Jump to content
You are a guest user Click to join the site
URDU FUN CLUB

DR KHAN

Co Administrators
  • Content Count

    2,738
  • Donations

    $0.00 
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    988

DR KHAN last won the day on October 23

DR KHAN had the most liked content!

Community Reputation

13,192

About DR KHAN

  • Rank
    Best Writer

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

17,196 profile views
  1. باقی کو مصروفیت کھا گئی۔ کوشش کر کے کل اس کی ایک اپڈیٹ اور ایک میں کھپرو کی ملکہ کی دوں گا۔ اس کے بعد اس مہینے کی پردیس کی بونس اپڈیٹ کا سوچا ہے۔
  2. بڑی مشکل سے چند لائنیں لکھ پایا ہوں۔ وہ یہاں شئیر کر رہا ہوں۔
  3. میرے بھائی اس کا تذکرہ اسی تھریڈ میں کریں نا۔ یہاں کسی کی تھریڈ میں کمنٹ اسی تھریڈ کے متعلق ہونے چاہیئں۔ اپڈیٹ لکھ رہا ہوں، دعا کیجیے جلد از جلد مکمل ہو۔
  4. اصل بات ہے موقع ملنے کی اور اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کی۔ کئی لڑکیاں ایک بار دے دیتی ہیں اور پھر کبھی بھی مڑ کر بھی نہیں دیکھتیں ۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض لمحات میں وہ خود بھی کسی بھی وجہ سے جنسی ہیجان میں مبتلا ہوتی ہیں۔مگر جب وہ لمحہ گزر جاتا ہے تو ان کا دماغ کام کرنے لگتا ہے کہ یہ تو بڑا غلط کام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مرد کامیاب ہوتے ہیں جو لڑکی کی نفسیات کو سمجھ جاتے ہیں اور اس کی سوچ کے مطابق چلتے ہیں۔لڑکی کو جس معاملے میں جتنا کم سوچنے کا وقت ملتا ہے لڑکا اتنا فائدے میں رہتا ہے۔ یہ ایک بڑا پرانا پینترا ہے کہ لڑکی کی توجہ حاصل کرو اور اسے سوچنے کا موقع دینے سے پہلے اس پہ پیش قدمی کر دو۔
  5. دراصل وہ ٹیچر خاصی کردار باختہ لڑکی تھی اور کئی بندوں سے معاشقے چلا چکی تھی۔ اس کی منگنی بھی ایک سے زیادہ مرتبہ ایسی ہی منفی شہرت کی وجہ سے ٹوٹ چکی تھی۔ سخت لالچی اور کھانے کے معاملے میں بھکڑ قسم کی تھی۔ جس دن اس نے مجھے دی میرا یہ خیال ہے کہ اس کا اپنا سیکس کا دل چاہ رہا تھا تو اس نے مجھے دے دی اور بعد میں اس نے ارادہ بدل لیا۔
  6. کہانی لکھنا شروع کی ہے، قاری اکثر شکایت کرتے ہیں کہ اپڈیٹ مختصر ہوتی ہے تو ذرا سی لمبی ہو جائے تو میں پوسٹ کرتا ہوں۔
  7. میرا پہلا باقاعدہ سیکس میٹرک میں ہوا تھا۔ جن دنوں میں میٹرک سے فارغ ہو چکا تھا۔ ایف ایس ای کی ٹیوشنز چل رہی تھیں اور میٹرک کا رزلٹ ابھی آنا تھا۔ میں انہی دنوں اپنے سکول کی ایک ٹیچر کی محبت میں گرفتار تھا۔( جو کہ مجھے لگتا تھا کہ محبت ہے۔) میں نے اس سے اردو کی ٹیوشن رکھ لی حالانکہ کوئی اور اردو ٹیوشن میں نہیں پڑھتا تھا۔میں اس کے گھر جا کر ٹیوشن پڑھتا تھا۔میں نے اس سے اظہار محبت کیا اور اپنی بساط سے بڑھ کر تحفے تحائف دیئے۔ اس نے ایک دن اچانک ہی پڑھاتے پڑھاتے مجھے کس کرنے کو کہا۔ کس کرتے کرتےجب بات بڑھی تو اس نے باآسانی مجھے کپڑے اتارنے کا موقع دیا اور لن تک ڈلوا لیا۔لن اندر بامشکل ایک یا دو بار اندر باہر ہو گا کہ میں چھوٹ گیا۔ اس دن کے بعد میں نے اس سے منت ترلا کرنا شروع کر دیا مگر وہ ایسے ہو گئی کہ جیسے کبھی اس نے مجھے دی ہی نہیں تھی۔ اس نے مجھے دو تین بار مانگنے پہ آنے سے ہی منع کر دیا۔ میرا سیکس کا تجربہ کا مزا یہیں تک رہ گیا۔ کوئی سال سوا سال بعد ہمارے ایک جاننے والے کی فیملی گاؤں سے شہر منتقل ہوئی۔انھوں نے والد صاحب سے درخواست کی کہ ہم گھر کا اوپری حصہ ان کو عارضی طور پہ رہنے کے لیے دے دیں۔ بات ایک دو ہفتوں کی ہوئی مگر ان کا قیام سوا دو سال رہا۔ان صاحب کی بیگم کا محلے میں آنا جانا بہت تھا اور اکثر و بیشتر ان کی بہن گھر پہ اکیلی ہوتی۔ اس فیملی میں صاحب فیملی ایک چھوٹی بہن جس کی عمر سترہ اٹھارہ تھی اور ایک سالی جو کہ بیس اکیس برس کی تھی۔ان دونوں کے ساتھ سیکس کرنے کا موقع ملا۔خاص کر ان کی بہن بالکل ہی دیہاتی لڑکی تھی، جو آٹھ جماعتیں پاس تھی۔لڑکی شکل و صورت کی اچھی تھی مگر بالکل بےزبان تھی۔ میں نے ایک بار اسے اکیلی پا کر گیراج میں بلایا تو وہ چلی آئی۔میں نے اسے پکڑ کر بوس و کنار کیا تو اس نے قطعی منع نہیں کیا اور جب میں نے بس کیا تو آنسو صاف کرتی چلی گئی۔ میں نے اسے اس کے گھر سے کنڈوم اٹھا کر جم کر چودنا شروع کر دیا۔میں کمرے میں گھستا،اسے پکڑتا، تسلی سے چود کر اٹھ جاتا اور وہ خاموشی سے اٹھ کر شلوار اوپر کر لیتی۔ کئی کئی بار تو ہفتے میں تین چار بار اسے چودنے کا موقع مل جاتا اور کئی بار جب وہ گاؤں چلی جاتی تو مہینے دو مہینے کا وقفہ بھی ڈل جاتا۔ بہر کیف ایک عمومی اندازے میں مہینے میں چھ سات مرتبہ اس کی مل جاتی۔ اس دوران کئی بار شدید قسم کا شک بھی ہوا،اس کی بھابھی کو ایک دو بار ہم دونوں اس حالت میں ملے کے بالکل ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔ایک دو بار کمرے یا گیراج میں اکیلے، صرف ایک بار ایسا ہوا کہ اس کی بڑی بہن جو کہ شادی شدہ تھی اس نے باقاعدہ اس کو میرے نیچے لیٹا ہوا دیکھ لیا۔تب سے اس پہ شدید سختی ہوئی مگر اس سختی کے باوجود میں اسے چودتا رہا۔ ان کی سالی کالج میں پڑھتی تھی اور جب جب کلاسز سے فارغ ہوتی یا ان صاحب کی بیوگی کی زچگی کے دنوں میں اکثر آ جاتی۔ وہ خاصی بدتمیز اور بدمزاج سی لڑکی تھی۔ ان صاحب کے چھوٹے بھائی سے کہیں ماضی میں اس کا معاشقہ رہا تھا جس کا مجھے علم تھا۔ایک دن تنہائی میں ایسی ہی کوئی بات ہوئی تو میں نے اسے اس معاشقے کا حوالہ دیا تو وہ تپ گئی۔اس نے چڑ کر ہاتھا پائی کی جس میں میں نے اسے گرا لیا اور اوپر سوار ہو کر اس کو تین چار بار ہونٹوں پہ چوم لیا اور اس کی چھاتی کو بھی مسل دیا۔ اس نے مجھے سخت برا بھلا کہا اور گھر شکایت لگانے کو کہا۔کچھ دنوں کو بعد پھر جب وہ اکیلی ملی تو اس بار میں نے زبردستی کی۔اس نے بڑی معمولی سی مزاحمت کی اور میں نے اسے تسلی سے چود دیا۔ان کے بعد پہلا افئیر اکیڈمی پہ ہوا اور اس میں باقاعدہ گرل فرینڈ بنا کر پہلا سیکس کیا۔
  8. میری عمر زیادہ نہیں تھی مگر مجھے جنسی تعلقات کے متعلق کافی علم تھا۔ اس کی وجہ ایک جوڑے کی خط و کتابت تھی۔ ایک لڑکا لڑکی آپس میں سیکس کیا کرتے تھے اور ان کی محبت ناموں کی ترسیل میں کیا کرتا تھا۔ میں بچہ تھا مگر اردو پڑھنے میں بہت اچھا تھا۔ اس لیے میں وہ خط پڑھ لیا کرتا۔ میں نے بعد میں اس لڑکے سے اس متعلق سوال کیا تو اس نے مجھے تفصیل سے بتا دیا کہ یہ عمل کیسے ہوتا ہے؟ اس کے بتانے سے مجھے بچہ پیدا کرنے کے عمل کی بھی سمجھ بوجھ مل گئی۔ میں نے بعد میں اسی لڑکی کی چھوٹی بہن کے ساتھ سیکس کرنے کی کوشش کی جو کہ کامیاب نہ ہو سکی۔اس کی بڑی بہن کو شک ہو گیا کہ میں اس کی چھوٹی بہن کو کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔بہرحال یہ ممکن نہ ہو سکا۔
  9. آج کا سارا دن میں مصروف رہا تھا کل کوشش کروں گا کہ دے دوں۔
  10. میں نیا نیا میٹرک میں آیا تھا۔ اوپر بتائے گئے واقعے کے آس پاس ہی کا واقعہ ہے۔ ایک فیملی کی شادی میں گیا جہاں ایک بہت دور پار کی رشتہ دار لڑکی سے ملاقات ہوئی جو اس وقت مجھ سے شاید ایک یا ڈیڑھ برس ہی چھوٹی تھی مگر اٹھان کی بنا پہ مجھ سے بڑی بڑی لگتی تھی۔ (قارئین کی اطلاع کے بتا دوں کہ میں سلم اور قدرے دبلا پتا سا بندہ ہوں تو عمر سے کافی کم دکھتا ہوں۔) وہ مجھ سے زیادہ بھری جسامت کی مالک تھی۔ یونہی بیٹھے بٹھائے باتیں شروع ہو گئیں اور پڑھائی کے متعلق باتیں ہوتے ہوتے باتیں سہاگ رات کے موضوع کی طرف جا پہنچیں۔ میں نے اس دوران اس سے ذکر کر دیا کہ سہاگ رات میں یہ یہ کیا جاتا ہے۔ اسے یہ جان کر کوئی حیرت نہ ہوئی یعنی وہ یہ سب باتیں سمجھتی اور جانتی تھی۔میں نے بھی پوچھ لیا کہ تم یہ بات جانتی ہو تو اس نے کہا کہ ہاں میں سب جانتی ہوں اور کچھ ایسی لڑکیوں یا لڑکوں کو بھی جانتی ہوں جنہوں نے آپس میں کیا ہوا ہے۔ اس نے کچھ مثالیں بھی دیں کہ فلاں خالہ کے بیٹے نے فلاں کی بیٹی کے ساتھ کیا تھا اور سب کو پتا چل گیا تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔ کچھ دیر بعد اس کی طرف سے سوال ہوا کہ تم نے کبھی کیا ہے؟ میں نے کوشش تو کی تھی مگر کبھی کامیاب نہیں ہوا تھا اور نہ کھل کر سیکس کیا تھا ۔ کوششیں بھی بس چھونے کی حد تک کامیاب رہی تھیں۔ میں نے انکار کر دیا مگر ساتھ ہی خواہش کا اظہار کر دیا کہ کرنا چاہتا ہوں اور بہت دل چاہتا ہے مگر کیا نہیں ہے۔ خلاف توقع اس نے بہت دیر بعد خود ہی کہہ دیا کہ ہم دونوں کریں؟ اندھا کیا چاہے ،دو آنکھیں ۔ کوشش کی گئی اور دلہا دلہن کے بیڈ کے نیچے اسے لٹا کر میں نے بےانتہا کوشش کر ڈالی مگر اس میں داخل نہ کر سکا۔ ایک آدھ بار معمولی سا اندر گیا مگر اس نے جونہی تکلیف کا شور مچایا، میں نے نکال لیا۔بہت کوشش کی مگر سیکس نہ ہو سکا۔ مگر پہلی بار ہونٹوں پہ کسنگ، جو بھی سائز تھا،اس کے مطابق جو جتنا دبانا ،مسلنا اور چوسنا ہو سکتا تھا وہ کیا۔ زیادہ لطف نرم اور گرم پھدی کو چھونا اور لن رگڑنے کا تھا۔ اس نے بہت مزا دیا۔ ایک لڑکی کے اوپر لیٹنا اور اس کے جسم کو نیچے محسوس کرنا بھی بہت اچھا لگتا تھا۔ مگر لڑکی کے اندر داخل کرنا اور سیکس کرنے کا مزا نہ مل سکا۔ اس واقعے نے کم از کم یہ حوصلہ دیا کہ مل سکتی ہے اور لڑکیاں بھی دینے میں انٹرسٹڈ ہوتی ہیں۔ ایک یہ سوچ کہ لڑکی سرے سے دیتی ہی نہیں اور شاذونادر کوئی ایسی ہوگی جو سیکس کرتی ہو گی ، یہ غلط ثابت ہوئی۔ اس واقعے کی بنیاد پہ میں نے اپنی پہلی اردو کہانی لکھی تھی، باراتی کی سہاگ رات، جو کہ تخیلاتی تھی مگر اس کے پیچھے واقعہ یہ تھا۔
  11. سبھی کی نیک تمناؤں کا شکریہ۔ میں بالکل ٹھیک ہوں طبیعت بھی بالکل ٹھیک ہے۔ بس کام کا بوجھ تھوڑا بڑھا ہوا ہے اس لیے کوئی اپڈیٹ نہیں کر پایا۔ بس آج ہوس کی اپڈیٹ کرنے کی کوشش ہے اور سوموار کو میں اس کہانی اور کپیرو کی رانی کی اپڈیٹ دوں گا۔ اس مہینے کے آخر میں پردیس کی اپڈیٹ بھی ہو گی۔
  12. میں غالباً ۱۵ سال کا تھا اور ہمارے پڑوس کی ایک لڑکی تھی جو کبھی کبھار کس گھر کے کام سے مجھے بلوا لیا کرتی تھی۔ اس کی عمر مجھ سے چار یا پانچ سال زیادہ تھی۔ وہ بھاری جسم کی مالک تھی اور اسے درمیانی سائز کی موٹی کہا جا سکتا ہے۔ اس کا میرے ساتھ رسالوں کا تبادلہ ہوتا تھا۔ وہ ایک دو رسالے خریدتی تھی اور ایک دو میں۔ یوں ہم ادل بدل کر چار پانچ رسالے ماہانہ پڑھ لیا کرتے تھے۔ یہ معاملہ بنا کسی جنسی تحریک کے ایسے ہی چلتا رہا اور انہی دنوں میں نے ایک لڑکی سے شادی کے موقع پہ سیکس کی کوشش کی جو کہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکی۔( اس کی تفصیل الگ سے دوں گا۔)۔ ایک دو بار ایسا ہوا کہ میں اس کے گھر گیا تو یہ مجھے اکیلی ملی ۔ باتیں چلتی رہیں اور نجانے کیسے بات پیار محبت کے موضوع پہ ہونے لگی۔ اسی میں ذکر ہوا کس کرنے کا۔ میں نے کچھ دن پہلے ہی بوس وکنار اور سیکس کی کوشش کی تھی تو میں نے اس کو یہ بتا دیا کہ میں کس کر چکا ہوں۔ اس نے مکمل واقعہ پوچھا تو میں نے اسے بتا دیا۔ تفصیل نے کام خراب کیا اور اس واقعے کے بعد اکثروبیشتر اس کی اور میری سیکس جیسے موضوعات پہ ہلکی پھلکی بات ہونے لگی۔(سیکس جیسے سے مراد کہ ایسی باتیں جن کا جنسی تعلق بنتا ہو، جیسے کہ فلاں کا فلاں سے معاشقہ تھا اور ان دونوں نے کیا بھی تھا۔ یا فلاں کہانی میں فلاں شادی سے پہلے ہی حاملہ ہو گئی۔ یا فلاں مووی میں ہیرو ہیروئن نے کیا تھا۔ اس قسم کی باتوں کے بعد ایک دوبار ایسی بھی باتیں ہوئیں کہ کیا تم کسی کے ساتھ کر لو گے یا کرو گے تو کیسا محسوس ہو گا؟یا لڑکی کو درد ہوتا ہے جب اس کے اندر جاتا ہے؟ یا اگر لڑکے کا پانی اندر نکل جائے تو لڑکی حاملہ ہو جاتی ہے؟ ایک آدھ بار سائز کا بھی ذکر ہوا کہ تمہارا کتنا بڑا ہے؟ بہرحال قصہ مختصر،ایک ڈیڑھ مہینے بعد پہلی بار کس ہوا اور اس کے بعد باقاعدہ اس کی اوپر لیٹ کر فورپلے ہوا۔ اس نے ایک آدھ بار تو بنا کپڑے اتارے ہی مجھے اوپر لٹایا، مگر تیسری چوتھی ٹرائی میں پہلے نپل نکال کر چومنے کی اجازت دی اور پھر شلوار ہٹا کر مسلنے کو کہا۔ یہ سب اس کے گھر میں اس وقت ہوتا تھا جب اس کی ماں سوئی ہوتی تھی۔ ایک بار ایسا ہی سین تھا کہ بوس کنار چل رہا تھا اور شومئی قسمت اس کی ماں آ گئی۔ دروازہ کھولا گیا مگر ہمارے پریشان چہرے، بےترتیب لباس اور دروازہ لاک کر کے بیٹھنا،اس کو کھٹک گیا۔ مجھے اس کے گھر آنے سے منع کر دیا گیا، لڑکی سے دوبارہ ملاقات ہوئی مگر کوئی بات اس نے اس متعلق نہ کی۔ کچھ خوف سے میں نے بھی کچھ نہیں کہا۔
  13. کہاں جناب آس پاس کوئی لڑکی نہیں تھی۔ نہ کوئی بس تھی ۔ بس گاڑی میں اندر سے ہی آگ بھڑکی۔
  14. میری زندگی میں بہت سارے واقعات ہیں مگر کونسا سنایا جائے اور کونسا نہیں یہ فیصلہ کرنا مشکل کام ہے۔ مگر قریب قریب سبھی ایک جیسے ہیں۔ کئی بار کامیاب ہوا، کئی بار ناکام ہوا، کئی بار پکڑا گیا تو کئی بار بال بال بچ گیا۔ کسی پہ ٹرائی کی تو ناکامی ہوئی مگر جس پہ کی ہی نہیں تھی اس پہ کامیاب ہو گئی۔
×
×
  • Create New...