ناشتہ کرکے پھر ملنےکا وعدہ کر کے میں مولوی سے اجازت لیکر وہیں سے سیدھا یونیورسٹی چلا گیا،یہ پہلی رات تھی جو ساڑھےپانچ سال بعد میں نے اپنی مرضی سے جوسلین کے علاوہ کسی اور کے ساتھ گزاری تھی،یونیورسٹی میں ہی ناشتہ کیا،اور موبائل آن کیا،کچھ ہی دیر میں جوسلین کی کال آگئی،،ہیلو،،کہاں تھےتم،،جوسلین نے بے اختیار پوچھا،میں یونیورسٹی میں ہوں تم کہاںہو،،آئی نہیں یونیورسٹی میں،،میں نے اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے نیا سوال کردیا،وہیں رہنا میں آرہی ہوں،میں غزل سے ملا ،،کہاں تھے یار ،،تمھارا موبائل کیوں بند تھا،،میں مصروف تھا،اچھاکیا مصروفیت تھی،مصروفیت تمھارے طرح خوبصورت نہ تھی،لیکن غزل اسے مذاق سمجھی،ہم پیریڈلینے چلے گئے،جوسلین نے پیریڈ لینا تھا اور وہ دیر سے آئی،میں غزل کے ساتھ اپنی جگہ پر بیٹھا تھا،مجھے دیکھ کر جوسلین کو جیسے قرار آ گیا،پیریڈ ختم ہوتے ہی مجھے جوسلین نے بلایا،اور مجھے ایک سائیڈ میں لے گئی،پرنس تم مجھے سے ناراض رہنے لگے ہو،اگر اس کی وجہ میرا غزل سے رویہ ہے تو میں تمھیں یقین دلاتی ہوں کہ آج سے میں اسے کچھ نہیں کہوں گی،جوسلین نے جیسے ہار مانتے ہوئے کہا،میں سمجھ گئی ہوں کہ غزل تم سے کبھی چودائی نہیں کروائے گی،یہ ان عورتوں میں سے ہے جو خالص نسوانی مزاج کی رومانوی طبیعت کی ہوتی ہیں،ایسی لڑکیاں اپنے محبوب کو اپنا دل دے دیتی ہیں،لیکن اپنا جسم تبھی دیتی ہیں جب ان سے شادی کرتی ہیں،پرنس میں نے تم پراپنا سب کچھ نچھاور کر دیا،اور تمھارےلیے،اپنی زندگی تبدیل کر لی،اور تمھارے سوا دنیا سے کنارا کر لیا،میرے لیے تم ہی زندگی ہو،مجھے تنہا نہ چھوڑنا ،نہیں تو میں خود کشی کر لوں گی۔جوسلین انتہائی جذباتی ہو رہی تھی،میں اسے فلیٹ پر لے گیا،لیکن جوسلین پر جذبات کا دورہ پڑ چکا تھا،بس مجھ سے اظہارِ محبت اور اپنی چاہت کا مختلف انداز میں بیان ہی آجکل اس کی گفتگو کا مرکز تھا،اسے جیسے ڈر ہو گیا تھا کہ میں اسے چھوڑ رہا ہوں،اس کا دھیان بٹانے کیلے میں کچھ دن کی چھٹی لے کر میں اسے جاگیر پر لے گیا، وہ وہاں کے معاملات میں مصروف ہوگئی،اور رات کو میں اس کو چودتا،تو اس طرح اس کا دل بہل گیا،ایک ہفتہ ہم وہاں رہ کر واپس ہو لیے،واپسی پر رستے میں ایک جگہ گاڑی روکنی پڑی، کیونکہ سامنے ایک بڑا سا درخت گرا ہوا تھا اور اس نے سارا رستہ روک رکھا تھا،مجھے فضا میں خون کی بُو محسوس ہوئی میں چوکنا ہوچکا تھا، پرنس باہر نہیں نکلنا،اندر ہی بیٹھے رہو،جوسلین ڈر گئی تھی ،شاید وہ چوکنی رہتی تھی،ہماری گاڑی بلٹ پروف تھی ، یہ عام گاڑی نہیں تھی ،بڑی مہنگی گاڑی تھی،میں نے گاڑی اسی حالت میں پیچھے کی طرف بھگانی چاہی اور پیچھے دیکھا تو وہاں ایک اور درخت کا تنا پڑا تھا ،اب کھیتوں میں گاڑی اتارنا بھی خطرناک لگ رہا تھا،جوسلین اپنی جاگیر میں کال کرنے لگی،اس کا ارادہ گاڑی کے اندر ہی وقت گزارنے کا تھاجب تک مدد نہیں آجاتی،اس وقت تک اندر ہی بیٹھے رہنا چاہتی تھی ہم اندر ہی بیٹھے رہے،کچھ منٹ اسی طرح گزر گئے،جب ہم باہر نہیں نکلے تو اطراف کے کھیتوں دونوں طرف سے چار ،4 آدمی نکلے،ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف تھیں،ایک کے ہاتھ میں بڑا سا ہتھوڑا تھا،میں ان کا منصوبہ سمجھ گیا،وہ ہتھوڑے سے شیشہ توڑنا چاہتے تھے تا کہ پھر ہمیں قتل کر سکیں،ان کو معلوم تھا کہ گاڑی بلٹ پروف ہے،اور ہم یہاں سے اسوقت گزریں گے،یہ صرف چند پل کا منظر ہے،اور گاڑی میں رکنا موت کے مترادف تھا،میں اسی پل فیصلہ کرچکا تھا کہ مجھے کیاکرنا،دروازہ بند کرلینا میں نے جوسلین سے کہا،میرے الفاظ ختم نہیں ہوئے تھے کہ کوان لی کی آواز میرے ذہن میں گونجی،میرے بچے کسی کے خون سے اپنے ہاتھ مت رنگنا،،جیسے ہی ہتھوڑے والا نزدیک آیا اور اس نے ہتھوڑا بلند کیا،میں نے دروازہ جھٹکے سے کھولا دروازہ اسے لگا وہ دوہرا ہوا،اور میں باہر نکلا،مجھ پر فائرنگ ہوئی،لیکن میں ہتھوڑے والے کی آڑ میں آچکا تھا،اس سے پہلے وہ کچھ سوچتے ہتھوڑے والا اڑتا ہوا کسی میزائل کی طرح اسطرف کے باقی تینوں آدمیوں پر جا گرا،کسی نے فائرنگ کر دی تھی اور ہتھوڑے والے کی لاش ہی ان پر جا گری،اس سے پہلے وہ کہ سنبھلتے میں ان کے سر پر پہنچ چکا تھا،مجھے محسوس ہوا کہ درمیان میں گاڑی ہونے کی وجہ سے دوسری طرف کے چار آدمی،میری طرف بھاگ چکے ہیں،یہ سارا لمحوں کا کھیل تھا،میں نے اپنی طرف کے گرے آدمیوں میں سے ایک کے بازو پر ٹھوکر ماری اس کابازو ٹوٹ گیا،دوسرا اٹھنے کی کوشش کرہا تھا کہ میں نے اس کی تھوڑی کے نیچے مکا مارا وہ وہ زمیں کی طرف ایسے گیا جیسے ،کششِ ثقل نے اسے پوری طاقت سے کھینچ لیا ہو،جب اس کا سر زمین پر لگاتو اس کا جبڑا ٹوٹ چکا تھا اور وہ بے ہوش ہوچکا تھا،تیسرا اٹھ بیٹھا تھااور بیٹھے بیٹھے مجھ پر فائرنگ کی،لیکن میں تو وہاں نہیں تھا،میں کہاں ہوں،اس بات کا پتہ اسے اسوقت چلا جب جب اس کی کنپٹی پر مکا پڑ چکا تھا،اور مردہ مکھی کی طرح زمیں پر گر گیا وہ بھی بے ہوش ہوگیا تھا،ابھی دوسری طرف کے چار آدمی گاڑی کے پاس پہنچے تھے وہ میری رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے، میں مڑا ایک طرف سے دو آدمیوں کی طرف بھاگا،انہوں نے مجھ پر فائرنگ کی،لیکن میں زمیں پر نہیں تھا،انہوں نے کبھی کسی انسان کو اسے اڑتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔لیکن حیرانگی کی بجائے انہوں نے پھر فائرنگ کی لیکن انہیں دیر ہوچکی تھی،جب میں ان پر گرا تو میرے گھٹنے سے ایک کی ہنسلی کی ہڈی ٹوٹ گئی اور دوسرا میرے کھڑی ہتھیلی سے اپنا بازو کٹوا چکا تھا،دوسری طرف کہ ایک آدمی میری طرف بھاگا اور ایک نیچے لیٹ گیا ،اور نیچے سے میرے پاؤں پر فائرنگ کرنی چاہی،گاڑی کی رکاوٹ کی وجہ سے مجھے سارا موقع ملا تھا،دوسرا میری طرف بھاگا،لیکن اسے مجھ سے ملنے کی حسرت ہی رہ گئی کیونکہ میں گاڑی کے اوپر سے اس آدمی پر جا گرا،جو نیچے لیٹ کر فائرنگ کرچکا تھا،میری کہنی اس کی کمر پر لگی،اور نیچے لیٹے آدمی کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اب وہ کبھی بھی اٹھ کے بیٹھ بھی نہیں سکتا تھا،جو میری طرف جا رہا تھا وہ پلٹا اور میری طرف آیا ،لیکن میں تو اس کے پیچھے تھا،میری لَو کِک اس کے رانوں پر پڑی اور ہڈی ٹوٹنے کی آواز اس نے بھی سنی ہوگی تب اسے پتہ چلا ہو گاکہ میں کہاں ہوں،،وہ ریت کی بوری کی طرح نیچے گرا لیکن اس پہلے اپنی بازو کی ہڈی بھی تڑوا بیٹھا،جس کا سب سے پہلے ہاتھ توڑا تھا وہ دوسرے ہاتھ سے کلا شنکوف سنبھال چکا تھا تکلیف کہ باوجود اس نے میری طرف فائرنگ کی،لیکن میں وہاں نہیں تھا ،اس نے اپنی سمجھ کے مطابق میرے ہیولے پر فائرنگ کی،لیکن میں تو وہاں بھی نہیں تھا ،میں فضا سے نیچے آیا اور سیدھا اس کے اسی ہاتھ پر آیا اس کا ہاتھ گن سمیت میرے دونوں جوتوں کے درمیان تھا میں تیزی سے گھوما تو اس کا دوسرا ہاتھ بھی کلائی سے ٹوٹ چکا تھا،کچھ لمحوں کا ہی تو سارا کھیل تھا جس کا ہاتھ کٹا تھا اس کی فلک شگاف چیخیں باقی سب سے اونچی تھیں،شاید اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میرے ہاتھ میں کوئی تلوار وغیرہ نہیں تھی تو اس کا ہاتھ کیسےکٹ گیا،جس کی ہنسلی کی ہڈی ٹوٹی تھی اور جس کا ہاتھ کٹا تھا اسے پکڑ کر ایک سائیڈ میں کیا ان میں سے کٹے بازو والا بے ہوش ہوچکا تھا اور ہنسلی کی ہڈی ٹوٹنے والے کا سر عجیب سے انداز میں دھنسا ہوا تھا ،پھر میں گاڑی میں بیٹھا اور کھیتوں میں گاڑی کھسا دی ،،مکئی کے کھیتوں میں کچھ نظر نہیں آرہا تھا اس لیے میں نے گاڑی جتنی ریورس کر سکتا تھاکی اور ذرا لمبا چکر کاٹ کر پھر سولنگ لگی سڑک کی طرف آگیا،جوسلین میری طرف زبردست حیرانگی سے دیکھے جا رہی تھی،،کیا بات ہے ،میں نے اس سے پوچھا،،تو یہ سیکھا ہے تم نے کوان لی سے،وہ ابھی تک حیران تھی،،،ہاں تم کہہ سکتی ہو،،کہہ سکتی ہو کا کیا مطلب ہے،،آٹھ ہتھیار بند آدمی اور تمھارے پاس کچھ نہیں تھا،،لیکن وہ سب تمھارا کچھ نہ بگاڑ سکے،،ہاں یہ کنگفو کا اسٹائل پاکوا تھا،،اس میں آٹھ سمتوں کا دھیان رکھا جا تا ہے،،لیکن کوئی آدمی یہ کیسے کر سکتا ہے،،اتنی تیزی تو انسانی جسم سے ممکن ہی نہیں،جوسلین کا سوال جائز تھا،،مارشل آرٹ میں رفتار ہی تو سب کچھ ہے،،جو جتنا تیز ہے وہ اتنا ہی بڑا ماسٹر ہے،،تو کیا تم کوئی ماسٹر ہو،،جوسلین کے چہرے سے حیرانگی نہیں جا رہی تھی،میرے عظیم ترین استاد زونگ ینگ کوان لی کا یہ کمال ہے میں تو کچھ بھی نہیں ہوں،،میں سمجھتی تھی کہ اب تک ایسا فلموں میں ہوتا آیا ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے،،ہاں تم ٹھیک کہتی ہو۔عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے ،لیکن اگر مارشل آرٹ کی اساطیری داستانیں پڑھیں تو حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے ،کہ یہ حقیقت تھا،،لیکن جس طرح بہت سے فنون جدت کی نظر ہو گئے ہیں،اسی طرح جدید آتشی ہتھیاروں کے سامنے یہ فن بھی مٹ رہے ہیں،کیونکہ برسوں کی تپسیا سے ایک ماسٹر بننے والا شخص کسی اسٹریٹ فائٹر کی ایک گولی سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے،،تب اس فن کی طرف کون دھیان دے گا،دوسرا اس فن کو غلط استعمال کرنے والے بھی تھے اسلیے استاد حضرات اہل لوگوں کے حوالے اپنا فن کرتے تھے،اور فی زمانہ آپا دھاپی کے دور میں کسی انسان کے حوالے ایسا خطرناک فن سونپ جانا کہ وہ قاتل مشین بن جائے اور کوئی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے بڑا خطرناک ہے،،اس لیے اس لیے کوان لی کے پائے کے استاد اپنے ساتھ ہی اپنا فن لے جانے لگے،،اب تو بس باقیات ہی رہ گئی ہیں،اس لیے ماسٹرز اب وہ نہیں رہے نہ وہ حقیقتیں رہیں،اچھا تو اب سمجھی کہ کوان لی کسی کو اپنا شاگرد کیوں نہیں بناتا تھا،،ہاں وہ کسی کی تلاش میں تھا جسے اپنی وراثت دے کر جا سکے،اور اس نے اپنی وراثت کیلیےتمھیں چن لیے،،آخر اس نے تم میں ایساکیا دیکھا کہ وہ راضی ہوگیا تھا،،میں یہ بات سمجھ نہیں سکی،،میرے خیال میں وہ گوشہ نشیں شخص ہے اور اسے دولت کی کوئی پرواہ نہیں ہے،،اب یہ تو تم ہی بتاؤ گی کہ اس نے مجھ میں کیا دیکھا ،کیونکہ تم بھی میری استاد ہو،،میں تمھاری استاد تھی،،اب تو لگ رہا ہے کہ میں کوئی نادان بچی ہوں،،پتہ نہیں کوان لی نے تمھیں کیا بنا دیا ہے،،تم ہر جگہ آگے ہو جبکہ یہ ایک لڑنے بھڑنے کا فن ہے اور بس،،میں ہنسنے لگا،،یہ بات تم نہیں سمجھو گی،،کہ جب ایسے فن میں انتہا تک پہنچا جائے تو اس سے اختیار حاصل ہوجاتا ہے،،اور پھر وہ شخص اپنا اختیار کو جہاں چاہے استعمال کر لے،،ویسے کیا تم ان لوگوں کو جانتی ہو،،نہی میں نہیں جانتی،،میں نے دھیان لگایا تو اک شبیہ ابھری،،لیکن کوان لی کی آوز پھر ابھری،،ایسا مت کرو میرے بچے،اسے نہ بتانا ،اس طرح تم اس کے سامنے اپنا آپ ظاہر کر رہے ہو،،ویسے میں جاتے ہی آئی جی سے ملنے کا ارداہ رکھتی ہوں،اس دوران وہ اپنی جاگیر میں بھی دوبارہ بات کر چکی تھی اور تفصیلات بتا کر وہاں پڑے لوگوں سے اصل مجرم کےمعلوم کرنے کا کہہ چکی تھی،یہ لوگ چھپے نہیں رہیں گے،،جوسلین کی آواز مجھے خیالوں سے کھینچ لائی،لیکن مجھے اب کوئی ڈر بھی نہیں ہے میرے ساتھ میرا سپر مین ہے،جوسلین کافی مضبوط اعصاب کی تھی نہیں تو اتنی جلدی نہ سنبھلتی،،ہم باتیں کرتے رہے اور فلیٹ تک کے راستےکا پتہ ہی نہیں چلا،،اگلے دن یونیورسٹی گئے تو غزل کے شکوے شکائتیں شروع ہو گئی لیکن میں نے اسے رام کر لیا،میرا خیال تھا کہ جوسلین اب غزل سے کنارہ کر لگی۔۔لیکن یہ میری خام خیالی تھی،،جوسلین نے بس اپنا انداز بدلا تھا ،میں نے اس چک چک سے جان چھڑانا چاہتا تھا،،مجھے اس کیلیے یہی مناسب لگا کہ میں یونیورسٹی چھوڑ دوں،لیکن اصل بات یہ تھی کہ غزل بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی،،وہ اتنا آگے بڑھ گئی تھی کہ اس کیلیے واپسی ممکن نہیں تھی،حالانکہ میں نے اپنے بارے میں کھل کے سب کچھ بتا دیا کہ میں کیا ہوں خاص کر میں نے اس کے سامنے اپنا سیکسی روپ بھی کھول دیا تھا کہ مجھے چودائی میں دلچسپی ہے،جوسلین ،نگیہ،سحرش،شازیہ،رافیہ ،نازیہ ،سعدیہ،اسے سب کا پتہ تھا،،لیکن غالب نے سچ کہا ہے ،، عشق نے غالب نکما کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے، غزل کی حالت دیکھتے ہوئے میں نے یونیورسٹی چھوڑ دی ،،پرنس تم اب یونیورسٹی کیوں نہیں آرہے،جوسلین نے تین دن بعد مجھ سے پوچھا،،میں نے یونیورسٹی چھوڑ دی ہے۔۔کیا یہ تمھارا فائنل ائیر ہے اور ابھی تم نے پی ایچ ڈی بھی کرنی ہے،،،کیا اپنی بات ہی بھول گئے ،تم ماسٹر سے اگلے درجے تک جانا چاہتے تھے، اب میرا پڑھنے کو دل نہیں کرتا،،اسلیے میں آگے نہیں پڑھوں گا،،میں نے جوسلین کو صاف جواب دے دیا،جوسلین خاموشی سے میری طرف دیکھنے لگی،،دیکھو میں نےتمھیں بنایا ہے اور میں اپنے شاہکار کو مکمل دیکھنا چاہتی ہوں،،میں خاموشی سے لائبریری گیا اور وہاں سے ایک فائل لا کر جوسلین کو پکڑا دی،،کیا ہے یہ،،جوسلین نے فائل کھولتے ہوئے پوچھا،،یہ میں نے نفسیات پر ایک مقالہ لکھا ہے اس میں سیکس اورایک فرد کی انسانی نفسیات اور مجموعی طور پر پورے معاشرے کی نفسیات تینوں کو موضو ع بنایا گیا ہے،تم یہ دیکھ لینا ،مجھے نہیں لگتا کہ مجھے آگے پڑھنے میں وقت ضائع کرنا چاہیے،،لوگ ڈگریوں کو دیکھتے ہیں،لیکن ایک کلاس میں زیادہ سے زیادہ آٹھ کتابیں ہوتی ہیں،،اگر ہم ون کو بھی اور ایم اے کو بھی آٹھ آٹھ مضمون دےدیں تو یہ16 ضرب 8 ہوا 126 ،،یعنی 126 کتابیں پڑھنے والا عالم فاضل ہے اور جس کے پاس اپنی لائبریری میں1000 یا 10000 کتابیں ہیں جو ا سنے پڑھی ہیں تو وہ اس ڈگری کے سامنے کچھ بھی نہیں،کیونکہ اس کے پاس ڈگری نہیں ہے،ایسی ڈگری جس کے سلیبس کا کوئی معیار نہیں ہے،،،مجھے یہ دوغلا معیار اچھا نہیں لگا،اب میں نے پڑھنا ہے اپنے لیے،،آج سے میں یونیورسٹی کے کنویں سے نکل کر اپنے آپ کو لائبریریوں کے سمندر کے حوالے کر دیا ہے،ہاں پروفیشنل ایجوکیشن میں کچھ مزہ ہے اس سے کچھ علوم میں مہارت حاصل ہوجاتی ہے لیکن مجھے کون سا روزگار کمانا ہے ،تم ہو نہ،جوسلین میری طرف آنکھیں پھاڑیں دیکھ رہی تھی،کچھ لمحیں چپ رہنے کے بعد جوسلین نے ٹھنڈا سانس بھرا جیسے میرے استدلال کے سامنے اس کو کوئی جواب نہ ملا ہو،پھر بھی پرنس زندگی میں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پرتا ہے،کوئی مصروفیت تو پالنی چاہیے ،اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہیے،،اگر تم محسوس کرتے ہو کہ تم کسی بھی پروفیشنل میں بہترین ہو تو اسے دنیا کے سامنے لاؤ، کیوں نہ تم بین الاقوامی طرز پر مارشل آرٹ کا کلب کھول لو،،،یہ ممکن نہیں ہے جوسلین،،اگر زندگی میں کوئی اہل مل گیا تو اسے اپنی وراثت دے جاؤں گا، نہیں تو کوئی شاگرد کبھی نہیں بناؤں گا، اور کیونکہ تم صحیح کہتی ہو کہ کسی شعبے میں اپنی صلاحیتیں دنیا کے سامنے لانی چاہیے تا کہ جو آپ کہ پاس ہے اس سے دنیا مستفید ہو سکے ،یہ بھی ایک امانت ہے جو حقدار کے پاس پہنچا دینی چاہیے،،اسلیے میں نے اپنے لیے ایک کام چن لیا ہے،اور وہ ہے ،لکھنا،،میں سمجھتا ہوں مجھے لکھنے کی طرف جانا چاہیے،کیا لکھوں گے ناولز،کہانیاں،جوسلین نے بےاختیار پوچھا ،،دیکھوں گا ابھی میں آرٹیکلز کی طرف مائل ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ کچھ سنجیدہ لکھوں،، اگر ناولز وغیرہ کی طرف آیا تو زندگی برائے ادب ہی لکھوں گا، کیونکہ مجھے ادب برائے ادب کی بجائے زندگی برائے ادب اچھا لگتا ہےاور کوئی بامقصد ادب تخلیق کروں گا ،تو پھر تم اردو - ادب میں کیوں نہیں کلاسیں لے لیتے ،مجھے یقین ہے ،کم وقت ہونے کے باوجود تم اس میں اچھی پوزیشن لے لو گے،ہاں وہ ماسٹر کورس کی چند کتابیں میں پڑھ چکاہوں تم چاہو تو میرا ٹیسٹ لے لو،،اس سے کسی نے ادیب تو کیا بننا ڈھنگ سے منشی بھی نہیں بن سکتا،بہر حال تمھارا اصرار ہےتو جب فائنل کے ایگزام ہوں تو میں پیپرز دے دوں گا،جس میں تم کہو گی،پرنس مجھے بہت خوشی ہوگی کہ اگر تم لکھنے کی طرف آؤ ،کیونکہ اوردو ادب پر بھی تمھیں میں نے ہی لگایا ہے اور میں محسوس کر رہی ہوں کہ میرا لگایا ہوا پودا آج تناور درخت بن گیا ہے ،تم نے میری لائبریری دیکھی اس میں تقریباً 10000 کتابیں تو ہوں گی،کسی بھی موضوع پر پوری پوری کولیکشن پڑی ہے،کئی علوم میں مجھے مہارت بھی ہے،،،،اور مجھے لکھنےکا شوق تھا، لیکن میں پھر بھی کچھ لکھ نہ سکی،کیونکہ یہ ایک قدرتی صلاحیت ہے ،او ر اگر تم محسوس کرتے ہو کہ یہ صلاحیت تم میں موجود ہے تو تم لکھو ،،مجھے بہت خوشی ہو گی،،بلکہ میں ہر طرح سے ہمیشہ کی طرح تمھارے ساتھ ہوں۔جوسلین کو اطمینان ہوگیا اور میں تو اپنے راستے پہلے ہی چن چکا تھا، میں اب کنویں کا مینڈک بننے کی بجائے سمندر میں چھلانگ لگانے کا اراد کر چکا تھا،غزل مجھے کالز کرتی رہتی ،لیکن میں نے جواب دینا ہی چھوڑ دیا،مگر اس کے میسجز آتے رہے،،جن سے مجھے پتہ چلا کہ ا سنے وہ یونیورسٹی چھوڑ دی اور کہیں اور داخلہ لے لیا تھا،مجھے پتہ تھا وعدے کے باوجود جوسلین غزل کا کبھی بھی پیچھا نہیں چھوڑے گی، یونیورسٹی چھوڑ کر غزل نے اچھا کیا تھا، غزل کی طرف سے میں بہت پریشان تھا ،اس نے یکطرفہ محبت میں قدم رکھ دیا تھا،،اور محبت اگر یکطرفہ ہو تو عذاب بن جاتی ہے،،میں اس کی طرف اس کے بے مثل حسن کی وجہ سے بڑھا تھا لیکن اس کی معصومیت دیکھ کر اس سے دوستی کر لی ،مخلص دوستی،،اور اب وہی دوستی گلے کا پھندا بنتی جا رہی تھی،غزل مجھ سے ملنا چاہتی تھی،اس کا اصرار بڑھتا جا رہا تھا ،،مجبوراً مجھے اس سے ملنا پڑا جب وہ فلیٹ پر آگئی،اس وقت جوسلین یونیورسٹی گئی ہوئی تھی،اگر جوسلین کو پتہ چل جاتا کہ غزل اسی کے فلیٹ میں مجھے ملنے ہی آگئی تھی تو اس پر تو قیامت ٹوٹ پڑنی تھی،،اور اسنے غزل کا بھی حشر نشر کردینا تھا،،لیکن غزل نے مجھ سے ملنے کیلیے بہترین ٹائمنگ چنی تھی۔میں اس وقت ناشتہ کر رہا تھا اور سامنے لگےٹی وی پر نیوز چینل لگا ہوا تھا،ناشتہ کرو گی،،نہیں میں ناشتہ کر کے آئی ہوں،،تو پھر کافی پی لو،،ہاں کافی پی لوں گی،تو پھر اچھی بچی بن جاؤ اور اپنے اور میرے لیے کافی بنا لاؤ۔اتنے میں ناشتہ ختم ہوجائے گا،غزل چپ چاپ کچن میں کافی بنانے چلی گئی۔ناشتہ ختم ہوا تو ہم کافی پینے لگے،،غزل خاموش تھی اور یہ گھنبیر خاموشی مجھے بتا رہی تھی،کہ ضرور کچھ خاص بات ہے،،پرنس میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں،،کیا کہنا چاہتی ہو تم،،جوسلین جو دِکھتی ہے وہ ویسی نہیں ہے،،میں گہری نظروں سے غزل کو دیکھنے لگا،،جس گفتگو سے میں بچنا چاہتا تھا،آج وہی شروع ہو گئی تھی،پہلی بار غزل نے جوسلین کے خلاف بات کی تھی،پرنس میری طرف ایسے مت دیکھو،میں اسلیے تمھارے پاس نہیں آئی ہوں کہ تمھیں جوسلین سے برگشتہ کر اپنی طرف مائل کر لوں،،میں تم سے محبت کرتی ہوں اور بے پناہ محبت کرتی ہوں،،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں تم پر قبضہ کرنا چاہتی ہوں،تمھاری محبت میرے جسم جاں میں کھل مل گئی ہے اب تمھاری محبت اور میری جان ایک ہی بات ہے،،تم نے مجھے اس محبت سے ہٹانے کیلیے بڑا کچھ کیا،خود کو برا بھی ثابت کیا جبکہ لوگ خود کو اچھا ثابت کرتے ہیں،،لیکن میں کیا کرتی،تمھاری محبت میں تو میں اسی وقت گرفتار ہوگئی تھی جب تمھیں پہلی بار دیکھا تھا،اسی وقت میں تمھاری تیرِنظر کی گھائل ہوگئی تھی،تم اگر باتوں کی گہرائی تک جاتے ہو،ہر چیز کی الگ الگ تقسیم کر کہ اس کی پہچان کرتے ہو تو میں بھی تمھیں بتانا چاہتی ہوں،کہ تم میری پسند نہیں ہو،نہ یہ سیکس ہے ،کیونکہ میں تم سے کبھی سیکس نہیں کروں گی اور شادی سے میں نے تمھیں خود آزاد کررہی ہوں ،نہ تم میری تمنا ہو نہ آرزو ہو، نہ خواہش ہوکہ میں تمھیں اپنی زندگی میں کسی چیز کی طرح حاصل کرنا چاہوں،،نہ یہ دل لگی ہے،،یہ عشق بھی نہیں ہے کہ میں حواس ہی کھو بیٹھوں،،یہ ہے محبت ،جیسے چاہے اسے پرکھ لو،،اگر ا پنے لفظوں میں کھوٹی نکلوں تو میرا خون تم پر حلال ہو گا،(اظہار کی ادائیگی میں کمال کردیا)لیکن میرا تم سے محبت کرنے کا حق تم مجھ سے چھین نہیں سکتے،اور میں ہر سانس کے ساتھ تمھارے نام کی مالا جپتی رہوں گی(عزمِ صمیم تھا اس کا چہرہ)،اب ایسا بھی نہیں کے مجھے وصال کی چاہت ہی نہیں ہے اور میں کوئی آفاقی محبت کر رہی ہوں (شرم سے گلنار اور سر جھکا ہوا)، لیکن یہ شاید میری قسمت میں ہی نہیں ہے اور میں خدا کی رضا پر راضی ہوں،(انتہائی پرسکون تھا اس کا چہرہ ) یہ میری نسوانیت کے خلاف ہے کہ میں تم سے اظہارِ محبت کروں ،لیکن بہت سوچ کر میں یہ اس لیے کہہ رہی ہوں کہ تم مجھ سے نہ بھاگو،میری طرف سے تم آزاد ہو تمھیں اپنی زندگی گزارنے کا حق ہے،(واقعی وہ میری محبت میں راضی ہو چکی تھی،اس نے محبت کی معراج پا لی تھی)لیکن اگر مجھ سے دوستی رکھو تو مجھے خوشی ہوگی کہ تم نے مجھے اس قابل سمجھا،اب تم کہو تو میں جوسلین کے بارے میں کچھ باتیں کرنا چاہتی ہوں،غزل نے آج وہ سب کہہ دیا جو وہ مجھ سے سننا چاہتی تھی،سچی بات ہے میں گم سم تھا،،ٹھیک ہے غزل تم جوسلین کے بارے میں جو کہنا چاہتی ہو،کہو ،میں غور سے سنوں گا،پرنس نگینہ نے تمھارے ساتھ زبردستی کی تھی،،اور تمھیں ایسے رستے پر لگا دیا تھا ،جس سے شاید واپسی ممکن نہیں تھی،،یا اس نے جو گھاؤ لگایا تھا اس کا بھرنا ممکن نہیں تھا،،اسلیے تم نے اس سے اسی وقت اپنی عقل کے مطاق بدلہ لینا چاہا اور نہ لے سکے،،بالکل ا سی طرح ہی جوسلین ہے ،اس کے انداز میں فرق ہے ،اس نے تمھاری فطرت دیکھ کر مزاج سمجھ کر تمھیں ایسی کہانی ڈالی جس سے تم بچ نہ پائے،وہ سمجھ گئی تھی کہ تمھاری کشش کی وجہ سے کوئی تمھارے ساتھ زبردستی سیکس کروا چکا ہے اس لیے اس نے میٹھا بن کے حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا،جب اس نے کہا کہ وہ تمھیں تمھاری مرضی سے حاصل کرنا چاہتی ہے ،تو یہ ایک شطرنج کی چال تھی جس کو تم سمجھ نہ سکے اور اس کے ساتھ رہنے لگے،،اگر تم نہ کہتے تو اس نے کئی طریقے اور استعمال کرنے تھے،،لیکن اس کا پہلا وار ہی اتنا خطرناک تھا کہ کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکتا تھا،،رکو رکو رکو،،غزل تمھارا مطلب ہے کہ جب اس نے کہا کہ وہ مجھے میری مرضی سے حاصل کرنا چاہتی ہے تو وہ حقیقت میں مجھے دانہ ڈال رہی تھی اور میری نظر دانے پر تھی اس کے پیچھے جو پھندا تھا میں اسے دیکھ نہ سکا،،ہاں میں یہی کہنا چاہتی ہوں۔مجھے ایکدم چپ لگ گئی اور پھر جوسلین کے احسانات یاد آنے لگے،،نہیں غزل ایسا نہیں ہوسکتا ،اس نے مجھے چاہا ہے اور میرا ہاتھ اس وقت پکڑا تھا جب میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا،اس نے میرے لیے سب کچھ چھوڑ دیا،یہ بھی تمھاری خام خیالی ہے پرنس،،اس نے کبھی بھی تمھارے لیے کچھ نہیں چھوڑا ،،وہ پہلے کی طرح مردوں سے دوستیاں کرتی رہتی ہے اور بھی کافی کچھ کرتی ہے،تم سمجھتے ہو کہ وہ تمھارے ساتھ ہر پل رہتی تھی تو یونیورسٹی کے وقت یا جب وہ بازار جاتی تھی،یا اپنی کولیگ کے پاس ،یا کسی اور کام کے بہانے،اس کی جاگیر اور آخر وہ ایک مشہور پروفیسر تھی اس کی کافی مصروفیات تھی ،بس یہ تمھیں سمجھایا گیا تھا ،اور تم نے مان لیا کیونکہ اسنے تمھاری آنکھوں اپنی مکاری سے پٹی باندھ دی تھی،اعتماد اور محبت کی پٹی۔دوستی کی پٹی،دیکھو پرنس تم جو کہتے ہو کہ اس نے تم پر احسانات کیے درحقیقت وہ اس نے تمھاری قیمت بھری تھی۔۔قسطوں میں ۔۔میں یہ نہیں چاہتی کہ تم اس سے برگشتہ ہو کرمیری طرف آجاؤ ،لیکن میں یہ ضرور چاہتی ہوں کہ تم اس کی ذہنی غلامی سے آزاد ہو جاؤ،غزل نے اعتماد سے کہا۔چودائی کی زبان میں غزل کہہ رہی تھی کہ آنٹی (جوسلین)نے گھر میں بچہ رکھا ہوا ہے جس کی قیمت بس کچھ زیادہ تھی،،،ٹھیک ہے غزل تم نے مجھے بہت کچھ بتایا ہے،اب تم ایسا کرو مجھے تنہا چھوڑ دو،،ہم پھر ضرور ملیں گے،،میں نے پژمردگی سے کہا۔غزل میری کیفیت سمجھ چکی تھی کہ میں اس وقت تنہائی چاہتا ہوں،،اسلیے وہ چپ چاپ اٹھ کے چلی گئی،وہ جاتے جاتے رکی۔واپس مڑی ۔میرے پاس آئی۔جھک کے میرا ماتھا چوما ۔ اور کہا اپنا خیال رکھنا۔۔پھر وہ چلی گئی۔اگر وہ کوان لی کے ملنے سے پہلے مجھ سے یہ سب باتیں کہتی تو آج اتنی آسانی سے یہاں سے جا نہیں سکتی تھی،اور نہیں تو کم از کم اس کی ریکارڈ بےعزتی ہونی تھی،لیکن میرے عظیم استاد کی بدولت میں جوسلین کے سحر سے آزاد ہوچکا تھا،اور یہ بات جوسلین بھی محسوس کر چکی تھی،میں تو بس جوسلین کے احسانات تلے دبا اس کی پرستش کرر ہا تھا،میں وہیں صوفے پر لیٹ گیا،اور سوچنے لگا اگر جوسلین بھی ایسی نکلی تو میں تو دنیا میں تنہا رہ جاؤں گا،بالکل تم تنہا ہی تو ہو الّوکے پٹھے ،کیونکہ تمھار اباپ تو مر گیا ہے نہ،کوان لی کی آواز میرے دل میں آئی،،آپ پٹھہ مجھے کہہ رہے ہیں تو الّو کسے کہہ رہے ہیں،،خود کو الو کہہ رہاہ ہوں ،کیونکہ مجھے تم جیسا نالائق شاگرد ملا،جو ایک عورت کی وجہ سے رونے لگ گیاہے،کوان لی شگفتگی سے بات کرتے ہوئے طنز بھی کرتا گیا،،اس سے اتنا ہوا کہ میرے اندر اترتے اندھیرے چھٹنے لگے اور میں پھر سے وہی بن گیا، یعنی عظیم کوان لی کا نالائق شاگرد۔پھر کوان لی کی آوز نہ آئی،غزل نے جو کچھ بتایا تھا اگر وہ سچ تھا تو جوسلین تو بہت بڑی مکار تھی،عورت کی تریا چلتر میں آخری چوٹی پر نظر آئی،غزل کو نہیں پتہ تھا کہ مجھے جوسلین کو جاننے کیلیے اس کا پیچھا کرنے کی ضرورت نہیں ہے،مجھے صرف آنکھیں بند کرکے دھیان لگانا تھا اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجانا تھا،لیکن میں اس کیلیے اپنے اندر ہمت نہیں کر پا رہا تھا،میں ڈر رہا تھا کہ اگر جوسلین دغاباز نکلی تو کیا کروں گا،،کیا اس سے بھی بدلہ لوں گا،جو بھی تھا میں آج جو بھی ہوں جوسلین کی وجہ سے ہوں۔ان دنوں میں بکھرا بکھرا سا تھا انگلش میں کہوں تو ڈبل مائنڈڈ تھاحقیقت جاننے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی،جوسلین ان دنوں میری حالت دیکھ رہی تھی ،پرنس امریکہ میں رائیٹنگ پر ایک اونچے درجے کی ورکشاپ ہو رہی ہے،چوٹی کے لکھاریاس ورکشاپ کے انسٹرکٹر ہیں،میں چاہتی ہوں تم اس میں شامل ہوجاؤ،اگر تم نے لکھنا ہے تو یہ ورکشاپ میں شامل نہ ہونا بڑی بدقسمتی ہوگی،نہیں جوسلین میرا ابھی کسی چیز کو دل نہیں چاہ رہا،نہیں تم جاؤ،پلیز میری بات مان لو،تم نے مجھے کہا تھا کہ میں تمھیں بناؤں اور میں تمھاری تکمیل دیکھنا چاہتی ہوں،تم واپس آؤ اور ماسٹرز کے پیپرز دو اور پھر ادب میں پی ایچ ڈی کیلیےآکسفورڈ یونیورسٹی میں میں تمھیں خود لے کہ جاؤں گی،،ساتھ ساتھ دنیا بھر میں رائٹنگ پر ہونے والی ورکشاپ میں حصہ لو یا رائیٹنگ پر کسی انسٹیٹیوٹ میں چلے جاؤ دنیا میں بڑے کمال کے لکھنے والے ہیں،اور وہ یہ سکھانے کو بھی تیار ہیں،پاکستان میں اس قسم کے کاموں کیلیے کوئی انسٹیٹیوٹ نہیں ہیں۔جبکہ امریکہ اور یورپ میں باقاعدہ کالج اور یونیورسٹیز ہیں ان شعبوں پر،،جوسلین پاکستان میں بہت اچھا لکھنے والے ہیں،جو دلوں کو چھو لیتا ہے،یہاں باقاعدہ انسٹیٹیوٹ نہ صحیح لیکن ہنر کمال کا ہے اور وہ یہ فن اہل آدمی کو دے بھی دیں گے،ٹھیک ہے تم یہاں کسی کی شاگردی کرنا چاہو تو وہ بھی ہوسکتا ہے لیکن اس ورکشاپ ضرور میں حصہ لو،اوکے جوسلین میں سوچوں گا،سوچنے کا وقت نہیں ہے،میں تمھارے ڈاکومنٹ تیارکرو رہی ہوں ،وہ یونیورسٹی چلی جاتی تو مجھے سوچیں گھیر لیتی،یا مجھےغصہ آنے لگتا،اسی ادھیڑ بن میں ایک چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا،میں نے گاڑی نکالی اور اس کے کوچنگ سنٹر پہنچ گیا،وہ ابھی بھی وہیں تھی ،بلکہ اب تو اس کوچنگ سنٹر کی مالک تھی،مجھے دیکھ کر حیران ہو گئی،کیا مما سے پوچھ کرآئے ہو،اسنے طنز کیا۔جس سے تمھار ی جان نکلتی تھی،میں نے بھی جوابی طنز کیا،آج تمھیں کیسے یاد آگئی،اس نے پھر طنز کیا،تم ایسی تو نہیں ہو کہ جس کی یاد دل سے آسانی سے چلی جائے،اچھا اسوقت تو بچے کو اتنی باتیں نہیں آتی تھیں،وہ مسلسل طنزیہ باتیں کر رہی تھی،بچے نے تو بڑی کوشش کی تھی تم نے کبھی کوئی اشارہ ہی نہیں دیا،میں اسے رام کر رہا تھا،،بچہ اسوقت بچہ ہی تھا ،کیا اسے کسی اشارے کی ضرورت تھی،اس نے پھر طنز کیا،بکواس بند کرو اس وقت تمھاری جوسلین کے ڈر سے ہوا نکلی ہوئی تھی اور اب سارا غصہ مجھ پر نکال رہی ہو،،مجھے غصہ آگیا،اب کیا لینے آئے ہو،اس نے موضوع بدل دیا، بچہ بڑا ہوگیاہے،،تو پھر میں کیاکروں ،اس نے بے اعتنائی برتی۔۔۔۔چلو میرے ساتھ میں نے اعتماد سے کہا،وہ مجھے گہری نظروں سے دیکھنے لگی۔۔ میں چل پڑا اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ،گاڑی میں بیٹھا تو وہ دوسرا دروازہ کھول کہ میرے ساتھ بیٹھ گئی،بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے وہ گنگنائی۔۔مدّت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے میں نے جوابی مصرعہ پڑھا۔اس کے چہرے پر شفق کے رنگ بکھرنے لگے،،وہ میری ٹیوشن ٹیچر تھی،میں اس کے پاس چار سال پڑھا تھا،اور ان چار سالوں میں اسے پھنسانے کی کوئی کسر نہ چھوڑی تھی،وہ مجھے چاہتی تھی،لیکن جوسلین کے ڈر کی وجہ سے ہمارا کچھ نہ ہوسکا۔اس کا نام ثمینہ تھا ،اُس وقت وہ 26 سال کی تھی اور میں پندرہ سال کا تھا آج وہ تقریباً 32کی ہو گئی تھی،اس وقت اس کی جوانی اٹھتی ہوئی لہریں تھی ،اب وہ پرانی شراب کی طرح ہوچکی تھی۔جس کا مزہ وقت کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔ درمیانہ قد سانولی رنگت لیکن جسم تباہی تھا اس کے جسم کی بھینی بھینی خوشبو نے مجھے چار سال ستایا تھا ،اس کے چہرہ تھوڑا لمبوترا تھا لیکن نقش اس کے بھلے بھلے سے تھے،جسم نہ اسمارٹ تھا نہ دبلا پتلا نہ موٹاپا ،جب چلتی تو اس کے جسم کی اتھل پتھل سے بڑے لوگوں کے دل مچلتے ہوں گے،ثمینہ کی آنکھیں بڑی بڑی اور ماتھا چوڑا تھا ۔اور جسم کے اعضاء سیکسی تھے ،،اپنے شعبے میں چلنے کیلیے ا وہ ایک بڑی سی چادر لیتی تھی،لیکن واقفانِ حال جانتے تھے کہ اندر کیا خزانہ چھپا ہوا ہے ،ہم ایک دوسرے میں گم تھے۔اسے ہوش تب آیا جب فلیٹ آگیا،یہاں کیوں آئے،،اس نے اچھنبے سے پوچھا۔۔تمھیں کہا نہ بچہ بڑا ہو گیا ہے،میں نے اترکر اس کی طرف کا دروازہ کھولا اور اسے فلیٹ میں لے آیا،وہ کچھ شاکنگ تھی اسے یہاں آنے کی قطعی امید نہیں تھی،میں بھی اسے اسی بیڈ پر لے گیا جس بیڈ پر میں اور جوسلین سیکس کرتے تھے،وہ میرا ارادہ سمجھ گئی،بچہ واقعی بڑا ہوگیاہے اسنے مسکرا کے کہا،اور میرے گلے لگ گئی،اور بے صبری کے ساتھ ہونٹوں کیساتھ ہونٹ جوڑ دیے،مجھے بھی اس کے ہونٹوں کو چوسنےکا بہت شوق تھا۔ چار سال وہ میرے سامنے بیٹھی رہی تھی اور اس کے رسیلے ہونٹ مجھےتڑپاتے رہے تھے۔کئی بار میں نے مختصر لمحوں کیلیے ا سکے ہونٹوں سے رس پینے کی کوشش کی تھی،لیکن وہ ایسے بیٹھی رہتی تھی۔جیسے وہ پتھر ہے۔اور آج اس کے اشتیاق نے بتادیا کہ آگ دونوں طرف ہے برابر لگی ہوئی۔میرے ہاتھ اسکی کمر پر کوہ پیمائی کر رہے تھے،پھر مشکل حصوں میں چلے گئے،یعنی اس کی گانڈ کو چھونے لگے۔میں نے اس کی گانڈ جوش میں آگے دبائی ،آگے میرا عضو تھا وہ اسے مست کرنے لگا۔ادھر ہونٹوں نے اس پر قیامت مچائی ہوئی تھی،ظالم اس وقت زبردستی چود بھی دیتے تو اُف بھی نہ کرتی،ثمینہ نے ہونٹ پیچھے کر کے کہا اور پھر لپٹ گئی،مجھے اندازہ تھا اسے میری کشش نے مجھے بھولنے نہیں دیا۔کبھی نچلے ہونٹ اور کبھی اوپری ہونٹ پھر اس کی زبان چوستے ہوئے ہم نے پرجوش کسنگ جاری رکھی۔ایک ہاتھ اس کی گانڈ پر اور دوسرا میں نے اس کے مموں پر رکھ دیا،ممے ،ہونٹ گانڈ،اور چوت پر لگتا ہوا میرا عضو اسے کہیں چین نہیں لینے دے رہا تھا،ثمینہ کی آگ ایسے بھڑکی جیسے آگ پر پٹرول ڈال دیاہو۔وہ علیحدہ ہوئی اور بے چینی سے اپنے کپڑے اتارنے لگی۔اس کی حالت دیکھ کر میں مسکرایا او ر ادھر وہ ننگی ہوئی تو ادھر میں بھی ننگا ہوگیا۔اس بار وہ مجھ سے ایسے لپٹی جیسے مقناطیس سے لوہے کا ٹکڑا لپٹتا ہے۔جسم سے جسم لگےتو ہماری آگ اور بھڑک اٹھی،اب میں نے عضو اس کی ٹانگوں میں گھسا دیا اور گانڈ پر ہاتھ رکھ کہ اسے دبایا اور ممے سہلاتےہوئے پھر اس کا چہرہ چومنے لگا،کسنگ کرنے لگا،گویا جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا ۔وہیں سے جوڑ دیا۔کبھی کبھار ایسی حالت ہوجاتی ہےکہ سمجھ نہیں آتا کہ کیاکریں،بس دل کرتا ہے ایکدوسرے میں سما جائیں،یہ چودائی کی بھرپور خواہش ہوتی ہے۔ثمینہ اورمجھ میں چودائی کی بھرپور خواہش بڑے عرصے سے موجود تھی،اور آج اس خواہش کو اپنی حسرتیں نکالنے کا موقع ملا تھا تو ہمارا بس نہیں چل رہا تھا ہم ہونٹوں کی لذت میں ڈوبے ایکدوسرے کو پی جانا چاہتے تھے یا ایکدوسرے میں سما جانا چاہتے تھے۔ثمینہ مجھ سے ایسے لپٹی ہوئی تھی۔جیسے آکٹوپس اپنے شکار سے لپٹتا ہے،اس کی ایک بازو میری گردن سے لپٹا تھا۔دوسرا کمر سے لپٹا تھا،ایک ٹانگ اٹھ کر میرے پہلو سے لگی تھی،ثمینہ نے مجھے جکڑا ہوا تھا،ایک ٹانگ اٹھانے کی وجہ سے میرے عضو اور اس کی چوت کا ملاپ ہو گیا تھا،میں نے ایسے لپٹے ہوئے اس کی چوت پر رکھا اور آگے دھکیلا،عضو اندر جانے لگا،ثمینہ نے مجھے کس کے پکڑ لیا،میں اندر ڈالتے ہوئے زور لگایا اور پورا اندر چلا گیا۔وہیں میں اندر باہر کرنے لگا۔ثمینہ سسکیاں لینے لگی،اس طرح اندر باہر کرنے میں مزہ آرہا تھا۔آہستہ آہستہ میں زورلگانے لگا۔ہم ایکدوسرے کے سہارے کھڑے تھے ۔اور چمٹے ہوئےتھے۔میرے ہاتھوں نے اسے پہلوؤوں سے پکڑا ہوا تھا،چودائی کے وقت یہاں سے پکڑنا پورے جسم کوکٹرول کرتاہے۔ثمینہ چودائی کی لہروںمیں بہہ چکی تھی اور اب یہ لہریں اسے ڈبونے والی تھی۔ جب تک ڈوبا نہ جائےتب تک گہرائی کا انداز ہ نہیں ہوتا۔اور میں اندر باہر کر ے اس کی چوت کی گہرائی کا ا ندازہ کررہا تھا تو وہ عضو کے ساتھ ڈوب رہی تھی۔ جیسے ہر جھٹکا اسے گہرائی میں لے جا رہا ہو۔اُوووہ صحیح پاگل ہے جوسلین تمھارے لیے۔ثمینہ بےاختیار بولی۔پتہ نہیں کیا چیز ہو تم۔ابھی بتاتاہوں کیا چیز ہوں میں،میں نے جوش میں اور تیز ہوتے ہوئے کہا۔ویسے یار یہ انسان میں کوئی گئیر وغیرہ نہیں لگےہوتے کہ وہ بار بار گئر بدل کرتیز ہوجاتا ہے اور چوتھے یا پانچویں گئیر میں رکھ کے پھر چل سوچل۔یہ تو جوش میں ہوتا ہے اور جوش یا دیوانگی جسم کو تیزی پر مجبورکرتی ہے،ایسی تیزی عام طور پر دیکھنے کو نہیں ملتی۔پھر ایسا بھی ہوتا کہ جس جسم کو چودائی کے درمیان پھولوں کی طرح اٹھایا ہوتا ہے وہ بعد میں ایکطرف پڑاہوتا ہے۔جوش کا تعلق لڑکی پر ہے،اور ثمینہ خود پاگل ہورہی تھی اور مجھے پاگل کر رہی تھی۔اس اسٹائل میں مزہ آرہا تھا۔لیکن اس سے زیادہ رفتار ممکن نہیں تھی،اور ہمارا پاگل پن کچھ اور چاہتا تھا۔میں نے ثمینہ کو دیوار سے لگایا اور اسکے ہاتھ دیوار پر ٹکائے ،اور پیچھے سے اسکی چوت میں ڈال دیا۔اب ہم بہتر حالت میں تھے ۔میں اسے اچھی طرح دل لگا کر چودنے لگا۔ویسے تو دل لگا کر بہت سے کام کرنے چاہیے ۔لیکن کیا کریں ۔دل انہیں کاموں میں لگتا ہے جو دل چسپ ہوتے ہیں،یعنی دل کوچپک جاتے ہیں،جیسے ثمینہ سے میرا عضو چپکا ہوا تھا۔اور اس سے اظہارِ محبت کیلیے بار بار کوچہ جاناں میں جا کر حاضری دے رہا تھا۔پرنس اسطرح چودو گےتو پھر میں تمھاری جان نہیں چھوڑوں گی۔۔تو تم سے جان چھرانا ہی کون چاہتا ہے،اب تمھیں چودتا رہوں گا۔ میں نے اسٹروک جاری رکھے۔میں تیاری سے ثمینہ کے پاس گیا تھا،اس بات کا اندازہ ثمینہ کو تب ہوا جب اس چو دائی کے نتیجے میں اس کا پانی نکل گیا،اور میں اسی طرح چودائی کے موڈ میں ناراض عضو لیا کھڑا تھا۔اچھا تو یہ بات ہے جناب،ثمینہ نے چمکتے ہوئے کہا،اور عضو کو پکر لیا،او میلا پالا پالا سونو۔نالاج ہو مجھ سے۔کوئی بات نہیں،اپنے سونو کو میں منا لوں گی۔ثمینہ سمجھ گئی تھی کہ میں ٹائمنگ گولی کھا چکا تھا۔اور بھرپور مزے کے موڈمیں تھا۔سچی بات ہے جان میرا بھی کم از کم تین بار چودائی کا موڈ ضرور تھا۔کچھ ہی لمحوں میں ثمینہ پھر گرما گرم ہوچکی تھی۔وہ بیڈ پر ڈوگی اسٹائل میں ہو گئی،اور میں نے قالین پر کھڑے ہو کر اس کی چوت میں ڈالا اور کمر سے پکڑ کرچو دائی شروع کردی۔اب کی بار ثمینہ کاجسم بری طرح ہل رہا تھا۔میرا جوش سے برا حال تھا،اور ثمینہ بھی سمجھ رہی تھی کہ چودائی کا یہ راؤنڈ خوب مزہ دے گا۔میں نے اس جگہ سے پھر اسٹائل نہ بدلہ اور ثمینہ کی چوت کا بینڈ بجاتا رہا۔آرام سے جان ،میں کہیں نہیں جارہی،یہیں اپنے پرنس کے پاس ہوں،،لیکن مجھ پر جیسے اس کی بات کا کوئی اثر نہ ہوا،اور میں وحشیانہ انداز میں چودتا رہا۔ثمینہ چیخنے لگی تو مجھے ہوش آیا اور میں نے خود کو کنٹرول کیا۔اور آہستہ آہستہ چودائی کرنے لگا،،کیا بات ہے پرنس میری جان۔جتنا مرضہ چودو ،مگر اتنا نہ چودنا کہ چوت ہی پھٹ جائے اور پھر کسی کام کی نہ رہے ۔ثمینہ نے کراہتے ہوئے کہا۔ثمینہ تمھارے لیے دل میں جوش ہی اتناہے کہ کیاکروں۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا تمھار ی چوت پھر نئی لگوا لی جائے،نہیں جی،ایسا نہیں ہو سکتا ،ثمینہ میری شرارت سمجھتے ہوئے شوخی سے بولی۔کمرے میں جھپاک جھپاک کی آوازیں بلند ہورہی تھیں۔میری رفتار پھر تیز ہونے لگی،اور میں ہوش کھونے لگا۔کچھ ہی دیر میں ثمینہ پھر چیخی ۔لیکن اب میں نہ رکا۔دھکے کی طاقت ہی ایسی تھی ثمینہ نے چیخنا ہی تھا۔ پرنس ۔پرنس۔۔کیا ہوگیا ہے تمھیں آرام سے کرو یار۔لیکن میں نہ رکا۔اب ثمینہ باقاعدہ چیخنے لگی۔لیکن مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی،میں ایسی چودائی کم ہی کرتا ہوں،لیکن ثمینہ نے میری بھوک جگا دی تھی۔ویسے بھی مجھے اس پر بڑی شہوت آئی ہوئی تھی۔ثمینہ کی چیخیں مدہم ہو کر رک گئی،،کیونکہ اسکا پانی نکل آیا تھااور ا س پانی نے اس کی چوت میں میرے عضو کا آنا جانا آسان کردیا تھا۔جس کی وجہ سے اس کی مشکل آسان ہوگئی تھی۔،اور اسے مزہ بھی آرہا تھا۔پرنس مجھے بھی مزہ دینے دو۔ثمینہ نے کہا تو میں نے اس کی بات سمجھتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا۔اور ثمینہ میرے اوپر آئی اور عضو لیکر اوپر نیچے ہونے لگی۔ جب میں ثمینہ کو ٹیوشن پرھتے وقت چھیڑتا رہتا تھا یہ تو میں اسوقت ہی سمجھ گیا تھا کہ ثمینہ چودائی کرواچکی ہے،اب اسکی مہارت دیکھ کر مجھے سمجھ آگئی کہ ثمینہ کی پُلی کے نیچے سے بھی بڑا پانی گزر چکاہے۔ یہ اسٹائل مجھے بہت پسند ہے،اور بڑا مزہ آتا ہے،دل کرتا ہے لڑکی بس اوپر نیچے ہوتی رہی۔عضو کو چوت ایسی گرفت میں لیتی ہے۔سمجھ نہیں آتا کہ اوپر جانا اچھا ہے یا نیچے جانا اچھا ہے۔ثمینہ کا دو بار پانی نکل چکا تھا ،پہلی بار تو وہ کچھ رکی تھی ۔لیکن دوسری بارپانی نکلنے کے باوجود وہ رکی نہیں تھی،بلکہ خود سواری کرنے لگی تھی۔اس سے میں ثمینہ کی گرمی سمجھ سکتا تھا۔ثمینہ کاجوش سے ہلتا جسم ،بڑا اچھا نظارا دے رہا تھا۔اور اس کے دلکش ممے مجھے سمجھا رہے تھے کہ میں نے ابھی ان کا رس نہیں پیا ہے،میں کچھ اٹھ کہ بیٹھا اور ثمینہ کے ممے ہاتھ میں لیکر مسلنے لگا۔۔آہ کیا کر رہے ہو۔پرنس۔تمھارے ممے نے بلایا ہے،کیا کروں،،بلایا ہے تو انکی بات سن لو،ثمینہ نےمیری اوپر جھکتے ممے میرے پاس کردیے،میں نے انہیں منہ میں لے لیا اور ان کا رس پینے لگا۔۔ثمینہ بھی سرور میں آگئی اور جتنا کرسکتی تھی اتنا اپنے اندر باہرکرنے گی۔اچھی طرح رس پینے کےبعد میں کچھ بیٹھ اور کچھ لیٹا ہو گیا،گاؤ تکیے لگا کہ۔اور ثمینہ کے ممے ہاتھوں میں لیکر اسے چودائی کرنے کااشارہ کیا۔آہستہ آہستہ تو وہ پہلے ہی لے رہی تھی،اب کچھ آزادی ہوئی تو تیز تیز کرنے لگی۔چند منٹ اور پھر ثمینہ کا پانی نکل گیا،اب وہ نڈھال ہو کر میرے اوپر ہی گر پڑی،،کچھ دیر اسی حالت میں پڑے رہے۔میرا تو ابھی موڈ تھا۔تین بار اس کا پانی نکل چکا تھا۔پینتیس منٹ تو ہمیں ہوچکے تھے۔میں پھر ثمینہ کے ممے چوسنے لگا۔کچھ ہی دیر میں ثمینہ لیٹ گئی ۔ آجاؤ،ثمینہ نے میرے ساتھ لیٹتے ہوئے کہا۔اور میں اس کی ٹانگوں کو کھول کر بٹھا اوربےصبری سے اندر ڈال دیا۔آہہ ثمینہ تمھارے جسم کی طلب نے مجھے دیوانہ کردیا ہے۔میں نے ثمینہ کی چودائی کرتے ہوئے کہا۔طلب کوجگائےرکھنا تا کہ مجھے مزہ دیتے رہو۔صاف لگ رہا تھا ثمینہ ہمارے تعلقات کوجاری رکھنا چاہتی تھی۔میں رکا تو ثمینہ اوپر آگئی ۔اور اندر لے کر اوپر نیچے ہونے لگی۔اس کی گرمی نے اسے جوشیلا کردیاتھا،میں مزے سے لیٹا چودائی سے سکون لے رہا تھا۔ثمینہ نے جوش میں اچھی رفتار بنائی ہوئی تھی۔لیکن وہ تھکی تھکی بھی تھی۔جتنی دیر وہ مزہ دے سکتی تھی۔اس نے مزہ دیا پھر اسے لٹا کر میں نے ٹھکائی شروع کرد ی۔اس بار ثمینہ کی سسکیاں بلند تھیں،اوروہ آخری چودائی کا مزہ یادگار بنا رہی تھی۔جان بوجھ کر آوازیں نکالنا چودائی کا مزہ دوبالا کردیتی ہیں۔ویسے میں تقریباً پونا گھنٹا پورے جوش میں چودائی کرچکا تھا،اب آہستہ اور تیز مل ملا کر میں چودای کرتا رہا،تقریباً 20 منٹ بعد ہم دونوں ہی کنارے لگنے والے ہوگئے،جیسے ہی اضطراری دھکوں کی باری آئی
  3. (اس نام کا مطلب ہے سنٹرل پاور یعنی مرکزی طاقت یہ نام اپنے عظیم ترین استاد کی شخصیت کے اظہار کیلیے لکھا ہےکیونکہ وہ اپنے دور میں کنگفو کی سنٹرل پاورتھے اور ان کے پاس وہ تھا جو کسی کے پاس نہیں تھا،،یہ سنہری دور کی آخری یادگار تھااور آئندہ ان کو اسی نام زونگ ینگ کوان لی سے یا کوان لی کے نام سےیاد کیا جائے گا)کوان لی نک چڑھے تے اور کسی کوخاطر میں نہیں لاتے تھے،،،، جب جوسلین نے اس سے رابطہ کیا تو کوان لی نے ترنت انکار کر دیا،وہ اپنے حال میں مست تھا ، جوسلین اس پر دباؤ ڈالنے لگی،،جیسے جیسے کوان لی انکار کرتےگئے جوسلین اس کیلے بضد ہوتی گئی،،کیونکہ ایک گرینڈ ماسٹر نے اسے یقین دلا دیا تھا کہ اس دنیا میں زونگ ینگ کوان لی سے بہتر کوئی نہیں ہے ،،لیکن خود کوان لی گوشہ نشین تھے،،کسی کو بھی گھاس نہیں ڈالتے تھے ، ،پھر آخر کار جوسلین نے مجھے ہی وہاں بھیج دیا،،،یعنی میری فائیٹ کی ویڈیو جو اس کے اصرار پر میں نے بنوائی تھی ،،بس اس ویڈیو کو دیکھ کر کوان لی مان گئے ،،آخر وہ عظیم استاد تھے ،، انسانوں کوپڑھنے میں جوسلین جیسے کئی جینئس بھی ان کے سامنے کچھ نہیں تھے، ،جانے اس نے مجھ میں کیا دیکھاہو گا کہ کوان لی میرے پاس آگیا،اور جوسلین کا ان گنت بینک بیلنس ختم ہوگیا،،لیکن اسے کوئی فکر نہیں تھی،، اصل جائیداد تو پڑی ہوئی تھی بینک بیلنس پھر جمع ہوجانا تھا،،،،پہلے دن ہی کوان لی نے لیکچر شروع کیا،،پرنس،،یا جو بھی تم ہو،،میں شاگردنہیں بناتا ،،تمھاری یہ میڈم یا یہ جو بھی تمھاری ہے،،( دلوں کوپڑھنے والا عظیم ترین استاد )اس نے مجھے تمھاری ویڈیو بھیجی تھی اس میں تم فائیٹ کر رہے تھے ،،دوسرا شاید تمھارا ستاد تھا اور تم اس کا لحاظ کررہے تھے نہیں تو وہ اس وقت تمھارے سامنے کچھ بھی نہیں تھا،،میرا خیال ہے اس فائیٹ کے بعد تمھارے استاد نے تمھیں سکھانا چھوڑ دیا ہوگا،( کوان لی سچ کہہ رہا تھا )،،بس تمھاری یہ ادا دیکھ کر میں اتنی دور سے تمھارے پاس آیا ہوں ہمارا ایک سال کامعا ہدہ ہوا ہےاور میں نے اس سے بہت بڑی رقم لی ہے بہت۔۔ بڑی ۔۔رقم ۔ سمجھ گئے ،میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اور اپنے آپ کوشرمندہ نہ کرنا،،تم جو سیکھنے جا رہے ہو اس فن کا نام ہے کنگفو،،اس کے تقریباً نوّے سٹائل ہیں لیکن سب کاکام ایک ہی ہے،، اسی طرح امریکن مارشل آرٹ ،چائنیز مارشل آرٹ،کورین مارشل آرٹ،یورپین مارشل آرٹ،جاپانی مارشل آرٹ ہیں ،،،،،اور ان سب میں خطرناک فنون کے نام ہیں- کراٹے(جاپان)،،، ،موئے تھائی(تھائی لینڈ)،،،،،ایم ایم اے یعنی مکس مارشل آرٹ،،،، تائیکوانڈو(کوریا)،،، ،برازیلین جیو جتسو ،،،کریو ماگا (اسرائیل)،،،،،کائپوئریا (برازیل)،،،،،جوڈو(جاپان) ،،،،کنگفو(چائنہ)،،،ایکیڈو(جاپان)،،ننجِسٹو(جاپ ان) ،،،جوجسٹو(جاپان)،،،،ان میں سے جوجسٹو ،جوڈو،اور ننجسٹو،،ایک ہی خفیہ اور خطرناک اور مشکل ترین فن تھا،اس کو سیکھنے میں بہت جانیں جاتی تھیں اسے عام کرنے کیلیے اس کے تین حصے کردیئے ،جس میں سب سے خطرناک ننجسٹو(ننجا) کو علیحدہ کردیا ا سکے بعد جیوجسٹو اور جوڈو بنایا گیا،،لیکن اب یہ تینوں علیحدہ علیحدہ بھی اپنی جگہ خطرناک ہیں،، اب غور سے سنو تمام مارشل آرٹ کی تھیوری اور پریکٹیکل مختلف ہے لیکن ان کی بنیاد ایک ہی ہے ،،اور وہ ہے اپنے جسم کو ہی ہتھیار بنانا۔کنگفو ان تمام مارشل آرٹ میں بہترین ہے ،،جومیں تمھیں سکھاؤں گے ،آج سے تمھاری تربیت شروع ہوتی ہےاب یہ 2 ڈان اور 3 ڈان وغیرہ بھول جاؤ، ،بیلٹ کے چکر سے نکل آؤ یہ نوسیکھیوں کیلیے ہوتی ہیں،،،،،یوگا بندہوگیا تھا اور اب سب زونگ ینگ کوان لی کے حوالے تھا،،جوسلین نے علم بروج اور دست شناسی بھی سکھانی شروع کر دی،،نفسیات ،علم قیافہ ،دست شناسی اور علم بروج، یہ ہوئی نہ،، بات،،جوسلین تم کمال ہو،اب یہ سب تھا اور میں تھا،،،یونیورسٹی میں میرا آنا جانا شروع ہوگیا تھا،،اس کاماحول اور طرح کاتھا کھلا ڈلا ماحول تھا،،رنگ برنگ لباسوں میں چلتے پھرتے جسم مجھے بہت تنگ کرتے تھے،،شروع شروع میں مجھے بڑی بے چینی ہوتی تھی،،میری حالت ایسی تھی جیسے کسی بھوکے کو ڈھیر سارے کھانے میں چھوڑدیا ہو،،یہاں خودبخود گود میں گرنے والیاں بھی تھی،،محبت پر مرنے والیاں تھیں،اور معصوم لڑکیاں بھی تھیں جن پر کوئی بات اثر نہیں کرتی،،دھیرے دھیرے میری کشش یونیورسٹی میں محسوس کی جانے لگی،،میرے دوست بننے لگے،،ویسے بھی جوسلین کے نام کی وجہ سے میرے کئی دوست بن گئے تھے،،لڑکیوں کی طرف تو میں نہیں جاتا تھا لیکن لڑکیوں پر تو پابندی نہیں تھی لہذا چودائی کی بھوکی اور محبت پر مرنے والیاں میری طرف بڑھنے لگی،،میں اس ماحول سے گھبرانے لگا،،اور فلیٹ کے بیسمنٹ میں اپنے جسم پر مشقِ ستم ڈھاتا،،، میرا زیادہ وقت کوان لی لیتا تھا ،،روز پانچ گھنٹے اس کے تھے،اس کے علاوہ بھی اس کا کوئی وقت نہیں تھا،،وہ کسی بھی وقت مجھ سے کچھ بھی کہہ سکتا تھا ،کوان لی ،جوسلین کو بھی خاطر میں نہیں لاتا تھااور جوسلین بھی کوان لی کے سامنے بولتی نہیں تھی،بمشکل میری نیند پور ی ہوتی تھی ،،پھر کوان لی کی وجہ سے میری مشکل آسان ہونے لگی کیونکہ اس نے مجھے سونے کاا یک طریقہ بتایا جس میں ایک گھنٹے میں سو کر اپنی نیند پور کرلیتا تھا،اب دوسرے مہینے ہی شام سے لیکر رات گئے تک کوان لی ہوتا تھا اور میں ہوتا تھا،یونیورسٹی جانے سے میں گھبراتا تھا اور بس ضروری پیریڈ لے کر فلیٹ میں آجاتا تھا ،کوان لی میرے انتظار میں ہوتا تھا ،اور مشقِ ستم شروع ہوجاتی تھی،،جوسلین کو بھی اتنا وقت نہیں ملتا تھا،، کوان لی اب 10 گھنٹے لےجاتا تھا،،رات کو جوسلین مختلف علوم پڑھاتی،،اب میرا حافظہ بہترین ہوگیا تھا اور صرف ایک بار پڑھنے سے ہربات یاد ہوجاتی تھی ،،یہ بھی کوان لی کی مہربانی تھی ،،،لہذا یہاں بھی میرا کام آسان ہوگیا تھا۔ کوان لی انسانی جسم میں چھپی صلاحیتوں سے کام لینا جانتا تھا،،تیسرے مہینے ہی میں جسم سے نکل کر ،چی ،میں داخل ہوگیا تھا،واقعی کوان لی نے صحیح کہا تھا بیلٹ کا یہاں کیا کام یہ تو بہت آگے کی چیز تھی،،میں نے بلیک بیلٹ 10 ڈان تک جانے کا رادہ کیا تھا ،،اس سے آگے ریڈبیلٹ تھی جو کہ میں بس سوچ ہی سکتا تھا اور آخر میں گولڈن بیلٹ تھی ،جو دنیا میں چند استادوں کےاستاد کو ملتی تھی (چائنیز مارشل آرٹ میں آخری گریڈ کو گولڈن ڈریگن کہتے ہیں)،ہر اسٹائل کی اپنی گولڈن بیلٹ ایسوسی ایشن تھی،،،،لیکن کوان لی کے سامنے بیلٹ کوئی چیز ہی نہیں تھی،،آخر اس کے پاس کیا تھا جو وہ کسی کو کچھ نہیں سمجھتا تھا کسی کو یہ فن دینا نہیں چاہتا تھا،،،اور کیا وہ واقعی اپنے سارے کام چھوڑ کر جمی جمائی زندگی کو چھوڑ کر اپنی فیملی چھوڑ کر دوست احباب چھوڑ کر صرف پیسے کیلیے میرے پاس آیا تھا؟ایسے باکمال شخص کو پیسے کی کیا فکر تھی،،وہ جب چاہے دنیا اس کے سامنے جھک جائے لیکن وہ گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہا تھا،،،کئی سولات مجھے ستاتے تھے جن کا کوئی جواب میرے پاس نہیں تھا،،،،اب وہ میرے ساتھ کھلتا جا رہا تھا،،،میرے دل میں اس کی قدر بڑھتی جارہی تھی ،اگر میں یہ کہوں توجھوٹ نہ ہوگا کہ اسوقت اگر وہ کہتا کہ جوسلین کوچھوڑدو تو میں جوسلین کیا سب کچھ چھوڑ کر اس کے ساتھ ہوجانا تھا،،چوتھے مہینے سب کام بس کچھ وقت لیتے تھے یونیورسٹی جو میں نے بڑے ارادوں سے شروع کی تھی اسے سب سے کم وقت ملتا تھا،،بس جوسلین کی وجہ سے میرا داخلہ چل رہا تھا اور دوسرا میری کارکردگی اچھی تھی،،اب سارا وقت کوان لی کا تھا،،اس سے آگے جو کچھ کوان لی نے مجھے دیا وہ بتاؤں تو مبالغہ آرائی کہلائے گی،،لیکن جو مجھے ملا اس نے میری زندگی بدل دی،مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایسی بلند نعمت میری قسمت میں لکھی ہوئی ہے ،،،جوسلین کو وقت سب سے کم مل رہا تھا،،کیونکہ اب میں کوان لی کو میں فلیٹ میں لے آیا تھا پہلےبھی وہ زیادہ وقت یہیں گزارتا تھا ،اس نے نیچے بیسمنٹ اپنے لیئے پسند کی،وہ شاید نہیں چاہتا تھاکہ میرے اور جوسلین کے درمیان آئے،،پہلے بھی اس کی ضروریات اور زندگی بڑی محدود تھی ۔کیونکہ وہ کم کھاتا تھا ،،کم سوتا تھا،،اور کم بولتا تھا سوائے مارشل آرٹ تھیوری کہ،،فارغ وقت میں آنکھیں بند کیے کسی دھیان میں ڈوبا رہتا تھا ،،،چھ مہینے میں دست شناسی،،بروج،اور نفسیات کا میں ماہر بن گیا تھا،گو کہ میں نے اسے کم وقت دیا تھا لیکن مجھے نہیں پتہ کیسے ،میری صلاحیتیں10 گنا ہو گئی تھیں،کوان لی سے میں کُھل مل گیا میں نے اسے اپنی ساری کہانی بتائی،،نگینہ کی بھی،جوسلین سے ملنے کی ،اس نے مجھے اپنی بتائی،،ہمارے راز و نیاز ہو گئے،،اور تب مجھے احساس ہوا کہ اس دنیا میں میرا استاد ہی میرا سب سے بہترین رشتہ ہے،میرے اندر جو ایک خلا تھا وہ جیسے پر ہوگیا ،مجھے ایسے لگا جیسے باپ کی شفقت کا سایہ پھر مجھ پر آگیا ہے ،آخر سال ختم ہونے والا ہوگیا،،وقت کبھی نہیں رکا ،،سال گزر گیا،،اور کوان لی نے میری تکمیل کردی،،ایک ایسی تکمیل جو میرے وہم وگماں میں بھی نہیں تھی،،بلکہ میں تو ایسا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا،،اب مجھے دنیا اپنے سامنے ہیچ لگتی تھی،،مجھ میں وہ اعتماد تھا کہ ہر چیز مفتوح لگتی تھی،،مگر ساتھ ہی کوان لی نے مجھے کنٹرول کرنا سکھا دیا ،،اس نے بتایا تھا کہ مجھ میں ظرف ہے اور یہ وہ میر ی ویڈیو دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا،،اسے یقن ہوگیا تھا کہ میں چھلکنے کی بجائے اس کی امانت کو سنبھال کر رکھوں گا ااور اس کا صحیح استعمال کروں گا ،اسی لیے وہ اپنا فن مجھے دینے آیا تھا ،بقول اس کے میں اس امانت کا اہل تھا ،آخرکوان لی چلا گیا،،لیکن ہمارا رابطہ کبھی نہیں ٹوٹا۔۔نہ مجھےکبھی احسا س ہوا کہ کوان لی مجھ سے دور ہے،کہانی کا یہ حصہ شاید میری طرزِ زندگی سے میل نہیں کاکھاتا یا اسے یہاں نہیں ہونا چاہیے ،لیکن یہی حصہ میرا اہم ترین حصہ ہے اس کے بغیر میں ادھورا ہوں ،نا مکمل ہوں،،اب میری زندگی ہی بدل گئی تھی،،کوان لی کے جانے کے بعد جوسلین کو میرے قریب آنے کا موقع ملا،،کیونکہ آخر ی تین مہینے میں ،میں بھی بیسمنٹ میں ہی رہنے لگا تھا ،بلکہ سیکس تو ہم نے 4 مہینے سے نہیں کی ،کوان لی کے جانے کے تیسرے دن میں لائبریری میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا ،شا م کا وقت تھا،،جب جوسلین دروازے میں نمودار ہوئی،،اس ایک چادر لی ہوئی تھی میں ا سکی طرف دیکھ کر مسکرایا،،آپ کا تحفہ حاضر ہے حضور ،( ہماری سب سے پہلی رات جوسلین نے خود کو میرے لیے تحفہ کہا تھا )،جوسلین نے ایک ادا سے کہا،، ،،جوسلین نے چادر گرا دی ،،اور خراماں خراماں چلتی ہوئی میرے پاس آئی،،میں کھڑا ہوگیا،،اور اسے گلے سےلگالیا،، وہ ہجر ِ یار کی ماری ہوئی تھی،،اور اب اپنے محبوب کے وصال سے مخمور ہونے آئی تھی،،ایک لمبی سی کسنگ کے بعد میں نے اسے رائٹنگ ٹیبل پر اس کے چوتڑ ٹکا کر اس کی ایک ٹانگ کرسی پر رکھی،،جوسلین نے میری پینٹ کی بیلٹ کھول کر نیچے کر دی اورانڈرویئر بھی نیچے کردیا،،میں نے اس کے اندر ڈالا اور چودائی شروع کر دی ،،جوسلین میری چودائی سے ہمیشہ محظوظ ہوتی تھی،،بھرپور مزہ لیتی تھی،،اسے نشہ چڑھ جاتا تھا،، لیکن آج میرے پہلے جھٹکے سے پتہ نہیں اس نے کیا محسوس کیا تھا کہ وہ گہری نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی،،،میں چودائی کرتا رہا اور جوسلین مجھےگہری نظروں سے دیکھتی رہی،،آخرہمارا پانی نکل گیا،، فارغ ہونے کے بعد میں وہیں ایک کرسی پر بیٹھ گیا،،جوسلین ٹیبل پربیٹھ گئی،،جوسلین اب بھی مجھے گہری نظروں سے دیکھ جا رہی تھی،،جیسے مجھے پڑھنا چاہتی ،یا میرے اندر کچھ کھوجنا چاہتی ہو،،لیکن اسے ناکامی ہورہی تھی،،پرنس تم نے یہ اندازِ چودائی کہاں سے سیکھا؟ با لآخر جوسلین نے بات شروع کی،،آج سے پہلے میں ہی سوال کرتا تھا اور اس نے کچھ پوچھنا ہو تو یا کہنا ہو تو میں اس کے تاثرات سمجھ کر خود ہی بول پڑتا تھا،لیکن آج اتنا گہرائی میں دیکھنے کے بعد بھی مجھ پر اس کی شخصیت کا جادو ویسا نہیں چلا،،کہیں سے نہیں سیکھا جوسلین،،سچ بولو پرنس ،،کیا یہ سب کوان لی نے سکھایا تمھیں،،جوسلین کوان لی نے مجھے ایسا کچھ نہیں سکھایا،،لیکن اس نے مجھے جو بھی سکھایا ہے اب اس سے میں ہر وہ کام بہترین کر سکتا ہوں جس میں جسم شامل ہو،،جوسلین کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی،،پرنس تم ہمیشہ میرے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح رہے ہو،،میں تمھارے دل کی ہربات جان لیتی تھی،،اور تم میرے سامنے ایک بچے جیسے تھے،،ایک ایسا بچہ جس کی ہر خواہش پوری کرنا میرے لیے ضروری تھا،،تم تب بھی میرے سامنے بچے تھے جب تم نے چار سال میرے ساتھ گزار لیے تھے اور میں نےتمھیں یونیورسٹی میں داخل کروایا تھا،،جو تم نے سیکھنا چاہا وہ سیکھ کہ بھی تم میرے سامنے بچے تھے،،لیکن آج مجھے لگ رہا ہے جیسے وہ بچہ یکدم بڑا بزرگ بن گیا ہے،،،اور میں چھوٹی سی بچی بن گئی ہوں،،تم مجھے جیئنس سمجھتے ہو ،،،اور یہ جیئنس آج تمھارے سامنے کچھ نہیں ہے،،تمھارا اعتماد،تمھارا سکون،،تمھارا انداز،،جیسے ہر چیز تمھارے لیے مفتوح ہے،،اور جیسا سیکس تم نے کیا ہے ،،ایسا تو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی،،یہ تو کسی کتاب میں بھی نہیں ہے،،ایسا مزہ مجھے پچھلے چار سال میں نہیں ملا،،شاگرد ہمیشہ استاد سے بڑھ جاتے ہیں،،،لیکن میرا اندازہ تھا کہ تم مجھ سے آگے جاتے جاتے بھی اتنا وقت لے جاؤ گے کہ میری کہانی تمام ہوجائے گی، لیکن آج یہ شاگرد مجھ سے بہت آگے چلا گیا ہے،،کیونکہ یہ میرے بس میں نہیں ہے،،میری سمجھ میں نہیں آرہا،،،پلیز مجھے بتاؤکوان لی نے تمھیں ایسا کیا دیا ہے کہ تم اس درجے تک پہنچ گئے ہو،،یقیناً جوسلین کو زبردست جھٹکا لگا تھا،، اسے اچانک آگاہی ہوئی تھی،،جو ا سے خود پر کنٹرول نہیں رہا تھا اور کھل کھلا کے میری برتری اور اور اپنی کمتری کا اعلان کر رہی تھی،جوسلین یہ تو تم جانتی ہی ہوگی کہ عام آدی کسی علم کو کسی فن کو دس سال سیکھنے میں لگا دیتے ہیں۔،اور وہی علم خاص آدی ایک سال میں سیکھ جاتا ہے،،ہاں میں جانتی ہوں،،جوسلین نے سعادت مندی سے کہا،کبھی اس طرح میں اس کے سامنے شاگردانہ انداز میں کہتا تھا،،اب تو میرا بات کرنے کا انداز ہی بدل گیا تھا اور اپنے موجودہ علم کو بہترین انداز میں استدلالی طریقہ سے استعمال کرتا تھا۔میرے پاس تھوڑا بھی بہت ہوگیا تھا،، تو جوسلین میری جان اسی طرح کچھ علوم اور فنون ایسے ہوتے ہیں جو باقی علوم و فنون پر حاوی ہوتے ہیں ۔ان میں اتنا کچھ ہوتا ہے جو باقی سب کچھ اپنے اندر سمو لیتا ہے،،جیسے سِرّی علوم باقی علوم پر حاوی ہوتے ہیں،،کوان لی کا فن ایسا ہی تھا جو بہت کچھ پر حاوی ہے،کوان لی اپنے فن میں اتنا آگے ہے کہ دنیا اس کے فن کے سامنے کچھ نہیں ہے، تم نے میری خواہش پوری کرنے کیلیےاس فن میں دنیا کا انتہائی آدمی تلاش کیا،،تم سمجھتی تھی کہ یہ بس لڑنے بھڑنے کیلیے ہے،،لیکن یہ فن جسم سے آگے نکل جاتا ہے ،،،اندر کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں،،سِرّی علوم میں یہ انتہا پر ہے،،اگر تم ا سکے بارے میں مزید کچھ جاننا چاہتی ہو تو کراٹے کی بجائے( کراٹے ڈُو )پر کچھ پڑھنا ،تمھیں سمجھ آجائے گی کہ مجھے کون سا خزانہ مل گیا ہے،تم اپنے تجربے اور علم اور صلاحیتوں سے انسان کو پڑھنے اور انکو استعمال کرنے کی قدرت پر تھی،،یعنی انسان کے اندر قبضہ کرلیتی تھی،بات کرتے کرتے میں رک گیا،کیونکہ جوسلین بولنے لگ گئی تھی،،،اور اب تمھارا اندر میرے بس سے باہر ہے،،کیونکہ تمھارے اندر کوان لی کا فن آگیاہے جوسلین خاموش ہوگئی،،کوان لی میرے باپ کی جگہ پر ہے،میں نے دل کی گہرائیوں سے کہا،،،میں نے جوسلین کا جتانا ضروری سمجھا،،جوسلین نے مجھے چونک کر دیکھا،،،اسے پتہ ہی نہیں چلا اور میرا اور کوان لی کا رشتہ کتنا گہرا بن گیا تھا اور اس باپ نے مجھے اپنی ساری عمر کی محنت مجھے وراثت میں دے دی تھی ،،گڈلک ۔۔۔۔۔جو تم بننا چاہتے تھے وہ تم بن گئے،،اتنا کہہ کر جوسلین آہستگی سے چلتی ہوئی لائیبریری سے باہر نکل گئی،،واہ استاد ، پہلے ہلےّ میں ہی پہاڑ گرا دیا ،میں نےکوان لی کا تصور کرکے کہا،،مجھے ایسا لگا جیسے اسنے مسکرا کر میرے سر پر چپت ماری ہوآج وہ بہت خوش تھا ،،،ادھر آج بہت عرصے بعدجوسلین نے میرا اصل نام لیا تھا،،میں اس کے احساسات سمجھ رہا تھا اور یہ بھی سمجھ رہا تھا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے،،وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ اب مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی،، میں اسکے پیچھے چلا گیا،،وہ بیڈ پر آنکھیں بند کیے لیٹی تھی،،میں چپ لیٹ گیا اور اسے بانہوں میں لے لیا،،،مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ تم آئے ہو،،جوسلین آہستگی سے بولی،،اب یہ توہو نہیں سکتاتھا اسے میرے آنے کا پتہ چلتا۔ دشمن کے پاس جاؤ اور اسےتب پتہ چلے جب اس کی جان نکل رہی ہو میرے ذہن میں کوان لی کا فقرہ گونجا ،،،،تو جوسلین کو میرے آنے کا احساس کیسے ہوسکتا تھا،، میں نے سوچا اب جوسلین کو میری بہت سی باتوں سے سمجھوتہ کرنا پڑے گا،،میری جان جوسلین،،میں جوبھی آج ہوں،،تمھاری بدولت ہوں،،اسلیے میرے لیے تم سب سے اہم ہو اور میں ہمیشہ تمھارے ساتھ ہوں،،جوسلین نے چونک کر میری طرف گردن موڑ کر دیکھا،، وہ سمجھ گئی کہ میں اس کے دل کی بات جان گیا ہوں،، یہ اس کیلیے جھٹکا تھا، کہ میں اس کی دل کی باتیں سمجھنے لگا ہوں،،وہ دسروں کی دلی باتیں سمجھنے اور اپنی چھپانے میں ماہر ترین تھی ،مجھے پتہ تھا کہ میں اسے کچھ وقت میں نارمل کر لوں گا ،،،ہم لیٹے رہے ،،پھر کھانے کا وقت ہو گیا،،تو میں کھانا لے کر بیڈ پر ہی آگیا،،ہمیشہ کھانا جوسلین ہی بناتی تھی وہی لاتی تھی،وہی میرے کپڑے دھوتی ،،انہیں استری کرتی،،میرے جوتے پالش کرتی تھی،،غرضیکہ جوسلین میرا ہر کام کرتی تھی ۔۔جیسے میں اس کا مجازی خدا ہوں اور و ہ میری کنیز ہو،،گھر میں صفائی کیلیے ایک جز وقتی ماسی آتی تھی،،اور جوسلین کے کپڑے اور برتن وغیرہ وہ دھوتی تھی، جوسلین نے کروڑوں پتی ہونے کے باوجود میرا ہر کام اپنے ہاتھ سے کیا تھا،،اور میری ہر خواہش پوری کرنے کیلے پیسہ پانی کی طرح بہایا،،اور مجھے بھرپور محبت دی،،جب میرے پاس کچھ نہیں تھا اس نے مجھے سہارا دیا،،میں جوسلین کو کیسے چھوڑ سکتا تھا،،اگلے دن سے میں باقاعدگی سے یونیورسٹی جانے لگا،،میں شاید آج چار ماہ بعد آیا تھا،، یہ میرا فائنل ائیر تھا،،لیکن جتنی نفسیات سیکھنی چاہیے تھی اتنی سے زیادہ نفسیات کو مکمل کرچکا تھا،،میں بس جوسلین کو دکھانے آیا تھا کہ سب کچھ پہلے کی طرح نارمل ہے،،پرنس ،پرنس ،،دوستوں کے حلقے میں نام گونجا،وہ میرے گرد جمع ہونے لگے،،کیا بات ہے یار ،کہاں گم ہوگئے تھے ،بس کچھ مصروف تھا،،تم لوگ سناؤ،،ہم ٹھیک ہیں،،جوسلین کا پیریڈ آ گیا تھا ہم کلاس کی طرف چل دیئے،میں اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا،اور میرے ساتھ ایک لڑکی آ کر بیٹھ گئی،،جیسے خوشبو کا جھونکا آتا ہے،،ویسے مجھے اس کے جسم کی خوشبو محسوس ہوئی،،انسان مجھے پہلے ایسے محسوس نہیں ہوتے تھے،آس پاس بیٹھے لڑکوں کی توجہ اس کی طرف تھی اور فضا میں شہوت کی ملاوٹ ہو گئی تھی،،یہ سب اس کی لڑکی وجہ سے ہورہا تھا اور مجھے کسی کی طرف دیکھے بغیر سب محسوس ہو رہا تھا کوئی اور وقت ہوتا تو میں اس لڑکی کی طرف ضرور دیکھتا،،لیکن سامنے جوسلین کھڑی تھی،اور اس کی نگاہیں مجھ پر ہی تھی،یقیناً یہ لڑکی کلاس روم میں نئی آئی تھی اور یہ واقعہ میرے بعد ان پچھلے تین مہینوں میں ہوا تھا،لڑکی میں کشش تھی،،اس کے سامنے رکھے ہاتھوں سے اندازہ ہوا کہ اس کی رنگت سفید گلابی ہے اور انگلیاں لمبی مخروطی تھیں ،جن سے نازک مزاجی اور آرٹسٹک خیالات کا ندازہ ہوتا تھا،،جسم اس کا سمارٹ لگ رہا تھا،بال لمبے تھے اس کالباس موجودہ فیشن کے مطابق تھا،،پاس بیٹھے ہوئے اس کے اثرات مجھ پر اثر کر ہے تھے ،یقیناً یہ کوئی عا م لڑکی نہیں تھی،،میں پھر مشکل میں پڑ گیا،،کیونکہ جوسلین کا دھیان میری ہی طرف تھا لیکن وہ پڑھا رہی تھی،،اب اس مصیبت کا کیا حل تھا،،کیا میں پھر یونیورسٹی سے بھاگ جاؤں،،جیسے تیسے پیریڈ گزرا،،جوسلین اپنا دوسرا پیریڈ لینے چلی گئی،،میں نے لڑکی کی اور اس نے میری طرف دیکھا،،پروفیسر کی توجہ مسلسل تمھاری طرف تھی،،اس نے مجھے سرگوشی کی،جیسے ہم پرانے کلا س فیلو ہوں،،ہاں کیوں کہ میں اس کا ،لے پالک ہوں،(میں نے کبھی اسے اپنی ماں نہیں کہا،)،،لڑکی نے یکدم میری طرف دیکھا،،،میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا،اسکے چہرے پر شرمندگی تھی،سوری مجھے معلوم نہ تھا ،میں اس کلاس میں نئی ہوں،دو مہینے پہلے آئی ہوں،اور میں تقریباً چار ماہ بعد آیا ہوں،اس طرح دیکھا جائے تو آپ کا کوئی قصور نہیں ہے،،میرا نام پرنس ہے ،اور میرا نام غزل ہے،،،کس شاعر کی غزل ہیں آپ ؟ میں نے ازراہِ مزاق کہا،ابھی تک اس بلا(محبت) سے بچی ہوئی ہوں،،،غزل نے شگفتگی سے کہا،،نئے پروفیسر اپنا پیریڈ شروع کرچکے تھے،ہم نے ان کی طرف توجہ کی،نہیں تو وہ ہماری طرف توجہ کرلیتے،،غزل انتہائی خوبصورت تھی،،جوسلین کیا نازیہ بھی اس کے سامنے کچھ نہیں تھی،ابھی تک یونیورسٹی میں اتنی حسین لڑکی میں نے نہیں دیکھی تھی،میرا اندازہ تھا کہ چہرے کے ساتھ ساتھ اس کا جسم بھی خطرناک حد تک حسین ہے،،یہ تو چلتا پھرتا ایٹم بم تھی،،پتہ نہیں وہ میرے بارے میں سوچ رہی تھی کہ نہیں مگر میں اسے محسوس کیے جا رہا تھا بلکہ اس کی سانسوں کی مہک بھی محسوس کر رہا تھا و ہ پورا دن میں یونیورسٹی میں رہا،اور غزل میرے ساتھ رہی،،ہم جیسے ایکدوسرے کے ہی منتظر تھے اسی دن ہم میں دوستی ہوگئی،اور بےتکلفی پاس آنے لگی،،ہم بڑی تیزی سے قریب آئے،،سہہ پہر کو جب میں فلیٹ پر پہنچا تو جوسلین کھانا بنائے میرا انتظار کر رہی تھی،جاتے ہی میں کھانا شروع کردیا، بڑی خوبصورت لڑکی ہے غزل ،،جوسلین نے نوالہ لیتے ہوئے کہا،،میں نے جوسلین کی طرف دیکھا اور خاموشی سے کھانا کھاتا رہا ،بڑی تیزی سے تم دونوں قریب آئے ہو،،جوسلین جیسے کافی دیر سے ضبط کر رہی تھی اور اب پھٹ رہی تھی،،جوسلیں میری جان،،وہ اچھی لڑکی ہے،،اور میں اسے اچھی دوست مانتا ہوں ،،بس اور کچھ نہیں ہے۔اچھا یک ہی دن میں دوستی ہوگئی ہے،جوسلین نے طنزیہ لہجے میں کہا،دوستی کیلیے کوئی وقت تو مقرر نہیں ہے کہ اتنی دیر میں ہونی ہے اور اتنی دیر میں نہیں ہونی ،،جوسلین کاانداز برقرار تھا،،وہ ایک شکی بیوی کا کردار ادا کر رہی تھی،میری طرف سے تحمل کا مظاہر بڑا ضروری تھا،لیکن جب جوسلین گنوار عورتوں کی طرح طرح جلی کٹی سنا تی گئی تو میں کھانا چھوڑ کر لائبریری میں چلا گیا اور کرسی پر بیٹھ کر سر ٹیبل پر ٹکا دیا،اور دھیان لگا دیا،،میں ایسی باتوں کا عادی نہیں تھا،،کچھ ہی دیر میں میرے سر پر انگلیاں پھرتی محسوس ہوئیں،میرے پرنس ،کیا ناراض ہوگئے تم،تمھاری دل آزاری تو میرا مقصد نہیں تھی،،سوری ،،پلیز ،سوری،،جوسلین میرے پاس فرش پر بیٹھ گئی،اب جانے بھی نہ،،معاف کر دو اب آئیندہ ایسا نہیں ہو گا،،جوسلین نے اپنے کان پکڑتے ہو ئے مزاحیہ انداز میں کہا،،اس کے انداز سے میں بھی ہنسنے لگا،،جوسلین نے معافی مانگ کر مجھے منا لیا،،لیکن اس نے پینترا بدل لیا اور غزل کی دشمن ہوگئی،اپنی پیریڈ میں وہ طرح طرح سے غزل کوزِچ کرنے لگی،،ادھر ہماری قربت بڑھتی گئی،،میں بس اس کے حسن کا دیوانہ ضرور تھا لیکن غزل کو اچھی دوست ہی سمجھتا تھا ،کیونکہ پہلی ملاقات میں ہی میں جان گیا تھا کہ وہ میرے ٹائپ کی لڑکی نہیں ہے یعنی وہ چودائی کی شوقین نہیں ہے بلکہ ایسی باتوں سے دور بھاگتی ہے،وہ ایک اچھی اور معصوم لڑکی تھی،،اور میں نے پہلے دن سے ہی اس کی طرف خلوصِ دل سے ایک اچھے دوست کے طور پر ہاتھ بڑھایا تھا،،ہماری دوستی تو بڑھتی گئی اور ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں،لیکن جوسلین اس کا مطلب اور لیتی گئی،،جوسلین نے اس دن کے بعد مجھ سے تو کچھ کہا نہیں لیکن غزل کو ہر طرح سے تنگ کیا،غزل سمجھ نہیں رہی تھی کہ یہ کیوں ہو رہا ہے،ادھر یہ مسلہ بن گیا کہ غزل مجھ سے منسلک جذبات کو کوئی اور ہی رخ دے بیٹھی،،مجھے احساس ہو گیا لیکن اب دیر ہوچکی تھی،،ویسے بھی میں اسے اپنے بارے میں تقریباً ہر بات بتا چکا تھا ،بلکہ جوسلین کا رویہ دیکھ کہ میں نے اسے جوسلین اورا پنا تعلق بھی بتا دیا تھا،،میں غزل پر ہر طرح سے اعتما دکرنے لگا تھا،نگینہ کی کہانی تو اسے میں پہلے ہی بتا چکا تھا، جانے کب کیسے غزل میری ساتھ محبت کر بیٹھی ،یا یہ میری غفلت تھی کہ میں نے اس سے آنکھیں بند کر لیں،ایسی ہی کچھ بات تھی،دن پر دن گزرتے گئےغزل تو میرا اور جوسلین کا تعلق سمجھنے کے بعد جوسلین کا رویہ نظر انداز کرنے لگ گئی تھی
  4. میں خود کو جوسلین کے خیالوں سے بہلانے لگا،،جوسلین میرا نتظار کررہی ہوگی،ہوسکتا ہے جیسے ہی آٹورکشہ فلیٹ کے دروازے پر رکے وہ باہر نکل آئے،،وہ مجھے پوچھے گی سوراخ کب اور کیسے ملا،،یقناً ا سے دیوار کے سوراخ کاپتہ ہوگا،،،اور اس سوراخ میں ہی وہ سبق لکھا ہےجو مجھے ساری عمر یاد رہے گا،،،،وہی ہوا،، جیسے ہی آٹو رکشہ فلیٹ کے سامنے رکا،،فلیٹ کادروازہ کھلااور جوسلین باہر نظر آئی،،اسنے چپ چاپ رکشے والے کوکرایہ ادا کیا،،اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اندر لے آئی،،اندر آتے ہی اس نے دروازہ بند کیااور میرے گلے لگ گئی،،میں نے بھی اس کے گرد بازوؤں کا گھیراڈال دیا،ہم نے ایک طویل کس لی،،اور پھر بیڈروم میں آگئے،،نہالو،اس نے کہااور میں باتھ روم میں جاگھسا،،گرم پانی سےاچھی طرح جی بھر کے نہایا ،،میں روز نہانےکا عادی تھا لیکن ایکدن نہیں نہایا تھا ،اب طبیعت کوسکون آگیا،نہاکے نکلا تو جوسلین نے میرے پاجامہ اور ٹی شرٹ نکال دی تھی،،وہ پہن کر میں ایزی فیل ہوگیا،جوسلین میرے ساتھ لیٹ گئی،،دودھ دھی والا مل گیا تھا،،ایں ،،میں نے کہا کہ دودھ دھی والا مل گیا تھا ،جوسلین نے دوبارہ پوچھا ،،،ہاں مل گیا تھا،،اور بس میں کرائے کیلیے کیاکہا تھا ؟اسٹوڈنٹ ؟ جوسلین نے اگلا سوال کیا،،ہاں یہی کہا تھا میں نے مسکراتے ہوئے کہا،،،اور اگر تم بھاگ کے نہ جاتےتو مولوی دروازے میں داخل ہوتے ہوئے نہیں ملنا تھا اس طرح سنہری موقع تم نےضائع کردیناتھاجو کہ تم نے نہیں کیا،،،تو،جوسلین رک گئی،،،،،تو کیا ؟ میں نے پوچھا،،،،تو پھر سارے حربے آزما کہ کب پتہ چلا کہ یہ لڑکیاں نہیں پھنسے گی،،،اسی دن رات کو،،،،جب ان کے ساتھ کمرے میں سوئے تھے،،جوسلین شرارت سے مسکرائی،،ہاں میں نے مختصر جواب دیا،،،اور ۔۔۔۔۔دیوار میں سوراخ کا کب پتہ چلا،،اگلے دن شام کو،،،میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بتایا،،،میرے پرنس تم کامیاب ہوگئے،،اب تمھاری خوہش کے مطابق کل سے اگلا پروگرام شروع ہو جائے گا،،تو تم سمجھ گئے ہوگے کہ ہر شخص ساری دنیا سے بچا کہ بلکہ اپنے آپ سے بھی بچا کے اپنی دھلی دھلائی زندگی میں ایک سوراخ بناتا ہے ،،،جس سے وہ سیکس کا مزہ حاصل کرتا ہے ،،،بڑے بڑے شریف لوگ ،،،،،،بڑی بڑی پگڑیوں والے ،،،، بڑی بڑی ڈگریوں والے ،امیر اور غریب لوگوں کو تم انہیں اس سوراخ کے بغیر کبھی بھی جان نہیں سکو گے،،،،ہاں یہ بات میں آج صبح تمھاری طرف آتے ہوئے سمجھ گیا تھا،،،( پھر ساری زندگی میرا یہ اصول بن گیا کہ سب سے پہلے اس کی زندگی میں وہ سوراخ ڈھونڈا جائے جو اس نے ساری دنیا سے چھپا کربنایا ہوا ہے،ٹھیک ایسے ہی جیسے کمرے میں رکھا کمپیوٹر بذریعہ انٹرنیٹ اور موبائل آج کے دو بڑے سوراخ ہیں،،)پرنس ایک بات اور ہوجائے،،،جوسلین کچھ سنجیدہ تھی،،،،کیا،میں اس کی سنجیدگی دیکھ کر سمجھ گیا کوئی بہت خاص بات ہے،،تم نےاپنی ٹیچر پر بڑی ٹرائی کی،،،،،جو مجھ سے سیکھا وہ اس پر آزمایا،،لیکن اسے حاصل نہ کرسکے،،میری دل کی دھڑکن تیز ہوگئی،،آج یہ بات بھی دل پرلکھ لو کہ کسی بھی لڑکی کو اس کی مرضی کے بغیر تم کبھی حاصل نہیں کرسکتے،،،چاہے وہ تمھاری کشش کی شکار تمھیں چاہنے لگے،،چاہے تم اس کو اعضاءکو جتنا مرضی چھیڑو،،چاہے وہ دل سے کرنا بھی چاہتی ہو،،چاہے وہ تمھارے ساتھ تنہا بھی ہو،،تم اسے کبھی نہیں پاسکتے جب تک وہ خود نہ چاہے،،،تم ،،،،،کسی ،،،،،لڑکی ،،،،کو ،،،،،،،اس ،،،،کی،،،،،،مرضی،،،،کے ،،،،،بغیر ،،،،،،کبھی،،،،،حاصل،،،،،،نہیں،،،،،کر،،،سکتے،،،،،سم جھ گئے،،،وہ ٹیچر میری شاگرد تھی اور ذہین شاگرد تھی،،،مجھے پتہ تھا تمھارے منہ کوسیکس کا ذائقہ لگاہے اس کی جوانی اور حسن دیکھ کر تم اس سے چودائی کرنا چاہوگے مگر چار ،،،،سال،،،میں تم اسے حاصل نہ کرسکے،،،چار سال کافی ہوتے ہیں میں نے جوسلین کی بات سمجھتے ہوئے کہا،،،یہ بھی غنیمت ہے کہ تم نے کبھی ادھر ادھر ٹرائی نہیں کی،،ویسے بھی ان چار سالوں میں تمھارے پاس اتنا وقت نہیں تھا،،لیکن اب تمھارا داخلہ میں نے ،،،،،،یونیورسٹی میں کروا دیا ہے،،،سمجھانے کی ضرورت نہیں ،تم سمجھتے ہوگے،،،میرے جذبات کا خیال رکھنا،،،،تمھارا جو ٹیسٹ میں نے لیا ہے وہ بھی کچھ سوچ کر لیاہے ایک تو تم نے اس طرف کبھی سوچنا نہیں تھا دوسری طرف تمھیں ان کے بارے کچھ جانتے نہیں تھے ،،،اور تیسری طرف وہ سوراخ کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی تھیں ،،،اور میں چاہتی تھی کہ تم یہ سوراخ ڈھونڈو ،،،لیکن وہ صرف ایک ٹیسٹ تھا ،،،اور اب نازیہ کا خیال دل سے نکال دینا،،،مجھے جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے تھے،،،تم نے کہا تھا تمھیں لڑکیوں کو سمجھنے اور گھیرنے میں ماسٹر بنا دوں اور میں نے تمھیں چار سالوں میں دو کلیے بتا دیئے ہیں(اس سلسلے میں سب کچھ سکھا کہ پھر یہ دو کلیے بتائے،،شاید ہی کوئی ہو جو وہ سب سیکھے بغیر ان دو کلیوں کی اہمیت سمجھ سکے،،)،،،اب تم اس میں استاد ہو،،تم ساری رات کے جاگے ہوئے ہو،،بہتر ہے اب تم آرام کرو،،،تم نے کشتہ مروارید بھی نہیں لیا،چار سالوں میں یہ تمھارا پہلا ناغہ ہے،،آئندہ خیال رکھنا،،،میں ناشتہ بنانے لگی ہوں ،،،ناشتہ کر کے سونا،،اوکے جوسلین میری جان،،،،،جوسلین مسکراتے ہوئے ،کچن میں چلی گئی،،،اسے تو ٹیچر کا بھی پتہ تھا،،،نازیہ کا بھی پتہ ہے،،یہ بھی نہیں پوچھ سکا کے اسے اس دیوار کے سوراخ کاکیسے پتہ چلا،،،اور میں نے تو ارادہ کیا تھا کہ اب اس سے نگینہ والی بات کروں گا اور جوسلین کی دولت اور اختیارات کے ذریعے نگینہ کوڈھونڈ کر دلآویز کوپھنسا کر چودوں گا ،،اور اپنا انتقام پورا کروں گا،،لیکن یہاں تو یہ بھی ہوتا نظر نہیں آرہا،،،ظاہر ہے وہ دلآویز کو کیسے برداشت کرے گی،،ٹیسٹ میں تو کرلیا تھا،،دل نے سوال کیا،،،استادی شاگردی میں وہ ایک امتحان تھا،،جو بات اس نے سمجھائی ہے وہ میں ساری زندگی نہیں سمجھ سکتا تھا،،تمھاری نگرانی بھی تو کرواتی ہے،،خود ہی تو کہ رہی تھی کہ چار سالوں میں ادھر ادھر کہیں منہ نہیں مارا،،،فی الحال خاموشی ہی بہتر تھی،،کیونکہ وہ میری استاد تھی۔انہیں خیالوں میں تھا کہ جوسلین ناشتہ لے آئی ۔ناشتہ کر کے میں سو گیا،،اگلے دن سہہ پہر کا اٹھا ،،،جوسلین آچکی تھی،،اور کھانا بنا رہی تھی،،میں نے جا کر اسے پیچھے سے ہی گلے لگا لیا،،،اور اسے چومنے لگا،،،جوسلین نے میری محبت کا بھرپور جواب دیا،،میں نے پاجامہ نیچے کیا،،تو جوسلین نے مسکراتے ہوئے چولہا بندکیا،،ا س نے پروقار میکسی پہنی ہوئی تھی ،،میں نے اسے اوپر کیا،میں جانتا تھا جوسلین گھر میں ہو تو نیچے کچھ نہیں پہنتی تھی ،،،جوسلین نے کمر ٹکا کر ایک ٹانگ کھول لی اور میں نے اس کی چوت میں عضو داخل کر دیا،، دو دن تم نہیں ملے تو براحال ہوگیا تھا،،،میرا تو دل کرتا تھا کہ جیسے ہی تم آئے ہم چودائی کریں گے،،لیکن تم کافی تھکے ہوئے تھے،،اسلیے میں نے دل پرپتھر رکھ لیا،جوسلین فراق کی باتیں کرہی تھی جبکہ اب وصال تھا اور میں نے اس کا دھیان وصال کی طرف لگایا تو وہ سب بھول گئی،،،پندرہ منٹ بعد ہم فارغ ہوگئے،،،اب جوسلین نے نہانا ضرور تھا ،،بلکہ مجھے بھی نہانا پڑنا تھا،،،بڑی نفیس طیعت تھی اس کی،،نہا کہ کھانا کھا کہ کافی لیکر ہم ڈرائنگ روم میں آبیٹھے ،،،اب بتا بھی دو،کیا،،جوسلین نے پوچھا ،،میں نے اس کی طرف دیکھنا جاری رکھا،،،تمھارا مطلب ہے کہ مجھے دیوار کے سوراخ بارے کیسے پتہ چلا،،تو میں ان کے گھر گئی تھی ایک دفعہ ،،،،،نازیہ اوپن یونیورسٹی سے تھرڈ ایئر کر رہی ہے،،، جس یونیورسٹی میں پڑھاتی ہوں وہاں نازیہ اپنی اسائنمنٹ دینے آئی تھی،،جب اس نے اپنی ٹیوٹر کو اسائنمنٹ دی تواس وقت میں بھی وہیں تھی ۔میں اسے دیکھ کہ دنگ رہ گئی ،کیالڑکی تھی،،ویسے اس نے پورا پردہ کیاہوا تھا،لیکن اس وقت بس اس کا چہرہ دیکھا تھا ،،،ساتھ اس کا باپ تھا۔میں باتوں باتوں میں اس سے نتھی ہوگئی ،،،اور باتیں کرتے ہم باہر آئے تو میں نے ان کو آفر کی میں بھی نکل رہی ہوں ان کو بھی چھوڑ دیتی ہوں اسطرح میں ان کوچھوڑنے ان کے گھر بھی گئی ،،وہیں انہوں نے مجھے چائے کی آفر کی ،میں تو یہی چاہتی تھی،،مولوی تو ہمیں چھوڑ کر مسجد چلا گیا اور میں دو گھنٹے ان کے پاس رہی،،بس وہیں ان کا مزاج،عادات،،نفسیات،،اور خیالات کا پتہ چلا،،، نازیہ اپنے کمرے میں لے گئی وہاں میخ اور شیشہ بھی دیکھا میخ مجھے کچھ بڑی لگی،،اور دوسرے کمرے میں چائے پینے بیٹھے وہاں میخ کی نکلتی نوک بھی دیکھی ،،نازیہ ،رافعہ ،سعدیہ،اور شازیہ کی آنکھوں میں چودائی کی پیاس بھی دیکھی تو میں ساری بات سمجھ گئی،،آپ نازیہ کےساتھ کیوں گئی،،،میں پوچھے بناء نہ رہ سکا،،،میں کبھی لیسبن بھی کرتی تھی، اب کرنا ورنہ تو کچھ نہیں تھا بس ٹھرکا ٹھرکی میں چلی گئی ،،،جب سے تم ملے ہو،،سب کچھ چھوٹ گیا اور اب زندگی میں سکون ہی سکون ہے،،وہاں ان کاماحول دیکھ کر اور ساری بات سمجھ کر میں نے اس بات کو استعمال کرنے کافیصلہ کیا،،،اور تمھیں وہاں بھیج دیا،،یہ ہے کل کہانی،،جوسلین نے مجھے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا ،،،،جوسلین رافعہ کو دیکھ کر مجھے کچھ افسوس ہوا ہے کہ میں نے ان لڑکیوں کو سیکس کی راہ پرلگا کر اچھا نہیں کیا ہے ،،،رات سے کھٹکتی بات کو زبان پر لانے سے روک نہ سکا،،پرنس،،میری بات سنو،،یہ لڑکیوں تم سے پہلے سیکس کی راہ پر لگ چکی تھی،،،اور رافعہ نے آج نہیں تو کل اس رستے میں آنا ہی تھا،اس لڑکی کوروکنا مشکل تھا،،،اور تم ایک بات بتاؤ ،،کہ جب وہ سوراخ میں دیکھ رہی تھی تو تم نے ان سے کیا کہا،،میں نے کہا تھا جو تم دیکھ دیکھ کہ ترس رہی ہو وہ میں تمھیں ابھی دے سکتاہوں،،جوانی ضائع کرلو گی مگر ہاتھ کچھ نہیں آئے گا،،،ساتھ ہی میں ننگا ہو کر ان کے پاس گیا تھا،اس سے جب میراعضو لگا اور میں نے مموں کوچھوا تو وہ کچھ کہہ ہی نہ سکیں اور چودائی شروع ہو گئی،،میرے ننگے جانے پر جوسلین کافی محظوظ ہوئی ،،،،پرنس تم اگر یہ کہتے کہ اگر تم سب نے چودائی نہ کروائی تو تمھارے ابا کو بتا دوں گا تو پھر یہ غلط ہونا تھا یہ بلیک میلنگ ہو جانی تھی لیکن تم نے ایسا نہ کیا،،،،،تم نے ان کی مرضی سے کیا ہے ،،اسلیے یہ کوئی غلط کام نہیں ہوا،،یہ ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا،، کوئی ایسا جو ،ان کا راز جان جاتا۔۔اس نے یہ کر دینا تھا ۔یہ ہونا ہی تھا ،،اور ایک بات سمجھ لو کہ اگر تم ان کوبلیک میل کرتے تو تم نے اس ٹیسٹ میں فیل ہوجانا تھا ،،،لیکن مجھے یقین تھا کہ تم ایسا نہیں کرو گے،،کیونکہ یہ تمھاری فطرت میں نہیں ہے،،،شاید تمھیں زندگی میں بہترین سبق مل چکا ہے جس کی وجہ سے تم کسی سے اب زندگی بھر زبردستی نہیں کرسکتے۔۔میری آنکھوں کے سامنے نگینہ کاچہرہ آگیا ،،لیکن میں نے اس کے تاثرات چہرے پر نہیں آنے دیئے،،،جب میں نے اسے رافعہ کی چودائی کابتایا تو جوسلین خوب ہنسی،،،واہ تم نے رافعہ کو مزہ چکھادیا،،ایک بات کہنا چاہتا ہوں ،،ہاں کہو،، اس طرح اٹکنا کب سے شروع ہوگئے تم ،،، میں چاہتاہوں تم ایک چکر مولوی کے گھر لگاؤ،،،اور ان لڑکیوں کو پریگنٹ ختم کرنے کیلیے کسی طریقہ سے ٹیبلٹ دے آؤ،،،،جوسلین نے غور سے میری طرف دیکھا،،،ٹھیک ہے میں یہ کام کر دوں گی ،،وہ بھی صرف اسلیے کہ تم ان کے خیالات ذہن سے نکال دو،،جوسلین نے مجھے جتایا،،،رقابت میں عورت اپنا سارا جینئس پن ختم کردیتی ہے،،عورت آخر عورت ہی ہوتی ہے،میں نے دل میں سوچا،،، ٹھیک ہے کل سے کام شروع ،،جوسلین نے جیسے اعلان کیا،،،میں پہلے دن یونیورسٹی گیا،،، جوسلین یہاں شروع سے پڑھا رہی تھی،،یہاں میں نے جوسلین کی علمی لحاظ سے عزت اور قدردانی دیکھی،،،بلکہ یہیں کیا پورے شہر میں ایک بہترین پروفیسر کے لحاظ سے اس کو مانا جاتا تھا،،پہلے دن ہی یونیورسٹی میں مشہور ہوگیا کہ جوسلین کے لے پالک بیٹے نے یہاں داخلہ لے لیاہے ،لیکن میں نے اسے کبھی زندگی میں ماں نہیں کہا نہ لوگوں کے سامنے اور تنہائی میں تو ممکن ہی نہیں تھا،،میں یہاں جوسلین کی ہی کلاس میں تھا،،اس سے بہتر شہر بھر میں نفسیات دان اور کون ہونا تھا،،دن گزرنے لگے،،گھر میں بھی جوسلین مجھے ٹیوشن پڑھانے لگی، نفسیات تو میں نے پچھلے سال ہی شروع کردی تھی۔اب اس سے ماسٹرز کرنے کا ارداہ تھا۔۔دوسری طرف اب سنجیدہ موضوعاتی کتابیں پڑھنے پر لگا دیا ،،،،،جیسےمختار مسعود کی آوازِ دوست ،قدرت اللہ کا شہابنامہ اور اشفاق احمد کی زاویہ سے میری ابتداء ہوئی اور پھر پیچھے مڑ کے نہ دیکھا----اور ساتھ ہی جوسلین نے مجھے شاعری پڑھنے کی طرف لگایا،،اس سے پہلے نثری اوردو ادب کا خلاصہ تو وہ مجھے کھول کے پلا چکی تھی،،اور یہ خلاصہ بھی اچھا خاصہ تھا،،میں اس سے ٹیوشن پڑھ رہا تھا کہ جوسلین اپنے مخصوص انداز میں لیکچر دینے لگی،پرنس،،اظہار کیلیے انسان نے سب سے پہلے اشاروں سے باتیں کرنا شروع کیا،، پھر اس میں تصویری زبانیں آگئی،،،،پھر اسے زبان کا شعور ہوا تو بول کرباتیں ہونے لگی،،مجسمہ سازی ،،مصوری ،،بھی اظہار کیلیے ہی اختیار کی گئی،، انسان جب شعور کی منزلیں طے کرتا ہوا لکھنے لگا تب نثری ادب آگیا،،اور شاعری آگئی،موجودہ دور میں الیکٹرونک میڈیا آیا تو اس میں فلمیں اور ڈرامے بھی اظہار کا ایک ذریعے ہی بنے،،کیونکہ یہ زبان فی زمانہ سب سے زیادہ سمجھی اور بولی جاتی ہے،،،،لیکن معلوم تاریخ سے لیکر آج تک اپنے جذبات کے اظہار کیلیے اپنے مدعا بیان کرنے کیلے شاعری سے بہتر ذریعہ سامنے نہیں آیا،،جو بات تم ایک پوری کتاب میں کہتے ہو وہی ایک شعر میں کہی جا سکتی ہے ،،اس سے تم شعر کی معنویت اور گہرائی کا اندازہ کرسکتے ہو،کہ کہاں ایک کتاب اور کہاں ایک شعر،۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں شاعری صرف محبت پر ہی کی جاتی ہے بلکہ محبت کو ہی شاعری سمجھا جاتا ہے،،اگر ہمارے شاعر ہجر وصال سے آگے کی سوچتے تو آج یہ قوم بھی عاشقی معشوقی ایک شوق کے طو پر کرتی ہوتی نہ کہ کُل وقتی کرتی ہوتی،،غو ر کرو ،،کیا مغربی اقوام سیکس نہیں کرتی ہم سے زیادہ سیکس کرتی ہے،،کیا وہ جواء نہیں کھیلتے کیا وہ شراب نہیں پیتے ،ہم سے زیادہ پیتے ہیں،لیکن وہ ترقی یافتہ اور ہم پس ماندہ ہیں،،اس لیے کے جو جزوقتی ہونا تھاوہ کل وقتی ہوگیا اور جوکل وقتی ہونا تھا وہ جز وقتی ہوگیا، عشقیہ شاعری کیلیے تو یہ ایک شعر ہی کافی ہے یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیئے اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے یا شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہ ، اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی لیکن جب ہم زمانے کی گہرائیوں کو سمجھتے ہیں تو فیض احمد فیض ہمیں بتاتا ہے کہ مجھے سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی وصل کی راحت کے سوا دونوں قسم کی شاعر ی میں فرق تم نے دیکھ لیا ہے اب شاعری پڑھنا مگر ایک دائرے میں بند مت ہوجانا،،یہ نہ ہو کہ وہیں گھومتے رہو،،،یہ جو کتابیں ہیں نہ ،یہ ہی سوچ کو بالغ کرتی ہیں،،جیسے جسم کی عمر ہوتی ہے نہ،،ایسے ہی ذہن کی بھی عمر ہوتی ہے،،بہت سے لوگ چالیس سال کے ہو جاتے ہیں،،لیکن وہ ذہنی طور پر بچے ہی ہوتے ہیں،،جب تم مجھے ملے تھے تم تب بھی ذہنی طور پر اچھے تھے لیکن اب توبلوغت سے بہت آگے نکل چکے ہو،،باقی کا کام شاعری کرے گی،،،،اب تم نفسیات میں ماسٹر کر رہے ہو،،لیکن درحقیقت تمھارا یہ وقت ماسٹرز سے آگے کا ہے پی ایچ ڈی کا ہے اب تم اپنے سیکھے ہوئے ہر فن میں ڈاکٹر بنو گے،،،ٹھیک ہے یہی تم چاہتے تھے نہ،،،میں نے سنجیدگی سے سر ہلا دیا،،اس طرح میرا یہ سفر شروع ہوچکا تھا۔۔سب سے زیادہ مجھے خوشی مجھے اسو قت ہوئی جب میرا مارشل آرٹ کا استاد آیا،،یہ ایک چائنیز تھا،میں اپنے استاد کا یہاں نام عظیم ترین استاد لکھوں گا۔ عظیم استاد بڑھاپے کی طرف مائل تھا اور درمیانے قد کا تھا،،پہلے پہل میں بس اتنا خوش ہوا کہ وہ چائنیز ہے اور کچھ اچھا ہوگا،،لیکن جب اس نے مجھے اپنا آپ ظاہر کیا، تو میں حیران رہ گیا،،،وہ ان استا دوں میں تھا جو خاص الخاص ہوتے ہیں،پہلے پہل میں یہی سمجھا کہ یہ جوسلین کی دولت کا کرشمہ تھا کہ ایسا استاد میری قسمت میں آیا، جوسلین کے بینک بیلنس کا خود اسے نہیں پتہ تھا وسیع و عریض جائیداد سے ملنا والا منافع جمع ہوتا جا رہا تھا ،اور جوسلین کو دولت اڑانے کا کوئی شوق نہیں تھا،اس نے میرا شوق پورا کرنے کیلے انٹرنیٹ پر دنیا کے جانے مانے ماشل آرٹ استاد ڈھونڈے ،2004 میں پاکستان میں انٹر نیٹ اتنا عام نہیں تھا بلکہ موبائل نیا نیا شروع ہوچکا تھا ،پھر وہ فون پررابطے کرنے لگی،، وہ یہ کام پچھلے چھ مہینے سےکر ر ہی تھی ان گنت دولت کی وجہ سے وہ چاہتی تھی کہ دنیا کا بہترین استاد حاصل کرے ،اس لیے وہ بڑے ناموں سے رابطہ کرتی رہی،،لیکن وہ سب یہاں آ کر ٹریننگ دینے سے انکاری تھے اور جو سلین مجھے کہیں بھیجنا نہیں چاہتی تھی ،،،بے شک جوسلین کی آفر ناقابل یقین تھی ،لیکن کوئی بھی اپنا بنا بنایا سیٹ اپ ،برسوں کی محنت چھوڑ کر آنے کیلے تیار نہیں تھا،چوٹی کے ماسٹرز سے جب بار بار رابطہ کیا جانے لگا اور اپنی واقفیت سے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو وہ جان چھڑانے لگے ،اور انہوں نے واضح انکار کی بجائے۔۔زونگینگ کوانلی ۔۔ کا نام لے دیا
  5. صبح مجھے کسی نے نہیں اٹھایا لہذا میں سوتا رہا اور تقریباًدس بجے اٹھا ،باہر نکلا تو سب کچھ حسبِ معمول تھا،مولوی آرام کررہا تھا اور باقی اپنا کام کاج،باتھ روم سے ہوکر منہ ہاتھ دھویا تو شازیہ نے چپ چاپ ناشتہ میرے آگے لا کر رکھ دیا،نازیہ مجھے سے برگشتہ ہوچکی تھی صاف دکھ رہا تھا ،پراگندا خیالات کے ساتھ ناشتہ تو کر لیا،لیکن ذہن جیسے ایک ہی نکتے پر رک گیا تھا کہ یہ لڑکیاں چودائی کیلیے راضی نہیں ہیں،بلکہ ان کو سیکس کاہی کچھ پتہ نہیں ہے،اوپر سے ان کا اسٹوپڈ ماحول ایسا پتھر تھا جس سے سر پٹک پٹک کر مرجائیں لیکن یہ ذرا بھی ٹس سے مس نہ ہو، مجھے ان کے ماحول پر غصہ بھی تھا اور مایوسی میں جھلاہٹ بھی تھی،اب میں نے پھر ان کے جسموں کو گھورنا شروع کر دیا اب میں بے باک تھا ،میں نے ان کو ذومعنی باتیں بھی کیں،،کچھ فحش اشارے بھی کر دیئے ،جو کہ میری سرشت میں نہیں تھا،لیکن ان میں سے کسی نے کوئی ایسی بات نہ کی جس سے مجھے تھوڑی سی بھی امید ہوتی، دوپہر تک میں ان کی ماں سے گپیں مار تا پھر مولوی آیا ،،آج جمعہ تھا وہ جلدی نکل گیا تھا اور اب بھی دیر سے آیا تھا تو کھانا کھاکرمولوی اپنے کمرے میں لیٹ گیا اور میں بھی دوسرے کمرے میں آکر لیٹ گیا،میں مایوس ہوچکا تھا،،مایوسی میں عجیب عجیب خیالات آرہے تھے،جوسلین نے مجھ پر کتنا پیسہ لگایا ،کتنی مجھ پر محنت کی ،اور مجھے کیا سے کیا بنا دیا،لیکن میں نے فیل ہو کر اس کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا، ایسے ہی سہہ پہر ہوگئی ،شاید مولوی پھر آگیا تھا ،،لیکن میں باہر نہ نکلا ،میں کبھی مایوس نہیں ہوا تھا نہ کبھی ہارا تھا ،،لیکن آج میں ہار رہا تھا جیسے جیسے دن ڈھل رہا تھ ااور شام قریب آرہی تھی،میری دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں میرے چہرے پر ناکامی لکھی جا رہی تھی ۔پتہ نہیں کون کون سے خیالات میرے ذہن میں آتے گئے،ایسے میں ایک سوچ یہ بھی آئی ،کہ اگر یہ سیکس نہیں کرنا چاہتی تو مجھے جوسلین نے یہاں کیوں بھیجا ؟ کیا اس نے مجھے ایسے لوگوں میں پھنسایا ہے جو میری ہار کا سبب بنے یا اس نے مجھے مشکل ٹارگٹ دیا ہے؟ ذہن نے جواب دیا کہ اگر ان لڑکیوں نے سیکس کرنا ہی نہ ہوتا تو وہ مجھے یہاں بھیجتی ہی نہ،میں جوش میں اٹھ بیٹھا۔ اس خیال نے مجھ میں نئی امنگ پیدا کر دی،،میں پھر سے ترتیب سے سوچنے لگا،مفروضے بنانے لگا،اگر لڑکیاں سیکس کو جانتی ہیں یا کرنا چاہتی ہیں،تو پھر وہ سیکس سے کسی طرح متاثر ہو رہی ہیں،،،تو وہ سیکس سے کہاں سے متاثر ہو رہی ہیں ،ذہن نے سوال کیا،؟ الیکٹرانک میڈیا کا کوئی ذریعہ تو گھر میں ہے نہیں جس سے باہر کی دنیا سے گھر میں کچھ آئے،پرنٹ میڈیا ہو شاید ،میں نے ان کے بستروں اورسرہانوں کو اچھی طرح دیکھا،جستی پیٹی اور اس پر پڑے ٹرنکوں کو دیکھا،لیکن وہ سب لاک تھے،نہیں پرنٹ میڈیا بھی نہیں ہو سکتا،مولوی کی سختی اور ان کا ڈر میرے سامنے آگیا،تو پھر ان کی کوئی دوست اور ہمسائی بھی نہیں ہوگی،ان کے ماحول میں اور مولوی کی بادشاہت میں سب ناممکن تھا،ہو نہ ہو اگر وہ سیکس سے متاثر ہیں،تو وہ چیز ان کو گھر میں ہی مل رہی ہے،میرے ذہن میں جھماکا ہوا،کہیں یہ مولوی اور اس کی بیوی کا سیکس تو نہیں دیکھتیں،یہ ممکن تھا ،اور اس سے مولوی لا علم بھی ہو گا،کل رات مجھے مولوی کے کمرے میں کیوں نہیں سلایا گیا،؟ یہ حکم مولوی نے دیا ہو گا،اس کی مرضی کے علاوہ گھر میں ایسا کوئی نہیں تھا جو مجھے اس کمرے میں سونے کی اجازت دیتا،اب مجھے سمجھ آنے لگی کہ مولوی بیوی سے چودائی کرنے کیلیے مجھے لڑکیوں کے کمرے میں سونے دیا،یہیں ایک بات ہے جو اس کے خیالات کو روک سکتی تھی،اس کامطلب ہے مو لوی ناغہ نہیں کرتا ہو گا، ویسے بھی مولوی کا کوئی بیٹا نہیں تھا ،تو لازماً وہ چار بیٹیوں کے بعد مزید کوشش تو کرتا ہو گا،جو کہ اب تک بارآور نہیں ہوئی تھی ،کیونکہ چوتھی لڑکی کے بعد سے مولوی کی بیوی کو بریک لگے ہوئے تھے ،، تو یہ بھی ممکن ہے کہ لڑکیاں کو مولوی کی چودائی کی بھنک پڑ گئی ہو۔ دن میں بھی مولوی قیلولہ کرتا ہے اور مولوی کی بیوی اس کے ساتھ ہوتی ہے، لڑکیاں اس معمول کی عادی تھیں ،یعنی یہ کتنے عرصے سے جاری ہے ،دن میں کچھ دیکھ لیا ہو،اسی مفروضے کو بڑھا کر میں مختلف آپشن پر غور کرتا رہا،،اگر لڑکیاں سیکس پر مائل ہیں تو،،،،، مولوی کے علاوہ لڑکیوں کو اور کہیں سے انسپائریشن(متاثرہونا ) نہیں مل رہی یہ میں طے کرچکا تھا،،،وہ کہاں سے دیکھتی ہیں،؟ ذہن نے سوال کیا،،میں باہر کا منظر ذہن میں لا کے دیکھنے لگا،،باہر سے یہ ممکن نہیں تھا،مولوی نے اس بات کا خیال رکھا ہوا تھا، ونڈو اور دروازے کے اندر کی طرف پردے لگے ہوئے تھے ،جس کا مولوی جیسا شخص خیال رکھتا ہو گا،،پھر وہ جو کرتی ہیں وہ اسی کمرے میں کرتی ہیں،میں اچھل کر کھڑا ہو گیا،سامنے وہ دیوار تھی جو مولوی اور لڑکیوں کے کمرے کی مشترکہ دیوار تھی،اسمیں کوئی اینٹ نکلتی ہوگی،میں پرخیال نظروں سے بغیر پلستر کی دیوار کو دیکھنے لگا، لڑکیوں نے کمرے میں کیا آنا تھاوہ تو مجھ سے دور رہنا چاہتی تھیں ،،،میں نے لڑکیوں کے قد کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کئی اینٹوں کو دبایا لیکن مجھےکوئی سرکتی اینٹ نہ ملی،پھر میں نے نچلی لائین سے شروع ہو کر ایک ایک اینٹ دیکھنے لگا،21 لائینوں تک میں نے ایک ایک اینٹ دبا کر دیکھی ،لیکن کچھ نہ ملا،پھر میں نے احتیاطً ہاتھ اونچے کر کے کچھ اوپری لائنیں بھی دیکھ ہی لیں ،مجھے سارا مفروضہ ریت کی دیوار محسوس ہوا،پھر میں آخری کوشش کے طور پر دیوار پر لگے شیشے کے پیچھے دیکھا ،لیکن وہاں بھی کچھ نہیں تھا۔ پھر میں پیچھے پٹا اور ساری دیوار کودیکھنے لگا،اور میری نظریں لکڑی کی میخ پر آٹکی،وہ کوئی باقاعدہ میخ نہیں تھی،بلکہ جلانے والی لکڑی سے علیحدہ کی گئی تھی،اور کافی موٹی میخ تھی جبکہ یہاں ایک معمولی سے کیل سے بھی کام چل سکتا تھا ، لیکن غربت کے ماحول میں وہ چل رہا تھا ،میں نے دروازے کی طرف دیکھا اور جو کہ ا س دیوار کے ساتھ ہی تھا،پھر میں نے میخ کو کھینچا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، میخ آرام سے میرے ہاتھ میں آگئی،اور دیوار میں اینٹوں کی درز کے درمیان ایک بڑا سا سوراخ موجود تھا میں نے جلدی سے اس میں سے جھانکا،سامنے ہی مولوی کا بستر تھاجس پر وہ سوتا تھا بلکہ تقریباً اس طرف کا پورا منظر واضح تھا مولوی کے ساتھ ہی اس کی بیوی کی چارپائی تھی،میں نے جلدی سے میخ واپس لگا دی اور شیشہ بھی میخ پر لٹکا دیا،اس پرکنگھی اور سرسوں کے تیل کی شیشی تھی وہ بھی دوبارہ رکھ دی،اور آرام سے آکر بستر پر لیٹ گیا،لڑکیاں کبھی بھی میرے ہاتھ نہیں آنی تھی،،اور سب سے بڑی رکاوٹ ان کے خیالات تھے،گھر کا ماحول تھا،اور مولوی تھا،لیکن مولوی کو نہیں پتہ تھا کہ وہ خود ہی اپنی ہر بات کی کاٹ کر رہا ہے ،،اب مجھے رات کا انتظار تھا،،،شام تو ہو ہی گئی تھی،رات کو کھانے کا وقت ہوا تو میں ے کم کھانا کھایا ،اور بہانہ کیا کہ میری طبعیت کچھ سست ہو رہی ہے ،میں بس آرام کرنا چاہتا ہوں،،مجھے بہت نیند آئی ہے، میں نے ایک ہاتھ منہ پررکھ کر لمبی سی جمائی لی،میں جا کر اپنے بستر پر لیٹ گیا اور اچھی طرح رضائی لپیٹ لی،کچھ ہی دیر میں مجھے نیند آگئی ،اور پھر میں گہری نیند میں چلا گیا،،سردیاں ویسے بھی بڑی پڑ رہی تھی،،شاید دس بجے ہوں گے اور ابھی سے لگ رہا تھا کہ جانے رات کتنی ہوگئی ہے ،،پھر عائشہ اپنے بستر سے نکلی اور میری طرف محتاط نظروں سے دیکھا،میں تو ہلکے ہلکے خراٹے لے رہا تھا،،،اورکب سے گہر ی نیند میں تھا،،شازیہ نے دیوار سے شیشہ اتارا اور آرام سے نیچے زمین پر دیوار سے ٹکا کر رکھ دیا،پھر میخ نکالی اور اس موری سے مولوی کے کمرے میں دیکھنے لگی۔ میخ اس کے ہاتھ میں ہی تھی،اس نے میخ آرام سے نیچے رکھ دی،اتنے میں نازیہ پھر سعدیہ اور رافعہ بھی اٹھ بیٹھی ،،،میں آنکھ کی معمولی سے جھری میں سب دیکھ رہا تھا،کتنی دیر سے میں مورچہ جمائے بیٹھا تھا،اور اب شکار کو سامنے دیکھ کر میرا دل بلیوں اچھلنے لگا تھا،چاروں لڑکیاں باری باری اس موری سے دیکھنے لگی،،پھر شازیہ نے نازیہ کے ممے پر ہاتھ رکھ دیا اور اسے کسنگ کرنے لگی،اور سعدیہ بھی رافعہ کے ساتھ کسنگ کرنے لگی،،وہ باری باری سوراخ سے دیکھتی تھیں اور ایکدوسرے کو چھیڑتی تھیں،،پھر انہوں نے اپنی قمیضیں اتار دی اور برا اتار کر ممے چوسنے لگی،،،جو ممے چوستی اس سے دوسری سوراخ سے دیکھتی،،،چار جوانیاں میرے سامنے ننگی تھیں ،میری آنکھیں پوری کھل گئی تھیں لیکن اب لڑکیوں کو میرا کوئی خیال نہیں تھا، میں بے آواز چارپائی سے اترا ،لڑکیوں کا دھیان سوراخ اور ایکدوسرے کی طرف تھا ان کی پشت ہی میری طرف تھی،میں نے اپنے کپڑے اتارے اور ننگا ان کے پیچھے جا کھڑا ہوا،اچانک جیسے انہیں میری موجودگی کا احساس ہوا،اور سب سے پہلے شازیہ ہی مڑی ،،،مجھے دیکھ کر انہیں جیسے سکتہ ہوگیا،جبکہ نازیہ نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا،شاید وہ چیخنے لگی تھی،،وہ انتہائی حیرانگی سے مجھے دیکھ رہی تھی،اور اب اچانک انہیں میرے ننگے ہونے کا احساس ہوا،،تو انہیں بڑا زور کا جھٹکا لگا، میں نے آگے بڑھ کے سوراخ سے دیکھا مولوی جوش و خروش سے لگا ہوا تھا ،، بڑی بہن ہونے کے ناطے ان کی لیڈر شازیہ تھی،میں نے شازیہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے خود سے لپٹا لیا،میرا عضو اسے چھو رہا تھا ،،وہ کچھ کہہ نہیں سکتی تھی،نہ چلا سکتی تھیں ،وہ اپنی پوزیشن سمجھتی تھیں ،،،شازیہ جو دیکھ دیکھ کر تم ترس رہی ہو وہ میں تمھیں دے سکتا ہوں ،،اگر تم نے یہ موقع ضائع کرد یا تو ساری عمر ترستی رہو گی جانے کب تمھاری شادی ہو۔ اپنے اور اپنی بہنوں پر رحم کھاؤمیں نے اس کے کان میں سرگوشی کی،،،میرا جسم اس سے لگا ہوا تھا اور میرے ہاتھ اس کے مموں پر تھے جو اس دوران چھیڑ خانی شروع کر چکے تھے،،کچھ کہنے سننے کی گنجائش نہیں تھی،،،شازیہ تو پہلے ہی بھڑکی ہوئی تھی،،اب اس کے سامنے ایک مضبوط عضو اور جوان لڑکا تھا جو کہ اس کا ہم عمر ہی تھا،وہ ابا کو پتہ چلے گا تو بہت مارے گا،شاید قتل ہی کر دے ،شازیہ نے کچھ تو کہنا ہی تھا،،،شازیہ ابا اپنے کام لگا ہوا ہے او ر پھر وہ مدہوش ہو کر سو جائے گا،اگر اسے اب تک سوراخ کا پتہ نہیں چلا تو ہمارا بھی پتہ نہیں چلے گا،دنیا سوئی ہوئی ہے اور ہم کمرے میں بند ہیں ،کسی کو کیا پتہ کے اندر کیا ہورہا ہے،میں نے شازیہ کے کان میں سرگوشی کی،میرے ہاتھ اس دوران اس کے مموں کو مسل رہے تھے ،،،اور عضو اسے بے چین کر رہا تھا،اس دوران دوسری بہنیں ہماری طرف ہی متوجہ تھیں کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے،،،میں نے شازیہ کے چہرے کے سامنے اپنا چہرہ کیا،،،اس کے ہونٹ کپکپائے اور پھر ہم نے ہونٹوں کو ہونٹوں سے جوڑ دیا،،،شازیہ کو سیکس کا کچھ پتہ نہیں تھا وہ اناڑی تھی ،، بلکہ ساری بہنیں ہی اناڑی تھی ابھی جب وہ آپس میں چوماچاٹی کر رہی تھیں تو یہ بھی لیسبن نہیں تھا بلکہ وہ صرف مولوی کی نقل اتار رہی تھیں،میں نے شازیہ کو ساتھ لگا لیا،میرا عضو اس کی چوت سے لگ رہا تھا اور میرے ہاتھ اس کے ممے کو مسل رہے تھے اور ایک ہاتھ میرا اس کی گانڈ پر تھا،نازیہ پیچھے سے مجھے لپٹ گئی تھی،،او رمیری کمر چوم رہی تھی،اس کی دیکھا دیکھی سعدیہ اور رافعہ بھی مجھے چوما چاٹی کرنے لگی،،،،میں نے تو کبھی دو لڑکیوں سے اکٹھی چودائی نہیں کی تھی یہاں تو دو نہ شُدچار شُد ہو گئیں تھیں، میں نے سوچا ان کے درمیان چُوں چُوں کا مربّہ بننے سے بہتر ہے ایک ایک سے آرام سے نپٹا جائے،اس دوران دوسری جو کرتی ہے وہ کرتی رہے۔ شازیہ گرما گرم تھی،اسے تیاری کی ضرورت نہیں تھی میں نے سوچا اسےچودا جائے،ویسے بھی کل سے ان کے بارے میں سوچ سوچ کے اب میرے اند آگ جل رہی تھی،میں چارپائیوں کی طرف دیکھا وہاں چودائی مناسب نہیں تھی اور مزہ بھی نہیں آنا تھا،نازیہ ،،،جی،،،،نیچے چٹائی بچھا دو اور اس پر گدے بچھا دو ،ساتھ رضائی بھی رکھ دو ہم چاروں کا یک ہی بستر بنا لو،صبح اٹھا لیں گے،،نازیہ میری بات سمجھ گئی،،میں نےسعدیہ کو اشارہ کیا تو اس نے میخ واپس لگا دی اور شیشہ لٹکا دیا،کنگھی رکھنے کے بعد سرسوں کے تیل کی شیشی میں نے نیچے ہی رکھنے کا اشارہ کیا،شازیہ مجھے چومتی جارہی تھی،،،میں نے اس کے ہاتھ میں اپنا عضو دے دیا،اسے جھٹکا سا لگا مگر اسے پتہ لگ گیا کہ اس کے ہاتھ میں کیا ہےعضو پکڑے شازیہ مجھے چومنے لگی،،میں نے اس کاہاتھ پکڑ کر مٹھ مارنے کا طریقہ بتایا اور اسے کام پر لگا دیا،،اس سے شازیہ کا درجہ حرارت بڑھتا گیا،نازیہ نے بستر بہت اچھا بنایا تھا اس نے دوگدے/سرہانے ساتھ ساتھ ڈال دیئے تھے اور اس پر دو رضائیاں رکھ دی تھیں لیکن سردی کے باوجود ہمیں سردی کا احساس تک نہ تھا سعدیہ ایک کپڑا لانا جس سے کچھ صاف کیا جاسکے میں نے شازیہ کو لیکر بستر کے درمیان میں بیٹھتے ہوئے کہا،اور شازیہ کو لٹا دیا،میرے اندر تو آگ بھڑکی ہوئی تھی ،جیسے ہی شازیہ لیٹی میں نے اس کی شلوار پکڑ کر کھینچی اور نیچے کر دی،،،شازیہ اس کیلیے تیار نہیں اس نے ٹانگیں اکٹھی کر لیں،میں اس کے ساتھ لیٹ گیا،شازیہ شرماؤ مت،یہ تو پیار کی ابتداء ہے،ہم نے ابھی یک جان ہونا ہے،میرے سامنے حسین جوانی ننگی پڑی تھی ا سکے کچے ممے مجھے بلا رہے تھے ، میں نے اس کے اوپر لیٹ کر اس کے ممے چوسنے شروع کر دیئے،،اور عضو اور اس کی چوت پر رگڑنے لگا۔ شازیہ حسین تھی،بلکہ چاروں بہنیں ہی حسین تھیں گدڑی میں لعل چھپا ہوا تھا،ان میں نازیہ تو کمال تھی ،،چاروں بہنیں دبلی پتلی تھیں بس سعدیہ کا جسم تھوڑا فربہی مائل تھا ،لیکن وہ اس میں بھی خوبصورت لگتی تھی، ،،چاروں کی رنگت گوری تھی،اور یہ حسن انہیں اپنے والدین سے ملا تھا ،،شازیہ اور نازیہ کے نین نقش ذراتیکھے تھے ،جبکہ سعدیہ کا چہرہ گولائی نما اور رافعہ الھڑ جوانی ،اٹھتا طوفان تھوڑا لمبوترا چہرا تھا جس کا اپنا ہی حسن تھا،ہوسکتا تھا کل کو رافعہ نازیہ سے بھی آگے نکل جائے،ان کی عمر بھی ایسی تھی کہ اس عمر میں توکھتی کا بچہ بھی حسین لگتا ہے ،ایسی عمر جیسے کچے عام جو تھوڑے سے پکے ہیں،یا کھلتی ہوئی کلیاں جو ابھی بند بند سی ہیں،،یا وہ شبنم کے قطرے جو ہرے پتوں پر پڑے ہیں یا ہوا کا وہ جھونکا جو چھو کر گزرتا ہے تو محسوسات جگا دیتا ہے۔جیسے موسیقی کی لے ہو،جو دل کو چھو جائے،،بس شازیہ اور ا سکی بہنیں کچھ ایسی ہی تھیں،،،میرے ذوق کے عین مطابق،جوسلین کو میرے ذوق کا پتہ تھا ،اس نے شکار بھی ایساہی ڈھونڈا تھا جنہیں دیکھ دیکھ کر میں تڑپوں،،،،اور میں کل سے تڑپ پھڑک رہا تھا،اب میری بس ہوگئی تھی،جاؤ سرسوں کے تیل کی شیشی اٹھا لاؤ میں نے رافعہ کے کان میں کہا،جو مجھے کمر سے چوم رہی تھی اور باقی کو بھی یہی کام تھا،ان کا اناڑی پن مجھے موقع دے رہا تھا کہ میں باری باری ان کو چود ڈالوں،کبھی چودائی کی ہوتی تو ان بہنوں نے مجھے سانس تک نہیں لینے دینا تھا،،میں نے تیل عضو پر لگایا اور کچھ شازیہ کی چوت میں لگا دیا،کنواری چوت کو چودنے کا ایسا طریقہ جس سے اسے بالکل درد نہ ہو،نہ کوئی آواز نکلے ۔ سوکھا عضو کنواری لڑکی کیلیے عذاب بن جاتا ہے اسے مزہ بھول کر اپنی پڑ جاتی ہے،یہ جو کہتے ہیں کہ سوکھا عضو اندر ڈالا اور پھر آہستہ آہستہ روانی ہونے لگی اور لڑکی بھی مزہ لینے لگی تو یہ جھوٹ ہے پہلی بار میں ایسا نہیں ہوتا ،اور نہ ہی روانی ہوتی ہے،بلکہ اندر ہی نہیں جاتا،اگر زبردستی چلا جائے اور چودائی کر لی جائے تو لڑکی کا سوا ستیا ناس ہو جاتا ہے،میں تو کہتا ہوں لڑکی کی چوت ایک سال تک تنگ رہتی ہے اور مزہ دیتی رہتی ہے،بلکہ عرصے بعد کھلی چوت میں بھی ڈالا جائےتو اسے بھی احساس ہوتا ہے کہ اندر کچھ آیا ہے،،شازیہ کے چہرے پر جوش تھا اسے پتہ تھا کہ اب کیا ہونے والا ہے،وہ ہر روز یہ دیکھتی تھی،،،باپ کا عضو ماں کی چوت میں جاتے ہوئے،نازیہ ،سعدیہ اور رافعہ ، چوما چاٹی چھوڑ کر دم سادھے عضو کی طرف دیکھ رہی تھیں،جیسے کوئی عجوبہ ہو،شاید انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایک دن یہ عضو ان کے پاس ہو گا،اور پرنس ان کی چودائی کررہا ہو گا،میں نے شازیہ کی ٹانگیں کھولی اور اس کی گانڈ کے نیچے کپڑا بچھا دیا یہ سعدیہ کی چادر تھی اس وقت یہی ملی تھی،اسے نہیں پتہ تھا اس چادر پر کیا گرنا ہے،اور ان ٹانگوں میں گھٹنوں بل بیٹھ کر تھوڑا آگے ہو کہ جھک کے عضو کو شازیہ کی چوت پر رکھا ،،انگلیوں سے اس کی چوت کی پنکھڑیاں کھولی اور عضو کو چوت کے سوراخ میں داخل کیا،،پھر میں نے ہاتھ پیچھے کیااور عضو کو آگے دھکیلا،،عضو نرمی سے کچھ آگے چلا ،چاروں بہنوں کے چہرے پر ہیجانی کیفیت تھی،شازیہ کے تو اندر جا رہا تھا لیکن باقی بھی اسی کیفیت میں تھی،عضو کو تھوڑا دھکا چاہیئے تھا لیکن شازیہ کوچوت بڑی ہی تنگ تھی،پہلی بار جا رہا تھا میں نے تیل بھی لگایا تھا لیکن شاید شازیہ نے ہیجانی کیفیت میں چوت کو بھینچا ہوا تھا،میں نے جھک کر ا سکے ممے چوسنے شروع کر دیے،،شازیہ کا دھیان بٹ گیا،چوت کی اضافی تنگی ختم ہوئی ،میں اسی کے انتظار میں تھا میں نے عضو چوت میں دھکیل دیا،محسوس کرتے ہوئے میں نے عضو کو پردہ بکارت کے پاس روک دیا۔ شازیہ کے چہرے پر میری نظر تھی ،اس سے ا سکی دلی کیفیت کا پتہ لگ رہا تھا،وہ اب بھی ہیجان میں تھی،اور اس سے پردہ بکارت کے ٹوٹتے وقت اس کی حساسیت بڑھ جانی تھی اور زیادہ محسوس ہونا تھا،میں اس پر جھکا اور اس کے ممے پھر چوسنے شروع کر دیے،،ممے ایک ایسا راستہ ہے جو چودائی کےدروازے تک لے جاتا ہے،،وہی ہوا شازیہ کی چوت عضو کا وصال مانگنے لگی،شازیہ کی بے چینی نہیں سمجھتی تھی کہ اسے کیا چاہیے ،لیکن میں جانتا تھا کہ ایسی حالت میں چوت قدرتی طور پر عضو لینے کیلیے تڑپتی ہے اور اس چاہت میں عضو کو اپنے اندر سمو سکتی ہے،،،مجھے ہر حال میں شازیہ کی چوت کا بغیر درد کے پردہ توڑنا تھا ،،تا کہ اس کی بہنیں ڈریں نہ ،،،ان کا ڈر ان کو چودنے میں رکاوٹ بن سکتا تھا،جب شازیہ مسلسل بے چینی محسوس کر نے لگی ،تو میں نے وہیں اندر باہر کرنا شروع کر دیا ،شازیہ کا دھیان پہلے ہی بٹ چکا تھا اب وہ کچھ مزے میں اور اس کی چوت پورا اندر لینا چاہتی تھی ،میں نے احتیاطً ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھا جیسے ان کوچھو رہا ہوں ،ویسے میرا رادہ ان کو دبانے کا تھا اگر چیخ نکلتی،،اور پھر زور کا دھکا لگایا،اب تیل کام کر رہا تھا اور عضو چوت کی وادیوں میں گھستا گیا،،پردہ ٹوٹتے وقت شازیہ نے جھٹکا تو لیا،لیکن یہ ایسے ہی تھا جیسے ارتھ لگتا ہے اور بس، کرنٹ لگتا تو اس نے چیخنا ہی تھا،،میں وہاں کچھ دیر ٹھہرا،ممے چوسنے جاری رکھے اور پھر آہستہ آہستہ چودائی شروع کر دی،شازیہ چودائی کی لہروں تیرنے لگی،نازیہ ۔سعدیہ اور رافعہ کی حالت ٹھیک نہیں تھی ان کو چودائی کی شدید بھوک لگ چکی تھی،ان کا ایک ہاتھ چوت پر اور دوسرا مموں پر تھا، آہستہ آہستہ میں تیز ہونے لگا۔۔شازیہ اب تیر نہیں رہی تھی بلکہ ڈوب رہی تھی،شہزادے دیکھ دیکھ کے لگتا نہیں تھا کے اس میں اتنا مزہ ہے ،تڑپ تھی لیکن اسے سکوں کیسے دینا ہے یہ نہیں پتہ تھا،تم نے مجھ پر احسان کیا ،میں کل سے تم سے ناراض تھی،لیکن آج مجھے تم سے پیارا کوئی نہیں ہے،شازیہ ابھی سے جذباتی ہوچکی تھی،میں 4 سال سے جوسلین کو چود رہا تھا ،بے شک وہ حسین ترین تھی،اسے چودائی کا فن آتا تھا،مزے دینا وہ جانتی تھی،چوت بھی اس کی ٹھیک تھی،لیکن مجھے شازیہ جو دے رہی تھی،جو ا سکا کچا پن میں مزہ تھا وہ بالکل ایک نئئ چیز تھی بڑے عرصے بعد سحرش یاد آئی ،کنواری چوت کو چودتے ہوئے تب یہ مزہ آیا تا،تب نگینہ کی چدائی مجھے بھولنے لگی تھی اور سحرش کا جادو سر چڑھ کے بولنے لگا تھا،سحرش اور شازیہ میں مشترکہ چیز جوانی ،کنواری چوت ،اناڑی پن اور خوبصورتی تھی جو آدھی کھلی آدھی بند کلی کی طرح تھی،اب یہ ذائقہ دل میں بیٹھنے لگا،اور جوسلین بھی اس سے کم محسوس ہونے لگی،ایں ،یہ مجھے کیا ہو گیا ہے،کیا میں جوسلین کی محبت اوراحسانات کو بھول کر ایک لڑکی کے جسم میں کھو رہا ہوں، میں سر جھٹکا اور شازیہ کی چودائی کی طرف دھیان لگایا،اندر اور باہر کرتے ہوئے بہت مزہ آرہا تھا کیونکہ چوت نے عضو کو پوری طرح گرفت میں لیا ہوا تھا،رگڑ تو انتہائی لگ رہی تھی اسی رگڑ کا ہی تو سار مزہ ہے،تیز تیزشازیہ کو چودتے ہوئے میں پھر اس کے حسن میں کھونے لگا،لیکن خود کو کنٹرول کر کے میں نے ا سکے مموں کو پکڑ لیا ،اور چدائی کرنے لگا۔ آہ شہزادے جہاں ہاتھ لگاتے ہو وہیں کچھ ہونے لگتا ہے ،کیا ہے یہ،شازیہ سسکی،،پلیز مجھے کبھی مت چھوڑنا،شازیہ کی باتوں سے محسوس ہوا کہ یہ ایک جذباتی لڑکی ہے ،تھوڑا سا اثر پڑتے ہی ڈوبنے لگتی ہے،ایسی لڑکیاں سیکس میں اچھی ہوتی ہیں کہ جب چل پڑتی ہیں تو بہت مزہ دیتی ہیں،لیکن خطرناک بھی ہوتی ہیں کہ چودائی کے کھیل کھیل میں دل ہی لگا لیتی ہیں،شازیہ بھی کچھ ایسی ہی لگ رہی تھی،ممے چھوڑ کر میں نے دل سے جما کر چودائی شروع کر دی،اب مجھے اس کی چوت کی اتنی پرواہ نہیں تھی،اس کی چوت نے میرے عضو کو گرم جوشی سے قبول کرلیا تھا،اور میں پرجوش انداز میں چودائی کرنے لگا،ویسے اتنابے درد بھی نہیں کہ اتنی کومل اور نازک لڑکی کاخیال ہی چھوڑ دوں ،شازیہ رومانوی طبیعت کی تھی،،اور ایسی لڑکیاں بڑی اچھی ساتھی ثابت ہوتی ہیں،،شہزادے ذرا تیز چودو نہ مجھے،شازیہ کی طلب بڑھتی جا رہی تھی،میں بھی دھکادھک چدائی کر رہا تھا،اوہ شازیہ نے لذت سے آنکھیں بند کر لیں ،،،شہزاداہ ،میرا شہزادہ،شازیہ جذباتی ہو چکی تھی،،شازیہ ،میری جان،،تمھیں کیسا لگ رہا ہے ،میں نے اس کی جذباتی کیفیت میں جان بوجھ کر چودتے ہوئے پوچھا،شہزادے لگتا ہے،زندگی کا حاصل یہی ہے،،یہ نہیں تو کچھ نہیں۔ اب میری زندگی کی کہا نی کچھ ایسے ہو گی کہ،سیکس کرنے سے پہلے اور سیکس کرنے کے بعد،،واہ شازیہ نے سیکس کے مزے کو بڑی اچھی طرح بیان کر دیا تھا ،شازیہ دل کرتا ہے سارے کا سارا تمھاری چوت میں چلا جاؤں،،کیا لذت ہے تمھارے جسم کی،،،میں بھی اپنی بھوک کا اظہار کیے بناء نہ رہ سکا ،تو گھس نہ سارے کے سارے،،تمھیں روکا کس نے ،شازیہ سسکی،، لیکن ہمارا کیا ہو گا،،نازیہ مسخری سے بولی تو مجھے اس مسخری میں چھپی بھوک کا احساس ہوا،،لیکن نازیہ کی چودائی سب سے آخر میں ہونی تھی ،میں اس سے بھر پور مزہ لینا چہتا تھا،مجھے لگ رہا تھا کہ منزل بس قریب ہے اورہم پانی چھوڑنےوالے ہیں،،،میں نے شازیہ کی طرف دیکھا وہاں کی کیفیت بھی تبدیل تھی جیسے طوفان آنے والا ہو،اب رکنا تو تھا ہی نہیں چلتے رہنا تھا اور میں نے چودائی میں دھکے مارے تو شازیہ نے پانی چھوڑ دیا،،،میں اس سے لپٹ گیا اس وقت اسے کسی سہارے کی ضرورت تھی،،،ہم کچھ دیر لپٹے رہے پھر میں اس کے ساتھ لیٹ گیا،نازیہ ،سعدیہ اور رافیہ سمجھ رہی تھیں کہ ایک مرحلہ طے ہوگیا ہے،یقیناً ان کے ماں باپ بھی ایک وقت میں چدائی چھوڑ کے علیحدہ ہو جاتے ہوں گے،مجھے نہیں لگتا لڑکیاں سمجھتی ہوں کہ اب چدائی بند کیوں ہو گئی ہے،بس ان کے اندازے ہی تھے،یا ہو سکتا ہے،کیا ہوا ،رک کیوں گئے نازیہ نے بےچینی سے پوچھا،وہی ہوا نازیہ کا پوچھنا بتا رہا تھا کہ جو کچھ ہے وہ دیکھا ہوا ہے ،کسی نے بتایا نہیں کہ یہ چدائی ہے اوریہ فراغت ہے،نازیہ جب کسی کے ساتھ چدائی کرتے ہیں نہ تو پھر اس چدائی کی وجہ سے جسم میں آگ لگتی ہے ،جو کہ مزہ دیتی ہے،اس آگ سے جسم میں ایک جگہ پانی ہے وہ پگھلتا ہے اور جب بہت گرمی چڑھ جاتی ہے تو وہ پانی باہر نکل آتا ہے جیسے پیشاب نکلتا ہے،ساری چدائی کی لذت اسی وقت ملتی ہے،اس کے بعد چدائی ختم ہوجاتی ہے اور دوبارہ نئے سرے سے شروع کیجاتی ہے،تو اب میری باری ہے،نازیہ نے اشتیاق سے کہا،براہِ راست چدائی دیکھ کے ان کا کیا حال ہوگا میں محسوس کر سکتا تھا ،نازیہ ان سب سے حسین تھی ،اناروں جیسے اس کے گال تھے اور ریشم جیسا اس کا جسم تھا،بعد میں تو ایسا جسم ہی میرا مستقل شوق بن گئے ،کنواری ،کم عمر ،اور ریشمی جسم کی نازک اندام حسینہ میرا ذوق بنتا گیا،توابھی میرا نازیہ کو چودنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،اتنے میں شازیہ نارمل ہوچکی تھی،اس کے چہرے پر وصال کا اطمینان تھا،جیسے بھوکے کو بڑے عرصے بعد کھانا ملا ہو،کمال کامزہ ہے ،،ہم تو اصل مزے سے محروم ہی تھے شازیہ نے اپنی بہنوں سے کہا،،،دیکھ دیکھ کہ برا حال ہوگیا تھا ۔ لیکن پتہ نہیں تھا کہ اس میں اتنا مزہ ہے ،نازی اب تو مزہ لے اس کا تمھیں ایسے لگے گا جیسے جنت مل گئی ہو،شازیہ نے اپنی سمجھ کے مطابق اسے بتایا تو نازی کے لبوں پر میٹھی مسکان آگئی،وہ آنے والے وقت کے تصور میں سرشار تھی،شازیہ اٹھی تو وہ چادر جو نازیہ نے دی تھی وہ خون سے بھیگی ہوئی تھی،،ارے یہ کیا،نازیہ کی گھبرائی ہوئی آواز آئی ،،یہ خون ہے ،،جب کسی لڑکی کو پہلی دفعہ چودا جاتا ہے تو اس کے اندر سے خون نکلتا ہے،،اوہ مجھے محسوس تو ہوا تھا لیکن اس وقت میں اور ہی ہواؤں میں تھی،،ویسے یہ خون کیوں نکلا تھااور کیا یہ سب کے نکلے گا، خون اسلیے نکلا تھا کہ ہر لڑکی کی سیل ہوتی ہے جو پہلی بار کی چدائی سے ٹوٹ جاتی ہے،،اور خون نکل آتا ہے،لیکن تم فکر نہ کرو کچھ نہیں ہوگا جیسے شازیہ کو کچھ نہیں ہوا اور اس نے مزہ ہی مزہ لیا ہے ایسے ہی تم سب بھی بس مزہ لو گی،میں نے باقی کو تسّلی دینی ضروری سمجھی،،اچھا یار یہ تو بتاؤ کہ یہ سوراخ تم نے دیوار میں بنایا تھا کہ اچانک نظر آیا تھا،،،میں ان سے مخاطب ہوا ،،ساتھ ہی میں نے رافعہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور سہلانے لگا،،،اچانک سامنے آیا تھا شازیہ نے جواب دیا،پہلے اس میں کیل لگا تھا کیونکہ دیوار کی چنائی مٹی کے گارے سے ہوئی ہے پھر وہ کیل تھا بھی چھوٹا تو شیشے کے وزن سے کچھ ڈھیلا ہو گیا،نازیہ نے وہ نکالا اور اس کی جگہ ایک پرانا برش کا سرا تورڑکہ وہ ٹھونک دیا ،اس نے اسے اینٹ سے ڈھونکا تھا ضرب کچھ زیادہ ہی لگ گئی وہ مٹی میں گھستا ہوا دوسری طرف نکل گیا،ہم نے نکالا تو دیوار میں سوراخ ہوگیا تھا،اور اس میں ابا کے کمرے کا منظر کچھ نظر آرہا تھا۔ ،یہ پچھلے سال کی بات ہے ایک دن نازیہ نے بات چھیڑ دی کے ابا دوپہر کوکمرے میں بند کیوں ہوجاتے ہیں ،ساتھ میں امی بھی ہوتی ہے،بعض دفعہ ہم کچھ بے معنی آوازیں بھی سنتے ہیں،اشتیاق میں ایک دن نازیہ نے وہ برش ہٹا کر اندر کمرے کا منظر دیکھ لیا،بس پھر وہ منظر دیکھنے کا ایسا چسکا لگا ،کہ ہم خود کو روک نہ سکی،پھر ہم نے رات کو بھی نگرانی کی،اور دن کو تو کبھی کبھی ہوتا تھا لیکن رات کو تو مزے آگئے ،ہر رات یہ کام ابا اور امی دو تین بار کرتے تھے،ہماری عمر کی ایک رشتہ دار ہے اس کی شادی ہوگئی تھی ،ہم نے اس کچھ معلومات بھی لے لی ،،اپنی سکول کے دور میں بھی چدائی کا سنا تھا لیکن تفصیل کا پتہ نہیں تھا ،بس چوت اور عضو کا پتہ تھا،یا یہ کہ شادی کے بعد بچہ ہو جاتا ہے اور وہ پتہ لگا کہ چدائی سے ہوتا ہے ،اسی طرح بے ترتیب معلومات ملتی رہی،بعد میں ہم نے بڑی ہوشیاری سے اینٹ کے کنارے توڑ کر اس میں لکڑی کی موٹی میخ لگا دی اس سے موری تھوڑی بڑی ہوگئی اور مزہ آنے لگا، اور کل یہ مزہ تم میری وجہ سے پا نہیں سکی تھی۔ کیونکہ میں کافی دیر جاگ کر پہلو بدلتا رہا تھا ،،،،اسی لیے تم آج اتنی گرم ہو،،،ہم رضائیاں لے چکے تھے اور اس دوران میں رافعہ کا ہاتھ سہلاتے سہلاتے اس کو گود میں بٹھا چکا تھا اور اس کے ممے چوس رہا تھا،رافعہ کا منہ میری طرف تھا اور 16 برس کی جوانی کا رس چوسنے کوبےتاب تھا،ممے چوستے ہوئے میرے ہاتھ اس کی کمر پر بے تابانہ گردش کر رہے تھے،میں رافعہ کو گود میں بٹھائے ممے چوستا رہا میرا عضو رافعہ کوبے چین کر ہا تھا تھا یہ رافعہ پہلے سے ہی بے چین تھی اس نے تھوڑا اٹھ کہ اپنی شلوار کھسکائی اور میں کھینچ کر نیچے کر دی وہ سیدھا میرے عضو پر بیٹھ گئی،اور عضو پر گانڈ کو رگڑنے لگی،رافعہ سب سے چھوٹی تھی مگر سب سے تیکھی لگ رہی تھی،اس نے ٹانگیں میری پہلوؤں میں سیدھی کر لی تو میں سمجھ گیا اور ا سکی شلوار ایک ٹانگ سے نکالی اور پھر دوسری سے اس نے خود نکالی مگر گود سے نہیں نکلی،شاید وہ سمجھ گئی تھی کہ نازیہ کی جگہ وہ آئی ہے اور اب جگہ خالی نہیں کرنی،،جبکہ کے سب سمجھ رہے تھے کہ اتفاقاً رافعہ گود میں آگئی ہے،میں نے ارادتاً باتیں چھیڑ کر یہ کام کیا ہے،میں نازیہ کو آخر میں چودنا چاہتا تھا،اس کا بھرپور مزہ لینا چاہتا تھا۔ کیونکہ چار دفعہ چودائی کے بعد میرا دل بھر جانا تھا اور دوبارہ کی نوبت نہیں آنی تھی،یا شاید،،،،،،،،اب تو میں اتنا ماہر ہوگیا تھا کہ ایک ہی بار میں اتنا اچھا سیکس کرتا تھا کے جی بھر جاتا تھا ،جیسے پیٹ بھر کے کھانا کھا لیا جائے،رافعہ ایک تیکھی مر چ جیسی تھی،،اس میں چودائی کی چاہت باقی بہنوں سے زیادہ تھی،اور اب یہ چاہت ابھر کر باہر آگئی تھی ،رافعہ گانڈ کو عضو پر رگڑتے ہوئے سسک بھی رہی تھی جبکہ اس کے ممے اسے بہت بے چین کر رہے تھے،،،اور سب بے چینی چوت میں جمع ہو رہی تھی،،رافعہ لگتا ہے تمھاری آگ تو ٹھنڈی کرنے کیلیے ابھی چوت میں ڈالنا پڑے گا،تو پھر دیر کس بات کی ہے ڈال نہ چوت میں اور میری آگ بھی ٹھنڈی کر دو،اسے نہیں پتہ تھا لیکن وہ ٹھیک کہہ رہی تھی،چدائی کی آگ مرد کے پانی سے ہی بجھتی ہے،،میں نے تیل کی شیشی اٹھا ئی تونازیہ نے پہلے ہی اٹھا لی،اور ڈھکنا کھول کر میرے عضو پر تیل لگا دیا،شاید اس طرح وہ اپنی شہوت کو تسکین دے رہی تھی،میں نے رافعہ کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر ٹکائی ، اس کی ٹانگیں سیدھی اوپر کو تھیں اور چوت خوب نمایاں ہوگئی تھی،جیسی لڑکی ویسی چدائی، رافعہ اگر گرما گرم تھی اور اس میں شدت تھی تو چدائی بھی ٹھوکا ٹھکائی جیسی ہونی چایئے ، تھوڑا سا آگے کھسکا اور عضو اس کی چوت پر رکھ کر نشانہ باندھا اور میزائل چھوڑ دیا،،عضو اس کی چوت میں گھس گیا اور لذت سے رافعہ کی سسکاریاں نکل گئی،،شہزادے سارا ڈال دو ، رکو مت،،،مجھے کچھ نہیں ہوگا،،رافعہ نے مجھے حوصلہ دیا اور میں جو پردہ بکارت پر رک گیا تھا اور کچھ آگے پیچھے کرنے کا ارادہ کیا تھا رافعیہ کے الفاظ سنتے ہی پیچھے ہو کر ایک تیز جھٹکا مارا اور رافعہ کی چوت کا پردہ پھاڑتا ہوا اس کی گہرائیوں میں جا گھسا،رافعہ نے دانت بھینچے ہوئے تھے ،،اور واقعی اس کی کوئی آواز نہیں نکلی،میں نے دیکھ لیا اس کی چوت سے خون نکل رہا تھا،،میں نے چدائی جاری رکھی اور ٹانگیں اٹھائے اسے چودنا شروع کیا،،یہ ایسا اسٹائل ہے کہ اس میں عضو چوت کی گہرائیوں میں جا کہ لگتا ہے ،جیسے پسٹن تیزی سے حرکت کرتا ہے ایسے ہی میں تیزی سے اس کی موٹر میں دھکم پیل کر رہا تھا،میں عضو اس کے اندر بھیجتا اور پھر اسے واپس بلوا لیتا ،میری اس ادا سے اس کی چوت خوش تھی کیونکہ رافعہ مزے میں ڈوبی لگ رہی تھی، پرنس اور تیز کرو نہ ،رافعہ سسکی، میں نے رفتار بڑھا دی،،رات کے سناٹے میں جھپاک جھپاک کی آواز گونجی ،میرا جسم اس کی رانوں سے ٹکرا رہا تھا،میں پھر تیز چودنے لگا ،لیکن کوئی آواز نہیں نکلنی چاہیے،میں نے سوچا۔۔ایسی آوازیہ بھلا مولوی جیسا شخص انجان کیسے ہو سکتا ہے،اس لیے رات کا سَنّاٹا احتیاط کا متقاضی تھا،رافعہ ان لڑکیوں میں سے تھی جو بھرپوار وحشیانہ چودائی پر خوش ہوتی ہیں،لیکن ابھی اس کی چوت یہ سب برداشت نہیں کرسکتی تھی،،،نہیں تو اس کی چوت کا دھڑن تختہ ہوجانا تھا اس پر ایک واقعہ یاد آگیا ،سہاگ رات منانے سے پہلے دوستوں نے دولہے کو اچھی طرح سمجھایا کہ یہی رات ہے جس میں آنے والی زندگی فیصلہ ہو جاتا ہے اس لیےاپنی بیوی کو آج ہی اپنے قابو میں کرلو ،ساری عمر تمھارے حکم بغیر ہلے گی بھی نہیں،،،تو پھر اسکے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا،،دولہے نے دوستوں سے پوچھا ،،،،یار اسے اچھی طرح چودنا،،نخرے تو کرے گی مگر درد وغیرہ کا کہے تو پرواہ نہ کرنا۔تین چار بار چودنا اسے،،دھاک جما دینا اپنی اس پر،سارا کمال ہی اسی کا بات ہے ،،،،دولہا صاحب کمرے میں چلے گئے ،پہلے تو اس کا ذہن تھا کہ کچھ باتیں کریں گا کچھ روما نوی موڈ بنائے گا، اسے سہاگ رات کا تحفہ دے گا ،کچھ اپنا بتائے گا ،کچھ اس کا پوچھے گا،پھر آدھی رات کے بعد اسے جی بھر کے پیار کرے گا،اس کا انگ انگ چومے گا پھر دو دفعہ چودائی کرے گا،،،لیکن اب اس کا ذہن خراب ہوچکا تھا،،اس نے کچھ دیر باتیں کی،تحفہ بھی اجلت میں دیا،اور پھر دولہن کو لٹا دیا ،،جیسے جیسے دولہا آگے بڑھتا گیا ،دولہن کے خواب چکنا چور ہوتے گئے،،وہ کیا کیا سوچ کہ نئی زندگی شروع کرنے آئی تھی اور یہاں تو جذبات کی پرواہ کیے بغیر کچھ اور ہی شروع ہوگیا تھا،دولہے نے نہ آئل استعمال کیا،نہ چوما چاٹی کی ،یعنی فورپلےیا گرم کرنا اور دھڑاک عضو اندر زبردستی داخل کردیا،دولہن نےبمشکل چیخیں روکی مگر دولہا صاحب نے کچھ نہ خیال کیا،اس کے بعد وہ تو کرتا رہااور دلہن انتہائی اذیت کے باوجود عزت بچانے کیلے بمشکل اپنی چیخیں روکنے کی کوشش کرتی رہی ایک بار تک تو دولہن برداشت کر گئی لیکن دولہے نے فوراً پھر چودناشروع کو دیا اور جب اس نے تیسری دفعہ چودا تو دولہن بے ہوش ہوچکی تھی،سارا بیڈ لہو لہان ہوچکا تھا ،جب دولہا فارغ ہوا تو اسے دولہن کاخیا ل آیا اس نے ہلایا جلایا مگر وہ تو کب کی بے ہوش ہو چکی تھی دولہا فوراً باہر نکلا اور والدین کو بلایا،،دولہن کو ہسپتال لے گئے،،،بمشکل اگلے دن خون رکا،پتہ چلا اس کے رحم کا ستیاناس ہوگیاہے اور اب کبھی ماں نہیں بن سکے گی،دولہن کے والدین وغیرہ بھی آگئے تھے،بڑی لڑائی ہوئی ،،اور وہیں طلاق ہوگئی ،اسی طرح ایک دولہا صاحب نے پہلی رات ہی ٹائمنگ گولی لے لی،اب وہ چھوٹے نہ اور دولہن برداشت نہ کرسکی،اتنی بلیڈنگ ہوئی کہ ہسپتال لے جانا پڑا ،بہر حال بچ بچاؤ ہو گیا،،،،،تو نئی نویلی چوت کو آرام سے سہج سہج کے چودنا چاہیئے اور اس وقت میری رفتار تو تھی لیکن اتنی ہی تھی جتنی رافعہ کی چوت برداشت کرسکتی تھی،،ویسے بھی میں نے رافعہ کی ٹانگیں کندھوں سے ٹکائی ہوئی تھیں اس میں تو دھکا لگتا ہی بہت ہے،،شہزادے تیز کرو نہ،،،رافعہ نے پھر کہا تو میں نے ٹانگیں چھوڑ دی اور ااسے دھکڑ دھکڑ چودنے لگا،ایک تو اس سے آواز کم آتی تھی دوسرا جھٹکا اندر کم جا رہا تھا،،،،نفسیاتی طور پر اسے بہلانے کیلے میں نے اس ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیا اور چومنے لگا،ابھی تک میں نے اس سے کسنگ تو کی ہی نہیں تھی،نہ ہی وہ کسنگ کی لذّت سے واقف تھی،،اس کا دھیان بٹ گیا اور اوپر جاتا گراف نیچے آگیا،میں اسے چودتا رہا اور کسنگ کرتا رہا ،اگر اس وقت ممے پکڑتا تو پھر اس نے اور گرم ہوجاناتھا،اب دھیان بٹتے ہی میں پھر بیٹھ گیا،اب ایسا بھی نہیں تھا کہ اس کی آرزو پوری نہیں کرسکتا تھا،،میں نے اس کے پہلوؤں سے پکڑا اور عضو باہر نکال کر چوت کے سوراخ پر رکھا اور ایک دھکا لگایا،دھکا اس کی چوت کے حساب سے تھا،ویسے وہ سب سے چھوٹی اس کی عمر کے حساب سے اس کی چوت باقی بہنوں سے زیادہ ٹائیٹ ہونی چاہیےتھی ،اور مجھے ایسا ہی لگ رہا تھا،پہلے دھکا پھر عضو باہر نکالا لیکن پورا نہیں نکالتا تھا پھر اندر دھکے سے ڈالا ،،،اسی طرح ردھم سے میں باہر نکالتا اور دھکے سے اندر ڈالتا اس میں رفتار اتنی نہیں تھی لیکن ہر دھکاا س کی ضرورتوں کو پورا کر رہا تھا ،،،ہاں شہزادے یہ ٹھیک ہے،،رافعہ نے سرگوشی کی،،،شازیہ ،نازیہ ،سعدی اپنی چھوٹی بہن کو آنکھیں پھاڑ کے دیکھ رہی تھی،،ان کے حساب سے وہ بچی تھی ،لیکن بچی تیکھی مرچی تھی،،،ہر دھکا اس کے جسم کی بنیادوں کو ہلا دیتا تھا اور عضو اس کے رحم کو چوم کر آجاتا تھا،،آخر میں ایک تیسرا اور آخری حساس مقام ہوتا ہے میرا عضو اسے جا کے چھوتا تھا تو رافعہ کی مزے سے سسکاریاں نکلتی تھیں،،،تھوڑا اور دھکا لگاؤ نہ،رافعہ پھر شدّت میں آگئی تھی ،،پتہ نہیں رافعہ کیسے اب تک ضبط کرتی آئی تھی ۔ میں پیچھے ہو کر ایک زور دار دھکا لگایا تو رافعہ کی ہلکی سی چیخ نکل گئی،اور ساری بہنوں کے چہرے یکدم زرد ہو گئے،،مولوی کا ڈر بہت گہرا اور زبردست تھا،،،یقیناً مولوی سو گیا تھا،،،ایک بار تو مجھے بھی خطرہ محسوس ہوا تھا لیکن بس اتنا کہ کہیں مشن ادھورا نہ رہ جائے،،،کچھ لمحیں خیریت سے گزرے اور میں نے پھر دھکم پیلنا شروع کر دیا ۔۔۔ تجھے بڑی گرمی چڑھی ہے ،،تیری ساری گرمی ابایک منٹ میں نکال دے گا،شازیہ دھیمی آواز میں رافعہ پرغرّائی ،،ماحول سے ایکدم چودائی کی گرمی غائب ہوگئی تھی،،،مجھے ماحول بنانے کیلیے رافعہ کے مموں پر جھکنا پڑا،،،کچھ ہی دیر میں رافعہ پھر گرم تھی،اس میں ایک طوفان چھپا تھا،جوسمجھا رہا تھا کہ اب سیل کھلنے کے بعد مشکل ہی رکے گا،،،میں دیکھ رہا تھا مستقل میں مولوی کو ایک باغی لڑکی کا سامنا کرنا پڑے گا،،رافعہ اب پھر بے پرواہ نظر آرہی تھی ،اور شازیہ ایسے چوکنی بیٹھی تھی جیسے اب اگر رافعہ نے کوئی بات کی تو اسے دبوچ لے گی،،رافعہ اس سب سے بے پرواہ مزہ لے رہی تھی،اور میں دھکے پہ دھکے لگا رہا تھا،،حالات کے مطابق رافعہ میرا طریقہ سمجھ گئی تھی اور اس سے بھرپور لطف اندوز ہورہی تھی،،رگڑ مسلسل نہ لگےتو پانی کا آنالیٹ ہوجاتا ہے،،،ہم بھی پندرہ منٹ تو گزار چکے تھے اس کا مطلب تھا ابھی مجھے پانی نکالنے کیلیے اور کھدائی کرنی پڑے گی،،،اور میں شوق سے کھدائی کرنے لگا،،،نازیہ اور رافعہ نے گرمی سے گھبرا کے ایکدوسرے کو پکڑ لیا،،اور ایکدوسرے سے لپٹی ہوئی تھی،،اور منہ میں منہ ڈالے ایکدوسرے کا رس پی رہی تھی،،میں نے پہلے بھی دیکھا تھا کہہ یہ ایکدوسرے کی چوت سے کچھ نہیں کرتی،میں بھی انگلی والا کام بتانا مناسب نہ سمجھا،،رافعہ کو پھر گرمی چڑھ رہی تھی ۔ وہ کیا کرتی رکنا اس کے بس سے باہر تھا ،وہ ملتجی آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگی،،،کچھ کہ تو نہیں سکتی تھی شازیہ اب بھی اس کے سر پر تھی،،،میں نے اس کی ٹانگیں پھر کندھوں پر ٹکائی اور اس کی چوت کو تھوڑا انچا کیا،دھکوں کیلیے سیٹنگ کی،،لیکن باہر نہیں نکلنے دیا تھا ،،اور پھر میں نے پیچھے کر کے ایک کم طاقت کا دھکا لگا کر اسٹارٹ کیا،،،رافعہ کے چہرے پر کچھ اطمینان آیا تو میں نے اگلی بار زیادہ طاقت کا دھکا لگایا،،رافعہ کےچہرے پر خوشی کے آثار آگئے،،،مجھے تسلی ہوگئی،،،میرے ہتھیار کام کرگیا تھا،،میرے پاس موقع محل کے لحاظ سے طریقوں کی کمی نہ تھی،،میں نے پھر جوش میں اور طاقت کا دھکا مارا ،،،اس بار رافعہ کے ہونٹ بھنچے گئے ،،،میں سمجھ گیا اسے کچھ درد تو ہوا ہے،لیکن مزہ لینے والے درد سے کب گھبراتے ہیں، شازیہ نے مجھے نظروں ہی نظروں میں تنبیہ کی،،میں اسی طاقت کے دھکے لگانے لگا،،،رافعہ منہ کو بھنچے مزے لیتی رہی،،،اب اس کی خوہش پوری ہورہی تھی،،،،اسی ردھم میں چودائی کرتے ہوئے رافعہ منزل پر پہنچنے والی ہو گئی،،،اور اس کے چہرے پر بے اختیاری کی کیفیت تھی،، ٹانگیں چھوڑ کرمیں نے اسے بانہوں میں لے کر کس لیا،،،اس کا جسم ارتعاشی حالت میں تھا،،،رافعہ نے کچھ دیر لگائی اور پھر وہ آرام کی حالت میں آگئی،،،میں نے اسی حالت میں اس کا جسم کستے ہوئے رفتار تیز کر دی اب میں فارغ ہونا چاہتا تھا،،ابھی میرے سامنے دو مست جوانیاں پڑی تھی،،،دو تین منٹ کی رفتار نے مجھے بھی منزل پر پہنچا دیا اور میں نے سارا پانی رافعہ کی چوت میں ڈال دیا،،،اس سے رافعہ کی آگ ٹھنڈی ہونے میں کافی مدد ملے گی،،جیسا کے مشہور کلیہ ہے کہ آگ ہمیشہ پانی سے ہی بجھتی ہے۔ ہم کیونکہ رک گئے تھے اور اب نازیہ اور رافعہ کو بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ پانی نکل گیا ہے اور اب اگلی کی باری ہے،،،وہ ا پنا کام چھوڑ کر میری طرف متوجہ ہوگئی تھیں،،میں بستر پر لیٹ گیا،،،اور آرام کے موڈ میں تھا ،،شازیہ نے ایک لمحے کیلیے دیر نہیں لگائی اور مجھے گلے لگا لیا تھا،،،شہزادے کچھ دیر مجھے بھی دے دو،شازیہ بڑی بہن ہونے کے ناطے اپنا حق استعمال کر ر ہی تھی،،میں نے ا سکے ہونٹو سے ہونٹ لگا دیے اور اسے ایک لمبی کس دی،،،دوسری طرف نازیہ میرے ساتھ لیٹ گئی ،،،اور میرا سینہ چومنے لگی،،،شازیہ اسے دیکھ کر پیچھے ہٹ گئی کہ اب اس کی باری ہے تو سعدیہ اس کی جگہ میرے ساتھ لیٹ گئی اب ایکطرف نازیہ تھی تو دوسری طرف سعدیہ لیٹی ہوئی تھی،،،اور میں درمیان میں سینڈوچ بنا ہوا تھا،،،دونوں مجھ پر چڑھی جارہی تھی،،،جتنا صبر کرنا تھا کر لیاکے مصداق دونوں ایک دوسرے کا لحاظ کیے بغیر مجھے چوماچاٹی میں لگی ہوئی تھیں،شازیہ نے سعدیہ کی کمر پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ میں اس کا ارادہ سمجھ گیا کہ وہ سعدیہ کو پیچھے کرنے لگی ہے،،میں نے اسے اشارے سے روک دیا،شازیہ خود بمشکل بیٹھی تھی ،،،پہلے پہل جب اس کی سیل توڑی تھی تواسے یہ نہیں پتہ تھاکہ وہ کس دنیا میں جا رہی ہے،پھر شازیہ کو مزہ آیا،،لیکن رافعہ کو دیکھ کر اسے احساس ہو اتھا کہ چدائی میں کیا کچھ ہوسکتا ہے،،،اب وہ اور مزے لینا چاہتی تھی ،،وہ نہیں جانتی تھی اب مزے کیلیےتو ساری عمر جستجو کرتی رہے گی،،نازیہ وہ لڑکی تھی جو میرا ذوق بن گئی تھی،اس لیے نازیہ مجھے کبھی نہیں بھولی،،،ابھی وہ کچھ جھجکی ہوئی تھی ،یہ ٹھیک تھا کہ جیسے جیسے چدائی ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے بندہ بے شرم ہوتا جاتا ہے،،، تب وہ کھل کے مزے لیتا ہے،،،لیکن اتنی بے شرمی بھی نہیں ہونی چاہیئے ،،، کہ اپنی عزت کا بھی خیال ہی نہ رہے،،بے دھڑک ہونا،جرات والا ہونا اور بات ہے بے شرم ہونا اور بات ہے،،،،،،،(میں نے بھری مارکیٹ کے باتھ روم میں ایک لڑکی کوچود ڈالا تھا جبکہ باہر چینچ کرنیوالیاں دوسرا باتھ روم استعمال کر رہی تھیں اور میں دس منٹ میں چودائی کر کے باہر نکلا آیا تھا،،اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی تھی اور آفس میں رش کے باوجود کھلے دروازے کے پیچھے کسی کی سیکٹری کو چود ڈالا تھا تب بھی دس منٹ ہی لگائے تھے،،لیکن موقع کی کیکولیشن کرکے میں نے اندازہ کرلیا تھا کہ میں یہ میں کر لوں گا مجھے اعتماد تھا آپ بتائیں کیا یہ بے شرمی تھی یا جرات تھی؟ ) ۔ میں نے لیٹے لیٹے ہاتھ بڑھا کرسعدیہ کا ہاتھ پکڑا او ر اور اس کا ہاتھ اپنے عضو پر رکھ دیا،،سعدیہ نے ایک لمحے کی دیر نہیں لگائی اور اسے گرفت میں لے لیا،سعدیہ کو سمجھنے میں ذرا بھی مشکل پیش نہ آئی کہ اب میں اسے ہی چودنا چاہتا ہوں ۔۔۔سعدیہ ،شازیہ کو دیکھ چکی تھی کہ جب میں نے اسے عضو کو گرفت میں لیکر عضو کو مسلنے کو کہا ،ٹھیک اب سعدیہ بھی ویسے ہی عضو کو مٹھی میں لیکر پیار کر رہی تھی،،،اور عضو اس کے ہاتھوں کی گرم جوشی سے انگڑائیاں لینے لگا تھا،،عضو نے کہا یار چار چار الھڑ ،مست ،کچی جوانیاں ہوں توکون کمبخت سو سکتا ہے،،،میں سعدی کی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگا،،،میرا ،ا لتفات سعدیہ کی طرف دیکھ کر نازیہ رکی ،کیا مجھ سے ناراض ہو،،،نازیہ سمجھی کل کی بات کو دل پے لے چکا ہوں،،،میں نے اسے ساتھ لگایا اور گالوں کو چومتاہوا کان میں کہا،،سب سے بہترین کو آخر میں بہترین وقت دوں گا،بس کچھ دیر اور،،،،،میری سرگوشی کو پاس بیٹھی بہنیں بھی نہ سمجھ سکیں ،،لیکن نازیہ کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئیں بمشکل کہی ہوئی بات اس کے کانوں کے ذریعے دل میں چلی گئی تھی،،،سعدیہ عضو کو ہاتھ میں پکڑ کر مست کر چکی تھی ،،میں نے اسے نیچے لٹایا اور خود اس کے اوپر آگیا،،،رافعہ کی طرح کسی اور انداز میں ڈالو نہ اس کی چوت میں،شازیہ لائیو چودائی کا مزہ لینا چاہتی تھی یا کچھ سیکھا یا جاننا چاہتی تھی،،،میں نے سر ہلایا اور سعدیہ کے ممے چوسنے لگا،،،ممے نہ چوسے تو پھر مزہ ہی کیا،،،ان کے ممے ان چھوئے تھے نرم و نازک ،،بتیس سائیز کے صرف رافعہ کے تیس کے تھے،،،،با لکل نئے نویلی تازہ تازہ جوانی کے رس میں بھرے ہوئے ،،اپنی طرف بلاتے ہوئے،،،للچاتے ہوئے،،،ممے ہی تو جسم میں سب سے پہلے نظروں کا نشانہ بنتے ہیں،جیسے شطرنج کا مہرہ گھوڑا اوپر سے چل چلتا ہے ،ایسے ہی یہ کپڑوںکے اوپرسے بھی جلوے دکھا تے ہیں،،،ویسے یہ سائیز کی وبا بھی مغرب سے آئی ہوئی ہے اور میں اس کو اپنے تجربے سے لڑکی کے جسم کو پرکھتا ہوں ۔۔خود مغرب فگرز کے مقبول ترین ماڈل باربی ڈول پر کتنے اعتراض کرچکا ہے اور اسے حقیقی زندگی میں غلط ثابت کرنے کیلیے کئی آرٹیکل آچکے ہیں،،، جبکہ یہ اسی کا بنایا ہوا پیمانہ ہے اور اکثریت اس کو رول ماڈل سمجھتے ہیں،،،،اصل مزہ سائیز میں نہیں ان چھوئی جوانی میں ہے،،،ایسے جوانی میں جس میں جسمانی حسن ہو نہ کہ کپڑے اترنے کےبعد بندہ سر پکر کر رہ جائے،،ایسے ہی اصل حسن چہرے کی بناوٹ میں ہے نہ کہ گوری رنگت میں ہے،،ایسی ہی کالی حسینائیں ہیں،ماڈلز ہیں جن کو دیکھ کر بندہ دل تھام کر رہ جائے بس ان کے چہرے کے نقوش ہی تو پاگل کر دینے والے ہوتے ہیں،،،اوہ ہو بات کہاں سے کہاں جا پہنچی،،،تو بات ہورہی تھی شازیہ ،نازیہ ،سعدیہ ،اور رافعہ کی،،سعدیہ کے ممے چوستے ہوئے مجھے اندازہ ہوا، کہ اس کا جسم رسیلا ہے،،،اس کا حسن نرالا ہے،،،اس کے چہرے سے نہیں لگتا تھاکہ اس کے جسم کا سواد اتنا مزہ دار ہو گا،یقیناً اسے چود کر مزہ آئےگا،،،گرم تو سب بہنیں ہی تھیں ان کو گرم کیا کرنا لیکن جوانی کا رس پیئے بغیر میں آگے کیسے جا سکتا تھا ،،،جب میں نے جی بھر کہ اس کے ممے چوس لیے تو سعدیہ کو ڈوگی اسٹائل میں کیا اور خود اس کے پیچھے آگیا،،، کیا کرنے لگے ہو،،،شازیہ گھبرائی،،،خود ہی تو کہا تھا کہ کچھ نئے طریقے سے کرو تو وہیں کرنے لگا ہوں،،،، یہ دیکھو یہ چوت ہے اور اس میں اس کو ڈالوں گا میں نے عضو ہاتھ میں پکڑ کے آگے اس کی گانڈ کے نیچے چوت کی موری پر رکھتے ہوئے کہا،،،،اوہ میں سمجھی گانڈ میں چودائی کرنے لگے ہو یہ نہ کرنا یہ گناہ ہے ،،،آخر مولوی کی بیٹی تھی۔ میں دل ہی دل میں ہنسا اور اسے کہا نہیں کہ اب ہم جو کررہے ہیں یا جو تم اپنے والدین کو دیکھتی تھی وہ کیا تھا،،،،چلو آجاؤ اپنی ڈیوٹی پر میں نے شازیہ کو اشارہ کیا،تو اس نے میری بات سمجھتے ہوئے تیل کی شیشی لی اور اس کو میرے عضو پر ملنے لگی،،،تھوڑا یار یہ رافعہ نہیں ہے اس کی چوت عمر کے حساب سے تنگ تھی اسلیے کچھ زیادہ لگایا تھا،،تو یہ کونسی بڑی عمر کی اس میں اور رافعہ میں بس ایک سال کا ہی تو فرق ہے،،میری بہن کو ذرا بھی درد نہیں ہونا چاہیئے ،،شازیہ نے لاڈ سے کہا،،،ابتک وہ سمجھ چکی تھی کہ تیل اسلیے لگایا جاتا ہے کہ پہلی دفعہ چوت میں درد نہ ہو،،،کچھ نہیں ہوگا تمھاری بہن کو، اسے پتہ ہونا چاہیے کہ مزے کا رستہ آسان نہیں ہے ،میں نے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا،،،،چلو اب ڈال بھی دو شہزادے ،،باتیں بعد میں کرلینا ،،،سعدیہ بے تابی سے بولی تو میں نے چوت پر عضو رکھا تھوڑا موری میں داخل کیا اور پھر اس کے پہلوؤں سے پکڑ کر اندر دھکیلا ،،،جیسے جیسے اندر جاتا گیا،،،سعدیہ کی سسکاری نکلتی گئی،،،شازیہ نے جلدی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ،،بڑی بہن ہونے کے ناطے وہ کافی ذِمّہ داریاں نبھا رہی تھی،،،،میں جو پردے کے پاس جا کر رک گیا تھا اور کچھ نرمی سے آگے پیچھے کر رہا تھا ،موقع غنیمت جان کر عضو پیچھے کر کے ایک زور دار دھکا مارا اور چوت کا پردہ پھاڑتا ہو اچوت کی گہرائیوں میں جا پہنچا ،،،سعدیہ کے جسم نے اچھا بھلا جھٹکا لیا اور میں وہیں رک گیا،اسکی چوت سے خون نکل کر چاد پر گر رہا تھا ،،جس پر پہلے سے شازیہ اور رافعہ کا خون جما ہوا تھا،،لیکن وہ گرتے وقت نظر نہیں آیا تھا کیونکہ ان کی پوزیشن اور تھی۔ شازیہ پریشانی سے میری طرف دیکھے لگی،،میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے تسلی دی کچھ نہیں ہوگا ،،مجھے اسے کہنا ہی پڑے گا،،،شازیہ نے ہاتھ کے اشارے سے سعدیہ کے چہرے کی طرف کی طرف متوجہ کیا،،،،کیا ہوا ؟ میں نے پوچھا ،،رو رہی ہے شازیہ نے سعدیہ کے آنسو پونچھتے ہوئے سرگوشی کی،،،میں نے اسی حالت میں اس کی کمر سے لپٹ کر اس کے ممے پکڑ لیئے او ر ان کو مسلنے لگا،،،سعدیہ ،،،،میں نے اسے بلایا،،،جی شہزادے،،،،کچھ نہیں ہوگا یار درد بس ایک دفعہ ہوتا ہے ،،، جو ہونا تھا ہو گیا دیکھو خون نکلنا بھی بند ہوگیا ہے،،پریشان نہ ہونا،،،ٹھیک ہے شہزاے اب کچھ آرام ہے،،،ممے مسلتے رہو اچھا لگ رہاہے،،،تمھارا جسم رسیلا ہے ،مزہ دینے والا ہے اسلیے نازک بھی ہے،،میں سمجھ تو گیا تھا لیکن شاید تمھارا پردہ کچھ سخت تھا اس لیے درد ہوا،،،آہ اب چودو شہزادے باتیں تو پھر کرتے ہی رہیں گے،،،،ٹھہرو ،،میں نے عضو باہر نکالا اور چادر سے اسے صاف کیا اور سعدیہ کی چوت کو بھی صاف کیا،،،دوبارہ تیل لگا دوں ؟ شازیہ نے فکر مندی سے پوچھا ،،،ہاں لگا دو ابھی تو ا سکی بڑی ضرورت ہے،،میں نے کہا،شازیہ نے تیل لگایا اور میں نےسعدیہ کی چوت میں ڈال کر آرام سے آگے کرنے لگا،،اب مزہ آیا ہے سعدیہ نے کہا۔ تو میں آرام آرام سے سعدیہ کی چدائی کرنے لگا ،،،،سعدیہ واقعی مزے دار تھی ابتک کا تجربہ بتا رہا تھا کہ سعدیہ مزے دار ہے،،رافعہ گرما گرم ہے اور شازیہ رومانوی طبیعت کی ساتھی کو سمجھنے والی حسینہ ہے جیسے جیسے اس نے آگے بڑھنا تھا اس نے بڑے مزے دینے تھے،ایسے سیکس پاٹنر ہر بات میں ساتھ ہوتے ہیں،اور لاجواب سیکس کرواتے ہیں ،،کمر سے پکڑے میں نے اچھی طرح سعدیہ کی چودائی کرتے ہوئے محظوظ ہونے لگا،،،بڑا مزہ آرہا تھا ،،مجھے سرور آنے لگا،،،،،، اور میں اس سرور میں بہنے لگا،،،،،، جیسے جیسے سرور بڑھتا گیا،،سعدیہ کا جسم مزہ دیتا گیا میری رفتار تیز ہوتی گئی،،بڑا آسان اسٹال ہے مگر اس میں کچھ قباحتیں بھی ہیں،اگر میں گھڑا ہوتا تو بڑا اچھا تھا،اس میں بھر پور اور پوری رفتار سے دھکے لگتے ہیں،لیکن میں بھی مزے میں اتنا ہی آگے پہنچ گیا تھا کہ ہوش تب آیا جب جھپاک جھپاک کی آواز آئی ،،،کیا کرہے ہو شہزادے ،،شازیہ کی نے گھُرکی دی،،اوہ ،، مجھے خیال ہی نہیں رہا اور میری رفتار تیز ہونے سے جسموں کے ٹکرانے کی آواز آنے لگی تھی ،،،،،،کچھ ہوش میں آکر پھر چودائی شروع کی اور مزہ لینے لگا،،،سعدیہ کمال کی تھی ،کہہ نہیں سکتا تھا اسے کس چیز سے تشبیہ دوں ،اس کے جسم میں لذت چھپی ہوئی تھی،،ایسی لذت جو مدہوش کر دیتی ہے،ہر جسم کااپنا ذائقہ ہوتا ہے جیسے چہروں میں انفرادیت ہوتی ہے،ایسے ہر جسم میں بھی اندرونی طور پر مزے کی تقسیم ہوتی ہے، ،ممکن ہے میں مزے میں ڈوبا اسی طرح پانی نکال دیتا ،،میں تو مزے میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا کہ سعدیہ مجھے واپس کھینچ لائی،،،،،،،شہزادے کیا بات ہے اچھی طرح چودو نہ ،،،لو بھئی کر لو بات ،،،اتنی دیر سے کیا جھک مار رہا ہوں ،،،،،کیا مطلب تمھیں مزہ نہیں آرہا،،نہیں جتنا باجی اور رافعہ کو مزہ لیتے نظر آیا تھا اتنا مجھے محسوس نہیں ہو رہا،،،سعدیہ پہلی بار کروا رہی تھی اسے کیا پتہ کہ مزہ اتنا تھا اوراب کم ہوگیا ہے لیکن میں اسکی الجھن سمجھ گیا ، عضو باہر نکالا اور اسے سیدھا لٹا کر ٹانگیں کھولی اور چوت کے پاس بیٹھ کراندر ڈالا اور چدائی کرنے لگا،،اب ٹھیک ہے سعدیہ،،،میں نے اس کے ممے پکڑ کے چودتے ہوئے پوچھا،،بہت اچھا لگ رہا ہے سعدیہ نے مجھے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا،،،ڈوگی اسٹائل میں یہی مسلہ ہے اس میں محسوس تو ہوتا ہے لیکن نظر نہیں آتا،،اب سعدیہ دیکھ کر بھی مزہ لے رہی تھی اس طرح مزہ دوگنا ہو جاتا ہے ۔۔۔یہ طے تھا کہ سعدیہ کا جسم دوسری بہنوں سے زیادہ سیکسی تھا ا س میں تڑپ پھڑک تھی ،،،اس میں مزہ زیادہ تھا ،،،مجے یہ مزہ چاہیئے تھا،،،اور میرا دل نہیں کر رہا تھا کہ میرا پانی نکلے۔ سعدیہ کو تو ٹائمنگ گولی کھا کر آرام سے چودنا چاہیے ۔فرصت سے اس کی چوت سے ملنا چاہیے،،،بلکہ ساری رات ملتے رہنا چاہیے،،،،انہی خیالوں میں چدوائی کرتے ہوئے میں نے باہر نکالا اور سعدیہ کے ساتھ جا کر لیٹ گیا،،وہ حیرانگی سے میری طرف دیکھ رہی تھی کہ میں اسے پہلو کے بل لیٹنے کوکہا،،اور اسکی کمر سے اپنا سینہ لگا کر اسے بانہوںمیں جکڑ لیا،،،اسے دبوچا ،چمیاں شمیاں لیں،اور پھر اس کی ایک ٹانگ اٹھا کے تھوڑا نیچے کو کھسک کے اسکی چوت میں عضو ڈال دیا،،ادھر میں نے بازو ا س کی کمر کے گرد سے اس کے ممے پکڑ لیے ،،،اور اس کی چدائی کرنے لگا،،،بڑا کمال کا سین تھا،،میں تقریباً سعدیہ پر چڑھا ہوا تھا اور مجھے اس کا جسم اپنے جسم میں لپیٹ کر بڑا مزہ آرہا تھا،،،سعدیہ بھی اس اسٹائل میں مزہ لینے لگی،،،اسے مجھ پر جیسے پیار آگیا،،،اور چہرہ میری طرف کیا میں نے جھک کر اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے،،اب ایک طرف کسنگ تھی دوسری طرف ممے پکڑے ہوئے تھے تیسری طرف چدائی ہورہی تھی،،،لیکن چدائی اس میں تھی مشکل،، اسلیے رفتار آہستہ تھی،،کچھ دیر تو میں مزے لیتا رہا ، اور اس مزے میں سعدیہ کی چودائی کرتا رہا ،،اور پھر میں نے اسٹائل تبدیل کر لیا ،،اور اسے الٹا لٹا دیا اور اس کے اوپر لیٹ کر اس کی چوت میں چودنے لگا،اس کے چوتڑوں کو جسم کی دھکے لگنے سے اسے اور طرح کا مزہ آ رہا تھا ،اس طرح شہوت بڑھتی ہے اور مزہ دوگنا ہو جاتا ہے ،کچھ لوگ اس مزے کی چاہت میں گانڈ مارنے لگتے ہیں، لیکن میرا گانڈ مارنے کا کبھی کوئی ارادہ نہیں رہا،جسے چوت سے فرصت ملے، وہ گانڈ مارنے کا سوچے ، ۔ ویسے بھی گانڈ کی ساخت اور بناوٹ ایسی ہے کہ اسے مارنے کا اصلی سیکس سے کوئی تعلق نہیں ، یہ تو وحشتوں کی تسکین ہے،اور کیونکہ یہ لڑکیوں کی گانڈ مارنے کی وبا یورپ و امریکہ سےننگی فلموں کے ذریعے آئی ہے اس لیئے جدید سیکس میں یہ سِکّہ رائج الوقت ہے وہاں کے لوگوں نے عام سیکس سے اکتا کر ایسی ایسی باتیں نکال لی ہیں کہ طبیعت پر بوجھ بن گئی ہیں ،فیٹش ،ہارڈ کور اور اینل سیکس تو عام سی باتی ہیں ، پیشاب کو ہاٹ کافی کا نام دینا اور پاخانے کو کھانا وغیرہ اور فیملی سیکس،وائف سوپینگ یعنی بیویوں کی ادلا بدلی اور جانوروں کے ساتھ سیکس جیسی قبیح ترین حرکتیں سیکس نہیں ہے مگر سیکس بن گیا ہے اور جو ان کے خلاف بات کرے پورن میڈیا کے مارے ذہن فوراً اس کے خلاف ہو جاتے ہیں ،ہم سب من حیث القوم یورپ و امریکہ کے سامنے احساسِ کمتری کے مارے ہوئے ہیں،اور جو وہاں سے ملے ہمارے لیئے مقدس بن جاتا ہے ،خیر میں کوئی ناصح نہیں ہوں ،ہر کسی کی اپنی اپنی لائف ہے ،میں خود سیکس میں ڈوبا ہوا ہوں ،پر میں اپنی مرضی کی زندگی جیتاہوں ،میں پورن میڈیا کے ہاتھوں اپنا ذہن یرغمال نہیں بنا سکتا کیونکہ پورن فلموں کا مطلب ہے دیکھ کر لذّت لینا ،اور موویز کو بنایا ہی اس طرح جاتا ہے کہ دیکھ کر مزہ آئے ،اس کے تمام اسٹائل بہت مشکل یا ناممکن ہیں ،سوائے چند ایک کہ ، اور یہ کہ پونا گھنٹا بغیر میڈیسن کے کوئی بھی اتنی دیر سیکس نہیں کر سکتا،پھر ان موویز میں اکثریت مرد کا پانی نکالنے پر ساری توجہ ہوتی ہے،،عورت جیسے مزہ لینے کا کوئی سیکسی ٹوائے ہو،یعنی ان موویز کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں ،ان کو فالو نہیں کرنا چاہیئے،بس ان کو دیکھ کر مزہ لیں ۔ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ،میں نے سعدیہ کو سیدھا لٹا کر میں نے پھر اس کے اندر ڈالا اور چودائی شروع کردی،میں سعدیہ کے جسم کا مزہ مختلف طریقوں سے لے رہا تھا،،سعدیہ تم سے دل نہیں بھرے گا اور رات بڑی تھوڑی ہے،،،سعدیہ اتنے میں پورا مزہ لے چکی تھی اور وقت اس کا آنے والا تھا،،،میں نے رفتار تیز کی اور ایک منٹ میں اس کا پانی نکل آیا،اچھی طرح تسلی سے پانی کے قطرے نکلنے کے بعد میں نے تیز جھٹکے مارنے شروع کیے اور نہ چاہنے کے باوجود میرا بھی پانی نکل آیا ،،،میری کوشش ہوتی ہے کے لڑکی کا پانی پہلے نکلے اور میرا بعد میں، اس میں آج تک میں ناکام نہیں ہوا،،،میں لیٹ گیا،،،میں تھک بھی گیا تھا،،،چہرے پر تھکن کے آثار تھے،،،نازیہ کو اپنی پڑی تھی ،،کیا ہوا شہزادے تھک گئے ہو ،،،اس نے بڑے لاڈ سے ہوچھا،،ہاں یار کچھ دیر آرام کرتے ہیں پھراپنی جان نازیہ کو چودوں گا،،،کیا میں دبا دوں شہزادے ،نازیہ مجھ نچھاور ہو رہی تھی دبا تو بڑی مہربانی ہوگی،،میں نے کہا ،،لو اس میں مہربانی کی کیا بات ہے تم اتنے خاص ہو نہ ہمارے لیے کہ تمھیں بتا نہیں سکتے،،نازیہ تو میری ٹانگیں دبانے لگی،،اسے چودائی کروانی تھی اور میں نے اسے انتظار بھی خوب کروایاتھا،،،لیکن شازیہ کو کیا ہوگیا وہ اٹھی اوردوسری ٹانگ دبانے لگی،،،ایسے جذباتی ماحول میں میرا گزارا مشکل ہوجاتا تھا ،انہیں نہیں پتہ تھا کہ کہ میں نے آج صبح سے پہلے جوسلین کے پاس چلے جاناہے،،لیکن رافعہ ان سب سے علیحدہ تھی وہ چودائی کےبعد سے چپ چاپ بیٹھی تھی اور پتہ نہیں کس سوچ میں، اب جو اس نے دیکھا کہ سعدیہ تو سکون میں ہے اور نازیہ اور شازیہ اپنے محبوب کو آرام دے رہی ہیں،تو وہ جھٹ سے میرے پاس آگئی اورمجھے چومنا شروع کردیا ،،شازیہ اور نازیہ دونوں کے چہرے پر ناگواری آگئی،لیکن میں نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے نارمل کیا،میں کسی لوچے میں نہیں پڑنا چاہتا تھا،،رافعہ جس موڈ میں تھی،اس میں کچھ بھی کرسکتی تھی،،میں نے پرانے سے کلاک کی طرف دیکھا سوا ، ایک ہو گیا تھا،،،،اگر چودائی کا حساب لگاؤں تو ایک گھنٹہ ہی لگا تھا ااور چوما چاٹی کا حساب لگاؤں باتوں کا وقت جمع کروں تو دو گھنٹے تو لگ ہی گئے تھے،،،،چار گھنٹےتھے میرے پاس ،،میں نے پانچ بجے یہاں سے نکل جانا تھا۔ رافعہ نے عجیب کام کیا تھا وہ میرے نپل چوسنے لگ گئی تھی،یہ ایک عجیب سیکسی چال تھی ،،شاید رافعہ نے جوابی کام کیاتھا میں نے اس کے چوسے اور وہ میرے چوس رہی تھی،،اس نے سمجھا شاید مجھے بھی اتنا مزہ آئے گا،،،اور مجھے مزہ آ رہا تھا،،،میرا دل کر رہا تھا کہ رافعہ چوستی رہی،پہلی بار یہ میرے ساتھ ہورہا تھا،،جوسلین نے بتایا تھا کہ ہر انسان کا یک سیکسی بٹن ہوتا ہے،جس کو دبانے سے وہ انسان دل سے گرم ہوجاتا ہے،جیسے کسی کےکان کی لو،،یا کسی کی گردن پر کسنگ،،یا کسی کے پشت پر کسنگ،،، یا پیٹ پر یا کہیں اور جوسلین نے کئی بار میرا بھی بٹن تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بٹن آج ملنا تھا۔اور آج مجھے گرمی چڑھ رہی تھی،،،شہزادے اور کیا کیا کرتے ہیں اس میں ،رافعہ نے نپل چوستے چھوڑ کر پوچھا،، مزہ کرکرہ ہونے کی وجہ سے میں جھلا گیا تھا میں نے بے اختیار کہا لن کوچوستے ہیں ،،،کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟ چاروں بہنیں چلا اٹھی لیکن ظاہر ہے آواز دھیمی ہی تھی،ہاں یہ بھی کام کرتےہیں میں نے شرارت سے کہا،،ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ ابا کا لن امی نے چوسا ہو،،شازیہ شکی انداز میں بولی،،تم لوگو ں نے ابھی دیکھا ہی کیاہے میں جھلایا ہوا تھا،اور کچھ بھی ہوتا ہے اس میں، رافعہ نے سنجیدگی سے پوچھا،ہاں گانڈ مارتے ہیں لوگ ،،اور ؟رافعہ نے پوچھا، اور بس یہی مختلف طریقوں سے چودتے ہ جیسے میں سعدیہ کو چودا ،جیسے شازیہ کو اور پھر جیسے تمھیں یہ سب مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں کچھ اور ،کوئی نئی بات بتاؤ،ہاں ہے ایک نئی بات لڑکی لڑکے کو چودتی ہے،وہ کیسے سب بہنیں پھر حیران ہوئی،،وہ ایسے کہ لڑکا سیدھا لیٹا ہو اور لڑکی اس کے عضو پر بیٹھ کر اسے اپنی چوت میں لے اور پھر اوپر نیچےہو کر چودائی کرے،اگر میں پہلے لن چوسوں تواور پھر لن اندر لے کر اوپر نیچے ہوؤں تو مجھے چودائی کا موقع ابھی ملے گا،رافعہ سیکسی انداز یں بولی،،،دوسری بہنیں جیسے سکتے میں آگئی،،،پھر شازیہ کوغصہ آگیا،،اس سے پہلے وہ کچھ کہتی میں نے اسے روک دیا ،رافعہ سے مخاطب ہوا،،بات یہ ہے کہ رافعہ میں تین بار چودائی کرچکا ہوں اب میں بس ایکبار اور کر سکتاہوں وہ بھی تقریباً ایک گھنٹہ آرام کرنے کے بعد،، تو ابھی نہیں لیکن کل جو تم چاہو گی ویسے کرلینا ،،اوکے،،ٹھیک ہے لیکن کل میں دو دفعہ کروں گی ،،،رافعہ نے جیسے باقی بہنوں کودھمکی دی،،اوکے اوکے ٹھیک ہے کل جیسے تم چاہے کرنا ،،،لیکن اب میں آرام کروں گا ،،میں نے جیسے اعلان کیا،تو شازیہ اور سعدیہ اٹھی اور اپنے بستروں پر جا کرلیٹ گئی،اس سے پہلے وہ اپنے کپڑے پہننا نہیں بھولی تھیں ،رافعہ کا بھی سونا ضروری تھا،نہیں تو اسے گرمی چڑھتی رہنی تھی،،سو میں نے نیچے بنایا بستر اٹھانے کا کہا،رافعہ اپنا بستر اور رضائی لیکر اپنی چارپائی پربچھا کر لیٹ گئی،کپڑے پہن لورافعہ ،میں نے اسے آواز دی تو رافعہ نے چپ چاپ کپڑے پہن لیے اور لیٹ گئی، نازیہ نے میرے اشارے پر اپنا بستر بھی اپنی چارپائی پر بچھا دیا،،،میں جا کر اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ میرے کپڑے جستی پیٹی پر رکھ دیئے گئے،،نازیہ ،،،کیا بات ہے شہزادے ،نازیہ نے پوچھا،اس کے چہرے پر مایوسی تھی ،،ادھر آؤ یار میری ٹانگیں تو دبا دو،،نازیہ میرے بستر میں رضائی میں داخل ہوگئی اور میری ٹانگیں دبانے لگی،،اب صرف میں اور نازیہ ننگے تھے،شازیہ میری بات سمجھ گئی تھی،،میں نے اسے آنکھوں سے کہا تھا اور سر کا ہلکا سا اشارہ کیاتھا،وہ سمجھ گئی کہ اب سب کاسونا ضروری ہے نہیں تو رافعہ کوئی جھگڑا کرے گی،،کچھ دیر نازیہ میری ٹانگیں دباتی رہی،لیکن اسے سردی لگ رہی تھی،،،کتنی دیر سے ہم سب دو رضائیوں میں گزارا کر رہے تھے بلکہ ہمیں تو سردی لگ ہی نہیں رہی تھی،میں نے نازیہ کو اپنے ساتھ رضائی میں لٹا لیا اور اسے گلے لگا لیا،،،اب تو خوش ہو اب صرف میں اور تم،،،اور ساری رات، جتنا کہو گی چودوں گا ،میں نے نازیہ کے کان میں سرگوشی کی،اوہ میں تو سمجھی تھی کہ اب مجھے تم نہیں چودو گے اور مجھ سے ابھی تک ناراض ہو،،نازیہ نے مجھ سے لپٹتے ہوئے کہا،اس طرح اس کی سردی کم ہو رہی تھی،تمھیں کیسے نہ چودتا،،میں تمھاری بہنوں کو چھوڑ سکتاہوں لیکن تمھیں نہیں چھوڑ سکتا۔۔اچھا ۔۔۔۔۔ایسی کیا بات ہے مجھ میں نازیہ اٹھلائی،اپنی تعریف کسے بری لگتی تھی،کیونکہ تم ان سب سے حسین ہو،،اونہہ میں نہیں مانتی،،،چودائی تو تم سعدیہ کی مزے لے لے کررہے تھے،سعدیہ کاجسم سیکسی تھا اس میں مزہ تھا ،اچھا تو میرا جسم مزے والانہیں ہے،نازو اب سارے انتظار کا غصہ اتار رہی تھی،،نازو میری جان تمھارا جسم بھی حسین ہے،،،تمھارا چہرہ بھی حسین ہے،اور ایسا حسین امتزاج کم ہی دیکھنے کو ملتاہےسونے پہ سہاگہ ،تمھاری طبیعت شوخ وچنچل ہے،تم میں ادائیں بھی ہیں،میں تو کل سے تمھیں دیکھ دیکھ کر ترس رہا تھا ،کرو،،،کوئی کام بھی کیا کرو،،نازیہ شوخی سے بولی،،میں اس کا مطلب سمجھ گیا تھا ،، ،،،ٹھیک ہے جناب نوکر کیا اور نخرہ کیا، ہم ابھی اپنا کام شروع کردیتے ہیں۔۔۔اچھا ایسے ملاز م ہوتے ہوں تو مالک تو گئے کام سے،،نازیہ کب پیچھے رہنے والی تھی،اچھا میرے ساتھ چلو گی،،،کہاں،،نازیہ نے پوچھا،،جہاں میں کہوں ،،کہیں مجھے بھگانے کا تو ارادہ نہیں ہے،،نازیہ نے ہنس کے پوچھا،،،اب وہ میرے ساتھ کل والی مولوی کی بیٹی تو لگ ہی نہیں رہی تھی۔۔یہ تو کوئی چنچل حسینہ تھی،،، تم کل سے لگےتھے میرے پیچھے ،، آخر مجھے پھنسا کر ہی چھوڑا ،نازیہ نے پھلجھڑی چھوڑی،،تو تم کل ہی پھنس جاتی نہ،،،کیوں مجھے اتنا تڑپایا ،،کیوں اتنا انتظار کروایا،،کیا تم بہنوں کا دل پتھر کا ہے،،،شہزادے اگر ہم اس طرح پکڑی نہ جاتی تو قیامت تک تم ہمیں نہیں پا سکتے تھے،،،نازیہ انتہائی سنجیدگی سے بولی،،لیکن آخرایسی کیا بات ہے جو تم سیکس کی چاہت میں ڈوب کر بھی سیکس کرنا نہیں چاہتی تھی،،،شہزادے ہمارے ذہن اسطرح سے بنے ہوئے ہیں کہ ہم ایسے کام کا سوچ بھی نہیں سکتے،،،اور پھر ابا کا ڈر اتناہے کہ ہم میں کسی کام کی جرات نہیں ہے،،تم نے ابا کی ماریں کھائی ہوتی نہ تو پھر تمھیں پتہ چلتا کہ ڈر کیا ہوتا ہے،،اتنی حسین لڑکی کومارنےوالے کوئی جلاد ہی ہوسکتاہے۔ چھوڑو اتنی حسین رات خراب نہ کرو،،،تمھیں کچھ کرنابھی آتا ہے کہ بس باتیں بنانا جانتے ہو،،نازیہ نے پھر مجھے چھیڑا،،لگتا ہے تمھیں بڑی جلدی ہے میں نےنازیہ کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے،باتیں کرتے آدھے گھنٹے سے اوپر ہوگیا تھا،،،لگتا تھا لڑکیاں سو گئیں ہیں،میں یہی چاہتا تھا ،،میں نازیہ کی طرف متوجہ ہوا،،،میرا ایک بازو اس کی گرن کے نیچے تھااور دوسرا اس کے اوپر میری ایک ٹانگ بھی اس کے کولہوں پر تھی،،اور عضو اس کو چھو رہا تھا ،،،جوں ہی ہونٹوں نے ہونٹوں کو چھوا،نازیہ بے تابی سے ہونٹ چوسنے لگی،،نازیہ ،،نازیہ،،نازیہ،،نازیہ،،نازیہ نے میرے ہونٹ چوسے ،میرے گال چومے ،،،میری گرن، میرے سینے پر پیار کیا،آہستہ آہستہ نازیہ نیچے کھسکنے لگی،،اس کے ہاتھ میں میرا عضو تھا،،اور ہونٹوں کی زد میں میرا جسم تھا،،میرے پیٹ سے ہوتی ہوئی اس نے میری ٹانگیں چومی،بستر میں رضائی کے اندر ،، لہریں کھا تی ہوئی ندی بہہ رہی تھی ،ایک بھپرتی اور بل کھاتی ندی،، جو ندی ہوتے ہوئے بھی سب کچھ بہا لے جانا چاہتی تھی،مجھے الٹا کر میرے اوپر لیٹ کر نازیہ میری کمر چوم رہی تھی،،نازیہ کہاں سے سیکھا یہ سب تم نے،،میں پوچھے بناء نہ رہ سکا،،کبھی ابا اور امی بہت موڈ میں ہوں تو امی ایسا کرتی تھی،،،میں جب بھی یہ دیکھتی تو بہت مزہ آتا تھا،،اور دل کرتا تھا کہ میں بھی کسی کو اتنا پیار کروں،،کوئی مجھے بھی اتنا پیار کرے،،ابھی سے شادی کی خوہش ہونے لگی تھی،،،اچھا تو شادی کے خواب تو جانے کب پورے ہوں،، میں ا بھی اپنی نازیہ کی یہ خواہش پوری کردیتاہوں،،میں نے نازیہ کو نیچے لٹایا اور اسکے چہرے سے شروع کیا،اس کے ہونٹوں کو پیار کیا،اس کی گالوں سے اپنا حصہ وصول کیا،اس کی گردن پر سیکسی چمیاں لیں ،اس کے سینے کو ہونٹوں سے چھوا ،،اور ممے ہاتھوں سے مسلے ،پیٹ کو چوما،اور رانوں پر ہاتھ پھیرے ،،اس کی کمر کواو پر لیٹ کر کمر کو چوما،،اور پھر سیدھا کر کے اس کے ممے چوسنے شروع کردیئے،شہزادے تم نے میری آرزو پوری کردی،، کیاہم یونہی ملتے رہیں،گے ہمیشہ،،،نازیہ کی بات سن کے میرا دل کو سنسناہٹ سی ہونے لگی ،،میں نے تو صبح سے پہلے چلے جانا تھا ،میں نے ممے چوستے ہوئے عضو کو اس کی چوت کے بظر (دانہ)پر رگڑنا شروع کر دیا،،نازیہ کو جذبات سے نکال کر ہیجانی کیفیت کے حوالے کردیا،،نازیہ کا چہرہ شدت سے تمتمانے لگا،،ممے اور بظر کو اکٹھا چھیڑا جائے تو لڑکی نے تو بے حال ہونا ہی تھا،،نازیہ بھی اب بے چین تھی اور اس کا جسم تپا ہواتھا جیسے بخار ہو،،رضائی ہم اتار چکے تھے،لیکن ہمیں سردی ہمارے پاس بھی نہیں تھی،،،شہزادے اب ڈال دو اپنا لن،،میرابہت برا حال ہے،،،مجھ سے اب اور انتظارنہیں ہوتا،،جب سے تم نے ہمیں چودنا شروع کیا ہے تب سے مجھے انتظار کروا رہے ہو،،،بلکہ میں تو پتہ نہیں کب سے انتظار کر رہی ہوں۔ آج میری پیاس بجھا دو،،،شہزادے ،،شہزادے،،،،آجاؤ،،،نازو میں تم سے دور کب ہوں ،،میں نے چارپائی کے پائے ساتھ پہلے سے رکھی تیل کی شیشی اٹھا اور اسے اپنے عضو پر لگایا،،،نازیہ کی چادر سے ہاتھ صاف کیا اور وہی چادر دوہری تہری کر کے نازیہ کی چوت کیلیے بچھا دی،،نازویہ تیار ہو،،ہاں شہزادے ،،تیار ہوں ،،میں تو جانے کب سے تیار ہوں،،ایسی باتوں کا مقصد گرمی بڑھانا ہوتا ہے،،میں نازیہ کی ٹانگیں کھولی ،ان میں بیٹھا اور عضو چوت کے اوپر رکھا،،چارپائی کی وجہ سے تھوڑی مشکل تھی کیونکہ چارپائی درمیان میں وزن پڑنے سے بیڈ کی طرح سیدھی نہیں رہتی تھی،بلکہ کُھب سی جاتی تھی،،،بہر حال میں نے عضو کو دھکا لگایا وہ نرمی سے کچھ اندر چلا گیا،،ابھی پردے کی منزل نہیں آئی تھی،،میں نے تھوڑا اور زور لگایااور اسےاندر ڈالا ،،عضو کھسکا اور چوت میں آگے چلا گیا،،نازیہ پر جوش تھی ،،،میں نے پوری طرح دھکیلا اور عضو کی دیواروں کو کھولتا ہوا، اندر پردے پر جا کر رک گیا،،،یہی میرا طریقہ تھاتب بھی اور آج بھی میں نئی چوت کو سہج سہج کر محبت اور نرمی سے کھولتا ہوں جیسے کوئی گلاب کی پتیاں ایک ایک کر کے کھلتی ہیں اور پھول بن جاتا ہے،،،تھوڑا سا عضو کو پیچھے کیا،آگے کیا کچھ چوت کو بتیا کہ کوئی آیا ہے اور پھر،،،،،نازو ،،،،جی شہزادے ،نازیہ نے جذباتی انداز میں کہا،،اندر پردہ توڑنے لگا ہوں،،تیار ہو جاؤ ،،تیار تو کب سے ہوں شہزادے رکو نہ بس چوت کا مالک اس میں داخل کردو،،اور میں نے مخصوص جھٹکا مارا جو چوت کو چیرتاہوا ندر جا پہنچا۔ اوئی شزادے ،،،،،،،،نازیہ سے میرا صحیح ا نام بھی نہ لیا گیا،،،مار دیا رے ظالم ،،،نازیہ درد سے پر مدہم آواز میں بولی،،کب سے تیرا انتظار تھا ،،اور تو تڑپا تڑپا کے آیا میرے پاس،،،اب تجھے کہیں جانے نہیں دوں گی،،،میں نے اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے اس پر اپنا کچھ وزن ڈال دیا،اور بڑی ہی آہستگی سے باہر کیا،پھر اندر کیا،پھر باہر کیا،اور پھر اندر باہر کرنے لگا،،،ہونٹ چومنے سے نازیہ کی جذباتی باتیں رک گئی ،پتہ نہیں ایسی جذباتی باتوں سے میرا دل کیوں بے چین ہونے لگتا تھا،،،میرے دل میں کہیں نگینہ کا سراپا آجاتا تھا اور دل کچھ اور کہنے لگتا تھا،،میں نے اندر باہر کرنے کا کام جاری رکھا اور پھر بیٹھ گیا،،میری چودائی میں روانی نہیں آئی تھی،،اس لیے میں نے اس کے پہلوؤں پر ہاتھ رکھے اور تھوڑا جھک کر مشق جاری رکھی،،ویسے دیکھا جائے تو یہ مشقِ ستم نہیں تھی ،،لیکن پہلے پہلے یہ مشقِ ستم ہی بن جاتی تھی،،اور بعد میں مشقِ سخن بن جاتی تھی ،،اب یہ مشقِ سخن جاری تھی،،شہزادے آج سے یہ جسم تمھارا ہے،،نازیہ پھر بولی،نازیہ کو چودتے ہوئے میرے خیالات بھٹکنے لگےتھے،،،اس کی باتیں مجھے بہکانے لگی تھیں،،،اس میں اس کے جسم کا بڑا عمل دخل تھا،،،کسی وقت میں نے اس سے پہلے صرف ایک کنواری لڑکی چودی تھی اور وہ سحرش تھی ،،سحرش کو چودتے ہوئے اس وقت میرے دل و دماغ سے نگینہ کا خمار اتر گیا تھا،،،اور میں سحرش کی جوانی کاشکار ہو گیا تھا،،اس کے بعد آج رات جب سے میں نے ان بہنوں کو چودنا شروع کیا تھا میرے دل و دماغ سے جوسلین کا خمار اترنا شروع ہوا تھا لیکن میں خیالات کو کنٹرول کرتا رہا،،اور اب نازیہ نے پھر مجھ پر حملہ کر دیا تھا،،کسی کی دنیا تہس نہس ہوئی ہوتو وہ میری سمجھے گا ،،میں نے سر جھٹک کر خیالات کو دفع کیا،،اور چودائی کی طرف دھیان لگایا،،،میری نظریں نازیہ کے بے مثال جسم پر تھیں اور اس وقت عضو اندر تھا جیسے یک جان ہوگئے تھے،،،سرور کی انتہا تھی ،،،ایساجسم تو جوسلین کا تو نہیں ہے،،،کیا یہ عمروں کا فرق ہے یا،،،،،نازیہ ہے ہی حسین ترین،،یا یہ کنوارے جسم کی مقناطیسیت ہے،،،یا اس میں کچھ اور بات ہے۔ ذہن نےباغیانہ خیالات کو جنم دیا تو میں سوچنے لگا یہ میرئے ساتھ کیا ہو رہا ہے،،اس بار میں جوسلین کے احسانا ت یاد کرنے لگا ،،اور دل کو کچھ شرم آئی میں نازیہ کے جسم سے حظ لینے لگا،،،کانچ کے جسم ایسے ہی تو ہوتے ہوں گے،،خیا لات کا کیا ہے یہ روکے سے کب رکتے ہیں،،نازیہ کی چودائی کسی اور ہی ڈھنگ سے ستا رہی تھی،،مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے خیا لات میرے ساتھ ایسے باغیانہ رویہ اختیار کریں گے،،،میں نے نازیہ کے ممے چوسنے شروع کردیئے،،،اور چودائی تیز کر دی،،،عجیب بات تھی جس جسم سے کی وجہ سے خیالات آتے تھے ،،اور پھر اسی کی پناہ میں چلا جاتا تھا،ظاہر ہے اس نے تو پھر ستانا ہی تھا بہکانا ہی تھا،،،ممے چوستے ہوئے مجھے بڑا سرور آتا ہے اور نازیہ بھی سرور میں آگئی تھی،،شہزادے تمھاری یہ ادا مجھے بہت اچھی لگتی ہے،،،میں پھر بیٹھ گیا،،اب بتانے میں تو کچھ باتیں بنانی ہی پڑتی ہیں،، نثری ادب میں ہر لکھی ہوئی چیز ، فیکٹ ،ہوتی ہے یعنی حقیقت، یا وہ فکش ہوتی ہے یعنی فرضیت ،،،لیکن کافی عرسے سے ایک اور صِنف بھی وجود میں آچکی ہے اور وہ ہے فیکٹ اور فکشن کا ملاپ،،یعنی حقیقت اور فرضیت کا حسین امتزاج ،آج کے دور میں اسے فیکشن کہتے ہیں،،،یعنی ایسی سچائی جسے نمک مرچ لگا کہ پیش کیا گیا ہے،،،میں بتا تو نہیں سکتا کہ چودائی میں کتنا مزہ آیا لیکن کوشش کرسکتا ہوں کہ میرے خیالات میں ہلچل سی مچ گئی تھی،،،نازیہ میں تمھیں دوبارہ ضرور ملنے آؤں گا،،،کیا یہ بھی تو کوئی امتحان نہیں ہے؟ میرے اندر سے ایک آواز آئی،،جوسلین جیسی جینئس عورت کسی نکتے کو فراموش نہیں کر سکتی،،،اسے پتہ ہو گا کہ کھیل کیسے کھیلا جائے گا،،نازیہ تم اوپر بیٹھ کر چودائی کر لو گی میں نے اس سے پوچھا،،کیا میں؟ نازیہ حیران ہوئی ،،ہاں تم جیسے میں نے بتایا تھا کہ لڑکی لڑکے کی چودائی کرتی ہے،، ،،پاگل،،،چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر بات ایک ہی،،نازیہ نے اوپر آتے ہوئے کہا، تو میں مسکرانے لگا،،میں سیدھا لیٹا تو وہ میرے عضو پر بیٹھ گئی،، نازو اب جیسے بتایا تھا عضو ہاتھ میں پکڑو،،نازیہ نے ہاتھ میں پکڑ کر اپنی چوت اس پر رکھی اور اس پر اپنا وزن ڈالا،،عضو پھسلتا ہوا ا سکی چوت میں چلا گیا،،،واہ،،تم نے بڑی خوبصورتی سے کام کیا،اب اوپر نیچے ہو نا شروع کرو،،نازیہ اوپر نیچے ہونا شروع ہوگئی،،مگر ایک تو نیچے چارپائی تھی ،دوسرا وہ نئی نئی اس کام میں آئی تھی،،پھر وہ بھی اوپر نیچے ہونے لگی اور میرے خیالات کا سلسلہ رک گیا،،اس کا جسم اس کے ہلتے ممے ،،اسکی چوت کی تنگی،،،اس کی نین نقس،میرے ذہن میں کھبنے لگے،،،مجھے مزہ آنے لگا،،،یہ اسٹائل بڑا ہی پرلطف اور مزے دار ہے ،،اس میں عضو پر چوت کی گرفت اور تہیں ایسے چڑھتی ہیں جیسے،،کوئی بانہوں میں بھنچ کے مار ڈالے گا اور ہم خوشی سے مرجائیں گے،،،میں کچھ دیرا سی حالت میں مزہ لیتا رہا اور نازیہ کو دیکھتا رہا ،،نازیہ کچھ دِقّت سے دھیرے دھیرے کر رہی تھی ،،جب میں نے دیکھا کہ وہ اتنے سے ہی تھک گئی ہے تو میں نے اٹھ کے بیٹھ گیا،،اسی حلات میں نازیہ کے بازو پکڑکے میں بیٹھا تو اب نازیہ میری ٹانگوں پر تھی اور اسے پہلے تو گلے سے لگا لیا اور سے کمر سے کس لیا ،،پھر اسے تھوڑا نیچے کر کے اپنی کھلی گود بنا کر اس میں بٹھا لیا،،اور تھورا آگے پیچھے ہونے لگا،،یہ ایک رومانوی اسٹائل ہے اور پرجوش بھی ہے،،مزہ بھی آتا ہے اگر مہارت سے کیا جائے تو عضو پورا اندر جاتا ہے نہیں تو درمیاں سے ہی ہار مان کر واپس آجاتا ہے۔ اس میں چوت عضو کے سامنے ہونے کی بجائے تھوڑی اوپرہو،،جبکہ لڑکی کا جسمانی وزن چوت نیچے کرتا ہے بازوؤں کے سہارے میں تھوڑا اونچا کیے چودائی کرنے لگا تو نازیہ نے اپنے بانہیں میرے گلے میں گردن کے گرد ڈال لی،،واؤ شہزادے کمال کا طریقہ ہے میری جان بڑا مزہ آرہاہے ۔۔بس اب اسی طرح کرتے رہنا جب تک سفید پانی نکل آئے،،حسن کا حکم سرانکھوں پر ،میں نے سر کو تھوڑا جھکاتے ہوئے کہا،،میں اپنے تئیں خود کو بہلانے میں کامیاب ہوچکا تھا،لیکن خیالات ہٹانے کی یہ طریقہ بالکل غلط ہے الٹا خیالات بڑی طاقت سےحملہ کرتے ہیں،ان سے لڑو مت ،،ان کونظر انداز کرو،میرے اندر سے مارشل آرٹ کے استاد کی آواز گونجی،،اور میں نظر انداز ہی تو کر رہا تھا،،،شہزادے ،،،ہوں کیا،،،کہاں گم ہو،،نازیہ نے حیرانگی سے پوچھا ،میں مزے میں ڈوبا ہواتھا،،اوہ تو مجھے ساتھ لے کہ ڈوبو نہ،،اکٹھے مرتے ہیں ،،نازیہ انجانے میں پھر دل کے تار چھیڑ گئی،،اسے نہیں پتا تھا کہ میرے اندر تو پہلے ہی جنگ چھڑی ہوئی ہے،،،ایسا نہیں کہ میں اس سے محبت کرنےلگا تھا بس یہ تھا کہ جوسلین کا جسمانی سحر اتر رہا تھااور نازیہ کاجسم مجھے قابو میں کررہا تھا،نازیہ میں تم سے ضرور ضرور ملنے آؤں گا آخر مجھے خود سے عہد کرنا پڑا،،جوسلین کی اہمیت اپنی جگہ لیکن نازیہ کمال تھی اور جوانی ،کنوارہ پن،جسمانی خوبصورتی،کشش کا کوئی نعم البدل نہیں تھااب کچھ دل کو سکون تھا،میں نے پھر چدائی کی طرف دھیان دیا،،مجھے پتہ ہی نہیں چلا اور ہم اکٹھے چدائی کررہے تھے یعنی اگر میں باہر نکالتا تو وہ بھی کمر کے زور پر پیچھے ہوتی اور میں اندر داخل کرتا تو وہ بھی آگے ہوتی،،اس طرح ایک ردھم بن گیا،، جیسے ساز کی لے پر گا نے کے بول جمنے لگتے ہیں،شہزادے ،بڑا مزہ آرہاہے نازیہ کی آنکھیں بند تھیں،،اس کاایک دفعہ پانی نکل چکا تھا اور میں تو چوتھی دفعہ کررہا تھا اسلیے مجھے کچھ وقت تو لگناہی تھا،،اب ٹھیک تھا ،اب ہم دونوں کاپانی اکٹھا نکلنا تھا،اور پہلے نازیہ کا نکلنا چاہیئے تھا،،،میں نے اپنی کوشش جاری رکھی،،تو نازیہ نے پہلے سے کسے بازوؤں کا گھیرا اور تنگ کردیا،اور میرے سینے میں اس کا سینہ کھب گیا ،اس طرح گود میں کچھ آگے بھی ہوگئی اور چوت عضو پر اچھی طرح چڑھ گئی ،یہ وقت ہی ایسا ہوتا ہے ،،ہمیشہ محسوسات میں کچھ ایسا ہوتا ہےکہ دل کرتا ہے بازووں میں کس لیاجائے اتنا کس لیا جائے کہ مار ہی دیا جائے،(وصی شاہ کا شعر ہے یہ)کچھ دیر ایسے ہی بیٹھے رہنے کے بعد میں پیچھے کو لیٹ گیا اور نازیہ میرے اوپر آگی،،پھر میں نے اسے ساتھ لٹا لیا،ہم کافی دیر ایکدوسرے کو محسوس کرتے رہے،،پھر نازیہ اٹھی اس نے نیچے سے چادر نکالی،،اسی ایک چادر پر اب چاروں بہنوں کا خون لگا ہوا تھا،،اس نے کناروں سے اپنا جسم صاف کیااور پھرمیرا جسم بھی صاف کیا،چادر کو ایک طرف رکھنے کے بعد وہ پھر میرے ساتھ لیٹ گئی،ہم کافی دیر باتیں کرتے رہے ،میرا دھیان گھڑی کی سوئیوں کی طرف تھا،،تین بجنے والے تھے،،نازیہ اب سونا چایئے ،کیا خیال ہے،،ٹھیک ہے شہزادے جیسے تم کہو،،،نازیہ اٹھ کر کپڑے پہننے لگی،،،کپڑے پہن کے اس کا دھیان چادر کی طرف گیا ،،شہزادے پہلے میں اسے دھؤں گی،،پھر سوؤں گی،،صبح امی کے سامنے تو اسے دھونا بہت مشکل ہوجائے گا،،ٹھیک ہے تم اسے دھو لو،،میں نے اس کی مشکل سمجھتے ہوئےکہا۔ وہ گئی ہی تھی،کہ رافعہ کے بستر میں میں ہلچل ہوئی اور وہ اٹھ کے میرے پاس آگئی،،شہزادے مجھے نیند نہیں آرہی،،،رافعہ نے کہااور میری رضائی اتار کے ایک طرف کردی میں نے ابھی کپڑے نہیں پہنے تھے،،میرا عضو دیکھ کر جیسے اس کی آنکھیں چمکنے لگی،،میں سمجھ گیا وہ کب سے ہمارے اٹھنے کی منتظر تھی،،،رافعہ نے بدمست جوانی میں آؤ دیکھا نہ تاؤاور میرے عضو پر ایسے جھپٹی جیسے چیل گوشت پر جھپٹتی ہے،،،کچھ ہی لمحوں میں میرا عضو رافعہ کے منہ میں تھا ،،اور رافعہ اسے چھچھوری بلی کی طرح چاٹنے لگی،،،میں تھوڑا اٹھ کے بیٹھ گیا،،کرنٹ لگے تو پھر اٹھنا تو پڑتا ہے،رافعہ ااب اسے منہ میں لو اور چوسو،،رافعہ کو رستہ مل گیااور وہ قلفی کی طرح چوسنے لگی،،،ایک دفعہ تو اس نے پورا منہ میں لے لیا،،،رافعہ بدمست جوانی تھی،،اور میں پہلے بھی اندازہ لگا چکا تھا کہ اب اس کی اور مولوی کی جنگ ہو ہی ہو،،اچھی طرح چوسنے میں تو رافعہ کو مہارت نہیں تھی لیکن اس کے اناڑی پن میں کافی مزہ تھا کیونکہ اناڑی پن کی کمی اس کا جوش پورا کر رہا تھا۔۔کچھ ہی لمحوں میں عضو صاحب بدمست ہوگئے اور پوچھا کہاں ہے چوت،،،میں نے کہا یہ رافعہ آئی ہے،،،اوہ،اسکو چودوں گا چودوں گا،،،چلو اس کو چودتے ہیں میں نے سوچ لیا کہ اس کےساتھ کیا کرنا ہے،،،میں اٹھا ننگے جسم میں گرمی بھری ہوئی تھی،،رافعہ کوپکڑا اور اسے دیوارکے پاس جاکر ہاتھ اس کے دیوار پر ٹکائےتھوڑی ٹانگیں پیچھے کی اور گانڈ کو باہر نکالااور چوت کو پھانکیں کھول کے اس میں عضو ڈالا اور دے دھکے پہ دھکا۔ میں اسے کہہ چکا تھا کہ رافعہ اگر تمھاری چیخ نکلی تو ہم سب مارے جائیں گے،،یقیناً رافعہ کے ہونٹ بھنچے ہوئے تھے ،،کیونکہ اس وقت میں غصے میں تھا ،،غصہ اندر تھا اور نکال باہر رہا تھا،،،رافعہ کو ابھی پتہ نہیں تھا کہ چوت کا ستنانا سبھی ہوجاتا ہے ایسے شوق میں،،بہر حال ا سکے پہلو سے پکڑے میں نے شدت سے دھکے لگانے جاری رکھے،،،چند بار تو وہ دیوار سے جا لگی،،،میرے خیال میں کم از کم پندرہ منٹ تونازیہ کو چادر دھونے میں لگ ہی جانے تھے کیونکہ ا س پر کافی خون لگا تھا اورکافی دیر سے لگا تھا ، اتنے میں رافعہ کوفارغ کر دینا تھا،اوہ ،،،اوہ مزہ آ گیا رافعہ نے بمشکل کہا،،،مگر مجھے پتہ تھا وہ خود کو چودکڑ ثابت کر رہی ہے ،جبکہ اس کی ہوا نکل رہی تھی،،اور ساری شدت چوت سے نکل رہی تھی،،،رافعہ ،کل کا دن ذرا چلنے پھرنے میں مشکل ہوگی بس، لیکن تمھیں ایسا مزہ آئے گا کہ پھر اس مزے کیلیے تڑپو گی ۔رفتار اور اور طاقتور دھکا ،،تال میل سے ہوتی چودائی،،،اب رافعہ نے ایک ہاتھ دیوار سے ہٹا کر منہ پر رکھ لیا اس سے ایک تو یہ ثابت ہو گیا کہ اس سے چیخیں روکی نہیں جارہی تھیں اور دوسرا اس کے دیوار کا سہارا کمزور ہوگیا تھا،،،جو میرا ہاتھ اس کے پہلو پر تھا وہ میں نےآگے کر کے اس کے پیٹ کے گرد رکھ دیااور اسے سہارا دیا ،،کیونکہ اس دوران وہ دو بار دیوار کی طرف پریس ہوچکی تھی اور بمشکل بچی تھی،،کیوں کیسا لگا رافعہ ڈارلنگ ، ،،مزہ آرہا ہیے نہ ؟ ،،رافعہ نے سر ہلا کر بتایا کے اسے مزہ آرہا ہے،،،درد بھرا مزہ،،میں نے رفتاربڑھا دی،،مجھے پتہ تھا اس میں زبردست رگڑ لگ رہی ہے،،،اور جلد پانی آنا متوقع ہے،،رافعہ درد تو سہہ رہی تھی لیکن اس سے درد بھری آہیں نہیں روکی جارہی تھی،،اچانک اس نے مجھے روکے بناء دوسرا ہاتھ بھی اپنے منہ پر رکھ لیا،جیسے چیخیں زبردستی باہر نکلنے کوبے تاب ہیں،،ادھر میرا دھکا لگا اور اس کا پیٹ دیوار کی طرف گیا ،لیکن میں نے اسے روک لیا نہیں تو اس نےدیوار کےساتھ پریس ہوجانا تھا،،تم کہو تو میں روک دوں میں نے شرارت سے پوچھا،،ڈھیٹ رافعہ نے نہ میں سر ہلایا میں نے بھی کب رکنا تھا اور چڑھائی جاری رکھی،،،اب اس کی روکنے کے باوجود چیخیں نکلنے لگی لیکن بس اتنی جیسے کوئی کراہ رہا ہو،رافعہ ڈارلنگ چیخ نہ نکلے نہیں توا با آجائے گا میں نے پھر سرگوشی کی،،،اور رافعہ نے سر ہلا دیا،،،میرے حساب سے اس کا پانی نکلنے ہی والا تھا،،تقریباً پندرہ منٹ میں اس کا بھرتا بن گیا تھا،،اسے اگر یہ پتہ ہوتا کہ میں کون ہوں اور میری استاد کیا ہے تو وہ مجھے چدائی کا اتنا اشتیاق کبھی نہ دکھاتی،،،دے تیرے کی،،،اور،،،،،،،،رافعہ کی بس ہوگئی ،،میں تو پہلے ہی ہوشیار تھا،،،اور اس کی کمر اپنے سینے سے لگا لی تھی،،جیسے ہی وہ گھٹی گھٹی آواز میں چیخی میں سمجھ گیا کہ اب اس سے چیخ روکی نہیں جائے گی اور میں نے بروقت اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا کیونکہ درد کے جھٹکے نے اس کے ہاتھ گرا دیئے تھے،،،خیریت گزری اور ایک سیکنڈ کے فرق سے ہم بچ گئے ،میں نے تو نکل جاناتھا،،مگر لڑکیاں قتل ہوجانی تھی،،میں نے اب بھی دھکے لگانے جاری رکھے اب اس کی کمر میرے سینے سے لگی تھی اس لیے اسٹائل ذرا تبدیل ہوگیا تھا کیونکہ دھکا اندر پورا نہیں جارہا تھا۔۔۔ لیکن ،،،،،،،،،،،رافعہ ناں میں بمشکل سر ہلا رہی تھی،،اس کا منہ تو میری پکڑ میں تھا،،اس کی بس ہوگئی تھی ،،اور اسکا پانی بھی نکل گیا تھا لیکن میں نے دھکا زور سے لگایا ،،اور پھر لگایا ،،پھر لگایا ،،،اور لگاتا گیا،،میرے ہاتھوں پر نمی سی محسوس ہوئی،،رافعہ رو رہی تھی،،،بس میرا کام بھی ہونے والا تھا،،مجھے سنسناہٹ سی محسوس ہوئی تو میں نے آخری دھکا لگایااور رافعہ کی چوت میں پانی چھوڑ دیا،،،،آخری دھکے کچھ کم تھے کیونکہ اس کے پانی رگڑکم ہوگئی تھی،،،کچھ دیرمیں اسی طرح اندر ڈالے کھڑا رہا ،،رافعہ کاجسم کانپ رہاتھا ،،پھر میں علیحدہ ہوگیا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے اس کے سامنے آگیا،،اور رافعہ کوگلے لگالیا،،،کچھ دیر اسے ہاتھ وغیرہ پھیرا،،،،جب مجھے یقین ہوگیا کہ اب چیخیں نہیں نکلیں گی ،میں نے ہاتھ ہٹا لیا،،،اب خوش ہو رافعہ ،میں نے اس کے کان میں پوچھا،،،،،ڈھیٹ رافعہ نے سرہلا دیا،،ہاں بہت خوش ہوں بڑی مشکل سے اس کی آواز نکلی،،میں دل ہی دل میں ہنس پڑا،،اب تم آرام کرو،،میں نے اس کے پہلو سے پکڑ کر ساتھ لگایااور چلاتاہوا اس کے بستر تک لایااور اورآہستگی سے اسے لٹا دیا،،اس کے ہونٹوں پر آخری چومی لی،،بہت ظالم ہو،،رافعہ کہے بناءرہ نہ سکی،،آرام کرو باقی مزہ کل لیں گے،،میں نے اسے دہلایا،چودائی کی پہلی عمر کو سلام ،،،،،،16 برس کی بالی عمر کو سلام،،اب بالی عمر سنجیدہ ہوجائے گی اور اپنی چوت کا خیال رکھے گی،کل رات تک اسے آرام آجائے گا،،،یہ تھا وہ ہنر جو میں نے سیکھا تھا،اور جانے کیا کچھ سیکھا تھا،،،،،،اب میں بھی کپڑے پہننے لگا،،،اتنے میں نازیہ آگئی،،چادر اسکے ہاتھ میں تھی اور اس سے پانی ٹپک رہا تھا،،،سردی کی وجہ سے چادر اس سے نچوڑی نہیں گئی تھی،،،میں نے اس کے ہاتھ سے چادر لیکر کمرے میں پیچھے گیا،،اور چادر کو مڑوڑ ا دے کر نچوڑنے لگا،،، اچھی طرھ نچوڑنے کے بعد میں نے چادر نازیہ کوتھما دی،،،اس نے اسے جستی پیٹی پر پھیلا دیا،،،نازیہ نے کپڑوں پر سردی سے بچنے کیلی کچھ نہیں پہنا تھا،،اسے سردی لگ رہی تھی،،بلکہ وہ کپکپا رہی تھی،میں تو کپڑے پہن چکا تھا،میں نے اسے ساتھ ہی لپٹا لیا،،اور رضائی اوپر لے لی،،نازیہ کی سردی کم ہونے لگی،،اسے نہیں پتہ تھا کہ اس کے پیچھے کیاطوفان گزر چکا تھا ،میں نازیہ کے بالوں میں انگلیاں پھرنے لگا،اسکا سینہ میرے سینے پر پڑا تھا اور میں دیوار کی طرف ٹیک لگا کر لیٹا تھااور میرے اوپرلیٹی تھی ہمارے چہرے آمنے سامنے تھے،،ہم دھیمے دھیمے پیار بھری باتیں کرنے لگے،،ساڑھے چار بج گئے،،،نازیہ تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے،،میں سنجیدہ ہوگیا۔ کیا بات کرنی ہے نازیہ میرے لہجے پر چونکتے ہوئےپوچھا،میں نے تمھیں بتایا تھا کہ میرا ایک دوست ہے یہاں لاہور میں ،جو میرا کلاس فیلو بھی رہا ہے،،ہاں تم اس سے ملنے کیلیے ہی تو لاہور آئے تھے،نازیہ کویاد تھا،،،ہاں وہی دوست ،،وہ صبح صبح جوکنگ کرنے کا شوقین ہے،،،میں سوچ رہا ہوں کی اس وقت اس کی کیا نگرانی ہوگی،،ایک موقع لے لینا چاہیئے اور جوکنگ کرتے وقت اس سے ملنے کی کوشش کرلینی چاہیے،، کیا خیال ہے تمھارا ؟ہاں ٹھیک ہے تم اس سے ملو اسوقت،کوئی پتہ نہیں ملاقات ہو ہی جائے،تو ٹھیک ہے میں ابھی کچھ دیر بعد نکل جاتاہوں،اگر تو وہ مجھے مل گیا تو میں اس کے پاس ہی ٹھہر جاؤں گا،اور اپنے چچا سے لندن میں رابطہ کرنے کی کوشش کروں،اور اگر وہ نہ ملا تو میں واپس آجاؤں گا،ہاں ٹھیک ہے،نازیہ آہستگی سے کہا،،،مجھے پتہ تھا اس نے اداس ہونا ہی تھا،،پر نہ بتا کرجانے سے اچھا تھاکہ میں بتا کرجاؤں،نازیہ چچاسے ملنے کے بعد جب یہاں حالات ٹھیک ہوجائیں گے میں تم لوگوں سے رابطہ کروں گا،یا ہوسکتا ہے پہلے ہی رابطہ کر لوں،،شہزادے کیا ایسے نہیں ہوسکتا کہ تم کل تک رک جاؤ،،نازیہ نے میرے سینے پر سر رکھتے ہوئے کہا،،،اسطرح وہ اپنے آنسو چھپارہی تھی،،نازو میری جان،،دشمنوں کا کوئی پتہ نہیں وہ بہت طاقتور ہیں ،اور ان کے پاس بہت سے بندے بھی ہیں،وہ مجھے ڈھونڈتے ہوئے یہاں بھی پہنچ سکتے ہیں،،،مجھے اپنی فکر نہیں لیکن تمھارے ابا اور امی،،اور خاص کر تم بہنوں سے انہوں نے اچھا سلوک نہیں کرنا،،اب تم جیسے کہو میں کر لوں گا،،کل تک رکنا ہے خطرناک،،بلکہ ایک ایک لمحہ خطرناک ہے،،ٹھیک ہے تم آج ہی چلے جاؤ۔وقت ضائع نہیں کرنا چاہیئے،،نازیہ نے اداسی اور بےچارگی سے کہا،مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ مجبوراً جانےکو کہہ رہی ہے،،لیکن تم ایک وعدہ کرو اگر تمھارے دوست سے ملاقات نہ ہوسکی تو واپس یہیں آجانا،،لو کرلو بات ،،یہ بھی کوئی کہنےکی بات ہے،،ٹھیک ہے شہزادے ،،خداکرے تمھاری مشکل آسان ہوجائے،،نازیہ نے پھر اپنا چہرہ میرے سینے میں چھپا لیا،، ہم کچھ دیر بعد اٹھے میں نے جوگرز پہنے،،جیکٹ پہنی،،اور جانے کیلیے تیار ہوگیا،،ایک بات اور نازیہ،،،اگر تمھیں یا تمھاری کسی بہن کو اس دفعہ ماہواری نہ آئے تو پریشان نہ ہونا،،اور فوری طور پر مجھ سے رابطہ کرنا،،رابطہ کیسے کرنا ہے،،نازیہ میری بات سمجھتے ہوئے پریشانی سے کہا،،،میں تمھیں ایک فون نمبر لکھ دیتا ہوں ،،اس پر تم مجھ سےرابطہ کرسکو گی،،باقی میں سنبھال لوں گا،،لیکن اگر تم لندن چلےگئےتو کیاہو گا ہمارا؟ نازیہ پریشان ہوگئی تھی،،نہیں میں لندن نہیں جاؤں گا۔ میں نے ایک کاغذ پر نمبر لکھتے ہوئے کہا جو ابھی نازیہ نے مجھے پکڑایا تھا ،،،،میں چچا کو یہیں بلواؤں گا،،اور آدمی اکٹھے کر کےاپنے سوتیلے چچا سے اپنی جائیداد لوں گا،تم بےفکر ہوجاؤ بس رابطہ کرنے کی دیر ہے پھردیکھنا میں کیسے پہنچتاہوں۔۔ٹھیک ہے نازیہ نے اداسی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت میں کہا،میں نے نازیہ کو گلےلگایا اور اس کیاایک طویل کس لی،،اور دروازے سے باہر نکلا،،ایسا منظر ایک دفعہ میری زندگی سے پہلے بھی گزرچکا تھا جب میں سحرش سے رخصت ہوا تھا لیکن پھر میں پلٹ کر اس کے پاس نہیں گیا،،ہاں جب میں نگینہ کا پتہ کرنے وہاں گیا تو سحرش کے گھربھی گیاتھا تو پتہ چلا تھا اس کی اس کی شادی ہوگئی تھی اور میں نے اندازہ لگایا کہ چودائی ملنے کے بعد بہت خوش ہوگی،لیکن اب میں نازیہ سے ملنے کیلیے واپس آناچاہتاتھا،باہر نکلا تو نازیہ دروازے میں کھڑی ہوگئی،،،شہزادے اس نے مجھے آواز دی،،میں نے مڑ کردیکھا تو بھاگتی ہوئی آئی اور میرے سینے سے لگ گئی،،سنسان گلی میں اندھیرا تھا،لیکن اس کی تڑپ اور گلی میں آنا کوئی عام بات نہیں تھی،،پھر بھی میں نے اسے علیحدہ کیا،نازیہ ایسے مت کرو نہیں تو میں جانہیں سکوں گا،،نازیہ نے چپ چاپ میری ایک چُمی لے کے دروازے میں جاکر کھڑی ہوگئی اور میں چلتا ہوا گلی سے نکل گیا،،مجھے یقین تھا جب تک میں مڑ نہیں گیا تھاوہ مجھے دیکھتی رہی تھی،میں روڈ پر آکر میں جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ دیکر پیدل ہی چلنے لگا،،کسی سواری کاانتطار فضول تھا،،دس منٹ بعد مجھےایک آٹو رکشہ نظر آیا ،،میں نے اسے ہاتھ دیا تو وہ رک گیا،،فلیٹ کا ایڈریس بتا کہ میں اس میں بیٹھ گیا،،اب مجھے پیسوں کی پرواہ نہیں تھی،کرایہ گھر پہنچ کے جوسلین دے دی گی،،میں نے آنکھیں بند کر کے پیچھے ٹکا لی،،اور نازیہ کاسراپا میری آنکھوں کے سامنے آگیا،،گھبرا کے میں نے آنکھیں کھول دی، سبب جو ڈھونڈو گے--تو عمریں بیت جائیں گی کہا نہ ---یاد آتے ہو --تو بس یاد آتے ہو،
  6. میں نے ابھی پینٹ پہنی تھی کہ میرے ہاتھ وہیں رک گئے،پھر سوچوں میں ڈوبا شرٹ پہننے لگا،میں نے اپنی تربیت کی تمام تر صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے ہر اندازہ لگا لیا تھا ،سوائے اس ایک بات کے کیونکہ میرے اندازے کے مطابق جوسلین یہ کبھی نہیں کرے گی،استاد آخر استاد ہی ہوتا ہے اس نے بھی وہ بات کی جو میں سوچ بھی نہ سکتا تھا،بلکہ اس نے خود کو بھی امتحان میں ڈال لیا تھا ، کیا ہوا کیا تم یہ نہیں کرسکتے ؟ مجھے سوچا دیکھ کر جوسلین نے پوچھا،نہیں میں کچھ اور سوچ رہا تھا ، میں نے اپنے جوگر کے تسمے باندھتے ہوئے کہا میں جانتا تھا جوسلین کو پتہ ہے کہ میں کیا سوچ رہا ہوں ،اب تم ابھی نکل جاؤ ،جوسلین ایک سخت گیر استاد کی طرح بولی تو میں نے اپنی جیکٹ اٹھائی اور ایک لمحے کی دیر لگائے بغیر فلیٹ سے باہر نکل آیا ،باہر کہیں دور سے اذانوں کی آواز آرہی تھی،میں تو ایسی صبح سے انجان تھا ایڈریس ایک مڈل کلاس کالونی کا تھا۔ میرے پاس صرف دو دن تھے اور چار لڑکیوں کو چودنا تھا ،میں بھاگنے لگا ،اور جلد ہی میں روڈ پر پہنچ گیا جوسلین نے بائیک بھی نہیں لینے دی ،میں بھا گنے لگا ،مجھے پیچھے سے ایک موٹر سائکل کی آواز آئی ،میں نے مڑ کے دیکھا تو یہ ایک دودھی تھا جو شاید کہیں سے دودھ لینے جا رہا تھا ،میں نے ہاتھ دے کر اسے روکا بلکہ اس کے رستے میں کھڑا ہوگیا ،کی گل اے صاحب ،سویرے سویرے پیتی تا نہیں ہوئی، یار ساڈے رشتے دار بڑے بیمار نیں تے ایس ٹائم کوئی سواری وی نہیں ملنی تے جانا وی لازمی اے میں ،اوہنا نُوں آودا خون دینا اے ، اتوں یار میری گھڈی خراب ہو گئی اے،،تیری بڑی مہربانی مینوں بس اسٹاپ تے لا دے، اگے میں آپے چلا جاواں گا،،،،شخصیت کے اعتبار سے میں کسی بڑے گھر کا امیر زادہ دِکھ رہا تھا ، دودھی میری کہانی میں آگیا اور مجھے پیچھے بٹھا لیا،موٹرسائیکل بھاگنے لگی ساتھ ہی سوچیں بھی بھاگنے لگی ،جوسلین نے بڑا ہی غیر متوقع امتحان میں ڈال دیا تھا ،دو دن میں چار بہنوں کو چودنا ناممکن تھا ،وہ باہر نکلیں ،ان سے شناسائی ،ان کو پھنسانا ان کا اعتماد حاصل کرنا،پھر ان کو چودنا ،اس کیلیے بھی کوئی ایسی جگہ جہاں وہ اطمینان سے آسکیں ۔ یہ ایک وقت طلب طریقہ کار تھا ،اور وہ بھی ایک لڑکی کیلے نہ کہ چار لڑکیوں کیلیے ، اور چاروں ہوں بھی آپس میں بہنیں ،میں نے فیصلہ کیا کہ ان کے گھر میں گھسناپڑے گا،اور دو دن وہیں رہنا پڑے گا، پتہ نہیں وہ کیسے لوگ تھے ،مگر مڈل کلاس کی کالونی کی وجہ سے میں کچھ آئیڈیے لگا چکا تھا ۔ میرے مطلوبہ بس اسٹاپ پر دودھی نے مجھے اتارا تو میں نے اس کا شکری ادا کیا ،او کوئی گل نئی یار بند ای بندے دا دارو اے ،، اللہ کرے توہاڈا ،رشتے دار ٹھیک ہوجاوے ،وہ چلا گیا تو تھوڑی دیر میں بس آگئی ۔ گو کہ میں نے بسوں میں کبھی سفر نہیں کیا تھا لیکن یہ ایک مشہور بس اسٹاپ تھا اور یہاں بس ضرور آنی تھی،بس آگئی اور میں اس میں بیٹھ گیا،اس میں بس چند ہی سواریاں تھی، کرایہ ،،،کنڈیکٹر میرے سامنے تھا،میں نے بے اختیار جیب میں نے ہاتھ ڈالا لیکن وہاں کچھ نہیں تھا ،جوسلین نے بٹوہ اور موبائل بھی رکھ لیا تھا ،موبائل کی تو مجھے ابھی عادت نہیں ہوئی تھی ،بٹوہ نہ ہونے سے میں ایک لمحے کیلیے بھی فکرمند نہیں ہوا،اسٹوڈنٹ ،،،میں نے بڑے اعتماد سے کہا، ۔اس وقت اسٹودنٹ کا کیا کام تھا، لیکن میری پرسنالٹی کسی امیر زادے کی تھی اور اس معاشرے میں پیسے کو سلام تھا ،کنڈیکٹر مجھے گھورتا ہوا آگے چلا گیا۔ میرے ذہن میں لڑکیوں کو پھنسانے کی ساری باتیں تازہ ہونے لگی،چودائی کے شوق میں یا پیسے کیلیے ،پیسے کی ایک شکل دوستانہ بھی تھی جیسےتحفے تحائف اور ضرورتیں پوری کرنا، پتہ نہیں کون کون سی باتیں مجھے یاد آرہی تھیں ،اپنے مطلوبہ بس اسٹاپ پراتر کر میں بھاگنے لگا، میری رفتار اچھی خاصی تھی میں اگر منہ اندھیرے نکلا تھا تو اب صبح نظر آنی شروع ہوگئی تھی ،بھاگنا اس وقت ضروری تھا ،ویسے تو میرا سٹیمنا کمال کا ہوچکا تھا 15 منٹ بعد میں اپنی مطلوبہ کالونی کی مطلوبہ گلی میں داخل ہوچکا تھا ،ایڈریس اتنا واضح اور نشانیوں سے لکھا تھا کہ مجھے اسے ڈھونڈنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی،جس مکان کا ایڈریس تھا وہ بھی میری نظروں پر چڑھ گیا اس میں ایک باریش آدمی داخل ہورہا تھا ، میں پھر فوراً بھاگا ،میرے لیے تو یہ لاٹری سے کم نہ تھا مجھے اس کی توقع نہیں تھی ،میں تو کچھ اور ہی سوچے ہوئے تھا،باریش آدمی اندر داخل ہوا اور اب مڑ کہ دروازہ بند کرنے لگا ہو گا کہ میں بھرّا مار کے اندر داخل ہوگیا۔ باریش آدمی میری طرف غصے سے بڑھا ،میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی ، لیکن میں بڑی تیزی سے ہانپ رہا تھا میرا سانس اکھڑ رہا تھا اور میرے چہرے پر ڈر تھا، جیسے ہی وہ میری طرف بڑھا اور اس نے مجھے پکڑنا چاہا میں نیچے گر گیا ،میرا سانس اکھڑ گیا تھا ،باریش آدمی گھبرا گیا،اس نے کسی کو آواز دی ،پانی لاؤ ،،ایک لڑکی جلدی سے پانی لیکر آگئی وہ حیرانگی سے مجھے دیکھ رہی تھی، آنکھوں کی معمولی سی جھری سے میں سب دیکھ رہا تھا ،باریش آدمی نے پانی کے چھینٹے میرے چہرے پر مارے ،پھر چھینٹے مارے ،میں سانس روکے پڑا رہا،اتنے میں میرے ارد گرد تین لڑکیاں اور ایک عورت جمع ہوچکی تھیں ،اوہ میرے خدا اسے کیا ہوگیا ہے ،باریش آدمی گھبرا گیا، اس نے گھبراہٹ میں مجھ پر بقیہ گلاس کا سرد پانی پھنکا تو میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ،میں گہرے سانس لے رہا تھا ،بیٹھتے ہی میں پھر لیٹ گیا اور میرا سانس تیزی سے چل رہا تھا ،آرام سے بیٹا آرام سے سانس لو ،آہستہ آہستہ میرے سانس نارمل ہوتے گئے ،لیکن میرے چہرے پر اب بھی ڈر تھا اور میں گھبرایا ہوا تھا ،پلیز دروازہ بند کر دیں ،وہ مجھے مار دیں گے میں گھگیایا،عورت اور لڑکیوں کے چہرے پر میرے لیے ہمدردی تھی جبکہ باریش آدمی محتاط تھا ،ایک لڑکی نے جلدی سے دروازہ بند کر دیا ، کیا بات ہے بیٹا اور کون ہو تم ؟ میرے گھر میں ایسے کیوں آئے ہو اور تم اتنے ڈرے ہوئے کیوں ہو،کون تمھیں مار دےگا، باریش آدمی نے ایکدم اتنے سوالات کر دیئے ، اور میں سوچ رہا تھا کہیں یہ کسی مولوی کا گھر تو نہیں ،کیونکہ باریش آدمی کا حلیہ بالکل کسی مولوی جیسا تھا ،اور تمام گھر والے اس وقت جاگ رہے تھے ، مجھے میرا چاچا مار دے گا،پچھلے دنوں میرے والدین کا ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا ہے ،تب سے میرے چاچا نے مجھے اپنی حویلی کے تہہ خانے میں قید کر رکھا ہے ،میرے ابا کے ایک وفادار ملازم کی وجہ سے آج میں بھاگنے میں کامیاب ہوگیا تھا،رات کو بھاگا تھا ،میں سیدھا شہر کی طرف آگیا،مجھے ایک بائیک بھی مل گئی تھی ۔لیکن شہر تک پہنچنے کے بعد جانے کیسے وہ خراب ہوگئی ،اس دوران مجھے اندازہ ہوا کہ میرے چچا کو میرے بھاگنے کا پتہ چل گیا ہے ،کیونکہ کچھ لوگ میرے پیچھے تھے ،،انہوں نے میرا پیچھا تو کیا ،لیکن جب بائیک خراب ہونے کے بعد میں گلیوں میں بھاگا تو وہ مجھے نہ پا سکے ،میں تقریباً ایک گھنٹے سے بھاگ رہا ہوں،پلیز بزرگوار میری مدد کریں ،میری جان کو خطرہ ہے ،میں بہت ڈرا ہوا تھا ، باریش آدمی ،عورت اور لڑکیاں میرے ارد گرد بیٹھی تھیں ،اور میں فرش پر بیٹھا تھا،باہر سردی بھی تھی اور اب میری طبیعت نارمل بھی ہوگئی تھی،اسے میری باتوں سے میری کہانی کا بھی کچھ اندازہ ہوگیا تھا ،باریش آدمی نے لمبا سا سانس لیا، جیسے کوئی خود سے سمجھوتہ کر رہا ہو ۔ تمھارا نام کیا ہے بیٹا ،باریش آدمی نے پوچھا ،شہزادہ میں نے بے اختیار جواب دیا،پھر وہ مجھے لے کر ایک کمرے میں لے آیا ، میں مکان کا جائزہ لے چکا تھا گھر میں بس دو ہی کمرے تھے ،اور ایک باتھ روم جس پر ٹاٹ کا پردہ لگا ہوا تھا ،اور ایک جھونپڑی نما برآمدہ تھا جو بتا رہا تھا کہ یہاں کچن ہے،غربت صاف دکھ رہی تھی، عورت جو یقیناً اس کی بیوی تھی اور چاروں لڑکیاں بھی ہمارے ساتھ ہی کمرے میں آگئی،اچھا تو کون ہے تمھارا چاچا اور کہاں کے رہنے والے ہو تم ،میرے چچا کا نام ۔۔۔۔۔۔۔ ہے ،میں نے جوسلین کی وسیع و عریض جائیداد کے ساتھ والی جاگیر کے موجودہ مالک کا نام بتاتے ہوئے کہا،ان کی آپس میں دشمنی چل رہی تھی،اور پانچ قتل بھی ہوچکے تھے حالات ان کے خراب تھے، میں نے تفصیل سے ان کے بارے میں بتایا ،لیکن تم تو کسی گاؤں کے نہیں لگتے،باریش آدمی نے شک زدہ لہجے میں کہا،جی میں تو بچپن سے ہی بورڈنگ سکولز میں پڑھتا آرہا ہوں ،اب بھی ایچی سن میں فورتھ ایئر کے پیپر دے کر فارغ ہوا تھا کہ یہ مصیبت ٹوٹ پڑی ،میرے پاپا مجھے اس ماحول سے دور رکھتے تھے ،اسی لیے مجھے یہاں کی اتنی معلومات نہیں تھی اور میرے مما ،پاپا کے جانے کے بعد میں ان کے چنگل میں پھنس گیا، میرے ایک چچا جو کہ لندن میں رہتے ہیں بس میں نے ان سے رابطہ کرنا ہے اور پھر اس چچا کی خیریت نہیں ہے ،لیکن تمھارے یہ چاچا بھی تمھارے ساتھ ایسا سلوک کر سکتے ہیں باریش آدمی مشکوک تھا یا محتاط تھا لیکن لگتا تھا وہ کچھ دن مجھے اپنے گھر رکھنے پر رضامند ہوگیا ہے ،میرے لندن والے چچا میرے سگے چچا ہیں اور پھر ان کی بیٹی سے میری منگنی ہوچکی ہے ،اور اصل میں یہی بات تو میرے سوتیلے چچا کو بری لگی تھی،وہ اوباش فطرت ہیں ہوسکتا ہیں انہوں نے ہی میرے ماں باپ کو قتل کروایا ہو،ایکبار میں نے اپنے لندن والے چچا سے رابطہ کرلیا تو پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہمارے پاس بے شمار دولت ہے لیکن اس وقت میں مشکل میں ہوں ، پر میں آپ کو یاد رکھوں گا ،اچھا بیٹا میں تمھیں کچھ دن رکھ بھی لیتا ہوں تو تم اپنے چچا سے کیسے رابطہ کرو گے، وہ لندن میں ہے اور تم یہاں ،کوئی ٹیل فون نمبر یا کوئی اور رابطے کا ذریعہ ہے تمھارے پاس ؟ انکل ٹیلی فون نمبر تومیرے موبائل میں تھے وہ بھی وہیں رہ گیا ہے ،میرا ایک دوست ہے جو ایچی سن کالج میں میرا کلاس فیلو رہا ہے ،بہت اچھا دوست ہپے ، دراصل میں چچا کی قید سے فرار ہو کے آیا ہی اسی کا پاس تھا ،اس کے ذریعے میں اپنے چچا سے رابطہ کر لوں گا،لیکن ابھی اس کے پاس نہیں جا سکتا ،کیونکہ میرا چچا بھی جانتا ہے کہ وہ میرا اچھا دوست ہے اور میں اس کے پاس جانے کی کوشش کروں گا، تو وہ لوگ میرے اس دوست کے پاس ضرور جائیں گے یا اس کی نگرانی کریں گے،میں کچھ دن بس چھپنا چاہتا ہوں ،پھر میں اپنے دوست سے رابطہ کر لوں گا اور اسی کے پاس چل جاؤں گا،باریش آدمی نیم رضا مند تو پہلے ہی تھا ا ب اطمینان کر چکا تھا ،اسلیے اس نے مجھے وہیں رہنے کی اجازت دے دی،جاؤ تم لوگ ناشتہ وغیرہ تیار کرو،باریش آدمی نے لڑکیوں اور عورت سے کہا،جب وہ کمرے سے چلی گئی تو وہ مجھے مخاطب ہوا،دیکھو شہزادے بیٹا ۔ میں ایک مسجد کا پیش امام ہوں ، یہ چاروں میری بیٹیا ں ہیں اور ساتھ ان کی ماں ہے ،میرے گھر میں سخت پردہ ہے اور ہماری بچیاں غیر مردوں سے پردہ کرتی ہیں ،اسی لیے میں نے ان کومڈل سے آگے نہیں پڑھنے دیا،باقی تعلیم میں نے گھر میں ہی دینے کا فیصلہ کیا ہے ،تم اس گھر میں اچانک آئے ہو اور تم سے پردہ نہیں ہو سکا ،دوسرا میرے گھر میں اتنی جگہ نہیں ہے کہ تمھیں علیحدہ رکھ سکوں ،اسلیے تم یہاں رہو گے مگر ہم لوگ غیرت کے معاملے میں بہت سخت ہیں ، بس اس بات کا خیال رکھنا ،انکل آپ میری طرف سے بے فکر رہیں ،میں اپنے حالات کا مارا ہوا ہوں اور آپ کا احسان یاد رکھوں گا ،جب حالات بہتر ہوئے تو میں آپ کا حسان ضرور چکاؤں گا،میں ڈھکے چھپے لفظوں میں پہلے بھی مولوی کو لا لچ دے چکا تھا۔مولوی کی خاموشی بتا رہی تھی کہ وہ اس بات کی امید رکھتا ہے ۔ اگر میں امیر گھرانے کا فرد نہ لگتا اور جاگیر کی باتیں نہ کرتا تو آج اس گھر میں مشکل سے ہی جگہ بنا پاتا، اس معاشرے میں پیسے کو سلام تھا اور غریب کو دھکے تھے ،گو کہ میں نے فلمی کہانی سنائی تھی ،اور میں نے سنائی بھی اسلیے تھی کہ ہمارا معاشرہ اس کہانی کوقبول کرتا ہے ،ناشتہ ہم سب نے اکٹھے کیا ،میں نظریں جھکائے ناشتہ کرتا رہا،پھر مولوی تو سو گیا اور لڑکیاں کام کاج میں لگ گئی،گھر کے ماحول سے اور کچھ مولوی کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ یہاں پابند یاں زیادہ ہیں،گھر میں غربت ہے اور سہولتوں آسائشوں تو کیا ہونی عام ضرورتیں ہی بمشکل پوری ہوتی ہیں،میں بھی ایک چارپائی پر لیٹ گیا اور سوچنے لگا کہ اب کیا کروں ،مولوی کی بیٹیاں تو انتہائی خوبصورت تھیں ،گدڑی میں لعل چھپے ہوئے تھے ٍ،جوسلین نے یہ گھر بھی جان بوجھ کر ہی چنا تھا ،کیونکہ اس نے مجھے ہر طبقے کی پہچان کروائی تھی ،ان کی عادات مزاج ،اور رہن سہن ،ان کی ضروریات ،خوہشات اور نفسیات کے بارے میں بتایا تھا،لیکن اس مولوی طبقے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا،بلکہ اسے بھی ان کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا ،وہ تو تھی ہی کرسچئن ،اور میں بچپن کا تو پتہ نہیں لیکن اب تو کبھی اس طبقے کے نزدیک بھی نہیں گزرا تھا،لہذا یہ طے تھا کہ جوسلین نے جان بوجھ کر یہ امتحان در امتحان والی بات کی تھی۔ میں نے کچھ باتیں ذہن میں دہرائی اور باہر صحن میں نکل آیا،آرام سے لیٹے رہنے سے تو کچھ نہیں ہونا تھا،میں مولوی کی بیوی کے پاس جا کر بیٹھ گیا،بڑے مہذب انداز میں آنٹی آنٹی کرتے میں نے اس سے بات شروع کی،وہ جھجک رہی تھی،لیکن مجھے گفتگو میں ملکہ حاصل تھی ،یہ ہونہیں سکتا تھا کہ کوئی میری باتوں کے جال سے بچ سکے،یہ بھی ایک فن تھا،جیسے کہ سامنے والے کی بات کرو ،اپنی نہ کرو،میں نے غربت اور شوہروں کے حوالے سے کچھ باتیں کی تو وہ مجھ سے کھلنے لگی،آنٹی مجھے تو لگتا ہے یہ گھر چلتا ہی آپ کے دم سے ہے،آنٹی اتنے مشکل حالات میں آپ یہ سب کیسے کر لیتی ہیں،آنٹی میری مما بھی با لکل آپ جیسی تھیں،آنٹی لگتا ہے مولوی صاحب نے آپ کی قدر نہیں کی ہے ، بس آنٹی پگھل چکی تھی۔ آنٹی میں جب اپنے چچا کے پا س پہنچ جاؤں گا توآپ کیلیے بہت سے اچھے سوٹ اور گفٹ بھیجوں گا،میرے لیے کوئی گولڈوغیرہ کوئی مسلہ نہیں ہے،نہیں شہزادے بیٹا ہمیں کچھ نہیں چاہیے،بس خدا کرے تم ان مشکلوں سے نکل جاؤ،مولوی کی بیوی نے اوپری دل سے کہا تو مجھے یقین ہو گیا کہ مچھلی نے چارہ نگل لیا ہے،آنٹی آپ کی بیٹیاں تو میری بہنیں ہوئی لیکن مجھےتو ان کے نام بھی نہیں معلوم،آنٹی نے اپنی بیٹیاں کو بلایا،یہ تمھارا بھائی ہے ،سمجھی،،، اسے گھر میں کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے،شہزادے بیٹا، یہ شازیہ ہے ،یہ میری بڑی بیٹی ہے ،یہ نازیہ ہے اس سے چھوٹی،اور اس کےبعد یہ سعدیہ اور یہ رافعہ سب سے چھوٹی ہے،وہ مجھے سلام کرنے لگی،میں ان سے ان کی پڑھائی کی باتیں کرنے لگا،وہ شرماتی لجاتی تھوڑا بہت جواب دینے لگی،رافعہ میٹرک کی تیاری کر رہی تھی جبکہ شازیہ اور سعدیہ ایف کر کے آگے پڑھائی چھوڑ چکی تھیں،،لیکن نازیہ آگے پڑھنا چاہتی تھی،اور اس وقت تھرڈ ائیر میں تھی،سب سے خوبصورت بھی ان میں سے نازیہ ہی تھی ان کو مولوی خود پڑھاتا تھا،مڈل کرنے کے بعدسب ہی اوپن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر ہی تھیں اور گھر میں دینی تعلیم اور اس کے ساتھ گھر کے کام کاج،لڑکیوں کی بس یہی زندگی تھی، کوئی زندگی میں رنگینی نہیں تھی ،میں نےباتوں میں ان کے اچھے انداز اور تربیت کی تعریف کی،اور لچھےدار باتوں میں ان کو لپیٹنے لگا، ،اپنے کالج کی باتیں،دولت کے قصے ،میرا باتوں کا مرکز دولت تھا جس کا ان کو لالچ دے رہا تھا۔ جب کچھ ماحول بن گیا اور اجنبی پن دور ہوتا گیا تووہ بے جھجک باتیں کرنے لگی،وہ مجھ سے میرے بارے میں سوالات کرتی رہیں،میں اپنی امارت کے قصے سناتے ہوئے انہیں مرعوب کرتا رہا،مزید کچھ ماحول بن گیا تو میں بے تکلفی طرف بڑھا اور کچھ لطیفے اپنے گاؤں کا نام لیکر سنا ڈالے،وہ ہنسنے لگی،میں نے ان کی ماں کو بھی گفتگو میں شامل رکھا،اور گاہے بگاہے کہہ دیتا کہ میں اپنی ماں بہت کچھ بھیجوں گا،اور تو اور میں نے لمبی ہی چھوڑ دی کی میں اپنی ماں کو لندن ہی بلوا لوں گا،لیکن یہ بات بھی چل گئی،سچی بات ہے دولت میں بڑی کشش ہے، غربت بھرے ماحول میں لڑکیوں کی خواہشیں کیا پوری ہونی تھی اب تو بس حسرتیں تھیں،اور میں ان خواہشوں کو جگانے لگا،اچھا پہننا لڑکیوں کی کمزوری ہے،اسی طرح سراہا جانا ،کوئی ان کی تعریف کرے ان کو چاہے،تقریباً تین گھنٹے تو ہمیں گپیں مارتے ہو گیا تھے،لڑکیاں کچھ بے تکلف تو ہوگئی تھیں اب مجھے لگا کہ منزل پاس ہی ہے،لڑکیاں میرا بڑھا ہاتھ نہیں روکیں گی،خاص کر نازیہ پر میری نظر ٹک گئی تھی،بلا کی خوبصورت اور جوانی تھی اس پر ،،،مولوی صاحب اٹھ گئے ،لڑکیاں فوراً کام کاج میں لگ گئیں،اور تو اور مولوی کی بیوی ایسے بیٹھی تھی جیسے ابھی اس کی میری علیک سلیک ہوئی ہے،مجھے ایسے لگا جیسے بنا بنایا ماحول خراب ہو گیا،اور یکدم مجھے اندازہ ہوا کہ یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے،ماحول پر مولوی چھایا ہوا ہے اور اس کی پابندیاں ذہنوں میں گھسی ہوئی ہیں،،بیٹا کہیں باہر نہیں جانا تم،مولوی نے مجھے ہدایت کی اور خود منہ ہاتھ دھو کر باہر نکل گیا،اب یہ دوپہر کی نماز پڑھا کر آئیں گے،مولوی کی بیوی نے ہنستےہوئے کہا،اس کا ہنسنا عجیب تھا،شاید ابھی وہ جو انجان بن گئی تھی اس کا ازالا کر رہی تھی،تو مولوی صاحب اب کیا کریں گے،اب وہ حفظ والے بچوں کو پڑھائیں گے،ان کے ساتھ ایک بڑے قاری ہیں، ان کو مدرسہ انتظامیہ نے وہیں مکان دیا ہوا ہے،کاش ہمیں بھی وہیں مکان مل جاتا تو ان کرایوں سے تو جان چھوٹتی، مولوی کی بیوی نے حسرت سے کہا۔ کہاں کی بات تھی وہ کہاں لے گئی،یا وہ مجھے اپنا دکھڑا سنا رہی تھی،بیماری ظاہر کرنا، گھر کے کام کاجوں میں خود مصروف ظاہر کرنا جیسے ان کے بغیر گھر ہی نہیں چلتا،غربت کو رونا اور دوسروں کو ڈسکس کرنا،یہ عورتوں کی خاص عادتیں تھیں،خیر مولوی چلا گیا تھا اور ایک بار پھر میرے لیے میدان خالی تھا، لڑکیوں میں سے ایک صفائی کررہی تھی،ایک برتن دھو رہی تھی، دوسری کمروں میں کچھ بستر وغیرہ سمیٹ رہی تھی،آج تو میری وجہ سے ان کو دوپہر ہی ہوگئی تھی،شازیہ جو سب سے بڑی تھی وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئی،میں نے اس سے باتیں شروع کر دیں،اب میں اسے نظروں سے ٹٹول رہا تھا کہ وہ سیکس میں دلچسپی رکھتی ہے کہ نہیں،،دولت کی کشش تو میں دکھا چکا تھا،میری پرسنالٹی ان کو نظر آرہی تھی،اور کشش تو ان پر اثر انداز ہو ہی رہی تھی،لیکن شازیہ کے چہرے پر معصومیت تھی،میں نے یہ اندازہ لگانا تھا کہ وہ سیکس میں دلچسپی رکھتی ہے کہ نہیں،اور مجھے لگ رہا تھاکہ نہیں وہ ایسی کوئی بات نہیں سمجھتی تھی،ان کے گھر میں کیبل وغیرہ تو کیا ہونی ،ٹی وی ہی نہیں تھا،بلکہ گھر میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس سے باہر کی دنیا کا کچھ آسکے،باتوں میں باتوں میں ان کی دوستوں کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا ،مولوی ایسی باتیں پسند نہیں کرتا اور کہیں آنے جانے پر پابندی ہے،شروع شروع میں کچھ کلاس فیلو آئی تو مولوی کے رویے نے ان کو دوبارہ نہ آنے پر مجبور کر دیا،ہمسائیاں بھی آتی ہوئی گھبراتی تھیں ،مولوی کی تقریریں شروع ہو جاتی تھیں،شاید مولوی یہ جان بوجھ کرکرتا تھا،وہ یہاں کا ڈکٹیٹر (آمر)تھا،۔ شازیہ کھلتی جا رہی تھی،کسی غلطی پر ابا بہت مارتے ہیں،،، مجھے تو بہت ڈر لگتا ہے ان سے،میں نے مولوی کی بیوی کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے سے اندازہ ہوا کے معافی اسے بھی نہیں ہے،(بڑا شدّت پسند مولوی تھا)اب مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ ایک نہات مشکل ٹارگٹ ہے باہر کی دنیا سے اگر یہاں کچھ آتا نہیں تو لڑکیوں کو سیکس کا کیا پتہ ہو گا،محبت اور پیار کے بارے میں کیا جانتی ہوں گی،الیکڑانک میڈیا ،سکولز،کالج،اور دوستیاں یہی تو وہ سب دروازے تھے جن سے سیکس کا پتہ چلتا ہے۔خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے،اور مولوی نے یہ سب دروازے بند کیئے ہوئے تھے۔اب دیکھنا یہ تھا کہ لڑکیاں پابندیوں بھری زندگی سے اکتائی ہوئی ہیں،یا ان کے ذہنوں میں بھی مولوی کے خیالات ٹھنسے ہوئے ہیں،میں چاہتا تھا کہ ان کی ماں کہیں آس پاس ہو اور میں کچھ اگلی باتیں چھیڑوں،آنٹی آپ کھانا دوپہر کو بناتی ہیں یا شام کو،،بیٹا ہمارے گھر میں کھانا نہیں پکتا،مدرسے میں طالبعلموں کیلیے کھانا پکتا ہے تو وہ بڑے قاری اور ہمیں بھی ملتا ہے،بات بات میں بڑے قاری سے تقابل شاید ان کی عادت تھی،یا ان کےاسٹیٹس کا معیار ہی بڑے قاری تھے،اور آج تو ویسے ہی جمعرات ہے دیکھنا کتنا کھانا آتا ہے شام کو،شازو نادر ہی ہم لوگ کھانا پکاتے ہیں،میں سوالات کر رہا تھا کہ ان کے گھر شام کو کھانا کیوں آنا ہے کہاں سے آنا ہے،،اس طبقے سے میری واقفیت ہو رہی تھی،باقی بہنیں بھی ہمارے پاس آ کہ بیٹھ گئی تھیں،ان کا رویہ ایسے ہی تھا جیسے ہماری احساس کمتری کی ماری قوم کا کسی گوری چمڑی والے کے ساتھ ہوتا ہے،یا کسی دیسی انگلش بولنے والے کے ساتھ ہوتا ہے،لوگ ہمیں ختم پڑھنے کیلے کھانا دے جاتے ہیں ،شازیہ ہی باتیں کرتی تھی مجھ سے،اور یہ ختم کیا ہے،میں نے پوچھا ،وہ اپنے علم کے مطابق مجھے سمجھانے لگی،ہم نہ ان سب کھانوں کو اکٹھا کردیتے ہیں، پھر ایسا ذائقہ بنتا ہے تم دیکھنا انگلیاں چاٹتے رہ جاؤ گے،نازیہ نے بڑے فخر سے کہا،عجیب زندگی تھی ان کی،ہر طبقے کی اپنی نفسیات ،ہوتی ہے ،ان کا رہن سہن،ان کی ضرورتین،خواہشات ،ان کا اسٹیٹس،جیسےڈاکٹروں کا ماحول ہے،حجاموں کا ماحول ہے،اسی طرح مولویوں کا ماحول سب سے علیحدہ ہے، بعد میں اس طبقے کابھی میں نے مطالعہ کیا،انہوں نے نظریات کی بنیاد کو سمجھے بناء لکیر کے فقیر بننا ہوتا ہے،اکثریت ان میں پابندیاں اور سختیاں ہیں ۔ میرا واسطہ بھی ایسے لوگوں سے پڑ چکا تھا،صحن میں خوب دھوپ آ گئی تھی ،اور کسی کا اٹھنے کا کوئی موڈ نہیں تھا،سردیوں میں بھرپور دھوپ کا مزہ لیا جا جا رہا تھا سستی سی ہو رہی تھی،وہیں شازیہ گنّے لے آئی یہ بھی کوئی دے گیا تھا،گنے کو ایک طرف سے پکڑ کر منہ سے چھلکا پکڑا ،اور اسے چھیلا ،کچھ چوسا پھر پھینک دیا،اس طرح گنے کی ایک پوری چھیلی اور دانتوں سے ہی گنڈیری کاٹ کر چوسی پھر دوسری ،وہ گنا کھانے میں ماہر تھی اور میں اناڑی تھی،وہ مجھے دیکھ کر ہنسنے لگی،بہرحال میں بھی گزارا کر ہی گیا،ماحول بے تکلفانہ اور گھریلو سا ہوگیا تھا،ابھی تک سیکس کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی،جبکہ مجھے چاروں کوچودنا تھا۔اتنا ہو گیا تھا کہ میں ان کے گھر میں تھا اور اب اس سخت موحول والے لوگوں میں بے تکلفی سے باتیں کر رہا تھا،مولوی کی بیوی سایہ بنی ہوئی تھی،اسے کسی طرح آگے پیچھے کرنا تھا لیکن اس دھوپ میں اس کا ہلنے کا کوئی موڈ نہیں تھا،اتنا ہوا کہ وہ چارپائی پر لیٹ گئی ،پھر اونگھنے لگی،ہم دو چارپائیوں پر بیٹھے تھے ،خود بخود ہماری آوازیں دھیمی ہوگئی،اب میں کچھ کھلنے لگا،بے تکلفی کے ماحول میں ان سے لطیفوں کا سہارا لیکر کچھ باتیں کی،لیکن جیسے وہ لفظ سیکس سے ہی نا آشنا تھی،چھچھورا پن،اور گھٹیا انداز لڑکیاں ویسے بھی پسند نہیں کرتی تھیں،لیکن اگر میں کرتا بھی تو پھر یہاں رہنا مشکل ہوجانا تھا،دھیرے دھیرے میں اپنی بات اشاروں کنایوں میں کہتا رہا ،میں انہیں پرکھتا رہا،سمجھتا رہا ،لیکن وہاں سیکس سے دلچسپی کے کوئی آثار نہیں تھے،دلچسپی کیا،وہ تو جیسے لفظ سیکس سے ہی ناآشنا تھیں،، میں نے جیکٹ اتار دی تھی،دھوپ میں اچھا لگ رہا تھا، اب میں نے ان کے جسموں کو گھورنا شروع کر دیا میں ان کا ردّ عمل دیکھنا چاہتا تھا،لڑکیوں کا ریڈار اس معاملے میں بہت حساس اور تیز ہے ،کچھ ہی لمحوں میں وہ یہ محسوس کر کے بے چین ہونے لگی،شازیہ تو کام کے بہانے فوراً اٹھ گئی،میں بھی باتھ روم میں چلا گیا،باتھ روم کے ٹاٹ کے پردے سے میں ان کو دیکھتا رہا،وہ کافی سخت تھیں کیونکہ اب وہ آنکھوں سے ایکدوسرے سے بات کر رہیں تھیں اور پھر سب سے چھوٹی رافعہ کے سوا سب اٹھ گئی،بڑا ہی سخت رد عمل دیا تھا انہوں نے ،مجھے بنا بنایا ماحول خراب ہوتا محسوس ہوا،میں باتھ روم سے نکلا تو رافعہ سے دلچسپ باتیں کرنے لگا،میں نے لندن کی باتیں چھیڑ دیں،ایک قصہ گو کی طرح مجھے یہ فن بھی آتا تھا،کچھ ہی دیر میں باقی بہنوں کے کان بھی کھڑے ہوگئے تھے وہ میری کہانی نما باتوں میں دلچسپی لے رہی تھیں۔ میرے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے کوئی بہت معصوم ہو،اور میری آنکھیں جھکی ہوئی تھی،نازیہ میرے پاس آکہ بیٹھ گئی،لیکن میں نے آنکھیں نہ اٹھائی،اور باتیں گھما پھرا کہ کہیں سے کہیں لے گیا وہ جیسے یہیں بیٹھی دنیا گھوم رہی تھیں،یہ سب ان سفر ناموں کا کمال تھا جو میں نے پڑھے تھے،خاص کرمستنصر حسین تارڑ کو سفر ناموں میں ملکہ حاصل تھی،اس کے سفر نامے پڑھ کے دل کرتا تھا کہ میں بھی شمالی علاقوں میں نکل جاؤں،ان کا پیرس کے سفر سے ماخوذ ناول ،پیار کا پہلا شہر ،،جب میں نے پڑھا تو میں اس ناول کا گرویدہ ہو گیا،پاسکل اور سنان کی دوستی اور علیحدگی ناول کا مرکزی خیال ہے۔ اور ناول پڑھ کے مجھے بھی ناول کی ہیروئین پاسکل سے پیار ہوگیا اس ناول نے چند سالوں میں چھپنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ایک منفرد اور یادگار ناول کے طور پر یہ ماسکو یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں بطور سلیبس شامل ہے۔آج بھی پیار کا پہلا شہر میرے یادوں میں نقش ہے،بعد میں ایسی تحریری جادو میں نے علیم الحق حقی کی حج اکبر میں دیکھا اور میرے پسندیدہ لکھاریوں علیم الحق حقی بھی شامل ہوگئے ،کبھی یہ علیم شام کے نام سے جانے جاتے تھےاور شاعری بھی کرتے تھے مشہور ترین شعر ،،،،،کسی کو اتنا نہ چاہو کہ پھر بھلا نہ سکو ،،،،،،،یہاں مزاج بدلتے ہیں موسموں کی طرح ،،،، علیم الحق حقی کا ہی ہے ،،یادیں ایسی ہی ہوتی ہیں ،میں بھی ان میں بہتا کہاں سے کہاں پہنچ گیا،سچی بات تو یہ کہ اتنی یادوں میں یہ کہانی لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے، چلو اک نظم لکھتے ہیں کسی کے نام کرتے ہیں مگر اب سوچنا یہ ہے، کہ اس میں ذکر کس کا ہو اس میں بات کس کی ہو اس میں ذات کس کی ہو، اور یہ بھی فرض کرتے ہیں، کہ جس پہ نظم لکھتے ہیں اس سے محبت کرتے ہیں ہمارے سارے جذبوں کو بس اسکی ہی ضرورت ہے اظہار کی خاطر اک نظم کی حاجت ہے، چلو اک کام کرتے ہیں کہ ہم جو نظم لکھتے ہیں تمھارے نام کرتے ہیں تمھی عنوان ہو اسکا تمھارا ذکر ہے اس میں تمھاری بات ہے اس میں تمھاری ذات ہے اس میں پھر کہانی کی طرف آتے ہیں،آہستہ آہستہ سعدیہ اور پھر شازیہ بھی میرے پاس آکر بیٹھ گئی، میں آنکھیں نیچی کیے لگا رہا اور جب ماحول میں وہی اعتماد واپس آگیا تو میں نے بات ختم کر دی،اور ان کو بولنے کا موقع دیا،وہ سولات کرتی رہیں،اور میں ایسے ہی بتاتارہا جیسے میں خود ساری دنیا گھوما ہوں،میں نے یہی محسوس کروایا کہ جو ابھی میں ان کے جسموں سے حظ اٹھا رہا تھا وہ بس ان کا واہمہ تھی،باتیں ان سے کر رہا تھا اور ذہن سوچوں کے ادھیڑ بن میں تھا کہ کیسے ان کو چدائی کی طرف لاؤں،یہ طے تھا کہ وہ سیکس سے انجان تھیں،اور نسوانی غیرت سے بھری ہوئی تھی،اس ماحول اور مولوی نے ان کے ذہنوں کو جکڑا ہوا تھا وہ ایک حصار میں رہتی تھیں ،جس میں داخلہ مشکل نظر آرہا تھا،سارا دن ہی باتوں میں گزر گی اتھا دوپہر ہوگئی تھی اور اذانیں ہونے لگی،مولوی کی بیوی اٹھ بیٹھی اور سب وضو کر کے نماز پڑھنے لگی، میرے لیے یہ ماحول ایساتھاجیسے بچپن کی کوئی یاد ہو۔۔۔ مجھے بے چینی ہونے لگی،میں جوسلین کے ساتھ یہ سب بھول گیا تھا،میں جتنا بھی برا تھا مجھے اپنی بنیاد نہیں بھولنی چاہیئے تھی، میں نے خود سے عہد کیا کہ کم از کم اپنی بنیادیں ضرور قائم رکھوں گا،میں نگینہ کا ڈسا ہوا تھا اور میں نے عہد کیا تھا کہ اس دنیا کو شہزادہ چاہیے تو اسے شہزادہ ہی ملے گا،لیکن اب سوچ رہا تھا کہ ایک انسان کا بدلہ سب سے نہیں لینا چاہیئے ،سیکس اسی سے کروں گا جو اپنی مرضی سے آئے گی،زبردستی مجھے اچھی نہیں لگی تو کسی کے ساتھ زبردستی کیوں کروں،،، بدلہ صرف نگینہ سے ہی لینا ہے،،۔ چاہے جو مرضی ہو جائے جتنی عمر بھی بیت جائے،میں نے فیصلہ کیا کہ اب جوسلین کوساری بات بتا کر اس کی مدد چاہوں گا ،مجھے نگینہ چاہیے ہر صورت میں چاہیئے ،، آدھے گھنٹے تک مولوی آگیا ۔ مولوی کے آنے سے ماحول بدل گیا،سب اپنے اپنے دھیان ہوگئے،مولوی اپنے ساتھ کھانا بھی لایا تھا،کھانا کھا کر مولوی تو قیلولہ کرنے کیلیے لیٹ گیا،اس کی بیوی بھی وہیں کمرے میں تھی،لڑکیاں صحن میں تھیں،یا دوسرے کمرے میں،میں نے محسوس کیا لڑکیاں اب والدین کے کمرے میں نہیں جا رہی بلکہ اس طرف ان کا دھیان ہی نہیں تھا،شاید یہ مولوی کا روزمرّہ کا معمول تھا،نازیہ میرے ساتھ دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ بے تکلف ہوگئی تھی ،اگر ماحول کا دباؤ نہ ہوتا تو اس نے چلبلی اور شوخ و چنچل ہونا تھا،باپ نہیں تو ہوتا تھاتو وہ کچھ نٹ کھٹ حسینہ بن جاتی تھی،نازیہ دوسرا کمرہ شاید تم بہنوں کا ہے ،مجھے اپنا کمرہ نہیں دکھاؤ گی،ضرور آؤ نہ کمرہ دکھاؤ ،ویسے ہمارے کمرے میں دیکھنے کو ہے ہی کیا،نازیہ افسردگی سے بولی،شاید میری باتوں کا اس پر اثر ہوگیا تھا،اور اسے اپنے ماحول سے بے زاری ہورہی تھی،میں یہی چاہتا تھا کہ وہ اس ماحول کے اثر سے نکلے،کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نازیہ سے ٹکرایا جیسے مجھے کمرے میں داخل ہوتے ہی ٹھوکر لگی ہو،میں نازیہ کی کمر سے ٹچ ہوا ،، نازیہ کو جیسے کرنٹ لگا،اب وہ مجھ سے فاصلے پر کھڑی تھی اس کے چہرے پر شرماہٹ تھی تو آنکھوں میں شکوک کی پرچھائیاں،کچھ ہی دیر بعد وہ کمرے سے باہر نکل گئی اور اب میرے ساتھ رافعہ تھی، کمرہ لمبائی پر مشتمل تھا اور پیچھے کی طرف جستی پیٹیاں تھیں،ان میں بستر وغیرہ پڑے ہوتے ہیں،وہاں 4 چارپائیاں پڑی تھی،دو ایک طرف کی دیوار سے لگی تھیں اور دو دوسری طرف کی دیوار سے لگی تھیں، دو کرسیاں اور ایک میز تھا،دیوار پر چھوٹے فریم کا شیشہ لگا ہوا تھا،جو کہ ایک لکڑی کی میخ سے ٹنگا ہوا تھا،بس اور کچھ نہیں تھا،میں وہیں ایک چارپائی پر لیٹ گیا،رافعہ میرا موڈ دیکھ کر باہر چلی گئی،،میں سوچنے لگا کہ اب کیا کروں ،،،لڑکیاں کسی بھی طرح مجھے سیکس کی طرف مائل نہیں لگتی تھیِ،پھر وقت کم تھا اتنے کم وقت میں ایک لڑکی تیار نہیں ہو سکتی او ر یہاں 4 لڑکیاں تھیں۔ بفرضِ محال اگر میں تین کو بھی چود لوں اور ایک کو نہ چود سکوں تو میں اس ٹیسٹ میں فیل تھا ،یہاں تو ایک بھی تیار نہیں تھی،کوئی ایسی لڑکی ہوتی جو چودائی کر چکی ہو،یا شادی شدہ ہو تو اس کو پھنسانا آسان تھا بنسبت ان کنواری لڑکیوں کے،سب سے بڑی رکاوٹ مجھے ان کا ماحول لگ رہا تھا،ان کی تربیت لگ رہی تھی،جس نے ان کے ذہنوں کو جکڑا ہوا تھا،وہ لکیر کی فقیر ادھر سے ادھر نہیں سوچ سکتی تھی،اور مولوی کا ڈر ان کے دلوں میں بیٹھا ہوا تھا۔سوچ سوچ کے دماغ درد کرنے لگا،لیکن کوئی حل سمجھ نہ آیا،کتنی دیر گزر گئی کوئی لڑکی بھی کمرے میں نہ آئی،،میں نے نازیہ کی باتوں سے اسے تھوڑا آگے کرنے کیلیے بہانے سے چھوا تھا ،اور اب اس بات کا الٹا اثر ہوا تھا ،وہ بدک کر دور ہو گئی تھی،اسی ادھیڑ بن میں سہہ پہر ہوگئی مجھے محسوس ہوا کہ مولوی باہر چلا گیا ہے تو میں پھر صحن میں آگیا،لڑکیاں مجھے لاتعلق سی محسوس ہوئیں،،، یقیناً نازیہ نے باقی بہنوں کو بھی بات بتا دی تھی،جو ذرا سا حادثاً چھوئے جانے سے اتنا ردِّ عمل دے رہی تھیں تو وہ چودائی پر کیسے راضی ہوتیں، حالانکہ میری اداکاری کمال کی تھی اور شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی،،میں دوبارہ ہمت کر کے ان کی ماں کے پاس ہی بیٹھ گیا،ان کی ماحول کا توکوئی توڑ نظر نہیں آرہا تھا ،میں نے پھر غربت کو نشانہ بنایا اور ایسی باتیں کرنے لگا کہ وہ بھی گھر بیٹھے پیسے کما سکتی ہیں،میری باتوں کا مقصد بس لڑکیوں کو متوجہ کرنا تھامیں اِدھر اُدھر کے منصوبے بتانے لگا،کوئی منصوبہ کام کا نہیں تھا لیکن دلکش لگتا تھا،نہیں بیٹا سب کر کے دیکھ لیا،،مولوی صاحب نہیں مانتے،وہ کہتے ہیں،عورت گھر کی عزت ہے اور گھر سنبھالنے کیلیے ہے اسے کام نہیں کرنا چاہیئے،نہیں تو سلائی کا کام تو میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں ،اور بڑے قاری صاحب کی بیوی مجھ سے ہی کپڑے سلواتی ہے،لیکن مولوی صاحب مجھے کسی اور کے کپڑے نہیں سینے دیتے،،امیّ آپ گھر میں ٹیوشن اکیڈمی کھول لیں،،،لو بیٹا میں انپڑھ اب کسی کو کیا پڑھاؤں گی،آپ نہیں امیّ جان،،یہ پڑھائیں گی بچوں کو ٹیوشن ،سب ہی پڑھی لکھی ہیں،پھر کالونی والے آپ پر اعتماد کرتے ہیں،آپ کے پاس اپنے بچوں کو ضرور بھیجیں گے،لڑکیوں میری طرف متوجہ ہوگئی تھیں۔ لیکن بیٹا مولوی صاحب نہیں مانیں گے، امیّ جان متفکر تھیں۔ آپ لوگ گھر میں سیپارے وغیرہ پڑھائیں،اور پھر آہستہ آہستہ جب مولوی صاحب کو اعتماد ہوجائے تو یہ ٹیوش پڑھانے لگ جائیں،شازیہ اور سعدیہ بھی میرے پاس آ کر بیٹھ گئیں،رافعہ تو جیسے پہلے ہی انتظار میں تھی،لیکن نازیہ میرے پاس نہیں آئی،فوراً تجویزیں شروع ہو گئیں،پر ابا کو کیسے منائیں،وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوں گے،بھئ کوئی دلیل دو نہ ان کو،جو انہوں نے ہی تم کو بتائی ہو، یہ بات تو ٹھیک ہے وہ اکثر علم حاصل کرنے پر کئی باتیں بتاتے ہیں،جو انہی کو بتائی جا سکتی ہیں، شازیہ نے گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا ،،میری بلا سے مولوی مانے یا نہ مانے،گپ شپ پھر شروع ہوگئی تھی،آپ سب مولوی صاحب سے کہیں کے علم کی شمع سے ہی شمع جلتی ہے اور اس کام کو روکنا تو ظلم ہے ،،یہ بالکل ٹھیک ہے سعدیہ اور شازیہ پرجوش ہوگئی،لیکن مجال ہے جو نازیہ نے تھوڑی سی توجہ دی ہو، لڑکیاں پرجوش ہوگئی،دولت آتی کسے اچھی نہیں لگتی تھی،شام ہو رہی تھی،چھوٹے چھوٹے بچے گھر میں آنے شروع ہوگئے ، کوئی کچھ دے رہا تھا کوئی کچھ لا رہا تھا ،میں کمرے میں جا کر بیٹھ گیا،سورج ڈوبنے کے بعد مولوی پھر آگیا ،اب سارا آیا ہوا سالن ایک ہی جگہ اکٹھا کیا گیا اور کھانا شروع کیا گیا ،عجیب سواد تھا اس میں لیکن تھا مزیدار ،ایسا سواد پھر کبھی کہیں نہیں ملا،کھانا پینا کھا پی کے مولوی لیٹ گیا،کچھ باتیں ہوئیں ،مولوی کو اذان نے پھر بلا لیا،سردیوں کی شامیں تھیں اور محسوس ہو رہا تھا کہ مولوی کے گھر میں رات ویسے بھی جلدی ہوجاتی ہے،میں سوچ رہا تھا کہ اب کہاں سوؤں گا،مولوی کے کمرے میں یا لڑکیوں کے کمرے میں،دن گزر گیا تھا اور اب میں ناامید ہو رہا تھا ،لیکن اگر لڑکیوں کے کمرے میں سونے کا موقع مل جائے تو کچھ مزید کوشش ہوسکتی تھی،نازیہ مجھ سے کچھی کچھی سی تھی ہم سب مولوی کے کمرے میں بیٹھے تھے اورباتیں کر رہے تھے،باتیں ہی وہ دستک ہیں جودلوں کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں،ان کی ماں کے ہوتے ہوئے میں انہیں کی باتیں کرتا تھا لیکن غیر محسوس طور پر انہیں اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، آٹھ بجے مولوی آگیا،اب وہ کہیں جانے والا نہیں تھا لڑکیاں کچھ دیر میں اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی،میں وہیں بیٹھا رہا،کچھ لمحوں بعد شازیہ دروازے پر آئی اور اس نے مجھے اشارے سے بلایا ،،میں باہر گیا تو وہ مجھے کمرے میں لے گئی،وہاں ایک اضافی چارپائی آگئی تھی جو کہ یقیناً میرے لیے تھی،شہزادے وہ آپ کا بستر ہے،آپ یہیں سویا کریں گے،شازیہ نے اپنے بستر میں گھستے ہوئے کہا، میں چپ چاپ بستر پر لیٹا اور رضائی اوپر لے لی،مجھے سمجھ نہیں آئی کٹر مولوی مجھے اپنی بیٹیوں کے کمرے میں سلانے پر کیسے رضامند ہو گیا،یا تو اسے مجھ پر اعتماد ہو گیا تھا ،یا کوئی اور بات تھی،لڑکیاں خاموش اپنے بستر پر لیٹی تھیں،، ان کے پاس ٹی وی نہیں تھا لیکن،میں تو انہیں کچھ کہہ سکتا تھا، ویسے جتنی باتیں آج کی تھیں اتنا تو میں کبھی نہیں بولا تھا ،،کیا بات ہے بھئی سب چپ چپ ہو،؟ کیا ایسے ہی سو جاتی ہو اتنی جلدی ،آپ کب سوتے ہیں،شازیہ نے پوچھا ،بھئی مجھے تو ایک بج ہی جاتا ہے،اتنی دیر آپ کیا کرتے ہیں ،بس ٹی وی فلمیں ،کمپیوٹر ،یا دوستوں سے گپ شپ،میں نے وہ بتایا جو انہیں سمجھانا چاہتا تھا،ہم جلدی نہ سوئیں تو ابا غصے ہوتے ہیں،مارتے بھی ہیں،پھر صبح جلدی اٹھنا ہوتا ہے نہ، اسلیے نیند پوری کرنے کیلیے جلدی سو جاتی ہیں ہم،سعدیہ بولی،آپ فلمیں بھی دیکھتے ہیں ،شازیہ نے حسرت سے کہا،ہاں بھئی تم لوگوں نے کبھی کوئی فلم نہیں دیکھی ؟ ایک دفعہ شازیہ باجی ہمسایوں کے گھر ٹی وی دیکھنے چلی گئی تھی ،ابا کو پتہ چل گیا،پھر ابا نے باجی کو اتنا مارا کے باجی بے ہوش ہوگئیں،سعدیہ ہی اب بات کر رہی تھی،نازیہ تو جیسے روٹھ ہی گئی تھی،اچھا اگر میں تم لوگوں کو ابھی کوئی فلم دکھاؤں تو ،،ابھی شازیہ اور سعدیہ اکٹھی بولی ،ابھی کیسے ،بھئی میں نے جو فلم دیکھی ہے میں تمھیں اس کہانی سنا دیتا ہوں سمجھ لینا تم نے بھی فلم دیکھ لی ہے ،اچھا تو سناؤ نہ ،شازیہ جوش سے مگر دھیمی آوز میں بولی،میں نے سوچ سمجھ کے ایک فلم کی کہانی شروع کر دی،اس میں کچھ باتیں تھیں جو گرم کر سکتی تھیں ،،شروع شروع میں تو وہ سب ہی پرجوش تھیں لیکن جیسے ہی میں نے ہیرو ہیروئین کی کسنگ کی بات کی،سب بہنیں ایکدوسرے کی طرف دیکھنے لگی،پھر انہوں نے بے توجہی برتنی شروع کی ،میں ان کی طرف دیکھنے لگا اور انہوں نے رضائیاں منہ پر لے لیں،دھت تیرے کی۔ اب تو وہ میرے بارے میں سمجھ گئی ہوں گی،بھئی کیا بات ہے میں تو جدید ماحول میں رہتا ہوں ،مجھے نہیں پتہ تم لوگوں کو کیا برا اور کیا اچھا لگتا ہے ،پلیز مجھے بتاؤ ،تا کہ مجھ سے کوئی غلطی نہ ہو،میں ے سب کو مخاطب کر کے کہا،لیکن کسی نے کوئی جواب نہ دیا،اکٹھی بھی کوشش کر کے دیکھ لی ،اکیلی نازیہ پر بھی کوشش کر کے دیکھ لی،کچھ نہ بنا،اکٹھے تو ہو ہی نہیں سکتا تھا،،کیوں کہ ایک بہن اگر چاہے تو بھی وہ دوسروں کے سامنے اظہار نہیں کرے گی،کہاں پھنسا دیا یار جوسلین نے ،اسنے واقعی مجھے امتحان میں ڈال دیا تھا،سوچوں میں غلطاں میں بے چینی سے بستر پر پہلو بدلتا رہا،پتہ نہیں کتنے آئیڈیئے ذہن میں آئے اور رد کر دیئے ،کیا کچھ نہیں سوچا اس رات میں نے،ہر ممکن بات کی طرف ہر طریقے کی طرف ،اپنی سیکھی ہوئی ہر بات دہرائی،ہر بات سوچی لیکن نتیجہ وہی ٹھاک کے تین پات ،کہ یہ کام اتنے وقت میں نہیں ہوسکتا ، بلکہ ایسے ذہنوں کو تو پھنسایا ہی نہیں جا سکتا،اب میں مایوس ہونے لگا تھا، 2 ،3 بجے تک میں بے چینی سے پہلو بدلتا رہا،اور مجھے بے چین کرنیوالیاں آرام سے سو رہی تھیں،دل تو کرتا تھاکہ ابھی ان پر ٹوٹ پڑوں ،لیکن جوسلین کا خیال آتے ہی سلگتی آگ بجھنے لگی،ایسے ہی خیالات میں جانے کب مجھے نیند آگئی۔
  7. میں سمجھ گیا جوسلین کو میری ٹیچر پر بھروسہ ہے اور قابلیت پر اعتماد ہے ،شاید اس کی نظر میں ایسی ٹیچر کوئی اور نہ ہو،اسی لیے جوسلین ایک لڑکی کو میرے ساتھ برادشت کر رہی تھی،دوسرا سال شروع ہوتے ہی میں ٹیچر سے کھل گیا ،اور پہلے دن ہی موقع دیکھ کر اس کے گال پر چوما لے لیا،اسے جیسے جھٹکا لگا،اور گم سم سی ہو گئی،مجھےاعتمادتھا وہ میری کشش سے اب کہیں بھاگ نہیں سکتی،ٹیچر نے کچھ نہیں کہا اور وہ مجھے پڑھاتی رہی لیکن اس کے چہرے پر غصہ تھااس نے جوسلین سے تو کچھ نہیں کہا، لیکن مستقل میرے ساتھ اپنا رویہ کافی سخت اپنا لیا تھا، دوسرا سال شروع ہوتے ہی جیسے جوسلین نے میرا سارا پروگرام بدل دیا،اب مجھے ناولز کی بجائے وہ افسانے اور خشک ادبی کتابیں پڑھانے لگی،عصمت چغتائی ،منٹو ، انتظار حسین کا اداس نسلیں ،قرۃالعین کا آگ کا دریا ،اشفاق احمد ، کا سفر در سفر ،ایک محبت سو افسانے احمد ندیم قاسمی کا گنڈاسہ ،بانو قدسیہ کا راجہ گدھ رحیم گل کا جنت کی تلاش جوسلین کے اصرار پر مجھے پڑھنے پڑے آہستہ آہستہ ناولز کی بجائے مجھے ان کا چسکا پڑتا گیا،اب مارشل آرٹ کے ساتھ جوسلین نے خودمجھے یوگا کی تربیت دینی شروع کر دی ۔ میرے پاس اپنے لیئے وقت کم ہوتا تھا،چھ مہینےمزید گزرنے کے بعد میں نے بلیک بیلٹ حاصل کر لی۔اس دن جوسلین کافی خوش تھی اور اس نے مجھے ٹریٹ دی اور ہم دو دنوں کیلیے اس کی وسیع جاگیر پر پکنک منانے چلے گئے،وہاں ہر کوئی اس کے سامنے جھکتا تھا جوسلین وہاں کی ملکہ تھی تو میں وہاں کا پرنس تھا،ہم نے وہاں جاگیر میں خوب مزے کیئے اور پھر واپس ہو لیئے ، لیکن پھر ہر مہینے وہاں ویک اینڈ گزارنے لگے،ٹیچر سے آنکھ مچولی جاری تھی اس دوران میں نے کئی بار ٹیچر کی چومی لی اب وہ غصے کی بجائے بے حس بیٹھی رہتی ،جیسے وہ کوئی پتھر ہے میں اندر ہی اندر تلملانے لگا،اور اب میں نے رسک لینے کا فیصلہ کر لیا ،میں اگر کوئی موقع بناتا تو جوسلین سے چھپنا نہیں تھا ،میں کسی موقع کے انتظار میں رہنے لگا،باقی معمولات جاری تھے ۔ میں ایک دن جان بوجھ کر بات چھیڑ دی کے لڑکی کیسے پھنستی ہے ،تو جوسلین شروع ہو گئی ،میں اس کی یہ عادت جان گیا تھا بس اسے کوئی سوال دے دو اور وہ شروع ہو جاتی تھی ایک تو وہ عورت تھی دوسرا پروفیسر تھی اب بھی مجھے تجربے کا نچوڑ سننے کا ملنے لگا ، غور سے سنو پرنس کُوک شاستروں کا وقت چلا گیا ہے اب اس دنیا میں بس دو قسم کی لڑکیاں ہیں ، ایک وہ جو سیکس کرنا چاہتی ہیں یا کر چکی ہیں،اور دوسری وہ جو کچھ اصولوں پر اپنی زندگی گزارتی ہیں یعنی شادی وغیرہ،پہلی قسم کی لڑکیوں کو پھنسایا تو کئی طریقوں سے جاتا ہے ،لیکن ان سب کی بنیاد دو اصول ہیں ایک لڑکی اپنی بھوک مٹانے کیلیئےپھنستی ہے دوسرا پیسے کیلییے پھنستی ہے، جسے چودائی کی بھوک لگی ہے لیکن ابھی کچھ کیا نہیں ہے تو وہ کچھ وقت لے گی ۔ لیکن جس نے چودائی کی ہوئی ہےاور وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اس سے چودائی آسان ہے ،دوسرے نمبر پر پیسے کے بدلے چودائی کروانا ہے اسے آپ کسی بھی گفٹ سے شروع ہو کہ کہیں بھی لے جاسکتے ہیں کوئی بھی نام دے سکتے ہیں،(موبائل بیلنس کی وبا کا اس وقت نام و نشان نہیں تھا )گر کوئی ان دو بنیادی باتوں سے نہیں پھنستی تو ایک ایک تیسرا طریقہ بھی ہے جو کہ منفی ہے اور وہ ہے،محبت کا فریب دینا، اس وقت یہی طریقہ عام ہے ،لڑکی سے اظہارِ محبت کرو اس کا اعتماد جیتو اور جب وہ آپ کے پیار میں اپنا آپ بھلا دے تو اس سے سیکس کرو جب تک اسے ہوش نہیں آجاتا ،جب ہوش آجائے کسی بھی وجہ سے تو اسے بھگا دو اور کوئی اور ڈھونڈ لو ،یا اسی پر نئی کہانی ڈال کر اپنا کام جاری رکھو جب تک ہو سکے ۔ اس سے بھی کوئی لڑکی تمھیں اپنے قریب نہ آنے دے جو کہ بہت کم ہوں گی تو اس سے شادی کا وعدہ کرلو،شادی ہر لڑکی کا خواب ہے،سو وہ شادی کے نام پر اپنا آپ اس کے حوالے کر دیتی ہے،اس طریقہ سے کوئی خا ص لڑکی ہی بچ سکتی ہے،اور اگر یہ بھی نہ ہو،یعنی ملتی تو ہےیا اس سے دوستی تو ہوگئی ہو لیکن ہاتھ نہیں لگانے دیتی تو ایسی میڈیسن آچکی ہیں،جوکسی جوس وغیرہ میں پلا دی جائیں تو آپ کے پاس بیٹھی لڑکی گرم ہو جائے گی اور اسے چھیڑنے سے وہ آپ کی جھولی میں آگرے گی،لیکن یہ بھی ایک زبردستی ہے،اس کے بعد جو طریقہ بچ جاتا ہے وہ ہے زبردستی بزورِ بازو عزت لوٹنا،یا کسی کمزوری سے لڑکی کو بلیک میل کرنا،صرف اسی سے آپ کہہ سکتے ہیں کہہ آپ نے لڑکی کو اپنی مرضی سے حاصل کیا ہے ،یاد رکھنا پرنس دنیا کا کوئی مرد یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ کسی بھی لڑکی کو پھنسا سکتا ہے ،لڑکی سیکس کی چاہت یا پیسے کی ضرورت میں خود پاس آتی ہے، آپ تو صرف اسے یہ بتاتے پیں کہ میں تمھاری سیکس کی یا پیسے کی ضرورت پوری کر سکتا ہوں۔ ((،اس سلسلے میں اپنا بھی تجربہ بیان کرتا چلوں،ڈرائیور طبقہ ایسا ہے جو ہر قسم کے لوگوں سے ملتا ہے،،اور مڈل کلاس میں کہتے ہیں کہ 10 کنجر ہوں تو ایک پولیس والا بنتا ہے اور 10 پولیس والے ہوں تو ایک ڈرائیور بنتا ہے،(معذرت کے ساتھ)میں ایک خرانٹ ڈرائیور سے ملااس کا رینٹ اے کار کا کام تھا اس کے پاس اپنی کار تھی ،،آگے بات اسی کی زبانی اچھی لگے گی،باؤ جی تسی کہندے او کُڑی کیویں پھسدی اے،میں تہانوں ایک آودا واقعہ دسنا،، میرا کول سوزوکی کلٹس ہے سی،،تو او خراب ہوگئی،،اُتُوں شادیاں دا سیزن آگیا،،اک شادی وچ میرا اک یار بنیا سی،ساڈے شوق کٹھے سی۔ اوہندے کول ہنڈا گڈی سی نوا ،ماڈل ۔ 2012 ۔میں کہیا یار کجھ دن مینوں دے تیرے کول اینی گڈیاں کھڑیاں نے تینوں کی فرق پیندا اے،،تے میں شادیاں دا سیزن کما ،لاں گا،،اوہنے کہیا ،لے جا یار،،لو جی فیر جتھے لوگ ایکس ایل آئی دے 3000 لیندا سی اوتھے میں 6000 لین لگیا تے لوگ وی ہس تے دیندے سن،،کتھے ساڈی سوزکی کلٹس،،تے کتھے ایکس ایل آئی ،12 لاکھ دی تے کتھے ہنڈا 24 لاکھ دی،اک شادی میں چُکی تے 10000 منگے،،لاڑے نوں لے تے جانا سی،،راہ وِچ کجھ میری پرسنالٹی تے باقی کڈی نے او کم کیتا کے ووہٹی نظراں نظراں وچ میرے نال سیٹ ہوگئی،،فیر بادشاہو ،،اوہندی سفارش تےمکلاوے آلے دن وی اوہندا خصم مینوں ای لے تے گیا،،اوہنے آودے خصم دئے موبائل تُوں میرا نمبر لے لیا،،تے فیر،،،بادشاہو،،،،اوس کُڑی نُوں میں ایناہ ،وجایا کہ ایناہ ،اوہندے خصم نے نہ وجایا ہوئے گا۔ صاحب جی اگے دوستی ہوندی سی ،جذبات دے سر ،تے،،ہن ہوندی اے پیسے دے سر ،تے،،چنگے کپڑےۓ ،چنگی گڈی ،تے کڑی توہاڈی ،پر اوہنوں مال کھوانا پیندا اے بھانویں امیر گھر دی ہوے تے بھانویں غریب گھر دی ہوے ،)))۔ جوسلین نے اپنے بات ختم کر چکی تھی تو میں سوچنے لگا کی ٹیچر ان میں سے کون سی ہے لیکن مجھے اس کی سمجھ نہ آئی ،میں نے ٹیچر سے کئی بار بات کرنی چاہی کئی بار اسے نوٹ لکھ دیئے لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی،نہ وہ میری شکایت لگاتی تھی نہ مجھے ہٹاتی تھی نہ میرے ساتھ چودائی پر رضامند تھی ،،،ایں میں سوچنے لگا اگر اسے برا لگتا ہے تو جوسلین کو بتا کیوں نہیں دیتی ،اچھا بھلا پڑھاتی ہے کافی پیسے کما لیتی ہے یعنی اسے کوئی مجبوری بھی نہیں تو پھر وہ اتنے عرصے سے یہ سب کیوں برداشت کر رہی ہے ،میرے اندر سےآواز آئی کہ وہ راضی ہے لیکن جوسلین سے ڈرتی ہے ،اور اس نے اپنے رویے کا نقاب مجھے حد میں رکھنے کیلیے لگایا ہوا ہے،مجھے ایک موقع چاہیے تھا ،جو مجھے مل نہیں رہا تھا،میں ایک دفعہ اس سے ملنے کوچنگ سنٹر بھی پہنچ گیا تھالیکن اس نے ایسا سخت رویہ اپنا یا کہ مجھے دوبارہ جانے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ پھر یہ سال بھی گزر گیا ،اس بار میں نے کالج میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن لی،مارشل آرٹ میں اب میں ماہر ہوگیا تھا اور کنگفو میرا پسندیدہ آرٹ بن گیا تھا،تیسرے سال جوسلین نے پھر میرا پروگرام بدل دیا اور اب مجھے سنجیدہ کتب پر مائل کرنے لگی،تاریخ ،عمرانیات ،اور فلسفہ میرے مضمون بن گئے ،ساتھ ہی سرگزشت جیسا ڈائجسٹ بھی میرے مطالعے میں رہنے لگا، اور اب ممتاز مفتی ،اور علیم الحق حقی کے بعد اب طاہر جاوید مغل بھی میرا پسندیدہ لکھاریوں میں سے تھا فلسفےسے تو میں نے جلد ہی جان چھڑا لی ،لیکن تاریخ اور عمرانیات سے مجھے لگاؤ ہوتا گیا کیونکہ اس سے انسان کی تہذیبوں،انسان کی نفسیات اور کردار کے بارے میں جاننے کا موقع ملنے لگا،انسانوں کے معاشرے کو سمجھنے کا موقع ملنے لگا،یوگا میں بھی اب میں ماہر ہونے لگا،سانسوں پر قابو پانے سے مجھے پتہ چلا کہ ہم تو سانس بھی صحیح طرح سے نہیں لے رہے ،اس میں سیکس کی طاقت کو برقرار رکھنے اور جسم کو جوان رکھنے کے کئی آسن تھے جن پر اب میں عبور حاصل کرتا جا رہا تھا،ساتھ ہی ساتھ اب کشتہ مروارید اب میرے جسم کا حصہ بن گیا تھا۔ ذہنی تربیت کیلیے جوسلین نے اب میرے ساتھ شطرنج کھیلنی شروع کر دی،پرنس یہ کھیل کھیلوں کا بادشاہ ہے جتنی کتابیں اس کھیل پر لکھی گئی ہیں اتنی کسی اور پر نہیں لکھی گئی،اس میں چونسٹھ خانے ہوتے ہیں اور ہر کھلاڑی کو 16 ،16 گوٹیاں ملتی ہیں،ان میں آٹھ پیادے اور 2 فیلے یعنی ہاتھی،2 رخ یعنی توپ 2 گھوڑے اور ایک وزیر ایک بادشاہ ہوتا ہے ،یورپ میں فیلے کو بشپ اورتوپ کو قلعہ کہتے ہیں ،اور ان کے ہاں وزیر کی جگہ ملکہ ہوتی ہے اور اس کے ساتھ بادشاہ ہوتا ہے کھیلنے کا طریقہ ایک جیسا ہے،گھوڑا ہمیشہ ڈھائی چال چلتا ہے اور وزیر جہاں تک رستہ صاف ملے چال چل سکتا ہے اسی طرح فیلا اور توپ بھی جہاں تک جہ صاف ملے یعنی درمیان میں کوئی گوٹی نہ ہو ،فرق صرف یہ ہے کہ وزیر ترچھا اور سیدھا دونوں چالیں چل سکتا ہے جبکہ فیلا ہمیشہ ترچھا چلتا ہے اور توپ ہمیشہ سیدھی چلتی ہے ،اسی لیے کہتے ہیں کہ ایک توپ اور ایک فیلا مل کہ ایک وزیر کے برابر ہوتے ہیں ،کھیل کے قوانین تو تمھیں آہستہ آہستہ سمجھ آجائیں گے لیکن جو بات میں تمھیں ابتدء میں ہی ایک بات سمجھانا چاہتی ہوں۔ شطرنج بنانے والے کے بارے میں ایک کہاوت کچھ یوں ہے کہ جب شطرنج بنانے والے نےشطرنج بنا لی تو اسے وقت کے بادشاہ کے پاس لے گیا ،بادشاہ اور اس کے وزیر اور درباریوں نے جب یہ کھیل دیکھا تو دنگ رہ گئے اور بنانے والے کی عقل کو خوب داد دی ،بادشاہ ترنگ میں آگیا اور شطرنج کے موجد سے کہا کہ مانگو جو مانگتے ہو ہم تمھیں عطا کریں گے،تم نے ہمیں بےحدخوش کیا ہے اور ایک بےمثال کھیل ایجاد کیا ہے ،اس نے کہا بادشاہ حضور آپ کی داد ہی میرے لیے سب کچھ ہے ،مجھے کچھ نہیں چاہیے لیکن بادشاہ آخر بادشاہ تھا وہ یہ کیسے برداشت کرسکتا تھا اس نے بڑا اصرار کیا تو شطرنج کے موجد نے کہا کے اگر آپ اصرار کرتے ہیں تو شطرنج کے چونسٹھ خانوں میں سے پہلے خانے میں ایک چاول ر کھیں اور اسے ہر خانے میں دوگنا کرتے جائیں ،آخری خانے میں جتنے چاول ہو جائیں وہ مجھے دے دیں ،بادشاہ اس کی اس معصوم خواہش پر ہنستا ہے اور وزیر کو کہتا ہے کہ اس کی خوہش ابھی پوری کی جائے،وزیر کچھ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا ہے اور ریاضی دانوں کو بلوا کر حساب لگواتا ہے کے آخری خانے تک کل کتنے چاول بن جائیں گے،پہلے 15 خانوں تک تو سب آرام سے گنتے ہیں لیکن جب 16 خانے میں پہنچتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ کسی خطرناک کام میں ہاتھ ڈال دیا ہے اس سے آگے حیران کن حد تک حساب مشکل سے نا ممکن کی طرف چلا جاتا ہے۔ وزیر بادشاہ کے حضور پیش ہوتا ہے ،حضور ِوالا ہمارے ملک کے تما م چاول اور ہمسایہ ملکوں کے چاول بھی یہ شرط بمشکل پوری کرسکیں گے،بادشاہ سن کر حیران ہوجات ہے لیکن ریاضی دانوں کو بھی غلط نہیں کہہ سکتا ،بادشاہ کو تب پتہ چلتا ہے کہ یہ بھی ایک شطرنج کی چال تھی،ہم تمھاری اس بات سے بھی خوش ہوئے ،آخر بادشاہ شاہانہ انداز میں کہتا ہے ،تمھیں اس سوال پر بھی انعام دیا جائے گا،اور بادشاہ اسے بھاری انعام اور جاگیر عطا کرتا ہے ۔ تو پرنس شطرنج سیکھو مگر کھیل نہیں بلکہ شطرنج کو اصلی زندگی میں لے آؤ،جیسے ایک اداکار عام زندگی میں بھی ایکٹنگ کرتا ہے اور لوگ اسے سچائی سمجھتے ہیں ، ایسے ہی عام زندگی میں بھی یہ کھیل کھیلو،یاد رکھنا اس کھیل میں تکے کی کوئی گنجائش نہیں ہے،یہ تمھاری ذہنی صلاحیت پر ہے کے اس میں کتنا کامیاب ہوتے ہو،ہم دن میں میں 15 ،20 بار تو یہ کھیل کھیلتے،اور میں ہارتا رہتا،ایک ہفتے بعد میں جوسلین سے گیم جیت گیا،پھر بازی پھنسنے لگی،کبھی وہ کبھی میں جیت جاتا،،،پھر میں ہی جیتنے لگا ،اب مجھے خواہش ہونے لگی کہ کوئی کھلاڑی ہو جس سے بازی پھنسے ،میں نے کچھ کھلاڑی ڈھونڈ لیے اور بازیاں جمنے لگی ،جوسلین یہ سب دیکھ رہی تھی،پھر اس نے ایک دن مجھے پکڑ لیا ،پرنس میں نے تم سے کہا تھا اس کھیل میں ماہر نہیں ہونا ،اس کھیل کے ذریعے مائنڈڈ گیم ،ذہنی جنگ میں ماہر ہوناہے ،بڑی مشکل سے شطرنج کا نشہ ٹوٹا اور میں زندگی کی طرف لوٹ آیا،ٹیچر سے میری آنکھ مچولی بدستورجاری تھی اور وہ بھی اپنی جگہ پر جمی ہوئی تھی ،مجھے اس کے ساتھ تیسرا سال تھا۔لیکن ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پایا تھا،اب تو میرے حوصلے بڑھ گئےتھے اور میں اس کی چومیوں کے ساتھ اس کی ممے بھی پکڑ کے مسل دیتا تھا ،لیکن پتہ نہیں ٹیچر کس مٹی کی بنی تھی ،وہ ٹس سے مس نہیں ہوتی تھی،یہ سال بھی گذر ہی گیا ۔ میں نے پھر فرسٹ کلاس پوزیشن لی ،اب چوتھا سال شروع ہو گیا،پروگرام پھر بدل گیا،جیسے ہر سال کیلیے علیحدی علیحدہ سلیبس ہو،اب کی بار جوسلین نے نفسیات پڑھانی شروع کر دی ،وہ اس مضمون میں ڈاکٹر تھی اور سب سے بہتر تھی ،مجھے بھی اس کا کب سے انتظار تھا،اب نفسیات کی کتب ،انسانوں کو پڑھنا ،معاشرے کو سمجھنا ، عورتوں کو سمجھنے لگا،جوسلین نے مجھے قیافہ شانسی پر لگا دیا ،میں پے درپے انسانوں کا مطالعہ کرنے لگا علوم کوعملی طور پر آزمانے لگا،میں ایک جہانِ حیرت میں پہنچ گیا ،ارے یہ کیا اس حمام میں تو سب ننگے ہیں،مارشل آرٹ میں بلیک بیلٹ 1 ڈان کی تیاری کرنے لگا تھا،پڑھائی پھر یوگا،یہ سال بہت ہی مصروف گزرا ،کسی بات کی ہوش نہیں رہا تھا،ٹیچر سے بھی چھیڑا چھاڑی کم ہو گئی تھی،فرسٹ کلاس پوزیشن کے بعد مجھے ہوش آیا ،اس دوران میں بلیک بیلٹ 2 ڈان کر چکا تھا ،یوگا فائنل ہوچکا تھا اور قیافہ شناسی میں ماہر ہو چکا تھا ، ،( فیس ریدنگ اور باڈی لینگوج سے انسان کو پڑھنا اور جاننا )،عورتوں کے بارے کافی کچھ جان چکا تھا اب تک میں سیکس کی تھیوری اور پریکٹیکل میں ماہر ہوچکا تھا،رزلٹ آگیا اور حسبِ معمول میں فرسٹ کلاس پوزیشن میں تھا،مجھے جوسلین کے پاس چار سال گزر گئے،اس وقت میں 19 سال کا ہوگیا تھا ۔اس دوران میں کیا سے کیا بن گیا،کئی علوم میں ماہر بن گیا،اس دوران میں نگینہ کو ایک پل بھی نہ بھول نہ سکا ،میں نے کئی بار کچھ وقت نکال کر ان کو تلاش کرنے کی کوشش کی ،لیکن نگینہ وہ مکان کب کا چھوڑ چکی تھی اور اب اس کا کچھ پتہ نہیں تھا،جوسلین یہ کام کرسکتی تھی لیکن پہلے پہل احتیاطً اور پھر اس کا رویہ دیکھ کر میں نے اسے اس راز میں شامل نہیں کیا،مجھے یہ بھی خیال تھا کہ دلآویز سے میرا تعلق دیکھ کر کہیں جوسلین رقابت میں نہ پڑ جائے۔ اب میں فلیٹ میں تنہا ہی ہوتا تھا ، اسلیے نگینہ کو دھونڈنے نکل جاتا ،سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا، کالونیوں میں تانک جھانک کرتا ،لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا،جب جوسلین یونیورسٹی سے آجاتی تو میں بھی فلیٹ پر پہنچ جاتا،اور پھر سارا وقت اکٹھے ہی گزرتا،ٹیچر بھی ان دنوں آنا بند کر چکی تھی اپنی تماتر کوشش اور کشش کے باوجود میں اسے چود نہ سکا،میں جو جوسلین سے سیکھتا وہ ٹیچر پر آزماتا لیکن وہ ہاتھ نہ آنی تھی اور نہ ہی آئی ،میں اس نتیجے پر پہنچا تھا ک ٹیچر پر میری کشش جتنی بھی اثر انداز ہو لیکن اس پر جوسلین کا اثر مجھ سے زیادہ تھا ،،یہ بھی طے ہوچکا تھا کہ میں پھنسا تو ٹیچر کو رہا تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ میرا مقابلہ جوسلین سے تھا ،اور جوسلین میری استاد تھی ،جب تک اس کی مرضی نہیں تھی میں ٹیچر کو حاصل نہیں کر سکتا تھا ۔ بلکہ کسی کو بھی حاصل نہیں کرسکتا تھا ، اب ٹریننگ اور پڑھائی رک سی گئی تھی اور میں اگلے پروگرام کا منتظر تھا ،لیکن جوسلین کے ارادے کچھ اور ہی تھے،وہ چپ چاپ تھی ،جوسلین میری جان آگے کا کیا پروگرام ہے ،،،یہ تو تم بتاؤ گے پرنس کہ تمھارا آگے کا کیا پروگرام ہے،جوسلین میں جو چاہتا تھا وہ تم نے مجھے بنا دیا ،لیکن میں اس مقام پر خود کو ادھورا محسوس کرتا ہوں کیونکہ میرے سامنے تمھاری مثال ہے میں تم جیسا جینئس بننا چاہتا ہوں ،استاد سے آگے کا درجہ چاہتا ہوں،مجھے پتہ نہیں ہے لیکن مجھے کچھ اور چاہیئے ،،میں تمھارے اگلے پروگرام کا منتظر ہوں ،میں نے جوسلین کے ہاتھ پکڑ لیا تھے ،اور میری محبت کی گرم جوشی میں وہ ہمیشہ کی طرح پگھل گئی تھی،پرنس تمھیں وہ سب سکھا دوں گی جو تم چاہتے ہوں ،لیکن اب تک تم نے جو سیکھا ہے تمھیں اس کا ٹیسٹ دینا پڑے گا،تمھیں ثابت کرنا پڑے گا کہ تم اب استاد ہو،اس سے تمھیں تجربے کا حصول ہو گا ،یوں سمجھ لو کہ اس ٹیسٹ سے تم تجربہ حاصل کرنے کا سفر شروع کرو گے،تم نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے لیکن تم باہر کی دنیا میں یہ آزمایا نہیں ہے ،کیونکہ میں نے تمھیں اپنے ساتھ ہی رکھا ہے ،اور اب وقت آگیا ہے کہ تم باہر دنیا کے سامنے اپنا آپ آزماؤ تا کہ تم جان سکو کہ تم کیا بن چکے ہو،یاد رکھانا پرنس،ہر تھیوری پریکٹیکل کے بغیر ہے ،دنیا میں تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ،اور تمھیں اب تھیوری سے تجربے کی طرف قدم بڑھانا ہے ،اب تم ٹیسٹ کیلیے تیار ہو جاؤ،میں کسی بھی وقت تم سےٹیسٹ لے سکتی ہوں، میں ذہنی طور پر خود کو تیار کرنے لگا ،جوسلین نےٹیسٹ لینا تھا تو یقیناً کوئی انتہائی ٹیسٹ ہی ہونا تھا،میں نے بہت سے موضوعات پر سوچا ،کئی باتوں کی طرف دھیان دیا ،یہ بھی طے تھا کہ عملی ٹیسٹ ہی لے گی ،سو میں نے کئی ممکنہ ٹیسٹ سوچے اور ان کو جواب تیار کیا،اور میرا ذہن کچھ اطمینان حاصل کرنے لگا،اسی ادھیڑ بن میں دو دن گزر گئے تھے ،تیسرے دن کافی جلدی مجھے جوسلین نے اٹھا دیا،سردیوں کے دن تھے ابھی صبح بھی رات کا حصہ ہی لگ رہی تھی اس وقت تو بستر سے نکلنے کو با لکل دل نہیں کرتا ،لیکن جوسلین سنجیدہ تھی،مجھے اٹھنا ہی پڑا ،میں عادت کے مطابق نہانے لگا تو جوسلین نے منع کر دیا،میں پاس پڑے کپڑےپہننے لگا جو رات کو اتارے تھے اور جوسلین نے مجھے ایک چٹ پکڑا دی اس پر ایک ایڈریس لکھا تھا ، پرنس یہاں ایک ہی گھر میں چار لڑکیاں رہتی ہیں ،چاروں آپس میں سگی بہنیں ہیں ،تمھیں ان چاروں کو ان کی مرضی سے چودنا ہے ،تمھارے پاس صرف دو دن اور دو راتیں ہیں ،تیسرے دن اسی وقت تمھیں میرے پاس ہونا چاہیئے ، جوسلین کی بات سے مجھے اچھا بھلا جھٹکا لگا ۔
  8. (تھوڑی سے پھٹکری چوت پر ملنے سے وہ سوج جاتی ہے کیونکہ چوت حساس ہوتی ہے اور پھٹکری تیز ہوتی ہے اوراس سوجن سے چوت ٹائیٹ ہو جاتی ہے اس طرح کچھ کال گرلز یا شوقین لڑکیاں مزہ دینے کیلیئے یا کنورا پن محسوس کروانے کیلیے اور بھی کئی ٹوٹکےاستعمال کرتی ہیں ،لیکن جوسلین کی چوت اوریجنل ٹائیٹ تھی) میں بہت چُن کر سیکس پارٹنر بناتی ہوں ،اور شادی صرف ڈیڑھ سال چلی تھی شایدجوسلین نے میری حیرانگی محسوس کر لی تھی اور بات کو سمجھ گئی تھی، چودو پرنس اس لمحے کے میں نے برسوں خواب دیکھے ہیں،تمھیں پتہ ہونا چاہیئے خواب صرف خوش قسمت لوگوں کے پورے ہوتے ہیں اور تم سے ملنے کے بعد مجھے یقین ہوگیا ہے کہ میں خوش قسمت ہوں،میں حسبِ عادت آہستہ آہستہ چودنے لگا ،جوسلین نے اپنی آنکھیں بند کر لی،وہ مزے کے سمندر میں گہرا غوطہ لگانے کے لیئے تیار تھی۔ میں بھی تیز ہونے لگا،میری تیزی میں جوسلین کا جسم کا بڑا دخل تھا ،اس وقت میں جسم کے مرکز پر تھا اور وہاں پر سارے جسم کا نچوڑ تھا،اس نچوڑ سے میں میں اپنے لیئے مزہ نچوڑ رہا تھا،دھیرے دھیرے میری رفتار اور تیز ہونے لگی،جوسلین کا جسم ہلنے لگا،اگر میں نے جوسلین پر سحر کر دیا تھا اور اسے ہیجان میں مبتلا کر دیا تھا تو اس کے جسمانی حُسن نے مجھے بھی پاگل کر دیا تھا،اور اس پاگل پن میں میری رفتار اور دھکوں میں شدت آگئی تھی،اتنی شدت کے بیڈ بھی چوں چوں کرنے لگا تھا،جوسلین سسکاریاں بھرنے لگی،کبھی کبھی اس کی آواز تیز ہوجاتی ،جو کہ رات کے سناٹے میں دور تک جا سکتی تھی ،میں کچھ آہستہ ہوا ،چودو مجھے چودو ،پورا فلیٹ ساؤنڈ پروف ہے،جوسلین ہر بار کی طرح میری الجھن سمجھ گئی،ایک پل کیلیے میں آہستہ ہوا تھا اور دوسرے پل ہی میں وہیں سے چودائی شروع کر دی،شکر ہے چودائی کا ردھم ٹوٹا نہیں بلکہ ماحول اور زیادہ جم گیا،کیونکہ میں اب اور کھل گیا تھا اب میری بے معنی آوازیں نکل رہی تھیں ،جوسلین مسلسل مجھے بڑھاوا دیئے جا رہی تھی،خود اس کا بھی برا حال تھا ماحول ہی کچھ ایسا بن گیا تھا کہ ہم اپناکنٹرول کھو بیٹھے تھے،اور پتہ نہیں ایکدوسرے کو کیا کیا کہہ رہے تھے، جوسلین کا جسم میرے دھکوں سے تیز ہوا میں سوکھے پتوں کی طرح اڑ رہا تھا۔اتنی شدت سے میں نے نہ نگینہ کو اور نہ ہی پھر سحرش کو چودسکا تھا۔ یہ سارا کمال جوسلین کا تھا ،اور یہ جس کی طلب تھی اسے ہی ملنا تھا،جوش میں تھکن کا احساس تو کیا ہونا ،بس میں بھرپور دھکے لگانے کیلیے کچھ رفتا ر کم کر بیٹھا ،اور جوسلین اٹھ کے بیٹھ گئی مجھے اس نے کمر سے بانہوں کے گھیرے میں لے لیا ،اور اسی حالت میں مجھے پیچھے کیا تو میں بیڈ کی دوسری طرف سیدھا لیٹ گیا اور جوسلین میرے اوپر بیٹھ گئی ،ابھی تک عضو اس کے اندر ہی تھا،س نے لہنگا سائیڈوں پر پھیلا لیا،اور اوپر نیچے ہونے لگی، یقناًجوسلین چودائی کے جوش میں اوپر آگئی تھی اور اسی جوشیلے انداز میں اب چودائی کر رہی تھی،اب مجھے احساس ہو رہا تھا کہ سیکس میں استادی کسے کہتے ہیں ،اس اسٹائل میں نگینہ نے بھی چودائی کی تھی مگر اب سمجھ آرہا تھا کہ وہ تو بس اندر ڈالا اور دھکم پیل شروع کر دی ،اصل چودائی تو یہ تھی،اسوقت سے یہ میرا پسندیدہ اسٹائل بن گیا۔ یہ دوسرا آسان ترین اور چودائی کیلیے بہترین اسٹائل ہے اس میں عورت فاعلی کردار ادا کرتی ہے اس میں رفتار اور دھکے کچھ نہیں کرتے سب کچھ عورت یا لڑکی کا وزن کرتا ہے،عورت نے جوش سے بس اوپر جانا ہے اور پھر نیچے آتے ہوئے اس کا جسمانی وزن عضو پر ایسی چڑھائی کرتا ہے ایسا لپیٹتا ہے کہ بس کچھ نہ پوچھو کتنا مزہ آتا ہے ،لگے ہاتھوں پہلے مفید ترین اسٹائل کی بات بھی ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ عورت نیچے لیٹی ہو اور مرد اوپر لیٹ کر یا بیٹھ کر یا کچھ بیٹھا کچھ لیٹا ،چودائی کرے،یہ دنیا کا سب سے بہترین ، آسان ترین اور مقبول ترین اسٹائل ہے، چوت کی ساخت کے اعتبار سے، اور پیار کو سامنے رکھتے ہوئے،ممے اور چہرہ بلکہ پورا جسم سا منے اور پہنچ میں ہوتا ہے،انکھوں سے چودائی کو دیکھتے ہوئے مزہ دوگنا ہوجاتا ہے تیسرا مقبول ترین اور بہترین اسٹائل گھوڑی بنانا ہے اسے عام طور پر ڈوگی اسٹائل کہتے ہیں یعنی کہ لڑکی کو ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل کُتّی بنا کر چودنا لیکن میں اسے گھوڑی اسٹائل کہنا زیادہ مناسب سمجھتا ہو ں،اس میں مرد اگر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو تو زیادہ بہتر ہوتا ہے،جی اسپاٹ یعنی دوسرے حساس ترین جگہ کو اس اسٹائل میں بڑی اچھی طرح عضو سے چھوا جاسکتا ہے جس سے لڑکی جلدی انتہا پر پہنچ جاتی ہے،اس اسٹائل میں کچھ اور طریقے بھی ہیں جیسے لڑکی ہاتھ دیوار سے ٹکا کر ،یا ہاتھ کسی ٹیبل پر ٹکا کر یا کار کے دروازے کو پکڑ کر یا ائیر پلین میں سیٹ کا سہارا لیکر یا کسی شپ میں کسی بھی چیز کا سہارا لیکر گانڈ پیچھے نمایا ں کرے اسوقت لڑکی کو تھو ڑا جھکا کہ یا کھڑے کر کے چوت میں چدائی کی جا سکتی ہےمیرے تجربے کیے مطابق یہ تین اسٹائل سیکس کا نچوڑ ہیں۔ جوسلین کی ہر حرکت بتا رہی تھی کہ مزہ اس طرح لیا اور دیا جاتا ہے،جوسلین میری جان ،بہت مزہ آ رہا ہے میں بے اختیار بول پڑا،جوسلین چودائی کرتی کرتی میرے اوپر لیٹ گئی اور میرے چہرے کے سامنے اپنا چہرہ کر کے کہنے لگی،ایکبار پھر کہنا ،کیا کہا مجھے ؟ بہت مزہ آرہا ہے،میں نے اس کی فرمائش پوری کی،نہیں جو اس سے پہلے کہا تھا وہ مجھے کہو،جوسلین تھوڑا آگے پیچھے بھی ہورہی تھی جس سے چدائی کا مزہ بھی آرہا تھا میں نے کہا جوسلین میری جان میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پھر کہا، بہت اچھا لگا مجھے ،سن کر دلی خوشی ہوئی،اور جوسلین پھر بیٹھ کر چدائی کرنے لگی،جوسلین میری جان ،جوسلین میری جان میں اونچی اونچی چلانے لگا،جوسلین کھلکھلا کر ہنسنے لگی،اس کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی اور اس خوشی میں ،جوسلین کی چدائی کا فن کھل کے سامنے آ رہا تھا ،گو کہ میں اس وقت میں سیکس کے باے میں کچھ نہیں جانتا تھا لیکن محسوس ہو رہا تھا کہ کہ وہ جو بھی کر رہی ہے بہترین کر رہی ہے،ابھی اس نے کہا تھا کہ سیکس ایکسپرٹ ہونے سے چدائی تو پھر بھی ویسے ہی ہونی ہے جیسے ہوتی ہے ۔ مگر حقیقت یہ تھا کہ ایک ہی کام کو عام فرد کے کرنے سے اور استاد کے کرنے میں بہت فرق ہے،میرے پرنس کیسا لگا تمھیں یہ اسٹائل ،جوسلین نے مخصوص انداز میں چودائی کرتے ہوئے مجھے مخاطب کیا، میں تو اس وقت ہواؤں میں اڑ رہا تھا ،ہر بات بوجھ لینے وا لی جوسلین مجھ سے کچھ خاص سننا چاہتی تھی ،زبردست اسٹائل ہے،مزہ آگیا،میرا پہلے بھی اتفاق ہوچکا ہے مگر جو آج ہو رہا ہے اِس میں اور اُس میں زمیں اور آسماں کا فرق ہے،زبردست جوسلین میری جان،میری بات سے جوسلین پھر کھلکھلا کر ہنسنے لگی،چلو اوپر آجاؤ اب تمھاری باری ہے ،جوسلین میرے اوپر لیٹ گئی ،مگر یاد رکھنا باہر نہ نکلے ،میں نے بیٹھ کر جوسلین کو پیچھے کیا وہ بازوؤں کے سہارے پیچھے لیٹ گئی اور پھر جوسلین میرے نیچے آگئی اور میں اس کے اوپر آگیا،عجیب بات تھی اس نے اس دوران لہنگا پھر نیچے لے لیا تھا۔میں اس کی چودائی کرنے لگا تھا پہلے ہم بہت تیز تھے پھر دھکوں میں شدت آتی گئی،پھر اس ہیجانی حرکات بھی آئیں جب ہم خود پر کنٹرول نہ رکھ سکے ،اور پھر جوسلین کے اوپر آنے سے ماحول بدل گیا ۔ میں اس کی چدائی کے سرُور میں ڈوب گیا،اور اب میں طاقت سے دھکے لگا رہا تھا مگر رفتار نارمل تھی،میں سوچنے لگا میری تو اتنی ٹائمنگ نہیں ہے ،میں تو حد پندرہ منٹ میں فارغ ہو جاتا ہوں،بلکہ ہر انسان کی پانچ سے لیکر پندر ہ منٹ تک ہی ٹائمنگ بنتی ہے ،اس سے کم اور اس سے زیادہ یا تو میڈیسن سے ممکن ہے یا پھر اس انسان کے ساتھ کوئی مسلہ ہے،جیسے پانچ منٹ سے کم والے وہ ہوں گے جو سگریٹ پیتے ہوں گے یا ہینڈپریکٹس کرتے ہوں گے اور بھی کئی وجوہات ہیں جیسے کبھی کبھی ہیجان میں مبتلا ہوں جائیں یا عرصے بعد سیکس کر رہے ہوں تو پانچ منٹ سے پہلے بھی فارغ ہو جاتے ہیں ،اور زیادہ منٹ والے وہ ہوں گے جو چرس ،افیم وغیرہ کے عادی ہوتے ہیں،یا میڈیسن استعمال کرتے ہیں ۔یا کچھ اور مسلہ ہو ،اگر کوئی کہے کہ اس وقت آدھا یا پونا گھنٹا قدرتی ہے تو پھر جھوٹ ہی ہو گا۔ یا کوئی سپر مین ہو شاید ،زیادہ تفصیل کی اسوقت گنجائش نہیں ہے۔ میں جوسلین سے پوچھنا چاہتا تھا کہ ہم ابھی تک فارغ کیوں نہیں ہوئے،مگر میں لگا رہا ایسی باتوں کو سمجھنے کیلیے بڑا وقت پڑا تھا۔ میں اسی بارے میں سوچ رہا تھا کہ جوسلین بول پڑی ،میرے پرنس ہم آنے والے ہیں ،جوسلین نے مجھے کچھ سمجھایا شاید اسے وقت کا کچھ اندازہ تھا اسی لیئے وہ نیچے آئی تھی ،نیچے آنے اور لہنگے میں ضرور کوئی تعلق تھا،اب میں بھی جوسلین کی طرح اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا اور میں پھر جوش میں پہلے والے موڈ میں آگیا تھا اور دھکا دھک چودائی رہا تھا ،چودائی سےجوسلین کے ممے دلفریب انداز میں حرکت کر رہے تھے ،اور مجھے ان کو چھونے کی طلب ہو رہی تھی،،میں اپنے گھٹنوں کے بل اس کے اوپر لیٹ گیا ،تا کہ اس پر میرا وزن نہ پڑے اور اس کے ممے پکڑ کے چودائی کرنے لگا،میرے پرنس تم جو بھی کرو جسم میں مدّو جزر کی طرح اُتھل پتھل ہو جاتی ہے ۔میں سمجھتی تھی سیکس میں مہارت سے چودائی کا مزہ زیادہ سے زیادہ لیا جاسکتا ہے مگر میرے اندازے کے مطابق تمھیں اس کی ضرورت نہیں ہے اور اگر تم سیکس ایکسپرٹ بن بھی گئے تو دو آتشہ ہو جاؤ گے،تھوڑی دیر میں ہی ہماری حالت بدلنےلگی مجھے محسوس ہوا وقت قریب آ رہا ہے ،جوسلین بھی ایسے ہی لگ رہی تھی ،میرے پرنس سارا پانی اندر ڈال دینا ،میری چوت تمھارے پانی کا ذائقہ چکھنا چاہتی ہے،اس پانی کی مہک میں اپنے جسم میں سمونا چاہتی ہوں،اس پانی سے میں اپنی چوت کی پیاس بجھانا چاہتی ہوں ،میں نے سر ہلا دیا اس وقت میں بولنا نہیں چاہتا تھا نہیں تو اسے بتاتا کہ میں نے نگینہ اور سحرش کے اندر ہی پانی ڈالتا تھا ،نگینہ تجربے کار تھی اسے حمل کا کوئی ڈر نہیں تھا اور سحرش کے ساتھ اس کی بہن یا کوئی دوست تھی جو اس کوسیکس ٹریننگ دے چکی تھی ۔ آہ ہ ہ ہ ہ ،میرے پرنس،جسم میں جان کھچ رہی ہے،میری بھی حالت ایسے ہی تھی،منزل قریب ہی تھی،میں نے اضطراری انداز میں چدائی کرتے ہوئے کچھ دھکے اور پورے اندر جا کہ گہرائی میں مارے،اور میں اور جوسلین سسکے،ہم نے ایکدوسرے کو بانہوں میں جکڑ لیا،بلکہ میں نے تو اپنی ٹانگوں سے اس کے جسم کو کس لیا،جوسلین مجھے چمٹ چکی تھی،ہمارے جسم چھوٹے چھوٹے جھٹکے لیتے رہے،میرے پرنس میرا کبھی اتنا پانی نہیں نکلا،میرا بھی، میں نے اسے کہا،پھر میں علیحدہ ہونے لگا تو جوسلین نے مجھے بانہوں سے جکڑے رکھا،نہیں ابھی نہیں میرے پرنس ،فوراً علیحد ہ نہیں ہوتے،کچھ دیر اسی حالت میں پڑے رہتے ہیں،اور ہوسکے تو ایکدوسرے کو چوم کر پیار بھی کرتے ہیں ،جوسلین نے مسکراتے ہوئے مجھے پہلی بار سیکس نالج دیتے ہوئے کہا،کبھی کبھی یہیں سے دوبارہ موڈ بن جاتا ہے کیونکہ اندر رکھنے سے عضو جلدی سست نہیں ہوتا،ٹھیک ہے جوسلین میری جان میں نے مسکراتے ہوئے کہا،اور ہم نے لبوں کو لبوں سے جوڑ دیا،کچھ وقت ہم نے ایسے گزارا اور پھر میں عضو نکال کر جوسلین کے پہلو میں لیٹ گیا،جوسلین اٹھ کے بیٹھ گئی اور ہاتھ سے کچھ کرنے لگی،میں نے دیکھا تو ہمارا پانی لہنگے پر گرا ہوا تھا اور جوسلین چوت والا پانی لہنگے پر گرا رہی تھی،لہنگے کا ستیاناس ہو چکا تھا،جوسلین نے لہنگا اتار کہ ایک سائیڈ میں احتیاط سے رکھ دیا،اور میرے ساتھ لیٹ گئی،اس نے ایک بازو میرے اوپر رکھ لیا اور میری گردن سے نیچے سے گزار کر مجھے نزدیک کر لیاہمارے چہرے ایکدوسے کے سامنے تھے،میرےپرنس یہ لہنگا پہلی ملاقات کی یادگار کے طور پر ہمیشہ بغیر دھوئے اسی حالت میں سنبھال کر رکھوں گی۔یہ ہمیں پہلی ملاقات کی یاد دلاتا رہے گا۔ ہم ایکدوسرے سے لپٹے ہوئے پڑے تھے ،جوسلین کا جسم مجھے پھر بلا رہا تھا میں اسے دوبارہ چودنا چاہتا تھا۔جوسلین میرے عضو کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلا رہی تھی،دل اس کا بھی کر رہا تھا،میرے پرنس چلو تمھیں جنت کی سیر کرواؤں،جوسلین نے اٹھ کر میرے عضو پر جھکتے ہوئے کہا،میں گہری نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا،جوسلین عضو کو منہ میں لیتے لیتے رک گئی ،کیا بات ہے میرے پرنس، اس نے میرے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،جوسلین میری جان اس میدان میں تم اکیلی ہو گی ،میں ادھر نہیں آؤں گا،تم بے شک پیچھے ہٹ سکتی ہو،میں نے اسے واضح طور پر سمجھا دیا ،اور وہ سمجھ گئی تمھیں میری چوت نہیں چاٹنی تو نہ صحیح ،لیکن میں اس عضو کو چوسے بغیر نہیں رہ سکتی ،جوسلین نے جھک کر میرا عضو پہلا چوما پھر اس کو قلفی کی طرح نیچے سے اوپر چاٹا اور پھر اسے منہ میں لے لیا،جوسلین نے سچ کہا تھا کچھ ہی دیر میں مزے کی جنت میں پہنچ گیا ،بلاشبہ جوسلین اورل سیکس میں ماہر تھی،اور اس نے مجھے اس سے بہت مزے دیئے،اس رات ہم نے کئی باربھرپور چودائی کی،اور صبح سو گئے۔ میرے پرنس اب اٹھ بھی جاؤ بہت بھوک لگی ہےناشتہ تیار ہے جناب،جوسلین کی پیار بھری آوز مجھے نیند کی وادیوں سے باہر لے آئی،میں نے وقت دیکھا توسہہ پہر ہو رہی تھی،جوسلین نے پہلی رات کو یادگار بنا دیا تھا مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میں خواب میں تھا لیکن اب جوسلین کی موجودگی بتا رہی تھی کہ گزری رات ایک حقیقت تھی میں نے جوسلین کوخودسے لپٹا لیا اور اس کے ہونٹوں سے ہونٹ جوڑ دئے ،کچھ دیر ہم کسنگ کرتے رہے۔پھر جوسلین نے مجھے اٹھا لیا اور بڑے لاڈ سے کھنچتے ہوئے باتھ روم میں دھکا دیا اور باہر سے چٹخنی لگا دی ،جلدی سے نہا لو میرے پرنس،پھر مل کر ناشتہ کریں گے میں نہا کر نکلااور کچن میں ہی سیدھا چلا گیا،وہاں جوسلین میرے انتظار میں بیٹھی تھی،مجھے دیکھتے ہی جوسلین نے ایک ڈبیہ سے کچھ نکالا اسے ایک معجون کے ساتھ ایک کپ میں ڈ الا اور اسے پانی میں ڈال کر مکس کیا ،لو پرنس اسے پی جاؤ ،میں اسے پی گیا( یہ کشتہ مروارید تھااور اسے خمیرہ گاؤ زبان میں ڈال کر مکس کیا تھا اگلے پانچ سال تک میں اسے ہر روز نہار منہ لیتا رہا، شروع شروع میں جوسلین خود دیتی رہی پھر مجھے اس کی عادت ہوتی گئی کبھی کبھار خمیرہ گاؤزبان چھوڑ کر عرقِ گلاب میں بھی لیتا رہتا کبھی صبح نہ لے سکا تو دوپہر کو لے لیا کیونکہ اس وقت بھی کھانا کھانے سے پہلے معدہ خالی ہوتا ہے،صرف ایک ماچس کی تیلی کی نوک پر جتنا آ تا ا تنا ہی کشتہ مروارید میں استعمال کرتا) پھر ہم ناشتہ کرنے لگے،یہ ناشتہ اور دوپہر کا کھانا تھاکیونکہ اب سہہ پہر ہو رہی تھی ۔بڑا زبردست کھانا ہے یار ،کیا ذائقہ ہے تمھارے ہاتھ میں ،میں نے جوسلین کی کھل کے تعریف کی،جوسلین دھیما دھیما مسکرانے لگی،میں نے بڑے عرصے بعد اتنے اہتمام سے کھانا بنایا ہے،پرنس مجھے کھانا بناناکچھ خاص نہیں آتا تھا ،اور میری مما کہتی تھی جوسلین جب تم دل سے کسی کیلیے کھانا بناؤ گی تو کھانا زبردست بن ہی جائے گا اور اس دن تمھیں کھانے میں ذائقہ ڈالنا آجائے گا،تو آج پرنس مجھے تمھاری بدولت کھانا بنانا بھی آگیا،میں ہنسنے لگا،بات بے بات ہنسنے کودل چاہ رہا تھا،جوسلین کا چہرا بھی ایسا تھا جیسے قمقمہ جل اٹھا ہو،ہم ڈرائنگ روم میں آکر کافی پینے لگے،پھر وہاں باتیں کرتے رہے ،اور پھر ہم بیڈروم میں آگئے،میں نے جوسلین کو بانہوں میں لے کر ہونٹوں سے ہونٹ جوڑ دئے ،پھر وقت بیتنے کا پتہ ہی نہیں چلا ۔ اسی سر شاری میں ایک ہفتہ گزر گیا،ہمیں کسی چیز کا ہوش نہیں تھا،بس ہم تھے اور ہماری مستیاں تھیں،اس دوران کچن ،باتھ روم، ڈرائنگ روم،لابریری ،بیسمنٹ ہرجگہ ہم نے سیکس کیا ،گویا یہ ہمارا ہنی مون کا پیریڈ تھا،لیکن ہم نے فلیٹ سے اک لمحے کیلیے بھی قدم باہر نہیں نکالا،جوسلین نے یونیورسٹی سے ایک ہفتے کی چھٹیا ں لی ہوئی تھیں،اب کل سے اس نے یونیورسٹی جانا تھا،پرنس تم نے میٹرک کیاتھاتو اس کا رزلٹ کیسا نکلا،میں نے رزلٹ کا پتہ ہی نہیں کیا،بلکہ سچ کہوں تو جوسلین میرا اس طرف دھیان ہی نہیں گیا،ٹھیک ہے تم اپنا رولنمبر بتاؤ اگر تمھیں یاد ہے تومیں رزلٹ کا پتہ کرواتی ہوں،میں نے اپنا رولنمبر بتا دیا،اگلے دن جوسلین یونیورسٹی چلی گئی ،اور میں فلیٹ میں تنہا رہ گیا،اور کچھ نہیں تو میں بائیک لے کراستاد کی طرف نکل گیااور گھر والوں کیلیے کچھ چیزیں بھی لے گیا،وہاں استاد کی بیوی بڑی چاہت سے ملی،کیوں رے بڑا بے مرّوت نکلا تو،ایک لمحے کیلیے ماں سے ملنے بھی نہ آیا،معافی چاہتا ہوں امّاں جی،فوری نہ آسکا،لیکن آپ لوگوں کی یاد مجھے بھی آتی تھی،استاد کے گھر والے میرے ساتھ بہت خوش تھے وہ دن بڑی تیزی سے نکل گیا،اور مجھے اداس بھی کر گیا،دوپہر کا کھانا کھائے بناء امّاں نے آنے نہ دیا،پھر ان سے اجازت لیکر میں فلیٹ میں پہنچ گیا،جوسلین آچکی تھی میں وہاں ایک چٹ لکھ کر گیا تھا اس لیئے وہ میرا ہی انتظار کر ہی تھی ،اسے بڑی بھوک لگی تھی ،جس بے تابی اور محبت سے جوسلین میرا نتظار کر رہی تھی ،میں اسے یہ نہ کہہ سکا کہ میں کھانا کھا کر آیا ہوں ،اور اس کے ساتھ کھانے میں شامل ہوگیا،،کچھ زیادہ ہی کھانے میری حالت میں بے زاری سی آگئی ،لیکن جیسے ہی جوسلین کی بنائی کافی پی تو حالت بہتر ہونے لگی،پرنس تم میٹر ک میں اچھے نمبروں سے پاس ہوگئے ہو،اب کیا ارادے ہیں تمھارے ؟ جوسلین جانتے بوجھتے میرے ارادے پوچھنے لگی،جوسلین تم جانتی ہو کہ میں آگے پڑھنا چاہتا ہوں،ٹھیک ہے تو پھر داخلہ کافی لیٹ ہونے کے باوجود میں نے تمھیں ایچی سن میں داخل کروا دیا ہے ،مجھے اس کیلیے کچھ اثرورسوخ استعمال کرنا پڑا ،اور اب میں چاہتی ہوں کہ کم وقت ہونے کے باوجود تم فرسٹ ائیر میں کوئی پوزیشن لے کر دکھاؤ،کل سے تم کالج جاؤ گے اور شام کو تمھیں ایک ٹیچر بھی پڑھانے آیا کرے گی،جوسلین سب کچھ طے کر چکی تھی اور اسی طرح ہوا اگلے دن میں کالج اور جوسلین یونیورسٹی چلی گئی،کالج کے بعد ہم آگے پیچھے ہی فلیٹ واپس ہوئے ،کھانے اور کچھ دیر کے آرام کے بعد سہہ پہر کو ہی ایک ٹیچر مجھے پڑھانے آگئی، میں حیران ہوا وہ ایک جوان لڑکی تھی۔ شاید اس کی عمر 26 سال ہو،بعد میں اندازہ ہوا وہ جوسلین کی اسٹوڈنٹ رہ چکی تھی،اور اب کوچنگ سنٹرمیں پڑھاتی تھی،اسے کم وقت میں تیاری کروانے میں مہارت تھی،،مجھے اسپیشل جوسلین کی وجہ سے فلیٹ پر ہی وقت دینے پر رضامند ہوگئی تھی،پڑھانے بیٹھی تو پتہ چلا کہ اپنے شعبے میں بڑی ماہر ہے،،اچھی بھلی خوبصورت لڑکی تھی،بڑی ہی دلکش اور حسین تھی،اسے دیکھ کہ مجھے خماری چڑھنے لگی۔وہ گئی تو شام کو ایک اور استاد آگئے یہ میرے مارشل آرٹ کے استاد تھے ۔شاید جوسلین ایک ہی بار میں میری ہر خوہش پوری کردینا چاہتی تھی، رات کو ہم اکھٹے کھانا کھاتے اور اس کے بعد دیر تک باتیں کرتے جب کھانا اچھی طرح ہضم ہوجاتا تو ہم بیڈ روم میں چلے جاتے اور ہماری مستیاں شروع ہو جاتی،،دھیے دھیرے وقت گزرنے لگا،اور میں معمولات کا پابند ہوتا گیا،ٹیوشن ٹیچر بڑی لے دے کہ رہتی تھی،شاید اس کی وجہ یہ ہوگی کہ جوسلین پڑھائی کے دوران اپنا آپ محسوس کرواتی رہتی تھی،گو کہ ہم لائبریری میں پڑھتے تھے،لیکن مجھے محسوس ہوا کہ جوسلین ہمیں اکیلا چھوڑنے کو بالکل تیار نہیں تھی،میں سمجھ گیا کہ جوسلین کبھی بھی مجھے کسی کے ساتھ بانٹے گی نہیں ،بلکہ اپنے حقِ ملکیت جتاتے ہوئے کسی کو میرے پاس بھی نہیں آنے دے گی،،بہر حال یہ ضرور تھا کہ ٹیچر پر میری شخصیت اثر انداز ہونے لگی تھی ،بھلا وہ اس سے کیسے بچ سکتی تھی۔۔ معمولات چلتے رہے اور جلد ہی جوسلین نے مجھے ناولز پڑھنے کیلیے دینے لگی ،پھر اس کے بار ے میں پوچھتی کے پڑھا کہ نہیں ،اگر میں کہتا پڑھا ہے تو وہ اس کے بارے میں بحث کرتی ،آہستہ آہستہ مجھے ناولز پڑھنے کی عادت ہوگئی،شروع میں ہی جوسلین نے مجھے ممتاز مفتی کا علی پور کا یلی پڑھنے کو دیا،میں اس کی تحریر میں کھو سا گیا،کیا کشش تھی ممتاز مفتی کی تحریر میں ،ایسے لکھاری کم ہی ہوتے ہیں جو لفظوں سے سحرطاری کرد یتے ہیں اس میں ممتازمفتی کے اینکر اینڈی ماباؤ نے مجھے کافی محظوظ کیا،آخر میں نے اس طویل ترین ناول کوختم کر کے ہی دم لیا،اس طرح ابنِ صفی/مظہر کلیم ایم اے ،نسیم حجازی ،قمر اجنالوی ،اے حمید ،طارق اسماعیل ساگر کے دلچسپ ترین ناول پڑھنے لگا،اور مجھے ان کی لت لگ گئی ،اس وقت مجھے نہیں پتہ تھا کہ جوسلین مجھے کتابوں کے مطالعہ کیلیے بک ریڈنگ کی عادت ڈال رہی ہے ،ٹیچر سے میری آنکھ مچولی چلتی رہی ،وہ ظاہر کرتی رہی کہ اسے مجھ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی،لیکن میں سمجھ رہا تھ اکہ اس کے دل میں پرنس کی شبیہ آچکی تھی،میرے سامنے بیٹھتے ہی اس کی آنکھیں بولنے لگتی،لیکن وہ جوسلین سے بہت محتاط تھی بلکہ ڈرتی تھی ،میں یہ سب محسوس کر رہا تھا اور میں بس کسی موقع کے انتظار میں تھا،ایک طرح سے میں جوسلین کی کڑی نگرانی میں تھا،ساتھ ہی ساتھ جوسلین نے مجھے سیکس کی تھیوری سمجھانی شروع کر دی،پریکٹیکل تو ہم ہر رات کرتے تھے۔ سب سے پہلا سبق جو جوسلین نے مجھے دیا وہ تھا کہ سیکس کیا ہے ،کیوں ہے ،اور اس کی کتنی قسمیں ہیں ،پرنس آج کی میری بات یاد رکھنا ،چودائی کی بھوک ہر انسان میں ایسے ہی قدرتی طور پر ہے جیسے پیٹ کو کھانا کھانے کی بھوک لگتی ہے ،سیکس کے حوالے سےنفسیات کے بابا آدم سگمنڈفرائڈ کہتا ہے کہ ہر انسان کی افزائش نسل کے ساتھ ساتھ سیکس کی بھوک پروان چڑھتی ہے،فرائڈ اسے لبیڈو کا نام دیتا ہے چودائی کی بھوک قدرت نے اس لیئے انسان میں ڈالی ہے کہ اس سے انسان کی نسل بڑھتی رہے ،اور اس میں بے مثال مزہ ڈال دیا ہے کہ انسان اپنی بھوک مٹانے کیلیے یہ کام کرتا رہے اور نسلِ انسانی بڑھتی رہے ،ظاہر سی بات ہے کہ اگر انسانیت کی بڑھوتری کا کوئی سامان نہیں ہوتا تو انسان کب کا ختم ہو جانا تھا اس کیلیے تمام مذاہب شادی کرنے کو کہتے ہیں،لیکن کیونکہ یہ مذہبی بحث ہے اور ہم آزاد سوسائٹی کے افراد ہیں ،تو ہمیں اپنی بھوک مٹانے کیلیے جہاں موقع ملتا ہے ،ہم اپنی بھوک کی تسکین کرنے لگتے ہیں ،اس کی کچھ قسمیں بھی ہیں ، نمبر 1۔لڑکے کا لڑکی سے سیکس ۔ نمبر 2 ،لڑکے کا لڑکے سے سیکس ۔ نمبر 3 ،لڑکی کا لڑکی سے سیکس ۔ نمبر 4، سیلف سیکس ، یعنی مشت زنی ۔ نمبر5،جانوروں سے سیکس بنیادی طور پر یہی سیکس ہیں ،ان میں جنس کو جنس سے تقابل کیا گیا ہے ،لیکن کچھ باتیں ایسی بھی سامنے آئی ہیں جو سیکس میں نئی روایات ڈال رہی ہیں ان میں جنس سے جنس کا تقابل تو نہیں ہے ،لیکن نئی جدت نے سرگھما کہ رکھ دیا ہے، یہ ہے انسیسٹ سیکس ۔ نمبر 6خونی رشتوں کا آپس میں سیکس ۔ نمبر 7 ، وائف سویپنگ یعنی بیویوں کی ادلا بدلی خونی رشتوں کا سیکس ہمارے ہاں دیور بھابی اور سالی ،بہنوئی ،اور سسر اور بہو کی شکل میں موجود تھا لیکن اب یورپی وبا سے بہن بھائی اور ماں بیٹے میں بھی شروع ہو گیاہے،اس کی بنیاد تاریخ میں تو بہت پرانی ہے،جیسے عظیم ایمپائیر یونان میں کیلی گولا اور نیرو کا دور میں یہ ہوتا تھا تھا،مغرب نے سیکس کی تمام روایات یونان لی ہیں،یہ سب یونانی ایمپائیر کے معاشرےسے آئی ہیں،آگ پرست طبقہ جو کہ پارسی کہلاتا ہے اور ایران ان کا مسکن رہا ہے ، یہ لوگ مزہبی احکامات کے تحت بہنوں اور بیٹیوں سے شادی کر لیتے تھے،ایک اور مثال سندھ کے راجہ داہر کی ہے اس نے اپنی بہن سے شادی کر لی،،کچھ کہتے ہیں اس نے سیکس نہیں کیا تھا ،لیکن جب شادی ہوگئی اور کوئی روکنے والا بھی نہیں تو پٹرول اور آگ ایک دوسرے سے دور کیسے رہ سکتے ہیں، ( پانچ اکتوبر 2014 کو پاکستان اخبار میں تازہ نیوز آئی ہے جرمن حکومت کی کونسل برائے اخلاقیات نے ایک تجویز دے دی ہےکو نسل کا کہنا ہے کہ جرمن معاشرے میں بہن اور بھائی کے آپس میں جنسی تعلق کو قانونی اجازت ہونی چاہیے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ کس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ اس وقت کونسل پیٹرک سٹیوبنگ کا مقدمہ سن رہی تھی، پیٹرک نے اپنی سگی بہن سوسین کیرول سے شادی کررکھی تھی اور دونوں کے چار بچے بھی تھے۔جرمن حکومت کی اس تجویز پر دیگر یورپی ممالک میں شدید تنقید بھی کی جارہی ہے۔) مرد کا مرد سے سیکس ہمارے معاشرے میں بہت پرانا ہے مغل بادشاہوں نے تو خاص طور پر اس میں بڑا حصہ ڈالا ہے،عورت سے عورت کا سیکس بھی ہمارے معاشرے میں پہلے سے موجود تھا ، اس راز سے پردہ عصمت چغتائی اپنے مشہور افسانے لحاف میں کافی پہلے اٹھا چکی ہے جانوروں سے سیکس گو کہ ٹرپل ایکس موویز کے ذریعے سامنے آیا ہے وہاں پیٹس (پالتو جانور کتا بلی وغیرہ ) کا رواج ہے اور ان کے معاشرے میں فرد کی تنہائی بھی مو جود ہے لیکن ہمارے ہاں بھی یہ موجود ہے ،اس انداز سے نہیں لیکن ہے ضرورر جیسے پالتو جانور گائے بھینس وغیرہ کو باڑے میں ہی جنسی تلذذ کیلیے چودنا ،اب رہ گیا سیلف سیکس یعنی اپنے ہاتھ سے خود کے ساتھ چودائی کا مزہ لینا ،جس میں لڑکا اپنے ہاتھ سے چوت بنا کے اسے چودتا ہے اور لڑکی اپنے انگلی کو عضو بنا کے خود کو چودتی ہے ،یورپ میں تو اس کے لیئے کھلونے بھی ملتے ہیں ،اور نرماہٹ کیلیے آئل یا کریمیں بھی ملتی ہیں، وہاں یہ سیکس کا ایک حصہ ہے اور اس پر کسی کو شرمندگی نہیں ہے ،لیکن ہمارے ہاں یہ ایک بیماری سمجھا جاتا ہے ،ہمارے ڈاکٹروں اور حکیموں نے اسے جنسی طاقت کا خاتمہ کہاہے اور سارے پاکستان کی دیواریں اور ہفتہ وار میگزین مردانہ کمزوری کے علاض سے بھرے ہوتے ہیں ۔ لہذا ،ان نفسیاتی الجھنوں سے پاکستان میں سیلف سیکس کرنے والے لڑکے جلد منی نکل جانا یعنی سرعتِ انزال اور منی پتلی اور عضو کا ٹیڑھا پن اور جریان وغیرہ کا شکار ہوجاتے ہیں ،اور کثرت کے ساتھ ہینڈ پریکٹس کرنے سے جسم میں خون کی کمی بھی ہو جاتی ہے ساتھ ہی ساتھ طبیعت میں شرمیلا پن اور تنہائی پسندی بڑھ جاتی ہے ،تم اسے احساس کمتری بھی کہہ سکتے ہو ۔اصل میں نفسیاتی الجھنوں سے بچا جائے تو اس سے کسی لڑکے کو طبیّ لحاظ سے کو ئی نقصان نہیں ہو سکتا ایک طرف ایک انسان دھڑا دھڑ چدائی کرتا ہے اور ان مسائل سے بچا رہتا ہے اور دوسری طرف ایک انسان مشت زنی کرتا ہے تو کئی مسائل کا شکار ہوجاتا ہے یہ نفسیاتی الجھنوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک انگریزی کہاوت ہے کہ٪ 95 انسان مشت زنی کرتے ہیں اور جو باقی 5 ٪ ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں لیکن لڑکیوں کو یہ نہیں کرنا چاہیئے یہ حقیقت ہے کہ میڈیکلی یہ ان کیلیے کافی نقصان دہ ہے اور معاشرتی طور پر تو بہت ہی خطرناک ہے کیونکہ پاکستانی مرد خود جو مرضی کرتا پھرے لیکن اپنی عورتوں کے ساتھ ایسی کوئی بات منسوب ہوتے ہی اس کی غیرت ابھر آتی ہےلیکن دوسرے کی بیٹیوں پر اس کی رال ٹپکتی ہے،تو ایسے دوغلے معاشرے میں پاکستانی لڑکیوں کو بے حد محتاط زندگی بسر کرنی چاہیئے ، (یاد رہے جوسلین کرسچن ہے )اور پرنس یہ جو بتایا جاتا ہے کہ یہ ہارڈ کور ہے یہ فیٹش ہے ،اینل سیکس ہے ، گروپ سیکس وغیرہ یہ سب سیکس کی قسمیں نہیں ،بلکہ چودائی کے انداز /طریقے ہیں اور اوپر بیٹھ کر کرنا،نیچے لیٹ کر کرنا ،کھڑے ہو کرنا ،بیٹھ کر کرنا یہ سب سیکس کہ مختلف آسن ہیں اسٹائل ہیں ہے یہ بنیادی باتیں ہیں اور تمھیں وقتاً فوقتاً مزید معلومات ملتی رہیں گی،جوسلین رسانیت سے بات کرتے ہوئے اپنی بات ختم کر دی ۔ اسی طرح وقت گزرتا جا رہا تھا،ایک دن جوسلین تھکی ہوئی تھی اور اپنے کمرے میں لیٹی تھی ادھر ٹیچر آگئی،ہم پڑھتے رہے جوسلین نے بس ایک چکر لگایااور پھر لیٹ گئی جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ وہ ہمارے پاس لائبریری میں نہیں آتی تھی بلکہ اپنے ہونے کا احساس دلاتی رہتی تھی، میں نے موقع غنیمت جان کر ٹیچر کا ہاتھ پکڑ لیا،مجھے یقین تھا ٹیچر میری کشش میں پھنس چکی ہے ،جیسے ہی میں نے ہاتھ پکڑا اس کی نظریں سب سے پہلے دروازے کی طرف اٹھی،لیکن وہاں کسی کو نہ دیکھ کر وہ خاموشی سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگی،،میرے لیئے اتنا ہی بہت تھا کہ نہ تو اس نے شور مچایا تھا اور نہ ہی مجھ سے کسی قسم کہ غصے کا اظہار کیا تھا،آخر میں نے اس کا ہاتھ پشت سے چوم کر چھوڑ دیا،ٹیچر میری طرف شاکی نظروں سے دیکھنے لگی،کچھ لمحیں بیتے ہوں گے کہ جوسلین دروازہ کے سامنے سے گزری،ہم پڑھ رہے تھے،جوسلین جیسی جیئنس کہ ہوتے ہوئے ایک نیا کھیل شروع ہو گیا تھا،جس کی ابھی اسے خبر نہیں تھی،سال پورا ہونے والا تھا میرے پیپرز آگئے تھے اس دوران میں دو سو کہ لگ بھگ ناول پڑھ چکا تھا اور میری پڑھنے کی رفتار کافی تیز ہو گئی تھی،مارشل آرٹ میں بھی میں بھی چل نکلا تھا ،میں اچھے نمبروں سے پاس ہوگیا لیکن جوسلین اس سے خوش نہیں تھی وہ چاہتی تھی میں کوئی پوزیشن لوں،اس پر جوسلین ٹیچر سے غصے بھی ہوئی،لیکن غنیمت تھا کہ اسے نکالا نہیں ۔
  9. تم بہت علم حاصل کرنا چاہتے ہو،میں نے اپنی لائیبریری میں جاتےہوئے تمھیں دیکھا ہے ،اسوقت تمھاری آنکھوں میں حریصانہ چمک تھی، تم مارشل آرٹ سیکھنا چاہتے ہو،جدید ٹریننگ لینا چاہتے ہو،تم لڑکیوں کو عورتوں کو فتح کرنے کیلیے وہ سب سیکھنا چاہتے ہو جو اس کیلیے ضروری ہے،مائنڈڈ گیم میں تم ماسٹر بننا چاہتے ہو،تم لوگوں کو پڑھنا چاہتے ہو،تا کہ تم ان سے کھیل سکو وہ نہ تم سے کھیل سکیں،بس بس میڈم ،اتنا ہی بہت ہے، پتہ نہیں کیسے وہ میرے دل کی ہر بات جان لیتی تھی، بلکہ ہر کسی کی جان لیتی تھی ،میرا نام میڈم نہیں ،جوسلین ہے،(جوسلین پاکستانی کرسچن تھی) جوسلین نے میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا، اور میرا نام ۔۔۔۔۔۔۔ ہے میں نے اس سے ہاتھ ملا لیا، یاد رکھنا تم اپنی مرضی سے میرے پاس آئے ہو اسلیے کبھی مجھے چھوڑنے سے پہلے سوچ لینا کہ اسوقت بھی تمھارے پاس واپسی کا رستہ موجود تھا ۔استاد سے تم ہی بات کر لینا اس کی بات کے جواب میں ،میں نے استاد کی ذمہ داری اس پر ڈال دی،میں ہی بات کروں گی تمھاری بات کرنا بنتا بھی نہیں ہے،ویسے اتنی عمر میں تم نے ڈبل پی ایچ ڈی کیسے کر لی،میرے ذہن میں کافی دیر سے ایک تجسس تھا،کار چل پڑی تھی ،تمھارے خیال میں میری کتنی عمر ہے،جوسلین نے الٹا مجھ سے سوال کر دیا،تیس یا بتیس کی لگتی ہو تم،میں نے اسے اپنا اندازہ بتایا،جوسلین ہنسنے لگی، میں چالیس سال کی ہوں،اور ڈبل پی ایچ دی میری صلاحیتوں کا ایک نمونہ ہے،لیکن تم اتنی کم عمر کیسے لگتی ہو،میں بہت حیران ہوا،تمھیں بھی سکھا دوں گی،یہ سب مخصوص غذاؤں اور یوگاسے ممکن ہے کچھ مخصوص ورزشیں بھی اس کیلیے ضروری ہیں،شام تک کام ختم ہو گیا،جوسلین نے استاد سے پتہ نہیں کیا کہا ،کہ وہ مجھے دعائیں دے کر چلے گئے ،جوسلین نے اسے پیسہ بھی دیا تھا،میں وہیں رہ گیا، جوسلین نے تین کمروں میں سے مجھے ایک کمرہ دے دیا تھا،میرا خیال تھا کہ ہم آج رات ہی چدائی کریں گے مگر نازیہ اور میں رات گئے تک باتیں کرتے رہے،ایکدوسرے کا ماضی کھنگالتے رہے،ایکدوسرے کو بارے میں جانتے رہے،باتیں کر کر کے ہم تھک گئے تو سو گئے،اگلی صبح ہم کچھ دیر سے اٹھے،جوسلین نے ناشتہ بنایا ،ناشتہ کر کے جوسلین نے مجھے بازار چلنے کو کہا،جوسلین بہت ہی اوپری درجے ( ہائی اسٹینڈرڈ )کی زندگی گزارتی تھی،بازار وہ میرے لیئے شاپنک کرنے لگی،میرے لیے مہنگے ترین کپڑے خریدنے لگی،اور پتہ نہیں اس نے کیا کچھ خرید ڈالا۔ اس نے دلہن کا ایک لہنگا بھی خریدا جو میری سمجھ سے باہر تھا،جوسلین نے لہنگا انہی کے ٹیلر کے پاس سینے کے دے دیا،اور شام کو یہ لہنگا اسے ملنا تھاہم نے ایک رسٹورینٹ میں دوپہر کا کھنا چار بجے کھایا، پھر باقی کی خریداری کرنے کے بعد ہم واپس ہو لیئے،اس دوران اس نے عجیب فرمائش کر دی ،کہ میں اس کیلیے کوئی تحفہ خریدوں ،میں نے ایک جگہ اس کیلیے سونے کی چین پسند کی اس میں ڈائمنڈ لگا ہوا تھا ۔ظاہر ہے اس کے پیسے بھی اسی نے ادا کرنے تھے ،رستے میں ایک جگہ اس نے پھولوں کا آڈر دیا،تقریباً شام کو ہی ہم گھر پہنچے ،ایک دن میں اس نے لاکھوں پانی کی طرح بہا دیا تھا ۔ سامان وہیں رکھ دیا کچھ سامان لیکر جوسلین اپنے کمرے میں چلی گئی تو میں بھی اپنے کمرے میں جا کہ لیٹ گیا ۔مجھے تو ہلکی سی جھپکی آگئی ،آنکھ کھلی تو یہ ہلکی سی جھپکی بھی کافی ہو گئی تھی رات کے نو بج رہے تھے،کمرہ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ نازیہ یہاں آئی تھی اور جو کچھ لائی تھی اس کی سیٹنگ کر گئی تھی وارڈروب کھول کہ دیکھا تو اس میں سارے کپڑے جڑے ہوئے تھے ، جوسلین نے کھانا باہر سے منگوایا تھا،کھانا وغیرہ کھاتے باتیں کرتے دس بج گئے،چلو شہزادے تیار ہو جاؤ تمھارا ایک سوٹ میں نے نکال دیا ہے تمھارے کمرے میں ہی پڑا ہے وہ پہن لو اور اچھی طرح تیار ہو جاؤ،نازیہ نے مجھے کہا تو اس کے لہجے میں کچھ خاص تھا لیکن میں سمجھ نہ سکا،کیا ہم کہیں جا رہے ہیں ؟ میں پوچھے بناء نہ رہ سکا ،ہاں تم تیار ہو جاؤ، میں کمرے میں جا کر کپڑے بدلنے لگا،کمال ہے وہاں ایک شیروانی بھی پڑی تھی میں نے پہن لی بالکل میرے سائیز کی تھی، سلیم شاہی جوتے پہن کے تیار ہو کے میں نےخود کو آئینے میں دیکھا ،کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا،بلکہ اسوقت مجھے دولہا بھی کہا جا سکتا تھا، مجھے نظر بھی لگ سکتی تھی سو میں نے آئینے سے نظریں ہٹا لیں ،جوسلین نے کہا تھا کہ تیار ہو کہ وہیں ٹھہرو میں تمھیں بلا لوں گی۔میں اس کا انتظار کرنے لگا،آدھا گھنٹا ہو گیا ،پتہ نہیں یہ عورتیں تیار ہونے کیلیئے اتنی دیر کیوں لگاتی ہیں ،خیر انٹر کام کی بیل ہوئی تو میں لپک کہ ریسیور اٹھا لیا،تیار ہوگئے شہزادے ؟ جوسلین نے پوچھا،میں تو پونے گھنٹے سے تیار ہوں آپ کب تک تیار ہوجائیں گی میں نے شوخی سے پوچھا،میں بھی تیار ہوں ،تم میرے کمرے میں آجاؤ اور میرا تحفہ لانا نہ بھولنا ،ریسیور رکھ کر میں جوسلین کے کمرے کی طرف چل پڑا،اس کے کمرے کا دروازہ بھڑا ہوا تھا میں نے ہاتھ کا دباؤ ڈالا تو دروازہ کھلتا گیا،اور میرے قدم وہیں ٹھہر گئے، کمرے کے فرش پر پھولوں کی پتیوں سے راہداری بنی ہوئی تھی،جو کہ بیڈ تک جا رہی تھی ،بیڈ پر بھی پتیاں ہی پتیاں تھی ۔اور اس بیڈ پر جوسلین لہنگا اور کرتی پہنے دلہن بنی بیٹھی تھی ،اس کے ارد گرد لہنگا پھیا ہوا تھا ۔لہنگا گلابی رنگت کا تھا ،جو کہ میرا پسندیدہ رنگ تھا،جب یہ لہنگا میں نے دن کو دیکھا تھا تو شاید میری آنکھوں یا چہرے سے جوسلین نے میری پسندیدگی کا اندازہ لگا لیا ہو گا،یہ سب ایک زبردست سرپرائیز تھا ،اور میں ابھی تک کمرے کی دہلیز پر کھڑا تھا ،اندر آجاؤ میرے پرنس(پہلی بار مجھے پرنس کہا گیا)جوسلین پیار بھری آواز نے میرے کانوں میں رس کھولا ،اور میں مسحور انداز میں اس کی طرف چل پڑا،ایک ہاتھ سے میں نے دروازہ واپس پش کر دیا،جو کہ ٹھک سے بند ہو گیا،میں بیڈ کہ پاس جا کہ پھر رک گیا میں یک ٹک جوسلین کو دیکھ رہا تھا، گویا اجنتا الورہ کی کوئی دیوی میرے سامنے آ کہ بیٹھ گئی تھی،،2 دن سے میں اسے دیکھ دیکھ کے تڑپ رہا تھا ، جوسلین کا بے پناہ حُسن میرے دل و دماغ پر چھا چکا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا حُسن ایک ایسا مقناطیس تھا جس کے سامنے ہر مرد خود کو ایک بے جان لوہے کا ذرّہ محسوس کرتا تھا۔بیٹھ جاؤ میرے پرنس جوسلین میری بے خودی محسوس کر چکی تھی،میں اس کے سامنے بیٹھ گیا، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہوں اور کیا کروں ،میرے پرنس میں نے برسوں چاہا تھا کہ وہ مرد جس کا میں ذکرمیں نے بس سنا ہے ،وہ مرد مجھے مل جائے،پھر میں سوچتی تھی ایسی (سیکس اپیل)جنسی کشش والا دنیا میں ہو گا بھی کہ نہیں ،پھر میں سوچتی کہ ایسے مرد ہو گیں تو ضرور لیکن میری قسمت میں شاید ہی ہو،آج تمھیں اپنے سامنے پا کہ بھی مجھے یقین نہیں آ رہا ،جوسلین جذباتی ہو رہی تھی،مجھے موضوع بدلنا پڑا،یہ سب کیا ہے جوسلین- میں نے اس کے دلہن بننے کی طرف اشارہ کیا،میرے پرنس تم سے ملاقات کا اس سے بہتر آئیڈیا نہیں تھا،میں چاہتی ہوں ہماری پہلی رات زندگی کی یاد گار رات ہو،بڑی بڑی آنکھیں ،لمبی پلکیں ،ستواں ناک،تیکھا چہرہ،خوشنما گال،رسیلے ہونٹ ،لمبے گھنے بال،اسمارٹ جسم ،اور جھانکتے ہوئے دل فریب ممے،گوری رنگت جس میں سرخی شامل ہو،بار بار میں اس کے حُسن میں گویا نئے سرے سے کھو جاتا تھا، کیا یہ کوئی خواب تو نہیں میں ہاتھ بڑھا کہ اسے چھوا،جوسلین بے تابی سے میرے سینے پر آلگی،میں نے اس کی آنکھوں کو چوم لیا پھر اس کے گالوں سے چوما، پھر اس کے ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دیا،جیسے کوئی آبِ حیات کے پیالے کو منہ لگاتا ہے،اور پھر میں اس کے ہونٹوں کی شراب کو دھیرے دھیرے پینے لگا،میرے ہاتھوں میں ایک انمول جینئس عورت تھی،سیکس کے بارے میں اس کی مہارت استاد کے درجے سے آگے رہنما تک چلی گئی تھی،اس کی گردن میرے ایک بازو پر تھی اور اس کا چہرہ میری طرف تھا اس کی گردن کیطرف دیکھتے ہوئے مجھے سمجھ آئی کہ اس نے اپنے لیے تحفہ کیوں لینے کو کہا تھا، وہ آج کی رات کو یاد گار بنانا چاہتی تھی،میں نے شیروانی کی جیب سے چین نکالی تو جوسلین کی آنکھوں میں چمک آگئی،اس کے گال لال رنگ کے ہونے لگے،مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ شرما رہی ہے،بعد میں ایک کتاب میں پڑھا کہ طوائف بھی ایسے مرد کے پاس آ کہ شرما جاتی ہے جسے دل سے اپنا مرد اپنا محبوب مانتی ہے،میں نے ایک ہاتھ سے ہی چین اس کے گلے میں ڈال دی،اور ڈائمنڈ آگے کر دیا،وہ چھوٹے سے دل کی شکل میں تھا،شکریہ میرے پرنس ،میں ہمیشہ اس تحفے کو اپنے دل سے لگا کر رکھوں گی،اب میں بھی اپنےپرنس کو تحفہ دینا چاہتی ہوں ،لیکن سوچ سوچ کے دماغ تھک گیا ہے اور سمجھ پھر بھی نہیں آیا کہ میں اپنے پرنس کے لائق کیا تحفہ دوں ،بڑا سوچا تو ایک تحفہ سمجھ میں آیا،اگر تم قبول کر لو تو میں سمجھوں گی کہ میری زندگی کی ہر مراد پوری ہوگئی،میں سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا،اپنا ہاتھ آگے کرو ،جوسلین نے کہا تو میں نے ہاتھ آگے کر دیا،جوسلین نے میری آنکھوں میں دیکھا اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا، آج سے میں مکمل رضا مندی سے اپنا آپ اپنے پرنس کو سونپتی ہوں ، میں اس کے الفاظ اور لہجے کی تاثیر میں کھو گیا،جوسلین نے لہنگے کا اوپری حصہ اتار دیا ،جیسے گفٹ کا ریپر اتارا جاتا ہے،اس کا چاندی جیسا جسم تھا یا دودھیا بدن تھا ، یا شہد کا ذائقہ کھلا ہواتھا یا اس کا جسم ریشم جیسا تھا سلکی بدن ،بلکہ نہیں جسمانی تعریف میرے لیئے تو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے اور کیفیات بیان کرنے کیلیے تو الفاظ کی کم مائیگی کا شدید احساس ہوتا ہے بس جو بھی تھا بےحد تھا بے پناہ تھا میں نے اس کی کمر اپنے سینے سے لگا لی اور اور اس کا بریزیر اتارنے لگا،ہُک کھول کے میں نے ہاتھ پیچھے سے اس کی برا میں جانے دیئے اور ریشمی ممے پکڑ لیا،دونوں ہاتھوں سے مموں کو آہستہ آہستہ مسلنے لگا،اور ساتھ میں اس کے کندھے اور گردن کو چومنے لگا،تھوڑی دیر بعد جوسلین نے اپنا چہرہ میری طرف کر لیا،اور میر شیروانی کے بٹن کھولنے لگی،شیروانی اتار کے اس نے میرا کرتا اور بنیان بھی اتار دی،اور ساتھ ہی میرے ناڑے پر ہاتھ ڈال دیا،پاجامہ اتار کہ ہم ساتھ ساتھ لیٹ گئے،اور میں اس کا چہرہ چومنے لگا،چہرہ چومتے ہوئے میں اس کے گردن چو متا ہوا اس کے کندھے اور سینہ چومنے لگا،میرے ہاتھ مسلسل اس کےممے کو سہلا رہے تھے،اسی طرح میں اس حسین وادی کے پگڈنڈیوں پر ادھر ادھر پھرتا ہوا اس کے پیٹ کو چومتا ہوا اس کا لہنگا اتارنے لگا،لیکن جوسلین نے میرا ہاتھ پکڑ لیا،آہ میرے پرنس بہت اچھا کر رے ہو ،پر جو بھی کرنا ہے اس لہنگے کے ساتھ ہی کرنا ہے تا کہ اس کی قیمت وصول ہو جائے ، میں نے آہستگی سے اس کا لہنگا اوپر اٹھا دیا،نیچے ۔۔۔۔ اس نے کچھ نہیں پہنا ہوا تھا،میں براہ ِ راست اس کی انہدامِ دانی (چوت)کو دیکھنے لگا،بے شک کپڑے اتار کے اس کا حُسن دُگناتِگنا ہو گیا تھا ،میں اس کی ٹانگیں چومتا ہوا واپس مموں پر آگیا اور ممے چوسنے لگا،اسوقت میں اتنا ماہر نہیں تھا،پھر مجھ پر جوسلین کی شخصیت کا بھی رعب تھا،کیونکہ ایک تو وہ حسین بہت تھی اوپر سے سیکس میں استاد سے بھی آگے تھی،میں اسے سیکس میں کیا مزہ دے سکتا تھا،نازیہ نے میری جھجک محسوس کر لی،میرے پرنس،سیکس کے بارے میں دنیا کا سار علم بھی کسی کو آجائے تو پھر بھی چودائی کیلیے نہ کوئی نیا سوراخ نکل آنا ہے اور نہ کوئی چودنے کو عضو کےساتھ کچھ اور نکل آنا ہے یہ موری ہے اور یہ عضو ہے اور اسی طرح چوما چاٹی کیا جاتا ہے،ویسے بھی تمھیں کسی مہارت کی ضرورت نہیں ہے ، جو کچھ تمھارے پاس ہے ،اسے کسی مہارت کی ضرورت نہیں ،تم ہاتھ ہی لگا دو تو جسم میں مزے کی لہریں اٹھنے لگتی ہیں،اسلیے کھل کے پیار کرو اپنی جوسلین کو،جوسلین کے الفاظ سے مجھ میں بے باکی آگئی اور میں عضو اس کی چوت پر رگڑتے ہوئے ممے چوسنے لگا،جو مجھے آتا تھا میں وہی کر رہا تھا اور جوسلین کے تاثرات بتا رہے تھے وہ ایک ایک پل سے محظوظ ہو رہی ہے،یہ سیکس کے اثرات نہیں تھے بلکہ چہرے پر جوش تھا جیسے کوئی انمول خزانہ پانے کے تاثرات تھے،آہستہ آہستہ ہم پر سیکس غالب آنے لگا،میں کیا کر رہا تھا میں اس کے جسم کو اوپر سے نیچے چوم رہا تھا ،اس کے ممے چوس رہا تھا ، اس کے جسم سے میرا جسم رگڑ کھا رہا تھا ،اس سے اسپارکنگ ہو رہی تھی ،اور اس اسپارکنگ سے جسم ہیجان میں مبتلا ہو رہے تھے،بعد میں جوسلین نے مجھے بتایا کہ اسے فورپلے کہتے ہیں ،ہمارے دیسی ماحول ماحول میں اسے گرم کرنا کہتے ہیں ،لیکن گرم کرنے اور فور پلے کی تھیوری اور پریکٹیکلی میں بہت فرق ہے،گرمی تو چوت کے پہلے حساس ترین مقام (المعروف چوت کا دانہ لیکن اس کا اردو میں صحیح نام بظرہے یہ مرغی کی کلغی یا مٹر کے دانے جیسا ہوتا ہے اور 1/5 یا 1/4 انچ ہوتا ہے یہ چوت کے لبوں کے اندر سوراخ سے ڈیڑھ انچ اوپر ہوتا ہے مگر کچھ عورتیں چوت کے سوراخ والی جگہ سے زیادہ گرم ہو جاتی ہیں بظر کو چودائی کے دوران عضو چھو نہیں سکتا اسے انگلیاں سے ہی چھیڑا جا سکتا ہے یا عضو ہاتھ میں پکڑ کر اس کے ہیڈ کو اس پر رگڑا جا سکتا ہے ) کو چھیڑنے سے بھی چڑھ جاتی ہے ،سچی بات تو یہ کہ جوسلین کے جسم سے میرا دل نہیں بھر رہا تھا،اورجوسلین اب چودائی کیلیے اُتاولی ہو رہی تھی ،میرے لیے یہ بڑی بات تھی کہ جوسلین جیسی سیکس جینئس کو میں سیکس کے ہیجان میں مبتلا کرچکاتھا۔آہ میرے پرنس تمھارا جادو سر پر چڑھ گیا ہے،آج تک مجھے چودائی کیلیے کوئی بھی اتنا بے تاب نہیں کر سکا،یہ سب تمھاری جنسی کشش کا کمال ہے،اب اندر ڈال دو اور ہمیشہ کیلیے مجھے اپنا بنا لو،بے شک تم وہی ہو جس کی صرف آرزو کی جاسکتی تھی،جوسلین کا حُکم سرآنکھوں پر مگر میرا دل اس کے جسم کی رعنائیوں سے نہیں بھرا تھا،پھر بھی میں نے اس کی ٹانگیں کھول کے مخصوص پوزیشن بنائی ،جوسلین مجھے گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی ،لہنگے کے پیچھے والا حصہ اس کی گانڈ اور ٹانگوں کے نیچے پڑا تھا ۔میں اسے اوپر کرنا چاہا تو اس نے سر ہلا کہ مجھے منع کر دیا ،گویا اس وقت بولنے کی بھی حالت نہیں تھی،بہر حال میں نے اس کی ٹانگوں کو موڑا اور گھٹنے اوپر کی طرف ہو گئے اور میں آگے ہوا ،میرے گھٹنے لہنگے کے اوپر آگئے،اچھے بھلے لہنگے کا ستیاناس ہونے لگا تھا کیونکہ ا سکا کپڑا بڑا ہی نازک تھا لہنگا تقریباً ڈیڑھ لاکھ کا توتھا ہی ۔شایدجوسلین اس کا ستنیا ناس ہی چاہتی تھی،میں تھوڑا آگے ہوا اور عضو اوپر رکھنے لگا تو جوسلین نے اپنا ہاتھ بڑھا کے میرا عضو پکڑ لیا اس کے لیے اسے تھوڑا اوپر ہونا پڑا ،میرا عضو اپنی چوت پر صحیح رکھ کہ جوسلین نے میری طرف دیکھاتو میں نے اندر ڈالنا شروع کر دیا ،جوسلین کی آنکھیں اس منظر پر ایسے چپکی ہوئی تھیں جیسے وہ اس لمحے کو اپنی آنکھوں میں ہمیشہ کیلیے محفوظ کرلینا چاہتی ہو، عضو اندر جاتا ہوا کچھ حیران تھا کیونکہ چوت کی دیواروں نے اسے گرم جوشی میں لپٹ کر خوش آمدید کہا ،جیسا جوسلین نے اپنے بارے میں بتایا تھا،ایسے تو چوت کھلی نہیں تو نارمل ہی ہونی چاہیئے تھی،لیکن یہ تو تنگ تھی،شاید کم عمر نظر آنے کی طرح ا سمیں بھی جوسلین کا کوئی کمال تھا ،
  10. کچھ لمحوں میں کام چھوڑ چھاڑ کےتہمینہ آگئی ۔ جی فرمائیے ؟ تہمینہ نے سنجیدہ لہجے میں انجان بن کے پوچھا ۔ میں مسکراتا رہا اور میٹھی میٹھی نظروں سے تہمینہ کو دیکھتا رہا ۔ مجھے پتہ تھا تہمینہ مجھ سے ناراض ہے ۔ بتیس سالہ تہمینہ میں وہ سب کچھ تھا جوکسی بھی مرد کو پاگل کر سکتا تھا ، کسی وقت میں بھی پاگل تھا ،اور پھر پاگل پن پانی کے ساتھ نکل گیا،ہر بار یہی ہوتا تھا ۔پھر ملنا ملانا کم ہو گیا ۔ آج کافی عرصے بعد تہمینہ کی یاد آئی، میری مسکراہٹ نے اسے پگھلا دیا ۔ بہت ہی ظالم ہو تم ، تہمینہ میرے گلے لگ چکی تھی،۔ ہر بار دل سے عہد لیتی ہوں کہ تم جب ملو تو پتھر ہو جانا مگر پتہ نہیں کیا بات ہے تم میں ، تمھیں دیکھتے ہی دل تم سے لپٹنے کو مچلنے لگتا ہے ۔ تہمینہ کچھ بیٹھی کچھ میرے اوپر گری ہوئی تھی ۔ تہمینہ تمھارا حسن اور تمھاری جسمانی کشش تمھاری ادائیں مجھے اپنے پاس کھینچ کے لے آتی ہیں یقین مانو میں تمھیں چاہتا ہوں تو تمھارے پاس آتا ہوں جب بھی مصروفیت سے فرصت ملتی ہے تو تمھارے پاس آجاتا ہوں ۔۔میں جانتی ہوں تمھاری مصروفیت، تہمینہ نے ناراضگی سے کہا ۔ تو کیوں نہ اب شکووں کی بجائے ہم بھی مصروف ہوجائیں میں نےاسے پیار سے سمجھایا ۔ تہمینہ اٹھی اور اس نے انٹڑ کام سے کال کی، پیک کر دو، باقی کل ۔ کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے اوکے۔ پھر میری گود میں گھس آئی ۔ ہم کسنگ کرنے لگے ، تہمینہ مجھ سے ایسے ترسی ہوئی تھی جیسے پانی کے بناء مچھلی ترستی ہو ۔ بےصبری سے تہمینہ نے میرے کپڑے اتارے اور پھر خود بھی ننگی ہوگئی ۔ اس کا چاندی کا جسم چمکنے لگا ،اس جسم کی رعنائی نے مجھے پاگل کر دیا تھا ، اب پھر اس کے جسم کا جادو سر پر چڑھ گیا مجھے بہکانے لگا ۔ تہمینہ کی طلب اتنی زیادہ تھی کہ میں نے کچھ کرنے کی بجائے خود کو اس کے حولے کر دیا ۔ صوفہ تھوڑا چوڑا تھا ۔ میں کچھ بیٹھا کچھ لیٹا ہوا تھا۔ تہمینہ مجھے مجنونانہ انداز میں چوم رہی تھی اس کے ہاتھ میں میرا عضو تھا ۔ وہ مجھے چومتی ہوئی چہرے سے سینے پر اور سینے سے پیٹ پر اور پیٹ سے عضو تک کا سفر بے تابی سے طے کرتی ہوئی منزل پر پہنچی اور عضو منہ میں لے کر چوسنے لگی ۔ پتہ نہیں تم اتنے بے رحم کیوں ہو پرنس ،تہمینہ کو سکون نہیں آرہا تھا وہ چوستی بھی تھی اور شکوے بھی کر رہی تھی۔اس کی بے چینی ایسے ہی ہوتی تھی۔ تہمینہ بہت جوشیلی تھی ۔اس کے ساتھ سیکس کرنے میں بہت مزہ آتا تھا اب بھی وہی ہو رہا تھا تہمینہ نے جوش میں مجھ پر چڑھائی کی اپنی پوزیشن درست کی اور عضو کو پکڑ کے چوت پر رکھا،چوت پر اپنا وزن ڈال کہ عضو اند لینے لگی پورا عضو اندر لے کے تہمینہ اپنے جسم اور گھٹنوں کے بل اوپر نیچے ہونے لگی۔ تہینہ کی رفتار سے اس کے جوش کا پتا چل رہا تھا۔ اس کے ممے ایک ردھم سے ہل رہے تھے بلکہ مجھے ہلا رہے تھے ۔اوہ تہمینہ تم کمال ہو ،تم جیسی کوئی نہیں ، تہمینہ پہلے ہی جوشیلی تھی میری تعریف سے ہوائی گھوڑے پر بیٹھ گئی ۔ جسم کے اندر طوفان تھا اور طوفان میں میں لہریں اچھل اچھل کے بندھے بند کو توڑنا چاہتی تھی ۔ جب تک جسم سے یہ طوفانی پانی باہر نہیں نکلنا تھا لہریں اور سے اور منہ زور ہوتی جانی تھیں ۔ تہمینہ اس طوفان سے اکیلی ہی نبزد آزما تھی مجھے اس پر ترس آیا اس کی حالت بہت بری تھی مگر وہ جوشیلے انداز میں چودائی کرتی جا رہی تھی ۔میں نے اسے روکا اور باہر نکالے بغیر اسے صوفے پر لٹایا ،اس کی ایک ٹانگ صوفےسے نیچے لٹکائی ،اور میں نے وہیں سے طوفان اٹھا دیا جہاں سے سلسہ ٹوٹا تھا ۔ تہمینہ کا سرور سے برا حال تھا آہ پرنس یہی تو میں چاہتی ہوں تم مجھے چودو ۔میرے اوپر چڑھو ، میرے مالک بن کے مجھے حاصل کرو ۔ تہمینہ کی باتیں بتا رہی تھیں کہ وہ کب کی ہوش کی دنیا سے آگے جا چکی تھی ۔ میں ایسی باتیں سننے کا عادی تھا اب یہ باتیں مجھ پر کچھ بھی اثر نہیں رکھتی تھیں ۔ آج مجھے اپنے بچے کی ماں بنا ڈالو ۔ سیکس تہمینہ کے دماغ کو چڑھ گیا تھا ۔ چودو، چودو ،اور تیز کرو نہ ۔ تب میں نے فوراً تہمینہ کو گھوڑی بنا کے عضو چوت میں ڈالا ۔ اور اس کی گانڈ پر تھپڑ مارنے لگا ۔تہمینہ کا یہی علاج تھا ۔ کبھی کبھی اسے یہ دورہ پڑتا تھا جب طوفانی چودائی سے اس کا کچھ نہیں بنتا تھا تو تشدد کا سہارا لینا پڑتا تھا ۔ ایک طرح سے یہ نفسیاتی مسلہ بھی ہے گانڈ پر تھپڑ مار مار کے میں نے لال کر دی ۔ ساتھ چودائی بھی جاری رکھی ۔ تہمینہ کی کچھ تسلی ہونے لگی ۔پانی کناروں پر آنے لگا ۔ تھوڑے کنٹرول کے ساتھ میں نے بھی اپنا کام جاری رکھا ۔ پرنس رکنا مت تہمینہ چلائی ۔۔میں کونسا رکنے والا تھا ۔تہمینہ کی کشتی کو طوفانوں سے نکال کر کنارے پر ہی تو لانا تھا ۔ اور تہمینہ کا جسم جھٹکے کھانے لگا ۔ میں سمجھ گیا پانی کی جگہ سیلاب ہی آئے گا،میں بھی اس کے ساتھ ہی کنٹڑول چھوڑ دیا اور چند لمحوں میں تہمینہ کی چوت اپنے پانی سے سیراب کرنے لگا ۔ پانی ہی اس کی آگ بجھا سکتا تھا ۔ ہم ایکدوسرے پر گرے پڑے تھے ۔تہمینہ کو نارمل ہونے میں 10 منٹ تو لگ ہی گئے ۔ہوش میں آتے ہی تہمینہ نے نیا مسلہ چھیڑ دیا۔پرنس پچھلی بار مجھے حمل ہوگیا تھا ۔ایک لیڈی ڈاکٹر کو اچھے خاصے پیسے دے کے ابارشن کروانا پڑا مجھے ۔ کیا میں مجھے تعجب کے ساتھ تہمینہ پر غصہ بھی آنے لگا۔ تم نے مجھے تو بتانا تھا ۔دو گولیاں ، گائنی کوسڈ ، کھا لینی تھی چوبیس گھنٹے میں مینسسز آجانے تھے ۔جناب پرنس صاحب آپ ایک دفعہ غائیب ہوجائیں تو پھر نہ پیچھے مڑ کے دیکھتے ہیں اور نہ ہی کوئی کال ریسیو کرتے ہیں ۔ یار تم مجھے ایک میسج ہی کردیتی ،مجھے خبر تو ہوجاتی ،فلیٹ پر ہی آ جاتی ۔ کسی طرح مجھ تک مسلہ پہنچا دیتی باقی میں خود کرلیتا ۔ میں غصے میں بولا تو تہمینہ کچھ ڈھیلی پڑ گئی ،وہ مجھے بھی غصہ آگیا تھا ۔میں نے تب ہی ارادہ کر لیا تھا کہ تم سے اب بات بھی نہیں کرنی ،مگر تمھیں دیکھتے ہی سب کچھ بھول جاتی ہوں ۔اب کوئی مسلہ بنے تو مجھے بس ایک میسج کر دینا ۔میرے پاس اس کی بڑی میڈیسن پڑی ہیں ۔ابارشن کرنا پڑا تو وہ بھی کر لوں گا ،ایک چھوٹے سے اوزار سے رحم کا منہ کھولنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے ۔ دوسرے مہنیے ابارشن کروایا تھا تم نے ؟مجھے تسلی نہیں ہو رہی تھی ،ہاں دوسرے مہنیے فوراً پتہ چلتے ہی ابارشن کروا دیا تھا۔ چلو پھر تو کوئی مسلہ نہیں بنا ہو گا ۔زیادہ مسلہ تیسرے مہنیے کے بعد بنتا ہے ۔ اچھا چھوڑو یہ بیکار کی باتیں ،تہمینہ اب موضوع سے جان چھڑانا چاہتی تھی میں سمجھ گیا وہ ابھی اور کھیلنا چاہتی تھی ۔اس بار میں دل سے جم کر اس کی چودائی کی ،اور اس کی کسریں نکال دی ۔ تہمینہ کو حمل کے دوران ذہنی اذیت ہونے سے اب میں اس کا ازالہ کر رہا تھا ۔ کیونکہ ایسے حالات میں کبھی بھی میں نے اپنی گرل فرینڈ کو تنہا نہیں چھوڑتا تھا ۔ اسی طرح دو بجنے والے ہو گئے ۔ ہم باہر نکلے تو سارا اسٹوڈیو خالی تھا ۔ تہمینہ کی کاراسٹارٹ ہی نہیں ہو رہی تھی سو اس کے گھر چھوڑتے ہوئے میں فلیٹ پر آگیا سوا دو ہونے والے تھے ۔ یہ وقت پرفیکٹ (ہر لحاظ سے بہترین) تھا۔امید تھی اس وقت نگینہ کی آنکھیں دلآویز کی نگرانی نہیں کر رہی ہوں گی، یہ بھی طے تھا نگینہ سرورے کے ساتھ اپنے بیڈ روم میں ہو گی ۔میں جانتا تھا نگینہ کوئی رات خالی نہیں جانے دیتی ہوگی ۔اس وقت دلآویز سے لمبی بات ہو سکتی تھی اگر سب کچھ میرے طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوتا ، میں نے دلآویز کا موبائل نمبر ملایا ، میرا دل دھڑک رہا تھا ۔ بیل جانے لگی ،ساتویں بیل پر کال رسیو کر لی گئی ، ہیلو ایک نیند میں ڈوبی ہوئی آواز آئی ،آواز سے لگتا تھا کسی نوجوان لڑکی کی آواز ہے ۔ ہیلو کون ہے بھئ کیا مسلہء ہے اس وقت ، غالباً وقت بھی دیکھا گیا ہو، ہیلو آپ نے مس کال دی تھی تو میں نے آپ کو بیک کال کی ہے ۔ آپ بتائیے ،کیا بات ہے ؟کیوں کال کی آپ نے مجھے ؟ کیا میں نے کال کی ہے ، میں ابھی تمھاری کال سے سوتی اُٹھی ہوں اور تم مجھے کہہ رہے ہو کہ میں نے کال کی ہے ۔ کون ہو تم ؟ دلآویز غصے میں آگئی ۔مجھے آپ کی مس کل آئی تھی اس لیئے جوابًا کال کی ہے ،اور آپ کہہ رہی ہیں کہ آپ نے کال ہی نہیں کی ،عجیب بے ہودہ انسان ہو تم بلاوجہ ہی مان نہ مان میں تمھارا مہمان ،دلآویز غصے میں تھی،میں چاہتا تھا وہ اچھی طرح جاگ جائے ،بات سنیئے اتنے غصے میں نہ آئیے ،کال آپ نے نہیں کی میں نے ہی کی ہے ۔میں بس آج کی رات کا مہمان ہوں اور ادھر ادھر بھٹک کے اپنی قسمت آزما رہا ہوں۔اس وقت اپنی زندگی کی آخری کالز کر رہا ہوں ، ابھی دس بارہ رانگ کالیں کر چکا ہوں لیکن کسی کے پاس میری زندگی کیلیے وقت نہیں ہے ۔دوسروں کی طرح آپ بھی برا مان گئی ہیں ۔ آپ کو سوتے میں اٹھایا ۔ نہایت معذرت خواہ ہوں ،خدا حافظ ۔میں نے کال بند کر دی اگر پانچ منٹ میں دلاویز کی کال آجاتی ہے تو اس کا مطلب تھا کہ مچھلی نے چارہ نگل لیا، نہیں تو کوئی اور حل سوچنا پڑے گا ۔ ایک منٹ ،دو منٹ ،تین منٹ ،چار منٹ ۔میں مایوس ہونے لگا ، موبائل پر ایک بیپ ہوئی ، کال دلآویز کی تھی ۔ ہیلو جی فرمایئے میں نے کال رسیو کی ، آپ زندگی کی آخری کالز کر رہے ہیں کیا مطلب ہے اس بات کا ،دلآویز کی آواز میں بے چینی تھی ۔ آخری کالز کا مطلب ہے کہ میں نے پانچ بجے خود کشی کر لینی ہے کل پانچ بجے میری دوست مر گئی اور آج میں اسی وقت اس کے پاس چلا جاؤں گا ۔ کیا آپ پاگل تو نہیں ہیں ، میرا مطلب ہے کہ آپ کون ہیں ۔ ایسا کیوں کر رہے ہیں ،میرا مطلب ہے کہ آپ ایسا نہ کریں پلیز دلآویز کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کہے ،آپ ایسا مت کریں ،زندگی انمول ہے ۔یہ بار بار نہیں ملتی ،خود کشی حرام ہے ۔ کسی کے ساتھ مرا نہیں جاتا نہیں تو اس کی روح بے چین ہوگی،دلآویز مجھے طرح طرح سے سمجھا رہی تھی ۔ لیکن میں نے کال بند کر دی ، پھر اس کی کال آگئی ،پلیز میری بات سنیئے، کال بند نہ کیجیئے گا ۔ کیا وہ آپ کی محبت تھی ۔ کیا آپ اس لیئے مرنا چاہتے ہیں کہ آپ کو کوئی چاہنے والا نہیں ہے ۔پلیز آپ کچھ تو بولیں ، مجھے صرف اتنا پتہ ہے کہ اب مجھ سے جیا نہیں جاتا اتنا کہہ کر میں نے کال پھر بند کر دی ۔پھر اس کی کال آگئی۔ جونہی میں نے کال ریسیو کی اس کے بے چین آواز آئی ۔ پلیز میں آپ کو روکوں گی نہیں ایک بار میری پوری بات سُن لیں ،ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کسی کے پاس آپ کی زندگی کیلیے وقت نہیں ہے اور جب میں آپ کی زندگی میں دلچسپی لے رہی ہوں آپ بات ہی نہیں سُن رہے دلآویزکی دلیل نے مجھے اس کا فون سننے پر مجبور کر دیا ۔ ٹھیک ہے میں آپ کی بات سُن رہا ہوں ۔لیکن مجھے اب افسوس ہے کہ میں نے آپ کو ڈسٹرب کر دیا ۔ اب میں سوچ رہا ہوں مجھے کسی کو کال نہیں کرنی چاہیے تھی ، میرا نام دلآویز ہے آپ کا کیا نام ہے ،دلاویز نےمیری بات ان سنی کرتے ہوئے اپنی بات شروع کر دی ۔ میرا نام ، جو مرضی کہہ لیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اچھا چلیں میں آپ کو ،،،،،،،،، ساحل کہہ لیتی ہوں ،ٹھیک ہے ، دلاویز نے پوچھا ،ٹھیک ہے پر یہ ساحل ڈوبنے والا ہے ۔ اس نے نام رکھ کے مجھے امید دی اور میں نے وہ امید ڈبو دی ، دلآویز نے میری بات سنی ان سنی کر دی اور اپنا سوال دہرایا ۔ اچھا آپ یہ بتائیں آپ جس کیلیے حرام موت مرنا چاہتے ہیں ،کیا وہ آپ کی محبت تھی ؟ نہیں وہ میری دوست تھی بس ،شوکت میموریل ہسپتال میں کل وہ میرے سامنے مر گئی ۔ کینسر کی آخری اسٹیج پر تھی ۔مجھ سے اس کی موت کا منظر بھلایا نہیں جا رہا ،اس کا دکھ مجھے تڑپا رہا ہےمیں کیا کروں میں مرنا چاہتا ہوں ، آپ میری ایک بات سنیں گے،دلآویز رندھی ہوئی آواز میں بولی ، آپ رو رہی ہیں،آپ میرے لیے رو رہی ہیں ،میں بے چین ہو گیا ،ہاں میں ایسی ہی ہوں مجھ سے کسی کا دکھ دیکھا نہیں جاتا ۔ اوہ میں بہت برا ہوں میں نے آپ کو دکھ دیا ،میں ایسا نہیں چاہتا تھا بس میں رانگ کالز کر رہا تھا کہ دل بہل جائے اصل میں آج پانچ نہیں بج رہے تھے ،اور اب میں نے آپ کو دکھی کر دیا ۔ ویری سوری ۔ آپ مجھے بھول جائیں ،خدا حافظ ۔ نہ نہ نہ آپ کال بند نہ کریں ،آپ کو آپ کی دوست کی قسم آپ مجھ سے پانچ بجے تک بات کریں ۔ دلآویز نے روتے ہوئے مجھے مجبور کیا ۔اور میں مجبور ہوگیا ، آپ نے مجھے قسم ہی ایسی دی ہے کہ اب آپ کی بات سننی پڑے گی لیکن میرے ہاتھ میں پسٹل ہے اور یہ آج پانچ بجے چل پڑے گا۔ میں نے اسے تنبیہ کی۔ ٹھیک ہے آب ہم پانج بجے تک بات کریں گے ۔اچھا ساحل آپ ایک بات کا جوا ب دیں گے ۔ ضرور پوچھیئے ،اگر آپ کا کوئی بھی دوست آپ کی وجہ سے مرنا چاہے تو آپ اسے روکیں گے یا مرنے دیں گے ؟ دلآویز کے سوال نے مجھے خاموش کر دیا ۔ بتائیں نہ آپ مرنے دیں گے یا نہیں ۔ دلآویز نے اپنا سوال دہرایا ۔ایک دوست اپنے دوست کو کیسے مرنے دے سکتا ہے ،اس کی جگہ میں خود مر جاؤں گا، میں نے صحیح جواب دیا ۔ اچھا تو اگر آپ کی دوست زندہ ہوتی تو کیا وہ آپ کو حرام موت مرنے دیتی ۔ نہیں وہ مجھے نہیں مرنے دیتی ۔ مجھے پھر صحیح جواب دینا پڑا ۔ آپ کو پتہ ہے آپ کی دوست مری نہیں ہے وہ زندہ ہے بس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوئی ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ آپ خود کشی کریں ،وہ آپ کیلیے بے چین ہے ۔اگر آپ نے خود کشی کی تواس کی روح تڑپتی رہے گی ،اگر آپ حرام موت مر گئے تو آپ کی دوست کو کبھی چین نہیں آئے گا ۔ تو اب آپ سوچ کر بتائیں ،کیا آپ اپنی دوست کو دکھی کرنا چاہتے ہیں یا اس کی روح کو سکون دینے کیلیے دعا کرنا چاہتے ہیں ۔ مجھے جیسے خاموشی لگ گئی ۔ مجھے کوئی جواب نہیں آیا ، آپ کی خاموشی بتا رہی ہے کہ آپ میری بات سمجھ گئے ہیں لیکن اقرار نہیں کرنا چاہتے دلآویز نے درست تجزیہ کیا ۔ لیکن مجھ سے اپنی دوست کا دکھ برداشت نہیں ہوتا ، میں پہلے ہی بہت تنہا ہوں ۔ کوئی بھی تنہا نہیں ہوتا ،ہر کسی کے ماں باپ ،بھائی بہن ،دوست احباب ،رشتے دار ہوتے ہیں ،آپ کمرے سے نکلیں اور ان کے ساتھ اپنا دکھ بانٹیں ۔ دلآویز نے مجھے سمجھایا ، میرے پاس ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے ، میرے ماں باپ پچھلے سال اتنقال کر گئے تھے ،مطلب پرست رشتہ دار وں سے میں دور رہتا ہوں ۔اور ایک یہی دوست تھی ا سی نے مجھے اس وقت بھی سنبھالا جب میرے والدین کی وفات ہوئی تھی ۔ میں نے سچ کو جھوٹ میں ملا کر بتایا ۔ اوہ تو اب میں آپ کا اصل مسلہ سمجھی ہوں ،آپ تنہا ہیں اور آپ کا کوئی دکھ بانٹنے والا نہیں ہے ۔ ویری سیڈ ۔ دلاویز کی حساسیت عروج پو تھی ۔ اچھا تو ایسا کرتے ہیں آج سے میں آپ کی دوست بن جاتی ہوں ۔اگر آپ خود کشی کا خیال دل سے نکال دیں ،ہا ہا اہا ہاہا ۔ میں کرب سے ہنسنے لگا ، کیا ہوا آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟ دلآویز نے حیرانی سے پوچھا ۔ آپ صرف ترس کھا میری دوست بن رہی ہیں ، اور کل کوہو سکتا ہے آپ مجھ سے بات بھی نہ کریں ،نہیں نہیں میں اپنے والدین کی قسم کھاتی ہوں ، میں آپ کی پکی اور سچی دوست بنوں گی ہمیشہ کیلیے ۔۔ آپ نے والدین کی قسم کھائی ہے میں آپ کا اعتبار کر لیتا ہوں اگر آپ نے دوستی سے منہ موڑا تو میں اسی دن تنہائی کے ڈنگ سے مر جاؤں گا ، میں نے آج تک کسی لڑکے سے دوستی نہیں کی اب کر لی ہے تو کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گی ، دلآویز کی آواز اس کے دل سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ ٹھیک ہے تو آج سے ہم دوست ہیں مجھے اب اقرار کرنا پڑا۔اب آپ وعدہ کریں آپ خود کشی نہیں کریں گے،دلآویز آب بھی محتاط تھی ،میں خود کشی نہیں کروں گا اگر آپ ہر رات مجھ سے بات کیا کریں ،بس اور میں اپنی دوست سے کچھ نہیں چاہتا ۔ ہم ہر رات بات کیا کریں گے ساحل ۔ اب آپ ساحل پر آ گئے ہیں اب تو اپنا نام بتا دیں دلاویز مجھے جاننا اور سمجھنا چاہتی تھی ۔میں نے اسے بتایا کہ ۔ آج سے میرا نام ساحل ہی ہے ۔۔ اور دلآویز مجھے جانتی اور سمجھتی رہی ۔اور اپنی ہر بات مجھے بتاتی اور سمجھاتی رہی ۔ دنیا جہاں کی باتیں ہوئیں ۔دو ہفتے میں ہم گہرے دوست بن گئے ۔اب میں نے اس سے خاص باتیں شروع کر دی۔ اس کی زندگی اس کے گھر بار کی باتیں ۔ میں جان بوجھ کے ایسی باتیں کر دیتا جو اکسانے والی ہوتی تھیں اور دلآویز شروع ہو جاتی ۔جیسے میں نے اس سے کہا کہ تمھاری ممّا تو بہت خیال رکھتی ہیں تمھارا ۔ ہاں کچھ زیادہ ہی خیال رکھتی ہیں دلآویز نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا ۔کیا مطلب کُھل کے بات کرو نہ اب دوستوں سے بھی دل کی بات نہ کرو گی تو کس سے کرو گی۔ یار ممّا نہ ، بہت ہی تنگ کرتی ہیں پابندیاں ہی پابندیاں میں ان سے تنگ آ چکی ہوں ۔میری دوستوں تک کو نہیں چھوڑتی۔ہر وقت میرے آنے جانے پر نگرانی،میرے موبائل کو بھی چیک کرتی ہیں مجھے باہر تو نکلنے ہی نہیں دیتی۔ میں نے بھی اب بغاوت کر دی ہے۔اور پچھلےسال یونیورسٹی میں داخلہ لے لیاتھا۔ممّا نے بہت شور کیا مگر ابا نے اُن کی ایک بھی نہ چلنے دی۔ ممّا کی اس عادت سے ابّا بہت تنگ ہیں مگر ممّا کے سامنے بولتے نہیں ۔ اگر تمھارے ابا مّما کے سامنے بولتے نہیں تو تم یونیورسٹی کیسے چلی گئی میں نے اس کی گفتگو میں لقمہ دیا ۔ میرے لیئے ابا ممّا سے ضرور بولتے ہیں۔ دلآویز فخریہ لہجے میں بولی ۔ ہماری باتیں چلتی رہی ۔ایک دن میں نے دوستی اور پیار کی بات چھیڑ دی ۔ ساحل میں یہ بات پسند نہیں کرتی تھی لیکن اب تم میرے دوست ہو ۔مما نے بچپن سے میرے ذہن میں پتہ نہیں کیا کیا ٹھونسا ہوا تھا کہ میں نے زندگی کی ہر خواہش سے خود کو دور کر لیا تھا ۔ تمھاری باتیں مجھے نئی دنیا سے آگاہ کر رہی ہیں ،مجھے مھسوس ہو رہا ہے کہ میں زندگی سے بہت دور تھی ،اب میں زندگی کا مزہ لے رہی ہوں ۔ ساحل تم میری زندگی میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہو ، دلآویز اپنے جذبات مجھے بتاتی رہی ،جب تم سے دوستی ہوئی تو میں صرف فون پر رابظہ رکھنا چاہتی تھی، اور تم نے بھیمجھ سے ملنے کی کبھی خواہش نہیں کی ، تم بہت اچھے اور سچے دوست ثابت ہوئے ہو ساحل ۔ میرے دل میں بہت قدر ہے تمھاری ۔دلآویز جذبات کا اظہار کرتی رہی ۔ نگینہ نے بڑے پہرے بٹھا ئے تھے اپنی بیٹی پر لیکن میں نہ صرف دلآویز تک پہنچ چکا تھا بلکہ دلآویز پر نگینہ کی گرفت کمزور کررہا تھا ۔جس دلآویزکے ذہن میں نگینہ نے پتہ نہیں کیاکیا بچپن سےگاڑا ہوا تھا نا معلوم طریقے سے میں وہ ختم کر رہا تھا لڑکوں سے بے رحم رویہ رکھنے والی دلآویز اب میری دوست تھی ۔نہ صرف دوست تھی بلکہ مجھ سے ہر بات کا تبادلہ خیال کر لیتی تھی اور اپنے راز مجھے دے رہی تھی ۔ نگینہ کے ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے میں دلآویز سے نائیٹ کالز کرتا رہا ،جب میں نے دیکھا کہ دلآویز مجھ پر مکمل اعتماد کرنے لگی ہے ۔ اور ہماری دوستی بے تکلفی میں بے تکلفی آگئی ہے تب میں نے اس سے کھلی ڈھلی باتیں شروع کر دی ۔ اس کے لیئے لطیفوں کا سہارا بھی لینے لگا۔میں اسے سیکس کی طرف لانے لگا ۔پھر ایک دن میں نے یتیم بچوں کا زکر چھیڑ دیا ۔کہ ہمارے ایک جاننے والے تھے انہوں نے ایک یتیم بچے کو سہارا دیا اس پر سب اعتماد کرتے رہے ، لیکن وہ گھر کی جمع پونجی لے کہ بھاگ گیا ۔اور بھی ایسے دو چار باتیں کیں جن میں سے ایک بچے نے گھر والوں کو قتل کر کے زیور اور پیسہ لے کر بھاگ گیا۔ایک اور بچے نے گھر والوں کی بڑی بیٹی کی عزت لوٹی اور فرار ہو گیا ۔ ہمارے ساتھ بھی ایسا واقعہ ہو چکا ہے دلآویز نےساختہ کہہ بیٹھی ۔اچھا کیا واقعہ ہوا ہے میں نے تجسس ظاہر کیا ۔چھوڑو دفعہ کرو ، دلآویز نے بے زاری سے کہا ۔یار اب مجھ سے بھی باتیں چھپاؤ گی ۔میں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ نہیں یا رمیں اسے یاد نہیں کرنا چاہتی اس واقع نے تو ہمارے گھر کا سکون برباد کر دیا ۔پھر تو میں ضرور سنوں گا تمھاری زندگی کے اہم ترین واقعہ کا مجھے پتہ ہی نہیں ۔یہ کیسی دوستی ہے دلآویز ۔اچھا سنو دلآویز نے میری ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ۔میرے ابا نے بھی ایک یتیم کو سہارا دیا تھا وہ ابا کے دوست کا بیٹا تھا ۔جب ابا کے دوست کا انتقال ہوگیا اور ان کا کوئی قریبی رشتہ دار تو تھا نہیں اور دور والے قل خوانی کروا کے بھاگ گئے۔ ۔ تو ابا اسے گھر لے آئے میں اس وقت نو سال کی تھی ۔بڑا معصوم تھا میری داد ی کو تو جیسے کھلونا مل گیا ،اس نے مجھ سے میری دادی چھین لی۔مجھے اس پہ بڑا غصہ آتا تھا اور پتہ نہیں کیوں اس کے ساتھ کھیل بھی لیتی تھی پھر دادی وفات پاگئی تو مما نے اسے وہی توجہ دینی شروع کر دی جو اسے دادی دیتی تھی بلکہ دادی سے بھی بڑھ کے پیار دیا مما نے اسے ۔ اس وقت میں تیرہ سال کی تو ہوں گی،مجھے اس سے بڑی جلن ہوتی تھی ۔پر اس کے ساتھ کھیلتی بھی تھی۔اس بےغیرت نے مما کے پیار کا غلط مطلب لیا جس نے اسے بیٹا بنایا ، اسی ماں پر بری نظر رکھنے لگا تھا اور ایک دن مما کی عزت لوٹنے کی کوشش کی ۔ وہ تو شکر ہے ابا اس وقت گھر تھے اور وہ کچھ نہ کر سکا بلکہ اسے منہ چھپا کے بھاگنا پڑا ۔ بس اس واقعہ کے بعد ہماری زندگی بدل گئی ۔مما نے مجھ پر بے جا پابندیاں لگانی شروع کر دی ۔ ہر روز مما مجھےبتاتی کہ شہزادے نے اس کی عزت لوٹنے کی کوشش کی تھی ۔ میرے حساس دل کے لیئے وہ باتیں بڑی تکلیف دہ تھیں مجھے مرد ذات سے نفرت ہوتی گئی اور اپنی عزت کا احساس بڑھتا گیا میرے ذہن میں ساری باتیں بیٹھنے لگی اور میں زندگی سے دور ہوتی گئی ،مجھ پر پابندیوں سے ابا اور مما کی پر روز لڑائی ہوتی تھی ۔ مما اس واقع سے اتنی ڈر گئی تھی کہ انہوں نے ابا سےمکان بدلنے کو کہا ۔انہیں نوکری چھوڑنے کو کہا ۔ ہمارے گھر دن رات لڑائیاں شروع ہوگئی مجبوراً ابا کو مما کی بات ماننی پڑی ۔ تین چار سال میں میری زندگی جہنم بن گئی ۔مما نے چار دفعہ مکان بدلے۔ابا کی نوکریاں چھڑوائی ۔ ہمارے گھر کا سکون برباد ہوگیا ۔کبھی کبھی مجھے مما پر ترس بھی آتا ایک واقعے نے ان کی زندگی تباہ کر دی اور انجانا ڈر ان کے دل میں بیٹھ گیا اور وہ کبھی نہ سنبھل سکیں ۔۔ کیا اس شہزادے نے تھا اور بھگتنا ہمیں پڑا ، خاص کر مجھے تو بہت عذاب بھگتنا پڑا ۔ مما نے شہزادے کا ذکر نہ چھوڑا مجھے اس سے نفرت ہوتی گئی ،مجھے نہیں پتہ میں شہزادے سے کتنی نفرت کرتی ہوں ۔ کبھی کبھی دل کرنے لگتا ہے کہ شہزادہ مجھے ملے تو میں اسے چیڑ پھاڑ دوں دلآویز رونے لگی ۔۔ میں نے خلاف توقع اسے رونے دیا ۔ دل کا غبار نکلنے دیا ۔ پھر اس سے پوچھا اب بھی تمھارے گھر کے حالات ایسے ہی ہیں ؟ نہیں اس واقعہ کو چھ سات سال گزر گئے تو کچھ سکون ہوا ۔ ہم اس مکان میں آگئے ابا نے کافی پیسے جوڑے ہوئے تھے انہوں نے جنرل سٹور کھول لیا ۔لیکن مما کی پابندیوں نے میری جان نہ چھوڑی ان کاڈر میرے دل میں بیٹھ گیا ، میں ضد کر کے یونیورسٹی توچلی گئی لیکن مما نے میری جو شخصیت بنا دی تھی اس سے مجھے زندگی کی کوئی خوشی نہ ملی ۔ساحل اگر تم نہ ملتے تو میں زندگی کے احساس کو کبھی بھی نہیں پا سکتی تھی ۔تم بہت اچھے دوست ہو ۔اب تم سے ملنے کو دل کرنے لگا ہے اب تو اپنا نام بتا دو مجھے۔ دلآویز اس رات میں نے اپنی زندگی کرختم کر لینی تھی اب یہ تمھاری دی ہوئی زندگی ہے اور نام بھی اب ساحل ہی چلے گا ۔ وہ شہزادہ تو کافی عمر کا ہو گا ۔میں نے نئی بات چھیڑ دی ۔نہیں اس وقت صرف پندرہ سال کا تھا وہ بےغیرت ۔ یار ایک پندرہ سال کا لڑکا ایک بڑی عمر کی عورت پر حملہ کیسے کر سکتا ہے ؟ پھر تم نے بتایا کہ تمھار ا باپ بھی اس وقت گھر تھا جس کا اس شہزادے کو یقینًا پتہ ہو گا، میں نے دلآویز کو جھنجھوڑا،تم اسے نہیں جانتے ساحل ،اس کی عمر دیکھو اس کی معصومیت دیکھے تو کوئی یقین نہ کرے ۔ دلآویز کے دل میں مجھ سے نفرت کی جڑیں بڑی گہری تھی ۔نگینہ نے پکا کام کیا تھا ۔دلآویز تو سو گئی ہو گی کیونکہ اسے صبح یونیورسٹی بھی جانا ہوتا ہے۔لیکن مجھے یادوں اور خیالوں کے ہجوم میں چھوڑ گئی تھی،ایسا پہلی بار نہیں ہوا کئی بار ہو چکا تھا،اور اب پھر وہ واقعات آنکھوں کے سامنے آنے لگے،اور میں ان خیالوں میں کھو گیا،مجھے وہ وقت یاد آیا جب نگینہ نے مجھے زبردستی سیکس پر مجبور کیا تھا پھر وہ مجھ پر نچھاور ہوتی گئی،پھر اس کی میری ٹھن گئی اور اس نے مجھ عزت لوٹنے کا الزام لگا کر سرورے کو میرے قتل پر مجبور کردیا ،اور میں وہاں سے نکل بھاگا ۔نگینہ کہ چنگل سے نکلنے کے بعد میں سحرش کے پاس عارضی طور پر پناہ گزیں ہوا تھا،حالات نے کروٹ لی اور کچھ ہی دنوں میں مجھے وہاں سے بھی نکلنا پڑا ،مجھے آج بھی سحرش سے وہ آخری ملاقات یاد ہے ،جب اس نےاپنے گھر سے باہر گلی میں جھانک کرسسکتے ہوئے بتایا تھا کہ باہر کوئی نہیں ہے ،اور میں اسے چوم کے باہر نکل گیا تھا،گلی میں اندھیرا تھا،بلکہ اس دنیا میں ہی اندھیرا تھا اور میں نے ان اندھیروں میں خود کو گم کر لیا تھا،سحرش کے گھر سے نکل کر میں چھپتا چھپاتا پھرتا تھا،پھر سحرش کے دئے پیسے ختم ہونے لگے تو میں کوڑے کے ڈرموں سے پلاسٹک کی بوتلیں وغیرہ ،گتا،اور کانچ اکٹھا کر کے کباڑئے کو بیچنے لگا،کچھ دنوں کی آوارہ گردی میں یہ کام کئی لڑکوں کو کرتے دیکھا تھا جو بھی لڑکے یہ کام کرتے تھے،ان میں سے کچھ میرے دوست بن گئے،ان کیساتھ میں ان کی جھونپڑیوں میں بھی گیا،وہاں مرد چرس پیتے تھے اور سارا دن تاش کھلتے تھے، ان میں سے اکثریت کا پیشہ بھیک مانگنا تھا ،عورتیں سارا دن مانگ کر لاتی تھیں اور مرد وہ کمائی جوئے اور نشے میں اڑا دیتے تھےیا کچھ عورتیں کوڑا چنتی تھیں ،اور کچھ مردوں کی چھیڑ چھاڑ سے جسم بیچنے کے شعبے میں چلی جاتی تھیں ،ایک بار کی چدائی 100 روپے اور بعض اوقات 50 میں بھی کروا لیتی ےتھیں ان کے مردوں کو بس پیسہ چاہیے جیسے مرضی لائیں،کچھ دن ان کے ساتھ میں رہالیکن ان کے ماحول کو دل سے قبول نہ کرسکا اور وہاں سے واپس ہو لیا،میں شہر بھر میں آوارہ گردی کرنے لگا،اس آوارہ گردی میں میرے دل سے سرور خان کا ڈر اترنے لگا ،رات کہیں بھی سو جاتا،میں اس زندگی سے نکلنا چاہتا تھا سو میں چوبرجی چلا جاتا ،وہاں مزدوروں کی لمبی لائنیں لگی ہوتی،ان میں رنگساز بھی تھے،جو اپنے ڈبوں پر برشوں کا ڈھیر لگائے کام کے منتظر رہتے تھے،ان میں سے ایک بھلا مانس آدمی دیکھ کر میں اس کے پاس بیٹھ جاتا ،اس سے باتیں کرتا،اسے استاد کہتا،مسلسل اس سے کہتا رہا کہ مجھے اپنا شاگرد کر لو مجھے اپنے ساتھ کام پر لے جاؤ،آخر کار وہ مان گیا مجھے اپنے ساتھ کام پر لے جانے لگا،جلد ہی میں کام سمجھ گیا،استاد کو اتنا فائدہ ہوا کہ اسے دو آدمیوں کی مزدوری ملنے لگی،مجھے بس وہ جیب خرچ دیتا تھا لیکن میں اتنے سے ہی خوش تھا،استاد کو میں نے اپنی باتوں سے پٹا لیا، اپنی داستان میں مرچ مصالحے لگا کر میں اپنے لیئے اس کے دل میں اپنے لیئے ترس پیدا کیا تھاتو وہ مجھے اپنے گھر لے گیا،میرا تو کوئی تھا نہیں ، اسے مجھ پر ترس آگیا،بلکہ اس کی بیوی بھی اس کی طرح بھلی مانس تھی،مجھے اس نے بیٹا بنا لیا،پہلے ہی اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی،ہماری عمروں میں زیادہ فرق نہیں تھا،یہاں میری کشش کام بھی کرتی تھی تو وہ مجھے بیٹا اور بھائی کا پیار دیتے تھے،سارا گھر ہی حلال روزی کی برکت سے نیک اولاد والا اور صبرشکر والا تھا۔ مجھے یہاں سکون آنے لگا،عین ممکن تھا میں اس گھر کے ماحول میں نگینہ کو بھول جاتا اور ایک دن استاد کی بیٹی سے میری شادی ہوجاتی، مگر ،،،،،،ایک دن ہم مزدوری کیلیے بیٹھے کام کا انتظار کر ہے تھے،کہ ایک کار آ کر رکی ۔اس میں ایک طرح داراور رعب دار لڑکی بیٹھی تھی۔عمر کوئی بتیس سال تو ہو گی،نہایت حسین تھی،میں یک ٹک اسے دیکھنے لگا،مزدوروں نے اس کی کار کو گھیرے میں لے لیا،،وہ انہیں جھڑکنے لگی، تو سب تتر بتر ہوگئے،اچانک اس نے میری طرف دیکھا ،شاید اس کی چھٹی حس نے بتایا ہو گا کہ میں اسے دزیدہ نظروں سے گھور رہا ہوں،عورتیں اس بارے بڑی حساس ہوتی ہیں انہیں فوراً پتہ چل جاتاہے ،پہلے تو وہ مجھے گھورتی رہی اور میں آنکھیں چرانے لگا،پھر اس نے اشارے سے استاد کو اپنے پاس بلایا ،میں بھی اس کے ساتھ چلا گیا،وہ بغور مجھے دیکھنے لگی،جیسے اس کی نظریں ایکسرے تھیں اور مجھے اندر باہر سے دیکھ رہی تھیں ،پتہ نہیں اسے مجھ میں کیسی دلچسپی ہوگئی تھی،،وہ کار میں بٹھا کر ہمیں اپنے فلیٹ میں لے آئی،فلیٹ کی لوکیشن ز بردست تھی ۔سب سے الگ اور گنجان آباد علاقے میں تھا، فلیٹ کے اندر جانے کیلیے کچھ سیڑھیاں بنی تھیں،اندر تین کمرے اور ایک ڈرائینگ روم بھی تھا جو کہ یقیناً ٹی وی لاؤنچ بھی تھا،کچن اور باتھ روم تھے،ایک کمرے میں لائبریری تھی، باقی دو کمروں میں بیڈروم تھے ،لائبریری میں نفسیات،تاریخ ،شاعری ،ناولز،علم بروج ، دست شناسی ،قیافہ شناسی،اور سیکس پر کولیکشن موجود تھی ،میں کتابیں دیکھ کر دنگ رہ گیا، کچھ دیر تو میں مسحور ہی رہا، مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن نگینہ کے گھر سے نکلنے کے بعد ابھی تک پڑھائی کا کوئی سبب نہیں بنا تھا،بلکہ میں نے تو ابھی تک اپنے میٹرک کا رزلٹ بھی معلوم نہیں کیا تھا ،میڈم اپنے کمرے سے نکلی تو میں فوراً جا کر استاد کے ساتھ صفے پر بیٹھ گیا، فلیٹ ہر طرف سے بتا رہا تھا کہ یہ کسی امیر ترین کی ملکیت ہے اس کے اندر محلوں جیسا سامان اور آرائش تھی،یعنی پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا تھا، پورے فلیٹ کے نیچے ایک تہہ خانہ تھا،وہ تہہ خانے کو پینٹ کروانا چاہتی تھی ، یہ ایک جم جیسا لگتا تھا یا جوڈو کراٹے کے ڈوجو جیسا تھا،سامان وغیرہ منگوا کر ہم نے کام شروع کر دیا،استاد بہترین کام کرنا چاہتا تھا ،یہ اس کا مزاج تھا ،کام صاف ستھرا اور لگن سے کرتا تھا،وہ عورت جسے اب ہم میڈم کہنے لگےتھے،وہ کبھی کبھار ہمارا کام دیکھ جاتی تھی اور استاد کو ہدایات بھی دے جاتی تھی ،لیکن اس کی نظریں مجھی پر ٹکی رہتی تھی،جیسے میں مقناطیس ہوں اور وہ لوہے کا بے جان ٹکرا ہے،شہزادے ،،،، جی استاد ۔۔۔لگتا ہے یہ بھی گئی کام سے،، استاد نے شوخی سے کہا،میں چپ رہا ،یار پتہ نہیں تم کیا چیز ہو، ہماری طرف تو کوئی دیکھتا بھی نہیں اور تمھاری طرف دیکھتی ہیں تو نظریں ہٹانا بھول جاتی ہیں ،استاد مجھے چھیڑنے لگا،میں جانتا تھا استاد ایسی باتیں بس چھیڑ چھاڑ میں کرتا ہے ورنہ اپنی بیوی کے سوا ساری دنیا کی عورتیں اس کیلیے ماں بہنیں تھی،ایسی کوئی بات نہیں استاد تم ہیرو ہو،بس ہو اپنی بیگم کے،ایسی عورتیں تمھاری قدر نہیں جانتی،میں بھی استاد کو چھیڑنے لگا،چھوڑ یار ،آجکل بازار میں اچھائی اور وفاداری نہیں بکتی، اچھا یار میڈم تو تم فدا ہوگئی ہے ،کہیں یہ نہ ہو ہمیں یہاں سے بھی کام مکمل کیئے بغیر جانا پڑے،استاد سنجیدہ لہجے میں بولا،نہیں استاد ایسا نہیں ہوگا،میڈم کافی سمجھدار اور اونچے درجے کی چیز لگتی ہے،میں نے اپنے محسوسات کے مطابق جواب دیا،اچھا خدا کرے ایسا ہی ہو،وہ بیگم چوہدری تو تمھیں یاد ہی ہو گی ،استاد نے خوشدلی سے کہا تو میرا منہ کڑوا ہو گیا،میرے اندازے کی مطابق تین چار دن کا کام تھا ،دوپہر کا کھانا ہم وہیں کھاتے تھے،لگتا تھا کہ میڈم اس فلیٹ میں اکیلی رہتی ہے یا اس کے گھر والے کہیں گئے ہوئے تھے، بہر حال میڈم کی باتوں سے پتہ لگا کہ وہ کسی یونیورسٹی کی پروفیسر ہیں ،استاد کا کہنا تھا کہ یہ شہر کی مشہور پروفیسر ہیں ،سارے شہر میں ان کی بڑی عزت ہے، ایسی عزت اور مقبولیت کم ہی پروفیسرز کو ملتی ہے،تیسرے دن ہم کام پر گئے تو میڈم اپنی کار میں کچھ کارٹون رکھ رہی تھی ان میں کتابیں تھیں،ذرا میری مدد کرنا،میڈم ہمیں دیکھ کر بولی،ہم نے فوراً اس کیساتھ ڈبے رکھوا دیئے ،استاد اپنے شاگرد کو میرے ساتھ یونیورسٹی تک بھیج دو ،وہاں یہ ڈبے رکھنے ہیں ،تھوڑی دیر میں ہم واپس آجائیں گے،میڈم نے کہا تو استاد اسے نہ نہیں کر سکا،اور مجھے میڈم کیساتھ جانا پڑا،پچھلی سیٹ پر ڈبےپڑے تھے،میں اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا،کار چلتے ہی میڈم بھی شروع ہوگئی،شہزادے تمھارا نام کیا ہے،یہی میرا نام ہے میں نے تلخی سے کہا ،نہیں شہزادے یہ تمھارا اصل نام نہیں ہے، تم نے یہ نام انتقاماً رکھا ہوا ہے،تم اس دنیا میں اکیلیے ہو،استاد تمھارا باپ نہیں ہے، میرے اندازے کے مطابق تمھارے ماں باپ مر چکے ہیں ،اور تم تنہا دنیا کی ٹھوکروں پر ہو،حال ہی میں تمھیں کوئی دکھ ملا ہے جس کے نقش اب بھی تمھارے چہرے پر دیکھے جا سکتے ہیں،لگتا ہے دنیا نے تمھارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا،تم بھٹک رہے ہو،کسی نے تمھیں پالش کیا ہے اپنی دانش تمھیں دی ہے،لیکن بس بنیادی باتیں سمجھائی ہیں کیونکہ یہ دنیا تمھیں پالش کرنے والے کی سمجھ سے بہت آگے ہے،بہت کمینی ہے یہ دنیا،میں حیران نظروں سے میڈم کی طرف دیکھنے لگا،حیران نہ ہو میں دو دن سے تمھاری سٹڈی کر رہی ہوں،قیافہ شناسی کی میں ماہر ہوں،اور میں نے ہاورڈ یونیورسٹی سے نفسیات میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ،یہی میں پڑھاتی ہوں ،انسانوں کو اندر جھانکنا میرا شوق ہے،بے شمار پیسہ میرے پاس ہے،میرے پاس وسیع جائیداد ہے،عزت ہے شہرت ہے،لیکن سکون نہیں ہے،تمھاری طرح میں بھی دنیا میں تنہا ہوں،میرے والد امریکی تھے انہیں پہاڑوں کو سر کرنے کا شوق تھاوہ یہاں نانگا پربت کی چوٹیوں کو فتح کرنے آئے تھے ،شاید تمھیں پتہ ہو کی نانگا پربت دنیا کی خطرناک چوٹیوں میں سے ایک ہے ،یہاں انہوں نے اپنا شوق پورا کیا اور نانگا پربت کو فتح تو کر لیا لیکن وہیں میری مما ان سے ملیں اور انہوں پاپاکو فتح کرلیا،مما جب لاہور گھر آئی تو وہ شادی شدہ تھیں ان کے ماں باپ نے بالآخر ان کی شادہی کو قبول کر لیا۔ لیکن پاپا نے ان کا زیادہ ساتھ نہ دیا میں ابھی مما کے پیٹ میں ہی تھی کہ پاپا مما کو پاکستان میں ہی چھوڑ کر امریکہ چلے گئے،میری پیدائش کے بعد مما مشکلوں میں پڑ گئی ،اور انہیں اخراجات کیلیے نوکری کرنی پڑی ،پاپا کی وجہ سے بھی مما کو بڑی باتیں سننی پڑی ،بھائی بہنوں نے تو پہلے ہی منہ موڑ لیا تھا ،میرے نانا اور نانی کے جانے کے بعد مما اور میں بالکل تنہا رہ گئی، مما نے کئی بار پاپا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ،لیکن انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا،،جیسے جیسے میں بڑھتی گئی مما تنہائی سے تنگ زندگی سے منہ موڑتی گئی، قسمت خدا کی جب میں جوان ہوئی تو پپا کو ہماری یاد آئی اور ہمیں امریکہ بلوا لیا وہاں جا کر پتہ چلا کہ پاپا بہت بیمار ہیں اور اپنی اولاد سے ملنے کیلیے تڑپ رہے ہیں یعنی مجھ سے ، کیونکہ ان کی ایک بیٹا اور بیٹی ایک ایسیڈنٹ میں فوت ہو گئے تھے ،شاید یہ بھی قدرت کے ہونے کا کوئی ثبوت تھا کہ جو باپ ہمیں تنہاچھوڑ گیا تھا ب ہمیں بلانے ر مجبور ہو گیا تھا،لیکن مجھے ان سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔بہرحال پاپا نے ساری زندگی کے دکھوں کا مداوا اسطرح کیا کہ جاتے جاتے اپنی جائداد میرے نام کر گئے امریکی قوانین نے ہمارا ساتھ دیا اور ساری جائیداد مجھے مل گئی میں سب کچھ بیچ باچ کر پاکستان آگئی کیونکہ مما اپنی سرزمیں پر مرنا چاہتی تھی،یہاں ہم نے اس پیسے سے وسیع عریض جائیداد بنا لی،اب زندگی میں کچھ سکھ ملا تو مما کا وقت پورا ہوچکا تھا میں نے ان کو وصیت کے مطابق نانا اور نانی کے پہلو میں دفن کر دیا۔ان کے جانے کے بعد میرے رشتہ دار میرے پاس آنے لگے،مجھے ان سب سے نفرت تھی،لیکن سموئیل نے مجھے ایسی ہمدردی دی کہ وہ چاہت میں بدل گئی اور میں نے جذبات میں اس سے شادی کر لی ،کچھ ہی عرصے میں مجھ پر واضح ہوگیا کہ سموئیل کی محبت مجھ سے نہیں بلکہ میری دولت سے ہے تو میں نے اس سے جھٹکارا پا لیا،اور تمام مطلبی رشتہ داروں سے کنارا کر لیا،رشتہ داروں سے دور میں نے یہ فلیٹ اپنے سکون کیلیے بنوایا ہے،بڑی حویلیوں اور بنگلوں میں میرا دم گھٹتا ہے،شہزادے مجھے سکون چاہیئے میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گی،میں نے اس سکون کیلیے کئی دوستیاں کی،مگر دنیا کا کوئی مرد مجھے وہ نہ دے سکا،جو میں چاہتی ہوں،شہزادے وہ سکون مجھے بس تمھی دے سکتے ہو،میں دے سکتا ہوں ؟ میں شدید حیران تھا،ہاں تم ہی دے سکتے ہو کیونکہ تمھارے پاس وہ ہے جو دنیا میں کسی کسی کے پاس ہوتا ہے،تمھارے پاس سیکس کی جادوئی کشش ہے،یعنی بے پناہ سیکس اپیل ہے تم میں ،جو تم سے دور ہے وہ تمھارے پاس آنا چاہے گی اور جو پاس آجائے گی وہ ہمیشہ کیلیے تمھاری ہو جائے گی، اور تمھارے چوڑے ماتھے سےتمھاری خوش قسمتی کا پتہ لگتا ہے، تم بڑے با صلاحیت ہو،دنیا تمھارے قدموں میں جھک سکتی ہے،میں میڈم کی بات پر طنزیہ انداز میں ہنسنے لگا،اس طرح مت ہنسو،کیونکہ خوش قسمتی تمھارے دروازے پر کھڑی ہے، تمھار ا کیا خیال ہے میں تمھیں اپنے بارے میں سب کچھ کھل کے کیوں بتا رہی ہوں ، کیونکہ میں تمھیں ایک بہت بڑی آفر کرنے لگی ہوں، تمھارے مزاج کے عین مطابق تمھاری مرضی سے ،بغیر کسی زبردستی یا چھل فریب کے ،تم مجھے کتنا جانتی ہو؟میں نے الٹا اس سے سوال کر دیا،تم اپنی مرضی کے مالک ہو اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہو،سب ہی ایساچاہتے ہیں مگر تمھارے پاس اپنی مرضی پوری کرنے کیلیے قدرت نے تمھیں صلاحیتیں بھی دی ہیں،میں چاہوں تو تم میرے اشاروں پر ناچو ،لیکن جلد ہی تم میرا کھیل سمجھ جاؤ گے اور پھر میری طرف پلٹو گے مجھے نقصان پہنچاؤ گے،جب تک تمھارا بس چلا،یہ ہو تم ،وہ سچ کہہ رہی تھی اسے نہیں پتہ تھا وہ میری اور نگینہ کی کہانی مجھے ہی سنا رہی تھی،شاید تم ایسا کوئی تجربہ جھیل بھی چکے ہو،مجھے سوچتا دیکھ کر میڈم نے ایک اور اندازہ لگایا،بہت خطرناک تھی یہ میڈم ،انسان اس کے سامنے کھلی کتاب کی طرح تھا،چہرے سے مزاج،عادات ،خیالات ،کردار تک جان لیتی تھی،ماضی پڑھ لیتی تھی،بعد میں مجھے سمجھ آئی کے قیافہ شناسی ایک زبردست علم ہے،اگر اس کے ساتھ علمِ بروج اور دست شناسی مل جائے تو انسان کا کچھ بھی چھپا نہیں رہتا، سِرّی علوم پر یورپ اور امریکہ میں تو آکلٹ سائنس کے نام سے ایک علیحدہ شعبہ بن چکا ہے ،اور اس پر بہت تحقیقات ہو رہی ہیں،ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی اب کوئی خواب کی بات نہیں رہی ۔تمھاری آفر کیا ہے ،میں ایک نتیجے پر پہنچ چکا تھا،میں چاہتی ہوں تم ہمیشہ کیلیے مجھ سے دوستی کر لو،میرے ساتھ رہو ساری زندگی،اور مجھے اپنی گرل فرینڈ بنا لو صرف میں اور تم ،اس کے بدلے میرا سب کچھ تمھارا ہو گا،میری دولت، میرا علم،میری جائیداد ، اور میں سب کچھ تمھارا ہوگا،میڈم آپ بہت بڑی آفر کر رہی ہیں لیکن آپ کی آفر کی بنیاد یہ ہے کہ میں آپ کو بذریعہ سیکس میں وہ خوشی دے سکتا ہوں جو دنیا کا کوئی اور مرد نہیں دے سکتا،کیونکہ بقول آپ کہ میری پاس نیچرلی وہ ہے جو دنیا میں کسی کسی کے پاس ہوتا ہے،تو ہوسکتا ہے آپ کا اندازہ غلط ہو یا یہ چیز مجھ میں ہو تو کل کو ختم ہو جائے،پھر کیا ہو گا ؟ کار ایک سائیڈ میں رک چکی تھی،میڈم بہت ہی سنجیدہ ہو چکی تھی،شہزادے یا تم جو بھی ہو میرا ندازہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا ،میں نے جنسیات میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے،لیکن یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے،میں ایک سیکس اسپیشلٹ ہوں،تم چاہو تو میں تمھیں کتابوں میں دکھا سکتی ہوں کہ تم میں جو ہے وہ کیا ہے اور کتنا نایاب ہے اور یہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے،یہ تمھارے ساتھ ایسے ہی ہے جیسے تمھاری اندر تمھاری دوسری صلاحیتیں ہیں،یہ تمھاری سانسوں کیساتھ ہی ختم ہوں گی،اور یہ کوئی ڈیل نہیں ہے میں زندگی بھر کیلیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھا رہی ہوں ،اس کیلیے اگر تم کہو تو میں اپنی ساری جائیداد تمھارے نام لکھ کر دے سکتی ہوں،میڈم نے بہت بڑی آفر کر دی،تم مجھے وہ بناؤ گی جو میں بننا چاہتا ہوں؟ میں نے جیسے شرط رکھ دی
  11. ہیلو مسز ریحان ، میں ایسے رکا جیسے اچانک اسے دیکھا ہو، پرنس،آپ ۔۔ تم،،اوہ اوہ ،آو بیٹھو نہ ،مسز ریحان نے حسرت سے کہا ، لو جی آج آپ کے پاس بیٹھ جاتے ہیں،کیسی ہیں آپ ؟ میں ٹھیک ہوں ،مجھے یقین نہیں آرہا کے تم میرے پاس بیٹھے ہو۔ آج تو جیسے جو مانگتی مل جاتا ،مسز ریحان نے شوخی سے کہا،اچھا آپ کو پتہ ہوتا کہ آپ آج جو بھی مانگیں گی ملے گا،تو پھر آج آپ کیا مانگتی ۔۔۔۔ سچ بتاؤں،مسز ریحان کسی خوش فہمی میں پڑ گئی تھی ،بلکہ یہاں بیٹھ کے میں نے اسے خوش فہمی میں ڈال دیا تھا ، جی بالکل سچ سچ بتائیں میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا، میں مانگتی کہ پرنس ایک دفعہ ہمیں بھی اپنے فلیٹ پر آنے کی دعوت دے مسز ریحان نے بڑی ہی ذو معنی بات کر دی،۔نہیں مسز ریحان آپ مجھے بنا رہی ہیں ۔ بھلا میں اس قابل کہاں میں تو ایک عام سا بندہ ہوں ،اور یہ عام سا بندہ کچھ لوگوں کا پرنس چارمنگ ہے ، مسز ریحان آپے سے باہرہو رہی تھی ، اور زارینہ کو یکسر نظر انداز کر چکی تھی،یہی میں چاہتا تھا،میں تو اس کی طرف دیکھے بغیر بتا سکتا تھا ، کہ اس کی انا کے غبارے میں ہوا بھرنی شروع ہو چکی ہے ، مسز ریحان میری طرف سے آپ کو آپ کے شوہر کو کھلی دعوت ہے آپ جب چاہیں میرے فلیٹ پر آسکتی ہیں میں مسز ریحان کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اسے میری بات کی سمجھ آرہی تھی کہ میں اسے کیا کہہ رہا تھا،اوہ ،اوہ پرنس کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہی ، مجھے یقین نہیں آرہا ،مسز ریحان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ میرے اوپر گر جانا چاہتی تھی، کمال ہے آپ نے چھوٹی سی سی بات پہ بہت ری ایکٹ کر رہی ہیں،دوست ہی دوستوں کو ملتے ہیں اور ایکدوسرے کے کام آتے ہیں،میں نے اس کی آنکھوں میں مسلسل دیکھ رہا تھا ، اوہ ہاں وہ کچھ سمجھی کچھ نہیں سمجھی،ابھی تک اسے زارینہ کا کوئی خیال نہیں آیا تھا،جب آپ دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھتے ہیں تو آپ کو بھی خوشیاں ملتی ہیں ، میں نے اسے پھر کچھ سمجھایا ، اچھا میں چلتا ہوں ،میں اچانک اٹھنے لگا ، نہیں بیٹھو نہ کچھ دیر اور بیٹھو پرنس ،مسز ریحان نے میری توقع کے مطابق کہا، وہ دراصل مسز کمال کو کوئی کام تھا یا آپ ان سے مل لیں ،آپ سے بہتر ایسی پارٹیوں کے انتظام کو کون جانتا ہے ،میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کچھ سمجھایا ، ٹھیک میں مل لیتی ہوں ،میں ابھی آئی ،وہ اٹھتے ہوئے بولی،اوہ سوری ،،، سوری میں آپ لوگوں کا تعارف کروانا تو یاد ہی نہیں رہا،اگین سوری، یہ مسسز کالپر ہیں، بس یہ سمجھ لو کے کنگ میکر فیملی ہے ان کی،مسزکالپر یہ پرنس ہے بہت ہی سحر انگیز شخصیت کا مالک ہے اور پتہ نہیں کیا کیا ہے،آپ لوگ بیٹھے میں ابھی آئی ،بے چاری مسسز ریحان ایک اور بھوکی آنٹی، مگر اس کے پاس اچھا کھانا بہت تھا بس پرنس نہیں تھا ، نہ پرنس نے اس کے پاس آنا تھا ، نظر انداز کیے جانے پرزارینہ کی انا اور غرور اس وقت ایسے بن گیا تھا جیسے کوئی شیر کی کچھار میں گھس کے اسے شکار کرنا چاہے ، سیاست دان اور بزنس مین اس فیملی سے ملنے کیلیے انتظار کرتے تھے اور یہاں زارینہ کو نظر انداز کیا جا رہا تھا، زارینہ نے اس کا بدلہ یوں لیا کہ مجھے یکسر نظرانداز کر دیا جیسے میں موجود ہی نہیں ہوں،اس کی نخوت کا عالم ایسا تھا جیسے کوئی زمینی خدا ہو،میں اسے غور سے دیکھ رہا تھا اس کے حسن کےلیے بس ایک فقرہ کہوں گا کہ ملکہ حسن کا عالمی اعزاز جیتنا اس کے لیے انتہائ آسان تھا ، عمر کوئی چھبیس سال، اسمارٹ جسم ،جسم پر ملک کا مہنگا ترین لباس،نقوش جیسے اجنتا الورہ کی مورتی ہو، ملکوتی حُسن ،اور ملکوتی حُسن پر بے انتہا دولت کی آسودگی اور آسودگی پر طمانیت جیسے اس ملک کے مالک ہو۔اور اس ملک کی مالک کو میں نے چھیڑ دیا،چلو بھئ پرنس چلتے ہیں نہیں تو لوگ اپنی حسد کی آگ میں جل مریں گے، میں نے اٹھتے ہوئے کہا، کیا تم نے ہم سے کچھ کہا ہے مسٹر پرنس ؟ زارینہ کی آنکھوں میں حیرانی اور غصے کی تپش تھی ، اس کی تپش میں بھی محسوس کر رہا تھا ،ہاں تم سے ہی کہا ہے ،تھوڑی دیر مسسز ریحان نے مجھے توجہ کیا کروا دی تم حسد سے جل مری ہو اور پاس بیٹھےانسان کوبلانا بھی گوارہ نہیں کیا، میں نے اچانک ہی اسے تم کہ دیا ،حاسد اور جل مری کہہ دیا،اس کے چہرے سے ایسے لگنے لگا جیسے میں نے کوئی بہت بڑی گستاخی کر دی ہو ۔ ملکہ عالیہ ے چہرے پر جلال آگیا تھا، تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے شدت غصب سے کچھ بولا نہ گیا، تمھاری یہ جرات ۔۔۔۔۔۔ ہم سے ایسے الفاظ ایسے لہجے میں بات کرو ۔۔ اچھا تو کیا ہو تم خدا ہو یہاں کی، اس سے پہلے وہ کچھ کرتی میں نے اسے چیلنچ کر دیا، ہم مالک ہیں اس ملک کے اورتم جیسے کیڑے مکوڑے ہماری رعایا ہو، تم ٹٹ پونجیے پرنس میری جوتیاں سیدھی کرنے کے بھی قابل نہیں ہو ،اس کا غرور ایسے اچھل رہا تھا،جیسے سمندر کی طوفانی لہریں شہر کوملیا میٹ کر دیتی ہیں، لیکن میں بڑے اطمینان سے بیٹھا تھا ، جیسے وہ میرے لیے جوکر ہو،میرے ہونٹوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ تھی جو اس کے غصے کو جلتی پر تیل جیسا کام کر رہی تھی، میں نے تمھاری تقریر نہیں سننی ،میں نے اس کے الفاط اور لہجے کو ایک ہی فقرے سے زیرو کر دیا ، میں نے پوچھا کیا ہو تم ؟ مجھے اس بات کا جواب دو ۔ اسے نہیں پتا تھا یہ شطرنج کی گیم ہے اور وہ میری مرضی کی چالیں چل رہی ہے، ہم مالک ہیں تمھارے ،،،،،، تم نہیں ہو، میں نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی ، وہ تمھارا باپ ہو گا، تم کیا ہو؟ میں نے اسے جھنجھوڑا ۔ ہمارا خاندان۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ میں نے تمھارے خاندان کا نہیں پوچھا ۔۔۔۔۔ میں نے پھر اس کی بات کاٹ دی ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ تم یہ بتاؤ تم کیا ہو۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ میں مسز کالپر ہوں میرے شوہروزیر۔۔۔۔۔ اس نے غرور سے کہنا شروع کیا کہ میں نے پھر اس کی بات کاٹ دی ۔۔۔۔ اونہہ کتنی بدھو ہو تم ،میری بات نہیں سمجھ نہیں رہی ۔ اس کے غصے کی کوئی حد نہیں رہی تھی اب۔ ایسے لہجے ایسے الفاظ اسنے کب سنیں ہو گے ۔۔ تمھارا شوہر تمھاے بھائی ،تمھارا باپ،تمھار خاندان ،اسمبلی،حکوت ، کنگ میکری ، یہ سب بہت بورنگ ہے ،کچھ اپنا بتاؤ ، کیا ہو تم ۔۔۔ وہ چپ ہو گئی تھی اسے اب احساس ہوا تھا کہ میں اس سے کیا پوچھ رہا تھا ، اب تمھیں یہ ٹٹ پونجیا پرنس بتائے کہ تم کیا ہو، تم اپنے ماں پاب کیلیے ایک جائیداد ہو جسے خاندان میں ہی کہیں سنبھال کے رکھنا ہے اور اپنے شوہر کیلیے ایک سیاسی شادی ہو،بس ۔۔۔۔۔۔ میں نے اسے ایکدم خالی کردیا ۔۔۔۔ میں آکسفورڈ میں پڑھی ہوں ۔۔۔ بورنگ ۔۔۔ میں ہنسنے لگا، بہت سی این جی اوز کی چیئرپرسن ہوں ، زارینہ عامیانہ باتیں کرنے لگی ۔۔ بورنگ یار ،اب تم کہیں یہ نہ کہہ دینا کہ اتنی جیولری ہے تمھارے پاس اور اتنا بینک بیلنس ہے ،اتنی جائیداد ہےتمھارے نام، کوئی ڈھنگ کی بات کرو یار ۔۔۔۔ میں نے اس کا مزاق اُڑایا ۔۔۔۔۔۔۔ تم خود کیا ہو زارینہ نے بےبسی سے کہا ۔۔۔ میں اپنی مرضی کا مالک ہوں ۔۔۔ وہ تو میں بھی ہوں زارینہ امید سے بولی ۔۔۔۔۔ نہں تم نہیں ہو ۔۔۔۔ تمھیں پتہ ہے اس وقت تمھارا شوہر کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے ۔ میں نے اس پر ایک اور حملہ کیا۔ نہ جانے کب وہ تمھیں شرفِ ملاقت بخشے گا۔۔۔ میں نے اس پر بھر پور طنز کیا ۔۔۔۔۔۔۔ اسے پھرخاموشی لگ گئی ۔۔وہ کہیں شکار کر رہا ہو گا اور تم اس کی وفاداری کا بھرم رکھ رہی ہو یا ہو ہی بے بس ۔۔ بہت بورنگ لڑکی ہو یار تم ۔۔۔۔۔۔ میں اٹھتے ہوئے بولا۔ دو قدم چل کہ میں نے اسے دیکھا ۔۔۔ میرے فلیٹ میں باون انچ کی ایچ ڈی ایل ای ڈی لگی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ اور میرے پاس اچھی فلموں کی زبردست کولیکشن بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم اپنی مرضی سے کچھ وقت گزارنا چاہتی ہو تو میرے ساتھ آسکتی ہو ۔۔۔۔ میں نے اسے خود کو ثابت کرنے کا ایک موقع دیا ۔۔۔۔۔ میں باہر کار میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں ۔ کمال مجھے ہی دیکھ رہا تھا مجھے ایسے جاتے دیکھ وہ ہنسا جیسے کہہ رہا ہو میں نہ کہتا تھا کہ یہ تمھارے بس سے باہر ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مسز ریحان نے مجھےخوب موقع دیا تھا ۔۔۔مجھے پتہ تھا وہ ضرور آئے گی خود کو ثابت کرنے کیلیئے مجھے ہرانے کیلیے ۔۔۔ میں اپنی کار میں انتظار کر رہا تھا کہ وہ چلتی ہوئی نظر آئی۔۔۔۔۔۔۔ اس کی چال بڑی دلربا تھی اور جسم سحر انگیز تھا ،بلاشبہ وہ ایٹم بم تھی ۔۔۔۔۔ زارینہ نے کار کا دروازہ کھولا اور میرے ساتھ بیٹھ گئی ۔( چیک میٹ )۔۔ جس اعتماد سے وہ بیٹھی تھی میں سمجھ گیا اسے شوہر کے علاوہ بھی سیکس کا پتہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کار فلیٹ کی طرف چلا دی ۔۔۔۔ شطرنج کے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اپنی چالوں سے حملے پرحملہ کرتے جایئں ۔ مخالف کو سوچنے کا موقعہ نہ دیں ۔ پھر وہ دفاع پردفاع کرے گا اورآپ کی مرضی کی پوزیشن پر آجائے گا،جہاں اسے چیک میٹ کرسکیں گے۔۔۔۔۔۔۔ بھلا زارینہ کوکیا ضرورت تھی میرے سامنے خود کو ثابت کرنےکی ۔۔۔ لیکن اس کے غصے نے اسے کچھ سوچنے نہ دیا اور اس کی انا خود کو ثابت کرتی رہی اور ناکام ہوتی رہی ۔ اب اس کے پاس ایک ہی طریقہ رہ گیا تھا خود کو ثابت کرنے کا ۔ خود کو آزاد ثابت کرنے کا کہ وہ میری جھولی میں آگرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم فلیٹ پہنچے راستے میں مکمل خاموشی رہی ۔۔۔۔ کوئی بات کر کے میں اس کا ردھم نہیں توڑنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ ہم فلیٹ میں داخل ہوئے ۔۔۔ میں اپنے بیڈروم میں آگیا ،وہ بھی آہستہ آہستہ میرے ساتھ تھی ۔۔ فلم کولیکشن کہاں پڑی ہے ۔۔۔۔ اس نے بڑی ہی نرمی سے پوچھا ۔۔۔۔ میں نے اپنی پینٹ کی زپ نیچے کی انڈرویئر نیچے کیا اور عضو پکڑ کے کہا یہ میری کولیکشن ہے ۔۔۔ بہت بےہودہ انسان ہو تم وہ غصے میں میری طرف لپکی اور میرے سامنے کھڑی ہوگئی ، مجھے دیکھتی رہی اب ایسا بھی نہیں تھا کہ اسے پتہ ہی نہ ہو کہ فلیٹ میں کیا کرنے جا رہی ہے ۔۔۔۔ ہم آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے رہے ضرور اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملا کر بہت سی آنکھیں جھک جاتی تھیں لیکن آج اس کی شکست کا دن تھا میں نے ایسے کھیل بہت کھیلے تھے آخر اسے آنکھیں جُھکانی پڑی اس کی انا ، ابھی بھی مجھے شکشت دینا چاہتی تھی ۔ زارینہ اکڑوں نیچے بیٹھ کے میرے عضو کو پکڑ کے سہلانے لگی۔۔۔۔۔ میں نےاوپری لباس اتار دیا ۔ زارینہ نے عضو سہلاتے ہوئے منہ میں لے لیا ۔ میں بیڈ پر بیٹھ گیا اور اسے نیچے قالین پر بٹھایا ،میں نے پینٹ اور نیچے کر دی اورسرور لینے لگا ۔۔۔ زارینہ بڑی مہارت سے اپنا کام کر رہی تھی ۔ میں سمجھ رہا تھا یہ چھ مہینے کی شادی والی مہارت نہیں تھی ،ضرور اس کا کوئی بوائے فرینڈ ہو گا شاید آکسفورڈ میں ہی ہو ۔ وہاں ملنا اور سیکس کرنا آسان بھی ہو گا ۔ لیکن وہ بوائے فرینڈ اسکے خاندان کا حصہ نہیں بن سکتا ہو گا ۔۔ کیا پتہ اب بھی اس سے ملتی ہو ۔۔۔ زارینہ کو عضو چوستے ہوئے دس منٹ سے اوپر ہوگئے تھے ۔ اب وہ بڑے جوش سے عضو کو چوس رہی تھی ۔اس کی رفتار، پکڑ ، ہونٹ اور زبان کسی کام میں شدید مصروف تھے ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی ۔۔۔ کیا یاد کرو گے تم پرنس ۔ کوئی زارینہ تمھیں ملی تھی ۔۔۔ اس کے چہرے پر جیت کے آثار نظر آنے لگے ایسے جوش اور مہارت سے عضو چوسا جائے تو مزے کی لہروں میں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے ۔۔۔ نازکی اس کے لب کی کیا کہیئے ۔۔۔۔۔۔ پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے ۔۔ اور اتنے نازک ہونٹ مزے سے ماریں گے نہ تواور کیا ہو گا ۔۔۔ بیس منٹ ہونے والے تھے اب اس کے چہرے پر حیرانی تھی اور آنکھوں میں مایوسی تھی ۔۔۔ اس کا جوش مدہم پڑنے لگا تھا ۔۔۔۔ بہت اسڑانگ ہو ابھی تک تو تمھارا پانی نکل جانا چاہیے تھا۔۔۔۔ زارینہ نے مایوس لہجے میں کہا ۔ میں دل ہی دل میں ہنسنے لگا جب میں کارمیں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا تو میں ٹائمنگ کی آزمودہ گولی کھا لی تھی ۔۔ میں یہ کبھی کبھارکھاتا ہوں کیونکہ ان کا مستقل استعمال نقصان دہ ہوتا ہے لیکن آج یہ بہت ضروری تھا ۔چوس چوس کہ اس نے میرا پانی نکالنے کے بعد یہاں نہیں رکنا تھا ۔۔۔ اس نے مجھے شکست دینے کی آخری کوشش کی تھی ۔۔۔۔ میں نے اس ایٹم بم کو بازووں سے پکڑا اور اپنی گود میں بٹھا لیا ۔۔ اس کی قمیض اور برا اوپر کر کے اس کے ممے چوسنے لگا ۔۔۔۔ زارینہ میرے عضو پر بیٹھی تھی عضو اسے نیچے سے پریشان کرنے لگا ،اور ممے اسے اوپر سے پریشان کرنے لگے۔۔۔ ممے چھیڑنے سے ان کے پیچھے پیٹھ میں اس کا پانی ابلنے لگا ۔۔۔ اب اس کے جسم میں سرور کی لہریں اٹھنے لگی۔۔ زارینہ بےچین ہونے لگی ۔۔میں اسے جسمانی طور پر انتہائی بے چین کرنا چاہتا تھا۔۔ اسے محسوس ہونےلگا کے مدِمقابل کچھ بہت خاص ہے میری ہونٹوں نے ہاتھوں نے اسے بےچینی کی لہروں میں دکھیل دیا ۔ اب زارینہ ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی جیسے میں اسے کھینچ کے گہرائی میں لے جا رہا ہوں ۔ ممے فور پلے کا ایک ایسا رستہ ہیں جس سے انسانی جسم ہیجان میں مبتلا ہوجاتا ہے ،ساتھ ساتھ زارینہ کی کمر پر مخصوص انداز میں دائرے بنانے لگا ۔۔ زارینہ کو اب پتہ چلا کہ فور پلے کیا ہوتا ہے ۔ پرنس تم بہت اچھا فورپلے کرتے ہو ۔ تم کافی ماہر ہو زارینہ کو مزے نے اعترف کرنے پر مجبور کر دیا۔۔۔ اب میں اس کی قمیض اور برا اتار سکتا تھا سو میں نے بڑی نرمی سے اس کا اوپری حصہ ننگا کیا ۔۔۔ اسے بیڈ پر لٹا دیا ۔۔۔ اپنا نچلا حصہ پورا ننگا کیا ۔اوراس کی شلوار کھینچ کے اسے بھی ننگا کر دیا ۔۔ بس لگائے اس میں کچھ پل ہی تھے ۔۔ اس کے اوپر لیٹ کے اس کے ممے چوسنے لگا ۔۔۔ اس کی جسم کی شراب پیتے ہوئے میں مدہوش ہونے لگا ۔۔۔ مست ہی مست ہو تم ،میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔ تم بھی کچھ کم نہیں ہو ۔۔ زارینہ اب باتیں کرنے لگی ۔۔ تمھیں دیکھ کے بہت سے شعر یاد آرہے ہیں ۔ مگر تمھارے جسم کے سامنے دوسرے لمحے وہ شعر کمتر لگنے لگتے پیں ۔ اب میں نے دوستی کیلیے ماحول ہموار کرنا شروع کر دیا ۔ میرا عضو ضرور اسے بے چین کر رہا ہو گا ۔ میں نے اسے اسی کام پر لگایا ہوا تھا ،میرے ہاتھ زارینہ کو سمجھا رہے ہوں گے کہ پیار کسے کہتے ہیں ۔ اور میرے ہونٹ اس کے گلاب بدن کی پنکھڑیاں چُننے میں مصروف تھے ۔۔ اچھا میں بھی تو سُنوں کون سے شعر یاد آ رہے ہیں ،زارینہ شکشت کے بعد اپنی تعریف سننا چاہتی تھی ۔۔ یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے ۔۔۔۔۔ وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے (احمد فراز) ۔ایک ہی شعر میں اپنی کیفیت بھی بیان کر دی اور اس کے حُسن کی دل کھول کر تعریف بھی کر دی ۔ پرنس تمھیں گفتگو میں بھی کمال ہے ؟ بات بات پر میری تعریف کا مطلب تھا کہ وہ ذہنی طور پر میرے اثر میں آ چکی ہے ۔ اتنی نرماہٹ سے اتنے پیار سے اتنے احساس سے میں زارینہ کو پیار کر رہا تھا جیسے وہ کانچ کا پیکر اور میری شِدتیں اسے کوئی ٹھیس نہ پہنچا دے ۔۔۔ مجھے اندازہ تھا ایسی چاہت سے اس کا کبھی واسطہ نہیں پڑا ہو گا ۔۔ تمھیں اپنی بانہوں میں پا کہ بھی میری وحشتوں کو سکوں نہیں آرہا ۔۔ جانے کیا ہو تم ۔ زارینہ کے دل میں میری سرگوشیاں ہلچل پیدا کر رہی تھیں تو ہونٹ،ہاتھ اور عضو اس میں میری طلب جگا رہے تھے۔ میں نے پیار کے لمحات طویل تر کر دیئے تھے مجھے کچھ خاص چاہیئے تھا ۔ میرے جذبات میں خود طوفان اٹھا ہوا تھا ۔ مگر میں نے ضبط کا دامن نہیں چھوڑا تھا ۔ میں چاہتا تو اسے چود دیتا ۔ وہ اپنی راہ لیتی میں اپنے راہ چل پڑتا ۔ لیکن میں کچھ اور چاہتا تھا مجھے وہ مفتوح نہیں چاہیئے تھی ۔۔ مجھے وہ اُسی کی دلی مرضی سے چاہیئے تھی ۔ میری حالت اس وقت کچھ اس شعر جیسی تھی ، بے قراری سی بے قراری ہے ۔۔۔۔ وصل ہے اور فراق طاری ہے ۔۔۔۔ (جون ایلیا) مجھے پتہ تھا وہ اس وقت میری نہیں تھی ۔ زارینہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرنس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تمھیں فتح نہیں کرنا چاہتا تمھیں تمھاری مرضی سے پانا چاہتا ہوں ۔۔۔ اگر اجازت ہو تو تمھیں حاصل کر لوں ؟ زارینہ کے جسم میں ارتعاش سا ہوا ۔ اس کا ذہن اور جسم تو پہلے ہی میرا ہوچکا تھا ۔۔ زارینہ نے اپنے بازوؤں کا ہار میرے جسم کے گرد ڈال دیا ۔اور پھر اس ہار کا گھیرا تنگ کردیا ۔۔ پرنس میں اب بھی تمھیں جیتنے آئے تھی ۔ تمھیں اپنے پیچھے لگانے آئی تھی ۔ تمھیں تڑپانے آئی تھی ترسانے آئی تھی، لیکن تم نے مجھے جیت لیا ہے میرے دل کو جیت لیا ہے ۔۔ اب میں دل سے چاہتی ہوں کہ تم مجھے پا لو ۔۔ میں نے اسکی ٹانگیں کھول کے گھٹنوں کے بل مخصوص پوزیشن بنائی اور ۔۔۔۔۔۔ زارینہ نے میرا عضو اپنے ہاتھ سے اپنی چوت پررکھا میں نے بڑی نرمی سے دھکا لگایا اور عضو اس کی چوت میں گھس گیا ۔ چوت ٹھیک تھی ۔ تنگ تھی ۔ ہمیں محسوس ہوا کہ دو جسم ایک جان ہو گئے ہیں ۔ میں آہستہ آہستہ زارینہ کو چودنے لگا۔ زارینہ کی آنکھوں میں بے تحاشا پیار تھا ۔ اور اس کے ہاتھ مجھے اس طرح پکڑے ہوئے تھے جیسے کبھی مجھے کھونا نہیں چاہتی ہو۔ جسم کی ضرورتوں کے مطابق اب میں تیزہونےلگا ۔اس کا جسم میرے دھکوں سے ہلنے لگا ، ممے ارتعاشی حالت میں آگئے۔ چہرہ وصال کی گواہی دینے لگا تھا اور جسم مزے کے سمندر میں ڈوب گیا تھا ۔ جیسے جیسے میں چودتا گیا ویسے ویسے زارینہ کی جذباتیت بڑھتی گئی۔ جسمانی ضرورتوں کے علاوہ ذہنی اور دلی ضرورتیں بھی ہوتی ہیں ،جنہیں اس دوران خوراک دی جا سکتی ہے ، بس فرق آپ کے انداز میں ہوتا ہے ۔ چاہت سے چودنے اور بھوک مٹانے کیلیے چودنے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ میں نے جس کو بھی آج تک چودا ہے وہ اپنی مرضی سے میرے بستر پر آئی ہے ۔ کیونکہ نگینہ اور میری پہلی رات نے پھر کبھی مجھے کسی سے زبردستی نہیں کرنے دی ۔ جو مزا باہم ملنے میں ہے وہ کسی اور طریقے سے نہیں مل سکتا۔اس وقت ہم اسی مزے کے سمندر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ پرنس کچھ کرو یہ وقت یہیں رک جائے ۔ ہم تمھارے بازوؤں سے واپس اس دنیا میں نہیں جانا چاہتے ۔زارینہ انتہائی جذباتی ہو رہی تھی ۔ چودائی کے ساتھ ساتھ میں اس کی آنکھوں کو گالوں کو بھی چوم لیتا تھا ۔ سیکس اور پیار کے حسین امتزاج نے زارینہ کو بےحال کر دیا تھا ۔ میں نے جیسے اس کی نبض پر انگلیاں رکھ دی تھی ۔ اور اس کی بیماری کے مطابق دوا دے رہا تھا ۔ اور یہ دوائی زارینہ کے دل پر اثر کر گئی تھی ۔ میں نے ٹائمنگ گولی کا حساب بھی ذہن میں رکھا ہوا تھا ، بیس منٹ تو زارینہ نے چوستے ہوئے گزار دیے تھے ،پھر میں نے پیار کے لمحات بھی طویل کردیئے تھے ۔ جس سے پانی ابلتا رہا تھا اوراب بس باہر نکلنے والا تھا ۔ لگتا یہی تھا ہم اکھٹے مزل پر پہنچے گے ۔۔ یہی میں چاہتا تھا ۔ اب دھکے اضطراری تھے ۔ جسم کہتا تھا کچھ ہونے والا ہے ۔ جب کچھ ہونےوالا ہو تو اپنے آپ دھکوں کی رفتار تیز ہوجاتی ہے ۔ جیسے پانی پہاڑی نالوں سے گرتا ہے ۔ اووو ۔ میں رک گیا ۔جسم کوجھٹکا لگا ۔ مگر میں رکا نہیں زارینہ کو دو جھٹکے اور چاہیئے تھے ۔ اور پھر اس کے اوپر گر گیا ہم نے ایکدوسرے کو جکڑ لیا۔ ہمارے جسم وائبریشن پر تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو باتیں ہوئی ایک تو پانی بہت نکلا ۔۔ دوسرا زارینہ نے مجھے آئی لو یو(مجھے تم سے محبت ہے) کہا ۔۔ برستے پانی میں خوشبو سی میں نے کی محسوس ۔۔۔۔۔۔ مجھے یقیں ہے کہ وہ بھی انہیں گھٹاؤں میں تھی ۔۔۔ (شاعر ۔ اعجازعبید) ۔ کسی نے کبھی ہم سےاجازت نہیں مانگی ۔ والدین سے لیکر شوہر تک ہر کسی نے ہمیں اپنی مرضی بتائی ہے دنیا کیلیئے ہم ایک پرنسیس کی طرح ہیں لیکن ہم جانتی ہیں کہ ہمارے جیسے خاندانوں میں لڑکیاں کتنی بے بس ہوتی ہیں ۔آج تم نے ایسے طریقے سے ہمیں گھیرا ہے جو ہمارے وہم و گماں میں بھی نہ تھا ،لیکن جب تم نے اجازت مانگی تب ہم تمھاری ساری بات سمجھ گئے ۔ نہ کبھی ایسی چاہت سے کسی نے پیار کیا ہے نہ کبھی ہمیں زندگی میں ایسا مزہ ملا ہے آئی لو یو پرنس ۔۔ تمھارے بوائے فرینڈ کا کیا بنا ، میں نے اسے چونکایا ۔ زارینہ حیرانی سے میری طرف دیکھنے لگی ۔ تمھیں کیسے پتہ چلا ؟ کہیں دور سے اس کی آوز آتی محسوس ہوئی ۔ میں نے بس آئیڈیا لگایا ہے ۔ مجھے شوق ہے لوگوں کو پڑھنے کا ان کے دل کے حال جاننے کا ۔ اگر تم ہمیں بستر تک لا سکتےہو تو بے شک ایسا پرفیکٹ آئیڈیا بھی لگا سکتے ہو ۔ زارینہ تو جیسے میری معتقد ہو گئی تھی۔ شاید تم لوگ آکسفورڈ میں ملے ہوگے وہ بھی پاکستانی ہو گا ۔ اظہار کے بعد جسمانی ملاقات میں اس نے دیر نہیں لگائی ہو گی۔ پھر اسے تمھاری فیملی کا پتہ چلا ہو گا تو پیچھے ہٹ گیا ہو گا وہ بھی اس وقت جب تم یا وہ پاکستان مستقل آگئے ہو ۔ تم نے دل پر پتھر رکھ لیا ہو گا اور والدین کی مرضی کے سامنے سر جھکا دیا ہو گا ۔ جلد ہی تمھاری شادی کر دی گئی ہو گی شاید دو سال کے اندر ۔ لیکن وہ جو کوئی بھی تھا اس نے تمھیں جذباتی بلیک میل کر کے بس تمھارا فائدہ ہی اٹھانا تھا میری بات ختم ہوئی تو زارینہ کی آنکھوں میں آنسو نکل رہے تھے ۔ زارینہ نے مجھے زور سے جکڑ لیا۔ ہاں ایسا ہی ہوا تھا ہمیں بھی اس کی بے وفائی کا اندازہ ہوگیا تھا ۔ پرنس تمھیں چاہنے لگی ہوں ۔ تمھارے ساتھ مستقل دوستی چاہتی ہوں ۔ میں ہمہشہ تمھارے ساتھ ہوں ۔ میں نے اسے اپنے بازوؤں کے گھیرے میں کس لیا۔ یہاں زارینہ نے کمال کا شعرسنا دیا ۔ توملا ہےتو اب یہ غم ہے ۔۔۔ پیار زیادہ ہے زندگی کم ہے ۔ کیا ستم ظریفی ہے ہم نے تمھارے نام اپنی زندگی لکھ دی اور ہمیں تمھارا نام تک نہیں معلوم ؟ زارینہ اب مجھے جاننا چاہتی تھی ، میر ا نام پرنس ہی ہے ۔ اب میرے ساتھ ایسا سلوک کرو گے زارینہ نے خفگی سے کہا ۔ کوئی میرا نام نہیں جاننا چاہتا میں بس شہزادہ ہوں میں نےاس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ بس وقت نے اتنا فرق ڈالا ہے کسی نے مجھے شہزادے سے پرنس بنا دیا ۔ میرے سرد لہجے نے اسے چپ رہنے پر مجبور کر دیا لیکن زارینہ کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے وہ آسانی سے اس مو ضوع کا پیچھا نہیں چھوڑے گی ۔ زارینہ میرے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتی تھی ۔ میری پسند نا پسند ،میرے مشاغل ۔میری عادات ۔مزاج ۔نظریات ۔ میرا کاوربار ۔ میری سوچیں پڑھنا چاتی تھی ۔ میں اسے ایک بار اور کرنا چاہتا تھا لیکن زارینہ کا انداز اتنا دلربائی تھا کہ میں نے زارینہ کو اپنے بارے میں کافی کچھ بتا دیا ۔ ایکطرح سے اچھا ہی ہوا میری آوارگی سے زارینہ واقف ہوگئی نہیں تو کچھ گھنٹوں کی ملاقت میں جس طرح زارینہ میری طرف بڑھی تھی مجھےاس کے جذبات کی شدت سے ڈر لگنے لگا تھا ۔ دو گھنٹےسے اوپر گزر گئے ۔ زارینہ کی باتیں ختم نہ ہوئی، اپنا بتاتی رہی میرا حال سنتی رہی زارینہ گھما پھرا کے میرا ماضی جاننا چاہتی تھی ۔ اور میں اسے گھما پھرا کے ماضی سے حال میں لے آتا تھا ۔ وہ تو اچھا ہوا ، زارینہ کے موبائل پر مسز ریحان کی کال آگئی ۔ مسز کالپر بہتر یہی ہوتا کہ ہم اس وقت گھر ہوتے ۔ مسز ریحان نے زارینہ کو کچھ سمجھایا ۔ آواز میرے کانوں میں بھی پڑ گئی تھی ۔ میں نے وقت دیکھا تو تین بجنے والے تھے ۔میں نے سر ہلا کے اسے مسز ریحان کی بات ماننے کا کہا ۔ پارٹی میں اسوقت واپس جانا مشکوک بننے کے مترادف تھا ۔ یقیناً مسز ریحان ہر بات سے واقف تھی، میں نے موبائل پکڑ لیا ۔ مسز ریحان آپ میرے فلیٹ پر آجائیں ، یہیں سے آپ لوگ گھر چلے جانا ، اوکے پرنس یہی بہتر رہے گا ۔ مسز ریحان نے کال بند کر دی ۔ مسز ریحان تمھارے کنٹرول میں اسے سمجھا دینا ۔زارینہ میرے گلے لگ گئی ۔ جب مسز ریحان آئی تو زارینہ گاڑی میں بیٹھنے چلی گئ اور میں مسز ریحان کو روک لیا ۔ میں نے مسز ریحان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے اسے اپنے قریب کر لیا ، مسز ریحان کا جسم کانپنے لگا ۔ پرنس ،پرنس ۔۔ آئی لو یو پرنس ،وہ مجھ سے لپٹ گئی ۔۔ دیکھئے مسز ریحان یہ لوگ کسی اسکینڈل کو برداشت نہیں کرسکتے ،اسکینڈل مٹانے کیلیے اس سے منسلک ہر انسان مٹانا ان کیلیےکچھ مشکل نہیں ہو گا ۔۔ میری بات سمجھ رہی ہیں آپ ۔ ہاں سمجھ رہی ہوں بلکہ ان لوگوں کو تم سے بہتر جانتی ہوں ، بے فکر رہو یہ راز میرے سینے میں دفن ہو گیا ہے ۔اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے ۔ ٹھیک ہے اب آپ جائیں زارینہ آپ کا انتظار کر رہی ہو گی ۔ اوکے پرنس میں چلتی ہوں لیکن میں اس وقت کے انتظار میں ہوں جب تم مجھے اس فلیٹ میں بلاؤ گے ۔ آپ اپنے ویٹ کیلیے کچھ کریں ۔ جم جوائین کر لیں ۔ میں نے اسے مشور ہ دیا ۔ تمھارا مشورہ میرے لیئے حکم ہے ۔ مسز ریحان میری بات سمجھ گئی۔ کار چل پڑی زارینہ مسلسل میری طرف دیکتی رہی جب تک مجھے دیکھ سکتی تھی ۔ دلآویز کو سوچتے سوچتے اب درمیان میں زارینہ آگئی ،جب میں زارینہ کی طرف بڑھا تھا میں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ یکدم میں اس کی چاہت بن جاؤں گا ، اور صرف ایک اجازت مانگنے سے اس کے جذبات میں ایسی ہلچل آئی کے پھر سالوں کا فاصلہ زارینہ نے لمحوں میں طے کر لیا ۔ زارینہ ، دلاویز ،زارینہ، دلآویز ،انہی خیلالات میں مجھے نیند آگئی۔ اگلے دن ایک بجے تک اٹھا ۔ آنکھ کھلی تو سب سے پہلے موبائل چیک کیا ۔ کالز اور میسجز کا ڈھیر جمع ہو گیا تھا ، میں تانیہ کا نمبر ڈھونڈتا رہا ۔ اس کا میسج مل گیا ۔ کوشش کے باوجود دلآویز کی تصویر یا ویڈیو فی الحال نہیں مل سکی ۔ یہ اس کی پیدائش کی تاریخ ہے ۔ میں نے تاریخ دیکھی تو مجھے امید کی کرن نظر آئی، بائیس جون سے بائیس جولائی ، دلآویز کا برج سرطان بنتا تھا جو کہ انگلش میں کینسر کہلاتا ہے ،امید کی کرن اس لیئے نظر آئی کے سرطان افراد کی نمایاں بات یہ ہے کہ یہ بے حد حساس اور جذباتی ہوتے ہیں محبت میں ٹوٹ کر چاہتے ہیں ۔ ماضی کی وابستگیوں اور اپنی خاموشی کے ستائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے جذبات کے سمندر میں تیرتے ہیں ۔آپ کوئی بھی محبت بھرا گیت سنا کر انہیں رُلا سکتے ہیں ۔برج سرطان کا حاکم سیارہ قمر ہےاور تمام قمری حضرات کی مشترکہ خصوصیت بے حد مضبوط اور جذباتی دماغ ہے ۔ ۔ اب مجھے محسوس ہونے لگا کہ میں دلآویز کا جانتا ہوں اسے سمجھتا ہوں ۔ دو پوائنٹ پہلے تھے کہ دلآویز اپنی ماں کی پابندیوں سے بے زار بلکہ مخالف ہو گی دوسرا اب نگینہ پر بے خبری میں حملہ ہو گا اب ایک پوائینٹ یہ تھا کہ یہ انتہائی جذباتی اور حساس ہوتے ہیں خاص کر محبت کے معاملے میں ان کی جذباتیت کی کوئی حد نہیں ہوتی آہستہ آہستہ میرے ذہن میں ایک منصوبے کے خدوخال واضح ہونے لگے ۔اب آج رات دلآویز سے رابطہ کرنا تھا ۔ ۔۔ رات دو بجے تک رابطہ کرنا چاہیئے دل ابھی سے انتظار کی کیفیت میں مبتلا ہونے لگا۔ یار ایسے تو نہ کرو اس طرح تو رات تک برا حال ہو جائے گا ،میں نے دل کو کہا اور نہانے کیلیے باتھ روم میں چلا گیا ۔ نہا کے ناشتہ وغیرہ کرتے ہوئے کچھ ضروری بیک کالز کیں ، دلآویز دلآویز، دلآویز، دلاویز، دل و دماغ بس ایک ہی نام پکار رہے تھے یار زارینہ نے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا ۔ دل فوراً بہل گیا ،میں نے مسز ریحان سے رابطہ کیا ،ہیلو پرنس اچھا ہوا رات کو وقت پر پہنچ گئے ، میں اس کی بات سمجھ گیا کہ زارینہ کا شوہر آ گیا ہو گا ۔اچانک ان کوواپس جاناپڑا۔ مسسز ریحان کی آواز سنائی دی۔ مجھے جھٹکا سا لگا ا بھی تو زارینہ سے ملاقات شروع ہوئی تھی ۔ مجھے یقین تھا زارینہ ضرور رابطہ کرے گی ۔ دیکھو اب کب ملناہوتا ہے آپ اپنا خیال رکھیئے گا مسز ریحان ، میں کال بند کر دی مسز ریحان کو اسمارٹ ہو نے کی گولی دے دی تھی ۔امید تھی کچھ مہینے تو اس سے نکل جائیں گے ، کیوں کہ اب اس کا اسمارٹ ہونا تو ناممکن تھا مسز ریحان اتنی محنت نہیں کر سکتی تھی ۔ ویسے یہ بھی تھا کہ اسنے میری بات کو اپنی ہتک سمجھنے کی بجائے اس پر عمل کرنے کی ٹھان لی تھی ۔ وقت بڑی ظالم چیز ہے کبھی یہ رکنے کا نام نہیں لیتا اور کبھی یہ گزرنے کا نام نہیں لیتا آج بھی وقت گزرنے کا نام ہی نہہیں لے رہا تھا ۔ دلِ ناداں کو سمجھانے کا وقت نہیں تھا ، اسے بہلانے کا وقت تھا ۔ سو میں دوستوں سے ملتا ملاتا ،ہوٹل گیا،ایک دو نئی فرینڈز سے ملا ، بیوٹی پارلر جا کے شبنم سے ملا ۔ رات کا کھانا بھی کھا لیا تھا مگر دو بجنےمیں تو ابھی بھی کافی وقت پڑا تھا سوچ سوچ کے میں تہمینہ کی طرف چلا گیا ۔ تہمینہ اپنی ایڈورٹائیزنگ کی کمپنی چلا تی ہے۔ مجھے امید تھی اس وقت بھی وہ اپنے آفس میں ہو گی ،اس کے سٹوڈیو میں کام چلتا رہتا تھا ۔ تہمینہ اپنے اسٹوڈیو میں ہی تھی اس نے مجھے دیکھ لیا تھا ،میں اس کے آفس میں جا کے بیٹھ گیا ۔
  12. ​ ٹھیک ہے اب تم ہوٹل جاؤ اور منیجر بشارت سے مل لینا میں نے اسے تمھارا بتا دیا تھا ،، تم ہوٹل میں میری کان اور آنکھ بن کے رہو گے، کسی کو ہمارے خصوصی تعلق کا کچھ پتہ نہیں چلنا چاہیے ،نہ ہی میرا کوئی راز کسی کے پاس جانا چاہیے ،نہیں تو میرا موڈ بہت خراب ہوجائے،بے فکر رہیں باس آپ کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی ،راجو نے مکمل ارادے سے کہا ، ویل مینرز ، ویل ڈریس اینڈ نو آنٹی ،یہ تین باتیں یاد کرلو ،جیسے آپ کا حکم باس،راجو چلا گیا،دو تین اور ایسی ڈوذ ملیں گی تو اس کا لیول اَپ ہو جائے گا اور ذہن آگے خود ہی چل پڑے گا ، ایک وقت آئے گا اسی راجو کو ہوٹل سنبھالنا تھا ، یہی اِس کا انعام تھا ۔ تین سال اتنے بڑے شہر میں میرے لیے ایک لڑکی کوڈھونڈنے واسطے دن رات ایک کردینا کوئی عام بات نہیں تھی۔ جنوں میرا تھا ،پورا اس نے کیا تھا ۔ ایسے کام کےبندے کو ہاتھ سے کون جانے دے گا۔ میں نے وقت دیکھا ابھی بس نو سے کچھ اوپر ٹائم ہوا تھا آج وقت گزر ہی نہیں رہا تھا ۔ مجھے بھوک لگی تھی ۔میں نے اپنے ہوٹل فون کیا کہ مجھے کھانا پہنچا دو، جب سے اٹھا تھا ،دماغ ایک ہی بات پر لگا ہوا تھا دلآویز کو کیسے پھنساؤں ،ہر طرف سے سوچ سوچ کے تھک جاتا تھا اور کوئی راستہ نہیں نظر آرہا تھا ۔یہ بات صرف میں اور نگینہ جانتے تھے کہ اس نے مجھے قتل اس لیے کروانا چاہا تھا کہ میں نے اپنا بدلہ ضرور لینا تھا ۔ نگینہ کا حملہ مکمل تھا لیکن میں خوش قسمتی سے بچ گیا ، پھر بھی نگینہ نے مجھے ڈھونڈنا چاہا اور جب مجھے ڈھونڈنے میں ناکام ہوگئی ہو گی اس نے سب سے پہلے اپنی بیٹی کے دل میں میرے خلاف زہر بھرنا شروع کیا ہو گا،دلآویز مجھ سے نفرت کرتی ہو گی،، ،تانیہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ دلآویز اپنی ماں سے بہت ڈرتی ہے،اس کامطلب ہے نگینہ نے اس پر کڑی نگرانی رکھی ہوئی ہے،اس کے آنے جانے اور ہر معمولات پر اس کی نظر ہو گی اس سے ملنا بہت مشکل ہو گا ،اگر کسی طرح اس سے مل بھی لیا ،وہ پہلی نظر میں نہیں پر مجھے پہچان جائے گی اور پھر میری کوئی بات نہیں سنے گی مکار نگینہ دل میں جھانکنے میں ماہر تھی اس نے اپنی بیٹی کو ہر طرح سمجھ کے اس کے اندر اپنے خیالات ڈال دیئے ہوں گے۔ جو لڑکی آپ سے نفرت کرتی ہو دیکھنا بھی گوارہ نہ کرے اسے کیسے پٹایا جا سکتا ہے ،بس ایک ہی رستہ رہ گیا تھا ،اسے بلیک میل کروں یا اس کے ساتھ زبرستی کروں ،مگر یہ میرے مزاج کے خلاف تھا پھر میں پرنس کس بات کا ہوں، میں زبردستی کا قائل نہیں تھا،چاہے وہ نگینہ کی ہی بیٹی کیوں نہ ہو۔ دوپہر سے ذہن بار بار جائزے لیتا تھا اور یہیں آ کر رک جاتا تھا ،کیا ستم ظریفی ہے میری زندگی کی اہم ترین لڑکی ہے اور میں اس پر کوئی ٹرائی نہیں کر سکتا ہوں، نہ مجھے دلآویز کے مزاج کا پتہ تھا نہ اس کی عادات ،پسند نا پسند کا پتہ تھا ، نہ اس کے گھر کے موجودہ ماحول کا پتہ تھا،نہ اس کی سوچوں کا کچھ اندازہ تھا ۔ یہ تو اندھیرے میں تیر چلانا تھا ،تانیہ یاد آگئی ،میں نے اسے میسج کیا کہ مجھے دلآویز کی تصویر چاہیے ، یا ویڈیو مل جائے تو کیا ہی بات ہے ، مجھے پتہ تھا تانیہ ہر صورت میں یہ کام کرے گی ،تصویر سے مجھے دلآویز کی ذہنیت کا اندازہ ہو جانا تھا، قیافہ شناسی (فیس ریڈنگ ،باڈی لینگویج) میرا پسندیدہ مشغلہ تھا،یہ ایک فن ہے اور کسی نے مجھے بڑی لگن سے باقاعدہ سکھایا تھا ، اگر اس کی برتھ ڈیٹ کا پتہ چل جاتا تو اس کے بُرج سے اس کی بہت سی معلومات مل جانی تھی،اور ہاتھ دیکھ لیتا تو وہ ساری کی ساری میرے سامنے عیاں ہوجاتی،اس کی پیدائشی تاریخ بھی مجھے چاپیے ،تانیہ کو دوبارہ میسج کیا، اوکے اس بار اس کا جواب آگیا،اس کامطلب تھا کہ آج رات تو کچھ نہیں ہو سکتاتھا اب کل تک انتظار کرنا پڑے گا، کھانا پینا کرکے میں بور ہونے لگا ، جب کوئی حل نظر نہ آئے تو ذہن کو سوچ سوچ کے تھکانے کی بجائے اسے فریش کرنا چاہیئے ،ڈاکٹر کنول پر کام چل رہا تھا لیکن ابھی وہ بستر کی زینت بننے والے مرحلے پر نہیں آئی ،دو تین اور کو سوچا،نہیں کسی پرانی دوست کا بلا لیتا ہوں ،کون اس وقت آسکے گی،میں سوچتا رہا، کچھ نیا ہونا چاہیے ،یہ سوچنا ہی تھا کہ میں کمال کی طرف چل پڑا ، کار چلاتے ہوئے ذہن پھر سوچنے لگا،میں اسے مصروف کر رہا تھا مگر مجھے پتہ تھا کہ اب میرا ذہن ہر وقت اس کا تجزیہ کرتا رہے گا جب تک اس کا کوئی حل نہیں نکل آتا ،اگر میں نگینہ ہوتا تو ؟ پھر شہزادے کے قتل میں ناکامی کے بعد مجھے اس کی واپسی کے اندیشے تو ستاتے ہوں گے،مجھے سو فیصد یقین ہو گا کہ میں شہزادے کو سمجھ چکی ہوں ، تو پھر میں یہ شہر چھوڑ کے کیوں نہیں گئی؟ میں سرورکو اصل بات تو بتا نہیں سکتی تھی ۔اسے مجبور کیا مگر وہ کہتا ہو گا شہزادہ ملے یہی تو میں چاہتا ہوں ، جب نگینہ نے شہر چھوڑنے کی بات کی ہو گی تو حکم کا غلام نہیں مانا ہو گا کیوں کہ یہ بات اس کی غیرت پر کوڑے کی طرح لگی ہو گی ،کہ وہ کیوں شہر چھوڑیں ،بھاگے ان سے شہزادہ ،جیسے پہلے بھاگا تھا ۔ سرور نے نگینہ کے بھائیوں اور باپ کو بتایا ہوگا سب غصے میں ہوں گے کہ سرور یہ شہر چھوڑ کہ کیوں جائے ،یہ نگینہ کی ناکامی ہو گی،پھر اس نے کسی طرح وہ مکان چھوڑ دیا ہو گا ،بلکہ دو تین مکان بدلے ہوں گے ،سرور سے فیکٹری میں کام چھڑوا دیا ہو گا ، ان باتوں کا سرور کو سمجھ نہیں سکا ہو گا ، ساتھ ہی نگینہ نے دلآویز کو ٹارگٹ بنا لیا ہو گا،کیوں کہ حملہ تو دلآویز پہ ہونا تھا ،نگینہ شہزادے کی کشش سے بھی واقف تھی ، اس لیے دلآویز کے دل میں شہزادے کے خلاف زہر بھرنے کیلیے نگینہ اسے مسلسل بتاتی رہتی ہو گی کہ شہزادے نے اس کی ماں کی عزت پر حملہ کیا تھا،دوسری طرف وہ نگینہ کی کڑی نگرانی کرتی ہو گی ،اس کے آنے جانےے پر ،دوستوں پر ،اس کے معمولات پر ،پابندیاں ہی پابندیاں ، پہلے تین سال وہ بہت چوکنی رہی ہو گی،پھر وقت گزرتے نگرانی تو ہوتی رہے گی،پانچویں سال نگینہ کچھ ڈھیلی پڑ جائے گی ۔اور ساتویں آٹھویں سال نگینہ کو میرے آنے کی امید بالکل نہیں رہے گی ۔ اسی لیے تو دلاویز یونیورسٹی میں نظر آئی ہے ،ضرور پہلے وہ غیر معروف سکولز میں پڑھتی ہو پھر ایف ۔بی اے اس کی ماں نے پرائیویٹ کروایا ہو گا ۔اب دلآویز یونیورسٹی میں ہے تو ضرور دلآویز اس کی پابندیوں سے اکتا گئی ہو گی اور یونیورسٹی میں آنے کی ضد کی ہو گی، دو پوائینٹ ملے تھے دلاویز اس کی پابندیوں سے بے زار ہو گی ،اور اسے غلط سمجھتی ہو گی،دوسرا اب نگینہ کو میرے ملنے کی کوئی امید نہیں تھی، سوچتے سوچتے سر درد کرنے لگا، مگرمیں اسے سوچنے سے روک نہیں سکتا تھا میری ٹریننگ ہی ایسے ہوئی تھی، جب تک کوئی حل نہیں مل جاتا میں نے دن رات سوچنا تھا اور ساتھ ساتھ خود کو ریفریش بھی کرتے رہنا تھا ، کمال کا بنگلو آگیا تھا، اس کے وسیع لان میں پارٹی شروع تھی،لوگ آنے شروع ہوگئے تھے ۔ جیسے جیسے رات گزرے گی پارٹی اپنے عروج پر جائے گی،پھر دو تین بجے تک پتہ نہیں کس نے کس حالت میں کس کے ساتھ جانا تھا،ایسی مادر پدر آزاد پارٹیاں میں بہت کچھ ملتا ہے ،میں نے خود ایسی پارٹیوں کیلیے شہر کے ساتھ ہی فارم ہاؤس لیا تھا،بلکہ اب وہ شہر میں ہی تھا، استقبالیہ پر دونوں میاں بیوی کھڑے تھے ۔ او ساڈا پرنس، کمال بڑے جوش سے میرے گلے لگ گیا، یار تم نے آکے دل خوش کر دیا،پچھلی پارٹی تمھارے بغیر بڑی پھیکی تھی ۔ بڑی زیادتی کی تم نے میرے ساتھ ، کمال گلے شکوے کرنے لگا،یار میں مصروف تھا ،میں اسے نارمل کرنا چاہ،او ہاں ہاں ،میں جانتا ہوں تمھاری مصروفیتیں ، تقریباً اڑتیس سال کا کمال ایک بڑا بزنس میں تھا اور میرا اچھا دوست تھا،بھابی آپ کیسی ہیں ،میں اس کی بیوی سے علیک سلیک کرنے لگا ۔میں تو ٹھیک ہوں آپ بتائیں آپ کہاں ہیں آجکل،اس کی بیوی نے معنی خیز انداز میں کہا تو میں ہنس پڑا ۔ اگرچہ گوشہ گُزیں ہوں میں شاعروں میں میر۔۔۔ پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لی ۔۔۔ میں نے بے ساختہ شعر پڑھ ڈالا ،یار کیا مشکل مشکل باتیں کر رہے ہو کوئی آسان بات کرو نہ سلیس انگلش میں ، واہ سلیس انگلش پر میں نے اسے داد دی، اچھا تو آپ گوشہ نشین ہیں پر آپ کی شہرت ہر جگہ پہنچ گئی ہے،بھابی نےمشکل شعر کا مطلب بتا کہ مجھے حیران کردیا ۔۔ ارے بھابی جی، بدنام اگر ہوں تو کیا نام نہ ہوگا ۔۔ میرے ساتھ کمال نے میرا پسندیدہ مصرعہ مکمل کیا ، آپ لوگ مہمانوں کا استقبال کریں میں ذرا مل ملا لوں، بدنامی شہرت بن گئی تھی،اسلیے ہر کسی سے ملنا ملانا ہو گیا تھا ۔ ویسے بھی اس حمام میں سب ننگے تھے ،لیکن شرافت کا لبادہ اوڑھ کے پھرتے تھے،لیکن ان میں اور مجھ میں بس یہی فرق تھا ،وہ چھپے رستم تھے اور میں بدنامِ زمانہ پرنس تھا ،کیونکہ یہ سب مل کے بھی اتنے شکار نہیں کر سکے تھے جتنے میں اکیلا کر چکا تھا اپنی تو لائف ہی یہی تھی ،غنیمت یہ تھا کہ کافی مخلص دوست مل گئے تھے جن کی فیملیوں کا میں حصہ تھا ،بس یہ دوست ہی میری فیملی ہیں،کمال بھی انہی میں سے ایک تھا، ہیلو ایوری باڈی میں ملتا ملاتا ایک ٹیبل پہ بیٹھ گیا ، یہاں صرف اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بیٹھنا الاؤڈ ہے، سمیر نے مزاق کیا ، یار سمیر اس کی کوئی ایک گرل فرینڈ ہو گی تو اس کے ساتھ بیٹھے گا ، رانیہ نے بھی اپنا حصہ ڈالا ، باقی دو نے بھی جو بکنا ہے وہ بھی بک لیں ، میں نےچاروں کو ہی لتاڑتے ہوئے کہا،علوینہ اور احتشام ہنسنے لگے ۔ میں صبح مما کو چھوڑنے ائیرپورٹ جا رہی تھی ، تو پرنس نے پتہ نہیں کس کے ساتھ ریس لگائی ہوئی تھی ،علوینہ شرارت سے میری طرف دیکھنے لگی، پہلے تو یہ بتاؤ کہ تم ڈی ایچ اے میں رنگ روڈ سے ایئرپورٹ جانے کی جانے کی بجائے اتنا چکر کیوں کاٹا ،میں نےبات کا رخ بدل دیا،وہ میں مما کی ایک دوست کو جوہر ٹاؤن فیزٹوسے لینا تھا تو وہاں سے کینال بینک روڈ سے پھر ایئرپورٹ کی طرف چلے گئے ۔اوہ صبح صبح اتنی ڈرائیونگ،میں نے ڈرامہ کیا ، یہ مما کی اچھی بچی ہے نہ ،احتشام بے اختیار بول پڑا ،ضرور احشتام کو تو پتہ ہونا چاہیے میں نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔ یاد رکھنا احتشام ڈرائیور کی بجائے صبح اٹھ کے خود گئی ہے ،مما کی اچھی بچیاں بعد میں تنگ بڑی کرتی ہیں میں نے دونوں کو چھیڑا۔ بالکل تمھیں بچیوں کا نہیں پتہ ہو گا تو کسے ہوگا،علوینہ کب پیچھے رہنے والی تھی، آہ ہا ۔۔۔ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا، چاروں نے میرے ساتھ مصرعہ مکمل کیا،اوکے گایئز انجوئے یور سیلف،(مزے کرو ، دوستو)مجھے ایک پٹاخہ نظر آگیا تھا ، یہ تمھارے ہاتھ نہیں آئے گی ،علوینہ چپ نہ رہ سکی، لگتا تھا علوینہ مجھے ٹائم دے گی ،، میں ایسے ہی تو اس کے پاس جا کہ نہیں بیٹھتا تھا ، جب بھی آئے گی خوش آمدید ، کمال کون ہے وہ پٹاخہ ؟ کون سا پٹاخہ کدھر ہے؟کمال نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا وہ جو مسز ریحان کے ساتھ بیٹھی ہے،اوہ وہ ،وہ پٹاخہ نہیں ہے ، بم ہے ۔۔۔ بم ہے۔ کمال نے مزہ لیتے ہوئے کہا، تو تمھارے سامنے بم ڈسپوزل کھڑا ہے،اس کا حدود اربعہ بتاؤ، یار وہ ۔۔۔۔۔ تمھارے ہاتھ ۔۔۔۔۔۔ مشکل ہے ، جانے دو،کمال کی بات پر میں بہت حیران ہوا،کیا کہہ رہےہو تم ، ہاں یار کچھ ایسا ہی ہے ، یو ں سمجھ لو کے تم پرنس ہو تو وہ کنگ ہے،یار اب مجھے تجسس سے ہی مار دیتے رہو گے یا کچھ منہ سے پھوٹو گے بھی ۔ کراچی سے اپنے شوہر کے ساتھ آئی ہے وڈیرے ہیں بہت بڑے ،انتہائی مغرور ہے،دولت کا خمار بہت ہی زیادہ ہے،ہم جیسے بڑے کاروباری بھی ان کے سامنے کچھ نہیں ہیں،یہاں کیا کرنے آئے ہیں ؟میں نے تجسس سے پوچھا کچھ مہینے ہوئے ہیں شادی کو ،مسٹر اینڈ مسسز ریحان کے مہمان ہیں ،انہوں نے شادی کا کھانا دیا ہے ،ان کو ٹائم نہیں مل رہا تھا ،اب چھ سات ماہ بعد ٹائم ملا ہے ان کو ،سمجھ لے اب ان کی باری آئی ہے مسٹر اینڈ مسسز ریحان کی،تو بڑی خبریں رکھتا ہے لگتا ہے بھابی کو خبردار کرنا پڑے گا، یار مسسز ریحان ابھی میری مسِسزسے اس کا تعارف کروا رہی تھی ،بڑی شو مار رہی تھی کہ کیسے لوگ ہمارے مہمان ہیں ، ہاں تو ایسی فیملی ان کی مہمان کیسے بن گئ، یار تمھیں پتہ ہے نہ وہ ریحان شکار کا شوقین ہے اور وڈیرے بھی ایسے شوق پالتے ہیں ،تو ہو گئی ہو گی ان کی کوئی واقفیت ۔ اب بھی دونوں شکار پر گئے ہوئے ہیں کمال نے مجھے آنکھ مارتے ہوئے کہا،اوووہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب زارینہ صاحبہ بور ہورہی تھیں تو مسز ریحان اسے یہاں لے آئی،اچھا تو اس بم کا نام زارینہ ہے ،ہاں اب تمھاری تسلی ہوگئی ،اب جاؤ علوینہ پے ڈورے ڈالو ،کمال کی نظریں بڑی تیز تھی،علوینہ خود آئے گی جب بھی آئے گی،ابھی اس بم کی بات کرو،پرنس چھوڑو اسے ،کمال محتاط تھا،تمھارا کیا خیال ہے ان وڈیروں کی بیویوں کو نہیں پتہ ہوتا کہ ان کے شوہر کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں ؟ یہ خود بھی کسی کے انتظار میں ہے،میں اتنی دیر سے مسلسل اس کا تجزیہ کر رہا تھا ۔اوہ نہیں یار ،کیا بات کرتے ہو ابھی کچھ عرصہ ہوا ہے ان کی شادی کو،کمال بے زاری سے بولا۔ جو تم سمجھ رہے ہو وہ سب تو یہ شادی سے پہلے بھی کر چکی ہےمیں کچھ اور کہ رہا ہوں یہ وہ انتطار نہیں ہے جو عام طور پر کیا جاتا ہے ،یہ چاہتی ہے کوئی آئے اور اسے زبردستی اٹھا کے لے جائے ۔ اتنا کہنے کے بعد میں زارینہ کی طرف قدم بڑھا چکا تھا، پرنس ۔۔۔ پرنس پیچھے سے کمال کی متفکر آواز آئی مگر میں اب رکنے والا نہیں تھا،
  13. ماضی کی فلم خیالوں چلتی رہی اور پتہ نہیں میں کب سو گیا تھا ، ویسے بھی صبح جب راجو نے اٹھایا تو مجھے سوتے ہوئے صرف دو گھنٹے ہی ہوئے تھے ،دوپہرکو اٹھا تو نہا دھو کے اپنے ہوٹل چلا گیا ،دو سال پہلے یہ ہوٹل میں نے خریدا تھا ۔ اپر کلاس کا پسندیدہ ہوٹل تھا،اور اسی لیے میں نے اسے خرید لیا تھا ،بہت سی شہزادیاں یہاں آتی جاتی تھیں اور میرے جیسے شہزادوں کے پیار کا کاروبار چلتا رہتا تھا ، منیجر سے کچھ کاروباری معاملات ڈسکس کرنے کے بعد میں وہاں سے نکلا اور کار کو فارم ہاؤس کی طرف موڑ دیا، آٹھ بجے تک میں فلیٹ میں واپس آگیا ، مجھے راجو کا انتطار تھا ، نہیں تو اب فلیٹ میں صبح کے وقت ہی آنا ہونا تھا ، راجو فلیٹ کی سیڑھیوں پر بیٹھا میرا انتظار کر رہا تھا ۔ میں نے کار اپنی جگہ پر پارک کی ، مجھے فون کردیتے راجو ، میں نے فلیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا، باس میں ابھی آیا ہوں میں نے سوچا کچھ انتظار کر لیتا ہوں ،مجھے امید تھی آپ نے ملنے کو کہا ہے تو آپ یہاں ضرور آئیں گے ، فریج سے اپنے لیے کولڈڈرنک یا بیئر جومرضی لے لو،آپ کچھ نہیں پیئں گے باس،راجو نے ایک بیئر لیتے ہو ئے پوچھا ، نہیں میں تھوڑی دیر تک کھانے کے موڈ ہوں ، ہاں تو بلا تمہید شروع ہو جاؤ راجو، باس یہ سرور خان کی تصویر ہے ،راجو نے اپنا موبائل میری طرف بڑھایا ، سرور خان کسی جنرل سٹور پر کھڑا تھا ،جیسے مڈل کلاس میں ہوتے ہیں ، دس سال بعد بھی وہ سانڈ ہی تھا ۔اب مونچھیں نارمل اور بال مہندی سے رنگے ہوئے تھے ، یہ اس کا اپنا جنرل سٹور ہے باس ، اگلی تصویر دیکھیں باس ،میں نے تصویر آگے کی تو دلآویز کے ساتھ ایک عورت پٹھانی برقعے میں نظر آئی ، یہ پنجاب میں ٹوپی والا برقع بھی کہلاتا ہے اس سے اچھا پردہ کسی میں نہیں ہو سکتا،جسم تو دور کی بات ہے، آنکھیں تک نظر نہیں آتی ، میرے اندازے کے مطابق یہ نگینہ تھی ،تصویر سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ بازار میں اسے کھینچا گیا ہے ، ایک تصویر اور بھی ہے باس ،وہ تصویر کسی جوان کی تھی مجھ سے پانچ چھ سال بڑا ہو گا،مجھے وہ کچھ جانا پہچانا محسوس ہوا ،میں اس پر غور کرنے لگا کہاں دیکھا ہے اسے،مونچھیں، بال ، رنگت، چہرہ ،ناک ،آنکھیں ، ہونٹوں کی بناوٹ ،اسکی تھوڈی ۔ ٹھوڈی اور رخسار سے سخت گیر، اونچی ناک سے مطلب پرست اندر ہوئی آنکھوں سے ناقابل اعتبار تھا کپڑوں سے آسودہ حال لگتا تھا ۔ کچھ یاد نہیں آیا کہ کون تھا ،شاید ان کی برادری کا ہو میں بس کچھ کو جانتا تھا باقیوں کا چہرہ شناس تھا ،یہ ان کے گھر آیا تھا اسی کے ساتھ ماں بیٹی بازار گئی تھیں ، کام کی چیزیں یہی تصویریں ہی تھی ،راجو نے مزید کچھ معلومات دی، اوکے باس ۔ راجو جانے کیلیے پر تولنے لگا ، رضوان عرف راجو تم نے تین سال دن رات ایک کر دیئے اور میری زندگی کی اہم ترین لڑکی تلاش کر دی ، تم نےکمال کر دیا ہے ، تم نے بہت بڑا کام کیا ہے ،زبردست ،میں تم سے بہت خوش ہوں ،میں نے کھل کے راجو کی تعریف کی،شکریہ باس ،میری تعریف سے راجو کی باچھیں کھلی ہوئی تھی ۔ میں چاہتا ہوں تم مستقل میرے ساتھ کرو، تمھیں اچھی تنخواہ،اچھی موٹرسائیکل ، کھانا پینا ، موج مستی ملے گی، آپ کے ساتھ کام کرنا میرے لیے فخر کی بات ہے باس ، راجو نے میری آفر فوراً قبول کرلی،میں اسے پرخیال نظروں سے دیکھنے لگا ۔اگر اسے میرے ساتھ کام کرنا تھا تو اپنا شخصیت کو بدلنا پڑے گا ۔نہیں تو یہ میرے ساتھ نہیں چل سکے گا ، اس کے لائف اسٹائل کوتبدیل کرنا پرے گا ،میں نے سوچتے ہوئے فوراً ایک پلان بنایا ، راجو ،اب بھی آنٹیوں سے دوستی رکھتے ہو یا چھوڑ دی ،ان کے بغیر کیسے زندگی گزر سکتی ہے باس،مجھے آنٹیاں پسند ہیں،باس ان کے بڑے بڑے ممے بڑی بڑی گانڈ ہوتی ہے، بہت مزہ آتا ہے راجومسکرایا ،نہیں تمھیں آنٹیاں پسند نہیں ہیں،میں نے اسے جھنجھوڑا، باس ؟،وہ حیران ہوا ۔ اچھا تمھارے پاس کُھلے پیسے ہوں اور ایک بائیک خریدنی ہو تو نئی لو گے یا پرانی،میں نے اس سے سوال کیا،ظاہر ہے باس نئی ہی لوں گا،اور اگر کپڑے خریدنے ہوں تو ؟ وہ بھی باس نئے اور بہترین لوں گا ،راجو میری بات اب بھی نہیں سمجھا تھا، اچھا اگر بھوک لگی ہو اور جیب میں پیسے ہوں تو باسی کھانا کھا لو گے؟ میں نے اپنا گھیرا اور تنگ کیا،نہیں باس ، باسی کھانا کون کھاتا ہے ،راجو حیران ہوا، یا فروٹ پلپلا ہو زیادہ پکا ہو ا ملے اور تازہ بھی پڑا ہو تو کیا کرو گے،تازہ اور اچھا فروٹ ہی لوں گا باس، راجو نے پھر میرے مطلب کا جواب دیا، تو تم آنٹیاں کیوں پسند کرتےہو ؟ جب زندگی میں سب کچھ تمھیں نیا، تازہ ،بہترین چاہیے؟ میں نے راجو سے اسی سوال کیلیے اتنے سوال کیے تھے،سچی بات تو یہ ہے باس کہ لڑکیاں ہاتھ آتی ہی نہیں،راجو نے میری بات سمجھتے ہوئے حقیقت بیان کی ،تو کیا آنٹیاں ہاتھ آجاتی ہیں ، ؟ میں نے فوراً پوچھا،باس تھوڑا ان کے آگے پیچھے پھرو تو وہ خود ہی پہل کر دیتی ہیں ،یا کوئی واضح سگنل دے دیتی ہیں ،اچھا جب تم کسی بھی آنٹی سے ملتے ہو تو تازہ ،بہترین مال کسے ملتا ہے ؟ تمھیں یا آنٹی کو،سوچ کے جواب دینا،میں نے اسے صحیح جواب تک پہنچنے کیلیے موقع دیا، تازہ اور بہترین مال تو آنٹی کو ملتا ہے ،ہمیں تو باسی کھانا پلپلا فروٹ ملتا ہے راجو نے سوچ کے جواب دیا،اور اس باسی کھانے کی بڑی گانڈ اور بڑے ممے کا مطلب ہے کہ اس کا پیٹ بھی بڑھا ہو گا ، کمر نہیں کمرہ ہو گا ۔ اس کی عمر پینتالیس سے آگے پچاس ساٹھ تک ہو گی، اس طرح اس کی شادی اگر تیس سال میں ہوئی ہو تو پچیس تیس سال اسے سیکس کرتے ہوئے ہو گئے ہیں ،اب اگر وہ پچاس ساٹھ کی ہے تو اسکا شوہر ساٹھ یا پینسٹھ کا ہو گا،یعنی وہ اسے اب سیکس کا وہ مزہ نہیں دے سکتا جو ایک جوان دے سکتا ہے ،اس کا شوہر خود ٹھرکی بابا بن کے جوان لڑکیوں کو تاڑتا ہو گا ،دونوں جوانی کا مزہ چاہتے ہیں ،یہ بتاؤ راجو تم آنٹیوں کو پھنساتے ہو یا آنٹیاں تازہ شکار کی شکاری ہیں ، میں اسے اصل بات پہ لے آیا ،اوہ باس ، یہ تو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا،اسکا مطلب ہے کہ جب میں انہیں پھنسانے کی ٹرائی کرتا ہوں تو وہ پہلے ہی میرے جیسوں کا انتظار کرتی ہوتی ہیں ، راجو حقیقت تک پہنچ گیا یہی بات تمھیں سمجھانا چاہتا ہوں کوئی بھی آنٹیوں کو نہیں پھنساتا ،آنٹیاں ہی اصل شکاری ہیں ، اور اب تم باسی کھانا چھوڑ دو اگر میرے ساتھ کام کرنا ہے ۔ ویسے بھی میڈیکلی (طبی) لحاظ سے بڑی عمر کی عورتیں نوجوانوں کی صحت کیلیے انتہائی نقصان دہ ہیں ،سیدھا سیدھا یہ تمھارا خون چوس رہی ہیں ، لیکن باس بھوک بہت لگتی ہے کیا کروں ،مجھے پتہ ہے تم یہ باسی کھانا بھوک سے مجبور ہو کہ کھاتے ہو، لیکن مجھ سے کوئی امید نہ رکھنا،اپنا شکار خود کرنا پڑے گا تمھیں ،میں بس رستہ بتا سکتا ہوں ،جی باس آپ بتائیں ،وہ سمجھا میں کوئی دھانسو قسم کا طریقہ بتاؤں گا جس سے لڑکیاں اس کی طرف خود بخود کھچی چلی آئیں گی، راہ چلتی لڑکیوں کو چھیڑنا ،آوازیں کسنا،سیٹیاں مارنا،بائیک چلاتے ہوئے پیدل چلتی لڑکی کی گانڈ میں انگلی دینا ،بازاروں میں ان کے ممے پر ہاتھ پھیرنا ،جسم ساتھ لگانا ، کھسا لگانا،کالجوں کے باہر بھونڈی کرنا ،موبائل سے تصویریں ویڈیو بنانا ، بائیک پر پیچھا کرنا ۔تنگ کرنا ،موبائل نمبر مانگنا ،کہیں سے مل جائے تو کالیں کر کے تنگ کرنا ، عجیب عجیب میسجز کرنا ، یہ سب چھوڑ دو اس سے لڑکیاں پھنستی نہیں پیچھے ہٹتی ہیں،ہر لڑکی پر لائین مارنا ، گھٹیا طور طریقے ،ڈرامے بازیاں لڑکیوں کو پسند نہیں ہیں، اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو سڑک چھاپ لفنگوں کے طور طریقے چھوڑ دو ۔ویل مینرز (ادب و آداب)،ویل ڈریس ،(خوش لباسی) یہ دو پہلے گُر ہیں ان کو یاد کر لو گے تو اگلا رستہ کھل جائے گا،میں نے اپنی طرف سے اسے پہلے دو گُر سکھا دیئے ۔
  14. I did not write this story. I read it in another place. I am just sharing for enjoy for those who did not read it before.
  15. پرنس سیریز کی پہلی کہانی ناگن .اس لڑکی کی کہانی جسے پانا میری ضد تھی جسے پانا میر ی زندگی کا مقصد تھا موبائل کی بیل نے مجھے اٹھنےپر مجبور کر دیا۔ راجو کے نام پر میں نےیہ بیل محفوظ کی ہوئی تھی ۔ نہیں تو میرے موبائل پر صرف ایک بیپ والی بیل لگی ہوئی تھی۔ جیسے ہی میں نے کال اوکے کی ۔ نیلی آنکھیں باس ۔ راجو نے بغیر تمہید کے مخصوص سگنل دیا ۔ وہ 125 پر ہیں اور بائیک چلانے وال کوئی بازی گر لگتا ہے میں اسے کھو بھی سکتا ہوں ۔ بائیک کا نمبر نوٹ کر لو، میں نے اسے ہدایت دی ۔ نمبر نہیں ہے باس ، اپلائیڈ فار ہے ، آپ آجاؤ ، میرے جسم میں جیسے بجلیاں دوڑ گئ ۔ میں پاجامے کے اوپر ہی ٹی شرٹ پہن کے والٹ ، چابیاں اور موبائل ، موبائل تو میرے کان سے لگا ہے۔ فلیٹ لاک کر کے چار منٹ کے اندر میں گاڑی اسٹارٹ کرچکا تھا۔ اس دوران راجو سے میں اس کی لوکیشن پوچھ چکا تھا ۔ تین سال پہلے میں نے راجو کو ایک مشن دیا تھا ۔ نیلی آنکھوں والی کو ڈھونڈنے کا ۔ تب سے اب تک یہ تلاش جاری تھی ۔ کچھ نیلی آنکھیں ملی پر اس میں وہ نہیں تھی جس کی مجھے تلاش تھی ۔ اس وقت میں بڑی اوور ڈرائیونگ کر رہا تھا ۔ صبح صبح بیشتر سڑکیں خالی تھیں ، راجو سے میرا مسلسل رابطہ تھا ۔ میں ان کی مخالف سمت سے آرہا تھا ۔ کیا خیال ہے راجو کہاں جا رہے ہیں وہ ؟۔ کسی کالج یا یونیورسٹی کے لگتے ہیں ۔ راجو نے بات ختم بھی نہیں کی کہ میں نے دوسرا سوال کر دیا، رستے میں کون کون سے کالج یا یونیو رسٹی آتے ہیں ۔ میں نے ایک سگنل توڑتے ہوئے پوچھا ۔ جیسے ہی راجو کا جواب آیا میں نے تیزی سے فیصلہ کیا اور ایک شارت کٹ سے کینال بینک روڈ کی طرف گاڑی موڑ دی ۔ کار سے زیادہ تیز میرا دماغ چل رہا تھا ۔ باس وہ کینال روڈ کی طرف مڑسکتے ہیں ۔۔۔۔ میں کینال بنک روڈ پر پہنچ چکا ہوں میں نے راجو کی بات ختم ہونے سے پہلے بتا دیا ۔ صبح صبح کینال روڈ پر بڑا رش ہوتا ہے کئی کالج اسی طرف ہیں خاص کر پنجاب یونیورسٹی اور دفتروں کو جانے والے کچھ اس طرف سے ائیر پورٹ جانے والے ۔ میری نظریں بیک مِرر پر تھی ۔ ایک 125 بڑی خطرناک ڈرائیونگ کرتا گاڑیوں کو بائیں طرف سے اوور ٹیک کررہا تھا۔ میں بھی بائیں قطار میں آگیا ۔ جیسے ہی اس نے مجھے کراس کرنا چاہا ۔ میں نے گاڑی تھوڑی نیچے اتار دی ۔ اسے مجبورا بائیک آہستہ کرنی پڑی ۔ گاڑی اس رش میں بائیک کے سامنے کچھ بھی نہیں تھی ۔ اس لیے میں اسے آگے نہیں نکلنے دیا ۔ باس میں نے آپ کی کار دیکھ لی ۔ راجو کی پرجوش آوازآئی ۔ راجو تم آگے نکل جاؤ ۔ اوکے باس ، راجو مجھے دیکھ کے پرجوش ہوگیا تھا ۔اورکچھ لمحوں میں شُوں کر کے میری دائیں طرف سے گاڑیوں کے درمیان سے خطرناک طریقے سے نکل کےبائیں طرف سے کراسنگ کرنے لگ گیا ۔ بائیں طرف اوور ٹیک خطرناک ہوتا ہے پر کامیاب ہوتا ہے میرے اندازے کے مطابق 125 نے بھی راجو کی طرح نکلنا چاہا جب وہ میری کار کے درمیان میں آیا میں نے کار کو ہلکا سا بائیں طرف کیا ۔ وہ پھنس گیا کچھ دیر بعد اسے بائیں قطار میں جانا پڑا ۔ یہی میں چاہتا تھا ۔اس کے آگے پیچھے گاڑیاں تھیں، اس کے انتہائ بائیں طرف فٹ پاتھ تھا اور فٹ پاتھ کے ساتھ نہر تھی ۔ اور ادھر میری گاڑی، وہ بائیں قطار میں پھنس چکے تھے ، نئی بائیک کو اس نے ہوائی جہاز بنایا ہوا تھا۔ اب میں نے لڑکی کی طرف دیکھا ۔ وہ غصے سے میری طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔ اف خدایا اس کی گہری نیلی آنکھیں اور ان آنکھوں میں نیلا سمندر اور اس نیلے سمندر کے نیلگوں پانیوں میں دل کرتا تھا ابھی چھلانگ لگا دوں۔ اس نے سفید چادر سے نقاب کیا ہوا تھا ۔ بلکہ پورا جسم پر چادر اس طرح تھی کہ اس کے جسمانی خطوط کا کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا ۔ میرے اندازے کے مطابق وہ 23 سال کی لگتی تھی ۔ لڑکے نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا ، اس دوران لڑکے نے دو بارکٹ مار کے نکلنا چاہا مگر میں نے اس کی چال ناکام بنا دی ۔ اسے میری بُھونڈی کا اندازہ ہو چکا تھا ۔وہ تو پہلے ہی بڑاغصے میں تھا، اسی کشمکش میں دو تین کالج پیچھے رہ گئے ۔ مجھے ان کی منزل کا اندازہ ہوگیا تو میں نے کار آگے نکالنے میں دیر نہیں لگائی۔ راجو تم باہر ہی رہنا ، کال بند کرنے سے پہلے میں نے اسے ہدایت کی ۔ پھر میں تانیہ کو کال کرنے لگا ۔ بڑے گھر کی بگڑی ہوئی تانیہ اپنا کام بخوبی سمجھتی تھی تانیہ پیڑنہیں گنتی تھی اسے آم کھانے سے مطلب تھا ۔ کچھ ہی دیر میں ، میں تیز رفتاری سے گاڑی پنجاب یونیورسٹی میں لیتا گیا۔ گاڑی پارک کر کے میں کینٹین کی طرف چل پڑ ا۔ 125بائیک والا لڑکا سیدھا جمیعت کے لڑکوں کے پاس گیا وہ انہیں میرے بارے میں ہی بتا رہا ہو گا،۔ مگر جیسے ہی عرفان نے مجھے دیکھا تو جھلاہٹ میں اسے ہی ایک جھانپڑ رسید کر دیا ۔ عرفان پہلے ہی اوپر سے میری وجہ سے جھاڑیں کھا چکا تھا ۔عرفان کی ملتجی آنکھیں مجھے کچھ کہہ رہیں تھیں ،میں نے سر ہلا دیا ۔ میں نے بائیک والے لڑکے کو واپس جاتے ہوئے دیکھا ، لگتا ہے وہ نیلی آنکھوں کو صرف چھوڑنے آیا تھا ، میں اس وقت نیلی آنکھوں مے سحر میں کھویا ہوا تھا اور میرا کسی سے بات کرنے کا بھی موڈ نہیں تھا ۔ اسلیے کینٹین میں جا کے بیٹھ گیا ۔ او شہزادہ ساڈے لاہور دا ۔ ایک خوشامدی آواز نے مجھے خیالوں سے باہر کھنچ لیا ۔ وہ بشیر تھا ۔ میری سرکار بڑے دنوں بعد درشن دیئے ہیں آپ نے۔ اس کی خوشامد جاری تھی ۔ اور بشیر کیسے ہو ۔ مجھے اس سے بات کرنی ہی پڑی ۔ میں ٹھیک جناب ، ایسے کرو دو کولڈ ڈرنک بھیج دو مگرآج پہلے اچھا سا ناشتہ کراؤ ۔ او میرے شہزادے ساری کینٹین ہی تمھاری ہے ، ابھی میں ناشتہ بھیجتا ہوں اپنے شہزادے کیلیے۔ بشیر چلا گیا اور میں پھر خیالوں میں کھو گیا ۔ 4 سال پہلے میرے اندر نیلی آنکھوں کی طلب زیادہ زور مارنے لگی ۔ لیکن صرف نام کے سہارے اسے ڈھونڈنا بھوسے کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنے کے مترادف تھا۔ میں نے اپنی سی کوشش کی مگر بات نہ بنی ۔ مجھے کوئی ایسا چاہیے تھا جس کا کام ہی آوارہ گردی ہو ، پھر مجھے راجو ملا ۔ آنٹیوں سے اپنے خرچے نکالتا تھا ۔ میں اس سے ملتا رہا اسے پرکھتا رہا ۔ مجھ سے بہت متاثر تھا ۔ ایک دن پوچھنے لگا باس ،کوئی ایسی لڑکی بھی ہو جسے آپ پا نہ سکیں ہوں ۔ ہاں ایک ہے ، کون ہے وہ باس ؟ اس نے حیرانگی سے پوچھا۔ اس کا نام دلآویز ہے ۔ کہاں رہتی ہے وہ ،اس کا تجسس بڑھنے لگا،پتہ نہیں کہاں ہو گی ۔اس نیلی آنکھوں والی کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ 13 سال کی تھی اور میں 16 سال کا تھا ۔اب تو وہ 23 سال کی ہوگئی ہوگی ۔اس کا باپ کا نام اور کام ، راجو کے سوال جاری تھے ،سرور خان ، ۔۔۔۔۔۔۔۔ کمپنی میں کام کرتا تھا ۔ کچھ اور اس کے بارے میں جانتے ہیں آپ ، راجو نے پھر سوال کیا ۔ بس یہی کچھ جانتا ہوں ۔ ہاں اس کی ماں کا نام نگینہ تھا ۔ نگینہ کے نام سے ہی میرے منہ کا ذائقہ جیسے کڑوا ہو گیا۔اور کچھ ان کے بارے میں ۔ راجو نے پوچھا ۔ دونوں میاں بیوی پیدائشی لہوری ہیں اور پٹھان خاندان سے ہیں وہ آپ کو کہا ملی تھی ؟۔وہ کرائے کے مکان میں رہتے تھے اس کا پرانا ایڈریس بتا کہ میں راجو کو پر خیال نظروں سے دیکھنے لگا۔ اسی کام کیلیے میں اسے اپنی مصروفیات سے وقت دیتا تھا باس میں لاہور کو اپنے ہاتھ کی لکیروں کی طرح جانتا ہوں ہر گلی سے میں گزرا ہوں ۔ہر گرلز کالج ، ہر یونیورسٹی کا مجھے پتہ ہے ، باس میں اسے ڈھونڈوں گا آپ کیلیے ، راجو مجھے امپریس کرنا چاہتا تھا ۔ اچھا سوچ لو یہ کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ایک سال بھی لگ سکتا ہے ،میں نے سے پکا کیا ۔ دو سال بھی لگ جائیں تو پرواہ نھیں ہے ۔اس نے جوش سے کہا ، میں نے اسے ایک پرانی ہنڈا 70 لے دی ۔ جیب خرچ بھی کبھی کبھار دے دیتا ۔ پھر جب مجھے تسلی ہوگئی کہ وہ سنجیدگی سے تلاش کر رہا ہے تو اس کا جیب خرچ مستقل کر دیا ۔ چھ سو چوراسی میل پر پھیلا ہوا لاہور کئی شہروں جیسا ایک شہر تھا ۔اسوقت دوہزاردس میں اس کی آبادی دس کڑوڑ کے لگ بھگ تھی ۔ بلاشبہ راجو کو ایک مشکل مشن دیا تھا لیکن وہ اس کیلیے موزوں ترین تھا ،ڈھونڈتے ڈھونڈتے دوہزار بارہ آگیا ۔ لیکن راجو کا جوش کم نہیں تھا ۔ میں پرنس جو تھا اس کے جوش کو تیز کرنے کیلیے ۔ دوہزار گیارہ میں راجو نے اپنی توجہ ہائیر سیکنڈری سکولوز ، کالجز اور یونیورسٹیز پر مبذول کردی تھی۔ یہ اس کا پسندیدہ کام بھی تھا ۔ اس تلاش سے اب پھر ایک نیلی آنکھوں والی ملی تھی ۔ کافی دیر ہوگئی تھی تانیہ ابھی تک نہیں آئی تھی ۔ میں اس دوران ناشتہ کر چکا تھا ۔ اِدھر دو کولڈ ڈرنک آئی اُدھر تانیہ آگئی ،میں اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ بتاتی ہوں پہلے کولڈ ڈرنک تو پینے دو ۔ بڑے دنوں بعد تم ہاتھ آئے ہو وہ بھی صبح صبح ، جناب کی صبح تو ایک دو بجے سے پہلے نہیں ہوتی ۔ تانیہ یہی سمجھ رہی تھی کہ میں عام حالات کی طرح کسی کا پیچھا کرتا ہوا آیا تھا ۔ اچھا اچھا بتاتی ہوں میرے چہرے کہ بدلتے تاثرات طرف دیکھ کہ وہ بے ساختہ بولی۔ اس کا نام دلآویز ہے میرے خون کی گردش یکدم تیز ہوگئی ۔ ایم اے انگلش کے فائنل ایئر میں ہے ۔ پٹھان فیملی سے ہے ۔ باپ کا نام سرور خان ہے ۔ یہ اس کا ایڈریس اور فون نمبر ہے ۔ تانیہ نے نوٹس سے پھاڑا ہوا کاغذ کا ٹکڑا میری طرف بڑھایا ۔ ہر وقت نقاب میں رہتی ہے بلکہ چادر کو ایسے لپیٹتی ہے کہ اسکا کچھ پتا نہیں چلتا ۔ کافی نک چڑھی ہےکچھ لڑکے اس کی طرف بڑھے مگر جب سے اس نے ایک لڑکے کو تھپڑ مارےہیں تب سے کوئی لڑکا اس کی طرف نہیں بڑھتا ۔ پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتی ہے ۔ بڑی آئی ملکہ حسن کہیں کی ۔ تانیہ نسوانی جلاپے سے بولی تو میں سمجھ گیا کہ دلآویز کا حسن دیکھنے کی چیز ہو گا ۔ اور ایک خاص بات اپنی مما سے اس کی جان جاتی ہے بہت ڈرتی ہے اس سے۔ اس کی مما کا نام کیا ہے ؟ میں نے بے ساختہ پوچھ لیا ۔ شاید نگینہ بتا رہی تھی اس کی دوست ۔ تو نگینہ میں تم تک پہنچ ہی گیا ،میں نے دل میں کہا ۔ تانیہ میری حالت سے بے خبر اپنی ہی کہی جا رہی تھی، پتہ ہے ابھی وہ اپنی دوستوں سے کیا بات کر ہی تھی ۔ کسی بگڑے ہوئے امیر زادے نے آج اس کا پیچھا کیا اور انہیں بڑا تنگ کیا۔ ہم دونوں مسکرانے لگے۔ آج جس کے ساتھ دلآویز آئی تھی وہ کون تھا اس کے پاس نئی 125 بائیک ہے اور اسے ہوائی جہاز سمجھتا ہے ، شاید تم نے اسے دیکھا ہو ۔ ظاہر ہے پیچھے لڑکی بیٹھی ہو اور بائیک نئی ہو تو ہوا میں ہی اڑنا ہے ۔ ویسے اس کا کوئی کزن ہے ۔ اپنی دوستوں سے یہی باتیں کر رہی تھی کہ آج کزن کے ساتھ آنے کی غلطی کر لی آئیندہ یونیورسٹی کی بس میں ہی آئے گی۔ اس دوران میں راجو کو دلآویز کا ایڈریس میسج کر چکا تھا ساتھ ہی اسے ہدایت کی کہ ہوشیاری سے اس کی پوری معلومات لے کے شام کو فلیٹ پر آجائے ۔ تو اب آپ کا کام ہو گیا اب چلیں فلیٹ پر ، تانیہ نے بڑے ندیدے پن سے کہا ۔ تانیہ کو بلایا تھا تو مجھے اندازہ تھا کہ پیڑ نہیں گنتی پر آم ضرور کھائے گی جب میں اپنی کار میں بیٹھا توتانیہ نے فرنٹ ڈور کھولنے کا اشارہ کیا ۔ کیا بات ہے لے آؤ اپنی کار میں نے شیشہ نیچے کرتے ہوئے کہا ،نہیں نہیں میں تمھارے ساتھ جاؤں گی تمھارا کوئی اعتبار نہیں ہے ملنا تو دور کی بات کال تک ریسیو نہیں کرتے جناب پرنس صاحب ۔ میں تمھیں چھوڑنے نہیں آسکتا ، کوئی بات نہیں میں ٹیکسی سے آجاؤں گی،مجھے اسے بٹھانا ہی پڑا ۔ آخری لمحے بھی تم باز نہیں آئے ۔ تانیہ نے روٹھے انداز میں کہا۔ نہیں یار میں تمھیں فیس دیئے بغیر غائب نہیں ہونا تھا ،میری فیس والی بات پر تانیہ کی ہنسی نکل گئی۔ شکر کرو ندا اور صائمہ کو نہیں بتایا میں نے ۔ نہیں تو فیس تین گنا ہو جانی تھی ۔ باتیں کرتے ہم فلیٹ پر پہنچ گئے ۔ فلیٹ میں داخل ہوتے ہی تانیہ پاگلوں کی طرح مجھ سے لپٹ گئی اور مجھ سے کسنگ کرنے لگی ۔ تانیہ کا انداز ایسا تھا جیسے بھوکے کو کئی دن بعد کھانا ملا ہو۔ او پرنس تم بہت ظالم ہو،کاش تمھیں کسی طرح باندھ سکتی ۔ تانیہ شدت سے پاگل ہورہی تھی ۔ ہماری زبان اور ہونٹ بڑے مصروف تھے ،اور ہاتھوں کو کہیں آرام نہیں تھا ۔ ہم کسنگ کرتے رہے ۔ کسنگ کرتے ہوئے تانیہ نے میری ٹی شرٹ اتار دی تو میں اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگ گیا۔ میں نے اس کی شرٹ اتاری ہی تھی کہ اسنے میرے پاجامے کی ڈوری پکڑ کے کھولی اور ایک جھٹکے سے پاجامہ نیچے بیٹھ کے اتار دیا ۔ میں اپنا انڈرویئر اتارنے لگ گیا تو تانیہ نے اپنی جینز اتار کر برا بھی کھول دی ۔ تانیہ چوبیس سال کی مست جوانی تھی خوبصورت گولائی نما چہرہ ۔ گوری رنگت، تنے ہوئےممے ۔ اسمارٹ جسم جو اب انگارا بنا ہوا تھا ۔ تانیہ کی سسکاریاں تیز ہونے لگی تھی اسے گرم کرنے کی ضرورت نہں تھی وہ تو بڑی مشکل سے خود کو سنبھالتی آئی تھی ۔ پرنس ڈال دو اندر تانیہ نے شدت سے میرے گلے لگتے ہوئے کہا اس کی چوت میرے عضو کو چومنے لگی ۔ ہم فلیٹ کے دروازے کے ساتھ ہی ابھی تک کھڑے تھے میں نے اسے دیوار کے ساتھ لگا کے اس کی دائیں ٹانگ تھوڑی سی اٹھائی اور اپنا عضو اس کی چوت میں ڈال دیا ۔ تانیہ نے اپنی بانہوں کا ہار میرے گلے میں ڈالا ہوا تھا ۔ میں تانیہ کو چودنے لگ گیا ۔ تیز چودو پرنس تیز۔ تانیہ چیخی ۔ ایسی چیخوں کیلیے ہی تو میرا فلیٹ ساؤنڈ پروف تھا ۔ میرے دھکے کوئی عام دھکے نہیں تھے ۔ میں پوری شدت سے تانیہ کی چدائی کرنے لگا ۔ میرے ہر دھکے پر تانیہ مزے کی شدت سے چیخنے لگی ۔ میرے دھکے اور اس کی چیخیں جیسے موسیقی کی ردھم پر تال میل ملا رہے تھے ۔ مار دو پرنس مجھے چود چود کے مار دو میں تمھاری بانہوں میں چدتے ہوئے مرناچاہتی ہوں ۔ تانیہ مجھے پاگل کر رہی تھی ۔ میں بھی ایسے چدائی کر رہا تھا ۔جیسے اپنے دھکوں سے اس انارکلی کو دیوار میں گاڑ دوں گا ۔ تانیہ نے پانی چھوڑ دیا تھا ، تو بھی میرے دھکوں میں کمی نہ آئی ۔ تانیہ گہرے گہرے سانس لینے لگی ۔ بیڈ پر لے چلو پرنس مجھ سے اب کھڑا نہیں ہوا جاتا ۔ پانی نکلتے ہی وہی دھکے اب درد دینے لگے تھے ۔ میں نے اسے اسی طرح اٹھایا اور بیڈ پر لا پٹخا۔ تانیہ میری عادت سمجھتی تھی وہ کپڑے سے اپنی چوت صاف کرنے لگی ۔ میں نے پھر اس کی چوت پر اپنے ہتھیار سے حملہ کر دیا ۔ اس کی ٹانگیں کھول کے میں ٹھکا ٹھک کھدائی کرنے لگا ۔ پانی نکالنے کیلیے گہری کھدائی کرنی ہی پڑتی ہے ۔ میرا عضو چوت کی گہرائیوں میں گھسنے کےلیے بار بار حملے کرتا رہا ۔ تانیہ کی سسکاریاں پھر شروع ہوچکی تھیں ۔ تانیہ انگلش میں (فک می فک می) کی گردان کر رہی تھی ۔ اس کا شعلہ جسم بھڑک چکا تھا اور اس کی آگ میں ہم جھلس کے دیوانے ہو رہے تھے ۔ تانیہ بڑی بے تاب تھی سو میں نیچے لیٹ گیا اور اسے گھوڑے پر بٹھا کر بے تابی نکالنے کا پورا موقع دیا ۔ ایسے موقع پر میں آرام سے جوانی کی شدت کا مزہ لینا چاہیئے ۔ اب اس کے شعلہ جسم اپنی آگ کو بجھانے لگا ۔ لیکن عجیب بات تھی جتنا بجھانے کی کوشش کر رہی تھی اتنی آگ اور بھڑک رہی تھی ، ایسی شدت ہو تو فراغت کیسے دیر کر سکتی تھی ۔ وہ آگئی اور ہمیں ایسا لگا جیسے ٹانگوں سے جان نکل رہی ہو۔ کچھ دیر تو گہرے سانس لیتے رہے ۔ پھر ایکدوسرے کی طرف دیکھا اور ہماری ہنسی نکل گئی ۔ اچھا تو میری بانہوں میں چدتے ہوئے مرنا چاہتی ہو، کاش تم میری یہ خواہش پوری کر دو ،تانیہ نے حسرت سے کہا تو مجھے اس کے لہجے کی سنجیدگی کی وجہ سے محتاط ہونا پڑا ۔ چلو تمھیں آسمانوں کی سیر کراتی ہوں ۔ تانیہ نے میرا عضو پکڑ کے اپنا منہ اس کے پاس لے جاتے ہوئے کہا ۔ جیسے ہی اس نے میرا عضو کو چوما اور چوسنا شروع کیا ۔ میرے جسم میں کرنٹ سا دوڑنے لگ گیا۔ تانیہ مجھے دوسرے راونڈ کیلیے تیار کرنے لگی تھی ۔ اسے چوسنے میں مہارت تھی ۔ اور مجھے اس کا شوق تھا ،تانیہ میری اس کمزوری سے واقف تھی اس نے مجھے اتنا کرنٹ لگایا کہ ٹرانسفر بنا دیا تا کہ یہی کرنٹ میں اسے چودنے میں لگاؤں ۔۔ لیکن میرے کچھ اور ہی ارادے تھے میں اس کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلیے لیٹ گیا اور اسے گھوڑے پر بٹھا دیا پہلے پہل تو وہ جوش سے لگی رہی اور خوب سواری کی پھر وہ آہستہ ہونے لگی لڑکیوں کے لیے یہ کوئی آسان کام نہیں ہے میں نے اسے آرام نہیں کرنے دیے اور اسے جوش دلاتا رہا اور تانیہ سواری کرتی رہی ۔ تانیہ پھر مدہم پڑنے لگی اسکی بس ہورہی تھی ۔اب میں اس کی کمر سے پکڑ کے اسے اوپر نیچے کروانے لگا پہلے وہ تھکی تھی اب نڈھال ہونے لگی اور پھر میرے اوپر گر پڑی ۔ اس کا سانس دھونکنی جیسا چل رہا تھا اسے کچھ مہلت دے کہ پھر میں شروع ہوگیا اور اب کی بار میں نے اس کی تسلی کروا دی ۔ آدھے گھنٹے بعد جسم نارمل ہو گیا تو میں نہانے چلا گیا۔ میں نہا کے نکلا تو تانیہ اٹھی وہ کچھ تھکی تھکی لگ رہی تھی۔ میں نے اسے ایک ٹھنڈی بیئر دی ایک خود پینے لگا ۔اس سے وہ کچھ بہتر محسوس کرنے لگی ۔ اور کپڑے پہن کر چلی گئی۔ جب سے دلآویز کا پتہ چلا تھا میرے دل میں اتھل پتھل ہورہی تھی ۔ اگر تانیہ کی جگہ کوئی اور ہوتی تو میں نے بالکل دھیان نہیں دینا تھا ،لیکن تانیہ میرے بہت کام آتی تھی ۔ یونیورسٹی میں وہ میری آنکھوں کا کام کرتی تھی ۔ سو اسے غذا دینی ضروری تھا۔ اب میرے دل میں بہت سے خیالات آنے شروع ہوگئے ۔ ماضی کی یادیں مجھے پوری شدت سے ستانے لگی۔ جو باتیں پہلے دھیمی آنچ پر ستاتی تھیں آج وہ ایکدم شعلہ سی بننے لگی ۔ دل تو یہی کر رہا تھا کہ ابھی جاؤں اور نگینہ کے سامنے اس کی دلآویز کو چیر پھاڑ دوں ۔ میں نے ایک اوربیئر نکالی اور چسکیوں میں پینے لگا ۔ برہم مزاج کو ٹھنڈا کرنے لگا ۔ مگرماضی میرے سامنے کسی فلم کی طرح چلتا رہا ۔ یہ لے اماں تیرا پوتا آگیا ،تو پوتا پوتا کرتی تھی نہ اب اسے سنبھال ۔ میرے والد کے دوست سرور خان نے مجھے اپنی ماں کو تھماتے ہوئے کہا ۔ سرور خان کی والدہ جیسے میرے بارے میں سب جانتی تھی ۔ میں اس وقت بارہ سال کا تھا اور غم سے نڈھال تھا ابھی پرسوں ہی تو میرے والد صاحب کی فیکڑی میں کام کرتے ہوئے وفات ہوگئی تھی ،ماں تو میرے پیدا ہوتے ہی اس دنیا سے چلی گئی تھیں ۔ اب اس دنیا کے صحرا میں اکیلا تھا ،مگر نہیں کسی نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ خدا نے پلا پلایا بیٹا دے دیا اس کا جتنا شکر کرو کم ہے ۔ سرور خاں کی والدہ نے مجھے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔ لیکن جیسے ہی اس نے مجھے اپنے ساتھ لگایا اسے جیسے جھٹکا لگا ۔ وہ مجھے غور سے دیکھنے لگی ۔ پھر ان کے چہرے پر نورانیت ابھر آئی اور انھوں میں مجھے اپنے ساتھ لگا کے میرا سر چوم لیا۔ مجھے لگا جیسے میں صحرا سے کسی نخلستان میں آگیا ہوں ۔ کوئی قریبی رشتہ دار تو تھا نہیں ، اور دور والے پاس آنا نہیں چاہتے تھے ۔ مکان کرائے کا تھا مالک مکان نے قل خوانی ہوتے ہی سرور خاں سے بات کی اور جو تھوڑا سامان تھا وہ لیا اور یوں میں اس کا بیٹا بن کے اس کے گھر آگیا ۔ یہ بات تو مجھے بعد میں پتہ چلی کہ فیکٹری میں والد صاحب کی حادثاتی وفات کی وجہ سے سرور خان نے فیکڑی مالکان سے مجھےآگے کر کے اچھا خاصا پیسا بٹور لیا تھا۔ ایک بار تو اس نے مجھے اپنے گھر لانا ہی تھا ۔ مجھے سرور خان کی والدہ کی شکل میں دادی مل گئی ۔ دادی نے مجھے اتنا پیار دیا کہ مجھے ماں کی کمی بھی بھول گئی۔ گھر کا ایک اور فرد بھی تھا۔ وہ تھی دلآویز جس کی عمر اس وقت نو سال تھی۔ سرخ وسپید رنگت،نیلی آنکھیں با لکل کسی گڑیا کی طرح تھی میں نے اس کے ساتھ کئی بار کھیلنا چاہا مگر وہ مجھ سے دور رہتی تھی شاید ابھی اس نے مجھے قبول نہیں کیا تھا ، میں نے اس کی ہر چیز جو آدھی بانٹ لی تھی خاص کر دادی تو پوری ہی لے لی تھی ۔ دادی آپ اپنی یہ لاٹھی اب رکھ دیں میں آپ کی لاٹھی ہوں ،میں اکثر دادی سے نہ صرف کہتا بلکہ ہر وقت ان کی خدمت میں حاضر بھی رہتا ،دادی بھی اب ہر کام کیلیے مجھے ہی کہتی تھی ، نگینہ بھی پیار کر لیتی تھی ۔کسی وقت باہر لڑکوں سے بھی کھیل لیا کر سکول سے آتا ہے تو دادی کی جان کو چمٹا رہتا ہے ، ایسی باتیں کر کے نگینہ مجھے گود میں بٹھا لیتی ۔ مجھے چومتی مجھے اپنے ساتھ لپٹا لیتی ، مجھے اتنی تو سمجھ نہیں تھی مگر نگینہ کے پیار میں دادی والی بات نہ تھی۔ یہ تو ویسے ہی تھی جیسے میرے اپنے گھر میں ہماری گلی کی خالہ او رباجیاں مجھے لپٹاتی تھیں چومتی تھیں ۔ ہر کوئی یہی جتاتا تھا کہ بن ماں کے بچے کا بڑا خیال رکھتی ہیں ۔ کوئی میرا نام نہیں لیتا تھا ۔ سب مجھے شہزادہ کہتی تھیں پتا نہیں کیا بات تھی جو کوئی مجھے دیکھتی تھی مجھے اپنے ساتھ لپٹاتی تھی یا کوئی کوئی ایسی بھی تھی جو مجھ سے بدکتی تھی ۔ جیسے پہلی دفعہ دادی مجھ سے بدکی تھیں ۔ یہاں بھی میں سب کیلیے شہزادہ تھا ۔ باہر نکلتا توکوئی آواز آتی ، ادھر آنا شہزادے بات سننا ۔ ہمسائی خالہ نے آواز دی ، وہ مجھے اندر لے گئی کتنا معصوم ہے اس نے مجھے گود میں لے لیا۔بہت ہی پیارا بچہ ہے دوسری نے میرے گال چوم لیا ۔یہ لے یہ کھیر کھا لے۔ بن ماں باپ کا بچہ ہے اسنے مجھے اپنے ساتھ لپٹا کے بھینچ لیا ۔۔ایسا ہی ہوتا تھا۔ وہ بن ماں باپ کے بچے کو پیار کر کے اپنے دل کوسکون دیتی تھیں ۔ دادی نماز روزے کا بہت خیال رکھتی تھیں ۔ ہر وقت ان کی زبان تسبیح کرتی رہتی تھی، ان کے چہرے ہر ایک نورانی ہالہ سا محسوس ہوتا تھا،گلی محلے کی عورتیں ان سے مشورے کرتی تھیں ان کی بڑی عزت کرتی تھیں بلکہ ان کی پوری برادری میں چھوٹے بڑے سب ان کی مانتے تھے ۔ ۔ میرا بیٹا، شہزادہ ادھر تو آ ، دادی کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ میں ان کے پاس تھا۔ جی دادی ۔ بیٹا تو کھیلتا ہی رہتا ہے ادھر اپنی بوڑھی دادی کے پاس بھی بیٹھ جایا کر ۔ ہمیشہ دادی ایسے ہی کہتی تھیں اور پھر ان کی باتیں شروع ہو جاتیں تھیں ۔پتہ نہیں کہاں کہاں کہ قصے کہانیاں مجھے سناتی رہتیں ۔ دلآویز بھی آکےبیٹھ جاتی لیکن پھر بیزار ہو کے اٹھ جاتی تھی ۔ مجھے نہیں پتہ تھا دادی میری تربیت کر رہی تھیں۔ مجھے اچھائی برائی کا فرق سمجھا رہی ہیں ، رشتوں کا تقدس سمجھا رہی ہیں ، دنیا کی اونچ نیچ سمجھا رہی ہیں ،ان کی بہت سی باتیں میرے شعور میں اور کچھ میرے لاشعور میں محفوظ ہوتی جاتی تھیں ۔ ماں باپ کے بغیر بچوں کے ذہن ویسے بھی جلدی بالغ ہو جاتے ہیں دادی نے مجھے پالش کر کے بہت کچھ وقت سے پہلے ہی سمجھا دیا ۔ دلآویزا۔ او ،۔دلآویزا چل اپنی ماں کے ساتھ کام کروا ۔ جب دیکھو کھیلتی رہتی ہے ۔ جب بھی میں اور دلآویز کھیلتے دادی کی یہی آواز سننے کو ملتی ۔ میں سوچتا کوئی بات ضرور تھی جو دادی کو مجھ میں ناپسند تھی۔ لیکن وہ بات سنبھالنا دادی کی دانش سے باہر تھی۔ تین سال پلک چھپکتے گزر گئے ۔ میں پندرھویں سال میں داخل ہوگیا میٹرک کے پیپر دے ابھی فارغ ہوا تھا ۔ کہ ایک رات دادی سوئی تو پھر نہیں اٹھی ۔ دادی میں تمھارے ساتھ جاؤں گا ، نہیں میری دادی کو نہ لے جاؤ ۔ دادی تم کہاں ہو۔ دادی میں مر جاؤں گا۔ دادی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ اتنا مجھے اپنے باپ کا دکھ نہیں ہوا تھا جتنا دادی کے جانے کا ہوا تھا۔ چند دن میں ہی گھر کا ماحول بدل گیا ،دادی کی جگہ نگینہ نے لے لی ۔ایک دن میرے کانوں میں آواز پڑی ، نگینہ اب بھگا اس کو اماں کی وجہ سے بہت دن رہ لیا اسنے ۔ خبردار سرورے اگر آئیندہ ایس بات کی تو تیری جان نکال لوں گی ۔ نگینہ ایسے بولی تو مجھے یقین ہو گیا کہ اب نگینہ کی خیر نہیں ہے مگر سانڈ جیسا سرور خان چپ چاپ باہر نکل گیا۔ اب نگینہ میرا خیال رکھنے لگی ۔مجھے چومنا چاٹنا ،خود سے لپٹانا ۔ مجھے اچھا کھانا پینا دینا۔ کیا ہوا گیا ہے تجھے نگینے تو اس کا اتنا خیال کیوں رکھتی ہے ۔سرور یہ سب دیکھتا ہوا چپ نہ رہ سکا۔ رکھوں گی تجھے کیا ہے لڑائی بڑھنے لگی۔ تو نگینہ نے سرور خان کے ایک تھپڑ دے مارا ۔ میں نے کانپنا شروع کر دیا ۔ مگر سرور سانڈ سمندر کے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔ میں حیران رہ گیا یہ کیا ہے بھئی ۔ دلآویز سےنگینہ بھی نہیں کھلینے دیتی تھی ۔ اور نہ کسی ہمسائی کو مجھے پیار کرنے دیتی تھی ۔ میں اکثر دادی کی چارپائی پر لیٹا رہتا ، تم کیوں گم سم رہتے ہو شہزادے ۔ نگینہ نے میرے ساتھ لیٹتے ہوئے مجھے خود سے لپٹا لیا ۔ کبھی کبھار میں ایسے دادی سے لپٹ جاتا تھا ۔ ایسے ہی نگینہ میرے دل بہلا رہی تھی ۔ روز بروز اس کا لپٹنا چپٹنا زیادہ ہوتا جا رہا تھا وہ بھی تب جب سرور خاں کام پراور دلآویز سکول گئی ہوتی تھی ۔ نگینہ کے خیال رکھنے میں بہلنے لگا ۔ان دنوں کبھی کبھار باہر نکلتا تھا ایک دن کریانے کی دوکان سے کچھ سودا لینے جا رہا تھا کہ کانوں میں آواز پڑی ۔ ادھر آ شہزادے دوکان پر جا رہا ہے نہ ،مجھے بھی کچھ منگوانا ہے ،نکڑا والی باجی نے مجھے بلایا۔ جی باجی کیا منگوانا ہے میں اس کے پیچھے اندر چلاگیا ۔ باجی نے مجھے خود سے لپٹا لیا ۔ اس کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں اس کے دوپٹے کا کچھ پتا نہیں تھا۔ میرا منہ اس کے سینے میں چھپا ہوا تھا ۔ اس کے ہاتھ میرے پتہ نہیں کہاں کہاں گھوم رہے تھے ۔ کیا کر رہی ہیں باجی ۔ کیا ہوگیا ہے آپ کو،میں اس کی غیر ہوتی حالت سے گھبرانے لگا ۔ کب سمجھے گا تو شہزادے تیری عُمر کے لڑکے تو جانے کیا کچھ کرتے پھرتے ہیں ۔ باجی نے مجھے بے تحاشا چومتے ہوئے کہا ۔آج تجھے سب سکھا دوں گی ۔ مجھے جانے دو باجی ۔ میں بہت زیادہ گھبرا گیا،مجھے کیا پتا تھا باجی گھر میں اکیلی ہے ، جانے دوں گی پر پہلے زندگی کا مزہ تو لینے دے ۔ باجی نے میرے ہاتھ اپنے سینے پر رکھ دیے، دیکھ میرا دل کیسے دھڑک رہا تیرے لیے ، میں باجی سے خود کو چھڑا کے بھاگا ۔ خود تو مر گئی پر تجھے بگاڑ گئی وہ چنڈال۔ پیچھے سے باجی چلائی ۔ دادی کا سوا مہینہ ہو گیا تھا۔ اوردو دن بعد چالیسواں رکھ دیا گیا ۔ دادی کی یاد سے کچھ دل بہلا تھا ۔ اب پھر غم کی لپیٹ میں آگیا، کسی طرح دن گزر گیا ،ذہنی حالت پہلے ہی ابتر تھی اوپر سے سارا دن بھاگ بھاگ کے کام کرنے سے تھکن کے ساتھ بخار ہوگیا۔ اتنےسارے مہمان تھے سب جا رہے تھے دلآویز اپنی نانی اور نانا کے ساتھ جانے کی ضد کرنے لگی ساتھ میں اس کی خالہ بھی تھی اس طرح وہ چار ہوگئے اور ایک موٹرسائکل پر نہیں جاسکتے تھے مجبوری میں سرور سانڈ اپنی موٹرسائیکل نکال کے انہیں چھوڑنے چلا گیا ۔ میں دادی کے کمرے میں جا کے لیٹ گیا۔ نگینہ میرے کمرے میں آگئی کیا ہو گیا ہے میرے شہزادے کو ۔ کچھ نہیں بس تھکن اور بخار ہے ، تم آرام کرو یہ لو پیناڈول کی گولی،مجھے اٹھا کے نگینہ نےمیرا کندھا اپنے سینے پر ٹکایا اور گولی کھلا دی ۔ اپنی گود میں میرا سر رکھ کے دبانے لگی ۔ میرے جسم پر اس نے رضائی ڈال دی ، بخار کی وجہ سے نگینہ آج میرا کچھ زیادہ ہی خیال رکھ رہی تھی ۔ اور میرے اوپر نچھاور ہو رہی تھی ۔ تُو تو شہزادہ ہے میرا، وہ بڑے لاڈ سے میرا سر دبا رہی تھی تھکن کی وجہ سے اس سے بیٹھا نہیں جا رہا تھا میرے اوپر جھکی جا رہی تھی پتہ نہیں کب اس کی گود اور سینے کے گداز میں مجھے نیند آگئی۔ جانے رات کو کس پہر میری آنکھ کھل گئی حلق پیاس سے سوکھ رہا تھا ۔ بخار ابھی بھی تھا ، میں اٹھا اور کچن میں پانی پینے چلا گیا ۔ نگینہ کے کمرے مجھے عجیب سی آوازیں آئی جو میں نے کبھی پہلے نہیں سنی تھی ، میں سمجھا شاید سرور خان واپس آگیا ہےاور نگینہ اس سے لڑ رہی ہے ۔ پرانے دروازے کی درز سے جھانکا تو میرے تن بدن میں آگ لگ گئی ،نگینہ زمین پراونی گدا بچھائے ننگی لیٹی تھی اور ایک لڑکا نگینہ کے اوپر جھکا ہو ا اسے چود رہا تھا ۔ ان کی آوازوں سے میری دماغ کی نسیں پھٹنے لگی ۔ میرے اندر دادی اٹھ کے بیٹھ گئی تھی ۔ میرے دبلے پتلے جسم میں آتش فشاں پھٹ پڑا ۔ میں نے پیچھے ہو کہ پورے زور سے دروازے کو لات ماری ، دھماکے سے دروازہ کھل گیا اس کی کنڈی ٹوٹ گئی۔ اس سے پہلے وہ دونوں کچھ سمجھتے میں تیزی سے لڑکے پر جھپٹا اور اسے کی پسلیوں میں زور سے ٹھڈا مارا لڑکا اڑتا ہوا چارپائی سے ٹکرایا ۔ وہ بھی پٹھان لڑکا تھا مجھ سے پانچ چھ سال تو بڑا ہو گا لیکن جسامت مردوں کی طرح تھی آج اسے مہمانوں میں دیکھا تھا ۔ میں اس پر پھر چھپٹا اور اس کو لاتوں ٹھڈوں سے مارنے لگا ۔ مار دوںگا تجھے کتے۔ مار دوں گا۔ لڑکا میری وحشت سے ڈر گیا تھا۔ اس نے لیٹے لیٹے ایک پلٹنی کھائی اوراپنی شلوار اٹھا کے بھاگا۔ مگر میں نے اسے جانے نہیں دینا تھا ۔میں اس کی طرف لپکا ،،،،اوغ۔۔۔ میں نیچے گرا، نگینہ نے مجھے بھاگتے ہوئے میرے پاؤں سے پکڑ لیا تھا۔ میں نے لیٹے لیٹے اسے ایک ٹھڈا مارا۔اور اٹھ کے پھر بھاگا ۔ اتنی دیر میں لڑکا صحن پار کرکے دروازے کے پاس تھا میں تیزی سے اس کی طرف لپکا ، او لعنت تیری اوقات پہ مادر چود ، کتی کہ بچے نے دروازے کو باہر سے کنڈی لگا دی تھی۔ ایک پل میں نے بےبسی سے اونچی دیواریں اورلوہے کا دروازہ دیکھا دوسرے پل واپس پلٹا اور جنونی انداز میں کمرے میں داخل ہوا ۔ نگینہ ابھی تک میرے ٹھڈے سے نہیں سنبھلی تھی ۔ میں نے اسے دو تین ٹھڈے اور مارے پھر اس کے سینے پر بیٹھ کے اسے مارنے لگا بتا کون تھا وہ کنجر،بتا دے نہیں تو گلا گھونٹ دوں گا تیرا ۔ میں اس کا گلا دبانے لگا ۔ نگینہ چالیس کی تھی صحت مند تھی ۔ مگر اس وقت میری جنونیت اسے ہلنے نہیں دے رہی تھی ،آخراس نے اپنا نچلا دھڑ اٹھا کے دونوں گھٹنے جوڑ کے پوری طاقت سے پیچھے سے میری کمرمیں دے مارے میری گرفت کچھ ڈھیلی پڑی تو اس نے اوپر تلے دوتین گھٹنے جڑ دیئے ۔ میں اس کے اوپر ہی گر پڑا ۔ نگینہ نے میری گردن کو دونوں بازوؤں سے کس لیا ، اور مجھے نیچے کر کے اپنا وزن میرے اوپر ڈال دیا اور اپنی ٹانگوں سے مجھے قینچی ڈال لی ۔ میں نے دو تین دفعہ نکلنے کی کوشش کی لیکن بےبسی سے پھڑپھڑا کے رہ گیا۔ ہوش میں آ شہزاے ہوش میں آ ۔ نگینہ جیسے مجھے سوتے سے جگا رہی تھی ۔ میں اس کی پسلیوں میں مکے مارنے لگا ،تو اس نے اسی حالت میں میں اپنے دونوں بازو میری گردن سے نکال کے میرا گلا دبانے لگی ۔ کچھ سیکنڈ میں میری سانسیں رکنے لگی ۔اگلے پل میری آنکھیں باہر آنے لگی ۔ چند سیکنڈ اور ایسے گزر جاتے تو میں گیا تھا ، لیکن اچانک نگینہ نے میرا گلا چھوڑ دیا ۔ میری آنکھوں میں پانی آگیا اور کھانسی کرنے لگ گیا ۔ پھر لمبے لمبے سانس لینے لگا کچھ دیر بعد میری حالت سنبھلنے لگی لیکن نگینہ نے مجھے چھوڑا نہیں ۔ میری جنونیت اب ختم ہو چکی تھی اور یکدم کمزوری نے حملہ کر دیا تھا ۔ بخار سے جسم تپ رہا تھا ۔ جوش ختم ہوا تو پہلا احساس یہی ہوا کہ نگینہ ابھی تک ننگی ہے ۔ جاؤ اپنے کپڑے پہن لو۔ میں گھبرا کے بولا ۔ کپڑے پہن لیے تو پھر کیا ہو گا ،نگینہ نے عجیب سے لہجے میں کہا۔ کیا مطلب ؟ میں حیران ہوا ۔ تُو آزاد ہو جائے گا اورمجھے مار دے گا ۔ نگینہ ڈری ہوئی تھی ۔ نہیں مارتا تمھیں مہربانی کرو کپڑے پہن لو ۔ تُو نہیں مارے گا تو سرورے کو بتا دے گا ۔ سرور کچھ نہیں کرے گا وہ تیرا حکم کا غلام ہے ۔ جتنا بھی حکم کا غلام ہو لیکن اس معاملے میں مجھے چھوڑے گا نہیں ۔ نگینہ ہر طرف سے محتاط تھی۔ میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا اگر تم کپڑے پہن لو۔ میں تم پر اعتبار نہیں کر سکتی شہزادے ۔ تیرے اندر کوئی اور بولتا ہے ۔ یہ کیا کر رہی ہو میں اچانک گھبرا گیا۔ نگینہ اپنی چوت میرے عضو پر رگڑنے لگی۔ یہی ایک رستہ بچا ہے ہم دونوں کیلیے ، نگینہ کی فیصلہ کن لہجے میں بولی۔ مت کرو ، یہ نہ کرو یہ غلط ہے ، ایکدم میرا سوچیں جواب دے گئی ۔ تم میری ماں ہو، میں تمہاری ماں نہیں ہوں نہ میں نے تمھیں پیدا کیا ہے اور نہ ہی تم نے میرا دودھ پیا ہے ۔ نگینہ نے ایک ایک لفظ چبا چبا کے ادا کیا ۔ نگینہ اپنا کام کرتی رہی ۔ کمبخت کس مٹی سے بنا ہے تو تیرا کھڑا کیوں نہیں ہوتا ۔ کیا کھڑا نہیں ہوتا ۔ میں بے اختیار پوچھ بیٹھا ۔ تیرا لوڑا ۔اتنا بھولا نہ بنا کر، ایک مہینہ ہو گیا ہے تیرے آگے پیچھے گھومتے ہوئے ، سب سمجھتی ہوں تو کتنا گُھنا ہے ۔ جب بھی تجھے رِجھاتی تھی تو میسنا بن جاتا تھا ، اتنی بچی نہیں ہوں میں جتنا تُو نے سمجھ لیا ہے مجھے ، مجھے پتہ ہے اس چڑیل نے تیرے ذہن کو جوان کر دیا ہے ،وہ تیرے دل میں گھسی بیٹھی ہے ۔ مجھے بخار ہے میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے ،ایک بار مجھے ٹھیک ہونے دے پھر جو کہے گی میں کروں گا ،میں نے اس سے جان چھڑائی ، نہ شہزادے نہ اتنی چالاکیاں اچھی نہیں ہوتی ، نگینہ میرے داؤ میں نہیں آئی ۔ سرور خان کسی بھی وقت آسکتا ہے میں نے اسے ڈرایا ، نگینہ ہنسنے لگی وہ حکم کا غلام ہے میں نے اسے کہا تھا اُدھر ہی رہنا اور صبح دلآویز کو ساتھ لے کہ آنا ، اچھا کیوں نہ تمھارے اوپر الزام لگا دوں کہ تم نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا ہے ۔ نگینہ نے مجھے رگڑا دیا۔ ٹھیک ہے ایسا ہی کر لے میری جان چھوڑ دے ۔ میں مُصمَم ارادے سے بولا ۔ مجھے پتہ تھا تم اس کیلیے بھی راضی ہوجاؤ گے، پر پتہ ہے اصل مسلہء کیا ہے ۔ پھر تو میرے ہاتھ نہیں آئے گا،میں تم سے مایوس ہوگئی تھی ،اب تو ہاتھ آیا ہے تو یہ موقع جانے نہیں دوں گی ۔ نگینہ میری بے بسی کا لطف لیتے ہوئے کمینگی سے بولی ۔ اچھااااااااااااااااااا ۔ تو کر لو پھر اسے کھڑا ۔ میں نے اسے چیلنچ دیا ۔ یہ ہوئی نہ بات مجھے پتہ تھا تُو سب سمجھتا ہے ۔ دیکھ شہزادے مان لے ساری زندگی عیش کراؤں گی ۔ نگینہ نے تھوڑا سا اٹھ کے میری قمیض اتارتے ہوئے کہا ۔ میں نے مزاہمت کی مگر کچھ نہ کر سکا ، تھوڑی دیر میں جسم کی جتنی توانائی خرچ کی تھی اب اتنی ہی نقاہت اور بخار زیادہ ہو رہا تھا۔ نگینہ تھوڑا پیچھے ہوئی اور اپنے بھاری جسم کیساتھ میری پنڈلیوں پر بیٹھ گئی پنڈلیاں درد کرنے لگی اس دوران نگینہ نےمیرا ناڑا کھول کے پھرتی سے میری شلوار اتنی نیچے کر دی کہ میرا عضو نظر آنے لگا ۔ میں تیزی سے اٹھا مگر اس نے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کہ انکار میں اپنا سر ہلایا دیا ، اس کی آنکھوں میں جنونیت تھی، نہ کرو میں نے اس کی مِنت کی تم میری ماں ہو ، میں تمہاری ماں نہیں ہوں نہ میں نے تمھیں پیدا کیا ہے اور نہ ہی تم نے میرا دودھ پیا ہے ۔ نگینہ نے ایک ایک لفظ چبا چبا کرپھر وہی فقرہ بولا ، میرے دل میں کچھ ٹوٹ سا گیا ۔ نگینہ نے جُھک کہ میرا عضو منہ میں لے لیا ، اور چوسنے لگی ،کچھ ہی دیر میں میرے جسم میں سنسناہٹ سی ہونے لگی ۔ نگینہ مزے سے عضو کو چوستی رہی ۔ میرے نہ چاہتے ہوئے بھی آخر کار وہ ٹن کر کے کھڑا ہو گیا ۔یہ تو میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ وہ عضو کو ایسے کھڑا کر دے گی ، نگینہ پھر بھی نہ رکی ، آہستہ آہستہ پنڈلیوں کا درد ، بخار ، نقاہت سب پس منظر میں چلا گیا۔ مجھے نگینہ کی کمر اور کچھ مُمے نظر آنے لگے ، اس کا صحت مند جسم نظر آنے لگا ، اس کی سرخ سپید رنگت نظر آنے لگی اس کی خوبصورتی محسوس ہونے لگی ، اس کے لمبے بالوں میں انگلیاں پھیرنے کیلیے ہاتھ ہلایا ،تو نگینہ نے ہاتھ نہ چھوڑا ،چہرہ اٹھا کے مجھے دیکھنے لگی ۔ میرے چہرے پر بدلتے رنگ دیکھ کے نگینہ نے مجھے سینے پر دباؤ ڈال کے نیچے بچھے اونی گدے پر لٹا دیا اور خود میرے عضو پر آگئی اپنے ایک ہاتھ سے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے عضو پکڑ کے اپنی چوت میں ڈال لیا ، پھرمیرے سینے پراپنے ہاتھوں سےمیرے ہاتھ تھوڑا دبا کے رکھ دیے ۔ اور کچھ آگے پیچھے کچھ اوپر نیچے ہونے لگی ۔ اووووو تو واقعی شہزادہ ہے مست ہے تو مست ، نگینہ سرور کی لہروں میں ڈوبتے ہوئے بولی ۔ کیا چیز ہے تو صحیح تڑپتی ہیں تیرے لیے عورتیں ۔ پتہ نہیں کیا جادو ہے تجھ میں ۔ نگینہ آپے سے باہر ہو رہی تھی ۔ جو کرنا تھا نگینہ ہی نے کرنا تھا اور وہ کرتی رہی ۔ کبھی تیز کبھی آہستہ ۔کبھی بیٹھ کے کبھی میرے اوپر لیٹ کے ، نگینہ کو سارے ڈھنگ آتے تھے اس کے جسم میں بہت سے رنگ تھے ۔۔ اس کے جسم کو دیکھ کے لگتا تھا جوانی بہت خاص ہوگی،اب بھی وہ کم نہیں تھی ۔ اس کی خوبصورتی میں اس کےاسمارٹ جسم کا کافی حصہ تھا ۔ مجھے اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی ۔ ٹانگوں کی کیفیت بھی یہی تھی پھر یہ کیفیت عضو سے نکلنے لگی۔ ارے ٹھر تو جا ،میں بھی آنے والی تھی ۔ میں خاموش لیٹا رہا ۔ چلو کو ئی بات نہیں تمھاری چوپا بھی تو زیادہ لگ گیا تھا ۔ اب پھر مزا لیتے ہیں ، نگینہ نے کپڑے سے میرا عضو صاف کیا اور جھک کہ پھر چوپا لگانے لگی ۔ تھوڑی دیر بعد اس نے میرے ہاتھ چھوڑ دیے ۔ میرے جسم میں سرسرایت سی پھر ہونے لگی ، میرا جسم اک نئی تپش سے جلنے لگا ، عضو پھر کھڑا ہو گیا ۔ نگینہ جلدی سے پھر اپنے اندر لے کے اوپر نیچے ہونے لگی۔ ویسے بھی میرا اٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ، دیکھا شہزادے اس میں کتنا مزہ ہے ۔ نگینہ پھر بے قابو ہونے لگی۔ شہزادے سچی بات تو یہ ہے کہ اتنا مزہ کبھی پوری زندگی میں نہیں آیا ،ہانپتی آواز میں اسے بولنے میں بھی مزہ آرہا تھا ۔ جس کو بھی چودے گا وہ تیری دیوانی بن جائے گی ، پر نہیں تو صرف میرا ہے صرف میرا شہزادہ ۔ نگینہ رک گئی، شہزادددددددے - اس کا جیسم معمولی سے جھٹکے لینے لگا - نگینہ کچھ دیر میری طرف دیکھتی رہی پھر میرے ساتھ لیٹ گئی۔مجھے کچھ بے چینی ہونے لگی ، جیسے پیاس لگی ہو اور پانی پیتے پیتے درمیان سے کوئی گلاس چھین لے ،نگینہ غور سے میری طرف دیکھ رہی تھی ، ابھی تمھارا پانی نہیں نکلا تمھیں بے چینی ہو رہی ہو گی ، میں تو تھک گئی ہوں ،ایسا کر میرے ممے چوس تو میں تیار ہوجاؤں گی اور پھر میں تمھارا پانی نکال دوں گی ،نگینہ میرے ہاتھ اپنے ممے پر رکھ دیا۔ مجھے وہ اچھے لگے ،میں انہیں آہستہ آہستہ دبانے لگا، ایسے نہیں ، انہیں اس طرح سہلاؤ ،نگینہ نے جیسے بتایا میں ویسے کرنے لگا ، تھوڑا چُما بھی لے لے نہ ان کا ،نگینہ نے فرمائش کی،مجھے ممے اچھے لگ رہے تھے میں انہیں چومنے لگا ،ایسے نہیں شہزادے میرے اوپر لیٹ کے چوس ان کو۔ نگینہ نے مجھے بازو سے پکڑ کے اپنے اوپر کھنچا تو میں بے اختیار اس کے اوپر لیٹ گیا، ایک نپل منہ میں لیا تو اچھا لگا میں اسے پکڑا کے چوسنے لگا ،نگینہ نے میرا دوسرا ہاتھ اپنے دوسرے ممے پر رکھ دیا ،اسے بھی دباتا رہ ،اپنی ہاتھ اور انگلیاں سے ،ایسے، ہاں ایسے ، واہ شہزادے تم تو کمال ہو، بہت مزا آرہا ہے ۔ تمھیں اب بھی بے چینی تو ہو گی بلکہ بڑھ گئی ہو گی ،ایسے کر ساتھ ساتھ اپنا لوڑا میری چوت کے اوپر رگڑ، ساتھ ہی میری کمر کو دونوں طرف سے پکڑ کے مجھے اپنی چوت پر کِھسنے لگی، مجھے اس سے سکون بھی آیا اور تیز کرنے کو بھی دل کرنے لگا ، چوت کے اوپر رگڑ ، نگینہ نے بیچ میں ہاتھ گھسا کے عضو صحیح رکھا ۔ اچھا لگ رہا ہے نہ شہزادے ، اندر ڈال کے کرے گا تواصلی مزا آئے گا تمھیں ، چوت نرم ہوتی ہے نہ اس لیئے ۔لا میں ڈال دیتی ہوں ، لے موری کے اوپر رکھ دیا ہےاب تُو تھوڑا تھکا لگا ، میں نے آہست آہستہ اندر کیا تو چوت نے میرے عضو کو گرفت میں لے لیا، آگے پیچھےہو جیسے میں کرتی رہی ہوں ،ہاں یوں ،، شاباش شہزادے اب تم چودائی کرنا سیکھ گئے ہو، چودو مجھے ، تیز کر نہ ، کیا لڑکیوں کی طرح لگا ہوا ہے ، ہاں ایسے ، آہ ۔ اور ،تیز ،اور تیز ، نگینہ کی آوازیں مجھے ایسے ہی بھگانے لگی جیسے چابُک گھوڑے کو بھگاتا ہے ، میں بھی تیز تیز کرتا رہا ،کرتا رہا اور پھر پہلے کی طرح جان نکلتی ہوئی محسوس ہونے لگی ،مجھے رکنا پڑا میں نے نگیہ کو جپھا ڈال لیا، نگینہ نے میری کمر کودونوں ہاتھوں سے پکڑ کے اپنے اوپر کھسنے لگی اس طرح میں آگے پیچھے ہونے لگا ، عضو اندر ہی تھا اورکچھ جان باقی تھی ، نگیینہ کرتی رہی ۔ عضو میں جان ختم ہوگئی پھر بھی کرتی رہی اور پھر اس نے بھی مجھے جپھا ڈال لیا اور اپنی ٹانگوں سے مجھے کس لیا ، شہزادے مجھے تو لگتا ہے جیسے میں مر ہی جاؤں گی آج ، نگینہ نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا۔ کچھ دیر ہم ایسے ہی لیٹے رہے ،پھر ایکدوسرے کیطرف منہ کر کے لیٹ گئے، تھوڑی دیر ٹہر جا ، پھر کھیلیں گے،نگینہ کا جی نہیں بھرا تھا،نگینہ میرے جسم پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔ میں بہت تھک گیا ہوں ،میری ٹانگوں میں بہت درد ہو رہا ہے ۔ کمزوری تو بہت ہی ہے،نگینہ اٹھی اور نیم گرم دودھ لے آئی،لے پی لے نگینہ نے مجھے اٹھا کے گلاس میرے منہ سے لگا دیا، اونہہ یہ تو گرم ہے مجھے ٹھنڈا چاہیے ، ایسی حالت میں ٹھنڈا نہیں پیتے شہزادے ، اسے پی لے تمھاری حالت بہتر ہو جائے گی ، دودھ پینے کے بعد میں پھر لیٹنے لگا،لیکن نگینہ نے مجھے اٹھا کے چارپائی پر بٹھایا اور اونی گدا ساتھ نیچے سےچٹائی لپیٹ کے رکھ دی ، سرورے کو پتہ ہے ہم یہ کیوں بچھاتے ہیں ، نگینہ بڑبڑائی ، دلآویز انہی کے کمرے میں سوتی تھی ،شاید اسی لیے نیچے یہ طریقہ بنایا ہوا تھا ، پھر نگینہ مجھے اپنے ساتھ لگا کے دادی کے کمرے میں لے آئی، بہت درد ہے میری ٹانگوں میں نگینے ،نگینہ مجھے لٹا کے میری ٹانگوں کو دبانے لگی کافی دیر دباتی رہی ، پتہ نہیں کب میں سو گیا، اگلے دن دوپہر کواٹھا ،تو نگینہ نے میرے لیے کچھڑی بنائی ہوئی تھی،اسی سے ناشتہ کیا،نگینہ نے مجھے بخار کی دوائی دی ۔شاید وہ صبح ہی لے کہ آئی تھی ، طبعیت اب بہتر تھی،سرور سانڈ فیکٹری گیا ہوا تھا ۔اور دلآویز گھر میں ہی تھی ،وہ سکول نہیں گئی تھی کیونکہ وہ نانی کے گھر سے کچھ دیر سے آئے تھے ، مجھے پھر نیند آگئی ،شام کو اٹھا تو طبیعت کافی بہتر تھی، نگینہ نے میرے لیے یخنی بنائی ہوئی تھی ،میں وہ دوپہر کی کچھڑی پہ ڈال کہ کھا گیا، مجھے بھوک لگی ہے روٹی لا کہ دو، روٹی ابھی نہ کھاؤ شہزادے بخار کی وجہ سے معدہ کمزور ہے روٹی ہضم نہیں ہو گی ، اُلٹی آجائے گی، تھوڑا سا بخار ہے ابھی ،نگینہ نے میرے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔ صبح تمھیں تگڑا ناشتہ کرواؤں گی ،نگینہ نے ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا، میرا سر تو دبا دو نگینے، کسی کے سامنے مجھے نگینے نہ کہنا ، میرے شہزادے ، نگینہ میرا سر دبانے لگی ، کچھ دیر بعد مجھے دوائی دے کے چلی گئی ،رات کو پھر آئی میری سر اور ٹانگیں دباتی رہی ۔ تو نے تو اسے سگا بیٹا ہی بنا لیا نگینے ،سرور خان یہ سب دیکھ کہ چپ نہ رہ سکا ،نگینہ نے اس کی طرف ایک گُھوری ڈالی تو وہ کھسک گیا، میں پھر سو گیا،صبح اٹھا تو ہشاش بشاش تھا، سرور خان کام پر گیا تھا اور دلآویز سکول گئی تھی وہ ساتویں میں تھی اور میرا میٹرک کا رزلٹ آنے میں ابھی مہینہ تو پڑا تھا ، اٹھ گیا میرا شہزادہ صبح سے کئی بار تمھیں دیکھ چکی ہوں ، نگینہ کا چہرہ سو واٹ کے بلب کیطرح ہو رہا تھا ، میں باتھ ر وم سے ہو کے آیا تو نگینہ میرے لیے ناشتہ لے کہ بیٹھی تھی۔ یخنی میں روٹی ڈال کے اس نے چُوری سی بنا لی تھی،میں یہ نہیں کھاؤں گا ، بس ابھی یہ کھا لے ،دوپہر کو بھنا ہوا گوشت پکا کے دوں گی اپنے شہزادے کو ، نگینہ نے بڑے لاڈ سے کہا ،ناشتہ کروا کے وہ برتن لے جانے لگی، تم ناشتہ ہضم کر لو، اتنی دیر میں میں کچھ کام کر لوں ،نگینہ نے جاتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہا، ایسی باتوں کی اسے بڑی سمجھ تھی، بعد میں بھی نگینہ میری غذا کا خاص خیال رکھتی تھی ۔ ایک گھنٹے بعد نگینہ میرے پاس آکہ بیٹھ گئی میری ٹانگیں دبانے لگی، ٹانگیں تو ایک بہانہ تھا پھر وہی کھیل شروع ہو گیا ،ایک بار ، دو بار ، دل تو میرا اور کر رہا ہے پر ابھی تم آرام کرو نگینہ نے کپڑے پہنتے ہوئے کہا ، جا شہزادے لڑکوں کے ساتھ کھیلا کر شام کو نگینہ نے مجھے نئے کام پر لگا دیا ،دادی ہوتی تھی تو میں انہی کے پاس رہتا تھا، میرے ہم جولیوں کی باتیں مجھے بچکانہ لگتی تھی ، بہرحال کھیلنا اچھا لگتا تھا، ہفتہ گزر گیا ، اب میری نظر بھٹکنے لگی تھی ، لڑکیوں کو غور سے دیکھنے لگا تھا،آس پاس کے گھروں میں جانے لگا تھا، باہر کی لڑکیاں گھورنے لگا تھا تو گھر کی لڑکی کو کیسے نظر انداز کر سکتا تھا ، دلآویز کو دیکھنے والی نظر ہی بدل گئی ،اس کی نیلی آنکھی مجھے بہت اچھی لگتی تھی، میں بہانے بہانے سے اس کے پاس بیٹھنے لگا ،آؤ نگینہ تمھیں سکول کا کام کروا دوں ، کبھی کبھار اسے چھو بھی لیتا تھا ، دوسرا ہفتہ گزر گیا،میرا دھیان دلآویز کی طرف زیادہ ہوگیا ، میں دیکھ رہا تھا نگینہ مجھے روکنا بھی نہیں چاہتی تھی، اوراسے یہ سب اچھا بھی نہیں لگ رہا تھا ،اسی طرح تیسرا ہفتہ گزر گیا ، چودائی سے فارغ ہوئے تو نگینہ میرے ساتھ لیٹ گئی،دو ہفتے ہو گئے تم چوپا نہیں لگایا مجھے مزہ نہیں آ رہا میں روٹھا ہوا بولا ، مجھے یہ اچھا نہیں لگتا شہزادے ، کیا ؟ پہلے اسے چوستی رہی ہو اور اب اچھا نہیں لگتا، اور پتا نہیں سرور کا کب سے چوس رہی ہو، نہیں شہزادے سرور کا تو کبھی نہیں چوسا، زندگی میں تمھارا پہلی بار چوسا ہے وہ بھی تم نے چیلینچ دیا اس لیے مجھے ایسا کرنا پڑا ،تو پھر تم اُس کاچوپا لگاتی ہو گی،میرا اشارہ اُس لڑکے کی طرف تھا جو اس رات نگینہ کی چودائی کر رہا تھا ، میں نے تمھیں پہلے بھی روکا تھا شہزادے کہ آئیندہ اُس کی بات نہ کرنا ، نگینہ غصے سے بولی، میں تو کروں گا،میں ناراض ہوگیا، اچھا تمھارا چوپا لگاتی ہوں مجھ سے ناراض نہ ہوا کر ،نگینہ نے جیسے ہی عضو منہ میں لیا میں وہ موضوع پھر بھول گیا، ان دنوں نگینہ نے مجھے بہت سر چڑھا رکھا تھا دیکھنے والے یہی سمجھتے تھے کہ دادی کے بعد نگینہ نے ماں بن کرمیری ذمہ داری لے لی ہے بلکہ دادی سے بھی بڑھ کے میرا خیال رکھتی ہے ۔ اسلیے مجھے یقین ہو گیا کہ میں دلآویز کو ضرور چود پاؤں گااس خیال سے ہی مجھے سرور آنے لگتا تھا ،نگینہ ہماری کھیلنے کودنے پر خاموش تھی،اور میں اس خامومشی کافائدہ اٹھاتے ہوئے دلآویز کے اور قریب ہو گیا ،چوتھا ہفتہ بھی گزر گیا نگینہ سارا دن پروانے کی طرح میرے ارد گرد رہتی تھی ،ادھر میں اور دلآویز دوست بن گئے تھے ، دلآویز مجھ سے کیسے دور رہ سکتی تھی ، اسے نہیں پتہ تھا وہ میرے پاس کیوں چلی آتی ہے ایک دن کھیلتے ہوئے میں نے دلاویز کو گال پر چوم لیا ،وہ شرما کے سمٹ گئی ۔مگر کچھ کہا نہیں ، دلآویزہ۔ او۔ دلآویزا ۔ ادھرآ، کیا ہر وقت کھیلتی رہتی ہے ،میرے ساتھ کام کروایا کر گھر کے، اب تم بڑی ہوگئی ہو ،یکدم نگینہ کی غصیلی آواز آئی، آخر نگینہ بول ہی پڑی ۔ اگلے دن نگینہ میرے پاس آئی تو میں اس سے ناراض تھا، میرے ساتھ لیٹ کہ میرے عضو کو پکڑ کے مسلنے لگی ۔ میری چمیاں لینے لگی ، پر میں ٹس سے مس نہ ہوا،کیا بات ہے شہزادہ حضور، نصیبِ دشمناں مزاج کیوں برہم ہیں جناب کے،نگینہ نے ایک فلمی ڈائیلاگ بولا ، چھوڑ نگینے تم مجھ سے پیار ہی نہیں کرتی ہو۔ ایسے نہ کہو شہزادے ،جتنا تمھاراخیال رکھتی ہوں نہ، اتنا تو سرورے سوچ بھی نہیں سکتا ۔ نگینہ تو تمھاری دیوانی ہے شہزادے ، اگر ایسی بات ہے تو دلآویز کو میرے ساتھ کھیلنے کیوں نہیں دیتی، ارے وہ بچی ہے اسے گھر کے کام کاج پہ ابھی نہ لگایا تو کل کوگھر کیسے سنبھالے گی، نگینے تم بھی جانتی ہو اور میں بھی جانتا ہوں کہ ہم کیا چھپارہے ہیں اورکیا بتا رہے ہیں ،بات سیدھی کروں گا ،مجھے دلآویز چاہیے ، مجھے یقین تھا کہ وہ میری بات نہیں ٹالے گی ، سارا دن تونگینہ میرے آگے بچھی رہتی تھی ۔ وہ ابھی بچی ہے شہزادے کچھ سال ٹھر جا ،میں بھی تو بچہ ہوں (میں کہنا چاہتا تھا کہ میں بھی بچہ تھا جب تم نے مجھ سے زبردستی کی تھی) ، ضد نہ کر شہزادے ، تم صرف میرے ہو ،میں تمھیں کسی سے نہیں بانٹ سکتی چاہے وہ میری بیٹی ہی کیوں نہ ہو، مجھے نہیں پتہ ، مجھے دلآویز چاہییےنگینے،شہزادے میں بے غیرت نہیں ہوں ،کہ جس لوڑے پہ ماں چڑھتی ہے اسی لوڑے پر بیٹی کو بھی چڑھا دوں ، اس کھیل میں غیرت کا کیا کام نگینے، ادھر ادھر کی باتیں نہ کر، مجھے بس دلآویز چاہیے، ہم میں ایک رسم ہے کہ سہاگ رات کو لڑکی کا خون نکلنا چاہیے خون سے چادر خراب ہونی چاہیے ، اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس لڑکی کی ساری زندگی پھر کتوں سے بدتر گزرتی ہے ،نگینہ نے ایک نئی بات شروع کر دی ، اس بات کا ہماری بات سے کیا تعلق ہے میں بےزاری سے بولا، ہم نے دلآویزکی منگنی اس کے بچپن میں کر دی تھی ، اب وہ کسی کی امانت ہے ۔ نگینہ نے اپنی بات مکمل کی ، کیا؟؟؟؟ تم نے نگینہ کی منگنی کب کی؟ مجھے تو اس بات کا نہیں پتا، میں حیران تھا ، یہ تمھارے آنے سے پہلے کی بات ہے ، بعد میں کبھی تمھارے ساتھ اس بات کا ذکر نہیں ہوا ہو گا نگینہ نے وضاحت کی ، اچھا نگینے اب یہ رسمیں کہاں ہوتی ہیں تم توپیدائشی لاہورن ہو ،تمھارے رشتے دار بھی لاہوری ، کہانیاں نہ ڈال ،میں چلایا ، ہمارے کچھ رشتے دار ادھر مستقل آباد ہوگئے ہیں ،لیکن کچھ ابھی بھی فاٹا میں رہتے ہیں یہاں بس کام کاج کرنے آتے ہیں ، دلآویز کی منگنی جن سے کی ہے وہ فاٹا میں رہتے ہیں، تم دلآویز کی شادی مجھ سے کر دینا میں نے آخری بات کر دی ، ضد نہ کر شہزادے ، ہاں یا نہ ؟ میں نے اس کی آنکھوںمیں میں دیکھتے ہوئے پوچھا مجھے یقین تھا وہ میری بات نہیں ٹال سکتی تھی ، نہ شہزادے اپنے پیاروں سے اتنا بڑا امتحان نہیں لیتے نگینہ نے مجھے گلے لگا لیا ، ہاں یا ناں ،میں نگینہ کو پیچھے ہٹا کے پھر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا،مجھے اب بھی یقین تھا کہ نگینہ مجھے انکار نہیں کرسکتی، نہیں شہزادے دلآویز تمھاری کسی طرح نہیں ہو سکتی نگینہ اٹل ارادے سے بولی ، چل پھر اب میرے پاس نہ آنا ،میں نے اسے تھکا دیا، نگینہ چارپائی سے نیچے گر پڑی، وہ اٹھی اور مجھے گھورنے لگی ،سرورے کو تھپڑ مارنے والی رانی آج میرے ہر سلوک خوشدلی سے سہہ رہی تھی، میں بھی ناراض پڑا رہا ، مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ نگینہ مجھے انکار کر آرہی ہے ، شہزادے ضد نہ کر ،نگینہ آپ بڑی ضدی ہے ، ضد تو تم کر رہی ہو نگینے، مجھے پانا ہے تو دلآویز مجھے دے دو، ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے نگینہ کی مرضی کے بغیر یہ نہیں ہوسکتا تھا ۔ جبکہ نگینہ ہربات سمجھتی بھی ہو ، نگینہ غصے سے باہر نکل گئی، ہفتہ اسی کشمکش میں پھر گزر گیا ،اس دوران ہم نے صرف چوتھے دن چودائی کی باقی دن نگینہ کو ترساتا رہا ، لیکن نگینہ میرا خیال پہلے کی طرح رکھتی تھی ، میں اسے عضو کو چوسنا تو کیا ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتا تھا ،چودائی سے دوری کی وجہ سے نگینہ کی بری حالت تھی اور مجھے منانے کی کوشش کرتی رہی ، اس کے رویے سے مجھے اب بھی یقین تھا کہ نگینہ کو میری بات ماننا پڑے گی ، لیکن اُس عُمر میں ابھی میں یہ نہیں سمجھا تھا کہ سیکس کی چاہت اور سچےپیار کی چاہت بظاہر ایک جیسی ہوتی ہے،ان کے ہجر وصال کی تڑپ پھڑک ایک جیسی ہوتی ہے ، ان میں فرق صرف نیت کا ہوتا ہے ، اور نیت کا یہ فرق کوئی دیکھ کہ بھی اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں اور کچھ کسی مشکل ترین وقت میں یہ فرق سمجھتے ہیں ،بس آنکھوں والے ان جذبات کا فرق سمجھتے ہیں۔ سرور اور دلآویز کے جانے کے بعد روزانہ کی طرح نگینہ میرے پاس آکہ بیٹھ گئی، نگینے کیا فیصلہ کیا ہے تم نے ،ضد چوڑ دے شہزادے وہ ابھی بچی ہے کچھ سال گزر جانے دے ،پھر اپنی مرضی پوری کر لینا ، نگینہ مجھے فریب دے رہی تھی ، میری ضد جاری رہی ،آج میں نے اسے منانے کیلیے بڑا دباؤ ڈالا ، اس کے جذبات کو بڑا ہی بلیک میل کیا تو نگینہ غصے میں آگئی ، تُو کیا سمجھتا ہے میں تیرے دل کی بات نہیں سمجھتی ، عقل مند ہونا اور بات ہے تجربہ اور چیز ہے ۔تُو نے عقل کی باتیں چار کیا سیکھ لی نگینہ کو ہی بیوقوف بنانے لگے ۔ تجھے ہر لڑکی،عورت اپنا شہزادہ بنانا چاہتی تھی میں تجھے اپنا شہزادہ بنانے میں کامیاب ہوگئی اور اب تو اس کے بدلے میں میری بیٹی کو شہزادی بنانا چاہتے ہو، اپنا بدلہ لینے چاہتے ہو ، نگینہ غصے میں وہ بول گئی جو وہ جان گئی تھی جو میرے دل میں تھا ،تُو نے اس بات کو ضد بنا لیا ہے شہزادے ، تم اپنی ہار سود سمیت لوٹانا چاہتے ہو، لیکن میری بھی ضد ہے یہ نہیں ہونے دوں گی ، ابھی تم بچے ہو اور بچے ہی رہو اماں دادی نہ بنو ، اس کے طنز میں بہت کچھ تھا ، کھیل کُھل گیا تھا ، میں سکون سے لیٹ گیا، کہنی ٹکا کہ اپنے ہاتھ پر سر رکھ کہ اس کی طرف چہرہ کیا اور بہت اعتماد سے بولا ، جس لڑکے سے تم نے اس رات چودائی کی تھی اس کا نام شہروز ہے ،مجھے اس کا نام دوسرے روز ہی یاد آگیا تھا ، میں سرور خان کو اس کا نام بتا دوں یا تم مجھے دلآویز دیتی ہو،ایسی باتیں صرف موقع پر ہی ہوتی ہیں اب سانپ نکل گیا ہے لیکر پیٹنے سے کچھ فائدہ نہیں ہو ، نگینہ بھی بڑے اعتماد میں تھی ۔اور تم اسے کیا بتاؤ گے کہ اتنے دن کیوں چپ رہے ہو ، تم کچھ ثابت نہیں کر سکو گے ،الٹا پھنس جاؤ گے ، بہتر یہی ہے کے اب یہاں رہنا ہے تو مجھے خوش رکھا کر نہیں تو نکل جا یہاں سے نگینہ چلائی ، دراصل نگینے تمھیں پتہ لگ گیا کہ میں نے تمھیں دیکھ لیا ہے تم اور شہروز مجھے دھمکاتے رہے ہو دوسری طرف تم میرا بہت خیال رکھتی رہی ہو مجھے ہر طرح کا لالچ دیتی رہی ہو،جب تم نے دیکھا کہ میرا ضمیر بار بار جاگ اٹھتا ہے تو اپنے آپ کو میرے سامنے کپڑے اتار کے پیش کر دیا تب میں نے تمھارے جسم کا حُلیہ دیکھا کچھ نشانیاں نظر آئی یہ مجھے اس وقت بھی نظر آئی تھی جب میں نے تم دونوں کو چُدتے ہوئے دیکھا اور اس طرح تمھارے جسم کا حلیہ ایک خاص تِل اورنپلزاور کافی کچھ بتاؤں گا ، تو پٹھان کی غیرت کیلیے اتنا بہت ہو گا مسجد میں جا کہ یا تمھارے بھائیوں اور شوہر کے سامنے قسم بھی اٹھانی پڑی تو بھی کوئی مسلہ نہیں ہے ، شہروز کو بھی وہ جانتا ہو گا تمھارا اس سے کوئی رابطے کا زریعہ بھی ہوگا جس سے تم نے اسے اُس رات کی اگلی صبح سب ٹھیک ہونے کی اطلاع دی ہوگی ، باقی ساری کہانی وہ تمھارے حلق میں ہاتھ ڈال کہ خود نکال لے گا ، بتاؤ کیا کہتی ہو ، شہزادے میں دلآویز کی ماں ہوں ،میں اسے یہ سب کرنے کو نہیں کہہ سکتی ۔ نگینہ کا لہجے اور الفاظ میں پھر مٹھاس آگئی ، تم اس کی فکر نہ کرو بس دلآویز کو میرے ساتھ اسی کمرے میں کھیلنے دیا کرو، باقی سب خود بخود ہو جائے گا میں نے اسے ایک آنکھ دبا کے کہا ،یہ بات بھی میں نے نگینے سے ہی سیکھی تھی ، نگینہ نیم رضامند نظر آنے لگی ، ہمارا تعلق بھی دلآویز کے سامنے آجائے گا ، میں اس کی نظروں سے گر جاؤں گی نگینہ نے ایک اور اعتراض کیا ،نہیں کُھلتا ہمارا راز ، نہ تم اسے بتانا نہ میں بتاؤں گا ، مجھے پتہ ہے تم اپنی دل کی بھڑاس نکالنے کیلیے ہم دونوں کو ایکدوسرے کے سامنے چودو گے ، وہ میری ہر چال سے واقف تھی ، میں ایسا نہیں کروں گا ،میں نے اسے فریب دیا ، ٹھیک ہے شہزادے تمھاری ضد کے آگے میں ہار گئی ہوں ، جیسا تم کہو گے ویسا ہی ہو گا ، نگینہ میرے ساتھ لیٹ گئی ،، کھیل شروع ہوگیا ،ایک بار ،دو بار ، تین بار ،نگینے میں تھک گیا ہوں ، چار بار ،نگینے میں ادھر ہی ہوں ،اب بس کر، ایکبار جی بھر کے میری خواہش پوری کر دے شہزادے ، پانچویں بار ۔۔ دروازہ کھٹکنے لگا ،شکر ہے میری جان چُھوٹی ، دلآویز سکول سے آگئی تھی ،نگینہ نے چھ دن کی کسر ایک دن میں نکال لی تھی ، تھکن اور کمزوری نے مجھ پر حملہ کردیا ،میں تھوڑی دیر میں بُھوکا ہی سو گیا، شام کو اٹھا تو طبیعت میں سُستی تھی ،نگینہ نے میرے لیے کھانا لے آئی ،ایسی حالت میں نگینہ مجھے یخنی پلاتی تھی،مگر آج کسی وجہ سے نہیں بنا سکی ، کھانا کھا میں پھر لیٹ گیا ، کچھ دیر مجھے نگینے دباتی رہی ،رات کو پھر دبا دوں گی شہزادے نگینہ نے مجھے ایک آنکھ دبا کے کہا ، میں سمجھ گیا آج رات کو نگینہ اور مزہ لے گی ،اس رات کے بعد ہم رات کو بالکل نہیں ملے تھے ، رات کو کھانا کھلا کے سب کچھ سمیٹ کر نگینہ فارغ ہوئی ۔سوا ،نوہو گئے تھے ، کبھی اپنے بیٹے کا بھی حال چال پوچھ لیا کر ،نگینہ سرور خان کو کمرے میں گھسیٹ لائی ،سرور سانڈ نے مجھے نفرت سے گُھورا اور باہر نکل گیا ، سرورے سونا نہ ،میں اس کا سر دبا کے آتی ہوں ،نگینہ کی آواز میں ممتا کی چاشنی تھی اور سرور کیلیے سگنل تھا ، باہر بارش ہونے لگی ، نگینہ میری رضائی میں آ گئی اور میرا سر دبانے لگی ، نگینہ نے اپنی چادر اتار کے بے پروائی سے پھینک دی ، پھر نگینہ نے اپنے بال کھول دیے ،نگینے بڑی رومانٹک موڈ میں تھی ،اس کا حُسن کمرے کو جگمگ کرنے لگا، بے شک وقت نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا تھا ، نگینے تم کمال ہو ،میں اس کے حُسن سے بے خود ہو گیا ، نگینہ نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے بیس پچیس منٹ اس نے مجھے بڑی شدت سے پیار کیا ،(الف اج دی رات سہاگ والی ۔۔۔ بھلکے کی جانے کیہڑا رنگ ہوسی) اسے سرورے کا ڈر بھی نہیں تھا ،یا اسے یقین تھاکہ وہ نہیں آئے گا ، کاش شہزادے تم مجھ سے ضد نہ لگاتے تو ساری عُمرتمھیں عیش کراتی ،نگینہ کا موڈ بہت عجیب تھا ، کیا ؟ میں اس طرح موڈ بدلنے پر حیران ہوا، بچاؤ ،بچاؤ نگینہ کُھٹی کُھٹی آواز میں ایسے چیخِی جیسے اس کے منہ پر کسی نے ہاتھ رکھا ہو ، ساتھ ہی اس نے اپنے گریبان پہ ہاتھ ڈالا اور ایک جھٹکے سے پھاڑ ڈالا ،اس کی برا نظر آنے لگی میں سنبھل نہیں پایا تھا کہ اس نے میری رضائی ایک طرف پھینک دی اور اور خود چارپائی سے گر پڑی جیسے جان چھڑا کہ بھاگی ہو اور گر پڑے ۔ دو پل میں یہ سین مکمل ہوا اور سرور خاں کمرے میں داخل ہو گیا، زمین پر گری ہوئی چادر ،بکھرے بال ، پھٹی ہوئی قمیض ،ایں ؟ریشمی قمیض ایکدم کیسے پھٹ گئ ؟ اور اس کی ننگے جسم پر ایک خراش بڑی واضح نظر آرہی تھی جو کہ دوپہر کو نہیں تھی ، ایک پل میں ساری صورت حال میں سمجھ گیا ۔ادھر میری جسمانی حالت اتنی اچھی نہیں تھی ، کہ میں بھاگ سکوں ، نگینہ نے بڑا مکمل حملہ کیا تھا ، سرور خان نے کمرے میں داخل ہوتے ہی نگینہ کو اٹھایا ،سرورے اس نے میری عزت پر حملہ کیا ہے آج یہ بچ کر نہ جائے ، نگینہ نے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا ، سرور سانڈ ، طیش میں مجھ پر حملہ آور ہوا، میں صورتِ حال سمجھ کہ اٹھ ہی رہا تھا کہ سرور سانڈ میرے اوپر گر پڑا اور مجھے گالیاں دیتے ہوئے مکے مارنے لگا، نگینہ کے دروازہ بند کرنے کا مطلب تھا اسنے مجھے بھگانا نہیں ہے مروانا ہے ، لمحوں میں یہ سب ہوگیا ، اب سستی کا مطلب موت تھا، سرور خان وحشیوں کی طرح مجھے مار رہا تھا ،میرے جسم میں بجلیاں دوڑ گئی ،موت کے سامنے دیکھ کہ توچڑیا بھی باز سے لڑ پڑتی ہے،میں تو پھر انسان تھا ، میں بھی ہاتھ چلانے لگا ، مگر وہ مجھ پر حاوی تھا ، میرے اندھا دھند ہاتھ چلانے سے بس اتنا ہوا کہ اُس کے مکوں کی رفتار کم ہوگئی ،میری نظر اس کی جنونی آنکھوں پر تھی میں اپنی انگلیاں اس کی آنکھوں میں مارنے لگا ،آخر انگلیاں لگ گئی مگر پوری نہیں لگی تھی لیکن اس نے میرا بازو چھوڑ کر اپنے ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیے ، وہ ڈھیلا ہوا تو میں اسے خود پر سے دھکا دے کر چارپائی سے کھڑا ہو گیا،میرا جسم بُری طرح درد کر رہا تھا ، نیچے سے نکلنا میری کامیابی تھی پر موت اب بھی سامنے کھڑی تھی، یعنی سرور سانڈ بھی آنکھیں ملتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا ، میری جسمانی حالت دِگردُوں تھی، نگینہ ابھی تک لڑائی میں شامل نہیں ہوئی تھی وہ دروازے پر کھڑی تھی، کہ میں بھاگ نہ سکوں یا اسے یقین تھا کہ میں سرور کے سامنے کچھ نہیں ہوں ،اور بات بھی سچ تھی، سرور کے اٹھتے ہی میں نے چارپائی کو ٹھوکر ماری جو اسکے گھٹنوں پر لگی تھوڑی چُوک ہوگئی نہیں تو یہی چارپائی اٹھتے ہوئے اس کے منہ پر لگنی تھی،میں نے ادھر ادھر دیکھا تو دادی کی لاٹھی نظر آئی ، میں نے وہ اٹھا لی ، سرور ٹانگ کی تکلیف بھول کہ میری طرف بڑھا ، سرور اندھا دھند میری طرف بڑھا ،میں نے بے دریغ لاٹھی گھما دی، اس نے بے اختیار ہاتھ آگے کردیے لاٹھی ہاتھوں اور بازوؤں پر پڑی اور اس نے فوراً ہاتھ پیچھے کیے ، میں نے اسی پل لاٹھی اسکے سر پر دے ماری ۔ سرور ایک سانڈ تھا ایک بار قسمت سے اس کے ہاتھ سے نکل آیا تھا اب ہاتھ آجاتا تو موت نے ہی مجھے آزادی دلانی تھی ، میں نے سرور کو سنبھلنے نہ دیا میں نےدوتین لاٹھیاں اوپر تلے اس کے سر پہ دے ماری ،سر پر لاٹھیاں پڑنے سے سرور بھی ڈگمگا گیا اور لاٹھی بھی چٹخ گئی، میں نے زور سے لات اس کے پیٹ پر ماری ،وہ گر پڑا ، اسکے سر سے خون نکل رہا تھا ، لاٹھی ہاتھ میں آتے ہی چند سیکنڈ میں پانسہ پلٹ گیا ، آخر دادی ہی کام آئی، میں دراوزے کی طرف بڑھا ،نگینہ پریشان ہو گئ ،اور جلدی سے پرانی طرز کا پیتل کا گلدان ہاتھ میں پکڑا اور آگے بڑھ کے میرا سر پر مارنا چاہا،اب پھرتی میں تو وہ مجھ سے زیادہ نہیں تھی،میں نے ایک طرف ہو کہ نفرت میں پوری طاقت سے اسے لاٹھی دے ماری، لاٹھی اس کے بازو اور کندھوں پر پڑی اور ٹوٹ گئی، اوپر سے میں نے اسے لات دے ماری جو اس کے پیٹ پر لگی نگینہ پیچھے جا گری، نگینہ نے بغیر کسی دیر کے لیٹے لیٹے پھر گلدان اٹھا کہ میری طرف چلایا جو میری پنڈلی کی ہڈی پر لگا پنڈلی کی ہڈی نے تو میری جان ہی نکال دی ۔ مگر موت سامنے تھی میں نے سب نظر انداز کر کے دروازہ کھول لیا،سرورسانڈ اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا اس کاجنون کم ہونے کی بچائے بڑھ چکا تھا میں نے جلدی سے بچی کچھی لاٹھی اس کی طرف چلا دی ،جو سیدھی اس کے چہرے کی طرف گئی، دروازہ بند کر کے باہر سے کنڈی لگا دی، باہر کی طرف لنگڑاتا ہوا بھاگا تو دلآویز اٹھ کے دروازے میں پریشان کھڑی تھی ،میری حالت دیکھ کہ وہ چونکی ، اور پریشانی سے میری طرف بڑھی ، یقیناً ابھی اسے حالات کاپتہ نہیں تھا میں نے اسے زور سے دھکا دیا وہ واپس کمرے میں گر پڑی ، اس دروازے کو بھی باہر سے بند کر دیا ۔ اب دلاویز مجھ سے نفرت کرے گی ، کیونکہ میں نے اس کی ماں کی عزت لوٹنے کی کوشش کی تھی ، نگینہ نے بڑا مکمل وار کیا تھا ، میں تیزی سے صحن پار کر کے باہر والے دروازے کی طرف بڑھا کُنڈی کھول کے دروازہ کھولا اور کچھ سوچ کر تیزی سے لنگڑاتا ہوا سیڑھیوں کی طرف بڑھا ، میں چھت پر آگیا ، بڑی تیز بارش ہو رہی تھی، ہر کوئی کمروں میں دُبکا ہوا تھا ، میں ایک چھت سے دوسری چھت پر چلا گیا، دروازہ اور کنڈی سرور سانڈ کے سامنے کچھ نہیں تھی ، اس کی نفرت بہت زیادہ ہوگئی تھی ،یقیناً اس نے مجھے ڈھونڈنا تھا ، نگینہ نے پہلے بھی گھٹی ہوئی آواز میں بچاؤ کہا تھا اور پھر بعد میں بھی چیخ کے گلی والوں کو اکھٹا نہیں کیا تھا یعنی مجھے مار کے وہیں گاڑنا اس کا واضح مقصد تھا ،ضد میں نگینہ نے انتہائی فیصلہ کر لیا تھا ۔ مجھے کس نے ڈھونڈنا تھا ، ان سے گلی والا کوئی پوچھتا بھی تو کہدیتے کہ میں گھر سے بھاگ گیا ہوں ، تیز بارش ٹھنڈ میں جسم کو سُن کرنے لگی ۔ میں چھتیں پھلانگتا نکڑوالی باجی کی طرف جا رہا تھا، ایک گھر کی چھت اونچی تھی مزید اس پر پردے بھی بننے سے دیوا سی بن گئی تھی ، مجھے اس پر چڑھنے میں مشکل پیش آئی ،اوپر سے بارش نے براحال کر رکھا تھا بہرحال چڑھ ہی گیا ،کلائیاں چِھل گئ ، سوچیں مجھ بھی تیز رفتار تھیں ، نگینہ نے وقت بھی رات کا چُنا تھا اور سرور سانڈ کو جان بوجھ کے میرے کمرے میں لائی تھی کہ بعد میں بتا سکے کہ وہ تو میری خراب طبیعت کی وجہ سے آئی تھی اس نے سرور سانڈ کو جاگنے کا سگنل بھی دیا تھا وہ نہ صرف جاگتا رہا بلکہ اس کا دھیان بھی نگینہ کی طرف تھا اسی لیے وہ نیچی آوز سن کے بھی آگیا ، نکڑ والی باجی کی چھت پر آکے میں چھت کے پردوں سے کمر ٹکا کے بیٹھ گیا پنڈلی کا درد بارش میں سُن ہو رہا تھا ، میری جسمانی حالت بھی نگینہ کی کارستانی تھی اس نے پانچ بار عضو چوس کہ محبت کے ڈھونگ سے چدوا چدوا کے مجھے بے حال کیا ،وہ تو دلآویز آگئی نہیں تو نگینہ نے مجھے ادھ مواء کر دینا تھا ۔ نگینہ نے مجھے دوسری دفعہ شکست دے دی تھی ، اس کا منصوبہ ہر طرح سے مکمل تھا، یقیناً اب وہ میرا پیچھا کروائے گی ، وہ سرور اور اپنے بھائیوں کیساتھ برادری کو بھی اس میں شامل کرے گی عزت لوٹنے والی بات ان اکھڑ لوگوں کیلیے تازیانہ تھی،موت کے سائے میرے آس پاس منڈلانے لگے تھے۔ اس کی مکاری کے سامنے میں ابھی بچہ ہی تھا ، اور اب میری جان خطرے میں تھی مجھے بھاگنے کی بجائے کہیں چھپنے کی ضرورت تھی میں بارش میں ننگے پاؤں اپنے نڈھال جسم اور زخمی پنڈلی کے ساتھ زیادہ بھاگ نہیں سکتا تھا ،نکڑ والی باجی اس وقت مفید ترین تھی، میں نیچے کی سُن گُن لینے لگا،نکڑ والی باجی کا بھائی، بھابی، بچے ،اور باجی کے ماں باپ اپنے کمروں میں رضائیوں میں گُھسے ہوں گے ،سردیوں کے دس بجے ہوں اور بارش ہو رہی ہو تو اس وقت کس نے میرا راستہ روکنا تھا،میرے لیے یہ گھر اجنبی نہیں تھا ، اس لیے سیدھا باجی کے کمرے کی طرف بڑھا ۔ مناسب قد کی، تیکھے نین نقش والی ، گوری چٹی، تیز وطرار، دبلےپتلے جسم والی ، ،اور ہمشہ چست (ٹائیٹ فٹنگ ) کپڑوں میں ممے اور پتلی کمر دکھانے والی چوبیس سال کی باجی سحرش کو میری وجہ سے جوانی بڑی تنگ کرتی تھی ، خوش قسمتی سے دروازہ کھلا تھا میں نے محتاط ہو کے دروازہ سے جھانکا ،باجی کمرے میں رضائی لپیٹ کہ کوئی رسالہ پڑھ رہی تھی ،ساتھ مونگ پھلی اور ریوڑیاں بھی چل رہی تھی ، میں کمرے میں داخل ہو گیا، باجی نے میری طرف دیکھا اور۔۔۔۔۔حیران ہوگئی ،شہزادے تم ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے دروازہ بند کر دیا ،وہ میری حالت دیکھ کے پریشان ہوگئی ، کیا ہوا شہزادے تم اندر کیسے آئے ،باجی اٹھ کہ میرے پاس آگئی، سرورے سے میری لڑائی ہوگئی ،میں بھاگ آیا میرا جواب مختصر تھا،سرورا نگینہ کا غلام ہے اور تُو اس کا شہزادہ ۔ مجھے گولی مت دے سیدھی بات بتا،باجی سحرش میری بات میں نہ آئی ، سرور نے مجھے اور نگینہ کو اکٹھا دیکھ لیا اور مجھے ماررنا چاہا ،مگر مجھے وہاں سے بھاگنے کا موقع مل گیا ، تفصیل سے بتا، باجی سحرش کی تسلی نہ ہوئی ، پوری بات بھی سن لینا ،پہلے میری حالت کا کچھ کر،باجی نے میری حات کا جائزہ لیا ،گیلے کپڑے اتار دے ، باجی نے کھونٹی سے تولیا اتار لیا،لیکن میں ویسے ہی کھڑا رہا ، کپڑے کیوں نہیں اتارتا ، باجی حیران ہوئی ، کوئی کپڑے پہننے کو تو دے ،اور تم بھی ادھر منہ کر لو، زیادہ ڈرامے بازی نہ کر شہزادے ، تیرے سائیز کا کوئی سوٹ نہیں ہے ہمارے گھر میں ،کپڑے اتار کے رضائی میں گُھس جا،اب مجھ سے کیا شرمانا، باجی نے موقع کا فائدہ اٹھانے میں ایک لمحے کی دیر نہیں لگائی ، باجی سحرش خود ہی آگے بڑھ کے میرے کپڑے اتارنے لگی تو میں نے بھی قمیض اور شلوار اتار دی سحرش کی آنکھوں میں چمک آگئی ،وہ پیار سے میرا جسم تولیے سے خشک کرنے لگی ، میرے بال خشک کیے ،جسم خشک کرتے کرتے وہ خود گیلی ہو گئی ہوگی،میں رضائ میں گُھس گیا، تم اندر کیسے آئے ،میں چھت سے آیا ہوں ۔ سحرش نے دروازہ کھول کہ صحن میں دیکھا اور اپنی تسلی کرکے دروزہ بند کر دیا ،بارش جاری تھی،سحرش نے میرے کپڑے نچوڑ کے پھیلا دیے ، میں سردی سے کانپ رہا تھا بلکہ اب ہی تو سردی لگنی شروع ہوئی تھی ،پنڈلی کا درد بے چین کرنے لگا ۔ سحرش نے دروازہ کھولا اور باہر جانے لگی ،کہاں جا رہی ہو،میں نے دھیمی آواز میں پوچھا، کچھ تمھاری سردی کا کرتی ہوں مجھے دیکھ کے سحرش نےگھر اور باہر کے سب خطرے نظر انداز کر دیے تھے ، اسی لیے تو میں سحرش کے پاس آیا تھا ،میں اچھی طرح رضائی لپیٹ کے بیٹھ گیا دس بارہ منٹ بعد سحرش گرم دودھ اور تین دیسی انڈے ابال کے لے آئی، پی لے اس میں شہد بھی ڈالا ہے ،جو سحرش کی سمجھ میں آیا وہ لے آئی ،میرے ہاتھ کانپ رہے تھے ، سحرش انڈوں کا چھلکا اتارنے لگی، دودھ اور انڈے نگلتےہوئے میں نے مناسب سی تفصیل سحرش کو بتا دی کھلا پلا کہ وہ ڈیٹول اور روئی لے آئی ، میری کلائیوں اور ماتھے پر روئی سے صاف کرنے لگی،پھر روئی اچھی طرح ڈیٹول سے بھگو کے میری پنڈلی پر رکھ کے کپڑے سے پٹی باندھ دی ، سحرش اس سب سے فارغ ہو کہ دروازہ بند کر کے میرے ساتھ رضائی میں ہی گھس آئی ، پندرہ بیس منٹ میں میری حالت کچھ نارمل ہو گئی اور سحرش کی حالت خراب ہو گئی ، جس کیلیے وہ اپنے دروازے میں کھڑی انتظار کرتی رہتی تھی ، جس کیلیے سحرش کی منہ زور جوانی بے قابو ہو رہی تھی آج وہ اس ننگے شہزادے سے جڑی بیٹھی تھی ، سحرش نے مستی میں انگڑائی لی تو اس کے ممے اور پتلی کمر نمایاں ہوگئی اس کے چست کپڑوں سے جسم باہر آنے کیلیے پھڑک رہا تھا، ایکدم وہ مدہوشی میں مجھ سے لپٹ گئی اور مجھ پر بوسوں کی بارش کر دی،، اس نے میرےننگے جسم کا کوئی حصہ نہ چھوڑا ، اس کا طوفان بوسوں سے اور بڑھ گیا تو سحرش نے اپنی قمیض اتار دی پھر شلوار اور برا بھی اتار دی، نگینہ جتنی بھی خوبصورت تھی لیکن اس کچی جوانی کے آگے کچھ بھی نہیں تھی، کیسا لگا ہے تمھیں میرا جسم شہزداے،سحرش نے اپنی کمر ہلا ئی، زبردست ، میں نے دل سے کہا، سحرش میرے ساتھ ہی لیٹ گئی ، اور زبردست جپھا ڈال لیا ،ہم کسنگ کرنے لگے ، منہ میں منہ ڈال لیا۔ ہمارے ہاتھ آوارہ ہو گئے ،میں اس کے اَن چھوئے کچے ممے چھونے لگا ، پتلے جسم کی جادوگری تو بہت زیادہ تھی ، سحرش نے ہاتھ بڑھا کے میرا عضو پکڑ لیا، بے شک سحرش بہت ترسی ہوئی تھی، شہزادے اسے ہاتھوں سے نہیں منہ سے پکڑ کے پی ، سحرش نے مجھے اپنے ممے کی طرف کیا ،میں نے ایک نپل منہ میں لے لیا اورچوسنے لگا، یہ میرے پہلے کچے ممے تھے ،مجھے ان کے سواد میں اپنی جسمانی تکلیفیں بھولنے لگی ، جسم گرم ہو گیا ۔جو کہ میرے لیے اچھا تھا ، پہلا پھر دوسرا ،دوسرا اور پھر پہلا،ممے چوسنے سے دل نہیں بھر رہا تھا ، جسم ایک دوسرے میں کبُھے ہوئے تھے ،نگینہ سے سیکھا ہوا سبق پورا کر کے اب میں اندر ڈالنا چاہتا تھا ۔ سحرش کی معلومات سننے تک تھی یا اس نے کچھ دیکھا بھی ہو ، میں کر چکا تھا مگر مجھے نہیں پتہ تھا کہ کنواری چوت کے طریقے کچھ اور ہوتے ہیں ۔ آجا شہزادے سحرش خود بھی لینے کیلیے بےچین تھی ۔ میں نے گھٹنوں پر بیٹھا تو پنڈلی کا درد نے بتایا کہ ابھی میں پوری طرح زندہ ہوں ، مگر اس وقت اس کو بھول جانا ہی ہر لحاظ سے وقت کا تقاضا تھا ،چوت کے اوپر رکھ کے عضو تھوڑا اندر ڈالنا چاہا زور لگایا تو بمشکل ٹوپی چلی گئی ،یہ کیا نگینہ کے اندر تو گھڑاپ کر کے چلا جاتا تھا ،میں نے اور دھکا لگایا تو سحرش کو درد ہوا ، ٹھر جا شہزادے سحرش کو عقل آگئی ، وہ شیمپو کی بوتل الماری سے لے آئی اس میں سرسوں کا تیل تھا، سیانوں کی بات پر عمل کرنا چاہیے ، سحرش نے تیل میرے عضو پر لگاتے ہوئے کہا اور پھر اپنی چوت میں لگایا ، آجا میرے شہزادے ، سحرش نے لیٹتے ہوئے مجھے دعوتِ چدائی دی ،میں اس کی ٹانگٰں کھول کے چوت کے سامنے آیا اور پھر موری پر رکھ کے دھکا لگایا ۔ آہ سکون آگیا ، عضو پھسلتا ہوا اندر چلا گیا مگر چوت اپنی تنگی پوری طرح محسوس کروا رہی تھی، آگے جا کے عضو کسی چیز سے ٹکرا کے پھر رک گیا ، میرے حساب سے اسے اور آگے جانا چاہیے تھا ابھی تو پورا ،اندر ہی نہیں گیا تھا ، شہزادے تھوڑا پیچھے ہو کہ پورے زور سے دھکا لگا، اس دفعہ بھی سحرش ہی کام آئی ، یقیناً اس نے اس کی پوری معلومات لی ہوئی تھی ، نہیں تو انجان کا چودنا چوت کا نقصان والی بات ہو جانی تھی ، میں نےعضو تھوڑا باہر نکالا ،اور پوری طاقت سے اندر ڈالا ، میرا عضو کسی چیز کو توڑتا ہوا اندر جا گھسا ، اور سحرش کے جسم نے جھٹکا لیا ، اس نے اپنے دانت پر دانت جمائے ہوئے تھے ،اس کی رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھی،بعد میں اس نے بتایا کے اسے درد ہوا تھا اور وہ اپنی چیخ روک رہی تھی ،اندر چلا گیا تھا میں سحرش کی حالت سے بے پرواہ چودائی کرنے لگا ۔ شہزاے اب رکنا نہ،کچھ دیر بعد سحرش نے جذبات میں کہا، اس کے رخسار کی ہڈیاں اب نارمل ہو گئ تھی ، مجھے اب چوت میں تھوڑی روانی محسوس ہوئی ، تھکا تھک ،پھٹا پھٹ ،تیز اور تیز،اس کے بعد وہی سب جو نگینہ کو کرتا تھا ،اب سارا کام میرا تھا، میں نے اپنا کام بخوبی کیا ہم جوش میں تھے جوش میں رفتار خودبخود تیز ہوجاتی ہے ۔ میری رفتار بھی تیز ہوگئی ، سحرش میری طوفانی رفتار سے خوش تھی اسے مزہ آرہا تھا ، شہزادے آج ساری کسریں نکال دے ،آج میری دلی تمنا پوری کر دے ،مجھے اتنا چود کہ میرے اندر جو تمھاری طلب ہے اس کے تقاضےۓ پورے ہوجائیں ۔ چود شہزادے چود ، سحرش کو کافی معلومات تھیں اور وہ ان معلومات کا پورا ستعمال کر رہی تھی مجھے سرپٹ گھوڑے کی طرح دوڑانے کیلیئے سحرش سیکسی باتیں کرتی رہی ،شہزادے اپنی باجی کو تیز چود، شہزادے آج مجھے چود ،چود کے ساری کسریں نکال دے ۔ اتنا چود اپنی باجی کو کہ میرے دل کی دھڑکنیں بس تیرا ہی نام لیں ۔آہ ،آہ کیا مست چودائی ہے میرے شہزادے کی ، میرے شہزادے سحرش تو کب سے تمھاری ہے تم ہی اس سے دور بھاگتے تھے ،میں تمھاری دلہن ہوں شہزادے اور آج ہماری سہاگ رات ہے ۔اس سہاگ رات کو اپنی چودائی سے مرادوں بھری رات کر دے ۔ایسی باتوں سے میرا جوش جنوں میں ڈھلتا گیا اور جنوں گرما گرم چودائی کے بعد پانی بن کر نکلنے والا تھا ،وہی ہوا جو نگینہ کے ساتھ ہوتا تھا۔،جسمانی کیفیت بدلی تو میں نے اور سحرش نے جِن جپھا ڈال لیا ۔ جب جنوں پانی بن کے نکلا تو پھر ہمیں سکون آگیا ، میرے شہزادے تو نے میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری کر دی ،دن رات تیرے سپنے دیکھ کے میں پاگل ہو چکی تھی، آج سےسحرش تمھاری کنیز ہے شہزادے ، سحرش مجھے لپٹائے اپنے دل کی حالت بیان کر رہی تھی ، ہم کچھ دیر لپٹے رہے ، پھر جیسے سحرش کو کچھ یاد آیا ، اس نے اٹھ کے بستر کو دیکھا ، اس کا تو مجھے یاد ہی نہیں رہا ،سحرش بڑبڑائی ، میں نے بھی دیکھا وہاں بڑا سا خون کا نشان تھا خون اونی گدے نے چوس لیا تھا ۔ اس نے خود کو دیکھا اس کی کمر پر خون لگا تھا ،سحرش نے اپنا جسم صاف کیا اپنے کپڑے پہنے ،سحرش نے چادر اور گدا لپیٹا اور باہر نکل گئ، اب بارش ہلکی ہلکی ہو رہی تھی،میں کمرے کا جائزہ لینےلگا ،کمرے کی دیوار پر ایک انڈین اداکاراور اداکارہ کی بڑی سی تصویر لگی تھی ،ڈریسنگ ٹیبل،دو سنگل صوفے اور دو سنگل بیڈ تھے دونوں انگلش لفظ ایل کی الٹی شکل میں دیوار سے لگے تھے ۔دوسرا بیڈ یقیناً سحرش کی بڑی بہن کا تھا جس کی شادی ہوگئی تھی ،ضرور وہ اب بھی ماں باپ کے پاس آکہ اسی کمرے میں ر ہتی ہو گی ، ہو سکتا ہے سحرش نے سیکس کی ساری معلومات اپنی بڑی بہن سے لی ہوں ، بیس پچیس منٹ بعد سحرش آئی تو جہاں خون لگا تھا وہاں سے چادر اور گدا دھلا ہوا تھا ،پھر سحرش استری لے آئی، اور چادر اور گدے کو استری سے خشک کیا، میں رضائی میں لپٹا بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا ، سحرش نے میرے کپڑے بھی استری کر دیے ،پھر اپنے کپڑے اتار کے میرے پاس آگئی،صبح کسی نہ کسی نے یہ دیکھ لینا تھا اور طوفان آجانا تھا ،سحرش میری گود میں بیٹھتے ہوئے کہا ، نگینہ کی مجھے طلب نہیں ہوتی تھی ، لیکن آج سحرش کی مجھے طلب ہو رہی تھی ، میں اس کے کندھے گردن چومنے لگا اس کے ممے چوسنے لگا ،سحرش کو بھی میری طلب تھی،ہم گُتھم گُتھا ہونے لگے، ایکدوسرے سے مزہ کشیدتے ہوئے ہم گرما گرم ہو گئے ،سحرش لیٹ گئی اور میں اس کے اوپر تھا ، میں اند ڈالنے لگا تو سحرش نے عضو پر تیل لگا دیا ،کچھ دن تو لگانا پڑے گا ، اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا ،پھر وہی مزےدار مشقت ، پتہ نہیں کیا بات تھی سحرش کی چودائی میں مزہ بہت تھا، یہ تو جیسے ایک نئی دنیا سامنے آگئی تھی ، میں اس کے اوپر لیٹ کے آہستہ آہستہ کرنے لگا اور ساتھ اس کے ممے چوسنے لگا ، سحرش تو جیسے مزے میں ڈوب گئی ،میں لگا رہا ،کبھی آہستہ کبھی تیز ہو جاتا تھا ،شہزادے پھاڑ دے میری چوت تیز اور زور دار دھکے لگا ، جیسے اس نے کہا تھا ویسے میں چودائی کرنے لگا،شاید اس کا وقت قریب تھا ،وقت تو میرا بھی قریب تھا ،ہم زبردست طریقے سے لپٹ گئے ، اور پانی نکالنےلگے۔ جذبات کا دریا کچھ مدہم ہوا تو آگے کی سوچنے لگے ،سحرش کو میری فکر تھی،شہزادے اب تم کہا جاؤ گے ،جب میں گدا دھونے گئی تو گلی میں جھانکا تھا مجھے سرور کے مکان کے سامنے تین چار موٹر سائیکل نظر آئے ۔ مجھے لگتا ہے سرور نے اپنے اور نگینہ کے بھائی بلا لیے ہیں ، وہ لوگ تمھیں ضرور ڈھونڈیں گے ، میں پریشان ہو گیا ،مجھے اس کا اندازہ تھا کہ یہ ہو سکتا ہے ۔ فی الحال تمھارا باہر نکلنا ٹھیک نہیں ہے ، تم ان سے چھپ نہیں سکو گے ،سحرش میرے لیے پریشان تھی،تم اپنے کپڑے پہن لو،سحرش نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، میرے کپڑے پہننے کے دروان سحرش مجھے سمجھاتی رہی کہ کیا کرنا ہے ، تھوڑی دیر بعد وہ اپنی امی کو اٹھا کے لے آئی، شہزادے کیا ہوا بیٹا ؟سحرش تمھیں اپنا چھوٹا بھائی سمجھتی ہے بہت پریشان ہے تمھارے لیے ، وہ آنٹی جی آپ کو پتہ ہے کہ میرے والد کے مرنے پر سرور خان نے میرے نام پر فیکٹری سے کافی پیسے لے لیے تھے بلکہ اس نے اپنے کسی بھتیجے کو میری جگہ فیکٹری بھی لگوا دیا ہے ،،(اس بات کا پتا مجھے سحرش سے چلا تھا ) دادی کی وجہ سے سرور مجھے گھر میں رکھنے پر مجبور تھا اب اس نے مجھے چوری کا الزام لگا کے نکال دیا ہے کہ میں نے سرور کے پیسے اور نگینہ کا زیور چرایا ہے یہ مجھے پولیس میں لے جانے والے تھے کہ میں چھت سے بھاگتا ہوا باجی سحرش کے پاس آگیا ،اسی بہانے وہ مجھے پکڑ کے پولیس میں دینا چاہتے ہیں جہاں سے میں شاید بچ سکوں ، تا کہ بعد میں کبھی ان سے اپنا حق نہ مانگ سکوں ، آنٹی اب تو خدا کے بعد آپ ہی میرا سہا را ہیں ، آنٹی نے ٹھنڈی سانس لی ،بیٹا کیا زمانہ آگیا ہے ،دولت کیلیے لوگ کیا کیا کر جاتے ہیں ، یہ تمھارے والد کے پیسے لینے کا توساری گلی کو پتہ ہے اسی پیسے سے اس نے موٹر سائیکل لی تھی اور سنا ہے اس نے باقی پیسے کسی بینک میں رکھوا دیے ہیں ،بہرحال بیٹا یہ تو بڑے اکھڑ لوگ ہیں ہم ان کا مقابلا نہیں کر سکتے ،آنٹی آپ بس کچھ دن مجھے چھپا لیں میں اس سے زیادہ آپ پہ بوجھ نہیں بنوں گا،نہیں بیٹا بوجھ کی کوئی بات نہیں اگر ان لوگوں کا مسلہ نہ ہوتا تو ہم تمھیں اپنے پاس ہی رکھ لیتے، بیٹا ان کو پتا تو نہیں چلا کہ تم چھت سے بھاگے ہو،آنٹی فکرمند تھی ۔ نہیں آنٹی وہ سمجھے کہ میں باہر نکل گیا ہوں ،اچھا چلو میں سحرش کے ابا سے بات کرتی ہوں ،آنٹی باہر چلی گئی تو سحرش مجھ سے لپٹ گئ،امی مان گئی تو سمجھو ابو بھی مان گئے،اچھا تمھیں یقین ہے نہ وہ نگینہ کی عزت پر حملے والی بات کسی سے نہیں کریں گے نہیں یار وہ اس بات میں اپنی بے عزتی محسوس کریں گے اسلیے کوئی اور الزام لگائیں گے ہو سکتا ہے چوری والی بات سچی کر دیں ،قصہ مختصر سحرش اوراس کی امی کیوجہ سے مجھے کچھ دن وہاں رہنے کی اجازت مل گئی ،سحرش بہت فکر مند تھی اپنے چھوٹے بھائی کیلیے، اسلیئے اس نے مجھے اپنے کمرے میں ہی رکھ لیا، اس کےبھائی اور بھابی ،امی اور ابا کے کمرے میں ویسے بھی میں کباب میں ہڈی تھا ،بچوں کو کچھ نہیں بتایا گیا تھا ،اس لیے سارا دن کمرے کا دروازہ بند رہتا تھا ، سحرش کی بڑی بہن کا بیڈ اب میرے قبضے میں تھا، دو دن تک پنڈلی کا درد ٹھیک ہو گیا، سحرش میری مخبر تھی ،نگینہ کے گھر موٹر سائیکلوں پر آنے جانے والے کافی ہوگئے تھے ،کچھ کے پاس اسلحہ بھی دیکھا گیا،انہوں نے یہی مشہور کیا کہ میں ان کی ساری جمع پونجی لے کے بھاگ گیا ہوں ، جب سرور نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی تو شہزادے نے اس پر قاتلانہ حملہ کردیا ،اس طرح پولیس میں بھی پرچہ ٹھوک کہ کٹوایا گیا اگر میں ان کے ہاتھ آجاتا تو میری خیر نہیں تھی ۔کالونی میں چہہ مگوئیاں ہورہی تھیں ، سحرش کی امی فکر مند رہتی تھی جب سحرش اور اس کی بھابی گھر کے کام کاج میں لگی ہوتی تھیں تو سحرش کی امی میرے پاس کے آکہ بیٹھ جاتی تھی، مجھے لپٹا لیتی ،سینے سے لگا لیتی، ان کو میری بڑی فکر تھی ،دروازہ بند ہوتا تھا ، میں سب سمجھ کے بھی انجان بن رہا تھا ، رات کو سحرش اور میرا جوڑ پڑتا تھا ،ہم تھک کے گر پڑتے تو سو جاتے،سحرش کی بھابی مجھ سے دور رہنے کی کوشش کرتی تھی ،ہفتہ گزر گیا ، سحرش میری دیوانی تھی لیکن اب میری قربت نے اسے کچھ زیادہ ہی دیوانہ کر دیا تھا ۔سرورے کے خاندان کی تلا ش مدہم پڑنے لگی،بھائی اور ابو کہہ رہیں ہیں کے اب تمھیں یہاں سے چلا جانا چاہیے ،سحرش نے رات کو پریشانی سے مجھے بتایا،میں کچھ کرتی ہوں ، ہم کھیلنے لگےسحرش اب سیکس میں بہت جذباتی ہو جاتی تھی ،اس کاانداز بدلنے لگا تھا ،سحرش کے جذبات مجھے بے چین کرنے لگے ۔اگلے دن سحرش کی ماں موقع دیکھ کے آگئی ، بیٹا سحرش کے ابا اب تمھیں یہاں نہیں دیکھنا چاہتے ، میں بہت مجبور ہوں ،مجھے تمھاری بہت فکر ہے انہوں نے مجھے بیٹا سمجھا کے ساتھ لپٹا لیا،میرا سر ان کے مموں پر تھا ، میں ہفتے سے انجان بن رہا تھا ،بڑے سے ممے ،موٹی گانڈ بڑھا ہوا پیٹ ،چوڑی کمر۔ یہ سب میرے جمالیاتی ذوق پر تازیانہ تھا،مگر اب مطلب کے لیے دل سخت کر لیا ،آنٹی آپ ہی تو میرا سہارا ہیں میں نے ان کے گلے میں سامنے سے اپنی بانہہ ڈال دی ،میرا بازو ان کے مموں پر تھا ،ان کی آنکھوں میں چمک آگئی ،بیٹا میں تو چاہتی ہوں ابھی تم نہ جاؤ ان کی تلاش ابھی مدہم پڑی ہے رکی نہیں ،سحرش کی امی نے مجھے کچھ سمجھایا،جی آنٹی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں میں نے اپنے بازو سے مموں پر دباؤ ڈالا ، آپ کچھ کریں نہ پلیز ،میں ان سے زور سے لپٹ گیا،شہزادے میں نے بڑی مشکل سے ان کو مزید چند دن کیلیے منایا ہے ،انہوں نے مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا،، اور مجھے چومنے لگی ،ماں بننے کا لبادہ ایک منٹ میں اتار کے وہ میری عاشق بن گئی،دس منٹ اس نے مجھ پر اپنی بھڑاس نکالنے کی کوشش کی ،سحرش کسی بھی کمرے میں آسکتی ہے میں نے کسمساتے ہوئے کہا،، بادل ناخواستہ سحرش کی امی کومجھے چھوڑنا پڑا ، ان کو چدائی کیلیے موقع ملنا بہت مشکل تھا ،اسی لیے میں نے دل سخت کر کے اسے چوما چاٹی تک آنے دیا تھا ۔ دن میں سحرش کی امی موقع بنا کے آتی رہتی اور رات کو سحرش سحرش ہوتی رہتی ،سحرش اب میرے نام کی مال جپتی تھی ،ہرپل اسے میرا خیال رہتا تھا ، اسے میری لگن لگ گئی تھی ۔ سحرش کو مجھ سے پیار ہوگیا تھا ۔کچھ دن گزر گئے سرور کے گھر میں برادری کا آنا جانا ختم ہو گیا ۔ سحرش بتا رہی تھی کہ وہ حیران ہیں کہ مجھے زمیں کھا گئی کے آسمان ؟ سحرش اور اس کی امی کے پاس اب مجھے گھر میں رکھنے کا کوئی بہانہ نہیں تھا ، دو دن اسی کشمکش میں گزر گئے ، رات کو سحرش کی امی اور ابا کی لڑائی ہو گئی ، ہم نے اس کا ٹھیکہ نہیں اٹھایا ،اس جیسے ہزاروں پھرتے ہیں کیا ہم سب کو گھر لے آئے،آپ نے جوان بیٹی کے کمرے میں ایک آوارہ کو رکھا ہوا ہے پتہ نہیں آپ کی سمجھ کو کیا ہو گیا ہے امی جان ، یہ سحرش کا بڑا بھائی تھا، باتیں میری کانوں میں پڑ رہی تھیں،میں سمجھ گیا اب سحرش اور اس کی امی کی نہیں چلے گی ، میں اور سحرش کمرے میں بیٹھے تھے،اچھا سحرش اب میں چلتا ہوں ،میں اٹھ کھڑا ہوا ،کہاں ،رکو۔ سحرش بے چینی سے اٹھ پڑی ، سحرش میری جان ، تمھارے گھر میں جھگڑے بڑھ گئے تو اس سے ہو سکتا ہے ہمسائیوں کو کچھ بِھنک پڑ جائے،اس سے بات پھیل جائے گی اور جو بھی ہوآخر مجھے جانا توہے ہی ، سحرش بھی یہ بات سمجھ گئی تھی،میں تمھیں نہیں بھلا سکتی شہزادے ،وعدہ کرو تم مجھے ملو گے ،سحرش میرے گلے لگ چکی تھی ،اس کی حالت ٹھیک نہیں تھی، یہ کچھ پیسے رکھ لو ،کافی سارے پیسے اس نے میری جیب میں ڈال دیا ،پتہ نہیں اس نے کیسے اکٹھے کیے تھے ۔ سحرش پھر میرے گلے لگ گئی، اس کا جسم کانپ رہا تھا ،ہم نے ایک لمبی سی آخری کِس لی، میں نے اس کی دی ہوئی گرم شال لپیٹی ،اس سے منگوایا ہوا چاقو جیب میں ڈالا ، لنڈے کے جوگرز کے تسمے بیڈ پر بیٹھ کر کسے، یہ بھی اسی کے دئیے ہوئے تھے میں کمرے سے باہر نکلا ،دو ہزار دو ، شروع ہو گیا تھا ،پچھلی صدی کب کی چلی گئی تھی ۔ماں باپ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مر گیا اور شہزادہ زندہ ہو گیا تھا ،امی ابو سے نہیں ملو گے ،سحرش نے مجھے باہر کی طرف جاتے ہوئے پوچھا ، سحرش کی امی اور ابو کے لڑنے کی آواز بلند ہو رہی تھی ، نہیں یار تم ہی انھہیں بتا دینا ،میں دروازے کے کے پاس رک گیا،سحرش نے باہر گلی میں دیکھا، کوئی نہیں ہے۔سحرش نے سسکتے ہوئے بتایا۔ مجھے اس پر پیار آگیا ، میں نے اس کی آنکھیں چومی ، ہونٹوں پر کِس لی اور گلی میں نکل گیا ، سحرش روتی رہی، گلی میں اندھیرا تھا ،بلکہ اس دنیا میں ہی اندھیرا تھا ،میں نے ان اندھیروں میں خود کو گم کر لیا ، (آدمی خود بخود نہیں مرتا ۔۔۔۔۔ دوسرے لوگ مار دیتے ہیں ) جاری ہے
×