Jump to content
URDU FUN CLUB

URDU FUN CLUB

URDU FUN CLUB
  • Content Count

    24
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

URDU FUN CLUB last won the day on February 29 2016

URDU FUN CLUB had the most liked content!

Community Reputation

1,504

1 Follower

About URDU FUN CLUB

  • Rank
    Action Administrator

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. سوناکشی سنہا بالی ووڈ کی دبنگ اداکارہ مانی جاتی ہیں اور اب انہوں نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی اپنا نام درج کرا لیا ہے۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے سوناکشی نے ایک تقریب میں شرکت کی جس میں بیک وقت سب سے زیادہ تعداد میں ناخنوں کو رنگنے کا ریکارڈ بنایا گیا۔ اس مقابلے میں تمام خواتین نے بیک و قت ناخنوں کو رنگنا تھا اور کامیابی کے بعد دیگر خواتین کے ساتھ سوناکشی سنہا کا نام بھی اس مقبول کتاب میں شامل کرلیا گیا۔ ا س حوالے سے سوناکشی کا کہنا تھا میں بچپن سے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام شامل کروانا چاہتی تھی اس لیے یہ میرے لیے بہت خاص ہے۔
  2. بھارت میں کالج کے ایک پروفیسر کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی بیوی اور بیٹی کو فروخت کرنے کی پوسٹ کرنے پر حراست میں لے لیا گیا، بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق 30 سالہ دلیپ مالے اور ان کے شاگرد کملیش مہرا کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، پروفیسر دلیپ مالے نے اپنے فیس بک اکائونٹس پر یہ پوسٹ کی تھی کہ کچھ لوگوں کا مقروض ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی بیوی اور دو سالہ بیٹی کو فروخت کرنا چاہتا ہے اس پوسٹ کے ساتھ اپنی بیوی اور بیٹی کی تصویر بھی شیئر کی تھی، تحریر میں پروفیسر نے لکھا تھا کہ اسے پیسوں کی اشد ضرورت ہے وہ اپنی بیوی کو ایک لاکھ روپے کے عوض فروخت کرنا چاہتا ہے جو بھی خریداری میں دلچسپی رکھتا ہے اس فون نمبر پر رابطہ کرے، جب اس کی بیوی نے یہ پوسٹ پڑھی تو فوری طور پر پولیس کو آگاہ کیا جس پر پولیس نے اس کے شوہر کو حراست میں لے لیا، دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ یہ پوسٹ پروفیسر نے نہیں بلکہ اس کے شاگرد نے اس کے اکائونٹس سے کی ہے۔
  3. ﮐﻮﻟﻤﺒﯿﺎ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﺎﺿﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮑﭽﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﻮﺭﯾﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﻗﺖ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺑﻨﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺰﮮ ﺳﮯ ﺳﻮﯾﺎ ﺭﮨﺎ، ﻟﯿﮑﭽﺮ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ ﻃﻠﺒﺎﺀ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﻨﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﻧﮯ ﺗﺨﺘﮧ ﺳﯿﺎﮦ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﻝ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯽ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺫﻣﯿﮧ ﮐﺎﻡ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻮﭦ ﺑﮏ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﮐﻼﺱ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ۔ .... ﮔﮭﺮﺟﺎ ﮐﺮﻟﮍﮐﺎ ﺍﻥ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯﺣﻞ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ۔ ﺳﻮﺍﻝ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺭﯾﺎﺿﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﮔﻼ ﺳﯿﺸﻦ ﭼﺎﺭ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻟﮍﮐﺎ ﭼﺎﺭ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ .... ﺍﮔﻠﯽ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺩﯾﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻞ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﮐﮯ، ﻧﺌﮯ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﭘﺮ ﭘﮍﮬﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﮍﮐﺎ ﺍُﭨﮫ ﮐﺮ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﺻﺎﺣﺐ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﺭ ﺩﻥ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﭼﺎﺭ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﮯ ﺩﯾﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺣﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮫ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ؟ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺫﻣﯿﮧ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮨﺎﮞ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺨﺘﮧ ﺳﯿﺎﮦ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﺿﺮﻭﺭ ﻟﮑﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ... ﺟﯽ ﮨﺎﮞ۔ ﯾﮩﯽ ﻣﻨﻔﯽ ﺍﻋﺘﻘﺎﺩﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭺ ﮨﮯ، ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺣﻞ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﺯ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ، ﮐﮧ ﺍﻧﮑﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺮﮮ۔ﺍﮔﺮ ﯾﮩﯽ ﻃﺎﻟﺒﻌﻠﻢ ﻋﯿﻦ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﺒﮑﮧ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﺗﺨﺘﮧ ﺳﯿﺎﮦ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﻮﺍﻝ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺎﮒ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﺮﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺩﻭ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻗﻄﻌﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﯽ ﻧﺎ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍُﺳﮑﺎ ﺳﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﺍُﻥ ﺩﻭ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﺎ ﭼﺎﺭ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﺣﻞ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﻟﻤﺒﯿﺎ ﮐﯽ ﺍُﺱ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ
  4. محبت حلال یا حرام رات کا آخری پہر تھا ، وہ دونوں مزے کی نیند سوۓ ھوئے تھے ، کیف و مستی میں ڈوبے ھوئے ، ، ، نوجوان کی آنکھ کھلی ،اس نے کمرے میں جلتی مدھم لائٹ میں کلاک کو دیکھا ، ، اوہ ،،،! بہت لیٹ ھو گئے ، ، اس نے سوچا ، ، ، ابھی اور آرام کر لیں !! نہیں ، ،اس نے اس خیال کو جھٹکا اور اُٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا ، ، ، ، وہ غسل کر کے باہر نکلا تو اس نے ایک محبت بھری نگاہ اپنی منکوحہ پر ڈالی اور محبت بھری آواز سے اسے بیدار کرنا چاھا ، مگر وہ کامیاب نہ ھو سکا ، وہ دوبارہ باتھ روم میں داخل ھوا،اپنے ھاتھ گیلے کیے اور ایک چھینٹا اس پر مارا ،، اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں ۔وہ مسکرایا اور اسے تہجد کے لیے خبردار کیا ، ، !! یہ تھی وہ محبت بھری کوشش اس مبارک جوڑے کی کہ جس پر اللہ تعالی بھی فرشتوں پر فخر فرماتے ھیں اور ان کی بخشش کا اعلان فرماتے ہیں ، ان پر خاصی رحمتِ الٰہی کا نزول ھو رھا تھا ۔ ۔!!! ۔ ۔ایک پاکیزہ محبت چودہ فروری کی ایک تاریک شام ۔ ، ،۔ ۔ ۔! اسے بار بار لوّ میسج وصول ھو رھا تھا ، اس نے مسکرا کر اسے اوکے کر دیا اور گھر سے نکلنے کی ترکیب سوچنے لگی ۔ ۔ !۔ تھوڑی دیر بعد ۔ ۔ ۔ وہ اپنے یونیورسٹی فیلو کے ساتھ ایک جدید ھوٹل میں بیٹھی آئس کریم کھا رھی تھی ۔ ۔ ۔ ! ! ! ۔ ۔ غیر محرم ھوتے ھوئے اس ملاپ پر ان پر لعنت اللہ تعالی کی طرف سے برس رھی تھی ۔ ۔ لعن اللہ الناظر و المنظور الیہ ۔ ۔ ۔ ۔مگر وہ دونوں اس سے بے خبر تھے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اللہ تعالی کے غیر محرموں سے اجتناب کے احکامات کی دھجیاں اُڑا کر اللہ تعالی کے غضب اور قہر میں داخل ہو رھے تھے , ,اور اللہ کے عذاب کا کوڑا کسی بھی وقت ، کسی شکل میں ان پر برس سکتا تھا ۔ ۔ ۔ ، ، ، ، وہ اس کے حسن کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رھا تھا ، شہوت اس کی آنکھوں میں ناچ رہی تھی ۔ ۔ ۔ آؤ ، ، ، ڈنر کے لیے میں نے ایک سیپریٹ کمرے میں بندوبست کروایا ھے ۔ ۔ ، ، اور وہ دونوں ایک خوبصورت ، ویل فرنشڈ کمرے میں داخل ہو رھے تھے ۔ ۔ ۔ مگر اسے معلوم نہ تھا کہ آج جو اس کا مدعی عشق ھے ، وہ کل کا بڑا بلیک میلر ثابت ہو گا ، اور کمرے میں لگے خفیہ کیمرے سے بنی ہوئی ایچ ڈی ویڈیو جہاں اس کے نام نہاد محبوب کے لیے کمائی کا ذریعہ ھو گی، وھیں وہ اس کی معصوم زندگی کو تلخ اور ناکام بنا دے گی ، ، ، مگر اس وقت تو اس کی آنکھوں پر جھوٹی محبت اور مغربی تہذیب کی نقل کا ایسا پردہ پڑا ھوا تھا کہ ۔ ۔ ۔۔اسے اپنی عزت ،اپنے خاندان کی عزت کے اُٹھتے ھوئے جناذے کا بھی احساس تک نہ تھا ۔ ۔ ۔ اور وہ ایک ایسی بند گلی میں پھنس چکی تھی جہاں سے واپسی ناممکن تھی ، ، ، ، مگر وہ خوش تھی ، ۔ ۔ ۔ ناجائز اظہار ِ محبت کی آزادی پر ۔ ۔ ۔ ایک بےحیاء دن # ویلنٹائن ڈے# کی یاد تازہ کرنے پر ۔ ۔ ۔ بہت بڑی قیمت چکانے کے باوجود ۔ ۔ ۔ !! کاش کوئی اس کو سمجھاتا تو آج اندھیروں اور ناکامیوں کے سفر سے وہ بچ جاتی ، ، ، ۔ ۔ یا اللہ اُمّتِ مسلمہ کی بچیوں کی حفاظت فرما ۔ ۔ ۔!!۔ ۔ آمین ، !!!
  5. ................نادان چوہا ...................... کسی جنگل میں ایک بھیڑیا رہتا تھا- ایک دن وہ بھیڑیا ایک شکاری کے جال میں پھنس گیا- بہت زور لگایا مگر جال سے نکل نہ پایا، بلکہ مذید اُلجھ گیا- اِسی تگ و دو میں جال کی ڈوریاں اُس کے جسم میں گڑ گئیں اور جسم سےخون رسنے لگا- اتنے میں قریب سے ایک چوہے کا گزر ہوا- بھیڑیا اُسے دیکھتے ہی انتہائی لجاجت سےبولا: "بھائی چوہے! میری مدد کرو، میں اس جال میں بری طرح پھنس گیا ہوں، تم مہربانی کرو اور اپنے تیز دانتوں سے اس جال کو کاٹ دو تا کہ میں آزاد ہو جاؤں۔" چوہا بولا: "نہ بابا نہ! اگر میں نے تمہیں آزاد ی دلا دی تو تم سب سے پہلے مجھے ہی ہڑپ کر جاؤ گے۔" بھیڑیا بولا: "تم ٹھیک کہتے ہو ۔ میری فطرت کچھ ایسی ہی ہے، مگر تمہارے اس احسان کے بدلے میں وعدہ کرتا ہوں کہ نہ صرف میں اپنے آپ پر قابو رکھوں بلکہ جب تمہیں کسی اور درندے نے تنگ کیا تو میں تمہاری مدد کروں گا-" قصہ مختصر کافی دیر تک منت سماجت کرنے کے بعد بھیڑیے نے چوہے کو راضی کر ہی لیا اور یوں چوہے نے اس جال کو اپنے تیز دانتوں سے کتر ڈالا۔ بھیڑیے نے آزاد ہوتے ہی چوہے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج سے تم میرے ساتھ رہو گے اور مجال ہے کہ جنگل کا کوئی دوسرا جانور تمھاری طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے- چوہا بہت ہی خوش ہو گیا اور ننھا سا سینہ پھلا کر جنگل میں گھومنے لگا- جب بھی کوئی لگڑبھگا، جنگلی بلی، گیدڑ، لومڑی، وغیرہ اس کی طرف حملہ کرنے کے لیے بڑھتے وہ فوراً بھیڑیے کو بلا لیتا اور بھیڑیا بھی فوراً ہی لبیک کہتا ہوا چوہے کی مدد کو آن پہنچتا اور حملہ آور کو مار بھگاتا- یہ دیکھ کر چوہے کی ہمت اتنی بڑھ گئی کے راہ چلتے ہر چھوٹے بڑے جانور کی بے عزتی کرنے لگا اور یوں جنگل کے تمام جانور چوہے سے نفرت کرنے لگے- ایک دن کچھ شکاری دوبارہ جنگل میں آئے اور انہوں نے بھیڑیے پر گولی چلائی- گولی بھیڑیے کی ٹانگ پر لگی پر جان بچ گئی- لنگڑا بھیڑیا اب شکار کرنے کے قابل نہ رہا- معذوری کی حالت میں بھوک کی شدت بڑھتی گئی مگر کوئی بھی جانور شکار نہ کر سکا- دوسری طرف بھیڑیے کی پشت پناہی کے زعم میں چوہے نے سرے راہ ایک لومڑی کی بے عزتی کر دی- لومڑی غصہ میں آ کر چوہے کو پکڑنے کے لیے لپکی تو چوہا فوراً بھاگ کر بھیڑیے کے پاس آ گیا- لومڑی یہ دیکھ کر دور ہی رُک گئی مگر موٹے تازے چوہے کو دیکھ کربھیڑیے کی نیت میں فتور آ گیا اور بھوک چمک اُٹھی- اُس نے ایک ہی پنجہ مار کر چوہے کو دبوچ لیا ۔ چوہے نے جو بھڑیے کے خطرناک تیور دیکھے تو خوفزدہ ہو کر بولا: "بھائی بھیڑیے یہ کیا کر رہے ہو؟ میرے احسان کا یہ بدلہ دے رہے ہو؟" بھیڑیا بولا: "کمبخت تو نے بھی تو اُس دن کے بعد سے جنگل کے تمام جانوروں کو بے عزت کر کے اپنی اوقات سے زیادہ مزے کیے ہیں اور کسی خوف کے نہ ہونے کے سبب کھا کھا کر خوب موٹا ہو گیا ہے- چل اب میرا خالی شکم سیر کر-" بھیڑیے نے یہ کہا اور ایک ہی بار میں سالم چوہے کو ہڑپ کر گیا- سبق: - عادت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے مگر فطرت پر قابو پانا ممکن نہیں- سانپ کو لاکھ دودھ پلاؤ مگر وہ کاٹےگا ضرور! - بے جوڑ دوستی اکثر اوقات دیرپا نہیں ہوتی اور کبھی نہ کبھی نقصان پہنچاتی ہے- - کسی پر کیے گئے احسان کی قیمت کبھی نہیں وصول کرنی چاہیے- اس سے نیکی بھی ضائع ہوتی ہے اور انسان کا وقار بھی مٹی میں مل جاتا ہے- - طاقتور کے مزاج اور وعدے کا کوئی بھروسا نہیں- وہ جب چاہے اسے بدل دیتا ہے- - انسان کو ہمیشہ اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اور اللہ کے بعد صرف اپنے ہی قوت بازو پر بھروسا کرنا چاہیے- - زرا سی طاقت ملتے ہی کم ظرف کی طرح بے جا اچھل کود اور اکڑفوں نفرت کو پھیلانے کا سبب بنتی ہے جس سے آخر کارنقصان ہی ہوتا ہے-
  6. khurram_714 is reactive at urdu fun club ,congratulation
×