Jump to content
URDU FUN CLUB

Story Maker

Junior Moderators
  • Content Count

    1,192
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    62

Story Maker last won the day on December 16 2018

Story Maker had the most liked content!

Community Reputation

770

About Story Maker

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

12,873 profile views
  1. آخر کپڑے أتر گئے سیمو تم بھی نا ،خواہ ماخواہ بات کا بتنگر بنا لیتی ہو ، غلطی بھی تمہاری اپنی ہے اور تم اسکو نظر انداز کرنے کی بجائے بار بار یاد کر رہی ہو ۔ ٹھیک ہے غلطی میری تھی ، ایک تو رات کو نوبجے کے بعد چھت پر جا نے کی ضرورت ہی کیا تھی خشک کپڑے صبح بھی لا سکتی تھی ، ہاں یہ بھی ہے کہ رات کو بارش ہونے کا امکان تھا ۔۔ دن میں کپڑے دھو کر چھت پر لٹکا ئے کہ شام کو خشک ہونے کے بعد أتار لونگی پہلے تو بزی رہی پھر شام کومیرا پسندیدہ ٹی وی ڈرامہ لگ گیا اور اس کےبعد کھانا وغیرہ کھا کرسب فارغ ہوگئے تو میں بھی اپنے کمرے میں جاکر لیٹ گئی ۔ سردیوں کی راتیں اگرتنہا گذریں تو یہ ناگن کی طرح ڈستی ہیں ۔ میرے میاں اس وقت جاب کے سلسلہ میں ابوظبی ہوتے تھے اور میں سسرال کے ساتھ ہی مقیم تھی أن ہی کے بارے سوچ رہی تھی کہ مجھے یاد آیا کہ کپژے تو ابھی چھت پر سے لائی ہی نہیں ہوں ۔ خود سے کہا أٹھ سیمو رانی چل کپڑے اتار لائیں ۔ ہمارا گھر کافی بڑا تھا پانچ کمرے تھے تین باتھ روم ایک بڑا کچن اور لیونگ روم اور ڈائنگ روم ۔ چھت پر دو کمرے تھے گیسٹ روم کہ لیجئیے ۔ چھت پر چھوٹی چھوٹی سی چاردیواری بنی ہوئی تھی ہمارے ساتھ والے مکان کے اوپر بھی نئی تعمیر کی گئی تھی کیونکہ ان کے بیٹے کی شادی ہوئی تھی جس کے لئے تین کمرے بنائے گئے تھے چھت تومشترکہ تھی مگر تین فٹ اونچی دیوار درمیان میں أٹھائی گئی تھی ہم ہمسائیوں کا آپس میں سلوک بہت اچھا تھا اور ہے ۔ میں اوپر گئی چھت پر روشنی نہیں تھی ۔ رسی سے کپڑے أتارتے ہوئے میری نظر ہمسائیوں کےگھر کی طرف چلی گئی ان کے کچن کا ایک درازہ ہماری چھت کی جانب کھلتا ہے دروازہ اگرچہ بندتھا مگر اس کا ڈور شیشے کا تھا او رکچن میں ہماری چھت سے ان کے کچن کے اندر دیکھا جا سکتا ہے ۔ ۔ میں نے دیکھا نیا نویلا بیاہتا جوڑا کچن میں کھانا کھا رہا تھا ۔ ہمارے چھت پر رروشنی نہ تھی میں چونکہ اندھیرے میں تھی اس لئے وہ مجھے نہیں دیکھ سکے ہونگے ورنہ وہ ایک دوجے سے دور ہوجاتے ۔ مجھے بھی چاہئے تھا کہ دوبارا أس طرف نہ دیکھتی مگر میں کوشش کے باوجود بار بار ان کی طرف دیکھ لیتی ۔ اور یہ بھی میری غلطی تھی ۔ سمینہ (دلہن) ندیم [دلہا ] کی گود میں بیٹھی ہوئی تھی اور ندیم اس کے منہ میں نوالے دے رہا تھا اور سمینہ بھی اس کو کھلا رہی تھی ۔ مجھے بہت غصہ آرہا تھا کہ یہ بھی کوئی طریقہ ہے کھانے کا وہ ایک دوسرے کا بوسہ بھی لے لیتے مجھے بالکل اچھے نہیں لگ رہے تھے حالانکہ دونوں کو میں بڑا پسند کرتی تھی ۔ دونوں مجھے آنٹی کہتے کیونکہ ندیم کی والدہ نسیم میری سہیلی تھی جس کا چند ماہ پہلے انتقال ہو گیا تھا اور اسکے سارے بچے میری بڑی عزت کرتے ہیں ۔ اور سمینہ بھی بہت پیاری اور بڑی مؤدب بچی ہے مگر نہ جانے اس وقت مجھے دونوں اچھے نہیں لگے ۔ ایک دوسرے کو نوالہ کھلانے کی بھلا کیا تؑک تھی ۔ پھر مجھے خیال آیا۔ سیمو کیا ہوا ان کی نئی نئی شادی ہوئی ہے ۔ اس طرح میاں بیوی میں پیار بڑھتا ہے ان میں انڈر سٹینڈنگ ہوتی ہے ۔ خود بھول گئی میاں نے کتنے لاڈ سے تم کو اپنے ہاتھ سے نوالہ کھلایا تھا ، ہاں ہاں یاد ہے مجھے۔ پتہ نہیں کتنے ہی دن تو دعوتیں ہوتی رہیں تھیں شادی کے بعد پھر کافی دنوں بعد جب ہم کو اکیلا کھانے کا موقع ملا تو انہوں نے میرے منہ میں نوالہ دینے کی کوشش کی ۔ ہائے میں کتنی شرمائی تھی اب بھی یاد کرکےمجھے شرم محسوس ہو رہی ہے دو چار نوالوں کے بعد کہنے لگ سیمو مجھے بھوکھا رکھوگی کیا ۔ میں نے بڑی مشکل سے نوالہ بنایا اور شرما شرما کر ان کے منہ میں دیا توانہوں نے ہولے سے میری اگلیوں کو دانتوں سے دبا دیا یہ یاد آتے ہی اب بھی میرے گال سُرخ ہو گئے ہیں، میں نے بے ساختگی میں ہاتھ سے چھو لیا ٰ۔تو تب معلوم ہوا گال کتنے سرد تھے میں کافی دیر سے ٹھنڈ میں چھت پر کھڑی ان کوہی دیکھ رہی تھی اور کپڑے آدھے سے زیادہ رسی پر ٹنگے ہوئے تھے ۔ اری سیمو رات یہیں کھڑی رہوگی کیا میں نے خودکو سرزنش کی ۔ میں نے دوچار مزید کپژے رسی سے جلدی جلدی اتارے تو پھر انکی طرف دیکھا ۔ تو حیران رہ گئی ۔ ندیم نے سمینہ کی قمیض أٹھا رکھی تھی اور اس کے نپل منہ میں لےرکھے تھے یہ دیکھ کر ایک بار تو میرے نپل بھی اکڑ گئے مگر مجھے اچھا نہیں لگا ۔ سمینہ گود سے اتر کر ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی تھی اور اپنی قمیض اتار رہی تھی ۔ ہائے ایسا بھی کوئی کرتا ہے کیا میں تھوڑا نزدیک ہو کر دیکھنے لگی ٹیبل جو کہ درمیان میں تھا اس کےدونوں جانب سے أ نہوں نے کرسیاں أٹھا کر ساتھ ساتھ ملا کررکھیں ہوئی تھیں اور ساتھ ساتھ بیٹھے تھے شکر ہے کمرے میں کا فی روشنی کی وجہ سے وہ مجھے نہیں دیکھ سکتے تھے پھر بھی مجھے ڈر تو لگ رہا تھا ۔ ندیم نے سمینہ کی مدد سے اس کی قمیض اتار دی تھی اور اب صرف برا اور شلوار پہنے ہوئے تھی شاید انہوں نے چولہا یا اوون جلا رکھا تھا جس کی وجہ سے ان کو سردی نہیں لگ رہی تھی یاجوانی کی گرمی تھی اور کچن ویسے بھی گرم ہی ہوتا ہے ۔ سمینہ برا بھی نکال چکی تھی اور ندیم سمینہ کے ممے کو مساج کے ساتھ چوم بھی رہا تھا اور ایک ہاتھ اس کی رانوں پر بھی پھیرے جا رہا تھا سمینہ نے آنکھیں بند کر رکھیں تھیں اور ندیم کے سر کو چھاتیوں کی جانب دبارہی تھی ۔ ندیم کےہاتھ سمینہ کی رانوں پر پھر رہے تھے اور سمینہ نے آہستہ آہستہ اپنی ٹانگیں کھول دیں اور ندیم کے ہاتھ اب آذادی سے رانوں کے اندرونی حصے بھی مساج کر رہے تھے اور اچانک سمینہ نے ایک جُھرجُھری سی لی شاید ندیم نے اس کے دانہ کو چُھو لیا تھا ۔ سمینہ نے ایک بار رانوں کو بھینچ کر پھر دوبارہ زیادہ کھول دیا ار کرسی کی سیٹ سے تھوڑا آگے کو کھسک آئی تھی ۔ ندیم نے نیفے کے اندراپنا ہاتھ ڈال کر سمینہ کے نازک اعضا پر مساج شروع کی اور ساتھ ہی اس کا ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے عضو پر رکھ دیا سمینہ نے پاجامہ کے اوپر سے اسے پکڑ لیا تھا وہ تو پہلے ہی سے اکڑا ہوا تھا ۔ وہ مزہ میں مگن تھے اور مجھے غصہ آرہا تھا۔ کہ یہ کر کیا رہے ہیں ان کو شرم بھی نہیں آرہی ایسے بھی کوئی کرتا ہے ان کو کمرے میں جانا چاہیے تھا میں کچھ رنجیدہ سی تھی کہ مجھےخیال آیا سیمو بھول گئیں تمہارے میاں نے بھی تم کو ایک بار کچن میں کیا تھا ، ہاں یاد ہے مجھے مگر ان کو تو باھر جانا تھا صبح کے وقت میں ناشتہ بنارہی تھی میاں نے کہیں جانا تھا ۔ میں صبح سویرے نہا کر کچن میں آگئی میرے بال بھیگے ہوئے تھے اورپچھلی رات کی بھرپور کاروائی کو یاد کرتے ہوئے گُنگُناتے گُنگُناتےآملیٹ بنانے لگی ۔ سب سوئے تھے ساس اور سُسر جن کو میں امی اورابا بولتی تھی تہجد اورفجر نماز پڑھ کر سوجاتے تھے ۔ میں نے چائے بنانے کےلئے پانی چولہے پر رکھا تو میاں آگئے اور مجھے پیچھے سینہ سے لگا لیا میں ہنسی اور بولی صبح سویرے اتنا پیار آرہا ہے ۔ کہنے لگے دن ہو یاشام رات ہو یا صبح مجھے تم پر پیار آتا ہے یہ کہتے ہوئے وہ میرے اور قریب ہوگئے میں نے پیجھے سے چبھن محسوس کی توکہا ان صاحب کو کبھی نیند نہیں آتی کیا ۔ ہروقت اکڑے اکڑے رہتے ہیں صاحب ۔ کہنے لگے میں تو غلام ہوں یہ ٹہرے صاحب اورتم ہو بی بی اب صاحب اور بی بی آپس میں کچھ مک مکا کرلیں اس غلام نے کہیں جانا ہے ۔ میں سیدھی ہوگئی اور انکے گلے لگ گئی ۔ ان سے کہا بی بی کی کیا مجال جو صاحب کی خواہش کو حکم نہ سمجھے اورا نہوں نے مجھے وہیں کچن میں ہی ٹیبل پر لٹا لیا میری ٹانگیں ٹیبل سے لٹکی ہوئی تھیں أنہوں نے میرے دونوں پاؤں أٹھا کر ٹیبل پر ٹکا دیئے وہ چونکہ کھڑے تھے اس طرح صاحب اور بی بی بالکل آمنے سامنے آگئے ۔ بی بی تو تیار ہی تھی رات کے بھر پور پیارکا جواب صاحب کو دینے کے لئے ۔ مگر صاحب بھی کچھ زیادہ ہی تنا ہوا نظر آرہا تھا حالانکہ رات بھر اس نے بڑی محبت سے بی ی کو خوش کیا تھا ، میاں سے پوچھا غلام جی یہ صاحب کچھ زیادہ ہی غصہ میں نظر نہیں آ رہے کیا ؟ تو کہنے لگے کہ نشہ میں لگتا ہے میں نےحیرت سے پوچھا ، اسے کونسا نشہ کروا دیا بولے میں نے نہیں یہ تمہارے بھیگے بدن کی خوشبو سےنشہ میں جھوم رہے ہیں مجھے صاحب پر بے ساختہ پیار آگیا ۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑا اور تھوڑی تھپکی دے کر بی یی کے اوپر ٹکا دیا اور غلام کو کہا اب ایے زور دار دھکا مارو تاکہ صاحب اور بی بی ایک ہوجاویں۔ میں نے تو یوں ہی کہا مگر غلام صاحب کا وفادار نکلا اس نے ایسے جھٹکے سے دھکا دیا کہ صاحب بی بی کی چولیں ہلاتا ہوا جڑھ تک اندر جا ٹکرایا ۔ میں ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی، بابا تھوڑا ہاتھ ہولا رکھو نہیں تو بی بی کسی کام کی نہیں رہے پھر صاحب نے بڑے آرام سے اپنا کام کیا اور بڑے پیار اندر جاتا حال احوال پوچھتا اور بڑے مان سے واپس آکر پھر بی بی کی دیواروں کو رگڑتا ہوا جاتا ان گنت بار آگے پیچھے آ جا کر آخر کار را ضی برضا بی بی سے آنسو بھاتا ہوا جدا ہوا ۔ بی بی بھی خوشی کے آنسو بھا نے لگی کیونکہ پچھلی رات کو بھی صاحب نے بہت مزہ دیا اور اب تو رات کا مزہ بھی بھلا دیااسا سواد دیا ، ہاں ہم نے بھی کیا تھا مگروہ تو میاں کو باھر جانا تھا ۔ أ ن کو کیا مجبوری ہے اندر جاکر کمرے میں آرام سے کریں میں نے ادھر دیکھا تو حیران رہ گئی ۔ سمینہ اب بالکل برہنہ ہوچکی تھی اس کی شلوار نیچے پڑی ہوئی تھی ۔ اور ندیم کا ہتھیار ہاتھ میں لئے مالش کے انداز میں دبا رہی تھی ندیم کی انگلی اور ہاتھ سمینہ کی جائے مخصوصہ کو دبا رہے ھاتھ اور انگلی کی کارستانی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سمینہ بار بار اس کے ھتیار کو چومنے لگتی ۔ میں اور تھوڑا نزدیک ہو کر چاردیواری جو کہ ہمارے اور ان کی چھت کی سرحد تھی کے پاس جاکر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی ۔ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ ندیم کا صاحب کتنا بڑا اور موٹا ہے ۔ میرا سر اب چاردیواری سے اوپر تھا اور سارا جسم چھپا ہوا تھا۔ میں نے سر سے دوپٹہ بھی اتار لیا تھا تاکہ ان کی توجہ سے بچ جاؤں اب میں بڑی آسانی سے ندیم کے اوزار کو دیکھ سکتی تھی اچھا خاصا لمبا اور موٹا جو کسی بھی لڑکی کے خوابوں کا شہزادہ ہو سکتا تھا سپیشلی اس کے سر کی ٹوپی بڑی اٹریکٹیو تھی تھوڑا لمبا مگر موٹا سر بہت خوبصورت لگ رہ تھا سمینہ اسکو دباتی ہاتھ اوپر نیچے لے جاکر اس کو مٹھاتی بڑی خوش تھی ۔ خوش کیوں نہ ہوتی وہ خوش نصیب تھی جس کوا یسا پیار کرنے والا خاوند اس کے قریب تھا ۔ اب مجھے خود پر غُصہ آنے لگا ۔ کہ میں ان کو کیوں دیکھ رہی ہوں ۔ کتنی بدل گئی سیمو تو یاد ہے پتہ نہیں کتنے دنوں تو نے اپنے میاں کا نہیں دیکھا تھا اور نہ ہاتھ سے چھوا تھا ، ہاں مجھے یاد ہے وہ کہتے تھے اسے چھو کر دیکھ نہیں کاٹتا ، میں کہتی مجھے شرم آتی ہے پھر میں میکے گئی ایک ماہ بعد یہ لینے گئے رات کو مجھ سے لپٹ کر کہنے لگے کوئی تم کو بہت مِس کرتا رہا ، میں نے پوچھا وہ کون؟ تو میرا ہاتھ پکڑ کر اپنےنفس پر رکھ دیا میں تو چونک گئی بہت گرم لگا ۔ میں نے ہاتھ کھینچ لیا ، میاں بولے اتنا ظلم نہ کر بیچارہ اب بھی رو رہا ہے تو میں نے پوچھا، ہیں ، کیا یہ بھی روتا ہے ؟ کہنے لگے ، اعتبار نہیں تو دکھادوں میں نے سوچا مذاق کر رہے ہیں یہ بھلا کیسے روسکتا ہے انہوں نے میری خامشی کو رضامندی سجھا اور پاجامہ أتار کر سیدھے لیٹ گئے اب ان کا وہ کھڑا لہرا رہا تھا جیسے سلامی دے رہا ہو ۔ میں نے پوچھا آنسو اس کے کہاں بہ رہے ہیں تو انہوں نے اس کے سر کو تھوڑا سا دبایا تو سر پر ایک چمکتا ہوا آنسو کا قطرہ دکھائی دیا میں حیران ہوگئی اب انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری چاہ میں آنسو بہا رہا ہے اور تم سے اتنا بھی نہیں ہوتا کہ اس کا آنسو پونچھ ڈالو میں نے نپکن أٹھانا چاہا تو بولے جانم اس کو تمہارے ہاتھ لگیں گے تو اس کی دلجوئی ہوگی میرا دل تو ویسے بھی اب چاہ رہا تھا کہ اس خوصورت پیارے سے ڈنڈے کو چُھو کر دیکھوں میں نے اس کو پہلے تو چُھوا پھر ہاتھ میں لیا ، بہت بھلا محسوس ہوا ۔ میں نے ایک ہاتھ سے پکڑ کر اسکی اکیلی آنکھ کا آنسو صاف کیا بڑی گوند جیس چپکاہٹ تھی آنسو میں ۔ میاں کہنے لگے کہ اسے ٹیسٹ کرو آنسو کی طرح تُرش ہوگا اس کا ذائقہ مگر میں نے ٹیسٹ نہیں کیا مگر اسکو ہاتھ سے نہیں چھوڑا میں اسے کبھی دائیں لے جاکر چھوڑتی تو لیفٹ کو فلپ کرتا اگر نیچے ان کی ٹانگوں کیطرف لے جاکر چھوڑ دیتی تو واپس انکے پیٹ کی طرف چلا جاتا ۔ میرے ہاتھ تو گیم آگئی ۔ میاں پوچھنے لگے جانتی ہو اسے کیا کہتے ہیں ۔ میں نے سر نفی میں ہلا دیا بولے اچھا پوچھو اس کو کیا کہتے ہیں میں نے پوچھ لیا اس کو کیا کہتے ہیں تو کہنے لگے اس کو لن کہتے ہیں اسے لوڑا بھی کہتے اور لُلا یا للو بھی کہتے یں پھرانہوں نے پوچھا اچھا اب بتاؤ تو میں شرما گئی انہوں نے کہا چلو صرف ایک بار اسے لن بول دو ، میں نے ہاتھ میں لے کر کہا ، لن ، تو مجھے بہت اچھا لگا میں نے تین چار بار لن لن لن کہا اورمسکرا دی اب انہوں نے میری جائے مخصوصہ کو ٹچ کرکے کہا اسکو کیا کہتے ہیں تو میں کچھ نہ بولی تو انہوں نے وہاں مساج کرتے ہوئے کہا اس کو چوت بھی کہتے ہیں چُت بھی اور ُپھدی بھی ۔ پھر انہوں نے مجھے پوچھا تم بولو اس کو کیا بولوں ۔ میں نے کہا جو آپکی مرضی اور اپنی ٹانگ ان کےلن کے اوپر رکھدی وہ کہنے لگے میں تو اسے چوت بولوں گا میں نے لن کو دباتے ہو ئے کہا اس کو لن بولوں گی ۔ اس رات ہم کو بہت مزہ آیا کیونک ہم ایک ماہ کےبعد ملے تھے ۔ ساری رات لن چوت کو چودتا اور چوت لن سے چدواتی رہی ۔ میں نے پھر ان کی طرف دیکھا تو وہ ابھی تک کھیل رہے تھے ندیم سمینہ کی چوت پر چپت رسید کرتا تو سمینہ اس کے لن کو ہولے سے مارتی اور ساتھ ساتھ وہ دونوں کسنگ بھی کر رہے تھے ندیم کا پاجامہ بھی اتر چکا تھا ۔ اب سمینہ اپنی کرسی سے أٹھ کر ندیم کی طرف منہ کر کے اسکی گود میں بیٹھنے لگی تو اس کے لن کو پکڑ کر اس پر اپنی چوت پھسلانے لگی اور آہستہ آستہ لن چوت کےاندر غائب ہوگیا اور سمینہ اوپر نیچے ہوکر چدوانے لگی ۔ مجھےمحسوس ہوا جیسے میری ٹانگیں بھیگ گئی ہوں میں نےہاتھ لگا کر دیکھ میری چوت نے بہ بہ کر میری پینٹی او شلوار دونوں کو بھگو دیا تھا اب مجھے اپنی چُوت کو چُھونا بہت اچھا لگ رہا تھا میں نے اپنی انگلی اندر کی اور پھر ندیم سمینہ کی چدائی دیکھنےلگی ۔ سمینہ اب پوزیشن بدل کر اپنی پیٹھ ندیم کی طرف کرچکی تھی ۔ اب سمینہ بالکل میرے سامنے تھی اور مجھے اس کی چوت میں ندیم کا لن آتا جاتا دکھ رہا تھا اور میں مزہ لے رہی کہ اچانک میں ایک بار پھر فارغ ہوگئی اور اسی بےخودی میں تھوڑا سا أٹھ گئی میں چونکہ سمینہ کے سامنے تھی اس کی نظر کسی حرکت کرتی شے پر پڑی تو وہ فورا أٹھ گئی او ندیم کا لن یو نہی لہرا رہا تھا کہ سمینہ نے اس کو بتایا وہ بھی فورا ٹھا اور کپڑے اٹھا کر دونوں سیدھا کمرے کی طرف چلے گئے ۔ میں وہیں دُبکی رہی اور کپڑے أتارے بنا یونہی جُھکے جُھکے واپس نیچے آ گئی ۔ میں بہت نروس تھی کہ کہیں انہوں نے پہچان ہی نہ لیا ہو۔ تھوڑی دیر بعد اوسان بحال ہوئے اورچاپائی پر لیٹی تو پھر مجھے أن کی چدائی کے سین انکھوں کے سامنے گردش کرنے لگے ندیم کا لن سمینہ کی چوت میں آتا جاتا بار بار نظارہ دیتا میں نے اپنے سارے کپڑے ا تا دیئے اورندیم کا تصور کرکے خوب فنگرنگ کی - جو کپڑے اتارنے گئی تھی وہ تو رہ گئے مگر میں نے اپنےکپڑے اتار دئے ۔ آخر کپڑے آتر ہی گئے ۔ اور دوسرے دن میں نے ٹوہ لگانے کی کوشش کی کہ سمینہ ندیم کا رویہ سے کچھ انداز لگاؤں کہ کہیں ان کو مجھ پر شک تو نہیں ہوا مگر ان کا رویہ حسب معمول تھا مگر مجھے اب وہم ہو گیا ہے کہ کہیں وہ جانتے ہوں کہ وہ کوئی بلی یا ان کا وہم نہ تھا میں تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیمو تم بھی نا خواہ ماخواہ بات کا بتنگر بنا لیتی ہو ، غلطی بھی تمہاری اپنی ہے اور تم اسکو نظر انداز کرنے کی بجائے بار بار یاد کر رہی ہو- دوستو ۔ یہ کہانی زرا سی روایت سے ہٹ کر لکھی ممکن ہے آپ لوگوں کو پسند نہ مگر اپنی رائے سے ضرور آگاہ فرمائیں ۔ کہانی سے ہم یہ اخذ کرسکتے ہیں جو ہم کرتے ہیں بعض اوقات دوسرے کریں تو ہم ان کو غلط سمجھتے ہیں ۔ اگر خاوند کافی عرصہ بیوی سے دور رہے تو بیوی کا بہکنا آسان ہو تا ہے
  2. شہوانی جذبوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔یہ جب عود آئیں تو عقل سلب ہوجاتی ہے اور کسی بھی رشتے میں اپنا بسیرا کرلیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان اور جانور میں عقل ہی تو فرق کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔لیکن !!!! کیا کہا جائے عقل سلیم پر جب شہوت کے بادل چھا جائیں تو عقل وہی سوچتی ہے جو شہوانی جذبات اسے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آنکھیں وہی دیکھتی ہیں جو اسے شہوت دیکھاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔فطرت ِحضرت ِانساں بھی کیا غضب شے ہے ۔۔۔۔۔ہر لمحہ ایسے بدلتی رہتی ہے جیسے گرگٹ اپنا رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔بیشتر اوقات تو گرگٹ بھی شرما جائے ۔۔۔۔۔۔چند لمحات کی قیمت ہمیں بیشتر اوقات پوری زندگی تک اداکرنا پڑتی ہے ۔۔۔۔۔۔اور باقی کی زندگی محض ایک شے کے ساتھ گزرتی ہے وہ ہے پچھتاوا !!!!!!!!!!!!!یہ کہانی بھی ایسے ہی لمحات کی ہے جب شہوت عقل پر غالب آگئی تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے یہ کہانی عرصہ پہلے گلیمر میگزین میں لکھی تھی ۔۔۔۔۔۔یہ میری پہلی سیکس کہانی بھی تھی ۔۔۔۔۔۔اس فورم پر اسے نئے پیرائے میں ڈھال کر لکھ رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔آپ کے ذوق پر پورا اترے تومیری خوش نصیبی ۔۔۔۔۔۔۔نہ پورا اترے تو میری کجیوں سے درگزر فرمائیے گا ۔۔۔۔۔۔۔آداب ۔۔۔۔۔۔۔ عاکف اور ماہم کاغان کی وادیوں کی بھول بھلیوں میں کھو گئے تھے ۔۔۔۔۔ان کا یہ ایڈونچر انہیں بڑی مصیبت میں ڈال گیا تھا۔۔۔۔۔۔موسم بے حد خراب تھا ۔۔۔۔۔۔طوفانی بارش ۔۔۔۔۔۔ ماہم عاکف کی بھابھی بھی تھی اور ہونے والی خواہر نسبتی تھی ۔۔۔۔۔۔عاکف کے بڑے بھائی عاطف سے ماہم کی شادی کو ابھی چند ماہ ہی تو ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور شادی کے دن ماہم کی چھوٹی بہن عرشیہ عاطف کے من کو بھا گئی ۔۔۔۔۔۔۔شادی کے چند روز بعد عاکف اور عریشہ کی منگنی کی رسم بھی ادا کردی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم اگر حُسن و شباب میں سیر تھی تو عریشہ سوا سیر ۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں کا حُسن دیکھنے والے کو سحرزدہ کردیتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم عاطف کی محبت تھی ۔۔۔۔۔۔۔ماہم کے لیے عاطف محض محبت نہیں اس کی پوری کائنات تھی ۔۔۔۔۔۔۔عاطف ماہم کو پا کر گویا زمین سے آسمان کی طرف پرواز کر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔یہی جذبات ماہم کے بھی تھے ۔۔۔۔۔۔۔ عاطف اپنے ڈیڈی کے وسیع بزنس کی دیکھ ریکھ میں اتنا مصروف تھا کہ اسے ماہم پر اپنی محبت لٹانے کو چند روز ہی مل سکے ۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ وعدہ ہوگیا کہ وقت ملتے ہی وہ ہنی مون کے لیے شمالی علاقہ جات جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ وقت آیا ضرور لیکن !!!!!!شومئی قسمت اسی دن عاطف کی اہم ارجنٹ بزنس میٹنگ ان کے ہنی مون کے درمیان حائل ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔اسی دن عریشہ کا فائنل ایگزام تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیصلہ یہ ہوا کہ عاکف ماہم کو لے جائے گا اور اگلے روز عاطف عریشہ کو لے آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔عاکف اور ماہم فلائیٹ لے کر کاغان پہنچ گئے ۔۔۔۔۔۔ماہم اور عاکف کی خوب گاڑی چھنتی تھی ۔۔۔۔۔۔عاکف ماہم کا لاڈلا اکلوتا دیور اور ہونے والا بہنوئی جو تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ہوٹیل سے کار لی اور وادی کی سیر کو چل نکلے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔چلتے چلتے بہت دور آ پہنچے ۔۔۔۔۔۔۔۔اچانک موسم کے تیور بدلے اور طوفانی بارش شروع ہوگئی ۔۔۔۔۔۔دور دور تک کوئی پناہ گاہ نہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے پُر خطر موسم میں پُر خطر پہاڑی وادیوں میں ڈرائیونگ خود اپنے آپ میں موت کو دعوت دینا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ عاکی اب کیا ہوگا ہم ہوٹیل واپس کیسے پہنچیں گے ماہم کی متوحش آواز سن کر عاکف اسے تسلی دیتا ہوا بولا بھابھی گھبرانے کی بات نہیں میں ابھی ہوٹیل فون کرتا ہوں بات کرتے کرتے اس کی نگاہ سیل فون پر پڑی تو ۔۔۔۔۔۔۔سگنل ندارد ۔۔۔۔۔۔۔۔اوگاڈ ۔۔۔۔۔کیا ہوا عاکی ماہم نے اس کی نگاہوں کا تعاقب کرتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔عاکف فون کو گھور رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ماہم نے اپنا سیل فون شولڈر بیگ سے نکال کر دیکھا ۔۔۔۔۔اوہ نو عاکی ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم کا دل دہل گیا ۔۔۔۔۔۔۔بھابھی آپ پریشان نہ ہوں ہم کار میں محفوظ ہیں ۔۔۔۔۔عاکف کو اپنے لہجے کے کھوکھلے پن کا احساس تھا ۔۔۔۔۔۔کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔بارش مزید طوفانی ہوتی جارہی تھی ۔۔۔۔۔۔اور پانی کے ریلے کے سامنے کار کاغذ کی کشتی جتنی مزاحمت نہ کرپاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم کا حَسین چہرہ خوف کی شدت سے سفید پڑ گیا ۔۔۔۔۔۔۔عاکف ونڈ سکرین کو گھورتا ہوا کچھ سوچنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔اس نے کار کو بیک گیئر میں ڈالا اور طوفان سے زیادہ طوفانی اسپیڈ سے کار بھگانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔عاکی عاکی عاکی کیا کررہے ہو پلیز رک جاؤ ۔۔۔۔۔فار گاڈ سیک عاکی ۔۔۔۔۔۔ماہم چلاتی رہی لیکن عاکی کچھ نہیں سن پا رہا تھا۔۔۔۔۔۔کار کا انجن ہچکولے کھانے لگا ۔۔۔۔عاکف نے بہت کوشش کی لیکن کار کو رکنا ہی تھا رک گئی ۔۔۔۔۔۔آسمانی آفات کا مقابلہ انسانی تخلیق تھوڑی کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔طوفانی بارش کا کب تک مقابلہ کرپاتی ۔۔۔۔۔۔ بھابی وہ دیکھیں سامنے ایک کٹیا ہے ۔۔۔۔۔عاکف کی پُرجوش آواز نے ماہم میں گویا زندگی کی رمق پیدا کردی تھی ۔۔۔۔۔۔چند فرلانگ کا فاصلہ طے کرتے کرتے وہ دونوں بری طرح بھیگ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ویران کٹیا میں ایک چارپائی اور ٹپکتی ہوئی چھت ۔۔۔۔۔کسی ذی روح کا وجود تو نہ تھا ۔۔۔۔۔۔بھابھی آپ بیٹھ جائیں میں دیکھتا ہوں شاید کوئی ہو ۔۔۔۔۔۔عاکف اس ویرانے میں کون انسان آکر بسے گا ۔۔۔۔۔۔شاید یہ کسی گائیڈ نے عارضی آرام گاہ بنا رکھی ہے ۔۔۔۔۔۔ماہم کا اندازہ درست تھا ۔۔۔۔۔۔قریب شاید کوئی بستی ہو عاکف اب بھی پُرامید تھا ۔۔۔۔۔۔۔عاکف طوفان کی شدت دیکھو اب کہاں بستی تلاش کرنے جائیں ۔۔۔۔۔۔ماہم اس گھڑی کو کوس رہی تھی جب اس نے عاکف کو مجبور کرکے اسی وقت کاغان کی وادیاں دیکھنے کی ضد کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔لیکن ہونی کو کوئی ٹال پایا ہے آج تک؟؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔رات بھی دبے پاؤں اپنا بسیرا کرنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔بجلی کی چمک روشنی کی جھلک دکھلا جاتی تھی وگرنہ رات کا مہیب سایہ تھا ۔۔۔۔۔ایک کٹیا ۔۔۔۔۔۔۔ایک چارپائی ۔۔۔۔۔۔اور دو انسان ۔۔۔۔۔۔آپ آرام کرلیں بھابی عاکف نے سیل فون کی لائٹ آن کرنے کی کوشش کی لیکن سیل فون کی بیٹری بھی آخری ہچکی لینے کو بے تاب تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔کٹیا کی چھت طوفانی بارش سے مزاحمت کی کوشش میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔لیکن کب تک ۔۔۔۔۔۔عاکی کہاں ہو تم ۔۔۔۔۔۔ماہم کی متوحش آواز مہیب اندھیرے میں گونجی ۔۔۔۔۔۔یہیں پہ ہوں بھابھی ۔۔۔۔۔۔تم بھیگ رہے ہو ۔۔۔۔۔چارپائی پر آجاؤ ۔۔۔۔۔۔اب اپنا فیصلہ مقدر پر چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔حالات سے سمجھوتا ہی آخری آپشن ہوتا ہے ۔۔۔۔۔جی بھابی عاکف ہاتھ سے ٹٹولتا ہوا چارپائی تک پہنچ گیا ۔۔۔۔۔طوفان میں کمی کے کچھ آثار دیکھائی نہ دے رہے تھے ۔۔۔۔۔عاکی تھک جاؤ گے تم بھی لیٹ جاؤ۔۔۔۔۔ماہم چارپائی پر لیٹ گئی ۔۔۔۔۔۔۔عاکف سوچ میں ڈوبا رہا ۔۔۔۔۔۔۔اس نے ایک سرد آہ بھری اور چارپائی پر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔ مردوزن ایک چھت کے نیچے ہوں ایک بات ہے ۔۔۔۔۔ایک ہی جگہ پر ہوں دوسری بات ہے ۔۔۔۔۔ایک ساتھ ہوں تیسری بات ہے ۔۔۔۔۔۔لیکن !!!!! اتنے قریب ہوں کہ بدن سے بدن لپٹ رہا ہو یہ معجزہ ہی ہوگا کہ اس عمل کا کوئی ردعمل پیدا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔ماہم کا بھیگا پُرشباب بدن عاکف کے بدن میں کچھ ایسے جذبات پیدا کرنے لگا جس کا مقابلہ کرنا عاکف کے لیے جوئے شیر لانے سے بھی زیادہ کھٹن ثابت ہورہا تھا ۔۔۔۔۔اُدھر ماہم عاکف کے جذبات سے بے خبر عاطف کی محبت کی تپش کو یاد کرکے ان سنگین حالات میں اپنے لیے خوشی کا سامان مہیا کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔۔ ماہم کے رعنائی بدن کی تپش نے عاکف کے بدن کو سلگا کر رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا لن تن کر سٹیل کی سلاخ کی مانند سخت ہوگیا ۔۔۔۔۔عاکف کے لیے اس کا لباس بوجھ بن گیا ۔۔۔۔۔اس نے پہلے اپنی پینٹ اتاری ۔۔۔۔اس کے بعد انڈوئیر اور آخر میں شرٹ ۔۔۔۔۔ماہم عاکف کی حالت سے بےخبر اپنے ہی خیالات میں کھوئی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔بھابھی ۔۔۔۔۔۔۔۔عاکف کی شہوانی جذبات میں ڈوبی ہوئی آواز سن کر ماہم چونک گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوا عاکی اس نے رخِ زیبا عاطف کی طرف موڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔گھپ اندھیرا بھی ماہم کے حُسن کی چاندنی کو کم نہ کرسکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عاکی تمہاری طبیعت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم بس اتنا ہی کہہ پائی تھی ۔۔۔۔۔۔عاکف نے اپنے سلگتے لب ماہم کے یاقوتی لبوں میں پیوست کردئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم کی کھلی حسین آنکھیں استعجاب سے پتھرا گئیں ۔۔۔۔۔۔عاکف نے اس کا پھول جیسا نازک بدن اپنی آہنی گرفت میں جکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے لباس کو تار تار کرتے ہوئے اس نے ماہم کی مومی چوت میں اپنا تنا ہوا لن پُر قوت وار سے اندر گھسیڑ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔لن ماہم کی نازک چوت کو بیدردی سے چیرتا ہوا اندر ۔۔۔۔۔۔۔۔بہت اندر تک گھس گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عاکف حیوان بن چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ماہم کے شادابی بدن کو بھنبھوڑنے لگا۔۔۔۔۔۔۔اس کے رعنائی پستان ۔۔۔۔۔۔۔اس کے یاقوتی لب ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے شادابی رخسار ۔۔۔۔۔۔عاکف کی دردنگی کا نشانہ بننے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم کی التجائیں ۔۔۔۔۔اس کی آہ و بکا ۔۔۔۔۔۔طوفانی بارش کے شور کا حصہ بنتی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عاکف نے اس کے پھول جیسے بدن کو کچل ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب اس کے شہوانی جذبات لن کے مادے کی صورت میں نکل کر ماہم کی گلابی چوت کو بھرچکے ۔۔۔۔۔۔۔۔تو عاکف شہوانی جہان سے پرواز کرتا ہوا حقیقت کی دنیا میں آبسا ۔۔۔۔۔۔۔۔پچھتاوے اور تاسف کے جذبے نمودار ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور شہوانی جذبوں کو پیچھے دھکیل دیا ۔۔۔۔۔۔۔عاکف کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔۔۔۔۔۔وہ بلکتا ہوا ماہم کے پستانوں پر ڈھیر ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔چند لمحات پہلے تک یہی پستان جنہیں وہ بیدردی سے بھنبھوڑ رہاتھا ۔۔۔۔۔۔۔۔اب ان میں اس کے لیے مامتا کا احساس تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔بھابھی میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کرپاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں جیتے جی مرگیا بھابھی ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ مجھ سے کیا ظلم ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔عاکف کو اس حالت میں دیکھ کرماہم اپنا درد بھول گئی ۔۔۔۔۔۔۔چپ ہوجاؤعاکی ۔۔۔۔۔۔جوہوا اسے بھیانک خواب سمجھ کر بھول جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ماہم عریشہ کی خوشیوں کے لیے یہ زہر بھی پینے کو تیار تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عاکی میری بات سمجھ رہے ہو نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔عاکف چارپائی پر ڈھیر ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم اس کے بالوں میں اپنی مخروطی انگلیاں گھماتے ہوئے اس بھیانک رات کے سحر سے نکلنے کی سرتوڑ کوششیں کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عاکف رو رو کر سو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم کے بدن کا ریشہ ریشہ درد سے چُور تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے کروٹ بدلی اور نیند کے جھونکوں کی زد میں آگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم تو سو گئی لیکن !!!!!!!! اس کے رعنائی بدن کے گذار کولہوں کے لمس نےعاکف کو نیند سے جگا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں کے ساتھ اس کی ہوس بھی جاگ اٹھی۔۔۔۔۔۔لن دوبارہ آپے سے باہر ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔۔پچھتاوے کے جذبوں کو کچلتے ہوئے شہوانی جذبے قوت پکڑنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم کے دلکش کولہوں کی نرماہٹ اور گرماہٹ نے عاکف کے بدن کو آتش کدہ بنا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا لن تن کر دوبارہ اپنا مسکن تلاش کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس بار اس کا مسکن ماہم کے دلنشیں کولہوں میں دبکا ہوا اس کا خوبصورت سوراخ تھا ۔۔۔۔۔۔۔عاکف نے لن ہاتھ میں تھاما اور اسے ماہم کے پچھلے سوراخ کی لذت آفرینی سے روشناس کروانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔درد کی کربناک لہروں نے ماہم کو بیدار کردیا ۔۔۔۔۔۔لیکن بہت دیر ہوچکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔عاکف کے قوت سے پُر جھٹکے نے اس کے نازک سوراخ کو چیر ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔۔اور نصف لن اندر گھس گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم کی آنسوؤں سے پُر خوبصورت آنکھوں میں ایک حسین منظر ڈبڈباتا ہوا ابھرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا مت ترساؤ جان من ۔۔۔۔۔عاطف کی آنکھیں شدید مزے سے بند ہونے لگیں ۔۔۔۔۔۔وہ بیڈ پر چت لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ماہم اس کے لن کو اپنے روئی جیسے نرم ونازک کولہوں میں دبائے اس پہ بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔دونوں کے بدن پر لباس نام کی کوئی شے موجود نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم نے اپنی بانہوں کا ہار عاطف کے گلے میں ڈالا اور اپنے کولہوں کو اس کے لن پہ مسلتے ہوئے اس پر جھک گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں لوں اسے ۔۔۔۔۔۔۔اس نے عاطف کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی اپنے کولہوں کا دباؤ لن پر بڑھا دیا ۔۔۔۔۔۔اااااااہ وہیں جہاں کی سیر کرنے کے لیے یہ مسکین کب سے تڑپ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔عاطف کی لذتوں میں ڈوبی سرگوشی اس کے کان سے ٹکرائی ۔۔۔۔۔۔بالکل نہیں ۔۔۔۔۔۔۔کی سیر نہیں کرپائے گا ۔۔۔۔۔۔یہ اس کی سزا ہے ۔۔۔۔۔۔ہنی مون ہر نئے شادی شدہ جوڑے کا سب سے حسین رومانوی ارمان ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔لیکن آپ ہیں کہ بس بزنس بزنس اور بس بزنس ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم نے اس کے بھپرے ہوئے لن پر اپنے کولہوں کو ذرا زور سے دبادیا ۔۔۔۔۔۔۔۔او گاڈ میں مر گیا ۔۔۔۔۔۔۔عاطف کے چہرے پر درد کے آثار نمایاں ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔عاطی کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہیں نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم کا دل دھک دھک کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔عاطف نے ہنستے ہوئے اسے اپنی آہنی گرفت میں لے لیا اور اسے لٹا کر لن اس کے پچھلے سوراخ پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔اب بتاؤ سیر کروادوں اسے اس خوبصورت جہان کی ۔۔۔۔۔۔عاطف ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔۔آپ کو جو جی چاہتا وہ کریں لیکن مرنے کی بات دوبارہ مت کیجئے گا ۔۔۔۔۔۔۔ماہم کی خوبصورت آنکھوں میں نمی دیکھ کر عاطف کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے ماہم کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔۔۔۔۔۔آئی ایم ساری ماہم ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس کی جمالی آنکھوں کو چومتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا چھوڑو یار یہ بتاؤ ہنی مون پہ کہاں چلنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔عاطف اس کی توجہ بٹانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔فار گاڈ سیک عاطی یہ جملہ میں پچاسوں بار سُن چکی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ماہم کی مترنم ہنسی اتنی دلکش و دلنشین تھی کہ عاطف کا جی چاہتا بس اپنی محبوبہ اپنی جان من ماہم پر فدا ہی ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔اس نے ماہم کو بیڈ لٹاتے ہوئے اپنے تنے ہوئے لن کو اس کی گلاب رو چوت میں ڈال دیا ۔۔۔۔۔۔ دونوں کے بدن کیف آفرین مستی سے لہرانے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دوسرے سے لذت کشید کرنے کا دل آفرین رومان پرور کھیل ۔۔۔۔۔اس کھیل میں لن چوت میں پیوست ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔لب لبوں میں پیوست ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور بدن بدن میں پیوست ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عاطی ہنی مون پہ تمہیں خاص تحفہ دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم کی شہوانی خمار میں ڈوبی آواز سن کر عاطی نے لن کو چوت کی گہرائی میں لے جاکر روک دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا تحفہ دو گی جان من ۔۔۔۔۔۔۔۔عاطف ماہم کی آتشی چوت کی سلگتی ہوئی تپش سے لذتوں کے انتہائی پُر لطف جہان کی سیر کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ماہم نے عاطف کا ہاتھ تھام لیا اور اسے لے جا کر اپنے کولہوں کے سوراخ پر رکھ دیا۔۔۔۔۔۔۔یہ والا تحفہ وہ لجائی ہوئی آواز میں بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچ ۔۔۔۔۔۔۔۔عاطف کے جنون نے اس رات کو بے حد خوبصورت بنادیا ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن!!!!!!!!!!!!!!! یہ عاطف نہیں عاکف تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔جس شے کا ہم تصور بھی نہیں کرپاتے جب وہ حقیقت بن کر ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہوجاتی ہے تو ہم اس کا سامنا نہیں کرپاتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم کے دل کی کیفیت کا حال بس وہی جانتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عاکف اپنی ہوس پوری کرچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس بار کوئی تاسف کوئی پچھتاوا اسے چھو بھی نہ پایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بے خبر سو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم کے دل و دماغ کی جنگ میں دونوں ہی جیت گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دکھ۔۔۔۔۔درد۔۔۔۔۔۔۔۔ہر احساس سے وہ بے گانہ ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔چارپائی سے اتر کر اس نے اپنا بچا کچا لباس پہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طوفانی بارش تھمنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اس نے اپنا شولڈر بیگ تلاش کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس میں سے نوٹ پیڈ نکالا ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک تحریر لکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نفرت بھری نگاہ عاکف کے جسم پر ڈالی ۔۔۔۔۔۔۔اور کاغذ اس کے ہاتھ میں تھما دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔باہر نکل کر اس نے ایک آسمان کی جانب دیکھا اور کار میں بیٹھ کر اندھا دھند ڈرائیونگ کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔کار ایک چٹان سے ٹکرائی اور الٹ کر گہری کھائی میں جا گری ۔۔۔۔۔ماہم کا دلنشین بدن جل کر رکھ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عاکف کی آنکھ کھلی تو وہ چند لمحات خلا میں گھورتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے باہنے طرف نگاہ دوڑائی تو ماہم کی غیر موجودگی نے اسے دہلا دیا ۔۔۔۔۔۔۔گزری رات اس کی آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔اسے اپنے ہاتھ میں کسی شے کی موجودگی کا احساس ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عاکف ۔۔۔۔۔۔رات تم نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اب میرے زندہ رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ۔۔۔۔۔۔میرا زندہ رہنا بہت سی زندگیوں کو زندہ درگور کردے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلی بار جب تم میری عزت پر حملہ آور ہوئے۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے بعد جس طرح تم پچھتائے میں اسے کمزور لمحات کی لغزش سمجھ کر بھول جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔لیکن!!!!!!! دوسری بار تم نے میرے سارے ارمان لوٹ لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور تمہیں کوئی پچھتاوا بھی محسوس نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے اندر کی عورت جان گئی کہ اب اگر میں زندہ رہتی ہوں تو تا زندگی تمہاری داشتہ بن کررہنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔۔۔۔بس ایک وعدہ کرو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم ہمیشہ عریشہ کو خوش رکھو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور عاطف کو کبھی اس بات کی خبر نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک حادثہ ہوا اورمیں زندگی کی بازی ہار گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عاطف اس صدمے کو برداشت کرلیں گے ۔۔۔۔۔۔لیکن جو زخم تم نے میری روح پر لگائے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے جان کر ان کی روح ان کے بدن کا ساتھ چھوڑ جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔میں تمہارے بھائی کو تم سے زیادہ جانتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عریشہ کو کبھی دکھ مت دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تم ایسا کرپائے تو شاید میری روح بھی تمہیں معاف کردے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عاکف بلک بلک کر رو پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھابھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھابھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھابھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت دیر ہوچکی عاکف ۔۔۔۔۔۔دور سے ایک آواز آتی سنائی دی ۔۔۔۔۔۔۔۔اب تمہیں ایک ہی شے کے سہارے باقی کی زندگی گزارنے ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔وہ تھا پچھتاوا۔۔۔۔۔۔ختم شد
  3. baqi ki kahani parhney k liye ufc ki premium membership purchase karna pare gi. contact with @Administrator
  4. waiting of new superb updates @shahg
  5. فرمابردار بیوی کیسی ہوتی ہے شوھر: آج کھانے میں کیا بناؤ گی بیوی: جو آپ کہیں شوھر: واہ بھئی واہ ایسا کرو دال چاول بنا لو بیوی: ابھی کل ہی تو کھائے تھے شوھر: تو سبزی روٹی بنالو بیوی: بچے نہیں کھائیں گے شوھر: تو چھولے پوری بنالو چینج ہوجائے گا بیوی: جی سا متلا جاتا ہے مجھے ھیوی ھیوی لگتا ہے شوھر: یار آلو قیمہ بنالو اچھا سا بیوی: آج منگل ہے گوشت نہیں ملے گا شوھر: پراٹھہ انڈہ بیوی: صبح ناشتے میں روز کون کھاتا ہے شوھر: چل چھوڑ یار ھوٹل سے منگوالیتے ہیں بیوی: روز روز باھر کا کھانا نقصان دہ ہوتا ہے جانتے ہیں آپ شوھر: کڑھی چاول بیوی: دھی کہاں ملے گا اس وقت شوھر: پلاؤ بنالو چکن کا بیوی: اس میں ٹائم لگے گا پہلے بتاتے شوھر: پکوڑے ہی بنالو اسمیں ٹائم نہیں لگے گا بیوی: وہ کوئی کھانا تھوڑی ہے کھانا بتائیں پراپر شوھر :پھر کیا بناؤ گی بیوی: جو آپ کہیں سرتاج
  6. اتنی مدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم پھرتے ہو اتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں الجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسنؔ تم بدنام بہت ہو محسن نقوی
  7. سب دوستوں کو تجسس میں دیکھ کر میں آپ سب کو پریمیم ممبرشپ خریدلینے کا مشورہ دوں گا۔ ابھی ایڈمن بھائی سے رابطہ کرکے ممبرشپ خرید لیں شکریہ admin@urdufunclub.win
  8. ایک نوکرانی کو صفائی کرتے ہوئے استعمال شدہ کنڈوم ملا۔ اس نے مالکن سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ مالکن نے جواب میں پوچھا کہ تم لوگ سیکس نہیں کرتے؟ نوکرانی بولی کہ باجی کرتے تو ہیں مگر اتنا نہیں کرتے کہ لن کی کھال ہی اتر جائے۔
×