Young Heart

Junior Moderators
  • Content count

    1,807
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    177

Young Heart last won the day on December 25 2017

Young Heart had the most liked content!

Community Reputation

2,451

5 Followers

About Young Heart

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

3,681 profile views
  1. مجھے تم سے محبت ہے

    شاید یہ محبت ہے مجھے اس شخص سے کل تک محبت تھی، حماقت آج لگتی ہے مجھے اچھا لگا شاید اور اس سے بڑھ کے کب کچھ تھا؟ مگر میں یہ سمجھ بیٹھی کہ شاید یہ محبت ہے اور اب جب مجھ کو سچ مُچ دل کی گہرائی سے کوئی بھا گیا جاناں تو میں اس سوچ میں خاموش بیٹھی ہوں کہ کچھ کہنا نہیں مجھ کو میں کیوں دل میں چھپے جذبے عیاں کر دوں قوی امکان ہے کل یہ بھی پچھتاوا نہ بن جائے میں اس لمحے سے ڈرتی ہوں
  2. پاپا !!! ہم جب دوبئی جائیں گے تو میا خلیفہ پر بھی چڑھ جائیں گے اوئے بیغرت ۔۔۔۔ میا خلیفہ نہیں ۔۔۔۔ برج خلیفہ
  3. سوشل میڈیا دوستی - ریپ اور قتل

    جنسی جرائم کے ذمہ دار صرف مرد ہیں رائٹر: سلیم ملک آپ سارے بڑے قابل لوگ ہیں اور اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔ آپ کی زندگی میں یہ کتنی دفعہ ہوا کہ کوئی عورت آپ کے پاس آئی ہو اور اس نے آپ کو دعوت “گناہ” دی ہو۔ سب لوگ اپنے اندر سوچنے لگ گئے لیکن کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس خاموشی کا مطلب واضح تھا۔ اور بول کر بھی اس بات سے کے ساتھ تقریبا سبھی نے اتفاق کیا کہ ایسے واقعات کم ہی ہوتے ہیں کہ عورت کسی مرد پاس ائے اور جنسی عمل کی دعوت دے۔ پھر پوچھا گیا کہ آپ نے کتنی مرتبہ زندگی میں کسی عورت کے بارے میں ایسا سوچا اور کتنی دفعہ ایسا کر ہی ڈالا۔ یعنی ہمت کر کے “اظہار محبت” کر دیا۔ اس بات پر بھرے ہال میں ایک مسکراہٹ دوڑ گئی اور آہستہ آہستہ ہنسی میں بدل گئی۔ اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ اس طرح کے واقعات تو بہت ہوتے ہیں کہ جب مرد نے عورت کو جنسی عمل یا جنسی تعلق قائم کرنے کی دعوت دی ہو۔ اور اس بات پر بھی کافی اتفاق تھا کہ ایسا سوچا تو اکثر ہی جاتا ہے کہ کاش میں اس خاتون سے یہ بات کہہ سکوں۔ لیکن بے عزتی کے ڈر سے بہت دفعہ مرد ایسا کر نہیں پاتے یعنی اپنے ارادوں یا خواہشوں کو عملی رنگ نہیں دے پاتے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ مرد ہی سیکس ورکرز (عورت، مرد یا خواجہ سرا) کو جنسی “فیور” کے بدلے باقاعدہ رقم کی ادائیگی کرتے ہیں۔ جب کہ دنیا کے تقریبا ہر ملک اور تہذیب میں اس کی سزا ہمیشہ سیکس ورکر عورت کو ہی ملتی رہی۔ اب بھی دنیا کے زیادہ تر ممالک میں یہی ہو رہا ہے۔ ہاں البتہ یورپ کے چند ممالک میں یہ قانون بن گیا ہے کہ مجرم جنسی عمل کے لیے ادائیگی کرنے والے کو قرار دیا گیا ہے نہ کہ رقم وصول کرنے والے کو۔ اس بات سے بھی اتفاق کیا گیا کہ جنسی عمل کے لیے ادائیگی بہرحال مرد ہی کرتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا گھناؤنا جرم بھی مردوں ہی کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ پاکستان میں “روزن” نام سے کام کرنے والی ایک این جی او ایسے بچوں اور بچیوں کی کونسلنگ کرتی ہے جن کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہو یا ہو رہی ہو۔ ایسے مسائل کا شکار بچے اور بچیاں انہیں خط بھی لکھتے ہیں اور رہنمائی مانگتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کی جانب سے موصول ہونے والے ایسے ایک سو خطوط کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے 96 فی صد مرد تھے اور چار فیصد عورتیں تھیں۔ صرف اور صرف مرد ہی عورتوں، بچوں اور بچیوں اور خواجہ سراؤں کو جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں۔ یہ جرم اتنا عام ہے کہ شاید ہی کوئی عورت یا خواجہ سرا ایسی ہو جس نے اپنی زندگی میں کئی کئی بار اسے برداشت نہ کیا ہو۔ اور جہاں تک جنسی ہراسانی کے خوف کا تعلق ہے تو اس جرم کے عام ہونے کی وجہ سے ہر عورت اور خواجہ سرا کو اس کا خوف تو رہتا ہی ہے۔ ایک اور مکروہ حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف مرد اپنی جنسی بھوک مٹانے کے لیے انسانوں کے علاوہ جانوروں کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات آئے دن پیش آتے ہیں اور ایسے واقعات میں کبھی بھی عورت ملوث نہیں پائی گئی۔ یہ گفتگو عدلیہ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ساٹھ کے لگ بھگ افسران کے ساتھ کی جا رہی تھی۔ ان کے سامنے یہ سلائیڈ چلائی گئی کہ “جنسی جرائم کا ذمہ دار مرد ہوتا ہے” تو انہوں نے یک زبان ہو کر پورے زور سے یہ کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ لیکن اوپر دی گئی بحث کے بعد اس مزاکرے میں موجود افسران کی ایک بھاری اکثریت نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جنسی جرائم کے ذمہ دار مرد ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ گفتگو ان کے لیے ایک سرپرائز سے کم نہ تھی۔ ہماری پولیس اور عدلیہ کے لیے یہ بات سمجھنا بہت اہم ہے کہ جنسی جرائم کا ارتکاب مرد ہی کرتے ہیں۔ بیچاری عورتیں، بچیاں، بچے اور خواجہ سرا تو اس ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔
  4. مجھے تم سے محبت ہے

    میرے ہمسفر، تجھے کیا خبر یہ جو وقت ہے کسی دھوپ چھاؤں کےکھیل سا اسے دیکھتے، اسے جھیلتے میری آنکھ گرد سے اٹ گئی میرے خواب ریت میں کھو گئے میرے ہاتھ برف سے ہو گئے میرے بے خبر، تیرے نام پر وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹوں پر وہ جو دیپ جلتے تھے بام پر وہ نہیں رہے وہ نہیں‌رہے کہ جو ایک ربط تھا درمیاں وہ بکھر گیا وہ ہوا چلی کہ جو برگ تھے سرِ شاخِ جاں، وہ گرا دیئے وہ جو حرف درج تھے ریت پر، وہ اڑا دیئے وہ جو راستوں کا یقین تھے وہ جو منزلوں کے امین تھے وہ نشانِ پا بھی مٹا دیئے میرے ہمسفر، ہے وہی سفر مگر ایک موڑ کے فرق سے تیرے ہاتھ سے میرے ہاتھ تک وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ کئی موسموں میں بدل گیا اسے ناپتے، اسے کاٹتے میرا سارا وقت نکل گیا تو میرے سفر کا شریک ہے میں تیرے سفر کا شریک ہوں پر جو درمیاں سے نکل گیا اسی فاصلے کے شمار میں اسی بے یقیں سے غبار میں اسی راہ گزر کے حصار میں تیرا راستہ کوئی اور ہے میرا راستہ کوئی اور ہے
  5. مس:۔ بچو بتاو ۔ سچ اور وہم میں کیا فرق ہے پپو:۔ مس آپ سیکسی ہو یہ سچ ہے اور ہمارا کھڑا نہیں ہوتا یہ آپ کا وہم ہے
  6. سوشل میڈیا دوستی - ریپ اور قتل

    کوئی شک نہیں ایک نہایت ہی افسوس ناک واقعہ ہے - لیکن حیرت نہیں ہوئی ۔ کیونکہ یہ باتیں پھیل رہی ہیں کہ پیار محبت کے چکروں میں لڑکیوں کی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں چونکہ انجام قتل کی صورت میں ہوا ۔ اسلیے یہ مشہور ہوگیا اور میڈیا کی زینت بن گیا یہ ایک آئینہ بھی ہے ۔ ہمارے معاشرے کی بگڑتی ہو صورت کا لمحہ فکریہ ہے والدین کے لیے - خصوصا ماوں کے لیے ۔۔ جن کے لیے اولین ترجیح اولاد کو ٹائم دینے سے زیادہ کیریئر اور جاب ہے دونوں والدین فیکٹری میں جاب کرتے ہیں ۔ تو ظاہر کا شام کو ہی لوٹتے ہونگے بچوں کو زندگی کی باقی سہولیات تو میسر ہیں، تعلیم، سہولتیں، موبائیل وغیرہ ۔ لیکن شاید والدین کا وقت نہیں ۔ خصوصا ماں کا وقت تو یہ والدین کما کن کے لیے رہے ہیں ۔ یہی کہ بچوں کا مستقبل بنائیں وہ بھی انہیں وقت دیے بغیر اور نتیجہ کیا ہوا ۔ ایک بیٹی قتل اور دوسری کی زندگی برباد دوسری اہم بات یہ کہ ہم نے اس موضوع پر بھی خاصی گفتگو کی کہ پیار محبت کے چکروں میں آج کل کے دور میں سیکس تک پہنچنے کا امکان کہیں زیادہ ہوگیا ہے وجہ انٹرنیٹ اور میڈیا پر جنسی مواد کی فراوانی ایک بڑی تحریک ہے - لیکن اسے بدترین شکل دے دی ہے موبائیل کیمروں یا خفیہ کیمروں کی ٹیکنالوجی نے ۔ اب صرف سیکس نہیں ہوتا بلکہ ویڈیوز بنتی ہیں اور بلیک میلنگ ہوتی ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ابھی لڑکیوں کی عمر ہی کیا تھی ۔۔۔ سولہ اور اٹھارہ سال ۔۔۔ اور یہ سب سلسلہ نہ جانے کب سے جاری تھا ۔۔۔ جب شروعات ہوئی ہونگی تو عمر مزید کم ہوگی یہ واقعہ تو مشہور ہوگیا اب یہ نہیں معلوم کہ معاشرے میں کتنے فیصد لڑکیاں اس دلدل میں پھنس چکی ہیں
  7. سوشل میڈیا دوستی - ریپ اور قتل

    کراچی : ملیرکے علاقے سعود آباد میں لڑکی کے قتل کا ڈراپ سین ہوگیا جہاں اس کی قاتل کوئی اور نہیں بلکہ سگی بہن ہی نکلی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے علاقے سعود آباد میں چھریوں کے وارسے لڑکی کے قتل کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی اور ملزمان نے پولیس کو ساری حقیقت خود ہی بتادی۔ پولیس کے مطابق معاملہ ڈکیتی کا نہیں بلکہ بہن علوینہ نے ہی منگیتر مظہر کے ساتھ ملکر بہن علینہ کو چھری سے قتل کیا۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 80 ہزار روپے اور6 موبائل فون بھی برآمد کرلئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل ہونے والی علینہ اپنی بڑی بہن کی دوستی عباس نامی شخص سے کرانا چاہتی تھی۔ سگی بہن کے قتل میں ملوث علوینہ نے میڈیا کے سامنے اقبال جرم کرتے ہوئے بتایا کہ بہن علینہ کے دوست احسن نے میری نازیبا وڈیو بنائی تھی، بہن کے پاس ثبوت تھے، میں نے اسے ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کے لیے کہا اور اس کے پاؤں بھی پکڑے، لیکن وہ نہیں مانی بلکہ اپنے دوستوں احسن اور عباس کے ساتھ مل کر مجھے ایک سال تک بلیک میل کرتی رہی۔ ملزمہ علوینہ نے بتایا کہ میں نے اپنے منگیتر مظہر کو اعتماد میں لے کر سب کچھ بتادیا، منگیتر کے سمجھانے پر بھی علینہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی، علینہ احسن اورعباس کے ساتھ مل کر بلیک میل کرتی تھی، جس پر میں نے مظہر اور اس کے ایک دوست سے مل کر بہن کو قتل کردیا۔ قتل کے بعد شک نہ ہو اس لیے فون اور نقدی لے جانے کا فیصلہ کیا تاکہ ڈکیتی کا رنگ دیا جاسکے۔ مظہرنے اپنے بیان میں کہا کہ احسن اورعلینہ دونوں مل کرمنگیترعلوینہ کوبلیک میل کررہے تھے، وہ دونوں باربارکہتے تھے کہ گھرمیں نا زیبا وڈیوزدکھادیں گے جس کے بعد رشتہ ختم ہوجائے گا، منگیتربہت پریشان رہتی تھی اس نے کہا کہ یا تو میں خود مر جاؤں گی یا ماردوں گی، جس کے بعد ہم نے قتل کا فیصلہ کیا۔ میڈیا بریفنگ میں ایس ایس پی کورنگی نعمان صدیقی نے والدین پر زور دیا کہ اپنے بچوں کو موبائل فون دینے سے گریز کریں اور ان پر کڑی نظر رکھیں۔ واضح رہے کہ 5 روز قبل کراچی کے علاقے سعود آباد ملیر میں ملزمان نے گھر میں گھس کر ایک لڑکی کو قتل اور دوسری کو زخمی کردیا تھا۔ زخمی بہن کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ ڈاکوؤں نے مزاحمت پرعلینہ کو چھری کے وارکرکے ماردیا اور قتل کے وقت گھر میں دونوں بہنوں کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔
  8. سوشل میڈیا دوستی - ریپ اور قتل

    خبر: ۱۰ دسمبر ۲۰۱۷ چھوٹی بہن بلیک میل کرتی تھی، قاتل علوینہ کا بیان ملیر سعود آباد میں لڑکی کے قتل کا معمہ حل ہوگیا، سگی بہن علوینہ نے چھوٹی بہن علینہ کو قتل کرایا۔ ایس ایس پی کورنگی نعمان صدیقی نے نیوز کانفرنس میں لرزہ خیز قتل کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ملزمہ علوینہ اور اس کا منگیتر مظہر بھی موجود تھا۔ نعمان صدیقی نے بتایا کہ علینہ کو قتل کرنے کی واردات بہیمانہ ہے،سعودآباد پولیس کو پہلے ہی علوینہ پر بہن کو قتل کرنے کا شک ہوگیا تھا۔ ایس ایس پی کورنگی نے کہا کہ والدین بچوں کو اسمارٹ فون دیتے ہیں لیکن خطرات نہیں بتاتے،ہمیں سوچنا چاہیے کہ معاشرہ کہاں جا رہا ہے۔احسن اور عباس لڑکیوں کو بلیک میل کرتے تھے،احسن اور عباس جیولری کی دکان پر کام کرتے تھے۔ ملزمہ علوینہ نے اعتراف کیا کہ احسن کی وجہ سے اس کے بہن کے ساتھ اختلافات تھے، احسن کے پاس اس کی کچھ نازیبا تصاویر اور ویڈیوز تھیں اور اسی وجہ سےعلینہ اور احسن اسے بلیک میل کیا کرتے تھے۔ ملزمہ نے بتایا کہ میرے منگیتر نےعلینہ کو سمجھایا،لیکن وہ نہ سمجھی،علینہ اورمجھ میں اختلافات بھی احسن کی وجہ سے ہوئے۔بہن کو ویڈیو ثبوت مٹانے کا کہا تھا،میں نے علینہ کے پاؤں پکڑے،لیکن پھر بھی بلیک میل کرتی تھی،امی کو بتاتی تھی تو وہ مجھے مارتی تھیں۔ علوینہ نے بتایا کہ میں اپنی بہن کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانی تو میں نے اپنے منگیتر کی مدد سے اس کو قتل کردیا۔شک نہ جانےکی خاطرمیں نےنقدی ساتھ لے جانے کا کہا۔ملزمہ نے اعتراف کیا کہ میں نےفون اور رقم لے جانے کو کہا تھا۔ اس موقع پر ملزمہ علوینہ کے منگیتر مظہر نے میڈیا کے سامنے بیان دیا کہ علینہ کے پاس قابل اعتراض تصاویرتھیں۔ واضح رہے کہ 5دسمبر کوعلینہ کو گلا کاٹ کر قتل کیا گیا تھا، دو ملزمان گھر سے نقدی اور سونا بھی لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق زخمی لڑکی نےپولیس کو بیان دیا کہ منگل کی صبح 2نقاب پوش مسلح ملزمان عقبی دیوار سے کود کر گھر میں داخل ہو ئے لوٹ مار کی کوشش کی جس پر چھوٹی بہن نے ایک ملزم پر چھری سے حملہ کردیا جس پر ملزمان نے اس سے چھری چھین کر مقتولہ کے گلے پھیر کرذبح کردیا اور اسکو بھی چھری مار کر زخمی کردیا۔
  9. ایک لڑکا صبح سویرے پش اپ نکال رہا تھا ایک نشئی وہاں سے گذرا اور ہنستے ہوئے بولا معاف کرنا دوست ۔۔۔ جو لڑکی تمہارے نیچے تھی ۔ وہ تو کب کی جا چکی۔۔۔۔
  10. ایک بادشاہ کے پاس بارہ انچ کا گھوڑا تھا جس کی شہرت دور دور تک تھی کہ ایسا محیرالعقول جانور ایک دن وزیر نے پوچھ ہی لیا کہ حضور ایسی نادر چیز کہاں سے ملی بادشاہ نے رازداری سے بتایا کہ قبرستان کے قریب ایک بزرگ ہیں ان سے جو مانگو وہ دعا دیتے ہیں اور عجیب سے عجیب مانگ پوری ہوجاتی ہے ۔ بس ایک مراد مانگنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن وہ بزرگ اونچا سنتے ہیں وزیر نے سوچا بادشاہ لوگ تو آدھے پاگل ہی ہوتے ہیں میں کوئی کام کی چیز مانگ آتا ہوں وہ گیا اور بزرگ سے عرض کی کہ حضرت ایک بوری ہیرے کی عطا ہو جائے حضرت نے دعا کی اور غیب سے ایک بوری "زیرے" کی آگئی وزیر بڑا سٹپٹایا کہ مانگا ہیرا اور مل گیا زیرا بزرگ کے بوڑھے کانوں کو گالیاں دیتا بادشاہ کے پاس پہنچا اور بولا جہاں پناہ ۔۔۔۔ ہیرا مانگا ۔۔ مگر بڈھے بابا کے کان کا ستیاناس ہو ۔۔۔ زیرا دے دیا بادشاہ نے ٹھنڈی آہ بھری اور اسے گھورتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔ تو تیرے خیال میں کیا میں نے بارہ انچ کا گھوڑا مانگا تھا ۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟
  11. مجھے تم سے محبت ہے

    محبت ذات ہوتی ہے۔۔۔۔۔ کوئی جنگل میں جا ٹہرے کسی بستی میں بس جائے محبت ساتھ ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت خوشبوؤں کی لے محبت موسموں کی دھن محبت آبشاروں کے بہتے پانیوں کا من محبت جنگلوں میں رقص کرتی مورنی کا تن محبت برف پڑتی سردیوں میں دھوپ بنتی ہے محبت چلچلاتے گرم صحراؤں میں ٹھنڈی چھاؤں کی مانند محبت اجنبی دنیا میں اپنےگاؤں کی مانند محبت دل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت جاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت روح کا درماں۔۔۔ محبت مورتی ہے۔ اور کبھی جو دل کے مندر میں کہیں پر ٹوٹ جائے تو؟؟؟؟؟؟ محبت کانچ کے گڑیا فٍضاؤں میں کسی کے ہاتھ سے گر چھوٹ جائے تو؟؟؟؟؟ محبت آبلہ ہے کرب کا اور پھوٹ جائے تو؟؟؟؟؟ محبت روگ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ محبت سوگ ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت شام ہوتی ہے ۔۔۔ محبت رات ہوتی ہے۔۔۔۔۔ محبت جھلملاتی رات میں برسات ہوتی ہے محبت نیند کی رت میں حسیں خوابوں کے رستوں پر سلگتے، جاں کو آتے ،رتجگوں کی گھات ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ محبت جیت ہوتی ہے؟؟؟ محبت مات ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ محبت ذات ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  12. ایک جوان لڑکا مر گیا اس کی ماں روتے ہوئے بولی ابھی میرے بچے نے دیکھا ہی کیا تھا پڑوس کی لڑکی کان میں بولی فکر نہ کریں آنٹی ۔۔۔ میں نے سب کچھ دکھا دیا تھا
  13. لوڑا میرا بہت توانا ہے چوت میں تیری نرم دانہ ہے تیرا چا چا بھی ماں کا لوڑا تھا تیرا ما ما بھی ماں چدا تا ہے جو لگاتا ہے میرے سامنے مٹھ۔۔ نہیں کوئی غیر تیرا نانا ہے آپ چدو ہیں یا آپ کی دوست کیا مجھے چود کر بتانا ہے کیوں میں ڈالوں آپ کی چوت میں کیا مجھے اپنا لنڈ جلانا ہے ٹٹے ایسے بٹن ہیں لوڑے کے جن میں مستی کا سب خزانہ ہے اب تو ہر لڑکا لڑکی چودے گا آخر اس نے بھی لطف اٹھانا ھے