Jump to content
URDU FUN CLUB

DR KHAN

Co Administrators
  • Content count

    2,049
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    748

DR KHAN last won the day on July 16

DR KHAN had the most liked content!

Community Reputation

11,237

About DR KHAN

  • Rank
    Best Writer

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

4,911 profile views
  1. میرا جسم میری مرضی والی تھیوری اتنی سیدھی نہیں ہے جتنی دکھتی ہے۔ اگر اسے انسانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس سے اتفاق کرنا بنتا ہے۔ ہم سیکس کرنے کو انتہائی بےحیائی کا کام سمجھتے ہیں مگر ہم میں سے ہر ایک سیکس کی خاطر کسی حد تک جانے کو تیار ہوتا ہے۔ چاہے ریپ کرنا پڑے یا قتل؟ مگر یہی کام کوئی دوسرا کرتا ہو تو ہم اسے گناہ عظیم سمجھتے ہیں۔ وہ کوئی اگر عورت ہو تو بدکرداری کی سند بھی مل جاتی ہے۔ اس تھیوری کی بنیاد یہ ہے کہ شادی سے پہلے لڑکی کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے اپنی جنسی تسکین کے لیے۔اگر اس کا دل چاہے تو کسی کے بھی ساتھ سیکس کرے کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔اسی طرح اگر اس کا دل نہیں چاہتا تو کوئی اسے مجبور نہیں کر سکتا،وہ بھلے سے شوہر ہی کیوں نہ ہو۔ انسانی حقوق کی تشریح سے تو یہ بات درست ہے اور اس معاملے میں عورت کو حق حاصل ہونا چاہیے۔ مگر معاشرت یا مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بگاڑ کی طرف لے جائے گا۔اتنی پابندیوں کے باوجود یہ حال ہے کہ سیکس ایک کامن سی چیز بن گئی ہے اور اگر کھلی چھوٹ مل گئی تو کیا ہو گا۔ہم دوغلے،جہالت بھرے اور گھٹن زدہ ماحول میں یہ تھیوری ابھی لاگو نہیں ہوتی۔ابھی تو کئی اور چیزیں لاگو ہونا باقی ہیں۔پہلے انسانوں کے بنیادی حقوق ملنا باقی ہیں۔سیکس تو دور کی بات یہاں اپنے عقیدے کے مطابق نماز پڑھی نہیں جا سکتی۔تعلیم شعور اور علم ملے گا تو ہی ایسی چیزوں کے متعلق سوچا جا سکتا ہے۔
  2. لڑکا:ہم دوستی کر لیں؟ لڑکی:نہیں میرے والدین کو مجھ پر بہت بھروسا ہے۔ لڑکا:میں بھروسا توڑنے کو نہیں کہہ رہا،دوستی تو پاکیزہ رشتہ ہے۔ لڑکی:مگر معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ لڑکا:معاشرہ تو عورت کو اس کے حقوق بھی نہیں دیتا تو کیا معاشرہ درست ہے؟ لڑکی :دین میں اس کی اجازت نہیں۔ لڑکا:دین سب کو اپنا من پسند شریک حیات منتخب کرنے کا حق دیتا ہے۔ لڑکی:مگر میں یہاں پڑھنے آئی ہوں۔ لڑکا:تو علم کو تو تمہاری سوچوں کو آزاد کرنا چاہیے۔ لڑکی:مگر دوستی میں کچھ حدود ہونا چاہییں۔ لڑکا:جس میں حدود ہوں وہ کاہے کی دوستی؟ لڑکی:مگر یہ جائز نہیں۔ لڑکا:بالکل جائز ہے،ایک فرقہ تو اس کی باقاعدہ اجازت دیتا ہے۔ساتھ رہو وقتی نکاح کرو اور اگر دل نہ مانے تو الگ ہو جاؤ۔ لڑکی:مگر میں اس فرقے سے نہیں ہوں۔ لڑکا:تو کیا ہوا،تمہارے بھی تو ملتانی مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ نکاح ایک ہو گا اور بیویاں کئی۔ لڑکی:بنا نکاح بیوی کیسے بن گئی؟ لڑکا:بیوی بننے کے لیے ایجاب و قبول چاہیے۔تم مجھے دلی طور پر قبول کرلو۔ لڑکی:مگر میں یہ کیسے کر سکتی ہوں؟ لڑکا:کر کیوں نہیں سکتیں؟ تمہارا جسم تمہاری مرضی۔
  3. یہ تھریڈ معاشرتی مسائل کے لیے تھا،خیر آپ نے جو مسلئہ بتایا ہے،اس کا تلی ہوئی چیزوں یا کسی اور بات سے کوئی تعلق نہیں۔ بس ہو جانے کا مطلب اگر یہ تھا کہ فارغ ہو گئے تو اس کو ہم اوور ایکسائٹمنٹ کہتے ہیں۔ مگر اگر بس کا مطلب یہ تھا کہ تناؤ کم یا ختم ہو گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فور پلے آپ کے لیے اتنا پرلطف نہیں تھا اور آپ اسے محض کاروائی پوری کرنے کے لیے کر رہے تھے۔ اینی وے یہ کوئی اتنا بڑا مسلئہ نہیں ہے،سیکس میں تبدیلی لائیں اور پوزیشنز بھی تبدیل کر کے دیکھیں نہیں تو لڑکی ہی بدل لیں۔اس سے بھی مسلئہ حل ہو سکتا ہے۔
  4. بالکل آپ یہاں کہانیاں لکھ سکتے ہیں۔بلکہ ہم تو منتظر ہیں کہ یہاں ممبرز کہانیاں لکھیں یا کچھ بھی جو ان کا دل چاہے وہ پوسٹ کریں۔ ویسے آپ پہلے کونسی کہانیاں لکھ چکے ہیں۔
  5. پسندیدگی کا شکریہ۔ اس تھریڈ یا کسی بھی بحث و مباحثے والے تھریڈ میں آپ اپنی رائے یا سوالات پوسٹ کیجیے تاکہ یہ آگے بڑھ سکیں۔
  6. کوئی بھی تھریڈ تبھی آگے چلتی ہے کہ جب تمام قاری اس میں حصہ ڈالیں۔وہ یا تو سوالات پوسٹ کریں یا اپنی رائے۔ہم دونوں کا ہی خیرمقدم کرتے ہیں۔ اپنے طور پر ہماری کوشش یہ ہے کہ جو بھی باتیں یا معاملات ہیں ،ہم ان کو یہاں زیربحث لائیں تاکہ لوگوں کو جنسی باتیں سمجھنے کا موقع مل سکے۔
  7. شادی سے پہلے جو بھی معاملات تھے وہ الگ بات ہے۔ شادی کے بعد اس کا ان سے تعلق رکھنا مناسب نہیں ہے۔ اس کا فہم و فراست ہی سے حل کیا جا سکتا ہے اور اس کا طریقہ میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ ساری بات اپنی ساس کو بتائیں ۔ان کو بیچ میں لا کر اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اب ایک اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی اہلیہ اس کو چھوڑنا چاہتی ہو مگر سامنے والا انتہائی شاطر یا عیار ہو۔ جو لفاظی اور چکنی چپڑی باتوں سے اس طرح ذہن کو قابو میں کرتا ہو کہ وہ چاہ کر بھی اس سحر سے نکل نہ پا رہی ہو۔اکثر عورت اتنی قصور وار نہیں ہوتی جتنا اس کا بہکانے والا ہوتا ہے۔ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ کئی لڑکے لڑکیوں کو ان کی شادی کے بعد بھی مرنے کی دہائیاں دیتے ہوئے رابطے میں رکھنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔لڑکیاں یہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں ہوتیں کہ یہ صرف ڈارمے بازی ہے۔ آپ کا یہ کہنا کہ آپ کی طرف سے مکمل پیار اور محبت کا اظہار کیا گیا ہے مگر تب بھی اس کی طرف سے بےاعتناعی برتی جا رہی ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کا پیار اس کو مکمل آسودگی نہیں دے پا رہا۔ ایسا کیوں ہے،یہ جاننے کی ضرورت ہے۔ آپ اس سے بات کیجیے،اس سے پوچھیں کہ اسے کیا پسند ہے، کیسا اظہار پسند ہے، کیسا پیار پسند ہے،کیسی باتیں پسند ہیں۔ پھر جو جو وہ بتائے اس سانچے میں خود کو ڈھال لیجیے۔ آخری بات کہ محبت کا امتحان یہی ہے۔ اگر سامنے والا کوئی غلطی کرے پھر بھی اپنی محبت میں فرق نہ آنے دینا یہی تو محبت ہے۔ بلھے شاہ نے فرمایا تھا کہ دل دے کے دل لین دی آس رکھی وے بلھیا پیار اہو جیا کیتا تے کی کیتا۔
  8. سب سے پہلے تو میرے بھائی زیادہ پریشان نہ ہوں۔ یہ آپ کی اہلیہ کی ذہنی ناپختگی کی علامت ہے۔ ہر لڑکی اتنی سمجھدار یا اتنی باشعور نہیں ہوتی کہ وہ کسی ایسے معاملے کی سنگینی کو سمجھ سکے۔ اسے نئی نئی شادی کے بعد وقت لگے گا اس رشتے کی اہمیت کو سمجھنے کا۔ اسے کچھ عرصے بعد احساس ہو گا کہ شادی کے بندھن میں کسی دوسرے سے تعلق رکھنا مناسب نہیں ہوتا۔ یہ احساس کئی طریقوں سے دلایا جا سکتا ہے۔ سب سے بہتر طریقہ یہ کہ کسی بڑے یعنی اپنی اہلیہ کی والدہ کو یہ ساری بات بتائیں اور ان کو کہیں کہ وہ یہ بات ان سے کریں۔ کبھی غلطی سے بھی یہ بات اپنے خاندان کے کسی فرد کو نہیں بتانی بلکہ بیوی کے خاندان کے بڑوں تک پہنچانی ہے۔ اس کے بعد ان کے ساتھ مل کر کسی انداز میں اپنی اہلیہ کو سختی اور پھر پیار سے سمجھائیں کہ ایسی چیزیں جو شوہر کے سامنے نہ کی جا سکتی ہوں وہ مناسب نہیں ہوتیں اور ان کے گھر کے گھر برباد ہو جاتے ہیں۔ان سے باز رہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو ان کی آنے والی زندگی کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔ جب وہ سمجھ جائے تو اس بات کو سرے سے ذہن سے نکال دیں۔ اب اس چیز کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ بیوی کو وقت دیں محبت دیں اور توجہ دیں۔ اس کو آپ کی ذات سے فرصت ہی نہیں ہو گی تو وہ کسی دوسرے کے متعلق نہیں سوچ پائے گی۔
  9. Version

    48 downloads

    غافل از ڈاکٹر فیصل خان کل صفحات 125 / مکمل ناول.

    $2.00

  10. Version

    13 downloads

    خود کشی از ڈاکٹر فیصل خان مکمل ناول

    $2.00

  11. پہلی بات تو اس فورم میں ہم اردو کو فروغ دیتے ہیں اس لیے اردو میں کمنٹس ہوں تو بہتر ہوتا ہے۔ آپ کی بات درست ہے کہ میرے لیے یہ مشکل ہو جاتا ہے کہ بیک وقت میں کئی سلسلوں پہ کام کروں۔ مگر یہ مجبوری اور ضرورت ہے۔اگر میرے علاوہ دو چار اور رائیٹر موجود ہوتے تو یقیناً ایسا ہی ہوتا کہ وہ باقی کہانیاں لکھتے اور میں اپنے مستقل سلسلے ہی چلاتا۔ اس کے علاوہ ایک پوائنٹ یہ بھی ہے کہ ہر بندے کی پسند جدا ہے۔ بہت سے قاری صرف اور صرف پردیس ہی پسند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بہت سے قاری ہوس پڑھنا چاہتے ہیں۔ایک بڑی تعداد ایسے قارئین کی ہے جو مکمل کہانیاں چاہتے ہیں۔ اب خواہشات جدا ہیں اور ان کو پورا کرنے والا محور ایک ہی ہے۔ اگر میں کسی ایک کہانی کو پکڑ لوں اور اس کی روزانہ بھی اپڈیٹ دینے لگوں تو دیکھ لیجیے گا کہ ابھی اس کی اپڈیٹ پوسٹ ہوئی نہیں ہو گی کہ کسی دوسری پہ کمنٹ آ جائے گا کہ آپ فلاں کو وقت زیادہ دیتے ہو کبھی اس کو تو اپڈیٹ کرو۔ میں پہلی کو چھوڑ کر وہاں پہنچوں گا تو دوسری پہ کمنٹ آ جائے گا۔میں سب کو اپڈیٹ کروں تو کمنٹ آ جائے گا کہ نیا تو کچھ ہے ہی نہیں۔ اسی لیے ہمیں مجبوری کے عالم میں یہی کرنا پڑتا ہے کہ بیک وقت ہم سبھی محاذوں پہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ لوگوں کو جان کر حیرت ہو گی کہ ان مشکلات کے باوجود ہوس کے ایک ہزار صفحات مکمل ہو چکے ہیں،پردیس چار ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ان کے علاوہ بھی سب سے بڑا کہانیوں کا کلیکشن اسی فورم پہ ہے جو کہیں اور پوسٹڈ نہیں ہیں یا چوری نہیں ہیں۔ کہانیوں یا اپڈیٹ کی رفتار کم ہو سکتی ہے مگر کوالٹی نہیں۔ اگر کوئی رائیٹر ایسے ہیں جو نئی کہانیاں یہاں لکھیں تو میں بخوشی صرف اپنی تین کہانیوں تک محدود رہنے میں عافیت محسوس کروں گا۔
  12. کہانی کی پہلی جھلکی شائع کی جا رہی ہے۔
  13. یہ واقعہ ایسے واقعات کی سب سے بدترین شکل ہے۔عام طور پر ان واقعات میں زیادتی، جنسی استحصال اور بدنامی تک بات محدود رہتی ہے مگر یہاں بات قتل تک پہنچ گئی۔ غور سے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں بہنیں ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہوئے تھیں اور یہ ساری سرگرمیاں گھر والوں نے نظرانداز کی ہوئی تھیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی لڑکی اس حد تک بگاڑ کا شکار ہو اور کسی نے نوٹس نہ کیا ہو۔ گھر میں غیر مرد آتے جاتے تھے اور گھر والے انجان تھے یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔دراصل گھر والے اس کی سنگینی کو نہیں سمجھ سکے تھے۔ اہم بات ہن ان دونوں کی عمر۔سولہ اور اٹھارہ سال کی عمر میں انھوں نے ہر قسم کی اخلاقی برائی کو اپنایا ہوا تھا۔ یہ والدین کے لیے سبق ہے کہ وہ اپنی اولاد کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کوشش کریں کہ معاملات بگڑنے سے پہلے اصلاح ہو جائے۔
  14. واہ جناب واہ۔۔جیومیٹری پڑھنے کا سب سے عمدہ نسخہ یہی ہے۔ زبردست ہو گیا جناب۔ آپ کو دوبارہ متحرک دیکھ کر بھی مسرت ہوئی۔
×