Jump to content
URDU FUN CLUB

shahg

Members
  • Content count

    231
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    15

shahg last won the day on November 16 2017

shahg had the most liked content!

Community Reputation

319

7 Followers

About shahg

  • Rank
    Premium Member

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. وہ کہہ رہی تھی کہ میں تمہیں دیکھ لوں گی۔۔ مجھے باندھ کر تم نے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔ تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔۔ لیکن میں نے اس کی بکواس پر کوئی کان نہ دھرا۔۔لیکن اس کی مسلسل بکواس اور دھمکیوں سے تنگ آ کر میں نے اس کی طرف دیکھا اور بڑے غصے سے بولا۔۔ ۔۔ چُپ ۔۔۔ گشتی۔۔۔۔اب چلانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اتنا کہتے ہی میری نظر اس کی ٹانگوں کے پاس ۔۔۔۔ اس گول گول چیز پر جا پڑی جسے میں لکڑی سمجھ رہا تھا اور جسے تھوڑی دیر قبل وہ اپنی چوت میں اندر باہر کرتے ہوئے سسکیاں بھر رہی تھی۔۔۔۔ میں نے اس گول گول چیز کو اُٹھا کر غور سے دیکھا تو جسے میں لکڑی سمجھ رہا تھا وہ دراصل کسی ہیئر برش کا پچھلا سرا تھا۔۔ ہیئر برش کا یہ گول سرا تقریباً چار پانچ انچ لمبا اور ایک ڈیڑھ انچ موٹا تھا ۔ جبکہ اس کا برش والا حصہ ٹوٹا ہوا تھا۔۔اور اس پر ایک سفید رنگ کا شارپر چڑھا ہوا تھا۔۔شارپر کو دیکھ کر میں نے سارہ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور اس سے بولا۔۔ شارپر کی جگہ اگر تم کنڈوم استعمال کرتی تو تمہیں زیادہ مزہ آنا تھا ۔۔۔۔لیکن اس نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔اور پھٹی پھٹی نظروں سے میری طرف دیکھتی رہی۔۔۔۔ اس کے بعد میں نے ہیئر برش کے اس ٹکڑے کو زرا غور سے دیکھا تو اس وقت وہ سارہ کی چوت سے نکلنے والی مزی سے لتھڑا ہوا تھا۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اس ہئیر برش کو اپنی ناک کے ساتھ لگا کر سونگھا ۔۔۔تو اس میں سے بڑی ہی مست قسم کی مہک آ رہی تھی چنانچہ میں اسے کچھ دیر تک سونگھ کر مزے لیتا رہا ۔۔۔ اور پھر اس ہیئر برش کے ٹکڑے کو سارہ کی آنکھوں کے سامنے لہرا کر بولا۔۔دیکھو تو اس برش پر لگی مزی کی وجہ سے۔۔۔۔ تمہاری چوت کی مست مہک آ رہی ہے اس کے بعد میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی زبان نکالی اور اس برش کے ٹکڑے پر جہاں جہاں بھی اس کی مزی لگی تھی اسے چاٹ لیا۔۔۔اور پھر اس سے بولا۔۔ جب تمہاری مزی اتنی مزے کی ہے تو پھر تمہاری منی کا ذائقہ کس قدر شاندار ہو گا میری اس حرکت پر اس کا چہرہ لال بھبھوکا ہو گیا لیکن اس نے میری کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔۔۔ ۔۔ اب میں نے اس ہئیر برش کو پلنگ سے نیچے پھینکا ۔۔۔ اور سارہ کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے اوپر چڑھ گیا جیسے ہی میں اس کے اوپر چڑھنے لگا تو اس نے ادھر ادھر ہو کر اپنی جان بچانے کی بڑی کوشش کی ۔۔۔۔ لیکن ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ اس کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی ۔۔۔۔اور میں اس کے اوپر چڑھ گیا۔۔۔ اوپر چڑھتے ہی میں نے اس کے غصے میں لال ہونے والے گالوں کو چوم لیا ۔۔۔گالوں کو چومتے وقت اس نے اپنے منہ کو ادھر ادھر کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن میں نے اس کی ہر کوشش ناکام بنا دی۔۔ اور اس کے لال لال گالوں کو جی بھر کے چوما۔۔۔۔۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے میرے ہونٹ اس کے ہونٹوں کی طرف بڑھنے لگے۔۔ یہ دیکھ کر سارہ نے سر کو دائیں بائیں کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو بڑی سختی کے ساتھ جوڑ لیا۔۔۔ لیکن میں نے اس کی ایک نہ چلنے دی ۔۔۔۔ اور اس کے سر کے بالوں کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ ا۔۔۔جس کی وجہ سے وہ اپنے سر کو دائیں بائیں کرنے سے قاصر ہو گئی ۔۔۔ اس کے بعد میں نے اس کے بالوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ کھینچا جس کی وجہ سے درد کے مارے اس کی چیخ نکل گئی۔۔اور وہ کہنے لگی ۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔ درندے ۔ لیکن اس وقت مجھ پر ایک عجیب سا جنون سوار تھا اس لیئے میں نے اس کی بات نہیں سنی۔۔۔ بلکہ اس کے بالوں کو ایک جھٹکا دے کر بڑے غصے سے بولا۔۔ ہونٹ کھول گشتی۔۔۔ میری بات سن کر اس نے بڑی بے بسی کے ساتھ میری طرف دیکھا ۔۔اور پھر اپنے ہونٹوں کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے بڑی فاتحانہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔اور پھر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر ۔۔۔۔ اس کے گلاب ہونٹوں کو چوسنا شروع ہو گیا۔۔اس کے نرم ہونٹوں کو چوستے وقت میں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح اس کی زبان کو بھی اپنے منہ میں لے کر چوسوں۔۔ لیکن میری کوشش کے باوجود بھی اس نے مجھے اپنی زبان چوسنے کے لیئے نہیں دی۔۔۔۔دوسری طرف عین اس وقت جب میں اس پر چڑھا ۔۔۔ اس کے ہونٹوں کو چوس رہا تھا تو اسی وقت میرا سخت لن اس کی چوت کے نرم نرم لبوں کے ساتھ ٹکرا رہا تھا ۔ سارہ کے رسیلے ہونٹوں کو چوس کر مجھے مزہ بھی آ رہا تھا ۔۔اور دوسری طرف شہوت سے میرا برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔ اسی لیئے کچھ دیر کسنگ کرنے کے بعد ۔۔۔۔۔۔ میں اس کے اوپر سے اُٹھا اور پھر۔۔۔۔اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے بولا۔ گشتی ۔۔۔تیار ہو جا ۔۔۔ میں تجھے چودنے لگا ہوں۔میری بات سن کر اس کے چہرے پر عجیب سا تاثر چھا گیا ۔۔لیکن آگے سے وہ کچھ نہیں بولی۔۔ دوسری طرف میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے پہلے اپنی قمیض اتاری پھر ۔۔۔ اپنی شلوار کو اتار دیا۔ جیسے ہی میری شلوار نیچے ہوئی ۔۔۔ میرا لن شیش ناگ کی طرح لہرتا ہوا ۔۔۔سارہ کی آنکھوں کے سامنے آ گیا۔۔ میرے موٹے اور لمبے لن کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیئے سارہ کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی۔۔۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے اس نے کمال مہارت کے ساتھ اپنے تاثرات کو چھپا لیا۔اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بڑی نفرت کے ساتھ کہنے لگی ۔ ۔خبردار ! میرے ساتھ ایسی ویسی کوئی حرکت نہ کرنا ۔ورنہ میرے بھائی تجھے کچا کھا جائیں گے ۔۔۔۔ پھر دفعتاً اس کا لہجہ بدل گیا اور وہ بڑے ہی نرم لہجے میں کہنے لگی مجھے چھوڑ دو پلیزززززززز۔میں نے اپنے شوہر کے علاوہ کبھی کسی اور کے ساتھ ایسا کام نہیں کیا ۔۔۔اس لیئے مہربانی کر کے مجھے چھوڑ دو ۔میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ لجاجت بھرے لہجے میں کہنے لگی ۔۔۔چھوڑ دو پلیز۔۔۔ میں کسی سے بھی تمہاری شکایت نہیں لگاؤں گی۔۔ جب اس نے محسوس کیا کہ اس کی کسی بات کا بھی مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تو دفعتاً اس نے پینترا بدلا ا ور کہنے لگی یہ جو تم میرے ساتھ کرنے لگے ہو۔۔۔۔۔تمہیں معلوم ہے نا کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے اس لیئے پلیزززززز۔۔ چلے جاؤ اور مجھے چھوڑ دو۔ اس کی بکواس سنتے ہوئے اچانک ہی مجھے احساس ہو ا کہ باہر کا دروازہ کھلا ہے یہ خیال آتے ہی میں ننگا ہی باہر کی طرف بھاگا ۔۔۔اور باہر کے دروازے کو کنڈی لگا کر واپس آ گیا۔۔۔۔ اور جیسے ہی میں کمرے میں واپس آیا تو دیکھا کہ وہ اسی طرف پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی جبکہ اس کے دونوں ہاتھ پلنگ کے ساتھ بندھے ہوئے تھے ۔ مجھے دیکھتے ہی وہ خوشامدانہ لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ سنو!!!!!۔۔ میرے پاس بہت سارے پیسے ہیں میں تم کو کافی سارے پیسے دوں گی لیکن پلیززززززززز تم یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔اگر کسی کو پتہ چل گیا تو میں برباد ہو جاؤں گی۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔ اس بات کی فکر نہ کرو میں یہ بات کسی سے بھی نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔اتنی بات کرتے ہوئے جیسے ہی میں پلنگ پر چڑھا۔۔۔ تو اس نے جلدی سے اپنی دونوں ٹانگوں کو سیکڑ لیا اور کہنے لگی ایسا مت کرو پلیز۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے بڑے غور سے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر وہ بلکل بھی رو نہیں رہی تھی۔یہ دیکھ کر میں نے اس کی دونوں ٹانگوں پر ہاتھ رکھا اور انہیں کھولنے لگا ۔۔تو اس نے اپنی ٹانگوں کو بڑی سختی کے ساتھ انہیں دبا لیا۔۔۔لیکن میں نے اس کی ٹانگوں کو پکڑ کر زبردستی کھول دیا۔ جیسے ہی سارہ کی دونوں ٹانگیں کھلیں۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کی شاندار پھدی میری آنکھوں کے سامنے آ گئی۔۔۔ سارہ کی پھدی کسی ڈبل روٹی کی طرح موٹی اور گوشت سے بھر پور تھی جبکہ اس کی پھدی کے اوپر کالے رنگ کے ہلکے ہلکے بال بھی موجود تھے جو کہ اس کی گوری گوری چوت پر بہت بھلے لگ رہے تھے۔۔۔۔۔میں سارہ کی دونوں ٹانگیں کھولے ۔۔۔۔ٹکٹکی باندھ کر اس کی خوبصورت چوت کا نظارہ لے رہا تھا جبکہ دوسری طرف وہ مسلسل اپنی ٹانگوں کو مجھ سے چھڑانے کی از حد کوشش کر رہی تھی۔ لیکن ظاہر ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ سارہ کی شاندار چوت کو دیکھ کر مجھے نشہ سا ہونے لگا چنانچہ میں نے ایک نظر سارہ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔ تمہاری چوت تو بڑی ہی خوبصورت ہے ۔۔ کیا خیال ہے مارنے سے پہلے۔۔۔۔ میں اسے تھوڑا چاٹ نہ لوں؟ لیکن میری اس بات کا اس نے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں اس کی شاندار پھدی پر جھک گیا ۔۔اور اس کی دونوں پھانکوں کے درمیان اپنی زبان رکھ دی۔ جیسے ہی میری زبان نے اس کی پھدی کو ٹچ کیا۔۔۔ سارہ ایک دم سے کسمسائی اور ۔۔ اور اپنی زیریں باڈی کو ادھر ادھر کرتے ہوئے۔۔۔۔۔ میرے منہ کو اپنے چوت سے ہٹانے کی بڑی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہی۔۔۔۔ ۔۔ اُف ۔۔اس کی پھدی بہت گرم اور ابھی تک تپی ہوئی تھی۔۔۔ چنانچہ میں نے زبان نکال کر اس کی گرم چوت کو چاٹنا شروع کر دیا۔ ابھی میں نے اس کی گرم چوت کو تھوڑی ہی دیر چاٹا ہو گا کہ۔۔حیرت انگیز طور پر اس نے اپنی ٹانگیں چلانا بند کر دیں۔۔۔ اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ ایسا اس نے اپنی چوت پر لگنے والی میری زبان کے مزے کی وجہ سے کیا تھا یا پھر وہ ٹانگیں چلا چلا کر تھک گئی تھی یا پھر ۔۔۔ اس نے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا۔۔ چنانچہ ۔۔۔ جب اس نے اپنی ٹانگیں چلانے بند کیں ۔۔۔تو میں نے اس کی پھدی چاٹتے ہوئے۔۔۔۔۔چند سیکنڈ ز تک ۔۔۔ انتظار کیا اور جب مجھے اس بات کا یقین ہو گیا کہ اب وہ ٹانگیں نہیں چلائے گی تو ۔۔۔ پھر دھیرے دھیرے میں نے اس کی ٹانگوں کو آذاد چھوڑ دیا۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی پھدی چاٹتے ہوئے ایک ہاتھ اس کے پھولے ہوئے دانے پر لے گیا ۔۔۔اور اپنی دو انگلیوں کی مدد سے اس کی چوت کے اوپر پھولے ہوئے دانے کو مسلنا شروع کر دیا۔ اس کی چوت سے ایسی مست مہک آ رہی تھی کہ میں دیوانوں کی طرح اسے چاٹتا چلا جا رہا تھا۔۔ پھر۔۔۔کچھ ہی دیر بعد اس کی چوت گیلی ہونا شروع ہو گئی اور پھر آہستہ آہستہ اس میں سے گدلے رنگ کا پانی رسنا شروع ہو گیا۔۔۔۔ اس کی چوت سے پانی رستا دیکھ کر مجھے ایک خوشگوار سی حیرت ہوئی اور میں نے اس کی چوت سے نکلنے والے پانی کے پہلے قطرے کو چاٹ لیا ۔۔۔واؤؤؤؤ۔۔۔ اس کی مست چوت سے نکلنے والے پانی کا ذائقہ بھی اس کی چوت کی طرح بڑا ہی مزیدار تھا ۔۔۔پھر کچھ دیر بعد میں نے اس کی خوبصورت چوت کو چاٹنا بند کر دیا۔۔ ۔۔۔۔اور اس کے موٹے دانے کو اپنے منہ میں لے کر تیزی کے ساتھ چوسنا شروع ہو گیا۔۔۔ اس کے پھولے ہوئے دانے کو اپنے منہ میں لیئے میں بڑی تیزی کے ساتھ چوس رہا تھا ۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف سارہ بری طرح کسمسا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ چُپ چاپ لیٹی سارہ کا منہ سختی کے بند تھا اور اس سے ایک لفظ بھی نہیں نکل رہا تھا لیکن اس کا سانس بہت تیز تیز چل رہا تھا ۔۔۔۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے منہ سے دبی دبی سسکیوں کی آواز یں نکل رہی تھی ۔ سارہ کا دانہ چاٹتے ہوئے جب میں نے ایک انگلی اس کی چوت میں داخل کی ۔۔۔۔ تو معلوم ہوا کہ اس کی چوت میں اچھا خاصہ پانی جمع ہو چکا تھا جبکہ دوسری طرف اس کی چوت کو مارنے کے لیئے۔۔۔۔ میرا لن بھی دہائیاں دے رہا تھا ۔۔چنانچہ اس کی چوت کی پھسلن کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ اس کی پھدی چاٹ۔۔۔۔ اور دانے کو کافی چوس لیا اب لن اور پھدی کا ملاپ کر دینا چایئے۔ یہ سوچ کر میں نے اس کے دانے پر رکھے اپنے منہ کو اوپر ہٹایا اور اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا۔۔۔ میری اس حرکت پر سارہ کچھ نہ بولی بلکہ چپ چاپ میرا یہ عمل دیکھتی رہی ۔ پھر میں نے اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور اس کی نوک کو سارہ کے دانے پر رکھی۔۔۔۔۔اور اس کو رگڑنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر رگڑنے کے بعد میں نے اپنے ٹوپے کو تھوک سے تر کیا اور اس کی پھدی کے لبوں پر رکھ کر ہلکا سا دھکا لگایا۔۔تو میرا لن پھسلتا ہوا۔۔۔۔ اس کی پانی سے بھری چوت میں اتر گیا۔جیسے ہی میرا لن اس کی ٹائیٹ چوت میں اترا ۔۔۔۔سارہ نے ایک آہ بھری اور پھر دانت پیستے ہوئے بولی۔۔" پچھتاؤ گے" اسکی بات سن کر میں نے ایک ذور دار گھسہ مارا۔۔۔۔۔ جس سے میرا لن اس کی چوت میں جڑ تک اتر گیا۔۔۔ اور اس کی طرف دیکھ کر بڑی لاپرواہی سے بولا۔۔۔ " دیکھا جائے گا" جب میں نے گھسہ مارتے ہوئے اس سے یہ کہا کہ دیکھا جائے گا ۔۔۔۔تو میری بات سن کر اس نے اپنے ہونٹوں کو سختی سے بھینچ کر اپنی آنکھیں بند کیں۔۔۔۔۔۔ اور بلکل خاموش ہو گئی ۔ میں نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور پھر آہستہ آہستہ گھسے مارنے شروع کر دیئے۔۔۔ اس کی چوت بہت تنگ تھی۔۔۔۔جس کی وجہ سے میرا لن بہت پھنس پھنس کر آ جا رہا تھا۔۔۔جس کی وجہ سے اس کی پھدی مارتے ہوئے مجھے بڑا مزہ آ رہا تھا ۔۔ گھسے مارتے ہوئے میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ بدستور آنکھیں بند کیئے لیٹی ہوئی تھی اس کی سانسیں اتھل پتھل ہو رہی تھیں ۔۔۔یہ دیکھ کر میں اس کی طرف جھکا اور بڑے رومینٹک لہجے میں بولا ۔۔۔مزہ آ رہا ہے نا؟ میری اس بات پر اس نے اپنی بند آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔۔ اور ایک نظر میری طرف دیکھا لیکن میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔ وہ میرے نیچے لیٹی بلکل چُپ چاپ چُدوا رہی تھی جبکہ میں پسینے میں شرابور اس کو چودتے ہوئے مزے کی وجہ سے اونچی آواز میں کراہ بھی رہا تھا اس کی چوت میں کوئی نشہ تھا کہ کیا تھا کہ ۔۔۔۔۔ میں مزے سے بے حال ہوتا جا رہا تھا۔۔۔پھر گھسے مارتے مارتے اچانک میں نے محسوس کیا کہ سارہ کی چوت میں اکڑن پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔۔۔۔اور اس اکڑن کی وجہ سے اس کے منہ سے ایک ہلکی سی سسکی نکل گئی۔۔۔اور اس سسکی کے نکلتے ہی ۔۔۔اس کی چوت کے سارے ٹشو میرے لن کے ساتھ چمٹ گئے۔۔۔ اور یہ دیکھ کر میں نے پوری قوت کے ساتھ ایک زبردست گھسہ مارا ۔۔۔جس کی وجہ سے سختی کے ساتھ منہ بند ہونے کے باوجود بھی ۔۔۔۔اس کے منہ سے ایک زودار چیخ نکل گئی۔۔۔۔ اب یہ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے منہ سے نکلنے والی یہ چیخ درد کی وجہ سے نکلی تھی یا مزے کی وجہ سے ۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف میں اس کی پھدی مارتے ہوئے اونچی آواز میں چلا رہا تھا ۔۔ پھر ۔۔۔گھسے مارتے مارتے جیسے ہی مجھے محسوس ہوا کہ میں چھوٹنے والا ہوں تو اسی وقت میں نے اس کی چوت سے کھینچ کر اپنا لن نکال لیا۔۔ جیسے ہی میں نے اس کی چوت سے اپنا لن نکالا تو میں نے دیکھا کہ ۔۔۔۔ اس کی چوت سے ڈھیر سارا پانی نکل رہا تھا۔۔۔۔اور جب میں نے اپنے لن کی طرف دیکھا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا سارا لن اس کی منی سے لتھڑا ہوا تھا اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے سارہ کے منہ سے نکلنے ۔۔والی چیخ درد نہیں بلکہ۔۔۔۔۔۔۔ چھوٹنے کی وجہ سے نکلی تھی۔۔اسی بات سے میرے دل میں خیال آیا کہ ۔۔۔ کہ میری پاور فل چودائی کی وجہ سے وہ بھی لطف اندوز ہوئی تھی ۔۔جبکہ دوسری طرف جیسے ہی میں نے لن کو اس کی چوت کھینچ کر نکالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچانک ہی اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور خاموشی سے میری طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔چونکہ اس وقت میں چھوٹنے کے قریب تھا اس لیئے میں نے اسے نظر انداز کیا اور لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر۔۔۔۔۔ تیزی سے مُٹھ مارنے لگا ۔۔۔ چند ہی لمحوں کے بعد میرے منہ سے ایک زور دار ۔۔۔۔اوہ ہ ہ۔آہ ہ ہ ہ۔۔۔ کی آواز نکلی۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میرے لن سے گاڑھی منی نکل نکل کر ۔۔۔۔ اس کے خوبصورت پیٹ پر گرنے لگی۔جس کی وجہ سے سارہ کا خوب صورت پیٹ میری منی سے بھر گیا۔۔ ۔جب لن سے نکلنے والی ساری منی اس کے پیٹ پر گِر گِر کر ختم ہو گئی۔۔۔ تو میں سارہ پر جھکا ۔۔۔۔اور اسکے ہونٹوں پر ایک گرم سی چمی دے دی۔۔۔ اور پھر اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔۔مزہ آیا نا؟؟؟؟؟؟؟؟ ۔ لیکن اس نے میرے سوال کا کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے میری طرف دیکھتی رہی۔۔۔ ۔۔اتنی دیر میں میرا لن نرم ہو کر سکڑ گیا تھا۔۔۔۔اس لیئے میں پلنگ سے نیچے اترا۔۔ اور شلوار پہننے لگا اس دوران وہ چپ چاپ اور خاموش نظروں سے مجھے گھورتی رہی ۔۔۔ شلوار پہننے کے بعد میں نے قمیض پہنی اور اس کو ٹاٹا کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔ دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔جیسے ہی میں دروازے کے قریب پہنچا تو وہ بڑی ہموار آواز میں بولی ۔۔میرے ہاتھ تو کھولتے جاؤ۔۔ اس کی بات سن کر میں واپس پلٹا۔۔۔ اور پلنگ کے ساتھ بندھے اس کے ہاتھ کھولے ۔۔۔ جیسے ہی اس کے ہاتھ کھلے۔۔۔ اس نے اپنی کلائیوں کو مسلنا شروع کر دیا اور پاس پڑی قمیض کو اُٹھا کر اپنے سینے پر رکھ لیا اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی میں تمہاری امی کو بتاؤں گی ۔۔میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ دوستو!۔۔۔اس بات کو دو تین ماہ ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک اس نے میری امی سے اس بارے کوئی بات نہیں کی۔۔۔۔آج بھی وہ پہلے کی طرح ہمارے گھر آتی ہے اور گھر آتے جاتے اکثر ہمارا آمنا سامنا ہو جاتا ہے لیکن آج تک اس نے کبھی مجھ سے اس حادثے کے بارے ایک لفظ بھی میں نہیں کہا اور نہ ہی میرے ساتھ اپنا موُڈ خراب کیا ہے۔ تو میرے پیارے دوستو!!!!! مجھے مشورہ دو کہ اب میں کیا کروں؟ کیونکہ وہ ایک بڑی ہی گرم اور سیکسی لیڈی ہے اور اس دن میں نے اس کے ساتھ بہت مزہ کیا تھا اور یہ مزہ میں ایک دفعہ پھر لینا چاہتا ہوں لیکن اس دن کے بعد وہ مجھ سے بات ہی نہیں کرتی اب تم ہی بتاؤ۔۔ کوئی مشورہ دو ۔۔کہ میں کیا کروں؟ اسے کیسے چودوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟.. ختم شد
  2. سارہ کا ریپ پیارے دوستو! مجھے معلوم ہے کہ کہانی کا ٹائیٹل دیکھ کر آپ ضرور چونکے ، اور پھر یہ سوچ کر حیران بھی ہوئے ہوں گے کہ شاہ اور کسی خاتون کا ریپ؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ تو پیارے پڑھنے والو ! آپ ٹھیک سمجھے ہیں زاتی طور پر میں کسی بھی خاتون کو بلیک میل کر کے چودنے یا اسے ریپ کرنے کے سخت مخالف ہوں لیکن بعض اوقات حالات کچھ اس طور بن جاتے ہیں کہ بندہ نا چاہتے ہوئے بھی وہ کام کر گزرتا ہے جو کبھی اس نے خواب میں بھی نہ سوچا ہوتا ہے زیرِ نظر کہانی بھی کچھ اسی قسم کے واقعہ پر مشتمل ہے جو کہ پتہ نہیں غصے یا ٹینشن کی وجہ سے میری زندگی میں بس آنناً فانناً ہی وقوع پزیر ہو گیا تھا میں نے یہ کام صحیح کیا یا غلط، اس کا فیصلہ آپ کہانی پڑھ کر خود کر لینا۔ تو دوستو !! یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ جب ہمارے ہمسائے میں رہنے کے لیئے نئے کرائے دار آ ئے تھے کرائے دار تو نہیں البتہ انہیں کرائے دارنیاں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کیونکہ یہ گھرانہ ایک سندر سی خاتون کے ساتھ دو بچوں اور ایک ساس پر مشتمل تھا۔ نشیلی آنکھوں والی اس خاتون کا نام سارہ تھا جو کہ دل کش ، دل نشین اور بہت شاندار عورت تھی اس کے دونوں بچے سکول میں پڑھتے تھے جبکہ اس گھرانے کا مرد کمانے کے لیئے ملک سے باہر گیا ہوا تھا اور جس وقت کی میں بات کر رہا ہوں اس وقت اس دل کش خاتون کی عمر 34 ،33 سال کے لگ بھگ ہو گی اور دیکھنے میں وہ نری آفت تھی جہاں تک کہ اس کے جسم کا تعلق تھا تو یقین کرو دوستو وہ ایک توبہ شکن بدن کی مالکہ تھی ایسا بدن کہ جس کو دیکھ کر میرے جیسا کوئی بھی ٹھرکی پاگل ہو سکتا تھا۔ اس کا فگر اس قدر پرفیکٹ تھا کہ میرے سمیت محلے کے اکثر لوگ اس بات پر حیران ہوتے تھے کہ دو بچوں کی پیدائیش کے بعد بھی اس نے اپنے جسم کو کیسے فٹ رکھا ہوا ہے ؟ بالخصوص اس کی بھاری چھاتیاں اور بڑی سی گانڈ جسے دیکھ کر اکثر میرا لن مچل مچل جاتا تھا دیکھنے میں بڑی ہی شہوت انگیز تھی۔ چنانچہ حسب، معمول اس کے خوبصورت اور توبہ شکن جسم کو دیکھ کر۔۔۔ میں اور محلے کے اکثر لوگ اس پر سچے دل سے عاشق ہو گئے تھے ہمسائی ہونے کے ناطے میں نے اس سے راہ رسم بڑھانے کی از حد کوشش کی لیکن اس ظالم نے مجھے زرا بھی لفٹ نہ کرائی اور اردو کے ایک محاورے کے مطابق میرے سو سو طرح سے مرنے کے باوجود بھی ان لبوں نے زرا بھی مسیحائی نہ کی۔۔جس کی وجہ سے میں تو کیا محلے کے سبھی ٹھرکی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ۔۔۔ یاد آیا کہ ہمیں گھاس نہ ڈالنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی تھی کہ وہ ایک کٹر مزہبی گھرانے کی خاتون تھی چنانچہ اس پر متعدد ٹرائیاں مارنے کے بعد آخرِ کار میں اس نتیجے پر پہنچا کہ انگھور کھٹے ہیں۔ شوہر کے ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے وہ محلے میں خاصی ریزرور رہتی تھی اور لوگوں سے زیادہ گھلتی ملتی نہ تھی اسی لیئے اکثر لوگ اسے مغرور اور بدماغ سمجھتے تھے ویسے بھی اس کا سوائے ہمارے گھر کے محلے میں کہیں آنا جانا نہ تھا ۔ چونکہ سارہ کے بچے ابھی بہت چھوٹے تھے اور گھر میں کوئی مرد نہ ہونے کی وجہ سے اکثر وہ اپنے گھر کے چھوٹے موٹے کام مجھ سے ہی کروایا کرتی تھی۔ پھر ایک شام کی بات ہے کہ جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوا تو میری امی کہنے لگیں کہ بیٹا زرا سارہ کے گھر چلے جاؤ وہ تمہیں بلا رہی تھی سارہ کا نام سن کر میں نے خاصی ناگواری سے پوچھا کہ اس نے مجھے کیوں بلایا ہے ؟ تو اس پر امی کہنے لگیں کہ بیٹا ان کے واش روم کی ٹونٹی میں کوئی نقص آ گیا ہے جسے جا کر ٹھیک کر دو۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس وقت میں بہت تھکا ہوا تھا اس لیئے امی کی بات سن کر میں نے دل ہی دل میں سارہ کو ایک گالی دیتے ہوئے کہا کہ سالی دیتی تو ہے نہیں اور اوپر سے کام کا ایسے کہہ دیتی ہے جیسے کہ میں اس کا نوکر لگا ہوں ۔۔۔ مغرور کہیں کی!!! ۔ اور دوسری بات یہ کہ چونکہ مجھے خوب اچھی طرح سے معلوم تھا کہ ان تلوں میں زرا سا بھی تیل نہیں ہے اس لیئے وہاں جانے سے مجھے حاصل وصول کچھ بھی نہیں ہو گا ۔ چنانچہ میں نے امی سے صاف کہہ دیا کہ اس وقت تو میں بہت تھکا ہوا ہوں اس لیئے کل چلا جاؤں گا۔ میری بات سن کر امی نے مجھے وہاں بھیجنے کی کافی کوشش کی لیکن میں نے اپنے تھکے ہونے کی اس قدر پُر اثر اداکاری کی کہ چار و ناچار انہوں نے سارہ کے گھر اسی وقت جانے کا اصرار ترک کر دیا تاہم انہوں نے مجھے اگلے دن وہاں جانے کی پکی تاکید کر دی۔ یہ دوسرے دن کی بات ہے کہ جیسے ہی میں نے ناشتہ ختم کیا۔۔۔۔ امی نے مجھے سختی کے ساتھ سارہ کے گھر جانے کا بولا۔ چنانچہ امی کی سختی دیکھ کر میں بڑی بے دلی کے ساتھ گھر سے نکلا۔ چونکہ ہمارے ساتھ ہی سارہ کا گھر واقع تھا اس لیئے میں اس کے گھر کے سامنے پہنچ کر جیسے ہی میں اس دروازہ کھٹ کھٹانے لگا تو مجھے ایسا محسوس ہو ا کہ جیسے اس کا دروازہ کھلا ہوا ہو۔۔ چونکہ اس سے قبل بھی میں بنا دروازہ کھٹکھٹائے اس کے گھر آتا جاتا رہا تھا اس لیئے دروازہ کھلا دیکھ کر میں بنا ہچکچائے اس کے گھر میں داخل ہو گیا کہ اسے معلوم ہی ہو گا کہ میں اس کے واش روم کی ٹونٹی ٹھیک کرنے آنے والا تھا۔ ادھر جیسے ہی میں سارہ کے گھر میں داخل ہوا تو سارے گھر میں مجھے ایک عجیب سا سناٹا محسوس ہوا ۔۔ حتیٰ کہ اس کی ساس بھی نظر نہ آئی جو کہ اکثر برآمدے میں بیٹھی کوئی نہ کوئی کام رہی ہوتی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے گھر میں کوئی بھی موجود نہ ہو۔اتنا سناٹا دیکھ کر مجھے کافی حیرت اور تھوڑی تشویش بھی لاحق ہوئی اور اسی تشویش کے زیرِ اثر میں بڑی احتیاط کے ساتھ ان کے گھر کے ایک ایک کمرے کو چیک کرنے لگا ۔۔۔ کمروں کی چیکنگ کرتے کرتے جب میں سارہ کے کمرے کی طرف بڑھا تو اسی اثنا میں مجھے اس طرف سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آوازیں ۔۔جیسے کہ آہ۔۔۔اُف ف ف ف ف۔۔ اوں۔ں ں ں۔۔۔ سنائی دیں ان مست اور سیکسی آوازوں کو سن کر پہلے تو میں اسے اپنا وہم سمجھا ۔ ۔ لیکن جب دھیان لگا کر سنا تو واقعی یہ مست آوازیں سارہ کے بیڈ روم کی طرف سے آ رہیں تھیں ۔۔۔ ۔چنانچہ یہ سب جان کر میرے کان کھڑے ہو گئے۔۔ اور میں بڑے چوکنے انداز میں پنچوں کے بل چلتا ہوا سارہ کے دروازے کے پاس جا پہنچا ۔ اس کی مست اور سیکسی آوازوں کو سن کر میرا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ ہو نہ ہو بظاہر شریف نظر آنے والی سارہ ۔۔۔۔ کمرے کے اندر اپنے کسی یار کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی ہو گی چنانچہ اسے رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لیئے میں نے دروازے کے ہینڈل کو پکڑ کر تھوڑا ہلایا تو یہ دیکھ کر مجھے از حد خوشی ہوئی کہ کمرہ اندر سے لاک نہ تھا ۔۔۔ چنانچہ میں نے بڑی احتیاط کے ساتھ ہینڈل کو گھمایا۔۔۔۔ ۔۔۔ اور چپکے سے کمرے میں داخل ہو گیا ۔۔ جیسے ہی میں کمرے میں داخل ہوا تو ۔۔۔۔اپنے سامنے کا منظر دیکھ کر میں ہکا بکا رہ گیا ۔۔۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے والے پلنگ پر سارہ ننگی لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔اس کی آنکھیں بند تھیں اور اس کی بھاری بھر کم چھاتیوں پر موٹے موٹے نپلز تنے کھڑے تھے ۔۔۔۔ اس نے اپنی دونوں ٹانگیں کھولی ہوئی تھیں اور وہ اپنی پھدی میں کوئی گول سی چیز ڈالے۔۔۔۔اسے اندر باہر کرتے ہوئے سسکیاں بھر رہی تھی۔۔۔ ہائے کیا بتاؤں دوستو اس کی ابھری ہوئی چوت کے موٹے موٹے ہونٹ، سڈول لمبی ٹانگیں ، گول اور موٹی رانیں اور ان رانوں کے بیچوں بیچ ایک زبردست سی چوت ۔۔کیا مست مال تھا یار ۔۔۔۔ ۔۔سارہ کو اس حالت میں دیکھ کر میرے منہ میں پانی ۔۔۔اور شلوار میں اک ہلچل سی مچ گئی ۔ ۔۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے میرے لن کے اندر سے شہوت کی ایک لہر سی اُٹھی ۔۔۔۔جو کہ میرے سارے بدن میں پھیل گئی جس کے نتیجے میں میرا لن اپنے جوبن میں آ کر فل کھڑا ہو گیا چنانچہ میں نے اس کو اپنی شلوار کے اوپر سے ہی پکڑا ۔۔اور اسے سہلاتے ہوئے ۔۔۔ سارہ کے ننگے جسم کا نظارہ کرنے لگا ۔اس وقت میرا لن آخری حد تک کھڑا تھا اور اس کے شاندار سیکسی اور ننگے بدن کو دیکھ دیکھ کر میں گرم سے گرم تر ہوتا جا رہا تھا ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا کروں؟ پھر سارہ کی طرف دیکھتے ہوئے میں چپکے سے آگے بڑھا۔ اور ایک نظر کمرے کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔ تو دیکھا کہ پلنگ کے ساتھ ہی صوفے پر اس کی شلوار قمیض اور برا پڑی تھی اور اس کے ہاتھ میں جو گول سی لکڑی تھی اس پر ایک سفید رنگ کا شارپر چڑھا ہوا تھا اور وہ شارپر ٹیوب لائیٹ میں روشنی میں بہت چمک رہا تھا ۔۔۔ پلنگ کے پاس ہی تپائی پر سرسروں کے تیل کی ایک بوتل بھی موجود تھی جبکہ سارہ ابھی تک لکڑی کے اس ٹکڑے کو اپنی چوت میں لیئے اندر باہر کر تے ہوئے بڑے ہی دل کش انداز میں سسکیاں بھر رہی تھی آہ ہ ہ ۔۔۔اوہ ہ ہ۔۔۔مم۔۔۔ اُف ف ف جیسی سیکسی آوازیں سن کر میرے اندر بھی جوش بھر رہا تھا ۔۔۔۔ ابھی میں اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑے سوچ ہی رہا تھا کہ اب میں کیا کروں؟؟؟ کہ اچانک ہی سارہ نے اپنی آنکھیں کھولیں اور ۔۔۔۔پھر مجھے اپنے سامنے دیکھ کر خوف۔۔۔ حیرت ۔۔۔اور ڈر کے مارے ایک زور دار چیخ ماری۔ اور اگلے ہی لمحے اس نے بڑی تیزی کے ساتھ اپنی ٹانگوں کو بند کر کے چوت کو چھپا لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔اور ساتھ ہی اپنی بھاری چھاتیوں کو دونوں ہاتھوں سے ڈھک لیا لیکن دونوں ہاتھ چھاتیوں پر رکھنے کے باوجود بھی ۔۔۔۔۔ اس کی بڑی بڑی چھاتیوں چھپائے نہ چُھپ رہیں تھیں ۔۔ یہ سب کرنے کے بعد ۔۔۔۔اگلے ہی لمحے اس نے شعلہ برساتی آنکھوں سے میری طرف دیکھا ا ور چلا کر بولی ۔تت تم؟؟؟؟؟؟؟؟ اندر کیسےآ گئے ؟؟؟؟؟؟۔ دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس موقع پر وہ مجھے کیا کہے؟ ۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف اس کی چیخ و پکار کو نظر انداز کرتے ہوئے۔۔۔۔میں ویسے کا ویسا کھڑا ۔۔۔ اس کے شاندار جسم کو گھور رہا تھا۔۔۔مجھے اس طرح کھڑے دیکھ کر وہ غصے میں آگ بگولہ ہو گئی اور نفرت بھرے لہجے اپنی انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ گیٹ آؤٹ۔۔ابھی اور اسی وقت ۔باہر نکل جاؤ۔۔۔تم نے مم میرے کمرے میں آنے کی ہمت کیسے کی؟ تمہیں کوئی تمیز نہیں کہ ۔۔۔۔کسی کے گھر میں کیسے جانا ہوتا ہے؟ اس کی آنکھوں میں حیرت غم اور نفرت کے سائے دم بدم شدید سے شدید تر ہوتے جا رہے تھے اور وہ چیختے ہوئے مسلسل مجھے گالیاں دیئے جا رہی تھی جب اس نے دیکھا کہ مجھ پر اس کی چیخ و پکار کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ۔۔۔تو پھر اچانک ہی وہ بستر سے اُٹھی اور کسی بھوکی شیرنی کی طرح مجھ پر پل پڑی ۔۔۔ اور مجھے دھکے دیتے ہوئے بولی ۔۔ بہن چود !!! ۔۔۔۔۔ مادر چود !! سالے سؤر دفع ہو جاؤ۔۔ سارہ کا رویہ دیکھ کر میرا لن تو کب کا بیٹھ چکا تھا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں؟ اور اس کے باوجود کہ اس کے ننگے بدن کو دیکھ کر مجھ پر چھا جانے والی ہوشیاری کب کی دم توڑ چکی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ سارہ کا رویہ دیکھ کر مجھے اپنی تزلیل کا شدید احساس ہو رہا تھا اور اس کا نفرت بھرا لہجہ اور گالیاں سن سن کر اب مجھے بھی غصہ آنا شروع ہو گیا تھا۔ پھر اسی دوران اس نے مجھے ایک ذور دار دھکہ دیا اور چلاتے ہوئے بولی۔ ۔۔۔کتے کمینے حرامزادے ۔۔۔باہر نکلو یہاں سے ۔۔۔اور آج کے بعد میرے گھر میں قدم بھی نہیں رکھنا !!!!!!!!!!۔۔ میں تمہاری امی سے شکایت لگا کر تمہیں گھر سے نکلوا دوں گی ۔۔ وہ ہزیانی میں چیختے ہوئے مسلسل مجھے مسلسل گالیاں دیئے جا رہی تھی ۔۔۔ اسی وقت میرے دل میں خیال آیا کہ یہ کیسی گشتی عورت ہے سالی ۔۔ لکڑی چوت میں لیئے مزے خود کر رہی تھی اور چیخ مجھ پر رہی ہے یہ سوچتے ہی میرے اندر غصے کی ایک شدید لہر اُٹھی ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی مجھے خود پر کنٹرول نہ رہا چنانچہ اس سے قبل کہ وہ مجھے کچھ اور کہتی۔۔۔۔۔ میں نے اس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا۔۔تھپڑ کھاتے ہی وہ تیورا کر پلنگ پر جا گری ۔۔ اسے پلنگ پر گرتے دیکھ کر میں بھی جمپ مار کر پلنگ پر جا چڑھا ۔۔اور اسے دھکہ دے کر بستر پر لٹا دیا۔۔۔۔۔۔ ۔ اسے پلنگ پر لٹا کر میں نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔۔۔تو میری نظر صوفے پر جا پڑی جس پر کہ اس کے کپڑے پڑے ہوئے تھے۔۔۔ چنانچہ میں نے ہاتھ بڑھا کر صوفے پر پڑی شلوار کو اُٹھایا اور اس میں سے آزار بند نکال لیا۔۔ اور پھر میں نے اس نالے (آزار بند) کے ساتھ اس کے دونوں ہاتھوں کو سختی کے ساتھ باندھا ۔۔۔۔ اور نالے کا دوسرا سرا پلنگ کے ساتھ باندھ دیا۔۔۔اپنے دونوں ہاتھوں کو بندھواتے وقت سارہ نے خاصی مزاحمت کی اور اس مزاحمت بلکہ دھیگا مشتی کے دوران میرا لن بار بار اس کی نرم رانوں اور چوتڑوں کے ساتھ ٹچ ہوتا رہا جس کا نقد نتیجہ یہ نکلا کہ۔۔ اس کی نرم نرم رانوں کے ٹچ اور ننگی چھاتیوں کو دیکھ دیکھ کر ۔۔۔ میرا لن ایک بار پھر سے کھڑا ہونا شروع ہو گیا جبکہ دوسری طرف ہاتھ بندھے ہونے کے باوجود بھی وہ مجھ پر ویسے ہی برس رہی تھی۔۔
  3. شکریہ سٹوری میکر جی لیکن اس میں کچھ انسیسٹ بھی ہے تو کیا ایڈمن اس کی اجازت دے دے گا؟ اور ہاں یہ پلوشہ ہے
  4. ۔۔۔ یہ کہتے ہی وہ بستر سے اُٹھی ۔۔۔اور میرے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔ پتہ نہیں وہ کب آئے گا۔۔۔۔میں۔۔۔ میں اسے 'چھوت" میں لینے لگی ہوں ۔۔۔تو اس پر میں نے اس سے کہا اوکے۔۔۔ تم نیچے آؤ۔۔ میں اوپر آ کر تمہیں چودتا ہوں تو میری بات سن کر وہ کہنے لگی۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔مجھے تھری سم کرنا ہے اس لیئے تم نیچے لیٹے رہو۔۔۔ میں تمہارے ڈک کو اپنی چھوت میں لے کر اوپر لیٹوں گی ۔۔ جبکہ حمزہ آکر پیچھے سے میری ایس( گانڈ) میں اپنا لن ڈالے گا اتنی بات کرتے ہی وہ ایک دم چونک کر بولی۔۔۔اوہ مائی۔۔۔۔ کریم تو میں بھول ہی گئی ۔۔ اس کے بعد وہ تیزی سے اُٹھی اور سامنے پڑے ڈریسر کی ایک خفیہ خانے سے ایک کریم نکالی اور اسے اچھی طرح سےاپنی گانڈ کے اندر باہر ملنے لگی یہ دیکھ کر میں اس سے بولا کہ ۔۔۔رہنے دو حمزہ خود ہی لگا لے گا۔۔تو وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔ کیا پتہ نہ لگائے۔پھر کہنے لگی ویسے میں یہ کام وقت بچانے کے لیئے کر رہی ہوں۔۔۔۔اس کے بعد اس نے اپنی گانڈ کے اندر تک کریم لگائی ۔۔اور پھر بیڈ پر آ گئی۔۔۔ اور میرے اکڑے ہوئے لن کو دیکھتے ہوئے اس نے ایک نظر دروازے کی طرف ڈالی اور وہاں پر حمزہ کو نہ پا کر بولی۔۔۔ میں اسے چھوت میں لینے لگی ہوں ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ میرے اوپر آ اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کو آخری حد تک کھولا ۔۔۔۔اور پھر میرے لن کی سیدھ میں اپنی ' چھوت ' کو رکھ کر بولی۔۔۔ میری" چھوت" بہت ٹائیٹ ہے تم کو بڑا مزہ ملنے والا ہے یہ کہتے ہی وہ نیچے جھکی اور میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنی پھدی کی سیدھ میں لے آئی۔۔ اور پھر اپنی گرم اور گیلی پھدی کو میرے لن پر رکھ کر دھیرے دھیرے اسے اپنے اندر لینے لگی۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤو۔۔۔ اس کی چھوت واقعی ہی بڑی تنگ اور بہت گیلی تھی۔۔۔ میرا لن پھنس پھنس کر اس کے اندر جا رہا تھا۔۔۔۔ جب سارا لن اس کی چھوت میں چلا گیا ۔۔تو پھر اس نے میری طرف دیکھا ۔۔اور کہنے لگی۔۔ کیوں ۔۔۔ میری چھوت تنگ ہے نا۔۔۔ تو آگے سے میں نے سر ہلادیا۔۔۔۔ اور وہ میرے لن پر آہستہ آہستہ اُٹھک بیٹھک کرنے لگی۔۔۔ اسی اثنا میں حمزہ بھی کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔۔اور آگے ساتھ ہی کہنے لگا ۔۔۔سوری گائیز۔۔۔۔۔ کچھ ضروری کالز کی وجہ سے میں لیٹ ہو گیا۔۔۔ تو آگے سے روشا کہنے لگی ۔۔ جلدی سے آکر میری بیک ڈور میں لن ڈال دو۔۔۔ تو اس کی بات سن کر حمزہ بیڈ پر چڑھتے ہوئے بولا۔۔۔ ابھی لو میری جان ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی وہ بیڈ پر چڑھ کر روشا کے گانڈ کے عین پیچھے گھٹنوں کے بل کھڑا ہو کر اس س بولا۔۔۔ آئی تھنک تم نے پہلے ہی کریم سے گانڈ کو چکنا کر لیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ٹوپے کوتھوک سے تر کیا ۔۔۔۔اور پھر اسے روشا کی گانڈ پر رکھ کر بولا۔۔۔۔ ریڈی ڈارلنگ ۔۔۔ میں اندر ڈالنے لگا ہوں۔۔ تو آگے سے روشا سسکی لیتے ہوئے بولی۔۔۔۔ یس ۔۔ انٹر کر دو۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی حمزہ نے اپنے لن کو تھوڑا دھکا لگایا اور گانڈ چکنی ہونے کی وجہ سے اس کا لن پھسل کر روشا کی گانڈ میں اتر گیا۔۔۔ جیسے ہی حمزہ کا لن روشا کی گانڈ میں اترا تو اسی وقت مجھے اپنے لن پر اس کے لن کی رگڑ محسوس ہوئی۔تھوڑا سا غور کرنے پر پتہ چلا کہ روشا کی چوت اور گانڈ کے درمیان ایک باریک سی جھلی تھی جس میں سے لن اندر باہر ہوتا ہوا صاف محسوس ہو رہا تھا۔ ادھر جیسے ہی حمزہ کا سارا لن روشا کی گانڈ میں اتر ا تو اسی وقت روشا نے ایک سسکی لی اور لزت انگیز لہجے میں بولی۔۔۔۔ ڈریم کم ٹرو۔۔۔۔آج میں نے بھی ایک ساتھ دو لن اپنے اندر لے لیئے۔۔ ۔ اس وقت وہ ہم دونوں کے درمیان سینڈوچ بنی اپنی گانڈ اور چو ت میں دو دو لن لیئے انجوائے کر رہی تھی۔۔۔۔ جب وہ حمزہ سے مخاطب ہو کر بولی۔۔۔ تھینک یو ڈارلنگ تم نے میری ایک بہت بڑی وش کو پورے کرنے میں مدد دی۔اٹس رئیلی فن ۔ اور پھر اس سے شہوت بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔۔ نیچے والا تو اتنی زور سے گھسے نہیں مار سکتا ۔۔۔لیکن تم تو آذاد ہو ۔۔۔اس لیئے ڈارلنگ آج زبدرست طریقے سے میری گانڈ چودو۔۔۔ اور اس کی بات سن کر حمزہ نے گھسے مارنے شروع کر دیئے۔۔حمزہ کے ہر گھسے پر روشا کی پھدی اپنے آپ ہی کھل بند ہو جاتی ۔۔اور اس کھل بند ہونے کے عمل میں اس کی پھدی پانی بھی چھوڑتی جا رہی تھی۔۔۔۔ میں نے اندازہ لگایا کہ روشا ٹھیک کہہ رہی تھی اس کی پھدی معمول سے کچھ زیادہ ہی پانی چھوڑ رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔ حمزہ سے گانڈ مروانے کے کچھ ہی دیر بعد ۔۔۔ روشا چلا کر بولی۔۔۔۔ سٹاپ۔۔اٹ۔۔۔ تو حمزہ گھسے مارتے ہوئے بولا ۔۔۔ کیا ہوا ڈارلنگ ۔۔۔۔ توآگے سے روشا کہنے لگی۔۔۔ تم دونوں پوزیشن چینج کرو ۔۔۔۔ روشا کی بات سنتے ہی حمزہ نے کھیچ کر اپنے لن کو گانڈ سے باہر نکالا اور پھر ایک طرف کھڑا ہو گیا۔۔۔ حمزہ کے لن نکالتے ہی روشا بھی میرے لن سے اوپر اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔ یہ دیکھ کر فوراً ہی میری جگہ حمزہ لیٹ گیا۔۔۔اور اسی ترتیب سے روشا ۔۔۔ اس کے اوپر گئی ۔۔اور حمزہ کے لن کر پکڑ کر اپنی گرم گرم پھدی میں ڈال لیا۔۔۔ اور پھر اپنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے بولی۔۔۔کم ڈارلنگ۔۔۔ روشا کا اشارہ پا کر حمزہ کی طرح میں بھی گھٹنوں کے بل روشا کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔۔۔ اور اس کی بم کے دونوں پٹ کھول کر دیکھے تو سامنے ہی اس کی گانڈ کا سوراخ نظر آ گیا۔۔۔ چنانچہ میں نے اپنے تھوک سے لن کو خوب اچھی طرح چکنا کیا۔۔۔۔اور پھر روشا کی گانڈ مارنے کے لیئے جیسے ہی اپنا لن اس کے سوراخ پر رکھا ۔۔۔تو عین اسی وقت روشا نے پیچھے مُڑ کر میری طرف دیکھا ا س وقت اس کی آنکھیں شہوت کے زیرِاثر بڑی نشیلی ہو رہی تھیں۔۔۔ اور اس کی انکھوں میں جنسی طلب کے لال ڈورے صاف دکھائی دے رہے تھے۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اس وقت روشا نے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔اور سیکس کے نشے میں دھت ہو کر بولی۔۔ ۔۔۔۔۔ شاہ جی صرف میری گانڈ ہی نہیں مارنی۔۔۔بلکہ مجھے ہرٹ کرنا ہے۔۔۔ پھر سیکسی آواز میں بولی۔۔۔ مجھے ایسے چود کہ میں ہرٹ ہو جاؤں ۔۔۔ میری گانڈ کو پھاڑ کے رکھ دینا۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں سمجھ کہ اس وقت بھٹی بہت گرم ہے اس لیئے روشا کو زرا وکھرے طریقے سے چودنا چاہیئے یہ سوچتے ہی میں نے اپنے لن کو روشا کی گانڈ پر ایک خاص اینگل پر رکھا ۔۔اور اسے بنا بتائے۔۔۔۔ ایک زور دار دھکہ مارا۔۔۔۔تو میرا اس سے میرا لن روشا کی گانڈ کی دیوار سے بری طرح رگڑ کھاتا ہوا۔۔۔۔اس کے اندر چلا گیا۔۔۔ جیسے لن روشا کی گانڈ میں گیا۔۔۔اس نے ایک زور دار چیخ ماری ۔۔ آآآآؤؤؤؤؤچ چ چ چ چ چ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میں سمجھ گیا کہ اس اینگل سے لن اندر ڈالنے سے روشا کو لزت آمیز قسم کا مزہ ملتا ہے۔۔۔اس لیئے میں نے اسی اینگل سے نہ صرف اسے چودنا شروع کر دیا۔۔۔ بلکہ گھسے مارتے ہوئے اس سے بھی اس کی گانڈ پھر تھپڑ مارتا۔۔۔۔ اور وہ چیخ مار کر کہتی۔۔۔فک می ہارڈ۔۔۔۔ یس۔۔۔یسس۔۔ہرٹ می پلیززززز۔۔۔اور جب وہ ہرٹ می کہتی تو میں پہلے سے بھی زیادہ زور سے گھسا مارتا ۔۔۔اور اس سے بھی زیادہ زور سے اس کی گانڈ پر تھپڑ مارتا ۔۔۔اور یہ بعد میں مجھے حمزہ نے بتایا کہ اسی دوران وہ بھی اس کے بریسٹ کر ہاتھ مین پکڑ کر انہیں بری طرح سے مسلتا تھا۔۔اور جتنا ہو سکتا ہے وہ بھی نیچے سے روشا کو گھسے مارتا تھا۔۔۔ اسی وجہ سے تھوڑی ہی دیر بعد ۔۔۔ روشا زور زور سے چلانا شروع ہو گئی۔۔۔او بےب۔۔۔ یو ہرٹ می۔۔۔۔آہ ۔۔۔یس۔۔۔۔ میری چھوت۔۔۔۔ آہ میری چھوت۔۔۔۔ یہ سن کر میں سمجھ گیا کہ مس روشا اپنی پیک پر پہنچ گئی ہے ۔۔۔اور اگلے دو چار گھسوں کے دوران وہ چھوٹ جائے گی۔۔۔ اور میرا اندازہ درست نکلا ۔۔۔۔ ہم دونوں کے بیک وقت پاور فل گھسوں ۔۔۔۔ اس کی گانڈ پر تھپروں کی بارش۔۔۔اور اس کی چھاتیاں مسلنے کے اگلے دو چار گھسوں کے بعد ہی ۔۔۔۔ ہم دونوں کے بیچ سینڈوچ بنی روشا۔۔۔۔لذت آمیز سسکیوں کے درمیان ۔۔۔۔ نان سٹاپ چلانا شروع ہو گئی۔۔او فک۔۔ف۔۔ف۔ف۔۔فک ۔۔۔ ہرٹ می۔۔ اور یہی بات کہتے کہتے اچانک ہی روشا کا جسم مسلسل جھٹکے کھانے لگا۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کی چیخوں میں ہرٹ ہونے سے زیادہ لذت کا عنصر نمایاں ہونا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔ اور روشا کی لذت آمیز ۔۔چیخوں کو سن کر میں اور حمزہ بھی چھوٹنے کے قریب ہو گئے۔۔۔۔اور پھر آخری آخری گھسے کہ جنہیں پرانے لوگ حاصلِ چودائی کہتے ہیں اور جن کا اپنا ایک الگ ہی مزہ ہوتا ہے مارنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بائی چانس۔۔۔ہم تینوں ایک ساتھ ہی چھوٹنا شروع ہو گئے۔ فارغ ہونے کے بعد بیڈ پر ہم تنیوں ایک ساتھ لیٹنے کے بعد ہانپنے لگے اور جب ہمارے سانس کچھ بحال ہوئے۔۔۔ تو سب سے پہلے روشا بیڈ سے اُٹھی۔۔۔اور ہم بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ اسے اُٹھتا دیکھ کر میں نے اس سے پوچھا۔۔۔مس روشا ہمارا تھری سم آپ کو کیسا لگا۔۔۔۔؟؟ تو وہ میری طرف دیکھ کر بڑی ہی خوشی سے بولی۔۔۔۔ اٹس آمیزنگ یار۔۔۔۔ ۔۔۔واٹ ۔۔آ فک ۔۔۔۔واٹ آ فک۔۔۔۔۔۔۔۔ واٹ آ ۔۔فن یار ۔۔۔۔اس کے بعد ہم نے روشا کے ساتھ ایک دفعہ اورتھری سم گیا۔۔ ۔ جس کی وجہ سے وہ پوری طرح شانت ہو گئی۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود بھی اس نے میرے ساتھ ون او ون سیکس بھی کیا۔۔۔۔ اس طرح شام کو جب ہم واپس حمزہ کے گھر کی طرف آ رہے تھے اور روشا بہت چہک رہی تھی اس وقت باہر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے۔۔۔اور خلافِ توقع لاہور کا موسم بہت اچھا ہو رہا تھا۔۔۔فرنٹ سیٹ پر بیٹھی روشا نے اچانک ہی کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا۔۔۔اور کہنے لگی۔۔۔ کتنا اچھا موسم ہے؟ تو آگے سے حمزہ کہنے لگا۔۔۔ یہ موسم تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ان دونوں تو اصل موسم مری کا ہوتا ہے حمزہ کی بات سن کر اچانک ہی روشا اچھل پڑی اور کہنے لگی۔۔۔بڑے دن ہو گئے مری نہیں گئے۔۔۔تو آگے سے حمزہ جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ ایسا کرتے ہیں کہ کل شاہ کو پنڈی بھی چھوڑ دیں گے اور ہم دونوں مری کا چکر لگا آئیں گے۔۔۔ تو اس پر روشا آنکھیں نکالتے ہوئے بولی۔۔ شاہ کو پنڈی نہیں ہمارے ساتھ مری جانا ہو گا۔۔ اور پھر بیٹھے بیٹھے بات ڈن ہو گئی۔۔۔ چنانچہ اگلے دن جب ہم مری کے لیئے روانہ ہوئے تو کلر کہار کے قریب پہنچ کر میرے خڑوس باس کا فون آ گیا۔۔۔ جس میں کسی ایمر جنسی کی وجہ سے مجھے ارجنٹلی آفس جانا پڑا تھا۔۔۔ مرتا کیا نہ کرتا ۔۔ چنانچہ چاہنے کے باوجود بھی۔۔۔ میں ان کے ساتھ مری نہ جا سکا اور چار و نچار وہ مجھے پنڈی اتار کے مری کی طرف روانہ ہو گئے۔۔ ۔ ختم شد
  5. جس وقت روشا میرے منہ میں اپنی زبان ڈالے بڑے مزے سے چسوا رہی تھی عین اسی وقت تھوڑی دور کھڑا حمزہ بھی روشا کی بیک سائیڈ پر آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔اور اس کی ننگی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگا جبکہ دوسری طرف میں مسلسل روشا کی ذائقہ دار زبان کو چوسے جا رہا تھا ۔۔ پھر کچھ دیر تک اس کی زبان چوسنے کے بعد میں نے اس کے منہ سے اپنا منہ ہٹایا اور پھر۔۔۔۔۔۔اس کے لال لا ل گالوں کو چومنا شروع ہو گیا جبکہ عین اس وقت روشا کے پیچھے کھڑا حمزہ اس کی گردن پر کس کر رہا تھا ۔ ہم دونوں کی بیک وقت کسنگ کرنے سے روشا کے منہ سے لذت آمیز سسکیاں نکلنا شروع ہو گئیں۔۔۔ اور ہم دونوں اس کے منہ سے نکلنے والی۔۔۔۔ ان سیکس سے بھر پور سسکیوں کو انجوائے کرتے ہوئے روشا کے جسم کے ایک ایک سینٹی میٹر کو چومے جا رہے تھے ۔۔ پھر اس کے لال لال گالوں کو مزید لال کرنے ۔۔۔۔اور انہیں۔۔۔۔اچھی طرح چومنے اور چاٹنے کے بعد میں آہستہ آہستہ نیچے کی طرف آنا شروع ہو گیا ۔۔اور اس کے ہونٹوں کو چومنے کے بعد میں نے روشا کے شولڈر ز کو چومنا شروع کر دیا۔۔۔ شولڈرز کو چومتے ہی اس کے منہ سے ایک تیز سسکی نکلی ۔۔۔ ۔۔ اور وہ کہنے لگی۔۔۔او ۔یس ۔۔ مائی لو۔۔۔تم دونوں ایسے ہی میری باڈی پر کسنگ کرتے جاؤ۔۔شولڈرز کو چومنے کے بعد میں تھوڑا اور نیچے کی جانب آیا ۔۔اور روشا کی ایک چھاتی کو پکڑ کر اس کے اکڑے ہوئے نپل کو اپنے منہ میں ڈال کر چوسنے لگا۔۔۔۔۔ عین اسی وقت حمزہ بھی گھوم کر روشا کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔۔۔ اور میری طرح اس نے بھی روشا کی دوسری چھاتی کو اپنے ہاتھ میں پکڑا ۔۔۔۔اور اس کی شہوت کی وجہ سے اکڑے ہوئے نپل کر اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔ اور اب ہم دونوں بیک وقت روشا کی دونوں چھاتیوں کو مزے لے لے کر چوس رہے تھے اور وہ اس مزے سے بے حال بڑی مست آواز میں ۔۔۔۔ سسک رہی تھی ۔۔ اس طرح ہم دونوں کافی دیر تک روشا کی فینٹاسٹک چھاتیوں کو چوستے رہے۔۔ آخر کچھ دیر بعد اس نے مجھے بالوں سے پکڑا۔۔۔اور سیکس سے بھر پور لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ ۔۔۔اسے چھوڑو۔۔۔۔۔اور میری چھوت چوسو۔۔۔کیونکہ شی نیڈ دس۔۔۔۔یہ کہتے ہی اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کو کھول دیا ۔۔۔ جس سے اس کی چوت نمایاں ہو کر سامنے آ گئی۔۔ یہ دیکھ کر میں قالین پر اکڑوں بیٹھ گیا ۔۔۔اور حسبِ عادت اس کی لیکڈ چوت پر اپنی ناک رکھ دی۔۔ روشا کی چوت سے ایک عجیب سی مہک آ رہی تھی ایک ایسی نشہ آور مہک کہ جسے سونگھ کر میرے جیسا ٹھرکی بندہ مدہوش ہوا جا رہا تھا۔۔۔ ادھر جس وقت میں نے اپنا منہ روشا کی گرم 'چھوت' پر رکھا تھا عین اسی وقت حمزہ دوبارہ گھوم کر روشا کی بیک سائیڈ پر چلا گیا ۔۔۔اور اس کی گانڈ کو چومنا۔۔ چاٹنا شروع کر دیا۔۔ جبکہ دوسری طرف میں بھی اس کی چوت سے نکلنے والی سحر انگیز مہک سے لطف اندوز ہونے کے بعد ۔۔اس کی گیلی گیلی چوت کو چاٹنا شروع ہو گیا ۔۔۔ بیک وقت چوت اور گانڈ چٹوانے کی وجہ سے ۔۔۔مارے لذت کے روشا کی حالت غیر ہونا شروع ہو گئی۔۔۔۔اور ہمارے اس عمل سے پہلے کی نسبت اس کے منہ سے بہت تیز تیز سسکیاں نکلنا شروع ہو گئیں۔۔۔ اور وہ بے اختیار چیختے ہوئے بولی او۔۔یس۔۔۔۔مائی لورزززززز ۔۔۔۔ سک مائی پُوسی۔۔۔۔ لِک مائی ایس۔۔اوں۔۔اوں او یس۔۔۔۔۔یس۔سس۔س۔س۔ ۔۔ بیک وقت چوت اور گانڈ کو چاٹنے کے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ہم دونوں نے باہمی رضا مندی کے ساتھ اپنی اپنی جگہیں تبدیل کر لیں۔۔۔ اور اس طرح میں روشا کے پچھواڑے اکڑوں بیٹھا اس کی گول گول گانڈ کو چوم رہا تھا ۔۔جبکہ روشا کی دونوں ٹانگوں کے عین درمیان میں بیٹھا۔۔۔۔۔ حمزہ اس کے پھولے ہوئے۔۔۔ دانے پر زبان رکھے اسے مسلسل چاٹے جا رہا تھا۔اور روشا اپنی ٹانگوں کو آخری حد تک کھولے۔۔۔آنکھیں بند کیئے۔۔۔حسبِ معمول لذت آمیز سسکیاں لیئے جا رہی تھی۔۔۔ ابھی ہم یہ۔۔۔ کاری کرم کر ہی رہے تھے کہ اچانک سامنے والی ٹیبل پر پڑے سیل کی گھنٹی بجی۔۔۔ اور ہم سب نے چونک کر اس ٹیبل کی طرف دیکھا کہ جس پر سیل فون پڑا ۔۔۔ چیخ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے فون کی گھنٹی سن حمزہ یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا کہ۔۔۔۔کیری آن گائیز ۔۔۔ اٹس۔۔ مائی فون ۔ لیکن ہم ویسے ہی کھڑے رہے ۔۔۔اسی اثنا میں حمزہ نے اپنا سیل فون اُٹھایا اور چونک کر بولا ۔۔ارے یہ تو پاپا کا فون ہے۔۔پھر ہمیں اپنا کام جاری رکھنے کا بول کر اس نے اپنے سیل فون کو آن کیا ۔۔۔اور اسے ا پنے کان کے لگا کے ساتھ کر۔۔۔ ننگا ہی باہر نکل گیا۔۔۔ حمزہ کے باہر نکلتے ہی میرے کانوں میں روشا کی مد بھری آواز سنائی دی کہ ۔۔ شاہ جی ! فرنٹ پہ آ جاؤ ۔اور میں اس کے کہنے پر وہاں سے اُٹھ کر اس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔۔۔ کچھ دیر تک ہم ایک دسرے کو شہوت بھری نظروں سے دیکھتے رہے۔۔۔۔جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اس دیکھنے کے انداز میں بھی ایک نشہ تھا ۔۔۔ایک ایسا نشہ کہ جسے صرف وہی بندہ محسوس کر سکتا ہے کہ جس کے سامنے سیکس بمب کھڑی۔۔۔ اسے لگاوٹ ۔۔۔محبت۔۔۔۔ہوس۔۔۔اور شہوت بھری نطروں سے دیکھ رہی ہو ۔۔۔ اسی دوران میں نے اس سے پوچھا دو بندوں کے ساتھ سیکس کا تجربہ کیسا لگ رہا ہے؟ تو وہ کہنے لگی جیسا کہ میرا اندازہ تھا ۔۔ یہ بہت زبردست اور تھرلنگ کام ہے اور پھر نیچے کی طرف اشارہ کر کے بولی ۔۔۔ کہ میری چھوت اتنی کبھی بھی اتنی لیک نہیں ہوئی ۔۔۔کہ جتنی آج تم دونوں نے صرف فور پلے کر کے ۔۔۔۔کر دی ہے۔۔۔پھر میرے لن کی طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔۔ ابھی ہم نے صرف اوورل کیا ہے ۔۔اور مجھے اتنا مزہ آیا ہے۔۔کہ میری چھوت پانی سے بھر گئی ہے۔۔۔۔ سوچو جب دو مانسٹر ڈک اکھٹے میرے اندر جائیں گے تو اس وقت میری لزت کا عالم کیا ہو گا؟؟ اٹس ریئلی فن۔۔۔۔۔ اسی دوران اس کی نظر میرے اکڑے ہوئے لن پر پڑ گئی۔۔۔۔تو وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ جب تک حمزہ نہیں آتا ۔۔۔ میں تمہارے ڈِک کو سک کرتی ہوں ۔۔۔ یہ کہتے ہی وہ پاس پڑے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔اور میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بولی۔۔۔۔آئی۔۔۔لو ۔۔۔یور ۔۔ ڈک ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی اس نے منہ کھولا ۔۔۔اور لن کو ۔۔اپنے منہ میں ڈال کر ۔۔۔ حسبِ معمول اسے سلو موشن میں چوسنے لگی۔۔۔اور میں بڑے اشتیاق کے ساتھ اسے لن چوستے ہوئے دیکھنے لگا۔۔۔ لیکن پھر۔۔ دو تین چوپے لگانے کے بعد ۔۔۔اس نے میرے لن کو اپنے منہ سے باہر نکالا اور ۔۔ اپنی دونوں ٹانگیں بیڈ کے اوپر کرتے ہوئے بولی۔۔۔تم بھی ادھر آ جاؤ۔۔۔اور جب میں اس کے پاس بیڈ پر پہنچا تو۔۔۔ اس نے مجھے لیٹنے کو کہا۔۔۔۔ اور ا س کے کہنے پر میں فوراً ہی لیٹ گیا۔۔۔۔ مجھے لیٹا دیکھ کر وہ میرے پاس آئی ۔۔۔۔اور میرے ساتھ کسنگ کرتے ہوئے بولی۔۔۔ہوس بھرے لہجے میں بولی۔۔ آئی لو یو ڈارلنگ۔۔۔ پھر میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر کہنے لگی ۔۔۔اینڈ آئی لو دِس ٹو مچ ۔ اور اس کے ساتھ ہی میرے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع ہو گئی۔۔۔ پھر کچھ دیر چوسنے کے بعد ۔۔۔ وہ اوپر اُٹھی ۔۔۔۔اور دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ حمزہ کی کال کچھ زیادہ ہی لمبی ہو گئی ہے۔۔تو میں نے اس سے کہا کہ کوئی ضروری بات ہو گی۔۔۔۔ ابھی واپس آ جائے گا تو وہ جواب دیتے ہوئے بولی ۔۔۔اس بات کا تو مجھے بھی پتہ ہے۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔ تم کو اندازہ نہیں کہ میں تھری سم کے لیئے کس قدر بے چین ہو رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
  6. روشا کی بات سن کر مجھے ایک دم سے ہوشیاری چڑھ گئی۔۔ اور اس وقت میرا دل چاہا کہ میں ابھی اور اسی وقت ننگا ہو کر اس کی پھدی کو چیر پھاڑ دوں ۔۔ ۔۔۔۔ لیکن پتہ نہیں کیوں ۔۔۔ میں ایسا کرتے ہوئے تھوڑا جھجک سا گیا ۔۔۔۔۔۔اور اسی دوران میں نے ایک نظر حمزہ کی طرف دیکھا تو وہ بڑی بے تکلفی کے ساتھ اپنے کپڑے اتار رہا تھا۔۔ چنانچہ اسے ننگا ہوتے دیکھ کر میں نے بھی دل ہی دل میں ایک نعرہء مستانہ لگایا ۔۔۔جانے دے استاد ڈبل اے۔۔۔ اور پھر بنا ادھر ادھر دیکھے میں نے اپنے سارے کپڑے اتار دیئے۔۔۔ ۔ ادھر جب ہم دونوں ننگے ہو کر روشا کے سامنے کھڑے ہوئے تو وہ ہم دونوں کو ننگا دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔۔ یہ ہوئی نا بات ۔۔ ۔۔ جس وقت روشا ہمارے ساتھ یہ بات کر رہی تھی ۔۔۔۔تو اتفاق سے اس وقت اس کے جسم کا فرنٹ پورشن بلکل میرے سامنے تھا۔۔۔۔ اور میں اس کے دودھ اور شہد سے بنے جسم کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔ جو بالوں سے بلکل پاک تھا۔۔۔۔۔ ۔ شولڈر کٹ بالوں کے ساتھ وہ عجب حسینہ ننگی کھڑی بڑا ہی غضب ڈھا رہی تھی۔۔ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کسی سنگ تراش کا ترشا ہوا کوئی مجسمہ ہو۔۔۔اس کو یوں ننگا کھڑا دیکھ کر میں اپنی آنٹیوں اور گلی محلوں کی لڑکیوں کے بارے میں سوچنے لگا بلاشہ ان میں سے کچھ تو حسیں ۔۔۔۔۔اور کچھ بے حد حسیں ہو ں گی۔۔۔ لیکن ان سے کے سامنے اس اپر کلاس حسینہ کی بات ہی کچھ اور تھی۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ سوچ کر مجھ میں ایک عجیب سی مستی چھا ئے جا رہی تھی ۔۔۔۔ کہ کچھ دیر بعد میں۔۔اس دودھ اور شہد سے گندھی سکیس کی دیوی کو چودنے والا ہوں۔۔۔۔ میں نے دیکھا کہ روشا کی چھاتیاں بناوٹ میں گول تھیں۔ جو کہ اس کے جسم پر بڑی بھلی لگ رہیں تھیں۔۔۔۔ اور اس کی یہ گول گول چھاتیاں نہ تو اتنی بڑی تھیں کہ انہیں پکڑنے کے لیئے دونوں ہاتھوں کا استعمال کرنا پڑے۔۔۔۔ ۔۔۔۔اور نہ ہی ماڈل لڑکیوں کی طرح اتنی چھوٹی تھیں کہ چھاتیوں کے نام پر جسم پر دو چھوٹے چھوٹے ابھار رکھے ہوں ۔۔بلکہ اس مجسم حسن کے جسم پر چھاتیوں کے یہ ابھار بہت منناسب۔۔۔۔سیکسی اور اس کی قد و قامت کے لحاظ سے اس پر بہت جچ رہے تھے۔۔ ۔ جبکہ اس کی کمر پتلی پیٹ بلکل فلیٹ اور اس پر ناف کا بڑا سا گڑھا واقعہ تھا۔۔ ناف کے نیچے روشا کی رانیں گول اور باقی جسم کے مقابلے میں کافی بھاری تھیں چھاتیوں کی طرح روشا کی گانڈ بھی بناوٹ میں گول لیکن بہت موٹی اور باہر کو نکلی ہوئی تھی۔۔۔۔ اور آگے کی سائیڈ پر اس کی دونوں رانوں کے درمیان ۔۔۔ ابھری ہوئی کلین شیو چوت ۔۔۔۔نہیں بلکہ 'چھوت' وا قعہ تھی ۔۔۔۔اور اس چوت پر تازہ شیو کے نشانات کو دیکھ کر صاف پتہ چل رہا تھا کہ ہماری طرح آج روشا نے بھی کی چودائی کے لیئے خاص اہتمام کیا ہوا تھا جبکہ اس گلابی چوت کے دونوں لب اندر کو مُڑے ہونے کی وجہ سے اس کی پھدی پر ایک لکیر سی نظر آ رہی تھی۔۔۔اور اس لکیر کے اوپر ایک موٹا سا دانہ تھا جو کہ اس وقت فل شہوت میں ہونے کی وجہ سے خاصہ پھولا ہوا تھا۔۔مجھے اپنے جسم کا ایکسرے کرتے دیکھ کر اس نے میری آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی. اور بڑی شوخی کے ساتھ کہنے لگی ۔۔اے مسٹر! کدھر گم ہو گئے ہو تم؟ تو میں نے اس کے جسم کو بھوکی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے خوبصورت جسم کو دیکھ رہا تھا تو اس پر وہ بے باک لڑکی آگے بڑھ کر میرے ساتھ لپٹ گئی اور میرے منہ کے ساتھ اپنا منہ جوڑ کر کہنے لگی۔۔۔ خالی دیکھنا ہی نہیں ۔۔۔۔ بلکہ میرے ساتھ لو بھی کرنا ہے تو میں نے شرارت سے اس کو کہا کہ مجھے بتاؤ کہ ۔۔۔۔ میں نے تمہارے ساتھ کس قسم کا لو کرنا ہے؟ ۔۔ تو وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فل موڈ میں بولی۔۔۔۔ لو کا مطلب۔۔میری لِک کرنی ہے۔۔۔۔میرے برسیٹ چوسنے ہیں اور مجھے فک کرنا ہے ۔۔۔اور یہ کہتے ہی اس نے اپنی زبان کو میرے منہ میں ڈال دیا۔
  7. ادھر میرے لن کی اکڑاہٹ کو محسوس کرتے ہی روشا نے اپنی نرم و ملائم گانڈ کو میرے لن کے ساتھ مزید چپکا دیا ۔۔ اور پھر حمزہ کے ساتھ بوس و کنار کرتے ہوئے اس نے بڑے دھیمے انداز میں ۔۔۔اپنی گانڈ کو اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔ روشا واقعی ہی ایک با کمال اور سیکسی لڑکی تھی ایک طرف تو وہ حمزہ کے ساتھ ایک زبر دست قسم کی کسنگ میں مصروف تھی جبکہ دوسری طرف وہ میرے اکڑے ہوئے لن کو اپنی گانڈ کے عین درمیان میں رکھ کر اسے دھیرے دھیرے اوپر نیچے کر رہی تھی۔۔ جس کی وجہ سے میرا لن اس کی نرم و ملائم گانڈ کے گوشت میں دھنسا ہو ا تھا ۔۔ حمزہ کے ساتھ کسنگ کرتے کرتے اچانک روشا نے اپنا ایک ہاتھ پیچھے کی طرف بڑھا میری پینٹ کی زپ کھولنے لگی۔۔۔ جبکہ اس سے قبل حمزہ کا لن وہ پہلے ہی پینٹ سے باہر نکال چکی تھی۔۔۔۔ چنانچہ جب میرا لن بھی پینٹ سے باہر نکل آیا تو اس نے حمزہ کے ساتھ کسنگ بند کر دی اور ہمارے لنڈز کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے پکڑے بیڈ کے قریب لے گئی۔۔۔ اس کے بعد وہ ہم دونوں کے درمیان اکڑوں بیٹھ گئی۔۔اور میرے اور حمزہ کے لنوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کے شہوت انگیز لہجے میں بولی۔۔۔۔ واؤؤؤ۔۔۔ دونوں ہی کیوٹ اور مست ہیں ۔۔۔۔ تو اس پر حمزہ کہنے لگا ۔۔۔ دو دو لن ایک ساتھ پکڑنے کا ایکسپرینس کیسا رہا؟ ۔۔۔ تو حمزہ کی بات سن کر ۔۔ روشا بڑے ہی شہوت انگیز لہجے میں بولی۔۔۔ اٹس آمیزنگ ڈارلنگ۔۔۔۔یہ بات کرتے ہی وہ میرے لن کی طرف جھکی اور اس پر تھوک کر بولی۔۔۔ ویسے تو تم دونوں کے ڈِک ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔۔ بٹ !!!!!۔۔ اتنی بات کرتے ہی وہ میرے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ میرے لیئے یہ بہت سپیشل ڈک ہے۔۔تو اس پر حمزہ ہنستے ہوئے بولا ۔۔کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے میڈم ۔۔ کہ جب نئے دوست ملتے ہیں تو پرانے بھول جاتے ہیں ۔۔حمزہ کی بات سن کر روشا بھی ہنستے ہوئے بولی۔۔۔۔ یو آر۔۔رائٹ۔۔ ڈارلنگ۔۔۔۔ دیکھو نہ اتنا کیوٹ ڈک ملا ہے تو اس سے پیار کرنا تو بنتا ہے ناں۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی وہ حمزہ کے لن کی طرف جھکی۔۔۔۔۔اور اس کے ٹوپے کو چوم کر بولی ۔۔۔۔۔ لیکن میری جان یہ ہے۔۔ اس سے پہلے کہ حمزہ کچھ کہتا ۔۔۔۔وہ باری باری ہم دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔ آئی لو بوتھ ۔ ۔۔۔ اس کے بعد اس نے میرے لن کو پکڑ کر اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا۔۔۔ اس کے بعد وہ حمزہ کی طرف متوجہ ہوئی اور اس کے ٹوپے کو چوم کر بولی۔۔۔ اس کا تو میں نے بہت سک کیا ہے اس لیئے تھوڑا ویٹ۔۔۔ یہ کہتے ہی وہ میری طرف مُڑی ۔۔اور پھر میرے لن کو آگے پیچھے کرتے ہوئے بولی۔۔ تمہیں دیکھ کر ایسا نہیں لگتا تھا کہ تمہاری پینٹ میں ایک مانسٹر چھپا ہو گا ۔۔یہ کہتے ہی اس نے بڑی بے تابی کے ساتھ اپنی لمبی زبان کو بڑی بے تابی کے ساتھ اپنے منہ سے باہر نکالا اور پھر ۔۔۔ میرے ٹوپے پر زبان پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ اُف کتنا ہاٹ اور مست لنڈ ہے تمہارا۔۔۔ اور اس کے ساتھ جیسے ہی اس نے اپنے جلتے ہوئے ہونٹوں سے میرے ٹوپے کو ٹچ کیا ۔۔ تو اس کے نرم ہونٹوں کے ٹچ سے میرے جسم میں ایک لہر سی دوڑ گئی۔۔۔اور میرا لن بے اختیار ہو کر اکڑتے ہوئے بار بار جھٹکے کھانے لگا ۔۔ یہ دیکھ کر اس نے میرے لن کو چومنا بند کیا اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔آئی تھنک تمہیں مزہ مل رہا ہے ۔۔۔اور یہ کہتے ہی ۔۔ وہ دوبارہ بڑی تیزی کے ساتھ میرے ٹوپے پر زبان پھیرنا شروع ہو گئی۔۔پھر لن ہر زبان پھیرتے پھیرتے اچانک روشا نے میری طرف دیکھتے ہوئے اپنا منہ کھولا ۔۔۔۔اور ۔۔۔کہنے لگی۔۔ آئی وانہ سک دس۔۔۔ اور لن کو منہ میں لے کر چوسنا شروع ہو گئی۔۔۔ آنٹیوں اور دوسری لڑکیوں کے بر عکس روشا کے لن چوسنے کا اسٹائل بڑا منفرد تھا۔۔۔۔ وہ سلو موشن میں لن کو اپنے منہ کے اندر تک لے جاتی ۔۔۔پھر اسی طرح بڑے آرام سے اسے باہر نکالتی تھی اور اس کے سلو موشن چوپے کی وجہ سے ۔۔۔۔۔ میں اس کے ہونٹوں کی ایک ایک مومنٹ ۔۔ اور زبان کی ایک ایک حرکت سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔۔۔ میں روشا کو بڑے غور سے سلو موشن میں لن چوستے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ کہ حمزہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولا۔۔۔ ۔۔۔ کیسا چوس رہی ہے؟ تو میں نے کہا ۔۔۔ مت پوچھ یار اتنا اچھا چوپا تو بہت کم لڑکیاں لگاتی ہیں۔۔ ۔۔۔ میری بات سن کر روشا نے ایک نظر مجھے دیکھا ۔۔۔۔اور پھر اپنے منہ سے لن نکال کر ۔۔۔۔ شہوت انگیز بھری آواز میں بولی۔۔۔ میں اچھا سک کرتی ہوں ناں؟؟؟ تو اس پر میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔ کہ تم اچھا نہیں ۔۔۔بلکہ۔۔۔ بہت اچھا سک کرتی ہو۔۔۔ ۔۔۔ اس پر حمزہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اب بس بھی کر دو ۔۔۔۔۔ یا بے چارے کی منی نکال کر رہو گی۔۔۔۔۔ حمزہ کی بات سن کر ۔۔ روشا میری طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ کیا خیال ہے۔۔چوسنا ۔۔ بس کر دوں؟ تو میری بجائے حمزہ کہنے لگا۔۔۔۔ جس طرح کا تم لن چوستی ہو نا جان۔۔۔ اس طرح تو اگر تم ساری رات بھی اس کا لن چوستی رہو تو یہ تم کو منع نہیں کرے گا۔۔حمزہ کی بات سن کر روشا نے اپنی گھنی پلکیں اُٹھا کر حمزہ کی طرف دیکھا اور کہنے لگی ۔۔ وہ کیوں ڈارلنگ؟ تو آگے سے حمزہ جواب دیتے ہوئے بولا ۔۔ وہ اس لیئے میری جان کہ لن چسوانا اس کی ہابی ہے اس پر روشا نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگی ۔۔یہ ٹھیک کہہ رہا ہے؟ تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔میری بات سن کر وہ حمزہ کو چھیڑتے ہوئے بولی۔۔ اٹس اوکے ڈارلنگ۔۔۔ اگر لن چسوانا اس کی بابی ہے تو یو نو کہ ڈک سک کرنا میرا بھی تو شوق ہے نا ۔۔۔ روشا کی بات سن کر حمزہ بولا ۔۔۔ آئی نو ڈئیر ۔۔۔بٹ یہ شوق تو میرے ڈک کو چوس کر بھی تو پورا کیا جا سکتا ہے ۔۔اس لیئے پلیززززز۔۔ اس کو چھوڑ ۔۔۔۔ اور ۔۔ میرا لن چوس کر اپنا شوق پورا کر لو۔۔۔ ۔۔ حمزہ کی بات سن کر اس نے میرے لن کو اپنے منہ سے باہر نکالا ۔۔۔۔اور پھر حمزہ کے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع ہو گئی۔۔۔۔ حمزہ کا لن چوسنے کے تھوڑی دیر بعد۔۔۔۔ وہ ہمیں مخاطب کرتے ہوئے شرارت سے بولی۔۔۔ آج کیا صرف میں نے ہی سکنک کرنی ہے؟۔۔۔اور تم لوگ کوئی کام نہیں کرو گے؟۔۔۔تو آگے سے حمزہ جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔ تم کپڑے اتارو گی ۔۔۔۔تو ہم کچھ کریں گے نا۔ ۔۔۔ حمزہ کی بات سنتے ہی روشا ایک دم سے کھڑی ہو گئی۔۔ اور اگلے ہی لمحے اس نے اپنے سارے کپڑے اتار دیئے۔۔۔ اور ہمارے سامنے ننگی ہو کر بولی۔۔ چلو شاباش !! اب تم دونوں بھی اپنے اپنے کپڑے اتار دو۔۔ اس کی بات سن کر حمزہ نے مجھے اور میں نے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔ اور پھر بیک وقت ہم دونوں کی نظریں ایک دوسرے کے لنڈز پر پڑیں جو کہ اس وقت بری طرح سے اکڑے ہوئے تھے ۔۔۔اور روشا کا ننگا بدن دیکھ کر بار بار جھٹکے کھا رہے تھے ۔۔۔اور یہ ماجرا دیکھ کر ہم دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور چھینب سے گئے لیکن اگلے ہی لمحے روشا کی آواز سنائی دی وہ کہہ رہی تھی کہ ۔۔۔۔ارے یہ کیا ۔۔تم دونوں تو لڑکیوں کی طرح شرما رہے ہو ۔۔پھر کہنے لگی ۔۔۔۔۔ کامان بوائز!!!۔۔۔۔ ہری اپ ۔۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے ایک نیوڈ لڑکی کھڑی ہے۔۔۔اس کا ریپ نہیں کرو گے؟ اپنے اپنے ڈک اس کی ایس (گانڈ) میں نہیں ڈالو گے ؟ ا س کی ٹِنی (تنگ) "چھوت" نہیں مارو گے؟
  8. ابھی ہمارا کسنگ سیشن جاری تھا کہ اوپر سے حمزہ بھی آ گیا ۔ اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر میں نے روشا کے ساتھ جاری کسنگ کو بند کرنا چاہا ۔۔لیکن اس نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا اور حمزہ کے گاڑی میں بیٹھنے تک ہم دونوں برابر کسنگ کرتے رہے۔ اور گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے پیچھے مُڑ کر ہماری طرف دیکھا اور تحیر آمیز لہجے میں بولا ۔۔۔۔ویری نائیس ۔۔اور پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا۔۔۔ گُڈ !! تو آپ کی لو سٹوری شروع بھی ہو گئی۔ اس کی بات سن کر روشا نے میرے منہ میں ڈالی زبان کو باہر نکالا اور حمزہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔ اُف ڈارلنگ تیرے یہ دوست بہت فاسٹ فارورڈ ہے ۔۔ تو آگے سے حمزہ دانت نکالتے ہوئے بولا جس سے حساب سے تم جیسی لڑکی اس کی گود میں بیٹھی کسنگ کر رہی تھی۔۔۔۔ ا س سے تو لگتا ہے کہ میرا یہ دوست فاسٹ فارورڈ نہیں بلکہ۔۔۔۔ جیٹ سپیڈ بندہ ہے۔ حمزہ کی بات سن کر ہم تینوں نے مشترکہ طور پر ایک فرمائیشی سا قہقہہ لگایا اور اس کے ساتھ ہی حمزہ نے گاڑی کو اسٹارٹ کر کیا۔۔۔اور پھر اس نے بیک مرر سے ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ کیری آن گائیز تم لوگ اپنا کام جاری رکھو۔۔۔۔۔۔حمزہ کی بات سن کر روشا نے میری اور میں نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ایک دفعہ پھر سے ہمارے ہونٹ لاک ۔۔ اور گاڑی کی مختصر سی فضا میں پوچ۔۔پوچ۔۔۔کی آوازیں گونجنا شروع ہو گئیں۔۔ ۔۔۔لیکن پہلے کی نسبت اس دفعہ ہمارے کسنگ سیشن کا دورانیہ بہت مختصر رہا۔۔ ۔۔۔۔ اور تھوڑی دیر بعد ہی روشا نے میرے ساتھ کسنگ کرنا بند کر دی ۔۔ یہ دیکھ کر حمزہ جو کہ بیک مرر سے گاہے بگاہے ہماری پرُجوش کسنگ کا نظارہ کر رہا تھا۔۔۔۔ بند ہوتے دیکھ کر بولا۔۔۔ کیا ہوا روشا ڈارلنگ ۔۔ کسنگ کیوں سٹاپ کر دی؟ ۔۔۔۔تو آگے سے وہ کندھے اچکا کر بولی۔۔۔۔ بند نہیں کی ۔۔ بلکہ تھوڑی دیر کے لیئے پوسٹ پون کی ہے ۔ اس پر حمزہ مزے لیتے ہوئے کہنے لگا ۔۔ بٹ وائے ڈارلنگ؟؟؟ ۔۔۔ تو آگے سے روشا مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔ جسٹ فار نتھنگ ۔۔۔ ۔۔۔۔ روشا کی بات سن کر حمزہ نے سر ہلا دیا ۔۔۔۔۔ کچھ دیر تک گاڑی میں خاموشی چھائی رہی ۔۔۔۔پھر گاڑی چلاتے ہوئے ۔۔اچانک ہی حمزہ نے بیک مرر سے پیچھے دیکھا تو عین اس وقت میں روشا کے بریسٹ چوس رہا تھا یہ دیکھ کر حمزہ چونک کر بولا۔۔۔۔ اچھا تو پوسٹ پون کی یہ وجہ تھی۔۔ اور اس کے ساتھ ہی حمزہ نے ایک نظر روشا کے باہر نکلے ہوئے شاندار بریسٹ پر ڈالی۔۔۔۔۔ اور پھر اپنے ہونٹوں پہ زبان پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔ ۔۔آمیزنگ ۔۔ ۔۔ اس کے بعد وہ روشا کو مخاطب کرتے ہوئے بولا۔۔ اوکے ڈارلنگ!!! زرا یہ تو بتاؤ کہ تمیں میرا فرینڈ کیسا لگا؟ تو آگے سے روشا نے میرے منہ میں پہلے سے دیئے ہوئے بریسٹ کو نکال کر۔۔۔۔۔ دوسرے کو ڈالتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔ لائق یو ۔۔تمہارا فرینڈ بھی بہت ہاٹ اور انرجی سے بھرا ہوا ہے پھر کہنے لگی میرے خیال میں تھری سم کے ساتھ ساتھ میں اس کے ساتھ ون او ون بھی سیکس کر وں گی۔ ۔۔ روشا کی بات سن کر حمزہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ اس کی بات کو کاٹتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ مجھ سے تو پوچھ لیا ۔۔۔۔اب اپنے دوست سے بھی میرے بار ے میں پوچھو کہ اسے میں کیسی لگی ہوں ؟ تو روشا کی بات سن کر حمزہ مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا شاہ جی سن رہے ہو نا کہ روشا کیا پوچھ رہی ہے ؟ تو اس پر میں نے روشا کے برسیٹ سے منہ ہٹایا ۔۔۔۔پھر ایک نظر اس کے چاند چہرے کی طرف ڈالی ۔۔۔۔ اور پھر اس کے ہونٹوں کو چوم کر بولا۔ یقین کرو دوست ۔۔۔ روشا تو مجھے آسمان سے اتری ہوئی کوئی سیکس کی دیوی لگ رہی ہے کہ جس کے ساتھ سیکس کرنا میرے جیسے مڈل کلاس بندے کا بس ایک خواب ہو سکتا ہے میری بات سن کر روشا دھیرے سے مسکرائی اور پھر شہوت بھری نگاہوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔ ویل سیڈ ۔۔ پھر اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے ہم لوگ حمزہ کے فارم ہاؤس پہنچ گئے وہاں پہنچ کر حمزہ نے ہارن دیا تو ۔ ایک با وردی گارڈ نے گاڑی پہچان کر گیٹ کھول دیا۔۔۔اور ہماری گاڑی فارم ہاؤس میں داخل ہو گئی۔ یہ میری لائف کا پہلا فارم ہاؤس تھا کہ جس کو میں اندر سے بھی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔ اور درحقیقت یہ تھا بھی ایک بہت خوبصورت اور وسیع و عریض فارم ہاؤس ۔۔ جس میں بہت خوبصورتی کے ساتھ امریکن گھاس لگی ہوئی تھی اور اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے زمین پر مخملی چادر بچھی ہو ۔۔اور اس مخملی چادر کے بیچوں بیچ ایک ایک چھوٹی سی سڑک بنی ہوئی تھی اور اس سڑک کے دونوں ا طراف بڑے سلیقے کے ساتھ پام کے درخت لگے ہوئے تھے جبکہ ان درختوں کے علاوہ بھی یہ فارم ہاؤس انواع و اقسام کے درختوں سے اٹا پڑا تھا۔ حمزہ نے گاڑی چلاتے ہوئے فارم ہاؤس کے رہائشی عمارت کے پاس جا کر اسے پارک کیا ۔۔ اور ہمیں ساتھ لیئے اس خوب صورت عمارت کے اندر چلا گیا۔ اور پھر اس عمارت کے حال سے ہوتے ہم ایک بڑے سے کمرے میں پہنچ گئے کہ جہاں وال ٹو وال قالین ۔۔۔۔ اور کمرے کے وسط میں ایک جہازی سائز کا بیڈ بچھا ہوا تھا سب سے پہلے حمزہ پھر اس کے بعد روشا اور سب سے آخر میں۔۔۔ میں اس کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔ - ادھر کمرے میں داخل ہوتے ہی حمزہ نے روشا کی گردن میں اپنے بازو حمائل کئے ۔۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ دونوں کسنگ کرنا شروع ہو گئے۔ جبکہ اسی دوران ۔۔۔ میں بھی کمرے میں داخل ہو چکا تھا۔۔۔ اور اب پوزیشن یہ تھی کہ روشا اور حمزہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑُے ۔۔۔ ہونٹوں سے ہونٹ ملائے کسنگ کر رہے تھے جبکہ میں روشا کے پیچھے کھڑا ان دونوں کا نظارہ دیکھ رہا تھا۔۔ مجھے اپنے پیچھے کھڑا دیکھ کر روشا نے کن اکھیوں سے میری طرف دیکھا ۔۔اور پھر حمزہ کے ساتھ کسنگ کرتے کرتے وہ میری طرف کھسک آئی۔۔۔۔اور پھر اگلے ہی لمحے اس نے میرے فرنٹ کے ساتھ اپنی نرم گانڈ کو چپکا دیا ۔۔۔روشا کی نرم و ملائم گانڈ کا ٹچ پاتے ہی میرے جسم کو ایک زبردست سا جھٹکا لگا۔ اور اس کے ساتھ ہی میری پینٹ میں ایک ہائی فائی قسم کا کرنٹ دوڑ گیا ۔۔ جس کی وجہ سے اگلے ہی لمحے میرا شیش ناگ پھن پھیلا کر کھڑا ہو گیا۔۔
  9. تھری سم (آخری قسط) اور پھر جیسے ہی میں دروازہ کھول کر گاڑی کے اندر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ مجھے دیکھتے ہوئے بڑے ہی قاتلانہ انداز میں مسکرا رہی تھی میرے گاڑی میں بیٹھتے ہی روشا شرارت بھرے انداز میں بولی۔۔ ہاں تو آپ کیا کہہ رہے تھے؟ اس پر میں نے بھی اس کی طرف جگر پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا کہ میں کچھ کہہ نہیں رہا تھا ۔۔۔۔بلکہ میں تو آپ کے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔ میری بات سن کر روشا نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر اپنے منہ کو میرے قریب کرتے ہوئے ۔۔۔ مستی بھرے لہجے میں بولی ۔ تو پھر چوم ناں ہونٹوں کو ۔۔۔۔۔منع کس نے کیا ہے؟ ۔ ۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے دیکھا تو روشا کا چہرہ شدتِ جزبات سے سرخ گلاب ہو رہا تھا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مجھے اس کی آنکھوں میں شہوت کے لال ڈورے بھی تیرتے ہوئے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ابھی میں اس کا جائزہ ہی لے رہا تھا کہ روشا کے منہ سے سرگوشی نما آواز نکلی۔۔۔ میرے منہ کی طرف نہ دیکھ۔۔ کس می ۔۔۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں اپنے منہ کو اس کی طرف لے گیا۔ ۔۔۔اور پھر بڑی آہستگی اور نرمی کے ساتھ ۔۔ اپنے ہونٹوں کو اس کے ہونٹوں پر رکھ دیا۔ اُف۔۔اُ۔۔ف۔ف۔فف۔ف ف۔ف روشا کے ہونٹ گلاب کی پتی کی طرح نرم اور بہت سویٹ ۔۔۔۔ اور مزے دار تھے۔۔۔ اس کے منہ سے ایک عجیب طرح کی شہوانی اور مست خوشبو آ رہی تھی۔۔ میں نے جب اپنے ہونٹوں کو اس کے ہونٹوں کے ساتھ ملایا تو ہم دونوں کے جسموں میں لگی دھیمی دھیمی آگ کچھ اور بھی تیز ہو گئی۔۔ابھی میں روشا کے ہونٹوں پہ اپنے ہو نٹ رکھے ان کی نرمی کا مزہ لے رہا تھا کہ اچانک ہی ۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنے منہ سے زبان نکالی ۔۔۔اور میرے ہونٹوں پر دستک دینا شروع کر دی ۔۔۔اور اس کی زبان کو اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتے ہی ۔۔۔ میں نے اس کے لیئے اپنے ہونٹوں کو وا کر دیا۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی میرے ہونٹ کھلے۔۔۔۔ سانپ کی طرح سے لہراتی ہوئی روشا کی زبان میرے منہ میں چلی آئی ۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی ذائقہ بخش زبان کو بڑے ہی لسٹ بھرے انداز سے میرے منہ میں گھمانا شروع کر دیا۔ ۔۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد اس نے اپنی زبان کو میرے منہ سے باہر نکالا اور بڑے بوجھل لہجے میں کہنے لگی ۔۔ سک مائی ٹنگ ۔۔۔ اور روشا کی بات سنتے ہی میں کسی بھوکے عقاب کی طرح اس پر جھپٹا ۔۔۔۔اور پھر اس کی زبان کو اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا - اسی دوران میں اپنے ایک ہاتھ کو روشا کی سخت چھاتیوں پر لے گیا۔۔۔ اور اس کی زبان چوسنے کے ساتھ ساتھ باری باری انہیں بھی دبانے لگا۔ میرے اس طرح چھاتیاں دبانے ۔۔۔ اور اس کی لزت آمیز زبان کو چوسنے سے ہم دونوں مزے کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبنا شروع ہو گئے۔۔۔ اور میرے اس اقدام سے خصوصاً روشا بہت زیادہ گرم ہو گئی تھی۔۔اور اسی گرمی کے زیرِ اثر اس نے اپنا ایک ہاتھ میرے بدن کے اس حصے پر رکھ دیا کہ جہاں پہلے سے ہی گھات لگائے۔۔۔۔ سر اُٹھائے ۔۔۔ ایک اژدھا کھڑا تھا ۔۔ چنانچہ جیسے ہی اس کے ہاتھ نے میرے لن کو چھوا۔۔۔تو دوسری عورتوں کی طرح اسے بھی ایک شاک سا لگا۔۔۔لیکن وہ بنا کچھ بولے۔۔۔ بڑی حیران نظروں سے میری دیکھتے ہوئے میرے لن کو ٹٹولنا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔ اور پھر جب اس نے میرے لن کا اچھی طرح سے ماپ تول کر لیا تو میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیئے تحسین کے جزبات دیکھے ۔۔۔۔ اور وہ ایک گہرا سانس لے کر بولی۔۔۔ بہت مست اور آؤٹ کلاس ڈِک ہے تمہارا ۔۔۔اس کے منہ سے اپنے لن کی تعریف سن کر میں بہت خوش ہوا۔۔۔۔۔اور پھر اس کی چھاتی کو پکڑ کر دباتے ہوئے بولا کہ مس روشا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں اسلام آباد سے لاہور کیوں آیا ہوں؟ تو میری بات سن کر جانے کیوں وہ ایکسٹرا بولڈ لڑکی شرما سی گئی۔۔۔اور منہ سے کچھ نہیں بولی۔۔ یہ دیکھ کر میں آگے بڑھا۔۔۔۔۔اور پھر اس کے کان میں شہوت بھری سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔۔۔ ۔۔۔بتا نا۔۔۔ روشا ڈارلنگ کہ میں اسلام آباد سے لاہور کیوں آیا ہوں؟ اس وقت وہ کافی حد تک سنبھل چکی تھی اس لیئے میری بات سن کر وہ ایک شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی ۔۔ آئی نو دیٹ۔۔۔ تو اس پر میں ایک بار پھر شہوت بھری آواز میں بولا۔۔۔ بتاؤ نہ روشا کہ میں لاہور کیا کرنے آیا ہوں؟؟؟۔۔ میری بات سن کر اس نے براہِ راست میری طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔۔۔ تم یہاں میری " چھوت " مارنے آئے ہو۔۔ یقین کرو دوستو روشا کے منہ سے چوت کی بجائے "چھوت" کا لفظ سن کر مجھے اتنا مزہ آیا کہ میں نے بے اختیار اس سے بولا۔۔۔ کہ پلیز ایک دفعہ پھر بتاؤ کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں ۔۔تو تھوڑے سے نخرے کے بعد وہ مجھ سے کہنے لگی ۔۔۔ تم مجھے فک کرنے آئے ہو۔۔ ۔۔۔ اس کے منہ سے فک سن کر میں جلدی سے بولا ۔۔۔۔۔فک نہیں پلیز وہی لفظ دھراؤ جو ابھی تھوڑی دیر پہلے تمہارے منہ سے نکلے تھے۔۔ تو میری بات سن کر وہ مصنوعی غصے سے بولی۔۔۔ آر یو کریزی؟ ۔۔ مگر پھر میرے اصرار پر ۔۔۔۔ اس کے لال چہرے پر وہی دل آویز لیکن شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔اور وہ میری طرف دیکھتے ہوئے فل مُوڈ میں بولی۔۔۔ تم یہاں میری "چھوت " مارنے کے لیئے آئے ہو۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے میرے لن کو پکڑ کر سختی کے ساتھ دبایا اور ایک بار پھر میرے ساتھ کسنگ کرنا شروع ہو گئی۔
  10. اتنی دیر میں۔۔۔میں دوپہر کے لیئے کچھ کھانے پینے کا سامان لے آتا ہوں ۔ اور جیسے ہی حمزہ گاڑی سے اتر کر سٹور کی طر ف بڑھا۔۔۔ تو میں نے اپنا منہ پیچھے کی طرف کرتے ہوئے روشا سے کہا کہ اس ڈریس میں آپ بہت غضب ڈھا رہی ہو۔۔میری بات سن کر اس نے میرا شکریہ ادا کیا ۔۔۔اور یوں روشا کے ساتھ میری باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔۔ اور پھر اگلے پانچ ، دس منٹوں میں ہی ۔۔رفتہ رفتہ نہیں بلکہ تیری کے ساتھ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئی۔۔پہلے آپ پھر۔۔۔ تم ہوئے اور پھر ۔۔۔ توُ کا عنواں ہو گئی۔۔کچھ دیر بعد ۔۔ روشا کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اچانک ہی میں نے اس کی طرف اپنے ہاتھ کو بڑھا دیا۔ روشا نے میرے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیئے کچھ سوچا اور پھر اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا۔۔۔واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔اس کا ہاتھ بہت ہی نرم اور ۔۔۔ انگلیاں مخروطی تھیں ۔۔ چنانچہ جیسے ہی اس نے اپنا ہاتھ میرے دیا۔۔۔۔۔ تو میں نے اس کے ہاتھ کو دباتے ہوئے کہا کہ ایک بات تو بتاؤ روشا جی اور وہ یہ کہ۔۔۔۔۔ رات آپ نے حمزہ کو ۔۔۔ میرے ساتھ اپنا تعارف کرانے سے منع کیوں کیا تھا۔۔؟؟؟ میری بات سن کر وہ بڑی شوخی کے ساتھ کہنے لگی۔۔۔۔۔ میری مرضی۔۔ تو آگے سے میں نے اس کے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے کہا ۔۔۔ کہ پتہ ہے جب حمزہ نے مجھے بتایا کہ گاڑی میں بیٹھی ہوئی لڑکی آپ ہی تھیں۔۔۔ تو یہ سن کر میں نے حمزہ کو پوری سوا لاکھ گالیاں دیں تھیں۔۔۔ میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولی ۔۔ اِن فیکٹ اس کو ایسا کرنے سے میں نے ہی منع کیا تھا تو میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔۔۔ کہ مجھے یہ بتاؤ کہ آپ نے ایسا کیوں منع کیا تھا؟؟۔۔ میرے اس طرح ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے وہ تھوڑی گڑبڑا سی گئی۔۔لیکن اگلے ہی لمحے وہ بڑے اعتماد سے کہنے لگی ۔ وہ اصل میں ۔۔۔ میں آپ کو جج کرنا چاہتی تھی۔۔ تو میں نے بدستور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے کہا کہ پھر آپ نے کیا جج کیا؟ میری بات سن کر ایک لمحے کے لیئے مجھے روشا کی آنکھوں میں ہوس کی پرچھائیں نظر آئیں۔۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں میں نظر آنے والی یہ پرچھائیں ۔۔ غائب ہو گئیں اور وہ مجھے حریص نظروں دیکھتے ہوئے بولی۔۔ بظاہر تو آپ بہت کیوٹ اور سیکسی لگتے ہو۔۔۔روشا کی اس بات پر میں اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا۔۔ مس روشا ۔۔۔ پوائینٹ ٹو بی نوٹڈ کہ میں صرف دیکھنے میں ہی سیکسی نہیں۔۔۔۔بلکہ سچ مچ کا بھی سیکسی ہوں۔۔۔ روشا کو اپنی طرف کھینچنے سے وہ سیٹ سے تھوڑا آگے کو کھسک تو گئی تھی ۔۔ لیکن اتنی بھی آگے نہ آئی تھی کہ میں اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ سکتا ۔۔ چنانچہ اس صورتِ حال ۔۔کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنے ہونٹوں کو ایک دائرے کی شکل بناتے ہوئے اس کی طرف ایک ہوائی کس اچھال دی۔۔۔۔اور پھر اس سے مخاطب ہو کر بولا۔۔ میری طرف سے آپ کے حسین و جمیل چہرے۔۔۔اور ان جھیل سی آنکھوں کے نام ۔۔ہونٹوں کے نام ۔۔ ادھر میرا روشا کی طرف ۔۔۔۔ کس اچھالنے کی دیر تھی کہ وہ اپنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے تھوڑا اور آگے کو بڑھی۔۔اور پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگی۔۔۔ یہ آپ اتنے ہری میں کیوں ہو؟ تو اس پر میں نے اسے آخری حد تک ہوس ناک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔ وہ اس لیئے میری جان کہ ۔۔۔ آپ کی اس گرم باڈی سے نکلنے والی ہیٹ مجھے پگھلا رہی ہے ۔۔میری بات سن کر وہ بڑی لگ اوٹ سے بولی۔۔ آپ بڑی رومینٹک باتیں کرتے ہو ۔تو میں نے اس کو مسکہ لگاتے ہوئے کہا۔۔ کہ دل کا کیا کریں صاحب ۔۔۔ اس میں بے اختیار ہیں ہم۔۔ ۔۔ اور اس کے ساتھ ہی ۔۔ میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اس کے ہاتھ کو ۔۔۔بڑی نرمی کے ساتھ چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔اور اس کے شہوت یا شاید شرم سے لال ہوتے ہوئے گالوں پر انگلی پھیرتے ہوئے بولا۔۔ شاید آپ میری اس بات کا یقین نہ کرو ۔۔۔۔۔ کہ آپ شہرِ لاہو ر کی سب سے زیادہ خوب صورت اور سیکسی لڑکی ہو۔۔ اور یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے میں نے جان بوجھ کر لفظ سیکسی کو بڑے ہی شہوت بھرے انداز میں بیان کیا۔اور میں نے دیکھا کہ میرے اس شہوت بھرے انداز کا اس پر خاطر خواہ اثر ہوا۔۔اور اس کے اندر دبی ہوئی سیکس کی بھوک بیدار ہو کر۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں لال ڈورے کی شکل میں ظاہر ہونا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اپنی اسی انگلی کو بڑے ہی نفیس لیکن شہوت بھرے انداز سے ۔۔۔ اس کے رس بھرے ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے بولا۔۔ روشا ڈارلنگ ۔۔۔ جی چاہتا ہے کہ تمہارے ان رس بھرے ہونٹوں کا سارا رس پی جاؤں۔۔۔تو وہ مست لہجے میں جواب دیتے ہوئے بولی۔۔آج سارا دن تیرے پاس ہوں گی۔۔ جو مرضی ہے کر لینا۔۔۔ یہ بات کرتے ہوئے اس کے لہجے سے واضع طور پر ہوس اور شہوت ایک ساتھ چھلک رہیں تھیں۔۔۔ ادھر اس کے رس بھرے ہونٹوں پر انگلی پھیرتے پھیرتے میں نے اپنی اس کی انگلی کو اس کے منہ میں ڈال دیا۔۔ یہ دیکھ کر اس نے بڑی ہی نشیلی نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر اپنے منہ میں دی ہوئی میری انگلی کو۔۔ہاتھ سے پکڑ کر باہر نکالا ۔۔۔اور پھر اپنی زبان کو منہ سے نکال کر بڑے ہی پرُہوس طریقے سے میری انگلی کو چاٹنا شروع ہو گئی ۔ میری کھردری انگلی پر اس کی لچکیلی زبان کا لمس لگتے ہی نیچے سے میرا لن الف ہو گیا۔۔۔ لیکن میری اس اکڑاہٹ سے بے خبر ۔۔۔۔روشا میر ی انگلی کو کچھ اس طرح سے چاٹے جا رہی تھی کہ جیسے یہ میری انگلی نہ ہو۔۔۔۔ بلکہ ایک موٹا تازہ اور تنا ہوا لوڑا ہو۔۔۔ میری انگلی کو کچھ دیر تک چاٹنے کے بعد ۔۔ اس نے اپنے تھوک سے تر ۔۔میری گیلی انگلی کو پکڑا۔۔ ۔۔۔۔ اور بڑی آہستگی کے ساتھ اپنے نرم نرم ہونٹوں پر پھیرنا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔ اور پھر اپنے ہونٹوں پر انگلی پھیرتے پھیرتے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اسے اپنے منہ میں ڈال لیا۔۔۔اور بڑی بے تابی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ چوسنا شروع ہو گئی۔۔ یہ دیکھ کر میں اپنا ایک ہاتھ اس کی گردن کے پیچھے کی طرف لے گیا اور اس کے سر کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے ۔۔ اس کے لال لال ہونٹوں پر ایک کس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ ۔۔۔لیکن شہوت میں چُور ہونے کے باوجود ۔۔۔۔اس نے اپنے سر کو وہیں روک لیا ۔۔۔اور میری انگلی کو اپنے منہ سے نکال کر۔۔۔۔ بڑے ہی بوجھل لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔۔ کیا کرنے لگے ہو؟ تو میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔ کہ تمہارے ان ہونٹوں کو چومنے کی کوشش میں لگا ہوں۔۔تو وہ کھڑکی سے باہر کی سمت دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ سامنے سے نظر آتا ہے۔۔۔۔ اس لئے تم میرے ساتھ پچھلی سیٹ پر آ جاؤ۔۔۔ کھڑکیوں کے شیشے کالے ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔ ہمارے دیکھے جانے کا چانس بہت کم ہے ۔۔اس کی بات سن کر میں نے ۔۔ اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔۔۔اور کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پچھلے دروازے کی طرف ۔۔۔۔ چلا گیا۔۔۔۔ جاری ہے
  11. اگلے دن میں نے ڈائیو پر لاہور کی بکنگ کروائی۔۔۔۔اور گھر آ کر واش روم میں گھس گیا ۔۔۔اور سب سے پہلے اپنے لن کو ایک خوبصورت اور سیکس سے بھر پور جنگ کے لیئے تیار کرنے لگا۔۔۔ اس کو اچھی طرح صاف ستھرا کرنے کے بعد میں نے روشا کے نام کی مُٹھ ماری ۔۔۔ اور پھر نہانے کے بعد تیار ہو کر گھر والوں کو یہ بتایا کہ میں آفس کے کام سے لاہور جا رہا ہوں ۔۔۔اور ڈائیو پر بیٹھ کر سارے راستے روشا کے بارے میں ہی سوچتا رہا ۔۔۔ اور جب میری بس لاہور کی حدود میں داخل ہوئی تو میں نے حمزہ کو فون کر دیا اور میرا فون سننے کے بعد ۔۔۔ وہ کہنے لگا کہ میں گھر سے نکل رہا ہوں۔۔۔ اور اگر ٹریفک کی وجہ سے تھوڑا لیٹ بھی ہو گیا تو میں وہیں پر رک کر اس کا انتظار کروں۔۔ لیکن اس کی نوبت نہیں آئی۔ چنانچہ جیسے ہی ہماری بس ڈائیو اڈے پر پہنچی ۔۔۔ تو میں نے حمزہ کو فون کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بس ٹرمینل میں داخل ہو گئی ہے تو آگے سے وہ جواب دیتے ہوئے بولا ۔۔ کہ فکر نہیں کرو دوست ۔۔ میں اڈے پر پہنچ گیا ہوں ۔۔۔۔اور چونکہ ہم دونوں کی یہ فرسٹ ملاقات تھی اس لیئے وہ اپنی نشانی بتاتے ہوئے بولا کہ اس نے گرین کلر کی شرٹ پہنی ہوئی ہے اور وہ بس کے گیٹ کے سامنے کھڑا ہو گا۔۔۔چنانچہ بس رکنے پر میں جیسے ہی میں گیٹ سے باہر نکلا تو گرین شرٹ پہنے ایک گورا چٹا اور بہت خوب صورت سا لڑکا عین بس کے گیٹ کے سامنے کھڑا تھا۔۔ اس کو دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ حمزہ ہی ہو سکتا ہے چنانچہ بس سے اترے ہی میں سیدھا اس کے پاس پہنچ گیا ۔۔اتنی دیر میں اس نے بھی مجھے پہچان لیا تھا ۔۔۔۔۔اور وہ بڑے ہی تپاک کے ساتھ ملا۔۔۔ ۔۔۔ ہم نے ایک بھر پور جپھی ڈالی اور علیک سلیک کے بعد میں اس سے بولا ۔۔۔ یار تم نے اپنی جو تصویر میرے ساتھ شئیر کی تھی اس میں تو تم اچھے خاصے جھانویں لگ رہے تھے لیکن در حقیقت تم بڑے کیوٹ اور گریس فل لڑکے ہو ۔۔ میری بات سن کر وہ ہنس پڑا ۔۔۔اور میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بولا۔۔ تصویر کی بات چھوڑو ۔۔۔ کہ تم نے بھی اپنی جو تصویر میرے ساتھ شئیر کی تھی ۔۔۔اس میں تم بھی اچھے خاصے کالے بھجنگ لگ رہے تھے لیکن اصل میں تم سانولے بلکہ بہت پر کشش اور سیکسی قسم کے کلر کے مالک ہو ۔۔اور اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے اس نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی گاڑی وہاں کھڑی ہے اور میں نے دیکھا کہ وہ ایک جدید ماڈل کی سفید کرولا تھی ۔ جسے دیکھ کر میں اس سے امپریس ہوتے ہوئے بولا ۔ ۔اچھا یہ بتاؤ کہ روشا کی کب لینی ہے؟ ۔ تو میری بات سن کر وہ ہنس پڑا اور مجھے آنکھ مارتے ہوئے بولا۔۔ سالے ابھی ابھی تو بس سے نکلے ہو ۔۔۔زرا چھری تلے سانس تو لے لو۔۔۔ ۔۔ اور اس کے ساتھ ہی مجھے گاڑی میں بیٹھنے کو کہا۔۔۔ جیسے ہی میں دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھا تو مجھے اپنے پیچھے سے ایک میٹھی سی آواز سنائی دی۔۔۔۔ہائے !!!!!!۔۔۔ اور ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ بیٹھے بیٹھے میں نے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک چندے آفتاب چندے مہتاب گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی۔۔۔ لیکن میں نے اس کی طرف اس لیئے زیادہ دیکھنے سے پرہیز کیا کہ کیا پتہ ۔۔ یہ خاتون حمزہ کی کوئی رشتے دار ہی نہ ہو۔۔ اس لیئے میں نے اس لڑکی کے ساتھ سرسری سا ہیلو ہائے کیا ۔۔۔اور پھر حمزہ کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہو گیا۔۔۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نے بھی میرے ساتھ اس لڑکی کا تعارف کرانے کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی ۔۔اور یوں ہم دونوں گپ شپ لگاتے ہوئے لاہور کے ایک پوش ایریا میں داخل ہو گئے۔۔ہاں یاد آیا کہ ہماری اس گپ شپ کے بیچ میں وہ خوب صورت سی لڑکی بھی شریکِ گفتگو رہی۔۔۔اور پھر کچھ ہی دیر بعد اس کی گاڑی ایک بڑی سی کوٹھی کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔۔ حمزہ نے کوٹھی سے زرا دور اپنی گاڑی روکی ۔۔۔اور پھر گاڑی سے نکل کر اس لڑکی کے ساتھ چل پڑا۔۔۔۔ گیٹ کے نزدیک پہنچ کر وہ دونوں ایک اندھیری اور سنسان جگہ پر کھڑے ہو گئے۔۔۔۔اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے۔۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لپٹ کر ۔۔۔۔ کسنگ کرنا شروع ہو گئے۔۔۔ اور قریباً چار پانچ منٹ تک مسلسل کسنگ کرتے رہے اور پھر وہ لڑکی حمزہ سے الگ ہو کر اس شاندار کوٹھی میں گھس گئی۔۔۔۔ حمزہ واپس آ کر جیسے ہی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو میں نے بڑے تجسس بھرے انداز میں اس سے پوچھا کہ یار یہ لڑکی کو ن تھی ؟ تو آگے سے وہ بڑے ہی اطمینان کے ساتھ بولا۔۔ ۔۔۔ یہ روشا تھی۔۔۔ روشا کا نام سنتے ہی میرے تن بدن میں آ گ لگ گئی اور میں غصے کے عالم میں اس سے بولا سالے پہلے نہیں بتا سکتے تھے۔۔۔ نا۔۔۔۔تو وہ دانت نکالتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ ۔۔۔ میں تو تیار تھا لیکن کیا کروں روشا نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا تھا۔۔۔۔تو میں نے حیران ہو کر ا س سے پوچھا کہ وہ کیوں؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولا کہ اصل میں وہ تم کو جج کر رہی تھی کہ تم اس کے قابل بھی ہو کہ نہیں ۔۔۔اس پر میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔۔ پھر کیا کہتی ہے وہ بیچ اس مسلہ کے۔۔۔۔تو وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔ سچ کہہ رہا ہوں سالے کہ تم اتنے سیکسی ہو کہ اس کے پاس تمہیں پاس کرنے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں تھا۔۔اپنی تعریف سن کر میں بہت خوش ہوا اور پھر میں نے اس سے پوچھا کہ اچھا یہ تو بتا کہ اس نے ایسا کیا کیوں؟ تو وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔ یار وہ کوئی ٹیکسی یا تیری آنٹیوں کی طرح چالو قسم کی چیز نہیں بلکہ بہت چوزی قسم کی لڑکی ہے اس لیئے تمہارے ساتھ تھری سم کرنے سے پہلے وہ تمہیں دیکھنا اور پرکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔ پھر کہنے لگا تیار رہنا کل صبع ہم نے اس کے ساتھ مزے کرنے ہیں تو میں اس سے بولا ۔۔۔آج کرتے ہوئے اسے کیا موت پڑتی تھی؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے کہنے لگا نہیں یار ایک تو آج وقت بہت کم تھا دوسرا ۔۔۔۔ وہ کل کا سارا دن ہمارے ساتھ گزارنا چاہتی ہے۔۔اس لیئے آج صبر کرو۔۔۔۔ کل دونوں بھائی مل کر عیش کریں گے ۔۔۔ اگلے دن میں اور حمزہ ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد ۔۔ تقریباً دس ساڑھے دس بجے گھر سے نکلے اور ظاہری بات ہے کہ ہماری منزل روشا کا گھر تھا کہ جہاں سے اسے ہم نے پِک کرنا تھا۔ راستے میں حمزہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے مجھ سے کہنے لگا کہ روشا کو لے کر میں ایک سٹور پر کچھ کھانے پینے کی چیزیں لینے کے بہانے رکوں گا اتنے میں تم اس کے ساتھ اپنی جان پہچان کر لینا تا کہ وہاں جا کر کوئی الجھن نہ رہے اس کی بات سن کر میں نے سر ہلا دیا ۔۔۔اسی دوران ہماری گاڑی روشا کے گھر کے قریب پہنچی تو حمزہ نے اپنے سیل فون سے اسے باہر آنے کو کہا۔۔۔اور میرے خیال میں وہ پہلے ہی اس کام کے لیئے ریڈی بلکہ آل ریڈی تھی کیونکہ جیسے ہی ہماری گاڑی اس کے گھر کے قریب پہنچی تو روشا پہلے سے ہی گیٹ کے باہر موجود کھڑی تھی ۔۔۔ میں نے روشا کو دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔اس کے بارے میں کیا لکھوں کہ حسنِ جاناں کی تعریف ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔ بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ کیا ادا کیا جلوے تیرے پارو۔۔دل کے ٹکڑے ہو گئے ہزاروں والا معاملہ تھا۔ قصہ مختصر کہ اس نے بڑی شاندار ڈرسینگ کی ہوئی تھی گاڑی رکتے ہی وہ پچھلا دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔اور پھر میری طرف دیکھ کر شرارت آمیز لہجے میں بولی ہیلو شاہ کیسے ہو آپ؟ ۔ تو آگے سے میں نے بھی اس کی طرف مسکراہٹ اچھالتے ہوئے کہا کہ ایک دم ٹھیک ۔۔۔ آپ سناؤ؟۔ اس سے پہلے کہ روشا میری بات کا جواب دیتی ۔۔۔۔۔ گاڑی چلاتے ہوئے حمزہ نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور کہنے لگا امید ہے کہ تمہارا آج کا دن ہمارے ساتھ اچھا اور یاد گار گزرے گا اور پھر اسی طرح کی ہلکی پھلکی باتیں کرتے ہوئے ہم لوگ سفر کرتے رہے۔۔ کچھ دیر بعد حمزہ نے ایک بڑے سے سٹور کے سامنے گاڑی کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ تم دونوں یہیں بیٹھ کے باتیں کرو
  12. حمزہ کی سیکس کھتا سن کر میں اس سے بولا ۔۔ ابے او پرانے گانڈو۔۔۔۔۔اور حالیہ شریف آدمی۔۔۔۔ تیرے اس سارے قصے میں روشا کی پھدی کا کہیں بھی ذکر سیکس موجود نہیں ۔۔۔۔ جبکہ تو نے اب سے کچھ دیر پہلے بقائمیء ہوش و حواس اس بات کا دعوٰی کیا تھا کہ تم نے اس کی لے لی ہے۔۔۔ ۔۔۔ تو بھائی کہیں تم نے اس کی انگلی تو اپنی گانڈ میں نہیں لے لی؟ میری بات سن کر وہ میری ہی بات کی تضمین کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔ سُن ابے حالیہ گانڈ ۔۔۔۔اور سابقہ شریف آدمی۔۔۔ یہ تو میں نے تمہیں اس سٹوری کا فقط بیک گراؤنڈ بتا یا ہے کہ کس طرح میرا روشا کے ساتھ جنسی تعلق شروع ہوا۔۔۔۔ جبکہ اصل کہانی تو ابھی باقی ہے۔۔۔ پھر بڑے ہی پراسرار ۔۔۔ مگر جوش بھرے لہجے میں کہنے لگا۔۔۔ ۔۔۔اور جہاں تک روشا کی پھدی مارنے کا تعلق ہے تو میری جان یہ جنسی وقوع آج دن گیارہ بجے کے بعد مسماۃ روشا اور میرے درمیان بہ رضا و رغبت ۔۔۔ سر انجام پایا ہے۔۔۔۔۔ ۔۔۔ تو اس پر میں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ۔۔۔ ایسے نہیں یار ۔۔۔زرا تفصیل سے بتاؤ کہ تم نے اس کی چوت کیسے ماری ؟ اور اس کا بیڈ پر تیرے ساتھ رویہ کیسا تھا؟ تو آگے سے وہ جواب دیتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔ کہ تفصیل بتانے کا تو ابھی وقت نہیں ہے دوست۔۔۔لیکن میں تم کو روشا کے بارے میں اتنا بتا دوں کہ وہ بیڈ پر سیکس بمب اور۔۔۔۔ گرم۔۔۔۔ بلکہ گرم ترین لڑکی ہے۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے یہ کہتے ہوئے فون بند کر دیا کہ ۔۔۔ اگلے فون پر میں تمہیں تفصیل سے اس بارے بتاؤں گا اور اس کے ساتھ ہی فون بند کر دیا۔۔۔ لیکن پھر اس کے بعد کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ کافی دنوں تک میری اس کے ساتھ کوئی بات نہ ہو سکی ۔۔ پھر ایک دن دوپہر کے وقت اس کا فون آ گیا۔۔۔تو روٹین کی ہیلو ہائے کے بعد میں نے اس سے کہا کہ سنا یار ۔۔۔ روشا کے ساتھ تیری سیکس لائف کیسی جا رہی ہے؟ تو میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ کہنے لگا ۔۔ ایک دم فسٹ کلاس ۔۔۔اس پر میں نے اس سے کہا کہ یار تم نے ابھی تک اس کی پھدی مارنے کا قصہ نہیں سنایا تو آگے سے وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔۔ سنا دوں گا یار اتنی جلدی بھی کیا ہے۔۔۔ ۔۔۔ تو میں نے اس سے اصرار کرتے ہوئے کہا۔ ابھی سناتے ہوئے تمہیں کیا موت پڑتی ہے؟ ۔۔۔۔ ۔۔۔ لیکن میری بات کو سنی ان سنی کرتے ہوئے اچانک ہی وہ بڑی سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔ ۔۔۔۔ شاہ جی تم لاہور کا چکر کب لگا رہے ہو ؟ تو اس پر میں نے بھی سنجیدہ ہوتے ہوئے اس سے کہا کہ کیا بتاؤں یار ۔۔۔ تمہیں تو معلوم کہ آفس میں اتنے زیادہ کام ہیں کہ فی الحال تو میرا دور دور تک پنڈی سے باہر نکلنا مشکل نظر آ رہا ہے ۔ میری بات سن کر اس نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔۔اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا ۔۔۔ پھر باتیں کرتے کرتے اچانک ہی وہ مجھ سے بولا۔۔ کہ شاہ جی پھدی مارنی ہے ؟ حمزہ کی آفر سن کر ایک دفعہ تو میں تو حیران رہ گیا ۔۔۔ لیکن پھر پھدی کا سوچتے ہی۔۔۔۔ میں نے اپنی حیرانی کو ایک طرف کیا۔۔۔۔اور دانت نکالتے ہوئے بولا۔۔۔ کہ ضرور ماروں گا لیکن یہ تو بتاؤ کہ مارنی کس کی ہے؟ تو وہ اسی پر ُاسرار لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔ لیکن اس کے لیئے تمہیں تھوڑا سفر طے کرنا پڑے گا تو آگے سے میں نے اپنی فل بتیسی نکالتے ہوئے جواب دیا کہ۔۔۔۔ کہ سفر کی کوئی ٹینشن نہیں ہے دوست ۔۔۔ تمہیں تو معلوم ہے کہ مفت پھدی مارنے کے لیئے تو میں بحیرہء منجمند شمالی تک بھی جانے کے لیئے تیار ہوں۔ اس پر وہ اسی سنجیدگی کے ساتھ کہنے لگا ۔۔۔ بحیرہ منجمند شمالی نہیں یار ۔۔۔۔۔ بلکہ اس کے لیئے تمہیں لاہور آنا پڑے گا تو میں نے جھٹ سے جواب دیتے ہوئے کہا لاہور کون سا دور ہے یار ۔۔۔ تو بس بتا کہ میں نے پھدی مارنی کس کی ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ روشا کی۔۔۔ روشا کا نام سن کر میں اپنی جگہ سے اچھل پڑا ۔۔اور شدید حیرانی کے عالم میں اس سے بولا ۔۔۔۔ کک ۔۔۔کک کیا کہہ رہے ہو ؟ کس کی پھدی مارنی ہے؟ تو وہ بڑے اطمینان سے بولا ۔۔۔ روشا کی !!!!!!۔۔ تو اس پر میں نے بڑی حیرانی کے ساتھ اپنے سیل فون کو گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔ روشا کی۔۔ لیکن کیوں؟ کیا تیرے ٹٹوں میں جان نہیں رہی ۔۔یا تیرا لن جھڑ گیا ہے؟ یا تمہیں کوئی میڈیکل پرابلم پیش آ گئی ہے؟ تو وہ میری بات سن کر کہنے لگا۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے یار۔۔۔ نہ تو میرے ٹٹوں میں جان ختم ہوئی ہے اور نہ ہی مجھے کوئی میڈیکل پرابلم در پیش ہے۔۔ اس پر میں نے حیرت سے دیدے پھاڑتے ہوئے اس سے کہا کہ ۔۔ جب آل اوکے ہے تو پھر روشا مجھ سے کیوں پھدی مروانا چاہتی ہے؟ تو میری بات سن کر وہ کہنے لگا۔۔ کہ زیادہ خوش فہمی کی ضرورت نہیں دوست ۔۔وہ صرف تم سے نہیں ۔۔ بلکہ ہم دونوں سے ایک ساتھ مروانا چاہتی ہے۔۔ اس کی بات سن کر میں اس سے الجھے ہوئے لہجے میں بولا۔۔ ۔۔۔ یار میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔۔۔۔۔۔۔ اس لیئے تو مجھے ٹھیک سے بتا کہ اصل چکر کیا ہے ؟ تو میری بات سن کر وہ بڑے ہموار لہجے میں بولا ۔۔۔ تم نے کبھی پورن موی دیکھی ہے ؟ اور پھر میرے منہ سے ہاں کا جواب سن کر وہ کہنے لگا۔ پھر تم نے اس میں تھری سم والا سین بھی ضرور دیکھا ہو گا جس میں ایک عورت سینڈوچ بنی بیک وقت دو مردوں سے چدوا رہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔اور ایک کا لن اس کی گانڈ جبکہ دوسرے نے چوت میں دیا ہوتا ہے۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد وہ مجھ سے کہنے لگا ۔۔۔ کہ سو میرے پیارے دوست جیسا کہ میں نے تم کو پہلے بھی بتایا تھا کہ روشا ایک بہت ہی گرم اور سیکسی لڑکی ہے اس لیئے پورن مویز دیکھ دیکھ کر اس کے من میں بھی یہ خواہش جاگی ہے کہ وہ بھی تھری سم کرے ۔۔تو اس پر میں نے اس سے کہا کہ ۔۔۔حیرت ہے یار تم اس کام کے لیئے کیسے مان گئے ؟ تو وہ بڑے جوش کے ساتھ جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ کام آن ۔۔۔ یار اس میں نہ ماننے والی بھلا کون سی بات ہے؟۔۔۔ اور تمہاری اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ۔۔۔۔ ذاتی طور پر مجھے بھی اس کا یہ آئیڈیا بہت پسند آیا ہے اور میری اس بات پر تم یقین نہیں کرو گے کہ روشا کے ساتھ تھری سم کرنے کے لیئے۔۔۔۔۔ اس سے زیادہ میں ایکسائیٹیڈ ہو رہا ہوں۔۔۔ ۔۔۔ اس کے بعد وہ اسی جوش بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔ یار تم کو تو معلوم ہی ہے کہ لاہور میں میری زیادہ دوستی اپنی ہی یونیورسٹی کے لڑکوں کے ساتھ ہے اور ان کے ساتھ میں روشا کو ہر گز شئیر نہیں کرنا چاہتا ۔۔اور لاہور والے دوستوں کے بعد میرے بیسٹ فرینڈز میں سے ایک تم ہو۔۔۔۔اور مجھے اچھی طرح سے معلوم ہے کہ تم بھی میری طرح سیکس کے بہت زیادہ شوقین ہو ۔۔ ۔۔اس لیئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ تم کو ہی دعوت سیکس دی جائے ۔۔۔ چنانچہ اب بولو کہ کیا تم میرے ساتھ مل کے روشا کے ساتھ تھری سم کرنے کے لیئے تیار ہو؟ ۔۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔۔۔۔ سیکس اور وہ بھی روشا جیسی حسین و جمیل اور سیکسی لڑکی کے ساتھ۔۔۔۔۔ کوئی کافر ہی ہو گا۔۔۔۔جو کہ اس کو چودنے سے انکار کرے گا۔۔۔اس لیئے میں دانت نکالتے ہوئے بولا۔۔۔ ۔۔ تم روشا کی بات کرتے ہو ۔۔ وہاں پر اگر تم بھی کہو گے تو اس کے سامنے تمہاری بنڈ بھی مار لیں گے۔۔۔۔ اس لیئے جانی تم مجھے دن بتاؤ کہ میں نے تمہارے پاس لاہور کب آنا ہے؟۔۔۔ میری بات سن کر اس نے ایک طویل قہقہہ لگایا۔۔۔اور پھر مجھے گالی دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ یار تو ہے بڑا حرامی۔۔ سالے ابھی جب میں نے تم سے پوچھا تھا کہ تم لاہور کب آ رہے ہو؟ تو کس طرح سے آفس کے کاموں کا بہانہ بنا رہے تھے ۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی میں نے پھدی کا نام لیا۔۔۔۔تو سب کام وام بھول کر مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ کب آنا ہے؟ تو آگے سے میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ۔۔ یار ایک دفعہ تم کو بتایا تو ہے کہ مفت پھدی مارنے کے لیئے میں بحیرہء منجمد شمالی و قطب جنوبی تک جا سکتا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولا ۔۔پکا حرامی ہے تُو۔۔۔۔ پھر ایک دم سیریس ہو کر بولا۔۔ ۔۔ آج جمعہ کا دن ہے کیا تم کل لاہور آ سکتے ہو؟ تو میں نے اس سے کہا کہ ٹھیک ہے میں کل دوپہر کو ڈائیو (بس) پر بیٹھ کر تیرے پاس آ رہا ہوں۔۔ تو وہ میری بات کو ڈن کرتے ہوئے بولا۔۔تو ٹھیک ہے جانی میں تمہیں ڈائیو اڈے پر لینے آ جاؤں گا۔۔ اور رات کا کھانا ہم دونوں مل کر ہی کھائیں گے ۔۔ چنانچہ اس کے ساتھ پروگرام وغیرہ طے کرنے کے بعد میں نے فون رکھ دیا۔۔ اور خیاباں خیاباں ارم دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
  13. اس خوف سے میں نے کبھی اس کے ساتھ ایسی ویسی کوئی حرکت نہیں کی تھی ۔۔ لیکن جب اس نے خود ہی ۔۔۔ میرے ساتھ ایسی حرکتیں شروع کر دیں ۔ تو آہستہ آہستہ میں بھی شیر ہو گیا۔اور چلتے چلتے اکثر میں اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔اور پھر ایک دن کی بات ہے کہ جب میں اسے ڈارپ کر نے گیا تو وہ گاڑی سے نیچے اتر کر مجھے ٹاٹا کر کے جانے لگی۔۔تو اس پر میں نے برا سا منہ بناتے ہوئے اس سے کہا کہ ۔۔ اپنے دوستوں کو ایسے رخصت کرتے ہیں کیا؟ میری بات سن کر روشا کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔۔اور وہ پسنجر سیٹ سے گھوم کر میری طرف آئی اور اپنے منہ کو کھڑکی سے اندر کر کے مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔ ہاں اب بولو کہ تمہیں کیسے الوداع کرنا ہے؟۔۔۔ اس کے چہرے کو اتنے قریب دیکھ کر میری آنکھوں میں ہزار واٹ کے بلب جل گئے اور میں نے ایک بے خودی کے عالم میں اپنے منہ کو تھوڑا اوپر کیا۔۔۔۔ اور اپنے ہونٹوں کو اس کے ہونٹوں پر رکھ کر اسے ایک ہلکی سی کس دے کر بولا۔۔۔ ایسے کرتے ہیں الوداع ۔۔۔ میری بات سن کر وہ مصنوعی غصے سے بولی ۔۔۔او ہیلو ۔۔۔ زیادہ فری ہونے کی کوشش نہ کرو اس طرح دوست کو دوست نہیں۔۔۔۔ بلکہ بیوی اپنے ہبینڈ کو الوداع کیا کرتی ہیں تو میں نے زچ ہو کر اس سے پوچھا کہ اچھا پھر یہ بتاؤ کہ ایک دوست اپنے دوست کو کیسے الوداع کرتا ہے؟ اور اس وقت میری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی جب روشا اپنے سر کو کھڑکی کے مزید اندر لے آئی اور پھر ۔۔۔ میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر ۔۔۔مجھے ایک طویل اور جزبہء شوق سے سرشار کس دیتے ہوئے بولی ۔۔۔ ایک لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کو اس طرح وداع سے کرتی ہے ۔۔اتنی بات کرتے ہی روشا ۔۔ یہ جا وہ جا۔۔ وہ تو چلی گئی ۔۔۔لیکن میں کافی دیر تک وہیں کھڑا اپنے ہونٹوں پر اس کے نرم ہونٹوں کا لمس ۔۔۔۔۔اور اپنے منہ میں اس کی تیکھی زبان کا ذائقہ محسوس کر کے انجوائے کرتا رہا۔۔ پھر اس کے بعد حمزہ کہنے لگا کہ اس دن کی بھر پور کسنگ کے بعد ۔۔۔ آہستہ آہستہ روشا کا میرے ساتھ جنسی تعلق بھی شروع ہو گیا۔۔ ہم لوگ اکثر لانگ ڈرائیو پر نکل جاتے اور کسی مناسب جگہ پر گاڑی پارک کر کے ۔۔۔۔ وہاں پر خوب کسنگ کیا کرتے تھے ۔۔۔اس کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کسنگ کرتے ہوئے میں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر اپنے اکڑے ہوئے لن پر رکھ دیا۔۔۔ تو اس نے بھی بغیر کسی ہچکچاہٹ کے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔ اور پھر نیکسٹ ٹائم میں نے پروگرام کے مطابق کسنگ کے دوران اپنی پینٹ کی زپ کھولی ۔۔۔اور انڈر وئیر سے لن کو باہر نکال لیا۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کے ہاتھ کو پکڑ کر اپنے ننگے لن پر رکھ دیا۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی روشا کا ہاتھ میرے ننگے لن پر پڑا۔۔۔ وہ ایک دم چونک اُٹھی اور پھر بڑی گہری نظروں سے میرے لن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ نائیس ڈِک ۔۔۔ اور پھر اسے اپنی مُٹھی میں لے کر ۔۔۔۔ میری طرف دیکھتے ہوئے اوپر نیچے کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ ادھر اس کے نرم و نازک ہاتھ نے جیسے ہی میرے لن کو چھوا ۔۔۔تو مجھے ایک کرنٹ سی لگی اور میں نے اپنا ایک ہاتھ روشا کی چھاتیوں پر رکھ انہیں دبانے لگا۔۔۔۔۔یہ ماجرا دیکھ کر اس نے ایک نظر کار سے باہر ڈالی ۔۔۔۔اور ۔۔اپنی شرٹ کو اوپر کر کے اپنی چھاتیوں کو برا سے آزاد کر دیا۔۔۔ اور پھر ان چھاتیوں اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ بریسٹ سکنگ کرو۔۔ اس کی بات سنتے ہی میں کسی بھوکے بچے کی طرح اس کے سخت مموں پر پل پڑا ۔۔۔اور انہیں اپنے منہ میں لے کر ندیدوں کی طرح چوسنے لگا۔۔ میرے اس طرح چھاتیوں کو چو سنے کے۔۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر بعد روشا اس قدر گرم ہو گئی کہ اس نے میرے منہ کو اپنی چھاتیوں سے ہٹایا اور مجھے سیٹ پیچھے کر کے لیٹنے کو کہا۔۔۔۔ اور پھر جیسے ہی میری گاڑی کی فرنٹ سیٹ پیچھے ہوئی۔۔۔۔ تو روشا نے بنا کوئی بات کیئے اپنے سر کو میرے لن کی طرف جھکا دیا ۔۔۔۔اور پھر ایک ہاتھ سے میرے لن پکڑ ا ور۔۔۔۔۔ اپنی زبان نکال کر میرے ٹوپے پر پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ تمہارا ڈِک بہت شاندار ہے ۔ مجھے ایسے ہی لمبا موٹا اور سخت لن پسند ہے۔۔۔۔ اتنی بات کرتے ہی اس نے میرے تنے ہوئے لن کو اپنے منہ میں لیا اور ۔۔۔۔۔۔ پھر تیزی سے چوپا لگانے لگی۔۔وہ شہوت کے زیرِ اثر اس قدر جوش اور شوق سے میرا لن چوس رہی تھی کہ میں زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکا اس لیئے چوپا لگانے کے ۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد جب میرا لن ۔۔۔۔اس کے منہ میں بار بار اکڑاہٹ دینے لگا تو اس نے جلدی سے لن کو اپنے منہ سے باہر نکلا۔۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔ میری طرف دیکھتے ہوئے شہوت انگیز لہجے میں بولی۔۔۔آئی تھنک کہ تم " کم" کرنے لگے ہو؟ ( چھوٹنے لگے ہو) تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔ میری بات سن کر اس نے میری گاڑی میں رکھے ٹشوز کے ڈبے میں سے ایک ساتھ کافی سارے ٹشو نکالے اور پھر میرے پہلے سے چکنے لن کی طرف جھک کر اس پر تھوک کا ایک گولا سا پھینکا۔۔ ۔۔۔۔ اور پھر اس تھوک کو میرے لن پر اچھی طرح سے ملنے کے بعد وہ ۔۔۔۔۔ میری مُٹھ مارنا شروع ہو گئی۔۔۔ ۔۔ تھوڑی ہی دیر بعد جیسے ہی میں چھوٹنا شروع ہوا ۔۔۔۔تو اس نے میرے ٹوپے کے آگے وہی ٹشوز رکھ دیئے۔۔۔اور لن کو پکڑ کر اس کی ڈائیریکشن ٹشوز کی طرف کر دی۔۔۔اور یوں میری ساری منی کو ان ٹشو پیپرز پر گرا کر اسے باہر پھینک دیا۔
  14. اور یوں ہماری دوستی اب پرائیویٹ میسج سے نکل کر سیل فون تک آ گئی تھی۔ میں اکثر اسے کہا کرتا تھا کہ یار تمہارے پاس اتنا نالج ہے تم فورم کی ڈسکشن میں حصہ کیوں نہیں لیتے ؟ تو آگے سے وہ جواب دیا کرتا تھا کہ اسے خا موش رہنا اچھا لگتا ہے ہاں اچھے اور عالمانہ قسم کے تھریڈ پر وہ ضرور اپنی رائے کا اظہار کیا کرتا تھا ۔۔۔۔ سیل فون نمبر ایکس چینج ہونے کے بعد دن میں ایک آدھ بار ہماری گفتگو ہونے لگی۔۔۔ خاص کر کوئی نئی کتاب پڑھنے کے بعد اس بارے میں ۔۔۔ اکثر ہماری لمبی لمبی ڈسکشن ہوا کرتی تھی اور اس بحث و تمہید کے بعد اکثر میں اس سے پوچھا کرتا تھا کہ اپنی یونیورسٹی کی کوئی کلاس فیلو ۔۔۔ پھنسائی۔۔۔۔ ؟ تو آگے سے وہ دانت نکال کر کہا کرتا تھا کہ اس کی کلاس میں ایک لڑکی ہے جو کہ اتنی خوبصورت ، اتنی بولڈ ا ور الٹرا ماڈ ہے کہ اسے پھنسانے کے چکر میں یونیورسٹی کے آدھے بھونڈ اچھے خاصے بے عزت ہو چکے ہیں ۔۔ لیکن اس کے باودجود بھی بشمول اس کے۔۔۔ یونیورسٹی کے سب لڑکے اس پر مرتے ہیں اور جانے اور ان جانے طریقوں سے اس پر ٹرائی کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔ ۔۔ دیکھو یہ قرعہ کس کے نام پر نکلتا ہے۔۔۔۔۔ یہاں پر میں ایک اور بات واضع کر دوں اور وہ یہ کہ حمزہ کے ساتھ اتنی دوستی کے باجود بھی ابھی تک میں نے اسے اور اس نے مجھے نہ دیکھا تھا۔ ہم لوگ پرائیویٹ میسچ یا زیادہ سے زیادہ فون پر ہی بات چیت کیا کرتے تھے اور اتفاق ایسا تھا کہ اس دوران نہ تو میرا لاہور جانا ہوا تھا اور نہ ہی اس کا پنڈی کی طرف کوئی چکر لگا تھا۔ پھر ۔۔۔ایک دن کی بات ہے کہ اس کا مجھے فون آیا ۔۔۔اور وہ بڑی خوشی کے ساتھ مجھے بتا رہا تھا کہ اس لڑکی کے ساتھ اس کی ساتھ ہیلو ہائے کچھ آگے بڑھ رہی ہے اور اس بات کی امید پیدا ہو گئی ہے کہ یونیورسٹی کی سب سے مارڈرن اور خوب صورت لڑکی کا قرعہ اس کے نام ہی نکلے گا۔۔۔اس پر میں اس سے بولا۔۔بیٹا جیسے ہی یہ کڑی تیرے جال میں پھنسے ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب سے پہلے اس کی پھدی مار لینا۔۔۔ کہ میرے نزدیک لڑکے لڑکی کو اسی کام کے لیئے پھنساتے ہیں میری بات سن کر وہ ہنس پڑا ۔۔۔ پھر مجھے گالی دیتے ہوئے بولا۔۔۔ سن بھوسڑی کے یونیورسٹی کی لڑکیاں تیری آنٹیوں کی طرح کی چالو نہیں ہوتیں۔۔ ۔۔۔ کہ ادھر لور کے ساتھ ہیلو ہائے ہوئی اور ادھر آنٹی نے شلوار اتار کے پرے پھینک دی۔۔ ۔۔۔ پھر تھوڑا وقفہ لے کر بولا۔۔۔۔۔۔ میری جان میری معشوق کوئی عام لڑکی نہیں ۔۔۔۔۔ بلکہ یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ ہے ۔ اور بھائی یہ مہذب اور پڑھی لکھی لڑکیاں اتنی آسانی سے پھدی نہیں دیتیں بلکہ پھدی دینے سے زیادہ اس قسم کی لڑکیاں شادی کے چکر میں ہوتی ہیں اس لیئے مجھے اس کے ساتھ بڑا محتاط ہو کر چلنا پڑے گا۔۔۔ پھر کہنے لگا کہ یار جی اگر اس نے پھدی نہ بھی دی تو کوئی بات نہیں یقین کرو اس کے ساتھ صرف گپ شپ کرنے میں بھی اتنا مزہ ہے کہ میں تم کو بتا نہیں سکتا ۔۔۔۔ ۔۔۔ اس کے بعد حمزہ جب بھی مجھے فون کرتا تو وہ اس لڑکی کے بارے میں ہی گفتگو کیا کرتا تھا کہ آج میری فلاں بات پر وہ اتنا ہنسی تھی کہ سارا ماحول جل ترنگ سا ہو گیا تھا۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔کبھی کہتا کہ آج میں اور وہ کنٹین میں بیٹھے چائے پی رہے تھے جبکہ وہاں پر بیٹھے باقی لڑکے بڑی حسد بھری نگاہوں سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ یقین کرو ان کی آنکھوں میں حسد کی آگ کو دیکھ کر میرے دل کو جو خوشی ملی بیان سے باہر ہے وغیرہ وغیرہ ۔ غرض کہ میرا دوست اس حسینہ ماہ جبینہ پر اچھا خاصہ لٹو ہو چکا تھا۔۔ اور اس کی گفتگو کا محور صرف اور صرف وہی لڑکی ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔ رفتہ رفتہ حمزہ کا فون آنا کم ہو گیا۔۔۔ پھر کم ہوتے ہوتے ۔۔۔ تقریباً ختم ہی ہو گیا اور میں سمجھ گیا کہ میرا دوست اس لڑکی کے ساتھ اپنی لائف کو انجوائے کر رہا ہے۔۔۔ ایک دن کی بات ہے کہ میں دفتری کام کے سلسلہ میں باس کے کمرے میں بیٹھا تھا کہ وائیبریشن پر لگا ہونے کی وجہ سے میرا موبائل کانپنا شروع ہو گیا ۔۔۔ میں نے جلدی سے نکال کر دیکھا تو موبائل سکرین پر حمزہ کا نام چمک رہا تھا ۔۔چنانچہ فوری طور پر میں نے میسج دیا کہ آفس کے کام میں بزی ہوں۔۔ اس لیئے فارغ ہونے کے بعد تم سے بات کروں گا ۔تو آگے سے اس نے جواب میں لکھا کہ میٹنگ ختم ہوتے ہی فون کرنا کہ میں نے تم سے ایک بڑی ضروری بات کرنی ہے ۔ چنانچہ کام ختم ہوتے ہی میں باس کے کمرے سے باہر نکلا ۔۔۔ اور حمزہ کو فون ملا دیا ۔۔پہلی ہی گھنٹی پر اس نے فون اُٹھا یا۔۔ اور دوسری طرف سے اس کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دی ۔۔ کہ شاہ جی آج میں رُوشا کی لینے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔ اس کی بات سن کر میں سمجھ تو گیا تھا کہ موصوف کس رُوشا کی بات کر رہا ہے ۔۔ لیکن اسے چھیڑنے کے لیئے یوں ہی کہہ دیا کہ کون رُوشا ؟ تو میری بات سن کر وہ تھوڑا غصے میں آ کر بولا۔۔ڈرامے نہ کر یار ۔۔۔ ۔ میں اسی رُوشا کی بات کر رہا ہوں کہ جس کے بارے میں۔۔ تم کو بتایا کرتا تھا۔۔ جو کہ میری یونیورسٹی فیلو اور دوست ہے ۔۔۔ اس کی اتنی لمبی تمہید سننے کے بعد میں نے خوشی سے نعرہ لگایا اور اس سے بولا۔۔۔۔۔جیو میرے شیر !!۔۔ آخر تم نے میدان مار ہی لیا۔۔۔ اور پھر اگلے ہی لمحے میں نے اس سے پوچھا۔۔۔ اچھا یہ بتا کہ تم نے اس کی لی کیسے ؟ تو وہ بڑے سیکسی لہجے میں کہنے لگا۔۔۔ کافی دنوں سے وہ میرے ساتھ چپکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ تنہائی ملتے ہی وہ میرے ساتھ جُڑ کر چلتی تھی۔۔۔اور جیسا کہ تم جانتے ہو کہ شروع دن سے ہی۔۔ میری تو کیا۔۔۔ یونیورسٹی کے ہر لڑکے کی اس پر بری نظر تھی۔۔۔ لیکن میری کسی حرکت کا وہ برا نہ منا جائے ۔۔۔۔۔
  15. تھری سم ہیلو دوستو کیسے ہیں آپ ؟ امید ہے ٹھیک ہی ہوں گے تو ساتھیو اور دوستو جیسا کہ آپ کہ آپ لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہو گا کہ آپ کہیں آرام سے بیٹھے موسم انجوائے کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ کہ اچانک ہوا کا ایک مست جھونکا کہیں سے آ نکلتا ہے ۔۔ اور پھر اس مست جھو نکے کو محسوس کرتے ہی ۔۔۔۔ مشامِ جاں کا رُواں رُواں معطر ہو جاتا ہے اور اسی ہوا کے دوش پر۔۔۔۔۔ یادوں کی حسیں پریاں من کے باغ میں قطار اندر قطار اترنا شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔۔ جس کی وجہ سے ماضی کے چراغ جلنا شروع ہو جاتے ہیں اور بندہ سحر زدہ سا ہو کر زینہ بہ زینہ۔۔۔قدم بہ قدم اپنے ماضی کے حسین دریچوں میں اترنا شروع ہو جاتا ہے ۔ دوستو ۔۔مجھے آپ کا تو معلوم نہیں لیکن میرے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کبھی کبھی میں محفل میں بیٹھے بیٹھے ۔۔میں ۔۔۔ میں نہیں رہتا بلکہ ماضی کا ایک خوبصورت مزار بن جاتا ہوں جس پر حسین و سنگین یادوں کے چراغ جلتے ہیں اور ان چراغوں کی لو میں ۔۔۔جل پریوں کے ساتھ اک ۔۔ می رقصم والا ماحول بن جاتا ہے ۔ایسے ہی ایک دن کی بات ہے کہ میں یادِماضی ۔۔(جو کہ مرزا غالب کے بر عکس ۔۔۔میرے لیئے عذاب نہیں۔۔۔ بلکہ فرحت بخش ٹانک کی حیثیت رکھتا ہے ) میں کھویا حسابِ گناہِ داد و دہش کر رہا تھا ۔۔ کہ شمارِ چوت کرت کرتے ۔۔ لفظ چوت سے میرے زہن میں ایک ایسی لڑکی کی یاد تازہ ہو گئی جو کہ اپنے وقت کی الٹرا ماڈ ، ویل ایجوکیٹیڈ ۔۔۔شوخ۔۔اور سیکس بمب تھی۔ بہت اونچے سکولوں میں پڑھنے کی وجہ سے وہ اپنے انگریزی زدہ لہجے میں چوت۔۔۔کو ہمیشہ "چھوت" کہا کرتی تھی۔ اور اس کے منہ سے چوت کو چھوت کہنا اس قدر سجتا تھا کہ میرے جیسا ٹھرکی بندہ چوت کو چھوت کہنے پر جو کہ پہلے ہی اس کے رعبِ حسن سے ادھ موا ہو چکا ہوتا تھا ۔۔۔۔اس لفظ کی سماعت پر ۔۔۔ ہزار جان سے فدا ہو کر اس پر واری واری جاتا تھا ۔ اس پیاری اور سیکسی لڑکی پر غالب کا یہ شعر بہت فٹ آتا تھا کہ بلائے جان ہے غالب اس کی ہر بات۔۔۔۔عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا۔۔۔۔ تو میرے پیارے دوستو مجھے پکا یقین ہے کہ میرے قلم سے اس لڑکی کی اتنی زیادہ تعریفیں سن کر آپ کی آنکھوں میں ہوس کے ڈورے اور منہ سے رالیں ٹپک رہی ہوں گی اور کم از کم آپ اتنا تو ضرور چاہیں گے کہ میں اس لڑکی کے بارے میں آپ لوگوں کو مزید کچھ بتاؤں۔۔۔۔ اگر ایسا ہے تو دھیرج رکھیئے جناب کہ خادم نے یہ اتنی لمبی چوڑی تمہید اس حسینہ کے ساتھ گزرے ہوئے چند یاد گار لمحات کی داستان سنانے کے لیئے ہی باندھی ہے۔۔۔ تو آیئے جناب ۔۔ میں آپ کو اس داستان کی طرف لیئے چلتا ہوں ۔۔۔ لیکن اس سے پہلے میں آپ کے سامنے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ۔۔ ۔۔۔ یہ داستان ایک دم سچی اور مبنی بر حقیقت ہے لیکن سٹوری کے حساب سے اس میں بارہ مصالحے وغیرہ ڈالنا میری مجبوری ہے اور دوسری بات یہ کہ یہ سٹوری اردو فنڈا کے ایک نہایت خاموش قاری کے بارے میں ہے جو کہ میری طرح اس کا ایک پرانا ممبر ۔۔۔۔۔اور میرا بہت اچھا دوست بھی ہے۔۔۔ اور اسی دوستی کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں ۔۔۔۔ اس کی اجازت کے بغیر ہی یہ واقعہ لکھ رہا ہوں جو کہ آج مجھے بری طرح سے یاد آ رہا ہے ۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے دوست کو بھی یہ بتانا چاہتا ہوں کہ فکر نہیں کرو میری جان ۔۔میں نے اس سٹوری میں ۔۔ اردو فنڈا پر بنائی گئی تمہاری آئی ڈی۔۔ تمہارا اور اس کافر حسینہ کا اصلی نام ہر گز نہیں نہیں لکھوں گا بلکہ ۔۔۔۔ شناخت چھپانے کی خاطر میں نے اس کہانی کے تمام کرداروں کے نام تبدیل کر دیئے ہیں ۔ میرے اس اقدام کے بعد امید ہے کہ سٹوری پڑھنے کے بعد میرا دوست مجھے فون کر کے پہلے سے تھوڑی کم گالیاں دے گا۔ دوستو یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب میں نے اردو فنڈا پر شاہ جی کے نام سے نئی نئی آئی ڈی بنائی تھی اور پھر کچھ ہی عرصہ کے بعد میں نے اس فورم کے ہر ٹاپک پر ۔۔۔۔۔ شوق و شوکی منہ مارنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔اور چاہے مجھے فورم پر چلنے والے ٹاپک کے بارے میں کوئی سمجھ بوجھ ہو یا نہ ہو ۔اس کے ہر ٹاپک پر ۔۔۔۔ خواہ مخواہ کمنٹس دیا کرتا تھا۔۔۔ جبکہ اس وقت میرا دوست جسے آپ حمزہ کہہ سکتے ہیں بھی اس کا ممبر ۔۔۔ لیکن ایک خاموش قاری تھا۔ جبکہ ان دنوں میں ہر تھریڈ پر جا کر ایسے ہی "یبلیاں " (بونگیاں) مارا کرتا تھا جسے ظاہر کہ فورم کے پڑھے لکھے لوگ سخت ناپسند کرتے تھے اور اکثر میرے کمنٹس پر ناک بھوں چڑھایا کرتے تھے۔اور بعض تو خاص کر ایک آدھ خاتون تو ( غالباً ) مجھے ماڑا سمجھ کر فورم پر میری خوب لیا کرتی تھی ۔اور میں ٹھرکی بابا۔۔اسی بات پر خوش ہو جایا کرتا تھا کہ فلاں تھریڈ پر۔۔۔میرے اونگے بونگے کمنٹس پڑھ کر ۔۔۔۔ فلاں لڑکی نے میری بڑی کلاس لی ہے آپس کی بات ہے کہ اپنے مخالف کمنٹس اور وہ بھی ۔۔۔ لڑکیوں کے ۔۔۔پڑھ کر مجھے بڑا مزہ آیا کرتا تھا۔ اسی دوران پھر ایک پوسٹ پر (اب یاد نہیں آ رہا کہ وہ کیا پوسٹ تھی) میرے کمنٹس پر حسبِ معمول فورم والوں کا وہی ردِعمل آیا جو کہ ایسے موقعوں پر عموماً آیا کرتا تھا لیکن اس دفعہ خاص بات یہ ہوئی کہ مجھے ایک پرائیویٹ میسج بھی موصول ہوا ۔۔ جسے میں نے اس امید پر کھولا کہ شاید کسی لڑکی کا گالیوں بھرا پیغام ہو گا۔ لیکن اس کی بجائے یہ ایک لڑکے کی طرف سے پیغام تھا کہ جس کی آئی ڈی سے میں نا آشنا تھا اور اس نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ وہ اس فورم کا ایک خاموش قاری ہے ۔۔اور اکثر اس فورم کے تھریڈز وزٹ کرتا رہتا ہے ۔۔ اور اس سلسلہ میں مختلف پوسٹوں پر دیئے گئے تمہارے کمنٹس بھی پڑھتا رہتا ہوں جن کو فورم والوں کی اکثریت ناپسند کرتی ہے پھر آگے اس نے لکھا تھا ۔۔۔کہ یار تم ایسے کمنٹس کیوں دیتے ہو کہ جسے فورم کی اکثریت ناپسند کرتی ہے ؟؟؟ اس نامعلوم لڑکے کا پیغام پڑھنے کے بعد میں نے اس کو جواب میں لکھا ۔۔ کہ بھائی اصل میں ۔۔۔ ایک تو میں عقل سے بلکل پیدل ہوں اور دوسرا بہت زیادہ پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے ۔۔ میں جو کمنٹس دیتا ہوں اس کی ان جاہل لوگوں کو بہت کم سمجھ آتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ تو اس پر اس کا جواب آیا کہ میرے تجزیے کے مطابق تم عقل سے پیدل نہیں بلکہ رونق میلے کے لیئے یہ سب لکھتے ہو۔۔۔۔ اس کا یہ میسج پڑھ کر میں تو دنگ رہ گیا۔ لیکن اس کے باوجود میں نے اس کو ایک دو بار مزید بظاہر عقل مندانہ لیکن۔۔۔۔ سخت بورنگ قسم کے پیغام بھیجے ۔۔۔ لیکن پھر اس کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ۔۔میں بھی سنجیدہ ہو گیا۔۔۔اور یوں ۔۔۔۔ میری اردو فنڈا کے اس خاموش قاری کے ساتھ جس کا نام حمزہ تھا سے میری دوستی ہو گئی۔ حمزہ لاہور کا رہنے والا تھا ۔ اور اکثر مجھے پرائیویٹ میسچ بھیجا کرتا تھا ۔۔۔اور پھر دھیرے دھیر ے میں نے بھی اس کو " بندے دے پُتر" والے میسج بھیجنا شروع کر دیئے۔۔۔یوں آہستہ آہستہ ہماری دوستی بڑھتی گئی چونکہ ہم دونوں کی مشترکہ ہابی کتابیں اور سیکس تھا۔۔ اس لیئے اگر میں کوئی نئی کتاب پڑھتا یا کوئی سیکس کے بارے نئی واردات ڈالتا تو اس کے ساتھ ضرور شئیر کرتا تھا۔۔۔۔۔ اسی طرح وہ بھی جب کوئی کتاب پڑھتا ۔۔۔( وہ زیادہ تر انگریزی کی بُکس پڑھا کرتا تھا لیکن پھر میرے کہنے پر وہ اردو کتابیں بھی پڑھنا شروع ہو گیا تھا) وہ جب بھی اپنی کسی دوست یا کسی آس پڑوس کی لڑکی کو چودتا ۔۔۔۔۔ تو مجھے ضرور بتایا کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
×