Jump to content
URDU FUN CLUB

adeeb

Members
  • Content Count

    30
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

141

3 Followers

About adeeb

  • Rank
    Registered User

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. ایڈمن صاحب سے میری گزارش Ú¾Û’ Ú©Û Ø§ÛŒØ³ÛŒ چیٹ Ú©Ùˆ چلنے دیا جائے۔ کیوں Ú©Û ÛŒÛ ØªÙ…Ø§Ù… یوزرز Ú©ÛŒ تÙریح٠طبع کا موجب بنتی Ú¾Û’Û” اور خوبصورت دل Ù†Û’ اسی لیے بات Ú©Ùˆ اس رنگ میں شروع کیا تھا تا Ú©Û Ø§Ùس تھریڈ میں جان پیدا ÛÙˆ جائے، ÙˆØ±Ù†Û ØµØ±Ù ÙˆÛŒÙ„Ú©Ù… ویلکم Ù¾Ú‘Ú¾ لینا تو کسی بھی ÙˆÙزیڑر Ú©Û’ لیے سواے وقت Ú©Û’ ضیاع Ú©Û’ اور Ú©Ú†Ú¾ Ù†Ûیں Ú¾Û’Û” امید Ú¾Û’ آپ مشورے پر ÛÙ…Ø¯Ø±Ø¯Ø§Ù†Û ØºÙˆØ± Ùرما کر Ø´Ú©Ø±ÛŒÛ Ú©Ø§ موقع دیں Ú¯Û’Û”
  2. پھر اُسے آلت پر ایک عجیب سے جلُون کا احساس ہوا۔ بڑی نرم جگہ تھی جو اب کے اسے اپنے آلت پر محسوس ہو رھی تھی۔ تھوڑے سمے بعد اسے ادراک ہوا کہ اس کا آلت کسی چیز کے اندر جاتا اور باہر آتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد آنے والا خیال اُسے مزید گرما گیا۔ ۔ تو کیا اِسے منھ میں ڈال لیا ہے اِس نے؟۔ اُسے یہ سوچ کر ایک بھر پور انگڑائی آئی لیکن اس نے ضبط کر کے اپنے کو روکا اور ذرا غور سے معسوس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ واقعی میں ایسا ہو رہا تھا۔ آنے والے نے اسے منھ میں لے لیا تھا اور چُوسے چلا جا رہا تھا۔ اس نے ترنگ میں آکر خود بھی ہلکا ہلکا اوپر نیچے کو ہلنا شروع کیا ۔ مگر جس نے آلت پکڑا ہوا تھا ، آلت پرتو اُس کی گرفت تھی۔ اس کے ہاتھ میں تھا ۔ اِس لیے اس کے اوپر نیچے کو ہلنے کا کوئی خاص فائدہ نہ ہوا۔ اچانک ایک کھڑکا سا سنائی دیا۔ جس نے آلت کو پکڑ رکھا تھا جلدی سے ہاتھ شلوار سے باہر نکال دبک کر بیٹھ گیا۔ غالباً منجے کے نیچے کی طرف ہو گیا تھا کہ اگر کوئی آبھی رہا ہے تو وہ پکڑا نہ جائے۔ اور جب کھڑکے کی آواز کو کاری سمے ہو گیا تو وہ آرام سے نیچے سے نکل کر دبے پاوں باہر کو نکل گیا۔
  3. Koi Shkhs b koshish nhi krta, is lie is silsile ko bnd kr dia jaye. Thanks.
  4. نئی لائن ہے۔۔۔۔۔۔ آج کیلا کھلائو مجھے جانیا
  5. جب سے بھیجا ہے تم نے لن اپنا ہم نے پھدی میں ڈال رکھا ہے
  6. اس سے جواب نہیں بن پا رہا تھا۔ سوکھتے ہوئے گلے سے اس نے کہا۔ ’’ اماں وہ ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ ‘‘ ’’ ابے وہ وہ کیا لگا رکھی ہے، بکتا کیوں نہیں ‘‘ وہ روہانسا ہو کر بولا۔ ’’ وہ اماں میری۔۔۔ میری چڑیا سے نکلتا ہے پانی۔‘‘ ماں قدرے حیران ہوئی۔ پہلے تو سمجھ نہ پائی۔ پھر سمجھ لگی تو مبہوت ہو کر لگی تکنے منھ اس کا۔ اک ذرا توقف کے بعد بولی۔ ’’ ہے، ہے۔۔ یہ کیا بات ہوئی؟ تیری چڑیا سے ایسا میٹھا پانی نکلے گا کیا ؟ ‘‘ پھر اچانک یہ یاد آنے پر کہ بے خبری میں وہ کیا بول گئی، ذرا گڑبڑائی، اور جلدی سے جملہ ٹھیک کرتے ہوئے بولی۔ ’’مم ۔۔۔۔۔ میرا مطلب کہ ایسا مشک دار پانی نکلے گا کیا ؟‘‘ ’’اب مجھے کیا پتا اماں۔ بس نکلتا ہے، میں کیا کروں۔‘‘ اس کا لہجہ خجالت آمیز تھا۔ اس کی ماں کو ابھی بھی یقین نہ آتا تھا۔ بالآخر اس نے کہا۔ ’’ اچھا اچھا ٹھیک ہے جا ، جا کے اپنا کام کر۔ ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔ وہ سو رہا تھا کہ ایک دم اسے کچھ احساس ہوا۔ کوئی اس کے بدن کو چھو رہا تھا۔ اور وہ بھی ٹانگوں کے ناف والے حصے کو۔ پھر اسے یہ بھی معلوم پڑ گیا کہ ناف والے حصے پر چھونے کا اصل مقصد ناڑا کھولنا تھا۔ کوئی ہاتھ ایک ذرا درمیانی رفتار سے اپنے کام میں مصروف تھا۔ اخیر کو ناڑے کا سِرا ہاتھ میں آگیا اور پھر اُس میں کھینچ پیدا ہونے لگی۔ اسے بہت عجیب لگ رہا تھا۔ اس کا ذہن ابھی تک یہی سوچنے میں کُھباہوا تھا کہ آخر یہ ہے کون، جو ایسی حرکت کر رہا ہے۔ گرہ میں سے کھنچتا ہوا آخر ناڑا کھل ہی گیا۔ جو بھی تھا اسے اِس کھینچا تانی کا مزا بہت آیا تھا اور چوں کہ چڑھتی جوانی تھی تو اسے یہ چھیڑ چھاڑ بری نہیں لگ رہی تھی، بل کہ جس جگہ یہ چھیڑ چھاڑ شروع ہوئی تھی، اس سے ہی اُسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اُس کے آلت کو چھیڑا جانے والا ہے۔ پھر ہوا بھی یہی۔ اُس ہاتھ نے جوں ناڑا کھولا، ہاتھ اندر گھسا ناف کے بالوں کو انگلیوں سے سہلاتے ہوئے جا آلت پکڑا۔ اس کے بدن میں مستی سے جھرجھری سی پیدا ہوئی، ایک خفیف سے لرزش، جسے اس نے اپنے اندر ہی دبانے کی بھرپور کوشش کی، مگر اس تجربہ کار ہاتھ کو اس کا اندازہ ہو گیا۔ اس لیے وہ فٹا فٹ لنگی سے باہر نکل گیا۔ ہاتھ کے باہر نکل جانے پر اُسے خود پر غصہ آیا کہ وہ کیوں ہِلا۔ اس کا دل کر رہا تھا کہ آنے والا جس مقصد سے آیا ہے وہ اس پر واضح ہو جائے۔ پھر اسے مزا بھی خوب مل رہا تھا۔ اس نے خواہش کی کہ وہ ہاتھ پھر اسے پکڑے۔ اور یہ خواہش اُسی سمے پوری بھی ہو گئی۔ ہاتھ پھر سے شلوار میں گھسا اور اس کے آلت کو جا لیا۔ اب کے اُس ہاتھ کے ساتھ ساتھ اُسے خود بھی محسوس ہوا کہ خاصا لامبا ہو گیا ہے وہ۔ وہ ہاتھ اُسے دھیرے سے اپنی موٹھ میں لیے سہلانے لگا اور اُسے خوب مزا آنے لگا۔ یہ پہلی لذت تھی جو اس کو چڑھتی جوانی میں میسر آرہی تھی۔ نئی لذت میں وہ دیوانہ ہونے کے قریب تھا اور ہولے ہولے لرزنے لگا تھا۔ اُس ہاتھ کو بھی محسوس ہو چکا تھا کہ اس وقت وہ پوری مستی میں ہے، چناں چہ بے خوفی سے اپنا کام کیے جا رہا تھا۔ پھر اسے محسوس ہوا کہ جیسے اس کے آلت کو بوسے دے رہا ہے کوئی۔ اُسے بوسےلینے کی دھیمی دھیمی آواز سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  7. ’’جا بچہ ! تیرے آلت سے میٹھا اور خوشبو دار رس ٹپکا کرے گا۔‘‘ ’’عجیب دعا دی ہے باباجی نے‘‘۔ وہ یہی سوچتا ہوا گھر کو چلا۔ راہ میں اس کی عجب حالت ہوئی۔ آلت سے سچی میں ایک قطرہ ظاہر ہوا، بعد جس کے اسے ایک خوش گوار مہک کے احساس نے بھی گھیر لیا۔ وہ کچھ سمجھ نہ پایا کہ اس کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ گھر پہنچا تو تھکن کے سبب سے بسترے پر اوندھا ہوتے ہی نیند نے آلیا اور لگا خوابِ خرگوش کے مزے لینے۔ اب تو وہ ایک عجب سوندھی سوندھی مہک میں رچا رہتا۔ ملاقاتی اور یاردوست اس مہک کا دریافت کرتے رہتے لیکن اس سے کچھ جواب نہ بن پڑتا۔ وہ کہتا بھی تو کیا کہتا آخر۔ جب ماں نے اس کے کپڑے دھوئے تو اس نے جانا کہ یہ خوش بو کہاں سے آتی ہے۔ اس کی لنگی پر لگے جا بجا ننھے داغ سب کچھ بتا رہے تھے۔ ماں کو فکر لاحق ہوا کہ بچہ کم زور نہ ہو جائے۔ مگر یہ تردد بھی کہ اس مادے میں سے آخر ایسی عمدہ مہک کا کیا باعث۔ پھر یہ کہ داغ بھی اس طرح کے نہیں جیسے اس کے باپ کے ہوا کرتے ہیں۔ ذہن میں خیال آیا کہیں کوئی کھانے پینے کی شے نہ گرا لی ہو نگوڑے نے، اور اُسے سونگھ کر دیکھا۔ مہک تو ذہن معطر کر دینے والی تھی، چناں چہ اُسے جِیب سے چھو کر ذائقہ لیا۔ مزہ بھی مہک کے مانند بہت بھلا معلوم ہوا۔ ذرا اچھی طرح چاٹا۔ اور پھر یہی سمجھا کہ کوئی کھانے پینے کی چیز ہے جسے لنگی پر گرا لایا ہے اس کا سپوت۔ چناں چہ اس بارے میں استفسار کا سوچ کے اپنے کام میں مشغول ہوئی۔ اب جو وہ بعد کھیل کود کے گھر کو لوٹا تو ماں نے سوال کردیا۔ ’’اے ادھر آ ! یہ لنگی پر نشان کیسے ہیں؟ کیا لگایا بول جلدی سے؟‘‘ وہ گڑبڑا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری)
  8. عجیب لن ہے، کھڑا ہوا تو تمھاری پھدی میں گھس گیا ہے
  9. اب تمنا ہے کہ گھوڑے کی طرح کا لن ہو اب مِری گانڈ میں للی نہ گھسائی جائے
  10. واہ جی واہ۔ کیا خوب کہا ہے جناب نے۔۔۔
  11. تمام دوستوں کا تھینکس کہنے کا بہت تھینکس۔۔۔ مگر جناب اگر شعر نہیں کہ سکتے تو ایک دو لائن کے کمنٹس تو کر سکتے ہیں نا۔۔۔ امید ہے کہ آیندہ آپ تھینکس کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ کہیں گے بھی۔۔۔ شکریہ اب میں نئ لائن دے رہا ہوں۔۔۔۔۔ اس پر طبع آزمائی کی کوشش کیجیے۔۔۔ مصرع ہے۔۔۔ اب مِری گانڈ میں لُلّی نہ گھسائی جائے
  12. کل میں حیران رہ گیا یک دم۔۔ مجھ سے پوچھا جب ایک لڑکی نے۔۔ آپ کے لن کا کتنا سائز ہے۔۔۔۔۔۔۔؟
  13. لیجیے پوری غزل۔۔۔۔۔۔ آتجھ کو بانہوں میں لے لوں جانِ جاناں آ جا تیرے ممے پکڑوں جانِ جاناں تیرے سارے کپڑے ہولے ہولے اتاروں پھر تیری انگیا کو چوموں جانِ جاناں تیرے ننگے جسم کو سہلائوں میں جانُو پھر تیرے مموں کو چُوسُوں جانِ جاناں تجھ پہ لیٹ کے لن پھدی پر رگڑوں اپنا ہونٹ تیرے جی بھر کر چوموں جانِ جاناں پھر ٹانگوں کو کھول کے لن پھدی پر رکھوں اِک جھٹکے سے اندر کر دوں جانِ جاناں تُو چیخے تو تیرے منھ کو منھ میں لے لوں اور لن پورا اندر ڈال دوں جانِ جاناں
  14. صبا مِرے لن پہ آکے بیٹھو تمھاری پھدی میں ڈالنا ہے
×