Jump to content
URDU FUN CLUB

Young Heart

Members
  • Content Count

    1,815
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    179

Young Heart last won the day on August 29

Young Heart had the most liked content!

Community Reputation

2,472

6 Followers

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

4,368 profile views
  1. مزید گفتگو کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے ۔ لیکن گفتگو کے لیے سوالات کا ہونا ضروری ہے اگر آپ سمجھتے ہیں کوئی مزید سوالات بھی ہیں تو سامنے لائیے
  2. بیوی :- کمپیوٹر کا پاس ورڈ کیا رکھوں ؟؟؟؟ شوہر [غصے سے] :- لوڑا lora بیوی ہنس ہنس کر کرسی سے گر گئی شوہر:- کیوں ہنس رہی ہو ؟؟؟؟؟ بیوی:- کمپیوٹر کہہ رہا ہے ۔۔ آپ کا پاسورڈ بہت چھوٹا ہے
  3. دال مونگی دی پھدی گونگی دی چوت نرس دی دنیا ترس دی لوڑا سردار دا بڑکاں مار دا ممہ جٹی دا پیار نال پٹی دا گل پیار دی بنڈ دیدار دی سُوٹا چرس دا کُوسا نرس دا کلفی کھویے دی بنڈ لوئے دی لن قصائی دا تے نو وی چائی دا
  4. شاید یہ محبت ہے مجھے اس شخص سے کل تک محبت تھی، حماقت آج لگتی ہے مجھے اچھا لگا شاید اور اس سے بڑھ کے کب کچھ تھا؟ مگر میں یہ سمجھ بیٹھی کہ شاید یہ محبت ہے اور اب جب مجھ کو سچ مُچ دل کی گہرائی سے کوئی بھا گیا جاناں تو میں اس سوچ میں خاموش بیٹھی ہوں کہ کچھ کہنا نہیں مجھ کو میں کیوں دل میں چھپے جذبے عیاں کر دوں قوی امکان ہے کل یہ بھی پچھتاوا نہ بن جائے میں اس لمحے سے ڈرتی ہوں
  5. پاپا !!! ہم جب دوبئی جائیں گے تو میا خلیفہ پر بھی چڑھ جائیں گے اوئے بیغرت ۔۔۔۔ میا خلیفہ نہیں ۔۔۔۔ برج خلیفہ
  6. جنسی جرائم کے ذمہ دار صرف مرد ہیں رائٹر: سلیم ملک آپ سارے بڑے قابل لوگ ہیں اور اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔ آپ کی زندگی میں یہ کتنی دفعہ ہوا کہ کوئی عورت آپ کے پاس آئی ہو اور اس نے آپ کو دعوت “گناہ” دی ہو۔ سب لوگ اپنے اندر سوچنے لگ گئے لیکن کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس خاموشی کا مطلب واضح تھا۔ اور بول کر بھی اس بات سے کے ساتھ تقریبا سبھی نے اتفاق کیا کہ ایسے واقعات کم ہی ہوتے ہیں کہ عورت کسی مرد پاس ائے اور جنسی عمل کی دعوت دے۔ پھر پوچھا گیا کہ آپ نے کتنی مرتبہ زندگی میں کسی عورت کے بارے میں ایسا سوچا اور کتنی دفعہ ایسا کر ہی ڈالا۔ یعنی ہمت کر کے “اظہار محبت” کر دیا۔ اس بات پر بھرے ہال میں ایک مسکراہٹ دوڑ گئی اور آہستہ آہستہ ہنسی میں بدل گئی۔ اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ اس طرح کے واقعات تو بہت ہوتے ہیں کہ جب مرد نے عورت کو جنسی عمل یا جنسی تعلق قائم کرنے کی دعوت دی ہو۔ اور اس بات پر بھی کافی اتفاق تھا کہ ایسا سوچا تو اکثر ہی جاتا ہے کہ کاش میں اس خاتون سے یہ بات کہہ سکوں۔ لیکن بے عزتی کے ڈر سے بہت دفعہ مرد ایسا کر نہیں پاتے یعنی اپنے ارادوں یا خواہشوں کو عملی رنگ نہیں دے پاتے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ مرد ہی سیکس ورکرز (عورت، مرد یا خواجہ سرا) کو جنسی “فیور” کے بدلے باقاعدہ رقم کی ادائیگی کرتے ہیں۔ جب کہ دنیا کے تقریبا ہر ملک اور تہذیب میں اس کی سزا ہمیشہ سیکس ورکر عورت کو ہی ملتی رہی۔ اب بھی دنیا کے زیادہ تر ممالک میں یہی ہو رہا ہے۔ ہاں البتہ یورپ کے چند ممالک میں یہ قانون بن گیا ہے کہ مجرم جنسی عمل کے لیے ادائیگی کرنے والے کو قرار دیا گیا ہے نہ کہ رقم وصول کرنے والے کو۔ اس بات سے بھی اتفاق کیا گیا کہ جنسی عمل کے لیے ادائیگی بہرحال مرد ہی کرتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا گھناؤنا جرم بھی مردوں ہی کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ پاکستان میں “روزن” نام سے کام کرنے والی ایک این جی او ایسے بچوں اور بچیوں کی کونسلنگ کرتی ہے جن کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہو یا ہو رہی ہو۔ ایسے مسائل کا شکار بچے اور بچیاں انہیں خط بھی لکھتے ہیں اور رہنمائی مانگتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کی جانب سے موصول ہونے والے ایسے ایک سو خطوط کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے 96 فی صد مرد تھے اور چار فیصد عورتیں تھیں۔ صرف اور صرف مرد ہی عورتوں، بچوں اور بچیوں اور خواجہ سراؤں کو جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں۔ یہ جرم اتنا عام ہے کہ شاید ہی کوئی عورت یا خواجہ سرا ایسی ہو جس نے اپنی زندگی میں کئی کئی بار اسے برداشت نہ کیا ہو۔ اور جہاں تک جنسی ہراسانی کے خوف کا تعلق ہے تو اس جرم کے عام ہونے کی وجہ سے ہر عورت اور خواجہ سرا کو اس کا خوف تو رہتا ہی ہے۔ ایک اور مکروہ حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف مرد اپنی جنسی بھوک مٹانے کے لیے انسانوں کے علاوہ جانوروں کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات آئے دن پیش آتے ہیں اور ایسے واقعات میں کبھی بھی عورت ملوث نہیں پائی گئی۔ یہ گفتگو عدلیہ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ساٹھ کے لگ بھگ افسران کے ساتھ کی جا رہی تھی۔ ان کے سامنے یہ سلائیڈ چلائی گئی کہ “جنسی جرائم کا ذمہ دار مرد ہوتا ہے” تو انہوں نے یک زبان ہو کر پورے زور سے یہ کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ لیکن اوپر دی گئی بحث کے بعد اس مزاکرے میں موجود افسران کی ایک بھاری اکثریت نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جنسی جرائم کے ذمہ دار مرد ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ گفتگو ان کے لیے ایک سرپرائز سے کم نہ تھی۔ ہماری پولیس اور عدلیہ کے لیے یہ بات سمجھنا بہت اہم ہے کہ جنسی جرائم کا ارتکاب مرد ہی کرتے ہیں۔ بیچاری عورتیں، بچیاں، بچے اور خواجہ سرا تو اس ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔
  7. میرے ہمسفر، تجھے کیا خبر یہ جو وقت ہے کسی دھوپ چھاؤں کےکھیل سا اسے دیکھتے، اسے جھیلتے میری آنکھ گرد سے اٹ گئی میرے خواب ریت میں کھو گئے میرے ہاتھ برف سے ہو گئے میرے بے خبر، تیرے نام پر وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹوں پر وہ جو دیپ جلتے تھے بام پر وہ نہیں رہے وہ نہیں‌رہے کہ جو ایک ربط تھا درمیاں وہ بکھر گیا وہ ہوا چلی کہ جو برگ تھے سرِ شاخِ جاں، وہ گرا دیئے وہ جو حرف درج تھے ریت پر، وہ اڑا دیئے وہ جو راستوں کا یقین تھے وہ جو منزلوں کے امین تھے وہ نشانِ پا بھی مٹا دیئے میرے ہمسفر، ہے وہی سفر مگر ایک موڑ کے فرق سے تیرے ہاتھ سے میرے ہاتھ تک وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ کئی موسموں میں بدل گیا اسے ناپتے، اسے کاٹتے میرا سارا وقت نکل گیا تو میرے سفر کا شریک ہے میں تیرے سفر کا شریک ہوں پر جو درمیاں سے نکل گیا اسی فاصلے کے شمار میں اسی بے یقیں سے غبار میں اسی راہ گزر کے حصار میں تیرا راستہ کوئی اور ہے میرا راستہ کوئی اور ہے
  8. مس:۔ بچو بتاو ۔ سچ اور وہم میں کیا فرق ہے پپو:۔ مس آپ سیکسی ہو یہ سچ ہے اور ہمارا کھڑا نہیں ہوتا یہ آپ کا وہم ہے
  9. کوئی شک نہیں ایک نہایت ہی افسوس ناک واقعہ ہے - لیکن حیرت نہیں ہوئی ۔ کیونکہ یہ باتیں پھیل رہی ہیں کہ پیار محبت کے چکروں میں لڑکیوں کی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں چونکہ انجام قتل کی صورت میں ہوا ۔ اسلیے یہ مشہور ہوگیا اور میڈیا کی زینت بن گیا یہ ایک آئینہ بھی ہے ۔ ہمارے معاشرے کی بگڑتی ہو صورت کا لمحہ فکریہ ہے والدین کے لیے - خصوصا ماوں کے لیے ۔۔ جن کے لیے اولین ترجیح اولاد کو ٹائم دینے سے زیادہ کیریئر اور جاب ہے دونوں والدین فیکٹری میں جاب کرتے ہیں ۔ تو ظاہر کا شام کو ہی لوٹتے ہونگے بچوں کو زندگی کی باقی سہولیات تو میسر ہیں، تعلیم، سہولتیں، موبائیل وغیرہ ۔ لیکن شاید والدین کا وقت نہیں ۔ خصوصا ماں کا وقت تو یہ والدین کما کن کے لیے رہے ہیں ۔ یہی کہ بچوں کا مستقبل بنائیں وہ بھی انہیں وقت دیے بغیر اور نتیجہ کیا ہوا ۔ ایک بیٹی قتل اور دوسری کی زندگی برباد دوسری اہم بات یہ کہ ہم نے اس موضوع پر بھی خاصی گفتگو کی کہ پیار محبت کے چکروں میں آج کل کے دور میں سیکس تک پہنچنے کا امکان کہیں زیادہ ہوگیا ہے وجہ انٹرنیٹ اور میڈیا پر جنسی مواد کی فراوانی ایک بڑی تحریک ہے - لیکن اسے بدترین شکل دے دی ہے موبائیل کیمروں یا خفیہ کیمروں کی ٹیکنالوجی نے ۔ اب صرف سیکس نہیں ہوتا بلکہ ویڈیوز بنتی ہیں اور بلیک میلنگ ہوتی ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ابھی لڑکیوں کی عمر ہی کیا تھی ۔۔۔ سولہ اور اٹھارہ سال ۔۔۔ اور یہ سب سلسلہ نہ جانے کب سے جاری تھا ۔۔۔ جب شروعات ہوئی ہونگی تو عمر مزید کم ہوگی یہ واقعہ تو مشہور ہوگیا اب یہ نہیں معلوم کہ معاشرے میں کتنے فیصد لڑکیاں اس دلدل میں پھنس چکی ہیں
×