Jump to content
URDU FUN CLUB

DR KHAN

Co Administrators
  • Content Count

    2,113
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    791

DR KHAN last won the day on November 10

DR KHAN had the most liked content!

Community Reputation

11,490

About DR KHAN

  • Rank
    Best Writer

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

6,119 profile views
  1. کہانی بہت عمدہ اور اچھی ہے، اگر اس میں کوئی کمی ہے تو صرف یہی کہ یہ رومن میں ہے۔ اگر یہ اردو میں لکھی گئی ہوتی تو یہ ایک شاہکار کہانی ہوتی۔ بہرحال آپ لکھتے رہیں اور اردو میں لکھنے کی کوشش کریں۔
  2. کہانی نے ڈرامائی موڑ لیا ہے. آپ دونوں نے بہت اہم نکتہ اٹھایا ہے ماں نے ایسے بندے کے پاس جوان بیٹیاں کیسے چھوڑ دیں. دوم , ایسے بدمعاش ہونا بھی کم ہوتا ہے بہرحال اچھی تبدیلی سامنے آئی ہے.
  3. کہانی کا یہ موڑ بڑا تجسس بھرا اور غیر متوقع ہے. اس میں سبق کا پہلو بھی ہے کہ کسی سے اس کے پیسے کے لیے متاثر ہونے اور اپنے دیرینہ ساتھی کے ساتھ دھوکہ دہی کا انجام اچھا نہیں ہوتا عظمی نے اسد کی پہلے دن سے پذیرائی کی تو اس کا نتیجہ ایسا ہی نکلنا تھا بہت اچھے جناب
  4. اگر کہانی میں نئے اینگل نہیں ہوں گے تو کہانی کا مزا کیسے برقرار رہے گا؟ہو گا یہ کہ نام بدلتے جائیں گے سیکس سین ہوتا رہے گا. اس کے برعکس اتار چڑھاؤ مشکلات پریشانیاں اور دشواریاں ہوں گی تو ہی کہانی آگے بڑھے گی ورنہ کہانی پورن بن کر رہ جائے گی کہ ایک لڑکی کا نام ڈالو اور دو چار اقساط کے بعد اس کے ساتھ سین
  5. بہت عمدہ کہانی میں آنے والے ٹوئسٹ بہت شاندار اور جاندار ہیں. صدف کا ناراض ہونا اور شدید ترین ردعمل دکھانا, عظمی کا بےوفائی کرنا, اسد کا دوستی میں لڑکی کو لانا بالکل فطری چیزیں ہیں اب دیکھنا باقی ہے کہ عظمی کی نئی سنگت اسے کس نہج پہ لے جاتی ہے میرا خیال ہے کہ یہ بہت بہتر ہے. حقیقت پسندی سے دیکھیں کہ یاسر گاؤں شہر کی ہر بچی کی لے رہا ہے مگر بچی کسی اور کے بارے میں سوچتی تک نہیں اگر یاسر کا تعلق بس سیکس تک ہے تو وہ بھی دوسروں کی طرف متوجہ ہو سکتی ہیں, یہ فطری بات ہے اگر یاسر دوست کی بہن کی لے سکتا ہے تو دوست بھی ایسا پارسا نہیں ہو گا پھر ایسا تو ہوتا ہے کہ کبھی کوئی نئی ہاتھ آئی اور کوئی پرانی نکل گئی
  6. کہانی کئ ابتدا اچھی ہے اور ہمیں امید ہے کہ آگے بھی کہانی خوش اسلوبی سے چلے گی جیسے جیسے کہانی آگے جائے گی صورتحال واضع ہو جائے گی
  7. ہم شیخو صاحب کی کہانی سے بہت متاثر ہیں کیونکہ اتنی طویل کہانی لکھنا بے انتہا مشکل کام ہے اگر یہ فورم کے لیے ایک ایکسکلیوسیو کہانی تحریر کریں جو کہیں اور پوسٹ نہ ہو تو ان کو رائیٹر کا ٹائیٹل اور سہولیات دی جا سکتی ہیں ان کو مکمل کہانی لکھنے پہ فورم کی طرف دیگر مراعات بھی میسر ہو جائیں گی جو پریمیم ممبران کو حاصل ہوتی ہیں
  8. کہانی اچھی جا رہی ہے۔ کہانی کا یہ موڑ جہاں فوزیہ آنٹی کے ساتھ سیکس ہوا مجھے کوئی خاص پرلطف نہیں لگا۔ اس کی دو وجوہات ہیں،اول،یہ کہ جب پہلے وہ بیٹی کی لے چکا تھا تو ماں میں خاص جاذبیت ہونا اتنا عام نہیں۔ یہ کم ہی ہوتا ہے کہ بیٹی سے ماں زیادہ بہتر ہو۔اس کی گفتگو بھی کہیں انتہائی شفیق عورت والی ہے تو سیکس کے وقت بالکل ایک کردار باختہ عورت والی۔ ایک ہی کردار میں تضاد ہے۔فرحت آنٹی کی واپسی کی امید بھی تھی اور اب نسرین سے بھی ٹانکا بھڑنے کی امید ہے۔ جبکہ مہری والا سین اچھا جا رہا ہے،امید ہے کہ اسے آپ بہتر انداز میں آگے چلائیں گے۔ کہانی میں کسی ٹوئسٹ کی ضرورت ہے تاکہ ایک کے بعد ایک سیکس سین سے یکسانیت نہ محسوس ہو۔
  9. Version

    11 downloads

    ادھوری سازش از ڈاکٹر فیصل خان

    $3.00

  10. سب سے پہلے تو میں یہ بتا دوں کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے میں فورم پر بس اتنی دیر ہی آن لائن ہو پاتا ہوں جتنی دیر میں کوئی اپڈیٹ کرنی ہو۔ اس کے علاوہ میں آ نہیں پاتا۔ اسی وجہ سے یہ کہانی پڑھنے میں مجھے تاخیر ہو گئی۔ آج میں نے خاص طور پر وقت نکال کر مکمل کہانی پڑھی ہے اور مجھے احساس ہوا ہے کہ یہ ایک عمدہ کہانی ہے۔ چھوٹی موٹی غلطیاں وہ املا کی ہوں یا پوسٹنگ کی،وہ اہم نہیں ہیں۔ اصل بات ہے کہانی لکھنے کی مستقل مزاجی کی۔ میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور یہ درخواست کرتا ہوں کہ ایسے ہی کہانیاں لکھتے رہیں اور ہم سے شئیر کرتے رہیں۔ بہت عمدہ جناب۔ جہاں تک انسسٹ کی بات ہے یہ انتہائی گھٹیا سوچ کی عکاسی ہے۔ سیکس اور انسسٹ میں کوئی چیز مشترک نہیں،سیکس قدرتی عمل ہے اور انسسٹ حیوانی،دونوں کو ایک ہی طرز سے سوچنا بالکل درست نہیں۔ جہاں تک کسی عورت کو باجی ،منہ بولی بہن یا آنٹی کہنا مگر اس کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کی بات ہے تو یہ اس دنیا میں سب سے زیادہ کامن چیز ہے اور یہ ہوتا ہے۔ کہانی کی کچھ چیزیں بہت عمدہ ہیں،جیسے صدف کا پہلے انکار کرنا مگر اپنے سے کم عمر لڑکے سے سیکس کروا لینا۔اسی طرح عظمیٰ کا دوستی میں جب فری ہونا دکھایا گیا تھا تو اس سے سیکس ہو جانا عین فطری تھا۔ میرے مطابق عظمیٰ سے سیکس کہیں پہلے ہو جانا چاہیے تھا اور ایسا عام طور پر کم ہی ہوتا ہے کہ لڑکے کا کسی لڑکی کے ساتھ جسمانی مذاق یا چھیڑ چھاڑ تک کا تعلق ہو تو درمیان میں مہینوں کا وقفہ آ جائے اور وہ دونوں ایسا نہ کریں۔ کہانی میں درج ہے کہ نسرین اور صدف کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں ہو پایا، مگر ایسے عاشق ہر مشکل کو دور کر کے اپنی منزل پر پہنچ کر ہی رکتے ہیں۔ زبردست جناب زبردست
  11. میرا جسم میری مرضی والی تھیوری اتنی سیدھی نہیں ہے جتنی دکھتی ہے۔ اگر اسے انسانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس سے اتفاق کرنا بنتا ہے۔ ہم سیکس کرنے کو انتہائی بےحیائی کا کام سمجھتے ہیں مگر ہم میں سے ہر ایک سیکس کی خاطر کسی حد تک جانے کو تیار ہوتا ہے۔ چاہے ریپ کرنا پڑے یا قتل؟ مگر یہی کام کوئی دوسرا کرتا ہو تو ہم اسے گناہ عظیم سمجھتے ہیں۔ وہ کوئی اگر عورت ہو تو بدکرداری کی سند بھی مل جاتی ہے۔ اس تھیوری کی بنیاد یہ ہے کہ شادی سے پہلے لڑکی کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے اپنی جنسی تسکین کے لیے۔اگر اس کا دل چاہے تو کسی کے بھی ساتھ سیکس کرے کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔اسی طرح اگر اس کا دل نہیں چاہتا تو کوئی اسے مجبور نہیں کر سکتا،وہ بھلے سے شوہر ہی کیوں نہ ہو۔ انسانی حقوق کی تشریح سے تو یہ بات درست ہے اور اس معاملے میں عورت کو حق حاصل ہونا چاہیے۔ مگر معاشرت یا مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بگاڑ کی طرف لے جائے گا۔اتنی پابندیوں کے باوجود یہ حال ہے کہ سیکس ایک کامن سی چیز بن گئی ہے اور اگر کھلی چھوٹ مل گئی تو کیا ہو گا۔ہم دوغلے،جہالت بھرے اور گھٹن زدہ ماحول میں یہ تھیوری ابھی لاگو نہیں ہوتی۔ابھی تو کئی اور چیزیں لاگو ہونا باقی ہیں۔پہلے انسانوں کے بنیادی حقوق ملنا باقی ہیں۔سیکس تو دور کی بات یہاں اپنے عقیدے کے مطابق نماز پڑھی نہیں جا سکتی۔تعلیم شعور اور علم ملے گا تو ہی ایسی چیزوں کے متعلق سوچا جا سکتا ہے۔
  12. لڑکا:ہم دوستی کر لیں؟ لڑکی:نہیں میرے والدین کو مجھ پر بہت بھروسا ہے۔ لڑکا:میں بھروسا توڑنے کو نہیں کہہ رہا،دوستی تو پاکیزہ رشتہ ہے۔ لڑکی:مگر معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ لڑکا:معاشرہ تو عورت کو اس کے حقوق بھی نہیں دیتا تو کیا معاشرہ درست ہے؟ لڑکی :دین میں اس کی اجازت نہیں۔ لڑکا:دین سب کو اپنا من پسند شریک حیات منتخب کرنے کا حق دیتا ہے۔ لڑکی:مگر میں یہاں پڑھنے آئی ہوں۔ لڑکا:تو علم کو تو تمہاری سوچوں کو آزاد کرنا چاہیے۔ لڑکی:مگر دوستی میں کچھ حدود ہونا چاہییں۔ لڑکا:جس میں حدود ہوں وہ کاہے کی دوستی؟ لڑکی:مگر یہ جائز نہیں۔ لڑکا:بالکل جائز ہے،ایک فرقہ تو اس کی باقاعدہ اجازت دیتا ہے۔ساتھ رہو وقتی نکاح کرو اور اگر دل نہ مانے تو الگ ہو جاؤ۔ لڑکی:مگر میں اس فرقے سے نہیں ہوں۔ لڑکا:تو کیا ہوا،تمہارے بھی تو ملتانی مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ نکاح ایک ہو گا اور بیویاں کئی۔ لڑکی:بنا نکاح بیوی کیسے بن گئی؟ لڑکا:بیوی بننے کے لیے ایجاب و قبول چاہیے۔تم مجھے دلی طور پر قبول کرلو۔ لڑکی:مگر میں یہ کیسے کر سکتی ہوں؟ لڑکا:کر کیوں نہیں سکتیں؟ تمہارا جسم تمہاری مرضی۔
  13. یہ تھریڈ معاشرتی مسائل کے لیے تھا،خیر آپ نے جو مسلئہ بتایا ہے،اس کا تلی ہوئی چیزوں یا کسی اور بات سے کوئی تعلق نہیں۔ بس ہو جانے کا مطلب اگر یہ تھا کہ فارغ ہو گئے تو اس کو ہم اوور ایکسائٹمنٹ کہتے ہیں۔ مگر اگر بس کا مطلب یہ تھا کہ تناؤ کم یا ختم ہو گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فور پلے آپ کے لیے اتنا پرلطف نہیں تھا اور آپ اسے محض کاروائی پوری کرنے کے لیے کر رہے تھے۔ اینی وے یہ کوئی اتنا بڑا مسلئہ نہیں ہے،سیکس میں تبدیلی لائیں اور پوزیشنز بھی تبدیل کر کے دیکھیں نہیں تو لڑکی ہی بدل لیں۔اس سے بھی مسلئہ حل ہو سکتا ہے۔
×