Jump to content
URDU FUN CLUB

xhekhoo

Members
  • Content Count

    46
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

xhekhoo last won the day on October 14

xhekhoo had the most liked content!

Community Reputation

9

1 Follower

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. دوسرے دن میں سکول کے لیے تیار ھوکر عظمی کے گھر گیا اور ان دونوں کو لے کر ہم تینوں باجی صدف کے گھر اسے ساتھ لینے چلے گئے باجی صدف تیار ھوکر بیٹھی تھی بس برقعہ ھی پہننا تھا ہمیں دیکھ کر باجی صدف بولی بس دومنٹ میں ابھی آئی اور کمرے کی طرف چلی گئی باجی صدف لگتا تھا ابھی ابھی نہائی تھی کیوں پیچھے سے گیلے بال اسکی قمیض کو بھی گیلا کیے ھوے تھے باجی صدف نے آج پنک کلر کا سوٹ پہنا ھوا تھا جو اسپر بہت جچ رھا تھا باجی صدف تھوڑی ھی دیر بعد برقعہ پہنے باہر آگئی اور ہم سکول کی طرف چلدیے کھیت کی پگڈنڈی پر ہم سب آگے پیچھے چل رھے تھے سب سے آگے نسرین تھی اس سے پیچھے عظمی اور پھر باجی صدف اور اس کے پیچھے میں تھا اور باجی صدف کی ہلتی ھوئی گانڈ کا نظارہ کرتے ھوے مزے سے مست ھوکر چل رہا تھا اور ہمارا فاصلہ بھی کچھ ذیادہ نھی تھا بس ایک قدم کے فاصلے پر میں باجی صدف کے پیچھے چل رھا تھا میرا لن بھی قمیض کو اوپر اٹھاے پیچھے سے باجی صدف کی گانڈ کو اشارے کر رھا تھا جب ہم آدھے راستے پر پہنچے تو ایکدم کپاس کی فصل جو اب سوکھ چکی تھی اس میں سے ایک کالے رنگ کی بلی نکل کر تیزی سے عظمی اور باجی صدف کے درمیان سے نکل کر پگڈنڈی کے دوسری طرف بھاگ گئی بلی شاید باجی صدف کے پاوں کے اوپر سے گزری تھی باجی صدف نے زور دار چیخ ماری اور پیچھے کو ھوئی جس سے اسکا پاوں بھی پگڈنڈی سے سلپ ھوا اور نیچے گرنے ھی لگی تھی کے میں نے جلدی سے باجی صدف کو پیچھے سے جپچھی ڈال دی اور گرنے سے بچا لیا یہ سب اتنی جلدی سے ھوا کہ مجھے بھی سمجھ نہ آئی کے باجی کو کہاں سے پکڑوں میرے پکڑنے سے پہلے باجی کافی نیچے کو جھک چکی تھی اور انکی بُنڈ جو پہلے ھی باہر کو نکلی ھوئی تھی جھکنے کی وجہ سے اور باہر نکل گئی تھی میں نے ویسے ھی اسکو پیچھے سے جب جپھی ڈالی تو میرے ھاتھوں اسکے دونوں بڑے بڑے اور نرم ممے آگئے اور میرا لن اس کی بُنڈ کی دراڑ کے اوپر ٹکر مار کر اندر گھسنے کی کوشش کرنے لگ گیا ایسا بس کوئی تیس چالیس سیکنڈ ھی ھوا باجی صدف نے جلدی سے اپنے دونوں ھاتھ میرے ھاتھوں پر رکھے اور جھٹکے سے مموں کو آزاد کروا دیا مگر میں نے بھی ممے چھوڑتے وقت ہلکے سے دبا کر اس انداز سے چھوڑے کے باجی کو ایسے لگے جیسے انکے چھڑانے کی وجہ سے مموں پر دباو آیا تھا اور میرے ھاتھ باجی کے پیٹ پر آگئے تھے اور لن صاحب ابھی تک باجی کی گانڈ میں گھسنے کی ٹرائیاں مار رھے تھے باجی اب سمبھل چکی تھی اور عظمی اور نسرین بھی گبھرا کر کھڑی ھوگئی تھی اور عظمی نے بھی آگے بڑھ کر باجی کو بازوں سے پکڑ کر سیدھا کیا طمیں نے پوچھا باجی کیا ھوا تھا بچ تو گئی چوٹ تو نھی آئی تو باجی ایکدم آگے کو ہوئی اور بڑی حیرت سے میری آگے سے اٹھی ھوئی شلوار کو ایک نظر دیکھا اور پھر اپنا آپ مجھ سے چھڑوا کر بولی ھاں ھاں بچ گئی ھوں بلی نے اچانک چھلانگ لگائی تو میں ڈر کر پھسل گئی شکر ہے تم نے مجھے پکڑ لیا نھی تو میری پاوں میں موچ آجانی تھی تو میں نے کہا باجی ***** نہ کرے کہ آپکے پاوں میں موچ اجاے تو باجی مجھے غور سے دیکھتے ھوے میری گال پر چٹکی کاٹتے ھوے بولی شکریہ یاسر تو میں نے کہا کوئی بات نھی باجی یہ تو میرا فرض بنتا تھا تو وہ تھوڑا ہنسی اور ایک دفعہ پھر میری قمیض کی طرف دیکھا جہاں اب سب شانتی تھی اور مسکرا کر پھر میرے آگے چل پڑی میں نے اس دوران عظمی کی طرف دیکھا وہ پتہ نھی کیوں مجھے گھورے جارھی تھی خیر ہم سکول پہنچ گئے اور میں دل ھی دل میں بلی کو دعائیں دیتا رھا جسکی وجہ سے مجھے باجی صدف کے جسم کو چھونا نصیب ھوا وہ بھی ڈریکٹ مموں کو اور گانڈ کو جسکو روز حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا رھتا تھا، عظمی لوگوں کو سکول چھوڑ کر میں واپس اپنے سکول آگیا کچھ دیر پڑھانے کے بعد ٹیچر بھی کمرے سے باہر چلے گئے اور سب بچے اپنی اپنی گپوں میں مصروف ھوگئے تب اسد نے بیگ سے دو چھوٹی سی شیشیاں نکالی اور مجھے دیکھاتے ھوے کہا یہ ھے وہ جادوئی نسخہ جس کی مالش سے دنوں میں تیرا لن پھدی پاڑ لن بن جاے گا میں نے شیشیوں کو پکڑتے ھوے انکو حیرانگی سے دیکھا جن کے ڈھکن الگ الگ کلر کے تھے اور اسد سے کہا یہ کیا ھے تو وہ بولا جگر اس میں تیل ھے رات کو تم نے پہلے یہ سفید ڈھکن والے تیل کی سارے لن پر ہلکے ہلکے مالش کرنی ھے اور لن پر سوتی کپڑا لپیٹ دینا ھے اور پھر آدھے گھنٹے بعد کالے ڈھکن والی شیشی کے تیل سے ٹوپی کو چھوڑ کر نچلے حصہ پر مالش کرنی ھے اور پھر وہ ھی کپڑا دوبارا لپیٹ لینا ھے تو میں نے کہا کتنے دن کرنی ھے تو اس نے بتایا بس جب تک یہ تیل ختم نھی ھوتا تب تک روز مالش کرتے رہنا تجھے دنوں میں فرق کا پتہ چل جاے گا میں نے خوش ھوکر شیشیاں اپنے بیگ میں رکھ دی پھر ایکدم مجھے یاد آیا کہ گھر جاکر انکو رکھوں گا کہاں پر پھر سوچا جگہ بھی مل ھی جاے گی ایک دفعہ لے کر گھر تو پہنچوں پھر ہاف ٹائم ھوگیا اور ہم باہر نکل کر گراونڈ میں چلے گئے اسد بولا پھر کب میرے گھر چلے گا تو میں نے بتایا کہ یار میں تمہارے گھر چلا تو جاتا مگر میں جا نھی سکتا تو وہ بولا جا کیوں نھی سکتا میں نے کہا یار دراصل میرے ساتھ میری آنٹی کی بیٹیاں بھی شہر سکول آتی ہیں اور انکو ساتھ لے کر آنے اور جانے کی ڈیوٹی بھی میری ھے اس لیے تو اسد کچھ دیر سوچتے ھوے بولا کہ اگر ہم سکول سے پُھٹہ لگا لیں تو میں نے کہا وہ کیا ھوتا ھے تو اسد ہنستے ھوے میرے سر پر تھپڑ مارتے ھوے بولا جا اوے توں وی نہ حالے تک ہینڈو ای ایں میں نے اسے کہا ماما جدوں مینوں پتہ ای نئی کہ پُھٹہ ھوندا کی اے تے مینوں سمجھ کنج آے گی تو وہ ہنستا ھوا بولا کہ یار سکول سے بھاگ کر چھٹی کرنے کو پُھٹہ لگانا کہتے ہیں تو میں نے فٹ کیا سالیا مینوں مروانا اے ابھی تو میرا شوق بھی نھی پورا ھوا شہر آنے کا اور تو مجھے سکول سے نکلوانے کا پروگرام بنا رھا ھے تو اسد بولا یار پریشان نہ ھو تیرا یار ھے نہ اس سکول کا بھیدی تو بس ٹینشن نہ لے تیرے پر اگر کوئی بات آئی تو میں سب سنبھال لوں گا مجھے پتہ ھے کی کیا کرنا ھے بس تو مجھ پر بھروسہ رکھ میں نے کچھ دیر سوچتے ھوے پھر اسے کہا یار ویکھیں کِتے مروا نہ دیویں تو اسد بولا یار مجھ پر یقین نھی تو میں نے کہا نھی تو اسد غصے سے کھڑا ھوکر مُکا بنا بازو اوپر کر کے کہنے لگا لن تے چڑ فیر اور جانے لگا تو میں نے اسے بازو سے پکڑ کر نیچے بٹھاتے ھوے کہا ایویں ھن شوخا نہ بن چل فیر ویکھی جاے گی جو ھوے گا تو اسد بولا چل پھر کل تیار رہنا ہم اسمبلی کے وقت سکول کے کمروں کے پیچھے بیرونی دیوار سے نکل کر سکول سے. باھر نکل جاءیں گے تو میں نے کہا یار سکول کی دیواریں تو کافی اونچی ہیں تو وہ بولا اس بات کی فکر نہ کر بس تو تیار رہنا میں نے اثبات میں سر ہلایا اور ہم دونوں اٹھے اور باہر سڑک پر اکر نان کھانے لگ گئے سکول سے واپس. جاتے بھی کچھ خاص نھی ھوا دوسرے دن پلاننگ کے تحت ہم کمروں کے پیچھے چلے گئے کیوں کے سکول کا مین گیٹ بند ھوگیا تھا اور کوئی بچہ باھر نھی جاسکتا تھا ہم کمروں کے پیچھے سے چلتے ھوے ایک جگہ پہنچے جہاں سے بڑا سا نالا تھا جو سکول کی بیرونی دیوار کے نیچے سے باہر کو جاتا تھا جو اس وقت سوکھا ھوا تھا شاید بارش کے پانی کے لیے وہ نالا بنایا ھوا تھا نالے کا سوراخ اتنا بڑا تھا کہ ہم آسانی سے نکل کر دوسری طرف جاسکتے تھے پہلے اسد نیچے گھسا اور دوسری طرف گردن نکال کر تسلی کرنے لگا اور پھر جلدی سے مجھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور باھر نکل گیا میں بھی اسکے پیچھے ھی باہر آگیا ہم تیز تیز قدم اٹھاتے ایک چھوٹی سی گلی میں گھس گئے وہ گلی آگے جاکر بازار میں کھلتی تھی میں نے اسد سے کہا یار چھٹی کے وقت میں نے سکول پہنچنا ھے تو اسد بولا یار پریشان نہ ھو ساری ٹینشن دماغ سے نکال دے اور میرے ساتھ چل پھر دیکھنا تو سب کچھ بھول جاے گا میں چپ کرگیا اور اسکے ساتھ ساتھ تیز قدموں سے چلتا رھا ہم بازار سے ھوتے ھوے پھر ایک گلی میں گھس گئے گلی بھی بازار کی ھی طرح تھی مگر ادھر آمدورفت بہت ھی کم تھی اسد نے ایک دکان کے آگے رکتے ھوے مجھے کہا چل یار آج تجھے ایک گرما گرم چیز دیکھاتا ھوں تو میں نے کہا کہاں پر تو اس نے دکان کی طرف اشارہ کیا جس کے اگے پردہ لگا ھوا تھا اور اندر سے ویڈیو گیم کا شور آرھا تھا اسد نے میرا ھاتھ پکڑا اور مجھے لے کر دکان میں گھس گیا کاونٹر پر ایک انکل بیٹھا ھوا تھا اسد نے اسے ایک روپیہ دیا اور اسے کہا سپیشل گیم تو اس نے کافی سارے سکے اسد کو تھما دیے اور سائڈ پر بنے ایک کیبن کی طرف اشارہ کیا اور بولا ادھر چلے جاو خالی ھے میں بونگوں کی طرح دکان میں لگی بڑی بڑی گیموں کو دیکھ رھا تھا جہاں پانچ چھ بچے مختلف گیمیں کھیل رھے اور وہ بچے بھی سکول یونیفارم میں ھی تھے اسد کیبن کی طرف چل دیا اور میں بھی اسکے پیچھے کیبن کے اندر گھس گیا اسد نے ایک سکہ گیم میں ڈالا اور گیم سٹارٹ کر کے کھیلنے لگ گیا میں حیران ھوکر رنگین سکرین پر چلتی ھوئی گیم کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رھا تھا میں نے زندگی میں پہلی دفعہ رنگین ٹی وی دیکھا تھا اسد نے گیم ختم کی اور میرے پٹ پر ھاتھ مار کر بولا تیار ھوجا اب
  2. میں نے نیچے کی طرف دیکھا تو اسد نے میرا لن پکڑا ھوا تھا اور لن کو مٹھی میں دبا رھا تھا میں نے ایک جھٹکے اس کے ھاتھ سے اپنا لن چُھڑوایا اور غصے سے اس کی طرف دیکھتے ھوے کہا اوے کیا مسئلہ ھے تجھے تمیز سے رہو تو وہ مسکرا کر بولا یار میں تو تیرا لن چیک کر رھا تھا کہ کتنا بڑا ھوگیا ھے میں نے کہا تو نے میرا لن اپنی گانڈ میں لینا ھے جو چیک کررھا ھے، تو بولا یار ابھی تیری عمر نھی ھے گانڈ میں لن ڈالنے کی ابھی تو تجھے یہ بھی نھی پتہ ھوگا کہ بیر دی بُنڈ کتھے ہوندی اے تو میں بولا او پائی میں ایتھے پڑن آنداں ایں بیر دی بُنڈ ویکھن نئی، تو اسد نے میرا ھاتھ پکڑا اور اپنے لن پر رکھ کر کہا یہ دیکھ ایسا ھوتا ھے بُنڈ پاڑ لن تو میں نے جھٹکے سے اپنا ھاتھ پیچھے کرتے ھوے کہا اوے توں باز نئی آنا آ لین دے ماسٹر جی نوں میں دسنا اے توں جیڑے کم کرن لگیا ھویاں اے تو اسد نے میری کمر پر ھاتھ پھیرتے ھوے کہا یار تم تو غصہ ھی کرگئے میں تو اس لیے کہہ رھا تھا کہ اپنے لن کی مالش کیا کرو دیکھنا کیسے دنوں میں میرے لن جتنا ھوتا ھے تو میں نے کہا او بھائی اپنی اور میری عمر اور قد کا فرق دیکھ پہلے پھر یہ بات کرنا تیری عمر ذیادہ ھے اس لیے تیرا لن بھی بڑا ھی ھوگا میں ابھی چھوٹا ھوں اس لیے میرا لن بھی چھوٹا ھے تو اسد بولا یار ایک تو تم غصہ بہت کرتے ھو میں تیرے فائدے کی ھی بات کررھا ھوں اور دیکھ لن کا عمر اور قد سے کوئی تعلق نھی لن کو جتنی جلدی اور جتنا مرضی بڑا کرسکتے ھو میں اسد کی باتوں میں آچکا تھا اس لیے میرا غصہ کافی حد تک ٹھنڈا ھوگیا تھا اس لیے میں اسکی باتوں کو غور سے سن رھا تھا تو میں نے کہا وہ کیسے کرسکتے ہیں تو اسد بولا یاسر ویرے دیکھ سیدھی سی بات ھے میں یاروں کا یار ھوں اور گانڈو لوگوں کو میں اپنے پاس بھی نھی بھٹکنے دیتا تم مجھے اچھے لڑکے لگے ھو میں کافی دنوں سے تجھ سے دوستی کرنا چاھتا تھا مگر ججھک رھا تھا تو میں نے کہا دیکھ اسد میں پینڈو جیا تے سدھا سادھا جیا بندا واں اسی پنڈ دے لوک وی یاراں دے یار ہوندے آں تے جدے نال اک واری یاری لا لٰیے تے اودے واسطے جان وی دے دیندے آں، اسد نے میری طرف ہاتھ بڑھایا اور مجھے کہنے لگا بس یار مجھے بھی ایسا ھی سمجھ اور میں نے بھی اسکے ھاتھ میں دوستی کا ھاتھ دے دیا اور کافی دیر ہم ایک دوسرے کو اپنے اپنے بارے میں بتاتے رھے اسد نے بتایا کہ اسکی بس ایک بہن ھی ھے جو اس سے ایک سال چھوٹی ھے اور میٹرک کر رھی ھے اور اس کے ابو اسکے بچپن میں ھی ایک کار ایکسڈینٹ میں ہلاک ہوگئے تھے جس میں اسکے ماموں اور ممانی بھی ساتھ ھی ہلاک ھوے تھے اور اسکا ایک کزن ھے جو اس کے ماموں کا ھی بیٹا تھا جو کچھ دن پہلے کینڈا چلا گیا تھا اسد کے ابو اور ماموں بوتیک کا کام کرتے تھے جو اب اسد کی امی نے سمبھالا ھوا تھا اسد کا پڑھائی میں بلکل بھی دل نھی لگتا تھا جس وجہ سے وہ تین چار دفعہ فیل ھوا تھا اور اسی وجہ سے ابھی تک چھٹی کلاس میں ھی تھا اسد نے بتایا کہ اسے سیکس کا بہت شوق ھے اور خاص کر لڑکوں کی بُنڈیں بہت مارتا ھے جب اس، نے مجھے یہ بتایا تو میں نے اسے مکا مارتے ھوے کہا ماما تبھی میرے پٹوں پر ھاتھ پھیرتا رہتا تھا تو اس نے ہنس کر کہا کہ ہاں یار میں نے تجھ پر بڑی دفعہ ٹرائی ماری مگر تم ویسے لڑکے نھی نکلے ورنہ اب تک تم بھی میرے نیچے ھوتے میں نے اسد کے ہاتھ پر زور سے ہاتھ مارا اور دونوں کھل کھلا کر ہنس پڑے تو میں نے کہا یار یہ گندے رسالے کہاں سے لاتا ھے اور تجھے ڈر نھی لگتا تو اسد بڑے فخر سے بولا جگر یہ تو کچھ بھی نھی ھے میرے پاس تو ایسے ایسے رسالے پڑے ہیں کہ تو دیکھ کر چھوٹ جاے تو میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ تم انکو رکھتے کہاں پر ھو تو وہ بولا کہ میرے کزن والا کمرہ اب میرے پاس. ھی ھوتا ھے اس میں الماریاں ہیں وہیں چھپا دیتا ھوں میرا کزن بھی بڑا حرامی تھا کسی دن تجھے گھر لیجا کر ایسی ایسی ایٹمیں دیکھاوں گا کہ تو یاد کرے گا کہ کس سخی دل سے پالا پڑا ھے میں نے کہا واہ یار تیری تو موجیں لگی ھوئی ہیں تو اسد بولا میرے ساتھ رھو گے تو تیری بھی موجیں ھونگی میں نے کہا نئی یار ایسی بھی بات نھی بس تیری دوستی ھی کافی ھے میرے لیے اسی دوران ہمیں تفری ہوگئی. ہاف ٹائم کی گھنٹی بجتے ھی سب بچے باہر کو بھاگے. ہم بھی نکل کر باہر گراونڈ میں آگئے پھر ہم سڑک کی طرف چلے گئے وھاں ریڑھی سے انڈے والے نان کھاے اور پھر گراونڈ میں آکر ایک طرف بیٹھ کر باتیں کرنے لگ گئے اسد بولا سنا جگر گاوں میں کسی بچی کی پھدی بھی ماری ھے اب تک یاں پھر کنوارہ ھی پھر رھا ھے تو میں نے کہا نہ یار. ہمارے گاوں میں ایسا ویسا کچھ نھی ھوتا اگر ایسا کچھ ھو تو پتہ لگنے پر ویسے ھی لڑکے لڑکی کو جان سے مار دیتے ہیں تو اسد بولا ابھی تیرا لن چھوٹا ھے نہ اسی لیے پھدی کی طلب نھی کرتا اور مجھے تو لگتا کہ تم نے ابھی تک مٹھ بھی نھی ماری ھوگی تو میں نے حیران ھوتے ھوے پوچھا کہ یار چھوٹے لن کی تو سمجھ آگئی مگر یہ مٹھ مارنا کیا ھے تو اسد نے ہنستے ھوے میرے کندھے پر ھاتھ مارتے ھوے کہا جا یار. تم واقعی پکے پینڈو ھو چل کسی دن تجھے یہ چسکا بھی ڈال دوں گا میں کچھ دیر خاموش رھا اور جھجھکتے ھوے اسد سے بولا یار کیا واقعی لن کے بڑے ھونے کا عمر سے کوئی تعلق نھی تو اسد میری طرف دیکھتے ھوے بولا تم نے بڑا کرنا ھے تو بتا دیکھنا چند دنوں میں ھی لن بڑا نہ ھوا تو کہنا میں نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھتے ھوے کہا سچی تو اسد بولا مچی تو میں نے کہا یار وہ کیسے تو اسد بولا ہے میرے پاس ایک نسخہ تو میں نے کہا کونسا تو اسد بولا بیس روپے کا ھے بس تو میں پریشان سا ھوکر بول بیسسسسس روپے کا نہ یار مجھے تو گھر سے پچاس پیسے خرچہ ملتا ھے اور اسکا میں نان کھا لیتا ھوں میرے پاس اتنے پیسے کہاں سے آنے ہیں تو اسد بولا چھڈ یار یاراں دے ہوندیاں پریشان نئی ھوئی دا میں نے کہا کیا مطلب تو اسد بولا یار میں تجھے لا دوں گا پیسوں کی فکر نہ کر تو میں نے کہا نھی یار میں ایسے نھی لے سکتا جب میرے پاس پیسے ھونگے میں تجھے بتا دوں گا تو اسد غصے سے میری طرف دیکھتے ھوے بولا ماما فیر کردتی نہ پینڈواں والی گل نالے یاری لائی اے تے نالے فرق رکھنا اے میں نے کہا نھی یار ایسی بھی بات نھی بس مجھے شرم آتی ھے تو اسد بولا چل ایسے کر مجھ سے ادھار کرکے لے لینا جب تیرے پاس پیسے ھونگے تو دینا اب تو ٹھیک ھے میں نے کچھ دیر سوچتے ھوے اسد کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا اتنی دیر میں ہاف ٹائم بھی ختم ھوگیا اور ہم دونوں کلاس کی طرف چل دیے اور اسد نے بتایا کہ میں کل ھی اپنے یار کے لیے تحفہ لے آوں گا میں دل ھی دل میں بہت خوش ھوتا رھا چھٹی کے بعد میں عظمی اور نسرین کے سکول کی طرف چلا گیا اور انکو ساتھ لے کر گھر کی طرف چلدیا
  3. میں عظمی کی چیخ سن کر اور اسکے زور دار دھکے کی وجہ سے پہلے ھی سہم گیا تھا اوپر سے جیسے ھی بنے پر کسی کے دوڑے آنے کی آواز سنی تو میرے اور زیادہ ترا نکل گئے میں نے ڈر کے مارے جلدی سے ٹاہلی کی اوٹ لیتے ھوے دوسری طرف دیکھا تو مجھے چار پانچ بڑے بڑے کُتے ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے ھوے آگے پیچھے بنے پر ہماری طرف ھی دوڑے آتے ھوے نظر آے کُتوں کو دیکھ کر میری تو گانڈ پھٹنے والی ہوگئی میں نے جلدی سے عظمی کی طرف دیکھا جو اپنا نالا باندھ رھی تھی اسنے بھی کتوں کی آوازیں سن لی تھی اس لیے رنگ اسکا بھی اڑا ھوا تھا میں نے ڈرے ھوے انداز سے عظمی کو کہا او تواڈی پین نوں عظمی چھیتی کر کُتے آگئے نے عظمی نے جلدی جلدی سے کپڑے سہی کیے اور میرے پیچھے کھڑی ھو کر کُتوں کو دیکھنے لگ گئی میں نے جلدی سے اسکا ھاتھ پکڑا اور مکئی کی فصل کے بیچو بیچ نہر کی طرف دوڑ لگا دی ہم نے پیچھے مڑ کر نھی دیکھا تھوڑی ھی دیر بعد بھاگتے ھوے ہم نہر پر چڑھ کر ھی پیچھے دیکھنے لگ گئے اور اپنے گُٹنوں پر ھاتھ رکھ کر جھکے ھوے زور زور سے سانس لینے لگ گئے کچھ دیر بعد عظمی سیدھی ھوئی اور اپنے مموں پر ھاتھ رکھ کر بولی شکر ھے آج. بچ گئے میں نے بھی کہا ھاں یار واقعی قسمت نے بچا لیا اور پھر ہم نے نہر سے پاوں دھوے اور منہ ھاتھ. دھو کر نہر کے کنارے پر چلتے ھوے ٹرین کی پٹری کے پُل پر پُہنچ گئے ٹرین کی پٹری ہمارے گاوں کے پاس سے ھی گزرتی تھی ہم تھوڑی دیر وہاں کھڑے رھے اور پٹری پر ھی گاوں کی طرف چل دئیے میں نے عظمی کو کہا چلو دیکھتے ہیں کون پٹری کے اوپر زیادہ دیر تک چلتا ھے عظمی بولی مجھ سے نھی چلا جانا میرے پہلے ھی جلن ھورھی ھے میں نے کہا کہاں جلن ھورھی ھے تو وہ غصے سے بولی جتھے توں چول ماری اے میں امی نوں دساں گی کہ میرے نال گندے کم کردا اے تو میں نے کہا یار ایک تو تم روز مجھے امی کی دھمکیاں دیتی رھتی ھو جاو بتا دو میں بھی تمہاری ساری کرتوت بتاوں گا تو عظمی بولی جاو بتا دینا میں نے عظمی کا ھاتھ پکڑتے ھوے کہا اچھا بتاو نہ کہاں جلن ھورھی ھے میں دبا دیتا ھوں تو عظمی بولی بوتا شوخا نہ بن وڈا آیا دبان والا میں نے کہا عظمی تو وہ میری طرف دیکھ کر بولی کی اے تو میں نے کہا یار معاف کردو غلطی سے ھوگیا تھا تو وہ بولی غلطی سے ھوا تھا یا پھر جان بوجھ کر کیا تھا تو میں نے کہا قسم سے مجھے پتہ ھی نھی چلا اور میں نے انگلی اندر کردی مجھے مزا ھی اتنا آرھا تھا کہ مجھے ہوش ھی نہ رھا تو عظمی بولی تمہیں پتہ بھی ھے کہ کتنی درد ھوئی تھی میری. ایک دم سے جان نکل گئی تھی میں نے کہا ہاں یار واقعی تمہاری تو چیخ ھی نکل ،،،،،گئی تھی،، مگر مجھے بعد میں پتہ چلا کہ سالی نے مزے والی چیخ ماری تھی،،، اور میں نے حیرانگی سے،، عظمی کی طرف دیکھا اور عظمی سے کہا یار تم بھی لڑکی ھو اور وہ فرحت بھی تو لڑکی ھی ھے مگر اسے نے تو ،،،،،،،،،،،، اتنا کہہ کر میں خاموش ھوگیا تو عظمی بولی کیا اسنے تو میں نے کہا کچھ نھی چلو نہ یار پٹری کے اوپر چلتے ہیں عظمی بولی نئی پہلے بتاو کہ کہا کہنے لگے تھے میں نے کہا یار پھر کبھی بتاوں گا لمبی بات ھے ابھی اندھیرا ھو رھا ھے یہ نہ ھو کہ امی لوگ ہمیں ڈھونڈنے کھیت میں پہنچ جائیں عظمی نے جب امی کا سنا تو تیز تیز چلنے لگ گئی اتنی دیر میں ہم گاوں پہنچ گئے اور تیز تیز چلتے جب گلی کی نکڑ پر پہنچے تو سامنے سے نسرین چلی آرھی تھی ہم بھی نسرین کی طرف چل دیے تو وہ بڑے غصے سے بولی مل گیا ٹیم ویلیاں نوں کار آندا تسی کار چلو اک واری آوارہ گردو ابو دس دے نے توانوں عظمی بولی چل چل آئی وڈی کماں والی اور یہ کہہ کر اسکو نظر انداز کرتی ھوئی گھر کی طرف چلدی نسرین بھی اسکے پیچھے پیر پٹختی پُھوں پُھوں کرتی چلدی میں تو سیدھا اپنے گھر ھی چلا گیا مجھے انکل سے ویسے ھی ڈر لگتا تھا ایسے ھی دن گزرتے رھے ہمارے پیپر شروع ھوگئے پھر رزلٹ بھی آگیا میں. کلاس میں فرسٹ آیا تھا اور عظمی اور نسرین نے بھی اچھے نمبر لیے تھے مگر وہ صرف پاس ھی ھوئی اس دوران میری عظمی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ چلتی رھی موقع ملتے ھی ہم کسنگ بھی کرلیتے عظمی نے کئی دفعہ مجھ سے پوچھا تھا کہ اس دن کیا بتانے لگے تھے مگر میں ہر دفعہ یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ پھر بتاوں گا عظمی نے بھی اب مجھے پوچھنا چھوڑ دیا تھا ادھر سکول میں ہم نے دوبارا فرحت کو نھی دیکھا شاید ماسٹر جی نے اسے چودنے کے لیے کسی اور جگہ کا بندوبست کرلیا تھا رزلٹ کے بعد اب ہم تینوں نے شہر کے سکول میں داخلہ لینا تھا کچھ دنوں بعد. ہماری نئی یونیفارم کتابیں اور بیگ بھی آگیا ابو مجھے شہر کے گورمنٹ مڈل سکول میں داخل کروا آے اور عظمی نسرین میرے سکول کے کچھ فاصلے پر گرلز مڈل سکول میں داخل ھوگئی،،، دوستو پہلا دن تو میرا سکول میں بڑا ھی کنفیوژن میں گزرا میں سکول کی عمارت کو کمروں کو اور کمروں میں پڑے ڈیسکوں کو اور چھت پر لگے پنکھوں کو اور دیواروں پر لگے رنگ برنگے چارٹوں کو دیکھ دیکھ کر بہت خوش ھوتا رھا اوپر سے ہماری کلاس میں زیادہ بچے شہری ھی تھے جو فر فر اردو بولتے تھے کچھ ممی ڈیڈی بچوں نے میرا خوب مزاق بھی اڑایا اور میری ٹوٹی پھوٹی اردو سن کر کھلکھلا کر ہنسنے لگ جاتے میں شرمندہ سا ھوجاتا سکول میں سب سے زیادہ مزہ مجھے جس چیز کو دیکھ کر آیا وہ تھی برآمدوں میں دیواروں کے اوپر پینٹنگ کی ھوئی علامہ اقبال اور قائد اعظم کی تصویر یں میں انکو بڑے غور سے دیکھتا اور دوسری طرف جاتا تو وہ دونوں میری ھی طرف دیکھ رھے ھوتے پھر دوسری طرف جاتا تو تب بھی میری ھی طرف دیکھ رھے ھوتے. میں یہ سب دیکھ کر بہت خوش ھوتا رھا اور اس چیز کو بہت انجواے کیا خیر ہم صبح صبح جلدی جلدی تیار ھو کر سکول کی طرف نکل پڑتے کیوں کہ ہمیں سکول جانے سے زیادہ خوشی شہر جانے کی ھوتی اور ہم نے جانا بھی پیدل ھوتا تھا وہ بھی کھیتوں کے بیچ سے کیوں کے ادھر سے ہمیں شارٹ کٹ پڑتا تھا نہر پر ایک چھوٹا سا لکڑی کا پُل بنا ھوا تھا جس سے گزر کر ہم شہر کی طرف جاتے تھے سکول جاتے ھوے بھی عظمی سے کھڑمستیاں نھی ھوسکتی تھی کیوں کے ہمارے ساتھ باجی صدف ھوتی تھی جو عظمی اور نسرین کی ٹیویشن ٹیچر بھی تھی اور شہر کڑھائی اور سلائی کا کام سیکھنے جاتی تھی واپسی پر وہ ہمارے ساتھ نہی ھوتی تھی کیوں کہ انکو چھٹی لیٹ ھوتی تھی مگر پھر بھی واپسی پر نسرین کے ہوتے ھوے میں عظمی سے سواے ہنسی مزاق کے اور کچھ نھی کرسکتا تھا باجی صدف بھی کافی شوخ مزاج تھی اسکی عمر کوئی بیس سال کے لگ بھگ تھی اور تھی بڑی سیکسی سی چھتیس سائز کے ممے تھے جو برقے میں بھی باہر کو نکلے نظر آتے تھے اور موٹی موٹی آنکھیں پیٹ نہ ھونے کے برابر تھا اور اسکی گانڈ تو کمال کی تھی بلکل گول مٹول اور باہر کو نکلی ھوئی ایک تو وہ برقعہ بھی بڑا فٹنگ والا پہنتی تھی جس سے اسکے ممے اور گانڈ بلکل برقعہ میں پھنسے ھوتے اور جب وہ چلتی تو پیچھے سے ہلتی ھوئی گانڈ کا نظارا ھی الگ ھوتا رنگ اسکا تھوڑا گندمی تھا مگر اسکے رنگ میں ایک کشش تھی جو ہر دیکھنے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتی بات کرتے ھوے آنکھوں کو وہ اکثر بڑی ادا سے جھپکا جھپکا کے بات کرتی جب وہ میرے آگے آگے بنے پر چلتی ھوتی تو میری کوشش یہ ھی ھوتی کی میں باجی صدف کے پیچھے ھی رھوں اور اسکی ہلتی ھوئی گانڈ شہر تک جاتے دیکھتا رھوں وہ اکثر مجھے چھیڑتی رہتی جب بھی وہ ہمارے ساتھ سکول جانے کے لیے شامل ھوتی تو آتے ھی میری گال پر چُٹکی کاٹ کر کہتی سنا شزادے چلیں میں اپنی گال کو مسلتا ھوا کہتا کہ چلو باجی مگر دل ھی دل میں اس کو گالیاں دیتا کہ سالی روز اتنی زور سے چٹکی کاٹ دیتی ھی،، کسے دن میں ایدی بُنڈ تے دندی وڈ کے پج جانا اے، مگر یہ میرا خیالی پلان تھا میں ایسا صرف سوچ ھی سکتا تھا پریکٹیکل کرنا ناممکن تھا دوستو کافی دن ایسا ھی چلتا رھا ہماری کلاس میں ایک لڑکا تھا اسد جس کو سب اونٹ کہتے تھے کیوں کہ اسکی عمر کوئی اٹھارہ سال کے لگ بھگ تھی اور اسکا قد ساری کلاس کے لڑکوں سے بڑا تھا وہ واقعی ھی ہمارے بیچ اونٹ ھی لگتا اسد پڑھائی میں بلکل نلائق تھا اسی وجہ سے وہ ابھی تک چھٹی کلاس میں ھی رھا تھا ویسے اسکے ٹشن وشن سے لگتا تھا کہ یہ کسی کھاتے پیتے گھرانے کا لڑکا ھے سارا دن بس کتاب کو دیکھتا ھی رھتا پڑھتا کچھ بھی نہ شکل سے بلکل سالا پُھکرا لگتا تھا اوپر سے میری بدقسمتی اس سالے کی سیٹ بھی میرے ساتھ ڈیسک پر ھی تھی میں نے اکثر نوٹ کیا کہ اسد جان بوجھ کر کبھی میرے پٹ پر ہاتھ رکھ دیتا تھا اور کبھی بینچ پر ھاتھ رکھ کر انگلیاں میری گانڈ کے نیچے پھنسا دیتا میں کافی دن اسکو اتفاق سمجھ کر اگنور کر دیتا تھا ایک دن میں نے دیکھا. کہ اسد بڑا مست ھوا ڈیسک کے خانے میں کتاب رکھے بڑے غور سے کتاب کو دیکھ رھا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے لن کو پکڑ کر مسلی جا رھا تھا میں کافی دیر اسکی حرکتوں کو نوٹ کرتا رھا پہلے تو میں سمجھا شاید اسکے خارش ھورھی ھے مگر اس نے ایک دفعہ کتاب کا صفحہ پلٹنے کے لیے لن سے ھاتھ ہٹایا تو اسکی شلوار میں تمبو بنا ھوا تھا جو قمیض کو بھی اوپر تک اٹھاے ھوے تھا میں یہ سب دیکھ کر ایکدم چونکا اور کتاب کو غور سے دیکھنے لگ گیا جیسے ھی میری نظر کتاب پر پڑی.،، میرے تو پسینے چھوٹ گئے اور ایکدم میں نے جھر جُھری سی لی اور آنکھیں پھاڑے کتاب کو ھی دیکھے جارھا تھا ، جو اصل میں سیکسی پکچر کا رسالہ تھا جسے میں کتاب سمجھ رھا تھا رسالے میں انگریز لڑکوں اور لڑکیوں کی تصویریں تھی جس میں کسی جگہ لڑکا لڑکی کی پھدی کو چاٹ رھا تھا کہیں لڑکی لڑکے کے لن کو منہ میں لے کر چوس رھی تھی کہیں گوری گھوڑی بنی ھوئی تھی اور گورے نے اسکے بال پکڑے ھوے تھے اور لن پیچھے. سے اسکی پھدی میں ڈالا ھوا تھا کسی جگہ. گوری اپنے ممے چسوا رھی تھی کسی جگہ دو دو گورے ایک گوری کو آگے پیچھے سے چود رھے تھے اور کسی جگہ دو گوریاں آپس میں ھے ایک دوسری کی پھدی چاٹ رھی تھی یا ممے چوس رھی تھی کہیں گوری اپنی انگلی پھدی میں ڈال کر لیٹی ھوئی تھی ایسے بہت سے پوز تھے میں رسالا دیکھنے میں فل مگن ھوگیا تھا اور نیچے سے میرا لن اچھل اچھل کر مجھے آوازیں دے رھا تھا مگر میں لن سے بیگانہ ھوکر بس انگریز گوریوں کی پھدیاں اور ممے اور چٹی چٹی بُنڈیں دیکھنے میں مصروف تھا کہ اچانک مجھے جھٹکا لگا اور میں نے گبھرا کر جب نیچے دیکھا تو،
  4. اور جوش میں آکر عظمی کا مما منہ ڈال لیا مجھے ایسا کر کے اتنا مزہ آرھا تھا کہ اس مزے کی کیفیت کو میں یہاں لفظوں میں بیان نھی کرسکتا میرا ھاتھ سپیڈ سے پھدی کے اوپر ھی حرکت کر رھا تھا اور میرا لن عظمی کے پٹ کے ساتھ گھسے مارنے اور رگڑنے میں مصروف تھا کہ اچانک جوش میں نے اپنی درمیان والی پوری انگلی عظمی کی پھدی کے اندر گھسا دی پھدی بھی گیلی تھی اور انگلی بھی گیلی جب انگلی اور پھدی راضی تو کیا کرے گا قاضی جیسے ھی انگلی عظمی کی پھدی کے اندر گئی عظمی نے ایک ذور دار چیخ مار کر مجھے پیچھے کو پورے ذور سے دھکا دیا میں عظمی کے اچانک اس رد عمل پر بہت ذیادہ ھی ڈر گیا اور پیچھے کی طرف جاگرا اتنے میں مجھے اپنے پیچھے سے کھالے کے بنے پر؟؟؟
  5. دوستو اس وقت جیسا سٹائل اور جیسی معصومیت اور انداز تھا عظمی اگر آپ اس سین کو امیجینیشن کریں تو آپ عظمی کے دلفریب گلاب کے کھلتے پھول جیسے ہونٹوں کو کھا جائیں کچھ ایسا ھی میرے ساتھ ھوا اور میں اسکی ادا اسکی معصومیت پر مر مٹا اور بے ساختہ اسکے نچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں جکڑ لیا اور چوسنے لگ گیا عظمی پہلے تو کچھ دیر مچلی مگر پھر اس نے بھی اپنا ایک ھاتھ میری گردن کے پیچھے رکھ لیا بلکل فرحت کی طرح کیوں کہ سیکس کے بارے میں جتنا کچھ ہم دونوں نے سیکھا اور سمجھا اور دیکھا تھا وہ ماسٹر جی اور فرحت سے ھی سیکھا تھا مختصراً وہ جوڑی اس جوڑی کی سیکس ٹیچر تھی خیر ہم دونوں اب مسلسل ایک دوسرے کے ہونٹ چوس رھے تھے. مجھے بھی بہت اچھا لگ رھا تھا اور عظمی کے منہ کے لباب کو اپنے لباب کے ساتھ مکس کر کے اندر نگھلتے وقت ایک عجیب سا مزہ اور سواد آرھا تھا ایسے ھی کبھی عظمی میری زبان کو چوستی کبھی میں عظمی کی زبان کو چوستا عظمی اب مکمل طور پر میرے کنٹرول میں آچکی تھی اور میں اسکا بھرپور فائدہ اٹھا رھا تھا میں نے ایک ھاتھ سے عظمی کی ایم مسمی کو پکڑا اور دبانے لگ گیا عظمی کا مما میرے ھاتھ میں پورا آیا ھوا تھا اور میرا لن عظمی کی تھائی کے ساتھ ٹکریں مارھا تھا کچھ دیر بعد میں نے عظمی کی قمیض کو اوپر کرنے کی کوشش کی تو عظمی نے میرا ہاتھ پکڑا لیا میں نے ہاتھ چُھڑوایا اورپھر سے قمیض اوپر کرنے لگا تو قمیض کا نچلا حصہ زمین کے ساتھ لگا ھونے کی وجہ سے آگے سے قمیض بس پیٹ سے تھوڑا اوپر مموں کے نیچے تک ھوئی میں نے اسی کو غنیمت جانا اور عظمی کے گورے چٹے سفید روئی کی طرح نرم پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگ گیا میرا ھاتھ جیسے ھی عظمی کے پیٹ پر رینگتا ھوا عظمی کے مموں کے قریب گیا عظمی ایک دم مچلی اور میرے ھاتھ کو مضبوطی سے پکڑ لیا میں نے بھی تھوڑا زور لگا کر اپنے ھاتھ کو عظمی کی قمیض کے نیچے سے گزار کر عظمی کی ایک مسمی کو پکڑ لیا دوستو عظمی کا مما اتنا نرم اور ملائم تھا کہ کیا بتاوں مجھے تو ایسے لگا جیسے میں نے کوئی روئی کا گولا ہاتھ میں پکڑا لیا ھو ھو میں نے تین چار دفعہ جوش میں آکر عظمی کے ممے کو کچھ زیادہ ھی زور سے دبا دیا عظمی کو شاید کچھ ذیادہ ھی درد ھوگئی اور اس نے ایک لمبی سی سسکاری لی اور پھر ہلکی سی چیخ ماری اور غصے سے بولی جانور مت بنو آرام سے کرو میں نے ساتھ ھی اپنے ھاتھ کو نرم کرلیا اور پیار سے آرام آرام سے ممے کو دباتا رھا اور انگلی سے اسکے اکڑے ھوے چھوٹے سے نپل کو بھی چھیڑتا رھا جس سے عظمی مزے کی وادیوں میں کھو گئی اور ہمممممم اففففف سسسسسیییی کرنے لگ گئی عظمی میرے ھونٹوں کو پاگلوں کی طرح چوس رھی تھی دو تین دفعہ تو اس نے میرے ہونٹ پر کاٹ بھی دیا تھا مجھے درد تو ھوا مگر میں نے اسپر ظاہر نھی کیا اور میں بھی مزے سے ایک ھاتھ سے اسکے دونوں مموں کو باری باری اپنی مٹھیوں میں بھرتا اور کبھی ہاتھ کو پیٹ پر لے آتا کچھ دیر ایسے ھی ہم ہر چیز سے بیگانے ھوکر اپنی مستی میں لگے رھے پھر میں ہاتھ عظمی کے نالے پر رکھا اور نالے کی گانٹھ کے سرے کو انگلیوں سے تلاش کرنے لگ گیا میں اس انداز سے نالے کے سرے کو تلاش کررھا تھا کہ عظمی کو شک بھی نہ ھو کہ میں اسکا نالا کھولنے لگا ھوں تھوڑی سی محنت کرنے کے بعد میں نے ایک جھٹکے سے نالے کے سرے کو کھینچا تو نالا کھل گیا اس سے پہلے کہ عظمی اپنی شلوار کو پکڑی یا میرے ہاتھ کو پکڑتی میں نے جلدی سے اپنی تین انگلیاں اسکی پھدی پر رکھ کر اسکی پھدی کو مسلنے لگ گیا ایسا بس چند سیکنڈ میں ھی ھوا عظمی کی پھدی نے جیسے ھی میری انگلیوں کو دیکھا تو پھدی سے آنسووں کی جھڑی لگ گئی اور عظمی نے ایک لمبی سی سسکاری لی اور مجھے کس کر جپھی ڈالتے ھوے بولی سسسسیییی ھااااےےےےے یاسسسرررر کے بچچچےےےے کی کیتا ای ادھر پھدی کے آنسووں نے میری انگلیوں کو تر کردیا اور میری انگلیاں آپس چِپ چِپ کرنے لگ گئی میں نے عظمی کی پھدی پر انگلیوں کا دباو بڑھا دیا تھا اور عظمی بھی ویسے ھی مچل رھی تھی. پھدی کو مسلنے کی سپیڈ میری بھی کافی تیز ھوگئی اسی دوران عظمی نے مجھے کس کر بڑے زور سے اپنے بازوں میں جکڑ لیے اور گانڈ اٹھا اٹھا کر پھدی کا مساج کروانے لگ گئی پھر اس نے ایک لمبی سے ھاااااااااا کی اور اپنی دونوں ٹانگوں کو آپس میں زور سے بھینچ لیا اور پھدی سے گرم گرم لاوا نکل کر میری انگلیوں کو جلاتا ھوا عظمی کی گانڈ سے نیچے گھاس پر گرنے لگا عظمی تین چار دفعہ کانپی اور ٹھنڈی ھوگئی مگر میں تو ویسے کا ویسا ھی تھا عظمی کی سیکسی آوازیں سن کر اور اسکی پھدی کا لمس پاکر میرا جزبہ اور جنون تو اور بڑھ چکا تھا میں پھر ایک دفعہ عظمی کی پھدی کے اوپر ھی اپنی انگلیوں کو پھیرنے لگ گیا اور دوسرے ھاتھ سے عظمی کی قمیض کو زور لگا کر مموں سے اوپر کردیا
  6. کچھ ھی دور جاکر میں کھڑا ھوگیا اور عظمی کو دیکھنے لگ گیا تقریباََ تین چار منٹ بعد عظمی آتی دیکھائی دی اور پھر ہم دونوں کھالے کی طرف چل پڑے میں نے اس سے تسلی کرلی کی کسی نے دیکھا تو نھی تو اس نے مجھے تسلی دلا دی کی میں سب کی نظروں سے بچ کر ھی آئی ھوں اتنے میں ہم کھالے کہ پاس پہنچ گئے اور پھر باری باری کھالا کراس کیا اور ٹاہلی کے بڑے سے درخت کے پیچھے جاکر بیٹھ گئے میں اور عظمی بلکل ساتھ ساتھ بیٹھ گئے تو عظمی بولی بتاو اب میں نے کہا میں تمہیں کلاس کی طرف بھیجنے کے بعد کمرے کے پیچھے گیا اور کھڑکی سے اندر کے حلات جاننے کے لیے کان لگا کھڑا ھوگیا کہ ماسٹر جی اب کیا کہتے ہیں مگر ماسٹر جی کو ہمارے ادھر آنے کا پتہ نھی چلا تھا اور ماسٹر جی فرحت کو پھر گندے کام کرنے کا کہہ رھے تھے اور فرحت ڈری ہوئی نہ نہ کررھی تھی تبھی مجھے ایسا لگا کہ ماسٹر جی نے پھر فرحت کے ساتھ گندا کام کرنا شروع کردیا ھے تو میں نے اینٹیں اکھٹی کی اور انکو دیوار کے ساتھ رکھ کر اوپر کھڑا ھوگیا جب میں نے اندر دیکھا تو ماسٹر جی فرحت کے سارے کپڑے اتارے ھوے تھے اور انکے دودو چوس رھے تھے اور اپنا ایک ھاتھ فرحت کی پیشاب والی جگہ پر رکھ کر مسل رھے تھے میں جیسے جیسے عظمی کو بتا رھا تھا عظمی کا رنگ سرخ ھوتا جارھا تھا اور وہ میری بات سنتے ہوے بار بار اپنی زبان کو ہونٹوں پر پھیر رھی تھی میرا لن بھی نیچے سے سر اٹھا چکا تھا عظمی بولی اچھا پھر کیا ھوا تو میں نے کہا پھر ماسٹر جی نے اپنی شلوار اتاری اور اپنا اپپپنا تو عظمی بولی کیااااا اپنا تو میں نے اسکا ھاتھ پکڑا اور اپنے اکڑے ھوے لن پر رکھ کر کہا ماسٹر جی اپنا یہ لن نکال کر فرحت کے منہ میں ڈال دیا تو عظمی نے جلدی سے اپنا ھاتھ واپس کھینچا اور مجھے گھورتے ھوے کہا تمیز نال زیادہ شوخا نہ بن میں جھینپ سا گیا اور خاموش ھوگیا عظمی پھر بولی اگے دس فیر کی ہویا میں نے کہا پھر ماسٹر جی نے فرحت کی بھی شلوار اتار دی اور گندے کام کرنے لگ گئے، عظمی بولی یاسررررررر سہی طرح بتاو کہ پھر کیا ھوا میں نے اسے گھورتے ھوے کہا کہ پھر تم نے میری شلوار کھینچ کر اتار دی تھی تو عظمی میری بات سن کر شرمنده سی ھوگئی اور سر نیچے کرتے ھوے بولی کہ وووہ وہ تو میں نے تمہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے تمہاری شلوار کو کھینچا تھا مجھے کیا پتہ تھا کہ تم اتنی ڈھیلی الاسٹک والی شلوار پہنتے ھو تو میں نے کہا جب اتنی ذور سے کھینچی تھی تو نالا بھی ھوتا تو تب بھی شلوار اتر جانی تھی تو عظمی بولی تم اب کون سا بچے ھو جو الاسٹک پہنتے ھو تو میں نے کہا تم بھی تو الاسٹک ھی پہنتی ھو تو عظمی نے اپنی قمیض آگے سے اوپر کر کے اپنا نالا مجھے دیکھاتے ھوے کہا اے ویکھ بَچُو لاسٹک نئی نالا اے عظمی نے جب قمیض اوپر کی تو اسکا چٹا سفید پیٹ مجھے نظر آیا اسکا پیٹ دیکھتے ھی میرے لن نے نیچے سے ایک ذور دار جھٹکا مارا پھر عظمی بولی اچھا اب بتا بھی دو کہ پھر کیا ھوا مجھے تو سارا کچھ بھول کر عظمی کے گورے جسم کو دیکھنے اور چومنے کی پڑ گئی مگر میں اندر سے ڈر رھا تھا کہ یہ موڈی لڑکی ھے اگر اس نے شور مچا دیا یا گھر بتا دیا تو سارا قصور میرا ھی نکلنا ھے، اس لیے میں پہل کرنے سے گبھرا رھا تھا عظمی نے مجھے کندھے سے ہلاتے ھوے پھر کہا ہیلو میں کیا پوچھ رھی ھوں تو میں نے کہا ہاں ہاں ہاں وہ وہ وہ بتا تو دیا کہ پھر دونوں گندے کام کرنے لگ گئے تھے تو عظمی بولی یاسسسرررر کے بچے تفصیل سے بتاو کہ کیا کیا کررھے تھے آخر میرا بھی صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا میں نے نشے کے سے انداز کھسک کر اسکے سامنے آیا اور اسکے سامنے آیا اور اسکے دونوں کندھوں کو پکڑا اور منہ اسکے منہ کے قریب کیا اور بڑے رومینٹک انداز سے اسے کہا تفصیل سے بتاوں تو عظمی نے ہاں میں صرف سر ھی ہلایا اور میں نے ویسے ھی اسکو کندھوں سے پکڑے پیچھے کی طرف دھکیل کر گھاس پر لٹا دیا اور اسکے اوپر لیٹ گیا عظمی نے بڑی کوشش کی اپنا آپ چھڑوانے کی مگر کامیاب نہ ھوسکی آخر کار تھک کر رونے والا منہ بنا کر میری طرف دیکھنے لگ گئی. میں نے ہونٹ اسکے ہونٹوں کے کچھ فاصلے پر کئیے ھوے تھے عظمی نے اب اپنے نیچے والے ہونٹ کو ایسے باہر نکالا جیسے چھوٹا بچہ رونے سے پہلے نیچے والا ہونٹ باہر نکال کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیتا ھے بلکل ویسے ھی عظمی نے اپنا. نیچے والا ہونٹ باہر کو نکالا ھوا تھا اسکے ہونٹ تو پہلے ھی پنک کلر کے تھے مگر ہونٹ کا اندر کا حصہ سرخی مائل تھا میں جیسے ھی اسکے ہونٹوں کو چومنے لگا تو عظمی نے اپنے ایک ہاتھ کا مکا بنایا اور مجھے دیکھانے لگ گئی میں نے سر کے اشارے سے پوچھا کیا ھے تو عظمی نے اہنے نیچے والے ہونٹ کو مذید باھر نکالتے ھوے کہا ماروں گی
  7. اور تالی مار کر بولا واہ جی واہ بڑی پڑھائیاں ھو رھی ہیں، نسرین بولی ہاں تینوں کوئی تکلیف اے آپ تے پڑنا نئی دوسریاں نوں گلاں کرنیاں، میں نے بھی جواباً کہا جناں مرضی پڑ لو ہُناں تے فیل ای اے تو اس دفعہ عظمی بولی تم تو ہر دفعہ فرسٹ آتے ھو جیسے میں نے کہا *** شکر ھے فرسٹ ھی آتا ھوں تمہاری طرح رشوت دے کر پاس نھی ہوتا تو نسرین جھلا کر بولی اممییییی اسے بولو ہمیں پڑھنے دے خود تو سارا دن آوارہ پھرتا ھے اور دوسروں کو پڑھنے نھی دیتا، تو آنٹی جو پہلے ھی ہماری باتوں پر ہنس رھی تھی ہنستے ھوے بولی بھائی ھے تمہارا. اب تم لوگوں کے ساتھ نھی مزاق کرے گا تو کس سے کرے گا، تو عظمی بولی امی آپ کی ان ھی باتوں نے اسے سر پر چڑھا رکھا ھے تو انٹی غصے سے بولی بکواس نہ کر تے چپ کر کے پڑھ، تو عظمی نے غصہ سے اپنی کتابیں بیگ میں ڈالنا شروع کردی کہ پڑھ لیا جتنا پڑھنا تھا اب یہ شیطان کا چیلا آگیا اس نے پڑھنے دینا ھے، تو میں نے آنٹی کی طرف بڑا معصوم سا چہرہ بنا کر دیکھا اور کہا آنٹی جی دیکھ لیں مجھے کیا کہہ رھی ھے تو آنٹی بولی ایدی زبان وڈن والی ھوئی اے جو منہ وچ اندہ پونکدیندی اے تو عظمی مجھے گھورنے لگ گئی میں نے عظمی کی طرف دیکھا اور زبان نکال کر اسے منہ چڑایا تو وہ مجھے مارنے کے لیے بھاگی تو میں کمرے سے باھر کو بھاگا اور وہ میرے پیچھے پیچھے بھاگتی آگئی میں گلی میں نکل کر کھیتوں کی طرف بھاگا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو عظمی بھی تیز تیز چلتی جوتا ھاتھ میں پکڑے آرھی تھی میں رک گیا اور اس کی طرف دیکھ کر پھر زبان نکال کر منہ چڑایا تو اس نے ھاتھ میں پکڑا جوتا میری طرف پھینکا جو مجھ سے کچھ ھی دور گرا میں نے آگے بڑھ کر اسکا جوتا اٹھایا اور کھیت کی طرف بھاگ گیا وہ بھی ایک پاوں میں جوتا پہنے اور ایک ننگے پاوں سے ھی مجھے برا بھلا کہتی میرے پیچھے بھاگی میں کھیت میں پہنچا تو کافی سارے بچے کھیل رھے تھے میں کپاس کے کھیت کے باہر پگڈنڈی پر بیٹھ کر گلی کی طرف دیکھنے لگ گیا تو مجھے عظمی بڑے غصے میں آتی دیکھائی دی اور سیدھا میری ھی طرف رخ کیا اور کچھ فاصلے پر آکر کھڑی ھوگئی اور نیچے کھیت سے ایک بڑا سا مٹی ڈھیلا اٹھا کر مجھے مارنے کے لیے ڈرانے لگ گئی اور کہنے لگی جُتی دے میری چولے نئی تے تیرا سَر پاڑ دینا اے میں نے اسے دیکھ کر اپنے دونوں ھاتھ کانوں کو لگا کر اس سے معافی مانگنے لگ گیا اور اسکی جوتی کا پاوں اسکی طرف پھینک دیا عظمی آگے آئی اور جوتا پہن کر میرے سامنے کھڑی ھوگئی اور بولی ہُن پج پتر،، کتھے پجیں گا اور زور سے مٹی کا ڈھیلا میرے پیروں میں مارا میں نے دونوں پاوں اوپر کرلیے اور اس سے کہنے لگ گیا بس کر یار ہن بچے دی جان لینی اے تو عظمی بلکل میرے سامنے اپنے دونوں ھاتھ اپنی وکھیوں پر رکھے بڑی شوخی سے بولی بچہ تے ویکھو وڈے وڈے کم کردا اے تے ہے بچہ واہ واہ تو میں نے کہا اچھا بابا اب معاف بھی کردو تو وہ میرے ساتھ ھی پگڈنڈی پر بیٹھ گئی میں نے کہا اگر جناب کا غصہ اتر گیا ھے تو کھیلیں تو عظمی بولی بچُو میں پڑھائی چھوڑ کر تیرے پیچھے کھیلنے نھی آئی تو میں حیران ھوتے اسکی طرف دیکھ کر بولا تو جناب کس لیے آئی ہیں، تو عظمی بولی سہی سہی بتاو کہ کھڑکی سے کیا دیکھ رھے تھے، تو میں نے بڑی شوخی سے اسکی طرف دیکھا اور اسکا کان پکڑ کر کھینچتے ھوے کہا اچھااااا اے سار ڈرامہ کھڑکی والی گَل پُچھن واسطے کیتا سی، تو عظمی نے اپنا کان چُھڑواتے ھوے بولی آئیییییی میرا کَن چھڈ باندر جیا نہ ھوے تے تو میں نے اسکا کان چھوڑ دیا تو وہ بولی ایسے امی نے آنے نھی دینا تھا تو میں نے اسکی گال پر چُٹکی کاٹتے ھوے کہا بڑی تیز ھوگئی ایں، تو عظمی نے جلدی سے اپنی گال کو پیچھے کیا اور میرا ھاتھ پکڑ کر اپنی گود میں رکھا اور بولی چلو اب بتا بھی دو تو میں نے کہا یار یہ کوئی جگہ ھے بات کرنے کی یہاں سب بچے ہیں کسی نے ہماری بات سن لی تو،،،،،، تو عظمی بولی تو پھر کہاں جاکر بتانا ھے تو میں نے کہا وہاں کھالے کے پاس ٹاہلی کے پیچھے بیٹھ کر بتاوں گا اگر سننا ھے تو چلو ادھر چل کر سب کچھ تفصیل سے بتاوں گا عظمی کچھ دیر سوچتے ھوے بولی چلو میں نے کہا تم ادھر ھی بیٹھو میں پہلے جاتا ھوں تم تھوڑی دیر بعد آجانا تو عظمی بولی نہ نہ مجھے اکیلی کو ڈر لگتا ھے میں نے نھی آنا اکیلی نے تو میں نے کہا یار میں تھوڑا اگے جاکر رک کر تمہارا انتظار کرلوں گا جب تم آجاو گی تو پھر اکھٹے ھی کھالے پر چلیں گے تو عظمی نے اثبات میں سر ہلا دیا اور میں نے سب بچوں پر نظر دوڑائی تو سب بچے اپنے دھیان میں لگے ھوے تھے میں وہیں سے پیچھے کی طرف کھسکتا ھوا کپاس کے پودوں میں گُھس گیا اور پھر اٹھ کر پودوں کے درمیان سے ھی پگڈنڈی پر آگیا اور کھالے کی طرف چل پڑا کچھ ھی دور جاکر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا
  8. شام کو میں کھیلنے کے لیے گھر سے نکل کر سیدھا آنٹی فوزیہ کے گھر گیا تو جیسے ھی میں دروازے سے اندر داخل ہوا تو آنٹی فوزیہ دروازے کے بلکل ساتھ ھی لگے ہوے نلکے سے برتن دھو رھی تھی، میں نے آنٹی کو سلام کیا تو آنٹی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور مسکرا کر سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔ آنٹی فوزیہ نے پیلے رنگ کی قمیض اور سفید شلوار پہنی ھوئی تھی اور کُھرے کی بنی پر بیٹھ کر برتن دھونے میں مصروف ھوگئی میں بھی آنٹی کے پاس ھی کھڑا ھوگیا آنٹی پاوں کے بل بیٹھی تھی اس لیے انہوں نے پیچھے سے قمیض اٹھا کر آگے دونوں ٹانگوں میں دی ھوئی تھی کہ قمیض پیچھے سے گیلی نہ ھو اور آنٹی کی گانڈ پاوں کے بل بیٹھنے سے پیچھے کو نکلی ھوئی تھی اور انکی تھوڑی سی کمر بھی ننگی ھورھی تھی میری کمبخت آنکھوں نے کھڑے ھوتے ھی آنٹی کی گانڈ کا اچھے سے ایکسرا کیا میں نے آنٹی سے عظمی لوگوں کا پوچھا تو آنٹی نے بتایا کہ دونوں کمرے میں پڑھ رھی ہیں میں پہلے تو کمرے کی طرف چلنے لگا مگر آنٹی کے جسم کا نظارا کرنے کے لیے فلحال اپنا ارادہ ملتوی کردیا، اور نلکے کی ہتھی پکڑا کر اوپر نیچے کرتے ھوے آنٹی سے بولا آنٹی میں نلکا گیڑتا ھوں آپ آرام سے برتن دھو لو آنٹی بولی پتر تم جاو اندر میں دھو لوں گی تم ایسے اپنے کپڑے گیلے کرو گے مگر میں نے آنٹی کو کہا کہ کچھ نھی ھوتا اور زور زور سے نلکے کی ہتھی کو گیڑتے ھو آنٹی کے جسم کا معائنہ کرنے لگا آنٹی نے لان کی قمیض پہنی ھوئی تھی اور پیلے رنگ میں سے کالے رنگ کے برا کے سٹرپ صاف نظر آرھے تھے آنٹی جب جھک کر برتن کو مانجھتی تو پیچھے سے اپنی گانڈ کو بھی اوپر نیچے کرتی برتن دھوتے آنٹی کی شلوار ایک سائڈ سے کافی گیلی ھوگئی تھی اور اس میں سے انکا گورا جسم دعوت نظارا دے رھا تھا آنٹی کی گانڈ کی ایک سائڈ صاف نظر آرھی تھی میں چوری چوری نظر گھما کر دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کرتا رھا تب تک آنٹی نے سارے برتن دھوکر لوھے کی ٹوکری میں رکھ لیے اور کھڑی ھوکر پیچھے سے گانڈ میں پھنسی شلوار کو نکالا اور قمیض کو درست کیا، تو میں برتنوں کی ٹوکری کو اٹھانے لگا آنٹی بولی پتر رہنے دے میں خود اٹھا لوں گی تیرے سے برتن گر جائیں گے، اور یہ کہہ کر آنٹی میرے سامنے ھی نیچے کو ٹوکری اٹھانے کے لیے جھکی تو آنٹی کے گلے پر میری بے ساختہ نظر پڑی ان کے چٹے چٹے مموں کا نظارا بلکل میرے سامنے تھا کالے بریزئیر میں انکے گورے ممے کیا قیامت لگ رھے تھے اوپر سے پیلا رنگ انپر بہت جچ رھا تھا آنٹی نے برتنوں کی ٹوکری اٹھائی اور سیدھی ھوگئی، میں سکتے کے عالم میں کھڑا ویسے ھی آنٹی کی چھاتی کو دیکھے جارھا تھا آنٹی نے مجھے آواز دی یاسرررر میں ایک دم ہڑبڑا گیا اور آنٹی کی طرف گبھراے ھوے بولا ججججی آنٹی تو آنٹی مسکرا کر بولی کون سے خیالوں میں کھو جاتے ھو میں نے کہا کہیں نھی آنٹی جی تو آنٹی بولی چلو کمرے میں اور آنٹی میرے آگے آگے برتنوں کی ٹوکری کو اٹھاے اپنے پیٹ کے ساتھ لگاے چلی جارھی تھی میں آنٹی کے پیچھے انکی ہلتی ھوئی گانڈ کو گھورتے چلا جارھا تھا آنٹی کمرے میں داخل ھو کر سامنے دیوار پر لگے لکڑی کے پھٹے پر برتن جوڑنے لگ گئی اور میں عظمی اور نسرین کے پاس جا کر کھڑا ھوگیا ،،،،
  9. میری شلوار گُھٹنوں تک نیچے چلی گئی تھی میں نے جلدی سے دونوں ھاتھ سے شلوار کو اوپر کرتے ہوے پیچھے مڑتے دیکھا تو عظمی اپنے منہ پر ھاتھ رکھے ہنسی جارھی تھی میں نے اسے گھور کر دیکھا اور چھلانگ مار کر اینٹوں سے نیچے اتر گیا جب میں نے چھلانگ لگائی تو میرے لن نے قمیض کو آگے سے اٹھایا ھوا تھا عظمی نے بھی ایک نظر میری اٹھی ھوئی قمیض کو دیکھا اور منہ دوسری طرف کر لیا میں نے اسے بازو سے پکڑ کر زور سے ہلایا اور غصے سے اشارہ کرتے ھوے پوچھا کہ کیا تکلیف ھے تو وہ کچھ بولنے ھی لگی تھی کہ میں نے اسے انگلی منہ پر رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اسکا ھاتھ پکڑ کر کلاس کی طرف چل دیا میں تیز تیز قدم اٹھانے اسے لے کر جارھا تھا ۔۔۔ کلاس میں پہنچ کر عظمی اپنی جگہ پر بیٹھ گئی اور میں کرسی پر کمروں کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا ۔۔۔ اور عظمی کی طرف گھورتے ھوے دیکھ کر اپنے منہ پر ھاتھ پھیر کر اسے انگلی دیکھاتے ھوے اشارہ کیا کہ دیکھ لوں گا تجھے ۔۔ کچھ دیر بعد ماسٹر جی کمرے سے نکل کر کلاس کی طرف آتے دیکھائی دئے میں نے جان بوجھ کر ماسٹر جی کو ایسے نظر انداز کیا جیسے میں نے انہیں دیکھا ھی نھی ۔۔۔ ماسٹر جی اتنے میں میرے قریب سے گزرتے ھوے میرے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوے بولے۔۔۔۔ سنا چھوٹے ماسٹر کی ہوریا اے، میں ایکدم ایسے چونکہ جیسے ماسٹر جی کی آمد کا مجھے پتہ ھی نھی چلا میں جلدی سے کھڑا ھوگیا اور بولا سر بچوں کی نگرانی کررھا ھوں آپکی طبعیت کیسی ھے اب ماسٹر جی کے چہرے پر شیطانی سی مسکراہٹ آئی اور ماسٹر جی نے کرسی پر بیٹھتے ھوے ٹانگیں سیدھی کی اور دونوں ھاتھ سر سے اوپر لیجا کر ایک لمبی سی جمائی لی اور بولے ٹھیک ھے اب جاو شاباش جا کر اپنی جگہ پر بیٹھ جاو میں جاکر عظمی کے پاس بیٹھ گیا مجھے پھر نھی پتہ چلا کہ فرحت کب گئی فرحت نے مجھے کہنی ماری اور بولی مروان لگا سی نا اج تو میں نے کہا بلے بھی بلے الٹی تم نے کی کھانسی تمہاری نکلی اور مروانے میں لگا تھا تو عظمی نے گھورتے ھوے کہا اینی دیر اوتھے کھڑا کی کردا ریا سی ، میں نے کہا کچھ نھی بس ویسے ھی کھڑا تھا تو اس نے مجھے پھر کہنی ماری اور بولی سہی سہی بتا کیا دیکھ رھا تھا ماسٹر جی کو پتہ چل گیا کہ نھی میں نے کہا تم گبھراو مت کچھ نھی ھوا اور میں نے ماسٹر کی طرف اشارہ کرتے ھوے اسے خاموش کروا دیا کہ راستے میں سب بتا دوں گا، ماسٹر جی آنکھیں بند کیے کرسی پر بیٹھے کرسی کو آگے پیچھے کر کر کے پتہ نھی کس سوچ میں گم تھے پھر ہمیں چھٹی ھوگئی اور گھر جاتے وقت کافی سارے بچے ہمارے ساتھ ساتھ تھے اس لیے عظمی سے کچھ خاص بات نہ ھو سکی
  10. اور ماسٹر جی اپنا لن فرحت کی ٹانگوں کے درمیان پھنسا کہ گھسے مار رھے تھے فرحت کی دونوں آنکھیں بند تھی اور ماسٹر کی کمر کے گرد دونوں بازو ڈال کر ہاتھ ماسٹر جی کی کمر پر پھیر رھی تھی ،، استاد جی یہ منظر دیکھ کر میرا لن پھر تن گیا اور میں اپنے لن کو مسلنے لگ گیا ماسٹر جی نے ایک ھاتھ فرحت کی گانڈ سے ہٹایا اور آگے لا کر اسکا نالا کھول دیا نالا کھلتے ھی فرحت کی شلوار اسکی پاوں میں گر گئی اور ماسٹر جی نے اپنا ھاتھ فرحت کی پھدی پر رکھ کر پھدی کو مسلنے لگ گیا اور ساتھ ساتھ اس کا مما بھی چوسنے لگ گیا کچھ دیر یہ ھی سین چلتا رھا پھر ماسٹر جی نے فرحت کی قمیض جو پہلے ھی اسکے کندھوں تک تھی اسکو اتارنے کی کوشش کی مگر فرحت نے منع کردیا کہ اگر کوئی آگیا تو اتنی جلدی میں قمیض نھی پہن سکوں گی ماسٹر جی نے بھی ذیادہ اصرار نھی کیا اور اپنی قمیض اتار دی اور فرحت کو چارپائی پر لٹا دیا اب فرحت بلکل ننگی چارپائی پر لیٹی ھوئی تھی اور اس نے دونوں ٹانگیں سیدھی کر کے پھدی کو چھپانے کی کوشش کررھی تھی قمیض ویسے ھی اس کے گلے تک تھی فرحت کے ممے بلکل کنواری لڑکی کی طرح تنے ھوے تھے اور مموں پر ہلکے بروان کلر کے نپل بھی تنے ھوے تھے فرحت کا جسم دیکھ کر کوئی کہہ نھی سکتا تھا کہ اسکا دس سال کا بیٹا بھی ھے لیٹنے کی وجہ سے اسکا پیٹ بھی بلکل ساتھ لگا ھوا تھا فرحت کی ٹانگوں پر بال بھی نہ ھونے کے برابر تھے شاید گولڈن کلر کے بال تھے جو دور سے مجھے نظر نھی آرھے تھے لگ ایسے رھا تھا جیسے اس نے ویکس کی ھوئی ھے جبکہ اس دور میں ویکس وغیرہ کا تصور بھی نھی کیا جاتا تھا بس بال صفا پوڈر ھوتا تھا جس سے پھدی کی بال صاف کیے جاتے تھے فرحت کا چہرے کا رنگ تو سفید تھا ھی مگر اسکے جسم کا کلر کسی کشمیری بٹنی سے کم نھی تھا میرا دور سے دیکھ کر ھی برا حال ھوئی جا رھا تھا تو سوچیں جو اس کے جسم کے ساتھ مستیاں کررھا تھا اسکا کیا حال ھوگا ماسٹر جی فرحت کو لٹا کر چارپائی کے پاس کھڑے ھوگئے اور اپنی شلوار کا نالا کھولا اور شلوار اتار دی جیسے ھی ماسٹر جی کی شلوار اتری تو ماسٹر جی کا شیش ناگ لہراتا ھوا سامنے کھڑا تھا ماسٹر جی کا لوڑا تھا کہ کھوتے کا لن ماسٹر جی کا لن دیکھتے ھی میرے منہ سے بےساختہ نکلا او تواڈی پین نوں ایڈا وڈا لن اففففف فرحت کا جب دھیان ماسٹر جی کے لن کی طرف گیا تو فرحت کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آئی اور اسکا منہ کھلے کا کھلا رھ گیا ماسٹر جی نے اپنے لن کے پھولے ھوے ٹوپے پر ہاتھ پھیرا اور فرحت کے منہ کی طرف. لن کو کر کے اسکے قریب ھوگئے فرحت ایک دم گبھرا گئی اور منہ دوسری طرف کر لیا ماسٹر نے فرحت کے سر کو پکڑ کر اپنے لن کی طرف کیا اور لن کو ھاتھ میں پکڑ کر فرحت کے ہونٹوں پر مارنے لگ گئے فرحت نے ھاتھ اپنے ھونٹوں پر رکھتے ھو ے نھی میں سر ہلایا تو ماسٹر جی نے فرحت کا ھاتھ اسکے منہ سے علیحدہ کرتے ھوے کہا یار بس تھوڑا سا پیار کردو تو فرحت بولی میں نے یہ گندہ کام کبھی نھی کیا اے تے ہے وی ایڈا وڈا تے اینا موٹا نہ بابا میرے منہ وچ نئی آنا ماسٹر جی نے پھر منت کرتے ھوے کہا یار بس ایک پوری کردو اور لن کی ٹوپی کو فرحت کے ہونٹوں پر رکھ دیا فرحت نے برا سا منہ بنا کر دو تین چُمیاں ٹوپے پر لے لیں اور ھاتھ سے بس کا اشارہ کردیا مگر ماسٹر جی کہاں باز آنے والے تھے ماسٹر جی نے پھر سے منتیں کردی کہ بس تھوڑا سا منہ میں ڈال لو تو فرحت نھی نھی کرتی رھی مگر ماسٹر جی نے لن کو اسکے منہ پر رکھ کر ہلکا سا پُش کیا تو ٹوپے کی دباو سے مجبوراً فرحت کو منہ کھولنا پڑا اور فرحت نے بڑا سا منہ کھول کر صرف ٹوپا ھی منہ میں لیا اور تھوڑا سا چوس کر باہر نکال دیا اور الٹی کرنے کے سٹائل سے چارپائی کے سائڈ پر ھوکر نیچے تھوکنے لگ گئی اور کھانسنے لگ گئی اور کھانسے ھوے بولی میرا سانس ھی بند کردیا اینا موٹا لن اے ماسٹر جی بولے. یار ابھی تو صرف ٹوپا ھی اندر کیا تھا اور تم اسے کرنے لگ گئی ھو ماسٹر جی نے پھر لن فرحت کے ہونٹوں پر پھیرا اور اسے منہ کھولنے کو کہا تو فرحت نے آآآ کر کے منہ کھول دیا اور ماسٹر جی نے ایکدم کافی سارا لن اسکے منہ میں ٹھونس دیا اور ساتھ ھے اسکے سر کو مضبوطی سے اس انداز میں پکڑ لیا کے فرحت اپنا سر پیچھے کر کے لوڑا منہ سے نہ نکال لے. اور ماسٹر جی ساتھ ھی گھسے مارنے لگ گئے فرحت کی منہ میں آدھے سے بھی کم لن گیا ھوا تھا مگر فرحت کا منہ پھولا ھوا تھا اور اس کے منہ سے غوں غوں غوں کی آوازیں آرھی تھی ایکدم فرحت کی آنکھیں باہر کو آنے لگ گئی اور انکھوں سے پانی نکلنا شروع ھوگیا اور ذور لگا کر ماسٹر سے اپنا سر چھڑوانے لگ گئی آخر کار ماسٹر جی کو بھی بیچاری پر ترس آگیا اور لن کو اسکے منہ سے نکال دیا لن نکلتے ھی فرحت زور زور سے کھانستے ھوے اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنا ھاتھ گلے پر پھیرتی ھوئی لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی ماسٹر جی جلدی سے اسکے پاس بیٹھ گئے اور اس سے معافی مانگنے لگ گئے تو فرحت بولی تم نے مجھے جانور سمجھ رکھا ھے ایسے بھی کوئی کرتا ھے حد ھے تمہاری میرا سانس بند ھونے لگا تھا اور تمہیں اپنے مزے کی پڑی ھوئی تھی میں جارھی ھوں میں نے نھی کچھ کروانا تو ماسٹر جی شرمندہ سے گبھراے ھوے بولے کہ یار غلطی ھوگئی اچھا لیٹو اب نھی کرتا فرحت کہنے لگی میں لیٹوں گی تو ھی کچھ کرو گے چھوڑو مجھے جانے دو ماسٹر جی نے جب دیکھا کہ اتنی خواری کے بعد بھی شکار ہاتھ سے نکل رھا ھے تو ماسٹر جی نے جلدی سے پینترا پلٹا اور مسکے لگانا شروع ھوگئی کہ یار تم خوبصورت ھی اتنی ھو کنواری لڑکی سے بڑھ کر تمہارا جسم ھے اتنے پیارے ہونٹ ہیں کہ مجھ سے رھا نھی گیا میں نے بھی تمہاری پھدی کو زبان سے چاٹا ھے کیا کمال کی چیز ھو تم لگتا ھی نھی کہ تم شادی شدہ ھو اور ایک بچے کی ماں ھو میں کیا کروں مجھے سمجھ ھی نھی آرھا تھا کہ میں کیا کررھا ھوں عورت کی سب سے بڑی کمزوری اسکی تعریف ھے اور ماسٹر جی کا حربہ کامیاب ھوگیا اور ماسٹر جی نے تعریف کرتے کرتے فرحت کو پھر چار پائی پر لٹا کر اسکے اوپر آگئے ماسٹر جی نے اوپر آتے ھی کچھ دیر فرحت کے مموں کو باری باری چوسا اور ایک ھاتھ سے پھدی کو مسلا تو فرحت پھر گرم ھوگئی ماسٹر جی تھوڑا نیچے ھوے اور فرحت کی دونوں ٹانگوں کو پکڑ کر اوپر کیا اور اپنے لوڑے کے موٹے ٹوپے کو فرحت کی پھدی کے لبوں کے درمیان اوپر نیچے کرنے لگ گئے تو فرحت نے کہا ماسٹر جی مجھے ڈر لگ رھا ھے اتنا بڑا لن ھے آپکا میرے خاوند کا تو اس سے بھی آدھا لن تھا مجھے تو اس سے بھی درد ھونے لگ جاتی تھی اب یہ اتنا بڑا لن میں کیسے لے سکوں گی تو ماسٹر جی نے کہا میری جان کچھ نھی ھوتا بس برداشت کرنا پھر دیکھنا کیسے مزہ ھی مزہ آتا ھے ایسے باتیں کرتے کرتے اور فرحت کو تسلیان دیتے ھوے ماسٹر جی نے فرحت کی ٹانگوں کو اپنے کندھوں پر رکھا اور ٹانگوں کو کندھوں سے لے کر فرحت کے اوپر جھک گئے اب فرحت کی ٹانگیں مل ماسٹر جی کے کندھوں پر تھی اور ماسٹر جی اپنا سر فرحت کے منہ کے قریب لے گئے اور اپنے دونوں ھاتھوں کو فرحت کی ٹانگوں کے نیچے سے گزار کر اسکے کندھوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا فرحت کے پیر اسکے سر کے پاس پہنچ گئے نیچے سے ماسٹر جی کا ٹوپا پہلے ھی پھدی کے ہونٹوں میں پھنسا ھوا تھا اس سے پہلے کہ فرحت کچھ بولتی یا سمجھتی ماسٹر جی نے ایک جاندار گھسا مارا پھدی گیلی ھونے کی وجہ سے لن بغیر کسی رکاوٹ کے پھدی کے ریشوں کو چیرتا ھوا اندر گہرائی تک جا پہنچا اور ٹوپا جاکر بچے دانی کا حال چال پوچھنے لگ گیا جیسے ھی لوڑے نے اپنا کام کیا فرحت کے منہ سے ایک ذور دار چیخ نکلی ھاےےےےےےےے میں مر گئی ھاےےےےےےے ھاےےےےےےے وے ماسٹرا ماردتا ای ھاےےےےےےے وے کی کردتا ای ھاےےےےےےےے امممییییی میری پھدی گئی ھاےےےےےے اففففففففففف فرحت کی چیخ اتنی ذور کی تھی کہ اگر کوئی کمرے کے تھوڑے فاصلے پر بھی ھوتا تو اس کی چیخ سن لیتا فر حت کا یہ حال دیکھ کر میں بھی ایک دفعہ کانپ گیا ماسٹر جی بھی ایک دفعہ ہل گئے اور جلدی سے ایک ھاتھ. فرحت کے منہ پر رکھ دیا اور لن اندر ھی جڑ تک رھنے دیا فرحت ایسے تڑپ رھی تھی جیسے پہلی دفعہ چدی ھو اور حقیقتاً واقعی فرحت کے حال پر ترس آرھا تھا فرحت کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور اپنے دونوں ھاتھ ماسٹر کے سینے پر رکھ کر ماسٹر جی کو پیچھے دھکیل رھی تھی اور کبھی سینے پر مکے مار رھی تھی کچھ دیر ایسے ھی چلتا رھا دو منٹ تک ماسٹر جی نے کوئی حرکت نہ کی بس فرحت کے منہ کو چومتے رھے اور اپنے ہونٹوں سے اسکے آنسو چُنتے رھے پھر ماسٹر نے فرحت کی ٹانگوں کو چھوڑ دیا فرحت نے ٹانگیں ماسٹر جی کے کندھوں سے نیچے اتار کر سیدھی کرلی اور دو تین دفعہ ٹانگوں کو اٹھا اٹھا کر چار پائی پر مارتی رھی کچھ دیر بعد فرحت بھی کچھ ریلکس ھوئی تو ماسٹر جی نے اہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کرنا شروع کردیا فرحت ھوے ھوے افففف سسسسسیییی کرتی رھی اور ساتھ ساتھ ہولی کر ہولی کر ہولی کر کہتی رھی تقریبا پانچ منٹ تک ایسے ھی دونوں لگے رھے پھر فرحت کو بھی مزہ آنے لگ گیا اور ماسٹر جی کی بھی گھسوں کی سپیڈ تیز ھوتی گئی آخر کار لن اور پھدی کی صلح ھوگئی ،، ،، اب فرحت بھی گانڈ اٹھا اٹھا کر پورا لن اندر لے رھی تھی ماسٹر جی نے ایک بار پھر فرحت کی ٹانگیں اوپر کر دیں اور زور زور سے گھسے مارنے لگ گئے فرحت کے ممے بھی اسی ردھم میں اوپر نیچے ھورھے تھے اور فرحت بھی سسکاریاں لے رھے تھی فرحت نے اب دونوں ھاتھ ماسٹر کی گانڈ پر رکھ لیے اور ماسٹر کی گانڈ کو پھدی کی طرف دھکیلتی اور منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکالتی ماسٹر اگے کر ماااسٹر ساررررراا اگگگے کردے سارررا اگگے کردے انکھیں بند منہ کھلا اور کہے جارھی تھی سسسسسی پورا کردے سارا کردے زورررر دی ماسٹر ھاااں انج ای ایتھے مار ایتھے مار سٹ. آآ ھااااا افففففف اچانک فرحت کی ٹانگیں کانپنا شروع ھوئی اور جسم اکڑنے لگ گیا اور ایکدم بولی میں گئی میں گئی گئی گئییییییییی اور ساتھ ھی ماسٹر جی کو کس کے جپھی ڈال کر اسکا منہ چومنے لگ گئی اور یکدم جسم ڈھیلا چھوڑ کر لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی ادھر ماسٹر جی کی بھی سپیڈ تیز ھوگئی چند گھسوں کے بعد یکدم ماسٹر جی نے اپنا لوڑا پھدی سے باھر نکالا اور فرحت کے مموں کی طرف ٹوپا کر کے تیز تیز مٹھ مارنے لگ گئے پھر ایک لمبی پچکاری لن سے نکلی جو سیدھی فرحت کے مموں پر گری اور کچھ چھینٹے فرحت کے منہ پر پڑے فرحت نے اسی وقت اپنا ھاتھ منہ کے اگے کر لیا پھر دوسری پچکاری مموں سے پچھے پھر تیسری پچکاری ناف پر اور پھر ماسٹر جی کے ہاتھ سے منی بہتی ھوئی پھدی کے اوپر گرنے لگ گئ ماسٹر جی بھی لمبے لمبے سانس لے رھے تھے یہ سب دیکھتے میں اپنے لن کو مسلنے میں مصروف تھا اور میرا سارا دھیان اندر ھی تھا مجھے یہ بھی احساس تک نہ ھوا کے میرے پیچھے بھی کوئی کھڑا ھے وہ تو مجھے تب پتہ چلا جب کسی نے میری شلوار کو پکڑ کر نیچے کھینچا جس سے میری لاسٹک والی شلوار نیچے چلی گئی اور میں نے جیسے ھی گبھرا کر پیچھے دیکھا تو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
  11. ماسٹر جی کو ایکدم کرنٹ لگا اور چھلانگ مار کر چارپائی سے نیچے اترے اور گبھرا کر پردے کی طرف دیکھتے ھوے بولے کون ھے،،، کون ھے میرے تو ایکدم سے پاوں تلے سے زمین ھی نکل گئی میں نے عظمی کو بازو سے پکڑا اور دروازے کی طرف دوڑ لگا دی اور جلدی سے باہر نکلے اور جیسے ھی میری سامنے نظر پڑی تو،،،،،،،،،،، میں نے باہر نکلتے ھی دروازہ آہستہ سے بند کیا اور سامنے کلاس کہ طرف دیکھا تو سب بچے اپنی اپنی گپوں میں مصروف تھے میں نے عظمی کو کہا کہ تم جلدی سے کلاس کی طرف جاو میں کمروں کے پیچھے سے ھو کر آتا ھوں عظمی ابھی بھی ہلکا ہلکا کھانس رھی تھی میں اسے دروازے پر ھی چھوڑ کر کمروں کے پیچھے واش روم کی طرف بھاگ گیا اور جلدی سے واش روم میں داخل ھوگیا پیشاب کر کے میں باہر نکلا اور دوبارا کھڑکی کے پاس جاکر کان لگا کر اندر کے حالات معلوم کرنے لگ گیا ڈر کے مارے میرا بھی برا حال تھا اور یہ سوچ سوچ کر میرا دل حلق کو آنے والا ھوگیا تھا کہ اگر ماسٹر جی کو پتہ چل گیا کہ ہم دونوں ھی کمرے میں تھے تو ماسٹر جی نے تو ہمیں چھوڑنا ھی نھی مار مار برا حال کردینا ھے اور بدنامی الگ سے ہونی ھے میں بڑے غور سے اندر کی سچویشن معلوم کرنے کے لیے دھیان اندر کی طرف کیے کھڑا تھا تبھی ماسٹر جی کی آواز آئی کوئی بھی نھی ھے یار تم ایسے ڈر رھی ھو تو فرحت بولی تم پاگل تو نھی ھوگئے میں نے خود کسی لڑکی کے کھانسنے کی آواز سنی ھے تم کہہ رھے ھو کوئی نھی ھے تب ماسٹر جی کی آواز آئی کہ یار میں دفتر میں دیکھ کر آیا ھوں کوئی بھی نھی ھے اور دروازہ بھی ویسے ھی بند ھے اگر کوئی اندر سے باہر جاتا تو لازمی دروازہ کھلا ھوتا یا دروازہ کھلنے یا بند ھونے کی آواز آتی میں تسلی کرکے آیا ھوں تو فرحت کی آواز آئی ماسٹر جی مینوں جان دیو ******دی قسمیں میرا دل پھڑکی جاندا پیا اے مینوں بڑا ڈر لگ ریا اے ماسٹر جی پھر منت کرتے ھوے بولے یار تمہیں مجھ پر یقین نھی ھے کیا مجھے اپنی عزت کا خیال نھی تم کیوں پریشان ھورھی ھو شاید کوئی بچی ادھر سے گزری ھو اس کے کھانسنے کی آواز میں نے بھی سنی تھی مگر میں دفتر میں دیکھ کر ایا ھوں کوئی بھی نھی ھے میں نے ان دونوں کی آواز سنی تو سکون کا سانس لیا اور شکر ادا کیا کہ بچ گئے تبھی فرحت کی آواز آئی نہ کرو ماسٹر جی اب مجھے جانے دو بہت دیر ھوگئی ھے اب میرا دل نھی کررھا اتنا کچھ تو کر لیا اب کوئی کسر رھ گئی ھے اور پھر کمرے میں خاموشی ھوگئی میں نے جلدی سے اپنے دونوں ھاتھ کھڑکی کے بنیرے پر رکھے اور اپنے دونوں پاوں دیوار کے ساتھ لگا کر جمپ مار کر کھڑکی کے اندر دیکھا تو ماسٹر جی پھر فرحت کو جپھی ڈالے اس کے ہونٹ چوس رھے تھے میں کچھ سیکنڈ ھی ایسے اوپر رھ سکا اور میرے پاوں دیوار سے پھسلتے ھوے واپس زمین پر آگئے میں نے دو تین ٹرائیاں ماری مگر مجھ سے اوپر نھی ھوا گیا میں اب سوچ میں پڑ گیا کہ اندر کا نظارا کیسے دیکھوں کیوں کہ میں دوبارا اندر کمرے میں جانے کا رسک نھی لے سکتا تھا اچانک میری نظر سکول کی بیرونی دیوار پر پڑی جس کی کافی ساری اینٹیں نیچے گری ہوئی تھی میں جلدی سے دیوار کی طرف گیا اور وہاں بیٹھ کر چھ سات اینٹوں کو اوپر نیچے جوڑ کر اٹھا کر کھڑکی کے پاس لے آیا اور آرام سے نیچے رکھ دی اور انکو دیوار کے ساتھ چوکڑی بنا کر جوڑ دیں میں نے اینٹوں کے اوپر چڑھ کر اندر دیکھنے کی کوشش کی مگر تھوڑا سا فرق بچا میں جلدی سے پھر دیوار کے پاس گیا اور مزید اینٹیں اٹھا کر لے آیا اور ان اینٹوں کے اوپر ساری اینٹیں جوڑ دی اب کافی اونچی چوکڑی بن چکی تھی میں نے ایک ھاتھ کھڑکی کی بنی پر رکھا اور جمپ مار کر اینٹوں کی چوکڑی کے اوپر چڑھ گیا، اب میں آسانی سے اندر کا سارا نظارہ دیکھ سکتا تھا ،،، ماسٹر جی نے فرحت کھڑے کھڑے فرحت کی قمیض اوپر کی ھوئی تھی اور نیچے ھوکر اسکے ممے چوس رھے تھے فرحت بھی اب سکون سے اہنے ممے چسوا رھی تھی ماسٹر جی نے اپنے دونوں ھاتھ اسکی گانڈ کے پیچھے رکھے ھوے تھے اور گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو پکڑ کر دبا رھے تھے
  12. دوسری طرف ماسٹر جی مزے لے لے کر فرحت کے دونوں مموں کو باری باری چوس رھے تھے ماسٹر جی کبھی مموں کے تنے ھوے نپلوں پر گولائی کے گرد زبان پھیرتے کبھی نپلوں کی سائڈ پر براون دائرے پر زبان پھیرتے اور کبھی ممے کو منہ میں بھر کر ہلکی ہلکی دندیاں کاٹتے اور فرحت اس سے فل انجواے کرتی ھوئی ماسٹر کے بالوں میں انگلیاں پھیر رھی تھی اور منہ چھت کی طرف کیے آنکھیں بند کرکے اففففف اسسسسسس سسییییی اففففف کی آوازیں نکال رھی تھی ماسٹر جی تقریباً دس منٹ تک دودہ کے پیالوں کو منہ لگا کر دودہ ختم کرنے کی کوشش کرتے رھے مگر دودہ کہ پیالے تھے کہ چھت کی طرف منہ اٹھاے ماسٹر جی کا منہ چڑھا رھے تھے ماسٹر جی نے اب فرحت کے تھنوں کو چھوڑا اور مموں کے درمیان لائن میں زبان پھیرتے پھر فرحت کے اوپر اگئے اور زبان کو پیٹ کی طرف لے آے ماسٹر جی کُتے کی طرح زبان کو پیٹ پر پھیر کر پیٹ چاٹ رھے تھے جیسے پیٹ پر شہد لگا ھو ماسٹر جی نے زبان کو فرحت کی ناف کی طرف گھمایا اور لمبی زبان کی نوک سے ناف کے سوراخ کے چاروں طرف پھیرنے لگے جیسے جیسے زبان ناف کے دائرے میں گھومتی فرحت بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپنے لگ جاتی ۔ماسٹر جی اب سیدھے ھوکر گُھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور اپنی قمیض اتارنے لگے پھر ماسٹر جی نے فرحت کا نالا کھولا اسی دوران فرحت نے شلوار کو پکڑ لیا مگر ماسٹر جی نے شلوار کو چھڑوا کر شلوار فرحت کے گُھٹنوں تک کی اور پھر باری باری دونوں ٹانگوں سے شلوار نکال کر نیچے پھینک دی ماسٹر جی نے جب فرحت کلین شیو بالوں سے پاک چٹی سفید باہر کو پھولی ھوئی پھدی دیکھی تو ماسٹر جی کے منہ میں پانی آگیا ماسٹر جی نے بنا وقت ضائع کئے اپنی لمبی زبان نکالی اور سیدھی فرحت کی پھدی کے دانے پر رکھ کر کتے کی طرح دانے کو چاٹنے لگ گئے جیسے ھی ماسٹر کی زبان نے پھدی کے دانے کو چھوا تو فرحت تین فٹ چارپائی سے اچھل کر واپس گری اور اس نے ھاےےےےےےےے میں گئی کہ آواز نکالی تو ماسٹر جی نے اپنے دونوں ھاتھوں سے فرحت کے بازو پکڑ کر اسکو چارپائی پر دبا دیا کہ اب یہ دوبارا اوپر نہ اٹھے ماسٹر جی اب زبان کی نوک سے پھدی کے اوپر والے حصہ ھڈی کی جگہ پر کُتے کی طرح زبان کو پھیرنے لگ گئے فرحت کی حالت ایسی تھی جیسے ابھی اسکی جان نکلنے والی ھو اس نے دونوں ٹانگیں چھت کی طرف کھڑی کی ھوئی تھی اور اسکی ٹانگیں کانپ رھی تھی اور ماسٹر جی کی زبان اپنا جادو دیکھانے میں مصروف تھی اِدھر عظمی مسلسل میرا لن دباے جارھی تھی اور میں اسکے ممے دبا رھا تھا مجھے نجانے کیا سوجی میں نے اپنا یک ھاتھ نیچے کیا اور اس سے پہلے کہ عظمی کچھ سمجھتی میں نے اپنا ہاتھ عظمی کی شلوار میں گھسا دیا اور اپنی چاروں انگلیاں عظمی کی چھوٹی اور نرم سی پھدی پر رکھ کر دبانے لگ گیا عظمی کو ایکدم کرنٹ سا لگا اس نے جلدی سے میرا ھاتھ پکڑ لیا مگر میں مسلسل ایسے ھی پھدی کو دباے جارھا تھا عظمی نے میرا لن چھوڑ کر اپنی پھدی کے اوپر رکھے ہوے میرے ھاتھ کے اوپر رکھ دیا تھا میرا لن آزاد ھوتے ھی دوبارا عظمی کی گانڈ میں گھس گیا عظمی کو اب مزا آنے لگ گیا تھا پہلے وہ میرا ھاتھ باہر کو کھینچ رھی تھی پھر میرے ھاتھ کو اپنی پھدی پر دبانے لگ گئی اسکی پھدی پہلے ھی کافی گیلی ھوچکی تھی میری انگلیاں آپس مین چپک رھی تھی میں زور سے تیزی تیزی سے ھاتھ اوپر نیچے کرنے لگ گیا اور پیچھے سے گھسے مارنے لگ گیا اور ایک ھاتھ سے ممے کو دبانے لگ گیا عظمی ایک دم کانپنے لگ گئی اور اس نے اپنی گانڈ کو فل پیچھے میرے لن کے ساتھ جوڑ دیا میرا لن عظمی کی موٹی گانڈ کے دراڑ میں پھنس گیا اور اس نے اپنی گانڈ کو زور سے بھینچ کر میرے لن کو جکڑ لیا اور ساتھ ھی اپنی ٹانگوں کو میرے ھاتھ سمیت جکڑ لیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی مجھے اچانک محسوس ھوا جیسے گرم گرم مادہ میری انگلیوں سے بہتا ھوا عظمی کی ٹانگوں سے نیچے جارھا ھے میں نے غور کیا تو عظمی کی پھدی لِیک کر رھی تھی ادھر ماسٹر جی نے اپنا کام چَک کے رکھا ھوا تھا ماسٹر جی فرحت کی پھدی کو کھویا ملائی سمجھ کر مزے لے لے کر کبھی چوستے کبھی چاٹتے ماسٹر جی پھدی چاٹنے کے ساتھ ساتھ اپنی ایک انگلی کو بجی پھدی کے اندر باہر تیزی سے کر رھے تھے کہ اچانک فرحت کی ٹانگیں اکڑنا شروع ھوگئی اور فرحت کا جسم ایک دم کانپا اور فرحت کی پھدی سے ایک مادہ اور پانی سے ملی جلی پھوار نکلی جو سیدھی ماسٹر جی کے منہ کے اندر اور باھر گری پھر دوسری تیسری ماسٹر جی کا منہ فرحت کی منی اور پانی سے بھر گیا یہ سب دیکھ کر میرا تو دل خراب ھونے لگ گیا اور عظمی جب یہ سب دیکھا تو اس نے ایکدم ہپھھھ کیا اور اس کے منہ سے الٹی نکل کر سیدھی الماری پر گری الٹی کرتے ہوے اس نے کھانسی لی تو اسکی آواز ماسٹر جی اور فرحت نے بھی سن لی ماسٹر جی کو ایکدم کرنٹ لگا اور چھلانگ مار کر چارپائی سے نیچے اترے اور گبھرا کر پردے کی طرف دیکھتے ھوے بولے کون ھے،،،
  13. ماسٹر جی نے اپنی ایک ٹانگ فرحت کی ناف کے نیچے پھدی کے اوپر رکھی ھوئی تھی ایک ھاتھ سے فرحت کا مما دبا رھے تھے فرحت بھی فُل مزے میں تھی اس نے اپنے دونوں ھاتھ اپنے سر کے پیچھے دائیں بائیں کر کے چارپائی کے سرھانے کی طرف لگے لوہے کے پائپ کو پکڑا ھوا تھا ماسٹر جی مسلسل فرحت کے ہونٹوں پر لگی سرخی کو چوس چوس کر ختم کررھے تھے اب فرحت کے پنک ہونٹ ھی رہ گئے تھے ہونٹوں پر لگی ساری لپسٹک ماسٹر جی کھا چُکے تھے پھر ماسٹر جی نے ہونٹوں کو چھوڑا اور فرحت کی ٹھوڑی پر زبان پھیرتے پھیرتے نیچے گلے پر آگئے ماسٹر جی کی لمبی زبان فرحت کہ گلے پر رینگتی کبھی نیچے سینے تک جاتی کبھی اوپر نیچے سے اوپر ٹھوڑی تک آتی فرحت بھی زبان کے لمس کو برداشت نھی کررھی تھی وہ ایکدم کبھی اوپر کو اچھلتی کبھی اپنے سر کو مزید اوپر کی طرف کرکے لمبی سی سسکاری لیتی اور آنکھیں بند کئے فرحت سسییییی افففففف امممممم کی آوازیں نکال رھی تھی ماسٹر جی نے ایسے ھی زبان کو پھیرتے پھیرتے زبان کا رخ دائیں کان کی طرف کیا جیسے ھی ماسٹر کی زبان نے فرحت کے کان کی لو کو ٹچ کیا تو فرحت ایک دم ایسے اچھلی جیسے اسے کرنٹ لگا ھو اور اس نے زور سے سیییی کیا اور دونوں بازوں ماسٹر جی کی کمر کے گرد ڈال کر زور سے جپھی ڈال لی اور نیچے سے گانڈ اٹھا کر ماسٹر جی کے لن کے ساتھ اپنی پھدی کا ملاپ کرانے لگ گئی ماسٹر جی بھی کسی ماہر چودو کی طرح اپنے حربے استعمال کررھے تھے اور فرحت بھی ماسٹر جی سحر میں پھس چکی تھی ماسٹر جی نے جب دیکھا کہ فرحت کی کمزوری ادھر ھی ھے تو ماسٹر جی بار بار اپنی زبان کو کان کی لو پر رکھ کر زبان کو پھیرتے پھیرتے پیچھے سے اوپر لے جاتے اور پھر ویسے ھی اوپر سے نیچے تک لے آتے پھر اچانک ماسٹر جی نے پورا کان منہ میں ڈالا اور نکال کر کان کے اندر ھاااااا کر کے منہ کی ھوا کان میں ڈالی تو فرحت ایکدم کانپ سی گئی ماسٹر نے اسی دوران اپنا ایک ھاتھ پیچھے لیجا کر فرحت کو تھوڑا سا اوپر کیا اور پیچھے سے قمیض اوپر کر دی اور پھر ھاتھ کو اگے لاکر آگے سے قمیض اوپر کر کے کندھوں تک لے گئے فرحت کے مموں پر قمیض تھوڑی سی پھنسی تھی مگر ماسٹر جی نے قمیض کے اندر ھاتھ ڈال کر پہلے دایاں مما باھر نکالا بھر بایاں اور قمیض کندھوں تک لے گئے اب فرحت کا چٹا سفید پیٹ اور کالے رنگ کی برا میں چھپے چٹے سفید ممے نظر آرھے تھے ماسٹر جی نے اپنا ھاتھ برا میں ڈالا اور ایک ممے کو آزاد کردیا پھر وہاں سے ھی ھاتھ کو دوسری طرف لے جا کر دوسرا مما بھی بریزئیر سے نکال دیا۔۔۔ فرحت کے گورے گورے موٹے ممے دیکھ کر میرا تو برا حال ھورھا تھا میرا لن ایکدم اکڑا ھوا تھا اور عظمی کی گانڈ کی دراڑ میں کپڑوں سمیت گھسا ھوا تھا میرا دھیان لن کی طرف اس لیے گیا کہ میں نے محسوس کیا کہ عظمی اپنی گانڈ کو پیچھے سے ہلا رھی تھی عظمی کہ جزبات کو دیکھ کر اور ماسٹر جی کا سیکس دیکھ کر میرا بھی حوصلہ بڑھ گیا اور میں نے اپنے دونوں ھاتھ آگے کر کے عظمی کے مالٹے کے سائز کے مموں پر رکھ دیے عظمی نے گردن گھما کر میری طرف ایک نظر دیکھا اور پھر دوسری طرف دیکھنے لگ گئی عظمی اب مسلسل گانڈ کو دائیں بائیں کر رھی تھی، میں نے آہستہ آہستہ مموں کو دبانا شروع کردیا عظمی کو بھی یہ سب اچھا لگ رھا تھا اس لیے اس نے اپنا ایک ھاتھ میرے ھاتھ پر رکھ لیا اور جیسے جیسے میں مموں کو دباتا عظمی بھی ویسے ھی میرا ھاتھ دبانے لگ جاتی اچانک مجھے ایک جھٹکا لگا جب میں نے اپنا لن عظمی کے نرم نرم ھاتھ میں محسوس کیا عظمی نے اپنا دوسرا ھاتھ پیچھے لیجا کر میرا لن ھاتھ میں پکڑ لیا تھا اور اسے آہستہ آہستہ دبانے لگ گئی
  14. دوستو موبائل کی بیٹری لو ھے اور آج لائٹ بھی صبح سے بند ھے باقی کی لمبی اپدیٹ موبائل چارج کر کہ کروں گا اس لیے ناراض مت ھونا
  15. میں نے آگے ہوکر تھوڑا سا پردہ ہٹایا تو اندر ماسٹر جی نے فرحت کو چارپائی پر لٹایا ھوا تھا اور خود اس کے اوپر لیٹ کر فرحت کے ہونٹ چوس رھے تھے ماسٹر جی کی گانڈ فرحت کی پھدی کے اوپر تھی اور انکا لن فرحت کی پھدی کے ساتھ چپکا ھوا تھا اور فرحت کے ممے ماسٹر جی کے سینے تلے دبے ھوے تھے اور ماسٹر جی فرحت کے ہونٹ چوستے ھوے ساتھ ساتھ اپنی گانڈ کو ہلا ہلا کر اپنا لن فرحت کی پھدی کے ساتھ رگڑ رھے تھے فرحت بھی مزے سے اپنے دونوں بازو ماسٹر جی کی کمر پر رکھ کر زور سے بازوں کو بھینچ رھی تھی عظمی نے مجھے کندھے سے ہلایا تو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عظمی نے اشارے سے اندر کی صورتحال کا پوچھا تو میں نے اسے اپنے آگے کردیا اور خود اسکے پیچھے کھڑا ھوگیا عظمی نے جب اندر کا سین دیکھا تو اپنا ھاتھ منہ پر رکھ کر ایکدم پیچھے ہٹی جس سے اسکی گانڈ میرے لن کے ساتھ رگڑ کھا گئی اور ساتھ ھی دوسرے ھاتھ سے اہنے کانوں کو چھوتے ھوے توبہ توبہ کرنے لگ گئی میں نے عظمی کے منہ پر ہاتھ رکھا اور سے لیتے ھوے الماری کی دوسری نکر پر آگیا مجھے ڈر تھا کہ عظمی کوئی آواز نہ نکال دے میں الماری کے پاس اکر اندر دیکھنے کی جگہ تلاش کرنے لگ گیا تو مجھے ایک جگہ سوراخ نظر آیا جس میں کپڑا ڈوھنسا ھوا تھا میں نے آرام سے کپڑا باہر کی طرف کھینچا تو کافی بڑا سا شگاف نظر آیا شگاف اتنا بڑا تھا کہ ہم دونوں آسانی سے ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے ہوکر اندر کا نظارا دیکھ سکتے تھے میں نے انگلی ہونٹوں پر رکھتے ھوے عظمی کو خوموش رہنے کا اشارہ کیا اور عظمی کو اپنے آگے کھڑا کر دیا الماری میں خانے بنے ھوے تھے جس میں کچھ کتابیں وغیرہ تھی اور کچھ خانے خالی تھی اور سوراخ والا خانہ بھی خالی تھا سوراخ تھوڑا نیچے تھا اس لیے عظمی کو تھوڑا جھکنا پڑا جس سے اسکی گانڈ باہر کو نکل آئی اور عظمی تھوڑا سا نیچے جھک کر اپنے دونوں ھاتھ خانے کی پھٹیوں پر رکھ کر اندر کی طرف دیکھنے لگ گئی میں بھی اسی سٹائل میں اسکے اوپر جھک کر اپنی ٹھوڑی اسکے کندھے پر رکھ کر اندر دیکھنے لگ گیا عظمی نے سکول یونیفارم پہنا ھوا تھا اور میں نے بھی یونیفارم کا کپڑا ریشمی ٹائپ کا تھا جو قدرے ملائم تھا میں پیچھے سے بلکل عظمی کی گانڈ کے ساتھ چپک گیا پہلے تو عظمی تھوڑا سا کسمکسائی مگر میں نے اسکا بازو دبا کر اسے کھڑے رھنے کا کہا تو وہ شانتی سے کھڑی ھوگئی، اندر اب ماسٹر جی فرحت کے اوپر سے اٹھ کر اسکے ساتھ لیٹ گئے تھے جبکہ فرحت بلکل سیدھی ھی لیٹی ھوئی تھی ماسٹر جی سائڈ سے اسکے ساتھ لیٹے ھوے تھے
×