Jump to content
URDU FUN CLUB

shahg

Writers
  • Content Count

    252
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    21

shahg last won the day on October 20 2018

shahg had the most liked content!

Community Reputation

357

About shahg

  • Rank
    Premium Member

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. گوری میم صاحب (قسط نمبر5) اس کے بعد آنٹی نے ایک نظر عدیل کی طرف دیکھا ۔۔۔ اور پھر مجھ سے کہنے لگیں کیا بتاؤں بیٹا! صورتِ حال ہی کچھ ایسی بن گئی ہے کہ اگر میں تم سے ڈسکس کرتی ہوں ۔۔۔ تو بھی مشکل ہے اور اگر نہ کروں تو اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔۔۔۔اتنی بات کرنے کے بعد انہوں نے کچھ توقف اختیار کیا۔ادھر آنٹی کی بات سن کر میں ایک دم سے چونک گیا ۔۔۔اور ان کی طرف دیکھا تو حقیقتاً وہ مجسم پریشانی بنی ہوئیں تھیں۔۔۔۔ چنانچہ انہیں پریشان دیکھ کر میں کہنے لگا۔۔۔ آنٹی جی آپ صرف حکم کریں۔اور باقی کا کام مجھ پر چھوڑ دیں ۔۔۔میں آپ کی توقع پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔۔۔ میری سن کر انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس بھر ی ۔۔۔اور پھر کہنے لگیں۔۔۔ ۔۔ جیتے رہو بیٹا۔۔ ۔ ۔۔۔ جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ میرے دو ہی بچے ہیں صائمہ اور عدیل ۔ اور غلط یا درست۔۔ میری امی نے بچپن سے ہی ان دونوں کی منگنی میری بڑی بہن کے ہاں کر دی تھی ۔ اور تمہیں شاید معلوم نہیں کہ اس وقت ہم دونوں بہنوں میں بڑا پیار ہوا کرتا تھا یہ وہ زمانہ تھا کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتیں تھیں۔ اس لیئے جیسے ہی صائمہ کی پڑھائی ختم ہوئی تو اس کی بچپن کی منگ اور بڑی بہن کے ہاں اس کی شادی کر دی گئی۔ ۔۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد تو حالات ٹھیک رہے۔۔۔لیکن پھر آہستہ آہستہ میری باجی صائمہ کی خالہ نہیں۔۔۔ بلکہ ایک روایتی ساس بن گئی۔ لیکن چونکہ ان کو علم تھا کہ ان کی بیٹی بھی ہمارے گھر آنے والی تھی ۔۔۔ اس لیئے وہ صائمہ کے ساتھ روایتی ساسوں والا رویہ تو ضرور رکھتی تھی۔۔۔ لیکن وٹہ سٹہ کی وجہ سے اسے زیادہ تنگ کرنے سے کتراتی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔ اور وہ اس لیئے کہ ہمارے پاس اس کے توڑ کی صورت موجود تھی ۔۔ جیسا کہ ہوتا ہے کہ وٹہ سٹہ میں جیسا سلوک ہماری بیٹی کے ساتھ ہو گا ویسا ہی ان کی بیٹی کے ساتھ کیا جائے گا ۔۔۔ پھر کہنے لگی اس شادی کے بعد۔۔۔۔ ہم دونوں بہنوں کے تعلق بظاہر تو پہلے جیسے ہی تھے۔۔۔۔ لیکن بیٹی کے ساتھ رکھے گئے رویہ کی وجہ سے اس میں ایک ان دیکھی دراڑ آ چکی تھی۔۔اتنی بات کرنے کے بعد انہوں نے بڑی بے چارگی کے ساتھ میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگیں۔۔ بیٹا آپ بور تو نہیں ہو رہے ؟ تو میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنی بات جاری رکھیں میں ہمہ تن گوش ہوں میری اس بات سے وہ تھوڑا مطمئن ہو کر بولیں ۔۔ ۔۔۔ اسی اثنا میں عدیل باہر چلا گیا۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے قہر بھری نظروں سے عدیل کی طرف دیکھا اور کہنے لگیں۔۔۔ اور وہاں جا کر اس کنجر نے اپنے بچپن کی منگ کو چھوڑ کر۔۔ ایک گوری کے ساتھ شادی کر لی۔۔ اور تمہیں کیا بتاؤں کہ ہم نے کتنے جتنوں سے اس کی یہ خبر صائمہ کے سسرال سے چھپائی تھی۔۔ ۔حتیٰ کہ میں نے اپنے بھائی اور ندرت بھابھی کو بھی بڑی مشکلوں کے ساتھ ۔۔۔۔ اس بات پر راضی کیا تھا کہ پاکستان میں اس کی شادی کا ذکر کسی کے ساتھ بھی نہ کریں ۔اس کے بعد وہ تھوڑے ترش لہجے میں بولیں۔۔۔ بے شک اپنے اس کنجر دوست سے پوچھ لو۔۔۔کہ میں نے اسے کتنی دفعہ کہا تھا کہ اگر تم نے وہاں پر ۔۔۔۔ کسی گوری کے ساتھ منہ کالا کر ہی لیا ہے تو اسے وہیں تک محدود رکھو۔۔۔ اسے پاکستان میں ہر گز نہ لانا کہ اس کا اثر تمہاری بہن پر پڑے گا۔۔۔۔۔۔ لیکن اس حرام زدے پر تو گوری کے عشق کا بھوت سوار تھا۔۔۔ اس لیئے میری ہزار منتوں کے باوجود ۔۔۔۔۔ اسے زرا حیا نہ آئی۔۔ اور یہ گوری کو ساتھ لیئے پاکستان آ گیا۔۔ اتنی بات کر کے وہ ایک سرد آہ بھر کر بولیں۔۔۔۔ ۔۔۔ بس۔۔ یہیں سے خرابی ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ اب تم ہی بتاؤ کہ جس گھر میں جوان بیٹی کی شادی کی ساری تیاریں مکمل ہو چکی ہوں ۔۔۔ ۔۔ وہ اور اس کے گھر والے محض اس انتظار میں بیٹھے ہوں ۔۔۔کہ کب امریکہ سے اس کا منگیتر آئے اور۔۔۔ کب اس کی شادی ہو۔۔۔ اور جب منگیتر صاحب امریکہ سے گوری میم لے آئیں تو تم خود ہی بتاؤ۔۔۔ یہ خبر سن کر ان پر۔۔۔۔۔ اور خاص کر اس لڑکی کے دل پر کیا گزری ہو گی؟ ۔۔ پھر کہنے لگیں یقین کرو اس واقعہ کے بعد اس لڑکی نے اپنی جان کو روگ لگا لیا ہے۔۔۔اور جیسا کہ میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا کہ چونکہ صائمہ پہلے سے ہی وہاں پر بیاہی ہوئی تھی ۔۔۔اس لیئے اس کے بھائی کی شادی کا سارا ملبہ اس پر اس پر جا گرا۔۔۔۔ اور انہوں نے صائمہ بے چاری کا جینا محال کر دیا تھا۔۔۔۔یہاں تک کہ بھائی صاحب ( صائمہ کے سسر) نے تو یہ فیصلہ بھی کر لیا تھا کہ۔۔۔ چونکہ ہم لوگوں نے ان کی بیٹی چھوڑی ہے اس لیئے وہ بھی ہماری بیٹی کو چھوڑ دیتے ہیں۔۔وہ تو بھلا ہو ہمارے داماد کا ۔۔ کہ اس نے صائمہ کو طلاق دینے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔ورنہ تو اب تک اس نے طلاق یافتہ کا داغ لیئے گھر پر بیٹھی ہونا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔پھر کہنے لگیں۔۔جیسے ہی صائمہ نے ہمیں طلاق کے بارے میں بتایا۔۔۔ ۔۔یہ سن کر ہمارے تو پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔۔۔اور ۔۔ ہم دونوں میاں بیوی بھاگے بھاگے۔۔۔صائمہ کے سسرال پہنچے۔۔۔اور ان کی از حد منت محتاجی کی ۔۔ یہاں تک کہ میں نے اپنا دوپٹہ بھائی صاحب کے قدموں میں رکھ دیا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے انہوں نے ہمارا کافی لحاظ رکھا۔۔۔ اور اس طرح یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا۔۔۔۔ لیکن پھر ہوتے ہوتے جب یہ خبر صائمہ کے سسرالی رشتے داروں خاص کر بھائی صاحب کی بہنوں تک پہنچی۔۔۔ تو ایک دفعہ پھر وہی رولا پڑ گیا ہے۔۔۔اور اب ان کی طرف سے صائمہ کو طلاق دلانے کی کوشش شروع ہو گئی لیکن جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ چونکہ اس بات سے فرزند نے پہلے ہی منع کر دیا تھا اس لیئے اب انہوں نے ایک اور چال چلی۔۔۔۔۔۔ اور ہمیں سبق سکھلانے کے لیئے صائمہ پر سوتن لانے کا منصوبہ بنایا گیا۔۔۔ جس کے بارے میں سنا ہے کہ فرزند بھی نیم رضامند ہو گیا تھا۔۔۔۔چنانچہ جیسے ہی یہ خبر ہم تک پہنچی ۔۔۔۔تو ایک دفعہ پھر ہمارے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے ۔۔۔۔۔ اور ابھی ہم اس کا توڑ سوچ ہی رہے تھے کہ۔۔۔ اسی دوران ہمارے گھر میں رحمت کا فرشتہ بن کر تم آ گئے خاص کر جب تم نے مجھے یہ بتایا کہ تم غیر شادی شدہ ہو تو ۔۔۔۔یہ خبر سن کر صائمہ نے مجھے ایک پلان بتایا۔۔ چونکہ اس وقت صورتِ حال ہی کچھ ایسی تھی ۔۔۔ کہ بہ امرِ مجبوری ہم نے اس پر عمل بھی کر دیا۔۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد آنٹی نے میر ی طرف دیکھا اور پھر کہنے لگیں ۔۔۔ بیٹا ایک بات کی میں تم سے ایڈوانس معذرت چاہوں گی اور وہ یہ کہ میں نے بنا تم سے پوچھے۔۔۔۔۔۔اپنی بہن کے ساتھ تمہارے رشتے کی بات کر لی ہے۔۔۔ آنٹی کی بات سن کر حیرت کے مارے میری آنکھیں پھٹنے کے قریب ہو گئیں۔۔۔ اور میں شدید حیرانی سے بولا۔۔۔ میرے رشتے کی بات ؟؟؟؟ تو وہ بڑی شرمندگی کے ساتھ بولیں ۔۔۔ آئی ایم سوری بیٹا !۔۔لیکن اس وقت مجھے اور کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں ان سے مزید کچھ کہتا ۔۔۔ وہ میری بات کو کاٹتے ہوئے بولیں۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ تمہارا ردِ عمل یہی ہو گا۔۔۔۔ اس لیئے میں تم سے ایک اور بات کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔اور وہ یہ کہ اس وقت صائمہ کے سسر پر اس کی بہنوں کا ۔۔۔۔ بہت شدید دباؤ ہے کہ ہمیں سبق سکھانے کے لیئے۔۔۔۔ یا تو صائمہ کو طلاق دیں یا پھر فرزند ( صائمہ کا خاوند) کی دوسری شادی کر دیں۔۔ ۔۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ فرزند کی دوسری شادی والی بات پر اس کی وہی والی پھوپھو ذیادہ شور مچا رہی ہے۔۔کہ جو بھائی صاحب کی بہت لاڈلی ۔۔۔۔ اور جس کی بیٹی طلاق لے کر گھر میں بیٹھی ہے ۔۔۔ دراصل وہ اس طلاقن کی شادی فرزند کے ساتھ کرنا چاہتی ہے چنانچہ اس بات کو کاؤنٹر کرنے کے لیئے ہم نے تمہارے رشتے کی بات چلائی ہے ۔۔۔ تو اس پر میں اسی حیرانی سے بولا۔۔ تو کیا وہ لوگ مان گئے؟ میری بات سن کر آنٹی مسکرا کر بولیں۔۔۔ ۔۔تمہارے جیسا ہینڈسم ۔۔۔اور خاص کر اتنی اچھی پوسٹ پر کام کرنے والے لڑکے کا رشتہ انہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گا۔ اسی لیئے انہوں نے بظاہر تمہیں دیکھنے کی فرمائش کی ہے۔۔ ۔پھر مجھ سے کہنے لگیں۔۔۔ یاد رکھنا ۔۔۔۔میں صرف تمہارے رشتے کی بات کی ہے۔۔۔۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ تم ان کے ہاں سچ مُچ شادی کر لو۔۔۔ پھر معنی خیز انداز میں بولیں ۔۔۔ ہاں اگر وہ لڑکی تمہیں پسند آ جائے تو اس کے ساتھ شادی کرنے میں بھی کوئی ہرج نہ ہے۔ مطلب ہماری طرف سے تم پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔۔۔ لیکن اس وقت چونکہ معاملہ بہت گرم اور سیریس ہے اور خاص کر بھائی صاحب پر ان کی بہنوں کا بہت پریشر ہے کہ وہ فرزند کی دوسری شادی کر دیں۔۔۔۔ اور اسی پریشر کو کم کرنے کے میں نے اور صائمہ نے مل کر جوابی وار کیا ہے۔۔۔ پھر کہنے لگیں تمہیں پتہ ہے کہ تمہارے رشتے کی وجہ سے ان کے گھر میں ایک کھلبلی سی مچی ہوئی ہے۔۔۔ اتنا کہنے کے بعد وہ بڑی ہی لجاجت سے بولیں۔۔ ۔۔ میرے بیٹے۔۔ اب ہماری عزت تمہارے ہاتھ میں ہے۔ ۔۔۔۔۔ تم نے بس اتنا کرنا ہے کہ جس قدر ہو سکے معاملے کو طول دیتے جانا ہے۔۔ ۔۔۔ پھر جونہی فرزند کی شادی والا پریشر کم یا ختم ہو جائے گا تو بے شک ۔۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ تم نے۔۔۔ وہاں سے اپنا پیر کھینچ لینا ۔اس سلسلہ میں نہ صرف یہ کہ صائمہ تمہاری مدد کرے گی بلکہ ۔۔۔ ہر طرح سے تمہیں گائیڈ بھی کرے گی۔۔۔ اس سلسلہ میں باقی کا پلان صائمہ تمہیں سمجھائے گی۔۔ جو کہ تھوڑی دیر میں یہاں پہنچنے والی ہے۔۔ پھر کہنے لگی ۔۔۔اور ہاں صائمہ کے سسرال میں تم نے یہی تاثر دینا ہے کہ جیسے صائمہ تمہاری سگی بہن ہو ۔۔۔اور اس کے بغیر تم کوئی کام بھی نہیں کر سکتے۔ اتنی بات کرنے کے بعد انہوں نے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگیں۔۔تمہارا کیا خیال ہے؟ آنٹی کی بات سن کر میں نے کیا کہنا تھا ۔۔ میری وجہ سے اگر کسی کا گھر بچ جاتا ہے تو اس سے بڑی خدمت اور کیا ہو گی؟؟؟؟۔۔اس لیئے میں جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ جیسے آپ کی مرضی آنٹی۔۔۔میری بات سن کر آنٹی اپنی جگہ سے اُٹھیں اور میرا ماتھا چوم کر بولیں۔۔۔ شاباش بیٹا۔۔۔ مجھے تم سے یہی امید تھی۔ اس کے بعد آنٹی یہ کہتے ہوئے باہر چلی گئیں کہ میں تمہارے لیئے چائے بنا کر لاتی ہوں ۔ آنٹی کے جاتے ہی عدیل اپنی جگہ سے اُٹھا میرے ساتھ گلے ملتے ہوئے بولا۔۔۔ تھینک یو ۔۔ ویری مچ یار۔۔ آج مجھے یقین ہو گیا ۔۔ کہ تم میرے سچے دوست ہو۔ عدیل کی بات سن کر میں موقعہ غنیمت جانتے ہوئے بولا ۔۔ یار ایک بات تو بتاؤ ۔۔۔ میری بات سن کر وہ بڑی خوش دلی سے بولا ۔۔ تو ایک نہیں ایک ہزار باتیں پوچھ۔۔ تو میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بڑی ہی سنجیدگی سے بولا۔ ۔۔۔ یہ بتاؤ کہ سٹار پلس کے اس ڈرامے ۔۔۔ میں میری حدود کہاں تک ہوں گی؟ تو وہ مجھے الجھی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔ کھل کے بتاؤ ۔۔۔کہ میں کچھ سمجھا نہیں؟؟۔۔ تب میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے معنی خیز لہجے میں بولا۔۔ دیکھ یار میں تیری خالہ کے گھر ایک خاص مقصد کے لیئے جا رہا ہوں ۔۔۔۔اور اگر اس دوران۔۔۔ سو میں تم سے پوچھنا یہ چاہ رہا تھا۔۔۔ کہ اس سلسلہ میں ۔۔۔ تو وہ میری بات سمجھتے ہوئے بولا۔۔۔ تمہیں میٹرک کا انگریزی ٹیچر یاد ہے؟ تو میں جواب دیتے ہوئے بولا ۔۔۔تم افتخار صاحب کی بات کر رہے ہو؟ لیکن ان کا میرے سوال کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ تو آگے سے وہ کہنے لگا تمہیں یاد ہے کہ انگریزی ۔۔اور خاص کر گرامر پڑھاتے ہوئے عموماً وہ ایک بات کہنا نہ بھولتے تھے ۔۔ تو میں نفی میں سر ہلا کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔ ۔۔ اس پر وہ میرے قریب آیا۔۔۔ اور میرے کندھے تھپتھپا کر بولا ۔۔۔ تو یاد کر ہمیں انگلش گرائمر پڑھاتے ہوئے افتخار صاحب ہمیشہ ایک بات ضرور دھرایا کرتے تھے۔۔۔ اور وہ یہ کہ ۔۔۔انگلش دی۔ ۔۔۔"دی " (the)۔۔۔۔۔۔ تے ۔۔۔ پنجابی دا ۔۔دا ( داؤ) ۔۔۔ جتھے لگی اوتھے لا۔۔۔۔۔۔اتنی بات کرنے کے بعد اس نے بھی معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا ۔۔۔ امید ہے کہ تم سمجھ گئے ہو گے ۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں اسے کوئی جواب دیتا ۔۔۔آنٹی چائے لے کر آ گئیں۔۔ ۔۔۔اور میز پر چائے رکھتے ہوئے بولیں۔۔۔ ابھی ابھی صائمہ کا فون آیا ہے کہ وہ کسی ارجنٹ کام کی وجہ سے آج نہیں آ سکے گی ۔۔اس لیئے کل لنچ پر ملاقات ہو گی۔۔۔ چنانچہ میں نے چائے پی اور پھر یہ سوچتے ہوئے کہ سٹار پلس کے اس ڈرامے کی پٹاری سے۔۔۔ ۔۔۔۔ دیکھتے ہیں۔۔۔۔ کہ صائمہ باجی مزید کیا نکالتی ہے ۔۔۔۔ واپس گھر آ گیا ۔۔ ۔ اگلے دن لنچ کے وقت جب میں ان کے گھر پہنچا تو صائمہ باجی پہلے سے وہاں موجود تھی۔اس وقت ان کی عمر کوئی 32/33 کے قریب ہو گی۔ ان کا رنگ بہت فئیر اور انہوں نے اپنی موٹی موٹی آنکھوں میں کاجل لگایا ہوا تھا۔۔۔۔۔جو کہ ان پر بہت بھلا لگ رہا تھا۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے رس بھرے ہونٹوں پر۔۔۔۔۔ سرخ لپ اسٹک لگائی ہوئی تھی یہاں میں آپ پر یہ بات واضع کر دوں ۔۔۔۔ کہ گورے گورے مکھڑے پہ سرخ لپ اسٹک ۔۔۔ میری بہت بڑی کمزوری تھی۔اس لیئے ان کے رس بھرے ہونٹوں پر اپنی پسندیدہ سرخی دیکھ کر۔۔۔ مجھے کچھ کچھ ہونے لگا۔۔۔ لیکن میں نے خود پر قابو پا لیا۔۔ اور صائمہ باجی کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔ جس وقت میں نے ان کو دیکھا تھا ۔۔۔تو اس وقت یہ ایک الہڑ سی مٹیار ہوا کرتی تھی ۔۔۔لیکن تھی اس وقت بھی پٹاخہ۔۔۔۔ لیکن اب وہ ۔۔۔۔ قدرے فربہی مائل ہو چکی تھیں ۔۔۔ یا۔۔۔ یوں سمجھ لیجئے کہ اس وقت وہ بھرے بھرے جسم اور موٹاپے کی سرحد پر کھڑی تھیں۔ اور اپنے فربہی مائل جسم پر انہوں نے اتنے زیادہ ٹائیٹ فٹنگ کپڑے پہنے ہوئے تھے کہ۔ میں یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کہ باجی ان کپڑوں میں گھسی کیسے ہو گی؟ اتنے زیادہ ٹائیٹ کپڑوں کی وجہ سے ان کی چھاتیاں بہ آسانی پیمائش کی جا سکتی تھیں ۔۔ لیکن چونکہ یہ موقع ایسا نہ تھا۔۔ اس لیئے میں نے یہ کام کسی اور وقت کے لیئے اُٹھا چھوڑا ۔۔ اسی طرح ان کے جسم کے جملہ و من جملہ۔۔۔ اعضا کا ایکسرے بھی کسی مناسب وقت کے لیئے مؤخر کر دیا۔۔ویسے مجموعی طور پر وہ ایک خوش مزاج اور جلدی گھل مل جانے والی خاتون تھیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مزاج کے اعتبار سے یہ گھرانہ کافی بولڈ واقع ہوا ہے ۔۔ اس لیئے میرے محتاط اندازے کے مطابق یہ خاتون " آ بیل میری مار" ٹائپ تھی۔۔۔ یا شاید اسے میرا ساتھ کام تھا ۔۔۔۔۔اس لیئے کچھ ہی دیر میں۔۔۔۔ وہ میرے ساتھ فری ہو کر ایسے باتیں کر رہیں تھیں کہ جیسے ہم بہت پرانے دوست ہوں۔۔۔۔ ۔۔ ۔ چونکہ میں بوجہ ۔۔۔عدیل کے گھر کم ہی گیا تھا انہیں میرا چہرہ نہیں یاد آ رہا تھا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ ہیلو ہائے کے بعد جب ہم ڈائینگ روم میں بیٹھے تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں ۔۔۔ شاہ جی۔۔ میں عدیل کے قریب قریب سارے دوستوں کو بائے نیم اور۔۔۔۔ بعض کو بائی فیس جانتی ہوں۔۔۔ لیکن پتہ نہیں کیوں ۔۔۔ اپنے ذہن پر ذور دینے کے باوجود بھی نہ تو۔۔۔ مجھے تمہارا نام اور نہ ہی شکل یاد آ رہی تھی ۔۔ اور کافی دونوں سے میں یہی سوچ تھی۔۔۔ کہ پتہ نہیں تمہاری شکل مبارک کیسی ہو گی؟ اس پر میں شرارت سے بولا۔۔۔ کہ اچھا تو کیسی لگی میری شکل مبارک ؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگی۔۔۔مجھے تو بہت اچھی لگی۔ اسی اثنا میں آنٹی کی آواز سنائی دی۔۔۔۔ وہ کہہ رہیں تھیں کہ کھانا لگ گیا ہے۔۔۔ آنٹی کی آواز سن کر ہم سب کھانے کی ٹیبل کی طرف چل پڑے۔ کھانا کھانے کے دوران بھی۔۔۔ ہماری ہلکی پھلکی گپ شپ چلتی رہی۔۔۔اس دوران میں نے عدیل سے پوچھا کہ یار بھابھی نظر نہیں آ رہی ۔۔۔ تو وہ کہنے لگا ۔۔۔ اس کی طبیعت کچھ خراب ہے یار۔۔ اسی لیئے جیسے ہی کھانا ختم ہوا۔۔ تو عدیل میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ بیٹا تم بیٹھ کر باجی کے سٹار پلس کا سازشی پلان سنو اور ۔۔۔ میں اپنی بیگم کی خبر گیری کے لیئے جا رہا ہوں۔۔۔ عدیل کی بات سن کر صائمہ باجی تڑاخ سے بولیں ۔۔ یہ ساری سازشیں تمہاری وجہ سے ہو رہی ہیں۔۔۔ تو اس پر عدیل حیران ہوتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ میری وجہ سے؟؟ تو آگے سے باجی جواب دیتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔۔ ہاں تمہاری وجہ سے۔۔ خبیث آدمی نہ تم اس منحوس گوری سے شادی کر تے اور نہ میں سسرال میں غیر محفوظ ہوتی۔۔۔اور نہ مجھے بقول تمہارے سٹار پلس والی سا زش تیار کرنی پڑتی۔۔ باجی کی جلی کٹی باتیں سن کر۔۔۔۔ عدیل ۔۔۔نیواں نیواں ۔۔۔۔ہو کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا جبکہ میں آنٹی اور صائمہ باجی ۔۔ ڈرائینگ روم میں آ کر بیٹھ گئے۔۔ صوفے پر بیٹھتے ہی صائمہ باجی سیریس ہو کر بولیں۔۔۔ شاہ جی میں کس منہ سے تمہارا شکریہ ادا کروں کہ تم میرا گھر ٹوٹنے سے بچا رہے ہو ۔۔ اس پر میں مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔ آپ کے حاضر اسٹاک میں جتنے منہ دستیاب ہیں فی الحال تو انہی سے ادا کر دیجیئے۔۔ میری بات سن کر وہ مسکرائی ۔۔۔اور پھر کہنے لگی۔۔۔ سنو!۔۔ میرا سسرال کل چھ افراد پر مشتمل ہے ان میں۔۔۔ میں اور میرا خاوند ۔۔۔ امی (ساس) اور ابا (سسر) اور ان کی دو بیٹیاں شامل ہیں۔ بڑی کا نام تانیہ ہے اور وہ 22/ 23 سال کی ہے جبکہ اس کی چھوٹی بہن ثانیہ عمر 20/ 21 سال کی ہو گی۔۔ دیکھنے میں دنوں ایک جیسی لگتی ہیں لیکن اس حادثے۔۔۔۔ میرا مطلب ہے عدیل کی شادی نے کے بعد تانیہ کو چُپ سی لگ گئی ہے اور وہ بہت کم بولتی ہے جبکہ اس کے برعکس ثانیہ بیگم۔۔۔۔ بہت تیز اور کافی حد تک بے باک لڑکی ہے پھر آنٹی سے آنکھ بچا کر مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھ مارتے ہوئے بولی ۔ یوں سمجھ لو کہ اس وقت تمہارے لیئے وہاں پر بائے ون گیٹ ون۔۔۔۔ کی سہولت موجود ہے۔ پھر آنٹی کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔۔ مطلب اگر تم تانیہ سے شادی کر لو گے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثانیہ فری میں مل جائے گی ۔۔ پھر میری طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے بولی ۔۔ خبردار یہ بات میں نے لائیٹر موڈ میں کہی ہے ۔۔۔۔کہیں تم دل پہ نہ لے لینا۔۔پھر کہنے لگی ۔۔۔۔ اب میری بات کو غور سے سنو۔۔۔۔اگر میری ساسو ماں تم سے یہ پوچھے کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟۔۔۔ تو تم نے انہیں بتانا ہے کہ تم ساہی وال کے پاس ایک چھوٹے سے قصبے کے رہنے والے ہو۔۔۔ ۔۔۔اور تم بسلسلہ نوکری یہاں ۔۔۔۔۔ جبکہ ۔۔۔۔ تمہارے والدین وہیں رہتے ہیں۔۔ جبکہ یہاں پر تم اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ہوسٹل میں رہتے ہو ۔۔۔تو اس پر میں نے ان سے پوچھا کہ۔۔۔ کہ والدین کو اتنی دور کیوں بھیجا ہے؟ انہیں پنڈی بتانے کیا حرج ہے؟ تو میرا سوال سن کر صائمہ باجی کہنے لگی اچھا سوال ہے اور اس کا جواب یہ ہے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ میری ساسو ماں کس قدر تیز۔۔۔۔۔اور ضرورت سے کچھ زیادہ ہی سمجھدار خاتون ہے اس لیئے اگر اس کو پتہ چل گیا کہ تمہارے والدین یہیں رہتے ہیں تو پھر۔۔۔ سمجھ لو۔۔۔۔کہ اپنا پتہ گول ہے۔کیونکہ اس نے مجھے چھوڑ ۔۔۔۔ سیدھا تمہارے گھر چلے جانا ہے ۔۔۔جبکہ میں یہ چاہتی ہوں کہ تمہارے سلسلہ میں وہ میری محتاج رہے ۔۔۔پھر کہنے لگی۔۔۔ یہ تمہیں ہوسٹل/ چھڑوں کے ساتھ ٹھہرانے کی وجہ بھی یہ ہے کہ اگر تم کہو کہ تم کسی ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس میں رہتے ہو تو بھی موصوفہ نے وہاں بھی آ جانا تھا ۔۔۔۔اس لیئے میں اس کوشش میں ہو ں کہ تم سے ملنے کا ہر راستہ بلاک کر دوں ۔۔۔ اسی میں ہم دونوں کی خیر ہے۔ پھر کہنے لگیں۔۔۔ اور ہاں یہ جو میں نے تمہیں لاہور یا کسی دوسرے ضلع کو چھوڑ ۔۔۔۔ ساہی وال میں رہائش دی ہے تو اس میں بھی ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ۔۔ساہی وال وہ واحد ضلع ہے کہ جہاں پر میرے سسر کی کوئی واقفیت نہیں ۔۔۔۔ بلکہ ان کی مخالف پارٹی وہاں رہتی ہے۔۔۔۔۔ ورنہ تم تو جانتے ہی ہو کہ منڈی میں کام کرنے والوں کی کس قدر جان پہچان ہوتی ہے ۔۔۔ اس کے بعد صائمہ باجی نے مجھے اپنی ساس اور سسر کے بارے میں کچھ ٹپس دیں ۔۔۔اور ساری بات سمجھانے کے بعد۔۔۔۔ کہنے لگی۔۔ لو جی میرے پیارے بھائی صاحب ۔ اب آج کے سازشی کاری کرم کا پہلا حصہ سماعت ۔۔ ہوتا ہے۔۔ اور تمہارے لیئے دوسری خبر یہ ہے کہ کل صبع میرے سسرال میں تمہارے منہ دکھائی کی رسم ادا کی جائے گی۔۔۔اس پر میں حیران ہوتے ہوئے بولا۔۔۔ میری منہ دکھائی؟ تو وہ کہنے لگی۔۔۔ ارے بدھو ۔۔۔اس کا مطلب یہ ہے۔۔۔ کہ کل صبع میں تمہیں لے کر اپنے سسرال جا رہی ہوں۔۔۔ اس لیئے کل ٹھیک ساڑھے نو بجے تم نے ہمارے گھر آنا ہے۔۔۔ ۔۔۔اور ہاں ایک بات تو میں بھول ہی گئی اور وہ یہ کہ تم نے وہاں پر یہ شو کرانا ہے کہ جیسے بچپن سے ہی تم میرا بہت ادب و احترام کرتے تھے۔۔۔ ۔۔اور چونکہ تمہاری کوئی بہن نہیں ہے اس لیئے اس زمانے سے ہی تم نے مجھے اپنی بہن بنایا ہوا تھا۔۔۔ تو اس پر میں نے باجی سے کہا ۔۔۔ کہ کیوں نہ میں یہ کہہ دوں کہ آپ میری سگی بہن ہو۔۔۔۔ جو قم کے میلے میں بچھڑ گئی تھی۔۔۔میری بات سن کر وہ قہقہہ لگا کر ہنسی اور پھر کہنے لگی ۔۔۔ یہ بات بھی ہو سکتی تھی۔۔۔ لیکن کیا کریں بھائی۔۔۔۔ قم کا میلہ یا تو انڈیا میں لگتا ہے یا پھر انڈین فلمز میں۔۔۔ ۔اس کے بعد میں نے اس بولڈ اور بیوٹی فل لیڈی کے ساتھ کافی دیر تک گفتگو کی۔۔اور پھر اگلی <
  2. گوری میم صاحب (قسط نمبر4) ڈور بیل کی آواز سن کر مامی بھی خاصی اپ سیٹ نظر آ رہی تھی ادھر بیل کے مسلسل بجنے کی وجہ سے میرے تو پہلے ہی ٹٹے ہوائی ہو چکے تھے اور ہم دونوں پر ایک عجیب سا خوف طاری ہو چکا تھا۔۔ اسی خوف کی وجہ سے میرے لن کی سختی نا جانے کہاں غائب ہو گئی تھی۔ اندرونِ خانہ ہم دونوں کو اس زیادہ ڈر اس بات کا تھا کہ مسلسل بیل بجانے والا کہیں ماموں جان ہی نہ ہوں۔۔کیونکہ ان کے علاوہ کسی اور میں اتنی جرات نہ تھی کہ اس طرح بیل پر ہاتھ رکھے رکھتا ۔۔۔ اسی دوران میں نے خوف زدہ نظروں سے مامی کی طرف دیکھا تو اس وقت تک وہ کسی فیصلے پر پہنچ چکی تھیں اسی لیئے مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر وہ کہنے لگیں۔۔ تم روم میں چلے جاؤ۔۔۔ میں دروازے کو دیکھتی ہوں ۔۔۔ ۔۔ پھر کہنے لگی ایسا کرو کہ تم ایک چھوٹا سا شاور لے کر آ جاؤ ۔مامی کی بات سن کر میں تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے کمرے میں پہنچا ۔۔۔ اور دروازہ بند کر کے سیدھا واش روم میں گھس گیا ۔۔اندر گھستے ہی میں نے اپنی لانگ نیکر اتاری اور میری نگاہ۔۔۔۔ لن پر پڑی تو دیکھا کہ تھوڑی دیر پہلے تک ۔۔۔جو لن صاحب بڑے طنطنے کے ساتھ کھڑے لہرا رہے تھے ۔۔۔۔ اس وقت وہ خوف کے عالم میں سکڑ کر چھوہارا بن چکے تھے۔۔۔۔اسے دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ وہی لن ہے جو دیر پہلے تک ۔۔۔۔۔اتنا سخت ہو رہا تھا کہ اس کے دباؤ سے مامی کی نرم ران میں سوراخ بھی ہو سکتا تھا۔۔ مامی کی ران کا ذہن میں آتے ہی میں نے ہینگر پر ٹنگی نیکر کو اتارا۔۔۔ اور اس کی گیلی جگہ کو بڑے غور سے دیکھنے لگا۔۔۔حقیقت یہ تو یہ تھی کہ مامی کی گیلی چوت نے میری نیکر کی 'اس جگہ" کو بھی کافی گیلا کیا ہوا تھا ۔ اور یہ گیلا پن خاصہ زیادہ تھا۔۔۔یہ دیکھ کر میں نے مامی کی چوت کا اندازہ لگایا۔۔۔ جو کہ لن لیئے بغیر ہی ڈھیروں ڈھیر پانی چھوڑ رہی تھی۔ کچھ دیر چیک کرنے کے بعد میں نے اس گیلی جگہ کے ساتھ اپنا ناک چپکا دیا۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔ اس گیلی جگہ سے ابھی تک ہلکی ہلکی۔۔۔ لیکن شہوت انگیز سیمل آ رہی تھی۔اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ مامی کی چوت کی مہک بڑی سڑانگ ہو گی۔ کچھ دیر تک اس گیلی جگہ کو کچھ دیر سونگھنے کے بعد ۔۔۔۔۔ میں نے اپنی نیکر کو دوبارہ ہینگر پر لٹکایا ۔۔اور مامی کی ہدایت کے مطابق ایک کوئیک شاور لے کر روم سے باہر آ گیا ۔۔۔ پھر کپڑوں والی الماری سے ایک اور نیکر نکالی اور اسے پہن کر باہر نکل گیا۔۔۔ کمرے سے باہر آ کر دیکھا تو ڈائینگ ٹیبل پر مامی کے ساتھ پلوی جی بھی بیٹھی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔اور دونوں بڑے مزے سے پیزا کھا رہیں تھی۔ مجھے آتے دیکھ کر مامی کہنے لگی۔۔ توبہ ہے تم نہانے میں کتنی دیر لگاتے ہو؟ تو میرے جواب دینے سے پہلے ہی۔۔۔۔ پلوی جی کہنے لگیں۔۔۔۔۔نو جوان بچہ ہے۔۔۔یو نو ۔۔۔ ایسے بچوں کو باتھ روم میں نہانے کے علاوہ بھی کئی اور کام ہوتے ہیں۔ پلوی جی کی بات ختم ہوتے ہی دونوں لیڈیز نے ایک زبردست سا قہقہہ لگایا۔۔۔ ۔۔۔ اور میں کھسیانی ہنسی ہنس کر بولا ۔۔ایسی کوئی بات نہیں ہے جی۔۔۔ اس کے بعد مامی مجھ سے کہنے لگی۔۔۔۔کرسی پر بیٹھو میں تمہیں پیزا کھلاتی ہوں۔۔۔۔۔ اس پر میں نے روٹین میں ان سے پوچھ لیا کہ مامی جی آج کھانے میں کیا پکا ہے؟؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ بات یہ ہے دوست کہ چونکہ میں اور پلوی نے ایک دوست سے ملنے جانا تھا اس لیئے جلدی کی وجہ سے میں نے کچھ نہیں پکایا۔۔۔۔۔ اور پیزا کا آرڈر بک کرا دیا ۔۔ پھر میری طرف دیکھ کر آنکھ مارتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔یو نو ۔۔بے چارہ۔۔ پیزا بوائے ڈور بیل بجا بجا کے واپس جا رہا تھا ۔۔کہ اتنے میں ( مجھے لینے کے لئے) پلوی آ گئی اور تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ پلوی ۔۔پلوی ہے۔۔۔۔ اس نے ایک دفعہ جو بیل پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔تو رکھ دیا۔۔۔۔۔۔ حرام ہے جو بندے کے دروازے پر آنے تک۔۔اپنی انگلی کو وہاں سے ہٹائے۔۔۔۔ مامی نے میرے پوچھے بغیر ہی۔۔۔ بڑے طریقے سے مجھے مسلسل ڈور بیل بجنے کی وجہ بتا دی تھی دوسری طرف مامی کی بات سن کر پلوی جی ہنستے ہوئے بولیں ۔۔۔ ۔۔۔ اور یقیناً تم نے یہی سمجھا ہو گا۔۔۔ کہ مسلسل بیل بجانے والے تمہارے پتی دیو ہیں اور آج پھر ان کا بلڈ پریشر بہت ہائی ہے اسی لیئے تو جب تم نے دروازہ کھولا تو اس وقت تم کافی خوف زدہ لگ رہی تھیں۔۔ پلوی جی کی بات سن کر میں اور مامی نے بیک وقت ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔اور ۔۔۔دل ہی دل میں ہنس پڑے ۔۔۔۔ اب مامی انہیں کیسے بتاتی کہ وہ ماموں کے بلڈ پریشر ہائی ہونے کی وجہ سے خوف ذدہ نہیں تھی۔۔۔ بلکہ۔۔ ۔اسے اپنے سگے بھانجے کے ساتھ حالتِ غیر میں پکڑے جانے کی وجہ سے خوف ذدہ تھی۔۔لیکن ظاہر ہے کہ مامی یہ بات پلوی جی سے نہ کر سکتی تھی اس لیئے وہ ۔۔ ۔ پلوی جی کو اصل بات بتانے کی بجائے۔۔۔۔۔ ان کے اندازے کی تائید کرتے ہوئے بولیں۔۔۔ اُف۔ف۔ تم نے تو میرا خون ہی خشک کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔ اسی دوران میں بھی ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھ چکا تھا چنانچہ میرے بیٹھتے ہی مامی نے پیزے کا ایک بڑا سا پیس۔۔۔ میرے سامنے رکھا اور اپنے کمرے کی طرف یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ میں ابھی تیار ہو کر آتی ہوں ۔۔ مامی کے جاتے ہی پلوی میم جو کہ مامی کے سامنے بار بار مجھ ے بیٹا کہہ کر بلا رہی تھی بڑے پیار سے کہنے لگی۔۔۔ ہیلو ہینڈ سم کیسے ہو؟ تو میں نے پیزا کا ایک پیس منہ میں ڈالتے ہوئے بولا۔۔ میں تو ٹھیک ہوں ۔۔۔لیکن آپ لوگ کہاں جا رہے ہو؟ تو پلوی میم کہنے لگی۔۔۔ جانا کہاں ہے یار مسزسنگھ کو جانتے ہو نا ں؟ پلوی جی۔۔۔ مسز سنگھ کو جاننے کی بات کر رہیں تھیں۔۔۔ جبکہ میں ان کو ایک دو دفعہ چود بھی چکا تھا۔ لیکن چونکہ میں یہ بات پلوی جی کے ساتھ شئیر نہیں کر سکتا تھا اس لیئے میں ذہن پر زور دینے کی ایکٹنگ کرتے ہوتے ہوئے بولا۔۔۔کون مسز سنگھ؟ تو آگے سے پلوی میم بڑے موڈ میں کہنے لگی۔۔۔۔ارے وہی یار ۔۔۔ جس کی چھاتیاں اور گانڈ میری اور تمہاری ممانی سے بھی ڈبل ہیں۔۔تو اس پر میں ڈرامہ کرتے ہوئے بولا۔۔ اچھا اچھا آپ مسز وجے سنگھ کی بات کر رہی ہو؟ تو پلوی جی مسکراتے ہوئے بولیں جی مہاراج !!۔۔اسی مسز وجے سنگھ کی بات ہو رہی ہے تو میں نے ان سے پوچھا کہ خیریت تو ہے نا؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بو لیں۔۔بے چاری کافی دنوں سے بیمار تھی۔۔۔ سوچا آج اس کی خبر ہی لے آئیں ۔۔ اس پر میں نے پیز ا کھاتے ہوئے اپنا سر ہلا دیا۔۔۔ خلافِ توقع مامی دس منٹ میں ہی تیار ہو کر آ گئی تھی۔۔۔ انہیں آتے دیکھ کر پلوی جی اپنی سیٹ سے اُٹھ گئیں۔۔۔ اسی دوران مامی میرے قریب آ کر بولی ۔۔ ہو سکتا ہے کہ میں کچھ لیٹ ہو جاؤں اس لیئے تمہارے ماموں کا پیزا ۔۔۔۔۔ مائیکرو ویو اون میں رکھا ہے۔اگر تم ان کے آنے تک جاگ رہے ہوئے تو پلیز اسے گرم کر کے دے دینا ۔۔۔ اگر سو بھی گئے تو کوئی بات نہیں کہ میں نے سیل پر انہیں بتا دیا ہے۔ اس کے بعد دونوں خواتین باہر چلی گئیں ۔۔۔پیزا کھانے کے بعد میں نے کچھ دیر ٹی وی دیکھا ۔۔۔ پھر نیند آنے پر کمرے میں جا کر سو گیا۔۔ اگلے دن جب میں تیار ہو کر باہر نکلا تو خلافِ معمول مامی باہر موجود نہ تھی ورنہ اس سے پہلے کی روٹین یہ تھی کہ وہ مجھ سے پہلے ہی اُٹھی ہوتی تھیں۔۔۔ چونکہ میرا سٹور گھر سے کافی دور واقع تھا ۔۔۔ اس لیئے میں جلدی جایا کرتا تھا ۔۔۔۔اس لیئے عام طور پر میرے اُٹھنے سے پہلے ہی مامی میرا ناشتہ وغیرہ تیار کر چکی ہوتی تھی ۔ لیکن اس دن مامی کہیں دکھائی نہ دے رہیں تھیں پھر میں نے ایک نظر کچن میں ڈالی تو مامی وہاں بھی موجود نہ تھی ۔ میں سمجھ گیا کہ رات کو لیٹ آنے کی وجہ سے اس کی آنکھ نہ کھلی ہو گی۔۔۔ ورنہ اس وقت تک وہ اُٹھ چکی ہوتی تھیں ۔۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ۔۔۔ ناشتہ کہیں باہر سےکر لوں گا۔۔ ۔۔ یہ سوچ کر جیسے ہی میں نے باہر کی طرف قدم بڑھایا۔۔۔۔ تو دیکھا کہ مامی کمرے نکل رہی تھی ۔ حسبِ عادت انہوں وہی ڈھیلی ڈھالی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس میں سے ان کے فٹ بال جیسے ممے صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں تھے۔۔ حسبِ معمول ان کی شرٹ کے اگلے دونوں بٹن کھولے ہوئے تھے جس سے ان کے شاندار ممے باہر کو جھانک رہے تھے۔۔۔۔۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی مامی نے ہائے کہا اور پھر میرے قریب آ کر بولی سوری یار رات لیٹ ہونے کی وجہ سے میں جلدی نہیں اُٹھ سکی ۔ پھر کہنے لگی تم ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھو میں ایک منٹ میں تمہارا ناشتہ بنا کر لاتی ہوں۔۔ مامی کے کہنے پر میں ڈائینگ ٹیبل پر جا کر بیٹھ گیا اور کچھ ہی دیر بعد مامی گرم گرم ناشتہ لے آئی اور اسے ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی ۔۔ سوری فار لیٹ۔۔۔تو میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔ مامی جی سوری تو مجھے کرنی چاہیئے تھی۔۔ میری بات سن کر وہ بڑی حیرانی سے کہنے لگیں۔۔۔ ۔ سوری کس لیئے بھائی؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔ سوری اس لیئے مامی جی کہ رات کو پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا ۔۔۔کہ ۔۔۔۔ اس لیئے رات کی بات پر میں آپ سے دوبارہ سوری کرتا ہوں ۔۔ میری بات سن کر مامی نے بڑے غور سے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔جب اسے یقین ہو گیا کہ واقعتاً میں سنجیدگی کے ساتھ سوری کر رہا ہوں ۔۔ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔۔۔ ہاں یار رات کچھ زیادہ ہی ہو گیا ۔۔۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ۔۔۔ ایک تو اس وقت میں نشے میں تھی اوپر سے وہ کم بخت ڈرامہ بھی کچھ زیادہ ہی گرم تھا ۔۔۔ چنانچہ اسے دیکھ کر میں اور بھی گرم ہو گئی تھی۔ پھر میری طرف دیکھ کر کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگی۔۔ویسے اگر اس وقت پیزا بوائے اور پلوی نہ آتی ۔۔۔ تو بات بہت آگے تک جا سکتی تھی۔۔۔ تو اس پر میں نے ان سے کہا ۔۔ کہ تھینک گاڈ ۔۔۔ کہ اس وقت پیزا بوائے آ گیا تھا ۔۔۔ ورنہ ۔۔ہم تو ۔۔۔۔ آخری سٹیشن پر پہنچنے ہی والے تھے۔۔ ۔۔۔ اور اسی وجہ سے ایک پھر میں آپ سے سوری بول رہا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر مامی ہنس کر بولی ۔۔۔۔ ویسے تو ہے پکا حرامی ۔۔ چلو مان لیئے کہ اس وقت میں نشے میں تھی ۔۔ لیکن بھائی صاحب ۔۔۔ تم نے تو نہیں پی رکھی تھی ۔۔۔ کم از کم تمہیں ہی کچھ شرم کر لینی تھی ۔۔۔۔۔۔ اپنے پہلوان کو بار بار میری تھائی (ران) کے ساتھ کیوں ٹچ کر رہے تھے ؟ تو میں جلدی سے بولا ۔۔۔۔ مامی جی اگر آپ نے پی تھی۔۔۔ تو مجھ پر آپ کے حسین بدن کا خمار چھایا ہوا تھا ۔۔۔میری بات سن کر مامی ہنس کر بولی۔۔۔۔ بس بس رہنے اپنی یہ مسکے بازیاں ۔۔ اس کے بعد مامی نے ایک خاص ادا سے میری طرف دیکھا اور پھر۔۔۔ ٹھہر ٹھہر کر کہنے لگی۔۔۔ تو میرا بھانجا تو ہے۔۔۔۔لیکن ہے پکا حرامی ۔۔۔۔ ایک طرف تو۔۔۔تو بار بار مجھ سوری کر رہا ہے جبکہ دسری طرف تیری یہ بھوکی نظریں۔۔۔۔ ایک لمحے کے لیئے بھی میرے سینے نہیں ہٹیں۔پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں کہ۔۔۔ اب تم ہی بتاؤ میں تیری زبان سے نکلی ہوئی بات پر اعتبار کروں یا۔۔۔۔پھر تیری ان بھولی نظروں پر ۔۔۔۔ جو کہ ابھی تک میرے سینے پر گڑی ہوئیں ہیں ۔۔۔ مامی کی بات سن کر میں گڑبڑا گیا۔۔۔ اور ان سے کہنے لگا۔۔۔ میں کیا کروں مامی۔۔کہ آپ کا حسن ہی اتنا بلا خیز ہے کہ میں چاہ کر بھی رہ نہیں سکتا۔۔۔میری بات سن کر وہ کھکھلا کر ہنسی اور پھر کہنے لگی۔۔۔ ایک بات یاد رکھو بیٹا جتنی تیری عمر ہے نا ۔۔ اس معاملے میں ۔۔۔۔۔میرا اس سے زیادہ تجربہ ہے۔ اس لیئے کسی اور کو بے وقوف بنانا۔۔۔ ان کی بات سن کر میں نے کہا کہ ۔۔۔ مامی جی میں تہہ دل سے آپ کو سوری بول رہا تھا۔۔ لیکن اگر میرا اعتبار نہیں تو میں اپنے جملہ الفاظ معہ کئی دفعہ کی سوری کے واپس لیتا ہوں ۔ میری بات سن کر مامی نے ایک گہرا سانس لیا اور پھر میری نقل اتارتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔۔ جی میں نے بھی تمہاری جھوٹ موٹ کی سوری تمہیں واپس کی۔۔۔ بلکہ آپ کے اس بھوکے منہ پر دے ماری ۔۔ اس پر میں کہنے لگا۔۔۔ یہ تو سب ٹھیک ہے مامی ۔۔ لیکن اب آگے کیا ہو گا؟؟؟؟ میرا سوال سن کر وہ مسکراتے ہوئے ۔۔۔ کہنے لگی کہ۔۔۔۔ پلاؤ کھائیں گے احباب ۔۔۔۔اور فاتحہ ہو گا۔۔۔۔ اس کے بعد وہ اچانک ہی سیریس ہو کر کہنے لگی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔بات یہ ہے میری جان کہ ۔۔۔اب کام چل پڑا ہے تو کہیں نہ کہیں پہنچ کر ہی رکے گا۔۔۔ پھر اچانک ہی بات کو بدلتے ہوئے بولی ۔۔۔ تو آج تمہاری نتھ اترائی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔ اور وہ بھی ایک گوری کے ہاتھوں۔۔۔ واہ بھئی واہ۔۔۔ مامی کی بات سن کر میں حیران رہ گیا اور اسی حیرانی سے کہنا لگا ۔۔۔ نتھ اترائی؟ وہ کیا ہوتا ہے؟ تو وہ ہنس کر بولی ۔۔۔شاید تمہیں معلوم نہ ہو یہ خالص ہیرا منڈی لاہور کی اصطلاع ہے اور اس کا سادے لفظوں میں مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکی جو اپنی زندگی میں پہلی دفعہ کسی بندے کے ساتھ سیکس کرے ۔۔ اس سیکس کرنے کو وہ لوگ اپنی اصطلاع میں نتھ اترائی کرنا کہتے ہیں اس کے لیئے خاص کر سیٹھ لوگ بہت پیسے خرچ کرتے ہیں۔۔۔۔۔ مامی کی بات سن کر میں ان سے بولا۔۔۔ کہہ تو آپ ٹھیک ہی رہیں ہیں۔۔۔۔ ۔۔اور ناشتہ کرنے کے بعد۔۔ سٹور جانے کے لیئے جیسے ہی انہیں الوداع کہنے لگا ۔۔۔ تو وہ بظاہر افسوس بھرے لہجے میں بولیں۔۔۔ ۔۔اس نامراد گوری سے پہلے ہی ۔۔۔۔۔ کل رات تیری نتھ اترائی کی رسم ہو جانی تھی ۔۔پرررر۔۔۔ اس پر میں نے مامی کی طرف دیکھا اور بولا۔۔۔ پرررررررررر۔۔ کیا ؟ ۔۔تو آگے سے وہ بڑے ہی معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔۔۔ پھر ایک وقفے کے بعد بولی ۔۔۔ اگر عین وقت پر پیزا بوائے نہ آتا تو اس وقت تم یہ بات مجھ سے نہ پوچھ رہے ہوتے ۔۔ پھر کہنے لگی۔۔۔ تمہیں دیر ہو رہی ہے اس لیئے اب تم جاؤ۔۔ حقیقت یہ تھی کہ مامی کے اتنے واضع سنگل وصول کر کے ۔۔۔ ایک دم سے ۔۔۔ میرے اندر آگ سی لگ گئی تھی۔۔۔۔۔اور میں از حد گرم ہو چکا تھا ۔۔اس لیئے مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا ۔۔۔ اور میں نے جاتے جاتے مامی سے کہا۔۔ کہ مامی جی ۔۔ادلہ بدلی پارٹی میں کب لے جا رہی ہو؟ ۔۔۔ تو وہ کچھ سوچتے ہوئی بولی ۔۔۔ دیکھو ۔۔ جب بھی موقع ملا ۔۔ میں تمہیں بتا دوں گی۔۔۔ پھر کہنے لگی۔۔ شرم کر سالے ۔۔ اس وقت تمہاری غیرت کہاں جائے گی جب کوئی شخص تیری آنکھوں کے سامنے ۔۔۔۔ تیری سگی مامی کے ساتھ وہ کام کر ے گا؟ مامی کی بات سن کر میں جاتے جاتے رک گیا اور ان سے کہنے لگا۔۔۔ کہاں کی غیرت ؟ یہ میرا کون سا کوئی فرسٹ ٹائم ہو گا کہ۔۔ میں اپنی سگی مامی کو اس سے پہلے بھی متعدد دفعہ ایک بندے کے ساتھ وہ والا کام کرتے دیکھ چکا ہوں۔۔۔ پھر اس سے بولا ۔۔۔ غیرت نہیں مامی یہ تو فن ہے ۔۔۔ ویسے بھی جو شخص آپ کے ساتھ وہ والا کام کر رہا ہو گا ۔۔۔تو دوسری طرف آپ کا یہ ہونہار بھانجا ۔۔۔اس کی سگی بیوی یا گرل فرنیڈ سے آپ کا بدلہ اتار رہا ہو گا۔۔ میری بات سن کر مامی ہنس پڑی اور پھر مجھے اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔اب دفعہ ہو بھی ہو جاؤ کہ کام سے لیٹ ہو رہے ہو چ۔۔ مامی کے کہنے پر میں واپسی کے لیئے مُڑا ہی تھا کہ مجھے ان کی آواز سنائی دی۔۔۔وہ کہہ رہی تھی ۔۔ویسے تمہاری اکڑاہٹ بڑی جاندار۔۔۔اور شاندار تھی۔۔۔مامی کے منہ سے ڈھکے چھپے الفاظ میں۔۔۔۔۔ اپنے لن کی تعریف سن کر مجھے نشہ سا ہو گیا اور اسی وقت میں نے مُڑ کر مامی کی طرف دیکھا تو ان کا چہرہ بھی شدتِ جزبات سے لال ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی حیوانی چمک بھی نظر آئی۔۔۔ تاہم ان کی بات سن کر میں کہنے لگا۔۔۔۔کہ اگر میری اکڑاہٹ شاندار ہے تو آپ کے دودھ بھی قیامت ہیں ۔۔۔ رات سینے سے لگتے ہی ۔۔۔میں بے قرار ۔۔۔ اور میرا دوست " ہوشیار" ہو گیا تھا۔۔۔ میری بات سن کر مامی کا چہرہ کچھ مزید لال ہو گیا ۔۔اور وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولیں ۔۔۔ میرے دودھ پسند آئے؟؟؟ تو میں شہوت بھرے لہجے جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ ۔۔بہت زیادہ۔۔۔۔۔ پھر ان سے التجا کرتے ہوئے بولا۔۔۔ جاتے جاتے کیا میں ان کا دیدار کر سکتا ہوں؟؟ ۔۔ میری بات سن کر مامی نے ایک نظر اپنے کمرے کی طرف دیکھا کہ جہاں پر ماموں سوئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔اور پھر دروازے کی طرف پیٹھ کر کے۔۔۔۔ اپنی شرٹ کا بٹن کھولنے ہی والی تھی۔۔۔۔۔ کہ اچانک ماموں کی خوفناک آواز سنائی دی ۔۔ ندرت ایک کپ چائے لا دو۔۔۔ ماموں کی منحوس آواز سن کر مامی نے میری طرف دیکھا اور مجھے ٹھینگا دکھا کر ۔۔۔۔۔۔ جانے کا اشارہ کرتے بولی۔۔۔چچ۔۔چچ۔چچ۔۔۔چ۔چ۔چ۔۔ ویری سیڈ ۔۔۔پور بوائے ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ماموں سے ویسے ہی میری جان جاتی تھی اور خاص کر ایسے موقعہ پر ان کی آواز سن کر میری تو گانڈ ہی پھٹ گئی۔۔۔ سوچا ۔۔۔بھاگ بھوسڑی کے۔۔۔ ورنہ اگر خونخوار ماموں نے اس حالت میں دیکھ لیا ۔۔۔۔ تو بےموت مارا جائے گا۔۔۔ مامی کی چھاتیوں کا دیدار تو گھر کی بات ہے۔۔پھر سہی۔۔۔ سو میں منہ لٹکائے۔۔۔ بڑی تیزی کے ساتھ گھر سے باہر نکل گیا ۔۔اور راستے بھر مامی کے بارے میں سوچتا رہا۔۔۔ سٹور کھولنے کے بعد بھی میرا زہن مامی کی طرف لگا رہا۔۔۔ اور پتہ نہیں کیوں۔۔۔ مامی کے حسین جسم کے خدو خال کے بارے میں سوچ سوچ کر مجھے برا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔میں مامی کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اس بات کو تقریباً فراموش کر چکا تھا کہ آج رات میں نے ایک بیوٹی فل گوری کی چوت مارنی ہے یہ بات مجھے اس وقت یاد آئی۔۔۔ کہ میں نے کرسٹینا میم کو سٹور میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔۔۔ اسے آتے دیکھ کر میں اپنی سیٹ سے کھڑ ا ہو گیا۔۔اور اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔ حسبِ معمول وہ بڑے ہی باوقار طریقے سے چلتی ہوئی میرے پاس پہنچی ۔۔ اور مجھ سے ہاتھ ملا کر بولی ۔۔۔ رات کا پروگرام ڈن ہے نا؟ تو میں اس کا ہاتھ دباتے ہوئے بولا۔۔۔ ایک دم ڈن ہے میم۔۔۔۔۔تو وہ مسکرا تے ہوئے بولی آنٹی سے کیا بہانا کیا؟ تو میں نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک دوست کو ملنے کا بہانہ کیا ہے۔۔ پھر میں نے اس گریس فل باوقار ۔۔۔اور خوبصورت گوری کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔ ۔۔۔ مسٹر جان کہاں ہیں؟ تو وہ کہنے لگی۔۔ اس کی کوئی ارجنٹ میٹنگ تھی اس لیئے وہ سیدھا آفس چلا گیا ہے۔۔ جبکہ میرے پاس کچھ وقت تھا سوچا ایک تو تم سے مل لوں اور دوسرا ۔۔۔ تمہارا پروگرام پوچھ لوں۔۔ پھر کہنے لگی تم کس وقت سٹور بند کرتے ہو؟ تو میں نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آٹھ ساڑھے آٹھ بج ہی جاتے ہیں میری بات سن کر وہ کہنے لگی۔۔۔۔۔ تو طے ہو گیا کہ ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے میں یا جان تمہیں پک کر لیں گے۔ اس لیئے میک شیور کہ اس وقت تک تم شاپ کلوز کر چکے ہو گے ۔۔ کرس کی بات سن کر میں نے ہاں میں سر ہلایا اور پھر اس سے بولا۔۔۔ ایک بات پوچھوں میم؟ تو وہ بڑی گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔وائے ناٹ؟ تو میں نے اس سے کہا کہ جب مسٹر جان نے آپ کو میرے بارے میں بتایا تھا ۔۔۔ کہ آپ اس کے ساتھ سیکس کرو گی ۔۔۔تو اس وقت آپ کا ری ایکشن کیا تھا؟ میری بات سن کر وہ گریس فل گوری مسکرائی اور کہنے لگی۔۔ یہ تم سے کس نے کہہ دیا کہ تم جان کی پسند ہو؟ تو اس پر میں حیران ہوتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ مجھے تو آپ کے بارے میں انہوں نے ہی کہا تھا۔۔۔ میری بات سن کر وہ آگے بڑھی اور میری گال پر ہلکی سی چپت لگا کر بولی۔۔ ایک بات یاد رکھو مائی ڈئیر بوائے۔۔ کہ تم جان کی نہیں بلکہ میری پسند ہو۔۔ میڈم کی بات سن کر میں بہت حیران ہوا اور ان سے کہنے لگا۔۔۔ آآآپ۔۔۔کی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو وہ بڑے اطمینان سے بولی یس میری۔۔۔۔۔تو اس پر میں الجھے ہوئے لہجے میں بولا۔ ۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس سے پہلے تو میں آپ سے کبھی نہیں ملا۔۔ اس پر میڈم مسکرائی اور پھر کہنے لگی تم ٹھیک کہہ رہے ہو ۔۔ کہ تمہارے ساتھ میرا باقاعدہ تعارف جان نے ہی کروایا تھا۔۔۔لیکن ۔۔۔ بات اصل یہ ہے کہ جب سے تمہارا سٹور کھلا ہے۔۔۔تو میں دو تین دفعہ یہاں آ کر باقاعدہ شاپنگ کر چکی ہوں۔۔۔۔ جو کہ ظاہر ہے کہ تمہیں یاد نہیں ہو گا۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں سٹور سے شاپنگ کرکے بنا کوئی بات کیئے چلی جاتی تھی ۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔ تم "Cuckold" کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟ تو میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔ اس پر وہ کہنے لگی۔۔۔ تم یہاں نئے نئے آئے ہو شاید اسی لیئے تم کو اس بارے میں کچھ خبر نہیں۔ پھر میری طرف دیکھ کر کچھ سوچتے ہوئے بولی۔۔ کاک اولڈ کا سادہ لفظوں میں یہ مطلب ہے کہ کسی خاوند کا اپنی مرضی و منشاء کے ساتھ ۔۔اپنی آنکھوں کے سامنے ۔۔۔۔ اپنی بیوی کو کسی دوسرے مرد کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے دیکھنا ۔۔اس پر میں حیران ہوتے ہوئے بولا۔۔اپنی رئیل بیوی کو؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگی۔۔۔ یس اپنی رئیل بیوی کو۔۔۔ پھر مجھ سے مخاطب ہو کر بولی ۔۔ بات یہ ہے ڈارلنگ کہ جان کوئی عادی " "کاک اوولڈ"" نہیں ہے لیکن پھر بھی کبھی کھبار۔۔۔۔ فار ا ے۔۔چینج اس کو میرا ۔۔۔۔کسی دوسرے مرد کے ساتھ سیکس کرتے دیکھ بہت مزہ آتا ہے ۔۔۔ تو میں نے کہا ۔۔۔اور آپ کو؟ تو وہ ہنس کر بولی۔۔۔آف کورس۔۔ ۔۔اصل مزہ تو میں ہی لیتی ہوں۔۔ وہ تو بے چارہ صرف ڈک اندر باہر جاتے دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ کہنے لگی۔۔۔ کسی غیر مرد سے میرا سیکس دیکھنے کے بعد۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ بہت ڈیم ہاٹ ہو جاتا ہے ۔۔۔۔اور پھر میری ایسے بجاتا ہے ۔۔کہ مت پوچھو۔۔۔اس لیئے منہ کا ذئقہ چینج کرنے کے لیئے ہم لوگ کبھی کھبار ایسا کر لیتے ہیں ۔۔ اس پر میں نے اس گریس فل لیڈی سے پوچھا کہ جب آپ کا شوہر اس قسم کے شو دیکھنے کے بعد ۔۔۔۔ آپ کے ساتھ زبردست۔۔ سیکس کرتا ہے پھر تو آپ کو گاہے بگاہے ایسا کام کرتے رہنا چاہیئے۔۔ میری بات سن کر وہ سر ہلا کر بولا۔۔۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہو ۔۔ میرے ہبی کی بھی یہی خوہش ہے۔۔۔ لیکن وہ میری وجہ سے مجبور ہے تو میں نے ان کہا کہ وہ کیسے؟ اس پر وہ جواب دیتے ہوئے بولی اسکی وجہ میری شرط ہے اور وہ یہ کہ میں اپنی مرضی کے بندے کے ساتھ سیکس کروں گی۔۔۔۔ میری شرط سن کر پہل ے تو ہبی نے کچھ پس و پیش کی۔۔۔۔ لیکن آخرِ کار وہ مان گیا۔۔۔سو اب میں اپنی پسند کا بندہ سلیکٹ کر کے اسے بتاتی ہوں۔۔۔ گوری میم کی بات سن کر میں نے بڑی حیرانی سے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میری سلیکش بھی آپ نے خود کی تھی؟؟؟؟۔۔ تو وہ ہاں میں سر ہلا کر بولی۔۔۔۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہمیں پروگرام کیئے دو تین ماہ ہو گئے تھے۔۔ دوسری طرف جان میرے پیچھے لگا ہوا تھا کہ جلد از جلد ۔۔۔۔۔وہ میرا شو دیکھنا چاہتا ہے اس لیئے میں کوئی بندہ سلیکٹ کر لوں ۔۔ لیکن اتفاق ایسا تھا۔۔۔ کہ میں ایسا نہ کر سکی پھر ایک دن میں تمہارے سٹور میں آئی ۔۔۔تو پتہ نہیں کیوں تمہیں دیکھ کر میرے اندر کی سیکس بھوک جاگ اُٹھی۔۔۔ اور میں نے جا کر جان کو بتا دیا کہ مجھے ایک ایشیائی لڑکا پسند آ گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسے تمہارا پتہ بتا دیا۔۔۔۔ سو اگلے دن وہ تمہارے سٹور پر آیا۔۔۔ اور اس نے بھی تمہیں اوکے کر دیا۔۔ اب
  3. گوری میم صاحب (قسط نمبر3) اتنی بات سنانے کے بعد عدیل نے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا۔۔ امریکہ میں میری پہلی چودائی کی داستان کیسی لگی ؟ اس کی بات سن کر میں نے ایک طویل سانس لی اور اس سے بولا ۔۔۔ کمال ہے یار ۔۔ میڈم کی چودائی میں خاص کر ہندو چوت اور مسلم لن نے بڑا مزہ دیا۔۔تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا تمہیں معلوم ہے کہ فکنگ کے دوران ایسی باتیں کر کے سیکس کا جوش دوبالا ہو جاتا ہے۔۔ تو میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اچھا یہ بتا کہ اس کے بعد تم نے اس سیکسی میڈم کی ۔۔۔ ہندو چوت کتنی دفعہ بجائی؟ ؟ تو آگے سے وہ مجھے آنکھ مار تے ہوئے بولا۔۔۔ تعداد تو یاد نہیں یار۔۔بس یوں سمجھو کہ جب بھی موقع ملا میں نے اس کا بھر پور فائدہ اُٹھایا . اس کے بعد میں نے اس سے کہا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تم نے صرف اسی میڈم کی ہندو چوت ماری تھی یا؟ تو وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا ایسی بات نہیں ہے یار ۔۔۔ بلکہ میں تو پلوی میم کی تقریباً آدھی دوستوں رشتے داروں کو چود چکا ہوں ۔۔ اور ان میں غالب اکثریت ہندو پھدیوں کی تھیں ۔۔ ہاں یاد آیا ان میں سے ایک آدھ سکھ چوت بھی تھی۔۔۔ پھر کہنے لگا مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ساری خواتین چوت مروانے کے بعد مجھ سے یہی وچن لیتی تھیں ۔۔۔ کہ میں اس کی خبر کسی دوسری کو نہ ہونے دوں ۔۔۔ اور میں نے ایسا ہی کیا۔۔ اس پر میں نے اس سے پوچھا کہ ان میں سے سب سے اچھی کون لگی؟ تو وہ ایک دم سنجیدہ ہو کر بولا۔۔۔ ویسے تو ساری کی ساری ہی ہی بم شیل تھیں ۔۔۔ لیکن ان میں ایٹم بمب صرف اور صرف پلوی میم تھی۔۔۔ جس کی چودائی مجھے اس لیئے بھی نہیں بھولے گی کہ امریکہ میں وہ میری پہلی سیکس ٹیچر تھی اس پر میں نے اس سے کہا کہ یہ تو ہوئی دیسی چودائی کی داستان ۔۔۔لیکن اب مجھے یہ بتاؤ کہ امریکہ میں تم نے پہلی گوری کو کیسے چودا ؟ میری سن کر عدیل ہنس کر بولا۔۔ بہن چودا تیری سوئی ابھی تک گوری پر ہی اٹکی ہوئی ہے تو آگے سے میں بھی دانت نکالتے ہوئے بولا ۔۔وہ تو ہے۔۔۔ اس پر اس نے ایک فرمائشی سا قہقہہ لگایا اور پھر کہنے لگا کہ آج کے لیئے اتنا ہی کافی ہے ۔ پھر کسی دن میں تم کو گوری کے چودنے کا واقعہ سناؤں گا۔۔۔ فی الحال تو چلو کہ کافی وقت بیت گیا ہے اس کے ساتھ ہی وہ اپنی کرسی سے اُٹھا۔۔۔۔ اور ہم ریستوران سے باہر آ گئے۔۔۔ جاتے جاتے ایک دفعہ پھر وہ مجھے تاکید کرتے ہوئے بولا۔۔کل ضرور آنا کہ ماما تیرا بہت پوچھتی ہیں ۔۔ اس کے بعد وہ مجھے ٹاٹا کرتا ہوا اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔۔۔ حسبِ وعدہ اگلے دن میں ان کے گھر چلا گیا تو خاص کر آنٹی مجھ سے بڑے تپاک سے ملیں اور اس بات کا شکوہ بھی کیا کہ ان کے کہنے کے باوجود بھی میں کل کیوں نہیں آیا تھا؟ ان کا اتنا زیادہ خلوص دیکھ کر کھٹک تو میں پہلے ہی گیا تھا ۔ اب تھوڑا پریشان بھی ہو گیا۔۔لیکن بوجہ چپ رہا۔۔۔ اور دفتر ی کا م کا بہانہ لگا کر نہ آنے کی معذرت کر لی جسے انہوں نے بڑی خوش دلی کے ساتھ قبول بھی کر لیا۔۔ اور ساتھ ہی اس بات کی خاص تاکید کی کہ جب تک عدیل یہاں پر ہے میں کم از کم لنچ اس کے ساتھ ہی کیا کروں آنٹی کے اتنے زیادہ تپاک کو دیکھ کر میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ امریکہ کی طرح ہمارے ہاں بھی مفت میں لنچ کوئی نہیں کرواتا ۔۔۔ اور پھر من ہی من میں اس عنایت کی وجہ ڈھونڈنے لگا ۔ لیکن بظاہر اس کی کوئی خاص وجہ سامنے نہ آ رہی تھی۔۔۔چونکہ لنچ میں ابھی کچھ دیر تھی اس لیئے عدیل اور میں ڈارئینگ روم میں بیٹھ گئے ۔۔۔ابھی ہمیں وہاں پر بیٹھے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ عدیل کی بیگم (گوری میم) ماریا ۔۔۔بھی وہاں پہنچ گئی۔ ۔۔اسے آتے دیکھ کر میں احتراماً کھڑا ہو گیا اور اسے ہیلو کہا۔۔ جواباً اس قتالہ نے بھی مجھے ہیلو کہا اور اپنے گورے ہاتھ کو میری طرف بڑھا دیا ۔۔۔میں نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور چند سیکنڈز تک بڑی گرم جوشی کے ساتھ ہلاتا رہا۔۔۔۔۔۔۔ آج اس قتالہ نے سفید رنگ کی سلیو لیس شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جس میں وہ بڑی شاندار لگ رہی تھی۔۔۔لمبا قد ۔۔ اجلا رنگ ۔۔چوڑے شانے اور عریاں بازو۔۔اور ان سب سے بڑھ کر اس کی ننگی بغلیں (انڈر آرمز) ۔۔۔ جن پر ایک بھی بال نظر نہ آ رہا تھا۔۔۔ پتہ نہیں اس نے کس کریم کے ساتھ اپنی انڈر آرمز صاف کیے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔ اس کی بڑی بڑی اور سندر بغلوں سے خوشبو کے لاتعداد ہُلے اُٹھ رہے تھے۔۔۔۔اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ سلیو لیس پہننے کے لیئے اس گوری نے یقیناً آج ہی شیو کی ہو گی ۔۔۔اور پھر بغلوں کی شیو سے ہوتے ہوتے میرا گندہ ذہن ۔۔۔اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ والی جگہ پر چلا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ میڈم نے اپنی سیکسی بغلوں کی صافی کے ساتھ یقیناً اپنی "اس جگہ" بھی کریم لگائی ہو گی۔۔۔ اور انڈر آرمز کی طرح اسے بھی نِیٹ اینڈ کلین کیا ہو گا۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اور کیا انڈر آرمز کی طرح ۔۔۔۔ اس گوری کی جائے مخصوصہ سے بھی ۔۔۔ ایسے ہی خوشبو کی لپٹیں اُٹھ رہیں ہوں گی؟ ۔۔۔۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ مجھے چوت کی سمیل بہت زیادہ پسند ہے۔۔۔۔ اس لیئے۔۔۔یہ سوچ آنے کی دیر تھی کہ میرا لن۔۔۔۔ جو کہ پہلے ہی بہانے ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ ایک زبردست سی چھلانگ لگا کے کھڑا ہونے ہی والا تھا کہ میں نے بڑی مشکل کے ساتھ منت سماجت کر کے اسے واپس بٹھا دیا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔دوستو جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بندہ اچھا خاصہ ٹھرکی واقع ہوا ہے۔۔۔۔ اور اس وقت میرے سامنے جو چاند چہرہ ستار ہ آنکھوں والی گوری کھڑی تھی ۔۔۔اس کو اس حلیہ میں دیکھ کر غریب کی تو مت ہی ماری گئی لیکن ۔۔۔بندہ غریب مرتا کیا نہ کرتا۔۔۔۔۔کے مصداق ۔۔۔قہرِ درویش بر جانِ درویش۔۔ کی مکمل تصویر بنے۔۔۔ اپنی کمینگی چھپائے۔۔۔۔۔ بظاہر بڑی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔۔ ۔۔ ۔۔ یہ بھی شکر ہے کہ۔۔۔ اس دن کے برعکس آج اس کا گلا اتنا زیادہ کھلا نہ تھا لیکن اس کے باوجود اس کے وِی شیپ گلے کی گہرائی سے بہت کچھ دکھائی دے رہا تھا پتہ نہیں کیا بات ہے کہ میں اس گوری کو دیکھ کر ہمیشہ ہی نروس ہو جاتا تھا میری اس حالت کو شاید اس نے بھی محسوس کر لیا تھا ۔۔۔۔ یا پھر کوئی اور بات تھی کہ وہ کچھ دیر تک ہمارے ساتھ بیٹھی رہی پھر اُٹھ کر چلی گئی وہ جتنی دیر بھی میرے پاس بیٹھی ۔۔۔ میں خود پر قابو پاتے ہوئے ۔۔۔ اس کے ساتھ بظاہر بڑی خوش اخلاقی سے بات چیت کرتا رہا۔۔ لنچ کے دوران بھی عدیل کی ماما کا میرے ساتھ خصوصی رویہ رہا۔۔۔۔ جبکہ میں ان کی مہربانی کو انجوائے کرتے ہوئے اس کی وجہ تلاش کرتا رہا۔ اگلے دن کی بات ہے کہ عین لنچ کے وقت آفس میں ایک ارجنٹ کام پیش آ گیا۔جس کی وجہ سے میں نے عدیل کو معذرت کا فون کیا ۔ تو آگے سے وہ کہنے لگا کہ اچھا یہ بتا کہ تم کس وقت فارغ ہو گئے؟ تو میں نے اسے بتایا کہ دو تین گھنٹے تو لگ ہی جائیں گے تو اس پر وہ کہنے لگا تو ٹھیک ہے دوست جب تم آؤ گے تو اسی وقت لنچ ہو گا اور اس کے ساتھ ہی اس نے فون رکھ دیا ۔ آفس کا کام ختم ہونے کے فوراً بعد میں اس کے گھر گیا تو اس کے گھر میں اور کوئی نہ تھا پوچھنے پر کہنے لگا کہ ساری لیڈیز شاپنگ کے سلسلہ میں بازار گئی ہیں اور واپسی کا کوئی پتہ نہیں کہ کب آئیں۔۔ یہ کہہ کر وہ مجھے ڈائینگ ٹیبل پر لے آیا ۔۔۔۔۔ کھانے کے دوران میں نے عدیل سے پوچھا سنا یار بھابھی کو پاکستان کیسا لگا؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگا کیا بتاؤں یار اسے ہمارا ملک پسند نہین آیا تو اس پر میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ اس کی کوئی خاص وجہ ؟ تو وہ ایک دم سیریس ہو کر بولا ۔۔ یو نو وہ امریکہ کے آذاد ماحول کی ایک آذاد خیال لڑکی ہے جبکہ ہمارے ہاں بہت زیادہ گھٹن ہے ۔ اس کے باوجود کہ ہمارے گھر والے خاصے روشن خیال واقع ہوئے ہیں لیکن میری بیگم کے حساب سے تم انہیں تنگ نظر ہی کہہ سکتے ہو۔۔ اس کی وجہ اس پر عائید پابندیاں ہیں مثلاً سرد ملک کی ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔ اسے دھوپ بہت اچھی لگتی ہے جو کہ ہمارے ہاں وافر مقدار میں پائی جاتی ہے چنانچہ اکثر اس کا بکنی پہن کر سن باتھ لینے کو دل کرتا ہے۔ لیکن یو نو ۔۔اسے اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔۔ہاں پورے کپڑوں میں وہ سن باتھ لے سکتی ہے ۔ لیکن وہ کہتی ہے کہ پورے کپڑے پہن کر سن باتھ لینے کا فائدہ؟۔ ۔۔ دوسری بات یہ کہ جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ امریکہ میں شراب پینا ایک عام سی بات ہے لیکن اس کے برعکس یہاں پر آپ اسے سرِعام نہیں پی سکتے ہاں چھپ کر جو مرضی کر لیں۔۔۔۔ شراب والی بات پر میں حیران ہوتے ہوئے بولا۔۔۔ تو کیا بھابھی بھی پیتی ہے؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگا۔۔۔ یس ڈئیر ہم دونوں کمرہ بند کر کے روزانہ ایک آدھ پیگ لگاتے ہیں اس کے بعد وہ میری طرف شرارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا کیوں تم نہیں پیتے؟ تو میں اس کو جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ کہ سیکس کے بارے میں ہر قسم کی حرام توپی کے باوجود میں نے آج تک کسی بھی قسم کا نشہ نہیں کیا۔۔۔ اور یہ میرا خود سے وعدہ ہے کہ میں کبھی نشہ نہیں کروں گا چاہے وہ سگریٹ کا ہی کیوں نہ ہو ۔۔تو وہ کہنے لگا میری جان سگریٹ ہی تمام نشوں کی ماں ہے میرا مطلب ہے کہ سگریٹ سے ہی ہر نشے کی ابتداء ہوتی ہے۔۔۔ اس کے بعد وہ ہنس کر کہنے لگا ۔یار یہ تو بہت بری خبر سنائی تم نے ۔۔کہ تم نہیں پیتے ؟ تو میں نے اس سے کہا اس میں برائی کیا ہے ؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولا وہ ایسے میری جان کہ ہم لوگ اسٹیسٹس سے جو کوٹہ لائے تھے وہ قریباً ختم ہونے والا ہے اور میرا خیال تھا کہ جب یہ کوٹہ ختم ہو جائے گا تو میں تم سے کہہ کر مزید منگوا لوں گا ۔۔۔ لیکن اب پتہ چلا کہ تم تو پیتے ہی نہیں ہو۔۔۔ اس کی بات سن کر میں اس سے بولا۔۔۔ دل چھوٹا نہ کر ۔۔۔۔ کیا ہوا جو میں نہیں پیتا ۔۔۔ لیکن جب تو کہے گا میں بندوبست کر دوں گا ۔ میری بات سن کر وہ خوش ہو کر بولا ۔۔تھینک یو دوست ۔۔ میں تو اس کے بغیر ۔۔۔۔پھر بھی گزارا کر لوں گا لیکن تیری بھابھی کو اس کے بغیر نیند نہیں آتی ۔۔ اس پر میں عدیل کی طرف دیکھتے ہوئے ذو معنی لفظوں میں بولا ۔۔۔۔ رات کو پیگ کے بغیر ۔۔۔ نیند نہیں آتی یا ۔۔۔؟ وہ میری پوشیدہ بات کا مطلب سمجھ کر بولا۔۔۔۔ تمہاری بات ٹھیک ہے۔۔۔۔ دوسری گوریوں کی طرح یہ سالی بھی للے (لن) کی بڑی شوقین ہے پھر کہنے لگا۔۔۔۔لیکن یار تو تو جانتا ہی ہے کہ ہر رات۔۔۔۔۔ وہ بھی اپنی بیوی کے ساتھ ۔۔۔۔۔ چودائی نہیں ہو سکتی۔ اس لیئے ہر رات فکنگ ہو نہ ہو۔۔۔۔ ۔۔۔۔ پیگ بہت ضروری ہے عدیل کی بات سن کر ایک دفعہ پھر میں نے اس سے کہا ۔۔تب تو بے فکر ہو جا۔۔۔ جب بھی تیری بوتل ختم ہو جائے۔۔۔۔ مجھے بتا دینا ۔۔۔بندوبست ہو جائے گا۔۔ ۔اور اس کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔ عدیل کا یہ پوائنٹ نوٹ کر لیا کہ گوری للے ( لن ) کی بڑی شوقین ہے۔ اس کے بعد میں موضوع تبدیل کرتے ہوئے بولا۔۔ اچھا یہ بتا کہ بھابی کو تیرے گھر والے کیسے لگے۔۔۔ تو وہ کہنے لگا ۔۔۔ جہاں تک ہمار ے گھر والوں کا تعلق ہے تو مجموعی طور پر ۔۔۔وہ ان کے ساتھ بہت خوش ہے ہاں جب ممی کسی بات سے اسے منع کرتی ہیں تو یو نو۔۔۔ ہر بہو کی طرح یہ بھی ناک بھوں چڑھاتی ہے لیکن اوور آل ماما اور باجی کے ساتھ اس کے تعلق بہت اچھے ہیں۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد ہم ڈرائینگ روم میں آ گئے اور صوفے پر بیٹھتے ہی وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا تُو سنا جگر کیسا ہے؟ آنٹیاں کیسی چل رہیں ہیں؟ آخری دفعہ کس کی لی؟ تو آگے سے میں دانت نکالتے ہوئے بولا ۔آخری دفعہ بھی اسی کی لی ۔۔۔۔ کہ جس کی سیکنڈ لاسٹ دفعہ لی تھی تو وہ حیران ہوتے ہوئے بولا جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تیرے پاس تو آنٹیوں کا اچھا خاصہ اسٹاک ہوا کرتا تھا یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ہزار منت ترلوں کے باوجود بھی تم نے کبھی کسی آنٹی کی ہوا بھی نہیں لگوائی تھی۔ پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا کہ یو نو دوست امریکہ میں میں نے تمہارے اس فارمولے سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے۔۔۔۔ پھر کہنے گا۔۔میں نے تمہارے اس فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ہزار کوششوں کے باوجود کبھی بھی۔۔۔کسی ایک کی بات کو دوسرے کے ساتھ شئیر نہیں کی تھی۔ اسی لیئے میں پلوی جی کی آدھی سہلیوں/ رشتے داروں کو چودنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔کیونکہ انہیں مجھ پر یقین آ گیا تھا کہ میں راز کو ہمیشہ راز ہی رکھوں گا۔ اس کے بعد وہ میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا اسی لیئے مائی ڈئیر فرینڈ۔۔۔۔ میں تم سے ہر گز نہیں پوچھوں گا کہ لاسٹ اور سیکنڈ لاسٹ والی خاتون کون ہے؟ تو اس پر میں اس سے بولا ۔۔ بیٹا۔۔تو تو مجھ سے نہیں پوچھے گا لیکن اس کے برعکس میں تم سے امریکہ میں پہلی گوری کو چودنے کا واقعہ معہ نمک مرچ ضرور پوچھوں گا ۔ اس لیئے شاباش شروع ہو جاؤ۔۔۔ میری بات سن کر اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا کیا بتاؤں دوست کہ جس طرح تم کو میری سٹوری سننے کی بڑی جلدی ہے اسی طرح بلیو مویز دیکھ دیکھ کر ہزاروں پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی کسی گوری کو چودنے کا بڑا شوق تھا لیکن پھر یوں ہوا کہ گوری کی بجائے مجھے ایک دیسی ایٹم بمب مل گئی جس کا ذائقہ ۔۔۔جس کا سٹائل ۔۔۔اور سیکس کرنے کا انداز مجھے اس قدر بھایا کہ وقتی طور پر میں گوری کو بھول گیا اور جتنی دیر تک میں پلوی جی کے ساتھ سٹور پر رہا حرام ہے جو میرے دل میں کبھی کسی گوری کا خیال بھی آیا ہو ۔۔۔۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اور ان کی دوست جن میں ان کی کچھ قریبی رشتے دار بھی شامل تھیں۔۔۔۔ ہمیشہ ہی مجھے پرُ باش رکھتی تھی کہ جب بھی موقعہ ملتا ۔۔۔۔۔۔۔۔تو میں انہیں یا ان کی کسی دوست کو چود لیا کرتا تھا اور اگر کبھی وقت کم ہوتا تو وہ ہنسی خوشی چوپا بھی لگا لیا کرتی تھیں۔۔۔ ۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ زندگی بڑی موج سے گزر رہی تھی کہ ایک دن خبر ملی کہ نارائن جی نے ایک عرصہ دراز سے بند سٹور خرید لیا ہے اور اس وقت تک چونکہ میں مامی اور پلوی جی کی مہربانی سے کام سیکھ چکا تھا اس لیئے اس سٹور کو چلانے کے لیئے ان کی نگاہِ انتخاب مجھ پر آن پڑی ۔۔اس کی مین وجہ یہ تھی کہ میں ان کا دیکھا بھالا اور ایماندار لڑکا تھا۔۔ ہر چند کہ نئے سٹور پر مجھے بھیجنے کے لیئے پلوی جی نے بہت مزاحمت کی ۔ لیکن مامی اور نارائن جی نہ مانے ۔۔۔۔اور کچھ مزاحمت کے بعد۔۔۔۔۔ چار و ناچار پلوی جی نے مجھے دوسرے سٹور پر جانے کی اجازت دے دی۔ اور وہ بھی اس شرط پر کہ جب بھی میری ضرورت محسوس ہوئی میں آ جاؤں گا۔ نارائن جی کا یہ سٹور ہمارے اس سٹور سے خاصہ چھوٹا اور گھر سے کافی دور واقع تھا۔ خیر میں وہاں چلا گیا اور کام شروع کر دیا۔ دھیرے دھیرے وہاں کے لوگوں سے ہیلو ہائے بھی ہو گئی۔۔۔ لیکن چونکہ یہ سٹور کافی عرصہ بند رہنے کے بعد ابھی کھلا تھا اس لیئے یہاں پر گاہگوں کی اتنی آمد و رفت نہ تھی۔ ایک دن کی بات ہے کہ میں کاؤنٹر پر بیٹھا بور ہو رہا تھا کہ اتنے میں ایک نہایت خوش شکل امریکن گورا سٹور میں داخل ہوا اس کی عمر یہی کوئی پینتالیس پچاس کے قریب ہو گی ۔ اس نے گرے رنگ کا برانڈڈ سوٹ پہنا ہوا تھا جو کہ اس پر بہت جچ رہا تھا ۔۔ اس کے ایک ہاتھ میں سیاہ رنگ کا بریف کیس پکڑا ہوا تھا اپنے حال حلیہ سے وہ کوئی امیر آدمی لگ رہا تھا ۔ اس نے ایک بئیر اور مارل برو (Marlboro) سگریٹ کا پیکٹ خریدا۔۔۔اور مجھے پیسے دے کر جب وہ پرس کو واپس پینٹ کی جیب میں رکھنے لگا تو اس وقت کسی طرح اس کے پرس سے سو ڈالر کا نوٹ فرش پر گر گیا۔۔۔۔ جبکہ وہ گورا صاحب اس بات سے بے خبر پرس کو جیب میں رکھ کر باہر کی طرف چل دیا ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں تیزی سے کاؤنٹر سے باہر نکلا۔۔۔۔اور </s
  4. میں کچھ کروں؟ اس کی بات سن کر میں تو حیران ہی رہ گیا۔۔۔اور کپکپاتی ہوئی آواز میں بولا۔۔۔۔تم ۔۔۔۔۔ میرا مطلب کہ آپ پ پ پ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو وہ سر ہلا کر بولا۔۔۔۔ ہاں میں ۔۔ اتنی بات کرتے ہی اس نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔۔۔اور پرس سے ایک تصویر نکال کر مجھے دکھاتے ہوئے بولا۔۔ یہ کیسی ہے؟ اس نے جو تصویر مجھے دکھائی تھی یہ ساحل، سمندر سے لی گئی ایک گوری کی ہوش ربا تصویر تھی جس کے بال سنہرے۔۔ چھاتیاں تنی ہوئیں تھیں ۔۔ اس گوری نے بکنی پہنی ہوئی تھی ۔۔ اور اس مختصر سے لباس میں اس کے زنانہ اعضاء کچھ اس طرح سے نمایاں ہو رہے تھے کہ انہیں دیکھ کر میرا دورانِ خون کچھ اور بھی تیز ہو گیا تھا ۔۔۔ اور میں بے یقینی کے عالم میں کبھی جان ۔۔۔اور کبھی اس دل کش ، خوب صورت اور نیم عریاں گوری کی تصویر کو دیکھنے لگتا ۔ ابھی میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس تصویر کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک جان نے میرے ہاتھ سے اس تصویر کو اچک لیا۔۔۔۔ اور اسے واپس پرس میں ڈالتے ہوئے بولا۔۔ کیسی لگی؟ تو میں نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔یہ۔۔۔ یہ تو کوئی ہالی وڈ کی اسٹار لگتی ہے تو آگے سے وہ جواب دیتے ہوئے بولا۔۔ اس بات کو چھوڑو کہ ۔۔۔۔ یہ ہالی ووڈ اسٹار ہے یا کوئی بزنس وومن ۔۔ تم بس یہ بتاؤ کہ ۔۔۔ تمہیں یہ بیوٹی چاہیئے کہ نہیں ؟ نہیں کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہونا تھا۔۔۔۔۔۔ کہ ہم جیسے محکوم ملک کے لوگوں کے لیئے گوری میم ایک آسمان سے اتری ہوئی اپسرا سے کم نہیں ہوتی ۔۔۔چنانچہ میں اپنے لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولا۔۔ ۔۔۔ اس جیسی خوب صورت حسینہ کے لیئے کوئی کافر ہی انکار کر سکتا ہے ۔۔۔ پھر میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔ کہ یہ حسینہ ہے کون ؟ تو وہ بڑے پر اسرار لہجے میں بولا۔۔۔۔ ۔ اس سے ملنا چاہو گے؟ ۔۔ جان کی بات سن کر میں بڑی بے تابی سے بولا۔۔ کب ملا رہے ہو؟ تو وہ اطمینان سے کہنے لگا اگر تم ایگری ہو ۔۔۔۔تو کل یا مے بی پرسوں۔۔۔ تو اس پر میں جلدی سے بولا ۔۔ آج ہی کیوں نہیں ملوا دیتے ؟ میری بات سن کر وہ ہنس پڑا ۔۔اور مجھے تھپکی دیتے ہوئے بولا ۔۔۔ ٹیک اٹ ایزی لٹل بوائے!!۔۔۔ پھر اچانک ہی وہ سیریس ہوتے ہوئے بولا ۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔فرض کرو میں اس سے تمہیں ملوا دیتا ہوں۔۔ ۔۔۔اور ۔۔۔ تم اسے فک کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہو۔۔۔ ۔۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے خاص انداز میں بولا۔۔۔بڈی! تم نے تو اپنے مزے لے لیئے ۔۔۔۔۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟ اس کی بات سن کر میں حیران رہ گیا اور پھر اس سے بولا۔۔۔ آپ کتنے ڈالر لو گے ؟ تو وہ نفی میں سر ہلا کر بولا۔۔۔ ۔۔ ڈالر نہیں دوست ۔۔۔بلکہ میری ایک شرط ہو گی۔۔ جان کی بات سن کر میں چونک اُٹھا اور اس سے بولا کیسی شرط؟ تو وہ ٹھہر ٹھہر کر کہنے لگا ۔۔ وہ شرط یہ ہے کہ تم اس بیوٹی فل لیڈی کو میرے سامنے فک کرو گے۔۔ جان کی بات سن کر میں ہکا بکا رہ گیا۔۔ اور بے یقینی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ تمہارے سامنے؟ تو وہ بڑی مکاری سے مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔ہاں میرے سامنے !!!۔۔۔۔پھر کہنے لگا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہارے کسی بھی کام میں مداخلت نہیں کروں گا ۔۔ یہ تم دونوں کی اپنی انڈر سٹینڈنگ ہو گی۔کہ تم اسے کس سٹائل میں فکنگ کرو گے۔۔۔ اس پر میں اس سے کہنے لگا۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔لیکن۔۔۔مم۔ میں۔۔۔ لیکن میری بات کو مکمل ہونے سے پہلے ہی اس نے ایک دفعہ پھر جیب سے وہی تصویر نکالی اور مجھے دکھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اس کو فک کرنا چاہتے یا نہیں ؟؟؟ تو میں نے جلدی سے اقرار میں سر ہلا دیا۔۔۔ تب وہ اسی مکاری سے بولا تو پھر تمہیں اس کی قیمت دینی ہو گی۔۔۔ جو فقط اتنی سی ہے کہ تم اسے میرے سامنے فک کرو گے ۔۔ اگر منظور ہے تو ویل اینڈ گڈ ۔۔نہیں تو میں اپنی آفر واپس لیتا ہوں۔۔۔ ۔۔ جان کی یہ بات سن کر میری تو گانڈ پھٹ گئی۔۔۔۔ اور ایک مفت کی گوری ہاتھ سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔ تب میں نے آخری چارے کے طور پر اس سے کہا ۔۔۔ اس میں کوئی پرابلم تو نہیں ہو گی ناں؟ میری نیم رضا مندی اور اس گوری کے لیئے ۔۔۔۔ بےتابی کو دیکھ کر وہ بڑا خوش ہو ا۔۔ اور پھر سنجیدگی کے ساتھ کہنے لگا ۔۔ یہ میری گارنٹی ہے کہ تمہیں کسی بھی قسم کی ۔۔۔ کوئی پرابلم نہیں ہو گی ۔ بلکہ تم انجوائے کرو گے تب میں نے اس سے کہا کہ کیا وہ آپ کے سامنے مجھ سے فک کروانے پر راضی ہو جائے گی؟ تو وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔ میں کل اسے تم سے ملوانے لاؤں گا بہتر ہو گا کہ یہ بات تم میری بجائے اس سے خود پوچھ لینا۔۔اس کے بعد اس نے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور سٹور سے باہر نکل گیا۔۔۔۔ مسٹر جان تو وہاں سے دفعان ہو گیا لیکن جاتے جاتے ۔۔۔۔۔ میری آنکھوں کو اس سنہرے بالوں والی سیکسی گوری کے خواب دے گیا ۔ یہ کہہ کر عدیل نے میری طرف دیکھا ۔۔۔ اور کہنے لگا۔۔۔ کہ یو نو پاکستان میں تو گوری کا نام سنتے ہی ہمارے دل کی دھڑکن تیز ۔۔۔۔ اور لن الف ہو جایا کرتا تھا ۔ جبکہ یہاں تو ایک جیتی جاگتی اور بے حد خو صورت گوری میرے نیچے آنے والی تھی ۔۔۔۔ اس لیئے۔۔۔ میں بڑی بے صبری کے ساتھ اس وقت کا انتظار کرنے لگا کہ جب اس قاتلہ کا دیدار ہو گا۔۔ اگلے دن سٹور کھولنے کے بعد سے ہی میری آنکھیں دروازے پر لگی ہوئیں تھیں ۔۔ کہ وہ کب آئے گی۔۔ اتفاق سے مجھے ذیادہ دیر تک انتظار نہیں کرنا پڑا ۔ سٹور کھلنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی جان ایک نہایت خوب صورت گوری کے ساتھ سٹور میں داخل ہوا۔ یہ وہی فوٹو والی گوری تھی لیکن آج اس نے بکنی کی بجائے۔۔۔ ورکنگ لیڈی والا لباس پہنا ہوا تھا ۔۔۔(بعد میں معلوم ہوا کہ مجھ سے ملنے کے بعد اس نے سیدھا آفس جانا تھا) ۔۔
  5. ۔۔۔ نائیس ٹو میٹ یو مسٹر ایڈی ۔۔ اچھے خاصے عدیل کو "ایڈی" بنتے دیکھ کر مجھے وَٹ تو بہت چڑھا ۔۔۔۔ لیکن میں چپ رہا۔ اس کے بعد مسٹر جان کافی دیر تک میرے ساتھ گپ شپ کرتا رہا ۔۔۔ ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک سٹور کا دروازہ کھلا ۔۔۔۔اور پلوی جی اندر داخل ہوئیں۔۔ ۔ پلوی جی کو یوں اپنے سامنے دیکھ کر میں حیران رہ گیا اس بات کو مسٹر جان نے بھی محسوس کر لیا اور وہ مجھ سے کہنے لگا کہ یہ لیڈی کون ہے؟ تو میں نے اس کو بتلایا کہ لیڈی اس سٹور کی مالکہ ہے۔۔۔ میر ی بات سن کر اس نے سر ہلایا اور پھر مجھ سے ہاتھ ملا کر یہ کہتا ہوا باہر چلا گیا کہ پھر ملاقات ہو گی۔۔ ادھر دروازہ کھول کر جیسے ہی پلوی میم اندر داخل ہوئی تو میں نے دیکھا کہ اس نے کالے رنگ کی منی اسکرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔ جو کہ گھٹنوں سے کافی اوپر تک ہونے کی وجہ سے ان کی گول گول آدھ ننگی رانیں بڑی صاف دکھائی دے رہیں تھی۔۔ جبکہ اس منی اسکرٹ کے اوپر انہوں نے آف وہائیٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی جو کہ ان کو خاصی تنگ تھی ۔۔۔جس کی وجہ سے ان کے سینے کی گولائیں بغیر دیکھے ماپ ہو رہیں تھیں۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گلے میں منگل سوتر اور ماتھے پر ایک کالے رنگ کا ٹیکہ بھی لگایا ہوا تھا ۔ ۔ ابھی میں ان کا ایکسرے کر ہی رہا تھا کہ وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بولیں۔۔۔۔ اے مسٹر یہ اتنا گھور گھور کر کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو میں نے ان کی چھاتیوں پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا کہ میڈم جی آپ انگریزی لباس میں بھی اتنی ہی کیوٹ لگتی ہو جتنا کہ دیسی لباس میں۔۔ پھر میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔ پکے عاشقوں کی طرح کہا کہ آپ کے حسن کے بارے میں شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ۔۔۔جامہ زیبی نہ پوچھیئے ان کی ۔۔۔۔۔۔ جو بگڑنے میں بھی سنبھل جائیں۔۔۔ میرے منہ سے شعر سن کر وہ جھوم کر بولیں واہ واہ۔۔۔ کیا موقع کا شعر کہا ہے۔۔۔ مزہ آگیا ۔۔ پھر میرے نزدیک آ کر کہنے لگیں ۔۔ آج میں صرف تیرے لیئے تیار ہوئی تھی۔۔ تم کو میرا یہ روپ پسند آ گیا ۔اتنی بات کر نے کے بعد وہ لکھنوی سٹائل میں جھک کر بولیں۔۔۔دھنے واد!۔۔۔ پلوی جی کی یہ دل کش ادا دیکھ کر میں تو نہال ہو گیا ۔۔۔اور ان سے بولا ۔۔۔ دھنے واد کو چھوڑ میڈم ۔۔آ سینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے۔۔ میری بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔۔۔تیرے ساتھ سینے سے سینہ ملانے کے لیئے ہی میں تو آئی ہوں۔۔ ۔۔ اتنی بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے دونوں بازو کھولے ۔۔ اور میرے سینے کے ساتھ چمٹ گئیں۔۔ ان کی چھاتیاں میرے سینے کے ساتھ گویا دبی ہوئیں تھیں۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی "جائے مخصوصہ " کو میرے آلہء تناسل کے ساتھ رگڑنے کی کوشش تیز کر دی ۔۔ یہ دیکھ کر میں نے ان کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔۔ کیا بات ہے جی آج تو آپ بہت گرم لگ رہی ہیں ۔۔۔میری سرگوشی سن کر وہ اپنے منہ ۔۔۔۔ کو میرے ہونٹوں کے قریب لے آئیں ۔۔۔اور میرے منہ پر گرم سانسیں چھوڑتے ہوئے۔۔۔۔ شہوت بھرے لہجے میں بولیں۔۔۔ جتنی میری سانسیں گرم ہیں نا ۔۔ میں اس سے ہزار گنا زیادہ گرمی فیل کر رہی ہوں۔۔۔ ان کی بات سن کر میں نے ان کے منہ کے ساتھ آہستگی کے ساتھ اپنے منہ کو جوڑ دیا۔۔ ادھر جیسے ہی میرا منہ آگے بڑھا۔۔۔ پلوی جی نے بڑی بے تابی کے ساتھ ۔۔۔۔ اپنی زبان کو منہ سے نکالا ۔۔ اور چپکے سے میرے منہ میں ڈال دی۔۔ اور ہم دونوں ۔۔۔ اپنی زبانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑانے اور ٹکرانے شروع ہو گئے۔۔ کچھ دیر بعد میں نے ان کے منہ سے اپنی زبان کو نکالا۔۔۔۔اور ان کی نرم گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے شرارت سے بولا۔۔۔ کہ آج نارائن صاحب کی جگہ آپ کیوں آئی ہیں ؟ تو آگے سے وہ میرے لن کو پکڑ کر ہلاتے ہوئے بولیں ۔۔ نارائن جائے بھاڑ میں ۔۔۔۔۔ تو صرف اپنے اس (لن ) دوست سے ملنے آئی ہوں ۔۔ ان کی بات سن کر میں بولا ۔۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہوا۔۔۔ کہ آپ کے پتی دیو نیو یارک سے کہیں باہر گئے ہوئے ہیں۔۔۔اسی لیئے آپ گل چھرے اُڑانے کے لیئے میرے پاس آ گئی ہو۔۔میری بات سن کر وہ مصنوعی غصے سے بولیں۔۔۔ ۔۔۔ بہن چود !۔۔ تو ایک نمبر کا حرامی ہے ایک تو میں تمہیں اپنی چوت کی مفت سروس دینے کے لیئے آئی ہوں ۔۔۔ اور تم بجائے میرا شکریہ ادا کرنے کے خواہ مخواہ کی باتیں چود رہے ہو۔۔۔ اس کے بعد وہ سٹور کے مین گیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ جلدی سے ڈور لاک کر آؤ کہ میرے پاس وقت بہت کم ہے۔ ا ن کی بات سن کر میں بھاگ کر گیا۔۔۔۔اور سٹور کے مین گیٹ کو لاک کر آیا۔۔۔ اور واپس آ کر پلوی جی سے لپٹ گیا۔۔انہوں نے جپھی لگاتے ہی۔۔ایک دفعہ پھر سے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی ۔۔ اور بڑی مہارت کے ساتھ میرے منہ میں گھمانا شروع ہو گئیں۔۔۔۔۔ دوسری طرف ان کے ساتھ کسنگ کرتے کرتے ۔۔۔ میں نے بھی ان کی اسکرٹ کے اندر ہاتھ ڈالا ۔۔۔اور پینٹی کے اوپر سے ہی ان کی نازک جگہ پر اپنی انگلی پھیرنا شروع ہو گیا۔۔ ۔۔۔ جیسے ہی میری انگلی ان کی چوت کی درمیانی لکیر پر پہنچی تو ۔۔۔ وہ مجھے گیلی محسوس ہوئی۔۔۔ یہ دیکھ کر میں اپنے ہاتھ کو ان کی پینٹی کے اندر لے گیا۔۔۔۔اور ان کی گیلی۔۔۔۔ نرم اور ننگی پھدی پر انگلی پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔ میرے اس عمل سے وہ سرک کر میرے ساتھ لگ گئیں۔۔۔۔۔اور پہلے سے بھی زیادہ جوش کے ساتھ ٹنگ کسنگ کرنے لگیں۔۔۔کچھ دیر انگلی پھیرنے کے بعد ۔۔۔ میں اپنی اس انگلی کو ان کے دانے کے اوپر لے گیا۔۔۔اور ان کے پھولے ہوئے دانے کو اپنی دو انگلیوں میں پکڑا ۔۔۔۔ اور اسے مسلنے لگا۔۔۔۔۔ میرا دانے مسلنے کی دیر تھی کہ پلوی جی نے اپنی زبان کو میرے منہ سے باہر نکالا ۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ان کے منہ سے سسکیوں کا طوفان نکلنا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔اور پھر انہی سسکیوں کے درمیان ۔۔۔ انہوں نے میرے اکڑے ہوئے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا ۔۔۔ ۔۔۔ اور اسے بے طرح دبانے لگیں۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف میں دانے کو کچھ مزید تیزی کے ساتھ مسلنا شروع ہو چکا تھا۔۔۔ میرا ایسے کرنے کے کچھ دیر بعد ۔۔۔ ہی میرے کانوں میں ۔۔۔۔ میڈم کی شہوت بھری آواز گونجی۔۔۔۔ وہ کہہ رہیں تھیں۔۔۔۔۔ حرام کے پلے۔۔۔مادر چود۔۔ میرے چھولے کو ایسے ہی مسلتا رہے گا ؟ چودے گا نہیں مجھے؟ تو آگے سے میں جواب دیتے ہوئے ۔۔۔۔شرارت سے بولا ۔۔۔ رنڈی کی بچی ۔۔۔ ۔۔آج نہیں چودوں گا۔۔۔۔۔ بلکہ تیرے اس دانے کو ا یسے ہی مسلتا رہوں گا میری بات سن کر وہ ایک دم سے شہوت بھرے غصے میں بولیں۔۔۔ مادر چود ۔۔ جلدی سے اپنے ان کٹ لن کو میرے اندر ڈال۔۔۔ میں یہاں اپنے "چھولے" کو کچلوانے کے لیئے نہیں آئی ۔۔۔ بلکہ اپنی پھدی کی آگ بجھانے کے لیئے آئی ہوں ۔۔۔۔ لیکن میں نے پلوی میم کی بات کو سنا ان سنا کرتے ہوئے اپنی انگلیوں کو دانے سے ہٹا یا۔۔۔۔۔ اور اپنی ایک انگلی ان کی چوت کے اندر ڈال دی۔۔۔۔۔ اور اسے آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ بلکل میرے ساتھ لگ گئیں۔۔۔اور ایک موٹی سی گالی دے کر بولی ۔۔۔ سالے حرام کے تخم ۔۔ کتے کے بچے۔۔۔میں اتنی دور سے چل کر تیرے پاس آئی ہوں ۔۔۔ اور تو حرامی پلا۔۔۔۔ میری پھدی میں صرف ایک انگلی ڈال رہا ہے؟؟ ۔۔۔۔ پھر فُل مُوڈ میں کہنے لگی۔۔۔۔ سالے کم از کم دو انگلیاں تو اندر ڈال نا۔۔۔۔۔ ان کی بات کو سن کر میں نے اپنی دو انگلیاں ان کی چوت میں ڈالیں اور تیزی سے ان آؤٹ کرنے لگا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے میری انگلیوں کو زبردستی اپنی پھدی سے نکالا۔۔۔اور میرے گالوں کو اپنے دانتوں سے کاٹ کر بولیں ۔۔ حرام کے جنے ۔۔۔۔ تجھے تھوڑی سی لفٹ کیا کرا دی تو تو میرے سر پر چڑھ گیا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری پینٹ کی زپ کھولی اور پھر گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھ گئیں۔۔۔۔اور پھر میرے اکڑے ہوئے لن کو پینٹ سے باہر نکالا ۔۔۔۔ اور بنا کوئی بات کیئے۔۔۔۔۔ اپنے منہ میں لے کر برق رفتاری سے چوپا لگانے لگیں۔۔۔اب کہ سسکیاں بھرنے کی میری باری تھی لیکن انہوں نے مجھے سسکیاں بھرنے کا زیادہ موقعہ نہیں دیا ۔۔۔اور تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے لن چوسنا بند کر دیا۔۔۔۔۔اور سیدھی کھڑی ہو گئیں ۔۔۔۔اور اپنی منی اسکرٹ کو رول کر کے ہپس کے کافی اوپر تک لے گئیں۔۔ اسکرٹ کے نیچے انہوں نے بہت ہی مختصر سی پینٹی پہنی ہوئی تھی جو کہ بمشکل پھدی کی لکیر کو ڈھانپ رہی تھی۔۔ میں اس مختصر سی پینٹی کو ایک سائیڈ پر کر دیا۔۔۔ جس کی وجہ سے ان کی چوت ننگی ہو کر میرے سامنے آ گئی۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ادھر سے فارغ ہو کر میں نے اپنے ٹوپے پر تھوک لگا کر اسے چکنا کیا۔۔۔۔۔ تو میری دیکھا دیکھی وہ بھی اپنی دو انگلیوں کو منہ کی طرف لے گئیں اور پھر ان پر تھوک ڈال کر اپنی پہلے سے چکنی پھدی کو مزید چکنا کر دیا۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کے لبوں پر رکھا۔۔۔۔۔۔۔ اب میں نے ان کی رائیٹ والی ٹانگ کو اوپر کر کے پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی ٹانگ اوپر کرنے کی وجہ سے لن پھدی کے ملاپ میں بہت آسانی پیدا ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ اب میں نے ان کی چوت کے لبوں پر رکھے لوڑے کو ماہرانہ انداز میں ۔۔۔ ایک جھٹکا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھٹکا کھاتے ہی میرا لن بغیر کسی روک ٹوک کے ان کی شاندار چوت میں اتر گیا۔۔۔۔جیسے ہی میرا لن ان کی چوت میں اترا۔۔۔۔ انہوں نے پہلے تو ایک بہت زبردست شہوت بھری چیخ ماری اور اس کے ساتھ ہی۔۔۔ ۔۔۔ ان کے منہ سے گالیوں کا نہ تھمنے والا طوفان نکلنا شروع ہو گیا۔۔ وہ کہہ رہیں تھیں کہ مادر چود۔۔۔۔ حرام کے جنے۔۔۔۔ کتے کے پلے۔۔۔ڈال دیا ہے ۔۔تو اب رکنا نہیں ۔۔مجھے تیرا لنڈ چاہیئے ۔۔۔ ادھر ۔۔۔ میری چوت میں ۔۔۔ مجھے چودو۔۔۔۔ ۔۔۔ اپنی رانڈ کو چودو۔۔میری چوت کا بھرتہ بنا دو۔۔۔۔ ان کی شہوت سے بھر پور چیخ و پکار سے میں سمجھ گیا کہ میڈم آج کچھ ایکسٹرا گرم ہے۔۔۔۔۔ اور اگر میں ایسے ہی سپیڈی دھکے مارتا رہا ۔۔۔ تو کسی بھی وقت میڈم کا اینڈ پوائیٹ آ جائے گا۔۔۔۔۔یہ سوچ کر میں نے دھکے مارنے کی سپیڈ کو مزید بڑھا دیا۔۔۔ جیسا کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ اس دن میڈم کچھ زیادہ ہی گرم تھی ۔۔ ۔۔۔لیکن میرے اندازوں کے برعکس ۔۔ کچھ ہی دیر کے بعد میڈم کے جسم نے جھٹکے مارنے شروع کر دیئے۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ میڈم کی چوت بھی ٹائیٹ ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ ٹائیٹ اور ٹائیٹ۔۔۔ اور ۔۔ اور ۔۔۔ اس کے ساتھ میڈم سسکیاں لیتے ہوئے۔۔۔۔ آہ ۔۔۔آہ ہ ہ اُف۔ف۔ف۔ف اُف۔۔۔ کرنا شروع ہو گئی ۔۔۔ ۔۔۔ اور اس سے ٹھیک اگلے ہی لمحے ۔۔۔۔ میڈم کی چوت سے گدلے پانی کا سیلاب نکلنا شروع ہو گیا ۔۔۔ میں کچھ دھکے اور مارنا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن تیز تیز سانس لیتی میڈم نے مجھے مزید دھکے مارنے سے منع کر دیا۔۔۔ بلکہ ہاتھ بڑھا کر میرے لن کو اپنی چوت سے ہی باہر نکال دیا اور خود گہرے گہرے سانس لینے لگیں۔۔۔۔۔۔ان کی حالت کو دیکھ کر میں نے انہیں اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔۔۔ اور ان کے سانس بحال ہونے تک انہیں ساتھ لگائے رکھا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ان کا سانس بحال ہوگیا ۔۔۔اور وہ نارمل ہو گئیں ۔۔۔۔تو میں نے ان کو خود سے الگ کیا۔۔۔اور اپنے اکڑے ہوئے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اس کا کچھ کرو۔۔ میری بات سن کر انہوں نے سر ہلایا ۔۔۔۔اور پھر فرش پر اکڑوں بیٹھ گئیں ۔۔۔۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے لن کو اپنے منہ میں لے کر۔۔۔اسے اس وقت تک چوستی رہیں کہ جب تک میری منی کی آخری بوند بھی ان کے حلق سے نیچے نہ اتر گئی۔۔۔ ۔۔۔اگلے کچھ دنوں تک مسٹر جان تواتر کے ساتھ سٹور پر آتا رہا۔ اور پھر ہوتے ہوتے میری اس مہذب اور گریس فل آدمی کے ساتھ اچھی خاصی گپ شپ ہو گئی۔۔۔ انہی دنوں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔۔۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم دونوں بات چیت کر رہے تھے کہ اسی دوران سٹور میں ایک ڈھلتی عمر کی پختہ کار گوری داخل ہوئی۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ ایک لمبے قد کی خوب صورت ۔۔۔سیکسی۔۔ اور توانا عورت تھی ۔ جس نے اپنے جسم کی نمائش میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی تھی ۔۔اس کے جسم کی ہر چیز فٹ تھی ۔۔۔۔ لیکن وائے افسوس کہ۔۔۔۔۔۔ اس حسین خاتون کی چھاتیاں بہت چھوٹی تھیں۔ لیکن چھاتیوں کے برعکس ۔۔۔ اس کی گانڈ ۔۔۔۔۔اور رانیں ۔۔۔۔ بہت ہی موٹی اور پر گوشت تھیں ۔۔۔۔ جنہیں دیکھ کر مجھے کچھ کچھ ہو نے لگا ۔۔۔۔مطلب اس گوری کی مست رانیں دیکھ میری شہوت جاگ اُٹھی اور ۔۔۔۔۔میں (چوری چوری ) اسے بڑی ہی ہوس ناک نظروں کے ساتھ گھورتا رہا۔۔۔ میری یہ حسرت بھری نظریں جان مخفی نہ رہ سکیں۔۔۔۔۔چنانچہ کچھ خریداری کے بعد جب وہ حسینہ ۔۔۔۔۔واپسی کے لیئے مُڑی ۔۔۔۔تو میں اس کی موٹی گانڈ پر دُور بین فٹ کیئے ۔۔۔ ترسی ہوئی نظروں کے ساتھ ۔۔ اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور جب وہ خاتون سٹور سے باہر نکل گئی ۔۔۔تو دفعتاً میرے کانوں میں جان کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔۔ ویل لٹل بوائے! ۔۔جان کی آواز سن کر ۔۔۔ جب میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ ایک بات پوچھوں؟ چونکہ اس وقت تک میری جان کے ساتھ اچھی خاصی بے تکلفی ہو چکی تھی اس لیئے میں نے اسے کہا کہ جی ضرور پوچھو؟ تو آگے سے وہ کہنے لگا ۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے تمہیں یہ لیڈی بہت پسند آئی ہو۔۔۔ایم آئی رائیٹ آر رانگ؟؟ ۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ مسٹر جان! یو آر ویری رائیٹ ۔۔۔ ۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگا۔۔۔ لیکن تمہاری اور اس کی عمر میں بہت زیادہ فرق ہے ۔۔ پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے ہی پُر اسرار لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔ کہیں تمہیں میچور لیڈیز تو پسند نہیں ؟ تو آگے سے میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔اس کے بعد اس نے بڑے ہی ڈرامائی انداز میں مجھ سے سوال کیا۔۔۔ کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ چونکہ میری اس کے ساتھ اس موضوع پر پہلی دفعہ بات ہو رہی تھی اس لئے قدرتی طور پر میں کچھ ہچکچاہت محسوس کر رہا تھا لیکن جب اس نے مجھ سے دوبارہ یہی سوال کیا کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ تو میں نے کچھ شرماتے اور کچھ گھبراتے ہوئے ہاں کر دی میری شرماہت کو دیکھ کر وہ بڑا محظوظ ہوا اور پھر شرارت بھرے لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔کبھی کسی کے ساتھ سیکس کیا؟ تو میں نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے جواب دیا کہ ابھی تک تو ہاتھ سے ہی کام چلا رہا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔ اور پھر ادھر ادھر کی باتیں ۔۔۔۔ کرتے کرتے اچانک ہی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھوڑی دیر بعد ان کا سانس بحال ہوگیا ۔۔۔اور وہ نارمل ہو گئیں ۔۔۔۔تو میں نے ان کو خود سے الگ کیا۔۔۔اور اپنے اکڑے ہوئے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اس کا کچھ کرو۔۔ میری بات سن کر انہوں نے سر ہلایا ۔۔۔۔اور پھر فرش پر اکڑوں بیٹھ گئیں ۔۔۔۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے لن کو اپنے منہ میں لے کر۔۔۔اسے اس وقت تک چوستی رہیں کہ جب تک میری منی کی آخری بوند بھی ان کے حلق سے نیچے نہ اتر گئی۔۔۔ ۔۔۔اگلے کچھ دنوں تک مسٹر جان تواتر کے ساتھ سٹور پر آتا رہا۔ اور پھر ہوتے ہوتے میری اس مہذب اور گریس فل آدمی کے ساتھ اچھی خاصی گپ شپ ہو گئی۔۔۔ انہی دنوں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔۔۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم دونوں بات چیت کر رہے تھے کہ اسی دوران سٹور میں ایک ڈھلتی عمر کی پختہ کار گوری داخل ہوئی۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ ایک لمبے قد کی خوب صورت ۔۔۔سیکسی۔۔ اور توانا عورت تھی ۔ جس نے اپنے جسم کی نمائش میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی تھی ۔۔اس کے جسم کی ہر چیز فٹ تھی ۔۔۔۔ لیکن وائے افسوس کہ۔۔۔۔۔۔ اس حسین خاتون کی چھاتیاں بہت چھوٹی تھیں۔ لیکن چھاتیوں کے برعکس ۔۔۔ اس کی گانڈ ۔۔۔۔۔اور رانیں ۔۔۔۔ بہت ہی موٹی اور پر گوشت تھیں ۔۔۔۔ جنہیں دیکھ کر مجھے کچھ کچھ ہو نے لگا ۔۔۔۔مطلب اس گوری کی مست رانیں دیکھ میری شہوت جاگ اُٹھی اور ۔۔۔۔۔میں (چوری چوری ) اسے بڑی ہی ہوس ناک نظروں کے ساتھ گھورتا رہا۔۔۔ میری یہ حسرت بھری نظریں جان مخفی نہ رہ سکیں۔۔۔۔۔چنانچہ کچھ خریداری کے بعد جب وہ حسینہ ۔۔۔۔۔واپسی کے لیئے مُڑی ۔۔۔۔تو میں اس کی موٹی گانڈ پر دُور بین فٹ کیئے ۔۔۔ ترسی ہوئی نظروں کے ساتھ ۔۔ اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور جب وہ خاتون سٹور سے باہر نکل گئی ۔۔۔تو دفعتاً میرے کانوں میں جان کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔۔ ویل لٹل بوائے! ۔۔جان کی آواز سن کر ۔۔۔ جب میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ ایک بات پوچھوں؟ چونکہ اس وقت تک میری جان کے ساتھ اچھی خاصی بے تکلفی ہو چکی تھی اس لیئے میں نے اسے کہا کہ جی ضرور پوچھو؟ تو آگے سے وہ کہنے لگا ۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے تمہیں یہ لیڈی بہت پسند آئی ہو۔۔۔ایم آئی رائیٹ آر رانگ؟؟ ۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ مسٹر جان! یو آر ویری رائیٹ ۔۔۔ ۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگا۔۔۔ لیکن تمہاری اور اس کی عمر میں بہت زیادہ فرق ہے ۔۔ پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے ہی پُر اسرار لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔ کہیں تمہیں میچور لیڈیز تو پسند نہیں ؟ تو آگے سے میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔اس کے بعد اس نے بڑے ہی ڈرامائی انداز میں مجھ سے سوال کیا۔۔۔ کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ چونکہ میری اس کے ساتھ اس موضوع پر پہلی دفعہ بات ہو رہی تھی اس لئے قدرتی طور پر میں کچھ ہچکچاہت محسوس کر رہا تھا لیکن جب اس نے مجھ سے دوبارہ یہی سوال کیا کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ تو میں نے کچھ شرماتے اور کچھ گھبراتے ہوئے ہاں کر دی میری شرماہت کو دیکھ کر وہ بڑا محظوظ ہوا اور پھر شرارت بھرے لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔کبھی کسی کے ساتھ سیکس کیا؟ تو میں نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے جواب دیا کہ ابھی تک تو ہاتھ سے ہی کام چلا رہا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔ اور پھر ادھر ادھر کی باتیں ۔۔۔۔ کرتے کرتے اچانک ہی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھوڑی دیر بعد ان کا سانس بحال ہوگیا ۔۔۔اور وہ نارمل ہو گئیں ۔۔۔۔تو میں نے ان کو خود سے الگ کیا۔۔۔اور اپنے اکڑے ہوئے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اس کا کچھ کرو۔۔ میری بات سن کر انہوں نے سر ہلایا ۔۔۔۔اور پھر فرش پر اکڑوں بیٹھ گئیں ۔۔۔۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے لن کو اپنے منہ میں لے کر۔۔۔اسے اس وقت تک چوستی رہیں کہ جب تک میری منی کی آخری بوند بھی ان کے حلق سے نیچے نہ اتر گئی۔۔۔ ۔۔۔اگلے کچھ دنوں تک مسٹر جان تواتر کے ساتھ سٹور پر آتا رہا۔ اور پھر ہوتے ہوتے میری اس مہذب اور گریس فل آدمی کے ساتھ اچھی خاصی گپ شپ ہو گئی۔۔۔ انہی دنوں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔۔۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم دونوں بات چیت کر رہے تھے کہ اسی دوران سٹور میں ایک ڈھلتی عمر کی پختہ کار گوری داخل ہوئی۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ ایک لمبے قد کی خوب صورت ۔۔۔سیکسی۔۔ اور توانا عورت تھی ۔ جس نے اپنے جسم کی نمائش میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی تھی ۔۔اس کے جسم کی ہر چیز فٹ تھی ۔۔۔۔ لیکن وائے افسوس کہ۔۔۔۔۔۔ اس حسین خاتون کی چھاتیاں بہت چھوٹی تھیں۔ لیکن چھاتیوں کے برعکس ۔۔۔ اس کی گانڈ ۔۔۔۔۔اور رانیں ۔۔۔۔ بہت ہی موٹی اور پر گوشت تھیں ۔۔۔۔ جنہیں دیکھ کر مجھے کچھ کچھ ہو نے لگا ۔۔۔۔مطلب اس گوری کی مست رانیں دیکھ میری شہوت جاگ اُٹھی اور ۔۔۔۔۔میں (چوری چوری ) اسے بڑی ہی ہوس ناک نظروں کے ساتھ گھورتا رہا۔۔۔ میری یہ حسرت بھری نظریں جان مخفی نہ رہ سکیں۔۔۔۔۔چنانچہ کچھ خریداری کے بعد جب وہ حسینہ ۔۔۔۔۔واپسی کے لیئے مُڑی ۔۔۔۔تو میں اس کی موٹی گانڈ پر دُور بین فٹ کیئے ۔۔۔ ترسی ہوئی نظروں کے ساتھ ۔۔ اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور جب وہ خاتون سٹور سے باہر نکل گئی ۔۔۔تو دفعتاً میرے کانوں میں جان کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔۔ ویل لٹل بوائے! ۔۔جان کی آواز سن کر ۔۔۔ جب میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ ایک بات پوچھوں؟ چونکہ اس وقت تک میری جان کے ساتھ اچھی خاصی بے تکلفی ہو چکی تھی اس لیئے میں نے اسے کہا کہ جی ضرور پوچھو؟ تو آگے سے وہ کہنے لگا ۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے تمہیں یہ لیڈی بہت پسند آئی ہو۔۔۔ایم آئی رائیٹ آر رانگ؟؟ ۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ مسٹر جان! یو آر ویری رائیٹ ۔۔۔ ۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگا۔۔۔ لیکن تمہاری اور اس کی عمر میں بہت زیادہ فرق ہے ۔۔ پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے ہی پُر اسرار لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔ کہیں تمہیں میچور لیڈیز تو پسند نہیں ؟ تو آگے سے میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔اس کے بعد اس نے بڑے ہی ڈرامائی انداز میں مجھ سے سوال کیا۔۔۔ کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ چونکہ میری اس کے ساتھ اس موضوع پر پہلی دفعہ بات ہو رہی تھی اس لئے قدرتی طور پر میں کچھ ہچکچاہت محسوس کر رہا تھا لیکن جب اس نے مجھ سے دوبارہ یہی سوال کیا کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ تو میں نے کچھ شرماتے اور کچھ گھبراتے ہوئے ہاں کر دی میری شرماہت کو دیکھ کر وہ بڑا محظوظ ہوا اور پھر شرارت بھرے لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔کبھی کسی کے ساتھ سیکس کیا؟ تو میں نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے جواب دیا کہ ابھی تک تو ہاتھ سے ہی کام چلا رہا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔ اور پھر ادھر ادھر کی باتیں ۔۔۔۔ کرتے کرتے اچانک ہی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھوڑی دیر بعد ان کا سانس بحال ہوگیا ۔۔۔اور وہ نارمل ہو گئیں ۔۔۔۔تو میں نے ان کو خود سے الگ کیا۔۔۔اور اپنے اکڑے ہوئے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اس کا کچھ کرو۔۔ میری بات سن کر انہوں نے سر ہلایا ۔۔۔۔اور پھر فرش پر اکڑوں بیٹھ گئیں ۔۔۔۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے لن کو اپنے منہ میں لے کر۔۔۔اسے اس وقت تک چوستی رہیں کہ جب تک میری منی کی آخری بوند بھی ان کے حلق سے نیچے نہ اتر گئی۔۔۔ ۔۔۔اگلے کچھ دنوں تک مسٹر جان تواتر کے ساتھ سٹور پر آتا رہا۔ اور پھر ہوتے ہوتے میری اس مہذب اور گریس فل آدمی کے ساتھ اچھی خاصی گپ شپ ہو گئی۔۔۔ انہی دنوں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔۔۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم دونوں بات چیت کر رہے تھے کہ اسی دوران سٹور میں ایک ڈھلتی عمر کی پختہ کار گوری داخل ہوئی۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ ایک لمبے قد کی خوب صورت ۔۔۔سیکسی۔۔ اور توانا عورت تھی ۔ جس نے اپنے جسم کی نمائش میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی تھی ۔۔اس کے جسم کی ہر چیز فٹ تھی ۔۔۔۔ لیکن وائے افسوس کہ۔۔۔۔۔۔ اس حسین خاتون کی چھاتیاں بہت چھوٹی تھیں۔ لیکن چھاتیوں کے برعکس ۔۔۔ اس کی گانڈ ۔۔۔۔۔اور رانیں ۔۔۔۔ بہت ہی موٹی اور پر گوشت تھیں ۔۔۔۔ جنہیں دیکھ کر مجھے کچھ کچھ ہو نے لگا ۔۔۔۔مطلب اس گوری کی مست رانیں دیکھ میری شہوت جاگ اُٹھی اور ۔۔۔۔۔میں (چوری چوری ) اسے بڑی ہی ہوس ناک نظروں کے ساتھ گھورتا رہا۔۔۔ میری یہ حسرت بھری نظریں جان مخفی نہ رہ سکیں۔۔۔۔۔چنانچہ کچھ خریداری کے بعد جب وہ حسینہ ۔۔۔۔۔واپسی کے لیئے مُڑی ۔۔۔۔تو میں اس کی موٹی گانڈ پر دُور بین فٹ کیئے ۔۔۔ ترسی ہوئی نظروں کے ساتھ ۔۔ اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور جب وہ خاتون سٹور سے باہر نکل گئی ۔۔۔تو دفعتاً میرے کانوں میں جان کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔۔ ویل لٹل بوائے! ۔۔جان کی آواز سن کر ۔۔۔ جب میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ ایک بات پوچھوں؟ چونکہ اس وقت تک میری جان کے ساتھ اچھی خاصی بے تکلفی ہو چکی تھی اس لیئے میں نے اسے کہا کہ جی ضرور پوچھو؟ تو آگے سے وہ کہنے لگا ۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے تمہیں یہ لیڈی بہت پسند آئی ہو۔۔۔ایم آئی رائیٹ آر رانگ؟؟ ۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ مسٹر جان! یو آر ویری رائیٹ ۔۔۔ ۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگا۔۔۔ لیکن تمہاری اور اس کی عمر میں بہت زیادہ فرق ہے ۔۔ پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے ہی پُر اسرار لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔ کہیں تمہیں میچور لیڈیز تو پسند نہیں ؟ تو آگے سے میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔اس کے بعد اس نے بڑے ہی ڈرامائی انداز میں مجھ سے سوال کیا۔۔۔ کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ چونکہ میری اس کے ساتھ اس موضوع پر پہلی دفعہ بات ہو رہی تھی اس لئے قدرتی طور پر میں کچھ ہچکچاہت محسوس کر رہا تھا لیکن جب اس نے مجھ سے دوبارہ یہی سوال کیا کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ تو میں نے کچھ شرماتے اور کچھ گھبراتے ہوئے ہاں کر دی میری شرماہت کو دیکھ کر وہ بڑا محظوظ ہوا اور پھر شرارت بھرے لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔کبھی کسی کے ساتھ سیکس کیا؟ تو میں نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے جواب دیا کہ ابھی تک تو ہاتھ سے ہی کام چلا رہا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔ اور پھر ادھر ادھر کی باتیں ۔۔۔۔ کرتے کرتے اچانک ہی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھوڑی دیر بعد ان کا سانس بحال ہوگیا ۔۔۔اور وہ نارمل ہو گئیں ۔۔۔۔تو میں نے ان کو خود سے الگ کیا۔۔۔اور اپنے اکڑے ہوئے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اس کا کچھ کرو۔۔ میری بات سن کر انہوں نے سر ہلایا ۔۔۔۔اور پھر فرش پر اکڑوں بیٹھ گئیں ۔۔۔۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے لن کو اپنے منہ میں لے کر۔۔۔اسے اس وقت تک چوستی رہیں کہ جب تک میری منی کی آخری بوند بھی ان کے حلق سے نیچے نہ اتر گئی۔۔۔ ۔۔۔اگلے کچھ دنوں تک مسٹر جان تواتر کے ساتھ سٹور پر آتا رہا۔ اور پھر ہوتے ہوتے میری اس مہذب اور گریس فل آدمی کے ساتھ اچھی خاصی گپ شپ ہو گئی۔۔۔ انہی دنوں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔۔۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم دونوں بات چیت کر رہے تھے کہ اسی دوران سٹور میں ایک ڈھلتی عمر کی پختہ کار گوری داخل ہوئی۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ ایک لمبے قد کی خوب صورت ۔۔۔سیکسی۔۔ اور توانا عورت تھی ۔ جس نے اپنے جسم کی نمائش میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی تھی ۔۔اس کے جسم کی ہر چیز فٹ تھی ۔۔۔۔ لیکن وائے افسوس کہ۔۔۔۔۔۔ اس حسین خاتون کی چھاتیاں بہت چھوٹی تھیں۔ لیکن چھاتیوں کے برعکس ۔۔۔ اس کی گانڈ ۔۔۔۔۔اور رانیں ۔۔۔۔ بہت ہی موٹی اور پر گوشت تھیں ۔۔۔۔ جنہیں دیکھ کر مجھے کچھ کچھ ہو نے لگا ۔۔۔۔مطلب اس گوری کی مست رانیں دیکھ میری شہوت جاگ اُٹھی اور ۔۔۔۔۔میں (چوری چوری ) اسے بڑی ہی ہوس ناک نظروں کے ساتھ گھورتا رہا۔۔۔ میری یہ حسرت بھری نظریں جان مخفی نہ رہ سکیں۔۔۔۔۔چنانچہ کچھ خریداری کے بعد جب وہ حسینہ ۔۔۔۔۔واپسی کے لیئے مُڑی ۔۔۔۔تو میں اس کی موٹی گانڈ پر دُور بین فٹ کیئے ۔۔۔ ترسی ہوئی نظروں کے ساتھ ۔۔ اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور جب وہ خاتون سٹور سے باہر نکل گئی ۔۔۔تو دفعتاً میرے کانوں میں جان کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔۔ ویل لٹل بوائے! ۔۔جان کی آواز سن کر ۔۔۔ جب میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ ایک بات پوچھوں؟ چونکہ اس وقت تک میری جان کے ساتھ اچھی خاصی بے تکلفی ہو چکی تھی اس لیئے میں نے اسے کہا کہ جی ضرور پوچھو؟ تو آگے سے وہ کہنے لگا ۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے تمہیں یہ لیڈی بہت پسند آئی ہو۔۔۔ایم آئی رائیٹ آر رانگ؟؟ ۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ مسٹر جان! یو آر ویری رائیٹ ۔۔۔ ۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگا۔۔۔ لیکن تمہاری اور اس کی عمر میں بہت زیادہ فرق ہے ۔۔ پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے ہی پُر اسرار لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔ کہیں تمہیں میچور لیڈیز تو پسند نہیں ؟ تو آگے سے میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔اس کے بعد اس نے بڑے ہی ڈرامائی انداز میں مجھ سے سوال کیا۔۔۔ کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ چونکہ میری اس کے ساتھ اس موضوع پر پہلی دفعہ بات ہو رہی تھی اس لئے قدرتی طور پر میں کچھ ہچکچاہت محسوس کر رہا تھا لیکن جب اس نے مجھ سے دوبارہ یہی سوال کیا کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ تو میں نے کچھ شرماتے اور کچھ گھبراتے ہوئے ہاں کر دی میری شرماہت کو دیکھ کر وہ بڑا محظوظ ہوا اور پھر شرارت بھرے لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔کبھی کسی کے ساتھ سیکس کیا؟ تو میں نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے جواب دیا کہ ابھی تک تو ہاتھ سے ہی کام چلا رہا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔ اور پھر ادھر ادھر کی باتیں ۔۔۔۔ کرتے کرتے اچانک ہی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا
  6. بھولےہر گز نہیں جناب لیکن کیا کروں میری آئی ڈی میں کوئی رولا ہے تھوڑا تھوڑا کر کے بھی پوسٹ کروں تب بھی نہیں ہوتا اور بوتے کا تو سوال ہی پیدا نہیں۔۔۔ہوتا۔۔۔۔ جیسے ہی میری آئی کا مسلہ درست ہوا میں حاضر ہو جاؤں گا
  7. گوری میم صاحب (قسط نمبر3) اتنی بات سنانے کے بعد عدیل نے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا۔۔ امریکہ میں میری پہلی چودائی کی داستان کیسی لگی ؟ اس کی بات سن کر میں نے ایک طویل سانس لی اور اس سے بولا ۔۔۔ کمال ہے یار ۔۔ میڈم کی چودائی میں خاص کر ہندو چوت اور مسلم لن نے بڑا مزہ دیا۔۔تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا تمہیں معلوم ہے کہ فکنگ کے دوران ایسی باتیں کر کے سیکس کا جوش دوبالا ہو جاتا ہے۔۔ تو میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اچھا یہ بتا کہ اس کے بعد تم نے اس سیکسی میڈم کی ۔۔۔ ہندو چوت کتنی دفعہ بجائی؟ ؟ تو آگے سے وہ مجھے آنکھ مار تے ہوئے بولا۔۔۔ تعداد تو یاد نہیں یار۔۔بس یوں سمجھو کہ جب بھی موقع ملا میں نے اس کا بھر پور فائدہ اُٹھایا . اس کے بعد میں نے اس سے کہا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تم نے صرف اسی میڈم کی ہندو چوت ماری تھی یا؟ تو وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا ایسی بات نہیں ہے یار ۔۔۔ بلکہ میں تو پلوی میم کی تقریباً آدھی دوستوں رشتے داروں کو چود چکا ہوں ۔۔ اور ان میں غالب اکثریت ہندو پھدیوں کی تھیں ۔۔ ہاں یاد آیا ان میں سے ایک آدھ سکھ چوت بھی تھی۔۔۔ پھر کہنے لگا مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ساری خواتین چوت مروانے کے بعد مجھ سے یہی وچن لیتی تھیں ۔۔۔ کہ میں اس کی خبر کسی دوسری کو نہ ہونے دوں ۔۔۔ اور میں نے ایسا ہی کیا۔۔ اس پر میں نے اس سے پوچھا کہ ان میں سے سب سے اچھی کون لگی؟ تو وہ ایک دم سنجیدہ ہو کر بولا۔۔۔ ویسے تو ساری کی ساری ہی ہی بم شیل تھیں ۔۔۔ لیکن ان میں ایٹم بمب صرف اور صرف پلوی میم تھی۔۔۔ جس کی چودائی مجھے اس لیئے بھی نہیں بھولے گی کہ امریکہ میں وہ میری پہلی سیکس ٹیچر تھی اس پر میں نے اس سے کہا کہ یہ تو ہوئی دیسی چودائی کی داستان ۔۔۔لیکن اب مجھے یہ بتاؤ کہ امریکہ میں تم نے پہلی گوری کو کیسے چودا ؟ میری سن کر عدیل ہنس کر بولا۔۔ بہن چودا تیری سوئی ابھی تک گوری پر ہی اٹکی ہوئی ہے تو آگے سے میں بھی دانت نکالتے ہوئے بولا ۔۔وہ تو ہے۔۔۔ اس پر اس نے ایک فرمائشی سا قہقہہ لگایا اور پھر کہنے لگا کہ آج کے لیئے اتنا ہی کافی ہے ۔ پھر کسی دن میں تم کو گوری کے چودنے کا واقعہ سناؤں گا۔۔۔ فی الحال تو چلو کہ کافی وقت بیت گیا ہے اس کے ساتھ ہی وہ اپنی کرسی سے اُٹھا۔۔۔۔ اور ہم ریستوران سے باہر آ گئے۔۔۔ جاتے جاتے ایک دفعہ پھر وہ مجھے تاکید کرتے ہوئے بولا۔۔کل ضرور آنا کہ ماما تیرا بہت پوچھتی ہیں ۔۔ اس کے بعد وہ مجھے ٹاٹا کرتا ہوا اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔۔۔ حسبِ وعدہ اگلے دن میں ان کے گھر چلا گیا تو خاص کر آنٹی مجھ سے بڑے تپاک سے ملیں اور اس بات کا شکوہ بھی کیا کہ ان کے کہنے کے باوجود بھی میں کل کیوں نہیں آیا تھا؟ ان کا اتنا زیادہ خلوص دیکھ کر کھٹک تو میں پہلے ہی گیا تھا ۔ اب تھوڑا پریشان بھی ہو گیا۔۔لیکن بوجہ چپ رہا۔۔۔ اور دفتر ی کا م کا بہانہ لگا کر نہ آنے کی معذرت کر لی جسے انہوں نے بڑی خوش دلی کے ساتھ قبول بھی کر لیا۔۔ اور ساتھ ہی اس بات کی خاص تاکید کی کہ جب تک عدیل یہاں پر ہے میں کم از کم لنچ اس کے ساتھ ہی کیا کروں آنٹی کے اتنے زیادہ تپاک کو دیکھ کر میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ امریکہ کی طرح ہمارے ہاں بھی مفت میں لنچ کوئی نہیں کرواتا ۔۔۔ اور پھر من ہی من میں اس عنایت کی وجہ ڈھونڈنے لگا ۔ لیکن بظاہر اس کی کوئی خاص وجہ سامنے نہ آ رہی تھی۔۔۔چونکہ لنچ میں ابھی کچھ دیر تھی اس لیئے عدیل اور میں ڈارئینگ روم میں بیٹھ گئے ۔۔۔ابھی ہمیں وہاں پر بیٹھے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ عدیل کی بیگم (گوری میم) ماریا ۔۔۔بھی وہاں پہنچ گئی۔ ۔۔اسے آتے دیکھ کر میں احتراماً کھڑا ہو گیا اور اسے ہیلو کہا۔۔ جواباً اس قتالہ نے بھی مجھے ہیلو کہا اور اپنے گورے ہاتھ کو میری طرف بڑھا دیا ۔۔۔میں نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور چند سیکنڈز تک بڑی گرم جوشی کے ساتھ ہلاتا رہا۔۔۔۔۔۔۔ آج اس قتالہ نے سفید رنگ کی سلیو لیس شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جس میں وہ بڑی شاندار لگ رہی تھی۔۔۔لمبا قد ۔۔ اجلا رنگ ۔۔چوڑے شانے اور عریاں بازو۔۔اور ان سب سے بڑھ کر اس کی ننگی بغلیں (انڈر آرمز) ۔۔۔ جن پر ایک بھی بال نظر نہ آ رہا تھا۔۔۔ پتہ نہیں اس نے کس کریم کے ساتھ اپنی انڈر آرمز صاف کیے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔ اس کی بڑی بڑی اور سندر بغلوں سے خوشبو کے لاتعداد ہُلے اُٹھ رہے تھے۔۔۔۔اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ سلیو لیس پہننے کے لیئے اس گوری نے یقیناً آج ہی شیو کی ہو گی ۔۔۔اور پھر بغلوں کی شیو سے ہوتے ہوتے میرا گندہ ذہن ۔۔۔اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ والی جگہ پر چلا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ میڈم نے اپنی سیکسی بغلوں کی صافی کے ساتھ یقیناً اپنی "اس جگہ" بھی کریم لگائی ہو گی۔۔۔ اور انڈر آرمز کی طرح اسے بھی نِیٹ اینڈ کلین کیا ہو گا۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اور کیا انڈر آرمز کی طرح ۔۔۔۔ اس گوری کی جائے مخصوصہ سے بھی ۔۔۔ ایسے ہی خوشبو کی لپٹیں اُٹھ رہیں ہوں گی؟ ۔۔۔۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ مجھے چوت کی سمیل بہت زیادہ پسند ہے۔۔۔۔ اس لیئے۔۔۔یہ سوچ آنے کی دیر تھی کہ میرا لن۔۔۔۔ جو کہ پہلے ہی بہانے ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ ایک زبردست سی چھلانگ لگا کے کھڑا ہونے ہی والا تھا کہ میں نے بڑی مشکل کے ساتھ منت سماجت کر کے اسے واپس بٹھا دیا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔دوستو جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بندہ اچھا خاصہ ٹھرکی واقع ہوا ہے۔۔۔۔ اور اس وقت میرے سامنے جو چاند چہرہ ستار ہ آنکھوں والی گوری کھڑی تھی ۔۔۔اس کو اس حلیہ میں دیکھ کر غریب کی تو مت ہی ماری گئی لیکن ۔۔۔بندہ غریب مرتا کیا نہ کرتا۔۔۔۔۔کے مصداق ۔۔۔قہرِ درویش بر جانِ درویش۔۔ کی مکمل تصویر بنے۔۔۔ اپنی کمینگی چھپائے۔۔۔۔۔ بظاہر بڑی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔۔ ۔۔ ۔۔ یہ بھی شکر ہے کہ۔۔۔ اس دن کے برعکس آج اس کا گلا اتنا زیادہ کھلا نہ تھا لیکن اس کے باوجود اس کے وِی شیپ گلے کی گہرائی سے بہت کچھ دکھائی دے رہا تھا پتہ نہیں کیا بات ہے کہ میں اس گوری کو دیکھ کر ہمیشہ ہی نروس ہو جاتا تھا میری اس حالت کو شاید اس نے بھی محسوس کر لیا تھا ۔۔۔۔ یا پھر کوئی اور بات تھی کہ وہ کچھ دیر تک ہمارے ساتھ بیٹھی رہی پھر اُٹھ کر چلی گئی وہ جتنی دیر بھی میرے پاس بیٹھی ۔۔۔ میں خود پر قابو پاتے ہوئے ۔۔۔ اس کے ساتھ بظاہر بڑی خوش اخلاقی سے بات چیت کرتا رہا۔۔ لنچ کے دوران بھی عدیل کی ماما کا میرے ساتھ خصوصی رویہ رہا۔۔۔۔ جبکہ میں ان کی مہربانی کو انجوائے کرتے ہوئے اس کی وجہ تلاش کرتا رہا۔ اگلے دن کی بات ہے کہ عین لنچ کے وقت آفس میں ایک ارجنٹ کام پیش آ گیا۔جس کی وجہ سے میں نے عدیل کو معذرت کا فون کیا ۔ تو آگے سے وہ کہنے لگا کہ اچھا یہ بتا کہ تم کس وقت فارغ ہو گئے؟ تو میں نے اسے بتایا کہ دو تین گھنٹے تو لگ ہی جائیں گے تو اس پر وہ کہنے لگا تو ٹھیک ہے دوست جب تم آؤ گے تو اسی وقت لنچ ہو گا اور اس کے ساتھ ہی اس نے فون رکھ دیا ۔ آفس کا کام ختم ہونے کے فوراً بعد میں اس کے گھر گیا تو اس کے گھر میں اور کوئی نہ تھا پوچھنے پر کہنے لگا کہ ساری لیڈیز شاپنگ کے سلسلہ میں بازار گئی ہیں اور واپسی کا کوئی پتہ نہیں کہ کب آئیں۔۔ یہ کہہ کر وہ مجھے ڈائینگ ٹیبل پر لے آیا ۔۔۔۔۔ کھانے کے دوران میں نے عدیل سے پوچھا سنا یار بھابھی کو پاکستان کیسا لگا؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگا کیا بتاؤں یار اسے ہمارا ملک پسند نہین آیا تو اس پر میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ اس کی کوئی خاص وجہ ؟ تو وہ ایک دم سیریس ہو کر بولا ۔۔ یو نو وہ امریکہ کے آذاد ماحول کی ایک آذاد خیال لڑکی ہے جبکہ ہمارے ہاں بہت زیادہ گھٹن ہے ۔ اس کے باوجود کہ ہمارے گھر والے خاصے روشن خیال واقع ہوئے ہیں لیکن میری بیگم کے حساب سے تم انہیں تنگ نظر ہی کہہ سکتے ہو۔۔ اس کی وجہ اس پر عائید پابندیاں ہیں مثلاً سرد ملک کی ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔ اسے دھوپ بہت اچھی لگتی ہے جو کہ ہمارے ہاں وافر مقدار میں پائی جاتی ہے چنانچہ اکثر اس کا بکنی پہن کر سن باتھ لینے کو دل کرتا ہے۔ لیکن یو نو ۔۔اسے اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔۔ہاں پورے کپڑوں میں وہ سن باتھ لے سکتی ہے ۔ لیکن وہ کہتی ہے کہ پورے کپڑے پہن کر سن باتھ لینے کا فائدہ؟۔ ۔۔ دوسری بات یہ کہ جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ امریکہ میں شراب پینا ایک عام سی بات ہے لیکن اس کے برعکس یہاں پر آپ اسے سرِعام نہیں پی سکتے ہاں چھپ کر جو مرضی کر لیں۔۔۔۔ شراب والی بات پر میں حیران ہوتے ہوئے بولا۔۔۔ تو کیا بھابھی بھی پیتی ہے؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگا۔۔۔ یس ڈئیر ہم دونوں کمرہ بند کر کے روزانہ ایک آدھ پیگ لگاتے ہیں اس کے بعد وہ میری طرف شرارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا کیوں تم نہیں پیتے؟ تو میں اس کو جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ کہ سیکس کے بارے میں ہر قسم کی حرام توپی کے باوجود میں نے آج تک کسی بھی قسم کا نشہ نہیں کیا۔۔۔ اور یہ میرا خود سے وعدہ ہے کہ میں کبھی نشہ نہیں کروں گا چاہے وہ سگریٹ کا ہی کیوں نہ ہو ۔۔تو وہ کہنے لگا میری جان سگریٹ ہی تمام نشوں کی ماں ہے میرا مطلب ہے کہ سگریٹ سے ہی ہر نشے کی ابتداء ہوتی ہے۔۔۔ اس کے بعد وہ ہنس کر کہنے لگا ۔یار یہ تو بہت بری خبر سنائی تم نے ۔۔کہ تم نہیں پیتے ؟ تو میں نے اس سے کہا اس میں برائی کیا ہے ؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولا وہ ایسے میری جان کہ ہم لوگ اسٹیسٹس سے جو کوٹہ لائے تھے وہ قریباً ختم ہونے والا ہے اور میرا خیال تھا کہ جب یہ کوٹہ ختم ہو جائے گا تو میں تم سے کہہ کر مزید منگوا لوں گا ۔۔۔ لیکن اب پتہ چلا کہ تم تو پیتے ہی نہیں ہو۔۔۔ اس کی بات سن کر میں اس سے بولا۔۔۔ دل چھوٹا نہ کر ۔۔۔۔ کیا ہوا جو میں نہیں پیتا ۔۔۔ لیکن جب تو کہے گا میں بندوبست کر دوں گا ۔ میری بات سن کر وہ خوش ہو کر بولا ۔۔تھینک یو دوست ۔۔ میں تو اس کے بغیر ۔۔۔۔پھر بھی گزارا کر لوں گا لیکن تیری بھابھی کو اس کے بغیر نیند نہیں آتی ۔۔ اس پر میں عدیل کی طرف دیکھتے ہوئے ذو معنی لفظوں میں بولا ۔۔۔۔ رات کو پیگ کے بغیر ۔۔۔ نیند نہیں آتی یا ۔۔۔؟ وہ میری پوشیدہ بات کا مطلب سمجھ کر بولا۔۔۔۔ تمہاری بات ٹھیک ہے۔۔۔۔ دوسری گوریوں کی طرح یہ سالی بھی للے (لن) کی بڑی شوقین ہے پھر کہنے لگا۔۔۔۔لیکن یار تو تو جانتا ہی ہے کہ ہر رات۔۔۔۔۔ وہ بھی اپنی بیوی کے ساتھ ۔۔۔۔۔ چودائی نہیں ہو سکتی۔ اس لیئے ہر رات فکنگ ہو نہ ہو۔۔۔۔ ۔۔۔۔ پیگ بہت ضروری ہے عدیل کی بات سن کر ایک دفعہ پھر میں نے اس سے کہا ۔۔تب تو بے فکر ہو جا۔۔۔ جب بھی تیری بوتل ختم ہو جائے۔۔۔۔ مجھے بتا دینا ۔۔۔بندوبست ہو جائے گا۔۔ ۔اور اس کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔ عدیل کا یہ پوائنٹ نوٹ کر لیا کہ گوری للے ( لن ) کی بڑی شوقین ہے۔ اس کے بعد میں موضوع تبدیل کرتے ہوئے بولا۔۔ اچھا یہ بتا کہ بھابی کو تیرے گھر والے کیسے لگے۔۔۔ تو وہ کہنے لگا ۔۔۔ جہاں تک ہمار ے گھر والوں کا تعلق ہے تو مجموعی طور پر ۔۔۔وہ ان کے ساتھ بہت خوش ہے ہاں جب ممی کسی بات سے اسے منع کرتی ہیں تو یو نو۔۔۔ ہر بہو کی طرح یہ بھی ناک بھوں چڑھاتی ہے لیکن اوور آل ماما اور باجی کے ساتھ اس کے تعلق بہت اچھے ہیں۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد ہم ڈرائینگ روم میں آ گئے اور صوفے پر بیٹھتے ہی وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا تُو سنا جگر کیسا ہے؟ آنٹیاں کیسی چل رہیں ہیں؟ آخری دفعہ کس کی لی؟ تو آگے سے میں دانت نکالتے ہوئے بولا ۔آخری دفعہ بھی اسی کی لی ۔۔۔۔ کہ جس کی سیکنڈ لاسٹ دفعہ لی تھی تو وہ حیران ہوتے ہوئے بولا جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تیرے پاس تو آنٹیوں کا اچھا خاصہ اسٹاک ہوا کرتا تھا یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ہزار منت ترلوں کے باوجود بھی تم نے کبھی کسی آنٹی کی ہوا بھی نہیں لگوائی تھی۔ پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا کہ یو نو دوست امریکہ میں میں نے تمہارے اس فارمولے سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے۔۔۔۔ پھر کہنے گا۔۔میں نے تمہارے اس فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ہزار کوششوں کے باوجود کبھی بھی۔۔۔کسی ایک کی بات کو دوسرے کے ساتھ شئیر نہیں کی تھی۔ اسی لیئے میں پلوی جی کی آدھی سہلیوں/ رشتے داروں کو چودنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔کیونکہ انہیں مجھ پر یقین آ گیا تھا کہ میں راز کو ہمیشہ راز ہی رکھوں گا۔ اس کے بعد وہ میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا اسی لیئے مائی ڈئیر فرینڈ۔۔۔۔ میں تم سے ہر گز نہیں پوچھوں گا کہ لاسٹ اور سیکنڈ لاسٹ والی خاتون کون ہے؟ تو اس پر میں اس سے بولا ۔۔ بیٹا۔۔تو تو مجھ سے نہیں پوچھے گا لیکن اس کے برعکس میں تم سے امریکہ میں پہلی گوری کو چودنے کا واقعہ معہ نمک مرچ ضرور پوچھوں گا ۔ اس لیئے شاباش شروع ہو جاؤ۔۔۔ میری بات سن کر اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا کیا بتاؤں دوست کہ جس طرح تم کو میری سٹوری سننے کی بڑی جلدی ہے اسی طرح بلیو مویز دیکھ دیکھ کر ہزاروں پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی کسی گوری کو چودنے کا بڑا شوق تھا لیکن پھر یوں ہوا کہ گوری کی بجائے مجھے ایک دیسی ایٹم بمب مل گئی جس کا ذائقہ ۔۔۔جس کا سٹائل ۔۔۔اور سیکس کرنے کا انداز مجھے اس قدر بھایا کہ وقتی طور پر میں گوری کو بھول گیا اور جتنی دیر تک میں پلوی جی کے ساتھ سٹور پر رہا حرام ہے جو میرے دل میں کبھی کسی گوری کا خیال بھی آیا ہو ۔۔۔۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اور ان کی دوست جن میں ان کی کچھ قریبی رشتے دار بھی شامل تھیں۔۔۔۔ ہمیشہ ہی مجھے پرُ باش رکھتی تھی کہ جب بھی موقعہ ملتا ۔۔۔۔۔۔۔۔تو میں انہیں یا ان کی کسی دوست کو چود لیا کرتا تھا اور اگر کبھی وقت کم ہوتا تو وہ ہنسی خوشی چوپا بھی لگا لیا کرتی تھیں۔۔۔ ۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ زندگی بڑی موج سے گزر رہی تھی کہ ایک دن خبر ملی کہ نارائن جی نے ایک عرصہ دراز سے بند سٹور خرید لیا ہے اور اس وقت تک چونکہ میں مامی اور پلوی جی کی مہربانی سے کام سیکھ چکا تھا اس لیئے اس سٹور کو چلانے کے لیئے ان کی نگاہِ انتخاب مجھ پر آن پڑی ۔۔اس کی مین وجہ یہ تھی کہ میں ان کا دیکھا بھالا اور ایماندار لڑکا تھا۔۔ ہر چند کہ نئے سٹور پر مجھے بھیجنے کے لیئے پلوی جی نے بہت مزاحمت کی ۔ لیکن مامی اور نارائن جی نہ مانے ۔۔۔۔اور کچھ مزاحمت کے بعد۔۔۔۔۔ چار و ناچار پلوی جی نے مجھے دوسرے سٹور پر جانے کی اجازت دے دی۔ اور وہ بھی اس شرط پر کہ جب بھی میری ضرورت محسوس ہوئی میں آ جاؤں گا۔ نارائن جی کا یہ سٹور ہمارے اس سٹور سے خاصہ چھوٹا اور گھر سے کافی دور واقع تھا۔ خیر میں وہاں چلا گیا اور کام شروع کر دیا۔ دھیرے دھیرے وہاں کے لوگوں سے ہیلو ہائے بھی ہو گئی۔۔۔ لیکن چونکہ یہ سٹور کافی عرصہ بند رہنے کے بعد ابھی کھلا تھا اس لیئے یہاں پر گاہگوں کی اتنی آمد و رفت نہ تھی۔ ایک دن کی بات ہے کہ میں کاؤنٹر پر بیٹھا بور ہو رہا تھا کہ اتنے میں ایک نہایت خوش شکل امریکن گورا سٹور میں داخل ہوا اس کی عمر یہی کوئی پینتالیس پچاس کے قریب ہو گی ۔ اس نے گرے رنگ کا برانڈڈ سوٹ پہنا ہوا تھا جو کہ اس پر بہت جچ رہا تھا ۔۔ اس کے ایک ہاتھ میں سیاہ رنگ کا بریف کیس پکڑا ہوا تھا اپنے حال حلیہ سے وہ کوئی امیر آدمی لگ رہا سگریٹ کا پیکٹ خریدا۔۔۔اور مجھے پیسے دے کر جب وہ پرس کو واپس پینٹ کی جیب میں رکھنے لگا تو اس وقت کسی طرح اس کے پرس سے سو ڈالر کا نوٹ فرش پر گر گیا۔۔۔۔ جبکہ وہ گورا صاحب اس بات سے بے خبر پرس کو جیب میں رکھ کر باہر کی طرف چل دیا ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں تیزی سے کاؤنٹر سے باہر نکلا۔۔۔۔اور سو ڈالر کے نوٹ کو فرش سے اُٹھا کر اسے آواز دی ۔ لیکن شاید وہ کچھ جلدی میں تھا یا شاید اس کے کانوں تک میری آواز نہ پہنچی تھی کہ وہ نہ رکا اور سٹور کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔ چنانچہ میں بھی بھاگم بھاگ اس کے پیچھے چلا گیا اور تھوڑی دور جا کر اسے روک لیا ۔ مجھے اپنے سامنے پا کر وہ ڈیسنٹ شکل والا گورا صاحب پریشان ہو کر بولا۔۔۔۔ ویل لٹل بوائے!۔۔ جہاں تک مجھے یاد ہے برو۔۔۔۔ میں نے تو پیسے ادا کر دیئے تھے ۔۔۔۔تو اس پر میں نے اس کو سو ڈالر کا نوٹ دیتے ہوئے کہا کہ بے شک جناب آپ نے پیسے ادا کر دیئے تھے لیکن پرس کو واپس جیب میں ڈالتے وقت یہ نوٹ نیچے گر گیا تھا جو کہ میں آپ کو واپس کرنے آیا ہوں۔۔۔تو اس نے بڑی حیرانی سے میری طرف دیکھا اور پھر سو ڈالر کا نوٹ پکڑتے ہوئے بولا ۔۔ مجھ سے اکژ اس قسم کی حماقتیں ہوتی رہتی ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن کمال ہے برو! تم پہلے بندے ہو جس نے مجھے پیسے واپس کیئے ہیں ورنہ میرے ساتھ آج تک یہ سانحہ نہیں ہوا ہے ۔۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد اس نے کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور پھر مجھ سے ایکس کیوز کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔سوری برو!۔۔۔۔ اس وقت میں زرا جلدی میں ہوں ۔۔۔ ۔۔۔تم سے پھر کسی دن بات ہو گی۔۔ یہ اس واقعہ سے تیسرے دن کی بات ہے کہ میں سٹور پر ایک گاہک کو ڈیل کر رہا تھا کہ اتنے میں وہی گورا صا حب سٹور میں داخل ہو ا اور میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ میں گاہک سے فارغ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوا تو ڈیسنٹ لُک والا گورا صاحب نے بڑے تپاک سے بولا۔۔۔۔۔۔ہیلو لٹل بوائے ! مجھے پہچانا؟ تو میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا کہ آپ وہی ہیں کہ جن سو ڈالر میں نے واپس کیئے تھے۔۔۔ میری بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا کہ سوری فرینڈ۔۔۔اس دن ایک ضروری میٹنگ کی وجہ سے میں جلدی میں تھا ۔۔۔۔اس لیئے ڈھنگ سے تمہارا شکریہ بھی نہ ادا کر سکا۔۔ تو اس پر میں نے اس سے کہا کہ اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں سر۔۔۔۔بلکہ یہ تو میرا فرض تھا ۔۔۔تو وہ جواب دیتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ مائی ڈئیر لٹل بوائے !۔۔ تمہارا شکریہ اس لیئے بھی بنتا ہے کہ یہاں کے دس ڈالر کے لیئے لوگ قتل تک کر دیتے ہیں جبکہ تم نے مجھے سو ڈالر لوٹائے تھے۔۔۔ اس کے بعد وہ اپنا تعارف کراتے ہوئے بولا مجھے جان کہتے ہیں۔۔۔۔ اور میں ایک چھوٹی سی کمپنی کا چیف ایگزیکٹو ہوں۔۔ اسکے ساتھ ہی اس نے مصافے کے لیئے میری طرف ہاتھ بڑھا دیا۔۔۔۔۔ اس پر میں بھی اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا کہ میرا نام عدیل ہے اور میرا تعلق پاکستان سے ہے میرے منہ سے پاکستان کا نام سنتے ہی ۔۔۔۔۔وہ ایک دم سے چونک اُٹھا ۔۔۔ اور میری طرف دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں بولا " یو آر فرام پاکیسٹان"؟؟؟ تو میں نے ہاں سر ہلا دیا۔۔۔۔ میرا اقرار سن کر اس نے ایک لمحے کے لیئے کچھ سوچا۔۔۔ اور پھر بڑی گرم جوشی کے ساتھ ہینڈ شیک کرتے ہوئے بولا۔۔۔ نائیس ٹو میٹ یو مسٹر ایڈی ۔۔ اچھے خاصے عدیل کو "ایڈی" بنتے دیکھ کر مجھے وَٹ تو بہت چڑھا ۔۔۔۔ لیکن میں چپ رہا۔ اس کے بعد مسٹر جان کافی دیر تک میرے ساتھ گپ شپ کرتا رہا ۔۔۔ ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک سٹور کا دروازہ کھلا ۔۔۔۔اور پلوی جی اندر داخل ہوئیں۔۔ ۔ پلوی جی کو یوں اپنے سامنے دیکھ کر میں حیران رہ گیا اس بات کو مسٹر جان نے بھی محسوس کر لیا اور وہ مجھ سے کہنے لگا کہ یہ لیڈی کون ہے؟ تو میں نے اس کو بتلایا کہ لیڈی اس سٹور کی مالکہ ہے۔۔۔ میر ی بات سن کر اس نے سر ہلایا اور پھر مجھ سے ہاتھ ملا کر یہ کہتا ہوا باہر چلا گیا کہ پھر ملاقات ہو گی۔۔ ادھر دروازہ کھول کر جیسے ہی پلوی میم اندر داخل ہوئی تو میں نے دیکھا کہ اس نے کالے رنگ کی منی اسکرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔ جو کہ گھٹنوں سے کافی اوپر تک ہونے کی وجہ سے ان کی گول گول آدھ ننگی رانیں بڑی صاف دکھائی دے رہیں تھی۔۔ جبکہ اس منی اسکرٹ کے اوپر انہوں نے آف وہائیٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی جو کہ ان کو خاصی تنگ تھی ۔۔۔جس کی وجہ سے ان کے سینے کی گولائیں بغیر دیکھے ماپ ہو رہیں تھیں۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گلے میں منگل سوتر اور ماتھے پر ایک کالے رنگ کا ٹیکہ بھی لگایا ہوا تھا ۔ ۔ ابھی میں ان کا ایکسرے کر ہی رہا تھا کہ وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بولیں۔۔۔۔ اے مسٹر یہ اتنا گھور گھور کر کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو میں نے ان کی چھاتیوں پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا کہ میڈم جی آپ انگریزی لباس میں بھی اتنی ہی کیوٹ لگتی ہو جتنا کہ دیسی لباس میں۔۔ پھر میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔ پکے عاشقوں کی طرح کہا کہ آپ کے حسن کے بارے میں شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ۔۔۔جامہ زیبی نہ پوچھیئے ان کی ۔۔۔۔۔۔ جو بگڑنے میں بھی سنبھل جائیں۔۔۔ میرے منہ سے شعر سن کر وہ جھوم کر بولیں واہ واہ۔۔۔ کیا موقع کا شعر کہا ہے۔۔۔ مزہ آگیا ۔۔ پھر میرے نزدیک آ کر کہنے لگیں ۔۔ آج میں صرف تیرے لیئے تیار ہوئی تھی۔۔ تم کو میرا یہ روپ پسند آ گیا ۔اتنی بات کر نے کے بعد وہ لکھنوی سٹائل میں جھک کر بولیں۔۔۔دھنے واد!۔۔۔ پلوی جی کی یہ دل کش ادا دیکھ کر میں تو نہال ہو گیا ۔۔۔اور ان سے بولا ۔۔۔ دھنے واد کو چھوڑ میڈم ۔۔آ سینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے۔۔ میری بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔۔۔تیرے ساتھ سینے سے سینہ ملانے کے لیئے ہی میں تو آئی ہوں۔۔ ۔۔ اتنی بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے دونوں بازو کھولے ۔۔ اور میرے سینے کے ساتھ چمٹ گئیں۔۔ ان کی چھاتیاں میرے سینے کے ساتھ گویا دبی ہوئیں تھیں۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی "جائے مخصوصہ " کو میرے آلہء تناسل کے ساتھ رگڑنے کی کوشش تیز کر دی ۔۔ یہ دیکھ کر میں نے ان کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔۔ کیا بات ہے جی آج تو آپ بہت گرم لگ رہی ہیں ۔۔۔میری سرگوشی سن کر وہ اپنے منہ ۔۔۔۔ کو میرے ہونٹوں کے قریب لے آئیں ۔۔۔اور میرے منہ پر گرم سانسیں چھوڑتے ہوئے۔۔۔۔ شہوت بھرے لہجے میں بولیں۔۔۔ جتنی میری سانسیں گرم ہیں نا ۔۔ میں اس سے ہزار گنا زیادہ گرمی فیل کر رہی ہوں۔۔۔ ان کی بات سن کر میں نے ان کے منہ کے ساتھ آہستگی کے ساتھ اپنے منہ کو جوڑ دیا۔۔ ادھر جیسے ہی میرا منہ آگے بڑھا۔۔۔ پلوی جی نے بڑی بے تابی کے ساتھ ۔۔۔۔ اپنی زبان کو منہ سے نکالا ۔۔ اور چپکے سے میرے منہ میں ڈال دی۔۔ اور ہم دونوں ۔۔۔ اپنی زبانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑانے اور ٹکرانے شروع ہو گئے۔۔ کچھ دیر بعد میں نے ان کے منہ سے اپنی زبان کو نکالا۔۔۔۔اور ان کی نرم گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے شرارت سے بولا۔۔۔ کہ آج نارائن صاحب کی جگہ آپ کیوں آئی ہیں ؟ تو آگے سے وہ میرے لن کو پکڑ کر ہلاتے ہوئے بولیں ۔۔ نارائن جائے بھاڑ میں ۔۔۔۔۔ تو صرف اپنے اس (لن ) دوست سے ملنے آئی ہوں ۔۔ ان کی بات سن کر میں بولا ۔۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہوا۔۔۔ کہ آپ کے پتی دیو نیو یارک سے کہیں باہر گئے ہوئے ہیں۔۔۔اسی لیئے آپ گل چھرے اُڑانے کے لیئے میرے پاس آ گئی ہو۔۔میری بات سن کر وہ مصنوعی غصے سے بولیں۔۔۔ ۔۔۔ بہن چود !۔۔ تو ایک نمبر کا حرامی ہے ایک تو میں تمہیں اپنی چوت کی مفت سروس دینے کے لیئے آئی ہوں ۔۔۔ اور تم بجائے میرا شکریہ ادا کرنے کے خواہ مخواہ کی باتیں چود رہے ہو۔۔۔ اس کے بعد وہ سٹور کے مین گیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ جلدی سے ڈور لاک کر آؤ کہ میرے پاس وقت بہت کم ہے۔ ا ن کی بات سن کر میں بھاگ کر گیا۔۔۔۔اور سٹور کے مین گیٹ کو لاک کر آیا۔۔۔ اور واپس آ کر پلوی جی سے لپٹ گیا۔۔انہوں نے جپھی لگاتے ہی۔۔ایک دفعہ پھر سے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی ۔۔ اور بڑی مہارت کے ساتھ میرے منہ میں گھمانا شروع ہو گئیں۔۔۔۔۔ دوسری طرف ان کے ساتھ کسنگ کرتے کرتے ۔۔۔ میں نے بھی ان کی اسکرٹ کے اندر ہاتھ ڈالا ۔۔۔اور پینٹی کے اوپر سے ہی ان کی نازک جگہ پر اپنی انگلی پھیرنا شروع ہو گیا۔۔ ۔۔۔ جیسے ہی میری انگلی ان کی چوت کی درمیانی لکیر پر پہنچی تو ۔۔۔ وہ مجھے گیلی محسوس ہوئی۔۔۔ یہ دیکھ کر میں اپنے ہاتھ کو ان کی پینٹی کے اندر لے گیا۔۔۔۔اور ان کی گیلی۔۔۔۔ نرم اور ننگی پھدی پر انگلی پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔ میرے اس عمل سے وہ سرک کر میرے ساتھ لگ گئیں۔۔۔۔۔اور پہلے سے بھی زیادہ جوش کے ساتھ ٹنگ کسنگ کرنے لگیں۔۔۔کچھ دیر انگلی پھیرنے کے بعد ۔۔۔ میں اپنی اس انگلی کو ان کے دانے کے اوپر لے گیا۔۔۔اور ان کے پھولے ہوئے دانے کو اپنی دو انگلیوں میں پکڑا ۔۔۔۔ اور اسے مسلنے لگا۔۔۔۔۔ میرا دانے مسلنے کی دیر تھی کہ پلوی جی نے اپنی زبان کو میرے منہ سے باہر نکالا ۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ان کے منہ سے سسکیوں کا طوفان نکلنا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔اور پھر انہی سسکیوں کے درمیان ۔۔۔ انہوں نے میرے اکڑے ہوئے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا ۔۔۔ ۔۔۔ اور اسے بے طرح دبانے لگیں۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف میں دانے کو کچھ مزید تیزی کے ساتھ مسلنا شروع ہو چکا تھا۔۔۔ میرا ایسے کرنے کے کچھ دیر بعد ۔۔۔ ہی میرے کانوں میں ۔۔۔۔ میڈم کی شہوت بھری آواز گونجی۔۔۔۔ وہ کہہ رہیں تھیں۔۔۔۔۔ حرام کے پلے۔۔۔مادر چود۔۔ میرے چھولے کو ایسے ہی مسلتا رہے گا ؟ چودے گا نہیں مجھے؟ تو آگے سے میں جواب دیتے ہوئے ۔۔۔۔شرارت سے بولا ۔۔۔ رنڈی کی بچی ۔۔۔ ۔۔آج نہیں چودوں گا۔۔۔۔۔ بلکہ تیرے اس دانے کو ا یسے ہی مسلتا رہوں گا میری بات سن کر وہ ایک دم سے شہوت بھرے غصے میں بولیں۔۔۔ مادر چود ۔۔ جلدی سے اپنے ان کٹ لن کو میرے اندر ڈال۔۔۔ میں یہاں اپنے "چھولے" کو کچلوانے کے لیئے نہیں آئی ۔۔۔ بلکہ اپنی پھدی کی آگ بجھانے کے لیئے آئی ہوں ۔۔۔۔ لیکن میں نے پلوی میم کی بات کو سنا ان سنا کرتے ہوئے اپنی انگلیوں کو دانے سے ہٹا یا۔۔۔۔۔ اور اپنی ایک انگلی ان کی چوت کے اندر ڈال دی۔۔۔۔۔ اور اسے آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ بلکل میرے ساتھ لگ گئیں۔۔۔اور ایک موٹی سی گالی دے کر بولی ۔۔۔ سالے حرام کے تخم ۔۔ کتے کے بچے۔۔۔میں اتنی دور سے چل کر تیرے پاس آئی ہوں ۔۔۔ اور تو حرامی پلا۔۔۔۔ میری پھدی میں صرف ایک انگلی ڈال رہا ہے؟؟ ۔۔۔۔ پھر فُل مُوڈ میں کہنے لگی۔۔۔۔ سالے کم از کم دو انگلیاں تو اندر ڈال نا۔۔۔۔۔ ان کی بات کو سن کر میں نے اپنی دو انگلیاں ان کی چوت میں ڈالیں اور تیزی سے ان آؤٹ کرنے لگا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے میری انگلیوں کو زبردستی اپنی پھدی سے نکالا۔۔۔اور میرے گالوں کو اپنے دانتوں سے کاٹ کر بولیں ۔۔ حرام کے جنے ۔۔۔۔ تجھے تھوڑی سی لفٹ کیا کرا دی تو تو میرے سر پر چڑھ گیا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری پینٹ کی زپ کھولی اور پھر گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھ گئیں۔۔۔۔اور پھر میرے اکڑے ہوئے لن کو پینٹ سے باہر نکالا ۔۔۔۔ اور بنا کوئی بات کیئے۔۔۔۔۔ اپنے منہ میں لے کر برق رفتاری سے چوپا لگانے لگیں۔۔۔اب کہ سسکیاں بھرنے کی میری باری تھی لیکن انہوں نے مجھے سسکیاں بھرنے کا زیادہ موقعہ نہیں دیا ۔۔۔اور تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے لن چوسنا بند کر دیا۔۔۔۔۔اور سیدھی کھڑی ہو گئیں ۔۔۔۔اور اپنی منی اسکرٹ کو رول کر کے ہپس کے کافی اوپر تک لے گئیں۔۔ اسکرٹ کے نیچے انہوں نے بہت ہی مختصر سی پینٹی پہنی ہوئی تھی جو کہ بمشکل پھدی کی لکیر کو ڈھانپ رہی تھی۔۔ میں اس مختصر سی پینٹی کو ایک سائیڈ پر کر دیا۔۔۔ جس کی وجہ سے ان کی چوت ننگی ہو کر میرے سامنے آ گئی۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ادھر سے فارغ ہو کر میں نے اپنے ٹوپے پر تھوک لگا کر اسے چکنا کیا۔۔۔۔۔ تو میری دیکھا دیکھی وہ بھی اپنی دو انگلیوں کو منہ کی طرف لے گئیں اور پھر ان پر تھوک ڈال کر اپنی پہلے سے چکنی پھدی کو مزید چکنا کر دیا۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کے لبوں پر رکھا۔۔۔۔۔۔۔ اب میں نے ان کی رائیٹ والی ٹانگ کو اوپر کر کے پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی ٹانگ اوپر کرنے کی وجہ سے لن پھدی کے ملاپ میں بہت آسانی پیدا ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ اب میں نے ان کی چوت کے لبوں پر رکھے لوڑے کو ماہرانہ انداز میں ۔۔۔ ایک جھٹکا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھٹکا کھاتے ہی میرا لن بغیر کسی روک ٹوک کے ان کی شاندار چوت میں اتر گیا۔۔۔۔جیسے ہی میرا لن ان کی چوت میں اترا۔۔۔۔ انہوں نے پہلے تو ایک بہت زبردست شہوت بھری چیخ ماری اور اس کے ساتھ ہی۔۔۔ ۔۔۔ ان کے منہ سے گالیوں کا نہ تھمنے والا طوفان نکلنا شروع ہو گیا۔۔ وہ کہہ رہیں تھیں کہ مادر چود۔۔۔۔ حرام کے جنے۔۔۔۔ کتے کے پلے۔۔۔ڈال دیا ہے ۔۔تو اب رکنا نہیں ۔۔مجھے تیرا لنڈ چاہیئے ۔۔۔ ادھر ۔۔۔ میری چوت میں ۔۔۔ مجھے چودو۔۔۔۔ ۔۔۔ اپنی رانڈ کو چودو۔۔میری چوت کا بھرتہ بنا دو۔۔۔۔ ان کی شہوت سے بھر پور چیخ و پکار سے میں سمجھ گیا کہ میڈم آج کچھ ایکسٹرا گرم ہے۔۔۔۔۔ اور اگر میں ایسے ہی سپیڈی دھکے مارتا رہا ۔۔۔ تو کسی بھی وقت میڈم کا اینڈ پوائیٹ آ جائے گا۔۔۔۔۔یہ سوچ کر میں نے دھکے مارنے کی سپیڈ کو مزید بڑھا دیا۔۔۔ جیسا کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ اس دن میڈم کچھ زیادہ ہی گرم تھی ۔۔ ۔۔۔لیکن میرے اندازوں کے برعکس ۔۔ کچھ ہی دیر کے بعد میڈم کے جسم نے جھٹکے مارنے شروع کر دیئے۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ میڈم کی چوت بھی ٹائیٹ ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ ٹائیٹ اور ٹائیٹ۔۔۔ اور ۔۔ اور ۔۔۔ اس کے ساتھ میڈم سسکیاں لیتے ہوئے۔۔۔۔ آہ ۔۔۔آہ ہ ہ اُف۔ف۔ف۔ف اُف۔۔۔ کرنا شروع ہو گئی ۔۔۔ ۔۔۔ اور اس سے ٹھیک اگلے ہی لمحے ۔۔۔۔ میڈم کی چوت سے گدلے پانی کا سیلاب نکلنا شروع ہو گیا ۔۔۔ میں کچھ دھکے اور مارنا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن تیز تیز سانس لیتی میڈم نے مجھے مزید دھکے مارنے سے منع کر دیا۔۔۔ بلکہ ہاتھ بڑھا کر میرے لن کو اپنی چوت سے ہی باہر نکال دیا اور خود گہرے گہرے سانس لینے لگیں۔۔۔۔۔۔ان کی حالت کو دیکھ کر میں نے انہیں اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔۔۔ اور ان کے سانس بحال ہونے تک انہیں ساتھ لگائے رکھا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ان کا سانس بحال ہوگیا ۔۔۔اور وہ نارمل ہو گئیں ۔۔۔۔تو میں نے ان کو خود سے الگ کیا۔۔۔اور اپنے اکڑے ہوئے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اس کا کچھ کرو۔۔ میری بات سن کر انہوں نے سر ہلایا ۔۔۔۔اور پھر فرش پر اکڑوں بیٹھ گئیں ۔۔۔۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے لن کو اپنے منہ میں لے کر۔۔۔اسے اس وقت تک چوستی رہیں کہ جب تک میری منی کی آخری بوند بھی ان کے حلق سے نیچے نہ اتر گئی۔۔۔ ۔۔۔اگلے کچھ دنوں تک مسٹر جان تواتر کے ساتھ سٹور پر آتا رہا۔ اور پھر ہوتے ہوتے میری اس مہذب اور گریس فل آدمی کے ساتھ اچھی خاصی گپ شپ ہو گئی۔۔۔ انہی دنوں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔۔۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم دونوں بات چیت کر رہے تھے کہ اسی دوران سٹور میں ایک ڈھلتی عمر کی پختہ کار گوری داخل ہوئی۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ ایک لمبے قد کی خوب صورت ۔۔۔سیکسی۔۔ اور توانا عورت تھی ۔ جس نے اپنے جسم کی نمائش میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی تھی ۔۔اس کے جسم کی ہر چیز فٹ تھی ۔۔۔۔ لیکن وائے افسوس کہ۔۔۔۔۔۔ اس حسین خاتون کی چھاتیاں بہت چھوٹی تھیں۔ لیکن چھاتیوں کے برعکس ۔۔۔ اس کی گانڈ ۔۔۔۔۔اور رانیں ۔۔۔۔ بہت ہی موٹی اور پر گوشت تھیں ۔۔۔۔ جنہیں دیکھ کر مجھے کچھ کچھ ہو نے لگا ۔۔۔۔مطلب اس گوری کی مست رانیں دیکھ میری شہوت جاگ اُٹھی اور ۔۔۔۔۔میں (چوری چوری ) اسے بڑی ہی ہوس ناک نظروں کے ساتھ گھورتا رہا۔۔۔ میری یہ حسرت بھری نظریں جان مخفی نہ رہ سکیں۔۔۔۔۔چنانچہ کچھ خریداری کے بعد جب وہ حسینہ ۔۔۔۔۔واپسی کے لیئے مُڑی ۔۔۔۔تو میں اس کی موٹی گانڈ پر دُور بین فٹ کیئے ۔۔۔ ترسی ہوئی نظروں کے ساتھ ۔۔ اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور جب وہ خاتون سٹور سے باہر نکل گئی ۔۔۔تو دفعتاً میرے کانوں میں جان کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔۔ ویل لٹل بوائے! ۔۔جان کی آواز سن کر ۔۔۔ جب میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ ایک بات پوچھوں؟ چونکہ اس وقت تک میری جان کے ساتھ اچھی خاصی بے تکلفی ہو چکی تھی اس لیئے میں نے اسے کہا کہ جی ضرور پوچھو؟ تو آگے سے وہ کہنے لگا ۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے تمہیں یہ لیڈی بہت پسند آئی ہو۔۔۔ایم آئی رائیٹ آر رانگ؟؟ ۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ مسٹر جان! یو آر ویری رائیٹ ۔۔۔ ۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگا۔۔۔ لیکن تمہاری اور اس کی عمر میں بہت زیادہ فرق ہے ۔۔ پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے ہی پُر اسرار لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔ کہیں تمہیں میچور لیڈیز تو پسند نہیں ؟ تو آگے سے میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔اس کے بعد اس نے بڑے ہی ڈرامائی انداز میں مجھ سے سوال کیا۔۔۔ کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ چونکہ میری اس کے ساتھ اس موضوع پر پہلی دفعہ بات ہو رہی تھی اس لئے قدرتی طور پر میں کچھ ہچکچاہت محسوس کر رہا تھا لیکن جب اس نے مجھ سے دوبارہ یہی سوال کیا کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ تو میں نے کچھ شرماتے اور کچھ گھبراتے ہوئے ہاں کر دی میری شرماہت کو دیکھ کر وہ بڑا محظوظ ہوا اور پھر شرارت بھرے لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔کبھی کسی کے ساتھ سیکس کیا؟ تو میں نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے جواب دیا کہ ابھی تک تو ہاتھ سے ہی کام چلا رہا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔ اور پھر ادھر ادھر کی باتیں ۔۔۔۔ کرتے کرتے اچانک ہی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔۔۔۔میں کچھ کروں؟ اس کی بات سن کر میں تو حیران ہی رہ گیا۔۔۔اور کپکپاتی ہوئی آواز میں بولا۔۔۔۔تم ۔۔۔۔۔ میرا مطلب کہ آپ پ پ پ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو وہ سر ہلا کر بولا۔۔۔۔ ہاں میں ۔۔ اتنی بات کرتے ہی اس نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔۔۔اور پرس سے ایک تصویر نکال کر مجھے دکھاتے ہوئے بولا۔۔ یہ کیسی ہے؟ اس نے جو تصویر مجھے دکھائی تھی یہ ساحل، سمندر سے لی گئی ایک گوری کی ہوش ربا تصویر تھی جس کے بال سنہرے۔۔ چھاتیاں تنی ہوئیں تھیں ۔۔ اس گوری نے بکنی پہنی ہوئی تھی ۔۔ اور اس مختصر سے لباس میں اس کے زنانہ اعضاء کچھ اس طرح سے نمایاں ہو رہے تھے کہ انہیں دیکھ کر میرا دورانِ خون کچھ اور بھی تیز ہو گیا تھا ۔۔۔ اور میں بے یقینی کے عالم میں کبھی جان ۔۔۔اور کبھی اس دل کش ، خوب صورت اور نیم عریاں گوری کی تصویر کو دیکھنے لگتا ۔ ابھی میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس تصویر کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک جان نے میرے ہاتھ سے اس تصویر کو اچک لیا۔۔۔۔ اور اسے واپس پرس میں ڈالتے ہوئے بولا۔۔ کیسی لگی؟ تو میں نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔یہ۔۔۔ یہ تو کوئی ہالی وڈ کی اسٹار لگتی ہے تو آگے سے وہ جواب دیتے ہوئے بولا۔۔ اس بات کو چھوڑو کہ ۔۔۔۔ یہ ہالی ووڈ اسٹار ہے یا کوئی بزنس وومن ۔۔ تم بس یہ بتاؤ کہ ۔۔۔ تمہیں یہ بیوٹی چاہیئے کہ نہیں ؟ نہیں کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہونا تھا۔۔۔۔۔۔ کہ ہم جیسے محکوم ملک کے لوگوں کے لیئے گوری میم ایک آسمان سے اتری ہوئی اپسرا سے کم نہیں ہوتی ۔۔۔چنانچہ میں اپنے لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولا۔۔ ۔۔۔ اس جیسی خوب صورت حسینہ کے لیئے کوئی کافر ہی انکار کر سکتا ہے ۔۔۔ پھر میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔ کہ یہ حسینہ ہے کون ؟ تو وہ بڑے پر اسرار لہجے میں بولا۔۔۔۔ ۔ اس سے ملنا چاہو گے؟ ۔۔ جان کی بات سن کر میں بڑی بے تابی سے بولا۔۔ کب ملا رہے ہو؟ تو وہ اطمینان سے کہنے لگا اگر تم ایگری ہو ۔۔۔۔تو کل یا مے بی پرسوں۔۔۔ تو اس پر میں جلدی سے بولا ۔۔ آج ہی کیوں نہیں ملوا دیتے ؟ میری بات سن کر وہ ہنس پڑا ۔۔اور مجھے تھپکی دیتے ہوئے بولا ۔۔۔ ٹیک اٹ ایزی لٹل بوائے!!۔۔۔ پھر اچانک ہی وہ سیریس ہوتے ہوئے بولا ۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔فرض کرو میں اس سے تمہیں ملوا دیتا ہوں۔۔ ۔۔۔اور ۔۔۔ تم اسے فک کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہو۔۔۔ ۔۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے خاص انداز میں بولا۔۔۔بڈی! تم نے تو اپنے مزے لے لیئے ۔۔۔۔۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟ اس کی بات سن کر میں حیران رہ گیا اور پھر اس سے بولا۔۔۔ آپ کتنے ڈالر لو گے ؟ تو وہ نفی میں سر ہلا کر بولا۔۔۔ ۔۔ ڈالر نہیں دوست ۔۔۔بلکہ میری ایک شرط ہو گی۔۔ جان کی بات سن کر میں چونک اُٹھا اور اس سے بولا کیسی شرط؟ تو وہ ٹھہر ٹھہر کر کہنے لگا ۔۔ وہ شرط یہ ہے کہ تم اس بیوٹی فل لیڈی کو میرے سامنے فک کرو گے۔۔ جان کی بات سن کر میں ہکا بکا رہ گیا۔۔ اور بے یقینی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ تمہارے سامنے؟ تو وہ بڑی مکاری سے مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔ہاں میرے سامنے !!!۔۔۔۔پھر کہنے لگا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہارے کسی بھی کام میں مداخلت نہیں کروں گا ۔۔ یہ تم دونوں کی اپنی انڈر سٹینڈنگ ہو گی۔کہ تم اسے کس سٹائل میں فکنگ کرو گے۔۔۔ اس پر میں اس سے کہنے لگا۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔لیکن۔۔۔مم۔ میں۔۔۔ لیکن میری بات کو مکمل ہونے سے پہلے ہی اس نے ایک دفعہ پھر جیب سے وہی تصویر نکالی اور مجھے دکھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اس کو فک کرنا چاہتے یا نہیں ؟؟؟ ۔۔تو میں نے جلدی سے اقرار میں سر ہلا دیا۔۔۔ تب وہ اسی مکاری سے بولا تو پھر تمہیں اس کی قیمت دینی ہو گی۔۔۔ جو فقط اتنی سی ہے کہ تم اسے میرے سامنے فک کرو گے ۔۔ اگر منظور ہے تو ویل اینڈ گڈ ۔۔نہیں تو میں اپنی آفر واپس لیتا ہوں۔۔۔ ۔۔ جان کی یہ بات سن کر میری تو گانڈ پھٹ گئی۔۔۔۔ اور ایک مفت کی گوری ہاتھ سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔ تب میں نے آخری چارے کے طور پر اس سے کہا ۔۔۔ اس میں کوئی پرابلم تو نہیں ہو گی ناں؟ میری نیم رضا مندی اور اس گوری کے لیئے ۔۔۔۔ بےتابی کو دیکھ کر وہ بڑا خوش ہو ا۔۔ اور پھر سنجیدگی کے ساتھ کہنے لگا ۔۔ یہ میری گارنٹی ہے کہ تمہیں کسی بھی قسم کی ۔۔۔ کوئی پرابلم نہیں ہو گی ۔ بلکہ تم انجوائے کرو گے تب میں نے اس سے کہا کہ کیا وہ آپ کے سامنے مجھ سے فک کروانے پر راضی ہو جائے گی؟ تو وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔ میں کل اسے تم سے ملوانے لاؤں گا بہتر ہو گا کہ یہ بات تم میری بجائے اس سے خود پوچھ لینا۔۔اس کے بعد اس نے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور سٹور سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
  8. لنڈ کو منہ سے باہر نکالنے کے بعد ۔۔انہوں نے ٹشو کے ساتھ اپنے منہ کو صاف کیا ۔۔۔۔ اور میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہنے لگیں میری سکنگ کیسی لگی؟ ؟۔۔۔تو میں نے اے ون کا اشارہ کر دیا۔۔۔ میرا اشارہ دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے کھڑیں ہو گئیں۔۔۔اور پھر کہنے لگیں سچ بتاؤں تو بڑے عرصے کے بعد مجھے بھی ایک کٹا ہوا لن چوس کر بڑا مزہ آیا۔۔۔ ان کے یوں کھڑے ہونے سے میری نظر ان کی چوت پر پڑ گئی۔۔ جس کے آس پاس کا سارا ایریا بھیگا ہوا تھا۔اور وہ لیک کر رہی تھی ۔۔۔۔ مجھے اپنی چوت کی طرف متوجہ پا کر وہ کہنے لگیں۔۔۔۔ آج تو کچھ زیادہ ہی لیک ہو گئی۔۔۔ تو اس پر میں ان کی شاندار پھدی پر نظریں گاڑتے ہوئے بولا۔۔۔ اجازت ہو تو میں بھی آپ کی چوسوں؟ اس پر وہ آنکھیں پھیلا کر بولیں۔۔۔ پہلے کبھی چوسی ہے؟ تو میں نے ان سے کہا کہ پہلے کبھی نہیں چوسی نہیں ۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ بلیو موویز میں بہت دیکھا ہے ۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگیں۔۔۔۔ میرے خیال میں وہیں سے تمہیں پھدی چاٹنے کا شوق پیدا ہوا؟ تو میں نے ہاں کر دی ۔۔۔۔میری بات سن کر وہ ایک دفعہ پھر میرے گلے لگ گئیں ۔۔اور پھر میرے ہونٹوں کو چوسنے کے بعد کہنے لگیں۔۔۔۔۔ جیسے ابھی میں نے تیرے ہونٹ چوسے ہیں ناں۔۔۔ایسے ہی تم بھی میری چوت کے ہونٹوں کو چوسنا ہے ۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی وہ اپنی ایک چھاتی کو میرے سامنے کرتے ہوئے بولیں۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے تمہیں میری ان چھاتیوں کو چوسنا پڑے گا۔۔۔ ان کی بات سن کر میں نے ان کے ایک نپل کو اپنی انگلیوں میں لیا ۔۔۔اور دوسری چھاتی کو منہ میں لے کر چوسنا شروع ہو گیا۔۔ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میڈم پہلے ہی بہت گرم اور مست لیڈی تھی ۔۔۔اب جو میں نے ان کی بھاری چھاتیوں کو چوسنا شروع کیا ۔۔۔۔ تو وہ تھوڑی لؤڈ آواز میں سسکیاں بھرنے لگیں ۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئی بولیں۔۔۔۔۔ میرے نپلز کو ایسے ہی چوس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے تھوڑی دیر پہلے ۔۔۔ میں تیرے اکڑے ہوئے لوڑے کو چوس رہی تھی ان کی بات سن کر میں نے ان کی بڑی بڑی چھایتوں کو ایسے چوسا کہ جیسے کوئی بھوکا آدمی آم کو چوستا ہے ۔۔۔ میرے اس طرح چھاتیاں کو چوسنے سے میڈم بے حال ہو گئی اور پھر کچھ دیر بعد مجھے روکتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ بس۔۔میری جان بس۔۔۔ تم نے تو کمال ہی کر دیا۔۔۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد ۔۔۔۔ انہوں نے کاؤنٹر کے پاس پڑی ریوالنگ چئیر کو اپنی طرف کھینچا اور اس پر ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گئیں۔وہ چئیر پر کچھ اس انداز سے بیٹھیں تھیں کہ جس کی وجہ سے ان کی پانی سے بھری چوت باہر کی طرف نکل آئی تھی۔۔۔۔۔ سیٹ ہو کر بیٹھنے کے بعد انہوں نے مجھے چوت چاٹنے کا اشارہ کیا ۔۔ ان کا اشارہ پا کر میں گھٹنوں کے بل چلتا ہوا ان کی دونوں ٹانگوں کے درمیان جا پہنچا ۔۔۔۔۔اور ان کی ابھری ہوئی صاف شفاف چوت کو چومنا شروع ہو گیا۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگیں ۔۔۔۔ اپنی دو انگلیوں کو میری چوت میں ڈالو ۔۔۔اور پھر چوسو۔۔۔۔ ان کی ہدایت سن کر پہلے تو میں نے اپنی دو انگلیوں کو ان کی پانی سے بھری چوت میں ڈالا۔۔۔۔۔ اور انہیں اندر باہر کرنے کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔ اپنے گرم ہونٹوں کو میڈم کی تندوری چوت پر رکھ دیا۔۔۔۔اور زبان نکال کر اسے چاٹنا شروع ہو گیا۔ وہ سسکیاں بھرتے ہوئے میرے سر کو سہلانے لگیں ۔۔۔اور اپنی پیاسی چوت پر میرے منہ کو دبانے لگیں۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اپنی دونوں انگلیوں کو ان کی چوت سے باہر نکالا ۔۔۔۔۔۔ اور زبان کو براہِ راست چوت میں ڈال کر اسے چاٹنا شروع ہو گیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔ان کی گرم چوت سے تازہ تازہ مال نکل رہا تھا ۔۔۔ جسے میں اپنی زبان کے ساتھ چاٹتے ہوئے منہ میں جمع کر رہا تھا۔۔۔۔ دوسری بات یہ کہ ان کی چوت کی سمیل بہت سٹرانگ تھی ۔۔۔۔ چوت سے ایسی شہوت انگیز سمیل نکل رہی تھی کہ اسے چاٹنے کے کچھ ہی دیر بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا لن پھر سے الف ہو گیا۔۔۔۔ اور چوت کے اندر جانے کے لیئے دھائیاں دینے لگا۔۔۔۔۔ لیکن میں نے لن کو کوئی لفٹ نہیں کرائی ۔۔۔اور میڈ م کی چوت کو چاٹنا جاری رکھا۔۔اسی دوران ۔۔۔ایک دو دفعہ میڈم کا سارا وجود تھرایا ۔۔۔اور پھر اگلے ہی لمحے ان کی چوت بہنا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔میں اسے مزید۔۔۔۔۔ چاٹنا چاہ رہا تھا کہ اچانک انہوں نے میرے سر کو اپنی چوت سے ہٹا دیا۔۔۔ اور پھر کہنے لگیں ۔۔۔۔ کیا خوب چاٹی ہے ۔ ۔ ۔۔۔لیکن اب بس کر دو ۔۔۔۔کہ اب اس میں تیری زبان نہیں بلکہ کڑک لن چایئے۔۔۔۔۔پھر کہنے لگیں ۔۔۔۔۔ اب تم اُٹھو ۔۔۔۔ تو میں تیرے لن کو چوس کر کھڑا کرتی ہوں ۔۔۔ اور جب یہ کھڑا ہو جائے گا ۔۔۔۔۔تو پھر تم مجھے چودنا۔۔۔ ان کی بات سن کر میں کھڑا ہو گیا ۔۔ اور وہ میرے اکڑے ہوئے لن کو دیکھ کر بولیں۔۔۔۔ارے ۔۔۔ یہ تو پہلے سے ہی کھڑا ہے پھر کہنے لگیں ۔۔۔۔ اب دیر نہ کر جلدی سے مجھے چود !!!!!!!!! ۔۔۔تو میں نے ان سے ویسے ہی کہہ دیا کہ میڈم میں آپ کو کس سٹائل میں چودوں؟؟؟؟ تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے عجیب سے لہجے میں بولیں۔۔ویسے تو میں ڈوگی سٹائل میں چدوا کر مزہ لیتی ہوں لیکن اس وقت میری بے قابو چوت کے اندر ایک انوکھی ہلچل سی مچی ہوئی ہے ۔۔۔ اور یہ ہلچل تبھی کم ہو گی کہ جب میں تیرے لن پر بیٹھوں۔۔۔ اس لیئے میں تم پر سواری کرنا پسند کروں گی ان کی بات سن کر میں وہیں فرش پر سیدھا لیٹ گیا۔۔۔ مجھے لیٹے دیکھ کر وہ بھی کرسی سے اُٹھیں ۔۔۔۔اور میری دونوں ٹانگوں کے اوپر آ کر کھڑی ہو گئیں۔۔۔۔ اور اپنی چوت پر تھوک لگاتے ہوئے کہنے لگیں ویسے تو اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں ۔۔کہ میری چوت پہلے ہی بہت زیادہ گیلی ہے ۔ لیکن عادتاً اسے گیلا کر نے کے بعد تیرے لنڈ کو بھی چکنا کرو ں گی۔۔۔اور پھر اپنی چوت پر تھوک ملنے کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ میرے لن پر جھکی اور اس پر بھی بہت سارا تھوک پھینک دیا۔ اور پھر لن پر پھیلانے کے بعد۔۔۔۔وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں ۔۔کیا کڑک لن ہے تیرا ۔۔۔ مزید صبر نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ اس لیئے اب ۔۔۔ میں تیرے اس موٹے لنڈ پر سوار ہونے لگی ہوں ۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ نیچے ہوئیں۔۔۔۔ اور پھر میرے لن کو پکڑ کر اپنی چوت کی سیدھ میں کیا ۔۔۔۔اور پھر اس پر بیٹھ گئیں ۔۔۔جیسے ہی میرا چکنا لن پھسلتا ہوا ان کی گیلی چوت میں گھسا۔۔۔۔ ان کے منہ سے ایک زبردست سی چیخ نکلی۔۔۔ اوئی ماں ں ں ۔۔۔لنڈ کے اندر جاتے ہی وہ تیری سے اوپر نیچے چھلانگیں لگا کر اپنی بے قابو چوت کی پیاس بجھانے لگیں۔۔۔۔ اس طرح تیزی کے ساتھ اوپر نیچے ہونے کے ۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ان کی بس ہو گئی ۔۔۔ ان کا سانس پھول گیا۔۔۔۔اور وہ میرے اوپر سے اُٹھتے ہوئے کہنے لگیں۔۔ ۔۔۔ میں تو گھسے مار مار کر تھک گئی ہوں ۔۔۔اب تم آؤ ۔۔۔۔اتنی بات کرتے ہی وہ کاؤنٹر کے پاس جا کر کھڑی ہو گئیں۔۔۔۔اور انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ کاؤنٹر پر رکھنے کے بعد۔۔۔ اپنی گانڈ کو کافی حد تک پیچھے کی طرف کر دیا۔۔اور پھر اپنی عادت سے مجبور ۔۔۔ دو انگلیوں کو اپنے منہ کی طرف لے گئیں۔۔۔۔۔اور انگلیوں پر تھوک لگا کر ۔۔۔انہیں اپنی چوت کی طرف لے جاتے ہوئے بولیں ۔۔۔سنو !! تم نے ٹرپل ایکس مویز میں لڑکی کو چودتے ہوئے دیکھا ہو گا ۔۔۔۔ اس لیئے اس منظر کو زہن میں لاتے ہوئے۔۔۔۔ اُلٹے سیدھا جیسا بھی تم کو چودنا آتا ہے مجھے چود۔۔۔ پھر کہنے لگیں ۔۔۔ اور ہاں چودائی کے دوران تم مجھے جتنی گندی گالیاں جیسے کتیا۔۔ بہن چود ۔۔۔ مادر چود ۔۔۔رنڈی۔۔۔سالی۔۔۔ ٹائپ دے سکتے ہو بے دھڑک ہو کر دینا۔۔مجھے چوت مرواتے ہوئے گالیاں سننے کا بڑا مزہ آتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا تو میں ان کے پیچھے آگیا۔۔اور ان کی طرح میں نے بھی اپنے ٹوپے پر تھوک لگا کر اسے چکنا کیا پھر لن کو پکڑ کر ان کی باہر کو نکلی ہوئی چوت کے لبوں پر رکھا ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو میڈم کے بھاری کولہوں پر مضبوطی کے ساتھ جما دیا۔۔۔اور پھر ایک زبردست سا گھسہ مارتے ہوئے بولا۔۔۔۔ لے بہن کی لوڑی۔۔۔ میرے کٹ لن کا مزہ لے۔۔۔۔ جیسے ہی میرا لن پھسل کر ان کی چوت کی گہرائی میں اترا ۔۔۔تو اچانک ہی انہوں نے گردن پیچھے کر کے۔۔۔ میری طرف دیکھا ۔۔اور کہنے لگیں سارے مسلے۔۔۔ کتے حرامی۔۔اپنے کٹ لنڈ سے۔ میری ہندو چوت کو چود ۔۔۔مجھے راند۔۔۔ اپنے کٹے ہوئے لن کے ساتھ۔۔ میری ہندو چوت کو چیر پھاڑ دے ۔۔ پڑھی لکھی اور اتنی مہذب میڈم کے منہ سے اس قدر غلیظ باتیں سن کر مجھے تو نشہ سا چڑھ گیا۔۔۔اور میں ان کے کہنے کے مطابق اُلٹے سیدھے دھکے مارتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔ بہن چود ۔۔۔ کتیا ۔۔۔ تیری ہندو چوت ۔۔۔ بڑی گرم ہے ۔۔۔۔ میرے کٹے ہوئے لن کو چود کر بڑا مزہ آ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ تو آگے سے وہ بھی چہکتے ہوئے کہنے لگی۔۔چود مجھے ۔۔۔مسلے۔۔۔میری ہندو چوت مار ۔ ۔۔۔۔مجھے اپنی رنڈی بنا۔۔۔۔۔ چود مجھے۔۔میری چوت میں اپنے گرم پانی کا فورا مار۔۔۔ پھر جوش میں کہنے لگی۔۔۔۔ سن چوتیے!!۔۔اگر تم نے میری بس کروا دی تو میں ۔۔۔ تجھ جیسے حرامی کی غلام بن جاؤں گی۔۔۔۔اس وقت میں اور وہ سیکسی میڈم ایک دوسرے کے ساتھ اس قدر غلیظ اور گندی باتیں کر رہے تھے کہ اس وقت اگر مامی ہماری ان باتوں کو سن لیتی تو حیران ہو کر اپنی انگلیاں دانتوں تلے داب لیتی ۔۔۔ میں اسی طرح میڈ م کو غلیظ گالیاں بکتے ہوئے اُلٹے سیدھے گھسے مار رہا تھا ۔۔۔ کہ اچانک ہی میڈم کی چوت نے میرے لن کو جکڑ لیا۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی میڈم کے منہ سے گالیوں کا طوفان نکلنا شروع ہو گیا۔۔۔وہ کہہ رہی تھی۔۔۔ رنڈی کے بچے ۔۔۔ کل کا چھوکرا ہو کر تو مجھے فارغ کر رہا ہے۔اس کے ساتھ ہی میڈم کے جسم میں اکڑن سی پیدا ہوئی۔۔۔ اور وہ چیخی ۔۔۔اوئی ماں ں ں ں ں۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ پھدی نے اس کل کے چھوکرے سے ہار مان لی ہے ۔۔۔۔۔ میں چھوٹنے لگی ہوں اس کے ساتھ ہی میڈم کے جسم نے جھٹکے مارنے شروع کر دیئے۔۔ ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی۔۔۔ ان کی چوت سے گرم گرم پانی نکلنا شروع ہو گیا۔۔ابھی میڈم چھوٹ ہی رہی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے جسم کو بھی ایک شدید جھٹکا لگا ۔۔اور میں۔۔۔ اوہ۔۔ اوہ۔۔۔۔۔ کرتے ہوئے میڈم کے اوپر ہی گر گیا۔۔۔جبکہ نیچے میرے لن سے منی کا طوفان نکل نکل کر میڈم کی سیکسی چوت کو بھرتا چلا جا رہا تھا۔۔۔بھرر۔۔ررررر تا جا رہا تھااااااااااااااا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  9. اُف۔۔کیا بتاؤں دوستو کہ میڈم کا بدن کیسا تھا ۔۔۔۔۔ ان کا جسم نہایت شفاف ۔۔۔۔اور بالوں سے پاک تھا۔۔۔۔۔۔خاص کر ان کی چوت بہت ابھری ہوئی اور گوشت سے بھر پور تھی۔۔۔چوت کے درمیان ایک گہری سی لکیر تھی ۔۔۔ اور اس لکیر کے شروع میں میم کی چوت کے اوپر ۔۔۔۔اور دانے کے نیچے ۔۔۔۔ اپر ہونٹ باہر کو نکل کر لٹکے ہوئے تھے۔۔۔۔ مجموعی طور پر ان کی چوت بہت جاذبِ نظر اور مست تھی۔۔۔۔۔ ۔۔ جسے دیکھ کر میرا لن جھٹکے مارنا شروع ہو گیا ۔۔۔ادھر میڈم کے کہنے پر ۔۔۔۔ جیسے ہی میں نے اپنی نیکر اتار ی تو حسبِ عادت لن صاحب باہر آ کر لہرانا شروع ہو گئے۔۔۔ اتنی بات کر نے کے بعد۔۔۔۔ عدیل نے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا ۔۔۔ شاہ تمہیں یاد ہی ہو گا کہ میٹرک میں ایک دفعہ سب ہم دوستوں میں لنوں کا مقابلہ بھی ہوا تھا۔۔۔۔۔اور پوری کلاس میں صرف تیرا یا پھر ۔۔۔۔ میرا لن بہت بڑا اور موٹا تھا۔۔۔۔ تو میرا بڑا سا لن دیکھ کر پلوی جی کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اور وہ بھوکی نظروں سے میرے اکڑے ہوئے لن کو دیکھنے لگیں۔ اور میں نے نوٹ کیا کہ پلوی جی بار بار اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھیں ۔۔۔اور تقریباً کھا جانے والی نظروں سے ٹکٹکی باندھے ۔۔۔۔مسلسل میرے لن کو دیکھے جا رہیں تھیں۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی دیکھنے کے بعد۔۔۔۔ وہ میری طرف بڑھیں اور میرے اکڑے ہوئے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اسے سہلاتے ہوئے بولیں۔۔۔ بڑے عرصے کے بعد کسی کٹ لن سے واسطہ پڑا ہے۔۔۔دوسری طرف دل ہی دل میں۔۔۔۔ میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ میرے لن کی موٹائی اور لمبائی کی تعریف کریں گی ۔۔۔۔ لیکن اس کے برعکس جب انہوں نے کٹ لن کا ذکر کیا تو میں پریشان ہو گیا ۔۔۔۔اور اسی پریشانی کے عالم میں ان سے بولا۔۔۔ ۔۔۔۔کٹ لن؟؟؟؟ ۔۔ پھر لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اسے چاروں طرف سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔نہیں میڈم میرا لن تو بلکل پورا اور ٹھیک ہے۔۔میری بات سن کر وہ مسکرائیں۔۔۔۔ ۔۔اور کہنے لگیں۔۔ ۔۔ میں نے کب کہا کہ یہ پورا نہیں ہے۔۔۔؟ اس کے بعد وہ میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر کہنے لگیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔ کیا تم "کٹ اور اَن کٹ" کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟ ۔۔۔ میرے لیئے یہ بلکل نئی بات تھی۔۔۔اس لیئے میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ وہ کیا ہوتا ہے جی؟ تو وہ میرے لن کو آگے پیچھے کرتے ہوئے بولیں۔۔۔ تمہاری حیرانگی مجھے بتا رہی تھی ۔۔۔۔ کہ تم اس بات سے لا علم ہو گے ۔۔اس کے بعد وہ بڑے پیار سے میرے ٹوپے پر اپنی ایک انگلی پھیرتے ہوئے بولیں۔۔۔ ۔۔۔ دیکھو تم مسلم لوگ شروع سے ہی لنڈ کی اضافی سکن کو کٹوا لیتے ہو ۔۔ جس کی وجہ سے لنڈ کا سپارو ننگا ہو جاتا ہے۔۔۔۔ ۔۔۔تو لنڈ کی اس حالت کو عرفِ عام میں ہم کٹ لنڈ کہتے ہیں ۔۔۔ اور شاید تم جانتے ہو کہ مسلمز کے علاوہ باقی سب کے لنڈ اَن کٹ ہوتے ہیں۔۔۔۔ اسی لیئے جس طرح بہت سی مسلمز لیڈیز ان کٹ لنڈ کو پسند کرتی ہیں اسی طرح ہماری ہندو کمیونٹی کی بہت ساری خواتین جن میں ۔۔۔ میں بھی شامل ہوں کو "کٹ لنڈ" بہت پسند ہوتا ہے۔ میڈم کی یہ با ت سن کر میں حیران رہ گیا۔۔۔۔اور اسی حیرت کے عالم میں ان سے بولا۔۔مسلم لیڈیز؟؟؟؟؟؟؟؟ میری اس حیرانی کو میڈم نے بھی بھانپ لیا ۔۔چنانچہ وہ لن کو آگے پیچھے کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ ہاں مسلم لیڈیز یار۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ تم ایک دقیانوسی اور بہت ہی بیک ورڈ ۔۔۔ معاشرے سے آئے ہو ۔اس لیئے تم اس بات کو نہیں سمجھو گے ۔۔۔۔۔ پھر توقف کے بعد بولیں۔۔۔لیکن میری جان ۔۔۔۔۔۔۔ زمانہ بہت بدل گیا ہے۔۔ تم یقین نہیں کرو گے کہ یہاں پر آنے والی اکثر عرب لیڈیز ۔۔۔کہ جن کو تم لوگ بہت ہی متبرک سمجھتے ہو ۔۔۔۔ ان کٹ۔۔۔ لنڈز کی اس قدر دیوانی ہیں کہ مت پوچھو۔۔۔ پھر انہوں نے شرارت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر بڑے ہی ذومعنی لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔۔دور کیوں جاتے ہو ۔۔۔ بہت سی پاکستانی عورتیں بھی ان کٹ لنڈ پر مرتی ہیں ۔۔۔میں ان کا اشارہ تو اچھی طرح سے سمجھ گیا تھا ،۔۔ لیکن جان بوجھ کر یملا بنا رہا۔۔۔۔۔اور ان سے پوچھنے لگا۔۔۔۔کہ وہ کیوں جی ۔۔ تو آگے سے وہ کہنے لگیں۔۔۔۔۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو چینج بھی ہو سکتی ہے اور دوسری وجہ تمہاری ایک پاکستانی لڑکی نے مجھے بتائی تھی اور وہ یہ کہ جب ان کٹ لنڈ سے پری کم (مزی) نکلتی ہے تو وہ مزی۔۔۔۔ ٹوپے کے آگے والی کی سکن میں پھیل جاتی ہے جس کی وجہ سے اس سکن کو چوسنے میں بڑا مزہ آتا ہے اس پر میں نے ان سے کہا کہ اور کٹ لن کے بارے میں آپ کیا کہتی ہو ؟ تو وہ میرے ٹوپے کو چوم کر بولیں۔۔۔ایک تو یہ کہ دیکھنے میں "کٹ لن " بہت اچھا لگتا ہے دوسری بات یہ کہ کٹ لنڈ سے دھکے بہت بڑھیا لگتے ہیں۔۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی ایک بات کہوں؟ تو میں نے ان سے کہا کہ جی آپ حکم کرو۔۔۔۔ تو آگے سے وہ نشیلی آواز میں کہنے لگیں۔۔۔۔ ۔۔۔ لنڈ چاہے کٹ ہو یا اَن کٹ۔۔۔۔ لیکن اگر وہ تمہارے اس لن کی طرح سخت اور پتھیریلا ہو گا تو عورت کو مزہ آئے گا۔۔ورنہ ڈھیلا ڈھالا لنڈ چاہے کٹ ہو ۔۔۔ یا ان کٹ۔۔۔۔۔۔۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔۔۔اس کے بعد وہ اپنے ہونٹوں کو میرے لن پر رکھ کر بولی۔۔۔ لن چسوانا پسند کرو گے؟ یہ سن کر میں نے ان کے سر کو اپنے لن پر دبا دیا ۔۔۔۔یہ دیکھ کر انہوں نے ایک طویل سانس لی اور پھر ۔۔۔۔ میرے بدن کو سونگھتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔ تمہارے جسم سے مجھے کنوارے پن کی خوشبو آ رہی ہے؟ کیا یہ تمہاری فسٹ ٹائم ہے ؟ تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ ایک ادا سے کہنے لگیں۔۔ ۔۔۔ پھر تو میرا ۔۔۔ اس کنوارے ۔۔۔لنڈ کو چوسنا بنتا ہے ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے میرے پھولے ہوئے ٹوپے کو اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔۔۔ اور ایک ہلکا سا چوپا لگا کر بولیں۔۔۔۔۔ ۔۔شاید تمہیں معلوم نہیں کہ میں لن چوسنے اور اسے چاٹنے کی بڑی شوقین ہوں ۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے میرے لن پر ایک بڑا سا تھوک کا گولا پھینکا۔۔۔۔اور کہنے لگیں۔ ۔۔ پہلے میں لنڈ کو تھوک لگا کر گیلا کرتی ہوں ۔۔۔۔اور پھر اس تھوک کو پورے لن پر پھیلا دیتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے میرے لن پر پڑے تھوک کے گولے کو اپنی انگلیوں کی مدد سے پورے لن پر پھیلاتے ہوئے بولیں ۔۔۔ایسے ۔۔۔پھر کہنے لگیں ۔۔۔۔ میرے اس طرح کرنے سے لن جب خوب چکنا ہو جاتا ہے تو پھر میں ۔۔۔۔اس کو اپنی مُٹھی میں قید کر لیتی ہوں۔۔۔۔اور پھر اسے ہلکا ہلکا رگڑتی ہوں ۔۔۔ اتنی بات کرتے ہوئے انہوں نے پہلے تو اپنی ہتھیلی پر تھوک پھینکا ۔۔۔۔اور پھر میرے لن کو اپنی گرفت میں لے لیا۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ میرے چکنے لن پر ہلکی ہلکی مُٹھ مارنے لگیں۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے ایک بار پھر میری طرف دیکھا ۔۔۔اور کہنے لگیں ۔۔۔ تمہیں معلوم ہے اس کے بعد میں کیا کرتی ہوں؟؟ تو اس پر میں نے ان کو کوئی جواب نہ دیا اور چُپ ہی رہا ۔۔۔وہ اس لیئے کہ اس وقت آنٹی فل گرم اور جوبن میں تھی اور میں ان کی اس گرمائیش اور لزت سے بھر پور باتوں کو انجوائے کرنا چاہتا تھا۔۔۔دوسری طرف بات کرنے کے بعد میڈم نے بس ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگیں۔۔۔۔۔ اس کے بعد میں اپنے گرم گرم ہونٹوں سے ٹوپے کو چومتی ہوں۔۔یہ کہتے ہی انہوں نے شہوت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔اور پھر۔۔۔ سر جھکا کر میرے ٹوپے کو چومنا شروع کر دیا۔اُف ان کے نرم نرم ہونٹ جب میرے ٹوپے کے ساتھ ٹچ ہوئے۔۔۔۔تو ان کے لمس کی وجہ سے ۔۔۔ میں لزت بھری سسکیاں لینے لگا۔۔۔ ادھر وہ بڑے ہی شہوت انگیز طریقے سے میرے ٹوپے کو چومتی رہیں ۔۔۔اس کے بعد انہوں نے اپنا سر اُٹھایا۔۔۔اور کہنے لگیں ۔۔ تیری سسکیاں بتا رہیں ہیں کہ تجھے مزہ آ رہا ہے تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔ اس کے بعد ۔۔ ۔۔ وہ کہنے لگیں ۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے تیرے جیسے کٹ لن کو چومتے چومتے ۔۔۔ میں اسے اپنے منہ میں ڈال لیتی ہوں ۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے میرے لن کو اپنے منہ میں ڈال لیا۔۔۔۔۔ اور اسے آم کی طرح چوسنا شروع ہو گئیں۔۔۔۔وہ کبھی تو میرے لنڈ کو صرف ہونٹوں کے ذریعے سے اوپر سے نیچے تک چوستیں ۔ ۔اور اپنے منہ کے اندر تک لے جاتیں۔۔۔۔ ۔۔۔اور۔۔ کبھی مست ہو کر ۔۔اپنی زبان باہر نکالتیں ۔۔۔۔۔اور ۔۔۔شہوت بھرے انداز میں لن کو چاروں طرف سے چاٹنا شروع کر دیتیں۔۔ ان کے لن چوسنے کا اسٹائل اس قدر ۔۔۔ شہوت انگیز تھا کہ ۔۔۔ میں جو فرسٹ ٹائم کسی تجربہ کار عورت سے اپنے لن کو چسوا رہا تھا۔۔۔ برداشت نہ کر پایا۔۔۔۔اور اچانک ہی مجھے جوش چڑھ گیا اور میں نے ان کو منہ سے پکڑا ۔۔۔اور ان کے منہ کو چودتے ہوئے بولا۔۔۔ میڈم جی میں بس۔۔۔۔۔۔۔ میری اس حرکت سے تجربہ کار میڈم فوراً سمجھ گئیں ۔۔ کہ میرا پانی نکلنے والا ہے۔۔۔ اس لیئے انہوں نے ایک لمحے کے لیئے مجھے رُکنے کو کہا ۔۔۔۔اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔۔۔۔" کم " کرنے والے ہو؟ (چھوُٹنے والے ہو) تو میں نے بے چارگی کے ساتھ سر ہلا دیا۔۔۔ میری بات سنتے ہی وہ ایک دم سے پرُ جوش ہو کر بولیں۔۔۔۔ پہلی پہلی "کم" (منی) کا اپنا ہی مزہ ہو گا ۔۔ یہ کہتے ہی انہوں نے میرے لن کو تیزی کے ساتھ اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔۔اور اسے تیز تیز چوسنا شروع ہو گئیں۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر بعد میرے جسم نے جھٹکے لینا شروع کر دیئے۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ اور تیزی کے ساتھ چوپا لگانے لگیں ۔۔ تیز۔اور تیززززززززز۔۔۔ ۔۔۔۔۔اور پھر میرے لن نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔۔۔ لیکن وہ بدستور اسے چوستی ۔۔اور ساتھ ساتھ "کم" کو پیتی گئیں۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اور میرے لن کو اس وقت اپنے منہ سے باہر نکالا ۔۔۔ کہ جب وہ مرجھانا شروع ہو گیا۔۔۔۔
  10. گوری میم کے ساتھ ہاتھ ملانے کے فوراً بعد میں واپس پلٹا ۔۔۔۔اور پہلے کی طرح لن کو اپنی دونوں ٹانگوں کے بیچ چھپا کر ۔۔۔۔اسی پوزیشن میں کھڑا ہوگیا ۔ مجھ سے ہاتھ ملانے کے بعد وہ گوری گانڈ مٹکاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔۔ ۔اسے گانڈ مٹکاتے دیکھ دیکھ کر میرا لن مزید اکڑ گیا۔۔۔۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ واش روم جا کر ایک زبردست سی مُٹھ لگاؤں کہ ۔۔۔۔ عین اسی وقت پلوی میم نے میری طرف دیکھا اور شرارت سے بولیں ۔۔۔ کیتھی کیسی لگی ؟؟ تو میں نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا اور سر جھکائے کھڑا رہا۔۔۔ تب وہ زرا سخت لہجے میں کہنے لگیں ۔۔۔ اے مسٹر ! میری بات کا جواب دو ۔۔۔تو میں جھجھک کر بولا۔۔۔۔ جی وہ اچھی ہیں ۔۔ میری بات سن کر میڈم شرارت سے بولیں ۔۔ صرف اچھی ہیں ؟ تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ تب وہ میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔ سارے ٹین ایجر لڑکوں کی طرح کیا تمہیں بھی میچور لیڈیز بہت پسند ہیں ؟ ان کے اس سوال پر ۔۔۔ میرے پاس جواب دینے کے لیئے بہت کچھ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ہائے ہائے یہ مجبوری۔۔۔اس لیئے میں نے خاموش رہنے میں ہی اپنی عافیت جانی ۔۔۔ لیکن جب انہوں نے آنکھیں نکالتے ہوئے۔۔۔ دوبارہ یہی سوال کیا تو ان کی بات سن کر پہلے تو میں ایسے ہی ادھر ادھر کی "چولیں " مارتے ہوئے آئیں بائیں شائیں کرتا رہا ۔۔۔۔ لیکن جب انہوں نے سخت لہجے میں یہ کہا کہ میں جو بات پوچھوں اس کا سچ سچ جواب دو ورنہ۔۔۔چنانچہ ان کی یہ دھمکی کام کر گئی۔۔۔۔اور ۔۔۔ میں نے اپنا سر ہلاتے ہوئے ہاں میں جواب دے دیا۔۔۔ ۔۔ تو اس پر وہ کہنے لگیں۔۔۔ ۔ اتنے بڑ ے سر کو ہلاتے ہو۔۔۔ دو تولے کی زبان ہلاتے ہوئے تمہیں ڈر لگتا ہے؟ ۔۔۔اور پھر بولیں ۔۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ کہ کیا کیتھی تمہیں بہت سیکسی لگی تھی ؟ تب میں نے سر اُٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور بولا ۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ۔۔تو وہ قدرے تیز لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔ ۔۔۔اگر ایسی بات نہیں ۔۔تو پھر مسٹر عدیل ۔۔۔۔۔ کیتھی کی بیک سائیڈ دیکھتے ہی تمہارے منہ سے سیٹی کی آواز کیوں نکلی تھی؟ ۔۔ میڈم کی بات سن کر میں گھبرا گیا ۔۔اور ان سے کہنے لگا۔۔ وہ تو جی۔۔۔ ۔۔پھر ان کے موڈ کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ وہ جی بس ۔۔۔ بے اختیار ہی منہ سے نکل گئی۔۔۔سوری۔۔۔میری بات سن کر وہ ہنس پڑیں اور پھر وہی سوال دھراتے ہوئے بولیں۔۔۔ ۔۔۔ تو پھر مجھے بتاؤ نا کہ ۔۔۔ کیا وہ تمہیں بہت سیکسی لگی تھی؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔ اس بات کا تو مجھے پتہ نہیں ۔۔۔۔ لیکن جی مجھے میچور لیڈیز بہت پسند ہیں تو وہ مجھے گھورتے ہوئے بولی ۔۔اس کی کوئی خاص وجہ؟ اس پر میں نے ان کی طرف دیکھا تو اس دفعہ ان کے چہرے پر غصہ کے کوئی آثار نہ تھے۔۔۔۔ بلکہ وہ مسکرا رہیں تھیں ۔۔۔ یہ دیکھ کر مجھے کچھ حوصلہ ہوا ۔۔۔اور ان سے بولا ۔۔ وجہ تو مجھے معلوم نہیں۔۔۔۔۔ ۔۔۔ میری بات سن کر انہوں نے بڑی گہری نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر۔۔۔سرسراتے ہوئے لہجے میں بولیں۔۔ ۔۔ میچور لیڈیز میں تو میں بھی آتی ہوں۔۔۔۔ تو کیا تم مجھے بھی پسند کرتے ہو ؟ پلوی جی کی یہ بات سن کر میں گھبرا گیا۔۔۔۔ اور بولا ۔۔۔ہکلاتے ہوئے بولا۔۔۔۔ وہ جی ۔۔۔وہ جی ۔۔آپ بہت اچھی ہیں۔۔۔ میری سن کر وہ اسی پراسر ار لہجے میں بولیں۔۔۔۔ کیا۔۔۔ میں ویسے ہی اچھی ہوں یا تم کو بھی اچھی لگتی ہوں؟ میڈم کی اس بات پر میں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔اور کہنے لگا۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔بہت اچھی ہیں ۔۔۔ میری بات سن کر انہوں نے نشیلی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگیں ۔۔اچھا یہ بتاؤ کہ میں زیادہ اچھی لگی ہوں ۔۔۔ یا۔۔۔۔ کیتھی؟ ان کی بات سن کر میں چپ رہا ۔(لیکن دل ہی دل میں کہنے لگا کہ جو دے دے وہی اچھی لگے گی ۔۔۔ لیکن ڈر کے مارے چُپ رہا) ۔۔ اسی اثنا میں وہ کاؤنٹر سے باہر نکلیں اور میرے سامنے کھڑے ہو کر بڑے اسٹائل سے بولیں۔۔۔ غور سے دیکھ کر بتاؤ کہ ۔۔۔ تمہیں۔۔۔میں زیادہ سیکسی لگتی ہوں یا۔۔کیتھی؟ اس وقت میں نے پلوی میم کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں میں ۔۔۔۔ شہوت کے سرخ ڈورے تیر رہے تھے۔۔یہ سب دیکھنے اور ۔۔۔۔ جاننے کے باوجود بھی میں نوکری جانے کے خوف سے چوتیا بنا رہا۔۔۔۔۔ ویسے بھی میں اس کشمش میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔کہ اگر اس خاتون کو یہ جواب دیا کہ آپ بہت سیکسی ہیں ۔۔تو کیا پتہ ۔۔ وہ میری اس بات کا مطلب کیا سمجھے؟ ۔۔ برا سمجھے۔۔۔۔بھلا سمجھے۔۔۔۔۔۔تو اگر وہ بھلا سمجھے۔ تو واہ بھلا۔۔۔۔۔۔لیکن اگر برا سمجھی تو ۔۔۔ استاد تیری تو نوکری گئی۔۔۔۔۔۔چنانچہ یہ سوچ کر میں چپ ہی رہا۔۔۔ ۔۔۔میری یہ حالت دیکھ کر وہ ایک سٹیپ مزید آگے بڑھیں ۔۔۔اور ۔۔۔اور اپنی چھاتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ ۔۔ کہ میرے بریسٹ زیادہ بڑے ہیں یا کیتھی کے؟ ۔۔ اس پر بھی میں کچھ نہ بولا اور ۔۔۔۔ ویسے ہی سر جھکائے کھڑا رہا۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ مزید آگے بڑھیں ۔۔۔ اور میرا ہاتھ پکڑ کر بولیں ۔۔۔ اچھا ایسا کرو ۔۔۔۔ کہ تم میرے بریسٹ کا ناپ لے کر دیکھو اور پھر بتاؤ کہ میرے زیادہ بڑے ہیں یا کیتھی کے؟ ۔۔۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی چھاتیوں پر رکھ دیا۔ ان کی بھاری چھاتیوں پر ہاتھ پڑتے ہی میری تو جان ہی نکل گئی۔۔۔ اور میں ڈر ۔۔۔یا شاید جوشِ جزبات سے ہولے ہولے کانپنا شروع ہو گیا۔۔۔ لیکن میری اس حالت سے بے خبر وہ میرے ہاتھ کو اپنی چھاتیوں پر رگڑتے ہوئے بولیں۔۔۔ناپ کر بتاؤ ۔۔۔ میرے بریسٹ بڑے ہیں نا؟ ۔۔۔ اور پھر وہ میرے جواب کا انتظا ر کیئے بغیر ہی۔۔۔ میرے ہاتھ کو اپنی شرٹ کے اندر لے گئیں۔۔۔ ۔۔۔اور اپنی ننگی چھاتیوں پر رکھتے ہوئے بولیں اب بول۔۔ہم دونوں میں سے کس کی چھایتاں زیادہ بڑی ہیں ۔۔۔ یہ کہتے ہی انہوں نے مستی میں آ کر اپنی چھاتیوں پر رکھے میرے ہاتھ کو اپنی چھاتی پر دبا دیا۔۔۔اُف۔ف۔ف۔ ان کی چھاتی کہ جس پر میرا ہاتھ دھرا تھا ۔۔ اس قدر بڑی اور شاندار تھی ۔۔۔کہ اس وقت میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں اسی وقت میڈم کی شرٹ کو پھاڑ کر۔۔۔۔ ان کی مست چھاتیوں کو چوسنا شروع کر دوں۔۔لیکن شدید خواہش کے باوجود بھی میں ایسا نہ کر سکا ۔۔۔۔۔ چنانچہ اس کا رزلٹ یہ نکلا۔۔۔ کہ ۔۔ ڈر ۔ خوف ۔۔۔ اور جوش ۔۔ کی وجہ سے میں باقاعدہ کانپنا شروع ہو گیا۔۔ ۔۔۔۔ اور اس وقت جانے کیسے میرے منہ سے یہ نکل گیا کہ ۔۔۔ ۔۔۔ پلیززز۔۔۔نن نا کریں آنٹی۔۔۔۔کہ اگر اس بات کا مامی کو پتہ چل گیا تو مجھے بہت مار پڑے گی۔۔۔۔ مامی کا ذکر سن کر ۔۔۔۔۔ وہ ناک چڑھا تے ہوئے ناگواری سے بولیں۔۔ ۔۔۔ وہ رنڈی تو اس وقت بیڈ پر پڑی کھانس رہی ہو گی۔۔۔ اس لیئے اس بات کی تم فکر نہ کرو ۔۔۔تو اس پر میں مزید کانپتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔پھر بھی ۔۔۔اگر ان کو پتہ چل گیا تو وہ مجھے یہاں سے نکلوا دیں گی ۔۔۔ میری بات سن کر وہ جل ترنگ سی ہنسیں اور ۔۔۔اس کے بعد۔۔ انہوں نے دھیرے سے میرے جھکے ہوئے سر کو اوپر اُٹھایا۔۔۔ اور پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولیں ۔۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سٹور میرا ۔۔۔اور میں اس کی مالکن ہوں۔۔۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ یہاں پر تم اور تمہاری ممانی دونوں میرے ملازم ہو۔۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگیں بولو میں غلط کہہ رہی ہوں یا درست۔۔ ؟ تو میں نے آگے سے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔۔۔ تو وہ اسی ٹون میں کہنے لگیں ایسی صورت میں اگر سٹور سے کسی کو نکالنا ہو تو مجھے بتاؤ ۔۔۔۔ کہ اس کا فیصلہ مالک کرے گا یا نوکر ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔ تو اس پر میں نے ۔۔۔ باقاعدہ کانپتے ہوئے جواب دیا جی مالک نکالے گا۔۔۔۔۔میری بات سن کر انہوں نے ایک گہری سانس لی ۔۔۔ اور پھر کہنے لگیں ۔۔ اس لیئے اب تم بے فکر ہو جاؤ ۔۔ میں تمہیں اس رنڈی کے تو کیا ۔۔۔ کسی کے بھی کہنے پر نہیں نکالوں گی ۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے دھمکی آمیز لہجے میں بولیں ۔۔۔ ہاں اگر تم نے میری بات نہ مانی تو ۔۔۔۔ میں تمہیں نوکری سے نکال سکتی ہوں اس لیئے جیسا میں کہتی ہوں چپ چاپ کر تے رہو ورنہ!!!! !!!۔۔ میڈم کے اس دھمکی آمیز ورنہ !! ۔۔۔ نے حسب ِ معمول میری گانڈ بند کر دی تھی اور میں ان کے لہجے سے ہی سمجھ گیا تھا کہ اگر میں نے میڈم کی بات نہ مانی تو۔۔۔(میرا کیا بنے گا کالیا؟)۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے آگے میں کچھ نہ سوچ سکا۔۔۔۔اس لیئے میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ جیسے یہ کہیں گی چپ چاپ کرتا جاؤں گا (اور ویسے بھی تو وہ سالی صرف میری عزت ہی تو لوٹنے کے چکر میں تھی۔۔۔جو کہ میں اس جیسی سیکسی آنٹیوں پر جنم جنم سے لُٹانے کو تیار بیٹھا تھا)۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ دوسری طرف شہوت کے نشے میں چُور میڈم ۔۔۔ میری طرف بڑھتے بڑھتے اچانک رک گئیں ۔۔۔ ۔۔اور پھر بنا کچھ کہے واپس مُڑیں۔۔۔۔اور تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے سٹور کے مین گیٹ کے پاس پہنچ گئیں۔۔۔وہاں پہنچ کر انہوں نے سٹور کو لاک کیا اور اس کے شیشے پر لگے بورڈ ۔۔" سٹور کھلا ہے" کو اُلٹا کر دیا جس پر " سٹور بند ہے" لکھا تھا ۔۔ اس کے بعد انہوں نے پردے کو شیشے کے آگے کر دیا ۔۔ جس کی وجہ سے اب باہر سے اندر کا منظر نہیں دیکھا جا سکتا تھا ۔۔۔۔ یہ سب کرنے کے بعد پلوی جی واپس مڑیں۔۔۔ اور میرے قریب پہنچ کر ۔۔۔ اسی شہوت بھرے لہجے میں بولیں۔۔۔ لو میں نے ڈور (دروازے) کو لاک کر دیا ہے۔۔۔۔ اب ہم آرام سے پیار کر سکیں گے۔۔۔ اس کے بعد وہ مزید آگے بڑھیں۔۔۔اور اپنے منہ کو میرے کان کے قریب لا ئیں ۔۔۔ (اتنے قریب کہ مجھے اپنے کانوں کے آس پاس ان کی گرم سانسیں محسوس ہونے لگیں)۔۔۔ ۔۔۔ اور پھر سرگوشی کرتے ہوئے بولیں ۔۔۔ میرے ساتھ پیار کرو گے نا؟ تو میں نے کانپتے ہوئے ہاں کر دی۔۔ میری طرف سے ہاں سنتے ہی انہوں نے اپنی لمبی سی زبان کو باہر نکالا اور اسے میرے سرخ ہوتے ہوئے گالوں پر پھیرتے ہوئے بولیں۔۔۔ میرے ساتھ سیکس کرو گے نا؟ ۔ ۔تو اس پر بھی میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔ وہ میرے ہاں کا اشارہ پا کر ۔۔ ۔۔۔۔ ایک بار پھر سے۔۔۔۔ ہونٹوں ک و میرے کان کے قریب لائیں۔۔۔۔۔اور پھر بڑے ہی سیکسی لہجے سرگوشی کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے۔۔۔۔میں کب سے ایسا کرنا چاہ رہی تھی ۔۔تو میں نے حیران ہو کر ان سے پوچھا کہ میرے ساتھ ؟ تو آگے سے وہ سرسراتے ہوئے لہجے میں بولیں ہاں تیرے ساتھ۔۔۔۔۔ اس کے بعد وہ میرے سامنے کھڑی ہو گئیں اور اپنی بانہیں کھول کر بولی آ گلے لگ جا۔۔۔ ان کی بات سن کر میں آگے بڑھا اور ان کے ساتھ گلے مل گیا۔۔۔ میرے اس طرح آگے ہونے سے میرا لن آزاد ہو کر جوش سے جھومنے لگا ۔۔لیکن میں نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی ۔۔۔۔۔ چنانچہ میڈم سے گلے ملتے ہوئے ۔۔۔۔ لن صاحب ۔۔۔۔ ایڈجسٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی نرم رانوں پر دستک دینے لگے۔۔۔ ۔۔۔ اپنی نرم ران پر میرے سخت لن کو محسوس کرتے ہی۔۔۔ میڈم نے دھیرے سے ۔۔۔۔اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسے پکڑ کر ۔۔۔ اپنی دونوں ٹانگیں کھولیں۔۔۔اور اسے اپنی گرم پھدی ( جو کہ اس وقت خاصی گیلی بھی تھی ) کی لکیر کے درمیان فٹ کر دیا۔۔۔۔ اوہ۔۔اوہ۔۔۔۔۔اووووووووووووووو۔۔۔۔ ان کی گیلی پھدی کا لمس اس قدر مست تھا ۔۔۔ کہ میں بے خود ہو کر لن کو آگے پیچھے کرنے لگا۔۔۔ یہ دیکھ کر انہوں نے اپنی ٹانگوں کو کچھ مزید کھول دیا۔۔۔ اور میرے دھکوں کو خوب انجوائے کرنے لگی۔۔۔ ۔۔۔۔ پھر اچانک اپنی رانوں کو بند کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔کیا۔۔۔تمہیں معلوم ہے کہ تم غضب کے سیکسی ہو ۔۔ اور پھر میرے منہ کے ساتھ اپنے منہ کو جوڑ دیا۔۔۔۔اور اپنے ہونٹوں کے ساتھ میرے ہونٹوں کو چومنا شروع ہو گئیں۔۔۔۔ان کے نرم ہونٹ جیسے ہی میرے ہونٹوں کے ساتھ ٹکرائے۔۔۔۔۔۔ تو مجھے ایک عجیب سا کرنٹ لگا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ مزہ بھی بہت آیا۔۔۔۔۔ دوسری طرف میرے ہونٹوں کو چومنے کے بعد انہوں نے اپنی زبان کو باہر نکالا۔۔۔۔۔۔ اور اسے ۔۔۔ میرے ہونٹوں پر پھیرنے لگیں۔۔ ان کی زبان کا لمس اس قدر ۔۔۔۔۔ ذائقہ آور تھا کہ ۔۔۔ صواد آ گیا بادشاہو۔۔۔۔اور میں جو پہلے ہی ڈر۔۔۔۔ یا شاید ۔۔جوش کی وجہ سے ہلکے ہلکے کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن پھر ان کی زبان کا لمس پا کر ۔۔۔ میں باقاعدہ کانپنا شروع ہو گیا۔۔۔۔ مجھے اس قدر کانپتا دیکھ کر وہ ایک لمحے کے رکیں اور ۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں ۔۔۔ کیا ہوا؟ تو میں شہوتِ جزبات سے کانپتے ہوئے بولا۔۔۔ بڑا مزہ آ رہا ہے۔۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگیں۔۔ یہ تو ابھی شروعات ہے۔۔ میری جان ۔۔ آگے آگے دیکھ میں ۔۔۔۔ تجھے کتنا مزہ دیتی ہوں ۔۔۔ پھر مجھ سے کہنے لگیں۔۔۔ اپنی زبان کو زرا باہر نکالو ۔۔تو میں نے جھٹ اپنی ساری زبان کو منہ سے باہر نکال دیا ۔۔۔۔ یہ منظر دیکھ کر انہوں نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور کہنے لگیں ۔۔۔ شاباش۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں میری زبان کو اپنے منہ میں لے لیا ۔۔اور مستی کے عالم میں اسے چوسنے شروع ہو گئیں۔۔۔ چونکہ کسی بھی خاتون کے ساتھ یہ میری پہلی کسنگ تھی اس لیئے جیسے ہی انہوں نے اپنی زبان کو میرے منہ میں لے جا کر گھمانا شروع کیا۔۔۔۔۔۔۔ تو ان کے اس عمل سے میں ۔۔ مزے کے ساتیوں آسمان پر پہنچ گیا۔۔۔ اور اپنی آنکھیں بند کر کے زبانوں کے ٹکراؤ کا مزہ لینا لگا۔۔کسنگ کے دوران ہی انہوں نے اپنی پھدی کی لکیر پر رکھے۔۔۔ لن کو وہاں سے ہٹا دیا تھا اور کسنگ کے دوران ہی اسے اپنے ہاتھ میں پکڑ کر سہلانے لگیں ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح وہ کافی دیر تک میرے ساتھ ٹنگ کسنگ کرتی رہیں ۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد انہوں نے میرے منہ سے اپنی زبان کو باہر نکالا۔۔۔۔۔ اور میری طرف دیکھ کر بولیں۔۔ کسنگ کیسی لگی ؟ تو میں نے جواب دیا ۔۔۔ مجھے بہت مزہ آیا ۔۔۔ تب وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولیں۔۔۔۔ اور مزہ بھی دوں ۔۔۔ان کی بات سن کر میں نے اپنی زبان کو منہ سے باہر نکالا ۔۔۔اور کہنے لگا۔۔۔۔۔ اسے چوسیں نا پلیززززززز۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ میری زبان کو باہر نکلا دیکھ کر وہ آگے بڑھیں۔۔۔۔۔ ۔۔اور پھر میری زبان کے ساتھ اپنی زبان کو ٹکرا کر بولیں ۔۔۔اس دفعہ یہ والا نہیں۔۔۔۔۔ بلکہ میں تمہیں ایک ڈفرنٹ مزہ دوں گی ۔۔ یہ کہتے ہی انہوں نے اپنے کپڑے اتارنے شروع کر دہیئے ۔۔ دوسری طرف میں انہیں کپڑے اتارتے ہوئے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر وہ اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔۔۔ تم بھی اتار دو۔۔ ان کی بات سن کر میں نے ایک نظر ان کے شفاف اور گورے بدن پر ڈالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اپنے کپڑے اتارنے لگا۔۔۔
  11. گھر سے پندرہ بیس منٹ کی مسافت پر سٹور واقع تھا ۔ یہ ڈیپارٹ مینٹل سٹور دوسروں کے مقابلے میں یہ سٹور اتنا بڑا تو نہ تھا ۔۔۔۔لیکن پھر بھی اس میں ضرورت کی ہر شے دستیاب تھی ۔ اس سٹور کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں انڈین مصالحہ جات ا ور خاص کر چاول باقی سٹوروں کی نسبت بہت ارزاں ملتے تھے۔۔اسی لیئے اس سٹور پر دیسی لوگوں کی آمد و رفت زیادہ رہتی تھی۔۔۔ وہاں پہنچ کر مامی نے سٹور کھولا ۔۔۔اور پھر مجھے اپنے ساتھ کیش والے کاؤنٹر پر یہ کہتے ہوئے کھڑا کر دیا کہ ۔۔۔ مجھے واچ کرو۔۔۔ اور جو بات سمجھ میں نہ آئے پوچھ لینا۔۔اور میں مامی کے ساتھ کاؤنٹر پر کھڑ ا ہو گیا یوں وہاں پر میری ٹرینگ کا آغاز ہو گیا ۔ سب سے پہلے مامی نے مجھے سارے سٹور کا وزٹ کرایا ۔۔۔۔ اورسمجھایا کہ کون سی چیز کس شیلف میں رکھنی ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس بعد انہوں نے کاؤنٹر پر پڑے ہوئے ۔۔۔ بار کوڈ ریڈر کے حوالے سے بھی ایک چھوٹا سا لیکچر دیا ۔۔۔اسی دوران سٹور پر کچھ گاہک بھی آئے ۔جن کے ساتھ مامی نے ڈیلنگ کی اور میں یہ سب بڑے غور سے دیکھتا رہا۔۔۔ تین چار گھنٹوں کے بعد پلوی جی بھی سٹور پر آ گئیں اس وقت انہوں نے ٹائیٹس کے اوپر ایک چھوٹی سی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ اور یہ شرٹ بھی ان کی ناف کے اوپر تک تھی ۔۔ اس لباس میں بھی وہ بہت سیکسی لگ رہیں تھیں خاص کر ان کی باہر کو نکلی ہوئی۔۔۔۔ موٹی گانڈ دیکھ کر میرے لن میں کچھ کچھ ہونے لگا تھا۔۔ لیکن میں بے چارہ قسمت کا مارا ۔۔۔ کر بھی تو کچھ نہ سکتا تھا ہاں ایک بات تھی جو کہ میرے بس میں تھی اور وہ یہ کہ آج کی مُٹھ مسز پلوی کے نام پکی تھی۔ چھٹی سے کچھ دیر پہلے کی بات ہے کہ اس وقت مامی واش روم گئی ہوئی تھی میں حسب ِ معمول کاؤنٹر کے پاس کھڑا تھا کہ اچانک پلوی جی بڑی تیزی کے ساتھ کاؤنٹر کی طرف بڑھیں۔۔ انہیں آتا دیکھ کر میں نے اپنی جگہ سے ہٹنے کی کوشش کی تو وہ کہنے لگیں تم وہیں کھڑے رہو۔ پھر میرے پاس کھڑے ہو کر انہوں نے جھک کر کاؤنٹر کی دراز کھولی ۔اُف۔ف۔ف ۔۔۔۔۔ان کی بنیان نما شرٹ کافی اوپر تک ہونے کی وجہ سے ان کی گانڈ کا کریک بڑا ہی صاف اور واضع نظر آ رہا تھا۔۔ جسے دیکھ کر میرا سانس رکنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔دوسری طرف ان کی موٹی گانڈ کو دیکھ کر میرا لن بھی کھڑا ہو نے کے لیئے بے قرار تھا کیونکہ ان کے اس طرح جھک کر دراز کھولنے کی وجہ سے۔۔ ان کی موٹی گانڈ کچھ اور بھی نمایاں ہو گئی۔۔۔جسے نا چاہتے ہوئے بھی میں بار بار دیکھتا جا رہا تھا ۔ ۔۔۔ ۔ ۔۔۔ اس بڑی سی دراز کے اندر ہاتھ مارتے ہوئے اچانک ہی پلوی میڈم کچھ اس زاویہ سے پیچھے ہٹیں۔ کہ جس کی وجہ سے ایک لحظے کے لیئے۔۔۔۔ان کی موٹی گانڈ میری لیفٹ والی ران کے ساتھ ٹچ ہو گئی۔۔ جیسے ہی مسز نارائن کی نرم گانڈ نے میری لیفٹ تھائی کو چھوا۔ تو ایک دم سے میں چونک اُٹھا۔۔۔ ان کی گانڈ کے شاندار لمس نے میرے تن بدن میں ایک کرنٹ سا دوڑ گیا۔۔اس وقت میرا دل تو یہی کر رہا تھا کہ ان کی موٹی گانڈ کے ساتھ اپنا لن ٹچ کروں۔۔۔۔ لیکن پھر مامی کی نصیحت یاد آ گئی ۔ مامی کی نصیحت یاد آنے کی دیر تھی کہ میرے ٹٹے ہوائی ہو گئے ۔۔۔اور ۔۔ میں ڈر کے مارے تھوڑا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ جانے کیوں پلوی جی میری اس حرکت کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور اسی انداز میں جھک کر ۔۔۔۔۔ دراز میں کوئی چیز تلاش کرتی رہیں۔۔۔ ۔۔ جبکہ دوسری طرف میرا یہ حال تھا کہ ۔۔۔ ہٹ کر کھڑا ہونے کے باوجود بھی۔۔۔۔میری گستاخ نظریں بار بار ان کی بڑی سی گانڈ کا طواف کر رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔مسز نارائن کی گانڈ کے نرم لمس نے مجھے بے قرار سا کر دیا تھا۔ لیکن میں بتا نہیں سکتا۔۔۔۔ کہ اس وقت میں کس قدر مجبور تھا ۔۔۔۔۔ چنانچہ بحالتِ مجبوری ۔۔۔۔۔ میں ان کی گانڈ کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے۔۔۔ بڑی خاموشی کے ساتھ کھڑا رہا ۔۔ جبکہ مسز نارائن نے اسی حالت میں ۔۔۔ کاؤنٹر کی ساری درازیں چیک کیں۔۔۔ اور پھر یہ کہتے ہوئے سیدھی کھڑی ہوگئیں کہ بھگوان جانے وہ لیٹرز کدھر گئے؟ ۔۔۔ اتنی دیر میں مامی بھی واش روم سے واپس آ گئی تھی۔۔۔ اور مسز نارائن ( پلوی جی) کو دیکھ کر کہنے لگیں کیا ڈھونڈ رہی ہو ؟ تو پلوی جی کہنے لگیں۔۔۔ یار جاتے سمے ۔۔۔ میں نے یہاں پر کچھ لیٹرز رکھے تھے لیکن اب نہیں مل رہے۔۔۔تو مامی نے کہا ۔۔وہ جو پنک لفافے میں تھے؟ تو پلوی جی بولیں ہاں ہاں وہی ۔۔۔ تو مامی مسکراتے ہوئے کہنے لگیں او بھلکڑ بی بی تم نے خود ہی تو مجھے فون پر کہا تھا کہ وہ انویلپ (لفافہ) میں نارائن جی کو دے دوں۔۔۔۔ مامی کی بات سن کر پلوی جی نے اپنے سر پر ہاتھ مارا ۔۔۔اور پھر کہنے لگیں ۔۔۔ آئی ایم سوری ڈئیر ۔۔۔ پتہ نہیں آج کل میری میموری کو کیا ہو گیا ہے۔۔ ۔ اس کے ساتھ ہی وہ کاؤنٹر سے واپس مڑیں۔۔۔۔ اور واپس مڑتے ہوئے انہوں نے بڑی ہی گہری نظروں سے میری طرف دیکھا لیکن منہ سے کچھ نہیں بولیں۔ کچھ دن ایسے ہی گزر گئے ۔۔۔۔ اس دوران مجھے کام کی کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ہو گئی تھی۔ مامی کے ساتھ ساتھ پلوی جی بھی مجھے بڑے پیار سے ہر بات سمجھاتی تھیں ۔ لیکن اس دوران میں نے محسوس کیا کہ مامی کے پیار اور مسز نارائن کے پیار بھرے انداز میں بہت فرق تھا۔۔یا شاید یہ میرا وہم ہو ۔۔لیکن ایک بات تو طے تھی کہ پلوی میم مجھ سے بڑی لگاوٹ سے باتیں کرتیں تھیں ۔ البتہ یہ بات ابھی تک کنفرم نہیں تھی کہ گاہے بگاہے وہ جو مجھے اپنا جسم دکھاتی۔۔۔ یا جو " اتفاقاً " میرے ساتھ اپنے جسم کو ٹچ کرتی تھیں ۔۔وہ محض اتفاق ہوتا تھا ۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔ ؟؟؟ ۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ دونوں خواتین کے سمجھانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں اپنے کام میں کافی ہوشیار ہو گیا تھا۔۔ پھر ایک دن کی بات ہے کہ اس دن مامی کی طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب تھی سو انہوں نے پلوی جی سے ایک دن کی چھٹی لے لی ۔۔ مامی کی حالت کے پیشِ نظر میں بھی ان کے ساتھ گھر میں رہنا چاہتا تھا لیکن وہ نہ مانی اور زبردستی مجھے پلوی جی کے ساتھ بھیج دیا۔ چنانچہ مامی کا حکم سن کر مجبوراً میں پلوی جی کے ساتھ سٹور چلا گیا۔۔۔ ویسے تو پلوی جی دل کی بہت اچھی تھیں لیکن پتہ نہیں کیوں اکثر مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ۔۔۔جیسے وہ مجھ کوئی خصوصی دل چسپی لے رہیں ہیں ۔ اس سلسلہ میں ۔۔۔ میں نے ایک اور بات نوٹ کی تھی اور وہ یہ کہ وہ میرے ساتھ اس قسم کے التفات مامی کی عدم موجودگی میں کیا کرتی تھیں۔۔ جبکہ مامی کی موجودگی میں وہ میرے ساتھ ایک خاص قسم کا فاصلہ رکھا کرتی تھیں ۔۔لیکن جونہی مامی ادھر ادھر ہوتیں۔۔۔۔ تو وہ میرے ساتھ بہت میٹھی میٹھی باتیں کرتیں تھیں ۔ آج کے دن چونکہ مامی جی چھٹی پر تھیں اس لیئے وہ تھوڑا کھل کھلا کے۔۔۔۔ مجھے اپنا سیکسی بدن دکھا رہیں تھیں ۔۔ جسے دیکھ دیکھ کر میں گرم ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔ لیکن بوجہ مجبوری میں ان کو کوئی رسپانس نہیں دے سکتا تھا۔۔ اسی دن سہہ پہر کا واقع ہے میں حسبِ معمول کیش کاؤنٹر پر کھڑا تھا جبکہ مسز نارائن واش روم گئیں تھیں ۔۔۔ وہاں سے واپسی پر وہ انہوں نے اپنی دونوں کہنیاں کاؤنٹر پر رکھیں ۔۔ اور میرے ساتھ گپ شپ کرنے لگیں۔۔۔ ۔۔اس ظالم نے اس قدر کھلے گلے والی شرٹ پہنی ہوئی تھی کہ میرے ساتھ جھک کر بات کرنے کی وجہ سے مجھے ان کی بھاری بھر کم چھاتیاں ۔۔۔۔ صاف دکھائی دے رہیں تھیں۔۔ ۔۔۔انہیں دیکھ دیکھ میں نے بڑی مشکل خود پر قابو پایا ہوا تھا۔۔ لیکن پھر بھی ۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی میری بھوکی نظریں ۔۔ بار بار ۔۔۔ ان کی آدھ ننگی چھاتیوں کی طرف اُٹھ رہیں تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔ اور انہیں دیکھ دیکھ کر میں پہلے ہی بہت گرم ہو رہا تھا کہ اتنے میں سٹور کا دروازہ کھلا اور ایک گوری میم اندر داخل ہوئی۔ دروازہ کھلنے کی آواز سن کر پلوی جی نے پیچھے مُڑ کر دیکھا اور پھر جلدی سے گھوم کر میری طرف آ گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف۔۔اس عورت کا لباس دیکھ کر میری تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔۔ وہ گوری میم کہ جس کی عمر اس وقت 40/38 کے قریب ہو گی نے ایک بہت ہی مختصر سی پینٹی نما نیکر پہنی ہوئی تھی اور یہ مختصر سی نیکر بمشکل اس کی پھدی کے آس پاس کے ایریا کو کور (ڈھک) کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ اس کی گول مٹول ۔۔۔۔ اور ننگی رانیں دیکھ کر میں تو حیران رہ گیا۔۔۔ بلا شبہ امریکہ میں آنے کے بعد کسی بھی خاتون کو ۔۔۔۔۔ اس قدر عریاں لباس پہنے ۔۔۔۔۔میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔ جبکہ اس سے قبل۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ میرا خیال تھا کہ مامی اور پلوی جی ہی بولڈ لباس پہنتی ہیں۔۔۔۔ لیکن اس گوری کا لباس دیکھ کر مجھے یہ دونوں خواتین بڑی پاکیزہ لگیں۔۔۔ ۔۔دوسری طرف گوری نے ۔۔ اس چھوٹی سی نیکر کے اوپر ایک نہایت باریک ۔۔۔۔ لیکن تنگ سی بینان نما شرٹ پہنی ہوئی تھی اور اس بنیان نما شرٹ کے نیچے اس نے برا نہیں پہنی تھی جس کی وجہ سے اس کے موٹے موٹے نپلز صاف نظر آ رہے تھے وہ چلتی ہوئی کاؤنٹر کی طرف آئی۔۔۔ ۔۔۔اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر میں نے بڑی مشکل کے ساتھ اپنی نظروں کو ادھر ادھر کیا۔۔ کاؤنٹر پر آ کر وہ پلوی جی سے ہاتھ ملا کر بولی ہائے مسز نارائن ۔۔۔آج تمہاری فرینڈ نظر نہیں آ رہی۔۔ ( واضع رہے کہ وہ گوری پلوی جی کے ساتھ انگریزی میں باتیں کر رہی تھی ۔۔۔ چونکہ یہ سٹوری اردو فانٹ میں لکھی جا رہی ہے اس لیئے یہاں پر میں صرف اردو فانٹ میں ہی لکھوں گا ) ہاں تو میں کہہ رہا تھا مامی کے بارے میں سوال سن کر ۔۔۔ مسز نارائن کہنے لگیں۔۔۔ اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لیئے وہ چھٹی پر ہے ۔۔ میڈم کی بات سن کر اس گوری نے افسوس سے سر ہلایا اور پھر کہنے لگی جب تم گھر جاؤ گی تو اسے میری طرف سے بھی پوچھنا ۔۔۔۔ تو آگے سے میڈم سر ہلا کر بولی ۔۔۔ شیور ۔۔۔۔ ادھر سے فارغ ہونے کے بعد اس قاتلہ نے میری طرف دیکھا اور بڑی بے تکلفی سے بولی یہ ہینڈ سم کون ہے؟ تو پلوی جی نے اس کو میرے بارے بتلایا کہ یہ اس کا بھانجا ہے پلوی جی کی بات سن وہ اسی بے تکلفی کے ساتھ کہنے لگی۔۔۔ بہت ہاٹ ہے یہ۔۔۔ یہ سنتے ہی گوری نے میری طرف ہاتھ بڑھا دیا ۔۔ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد میں نے بھی اس کے ساتھ ہاتھ ملایا ۔۔۔اور پھر اس کے ساتھ رسمی سی بات چیت کی لیکن بوجہ۔۔۔۔ اس کی طرف ڈائیریکٹ دیکھنے سے پرہیز کیا۔۔۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی شرٹ اتنی باریک ۔۔۔اور گلے کی گہرائی اتنی زیادہ تھی کہ جس کی وجہ سے صرف اس کے نپلز ہی ڈھکے ہوئے تھے وہ بھی صاف نظر آ رہے تھے۔۔۔۔۔ اس کی تقریباً ننگی چھاتیاں میرے جیسے ٹھرکی بندے کی مت مار رہی تھیں۔۔۔۔ ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ میں پہلے ہی اس کی رانوں کی گولائی کو دیکھ کر پریشان ہو رہا تھا اس وجہ میں اس کے رسمی سوالوں کا سر جھکا ئے جواب دے رہا تھا ۔۔۔ اور میرے یوں نگاہ نیچ کیئے ۔۔۔۔جواب دینے کو وہ بہت انجوائے کر رہی ۔۔ گوری کے سامنے یہ صورتِ حال تھی جبکہ دوسری طرف ۔۔۔۔ جبکہ میرے منع کرنے کے باوجود بھی لن صاحب اپنے فل جوبن میں کھڑے تھے ۔۔۔ جس کی وجہ سے میری لانگ نیکر میں ایک ٹینٹ سا بن گیا تھا۔۔۔ ۔۔ اس دوران اس گوری نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن میں بے چارہ قسمت کا مارا۔۔۔۔۔ پلوی جی کے ڈر سے۔۔۔۔ نگاہ نیچ کیئے ۔۔۔گردن جھکائے کھڑا رہا ۔۔۔۔۔یہ ماجرا دیکھ کر وہ پلوی جی کی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔۔اور ہنستے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ یہ تو بہت شائی ( شرمیلا ) ہے تو پلوی جی جواب دیتے ہوئے بولیں ۔۔ ابھی نیا نیا آیا ہے نا۔۔۔۔۔ کچھ دنوں تک ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ پلوی کی بات سن کر وہ گوری جو ان کے ساتھ خاصی بے تکلف لگتی تھی مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔ ٹھیک ہو جائے گا یا تم اس کو ٹھیک کر دو گی؟ تو آگے سے میڈم بھی مسکراتے ہوئے کہنے لگی ۔ جسٹ شٹ اپ ۔۔۔ پلوی میم کی بات سن کر وہ گوری ہنسنے لگی۔۔اور پھر اس نے اپنے پرس سے پیسے نکالے اور کاؤنٹر پر رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔بئیر کے پیسے کاٹ لو ۔۔۔تو پلوی جی نے وہ پیسے اُٹھا کر کیش میں ڈالے اور باقی کے پیسے اسے واپس کر دیئے۔۔۔۔۔ پیسے لے کر وہ گوری میم انہی قدموں سے اباؤٹ ٹرن ہو گئی۔جیسے ہی وہ پیچھے کی طرف مڑی ۔۔۔۔ تو اس وقت اچانک میں نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھررررر ۔۔۔دیکھتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اس میم سالی نے پیچھے سے اپنی نیکر اس قدر نیچے کر کے پہنی تھی کہ جس کی وجہ اس کی آدھ ننگی گانڈ صاف نظر آ رہی تھی۔۔۔ بلکہ ٹائیٹ نیکر میں اس کے ساتھ اس کی گانڈ کی دراڑ بڑی واضع دکھائی دے تھی۔ چنانچہ اس سیکسی میم کی ۔۔۔۔ دودھ کی طرح سفید۔۔مکھن کی طرح نرم ، اور فومی گانڈ کو دیکھ کر دوستو!۔۔۔ میں لُٹا گیا۔۔۔ ایسی چٹی چمڑی والی بنڈیں تو ہم نے آج تک صرف بلیو مویز میں ہی دیکھیں تھیں اور ۔۔انہیں فلموں میں دیکھ دیکھ کر بلا مبالغہ میں نے سینکڑوں دفعہ مُٹھ ماری ہو گی۔۔ کجا وہ فلمیں ۔۔۔۔اور کجا یہ غضب کی آدھ ننگی ۔۔۔ گوری میم کی چٹی دودھ ۔۔۔اور ۔۔۔ موٹی گانڈ کو میں اپنی آنکھوں سے لائیو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ چنانچہ یہ حسین منظر دیکھ کر میں بھول گیا کہ میرے ساتھ پلوی جی بھی کھڑی ہیں ۔۔۔ اس کی شاندار اور آدھ ننگی گانڈ کو دیکھ کر بے اختیار میرے منہ سے (تحیر آمیز ) سیٹی کی آواز نکل گئی جسے میرے خیال میں پلوی جی نے بھی سن لیا تھا ۔۔۔ چنانچہ میرے منہ سے تحیر آمیز سیٹی کی آواز سن کر انہوں نے ایک دم چونک کر میری طرف دیکھا ۔۔۔۔ انہیں اپنی طرف یوں دیکھتے دیکھ کر مجھے اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا۔۔۔۔اور میں نے گھبراہٹ کے عالم میں ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔ اور پھر چند سیکنڈ کے بعد ۔۔۔ کن اکھیوں سے ان کی طرف دیکھا تو وہ ابھی تک میری طرف ہی دیکھ رہیں تھیں۔۔ انہیں اپنی طرف دیکھتا ۔۔۔دیکھ کر میں نے ۔۔ ۔۔۔ شرمندگی کے عالم میں اپنا سر جھکا لیا۔۔۔ ادھر جیسے ہی میں نے اپنا سر جھکایا۔۔۔۔ تو بے اختیار میری نظر یں اپنے لن کی طرف چلی گئیں ۔۔۔ دیکھا تو اس وقت میری لانگ نیکر تنبو بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ اور پھر یہ سوچ کر کہ کہیں پلوی جی کی نظر میرے ۔۔۔ لن کی اکڑاہٹ پر نہ پڑ جائے میں نے جلدی سے ایک قدم پیچھے ہٹا۔۔۔۔اور اکڑے ہوئے لن کو اپنی دونوں ٹانگوں کے بیچ کیا ۔۔۔اور ۔ پھر ٹانگ کے آگے ٹانگ رکھ کر کھڑا ہو گیا۔۔ ۔۔۔۔۔لیکن ابھی عشق کے امتحاں اور بھی تھے۔۔۔۔کیونکہ وہ گوری فریج سے بئیر کا ٹن لے کر ایک بار پھر کاؤنٹر کی طرف آ گئی۔۔۔ اور کاؤنٹر کے قریب رکھے سٹینڈ سے چپس کا پیکٹ اُٹھایا۔۔۔ ۔۔۔اور پھر دوبارہ پیسے نکال کر پلوی جی کی طرف بڑھا دیئے۔۔۔پلوی جی نے چپس کے پیسے کیش میں رکھے اور ایک بار پھر وہ دونوں باتیں کرنا شروع ہو گئیں ۔۔۔۔ان کی یہ بات چیت کوئی پانچ چھ منٹ تک چلتی رہی۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس گوری میم نے پلوی میڈم کو بائے کہتے ہوئے ہاتھ ملایا ۔۔۔اور ان سے ہاتھ ملانے کے بعد اس ظالم نے ۔۔۔ اپنے ہاتھ کو ایک بار پھر۔۔۔ میری طرف ہاتھ بڑھا دیا ۔۔۔ جبکہ اس وقت میری پوزیشن یہ تھی کہ لن صاحب ابھی تک اکڑے کھڑے تھے ۔۔۔اور اس پر ستم بلائے ستم یہ تھا کہ ۔۔۔۔ میں پلوی میڈم کے خوف سے کاؤنٹر سے ایک قدم پیچھے ۔۔۔۔ لن کو اپنی دونوں ٹانگوں کے بیچ پھنسائے (چھپائے) کھڑا تھا ۔۔۔ اور گوری میم کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیئے مجھے ایک قدم آگے بڑھنا پڑنا تھا ۔۔۔۔اور اگر میں آگے بڑھتا تو میری دونوں ٹانگوں کے بیچ پھنسے لن صاحب نے آزاد ہو کر ۔۔۔۔۔۔۔ باہر نکل آنا تھا۔۔۔۔ اصل ڈر یہ تھا کہ اگر پلومی جی مجھے اس حال میں دیکھ لیا۔۔ تو جانے وہ کیا سوچیں۔۔۔ اور اگر وہ مائینڈ کر گئیں تو؟۔۔ اسی خوف کی وجہ سے میں گوری سے ہاتھ نہیں ملا رہا تھا ۔۔۔ چنانچہ جب اس میم نے میری طرف ہاتھ بڑھایا تو میں بجائے ہاتھ بڑھانے کے وہیں کھڑے کھڑے جاپانی اسٹائل میں اپنا سر جھکا دیا۔۔۔ ۔۔۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ میرے سر جھکا کر جواب دینے وہ قاتل جاں۔۔۔۔ چلی جاتی ۔۔۔۔ لیکن وہ مجھے تنگ کرنے کے موڈ میں نظر آ رہی تھی ۔۔ اسی لیئے اس نے اپنے ہاتھ کو پیچھے نہیں کیا ۔۔۔ بلکہ میری طرف دیکھ کر بولی۔۔ کامان لٹل بوائے۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف مجھے یوں کھڑے دیکھ کر پلوی جی سخت لہجے میں بولیں ۔۔۔ کیتھی میم سے ہاتھ ملاؤ ۔۔۔ پلوی جی کی ڈانٹ سن کر چار و ناچار میں آگے بڑھا ۔۔ میرے آگے بڑھنے کی دیر تھی کہ ۔۔۔ وہی ہوا کہ جس کا مجھے اندیشہ تھا۔۔۔۔ میری دونوں ٹانگوں میں پھنسا۔۔۔۔۔ہوا لن آذاد ہو کر ۔۔۔باہر نکل گیا۔۔۔۔۔ اور کسی شیش ناگ کی طرح پھن پھیلائے جھومنے لگا ۔۔۔ جس کی وجہ سے ایک بار پھر ۔۔۔۔ میری لانگ نیکر کے آگے تنبو سا بن گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔چونکہ میں روزانہ نیکر کے نیچے انڈر وئیر پہن کر آتا تھا اس لیئے میں دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگا کہ آج نیکر کے نیچے انڈروئیر کیوں نہیں پہنا ؟ ۔۔۔ لیکن چونکہ مامی کے ساتھ میرا بھی چھٹی کرنے کا فُل موڈ تھا اس لیئے صبع میں اندڑ وئیر نہ پہن سکا۔۔اور پھر مامی کی جھاڑ سن کر ۔۔۔ میں انڈروئیر پہننے بغیر ہی سٹور پر آ گیا تھا۔۔اور یہ انڈروئیر نہ پہننے کا شاخسانہ تھا کہ۔۔۔۔۔ اس وقت میری نیکر کے آگے ایک بڑا سا ٹینٹ بنا ہوا تھا ۔۔ادھر جیسے ہی میں پلوی جی کے کہنے پر ۔۔۔۔ کیتھی میم کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیئے آگے بڑھا۔۔۔ ۔۔ ۔۔ تو اس وقت پلوی جی میری طرف ہی دیکھ رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور ان کے ایکسپریشن سے میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ پلوی جی نے میرے لن کی اکڑاہٹ کو دیکھ لیا ہے۔ ۔۔۔
  12. ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ مامی کے ہاتھ ہلانے کے بعد پلوی جی سیدھی مامی کی طرف بڑھیں ۔۔۔۔اور ان کے ساتھ راویتی طریقے سے گلے ملیں ۔۔۔ مامی سے ملنے کے بعد۔۔۔۔ انہوں نے بڑی دل چسپ نظروں سے میری طرف دیکھا اور بڑی ہی ذو معنی الفاظ میں مامی سے بولیں کہ اچھا تو یہ ہے وہ چکنا ۔۔۔ جس کا تم اکثر ذکر کرتی رہتی ہو۔۔۔۔ ۔۔۔ تو اس پر مامی سر ہلا دیا۔۔۔اور پھر اس سے کہنے لگیں۔۔۔ اچھا یہ بتا کہ تیرے ڈیڈ کیسے ہیں ؟ تو وہ کہنے لگیں شکر ہے یار ۔۔۔ وہ ایک دم فسٹ کلاس اور بھلے چنگے ہیں ۔۔ پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ اسی لیئے تو میں تیرے پاس وقت سے پہلے آ گئی۔۔۔ اتنا کہنے کے بعد۔۔۔۔۔ پلوی جی نے اپنا سندر سا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔۔۔اور کہنے لگیں۔۔ ہائے ڈئیر! کیسے ہو آپ ؟ ان کے ہاتھ کو اپنی طرف بڑھا دیکھ کر پہلے تو میں تھوڑا گھبرا یا۔۔۔۔ لیکن پھر میں نے بھی ہچکچاتے ہوئے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا انہوں نے میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ ا ۔۔۔۔اور بڑی گرم جوشی کے ساتھ اسے دباتے ہوئے بولیں۔۔۔ بھگوان کا شکر ہے کہ اپنے علاقے کی بھی کوئی دیسی بوائے نظر آیا۔۔۔ اور پھر مامی کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں ورنہ تو یہاں کے ککے۔۔۔بھورے باندر ٹائپ کے لڑکے دیکھ دیکھ کر میں تو بور ہو گئی تھی ۔۔مامی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے وہ میرے ہاتھ کو کافی دیر تک ہلاتی رہیں اور پھر مجھ سے مخاطب ہو کر بولیں۔۔۔ ویلکم ٹو امریکہ۔۔ مجھ سے ہاتھ ملانے کے بعد۔۔۔۔ مامی اور وہ آپس میں باتیں کرتی ہوئیں پاکنگ تک آگئیں۔۔۔ یہاں آ کر مامی نے جلدی سے کار کی ڈگی کھولی اور پھر ان کے سوٹ کیس کو ڈگی میں رکھ کر چل پڑیں۔۔۔۔ راستے بھر میں ۔۔۔۔۔ حرام ہے جو ایک منٹ کے لیئے بھی ان دونوں کی زبان رکی ہو۔ وہ بڑی محو ہو کر باتیں کر رہیں تھیں جبکہ میری نظریں پلوی جی کی بڑی بڑی چھاتیوں پر گڑی ہوئیں تھیں جو کہ سلیو لیس ساڑھی ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔ سائیڈ پوز سے بہت زیادہ شہوت انگیز لگ رہیں تھیں۔ ۔۔۔ گھر کے سامنے والی سڑک پر پہنچ کر مامی نے گاڑی روک لی۔گاڑی سے اترتے ہوئے پلوی جی مامی سے کہنے لگیں۔۔۔۔۔ تم لوگ سٹور پہنچو میں تھوڑا ریسٹ کرنے کے بعد تم کو جوائن کرتی ہوں۔۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد پلوی جی نے ۔۔۔۔ ڈگی سے اپنا ویلر نکالا اور گھر کے اندر چلی گئیں۔۔۔۔ ان کے جانے کے بعد مامی نے گاڑی اسٹارٹ کی اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں ۔ بری بات۔۔۔ پھر اپنے لہجے پر تھوڑا زور دے کر بولیں۔۔۔۔۔اوئے مجنوں کی اولاد! اپنی نظروں پر کنٹرول کرنا سیکھو تو اس پر میں نے معصوم بنتے ہوئے کہا ۔۔ کہ میں نے ایسا کیا کر دیا ہے؟ تو وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔۔میں نے نوٹ کیا ہے کہ تم نے ایک منٹ کے لیئے بھی اپنی بھوکی نظروں کو ان کے جسم سے نہیں ہٹایا۔۔۔۔ان کی بات سن کر میں شرمندگی سے بولا۔۔۔ آئی ایم سوری مامی جی ! لیکن میں کیا کروں مجھ سے ایسا ہو جاتا ہے میری بات سن کر مامی کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔۔ اور پھر میری طرف دیکھ کر بڑے ہی پر اسرار لہجے میں کہنے لگیں۔۔ ویسے ایک بات کہوں؟ اور وہ یہ کہ تمہاری بھوکی نظروں کو پلوی جی بھی انجوائے کر رہیں تھیں ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک خاص نظر سے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگیں ۔۔۔میرے خیال میں ۔۔۔۔ تم انہیں کافی پسند آئے ہو۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں تمہیں خبردار کر رہی ہوں کہ کسی خوش فہمی میں ہر گز نہ رہنا ۔۔۔ ورنہ تم نوکری سے بھی جا سکتے ہو۔۔۔۔۔ اس کے بعد وہ میری طرف دیکھتے ہوئے مزید کہنے لگیں۔۔۔۔۔ ہاں ایک اور بات اور وہ یہ کہ۔۔۔۔۔۔ اپنی نظروں پر کنٹرول کرنا سیکھو۔۔۔۔ پھر مجھے چھیڑے ہوئے بولیں۔۔۔ توبہ توبہ۔۔۔ تم پلوی کی طرف ایسی نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ جیسے تم نے زندگی میں پہلی دفعہ کوئی عورت دیکھی ہو۔۔۔ ان کی بات سن کر میں دل ہی دل میں بولا۔۔کہ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ پاکستان میں تو ہم لوگ برقعے والی خاتون کو بھی تاڑنے سے باز نہیں آتے ۔۔۔۔ جبکہ پلوی جی تو پھر بھی آدھ ننگی تھیں۔۔۔ لیکن اس کے بر عکس میں ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔ جی میں پوری کوشش کروں گا ۔ اس کے بعد گاڑی میں ایک دم سے خاموشی چھا گئی۔ لیکن یہ خاموشی زیادہ دیر تک برقرار نہ رہی۔ اور گاڑی چلاتے ہوئے مامی کہنے لگیں دیکھو عدیل۔ اب جبکہ تم یہاں پر جاب شروع کرنے لگے ہو ۔۔ تو میں تم سے ایک نہایت ضروری بات کرنا چاہتی ہوں۔ مامی کی بات سن کر میں چونک گیا اور ان سے کہنے لگا۔۔۔ جی آپ حکم کریں ؟ تو وہ سڑک کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں ۔۔ دیکھو تم نئے نئے امریکہ میں آئے ۔ ۔ اور اوپر سے تم جاب بھی ایسی کرنے والے ہو کہ جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے ساتھ بھی تمہارا واسطہ پڑے گا ۔اس سلسلہ میں میری ایک نصیحت اپنے پلے سے باندھ لو ۔۔۔اور وہ یہ کہ جیسا کہ تم جانتے ہو کہ پاکستان کی نسبت یہاں کا ماحول کافی کھلا ڈھلا ہے تو اسی حساب سے یہاں کی خواتین بھی کافی بولڈ ہیں اور جیسا دل کرتا ہے لباس پہنتی ہیں پاکستان کے برعکس یہاں کوئی بھی شخص کسی کے پرسنل معاملہ میں دخل اندازی نہیں کر سکتا ۔۔اسی لیئے یہاں کی بعض خواتین بہت زیادہ بولڈ لباس پہنتی ۔۔۔۔اور مردوں کے ساتھ آزادانہ اور فری ہو کر بات چیت کرتیں ہیں چنانچہ اگر کوئی خاتون تمہارے ساتھ اس طرح بات کرے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہ لینا کہ وہ کرپٹ یا پاکستانی لڑکوں کے مطابق تمہارے ساتھ سیٹ ہو گئی ہے۔۔۔۔ ایسی بات نہیں ۔۔۔۔۔بلکہ یہاں کا ماحول ہی ایسا ہے اس لیئے میرے پیارے بھانجھے اس سلسلہ میں محتاط رہنا اور جب بھی اس قسم کی خاتون کے ساتھ تمہارا واسطہ پڑے تو میری نصیحت کو ضرور مدنظر رکھنا۔ ورنہ ہو سکتا ہے کہ تمہاری پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے وہ پولیس کو کال کر دے ۔۔ اتنی بات کر کے انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہنے گلیں۔۔۔ میری بات کو سمجھ گئے ہو نا ؟ (پولیس کا ذکر سن کر ویسے ہی میری گانڈ پھٹ گئی تھی)۔۔۔ اس لیئے میں بڑی سعادت مندی سے جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ۔ جی مامی جی نہ صرف یہ کہ میں آپ کی بات کو پوری طرح سے سمجھ گیا ہوں بلکہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہمیشہ اس پر عمل بھی کروں گا ۔۔۔۔ اس کے بعد ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔۔۔۔۔اور پھر باتوں باتوں میں ۔۔۔ میں نے ان سے پوچھ لیا۔۔۔۔ کہ پلوی جی انڈیا میں کہاں رہتین ہیں ؟ تو مامی جواب دیتے ہوئے کہنے لگیں ویسے تو ان کے آبا و اجداد انڈین کشمیر ی ہیں ۔۔۔ لیکن پھر تلاش ِ روزگار کی میں یہ لوگ دہلی چلے آئے اور پھر وہیں کے ہو رہے۔ ۔۔۔اور گزشتہ کچھ عرصہ سے یہ لوگ امریکہ میں شفٹ ہو گئے ہیں ۔۔
  13. اگلے دن سویرے ہی میری آنکھ کھل گئی۔۔۔ لیکن جاگنے کے باوجود بھی ۔۔۔ ماموں کے خوف سے میں بستر میں ہی دبکا رہا ۔۔ کافی دیر بعد مامی کمرے میں داخل ہوئی اور مجھے جاگتا دیکھ کر ہنسیں ۔۔۔اور پھر کہنے لگی ۔۔اُٹھ جاؤ دوست کہ ۔۔۔۔ خطرہ ٹل گیا ہے ۔۔ مامی کی بات سن کر میں نے لٹیے لیٹے ہی ان سے پوچھا ۔۔۔ ماموں کب گئے؟ تو وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ ابھی ابھی نیچے اترے ہیں پھر ایک دم سیریس ہوتے ہوئے بولیں ۔۔اوئے گھامڑ انسان !۔۔۔ تم دروازے کو لاک نہیں کر سکتے تھے کیا ؟ تو آگے سے میں کھسیانی ہنسی ہنس کر بولا۔۔۔ اپنی طرف سے تو میں نے کنڈی لگائی ہوئی تھی۔۔۔ میری بات سن کر وہ ایک بار پھر سے مسکرائیں اور پھر کہنے لگیں۔۔ شکر کرو کہ میں عین وقت پر پہنچ گئی ۔۔۔۔ ورنہ رات تمہاری خیر نہیں تھی۔۔ اس پر میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا۔۔ ایک سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔ا۔ور وہ یہ کہ ماموں کی تو نائیٹ تھی۔۔ پھر وہ کیسے آ گئے ؟ میری بات سن کر مامی کہنے لگیں تم ٹھیک کہہ رہے ہو عام طور پر وہ ایسا ہی کرتے ہیں لیکن گزشتہ رات ان کی طبیعت بہت خراب تھی اس لیئے وہ چھٹی لے کر گھر آ گئے تھے۔۔۔۔ اس پر میں چونک کر بولا ۔۔۔ لیکن میرے حساب سے تو وہ بھلے چنگے تھے؟ تو اس پر وہ کہنے لگیں اصل میں تمہارے ماموں ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں اور رات جو وہ اتنا چیخ چلا رہے تھے اس کی بھی یہی وجہ تھی کہ اس وقت ان کا بلڈپریشر بہت ہائی تھا اتنی بات کرنے کے بعد وہ میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں ۔ ۔۔۔ میں تمہارا ناشتہ ریڈی کرتی ہوں ۔۔۔۔ اتنی دیر میں ۔۔۔ تم جلدی سے تیار ہو جاؤ ۔ ۔ ۔۔ پھر کہنے لگیں ۔۔۔۔آج تمہارا کام پر پہلا دن ہو گا لیکن اس سے پہلے ہم نے پلوی میم کو بھی ائیر پورٹ سے لانا ہو گا۔ تو میں نے ان سے کہا کہ مامی جی یہ پلوی میم کون ہیں؟ میری بات سن کر وہ دروازے کی طرف جاتے ہوئے واپس پلٹیں اور میرے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔۔ اور شرارت آمیز لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔ یہ محترمہ نارائن صاحب کی بیوی ہیں جو کہ اپنے والد ین سے ملنے واشنگٹن گئی ہوئیں تھیں۔۔ اتنی بات کرتے ہی وہ پلنگ سے اُٹھ گئیں۔۔ اور جاتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔۔ ہری اپ یار ۔۔۔ پلوی جی کے آنے میں کچھ ہی دیر باقی ہے ۔ مامی کے جانے کے بعد ۔۔۔۔ میں نے بستر سے چھلانگ لگائی اور واش روم میں گھس گیا۔ جے ایف کے ائیرپورٹ کی طرف جاتے ہوئے میں نے مامی سے پوچھا کہ اک بات تو بتائیں تو وہ گاڑی کو گئیر میں لگاتے ہوئے کہنے لگیں ہاں بولو۔۔تو اس پر میں ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ پلوی جی کو لینے کے لیئے آپ کیوں جا رہیں ہیں؟ نارائن صاحب خود کیوں نہیں گئے؟ میری بات سن کر گاڑی چلاتے ہوئے مامی نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور کہنے لگیں وہ اس لیئے چندا کہ آج نارائن صاحب کی ۔۔۔۔۔ پہلے سے طے شدہ ایک بہت ارجنٹ میٹنگ تھی۔ تو میں نے ان سے کہا کہ انہیں پتہ نہیں تھا کہ آج ان کی وائف آنے والی ہے ؟ تو مامی جواب دیتے ہوئے بولیں۔۔۔ پروگرام کے مطابق تو پلوی جی نے پرسوں آنا تھا لیکن چونکہ ان کے فادر کی طبیعت ٹھیک ہو گئی تھی اس لیئے وہ پرسوں کی بجائے آج ہی واپس آ رہی ہیں۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں کہ اگر وہ اپنے پروگرام کے مطابق آتیں تو یقیناً انہیں نارائن نے ہی لینا تھا۔ اس طرح آپس میں چِٹ چیٹ کرتے ہوئے ہم جے ایف کے ائیرپورٹ پہنچ گئے۔ ہمارے پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد پلوی جی کی فلائیٹ بھی آ گئی تھی اور پھر اگلے آدھے گھنٹے میں جیسے ہی سوٹ کیس کو کھینچتی ہوئی ایک ساڑھی والی عورت ارئیول سے باہر نکلی تو اسے دیکھتے ہی مامی نے مجھے ٹہوکا دیا ۔۔۔۔۔۔اور پھر ہاتھ ہلاتے ہوئے اونچی آواز میں بولیں ہائے پلوی۔۔۔ ادھر مامی کی آواز سن کر اس ساڑھی والی عورت نے بھی ہاتھ ہلا دیا ۔۔۔مامی کے اشارے کے بعد میں بھی اس عورت کی طرف دیکھنے لگا کہ جس نے پنک کلر کی سلیو لیس ساڑھی پہنی ہوئی تھی وہ ایک مناسب قد و قامت والی گریس فل خاتون تھیں جن کے شولڈر کٹ سلکی بال تھے اور وہ قدرے موٹی تھیں لیکن یہ موٹاپہ ان پر بہت سوٹ کر رہا تھا ان کے جسم پر سب سے نمایاں چیز ان کی بہت بڑی چھاتیاں تھیں اور ان کا deep neck blouse اتنا زیادہ ڈیپ تھا کہ جس کی وجہ سے ان کی آدھی چھاتیاں باہر کو نکلی ہوئیں تھیں۔۔۔ ایک دیسی عورت کی اتنی بھاری اور آدھ ننگی چھاتیاں دیکھ کر میں تو دنگ رہ گیا۔۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ میں نے ایک اور بات نوٹ کی تھی اور وہ یہ کہ انہوں نے کچھ اس ڈھنگ سے ساڑھی باندھی ہوئی تھی کہ جس کی وجہ سے ان کی ناف والا حصہ بلکل ننگا تھا ۔۔۔ ان کی ناف کا گڑھا خاصہ بڑا اور گہرا تھا اور اس گڑھے میں انہوں نے ایک چمک دار سا موتی پھنسا یا ہوا تھا جو دور سے کافی چمک رہا تھا میرے اندازے کے مطابق پلوی جی کی اس وقت عمر کوئی 35/ 34 سال ہو گی لیکن دیکھنے میں وہ سالی بہت ہی قیامت لگ رہیں تھیں۔
  14. گوری میم صاحب (قسط نمبر 2) اگلے ہی لمحے ان کی آنکھوں سے شعلے برسنا شروع ہو گئے۔ اور وہ غصے کے عالم میں میری طرف بڑھے ( اسی دوران خوف کے باوجود بھی میں نے پاس پڑی ہوئی نیکر جلدی سے پہن لی تھی) ادھر جیسے ہی میں نے نیکر پہنی اسی وقت ماموں جان میرے سر پر پہنچ گئے ۔۔انہیں یوں اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر میں نے مارے شرم کے اپنا سر جھکا لیا۔۔ یہ دیکھ کر وہ آگے بڑھے۔۔۔اور مجھے کان سے پکڑ لیا۔۔۔۔ اور بڑے غصے میں بولے۔۔ ۔۔یہ۔ یہ۔۔۔۔ کیا حرکت تھی؟؟؟ ماموں کی بات سن کر میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی کے ساتھ کھڑا رہا ۔ ۔۔ ۔مجھے یوں خاموش کھڑا دیکھ کر وہ گرجدار آواز میں کہنے لگے ۔۔ بول حرامی۔یہ کیا حرکت تھی ؟ ۔ میں نے ان کے سامنے کیا بولنا تھا؟؟ کہ اس وقت میری حالت یہ ہو رہی تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں ۔۔مجھے چُپ دیکھ کر وہ گرجے۔۔بولدا کیوں نئیں؟ ( بولتے کیوں نہیں )۔ ۔ تب میں نے ممناتی ہوئی آواز میں بس اتنا کہا ۔۔ مم ۔۔مجھ سے غلطی ہو گئی ۔۔سوری ۔۔ میرے منہ سے سوری کا لفظ نکلنے کی دیر تھی کہ انہوں نے مجھے ایک زور دار تھپڑ مارا ۔۔۔اور پھر اس کے ساتھ ہی ان کے منہ سے گالیوں کا ایک نہ رکنے والا طوفان بھی شروع ہو گیا۔۔۔ وہ کہہ رہے تھے کہ حرامی ۔۔۔ دلے۔۔۔کتے کے بچے ایسی حرکت کرتے ہوئے تمہیں زرا حیا نہیں آئی۔۔۔ اتنی بات کر کے انہوں نے مجھے ایک اور تھپڑ جڑ دیا ۔ پہلے کی نسبت یہ تھپڑ اتنا ذور دار تھا کہ اسے کھا کر میرا چہرہ دوسری طرف گھوم گیا اور درد کے مارے میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔ لیکن ماموں کو زرا بھی رحم نہ آیا ۔۔ چنانچہ اگلی دفعہ انہوں نے تھپڑ مارنے کے لیئے۔۔۔۔۔ ابھی ہاتھ اُٹھا یا ہی تھا کہ عین اسی وقت مامی رحمت کا فرشتہ بن کر کمر ے میں داخل ہو گئیں ۔ اور ماموں کی پوزیشن دیکھ کر وہ تیزی سے آگے بڑھیں اور ان کا اُٹھا ہوا ہاتھ پکڑ کر بولیں ۔۔۔ ۔ بچے کو کیوں مار رہے ہو؟ ۔۔۔ تو آگے سے ماموں جواب دیتے ہوئے بولے۔۔۔ مجھے چھوڑو ندرت! میں زرا اس حرامی کی طبیعت کو صاف کر لوں لیکن مامی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کہنے لگی کچھ شرم کرو حماد! یہ ہمارا مہمان اور ابھی بچہ ہے تو آگے سے ماموں دھاڑتے ہوئے بولے اس کتے کو تم بچہ رہی ہو؟ یہ بچہ نہیں بلکہ پکا حرامی ہے اس پر مامی نے ان کے بازو پکڑا اور کہنے لگی۔ اب چھوڑو بھی دو۔۔۔ اور میرے ساتھ چلو ۔ اتنا کہتے ہوئے مامی نے حماد ماموں کا ہاتھ پکڑ لیا اور انہیں پکڑ کر زبر دستی ۔۔۔ کمرے سے باہر لے گئیں۔۔ با امرِ مجبوری !!!! ماموں ان کے ساتھ تو چل پڑے لیکن جاتے جاتے انہوں نے قہر بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر مامی سے مخاطب ہوکر کہنے لگے ۔ ویلا رہ رہ کر اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔۔۔ کل سے اس حرامی کو کسی کام پر لگوا دو ۔ماموں کی بات ختم ہوتے ہی مامی جلدی سے بولیں ۔۔۔۔ فکر نہ کرو کل صبع پلوی جی واشنگٹن سے واپس آ رہی ہے اور میں نے ان سے بات بھی کر لی ہے اس لیئے جب تک یہ کام نہیں سیکھ لیتا یہ ہمارے ساتھ ہی سٹور پر جایا کرے گا ۔۔اتنی بات کر تے ہی مامی ان کا ہاتھ پکڑ ا اور انہیں کمرے سے لے کر باہر نکل گئیں۔ ماموں کے جانے کے بعد میں نے دل ہی دل میں مامی کا شکریہ ادا کیا اور خود کو لعن طن کرنے لگا کہ مجھے کمرے میں کھڑے ہو کر مُٹھ نہیں مارنی چایئے تھی یا کم از کم دروازے کو لاک کر لینا چاہیئے تھا لیکن اب کیا ہو ت ۔۔ جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت۔۔۔اس لیئے جو ہو گیا سو ہو گیا۔۔۔ اس لیئے آئیندہ کے لیئے مجھے محتاط رہنا پڑے گا۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد اچانک مجھے لن کا خیال آیا۔۔۔ یہ خیال آتے ہی میں نے درازے کو لاک کیا۔۔۔اور سیدھا واش روم میں چلا گیا ۔۔۔نیکر اتار کر دیکھا تو بے چارہ سکڑ کر چھوہارہ بن چکا تھا اور اس چھوہارے پر بہت سارا شیمپو لگا ہوا تھا۔۔۔۔جو کہ اس وقت تک تقریباً خشک ہو چکا تھا۔۔ میں نے ویسے ہی ۔۔۔ اس پر ایک دو ہاتھ مار کر اسے جگانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔ لیکن وہ بے چارہ اس قدر ڈرا ہوا تھا کہ کوشش کے باوجود بھی۔۔۔۔اس میں زرا بھی جنبش نہ ہوئی ۔۔ لن صاحب کی یہ حالت دیکھ کر میں نے بڑی شرافت کے ساتھ اسے دھویا اور پھر پیشاب کر نے کے بعد واپس کمرے میں آ کر لیٹ گیا اور آج کے حادثے کے بارے میں سوچنے لگا اور پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے اگلے کچھ دن ماموں کا سامنا نہیں کرنا چاہیئے۔۔۔اسی دوران اچانک مجھے پلوی جی کا خیال آ گیا اور میں ماموں کو چھوڑ ان کے بارے میں سوچنے لگا۔ کہ آخر یہ محترمہ ہیں کون ؟پھر انہیں سوچوں میں گمُ ۔۔۔۔۔مجھے نہیں معلو م کہ میں کس وقت نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔
  15. جناب ایڈمن صاحب میں نے بڑا زور لگایا لیکن کہانی کا دوسرا حصہ اپ لوڈ نہیں ہو رہا ۔۔۔ ایک پورشن ہوا ہے ۔۔۔ لیکن جیسا کہ اپ کو معلوم ہے کہ میں لمبی سٹوری لکھتا ہوں ایک یا دو پیراگراف اپ لوڈ ہوئے ہیں لیکن وہ بھی نظر نہیں آ رہے باقی۔۔۔۔۔ کا زور لگانے پر بھی نہیں ہو رہا ۔۔۔ پہلی قسط تو پھر بھی ہو گئی تھی (شاید اس وقت تک آپ کا دھیان نہی پڑا تھا) لیکن اب نہیں ہو رہی ۔۔۔ کوئی پرابلم ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟ یا آپ نے مجھے کک آف کر دیا ہےاگر ایسا ہے تو پلیز بتا دیں
×