DR KHAN

Co Administrators
  • Content count

    1,900
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    661

DR KHAN last won the day on January 21

DR KHAN had the most liked content!

Community Reputation

10,542

About DR KHAN

  • Rank
    Best Writer

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

3,426 profile views
  1. یہ واقعہ ایسے واقعات کی سب سے بدترین شکل ہے۔عام طور پر ان واقعات میں زیادتی، جنسی استحصال اور بدنامی تک بات محدود رہتی ہے مگر یہاں بات قتل تک پہنچ گئی۔ غور سے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں بہنیں ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہوئے تھیں اور یہ ساری سرگرمیاں گھر والوں نے نظرانداز کی ہوئی تھیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی لڑکی اس حد تک بگاڑ کا شکار ہو اور کسی نے نوٹس نہ کیا ہو۔ گھر میں غیر مرد آتے جاتے تھے اور گھر والے انجان تھے یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔دراصل گھر والے اس کی سنگینی کو نہیں سمجھ سکے تھے۔ اہم بات ہن ان دونوں کی عمر۔سولہ اور اٹھارہ سال کی عمر میں انھوں نے ہر قسم کی اخلاقی برائی کو اپنایا ہوا تھا۔ یہ والدین کے لیے سبق ہے کہ وہ اپنی اولاد کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کوشش کریں کہ معاملات بگڑنے سے پہلے اصلاح ہو جائے۔
  2. تعریف کا شکریہ۔ میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ باذوق قارئین کے لیے کچھ میچور موضوع پر لکھوں۔ یہ کہانی کا ابتدائی حصہ ہے یعنی اصل کہانی کا صرف دس فیصد۔ کہانی تو ابھی یہاں سے شروع تک نہیں ہوئی۔ یہ تو صرف اتنا حصہ ہے کہ لوگ جان سکیں کہ کاشف ہے کون؟ اس نے کیا کیا اور کیسے کیا، یہ تو الگ داستان ہے۔
  3. قسط نمبر ۵ گرو جی ابھی تو کہانی کی ابتدا ہے۔ابھی تو سکندر سیکھنے کے مراحل میں ہے۔لڑکیوں بہت اور ایک سے بڑھ کر ایک ملیں گی۔ یہ گارنٹی ہے جناب۔ جناب مزید انتظار ترک کیجیے اور انجوائے کیجیے۔
  4. کہانی میں اب واقعی حرامی پن آتا جا رہا ہے۔بہت خوب ڈاکٹر خان ۔آپ کی یہ سیئریل بھی کافی غضب کی ہے۔ کہانی کا ابتدائی نام حرامی سوچا تھا۔مگر بعد میں اسے بدل کر ہوس کر دیا۔ ابھی تو سکندر نے حرامی پن کرنا سیکھا ہے اور دیکھ لیجیئے کہ حرامی پن کرنے سے منٹوں بعد ہی اسے زندگی کی پہلی لڑکی مل گئی۔ اب جلد ہی وہ چودنا بھی سیکھ جائے گا۔ ابھی اسے خاص معلوم نہیں ہے مگر جمیل بھی تو کبھی لاہور کی گلیوں اور سڑکوں کو گواچی گاں کی طرح دیکھتا تھا۔ اب دیکھیے۔۔۔۔وہ شہر کی مافیا پر راج کرنے کے پلان بنا رہا ہے۔ سکندر تو خود اپنی پیدائش کے متعلق مشکوک ہے کہ جائز بھی ہے یا نہیں۔انتظار کیجیے،جناب،سکندر بھی ایک نہ ایک دن حرامی پن میں پی ایچ ڈی کرے گا۔
  5. یہ سٹار پلس آئیڈیا اچھا ہے کہ کہیں دونوں کی ملاقات ہو جائے جیسے ایونجرز میں سارے ہیرو اکٹھے کر دیئے۔ اور ایک گھٹیا مووی میں بیٹ مین کی سپر مین سے مارکٹائی ہو گئی،اور نجانے کیا کیا تھرڈ ریٹ سسپنس ہالی وڈ والوں نے بنا دیئے کہ لگا کہ کسی سکول کے بچے نے یہ سکرپٹ بنایا ہے۔ خیر، جمیل اور کاشف لاشاری بنیادی طور پر ایک ہی معاشرے اور سسٹم میں ہیں۔ ان میں فرق ہے تو اس بات کا کہ جمیل کھلا سانڈ ہے۔ اس کو کسی قاعدے قانون کی کوئی فکر نہیں، وہ کسی چیز کی پروا نہیں کرتا۔ کاشف لاشاری نے ابھی تک تو کچھ کیا ہی نہیں۔اس نے پوری زندگی میں کوئی خلاف قانون کام تک نہیں کیا۔ کراٹے کے باوجود لڑائی جھگڑوں سے دور رہتا ہے۔ تنہائی پسند ہے اور سسٹم کا حصہ ہے۔ جمیل سسٹم کے خلاف چلتا ہے اور کاشف سسٹم میں رہ کر چلے گا۔ باقی ایکشن ہیرو نے ہر کہانی میں بنیادی کام تو مار کٹائی کرنا ہوتا ہے۔
  6. دیکھیں پولیس اور بلکہ فوج میں بھی ٹریننگ مختلف ہوتی ہے مختلف ٹریڈز یا ڈیپارٹمنٹ کی۔ہاں بنیادی ٹریننگ سب کی یکساں ہوتی ہے اور اسی میں دیکھ لیا جاتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے؟ جیسے فوج میں کوئی ڈاکٹر بھرتی ہوا ہے تو صرف بیسک ٹریننگ ملی ہو گی،اسے مکمل کامبیٹ ٹرین تو نہیں کیا ہو گا اور نہ ضرورت ہے۔ نہ ہی ڈاکٹر کر پائے گا،کیونکہ اس کی جسمانی حالت ایسی ہوتی تو ڈاکٹر کی بجائے فوجی ہی کیوں نہ بھرتی ہو جاتا۔ جیسے کوئی ایڈمنسٹریٹر ہے تو اس کو سخت ترین کامبیٹ ٹریننگ کی کیا ضرورت ہے؟ ہم سخت ترین ٹریننگ اس بندے کو دے سکتے ہیں جس میں اس کو کرنے کا حوصلہ بھی ہو۔ ایک انسان اچھا ایڈمن تو ہو مگر جسمانی لحاظ سے مضبوط نہ ہو تو پولیس ہارڈ کامبیٹ ٹریننگ اسے دینے کے چکر میں اچھے ایڈمن سے بھی جائے گی۔ کسی علاقے میں اگر امن ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہاں کا پولیس افسر بہترین فائٹر ہے ۔ بلکہ وہ بہترین ایڈمنسٹریٹر ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح کسی ڈیپارٹمنٹ کا کام سیدھا سیدھا دہشت گردوں سے بھڑ جانا ہے تو وہاں ایڈمنسٹریٹر کی نہیں بلکہ فائٹر کی ضرورت ہو گی۔وہاں ایڈمنسٹریٹر کی ساری عقلمندی گولیوں کی بوچھاڑ میں کہیں گم ہو جائے گی۔ تو طے یہ کیا جاتا ہے کہ جو بھی کام مستقبل میں ان سے لینا ہو اسی کے مطابق بھرتی کی جائے اور اسی کے مطابق ان کو ٹرین کیا جائے۔ کوئی وائرلیس میں جاتا ہے،کوئی کمیونیکیشن میں، کوئی ایجوکیشن میں، کوئی ایڈمن میں، کوئی جیل میں، کوئی ائرپورٹ سیکیورٹی غرض سب کی قابلیت اور پرکھ کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ایک انتہائی بڑی خامی پولیس میں درجہ بندی ہے۔ سپاہی سپاہی ہی بھرتی ہوتا ہے اور افسر افسر ہی۔ پوری دنیا میں پولیس کی درجہ بندی نہیں ہے۔ انسان سپاہی بھرتی ہوتا ہے اور قابلیت کی بنا پر افسر بن جاتا ہے۔ ایلیٹ فورس اور دیگر اداروں کو اکثر اوقات فوج ہی ٹرین کرتی ہے۔یہ تو عام بات ہے۔
  7. یہ شکریہ ایسی لڑکی نے ادا کیا جو شوہر کے کہنے پر دوسرے مردوں کے پاس جاتی ہے۔ ایسے میں اس نے ایک بار اپنی خوشی سے اسے پاس بلا لیا جس نے اس پر کبھی احسان کیا۔ حالانکہ اس کا احسان روزی کے لیے مصیبت ہی بنا ہو گا مگر اسے یہ ادا اچھی لگی کہ کسی نے اپنا کیرئیر داؤ پر لگا کر اس کی خاطر اس کے شوہر کو پیٹ ڈالا۔ ویسے بھی اس کی اپنی خواہش بھی یہی ہو گی کہ وہ اسے پیٹ ڈالے مگر کسی اور کے ہاتھوں ہی سہی اس کی تمنا تو پوری ہوئی۔