Jump to content
URDU FUN CLUB
  • Sign Up

khurram_714

Members
  • Content Count

    14
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

113

About khurram_714

  • Rank
    In Active Members
  1. COLOR="black"]پاکستانی بچوں نے دنیا کی سب سے بڑی تصویر بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے سب سے بڑا جھنڈا بنانے کے لیے تیاریاں نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں جاری ہیں۔ پنجاب یوتھ فیسٹیول کے تحت عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا سلسلہ جاری ہے پیر کو 1934 بچوں نے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں دنیا کی سب سے بڑی تصویر بنا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ مقابلے میں شریک بچوں نے شاہی قلعہ لاہور کی تصویر بنائی اس سے قبل یہ ریکارڈ امریکہ کے پاس تھا جہاں 14 سو 58 بچوں نے دنیا کی سب سے بڑی تصویر بنائی تھی۔[/color]
  2. روس کے سائنسدانوں نے دنیا کی گہری ترین جھیل کا سراغ لگا لیا ہے۔ اس جھیل کی تلاش میں دو چھوٹی سب میرین استعمال کی گئی ہیں۔ اس جھیل کا نام لیک بھیکل ہے اور اس کی گہرائی 1680 میٹر بتائی گئی ہے۔یہ جھیل سربیا کے جنوب مشرق میںواقع ہے جو کہ 3.15 ملین ایکڑ پر مشتمل ہے اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جھیل 25ملین سال پرانی ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ جھیل معدنیات کا خزانہ ہے، تاہم جھیل دریافت کرنے والے آرتھر چیلنگوا کہتے ہیں کہ صاف اور میٹھے پانی کی تلاش نے ہمیں بھیکل جھیل کا راستہ دکھایا۔
  3. عالمی ریکارڈ بنانے کے لیے لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں ستر ہزار سے زائد طلبا و طالبات نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھنے کا ورلڈ ریکارڈ بنا لیا۔ گنینز بک کے نمائندے گیرتھ ڈیوز نے باقاعدہ طور پر ایورڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایک ساتھ مل کر قومی ترانہ پڑھنے کا ورلڈ ریکارڈ اب پاکستان کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا اس ورلڈ ریکارڈ میں 42813 پاکستانیوں نے حصہ لیا۔ گنینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کروانے کیلئے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں 42813 ہزار سے زائد طلبا و طالبات نے ایک ساتھ نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں قومی ترانہ پڑھنے کا ورلڈ ریکارڈ بنا لیا۔ نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کو خوبصورتی کیساتھ سجایا گیا تھا۔ وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف تقریب کے مہمان خصوصی تھے ۔ گنینز بک انتطامیہ کے افراد بھی تقریب میں شریک تھے. وزیر اعلی پنجاب نے کہ یہ پنجاب کا فیسٹیول نہیں بلکہ پورے پاکستان کا فیسٹیول کا ہے۔ انہوں نے کہا آج ثابت ہو گیا کہ قوم میں جان ہے۔ گنینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے باقاعدہ اعلان کا انتظار ہے۔ اس سے پہلے بھارت کے شہر اورنگ آباد کے گراؤنڈ میں ایک لاکھ سے زائد بھارتی شہریوں نے شرکت کی اور مل کر اپنا ملی ترانہ گایا تاہم گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی انتظامیہ نے جن لوگوں کو اس ترانے کو گاتے ہوئے پایا ان کی تعداد پندرہ ہزار دو سو تینتالیس افراد پر مشتمل تھی۔ بھارتی شہریوں نے پاکستان کا ریکارڈ بریک کیا۔ اس سے پہلے پانچ ہزار آٹھ سو افراد کا ایک ساتھ قومی ترانہ گانے کا ریکارڈ پاکستان کے پاس موجود تھا۔
  4. انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی کرکٹ میرے لیے نئے نئے انکشافات لے کر آئی۔ اس نے دنیاکے بارے میں اور میری اپنی قابلیت سے متعلق تمام تصورات کو بدل کررکھ دیا۔زندگی میں پہلی مرتبہ میں ایسے لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا جو تمام کے تمام کسی اور ہی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں بہت سوں نے سڑکوں اور گلیوں میں کرکٹ کی ابتدا کی، کچھ نے کسی بھی ایسے میدان کے ٹکڑے پر ،جو چپٹا ہو اوروہاں کوئی کھیل کھیلا جاسکتا ہو۔ بہت سے لڑکے اقبال پارک کی پیداوار تھے جہاں بعض اوقات بیک وقت دس دس میچ کھیلے جاتے ہیں۔ شروع شروع میں مجھے دوسرے لڑکوں کی جانب سے کچھ کچھ دشمنی کا سا احساس ہوا۔ ان میں سے بیشتر کا خیال یہ تھا کہ میں ٹیم میں شامل ہونے کا اہل نہیں بلکہ ا پنے تعلقات کی بنا پر وہاں تک پہنچا ہوں۔ کئی وجوہات ایسی تھیں جن کی وجہ سے میں ٹیم کے بقیہ کھلاڑیوں کے مذاق اور طنز کا نشانہ بنا۔ ان میں سے ایک میرا پنجابی زبان میں کمزور ہونا بھی تھا۔ بعد میں سرفراز نواز کی شاگردی کی وجہ سے میں بہت اچھی پنجابی بولنے لگا۔ ہمارے علاقے میں زیادہ تر پنجابی بولی جاتی ہے مگر ہم گھر میں اردو بولتے تھے۔ بہرحال جب میں نے خود کو کرکٹر کی حیثیت سے منوا لیا اور مجھے خود اس بات کا بھی احساس ہوا کہ میرے ساتھیوں نے کوئی مقام پانے کے لیے کس قدر مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کیا ہے تو مشترکہ ادب و احترام کی ایک فضا نے جنم لیا۔ میری آرام دہ اور آسان ترقی کے مقابلے میں بعض پاکستانی کھلاڑی ایسے ایسے مقامات پر گزرے ہیں جن کے مطالعہ سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا کرکٹر بننا ہی ایک معجزہ تھا۔ مثال کے طور پر حالیہ پاکستانی ٹیم میں ہی عبدالقادر اور توصیف احمد جیسے کھلاڑی ہیں جو تاریکیوں سے روشنی میں آئے اور ان کی کہانیاں دیو مالائی معلوم ہوتی ہیں۔ مجھ پر یہ حقیقت بھی آشکارا ہوئی کہ میری اپنی بیٹنگ کے بارے میں رائے کچھ زیادہ ہی اونچی ہے۔ وسیم راجہ جو انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی ٹیم کا کپتان تھا، ایک الگ ہی مقام رکھتا تھا اور پہلے ہی ایسی بیٹنگ کررہا تھا جو اس سے بڑی عمر کے کھلاڑی بھی نہیں کرپاتے۔ کئی دوسرے بھی مجھ سے میلوں آگے تھے جیسے کہ افضل مسعود یا شفقت اور شکور کا بھائی عظمت رانا۔ اگر افضل اسکول کے کھلاڑیوں میں سرفہرست تھا تو عظمت کو بیٹنگ میں حد درجہ کمال حاصل تھا۔ میں نے خود کو اس صورتحال میںخوش قسمت تصور کیا کہ لاہور میں اچھے فاسٹ باﺅلروں کا فقدان تھا اور میری اس پوشیدہ قابلیت نے مجھے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا اہل بنا دیا۔ ”عمران خان میرے چاروں طرف“ سے اقتباس“
  5. hahaha... Khobsorat dil bro... Yeh aisa GK hai jo hamri naslen b yad rakhen gee.. Kyun k America ney aisai game dali hai hamry mulk men a kar... k Wo jab ham sab itnay khety thy bahir ja kar pakistan peaceful country hai. ab woi log khety hen Usama to ap k mulk men tha.. or army ko pata he nahi.. sab drama hai yeh... Abe dhek looo malala wala Kisa..... Hamen pata he nahi hota hamry sath kia kia ho raha hai..... We need a True leader now.... otherwise yeh log beech kar khaa jayen gey country ko... Or GK yeh hai k Wo banda marnay sy phelay b usi mulk k chaneel ko interview dena chahata tha jis mulk ney usay mara hai... hai na twist...
  6. خالد حسن http://s17.postimage.org/xood8v4sf/75_18571692.jpg سیالکوٹ کے لوگوں کی سب سے بڑی پہچان ان کی حس مزاح ہے۔ وہ لوگوں کے نام رکھنے کے معاملے میں بڑی شہرت رکھتے ہیں۔ فی الوقت مجھے چند ایک یاد آرہے ہیں۔ ایک تو فراڈیا ایمپائر محمد شفیع بگلا تھا۔ شفیع بوتل بھی تھا۔ جب وہ ہنستا تھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے سوڈے کی بوتل کھول دی ہو۔ دو مشہور لڑاکے بھی تھے۔ بشیرا گھیسی اور چودھری قدرت اللہ المعروف ”کُجا۔“ میں نے ایک بار انہیں لڑتے دیکھا تھا۔ مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ فلمی لڑائیاں لڑنے والوں کو لازماً ناک آﺅٹ کردیتے۔ وہ پرانے انداز سے لڑتے تھے۔ ایک بالم نامی فقیر بھی تھا جسے ”کوکونٹ“ کہا جاتا تھا۔ کیوں؟ اس بارے میں میں نہیںجانتا۔ ایک اور کردار ”مناوارنٹ“ بھی ہوا کرتا تھا۔ میرے والد صاحب کے ایک دوست میاں بشیر کو شہر میں ”بشیر کوبرا“ کہا جاتا تھا اور میاں اصغر کو ”فٹا فٹ۔“ یہ نام تو اس پر جچتا بھی تھا کیونکہ وہ بولتا اس رفتار سے تھا جیسے کلاشنکوف گولیاں نکال رہی ہو۔ ہمارا دوست فلم ڈائریکٹر خواجہ سرفراز، سرفراز کالے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ باوجود اس کے کہ وہ اس کے درمیانے قد اور گھٹے ہوئے جسم کے باعث پڑا تھا۔ مجھے پیارا ظہور بھی یاد آرہا ہے جسے جھورا براﺅنی کہا جاتا تھا۔ اسے یہ خطاب یوںملا تھا کہ کیفے براﺅنی کے نام سے ایک ”چائے گھر“ کھلا تھا جو ڈرماں والا چوک کے قریب تھا۔ جیسے ہی آپ داخل ہوتے تو آپ کا استقبال ایک اینگلو پاکستانی لڑکی کیا کرتی تھی جسے سبھی مس براﺅنی کہتے تھے۔ ظہور اسے پٹانے کے چکر میں وہاں دیر تک چپکا رہتا تھا۔ چنانچہ اسی مناسبت سے اس کا نام پڑ گیا۔ (خالد حسن کی کتاب”مقابل ہے آئےنہ“ سے اقتباس)
  7. خالد حسن http://s17.postimage.org/xood8v4sf/75_18571692.jpg سیالکوٹ کے لوگوں کی سب سے بڑی پہچان ان کی حس مزاح ہے۔ وہ لوگوں کے نام رکھنے کے معاملے میں بڑی شہرت رکھتے ہیں۔ فی الوقت مجھے چند ایک یاد آرہے ہیں۔ ایک تو فراڈیا ایمپائر محمد شفیع بگلا تھا۔ شفیع بوتل بھی تھا۔ جب وہ ہنستا تھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے سوڈے کی بوتل کھول دی ہو۔ دو مشہور لڑاکے بھی تھے۔ بشیرا گھیسی اور چودھری قدرت اللہ المعروف ”کُجا۔“ میں نے ایک بار انہیں لڑتے دیکھا تھا۔ مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ فلمی لڑائیاں لڑنے والوں کو لازماً ناک آﺅٹ کردیتے۔ وہ پرانے انداز سے لڑتے تھے۔ ایک بالم نامی فقیر بھی تھا جسے ”کوکونٹ“ کہا جاتا تھا۔ کیوں؟ اس بارے میں میں نہیںجانتا۔ ایک اور کردار ”مناوارنٹ“ بھی ہوا کرتا تھا۔ میرے والد صاحب کے ایک دوست میاں بشیر کو شہر میں ”بشیر کوبرا“ کہا جاتا تھا اور میاں اصغر کو ”فٹا فٹ۔“ یہ نام تو اس پر جچتا بھی تھا کیونکہ وہ بولتا اس رفتار سے تھا جیسے کلاشنکوف گولیاں نکال رہی ہو۔ ہمارا دوست فلم ڈائریکٹر خواجہ سرفراز، سرفراز کالے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ باوجود اس کے کہ وہ اس کے درمیانے قد اور گھٹے ہوئے جسم کے باعث پڑا تھا۔ مجھے پیارا ظہور بھی یاد آرہا ہے جسے جھورا براﺅنی کہا جاتا تھا۔ اسے یہ خطاب یوںملا تھا کہ کیفے براﺅنی کے نام سے ایک ”چائے گھر“ کھلا تھا جو ڈرماں والا چوک کے قریب تھا۔ جیسے ہی آپ داخل ہوتے تو آپ کا استقبال ایک اینگلو پاکستانی لڑکی کیا کرتی تھی جسے سبھی مس براﺅنی کہتے تھے۔ ظہور اسے پٹانے کے چکر میں وہاں دیر تک چپکا رہتا تھا۔ چنانچہ اسی مناسبت سے اس کا نام پڑ گیا۔ (خالد حسن کی کتاب”مقابل ہے آئےنہ“ سے اقتباس)
  8. Thanks For useful info... I didnt Creat page against them. but i do recieve these kind of messages on my pages.
  9. کلاس روم میں سناٹاطاری تھا، طلباء کی نظریں کبھی استاد کی طرف اٹھتی تو کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں تھا ، سوال ہی ایسا تھا ۔ استاد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بغیر کوئی بات کیے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی اور کہا تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے، ساری کلاس سوچ میں پڑ گئی کیونکہ استاد نے ایک ناممکن بات کہہ دی تھی ، کلاس کے سب سے ذہین...طالب علم نے کھڑے ہوکر کہا کہ یہ ناممکن ہے ، لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا جو چھوئے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا اور آپ نے چھونے سے منع کر دیا ہے ، باقی طلباء نے بھی سر ہلا کر اس کی تائید کی ، استاد نے گہری نظروں سے طلباء کی طرف دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر اس لکیر کے متوازی لیکن اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی، جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ اب پہلے والی لکیر چھوٹی نظر آ رہی ہے ، استاد نے اس لکیر کو چھوئے بغیر ، اسے ہاتھ لگائے بغیر اسے چھوٹا کر دیا ، طلباء نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھا تھا ، دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، دوسروں پر تنقید کیے بغیر ، ان کو بدنام کیے بغیر ، ان سے حسد کیے بغیر ان سے آگے بڑھ جانے کا ہنر انہوں نے چند منٹ میں سیکھ لیا تھا کہ اپنے آپ کو اخلاق میں ، کردار میں اور عمل سے دوسرے سے آگے بڑھا لو تم خودبخود دوسروں سے بڑے نظر آنے لگ جاؤ گے
  10. Ok brother , i will take care of this next time. thanx. btanay k liye..
  11. Thanx To all... Abe new hon.. **** jald he Ap sab sy acha tarif ho jaye gaaa... merey exams b hen DEc 2012 men ACCA k ... Dua kijiye ga sab... aur men ******achi sharing karta rahon ga forum men...
  12. ممبئی: بالی ووڈ سپراسٹار شاہ رخ خان اور کترینہ کیف کی فلم “جب تک ہے جان” کا گانا غیر قانونی طور پر ریلیز کردیا گیا۔ شاہ رخ اورکترینہ کیف کی اس فلم کے گانے کے بول غیرقانونی طور پر سوشل میڈیا پرریلیز کئے گئے جس کے بعد فلم کے ہدایت کار یش چوپڑا قانونی کارروائی کے بارے میں سوچ رہے ہیں، شاہ رخ خان اور کترینہ کیف نے بھی اس چوری پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ فلم “جب تک ہے جان” 13 نومبر کو بھارتی سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔
  13. لندن: القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اپنا پہلا ٹی وی انٹرویو بی بی سی کو دینا چاہتے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر نے بتایا کہ یہ 1996 کی بات ہے، لندن کے ایک ہوٹل میں میری ملاقات خالد فواض سے ہوئی جس نے خود کو القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا ترجمان بتایا۔ خالد نے مجھ سے کہا کہ اسامہ افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں اور وہ اپنا پہلا ٹی وی انٹرویو بی بی سی کو دینا چاہتے ہیں۔ بی بی سی عربی سروس کے میرے ساتھی نک فیلہم پہلے سے ہی خالد سے رابطے میں تھے اور انھوں نے ہی ہماری ملاقات کا انتظام کیا تھا۔ خالد نے اپنے منصوبے سے ہمیں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ نہیں چاہتے کہ ہم ان سے ملنے کے لیے پاکستان کے راستے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایس آئی آپ کا پیچھا کرنے لگے گی۔ خالد نے کہا کہ آپ دہلی جائیں اور وہاں سے براہ راست جلال آباد کی پرواز لیں۔ منصوبہ بندی یہ تھی کہ جلال آباد ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد بی بی سی کی ٹیم کو ننگرہار صوبے کے پہاڑی علاقے میں لے جایا جائے گا جہاں اسامہ بی بی سی کو اپنا پہلا ٹی وی انٹرویو دیں گے۔ ادھر ہمارے افغانستان جانے کے لیے ویزا اور دوسری ضروری تیاریاں ہو ہی رہی تھیں کہ ہمارے روانہ ہونے کے صرف دو دن پہلے حالات تیزی سے تبدل ہو گئے، ایسے میں اسامہ نے لندن میں بیٹھے خالد کے پاس پیغام بھجوایا کہ بی بی سی سے کہیں حالات معمول پر آنے تک انتظار کریں۔ خالد فواض ان پانچ مشتبہ شدت پسندوں میں سے ایک ہیں جنہیں برطانیہ نے چند دن قبل امریکا کے حوالے کیا ہے۔
  14. (Im khurram From Lahore.. Doing. ACCA (Professional Module Nice Forum./..
×