Jump to content
URDU FUN CLUB

DR KHAN

Co Administrators
  • Content count

    2,081
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    778

DR KHAN last won the day on September 20

DR KHAN had the most liked content!

Community Reputation

11,410

About DR KHAN

  • Rank
    Best Writer

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

5,625 profile views
  1. میرا جسم میری مرضی والی تھیوری اتنی سیدھی نہیں ہے جتنی دکھتی ہے۔ اگر اسے انسانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس سے اتفاق کرنا بنتا ہے۔ ہم سیکس کرنے کو انتہائی بےحیائی کا کام سمجھتے ہیں مگر ہم میں سے ہر ایک سیکس کی خاطر کسی حد تک جانے کو تیار ہوتا ہے۔ چاہے ریپ کرنا پڑے یا قتل؟ مگر یہی کام کوئی دوسرا کرتا ہو تو ہم اسے گناہ عظیم سمجھتے ہیں۔ وہ کوئی اگر عورت ہو تو بدکرداری کی سند بھی مل جاتی ہے۔ اس تھیوری کی بنیاد یہ ہے کہ شادی سے پہلے لڑکی کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے اپنی جنسی تسکین کے لیے۔اگر اس کا دل چاہے تو کسی کے بھی ساتھ سیکس کرے کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔اسی طرح اگر اس کا دل نہیں چاہتا تو کوئی اسے مجبور نہیں کر سکتا،وہ بھلے سے شوہر ہی کیوں نہ ہو۔ انسانی حقوق کی تشریح سے تو یہ بات درست ہے اور اس معاملے میں عورت کو حق حاصل ہونا چاہیے۔ مگر معاشرت یا مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بگاڑ کی طرف لے جائے گا۔اتنی پابندیوں کے باوجود یہ حال ہے کہ سیکس ایک کامن سی چیز بن گئی ہے اور اگر کھلی چھوٹ مل گئی تو کیا ہو گا۔ہم دوغلے،جہالت بھرے اور گھٹن زدہ ماحول میں یہ تھیوری ابھی لاگو نہیں ہوتی۔ابھی تو کئی اور چیزیں لاگو ہونا باقی ہیں۔پہلے انسانوں کے بنیادی حقوق ملنا باقی ہیں۔سیکس تو دور کی بات یہاں اپنے عقیدے کے مطابق نماز پڑھی نہیں جا سکتی۔تعلیم شعور اور علم ملے گا تو ہی ایسی چیزوں کے متعلق سوچا جا سکتا ہے۔
  2. لڑکا:ہم دوستی کر لیں؟ لڑکی:نہیں میرے والدین کو مجھ پر بہت بھروسا ہے۔ لڑکا:میں بھروسا توڑنے کو نہیں کہہ رہا،دوستی تو پاکیزہ رشتہ ہے۔ لڑکی:مگر معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ لڑکا:معاشرہ تو عورت کو اس کے حقوق بھی نہیں دیتا تو کیا معاشرہ درست ہے؟ لڑکی :دین میں اس کی اجازت نہیں۔ لڑکا:دین سب کو اپنا من پسند شریک حیات منتخب کرنے کا حق دیتا ہے۔ لڑکی:مگر میں یہاں پڑھنے آئی ہوں۔ لڑکا:تو علم کو تو تمہاری سوچوں کو آزاد کرنا چاہیے۔ لڑکی:مگر دوستی میں کچھ حدود ہونا چاہییں۔ لڑکا:جس میں حدود ہوں وہ کاہے کی دوستی؟ لڑکی:مگر یہ جائز نہیں۔ لڑکا:بالکل جائز ہے،ایک فرقہ تو اس کی باقاعدہ اجازت دیتا ہے۔ساتھ رہو وقتی نکاح کرو اور اگر دل نہ مانے تو الگ ہو جاؤ۔ لڑکی:مگر میں اس فرقے سے نہیں ہوں۔ لڑکا:تو کیا ہوا،تمہارے بھی تو ملتانی مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ نکاح ایک ہو گا اور بیویاں کئی۔ لڑکی:بنا نکاح بیوی کیسے بن گئی؟ لڑکا:بیوی بننے کے لیے ایجاب و قبول چاہیے۔تم مجھے دلی طور پر قبول کرلو۔ لڑکی:مگر میں یہ کیسے کر سکتی ہوں؟ لڑکا:کر کیوں نہیں سکتیں؟ تمہارا جسم تمہاری مرضی۔
  3. یہ تھریڈ معاشرتی مسائل کے لیے تھا،خیر آپ نے جو مسلئہ بتایا ہے،اس کا تلی ہوئی چیزوں یا کسی اور بات سے کوئی تعلق نہیں۔ بس ہو جانے کا مطلب اگر یہ تھا کہ فارغ ہو گئے تو اس کو ہم اوور ایکسائٹمنٹ کہتے ہیں۔ مگر اگر بس کا مطلب یہ تھا کہ تناؤ کم یا ختم ہو گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فور پلے آپ کے لیے اتنا پرلطف نہیں تھا اور آپ اسے محض کاروائی پوری کرنے کے لیے کر رہے تھے۔ اینی وے یہ کوئی اتنا بڑا مسلئہ نہیں ہے،سیکس میں تبدیلی لائیں اور پوزیشنز بھی تبدیل کر کے دیکھیں نہیں تو لڑکی ہی بدل لیں۔اس سے بھی مسلئہ حل ہو سکتا ہے۔
  4. بالکل آپ یہاں کہانیاں لکھ سکتے ہیں۔بلکہ ہم تو منتظر ہیں کہ یہاں ممبرز کہانیاں لکھیں یا کچھ بھی جو ان کا دل چاہے وہ پوسٹ کریں۔ ویسے آپ پہلے کونسی کہانیاں لکھ چکے ہیں۔
  5. پسندیدگی کا شکریہ۔ اس تھریڈ یا کسی بھی بحث و مباحثے والے تھریڈ میں آپ اپنی رائے یا سوالات پوسٹ کیجیے تاکہ یہ آگے بڑھ سکیں۔
  6. کوئی بھی تھریڈ تبھی آگے چلتی ہے کہ جب تمام قاری اس میں حصہ ڈالیں۔وہ یا تو سوالات پوسٹ کریں یا اپنی رائے۔ہم دونوں کا ہی خیرمقدم کرتے ہیں۔ اپنے طور پر ہماری کوشش یہ ہے کہ جو بھی باتیں یا معاملات ہیں ،ہم ان کو یہاں زیربحث لائیں تاکہ لوگوں کو جنسی باتیں سمجھنے کا موقع مل سکے۔
  7. ایک ہفتے کی طےشدہ تعداد سے ایک صفحہ زیادہ ہی شامل کیا گیا ہے۔
  8. دوسری فری اپڈیٹ آج دوپہر تک کر دی جائے گی۔
  9. آپ کی بات بجا ہے۔ مگر اس میں کچھ مسائل ہیں۔ پہلا تو یہ کہ ہوسکتا ہے کہ ایک ترتیب سے کئی صفحات کسی مکمل مکالمے پہ ختم نہ ہو سکتے ہوں تو اس صورت میں صفحات پہ صفحات بڑھائے جاتے رہنا پڑے گا تاوقتیکہ وہ صفحہ آ جائے جو مکمل ہو۔ اس میں صفحات ہماری طےشدہ تعداد سے بڑھ سکتے ہیں۔ دوم،اس میں کچھ کوفت تو ہو گی قارئین کو مگر یہ فری سیکشن ہے،ایسی کوفت تو ناگزیر ہے۔ سوم،ابھی تو ابتدائی مراحل ہیں،ابھی تو یہ بھی طے ہونا باقی ہے کہ ہمیں اس کو فری جاری رکھنا بھی ہے یا نہیں۔ ہر چیز قارئین کے رسپانس پہ ٹکی ہے۔
  10. 10 March 2014 پہلی فری پوسٹ پیش خدمت ہے
  11. مارچ 2014 یہ پردیس کی آخری پوسٹ تھی جو فری سیکشن میں پوسٹ ہوئی تھی۔ اس سے آگے 5 پوسٹ ہفتہ وار کے حساب سے پوسٹ کی جائیں گی۔ پوسٹس کی تعداد بھی بڑھائی یا گھٹائی جا سکتی ہے۔ یہ سب قارئین کی رسپانس پہ منحصر ہو گا۔
×