Jump to content
URDU FUN CLUB

Nadan

Members
  • Content Count

    17
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Nadan last won the day on May 16

Nadan had the most liked content!

Community Reputation

9

1 Follower

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

449 profile views
  1. چوت گیلی ہی مزے کی لگتی ہے۔ چاہے تو چوس لو، چاہے تو چود لو۔
  2. ufhhhh.. dono tangon k beech beth kr hips ko hathon ma pakar lia.. thighs ko rub krty huy choot ko uthaya... aur phir tangon ko choomny laga... apny honton ko tumhari choot k paas ly gya.... ahhhhh mast aur raseeli choot sy pani tipak raha ha.. apni zuban sy tumhari choot k danay ko touch kia... mmmmuah
  3. hi sweet pie. thori masti ho jay?
  4. Shukria sab ka jinhon ny pasand kia... ye meri pehli story thi...
  5. وہ حسن سراپا ہے، وہ مصدرِ رعنائی میں عشقِ مجسم ہوں، میں چشمِ تماشائی یہ قوتِ گویائی، یہ سوچ کی گہرائی انساں کو ملی کیسی، دانائی و بینائی جو چیز بھی پائی ہے، وہ در سے ترے پائی لاریب تو آقائی، لاریب تو مولائی ہیں مہر بہ لب کلیاں، ہیں پھول بھی افسردہ غل ہے کہ بہار آئی، کیا خاک بہار آئی اقرب ہے رگِ جاں سے وہ نورِ ازل لیکن محرومِ تماشہ ہے ہر چشمِ تماشائی کیا تجھ کو تامل ہے، ہو چہرہ نما اس میں دل آئینۂ صافی اور گوشۂ تنہائی محرومِ بصارت ہے، محرومِ بصیرت ہے انسان کہ کرتا ہے، انسانوں پہ آقائی جاں سوز ہے زخمِ دل، جینا بھی ہوا مشکل کب کام مرے آئے گی تیری مسیحائی محبوبِ نظرؔ ہو کر محجوب نظر ہے وہ اے کاش ان آنکھوں کی کرتا وہ پذیرائی --- محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
  6. روانی میں بلاگ کا ذکر تو کر دیا مگر میں کچھ وجوہات کی بنا پر یہاں لنک شیئر نہیں کر سکتا۔ امید ہے صرف نظر کرتے ہوئے میرے جواب پر ہی اکتفا کیا جائے گا۔
  7. میں کچھ وقت سے اس فورم کا خاموش قاری ہوں۔ ایک ٹوٹی پھوٹی کہانی بھی لکھی لیکن وہ اتنی مزیدار ثابت نہیں ہوئی۔ جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو جب نظر سے گزرا تو سوچا جواب دوں، مگر اس کا جواب ہاں یا نہ میں نہیں ہو سکتا۔ سیاق و سباق کا حوالہ دینا ضروری ہے۔ اور زیادہ لکھنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ لکھ بھی دوں تو نقار خانے میں طوطی کی آواز سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اپنے ایک بلاگ میں ان جملوں کو حقیقی زندگی کے واقعات کے ساتھ بیان کر چکا ہے۔ آب چاہیں تو آپ کو لنک بھیج سکتا ہوں۔ جہاں تک رپلائی کی بات ہے تو مجھے یہ فورم اتنا زیادہ ایکٹو نہیں لگ رہا۔ سینکڑوں پوسٹ ، اورمستی کا سامان ہونے کے باوجود پورے فورم پر ایک یا دو رپلائی آتے ہیں دن بھر میں ۔ بات یوں ہے کہ "میرا جسم میری مرضی" محض ایک جملہ نہیں ہے اور یہ خواتین کی بے جا آزادی سے متعلق بھی نہیں ہے۔ اس جملہ کی آڑ میں کوئی خاتون یہ نہیں کہہ رہی کے اس کا جسم اور اس کی مرضی کہ وہ جس کسی کے ساتھ بھی تعلق قائم رکھے۔ انگریزی کی ایک اصطلاح کا اردو ترجمہ کروں تو کچھ ایسے ہے "شادی شدہ جنسی زیادتی" ۔ اب بظاہر تو یہ کوئی بات نہیں لگتی۔ شادی کر لی ہے تو سیکس کرنے میں کیا ہرج ہے۔ جب چاہو جب مرضی کر لو۔ مگر بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ ایک لڑکی کی شادی ہوتی ہے۔ وہ سہاگ رات کے بستر پر بیٹھ کے بہار کی تازہ کلیوں کو چن چن کر اپنے خواب بن رہی ہے۔ ایسے میں اس کا دولہا کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ پھولوں کی مہک ماند پڑنے لگتی ہے اور باسی شراب کی بدبو پورے کمرے میں پھیل گئی۔ لڑکی کو ابھی حیران ہونے کا موقع بھی نہ ملا تھا کہ اس کے شرابی شوہر نے اس کے کپڑے اتار کر اس کے ساتھ سیکس کرنا شروع کر دیا۔ صرف سیکس ہی نہیں کیا بلکہ اسے مار پیٹ بھی کی۔ جیسے جیسے اس لڑکی کو زخم لگتا اور وہ اپنی چیخوں کو دبا کر سسکتی اسے مزید لذت ملتی۔ کسی کو ایذا پہنچانا انسانیت نہیں حیوانیت ہے۔ اگر کوئی مرد یہ سمجھتا ہے کہ عورت کو بستر میں سسکنے اور تڑپنے پر مجبور کرنے کا نام مردانگی ہے تو وہ نامرد ہے۔ مرد اپنی شریک حیات کو عزت دیتا ہے اور کی کمزوریوں سے صرف نظر کرتا ہے اور جہاں وہ غلط ہو اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ مرد اپنی عورت کی خاطر دوسروں سے لڑ جاتا ہے، اپنا پیٹ کاٹ کر پالتا ہے اور خود دھوپ میں کھڑے ہو کر اپنے گھر کو چھائوں فراہم کرتا ہے۔ ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم رزم حق و باطل میں فولاد ہے مومن مگر یہاں نام نہاد مرد عورت کو زدو کوب کرنا اپنی مردانگی سمجھتے ہیں۔ اس جملے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کسی جگہ میں نے پڑھا تھا کہ مسلمانوں کے ایک لشکر کو فتح ہوئی۔ شکست خوردہ قوم نے آخری حربہ کے طور پر اپنی خواتین کو برہنہ / نیم برہنہ حالت میں مسلمانوں کے لشکر کے راستے میں کھڑا کردیا۔ جب مسلمانوں کے سپہ سالار کی نظر پڑی تو اس نے لشکر سے کہا کے اپنی نگاہیں جھکا کر شہر میں داخل ہو۔ اور ایسا ہی ہوا۔ مدعا یہ ہے کہ اگر عورت برہنہ بھی ہو تو مسلمان مرد کو اس سے نظر پھیر لینی چاہئے نا کہ اسے جواز بنا کر خود گناہ پر گناہ کرتا جائے۔ کتنے ہی واقعات ہوتے ہیں جس میں جنسی زیادتی کی جاتی ہے اور آخر میں منطق کیا دی جاتی ہے کہ وہ ماڈرن لڑکی تھی۔ ماڈرن تو کیا یہاں تو کم عمر لڑکے، لڑکیاں اور برقعہ پوش خواتین بھی محفوظ نہیں۔ کوئی عورت جو بھی لباس پہنے اس کا حساب اس عورت نے دینا ہے۔ بھلے سے وہ جہنم میں ہی چلی جائے ہم کون ہوتے ہیں اس کے لباس پر تنقید کرنے والے یا اس کے لباس کی وجہ سے زیادتی کرنے والے؟ کوئی عبایا پہنے یا کوئی جینز پہنے آپ کی نظروں کا کام نہیں ہے اس کا تعاقب کرنا۔ میرے خیال میں "میرا جسم میری مرضی " کا مطلب یہ ہے کہ ذاتی معاملات میں مرد کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے اور یہ صحیح بھی ہے۔ آخری جملہ جو آپ نے کہا ہے عورت کو اپنی مرضی سے اپنا جسم استعمال کرنا چاہئے اس پر مجھے کچھ شکوک ہیں۔ اگر تو آپ کے نزدیک اپنی مرضی سے استعمال سے مراد جنسی تعلق ہے تو اس کے متعلق کچھ مذہبی اور کچھ معاشرتی حدود ہیں۔ اگر حدود کی پاسداری کی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
  8. شکریہ۔ میری پہلی کاوش تھی کسی کے کہنے پر لکھ دی۔ اب کیسی ہے یہ تو آپ لوگوں کو ہی معلوم ہو گا۔
  9. ویسے تو میں فری ممبر ہوں مگر اپنی رائے کا اظہار کر دیتا ہوں۔ ممبرشپ پالیسی جیسا کے گولڈ، سلور وغیرہ کا تعلق سیریل کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے۔ ہر ممبر تمام سیکشن کو دیکھ سکتا ہو۔ اس کے بعد ہونا یہ چاہئے کہ جو سیریل یا فائل پیڈ سیکشن میں ڈالنا چاہتے ہیں ان کی ایک قیمت مقرر کر دیں۔ اور ممبرشپ پالیسی کے حصاب سے کچھ پرسنٹ ڈسکائونٹ ہر پیڈ فائل پر دے دیں۔ ایسے فری ممبر جو سیریل بھی پڑھنا چاہے گا اس کی قیمت ادا کر دے گا۔ اور سلور یا گولڈ ممبر جب وہی سیریل پڑھنا چاہے گا تو اسے ڈسکائونٹ والی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
  10. میں نے جلدی سے شاور لیا، کپڑے پہنے اور مہمان خانے کا رخ کیا جہاں عماد میرا انتظار کر رہا تھا۔ عماد نے سلام کیا اور ساتھ ہی اس کے نظریں میری چھاتیوں پر مقناطیس کی طرح چپک گئیں۔ میں نے اپنی چھاتیوں کی طرف دیکھا تو میں چکرا گئی۔ کیونکہ میں نے جلدی میں برا نہیں پہنی تھی اور شاور لینے سے بدن گیلا تھا جس سے میری سفید قمیض بھی گیلی ہو کر بدن سے چپک گئی تھی۔ میرے بوبس کا نظارہ عماد کے سامنے تھا۔ میں ہمیشہ عبایا پہنتی تھی اور کسی غیر مرد کو اپنے قریب آنے نہیں دیا۔ میں نے ہمیشہ اپنا بدن عماد سے چھپایا تھا مگر آج مجھے لگا جیسے میں عماد کے سامنے ننگی ہو گئی ہوں۔ اور بات بھی کچھ ایسی تھی میری برائون نپل سفید قمیض سے واضح نظر آرہی تھی جیسے سفید چادر پر پیتل کر سکہ رکھا ہو۔ میں اتنی بوکھلا گئی کے میں کچھ پوچھنا ہی بھول گئی۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کے میں کیا کروں۔ میں اپنی چھاتیوں کو بانہوں میں چھپایا اور آخر کار گھبرا کر میں اندر کی طرف دوڑ گئی۔ آج پھر عماد کے گھر دعوت تھی۔ شاور والے واقعے کے بعد میں عماد سے کترا رہی تھی مگر میاں کے اصرار پر جانا پڑا۔ میں نے عبایا پہنا ہوا تھا اس لئے تھوڑا سا سکون محسوس کر رہی تھی کہ وہ میرا بدن نہیں دیکھ سکتا۔ واپس آنے لگے تو میاں کے فون کی گھنٹی بج گئی اور ساتھ ہی میری قسمت کی بھی۔ میاں کو آفس کے کام سے جانا تھا اور عماد سے کہا کے مجھے گھر چھوڑ دے۔ میں ہچکجانے کے باوجود نہ نہیں کر سکی اور عماد کی گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ سارے راستے میں اپنا جسم سمیٹنے میں لگی رہی اور عماد شیشے سے مجھے گھورتا رہا۔ گھر پہنچتے ہی میں گاڑی سے اتری اور عماد کو بائے بول دیا۔ ساتھ ہی عماد بھی گاڑی سے اتر آیا۔ کہنے لگا بھابھی آپ کے پاس دودھ ہے؟ میں نے غصے سے بولا کیا مطلب تو کہنے لگا کچھ نہیں میں تو کہہ رہا تھا کہ ایک کپ چائے پلا دیں۔ اوہ اچھا۔ مہمان خانے میں بیٹھو میں لاتی ہوں۔ اور وہ میرے پیچھے پیچھے اندر آنے لگا۔ اس کے آگے چلتے ہوئے مجھے لگا جیسے وہ میری گانڈ کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہا ہے۔ عبایا تو پہنا تھا مگر جیسے جیسے میں چلتی جاتی میری گانڈ بھی جھوم رہی تھی۔ مجھے لگا جیسے وہ میری گانڈ کو چھونے لگا ہے۔ شکر ہے اندر آنے تک ایسا ویسا کچھ نہ ہوا جو میں سوچ رہی تھی۔ مگر جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہوئے تو عماد نے دروازے کی کنڈی چڑھا دی۔ میرے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گئی جیسے ابھی حلق سے باہر نکل آئے گا۔ میرے ہونٹ تو جیسے سوکھ گئے۔ میں سوچ رہی تھی کہ اگر آج عماد نے کچھ ایسا ویسا کیا تو میں کیا کروں گی۔ میری چوت جو اتنے دنوں کی پیاسی تھی وہ کچھ اور کہہ رہی تھی مگر یہ جسم کسی اور کی امانت ہے۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کے اگر عماد نے مجھے چودنے کا بولا تو میں اسے تھپڑ ماروں یا کہیں بھاگ کر چھپ جائوں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کے اگر عماد کی نیت خراب ہے تو میاں کو بتائوں یا چپ رہوں۔ ایسے ہی کھڑے کھڑے نہ جانے کتنی دیر ہوئی کے عماد نے میری کمر پر ہاتھ رکھا۔ میں ایک دم سے ڈر گئی۔ میرے بدن میں کرنٹ سا دوڑ گیا اور چوت پر چیونٹیاں سی رینگنے لگی۔ نپل ایک دم تن گئے۔ جیسے ہی پیچھے مڑی تو عماد نے کہا بھابھی چائے۔ میں نے کہا اچھا بیٹھو۔ اور پھر کچن میں چلی گئی۔ میں عبایا اتارتے ہوئے ڈر رہی تھی کے میں نے عبایا اتارا تو میرے مست بوبس عماد کو اپنی طرف متوجہ کر دیں گے۔ ایسے ہی میں نے چائے بنا کر عماد کو پیش کی اور سامنے بیٹھ گئی۔ عماد مجھے ہی گھورے جا رہا تھا اور مجھ میں نظریں ملانے کی ہمت نہیں تھی۔ میں نے دیکھا کے عماد کی پینٹ میں ٹینٹ سا بن گیا ہے۔ یقینا اس کا لنڈ کھڑا ہو گا مگر میں تو عبایا میں بیٹھی ہوں پھر کس چیز نے اس کا لنڈ کھڑا کر دیا۔ میں یہ سب سوچتے ہوئے لاشعوری طور پر اس کے لنڈ کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ عمام نے کھانس کر مجھے اپنی طرف متوجہ کیا تو میں جھینپ سی گئی۔ گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھی اور خالی کپ اٹھانے کو آگے بڑھی۔ جیسے ہی میں نے کپ کو پکڑا عماد نے بھی کپ کو پکڑنے کے انداز میں میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ میرا جسم گرمی اور گھبراہٹ سے آگ بنا ہوا تھا۔ جیسے ہی عماد نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں کانپ سی گئی۔ عماد نے بولا کیا ہوا بھابھی۔ میں نے کہا کچھ نہیں۔ اور عماد نے میرے ہاتھ سے کپ لے کر میز پر رکھ دیا۔ اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی پینٹ کے ابھار پر رکھ دیا۔ میں نے کہا یہ کیا کر رہے ہو عماد۔ عماد بولا کچھ نہیں۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ میرے لنڈ کو ہی دیکھنا چاہتی ہیں۔ میں نے انکار کر دیا اور اپنا ہاتھ چھڑانے لگی۔ عماد کی گرفت مضبوط ہو گئی اور میرا ہاتھ اسے کے لنڈ کو محسوس کرنے لگا۔ شاید 5 انچ لمبا اور 2 انچ موٹا لنڈ تھا اس کا۔ میں نے نظریں جھکا لی اور کہا کے ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔ تو عماد نے کہا آپ جو ایک سال سے مجھے تڑپا رہی ہیں کیا وہ کرنا ٹھیک ہے۔ میں کچھ نہ بولی۔ میرے ہاتھ پر اس کے لنڈ کا ابھار محسوس ہو رہا تھا۔ میری نپل ٹائٹ ہو گئی اور مجھ پر حوس حاوی ہونے لگی۔ مجھے لنڈ چاہئے مگر صرف اپنے میاں کا۔ میں کسی غیر مرد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھ سکتی۔ میں نے فیصلہ کیا اور اپنا ہاتھ عماد کے ہاتھ سے چھڑوا لیا۔ میں جانے کے لئے جیسے ہی مڑی تو عماد نے مجھے پیچھے سے دبوچ کر اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔ میری کمر عماد کے سینے کو محسوس کر سکتی تھی اور عماد کی گرم سانس میری گردن میں آگ لگاتی ہوئی گزر گئی۔ عماد کی پینٹ کا ابھار جو کے اس کا لنڈ تھا وہ بھی میری گانڈ کے آس پاس ہی تھا۔ یوں سمجھ لو کے عماد نے مجھے کمر سے گلے لگایا تھا۔ عماد نے میرے کان کے پیچھے چوما اور پھر میرے کان کا نچلا حصہ اپنے ہونٹوں میں دبا کر چوسنے لگا۔ میری ہمت جواب دینے لگی۔ اس نے میری کمزوری پکڑ لی تھی۔ کان کو چوسنے کے ساتھ ہی میری چوت سے پانی نکلنا شروع ہو گیا اور میں یکدم سب کچھ بھول گئی۔ اب میں صرف ایک عورت تھی جسے ایک تگڑے لنڈ کی ضرورت تھی اور عماد وہ دیوتا تھا جو کسی چوت کے لئے ہر مشکل سے گزر سکتا تھا۔ میں یہ سب عماد پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے میری مزاحمت جاری تھی۔ میں نے کہا عماد چھوڑو مجھے۔ مگر عماد تو جیسے میری بات سن ہی نہیں رہا تھا۔ اس نے عبایا کے اوپر سے ہی اپنا لنڈ میری گانڈ پر رگڑنا شروع کر دیا۔ اور اپنے دونوں ہاتھوں میں میرے بوبس کو پکڑ کر دبانے لگا۔ افففف یہ سب حیرت انگیز طور پر جادوئی تھا۔ اپنے میاں کے علاوہ کسی اور کا لمس مجھے اور ہی نشہ دے رہا تھا۔ جیسے جیسے عماد میرے کان چوس رہا تھا اور میرے نپل کو دبا رہا تھا میری چوت سے پانی رستا جا رہا تھا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کے میری پینٹی مکمل گیلی ہو چکی ہے۔ میری ہمت جواب دینے لگی میں نے اپنی شرم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عماد کے لنڈ کا مزہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ اب میں نے عماد کی جینز کے اوپر سے ہی اس کے لنڈ کو پکڑ لیا۔ اس کا موٹا لنڈ اکڑا ہوا تھا۔ میرے ہاتھوں کو محسوس کرتے ہی اس کا لنڈ سرشار ہو گیا ہو گا۔ وہ گھوم کر میرے سامنے آیا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں کا بوسہ دیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک وحشی چمک تھی جیسے ایک سپہ سالار کسی قلعہ کو فتح کرتا ہے اور پھر اس کی سب دیواروں کو روندتا ہوا تخت پر جا بیٹھتا ہے۔ آج عماد میرے ساتھ بھی وہی کچھ کرنے جا رہا تھا۔ اس نے میرے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر کاٹا اور درد سے میری آہ نکل گئی۔ شاید اسے اسی لمحے کا انتظار تھا۔ ہونٹ چوسنے اور کاٹنے کے ساتھ عبایا کے اوپر سے ہی اس نے میرے بوبس کو مسلنا شروع کر دیا ۔ میے نپل اکڑ کر سخت ہو گئے۔ اس کے ہاتھوں کی گرفت مجھے سرنڈر کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ اس نے عبایا اور قمیض کے تہہ کے اندر ہاتھ ڈالا اور میرے جسم کو ٹٹولتے ہوئے میرے بوبس کو برا سے باہر نکال دیا۔ اس نے عبایا کو سامنے سے اٹھایا اور میری چھتیوں کو ننگا کر اپنے چومنے لگا۔ نپل کو چومنے کے ساتھ جب وہ دانتوں سے دباتا تو درد اور لذت کے ملے جلے جذبات سے میری آہ نکل جاتی اور یہ بات اسے سکون دے رہی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں میری دونوں نپل سرخ ہو چکی تھیں۔ لذت کا یہ دور شروع ہوا تو میری حوس بھی جاگ گئی۔ میں نے اس کی جینز کھول کر اس کا لنڈ باہر نکال دیا۔ جیسے جیسے وہ میرے نپل کو چوس رہا تھا میرے ہاتھ بھی اس کے لنڈ کو مسل رہے تھے۔ اس کا لنڈ لوہے کے راڈ کی طرح سخت تھا اور مجھے یقین ہونے لگا کے اب میری چوت پیاسی نہیں رہے گی۔ میرے دودھ کو چکھنے کے بعد اس کا دھیان میری گیلی ہوتی ہوئی چوت کی طرف گیا۔ یہ اس کا تخت تھا جہاں اس نے کسی بادشاہ کی طرح بیٹھنا تھا۔ اس نے ہاتھ میرے ٹرائوزر میں ڈال دیا اور میرے چوت کا گیلا پن محسوس کر کے مسکرانے لگا۔ نہ جانے اس کے مسکرانے کا مطلب کیا تھا مگر جیسے ہی اس کا ہاتھ میری چوت کے ساتھ لگا میرے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا۔ میری چوت نے ایک گرم پانی کا ایک تازہ سیلاب چھوڑ کر اس کا استقبال کیا۔ اس کی انگلیاں بہت مہارت سے میری چوت کو مسل رہی تھیں۔ اور میری برداشت ختم ہو گئی۔ میری چوت کو اسی وقت لنڈ چاہئے تھا۔ میری حوس پوری طرح حاوہ ہو چکی تھی۔ مجھ سے اب مزید صبر نہیں ہوتا۔ میں نے اس کے لنڈ کو اپنی چوت کے قریب رگڑنا شروع کیا۔ شاید اسے اندازہ ہو گیا تھا کے اب میں کیا چاہتی ہوں۔ اب اس نے میرا رخ صوفے کی طرف کیا اور میں دونوں ہاتھ سوفے پر رکھ کر جھک گئی۔ اس نے میری کمر سے عبایا تھوڑا سا اٹھایا اور پھر میرا ٹرائوزر اتار کر میری گانڈ ننگی کر دی۔ اس سے پہلے کے وہ اسی پوزیشن میں میری چوت میں لنڈ ڈالتا اس نے پٹاخ کی آواز کے ساتھ میری گاںڈ پر تھپڑ مارا۔ آہ ہ ہ میری چیخ نکل گئی۔ اور پھر میری گانڈ کو مسلتے ہوئے اس نے اپنا لنڈ میری ٹاگوں کے بیچ سے گزار کر چوت پر رگڑ دیا۔ میرا انتظار طویل ہو رہا تھا اور مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی جب اس نے ایک جھٹکے سے اپنا لنڈ میری چوت میں اتار دیا۔ اف ف ف ف ف میری چوت رس سے بھر گئی تھی۔ گیلی چوت میں اس کا لنڈ سرکتا ہوا اندر چلا گیا۔ میرے جسم میں ایک سرور کی لہر دوڑ گئی۔ اپنے میاں کے بعد یہ پہلا لنڈ تھا جس نے میری چوت کو سیراب کیا تھا۔ پہلے پہل تو وہ آہستہ آہستہ چودتا رہا اور میری چوت کو ترساتا بھی رہا مگر اب اس کے دھکوں میں تیزی آگئی۔ اس کا لنڈ میری چوت کے آخری کونے تک سرکتا ہوا جاتا اور پھر واپس چوت کے داہنے تک آتا۔ اور ایک بار پھر وہ تیزی سے دھکا لگاتا۔ لگاتار پانچ منٹ چودنے کے دوران میری چوت جھڑ گئی۔ اس کا لنڈ بھی میری چوت سے گیلا ہو گیا اور تیزی سے پھسلنے لگا۔ اب وہ بھی فارغ ہونے لگا تھا۔ اس نے مجھے زور سے اپنے بازو میں جکڑ لیا اور میرے بوبس کو ہاتھوں میں دبا لیا۔ اس کا لنڈ میری چوت میں پانی چھوڑ رہا تھا۔ چود کر وہ فارغ ہوا اور اس نے اپنا لنڈ میری چوت سے نکالا تو اچانک مجھے خیال آیا کے یہ میں نے کیا کر دیا۔ ایک غیر مرد سے چدوا لیا۔ شرم سے مجھے پسینہ آنے لگا۔ اور ٹرائوزر پہن کر عبایا ٹھیک کر کے میں مہمان خانے سے بھاگ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
×