Jump to content
URDU FUN CLUB

Hard Task

Members
  • Content count

    4
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Hard Task last won the day on October 31 2014

Hard Task had the most liked content!

Community Reputation

24

1 Follower

About Hard Task

  • Rank
    Junior Member
  1. Hard Task

    زندگی انجوائے کرو

    میرے پہلے سیکس کی سٹوری سن کر شاہینہ بولی ۔۔۔تم تو پھر سٹارٹ سے ہی کافی لکی رہے ہو۔۔۔ اب اس ساجد کا قصہ بتاؤ تا کہ اس کچھ بندو بست کروں۔۔ہاں تم اپنی مرضی سے اس کے ساتھ کچھ بھی کرتی رہو مجھے اعتراض نہیں ہے مگر یوں مجھے دھوکے میں رکھ کر ساجد کیساتھ سب کچھ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔۔ میری بات سن کر شاہینہ ن ے اپنا جھکا ہوا س اٹھایا اور بولی ! یقین کرو یہ سب مجھ سے نادانی میں اور مجبوری سے ہواہے ۔۔ اس سب میں میری مرضی شامل نہیں تھی۔۔ پھر وہ بتانے لگی ورکشاپ کے دوران اس سے گپ شپ ہو گئی تھی۔۔ بعد میں جب میں یونیورسٹی کے ایڈمشن کا پتہ کرنے آئی تومجھے یہاں آنٹی کا پاس رہنا پڑ گیاتا کہ ایڈمشن ٹیسٹ دے کر ہی واپس جاتی۔۔ اسی دوران اس سے بات ہوئی تو وہ مجھے یونیورسٹی ملنے آتا رہا۔۔ ایک دن وہ مجھے ایسے ہی گھمانے لے گیا ہم پھرتے رہے ادھر ادھر ااور پھر وہ مجھے ایک ہوٹل میں لے گیا۔۔۔ میں پوٹل میں نہیں جانا چاہتی تھی مگر ادھر تو تماشا لگ گیا تھا مزید بے عزتی سے بچنے کیلئے میں ہوٹل کے اندر چلی گئی۔۔ اندر گئی تو پتہ چلا اس نے تو پہلے ہی روم بکنگ کرائی ہوئی ہے۔نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے روم میں آنا پڑا۔ روم میں آتے ہی اس نے میر ی کسنگ سٹارٹ کر دی۔۔ کسنگ کے ساتھ ہی اس نے میرے بوبز پکڑ لئے اور دبانے لگا۔۔ میں نے مزاحمت کی تو ساجد نے میری قمیض پکڑ لی اور کھینچنے لگا اور بولا اب زیادہ بولی تو میں تماہری قمیض پھاڑ دوں گا اور تمہین ایسے ہی ننگا گھر جانا پڑے گا۔۔اور پھر اس نے مجھے اوپر سے ننگا کر دیا اور میرے بوبز چوسنے لگا۔۔ کچھ ہی دیر میں میں بھی گرم ہو گئی۔۔ مگر اس کے باوجود بھی میں اس کے ساتھ سیکس نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ ایسے ہی کسنگ کرتے ہوئے وہ ننگا ہو گیا اور اس نے اپنا لن میرے منہ میں دیدیا۔۔ اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو چوسنے لگی۔چند منٹ بعد وہ لیٹ گیا ۔ کچھ ہی منٹوں کی چسائی کے بعد وہ فارغ ہو گیا اور اس کے لن سے منی نکلی جو میرے منہ میں گئی اور پھر میں نے وہ ساری منی اس کے پیٹ پر پھینک دی ۔۔ باقی منی اس کی ٹانگوں پر گر گئی ۔۔ وہ اچھل کر اٹھا اورجسم دھونے کیلئے باتھ روم میں گھس گیا۔۔۔انہی لمحات کا میں نے فائدہ اٹھا یا اپنی قمیض اٹھائی اور روم کا دروازہ آرام سے بے آواز کھول کر باہر آگئی ۔۔ باہر کوریڈور میں کوئی بھی نہیں تھا میں نے سیڑیوں کی طرف جاتے ہوئے اپنی قمیض پہنی اور تیز تیز چلتی ہوئی اس گھٹیا سے ہوٹل سے باہر آگئی۔۔ جب میں اس کا لن چوس رہی تھی اسی دوران شائد اس نے میری ویڈیو بنا لی ہے۔۔۔۔۔یقین مانو احمد میں نے اس کا صرف لن ہی چوسا ہے اور وہ بھی مجبوری میں اس وقت تو مجھے پتہ نہیں چلا کہ اس نے کب میری ویڈیو بنائی مگر اب یہ تو بہت ٹینشن والی بات ہو گئی ہے کہ اس نے میری ویڈیو بنا لی ہے ۔۔ وہ تو کسی بھی وقت مجھے دوبارہ بلیک میل کر سکتا ہے ۔۔جانی کچھ کرو اور اس سے میری جان چھڑاؤ۔۔۔۔ شاہینہ کی بات سن کر میں سوچ میں پڑ گیا۔۔۔۔۔کہ اب کیا کروں
  2. Hard Task

    زندگی انجوائے کرو

    ساجد لاہور میں ہی ایک نجی یونیورسٹی میں ایم اے لاسٹ ائیر کا طالب علم تھا اور کوئی چار مہینے پہلے ایک ایجوکیشن ورکشاپ کے دوران وہ ہمارا واقف بنا تھا مگر مجھے یقین نہیں تھا کہ شاہینہ اس کے ساتھ اس قدر آگے چلی جائے جبکہ میں اسے ابتدائی ملاقات کے بعد ہی ساجد کی گھٹیا سوچ کے بارے میں آگاہ بھی کر چکا تھا۔ وہ مجھے وڈیو کلپ دکھا رہا تھا اور ساتھ میں پیسے کی ڈیمانڈ بھی کر رہا تھا۔ مجھے تو پہلے سے یقین تھا کہ وہ ایسا ہی گھٹیا تھا ۔ ہوا یوں تھا کہ ساجد نے مجھے فون کر کے بتایا تھا کہ وہ شاہینہ سے بہت کچھ کر چکاہے اور اس کی میرے ساتھ بے وفائی کا ثبوت بھی مجھے دیگا ۔ اب یہ اس کی بد قسمتی تھی کہ جب اس نے مجھے فون کیا تھا تو شاہینہ اس رات بھی میرے ہی بیڈ پر تھی اور ہم دونوں ننگے ہی لیٹے ہوئے تھے۔ جس وقت ساجد کا فون آیا میں شاہینہ کی چوت میں لن ڈالے دھنا دھن اس کی چدائی کر رہا تھا ۔ میں نے کال اگنور کر دی اور شاہینہ کی چدائی جاری رکھی ۔شاہینہ کوئی دو دفعہ فارغ ہو چکی تھی مگر میرا لن ابھی تک فل جوبن پر تھا۔ دوسری مرتبہ فارغ ہونے کے بعد شاہینہ نے مجھے لن باہر نکالنے کا حکم دیا ۔ میں نے اسے کہا کہ ابھی تو میں فارغ نہیں ہو ا تواس نے کہا کہ میری بس ہو گئی ہے نکالو باہر۔۔ میں نکال لیا اور سیدھا لیٹ گیا۔ شاہینہ نے اپی سانس بحال کی اور پھر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر میرا لن اپنے منہ میں لے لیا۔ ساتھ ہو بولی ! ساجد کی کال کیوں آرہی تھی تمہیں۔۔مجھے کیا معلوم۔ میرا جواب سیدھا سا تھا مگر وہ چڑ گئی اور بولی ! اسے کال کرو اور پوچھو کیا مسئلہ ہے۔۔۔ رہنے دو۔ مجھے وہ ایک آنکھ نہیں بھاتا اس لئے میں اس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔مگر اس کے اصرار پر مجھے کال کرنی ہی پڑی۔۔ ساتھ ہی میں نے لاؤڈر کا بٹن آن کر دیا تھا ۔ شاہینہ بدستور میرا لن چوس رہی تھی اور بات چیت کے دوران مجھ سے سسکیاں کنٹرول کرنا دشوار ہو رہا تھا۔ رسمی سلام دعااور چند ادھر ادھر کی باتوں کے بعد ساجد نے اپنا مدعا بیان کر دیا ۔۔جیسے ہی اس نے شاہینہ کیساتھ سیکس کرنے کا انکشاف کیا میرے تو چودہ طبق روشن ہو گئے ساتھ میں ہی شاہینہ کی منہ بھی کھلے کا کھلا رہ گیا میں ہی کیا وہ بھی سوچ نہیں سکتی تھی کہ یوں اس کا پول کھل جائے گا۔ میرا لن اس کے منہ میں تھا اور وہ اس کو چوپے لگانا بھی بھول گئی تھی۔ اور جب میں نے ساجد کی بات ماننے سے انکار کر دیا تو ساجد نے مجھے چیلنج کرتے ہو لاہور بلالیا تھا۔۔۔ میں نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ فوری ہی اسے اگلے دن لاہور میں ملنے کا وعدہ کر لیا۔ کال بند کرتے ہی شاہینہ کے آنسو رواں ہو گئے اور لگی مجھ سے معافیاں مانگنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے آنسو مجھے سمجھانے کیلئے کافی تھے کہ ساجد جھوٹ نہیں بول رہا شاہینہ کو مزید شرمندہ کرنے کی بجائے میں نے اس سے پو چھا کہ مجھے تفصیل سے سب بتائے تا کہ ساجد کا کوئی علاج کیا جا سکے۔ مگر اس کے منہ سے ایک ہی الفاظ نکل رہے تھے’’مجھے معاف کر دو۔ مجھ سے غلطی ہو گئی‘‘ او ! پاگل کچھ تو بتا کہ کیا ہوا تھا تا کہ اسی کے مطابق کچھ سوچوں۔ میں تفصیل نہیں بتا سکتی مگر تم نے ایسا اس کے ساتھ کیا ہی کیوں۔۔ میں نے اس کی ننگی گانڈ پر ایک تھپڑ لگاتے ہو ئے کہا۔۔ ہلکی سی سسکی کیساتھ اس نے کہا ۔۔۔بس غلطی ہو گئی ہے ۔ اب تم پوچھنا بند کرو۔۔ مجھے شرم آتی ہے ۔ میں نہیں بتا سکتی۔ جانی بتاؤ گی تو پھر ہی اس کا علاج ہو سکے گا۔۔ میں نے اس کے مموں کو زور سے دباتے ہوئے کہا۔۔۔ تم نے آج تک اتنی لڑکیوں سے کیا ہے ۔ اپنی بیوی سے بھی کرتے ہو میں نے کبھی تم سے تفصیل پوچھی ہے ۔ اب مجھ سے پہلی غلطی ہو گئی ہے تو تم نخرے دکھا رہے ہو۔۔ یار وہ تمہیں اور مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا فون نہیں سنا تم نے۔۔۔ سن لیا ہے اس حرامزادے کا فون۔۔۔ مگر میں تم کو تفصیل نہیں بتا سکتی بتانا تو پڑے گا ہی۔۔میں نے معنی خیز لہجے میں کہا۔ شاہینہ نے چالاکی سے میری چال مجھی پر الٹا دی اور بولی پہلے تم اپنی سیکس کہانی سناؤ پھر میں تمہیں بتاؤں گی کہ کیا ہوا تھا۔۔ شاہینہ کوئی پہلی یا آخری لڑکی نہیں تھی کہ جس سے میں نے سیکس کیا تھا۔مگر شاہینہ کیساتھ میرا تعلق صرف سیکس کا نہیں تھا۔ اگرچہ ہمارا باقاعدہ نکاح تو نہیں ہوا تھا مگر ہم دونوں ایک دوسرے کو میاں بیوی ہی سمجھتے تھے۔ یہ بھی سچ ہو کہ میں شادی شدہ تھا اور شاہینہ کیساتھ ملاقات سے پہلے ہی میری شادی ہو چکی تھی اور شاہینہ بھی جانتی تھی کہ میں شادی شدہ ہوں اور پہلے بھی کئی ایک لڑکیوں سے سیکس انجوائے کر چکا ہوں۔ مگر پہلے کبھی اس نے مجھ سے تفصیل پوچھی اور نہ میں نے بتائی تھی۔ آج اس نے پوچھ ہی لیا تو میں نے اسے بتایا ۔۔۔ میری زندگی میں پہلی لڑکی چندہ آئی تھی جس کے ساتھ میں نے سیکس تو نہیں کیا تھا مگر سیکسی حرکات ضرور کی تھیں۔ حمیرا پہلی لڑکی تھی جس کے ساتھ میں نے سیکس کیا تھا ۔۔ اس وقت میری عمر محض سولہ سال تھی۔ حمیرا ہمارے ہمسائے کے انکل انتصار کی بھتیجی تھی ۔ انکل انتصار آفس جاتے تھے تو ان کی بیوی ایک سکول میں پڑھاتی تھیں ۔بچے سکول جاتے تھے۔ تو انکل حمیرا کو اپنے گھر لے آئے کہ دن کے وقت وہ گھر میں تو رہے گی۔ پہلی ہی شام میں وہ قریبی پارک میں اپنی کزن شمائلہ اور انعام کیساتھ ٹہل رہی تھی کہ میری نظر پڑ گئی۔ شمائلہ اور انعام کیساتھ تو میں فری تھا مگر انکے ساتھ کوئی ایسی ویسی بات نہیں تھی۔مگر حمیرا سمارٹ سی حمیرا کے بڑے بڑے ممے مجھے پہلے ہی نظر میں بہت سیکسی لگے اور میری نظر جیسے ان پر چپک سی گئی تھی۔۔ حمیرا نے بھی یہ بات محسوس کر لی تھی اور اس نے کھنکھار کر میری توجہ اپنی طرف کرائی۔ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہی اس کے مموں کی طرف اشارہ کیا تو وہ مسکرا دی اور یہ میرے لئے بہت بڑی کامیابی تھی۔ اگرچہ میں نے اس وقت تک چدائی نہیں کی تھی مگر چھیڑ خانی اتنی زیادہ کر چکا تھا اور سیکسی موویز اتنی زیادہ دیکھ چکا تھا کہ سیکس کے بارے میں بہت کچھ جان چکا تھا۔پارک میں ٹہلتے ٹہلتے جب دو تین دفعہ میں نے حمیرا کے مموں کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے ٹہوکا دیا۔۔۔ شام کا وقت تھا سورج ڈھل چکا تھا اور پارک میں کم ہی لوگ تھے اس لئے کوئی بھی ہماری طرف متوجہ نہیں تھا اسکے ٹہوکا دینے پر میں نے ہاتھ اس کے جسم سے ٹچ کیا تو اس نے صرف ایک لفظ’’صبر‘‘ بول کر مجھے خاموش بھی کرا دیا اور آس بھی دلا دی کہ یہاں ضرور میں کامیاب ہوں گا۔۔ اگلے دن میں معمول کے مطابق صبح ہی صبح اٹھ گیااور کالج جانے کو نکل ہی رہا تھا کہ اس سیکسی حسینہ کا مکھڑا ساتھ والے دروازے میں نظر آیا۔ اس نے میری طرف دیکھ کر کہا ’’ملنا نہیں ہے آج‘‘ یہ سن کر ہی میں باغ باغ ہو گیا اور گھر واپس جا کر کتابیں ایک طرف رکھیں اور باہر گلی میں آگیا۔ تھوڑی ہی دیر میں انکل انتصار اپنے آفس کونکل گئے ۔ کچھ ہی دیر میں آنٹی بچوں کو ساتھ نکل گئیں۔ چند ہی لمحوں بعد حمیرا نے گلی میں جھانکا اور مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ میں ان کے گھر میں بلا دھڑک داخل ہو گیا۔کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ اب حمیرا کے علاوہ اندر کوئی نہیں ہے۔ اندر جاتے ہی حمیرا مجھ سے لپٹ گئی اور میں نے بھی اسے اپنی بانہوں میں لیا اور ساتھ ہی اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے۔ چند لمحوں تک فرنچ کس کرنے کے بعد میں نے حمیرا کو اپنی بانہوں میں ایک گڑیا کی طرح اٹھا لیا۔ میرے چھے فٹ کے قد کے سامنے چار فٹ کی سمارٹ سی حمیرا ایک گڑیا ہی لگ رہی تھی۔ صرف اس کے ممے ہی تھے جو اس کو جوان ظاہر کرتے تھے ورنہ وہ ایک گڑیا ہی تھی۔ میں اسے اٹھا کر بیڈ روم میں لے آیا۔ اند لا کر میں نے اس کے ممے پکڑ لئے اور قمیض کے اوپر سے ہی ان کو مسلنے لگا ساتھ ہی ساتھ میں اس کو فرنچ کس بھی کر رہا تھا۔ پھر میں نے اس کی قمیض اتار دی اور ساتھ میں ہی اسے برا سے بھی آزاد کر دیا۔ برا سے آزاد کرتے ہی میں نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اس کے ہیوی سائز کے مموں کو چوسنے لگا۔ میں اس کے نپلز چوس رہا تھا اور اس کے مموں پر زبان پھیر رہا تھا اور حمیرا کے منہ سے مزے سے ہلکی ہلکی سسکیاں نکلنے لگیں ۔ اسی دوران اس نے ہاتھ بڑھا کر شلوار کے اوپر سے ہی میرا لن پکڑ لیا۔۔ مجھے ایک جھٹکا سا لگا ۔ اور پہلی سوچ میرے ذہن میں یہی آئی کہ یہ سب کچھ جانتی ہے اور پہلے بھی سب کچھ کر چکی ہے۔ میں نے اسے چھوڑا اور اس کی شلوار اتار دی ۔ اس نے ہلکی سی مزاحمت بھی نہ کی اور اپنی شلوار اترتے ہی اس نے میری شلوار کا آزاربند کھول دیا تو میں نے اپنی شلوار بھی ٹانگوں سے نکال دیاور اپنی قمیض بھی اتار دی۔ میں ابھی اپنی قمیض اتار ہی رہا تھا کہ حمیرا نے میرا فل اکڑا ہوالن پکڑا اور سہلانے لگی ۔ اور پھر میرے کہے بغیر اس نے لن میں لے لیا اور اسے چوسنے لگی۔ لن کو اپنے منہ میں اچھی طرح گیلا کرنے کے بعد حمیرا نے مجھے اپنی ٹانگوں کے درمیان آنے کا اشارہ کیا اور بولی ! تڑپانا نہیں اب ۔ اس کو اندر ڈال دو۔۔۔ میرا تو تھا ہی پہلا مکمل سیکس ۔۔ حمیرا نے خود ہی اپنی ٹانگیں اٹھا لیں اور ان کو کھول لیا ۔ میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا اور لن کو اس کی چوت کے منہ پر رکھ دیا۔۔ وہ ہلکی سی سسکی۔۔ میں نے لن کو دھکا دیکر اند کرنا چاہا مگر میرا لمبا اور موٹا لن اند جانے کو تیار نہ ہوا۔۔ میں نے ایک زور کا دھکا دیا تو حمیرا کی چیخ نکل گئی اور میرا لن آدھے سے بھی کم اس کی چوت میں چلا گیا۔ میں نے اس کی چیخ سے بے پرواہ ہو کر ایک دھکا دیا اور لن پورے سے تھوڑا ہی کم اندر گھس گیا ۔۔ میں نے لن باہر نکالا اور ساتھ ہی دھکا دے کر پھر اندر گھسا دیا ۔۔ اب لن پورا اندر جا چکا تھا ۔ اب میں نے دھنا دھن اس کی پھدی میں لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔ ہر بار لن اندر باہر ہونے کے ساتھ ہی اس کے منہ سے سسکی نما چیخ نکلتی اور ساتھ ہی وہ نیچے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر میرا ساتھ دینے لگی ۔۔ کئی منٹوں کے دھکوں کے بعد اس کی چوت کی میرے لن پر گرفت مضبوط ہو گئی اور ساتھ ہی اس نے مجھے کمر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔۔ اور اس کی چوت میں پانی کا سیلاب آگیا۔۔۔ مگر میں ابھی بھی قائم تھا اور دھکے پر دھکالگاتا رہا ۔۔ اس نے مجھے روکنا چاہا مگر اب مشین چل چکی تھی اور پسٹم رواں تھا اب تو رکنے کا سوال ہی پید انہیں ہوتا تھا۔۔ مزید کئی منٹ تک چدائی کرنے کے بعد میں نے اس کی چوت کے اندر ہی پانی چھوڑنا شروع کیا تو وہ بھی دوسری بار فارغ اور ہی گئی اور اس کی چوت کا پانی اور میری منی اس کی چوت میں اکٹھا ہو گیا۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے مزے بھری اطمینان کی ہچکی نما آہ ہ ہ ہ نکل گئی۔۔۔ اور بولی! آج بہت دنوں بعد اتنا سکون ملا ہے ۔۔ احمد تم نے تو مجھے پر سکون کر دیا اف ف ف ف دوستو ! میں کوئی لکھاری نہیں ہوں ۔ پہلی بار لکھ رہا ہوں یہ الگ بات ہے کہ سچ لکھ رہا ہوں ۔ آپ لوگوں کے کمنٹس سے ہی مجھے پتہ چلے گا کہ میں اپنی اس پہلی کاوش میں کتناکامیاب ہوا ہوں
  3. Hard Task

    زندگی انجوائے کرو

    مجھے یقین نہیں آرہا تا کہ شاہینہ (نام تبدیل کیا ہوا ہے) میرے ساتھ ایسا بھی کر سکتی ہے۔ میرا اور اس کا تعلق چھے سال سے تھاابتدائی چند ہفتوں کے بعدہی ہمارا تعلق لگاؤ اور پھر جسمانی تعلقات میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اور کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ میں نے اس کی کوئی بات ٹالی ہو اور نہ ہی کبھی میں نے اس کی خواہشات کے برخلاف کوئی کام کیا تھا اس کے باوجود اس کی یہ حرکت مجھے پریشان کئے دے رہی تھی۔ ان چھے سالوں میں ہم نے ہم نے اتنا سیکس کیا تھا کہ اب تو شاہینہ کہنے لگی تھی کہ اس کی سیکس کی حس ہی ختم ہو گئی ہے اور یہ تھا بھی سچ کہ اب اس میں وہ گرم جوشی نہیں رہی تھی مگر اس کے باوجود اس کا ساجد جیسے گھٹیا شخص کے بیڈ پر چلے جانا اور اس کے ساتھ تما م حدیں پھلانگ کر جسمانی تعلق قائم کر لینا میری سمجھ سے بالا تر تھا۔ وہ میری بیوی نہیں تھی مگر میرے لئے وہ بیوی سے بڑھ کر تھی۔ یہ بات وہ جانتی تھی اور اب تک ہمارا نکاح نہ ہونے کی وجہ بھی اس کی ہٹ دھرمی ہو تھی ورنہ میں تو کب سے چاہتا تھا کہ اسے اپنے نکاح میں لے لوں مگر اب میں ہاتھ میں پکڑے ساجد کے موبائل میں ساجد اور شاہینہ کو سیکس کرتے دیکھ رہا تھا اور میرے دماغ میں سائیں سائیں ہو رہی تھی کہ یہ شاہینہ نے کیا کر دیا ہے۔ ویڈیو کلپ میں صاف نظر آ رہا تھا کہ شاہینہ نے ساجد کے لن کو لولی پوپ کی طرح پکڑا ہوا ہے اور اسی انداز میں منہ میں لے کر مزہ لے رہی تھی جیسے جیسے ویڈیو چل رہی تھی میرا دماغ گھومتا جا رہا تھا۔۔
  4. میرا نام احمد ہے۔ میں پاکستان کے شہر فیصل آباد کا رہنے والا ہوں۔اس وقت میری عمر تیس سال ہے یعنی میں زندگی کی تین دہائیاں دیکھ چکا ہوں۔ یہ کہانی میری اپنی حقیقی زندگی پر مشتمل ہے۔ میں ایک سمارٹ اور گڈ لکنگ لڑکا ہوں۔سیکس کی بات کریں تو اتنا زیادہ کر لیا ہے کہ اب تو گنتی بھی بھولتی جا رہی ہے کہ کتنی گرلز سے کیا ہے۔اس کا آغاز تو تازہ ترین سیکس سے کر رہے ہوں مگر آگے چل کر اس میں سابقہ واقعات کو بھی شامل کروں گا تا کہ میرے سیکس تجربات سے تمام دوست آگاہ ہو سکیں
×