Jump to content
URDU FUN CLUB

(._.)Milestone(._.)

Members
  • Content Count

    5,178
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    3

(._.)Milestone(._.) last won the day on January 27 2016

(._.)Milestone(._.) had the most liked content!

Community Reputation

19,196

About (._.)Milestone(._.)

  • Rank
    Super Moderator & Designer

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

1,680 profile views
  1. Hellooo Friends Kasie ho Ap sub? Kuch Pictures Share kar raha hon, Random pics taken by Me Mazeed Pics Pasand Any par
  2. وکی لوز مونومنٹس 2017: پاکستان کی دس بہترین تصاویر دنیا میں فوٹوگرافی کا سب سے بڑا مقابلہ سمجھے جانے والے وکی میڈیا کے تصویری مقابلے میں رواں سال کسی بھی پاکستانی فوٹوگرافر کی تصویر 15 بہترین تصاویر میں جگہ نہیں بنا سکی۔ سال 2016 میں اس مقابلے میں تین پاکستانی فوٹوگرافروں کی تصاویر بہترین دس تصاویر میں شامل تھیں۔ ’وکی لوز مونومنٹس‘ کے نام سے اس مقابلے کا آغاز سنہ 2010 میں ہوا تھا جس میں وکی میڈیا کومنز کے ذریعے تصاویر بھیجی گئی تھیں۔ رواں سال منعقدہ مقابلے میں وکی میڈیا فاونڈیشن، یونیسکو اور فلِکر کے اشتراک سے منعقد کیا گیا جس کا مقصد ثقافتی ورثے کی دیکھ بھال کے لیے عالمی تحریک پیدا کرنا تھا۔ وکی میڈیا کا کہنا ہے یہ تصاویر ان ممالک کی قومی یادگاروں سے متعلق مضامین کے ساتھ تصویری جھلک پیش کرنے میں مدد کر سکتی ہیں اور بلا کسی لائسنس کے دستیاب ہیں۔ وکی میڈیا کے مطابق اس تصویری مقابلے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ تصاویر بنانے والوں کو کریئٹو کومنز لائسنس کے تحت تصاویر مہیا کرنے کےلیے رضامند کیا جائے جس کے تحت کوئی بھی دنیا میں انھیں تصویر بنانے والے کا نام دے کر استعمال کر سکتا ہے۔ رواں سال منعقدہ مقابلے میں 52 ممالک سے دس ہزار افراد نے تقریباً ڈھائی لاکھ تصاویر اپ لوڈ کیں۔ وکی میڈیا کے مطابق پاکستان سے 270 فوٹوگرافرز نے 1900 سے زیادہ تصویروں کے ساتھ اس مقابلے میں شرکت کی۔ خیال رہے کہ پاکستان سنہ 2014 میں وکی لوز مونومنٹس کا حصہ بنا تھا اور اب تک پاکستان سے 1500 افراد 27000 سے زائد تصاویر اپ لوڈ کر چکے ہیں۔ وکی میڈیا کی پاکستان جیوری کی جانب سے پاکستان سے منتخب کی گئی 2017 کی دس بہترین تصاویر پیش ہیں۔ لاہور میں واقع بادشاہی مسجد کا غروب آفتاب کے وقت کا منظر، پس منظر میں دریائے راوی بھی دیکھا جا سکتا ہے وادئ ہنزہ میں واقع تاریخی قلعہ بلتت صحرائے چولستان میں قلعہ دراوڑ اسلام آباد کی فیصل مسجد فریئر ہال کراچی کی تصاویر بھی دس بہترین تصاویر میں شامل ہے کراچی میونسپل کارپوریشن بلڈنگ صوبہ خیبرپختوخوا میں واقع بودھ دور کے تخت بھائی کھنڈرات ملتان میں واقع مزار شاہ رکن عالم لاہور کا عجائب گھر لاہور کے اندرون شہر میں واقع مغل دور کی مسجد وزیر خان
  3. قائداعظم کی زندگی کے چند انوکھے واقعات دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیتے ہیں اور بانیِ پاکستان محترم قائداعظم محمد جناح رحمتہ اﷲ علیہ کا شمار ایسی ہی گوہر نایاب شخصیات میں ہوتا ہے- ہر سال 25 دسمبر کو قائداعظم کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی سطح پر منایا جاتا ہے اور اس حوالے سے ملک بھر میں تقریبات اور سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں جن میں ان کی شاندار خدمات پر روشنی ڈالی جاتی ہے- اسی مناسبت سے آج قائد اعظم محمد علی جناح کے یومِ پیدائش کے موقع پر ہم ان کی زندگی کے وہ چند واقعات آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں جو ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہیں- وقت کی پابندی کتنی ضروری وفات سے کچھ عرصے قبل بابائے قوم نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا یہ وہ آخری سرکاری تقریب تھی جس میں قائداعظم اپنی علالت کے باوجود شریک ہوئے وہ ٹھیک وقت پر تقریب میں تشریف لائے انہوں نے دیکھا کہ شرکاء کی اگلی نشست ابھی تک خالی ہیں انہوں نے تقریب کے منتظمین کو پروگرام شروع کرنے کا کہا اور یہ حکم بھی دیا کہ خالی نشستیں ہٹا دی جائیں حکم کی تعمیل ہوئی اور بعد کے آنے والے شرکاء کو کھڑے ہو کر تقریب کا حال دیکھنا پڑا ان میں کئی دوسرے وزراء سرکاری افسر کے ساتھ اس وقت کے وزیرا عظم خان لیاقت علی خان بھی شامل تھے وہ بے حد شرمندہ تھے کہ ان کی ذراسی غلطی قائد اعظم نے برداشت نہیں کی اور ایسی سزا دی جو کبھی نہ بھولی گئی ۔ اعلیٰ ظرفی 1943ء میں الہ آباد یونیورسٹی میں ہندو اور مسلمان طلباء کے درمیان اس بات پر تنازعہ ہو گیا کہ یونیورسٹی میں کانگریس کا پرچم لہرا یا جائے۔ مسلمان طلباء کا ماننا تھا کہ کا نگریس کا پرچم مسلمانوں کے جذبات کا عکاس نہیں اور چونکہ الہ آباد یورنیورسٹی میں مسلمان طلبہ کی اکثریت زیر تعلیم تھی اس لیے یہ پر چم اصولاً وہاں نہیں لہرایا جا سکتا ابھی یہ تنازعہ جاری تھا کہ اسی سال پنجاب یونیورسٹی کے مسلم طلباء کی یونین سالانہ انتخاب میں اکثریت حاصل کر گئی یو نین کے طلباء کا ایک وفد قائداعظم کے پاس گیا اور درخواست کی کہ وہ پنجاب یورنیوسٹی ہال پر مسلم لیگ کے پر چم لہرانے کی رسم ادا کریں قائداعظم نے طلباء کو مبارک باد دی اور کہا اگر تمھیں اکثریت مل گئی ہے تو یہ خوشی کی بات ہے لیکن طاقت حاصل کرنے کے بعد اپنے غلبے کی نمائش کرنا نا زیبا حرکت ہے کوئی ایسی با ت نہ کرو جس سے کسی کی دل آزاری ہو ہمارا ظرف بڑا ہونا چاہیے کیا یہ منا سب بات نہیں کہ ہم خود وہی کام کریں جس پر دوسروں کو مطعون کرتے ہیں۔۔ رشوت ایک ناسور ایک بار قائد اعظم سفر کر رہے تھے سفر کے دوران انہیں یاد آیا کہ غلطی سے ان کا ریل ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اور وہ بلا ٹکٹ سفر کر رہے ہیں جب وہ اسٹیشن پر اترے تو ٹکٹ ایگزامنر سے ملے اور اس سے کہا کہ چونکہ میرا ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اس لیے دوسرا ٹکٹ دے دیں ٹکٹ ایگزامنر نے کہا آپ دو روپے مجھے دے دیں اور پلیٹ فارم سے باہر چلے جائیں قا ئداعظم یہ سن کر طیش میں آگئے انہوں نے کہا تم نے مجھ سے رشوت مانگ کر قانون کی خلاف ورزی اور میری توہین کی ہے بات اتنی بڑھی کہ لوگ اکھٹے ہو گئے ٹکٹ ایگزامنر نے لاکھ جان چھڑانا چاہی لیکن قائداعظم اسے پکڑ کر اسٹیشن ماسٹر کے پاس لے گئے بالاخر ان سے رشوت طلب کرنے والا قانون کے شکنجے میں آگیا۔۔ کفایت شعاری اختیار کرو محمد حنیف آزاد کو قائداعظم کی موٹر ڈرائیوری کا فخر حاصل رہا ہے ایک بار قائداعظم نے اپنے مہمانوں کی تسلی بخش خدمت کرنے کی صلے میں انہیں دو سو روپے انعام دئے- چند روز بعد حنیف آزاد کو ماں کی جانب سے خط ملا جس میں انھوں نے اپنے بیٹے سے کچھ روپے کا تقاضا کیا تھا- حنیف آزاد نے ساحل سمندر پر سیر کرتے ہوئے قائد سے ماں کے خط کا حوالہ دے کر والدہ کو کچھ پیسے بھیجنے کی خاطر رقم مانگی- قائداعظم نے فوراً پوچھا ” ابھی تمھیں دو سو روپے دئے گئے تھے وہ کیا ہوئے “حنیف آزاد بولے ”صاحب خرچ ہوگئے قائد اعظم یہ سن کر بولے ” ویل مسٹر آزاد، تھوڑا ہندو بنو “- وکالت کے اصول وکالت میں بھی قائدِاعظم کے کچھ اُصول تھے جن سے وہ تجاوز نہیں کرتے تھے۔ وہ جائز معاوضہ لیتے تھے۔ مثلاً ایک تاجرایک مقدمہ لے کر آیا۔ مؤکل:مَیں چاہتا ہوں کہ آپ اس مقدمہ میں میری وکالت کریں۔آپ کی فیس کیا ہوگی۔ قائدِاعظم: مَیں مقدمے کے حساب سے نہیں، دن کے حساب سے فیس لیتا ہوں۔ مؤکل: کتنی؟ قائدِاعظم: پانچ سوروپے فی پیشی۔ مؤکل: میرے پاس اس وقت پانچ ہزار روپے ہیں۔ آپ پانچ ہزار میں ہی میرا مقدمہ لڑیں۔ قائدِاعظم: مجھے افسوس ہے کہ مَیں یہ مقدمہ نہیں لے سکتا۔ہوسکتا ہے کہ یہ مقدمہ طول پکڑے اور یہ رقم ناکافی ہو۔ بہتر ہے کہ آپ کوئی اور وکیل کرلیں کیوںکہ میرا اصول ہے کہ مَیں فی پیشی فیس لیتا ہوں۔ چنانچہ قائدِاعظم ؒنے اپنی شرط پر مقدمہ لڑا اور اپنی فراست سے مقدمہ تین پیشیوں ہی میں جیت لیا اور فیس کے صِرف پندرہ سو روپے وصول کیے۔ تاجر نے اس کامیابی کی خوشی میں پورے پانچ ہزار پیش کرنا چاہے تو قائدِاعظم نے جواب دیا، ’’میں نے اپنا حق لے لیا ہے۔‘‘ عید کی نماز یہ 25 اکتوبر 1947 کی بات ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار عید الاضحیٰ کا تہوار منایا جانا تھا۔ عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے مولوی مسافر خانہ کے نزدیک مسجد قصاباں کو منتخب کیا گیا اور اس نماز کی امامت فریضہ مشہورعالم دین مولانا ظہور الحسن درس نے انجام دینی تھی- قائد اعظم کو نماز کے وقت سے مطلع کردیا گیا۔ مگر قائد اعظم عید گاہ نہیں پہنچ پائے۔ اعلیٰ حکام نے مولانا ظہور الحسن درس کو مطلع کیا کہ قائد اعظم راستے میں ہیں اور چند ہی لمحات میں عید گاہ پہنچنے والے ہیں۔ انہوں نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ نماز کی ادائیگی کچھ وقت کے لیے مؤخر کردیں۔ مولانا ظہور الحسن درس نے فرمایا ’’میں قائد اعظم کے لیے نماز پڑھانے نہیں آیا ہوں بلکہ خدائے عزوجل کی نماز پڑھانے آیا ہوں‘‘ چناں چہ انہوں نے صفوں کو درست کرکے تکبیر فرما دی۔ ابھی نماز عید کی پہلی رکعت شروع ہوئی ہی تھی کہ اتنے میں قائد اعظم بھی عید گاہ پہنچ گئے۔ نماز شروع ہوچکی تھی۔ قائد اعظم کے منتظر اعلیٰ حکام نے قائد سے درخواست کی وہ اگلی صف میں تشریف لے چلیں مگر قائد اعظم نے ان کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ میں پچھلی صف میں ہی نماز ادا کروں گا۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا اور قائد اعظم نے پچھلی صفوں میں نماز ادا کی۔ قائد اعظم کے برابر کھڑے نمازیوں کو بھی نماز کے بعد علم ہُوا کہ ان کے برابر میں نماز ادا کرنے والا ریاست کا کوئی عام شہری نہیں بلکہ ریاست کا سربراہ تھا۔ قائد اعظم نمازیوں سے گلے ملنے کے بعد آگے تشریف لائے۔ انھوں نے مولانا ظہور الحسن درس کی جرأت ایمانی کی تعریف کی اور کہا کہ ہمارے علما کو ایسے ہی کردار کا حامل ہونا چاہیے۔
  4. Done Admin, main ne abhi account bnaya hai dropbox par new email id se
  5. Buhat hi achi post hai... Kafi kuch Sekhny ko mila thanks for sharing
  6. Han g Young Heart Bro,, Hamary bulany par koi nai ana... Waiting for Girl Reply
  7. ایسی سرگرمی جس میں کمپیوٹرز یا نیٹ ورکس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کسی کو ہدف یا مجرمانہ سرگرمیاں کی جائیں یا کمپیوٹر کی دنیا سے جڑی ایسی سرگرمیاں جو یا تو غیرقانونی ہوں یا انہیں مخصوص فریقین کی جانب سے خلاف قانون سمجھا جائے اور ان میں عالمی الیکٹرونک نیٹ ورکس کو استعمال کیا جائے انہیں سائبر کرائم سمجھا جاتا ہے۔ عام لحاظ سے بات کی جائے تو مختلف سطحوں پر سائبر کرائمز کے ذریعے لوگوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی، ہیکنگ، سوشل نیٹ ورکس میں استحصال، معلومات انفراسٹرکچر پر سائبر حملے، سائبر دہشتگردی، مجرمانہ رسائی، فحش پیغامات، ای میلز، دھمکی آمیز پیغامات و ای میلز، ڈیٹا تک غیرقانونی رسائی وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان میں کافی تنقید، تجاویز اور ترامیم کے بعد بالاآخر قومی اسمبلی نے پاکستان الیکٹرانک کرائمز بل منظور کر لیا ہے۔مجوزہ قانون کی منظوری کس قدر شفاف تھی اور اس میں قانون سازوں کی کتنی دلچسپی تھی، اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ 342 ممبران کے ایوان میں سے صرف 30 ممبران حاضر تھے۔اب جبکہ یہ پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں سے منظور ہو چکا ہے، تب بھی یہ تنازعات سے پاک نہیں ہے۔تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر تجویز کی گئی چند سخت ترین سزاؤں اور شقوں میں ردوبدل کی گئی ہے، مگر اب بھی ایسا بہت کچھ ہے جس کا غلط فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، آزادی اظہار اور اختلافِ رائے کو دبانے، اور آگہی کی کمی کی وجہ سے سرزد ہونے والے اقدامات کو طویل قید اور بھاری جرمانے عائد کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔مختلف مراحل میں اس بل پرجو تنقید سب سے زیادہ ہوئی ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ بل ان افراد نے تحریر کیا ہے، جو کہ ڈیجیٹل دنیا کی اونچ نیچ اور حقائق سے لاعلم ہیں۔ صرف ایک ٹیکسٹ میسج بھیجنے کی سزا 3 ماہ قید تک قرار پا سکتی ہے۔منفی مقاصد کے لیے ویب سائٹ قائم کرنے پر" تین سال قید اور بھاری جرمانہ۔ منفی مقاصد میں کیا کیا چیزیں شامل ہیں؟اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نفرت انگیز تقاریر و بیانات کی اجازت ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔لیکن کوئی بھی شخص جو یہ جانتا ہے کہ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں اختلافِ رائے کا گلا کس طرح گھونٹا گیا تھا، وہ یہ بھی جانتا ہے کہ مذہب یا فرقے کی بنیاد پر تنازعات پیدا کرنے اور نفرت پھیلانے کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ کسی چیز کے نفرت انگیز ہونے یا نہ ہونے کی غلط تشریح بھی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کو سائبر سرگرمیوں کو ضوابط میں لانے کے لیے ایک فریم ورک درکار ہے کیونکہ ہم ایسے ملک میں ہیں جہاں ٹیکنالوجی کا غلط استعمال عسکریت پسندی اور دہشتگردی سے لے کر افراد کی نجی زندگی میں مداخلت، یعنی ذاتی معلومات کی چوری، بلیک میلنگ اور اکاؤنٹ ہیکنگ تک میں کیا جاتا ہے۔یہ قانون ابھی سینیٹ میں جائے گا۔ اس میں موجود مسائل کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمارے پاس اب بھی وقت ہے۔ سوشل میڈیا ایک ہی پلیٹ فارم تھا جہاں اپنی رائے کا اظہار کرسکتے تھے مگر اس پر بھی پابندی لگا کر حکومت نے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ فیس بک اور ٹویٹر ہی ایسا چینل تھا جہاں آپ اپنی مرضی سے کسی پارٹی، گروپ اور نظریے کی حمایت کر سکتے تھے۔ مگر بدقسمتی سے نام انہاد حکمرانوں نے عام لوگوں سے یہ حق چھین لیا ہے۔ عوام کی سوچ، ذہن اور خیالات کے اظہار پر پابندی کی بجائے اس قانون میں مزید ترامیم کرنی چاہئے۔
  8. Nice Updates ..... Har traf selfie selfie.... awam ko or koi kam kaj koi nai?
×