Jump to content
URDU FUN CLUB

EricT

VIP SILVER PRO
  • Content count

    52
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    7

EricT last won the day on October 15 2017

EricT had the most liked content!

Community Reputation

218

2 Followers

About EricT

  • Rank
    Regular Donor / Sponsor

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. اس تھریڈ کی شروعات میں سب ایکٹو ممبران نے حصّہ لیا اور کافی باتیں تفصیل سے زیربحث آئیں - میں سمجھتا ہوں کہ مرکزی خیالات کافی ڈسکس ہوگئے اور اب جب تک کوئی نیا پہلو، سوال، خبر یعنی کفتگو کے لئے نیا مواد نہ ہوا تو خاموشی ہی رہے گی - ایک ہی طرح کی بات بار بار گھما کر سامنے آئے تو گفتگو میں مزہ نہیں رہتا
  2. بہت خوب سٹوری میکر ہزاروں کہانیاں پڑھنے کے بعد یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی پہلی کاوش کئیوں کو سکھا سکتی ہے- شروعات میں پلاٹ کی آہستہ لیکن بتدریج پیش رفت ایک ماہرانہ اقدام تھا- آخر کی اقساط کچھ جلدبازی کے ساتھ لکھی گئیں لگتیں ہیں- اب اسکی وجہ قارئین کی بےصبری تھی یا مصنف کی یہ نہیں کہہ سکتا کچھ پڑھنے والوں نے اختتام/انجام کے بارے میں خیال آرائی کی ہے کہ یوں نہ ہوتا وغیرہ لیکن میرا ماننا ہے کہ ایسی بہت کم کہانیاں ہوتی ہیں جن کا اختتام سب کو قبول ہو ورنہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ ہر قاری نے اپنے تصور میں کہانی اور کرداروں کے لئے اپنی فینٹسی پر منحصر توقعات، امیدیں وغیرہ بنالی ہوتی ہیں اور جب انجام ان سے مختلف یا برعکس نکلے تو یا انہیں اچھا نہیں لگتا یا سچا/صحیح نہیں لگتا مبارک کہ اب آپ اپنی فورم آی ڈی کے اسم بمسمع ہوگئے- امید آئندہ بھی لکھتے رہیں گے
  3. اگر دونوں کہانیوں میں وہی کردار ہیں یا پچھلی کہانی سے کوئی ربط یا تعلق ہے تو رشتے-٢ ایک سیقول* کے حساب سے صحیح نام ہوگا وگرنہ کچھ اور نام مثلاً پامال رشتے وغیرہ بہتر ہوگا *SEQUEL
  4. نرسوں کے بارے میں اکثر ایک فنٹیسی پالے ہوتے ہیں اس بات میں کوئی شک نہیں لیکن غریب ملکوں میں اس طبقے سے سیکس کشید کرنا ترقی یافتہ ملکوں کی نسبت بہت آسان ہوتا ہے. پاکستان میں نرسوں سے سیکس ایک آسان ہدف ہے. جیسا کہ آپ نے کہا جو نرسیں اخلاقی مضبوطی اور پیشاور ایمانداری کا اظہارکرتیں ہیں وہ سب سے زیادہ مشاکل میں گھری ہوتیں ہیں. نرسیں کیا پاکستان میں ہر ایماندار کے ساتھ یہی مسئلے ہیں. حرام خوروں نے سب کو خود جیسا بنانا ہوتا ہے اور بد قسمتی سے ہمارے پاس حرام خوروں کی کمی نہیں بلکہ ایک واضح اکثریت ہے
  5. فیصل آپ نے میرےکمنٹ کی بہترین تشریح کی جو کہ مجھے کرنا چاہیے تھا بجائے حد سے زیادہ اختصارکرنے کے آپ نے بلکل صحیح کہا کہ دیسی یا مشرقی لڑکی یا عورت کوسیکس کے لئے ایسی توجیہ چاہیے جو اس کے معاشرتی، برادری، خاندانی، اور گھریلو اقدار کی نفی نہ کرے... اور یہ فریب سے ہی ممکن ہے چاہے وہ خود فریبی ہو یا دوسروں کا دھوکہ اچھا توجیہ مغرب زدہ لڑکی/عورت کی ضرورت بھی ہے...کئی لوگ آزاد خیال ملکوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ ١٠ میں سے ١٠ لڑکیاں/عورتیں کسی کے لئے بھی ٹانگیں کھول دیں گی بلکہ ان میں سے کئی تو سجھتے ہیں کہ ہر وقت ٹانگیں کھلی ہی ہیں لیکن ایسا بلکل نہیں ہے... بس وہ سیکس کو غیرت اورعزت نفس کا مسئلہ نہیں بناتیں کیونکہ ان کو کچھ حقیقی جواز قبول ہونگے مثلاً جسمانی ضرورت، صرف ایک مزے کی بات وغیرہ الفاظ کا چناؤ موقع کی مناسبت اور حسب تدبیر ہی ہونا چاہیے. میں اسے شوگر کوٹنگ تو نہیں بلکہ معاملہ فہمی کی مہارت سمجھتا ہوں ہاں اسکی زیادتی یقیناً فریبی اور دھوکے بازی کے قریب ہوجاتی ہیں.غیر ازدواجی تعلقات کےضمن میں میرا مقصد ہوتا ہےکہ سامنے والی کسی غلط یا خوش فہمی میں نہ رہے اور اسے بعد میں یہ نہ لگے کہ میں نے اسکا جذباتی استحصال کیا یا کسی کمزور لمحے کافائدہ اٹھایا. اسکا مطلب یہ نہیں کہ میں ہر بات ایسی صاف گوئی سے بولوں کہ معاملہ چوپٹ ہوجائے. بس سیٹنگ اینڈ مینیجنگ اکسپکٹیشنس والی بات ہے. اپنے شوہر سے غیر مطمئن عورت کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اس طرح گھٹ گھٹ کے جینا، مردہ ہونے کے مترادف ہے اور اگر گھر کی گاۓ دودھ نہیں دے رہی تو باہر سے حصول ضروری ہے نہ کے بھوکا مرنا..یہی حال ان کا ہوگا جنکے شوہر یا بواۓ فرینڈ ان سے دور ہیں ... ایک غیر شادی شدہ یا ایک طلاق یافتہ کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ جب تک کوئی سچا پیار نہ ملے تب تک جسمانی تقاضوں کو ایک حد سے زیادہ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے... وغیرہ معذرت میں وضاحتوں میں لگ گیا لیکن اپنی پچھلی پوسٹ کی کمی کو پورا کرنا ضروری لگا .
  6. فضول کی ہانکنے میں آپ کا وقت ضایع نہیں کرنا چاہتا لیکن اپنا ایک چھوٹا تعارف دینا پڑے گا... میں عمر کی چوتھی دہائی میں ہوں اور اس عمر کا دس فیصد بھی پاکستان میں نہیں رہا- اس لئے میرا ٹاکرا مختلف اقوام کے تارکین وطن یعنی اکسپٹریٹ لوگوں اور گروپس سے ہوتا ہے- اس میں بھی میں عموماً پاکستانیوں اور ہندوستانیوں سے تھوڑا فاصلہ رکھتا ہوں کیونکہ میرا مزاج ایک بڑی اکثریت سے ملتا نہیں - معذرت میں کوئی مغرور نک چڑھا نہیں لیکن دنیاداری کے خودغرض، دہرے، اور دوغلے میعار کو نا اپنانے سے دوسرے مغرور، دماغ خراب، ساتویں آسمان کا مزاج وغیرہ سمجھ ہی لیتے ہیں- کچھ کام کی نوعیت ایسی ہے کہ زیادہ واسطہ عربی اور گوری قوموں سے پڑتا ہے- سیکس کے بارے میں میری اپروچ بلکل ڈائریکٹ ہے اسی وجہ سے بہت کم ایسی دیسی لڑکیاں یا عورتیں ہیں جن کو میرا خود فریبی اور دھوکے بازی سے مبرا انداز اچھا یا قابل ہضم لگے- یعنی آپ جن حیلوں بہانوں کی بات کرتے ہیں میں اسی سے پوری طرح باز رہتا ہوں- میرے لئے یہ انتہائی ضروری ہے تاکہ بندی کسی غلط یا خوش فہمی میں میری گھریلو زندگی پر اثرانداز نہ ہو- میرے افیئر اسی امید اور سمجھ بوجھ پر مبنی ہوتے ہیں کہ ہم ایک سیکس افئیر کر رہے ہیں کوئی جینے مرنے کی قسمیں نہیں کھا رہے- نوجوانی سے ہی مجھے دو ٹوک بات کی عادت ہے جو وقت کے ساتھ اور پختہ ہوگئی ہے- اسی لئے میں نے دیسی گھاٹ کی بات کی تھی... اس میں کوئی شک نہیں کہ فیصل نے ہم چاروں میں سے سب سے زیادہ اس برانڈ کا پانی پیا ہے لیکن میرا اندازہ ہے کہ ہر تجربہ ایک الگ کہانی ہونے کی وجہ سے ذرا کنی کترا رہے ہوں- مجموعی طور پر آپ نے سب حیلے بہانے اوپر بیان کر دیے ہیں- ان پر مزید تشریح مشکل ہے
  7. یہیں ہوں لیکن میرا "گھاٹ" دیسی نہیں بدیسی ہے اسلئے شجر ممنوعہ قسم بہت کم برتی یا برتائی ہے اور یہاں دیسی گھاٹ کے پانیوں کا ذکر چل رہا ہے
  8. پاکستان میں سیکس تک رسائی اور سیکس کی موجودگی یا منظوری ایک بہت وسیع پہلو ہے یعنی اٹس اے ویری وائڈ رینج/بینڈ/سبجیکٹ پاکستان ان خطوں میں سے ایک ہے جہاں چھوٹے فاصلے پر ہی کافی فرق پڑ جاتا ہے- چاہے وہ فرق صوبہ الگ ہونے کی وجہ سے ہو یا شہر، گاؤں، محلہ، وغیرہ ان سب کی قریبی اور یکساں اکائیاں مجھے محلہ اور برادری لگتی ہیں- بڑے شہروں مثلاً کراچی، لاہور، وغیرہ میں آپکو مختلف علاقوں اور انکے محلّوں میں مزاج کا واضح فرق نظر آئے گا مثلاً کلفٹن ڈیفنس بمقابلہ لیاقت آباد رنچھوڑ لائن وغیرہ واضح اقتصادی فرق کے علاوہ قومیتوں، ذاتوں، برادریوں کا فرق بھی ہے مثلاً ناظم آباد، گلشن اقبال، ہیرا منڈی، نیپئر روڈ وغیرہ کچھ علاقوں، شہروں، صوبوں کی عمومی غیرت مرنے مارنے تک پہنچی ہوتی ہے اور کہیں بہت کچھ چلتا ہے-لیکن ایک واضح پہلو جسکا ذکر فیصل نے کیا وہ شہری اور دیہاتی پس منظر کا ہے- دیہاتی پس منظر میں سیکس تک رسائی نسبتاً آسان ہوتی ہے- یاد رہے کہ شہروں کے اندر پسماندہ علاقے یا شہری حدود کے قریب لیکن باھر والے علاقوں میں بھی دیہاتی قسم کی سوچ غالب ہوتی ہے- میں کسی کے جذبات مجروح نہیں کرنا چاہتا لیکن کچھ سنی سنائی لیکن مشہور باتیں نری جھوٹی نہیں بلکہ کچھ سچائی پر بھی مبنی ہوتی ہیں- کچھ ذاتیں یا قبیلے یا فرقے ایسے ہوتے ہیں جہاں سیکس تک رسائی بہت آسان ہوتی ہے لیکن وہاں 'جانتے سب ہیں مانتا کوئی نہیں' والی روایت ہوتی ہے- آپ میں سے سب نہیں لیکن کئیوں کا سامنا ایسی برادریوں یا فرقوں سے ہوا ہوگا جہاں انکی عورتوں کا حصول کچھ خاص مشکل نہیں یا تو وہ ویسے ہی جوانی کی گرمی میں چدوا لیں گی یا تھوڑا بہت لالچ گفت وغیرہ سے یا خاموشی سے آپکے نیچے لیٹ جائینگی اور کوئی تردد یا مزاحمت نہیں کرینگی- یہاں مزاحمت کی غیر موجودگی صرف اقتصادی کمزوری یا فرق پر نہیں بلکہ اور بھی کئی وجوہ سے ہو سکتی ہیں- اسی طرح ذاتیں یا قبیلے یا فرقے ایسے ہیں جہاں کبوتر والی بند آنکھیں تو نہیں لیکن رسم و رواج کے پردے میں سیکس یا عورت کا حصول آسان ہوتا ہے مثلاً ایسے قبیلے جہاں لڑکی کے ولی یعنی بھائی باپ وغیرہ کو رسم کے مطابق رشتہ مانگتے وقت ایک رقم ادا کی جاتی ہے جسکے بعد وہ مڑ کے بھی نہیں دیکھتے کہ آپ نے لڑکی سے کیا کیا یا کروایا- عارضی شادیاں کچھ فرقوں میں ممکن ہوتیں ہیں لیکن انکا ڈھنڈورا نہیں پیٹا جاتا اور یہاں میں صرف شیعوں کی بات نہیں کر رہا- متعہ ہو یا مسیار دونو نکاح عارضی ہوتے ہیں- ان سب سے کم تناسب قریبی رشتوں میں سیکس کا ہے- ایسی ذاتیں قبیلے برادریاں وغیرہ بھی ہیں جہاں سالی، بھابھی، پڑوسن، بہن، ماں، خالہ، پھوپو، وغیرہ حلال ہوتی ہیں لیکن اس بات کو اچھالا نہیں جاتا بلکہ خاموشی سے برتا جاتا ہے- میں کسی ایک گروپ میں ان سب رشتوں سے سیکس نہیں کہ رہا بلکہ عرض یہ ہے کہ کہیں کچھ ہے تو کہیں کچھ- یہ سب کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم پاکستانی نوجوانوں کو عمر جیسے وسیع زمروں میں نہیں باندھ سکتے- اور میری رائے یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اتنا تجرباتی یا تعلیمی معلومات نہیں رکھتا کہ ان سب متغیر امکانات کو انکی مختلف اشکال میں ترتیب دے سکے-
  9. واہ ینگ ایٹ ہارٹ، فائزہ، اور فیصل آپ سب نے اس موضوع کو اس خوبصورت اور جامع طریقے سے برتا ہے کہ مزید کچھ کہنا محظ باتوں کو دہرانا ہی ٹھہرے گا ہاں کسی ایک ضمنی موضوع کے بجائے ایک دو مرکزی پہلووں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں... دیکھئے کہ خامخواہ کی ہانک رہا ہوں یا یہ نقاط اس تھریڈ کے لئے فائدہ مند ٹھہریں گے سیکس، چھوٹی عمر میں سیکس، خاندان کے اندر سیکس، خونی رشتوں سے، شادی شدہ سے، کنواروں سے، وغیرہ یہ سب ہمیشہ ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا.سب سے پہلے جو چیز ہم میں بدلی ہے وہ ہے ہمارا اپنا ادراک - ہمیں یہ باتیں -اور ان سے جڑے معاشرتی اور اقتصادی پہلو- بڑھتی عمر اور تجربے سے پتا چل رہی ہیں ایک اور اہم پہلو دنیاوی ہے... ہر خطے اور معاشرے میں اچھائی برائی کا میعار اور اس سے منسلک باتوں کی انفرادی قبولیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی یا کم ہوتی رہتی ہے- یورپ کی مثال لے لیں کہ ایک زمانے میں نرے جاہل اور پھر سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہوگئے. ساتھ ساتھ انکی معاشرتی اقدار میں بہت اونچ نیچ ہوئی. کہاں تو سر سے پاؤں تک ڈھکے ملکہ وکٹوریہ کے زمانے کی قدامت پسندی اور کہاں ٨٠ کی دہایوں والا ادھ ننگاپن اور کہاں آج کل کا مکمل مادر پدر آزاد معاشرہ ... کہاں وکٹورین جنسی قدامت پسندی کہ سیکس کے دوران پورے ننگے بھی نہ ہوں اور کہاں ٦٠ کی دہائی والا کہیں بھی کبھی بھی اور کسی کے ساتھ بھی والا آزاد جنسی ماحول اسی طرح برصغیر میں بھی قدامت پسندی عمومی طور پر بہت کم ہوگئی ہے. کئی ایسی باتیں جو آجکل عام ہیں آج سے ٢٠، ٣٠، یا ٤٠ سال پہلے کئیوں کو سوچتے موت آتی تھی یہی حال آجکل کی نوجوان نسل کے معیاروں کا ہے- جو باتیں میرے بچپن میں میری ہم عمر لڑکیاں سوچ نہیں سکتیں تھیں اب وہ اب کوئی بڑی بات نہیں- میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ ایسا کیوں ہوا کیونکہ اسکی کوئی ایک وجہ نہیں، میڈیا، انٹرنیٹ، فلمیں، جنسی مواد کا آسانی سے دستیاب ہونا، عمومی اخلاقی سطح کا گر جانا، حرام کھانا، کرنا، کرانا، اور خود پر آئ برائی کو بآسانی قبول کرنا، امیری، غریبی سب ایسی وجوہات ہیں جو مختلف مقامات، صوبوں، ماحولوں، محلوں، قبیلوں اور ذاتوں میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے کہیں آزاد خیالی کے نام پر کھلی بےشرمی ہوتی ہے، تو کہیں غربت کے مارے والدین خود بچوں کو پیش کرتے ہیں. اقتصادیات چھوڑیں اپنا عمل آگے آتا ہے. شرم یا بےشرمی ماحول کے علاوہ خون یعنی جبلت میں بھی شامل ہوتی ہے. ہم محاورے کے طور پر تو کہتے ہیں فرشتے کے گھر شیطان پیدا ہوا لیکن عمومی طور پر فرشتہ صفت کی نسل میں فرشتے اور شیطانوں کے گھر شیطان ہی پیدا ہوتے ہیں ہم پاکستانی لڑکی یا نوجوان کے عمومی جنسی عملیات کو اسلئے نہیں ناپ سکتے کے پاکستان کے مختلف علاقوں، صوبوں، ذاتوں، قبیلوں، آس پڑوس وغیرہ سب کا اپنا اپنا اور الگ الگ ایکوسسٹم ہے کہاں کتنی جنسی قدامت یا آزادی ہے یہ اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ کونسے جزو کہاں ملکر کیا گل کھلاتے ہیں
  10. ڈیر ڈاکٹر فیصل ، کہانی تو آپکی بہت پاپولر جا رہی ہے اور آپ جیسے تجربہ کار لکھاری کو کیا کہنا اسلئے آپ کی کہانیوں کا خاموشی سے لطف اٹھاتا رہتا ہوں. لیکن آپ کی پچھلی قسط میں ایک فقرہ ناگوار گزرا، آپکی توجہ دلانے کا مقصد خود تو اعلی ثابت کرنا نہیں صرف طرز خیال متوازن کرنا ہے . وہ الفاظ ہیں "مجھے کسی کو کیفر کردار پہچانے کے لئے بس ارادہ چاہیے" ، میں سمجھتا ہوں کہ آپکا مقصد یہاں جمیل کا استحکام اور ارادے کی مضبوطی ظاہر کرنا تھا، لیکن الفاظ کے چناؤ میں مجھے یہ کچھ کن فیکون جیسا لگا. باقی اگر میری بات سے اتفاق نہ ہو تو برا نہ مانیے گا، اتفاق اور اختلاف تو ہوتے رہتے ہیں مخلص، ایرک
  11. Bohot Zabardast! Thoda apni zindagi ki jhalak nazar ayi... sirf thodi, mainey faisla karney main der naheen lagai thee ... Eric T
  12. Abhi tak sab rakhay hain aur pooray rakhnay ki niyat hai :)
  13. Sab ke welcome ka bohot shukriya, lund4phuddies, main aajkal sakht lazyness aur masroofiat ka shikar hoon, jaan boojh kar english main likha kiyonkeh meri mutakbil ki gf Sameen [] nain israr kiya tha... Aur meri intro ke mutabik, meri farmiash yeh thi keh koi mera intro de taakeh apnay moonh miyan mithoo na banoo :-) Eric T
  14. Hello all, Sameen (SeXXXmeen) finally convinced me to come here A little intro of myself (although I would request those who know me to give my intro to others here) I am a direct but genuine person- better to be honest than waste anyone's time. I'm quite normal and laid-back really. :) I'm a executive manager in my mid thirties. 178cm, average build (could lose a few pounds!), brown hair and black eyes. I'm in good health (v imp that I am Disease free), good looking and good fun. I live and work in UAE but travel a bit for work. I'm the type who's eager to cut to the chase. Pretense isn’t for me. Since this is primarily a sex forum I would say this: I'm your typical bored husband, stuck in a marriage that's more of a static friendship. I'm no saint, but I try to live a decent life filled with an indecent amount of sex. I am always looking for someone special so that we can spend special and discreet times together. I like my partners to be down-to-earth and but also have a wild streak. She should know what she wants and not be secretive or ashamed of admitting she is looking for a sexual relationship. Should know my availability limits as I do have a family. She should know its physical with romance but not permanent. She should be available to meet, as I am not looking for cyber. I'm married and have kids, but things aren't working out on some levels. So I sometimes find someone who is also looking out for the same, so we can add some excitement to our lives. I love people who are open-minded and willing to explore and experiment. A good sense of humor is also a good thing! I'm a very sexually active person. I'm a romantic sometimes but a naughty guy and wild person other times. Depends on the situation My friends call me when they need a shoulder to cry on, to understand them, and be the voice of neutrality and reason. Rest I leave upto you to ask... Eric T
×