Jump to content
URDU FUN CLUB

lukyryk

Members
  • Content count

    257
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    14

lukyryk last won the day on June 2 2016

lukyryk had the most liked content!

Community Reputation

300

5 Followers

Profile Information

  • Gender
    Female

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. K_Hussain Koi Kam Nhi Rahim Yar Khan Trevelling ,Swimming ,Reading Forum Pe Kafi Arsy sy hu But..........?
  2. Jinab Peer Sain aur Insaf k Sath Download Ka Tag Nhi Show Raha kia wo VIP Mem....k Lia Free nhi Hein
  3. ڈاکٹر صاحب کو بہت بہت مبارک ہو
  4. یہ کہانی ترجمعہ شدہ ہے امید ہے آپکو پسند آئے گی یہ داستان ہے ایک ایسے مصنف کی جو خود بھی سکسی اسٹوریز ویب سائٹ کے لیے لکھتا تھا اس کے ساتھ کیسے پیش آیا یہ پڑھنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ اپنی رائے ضرور دیجئے گا۔ اب آپ کہانی سے لطف اندوز ہوں واقعہ تحریر کرنے سے قبل میں یہ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے ہر روز درجنوں کے حساب سے ای میلز موصول ہوتی ہیں جن میں میری تحریروں کے حوالے سے قارئین کی طرف سے آراءہوتی ہیں بعض ای میلز میں مجھ سے لڑکیوں کے ٹیلی فون نمبر بھی مانگے گئے ہوتے ہیں لیکن میں ایک اخلاقی تقاضے کی وجہ سے ایسے لوگوں سے معذرت کرلیتا ہوں جو مجھ سے ٹیلی فون نمبر مانگتے ہیں تین ماہ قبل ایک روز میں نے اپنا ای میل آئی ڈی کھولا تو مجھے بہت ساری ای میلز آئی ہوئی تھیں جن کا حسب سابق میں نے جواب دیا اس دوران میں نے ایک میل کھولی جس کا مضمون میں اپنے الفاظ میں ذیل میں لکھ رہا ہوں ڈیئر فراز میں نے آپ کی کہان یاں مختلف ویب سائٹس پر پڑھی ہیں جس سے مجھے آپ کی سیکس اورسکسی لڑکیوں کو پٹان ے کی صلاحیتوں کا ان دازہ ہوگیا ہے میں آپ سے ایک مدد کا طلب گار ہوں اگر آپ میری مدد کردیں تو میں آپ کا بہت مشکور ہوں گااگر آپ میری مدد کے لئے راضی ہیں تو مجھے فوراً رپلائی کریں کامران یہ ساری ای میل انگلش میں تھی جس کو میں نے اپنے الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کیا ہے میں نے اس میل کے جواب میں رپلائی کیا کہ آپ کس قسم کی مدد چاہتے ہیں جس پر مجھے اسی دن میل موصول ہوئی جس کا مضمون پڑھ کر میں بڑا شاکڈ ہوا اس کامضمون بھی میں اپنے الفاظ میں ذیل میں تحریر کررہا ہوں ڈیئر فراز میں آپ کا بہت شکرگذار ہوں کہ آپ نے میری میل کا جواب دیا میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری عمر اس وقت بائیس سال کے قریب ہے اور میں ڈی ایچ اے لاہور میں رہتا ہوں میری ایک چھوٹی بہن سارا (اس نے اپنی میل میں اس کا نام اصل لکھا تھا میں اس تحریر میں اس کو تبدیل کرکے فرضی نام لکھ رہا ہوں )ہے جس کی عمربیس سال ہے سالی ہے بہت پٹاخہ ہے سکسی فل مست (اس نے اپنی میل میں لفظ سالی اور پٹاخہ کا ذکر بھی کیا تھا) اس کا سکسی فگر بھی بہت کمال کا ہے میرا دل کرتا ہے کہ اس سکسی بہن کے ساتھ سیکس کروں لیکن وہ سکسی مست سالی ہاتھ میں نہیں آرہی کیا آپ میری مدد کرسکتے ہیں آپ چاہیں تو اس کو خود پھنسا کر اس کے ساتھ سیکس کریں اور بعد میں مجھے سیکس کا موقع فراہم کریں میں اس کو پھنسانے میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا مجھے امید ہے کہ آپ اس کام میں میری مدد کرسکتے ہیں اگر آپ اس حوالے سے میری مدد نہ کرنا چاہیں تو مہربان فرما کر مجھے کوئی ایسا لڑکا بتادیں جو میرا یہ کام کرسکے لیکن لڑکا بھروسے والا ہونا چاہئے کامران موبائل فون نمبر میں یہ سکسی سی میل پڑھ کر اس کو مذاق سمجھا لیکن میں نے اس میل کا جواب دیا کہ میں یہ کام کرنے کے لئل میں اپنا فون نمبر بھی لکھ دیا اگلے روز مجھے شام کے وقت ایک فون آیا کال کرنے والے نے اپنا نام کامران بتایا میں نے پوچھاے تیار ہوں لیکن آپ کو پہلے مجھے خود ملنا ہوگامیں نے می کہ کون کامران اس نے اپنی اور میری میل کا حوالہ دیا تو میں اس کو پہچان گیا اس نے کہا کہ آپ نے میل میں ملنے کے لئے کہا اس لئے فون کیا میں نے اس کو اسی روز رات کو آٹھ بجے کینٹ میں ملنے کے لئے بلا لیا ہماری ملاقات کینٹ کے ایک ریسٹورنٹ میں ہوئی جہاں اس نے اپنے کام کے حوالے سے مجھے ایک بار پھر تفصیل سے آگاہ کیا اس نے بتایا کہ اس کی سکسی بہن اپنے موبائل سے گھنٹہ گھنٹہ اپنے دوستوں کے ساتھ باتیں کرتی رہتی ہے مجھے یقین ہے کہ وہ کسی نہ کسی لڑکے کے ساتھ سیٹ ضرور ہوگی پر ابھی تک کنواری ہے اور ممکن ہے جلد سیل تڑوا لے وہ سکسی اب مزید چوت کی چدائی کرائے بنا نہیں رہ پائے گی کیونکہ ننگی فلمیں بھی آج کل بہت دیکھ رہی ہے میرا بہت دل کرتا ہے کہ میں اس کے ساتھ سیکس کروں لیکن میری ہمت نہیں پڑتی آپ اس کو خود سیٹ کرکے اس کے ساتھ سیکس کریں اور اس کے بعد مجھے بھی اس میں شامل کرلیں اس نے اپنی سکسی بہن کافون نمبر بھی مجھے اسی وقت دے دیا میں نے اس کے سامنے ہی اپنے فون سے اس کو فون کیا تو کسی لڑکی نے ہی فون اٹھایا اس کی آواز واقعی بہت سکسی تھی لیکن وہ ہیلو ہیلو کرتی رہی میں نے کوئی بات نہ کی اور فون بند کردیا اس وقت میں سمجھا کہ شائد یہ اس کی سکسی بہن نہ ہو یہ کسی اور سکسی لڑکی کا فون نمبر دے رہا ہوگا میں نے کامران سے کہا کہ میں اس کا کام کردوں گا لیکن اس کے لئے اسے پہلے میری اپنی سکسی بہن کے ساتھ ایک ملاقات کرواناہوگی اس نے کہا کہ وہ ایسے کیسے کرسکتا ہے میں نے اس کو ملاقات کرنے کا طریقہ بتایا کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ ایک آدھ دن میں کہیں باہر ہوٹل پر کھانا کھانے کا پروگرام بنائے جہاں میں بھی پہنچ جاﺅں اور وہاں وہ مجھے بھی کھانے کے لئے دعوت دے جہاں میں اس کی سکسی بہن سے تھوڑی بہت بات چیت کرکے اس کو تھوڑا ساسمجھ لوں تو اس نے کہا کہ کھانےے پر تو نہیں میں اسے آئس کریم کھلانے کے لئے باہر لاسکتا ہوں جہاں آپ مل لیں اس کام کے لئے اگلے روز رات آٹھ بجے کا ٹائم طے ہوگیااسی وقت یہ بھی طے پایا کہ وہ اس ملاقات کے دوران ہی کوئی کام کا بہانہ کرکے نکل جائے اور سارا کو میں ان کے گھر تک ڈراپ کروں جس پر وہ راضی ہوگیا حسب پروگرام اگلے روز ڈیفنس میں ایک آئس کریم پارلر پر میری کامران اور سارا سے ملاقات ہوگئی سارا واقعی بہت سکسی تھی گورے رنگ کی پانچ فٹ آٹھ انچ قد کی مالک سارا کے بال کمر تک لمبے تھے بڑی بڑی شربتی کٹورے آنکھیں تھیں ٹریک سوٹ میں ملبوس اس لڑکی کے جسم کے خدوخال اس وقت تو واضح نہیں ہورہے تھے لیکن وہ سکسی اس وقت بھی کسی جوان مرد کو شہوت دلانےکے لئے کافی تھی ملاقات چوں کہ طے شدہ تھی پروگرام کے مطابق دونوں آئس کریم پارلر میں بیٹھے تھے انہوں نے ابھی آرڈر دینا تھا کہ میں پہنچ گیا ہیلو کاشی تم یہاں ہیلو فراز کیسے ہو آﺅ بیٹھو نا ہم لوگ آئس کریم کھانےآئے تھےمیں اس کے کہنے پر ان کے ٹیبل پر ہی ایک کرسی پر بیٹھ گیا کامران کے ساتھ رسمی بات چیت ہوئی اس دوران اس نے اپنی سکسی بہن سارا کا تعارف بھی کرایا اور تینوں کے لئے آ ئس کریم کا آرڈر بھی دے دیا ہم تینوں آئس کریم کھارہے تھے کہ اچانک کامران کے فون پر بیل ہوئی اور وہ یہ کہنے لگا نہیں نہیں یار میں ابھی نہیں آسکتا ابھی میں کچھ دیر کے لئے مصروف ہوں آدھ پون گھنٹہ تک فارغ ہوکے آتا ہوں یار میری بات سمجھنے کی کوشش کروں میں اس وقت گھروالوں کے ساتھ مصروف ہوں مجھے ابھی ان کو گھر ڈراپ کرنا ہے اوکے یار کوشش کرتا ہوںفون بند کرکے مجھ سے مخاطب ہوا یار فراز مجھے کسی کام کے سلسلہ میں ایک دوست کی طرف ضروری جاناہے تم آئس کریم کھاﺅ اور ہاں یار سارا کو جاتے ہوئے گھر ڈراپ کردینا اور ہاں سارا تم نے جو چیزیں لینی ہے فراز صاحب کے ساتھ ہی جاکر لے لینا اچھامیں چلتا ہوں یہ کہہ کر وہ کسی کی بات سنے بغیر ہی آئس کریم پارلر سے نکل گیا سکسی سارا شائد اس لمحے کے لئے تیار نہیں تھی اس کا منہ تکتی ہی رہ گئی وہ شائد اس سے کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن کامران نے کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دیا اور نکل گیا کامران کے جانےکے بعد میں نے سارا سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں میں آپ کو ڈراپ کردوں گا بات یہ نہیں کہ مجھے گھر کون ڈراپ کرے گا مجھے بازار سے کچھ چیزیں لینی ہیں اور پیسے بھی کامران کے پاس ہیں سکسی سارا نے فکر مندی سے کہا کوئی بات نہیں اگر زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے تو پہلے آپ کے گھر چلتے ہیں اگر کچھ کم رقم سے کام چلتا ہے تو میرے پاس بھی تھوڑی سی رقم ہے نہیں کوئی بات نہیں میں گھر سے پھر آجاﺅں گی ابو کے ساتھ جیسے آپ کی مرضی اس کے وہ آہستہ آہستہ آئس کریم کھاتی رہی میں آئس کریم کھاتے ہوئے بھی اس سکسی کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اس کے سکسی جسم کا جائزہ لے رہا تھا آئس کریم کھانےکے بعد میں نے بل دیا اور ہم پارلر سے باہر آگئے جہاں میری گاڑی میں ہم دونوں بیٹھے اور ان کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے میں نے اس سے کہا کہ مجھے راستے کا نہیںمعلوم پلیز بتادیجیئے گا جس پر وہ مجھے راستے کے بارے میں بھی بتاتی گئی راستے میں ہماری جو بات چیت ہوئی وہ کچھ اس طرح سے تھی آپ کیا کرتی ہیں میں لمز سے ایم بی اے کررہی ہوں جی آپ کے بارے میں کامران کافی بار بتا چکا ہے آپ کیا کرتے ہیں میں ایک سرکاری محکمہ محکمہ کا نام لے کر میں کام کرتا ہوں پھر تو آپ بہت کام کے بندے ہوئے آپ سے تو کام کروائے جاسکتے ہیں جی آپ کام بتائیں اگر کرنے کے قابل ہوئے تو ضرور کریں گے کامران نے آپ کے بارے میں کبھی بات نہیں کی وہ اکثر اپنے دوستوں کے بارے میں بات چیت کرتا رہتا ہے بلکہ اس کے اکثر دوست تو ہمارے گھر بھی آچکے ہیں بہت غلط آدمی ہے کامران بھی کہ میرا کوئی ذکر ہی نہیں اس کے دوستوں میں مجھے مل لینے دیں پھر پوچھتا ہوں اس سے میری بات سن کر سکسی سارا کھلکھلا کر ہنسنے لگی اور رہا سوال گھر آنے کا تو اس نے کبھی دعوت ہی نہیں دی چلیں آج میں آپ کو اپنے گھر لے چلتی ہوں تھینک یو ابھی ادھر ادھر کی باتیں چل رہی تھیں کہ اس سکسی کا گھر آگیا میں نے گیٹ کے سامنے گاڑی روکی تو سکسی سارا زبردستی مجھے اندرلے گئی جہاں جاکر اس نے مجھے ٹھنڈا یا گرم کا پوچھا میں نے اس سے کہا کہ چائے لیکن اگر آپ اپنے ہاتھ سے بنائیں تو جس پر وہ چائے بنانے کچن میں چلی گئی چائے لے کر آئی کپ کے اوپر بھی سکسی سی تصویر بنی تھی میں نے چائے کا ایک گھونٹ لیا تو چائے اس قابل نہیں تھی کہ اس کو پیا جائے لیکن میں نے پھر بھی موقع کی مناسبت سے اپنے کمان سے پہلا تیر چھوڑ دیا چائے تو آپ نے اپنے جیسی ہی بنائی ہے کیا ٹھیک نہیں بنی منہ بسورتے ہوئے کہنے لگی نہیں نہیں میں یہ تو نہیں کہہ رہا اور کیا میں آپ کو برا کہہ سکتا ہوں آپ تو مجھے بہت اچھی لگی ہیں کم از کم کامران سے تو بہتر ہیں اگر ممکن ہوتا تو میں کامران سے دوستی ختم کرکے آپ سے کرلیتا اس کے لئے آپ کو کامران سے دوستی ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے کامران کے تمام فرینڈز ہمارے فیملی فرینڈز ہیں چائے کے دوران اس سکسی سے گپ شپ جاری رہی میری عقابی نظریں اس کی بھرے بھرے چکنے جوان سکسی بدن پہ تھیں اور میں اپنی توقع سے زیادہ کامیابی حاصل کرچکا تھا چائے ختم کرکے میں نے اجازت چاہی تو سارا نے کہا کہ آپ کو ابھی اجازت نہیں مل سکتی کیوں کہ ماما پاپا گاڑی لے کر کہیں گئے ہوئے ہیں اور مجھے لبرٹی سے ایک بک ابھی خریدنی ہے آپ کو تکلیف تو ہوگی لیکن ابھی کیا کیا جاسکتا ہے کامران کے دوست ہونے کا اتنا تو نقصان آپ کو برداشت کرنا پڑے گا مجھے اور کیا چاہئے تھا میں نے فوراً حامی بھر لی لبرٹی جاتے اور آتے ہوئے ہم دونوں آپس میں کافی حد تک فرینک ہوگئے ہم دونوں کی بات چیت پسند نہ پسند اور گھر کے افراد اور دوستوں تک چلی گئی میں نے اس کو واپسی پر گھر ڈراپ کرتے ہوئے اپنے گھر میں آنے کی دعوت بھی دے دی جس پر اس نے حامی بھری کہ وہ آئندہ اتوار کو کامران کے ساتھ میرے گھر ضرور چکر لگائے گی اس روز ہم لوگ کھانااکھٹے کھائیں گے اس کو چھوڑ کر میں واپس اپنے گھر آگیا اور رات گئے تک سکسی سارا اور اس کے بھائی کے بارے میں کافی سوچتا رہا کئی خیالات ذہن میں آئے لیکن آخر کار میں نے یہی فیصلہ کیا کہ جو ہوگا دیکھا جاےءگا پہلے جو کام کرنے کا سوچا ہے اس کو تو پورا کیا جائے اس سے اگلے روز کامران سے فون پر بات ہوئی اور پروگرام طے ہوا کہ سنڈے کو وہ سپنی سکسی بہن کے ساتھ میرے گھر آئیں گے اور حسب سابق وہ پھر سکسی سارا کو میرے گھر چھوڑ کر چلا جائے گا اور اسی روز میں اس کے ساتھ سیکس کرلوں گا پروگرام کے مطابق سنڈے کو شام پانچ بجے کے قریب کامران میرے بتائے ہوئے ایڈریس پر میرے گھر آگیا میں نے ان کو چائے وغیرہ پلائی اور پروگرام کے مطابق کامران کو پھر فون آگیا اوروہ پھر چلا گیا سکسی بہن نے اس کو بہت روکا لیکن اس کا پروگرام تو پہلے سے طے تھا وہ کہاں رکنے والا تھا سو چلا گیا اس کے جانے کے بعد سارا نے بھی کہا کہ اسے گھر ڈراپ کردیں لیکن میں نے اس کو کہا کہ تم نے کھانے کا وعدہ کیا تھا میں نے ان تظام کررکھا ہے لہذا اسےکھانا کھانا ہی پڑے گا تو کہنے لگی کہ ابھی تو کھانےکے وقت میں کافی ٹائم ہے تو میں نے کہا کہ اتنی دیر لڈو کھیل لیتے ہیں شائد کامران بھی اتنی دیر میں واپس آجائے جس پر اس نے حامی بھر لی ہم دونوں لڈو کھیلنے لگے اس دوران ہمارے درمیان سیکس کے علاوہ تقریباً ہر موضوع پر بات ہوئی شام سات بجے تک کامران نہ آیا تو میں نے سکسی سارا سے کہا کہ کامران تو نہیں آیا آﺅ کہیں باہر چلتے ہیں آﺅٹنگ بھی ہوجائے گی اور کھانےکا وقت بھی اگر کامران آگیا تو وہ فون کرلے گا اس نے حامی بھر لی اور ہم دونوں لانگ ڈرائیو پر نکل گئے ساڑھے آٹھ بجے کے قریب واپس آئے مگر کامران نہ آیا اس کو فون کیا تو کہنے لگا ابھی مصروف ہے اگر رات گیارہ بجے تک ویٹ کرسکتے ہوتو کرلو ورنہ کھاناکھالو سو ہم دونوں نے کھاناکھالیا جس کے بعد وہ واپسی کے لئے کہنے لگی جس پر میں نے اس دن سیکس کا پروگرام کینسل کرکے اس کو گھر ڈراپ کردیا راستے میں اس نے مجھے کھانےکی دعوت دی تو میں نے اس کو کہا کہ میں اس شرط پر دعوت قبول کروں گا اگر وہ خود کھاناپکائے گی اس نے کہا کہ اسے کھاناپکانانہیں آتا جس پر میں نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن ہوٹل میری مرضی کا ہوگا جس پر اس نے حامی بھر لی اس موقع پر یہ بھی طے ہوا کہ کامران کو ہر بار کوئی نہ کوئی کام یاد آجاتا ہے اس لئے اگلی بار ملاقات میں وہ شامل نہیں ہوگا دعوت اگلے سنڈے کے لئے طے ہوئی اس موقع پر سکسی سارا نے میرا فون نمبر بھی لے لیا اور اگلے روز مجھے فون کرکے پروگرام کے حتمی ہونے کے بارے میں پوچھا میں نے پروگرام میں تھوڑی سی تبدیلی کی اور اسے کہا کہ دعوت اسی کی طرف سے ہوگی لیکن ہم لوگ کھانالے کر میرے گھر آجائیں گے جہاں کچھ دیر گپ شپ بھی ہوگی اور کھانابھی کھائیں گے جس پر اس نے رضامندی ظاہر کردی اسی شام کامران کا مجھے فون آیا اور کہنے لگا باس کیا بنا میں نے اس کو بتایاکہ ابھی نہیں شائد اس کام میں کچھ دن لگیں گے تو کہنے لگا باس جلدی کرو آپ کا اتنا تجربہ ہے اور میری سکسی بہن ابھی تک پٹا نہیں سکے میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اگلے سنڈے تک روزانہ اس کا فون آتا اور دعوت سے بات شروع ہوکر دیگر کئی موضوعات پر بات ہوتی ہفتہ کے روز اس کافون آیا تو میں نے باتوں باتوںمیں اس سکسی حسینہ سے کہا کہ وہ مجھے اچھی لگتی ہے جس پر اس نے بات یہ کہہ کر ٹال دی کہ میں تو ہر کسی کو اچھی لگتی ہوں خیر فون پر بات آگے نہ بڑھ سکی لیکن میں نے یہ بات اس کے کانوں تک پہنچا دی کہ میں اس کو کس نظر سے دیکھتا ہوں خیر اگلے روز شام چار بجے کے قریب اس کا فون آیا اور اس نے کہا کہ اسے گھر سے پک کرلیں گھر میں گاڑی کوئی نہیں ہے میں نے آدھ گھنٹے بعد اس کو گھر سے پک کیا آج اس نے سرخ رنگ کی کڑھائی والی قمیص اور بلیک کلر کی سکسی شلوار پہنی ہوئی تھی گلے میں سفید کلر کا دوپٹہ بال کھلے ہوئے ہلکا سا میک اپ وہ سکسی قیامت ڈھا رہی تھی گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے اس سے کہا کہ آج تو شہر میں تمام لڑکے پاگل ہوجائیں گے جن میں میں بھی شامل ہوں تو وہ تھوڑا سا شرما گئی میں اسے لے کر سیدھا گھر چلا گیا جہاں جاکر وہ کہنے لگی کہ آج بھی لڈو کھیلتے ہیں میں نے کہا کہ آج لڈو شرط لگا کر کھیلی جائے گی تو کہنے لگی کیا شرط جس پر میں نے پروین کا یہ شعر پڑھ دیااس شرط پہ کھیلو گی پیا پیار کی بازی جیتوں تو تجھے پاﺅں ہاروںتو پیا تیری جس پر وہ سکسی مسکرا کر رہ گئی مگر بولی کچھ نہیں خیر لڈو بچھ گئی میں نے کھیلنا کیا تھا اسی کو ہی تکتا رہا ایک ڈیڑھ گھنٹہ کھیلتے رہے ہر بازی ہی وہ جیتی آخر کہنے لگی فراز صاحب آپ کے پاس میوزک کی کوئی سی ڈیز نہیں ہیں میں نے اس کو کہا کہ تم میوزک سننا چاہتی ہو تو کمپیوٹر میں اپنی پسند کے گان ے لگا لو میں واش روم سے ہوکر آیا یہ کہہ کر میں ڈرائینگ روم سے نکل گیا واپس آیا تو وہ سکسی لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی اور لیپ ٹاپ کی سکرین پر ایک بلیو فلم چل رہی تھی جس کو وہ اتنے غور سے یکھ رہی تھی کہ اسے میرے آنے کی خبر بھی نہ ہوئی میں دل ہی دل میں سوچا کہ تمام دروازے خود بخود کھلتے جارہے ہیں میں چپ چاپ اس کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا قریباً پانچ منٹ بعد بلیو فلم کا یہ کلپ ختم ہوا تو میں نے اس سکسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا جس پر وہ چونک اٹھی مجھے اپنے پیچھے پاکر جیسے اس کی سیٹی گم ہوگئی اس کے حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی وہ میں تو یہ خود بخود چل گئی میں تو میوزک کی فائل ڈھونڈ رہی تھی میں نے اس کی کوئی بات سنے بغیر اس کو کرسی سے اٹھایا اور اپنا ایک ہاتھ اس کی گردن کے پیچھے سے گزار کر اس کو اس طرح پکڑ لیا کہ وہ ہل نہ پائے اور اس کے سکسی ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے وہ کچھ بولی اور نہ ہی کوئی مزاحمت کی شائد بلیو فلم کا کلپ دیکھ کر وہ ہاٹ ہوچکی تھی اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں میں اس کے رسیلے ہونٹ چوس رہا تھا اور اس نے اپنا سارا وزن میرے اوپر ڈال دیا میں نے اس کو سنبھالے رکھا اور اس کے ہونٹ چوستا رہا چند لمحے بعد اس نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کردیا میں نے اس کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹا کر اس کی گردن پر رکھ دیئے پھر کانوں کے گرد اپنی زبان پھیرنے لگا جیسے ہی میں نے اپنی زبان سے اس کے کان چھوئے اس نے ایک جھرجھری سی لی اور اس کے منہ سے ایک آہ نکل گئی اس کاسارا وزن میرے اوپر ہی تھا میرے اسے چھوڑ دیتا تو وہ گر جاتی میں نے پھر اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے لئے اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سر کے اوپر رکھ لئے اور میرے بالوں کو کھینچنے لگی میں نے چند منٹ تک ایسے ہی کھڑے کھڑے اس کی کسنگ کی پھر اس کولے کر صوفے پرآگیا جہاں میں نے پھر اس کو کسنگ شروع کردی یہاں بھی وہ سکسی میرا بھرپور ساتھ دے رہی تھی میں نے ایک ہاتھ اس کی قمیض کے نیچے سے ڈال کر اس کا سکسی بوبز پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے اپنے ہاتھ سے میرا ہاتھ روک لیا لیکن میں نے قیض کے اوپر سے ہی اس کا ایک سکسی بوبز پکڑ کر دباناشروع کردیا جس پر اس کے منہ سے سکسی سی اوئی ئی ئی کی آواز نکلی لیکن میں نے یہ آوازاس کے منہ پر اپنے ہونٹ رکھ کر دبا دی پھر میں نے اس کی قیض اوپر کی اس بار بھی اس نے مزاحمت کی لیکن میں باز نہ آیا تو اس نے مزاحمت ترک کردی اور میں نے اس کی قیض اتار کر صوفے کے اوپر رکھ دی پھر اس کا برا اور شلوار بھی اتار دی شلوار اتارتے ہوئے اس نے ایک بار پھر مجھے منع کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی اب وہ سکسی حسینہ میرے سامنے ننگی کھڑی ہوئی تھی میں نے بھی اپنے شرٹ اور ٹراﺅزر اتار دیا میرا لن پوری طرح کھڑا ہوا تھا جس کو دیکھ کر اس نے اپنی زبان اپنے دانتوں تلے دبا لی اور چند سکینڈ تک اسے حیرت سے دیکھتی رہی اس کا جسم واقعی بہت کمال کا ت سکسی تھا اس کی ناف دیکھنے والی تھی کمال کی خوبصورت تنے ہوئے چربی اور فالتو گوشت سے پاک پیٹ کے اوپر سکسی سا ہول الف کی چکل کی ناف جو اندر کو دھنسی ہوئی تھی اور اس کی گہرائی میں جا کے میں نے اپنی زبان پھیری کوئی آدھ انچ گہری لمبی ناف غضب ڈھا رہی تھی ایسی ناف مجھے کبھی کبھی نظر آتی ہے اور جب نظر آجائے میں اپنے آپ پہ کنٹرول نہیں رکھ پاتا اب یہ سب کچھ اس سکسی کی برداشت سے باہر ہورہا تھااس نے اپنی ٹانگیں سکیڑ لیں اور مجھے بار بار بالوں سے پکڑ کر میرا منہ پیچھے کررہی تھی وہ بدستور آہ ہ ہ ہ ہ ہ اف ف ف ف ف کی آوازیں نکال رہی تھی میرا اندازہ تھا کہ اس نے کئی ایک ننگی انگریزی فلمیں دیکھ رکھی تھیں اس کو اس طرح سے سکسی آوازیں نکلانا بھی اچھا لگ رہا تھا اب میں سمجھ گیا کہ لوہا گرم ہوچکا ہے اب چوٹ مار دینی چاہئے اب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان آگیا اور اس کی ٹانگیں پکڑ کر اپنے کولہوں پر رکھ لیں وہ بھی میرا بڑا مست لن لینے کےلئے بالکل تیار ہوچکی تھی اس کی آنکھیں ابھی تک بند تھیں میں نے اپنے لن کو پکڑ کر اس کی جوان گرم گرم سکسی پھدی پر رگڑنا شروع کردیا جو پہلے ہی کافی حد تک گیلی ہوچکی تھی اس کام سے مزید لیس دار ہوگئی اب میں نے اپنا لن اس کی پھدی کے سوراخ پر فٹ کیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے میں اب اس کے رسیلے ہونٹ بھی ساتھ ساتھ چوس رہا تھا اور دھیرے دھیرے اس کی سکسی پھدی پہ لن بھی رگڑ رہا تھا وہ مست ہوئی جا رہی تھی اور ایک آہستہ سا جھٹکا دیا لیکن میرا لن اس کی پھدی کے اندرنہ گیا کنواری پھدی کے اندر لن سارا ایک دم سے نہیں جاتا اگر ڈالے بھی جائے تو پہلے جھٹکے میں آدھا جاتا ہے اور درد سے عورت مرنے والی ہو جاتی ہے اس کے منہ سے ہلکی سی درد والی سسکاری کی آواز نکلی کیونکہ میرے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر تھے لیکن مجھے محسوس ہوا جیسے کہ اسے تھوڑی سی درد محسوس ہوئی ہے اسی اثناءمیں میں نے زور سے ایک اور گھسا دیا اور میرے لن کا ٹوپا اس کی پھدی کے اندرچلا گیا اس کے منہ سے غوںںںںںں کی ایک آواز آئی جو میرے منہ کے اندرہی رہ گئی اس نے اپنے ہاتھوں سے میری کمر کو پکڑا اور مجھے پیچھے کرنے کی کوشش کی لن کا ہیڈ اس کی سکسی کنواری پھدی میں پھنسا ہوا تھا لیکن اسی دوران میں نے ایک اور جھٹکا دے دیا اور میرا آدھا لن اس کی پھدی میں چلا گیا میں نے اپنے ہونٹ اس کے منہ سے نہ ہٹائے مگر اس کے ناک سے غوں ںںںں کی ایک اور آواز نکلی اور اس نے پھر سے مجھے ہٹانےکی کوشش کی لیکن ناکام رہی وہ نیچے سے بھی ہل کر میرا لن اپنی کنواری سکسی پھدی سے نکالنے کی کوشش کررہی تھی لیکن اس کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور آنکھیں جیسے ابھی پھٹ جائیں گی اس کا چہرہ سرخ ہوچکا تھا جس کو دیکھ کر اس کو ہونے والی تکلیف کا اندازہ کیاجاسکتا تھا وہ نیچے سے ہل کر میرا لن اپنی سکسی پھدی سے نکالنے کی کوشش کی رہی تھی لیکن اس مقصد میں بھی ناکام رہی اب اس نے اپنی لمبی سکسی ٹانگیں اکڑا لی تھیں میں تھوڑی دیر کے لئے رکا اور اس کے ہونٹ چوسنے لگا چند سیکنڈ کے بعد میں نے اس کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹائے تو بری طرح چلانےلگی فراز میں مرگئی ہائے ماں خدا کے لیے لن کو باہر نکالو میری پھدی پھٹ گئی تھی اس میں گرم گرم لاہا جیسے کسی نے ڈال دیا ہو اس کو باہر نکالو مجھے اس جگہ پر بہت جلن ہورہی ہے (ساتھ میں اس نے اپنی پھدی کی طرف ہاتھ سے اشارہ بھی کیا) میں نے اس کو کہا کہ سارا اب جتنی تکلیف ہونا تھی ہوچکی اب مزید تکلیف نہیں ہوگی مگر وہ کوئی بات بھی سننے کو تیار نہ تھی وہ سکسی بار بار اس بات پر اصرار کرتی رہی کہ پہلے اس کو باہر نکالو پھر کوئی اور بات کرنا جب میں یہ سمجھ گیا کہ گھی سیدھی انگلیوں سے نہیں نکلے گا تو میں نے اس کو کہا کہ اچھا نکالتا ہوں تم اپنی ٹانگوں کی گرفت ڈھیلی کرو اس نے جیسے ہی اپنی ٹانگوں کی گرفت ڈھیلی کی میں نے اپنی پوری قوت جمع کرکے ایک اور گھسا دے مارا اب میرا پورا لن جڑ تک اس کی سکسی پھدی میں چلا گیا تھا اس نے تکلیف کی وجہ سے ایک اور چیخ ماری جو میرے خیال کے مطابق ہمسائے کے گھر میں بھی سنائی دی گئی ہوگی میں نے فٹا فٹ اس کے منہ پر اپنا منہ رکھ دیا مگر اس نے اپنا منہ دوسری طرف کرلیا اور پھر سے چلانےلگی فراز اس کو باہر نکالو میں مرگئی وہ سکسی لڑکی اپنے سر کو ادھر ادھر تکیے کے اوپر مار رہی تھی خیر میں چند لمحے کے لئے رکا تاکہ اس کی تکلیف میں تھوڑی سی کمی ہو اور پھر اس کے چلانے کے باوجود اپنا کام دوبارہ سے شروع کردیا میں نے اس کی سکسی پھدی کے اندراپنا لن آہستہ آہستہ سے موو کرنا شروع کیا اس کی سکسی پھدی اب بھی اتنی ٹائٹ تھی کہ میرا لن جب اندرجاتا تو سارا کی پھدی کی دیوار کے ساتھ بری طرح رگڑ کھا رہا تھا چند منٹ تک ایسے ہی آہستہ آہستہ موو کرنے کے بعد سارا کی سکسی پھدی تھوڑی سی نرم ہوگئی اور اور اس نے چلانابھی ختم دیا تھا اب اس کی آنکھیں بند تھیں اور اس نے اپنی زبان اپنے دانتوں کے نیچے دبالی تھی لیکن اس کی بند آنکھوں سے اب بھی آنسونکل رہے تھے اب شائد اس کی تکلیف تھوڑی کم ہوگئی تھی میں نے اپنے لن کی حرکت کو بالکل تھوڑا سا بڑھایا تو اس نے اپنے ہاتھ میری کمر کے گرد کس لئے اور منہ سے ہلکی آواز میں بولی فراز پلیز آہستہ ہ ہ ہ ہ ہ میں نے موونگ کم نہ کی بلکہ اس کو بڑھا دیا تو اس سکسی نے اپنے ناخن میری کمر میں گارڈ دیئے خیر میں نے اپنا کام جاری رکھا اس کی سکسی چدائی ہوتی رہی چند منٹ بعد اس کی ٹانگوں کی گرفت میری کمر کے گرد ٹائٹ ہونا شروع ہوگئی اور اس نے پھر سے اپنی زبان دانتوں کے نیچے دبا لی اب وہ سکسی فارغ ہورہی تھی جیسے ہی وہ مکمل ہوئی اس کے منہ سے بس س س س س س س س کی آواز نکلی میں رکا نہیں بلکہ آہستہ آہستہ سے اپنے لن کی حرکت جاری رکھی تقریباً دس منٹ تک یہ کام کرنے کے بعد وہ دوسری بار وہ سکسی پھر فارغ ہوگئی مگر میرا لن ابھی تک اسی طرح اپنی منزل سے بہت دور سفر میں تھا اس نے مجھے کمر سے پکڑ کر اپنے اوپر لٹا لیا اور کہنے لگی فراز تھوڑی دیر صبر کرو میں اس کے اوپر لیٹا تو اس نے والہانہ انداز میں مجھے چومنا شروع کردیا میرے ہونٹوں گالوں کانوں آنکھوں گردن پر اس نے میری گردن پر اپنے دانتوں سے ہلکا سا کاٹ بھی دیا جس کا نشان کئی دن تک میری گردن پر بنا رہا چند منٹ تک سکسی مست کسنگ کے بعد وہ پھر سے تیار ہونے لگی میں نے پھر اٹھ کر اپنے لن کو حرکت دینا شروع کردی اور پانچ سات منٹ کے اندرمیں اس کے ساتھ ہی فارغ ہوگیا اب سارا کا سارا سکسی جسم برف کی طرح ٹھنڈا ہوگیا تھا اور وہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی میں اب اس کے اوپر سے اتر کر اس کے ساتھ لیٹ گیا اور اس کے سکسی جسم کے ساتھ کھیلنے لگا چند منٹ پہلے اس کے ٹائٹ سکسی ممے اب کسی حد تک نرم پڑ گئے تھے اور اس کے نپلز جو پہلے باہر کو ابھرے ہوئے تھے اب بوبز کے اندرگھس گئے تھے اس نے اپنی آنکھیں بند کررکھی تھیں میں نے اس کو گالوں سے تھپتھپایا تو اس نے آنکھیں کھول دیں اور بولی فراز صاحب آپ نے یہ اچھا نہیں کیا میں نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ پھر بولی مجھے معلوم ہوتا کہ آج یہ کام ہوجائے گاتو میں آپ کے ساتھ کبھی نہ آتی اور یہ دیکھو آپ نے کتنی بے دردی کے ساتھ مجھے چودا ہے بیٹ شیٹ پہ خون ہی خون بکھرا پڑا ہے اگر مجھے یہ بھی معلوم ہوتا کہ یہ کام اتنا تکلیف کا باعث بنے گا تو میں یہاں سے نکل جاتی مگر یہ کام نہ کرتی اب میں نے اس کو مخاطب کیا اور کہا کہ ڈارلنگ پہلی بار ہر لڑکی کو کچھ تکلیف ہوتی ہے مگر اس کے بعد مزے ہی مزے ہوتے ہیں تو کہنے لگی فراز صاحب یہ تکلیف کچھ نہیں تھی میں تو مرنے والی ہوگئی تھی ابھی تک مجھے اس جگہ پر درد ہورہی ہے دس پندرہ منٹ تک ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد میں اٹھ کر باتھ روم چلا گیا اور اپنے لن کو واش کرکے باہر آگیا پھر وہ باتھ روم جانےکے لئے بیڈ سے اٹھی اور میں بھول گیا تھا کہ ایک بات اس سے چھپانی ہے لیکن وہ چھپ نہ سکی تو اس کی نظر بیڈ شیٹ پر پڑ گئی اسی جگہ پہ میں بیٹھا ہوا تھا تاکہ وہاں کا زیادہ خون ا سکو نظر نہ آئے لیکن مجھے یاد بھول گیا تھا اور ا س نے اب تک وہی چادر کا کونہ دیکھا تھا جہاں معمولی خو ن تھا اب اتنے خون کو دیکھتے ہی وہ حیرت زدہ ہوگئی اور اس کے منہ سے ہائے ئے ئے ئے ئے ئے کا لفظ نکلا اور پھر کہنے لگی فراز صاحب کیا یہ میرا خون نکلا ہے میں نے مسکراتے ہوئے اس کوکہا کہ ہاں تو میرے گلے لگ گئی اور میری چھاتی پر محبت سے مکے مارتے ہوئے کہنے لگی فراز صاحب آپ بہت غلط آدمی ہو خیر میں نے اس سکسی کو باتھ روم کی طرف دھکیلا اور خود ڈرائینگ روم سے جاکر اپنے اور اس کے کپڑے اٹھا لایا وہ باتھ روم سے نکلی اور ہم دونوں نے کپڑے پہنے اس کے بعد میں نے اس کو کہا کہ اب چلو بہت بھوک لگ رہی ہے ہم لوگ فورٹریس میں بندو خان پر چلے گئے جہاں سے کھاناکھا کر میں نے اس کو اس کے گھر ڈراپ کردیا گاڑی سے اترتے ہوئے سکسی سارا مجھ سے کہنے لگی فراز صاحب اب آپ مجھے چھوڑ نہ جائیے گا میں اس کی بات سن کر مسکرا دیا اور گاڑی لے کر گھر کی طرف آگیا اگلے روز اس کے بھائی کامران کا فون آگیا اور اس نے مجھ سے پوچھا کہ کل سارا آپ کے ساتھ تھی تو میں نے اس کو بتا دیا کہ ہاں تو ہنستے ہوئے کہنے لگا پھر تو کام ہوگیا ہوگا میں نے اس سے بات چھپا لی اور بتایا کہ نہیں کل صرف لانگ ڈرائیو پر گئے تھے اگلی بار شائد وہ کام بھی ہوجائے تو مجھے کہنے لگا کہ فراز صاحب میں نے تو آپ کو استاد سمجھ کر آپ سے مدد چاہی تھی مگر آپ تو مجھ سے بھی ڈھیلے ہو اس سے تو بہتر تھاکہ میں خود ہی ہمت کرلیتا جس پر میں نے اس کو کہہ دیا کامران صاحب میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتا تو کہنے لگا فراز صاحب مجھے معلوم ہے آپ یہ سب کیوں کہہ رہے ہو لیکن آپ جو سوچ رہے ہو ویسا ہوگا نہیں اور فون بند کردیا ایک دو بار کامران نے مجھے پھر فون کیا اورکہا کہ تم اس کے ساتھ سیکس کی ویڈیو بنا لو اور مجھے دکھا دو باقی کام میں خود کرلوں گا لیکن میں نے اس سے بھی انکارکردیا مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ میں نے کامران کے ساتھ وعدہ خلافی کی لیکن اگر میں اس کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کرتا تو یہ اس سے بھی بری بات ہوتی سکسی سارا کے ساتھ اس دن کے بعد ہر روز فون پر بات ہوتی ہے اور اب بھی میں اس سے بات کئے بغیر سوتا نہیں ہوں اس نے کئی بار مجھ سے ملنے کے لئے کہا لیکن میں نے انکارکردیا ایک دو بار اس سکسی نے ضد کرکے ملاقات تو کرلی لیکن یہ ملاقات صرف آﺅٹ ڈور ہی رہی اس کے بعد میں کبھی بھی اس کو اپنے گھر نہیں لے کر گیا سکسی سارا نے اپنی کئی سہیلیوں سے میرا تذکرہ کیا اور وہ بھی میرے ساتھ ملنے کے لئے بے چین ہیں (سیکس کے لئے نہیں بلکہ اپنی سہیلی کی پسند کو دیکھنے کے لئے) مگر میں اب اس سے کترا جاتا ہوں قارئین دوستو میں یہاں یہ بات کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ سکسی سارا وہ لڑکی ہے جس کے ساتھ میں نے شادی کے لئے بھی سوچا لیکن پھر میں نے یہ بات اپنے ذہن سے نکال دی کیونکہ میری اور اس کی دوستی کی بنیاد بہت غلط طریقے سے رکھی گئی اس کے علاوہ میری اور سکسی سارا کے گھر والوں کی مالی پوزیشن میں بہت زیادہ فرق ہے میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہوں جبکہ اس کا باپ صنعت کارہے میں نہیں سمجھتا کہ اگر سکسی سارا راضی ہوبھی جائے تو اس کے والدین میری اور اس کی شادی پر رضا مند ہوں گے اگر سارا کو کہوں تو وہ گھر والوں کی مرضی کے خلاف بھی مجھ سے شادی کرنے کو تیار ہوجائے لیکن میں اس طرح کرنے کو اچھا نہیں سمجھتا اس کے علاوہ شادی کی صورت میں میں اس کو افورڈ بھی نہیں کرسکوں گا اب بھی کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ سارا بہت اچھی لڑکی ہے کتنی ماڈرن سکسی بڑے بڑے بوبز ہیں اس کے مجھے اس کے ساتھ شادی کرلینی چاہئے لیکن میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرپارہا ہوں اگر آپ دوستوں میں سے کیوئی چاہے تو مجھے مشورہ دے سکتا ہے کہ میں کیا کروں مجھے انتظار رہے گا
  5. میرا نام عامر ہے یہ واقعہ اسوقت کا ہے جب میری عمر 25 سال تھی اور میں ماسٹرز کر رہا تھا، میرے گھر میں میرے والد اور والدہ رہتے تھے ایک بڑی بہن تھی جسکی شادی ہوچکی تھی۔ اور وہ امریکہ سیٹل ہوچکی تھی۔میری امی نے ایک ماسی رکھی جو اچھی خاصی عمر کی تھی مگر وہ اپنے ساتھ ایک اپنی نواسی کو لاتی تھی جسکی عمر تو پندرہ سال تھی مگر اسکا جسم کسی اٹھارہ سال کی سیکی لڑکی کی طرح تھا ۔ اس ماسی کی بیٹی فوت ہوچکی تھی جسکے بعد اس نواسی کی پرورش کی ذمہ داری اس پر آپڑی تھی۔ خیر کچھ ہی مہینوں میں وہ ماسی اور اسکی نواسی ہمارے گھر میں ایڈجسٹ ہوگئے، اور ہم نے ان دونوں پر اور ان دونوں نے ہم پر بھروسہ کرنا شروع کردیا۔ میں ویسے تو خاصہ شریف لڑکا تھا مگر سیکس کا ایسا بھوکا کہ جو بھی مل جائے چھوڑتا نہیں تھا۔ میرے گھر اور دوستوں میں کسی کو میری ان حرکتوں کا علم نہ تھا۔میرے والد ایک بزنس مین تھے اور انکا بزنس پورے پاکستان میں پھیلا ہوا تھا جسکی وجہ سے وہ اکثر کسی نہ کسی شہر میں جاتے رہتے تھے۔ میری امی کا گھر بھی دوسرے شہر میں تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ابا کو اپنے بزنس کے لیے دوسرے شہر جانا تھا اسی شہر میں امی کا میکہ بھی تھا ابا امی کو بھی ساتھ لے گئے تاکہ وہ اپنے والدین اور بھائیوں سے ملاقات کر لیں۔ امی ابو کا یہ دورہ تقریباً ایک ہفتہ کا تھا مجھ سے بھی پوچھا گیا مگر اگلے دن میرا یونیورسٹی میں ٹیسٹ تھا تو میں نے کہا آپ لوگ جائیں میں آپ لوگوں کے پیچھے آجاتا ہوں۔میری بات سن کر امی اور ابا راضی ہوگئے۔امی ابا تو اسی دن روانہ ہوگئے اور میں گھر میں اکیلا رہ گیا۔ ابھی صبح کا وقت تھا میں ناشتہ کر کے اپنے ٹیسٹ کی تیاری ہی کر رہا تھا کہ ماسی اور اسکی نواسی کام کرنے آگئے۔ میں نے ماسی سے کہا امی اور ابا گئے ہیں دوسرے شہر تم کو پتہ ہے جو جو کام کرنا ہے وہ سب کرلو کوئی بتائے گا نہیں تمہیں اس نے کہا آپ بے فکر رہو عامر بیٹا میں سب کر لونگی۔ یہ کہہ کر وہ دونوں سب سے پہلے کچن میں برتن دھونے میں مصروف ہوگئیں۔ذرا دیر بعد ماسی کی نواسی جسکا نام زرینہ تھا وہ کام چھوڑ کر بیٹھ گئی، میں تھوڑی دیر دیکھتا رہا پھر ماسی سے پوچھا "زرینہ کو کیا ہوا ماسی؟" "اسکو بخار ہے صبح سے۔" ماسی نے جواب دیا۔ "تو تم اسکو کام پر نہ لاتی نا یہ اور بیمار ہوجائے گی" میں نے ہمدردی سے جواب دیا۔ جسکو سن کر زرینہ نے تشکر آمیز نظروں سے میری جانب دیکھا۔ "میں اکیلے کیسے اتنا سارا کام کرتی، ابھی اور بھی تو گھروں میں جا کر کام کرنا ہے" ماسی نے جواب دیا۔ "تم نے اسکو دوا دلائی؟" میں نے ماسی سے سوال کیا "نہیں ابھی گھر جا کر دے دونگی دوا" ماسی نے جواب دیا۔ " گھر تو تم شام تک جاو گی نا؟" میں نے ماسی سے پھر سوال پوچھا۔ "جی شام تک ہی جانا ہوگا" ماسی نے جواب دیا "ایسا کرو تم اپنا کام کرو میں زرینہ کو دوا دلا کر لاتا ہوں۔" میں نے ماسی سے کہا "رہنے دیں عامر صاحب آپ تکلیف نہ کریں۔" ماسی نے منع کرنے کے انداز میں کہا "تکلیف کیسی تم لوگ اتنی خدمت کرتی ہو ہماری سارے گھر کا کام کرتی ہو یہ تو تمہارا حق بنتا ہے، بس تم اپنا کام کرو میں ابھی اسکو دوا دلا کر لاتا ہوں۔" یہ کہہ کر میں نے زرینہ کو کہا" چلو ایسا نہ ہو کلینک بند ہو جائے۔" زرینہ نے ماسی کی جانب دیکھا ماسی نے اسے ہاں میں سر ہلایا اور زرینہ میرے ساتھ چلی گئی کار میں بیٹھ کر میں نے زرینہ کی گردن پر اپنا ہاتھ لگایا اور کہا " تم کو تو کافی تیز بخار ہے تم کو آرام کرنا چاہئے تھا۔" زرینہ نے کوئی جواب نہ دیا۔اور خاموشی سے سر جھکا لیاخیر ذرا دیر بعد ہم دوا لے کر واپس آچکے تھے۔ میں نے ماسی سے کہا " ڈاکٹر نے اسکو مکمل آرام کرنے کو بولا ہے تم اسکو گھر چھوڑ کر پھر جانا اپنے دوسرے کام پر" "صاحب گھر کیسے چھوڑ سکتی ہوں وہ تو کافی دور ہےاسکو ہمت کر کے جانا ہوگا میرے ساتھ " ماسی نے جواب دیا۔ "ڈاکٹر نے کہا ہے اگر آرام نہ کیا تو دوا اثر نہیں کرے گی طبیعت اور خراب ہوگی۔ بہتر یہ ہی ہے کہ اسے آرام کرنے دو۔" میں نے جواب دیا ماسی سوچ میں پڑ گئی پھر بولی "صاحب میں اسکو گھر تو نہیں چھوڑ سکتی دوسرے کام پر دیر ہو جائے گی۔ اگر آپ کو برا نہ لگے تو میں اسکو شام تک آپکے گھر چھوڑ دوں؟ میں باجی سے بات کر لونگی۔" ماسی نے درخواست کی۔ ایک دم میرے دماغ میں منصوبہ بننے لگا۔ میں نے تھوڑا سوچا پھر کہا" باجی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ویسے بھی وہ ایک ہفتے بعد آئینگی۔ تم اسکو چھوڑ دو مگر شام میں ضرور واپس لے جانا ہوسکتا ہے میں گھر سے باہر جائوں تو یہ اکیلی کیسے رہے گی گھر میں۔" میں نے خوشی کو دباتے ہوئے کہا۔ "صاحب آپ فکر نہ کریں میں شام میں آکر اسکو لے جائوں گی۔" ماسی نے بھی خوش ہو کر کہا۔ ذرا دیر بعد ماسی اپنا کام ختم کر کے چلی گئی۔ میں اور میرے گھر والے زرینہ کو ایک چھوٹی بچی کی طرح ہی ٹریٹ کرتے تھے وہ ذہنی طور پر اتنی بالغ تھی بھی نہیں۔خیر ماسی کے جانے کے بعد میں ذہن میں منصوبہ بنانے لگا کہ کس طرح جلدی اپنی خواہش پوری کروں مگر مجھے ڈر بھی تھا یہ شور مچا دے گی۔ یا بعد میں کسی کو بتا دے گی۔ "تم نے صبح سے کچھ کھایا ہے؟" میں نے زرینہ سے سوال کیا۔ "جی تھوڑا سا کھایا تھا۔" زرینہ نے جواب دیا۔ "تم یہاں نہ بیٹھو یا تو صوفہ پر لیٹ جائو یا پھر اندر جا کر بیڈ پر لیٹو ایسے بیٹھی رہوگی تو آرام نہیں ملے گا۔" میں نے زرینہ کو کہا۔ " جی اچھا" یہ کہتے ہوئے وہ اٹھی اور اٹھنے میں لڑکھڑانے لگی تو میں نے بھاگ کر اسکو پکڑا اور سہارا دیا ، سہارا دیتے وقت میں نے اسکو بازو سے پکڑا اور ساتھ ہی جان کر اسکے ایک ممے سے اپنا ہاتھ نہ صرف چھوا بلکہ رگڑا۔ مجھے ایسا لگا جیسے اس نے کوئی برا نہیں پہنا ہوا تھا اسکے ممے زیادہ نہیں تو 32 سائز کے تو ہونگے۔ "تم تو کافی کمزور لگ رہی ہو، چلو میں تم کو لے جا کر بیڈ پر لٹاتا ہوں۔" یہ کہہ کر میں اسکو پکڑ کر اپنے بیڈ روم میں لے گیا اور اسکو بیڈ پر لٹا دیا۔ پھر کچن میں جا کر اسکے لیے ایک سیب کاٹا اور دودھ گرم کر کے کمرے میں لے گیا۔ "چلو یہ کھائو اور پھر دوا بھی لینی ہے۔ شام تک تم کو ٹھیک ہونا ہے" یہ کہتے ہوئے میں اسکی جانب دیکھ کر مسکرایا۔ جواب میں وہ بھی مسکرائی۔وہ سیب کھانے لگی اور میں نے ٹی وی آن کر لیا ۔ میں ایک کے بعد ایک چینل تبدیل کرتا رہا آخر ایک چینل پر انگلش مووی آرہی تھی اور قسمت سے اسی وقت کسنگ کا سین اسٹارٹ ہوا۔ میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ ٹی وی اور میرے بیچ میں زرینہ تھی جو کہ ٹی وی پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ اسکو ہوش نہیں تھا کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں۔وہ بغور وہ سین دیکھتی رہی اور مجھے ایسا لگا جیسے اسکا سانس تھوڑا تیز ہوا۔ خیر وہ سین ختم ہوا تو میں نے چینل تبدیل کیا تو ایک نیوز چینل تھا جس پر نیوز آرہی تھی کہ شہر کے حالات خراب ہو گئے ہنگامے شروع ہو گئے۔ میں نے زرینہ سے پوچھا کہ تمہاری نانی کس جگہ گئی ہے اب کام پر زرینہ کو اسکا اندازہ نہیں تھا وہ تو بس اپنی نانی کے ساتھ چلی جاتی تھی۔ خیر میں سوچنے لگا کہ ماسی کیسے آئے گی اور کیسے زرینہ کو لے کر جائے گی۔ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک فون کی بیل بجی میں نے بھاگ کر فون اٹھایا تو دوسری طرف ماسی ہی تھی وہ کافی گھبرائی ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا تم کہاں ہو تو اس نے جو ایریا بتایا وہ میرے گھر سے کافی دور تھا اور وہاں کے حالات خراب تھے۔میں نے ماسی سے اسکا پروگرام پوچھا کہ وہ کس طرح آئے گی میرے گھر زرینہ کو لینے تو اس نے جواب دیا عامر بیٹا اس وقت تو گھر سے نکلنا جان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔میں نے ماسی سے کہا اگر میرے گھر تک آسکو تو آجائو اور تم دونوں یہیں رکو جب تک حالات ٹھیک نہیں ہوتے ۔نہیں ہوتے ٹھیک تو رات میرے گھر پر ہی رکو۔ ماسی نے میرا بہت شکریہ ادا کیا۔ اور کہا وہ پوری کوشش کرے گی کہ زرینہ کو لینے آجائے۔ میں نے کہا تم زرینہ کی فکر نہ کرو وہ آرام سے ہے اور پھر میں نے اسکی زرینہ سے بھی بات کروا دی۔ وہ خاصی مطمئن ہوگئی۔ زرینہ بھی پہلے سے کچھ بہتر محسوس کر رہی تھی۔ ذرا دیر بعد میں نے زرینہ کو دوا دے دی۔ اور کہا تم اب سو جائو تمہاری نانی آئے گی تو میں تم کو جگا لونگا۔ اور یہ کہہ کر میں روم سے باہر نکل گیا۔ مجھے کل یونیورسٹی جانا بھی مشکل لگ رہا تھا۔ ابھی میں اپنے دماغ میں پلان کر ہی رہا تھا کہ دوست کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ کل یونیورسٹی بند ہے شہر کے خراب حالات کی وجہ سے۔ میں دل ہی دل میں بہت خوش ہوا اور دعا کرنے لگا کہ ماسی نہ آسکے تو میں زرینہ کے ساتھ اپنی رات رنگین کر لوں۔میں نے ٹی وی لائونج والا ٹی وی آن کیا تو پتہ لگا شہر کے حالات مزید خراب ہو گئے ہیں اور شہر میں کرفیو لگ گیا ہے۔میں بہت خوش تھا کہ اب تو زرینہ کو یہاں ہی رکنا پڑے گا۔خیر میں تھوڑی دیر ادھر ہی گھومتا رہا گھر میں پھر بھوک لگنے لگی تو میں نے کچن میں جاکر کھانا گرم کیا اور جا کر زرینہ کو دیکھا تو وہ جاگ چکی تھی۔ میں اسکے قریب گیا اور پوچھا کیسی طبیعت ہے اب اور ساتھ ہی اسکی گردن کو ایک بار پھر اپنے ہاتھ سے چھوا اس طرح کے میری انگلیاں اسکی قمیض کے گلے کے اندر تھیں اور اسکے ممے کے اوپری حصے کو چھو رہی تھیں۔ اسکی جلد کافی چکنی تھی زرینہ کا بخار اتر چکا تھا۔میں نے مسکرا کر اسکو دیکھا جواب میں وہ بھی مسکرائی۔ میں نے اس سے کہا چلو میں نے کھانا گرم کر لیا ہے چل کر کھا لو۔اس نے کہا میں پوری پسینے میں بھیگی ہوئی ہوں میں شاور لینا چاہتی ہوں میں نے کہا ہاں جائو اندر باتھ میں گرم پانی سے شاور لینا۔اس نے اثبات میں سر ہلایا اور باتھ میں چلی گئی۔ذرا دیر بعد اسکی آواز آئی عامر بھائی تولیہ نہیں ہے اندر میں نے جلدی سے تولیہ لیا اور اس سے کہا لے لو تولیہ اور دروازہ سے ذرا دور ایک سائیڈ پر کھڑا ہو گیا۔اس نے ذرا سا دروازہ کھولا جب میں نظر نہ آیا تو مزید کھولا بس میں اسی لمحے کے انتظار میں تھا میں ایک دم اسکے سامنے تولیہ ہاتھ میں لیے آگیا۔وہ پوری ننگی میرے سامنے تھی اسکا پورا بدن بھیگا ہوا سیکسی لگ رہا تھا۔ وہ ایک دم ہڑبڑا گئی اور میں نے بھی ہڑبڑانے کی ایکٹنگ کی اور ساتھ ہی جلدی سے تولیہ اسکی جانب بڑھایا اور ایک سائیڈ پر ہوگیا اور پھر روم سے باہر نکل گیا۔ذرا دیر بعد وہ شرماتی ہوئی کھانے کی میز تک آئی۔ اور خاموشی سے چپ چاپ بیٹھ کر کھانا کھانے لگی۔ میں نے پوچھا اب کچھ بہتر لگ رہی ہو تم ۔ وہ کہنے لگی جی اب کافی بہتر ہوں۔ میں نے اسے بتایا کہ شہر کے حالات خراب ہیں اور کرفیو لگ گیا ہے نجانے تمہاری نانی کس طرح آئے گی تم کو لینے جس جگہ پر وہ ہے ابھی وہاں تو بہت ہی حالات خراب ہیں ورنہ میں تم کو خود چھوڑ آتا نانی کے پاس اگر وہ نہ آسکی تو تم کو رات یہیں رکنا ہوگا۔ یہ سن کر وہ تھوڑی پریشان ہو گئی۔ ابھی ہم کھانے سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ ماسی کا دوبارہ فون آیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں ہے تو اس نے بتایا کہ وہ اسی گھر میں ہے اور اب نکل نہیں سکتی اور نہ وہ گھر والے اسے جانے دے رہے ہیں کیونکہ شہر میں کرفیو لگا ہے۔ میں نے پوچھا تو میں تمہارے پاس لے آئوں زرینہ کو وہ اب کافی بہتر ہے۔ تو اس نے پھر درخواست کی کہ میں اسے کہیں نہ جانے دوں اور رات رکنے کی اجازت دے دوں میں نے کہا مجھے اعتراض نہیں مگر تمہاری نواسی پریشان ہے اسکو تسلی دو یہ کہہ کر میں نے زرینہ کو فون دیا ماسی نے فون پر زرینہ سے نجانے کیا کہا ۔ کہ وہ کافی مطمئن ہوگئی۔ میں دل ہی دل میں بہت خوش تھا اور یہ موقع گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ خیر زرینہ نے ہمت کر کے سارے برتن دھوئے۔کچن کی صفائی میں زرینہ کی مدد کرتا رہا۔ اور بار بار اسکے جسم کو بہانے بہانے سے چھوتا رہا۔ اور اسکی خوبصورتی کی تعریف کرتا رہا وہ کبھی خوش ہوتی کبھی شرماتی کیونکہ اسکو ٹھیک سے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا بلا ہے۔خیر وہ کام سے فارغ ہوئی تو میں نے اسکو کہا اب تم کو رات تو یہیں گذارنی ہے تو اسکو اپنا ہی گھر سمجھو۔ کسی بات میں شرمانے کی ضرورت نہیں ہے کچھ کھانے کا دل کر رہا ہے تو کھائو کوئی منع نہیں کرے گا۔زرینہ کے چہرے سے خوشی ظاہر ہو رہی تھی۔میں نے زرینہ سے کہا تمہاری دوا کا بھی وقت ہو گیا ہے تم دوا کھائو پھر ہم دونوں بیٹھ کر فلم دیکھتے ہیں۔میں نے اسے بتایا کہ کونسی دوا کھانی ہے اس نے دوا کھائی پھر ہم دونوں میرے روم میں آگئے۔میں اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا اسکو سیکس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ فلم دیکھتی ہو تو اس نے جواب دیا کبھی کبھی دیکھتی ہے۔ تو میں نے پوچھا کیا اچھا لگتا ہے فلم میں تو اس نے جواب دیا گانے اور ڈانس۔ بس اب میں نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا اور ایک ویب سائٹ پر جا کر ایک سیکسی مجرا لگا دیا۔ پھر اس سے پوچھا ایسے ڈانس اچھے لگتے ہیں کیا۔ اس نے کہا ایسا تو کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے کہا چلوآج دیکھو۔اس مجرے میں وہ ڈانسر اپنے ممے ہلا ہلا کر دکھا رہی تھی اور کافی دفعہ اس نے اپنی شرٹ اوپر کر کے اپنے ممے بھی دیکھا دیے میں بغور زرینہ کے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا کہ وہ کیا محسوس کر رہی ہے۔بالآخر وہ وقت آیا جب اسکی سانس تیز ہوئی اور وہ بار بار اپنے بیٹھنے کی پوزیشن تبدیل کرنے لگی۔ تو میں نے پوچھا کیا ہوا اچھا نہیں لگا کیا ڈانس؟اس نے بچوں کی طرح منہ بنا کر کہا نہیں اچھا نہیں لگا۔ میں نے پھر پوچھا کیوں؟ اس نے کہا گندا ہے۔ میں ہنسنے لگا اور کہا کیوں گندا ہے وہ یہ دکھا رہی تھی اس لیے گندا ہے یہ کہتے ہوئے میں نے اسکے مموں کو چھوا اسکو ایک دم جیسے کرنٹ لگا۔ وہ ہراساں ہو کر مجھے دیکھنے لگی۔میں نے کہا پریشان نہ ہو میں تو مذاق کر رہا تھا۔ پھر کہا چلو فلم دیکھتے ہیں میں نے ڈھونڈ کر ایک سوفٹ کور مووی نیٹ پر لگا دی۔ ذرا دیر میں اس پر سیکسی سین اسٹارٹ ہوگئے جو کسنگ سے اسٹارٹ ہوئے اور پھر گھوڑی اسٹائل پر ختم اور ایک کے بعد ایک سین ذرا دیر میں شروع ہو جاتا تھا۔میں اسکا سرخ ہوتا چہرے بغور دیکھ رہا تھا اسکی سانسیں بھی بے ترتیب ہورہی تھیں۔ میں نے چپکے سے منہ اسکے کان کے پاس کیا اور پوچھا کیسی ہے فلم؟ اس نے چونک کر مجھے دیکھا اور اپنے چہرے کے اتنے قریب دیکھ کر بدحواس ہو گئی۔میں نے ہمت کر کے اسکا ہاتھ پکڑا جسکو اس نے چھڑایا نہیں اسکو کیا معلوم تھا کہ میں نے اسکا ہاتھ کیوں پکڑا ہے۔دوسرے ہاتھ سے میں نے اسکا چہرہ پکڑ کر اپنے مزید نزدیک کیا اور ایک کس کی اسکے گال پر۔ اور آہستہ سے اسکے کان میں کہا تم بہت خوبصورت ہو زرینہ۔ میری بات سن کر اسکا چہرہ مزید سرخ ہوگیا مجھے اسکا جسم گرم لگنے لگا۔ مگر یہ گرمی کسی اور بخار کی تھی جو دوا سے اترنے والا نہیں تھا۔مجھے خوشی یہ تھی کہ وہ کسی قسم کی مزاحمت نہیں کر رہی تھی۔میں نے مزید ہمت کی اور اپنا ایک ہاتھ اسکے ایک ممے پر رکھ دیااور اسکو ہلکا سا دبایا مجھے اسکے جسم میں کپکپاہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی۔اسکی سانس اب اتنی تیز تھی جیسے کافی دور سے دوڑ کر آرہی ہو۔اسکا جسم کافی کم سن عمر کی لڑکی کا جسم تھا۔ مگر اسکے ممے اور اسکی گانڈ اتنی زبردست تھی کہ دیکھنے والا چودنے کی خواہش ضرور کرےگا۔ اب میں نے اسکے نازک ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں دبا لیا اور چوسنے لگا میں نے دیکھا کہ زرینہ نے آنکھیں بند کر لی تھیں اور وہ مزہ لے رہی تھی۔میری اور ہمت بڑھی اور میں نے اسکو اپنی بانہوں میں جکڑ لیا اور اپنے سینے سے چمٹالیا۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے بھی مجھے کسی فلمی ہیروئین کی طرح جکڑ لیا۔بس اب کیا تھا اب تو میں نے بے تحاشہ اسکو کس کرنا شروع کردیا۔وہ میری کسنگ سے ہی مدہوش ہونے لگی تھی۔ ابھی تو بڑی منزلیں باقی تھیں ابھی تو میری اس رانی کو انکا بھی مزہ چکھنا تھا۔اسکے ممے میرے سینے سے بری طرح مسلے جا رہے تھے مگر اسکو پرواہ نہیں تھی۔ وہ بھرپور مزہ لے رہی تھی۔اب میں نے کسنگ بند کی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے لنڈ پر رکھا ۔ وہ ادھ کھلی آنکھوں سے مدہوش ہو کر کبھی مجھے دیکھتی اور کبھی اپنے ہاتھ کو جو میرے لنڈ پر تھا میرا لنڈ میری جینز سے باہر آنے کو مچل رہا تھا۔میں نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا کبھی دیکھا ہے کسی کو ننگا ؟ اس نے جواب نفی میں صرف سر ہلا کر دیا۔ میں نے پوچھا یہ جس چیز پر تمہارا ہاتھ ہے اسکو دیکھو گی ۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور نظر میری لنڈ پر گاڑ دی۔ میں نے اس حرکت کو مثبت جواب سمجھا اور گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر اپنی جینز کی زپ کو کھولا اور اس سے کہا اپنا ہاتھ ڈالو اندر۔ اس نے ذرا بھی جنبش نہیں کی میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی جینز کی کھلی ہوئی زپ پر رکھا تو اس نے خود کوشش کی ہاتھ کو اندر ڈالنے کی وہ تھوڑا جھجھک رہی تھی ورنہ میرا یقین یہ تھا کہ وہ بھی سب کچھ چاہ رہی ہے مگر اسکو کیا اندازہ کہ سب کچھ کیا ہے۔خیر کسی طرح اس کا ہاتھ میری زپ کے اندر چلا گیا اب میرے لنڈ اوراسکے نازک ہاتھ کے درمیان صرف انڈر وئیر تھی۔ میں نے پوچھا کیسا لگا تم کو یہ۔ تو اس نے شرما کر منہ دوسری طرف کر لیا۔بس اسی دم میں نے اپنی جینز کا بٹن کھول دیا اور اسکا ہاتھ باہر نکالا۔ اور فرش پر کھڑے ہو کر اپنی جینز اتار دی اب میں صرف انڈروئیر اور شرٹ میں تھا۔لنڈ بری طرح سخت ہو رہا تھاانڈروئیر میں جسکی وجہ سے مجھے تکلیف ہو رہی تھی۔اس نے جیسے ہی مجھے ننگا دیکھا دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔مجھے اسکی اس ادا پر بہت پیار آیا۔میں اسکے قریب آیا اور اسکا ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے لنڈ پر پھر سے رکھا اور کہا انکھیں کھولو۔ اس نے آنکھیں کھولی اور میری چھپے ہوئے لنڈ کو دیکھا۔ میں نے کہا چلو میری انڈر وئیر اتارو اس کے منہ سے بے اختیار نہیں نکلا۔ میں نے کہا یار کیا شرما رہی ہو تم ابھی میں نے بھی تو تم کو ننگا دیکھا تھا جب تم باتھ روم میں تھی ۔ وہ سین یاد آتے ہی اسکا چہرہ پھر سے سرخ ہونے لگا۔خیر میں نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنی انڈر وئیر ان میں دی اور اس سے کہا چلو زرینہ اتارو اسے اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے میری انڈروئیر کو نیچے کیا جیسے ہی انڈروئیر نیچے ہوئی میرا لمبا موٹا پھنپھناتا ہوا لنڈ ایک جھٹکے سے باہر نکلا اور اوپر نیچے ہو کر زرینہ کو سلامی دینے لگا۔ مگر زرینہ ایک دم اچھل کر ایسے پیچھے ہوئی جیسے سانپ دیکھ لیا ہو۔باقی انڈروئیر میں نے خود اتاری پھر ساتھ ہی شرٹ بھی اتار کر میں کپڑوں سے آزاد ہو گیا۔ اب زرینہ کے اور قریب ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگی۔ میں نے کہا اسکو ہاتھ میں لو۔ تو وہ نہ مانی تو میں نے زبردستی اسکے ہاتھ پکڑ کر اپنے لنڈ پر رکھ دیئے پہلے تو وہ ڈری مگر پھر کچھ سیکنڈ میں اس نے میرا لنڈ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔اسکے نازک ہاتھ کا لمس ملتے ہی میرا لنڈ مزید لمبا اور سخت ہونے لگا۔میرا لمبالنڈ اسکے ہاتھ میں پورا بھی نہیں آرہا تھا۔میں نے اس سے کہا چلو اس پر پیار کرو۔ وہ نہ مانی مگر بار بار کہتا رہا آخر اس نے ہمت کی اور میرے لنڈ کے ٹوپے پر ایک ہلکی سی کس کی۔ پھر میں نے اس سے کہا اسکو منہ میں لو اور لولی پوپ کی طرح چوسو۔ اس نے صاف منع کردیا تو میں نے کہا ابھی جو فلم میں سب دیکھا تھا نا ویسا کرنا ہے تم کو۔ خیر بڑی دیر تک منایا تو اس نے میرا لنڈ اپنے منہ میں لیا۔ اتنی دیر بحث کرنے میں لنڈ تھوڑا ڈھیلا ہوگیا تھا مگر جیسے ہی زرینہ کہ منہ کا گیلا پن اور گرمی اسکو ملی اس میں واپس سے کرنٹ دوڑ گیا اور وہ زرینہ کے منہ میں رہتے رہتے ہیں پورا تن کر کھڑ اہوگیا۔اب میرا لنڈ پورا تیار تھا اب زرینہ کی چوت کو تیار کرنا تھا جو ذرا مشکل کام تھا، میں نے زرینہ کا تعارف اپنے لنڈ سے سرسری طور پر تو کروا دیا تھا مگر اب اصل تعارف کی باری تھی۔میں نے زرینہ سے کہا اپنی شرٹ اتارو مجھے تمہارے سینے پر پپی کرنی ہے وہ بہت شرمائی اور منع کرتی رہی مگر میں نے اسکو بہت سمجھایا کہ کوئی بھی نہیں دیکھ رہا میرے سوا اور نہ کسی کو پتہ لگے گا۔ تو آخر کار وہ مان گئی اور جیسے ہی اسکی شرٹ اتری اسکے 32 سائز کے ممے اچھل کر سامنے آئے۔ ایک دم ٹینس بال کی طرح گول اسکے نپلز گلابی اور نوکیلے تھے۔سو فیصد سیل آئٹم تھی وہ میری رانی۔اسکا بدن اتنا گورا تو نہیں مگر اسکی جلد میں بہت کشش تھی۔ایک دم نمکین۔ میں نے جلدی سے پہلا حملہ کیا اور اسکا ایک مما اپنے منہ میں لے کر بے تحاشہ چوسنا شروع کیا اسکے منہ سے آہیں نکلنے لگیں۔ جیسے ہی میں اسکے نپلز کو چوستا اسکا پورا بدن اکڑ جاتا تھا۔ میں کافی دیر اسکو اسی طرح مست کرتا رہا۔وہ بے حال ہو رہی تھی۔پھر اسکو ہوش نہ رہا اور میں نے خاموشی سے اپنا ایک ہاتھ اسکی شلوار میں داخل کردیا اسکی شلوار میں الاسٹک تھی۔میں سیدھا اپنا ہاتھ اسکی شلوار میں گھسیڑتا ہوا اسکی چوت تک لے گیا اور اسپر اپنی ایک انگلی رکھ کر ہلکا سا دبایا تو ایک دم زرینہ کو جیسے ہوش آگیا۔مگر مجھ پر بھی یہ انکشاف ہوا کہ اسکی چوت پوری طرح گیلی تھی۔اسنے خود کو کنٹرول کرنے کے لئے اور کچھ سمجھ نہ آیا تو میرا ہاتھ اپنی دونوں ٹانگوں کے بیچ دبا لیا۔مگر اس سے کیا ہوتا میری انگلی تو اسکی چوت پر دستک دے رہی تھی۔ میں نے صرف انگلی سے ہی اسکی چوت کو سہلانا شروع کردیا۔ وہ کسمساتی رہی مگر میں باز نہ آیا ، آج میں اسے جنگلیوں کی طرح چودنا چاہتا تھا سو میں اس پر ذرا بھی رحم کرنے کو تیار نہ تھا۔کافی دن کے بعد تو ایک کنواری لڑکی ہاتھ آئی تھی ورنہ تو آنٹیاں ہی کثرت سے ملا کرتی تھیں۔ خیر ذرا دیر بعد اس نے یہ معمولی سی مزاحمت بھی چھوڑ دی اور اپنی ٹانگیں کھول دیں اور مموں کے ساتھ ساتھ وہ اپنی چوت کو سہلائے جانے کا بھی مزہ لے رہی تھی۔بخار کی وجہ سے اسکو تھوڑی کمزوری تو پہلے ہی تھی اسی لیے وہ جلدی مدہوش بھی ہوئی اور نشے سے چور۔اب میں نے ذرا دیر مزید اسکی چوت کو سہلایا اور پھر اس سے پوچھے بنا اسکی شلوار بھی اتار دی۔ اب ہم دونوں کپڑوں سے بالکل آزاد تھے۔میں نے چاٹ چاٹ کر اسکا جسم گیلا کردیا تھا اسکا بدن بہت چکنا تھا بس ملائی تھی وہ پوری۔میرا لنڈ جو ڈھیلا ہوچکا تھا وہ واپس سے پورا تن چکا تھا، اور زرینہ کی چوت میں انٹری مانگ رہا تھا۔میں زرینہ کو چومتے چومتے اس پوزیشن میں آگیا کہ میں زرینہ کے اوپر پورا لیٹ چکا تھا اور میرا لنڈ اسکی دونوں ٹانگوں کے بیچ تھا زرینہ کو نہیں معلوم تھا کہ میرا لنڈ اسکی چوت میں جائے گا اور وہ اس طرح حاملہ ہو سکتی ہے ۔ اگر یہ سب اسے علم ہوتا تو وہ کب کی میرے گھر سے بھاگ چکی ہوتی۔وہ تو بس اپنے جسم کو سہلائے جانے سے جو مزہ مل رہا تھا اسکو انجوائے کر رہی تھی۔زرینہ کی چوت سے کافی پانی نکل چکا تھا اور وہ پوری گیلی تھی میں نے اپنا لنڈ اسکی چوت پر ذرا دیر رگڑا اور اسکا ٹوپا پوری طرح زرینہ کی چوت کے پانی سے گیلا کیا۔پھر زرینہ سے کہا تھوڑی سی ٹانگیں کھولو۔اس نے فوراً میری بات مان لی بس اب مجھے جلدی اپنا لنڈ اسکی چوت میں ڈالنا تھا اگر اسکو ذرا بھی سنبھلنے کا موقع ملتا تو تکلیف کی وجہ سے وہ مجھے کبھی اپنی چوت میں داخل نہ ہونے دیتی۔میں نے بھی وقت ضائع نہ کیا اور لنڈ کو سیدھا کر کے اسکی چوت کے منہ پر سیٹ کیا اور ایک ہی جھٹکے میں پورا ٹوپا اسکی چوت میں گھسیڑ دیا۔ زرینہ کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور ساتھ ہی آنکھوں سے آنسو وہ میری منتیں کرنے لگی کے میں اپنا لنڈ واپس نکال لوں میں اسکو تسلیاں دینے لگا اور اسی بحث میں ذرا دیر گذری تو زرینہ کا درد ختم ہو گیا میں نے اس سے پوچھا اب بھی درد ہے کیا اس نے کہا نہیں مگر اسکو باہر نکالو۔میں نے اسے پھر بہلایا بس ذرا دیر اندر رہنے دو پھر نکال لونگا۔ یہ کہہ کر میں اسکے ہونٹ چوسنے لگا۔ وہ بھی چوت کو بھول کر ہونٹ چوسنے میں ساتھ دینے لگی۔بس یہ موقع کافی تھا ویسے ہی لیٹے لیٹے میں نے ایک زور کا جھٹکا مارا اور آدھے سے زیادہ لنڈ اسکی چوت میں گھسیڑ دیا۔ایک بار پھر وہ درد سے بلبلانے لگی مگر اس بار اسکا منہ میں نے اپنے منہ سے بند کیا ہوا تھا۔وہ میری کمر پر اپنے ناخنوں سے بری طرح نوچنے لگی۔مگر میں اب کہاں اسکو چھوڑنے والا تھا۔کونسا ایسا لنڈ ہوگا جسکے سامنے گیلی چوت ہو اور وہ اس میں نہ جانا چاہے خاص طور پر وہ چوت جس میں کوئی لنڈ کبھی گیا ہی نہ ہو۔خیر تھوڑی دیر میری کمر نوچنے کے بعد وہ ٹھنڈی ہونے لگی اور نڈھال بھی۔اب اس نے خود کو میرے حوالے کردیا تھا۔میں نے اسکے ہونٹوں سے ہٹ کر اسکا چہرہ دیکھا وہ آنسو سے بھیگا ہوا تھا مجھے ایک لمحے کو اس پر ترس تو آیا مگر اگلے لمحے اسکی نرم گرم گیلی چوت کا لمس اپنے لنڈ پر محسوس کرتے ہی میں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی۔اب میں سیدھا ہو کر اسکی دونوں ٹانگوں کے بیچ بیٹھا تو دیکھا میرا لنڈ اسکی چوت سے نکلنے والے خون سے سرخ ہو رہا تھا میں نے سوچا اگر ابھی صفائی کا سوچا تو اس رانی کا دماغ بدل جائے گا۔ سو بس تھوڑا سا لنڈ باہر نکالا اور پھر آہستہ سے اندر کیا ایک بار پھر اسکی منہ سے سسکاری نکلی۔ مگر شاید اسکو تکلیف نہ تھی۔ تو اب فیصلہ کیا فوراً ہی پورا لنڈ اندر ڈالو اور بس شروع کرو چدائی۔ بس دو چار بار اسی طرح میں نے لنڈ اندر باہر کیا اور ایک بار بھرپور جھٹکا مارا تو میرا پورا لنڈ اسکی چوت میں گھس گیا۔ وہ ایک بار پھر سے پھڑپھڑائی۔ مگر جلد ہی خود ہی سنبھل گئی۔اب میں نے لنڈ کو اندر ہی رکھ کر ذرا اور دبایا تو اسکے چہرے پر تکلیف کے آثار نہ دیکھ کر میں سمجھ گیا چوت تیار ہے زبردست چدائی کے لئے۔بس اب میں نے لنڈ کو پہلے آہستہ آہستہ اندر باہر کیا اور ذرا دیر بعد اپنی رفتار بڑھا دی۔اب میرے ہر جھٹکے پر اسکے منہ سے آہ تو نکلتی تھی مگر چہرے پر تکلیف کے آثار نہیں بلکہ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ ذرا دیر بعد وہ مزے کی بلندیوں کو چھونے لگی۔ اور اپنا سر کبھی دائیں کبھی بائیں کرتی کبھی ہاتھ سے اپنے ممے دباتی کبھی ہونٹ دانتوں سے دباتی۔اچانک اسکے منہ سے تیز تیز آہیں نکلیں اور ایک دم اسکا جسم اکڑا اور جھٹکے لے کر کپکپانے لگا۔میں سمجھ گیا اسکی چوت اپنا پانی اگل رہی ہے۔ مجھے ابھی فارغ ہونے میں وقت تھا۔جیسے ہی اسکی چوت نے پانی اگلا میں نے جلدی سے لنڈ باہر نکالا وہ نڈھال ہو کر چاروں شانے چت بیڈ پر پڑی دعوت دے رہی تھی کے آئو اور چود ڈالو۔ میں جلدی سے اپنی الماری کی طرف بڑھااور وہاں سے ایک کونڈم نکال کر اپنے لنڈ پر چڑھایا اور دوبارہ سے پورا لنڈ اسکی چوت میں ڈال دیا۔ ایک بار پھر وہ ہی جھٹکوں کے سلسلے۔ ذرا دیر میں وہ دوبارہ چارج ہوئی اور پھر اسکی منہ سے آہیں نکلنے لگیں مگر اس بار وہ اپنی چوت کو اچھال کر میرا پورا پورا لنڈ وصول کر رہی تھی۔تھوڑی دیر اسی طرح چدائی کے بعد میرے لنڈ نے بھی لاوا اگلنا شروع کیا اور اسی وقت اسکی چوت نے بھی دوبارہ پانی چھوڑا۔ میں نے اپنی منی کا آخری قطرہ بھی کونڈم میں اسکی چوت کے اندر ہی نکال دیا۔ تھوڑی دیر اسی طرح نڈھال پڑے رہے ہم دونوں پھر پہلے میں اسکو لے کر باتھ گیا وہاں اسکو اچھی طرح دھویا اس سے اب ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا۔پھر میں نے باتھ لیا اور کپڑے تبدیل کئے ۔
  6. میرا نام عاصمہ ہے اور میں پنجاب کے شہر فیصل آباد سے تعلق رکھتی ہوں اور پڑھائی کے سلسلہ میں لندن میں مقیم ہوں میں یہاں اپنے بھائی کےساتھ ایک تین کمروں کے فلیٹ میں رہتی ہوں جہاں میرے بھائی عدنان کے ساتھ اس کا ایک دوست ماجد بھی رہتا ہے میرا بھائی گذشتہ چار سال سے لندن میں مقیم ہے جبکہ اس کا دوست بھی چار سال سے اسی کے ساتھ اسی فلیٹ میں رہتا ہے میں ایک سال پہلے یہاں آئی ہوں اور اسی فلیٹ میں رہتی ہوں میں 5 فٹ 5 انچ قد کی مالک نیلی آنکھوں اور براﺅن بالوں والی 19 سال کی ایک خوب صورت لڑکی ہوں پاکستان میں میں ایک کو ایجوکیشن کالج میں پڑھتی تھی جہاں میرے کلاس فیلوز اور کالج کے دوسرے لڑکے مجھ پر اکثر لائن مارتے تھے لیکن میں نے کبھی کسی پر دھیان نہیں دیا اسی دوران میرا ایڈمشن لندن کے ایک کالج میں ہوگیا اور میں یہاں آگئی جہاں میرا بھائی عدنان پہلے سے موجود تھا میں چاہتی تھی کہ میں اپنے بھائی سے علیحدہ رہوں لیکن مجھے میرے گھروالوں نے یہاں آنے کی اجازت ہی اسی شرط پر دی کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ رہوں گی میں یہاں آئی تو میرے بھائی کا دوست ماجد میرے اعصاب پر چھا گیا 5 فٹ 10 انچ قد والا سانولے رنگ کا سمارٹ جسم کا یہ نوجوان تقریباً25 سال کی عمر کا ہوگا غضب کا خوب صورت یہ لڑکا ہمیشہ مجھ سے دور رہنے کی کوشش کرتا دوسرے پاکستانی لڑکوں کی طرح اس نے کبھی بھی مجھ سے زیادہ فری ہونے کی کوشش نہیں کی بلکہ مطلب کی بات بھی وہ مجھ سے کبھی کبھار کرتا تھا وہ اسی وقت گھر آتا جب میرا بھائی بھی موجود ہوتا اگر کبھی ایسا موقع آتا کہ میں گھر میں اکیلی ہوتی تو ماجد بھی گھر سے باہر چلا جاتا اور اس وقت واپس آتا جب عدنان گھر آجاتا میں نے کئی بار اس کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ہر بار کترا جاتا اور مجھے نظر انداز کرجاتا جیسا کہ اس کے ساتھ کسی نے بات ہی نہ کی ہو جیسے جیسے وہ مجھے نظر انداز کرتا مجھ میں اسے پانے کی خواہش بڑھتی جاتی مجھے اس بات کا بھی خدشہ رہتا کہ میں اگر کبھی اس کے ساتھ کوئی بات کروں تو یہ بھائی کو نہ بتا دے لیکن اس کے باوجود میں اکثر اس کو لفٹ کراتی رہتی لیکن ہر بار مجھے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا یہ لڑکا آزاد ماحول میں رہنے کے باوجود یہاں کی خرافات سے دور تھا حالانکہ میرا بھائی کئی بار ویک اینڈ پر کلب وغیرہ چلا جاتا اورجب واپس آتا تو اس کے منہ سے شراب کی بدبو بھی آرہی ہوتی لیکن ماجد ایسی تمام باتوں سے بہت دور تھا یہی وجہ تھی کہ میں اسے من ہی من میں چاہنے لگی تھی ایک بار جب اس کی طبیعت خراب تھی اور وہ دن بھر گھر پر ہی رہا اور میں بھی جلدی کالج سے واپس آگئی جبکہ میرا بھائی ابھی جاب پر تھا میں نے اس کے لئے چائے بنائی اور اس کو پیش کی اس نے میرے ہاتھ سے چائے کا کپ لیا اور خاموشی کے ساتھ بیٹھ کر پینے لگا میں بھی کپ لے کر اسی کے کمرے میں کرسی پر بیٹھ گئی اور اس کے ساتھ باتیں کرنے لگی وہ مجھے کسی بات کا جواب دے دیتا اور کسی پر خاموش رہتا وہ مجھے اگنور کررہا تھا لیکن میںڈھیٹ بن کر اس کے سامنے بیٹھی رہی اور دل میں سوچا کہ دیکھتی ہوں مجھے یہ کب تک اگنور کرتا ہے باتوں کے دوران میں نے اس سے یہ پوچھ ہی لیا کہ وہ مجھے اگنور کیوں کرتا ہے تو کہنے لگا کہ تم میرے دوست کی بہن ہو اور میرے خیال میں دوست کی بہن اپنی بہن کے برابر ہوتی ہے میں نے اس سے کہا کہ دوست کی بہن دوست بھی تو ہو سکتی ہے تو خاموش ہوگیا میں نے اسے کہا کہ میں تمہیں چاہتی ہوں اور تم کو حاصل کرکے رہوں گی تو کہنے لگا عاصمہ یہ بات ٹھیک نہیں ہے اگر تمہارے بھائی کو معلوم ہوگیا تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہے گا بلکہ سارا الزام مجھ پر ڈال دے گا میں نہیں چاہتا کہ ہماری دوستی میں دراڑ آئے تو میں نے اس کو کہا کہ تم اس کی فکر نہ کرو یہ بات مجھ پر چھوڑ دو اس روز مجھے کافی حد تک کامیابی ہوئی مجھے لگا کہ اس کے اندر بھی دل ہے اور میں اس کے دل تک پہنچ سکتی ہوں اب مجھے اس کے دل میں خدشات کو دور کرنا تھا خیر اسی طرح وقت گزرتا گیا اور اگلے دو ہفتے تک مجھے مزید کوئی کامیابی نہ مل سکی اسی دوران میرے بھائی کو رات کے وقت ایک جاب مل گئی جہاں پہلے والی جاب سے ڈبل تنخواہ تھی میں نے بھائی سے بات کی کہ وہ یہ جاب نہ کرے میں رات کے وقت گھر میں اکیلی ہوں گی تو کہنے لگا اکیلی کیوں ماجد بھی تو گھر میں ہی ہوتا ہے ماجد بھی اس وقت ہمارے پاس ہی موجود تھا میں نے اس وقت بھائی سے کہا کہ ماجد تو ایسے ہوتا ہے جیسے گھر میں کوئی ہے ہی نہیں آپ ہوتے ہیں تو مجھے اکیلے پن کا احساس نہیں ہوتا آپ کے ساتھ باتیں بھی کرلیتی ہوں لیکن ماجد تو مجھ سے بات کرنے سے بھی دوڑتا ہے میری بات سن کر عدنان بھائی ہنسنے لگے اور ماجد کو مخاطب ہوکر کہنے لگے کیوں ماجد کیا بات ہے عاصمہ تمہاری شکایت کررہی ہے تو ماجد نے ایک بار نظر اٹھا کر پہلے عدنان پھر میری طرف دیکھا اور پھر اپنے لیپ ٹاپ پر نگاہیں مرکوز کرلیں میں نے کہا کہ یہ تو ایسے مجھ سے بھاگتے ہیں جیسے میں ان کو کھا جاﺅں گی چھ ماہ ہوگئے ماجد نے مجھ سے کبھی براہ راست بات نہیں کی اور آپ کہتے ہیں کہ مجھے اکیلے پن کا احساس نہیں ہوگا میں نے مزید کہا کہ عدنان بھائی جب کبھی آپ گھر نہ ہوں اور ماجد گھر آجائیں اور گھر میں آپ کو نہ پاکر یہ تو باہر نکل جاتے ہیں مجھے لگتا ہے اگر آپ نے نائٹ ڈیوٹی والی جاب شروع کرلی تو یہ بھی گھر نہیں آیا کریں گے میری بات سن کر بھائی ہنسنے لگے اور ماجد کو ایک بار پھر مخاطب ہوکر کہنے لگے ماجد کیا یہ سچ کہہ رہی ہے تو اس نے ایک بار پھر اپنا سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور کچھ کہنے ہی والا تھا کہ عدنان بھائی بول پڑے اور کہنے لگے ماجد مجھے تم پر اور عاصمہ دونوں پر اعتماد ہے میرا خیال ہے کہ میری عدم موجودگی میں آئندہ عاصمہ کو اکیلے پن کا احساس نہیں ہوگا عدنان بھائی کی بات سن کر ماجد بولا کہ عدنان اصل میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنی بات شروع ہی کی تھی کہ عدنان بھائی پھر بول پڑے بس اب یہ ٹاپک بند اور عاصمہ جاﺅ چائے بنا کر لاﺅ میں اٹھ کر کچن میں چلی گئی واپس آئی تو کمرے کا ماحول تبدیل ہوگیا تھا اور دونوں قہقہے لگا کر ہنس رہے تھے میں چائے کی ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو ان کو ہنستے ہوئے دیکھ کر پوچھ لیا کہ کیا بات ہے تو عدنان بھائی بولے ماجد کے آفس میں ایک افریقی لڑکی اس کو لفٹ کرارہی ہے بڑٹش پاسپورٹ ہے اس کے پاس میں نے اس کو کہا ہے کہ اچھا ہے اس سے شادی کرلو نیشنلٹی مل جائے گی یہ مان نہیں رہا میں نے اس کو کہا ہے کہ خود نہیں کرنی تو میری کرا دو تو بھی نہیں مان رہا عدنان بھائی کی بات سن کر میں بولی ماجد کے لئے تو نہیں عدنان بھائی آپ کے لئے ٹھیک ہے آپ شادی کرلیں میری بات سن کر پھر قہقہہ لگا اور پھر اس موضوع پر مزید بات ہوئی اور ساتھ میں ہم لوگ چائے بھی پیتے رہے اس دوران میں نے نوٹ کیا کہ ماجد بات کرتے کرتے چور آنکھوں سے مجھے دیکھتا ہے اور پھر مجھ سے نظریں ملتے ہی نگاہ دوسری طرف کرلیتا ہے جس پر مجھے خوشی محسوس ہوئی کہ آخر کار مجھے کامیابی مل رہی ہے میرے خیال میں یہ پہلی بار تھا کہ ماجد میری طرف نظر اٹھا کر دیکھ رہا تھا پہلے تو مجھ سے بات بھی کرتا تو اپنی نظر نیچی رکھتا تھا بھائی نے ماجد سے کہا کہ کل سے تم اپنی جاب پر جاتے ہوئے عاصمہ کواس کے کالج ڈراپ کردیا کرنا اور واپسی یہ خود لوکل پر آجایا کرے گی میں رات کو ڈیوٹی پر ہوا کروں گا تم اس کا خیال رکھنا مجھے کوئی شکایت نہ ملے اور عاصمہ تم بھی ماجد کو زیادہ تنگ نہ کرنا ورنہ تمہاری بھی خیر نہیں اگلے روز صبح صبح ناشتے کے بعد ماجد جاب پر جانے لگا تو میں فٹ سے اس کی گاڑی کا فرنٹ دروازہ کھول کر بیٹھ گئی وہ گاڑی میںبیٹھا اور ایک نظر مجھے دیکھ کر گاڑی چلانے لگا وہ گاڑی چلاتے ہوئے خاموش تھا میں نے بات شروع کی اور کہنے لگی ماجد آپ جتنا دور بھاگو گے میں اتنا ہی پاس آﺅں گی اور میں نے کہا تھا کہ میں تم کو پسند کرتی ہوں اور تم کو حاصل کرکے رہوں گی وہ میری باتیں خاموشی سے سنتا رہا اور مجھے کالج کے باہر ڈراپ کرکے چلا گیا دوپہر کو میں گھر آئی تو عدنان بھائی سو رہے تھے میں نے کپڑے مشین میں ڈال کر دھوئے اور ٹی وی لگا کر دیکھنے لگی شام کو ماجد آئے تو میں نے ان کو بھی چائے پیش کی اتنے میں عدنان بھائی بھی اٹھ گئے اور جاب پر جانے کے لئے تیار ہونے لگے میں نے ان سے پوچھا کہ آج رات کے کھانے کا کیا موڈ ہے تو عدنان بھائی کہنے لگے میں تو جاب پر ہوں گا بہتر ہے جب تک میری رات کی جاب ہے آپ لوگ باہر سے ہی کھانا کھا لیا کرنا میں یہ بات سن کر اچھل پڑی کہ ماجد کے ساتھ میں پہلی بار آج آﺅٹنگ اور ہوٹلنگ کے لئے جاﺅں گی بھائی کے جاب پر جانے کے بعد میں ٹی وی دیکھتی رہی جبکہ ماجد اپنا لیپ ٹاپ لے کر اپنے کمرے میں گھس گیا رات کو دس بجے تو میں ماجد کے کمرے کا دروازہ ناک کئے بغیر کھولا اور ان سے کہا کہ آج کیا آپ نے بھوک ہڑتا ل کررکھی ہے اگر ایسا ہے بھی تو اس میں میرا کیا قصور ہے آپ کو کچھ نہیں کھانا تو مجھے تو بھوکا نہ رکھیں میری بات سن کر ماجد مسکرائے اور اپنا لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھ کر اٹھ گئے اور کہنے لگے تم آدھا گھنٹہ مزید انتظار کرو میں کے ایف سی سے کچھ لے کر آتا ہوں میں نے کہا نہیں آپ گھر کچھ نہ لائیں میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی اور باہر ہی کھا کر آئیں گے میری بات سن کر وہ میری طرف دیکھنے لگا پھر کہنے لگا چلو ٹھیک ہے میں نے کہا ٹھہرو میں چینج کرلوں تو کہنے لگا کیا چینج کرنا ہے اچھی بھلی تو ہو میں نے اس کی بات سنی اور اس سے کہا کہ اگر آپ کو ٹھیک لگتی ہوں تو ایسے ہی چلی جاتی ہوں ورنہ دوسرے کپڑے پہن لیتی ہوں اس نے میری بات ان سنی کردی اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا میں بھی اس کے پیچھے ہی باہر آگئی اور گاڑی میںبیٹھ گئی اس نے گاڑی چلا دی اور خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا رہا میں نے اس خاموشی کو توڑا اور اس سے پوچھا کہ آپ مجھے جان بوجھ کر اگنور کیوں کرتے ہو کیا میں آپ کو اچھی نہیں لگتی یا مجھ میں کوئی کمی ہے عاصمہ میری بات سنو اگر تم نے آئندہ ایسی بات کی تو میں تمہارے بھائی کو بتا دوں گا تم چاہے ساری دنیا کو بتادو میں تم سے اس وقت تک پوچھتی رہو گی جب تک مجھے میری بات کا جواب نہیں مل جاتا عاصمہ تم میرے دوست کی بہن ہو اور میرے لئے قابل احترام ہو تو میں کب کہہ رہی ہوں کہ میں تمہارے دوست کی بہن نہیں ہوں کیا دوست کی بہن بھی دوست نہیں بن سکتی نہیں ایسی بات نہیں اگر تمہارے بھائی کو معلوم ہوگیا تو وہ کیا سوچے گا یہ سب کچھ تم مجھ پر چھوڑ دو پھر بھی مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا کیوں اچھا نہیں لگتا اس کی کوئی خاص وجہ بھی تو بتاﺅ شائد میں بھی اس کو برا سمجھنے لگوں ”میں تم سے بحث نہیں کرسکتا“اس نے تنگ آکر کہا تو پھر میری بات مان لیں میں آپ کو یہ بتادوں کو میں آپ کو پسند کرتی ہوں اور آپ کو حاصل کرکے ہی رہوں گی ہاں اگر میں آپ کو اچھی نہیں لگتی تو مجھے بتادیں اس نے کے ایف سی کے سامنے گاڑی کھڑی کی اور خود دروازہ کھول کر باہر نکل گیا اور تھوڑی دیر کے بعد دو حلال برگر اور دو کوک لے آیا میں نے اس سے کہا کہ کھانا لے کر گھر نہیں جانا بلکہ یہاںقریب کسی پارک میں چلتے ہیں جہاں بیٹھ کر کھائیں گے وہ میری بات سن کر خاموش رہا اور گاڑی چلانے لگا تھوڑی دیر کے بعد اس نے ایک پارک کے سامنے گاڑی کھڑی کردی اور ہم دونوں نے ایک بنچ پر بیٹھ کر برگر کھایا اس دوران بھی میں نے اس کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن وہ خاموش رہا لیکن میں ہمت نہیں ہاری اگلے روزجمعہ کا دن تھاصبح کے وقت جب وہ مجھے کالج چھوڑنے گیا تو راستے میں پھر بات چیت کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن حسب معمول مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اس دن شام کو جب بھائی کے جاب پرجانے لگا تو میں نے ان سے کہا بھائی آج آپ جاب پر نہ جائیں کیوں خیر تو ہے نہ نہیں ایسے ہی آج میرا آﺅٹنگ کے لئے دل کررہا ہے جب سے لندن آئی ہوں کبھی بھی آپ مجھے آﺅٹنگ کے لئے نہیں لے کر گئے میں تو نہیں لے کر جاسکتا تم ماجد کے ساتھ چلی جانا وہ تو بے ذوق سے بندے ہیں نہ خود کہیں جاتے ہیں نہ کہیں مجھے لے کر جائیں گے میری بات سن کر عدنان بھائی ہنسنے لگے اور کہنے لگے نہیں ایسی بات نہیں وہ ہے تو بہت زندہ دل آدمی لیکن تم سے تھوڑا ریزرو رہتا ہے مجھ سے ریزرو کیوں رہتے ہیں یہ مجھے معلوم نہیں خیر چھوڑیں اس بات کو اگر آپ مجھے لے جاسکتے ہیں تو لے جائیں وہ مجھے نہیں لے کر جائیں گے اگر ان کے ساتھ جانے کے لئے کہنا ہے تو صاف کہہ دیں کہ میں نہ جاﺅں نہیں ایسی بات نہیں تم اس کو کہہ دینا تم کو لے جائے گا وہ نہیں مانیں گے آپ خود ان کو کہہ دیں تو شائد آپ کی بات مان لیں ٹھیک ہے اس وقت تو وہ جاب پر مصروف ہوگا جب آئے تو میری فون پر بات کروا دینا میں اس کو کہہ دوں گا بھائی کی بات سن کر میں خوش ہوگئی میرا پلان کامیاب ہوگیا تھا بھائی چلے گئے تو میں نے اٹھ کر غسل کیا اوربلیو جینز کے ساتھ وائٹ ٹی شرٹ پہن لی اور ہلکا سا میک اپ کرکے تیار ہوگئی میں نے آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر خود کو دیکھا تو میں بہت خوب صورت لگ رہی تھی میں جب سے لندن میں آئی تھی آج پہلی بار میں نے میک اپ کیا تھا حالانکہ میرے پاس میک اپ کا سامان موجود تھا لیکن میںکبھی بھی تیار نہیں ہوئی تیار ہونے کے بعد میں ماجد کا انتظار کرنے لگی تھوڑی دیر کے بعدوہ آیا میں نے دروازہ کھولا تو اس نے مجھے دیکھا اور ایک لمحے کے لئے ٹھٹھک کر رہ گیا لیکن دوسرے ہی لمحے وہ سنبھل گیا اور اندر داخل ہوگیا میں نے دروازہ بند کیا اور اندر آکر اس کے لئے چائے بنائی چائے کے بعد میں نے اس سے کہا ماجد آج کہیں آﺅٹنگ کے لئے نہ جائیںاس نے مجھے بغیر دیکھے ہوئے کہا میں نہیں جاسکتا اگر جانا ہے تو عدنان سے کہہ دینا وہ لے کر چلا جائے میں نے بھائی سے پوچھ لیا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ آپ کے ساتھ چلی جاﺅں مجھے تو اس نے نہیں کہا آپ ان سے فون پر بات کرلیں میں نہیں کرتا اس سے بات اور نہ ہی تم کو لے کر جاﺅں گا میں نے ماجد کی بات سنی اور اپنے فون سے بھائی کا نمبر ملایا جب بیل گئی تو میں نے فون ماجد کو پکڑا دیا یہ کیا ہے بھائی سے بات کرلیں ”نہیں میں نہیں کرتا “اس نے فون میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا میں نے فون پکڑ لیا اور جیسے ہی بھائی نے فون اٹھایا میں نے رونے والے انداز میں کہا بھائی میں نے کیا کہا تھا ماجد مجھے نہیں لے کر جائیں گے آپ خود ہی مجھے انکار کردیتے نہیں ایسے کیسے ہوسکتا ہے تم میری بات ماجد سے کراﺅ وہ آپ سے بات کرنے کو بھی تیا ر نہیں ”ٹھیک ہے میں اس سے خود اس کو فون کرتا ہوں“ بھائی نے فون بند کردیا اگلے ہی لمحے ماجد کے فون پر بیل ہونے لگی ماجد نے میری طرف غضب ناک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے فون اٹھایا ہیلو کیا حال ہے۔۔۔۔۔۔۔کیا میں کیسے لے جاسکتا ہوں اس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا میری بات تم سمجھتے کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔۔اچھا اوکے لے جاتا ہوں دوسری طرف سے بھائی نے جانے ماجد کو کیا کہا اس نے میری طرف دیکھا اور فون بند کردیا اور مجھے کہنے لگا ٹھیک ہے لیکن جانا کہاں ہے کسی کلب میں چلتے ہیںڈانس وغیرہ دیکھیں گے نہیں میں تم کو کلب میں نہیں لے جاسکتا نہیں جانا تو میں پھر بھائی سے بات کرتی ہوں ایک تو تم بھائی کی دھمکی بہت دیتی ہو تمہارا بھائی مجھ پر ڈی سی تو نہیں لگا ہوا کہ میں اس کے ڈر سے تمہاری ہر جائز نا جائز بات مان لو تو ٹھیک ہے آپ بھائی سے بات کرلیں اور ان کو کہہ دیں کہ میں نہیں لے جاسکتا ٹھیک ہے لیکن ایک بات سن لو وہاں جاکر کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں کرنی اور تم تیار ہوجاﺅں میں بھی چینج کرلیتا ہوں میں تیار ہوں آپ تیار ہولیں ویسے اسی طرح بھی آپ بہت ہینڈسم لگ رہے ہو اس نے میری طرف پھر مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور اپنے کمرے میں گھس گیا تھوڑی دیر کے بعد کپڑے چینج کرکے باہر نکل آیا اور مجھے کہنے لگا چلو جلدی کرو اور واپس بھی جلدی آنا ہے اس وقت رات کے تقریباً نو بج رہے تھے میں جلدی سے باہر نکلی اور گاڑی میں بیٹھ گئی اس نے دروازہ لاک کیا اور گاڑی میں آبیٹھا اور ڈرائیونگ کرنے لگا ہم لوگ سنٹرل لندن کے ایک بڑے کلب کے باہر پہنچ گئے جہاں اس نے ایک جگہ گاڑی پارک کی اور ہم لوگ اندر چلے گئے اندر داخل ہوئے تو اندر تیزانگلش میوزک چل رہا تھا اور تیز روشنیوں میں لڑکے لڑکیاں اچھل کود رہے تھے وہ مجھے لے کر کلب میں ایک سائیڈ پر ایک ٹیبل پر آبیٹھا میں میوزک اور ڈانس کرتے لڑکے لڑکیوں کو دیکھ رہی تھی اور میرا دل کررہا تھا کہ میں بھی ماجد کے ساتھ ڈانس کروںتھوڑی دیر ایسے ہی بیٹھے رہنے کے بعد میں نے ماجد سے کہا کہ یہاں ایسے ہی بیٹھیں رہیں گے یا کوئی ڈرنک وغیرہ بھی لینی ہے مجھے کہنے لگا تم بیٹھو میں کوک لے کر آتا ہوں میں نے اس سے کہا نہیں آپ بیٹھیں میں لے کر آتی ہوں وہ اٹھنے لگا لیکن میں اس سے پہلے اٹھ چکی تھی جس پر وہ بیٹھ گیا اور اس نے اپنے پرس سے مجھے کچھ رقم دی میں نے کاﺅنٹر پر جاکر بیئر کے دو گلاس لئے اور ٹیبل پر آگئی بیئر دیکھ کر وہ غصے کے انداز میں بولا یہ کیا لے آئی ہو میں نے تم سے کہا تھا کوک لانی ہے لیکن تم بیئر اٹھا لائی میں نے اس سے کہا کہ آپ کو بیئر نہیں پینی تو نہ پئیں میں دونوں گلاس پی لوں گی اور آپ کے لئے کوک لے آتی ہوں اس نے مجھے کہا میں نہیں پیتا اور تم کو بھی نہیں پینے دوں گا لیکن میں نے ضد کی تو وہ خاموش ہوگیا میں پھر اٹھی اور اس کے لئے کوک لے آئی اور ٹیبل پر بیٹھ کر بیئر کا گلاس اٹھا لیا جیسے ہی میں نے بیئر کا پہلا گھونٹ لیا اف ف ف ف ف اتنی کڑوی مجھے الٹی(قے) آنے لگی لیکن میں جیسے تیسے وہ گھونٹ پی گئی ٹھنڈی ٹھنڈی بیئر جیسے جیسے میرے حلق سے نیچے جارہی تھی میرے اندر ٹھنڈ پڑتی جارہی تھی میں نے پہلے گھونٹ کے بعد گلاس ٹیبل پر رکھ دیا اور پہلے ماجد کی طرف دیکھا پھر ڈانس کرنے والوں کو دیکھنے لگی ماجد بھی ایک ایک گھونٹ کوک پی رہا تھا تھوڑی دیر کے بعد میں نے اپنا گلا س پھر اٹھایا اور پورا گلاس بیئر اپنے اندر انڈیل لیا اور گلاس دوسری طرف رکھ کر دوسرا گلاس اپنے پاس کرلیا ماجد نے یہ گلاس میرے سامنے سے اٹھایا اور ٹیبل کے نیچے پڑی باسکٹ میں انڈیل دیا میں نے اس پر اس سے احتجاج کیا لیکن اس نے میری بات ان سنی کردی خیر میں خاموش ہوگئی اور ڈانس دیکھنے لگی تھوڑی دیر کے بعد مجھے ہلکا ہلکا سا نشہ ہونے لگا مجھے ایسے معلوم ہورہا تھا جیسے میں ہوا میں اڑ رہی ہوں میرے جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑنے لگا میرا دل کررہا تھا کہ میں بھی دوسرے لڑکے لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کروں لیکن میں ماجد کی موجودگی کی وجہ سے خاموش تھی آخر میں نے ہمت کرکے ماجد سے کہہ دیا ماجد چلیں آپ اور میں بھی ڈانس کریں نہیں چلیں نہ تم حد سے بڑھ رہی ہو میں اسی لئے تم کو نہیں لا رہا تھا اب آگئے ہیں تو تھوڑا سا ڈانس کرلیں نہیں میں نہیں کرسکتا تو ٹھیک ہے میں اکیلی ہیں چلی جاتی ہوں چلی جاﺅ میں اٹھی اور دوسرے لڑکے لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کرنے لگی مجھے ایک سرور سا مل رہا تھا ڈانس کے دوران ہی اچانک ایک افریقی نژاد لڑکا میرے پاس آیا اور مجھے اپنے ساتھ ڈانس کی دعوت دی میں نے اس کی دعوت قبول کرلی اور اس کے ساتھ ناچنے لگی اچانک ہی اس لڑکے نے ڈانس کرتے کرتے میرے جسم کوچھونا شروع کردیا ایک دو بار میں نے اس کا ہاتھ جھٹکا لیکن وہ باز نہ آیا اور مجھے کہنے لگا تم بہت خوب صورت ہو مجھے تمہارے ساتھ ڈانس کرکے بہت اچھا لگ رہا ہے کیا تم میری گرل فرینڈبنو گی میں اس کی بات سن کر تپ گئی لیکن بولی کچھ نہ میں ڈانس چھوڑ کر واپس آنے لگی تو اس نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور کہنے لگا خوب صورت لڑکی میرے ساتھ ڈانس کرتی رہو میں نے اس سے خود کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی اب میں ماجد کی طرف دیکھنے لگی اس نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو اٹھ کر آیا اور لڑکے کو جانے کیا کہا اور مجھے بازو سے پکڑ کر ٹیبل پر آگیا یہاں آتے ہی اس نے مجھے اچھی خاصی سنائیں لیکن میں چپ رہی بیئر میرے پیٹ میں کچھ گڑ بڑ کررہی تھی مجھے قے آرہی تھی لیکن میں اسے ضبط کئے بیٹھی رہی آخر کب تک تھوڑی دیر بعد مجھے قے آگئی اور میں نے ٹیبل پر ہی قے کردی جس سے میرے کپڑے بھی خراب ہوگئے ایک کے بعد دوسری اور تیسری جانے کتنی بار یہاںبیٹھے بیٹھے مجھے قے آئی اور میں بے حال سی ہوکر ٹیبل کے اوپر اوندھے منہ گر گئی پھر ماجد مجھے پکڑ کر گاڑی تک لایا اور مجھے گاڑی میں بٹھا کر خود گاڑی چلانے لگا راستے میں میں جانے کیا کہتی رہی مجھے نہیں معلوم کہ کب گھر آیا اور ماجد مجھے کب اور کیسے گاڑی سے اتار کر میرے کمرے میں لایا مجھے نیند آگئی صبح میں نو بجے کے قریب اٹھی تو ٹی وی لاﺅنج میں عدنان بھائی اور ماجد باتیں کررہے تھے مجھے لگا کہ ماجد نے سب کچھ بھائی کو بتادیا ہوگا اور اب میرا یہاں مزید رہنا ممکن نہیں رہے گا آج ہی بھائی میری واپسی کی ٹکٹ کروا کے واپس بھجوادیں گے خیر میں انہی سوچوں میں تھی کہ میری نظر میرے کپڑوں پر پڑی میں نے دیکھا کہ رات والے کپڑے میرے جسم پر نہیں تھے بلکہ سونے کے لئے گھر میں رکھی شلوار قمیص میرے جسم پر تھی میں حیران رہ گئی کہ رات کو ماجد نے میرے کپڑے بھی تبدیل کردیئے تھے خیر میں باہر نکلی ماجد اور بھائی کو گڈ مارننگ کہا بھائی نے مجھے دیکھا اور کہنے لگے اٹھ گئی شہزادی صاحبہ صبح سے چائے کے انتظار میں بیٹھیں ہیں مجھے سونا تھا لیکن ماجد نے مجھے سونے نہیں دیا بتا رہا تھا کہ تم لوگ رات کو کلب میں گئے تھے عاصمہ تم نے دیکھا ماجد بہت اچھا ڈانس کرتا ہے میں گھبرائی ہوئی تھی کچھ نہ بولی اور باتھ روم میں گھس گئی نہا کر فریش ہوئی اور پھر کچن میں جاکر چائے بنائی اور ان کے پاس ہی آن بیٹھی اور انتظار کرنے لگی کہ کب بھائی میری کلاس لینا شروع کرتے ہیں مگر ایسا کچھ نہ ہوا تھوڑی دیر کے بعد بھائی چائے پی کر سونے کے لئے اپنے کمرے میں چلے گئے اور میں نے چور نظروں سے ماجد کی طرف دیکھا تو وہ میری طرف دیکھ کر ہلکا ہلکا سا مسکرا رہا تھا میں نے نظریں نیچی کرلیں اور تھوڑی دیر بعد پھر نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور اس کو کہا سوری کس بات کی سوری وہ میں نے آپ کو رات کو بہت تنگ کیا نہیں کوئی بات نہیں اس میں تمہارا کیا قصور ہے میں خاموش ہوگئی اور تھوڑ ی دیر کے بعد پھر بولی ” میرے کپڑے رات کو آپ نے چینج کئے تھے“ وہ تھوڑا سامسکرایا اور پھر کہنے لگا ہاں آپ نے رات والے واقعہ بھائی کو بھی بتادیا ہے یا نہیں نہیں ویسے تم ہو واقعی ہی بہت خوب صورت میں اس کی بات سن کر خوش ہوگئی اور اس کی طرف دیکھنے لگی اب مجھے اس سے شرم آرہی تھی آخر کار میں جیت گئی تھی ماجد میری زندگی میں آنے والا پہلا لڑکا تھا اور میں پہلی بار اس کے منہ سے اپنی تعریف سن رہی تھی میں اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور بیڈ پر اوندھی ہوکر لیٹ گئی مجھے اب ہر چیز اچھی لگ رہی تھی اور ہر چیز پر پیار آرہا تھا میں نے تکیہ لیا اور اس کے زور سے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا خیر اب ہماری دوستی کی شروعات ہوچکی تھی اب ہر روز ہم لوگ کسی نہ کسی جگہ آﺅٹنگ کے لئے جاتے لیکن کبھی بھی ماجد نے مجھے چھوا بھی نہیں تھا دن گزرتے گئے ایک روز میری طبیعت خراب تھی اور میں کالج نہ گئی ماجد اپنی جاب پر چلے گئے میں اپنے کمرے میں ہی لیٹی رہی جبکہ بھائی اپنے کمرے میں سوئے ہوئے تھے نو بجے کے قریب مجھے دروازہ کھلنے کی آواز آئی میں نے سوچا بھائی اٹھے ہوں گے کسی کام کے لئے دروازہ کھولا ہوگا میں اپنے کمرے میں ہی لیٹی رہی تھوڑی دیر کے بعد مجھے ٹی وی لاﺅنج سے آوازیں آنے لگیں ان میں بھائی کے ساتھ کسی خاتون کی بھی آواز شامل تھی دونوں انگریزی زبان میں کچھ بول رہے تھے میں اٹھی اور دروازہ ہلکا سا کھول کر دیکھا تو عدنان بھائی ایک گوری خاتون کے ساتھ باتیں کررہے تھے تھوڑی دیر کے بعد دونوں کسنگ کرنے لگے میں ان کو دیکھ کر ہاٹ ہوگئی اور پھر سے دروازہ بند کرکے بستر پر لیٹ گئی وہ گوری خاتون ایک گھنٹہ سے زائد وقت گھر میں موجود رہی اور پھر چلی گئی بھائی پھر اپنے کمرے میں جاکر سو گئے شام کے وقت بھائی اٹھے تو میں نے ان کو محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں نے ان کو کسی خاتون کے ساتھ دیکھا ہے کھانے کے بعد بھائی بھی چلے گئے تھوڑی دیر کے بعد ماجد آئے اور ہم لوگ آﺅٹنگ کے لئے باہر گئے جہاں میں نے تمام واقعہ سے ان کو آگاہ کیا تو اس نے بتایا کہ وہ لڑکی سپین نژاد ہے اور اس کی بھائی کے ساتھ کافی عرصہ سے دوستی ہے تمہارے آنے سے پہلے وہ اکثر گھر آتی تھی لیکن تمہارے آنے کے بعد عدنان نے اسے گھر آنے سے منع کردیا تھا آج بھی عدنان کو معلوم نہیں تھاکہ تم کالج نہیں گئی اسی لئے اس کو بلا لیا خیر تم اس کے سامنے یہ ظاہر نہ کرنا کہ تم نے اس کو دیکھا ہے ورنہ وہ شرمندہ ہوگا اس دن کے بعد مجھے خواہش ہونے لگی کہ ماجد بھی میرے ساتھ کسنگ کرے لیکن وہ شائد پتھر کا بنا ہوا تھا ایک دن جب ہم لوگ آﺅٹنگ سے واپس آئے میں نے چائے بنائی اور ساتھ میں بسکٹ لے آئی میں نے ایک بسکٹ اٹھایا اور ماجد کے منہ میں ڈال دیا وہ میری طرف دیکھنے لگا خیر اس نے کہا کچھ نہیں اور بسکٹ کھا لیا اب میں توقع کررہی تھی کہ وہ بھی مجھے بسکٹ کھلائے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا خیر چائے کے بعد میں نے برتن اٹھائے اور اس کے پاس آکرصوفے پر اس طرح بیٹھ گئی کہ اس کے جسم کے ساتھ میرا جسم ٹچ ہورہا تھا وہ تھوڑا سا دوسری طرف سرکا اور میں پھر اس کے ساتھ ہوگئی وہ مزید سرکا اور میں مزید آگے ہوگئی پھر اس کی طرف جگہ ختم ہوگئی میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی وہ بھی میری طرف دیکھنے لگا میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور اس کے ہونٹوں پر ایک کس کردی اس نے مجھے پیچھے ہٹایا اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا میں بھی اٹھی اور اس کے پیچھے ہی اس کے کمرے میں چلی گئی اور اس کو جپھی ڈال لی میں نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے جکڑ لیا آج میں نے کسی بھی مرد کو پہلی بار جپھی ڈالی تھی میرے جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑ گیا اس نے بغیر کچھ بولے خود کو چھڑایا اور کمرے سے نکل کرخاموشی سے گھر سے باہر نکل گیا میں اس کی سرد مہری سے سخت نالاں تھی کافی دیر بعد جب وہ واپس آیا تو سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا میں اس کے پیچھے ہی اس کے کمرے میں چلی گئی اور اسکے ساتھ ہی اس کے بستر پر لیٹ گئی اس نے مجھے ایک بار روکا اور کچھ کہنے لگا لیکن میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کا منہ بند کردیا میں نے لیٹے لیٹے اس کو جپھی ڈال لی اور اپنی آنکھیں بند کرلیںاب اس نے بھی اپنے بازو میرے گرد کرلئے مجھے کافی سکون ملا تھوڑی دیر کے بعد میں نے اپنی آنکھیں کھولیں تو دیکھا وہ اپنی آنکھیں بند کئے لیٹا ہوا تھا میں نے سر کو اوپر اٹھایا اور اس کو ہونٹوں پر کس کردی اس نے اب اپنی آنکھیں کھول لیں اور مجھے اندھا دھند کسنگ کرنے لگا میں اس کی کسنگ سے مست ہوگئی اور خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا اس کا منہ میرے منہ پر اور اس کا ایک ہاتھ میرے مموں پر تھا اور وہ ہاتھ سے ہلکا ہلکا میرے مموں کو دبا رہا تھا جس سے مجھے بہت مزہ آرہا تھا میں جیسے ساتویں آسمان پر اڑ رہی تھی تھوڑی دیر کے بعد اس نے اپنا ہاتھ میری ٹی شرٹ کے اندر ڈال لیا اور میرے ممے کو پکڑ لیا اور میں سمٹ کر رہ گئی اس نے اپنی دو انگلیوں سے میرے نپل کو پکڑا اور اس کو ہلکا سا مسلا جس سے میرے منہ سے آہ ہ ہ ہ ہ ہ کی آواز نکل گئی تھوڑی دیر کے بعد اس نے میری ٹی شرٹ ہاتھ سے اوپر کی اور اپنا سر اٹھا کر میرے ایک نپل کو اپنے منہ میں لے لیا اور اسے چوسنے لگا اف ف ف ف ف ف ف کیا مزہ تھا میں مزے سے منمنا اٹھی میں آج ایک نئے مزے سے شناسا ہورہی تھی اور چاہتی تھی کہ جلدی سے جلدی اس کی انتہا کو پہنچوں مگر مزہ بڑھتا جارہا تھا اور جیسے جیسے مزے میں اضافہ ہورہا تھا میری خواہش مزید بڑھتی جارہی تھی تھوڑی دیر کے بعد وہ اٹھا اور مجھے بھی بازو سے پکڑ کر اٹھا یااور میری ٹی شرٹ اتار دی میں نے نیچے سے بریزیئر نہیں پہنا تھا جیسے ہی اس نے میرے مموں کو دیکھا اس کے منہ سے واﺅﺅﺅﺅﺅﺅ کا لفظ نکل گیا وہ پاگلوں کی طرح میرے مموں کو چوسنے لگا میں آہ آہ آہ کررہی تھی چند منٹ کے بعد اس نے مجھے کھڑا کیا اور میری جینز بھی اتار دی اور پھر میرے انڈر ویئر کو بھی نیچے کردیا اب میں اس کے سامنے بالکل ننگی کھڑی تھی مجھے بے حد شرم آرہی تھی میں نظریں نیچی کئے کھڑی رہی اب وہ اپنے کپڑے اتار رہا تھا پہلے اس نے اپنی ٹی شرٹ اور پھر نیکر اتار دی جب وہ بھی میری طرح ننگا ہوگیا تو اس نے میری ٹھوڑی پکڑ کر میرا منہ اوپر کیا اور میرے ہونٹوں پر ایک کس کردی میں ابھی بھی اپنی نظریں نیچی کئے کھڑی تھی اس نے ایک کے بعد دوسری کس لی اب وہ میرے ہونٹوں کو چوسنے لگا یہ دوسری کس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی میں نے اپنے دونوں بازو اس کے جسم کے گرد ڈال کر اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا اب مجھے اپنی ٹانگوں پر کسی سخت چیز لگنے کا احساس ہوا خیر میں اس کے ساتھ چمٹی رہی وہ چیز آہستہ آہستہ مزید سخت ہورہی تھی چند منٹ کے بعد اس نے میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ علیحدہ کئے تو میں نے اس کو پیچھے نہ ہونے دیا اور اس کے ہونٹ چوسنے لگی اس کے ہونٹوں سے مجھے عجیب سے مٹھاس مل رہی تھی اب مجھے اپنی پھدی سے پانی نکلتا محسوس ہورہا تھا پھر کچھ منٹ کے بعد میں نے اپنا منہ پیچھے کیا اور اس کا جسم دیکھا تو اس کا سینہ بالوں سے بھرا ہوا اور چوڑا تھا اس کا جسم کسی اتھلیٹ کی طرح مسکیولر تھا اب میری نظریں مزید نیچے چلی گئیں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان اس کا لن جو کافی لمبا تھا مجھے اس کی حقیقی لمبائی تو معلوم نہیں لیکن کم از کم یہ سات انچ لمبا ہوگا اس سے پہلے میں نے کافی بار نیٹ پر سیکسی سائٹوں پر بلیو فلمیں اور تصویریں دیکھی تھیں لیکن کسی بھی ایشیائی باشندے کا اتنا لمبا لن نہیں دیکھا تھا چند لمحے میں اس کو غور سے دیکھتی رہی مجھے اس کو دیکھتے ہوئے دیکھ کر ماجد مسکرا کر پوچھنے لگا کیا دیکھ رہی ہو میں نے انکار میں سرہلایا اور ایک بار پھر اس کے ساتھ چمٹ گئی اس نے پھر مجھے کسنگ شروع کردی اور پھر مجھے اس نے بیڈ پر لٹا دیا اور میرے ہونٹوں کے بعد میرے کانوں کوچوسنے لگا اب میرے مزے میں مزید اضافہ ہوگیا کانوں کے بعد اس نے میری گردن پر اور پھر پیٹ سے ہوتا ہوا میری ناف کے گرد اپنی زبان چلانے لگا اب یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہورہا تھا اور مجھے محسوس ہورہا تھا کہ میری پھدی سے پہلے سے زیادہ پانی نکل رہا ہے اب مجھے بیڈ بھی نیچے سے گیلا محسوس ہورہا تھا میں نے ماجد سے کہا اب بس کرو لیکن وہ باز نہ آیا اس نے میری ناف سے اپنی زبان ہٹائی اور پھر میری ٹانگوں کے درمیان میں آکر بیٹھ گیا اب اس نے میری دونوں ٹانگیں اپنے کولہوں کے گرد کرلیں اور اپنے لن کو ہاتھ سے پکڑ کر میری پھدی کے اوپر رگڑنے لگا میرے منہ سے ام م م م م م م کی آواز نکل گئی میرا دل کررہاتھا کہ اب ماجد جلدی سے اس کو اندر کردے لیکن وہ شائد ابھی مجھے مزید بے چین کرنا چاہتا تھا اس نے تقریباً دو منٹ تک اپنے لن کو میری پھدی کے اوپر رگڑا اب میں اپنی انتہا کو پہنچ رہی تھی میری ٹانگیں اچانک کپکپائیں اور میری پھدی سے ایک پچکاری نکل گئی اور ساتھ ہی میرا جسم ٹھنڈا پڑنے لگا لیکن وہ رکا نہیں اب وہ تھوڑا سا جھکا اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر پھر سے چوسنے لگا اس کا لن ابھی بھی میری پھدی کے ساتھ ٹچ ہورہا تھا لیکن اندر نہیں تھا مجھے اس کی چبھن محسوس ہورہی تھی لیکن یہ چبھن تکلیف دہ نہیں بلکہ مزہ دینے والی تھی تھوڑی دیر کی کسنگ کے بعد میں پھر سے تیار ہونے لگی اور اس کو رسپانس دینے لگی جس پر وہ سیدھا ہوا اور پھر سے اپنے ہاتھ سے لن کو پکڑ کر اس کو میری پھدی پر سیٹ کرکے اس کو تھوڑا سا رگڑا اور پھر اس پر تھوڑا سا دباﺅ دیا مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوئی میرے منہ سے ہائی امی جی ی ی ی ی ی کی آواز نکل گئی میں اس کے نیچے پڑی پڑی تھوڑا سا نیچے کو گھسک گئی اور اس کا لن میری پھدی سے باہر نکل گیا لیکن تکلیف نہیں رکی وہ پھر سے سیدھا ہوا اور اپنے لن کو پھر ٹارگٹ پر فٹ کر کے اس نے ایک ہلکا سا جھٹکا دیا میری تکلیف مزید بڑھ گئی مجھے ایسا محسوس ہورہاتھا جیسے کوئی لوہے کا گرم راڈ میری پھدی کے اندر میرے جسم کو چیرتا ہوا اندر گھسے جارہا ہے میں نے پھر نیچے کو گھسکنے کی کوشش کی لیکن اب اس نے مجھے اس طرح سے قابو کررکھا تھا کہ میں اپنی کوشش میں ناکام رہی میں نے اپنے دونوں بازو اس کے سینے پر رکھے اور اس کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن وہ پھر بھی نہ پیچھے ہٹا وہ میری پھدی پر اپنے لن کا دباﺅ مزید بڑھاتا جارہا تھا اور میری تکلیف بڑھتی جارہی تھی اچانک اس نے ایک زور سے جھٹکا دیا اور مجھے محسوس ہوا کہ میری پھدی پھٹ گئی ہے میرے منہ سے ایک چیخ نکل گئی میں نے اس سے کہا ماجد میں مرجاﺅں گی اس کو باہر نکالو مگر اس نے میری بات ان سنی کرکے ایک اور جھٹکا دیا اور میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے میں مرے جارہی ہوں مجھے چھوڑ دو میں مر گئی پلیز ماجد پلیززززززززز میں مر گئی مجھے چھوڑ دو مگر جیسے اس کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی تھی اس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک اور جھٹکا دے دیا اور پھر میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا میرا سر ایک طرف ڈھلک گیا اور پھر ہوش رہا اور نہ تکلیف چند لمحے بعد مجھے اس وقت کسی چیز کا احساس ہوا جب وہ میرے اوپر لیٹا ہوا تھا اور اپنے ہاتھوں سے میرے گال تھپتھپا رہا تھا” عاصمہ میری جان کیا ہوا ہوش میں آﺅ“ میں نے اپنی آنکھیں کھولیں تو پھر سے تکلیف کا احساس ہوا اس کا لن ابھی بھی میری پھدی کے اندر تھا میں نے آنکھیں کھولتے ہی پھر چیخنا شروع کردیا ماجد میں مر گئی مجھے چھوڑ دو اس کو باہر نکالو میں مر جاﺅں گی اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی اور اس نے میرے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا عاصمہ جتنی تکلیف ہونا تھی ہوچکی پہلی بار ہر لڑکی کو ایسی ہی تکلیف ہوتی ہے لیکن اب مزے آئیں گے تھوڑی دیر وہ ایسے ہی میرے اوپر لیٹا رہا اس نے مجھے کسنگ بھی شروع کردی اور اپنے ہاتھ سے میرے مموں کے نپل بھی مسل رہا تھا کبھی میرے مموں کو دباتا کچھ دیر کے بعد میری تکلیف تھوڑ ی سی کم ہوئی تو وہ پھر سے سیدھا ہوگیا اور اپنے لن کو اس نے میری پھدی سے نکالنا شروع کردیا میں سمجھی کہ اب کام ختم ہوگیا ہے لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ ابھی تو کام شروع ہونے والا ہے ابھی اس کا لن پورا باہر نہیں نکلا تھا کہ اس نے ہلکے سے اپنے لن کو پھر میری پھدی کے اندر ڈال دیا مجھے پھر تکلیف کا احساس ہوا لیکن یہ تکلیف پہلے کی نسبت کافی حد تک کم تھی اب وہ رکا نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اپنے لن کو میری پھدی کے اندر باہر کرتا رہا چند لمحوں کے بعد مجھے تکلیف کے ساتھ مزہ بھی آنے لگا تقریباً دو منٹ کے بعد میں پھر سے چھوٹ گئی لیکن وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھا اب میرے منہ سے آہ آئی ئی آہ اف ف ف میں مر گئی آہ ہ ہ ام م م م م (مزے اور تکلیف دونوں کی آواز) آوازیں آرہی تھیں تقریباً دو منٹ مزید جھٹکے دینے کے بعد اس نے تیزی سے اپنے لن کو میری پھدی سے باہر نکالا اور اس کے لن سے ایک پچکاری نکل کر میرے پیٹ پر گر گئی اب وہ فارغ ہوگیا تھا میں کافی حد تک نڈھا ل ہوچکی تھی اور میرا جسم ٹھنڈا ہورہا تھا وہ میرے اوپر ہی لیٹ گیا اور اس نے بیڈ سے ایک چادر بھی اوپر لے لی وہ لمبے لمبے سانس لے رہا تھا تھوڑی دیر کے بعد وہ میرے اوپر سے اٹھ کر پہلو میں آن لیٹا اس نے میرا سر اپنے کندھے پر رکھ لیا میری پھدی کے اندر اب بھی تکلیف ہورہی تھی ایک عجیب سی چبھن ہورہی تھی میں اس کے کندھے پر سر رکھ کر لیٹ گئی ہمارے اوپر چادر تھی میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور اپنا ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکھ لیا اور اپنی انگلیوں سے اس کے سینے کے بالوں کی کنگھی کرنے لگی تقریباً دس پندرہ منٹ کے بعد اس کے لن میں پھر سے حرکت محسوس ہوئی اس نے مجھے پھر سے کسنگ شروع کی لیکن میں نے اس کو پیچھے کردیا اور اسے بتایا کہ مجھے ابھی تک تکلیف ہورہی ہے تو وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا اب تکلیف نہیں ہوگی لیکن میں مزید کوئی رسک نہیں لیناچاہتی تھی خیر تھوڑی دیر کے بعد مجھے نیند آگئی اگلے روز علی الصبح اس نے مجھے اٹھایا اور کہنے لگا تم اٹھو اور اپنے کپڑے پہن کر اپنے کمرے میں چلی جاﺅ تھوڑی دیر بعد عدنان آنے والا ہے میں اٹھ کر باتھ روم چلی گئی میں نے اپنی پھدی کو پانی سے صاف کیا جیسے ہی پانی میری پھدی کے ساتھ لگا مجھے پھر سے جلن شروع ہوگئی پھر واپس آکر کپڑے پہننے لگی اور ماجد اٹھ کر باتھ روم چلا گیا میں نے دیکھا کہ بیڈ شیٹ پر خون کے دھبے لگے ہوئے تھے میں ان کو دیکھ کرخوف زدہ ہوگئی ماجد واپس آیا تو میں نے اس کو خون کے دھبے دکھائے تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اور اس نے ہنستے ہوئے بتایا کہ یہ تمہاری پھدی سے خون نکلا ہے تمہاری سیل ٹوٹ گئی ہے جس سے یہ خون نکلا ہے اس نے بیڈ شیٹ اٹھاکر الماری میں رکھی اور دوسری بیڈ شیٹ بچھا کر لیٹ گیا میں اپنے کمرے میں آکر لیٹ گئی اور لیٹتے ہی مجھے نیند آگئی صبح مجھے ماجد نے ہی اٹھایا اگلے روز بھی مجھے اپنی پھدی میں ہلکی سی جلن محسوس ہوتی رہی اس رات بھی جب عدنان بھائی جاب پر چلے گئے تو ماجد مجھے اپنے کمرے میں لے گیا لیکن میں نے اس کو کسنگ کے علاوہ کچھ نہ کرنے دیا کیونکہ مجھے ابھی بھی تکلیف محسوس ہورہی تھی اس سے اگلے روز ماجد نے پھر میرے ساتھ سیکس کیا اس کے بعد ہم لوگ ہر روز اکٹھے سوتے ہیں اور دوسرے یا تیسرے دن سکیس بھی کرلیتے تھے ہم لوگوں نے جب بھی سیکس کیا پہلے سے کئی گنا زیادہ مزہ آیا تقریباً دو ماہ بعد عدنان بھائی کو شک ہوگیا کہ میرے اور ماجد کے درمیان کچھ چل رہا ہے اس نے اس بارے میں مجھ سے بات کی تو میں نے اس کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ایسا کچھ نہیں ہے پھر بھائی نے ماجد سے بات کی تو اس نے بھی انکار کردیا لیکن عدنان بھائی نے کچھ دنوں کے بعدماجد سے کہا کہ وہ اپنے لئے کسی اور جگہ رہائش کا بندوبست کرلے جس کے بعد ماجد یہاں سے کسی اور جگہ چلا گیا اور ماجد بھائی نے بھی رات کی جگہ دن کی ڈیوٹی والی جاب ڈھونڈ لی اب بھی میں ماجد کے ساتھ کبھی کبھی دن کے وقت مل لیتی ہوں لیکن اس کے بعد اس کے ساتھ صرف ایک بار سیکس کا موقع ملا ہے
  7. یہ کہانی میں نے نیٹ سے لی ہے اور اس میں اپنی طرف سے کچھ اضافہ کر کے مکمل کیا ہے میرا نام علی ہے ۔فوزیہ ہمارے محلہ کی جانی مانی لڑکی کے طور پر جانی جاتی تھی اس نے محلہ کے ہر لڑکے کو لائن دی ہوئی تھی، ہر لڑکا فوزیہ کو چودنے کا دعویدار تھا بہرحال باوجود اس شہرت کے میری کبھی بھی فوزیہ سے کوئی تعلق اور شناسائی نہی رہی ، سکول اور کولج میں بھی دور دور ہی رہے جس دفتر میں میں نے کام شرو ع کیا کچھ عرصے کے بعد جب وہ بھی وہاں کام کرنے آئی تو مجھے تھوڑی سی حیرت بھی ہوئی کیونکے اس کے مضامین مجھ سے مختلف تھے مگر میرے کام میں ہر طرح کے گراجویت کی گنجائش تھی، خیر یہاں بھی میرا اور اس کا تعلق صرف محلے دار کی حد تک ہی رہا، کچھ عرصے بعد مجھے ایسا لگا کے دفتر کے لڑکوں میں فوزیہ مشہور ہونے لگی تھی جو کہ میرے لیے کوئی حیرت کی بات نہیں تھی ، اس کی عادت مجھے معلوم تھی اور میں صرف یہ دیکھ رہا تھا کے کون کون اس کے ہاتھوں بےوقوف بنتا ہے، میرا ایسا کوئی اس کی طرف جھکاؤ تھا اور میں اس کو زیادہ توجہ بھی نہیں دینا چاہتا تھا، دفتر کے لڑکے فوزیہ میں دلچسپی تو رکھتے تھے مگر شاید فوزیہ ان میں سے کسی کو بھی کوئی خاص گھا نس نہیں ڈال رہی تھی، ایک شام جب میں دفتر سے گھر جانے کے لیے نکلا تو فوزیہ گاڑی کے انتظار میں کھڑی تھی مگر رش کی وجہ سے کوئی بھی خالی ٹیکسی نہیں مل رہی تھی، مجھے بائیک سٹارت کرتے دیکھ کر وہ لپک کر میرے پاسس آئی اور مجھ سے درخواست کرنے لگی کہ میں اسے راستے میں اس کے گھر اتار دوں پہلے تو میں نے سوچا کہ منا کر دوں مگر پھر دل میں خیال آیا کے اب یہ کہاں خوار ہوتی پھرے گی، میں اسے آج چھوڑ دوں گا، میں نے فوزیہ سے کہا کہ میں اسے راستے میں اتار تو دوں گا مگر کیا اسے بائیک پر ڈر تو نہیں لگے گا تو وہ ہنس کر کہنے لگی کے ڈر کیسا میں تمہیں دبوچ کر بیٹھوں گی، جب تک تمھیں کچھ نہیں ہوگا مجھے بھی کچھ نہیں ہوگا، اسکی یہ بات سن کار مجھے بھی ہنسی آ گئی صاف لگ رہا تھا کے وہ مجھے بھی بیوقوف بنا نے کے ارادے سے آئی تھی میں نے بھی دل میں سوچا کہ کوئی بات نہیں اسے کوشش کر لینے دو، دیکھتے ھیں کہ کون کس کو کتنا بیوقوف بناتا ہے، فوزیہ کو بائیک پر بیٹھنے کا کافی اچھا تجربہ تھا جس کا احساس مجھے اس کے بیٹھتے ہی ہو گیا، میں نے فوزیہ سے کہا کہ مجھے راستے میں اپنے کپڑے اٹھانے ھیں اسے کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا جس پر اس نے کہا کہ کوئی مسلہ نہی ، جیسے ہی بائیک نے سٹارت لیا فوزیہ نے مجھے اپنے دونوں بازوں میں دبوچ لیا یہ پہلی بار تھا جب مجھے اس کے پوشیدہ خزانوں کا احساس ہوا اور اس کے ساتھ ایک بہت ہی نرم و ملایم لمس کا احساس ہوا جو بہت قابل ے قبول تھا، فوزیہ کا اس طرح سے مجھے پکڑنے سے مجھے کافی لطف آ رہا تھا اور میں دھیمے دھیمے بائیک چلاتا ہوا آگے جا رہا تھا، فوزیہ نے پیچھے سے پوچھا کے تم بائیک ہمیشہ اتنی ہی آہستہ چلتے ہو یہ آج کوئی خاص بات ہے، میں نے جواب میں کہا جب تمھیں معلوم ہے کہ کیا خاص بات ہے تو پوچھ کیوں رہی ہو، فوزیہ نے کہا آج تک تو تم نے مجھ سے کبھی بات نہی کی تو آج کیسے خاص وجہ ہو گئی میں نے بھی اسے کہا کے اس سے پہلے تم نے بھی تو مجھ سے کبھی بات نہی کی، تو وہ ہنسنے لگی ، ہنستے ہوے اس کے مممے میری کمر سے اور زیادہ ٹکرانے لگے جس سے مجھے اور مستی چڑھنے لگی اور میں بائیک کو آہستہ آہستہ جھٹکے دینے لگا ، یہ جھٹکے محسوس کر کے فوزیہ نے مجھ سے پوچھا تم جان بوجھ کر جھٹکے مار رہے ہو نا، میں نے جواب میں کہا کہ جب تمھیں اندازہ ہے تو کیوں پوچھ رہی ہو، منجو کہنے لگی کہ میں کوںفرم کر رہی ہوں کہ کہیں مجھے کوئی غلط فہمی تو نہی ہو رہی ،میں نے ایک اور زوردار جھٹکا دیتے ہوے فوزیہ سے کہا کے کوئی غلط فہمی نہی ہے، فوزیہ مجھ سے پوچھنے لگی کہ ہم دونوں ایک ہی گلی میں رہتے ھیں آور اتنے سالوں سے ایک دوسرے کو دیکھتے آ رہے ھیں تو پھر تم نے کبھی پہل کیوں نہی کی، میں نے تو کی بار تمہاری طرح دیکھا مگر تم ہی مجھے نہی دیکھتے تھے ، میں نے فوزیہ سے کہا کے تم تو ہر لڑکے کے ساتھ دوستی رکھی تھیں تو میں کیوں پھر تمھیں دوست بناتا، ہر لڑکا تو روز تمہاری چو ت مارنے کا دعوہ کرتا تھا ، یہ سن کر فوزیہ نے کہا کہ اگر ایسی بات تھی، تو ابھی تم کیوں اتنے مزے لے رہے ہو یہ سن کر میں نے فوزیہ سے کہا کے بس ایسے ہی مستی چڑھ گئی، فوزیہ یہ سن کار مجھ سے پوچھنے لگی کہ تمھیں یقین ہے، کہ مجھے سب دعویدار لڑکوں نے چودا ہوگا، فوزیہ کا یہ بے تکلفانہ سوال سن کار میں سوچ میں پڑ گیا اور سوچنے لگا کہ اس سوال کا کیا جواب دوں، میں نے کہا کہ میں کیا بول سکتا ہوں ، فوزیہ کہنے لگی کہ جواب ہاں یا نا میں دو، میں نے فوزیہ سے کہا کے اس طرح تو میں جواب نہی دے سکتا، فوزیہ نے کہا کے مجھے آج تک کسی بھی لڑکے نے ہاتھ تک نہی لگایا جس نے بھی کوشش کی میں نے اسے بھگا دیا کیونکے میں بچپن سے ہی تم سے پیار کرتی ہوں اور کسی کا مجھے چھونے کا سوال ہی پیدا نہی ہوتا، میں نے فوزیہ سے کہا کہ اب تم مجھے بھی بے وقوف بنا رہی ہو فوزیہ نے کہا کے تم کسی بھی لڑکے کو سامنے لے آؤ، میں دیکھتی ہوں کون میرے سامنے میرے منہ پر یہ بات کہ سکتا ہو، میں نے فوزیہ سے کہا کہ آخر تمہاری اس بات کا مطلب کیا ہے، فوزیہ نے مجھے پیچھے سے اور بھی زیادہ زور سے دباتے ہوے کہا کہ میں صرف اور صرف تم سے پیار کرتی ہوں اور صرف اور صرف تم سے ہی چدواوں گی اور جب تم مجھے چود و گے تو تمھیں خود ہی میری سچائی کا یقین آ جایے گا میں نے پوچھا وہ کیسے، تو فوزیہ کہنے لگی میری کنواری چو ت ہے، تمھیں پھاڑنے میں بہت محنت کرنی پڑے گی بس جب تمہارے پسینے چھوٹیں گے تو تمھیں خود یقین آ جایے گا، میں نے فوزیہ سے کہا کہ یقین نہی آ رہا ہے، تو فوزیہ کہنے لگی کہ یقین بھی آ جایے گا جس دن تم مجھے چودو گے، فوزیہ کی یہ بے باک باتیں سن کر مجھے بہت لطف آ رہا تھا اور یقین نہی آ رہا تھا کہ فوزیہ میرے بارے میں ایسا سوچتی ہو گی، فوزیہ اب پیار سے اپنے دونوں ہاتھ میرے سینے اور پیٹ پر پھیر رہی تھی اور میری گردن پر اپنے ہونٹ اور زبان رگڑ رہی تھی، فوزیہ کی اس حرکت سے میرا برا حال ہو رہا تھا، اور میری سمجھ میں نہی آ رہا تھا کہ کیا کروں میں نے فوزیہ سے پوچھا، فوزیہ تم اگر مجھ سے اتنا پیار کرتی ہو تو میں تمھیں کیسے چوم سکتا ہوں، فوزیہ یہ سن کر ہنسنے لگی اور کہنے لگی کے اب یہ بھی میں ہی بتا وں، کہ تم مجھے کیسے چوم سکتے ہو، مجھے چودنا ہے تو سارا انتظام تمھیں ہی کرنا ہوگا، مجھے تو صرف وقت بتا دینا، میں آ جا وں گی، پھر جہاں بھی تمہارا دل چاہے مجھے لے جانا میں صرف اور صرف تمہاری ہوں، فوزیہ کی یہ باتیں سن کر میرا برا حال ہوچکا تھا اور میرے لیے بائیک چلانا ممکن نہی ہو رہا تھا، راستے میں مجھے ایک سائبر کافے نظر آیا اور میں نے فورا اپنی بائیک وہاں روک دی سائبر کافے دیکھ کر فوزیہ ہنس پڑی اور مجھے پوچھنے لگی کہ کیا ارادہ ہے، میں نے کہا یار کافی پینے کا دل چاہ رہا ہے اور میل بھی چیک کرنا ہے، فوزیہ نے پوچھا سچی، میں نے کہا اب زیادہ باتیں نہی کرو ابھی تو تم نے کہا تھا کے تم صرف اور میری ہو، فوزیہ نے مزید کچھ نہی کہا اور اپنے چہرے کو دوپٹے سے چھپا لیا، اور بائیک سے اترنے کے بعد میرے اکڑے ہوے لنڈ کے ابھار کو دیکھتے ہوے کہنے لگی کے اپنے لنڈ کو تو بٹھاؤ صاف کھڑا ہوا نظر آ رہا ہے لوگ دیکھتے ہی سمجھ جائیں گے، میں بھی اپنے اکڑے ہوے لنڈ کو دیکھ رہا تھا، مگر لنڈ کو بٹھانا بالکل بھی ممکن نہی تھا، میں نے اپنی جیکٹ اتاری اور اگے رکھ لی ایسا کرنے سے سارا کام آسان ہو گیا، میری یہ چالاکی دیکھ کر فوزیہ بھی کھلکھلا کر ہنس دی اور میرے ساتھ سائبر کافے میں داخل ہو گئی استقبالیے پر ہمیں پرائویٹ کبین مل گیا ہم دونوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہی تھی، میں فوزیہ کو اور فوزیہ مجھے پیار بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے، کیبن میں داخل ہونے کے بعد میں نے اندر سے کنڈی لگائی اور جکٹ کو کرسی ٹانگ دیا، فوزیہ کرسی پر بیٹھ گئی، کبھی وہ شرما کر میرے لوڑے کو دیکھتی اور کبھی مجھے، فوزیہ نے مجھ سے کہا کہ تمہارا لنڈ تو میری توقع سے کہیں زیادہ لمبا اور موٹا لگ رہا ہے، میں نے کہا کہ ابھی تو تم نے دیکھا ہی نہی ہے، اور لمبائی چوڑائی کا اندازہ بھی لگا لیا تو وہ کہنے لگی اتنا بھرپور انداز میں تنا ہوا کھڑا ہے کسی اندھی کو بھی پتا چل جایے گا اس کی لمبائی اور چوڑائی کا، یہ کہتے ہوےٴ فوزیہ کی آنکھیں میرے لنڈ پر ٹک کر رہ گئیں اور اس کے چہرے پر شہواتی مسکراہٹ پھیل گئی وہ اپنی زبان اپنے ہونٹوں پر پھیر رہی تھی، فوزیہ کو بیچین دیکھ کر میری بھی بیقراری بڑھتی جا رہی تھی، میرا لنڈ بری طرح سے اکڑا ہوا تھا پھر اچانک فوزیہ نے اپنا ہاتھ میرے اکڑے ہوے لنڈ پر رکھ دیا، جس سے مجھےبڑے زور کا کرنٹ لگا اور میں اچھل پڑا، میری اس حرکت پر فوزیہ کو ہنسی آ گئی، اور وہ مجھے میٹھی نظروں سے دیکھتی ہوئی میری پنٹ کی زپ کھولنے لگی، فوزیہ کی انگلیوں کے لمس نے میرے جسم میں کرنٹ کی لہروں کو دوڑا دیا، فوزیہ نے بڑے پیار سے میرے لنڈ کو باھر کھینچ کر نکالا، میرا لنڈ باھر نکل کر تھوڑا سا لہرایا اور پھر تن کر فوزیہ کے چہرے کے سامنے کھڑا ہو گیا، فوزیہ بہت محبت کے ساتھ میرے کھڑے ہوے لنڈ کو دیکھ رہی تھی اور آہستہ آہستہ میرے لنڈ کی ٹوپی کو اپنے انگوٹھے سے مسل رہی تھی، فوزیہ کے مسلنے کی وجہ سے میرے لنڈ سے پانی کی پھواریں نکالنی شروع ہو گئیں تھیں اور میرے جسم میں مستی کی لہریں دوڑ رہیں تھیں، میں نے فوزیہ کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا اور اس کے گال سہلانے لگا میری یہ حرکت فوزیہ کو بھی بہت اچھی لگی اور وہ میرے لنڈ کو اپنی مٹھی میں لے کر میری مٹھ مارنے لگی ، مجھے فوزیہ کے مٹھ مارنے سے بہت مزہ آ رہا تھا اور میں ساتھ ساتھ ہلتا بھی جا رہا تھا، فوزیہ نے ایک دم مٹھ مارنے کی رفتار میں اضافہ کار دیا، جس کی وجہ سے میرے لطف دوبالا ہوتا جا رہا تھا، فوزیہ بڑی محویت کے ساتھ میری مٹھ مارے جا رہی تھی اور میں مست ہوا جا رہا تھا، مجھے فوزیہ کا مٹھ مارنا بہت اچھا لگ رہا تھا، تھوڑی دیر میں فوزیہ نے مٹھ مارنا روک دیا اور مجھے کہنے لگی تم میں بہت جان ہے، چھوٹ ہی نہی رہے ہو، میں نے کہا فوزیہ میری جان تمھیں اتنا آسان کیوں لگ رہا تھا تو وہ کہنے لگی واقعی یہ اس کی غلط فہمی تھی کہ وہ آسانی سے میری مٹھ مار کر پانی چھڑوا دی گی، مگر اب لگتا ہے اور بھی زیادہ منحت کرنی پڑے گی اور اس کے ساتھ فوزیہ نے اپنا بہت سارا تھوک میرے لنڈ پر اگل دیا، فوزیہ کے گرم گرم تھوک نے اور اس کی چکناہٹ نے فوزیہ کی مٹھی کو اور بھی غضبناک کر دیا، مجھے لگ رہا رہا تھا کہ میں کسی بھی لمحے چھوٹ جوں گا، میں نے فوزیہ سے کہا کہ وہ ٹشو پیپر پکڑ لے، میرا لنڈ پانی چھوڑنے والا ہے، فوزیہ نے فورن میرے لنڈ کو ٹشو پپیپر سے ڈھک دیا اور اسی لمحے میرے لنڈ نے ایک زور دار پیچکاری کے ساتھ منی اگلنی شروع کر دی، فوزیہ نے احتیاط کے ساتھ میری منی میرے لنڈ سے پونچھی اور نفاست کے ساتھ میرے لنڈ کو صاف کر دیا، مجھے اس وقت فوزیہ پر بہت پیار آ رہا تھا، میں نے فوزیہ پوچھا کہ اگر اسے بھی مٹھ لگوانی ہو تو مجھے بتاے، فوزیہ نے تھوڑا سا سوچا اور پھر رضا مند ہو گئی، میں نے کہا کتنا اچھا ہوتا اگر ہم گھر پر ہوتے تو ایک دوسرے سے مکمل طور پر فیضیاب ہوتے، فوزیہ نے کہا کہ گھر کا انتظام جلد کرنا کیونکے اب وہ مزید انتظار نہیں کر سکتی، خاص طور پر میرے اتنے شاندار لنڈ کی مٹھ مارنے کے بعد تو وہ بہت ہی بی چین ہو گئی تھی، ان ہی باتوں کے درمیان فوزیہ نے اپنی دونوں ٹانگیں کھول دیں، میں نے فورن اپنی انگلیاں فوزیہ کی چو ت پر پھیرنی شروع کر دیں جس کی وجہ سے فوزیہ پر مستی چڑھنی شروع ہو گئی اور وہ میرے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کو سختی سے دبانے لگی، فوزیہ کی شلوار بری طرح سے گیلی ہوئی وی تھی، میں نے اپنا ہاتھ فوزیہ کی شلوار کے اندر ڈال دیا، یہ میرے لیے بڑا ہی مزیدار کام تھا، فوزیہ کا شہوات سے برا حال تھا ، اس کے شہوت دانے پر میری انگلی لگتے ہی فوزیہ کی سسکیاں نکالنی لگیں، اس کے ساتھ ہی فوزیہ نے میری گردن میں اپنا بازو ڈال کر میرے چہرے کو اپنے چہرے کے سامنے لے آئی اور میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ملا کر میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی، فوزیہ نے میری انگلیوں کے ساتھ ہی اپنی چو ت کو بھی رگڑنا شروع کر دیا، فوزیہ بہت زیادہ گرم ہو چکی تھی، میرے ہونٹوں کو چاٹ چاٹ کر چوس رہی تھی، اور ساتھ ساتھ مجھ سے مٹھ بھی لگوا رہی تھی، پھر اچانک فوزیہ کے جسم میں زور زور کے جھٹکے لگنے لگے اور پھر ایک دم ہی فوزیہ کا جسم اکڑ گیا اور پھر وہ ایک دم بالکل ہی ڈھیلی پڑ گئی ، جس سے مجھے اندازہ ہوا کے فوزیہ فارغ ہو چکی ہے، میں بھی پھر فوزیہ کی چو ت کی صفائی کری ، اور پھر ہم دونوں نے ایک دوسرے کو سختی سے جکڑ کر ہونٹوں سے ہونٹوں کو جوڑ کر چوما لیا، فوزیہ بہت خوش تھی اور میرا بھی خوشی کے مارے برا حال تھا، فوزیہ نے مجھ سے پوچھا کے میرا کب تک اسے چودنے کا ارادہ ہے ، میں نے اسے کہا کہ اس ہفتے کی صبح کے لیے تیاری کروں گا، فوزیہ یہ سن کر بہت خوش ہوئی، اس نے کہا کے اسے جلد سے جلد میرا لنڈ اس کی چو ت میں چاہیے، فوزیہ نے کہا کے کہ ہو سکتا ہے ہفتے کی صبح اس کے سب گھر والے کسی کے گھر جایئں، اگر ایسا ہوا تو وہ مجھے بتا دے گی اور پھر تو کوئی مسلہ ہی نہیں ہوگا اپنے ہی گھر میں ، اپنے ہی پلنگ پر بے خوفی کے ساتھ چد نے کا لطف ہی کچھ اور ہوگا، یہ سن کر میں فوزیہ سے کہا کے تم نے تو سب سے بڑی مشکل حل کر دی، اب تو کوئی مسلہ ہی نہی رہا، بس اب تم پہلی فرصت میں اس پروگرام کو کنفرم کر ڈالو، تا که اس سلسلہ کو زیادہ مزیدار بنایا جا سکے، فوزیہ یہ سن کر کچھ سوچ میں پڑ گئی اور کہنے لگی کہ گھر پوہنچ کر میں تم کو فون کر کے کونفرم کرتی ہوں، بس اب جلد از جلد مجھے گھر پوہچاؤ، یہ سن کر میں نے فوزیہ کو ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا اور اسے اپنے سینے سے لگا کر زور سے بھینچ لیا، اور تیزی کے ساتھ اس کے ہونٹوں اور گالوں کو چومنا چاٹنا شروع کر دیا، یہ دیکھ کر فوزیہ نے کہا کہ اب آخری پانچ منٹ لے لو، اس کے بعد ہر حال میں یہاں سے نکل جانا ہے، ان آخر کے پانچ منٹ میں، میں نے فوزیہ کو خوب مزے لے لے کر چوما چا ٹا اور پانچ منٹ ختم ہوتے ہی باھر نکل آیے، دس سے پندرہ منٹ میں فوزیہ کو اس گھر پر اتار کر اند اپنے گھر پوہنچ گیا رات کا کھانا صحیح سے کھایا نہی گیا، ہر لمحے فوزیہ کے فون کر انتظار تھا، رات کو کوئی بارہ بجے کے قریب میرے موبائل کی گھنٹی بجی، فوزیہ کی آواز سن کر مجھے بہت اچھا لگا، فوزیہ نے مجھ سے پوچھا کے کیا کر رہے ہو، میں نے کہا کہ بس لیٹا ہوا ہوں، تو وہ ہنسنے لگی اور پوچھنے لگی کہ سیدھے لیٹے ہو یا الٹے، میں نے کہا کہ بس آ کر دیکھ لو، سچ میں الٹا ہی لیٹا ہوں، دونوں تکیے کے بیچ میں اپنے لنڈ کو دبا کر لیٹا ہوں، اور کیا کر سکتا ہوں، تم تو پاس ہو نہی ورنہ تمہارے ہاتھ میں دے کر سکون سے آنکھیں بن کر کے لیٹ جاتا، میری باتیں سن کر فوزیہ بے اختیار کھلکھلا کر ہنسنے لگی، اور کہنے لگی کہ تم بہت ہی سیکسی ہو، اتنی گرم گرم باتیں کرتے ہو کہ بغیر ہی کچھ کیے پانی چھوٹ جاتا ہے، یہ سن کر میں بھی ہنسنے لگا، اور فوزیہ سے پوچھا کہ کیا نئی تازی خبر ہے، اس نے کہا کہ تمہارے لیے اچھی خبر ہے، یہ سن کر میں خوشی کے مارے اچھل پڑا اور فوزیہ کو فون پر ہی چومنا شروع کر دیا، میرے چوموں کی آواز سن کر فوزیہ بھی بیقرار ہو گئی اور وہ بھی مجھے فون پر چومنے لگی، تھوڑی دیر کے بعد میں نے فوزیہ سے کہا کہ ایک دن بھی کافی مشکل سے گزرے گا، فوزیہ کا بھی یہی حال تھا، وہ بھی میرے لنڈ کو حاصل کرنے کے لیے بیتاب تھی، میں نے فوزیہ سے پوچھا کہ ہفتے کو تو ملاقات ہوگی ہی، مگر اس وقت کیا کریں، مجھے تو نیند آنے والی نہی تھی، اور یہی حال فوزیہ کا بھی تھا، میں اسے کہا کے کمپیوٹر پر آ جاؤ، ہم دونوں ایک دوسرے کو ننگا دیکھ کر مٹھ مار لیں گے،میرے اس خیال کو فوزیہ نے بہت پسند کیا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ہم دونوں اپنے ویب کیم کی مدد سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، میں نے فوزیہ سے کہا کے وہ اپنی قمیض اتارے، تو فوزیہ نے کہا کہ تم بھی اپنی قمیض اتارو، ساتھ میں ہی فوزیہ نے کہا کہ جیسے جیسے میں اپنے کپڑے اتاروں گی، ویسے ہی ویسے تم بھی اپنے کپڑے اتارتے جانا، میں فوزیہ کی بات سے پوری طرح متفق تھا، اور پھر فوزیہ کے ساتھ ہی میں نے اپنی قمیض اتار دی، اب میں تو ننگا تھا، مگر فوزیہ کی برا ابھی تک اس کے ممموں کو ڈھانپے ہوئی تھی، میرے فرمآ یش کرنے پر فوزیہ نے اپنی برا بھی اتار دی، اب ہم دونوں اوپر سے پوری طرح ننگے تھے اور خوب مزے لے لے کر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، پھر فوزیہ نے کہا کہ میں اپنی پینٹ اور انڈر ویر اتاروں، فوزیہ کی فرمائش میں نے فورن پوری کر دی، اب میرا لنڈ پوری طرح سے کھڑا ہوا تھا، جسے دیکھ کر فوزیہ بالکل ہی مست ہو گئی، اور اس نے اپنی شلوار اتار دی، اب ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر مزے لے رہے تھے، فوزیہ نے کہا کہ میں اپنے لنڈ کو بالکل کیمرے کے سامنے رکھوں، وہ میرے لنڈ کو خوب دل بھر کر دیکھنا چاہتی تھی، فوزیہ کہ رہی تھی کہ اس نے انٹرنیٹ پر بڑے بڑے لنڈ دیکھے، مگر وہ سوچ بھی نہی سکتی تھی، کہ ایک دن اسے بھی اتنا مضبوط اور تناور لوڑا مل جایے گا، وہ بہت خوش تھی، اور آہستہ آہستہ اپنی انگلی سے اپنی چو ت کو مسل رہی تھی، اس نے مجھے بھی کہا کے میں لنڈ کی ٹوپی کو اس کے لیے مسلوں، فوزیہ کی اس خواھش کو میں نے پورا کرنا شروع کر دیا، جیسے جیسے میرا ہاتھ میرے لوڑے پر چل رہا تھا، ویسے ہی فوزیہ بھیایک ہاتھ سے اپنی چو ت مسل رہی تھی، اور دوسرے ہاتھ سے اپنے مممے مسل رہی تھی،اس کے ساتھ ساتھ، اس کی دھیمی دھیمی مستی بھری آوازیں مجھے بھی مست کر رہیں تھیں، اور بلاخر ہم دونوں ایک ہی ساتھ چھوٹ گیے، تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد ہم دوں نے ایک دوسرے کو شب بخیر کہا، اور اس وعدے کے ساتھ، کہ جب آفس میں ملاقات ہوگی تو کچن میں ایک بھر پور کس کریں گے. اور پھر ہفتے کا پروگرام بھی فائنل کر لیں گے،دوسرے دن صبح میں فوزیہ کو راستے میں سے اٹھایا اور آفس پوھنچنے کے بعد سب سے پہلے کچن میں فوزیہ کو اپنی آغوش میں بھر کر خوب منہ بھر کر اس کے ہونٹوں کو چوسا اور چانٹا اور اس کے بعد کام میں مصروف ہو گیا، تھوڑی دیر کے بعد فوزیہ نے انٹر کام پر مجھے کہا کہ مجھے کچن میں ڈوبا ملوں، کچھ خاص بات کرنی ہے، پانچ منٹ میں ، میں دوبارہ کچن میں فوزیہ کو چوم رہا تھا، فوزیہ نے کہا کہ اس گھر والوں نے اپنا پروگرام فائنل کر لیا ہے، وہ سارے کے سارے کوئی چھ بجے وہ لوگ دوسرے شہر کے لیے نکل جایئں گے،اور دو دن کے بعد صبح کو واپس یں گے، مجھے فوزیہ نے کہا کہ میں کوئی سات بجے تک میں اس کے گھر پوہنچ سکتا ہوں، مگر اس سے پہلے مجھے اسے فون کر کے کونفرم کرنا ہوگا، جو میرے لیے کوئی مشکل کام نہیں تھا. فوزیہ سے میں نے پوچھا کہ چھہ سے سات کے پیچ میں وہ کیا کرے گی، تو وہ ہنس کر ٹال گئی اور کہنے لگی کہ خود ہی دیکھ لینا. بہرحال باقی کا سارا دن ایک دوسرے کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوے گزارا، اور شام کو فوزیہ کو اس کے گھر پر اتار کر اپنے گھر آیا اور پھر اپنے آپ کو دوسرے دن کی تیاری میں مصروف ہو گیا ، پہلے نائی سے بال کٹواے، پھر سارے بغل کے بال صاف کیے اور پھر جھانتوں کی صفائی کی اور صبح کے انتظار میں سونے کے لیے لیٹ گیا. رات جیسے جیسے گزر رہی تھی بیقراری تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی، نیند تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی، فوزیہ بھی فون کا جواب نہیں دے رہی تھی، جس کی وجہ سے اور تکلیف بڑھ رہی تھی، بہرحال جیسے ہی صبح کا اجالا دیکھا تو نہانے کے لیے دوڑا اور پھر شیو کر کہ تیار ہو کر وقت کے مزید گزارنے کا انتظار کرنے لگا، لگ رہا تھا کہ جیسے ہی فوزیہ کو دیکھوں گا، اسے بری طرح سے چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا، بہت زیادہ پیاس بڑھ چکی تھی تھی اور مزید کا انتظار بہت مشکل ہو چکا تھا، سات بجے کے قریب فوزیہ کی مس کال آئی جس کا مطلب تھا میدان صاف ہو چکا تھا، میں فورا گھر سے نکل کر فوزیہ کے گھر کی طرف چلنا شروع کر دیا اور کوئی دس منٹ میں اس کے گھر کی گھنٹی بجا رہا تھا کوئی ایک منٹ کے انتظار کے بعد دروازہ کھلا ، میرا خیال تھا کے فوزیہ خود دروازہ کھولے گی، مگر کوئی اور ہی لڑکی تھی جو بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی، حلانکے میری اور فوزیہ کی پوری اندر سٹانڈنگ تھی کہ فوزیہ میرا اکیلے ہی انتظار کرے گی، مگر ان خاتون کو دیکھ کر میں بری طرح سے گڈ بڑا گیا، ابھی میں اسی سوچ میں تھا کہ کیا بولوں ، مجھے آواز سنائی دی کہ کیا باھر ہی کھڑے رہو گے، اندر نہیں آنا کیا، میری حیرت کی انتہا نہیں رہی، کیونکے یہ آواز فوزیہ کی تھی، اور وہ میرے سامنے کھڑی تھی اور مسکرا رہی تھی، میں فورا اس کے گھر میں داخل ہو گیا، اور غور سے فوزیہ کو دیکھنے لگا، وو بالکل مختلف لگ رہی تھی، اس نے اتنی مہارت سے میک اپ کیا تھا کے اس کا چہرہ بالکل مختلف ہو گیا تھا، میں اسی محویت میں ڈوبا ہوا تھا جب فوزیہ نے میرے گال پر اپنا ہاتھ پھیرا اور کہا کیا پہلی بار دیکھ رہے ہو، میں نے اس کے ہاتھ کو چومتے ہوے کہا کہ ہاں تمہارا یہ روپ آج پہلی بار دیکھ رہا ہوں، تم کسی اپسرا کی طرح خوبصورت لگ رہی ہو، فوزیہ نے کہا یہ تیاری صرف اور صرف تمہارے لیے ہے، ویسے تم بھی بہت پیارے لگ رہے ہو، تمھیں ایک بات بتاوں، میرے گھر والے تو رات کو ہی چلے گیے تھے، مگر مجھے بہت ساری تیاریاں کرنی تھیں ، اس لیے تمھیں اس وقت بلایا، ایک تو مجھے خود تیار ہونا تھا، اور اس میں بہت وقت لگنا تھا، مگر اس سے زیادہ خاص چیز تھی، دو دن کے لیے کھانے پینے کا انتظام کرنا تھا، کیونکے اب اس وقت سے کل رات تک ہم اتنے مصروف ہوں گے ایک دوسرے میں کہ باھر جانے کا وقت نہیں ملے گا، اور میں تمھیں اپنے ہاتھوں سے بنا ہوا سارا کھانا کھلانا چاہتی ہوں، ویسے تو جب میں گھر سے چلا تھا تو میرا حال یہ تھا کہ میرا خیال تھا کہ فوزیہ کو دیکھتے ہی میں اس پر چڑھ جاؤں گا، مگر اس فوزیہ کو دیکھ کر میں بالکل ہی بدل گیا تھا، مجھے اپنے اندر ایک بڑی تبدیلی محسوس ہو رہی تھی، اب میں فوزیہ کو پہلے بہت غور سے دیکھنا چاہ رہا تھا، اس کا یہ روپ سب سے الگ تھا اور اور بہت ہی دلنشیں بھی تھا، میں نے اس کو پورا ننگا بھی دیکھا تھا اور خود اس کی مٹھ بھی مار چکا تھا، مگر آج فوزیہ نے مجھے بالکل اپنے لیے مہبوٹ کر لیا تھا، فوزیہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ڈرائنگ روم میں لائی، جو بڑی نفاست کے ساتھ سجا ہوا تھا، مجھے صوفے پر بیٹھا کر وہ میرے لیے ناشتا بنانے کے لیے کچن میں چلی گئی، اس کی چال بہت خوبصورت تھی، دونوں بھاری چوتڈ آپس میں ٹکرا تے تھے اور بہت ہی دلنشیں نظارہ پیش کرتے تھے، تھوڑی دیر میں ہم دونوں ناشتا ختم کر کے دوبارہ صوفے پر آ کر بیٹھ گیے، فوزیہ نے میوزیک آن کر دیا اور ہم اپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگے،میں فوزیہ میں گم تھا تھا اور اس کے خوبصورت سلے ہوے کپڑوں کو دیکھ رہا تھا، ایسا لگتا تھا کے وہ کپڑے اس کے جسم پر رکھ کر سینے گیے تھے، مموں کی گولائی ، کمر پر کسی ہوئی قمیض قیامت ڈھا رہی تھی، گلابی رنگ کی ریشمی قمیض اور سفید رنگ کی ریشمی شلوار اور اس پر سفید دوپٹہ فوزیہ پر بہت ہی جا زیب ے نظر لگ رہا تھا، فوزیہ کو بھی میری کپڑوں کی کمبینشن بہت اچھی لگی، وہ میرے پاس آ کر بیٹھی اور کہنے لگی، تم پر نیلا رنگ بہت اچھا لگتا ہے، اس وقت تم بہت پیارے لگ رہے ہو، اور ساتھ ہی میرے گالوں کو چوم لیا، مجھے فوزیہ کے ہونٹ اپنے گالوں پر بھر اچھے لگے اور اس کے چوموں کی حللاوت میٹھی میٹھی لگ رہی تھی، حلانکے میرا بھی دل چاہ رہا تھا کے میں اسے دبوچ لوں، مگر اس سے زیادہ میری خواھش تھی کہ فوزیہ مجھے پیار کرے اور اس کو بھی دل چاھے وہ کرتی جاے وہ کرتی رہے میں جب وقت آے گا تو پھر ساری کسر نکال لوں گا، فوزیہ میرے ساتھ لگ کر بیٹھی ہوئی تھی اور اس کا ایک ہاتھ میری کمر سہلا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے وہ کبھی میرے سینے کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی اور کبھی میرے سر کے بالوں میں کنگھی کرنے لگتی تھی، وہ ساتھ ساتھ مجھے جہاں بھی اس دی چاہتا تھا چومتی بھی جا رہی تھی، مجھ پر بھی آہستہ آہستہ مستی تری ہو رہی تھی، مگر پھر بھی مجھے لگ رہا تھا، کہ ابھی بہت وقت ہے، اور فوزیہ کا جو بھی دل چاھے وہ کرتی رہے میں ابھی اپنی طرف سے کوئی ابتدا نہیں کرنا چاہتا تھا، میرا ایک ہاتھ فوزیہ کی کمر پر تھا اور دوسرے سے میں بھی کبھی فوزیہ کے چہرے کو سہلا دیتا تھا یا پھر اوپر نیچے جہاں بھی ہاتھ پوہنچ سکتا تھا، وہاں سے اسے سہلا رہا تھا، فوزیہ کی آنکھیں لال ہوتیں جا رہیں تھیں، مگر وہ بھی شاید مطمئن تھی اور جلدی میں نہیں لگ رہی تھی، پھر فوزیہ اچا نک کھڑی ہو گئی اور میوزیک سیسٹم کو بہت تیز کر دیا، میں بڑے غور سے فوزیہ کی اس حرکت کو دیکھ رہا تھا اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا، فوزیہ پہلے تو جھکی ہوئی تھی، ہے پھر آہستہ آہستہ سیدھی کھڑا ہونا شروع ہوئی، مگر اس کے ساتھ ہی اس نے میوزیک پر تھرکنا بھی شروع کر دیا، یہ ایک اور دلنشیں نظارہ تھا، فوزیہ جیسے جیسے تھرک رہی تھی، اس کے جسم کا ایک ایک حصہ ساتھ ساتھ حل رہا تھا، اس کے رقص کرنے کی وجہ سے کمرے میں ایسا لگا کے کچھ اور ہی جان پڑ گئی، میں صوفے پر بیٹھا فوزیہ کو آہستہ آہستہ رقص کرتے ہوے دیکھ رہا تھا، اس میوزیک کی خاص بات یہ تھی، کہ آہستہ آہستہ وہ تیز ہوتا جا رہا تھا، اور اس کے ساتھ ساتھ فوزیہ کے پیروں اور جسم میں بھی شدت آتی جا رہی تھی، فوزیہ نے اپنے بلوں کو کھول دیا، جس نے اس کی خوبصورتی میں اور چار چاند لگا دیے، فوزیہ ناچتی جا رہی تھی، اور مجھے دیکھ کر مسکراتی جا رہی تھی، میرے قریب آ کر اس نے کہا، آج میں بہت خوش ہوں، آج میں نے تمھیں پا لیا ہے، آج میں تمھیں جی بھر کر پیار کروں گی، اور پھر اچا نک فوزیہ نے ناچتے ہوے مریر قریب آ کر اپنے آپ کو میرے اوپر گرا دیا، فوزیہ میرے اوپر آ کر گری تو میں نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا اور پہلی بار اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ پیوست کر دیے، ایک منٹ احتیاط کے ساتھ فوزیہ کا بوسہ لینے کے بعد، میں نے فوزیہ سے کہا کہ وہ دوبارہ رقص کرنا شروع کرے، کیونکے مجھے وہ ناچتی ہوئی بہت سیکسی لگ رہی تھی، میں اس کے جسم کے ہر حصے کو تھرکتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا، میری اس خواھش کو فوزیہ نے فورا پورا کیا اور دوبارہ سے ناچنا شروع کر دیا، اس بڑ اس نے مجھے بھی اپنے ساتھ کھڑا کر لیا اور مجھے اپنے جسم سے رگڑ رگڑ کر اور ٹکریں مارتے ہوے اپنے رقص میں تیزی لانے لگی، مجھے فوزیہ کی ادائیں بہت اچھی لگ رہیں تھیں، اس کے جسم کا لمس بہت ہی نرم اور ملایم تھا، جس کی واضح سے میرے پورے جسم میں تھرتھری سے پھیل رہی تھی۔ اس طرح ناچتے ناچتے فوزیہ نے اپنے کپڑے اتارنا شروع کیے سب سے پہلے اس نے اپنی قمیض اتاری پھر شلوار اتاری اور ساتھ ہی مجھے بھی کپڑے اتارنے کا اشا رہ کیا ۔اب ہم دونوں صرف شارٹس میں ھی ڈانس کر رہے تھے کمرے میں میوزک کی آواز سے خوابناک ماحول بنا ہوا تھا ۔ایسا لگ رہا تھ کہ جیسے ہم کسی اور ھی دنیا کے باسی ہو ۔ ہمیں ایک دوسرے کے سوا کسی بات کا ہو ش نہ تھا بلا آخر ڈانس کرتے کرتے ہم نے ایک دوسرے کو چومنا شروع کیا اور میں نے جب فوزیہ کی برا اتاری ہو اس کے ممے دیکھ کر حیران رہ گیا کیا قیامت تھی اس کی باڈی اور نرم ملائم اتنی کہ جیسے ریشم اور نپل لائٹ برائون بس پھر میں اس کے نپل کو منہ میں لیا چوسنے لگا کبھی ایک کو کبی دوسرے کو اور اسی طرح چومتے چومتے نیچے کی طرف آگیا اور اس کا انڈر وئیر بھی اتار دیا تازہ شیو کی ہو کیا آئوٹ کلاس پھدی تھی ایسی کہ جیسے لکیراور تھوڑی سی ابھری ہو ئی نرم ملائم جب میرے ہو نٹ اس کی پھدی پر لگے تو اس کے ہو نٹو ں سے مزے سئ سسکا ریا نکلنے لگی ۔اور ئس نے میرے سر اند کی طرف دبانا شروع کر دیا مین سمجھ گیا کہ اب یہ فارغ ہو نے والی ہے ۔چند منٹ بعد اس کا جسم نے جھٹکا کھا یا اور اس نے نےلمبے سانس لینے شروع کر دیے ائر اس کی پھدی نے نے نمیکین پانی چھوڑ دیا ۔ چند منٹ وہ اسی طرح لیٹی رہی اور پھر اس نے اُٹھ کر مجھے چومنا شرو کر دیا اس نے مجھے ہونٹو ں سے چو منا شروع کیا اور چومتے چومتے میرا انڈر وئیر اتا را تو میرا لن جو کی فل تیا تھا اس کہ منہ کے سامنے آگیا اس نے اس نے پہلےایک ہلکی سی کس اس کی کیپ پر کیا اور اور پھر کیپ کو منہ میں لے کر لو لی پاپ کی طرح چو سنا شروع کیا اور پورا لوڑا منہ میں لے لیا اور اس کو چو سنا شروع کر دیا جڑ سے لے کر کیپ تک کبھی سارا منہ میں لے جا تی کبھی نکال دیتی میرے منہ سے مزےکی وجہ سے سسکا ریا ں نکل رہی تھی کیا بتا ئوں کیتنا مزا آرہا تھا بس دل کرتا تھا کہ وقت یہں تھم جا ئے اور کبھی ختم نہ ہو مگر ہر خوا ہش کب پو ری ہو تی ہے اس کے منہ کی گرمی اور ہو نٹو کی نر میں نیے مجھے فارغ ہو پر مجبور کر دیا ۔اور میں مزے سے بھرپور آہ کے سا تھ اس کہ منہ میں ھی فارغ ہو گیا ۔اس نے میری منہ کا ایک بھی قطرہ باہر نہیں نکلنے دیا ۔ اس کہ بعد ہم نے تقریبا آدھا گھنٹا ریسٹ کیا اور پھر ایک دوسرے کے گلے لگ کر پیار کر نا شروع کیا اور پیار کر تے کرتے ہم 69پو زیشن میں آگئے اور اور ایک دوسرے کو سک کر نا شروع کر دیا سک کرتے کرتے جب میرا لو ڑا فل تنائو میں آ گیا تو فوزیہ نے کہا جانو ں اب اس کو میرے چوت کی سیر کرائوں اب مجھ سے صبر نہیں ہو تا پلیز اور چاہے میں کتنا ہی روکو ں ایک ھی جھٹکے میں میرے اند ڈالنا میں جتنی بھی تکلیف ایک ھی بار میں جھیلنا چا ہتی ہو ۔بس اس کا یہ کہنا تھا کہ میں نے اسے سیدھا کیا اور اس کی ہپ کے نیچے تکیہ سیٹ کیا اور اس کی دونوں ٹا نگو کو اٹھا کر اپنے کاندھو ں پر رکھا اور اپنے لو ڑے کو اس پھدی کے کٹ میں گھسا نے لگا اس نے کا یہ نہ کروں اصل کام کروں میری جان نکل رہی ہے ۔ اس کا یہ کہنا تھ اکی میں اپنے لؤڑے کی ٹو پی کو اس کے سوراخ کہ منہ پہ سیٹ کیا اور تھوڑا سا پیچھے ہو کراس کے ہو نٹوں پر ہو نٹ رکھ کر ایک زوردار جھٹکا مارا توآدھے سے زیا دہ لو ڑا اس پھدی میں چلا گیااور اس کے منہ سے چیخ نکلی اور اس کا جسم ایلک لمہے کے لیا تڑپا مگر میں کوئی آسرا نہ کیا اور ایک سکینڈ کا وقفہ لیتے ہو دوسرا جھٹکا اور زور سے ما را تو پورا کا پورا لوڑا فوزیہ کی پھدی میں گم ہو گیا ۔ فوزیہ کہ آنکھوں سے تکلیف کی وجہ سے آنسوں آگئے ۔میں نے ان آنسووں کو اپنے ہو نٹو ں سے چوس لیا اور چند لمحوں کی بعد جب فوزیہ نے آنکھیں کھہو لیں تو اس طرح چمک رہی تھی جیسے اس نے کو ئی خزا نہ پا لیا ہو ۔اس نے کہا جانو ں آج سے میں صرف اور صرف تمہا ری ہو ں ۔تم نے مجھے آج لڑکی سے عورت بنا دیا ہے ۔میں کہ انہیں آج تم کلی سے پھول بن گئی ہو جس کی خوشبو ں صرف مین ہی سونگھو ں گا ۔اس طر ح میں نے اور فوزیہ نے پہل مکمل سیکس کیا اور پھر دو دن تک جب تک اس کے گھر والوں کے آنے کا ٹا ئم نہیں ہو گیا اس وقت تک ہم ایک دوسرے سے پیا ر کرتے رہے اور سیکس کرتے رہے ان دو دنو ں میں ہم نے کو ئی دس با ر سیکس کیا اور ہر با مختلف طریقے سے کیا ۔ایسا لگتا تھا کہ بس دنیا میں ہی ہمیں جنت مل گئی ۔وہ دو دن ہما ری زندگی کے یا دگار دن تھے ۔اس کے بعد بھی کئی بار ہم نے سیکس کیا وہ پھر کبھی سہی ۔
  8. DR SHAHIB some personal reason i can can not get life time membership timely now please help me for this (life time membership) with thanks.you know i read you regular. lukyryk
×