Jump to content
URDU FUN CLUB

xhekhoo

Writers
  • Content Count

    193
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    29

xhekhoo last won the day on December 17

xhekhoo had the most liked content!

Community Reputation

254

6 Followers

About xhekhoo

  • Rank
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. update.. ..کھالے کے قریب پہنچ کر میں نے سویرا کا ہاتھ پکڑا اور اسے درختوں کی طرف لے کر چل دیا سویرا کا ہاتھ پکڑتے ھی میرے جسم میں سیکس کا طوفان سر اٹھانے لگا سویرا کا ہاتھ تھا کہ بغیر ہڈی کے گوشت اتنا سوفٹ اتنا سوفٹ کہ اففففففف کیا بتاوں یارا،،، ۔ سویرا سہمی ہوئی تھی اور اسکی حالت بتا رھی تھی کے وہ فل ڈری ہوئی ھے ۔اسکا بازو کانپ رھا تھا درختوں کی اوٹ میں جاکر میں نے اسے پھر کہا کہ دیکھو سویرا تمہیں یہاں ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ اپنی زمینیں ہیں یہاں میری اجازت کے بغیر کوئی نہیں آسکتا اس لیے اپنے آپ کو ریلیکس کرو یہ نہ ھو کہ میرا موڈ خراب ہوجاے ۔۔۔ سویرا خود کو سنبھالتے ھوے بولی ججی ٹھیک ھے آپ فکر نہ کریں میری طرف سے آپکو شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔۔میں نے ہمممم کیا اور گڈ گرل کہہ کر اسے نیچے چادر بچھانے کا کہا اور خود کان لگا کر چاروں اطراف کی سن گھن لینے لگا کہ کہیں کسی طرف سے مکئی کے پتوں کی سرسراہٹ تو نہیں ھورھی جس سے کسی کے آنے کا سگنل مل جاے مگر ہر طرف امن امان کا ھی سگنل ملا ۔ میں نے تسلی کر کے جب سویرا کی طرف دیکھا تو وہ نیچے چادر بچھا کر کھڑی میری طرف بڑے غور سے دیکھ رھی تھی ۔۔ مجھے اپنی طرف دیکھتے ہوے سویرا نے نظریں جھکا لیں ۔۔ میں نے کہا کیا دیکھ رھی ھو ۔ سویرا بولی میں نے آپ کو کہیں دیکھا ھے مگر مجھے یاد نہیں آرھا ۔۔ میں نے چونک کر اسکو مزید غور سے دیکھا مگر مجھے تو یہ کہیں سے جانی پہچانی نہیں لگ رھی تھی ۔ میں نے کہا ہوسکتا ھے کہیں آتے جاتے دیکھا ھو ۔ سویرا بولی نہیں میں نے آپ کو بڑے قریب سے پہلے کہیں دیکھا ھے ۔ میں نے کہا اچھا بیٹھو جب یاد آجاے تو بتا دینا ابھی ان فضول باتوں کے لیے میرے پاس وقت نہی ھے ۔ سویرا مجھے دیکھتی ھوئی نیچے بیٹھ گئی سویرا سفید سوٹ میں لمبے سیاہ بالوں میں گوری رنگت کے ساتھ واقعی سویرا لگ رھی تھی ۔۔۔ چہرے پر مصومیت دیکھ کر لگتا ھی نہیں تھا کہ یہ چداکڑ ھے اور اس کے بقول دو دفعہ چدوا بھی چکی ھے ۔۔ سویرا کے نیچے بیٹھتے ھی میں بھی اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا ۔ اتنے کانفیڈینس کے باوجود مجھے اسکے جسم کو چھونے میں جھجھک محسوس ہورہی تھی ۔ میں کچھ دیر اسکا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا رھا اور ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر سہلاتا رھا ۔ اور پھر ہمت کرکے میں نے اپنا ایک ہاتھ اسکے ممے کی طرف بڑھایا اور سویرا کا چونتیس سائز کا گول مٹول مما پکڑ کر دبا دیا اور پھر اس کو مٹھی میں بھر کر ممے کوکبھی دباتا تو کبھی سہلانے لگ جاتا ۔ سویرا کوئی ریکشن نہیں دے رھی تھی بلکل بت بنے بیٹھی ھوئی تھی ۔ مجھے ایسے لگ رھا تھا کہ جیسے میں کسی سٹیچو کا مما دبا رھا ھوں ۔۔کچھ دیر میں سویرا کے دونوں مموں کو دباتا رھا کافی تنے ھوے ممے تھے اور ایسے سڈول مموں کو سکول یونیفارم کے اوپر سے دبانے کا الگ ھی مزہ ہوتا ھے ۔ سویرا نے بریزیر بھی بہت سوفٹ پہنا ھوا تھا میں جب بھی ممے کو مُٹھی میں بھر کر دباتا تو مما میری مٹھی سے سلپ ھوکر مٹھی سے نکلنے کی کوشش کرتا ۔ میرا لن تو فل تن چکا تھا مگر سویرا کے گرم ھونے کا ابھی تک دور دور تک نشان نہیں تھا ۔ اگر پاٹنر سیکس میں ساتھ نہ دے تو سارے مزے کی ایسی کی تیسی ھوجاتی ھے ۔ اور ایسا ھی میرے ساتھ ھورھا تھا ۔ میں اکیلا ھی بس سویرا کے مموں سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کر رھا تھا جبکہ وہ بس میری طرف دیکھی جارھی تھی اسکی آنکھوں میں عجیب سی کشش تھی جب میں اسکی آنکھوں میں دیکھتا تو مجھے اسکی آنکھوں میں کئی سوال نظر آتے اسکی آنکھیں اسکی مجبوری کی گواہی دے رہیں تھی ۔ میں اسکی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر کچھ تلاش کرنے کی کوشش کرتا تو نجانے کیوں میری آنکھیں زیادہ دیر تک اسکی آنکھوں کا سامنا نہ کرپاتی اور میں جلدی سے نظریں پھیر کر اسکے مموں کی طرف دیکھنے لگ جاتا یا اس کے گلابی ہونٹوں کی طرف ۔ آخر مجھ سے مذید صبر نہ ھوا تو میں نے سویرا کو بانہوں میں بھر کر پیچھے کی طرف لٹا کر اسکے اوپر لیٹ گیا۔ میرا اکڑا ھوا لن سویرا کی ران کی ساتھ لگ گیا اور اسکے ممے میرے سینے کے ساتھ لپٹ گئیے میں نے اپنے ہونٹ سویرا کے ہونٹوں پر رکھ دیے سویرا بےجان سی لیٹی ھوئی تھی ۔ اور اس نے اپنے ہونٹوں کو کوئی حرکت نہ دی میں نے ذبردستی اپنے ہونٹوں کی مدد سے اسکے ہونٹ کھولے اور آنکھیں بند کر کے اس کے نرم ملائم ہونٹوں کا رس پینے لگ گیا ۔ سویرا نے اپنے دونوں بازو ڈھیلے چھوڑ کر گھاس پر رکھے ھوے تھے ۔ اسکا ایک ھاتھ میرے لن کے بلکل قریب تھا میں نے جلدی سے ایک ھاتھ نیچے لیجا کر اپنا نالا کھولا اور شلورا سے لن کو نکالا اور سویرا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھا سویرا نے پہلے تو ویسے ھی میرے لن پر ہاتھ رکھا مگر میں نے اسکے ہاتھ کو پکڑ کر اسکی مٹھی کو بند کرکے لن اسکی گرفت میں کردیا ۔ میں ساتھ ساتھ سویرا کے ہونٹ چوسی جارھا تھا اور ساتھ ساتھ اسکی مٹھی کو اپنے لن پر دبا رھا تھا ۔ میں نے آنکھیں کھول کر سویرا کی آنکھوں کو دیکھا تو اسکی آنکھیں بند تھیں ۔ ادھر جب میرے لن کے گرد سویرا کی ہتھیلی اور انگلیوں کی گرفت پڑی تو سویرا نے اچانک میرے لن کو دبایا اور پھر جھٹکے سے چھوڑ کر ایکدم آنکھیں کھول کر میری آنکھوں میں دیکھنے لگ گئی ۔ میں نے پھر اسکا ھاتھ پکڑ کر لن پر رکھ کر اسکی مٹھی کو بند کردیا ۔ سویرا نے پھر لن کو آہستہ سے دبا کر لن کی موٹائی چیک کی اور پھر ہاتھ سرکاتی ھوئی پہلے ٹوپے کی طرف لائی اور پھر ہاتھ کو سرکاری ھوئی جیسے ھی لن کی جڑ تک گئی تو اسکی کھلی آنکھوں میں ایک چمک سے آئی اور ساتھ ھی خوف کے اثار بھی اور اس نے جھٹکے سے لن کو چھوڑا اور میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ آذاد کروا کر میرے سینے پر دونوں ھاتھ رکھ کر مجھے ذور سے پیچھے دھکا دیا میں اسکے دھکے سے اسکے اوپر سے ہٹ گیا اور سیدھا زمین پر لیٹتا گیا وہ بڑی سپیڈ سے اٹھ کر بیٹھ گئی میں بلکل سیدھا لیٹا ھوا تھا اور میر لن مکئی کے ٹانڈے کی طرح آسمان کی طرف منہ کر کے تنا تن کھڑا تھا ۔ سویرا بیٹھتے ھی میرے لن کو پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی اور پھر اس نے دونوں ھاتھ منہ پر رکھ لیے اور ناقابل یقین انداز سے نفی میں سر ہلاتے ھوے آنکھیں پھاڑے میرے لن کو دیکھی جارہی تھی ۔۔ میں پہلے تو سمجھا کہ یہ بھاگنے لگی ھے مگر جب میں نے دیکھا کہ یہ تو میرے لن کے سائز کے خوف سے تبق کر اٹھی ھے تو میں مذید اپنے چڈے کھول کر اپنی گانڈ کو تھوڑا اوپر کر کے اسکو مکمل سائز چیک کروانے لگ گیا ۔ سویرا کا رنگ سرخ ٹماٹر جیسا لال ھوچکا تھا اور وہ چہرے پر ھاتھ رکھے سر کو نفی میں ہلاے جارھی تھی اور میں اسکی کیفیت سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ میں نے سویرا کا بازو پکڑا اور اسے کھینچ کر واپس اپنے پہلو میں لٹا دیا ۔سویرا گم صم سی میرے ساتھ پھر لیٹ گئی ۔ میں نے اسکے ھاتھ اسکے چہرے پر سے ہٹاے تو اسکے چہرے پر گبھراہٹ دیکھ کر میں اسکے اوپر جھکا اور اسکے بالوں کو سہلاتے ھوے بولا ۔ کیا ھوا اتنا گبھرا کیوں گئی ھو۔۔ سویرا نے صرف نفی میں سرہلانے پر ھی اکتفاء کیا۔میں نے پھر پوچھا کیا ھوا بولو تو سہی ۔ سویرا بولی وووہہ تمہارا اتنا بڑا ھے ۔ مجھ سے نہیں لیا جانا۔۔ میں نے کہا تمہارے یار کا اتنا بڑا نہیں تھا کیا ۔۔ سویرا نفی میں سر ہلا کر بولی نہین۔ میں نے کہا اسکا کتنا ھے ۔ وہ بولی اس سے آدھا۔ میں نے کہا ۔ میرا لن لوگی تو تم کو سیکس کا اصل مزہ آے گا ۔ سویرا بولی مجھ سے برداشت نہی ھونا میں تو سوچ بھی نہیں سکتی کہ اتنا بڑا بھی ہوتا ھے ۔ میں نے کہا اب تو دیکھ بھی لیا ھے اب تو یقین کرلو ۔ اور یہ کہتے ھوے میں نے دوبارا اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھر لیا اور ایک ہاتھ نیچے لیجا کر سویرا کی قمیض کو اسکے پیٹ سے اوپر کرکے اسکے نرم ملائم پیٹ پر ہاتھ پھرنے لگ گیا ۔ سویرا پتہ نہیں کیوں گرم نہیں ہورھی تھی بلکل بےجان گڑیا کی طرح لیٹی ھوئی مجھے ہر کام کی اجازت دے رھی تھی نہ روک رھی تھی نہ میرا ساتھ دے رھی تھی ۔ میں ہاتھ کو سرکاتا ھوا قمیض کے اندر سے ھی اسکے مموں پر لے آیا اور بریزیر کے نیچے سے ہاتھ سیدھا کر کے اسکے ننگے ممے کو مٹھی میں بھرا تو پہلی دفعہ سویرا کے منہ سے سیییییییی نکلا اور اس نے میرے ھاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔ سویرا کے ممے کی سوفٹنس میں الفاظوں میں بیان نہیں کرسکتا اففففففففف کیا روئی جیسے نرم اور ریشم جیسے ملائم ممے تھے ۔ مگر جب میری انگلی میں اسکے ممے کا نپل آیا تو نپل فل ہارڈ ھوچکا تھا اور نہل کو جب بھی مسلتا سویرا کے منہ سے سسکاری ضرور نکلتی مجھے اسکا چور سوئچ مل چکا تھا ۔ سویرا کی جان اسکے ممے کے نپل میں تھی ۔ کچھ دیر میں ھی سویرا نے میرے نچلے ہونٹ کو پہلی دفعہ کھینچ کر چوسنا شروع کیا تو مجھے اپنی محنت کا پھل ملتا محسوس ھونے لگ گیا ۔ اور میں بار بار اسکے دونوں نپلوں کو ھی کبھی مسلتا تو کبھی سہلاتا سویرا آہستہ آہستہ جوبن میں آتی جارھی تھی ۔ میں چاہتا تو آتے ھی اسکی شلوار نیچے کر کے لن گھسیڑ دیتا مگر ایسا سیکس کیا تو پھر کیا کیا ۔ سیکس کا اصل مزہ ھی تب آتا ھے جب دونوں پاٹنر برابر میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور دونوں کے اندر برابر کی آگ لگی ھو ۔ تب ھی چدائی کا حق ادا ھوتا ھے ۔۔ بے شک سویرا کو میں نے بلیک میل کیا تھا اور وہ مجبوری میں سب کچھ کروا رھی تھی مگر اسکے باجود بھی میں اس سے ایک لور پاٹنر کی امید رکھ رھا تھا سویر نے میرے نچلے ہونٹ کو قابو کر لیا تھا اور اسے چوسنے لگ گئی اور اسکے ساتھ ھی اسکا ھاتھ اٹھا اور میری گردن کو سہلاتے ھوے میرے سر کو مذید نیچے کی طرف دبا کر میرا نچلا ہونٹ چوستی ۔ سویرا کے ایکشن میں آنے کی دیر تھی کہ میرا بھی پارا چڑھ گیا اور میں نے بھی والہانہ انداز میں اسکے ممے کو دبانا اور اسکے اوپری ہونٹ کو چوسنا شروع کردیا ۔۔۔ مجھے سویرا کی سیکس کی بھوک کا اندازہ اسکی والہانہ کسنگ اور کمر اٹھا اٹھا کر میرے ساتھ چپکنے سے ہورھا تھا اور ساتھ میں جس انداز سے وہ میری گردن کو سہلاتے ھوے میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رھی تھی ۔ اس سے میرے اندر انتہاء کا جوش بڑھ رھا تھا ۔ اور میرا لن فل ٹائٹ ہو کر پھٹنے والا ھوچکا تھا میرا دل کررھا تھا کہ ابھی سویرا کی شلوار اتار کر ایک ھی جھٹکے میں سارا لن اسکی پھدی میں اتار دوں ۔۔ مگر میں سویرا کو پورا تیار کرنا چاہتا تھا کہ وہ اپنی رضامندی سے مجھے پھدی میں لن ڈالنے دے ۔۔ اس لیے میں لگاتار مسلسل اسکے مموں پر اور نپلوں پر انگلیوں سے منتر پڑھ کر اسکے اندر سیکس کی بھوک کو بڑھا رھا تھا اور اس میں قدرے کامیاب بھی ہورھا تھا ۔۔ کچھ دیر ہم دونوں کے ہونٹوں کا دنگل جارہی رھا ۔ اور بلاخره میں نے سویرا کے ہونٹوں کو چھوڑا اور اس کے اوپر آگیا اور اسکی ٹانگوں کو کھول کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔ سویرا میرے سامنے ٹانگیں کھولے لیٹی ھوئی تھی اور اسکی قمیض اسکے پیٹ سے اوپر اور مموں سے نیچے تھی ۔۔۔ سویرا کا پیٹ چٹا سفید تھا اور روشنی میں چمک رھا تھا پیٹ بلکل اندر کی طرف تھا اسکی جلد میں شائنگ تھی ایسے جیسی ویکس کی ھو بال کی ایک لوں تک نہ دکھ رھی تھی ۔۔ میں نے اسکے پیٹ کو دیکھا تو بے اختیار میں اسکے پیٹ پرجھکتا گیا اور ہونٹ اسکے پیٹ پر رکھے اور پیٹ کا بوسا لے کر اسکے حسن کی تعریف کی ۔۔۔۔میرے ہونٹ سویرا کے پیٹ پر لگے تو سویرا کے پیٹ کی جلد وائبریشن ہونے لگ گئی اور سویرا نے گھاس سے کندھے اٹھا کر سر کو پیچھے خم دے کر سسکاری بھرتے ھوے میرے بالوں میں unglian pherni shorro kar den.. .میں نے تین چار چھوٹی چھوٹی پاریاں سویرا کے پارے سے پیٹ پر کیں ۔ اور ساتھ ھی اپنی زبان کو نکال کر ناف میں ڈال دی اور ناف کے دائرے میں چاروں اطراف زبان کی نوک کو پھیرنے لگ گیا سویرا ایکدم مچل اٹھی اور میرے سر کے بالوں کو مٹھی میں بھر لیا اور لمبی لمبی سسکاریاں لیتی ھوئی سر دائیں بائیں مارنے لگ گئی ۔۔ اور ساتھ ھی سیکسی آوازوں میں پلیزززز نہ کرو پلیزززز نہ کرو مجھ سے برداشت نہیں ہورھا پلیزززززز ۔۔۔ سویرا کی نہیں نہیں سے میرا شوق بڑھتا گیا اور میں زبان کا جادو پیٹ پر چلانے کی تگ ودو میں لگ گیا ۔۔ میں کبھی زبان کی نوک کو ناف کے چھوٹے سے سوراخ کے اندر ڈالتا تو کبھی سوراخ کے کناروں پر نوک کو گھماتا ۔ اور پھر سلو موشن میں زبان کو سرکاتا ھوا ناف کے نیچے الاسٹک تک لے جاتا ۔ سویرا کی حالت ایسی تھی کہ جیسی ابھی ہلک سے جان نکل جاے ۔۔۔ کچھ دیر ایسے ھی اس کے پیٹ پر زبان اور ہونٹوں کا کھیل جاری رھا ۔ کچھ دیر بعد میں زبان کو سرکاتا ھوا اسکے مموں کی طرف لے گیا اور مموں پر قمیض ہونے کی وجہ سے بریزیر کی لاسٹک تک ھی زبان لیجا سکا ۔۔ اور پھر ادھر والے حصے کو چوم کر سر اٹھا کر میں پھر سی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔ تو سویرا نے شکر ادا کیا اور لمبا سانس بھر کر میری طرف بڑی نشیلی نگاہوں سے دیکھنے لگ گئی میں نے اسکے دونوں ھاتھوں کو پکڑا اور ھاتھوں کو اوپر کی جانب کیا اور اپنے سر کو نیچے جھکا کر اسکے ریشم سے ملائم اور روئی سے نرم ہاتھوں کو چوم کر ھاتھوں کو ہلکے سے اپنی طرف کھینچ کر سویرا کو اٹھ کر بیٹھنے کا کہا۔۔ سویرا کسی جادوگر کے سحر میں جکڑی میرے اشارے پر چلتی ھوئی بے جان مورت کی طرح اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔میں نے اس کے ھاتھوں کو اسکے سر کے اوپر لیجا کر بازوں کو اوپری جانب کر کے اسکے ہاتھوں کو چھوڑ دیا سویرا کسی مجسمے کی طرح وہیں اپنے بازوں کو کھڑا کر کے میری طرف عجیب سی نظروں سےدیکھی جارھی تھی ۔۔ دوستو سہی بتاوں تو مجھے اسکے یوں اپنی طرف دیکھنے سے خوف محسوس ھونے لگ جاتا تھا کہ پتہ نہی اس پر جنات کا اثر تو نہیں ۔۔ خیر میں نے اسکی قمیض کو دونوں اطراف سے پکڑ کر اوپر کیا اور اسکے مموں کو ننگا کرتے ھوے اسکے سر سے قمیض نکالی اور بازوں میں لیجاکر چھوڑ دی ۔۔ بازوں سے قیمیض اس لیے نہیں نکالی تھی کہ باقی کا کام سویرا خود کر لے گی یعنی بازوں سے قمیض خود نکال لے گی ۔۔۔کیونکہ قمیض اتارتے ھوے بھی اس نے مجھے روکا نہیں تھا اور نہ ھی کوئی احتجاج کیا تھا ۔ بلکہ بلکل ایک سٹیچو کی طرح ہاتھ سر سے اوپر کر کے بازو بلکل سیدھے اوپر کی طرف کیے بیٹھی تھی ۔۔ جب میں نے اسکی قمیض اسکے جسم اور سر سے نکال کر اسکے بازوں میں چھوڑی تو اس نے ایکدم بازو نیچے کو گراے اور میری طرف یوں بازو کردیے کہ جیسے کہنا چاہ رھی ھو کہ یہ بھی خود ھی اتار دو ۔ اور اسکی نظریں ویسے ھی مجھکو دیکھ رہیں تھی ۔ پتھر سی آنکھیں جیسے اسکی آنکھیں جھپکتی ھی نہ ھوں ۔ مجھے یہ لڑکی حسن کی مورت لگ رھی تھی ۔۔ یا پھر نفسیاتی مریض ۔۔۔ میں نے اسکی بازوں سے قمیض نکال کر ایک طرف چادر پر رکھ دی میری جیسے ھی نظر اسکی ننگے جسم اور ہلکے بلیو کلر کے بریزیر میں چھپے مموں پر پڑی ۔۔ دوستو قسم سے اس حسن مجسمہ کو دیکھتے ھی مجھ پر سکتہ طاری ھوگیا ۔ میں پلکوں کو جھپکانا بھول گیا سانس اندر باہر کھینچنا بھول گیا اسکو دوبارا پیچھے کی جانب لیٹانا بھول گیا ۔۔ میرے ھاتھ اسکی رانوں پر تھے تو وہیں رک گئے میری کھلی آنکھیں پتھر ہوگئی میرا سانس جہاں تھا وہیں رک گیا ۔۔۔ اففففففففففففففف کیا اس ظالم کے حسن کی تعریف لکھوں کاش اسکے جسم کی بناوٹ اور اسکی خوبصورت گلابی رنگت کو الفاظوں میں ڈھال کر آپ دوستوں کے سامنے پیش کرسکتا۔۔۔ سویرا بت بنی میرے چہرے کو دیکھی جارہی تھی اور میں بت بنا سویرا کے چٹے سفید گلابی رنگت کے چمکتے جسم کو دیکھ رھا تھا ۔ کچھ دیر اسی حالت میں بےجان دو جسم ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے رھے۔ پھر یوں ہوا کہ مجھے ہوش آیا اور میرے ھاتھوں نے اٹھنے کی جرات کی اور اس حسن کی دیوی کے گول مٹول تنے ھوے چٹے سفید مموں کو بریزیر کے اوپر سے پکڑ لیا اور ایک دفا دباتے ھی اسے پیچھے کی طرف دھکیل دیا اور وہ مورت میری طرف دیکھتی ھوئی پیچھے کی جانب گرتی گئی اور گھاس کے اوپر بچھی چادر کے اوپر لیٹ گئی اور میں اسکو پیچھے لیٹاتا ھوا اسکے ننگے جسم کے اوپر جھکتا گیا اور اس کے مموں کے درمیاں لکیر کے اوپر اپنے ہونٹ اس انداز سے رکھ دیے کہ میرے ہونٹوں کا ایک طرف کا حصہ اسکے ایک طرف کے روئی سے نرم ممے پر تھا اور ہونٹوں کی دوسری سائڈ اسکے دوسرے ممے کو چھو رھی تھی ۔ اور میرے ہونٹ اس مخمل میں دھنستے گئے افففففففففف یارا کیا سوفٹنس تھی کیا ملائمت تھی کیا کشش تھی ۔ میں تو اس کو اپنے سحر میں جکڑنا چاہتا تھا مگر سالی کے جسم کا نظارا کرتے ھی میرا سارا حساب کتاب ھی بگڑگیا۔۔ لاکھ پلاننگ سوچی تھی اسکو ننگا کر کے چودنے کی ۔ سالی نے صرف مموں کے جلوے سے ھی میرا سارا حساب کتاب بگاڑ دیا۔ میں تو دور سے اسکے ممے اور گورا جسم دیکھ کر سکتے میں آگیا اب تو پھر بھی یہ گورا جسم حسن کی مورت میری آنکھوں کے سامنے اور میری دسترس میں تھا ۔۔ تو پھر میری تو ایسی کی تیسی ھونی ھی تھی ۔۔ خیر میرا کچھ خمار کم ھوا تو میں نے سویرا کے مموں سے پردہ اٹھا کر اوپر کر کے مموں کو جلوہ گر کیا اور اسکے روئی سے نرم مموں پر بے صبروں کی طرح ٹوٹ پڑا ۔ اور سویرا کے منہ سے سسکاریوں کا طوفان نکل پڑا ۔ نہ مجھے کوئی روکنے والا تھا اور نہ سویرا کی سسکاریاں رکنے والی تھیں ۔ مین مموں کے چھوٹے سے اکڑے ھوے نپل کو کبھی دانتوں میں بھینچتا تو کبھی انہوں ہونٹوں میں لے کر چوستا سویرا سر اٹھا اٹھا کر مجھے اپنے ممے چوستی دیکھتی اور ساتھ میں سسکاریاں بھرتی ھوئی میرے سر پر ھاتھ رکھ کر مموں پر دباتی اور کبھی سر پیچھے لیجا کر کندھوں کو اٹھا کر مموں کو مزید اونچا کرتی ۔۔۔ کچھ دیر یہ کھیل چلتا رھا ۔ اور جب سویرا کے ممے سرخ ھوگئے اور میرے لباب سے تر ھوگئے اور سویرا کی سانسیں اکھڑنے کے بعد تھم گئی اسکا جسم اکڑنے کے بعد بےجان ھوگیا اور مجھے اسکی پھدی گیلی ہونی کا یقین ھوچلا تو تو میں اس کے مموں کو چھوڑ کر پھر سے اسکی ٹانگوں میں دوزانوں ہوکر بیٹھ گیا اور اپنی شلوار کو اپنی ٹانگوں سے نکال کر ایک طرف رکھا اور پھر سویرا کی شلوار. کو لاسٹک والی جگہ سے پکڑ کر اسکی سڈول اور گوری چٹی بالوں سے پاک گانڈ سے نکال کر اسکی ٹانگوں سے کھینچتا ھوا اسکے پیروں پر لے آیا اور پھر شلوار کو اسکے پیروں سے باری باری نکال دیا اور پھر اپنی قمیض اتار کر ایک طرف رکھ دی اب دو جسم مادر ذاد ننگے تھے اور سویرا کے جسم پر صرف بریزیر تھا جو اسکے مموں سے اوپر کی جانب اکھٹا ھو کر مموں کو ننگا کیے ھوے تھا۔۔ میں نے سویرا کی پھدی کا غور سے معائنہ کیا تو دیکھ کر حیران رھ گیا کہ بلکل کنواری پھدی کی طرح تھی پھدی کی ہونٹ اندر کی جانب ایک دوسرے سے چپکے ھوے تھے اور نہ ھی پھدی کی جھلی لٹک رھی تھی ۔ جس طرح سویرا کے چہرے پر معصومیت جھلک رھی تھی بلکل اسی طرح سویرا کی پھدی پر بھی معصومت جھلک رھی تھی ۔۔۔ پھدی کے باریک سے ہونٹوں پر بس شبنم کے قطرے چمک رھے تھے ۔۔ میں نے سویرا کی پھدی پر انگلی پھیری تو سویرا ایک دم کانپی اور اپنی ٹانگوں کو آپس میں ملا کر میرے ہاتھ کو ٹانگوں کے بیچ جکڑ کر سر اٹھا کر سسکاری ماری ۔۔۔ میں نے اسکی روئی سی نرم رانوں میں پھنسے ھاتھ سے ھی انگلی کو حرکت دیتے ھوے پھدی سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی کچھ دیر تو سویرا سر دائیں مارتے ھوے سییییہہہی افففففف کرتی ھوئی مجھے فنگرنگ کرنے سے منع کرتی رھی مگر میں تو اسکی گرم پھدی کی گرمائش سے اپنی انگلی کو ٹکور دے رھا تھا اور پھدی کا درجہ حرارت معلوم کرنے کی کوشش کررھا تھا ۔۔۔ کچھ دیر میں ایسے ھی انگلی کی مدد سے سویرا کی پھدی کو چھیڑتا رھا تو کبھی پھدی کے چھوٹے سے پھولے ھوے دانے کو مسلتا رھا کہ سویرا کو ایک دم جوش چڑھا اور اس نے گانڈ اٹھا کر میرے انگلی کو پھدی کے اندر لیا اور پھر زور سے رانوں کو آپس میں بھینچ کر گانڈ کو اوپر نیچے کرتے ھوے سییییییی یس یس یس یس کرتی ھوئی ایک دم اکڑ کر ڈھیلی ھوئی اور پھدی سے گرم لاوہ بہتا ھوا نکلنے لگا اور پھدی کے اندر میری میری انگلی پر منی کی گرم دھاریں پڑتی رہیں ۔۔۔ سویرا فارغ ھوتے ھی ٹانگوں کو کھول کر پھر بےجان مورت بن کر میری طرف دیکھنے لگ گئی۔۔ سالی کو پھر پتہ نہیں کیا ھوا کہ اسکی آنکھیں پتھرا سی گئیں اور مجھے یوں دیکھنے لگ گی جیسے مجھے پہچاننے کی کوشش کررھی ھو یا مجھ پر قربان جارھی ھو یا پھر اپنی مجبوری ظاہر کر رھی ھو ۔ کئی سے سوال اسکی انکھیں کررھیں تھی جنکو سمجھنے کی کوشش میں کرتا تو پاگل ھوجاتا ۔ میں نے کچھ پل اسکی آنکھوں کو دیکھا اور پھر سے اسکی پھدی کی طرف متوجہ ھوکر لن کو پکڑ کر پھدی کے لبوں کے درمیان ٹوپے کو پھنسانے لگا اور ٹوپے کو پھدی کے درمیان ٹوپے کو اڈجسٹ کر کے سویرا کے اوپر جھکا ۔ اور ایک جھٹکا مارا تو اسکی پتھرائی آنکھیں بھیگ گئیں اور اسکے منہ سے اتنا ھی نکلا امییییییییییی جییییییییییی ۔ پھدی کو چیرتا ھوا لن آدھا اندر گھس چکا تھا اور سویرا کے ہاتھوں نے میرے بازوں کو جکڑ لیا تھا ۔ اور اس نے پیچھے کھسکنے کی کوشش کی تھی مگر میرے ھاتھ اسکے کندھوں کو اپنے شکنجے میں لیے ھوے تھے ۔ میرا لن ایسے تھا جیسے کسی آگ کی بھٹی میں گھس گیا ھو اور پھدی کی جکڑ ایسی تھی جیسے کسی نرم چیز نے پوری طاقت سے میرے لن کو اپنے احصار میں لے کر جکڑا ھو ۔۔۔ سویرا نے نہ اوہہہہہہہ کی نہ ھاےےےےےےےے کی بس امی کو یاد کر کے پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رونے لگ گئی ۔۔۔ میں نے اسکے سنبھلنے سے پہلے ھی دوسرا گھسا مار کر اسکی ننھی سی پھدی کی گہرائی کو لن سے ناپ لیا ۔۔ اور میرے ٹٹے اس کی گانڈ سے جا لگے اففففففف کیا ھی پھدی کی گرمائش تھی مجھے لگ رھا تھا کہ بس دوسرے گھسے میں ھی میں فارغ ھوجاوں گا۔۔۔ دوسرا گھسا جب مارا تو لن پھدی کی گہرائی میں چلا گیا اور سویرا نے پھر امی کو بڑی شدت سے یاد کیا ۔ اور اسکی آنکھیں باہر کو ابھلنے والی ھوگئیں سویرا سر کو دائیں بائیں مارتے ھوے میری رانوں پر ہاتھ رکھ کر مجھے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتے ھوے امییییییی جی مرگئیییییی پلیزززززز مجھے چھوڑ دو اسے باہر نکال لو میں مرجاوں گی ۔۔۔۔ .مجھ سے برداشت نہیں ھورھا. خاموش گڑیا جو شروع سے ایک مجسمہ ایک بت ایک مورت ایک سٹیچو بنا ھوا تھا میرے لن نے اندر جاتے ھی اس بے جان مجسمے میں جان ڈال دی اسکی زبان چلی تو رکنے کا نام نہ لی ۔ جس مورت کو دی زباں ہم نے وہ بولے تو ہم پر ھی برس پڑے۔۔۔۔ سویرا مجھے دھکے دینے کی کوشش کررھی تھی مجھ کو برا بھلا کہنے پر اتر آئی ۔ مگر میں نے لن اندر سے باہر نہ نکلنے دیا کچھ دیر تڑپنے کے بعد سویرا ڈھل گیا ہر طرف خاموشی چھاگئی ۔۔ اور مین نے سویرا کے خاموشی کو اسکی برداشت کا نام دے کر آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کرنا شروع کردیا ۔۔ سویرا پھر سے میرے ہر گھسے پر امی کو یاد کرتی ۔ ماں بیٹی میں کافی پیار لگ رھا تھا جو اسے اس موقع پر امی کی یاد شدت سے آرھی تھی ۔۔ میں نے آہستہ آہستہ گھسوں کی رفتار تیز کردی اب میرے گھسے سے اس کے ممے ہلنا شروع ھوچکے تھے دودھ کے پیالے چھلکنے لگ گئے تھے اسکے پیٹ کی جلد پر بھی وائبریشن ہورھی تھی ۔ اسکے آنسوں اب بھی بہہ رھے تھے ۔ پانچ منٹ بعد سویرا کو امی بھی بھول گئی اور آنسو بھی تھم گئے مموں نے ہلتے ھوے اوپر کو اٹھنا شروع کردیا سویرا کے ھاتھ جو مجھے پیچھے کی طرف دھکیل رھے تھے اب میری رانوں کے آگے سے ہٹ کر میری رانوں کے پیچھے چلے گئے اور اسکی آہیں اب سسکاریوں میں بدل گئی ۔ میرے گھسوں کی بھی رفتار بھی ساتھی کے ساتھ ملنے کی وجہ سے بڑھ گئی سویرا نے ٹانگوں کو خود ھی مذید اوپر کیا اور میری کمر کے گرد ٹانگوں کا شکنجا ڈال کر گاند کو اوپر اٹھاتے ھوے یس یس یس یس ایم کمنگ فاسٹ فاسٹ فک می فک می کرتے ھوے ایکدم مجھ سے کسی چمگادڑ کی طرح چمٹ گئی اور پھدی سے منی کا مینہ برسنا شروع ہوگیا ۔۔۔ کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد سویرا بےدم ھوکر لیٹ گئی میں تھوڑا وقفہ دیا اور پھر سے چپو چلانا شروع کردیا تقریباً پانچ سات منٹ بعد ھی مجھے لگا کہ میں چھوٹنے والا ھوگیا ھوں تو میں نے آخری جاندار گھسا مارتے ھوے سویرا کو پھر امی کی یاد دلائی جس کا ثبوت اس نے ھاےےےے امییییی کر کے دیا اور میں نے لن کو جھٹکے سے باہر نکالا اور اسکی روئی سے نرم ران کے اوپر لن کو رکھ کر سویرا کے اوپر لیٹ گیا اور اسے اپنی باہوں میں جکڑ کر اسکے ہونٹوں کا رس پیتے ھوے لن سے منی کے فوارے چھوڑتا ھو چھوٹنے کا مزہ لیتا رھا ۔۔۔
  2. update..... .اففففف لڑکی تھی کہ آسمان سے اتری حور. چٹی سفید تیکھے نین نقش باریک سے ہونٹ تیکھی ناک لمبی پلکوں کے نیچے بڑی بڑی آنکھیں جو خوف سے مزید بڑی ہوگئیں تھی ۔میں تو لڑکی کو دیکھ کر ھی اپنے اگلے ڈائلگ بھول گیا ۔ لڑکی کی قمیض اسکے مموں سے اوپر کی ہوئی تھی اور اسکے چونتیس سائز کے گلابی رنگت کے ممے اور انپر ہلکے براون رنگ کے چھوٹے سے تنے ھوے نپل تھے ۔ لعنت اس بھگوڑے پر جو اس پھلجھڑی کو کھیت میں چودنے کے لیے لایا تھا۔۔ ایسی نایاب چیز کو تو کھیت کی بجاے پھولوں کے بستر پر ہونا چاہیے تھا۔۔ اور اوپر ظلم کہ ایسی کمال بچی کے اتنے سیکسی ننگے جسم کو دیکھ کر اور چھو کر بھی اس گانڈو کا لن کھڑا نہیں ھورھا تھا ایسا کمال فگر لباس میں دیکھ کر بندہ چھوٹنے والا ھوجاے اور یہ سالا بدنصیب اس کو بےلباس کر کہ بھی ابھی تک لن ھاتھ میں پکڑ کر کھڑا کرنے کی کوشش میں لگا ھوا تھا جا اوے پھدی دیا۔۔۔ لڑکی کے حسن کہ سحر میں جکڑا میں سکتے کے عالم میں لڑکی کے جسم کو دیکھی جارھا تھا کہ لڑکا ایک دم جمپ مار کر لڑکی کی ٹانگوں کو چھوڑ کر کھڑا ہوگیا جبکہ لڑکی نے ہوش میں آتے ھی سب سے پہلے اپنے مموں پر قمیض کر کے حسین مموں کو میری نظر نہ لگنے کے ڈر سے چھپا لیا۔۔ مجھے بھی ایک دم اپنے ڈائلگ یاد آے اور میں گرج کر بولا اوے پھدی دیا تینوں پھدی مارن واسطے ساڈی فصل ای لبی سی میں تیری بنڈ وچ فائر مارنا ایں ۔ اوےےےےے چھادے تے چھیدو جلدی آ و اےےے اے بچ کے نہ جاوے ۔۔ یہ کہتے ھی میں نے اپنے نیفے میں ایسے ھاتھ ڈالا جیسے ریوالور نکالنے لگا ہوں ۔۔ اس لڑکے کا رنگ زردی مائل ہوگیا اور اس نے جب یہ دیکھا کہ میں کسی اور کو بھی بلا رھا ہوں اور ساتھ میں نیچے سے ہتھیار نکالنے لگا ہوں اور میں اسکی طرف بڑھ رھا ہوں تو وہ گانڈو ننگا ھی ادھر سے بھاگ کھڑا ھوا اس نے لڑکی کو چھوڑ کر مکئی میں ھی دوسری طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔ میں اسکے پیچھے دوڑنے کے انداز میں تین چار قدم آگے بڑھا اور لڑکی کے سر پر جا پہنچا اور ساتھ ھی میں نے للکار ماری اوے چھیدے چھیتی آ بندا پج چلا ایییییی پھڑو اوے اینوں پین یک نوں ۔ لڑکی چند لمحوں میں مکئی کے اندر غائب آگیا سالے کی دوڑنے کی سپیڈ ھی بہت تھی لڑکی اٹھنے کی کوشش کررھی تھی کہ میں نے اسکو بازو سے پکڑ لیا اور دھمکی دیتے ھوے بولا بے جا ایتھے آرام نال جے پجن دی کوشش کیتی تے میری اک آواز تے ایتھے سارا پنڈ اک منٹ وچ اکھٹا ھو جانا اے ۔۔ تے فیر تیرا جو حال ہونا اے تینوں پتہ ای نئی ۔۔ لڑکی مجھے کالج کی لگ رھی تھی کیونکہ اس نے سفید یونیفارم پہنا ھوا تھا ۔ لڑکی سہم کر اسی جگہ پاوں کے بل بیٹھ گئی۔ اور اس حسن کی دیوی نے اپنے نرم نازک ہاتھ میرے آگے جوڑے ۔اور بولی پلیززز مجھے جانے دو پلیزز مجھے معاف کردو ۔۔۔ لڑکی کے ہاتھ بھی کانپ رھے تھے اور اسکی گلاب کی پنکھڑیاں بھی ۔۔۔۔میں نے اسے پھر دھمکاتے ھوے کہا ۔۔ آرام سے بیٹھی رھو میرے آدمی ابھی تمہارے یار کے پیچھے گئے ہیں اسکو پکڑ کر لاتے ہیں تو پھر سوچتا ھوں کیا کرنا ہے تم لوگوں کا ۔۔ لڑکی کانپی جارھی تھی ۔ اور پھر اچانک اس نے میرے پاوں پکڑ لیے اور رونے لگ گئی مجھے معاف کردو مجھ سے غلطی ھوگئی آئندہ نہیں کروں گی ۔ اگر میرے گھر والوں کو پتہ چل گیا تو انہوں نے مجھے جان سے مار دینا ھے تمہیں فلاں کا واسطہ فلاں کا واسطہ ۔ میں نے کہا اگر تجھے اتنا ھی گھر والوں کا ڈر تھا تو پھر اس گانڈو کے ساتھ ادھر منہ کالا کروانے کیوں آئی تھی اور جس گانڈو کے ساتھ تو اپنے گھر والوں کو دھوکا دے کر آئی ہو وہ تو تجھے یہاں ننگی کو چھوڑ کر بھاگ گیا اور سالا اپنی پینٹ بھی ادھر چھوڑ گیا ۔۔ میں نے اس لڑکے کی پینٹ اس کو دیکھاتے ھوے کہا۔۔۔۔ لڑکی بولی ۔۔ مجھ سے غلطی ھوگئی بس ایک دفعہ معاف کردو میں اسکی باتوں میں اگئی تھی مجھ سے غلطی ھوگئی پلیززززز مجھے جانے دو ۔۔ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو میں مرجاوں گی مرجاوں گی ۔۔۔۔۔ یہ کہتے ھوے وہ میرے پیروں میں سر رکھ کر رونے لگ گئی ۔۔ میں دوقدم اس کے سر سے پیچھے ھوا اور بولا یہ ڈرامے بازی میرے ساتھ نہ کرو گھر سے پڑھنے آتی ھو اور پھر یہاں پھدی مروانے آجاتی ھو اور اب تجھے اپنی عزت کا بڑا خیال آرھا ھے ۔۔ بس دومنٹ رک جاو ابھی میرے دوست تیرے یار کو پکڑ کر لاتے ہیں تو پھر تم دونوں کو گاوں لیجا کر تیرے گھر والوں کو بلا کر انکے حوالے کروں گا ۔۔ لڑکی نے جب یہ سنا تو اور اونچی آواز میں رونے لگ گئی ۔۔ اور پھر میری منتیں کرتے ھوے بولی پلیز یہ ظلم مت کرنا میرے گھر والوں نے مجھے مار دینا ھے ۔۔۔تم جو پلیز میرے گھر والوں کو نہ بلوانا۔۔۔ میں نے کہا اوکے پھر میری ایک شرط ھے اگر تم مان لو تو پھر میں وعدہ کرتا ھوں کہ تم کو حفاظت کے ساتھ شہر پہنچا کرآوں گا اور یہ راز ادھر ھی دفن ھوجاے گا۔۔ اگر نہیں تو پھر تمہاری مرضی پھر اپنے گھروالوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ھو جاو۔۔۔ لڑکی میری بات سنتے ھی میرے آگے ھاتھ جوڑتے ھوے بولی ۔ مجھے تمہاری ہر شرط منظور ھے ۔۔ مگر پلیز میرے گھر والوں کو نہ بلوانا ۔ میں نے کہا سوچ لو پھر مکر نہ جانا تو لڑکی ہچکی لیتے ھوے بولی ۔ نہیں مکرتی ******قسم مجھے میری ماں کی قسم نہیں مکرتی تم جو کہو گے میں وہ کرنے کو تیار ھوں ۔ مجھ سے جو مرضی قسم لے لو ۔ میں نے جب دیکھا کہ پھل تو تھوڑی سی محنت سے ھی جھولی میں گر رھا ھے تو میں لڑکی کی شلوار اور برقعہ اور لڑکے کی پینٹ اپنے پیچھے کر کے پاوں کےبل لڑکی کے سامنے بیٹھ گیا اور نرم لہجے میں بولا تمہارا نام کیا ھے لڑکی تھوڑا رک کر بولی سسسسسویرا ۔۔۔۔میں نے تعریفانہ انداز میں، ******کہا اور پھر بولا جو میں پوچھوں گا سچ سچ بتانا اگر میرے ساتھ کوئی ہوشیاری کی تو پھر اسکی ذمہ دار تم خود ھوگی اور میں نے پھر نہ تو تیرا رونا دیکھنا ھے اور نہ ھی تیری کوئی بات سننی ھے ۔۔ لڑکی نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ صاف کرتے ھوے اثبات میں سرہلایا۔۔ میں نے کہا تمہاری عمر کتنی ھے وہ بولی انیس سال میں نے کہا کونسی کلاس میں پڑھتی ھو ۔۔وہ بولی سیکنڈ ایئر میں میں نے ہمممم کیا اور پھر بولا پہلے اس گانڈو سے کتنی بار چدوا چکی ھو سویرا بولی دو دفعہ میں نے کہا کس جگہ تو وہ ایک دفعہ اسکے دوست کے گھر اور ایک دفعہ اسی جگہ ۔۔ میں نے ہممممم کیا ۔ اور پھر بولا ۔ سویرا میری بات دھیان سے سنو اور میں بار بار اپنی بات کو دھرانے کا عادی نہیں ہوں ۔ اگر تمہیں میری شرط منظور ھوئی تو ہاں کردینا ورنہ میں نے تمہاری منتیں نہیں کرنی ۔۔۔ سویرا نے سر اٹھا کر میری طرف سوالیا نظروں سے دیکھا کہ میں کون سی شرط کا کہنے لگا ھوں ۔۔مجھے خاموش دیکھ کر بولی ۔ میں نے کہا نہ کہ میں آپ کی ہر شرط ماننے کو تیار ھوں ۔ بس مجھے میرے کپڑے دے دیں اور ادھر سے جانیں دیں ۔۔۔ میں نے کہا تو پھر سنو۔۔ مجھے ایک دفعہ کرنے دو اور کرنے کے دوران نہ کوئی نخرہ کرنا ھے نہ کوئی چوں چراں کرنی ھے ۔ بلکہ چدواتے وقت اور جیسے جیسے میں کروں گا ویسے ھی تم نے میرا برابر کا ساتھ دینا ھے ۔۔مجھے یہ محسوس نہ ھو کہ میں تم سے ذبردستی کررھا ھوں اور تم بھی مجبوری سے کروا رھی ھو۔۔۔ جلدی بولو منظور ھے کہ نہیں اور سوچ سمجھ کر جواب دینا ۔ سویرا نے سر نیچے کیا اور سوچنے لگ گئی ۔۔۔ جب وہ کچھ ذیادہ ھی سوچ میں پڑگئی ۔ تو میں یہ کہہ کر اٹھنے لگا ۔ کہ اوکے جیسے تمہاری مرضی تو سویرا ایک دم خیالوں سے باہر آئی ۔۔اور میرا ھاتھ پکڑ کر مجھے بیٹھنے کا کہتے ھوے بولی مجھے منظور ھے منظور ھے منظور ھے ۔ میں پھر واپس بیٹھ گیا ۔۔سویرا بولی میری ایک ریکویسٹ ھے وہ مان لیں میں آپکو شکایت کا موقع نہیں دوں گی ۔ میں نے کہا بولو ۔ سویرا بولی ۔آپ میرے اندر فارغ نہ ھونا اور آپ کے علاوہ مجھے کوئی اور ھاتھ بھی نہ لگاے ۔۔۔میں ایسی لڑکی نہیں ھوں بس اس کتی کے بچے کی باتوں میں آگئی اور مصیبت کے وقت میں وہ مجھے یہاں چھوڑ کر خود اپنی جان بچا کر بھاگ گیا ۔۔ میں نے کہا ٹھیک ھے مجھے تمہاری دونوں باتیں منظور ہیں ۔ میرا کوئی نوکر بھی تمہارے پاس بھی نہیں آے گا اور میں فارغ بھی باہر ھی ھو جاوں گا ۔ مگر ہم ادھر نہیں کریں گے کیونکہ میرے نوکر تمہارے یار کو پکڑ کر ادھر ھی لاءیں گے اس لیے تم میرے ساتھ چلو میں تمہیں ایک محفوظ جگہ لے کر چلتا ھوں ۔۔ سویرا گبھرا کر بولی ننننہیں ادھر ھی کرلو ۔ میں نے کہیں نہیں جانا۔۔ میں نے تھوڑا غصے سے کہا ۔ ہم گاوں کے لوگ زبان کے پکے ھوتے ہیں جب تمہاری حفاظت کی ذمہ داری لی ھے تو جان بھی چلی جاے مگر تم پر کسی کی گندی نگاہ بھی نہیں پڑنے دوں گا ۔ اپنے یار پر یقین کر کے بھی دیکھ لیا اب اس پینڈو پر بھی یقین کر کے دیکھ لو ۔ تمہیں خود پتہ چل جاے گا ۔۔ ہمیں باتیں کرتے دس پندرہ منٹ ھوچکے تھے میں ساتھ ساتھ ادھر ادھر بھی نظریں دوڑا رھا تھا کہ سویرا کا ییندڑ واپس نہ آجاے ۔ مگر اسکا کہیں نام نشاں نظر نہیں آرھا تھا ۔ سویرا میری بات سن کر خاموش ھوگئی میں نے کہا وقت ضائع نہ کرو اگر میرے بندے ادھر پہنچ گئے تو پھر معاملہ خراب ھوجانا ھے ۔۔ سویرا بولی میری شلوار مجھے دو میں پہن لوں ۔۔ میں نے شلوار اسکی طرف بڑھاتے ھوے کہا ۔ میری بات یاد ھے نہ کہ کوئی بھی چالاکی نہیں کرنی ۔ سویرا سرہلاتے ھوے بولی بے فکر رھو تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی میں نے یہ سوچتے ھوے شلوار اسکی طرف بڑھائی کے ایک دفعہ میرا لن پھدی میں لے لو گارنٹی ھے کہ میرے لن کو بھی نہیں بھولو گی ۔۔ سویرا نے جلدی سے شلوار پہنی میری نظر اسکی گوری گوری ٹانگوں ہر تھی ۔۔ شلوار پہن کر سویرا نے نیچے بچھی ھوئی چادر اٹھائی اور مجھ سے برقعہ مانگا تو میں نے نفی میں سر ہلاتے ھوے کہا ۔۔تم بس یہ چادر ھی اوپر لو اور چلو میرے ساتھ ۔ میں نے آگے بڑھ کر اسکا ہینڈ بیگ بھی اپنے قبضے میں کر لیا اور لڑکے کی پینٹ ادھر ھی پھینکی اور سویرا کو لے کر میں مکئی کے اندر سے ھی اپنی پرانی جگہ کی طرف لے کر چل پڑا ۔۔ لڑکا نہر کی طرف بھاگا تھا جبکہ میں اسے مخالف سمت لے کر جارھا تھا ۔۔ سویرا ڈرتے ڈرتے میرے اشاروں پر میرے آگے آگے چلی جارہی تھی جبکہ میں اسکے پیچھے پیچھے اسکی گانڈ کا معائنہ کرتا ھوا چل رھا تھا ۔ سویرا کا قد کوئی پانچ فٹ چھ انچ کا تھا. جبکہ اسکی گانڈ باہر کو نکلی ھوئی تھی اور کمر بھی بلکل پتلی تھی اور جسم اسکا بھرا بھرا تھا بڑا ھی سیکسی فگر تھا ۔۔۔ میں سویرا کو لیے کافی آگے پہنچ چکا تھا سویرا بار بار پوچھ رھی تھی کہ اور کتنا آگے جانا ھے ۔ میں اسے بس تھوڑا سا اور آگے کہتا ھوا اسے چلتے رہنے کا کہتا ھوا اسکے پیچھے چل رھا تھا ۔ آخر کار ہم منزل مقصود پر پہنچ ھی گئے تہزیب نام کی بھی کوئی شے ھے جناب کے پلے کہ بس ۔۔۔۔۔
  3. Thanks jani for appreciate Thanks jani for appreciate Thanks jani for appreciate
  4. update... .صبح میں جلدی اٹھا اور تیار ہوکر شہر پہنچا اور سیدھا جنید کے گھر پہنچا ۔ دروازے پر دستک دی تو کچھ دیر بعد جنید نے ھی دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر حیران رھ گیا اور سلام دعا کے بعد بیٹھک کا دروازہ کھولنے چلاگیا اور کچھ ھی دیر میں میں جنید کی بیٹھک میں بیٹھا ھوا تھا ۔ جنید بولا خیریت ھے آج صبح صبح چاند نکل آیا ۔۔ میں نے کہا یار بس فارغ رھ کر تھک گیا ھوں سارا دن بوریت میں گزرتا ھے ۔ اگر کوئی دکان ھے تو مجھے ادھر رکھوا دو جنید بولا میری جان میں نے تجھ سے پہلے ھی ایک دکان والے سے بات کررکھی ھے مجھے پتہ تھا کہ تم اب گاوں میں نہیں رھ سکتے ویسے تو انکل سجاد بھی تجھے یاد کرتے ہیں اور نسیم کو بھی گالیاں دیتے ہیں کہ اسکے پیچھے لگ کر تمہارے ساتھ ذیاتی کی ۔۔ اگر تم کہو تو میں انکل سے اپنے طور پر بات کروں ۔ میں نے کہا نہیں یار مجھے اس بندے سے نفرت ھوگئی ھے میں اسکے ساتھ جتنا مخلص تھا اس سالے نے میری قدر نہ کی ۔ جنید بولا چھوڑ یار پھر بھی وہ تیرا استاد ھے اور استاد تو باپ کی جگہ ہوتا ھے اگر اس نے غصہ میں کچھ کہہ دیا تو دفعہ کر غصہ تھوک دے ۔۔ وہ ویسے بھی اپنے کیے پر شرمندہ ھے ۔ اور اس کی باتوں سے لگتا ھے کہ وہ دل سے چاہتا ھے کہ تم دکان پر واپس آجاو۔ میں نے کہا یار میرا دل نہی مانتا جنید بول چل ماما ہن توں کڑیاں ونگوں نخرے کر ریاں ایں ۔۔ میں آج ھی انکل سے بات کرتا ہوں بلکہ تو میرے ساتھ ھی چل میں سنبھال لوں گا سب ۔ میں نے کہا نہیں یار ایسے وہ سمجھے گا کہ پتہ نہی مجھے کہیں کام نہی ملا اس وجہ بےشرموں کی طرح واپس آگیا ھے ۔۔۔ تو ایسا کر آج اس سے بات کرلے اور اسکو کہنا کہ رات کو ہمارے گھر آکر مجھے کہے ۔۔۔ جنید بولا چل سہی ھے جیسے تو خوش اگر وہ آگیا تو ٹھیک ھے ورنہ میں دوسری دکان پر تجھے کل ھی رکھوا دوں گا ۔۔۔ میں نے ہمممممم کیا اور پھر میں نے جنید سے کہا کہ یار ایک اور کام ھے اگر تو کردے تو ساری زندگی تیرا احسان نہیں بھولوں گا ۔۔ جنید بولا ماما نالے مینوں ویر وی کیناں ایں رے نالے اے احسان کرن والیاں چولاں وی مارن دیاں ایں ۔ حکم کر ۔۔ میں نے کہا یار مجھے کچھ دنوں کے لیے ایک کیمرہ چاہیے جس سے ویڈیو فلم بنتی ھو اور کیمرہ بھی چھوٹا سا ہو ۔۔ جنید بولا خیر ھے کس کی فلم بنانی ھے ۔۔۔ میں نے کہا یار بس وہ تیری پرجائی کی فرمائش ھے کہ ہم دونوں کی اکھٹے بیٹھے ھوے کی فلم بنے ۔۔۔ جنید ہنستے ھوے بولا ۔ واہ یار یہ بھابھی کب سے بن گئی چپ کر کے شادی تے نئی کروا لی ۔ میں نے کہا نہیں یار بھابھی مطلب میری ایک سہیلی ھے اسکی فرمائش ھے ۔۔ جنید بولا ۔ کہیں وہ پالر والی تو نہیں ۔ میں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا اور پھر خود کو سنبھالتے ھوے بولا نہیں یار گاوں کی ھے دیکھاوں گا تجھے کسی دن ۔ بس یہ بتا کہ میرا کام ھوجاے گا ۔۔ جنید بولا یار کام مشکل ھے مگر ناممکن نھی بڑا کیمرہ چاہیے تو چل ابھی لے دیتا ھوں مگر یہ چھوٹے سائز والا کیمرہ بہت کم لوگوں کے پاس ھے ۔۔ مگر پھر بھی تو پریشان مت ھو میں جلد ھی تجھے ڈھونڈ دوں گا ۔ ہے اپنے یار کافی سارے ۔۔۔ کسی نہ کسی کے گھر تو ھوگا ھی ویسے تجھے چاہیے کب میں نے کہا مجھے چاھے آج ھی دے دو اگر آج نہی تو کم از کم دو تین دن کے اندر تو لازمی دے دینا ۔۔۔ جنید بولا تو واپس کب دو گے ۔ میں نے کہا تم ایک مہینے کا کہہ دینا کیونکہ ہمیں جب بھی موقع ملا تب ھی فلم بنانی ھے ہو سکتا ھے میں تجھے ایک ہفتے میں ھی واپس کردوں۔۔۔ جنید بولا ٹھیک ھے میں کوشش کرتا ھوں کہ جلد ھی مل جاے باقی تم صبح دکان پر آنے کے لیے تیار رہنا میں نے کہا انکل آے گا تو ھی میں آوں گا ۔۔ جنید بولا یہ مجھ پر چھوڑ دو اسکو میں آج فلم ھی ایسی سناوں گا کہ وہ پہلے تیرے پاس جاے گا پھر اپنےگھر جاے گا ۔۔۔ میں نے جنید کا شکریہ ادا کیا اور اس سے پوچھا دکان پر کب جانا ھے تو اس نے بتایا کہ بس میں تیار ھوں چلو اکھٹے ھی نکلتے ہیں ۔۔ میں نے ہمممم کیا اور میں اٹھ کر بیٹھک سے باہر ایا اور جنید نےدروازہ بند کیا اور مین دروازے سے باہر آیا اور ہم بازار کی طرف چل دیے ۔۔ جنید کا گھر بھی ضوفی کے محلے میں ھی تھا ۔۔ میرا دل تو بہت کیا کہ میں ضوفی کے گھر جاوں مگر جنید کی وجہ سے دل پر پتھر رکھ کر محبوب کی گلی سے انجان بن کر گزرگیا۔۔۔ بازار پہنچ کر میں جنید سے علیحدہ ھوا اور ایسے ھی ادھر ادھر گھومنےلگ گیا ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرھی تھی کہ کدھر جاوں ۔ جانے کے لیے جگہ تو بہت تھیں مگر دل کہیں بھی جانے پر مطمئن نہیں ھورھاتھا ۔۔۔۔ خیر میں یوں ھی چلتا ھوا گاوں کی طرف نکل گیا اور نہر کےکنارے پر جاکر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ اور کنارے پر بیٹھا میں اپنے پلان پر ہر پہلو سے غور کرنےلگ گیا اور اسکو بہتر انداز میں سرانجام دینے کے لیے مذید مغز ماری کرنے لگ گیا۔۔۔ مجھے بیٹھے کوئی ایک گھنٹہ ھی ہوا ھوگا کہ مجھے شہر کی مین سڑک والے پل کی طرف سے ایک موٹر سائکل سوار آتا نظر آیا جس کے پیچھے کالے رنگ کے برقعہ میں کوئی عورت بیٹھی ھوئی تھی ۔ اور وہ بڑے آرام آرام سے ادھر ادھر گردن گھما کر دیکھتے ھوے آرھا تھا میں اسے دیکھی جارھا تھا وہ کبھی رکتا اور پھر موٹرسائیکل آگے بڑھاتا اور کچھ آگے آکر پھر رک جاتا ۔ مجھے اسکی حرکات مشکوک لگیں ۔ کیونکہ اکثر لڑکے شہر کی لڑکیوں کو ورغلا کر نہر پر ڈیٹ مارنے لے آتے تھے اور موقع پاکر نہر کے اطراف میں لگی مکئی کی فصل میں گھس کر چدائی بھی کرلیتے تھے ۔۔۔ میری چھٹی حس نےفورن کام کیا کہ یاسر پتر اے پھدی دا کیس اے تے ہوشیار ھوجا۔۔۔ وہ آدمی مجھ سے کافی فاصلے پر تھا اس نےمجھےدیکھا تھا یا نہیں I don't know مگر میں اسکی حرکات کو نوٹ کرکے چوکس ھوچکا تھا ۔۔ میں جلدی سے کنارے پر ھی لیٹ گیا نہر کا کنارہ ایک جگہ سے اونچا تھا اور کوئی دو تین فٹ کی جگہ جو پانی کے قریب تھی اور نیچے تھی جس جگہ بیٹھ کر عورتیں کپڑے دھوتی تھیں ۔ میں کھسکتا ھوا اس جگہ پر پہنچ گیا ۔ اور کچھ دیر ایسے ھی کمانڈو سٹائل میں الٹا لیٹا رھا کچھ دیر بعد میں نے جب سر اٹھا کر دیکھا تو مجھے موٹر سائکل سوار نظر نہ آیا میں نے مذید سر اٹھایا تو مجھے پھر بھی کوئی نظر نہ آیا ۔ میں یہ سوچ کر اوپر ھونے لگا کہ شکار نکل گیا ھے ۔ میں اٹھ کر کھڑا ھوا تو مجھے سامنے کوئی بندا نہ بندے کی ذات نظر آئی ۔۔ میں مایوس ہوکر کنارے سے اتر کر نیچے گاوں کی طرف جانے ھی لگا تھا کہ مجھے کچھ فاصلے پر درختوں کے بیچ کھڑی موٹر سائکل کی سرخ رنگ کی ٹینکی کی ایک جھلک نظر آئی ۔ میں جلدی سے وہیں بیٹھ گیا اور الٹے پاوں واپس کنارے پر جانے لگا ۔۔۔ مجھے اب سمجھ نہیں آرھی تھی کہ میں کیسے ان تک پہنچوں کہ انکو پتہ بھی نہ چلے خیر میں ان کو کچھ وقت دینے کی سوچ کر وہیں بیٹھ گیا کہ وہ کچھ کرنے لگ جائیں تو ھی اوپر چھاپا ماروں ۔۔ میں نے کوئی دس منٹ انتظار کیا اور پھر آگے ھو کر دیکھا تو موٹر سائیکل ابھی بھی کھڑی تھی ۔۔ میں دبے پاوں جھک کر کنارے سے نیچے اترا اور آہستہ آہستہ چلتا ھوا ۔۔ موٹر سائیکل کی طرف بڑھنے لگ گیا بارہ بجے کا ٹائم تھا ہر طرف سناٹا تھا ۔۔میں چلتا ھوا موٹر سائکل کے پاس پہنچ گیا موٹر سائیکل بڑے طریقے سے چھپا کر کھڑی کی ہوئی تھی مگر دیکھنے والے دیکھ ھی لیتے ہیں ۔۔۔ میں بڑی احتیاط سے موٹر سائیکل کے چاروں اطراف دیکھنے لگ گیا مگر وھاں کچھ بھی نہیں تھا ۔ یعنی شکار مکئی کے اندر گھسا ھوا تھا ۔۔۔ میں بڑی احتیاط سے دبے پاوں جھک کر چلتا ھوا مکئی کے اندر داخل ھوا اور پاوں کے بل کیاری میں بیٹھ گیا۔۔۔ اور سامنے دیکھنے لگ گیا مجھے دور تک کیاری میں کچھ بھی نظر نہ ایا ۔۔۔ میں پاوں کے بل بیٹھا ھوا ھی آگے بڑھنے لگا میں بڑی احتیاط سے آگےبڑھ رھا تھا کہ مکئی کے پتوں کی آواز نہ پیدا ھو ۔۔۔ میں کچھ ھی آگے گیا تھا کہ میرے کانوں میں نسوانی آواز آئی ۔۔ اب کر بھی لو کہ کوئی آے گا تو ھی کرو گے ۔ اور پھر ساتھ ھی مردانہ آواز آئی یار اسے کھڑا تو کرلوں اور ادھر اس وقت کوئی نہیں آتا نوٹینشن۔۔۔ میں فل چوکس ہوگیا اور آواز کی سمت چہرہ گھمایا تو تو مجھے ساتھ والی کیاری میں بالوں والی گانڈ نظر آئی میں جلدی سے آگے بڑھا تو گانڈ نمایاں نظر آنے لگ گئی ۔۔۔۔ اور جب کچھ اور آگے بڑھا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رھ گئی ۔۔۔۔ .سامنے کا سین کچھ ایسا تھا کہ آدمی لڑکی کی ٹانگوں میں اسکی پھدی کے سامنے گھٹنوں کے بل بالوں سے بھری گانڈ میری طرف کر کے بیٹھا ھوا تھا اور اس نے پینٹ اتار کر ایک طرف رکھی ہوئی تھی اور لڑکی کی گوری ٹانگیں اسکی کمر کے دونوں اطراف نظر آرھیں تھی لڑکی کے پاوں اتنے سفید اور سرخی مائل تھے جیسے اسکے پیروں کے تلووں میں خون اتر آیا ھو اور اسکی چٹی سفید پنڈلیوں سے لگ رھا تھا کہ بچی کافی صحت مند ھے ۔۔ آدمی لن کو پکڑے شاید مٹھ ماررھا تھا کیونکہ اسکے بازو کے ساتھ اسکی گانڈ بھی ہل رھی تھی ۔۔۔ لڑکی کا برقعہ اور شلوار بھی ایک طرف پڑے تھے اور انہوں نے نیچے چادر بچھائی ہوئی تھی یعنی کے پورے پار نال آے نے میں انکا جائزہ لے رھا تھا کہ کیسے انکو للکاروں ۔۔ جبکہ لڑکی اسے جلدی کرنے کا کہہ رھی تھی اور لڑکا اسے حوصلہ رکھنے کا کہہ رھا تھا جہاں تک میرے قیاس کے مطابق لڑکے کا لن کھڑا نہیں ھورھا تھا مردانه کمزوری ھوگی یا پھر خوف۔۔۔ میں نے دماغ میں پلان اور ڈائلگ سوچ لیے جو مجھے بولنا تھے ۔۔ اگر میرے ڈائلگ انپر اثر کرگئے تو لڑکے کو تو پتہ نہی مجھے اس شہری پوپٹ بچی کی پھدی کا شرف حاصل ھوجانا تھا اور پھدی کے اندر لن ڈالنے کی رسائی بھی حاصل ھوجانی تھی ۔ خیر میں نے اپنے آپ کو تیار کیا اور کھڑا ہوکر ایک گرجدار اور رعب دار آواز نکالتے ھوے بولا اوے کنجرو اے کی کرن دیو او ۔ اور اس کے ساتھ ھی میں نے آگے بڑھ کر لڑکی اور لڑکے کے کپڑے بھی اٹھا کر اپنے قبضے میں کرلیے ۔۔۔میں نے یہ سب اتنی پھرتی سے کیا کہ انکو سنبھلنے کا موقع ھی نہ ملا ۔ میری آواز سنتے ھی لڑکے نے حیران پریشان ہوکر گردن گھمائی اور وہیں سکتے کہ عالم میں لن ھاتھ میں پکڑے بیٹھا رھا جبکہ کہ لڑکی کے منہ سے ہلکی سی چیخ کے ساتھ ھاےےےے ***** نکلا اور لڑکی بھی آنکھیں پھاڑے سکتے کے عالم میں مجھے دیکھنے لگ گئی اور انکے ساتھ لڑکی پر نظر پڑتے مجھ پر بھی سکتہ طاری ھوگیا۔۔۔
  5. ۔updete..... .میں جیسے ماہی کے پیچھے اپنا بچاو کرنے کے لیے کھڑا ھوا تو ماہی بھی ہنستے ھوے ضوفی کے اٹھے ہاتھ کو پکڑنے لگ گئی۔ میں ماہی کو کندھوں سے پکڑ کر دائیں بائیں ہو رھا تھا اور ضوفی بھی ماہی کے آگے کھڑی مجھے مارنے کے لیے مکا لہراتے ھوے کبھی دائیں طرف سے مجھ پرحملہ آور ہوتی تو کبھی بائیں طرف سے ۔ ماہی بولی آپی بس کریں کہ میرے بھائی کو مار کر ھی رہیں گی ۔ ضوفی بولی تمہارا یہ بھائی بہت بگڑ گیا ھے۔ کچھ دیر بعد ضوفی مجھے گھورتے ھوے واپس صوفے پر جا بیٹھی اور میں بھی ماہی کے کندھوں کو چھوڑ کر جاکہ بیڈ پر جا بیٹھا ۔۔ ماہی کچھ دیر بیٹھ کر کھانا بنانے کا کہہ کر چلی گئی ۔ میں بھی بیڈ کے اوپر ہوکر ایسے بیٹھ گیا جیسے میرا گھر ھو ۔ تھا بھی کچھ ایسا ھی مجھے ضوفی کے گھر میں آکر اپنائیت کا احساس ھوتا تھا ۔ میری بلکل جھجک ختم ھو چکی تھی ۔۔ میں بیڈ کی بیک کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ھوا تھا اور ضوفی صوفے پر ٹانگ پے ٹانگ رکھے بیٹھی مجھ سے باتیں کررھی تھی ۔۔۔ میں نے ضوفی سے پوچھا کہ جب میں واپس گیا تھا تو تم گھر چلی گئی تھی ۔ ضوفی بولی میں تمہیں چھوڑ کر کیسے جاسکتی میں بھی تمہارے پیچھے آگئی تھی مگر وھاں ہجوم اتنا تھا اور مار دھاڑ اتنی ھو رھی تھی کہ ۔میں آگے نہ جاسکی میرا تو دل گبھرا رھا تھا میں نے کافی کوشش کی کہ کسی طریقے سے آگے جاکر دیکھوں مگر وھاں ہر طرف آدمی ھی کھڑے تھے تھک ہار کر میں ایک دکان کے باہر کھڑی ھوگئی تھی مجھے بس شور اور چیخوں کی آوازیں آرھی تھی ۔جب تم لوگ وھاں سے بھاگے تھے تو تمہیں خون سے لت پت دیکھ کر میری چیخ نکل گئی میں نے تمہیں بہت آوازیں دیں پیچھے بھی بھاگی مگر تم نے میری طرف دھیان ھی نہ دیا۔ جب تم لوگ وھاں سے نکلے ھی تھے کہ کچھ دیر بعد وھاں پولیس آگئی تھی اور پھر ایمبولینس آگئی ۔۔ میں نےبڑی کوشش کی کہ کسی طرح تم سے رابطہ ھوسکے مگر میں ناکام رہی ۔ میں نے کہا مارکیٹ کے مالک کو کیسے پتہ چلا لڑائی کا اور اس نے کیا کہا تھا۔ ضوفی بولی میں ادھر سے سیدھی انکے گھر چلی گئی تھی اور میں نے ساری غلطی نسیم کی ھی نکالی اور انکو خوب ان لوگوں کے خلاف بڑھکایا ۔ نسیم کی ناک کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور اس کے والد کے دانت ٹوٹ گئے تھے اور اسکے چاچا کا بازو فیکچر ھوگیا تھا باقی لڑکوں کے بھی کافی چوٹیں آئیں تھی ۔ اس کے باوجود بھی آنٹی نے انکل کو کہا کہ اگلے مہینے مجھے دکان خالی چاھیے ۔ اور انکل نے انکی ایک بھی نہ سنی اور ایک مہینے کا نوٹس دے دیا ۔۔ میں نے ہممممم کیا ۔۔۔ ضوفی مجھے گھورتے ھوے بولی ویسے یاسر تم بہت ظالم ھو اس طرح بھی کوئی کسی کو مارتا ھے ان بیچاروں کا کتنا برا حال کیا تم نے اور تمہارے دوستوں نے ۔ میں نے کہا ایسے لوگوں کا یہ ھی حال ھو تو ھی انکو سمجھ آتی ھے پیار کی زبان یہ لوگ نہیں سمجھ سکتے ۔۔ ضوفی بولی پھر یاسر اگر ان میں سے کوئی مرجاتا تو کیا ھوتا۔ میں نے مکا بنا کر بازو کو ضوفی کی طرف کرتے ھوے مکے کو اوپر کرتے ھوے کہا لن تے چڑدے مردا تے مرجاندا۔۔۔۔ ضوفی منہ پر دونوں ھاتھ رکھ کر اپنی ہنسی کو دباتے ھوے بولی ھوووو ھاے کتنے سنگدل ھو۔۔۔۔ مجھے تو تم سے ڈر لگنے لگ گیا ھے ۔۔۔۔ میں نے ضوفی کی طرف دیکھتے ھوے بڑے رومینٹک انداز سے کہا ۔ تو پھر کیا سوچا ۔۔۔۔ ضوفی مجھے گھورتی ھوئی بولی کیا مطلب ۔۔۔۔ میں نے کہا مطلب کہ میں پھر اپنی چھٹی سمجھوں ۔۔۔ضوفی میری طرف دونوں بازو سیدھے کر کے ھاتھوں کو کھول کر تیزی سے آئی اور میرے گلے کو پکڑ دباتے ھوے بولی تمہاری جان لے لینی ھے میں نے جو دوبارا یہ بات سوچی بھی۔۔ میں نے ضوفی کی کلائیوں کو پکڑا اور اپنے گلے سے ہاتھ ہٹاتے ھوے اسکو کھینچ کر اپنے سینے پر لیٹا کر اسکے بازو اپنے سر کے اوپر لے گیا۔ ضوفی کے ممے میرے سینے پر دب گئے تھے اور اسکا چہرہ میرے چہرے کے اتنا قریب تھا کہ اسکی سانسیں میرے چہرے پر پڑ رھی تھیں ۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سکتے کے عالم میں ایک دوسرے دیکھے جارھے تھے دونوں کی سانسوں رفتار تیز سے تیز ھوتی جارھے تھی ہونٹ ہونٹوں کو چھونے کے لیے بےچین ھورھے تھے دونوں پلکیں جھپکنا بھول گئے تھے۔ بلاخر سکتہ ٹوٹا ہونٹوں نے اگے بڑھنے کی جرات کی اور پھر سب کچھ بھول کر ہونٹ ایک دوسرے سے گُتھم گتھا ھوگئے زبانیں آپس میں ٹکرانے لگیں لباب دھن ایک دوسرے کے اندر اترنے لگا ۔ میرے ھاتھ ضوفی کی گردن کے پیچھے اسکے ریشمی سلکی بالوں کو سہلانے لگے ضوفی کی تڑپ بے چینی اس کے کسنگ کرنے کا والہانہ انداز مجھے مذید گرمانے لگا ۔ ہونٹ تھے کے ایک دوسرے سے جدا ھونے کو نام نہیں لے رھے تھے جسم تھے کے ایک دوسرے میں سمانے کی کوشش کررہے تھے ضوفی کے نرم جسم کو میرے سہلاتے ھوے ہاتھ اسکی گلاب کی پنکھڑیوں کا رس چوستے میرے ہونٹ اسکی گرم زبان سے ٹکراتی میری زبان مجھے جنت کی وادیوں میں پہنچا رہیں تھی محبوب کے گیسوں میں عجب سی مستی چھاے جارھی تھی ۔ ضوفی کی گردن کے پیچھے اسکے ریشمی سلکی بالوں کو سہلانے لگے ضوفی کی تڑپ بے چینی اس کے کسنگ کرنے کا والہانہ انداز مجھے مذید گرمانے لگا ۔ ہونٹ تھے کے ایک دوسرے سے جدا ھونے کو نام نہیں لے رھے تھے جسم تھے کے ایک دوسرے میں سمانے کی کوشش کررہے تھے ضوفی کے نرم جسم کو میرے سہلاتے ھوے ہاتھ اسکی گلاب کی پنکھڑیوں کا رس چوستے میرے ہونٹ اسکی گرم زبان سے ٹکراتی میری زبان مجھے جنت کی وادیوں میں پہنچا رہیں تھی محبوب کے گیسوں میں عجب سی مستی چھاے جارھی تھی ۔ ضوفی کی گردن سے سرکتے ھاتھ اسکی کمر کو ناپتے ضوفی کی ابھری گانڈ کی طرف بڑھتے جارھے تھے ضوفی کی مستی اسکا جوش بڑھتا جارہا تھا کہ اسی سمے ہمارے کانوں میں ماہی کے کھنگارنے کی آواز پڑی ۔ زبان نے زبان کو چھوڑا ہونٹوں نے ہونٹوں کو بچھڑنے کی اجازت دی ۔جسم جسم سے جدا ھوے ضوفی کی گانڈ کو سہلاتے میرے ہاتھ بجلی کی سی تیزی سے ہٹے اور ضوفی گھوم کر سیدھی ہوئی اور جلدی سے اٹھی اور ہاتھ اہنے ہونٹوں پر رکھ کر سر نیچے کر کے شرمندہ سی ھوکر بیٹھ گئی ۔۔۔ میں نے بھی جلدی سے خود کو سمیٹا اور مارے شرمندگی کے سر اٹھا کر ماہی کی طرف نہ دیکھا ۔۔۔۔۔ اتنے میں ماہی کی شوخی بھری آواز ہم دونوں کے کانوں میں پڑی ۔ سوری ۔۔وووووہ کھانا لائی تھی ۔۔۔ بندا کم از کم دروازہ ھی بند کرلیتا ھے ۔۔۔ ضوفی نے سر نیچے کیے آہستہ سے کہا ٹیبل پر رکھ دو کھانا اور تم جاو۔ ماہی نے جلدی سے ٹیبل پر کھانا رکھا اور الٹے قدموں باہر کو بھاگ گئی ۔۔۔۔ میں ٹانگیں فولڈ کر کے تکیہ پر کُہنی رکھے سائڈ کے بل سر نیچے کیے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو چٹخاتے ھوے دیکھ تھا جبکہ ضوفی میرے پیٹ کے ساتھ گانڈ لگا کر دوسری طرف منہ کیے بیڈ سے نیچے ٹانگیں لٹکاے اپنے ھاتھوں کی انگلیوں کو چٹخاتے ھوے شرمندہ سی بیٹھی تھی ۔۔۔ ماہی کے جاتے ھی میں نے پیچھے سے ضوفی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکے پیٹ پر رکھے اور اسکو اپنی طرف کھینچ لیا ضوفی چھت کی طرف منہ کیے میرے اوپر آگئی اور جلدی سے میرے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے نرم نازک پیٹ سے ہٹانے اور اوپر اٹھنے کی کوشش کرتے ھوے بولی ۔۔۔ یاسر چھوڑو ماہی پانی لینے گئی ھے ابھی آتی ھوگی ۔۔۔ میں نے کہا ابھی تو وہ نیچے بھی نہیں پہنچی ھوگی ۔۔۔ ضوفی بولی پلیززززز یاسر مجھے پہلے ھی بہت شرمندگی ھورھی ھے کہ اس نے ہمیں اس حال میں دیکھ لیا ۔ نہ جانے کیا سوچے گی ۔۔۔ میں نے ہاتھوں کی گرفت سخت کرتے ھوے کہا ۔ کیا سوچے گی کہ جیجا جی اپنی ڈیوٹی پوری کررھے ہیں ۔۔۔ ضوفی نے پورا ذور لگاتے ھوے اییییییی کیا اور میرے ہاتھ اپنے پیٹ سے کھولنے کی کوشش کرتے ھوے بولی جیجا جی کے بچے اب چھوڑ بھی دو وہ بچی ھے ہمیں یوں دیکھ کر برا اثر لے گی ۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ بچی نہیں وہ بھی جوان ھوگئی ھے اور سمجھدار بھی ھے ۔۔۔ ضوفی زور ازمائی کے بعد اپنی ہار مانتے ھوے اپنے پیٹ پر بندھے میرے ہاتھوں پر اہنے نرم ملائم ہاتھ رکھ کر میرے ھاتھوں کو سہلاتے ھوے بولی اچھا چھوڑو بابا کھانا ٹھندا ھورھا ھے ۔ میں کچھ بولنے ھی لگا تھا کہ سیڑیاں چڑھتے قدموں کی آواز آئی تو میں نے جھتکے سے ھاتھ کھینچ کر ضوفی کو آزاد کردیا۔۔ ضوفی ہنستے ھوے جلدی سے اٹھی اور بولی اب بھی نہ چھوڑتے ۔ اس کے ساتھ ھی ماہی کمرے میں داخل ھوئی اور ہماری طرف دیکھتے ھوے شرارت سے بولی لگتا ھے کہ کھانا کھانے کا موڈ نہیں ھے ۔۔۔ ضوفی میری طرف دیکھ کر مسکراتے ھوے بولی ۔۔ تمہارا بھائی کہتا ھے کہ ماہی کے ساتھ بیٹھ کر ھی کھانا کھائیں گے اس لیے تمہارا انتظار کررھے ہیں ۔۔۔ ماہی مسکراتے ھوے بولی واہ جی واہ ابھی سے سالی کی اتنی اہمیت ھوگئی ۔۔۔ ضوفی ھاتھ لہراتے ھوے بولی ذیادہ بکواس نہ کر ماروں گی ایک ۔۔۔ ماہی کھلکھلا کر ہنستے ھوے بولی ۔ لو جی میں نے کیا غلط کہہ دیا ۔۔ چلو ٹھیک ھے نہیں بنتی سالی. اور پھر میری طرف دیکھ کر آنکھ دباتے ھوے بولی لگتا ھے کہ اب بھائی کی چھٹی ھوگئی ھے ۔۔ ضوفی ایکدم سیریس ھوگئی اور غصے سے ماہی کی طرف دیکھتے ھوے بولی ۔۔ تم کچھ ذیادہ ھی سر پر نہیں چڑھ رھی جو منہ میں آتا ھے بکواس کری جارھی ھو پانی رکھو ادھر اور دفعہ ھوجاو ۔۔۔۔ ماہی نے ضوفی کی بات کو خاصہ محسوس کیا اور ایکدم اس کی آنکھیں نم ہوئیں اور پانی ٹیبل پر رکھ کر واپس بھاگی میں جو ان دونوں بہنوں کی نوک جھونک سے لطف اندوز ھورھا تھا ۔ ماہی کو یوں روتے دیکھ کر جمپ مار کر اسکو آواز دیتا ھوا بیڈ سے نیچے اترا اور اسکو دروازے پر ھی جالیا۔۔ ماہی رو رھی تھی میں نے اسکے سر پر پیار سے ھاتھ پھیرا اور اسکے سر کو اہنے کندھے سے لگاتے ھوے اسے واپس کھانے کے ٹیبل کی طرف لانے لگا اور ضوفی کی طرف گھورتے ھوے بولا ۔ یار بولتے وقت کچھ تو خیال کیا کرو ۔۔ بیچاری نے اتنے شوق سے ہمارے لیے کھانا بنایا ھے اور تم اسکی محنت کا یہ صلہ دے رھی ھو ۔ بہت بتمیز ھو تم ضوفی ایسے ھی میری گڑیا کو رولا دیا ۔ ماہی اپنے دوپٹے سے اپنے آنسو صاف کرتی میرے کندھے سے لگی صوفے کے پاس آئی اور میں نے اسے بازوں سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا اور خود بھی اسکے ساتھ ھی بیٹھ گیا ۔ اور ماہی کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ھوے کہا چلو کھانا پلیٹوں میں ڈالو آج میں اپنی گڑیا کے ساتھ ھی کھانا کھاوں گا ۔ یہ اکیلی ھی کھاے کھانا اس کی یہ ھی سزا ھے ۔۔ ضوفی میری طرف دیکھ کر مسکراتی ھوئی ہمارے سامنے بیٹھ گئی ۔۔۔ کچھ دیر مذید مسکے لگانے کے بعد ماہی کا موڈ صحیح ھوا اور ضوفی نے بھی ماہی سے سوری کی اور اسکی گال پر ایک بوسا بھی لیا ۔۔۔ اور پھر ہم خوشگوار موڈ میں کھانا کھانے لگ گئے ۔۔ کھانا کھانے کہ بعد میں مذید کچھ دیر ادھر بیٹھا رھا اور پھر نیچے آکر آنٹی سے انکی بیمار پرسی کی اور تقریباً شام ڈہلنے لگی تو میں ان سے اجازت لے کر گھر سے نکل آیا ضوفی نے دو تین دفعہ آہستہ سے مجھے رات رہنے کا کہا مگر میں گھر بتا کر نہیں آیا تھا اس لیے میرا جانا ضروری تھا اور گھر کا ماحول بھی خراب تھا اگر میں رات کو گھر نہ جاتا تو ابو سے چنگی پلی بےعزتی ھو جانی تھی ۔ ضوفی کے گھر سے نکل کر میں سیدھا گاوں پہنچا اور گھر چکر لگا کر کھانا وغیرہ کھا کر میں باہر نکلا اور سیدھا چوک کی طرف چلدیا دور سے ھی مجھے شادا اور باقی کا گروپ چوک میں لگے بوڑھ کے درخت کے نیچے بیٹھے نظر آگئے ۔۔ جب میں انکے پاس پہنچا تو خوب گرمجوشی سے ملے شادا میرے گھر والوں کے رویعے کے بارے میں پوچھنے لگ گیا میں نے سب اوکے کہا ۔ کچھ دیر بیٹھے خوب ہلا گلا کرتے رھے ایک دوسرے کو جگتیں مارتے اور قہقہے لگاتے رھے ۔۔ کچھ دیر بعد میں نے شادے سے اکری کے بارے میں پوچھا کہ تم اسے جانتےھو تو شادے نے نفی میں سر ہلایا اور پوچھنے لگ گیا کہ کون اکری ۔ میں نے جب اسے لوکیشن بتائی تو وہ ایک دم کھڑا ہوگیا اور میری طرف دیکھتے ھوے بڑے گبھراے ھوے لہجے سے بولا اوے توں اکری جموں دی گل کرریاں ایں ۔۔ میں نے بڑے اطمینان سے سرہلا کر ہاں کی ۔۔ تو اکری میرے سر کو ہلاتے ھوے بولا اوے توں اودے کولوں کی لینا اے ۔ او بڑا پین یک بندا اے اودے پچھے بڑے وڈے ہتھ نے پولیس تھانہ کچہری اودی جیب وچ اے۔۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے اسکا ھاتھ پکڑ کر اسے کھینچ کر بٹھاتے ھوے کہا۔ پین یکہ بے تے جا تیری کیوں بُنڈ پاٹ گئی اودا ناں سندے ھوے ۔۔۔ شادا نیچے بیٹھتے ھوے بولا پھدی دیا توں ناں ای اوس بندے دا لیا اے بنڈ تے پاٹنی ای اے ۔۔۔ میں نے شادے کی حالت دیکھتے ھوے اندازہ لگا لیا کہ یہ میری مدد نہیں کرے گا اسکی گانڈ تو اسکا نام سنتے ھی پھٹ گئی ۔۔۔۔ جب اس سے پنگے کا سنے گا تو سالا ویسے ھی بھاگ نہ جاے اور کہیں یہ بات اکری تک نہ پہنچ جاے۔۔۔ میں نے بات کو مزاق میں ڈالتے ھوے کہا ۔ یار میں نے تو ویسے ھی پوچھا تھا کہ یہ کون ھے اسکا نام بہت سنا ھے شہر میں ۔۔ تو شادے نے لمبا سانس لیا اور شکر ادا کرتےھوے بولا کہ میں سمجھا شاید اس کے ساتھ کوئی تیرا رولا پڑ گیا ھے ۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا پھدی دیا میں ہن روز رولے ای پانے نے ۔۔۔ میں نے اکری کے معاملے کو فلحال موخر کرنے کا سوچا کہ سہی وقت پر سہی موقع ملتے ھی کچھ کروں گا چاھے مجھے کسی بھی حد تک نہ جانا پڑے ۔۔۔ دوستو میں عمر کے اس دور میں تھا جب ایک منٹ میں مرنے مارنے پر اتر آتا تھا ایک دفعہ ہر پھڈے میں ٹانگ اڑا دینی بس بعد میں جو ہوگا دیکھا جاے گا ۔۔۔ میں کچھ دیر مذید ادھر بیٹھا اکری کے بارے میں معلومات لیتا رھا۔ شادا اسکی بہادری کے قصے سناتا رھا کی فلاں وڈیرے کا ہاتھ اس کے سر پر ھے اس نے فلاں بندے کو مارا ھے فلاں کو مارا ھے شادے نے مجھے کوئی دس پندرہ بندے گنا دیے جنکو اس نے قتل کیا تھا یا کروایا تھا مگر ثبوت نہ ملنے اور اس کے سٹرونگ بیک گراونڈ کی وجہ سے پولیس کی گرفت میں نہی آیا اور نہ ھی کسی سر پھرے نے اس پر ہاتھ ڈالا تھا مگر ایک بات میرے دماغ میں بیٹھ گئی تھی کہ ۔۔ سالا جتنا بڑا بھی بدمعاش ھے مگر ھے تو انسان ھی ۔ اسپر کونسا کوئی گولی اثر نہیں کرتی یا اس کے اندر خنجر نہیں اترتا۔۔۔ جو بھی ھے سالے کو ایک دن تو مرنا ھی ھے ۔ اور ایسے بندے اندھی گولی کا شکار بنتے ہیں ۔ یا پھر پتہ نہی چلتا کہ کون اسکو مار گیا ۔۔ خیر میں قیاس آرائیاں کرتا رھا اور پھر سب ادھر سے اٹھے اور اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ھوگئے ۔۔۔ گھر آکر بھی رات دیر تک بستر پر کروٹیں لیتا ھوا اکری کے بارے میں سوچتا رھا کہ کیسے میں اس تک پہنچ سکتا ھوں اور کبھی اسد پر سوئی اٹک جاتی کہ کیسے اسد کو ایسی موت ماروں جس سے سالا روز جیے اور روز مرے ۔۔۔ اچانک میرے دماغ میں ایک پلان آیا جس سے ایک تیر سے دو نشانے لگانے جاسکتے تھے ۔ ۔ اور پھر اس پلان کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے قیاس آرائیاں کرتا رھا اور بلاخرہ پلان کے تحت عملی طور پر قدم اٹھانے کا سوچتے ھوے سو گیا
  6. شکریہ ڈاکٹر صاحب آپ کے منہ سے سٹوری کی تعریف سن کر دل باغ باغ ھوجاتا ھے اور سٹوری کو آگے بڑھانے کا شوق پیدا ھوجاتا ھے جیوندے رو تے سدا ہسدے وسدے رو Thanks brother for appreciate Okkk g Thanks brother Thanks jani for appreciate Love you to jani شکریہ نوازش مہربانی جانی باقی ریپ میں ظلم ھی ھوتا ھے
  7. update.. .میں کافی دیر پھدی اور گانڈ کے درد سے روتی رھی ۔ اکری کپڑے پہن کر باہر چلا گیا اور اسد کپڑے لے کر واش روم چلا گیا ۔ کمرہ خالی ھوا تو میرے دماغ میں ایکدم ویڈیو کیسٹ کا آیا میں جلدی سے اٹھی اور بریزیر پہن کر کیسٹ تکیہ کے نیچے سے نکال کر بریزیر میں رکھی اور جلدی سے پہلے قمیض پہن لی اورپھر بڑی مشکل سے شلوار پہن ھی رھی تھی کہ کمرے میں ایک مونچھوں والا داخل ھوا جسکو دیکھ کر میں نے جلدی سے شلوار اوپر کی اور چادر پکڑ کر جلدی سے اوپر اوڑھنے لگی ۔ مونچھوں والا بدمعاش کندھے پر بندوق لٹکاے دروازے پر کھڑا میری طرف دیکھی جارھا تھا میں چادر اوڑھ کر کھڑی کبھی اسکی طرف دیکھتی کبھی واش روم کے دروازے کی طرف ۔ کچھ دیر کھڑا رہنے کے بعد وہ بدمعاش بولا چلو لڑکی ساب جی بولا رھے ہیں میں پاوں گھسیٹتے ہوے دروازے کی طرف چل پڑی جب میں کمرے سے باہر نکلی تو باہر دو تین گن مین بڑی بڑی مونچھوں والے کھڑے تھے اور اکری ایک صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا مونچھوں کو تاو دے رھا تھا ۔ اور اس کے گارڈ اسکے ارد گرد کھڑے تھے اکری نے مجھے آتا دیکھا تو مجھے اشارے سے صوفے پر بیٹھنے کا کہا ۔ میں نے اسے نفرت سے گھورتے ھوے دیکھ کر کہا مجھے گھر جانا ھے ۔ اکری قہقہہ لگا کر ہنسا اور بولا ۔چلی جانا میں کون سا تجھے اس حویلی میں قید کرنے لگا ہوں اتنے میں اسد بھی کمرے سے باہر نکلا اور بولا باس اب اسکا کیا کرنا ھے ۔ اکری بولا کرنا کیا ھے تو جا اور اسکو میرا ملازم اسکے سکول چھوڑ آتا ھے ۔ اسد کندھے اچکا کر باہر نکل گیا اور اکری مجھے دھمکاتے ھوے بولا تمہارا جسکو جی کرے بتا دینا مجھے اسکی کوئی پریشانی نہیں ۔ اور یاد رکھنا کہ تیرے چدتے ھوے کی پوری فلم میرے پاس ھے اور جب بھی تجھے میرا پیغام پہنچے بنا کسی پریشانی کے ادھر چلی آنا ۔ اس کے ساتھ ھی اس نے ایک گن مین کو کہا کہ یہ جہاں جانا چاھے اسے چھوڑ آنا اور اسکا پورا خیال رکھنا ۔ یہ کہتےھوے اکری صوفے سے اٹھا اور باہر کی طرف چل پڑا اسکے پیچھے اسکے گن مین بھی باہر نکل گئے اور پھر وہ بدمعاش مجھے سکول چھوڑ آیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عظمی اپنی داستاں سنا کر اونچی اونچی آواز میں رونے لگ گئی اور میں مارے حیرت کے سکتے کے عالم میں اس کی طرف دیکھی جارھا تھا ۔ مجھے ایکدم ہوش آیا اور میں نے ۔ بڑی سنجیدگی کے ساتھ عظمی سے پوچھا ۔ عظمی تم نے مجھ سے پہلے جھوٹ کیوں بولا تھا ۔ عظمی بولی یاسر وہ بڑا خطرناک بندا ھے میں ڈر گئی تھی کہ کہیں تم اس کے ساتھ لڑنے نہ چلے جاو اور مجھ میں یہ سب بتانے کہ ہمت بھی نہ تھی ۔ یاسر مجھ پر بہت ظلم کیا ھے ان لوگوں نے جسکی تکلیف آج بھی مجھے ہوتی ہے میں نے کہا وہ کیسٹ کہاں ھے ۔ عظمی بولی وہ میں نے توڑ کر نہر میں پھینک دی تھی۔ میں نے ہمممممم کیا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا ۔ کیا تم کو راستہ یاد ھے کہ اس کا ڈیرہ کس طرف ھے ۔ عظمی بولی یاسر مجھے یاد ھے مگر میں تمہیں بتاوں گی نہیں۔ میں نے چیخ کر عظمی کو کہا بکواس بند کرو اور جو میں نے کہا ھے اسکا جواب دو ۔ عظمی میرے سخت رویہ سے سہم گئی اور میرے آگے ھاتھ جوڑ کر بولی یاسر وہ بڑے خطرناک لوگ ہیں تم بھول کر بھی اسطرف مت جانا ۔ میں نے کہا تم اس بات کو چھوڑو مجھے پتہ ھے میں نے کیا کرنا ھے تم بس مجھے وہ راستہ سمجھا دو کہ کسطرف ھے باقی میں اسے خود ڈھونڈ لوں گا اور جو تمہارے ساتھ ان لوگوں نے کیا ھے ۔ اس سے بڑھ کر انکے ساتھ برا نہ کیا تو میں بھی اپنے باپ کا نہیں ۔ اور اس اسد کو اب حساب برابر کا چکتا کرنا پڑے گا اب یہ روز جیئے گا اور روز مرےگا ۔ عظمی کے ساتھ مجھے دلی ہمدردی ھوگئی تھی اسکی بس یہ ھی غلطی تھی کہ لالچ میں آکر اسد کے چنگل میں پھنس گئی اور اس گشتی کے بچے نے اسکے ساتھ یہ ظلم کیا ۔ عظمی کچھ دیر انکار کرتی رھی مگر جب میں نے ذیادہ سختی کی تو اس نے مجھے سارا اڈریس سمجھا دیا میں. نے اس سے حویلی کے اندر کا سارا نقشہ بھی پوچھ لیا اور کتنے افراد ہیں وہ بھی پوچھ لیے ۔۔۔ اور عظمی کو چھوڑ کر میں اپنے گھر آگیا عظمی کے ساتھ جو ظلم ھوا تھا ۔ اسکی باتیں میرے دماغ پر ہتھوڑے برسا رھیں تھی ۔ میں رات دیر تک جاگتا رھا اور اسد اور اکری سے کیسے بدلہ لینا ھے اسکے بارے میں پلاننگ کرتا رھا ۔ ضوفی میرے دماغ سے نکل چکی تھی. ۔ رات کو بستر پر لیٹا سوچتے سوچتے نہ جانے کب آنکھ لگ گئی ۔ صبح لیٹ اٹھا اور امی سے بڑی مشکل سے اجازت لے کر شہر کی طرف چل دیا ۔۔ جب میں نہر پر پہنچا تو ادھر ھی بیٹھ گیا ۔۔۔ اور بس ایسے ھی ادھر ادھر کی سوچتا رھا جب مجھے دو گھنٹے ادھر بیٹھے ھوے تو میں اٹھ کر شہر کی طرف چل دیا ۔ شہر پہنچ کر میں سیدھا جنید کی طرف گیا دکان کے باہر کھڑے ہوکر میں نے جنید کو آواز دی تو جنید مجھے دیکھ کر خوشی سے چھلانگیں لگاتا ھوا میری طرف آیا اور آتے ھی مجھے گلے لگا کر بڑی گرمجوشی سے ملا ۔ اور مجھے دکان کے اندر آنے کا کہا مگر میں نے اسے منع کرتے ھوے اس سے اس دن کی معذرت کی کہ میری وجہ سے تمہارے گھر والوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جنید بولا کمال ھے یار ایک طرف مجھے یار کہتے ھو دوسری طرف ایسی باتیں کرتے ھو ۔ کچھ دیر ہم کھڑے ایک دوسرے سے باتیں کرتے رھے جنید نے بتایا کہ شاہین مارکیٹ کے مالک نے نسیم کو دکان خالی کرنے کا کہہ دیا ھے اور اسے ایک مہینے کا نوٹس دے دیا ھے میں نے خوش ھوتے ھوے کہا اس کے ساتھ ایسا ھی ھونا چاہیے تھا اسے بھی احساس ھو کہ کیسے کسی کی روزی میں ٹانگ مارتے ہیں ۔۔کچھ دیر مذید باتیں کرنے کے بعد جنید سے اجازت لے کر ضوفی کی طرف چل پڑا جنید نے مجھے منع بھی کیا کہ ابھی ادھر نہ جاو مگر میں ضوفی کے دیدار کے لیے بےچین تھا ۔ بازار میں داخل ھوتے ھی مجھے عظمی بھول گئی اور ضوفی کو دیکھنے کی بےچینی بڑھ گئی ۔۔ میں چلتا ھوا شاہین مارکیٹ پہنچا تو مارکیٹ میں کسٹمرز کا کافی رش تھا تو اس لیے میری طرف کسی کا دھیان نہیں پڑا ادھر ادھر کے دکاندار اپنے اپنے کام میں مصروف تھے مین سیڑیاں اترتا ھوا نیچے چلا گیا ۔ اور پارلر کے دروازے پر دستک دی تو کچھ ھی دیر بعد پردہ سرکا اور وہ کچی کلی نمودار ھوئی اور مجھے دیکھ کر ایسے اس کا چہرہ کھلا جیسے وہ میری معشوق ھو اور اسی وقت وہ پردے کے پیچھے غائب ہوئی کچھ ھی دیر بعد ضوفی دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر اسکا چہرہ کھل اٹھا اور حال احوال اور گلے شکوے کے بعد بولی ۔ اندر کسٹمرز ہیں تم تھوڑی دیر رکو میں آتی ھوں اور گھر چلتے ہیں میں بھی اسکی مجبوری کو سمجھ کر ہمممم کر کے باہر ھی کھڑا ھوکر انتظار کرنے لگ گیا تقریبا دس منٹ بعد ضوفی گاون پہنے اور نقاب کیے باہر نکلی اور بولی چلو ۔ میًں نے کہا وہ کسٹمر ۔ ضوفی بولی تم سے عزیز نہیں اور میرا ھاتھ پکڑ کر مجھے چلنے کا کہا۔۔ میں ضوفی کے ساتھ باہر نکلا اور ہم نے کچھ اگے جاکر رکشہ لیا اور ضوفی کے گھر کی طرف روانہ ھوگئے۔ راستے میں کچھ خاص بات نہ ھوئی گھر پہنچ کر ضوفی نے ڈور بیل دی تو ماہ نور ماہی نے دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر ماہی کافی خوش ہوئی اور کافی گرمجوشی سے میرا استقبال کیا ۔ ضوفی نے ماہی سے امی کا پوچھا تو ماہی نے بتایا کہ امی سوئی ھوئی ہیں ۔ ضوفی مجھے سیدھا اوپر والے کمرے میں لے گئی اور اندر داخل ھوتے ھی ضوفی نے دروازہ لاک کیا اور پھر میرے ساتھ ایسے جپھی ڈالی جیسے پتہ نہیں کتنے سال بعد ملی ھو ۔ ضوفی مجھ سے لپٹ کر رونے لگ گئی اور میرے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر پاگلوں کی طرح چومنے لگ گئی ضوفی روتی ھوئی میرے چہرے کو چومی جارھی تھی ۔ اور ساتھ ساتھ کہے جارھی تھی تم مجھے چھوڑ کر دوبارہ کیوں لڑنے گئے تھے اگر تمہیں کچھ ھوجاتا میں تو جیتے جی مرجاتی. پھر پلٹ کر میرا حال بھی نہ. پوچھا آج چار دنوں کے بعد آے ھو پتہ ھے میں کتنا روتی رھی کتنا یاد کرتی رھی تمہارے گھر آنے لگی تھی مگر امی نے روک دیا کہ پتہ نہی تمہارے گھر والے کیا سوچیں ۔۔۔ ضوفی کی تڑپ بےچینی بےتابی میرے لیے اتنا پریشان ہونا مجھے یوں پاگلوں کی طرح چومنا اور اسکے یوں رونے پر مجھے اسپر پیار آنے لگ گیا اور خود پر فخر ھونے لگا کہ مجھے اتنا چاہنے والا میرے لیے یوں پریشان ھونے والا بھی کوئی ھے ۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے ضوفی کی نرم گالوں پر ھاتھ رکھے اور انگوٹھے سے اسکے آنسوں صاف کرتے ھوے اسے چپ کروانے اور تسلی دینے لگ گیا کہ مجھے کچھ بھی نہیں ھوا ۔ لڑائی میں اتنی معمولی سی چوٹ تو لگ ھی جاتی ھے ۔ اور یہ کہتے ھوے میں نے ضوفی کے آنسووں کو اپنے ہونٹوں سے چُننے لگ گیا اور پھر اسکے نمکین آنسووں کو اپنے ہونٹوں پر لگا کر ضوفی کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر چوسنے لگ جاتا کافی دیر میں ضوفی کو ایسے ھی لاڈ پیار سے نارمل کرنے کی کوشش کرتا رھا اور ایسے ھی اسکو لے کر میں بیڈ پر بیٹھ گیا ضوفی اب چپ ھوکر میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے ۔ مجھے دیکھی جارھی تھی پاگل لڑکی۔۔۔ جب ضوفی مجھے یوں دیکھتی تو میں اسکو آنکھ ماردیتا ضوفی میرے سینے پر مکا مارتی اور چل شوخا کہتے ھوے میرے کندھے پر سر رکھ کر میرے کندھے کو چومتی اور کچھ دیر دوبارا سر اٹھا کر مجھے دیکھنے لگ جاتی ۔ ابھی ہمارے لاڈ جاری تھے کہ دروازے پر دستک ھوئی ۔ ضوفی جلدی سے اٹھی اور دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کرتے ھوے دروازے کے پاس گئی اور دروازہ کھول دیا ۔ ماہی ہاتھ میں ٹرے پکڑے کھڑی تھی جس میںں کولڈ ڈرنک تھی ۔ ضوفی دروازہ کھول کر واپس میری طرف آگئی اور ماہی ضوفی کے پیچھے پیچھے چلتی ھوئی ٹیبل پر ٹرے رکھ کر اس میں سے ایک گلاس اٹھا کر مجھے پکڑا کر ضوفی کی طرف حیرانگی سے دیکھنے لگ گئی. اور پھر میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ بھائی آپی کو کیا ھوا ھے ۔ میں نے ہنستے ھوے کہا ۔راستے میں ضد کررھی تھی کہ برف والا گولا کھانا ھے میں نے کھانے سے منع کیا کہ تمہارا گلا خراب ھوجاے گا تو گھر آکر رونے لگ گئی اور اس لیے بےچاری رو رھی ھے ضوفی جو سنجیدہ حالت میں بیٹھی ھوئی تھی میری بات سن کر ہنس پڑی اور مجھے مارنے کے لیے میری طرف دوڑی میں جلدی سے بیڈ سے اٹھا اور بھاگ کر ماہی کے پیچھے آگیا ۔ میں جیسے ھی ماہی کے پیچھے آیا تو ۔۔۔۔۔ ۔
  8. Update .اسد اکری کو یوں غصے میں دیکھ کر ہڑبڑا کر بولا یس باس ۔ اکری بولا پھدی دیا توں کیندا سی اے سیل پیک بچی اے ۔ اسد منہ کھولے اکری کی طرف بڑھا اور بولا ۔ باس مجھے تو ایسے ھی لگ رھا تھا ۔ اکری اسد کو گردن سے پکڑ کر اسکا چہرہ میری پھدی کی طرف کر کے بولا یہ دیکھ اس گشتی کی پھدی کی جھلی باہر کو آئی ھوئی ھے اور جھلی سیل پیک بچی کی باہر نہیں ہوتی یہ ایک دفعہ نہیں بلکہ کافی دفعہ چد چکی ھے اور تو اسے سیل پیک کہہ رھا تھا ۔ اسد آنکھیں پھاڑے میری پھدی کو دیکھی جارھا تھا ۔ اور پھر اسد نے میری پھدی پر ذور سے تھپڑ مارا اور بولا مجھے پہلے ھی شک تھا کہ یہ اپنے یار اس پینڈو سے چدواتی رھی ھے۔ پھر اسد اکری کی خوشامد کرتے ھوے بولا واہ استاد کیا تجربہ ھے تیرا بغیر لن اندر کیے ھی پتہ لگا لیا کہ یہ سالی پہلے کی چدی ھوئی ھے ۔ اکری اسد کی خوشامد سے تھوڑا نرم ہوا اور پھر بولا چل جا اپنا کام کر جو کررھا ھے ۔ اس سالی نے خوار ہی اتنا کیا ھے کہ اب اسکو چودے بغیر نہیں جانے دینا۔ ورنہ اکری نے آج تک کبھی جوٹھا نہیں کھایا۔ مگر اب اسکی پھدی کو سزا تو ضرور ملے گی ۔ یہ کہتے ھی اکری نے میری ٹانگیں کندھوں پر رکھی اور ٹوپا میری پھدی کے ہونٹوں میں پھنسایا اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتی یا بولتی اکری نے ذوردار گھسا مارا اور میری پھدی کچھ گیلی تھی مگر اکری کا لن خشک تھا لن پھدی کو چیرتا ھوا میری بچے دانی کے اندر چلا گیا میرے منہ سے دردناک چیخ پورے کمرے میں گونجی میں داڑہیں مار مار رونے لگی ھاےےےےےےے امی میں مرگئی جے ھاےےےےےےےےے میرا اندر پاٹ گیا اےےےےےے ھاےےےےےےےے اووووو کنجراں دیا دلیا حرامدیا کتی دیا بچیا پچھے ھوجا بار کڈ لے تینوں تیری ماں دا واسطہ اییییییی ھاےےےےے او میری پھدییییی پاٹ گئی جے ھاےےےےےےے مرگئیییییی میں پیچھے کو ھونے کی کوشش کرتی مگر میرا سر بیڈ کی ٹیک کے ساتھ لگ چکا تھا آگے کو ھو نہیں سکتی تھی اس دیو کے نیچے سے نکل نہیں سکتی تھی ۔تو بے بسی میں چلا چلا کر اپنے درد کو بیان کر کے جو منہ میں آرھا تھا کہی جارھی تھی اکری کو مذید غصہ چڑھا اس نے لن کو پیچھے کھینچا اور بس ٹوپا ھی اندر رہنے دیا اور دوسرا گھسا اس سے بھی ذور دار مارا مجھے ایسے لگا جیسے اکری کا لن میری بچے دانی کو بھی پھاڑ چکا تھا ۔ میری پھر دلدوز چیخ کمرے کی دیواروں سے ٹکرائی اور پھر اکری کے گھسوں اور میرے چیخوں سے پورا کمرا گونجنےلگ گیا۔ پانچ منٹ لگا تار چودنے کے بعد اکری نے ایکدم اپنا لن باہر نکالا اور میرے مموں کی طرف ٹوپا کر کے مُٹھ مارنے لگ گیا ۔ میرے سانس اکھڑے ھوے تھے درد سے میری جان نکل رھی تھی میرا ھاتھ میرے پیٹ پر تھا کہ اکری کے ٹوپے سے منی کی دھار نکل کر میری ٹھوڑی پر پڑی اور پھر وقفے وقفے سے منی نکلتی ھوئی میرے مموں اور پیٹ پر پڑتی گئی ۔ اور اکری فارغ ھوتے ھی ایک طرف لڑھک گیا اور سیدھا لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینےلگ گیا۔ میں دھواں دھار چدائی کے بعد دونوں ھاتھ اپنے منہ پر رکھ کر سکتے ھوے اسد کو اور اپنے آپ کو کوسنے لگ گئی کچھ دیر بعد اسد میرے قریب آیا اور ایک کپڑا میرے منہ پر دے مارا اور بولا چل گشتی اپنے ممے صاف کر باس نے ابھی تیری گانڈ بھی بجانی ھے ۔۔ میں روتے ھوے سسکتے ھوے کپڑے سے اپنا منہ اور ممے صاف کرنے لگ گئی ۔ اور اچھی طرح اکری کی منی کو اپنے جسم سے صاف کیا۔ اور اٹھ کر بیٹھنے لگی تو اکری جو میرے ساتھ لیٹا ھوا تھا اس نے مجھے پھر بستر پر گرا دیا۔ اور مجھے گھما کر سائڈ کے بل کرتے ہوے میری گانڈ کو اپنی طرف کردیا اور پیچھے سے میرے ساتھ چپک کر ھاتھ آگے لیجا کر میرے ممے کو پکڑ لیا ۔ میں نے پھر ہلکا پھلکا احتجاج کیا ۔ مگر اکری کی دھمکی سن کر پھر سہم گئی اور چپ کر کے لیٹی اپنے ممے دبواتی رہی اکری کا لن پھر اکڑ گیا تھا اور میری گانڈ کی دراڑ میں گھس چکا تھا ۔ اکری نے جب میری گانڈ کے سوراخ پر اپنے لن کا ٹوپا سیٹ کیا تو میں پہلی دفعہ اس سے مخاطب ہوئی اور تھوڑا آگے کھسک کر بولی ۔ پلیز پیچھے سے نہ کرنا مجھ سے برداشت نہیں ھوگا میں مرجاوں گی ۔ میری عزت تو تم نے لوٹ ھی لی ھے اگر پھر بھی کرنا ھی ھے تو پلیز میری اتنی سی بات مان لو اور آگے سے کر لو ۔ اکری بولا پہلے تم نے کون سا آرام سے کروایا ھے سارا مزہ خراب کردیا سالی ایسے تڑپ رھی تھی جیسے پہلی دفعہ لن لے رھی ھو۔۔۔۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ اکری خوشامد سے جلدی بات مان لیتا ھے تو میں نے بھی اکری کی کمزوری کو پکڑتے ھوے اسکی خوشامد کرتے ھوے کہا ۔ آپ کا تو لن ھی اتنا بڑا ھے کہ میرا سارا اندر ہل گیا آپ واقعی مرد ھو ۔ اور آپ جیسا مرد قسمت والوں کو ملتا ھے میں تو آپکی غلام بن گئی ھوں ۔ اور اسکے ساتھ ھی میں سیدھی ھوگی اور سیدھے ھوتے ھی میں نے اکری کا لن ہاتھ میں پکڑ لیا اور لن کو سہلانے لگی ۔ اکر کا چہرہ ایک دم خوشی سے کھل اٹھا تعریف چیز ھی ایسی ھے بندے کی سوچ بدل دیتی ھے چاھے وہ جھوٹی تعریف ھی کیوں نہ ھو۔۔ اکری نے مونچھوں کو تاو دیتے ھوے کہا ۔ شاباش یہ ھوئی نہ بات ۔۔ اکری سے جو لڑکی ایک دفعہ چد جاتی ھے وہ دوبارا اکری سے چدنے کے خواب دیکھتی ھے ترستی ھے پھر اکری کی مرضی کہ وہ اسے چودے یا نہ چودے ۔ چل جا تیری ایک خواہش پوری کی ۔ اب پھدی چدوانے میں میرا ساتھ دے اور اگر دوبارا ڈرامہ کیا تو پھر سمجھ لینا کہ تیری گانڈ پھٹنے سے تجھے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔ میں نے شکر ادا کرتے ھوے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا اور لن کو ہلاتے ھوے اکری کی طرف دیکھ کر مسکراتے ھوے شکریہ ادا کیا ۔ اکری میری مسکراہٹ پر قربان ھوتا ھوا میرے اوپر جھکا اور ہونٹوں کو میرے ہونٹوں پر رکھ دیا میں بھی اسے خوش کرنے کے لیے اور اس کے احسان کا بدلہ چکانے کے لیے اسکے ہونٹوں کو چوسنے لگ گئی اور اسکے لمبے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے اسکو یہ احساس دلانے لگی کہ اب میں تجھے پورا مزہ دوں گی۔۔۔۔ کچھ دیر ہم دونوں مزے لے لے کر کسنگ کرتے رھے اکری ایک دم رومینٹک ہوگیا اسکا حیوان مرگیا ان وہ انسانوں کی طرح میرے ساتھ سیکس کررھا تھا میرے جسم پر آہستہ آہستہ انگلیوں کی کنگی بنا کر پھیرتا تو کبھی میرے مموں کے نپلوں کو باری باری مسلتا رھا ۔ مجھے اکری کی تبدیلی صاف محسوس ھورھی تھی ۔ میرے دماغ میں اچانک ایک پلان آیا اور اس پلان کو عملی طور پر جامعہ پہنانے کے لیے اس وقت کا انتظار کرنے لگ گئی ۔۔ اکری میرے پورے جسم پر ھاتھ پھیر رھا تھا .اور میں بھی مصنوعی سسکاریاں بھر کر اسکو مذید جوش چڑھا رھی تھی ۔ اکری مجھے پاگلوں کی طرح چوم رھا تھا اور میں اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے سییییی اففففف آہہہہہہ کررھی تھی ۔۔ مجھے بھی اب ہلکا سا مزہ آنے لگ گیا تھا ۔ کہ اکری نے میری پھدی کے دانے کو انگلیوں میں پکڑ لیا اور مسلنے لگ گیا ۔ میرے جسم مین ایک دم کرنٹ دوڑا اور شہوت جاگی ۔ میں نے سیییییییییی کرتے ھوے اپنا سر اٹھا کر دوبارا تکیے پر دے مارا ۔ اور ہاتھ نیچے لیجا کر اکری کے ھاتھ کو پکڑ لیا ۔اورھاتھ کو پھدی پر دباتے ھوے گانڈ کو اٹھا کر منہ اے لمبی سسکاریاں نکالتی جس سے اکری کو اور جوش چڑھتا اور وہ مذید سختی سے میری پھدی کو مسلتا ۔۔ میرے اندر شہوت کی چنگاریاں پھوٹنا شروع ھویں اور میرا جسم اکڑنے لگا اکری نے ساتھ ھی بڑی انگلی پھدی کے اندر کی اور پھدی کے دانے کو انگلی کے نیچے دبا کر انگلی کو پھدی کے اندر باہر کرنے لگ گیا ۔۔۔ادھر میری جان حلق میں اٹکی ہوئی تھی انگلی چار پانچ دفعہ ھی اندر باہر ھوئی تھی کہ میری پھدی سے منی چھوٹ پڑی اور میں نے ھاےےےےےء سییییییی میں گئییییییییی کیا اور اکری کی انگلی کو پھدی مین اور اسکے ھاتھ کو چڈوں میں جکڑ لیا ۔۔۔اور جسم جھٹکے کھاتا ھوا کچھ دیر بعد بےجان ھوگیا۔۔۔ اکری میرے ہونٹوں کے قریب اپنے ہونٹ لایا اور میرے ہونٹوں کو چوم کر بولا واہہہہ یار تو تو بڑی گرم چیز ۔ھے اور اسکے ساتھ ھی اکری میری ٹانگوں کے بیچ آیا اور میری ٹانگوں کو پکڑ کر فولڈ کیا اور میرے گھٹنوں کو میرے پیٹ کے ساتھ لگا دیا۔۔ اور لن کا ٹوپا میری پھدی کے اوپر رکھ کر اندر کرنے لگا تو میں نے ایک نطر اسد کی طرف دیکھا جو ہماری فلم بنا رھا تھا ۔۔اور پھر میں نے اکری کے مضبوط بازوں کو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ کر اپنے اوپر لیٹنے کا کہا اکری جیسے ھی میرے اوپر ایا میں نے اسکے کان میں اہستہ سے کہا کہ جان اسکو تو باہر بھیجو پھر ہم کھل کر انجواے کریں گے اکری نے بڑی حیرت سے میری طرف دیکھا اور بولا پکی رانڈ اے توں ۔۔۔۔۔اور پھر اسد کی طرف دیکھ کر بولا چل بجے تھوڑی دیر واسطے بار چلا جا ۔ اسد نے کیمرہ انکھ سے ہٹاتے ھوے حیران ھوکر اکری کی طرف دیکھا اور بولا کیوں۔۔۔۔۔۔اکری نے غصے سے کہا پھدی دیا تینوں دنیا نئی بار چلا جا ۔۔اگوں سوال جواب کرن لگ پیاں ایں ۔ اسد نے برا سا منہ بنایا اور کیمرہ سائڈ ٹیبل پر رکھ کر اپنے کپڑے اٹھا کر باہر کی طرف نکل گیا اور دروازہ کھول کر بڑے غصے سے بند کردیا۔۔۔ اکری میری آنکھوں میں دیکھتے ھوے بولا ۔ اب خوش ۔۔ میں نے سر اٹھا کر اکری کے ہونٹوں کو چوما اور اسکا شکریہ ادا کیا۔۔ اکری پھر پیچھے ھوا، اور لن کو پکڑ کر پھدی پر سیٹ کیا اور جھٹکا مارنے لگا تو میں نے اسکی رانوں پر ھاتھ رکھتے ھوے کہا جانو آرام سے کرنا اکری نے ہلکا سا جھٹکا مارا تو ٹوپا پھدی میں گھس گیا مجھے ہلکی سی تکلیف ھوئی مگر ظاہر ذیادہ کرتے ھوے آئییییییییییی کیا تو اکری بولا اب بھی درد ھوا ۔ میں نے ھاں میں سر ہلایا ۔۔۔ اکری نے پھر ہلکا سا گھسا مارا میں نے پھر آہہہہہہہہہہ کیا اور تیسرے گھسے میں لن پھدی کی گہراءیوں میں اتر گیا میں نے اوکھے سوکھے لن کو برداشت کرلیا اور اکری کے بازوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا اکری اب گھسے مارنا سٹارٹ ھوچکا تھا اورمیری آہوں کا سلسلہ بھی شروع ھوچکا تھا ۔ اکری تھوڑا سا اوپر ھوا اور میرے گھٹنوں کو پکڑ کر گھسے مارنے لگ گیا میرے .ممے ذور ذور سے ہلنے لگ گیے میں آہ آہ اہ آہ آہ آہ سیییییییی ھاےےےےے کرنے لگ گئی کچھ دیر بعد اکری کے گھسون سے مجھے مزہ آنے لگ گیا اور میری آہیں سسکاریوں میں بدل گئیں ۔ اور میں چہرہ ایک طرف کیے سییییی آہ آہ کرنے لگ گئی اکری کا لمبا لن میرے اندر جاکر جب لگتا تو مجھے عجیب سا مزہ آتا اور میں چہرہ اوپر کر کے آہہہہہہہہ کرتی اور اکری میرے اس مزے کو مذید دوبالا کرتا ھوا بار بار اسی جگا اپنے لن کو مارتا جہاں سے میں مزے کی گہراءیوں میں چلی جاتی ۔ اکری کی سپیڈ تیز ھوگئی میری سسکاریاں بلند ھوگئیں میں اسے مذید تیز کرنے کا کہتی اور ساتھ آہہہ آہہہہہہہ اور تیز ھاں ادھر ھی کرو ھاں ادھ ھی ھاااااااا آہہہہہ ممممممممم میں گگگگئییییی اکککککری کرتے ھوے میں اچھل کر اکری کے ساتھ چمٹ گئی اور گانڈ کو اٹھا کر پھدی کے اندر سارررااااا لن لے لیا اور میرا جسم جھٹکے کھانے لگ گیا اور پھر پھدی کی برسات شروع ھوگئی ۔۔۔۔۔۔ اور کچھ ھی دیر میں جسم بےجان ھوکر بستر پر گر گیا۔۔۔ اکر چند لمحے ٹھہر کر میری تیز سانسوں سے ابھرتے مموں کا نظارہ دیکھتا رھا اور پھر میرے مموں کو دونوں ھاتھوں میں پکڑ کر دوبارا گھسے مارنے لگ گیا ۔ گھسوں سے میرا سارا جسم ہل رھا تھا اور تھپ تھپ کی آواز گونج رھی تھی بیس منٹ کی چدائی کے بعد اکری نے ایک جاندار گھسا مارا جس سے میری چیخ نکلی اور ساتھ ھی اکری نے لن باہر نکال کر میری پھدی کے اوپر ھی ساری منی بہا دی ۔۔۔۔۔ اور پھر چھلانگ مار کر بیڈ سے نیچے اترا اور واش روم کی طرف چلا گیا ۔میں نے دیکھا کہ جب اکری نے واش روم کا دروازہ بند کرلیا ھے تو میں نے جلدی سے کیمرہ اٹھایا، اور اسکو دیکھنے لگ گئی کے اسکی کیسٹ کہاں ڈلتی ھے میرے ھاتھ کانپ رھے تھے اور میری نظریں بار بار واش روم کے دروازے کی طرف تھیں ۔۔ اچانک مجھے کیسٹ والی سائڈ مل گئی میں نے بٹن دبایا تو کیسٹ والی سائڈ کھل گئی میں نے جلدی سے ایک چھوٹی سی کیسٹ نکالی اور کیسٹ والی ڈبی کو بند کرکے کیمرہ ادھر ھی رکھ دیا اور جلدی سے واپس اپنی جگہ پر آکر کیسٹ کو تکیے کے نیچے رکھ دیا۔۔ اور کپڑا پکڑ کر پھدی کو صاف کرنے لگ گئی اتنی دیر میں اکری واش روم سے باہر نکلا ۔ اور میرے قریب اکر بیٹھتے ھوے بولا ۔ مزہ آیا چدوانے کا۔ میں نے شرماتے ھوے سر نیچے کر کے اثبات میں ہلا دیا ۔ اکری بولا اب اسد سے بھی ایک دفعہ چدوا لے ۔ میں نے چونک کر اسکی طرف دیکھتے ھوے کہا ۔ نہیں میں بس اپکی ہوں مجھے اس سے سخت نفرت ھے اکری نے قہقہ لگاتے ھوے کہا ۔ واہ عورت ذات تجھ میں کتنے چلتر ہیں ۔ پہلے اس سے محبت تھی اور اب مجھ سے ھا ھا ھا ھا چل شاباش اب اس سے چدوالے اور یہ میرے ساتھ پیار شیار کے ڈرامے مت کر ۔ میں نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھتے ھوے کہا تم انسان ھو کہ جانور ھو تمہارے سینے میں دل نہی ھے کیا۔۔ اکری کا چہرہ ایکدم سرخ ھوگیا اور وہ جلدی سے کھڑا ھوا اور میرے سر کے بالوں کو پکڑ کر جھنجھوڑتے ھوے بولا ایک تو سالی کی زبان بہت چلتی ھے اسکے ساتھ ھی اس نے مجھے پیچھے کو دھکا دیا میں بیڈ پر گری اور اکری ننگا ھی دروازے کی طرف بڑھا اور درواز کھول کر باہر منہ نکال کر اسد کو آواز دی تو کچھ ھی دیر بعد اسد کمرے میں داخل ھوا ۔ اور آتے ھی قہر بھری نظروں سے مجھے دیکھنے لگ گیا ۔ اور ساتھ ھی اس نے جھٹ پٹ سے اپنے کپڑے اتارے اور اکری کو کہا چل استاد آج اسکی دونوں طرف سے ایک ساتھ بجاتے ہیں ۔ میں سہم کر پیچھے کو .کھسکی تو دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ھوے ہنسے اور اکری بولا سالی مجھے پاگل بنا رھی تھی میں نے تو جان بوجھ کر اسے باہر بھیجا تھا کہ تو میرا مزہ نہ خراب کر اکری ایک عورت کے پیچھے یار نہیں چھوڑتا ۔ اور پھر دونوں ایک ساتھ بیڈ کی طرف بڑھے اور اکری نے میرے بازو کو پکڑ کر کھینچا تو میں کسی کھلونے کی طرح اسکی طرف آگئی اور اکری ساتھ ھی بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔ اور پھر میرے ساتھ چمٹ کر مجھے چومنے لگ گیا اور میری دوسری طرف اسد آکر لیٹ گیا وہ پیچھے سے میری گانڈ کو مسلنے لگ گیا۔ میرا منہ اکری کی طرف تھا اور میری گانڈ اسد کی طرف ۔ اور میں دونوں کے درمیان سینڈوچ بنی ھوئی تھی ۔ دو مردوں کے ہاتھ میرے جسم پر پھر رھے تھے کچھ دیر میرے جسم کو سہلانے کے بعد اکری نے اپنا لن پکڑ کر میری پھدی کے اوپر رکھ کر میرے چڈوں میں گھسا دیا، اور مجھے کس کر جپھی ڈال لی ادھر پیچھے سے اسد نے لن میرے چوتڑوں میں گھسادیا اور دونوں کے لنوں کے ٹوپے میری ٹانگوں کے بیچ ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا گئے ایک لن پھدی پر اور دوسرا لن گانڈ کی دراڑ میں پہلے تو مجھے بہت عجیب سا لگا ۔اور میں احتجاج کرتی رھی مگر کچھ ھی دیر میں میرے اندر بھی شہوت جنم لینے لگ گی، اتنے میں اکری نے مجھے بازوں میں بھرا اور اپنے اوپر کر لیا میں اکری کا لن چڈوں میں لیے اسکے سینے پر ممے رکھ کر لیٹ گئی اور اکری نے وقت ضائع کیے بغیر ہاتھ نیچے لیجا کر لن کو پکڑ کر پھدی میں سیٹ کیا اور میری ٹانگوں کو کھول کے گانڈ اٹھا کر جھٹکا مارا اور لن پھدی مین اتار دیا میں درد سے ھائییییییییی کیا ۔ تین چار گھسے مارنے کے بعد اسد میرے پیچھے آیا اور اپنے لن پر تھوک لگا کر میری گانڈ کے سوراخ پر ٹوپے کو رکھا ۔ میں اکری کے اوپر گھوڑی بنی اسکا لن پھدی میں لیے ھوے تھی کہ پیچھے سے اسد نے ایک ذور دار جھٹکا مارا اور اسکا لن میری گانڈ کو چیرتا ھوا اندر چلا گیا میں نے ایک چیخ ماری اور آگے ھونے لگی تو اکری نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر پیچھے دھکیل دیا اسد کا پورا لن میری گانڈ مین اور اکری کا پورا لن میری پھدی میں تھا ۔ میری گانڈ میں بہت درد ھورھا تھا ۔ ۔چند لمحوں کے بعد دونوں نے آہستہ آہستہ گھسے مارنا شروع کردیے ۔۔ میں آہ آہ آہ مرگئییییی افففففف سییییی بہت درد ھورھی ھے پلیز مجھے چھوڑ دو میں مرجاوں گی کری جارھی تھی ادھر وہ دونوں اپنی مستی سے میری پھدی اور گانڈ کو چود رھے تھے میرے ممے اچھل اچھل کر اکری کے منہ کے پاس جارھے تھے جب اسد کے گھسے سے میرا مما ہلتا ہوا اکری کے منہ کے پاس جاتا تو اکری میرے نپل کو ہونٹوں میں بھر کر ایک چوسا لگاتا اور ممے کو چھوڑ دیتا ۔۔ پانچ منٹ بعد ھی اسد کی گھسوں کی سپیڈ تیز سے تیز ھوتی گئی اور میرے ممے ہلتے ھوے اکری کے منہ پر تھپیڑے مارنے لگ گئے پھر اسد نے میری کمر کو ذور سے بھینچا اور ایک زوردار گھسا مارتے ھوے پورا لن میری گانڈ میں کر کے میرے اوپر ھی لیٹ گیا مجھے اپنی گانڈ میں اسد کی منی کے فوارے صاف محسوس ھورھے تھے ۔ اسد جب میرے اوپر لیٹا تو میں اسکے وزن کے ساتھ اکری کے اوپر لیٹ گئی اکری میرے نیچے اور میں اسد کے نیچے تھی ایک منٹ ایسے ھی ہم لیٹے رھے ۔ تو اسد نے جھٹکے سے لن میری گانڈ سے نکالا اور واش روم کی طرف بھاگ گیا ۔ پھر اکری نے مجھے پندرہ بیس منٹ چودا میں مرنے والی ھوچکی تھی دو تین گھنٹے کی چدائی نے میرا برا حال کردیا تھا اکری بھی لن نکال کر میرے اوپر ھی فارغ .ہوگیا، میں کچھ دیر ایسے ھی پڑی رھی بے جان ۔ کچھ دیر بعد جب میری آنکھ کھلی تو اسد ہاتھ میں ایک گن کی طرح مشین ھاتھ میں لیے کھڑا تھا جس کے آگے سوئی لگی ھوئی تھی ۔ اکری بولا چل یار جلدی سے میرے اور اپنے نام کی مہر اسکی پھدی پرلگادے تاکہ یہ جب بھی پھدی کو دیکھے اسکو ہماری یاد آے اور جب اسکو ہماری یاد آے گی تو پھر اسکو اپنی چدائی کی فلم بھی یاد آے گی ۔ میں ابھی تک مہر کا مطلب نہ سمجھ سکی کہ یہ کام سی مہر لگانے کی بات کررھے ہین ۔ جب اکری نے میری ٹانگوں کو پکڑا اور اسد مشین کو چلس کر میری طرف بڑھا اور میری پھدی کے اوپر والے حصہ پرسوئی رکھ کر کچھ لکھنے لگ گیا تو مارے درد کے میری جان نکلنے لگی اکری مجھے دھمکیاں دیتا ھوا مجھے برداشت کرنے کا کہ رھا تھا دو تین منٹ کی تکلیف دینے کے بعد اسد ہنستا ھوا پیچھے ہٹا اور بولا چل گشتیے کپڑے پہن لے اور ایک دفعہ پھدی کو غور سے دیکھ لے ۔اور دونوں نام یاد رکھنا ۔ اکری &،اسد
  9. .میں بڑے غور سے عظمی کی بات سن رھا تھا ۔ عظمی ایکدم اونچی اونچی رونے لگ گئی ۔ میں جو پہلے اسکی یہ سب باتیں سن چکا تھا ۔ تو میں جھنجھلا کر غصے سے بولا بس یہ ھی بکواس سنانی تھی جو پہلے بھی سنا چکی ھو ۔ اور میں ساتھ ھی کھڑا ہوگیا عظمی روتے ھوے ایکدم چپ ھوگئی اور بولی پوری بات تو سن لو ۔ میں غصے سے عظمی کی طرف دیکھتے ھوے دوبارا بیٹھ گیا ۔ عظمی بولی ۔ میں نے جب پیچھے مڑکر دیکھا تو اکری میری طرف بڑے غصے سے بڑ رھا تھا اس سے پہلے کہ میں اٹھ کر دوبارہ دروازے کی طرف بڑھتی اکری نے مجھے سر کے بالوں سے پکڑا اور مجھے کھڑا کرتے ھوے بولا بڑی جلدی ھے تجھے اکری کے پنجرے سے آزاد ہونے کی ۔ یہاں ہر لڑکی اپنی مرضی سے آتی ھے مگر جاتی اکری کی مرضی سے ھے ۔ یہ کہتے ھوے اکری نے مجھے بالوں سے پکڑے بیڈ کی طرف گھسیٹتے ہوے لے گیا اور میں بے بس لاچار روتی ہوئی اسکی منتیں کرتی ہوئی اس کے آگے گڑاگڑاتی رھی مگر اس ظالم اور سفاک شخص نے میری ایک نہ سنی اور مجھے گھسیٹتا ہوا بیڈ کے پاس لے گیا اور پھر ایک ذوردار تھپڑ میرے منہ پر مارا مجھے ایسے لگا جیسے میری گال پر کسی نے ہتھوڑا ماردیا ھو اس کا ہاتھ کم اور لوھا ذیادہ تھا ۔ میں تھپڑ کھاتے ھی لڑکھڑا کر بیڈ پر جاگری ۔اور اس کو واسطے دینے لگی پھر گڑگڑانے لگی کہ شاید اس کے دل میں رحم آجاے مگر وہ نشے کی حالت میں جھوم رھا تھا اسکی نشے سے چور بڑی بڑی خوفناک آنکھیں میرے سینے پر ٹکی ہوئیں تھی ۔ ۔دوستو آگے سٹوری میں سیکس کی منظر کشی اور سٹوری میں عظمی کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا اس نے سادہ الفاظ میں مجھے بتایا تھا مگر اس سین کو مذید سیکسی بنانے کے لیے عظمی کی بات کو میں اپنے انداز کروں گا explain میں امید ھے آپکو اعتراض نہی ھوگا یہ تبدیلی صرف آپ کی انٹرٹینمنٹ کے لیے کررھا ھوں.۔ ادھر اسد بھی کھڑا ھوگیا تھا اور اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑے مسل رھا تھا اور ساتھ میں اکری کو کہہ رھا تھا ۔ اکری اج اے گشتوڑ ایتھوں سُکی نہ جاوے ایدی پھدی نوں اج پُھدا بنا کے پیجنا اے ۔ یہ کہتے ھوے اسد بھی بیڈ کی دوسری سائڈ سے میری طرف بڑھنے لگا ۔ اب ایک طرف اکری کھڑا تھا اور دوسری طرف اسد ۔ اکری اپنی مکرو شکل کو مذید بگاڑتے ھوےمونچھوں کو تاو دیتے ہوے بدمعاشی انداز میں قہقہہ لگا کر ہنسا تو اس کے گندے دانت نظرے آنے لگے اور وہ بولا ۔ او توں فکر نہ کر اینا ذبردست تے مست مال میں سُکا کیویں جان دیواں گا ۔ پنڈ دی پلی ہوئی جوانی اج میرے ہتھے چڑی اے تے نالے لگدے ہتھ تیرا بدلہ وی لینا اے ۔ جیڑے لن تے اینے لت ماری سی اج او ھی لن ایسے منہ وچ جاوے گا تے اے چوسے گی ۔ ھا ھا ھا ھا ھا ۔ اسد بولا ۔ ہاں اکری یار اس سالی نے میرے لن پر ٹانگ ماری تھی یہ تو شکر ھے کہ اس گشتی کا پیر میرے ٹٹوں پر نہی لگا ورنہ میں تو گیا تھا۔ چل آج اسکی سہاگ رات کا ارمان سہاگ دن کو پورا کر دیتے ہیں ۔۔اور ایک لن کے ساتھ ایک لن منہ دیکھائی میں گفٹ بھی دیں گے ھا ھا ھا ھا ھاھا ۔ میں سہمی ہوئی بیڈ پر سمٹی ہوئی کبھی اکری کی طرف س دیکھتی تو کبھی اسد کی طرف ۔ مگر دونوں کی طرف سے مجھے کوئی رحم کی امید نظر نہ آرھی تھی بلکہ دو دو لن ایک ساتھ لینے کی یقین دہانی کرائی جارھی تھی ۔ میں نے جب دونوں کے دل کہ ارمان انکی زبانوں سے سنے تو میرا حلق خشک ھوگیا خوف کے مارے میرا جسم کانپنے لگ گیا میرے ہونٹ ایسے تھرتھرانے لگے جیسے دسمبر کی راتوں میں بارش میں بھیگ جانے کے بعد سردی سے تھرتھراتے ہیں ۔ میں مذید سمٹتی ھوئی پیچھے بیڈ کی ٹیک کے ساتھ جا لگی اور اونچی آواز میں چلانے لگی بچاو مجھے بچاو بچاو ۔ میں مدد کے لیے چلا رھی تھی اور وہ دونوں میں میرا تمسخر اڑاتے ھوے ایک ساتھ قہقہے لگا رھے تھے اور ساتھ ساتھ مجھے اکسا رھے تھے اور اونچی آواز میں مدد کے لیے بلاو اور اونچی چلاو شاید کو آجاے تمہیں بچانے ۔ ھا ھا ھا ھا اکری بولا مگر کان کھول کر سن لے تیری آواز اس حویلی سے باہر تو دور کی بات ھے اس کمرے کے باہر کھڑے میرے گن مین بھی نہیں سن سکتے ۔ سمجھی پھر بھی تو چلا کر اپنا شوق پورا کر اور ہم تیری مست جوانی کے ساتھ من مستیاں کر کے اپنا شوق پورا کرتے ہیں ھا ھا ھا ھا آہستہ آہستہ ان دونوں کے قہقہے بلند ہوتے گئے اور میری آواز دبدتی گئی بلاخره انکے مکرو قہقہوں میں میری پکار دب گئی اور دونوں ایک ساتھ میرے دائیں بائیں بیڈ پر بیٹھے اور دونوں کے ہاتھ میرے جسم کی طرف بڑھے ۔ میں نے جب ان دونوں کو اپنے اتنے قریب دیکھا تو اٹھ کر سامنے کی طرف بھاگنے لگی تو میرے ایک بازو کو اکری نے پکڑ لیا اور میرے دوسرے بازو کو اسد نے اور کھینچ کر مجھے واپس بیڈ پر پھینکا تو میں بلکل سیدھی بیڈ پر آکر گری میرے جسم پر صرف سکول یونیفارم تھا ۔ میری چادر پہلے ھی اتر چکی تھی ۔ جب میں پیچھے کو گری تو میرے بڑے بڑے تنے ہوے ممے ذور سے ہلے ۔ میرے ہلتے ھوے چھلکتے ھوے مموں کو اکری نے جب دیکھا تو ۔ اس نے سییییییییی افففففففففف ھوے اوے کیا بُبے ہیں اور دوسرا ہاتھ میرے ممے پر رکھ کر میرے ممے کو اپنے بڑے سے ہاتھ میں لے کر دباتے ھوے بولا اسد یار کیا مال گھیر کر لاے ھوے دل خوش کردیا اسکے ممے اتنے ذبردست ہیں تو اسکی پھدی اور گانڈ کیسی کمال ہوگی ۔ واہ یار آج تو تم نے دل خوش کردیا اب سمجھ لے تو میرا خاص بندا ھے ۔ اسد نے کسی خادم کی طرح سینے پر ہاتھ رکھ کر سرخم کیا۔ اکری نے میرے بڑے سائز کے ممے کو اپنی مٹھی میں بھرا ھوا تھا اور دبا دبا کر مزے سے. افففففففف یارررررر کیا فوم ھے ۔۔۔ میں چیخ چیخ کر تھک چکی تھی میرا گلا بیٹھ گیا تھا ۔مجھے اب پورا یقین ھو چکا تھا کہ میں کسی صورت میں دولن لیے بغیر ۔یہاں سے نہیں جاسکتی ۔ مجھے اسد سے ذیادہ اس دیوقامت اکری سے خوف آرھا تھا ۔ جسکا قد اتنا بڑا جسکے ھاتھ اتنے بڑے کہ میرے اتنے بڑے ممے کو پورا ھی ہاتھ میں لے لے اسکا لن کتنا بڑا ھوگا ۔ مارے خوف کے اے سی والے کمرے میں مجھے پسینہ آرھا تھا ۔ اتنے میں اکری نے اسد کو کہا کہ یار کیمرا تو پکڑ کے لا اس پھلجڑی کی ساتھ فلم بھی بناتے ہیں ۔ بچی ٹائٹ ھی مشکل وقت میں کام آے گی ۔ اور جب چدتے ھوے اسکی فلم ہمارے پاس ھوگی تو جب چاہیں گے یہ مٹیار دوڑی چلی آے گی ۔۔۔ ورنہ تو یہ .پُھر ہوجاے گی ۔ ایسا مال بار بار ہاتھ نہیں آتا۔ میں نے جب اپنے چدنے کی فلم بننے کا سنا تو میں نے پھر پھٹی آواز میں چلانا شروع کردیا مگر کون تھا جو میری پکار سنتا اسد میرا بازو چھوڑ کر کمرے میں بنے ایک اور دروازے کی طرف بڑھا میں نے جب اسد کو کیمرہ لینے جاتے دیکھا تو میں نے پورا زور لگا کر اکری سے اپنا بازو چُھڑوانے کے لیے ذور لگایا مگر میرے بازو پر اسکی گرفت ایسی تھی کے میرا سارا ذور لگانا بھی میرے کام نہ آیا۔ میں نے جب دیکھا کہ اب میرا بچنا نہ ممکن ھے تو میں نے اکری کو ماں بہن کی گالیاں دینا شروع کردیں ۔ اکری ہنستا ہوا ایکدم سیریس ھوا اور وہ اپنے دیوقامت جسم کے ساتھ بیڈ پر چڑھا اور میرے سامنے آتے ھی اس نے میرے منہ پر ایک زوردار تھپڑ مارا اور بولا گشتی کی بچی مجھے گالی دیتی ھے اکری جمو کو گالی دیتی ۔ اسکے ساتھ ھی پھر میرے منہ پر تھپڑوں کی بارش شروع ہوگئی اکری نے میرے دونوں بازوں کو کلائیوں سے اپنے ایک ہاتھ میں پکڑا ھوا تھا اور مجھے گندی فاحشہ گالیاں دیتا ھوا ماری جارھا تھا ۔ اکری کے تھپڑ کھا کر میری زبان اور میری آنکھیں بند ھوگئیں اور میں نڈھال ھوکر پیچھے کو گرنے لگی ۔ مگر اکری نے میری کلائیوں کو پکڑا ھوا تھا تو میں ہوا میں ھی جھول رھی تھی ۔ اکری نے جب میری حالت دیکھی تو میری کلائیوں کو چھوڑ دیا ۔ میں بے جان سی ھوکر پیچھے گری اور کچھ دیر نیم بےہوشی کی حالت میں پڑی ۔ مجھے اسد کی آواز نے دوبارا ہوش دلایا۔ جب وہ اکری سے کہہ رھا تھا ۔ استاد اسے کیا کردیا ۔ سالی پہلے تو بڑا پُھڑپھرا رہی تھی ۔ کہیں اس کے پر تو نہیں کاٹ دیے ۔ اکری کی آواز میرے کانوں میں پڑی کہ ابھی تو اسکو ایک جھلک دیکھائی ھے باقی کی فلم تو باقی ھے ۔ میں نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں اور جب میری اکری پر نظر پڑی تو مجھے اکری سے پڑے تھپڑوں کی تکلیف بھول گئی اور اپنی پھدی کی فکر پڑ گئی ۔ اکری اپنا لمبا اور موٹا لن پکڑےمیرے منہ کے قریب بیٹھا تھا ۔ اکری کے جسم پر صرف بنیان ھی تھی باقی کے سارے کپڑے اتار چکا تھا ۔ اکری کا لن دیکھ کر میری نیم کھلی آنکھیں ایکدم پوری کھل گئیں اور میرا حلق خشک اور زبان گنگ ہوگئ ۔ میں سکتے کے عالم میں پھٹی انکھوں سے اکری کے تگڑے لن کو دیکھی جارھی تھی ۔ اتنے میں مجھے دوسری طرف بھی کسی کی موجودگی کا احساس ھوا ۔تو میں نے سکتے کے عالم میں ھی نظروں کو گھما کر جب دوسری طرف دیکھا تو اسد بھی مادر ذاد ننگا میرے بائیں طرف گھٹنوں کے بل اپنا لمبا لن لہراتے ہوے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ویڈیو کیمرا پکڑے میرے منہ کی طرف کر کے بیٹھا ھوا تھا ۔ مجھے ایکدم ہوش آیا مجھ سے اور تو کچھ نہیں ہوسکا میں نے جلدی سے اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر اپنے چہرے کو چھپا لیا اچانک میری دونوں کلائیوں کو دو ہاتھوں نے پکڑا اور میرے چہرے سے میرے ہاتھ ہٹتے گئے میں پھر چیخنا چاہ رھی تھی مگر میرے حلق سے آواز نہیں نکل رھی تھی میرا ایک ہاتھ اکری نے اور دوسرا اسد نے پکڑا ھوا تھا میں نے چیخنے کے لیے جیسے ھی منہ کھولا تو اسکے ساتھ ھی اکری گھٹنوں کے بل ھی اگے کو کھسکا اور اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوے اپنے تگڑے لن کے موٹے ھوے ٹوپے کو میرے کھلے منہ میں ٹھونس دیا میرے منہ میں اکری کے لن کا صرف ٹوپا ھی گیا تھا کہ ٹوپے سے ھی میرا منہ بھر گیا میں نے ابھی یہ سوچ کر اکری کہ ٹوپے پر دانت رکھے ھی تھے کہ ٹوپے کو کاٹ لوں کہ اکری نے کرخدار آواز میں کہا آرام سے ٹوپا چوس لے اگر کچھ الٹا سیدھا کیا تو اس حویلی کے سارے نوکروں سے تجھے چُدواوں گا ۔۔۔ اکری کی دھمکی سن کر میں مذید سہم گئی اور ٹوپے کو کاٹنے کا ارادہ مسترد کرتے ھوے میں نے دانتوں کو ٹوپے سے ہٹایا اور ہونٹوں کو ٹوپے کے نچلے حصہ پر رکھ کر لن کو ہونٹوں میں بھر لیا اب لن کا موٹا ٹوپا میرے منہ کے اندر تھا اور میرے ہونٹوں نے موٹے لن کو اپنے احصار میں لیا ہوا تھا ۔ اکری ہنستے ھوے بولا شاباش سمجھدار ھوگئی ھو ۔ چلو شاباش اب اسے میٹھا گنا سمجھ کر چوسو اور تب تک چوستی رہو جب تک میں خود نہ تمہیں روکوں ۔ اور کان کھول کر سن لو میں بات کو دھرانے کا عادی نہیں ہوں آگے تم خود سمجھدار ھو ۔ اس کے ساتھ ھی اکری نے میری کلائی کو بھی چھوڑ دیا ۔ میں ٹوپے کو منہ میں لیے لن کو ہونٹوں میں دباے ھوے پھٹی آنکھوں سے اکری کی طرف دیکھ رھی تھی اور اسکی بات ختم ھوتے ھی میں نے فرمانبرداری سے ٹوپے کو منہ کے اندر کھینچتے ھوے اور لن کے گرد ہونٹوں کا گھیرا تنگ کیا اور اکری کے لن کا چوپا لگانے لگ گئی اکری کے منہ سے سسکاری نکلی اور وہ آنکھیں بند کر کے منہ چھت کی طرف کرکے چوپا لگوانے کا مزہ لے رھا تھا اور میں ناچاہتے ھوے بھی اسکے موٹے اور کالے شیش ناگ کو منہ میں لے کر چوسی جارھی تھی اکری نے اپنا ایک ھاتھ آگے بڑھایا اور میرا تنا ھوا گول مما ہاتھ میں پکڑا کر دبانے لگ گیا اور دوسرا ھاتھ میرے سر کے نیچے لیجا کر میرے سر کو مزید اوپر کردیا اور میرے سر کو اوپر کرتے ھوے لن کو مزید میرے منہ کے اندر باھر کرنے لگ گیا جب لن تھوڑا اور میرے منہ کے اندر گیا اور ٹوپا میرے ہلک کے قریب پہنچا تو مجھے ابکائی آنے لگ گئی اور میرا سانس بند ہونے کو ھوگیا۔ میں نے اپنا ایک ہاتھ اپنے منہ کے قریب کیا اور اکری کے موٹے گنے کو جڑ سے پکڑ کر پیچھے کی طرف دھکیلنے لگ گئ۔ اکری مزے میں لن کو میرے منہ کے اندر کرنے کی کوشش کرتا میں سانس بند ہونے کی تکلیف سے اسکے لن کو پکڑے پیچھے کی طرف دھکیلتی ادھر اسکا ھاتھ مسلسل میرے ممے کو اپنی گرفت میں لے کر پمپنگ کررھا تھا ۔ مجھے اسد اور اسکے ہاتھ میں پکڑا ہینڈی کیم بھول گیا تھا ۔ کچھ دیر میں چوپا لگانے کی اذیت سے دوچار رہی میرا رنگ ٹماٹر کی طرح سرخ اور میری آنکھوں سے پانی کا سیلاب چل رھا تھا بلاخره اکری کو میری اذیت کا احساس ھوا یا پھر اس کا چوپے سے دل بھر گیا تھا ۔ خیرا اس نے اپنے ہتھیار کو میرے منہ سے نکالا تو مجھے سکھ کا سانس آیا اور میں لمبے لمبے سانس لے کر کھانستے ھوے منہ دوسری طرف کر کے کروٹ لے کر لیٹ گئی ۔۔ کھانستے کھانستے میرا دھیان جب سامنے پڑا تو میری آنکھوں کے سامنے اسد کا لن لہرا رھا تھا ۔ اس سے پہلے کہ میری کھانسی رکتی اسد نے اپنے تنے ھوے لن کو میرے ہونٹوں پر پھیرنا شروع کردیا ۔ میں منہ ادھر ادھر کرنے کی کوشش کرنے لگی اسد بولا استاد سالی پھر نخرے کرنے لگ گئی ھے اسد کی بات سنتے ھی اکری نے پھر اسی انداز میں کہا ۔ لگتا ھے کہ تجھے ایک بار کہی بات جلدی بھول جاتی ھے میں نے چاروناچار پھر منہ کو کھولا اور اسد کے موٹے لن کو منہ میں بھر لیا اکری کے لن کی نسبت اسد کا لن چھوٹا تھا اور موٹائی میں بھی کم تھا ۔ اس لیے اسد کے لن کا چوپا لگانے میں مجھے ذیادہ مشکل پیش نہیں آرھی تھی ۔ میری گانڈ اکری کی طرف تھی اور میں سائڈ کے بل اسد کی طرف منہ کر کے لیٹی ھوئی اسد کے لن کا چوپا لگا رھی تھی اور اسد بھی مزے لے لے کر سسکاریاں بھر رھا تھا۔۔ اتنے میں مجھے اپنے پیچھے گانڈ پر اکری کا لن محسوس ھوا اور اسکے ساتھ ھی اکری سائڈ کے بل میری پیٹھ کی طرف منہ کر کے میرے ساتھ لگ گیا اور میری شرٹ کو میرے پیٹ سے اوپر کر میرے ننگے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ھوے قمیض کے اندر سے میرے مموں کی طرف لیجاتے ھوے شلوار کے اوپر سے ہی لن کو میری موٹی گانڈ کی دراڑ میں ڈالنے لگ گیا۔ میں گبھرا کر تھوڑا سا کسمکسائی تو اکری نے میرے ممے کو پکڑ کر دبا کر مجھے شانت رہنے کا سگنل دیا ۔ میں بیچاری بے بس ہوا کی بیٹی کیا کرتی چپ کر کے لیٹی ایک لن کو منہ میں لیے اور دوسرے لن کو گانڈ کی دراڑ میں گھستے برداشت کررھی تھی ۔ میں جیسے ھی شانت ہوئی تو اکری نے اسد کو کہا بچے اب بس بھی کر کے اس بیچاری کا منہ ھی چودنا ھے ۔اسد نے جی استاد کہا اور لن کو میرے سے کھینچ کر باہر نکالا اور میں نے بھی سکھ کا سانس لیا ۔ سانس کیا لینا تھا کہ اکری نے اسی وقت مجھے سیدھا کیا اور مجھے بازو سے پکڑ کر اٹھا کہ بٹھا دیا۔ اور میری قمیض کو پکڑ کر اوپر کرنے لگ گیا میں نے تھوڑا سا احتجاج کیا مگر اکری نے جب مجھے گھور کر دیکھا تو اسکی سرخ خوفناک آنکھوں کو دیکھ کر میں ہینڈزاپ کیا تو اکری نے شیطانی مسکراہٹ ہونٹوں پر لاتے ھوے میری قمیض کو اوپر کرتے ھوے میرے سر سے نکال کر میرے بازوں سے نکال دی ۔ اور بیڈ سے نیچے پھینک دی ۔ اکری کی نظر جب میرے دودھیا جسم پر اور کالے بریزیر میں قید چٹے سفید بڑے بڑے گول مٹول تنے ھوے مموں پر پڑی تو اسکی آنکھیں مزید کھل گئیں اور اس کے منہ سے لاریں ٹپک پڑی جیسے پہلی دفعہ اس نے اتنا گورا جسم اور اتنے تندرست ممے دیکھے تھے میں نے جب اسے اپنے مموں اور جسم کو گھورتے دیکھا تو میں نے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں پر رکھ کر بازوں میں اپنی ادھ ننگی جوانی کو چھپا لیا۔۔مگر اس کمبخت نے اسی وقت میری کلائیوں کو پکڑا اور جھٹکے سے میری جوانی کو عیاں کرتے ھوے میری طرف دیکھتے ھوے نفی میں سر ہلاتے ہوے مسکرا کر بولا ۔ میری جان من اس حسین نظارے کو چھپانے کے لیے تمہیں ننگا نہیں کیا ۔ بےبسی سے میری آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ۔ مگر اس جانور کو کیا میرے آنسووں سے اکری نے میرے مموں کی لائن میں دو انگلیاں ڈالیں اور ایک جھٹکے سے میرے بریزیر کو کھینچا تو بریزیز آگے سے دو حصوں میں تقسیم ھوگیا اور میں بھی جھٹکے سے ھاےےےے کرتی ھوئی اکری کے سینے کے ساتھ لگ کر واپس اپنی جگہ پر آئی میرے ممے آگے سے ننگے ھوچکے تھے اکری نے پھٹے ھوے بریزیر کو میرے بازوں سے اتارا اور نیچے پھینک کر میرے دونوں مموں کو مٹھیوں میں بھینچ لیا ۔ اکری کی گرفت اتنی سخت تھی کے میرے نازک مموں پر اسکی انگلیوں کی نشان پڑ گئے اور میں درد سے ھاےےےےےےےےےے کر کے اکری کے سخت ھاتھوں پر اپنے نرم ہاتھ رکھ کر التجائی نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگ گئی ۔ اسد بیڈ سے نیچے اتر کر ننگا کھڑا تھا اور ایک ھاتھ میں اپنا لن پکڑ کر مسل رھا تھا اور دوسرے ھاتھ سے میری اور اکری کی فلم بنا رھا تھا۔ اکری میرے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا میرے مموں کو سختی سے پکڑ کر دبوچ رھا تھا اور میں اسکے ھاتھوں پر ھاتھ رکھے درد سے سییییی اور ھاےےےےے کر رھی تھی ۔ اکری نے کچھ دیر میرے مموں کو بےدردی سے دبایا اور پھر مموں کو پکڑے ھی مجھے پیچھے دھکیل دیا اور خود میری ٹانگوں کے درمیان آگیا ۔ میں پیچھے کی طرف لیٹ گئی میرا سر تکیےپر تھا اور میری ٹانگیں کھلی ھوئی تھی اور اکری میری ٹانگوں کے بیچ گھٹنوں کے بل بیٹھا میرے ممے دبا رھا تھا ۔ اکری پھر پیچھے کو کھسکا اور اپنے دیو قامت جسم کو میرے اوپر کرتے ھوے میرے ایک ممے کو اپنے بڑے سے منہ میں لے کر چوسنے لگ گیا ۔ اکری نے جیسے ھی میرے ممے کو منہ میں بھرا اور میرے نپل کو منہ کے اندر ھی زبان سے چھیڑا تو میرے جسم میں کرنٹ سا دوڑا اور میرے منہ سے بےاختیار سییییییییی نکلا ۔ اکری نے میری سسکاری سنتے ھی آنکھیں اٹھا کر میرے منہ کی طرف دیکھا تو مجھے اپنی غلطی کا احساس ھوا کہ میں نے سیییی کیوں کیا مگر میں کیا کرتی کب سے دو لنوں کو چوس رھی تھی آخر میں بھی جوان تھی نپل کا چوسا لگتے ھی مزے کی لہر نے سارے دکھ درد بھلادیے اور بےساختہ منہ سے سسکاری نکل گئی سسکاری سنتے ھی اکری کو بھی جوش آگیا اور وہ میرے نپل کو کبھی دانتوں میں لے کر مسلتا تو کبھی ہونٹوں میں لے کر چوستا میں خود پر بڑا کنٹرول کر رھی تھی مگر پھر بھی لزت میرے دماغ پر سوار ھوتی جارھی تھی ۔ اکری کافی دیر باری باری میرےمموں کو چوستا رھا ۔ پھر وہ سیدھا ھوا اور اپنی بنیان اتار دی اسکے جسم کو سیاہ بالوں نے چھپا رکھا تھا جیسے ریچھ کے جسم پر بال ہوتے ہیں بنیان اتار کر وہ پھر میرے اوپر جھکا اور میرے ہونٹوں کے قریب اپنے ہونٹ کیے اور میں نے منہ دوسری طرف کرلیا اسکے منہ سے شراب کی اور سگریٹ کی گندی بو سے مجھے الٹی آنے والی ھوگئی اکری مجھے منہ دوسری طرف کرتے دیکھ کر بولا ۔ شہزادی لن سے تو اچھا ھے میرا منہ اور اس کے ساتھ ھی اس نے زبردستی میرا منہ سیدھا کیا اور اپنے گندے کالے موٹے ہونٹ میرے گلاب جیسے سرخ نرم ملائم ہونٹوں پر رکھ کر میرے ہونٹ چوسنے لگ گیا اور آنکھوں سے مجھے دھمکی دیتے ھوے میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ہلاتے ھو ے مجھے فرنچ کسنگ کرنے کا کہنے لگ گیا ۔ مجبوراً مجھے بھی اسکا ساتھ دینا پڑا ۔ اکری میری ننگے جسم کے ساتھ اپنا ننگا جسم لگا کر مزے لے لے کر میرے ھونٹ چوستا تو کبھی میری زبان کو اپنے منہ میں بھر کر کھینچ کر چوستا مجھے مزے کی بجاے درد ھو رھا تھا اسکے منہ کی بدبو اس کے لباب کے ذریعے میرے اندر سما چکی تھی ۔مگر پھر بھی مجھے الجھن ہورھی تھی اسکی بڑی بڑی مونچھیں میرے ہونٹ کے اوپر والے حصہ پر کانٹوں کی طرح چُبھ رہیں تھی ۔۔ بس ایک چیز میرے اندر کی گرمی کو میرے دماغ پر سوار کرنے کی کوشش کررھی تھی ۔ جی بلکل وہ تھا اکری کا تگڑا موٹا لوڑا جو میری پھدی کےاوپر دباو ڈالے ھوے تھا ۔ بس لن اور پھدی کے درمیان میری شلوار آڑ بنے ھوے تھی ورنہ اکری کا لوڑا میری پھدی کو پھدا بنانے میں ایک سیکنڈ بھی نہ لگاتا مگر میں پھر بھی خود پر کنٹرول کررھی تھی کہ مجھ سے کوئی ایسی حرکت نہ ھو جس سے اکری کو لگے کہ میں چدنے کے لیے تیار ھوں ۔ میں ایسے ھی ریکشن کررھی تھی جیسے بڑی مجبوری سے اکری کا ساتھ دے رھی ہوں اور یہ حقیقت بھی تھی کہ واقعی میں مجبوری میں ھی سب کچھ کررھی تھی ورنہ ایسے بدصورت شخص پر تھوکنا بھی گوارہ نہ کرتی۔ خیر اکری لن کو میرے پھدی کے اوپر دباے ھوے میرے مموں پر اپنا سینہ رکھے مزے کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا ھوا میرے نازک ہونٹوں کیایسی تیسی کررھا تھا اور میں بھی اس پُچ پُچ میں اسکا ہلکا پھلکا ساتھ دے رھی تھی۔ کچھ دیر بعد اکری میرے اوپر سے اٹھا اور میری شلوار کو پکڑ کر نیچے کھینچنے لگا ۔ تو میرے اندر پھر غیرت شرم حیاء کا مادہ پیدا ھوگیا اور میں نے جلدی سے شلوار کو لاسٹک والے حصے سے پکڑ لیا اور. اونچی آواز میں رونے لگی گڑاگڑانے لگی ۔ واسطے دینے لگی اکری شلوار نیچے کرنے کی کوشش کرتا مگر میں شلوار کو مضبوطی سے پکڑے اوپر کھینچتی اور اسکی منتیں کرتی ۔ پتہ نہیں مجھ میں اتنا ذور کہاں سے اگیا تھا ۔ اسی تگ ودو میں میرے سینے کےابھار چھلک رھے تھے اور جب اکری نے دیکھا کہ گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکل رھا تو اکری نے میری شلوار کو چھوڑا اور ایک زناٹے دار تھپڑ میرے ابھرے ھوے ممے پر مارا اور گرجدار آواز میں بولا سالی کو پیار کی زبان سمجھ میں نہیں آتی جب تو چدنے کے لیے ھی یہاں آئی ھے تو پھر نخرے کیوں کررھی ھے ممے پر تھپڑ پڑتے ھی میں درد سے بلبلا اٹھی اور ہاےےےےےے امی جیییییی کرتے ھوے شلوار کو چھوڑ کر اپنے ممے کو پکڑ کر سہلاتے ھوے تھپڑ کی جلن کو دور کرنے لگی ۔ ادھر میرے ھاتھ ممے کی طرف بڑھے ادھر اکری کے ھاتھ میری شلوار پر پہنچے اور پھر ایک جھٹکے سے میری شلوار میرے گھٹنوں میں پہنچ گئی اور میری کلین شیو پھدی اکری کی آنکھوں کے سامنے تھی اورشلوار اترنے کے غم میں میں ممے سے ہاتھ ہٹا کر اپنے منہ پر رکھ کر رانوں کو بھینچ کر پھدی کو رانوں میں چھپا کر رونے لگ گئی ۔ اکری نے میرے رونے کی پروا نہ کرتےھوے میری شلوار کو کھینچ کر میرے پیروں سے نکال کر نیچے پھینک دیا۔ اور میرے گھٹنوں کو پکڑ کر میری ٹانگوں کو کھولنے لگا مگر میں نے پورے ذور سے ٹانگوں کو بھینچا ھوا تھا ۔ اکری نے آخر زور لگا کر میری ٹانگوں کو کھول دیا اور بولا گشتوڑ میں نے تو سوچا تھا کہ خود بھی مزے سے کروں گا اور تجھے بھی مزے دوں گا مگر تو بڑی شانی بنتی ھے اب تیری سیل توڑوں گا نہیں بلکہ پھاڑوں گا اور وہ بھی ایک ھی جھٹکے میں۔۔۔ میں پھر اس سے رحم کی اپیلیں کرنے لگ گئی اور اسکو آرام سے کرنے کا بھی کہنے لگ گئی کیونکہ چدنا تو اب لازم بن گیا تھا تو پھر آرام سے ھی چدنا بہتر تھا بجاے کہ پھدی پڑوانے کے۔۔۔ اکری ٹوپا میری پھدی پر سیٹ کرنے لگا اور بولا سالی پہلے ھی موڈ نہ خراب کرتی اب جو ترلے کررھی ھے ۔ اچانک اسکو پھدی میں پتہ نہیں کیا نظر آیا ک اس نے پھدی سے لن کو ایکدم پیچھے ہٹا لیا اور اسد کی طرف منہ کرکے بڑے غصے سے بولا اوےےےے گانڈو۔۔۔
  10. update....??? .میں بڑے غور سے عظمی کی بات سن رھا تھا ۔ عظمی ایکدم اونچی اونچی رونے لگ گئی ۔ میں جو پہلے اسکی یہ سب باتیں سن چکا تھا ۔ تو میں جھنجھلا کر غصے سے بولا بس یہ ھی بکواس سنانی تھی جو پہلے بھی سنا چکی ھو ۔ اور میں ساتھ ھی کھڑا ہوگیا عظمی روتے ھوے ایکدم چپ ھوگئی اور بولی پوری بات تو سن لو ۔ میں غصے سے عظمی کی طرف دیکھتے ھوے دوبارا بیٹھ گیا ۔ عظمی بولی ۔ میں نے جب پیچھے مڑکر دیکھا تو اکری میری طرف بڑے غصے سے بڑ رھا تھا اس سے پہلے کہ میں اٹھ کر دوبارہ دروازے کی طرف بڑھتی اکری نے مجھے سر کے بالوں سے پکڑا اور مجھے کھڑا کرتے ھوے بولا بڑی جلدی ھے تجھے اکری کے پنجرے سے آزاد ہونے کی ۔ یہاں ہر لڑکی اپنی مرضی سے آتی ھے مگر جاتی اکری کی مرضی سے ھے ۔ یہ کہتے ھوے اکری نے مجھے بالوں سے پکڑے بیڈ کی طرف گھسیٹتے ہوے لے گیا اور میں بے بس لاچار روتی ہوئی اسکی منتیں کرتی ہوئی اس کے آگے گڑاگڑاتی رھی مگر اس ظالم اور سفاک شخص نے میری ایک نہ سنی اور مجھے گھسیٹتا ہوا بیڈ کے پاس لے گیا اور پھر ایک ذوردار تھپڑ میرے منہ پر مارا مجھے ایسے لگا جیسے میری گال پر کسی نے ہتھوڑا ماردیا ھو اس کا ہاتھ کم اور لوھا ذیادہ تھا ۔ میں تھپڑ کھاتے ھی لڑکھڑا کر بیڈ پر جاگری ۔اور اس کو واسطے دینے لگی پھر گڑگڑانے لگی کہ شاید اس کے دل میں رحم آجاے مگر وہ نشے کی حالت میں جھوم رھا تھا اسکی نشے سے چور بڑی بڑی خوفناک آنکھیں میرے سینے پر ٹکی ہوئیں تھی ۔ ۔دوستو آگے سٹوری میں سیکس کی منظر کشی اور سٹوری میں عظمی کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا اس نے سادہ الفاظ میں مجھے بتایا تھا مگر اس سین کو مذید سیکسی بنانے کے لیے عظمی کی بات کو میں اپنے انداز کروں گا explain میں امید ھے آپکو اعتراض نہی ھوگا یہ تبدیلی صرف آپ کی انٹرٹینمنٹ کے لیے کررھا ھوں.۔ ادھر اسد بھی کھڑا ھوگیا تھا اور اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑے مسل رھا تھا اور ساتھ میں اکری کو کہہ رھا تھا ۔ اکری اج اے گشتوڑ ایتھوں سُکی نہ جاوے ایدی پھدی نوں اج پُھدا بنا کے پیجنا اے ۔ یہ کہتے ھوے اسد بھی بیڈ کی دوسری سائڈ سے میری طرف بڑھنے لگا ۔ اب ایک طرف اکری کھڑا تھا اور دوسری طرف اسد ۔ اکری اپنی مکرو شکل کو مذید بگاڑتے ھوےمونچھوں کو تاو دیتے ہوے بدمعاشی انداز میں قہقہہ لگا کر ہنسا تو اس کے گندے دانت نظرے آنے لگے اور وہ بولا ۔ او توں فکر نہ کر اینا ذبردست تے مست مال میں سُکا کیویں جان دیواں گا ۔ پنڈ دی پلی ہوئی جوانی اج میرے ہتھے چڑی اے تے نالے لگدے ہتھ تیرا بدلہ وی لینا اے ۔ جیڑے لن تے اینے لت ماری سی اج او ھی لن ایسے منہ وچ جاوے گا تے اے چوسے گی ۔ ھا ھا ھا ھا ھا ۔ اسد بولا ۔ ہاں اکری یار اس سالی نے میرے لن پر ٹانگ ماری تھی یہ تو شکر ھے کہ اس گشتی کا پیر میرے ٹٹوں پر نہی لگا ورنہ میں تو گیا تھا۔ چل آج اسکی سہاگ رات کا ارمان سہاگ دن کو پورا کر دیتے ہیں ۔۔اور ایک لن کے ساتھ ایک لن منہ دیکھائی میں گفٹ بھی دیں گے ھا ھا ھا ھا ھاھا ۔ میں سہمی ہوئی بیڈ پر سمٹی ہوئی کبھی اکری کی طرف س دیکھتی تو کبھی اسد کی طرف ۔ مگر دونوں کی طرف سے مجھے کوئی رحم کی امید نظر نہ آرھی تھی بلکہ دو دو لن ایک ساتھ لینے کی یقین دہانی کرائی جارھی تھی ۔ میں نے جب دونوں کے دل کہ ارمان انکی زبانوں سے سنے تو میرا حلق خشک ھوگیا خوف کے مارے میرا جسم کانپنے لگ گیا میرے ہونٹ ایسے تھرتھرانے لگے جیسے دسمبر کی راتوں میں بارش میں بھیگ جانے کے بعد سردی سے تھرتھراتے ہیں ۔ میں مذید سمٹتی ھوئی پیچھے بیڈ کی ٹیک کے ساتھ جا لگی اور اونچی آواز میں چلانے لگی بچاو مجھے بچاو بچاو ۔ میں مدد کے لیے چلا رھی تھی اور وہ دونوں میں میرا تمسخر اڑاتے ھوے ایک ساتھ قہقہے لگا رھے تھے اور ساتھ ساتھ مجھے اکسا رھے تھے اور اونچی آواز میں مدد کے لیے بلاو اور اونچی چلاو شاید کو آجاے تمہیں بچانے ۔ ھا ھا ھا ھا اکری بولا مگر کان کھول کر سن لے تیری آواز اس حویلی سے باہر تو دور کی بات ھے اس کمرے کے باہر کھڑے میرے گن مین بھی نہیں سن سکتے ۔ سمجھی پھر بھی تو چلا کر اپنا شوق پورا کر اور ہم تیری مست جوانی کے ساتھ من مستیاں کر کے اپنا شوق پورا کرتے ہیں ھا ھا ھا ھا آہستہ آہستہ ان دونوں کے قہقہے بلند ہوتے گئے اور میری آواز دبدتی گئی بلاخره انکے مکرو قہقہوں میں میری پکار دب گئی اور دونوں ایک ساتھ میرے دائیں بائیں بیڈ پر بیٹھے اور دونوں کے ہاتھ میرے جسم کی طرف بڑھے ۔ میں نے جب ان دونوں کو اپنے اتنے قریب دیکھا تو اٹھ کر سامنے کی طرف بھاگنے لگی تو میرے ایک بازو کو اکری نے پکڑ لیا اور میرے دوسرے بازو کو اسد نے اور کھینچ کر مجھے واپس بیڈ پر پھینکا تو میں بلکل سیدھی بیڈ پر آکر گری میرے جسم پر صرف سکول یونیفارم تھا ۔ میری چادر پہلے ھی اتر چکی تھی ۔ جب میں پیچھے کو گری تو میرے بڑے بڑے تنے ہوے ممے ذور سے ہلے ۔ میرے ہلتے ھوے چھلکتے ھوے مموں کو اکری نے جب دیکھا تو ۔ اس نے سییییییییی افففففففففف ھوے اوے کیا بُبے ہیں اور دوسرا ہاتھ میرے ممے پر رکھ کر میرے ممے کو اپنے بڑے سے ہاتھ میں لے کر دباتے ھوے بولا اسد یار کیا مال گھیر کر لاے ھوے دل خوش کردیا اسکے ممے اتنے ذبردست ہیں تو اسکی پھدی اور گانڈ کیسی کمال ہوگی ۔ واہ یار آج تو تم نے دل خوش کردیا اب سمجھ لے تو میرا خاص بندا ھے ۔ اسد نے کسی خادم کی طرح سینے پر ہاتھ رکھ کر سرخم کیا۔ اکری نے میرے بڑے سائز کے ممے کو اپنی مٹھی میں بھرا ھوا تھا اور دبا دبا کر مزے سے. افففففففف یارررررر کیا فوم ھے ۔۔۔ میں چیخ چیخ کر تھک چکی تھی میرا گلا بیٹھ گیا تھا ۔مجھے اب پورا یقین ھو چکا تھا کہ میں کسی صورت میں دولن لیے بغیر ۔یہاں سے نہیں جاسکتی ۔ مجھے اسد سے ذیادہ اس دیوقامت اکری سے خوف آرھا تھا ۔ جسکا قد اتنا بڑا جسکے ھاتھ اتنے بڑے کہ میرے اتنے بڑے ممے کو پورا ھی ہاتھ میں لے لے اسکا لن کتنا بڑا ھوگا ۔ مارے خوف کے اے سی والے کمرے میں مجھے پسینہ آرھا تھا ۔ اتنے میں اکری نے اسد کو کہا کہ یار کیمرا تو پکڑ کے لا اس پھلجڑی کی ساتھ فلم بھی بناتے ہیں ۔ بچی ٹائٹ ھی مشکل وقت میں کام آے گی ۔ اور جب چدتے ھوے اسکی فلم ہمارے پاس ھوگی تو جب چاہیں گے یہ مٹیار دوڑی چلی آے گی ۔۔۔ ورنہ تو یہ لائٹ بند ہونے کی وجہ سے اپڈیٹ ادھوری رھ گئی پلیز ویٹ ب
  11. Love you to jani ummmmaaaaa 💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖 Pllz waiting for next update Love you to janiiii 💖💖💖💖💖💖💖💖💖😘 Thanks Jani love u to 💖💖💏💏💏💏💏💏💏💏💏💪
  12. Thanks jani Thanks jani Thanks bro Thanks bro .دوستو اپڈیٹ میں تاخیر ہونے کا معذرت خواہ ہوں کچھ مصروفیات ایسی تھیں کہ اپڈیٹ نہی لکھ سکا میں پوری کوشش کروں گا کہ آج رات تک ایک لمبی اپڈیٹ لکھ کر آپ دوستوں کی خدمت میں پیش کروں امید ھے کہ میرے بھائی ناراضگی معاف کریں گے جیوندے رو تے ہسدے وسدے رو
×