Jump to content
You are a guest user Click to join the site
URDU FUN CLUB

mst tari

Members
  • Content Count

    408
  • Donations

    $0.00 
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    9

mst tari last won the day on February 20 2018

mst tari had the most liked content!

Community Reputation

595

1 Follower

About mst tari

  • Rank
    Premium Member

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. Dr sb zabardast update ja rahe ha ap kahani ko jare rakhy jen k ni pasand wo na pary
  2. ڈاکٹر صاحب اپ کا الفاظ بیاں کمال کا ھے پردیس کے سٹاٹ کے دن یاد أگیے
  3. میرا پہلا سیکس تھا اور یہ بالکل سچی کہانی ہے۔ امید ہے کہ تمام دوستوں کو پسند آئے گی۔ میں اپنے ایک دوست سے ملنے اس کے گھر جا رہا تھا کہ اس کے گھر سے پہلے گلی میں ایک لڑکی اپنے دروازے میں کھڑی تھی میں نے اس کو دیکھا تو وہ مجھے اچھی لگی میں نے اس کو دیکھنے کیلئے دوبارہ سے چکر لگایا اس نے ہنس کر دیکھا میں نے اس کا نام پوچھااس نے روبی بتایا۔ دو تین دن ایسے ہی گلی میں ہلکی پھلکی بات چیت ہوتی رہی۔ ایک دن میں نے ملنے کو کہا تو مگر وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی رات کوآٹھ بجے آنا ۔ رات کو آٹھ بجے میں گیا تو دیکھا کہ واقعی وہ دروازے میں کھڑی ہے ۔ اس کے فگر36,32,34 بہت خوبصورت تھے میں اس کو کھڑا کافی دیردیکھتا رہا دو دن بعد اس نے مجھے کہا کہ تم کل نو بجے آنا میرے گھر پر کوئی نہیں ہو گا۔ میں دوسرے دن تیار ہو کر اس کو ملنے چلا گیا نو بجے سے پہلے ہی میں اس کی گلی میں تھا۔ دروازہ کھلا تھا مگر میری ہمت نہیں تھی کہ اندر جا سکوں تھوڑی دیر بعد وہ دروازے پر آئی اور ادھر ادھر دیکھ کر مجھے کہا کہ اندر آجاﺅ میں اندر چلا گیا تو وہ مجھے ایک بیڈ روم میں لے گئی اور سائیڈ پر لگے صوفے پر بیٹھا دیا۔ جہاں پر ایک بچی سوئی ہوئی تھی میںنے پوچھا یہ کون ہے تو اس نے مجھے بتایا کہ اس کی بیٹی ہے۔ میں حیران رہ گیا کہ میں جسے کنواری لڑکی سمجھ رہا تھا وہ شادی شدہ ہے۔ ابھی میں اسی پریشانی میں تھا کہ اس نے میرے پاس بیٹھتے ہوئے مجھے فرنچ کس کردی۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ پھر وہ باتیں کرنے لگی کہ اس کا شوہر اور ساس ایک شادی میں شرکت کیلئے لاہور سے باہر گئے ہیں اور دو دن بعد آئیں گے لیکن میں ذہنی طور پر پریشان تھا کچھ وقت کے بعد اس نے دوبارہ مجھے کس کرنا شروع کردی میرے رسپانس نہ دینے پر اس نے پوچھا کیا بات ہے کوئی پریشانی ہے تم میرا ساتھ کیوں نہیں دے رہے ہو۔ میںنے کہا کہ میں تم کو کنواری سمجھ رہا تھا اور تم تو شادی شدہ ہو۔ اس نے کہا کہ کنواری اور شادی شدہ میں فرق ہی کتنا ہوتا ہے لیکن میں تم کو کنواری سے زیادہ پیار کروں گی اور تم بھول جاﺅ گے کہ تم نے کسی شادی شدہ عورت کو پیار کیا ہے ویسے بھی میری عمر ابھی صرف 25سال ہے ۔ دیکھنے میں واقعی میں کنواری لگتی ہوں مزہ بھی کنواری والا دونگی۔ اب پھر اس نے کسنگ شروع کردی میں نے بھی رسپانس کرنا شروع کردیا۔ اب میں اور وہ فرنچ کس کررہے تھے اور میرے ہاتھ اس کے جسم کو ناپ رہے تھے کبھی اس کے ممے اور کبھی اس کی کمر ‘ پیٹ پر میں اپنے ہاتھ پھیر رہا تھا میںنے اپنا ہاتھ اس کے گریبان سے اندر ڈالا اور اس کا مما پکڑ کر دبایا تو اس کے منہ سے آہ آہ کرکے سسکی نکلی اور وہ ایک دم سے پیچھے ہٹ گئی میں نے پوچھا کیا ہوا تو وہ بغیر کچھ بولے وہاں سے اٹھی اور کمرے میں پڑے ہوئے ساﺅنڈ سسٹم کو آن کرکے دوبارہ میرے پاس آکر بیٹھ گئی۔ میں نے پوچھا اس کو آن کیوں کیا تو اس نے کہا کہ ہماری آوازیں باہر نہ چلی جائیں اس لئے۔ اب دوبارہ کسنگ شروع ہو گئی میںنے دوبارہ سے اس کے ممے دبانے شروع کردیئے جیسے یہ میں اس کے ممے دباتا اس کے منہ سے آہ آہ آہ آہ آہ او او او او کی آوازیں نکلنا شروع ہو جاتیں۔ میںنے آہستہ سے اس کی قیمض کو اوپر اٹھایا اور دونوں ہاتھوں سے اس کے ممے پکڑ لئے اور ان کو مسلنا شروع کر دیا اب اس نے آنکھیں بند کرلیں اور سسکاریاں بھرنے لگی۔ میں نے اس کی قیمض کو اتارنے کی کوشش کی تو اس نے خود ہی اپنی قمیض اتار دی اب میرے سامنے وہ کالے رنگے کے بریزر میں آنکھیں بند کئے صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی میرے سے رہا نہ گیا اور میں نے بریزر کے اوپر سے ہی ممے کو منہ میں لے کر چوسناشروع کردیا تو اس کے منہ سے بے ساختہ آہ او او آہ میں مر گئی کی آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں۔ میںنے بریزر کی ہک کھول دی اور اس کو اتار پھینکا اب اس کے سفید ممے جن پر گلابی رنگ کی ٹیکی بنی ہوئی تھی میرے سامنے تھی میںنے ایک ممے کو ہاتھ میں پکڑ کر مسلا اور دوسرے کو منہ میں لے کر چوسناشروع کردیا اب اس کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے اپنی آواز کو روکنے کیلئے اپنے ہونٹ کاٹ رہی تھی اور میرے سر کو پکڑ کر اپنے ممے پر دبا رہی تھی تقریباً دس سے پندرہ منٹ تک میں باری باری اس کے ممے چوستا رہا اسی دوران اس نے مجھے زور سے لگے لگایا اس کا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا اچانک ایک جھٹکا کھا کر وہ ڈھیلی ہو گئی میں نے پوچھا کیا ہوا تو اس نے جواب میں ایک لمبی فرنچ کس کی اور کہا تم بہت نشیلے ہو میں فارغ ہو گئی ہوں۔ میرا لوڑا (ساڑھے سات انچ )فل ٹائٹ ہوا ہوا تھا اس نے کہا تم بیٹھو میں ابھی آتی ہوں اور کمرے کے سات اٹیچ باتھ روم میں چلی گئی واپس آکر بتایا کہ میں پھدی صاف کرنے گئی تھی۔ اب دوبارہ سے اس نے کسنگ شروع کردی میں نے کہا کہ میں نے تم کو پیار کیا ہے اب تم کرو اس نے کہ ہاںمیں ضرور تم سے پیار کرتی ہوں اس نے کھڑے ہو کر مجھے بھی کھڑا کیا اور میرے لن پر ہاتھ رکھ کرکسنگ کرنے لگی اور مجھے کہا کہ بیڈ پر چلو میں نے کہا وہاں پر تمہاری بیٹی سوئی ہوئی ہے اس نے بچی کو اٹھا کر صوفے پر لٹا دیا اور اب ہم دونوں بیڈ پر آگئے اس نے میری شرٹ کے بٹن کھول دیئے اور اس کو اتار کر پرے پھینک دیا اور اب وہ میری پینٹ کو کھولنے لگی میں نے جلدی سے اپنی پینٹ خود ہی اتار دی اب میں انڈرویر میں اوروہ شلوار پہنے ہوئے تھی۔ اس نے آہستہ آہستہ فرنچ کس کرنے کے بعد میرے پیٹ پر کس کی اور میری ٹانگوں پر آکر ہلکی ہلکی کاٹنا شروع کردیا اور میرا انڈرویئر پکڑ کر نیچے کھینچا تو میرا فل ٹائٹ لن ایک دم سے نکل کر سامنے آ گیا وہ ایک دم سے اس کو دیکھ کر حیران رہ گئی میں نے پوچھا کیا ہوا تو بولی میرے خاوند کا لن تو اس سے چھوٹا اور کم موٹا ہے۔ اس نے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلانا شروع کردیا اور اپنا ہاتھ اوپر نیچے کرنے لگی پھر اس نے میرے ٹوپے پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے آہستہ آہستہ ٹوپا اس کے منہ میں تھا اس نے اس پر زبان پھیرنی شروع کی تو مجھے بھی مزہ آنے لگا۔ کچھ دیر بعد ہی میرا آدھے سے زیادہ لن اس کے منہ میں تھا اور وہ اس کو لولی پپ کی طرح چوس رہی تھی اور میرے منہ سے بے اختیار آہ آہ کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ اس نے لن اور ٹٹوں پر زبان پھیرنا شروع کی تواور زیادہ مزہ آیا۔ اسی مزہ میں میں فارغ ہونے کے قریب پہنچ گیا میں نے اس کو بتایاکہ میں فارغ ہونے لگا ہوں تو اس نے کہا کہ ٹھہرو اور لن پرزیادہ تھوک لگا کر ہاتھ سے مٹھ مارنے لگی وہ لیٹ گئی اور مجھے کہا کہ میں اٹھ کر اس کے جسم پر اپنی منی پھینک دوں۔ اب وہ تیزی سے مٹھ مار رہی تھی کہ میں فارغ ہو گیا ساری منی اس کے مموں اور پیٹ پر گر گئی ۔ وہ اٹھی اور اٹھ کر کپڑے سے میرے لن کو اچھی طرح صاف کیا اور اپنا جسم دھو کر واپس آگئی۔ اب اس نے مجھے جوس پلایا اور پھر دوبارہ سے لیٹ کر کسنگ کرنے لگے میرا لوڑا پھر کھڑا ہونا شروع ہو گیا اور اس نے دوبارہ اس کو منہ میں لے لیا اس نے اب ہم 69پوزیشن لے لیتے ہیں میںنے اس کی پھدی چاٹنے سے انکار کردیا۔ اس نے کہا کہ چلو تم میرے ممے چوسو ایک دو منٹ کے بعد جب مجھے اس کے لن چوسنے سے مزہ آنے لگا تو اس نے کہا کہ میری چوت کو بھی چاٹو نہیں تو اب بس۔ میں مزہ میں تھا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی چوت کو چاٹنا پڑا۔ میں نے اس کی ٹانگوں کو کھولا اور اس کی چوت پر کس کی اور آہستہ سے زبان پھیری کہ وہ اس کی سسکاریاں نکلنے لگیں اور وہ تیزی سے میرا لن چوسنے لگی۔ اس کی آوازوں سے مجھے بھی اچھا لگا اور میں نے اچھی طرح سے اس کی چوت کو چاٹنا شروع کردیا کچھ منٹ کے بعد وہ پچھے ہو کر بولی کہ اب میری پھدی کو پھدا بنا دو کیونکہ میرے شوہر کا لن تو اس قابل نہیں ہے لیکن تمہارے سائز سے مجھے لگتا ہے کہ آج میری پھدی پھدی نہیں پھدا بن جائے گی ۔ میں نے اس کو پکڑ کر سیدھا کیا اور اس کو لٹا کرٹانگیں کھولیں اس نے اپنی کمر کے نیچے ایک تکیہ سیٹ کرلیا۔ اب اس کی چوت میرے سامنے تھی ۔ میں نے اپنا لوڑا اس کی چوت پر پھیرنا شروع کردیا۔ جیسے ہی میرا لوڑا اس کے سوراخ پر جاتا تو وہ سسکاری بھرتی اور اوپر کو دھکا لگاتی اور جیسے ہی اس کے دانے کو ٹچ کرتا تو آہ او آہ آہ کی آوازیں نکالتی اس کی آوازیں مجھے اورزیادہ مزہ دے رہی تھی۔ اس نے کہا میرے یار اب نہ تڑپاو اور اپنا خوبصورت اور موٹا لوڑا میری پھدی میں ڈال دو لیکن آہستہ آہستہ اندر کرنا یہ کافی بڑا ہے خیر میں نے پھدی کے سوارخ پر لوڑے کو فٹ کیا اور آہستہ سے جھٹکا دیا لیکن میرا لوڑا اندر نہ جا سکا۔اس نے پوچھا کیا پہلے کبھی پھدی نہیں ماری جو اناڑیوں کی طرح کررہے ہو تو میں نے بتایا کہ یہ میرا پہلا موقع ہے تو اس نے کہا کہ میری پھدی تمہارے لوڑے کے حساب سے ٹائٹ ہے تم ذرا زور لگاﺅ گے تو یہ اندر جائے گا اور کہا کہ میں تم کو بہت کچھ سکھا دوںگی۔ اس نے کہا کہ ذرا زور لگاﺅ میں نیچے سے زورلگاتی ہوں۔ اب دوبارہ سے میں نے زور سے جھٹکا لگایا تو اس نے بھی نیچے سے جھٹکا لگایا لیکن یہ اس کو مہنگا پڑا اور میرا آدھے سے زیادہ لوڑا اس کی پھدی میں تھا اور اس کے منہ سے ایک چیخ نکل گئی اگر کمرے میں میوزک آن نہ ہوتا تو اس کی آواز سے ہمسائے ضرور آجاتے۔ اس نے کہا بس کرو اتنا ہی ڈالو زیادہ برداشت نہیں ہو گا اس کی پھدی مجھے واقعی ہی ٹائٹ تھی۔ اب اس نے کہا کہ اب ہلنا شروع کرو اور میں نے آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کردیا۔ اب وہ بھی نیچے سے ہل کر مجھے رسپانس کررہی تھی ۔ دو تین منٹ کے بعد اس نے کہا اب تھوڑا اور ڈالو میرا مزے سے برا حال تھا میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ہی دفعہ اندر کردو اور میںنے یہ کر دکھایا میں نے اپنا لن ٹوپے کے علاوہ باہر نکال لیا اور اس کو فرنچ کس کرنے لگا اب میں نے ایک زور دار جھٹکے سے سارا لوڑا اس کی پھدی میں ڈال دیا اب اس کی چیخ میرے منہ میں رہ گئی کیونکہ میں اس کو فرنچ کس کررہا تھا وہ نیچے سے تڑپ کررہ گئی ۔ اب میرا لوڑا فٹ ہو چکا تھا ایک دو منٹ کے بعد اس نے پھر کہا اب ہلنا شروع کردو میں برداشت کرلوں گی۔ میں نے ہلنا شروع کردیا۔ اس کے منہ سے مزے اور تکلیف سے آہ اوئی او آہ آہ آہ آہ آہ ................ کی آوازیں نکل رہی تھیں اور میں بھی کافی مزے میں تھا کہ اس نے کہا کہ زور سے کرو میںنے اپنے جھٹکوں میں تیزی لے آیا اور اب کمرے میں میوزیک کے ساتھ دو جسم ٹکرانے کی آوازیں بھی آرہی تھیں پانچ یا سات منٹ بعد اس نے نیچے سے زیادہ زور لگا کر رسپانس شروع کردیا اور اس کی آوازوں میں بھی تیزی آگئی آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ او او او او اوئی آہ آہ آہ ................ مزہ آگیا تم نے مجھے سکون دلا دیا۔ مزہ آ گیا آہ آہ آہ ............ جیسے ہی میں جھٹکالگاتا وہ اچھل کر میرا ساتھ دیتی۔ اس نے اپنی ٹانگوں سے میری کمر کے گرد جال بنا لیا اور مجھے جھکڑ کر رکھ دیا مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس کی پھدی میرے لوڑے کو بھینچ رہی ہے اور اس کا جسم ایک دم سے اکڑ کر ڈھیلا ہو گیا اوروہ بھی ایک لمبی اوئی کے بعد آرام سے لیٹ گئی میں نے پوچھا کیا ہوا بولی میں فارغ ہو گئی ہوں مجھے بھی محسوس ہوا کہ میرا لوڑا کافی چکنا ہو گیا ہے اس کے فارغ ہونے سے پھدی منی سے بھر چکی تھی اور عجیب و غریب آوازیں نکل رہی تھی۔ اس نے کہا اپنا لوڑا باہر نکالو میں نے کہا میں تو ابھی تک فارغ نہیں ہوا اس نے کہا ایسے تم کو زیادہ مزہ نہیں آئے گامجھے پھدی صاف کرلینے دو پھر کرنا۔ میں نے لوڑا باہر نکا لیا۔ اس نے کپڑے سے اچھی طرح اپنی پھدی کو صاف کیا اور میرے لوڑے کو بھی صاف کرنے کے بعد بولی اب مجھے اچھی طرح سے چودو میں نے اس کو گھوڑی بننے کو کہا وہ گھوڑی بن گئی میں نے پھدی کے اوپر لوڑا رکھا اورزور دار جھٹکے سے اندر ڈال دیا۔ میرا لوڑا پھنستا ہوا اندر چلا گیا۔ میں نے دوبارہ اس کی چدائی شروع کردی۔ لن پھنس کر اندر جا رہا تھا جس کی وجہ سے اس کو درد ہو رہی تھی اور وہ مزے اور تکلیف سے آہ آہ اوئی آہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی آوازیں نکال رہی تھی۔ اس نے بھی ہلنا شروع کردیا اورمیرا ساڑھے سات انچ کا لوڑا فل اندر تھا اور اس کی چوت میرے لوڑے کو بھینچ رہی تھی۔ وہ بھی مزے سے سسکیاں رہی تھی پندرہ منٹ تک چودنے کے بعد اس نے کہا میں تھک گئی ہوں تم نے کوئی دوائی وغیرہ تو نہیں کھائی ہے جو اتنا ٹائم لگا رہے ہو میں نے کہا نہیں اس نے سٹائل بدلنے کو کہا اب اس نے مجھے صوفے پر بٹھایا اور خود میری گود میں لن کواپنی پھدی پر سیٹ کیا اور اوپر بیٹھ گئی اور آہستہ آہستہ ہلنے لگی اس کی سپیڈ تیز ہوتی جا رہی تھی اور مزے سے میرے منہ سے بھی آوازیں نکل رہی تھیں چند منٹ کے بعد میں نے اس کو کہا کہ میں فارغ ہونے والا ہوں تو اس نے ہلنا بند کردیا اور مجھے کس کرنے لگی اور کہا کہ اب پھر مجھے بیڈ پر لٹا کر چودو اور جتنی طاقت سے ہو سکتا ہے جھٹکے مارنا میں نے کہا ٹھیک ہے دوبارہ سے اس کو لٹا کرتکیہ اس کی کمر کے نیچے سیٹ کیا اور دوبارہ لوڑے کو اس کی پھدی کے اوپر رکھ جھٹکے سے اندر کردیا اس نے آہ کی اور سسکاری بھری اور نیچے سے اوپر کو اٹھی پورا لن جڑ تک اس کی پھدی میں گھس گیا۔ اب دوبارہ سے اس کی زبردست چدائی شروع کردی میں آدھے سے زیادہ لن باہرنکال لیتا اور اس کو جھٹکے سے دوبارہ اندر ڈال دیتا اس نے آہ آہ آہ اوئی او کے ساتھ زور سے کرو زور سے کرو پورا لن ڈال دو میری پھدی کی کسر پوری کردو زور سے پورا لن ڈال دو (ٹوٹل 30-35منٹ)کی زبردست چدائی کے بعد میں فارغ ہونے والا ہو گیا تھا میں نے اس کو بتایا تو اس نے کہا کہ پھدی کے اندر ہی فارغ ہونا اس کی پیاس بجھ جائے گی۔ میں نے زور سے جھٹکے لگانے شروع کردیے وہ فل رسپانس کررہی تھی۔ اس نے کہا کہ جلدی کرو میں بھی فارغ ہونے والی ہوں۔ چار پانچ فل سپیڈ جھٹکوں کے بعد اس نے مجھے زور سے پکڑ لیا اور میں نے اس کو میرے لن نے ساری منی اس کی پھدی میں اگل دی وہ بھی میرے ساتھ ہی فارغ ہو گئی۔ اس کی پھدی میری اور اس کی منی سے بھر گئی میںاس کے اوپر ہی لیٹ گیا اس نے زور سے مجھے کس کی میری زبان چوسنا شروع کردی۔ اس نے کہا کہ اس نے زندگی میں اس سے زیادہ مزے کا سیکس نہیں کیا۔ اب وہ میرے ساتھ اکثر سیکس کرے گی اور میرے لئے زیادہ مزے کا انتظام بھی کرے گی ۔ اس رات میں چار دفعہ فارغ ہوا اور وہ بھی سات آٹھ دفعہ ہوئی ۔ اس نے تو میری اتنی تعریفیں کیں کہ اس کے محلے کی دو اورعورتیں اوراس کی کنواری اور شادی شدہ بھانجی اور ان کی دوستوں کو کئی دفعہ چودا.
  4. ایک بار میرا شوہر اتنا ناراض ہوگیا اس نے مُجھے گھر بھیج دیا.۔۔ .اور طلاق کی بات کرنے لگا..بہت پریشان رہنے لگی.. کیونکہ اس نے مجھے کسی کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑلیا تھا...میری ایک دُور کی خالہ ہیں جو لاہور رہتی ہیں دکھنے میں سیکسی بم بھرا بھرا جسم اور سفید چمڑی اور ہیں بھی آزاد خیال وہ مجھے ایک فنکشن میں ملیں میری ساری کہانی سُن کر وہ سوچ میں پڑ گئیں ..اور کہنے لگیں ان مردوں کو پتہ نہیں کیا بیماری ہے خود ہر عورت پر سواری کرنا چاہتے ہیں اور اپنی گھوڑی پر ایک بھی دوسرا گھوڑا چڑھا دیکھ لیں ان کی گانڈ میں مرچیں لگ جاتی ہیں... خود ان کی بہن چاہے کئی سے چُدی ہو اور پکڑی بھی گئی ہو.. پھر بھی بہنوئی سے یہی کہیں گے بھائی اسے معاف کردو بھول چُوک ہو ہی جاتی ہے..... اچھا میں کُچھ حل نکالتی ہوں تیرے مسئلے کا خالہ شبنم نے مجھے دلاسہ دیتے ہوئے کہا پھر خالہ شبنم نے مجھ سے پوچھا کیا تیرا شوہر عامر مجھے جانتا ہے میں نے کہا نہیں خالہ کیونکہ اُسکی آپ سے کبھی مُلاقات نہیں ہوئی.. خالہ نے کہا تُم عامر کا موبائل نمبر مجھے دے دو.. میں نے نمبر لکھوا دیا.. خالہ کہنے لگی بس تین دن کی بات ہے دیکھنا کیسے لائن پر لاتی ہوں اس حرامی کو.....ہم گجرات میں رہتے ہیں اور عامر ساتھ ہی واقعہ ایک گاوں میں رہتا ہے..اس کی عُمر بتیس سال ہے اور اچھا خوبرو جوان ہے...میں ابھی تیس سال کی ہوں... تیسرے دن صبح دس بجے خالہ کا فون آیا کہ تُم فورا ہمارے گھر چلی آو جب میں خالہ کے گھر پُہنچی وہ بڑی بے چینی سے میرا انتظار کررہی تھی.. وہ مجھے لے کر اپنے گھر والوں کو شاپنگ کا بول کر نکل پڑی کُچھ دیر کی مُسافت کے بعد وہ اپنی ایک سہیلی کے گھر لے گئیں جس کا شوہر بیرون مُلک ہوتا ہے اور بچے سُکول گئے ہوئے تھے.. وہاں جاکر خالہ نے اطمینان سے مجھے بتایا کہ میں نے ایک اجنبی عورت بن کر عامر کو فون کالز پر پھانس لیا ہے اور آج وہ مجھ سے ملنے یہاں آرہا ہے... اور تُم یہاں بیڈ کے نیچے چھ جانا اور جب کام عُروج پر پہنچ جائے تو نیچے سے نکل آنا اور خوب بے عزتی کرنا اگے میں سنبھال لوں گی مجھے خالہ شبنم کا پلان بُہت پسند آیا ..... خالہ کی سہیلی عالیہ چائے والی ٹرے لے کر آئی میز پر رکھ کر واپس گئی اور خالہ کے ہاتھ میں دو ٹیبلٹس پکڑا دیں جن کو خالہ نے مسل کر چائے کی چینک میں مکس کردیا.. میں نے سوالیہ انداز میں چہرہ بنایا تو خالہ شبنم نے بتایا یہ گولیاں پینے سے مرد کا لوڑا لوہے کی طرح اکڑ جاتا ہے اور دماغ پر حیوانی سیکس طاری ہوتا ہے اور کم از کم دو گھنٹے لگاتار چدائی کرنی پڑتی ہے تب جا کر سکون ملتا ہے....عامر کو یہ پلانے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے اندر ایسا جنون پیدا کردیا جائے تاکہ وہ چدائی کے بغیر یہاں سے نہ چلا جائے... اور ابھی وہ پہنچنے ہی والا ہے.. خالہ کا عامر سے فون پر رابطہ تھا جس کی وجہ سے وہ وہاں تک پُہنچ گیا اور خالہ اسے دروازے تک جا کر اندر لے آئیں.. میں بیڈ کے نیچے چھپنے کی بجائے ساتھ والے کمرے میں چلی گئی اور وہ خالہ شبنم اور عالیہ کے ساتھ اُسی کمرے میں بیٹھ کر چائے پینے لگا... کچھ دیر بعد عالیہ میرے والے کمرے میں آئی اور کمرے کی لائٹ بند کردی.. کیونکہ دونوں کمروں کے درمیان ایک شیشوں والی کھڑکی تھی ہماری طرف پردہ تنا ہوا تھا بڑی احتیاط سے عالیہ نے پردے کو ہلکا سا کھسکایا اور مجھے اشارہ کیا.... میں نے اندر جھانکا تو دیکھا خالہ اور عامر کھڑے کھڑے لپٹے ہوئے تھے اور عامر شبنم خالہ کہ ہونٹ چوس رہا تھا اور اس کے ہاتھ خالہ کے بڑے بڑے پستانوں کو مسل رہے تھے تب خالہ نے عامر کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے اپنی قمیض اُتار دی... عامر کسی پاگل کُتے کی طرح جھپٹا اور دیوانگی سے خالہ کے سینے پر زبان پھیرنے لگا مموں کے نپلز کو چاٹنے لگا چوسنے لگا کھینچنے لگا.....شبنم بھی مزے سے نڈھال ہورہی تھی.. تب میرے کان میں عالیہ کی آواز آئی میں شبنم کو کنڈوم دے آوں ...جب عالیہ اُس کمرے میں پُہنچی تو خالہ شبنم عامر کے کپڑے اُتار چکی تھی اور اس کا لوڑا سختی سے سیدھا تنا ہوا تھا اور شبنم آنٹی اپنی شلوار اُتار رہی تھیں.... جب عالیہ نے کنڈوم شبنم کو پکڑایا تو بے ساختہ وہ عامر کے لوڑے کو گھور بھی رہی تھی جو کمرے میں دو خوبرو حسیناوں کو دیکھ کر اور بھی تن گیا تھا. نہ جانے عالیہ کو کیا ہوا اس نے عامر کے لن کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور نجانے کیا کہا کیونکہ میں اُن کی دھیمی گفتگو نہیں سُن پا رہی تھی پھر شبنم آنٹی نے بھی کُچھ کہا اور عالیہ صوفہ پر بیٹھ گئی اور عامر اسکے چہرے کے پاس کھڑا ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عالیہ عامر کا لوڑا چوسنے لگی وہ اپنے چوڑے سفید چہرے پر موجود بڑے بڑے ہونٹوں کو لوڑے کی جلد پر پُوری پکڑ دے کر اسے پورا حلق میں لینے کی کوشش کرتی اور پھر واپس ہونٹوں کو لن کی ٹوپی تک لے آتی..میری اپنی پھدی یہ سب دیکھ کر مچل سی گئی کیونکہ بالآخر میں خود مُختلف لوڑے چکھنے کی شوقین تھی نہ چاہتے ہوئے بھی میرے مُنہ میں بھی پانی بھر آیا اور میرا ایک ہاتھ میری پھدی پر چلا گیا ..اور میں اسے مسلنے لگی..ایک ساعت رُک کر عالیہ نے اپنی قمیض اور بریزیر اُتار دیا اسکی گوری چمڑی ننگی ہو کر کمرے کو اور بھی روشن کرنے لگی...عامر عالیہ کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا اوراسکے مموں کو چسنے اور چومنے لگا..تب عالیہ کے چہرے پر پسینہ آگیا اور اسکے گال لال رنگ کے ہوگئے اسی حالت میں اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا اور میرے ساتھ نظریں ملائیں...میں نے بے شرمی والی نظروں سے اسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں جی بھر کے چٹواو اس کتے سے...کیونکہ تم دونوں کتیاں ہو اور تم دونوں کو میرے شوہر کا لوڑآ مبارک ہو....پھر عالیہ نے انکھیں بند کرلیں کیونکہ عامر اسکی شلوار نیچے کھینچ کر اب اسکی پھدی کو چوم رہا تھا ....آنٹی شبنم عامر کے پیچھے کھڑیں اپنے پھدے جو سہلا رہی تھیں ....تب عالیہ اُٹھی اور ساتھ ہی پڑے بیڈ پر جاکر گھوڑی بن گئیں... آنٹی شبنم نے بھی عامر سے لپٹ کر خوب چما چاٹا کیا اور وہ بھی عالیہ کے بلکل ساتھ گوڑی بن گئی دونوں کے دیسی چوتڑ اب عامر کے لئے دعوت کا منظر تھے عامر تنے ہوئے لوڑے کے ساتھ بیڈ پر گیا اور... اُن تینوں میں کچھ بات ہونے لگی شائد یہ تہہ کیا جارہا تھا کہ عامر کس کے چوتڑوں میں پہلے لوڑا ڈالے گا...پھر عامر نے کافی سارا تھوک آنٹی شبنم کی بیک پر ڈالا.. لن کے ساتھ اسے پھیلایا اور آنٹی کے دونوں چوتڑوں کو پکڑ کر ایک دم لوڑا پورا اندر کردیا.. آنٹی نے جان بوجھ کر زور سے چیخ ماری.. آہ آں آں .. اوی مار ڈالا ظالم... کُتے کمینے.. پھر عامر نے پانچ چھ دھکے زور زور سے مارے... جن کی وجہ سے آنٹی کے چوتڑوں کے بجنے کی آواز میرے کمرے تک آئی... عامر نے لوڑا نکالا اور عالیہ کی پھدی میں پیچھے سے ڈال دیا اور اس کی بھی چیخ نکلی اوئ......... اوہ یہ سب دیکھ کر میری اپنی پھدی گیلی ہو گئی اور میں نے شلوار میں ہاتھ ڈال کر اس کو مسلنا شروع کردیا..عامر مسلسل عالیہ کو چود رہا تھا... تب ہی میری برداشت ختم ہونے لگی اور میں نے سارے کپڑے اُتار دیئے کسی انجام کی پروا کیئے بغیر میں اُس کمرے میں چلی گئی.....مُجھے دیکھ کر عامر کو شدید جھٹکا لگا اس نے عالیہ کو جھٹکے لگانے روک دیئے میں نے کہا کیا بات ہے جانو بڑے مزے کررہے ہو.. وہ ہکلایا وہ اصل میں یوں ہوا تم یہاں کیسے.... جیسے ویسے.. لیکن وہ اس بات سے بھی حیران تھا کہ میں اس سے لڑنے کس حالت میں کھڑی ہوں ننگی..... میں نے عامر کو انکھ مار ک, کہا کوئی بات نہیں جان عیش کرو..... میرے ہوتے کوئی ٹینشن نہیں لینی اور خود بھی اُن دونوں کے ساتھ گھوڑی بن گئی... کچھ ہی دیر میں مجھے اپنی پھدی میں گرم گرم لوڑا اُترتا ہوا محسوس ہوا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی .... کچھ دیر بعد میں نے عالیہ کی پھدی میں اپنا انگھوٹھا ڈال دیا سامنے لٹا کر اور آنٹی شبنم عامر کے پیچھے کھڑی ہوکر اسکی کمر کو پکڑ کر دھکے دینے لگی اور وہ زور زور سے مجھے ٹھوکنے لگا.... آنٹی کہہ رہی تھیں عامر تم بہت حسین ہو جوان ہو کوئی بھی تمہیں دیکھے تم پر فدا ہو جائے میں تُم سے بہت بار چدواں گی تمہارے گھر آکر بھی چدواں گی لیکن... تم کو اپنی بیوی سے ناراض نہیں ہونا چاہیے.. مانتی ہوں اس سے غلطی ہوئی لیکن دیکھ لو اس غلطی کے بدلے اس نے آج تم کو جرمانے میں دو عورتیں عنائیت کردیں... عامر کہنے لگا آنٹی مجھے اس کا جرمانہ بہت پسند آیا میں نے اسے معاف کردیا بلکہ میں چاہوں گا یہ کُتی کی بچی ایسے ہی مجھے بھی نئے نئے مزے دلواتی رہے اور خود بھی جس مرضی حرامزادے سے چدوائے لیکن کنڈوم کے ساتھ یہ سب سُن کر میرے پورے جسم میں مزے کی لہر دوڑ گئی اور میں تیز جھٹکوں کے ساتھ فارغ ہوگئی...پھر عامر نے آنٹی شبنم کو زور زور سے چودا اور اس کے بڑے چوتڑوں کی تعریف بھی کرتا رہا... اور پھر ادھے گھنٹے بعد دونوں خارج ہوگئے لیکن ابھی عامر کی نیت عالیہ پر گرم تھی... کچھ دیر رکنے کے بعد عامر نے عالیہ باجی کی ٹانگیں چھت کی طرف کر دیں اور اُن کو شدید جھٹکوں سے چودنے لگا... عامر دوسرے شاٹ میں جلد فارغ نہیں ہورہا تھا اس دوران عالیہ دو مرتبہ فارغ ہوئی اور تھک گئی پھر عامر نے خالہ شبنم کو ایک بار پھر چودا اور چود چود کر نڈھال ہوگیا اس دوران میں نے اسے پانی کی بوتل پکڑائی جسے پی کر وہ پھر جٹ گیا اور آخر کار وہ بھی دوسری بار خارج ہونے لگا ہم تینوں نے ساتھ ساتھ مُنہ کرکے اپنی اپنی زبان باہر نکال لی اور عامر نے گرم گرم منی کا لاوا ہم تینوں کی کتیوں جیسی زبانوں پر چھڑک دیا.....اور ہم پھر بھی باری باری اس کے لوڑے کو چاٹتی رہیں... وقت کم تھا بچے سکول سے آنے والے تھے اس لئے ہم سب اپنے اپنے گھر چلے گئے....تین دن بعد عامر آیا اور مُجھے میرے سُسرال لے گیا...اور آج ہم ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں فرق یہ ہے کہ اب میں اپنے شوہر سے چھپ کر یار نہیں بناتی اور ہم دونوں جب بھی انجوائے کرنا ہو مل کر کرتے ہیں کیونکہ اتفاق میں بہتری ہے... اس لئے میرا تمام بہنوں بھائیوں کو مشورہ ہے کہ اگر آپکو ایسی پریشانی کا سامناہے تو اس سٹوری سے سبق حاصل کریں .....اور خوش رہیں ...
  5. میری کزن کی شادی تھی اور میں وہاں اپنی فیملی کے ساتھ گیا تھا جب میری ملاقات اپنی کزن کی دوست مومل سے ہوئ اسے دیکھ کر ہی میں اسکی معصومیت اور حسن کا قائل ہوگیا مومل ایک بے حد حسین اور دلکش نقوش والی 16 سال کی لڑکی تھی اس کی خوبصورتی اور پھر معصومیت نے ہی مجھے اس کی طرف متوجہ کیا تھا پھر ایک میں اپنی کزن کے روم میں بیٹھا ہوا تھا جب میں نے اس کی ڈائری دیکھی۔ یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ دونوں سہیلیوں میں حد درجہ پیار تھا۔ میں نے تبھی دروازہ کھلتا دیکھا تو ڈائری رکھ دی مگر تب تک مومل مجھے دیکھ چکی تھی۔ اس نے بڑے لاڈ سے مجھے دیکھا اور بولی کسی کی اجازت کے بنا ڈائری پڑھنا جرم ہے۔ مینے کہا سوری بس ایسے ہی نظر پڑھ گئ تو۔ وہ بولی اچھا کوئی بات نہیں میں نے کہا مومل تم بہت پیاری ہو۔ وہ معصومیت سے بولی ہاں گھر والے بھی یہی کہتے ہیں۔ میں نے کہا نہی سچی میں وہ کچھ نہ بولی بس نظریں جکھا کر جانے لگی تو میں نے کہا مومل میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں وہ بولی کیا۔ میں نے کہا یہاں نہیں اوپر سٹڈی روم میں تو وہ بولی اوکے آئیں میں نے سوچ لیا تھا ک آج اس کی لینی ہے ہر حال میں۔ مجھے پتا تھا ک اوپر کوئ نہیں جاتا۔ میں اسے لئے اوپر پہنچ گےا۔ سٹڈی روم کے اندر ایک سٹور تھا اور اس میں کسی کے آنے کے چانس نہیں تھے۔ جیسے ہی میں روم میں داخل ہوا تو وہ رک گئ میں نے کہا آو نا۔ وہ بولی یہاں ہی بتا دیں نا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر دیا۔ مومل کی سانس تیز ہو چکی تھی وہ سراسیمہ ہو کر بولی آ آپ دروازہ کیوں بند۔۔۔۔۔ میں نے اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کر اسے بولنے سے روکا اور کہا کہ مومل تم بہت پیاری ہو۔ بہت خوبصورت ہو۔ وہ ڈرے ہوئے لہجے میں بولی پلیز کوئ آ جائے گا میں نے کہا مومل میں تم سے پیار کرنا چاہتا ہوں وہ بولی ہرگز نہیں یہ غلط ہے۔ میں نے کہا مومل کچھ غلط نہیں میں تمھاری مرضی سے ہی کروں گا اور جہاں تم کہو گی روک دوں گا۔ کچھ پس و پیش کے بعد وہ مان گئ کہ میں اسے اوپر سے ٹچ کر سکتا ہوں۔ میں نے اس کے نازک بدن پہ ہاتھ پھیرنے شروع کر دئے وہ کچھ نہ بولی اور سمجھی کی میں ابھی اسے چھوڑ دوں گا آہستہ آہستہ میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ میں نے اس کی قمیض میں ہاتھ ڈال میں نے قمیض میں ہاتھ ڈال کر اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پہلےتو وہ کسمسائ مگر پھر چپ ہو گئی ابھی تک مجھے اس کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا تھا۔ آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے ہاتھ اس کی چھاتیوں کی طرف بڑھا دیا وہ تھوڑا پیچھے ہوئ اور میں نے بھی آگے بڑھ کر اسے دیوار کے ساتھ لگا کیا۔ میں دھیرے سے آواز دی مومل۔ وہ بولی جی۔ میں نے کہا کیسا لگ رہا ہے۔ وہ تھوڑی دیر بعد بولی بس کریں نا اب۔ میں بولا مومل اپنی قمیض اتارو۔ وہ بولی نہیں نہیں یہ غلط ہے۔ میں نے کہا مومل میں اپنی بات پہ قائم ہوں بس پیار کروں گا۔ دیکھو جلدی کرو کوئی آگیا تو تم بدنام ہو جاؤ گی۔ اس نے کہا اچھا پیچھے ہٹیں مگر پلیز کچھ الٹا نا ہو جائے میں نے کہا نہیں کچھ نہیں ہوگا۔ اس نے قمیض اتار دی اور ساتھ ہی اس کا برا بھی اٹھ گیا۔ اوہ مائی گاڈ اتنا صاف شفاف پیٹ اور ممے میں نے پہلی بار دیکھے تھے۔ میں نے اپنی قمیض بھی اتار دی اور آگے ہو کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ پہلی بار اس کے بدن میں جھرجھری دوڑ گئی میں اسے ساتھ لگائے ہوئے ہی اس کی گردن پہ ہونٹ رکھ دئے اور چومنے لگا۔ چومتے چومتے میں اس کے نازک مموں پر پہنچ گیا۔ اس کے ممے دودھ کی طرح سفید تھے اور ان پہ ہلکے پنک نپل بے حد حسین۔ میں نے اس کے نپل چوسنے شروع کر دئے تو پہلی بار اس کی ہلکی سی سسکاری نکل گئی۔ میں نے پوچھا مومل کیسا لگا۔ وہ بولی بہت اچھا۔ میںنے پھر اس کے نپل پہ زبان پھیرنے لگا اور ساتھ ہی دونوں مموں کو ہاتھوں میں بھر کر دبانا شروع کر دیا اب اس کی ہلکی سسکیاں نکلنا شروع ہو گئی تھیں اور مجھے لگ رہا تھا کہ میری محنت رنگ لائے گی۔ میں نے اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی شلوار کو نیچے سرکایا تو اس نے آسانی سے اسے اتار دیا جو اس بات کی علامت تھی کی آگ لگ چکی تھی۔ میں نے اس کی پھدی پہ ہاتھ پھیرا تو تڑپ کر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا میں نے ہلکے سے ہاتھ چھڑا کر پھر ہاتھ پھیرا اور دھیرے دھیرے اس کی رانوں پہ زبان پھیرنی شروع کر دی۔ اب مومل کی سسکیاں نکل رہیں تھیں اور پھر میں نے اپنی زبان اس کی پھدی پر رکھ دی اور پھیرنے لگا۔ مومل کی ہلکی سی چیخ نکل گئی اور اس نے میرے سر کو پکڑ لیا۔ میں نے فورا اس کے ہاتھ پکڑ کر اور تیزی سے زبان پھیرنے لگا۔ اب مومل مزے کے ساتویں آسمان پر تھی اور مجھے اب اس کی پھدی کی برسات کا انتظار تھا۔ پھر کچھ دیر بعد پکڑ لئے اور اس کی پھدی نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔ اس نے تب تک میرے بال نہیں چھوڑے جب تک اس کی پھدی پانی چھوڑتی رہی اور پھر جب اس نے میرے بال چھوڑے تو میرا پورا چہرہ اسکے پانی سے بھیگ چکا تھا۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی میں اٹھا اور اپنی شلوار اتار دی اور اپنے کپڑوں سے رومال نکال کر اپنا چہرا صاف کرنے لگا۔ مومل ابھی تک بے سدھ پڑی ہوئی تھی۔ شاید پہلی بار فارغ ہونے کی وجہ سے۔ میں نے اسے ہلایا تو وہ اوں آں کر کہ اٹھی اور بولی آپ نے کیا کر دیا ہے مجھے۔ میں بولا مزا آیا۔ وہ بولی ہاں مزا تو بہت آیا پر اب مجھ سے ہلا بھی نہیں جا رہا۔ میں نے کہا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بولی آپ نے بھی کپڑے اتار دئے ہیں۔ کیوں۔ میں بولا کہ مومل یہ تو شروعات تھیں اصلی مزا تو اب آئے گا۔ وہ بولی نیں پلیز بہت دیر ہو چکی ہے۔ میں نے کہا۔ مومل پلیز جہاں اتنا صبر کر لیا تھوڑا اور کر لو پلیز۔ وہ بولی اچھا اچھا پر پلیز جلدی کریں میں نے کہا اوکے تم اب دیوار کی طرف منہ کر لو اور اپنی ایک ٹانگ اس سٹول پہ رکھ لو۔ میں نے سٹول کھینچا اور اس کی ٹانگ اس پہ رکھ دی۔ اب میں نے پیچھے سے اپنا کن جو کہ فل اکڑ کر سرخ ہو رہا تھا اسے مومل کی گرم پھدی پہ رکھا۔ مومل فورا آگے ہوئی اور بولی۔ آپ نے کہا تھا ایسا کچھ نہیں کروں گا۔ میں نے کہا مومل بس اوپر ہی پھیرنا ہے۔ اور کچھ نہیں کرنا۔ پلیز بس مجھے بھی فارغ ہونے دو۔ وہ بولی اچھا ٹھیک ہے پر پلیز اوپر سے ہی کرنا۔ میں نے لن اس کی پھدی پہ رگڑنا شروع کر دیا تھا۔ اتنی گرم پھدی کہ دل کر رہا تھا بس گھسا دوں اندر پر کہتے ہیں نا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے تو اس لئے میں بھی انتظار کر رہا تھا۔ لن اوپر پھیرنے سے مومل کی سسکیاں پھر شروع ہو گئی تھیں ۔میں نے پوچھا مومل کیسا لگ رہا ہے۔ تو وہ سسکتی ہوئی بولی بہت اچھا۔ آپ کا وہ بہت گرم ہے۔ میں نے کہا مومل تھڑا اندر گھسا دوں۔ بہت مزا دے گا۔ وہ سسکتے ہوئے بولی۔۔ ننہییں دردرد ہوگا اور برداااشت نہیں ہوگا۔ میں نے اسکی گردن چومتے ہوئے کہا۔۔ مومل میری جان تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا دیکھنا۔۔ وہ بولی۔۔۔ اااچھا پر آرام سے پلیز۔۔۔۔ میں نے لن پھیرتے پھیرتے آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے سوراخ کو کھوجنا شروع کر دیا۔ اور جب مجھے لگا کہ اب لن ٹھیک سوراخ کے اوپر ہے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ مومل کی بغلوں کے نیچے سے گزار کر اس کی گردن کو کس کے پکڑ لیا اور اک زوردار جھٹکا دیا میرا لن پھسلتا ہوا دو انچ تک مومل کی پھدی میں گھس گیا۔ اگر میں نے بروقت مومل کے منہ پہ ہاتھ نہ رکھ دیا ہوتا تو اب تک سارا گھر اکٹھا ہو جاتا۔ مومل نے نے خود کو چھڑوانے کےلئے زور لگانا شروع کر دیا۔ تبھی میں نے ہمت کر کے ایک جھٹکے سے اپنا باقی سارا لن بھی اندر گھسا دیا۔ مومل اب ایسے تڑپ رہی تھی جیسے بن پانی کے مچھلی تڑپتی ہے۔ میں نے اب اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو وہ روتے ہوئے بولی آپ نے میری جان نکال دی۔ اتنا درد مجھے آج تک نہیں ہوا۔ میں نے کہا مومل بس اب جتنا ہونا تھا ہو گیا۔ اب صرف مزا آے گا۔ پلیز۔ پر وہ نہی مان رہی تھی۔ میں نے ساتھ ساتھ لن ہلانا بھی جاری رکھا اور پھر آخر کار کچھ دیر بعد اسے تھوڑا چین آیا میں نے پوچھا مومل اب کیسا لگ رہا ہے۔ وہ بولی۔ بس اب بس کریں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ مجھے اس پہ ٹوٹ کہ پیار آیا۔ میں نے کہا مومل جان بس اب مزا آئے گا۔ ساتھ ہی میں نے لن باہر نکا کر اندر ڈالا اور ہلکے ہلکے جھٹکے لگانے لگا۔ اب دھیرے دھیرے مومل بھی نارمل ہو رہی تھی اور اب مجھے اس کے فارغ ہونے کا انتظار تھا۔ پھر وہ وقت بھی آگیا۔ مومل کی پھدی پہلے ہی بہت ٹائٹ تھی تو اب اور ہو گئی اور اس نے میرے لن پہ برسات کردی۔اب مومل نارمل ہو چک تھی۔ میں نے اب اپنی رفتار تیز کر دی اور پھر میں نے لن باہر نکال لیا اور فارغ ہوگیا۔ مومل ابھی بھی مجھ سے بات نہیں کر رہی تھی۔ میں نے آواز دی مومل۔۔ وہ بولی۔۔ کیا ہے۔۔ میں نے کہا جان ناراض مت ہو پلیز۔ وہ بولی اچھا نہیں ہوں۔ اب چلیں میں نے کہا ہاں چلو
×
×
  • Create New...