Jump to content
URDU FUN CLUB

shahg

Writers
  • Content Count

    242
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    19

shahg last won the day on October 1

shahg had the most liked content!

Community Reputation

345

About shahg

  • Rank
    Premium Member

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. جناب ایڈمن صاحب میں نے بڑا زور لگایا لیکن کہانی کا دوسرا حصہ اپ لوڈ نہیں ہو رہا ۔۔۔ ایک پورشن ہوا ہے ۔۔۔ لیکن جیسا کہ اپ کو معلوم ہے کہ میں لمبی سٹوری لکھتا ہوں ایک یا دو پیراگراف اپ لوڈ ہوئے ہیں لیکن وہ بھی نظر نہیں آ رہے باقی۔۔۔۔۔ کا زور لگانے پر بھی نہیں ہو رہا ۔۔۔ پہلی قسط تو پھر بھی ہو گئی تھی (شاید اس وقت تک آپ کا دھیان نہی پڑا تھا) لیکن اب نہیں ہو رہی ۔۔۔ کوئی پرابلم ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟ یا آپ نے مجھے کک آف کر دیا ہےاگر ایسا ہے تو پلیز بتا دیں
  2. بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔
  3. عام طور پر لوگ ترقی کرتے ہیں لیکن ۔۔۔۔ لیکن ممبر شپ ایکسپارئری ہونے کی وجہ سے بجائے ترقی کے میری تنزلی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔ بہت شکریہ جناب
  4. بہت بہت شکریہ جناب
  5. کہنا یہ تھا کہ یہ وقت آنا تھا کہ بندے کی کہانی بغیر اجازت/اپرول کے نہیں لگے گی۔۔۔۔۔۔چلو اس میں بھی کوئی راز ہو گا
  6. کسنگ کرنے کے کچھ دیر بعد نارائن مامی سے کہنے لگا چل ۔۔۔ ۔۔۔ اُٹھ رانڈ ! ۔۔۔اور میرا لوڑا چوس۔۔ نارائن کی بات سن کر مامی ایک لفظ کہے بغیر اپنی جگہ سے اُٹھی اور گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی نارائن کی ٹانگوں کی طرف آ گئی ۔جہاں پر اس کا مست لوڑا اکڑا کھڑا تھا۔۔۔ جیسے ہی مامی نارائن کی ٹانگوں کے قریب پہنچی اسی وقت نارائن نے اپنی دونوں ٹانگوں کو آخری حد تک کھول دیا ۔۔۔جس کی وجہ سے مامی اس کی کھلی ٹانگوں کے بیچ میں آکر بیٹھ گئی۔۔ ۔۔اور نارائن کے لوڑا کو اپنے ہاتھ میں پکڑ ا اور پھر اس پر تھوک کا ایک گولہ سا پھینک کر بولی۔۔ تیرا لوڑا بہت مست ہے رے۔۔۔ تو آگے سے نارائن کہنے لگا۔۔ مست وست چھوڑ ۔۔چوپا لگا۔۔ تو مامی اپنے تھوک کو نارائن کے لن پر ملتے ہوئے بولی ۔۔۔ اسے چوسنے کے لیئے ہی تو ۔۔۔۔تیری ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھی ہوں سالے ۔۔۔ ۔۔ حقیقت یہ ہے کہ نارائن کا لن کوئی اتنا لمبا چوڑا ہر گز نہ تھا بلکہ میرے خیال میں اس کا لنڈ کوئی چھ اینچ کے قریب ہو گا ہاں موٹائی میں تھوڑا زیادہ تھا ۔ ۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اس وقت نارائن کا اَن کٹ لوڑا اپنے فل جوبن میں اکڑا کھڑا تھا جبکہ اس کا ٹوپا ان کٹ ہونے کی وجہ سے ایک غلاف ۔۔ جسے اردو میں حشفہ کہتے ہیں میں چھپا ہوا تھا۔۔ ادھر مامی نے بڑے پیار سے ٹوپے پر لگی ایکسٹرا سکن کو پیچھے کی طرف کیا اور پھر ننگے ٹوپے پر زبان پھیرتے ہوئے بولیں ۔۔ تیرا لن بھی کافی ِلیک ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ تو نارائن جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔ سالی رانڈ ۔۔ اتنا بھوسڑا چٹوایا ہے ۔۔تو اس بے چارے نے تو ِلیک ہونا ہی تھا۔۔۔ اس پر مامی کہنے لگی ۔۔۔ تم اس لوڑا کو بے چارہ کہہ رہے ہو جو کہ میرے جیسی سیکسی عورت کی بھی چیخیں نکالوا دیتا ہے تو اس پر نارائن ترنت ہی کہنے لگا۔۔۔بےچارہ تو ہے نا ۔۔جو اتنی دیر بعد اسے اس کی باری آئی ہے۔۔۔ نارائن کی بات سن کر مامی نے سر جھکایا اور پہلے تو اس کے ننگے ٹوپے کو چاروں طرف سے چاٹا ۔۔ پھر آہستہ آہستہ ۔۔۔۔۔ اس کو اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع ہو گئی ۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی مامی نے نارائن کے لوڑے کو چوسنا شروع کیا ۔۔۔۔۔ ۔۔اس کے تھوڑی دیر بعد مامی کی طرح نارائن نے بھی اونچی آواز میں ۔۔۔۔ لذت بھری چیخیں مارنا شروع کر دیں ۔۔ نارائن کی چیخیں سن کر مامی نے اس کے لن کو اپنے منہ سے باہر نکالا اور پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بڑی شوخی کے ساتھ کہنے لگی۔۔۔ سالے آہستہ چیخ !!!!۔۔۔کہیں میرا بھانجھا نہ اُٹھ جائے۔۔۔ مامی کی بات سن کر نارائن نے بھی انہی کی زبان میں جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔ میری طرف سے چاہے سارا محلہ اُٹھ جائے لیکن میں چُپ نہیں رہوں گا ۔۔۔ اور ایسے ہی شور مچا کر تیرے چوپے کو انجوائے کروں گا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس نے مامی کے سر کو اپنے لوڑا پر سختی کے ساتھ دبا دیا۔۔۔ مامی نے بھی اپنا سارا منہ کھولا ۔۔۔۔اور پھر نارائن کے لوڑا کو جی بھر کے چوسا۔۔ انہیں ابھی لن چوستے ہوئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اچانک نارائن سسکیاں لیتے ہوئے بولا۔۔۔۔ بس کر رانڈ ۔۔۔بس کر۔۔۔ لوڑا چوسنا بند کر۔۔۔تو مامی نے اس کے لوڑے کو اپنے منہ سے باہر نکالا اور کہنے لگیں ۔۔۔۔ کہ اتنے مزے کا لوڑا نہ چوسوں تو پھر کیا چوسوں ؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو آگے سے نارائن جواب دیتے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔ مجھ سے چُدوا ۔۔۔۔۔ نارائن کی بات سنتے ہی مامی نے اس کی طرف دیکھا اور مستی بھرے انداز میں کہنے لگیں ۔۔آج کس سٹائل میں لے گا؟ تو نارائن اپنی جگہ سے اُٹھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ اپنی تو ایک ہی پسند ہے ڈوگی ۔۔۔۔۔ اس لیئے تو جلدی سے کتیا بن جا ۔۔اس پر فوراً ہی مامی اس کے سامنے گھوڑی بن گئی۔۔اور پھر شرارت سے بولی۔۔ میری گانڈ مارے گا کیا؟ مامی کو گھوڑی بنتے دیکھ کر نارائن بھی سرکتا ہوا مامی کے پیچھے آ گیا اور ان کی شاندار بُنڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔ گانڈ بھی مار لو ں گا لیکن اس وقت میرا دل تیری لیس دار پھدی پر آ رہا ہے یہ سن کر مامی نے گردن موڑ کر نارائن کی طرف دیکھا اور کہنے لگیں۔۔۔ پھدی مارنی ہے تو پھر ۔۔۔ دھکے فُل سپیڈ مارنا ۔۔۔۔ ۔۔ اتنی دیر میں نارائن اپنے ان کٹ ٹوپے پر تھوک لگا چکا تھا ۔۔چنانچہ اس نے اپنے تھوک لگے لوڑے کو ہاتھ میں پکڑ کر مامی کی چوت پر رکھا ۔۔۔۔ اور اسے رگڑتے ہوئے بولا۔۔۔ اس کی تو فکر نہ کر۔۔۔پھر اس نے مامی کی موٹی گانڈ پر ایک زور دار تھپڑ مارا اور کہنے لگا۔۔۔ ۔۔۔ میں نے پہلے کبھی کمزور دھکا مارا ہے ؟ تو آگے سے مامی جواب دیتے ہوئے بولی ۔۔۔ اسی لیئے تو میں بڑے شوق سے ۔۔۔ تیرے نیچے لیٹتی ہوں۔۔۔کہ سالے تو گھسے بڑے جاندار مارتا ہے مامی کی بات سن کر نارائن نے کوئی جواب دینے کی بجائے۔۔۔۔۔ایک زبددست دھکا لگایا جس کی وجہ سے اس کا لن پھسل کر مامی کی چوت میں غائب ہو گیا۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی نارائن نے نان سٹاپ دھکوں کی بارش شروع کر دی۔۔ مامی ٹھیک کہہ رہی تھی واقعہ ہی وہ سالا بہت زبددست قسم کے دھکے مار رہا تھا۔۔۔۔ اور ان گھسوں کی وجہ سے مامی کی لزت بھری چیخوں کے ساتھ ساتھ کمرے کی فضا دھپ دھپ کی زور دار آوازوں سے گونج رہی تھی۔۔۔۔ میں کافی دیر تک وہاں کھڑا ان کی شہوت انگیز فکنگ کا مزہ لیتا رہا ۔۔ لیکن پھر میرا وہاں پر کھڑا رہنا مشکل ہو گیا کیونکہ میرے اندر کی گرمی بھی اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی ۔۔اور میرا لن تن کر آخری حد تک اکڑ چکا تھا اور اب مجھے ۔۔۔ مُٹھ کی شدید حاجت ہو رہی تھی۔۔ اس لیئے میں نے فیصلہ کیا کہ اب یہاں سے چلا جائے ۔۔لیکن۔۔۔ کمرے میں جانے سے پہلے ۔۔۔ ایک نظر اندر کی طرف جھانک کر دیکھا تو مامی کی دل کش چیخوں کے ساتھ ان کی دھواں دھار چدائی جاری تھی لیکن نارائن کے سٹائل سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ کسی بھی لمحے چھوٹنے والا ہے یہ دیکھ کر ۔۔۔۔ میں نے ان کو ان کے حال پر چھوڑا اور بڑے محتاط انداز میں تیز تیز چلتا ہوا اپنے کمرے میں پہنچ گیا اور اپنی لانگ نیکر ( باکسر) اتار کر سیدھا واش روم میں جا گھسا۔۔۔ ۔ وہاں پہنچ کر یاد آیا کہ گزشتہ روز سے میرا تو شیمپو ہی ختم تھا ۔۔ اور شاہ تم تو جانتے ہی ہو کہ میں شیمپو کے بغیر مُٹھ نہیں مار سکتا ۔۔۔اور اس وقت مجھے مُٹھ مارنے کی حاجت شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔سو میں ننگا ہی مامی کے واش روم کی طرف بھاگا اور وہاں جھانک کر دیکھا تو سامنے ہی مامی کا شیمپو پڑا تھا میں نے جلدی سے اسے اُٹھایا۔۔۔۔ اور وہیں کھڑے کھڑے ۔۔۔پہلے تو اپنا لن پر بہت سا تھوک لگا کر اسے گیلا کیا ۔۔۔۔ اور ۔۔ اسے گیلا کرنے کے بعد ۔۔۔ بہت سا شیمپو اپنے لن پر لگایا ۔۔۔۔ اور کچھ شیمپو اپنی ہتھیلی پر ڈال کر واپس اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔۔۔ اور پھر دروازہ بند کر کے باقی کا شیمپو بھی اپنے لن پر لگا کر۔۔۔ ۔۔۔۔۔ مُٹھ مارنا شروع ہو گیا۔۔ جیسے جیسے میرا ہاتھ چل رہا تھا ویسے ویسے لن پر شیمپو کی جھاگ بن رہی تھی۔۔۔۔ اور میں مزے کے سمندر میں غرق ہو رہا تھا ۔۔۔ ابھی مجھے مُٹھ مارتے ہوئے ۔۔۔۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی ۔۔۔۔ کہ اچانک میرے کمرے کا دروازہ دھڑام سے کھلا۔۔۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز سن کر میں ایک دم سے گھبرا گیا۔۔۔۔اور اسی گھبراہٹ کے عالم میں ۔۔۔۔۔ بے اختیار مُڑ کر دیکھا تو دروازے پر ماموں کھڑے تھے۔۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میری لانگ نیکر فرش پر پڑی تھی اور میں نے اپنے ایک ہاتھ میں لن پکڑا ہوا تھا ۔۔ ماموں کو یوں دروازے میں کھڑے دیکھ کر میرے چہرے کا رنگ اُڑ گیا ۔۔۔۔ میرے اوپر کا سانس اوپر اور ۔۔ نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔میری دونوں ٹانگوں میں جان ختم ہو گئی ۔۔اور ۔۔۔ ٹٹے دل کی طرف چڑھ گئے۔۔۔ ادھر جیسے ہی ماموں نے مجھے اس حال میں دیکھا ۔۔۔تو پہلے تو حیرت کے مارے ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا لیکن پھر اگلے ہی لمحے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  7. رات گئے سونے کے باوجود بھی صبع سویرے میری آنکھ کھل گئی۔۔ چنانچہ میں جلدی سے اُٹھا ۔۔۔ اور ہاتھ منہ دھوئے بغیر ہی کمرے سے باہر نکل گیا دیکھا تو ماموں ابھی تک کام سے واپس نہیں آئے تھے ۔۔۔ جبکہ ندرت مامی ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی ان کی حالت کو دیکھ کر صاف پتہ چل رہا تھا کہ میری طرح انہوں نے بھی رات بہت ٹینشن میں گزاری تھی ۔ ۔۔۔ میں جھجک کر چلتا ہوا ان کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ ظاہر ہے کہ میرے آنے سے وہ پوری طرح باخبر تھیں لیکن بظاہر بڑی بے نیازی کے ساتھ ڈبل روٹی پر جیم لگا رہی تھیں۔لیکن ان کی اس بے نیازی سے بھی ایک گہرا اضطراب ۔۔ جھلک رہا تھا ۔۔۔۔ میں کچھ دیر یونہی کھڑا رہا ۔۔ اس دوران انہوں نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر اسی بے نیازی ۔۔۔۔۔ لیکن اضطراری حالت میں ڈبل روٹی پر جیم لگاتی رہیں ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے انہیں اپنی طرف مخاطب کیا اور پھنسی پھنسی آواز میں بولا۔۔۔ ممانی جی آئی ایم سوری !!۔۔ رات جو کچھ بھی ہوا ۔۔۔میں اس کے لیئے آپ سے معافی چاہتا ہوں ۔۔۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے معافی مانگنے کی بات سن کر مامی چونک اٹھیں تھیں اور میری معافی والی بات سے ۔۔۔ ان کے تنے ہوئے عضلات کافی ڈھیلے پڑ گئے تھے۔۔۔ لیکن بظاہر انہوں نے مجھ پر کچھ بھی ظاہر نہیں کیا بلکہ میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی طنز یہ لہجے میں کہنے لگیں ۔۔ رات کو تو تم کچھ اور کہہ رہے تھے تو اس پر میں نے بڑی شرمندگی سے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ مامی جی میں ۔۔۔۔رات والی بات پر ہی آپ سے ایکسیوز کرنے آیا ہوں۔۔ اس لیئے پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئیندہ سے آپ کے کسی بھی معاملے دخل اندازی نہیں کروں گا ۔۔ میری بات سن کر مامی کے چہرے پر ایک مخصوص قسم کی خبیث ۔۔۔۔لیکن فاتحانہ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔اور انہوں نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے میری طرف ہاتھ بڑھایا اور کہنے لگیں ۔تم ٹھیک کہہ رہے ہو؟ تو میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے بڑی شرمندگی سے ہاتھ بڑھاتے ہوئے جواب دیا کہ مامی جی میں جو کہہ رہا ہوں خوب سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں میری بات مکمل ہوتے ہی مامی نے ایک گہری سانس لی ۔۔ اور پھر میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کرسی سے اُٹھیں اور مجھے گلے سے لگاتے ہوئے بولی۔۔۔شاباش عدیل!!!!۔۔۔ ۔۔۔ اگر تم اپنی اس بات پر قائم رہے تو فائدے میں رہو گے ورنہ!!!!!!! ۔۔۔ اپنے نقصان کے تم خود ذمہ دار ہو گئے۔۔ پھر کچھ دیر بعد میرے ساتھ ان کا رویہ پہلے جیسا ہو گیا بلکہ میں نے محسوس کیا کہ اس واقعہ کے بعد وہ میرے ساتھ پہلے سے کچھ زیادہ فری ہو گئیں تھیں ۔۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے کبھی بھولے سے بھی نارائن جی کے ساتھ ہونے والے اپنے افئیر کا ذکر تک نہیں کیا تھا۔۔۔ ۔ لیکن پھر ایک دن کمال ہو گیا یہ اس واقعہ سے دو دن بعد کی بات ہے اس دن ماموں کی نائیٹ تھی (وہ ہفتے میں ایک آدھ ہی نائیٹ کرتے تھے)۔۔ڈنر کے کافی دیر بعد ۔۔۔۔ مامی میرے پاس آئی اس وقت میں پلنگ پر لیٹا سونے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔انہوں نے دروازے میں جھانک کر ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر بڑے ہی ذُو معنی الفاظ میں بولی ۔۔۔ میں ذرا نیچے جا رہی ہوں ۔ مامی کے منہ سے یہ بات سنتے ہی میرے سارے بدن میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔۔ اور میں یہ سوچ کر ایک دم سے گرم ہو گیا ۔۔۔۔۔ کہ میرے بیڈ کے عین نیچے والے کمرے میں مامی اس ہندو نارائن سے چدوانے جا رہی تھی۔ اور یہ خیال آنے کی دیر تھی کہ اچانک ہی میرا لن تن کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔اور میں نے (بے اختیار ) اسے ہاتھ میں پکڑ کر سہلانا شروع کر دیا۔۔۔۔ مامی کے جانے کے تھوڑی ہی دیر بعد مجھے اپنی کھڑکی میں سے ( جو کہ اس وقت کھلی ہوئی تھی ) ایک تیز سسکی سنائی دی ۔۔۔۔اس سسکی کا سننا تھا کہ اچانک میرے دل میں یہ زبردست خواہش جاگی کہ کیوں نہ مامی کا لائیؤ شو دیکھا جائے۔۔۔ اس خواہش کا ذہن میں آنے کی دیر تھی کہ میں بے حد بے چین ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ میں نے اس خیال کو اپنے ذہن سے جھٹکنے کی بڑی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جوں جوں میں اسے اپنے ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔تُوں تُوں یہ خیال اتنی ہی شدت سے ابھر کر ۔۔۔ میرے سامنے آ جاتا ۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں زیادہ قصور مامی کا تھا جو کہ عین میری کھڑکی کے نیچے اونچی آواز میں مست اور شہوانی سسکیاں بھر رہی تھیں جنہیں سن سن کر میں پاگل ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادھر جب میری یہ خواہش حد سے زیادہ بڑھ گئی۔۔۔۔تو آخرِ کار مجبور ہو کر میں اپنے پلنگ سے نیچے اترا ۔۔۔اور بڑے محتاط طریقے سے چلتا ہوا ۔۔۔گیلری کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے اس بات کا دھڑکا بھی لگا ہوا تھا کہ اگر مامی نے مجھے ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو وہ میرے ساتھ بڑا برا سلوک کرے گی۔۔ ۔لیکن اس کے باوجود بھی میں ا دھر ادھر دیکھتے ہوئے۔۔۔۔۔دھیرے دھیرے سیڑھیاں اترنے لگا۔۔۔۔ ۔۔۔۔جیسے جیسے میں سیڑھیاں اترتا گیا ویسے ویسے ۔۔۔ مامی کی مست سسکیوں کی آواز یں اور بھی نمایاں ہونا شروع ہو گئیں۔۔۔جنہیں سن سن کر میرا لن مزید تن گیا ۔۔ سیڑھیوں کے قریب ہی نارائن صاحب کا کمرہ واقع تھا چنانچہ جیسے ہی میں آخری سیڑھی اترا ۔۔۔۔اور نارائن کے دروازے کی طرف دیکھا تو اس کے دونوں پٹ پوری طرح سے کھلے ہوئے تھے ان لوگوں نے دروازہ بند کرنے کی زحمت ہی نہیں گوارا کی تھی۔ یہ دیکھ کر میں خاصہ مایوس ہوا ۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ اب میں کیا کروں ؟ کہ۔۔۔ اسی اثنا میں مامی کی شہوت سے بھر پور سسکی سنائی دی آؤؤؤچ چ چ چ۔۔ جسے سنتے ہی میرے لن کو ایک شدید جھٹکا لگا۔ عین اسی وقت میرے ذہن میں اس کھڑکی کا خیال آ گیا جو کہ میری کھڑکی کے بلکل نیچے واقع تھی یہ خیال آتے ہی میں بڑے ہی محتاط قدم اُٹھاتا ہوا کمرے کے پچھلی طرف چل پڑا کہ جہاں پر یہ کھڑکی واقع تھی توقع کے عین مطابق نارائن کے کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی ۔۔۔ میں سر جھکا کر چلتا ہوا جا کر کھڑکی کے نیچے بیٹھ گیا کمرے سے روشنی چھن چھن کر باہر آ رہی تھی چونکہ ان کی کھڑکی پر جالی لگی ہوئی تھی ۔۔۔ اور ویسے بھی کمرے میں فل لائٹس آن تھیں اس لیئے اندر سے باہر کا منظر دیکھے جانے کا کوئی احتمال نہ تھا البتہ باہر سے اندر کا سارا منظر صاف نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔تمام سچوئیشن کا جائزہ لے کر میں نے ۔۔۔۔۔۔ دھیرے دھیرے ۔۔۔ لیکن بڑے محتاط طریقے سے اپنا سر اُٹھایا ۔۔۔اور دھڑکتے دل کے ساتھ کھڑکی کے ایک طرف کھڑا ہو گیا۔۔۔۔اس وقت میرا جسم پسینے میں شرابور ۔۔۔۔ اور دل دھک دھک ۔۔۔۔ کر رہا تھا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ مامی کے خوف سے میری ٹانگیں بھی کانپ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ لیکن مجھ پر ان کا سیکس سین دیکھنے کا اس قدر شوق چڑھا ہوا تھا کہ اتنے بڑے رسک کے باوجود میں نے کانپتی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ۔۔۔۔ دھیرے دھیرے سر اُٹھا کر اندر کی جانب دیکھا۔۔۔ واؤ ؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ ۔۔۔۔ اندر کا منظر بہت گرم اور ہوش ربا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ مامی اور نارائن کے کپڑے فرش پر پڑے ہوئے تھے جبکہ مامی پلنگ سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی اور نارائن مامی کی چھاتیوں کو چوس رہا تھا ویسے تو میں ڈھکے چھپے انداز میں مامی کی چھاتیاں کو روز ہی دیکھا کرتا تھا لیکن آج پہلی دفعہ ان کی چھاتیوں کو پوری طرح ننگا دیکھنے کا موقع مل رہا تھا ۔۔ اُف ف ف فف ۔۔۔۔ کیا بتاؤں دوستو۔۔ مامی کی چھاتیاں فٹ بال کے سائز سے تھوڑی ہی چھوٹی ہوں گی لیکن تھیں اسی کی طرح گول اور ۔۔۔۔ ان گول گول چھاتیوں کے آگے ان کے موٹے موٹے نپلز اکڑے ہوئے کھڑے تھے نارائن کے ایک ہاتھ میں مامی کی چھاتی کا نپل تھا جبکہ ۔۔۔۔مامی کی دوسری چھاتی اس کے منہ میں تھی اور وہ اسے بڑے جوش خروش کے ساتھ چوس رہا تھا۔۔ یہ دل کش اور سیکس بھرا نظارہ دیکھ کر میں وقتی طور پر اپنا سارا ڈر اور خوف بھول گیا۔۔۔اور بڑے دھیان سے اندر کا منظر دیکھنے لگا ۔۔۔ ادھر مامی کی چھاتی کو چوستے چوستے جیسے ہی نارائن ان کے نپل پر ہلکا سا کاٹتا تو مامی کے منہ سے ایک جل ترنگ سی دل کش اور لذت بھری چیخ نکلتی جسے سن کر ایک دفعہ تو نارائن نے ان سے کہہ بھی دیا تھا کہ ۔۔۔ آہستہ چیخ سالی ۔۔۔کہیں تمہارا بھانجھا نہ اُٹھ جائے۔۔ ۔تو اس کی بات سن کر مامی بڑی ادا سے کہنے لگی۔ تم بھا نجے کی بات کر رہے ہو۔۔۔۔ میری طرف سے چاہے پوری بلڈنگ اُٹھ جائے ۔۔۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں۔۔۔ تم بس میری چھاتیاں چوسو ا ور۔۔۔۔ چوستے جاؤ۔(اس کا مطلب یہ تھا کہ مامی کو اپنی چھاتیاں چسوانا بہت اچھا لگتا تھا ) چنانچہ نارائن نے ان کے نپل پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔۔وہ تو میں چوس ہی رہا ہوں ۔۔ لیکن پھر بھی ڈارلنگ ۔۔۔۔۔۔۔ احتیاط اچھی ہوتی ہے ۔ نارائن کی بات سن کر مامی نے اپنی لیفٹ چھاتی کو اس کے منہ سے نکا لا اور رائیٹ والی چھاتی کو اس کے منہ میں دیتے ہوئے بولی ۔ اس بات کی تم فکر نہ کرو ! میرا بھانجھا بڑی گہری نیند سوتا ہے اس کے ساتھ ہی مامی کی آہوں اور سسکیوں کا وہی کھیل دوبارہ سے شروع ہو گیا۔۔۔۔ مامی کی دل کش اور لذت بھری چیخیں سن سن کر میں بڑا بے چین ہو گیا تھا ۔۔۔ اور اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑے اسے بری طرح سے مسل رہا تھا۔۔۔ جبکہ دوسری طرف نارائن بھی بڑی بے دردی کے ساتھ نہ صرف یہ کہ مامی کی تنی ہوئی چھاتیوں کو ندیدنوں کی طرح چوس رہا تھا بلکہ وہ ترنگ میں آ کر بار بار ان پر دانت بھی کاٹ رہا تھا ۔۔۔۔ پھر اچانک ہی مامی نے اپنی چھاتیوں کو نارائن کے چنگل سے آذاد کروایا۔۔۔۔۔۔اور بیڈ پر کھڑی ہو گئی اور بنا کچھ کہے اپنی دونوں ٹانگوں کو آخری حد تک کھول دیا۔۔ یہ دیکھ کر نارائن بھی گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا ادھر مامی کی یہ پوزیشن دیکھ کر ۔۔۔ میں سمجھ گیا کہ اب وہ نارائن سے اپنی چوت چٹوانے والی ہیں ۔۔۔۔پھر وہی ہوا۔۔۔۔ مامی نے نارائن کو بالوں سے پکڑا اور بڑی مست آواز میں کہنے لگی ۔ چل میرے کتے ۔۔۔ پھدی چاٹ۔ مامی کی یہ بات سن کر حیرت انگیز طور پر نارئن نے اپنے منہ کو مامی کی کھلی ٹانگوں کی طرف کیا ۔۔۔ اور پھر کتے کی طرح اپنی زبان کو منہ سے باہر نکالا ۔۔۔۔ اور دھیرے دھیرے مامی کی طرف بڑھنا شروع ہو گیا ۔۔ جیسے ہی اس کا منہ مامی کی کھلی ہوئی ٹانگوں کے قریب پہنچا تو نارائن نے بلکل کتے کے سے انداز ۔۔۔ میں اپنی تھوتنی کو مامی کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں گھسا دیا ۔وہ اس وقت بلکل کتے کی طرح ایکٹ کر رہا تھا ۔ چنانچہ جیسے ہی اس کی تھوتھنی مامی کی ٹانگوں کے بیچ میں پہنچی۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس نے کتے کے مخصوص انداز میں مامی کی بنا بالوں والی ۔۔۔۔ پھدی کو سونگھنا شروع کر دیا۔۔ ۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر مامی نے اس کے سر پر ہلکی سے چپت ماری ۔۔۔۔ اور مست آواز میں کہنے لگی۔۔۔۔ کتے!۔۔۔ پھدی کو سونگھنا نہیں ۔۔۔۔۔بلکہ چاٹنا ہے۔ مامی کی بات سن کر نارائن نے سن کر نارائن نے مامی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا بڑا نشہ ہے تیری چوت میں ۔۔ بس تھوڑی سی اور سمیل لینے دے۔۔۔۔ لیکن مامی نہ مانی اور اپنی چوت کو اس کے منہ پر دباتے ہوئے بولی ۔۔۔ ۔۔۔ چاٹ حرامی۔۔۔ مامی کی بات سنتے ہی نارائن نے کسی وفادار کتے کی طرح ۔۔۔۔ اپنی زبان کو باہر نکالا۔۔۔اور شڑاپ شڑاپ کر کے ۔۔۔ مامی کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔ ۔ گو کہ اس وقت مامی کا منہ سامنے کی طرف تھا لیکن اس کے باوجود بھی ۔۔۔۔۔میں ان کی بنا بالوں والی پھدی کو اچھی طرح سے دیکھ سکتا تھا۔ ان کی پھدی کی لکیر کافی لمبی ۔۔۔اور ۔۔۔گیلی ہونے کی وجہ سے۔ان کا چوت رس باہر ٹپک رہا تھا ۔۔۔ جس کو نارائن کتا اپنی زبان نکالے ندیدوں کی طرح چاٹ رہا تھا ۔۔۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنی دونوں انگلیوں کی مدد سے پھدی کی لکیر کو کھولا۔۔اور میں نے دیکھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اندر سے مامی کی پھدی پانی سے لبا لب بھری ہوئی تھی جسے نارائن نے دو منٹ میں ہی چاٹ چاٹ کر صاف کر دیا۔۔۔۔مامی کی پھدی کا اندرونی پانی چوسنے کے بعد نارائن اپنے منہ کو مامی کے دانے کی طرف لے گیا۔۔۔ اور پھر اس پھولے ہوئے دانے کو اپنے منہ میں لے کر مزے سے چوسنے لگا۔ جس وقت نارائن نے مامی کے پھولے ہوئے براؤن دانے کو اپنے منہ میں لیا۔۔ اس وقت مامی کی آنکھیں بند تھیں ۔۔۔ اور وہ مزے کی آخری منزل پر پہنچی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ اور وہ ۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔آہ۔۔اُف۔۔اُف۔۔ کی دل کش گردان کرتے ہوئے کہہ رہیں تھیں۔۔۔ ۔۔۔ یس ڈارلنگ ۔۔۔یسس ۔۔او ۔۔ یسس۔۔ میری چوت چوس س سسس۔۔۔اور چوس۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔چاٹ میرے کتے۔۔۔میری پھدی چاٹ۔۔۔۔ اور تیزی سے چاٹ۔۔ پھر ایسے ہی سسکیاں لیتے لیتے ۔۔۔اچانک مامی نے نارائن کے بالوں کو بڑی مضبوطی کے ساتھ جکڑ لیا ۔۔۔اور اس کے سر کو اپنی پھدی پر دباتے ہوئے تیز تیز سانسیں لینے لگی۔۔۔اور ساتھ ساتھ بے ربط الفاظ میں کہتی جاتی ۔۔۔۔ چاٹ۔ٹ۔ٹ۔۔۔ میرے کُ ت ے ے ےے ے ے۔۔اور اس کے ساتھ ہی مامی کے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا اور انہوں نے نے ایک زور دار چیخ ماری۔۔۔ اور کچھ دیر تک نارائن کے سر کو اپنی پھدی کے ساتھ چپکائے رکھا۔۔۔ پھر اسے پرے ہٹا کر پلنگ پر لیٹ کر ۔۔۔۔ لمبے لمبے سانس لینے لگیں۔ ادھر جیسے ہی مامی پلنگ پر لیٹی میں نے نارائن کی طرف دیکھا تو اس کا منہ، ہونٹ اور اس کے آس پاس کا سارا ایریا۔۔۔۔۔ مامی کے چوت رس سے چمک رہا تھا ۔۔۔ادھر مامی کو پلنگ پر لیٹتے دیکھ کر ۔۔۔۔ نارائن بھی ان کے ساتھ ہی لیٹ گیا ۔۔۔اور ۔۔۔۔ بڑے ہی سیکسی لہجے میں کہنے لگا۔۔۔ آج تو بہت مال نکالا تم نے ۔۔ نارائن کی بات سن کر مامی نے اپنی بند آنکھیں کھولیں اور پیار بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔ تم نے چاٹا ہی اتنا زبردست لگایا تھا۔۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد مامی نے لیٹے لیٹے ہی اپنے منہ کو نارائن کے منہ کی طرف کیا اور اس کے ساتھ ہی فضا میں کسنگ کی مخصوص پوچ پوچ ۔۔۔ کی آوازیں گونجنے لگیں۔۔
  8. شاہ جی شاید تمہیں معلوم نہیں کہ میرے سگے ماموں امریکہ میں ہوتے ہیں اور انہی کی سپانسر کی وجہ سے میں امریکہ گیا تھا۔۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ۔۔۔ یہ ان دونوں کی بات ہے کہ جب میٹرک کے پیپرز کے لیئے ڈیٹ شیٹ ایشو ہو گئی تھی اور ہمارے سارے دوست پیپرز کی تیاری کر رہے تھے مجھے آج بھی اچھی طرح سے یاد ہے کہ ڈیٹ شیٹ کے مطابق پہلا پرچہ انگریزی کا تھا لیکن میں انگریزی کا پرچہ دینے کی بجائے ۔۔۔۔ انگریزی بولنے والوں کے دیس امریکہ جا رہا تھا ان دونوں چونکہ سارے دوست انگریزی کے پرچے کی تیاریاں کر رہے تھے اس لیئے پاکستان سے جاتے ہوئے میں اپنے دوستوں سے الوداعی ملاقات بھی نہیں کر سکا۔۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ جس دن تم لوگ کمرہ ء امتحان میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے بوُٹی مانگ رہے تھے عین اس وقت میں ۔۔۔۔آنکھوں میں گوریوں کے خواب سجائے جہاز میں بیٹھا ۔۔امریکہ کے لیئے روانہ ہو رہا تھا ۔۔۔جے ایف کے ائیرپورٹ پر مجھے لینے کے لیئے ماموں اور ممانی دونوں آئے ہوئے تھے۔۔ یہ لوگ نیو یارک کے مشہور انڈو پاک ایریا کوئین میں رہتے تھے جو کہ جے ایف کے ائیر پورٹ سے بیس پچیس منٹ کی ڈرائیو پر واقع تھا ان کی رہائیش کرونا پارک سے کچھ فاصلے پر واقعہ تھی یہاں پر میں تم سے اپنے ماموں اور ممانی کا تعارف کرو ا دوں میرے ماموں کا نام حماد سلطان اور ممانی کا نام ندرت سلطان تھا جس وقت کی میں بات کر رہا ہوں اس وقت ممانی کی عمر 30، 32 جبکہ میرے ماموں 40۔42 کے ہوں گے اور وہ ابھی تک بے اولاد تھے۔۔۔ امریکہ پہنچ کر ماموں اور ممانی نے میری بڑی آؤ بھگت کی ۔ اور خاص کر ممانی نے مجھے نیو یارک سٹی میں کافی گھمایا پھرایا اس دوران میں نے ان سے کہا بھی کہ مجھے کہیں کام پر لگوا دیں لیکن وہ جواب دیتیں کہ تمہاری ماں کیا کہے گی کہ منڈے کو آتے ساتھ ہی کام پر لگا دیا۔۔۔ اس لیئے تھوڑا گھوم پھر لو تھوڑا ریسٹ کر لو کہ اس کے بعد تم نے ساری عمر کام ہی کرنا ہے ۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ماموں جہاں رہتے تھے وہ ایک چھوٹا سا دو منزلہ مکان تھا۔۔ ان کے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں دو ہی کمرے تھے ایک میں ماموں لوگ سوتے تھے ۔۔۔۔ جبکہ دوسرا کمرہ انہوں نے مجھے دے دیا تھا۔ ماموں اور ممانی دونوں ہی الگ الگ سٹورز میں ملازمت کرتے تھے لیکن یہ سٹور ایک ہی مالک کا تھا جس کا نام جے پرکاش نارائن تھا اور وہ انڈیا (دہلی) کا رہنے والا ایک پنجابی ہندو تھا اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرے ماموں لوگ جس اپارٹمنٹ میں بطور کرایہ دار رہتے تھے وہ بھی اسی ہندو مالک کی مالکیت تھا نچلے والے پورشن میں وہ خود جبکہ اوپر والے پورشن میں ماموں لوگ رہتے تھے ۔ اور اس گھر کی بناوٹ کچھ ایسی تھی کہ اس کا مین گیٹ ایک ہی تھا جبکہ اس کی اوپر والی منزل کی سیڑھیاں صحن سے ہو کر گزرتی تھیں۔۔ ۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد عدیل ایک لمحے کے لیئے جھجھکا لیکن اگلے ہی لمحے اسی روانی کے ساتھ کہنے لگا کہ شاہ جی جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ شروع سے ہی ہمارے گھر کا ماحول عام گھروں کی نسبت تھوڑا کھلا تھا لیکن جہاں تک ممانی لوگوں کا تعلق ہے تو یقین کرو خود ممانی اور ان کی فیملی کے باقی لوگ اچھے خاصے مذہبی واقعہ ہوئے تھے۔۔۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس زمانے میں ممانی اور ان کی باقی بہنیں وغیرہ پردہ کیا کرتی تھیں اور برقعہ کے بغیر وہ کہیں بھی آتی جاتی نہ تھیں۔۔۔ لیکن جب میں امریکہ پہنچا تو ۔۔۔۔ خاص کر ممانی کے چال چلن دیکھ کر میں تو حیران ہی رہ گیا۔۔کہاں کہ وہ پردے کے بغیر گھر سے باہر ایک قدم بھی نہ رکھتی تھیں۔۔۔۔ اور کہاں یہ کہ۔۔۔پردہ تو درکنار ۔۔ جس قسم کے لباس میں ۔۔۔۔۔۔ میں نے ان کو دیکھا تھا ۔۔ یقین کرو میں حیران بلکہ کافی حد تک پریشان ہو گیا تھا۔۔۔کیونکہ وہ بہت بولڈ ۔۔۔ بلکہ ان کی فیملی کے حساب سے اچھا خاصہ قابلِ اعتراض تھا ۔پھر کہنے لگا کہ امریکہ کی کھلی ڈھلی سوسائٹی نے ممانی کو پوری طرح اپنے رنگ میں رنگ لیا تھا ۔۔۔ یہ امریکہ کی آذاد فضاؤں کا اثر تھا یا کیا تھا کہ وہ گھر میں ہمیشہ ہی ایک ڈھیلی ڈھالی (بٹنوں والی ) شرٹ اور نیچے ٹائیٹس ( تنگ پجامی) پہنا کرتی تھی اور یہ ٹائیٹس اتنی زیادہ ٹائیٹ ہوا کرتی تھی کہ جس کی وجہ سے ان کے نچلے جسم کے ایک ایک عضو کا ماپ کیا جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ عام حالات میں بھی وہ کافی بولڈ قسم کا لباس پہنتی تھیں جو کہ شروع شروع میں تو مجھے بڑا عجیب۔۔۔ بلکہ شر انگیز لگا لیکن پھر آہستہ آہستہ ماموں کی طرح میں بھی اس کا عادی ہو گیا تھا۔ اتنی بات کرنے کے بعد عدیل نے اپنی کرسی کو تھوڑا مزید آگے کی طرف کھسکایا اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ ایک رات کی بات ہے کہ میں اپنے کمرے میں مست سو رہا تھا کہ اچانک کسی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی۔۔ کچھ دیر تک تو میں یونہی پلنگ پر لیٹا۔۔۔ کروٹیں بدلتا رہا پھر اچانک میرے کانوں میں سیکس بھری چیخ سنائی دی۔۔۔ بلیو مویز دیکھ دیکھ کر اتنا تو میں جان ہی گیا تھا کہ لڑکیوں کے منہ سے اس قسم کی چیخیں سیکس کے دوران ہی نکلتی ہیں اس لیئے جب ویسی ہی چیخ کی آ واز مجھے دوبارہ سنائی دی تو میں یہ سوچ کر لیٹا رہا کہ ۔۔۔۔۔ماموں اور ممانی سیکس انجوائے کر رہے ہوں گے۔۔۔ لیکن پھر کچھ دیر بعد۔۔۔۔ پھر ان لزت بھری چیخوں میں تھوڑی شدت آ گئی ۔ اور ان سیکسی آوازوں کو سنتے ہوئے اچانک ہی مجھے یاد آ گیا کہ ماموں کی تو آج نائیٹ ہے یہ خیال آتے ہی میں نے اپنے بیڈ سے چھلانگ لگائی اور دبے پاؤں چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔اور پھر کان لگا کر ندرت مامی کے کمرے کی طرف دیکھنے لگا۔ عین اسی وقت جب میرے کان ان کے کمرے کی طرف لگے ہوئے تھے۔۔۔۔اچانک مجھے ندرت مامی کی ایک زوردار مگر لزت بھری چیخ سنائی دی۔۔۔۔ میں نے غور کیا تو یہ آواز گیلری کی طرف سے آ رہی تھی۔۔۔چنانچہ میں بھاگ کر گیلری کی طرف گیا ۔۔۔ اور گیلری سے نیچے کی سمت دیکھنے لگا کہ جس طرف سے ممانی کی مست سسکیوں کی آواز یں سنائی دے رہی تھیں۔۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ندرت مامی نے اپنے دونوں ہاتھ سیڑھیوں کی ریلنگ پر رکھے ہوئے تھے ان کی ٹائیٹس پاؤں میں ۔۔جبکہ ان کی بڑی سی گانڈ پیچھے کو نکلی ہوئی تھی۔۔ ۔۔ ممانی کے عین پیچھے نارائن صاحب کھڑے تھے ان کی بھی نیکر اتری ہوئی تھی اور وہ بے خودی کے عالم میں دھکے مار رہے تھے۔ چونکہ اس وقت دونوں کی پیٹھ میری طرف تھی اس لیئے مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آیا نارائین صاحب مامی کی مست گانڈ بجا رہے تھے۔۔۔۔ یا کہ ان کا لن مامی کی چوت میں آ جا رہا تھا۔دونوں ہی بڑے زور و شور کے ساتھ چدائی میں مصروف تھے نارائن صاحب کا تو مجھے پتہ نہیں ۔۔۔۔البتہ ممانی اس فکنگ کو بڑا انجوائے کر رہی تھی اس کا واضع ثبوت وہ لزت بھری چیخیں تھیں۔۔ جو کہ ۔۔۔۔۔۔۔ ان کے منہ سے مسلسل نکل رہیں تھیں۔۔۔۔ مامی کو ایک غیر مرد اور وہ بھی ہندو سے چدواتے دیکھ کر مجھے غصہ تو بڑا آیا۔ لیکن میں بوجہ گیلری میں چُپ چاپ کھڑا ان کا تماشہ دیکھتا رہا ۔۔ ادھر نارائن صاحب نے گھسے مارتے ہوئے اچانک ہی مامی کی گانڈ کو ایک مخصوص انداز سے تھپ تھپانا شروع کر دیا۔ اور پھر یہ دیکھ میں کر حیران رہ گیا کہ جیسے ہی نارائن صاحب نے ممانی کی موٹی گانڈ کو تھپ تھپایا ۔۔۔۔تو اسی وقت ممانی نے تیزی کے ساتھ اپنی چوت یا گانڈ میں لیا لن باہر نکالا اور پھر اسی رفتار سے گھوم کر ۔۔۔۔۔ نارائن صاحب کے سامنے اکڑوں بیٹھ گئی۔۔ اور ان کے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بڑی بے تابی کے ساتھ چوسنا شروع کر دیا۔۔ ابھی ممانی نے تین چار چوپے ہی لگائے ہوں گے۔۔۔ کہ اچانک نارائن صاحب کے منہ سے "اوہ ' اوہ" کی ایک پُر لطف سی آواز نکلی۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی ان کا جسم کانپا۔۔۔۔اور پھر وہ جھٹکے مار مار کے۔۔۔۔۔۔ ممانی کے منہ میں ہی چھوٹنا شروع ہو گئے۔۔۔۔ اور اس وقت میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ جب ممانی نارائن صاحب کے لن کو آخری قطرہ تک چوستی رہی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اور ۔۔۔پھر پتہ نہیں انہوں نے اپنے منہ میں رکھی نارائن صاحب کی منی کا گھونٹ بھرا یا نہیں ۔۔۔۔۔ البتہ جیسے ہی ان کے لن سے منی نکلنا بند ہوئی ممانی پھرتی سے اوپر اُٹھی۔۔۔۔اور اس کے باوجود بھی کہ اس وقت ممانی کا منہ اس ہندو نارائن کی منی سے بھرا ہوا تھا۔۔۔ انہوں نے نارائن کے منہ میں منہ ڈال دیا ۔۔۔۔۔۔۔اور ایک طویل کسنگ کی ۔ میں دم سادھے یہ سارا منظر دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی ان کی طویل کسنگ ختم ہوئی۔۔۔ نارائن صاحب نے اپنی نیکر پہنی۔۔۔۔ اور واپس کمرے میں چلے گئے ۔۔۔عین اسی وقت ممانی کی نظر یں اوپر گیلری میں پڑ گئی کہ جہاں پر میں کھڑا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا مجھے۔۔۔۔ یوں کھڑا دیکھ کر وہ ایک دم سے چونک گئی۔۔۔ ۔۔۔لیکن ۔۔۔ کوئی خاص رسپانس نہ دیا ۔۔۔اسی دوران میں بھی ۔۔۔۔۔ واپس اپنے کمرے میں آ گیا ممانی کو ایک ہندو کے ساتھ سیکس کرتے دیکھ کر میرے تن بدن میں آگ لگی ہوئی تھی۔۔۔اسی لیئے کمرے میں آ کر میں اسی غصے کے عالم میں ٹہلنا شروع ہو گیا ۔۔۔ ۔۔ ابھی مجھے کمرے میں ٹہلتے ہوئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اچانک ندرت ممانی کمرے میں داخل ہوئی ۔۔ان کی آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے ۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی انہوں نے میری طرف دیکھا اور پھر بڑے ہی ترش لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ تم گیلری میں کھڑے کیا کر رہے تھے؟ پھر غصے میں پھنکارتے ہوئے بولی۔۔۔ ایسی حرکت کرتے ہوئے ۔۔۔۔تمہیں شرم نہیں آتی۔۔ میں جو کہ پہلے ہی بھرا بیٹھا تھا نے ترنت جواب دیتے ہوئے کہا کہ شرم مجھے نہیں بلکہ آپ کو آنی چایئے ۔۔۔۔ کہ جو ماموں کے ہوتے ہوئے کسی غیر مرد ۔۔۔ اور وہ بھی ایک ہندو کے ساتھ ایسا گندہ کام کر رہی تھی۔۔۔ میری بات سن کر ممانی غصے میں آگ بگولہ ہو گئی چنانچہ وہ تیزی سے آگے بڑھیں اور مجھے گریبان سے پکڑ کر پھنکارتے ہوئے بولی ۔۔۔ میں کسی ہندو کے ساتھ سیکس کروں یا عیسائی کے ساتھ تمہیں اس سے مطلب؟ تو اس پر میں نے بھی ترک بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماموں کو آنے لینے دو میں ان کو بتاؤں گا کہ ان کے پیچھے آپ کس کس کے ساتھ گل چھرے اُڑاتی رہتی ہو ۔۔۔ میری بات سنتے ہی ممانی کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا ۔۔۔ اور وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بظاہر بولڈ ۔۔۔۔ لیکن نیم خوف ذدہ ۔۔ لہجے میں کہنے لگیں ۔۔تت تم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔پھر وہ بھپرے ہوئے لہجے میں بولیں۔۔۔۔ کان کھول کر سن لو مسڑ عدیل ۔۔۔میرے بارے میں اگر تم نے ایک لفظ بھی اپنے ماموں سے کہا تو یاد رکھو میرے ساتھ تو جو ہو گا ۔۔۔۔سو ہوگا ۔۔۔لیکن اس کے بعد میں تم کو بھی ادھر نہیں رہنے دوں گی۔۔بلکہ تمہیں اسی ماموں سے دھکے دے دے کر یہاں سے نہ نکلوایا تو میرا نام بھی ندرت نہیں۔۔۔ اس کے فوراً بعد وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بڑے ہی سرد لہجے میں کہنے لگیں ۔۔۔ سنو مسٹر!!۔۔ میں تمہیں آج رات کی مہلت دیتی اگر تم نے یہاں رہنا ہے تو جیسے میں چاہوں گی تمہیں ویسے ہی رہنا پڑے گا ۔۔ ورنہ یاد رکھو !!!!!!!!۔۔۔۔۔ میری یہاں اتنی واقفیت ہے کہ میں تم پر پولیس کیس بنوا کر تمہیں ڈی پورٹ کروا دوں گی ۔۔۔۔۔۔ اتنی بات کر کے ممانی تو پاؤں پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔۔ جبکہ ادھر میرا غصے کے مارے برا حال ہو رہا تھا ۔۔ اگر اس وقت میرے پاس ماموں کا سیل نمبر ہوتا تو میں نے اسی وقت ان کو فون کر کے مامی کے سارے کرتوت بتا دینے تھے۔۔لیکن شکر ہے کہ میرے پاس ان کا فون نمبر نہ تھا۔۔۔۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت تھی کہ پولیس کا نام سن کر اندر سے میں بھی ڈر گیا تھا۔۔۔ چنانچہ میں غصے کے عالم میں ۔۔۔۔ ٹہلتا رہا۔۔۔۔اور ممانی اور خاص کر اس کی دھمکیوں کے بارے میں سوچتا رہا۔۔۔ اسی دوران سوچتے سوچتے ۔۔۔۔ جب میرا غصہ کچھ کم ہوا ۔۔۔۔ تو مجھے ممانی کی پولیس اور ماموں کے ہاتھوں دھکے دے کر نکلوانے کی دھمکی یاد آ گئی۔۔ اور میں یہ بات بھی اچھی طرح سے جانتا تھا کہ میرے ماموں پوری طرح سے۔۔۔اس چڑیل کے قبضے میں تھے۔ پھر میں نے سوچا کہ ماموں تو اس قدر مامی کے نیچے لگے ہوئے ہیں کہ اگر انہوں نے میری بات کا یقین نہ کیا تو ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔۔ اس سے آگے میں نہ سوچ سکا۔۔۔ اور پھر آہستہ آہستہ میں اندیشہ ہائے دور دراز میں گھرنے لگا۔۔۔ کہ اگر ماموں نے میری بات نہ مانی۔۔۔۔اور ثبوت لانے کو کہا ۔۔۔ تو؟؟؟؟ یا اگر اس حرافہ نے مجھے پولیس۔۔۔۔۔۔پولیس کا خیال آتے ہی مجھے اپنا گھر بھی یاد آ گیا کہ جن کی قسمت سنوارنے کے لیئے میں پڑھائی چھوڑ کر امریکہ میں آیا تھا اس کے بعد وہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ جیسا کہ تم جانتے ہو کہ جب میں یہاں سے گیا تھا تو اس وقت میرے ابو ایک سرکاری دفتر میں ہیڈ کلرک کی پوسٹ پر تعینات تھے اور مجھے اچھی طرح سے معلوم ہے کہ ان کی تھوڑی سی تنخواہ میں ہم لوگ بمشکل گزارا کیا کرتے تھے ۔ اور خاص کر۔۔۔ مہینے کے آخر میں تو ہماری حالت بہت ہی زیادہ پتلی ہو جایا کرتی تھی جبکہ اس کے برعکس میری امی کے باقی رشتے دار بڑے امیر اور اچھے کھاتے پیتے لوگ تھے۔ اور ان رشتے داروں میں صرف امی ہی غریب تھیں ۔۔ اور تمہیں تو معلوم ہی ہو گا کہ فیملی فنگشنز میں امیر لوگوں کے ہاں ایک غریب رشتے دار کی کیا حالت ہوتی ہے ایسے موقعوں پر بے چارہ غریب نہ گھر کا رہتا ہے نہ گھاٹ کا ۔۔ اور چونکہ ہم نے فیملی تقریبات میں ایسی ذلتیں بہت جھیلی تھی اسی لیئے اس غربت کو دور کرنے کے لیئے امی نے بڑے ترلے منتوں کے بعد مجھے امریکہ بجھوایا تھا اور آتے وقت بس ایک ہی بات کہی تھی کہ امریکہ جا کر میں ڈھیر سارے پیسے کماؤں تا کہ وہ بھی اپنی فیملی میں سر اُٹھا کر چل سکیں۔۔۔۔۔ چنانچہ امی کی اس بات۔۔۔۔ اور گھر میں پھیلی ہوئی غربت کا خیال آتے ہی میں بلکل ٹھنڈا پڑ گیا ۔۔۔اور سوچنے لگا کہ فرض کرو اگر میں ماموں کو اس بارے میں بتا بھی دوں تو؟۔۔۔۔ اس کا مجھے کیا فائدہ ہو گا؟ بلکہ اُلٹا نقصان ہونے کا شدید خدشہ تھا۔۔۔۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اس کے بعد ممانی نے مجھے نہیں چھوڑنا تھا۔۔۔اتنی بات کرنے کے بعد عدیل نے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا یقین کرو شاہ۔۔۔ وہ رات میرے لیئے بہت کرب والی رات تھا ۔۔۔ میں ساری رات اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے سوچتا رہا۔۔۔ اور پھر سوچ سوچ کر آخر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ۔۔۔۔ دریا میں رہ کر مامی تو کیا۔۔۔۔ میں کسی بھی مگر مچھ سے بیر نہیں لوں گا بلکہ اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے بس ڈالر کماؤں گا ۔۔۔۔ ۔۔۔اس لیئے ۔۔۔ مامی جائے بھاڑ میں۔۔۔۔ وہ کسی ہندو سے چدوائے یا کسی کالے حبشی سے گانڈ مروائے۔۔۔۔۔۔۔ آئیندہ سے میں نے کسی پنگے میں نہیں پڑنا ۔۔۔اور امی کی فرمائیش پر ڈھیر سارے ڈالر کمانے ہیں تا کہ ہم لوگ بھی خاندان میں سر اُٹھا کر چل سکیں ۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد میں بہت پرسکون ہو گیا۔۔۔۔اور پھر پلنگ پر جا کر لیٹتے ہی سو گیا۔۔
  9. باتیں کرتے ہوئے ابھی ہمیں کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ایک بار پھر وہی خاتون جو کہ عدیل کی والدہ تھی ڈرائینگ روم میں داخل ہوئیں اور ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔ لنچ تیار ہے آ جاؤ۔۔۔ کھانے کی میز پر ایک طرف میں اکیلا ۔۔۔ جبکہ میرے سامنے والی کرسیوں پر عدیل اور اس کی بیگم اور ان کے ساتھ عدیل کی والدہ بیٹھی تھیں۔ کھانے کھاتے ہوئے بھی ہم سب ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے تھے لیکن پتہ نہیں کیوں ماریا میم مطلب ہے ۔۔۔مسز عدیل نے ایک لفظ بھی نہیں بولا۔۔۔ لیکن وہ ہماری خاص کر میری اور عدیل کی گفتگو بڑی دل چسپی کے ساتھ سن رہی تھی ۔ اسی دوران عدیل کی امی نے میری طرف دیکھا ۔۔۔ اور پھر کہنے لگی۔ بیٹا جی! آپ کام کیا کرتے ہو؟ تو جب میں نے انہیں اپنے ڈیپارٹمنٹ کا نام بتایا تو ۔۔۔۔۔ میرے محکمے کا نام سن کر وہ ایک دم سے ٹھٹھک گئی۔۔۔ اور پھر فوراً ہی اگلا سوال داغتے ہوئے بولیں کہ آپ وہاں کس پوسٹ پر کام کرتے ہو؟ اور جب میں نے انہیں اپنے عہدے کے بارے میں بتایا۔۔ تو آنٹی کے ساتھ ساتھ عدیل بھی چونک کر بولا۔اوئے تیری خیر!!۔۔۔ تیری جاب تو بڑی زبردست ہے یار ۔۔۔۔۔اس کے بعد وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی پُر اسرار لہجے میں کہنے لگا۔۔ ۔۔۔ تیرا تو سر بھی کڑاھی میں ہو گا دوست۔ اس کی بات سن کر میں نے ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف دیکھا اور بولا ۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے یار۔۔۔۔۔۔یہاں پر میں عدیل اور اس کی فیملی کے بارے میں تھوڑی سی وضاحت کر دوں کہ یہ لوگ ایک دم ظاہر دار مطلب یہ کہ سخت قسم کے دنیا دار اور کھلے ماحول کے لوگ تھے اور خاص کر اس کی امی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ محلے میں لوگوں کی حثیت دیکھ کر دوستی لگایا کرتی تھیں ۔۔ یہی حال عدیل کا بھی تھا وہ بھی ہمیشہ کلاس کے کھاتے پیتے اور امیر قسم کے لڑکوں کے ساتھ دوستی لگایا کرتا تھا۔۔۔۔ اسی لیئے تو ہماری کمزور مالی حالت کے پیشِ نظر اس نے کبھی بھی میرے ساتھ گہری دوستی رکھنے کی کوئی کوشش نہ کی تھی۔ ہاں دوستوں کا سیم گروپ ہونے کی وجہ سے اس کی میرے ساتھ بس اچھی ہیلو ہائے تھی اس کے علاوہ اس نے کبھی بھی مجھے کوئی خاص لفٹ نہ کرائی تھی اور اس کی انہی حرکتوں کے پیشِ نظر ۔۔۔۔ میں نے خود بھی اس کے قریب ہونے کی کبھی کوشش نہ کی تھی۔۔۔۔ ہاں تو دوستو!!!۔۔۔ میں کہہ رہا تھا کہ جیسے ہی میں نے ان کو اپنے محکمے اور ۔۔۔ عہدے کے بارے میں بتلایا ۔۔۔ تو میری بات سنتے ہی ماں بیٹے کی آنکھوں میں واضع طور پر ایک چمک سی آ گئی تھی اور پھر اس کے بعد میں نے صاف طور پر محسوس کیا کہ میرے سٹیٹس کو جان کر ۔۔۔ ان کے رویے میں پہلے سے بھی زیادہ گرمجوشی آ گئی تھی …… ادھر عدیل کی والدہ کافی دیر تک مجھے ستائیشی نظروں سے دیکھتی رہیں۔۔۔ پھر اچانک ہی کہنے لگی۔۔.. ۔ بیٹا آج تو تم اکیلے آئے ہو ۔۔۔لیکن اگلی دفعہ جب بھی ہمارے گھر آؤ۔۔۔۔تو اپنی بیگم کو ضرور ساتھ لانا ۔۔۔۔آنٹی کی بات سن کر میں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہنے لگا ۔۔۔آپ کا حکم سر آنکھوں پر آنٹی ۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ بیگم ہو گی تو ساتھ لاؤں گا نا ۔۔ میری بات سن کر وہ ایک دفعہ پھر چونک پڑیں ۔۔۔ اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔ اچھا تو یہ بتاؤ۔۔۔ کہ کہیں منگنی وغیرہ بھی ہوئی ہے؟ تو ان کی بات سن کر ۔۔۔۔ ایک دفعہ پھر میں نے ٹھنڈی سانس بھری اور ان سے بولا۔ ۔ نہیں آنٹی جی میری منگنی تو کیا ۔۔۔ اس بارے میں کہیں بات چیت بھی نہیں چل رہی ۔ میری بات سن کر وہ حیرت بھرے لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔ کمال ہے بیٹا !!!!۔۔۔ تم اتنی اچھی پوسٹ پر فائز ہو اور ۔۔۔کہیں رشتے وغیرہ کی کوئی بات چیت بھی نہیں چل رہی ؟؟؟؟؟؟ ان کی بات سن کر میں نے ایسے ہی کہہ دیا کہ ۔۔ چھوڑیں آنٹی میرے ہاتھ میں شادی والی لکیر ہی نہیں ہے ۔ پھر اس کے بعد اسی ٹاپک پر ہماری گفتگو ہوتی رہی ۔۔ کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد میں نے ان سے اجازت لی اور گھر چلا آیا۔ یہ اس سے اگلے دن بعد کی بات ہے کہ میں اپنے کمرے میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ آفس کے مین گیٹ سے گارڈ نے انٹر کام کیا کہ سر کوئی عدیل نام کا بندہ آپ سے ملنا چاہ رہا ہے ۔۔۔ اسے اندر بھیج دوں؟ ۔۔۔ یا اسے گولی دینی ہے؟ عدیل کا نام سن کر میں نے اسے کہا کہ نہیں یار یہ گولی والا بندہ نہیں ہے۔۔۔۔اس لیئے اسے میرے کمرے میں لے آؤ ۔ کچھ دیر بعد گارڈ کے ساتھ عدیل کمرے میں داخل ہوا اور رسمی علیک سلیک کے بعد ۔۔۔ مجھ سے گلہ کرتے ہوئے بولا کہ تم کہاں مر گئے تھے ۔۔۔ ماما تمہارا بہت پوچھ رہیں ہیں ۔۔۔پھر کہنے لگا کہ۔۔ آج تم لنچ پر بھی نہیں آئے۔۔۔ تو میں نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بس یار آفس میں کچھ ایسے کام پیش آ گئے تھے کہ میں تمہاری طرف چکر نہ لگا سکا۔۔۔۔ تو اس پر وہ مجھ سے کہنے لگا کہ ابھی تو فری ہو نا اس لیئے میرے ساتھ چلو کہ ۔۔۔ تم کو ماما بلا رہی ہیں۔۔۔ ماما کا نام سن کر میں دل ہی دل ۔۔ میں ٹھٹھکا۔۔۔۔ لیکن اس پر کچھ ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ اگلے دن آنے کا وعدہ کر لیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی عدیل نے میری جان نہیں چھوڑی اور ۔۔ کہنے لگا ایسا کرو گھر کل آ جانا۔۔۔۔ لیکن ابھی میرے ساتھ باہر چلو یار ۔۔کہیں باہر چل کر گپ شپ کرتے ہیں کہ گھر میں پڑے پڑے میں کافی بور ہو گیا ہوں۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اس سے کہا چل پھر ۔۔۔۔۔۔میں تجھے کسی اچھے ریسٹورنٹ میں کھانا کھلاتا ہوں تو آگے سے وہ جواب دیتے ہوئے بولا کہ سوری یار میں ابھی ابھی لنچ کر کے تمہاری طرف آ رہا ہوں ۔۔۔ ہاں تیرے ساتھ چائے پی لوں گا۔۔ چنانچہ میں عدیل کو ساتھ لے کر شہر کے ایک مشہور ریسٹورنٹ میں آ گیا اور چائے کے ساتھ دیگر لوازمات کا آڈر دیتے میں نے اس سے کہا سنا یار امریکہ کیسا لگا؟ اسی دوران اچانک ہی میرے ذہن میں ایک خیال آیا ۔۔۔۔۔اور میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بڑے اشتیاق سے بولا۔۔۔۔ امریکہ کی بنڈ مار ۔۔ تو مجھے یہ بتا کہ وہاں جا کر سب سے پہلے کس گوری کی پھدی ماری تھی اور کیسے؟؟؟۔ میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ آ گیا نا اپنی اوقات پر۔۔ تو آگے سے میں بھی دانت نکالتے ہوئے بولا ۔۔۔ کہ تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ مجھے سیکس سٹوریز سننے کا کتنا شوق ہے اس لیئے اب زیادہ نخرہ نہ کر اور مجھے تفصیل سے بتا کہ امریکہ جا کر سب سے پہلے کس گوری کو کیوں اور کیسے چودا ۔۔۔۔ اور ساتھ نمک مرچ لگا کر یہ بھی بتا کہ تم نے اسے چودنے کے لیئے راضی کیسے کیا تھا ؟ میری بات سن کر عدیل ایک دم سیریس ہو تے ہوئے بولا۔۔ تمہاری اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ امریکہ جا کر میں نے سب سے پہلے کسی گوری کی نہیں بلکہ ایک دیسی کی چوت ماری تھی۔ عدیل کی بات سن کر میں آنکھیں نکالتے ہوئے اس سے بولا ۔۔ ایسے نہیں بھائی صاحب پوری تفصیل بتاؤ ۔۔پھر اپنے لہجے پر زور دیتے ہوئے بولا۔۔ایک ایک چیز کی تفصیل معہ نمک مرچ۔۔۔۔۔ میری بات سن کر اس نے بڑی عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھا ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں واضع طور پر کشمکش کے آثار نظر آ رہے تھے۔ لیکن پھر چند سیکنڈز سوچنے کے بعد اچانک ہی وہ کہنے لگا۔۔گو کہ میری سٹوری میں ایک آدھ پردہ نشین کا نام بھی آئے گا ۔ ۔لیکن تو بھی کیا یاد کرے گا سالے ۔۔۔ آج میں تمہیں امریکہ میں پہلی پھدی مارنے اور اس سے جڑی ایک ایک بات تفصیل بتا ؤں گا اور میری جان یہ تفصیل اتنی گرم ہو گی کہ آج کی رات تمہیں سٹوری بنا کر مُٹھ مارنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس نے کرسی میری طرف کھسکائی اور پھر وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا۔
  10. عدیل نے تو فون بند کر دیا۔۔۔ لیکن اس کے منہ سے گوری میم کا نام سن کر پتہ نہیں کیوں میرے جسم ایک عجیب سا ہیجان برپا ہو گیا ۔اور میری آنکھوں کے سامنے بلیو مویز میں چوپے لگانے والی وہ ساری کی ساری گوریاں گھوم گئیں جن پر میں سچے دل سے عاشق تھا۔۔ فون ختم ہونے کے بعد میں اپنے ایک سنئیر لیکن بے تکلف کولیگ کے پاس چلا گیا۔۔ اور اسے ساری داستان سنائی ۔ میری بات سن کر وہ کولیگ جو کہ میری حرکات برائے سیکس سے بخوبی واقف تھا ۔۔پہلے تو بڑے غور سے میری طرف دیکھا پھر سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔ تمہارے چہرے کی لالی اور آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے کہ تم اپنے دوست کی بیوی (گوری میم ) کو بلیو موی والی گوریوں سے ملا رہے ہو پھر مجھ سے مخاطب ہو کر بولا ۔اگر ایسا ہے تو یاد رکھو تم خطا کھا رہے ہو اور وہ اس لیئے کہ ساری گوریاں ایسی نہیں ہوتیں اس کے بعد وہ کولیگ کافی دیر تک مجھے سمجھاتا رہا اور شکر ہے کہ اس کی یہ بات میرے موٹے دماغ میں آ گئی ورنہ میرے نزدیک تو ہر گوری میم چالو تھی جو کہ چوپا لگا کر پھدی مروانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاتی تھی ۔ چنانچہ اس کولیگ کی بات کو میں نے اپنے پلے سے باندھ لیا۔۔اور پھر اس کا شکریہ ادا کر کے اُٹھنے ہی لگا تھا کہ اچانک وہ مجھ سے کہنے لگے اچھا یہ بتاؤ کہ تم اس کی بیگم کو منہ دکھائی میں کیا گفٹ دے رہے ہو؟ تو میں حیران ہوتے ہوئے بولا گفٹ۔۔۔کیسا گفٹ ؟ تو وہ سمجھاتے ہوئے بولے۔۔۔ کہ دیکھو یار ہمارے ہاں رسم ہے کہ دلہن کو منہ دکھائی میں کچھ نہ کچھ دیا جاتا ہے چنانچہ اس کے بعد انہوں نے مجھے اس بارے ایک چھوٹا سا لیکچر دیا ۔۔ حُسنِ اتفاق سے اس سینئر کولیگ کا دیا ہوا یہ چھوٹا سا لیکچر بھی میرے موٹے دماغ میں بیٹھ گیا اور میں نے اس کولیگ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے گوری بھابھی کے لیئے بازار سے ایک بہت اچھا سا برانڈڈ سوٹ خریدا اور اسے گفٹ پیک کروا کے ساتھ مٹھائی کا ایک ڈبہ لیا اور پھر عدیل کے بتائے ہوئے اڈریس پر پہنچ گیا۔ وہ ایک جدید طرز کا بنگلہ نما گھر تھا جس پر ابھی نیا نیا رنگ و روغن ہوا لگتا تھا۔۔ چنانچہ اس کے گھر کا باہر سے جائزہ لینے کے بعد میں نے گھنٹی بجائی تو اندر سے ایک فربہی مائل ادھیڑ عمر کی عورت نے دروازہ کھولا ۔ اور سر سے پاؤں تک میری طرف دیکھنے کے بعد کہنے لگی ۔ آپ کو کس سے ملنا ہے؟ تو اس پر میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی عدیل گھر پر ہے ؟ میری بات سنتے ہی انہوں نے اپنے ہونٹوں پر ایک دلفریب سی مسکراہٹ سجائی اور بڑی خوش اخلاقی سے کہنے لگیں بیٹا! آپ یقیناً شاہ ہو تو آگے سے میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ تب وہ بڑی شفقت سے مجھے راستے دیتے ہوئے بولیں۔ اندر آ جاؤ عدیل تمہارا ہی انتطار کر رہا ہے ۔ اور وہ مجھے ساتھ لیئے ڈرائینگ روم میں آ گئیں اور وہاں بٹھا کر کہنے لگیں۔۔ آپ بیٹھو میں عدیل کو بلاتی ہوں ۔۔ ان کے جانے کے تھوڑی ہی دیر بعد عدیل ڈرائینگ روم میں داخل ہوا۔۔۔اور مجھے دیکھتے ہی ایک فلک شگاف نعرہ مارا۔۔۔اور پھر بڑی گرم جوشی کے ساتھ یہ کہتے ہوئے مجھ لپٹ گیا ۔۔کہ۔۔ اوئے شاہ !! تم میں زرا بھی تبدیلی نہیں آئی۔۔۔اور ابھی تک ویسے کے ویسے ہو۔۔ ۔مجھ سے ملنے کے بعد اس نے ایک نظر پیچھے مُڑ کر دیکھا ۔۔تو وہاں کوئی نہ تھا اس لیئے وہ قدرے اونچی آواز میں بولا ۔۔۔ کامان ڈارلنگ ۔ اس کی آواز سنتے ہی ڈرائینگ روم کے دروازے سے ایک مناسب جسم والی سرو قد بلونڈ گوری کمرے میں داخل ہوئی اس نے پتہ نہیں کس کی فرمائیش پر کالا سوٹ پہنا ہوا تھا جو کہ اس پر بہت جچ رہا تھا اور ستم بلائے ستم یہ کہ اس کی قمیض کا گلا بھی بہت کھلا تھا۔۔ اور کالے رنگ کی اس قمیض میں سے اس کی دودھیا سفید چھاتیاں صاف چھپتی بھی نہیں سامنے آتی بھی نہیں ۔۔۔ کا نظارہ پیش کر رہیں تھیں دوپٹے کے نام پر اس نے کپڑے کی ایک دھجی کو اپنے سینے کی بجائے کندھے پر رکھا ہوا تھا اس کے چلنے کا انداز بہت مست تھا زندگی میں فرسٹ ٹائم کسی گوری کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر میں فوت ہونے ہی والا تھا کہ کولیگ کی نصیحت یاد آ گئی۔۔۔۔ اور میں نے فوت ہونے کا پروگرم ملتوی کر دیا۔۔۔۔ تاہم پھر بھی اسے دیکھ کر میرا دل بڑے ذور سے دھڑکا ۔۔اور میں منہ کھولے یک ٹک اس کی طرف دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔ اور اس سے پہلے کہ میں کولیگ کی نصیحت بھول کر۔۔۔۔دوبارہ اس پر ہزار جان سے فدا ہو جاتا۔۔۔۔ میں نے شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۔۔۔۔ اپنی نگاہوں کا زاویہ تبدیل کیا۔۔۔اور میز پر رکھے گفٹس کو اُٹھایا ۔۔۔اور بڑے ادب کے ساتھ اس قیامت کے حوالے کرتے ہوئے بولا۔۔ ۔۔ ویل کم ٹو پاکستان بھابھی۔میرے ہاتھ میں گفٹس کو دیکھ کر اس نے ایک نظر عدیل کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور پھر غالباً وہاں سے گرین سگنل ملنے کے بعد اس نے گفٹس کو میرے ہاتھ سے لے کر میرا شکریہ کہتے ہوئے اس نے اپنا دایاں ہاتھ میری طرف بڑھا دیا۔۔ اس کا بڑھا ہوا ہاتھ دیکھ کر ایک لمحے کے لیئے میں جھجھک سا گیا ۔۔۔۔لیکن پھر کچھ توقف کے بعد میں نے بھی اپنے ہاتھ کو اس کی طرف بڑھا دیا۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اپنے کولیگ کی ہدایت کے مطابق ( بڑی مشکل کے ساتھ) اپنی نظروں پر کنٹرول کرتے ہوئے ۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہاتھ ملانے لگا۔ رسمی علیک سلیک کے بعد وہ قیامت گفٹس اُٹھائے واپس چلی گئی ۔۔۔اس کے جاتے ہی عدیل نے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا کہ کیسی لگی بھابھی؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بڑی کیوٹ ہے اس کی کوئی دوسری بہن نہیں ہے؟ میری بات سن کر عدیل نے ایک زبردست سا فرمائشی قہقہہ لگایا اور پھر کہنے لگا۔۔۔۔ بہن تو نہیں۔۔۔البتہ اس کی ایک کز ن ہے جو کہ اس سے بھی زیادہ خوب صورت اور سیکسی ہے ۔۔۔۔ لیکن اس کے لیئے تمہیں اسٹیٹس (امریکہ) جانا پڑے گا ۔۔۔ اور پھر ہنسنے لگا ۔۔۔ عدیل کی بات سن کر میں بھی اس کی ہنسی میں شریک ہو گیا۔۔۔۔ اور پھر اس سے بولا یار یہ تو بتاؤ کہ تم نے بھابھی کا اسلامی نام کیا رکھا ہے؟ تو آگے سے وہ جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ کہ شادی سے قبل اس کا نام ماریا جوزف تھا چونکہ ہمارے ہاں بھی ماریا نام چلتا ہے اس لیئے امی کے کہنے پر میں نے اس کا نام تبدیل نہیں کیا ۔۔۔۔ہاں تم اسے ماریا عدیل کہہ سکتے ہو۔اس کے بعد اس نے مجھے بیٹھنے کو کہا۔۔۔۔۔اور ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ۔
  11. گوری میم صاحب ( پہلی قسط) ہیلو دوستو کیسے ہو آپ؟ ۔۔۔۔۔۔میں ہوں آپ کا دوست شاہ جی ۔کافی عرصہ کے بعد حاضر ہو رہا ہوں ہر چند کہ میں نے آسمان سر پر نہیں اُٹھا رکھا ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی روزی روٹی کے چکر نے مجھے گھن چکر بنا رکھا ہے بزرگ ٹھیک ہی کہہ گئے ہیں کہ ۔۔بندہ روٹی نئیں کھاندا ۔۔۔۔ روٹی بندہ کھا جاندی اے ۔۔اتنی تمہید باندھنے اور چول مارنے کا مقصد فقط اتنا ہے کہ اگر کسی وجہ سے قسط لیٹ ہو جائے تو براہِ کرم درگزر کیجیئے گا۔۔۔ مزید گزارش یہ ہے کہ اس کہانی کو بطور کہانی کے ہی پڑھا جائے تو آپ کی عین نوازش ہو گی۔۔ تو آیئے سیکس کھتا کو شروع کرتے ہیں ۔۔۔ میں دفتر میں حسبِ معمول ویلا بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میرے موبائیل کی گھنٹی بجی۔۔۔۔ دیکھا تو کو ئی انجانا سا نمبر تھا۔۔۔ خیر میں نے فون آن کیا اور کان سے لگا کر جیسے ہی ہیلو کہا۔۔۔۔ تو دوسری طرف سے ایک انجان سی آواز سنائی دی۔۔۔ ہیلو ! کیا تم شاہ بول رہے ہو؟۔۔۔ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔تمہاری قسم بھائی ! میں شاہ ہی بول رہا ہوں۔۔۔تو اس پر وہ کہنے لگا کہ سنا ہے تم نے آنٹیاں چھوڑ ۔۔۔ کھُسروں کی بنڈ مارنی شروع کر دی ہے؟ اس کی بات سن کر مجھے تھوڑا تعجب تو ہوا لیکن میں نے اس بات کا اظہار کیئے بغیر ۔ ۔۔۔۔۔ ترنت ہی جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ آپ نے بلکل درست سنا ہے جناب ۔۔۔ ۔۔۔ اس لیئے اگر آپ کی تشریف میں بھی خارش ہو رہی ہے ۔۔۔تو ڈیٹول سے بنڈ دھو کر آ جاؤ۔۔۔میری طرف سے اتنی بات کہنے کی دیر تھی کہ اچانک دوسری طرف سے ایک فلک شگاف قہقہہ کی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔ وہ اجنبی کہہ رہا تھا ۔۔۔اوئے بہن چود ا۔۔ ساری دنیا بدل گئی مگر ۔۔تو ابھی تک نہیں بدلا۔۔۔۔ اس پر میں نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔ بھائی مرد کی ایک زبان ہوتی ہے۔میری اس بات پر اس نے ایک اور فرمائیشی قہقہہ لگایا ۔۔۔اور پھر کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔مجھے پہچانا؟۔۔۔ تو میں نے کہا ابھی آپ نے خود ہی ۔۔۔۔۔میں نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ دوسری طرف سے وہ چلا کر بولا۔ ۔۔۔۔۔ بس بس ۔۔ اب اس آگے کچھ نہیں کہنا ۔۔۔ پھر مجھے گالی دیتے ہوئے بولا۔۔۔اوئے گانڈو !! میں عدیل بول رہا ہوں ۔۔۔اس کی بات سن کر میں اپنے ذہن پر تھوڑا زور دیا ۔۔ لیکن جب میری میموری میں عدیل نام کا کوئی شخص نہیں آیا تو میں اس سے بولا۔۔۔۔ سوری !!۔۔کون عدیل ؟ تو اس پر وہ بڑے رسان سے کہنے لگا۔۔۔۔عدیل جو تمہارے ساتھ اسلامیہ سکول میں پڑھا کرتا تھا۔اس کے منہ سے عدیل کا نام سن کر میں نے ایک بار پھر اپنی یاداشت پر زور دیا۔۔۔۔ لیکن میرے زہن میں عدیل نام کا کوئی شخص نہ آیا۔۔اس لیئے ایک بار پھر میں نے اس سے کہا۔۔۔۔ کون عدیل یار؟؟ تو اس بار وہ تھوڑا جھلا کر بولا۔۔۔ اوئے کنجرا ۔۔۔ میں بول رہا ہوں عدیل۔۔۔۔۔پھر تھوڑا سا ہچکچکاتے ہوئے بولا۔۔ ۔۔وہی یار ۔۔عدیلہ ۔۔شیمپو ۔۔۔۔ جیسے ہی اس نے اپنا تعارف عدیلہ شیمپو کے نام سے کرایا۔۔۔۔ تو میرے ذہن میں ایک دم سے چھناکا سا ہوا ۔۔۔اور مجھے وہ یاد آ گیا ۔ عدیل ہمارا کلاس فیلو تھا جو کہ میٹرک کے فوراً بعد کسی طرح امریکہ چلا گیا تھا اور پھر کافی عرصہ اس نے کوئی خیر خبر ہی نہیں دی اسی لیئے میرے ذہن سے اس کا نام محو ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ۔۔ عدیل کے ساتھ میری دوستی اتنی گہری بھی نہ تھی کہ میں اسے یاد رکھتا ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کلاس فیلو ۔۔۔۔۔۔اور دوستوں کا سیم گروپ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ بہت بے تکلفی تھی ۔ نام تو اس کا عدیل تھا لیکن دوستوں کے حلقے میں ۔۔۔۔وہ عدیلہ شیمپو کے نام سے مشہور تھا اور اس کی مشہوری کی وجہ یہ تھی کہ سارے دوستوں میں یہ واحد لڑکا تھا جو کہ نہ صرف لن پر شیمپو لگا کر مُٹھ مارتا تھا بلکہ ہم سب کو بھی اس بات کی زبردست تلقین کیا کرتا تھا کہ شیمپو لگا کر مُٹھ مارا کریں۔۔ کیونکہ اس طرح کرنے سے مزہ بھی زیادہ آتا ہے ۔۔۔اور جھاگ بھی اچھی بنتی ہے۔۔۔اور یہ تلقین اس نے اس قدر زیادہ کی تھی کہ تنگ آ کر ہم نے اس کا نام ہی عدیلہ شیمپو رکھ چھوڑا تھا ۔۔۔چنانچہ عدیل کو پہچانتے ہی میں خوشی سے چیختے ہوئے بولا۔۔۔۔اوئے گانڈو! توُ امریکہ سے کب آیا؟ ۔۔اور پھر اگلے ہی سانس میں اس سے کہنے لگا۔۔ ہور سُنا ۔۔۔وہاں کسی گوری میم کی چاٹی ؟۔۔۔یا پھر وہاں بھی شیمپو کے ساتھ مُٹھ مارتے رہے ہو؟۔ ۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ بڑے فخریہ لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔۔ تُو چاٹنے کی بات کر رہا ہے ۔۔۔تیرے بھائی نے تو گوریوں کو جی بھر کے چوپے بھی لگوائے ہیں ۔۔۔ دوستو ۔۔۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ مجھے چوپا لگوانے کا بہت شوق ہے ۔۔۔ چوپا اور وہ بھی گوری میم کا۔۔۔۔ چنانچہ اس کے منہ سے گوریوں کے چوپوں کا سن کر ۔۔۔ ناجانے کیوں میرے دل میں حسرت کی ایک طویل لہر سی دوڑ گئی۔۔۔۔اور میں خواہ مخواہ جل کر کباب ہو گیا۔۔۔۔۔ اور پھر اسی حسرت ذدہ لہجے میں اس سے بولا ۔۔۔ کتنی گوریوں کو چوپے لگوائے ہیں؟ تو وہ قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگا ۔بے شمار ۔۔۔پھر تھوڑا وقفہ دے کر بولا۔۔۔ تجھے سب بتا دوں گا مسڑ شاہ سٹوری ( جس طرح دوستوں نے شیمپو سے مُٹھ مارنے کی وجہ سے عدیل کا نام " عدیلہ شیمپو " رکھا تھا ٹھیک اسی طرح دوستوں کے حلقے میں مجھے بھی شاہ سٹوری کے نام سے جانا جاتا تھا اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ میں ہمیشہ اپنے ذہن میں کوئی سیکس سٹوری بنا کر مُٹھ مارا کرتا تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ میں ہر دوست سے اس کی سیکس سٹوری نہ صرف یہ کہ بڑی تفصیل کے ساتھ سنا کرتا تھا بلکہ اس سے کرید کرید کر مختلف سوالات بھی پوچھا کرتا تھا ان کی سیکس سٹویز میں اتنا زیادہ انٹرسٹ لینے کی وجہ سے دوستوں کے حلقے میں میرا نام ہی شاہ سٹوری پڑ گیا تھا۔۔۔ (اور سچی بات تو یہ ہے دوستو کہ اس دور کی دوستوں کے منہ سے سنی ہوئی وہ گرما گرم کہانیاں ۔۔۔ بعد میں سیکس سٹوریاں لکھتے ہوئے میرے بہت کام آئیں۔۔ ) ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جب میں نے عدیلے شیمپو سے یہ پوچھا کہ تفصیل سے بتا کہ اب تک کتنی گوریوں کو چوپے لگوا چکے ہو۔۔۔۔۔ تو آگے سے وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا فکر نہ کر شاہ جی میں تجھے پوری تفصیل سے ساری سٹوریاں سناؤں گا۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ پھر مجھ سے شکوہ کرتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔۔ یار مجھے پاکستان آئے ہوئے دس پندرہ دن سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک ایک بھی حرامی مجھ سے ملنے نہیں آیا۔۔۔ تو اس پر میں نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سالے تم نے کون سا آنے کی اطلاع دی تھی۔۔۔ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولا۔کہ۔ ۔۔۔۔۔ اطلاع کیسے دیتا ؟ میرے پاس تو کسی کا نمبر ہی نہیں تھا ۔اور اب بھی بڑی مشکل کے ساتھ مجھے قادرے سے تیرا نمبر ملا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ مجھ سے کہنے لگا ۔۔۔ یہاں آ کر پرانے دوستوں سے ملنے کو بڑا دل کر رہا تھا ۔۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے اس سے کہا کہ اچھا یہ بتاؤ ۔۔کہ تمہارا وہی گھر ہے نہ۔۔۔ تو وہ میری بات کاٹتے ہوئے جلدی سے بولا ۔۔ نہیں یار وہ تو ہمارا کرائے کا گھر تھا اب ہم نے اپنا گھر لے لیا ہے اور پھر اس نے مجھے اپنے گھر کا پتہ بتایا جو کہ اتفاق سے میرے آفس کے قریب ہی واقع تھا ۔۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا کہ یار تمہارا گھر تو میرے آفس سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے میں چھٹی کے بعد تم سے ملنے آؤں گا تو اس پر وہ بولا۔۔۔۔ چھٹی کے بعد کیوں؟۔۔۔ابھی آتے ہوئے تمہیں کیا موت پڑتی ہے؟ اس کے بعد وہ کہنے لگا ۔۔ایسا کرو کہ تم ابھی اور اسی وقت آ جاؤ آج دوپہر کا کھانا ہم اکھٹے ہی کھائیں گے۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میں تمہیں اپنی بیگم سے بھی ملواؤں گا ۔۔۔۔پھر معنی خیز لہجے میں کہنے لگا۔۔۔ امریکہ سے گوری لایا ہوں۔۔۔ گوری میم کا نام سن کر پتہ نہیں کیوں میرے جسم میں ایک سنسی سی دوڑ گئی اور میں بڑی حسرت کے ساتھ بولا۔۔۔ اس سے ملنے کا کیا فائدہ یار!! بھابھی تو انگریزی بولتی ہو گی اور تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ اپنا ہاتھ شروع سے ہی انگریزی میں تنگ نہیں بلکہ۔۔۔بہت ہی تنگ ہے میری بات سن کر وہ کہنے لگا ۔۔ مجھے سب پتہ ہے یار۔۔ لیکن تو انگریزی کی فکر نہ کر ۔۔۔ کہ تیری بھابھی کو اردو بھی آتی ہے تو بس جلدی سے آنے والی بات کر ۔۔۔اور اتنی بات کرتے ہی اس نے فون رکھ دیا۔۔۔
  12. وہ کہہ رہی تھی کہ میں تمہیں دیکھ لوں گی۔۔ مجھے باندھ کر تم نے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔ تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔۔ لیکن میں نے اس کی بکواس پر کوئی کان نہ دھرا۔۔لیکن اس کی مسلسل بکواس اور دھمکیوں سے تنگ آ کر میں نے اس کی طرف دیکھا اور بڑے غصے سے بولا۔۔ ۔۔ چُپ ۔۔۔ گشتی۔۔۔۔اب چلانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اتنا کہتے ہی میری نظر اس کی ٹانگوں کے پاس ۔۔۔۔ اس گول گول چیز پر جا پڑی جسے میں لکڑی سمجھ رہا تھا اور جسے تھوڑی دیر قبل وہ اپنی چوت میں اندر باہر کرتے ہوئے سسکیاں بھر رہی تھی۔۔۔۔ میں نے اس گول گول چیز کو اُٹھا کر غور سے دیکھا تو جسے میں لکڑی سمجھ رہا تھا وہ دراصل کسی ہیئر برش کا پچھلا سرا تھا۔۔ ہیئر برش کا یہ گول سرا تقریباً چار پانچ انچ لمبا اور ایک ڈیڑھ انچ موٹا تھا ۔ جبکہ اس کا برش والا حصہ ٹوٹا ہوا تھا۔۔اور اس پر ایک سفید رنگ کا شارپر چڑھا ہوا تھا۔۔شارپر کو دیکھ کر میں نے سارہ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور اس سے بولا۔۔ شارپر کی جگہ اگر تم کنڈوم استعمال کرتی تو تمہیں زیادہ مزہ آنا تھا ۔۔۔۔لیکن اس نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔اور پھٹی پھٹی نظروں سے میری طرف دیکھتی رہی۔۔۔۔ اس کے بعد میں نے ہیئر برش کے اس ٹکڑے کو زرا غور سے دیکھا تو اس وقت وہ سارہ کی چوت سے نکلنے والی مزی سے لتھڑا ہوا تھا۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اس ہئیر برش کو اپنی ناک کے ساتھ لگا کر سونگھا ۔۔۔تو اس میں سے بڑی ہی مست قسم کی مہک آ رہی تھی چنانچہ میں اسے کچھ دیر تک سونگھ کر مزے لیتا رہا ۔۔۔ اور پھر اس ہیئر برش کے ٹکڑے کو سارہ کی آنکھوں کے سامنے لہرا کر بولا۔۔دیکھو تو اس برش پر لگی مزی کی وجہ سے۔۔۔۔ تمہاری چوت کی مست مہک آ رہی ہے اس کے بعد میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی زبان نکالی اور اس برش کے ٹکڑے پر جہاں جہاں بھی اس کی مزی لگی تھی اسے چاٹ لیا۔۔۔اور پھر اس سے بولا۔۔ جب تمہاری مزی اتنی مزے کی ہے تو پھر تمہاری منی کا ذائقہ کس قدر شاندار ہو گا میری اس حرکت پر اس کا چہرہ لال بھبھوکا ہو گیا لیکن اس نے میری کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔۔۔ ۔۔ اب میں نے اس ہئیر برش کو پلنگ سے نیچے پھینکا ۔۔۔ اور سارہ کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے اوپر چڑھ گیا جیسے ہی میں اس کے اوپر چڑھنے لگا تو اس نے ادھر ادھر ہو کر اپنی جان بچانے کی بڑی کوشش کی ۔۔۔۔ لیکن ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ اس کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی ۔۔۔۔اور میں اس کے اوپر چڑھ گیا۔۔۔ اوپر چڑھتے ہی میں نے اس کے غصے میں لال ہونے والے گالوں کو چوم لیا ۔۔۔گالوں کو چومتے وقت اس نے اپنے منہ کو ادھر ادھر کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن میں نے اس کی ہر کوشش ناکام بنا دی۔۔ اور اس کے لال لال گالوں کو جی بھر کے چوما۔۔۔۔۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے میرے ہونٹ اس کے ہونٹوں کی طرف بڑھنے لگے۔۔ یہ دیکھ کر سارہ نے سر کو دائیں بائیں کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو بڑی سختی کے ساتھ جوڑ لیا۔۔۔ لیکن میں نے اس کی ایک نہ چلنے دی ۔۔۔۔ اور اس کے سر کے بالوں کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ ا۔۔۔جس کی وجہ سے وہ اپنے سر کو دائیں بائیں کرنے سے قاصر ہو گئی ۔۔۔ اس کے بعد میں نے اس کے بالوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ کھینچا جس کی وجہ سے درد کے مارے اس کی چیخ نکل گئی۔۔اور وہ کہنے لگی ۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔ درندے ۔ لیکن اس وقت مجھ پر ایک عجیب سا جنون سوار تھا اس لیئے میں نے اس کی بات نہیں سنی۔۔۔ بلکہ اس کے بالوں کو ایک جھٹکا دے کر بڑے غصے سے بولا۔۔ ہونٹ کھول گشتی۔۔۔ میری بات سن کر اس نے بڑی بے بسی کے ساتھ میری طرف دیکھا ۔۔اور پھر اپنے ہونٹوں کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے بڑی فاتحانہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔اور پھر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر ۔۔۔۔ اس کے گلاب ہونٹوں کو چوسنا شروع ہو گیا۔۔اس کے نرم ہونٹوں کو چوستے وقت میں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح اس کی زبان کو بھی اپنے منہ میں لے کر چوسوں۔۔ لیکن میری کوشش کے باوجود بھی اس نے مجھے اپنی زبان چوسنے کے لیئے نہیں دی۔۔۔۔دوسری طرف عین اس وقت جب میں اس پر چڑھا ۔۔۔ اس کے ہونٹوں کو چوس رہا تھا تو اسی وقت میرا سخت لن اس کی چوت کے نرم نرم لبوں کے ساتھ ٹکرا رہا تھا ۔ سارہ کے رسیلے ہونٹوں کو چوس کر مجھے مزہ بھی آ رہا تھا ۔۔اور دوسری طرف شہوت سے میرا برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔ اسی لیئے کچھ دیر کسنگ کرنے کے بعد ۔۔۔۔۔۔ میں اس کے اوپر سے اُٹھا اور پھر۔۔۔۔اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے بولا۔ گشتی ۔۔۔تیار ہو جا ۔۔۔ میں تجھے چودنے لگا ہوں۔میری بات سن کر اس کے چہرے پر عجیب سا تاثر چھا گیا ۔۔لیکن آگے سے وہ کچھ نہیں بولی۔۔ دوسری طرف میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے پہلے اپنی قمیض اتاری پھر ۔۔۔ اپنی شلوار کو اتار دیا۔ جیسے ہی میری شلوار نیچے ہوئی ۔۔۔ میرا لن شیش ناگ کی طرح لہرتا ہوا ۔۔۔سارہ کی آنکھوں کے سامنے آ گیا۔۔ میرے موٹے اور لمبے لن کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیئے سارہ کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی۔۔۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے اس نے کمال مہارت کے ساتھ اپنے تاثرات کو چھپا لیا۔اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بڑی نفرت کے ساتھ کہنے لگی ۔ ۔خبردار ! میرے ساتھ ایسی ویسی کوئی حرکت نہ کرنا ۔ورنہ میرے بھائی تجھے کچا کھا جائیں گے ۔۔۔۔ پھر دفعتاً اس کا لہجہ بدل گیا اور وہ بڑے ہی نرم لہجے میں کہنے لگی مجھے چھوڑ دو پلیزززززززز۔میں نے اپنے شوہر کے علاوہ کبھی کسی اور کے ساتھ ایسا کام نہیں کیا ۔۔۔اس لیئے مہربانی کر کے مجھے چھوڑ دو ۔میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ لجاجت بھرے لہجے میں کہنے لگی ۔۔۔چھوڑ دو پلیز۔۔۔ میں کسی سے بھی تمہاری شکایت نہیں لگاؤں گی۔۔ جب اس نے محسوس کیا کہ اس کی کسی بات کا بھی مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تو دفعتاً اس نے پینترا بدلا ا ور کہنے لگی یہ جو تم میرے ساتھ کرنے لگے ہو۔۔۔۔۔تمہیں معلوم ہے نا کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے اس لیئے پلیزززززز۔۔ چلے جاؤ اور مجھے چھوڑ دو۔ اس کی بکواس سنتے ہوئے اچانک ہی مجھے احساس ہو ا کہ باہر کا دروازہ کھلا ہے یہ خیال آتے ہی میں ننگا ہی باہر کی طرف بھاگا ۔۔۔اور باہر کے دروازے کو کنڈی لگا کر واپس آ گیا۔۔۔۔ اور جیسے ہی میں کمرے میں واپس آیا تو دیکھا کہ وہ اسی طرف پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی جبکہ اس کے دونوں ہاتھ پلنگ کے ساتھ بندھے ہوئے تھے ۔ مجھے دیکھتے ہی وہ خوشامدانہ لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ سنو!!!!!۔۔ میرے پاس بہت سارے پیسے ہیں میں تم کو کافی سارے پیسے دوں گی لیکن پلیززززززززز تم یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔اگر کسی کو پتہ چل گیا تو میں برباد ہو جاؤں گی۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔ اس بات کی فکر نہ کرو میں یہ بات کسی سے بھی نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔اتنی بات کرتے ہوئے جیسے ہی میں پلنگ پر چڑھا۔۔۔ تو اس نے جلدی سے اپنی دونوں ٹانگوں کو سیکڑ لیا اور کہنے لگی ایسا مت کرو پلیز۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے بڑے غور سے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر وہ بلکل بھی رو نہیں رہی تھی۔یہ دیکھ کر میں نے اس کی دونوں ٹانگوں پر ہاتھ رکھا اور انہیں کھولنے لگا ۔۔تو اس نے اپنی ٹانگوں کو بڑی سختی کے ساتھ انہیں دبا لیا۔۔۔لیکن میں نے اس کی ٹانگوں کو پکڑ کر زبردستی کھول دیا۔ جیسے ہی سارہ کی دونوں ٹانگیں کھلیں۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کی شاندار پھدی میری آنکھوں کے سامنے آ گئی۔۔۔ سارہ کی پھدی کسی ڈبل روٹی کی طرح موٹی اور گوشت سے بھر پور تھی جبکہ اس کی پھدی کے اوپر کالے رنگ کے ہلکے ہلکے بال بھی موجود تھے جو کہ اس کی گوری گوری چوت پر بہت بھلے لگ رہے تھے۔۔۔۔۔میں سارہ کی دونوں ٹانگیں کھولے ۔۔۔۔ٹکٹکی باندھ کر اس کی خوبصورت چوت کا نظارہ لے رہا تھا جبکہ دوسری طرف وہ مسلسل اپنی ٹانگوں کو مجھ سے چھڑانے کی از حد کوشش کر رہی تھی۔ لیکن ظاہر ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ سارہ کی شاندار چوت کو دیکھ کر مجھے نشہ سا ہونے لگا چنانچہ میں نے ایک نظر سارہ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔ تمہاری چوت تو بڑی ہی خوبصورت ہے ۔۔ کیا خیال ہے مارنے سے پہلے۔۔۔۔ میں اسے تھوڑا چاٹ نہ لوں؟ لیکن میری اس بات کا اس نے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں اس کی شاندار پھدی پر جھک گیا ۔۔اور اس کی دونوں پھانکوں کے درمیان اپنی زبان رکھ دی۔ جیسے ہی میری زبان نے اس کی پھدی کو ٹچ کیا۔۔۔ سارہ ایک دم سے کسمسائی اور ۔۔ اور اپنی زیریں باڈی کو ادھر ادھر کرتے ہوئے۔۔۔۔۔ میرے منہ کو اپنے چوت سے ہٹانے کی بڑی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہی۔۔۔۔ ۔۔ اُف ۔۔اس کی پھدی بہت گرم اور ابھی تک تپی ہوئی تھی۔۔۔ چنانچہ میں نے زبان نکال کر اس کی گرم چوت کو چاٹنا شروع کر دیا۔ ابھی میں نے اس کی گرم چوت کو تھوڑی ہی دیر چاٹا ہو گا کہ۔۔حیرت انگیز طور پر اس نے اپنی ٹانگیں چلانا بند کر دیں۔۔۔ اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ ایسا اس نے اپنی چوت پر لگنے والی میری زبان کے مزے کی وجہ سے کیا تھا یا پھر وہ ٹانگیں چلا چلا کر تھک گئی تھی یا پھر ۔۔۔ اس نے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا۔۔ چنانچہ ۔۔۔ جب اس نے اپنی ٹانگیں چلانے بند کیں ۔۔۔تو میں نے اس کی پھدی چاٹتے ہوئے۔۔۔۔۔چند سیکنڈ ز تک ۔۔۔ انتظار کیا اور جب مجھے اس بات کا یقین ہو گیا کہ اب وہ ٹانگیں نہیں چلائے گی تو ۔۔۔ پھر دھیرے دھیرے میں نے اس کی ٹانگوں کو آذاد چھوڑ دیا۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی پھدی چاٹتے ہوئے ایک ہاتھ اس کے پھولے ہوئے دانے پر لے گیا ۔۔۔اور اپنی دو انگلیوں کی مدد سے اس کی چوت کے اوپر پھولے ہوئے دانے کو مسلنا شروع کر دیا۔ اس کی چوت سے ایسی مست مہک آ رہی تھی کہ میں دیوانوں کی طرح اسے چاٹتا چلا جا رہا تھا۔۔ پھر۔۔۔کچھ ہی دیر بعد اس کی چوت گیلی ہونا شروع ہو گئی اور پھر آہستہ آہستہ اس میں سے گدلے رنگ کا پانی رسنا شروع ہو گیا۔۔۔۔ اس کی چوت سے پانی رستا دیکھ کر مجھے ایک خوشگوار سی حیرت ہوئی اور میں نے اس کی چوت سے نکلنے والے پانی کے پہلے قطرے کو چاٹ لیا ۔۔۔واؤؤؤؤ۔۔۔ اس کی مست چوت سے نکلنے والے پانی کا ذائقہ بھی اس کی چوت کی طرح بڑا ہی مزیدار تھا ۔۔۔پھر کچھ دیر بعد میں نے اس کی خوبصورت چوت کو چاٹنا بند کر دیا۔۔ ۔۔۔۔اور اس کے موٹے دانے کو اپنے منہ میں لے کر تیزی کے ساتھ چوسنا شروع ہو گیا۔۔۔ اس کے پھولے ہوئے دانے کو اپنے منہ میں لیئے میں بڑی تیزی کے ساتھ چوس رہا تھا ۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف سارہ بری طرح کسمسا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ چُپ چاپ لیٹی سارہ کا منہ سختی کے بند تھا اور اس سے ایک لفظ بھی نہیں نکل رہا تھا لیکن اس کا سانس بہت تیز تیز چل رہا تھا ۔۔۔۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے منہ سے دبی دبی سسکیوں کی آواز یں نکل رہی تھی ۔ سارہ کا دانہ چاٹتے ہوئے جب میں نے ایک انگلی اس کی چوت میں داخل کی ۔۔۔۔ تو معلوم ہوا کہ اس کی چوت میں اچھا خاصہ پانی جمع ہو چکا تھا جبکہ دوسری طرف اس کی چوت کو مارنے کے لیئے۔۔۔۔ میرا لن بھی دہائیاں دے رہا تھا ۔۔چنانچہ اس کی چوت کی پھسلن کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ اس کی پھدی چاٹ۔۔۔۔ اور دانے کو کافی چوس لیا اب لن اور پھدی کا ملاپ کر دینا چایئے۔ یہ سوچ کر میں نے اس کے دانے پر رکھے اپنے منہ کو اوپر ہٹایا اور اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا۔۔۔ میری اس حرکت پر سارہ کچھ نہ بولی بلکہ چپ چاپ میرا یہ عمل دیکھتی رہی ۔ پھر میں نے اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور اس کی نوک کو سارہ کے دانے پر رکھی۔۔۔۔۔اور اس کو رگڑنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر رگڑنے کے بعد میں نے اپنے ٹوپے کو تھوک سے تر کیا اور اس کی پھدی کے لبوں پر رکھ کر ہلکا سا دھکا لگایا۔۔تو میرا لن پھسلتا ہوا۔۔۔۔ اس کی پانی سے بھری چوت میں اتر گیا۔جیسے ہی میرا لن اس کی ٹائیٹ چوت میں اترا ۔۔۔۔سارہ نے ایک آہ بھری اور پھر دانت پیستے ہوئے بولی۔۔" پچھتاؤ گے" اسکی بات سن کر میں نے ایک ذور دار گھسہ مارا۔۔۔۔۔ جس سے میرا لن اس کی چوت میں جڑ تک اتر گیا۔۔۔ اور اس کی طرف دیکھ کر بڑی لاپرواہی سے بولا۔۔۔ " دیکھا جائے گا" جب میں نے گھسہ مارتے ہوئے اس سے یہ کہا کہ دیکھا جائے گا ۔۔۔۔تو میری بات سن کر اس نے اپنے ہونٹوں کو سختی سے بھینچ کر اپنی آنکھیں بند کیں۔۔۔۔۔۔ اور بلکل خاموش ہو گئی ۔ میں نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور پھر آہستہ آہستہ گھسے مارنے شروع کر دیئے۔۔۔ اس کی چوت بہت تنگ تھی۔۔۔۔جس کی وجہ سے میرا لن بہت پھنس پھنس کر آ جا رہا تھا۔۔۔جس کی وجہ سے اس کی پھدی مارتے ہوئے مجھے بڑا مزہ آ رہا تھا ۔۔ گھسے مارتے ہوئے میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ بدستور آنکھیں بند کیئے لیٹی ہوئی تھی اس کی سانسیں اتھل پتھل ہو رہی تھیں ۔۔۔یہ دیکھ کر میں اس کی طرف جھکا اور بڑے رومینٹک لہجے میں بولا ۔۔۔مزہ آ رہا ہے نا؟ میری اس بات پر اس نے اپنی بند آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔۔ اور ایک نظر میری طرف دیکھا لیکن میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔ وہ میرے نیچے لیٹی بلکل چُپ چاپ چُدوا رہی تھی جبکہ میں پسینے میں شرابور اس کو چودتے ہوئے مزے کی وجہ سے اونچی آواز میں کراہ بھی رہا تھا اس کی چوت میں کوئی نشہ تھا کہ کیا تھا کہ ۔۔۔۔۔ میں مزے سے بے حال ہوتا جا رہا تھا۔۔۔پھر گھسے مارتے مارتے اچانک میں نے محسوس کیا کہ سارہ کی چوت میں اکڑن پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔۔۔۔اور اس اکڑن کی وجہ سے اس کے منہ سے ایک ہلکی سی سسکی نکل گئی۔۔۔اور اس سسکی کے نکلتے ہی ۔۔۔اس کی چوت کے سارے ٹشو میرے لن کے ساتھ چمٹ گئے۔۔۔ اور یہ دیکھ کر میں نے پوری قوت کے ساتھ ایک زبردست گھسہ مارا ۔۔۔جس کی وجہ سے سختی کے ساتھ منہ بند ہونے کے باوجود بھی ۔۔۔۔اس کے منہ سے ایک زودار چیخ نکل گئی۔۔۔۔ اب یہ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے منہ سے نکلنے والی یہ چیخ درد کی وجہ سے نکلی تھی یا مزے کی وجہ سے ۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف میں اس کی پھدی مارتے ہوئے اونچی آواز میں چلا رہا تھا ۔۔ پھر ۔۔۔گھسے مارتے مارتے جیسے ہی مجھے محسوس ہوا کہ میں چھوٹنے والا ہوں تو اسی وقت میں نے اس کی چوت سے کھینچ کر اپنا لن نکال لیا۔۔ جیسے ہی میں نے اس کی چوت سے اپنا لن نکالا تو میں نے دیکھا کہ ۔۔۔۔ اس کی چوت سے ڈھیر سارا پانی نکل رہا تھا۔۔۔۔اور جب میں نے اپنے لن کی طرف دیکھا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا سارا لن اس کی منی سے لتھڑا ہوا تھا اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے سارہ کے منہ سے نکلنے ۔۔والی چیخ درد نہیں بلکہ۔۔۔۔۔۔۔ چھوٹنے کی وجہ سے نکلی تھی۔۔اسی بات سے میرے دل میں خیال آیا کہ ۔۔۔ کہ میری پاور فل چودائی کی وجہ سے وہ بھی لطف اندوز ہوئی تھی ۔۔جبکہ دوسری طرف جیسے ہی میں نے لن کو اس کی چوت کھینچ کر نکالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچانک ہی اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور خاموشی سے میری طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔چونکہ اس وقت میں چھوٹنے کے قریب تھا اس لیئے میں نے اسے نظر انداز کیا اور لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر۔۔۔۔۔ تیزی سے مُٹھ مارنے لگا ۔۔۔ چند ہی لمحوں کے بعد میرے منہ سے ایک زور دار ۔۔۔۔اوہ ہ ہ۔آہ ہ ہ ہ۔۔۔ کی آواز نکلی۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میرے لن سے گاڑھی منی نکل نکل کر ۔۔۔۔ اس کے خوبصورت پیٹ پر گرنے لگی۔جس کی وجہ سے سارہ کا خوب صورت پیٹ میری منی سے بھر گیا۔۔ ۔جب لن سے نکلنے والی ساری منی اس کے پیٹ پر گِر گِر کر ختم ہو گئی۔۔۔ تو میں سارہ پر جھکا ۔۔۔۔اور اسکے ہونٹوں پر ایک گرم سی چمی دے دی۔۔۔ اور پھر اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔۔مزہ آیا نا؟؟؟؟؟؟؟؟ ۔ لیکن اس نے میرے سوال کا کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے میری طرف دیکھتی رہی۔۔۔ ۔۔اتنی دیر میں میرا لن نرم ہو کر سکڑ گیا تھا۔۔۔۔اس لیئے میں پلنگ سے نیچے اترا۔۔ اور شلوار پہننے لگا اس دوران وہ چپ چاپ اور خاموش نظروں سے مجھے گھورتی رہی ۔۔۔ شلوار پہننے کے بعد میں نے قمیض پہنی اور اس کو ٹاٹا کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔ دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔جیسے ہی میں دروازے کے قریب پہنچا تو وہ بڑی ہموار آواز میں بولی ۔۔میرے ہاتھ تو کھولتے جاؤ۔۔ اس کی بات سن کر میں واپس پلٹا۔۔۔ اور پلنگ کے ساتھ بندھے اس کے ہاتھ کھولے ۔۔۔ جیسے ہی اس کے ہاتھ کھلے۔۔۔ اس نے اپنی کلائیوں کو مسلنا شروع کر دیا اور پاس پڑی قمیض کو اُٹھا کر اپنے سینے پر رکھ لیا اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی میں تمہاری امی کو بتاؤں گی ۔۔میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ دوستو!۔۔۔اس بات کو دو تین ماہ ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک اس نے میری امی سے اس بارے کوئی بات نہیں کی۔۔۔۔آج بھی وہ پہلے کی طرح ہمارے گھر آتی ہے اور گھر آتے جاتے اکثر ہمارا آمنا سامنا ہو جاتا ہے لیکن آج تک اس نے کبھی مجھ سے اس حادثے کے بارے ایک لفظ بھی میں نہیں کہا اور نہ ہی میرے ساتھ اپنا موُڈ خراب کیا ہے۔ تو میرے پیارے دوستو!!!!! مجھے مشورہ دو کہ اب میں کیا کروں؟ کیونکہ وہ ایک بڑی ہی گرم اور سیکسی لیڈی ہے اور اس دن میں نے اس کے ساتھ بہت مزہ کیا تھا اور یہ مزہ میں ایک دفعہ پھر لینا چاہتا ہوں لیکن اس دن کے بعد وہ مجھ سے بات ہی نہیں کرتی اب تم ہی بتاؤ۔۔ کوئی مشورہ دو ۔۔کہ میں کیا کروں؟ اسے کیسے چودوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟.. ختم شد
  13. سارہ کا ریپ پیارے دوستو! مجھے معلوم ہے کہ کہانی کا ٹائیٹل دیکھ کر آپ ضرور چونکے ، اور پھر یہ سوچ کر حیران بھی ہوئے ہوں گے کہ شاہ اور کسی خاتون کا ریپ؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ تو پیارے پڑھنے والو ! آپ ٹھیک سمجھے ہیں زاتی طور پر میں کسی بھی خاتون کو بلیک میل کر کے چودنے یا اسے ریپ کرنے کے سخت مخالف ہوں لیکن بعض اوقات حالات کچھ اس طور بن جاتے ہیں کہ بندہ نا چاہتے ہوئے بھی وہ کام کر گزرتا ہے جو کبھی اس نے خواب میں بھی نہ سوچا ہوتا ہے زیرِ نظر کہانی بھی کچھ اسی قسم کے واقعہ پر مشتمل ہے جو کہ پتہ نہیں غصے یا ٹینشن کی وجہ سے میری زندگی میں بس آنناً فانناً ہی وقوع پزیر ہو گیا تھا میں نے یہ کام صحیح کیا یا غلط، اس کا فیصلہ آپ کہانی پڑھ کر خود کر لینا۔ تو دوستو !! یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ جب ہمارے ہمسائے میں رہنے کے لیئے نئے کرائے دار آ ئے تھے کرائے دار تو نہیں البتہ انہیں کرائے دارنیاں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کیونکہ یہ گھرانہ ایک سندر سی خاتون کے ساتھ دو بچوں اور ایک ساس پر مشتمل تھا۔ نشیلی آنکھوں والی اس خاتون کا نام سارہ تھا جو کہ دل کش ، دل نشین اور بہت شاندار عورت تھی اس کے دونوں بچے سکول میں پڑھتے تھے جبکہ اس گھرانے کا مرد کمانے کے لیئے ملک سے باہر گیا ہوا تھا اور جس وقت کی میں بات کر رہا ہوں اس وقت اس دل کش خاتون کی عمر 34 ،33 سال کے لگ بھگ ہو گی اور دیکھنے میں وہ نری آفت تھی جہاں تک کہ اس کے جسم کا تعلق تھا تو یقین کرو دوستو وہ ایک توبہ شکن بدن کی مالکہ تھی ایسا بدن کہ جس کو دیکھ کر میرے جیسا کوئی بھی ٹھرکی پاگل ہو سکتا تھا۔ اس کا فگر اس قدر پرفیکٹ تھا کہ میرے سمیت محلے کے اکثر لوگ اس بات پر حیران ہوتے تھے کہ دو بچوں کی پیدائیش کے بعد بھی اس نے اپنے جسم کو کیسے فٹ رکھا ہوا ہے ؟ بالخصوص اس کی بھاری چھاتیاں اور بڑی سی گانڈ جسے دیکھ کر اکثر میرا لن مچل مچل جاتا تھا دیکھنے میں بڑی ہی شہوت انگیز تھی۔ چنانچہ حسب، معمول اس کے خوبصورت اور توبہ شکن جسم کو دیکھ کر۔۔۔ میں اور محلے کے اکثر لوگ اس پر سچے دل سے عاشق ہو گئے تھے ہمسائی ہونے کے ناطے میں نے اس سے راہ رسم بڑھانے کی از حد کوشش کی لیکن اس ظالم نے مجھے زرا بھی لفٹ نہ کرائی اور اردو کے ایک محاورے کے مطابق میرے سو سو طرح سے مرنے کے باوجود بھی ان لبوں نے زرا بھی مسیحائی نہ کی۔۔جس کی وجہ سے میں تو کیا محلے کے سبھی ٹھرکی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ۔۔۔ یاد آیا کہ ہمیں گھاس نہ ڈالنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی تھی کہ وہ ایک کٹر مزہبی گھرانے کی خاتون تھی چنانچہ اس پر متعدد ٹرائیاں مارنے کے بعد آخرِ کار میں اس نتیجے پر پہنچا کہ انگھور کھٹے ہیں۔ شوہر کے ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے وہ محلے میں خاصی ریزرور رہتی تھی اور لوگوں سے زیادہ گھلتی ملتی نہ تھی اسی لیئے اکثر لوگ اسے مغرور اور بدماغ سمجھتے تھے ویسے بھی اس کا سوائے ہمارے گھر کے محلے میں کہیں آنا جانا نہ تھا ۔ چونکہ سارہ کے بچے ابھی بہت چھوٹے تھے اور گھر میں کوئی مرد نہ ہونے کی وجہ سے اکثر وہ اپنے گھر کے چھوٹے موٹے کام مجھ سے ہی کروایا کرتی تھی۔ پھر ایک شام کی بات ہے کہ جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوا تو میری امی کہنے لگیں کہ بیٹا زرا سارہ کے گھر چلے جاؤ وہ تمہیں بلا رہی تھی سارہ کا نام سن کر میں نے خاصی ناگواری سے پوچھا کہ اس نے مجھے کیوں بلایا ہے ؟ تو اس پر امی کہنے لگیں کہ بیٹا ان کے واش روم کی ٹونٹی میں کوئی نقص آ گیا ہے جسے جا کر ٹھیک کر دو۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس وقت میں بہت تھکا ہوا تھا اس لیئے امی کی بات سن کر میں نے دل ہی دل میں سارہ کو ایک گالی دیتے ہوئے کہا کہ سالی دیتی تو ہے نہیں اور اوپر سے کام کا ایسے کہہ دیتی ہے جیسے کہ میں اس کا نوکر لگا ہوں ۔۔۔ مغرور کہیں کی!!! ۔ اور دوسری بات یہ کہ چونکہ مجھے خوب اچھی طرح سے معلوم تھا کہ ان تلوں میں زرا سا بھی تیل نہیں ہے اس لیئے وہاں جانے سے مجھے حاصل وصول کچھ بھی نہیں ہو گا ۔ چنانچہ میں نے امی سے صاف کہہ دیا کہ اس وقت تو میں بہت تھکا ہوا ہوں اس لیئے کل چلا جاؤں گا۔ میری بات سن کر امی نے مجھے وہاں بھیجنے کی کافی کوشش کی لیکن میں نے اپنے تھکے ہونے کی اس قدر پُر اثر اداکاری کی کہ چار و ناچار انہوں نے سارہ کے گھر اسی وقت جانے کا اصرار ترک کر دیا تاہم انہوں نے مجھے اگلے دن وہاں جانے کی پکی تاکید کر دی۔ یہ دوسرے دن کی بات ہے کہ جیسے ہی میں نے ناشتہ ختم کیا۔۔۔۔ امی نے مجھے سختی کے ساتھ سارہ کے گھر جانے کا بولا۔ چنانچہ امی کی سختی دیکھ کر میں بڑی بے دلی کے ساتھ گھر سے نکلا۔ چونکہ ہمارے ساتھ ہی سارہ کا گھر واقع تھا اس لیئے میں اس کے گھر کے سامنے پہنچ کر جیسے ہی میں اس دروازہ کھٹ کھٹانے لگا تو مجھے ایسا محسوس ہو ا کہ جیسے اس کا دروازہ کھلا ہوا ہو۔۔ چونکہ اس سے قبل بھی میں بنا دروازہ کھٹکھٹائے اس کے گھر آتا جاتا رہا تھا اس لیئے دروازہ کھلا دیکھ کر میں بنا ہچکچائے اس کے گھر میں داخل ہو گیا کہ اسے معلوم ہی ہو گا کہ میں اس کے واش روم کی ٹونٹی ٹھیک کرنے آنے والا تھا۔ ادھر جیسے ہی میں سارہ کے گھر میں داخل ہوا تو سارے گھر میں مجھے ایک عجیب سا سناٹا محسوس ہوا ۔۔ حتیٰ کہ اس کی ساس بھی نظر نہ آئی جو کہ اکثر برآمدے میں بیٹھی کوئی نہ کوئی کام رہی ہوتی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے گھر میں کوئی بھی موجود نہ ہو۔اتنا سناٹا دیکھ کر مجھے کافی حیرت اور تھوڑی تشویش بھی لاحق ہوئی اور اسی تشویش کے زیرِ اثر میں بڑی احتیاط کے ساتھ ان کے گھر کے ایک ایک کمرے کو چیک کرنے لگا ۔۔۔ کمروں کی چیکنگ کرتے کرتے جب میں سارہ کے کمرے کی طرف بڑھا تو اسی اثنا میں مجھے اس طرف سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آوازیں ۔۔جیسے کہ آہ۔۔۔اُف ف ف ف ف۔۔ اوں۔ں ں ں۔۔۔ سنائی دیں ان مست اور سیکسی آوازوں کو سن کر پہلے تو میں اسے اپنا وہم سمجھا ۔ ۔ لیکن جب دھیان لگا کر سنا تو واقعی یہ مست آوازیں سارہ کے بیڈ روم کی طرف سے آ رہیں تھیں ۔۔۔ ۔چنانچہ یہ سب جان کر میرے کان کھڑے ہو گئے۔۔ اور میں بڑے چوکنے انداز میں پنچوں کے بل چلتا ہوا سارہ کے دروازے کے پاس جا پہنچا ۔ اس کی مست اور سیکسی آوازوں کو سن کر میرا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ ہو نہ ہو بظاہر شریف نظر آنے والی سارہ ۔۔۔۔ کمرے کے اندر اپنے کسی یار کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی ہو گی چنانچہ اسے رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لیئے میں نے دروازے کے ہینڈل کو پکڑ کر تھوڑا ہلایا تو یہ دیکھ کر مجھے از حد خوشی ہوئی کہ کمرہ اندر سے لاک نہ تھا ۔۔۔ چنانچہ میں نے بڑی احتیاط کے ساتھ ہینڈل کو گھمایا۔۔۔۔ ۔۔۔ اور چپکے سے کمرے میں داخل ہو گیا ۔۔ جیسے ہی میں کمرے میں داخل ہوا تو ۔۔۔۔اپنے سامنے کا منظر دیکھ کر میں ہکا بکا رہ گیا ۔۔۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے والے پلنگ پر سارہ ننگی لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔اس کی آنکھیں بند تھیں اور اس کی بھاری بھر کم چھاتیوں پر موٹے موٹے نپلز تنے کھڑے تھے ۔۔۔۔ اس نے اپنی دونوں ٹانگیں کھولی ہوئی تھیں اور وہ اپنی پھدی میں کوئی گول سی چیز ڈالے۔۔۔۔اسے اندر باہر کرتے ہوئے سسکیاں بھر رہی تھی۔۔۔ ہائے کیا بتاؤں دوستو اس کی ابھری ہوئی چوت کے موٹے موٹے ہونٹ، سڈول لمبی ٹانگیں ، گول اور موٹی رانیں اور ان رانوں کے بیچوں بیچ ایک زبردست سی چوت ۔۔کیا مست مال تھا یار ۔۔۔۔ ۔۔سارہ کو اس حالت میں دیکھ کر میرے منہ میں پانی ۔۔۔اور شلوار میں اک ہلچل سی مچ گئی ۔ ۔۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے میرے لن کے اندر سے شہوت کی ایک لہر سی اُٹھی ۔۔۔۔جو کہ میرے سارے بدن میں پھیل گئی جس کے نتیجے میں میرا لن اپنے جوبن میں آ کر فل کھڑا ہو گیا چنانچہ میں نے اس کو اپنی شلوار کے اوپر سے ہی پکڑا ۔۔اور اسے سہلاتے ہوئے ۔۔۔ سارہ کے ننگے جسم کا نظارہ کرنے لگا ۔اس وقت میرا لن آخری حد تک کھڑا تھا اور اس کے شاندار سیکسی اور ننگے بدن کو دیکھ دیکھ کر میں گرم سے گرم تر ہوتا جا رہا تھا ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا کروں؟ پھر سارہ کی طرف دیکھتے ہوئے میں چپکے سے آگے بڑھا۔ اور ایک نظر کمرے کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔ تو دیکھا کہ پلنگ کے ساتھ ہی صوفے پر اس کی شلوار قمیض اور برا پڑی تھی اور اس کے ہاتھ میں جو گول سی لکڑی تھی اس پر ایک سفید رنگ کا شارپر چڑھا ہوا تھا اور وہ شارپر ٹیوب لائیٹ میں روشنی میں بہت چمک رہا تھا ۔۔۔ پلنگ کے پاس ہی تپائی پر سرسروں کے تیل کی ایک بوتل بھی موجود تھی جبکہ سارہ ابھی تک لکڑی کے اس ٹکڑے کو اپنی چوت میں لیئے اندر باہر کر تے ہوئے بڑے ہی دل کش انداز میں سسکیاں بھر رہی تھی آہ ہ ہ ۔۔۔اوہ ہ ہ۔۔۔مم۔۔۔ اُف ف ف جیسی سیکسی آوازیں سن کر میرے اندر بھی جوش بھر رہا تھا ۔۔۔۔ ابھی میں اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑے سوچ ہی رہا تھا کہ اب میں کیا کروں؟؟؟ کہ اچانک ہی سارہ نے اپنی آنکھیں کھولیں اور ۔۔۔۔پھر مجھے اپنے سامنے دیکھ کر خوف۔۔۔ حیرت ۔۔۔اور ڈر کے مارے ایک زور دار چیخ ماری۔ اور اگلے ہی لمحے اس نے بڑی تیزی کے ساتھ اپنی ٹانگوں کو بند کر کے چوت کو چھپا لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔اور ساتھ ہی اپنی بھاری چھاتیوں کو دونوں ہاتھوں سے ڈھک لیا لیکن دونوں ہاتھ چھاتیوں پر رکھنے کے باوجود بھی ۔۔۔۔۔ اس کی بڑی بڑی چھاتیوں چھپائے نہ چُھپ رہیں تھیں ۔۔ یہ سب کرنے کے بعد ۔۔۔۔اگلے ہی لمحے اس نے شعلہ برساتی آنکھوں سے میری طرف دیکھا ا ور چلا کر بولی ۔تت تم؟؟؟؟؟؟؟؟ اندر کیسےآ گئے ؟؟؟؟؟؟۔ دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس موقع پر وہ مجھے کیا کہے؟ ۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف اس کی چیخ و پکار کو نظر انداز کرتے ہوئے۔۔۔۔میں ویسے کا ویسا کھڑا ۔۔۔ اس کے شاندار جسم کو گھور رہا تھا۔۔۔مجھے اس طرح کھڑے دیکھ کر وہ غصے میں آگ بگولہ ہو گئی اور نفرت بھرے لہجے اپنی انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ گیٹ آؤٹ۔۔ابھی اور اسی وقت ۔باہر نکل جاؤ۔۔۔تم نے مم میرے کمرے میں آنے کی ہمت کیسے کی؟ تمہیں کوئی تمیز نہیں کہ ۔۔۔۔کسی کے گھر میں کیسے جانا ہوتا ہے؟ اس کی آنکھوں میں حیرت غم اور نفرت کے سائے دم بدم شدید سے شدید تر ہوتے جا رہے تھے اور وہ چیختے ہوئے مسلسل مجھے گالیاں دیئے جا رہی تھی جب اس نے دیکھا کہ مجھ پر اس کی چیخ و پکار کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ۔۔۔تو پھر اچانک ہی وہ بستر سے اُٹھی اور کسی بھوکی شیرنی کی طرح مجھ پر پل پڑی ۔۔۔ اور مجھے دھکے دیتے ہوئے بولی ۔۔ بہن چود !!! ۔۔۔۔۔ مادر چود !! سالے سؤر دفع ہو جاؤ۔۔ سارہ کا رویہ دیکھ کر میرا لن تو کب کا بیٹھ چکا تھا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں؟ اور اس کے باوجود کہ اس کے ننگے بدن کو دیکھ کر مجھ پر چھا جانے والی ہوشیاری کب کی دم توڑ چکی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ سارہ کا رویہ دیکھ کر مجھے اپنی تزلیل کا شدید احساس ہو رہا تھا اور اس کا نفرت بھرا لہجہ اور گالیاں سن سن کر اب مجھے بھی غصہ آنا شروع ہو گیا تھا۔ پھر اسی دوران اس نے مجھے ایک ذور دار دھکہ دیا اور چلاتے ہوئے بولی۔ ۔۔۔کتے کمینے حرامزادے ۔۔۔باہر نکلو یہاں سے ۔۔۔اور آج کے بعد میرے گھر میں قدم بھی نہیں رکھنا !!!!!!!!!!۔۔ میں تمہاری امی سے شکایت لگا کر تمہیں گھر سے نکلوا دوں گی ۔۔ وہ ہزیانی میں چیختے ہوئے مسلسل مجھے مسلسل گالیاں دیئے جا رہی تھی ۔۔۔ اسی وقت میرے دل میں خیال آیا کہ یہ کیسی گشتی عورت ہے سالی ۔۔ لکڑی چوت میں لیئے مزے خود کر رہی تھی اور چیخ مجھ پر رہی ہے یہ سوچتے ہی میرے اندر غصے کی ایک شدید لہر اُٹھی ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی مجھے خود پر کنٹرول نہ رہا چنانچہ اس سے قبل کہ وہ مجھے کچھ اور کہتی۔۔۔۔۔ میں نے اس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا۔۔تھپڑ کھاتے ہی وہ تیورا کر پلنگ پر جا گری ۔۔ اسے پلنگ پر گرتے دیکھ کر میں بھی جمپ مار کر پلنگ پر جا چڑھا ۔۔اور اسے دھکہ دے کر بستر پر لٹا دیا۔۔۔۔۔۔ ۔ اسے پلنگ پر لٹا کر میں نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔۔۔تو میری نظر صوفے پر جا پڑی جس پر کہ اس کے کپڑے پڑے ہوئے تھے۔۔۔ چنانچہ میں نے ہاتھ بڑھا کر صوفے پر پڑی شلوار کو اُٹھایا اور اس میں سے آزار بند نکال لیا۔۔ اور پھر میں نے اس نالے (آزار بند) کے ساتھ اس کے دونوں ہاتھوں کو سختی کے ساتھ باندھا ۔۔۔۔ اور نالے کا دوسرا سرا پلنگ کے ساتھ باندھ دیا۔۔۔اپنے دونوں ہاتھوں کو بندھواتے وقت سارہ نے خاصی مزاحمت کی اور اس مزاحمت بلکہ دھیگا مشتی کے دوران میرا لن بار بار اس کی نرم رانوں اور چوتڑوں کے ساتھ ٹچ ہوتا رہا جس کا نقد نتیجہ یہ نکلا کہ۔۔ اس کی نرم نرم رانوں کے ٹچ اور ننگی چھاتیوں کو دیکھ دیکھ کر ۔۔۔ میرا لن ایک بار پھر سے کھڑا ہونا شروع ہو گیا جبکہ دوسری طرف ہاتھ بندھے ہونے کے باوجود بھی وہ مجھ پر ویسے ہی برس رہی تھی۔۔
  14. شکریہ سٹوری میکر جی لیکن اس میں کچھ انسیسٹ بھی ہے تو کیا ایڈمن اس کی اجازت دے دے گا؟ اور ہاں یہ پلوشہ ہے
  15. ۔۔۔ یہ کہتے ہی وہ بستر سے اُٹھی ۔۔۔اور میرے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔ پتہ نہیں وہ کب آئے گا۔۔۔۔میں۔۔۔ میں اسے 'چھوت" میں لینے لگی ہوں ۔۔۔تو اس پر میں نے اس سے کہا اوکے۔۔۔ تم نیچے آؤ۔۔ میں اوپر آ کر تمہیں چودتا ہوں تو میری بات سن کر وہ کہنے لگی۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔مجھے تھری سم کرنا ہے اس لیئے تم نیچے لیٹے رہو۔۔۔ میں تمہارے ڈک کو اپنی چھوت میں لے کر اوپر لیٹوں گی ۔۔ جبکہ حمزہ آکر پیچھے سے میری ایس( گانڈ) میں اپنا لن ڈالے گا اتنی بات کرتے ہی وہ ایک دم چونک کر بولی۔۔۔اوہ مائی۔۔۔۔ کریم تو میں بھول ہی گئی ۔۔ اس کے بعد وہ تیزی سے اُٹھی اور سامنے پڑے ڈریسر کی ایک خفیہ خانے سے ایک کریم نکالی اور اسے اچھی طرح سےاپنی گانڈ کے اندر باہر ملنے لگی یہ دیکھ کر میں اس سے بولا کہ ۔۔۔رہنے دو حمزہ خود ہی لگا لے گا۔۔تو وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔ کیا پتہ نہ لگائے۔پھر کہنے لگی ویسے میں یہ کام وقت بچانے کے لیئے کر رہی ہوں۔۔۔۔اس کے بعد اس نے اپنی گانڈ کے اندر تک کریم لگائی ۔۔اور پھر بیڈ پر آ گئی۔۔۔ اور میرے اکڑے ہوئے لن کو دیکھتے ہوئے اس نے ایک نظر دروازے کی طرف ڈالی اور وہاں پر حمزہ کو نہ پا کر بولی۔۔۔ میں اسے چھوت میں لینے لگی ہوں ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ میرے اوپر آ اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کو آخری حد تک کھولا ۔۔۔۔اور پھر میرے لن کی سیدھ میں اپنی ' چھوت ' کو رکھ کر بولی۔۔۔ میری" چھوت" بہت ٹائیٹ ہے تم کو بڑا مزہ ملنے والا ہے یہ کہتے ہی وہ نیچے جھکی اور میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنی پھدی کی سیدھ میں لے آئی۔۔ اور پھر اپنی گرم اور گیلی پھدی کو میرے لن پر رکھ کر دھیرے دھیرے اسے اپنے اندر لینے لگی۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤو۔۔۔ اس کی چھوت واقعی ہی بڑی تنگ اور بہت گیلی تھی۔۔۔ میرا لن پھنس پھنس کر اس کے اندر جا رہا تھا۔۔۔۔ جب سارا لن اس کی چھوت میں چلا گیا ۔۔تو پھر اس نے میری طرف دیکھا ۔۔اور کہنے لگی۔۔ کیوں ۔۔۔ میری چھوت تنگ ہے نا۔۔۔ تو آگے سے میں نے سر ہلادیا۔۔۔۔ اور وہ میرے لن پر آہستہ آہستہ اُٹھک بیٹھک کرنے لگی۔۔۔ اسی اثنا میں حمزہ بھی کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔۔اور آگے ساتھ ہی کہنے لگا ۔۔۔سوری گائیز۔۔۔۔۔ کچھ ضروری کالز کی وجہ سے میں لیٹ ہو گیا۔۔۔ تو آگے سے روشا کہنے لگی ۔۔ جلدی سے آکر میری بیک ڈور میں لن ڈال دو۔۔۔ تو اس کی بات سن کر حمزہ بیڈ پر چڑھتے ہوئے بولا۔۔۔ ابھی لو میری جان ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی وہ بیڈ پر چڑھ کر روشا کے گانڈ کے عین پیچھے گھٹنوں کے بل کھڑا ہو کر اس س بولا۔۔۔ آئی تھنک تم نے پہلے ہی کریم سے گانڈ کو چکنا کر لیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ٹوپے کوتھوک سے تر کیا ۔۔۔۔اور پھر اسے روشا کی گانڈ پر رکھ کر بولا۔۔۔۔ ریڈی ڈارلنگ ۔۔۔ میں اندر ڈالنے لگا ہوں۔۔ تو آگے سے روشا سسکی لیتے ہوئے بولی۔۔۔۔ یس ۔۔ انٹر کر دو۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی حمزہ نے اپنے لن کو تھوڑا دھکا لگایا اور گانڈ چکنی ہونے کی وجہ سے اس کا لن پھسل کر روشا کی گانڈ میں اتر گیا۔۔۔ جیسے ہی حمزہ کا لن روشا کی گانڈ میں اترا تو اسی وقت مجھے اپنے لن پر اس کے لن کی رگڑ محسوس ہوئی۔تھوڑا سا غور کرنے پر پتہ چلا کہ روشا کی چوت اور گانڈ کے درمیان ایک باریک سی جھلی تھی جس میں سے لن اندر باہر ہوتا ہوا صاف محسوس ہو رہا تھا۔ ادھر جیسے ہی حمزہ کا سارا لن روشا کی گانڈ میں اتر ا تو اسی وقت روشا نے ایک سسکی لی اور لزت انگیز لہجے میں بولی۔۔۔۔ ڈریم کم ٹرو۔۔۔۔آج میں نے بھی ایک ساتھ دو لن اپنے اندر لے لیئے۔۔ ۔ اس وقت وہ ہم دونوں کے درمیان سینڈوچ بنی اپنی گانڈ اور چو ت میں دو دو لن لیئے انجوائے کر رہی تھی۔۔۔۔ جب وہ حمزہ سے مخاطب ہو کر بولی۔۔۔ تھینک یو ڈارلنگ تم نے میری ایک بہت بڑی وش کو پورے کرنے میں مدد دی۔اٹس رئیلی فن ۔ اور پھر اس سے شہوت بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔۔ نیچے والا تو اتنی زور سے گھسے نہیں مار سکتا ۔۔۔لیکن تم تو آذاد ہو ۔۔۔اس لیئے ڈارلنگ آج زبدرست طریقے سے میری گانڈ چودو۔۔۔ اور اس کی بات سن کر حمزہ نے گھسے مارنے شروع کر دیئے۔۔حمزہ کے ہر گھسے پر روشا کی پھدی اپنے آپ ہی کھل بند ہو جاتی ۔۔اور اس کھل بند ہونے کے عمل میں اس کی پھدی پانی بھی چھوڑتی جا رہی تھی۔۔۔۔ میں نے اندازہ لگایا کہ روشا ٹھیک کہہ رہی تھی اس کی پھدی معمول سے کچھ زیادہ ہی پانی چھوڑ رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔ حمزہ سے گانڈ مروانے کے کچھ ہی دیر بعد ۔۔۔ روشا چلا کر بولی۔۔۔۔ سٹاپ۔۔اٹ۔۔۔ تو حمزہ گھسے مارتے ہوئے بولا ۔۔۔ کیا ہوا ڈارلنگ ۔۔۔۔ توآگے سے روشا کہنے لگی۔۔۔ تم دونوں پوزیشن چینج کرو ۔۔۔۔ روشا کی بات سنتے ہی حمزہ نے کھیچ کر اپنے لن کو گانڈ سے باہر نکالا اور پھر ایک طرف کھڑا ہو گیا۔۔۔ حمزہ کے لن نکالتے ہی روشا بھی میرے لن سے اوپر اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔ یہ دیکھ کر فوراً ہی میری جگہ حمزہ لیٹ گیا۔۔۔اور اسی ترتیب سے روشا ۔۔۔ اس کے اوپر گئی ۔۔اور حمزہ کے لن کر پکڑ کر اپنی گرم گرم پھدی میں ڈال لیا۔۔۔ اور پھر اپنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے بولی۔۔۔کم ڈارلنگ۔۔۔ روشا کا اشارہ پا کر حمزہ کی طرح میں بھی گھٹنوں کے بل روشا کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔۔۔ اور اس کی بم کے دونوں پٹ کھول کر دیکھے تو سامنے ہی اس کی گانڈ کا سوراخ نظر آ گیا۔۔۔ چنانچہ میں نے اپنے تھوک سے لن کو خوب اچھی طرح چکنا کیا۔۔۔۔اور پھر روشا کی گانڈ مارنے کے لیئے جیسے ہی اپنا لن اس کے سوراخ پر رکھا ۔۔۔تو عین اسی وقت روشا نے پیچھے مُڑ کر میری طرف دیکھا ا س وقت اس کی آنکھیں شہوت کے زیرِاثر بڑی نشیلی ہو رہی تھیں۔۔۔ اور اس کی انکھوں میں جنسی طلب کے لال ڈورے صاف دکھائی دے رہے تھے۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اس وقت روشا نے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔اور سیکس کے نشے میں دھت ہو کر بولی۔۔ ۔۔۔۔۔ شاہ جی صرف میری گانڈ ہی نہیں مارنی۔۔۔بلکہ مجھے ہرٹ کرنا ہے۔۔۔ پھر سیکسی آواز میں بولی۔۔۔ مجھے ایسے چود کہ میں ہرٹ ہو جاؤں ۔۔۔ میری گانڈ کو پھاڑ کے رکھ دینا۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں سمجھ کہ اس وقت بھٹی بہت گرم ہے اس لیئے روشا کو زرا وکھرے طریقے سے چودنا چاہیئے یہ سوچتے ہی میں نے اپنے لن کو روشا کی گانڈ پر ایک خاص اینگل پر رکھا ۔۔اور اسے بنا بتائے۔۔۔۔ ایک زور دار دھکہ مارا۔۔۔۔تو میرا اس سے میرا لن روشا کی گانڈ کی دیوار سے بری طرح رگڑ کھاتا ہوا۔۔۔۔اس کے اندر چلا گیا۔۔۔ جیسے لن روشا کی گانڈ میں گیا۔۔۔اس نے ایک زور دار چیخ ماری ۔۔ آآآآؤؤؤؤؤچ چ چ چ چ چ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میں سمجھ گیا کہ اس اینگل سے لن اندر ڈالنے سے روشا کو لزت آمیز قسم کا مزہ ملتا ہے۔۔۔اس لیئے میں نے اسی اینگل سے نہ صرف اسے چودنا شروع کر دیا۔۔۔ بلکہ گھسے مارتے ہوئے اس سے بھی اس کی گانڈ پھر تھپڑ مارتا۔۔۔۔ اور وہ چیخ مار کر کہتی۔۔۔فک می ہارڈ۔۔۔۔ یس۔۔۔یسس۔۔ہرٹ می پلیززززز۔۔۔اور جب وہ ہرٹ می کہتی تو میں پہلے سے بھی زیادہ زور سے گھسا مارتا ۔۔۔اور اس سے بھی زیادہ زور سے اس کی گانڈ پر تھپڑ مارتا ۔۔۔اور یہ بعد میں مجھے حمزہ نے بتایا کہ اسی دوران وہ بھی اس کے بریسٹ کر ہاتھ مین پکڑ کر انہیں بری طرح سے مسلتا تھا۔۔اور جتنا ہو سکتا ہے وہ بھی نیچے سے روشا کو گھسے مارتا تھا۔۔۔ اسی وجہ سے تھوڑی ہی دیر بعد ۔۔۔ روشا زور زور سے چلانا شروع ہو گئی۔۔۔او بےب۔۔۔ یو ہرٹ می۔۔۔۔آہ ۔۔۔یس۔۔۔۔ میری چھوت۔۔۔۔ آہ میری چھوت۔۔۔۔ یہ سن کر میں سمجھ گیا کہ مس روشا اپنی پیک پر پہنچ گئی ہے ۔۔۔اور اگلے دو چار گھسوں کے دوران وہ چھوٹ جائے گی۔۔۔ اور میرا اندازہ درست نکلا ۔۔۔۔ ہم دونوں کے بیک وقت پاور فل گھسوں ۔۔۔۔ اس کی گانڈ پر تھپروں کی بارش۔۔۔اور اس کی چھاتیاں مسلنے کے اگلے دو چار گھسوں کے بعد ہی ۔۔۔۔ ہم دونوں کے بیچ سینڈوچ بنی روشا۔۔۔۔لذت آمیز سسکیوں کے درمیان ۔۔۔۔ نان سٹاپ چلانا شروع ہو گئی۔۔او فک۔۔ف۔۔ف۔ف۔۔فک ۔۔۔ ہرٹ می۔۔ اور یہی بات کہتے کہتے اچانک ہی روشا کا جسم مسلسل جھٹکے کھانے لگا۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کی چیخوں میں ہرٹ ہونے سے زیادہ لذت کا عنصر نمایاں ہونا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔ اور روشا کی لذت آمیز ۔۔چیخوں کو سن کر میں اور حمزہ بھی چھوٹنے کے قریب ہو گئے۔۔۔۔اور پھر آخری آخری گھسے کہ جنہیں پرانے لوگ حاصلِ چودائی کہتے ہیں اور جن کا اپنا ایک الگ ہی مزہ ہوتا ہے مارنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بائی چانس۔۔۔ہم تینوں ایک ساتھ ہی چھوٹنا شروع ہو گئے۔ فارغ ہونے کے بعد بیڈ پر ہم تنیوں ایک ساتھ لیٹنے کے بعد ہانپنے لگے اور جب ہمارے سانس کچھ بحال ہوئے۔۔۔ تو سب سے پہلے روشا بیڈ سے اُٹھی۔۔۔اور ہم بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ اسے اُٹھتا دیکھ کر میں نے اس سے پوچھا۔۔۔مس روشا ہمارا تھری سم آپ کو کیسا لگا۔۔۔۔؟؟ تو وہ میری طرف دیکھ کر بڑی ہی خوشی سے بولی۔۔۔۔ اٹس آمیزنگ یار۔۔۔۔ ۔۔۔واٹ ۔۔آ فک ۔۔۔۔واٹ آ فک۔۔۔۔۔۔۔۔ واٹ آ ۔۔فن یار ۔۔۔۔اس کے بعد ہم نے روشا کے ساتھ ایک دفعہ اورتھری سم گیا۔۔ ۔ جس کی وجہ سے وہ پوری طرح شانت ہو گئی۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود بھی اس نے میرے ساتھ ون او ون سیکس بھی کیا۔۔۔۔ اس طرح شام کو جب ہم واپس حمزہ کے گھر کی طرف آ رہے تھے اور روشا بہت چہک رہی تھی اس وقت باہر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے۔۔۔اور خلافِ توقع لاہور کا موسم بہت اچھا ہو رہا تھا۔۔۔فرنٹ سیٹ پر بیٹھی روشا نے اچانک ہی کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا۔۔۔اور کہنے لگی۔۔۔ کتنا اچھا موسم ہے؟ تو آگے سے حمزہ کہنے لگا۔۔۔ یہ موسم تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ان دونوں تو اصل موسم مری کا ہوتا ہے حمزہ کی بات سن کر اچانک ہی روشا اچھل پڑی اور کہنے لگی۔۔۔بڑے دن ہو گئے مری نہیں گئے۔۔۔تو آگے سے حمزہ جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ ایسا کرتے ہیں کہ کل شاہ کو پنڈی بھی چھوڑ دیں گے اور ہم دونوں مری کا چکر لگا آئیں گے۔۔۔ تو اس پر روشا آنکھیں نکالتے ہوئے بولی۔۔ شاہ کو پنڈی نہیں ہمارے ساتھ مری جانا ہو گا۔۔ اور پھر بیٹھے بیٹھے بات ڈن ہو گئی۔۔۔ چنانچہ اگلے دن جب ہم مری کے لیئے روانہ ہوئے تو کلر کہار کے قریب پہنچ کر میرے خڑوس باس کا فون آ گیا۔۔۔ جس میں کسی ایمر جنسی کی وجہ سے مجھے ارجنٹلی آفس جانا پڑا تھا۔۔۔ مرتا کیا نہ کرتا ۔۔ چنانچہ چاہنے کے باوجود بھی۔۔۔ میں ان کے ساتھ مری نہ جا سکا اور چار و نچار وہ مجھے پنڈی اتار کے مری کی طرف روانہ ہو گئے۔۔ ۔ ختم شد
×