Jump to content
URDU FUN CLUB

Silent Tear

Members
  • Content Count

    385
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    4

Silent Tear last won the day on July 28 2017

Silent Tear had the most liked content!

Community Reputation

922

7 Followers

About Silent Tear

  • Rank
    Star Member

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. سبزیاں: پھل اور مچھلی کھائیں جلد کو تروتازہ رکھیں: تحقیق طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق سبزیاں، پھل اور مچھلی کھانے سے جلد کو صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔ گردو پیش کا ماحول، آب وہوا اور عمر انسانی جلد پر اثر ڈالتی ہے۔ جلد خراب یا کمزور ہونے انسان کا ظاہری رنگ روپ ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ کئی بیماریوں کے حملے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن خوراک کے ذریعے ہم اپنی جلد کو صحت مند رکھ سکتے ہیں۔ سبزیاں، پھل، گوشت اور مچھلی کھانے سے انسانی جلد پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔ پھلوں اور سبزیوں میں قدرتی طورپر ایسے کئی اجزا موجود ہوتے ہیں جو ہماری جلد کوجھریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
  2. کھانے کے دوران ٹی وی نہ دیکھیں کیا آپ جانتے ہیں کہ ٹی وی دیکھتے ہوئے کھانے والی خواتین کی تھکن ضرور اتر جاتی ہے لیکن ایسا کرنا موٹاپے کودعوت دیتا ہے۔ آسٹریلیا کی میکوائر یونی ورسٹی کے ماہرین نے مناسب وزن کی حامل خواتین کے ایک گروپ پر تحقیق کی۔ اس کے مطابق ٹی وی دیکھتے ہوئے کھانے سے توجہ ایک جانب نہیں رہتی اور رات کے کسی پہر بھوک پھر سے جاگ اٹھتی ہے۔ اس صورت میں جسم میں کیلوریز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ تحقیق کے دوران صرف کھانے سے انصاف کرنیوالی خواتین نے دوبارہ بھوک لگنے کی شکایت نہیں کی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ دلچسپ ٹی وی پروگرام دیکھتے ہوئے کھانے کا ذائقہ محسوس کرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس صورت میں رات کو دوبارہ پیٹ بھرنا صحت کیلئے اچھا نہیں ہوتا۔
  3. کراچی: بھارت سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں پھلوں کو غیرفطری طریقے سے پکانے کے لیے کیلشیم کاربائڈ کے استعمال پر پابندی کے برعکس پاکستان میں آم پکانے کے لیے کیلشیم کاربائڈ کا آزادانہ استعمال جاری ہے جس سے عوام کی صحت کو خطرات لاحق ہیں، کیلشیم کاربائڈ اسٹیل کی گیس ویلڈنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ آم اور دیگر پھل پکانے کے لیے کیلشیم کاربائڈ کا استعمال انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہونے کے باوجود تاحال کسی قسم کی قانون سازی نہیں کی گئی۔ بھارت میں کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ سے متعلق قوانین (پروینشن آف فوڈ اڈلٹریشن ایکٹ اینڈ رولز) کے تحت پھلوں کو پکانے کے لیے کیلشیم کاربائڈ کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔ بھارتی اتھارٹیز مقامی بازاروں میں کیلشیم کاربائڈ سے پکے ہوئے پھلوں کے خلاف تواتر کے ساتھ کریک ڈاؤن کرتی ہیں اور کیلشیم کاربائڈ سے پکے ہوئے پھلوں کو ضبط کرکے تلف کردیا جاتا ہے۔ کیلشیم کاربائڈ کی فروخت اور اسٹاک رکھنے پر بھی پابندی عائد ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت جرمانوں اور سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پاکستان میں پھلوں کو پکانے کے لیے کیلشیم کاربائڈ پر پابندی عائد نہ ہونے سے عوام الناس کی صحت کو خطرات لاحق ہیں،کیلشیم کاربائڈ کے استعمال سے انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوتے ہیں، ان میں اعصابی نظام متاثر ہونا اور جلدی امراض سرفہرست ہیں۔
  4. میر پور بٹھورو: ضلع ٹھٹھہ کے شہر میرپور بٹھورو، سجاول، جاتی، جاتی چوک، چوہڑ جمالی اور دیگر جن میں ہزاروں شہری مرد ، خواتین اور بچے شامل ہیں مضر صحت گٹکے کے اس طرح رسیا ہو گیے ہیں کہ ناشتہ، دوپہر و رات کا کھانا چائے ملے یا نہ ملے لیکن انھیں گٹکا ملنا چاہیے۔ مزدوری ملے یا نہ ملے لیکن دکانوں سے گٹکا خریدنے کے لیے انھیں اگر ادھار بھی لینا پڑے تو لے لیا جائے۔ گٹکے کے رسیا لوگوں کا کہنا ہے کہ گٹکا ان کی مجبوری ہے، اب مسلسل گٹکے نہ کھائیں تو وہ خود کو بیمار سمجھتے ہیں۔ ٹھٹھہ میں گٹکے میں پان کم اور غیر معیاری چونا، کتھا، مختلف اقسام کے تمباکو، گلنے والی چھالیہ اور ایک خاص قسم کا پاوڈر استعمال کیا جاتا ہے جس سے گٹکے میں لیس آتا ہے لیکن تمام اشیاء انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہوتی ہیں۔ علاقے کے ایک سینئر معالج ڈاکٹر سریش کمار کے مطابق گٹکا کھانے والے مسلسل اسے منہ میں رکھتے ہیں۔ جس میں شامل غیر معیاری و مضر صحت کیمیکل، منہ کے اندر کی جھلی کو نقصان پہنچاتے ہیں جس سے منہ کے اندر زخم بن جاتے ہیں اور پھر وہ زخم پھیل جاتے ہیں اور کینسر سیل میں تبدیل ہو جاتے ہیں، ٹھٹھہ میں منہ اور حلق کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہونا شروع ہو گیا لیکن محکمہ صحت و پولیس کی جانب سے آج تک کبھی تسلی بخش کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی غیر سرکاری سماجی تنظیموں نے لوگوں کو اس زہر قاتل کیخلاف شعور دینے کی سنجیدہ کوشش کی۔
  5. چند روز قبل صبح 10 بجے کے قریب آفس میں اپنے کمرے میں داخل ہونے لگا تو تھوڑے ہی فاصلہ پر نصب سینک پر ہاتھ دھونے والے ایک ساتھی نے آواز دے کر کہا نسیم صاحب پلیز نیچے کسی کو کہہ کر گیزر تو بند کروا دیں، پانی کو ہاتھ تک نہیں لگ رہا۔ میں مائیکرو سکینڈ کے لئے اپنی جگہ پر جم کر سر کھجانے لگا کہ آج کل کے موسم میں گیزر۔۔۔۔۔پھر یک دم میری ہنسی چھوٹ گئی کیوں کہ بھائی صاحب! آج کل سورج جو سوا نیزے پر آیا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے گرم مرطوب خطہ میں گرمی اپنے جوپن پر ہے۔ گرمی سے نڈھال لوگ سڑکوں پر دوپہر کے وقت جھگڑتے نظر آرہے ہیں۔ اساتذہ بلا قصور شاگردوں کو ڈانٹ ڈپٹ سے کہیں آگے مار پیٹ پر اتر آئے ہیں، معمر افراد اور بچے چڑچڑے ہو رہے ہیں، حکام اپنے ماتحتوں پر غصہ نکال رہے ہیں تو باورچی خانہ میں موجود خواتین کا پارہ نقطہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔ ایک امریکی ریسرچ سنٹر کے مطابق عالمی سطح پر موسم گرما کی حدت کے باعث ہر سال نہ صرف لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں بلکہ معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔ گرمی کی شدت کے باعث ہر سال نہ صرف آفات ناگہانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ اس سے عالمی معیشت کو بھی ایک اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے جو کہ مجموعی عالمی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے ممالک جن کی معیشت میں کاربن زدہ عناصر کے باعث آلودگی پھیلتی ہے وہ مجموعی طور پر سالانہ 50 لاکھ سے زائد اموات کے ذمہ دار ہیں جن میں سے نوے فیصد ہلاکتیں صرف فضائی آلودگی سے ہوتی ہیں۔ تحفظ ماحول کے اقدامات سے قیمتی انسانی جانیں اور عالمی جی ڈی پی کا نمایاں حصہ محفوظ کرکے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نقصان کی شرح 2030ء تک عالمی جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ شدید گرمی کی وجہ سے شعبہ زراعت بری طرح متاثر ہوتا ہے اور پاکستان کا تو شمار ہی ایسے ممالک میں ہوتا ہے جنہیں زراعت کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔ وطن عزیز میں جاری گرمی کی موجودہ لہر تادم تحریر درجنوں قیمتی جانوںکو نگل چکی ہے اور معلوم نہیں یہ گرمی اور کتنے پھول مرجھا دے گی؟ گرم یا سرد موسم اس روئے زمین اور اس کے باسیوں کے لئے عطیہ قدرت ہے جو بلاشبہ انسان کے لئے بے پناہ سود مند ہے۔ یہاں بہت ساری ایسی فصلیں ہیں جو صرف گرمی کی وجہ سے ہی تیار ہو سکتی ہیں، اسی طرح گرمی کے سبب ہی انسان متعدد خطرناک بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ پاکستان وہ ملک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام موسم عنایت کئے ہیں، لیکن موسموں کی شدت میں اضافہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے اور اس کی ذمہ دار قدرت نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔ سادگی سے کوسوں دور مصنوعی اور سہل پسند طرز زندگی نے ملک میں گرمی کی شدت کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ ہر سال گرمی کے کبھی پچاس تو کبھی سو سال پرانے ریکارڈ ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایسا کیوں کر اور کس طرح ہو رہا ہے؟ آیئے اس کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ تعمیرات کی ناقص منصوبہ بندی پاکستان میں گرمی کے احساس اور شدت میں اضافہ کا ایک اہم سبب بغیر کسی منصوبہ بندی کے بننے والی عمارتیں ہیں۔ آج ہم گھر سے لے کر بڑے بڑے شاپنگ پلازوں اور سرکاری و نجی دفاتر کو آرام دہ بنانے کے بجائے صرف دلہن کی طرح سجانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ عمارتوں کی تعمیر میں بغیر کسی منصوبہ بندی اور مناسب مقدار کے پتھر، سیمنٹ اور لوہے کا بے پناہ استعمال ہمارے ماحول کی حدت کو بڑھا رہا ہے۔ دور جدید کا تعمیراتی میٹریل یعنی سیمنٹ، اینٹ، پتھر، لوہا اور سٹیل وغیرہ دن بھر آگ برساتے سورج کی روشنی کو اپنے اندر جذب کرتا ہے اور پھر رات کو اسے خارج کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ماہر تعمیرات کے مطابق ایک خاص موٹائی کے ساتھ دیواروں میں 2 انچ کا خلا اور چھت کی اونچائی کم از کم 20 فٹ ہونا ضروری ہے لیکن آج ہم تھوڑی سی جگہ اور پیسے بچانے کے لئے کسی خلا کے بغیر صرف 9 انچ کی دیوار اور 10سے11فٹ اونچی چھت بناتے ہیں اور نتیجتاً ایسی گرم عمارتوں میں ہم اپنے آپ کو ساری زندگی عذاب میں مبتلا رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ تعمیراتی تکنیک کو بائی پاس کرنے سے کمزور عمارتیں جلد گرنے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی عمارتوں میں درجہ حرارت باہر کے مقابلے میں 5 سے 8 سینٹی گریڈ زیادہ ہو جاتا ہے۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ تھوڑی رقم خرچ کرکے ہم چھت اونچی نہیں بنوائیں گے لیکن گھر کے فرنٹ پر آرائشی گیٹ اور ماربل پر لاکھوں روپے خرچ کر دیں گے۔ بلاشبہ آج ہم ماش کی دال کے آٹا اور چونے سے دیواروں کی چنائی اور اراضی کی قلت کے باعث پرانے دور کی طرح 5 فٹ موٹی دیوار تعمیر نہیں کر سکتے یا کرتے، لیکن دور جدید کے تعمیراتی میٹریل کو ایک خاص تکنیک سے استعمال کرکے اس کے نقصانات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا۔ تعمیراتی کاموں میں پتھر کا استعمال دور جدید کی کوئی انوکھی ایجاد نہیں بلکہ یہ تو 6 ہزار سال پرانا ہے لیکن اس کا نامناسب اور غیر ضروری استعمال اس کو نقصان دہ بنا رہا ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پاک و ہند کی آزادی سے قبل کے برصغیر کو ہی دیکھ لیں۔ کہا جاتا ہے کہ انگریز کا طرز تعمیر کچھ یوں تھا کہ صرف ایک کھڑکی کھول دینے سے پورے گھر کی فضا بدل جاتی تھی یعنی ہر طرف ہوا پھیل جاتی اور موسم خوشگوار ہو جاتا۔ انگریز کی بنائی عمارتیں آج بھی ہمارے لئے مثالی حیثیت رکھتی ہیں۔ جہاں شدید گرمی میں بھی بغیر کسی اے سی یا پنکھے کے آپ کو فرحت کا احساس ہوگا۔ آج ہمیں گرمی کی شدت، توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور تعمیراتی لاگت میں ہونے والے مسلسل اضافے کے بعد سستا، روایتی اور ماحول دوست طرز تعمیر اپنانے کی ضرورت ہے۔ آرائشی پہناوا کوئی دور تھا جب اس خطہ ارض میں رہنے والے لوگ سادہ پہناوے کو نہ صرف پسند کرتے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تلقین کی جاتی تھی۔ اور ایسا کرنے سے کسی بڑے شخص کی عزت و قار میں کوئی تنزلی نہیں ہوتی تھی۔ لوگ کھدر، ڈوری یا ڈوریا، تہبند اور ململ سمیت سوتی کپڑا زیادہ استعمال کرتے تھے۔کپڑے کی یہ تمام اقسام جسم کو نہ صرف گرمی کے مضر اثرات سے بچاتی تھیں بلکہ معاشی بوجھ بھی کم ہو جاتا تھا۔ لیکن آج کے دور جدید میں نمود و نمائش کی وجہ سے پہناوا نہ صرف مشکل بلکہ آمدن کے ضیاع کا بھی باعث بن رہا ہے۔ ململ اور کھدر کی جگہ آج ٹائی پینٹ کوٹ، کلف لگی کاٹن اور ریشمی کپڑے نے سنبھال لی ہے، جو نہ صرف گرمی کے احساس میں اضافہ کرتا ہے بلکہ جلدی امراض کا سبب بھی بنتا ہے۔ مزید برآں گھروں میں گرمی اور دھوپ سے بچنے کے لئے لگائے جانے والی چق کی جگہ بھی اب موٹے کپڑے نے لے لی ہے جو کسی طور پر بھی چق کا نعم البدل نہیں۔ برصغیر پر انگریز کی حکمرانی کے بعد آج تک ہم نے تقریباً ہر کام میں اس کی اندھی تقلید کی ہے یہاں تک کہ ہمارا موجودہ مشینری سسٹم بھی کافی حد تک اسی کے وضع کردہ قواعد و ضوابط کی پیروی کرتا نظر آتا ہے۔ انگریز نے جب برصغیر کو دریافت کر نے کے بعد فتح کیا تو گرم موسم کی نسبت سے پہناوے کے لئے وہ اپنے ساتھ دو بڑی اہم چیزیں لے کر آیا جس میں ایک ہیٹ اور دوسرا بوٹ (بند جوتا) تھا۔ لیکن افسوس۔۔۔! یہاں ہم نے انگریز کی مکمل پیروی نہیں کی بلکہ اس کے دیئے بوٹ تو اپنا لئے مگر ہیٹ کو پہننا ہمارے لئے ایک ٹینشن اور خوبصورتی میں کمی کا موجب ٹھہرا۔ یہی نہیں آج بھی ترقی یافتہ ممالک میں موسم کی نسبت سے پہناوے پر خاص توجہ مرکوز کی جاتی ہے جیسے حال ہی میں جنوبی امریکا کے ملک چلی میں توانائی کے بحران اور گرمی سے بچنے کیلئے دفاتر میں ٹائی نہ لگانے کے احکامات جاری کئے گئے۔
  6. امریکی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چاکلیٹ کھانے سے انسان بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ دانت خراب ہونے اور موٹاپے کے ڈر سے بہت سارے لوگ چاکلیٹ سے دور ہی رہتے ہیں لیکن اب پریشان ہونا چھوڑیے ، طبی ماہرین کے مطابق مہینے میں 3 سے 4 مرتبہ چاکلیٹ کھانے سے انسانی جسم پر مثبت اور خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ چاکلیٹ کینسر اور دل کے مرض کو بھگانے میں انتہائی کا رآمد ہے۔ تحقیق کے مطابق چاکلیٹ کھانے سے انسانی زندگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے، اس کے علاوہ اگر پریشانی کو دور بھگانا ہو تو بھی چاکلیٹ کا لطف اٹھائیے ، بڑے تو کیا بچوں کے لیے بھی چاکلیٹ بہت فائدہ مند ہے ، صبح سویرے چائے پینے والے افراد اب چائے کافی چھوڑیں ، چاکلیٹ کھائیں اور صحت مند ہوجائیں۔
  7. حالیہ تحقیق کے مطابق فالسہ اور اس کا شربت جگر کے امراض اور یرقان کے مریضوں کے لئے بہت مفید ہے۔ تحقیق کے مطابق فالسہ اور اس کا شربت جگر کے امراض میں فائدہ مند ہے، خاص طور پر یرقان کے مریضوں کے لیے یہ نہایت مفید ہے جب کہ روزانہ فالسے کا ایک گلاس ٹھنڈا شربت پینے سے تندرست افراد بھی یرقان سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فالسے کا شربت صبح شام پینے سے نہ صرف بلڈ پریشر کم ہوتا ہے بلکہ یہ سر درد میں بھی فائدہ مند ہے۔ شدید گرمی اور لو میں فالسے کا ایک گلاس شربت پی کر سن اسٹروک سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
  8. واشنگٹن: نظام شمسی میں گزشتہ روززمین کے قریب سے تقریباً 3کلومیٹرچوڑاسیارچہ گزرا ہے۔اس سیارچے کو 1998کیوای2 کا نام دیاگیا تھا۔ یہ جمعے کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق 8بج کر 49منٹ پر گزرا۔ 2سو سال کے سفر کے دوران اس کا یہ زمین سے قریب ترین فاصلہ تھا۔ سیارچے کا حجم دیگر سیارچوں کے مقابلے میں کافی بڑاہے اوراس کے گرداپنا چاندبھی ہے۔ سائنسدانوںکے مطابق سیارچے کازمین سے کم ترین فاصلہ 58لاکھ کلومیٹر تھا اور اْس کے زمین سے ٹکرانے کے امکانات بہت کم تھے۔ اس یادگار منظر کا خلا میں دلچسپی رکھنے والے افرادنے جدید دوربین کی مدد سے مشاہدہ کیا۔اس سے پہلے فروری میں زمین کے قریب سے گزرنے والا سیارچہ ’نیئرمس‘ تھا اور یہ 1998کیوای2 کے مقابلے میں زمین سے کم فاصلے پرسے گزراتھا۔ کوئنزیونیورسٹی بیلفاسٹ کے پروفیسر ایلن فٹزسیمون کہتے ہیںکہ یہ بہت بڑاہے۔ ایسے سیارچے بہت ہی کم دریافت ہوئے ہیں۔ خلامیں اتنے بڑے کم وبیش6سو سیارچے ہی موجود ہیں۔ ریڈار ٹیلی اسکوپ کے ذریعے اس سیارچے کی ہائی ریزولوشن تصاویر کھینچی گئی ہیں۔
  9. امریکی محققین کی ایک ٹیم کو یقین ہے کہ اگلے دو برسوں میں انسانی دماغ میں تجرباتی طور پر وہ مائیکروچِپ داخل کی جاسکتی ہے جو متاثرہ یا تباہ شدہ دماغ میں یاد داشت کی بحالی میں مدد کرے گی۔ یونی ورسٹی آف ساؤدرن کیلی فورنیا، ویک فاریسٹ یونی ورسٹی اور دیگر جامعات سے وابستہ سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم ایک دہائی سے زائد عرصے سے دماغی اُبھاروں ( hippocampus) پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ محققین کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ دریافت کرچکے ہیں کہ یاداشتیں ہمارے دماغ میں کہاں اور کیسے محفوظ ہوتی ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق اس تحقیق نے ایک ایسی مائیکروچِپ کی تخلیق کی راہ ہموار کردی ہے جو دماغ میں چوٹ لگنے کے باعث نسیان کے مرض میں مبتلا ہونے والے افراد، اور اسٹروک اور الزائمر کے مریضوں کی یادداشت کی بحالی میں بے حد مفید ثابت ہوگی۔ ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل کی رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں نے چوہوں اور بندروں کے دماغوں پر تجربات کے ذریعے یہ ثابت کردیا ہے کہ ایک سلیکون چِپ سے نکلنے والے برقی اشارات کی صورت میں دماغی پیغامات کی نقل تیار کی جاسکتی ہے۔ سائنس داں اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس قسم کی چِپ کی تیاری کے لیے الیکٹرونکس کے ضمن میں ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، تاہم انھیں یقین ہے کہ یہ مرحلہ بھی جلد طے کرلیا جائے گا۔ ان کی اس خوش اُمیدی کا سبب مرگی جیسے امراض کے علاج کے لیے انسانوں میں الیکٹروڈ امپلانٹس کا لگایا جانا اور جسم انسانی کا ان امپلانٹس کو قبول کرلینا ہے۔ حالیہ عرصے میں امپلانٹس کے ساتھ ساتھ جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل مصنوعی بازو بھی لگائے گئے ہیں جو دماغ کی لہروں کو محسوس کرتے ہوئے ان کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ سائنس داں اپنی دریافت پر بہت پُرجوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یادداشت کی بحالی کے لیے مریضوں کے دماغ میں نصب کی جانے والی ڈیوائس آئندہ پانچ سے دس برس میں تیار ہوسکتی ہے۔ یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا کے نیوروسائنٹسٹ اور بایومیڈیکل انجنیئر پروفیسر ٹیڈ برجر کہتے ہیں،’’ہم فی الوقت یادداشتوں کو انفرادی طور پر واپس دماغ میں محفوظ کر رہے ہیں۔ یہ بات میرے وہم و گماں میں بھی نہیں تھی کہ میں اپنی زندگی میں اپنے اس تصور کو حقیقت میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھوں گا۔ ہوسکتا ہے کہ میں اس مائیکروچپ سے فائدہ نہ اٹھاسکوں مگر میرے بچے ضرور اس سے مستفید ہوسکیں گے۔‘‘ اس تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے دماغی اُبھاروں کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے رکھا جو دماغ کے اندرونی حصے میں ہوتے ہیں اور مختصرالمیعاد یادداشت سے حاصل ہونے والی معلومات کو طویل المیعاد یادداشت کی معلومات کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ماہرین کو یقین ہے کہ مستبقل کا یہ برین امپلانٹ دماغ کے عصبی پیغامات کی برقی اشارات کی صورت میں نقل کرسکے گا۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ یہ ڈیوائس ان مریضوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگی جن کی دماغی سرگرمی کسی چوٹ یا اسٹروک کی وجہ سے متاثر ہوئی ہو۔ اس تحقیق کا حتمی مقصد الزائمر سے متاثرہ لوگوں کا علاج کرنا ہے مگر اس کے لیے مزید تحقیق درکار ہوگی کیوں کہ یہ بیماری مریض کے دماغ کے کئی حصوں کو بہ یک وقت متاثر کرتی ہے۔
  10. انسانی وجود چار عناصرآگ ( حرارت )،مٹی، ہوا اور پانی پر مشتمل ہے۔ انہی چار عناصر کی مناسبت سے انسانی جسم میں چار اخلاط صفرا، سودا، بلغم اور خون کی افزائش ہوتی ہے۔ مذکورہ اخلاط انسانی جسم کے مزاج کا تعین کرتے ہیں اور پھر یہی مزاج ہمارے بدن کی بیماری و تن درستی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ آگ کا مزاج گرم خشک، مٹی کا مزاج سرد خشک، ہوا کا مزاج گرم تر اور پانی کا مزاج سرد ترہے۔ اگر چہ انسانی وجود کی تخلیق میں پانی کے ساتھ دیگر عناصر کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن پانی ایک ایسا عنصر ہے جوانسانی جسم میں 70 فی صد تک پایا جاتا ہے۔ پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن کا کیمیائی مرکب ہے جو کائنات میں ہر ذی روح کی زندگی کا سب سے بڑا سبب ہے ۔ اس حقیقت کو خالقِ کائنات نے قرآنِ حکیم میں بھی واضح کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہم نے ہر جان دار شے کو پانی سے پیدا کیا‘‘۔کرۂ ارض کی تمام مخلوقات کی زندگی کا دار ومدار پانی پر ہے۔ جدید میڈیکل سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر جسمِ انسانی میں پانی کی مطلوبہ مقدار میں کمی واقع ہو جائے تو انسانی زندگی خطرے سے دو چار ہونے لگتی ہے۔ پانی ایک ایسا مادہ ہے جو تینوں حالتوں؛ ٹھوس (برف) مائع (پانی) اور گیس یعنی بخارات کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ پاکیزہ ،صاف اور شفاف پانی ہمارے جسم سے مضر اور آلودہ مادوں کو براستہ بول و براز اور پسینہ خارج کرکے ہماری تن درستی میں معاون ہوتا ہے۔ غیر شفاف اور آلودہ پانی کئی ایک امراض جیسے ٹائیفائیڈ، ہیضہ، پیچش، اسہال، قبض، بد ہضمی اور پیٹ کی خطرناک بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اگر چہ پانی میں بظاہر کوئی قابلِ ذکر غذائیت نہیں پائی جاتی تاہم یہ غذا کو ہضم کرنے اور جسم میں خون کی روانی بحال رکھنے میں ایک لازمی اور بنیادی غذائی جزو مانا جاتا ہے۔ پانی کے طبی فوائد:۔ پانی مزاج کے لحاظ سے سرد ترہے ۔ یہ پیاس بجھاتا ہے اور بے ہوشی، تھکاوٹ، ہچکی، قے اور قبض کے امراض کو دور کرنے میں کام آتا ہے۔ یرقان اور پیشاب کی جلن میں مفید ہے۔ بدنِ انسانی سے فاضل مادوں کو پیشاب اور پسینے کے راستے خارج کرتا ہے۔ خون کو گاڑھا ہونے سے بچاتا اور نظامِ دورانِ خون کی کار کردگی کو بحال اور رواں رکھنے میں انتہائی اہم کردار کا حامل ہے۔ پانی جلدی خلیات کو تازگی مہیا کر کے جلد کو ملائم،نرم اور خوب صورت بناتا ہے۔ خون کو تازہ آکسیجن کی فراہمی کے ذریعے چہرے کو شگفتگی بخشتا ہے۔ یہ اپنی سردی اور تری کی بہ دولت انسانی جسم کی حدت و حرارت کو اعتدال پر رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ غذا کو رقیق بنا کر ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔ اخلاط کے قوام کو گاڑھا ہونے سے روکتا ہے اور صفرا و سودا اور خون کے اثراتِ بد کو زائل کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ پانی کا طبی استعمال:۔ پانی ایک ا یسا عنصر ہے جو انسانی صحت و تن درستی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیشہ صاف و شفاف اور آلودگی سے پاک پانی پیا جانا چاہیے۔ پانی کو ابال کر پینے سے بے شمار امراض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔گرم مزاج (صفراوی)کے حا مل افراد کو چاہیے کہ صبح نہار منہ بغیر کلی کیے دو سے چار گلاس پانی لازمی پییں، لیکن اس کے بر عکس سرد مزاج(بلغمی) کے حاملین کو چاہیے کہ وہ صبح نہار منہ سرد پانی کی بجائے نیم گرم پانی میں ایک چمچہ شہد ملا کر استعمال کریں۔ انھیں بلغم سے جڑے عوارض سے چھٹکارا نصیب ہو گا۔ کولیسٹرول ، یورک ایسڈ اور امراضِ گردہ میں مبتلا مریضوں کو چاہیے کہ وہ ایک گلاس پانی میں نصف چمچہ سونف پکا کر صبح نہار منہ پییں۔ ایسے افراد جو ہمیشہ لو بلڈ پریشر کا شکار رہتے ہوں انھیں چاہیے کہ وہ ایک گلاس پانی میں ایک چٹکی نمک اور ایک عدد لیموں نچوڑ کر پی لیں، اس عارضے سے نجات حاصل ہوگی۔ موٹاپے میں مبتلا افراد کو چاہیے کہ وہ ایک گلاس گرم پانی میں ایک چمچہ شہد اور ایک عدد لیمن نچوڑ کر رات کو سوتے ہوئے پی لیا کریں۔گرم مزاج والوں کو کھانے کے درمیان اور بعد میں لازمی طور پر پانی پینا چاہیے لیکن سرد مزاج والوں کو کھانا کھا نے سے نصف گھنٹہ قبل دو گھونٹ اور کھانے کے ایک گھنٹہ بعد دو گھونٹ پانی پینا چاہیے۔ دورانِ طعام یخ ٹھنڈا پانی سے پر ہیز کرنا چاہیے کیوںکہ برف مزاجاََ سرد تر ہے اور معدے کی قوتِ ہاضمہ کو کمزور کرتی ہے۔ دائمی قبض کے مریضوں کو نہار منہ پانی پینا چاہیے اور کھا نے سے پہلے،درمیان اور بعد میں بھی پانی کا استعمال کرنا چاہیے ۔ عام طور پر قبض کی بیماری انتڑیوں میں خشکی بڑھ جانے سے ہو تی ہے جب کہ پانی سرد تر ہونے کی وجہ سے انتڑیوں کی خشکی ختم کرتا ہے۔ پانی کے حوالے سے چند اہم باتیں:۔گرم کھانے کے بعد؛ ترش اشیا کھانے کے بعد؛ کھیرا،تربوز اور خربوزہ کھانے کے بعد؛ دھوپ سے آنے، سو کر اٹھنے اور نہانے، محنت اور ورزش کرنے کے فوراً بعد اور دودھ اور چائے پی چکنے کے بعد پانی پینا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پانی ہمیشہ گھونٹ گھونٹ پینا چا ہیے، ایک دم گلاس بھر پانی پی جانے سے بھی مضر اثرات سامنے آتے ہیں۔ یہ بھی دھیان رہے کہ پانی جسمانی ضرورت اور گنجائش کے مطابق ہی پینا چاہیے ورنہ پانی کی زیادتی نفخ،اپھارہ اور بھاری پن پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ کوشش کریں کہ تازہ پانی پیا جائے، پلاسٹک کی بوتلوں میں زیادہ دیر بند پانی بھی صحت کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے۔
  11. [bohat zabardast pics hain Shukariya share karne k liye/B]
  12. Bohat Khoob Dear Bohat achi sharing ha
  13. Beautiful sharing hai Zabardast Good work Thanks
  14. Bohat KHoob Yaar zabardast sharing hai Good work Thanks
×