Jump to content
Good Morning ×
URDU FUN CLUB

xhekhoo

Writers
  • Content Count

    263
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    48

xhekhoo last won the day on April 20

xhekhoo had the most liked content!

Community Reputation

464

About xhekhoo

  • Rank
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. ,,,thanks to my all sweet brothers & love u for appreciated. God bless u
  2. update.. New .پٹری کی طرف سے میرے کانوں سے شور سنائی دیا ۔آوازیں سن کر مجھے اور عبیحہ کو سب کچھ بھول گیا عبیحہ نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر مجھے پیچھے کو ذور سے دھکا دیا اور ساتھ ھی بولی ۔ ھاےےےے مرگئیییی مما لوگ آگئے ۔۔ میں بھی آوازوں پر غور کر چکا تھا اور مجھے بھی کنفرم ھوگیا تھا کہ پٹری کے اوپر سب گھر والے ھی ہیں جو آپس میں ہنسی مزاق کرتے ھوے شاید گھر واپس جارھے تھے یا پھر دوبارہ باغ میں آنا چاھ رھے تھے ۔ میں نے بھی وقت کی نزاکت کو سمجھتے ھوے جلدی سے اپنا ٹراوزر اوپر کیا اور عبیحہ بھی اپنی شلوار اوپر کرچکی تھی ۔۔ میں نے ٹراوزر کی ڈوری باندھتے ھوے عبیحہ کو کہا ۔ جلدی سے نہر کی طرف چلو اگر وہ لوگ ادھر آگئے تو ہم دونوں کی حالت دیکھ کر انکو شک ھوجاے گا ۔۔ ڈر کے مارے عبیحہ کے بھی ھاتھ پیر پھولے ھوے تھے ۔ وہ کپکپاتی آواز میں بولی ۔ ککککدھرررر جانا ھے ۔ میں نے انگلی سے باغ کے اندورن سے نہر کی طرف اشارہ کیا ۔ تو عبیحہ ایسے اسطرف بھاگی جیسے اکیلی نے ھی ادھر پہنچ جانا ھے ۔ میں نے اسکو بھاگتے دیکھا تو بھاگ کر اسکے سر پر جا پہنچا اور اسکا بازو پکڑ کر اسے رکنے کا کہا ۔ اور بولا ۔ یار آرام سے چلو کیا ہوگیا ھے ایسے اگر مالی نے دیکھ لیا تو وہ کیا سوچے گا ۔۔ عبیحہ بولی یاسر میرا دل بیٹھی جارھا ھے ۔ میں نے کہا یار حوصلہ رکھو کچھ بھی نہیں ہوگا وہ سب تو ابھی پٹری پر ہیں اور ویسے بھی وہ ہم کو نہ تو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ھی ہم تک اتنی. جلدی پہنچ سکتے ہیں ۔۔اسلیے آرام آرام سے چلو ایسے تم گبھراو گی تو کوئی بھی دیکھنے والا غلط مطلب لے سکتا ھے ۔ عبیحہ میری بات سن کر کچھ سنبھلی اور پھر ہم دونوں باغ کے بیچو بیچ نہر پر جا پہنچے ۔ عبیحہ نہر پر چڑھ کر کنارے پر چوکڑی مار کر گھاس پر بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لیتی ھوئی آسمان کی طرف منہ کرکے شکر ادا کرنے لگ گئی ۔۔ میں بھی اسکے ساتھ ھی چوکڑی مار کر بیٹھ گیا ۔۔ ہم دونوں بلکل خاموش تھے اور بہتے ھوے پانی کو دیکھی جارھے تھے ۔ عبیحہ نجانے بیٹھی کیا سوچ رھی تھی اسکی نظر بہتے ھوے پانی پر ٹکی ہوئی تھی جیسے وہ پانی سے کوئی چیز تلاش کررھی ھو ۔۔۔ ہمیں بیٹھے ابھی تھوڑی ھی دیر ہوئی تھی کہ عبیحہ ایکدم اٹھی اور نہر کے کنارے پر پٹری کے پُل کی طرف چلنے لگی ۔۔ میں پہلے تو اسے آواز دینے لگا مگر پھر خاموشی سے اٹھا اور اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا عبیحہ بڑے بوجھل بوجھل قدموں سے چل رھی تھی ۔ آخر میں نے دو قدم تیزی سے بڑھا ے اور عبیحہ کے ساتھ جا ملا اور اسکے برابر میں، چلتے ھوے کھیتوں کی طرف انگلی کر کے بولا ۔ عبیحہ جی ادھر کھیتوں کی طرف چلتے ہیں ۔ آپکو مکئی اور چاول کی فصل دیکھاتا ہوں ۔ وہ دیکھیں سامنے ۔۔۔۔ عبیحہ نے کھیتوں کی طرف دیکھنے کی بجاے میری طرف گردن گھما کرر دیکھا۔۔ میں نے اسکی خاموشی کو محسوس کرتے ھوے کھیت سے نظر ہٹا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔ میری نظر جیسے ھی اسکی آنکھوں پر پڑی تو اسکی آنکھیں سرخ ھوچکی تھیں اور اسکے گال آنسوؤں سے گیلے تھے ۔۔ میں اسکی حالت دیکھ کر ایکدم گبھرا گیا اور میرے چلتے قدم ایکدم رک گئے ۔۔ مگر میرے رکنے سے عبیحہ نہیں رکی بلکہ وہ یوں ھی چلتی ھوئی مجھ سے آگے نکل گئی ۔ میں نے وہیں کھڑے چند لمحے اسکو پیچھے سے دیکھا ۔ اور پھر تقریباً بھاگتا ھوا عبیحہ کے ساتھ مل گیا اور پھر اس کا ہاتھ کلائی سے پکڑ کر اسےکہا ۔ عبیحہ رکو ۔۔۔۔ میری بات سنو ۔۔۔ عبیحہ ایکدم رکی اور اس نے پہلے مجھے گھور کر دیکھا اور پھر میرے ھاتھ میں پکڑی اپنی کلائی کو ۔ جھٹکے سے چھڑوالیا ۔ اور غراتے ھوے بولی ۔ Don't touch meeeeee.. خبردار آئیندہ مجھے چھونے کی بھی کوشش کی ۔ یہ کہہ کر وہ دو قدم چلی اور پھر رکی اور تیزی سے واپس میری طرف گھومی اور جنگلی بلی کی طرح مجھ پر جھپٹی اور عبیحہ نے میرے گریبان سے میری ٹی شرٹ کو پکڑا ۔ اور غراتے ھوے بولی ۔ تمہاری جرات کیسے ہوئی میرے ساتھ یہ سب کرنے کی ۔ تم ہوتے کون ھو میرے اتنے قریب آنے والے ۔ ہوس کے پجاری جاہل گنوار ۔ تم کیا سمجھتے ہو اکیلی لڑکی کو دیکھ کر جو تمہارا دل کرے وہ تم کرلو گے ۔ تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ھے ۔ اور پھر عبیحہ دوسرے ھاتھ سے چٹکی بجاتے ھوے گاوں کی طرف اشارہ کرتے ھوے بولی چلو ایک دفعہ گھر بتاتی ہوں تمہاری امی کو سب کچھ تم نے میرے ساتھ ذبردستی کیا ۔۔۔۔۔۔ کیا ھے اور پوچھتی ھوں اپنی مما کو بھی کہ کیا وہ ہمیں اس لیے یہاں لے کر آئی تھی کہ اپنے بھانجے سے اپنی بیٹی کی عزت لٹواے۔۔۔ بلیڈی فول ایڈیٹ نونسنس ۔۔ . میں خاموشی سے اسکی باتیں سنی جارھا تھا ۔ اسکی انگلش سن کرمجھے غصہ بہت آیا مگر اسکی دھمکی سن کر میری گانڈ پھٹنے والی ھوگئی ۔۔۔ میں نے ہمت کرکے لب کھولے اور بس اتنا ھی کہا ۔ عبیحہ جججی ممممیری بات۔۔۔ اسکے ساتھ ھی عبیحہ گرجی شٹ اپپپپپپپپپپپپ اور تاڑڑڑڑ کرتا تھپڑ میری گال پر پڑا ۔ ایک دو تین چار پانچ ۔ اور پھر عبیحہ میرے گریبان کو پکڑ ے گریبان کے ساتھ جھولتی ھوئی پاوں کے بل نیچے بیٹھتی گئی اور اسکا ھاتھ میرے گریبان سے رینگتا ھوا میرے سینے سے پیٹ تک آیا ۔ اور عبیحہ روتے ھوے یہ کہتے ھوے نیچے بیٹھتی گئی ۔۔تم نے میری شرافت میرے یقین کا ناجائز فائدہ اٹھایا ھے تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا کیوں کیوں کیوں کیوں ۔ اور عبیحہ نہر کے کنارے پر پاوں کے بل بیٹھ کر گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگ گئی ۔۔ مجھے اس پر غصہ بھی آرھا، تھا اور اسکے اسطرح رونے سے اور گھر والوں کو سب کچھ بتانے کی دھمکی سے میری ہوا بھی ٹائٹ ھوچکی تھی ۔ مجھے سمجھ ہی نہیں آرھی تھی کہ میں کیا کروں ۔۔ میں اس وقت، کو پچھتا رھا تھا کہ اسکے ساتھ جب میں گھر سے نکلا ۔۔ میں ان ھی خیالوں میں اور اضطراب میں ڈوبا کچھ دیر اسکے سر پر کھڑا اپنے سر کو جھکائے غصے اور پریشانی کی عالم میں اسے گھورتا رھا ۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرھی تھی کہ میں کیا کروں ۔ سالی نے خود گرم ھوکر پہلے مجھے بہکایا اور مجھے چوم چاٹ کر گرم کرتی رھی اور جب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ھوگیا تو اب سالی پاکبازی اور شرافت کا ڈرامہ رچانے بیٹھی ھے ۔ جیسے ھی میرے دماغ میں یہ خیال آیا کہ اس نے پہلے مجھے چوم چاٹ کر بہکایا ۔۔ تو اسکے ساتھ ھی میرے چہرے کے تیور بدلنا شروع ھوگئے اور میری آنکھوں کے سامنے ۔ وہ سین چلنے لگا کہ یہ کیسے مجھے کسنگ کررھی تھی اور کس کس اینگل سے کسنگ کررھی تھی اور کیسے ہر بار مجھ سے اگلوا رھی تھی کہ میری اسکے بارے میں کیا فیلنگ ھے ۔ اور اسکے ساتھ ھی میں اس فیصلہ پر پہنچا کہ یہ سالی پکی تجربہ کار ھے کیونکہ کوئی شریف لڑکی اس طرح کسنگ نہیں کرتی جیسے یہ کررھی تھی ۔ اس کا لازمی کسی لڑکے کے ساتھ چکر ھے ورنہ کسنگ کا اسکو تجربہ نہیں ہوتا یقیناً یہ کنواری نہیں ھوگی لازمی کسی نہ کسی سے چد چکی ھوگی ۔ جیسے یہ رنڈی کی طرح میرے ساتھ پیش آرھی تھی ۔ کسنگ کا اتنا تو مجھے بھی نہیں پتہ تھا جتنا اس نے مجھے سکھا دیا ۔ اور اب اپنی شرافت کا رونا رونے بیٹھ گئی ھے ۔۔ میری دماغ میں عبیحہ کے کریکٹر کے بارے میں خود ھی کڑیاں ملنے لگ گئیں ۔ اور میں نے ساتھ ھی اگلا پتہ پھینکنے کا سوچا اور غصے اور جوش کی بجاے ٹھنڈے دل سے ہوش میں رہتے ھوے اس نیتجہ پر پہنچا کہ سالی یہ سب ڈرامے کررھی ھے تاکہ میری نظروں میں پاکباز ثابت ھو اور سارا الزام مجھ پر ڈال کر یہ ثابت کرنا چاہتی ھے کہ میں نے اسکے ساتھ سب کچھ ذبردستی کیا ھے ۔۔۔ آخر میں کچھ سوچ کر پاوں کے بل عبیحہ کے سامنے بیٹھا ۔ اور بولا ۔۔ عبیحہ جی ۔۔ آپ جسے چاھے جو مرضی بتا دیں مجھے کسی کا ڈر نہی مگر آپ کو میرے سوال کا جواب دینا ھوگا ۔۔ میری بات سن کر عبیحہ نے چونک کر سر اٹھا کر میری طرف دیکھا ۔ میں نے کہا ۔ دیکھیں عبیحہ جی بیشک جو کچھ بھی ہمارے بیچ ھوا غلط ھوا ایسا ہرگز بھی نہی ہونا چاہئے تھا ۔۔ اس میں جتنا میرا قصور ھے اتنا ھی آپکا بھی ھے ۔ یقین کریں میں ایسا لڑکا نہی ھوں ۔کہ کسی بھی لڑکی کو اکیلی دیکھ کر اسکے ساتھ میں ذبردستی کروں یا اسکے ساتھ غلط کام کروًں۔۔ دیکھیں میری بات سنیں اگر میں ایسا لڑکا ھوتا تو جیسا میرا کاروبار ھے وھاں ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی آتی ھے تو میں ہر آنے والی اکیلی لڑکی کے ساتھ یہ سب کچھ کرلیتا لیکن میں نے آج تک کسی لڑکی کو غلط نگاہ سے نہیں دیکھا ۔ اور اکثر بیشتر کئی دفعہ اکیلی لڑکی بھی میری بوتیک پر آجاتی ھے ۔ ایسے تو پھر میں چند دنوں میں اپنا کاروبار تباہ کرلیتا ۔ عبیحہ میری باتیں سن کر مجھ سے نظر ہٹا کر سر جھکاے میری باتیں سننے لگ گئی ۔۔۔۔۔ میں نے پھر کہا ۔ میں کیسا لڑکا ھوں آپ میرے گھر والوں سے پوچھ سکتی ہیں۔ ہمارے بیچ جو کچھ ھوا اس میں ہم دونوں کی غلطی ھے ۔ اب آپ شوق سے جس کو مرضی بتا سکتی ہیں ۔۔۔۔ عبیحہ نے پھر سر اٹھایا اور میری طرف دیکھ کر بولی ۔ میری اس میں کیا غلطی ھے ذبردستی تو تم نے کی تھی ۔ میں نے نہر کے کنارے کی طرف اشارہ کرتے ھوے کیا ۔۔ عبیحہ جی ۔ یہ جس جگہ ہم بیٹھے ہیں یہ کیا ھے ۔۔۔ عبیحہ میرے یوں موضوع سے ہٹ کر سوال کرنے پر ایکدم چونکی اور حیرانگی سے بولی کیا مطلب ۔۔ میں نے کہا آپ پہلے بتائیں کہ یہ کونسی جگہ ھے ۔۔ عبیحہ حیرانگی سے بولی ۔ نہر کا کنارا ھے مگر اس کا میرے غلط ھونے سے کیا تعلق۔۔ میں نے ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ھوے کہا ۔ تعلق بھی بتاتا ھون ۔ آپ یہ بتائیں کے یہ جو پانی ھے اسکو کس نے کنٹرول کیا ھے کہ دونوں اطراف میں کسی کو نقصان نہ پہنچے اور بلکل سیدھا اپنی منزل کی طرف رواں دواں رھے ۔۔ عبیحہ نے مجھے گھورتے ھوے بڑی لاپرواھی سے کنارے کی طرف اشارہ کرتے ھوے کہا ۔۔ اس میں پریشانی کیا ھے صاف نظر آرھا ھے کہ کنارے نے پانی کو کنٹرول کیا ھے ۔۔۔۔۔ میں نے مسکراتے ھوے کہا واہ بلکل آپ نے درست کہا آپ تو کافی سمجھدار ہیں ۔۔ اب میرا آخری سوال ۔۔۔ اگر کوئی شخص میں یا آپ یا کوئی بھی اگر کنارے کی مٹی ہٹانا شروع کردے اور ہٹاتا رھے ہٹاتا رھے ۔ تو پھر کیا ھوگا ۔۔ عبیحہ بولی پانی کا بند ٹوٹ جاے گا اور کیا ھونا ھے ۔۔ میں نے کہا تو کیا مٹی ہٹانے والی پھر اسی وقت پانی کو باہر نکلنے سے روک سکتا ھے ۔۔ عبیحہ نے نفی میں سر ہلانے پر اکتفاء کیا ۔۔ میں نے تالی بجا کر کہا بہتتتت خوب ۔۔۔ اور بولا ۔۔ عبیحہ جی اب میری بات سنیں ۔ جوان عورت ھو یا مرد اس نہر کے پانی کے بہاو کی طرح اسکے اندر جوانی کا ذور دار بہاو ھوتا ھے اسکے جزبات کا ذور ھوتا ۔۔ اور ان سب کو کنٹرول کیا ھوتا ھے اس کے صبر نے برداشت نے ۔۔ آپ نے پہلے مجھے کسنگ کرتے ھوے میرے صبر کا امتحان لیا میری برداشت کو للکارا ۔ اور پھر آپ جس سیکسی انداز سے میرے ساتھ کسنگ کررھی تھی تو آخر کب تک میری برداشت میرے صبر کو ٹوٹنے سے روکتی آخر میں بھی جوان ھوں اور آپ جیسی حسین اور سیکسی جسم کی مالک لڑکی جب میرے اتنے قریب ھوگی تو پھر یہ سب کچھ تو ھونا ھی تھا اور اسی لیے جب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ھوا تو میں مجبور ھوگیا ۔۔ مگر ۔۔۔مگر۔۔۔۔مگر۔۔۔ اسکے باوجود میں نے آپ کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا ۔ اگر میں چاہتا تو آپ کے ساتھ سب کچھ کرسکتا تھا ۔ مگر پھر بھی میں نے اپنے آپ پر کنٹرول کیا اور آپ کی عزت اب بھی سہی سلامت ھے ۔۔ اب میں نے آپ کو کچھ نہیں کہنا ۔ اگر دل مانے تو اپنا حلیہ درست کرکے میرے ساتھ چلیں اور اگر اب بھی آپ صرف مجھے ھی قصوروار سمجھتی ھو تو ۔ جیسے آپ کی مرضی میں ادھر کھڑا آپکا انتظار کررھا ھوں ۔ یہ کہہ کر میں اٹھا اور پٹری کی طرف چلنے لگا ۔ میں نے پٹری کے پل کے پاس پہنچ کر مڑ کر پیچھے دیکھا تو عبیحہ ۔ کھڑی ھوکر اپنے کپڑے جھاڑ کر درست کررھی تھی اور ساتھ میں میری طرف دیکھی جارھی تھی ۔ میں نے اسپر بس ایک ھی نظر ڈالی اور گاوں کی طرف دیکھنے لگ گیا ۔ مجھے دور دور تک کوئی بھی نظر نہیں آرھا تھا ۔ گھر والے یا تو واپس گھر چلے گئے تھے یا پھر وہ باغ میں چلے گئے تھے ۔۔۔ خیر میں گاوں کی طرف جاتی پٹری کو دیکھے جارھا تھا ۔ کہ مجھے عبیحہ اپنی طرف آتی محسوس ہوئی ۔۔۔ اور میرے قریب آکر بولی چلو گھر چلیں ۔۔ عبیحہ کو اپنے قریب. دیکھ کر میں مذید اس انداز سے کھڑا ھوگیا اور چہرے کے تاثرات ایسے بنا لیے جیسے عبیحہ کے آنے یا نہ آنے کی مجھے کوئی پرواہ نہیں ھے ۔۔۔ میں عبیحہ کی بات سنتے ھی. چپ کر کے گاوں کی طرف چلنے لگ گیا ۔۔ میں نے دونوں ھاتھ اپنے ٹراوزر کی جیبوں میں ڈالے ھوے تھے اور عبیحہ سے دوقدم آگے اگے چل رھا تھا ۔ جبکہ عبیحہ بھی خاموشی سے میرے پیچھے پیچھے چل رھی تھی ۔۔ کچھ ھی دیر میں ہم باغ کے اس حصے کے قریب پہنچے جہاں سے ہم پٹری سے اتر کر باغ میں داخل ھوے تھے ۔۔ میں چند قدم آگے ھی گیا تھا کہ میرے کانوں سے عبیحہ کی آواز ٹکرائی یاسر۔۔۔ میں نے رک کر بڑی سنجیدگی سے مڑکر عبیحہ کی طرف سوالیا نظروں سے دیکھا ۔۔ عبیحہ چلتی ھوئی میرے قریب آئی اور بولی ۔ یاسر وہ مما لوگوں کو باغ میں دیکھ لو کہ وہ ادھر ہیں یا گھر چلے گئے ہیں ۔۔ میں نے کہا ادھر ہوتے تو ہمیں انکے شور شرابے کی آواز نہ آجاتی لگتا ھے کہ وہ گھر چلے گئے ہیں اگر ادھر ھوں گے بھی تو خود ھی گھر آجائیں گے ۔۔ عبیحہ میرا سپاٹ لہجہ دیکھ کر مذید میرے قریب آئی اور میرے سامنے سر جھکا کر کھڑی ھوگئی اور پھر سر اٹھا کر میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ یاسر سوری میں نے تمہیں غصے میں نجانے کیا الٹا سیدھا بول دیا ۔ . اصل میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں عبیحہ کی بات کاٹتے ھوے اسکی طرف ھاتھ کرتے ھوے ۔ بڑے غصیلے لہجے میں بولا ۔ بسسسسسسسسسس۔ یہ کیا تم نے تماشہ لگایا ھے جب دل کرتا ھے میری بےعزتی کردیتی ھو اور جب دل کرتا ھے پھر سوری کرنا شروع کردیتی ھو ۔۔ تم نے مجھے کوئی گرا ھوا کوئی گھٹیا قسم کا انسان سمجھ رکھا ھے ۔ یا میں تمہارا نوکر ھوں کہ جب تمہارا دل کرے مجھے جھاڑ دو ۔۔ میرے یوں بولنے پر عبیحہ ایکدم سہم گئی اور اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ کرتے موٹے موٹے آنسوں گرنے لگ گئے ۔۔ میں اسکے رونے کی پرواہ نہ کرتے ھوے گھر کی طرف چلنے لگا تو عبیحہ نے جلدی سے میرا ھاتھ پکڑ لیا اور روتے ھوے ۔۔۔۔ بولی یاسر پلیزززز مجھے معاف کردو مجھے جو چاھے کہہ لو میں اپنی غلطی تسلیم کررھی ھوں ۔۔۔۔ میری بات تو سن لو۔۔۔۔ میں نے رک کر اسکی طرف گردن گھما کر دیکھا اور بولا ۔۔ ھاں جی فرماووووو۔۔ عبیحہ اونچی اونچی رونا شروع ھوگئی اور بولی ۔ ایسے کیوں بول رھے ھو ۔۔۔ واہہہہہہہہ ری عورت تیرے مکر کون جانے۔۔۔۔۔۔۔ عبیحہ کو یوں روتے دیکھ کر میرا دل بھی پگھل گیا تو میں نے جلدی سے مڑ کر اسکی نرم روئی سی گالوں کو ھاتھوں میں تھاما اور بولا ۔۔ او او، او، آپ پھر سے رونا شروع ھوگئیں ۔۔ اگر اس حال میں گھر گئی تو سب نے پوچھنا ھے کہ تم کیوں رو رھی تھی ۔۔ عبیحہ کا رونا ایکدم تھما اور پلکوں کو اٹھا کر میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔۔ پھر تم مجھ سے سیدھے منہ بات کیوں نہیں کررھے ۔ الٹا مجھے ڈانٹ رھے ھو۔۔ میں نے کہا اچھا یار اب کچھ نہیں کہتا مگر پلیزززز یہ رونا بند کریں ۔۔ اگر اب بھی آپ چپ نہ ھوئی تو پھر میں جارھا ھوں آپ ادھر بیٹھ کر جب تسلی سے رو لیں تو پھر گھر آجانا ۔۔ میں یہ کہہ کر عبیحہ کا چہرہ چھوڑ کر چلنے ھی لگا تھا کہ عبیحہ نے جلدی سے پھر میرا ھاتھ پکڑا اور بولی ۔۔ اچھا رکو اب نہیں روتی ۔۔ میں نے رک کر پھر عبیحہ کی طرف دیکھا تو عبیحہ نے جلدی سے اپنے دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کیا اور پھر دوپٹے کے پلو سے آنکھوں کی نمی صاف کرنے لگ گئی ۔۔ میں ادھر ھی ٹرین کی پٹری کے اوپر بیٹھ گیا۔۔ اور عبیحہ کی طرف دیکھنے لگ گیا ۔۔ عبیحہ خود کو ریلیکس کرنے کے بعد بولی ۔۔ مجھے کھیت دیکھنے ہیں ۔۔ میں اسکے معصومانہ سوال پر مسکرا دیا اور اٹھ کر کھڑا ھوا اور عبیحہ کو کہا چلو واپس پھر نہر کی طرف جانا پڑے گا ۔۔ عبیحہ بنا کچھ بولے واپس نہر کی طرف چل دی ۔ کچھ ھی دیر میں ہم نہر پر پہنچے اور نہر کے کنارے پر سے چلتے ھوے شہر جانے والے راستے کے لیے بنے پُل پر جا پہنچے اس دوران ہماری بس ہلکی پھلکی گفتگو ھوتی رھی عبیحہ کا موڈ کافی خوشگوار ھوچکا تھا اب وہ ہنس ہنس کر مجھ سے بات کرنے کی کوشش کررھی تھی جبکہ میں اس کے ساتھ ذیادہ فری نہین ھو رھا تھا ۔۔۔ پل کے پاس پہنچ کر میں نے عبیحہ کو بتایا کہ میں سکول جانے کے لیے ادھر گزر کر پیدل ھی شہر جایا کرتا تھا اور دکان پر بھی ادھر سے جایا کرتا تھا پھر میں نے بوتیک بنا لی اور کچھ عرصے بعد ھی موٹرسائیکل لے لی تھی اس لیے میں بھی آج بہت عرصے بعد ادھر آیا ھوں ۔۔ عبیحہ بڑی توجہ سے میری باتیں سن کر مسکراتے ھوے ہمممممم ہمممممم کررھی تھی ۔۔ اور اتنی دور پیدل چلنے پر حیرانگی کا اظہار بھی کر رھی تھی ۔ میرے خاموش ھونے پر عبیحہ بولی ۔ یاسر تمہارے بوتیک کی ڈازئنگ بہت اچھی ھے میں تو دیکھ کر حیران رھ گئی اس طرح کی ورائٹی لاہور کی مارکیٹوں سے ملتی ھے مثلاََ انار کلی یا اچھرے سے ۔۔۔۔ تمہاری چوائس اچھی ھے ۔۔ میں نے مسکراتے ھوے عبیحہ کا شکریہ ادا کیا اور بولا ۔ عبیحہ جی آپ سے ایک گلا مجھے ہمیشہ رھے گا ۔۔ عبیحہ نے چونک میری طرف دیکھتے ھوے کہا ۔۔ کیا مطلب میں سمجھی نہیں ۔۔ میں نے کہا آپ پہلی دفعہ میری دکان گئی تھی میں اپنی پسند کا سوٹ آپکو گفٹ کے لیے دینا چاھا مگر آپ نے بڑی ھی بےرخی سے میرے خلوص کو ٹھکرا دیا ۔۔ عبیحہ میری بات سن کر شرمندہ سی ھوکر بولی ۔ نہیں یاسر دراصل مجھے یہ مناسب نہیں لگا کہ تم سے گفٹ لوں وہ بھی اتنا مہنگا سوٹ ۔۔ میں نے کہا عبیحہ جی گفٹ دینے والے کی نیت دیکھتے ہیں نہ کہ گفٹ کی قیمت ۔۔ . اگر کوئی کسی کو دیکھ کر پیار سے خلوص صرف مسکرا ھی دے تو دوسرے کے لیے اسکی ایک مسکراہٹ ھی ہیرے جواہرات سے مہنگی تو کیا بلکہ انمول ھوتی ھے ۔۔ عبیحہ اپنے دونوں ہاتھوں میں انگلیاں پھنسا کر ناف کے نیچے رکھ کر دائیں بائیں جھولتے ھوے بڑی ادا سے بولی ۔۔ باتیں بنانا تو تم پر ختم ھے یاسر۔۔۔۔ میں نے کہا عبیحہ جی میں تو گاوں کا رہنے والا سیدھا سادہ ۔۔۔۔۔۔ عبیحہ ایکدم میری بات کاٹنتے ھوے بڑی شوخی سے بولی ۔۔ یاسر یہ کیا تم مجھے آپ اور عبیحہ جی کہتے رہتے ھو ۔۔۔ میں نے اپنی بات ادھوری چھوڑتے ھوے حیرانگی سے عبیحہ کی طرف دیکھتے ھوے کہا۔۔ آپ مجھ سے بڑی ہیں تو اس لیے آپکو عزت سے بلانا میرا فرض ھے ۔۔۔ عبیحہ ہنستے ھوے بولی ۔۔ رہنے دو رہنے اب اتنی بھی بڑی نہی ہوں کہ تم مجھے آپ اور جی کرکے بلاو ۔۔ آئیندہ تم نے مجھے صرف عبیحہ اور تم کہہ کر مخاطب کرنا ھے ۔۔ میرے دماغ میں اسی وقت خطرے کی گھنٹی بجی کہ یاسر بیٹا یہ تو گلے پڑ رھی ھے آپ سے تم ھونے کے چکر میں ھے ۔ بچ جاااااا ورنہ ضوفی جان سے ماردے گی ۔۔۔ میں عبیحہ کی بات سن کر خاموش ھی رھا اس میں خاموشی ھی بہتر تھی اب اسے کہتا بھی تو کیا کہتا۔۔۔ عبیحہ میری طرف سے جواب نہ پاکر بولی ۔۔ میں نے کیا کہا ھے تم نے جواب نہیں دیا۔۔ میں نے آہستہ صرف اثبات میں ھی سر ہلانے پر اکتفاء کیا ۔ تو عبیحہ بولی ۔ تو عبیحہ نے میری طرف ھاتھ بڑھاتے ھوے کہا ۔ اوکے تو آج سے ہم بیسٹ فرینڈ ہیں۔۔ اور فرینڈز میں ۔ نوتھینکس نو سوری اور یہ آپ اور ججججججی نہیں ھوگا ۔۔ میں نے بھی ناچاھتے ھوے عبیحہ کی طرف دوستی کا ھاتھ بڑھا کر اسکا ھاتھ یہ سوچ کر تھام لیا کہ چلو یہ بھی اچھا ھوا کہ اس نے صرف دوستی کی ھی آفر کی ھے ورنہ میں تو کچھ اور ھی سمجھ بیٹھا تھا ۔۔ میں نے عبیحہ سے ہاتھ ملا کر اسکے ہاتھ کو ہلکا سا دبایا۔۔ تو عبیحہ کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اور ھاےےےےےےے کر کے میرے ھاتھ سے ھاتھ چھڑوانے کی کوشش کی ۔ میں نے عبیحہ کے ھاتھ کو نہ چھوڑتے ھوے کہا۔۔ پینڈو جس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا لیتا ھے تو پھر اس کے ہاتھ کو چھوڑتا نہین ھے ۔۔۔ میری بات سن کر عبیحہ کے چہرے پر چمک سی آئی ۔ اور عبیحہ بولی ۔ میں ہاتھ کب چھڑوا رھی ھوں تم نے اتنی زور سے دبایا ھے میرے ھاتھ میں درد ھونے لگ گئی ھے ۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے پھر ہلکا سا ہاتھ دبایا اور عبیحہ کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔ عبیحہ نے پھر ہلکی سی چیخ مارتے ھوے ہاتھ کو مسلنا شروع کرد یا۔۔ اور مصنوعی غصے سے میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ بہت بتمیز ھو تم ۔۔۔یاسررررر۔ میں نے ہنستے ھوے کہا ۔ تم تو بس اتنی سی درد سے گبھرا گئی اگر کچھ اورررررر۔۔۔۔۔۔ میں آدھی بات کرکے چپ ھوگیا ۔۔ عبیحہ نے چونک کر میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔ کیا کچھ اورررر۔۔ میں کھسیانی ہنسی ہنستے ھوے کہا کچھ نہیں۔۔۔ عبیحہ اثبات میں سر ہلاتے ھوے بولی ۔۔ ہممممممم میں سب سمجھتی ھوں ذیادہ شوخے نہ بنو سمجھے ۔۔۔۔میں نے کہا بتاو میں کیا کہنے لگا تھا ۔۔ عبیحہ میری بات سن کر گبھرا سی گئی اور بات بدلتے ھوے بولی ۔ اچھا میرا گفٹ مجھے لا کہ دو ۔۔ میں نے کہا پہلے میری بات کو مکمل کرو ۔۔ عبیحہ جھنجھلا کر بولی مجھے نہیں پتہ چلو گھر چلتے ہین ۔۔ میں نے کہا نہ نہ نہ ایسے تمہاری جان نہیں چھوٹنی پہلے میری بات مکمل کرو پھر گھر چلین گے ۔۔ عبیحہ بغلوں میں ھاتھ دے کر اپنے بڑے بڑے مموں پر بازو پھلاتے ھوے بولی ۔ مجھے نہیں پتہ بات تمہاری ھے تمہیں پتہ ھو کہ تم نے کیا کہنا تھا میں نجومی تھوڑی ھوں ۔۔ میں نے کہا ۔۔ پھر تم نے یہ کیوں کہا کہ مجھے پتہ ھے تم کیا کہنے لگے تھے ۔۔۔ عبیحہ لاجواب سے ھوکر بولی ۔۔ یار مزاق کررھی تھی تم تو ایک بات کے پیچھے ھی پڑ گئے ھو چلو گھر چلو اور مجھے میرا گفٹ لا کر دو ۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا ۔۔ اچھا بابا ت چلتے ہیں ۔۔۔۔اور رھی گفٹ کی بات تو اسکے لیے تمہیں میرے ساتھ بوتیک پر جانا ھوگا ۔۔ عبیحہ بولی میں نے جاکر کیا کرنا ھے ۔ تم نے گفٹ پسند تو کیا ھوا ۔ میں نے کہا بیشک میں نے پسند کیا ھے ۔ مگر جب تم اسکو پہنو گی تو سب سے پہلے میں تمہیں دیکھنا چاہتا ھوں ۔۔۔۔ عبیحہ بولی تو یہ کونسا مشکل کام ھے میں گھر میں پہن کر تم کو دیکھا دوں گی ۔ . میں نے نفی میں سر ہلاتے ھوے کہا ۔ نہیں جناب میں چاہتا ھوں کہ تم میرے ساتھ چلو اور ادھر ٹرائی روم میں پہن کر مجھے دیکھا دو پھر بیشک ادھر ھی اتار کر پھر سے پیک کروا لینا ۔۔ میری یہ دلی خواہش ھے ۔ باقی اگر تم نہیں جانا چاہتی تو میری ذبردستی تھوڑی ھے ۔ تمہارا گفٹ آجاے گا نو ٹینشن ۔۔۔ عبیحہ کچھ دیر خاموش رھی پھر بولی کہ جی اب دوستی کی ھے تو پھر دوست کا دل تو نہیں دکھا سکتی ۔۔ میں نے خوشی سے عبیحہ کو جپھی ڈال کر اسکے بڑے بڑے گول مٹول مموں کو اپنے سینے سے لگا لیا اور اس سے پہلے کے عبیحہ کچھ کہتی میں نے جلدی سے عبیحہ کو چھوڑ دیا ۔۔ عبیحہ میری اس حرکت سے تھوڑی پریشان تو ھوئی مگر اس نے مجھے کچھ کہا نہیں اور نہ ھی اسکے چہرے پر غصہ دیکھائی دیا۔۔ میرے ساتھ لگنے سے عبیحہ کے چہرے پر سرخی ظاہر ھوگئی تھی ۔۔ عبیحہ مجھ سے تھوڑا پیچھے ہٹ کر کھڑی ہوگئی ۔ میں اسکے بولنے سے پہلے ھی بولا۔ تو پھر چلیں گھر ۔۔ عبیحہ نے صرف اثبات میں سرہلایا ۔۔ میں نے عبیحہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے کہا کہ نہر کے کنارے سے بھاگ کر نیچے اترتے ہیں عبیحہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور بولی پاگل ھو میں کیسے بھاگ کر نیچے اتر سکتی ھوں میں نے گرنا نہیں ھے ۔۔ میں نے کہا یار یہاں سے اتنی بھی اونچی نہیں ھے پل والی جگہ سے ڈھلان نیچے کی طرف بنی ھوئی ھے ۔ عبیحہ بولی پہلے تم نیچے جاو میں تمہارے پیچھے آتی ھوں ۔ میں نے کندھے اچکا کر کہا ٹھیک ھے جیسے تمہاری مرضی ۔پھر نہ کہنا کہ مجھے نیچے اتارو میں گرنے لگی ھوں ۔۔ یہ کہہ کر میں نیچے اترنے کے لیے جانے لگا تو عبیحہ نے مجھے آواز دی ۔ یاسر رکو ایک منٹ ۔ میں نے پیچھے مڑ کر عبیحہ کی طرف دیکھا اور بولا ھاں اب کیا ھے ۔۔ عبیحہ دوقدم دوڑ کر میرے قریب آئی اور بولی ۔ مجھے اپنی کمر پر سوار کر کے نیچے لے جاو ۔۔ میں مسکرا کر بولا ۔ یار میں گدھا ھوں جو تمہیں کمر پر سوار کرکے نیچے لے جاوں ۔۔ عبیحہ میرے بازو پر چپت مارتے ھوے بولی ۔ تم میرے گھوڑے ھو گدھے نہیں ۔۔۔ میں منہ میں بڑبڑایا جب گھوڑے کا اندر لوگی تو پتہ چلے گا کہ گھوڑے پر سواری کتنی مہنگی پڑتی ھے ۔۔ عبیحہ نے چونک کر میری طرف دیکھا اور بولی ۔ کیا منہ ھی منہ میں بُڑبڑا رھے ھو ۔۔ میں نے جلدی سے بات بدلتے ھوے کہا۔ کچھ نہیں میں کہہ رھا تھا کہ اتنی حسین سواری کرنے کے لیے تو میں گدھا بننے کے لیے بھی تیار ھوں ۔۔ عبیحہ نے پھر میرے کندھے پر چپت ماری اور بولی ۔ بہت تیز ھو ۔ چلو اب مجھے نیچے اتارو ۔ میں نے کہا آجاو ۔ میں ڈھلان کے قریب پہنچ کر رکا اور عبیحہ کو کہا کہ تم میرے پیچھے سے میرے گلے میں بازو ڈال لو ۔ عبیحہ جلدی سے میرے پیچھے آئی تو میں تھوڑا سا نیچے جھکا تو عبیحہ نے بازوں کو میری گردن کے گرد ڈالا تو میں نے دونوں ھاتھ پیچھے لیجا کر اسکی نرم گانڈ پر رکھے اور ایک جھٹکے سے اسکو اوپر اٹھا کر اپنی کمر پر لاد لیا ۔۔ عبیحہ کی گانڈ بہت ھی نرم تھی اسکے ممے بھی میری کمر کے ساتھ چپکے ھوے تھے مگر اسکی گانڈ کا میرے ھاتھ پر لمس مجھے الگ ھی مزے کی وادیوں میں پہنچا رھا تھا ۔ اففففففففففففف کیا مزہ آرھا تھا ۔۔ میں نے نیچے اترتے ھوے اپنے ہاتھ کی ایک انگلی کو جان بوجھ کر عبیحہ کی گانڈ کے دراڑ میں گھسا دیا ۔ جسکی وجہ سے عبیحہ تھوڑا کسمکسائی مگر اس نے مجھے محسوس نہ ہونے دیا مگر اسکے گانڈ ہلانے اور گانڈ کو بھینچنے سے مجھے پتہ چل گیا کہ اسکو میری انگلی محسوس ہوئی تھی ۔۔ میں عبیحہ کو کمر پر لادے نہر سے نیچے اترا اور نیچے آتے ھی عبیحہ کو جب کمر سے نیچے اتارا تو میں اچھی طرح اسکی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو ہاتھوں سے مساج کرتے وقت اسکو نیچے جانے دیا جسکو اس نے بھی اچھی طرح محسوس کیا ھوگا ۔ .عبیحہ کا ریکشن بتا رھا تھا کہ اسکو میری حرکات بری نہی لگی ۔ بلکہ اس نے انجواے کیا ھے ۔ عبیحہ کی گانڈ اور مموں نے ایک دفعہ پھر مجھے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا ۔ ہمیں گھر سے نکلے دو گھنٹے ھو چکے تھے اور شاید اتنی دیر میں گھر والے بھی واپس چلے گئے ھوں ۔ مگر یہ کنفرم نہیں تھا ۔۔ میں عبیحہ کو اپنے آگے پگڈنڈی پر چلنے کو کہا نہر کے ساتھ چاول کی فصل تھی اور کچھ آگے جا کر مکئی شروع ھوجاتی تھی اور اس سے آگے پھر چاول کی فصل جو گاوں کے قریب تھی ۔ یعنی مکئی کی فصل درمیان میں آتی تھی اور یہ وہ ھی جگہ تھی جہاں میں عظمی صدف اور سویرا کی پھدیاں چود چکا تھا اور مہری کے چڈوں میں ایک دفعہ فارغ ھوا تھا ۔۔ جی بلکل سہی سمجھے ۔ ٹاہلی والی جگہ ۔۔۔۔ عبیحہ میرے آگے آگے پگڈنڈی پر بڑا سنبھل سنبھل کر چل رھی تھی جبکہ ایسی کوئی خطرے والی بات بھی نہی تھی کیوں کے پگڈنڈی کافی چوڑی تھی اور گزرنے والوں کی وجہ سے راستہ بھی ہموار تھا ۔ مگر عبیحہ کی چال اور اسکا انداز اسکے نخروں کی گواہ دے رھا تھا ۔ میری نظر اسکی اوپر نیچے ہوتی گانڈ پر ٹکی ھوئی تھی ۔ اور ساتھ ساتھ میں عبیحہ کو چاول کی فصل کے بارے میں بھی تفصیل سے بتا رھا تھا کہ اسکو کیسے بوتے ہیں کیسے یہ پکتی کتنے عرصے بعد اسکو کیسے کاٹتے ہیں اور پھر کیسے اس سے چاول نکلتے ہیں ۔۔ باتوں کے دوران ھی ہم مکئی کی فصل میں داخل ھوے تو عبیحہ مکئی کے پودوں پر لگے سٹے دیکھ کر بہت خوش ھوئی اور بولی یاسر مجھے سٹے توڑنے ہیں ۔۔ میں تو اسکی سیکسی گانڈ کو دیکھ دیکھ کر باولا ھوچکا تھا ۔ میں نے اسکی بات سن کر کہا ۔ یہاں سے نہیں آگے چل کر توڑتے ادھر تمہارے کپڑے خراب ھوجائیں گے ۔۔۔۔ عبیحہ نے ہممممممم کیا اور میرے آگے آگے چلتی رھی چاول کی فصل کے بعد میرا لیکچر مکئی کی فصل پر شروع ھوگیا ابھی میرا لیکچر آدھا ھی ھوا تھا کہ ہم کھالے پر پہنچ گئے عبیحہ مکئی کے درمیان چلتے ھوے بڑی خوش ھورھی تھی چلتے ھوے مکئی کے پتوں کو بار بار چھیڑ رھی تھی اور توڑ رھی تھی ۔ کھالے پر پہنچ کر میں عبیحہ کو درختوں کی طرف چلنے کا کہا ۔ عبیحہ کھالے کے کنارے پر چلنے سے ڈر رھی تھی ۔ میں نے اسکی گبھراہٹ دیکھ کر اسے کنارے سے نیچے اتر کر ساتھ بنی ھوئی چھوٹی سی پگڈنڈی پر چلنے کا کہا تو عبیحہ کھالے سے نیچے اتر کر پگڈنڈی پر چلنے لگی میں بھی اسکے پیچھے پیچھے چل رھا تھا ۔۔ عبیحہ کی سیکسی گانڈ کو ہلتے ھوے دیکھ دیکھ کر میری برداشت ختم ھونے کو ہوچکی تھی ۔۔۔ . میرا دل کررھا تھا کہ ابھی دوقدم آگے بڑھ کر اسکی گول مٹول نرم گانڈ کو اپنے ہاتھوں میں بھر کر ذور سے بھینچ لوں ۔۔۔ مگر کیا کرتا اس چڑیل کا کب موڈ بدل جاے پتہ نہیں چلتا تھا۔۔۔ اس لیے اپنے جزبات کو قابو کیے میں اسکے پیچھے چلتا رھا ۔کچھ ھی دیر میں ہم درختوں کے جُھنڈ کے پاس پہنچ گئے ۔۔ اپنی پرانی جگہ پر پہنچ کر میں نے عبیحہ کو رکنے کا کہا ۔۔۔ اور چلتا ھوا اسکے قریب پہنچا درختوں کے پیچھے گھاس کافی گھنی اور بڑی ہوچکی تھی ۔۔ میں نے عبیحہ کو گھاس کی طرف جانے کا کہا ابھی عبیحہ اسطرف جانے ھی لگی تھی کہ اچانک میرا دھیان گھاس کے نیچے کھڑے پانی پر گیا تو میرے منہ سے بےاختیار نکلا عبیحہ رکوووووو۔۔ میرے یوں اونچی بولنے کی وجہ سے عبیحہ نے گبھرا کر جلدی سے اپنا پاوں واپس کھینچا اور میری طرف سوالیا نظروں سے دہکھتے ھوے بولی ۔۔ اب کیا ھے ۔۔ میں نے کہا یار ادھر تو کافی پانی کھڑا ھے تمہارے پاوں گیلے ھوجاءیں گے اور جوتا بھی ۔۔ عبیحہ نے میری بات سن کر گھاس کے نیچے کھڑے پانی کو غور سے دیکھا تو اپنے ماتھے پر ھاتھ مار کر بولی اووو ھو شکر ھے بچ گئی نہیں تو میرا جوتا دھنس جانا تھا ۔ میں نے کہا تم ادھر رکو میں چھلیاں توڑ کر لاتا ھوں ۔۔ عبیحہ بولی نہیں یار میں نے اپنے ہاتھ سے توڑنی ہیں ۔۔ عبیحہ کی بات سن کر مجھے مہری کی یاد آگئی کہ وہ بھی اس دن اسی بات کی ضد کررھی تھی ۔ میں نے کہا چلو پھر سیدھی ھی چلتی جاو ہم پٹری کی طرف نکلیں گے ادھر سے تم توڑ لینا عبیحہ ہمم کر کے سیدھی چلنے لگی اور میں حسرت بھری نگاہوں سے درختوں کے پیچھے بنی خفیہ جگہ کو دیکھتے ھوے عبیحہ کے پیچھے چلنے لگا ۔ مجھے گھاس میں پانی ہونے کا بہت دکھ تھا کاش یہ پانی نہ ھوتا تو شاید میرا ھی پانی عبیحہ کی پھدی میں نکلنے کا چانس بن جاتا ۔۔ مگر جو ہوتا ھے بہتری کے لیے ھی ھوتا ھے ۔ میں نے صبر کا گھونٹ بھرا اور عبیحہ کے پیچھے چلتا ھوا اپنی یادوں سے وابستہ جگہ کو الوداع کہتا ھوا آگے نکل گیا ۔ کچھ آگے جاکر مجھے سوکھی جگہ نظر آئی تو میں عبیحہ کو کہا کہ ادھر سے توڑ لو چھلیاں ۔۔ عبیحہ جلدی سے کیاری میں گھسی اور دو تین چھلیاں توڑ کر مجھے دیکھاتے ھوے بہت خوش ھونے لگ گئی ۔۔ جیسے اس نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے لیا ھو ۔۔ چھلیاں توڑ کر ہم دونوں پھر آگے پیچھے چلتے ھوے ۔ پٹری کی طرف نکل گئے جدھر سے مہری میرے ساتھ مکئی میں داخل ھوئی تھی ادھر ایک چھوٹی سی پہلی بنی تھی جس سے گزر کر ہم پٹری کی جانب جا پہنچے اور پھر پٹری کے اوپر چڑھنے کی بجاے ہم پٹری سے نیچے بنی کچی سڑک پر چلتے ھوے گاوں کی طرف جانب بڑھنے لگے راستے میں عبیحہ بار بار مجھے سٹے دیکھا دیکھا کر خوش ھورھی تھی ۔ اور میں اسے داد دے رھا تھا کہ بڑی بہادر ھو اکھٹی چار چھلیاں توڑ لی ۔۔ ایسے ھی ہم ہنسی مزاق کرتے گھر پہنچ گئے ۔ ادھر جمعہ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔شروع ھوگئی تھیں ۔۔ گھر پہنچے تو سب گھر ھی موجود تھے ہمیں دیکھ کر سب ھی پوچھنے لگ گئے کہ کدھر رھ گئے تھے ۔۔ ان سب نے تو کیا ہم سے تفصیل پوچھنی تھی ۔۔ الٹا عبیحہ نے سب پر چڑھائی کردی کے صبر نہیں ھوسکتا تھا ہم کو اکیلے چھوڑ کر خود گھومنے نکل گئے ۔۔ میں عبیحہ کی فنکاری کو دل ھی دل میں داد دئیے بغیر نہ رھ سکا ۔۔۔ . کہ سالی کتنی تیز ھے عبیحہ کی زبان قینچی کی طرح چل رھی تھی اسکا بولنے کا انداز بتا رھا تھا کہ جتنی وہ خاموش دکھتی ھے اس سے ذیادہ وہ زبان دراز اور بتمیز ھے اور اس کے گھر والے اس سے ڈرتے بھی ہیں ۔ مختصراً اسکا گھر میں دبدبہ ھے ۔۔ خیر اسکی مما نے اسے سمجھا بجھا کر رام کیا ۔۔ اور عبیحہ نے سب سے نظر بچا کر مجھے آنکھ بھی ماری کہ دیکھا میرا کمال ۔ اور میں نے آنکھوں سے ھی اسے داد دی کہ واقعی تو چیز بڑی ھے مست مست ۔ عبیحہ آنٹی کے مسکے سننے کے باوجود پاوں پٹختی ھوئی کمرے میں چلی گئی میں اسے کمرے میں جاتا ھوا دیکھ رھا تھا کہ عبیحہ نے اندر داخل ھوتے ھوے آنکھ کے اشارے سے مجھے کمرے میں آنے کا کہا ۔ میں نے اثبات میں سرہلا کر اوکے کہا ۔۔ اسکے ساتھ ھی سلمان میرے پاس آیا اور ناراضگی کا اظہار کرنے لگ گیا یاسر بھائی آپ ہمارے ساتھ نہیں گئے اتنا مزہ آیا وغیرہ وغیرہ ۔۔ اتنے میں خالہ نے سلمان کو آواز دی کی جاوں جمعہ کا وقت ھوگیا جمعہ کی تیاری کرو اور جاکر جمعہ پڑھ کے آو۔۔۔ سلمان برا سا منہ بنا کر بولا مما میرے کپڑے نکال دیں میں نہا کر جاتا ھوں ۔ پھر سلمان مجھے کہنے لگا چلو برادر تم بھی تیار ھوجاو اکھٹے چلتے ہیں ۔۔ میں نے کہا تم پہلے نہا لو میں بعد میں تیار ھوتا ھوں میری بات سن کر سلمان واش روم کی طرف چل دیا اور میں سب پر ایک نظر ڈال کر بھا کے کمرے کی طرف چل دیا ۔ میں بھا کہ کمرے کے کمرے سے ھوتے ھوے عبیحہ کے کمرے کے اٹیچ دروازے سے عبیحہ کے کمرے میں داخل ھوا تو عبیحہ مجھے دیکھتے ھی چارپائی سے جلدی سے اٹھی اور میری طرف بڑھی ۔۔۔ اسے یوں اپنی طرف آتا دیکھ کر میں ٹھٹھک کر کھڑا ھوگیا ۔۔ عبیحہ چلتی ہوئی میرے قریب آئی اور بیرونی دروازے کی طرف دیکھتے ھوے آہستہ سے بولی ۔۔ تم سلمان کے ساتھ مت جانا اسے اکیلے کو جانے دو میں نے تمہارے ساتھ بازار جانا ھے ۔ میں نے کہا ٹھیک ھے میں اسکو بہانہ بنا دیتا ھوں ۔۔ تم جلدی سے تیار ہو جاو ۔۔ میں یہ کہہ کر واپس جانے لگا اور پھر رک کر عبیحہ کی طرف دیکھتے ھوے بولا ۔ تم اکیلی میرے ساتھ چلو گی یا پھر؟؟؟؟؟؟ عبیحہ اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ھوے بولی ۔۔ پاگل ھوگئے ھو میں اکیلی ھی جاوں گی اورکیا سب گھر والوں کو ساتھ لے کر جانا ھے ۔۔ میں نے مسکراتےھوے کہا ۔۔ اوکے میں بھی چینج کر لوں تم بھی چینج کر لو ۔۔ یہ کہتے ھوے میں دروازے سے نکل کر بھا کے کمرے سے ھوتا ھوا بیٹھک میں جا پہنچا ۔۔۔ اور جاکر چارپائی پر بیٹھ گیا ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرھی تھی کہ عبیحہ میرے ساتھ اکیلی کیوں جارھی ھے ۔۔ اس کے دل میں میرے لیے کیا فیلنگ ھے ۔۔ صرف دوستی کی حد تک یا پھر وہ مجھے چاہنے لگی ھے ۔۔ چاہنے لگی ھے ۔۔۔ . نہیں یاسر یہ نہیں ہوسکتا تم صرف ضوفی کے لیے بنے ھو اور وہ تمہارے لیے ۔۔ عبیحہ سے دور رھو یہ نہ ھو کہ یہ تمہارے اور ضوفی کے درمیان کانٹا بن جاے ۔۔ یاسر سوچو اسکو تو آے ھوے چند دن ھوے ہیں اور ضوفی تمہارے ساتھ کب کی ھے وہ تمہاری محبت ھی نہیں بلکہ آج تم جو کچھ ھو وہ صرف ضوفی کی وجہ سے ھی ھو ۔۔ اگر ضوفی تمہاری مدد نہ کرتی تو آج تم وہ ھی نوکری کرتے ہوتے ۔۔ اور یہ ھی تمہارے رشتہ دار تم کو منہ نہ لگاتے ۔۔ سوچو یاسر سوچو ۔۔۔ میں چارپائی پر بیٹھا اپنے آپ سے ھی باتیں کر رھا تھا کہ اچانک بیٹھک کا دروازہ کھلا اور سلمان سر کے بالوں کو تاول سے صاف کرتا ھوا اندر داخل ھوا اور بولا ۔۔آ یار تم ابھی تک ایسے ھی بیٹھے ھو جانا نہیں ھے ٹائم. بہت کم ھے جلدی کرو ۔۔۔ میں سلمان کے یوں اچانک اندر آنے سے ایکدم چونکا اور اسکی طرف دیکھتے ھوے اسکی باتیں سننے کے بعد بولا ۔۔ ہاں یار جانا ھے کیوں نہیں جانا ۔۔۔ تم ایسا کرو کہ تم چلے جاو میں بھی تیار ھوکر تمہارے پیچھے ھی آتا ہوں ۔۔۔ سلمان نے میری بات سن کر کندھے اچکاے اور بولا اوکے میں چلتا ھوں تم جلدی آجانا ۔۔ میں نے کہا اوکے۔۔۔ سلمان واپس چلا گیا ۔ اور میں جلدی سے اٹھا اور باہر کی طرف چل دیا ۔ صحن میں پہنچ کر میں نے نازی کو اپنے کپڑے نکالنے کا کہا اور واش روم میں گھس گیا ۔ واش روم میں مجھے انڈر شیو کرتے اور نہاتے پندرہ بیس منٹ لگ گئے ۔ تاول لپیٹ کر میں باہر نکل کر بھاگتا ھوا بیٹھک میں پہنچا تو میری شلوار قمیض استری کر کے چارپائی پر پڑی ھوئی تھی ۔۔میں نے جلدی جلدی اپنا جسم خشک کیا اور پھر کپڑے پہن کر بال بنا کر جب باہر نکلا تو سامنے عبیحہ ۔۔ کالے سوٹ میں ملبوس ہلکا سا میک اپ کیے اپنی مما کے پاس چارپائی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے اس انداز میں بیٹھی تھی کک اسکی شارٹ شرٹ اسکی سیکسی رانوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کررھی تھی اور اسکی فٹنگ والی شلوار جو تقریبا فٹنگ والا ٹراوز ھی لگ رھا تھا اس میں سے اسکی چٹی سفید رانیں دھوپ کی وجہ سے صاف نظر آرہیں تھی عبیحہ شاید میرے ھی انتظار میں بیٹھی تھی کیونکہ میں جیسے ھی کمرے سے باہر نکلا تو عبیبحہ نے اسی وقت گردن گھما کر میری طرف دیکھا اور مجھے دیکھتے ھوے اس نے پیاری سی مسکان دی ۔۔ اور پھر اپنی مما سے آہستہ سے کوئی بات کرنے لگی ۔۔۔ میں کمرے سے باہر نکل تو آیا اب مجھے سمجھ نہیں آرھی تھی کہ میں اب گھر سے باہر جاوں یا وہیں کھڑا ھوکر عبیحہ کی سیکسی رانوں کو دیکھتا رہوں ۔ عبیحہ جس پوز سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھی اور جیسے اس نے پھدی والے حصے کو چھپایا ھوا تھا اور اپنی سفیڈ رانوں کی جھلک دیکھا کر میرے جزبات کو چنگاری دے رھی تھی ۔ میں تو وہیں کھڑا بس اردگرد سے بےخبر اسکی رانوں میں سے اسکی پھدی کو ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کررھا تھا ۔۔۔ کہ اچانک خالہ کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔۔ یاسر بیٹاااااااااا۔۔ میں نے چونک کر خالہ کی طرف دیکھا ۔ دیکھ تو میں پہلے بھی ادھر ھی رھا تھا ۔ مگر خالہ کو نہیں بلکہ انکی سیکسی بیٹی کی سیکسی رانوں کو ۔ خالہ کو دیکھنے کے لیے مجھے بس نظریں ھی اوپر کرنی پڑی ۔۔ میں نے کہا جججی خالہ جی۔۔ خالہ نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا ۔۔ میں تیز تیز قدم اٹھاتا ھوا خالہ کے پاس پہنچا ۔۔ اور پاس جاکر پھر بڑے ادب سے بولا جی خالہ جان ۔۔۔ خالہ نے پہلے دعائیں دیں پھر بولیں ۔ بیٹا کدھر جارھے ھو ۔۔ . میں نے کہا کہیں بھی نہیں کیوں خیر ھے کوئی کام ھے کچھ منگوانا ھے تو بتا دیں ۔ میں ایک ھی سانس میں بول پڑا۔۔ خالہ نے پھر دعا دی اور بولی ۔ نہیں بیٹا مجھے تو کچھ نہیں منگوانا ۔ تمہاری بہن نے بازار جانا تھا اسکو لے جاو سلمان تو جمعہ پڑھنے چلا گیا ھے ۔۔۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں میں لے جاتا ھوں ۔۔ تو خالہ نے پھر دعا دیتے ھوے کہا جیتے رھو ۔ میں نے عبیحہ کی طرف دیکھتے ھوے کہا آپ چادر لے لیں میں بائک باہر نکالتا ھوں ۔۔ عبیحہ سر ہلاتی ھوئی اٹھی ۔۔۔ افففففففففف وہ کیا اٹھی میرا لن اٹھتے اٹھتے رھ گیا۔۔۔ بلیک سوٹ میں کیا کمال لگ رھی تھی امبرائڈڈ گلا جو بلکل سمپل تھا اور شرٹ اتنی فٹنگ والی کہ اسکے سینے کے ابھار ابھی شرٹ کو پھاڑ کر باہر نکل آئیں ۔۔ اوپر سے ظالم نے نیچے سے سرخ بریزیر پہنا ھوا تھا جو کالے کپڑے میں سے صاف نظر آرھا تھا ۔ عبیحہ کے سینے کہ ابھار دیکھ میری آنکھیں تو وہیں پتھر ہوگئیں ۔ اور عبیحہ نے بھی میری نظروں کو تاڑتے ھوے میری طرف مصنوعی غصے سے ایک نظر ڈالی اور پھر گھومتے ھوے کمرے کی جانب چلی گئی اور میری نظریں پھر اسکی ڈگمگاتی گانڈ کا محاصبہ کرنے لگ گئیں ۔۔ عبیحہ جب میری نظروں سے غائب ھوئی تو میں جلدی سے بیٹھک میں گیا اور چارپائی کے تکیے کے نیچے سے بائک اور دکان کی چابیاں اٹھائیں اور باہر آکر بائک کو گھر سے باہر نکالنے لگ گیا ۔۔ اتنے میں عبیرہ بھاگتی ھوئی میرے قریب آئی اور بولی کدھر جارھے ہیں یاسر بھائی ۔۔ میں نے کہا ۔ تمہاری آپی جی کو بازار لیجانے کا شرف حاصل ھورھا ھے اگر جناب کو کوئی اعتراض نہ ھو۔۔ عبیرہ میری بات سن کر کھلے منہ سے بولی کیااااااا آپی بازار جارھی ھے وہ بھی اکیلی اور آپ کے ساتھ ۔۔۔ میں نے عبیرہ کو آنکھیں نکالتے ھوے کہا ۔۔ چپ کر جاو یار اگر تمہاری سڑئیل آپی نے سن لیا تو اسکا پھر موڈ بدل جانا ۔ھے ۔۔۔ عبیرہ بڑے رومینٹک انداز سے میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ برادر جناب کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رھے کہیں۔۔۔۔عبیرہ نے ساتھ ھی مجھے آنکھ مار کر عبیحہ کی طرف اشارہ کرتے ھوے کہا۔۔ میں نے کہا ۔ اوووو ہیلو ایسی بھی کوئی بات نہیں ۔ جاوووو یار کیوں خوامخواہ کباب میں ہڈہ بن رھی ھو۔۔ عبیرہ پھر آنکھ مارتے ھوے بولی ۔ واہ جی واہ ایک طرف شرافت کا رونا ۔ دوسری طرف میں کباب میں ہڈی ۔۔۔ میں سب جانتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے عبیرہ کی بات کاٹتے ھوے انگلی اپنے ہونٹوں پر رکھتے ھوے شیییییییی کیا اور پیچھے کی طرف اشارہ کیا جدھر سے عبیحہ چادر اوڑھ کر چلی آرھی تھی ۔۔ ساتھ ھی میں نے شکر بھی ادا کیا کہ اس چڑیل سے جان چھوٹی ورنہ اس نے کچھ اور ھی سمجھ لینا تھا ۔۔ عبیرہ نے جیسے ھی پیچھے مڑ کر عبیحہ کو دیکھا تو جلدی سے واش روم کی طرف بھاگ گئی ۔۔ اور میں نے عبیحہ کو دیکھ کر جلدی سے بائک باہر نکالی اور سٹارٹ کر کے کھڑا ھوگیا ۔ عبیحہ میرے پیچھے بیٹھی میں نے اسے چادر سمیٹنے کا کہا ۔ کہ کہیں چین میں نہ آجاے اور پھر عبیحہ میری ہدایت کے مطابق چادر درست کرنے لگ گئی جسکا فائدہ مجھے یہ ھوا کہ عبیحہ کے بڑے بڑے ممے میری کمر کے ساتھ چار پانچ دفعہ رگڑ کھاے ۔۔۔ اور پھر عبیحہ میرے کندھے پر ھاتھ رکھ کر بولی چلو یاسر ۔۔۔ . میں نے بائک اگے بڑھائی اور گلی سے نکل کر شہر کی طرف چل پڑا میں بائک آہستہ آہستہ چلا رھا تھا گاوں سے باہر نکلتے ھوے تو ہمارے بیچ خاموشی ھی تھی ۔ مگر جیسے ھی گاوں کی حدود سے باہر نکلے تو میں یہ دیکھ کر حیران رھ گیا کہ ۔ عبیحہ کا ہاتھ میرے کندھے سے ہٹا اور میرے سینے سے نیچے پیٹ کے اوپری حصے پر آگیا اور ساتھ ھی مجھے اپنی کمر پر عبیحہ کی چٹانوں کے بوجھ کا احساس ھوا ۔ جس سے میرے جسم میں مز مزے کی لہر دوڑی اور میری کمری مذید پیچھے کو ھوئی جس سے عبیحہ کے پستان مذید میرے ساتھ چپک گئے ۔ اور ساتھ ھی موٹر سائیکل کے میٹر کی سوئی چالیس سے بیس پر جاپہنچی ۔۔۔ اور شیر نے گلا کھنگارہ کندھوں کو اچکایا سینے کو چوڑا کیا اور بولا ۔۔ عبیحہ کیسا لگ رھا ھے بائک پر میرے ساتھ سفر کرنا ۔۔ عبیحہ میری کمر پر اپنے مموں کو مذید دباتے ھوے میرے پیٹ کو تھپتھپا کر میرے کان کے قریب اپنے ہونٹ کرکے بولی ۔۔ تمہیں کیا لگتا ھے کہ مجھے کیسا لگ رھا ھے ۔ عبیحہ نے الٹا مجھ سے ھی سوال کردیا۔۔ میں نے کہا لو یار یہ کیا بات ہوئی اب مجھے کون سا غائب کا علم ھے ۔ عبیحہ بولی ۔ پھر بھی گیس کرو۔۔۔۔ میں نے کندھے اچکا کر ہلکا سا قہقہہ لگا کر کہا مجھے کیا پتہ یار یہ تو تم بتاو گی نہ۔۔۔۔ عبیحہ ناراضگی کا اظہار کرتے ھوے بولی مجھے نہیں پتہ ۔۔ میں نے اسکی آواز اور لہجے سے اندازہ لگاتے ھوے گردن گھما کر پیچھے دیکھا کہ عبیحہ غصہ کرگئی ھے مگر یہ غصہ بھی اسکی ادا تھی ۔۔ میں نے گردن گھما کر اسکی طرف ایک نظر ڈالی اور پھر سامنے دیکھتے ھوے بولا ۔ یار ایک تو تم ناراض بہت جلدی ھوجاتی ھو ۔۔ عبیحہ بولی ۔ ناراض نہ ہوں تو اور کیا کروں ۔۔ ایک لڑکی تمہارے سینے پر ہاتھ رکھ کر تمہارے ساتھ چپک کر تمہارے کندھے پر سر رکھے بیٹھی ھے اور تم اتنے نادان اور بھولے بن رھے ھو کہ تمہیں میری فیلنگ محسوس نہیں ھو رھی اور الٹا مجھ سے پوچھ رھے ھو کہ مجھے تمہارے ساتھ سفر کرنا کیسا لگ رھا ھے ۔۔۔ میں نے عبیحہ کو پچکارتے ھوے کہا ۔ یار مجھے سب پتہ ھے مگر پھر بھی میں تمہارے ان حسین لبوں سے سننا چاہتا ھوں ۔ دو لفظ بول دیتی تو تمہارا کیا جاتا ۔ عبیحہ میرے کندھے پر ٹھوڑی رکھ کر میرے پیٹ پر ہلکی سی چُٹکی کاٹتے ھوے بڑے رومینٹک انداز سے بولی ۔ بڑے تیز ھو تم ۔۔ تم تو چُھپے رستم ھو ۔ میں نے کہا اب ایسی بھی بات نہیں میں تو پیینڈو اور سیدھا سادھا سا بندا ھوں یہ تو بس آپ کی قربت کا نتیجہ ھے ۔ عبیحہ بولی اوےےےے ہوےےےےے تمہارے جیسے دو چار اور سیدھے سادھے آگئے ناں تو بس پھر ساری دنیا ھی سیدھی ھوجانی ھے ۔۔ تم بہت پہنچی ھوئی چیز ھو جو دکھتے ھو اندر سے ویسے ھو نہیں ۔۔۔ تمہاری نظریں کچھ کہتی ہیں اور تمہاری زبان کچھ کہتی ھے اور تمہاری حرکتیں کچھ ۔۔۔ جلیبی جیسے سیدھے ھو تم ۔۔۔ اتنے میں ہم شہر میں داخل ھوے تو میں نے عبیحہ کو کہا اب ذرہ سیدھی ھوکر بیٹھ جاو ۔ دیکھنے والے کیا سوچیں گے ۔۔ عبیحہ نے ہنستے ھوے میرے پیٹ سے ہاتھ ہٹایا اور بولی ۔ ڈر گئے ۔۔ میں نے کہا نہیں یار ایسی بات نہیں شکر ھے اوپر والے کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔ مجھے اپنی نہیں تمہاری عزت کا خیال ھے ایسے کوئی دیکھنے والا تمہارے بارے میں غلط نہ سوچے ۔۔ عبیحہ میرے کندھے کو پکڑتے ھوے بولی ۔ واہ کیا سوچ ھے ۔۔میرے بارے میں ۔۔ میں جان سکتی ھوں کہ میری عزت کی اتنی فکر کیوں ۔۔ میں نے کہا یار پہلی بات کہ تم میری کزن ھو ۔ دوسرا میری بیسٹ فرینڈ ۔ اب اگر کوئی تمہاری طرف غلط نگاہ بھی ڈالے گا تو مجھ سے برداشت تھوڑی ھوگا ۔ ہم دوستی نبھانے کے لیے ہر حد سے گزر جاتے ہیں ۔ جان جاے مگر دوستی پر آنچ نہ آے ۔ دوست کے مرضی کے خلاف کبھی نہیں جاتے ہم پینڈوووو۔۔ میں بازار میں داخل ھوچکا تھا سارا بازار بند تھا چند ایک دکانیں کھلیں تھی مگر ذیادہ بند تھیں ۔ میں جیسے ھی اپنی دکان کے قریب پہنچا تو مجھے یہ دیکھ کر سکون ھوا کہ میرے گردونواح کی تمام دکانیں بند تھیں میں نے دکان کے آگے جاکر بائک روکی اور عبیحہ کو اترنے کا کہا جیسے ھی عبیحہ بائک سے اتری تو میں نے بائک کھڑی کر کے سب سے پہلے بیسمنٹ میں نظر ڈالی کہ ضوفی کا پارلر کھلا ھے یا بند ھے مگر یہ دیکھ کر تسلی ھوئی کہ اسکا پارلر بند تھا ۔۔۔ . یعنی آج محترمہ چھٹی پر تھی۔۔ خیر میں نے دکان کھولی اور پھر گلاس ڈور کھولا ۔ اور عبیحہ کو اندر جانے کا کہا۔ عبیحہ جلدی سے اندر داخل ھوئی ۔۔ دکان کی اندر سے لائٹس بند ھونے کی وجہ سے اندر اندھیرا تھا اور باہر کھڑے ھوکر اندر کچھ بھی نظر نہیں آرھا تھا ۔ میں کچھ دیر باہر کھڑا رھا اور ادھر ادھر دیکھتا رھا کہ کوئی جاننے والا تو نہیں دیکھ رھا ۔۔ عبیحہ سے کچھ غلط کرنے کا میرا ابھی تک کوئی ارادہ نہیں تھا نہ ھی وہ میری سہیلی تھی ۔ میری کزن تھی اور گھر والوں کے سامنے میرے ساتھ آئی تھی ۔ پھر بھی نجانے کیوں میں چوروں کی طرح اپنی ھی دکان کے باہر کھڑا تسلی کررھا تھا کہ کسی نے ہمیں دیکھا تو نہیں ۔۔ جبکہ ضوفی روز میرے ساتھ سب کے سامنے آتی جاتی تھی کبھی بھی مجھے ڈر یا خوف نہیں آیا تھا ۔ مگر آج نجانے کونسی چیز میرے اندر ڈر پیدا کیے ھوے تھی۔ ۔میں کچھ دیر کھڑے ھونے اور تسلی کرنے کے بعد اندر داخل ھوا اور گلاس ڈور کو اندر سے لاک کر کے دکان بند ھے کی پلیٹ الٹ دی اور اندر دیکھا تو عبیحہ کاونٹر کے پاس چادر اتار کر شفون کا دوپٹہ گلے میں ڈالے اپنے لمبے سیاہ بال کھولے کھڑی میری طرف دیکھ رھی تھی ۔ ایک تو اندر کافی اندھیرہ تھا دوسرا عبیحہ نے کالا سوٹ پہنا ھوا تھا ۔ اس سارے ماحول میں اگر کچھ چمک رھا تھا تو اسکا سفید چمکتا ھوا چہرہ جو رات میں چمکتا چودھویں کا چاند لگ رھا تھا ۔۔ میں نے سب سے پیچھے والی ایک چھوٹی لائٹ جلائی اور عبیحہ کو کہا یار تم ابھی تک کھڑی ھو بیٹھ جاو۔۔ عبیحہ بولی باہر اتنی دیر کیوں لگا دی میں نے کہا ویسے ھی بائک لاک کررھا تھا اور ایک دکاندار کو دیکھ رھا تھا ۔ تم بیٹھو یار ۔۔۔ عبیحہ ہممممم کرتی ھوئی کرسی پر بیٹھ گئی اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ لی ۔ میں عبیحہ کے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا اور اسکو دیکھنے لگ گیا ۔ عبیحہ نے مجھے اپنی طرف دیکھتے ھوے پایا تو آنکھ کے اشارے سے سر ہلا کر بولی خیر ھے کیا دیکھ رھے ھو۔۔ میں جو ندیدوں کی طرح عبیحہ کو دیکھی جارھا تھا ۔ چونک کر بولا ۔ کککچھ نہی ویسے ھی تمہیں دیکھ رھا تھا ۔ عبیحہ چہرے پر مسکان لاتے ھوے بولی ۔ وہ ھی تو پوچھ رھی ہوں کہ کیا دیکھ رھے تھے ۔ میں نے کہا ۔ عبیحہ تم پرکالا رنگ بہت جچتا ھے ۔ تم کالے سوٹ میں بہت پیاری لگ رھی ھو ۔ عبیحہ کا رنگ میری بات سن کر مزید کھل اٹھا اور اپنی تعریف سن کر عبیحہ کا سفید چیر گلابی رنگت اختیار کرگیا۔۔ عبیحہ اپنی آنکھوں کو بڑے انداز سے جھپکاتے ھوے بولی ۔ تعریف کرنے کا شکریہ ۔۔ میں نے کہا عبیحہ پیچھے آجاو اور اپنے لیے سوٹ پسند کرلو ۔ عبیحہ بڑی ادا سےاٹھی اور اپنے پستانوں کو مزید ابھارتے ھوے کھڑی ہوئی ۔ عبیحہ کا جسم اور اسکی بناوٹ بہت ھی ذبردست تھی بلکل ایک سٹیچو کی طرح لگتی تھی جسے بنانے والا ایسے بناتا ھے کہ اسپر جو بھی سوٹ ڈسپلے کیا جاے وہ ھی جچے عبیحہ بھی ایسے ڈریس پہنتی تھی جس سے اسکے جسم کے تمام نشیب وفراز واضع ہوں ۔ جتنی وہ خاموش طبیعت تھی فیشن کے لحاظ سے بلکل بھی نہیں لگتا تھا کہ یہ کسی سے بات کرنا گوارہ نہیں کرتی ۔ عبیحہ چلتی ھوئی آخری کاونٹر کے پاس جا کر کھڑی ھوگئی اور سامنے لگے ڈریس دیکھنے لگ گئی ۔ میں بھی کاونٹر کے دوسری طرف جاکر کھڑا ھوگیا اور اسکو بتانے لگ گیا کہ یہ یہ ڈزائنگ بہت اچھی ھے ۔۔ عبیحہ چاروں طرف نظر دوڑا کر بولی ۔ یاسر مجھے تو سارے سوٹ پسند ہیں ۔ مگر تم نے جو میرے لیے سوٹ پسند کیا تھا ۔ مجھے وہ دیکھاو ۔۔ میں نے ہمممم کیا اور کاونٹر کے اندر سے وہ ھی ڈریس نکالا جو میں نے اسکو اس دن گفٹ کرنا تھا ۔ میں نے سوٹ کھول کر عبیحہ کو دیکھایا تو عبیحہ سوٹ کا کلر اور ڈیزائن دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ اور اپنے ساتھ لگا لگا کر شیشے میں اپنا جائزہ لینے لگ گئی۔۔ اور مجھ سے پوچھنے لگ گئی کہ کیسا لگ رھا ھے ۔ میں نے کہا ۔ یار ایسے میں کیسے بتا سکتا ھوں ۔ تم ٹرائی روم میں جاکر پہن کر دیکھ لو ۔۔ عبیحہ نے ٹرائی روم کے دروازے کی طرف دیکھا اور ہممممم کہتی ہوئی دروازے کی طرف چلی گئی ۔۔۔ عبیحہ نے ٹرائی روم کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ھوگئی ۔ میں باہر کھڑا ٹرائی روم کی طرف دیکھنے لگ گیا۔ اچانک میری نظر دروازے پر پڑی تو غور کرنے پر پتہ لگا کہ عبیحہ نے دروازہ لاک نہیں کیا بلکہ ویسے ھی بند کیا تھا جو ہلکا سا پھر کھل گیا تھا ۔ ٹرائی روم کا دروازہ کھلا دیکھ کر میرے دماغ میں کپڑوں میں چھپا عبیحہ کا سیکسی جسم آنے لگا ۔ بیشک میں عبیحہ کے چڈوں میں گھسے مار کر فارغ ھو چکا تھا اسکے ممے بھی دبا چکا تھا ۔ مگر میں نے ابھی تک عبیحہ کے جسم کا ایک حصہ بھی ننگا نہیں دیکھا تھا ۔ جو بھی ہوا تھا بس افراتفری میں ھوا تھا۔ عبیحہ اندر کپڑے بدل رھی تھی اور یہ خیال آتے ھی اور دروازہ کھلا دیکھتے ھی میرے قدم خود با خود ٹرائی روم کی طرف بڑھنے لگے ۔ ۔ میں بنا کچھ سوچے دروازے کی طرف بڑھنے لگا ۔ میں دبے پاوں چلتا ھوا دروازے کے قریب پہنچا اور تھوڑا سا دروازہ کھلا ھونے سے جو دراڑ تھی میں نے آگے ھوکر دراڑ کے قریب اپنا چہرہ کیا اور اندر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا مگر جتنا دروازہ کھلا ھوا تھا اس میں سے مجھے سامنے صرف دیوار ھی نظر آرھی تھی ۔ کیونکہ عبیحہ دروازے کی اوٹ میں کھڑی کپڑے بدل رھی تھی ۔ اور ٹرائی روم کی دوسری دیوار پر جو آئینہ لگا ہوا تھا وہ بھی نظر نہیں آرھا تھا ورنہ میں مرر میں اندر کا سارا نظارہ دیکھ سکتا تھا ۔ میں نے کچھ دیر کوشش کی مگر ناکام رھا اور پھر یہ سوچ کر واپس اپنی جگہ پر آگیا کہ اگر اچانک عبیحہ نے دروازہ کھولا تو سامنے مجھے پا کر کیا سوچے گی کہ میں چُھپ کر اسے کپڑے بدلتے ھوے دیکھ رھا تھا ۔ اور میری قسمت اچھی کہ میں جیسے ھی اپنی جگہ پر آکر کھڑا ھوا تو اسی سمے عبیحہ کپڑے بدل کر باہر نکل آئی ۔۔ ۔عبیحہ جیسے ھی باہر آئی ۔ تو میں اسے دیکھتا ھی رھ گیا ۔ اففففففففففففف کیا سیکسی بچی لگ رھی تھی سیکس کی پڑیا ۔۔۔۔ ڈارگ گرین سلک کی سادہ شارٹ شرٹ جو عبیحہ کے جسم کے ساتھ چپکی ھوئی تھی شرٹ کا گلا اتنا کُھلا تھا کی عبیحہ کے مموں کا کیلوئج صاف نظر آرھا تھا ۔ اور نیچے فٹنگ والا اورنج ٹراوزر جس پر گرین اور سلور کلر کی فل امبرائڈڈ کی ھوئی تھی ۔ عبیحہ بلکل ماڈل لگ رھی تھی ۔ گرین سلک میں عبیحہ کے تنے ھو ممے کمال کر منظر پیش کررھے تھے ۔ عبیحہ سینے پر چٹانوں کو سجاے پیٹ بلکل اندر کی طرف کیے بڑی ادا سے چلتی ھوئی میرے لن کو جھٹکے کے ساتھ کھڑا کرتی ھوئی میرے سامنے آکر کھڑی ھوگئی ۔۔ اففففففففففف مارررر ڈالا۔۔ عبیحہ مسکرا کر بولی کیسی لگ رھی ہوں ۔۔۔ میں عبیحہ کے مموں پر نظر ٹکاے کسی ربوٹ کی طرح چلتا ھوا کھڑے لن سے بےخبر کاونٹر کے پیچھے سے نکل کر عبیحہ کے قریب آکر کھڑا ھوگیا ۔ اور میرے ھاتھ کیسے اٹھے مجھے نہیں معلوم ۔۔ میرے ھاتھوں نے عبیحہ کے دونوں بازوں کو کندھوں کے قریب سے تھاما اور میرے منہ سے بےاختیار نکلا ۔ واوووووووو ****** نظر سے بچاے ۔۔۔ عبیحہ میری نظروں کی تاب نہ لاتے ھوے سر جھکا کر میرے سامنے کھڑی تھی ۔ اور میری نظریں کبھی اسکے مموں پر تو کبھی شرم سے ھوے سرخ چہرے کو نگھلنے کی کوشش کررھیں تھی ۔ میں عبیحہ کے اتنے قریب ھوچکا تھا کہ اسکے مموں میں سے اٹھتی ھوئی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرا رھی تھی جسے میں لمبا سانس لے کر اپنے اندر اتار رھا تھا ۔ عبیحہ کا سر جھکا ھوا تھا اور اسکی نظروں نے یقیناً میری شلوار میں بنے تمبو کو دیکھ لیا تھا ۔ ہمارے بیچ کوئی بات نہیں ہورھی تھی ۔ دونوں اطراف لب سلے ھوے تھے صرف نظروں کے وار ھورھے تھے میری نظریں عبیحہ کی چھاتیوں پر ٹکی ھوئیں تھی اور عبیحہ کی نظریں میری قمیض کے نیچے میرے فلترو کے سائز کا اندازہ لگانے کی کوشش کررہیں تھی ۔ اگر عبیحہ کے سیکسی جسم کو قریب سے دیکھ کر میرا برا حال ھورھا تھا تو ۔ میرے تنے ھوے لن کو دیکھ کر طبعیت عبیحہ کی بھی خراب ہونا شروع ھوگئی تھی ۔ کیوں کے اسکی چٹانوں نے اوپر نیچے ھونا شروع کردیا تھا ۔ جو اسکی چلتی تیز سانسوں کی نمائندگی کررھیں تھی ۔۔ میری نظروں کے ساتھ میرا سر بھی عبیحہ کی گردن کی طرف جھکنے لگ گیا اور سر جھکتا گیا اور میرےہونٹ اسکی چٹی سفید گردن کے قریب ہوتے گئے ۔ اور پھر ھوا یہ کہ ۔ میرے ہونٹوں نے عبیحہ کے دائیں کان کے نیچے پہلی ضرب لگائی ۔ پہلی ضرب ھی اتنی جاندار تھی جس نے عبیحہ کے جھکے سر کو چھت کی طرف اٹھا دیا اور عبیحہ کے ہونٹوں سے سییییییییی کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی ۔ جیسے ھی عبیحہ کی سیییییی نکلی ۔ میرے دونوں ہاتھ عبیحہ کے بازوں سے سرکتے ھوے اسکی کمر پر جاپہنچے اور ساتھ ھی میرے ھاتھوں نے عبیحہ کو میری جانب کھینچا تو عبیحہ کے موٹے پستان میرے سینے سے لگے ۔ اور میرا تمبو عبیحہ کی ناف سے ٹکرایا ۔ تو عبیحہ کے منہ سے پھر سییییییییی نکلی ۔ اور پھر عبیحہ کے بھی ہاتھ مجھے اپنی کمر پر محسوس ھوے ۔ افففففففففففف عبیحہ کا جسم میرے ساتھ چپک گیا مجھے ایسے لگ رھا تھا جیسے میں نے ریشم سے بنی گڑیا کو جپھی ڈالی ھو اور میرے ھاتھ اسکی کمر پھسلتے جارھے تھے ۔ ایک تو عبیحہ کا نرم ملائم جسم اور دوسرا سلک کی شرٹ ۔ مجھے تو کپڑوں کے اوپر سے ھی ہاتھ پھیرنے کا اتنا مزہ آرھا تھا کہ عبیحہ کو کپڑوں سے آزاد کرنے کا خیال ھی دل دماغ سے نکل چکا تھا ۔ میں بڑے رومینٹک انداز سے اور سلو موشن سے. عبیحہ کے کندھے سے اوپر گردن والے حصے کو اپنے ہونٹوں میں لیے آہستہ آہستہ ایسے سک کررھا تھا جیسے وہاں سے میٹھے پانی کا چشمہ نکل آ یا ھو ۔ اور میرے ھاتھ کبھی پھسل کر عبیحہ کی ابھری گانڈ ہر جاتے اور اس کے چوتڑے کو مٹھی میں بھر کر اپنی طرف دبا کر اپنے شیر کو عبیحہ کی ناف میں دباتا اور پھر چوتڑے کو چھوڑ کر ہاتھ سرکاتا ھوا کمر سے اوپر عبیحہ کے بریزیر کے سٹرپ پر لیجاتا ۔ اور میرے اس عمل سے عبیحہ کا جسم ایکدم جھٹکا لیتا اور عبیحہ کے منہ سے سسکاریوں کے ساتھ نکلتا ۔ سییییییییی آہہہہ نہیں یاسرررررر نہ کرووووووو۔ مگر اسکے انکار میں بھی اقرار تھا اسکے نہ کرو میں بھی جلدی کرو تھا ۔۔ عبیحہ کی سیکسی آوازیں میری ڈھارس باندھنے کے ساتھ میرے اندر طوفان بتمیزی پیدا کررہیں تھی ۔۔۔ ابھی تک سب کچھ سلو موشن میں جاری تھا ۔ ہم دونوں اپنی مستی میں ایک دوسرے سے چمٹے ایک دوسرے کے جسم کے لمس سے اپنے اندر لگی آگ کو مذید بڑھکا رھے تھے ۔ میرے ہونٹ آہستہ آہستہ اپنی جگہ تبدیل کرنا شروع ھوگئے ۔ میرے ہونٹوں نے عبیحہ کی گردن اور گلے کے یر حصے کو اپنی یوس کا نشانہ بنا ڈالا جس سے عبیحہ کی بےچینی بڑھتی چلی گئی اور اسکی گرمی نے اسکے دماغ پر حملہ کیا تو اسکے دماغ نے اسکے ھاتھ کو میرے لن کی طرف بڑھنے کا حکم جاری کردیا۔ اور دماغ کے حکم کی تعمیل کرتے ھوے عبیحہ کا ھاتھ میرے لن کی طرف بڑھا اور عبیحہ نے لن کو اپنی ناف پر ضرب لگا کر پھدی کو بےچین کرتے رنگے ہاتھ پکڑ لیا اور عبیحہ کے ھاتھ کی انگیلوں نے میرے لن کا محاصرہ کر کے اپنی مٹھی میں جکڑلیا ۔ اور سزا کے طور پر عبیحہ نے لن کو مٹھی میں بھر کر ذور سے دبایا ۔ جس سے میرے لن نے مذید اکڑ کر اپنی طاقت کا اظہار کیا ۔ عبیحہ کو اپنے لن پر قابض ھوتے دیکھ کر میرا ھاتھ عبیحہ کی کمر سے ہٹ کر اسکے ایک ممے کی طرف بڑھا اور اسکے سڈول تنے ھوے ممے کو جکڑ لیا عبیحہ کا آدھا مما ھی میرے ھاتھ میں آیا ۔ مجھے ایسے لگا جیسے میں نے میٹریس کے گون کو مٹھی میں پکڑ لیا ھو ۔ افففففف میرے منہ سے بھی سیییییییی نکلا اور میں زور زور سے عبیھہ کے ممے کو ہر اینگل سے دبانے لگ گیا کبھی زور سے دباتا تو کبھی ممے کو مساج کرتا ھو نپل کو پکڑنے کی کوشش کرتا مگر بیچ میں بریزیر اور شرٹ آجاتی ۔۔ مگر سلک کا کپڑا عبیحہ کے سیکسی ممے کو مزید ریشم جیسا بنا رھا تھا ۔ شاید اتنا مزہ ننگا مما پکڑنے میں نہ آتا ھو جتنا شرٹ کے اوپر سے مما دبانے میں آتا ھو ۔۔۔ عبیحہ کی سسکاریاں بھی بلند ھوتی جارھی تھی ۔۔۔ اور پھر یہ ھوا کہ ۔۔۔۔ میرا دوسرا ھاتھ بھی عبیحہ کی کمر سے اسکے ریشمی سلکی لمبے بالوں کے نیچے سے سرکتا ھوا اسکے کندھے کی طرف بڑھا اور پھر کندھے سے عبیحہ کی گردن کو اپنے احصار میں لیا اور میرے ہونٹ نے عبیحہ کے کانپتے ہونٹوں کو اپنے احصار میں لے لیا اور اسکے شربتی ہونٹوں کا رس چوسنا شروع کردیا ۔۔ اب ہماری پوزیشن ایسی تھی ۔ کہ میرا ایک ہاتھ عبیحہ کی گردن پر بالوں کے نیچے تھا اور دوسرا ھاتھ اسکے ممے پر تھا اور میرے ہونٹوں میں عبیحہ کا نچلا ہونٹ تھا میرا لن عبیحہ کی مٹھی میں تھا ۔ اور عبیحہ نے ایک ہاتھ میری کمر پر رکھا ھوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے میرے لن کو کپڑوں کے اوپر سے ھی پکڑ کر اسکی لمبائی اور موٹائی کو دبا دبا کر چیک کررھی تھی اور اسکے ہونٹوں نے میرا اوپر والا ہونٹ اپنے قبضے میں کیا ھوا تھا اور جس سٹائل سے میں عبیحہ کا نچلا ہونٹ چوس رھا تھا اعبیحہ بھی اسی ردھم میں میرا نچلا ہونٹ چوسے جارھی تھی ۔ میں نے اسی سٹائل میں عبیحہ کو کاونٹرز کے بیچ والے راستے کی طرف دھیکلنا شروع کردیا اور دھکیلتا ھوا اسکو کاونٹرز کے پیچھے لے گیا ۔ اب ہم کاونٹر کے اندر کی طرف کھڑے تھے یہاں سے ہمیں باہر سے کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا تھا دکان میں تو ویسے بھی ہلکا سا اندھیرا تھا ۔ جو باہر سے ذیادہ لگ رھا تھا ۔ اور جس جگہ ہم کھڑے تھے ادھر سے ہمیں باہر گلاس ڈور پر کئئے ہینگرز ڈسپلے نے چھپا لیا تھا اب کوئی گلاس ڈور سے آنکھ لگا کر بھی اندر دیکھنے کی کوشش کرتا تو اسے بوتیک خالی نظر آتا ۔ ۔ ہمیں اندر اندھیرہ محسوس نہیں ھورھا تھا ۔ ایک تو پیچھے چھوٹا بلب جل رھا تھا جسکی روشنی کافی مدھم تھی دوسرا ہمیں اندر آے کافی دیر ھوگئی تھی اس لیے ہماری آنکھیں اب ہر چیز کو دیکھ سکتی تھیں ۔۔ خیر میں جیسے ھی عبیحہ کو کاونٹرز کے پیچھے لے کر آیا تو آتے ھی میں نے عبیحہ کی گردن کو چھوڑا اور ھاتھ اسکی کمر سے سرکاتا ھوا اسکی گول مٹول گانڈ پر لے گیا اور اسکی شارٹ شرٹ کو پیچھے سے اوپر کر کے اسکی ننگی کمر پر رکھ کر اسکی ریشم سی ملائم کمر کا مساج کرنے لگ گیا ۔ جیسے ھی میرے ھاتھ نے عبیحہ کی ننگی کمر کو چھوا تو عبیحہ نے جلدی سے میری کمر سے ھاتھ ہٹا کر میرے بازو کو پکڑ لیا جیسے میرے ھاتھ کو کمر سہلانے سے منع کرنا چاہتی ھو مگر اب سب نظام درھم برھم ھوچکا تھا ۔ میرا ھاتھ تو سرکتا ھوا شرٹ کے بیچو بیچ اوپر جانے کی کوشش کررھا تھا مگر شرٹ کی فٹنگ ھونے کی وجہ سے ذیادہ اوپر نہ جاسکا ۔ اچانک مجھے شرٹ کے پیچھے لگی لمبی زپ کا خیال آیا تو میں نے جلدی سے ھاتھ واپس کھینچا اور شرٹ سے بایر نکال کر پھر عبیحہ کے کندھوں کے قریب لیجا کر رکھ دیا ۔ عبیحہ نے سمجھا شاید میں نے اپنا ارادہ ملتوی کردیا ھے مگر اسے کیا پتہ کہ میں تو زپ کھول کر اسکی شرٹ کو ڈھیلا کرنے کا ارادہ رکھتا ھوں ۔ میں نے چند لمحوں میں زپ کی ہک کو پکڑ لیا اور جھٹکے سے ہک کو کھینچتا ھوا عبیحہ کی گانڈ سے تھوڑا اوپر لے آیا ۔زپ کھل چکی تھی عبیحہ کی کمر ننگی ھوچکی تھی زپ کھلتے ھی مموں کو بھی سکون ھوا وہ بھی شرٹ کی فٹنگ سے آزاد ھوگئے ۔ میں نے زپ کھولتے ھی ھاتھ کھلی زپ میں ڈال کر عبیحہ کی ننگی کمر پر رکھ دیا ۔ ادھر جیسے ھی زپ کھلی تو عبیحہ نے ممممننممنم کرتے جھٹکے سے میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ الگ کئے اور ھاےےےےے یہ کیا کررھے ھوووو کہہ کر ہاتھ پیچھے لیجا کر میرے بازوں کو کلائی سے پکڑ کر میرے ھاتھ کو اپنی کھلی زپ سے باہر نکالنے کی کوشش کرنے لگ گئی اور ساتھ ھی عبیحہ نے میرے لن کو بھی چھوڑ دیا تھا ۔۔ مگر اب تو میرے ھاتھ نے عبیحہ کی ننگی کمر کو تھام لیا تھا عبیحہ مجھے پیچھے کرنے اور میرا ھاتھ اپنی شرٹ سے نکالنے کی کوشش کرتے ھوے کہے جارھی تھی ۔۔ ننہیں یاسررر یہ نہیں پلیز ہاتھ بایر نکالو ۔ مگر میں نے تھوڑی سی کوشش کے بعد دوبارا عبیحہ کے ہونٹوں کو اہنے ہونٹوں میں جکڑ لیا اور ساتھ ھی لن کے آگے سے اپنی قمیض ہٹا کر تھوڑا سا جھک کر لن کو شلوار سمیت عبیحہ کے چڈوں میں گھسا دیا پھدی پر لن کی رگڑ نے عبیحہ کی مزاہمت ختم کردی اور عبیحہ کا ہاتھ میری کلائی پرنرم پڑ گیا ۔ میرے ہونٹوں نے پھر عبیحہ کے یونٹوں کا رس چوسنا شروع کردیا اور میرا ھاتھ اب آزادی سے عبیحہ کی ساری کمر کو سہلانے میں لگ گیا ادھر عبیحہ نے چڈوں میں لن کو بھینچ کر خود کو میرے ساتھ لگا لیا ۔ میں نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور ساتھ ھی عبیحہ کی شرٹ پیچھے سے اوپر کی اور پھر آگے سے بھی ۔ شرٹ آسانی سے اوپر ھوگئی عبیحہ کا پیٹ ننگا ھوگیا تھا ۔ میں نے شرٹ اوپر کرتے ھی ہاتھ عبیحہ کے پاجامے نماہ شلوار میں گھسیڑ کر اسکی ننگی ملائم گانڈ کی پھاڑیوں کو باری باری دبوچ کر مسلنا شروع کردیا ۔ عبیحہ نے ہلکا سا احتجاج کیا مگر ساتھ ھی سسسسیییییی کی آواز بھی میرے منہ کے اندر دب گئی ۔ کچھ دیر میں عبیحہ کی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو باری باری دباتا رھا ۔ اور عبیحہ بھی میرے لن کو چڈوں میں لیے کبھی جکڑتی تو کبھی گانڈ ہلا کر آگے پیچھے کرکے لن کو پھدی پر رگڑتی ۔۔۔ کچھ ھی دیر میں عبیحہ کو میں نے دوھری کرتے ھوے نیچے کارپٹ کی طرف لیجا کر نیچے لٹا دیا اور خود اسکے اوپر لیٹ گیا ۔ جیسے ھی عبیحہ نیچے لیٹی اور میں عبیحہ کے اوپر جھکا تو میرے ھاتھ بجلی کی سی تیزی سے حرکت میں آے اور میں نے عبیحہ کی شرٹ کو ایک جھٹکے میں مموں سے اوپر کردیا ۔ عبیحہ کی شرٹ اسکے گلے کے قریب کر دی ۔ ااففففففففففف کیا نظارہ تھا چٹا سفید دودھیا جسم اور گلابی مانند مموں پر سرخ بریزیر ۔ ھاےےےےےے مرجاواں کی نظارہ سی ۔۔۔ بسسس پھر کیا تھا بھوکے شکاری کی طرح میں عبیحہ کے مموں پر ٹوٹ پڑا ۔ جیسے جیسے میں مموں کے ننگے حصے کو چومتا جاتا عبیحہ پر مستی چھاتی جاتی اور وہ سر پیچھے کو کر کے کمر اٹھا کر سسکاریاں بھرتی ۔ میں نے چندلمحوں بعد ھی بریزیر کو پکڑ کر مموں سے اوپر کردیا ۔ اسسسسسسسس افففففففففف ۔ گلابی تنے ھوے ممے جن پرہلکے سے براون کلر کا چھوٹا سا دائرہ جس پر چھوٹا سا تنا ھوا نپل جسکو دیکھ کر میری آنکھیں ابلنے لگیں اور میری زبان نے میرے خشک ہونٹوں کو تر کیا ۔ ااور ساتھ ھی میں نے تنے ھوے نپلوں کو ہونٹوں میں بھر لیا. ۔اور مزے لے لے کر چوسنے لگ گیا ۔ عبیحہ کا مزے سے برا حال ھوتا جارھا تھا ۔ نپل چوستے ھی عبیحہ سر دائیں بائیں مارتے ھوے آئیییی افففف سسسسسیییی کرنے لگ گئی اور ساتھ ھی اسکے ھاتھ نے میرے سرکے بالوں کو مٹھی میں جکڑ لیا اور میرے سر کو ممے پر دباتے ھوے عبیحہ سسکاریاں بھرنے لگ گئی ۔۔ میں نے کچھ دیر جی بھر کر دونوں مموں کو جی بھر کر باری باری چوسا ۔ اور پھر میں تھوڑا سا سرکا اور میرے ہونٹوں نے عبیحہ کے پیٹ کو چومنا شروع کر دیا جیسے ھی میرے ھونٹوں نے عبیحہ کے ہیٹ کو چھوا تو عبیحہ کے پیٹ میں زلزلہ آگیا اور پیٹ تھرتھرانے لگ گیا اور عبیحہ ایکدم اوپر ھوئی اور ھائییییییییی کرتی ھوئی پھر واپس لیٹ گئی اور سر دائیں بائیں مارتے ھوے اففففففف نہ کرووووو یاسررررر مجھے کچھ ھوجانا ھے پپپلیزززز نہ کرووووو ھاےےےے سییییییییییی آہہہہہہہہہہ۔۔۔ عبیحہ کی آوازیں وہ بھی اتنی سیکسی ۔۔ مجھے تو بہت مزہ آرھا تھا اسکی ایسی آوازیں سن کر جس سے میرا جوش مذید بڑھتا جارھا تھا ۔۔ اور میں مذید خلوص سے لگن سے اسکے پیٹ کو چومتا تو کبھی زبان نکال کر پیٹ کو چاٹتا تو کبھی نوک کو ہیٹ پر سرکاتا ھوا ناف کے سوراخ ہر لے آتا اور پھر نوک کو سوراخ کے کناروں پر گھوماتا ھوا زبان کی نوک کو سوراخ میں ڈال دیتا ۔ جس سے عبیحہ کی چیخیں نکل جاتی اور وہ مزے سے باولی ھوجاتی میرے یونٹ اور زبان عبیحہ کے تھرتھراتے پیٹ کو چومتے چاٹتے نیچے کی جانب بڑھتے جارہے تھے ۔ یہاں تک کے ناف کے نیچے پاجامے کی لاسٹک تک لے آیا ۔ جیسے ھی میری زبان کی نوک پھدی کے انتہائی قریب پہنچی تو پھدی سے نکلنے والے پانی کی سمیل میرے نتھنوں سے ٹکرائی اور میں نے لمبی سانس کھینچ کر پھدی کی سمیل کو اپنے اندر کھینچا ۔۔ عبیحہ کا جسم اتنا ملائم تھا کہ جیسے میں ریشم پر اپنی زبان پھیر رھا تھا ۔ میں ناف کے نیچے زبان کو پھیرتے ھوے پیٹ کے نچلے سارے حصے کو چاٹ رھا تھا مجھ سے مذید برداشت نہ ھوا میں نے پاجامے کی لاسٹک کو پکڑ کر جھٹکے سے نیچے کیا ۔اور پاجامہ گھٹنے تک کردیا پاجامہ پہلے ھی گانڈ سے نیچے تھا جسکی وجہ سے آسانی سے سارا نیچے ھوگیا ۔۔ اب میری آنکھوں کے سامنے عبیحہ کی چٹنی سفید کلین شیو پھدی تھی جس پر پھدی سے نکلنے والی شبنم کے قطرے چمک رھے تھے ۔ پاجامہ نیچے ھونے سے عبیحہ ایکدم اوپر کو ھوئی اور پاجامے کو پکڑنے کی کوشش کرتے ھوے بولی ھاےےےےے یہ نننننہیں کروووو اس سے پہلے کہ عبیحہ کے ھاتھ پاجامے تک پہنچتے میں نے سر پھدی پر جھکایا میری زبان کی نوک نے ابھی پھدی کو چھوا ھی تھا اوع عبیحہ تڑپی ھی تھی کہ مجھے ایسے لگا جیسے کسی نے باہر کے گلاس ڈور کو کھینچ کر کھولنے کی کوشش کی ھے ۔ میں نے پہلے اپنا وہم سمجھا ۔ مگر دوسری دفعہ جب آواز کلیر آئی تو میں بجلی کی تیزی سے اوپر کو اٹھا اور کھڑے ھوتے ھی باہر کی طرف دیکھا. ۔ اور جیسے ھی میری نظر شیشے کے دوسری طرف کھڑی نقاب پوش پر پڑی تو میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا اور میرا سر چکرا سا گیا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
  3. Sir g main koi wella nai hon jo hur waqat buss storie hee likhta rahun meri bhi koi zaati majboorian hen ghar hai karobaar hai pehle unko dekhna zaroori hai k story likhna zaroori hai
  4. سٹوری. پسند کرنے اور حوصلہ افزائی کرنے کا بہت شکریہ محترم بھائیو جیوندے وسدے رو
  5. update.. .1 سلمان نے بڑے ذور سے دروازہ کھولا تھا جس کی وجہ سے میں مذید ڈر گیا اور سلمان نے بڑی اونچی آواز میں مجھے پکارا یاسرررررررررر جس سے میری گانڈ مذید پھٹ گئی ۔ اورپھر سلمان کے تیز تیز قدم میری چارپائی کی طرف آتے سنائی دیے۔۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کرتا کہ اچانک سلمان نے میرے سر پر پہنچتے ھی کھیس کو پکڑ کر پورے ذور سے کھینچ کر اتار دیا ۔ ڈر کے مارے میری ٹانگیں بُری طرح کانپ رھی تھی ۔ کہ اچانک سلمان کی ہنسی اور قہقہوں نے مجھے حیران پریشان کردیا اور میرا ڈر اور خوف حیرانگی میں بدل گیا ۔۔ سلمان ہنستا ھوا میرے اوپر گرا اور بولا ۔ یاسر بھائی تم ادھر سوے ھوے ھو جبکہ باہر آپی کا تماشہ لگا ھوا ھے سارے گھر والوں نے ہنس ہنس کر بُرا حال کر رکھا ھے ۔ اٹھو یار باہر چلو اور دیکھو ۔۔۔ سلمان میرے اوپر سے اٹھتے ھوے میرا بازو پکڑ کر چارپائی سے اٹھاتے ھوے کھینچنے لگ گیا ۔۔ میں تو کچھ اور ھی سوچ کر ڈرے ھوے چھپا ھوا تھا مگر یہاں تو سب کچھ الٹ نظر آرھا تھا ۔میں خاموشی سے چارپائی سے اٹھا اور خود کو سنبھالتے ھوے بولا ۔۔ اچھا اچھا چلتا ھوں یار مگر بتاو تو سہی کہ ہوا کیا ھے ۔ سلمان بولا ایسے نہیں خود چل کر دیکھو قسم سے تمہاری ہنسی بھی نہیں رکے گی ۔۔ سلمان کی باتیں سن کر میرے تجسس میں اضافہ ھوے جارھا تھا ۔ کہ آخر کیا ماجرا ھے ۔ جبکہ عبیحہ کی چیخ تو میری وجہ سے نکلی تھی اور پھر یہ سلمان عبیحہ کا کونسا ایسا تماشہ دیکھ آیا ھے کہ اس کی بلکہ سب گھر والوں کی ہنسی نہیں رک رھی ۔۔ سلمان مجھے تقریبا کھینچتا ھوا باہر لے آیا جہاں سب ھی ہنس رھےتھے مگر عبیحہ کہیں نظر نہیں آرھی تھی اورنہ ھی نازی ۔۔۔ میں باہر صحن میں کھڑا بونگوں کی طرح سب کے منہ کی طرف باری باری دیکھی جارھا تھا ۔۔ اتنے میں عبیرہ ہنستی ھوئی میری طرف ائی اور بولی یاسر بھائی آپی یاسر بھائی آپی یاسر بھائی آپی ۔۔ میں نے جھنجھلا کر پوچھا آگے بھی تو کچھ بولو کیا ھوا آپی کو۔۔ عبیرہ خود کو سنبھالتے ھوے بولی ۔ یاسر بھائی آپی کمرے میں شرٹ چینج کررھی تھی کہ آپی کہ اوپر ھا ھا ھا ھا ھا ھا، ھا ھاھا، ۔ آپی کے اوپر چھپکلی گر گئی ۔۔۔۔۔ اورآپی چیخیں مارنے لگ گئی ۔۔ عبیرہ کی بات سن کر میرا سارا خوف جاتا رھا ۔ میں عبیرہ کی بات سن کر اوراسکی ہنسی دیکھ کر مجبوراً ہنس پڑا اور ھی ھی ھاھا ھی ھی ھا ھا کر کے پھرسنجیدہ ھوگیا ۔ اتنے میں عبیرہ نے میرا ھاتھ پکڑا اور مجھے کھینچتی ھوئی عبیحہ کے کمرے کی طرف لے گئی ۔۔ میرے پیچھے ھی سلمان بھی آگیا ۔ عبیرہ میجھے کمرے میں لے کر داخل ھوئی تو سامنے کا منظر دیکھ کر مجھے پتہ ھے کہ میں نے اپنی ہنسی کیسے کنٹرول کی ۔ اگر میرے اندر چور نہ ھوتا تو میں بھی قہقہے مار مارپاگل ھو جاتا۔۔ سامنے چارپائی پرعبیحہ ٹانگوں کو اکھٹی کر کے سُکڑکر اپنے آپ کو ایسے سمیٹ کر بیٹھی ھوئی تھی جیسے اسےبہت شدید سردی لگ رھی ھو اور نازی کے پیچھے بیٹھی اسکے کندھے دبارھی تھی جیسے بیچاری بہت کام کر کر تھک گئی ھو ۔ ہمیں اندر داخل ھوتے دیکھ کر عبیحہ نے گردن گھما کر ہماری طرف دیکھا اور اسکی نظر جیسے ھی مجھ پر پڑی تو عبیحہ کا رنگ ایکدم سرخ ھوگیا اور اسکی آنکھوں میں خون دوڑنے لگ گیا اسکا بس، نہیں چل رھا تھا کہ وہ مجھے قتل ھی کردیتی ۔ اور پھر اچانک عبیحہ کو اپنا غصہ نکالنے کے لیے سلمان اور عبیرہ ھی ملے اور پھر عبیحہ غصے سے چلائی ۔ تم لوگ پھر آگئے میں کیا تم لوگوں کے لیےتماشا ھوں دفعہ ھوجاو ۔ جاہل بتمیز ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ھی عبیحہ کا ھاتھ چارپائی سے نیچے کی طرف گیا جہاں اسکی چپل پڑی تھی ۔ اس سے پہلے کہ عبیحہ کا ہاتھ چپل تک پہنچتا ۔ کہ عبیرہ چیخی بھاگووووووو ۔ اور ہم تینوں ایک ساتھ واپس باہر دروازے کی طرف بھاگے ۔۔ اور پیچھے سے ہمیں دروازے پر چپل لگنے کی آواز آئی باہر صحن میں آے تو امی ہمیں بولنے لگ گئیں کہ اب بس بھی کرو کیوں بیچاری کو باربار تنگ کررھے ھو ۔ خالہ بھی سلمان اور عبیرہ پر غصہ ہونے لگ گئ ۔ میں کچھ دیر باہر صحن میں رھا اور پھر میں اور سلمان بیٹھک میں آگئے ۔ میں اورسلمان اپنے اپنے بستر پر لیٹ گئے ۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں ۔ مگرمیرا دماغ عبیحہ پر ٹکا ھوا تھا ۔ پہلے تو اسکے جھوٹ بولنے کی وجہ پر غور کرتا رھا پھر اس کے سیکسی فگر نے میرا دماغ خراب کرنا شروع کردیا ۔ جبکہ اس سے پہلے میں نے کبھی بھی عبیحہ کے بارے میں غلط سوچ نہیں رکھی تھی اور نہ ھی اسے کبھی غلط نظر سے دیکھا تھا ۔ اور اس کے نیم ننگے جسم کو دیکھنے کے بعد پہلے تو ڈر اور خوف نے سب کچھ بھلا دیا تھا ۔ مگر جیسے ھی عبیحہ کی طرف سے تسلی ھوئی کہ اس نے چیخنے کی اصل وجہ کسی کو نہیں بتائی بلکہ جھوٹ بول کر الٹا اپنا مزاق بنا لیا ۔۔۔ میری سوچ اور دماغ پر اسکا نیم ننگا چٹا سفید جسم سوار ھونے لگ گیا ۔ جبکہ سلمان بار بار، مجھے باتوں میں لگا کر اس حسین منظر کو میری آنکھوں سے اوجھل کررھا تھا، ۔ میں نے سلمان کو سونے کا بہانہ کیا اور کھیس منہ تک تان کر لیٹ گیا اور آنکھیں موند کر پھر عبیحہ کے تنے ھوے مموں کا منظر آنکھوں کے سامنے لے آیا ۔۔ اور ساتھ ھی لمبا سانس، کھینچ کر چھوڑا ۔ اور چٹے سفید ممے جو بریزیر میں قید تھے چٹا سفید پیٹ جو بلکل ساتھ لگا ھواتھا ۔ عبیحہ کے جسم کی رنگت اور بناوٹ اسکے حسن کی مثال تھی ۔ جسکو چھونے چومنے کے لیے دل بے قرار ھوے جارھا تھا ۔ بستر پر کروٹ بدلتے بدلتے نجانے کب نیند نے سارے حسین منظر کو غائب کر دیا اور نیند کی گہری وادیوں میں کھو گیا۔ صبح جمعہ تھا دکان سے چھٹی تھی ۔ سب کے لیے بازار سے ناشتہ لے کر آیا پھر سب نے ناشتہ کیا ۔ کچھ دیر بعد بچے اور عبیرہ سلمان گاوں دیکھنے کی ضد کرنے لگ گئے ۔ میں عبیحہ کا سامنا کرتے ھوے گبھرارھا تھا ۔ بیشک گھر والوں کو نہ بتا کر اس نے میری عزت رکھی تھی ۔ میں نے بہت کوشش کی کہ اسکے پاس جاکر اس سے معافی بھی مانگوں اور اسکا شکریہ بھی ادا کروں ۔ مگر مجھ میں ہمت نہیں ھورھی تھی ۔ اب بھی وہ کمرے میں ھی تھی جبکہ سب باہر صحن میں دھوپ سینک رھے تھے ۔ نازی اور امی ناشتے کے برتن وغیرہ دھونے میں مصروف تھیں ۔ میں اضطراب میں کبھی بھاکے کمرے میں جاتا اور عبیحہ کے کمرے کے دروازے کو پکڑ کر پھر چھؤڑ کر بیٹھک میں چلا جاتا اور پھر صحن میں آجاتا ۔ میرے اندر کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی ۔ خوف بھی تھا ڈر بھی تھا جستجو بھی تھی ۔ عبیحہ کے فگر کو پھر دیکھنے کی آرزو بھی تھی ۔۔ آخر کار میں نے جرات کی اور موقع پاکر بھا کے کمرے سے ھی اٹیچ ڈور سے عبیحہ کے کمرے میں داخل ھوگیا ۔ عبیحہ چارپائی پر بیٹھی گھٹنوں پر بازو پھیلا کر بازوں پر اپنی نرم روئی سی گال رکھے کسی گہری سوچ میں گم تھی ۔ دروازہ کھلنے کی آواز سن کر اس نے صرف پلکوں کی جھالر کو اٹھا کر ایک نظر مجھ پر ڈالی اور پھر سے آنکھوں پر پلکوں کی چادر اوڑھ کر واپس اپنی سوچوں میں گم ھوگئی ۔۔ میں اسکی ادا پر قربان ھوتا گیا۔ اور کھڑا اسکو دیکھنے لگ گیا۔ مجھے عبیحہ کا سر اور ٹانگیں اور چٹے سفید دودھیا پیر ھی نظر آرھے تھے اور عبیحہ سوچ میں گم اپنے پیروں کی نازک سی انگلیوں کو آپس میں مسلتے ھوے نجانے کیا سوچ رھی تھی ۔۔ میں کچھ دیر کھڑا اس حسن مجسمہ کو دیکھتا رھا ۔ اورپھر ہمت کرکے اسکی چارپائی کے پاس پہنچا ۔ عبیحہ نے مجھے اپنے قریب محسوس کر کے پھر پلکوں کو اٹھا کر چند سیکنڈ غور سے میری طرف سوالیا نظروں سے دیکھا۔ اور پھر پلکوں کو خم کر کے اسی پوزیشن میں بیٹھ گئی ۔ میں عبیحہ کے قریب کچھ دیر کھڑا رھا اور پھر اسکے پیروں کی طرف بیٹھ گیا ۔ اور عبیحہ کے ریشم سے بالوں کو دیکھنے لگ گیا جنکی ایک لٹ اسکے حسین چہرے سے چھیڑ چھاڑ کررھی تھی ۔ آخر کار میرے لب کپکپاتے ھوے ہلے اور میرے منہ سے لرزتی ھوئی آواز نکلی ۔ عععععبیحہ جججی ایم سسسسوری ۔۔۔ عبیحہ نے میری آواز میری التجا میری معذرت میری معافی کو نظر انداز کردیا اور ایک نظر مجھ کو دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا ۔ میں نے پھر جرات کرتے ھوے ہاتھ اوپر اٹھایا اور گھٹنوں پر رکھے عبیحہ کے بازوں میں سے ایک بازو پر اپنا لرزتا ھاتھ رکھا اور انگلیوں کی ہلکی سے جنبش بازو پر دی اففففففففف بازو کی جلد تھی کہ روئی کا رول تھا ۔ انگلیاں عبیحہ کے بازو کی نرم جلد میں دھنستی چلی گئی نجانے بازو میں ہڈی تھی بھی کہ نہیں ۔۔۔ بازوں کو پکڑتے میرے لب پھر ہلے ۔ عععبیحہ ججی مجھے معاف کردیں میں نے جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . Don't touch meeeeeeeeee عبیحہ کی غصے سے بھری آواز نے میری بات کو ادھورہ کردیا اور میرے لب وہیں سل گئے اور میرے ھاتھ نے عبیحہ کے بازو کو ایسے چھوڑا جیسے بازو میں کرنٹ آگیا ھو میں اچھل کر پیچھے ہٹ کر بیٹھ گیا ۔ اور اس ظالم کے غصے سے سرخ ہوے چہرے کو دیکھنے لگ گیا ۔ جو اب اپنی پوزیشن بدل کر سیدھی ہوکر بیٹھی آنکھوں سے انگارے مجھ پربرسا رھی تھی ۔۔ میں معصوم چہرے کے ساتھ سہمے ھوے عبیحہ کی طرف دیکھنے لگ گیا ۔ عبیحہ کچھ بھی بول نہیں رھی تھی بس مجھے گھورتے ھوے لمبے لمبے سانس لیے جارھی تھی ۔ میں نے خود کو سنبھالتے ھوے پھر لب ہلاے۔۔۔۔ عبیحہ جی پلیزززز ایک دفعہ حوصلے سے میری بات تو سنیں عبیحہ پھر غصے سے بولی مجھے کچھ نہیں سننا جاو یہاًں سے ۔ I say get lost leave alone. میں نے ڈھٹائی باندھے پھر کہا۔ عبیحہ جی پلیز مجھے کچھ کہنے کا موقع تو دیں ۔ بیشک آپ کا غصہ بجا ھے ایک دفعہ میری بات سن لیں پھر آپ جو چاہیں مجھے کہہ لیں ۔۔ میری تقریر کا عبیحہ پر کوئی اثر نہ ھوا ۔ وہ پھر اسی غصیلے انداز میں بولی ۔ تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آرھی یا پھر تم کانوں سے بہرے ھو ۔ جاو یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔ میں نامراد ھوکر مایوسی سے چارپائی سے اٹھا اور کھڑے ھوتے ھوے روہانسے لہجے سے بولا ۔ عبیحہ جی میں آپکی دل سے عزت کرتا ھوں ۔ اور کرتا رھوں گا ۔ آپ بیشک مجھے گالیاں دیں لیں مار لیں لاکھ برا بھلا کہہ لیں ۔ میں بھی آپکی طرح انسان ھوں ۔ ہر انسان سے غلطی ھوجاتی ھے ۔ اوپر والا، بھی بڑی سے بڑی غلطی معاف کردیتا ھے ۔ مگر آپکے اندر دل نہیں بلکہ پتھر کا ٹکڑا ھے ۔۔ آئندہ میں کبھی آپ کے سامنے بھی نہیں آوں گا ۔ ھوسکے تو مجھے معاف کردینا ۔۔ میری آواز کافی گلوگیر ھوچکی تھی اور میں بوجھل قدموں کے ساتھ چلتا ھوا دروازے کے پاس پہنچا اور میرے اٹھتے ھوے قدم پھر رکے اور میں نے گردن گھما کر پیچھے عبیحہ کی طرف دیکھا جو میری طرف ھی دیکھ رھی تھی نظروں سے نظریں ملیں ۔ اور ساتھ ھی میری آنکھوں سے چند قطرے بہہ گئے جنہوں نے عبیحہ کی آنکھوں میں سلگتی آگ کو بھجانے کی کوشش کی ۔ میں نے پھر گلوگیر لہجے سے کہا۔ عبیحہ جی ایک بات آپ ذہن نشین کرلینا کہ میں نے جان بوجھ کر آپکو بغیر کپڑوں کے نہیں دیکھا کل جو بھی ھوا تھا وہ اتفاقاً ھوا تھا جسے آپ ایک حادثہ سمجھیں ۔۔۔ میں ایسا لڑکا نہیں ہوں ۔ میری باتوں نے عبیحہ پر اثر کیا کہ نہیں کیا ۔ I don't know میں اپنی بات پوری کرکے بڑی تیزی سے دروازے سے گزر کر دوسرے کمرے سے ھوتا ھوا بیٹھک میں جاپہنچا اور جاتے ھی چارپائی پر جاگرا اور ٹانگیں چارپائی سے نیچے لٹکاے آنکھیں موندکر لیٹ گیا اور نجانے کیوں عبیحہ کا جسم بار، بار میرے خیالوں میں گھس کر میری سوچوں کو اپنی طرف مائل کررھا تھا ۔ عبیحہ کا ننگا جسم بار بار میری آنکھوں کے سامنے آنے لگ جاتا اور اس کے ساتھ ھی میرا لن بھی انگڑائی لینا شروع ھوجاتا۔۔۔۔ مجھے بیٹھک میں لیٹے ابھی پندرہ منٹ ھی گزرے تھے کہ مجھے بیٹھک کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی میں نے چونک کر تھوڑی سی آنکھیں کھول کر دروازے کی طرف دیکھا تو مجھے سلمان اندر داخل ھوتے نظر آیا میں نے جلدی سے آنکھیں بند کرلیں سلمان اندر داخل ھوتے ھی بڑی شوخی سے چلایا ۔ واہ جی واہ نواب ساب ادھر مزے کررھے ہیں میں پورے گھر میں جناب کو تلاش کرتا پھر رھا ھوں ۔ اور یہ کہتے ھوے سلمان میرے سر پر آ پہنچا اور میری کلائی پکڑ کر مجھے اٹھاتے ھوے بولا چلو یار عبیرہ میرا سر کھاے جارھی ھے کہ یاسر،کو لے کر آو باہر گھومنے جانا ھے اور تم ادھر آکر لیٹے ھوے ھو اٹھو یار جلدی کرو۔۔ سلمان ایک ھی سانس میں بولے جارھا تھا ۔ میں نے اٹھتے ھوے کہا یار میرے سر میں بہت درد ھورھا ھے کچھ دیر بعد چلتے ہیں ۔۔ سلمان بولا یار ابھی کچھ دیر پہلے تو اچھے بھلے تھے ۔ اگر نہیں جانا تو بتا دو ۔ بہانے کیوں بنا رھے ھو ۔۔ میں نے کہا نہیں یار کیسی باتیں کررھے ھو ۔ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ میں نے نہیں جانا ۔۔ سلمان بولا لگ تو ایسے ھی رھا ھے کہ جان چھڑوا رھے ھو۔۔ میں نے کہا یار تم تو خوامخواہ ناراض ھورھے ھو ۔ چلتے ہیں بس تھوڑی دیر تک ۔۔ سلمان میرا ھاتھ چھوڑتے ھوے بولا ۔ یار عبیرہ کا تمہیں پتہ تو ھے کہ وہ جس بات کے پیچھے پڑ جاے پھر اس سے جان چھڑوانا مشکل ھوجاتا ھے ۔۔ میں نے کہا اچھا یار تم لوگ نہر کی طرف چلو میں تمہارے پیچھے آتا ہوں ۔۔ سلمان برا سا منہ بناتے ھوے بولا مرضی ھے یار تمہاری ہم نے کل چلے جانا ھے اور تم ایسے کررھے ھو۔۔ میں نے تھوڑا تلخ لہجے سے کہا یار سلمان تم تو بچوں کی طرح ضد کرنے لگ گئے ھو۔ میں نے کہا نہ کہ آتا ھوں ۔ . سلمان پھر برا سا منہ بنا کر باہر نکلتے ھوے بولا اوکے جناب مرضی ھے آپکی اگر دل کرے تو آجانا ورنہ ہم اکیلے ھی گھوم پھر آئیں گے ۔۔ یہ کہہ کر سلمان باہر نکل گیا ۔ مجھے اس وقت واقعی سلمان کی آمد ناگوار گزری تھی اور اسکی بےوجہ کی باتوں سے مجھے کوفت ھونے لگ گئی تھی کیونکہ میں جس حسین خیالوں میں کھویا ھوا تھا سلمان کی آمد نے میرا سارا مزہ کرکرا کردیا تھا ۔۔ مگر اس کے باوجود مجھے افسوس ھورھا تھا کہ مجھے سلمان سے ایسے بات نہیں کرنا چاہیے تھی ۔میں تو لاہور بھی ان لوگوں کو گھمانے کی وجہ سے نہیں گیا تھا ورنہ آج تو میں نے مال لینے جانا تھا ۔ خیر میں پھر سے چارپائی پر اسی حالت میں ٹانگیں نیچے لٹکاے لیٹ گیا ۔۔ میری کمر اور گانڈ چارپائی پر تھی اور میرا سر تکیہ پر تھا اور ٹانگیں چارپائی سے نیچے تھیں میں لیٹا پھر عبیحہ کے خیالوں میں کھو گیا پتہ نہیں کون سی ایسی شے تھی جو مجھے بار بار عبیحہ کی طرف متوجہ کیے جارھی تھی دماغ تھا کہ بس اس کے حسین فگر کی طرف جارھا تھا ۔ پھر سے آنکھوں کے سامنے سکن بریزیر میں چھپے تنے ھوے گول مٹول چھتیس سائز کے ممے آگئے چٹا سفید پیٹ افففففففف ان ھی خیالوں میں کھوے ھوے مجھے پتہ نہیں کتنا وقت گزر گیا کہ اچانک پھر سے بیٹھک کا اندرونی دروازہ کھلنے کی آواز نے مجھے خیالوں سے لا باہر پھینکا ۔ اور میں جو آنکھوں پر بازو رکھے عبیحہ کے خیالوں میں گم تھا ۔ میں نے تھوڑا سا بازو آنکھوں سے سرکا کر دروازے کی جانب دیکھا تو مجھے عبیحہ اندر داخل ھوتے ھوے نظر آئی ۔ عبیحہ کی آمد نے مجھے چونکا دیا مجھے لگا شاید میں کوئی سپنا دیکھ رھا ھوں ۔ میں نے سر جھٹک کر غور سے دیکھا تو واقعی یہ حقیقت تھی ۔اس سے پہلے کہ عبیحہ میرے قریب پہنچتی میرے دماغ کی گھنٹی بجی ۔۔۔۔ کاکا لگتا ھے کام بن گیا تیرا جو عبیحہ بیٹھک میں تیرے پاس آگئی ھے ۔۔ چل شاباش ہوجا شروع۔۔۔ میں نے جلدی سے آنکھیں بند کرلیں اور بازو پھر سے آنکھوں پر رکھ لیا اور رونے والا منہ بنا لیا جیسے سارے جہاں کا دکھ مجھے ھی لگا ھوا ھے ۔ اور ساتھ ناک کو سکیڑ سکیڑ کر آنکھوں سے بازو ہٹا کر بازو سے ناک صاف کر کے پھر بازو آنکھوں پر رکھ لیا میں عبیحہ کو یوں محسوس کروانا چاھ رھا تھا کہ جیسے ذیادہ رونے سے ناک سے پانی بہہ رھا ھو ۔۔۔ عبیحہ کو اپنے قریب آتا ھوا محسوس کرکے میں مذید ایکٹنگ کرنا شروع ھوگیا ۔ مجھے عبیحہ نظر نہیں آرھی تھی بس اسکی قدموں کی آہٹ کو محسوس کررھا تھا کہ وہ میرے کتنا قریب آگئی ھے ۔۔ اسی اثناء مجھے اپنے بالوں میں انگلیاں پھرتی محسوس ہوئی ۔ اور عبیحہ کی پرترنم آواز میرے کانوں سے ٹکرائی اوے ھوے ناراض ھوگئے ھو۔۔۔ اور میرا چھونا رو رھا ھے ۔۔ میں نے جھٹ سے بازو آنکھوں سے ہٹایا اور آنکھیں کھول کر چھت کی طرف ایسے دیکھا جیسے عبیحہ کی موجودگی کا احساس مجھے اس کے چھونے سے ھوا ھو ۔ میری نظر سیدھی عبیحہ کی نظروں سے ملی۔ تو عبیحہ کی آنکھوں میں شرارت اور چہرے پر ہلکی سی مسکان دیکھ کر ۔ مجھے ساری ایکٹنگ ھی بھول گئی ۔ اور میں ٹکٹکی باندھے وہیں جُم ھوگیا۔۔ عبیحہ مجھے یوں اپنی طرف دیکھتے ھوے شرما سی گئی اور شرما کر میری نظروں سے نظریں چراکر دوسری طرف دیکھنے لگ گئی اور اس کاھاتھ ویسے ھی میرے سر پر تھا اور اسکی نرم نازک انگلیاں میرے بالوں کو برابر سہلا رھیں تھی ۔ میں نے جب دیکھا کہ عبیحہ نے نظریں دوسری طرف کرلیں ہیں تو میں نے پھر سے ایکٹنگ کرتے ھوے ناک سے سو سو کی آواز نکالی اور اٹھ کرسیدھا ھوکر ٹانگیں نیچے لٹکا کر چارپائی پر بیٹھ گیا ۔ عبیحہ کا ھاتھ میرے سر پر سے ہٹ چکا تھا ۔ میں سر جھکا کرنیچے پاوں کو دیکھنے لگ گیا ۔ عبیحہ میرے سر والی سائڈ پر کھڑی تھی ۔ میں جیسے ھی اٹھ کر بیٹھا تو عبیحہ چلتی ھوئی میرے قریب آکر کھڑی ھوگئی اور میری طرف دیکھنے لگ گئی ۔ مگر میں جان بوجھ کر اسے اگنور کررھا تھا اور اسکی موجودگی کو نظر انداز کرتے ھوے ۔ سر جھکائے اپنے پیروں کو دیکھی جارھا تھا ۔ عبیحہ کچھ دیر کھڑے رہنے کے بعد میرے ساتھ جڑ کر چارپائی پر بیٹھ گئی ۔۔ عبیحہ کا نرم نرم جسم جیسے ھی میرے ساتھ لگا میرے جسم میں سردی کی لہر دوڑ گئی ۔ میرا دل تو کیا ابھی عبیحہ کی کمر کے گرد بازو ڈال کر اسے کس کر اپنے ساتھ لگا لوں ۔ مگر ایسا میں صرف سوچ ھی سکتا تھا ۔ کیونکہ اس بلا کا پتہ نہیں چلتا تھا گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیتی تھی ۔۔ اس لیے اس خوش فہمی کو دل میں ھی چھپاے اپنے سے انداز میں بیٹھا رھا ۔ کچھ دیر دونوں خاموش رھے ۔ اور بالاخره عبیحہ نے گلا کھنگارا اور مجھے کندھا مارتے ھوے بولی ۔ اگر جناب کا رونا ختم ھوگیا ھو تو میں کچھ عرض کروں ۔ میں نے سر اوپر اٹھایا اور سوکھی آنکھوں پر ھاتھ پھیرتے ھوے بولا ۔ میں کیوں روؤں گا ۔۔ عبیحہ مسکراتے ھوے بولی ۔۔ اوووو میں تو سمجھی شاید تم رو رھے ھو ۔ لے میں ایسے ھی پریشان ھوگئی ۔۔ . میں نے پھر سر جھکا لیا اور اپنے پیروں کی طرف دیکھتے ھوے آہستہ سے بولا ۔ میں اتنا خوش قسمت نہیں کہ کوئی میرے لیے پریشان ھو ۔ عبیحہ نے اپنا نرم ملائم ہاتھ میری طرف بڑھایا اور میری ٹھوڑی کو پکڑ کر میرا چہرا اوپر کرتے ھوے اپنی طرف گھمایا اور میرے چہرے کو غور سے دیکھتے ھوے بولی ۔ ایک تو غلطی بھی تمہاری اور اوپر سے روٹھ روٹھ کر بھی دیکھا رھے ھو ۔ بجاے مجھے منانے کے الٹا نخرے دیکھا رھے ھو ۔ میں نے عبیحہ کے چہرے کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا ۔میں تو آپ سے معافی مانگنے گیا تھا مگر آپ نے تو میری بات ھی نہیں سنی الٹا مجھے بےعزت کرکے کمرے سے نکال دیا ۔ عبیحہ نے مسکراتے ھوے میرا ھاتھ اپنے نرم نرم ملائم روئی کے گولے جیسے ھاتھوں میں لیا اور میرے ھاتھ کو سہلاتے ھوے بولی ۔ اچھا یار اب غصہ تھوک دو اور چلو مجھے تمہارا گاوں دیکھنا ھے ۔ سب گھر والے چلے گئے ہیں اور میں سپیشل تمہیں منانے کے لیے آئی ھوں ۔ میں نے چونک کر سر اٹھا کر عبیحہ کی طرف دیکھا اور بولا ۔ کیا مطلب سب گھر والے کہاں چلے گئے ہیں ۔ عبیحہ بولی سب گاوں دیکھنے گئے ہیں مما سب بچے آنٹی نازی بھی انکے ساتھ گئیں ہیں ۔۔ میں نے پھر موڈ بناتے ھوے کہا ۔ تو آپ بھی انکے ساتھ چلی جاتیں ۔ جبکہ میرے دل میں تو لڈو پھوٹ رھے تھے یہ سن کر کہ اس وقت میں اور عبیحہ اکیلے گھر پر ہیں ۔ مگر میں جان بوجھ کر نخرے دیکھا رھا تھا کہ لوھا مذید گرم ھوجاے ۔۔ اور میرا یہ وار اتنا کارگر ثابت ھونا تھا یہ تو میں نے سوچا بھی نہ تھا ۔ کیونکہ کہ اچانک عبیحہ نے دونوں بازو میرے گرد ڈال کر اپنا مما. میرے کندھے کے ساتھ لگا لیا اور مجھے مذید اپنے ساتھ کستے ھوے بولی ۔ اب اتنے بھی شوخے نہ بنو ۔ چلو اٹھو جلدی کرو ۔۔ میں نے آج تک کسی کی منتیں نہیں کی ۔۔۔ عبیحہ نےایک بازو میرے سینے کی طرف سے اور دوسرا بازو میری کمر کی طرف سے لیجا کر دونوں ھاتھ میرے دوسرے بازو کے پاس لیجا کر آپس میں ملاے ھوے تھے ۔ میں بلکل سیدھا بیٹھا ھوا تھا اور عبیحہ تھوڑی ترچھی ھوکر اپنا مما میرے دائیں کندھے کے ساتھ لگاے بیٹھی میرے چہرے کی طرف اپنا چہرہ کرکے بیٹھی تھی ۔ عبیحہ کے ساتھ اتنا قریب ھوکر بیٹھنا اور اسکا یوں میرے ساتھ چپکنا میرے اندر طوفان بتمیزی پیدا کررھا تھا ۔ اسکے جسم کا لمس ھی مجھے پاگل کرچکا تھا اور اوپر سے یہ ظلم کہ اس قاتل حسینہ نے اپنا مما میرے کندھے کے ساتھ لگا دیا یہ تو جلتی پر تیل پھینکنے والی بات ھوئی ۔۔ ۔ عبیحہ کے اس رد عمل نے مجھے پریشان کردیا ۔ شاید یہ خلوت کا نتیجہ تھا کہ وہ میرے اتنا قریب آگئی تھی ۔ جبکہ جیسی اسکی طبعیت تھی میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ یوں میرے ساتھ چپک کر بیٹھے گی ۔۔ اب اس کے دل میں میرے لیے کیا فیلنگ تھی یہ تو وہ جانے یا اوپر والا ۔ مگر میرا سارا حساب کتاب بگاڑ کے رکھ دیا تھا اس نے ۔ افففففففففف بڑے شکوے بڑی شکایتیں گن گن کے رکھیں تھیں اس بےپرواہ کے لیے مگر اس ظالم نے سینے سے لگا کر سارا حساب کتاب ھی بگاڑ دیا۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرھی تھی کہ میں اگلا قدم کیسے اٹھاوں اور کونسا پہلا قدم اٹھاوں ۔۔۔ شروعات تو دوسری طرف سے ھوچکی تھی ۔ اب سمجھ نہیں آرھا تھا کہ حملہ کروں یا دفاع۔۔ عبیحہ مجھے ہلاتے ھوے بار بار کہے جارھی تھی اٹھو یاسر چلو نہ ۔ اور میں عبیحہ کے ممے کا لمس اپنے کندھے پر محسوس کرکر کے ھی دل پشوری کری جارھا تھا ۔ اور وہ میری گندی ذہنیت سے بے خبر بچوں کی طرح مجھ سے لپٹی مجھے اٹھنے کا کہے جارھی تھی ۔۔ میں نے آخر کار اگلی پلاننگ کرتے ھوے پہلی کاوش کی اور اعبیحہ کا بازو جو میری کمر کی طرف سے میرے دوسرے کندھے کی طرف گیا ھوا تھا اسکے نیچے سے اپنا ہاتھ گزار کر اسکی کمر کو سہلاتا ھوا اسکے دوسرے بازو کے نیچے ممے کے قریب رکھ دیا عبیحہ کا بریزیر مجھے اپنے ہاتھ کے نیچے صاف محسوس ھورھا تھا ۔۔ میں نے بھی اپنے ھاتھ کی انگلیاں اسکے مخملی جسم میں پیوست کر کے اسکو مذید اپنی طرف کھینچتے ھوے اسکا مما اپنے کندے کے ساتھ کس کے لگا لیا اور خود بھی اسکے ممے کے ساتھ لگ گیا عبیحہ کا مما میرے کندھے کے ساتھ لگ کر دب گیا تھا ۔ اور وہ مزہ افففففففف کیا مزہ تھا ۔ میری اس حرکت سے عبیحہ تھوڑی کسمکسائی مگر میں نے اسے جمع ای محسوس نئی ھونے دیا ۔۔ کہ میں نے جان بوجھ کر اسکی کمر کے گرد بازو ڈالا ھے بلکہ میں نے اسکے ممے کے قریب ھاتھ رکھتے ھی ۔ بڑے سنجیدہ انداز میں بولا ۔ اچھا بابا چلتا ھوں مگر پہلے یہ بتائیں آپ اب مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں ۔۔ عبیحہ مسکراتے ھوے بولی اب بھی کوئی شک ھے اگر ناراض ھوتی تو یوں تمہاری منتیں کرنے آتی ۔ میں ان سب کے ساتھ بھی جاسکتی تھی ۔ میں نے کہا ۔ عبیحہ جی ایک بات پوچھوں سچ بتانا ۔ عبیحہ میری آنکھوں میں دیکھتے ھوے بولی ہاں پوچھو کیا پوچھنا ھے ۔ میں نے کہا ۔ آپ نے سب گھر والوں سے جھوٹ کیوں بولا ۔۔ کہ آپکے اوپر چھپکلی. گر گئی تھی ۔۔ عبیحہ ایکدم سنجدیدہ ھوگئی اور بولی ۔ تو تمہارا کیا پروگرام ھے کہ سبکو بتا دیتی کہ یاسر نے مجھے ننگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبیحہ ایکدم چپ ھوگئی ۔۔ میں ساتھ ساتھ اپنا کندھا آہستہ آہستہ عبیحہ کے ممے کے ساتھ رگڑی جارھا تھا اسے مزہ آرھا تھا یا نہیں ۔ مگر اپن کے تو فل مزے تھے ۔ میں نے عبیحہ کی ادھوری بات کو مکمل کرنے کا اصرار کرتے ھوے کہا ۔ کیا ھوا چپ ھوگئی بولو نہ کہ کیا یاسر نے ۔۔ تو عبیحہ نے ایکدم میرے بائیں کندھے سے ھاتھ ہٹاے اور بازوں کو واپس لاتےھوے مجھ سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتے ھوے بولی ۔۔ اٹھو یاسر دیر ھورھی ھے سب پتہ نہیں کدھر نکل گئے ہوں گے ۔۔ میرا بازو ابھی بھی عبیحہ کی کمر پر تھا اور میرا ھاتھ اسکی بغل میں ممے کے پاس تھا اور اسکا نرم نرم جسم میری انگلیوں کی گرفت میں تھا جسکی وجہ سے وہ اب بھی میرے کندھے کے ساتھ چپکی ھوئی تھی مگر فرق یہ تھا کہ اب عبیحہ نے اپنے ممے کے آگے اپنا بازو کرلیا تھا اس لیے میرے کندھے اور اسکے ممے کے درمیان عبیحہ کا بازو آگیا تھا ۔۔ میں پھر اپنے ہاتھ کی مدد سے عبیحہ کو اپنی طرف کھینچتے ھوے کہا ۔ بولیں نہ کیا کہہ رھی تھی پتہ نہیں کیوں میری آواز میں رومینٹک جھلکنے لگ گئی اور میرا لہجہ نشیلا ھوگیا ۔ عبیحہ کی چھٹی حس نے اسے شاید چوکنا کردیا اس لے ۔ میرے دوسری بار اصرار کرنے پر وہ جھٹکے سے مجھ سے الگ ہوئی اور سائڈ لے کر میرے بازو کی گرفت سے آزاد ھوتے ھی جلدی سے کھڑی ھوگئی ۔۔ اس سے پہلے کہ میں اسکی کلائی پکڑتا مگر وہ مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر جاکر کھڑی ھوگئی اسکی سانسیں اور مموں کا اتراو چڑھاؤ بتا رھا تھا کہ وہ میری نیت کو بھانپ گئی ھے ۔ میں نے اسکی حالت کو نظر انداز کرتے ھوے یوں انجان بنتے ھوے حیرانگی کا اظہار کیا اور بولا کیا ھوا عبیحہ جی ۔ طبعیت تو ٹھیک ھے ۔ عبیحہ نے گلے میں دوپٹہ ڈالا ھوا تھا جس نے اسکے دونوں مموں کو ڈھانپا ھوا تھا ۔ عبیحہ دوپٹے کے پلو سے اپنا چہرہ صاف کرتے ھوے مجھے سے نظریں چرا کر بولی ۔ کچھ نہیں مجھے کیا ھونا ھے ۔۔ چلو چلیں ۔۔۔ میں شکار ھاتھ سے نکلتا دیکھ کر جلدی سے کھڑا ھوا اور عبیحہ کے قریب پہنچ کر اسکے بلکل سامنے کھڑا ھوگیا ۔ کمبخت کنفیوژن ھی اتنی تھی کہ مجھے اپنے کھڑے لن کا بھی ہوش نہ رھا کہ اس سالے کو ھی ٹانگوں کے بیچ لے لوں یا پھر بیٹھا ھی رہوں ۔ مگر حالت مخالف سمت بھی ایسی ھی تھی کہ عبیحہ کی بھی نظر میرے لن پر نہ پڑی ۔۔ میں نے عبیحہ کے چہرے کو غور سے دیکھا تو اسکا چہرہ سرخ ٹماٹر کی طرح ھوگیا تھا اور اسکے ماتھے پر شبنم کے قطرے نمایاں ھورھے تھے جنکو وہ دوپٹے سے صاف کررھی تھی ۔ جبکہ موسم بھی گرم نہیں تھا نومبر کا مہینہ چل رھا تھا اس موسم میں بغیر مشقت کے پسینہ آنا کسی اور طرف ھی اشارہ کررھا تھا ۔ یا عبیحہ گرم ھوچکی تھی یا پھر وہ میرا ارادہ بھانپ کر گبھرا گئی تھی ۔ خیر اب اسکی تصدیق کرنا مجھ پر لازم تھا اسی لیے اپنے کھڑے لن سے بےخبر ھوے میں. اٹھ کر کھڑا ھوکر عبیحہ کے سامنے جاپہنچا ۔ نجانے مجھ میں کہاًں سے اتنی ہمت پیدا ھوگئی کہ میں نے عبیحہ کے دونوں کندھوں کو پکڑ لیا اور اسکو ہلکا سا ہلاتے ھوے بولا ۔ عبیحہ جی کیا ھوا آپ اتنی گبھرا کیوں رھی ھو ۔ عبیحہ میری طرف دیکھتے ھوے بولی کچھ بھی نہیں ھوا مجھے میں ٹھیک ھوں ۔ چلو باہر چلیں ۔۔۔ یہ کہہ کر عبیحہ چلنے لگی تو میں نے اسکو کندھوں سے پکڑے روک کر کہا۔ عبیحہ جی چلتے ہیں کہا نہ چلتے ہیں پہلے میری بات تو سن لو ۔ عبیحہ نے بڑی عجیب سے نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولی کون سی بات ۔۔۔ میں نے کہا یار آپ کو اچانک کیا ھوگیا ھے اچھی بھلی بیٹھی باتیں کررھی تھی تو پھر یوں اچانک جانے کی جلدی کیوں پڑ گئی ۔۔ عبیحہ بولی میں تمہیں لیجانے کے لیے تو آئی تھی ۔ میں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ھوے یتیموں جیسا سا منہ بناتے ھوے کہا۔ اسکا مطلب. ھے کہ آپ نے مجھے دل سے معاف نہیں کیا ۔۔ عبیحہ ایکدم ہنس پڑی اور میرے سر پر چپت مارتے ھوے بولی ۔۔ بُدھو اور اب کیسے تم کو یقین دلاوں ۔۔۔ میں نے آخری وار کرنے کا سوچا اور عبیحہ کے کندھوں کو چھوڑتے ھوے اس سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر کھڑا ھوگیا اور عبیحہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بازو اسکی طرف پھیلا دیے اور خاموشی سے کھڑا ھوکر اسکے جواب کا انتظار کرنے لگ گیا ۔ عبیحہ نے بڑی گہری نظروں سے مجھے گھورا اور چند لمحے سوچنے کے بعد میری جانب بڑھی اور میرے قریب آکر باہیں پھیلا کر میرے سینے کے ساتھ لگ گئی اور دونوں ھاتھ میری کمر پر رکھ دیے اور میرے بازو بھی سمٹتے گئے اور عبیحہ کی پتلی کمر کو اپنے احصار میں لے کر اسکے تنے ھوے مموں کو اپنے سینے میں جزب کرلیا ۔۔ اور میرے ہونٹوں کی گستاخی نے عبیحہ کو تڑپا کر مذید میرے ساتھ چپکا دیا اور اسکی انگلیوں نے میری شرٹ اور میری کمر کی جلد کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔ میرے ہونٹوں نے جیسے ھی عبیحہ کی صراحی دار گردن کا بوسا لیا تو عبیحہ کے منہ سے سسسسسسسسسسس نکلا اور وہ میرے ساتھ مذید چپک گئی اور بدبخت لن نے موقع غنیمت جان کر جیسے ھی عبیحہ کی ٹانگوں کے بیچ گھس کر پھدی کو ٹچ کرنے کی کوشش کی تو عبیحہ نے جیسے ھی اپنے چڈوں کے بیچ گھس کر اپنی کنواری پھدی کو ٹچ کرنے کی کوشش کرتے کسی سخت شےکو محسوس کیا تو عبیحہ نے تسلی کے لیے بس ایک دفعہ اپنے چڈوں کو بھینچ کر لن کو محسوس کیا اور جیسے ھی عبیحہ کو یقین ھوا کہ میرا لن تو بتمیزی ہر اتر آیا ھے تو اس کے ساتھ ھی عبیحہ کو گیارہ ہزار وولٹیج کا جھٹکا لگا اور میری کمر پر رکھے اسکے دونوں ھاتھ بجلی کی سی تیزی سے میرے سینے پر آے اور پھر ایک ذور دار جھٹکا میرے جسم کو لگا جس سے دونوں جسم ایک دوسرے سے بچھڑ گئے اور عبیحہ نے بس ایک نظر میرے ٹراوزر میں بنے تمبو پر ڈالی اور پھٹی آنکھوں کو لیے خاموشی سے بھاگتی ھوئی بنا کچھ کہے باہر کے دروازے سے نکل گئی اور میں اسے جاتا ھوا دیکھتا رھا ۔ اور جیسے ھی مجھے ہوش آیا تو ایک ذور دار تھپڑ ٹراوزر میں بنے تمبو پر مارا ۔ سالیا تھوڑا صبر نئی کر سکدا سی ۔۔۔ اور ساتھ ھی ھائییییییییی کرتا ھوا لن پر ہاتھ رکھ کر پیروں کے بل بیٹھ گیا ۔۔ 2 اور جیسے ھی پھر عبیحہ کے یوں بھاگ جانے کا خیال من میں آیا تو ساتھ ھی تھپڑ سے لن پر ھونے والی درد کو بھول کر جلدی سے کھڑا ھوا اور تقریباً بھاگتا ھوا دروازے سے نکل کر دوسرے کمرے میں پہنچا اور پھر ادھر سے باہر صحن میں آکر ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا مگر مجھے عبیحہ کہیں نظر نہ آئی ۔۔ میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور پھر عبیحہ کے کمرے کی طرف تیز تیز قدموں سے چلتا ھوا کمرے کے دروازے پر پہنچا ۔ دروازہ بند تھا مگر اندر سے کنڈی نہیں لگی تھی ۔ میں نے دروازے کے پٹ پر ھاتھ رکھ کر دروازے کو اندر کی طرف دھکیلا تو دروازہ کھلتا چلا گیا ۔ اور میں جلدی سے کمرے میں داخل ھوا تو عبیحہ چارپائی پر ٹانگیں نیچے لٹکاے بیٹھی دیوار کو دیکھے جارھی تھی ۔ عبیحہ کی پیٹھ میری طرف تھی اور چہرہ میرے مخالف ۔ عبیحہ نے دروازہ کھلنے کی آواز تو یقیناََ سن لی تھی ۔۔ مگر اس نے پلٹ کر نہ دیکھا کہ کون اندر آیا ھے ۔۔ شاید اسے امید تھی کہ میں اسکو ڈھونڈتا ھوا کمرے میں لازمی آوں گا ۔۔ میں چلتا ھوا عبیحہ کے قریب پہنچا اور اس کے بلکل قریب ھوکر کھڑا ھوگیا ۔ عبیحہ ایسے ریکٹ کر رھی تھی جیسے وہ میری موجودگی سے بلکل بےخبر ھے ۔ وہ میرے اتنے قریب آکر کھڑے ھونے پر بھی ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ چلیں یہ بھی اسکی ادا ٹھہری ۔ اسکو بھی ادا ھی مان لیتے ہیں ۔۔ میں نے چند لمحے کھڑے رہنے کے بعد عبیحہ کے کندھے پر ھاتھ رکھا اور بولا ۔ کمال ھے مجھے باہر چلنے کا کہہ کر ادھر آکر بیٹھ گئی ھو ۔ میں نے جان بوجھ کر ایسے ریکٹ کیا جیسے کچھ ھوا ھی نہ ھو ۔ میں بلکل نارمل انداز سے بلکہ فرینکلی بات کررھا تھا ۔ عبیحہ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا ۔۔۔ پھر آنکھوں کے تیر چلے نشانہ ٹھیک لگا نہیں معلوم ۔۔ مگر عبیحہ کی آنکھوں میں غصہ نہیں تھا عجیب سی کشش تھی جو کئی سوال اٹھا رھی تھی ۔ عبیحہ نے چند سیکنڈ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور پھر بڑے آرام سے میری کلائی کو پکڑ کر میرا ھاتھ اپنے کندھے ہٹا دیا اور اٹھ کر کھڑی ھوئی ۔ افففففف عبیحہ کیا کھڑی ھوئی ۔ سالا میرا لن پھر سے کھڑا ھونے کو تیار ھوگیا۔ عبیحہ کی پتلی کمر ساتھ لگا پیٹ اور اوپر تنے ھوے بڑے بڑے ممے ایسے ہلے جیسے بریک لگانے سے گاڑی کا بمپر چند لمحے جھولتا ھے ۔ اففففففف کیا سین تھا ۔۔۔ میری نظروں کو اپنے مموں ٹکے دیکھ کر عبیحہ نے جلدی سے اپنا شفون کا دوپٹہ مموں پر سیٹ کیا ۔ مگر اتنا باریک دوپٹہ کہاں چٹانوں کو ڈھانپ سکتا ھے۔ دوپٹہ بھی میری نظروں سے ملا ھوا تھا جو بار بار سیٹ کرنے کے باوجود مموں پر ٹک نہیں رھا تھا ۔۔۔ آخر عبیحہ جھنجھلا کر باہر دروازے کی طرف چل پڑی ۔ اسکی شارٹ شرٹ جو انتہائی فٹنگ میں تھی وہ اسکے باہر کو ابھرے چوتڑوں کو نمایاں کررھی تھی اور عبیحہ کے چلنے سے چوتڑوں کا بھی سانس رک رھا تھا جو باری باری اپنے اوپر آتی شرٹ کو اچھال اچھال کر اوپر کرنے کی کوشش کررھے تھے ۔ مگر ہر بار ناکام ھورھے ۔ عبیحہ کی چند لمحوں کی قربت نے اسکے انگ انگ کو میری نظروں کے زیر بحث کردیا ۔ میری نظریں اسکی سارے جسم کا محاسبه کرنے پر مجبور ھوگئیں ۔ عبیحہ تیز قدموں سے چلتی ھوئی بیرونی دروازے کی طرف بڑھتی گئی اور میری نظریں اسکے مموں سے ہٹ کر اسکی ابھری اوپر نیچے ھوتی گانڈ کو تکتی رہیں ۔ یہاں تک کے عبیحہ کی گانڈ میری نظروں سے اوجھل ھوگئی اور عبیحہ کمرے سے نکل کر صحن میں چلی گئی ۔ جیسے ھی گانڈ کا، منظر میری آنکھوں سے اوجھل ھوا میں بھی تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تو عبیحہ گھر کے بیرونی دروازے کے پاس کھڑی میری طرف دیکھ رھی تھی ۔ مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر عبیحہ جلدی سے باہر گلی میں نکل گئی اور میں بھی باہر نکل کر دروازہ بند کرکے اسکو ساتھ لیے نہر کی طرف چل دیا ۔ ہم دونوں خاموشی سے چل رھے تھے ہم دونوں کے درمیان کسی قسم کی گفتگو نہیں ھورھی تھی ۔ یوں ھی چلتے ھوے میں عبیحہ کو ٹرین کی پٹری کی سمت لے کر چلنے لگا ۔ میں عبیحہ کے بلکل ساتھ جڑ کر چل رھا تھا ۔ہم دونوں میں بس چند انچ کا ھی فاصلہ تھا ۔ آخر کار میں نے ھی خاموشی کو توڑا اور ادھر ادھر نظر دوڑا کر بولا ۔ پتہ نہیں سب کس طرف گئے ہیں ۔ چلو پہلے پٹری کی دوسری طرف لگے امرود کے باغ میں دیکھتے ہیں ۔۔ میں اکیلا ھی باتیں کری جا رھا تھا جبکہ عبیحہ خاموشی سے میری تقلید میں چلی جارھی تھی ۔ جب ہم ٹرین کی پٹری کے پاس پہنچے جو زمین سے کافی اونچی تھی تو میں جلدی سے بھاگتا ھوا پٹری کے اوپر چڑھ گیا جبکہ عبیحہ نیچے کھڑی میری طرف سوالیا نظروں سے دیکھنے لگ گئی ۔۔ کمبخت اب بھی آنکھوں سے اپنی مجبوری بیان کررھی تھی کہ میں کیسے اوپر چڑھوں ۔ میں چند لمحے اسکو دیکھتا رھا کہ اب بولے اب بولے مگر وہاں تو خاموشی چھائی ھوئی تھی لب سلے ھوے تھے بس آنکھوں سے سب کچھ بیاں ھورھا تھا ۔ میں نے بالاخر عبیحہ کو کہا ۔ آجاو اوپر تب جا کر اس مجسمہ حسن کی خاموشی کے تار ٹوٹے اور اسکے شربتی ہونٹ ہلے ۔۔ میں کیسے اوپر چڑھوں میں نے گر جانا ھے مجھ سے نہیں چڑھا جاتا ۔۔ میں نے کچھ سوچ کر دوبارہ نیچے آنا شروع کردیا اور عبیحہ کے پاس پہنچ کر بولا مجھے اپنا ھاتھ پکڑاو میں تمہیں گرنے نہیں دوں گا ۔۔ عبیحہ نے جلدی سے ھاتھ اپنی گاند کے پیچھے ایسے کیا جیسے میں ذبردستی اسکا ھاتھ تھامنے لگا ھوں ۔۔ میں اسکی اس حرکت کو بھی اسکی ادا سمجھ کر خاموش رھا ۔کہ جو میرے ساتھ چمٹ سکتی ھے میرے لن کو چڈوں میں بھینچ سکتی جو میرے ھاتھ کو خود پکڑ کر اپنے ھاتھوں میں لے کر سہلا سکتی ھے ۔ اب اسی کو میرے ھاتھ میں اپنا ھاتھ دینے میں کیا مسئلہ ھے ۔۔۔ مانا کہ اسکا مخملی ھاتھ اسکے لیے بہت خاص تھا ۔ مگر وہ یہ بھی تو سوچتی کہ عام ہم بھی نہیں تھے ۔ ہر لڑکی کے نصیب میں لن ضرور ھوتا ھے ۔ مگر ہر لڑکی کے نصیب میں شیخو کا لن نہیں ھوتا۔ خیر میں نے پھر عبیحہ کو کہا کہ یار اوپر پھر کیسے چڑھو گی ۔ عبیحہ ھاتھ کے اشارے سے مجھے کہنے لگی پیچھے ہٹو میں خود ھی چڑھ جاتی ھون ۔ میں مسکراتے ھوے بازو اسکے سامنے ادب سے پھیلاتے ھوے بولا ۔ جی ضرورررررررررر۔ اور میں عبیحہ کے سامنے سے ہٹ کر ایک طرف کھڑا ھوگیا ۔عبیحہ میری اس حرکت کو دیکھ کر تھوڑا سا مسکرائی اور سر جھٹک کر آہستہ سے بولی پاگل۔۔۔ اور پھر عبیحہ اوپر چڑھنے لگ گئی ۔۔ چڑھائی والی جگہ پر چھوٹے چھوٹے پتھر پڑے ھوے تھے اور جگہ کا بھی بیلنس نہیں تھا اس لیے عبیحہ کو جھکنا پڑا اور عبیحہ کو اوپر چڑھتے ھوے زمین پر ھاتھ رکھ کر زمین کا سہارہ لینا پڑا ۔ عبیحہ اوپر چڑھتے ھوے ہلکا ہلکا ڈگمگا رھی تھی ۔ اور جھکنے کی وجہ سے اسکی باہر کو نکلی گول مٹول گانڈ مذید باہر کو نکل آئی تھی ۔ میں تو سب کچھ بھول کر عبیحہ کی سیکسی گانڈ کا نظارا دیکھنے میں مگھن ہوگیا ۔ ابھی عبیحہ ایسے چڑھائی چڑھ رھی تھی جیسے وہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنا چاہ رھی ھو اور راستہ بہت دشوار ھو ۔ عبیحہ نے ابھی آدھا راستہ ھی طے کیا تھا کہ اسکا پیر ایک پتھر سے سلپ ھوا اور وہ تقریباً ایکدم پیچھے کو کھسک کر واپس آئی اور ساتھ ھی اسکے منہ سے چیخ نکلی ۔ آئیییییییی یایایاسر مممیں گرنے لگی ۔ میں چونک کر اسکی گانڈ کے خیالوں سے باہر آیا اور بھاگ کر اسکے پیچھے پہنچ کر عبیحہ کی کمر کو دونوں طرف سے اپنے ھاتھوں سے پکڑ کر عبیحہ کو نیچے آنے سے روک لیا ۔ عبیحہ چونکہ جھکی ھوئی تھی اور اسکی گانڈ حد سے ذیادہ باہر کو نکلی چکی تھی تو میرے یوں اسے پکڑنے سے میرا لن اسکی نرم نرم گانڈ کے ساتھ لگ گیا ۔۔ اور پوز ایسا بن گیا تھا کہ دیکھنے والا یہ آسانی سے قیاس کرسکتا تھا کہ شاید میں عبیحہ کو گھوڑی بنا کر پیچھے سے لن اسکی گانڈ یا پھدی میں ڈالے اسے چود رھا ھوں ۔ مگر ایسا بلکل بھی نہیں تھا یہ تو دیکھنے والی کی گندی سوچ تھی جبکہ میں تو بیچاری کو گرنے سے بچا رھا تھا ۔ یہ الگ بات تھی کہ میرے لن کو پھدی کے بعد عبیحہ کی گانڈ کا لمس بھی نصیب ھوا ۔ افففففففففف دوستو بیان کرنا مشکل ھے ۔ کہ عبیحہ کی کتنی نرم گانڈ تھی اور سوے ھوے لن کے ساتھ گانڈ کے ساتھ لگنے کا مزہ ھی کچھ الگ ھوتا ھے اور وہ بھی ایسی گانڈ کہ جسکو چھونے کا بھی ارمان بندا بس خوابوں میں اور امیجینشین سے ھی پورا کرسکتا ھے ۔۔ عبیحہ کی پتلی کمر میرے ھاتھوں میں اور میری رانوں کے ساتھ لگی اسکی نرم گانڈ ھاےےےےےےےےےے کیا ھی مزہ تھا ۔ میں نے اس مزے کو دوبالا کرنے کے لیے گانڈ کے ساتھ لگتے ھی ہلکا سا زور آگے کی طرف اس انداز سے لگایا کہ عبیحہ کو ایسے لگے جیسے میں اسکو بچانے کے بڑی پھرتی سے بھاگ کر آیا ھوں ۔ اور ساتھ ھی میں نے اوےےےےےے رکو رکو رکو کی آواز نکالی اور عبیحہ کو راستے میں روک لیا اور پھر عبیحہ کو سنبھالتے ھوے اسے کہا چلو اب چڑھو اوپر بےفکر ھوجاو اب نہیں گرتی ۔ عبیحہ نے دوتین دفعہ کہا کہ میں نے نہیں اوپر چڑھنا مجھے نیچے جانے دو مگر مجھے تو اپنے مزے کی پڑی تھی میں اسے اوپر چڑھنے کا ھی اصرار کرنے لگ گیا ۔ آخرکار عبیحہ نے اوپر چڑھنے کے لیے اگلا قدم اٹھایا اور پٹری کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔ میں ساتھ ساتھ ادھر ادھر بھی دیکھ رھا تھا کہ کوئی ہمیں اس پوزیشن میں دیکھ تو نہیں رھا اور ساتھ ساتھ عبیحہ کو پیچھے سے ہلکا ہلکا دھکا لگاتے اوپر کی طرف لیجا رھا تھا ۔ آخرکار کچھ ھی دیر میں عبیحہ پٹری پر چڑھنے میں کامیاب ھوگئی ۔ اور اسی دوران میرے لن نے کب کھڑے ھوکر عبیحہ کی گانڈ کی دراڑ میں گھسنے کے مزے لیے اسکا احساس مجھے تب ھوا جب عبیحہ نے اوپر چڑھنے کے بعد سیدھی ھوکر اپنی گانڈ کی جان میرے جن سے چھڑوائی ۔۔ کھڑے لن کا احساس ھوتے ھی میں نے لن کو چڈوں میں کرکے چڈوں کو بھینچ لیا جس سے ٹروزر میں بنا تمبو کافی حد تک چھپ گیا تھا ۔ . یہ تو اچھا ہوا کہ میں نے نیچے انڈر وئئر پہنا ھوا تھا ۔ ورنہ لن چھپاے بھی نہیں چھپنا تھا ۔ عبیحہ جلدی سے سیدھی ھوکر کھڑی ھوئی اور لمبے لمبے سانس لیتے ھوے بولی ۔ توبہ کتنا مشکل کام ھے اففففففففف میں تو گرتے گرتے بچی عبیحہ نے بات کرتے ھوے سر سری سی نگاہ میرے لن کی طرف بھی ڈالی ۔ میں نے مسکراتے ھوے سینہ چوڑا کرتے ھوے کہا ۔ میرے ھوتے ھوے آپ کیسے گر سکتی ہیں ۔۔ عبیحہ نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور بولی ۔ شکریہ یاسر ۔۔ میں نے کہا اس میں شکریہ کی کیا بات ھے آپ ہماری مہمان ہیں آپکی حفاظت کرنا تو ہم پر فرض ھے ۔۔ عبیحہ نے میری بات سن کر صرف مسکرانے پر ھی اکتفاء کیا ۔ اور پھر چاروں طرف دیکھنے لگ گئی ۔اور میں بھی ہمیں گھر والے کہیں بھی نظر نہیں آرھے تھے ۔ جبکہ امردوں کا باغ کافی گنجان تھا جسکی وجہ سے باہر کھڑے ھوکر یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ سب باغ میں ہیں کہ نہیں ۔۔ خیر کچھ دیر کھڑے ھونے کے بعد میں نے عبیحہ کو کہا کہ چلو نیچے چل کر باغ میں دیکھتے ہیں یقیناً وہ سب باغ کے اندر امرود کھانے میں مصروف ھونگے ۔ عبیحہ بولی یاسر سچی بتاوں تو مجھے بھی بڑا شوق ھے کہ درخت سے امرود توڑ کر کھاوں مگر ہمارے شہر میں کہیں باغ ھی نہی ھے اس لیے کبھی میرا یہ شوق پورا ھی نہیں ھوا ۔ مین نے کہا چلو پھر آج تمہارا شوق بھی پورا کردیتا ھوں کیا یاد کرو گی ۔۔ کا سخی سے پالا پڑا ۔ عبیحہ میرا سٹائل اور بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑی اور میرے کندھے پر چپت لگاتے ھوے بولی ۔ یاسر تم بہت باتونی ھو یار ۔۔۔۔۔۔ میں جو عبیحہ کے گلاب کی طرح کھلتے چہرے کو دیکھ رھا تھا اور اسکی ہنسی سے موتیوں کی طرح چمکتے دانتوں کو دیکھ رھا تھا جو اسکی ہنسی کو مزید چار چاند لگا رھے تھے ۔ میں نے ایکدم سنجیدہ ھوکر عبیحہ کو کہا ۔ عبیحہ جی ایک بات کہوں۔۔ عبیحہ جو ہنسے جارھی تھی ایکدم خاموش ھوکر بولی ھاں کہو کیا کہنا ھے ۔ میں نے کہا عبیحہ جی آپ بہت خوبصورت ہیں اور ہنستی ھوئی اور بھی ذیادہ خوبصورت لگتی ہیں۔ تو پھر آپ اتنی سنجیدہ کیوں رہتی ہیں ۔ عبیحہ میرے سر پر آہستہ سے چپت لگاتے ھوے بولی ۔ بہت شوخے ھو تم یاسر مسکے لگانا کوئی تم سے سیکھے ۔ میں نے اپنی شہہ رگ کو پکڑتے ھوے کہا قسم سے عبیحہ جی آپ واقعی بہت خوبصورت ہیں اور آپکی ہنسی آپکی مسکراہٹ اس سے بھی ذیادہ حسین ھے ۔۔ عبیحہ میرا کان پکڑ کر کھینچتے ھوے بولی ۔ تم بہت بدمعاش ھوگئے ھو ۔ آنٹی سے تمہاری شکایت لگانی پڑے گی کہ آپکا بیٹا جوان ھوگیا ھے۔۔ میں نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ھوے کہا ۔ میں نے ایسا کیا کہہ دیا آپ کے حسن کی تعریف ھی کی ھے ۔۔ عبیحہ میری طرف شرارتی نگاہوں سے دیکھتے ھوے سر کو اثبات میں ہلاتے ھوے آہستہ سے بولی ۔۔ اور بھی بہت کچھ کیا ھے ۔۔۔ میں نے ناسمجھی کے انداز میں کہا ۔ جی ییییییی ۔ تو عبیحہ ہنستے ھوے بولی کچھ نہیں ۔۔چلو باغ میں چلتے ہیں ۔۔اور پھر خود ھی بول پڑی مگر میں نیچے کیسے اتروں گی ۔۔ میں نے اپنے سینے پر ھاتھ مارتے ھوے کہا ۔ یہ خادم کس لیے ھے ۔۔ عبیحہ میری بات سن کر پھر قہقہہ لگا کرہنس پڑی ۔ اور میری طرف انگلی کرتے ھوے بولی تم باز آجاو وووو۔ میں نے پھر یتیموں والا، منہ بنا کر کہا۔ اب مین نے کیا گستاخی کردی ھے عالی جاہ ۔۔ عبیحہ میری شکل اور میری بات سن کر ۔ ذور ذور سے ہنستے ھوے پیٹ پر ھاتھ رکھ کر آگے کو دھری ھوتی گئی ۔۔ اور ہنستے ھوے بولی تم نہیں باز آو گے ۔۔ چلو مجھے اب نیچے بھی اتارو ۔۔ میں نے کہا اٹھا کر لے جاوں نیچے ۔۔ عبیحہ غصے سے میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ ذیادہ شوخے مت بنو چلو میرے آگے آگے نیچے اترو میں تمہارے پیچھے تمہارے کندھوں کو پکڑ کر نیچے اترتی ھوں ۔۔ میں نے تو سوچا تھا کہ نیچے اترتے وقت بھی عبیحہ کے سکیسی جسم کے ساتھ مزہ کروں گا مگر سالی نے پہلے سے ھی نیچے اترنے کا پلان بنا لیا تھا ۔ مجبوراً مجھے اسکی بات ماننا پڑی اور میں نے پہلے نیچے اترنے کے لیے قدم رکھا اور پھر عبیحہ نے میرے کندھوں کے دونوں طرف ھاتھ رکھے اور میں آہستہ آہستہ نیچے کی طرف جانے لگا اور عبیحہ میرے کندھوں کی سپورٹ لیے میرے پیچھے پیچھے آنے لگی ابھی پانچ چھ چھوٹے چھوٹے قدم نیچے کی طرف بڑھے تھے کہ میرے دماغ مین ایک پلان آیا ۔ میں نے آہستہ آہستہ نیچے کی طرف جاتے ھوے ایکدم نیچے کی طرف تین چار قدم دوڑنے کے انداز میں نیچے کی طرف بڑھاے اور پھر ایک دم پیروں کو ایک جگہ پر جام کردیا ۔۔ کیونکہ میں نے جوگر پہنے ھوے تھے اس لیے مجھے ایسا کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئی جبکہ عبیحہ نے فینسی چپل پہنی ھوئی تھی جس کا سول شیٹ سول تھا ۔ ایک تو ہم نیچے اتر رھے تھے دوسرا جگہ بھی ہموار نہیں تھی تیسرا نیچے چھوٹے چھوٹے پتھر تھے چوتھا عبیحہ کا سہارا میرے کندھے تھے اس لیے عبیحہ بھی تیزی سے ہلکی سی چیخ مارتے ھوے میرے پیچھے سلپ ھوتی ھوئی آئی اور میرے ایکدم رکنے کی وجہ سے اسکے ہاتھ میرے کندھوں سے پھسل کر میرے گلے میں آگئے اور اسکے مممے میری کمر کے ساتھ چپک گئے اور اسکی رانیں میری گانڈ کے ساتھ لگ گئیں اب پوزیشن ایسی تھی کہ ۔ دیکھنے والا یہ سمجھتا کہ میں عبیحہ کو اپنی کمر پر سوار کر کے نیچے اتار رھا ھوں ۔ عبیحہ کا یوں اچانک جلدی سے نیچے آنے پر رنگ اڑ گیا تھا اور اس نے ڈرتے ھوے میرے گلے میں باہیں ڈال کر مجھے مضبوطی سے پکڑ لیا ۔ اور پیچھے سے اسکا سارا جسم میرے ساتھ چپک گیا ۔ میں نے بھی پلان کے مطابق ذیادہ دیر نہ کی اور اپنے ھاتھ پیچھے لیجا کر عبیحہ کی گانڈ پر رکھے اور اپنے دونوں ھاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملایا اور عبیحہ کی گانڈ پر رکھ کر تھوڑا سا نیچے کو جھکا تو عبیحہ کا سارا وزن میری کمر ہر آگیا اور عبیحہ کے پیر زمین سے تھوڑے اوپر ھوگئے ۔ اب میرے ھاتھوں کا ذور عبیحہ کی مست گانڈ پر تھا میرے ھاتھوں نے عبیحہ کو گانڈ سے اوپر اٹھایا ھوا تھا اور عبیحہ نے گبھراے ھوے میرے گلے میں باہیں ڈال کر مجھے پکڑا ھوا تھا ۔۔ میرے تو مزززززززے ھوگئے ۔۔۔ عبیحہ جیسے ھی میرے اوپر گری اور گرتے ھوے بولی ھائیییییییی امیییییی اور ساتھ ھی مجھے تھام کر بولی کیا ھوگیا ھے یاسر ابھی ہم دونوں نے گرنا تھا ۔۔ میں نے عبیحہ کی گانڈ کے نیچے دونوں ھاتھ رکھتے ھوے اسے اٹھاتے ھوے کہا ۔ اوھھھھھ کچھ نہیں ھوتا نہیں گرنے دیتا آپکو میں ھوں نہ ۔۔۔ اور میں عبیحہ کو اٹھاے ھوے نیچے لے آیا اور یوں چلتا ھوا باغ کی طرف بڑھنے لگا تو عبیحہ نے میرے گلے سے بازوں ڈھیلے کیے اور گانڈ کا وزن میرے ھاتھوں پر ڈالتے ھوے پیچھے سے اترنے کی کوشش کرتے ھوے بولی ۔ اب تو مجھے اتار دو ۔ کہ ایسے ھی باغ میں جانا ھے ۔ میں نے کہا ہاں ایسے ھی لے کر جانا ھے ۔ عبیحہ کا وزن کوئی پنتالیس پچاس کلو کے قریب ھوگا جو میں آسانی سے اٹھاے ھوے تھا ۔۔ عبیحہ نے میرے کندھوں پر مکے برساتے ھوے کہا مجھے نیچے اتارو بتمیززززززز ۔ میں نے بھی ذیادہ اوور ہونے کی کوشش نہ کی کہ کہیں گرم گرم نگھلنے سے منہ ھی نہ جل جاے ۔ میں نے اپنے ھاتھ عبیحہ کی گانڈ سے کھول دیے جس سے عبیحہ میری کمر سے پھسلتی ھوی زمین پر کھڑی ھوگئی اور اسکے مموں کی رگڑ نے میری ریڑھ کی ہڈی کو اور مضبوط کردیا ۔۔ ایسا پچاس کلو کا پوپٹ مال کمر پر لدا ھو تو بندا پیدل ھی پچاس کلومیٹر سفر کرنے کا، ارادہ کرلیتا ھے ۔۔ عبیحہ نے زمین پر پیر لگتے ھی سکھ کا لمبا سانس لیا اور میری کمر پر تھپڑ مارتے ھوے بولی ۔ یاسر تم بہت بگڑ گئے ھو ۔ میں نے اپنا رخ بدلا اور عبیحہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ھوگیا اور بھولے پن سے بولا ۔ اب کیا ھوگیا عبیحہ جی ۔۔ عبیحہ جھنجھلا کر سامنے باغ کی طرف اشارہ کرتے ھوے بولی ۔ کچھ نہیں ہوا ۔۔چلو تممممم۔ میں کندھے اچکا کر عبیحہ کے ساتھ ساتھ چلتا ھوا باغ کے اندر داخل ھوا ۔ تو عبیحہ امرودوں سے لدے ھوے درختوں کو دیکھ کر بچوں کی طرح تالی بجا کر اچھل اچھل کر خوشی کا اظہار کرنے لگ گئی ۔۔ امرودوں کودیکھ کر عبیحہ کے اچھلنے سے اسکے اپنے سنگترے بھی ساتھ ساتھ اچھل رھے تھے جنکو دیکھ کر میرا تو سارا حساب کتاب بگڑی جارھا تھا ۔ سالی کا بچپنا دیکھ کر میری جوانی پاٹنے والی ھوگئی تھی ۔ عبیحہ کچھ دیر یوں ھی اچھل اچھل کر خوشی کا اظہار کرتے ھوے درخت سے لٹکتی ھوئی ٹہنی سے امرود توڑ کر کھا نے لگ گئی اور اس نے ایک اور امرود توڑ کر میری طرف پھینکا جسے میں نے ایک ھاتھ سے ھی کیچ لیا ۔ عبیحہ نے امرود بھی کچا توڑا تھا جسے وہ مزے لے لے کر کھا رھی تھی کیونکہ کچا امرود کھٹ میٹھا ھوتا ھے ۔ میں اسکی حرکتوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ھوے جارھا تھا عبیحہ ایسے کررھی تھی جیسے اس نے کوئی عجوبہ دیکھ لیا ھو۔ اس کے لیے تو واقعی یہ باغ کسی عجوبہ سے کم نہیں تھا ۔ اور میرے لیے اس کے ساتھ خلوت کا موقع کسی نعمت سے کم نہیں تھا ۔۔ خیر عبیرہ نے آدھا امرود کھا کر پھینک دیا اور پھر سے مختلف درختوں کے گرد گھوم گھوم کر اپنی پسند کا امرود تلاش کرنے لگ گئی ۔۔ ہر درخت پر ہزاروں کی تعداد میں امرود لگے ھوے تھے مگر وہ پنجابی کی ایک کہاوت ھے نہ کہ کماد وچ بندا وڑ جاوے تے گنا پسند نئی آندا ۔۔ یہ ھی حال عبیحہ کا بنا ھوا تھا میں بھی اسکے ساتھ ساتھ چل رھا تھا اور اسے کئی امرودوں کی طرف اشارہ کرکر کے تھک گیا تھا مگر اسکا نخرہ ھی مان نہیں تھا ۔ ابھی ہم باغ کے تھوڑا سا ھی اندر گئے تھے کہ میرے کانوں میں آواز پڑی ۔۔۔۔ کیڑاااااااا ایں ۔۔۔ . عبیحہ بھی آواز سن کر ایک دم سہم کر میرے قریب ھوکر کھڑی ھوگئی اور آواز کی سمت کی طرف دیکھنے لگ گئی ۔۔ میں سمجھ گیا تھا کہ یہ باغ کا مالی ھے اور یہ مجھے اچھی طرح جانتا بھی ھے اور تقریباََ دوست بھی تھا ۔ دوستو یہاں ایک بات بتاتا چلوں کہ گاوں کی ایک یہ بھی ثقافت ھوتی تھی پتہ نہیں اب ھے کہ نہیں کہ اگر گاوں میں کسی کے گھر شہر سے یا دور دراز سے مہمان آجاتے تھے تو وہ اگر گاوں کے قریبی باغ چاہے وہ کسی پھل کا بھی باغ ھو اگر وہ اس باغ میں داخل ھوکر درختوں سے پھل توڑ توڑ کر کھانے یا جاتے ھوے ساتھ بھی لے جانے کی اجازت لیں تو باغ کا مالی یا مالک بڑی خوشی سے انکو اس بات کی اجازت دے دیتا تھا بلکہ انسے کسی قسم کے پیسے لینا اپنی توہین سمجھتا تھا اور کچھ مالی تو مہمانوں کے ساتھ ساتھ رہتے اور انکو بتاتے کہ یہ پھل کی کونسی قسم ھے آپ فلاں والا توڑو یہ پکا ھوا ھے اور اسکا ذائقہ اچھا ھے وغیرہ وغیرہ ۔ یعنی ہر لحاظ سے مہمانوں کے ساتھ کاپرٹ کرتے ۔۔ نوٹ ۔۔۔ یہ سہولت صرف مہمانوں کے لیے ھوتی تھی ۔ گاوں کے یا گردونواح کے مقیم اگر بنا اجازت کے باغ میں گھسنے کی کوشش کرتے تے اوناں دا چھتر پولا وی ہوندا اے خیر میں بھی کیا بونگیاں مارنے لگ گیا۔۔ چند لمحوں کے ھی بعد مجھے مالی کا چہرہ نظر آیا تو میں نے نجانے کیوں جلدی سے عبیحہ کو کہا کہ عبیحہ جی نواب کرلیں عبیحہ نے بڑی عجیب نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولی کیوں ۔ میں نے ایکدم سنجدیدہ انداز میں تھوڑا سخت لہجے میں کہا جو کہا ھے وہ کرو ۔۔۔ اور میں دور سے آتے ھوے مالی کی طرف دیکھنے لگ گیا ۔ اور میں نے ساتھ ھی عبیحہ کی طرف دیکھا جو ابھی تک آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھی جارہی تھی میں نے عبیحہ کو دیکھ کر گھوری ڈالی تو عبیحہ نے مسکراتے ھوے جلدی سے دوپٹے سے اپنا ناک اور یونٹ چھپا کر نقاب کرلیا اسکی مسکراہٹ پردے میں بھی دیکھائی دے رھی تھی ۔ اتنے میں مالی ہمارے قریب آگیا اور آتے ھی بڑی گرمجوشی سے مجھے ملا اور بولا اوووو شیخ ساب کی حال اے کیویں اج ساڈے غریباں وال چکر لگ گیا ۔ میں اس سے گلے ملتے ھوے بولا بس یار کام میں مصروفیت ھے اور مہمان آے تھے تو سوچا انکو گاوں دیکھا دوں ۔۔ مالی بڑے خوش اسلوبی کے ساتھ پیش آرھا تھا ۔ میری بات سن کر وہ بولا ۔ ہاں ہاں مجھے معلوم ھے ابھی کچھ دیر پہلے تمہاری امی اور مہمان ادھر سے ھی گئے ہیں ۔ میں اسکی بات سن کر بولا کتنی دیر پہلے گئے ہیں اور کس طرف گئے ہیں تو وہ یہ ھی کوئی پانچ دس منٹ پہلے دوسری طرف سے نہر کی طرف نکلے تھے ۔۔۔ میں نے عبیحہ کی طرف دیکھا اور کہا چلو وہ سب تو نہر کی طرف گئے ہیں ۔ عبیحہ نفی میں سر ہلاتے ھوے بولی ابھی تو میں نے سارا باغ دیکھنا ھے ابھی تو میں نے ایک ھی امرود کھایا ھے ۔ عبیحہ کی بات سن کر میں نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکی ۔ اتنے میں مالی نے میری کمر تھپتھپاتے ھوے کہا کوئی گل نئی یار تمہارے مہمان ہمارے مہمان ہیں انکو دیکھاو سارا باغ اور اگر میرے لائک کچھ ھو تو بتا دو ۔ میں نے کہا نہیں یار بڑی مہربانی ۔ تو مالی میرے گلے مل کر بولا جاندے یار اے ہو جیاں گلاں نئی کردیاں ۔ اچھا میں چلنا ایں تسی کرو موجاں ۔۔۔۔۔ اور پھر مالی جس طرف سے آیا تھا اسطرف واپس چلا گیا اور اس کے جاتے ھی عبیحہ نے جلدی سے نقاب اتارا اور میری طرف بڑی ادا سے دیکھتے ھوے بولی اب تو نقاب کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ میں نے نفی میں سر ہلایا اور ہم دونوں چلتے ھوے باغ کے اندرونی حصے کی طرف جانے لگ گئے ۔۔ عبیحہ آہستہ آہستہ منہ میں کوئی گانا گنگنا رھی تھی اور آہستہ آہستہ میرے ساتھ چلتی ھوئی کبھی درخت کے پتے توڑتی تو کبھی ٹہنیوں کو کھینچتی ۔ اور میں اسکی اٹھکیلیاں دیکھ دیکھ کر اندر ھی اندر خوش ھوے جارھا تھا ۔ کچھ ھی دور جاکر مجھے امرود کا ایک درخت نظر آیا جس کے امرود اوپر سے پیلے اور اندر سے سرخ ھوتے تھے ۔ میں اس درخت کے پاس رک گیا اور پکا ھوا امرود تلاش کرنے لگ گیا کیونکہ جو امرود نیچے تھے وہ کچے تھے ۔ اور پکے امرود اوپر لگے ھوے تھے جو میری پہنچ سے باہر تھے ۔ میں نے جمپ لگا کر بہت کوشش کی کہ کوئی امرود میرے ھاتھ لگ جاے مگر ناکامی ھوئی ۔ آخر کار مجھے درخت پر چڑھنا پڑا اور اوپر چڑھ کر میں کافی سارے امرود توڑ کر جیبیں بھر میں اور پھر نیچے آگیا اور جیب سے امرود نکال کر عبیحہ کو دیا اور بولا ۔ عبیحہ تم نے ایسا امرود کبھی نہیں کھایا ھوگا عبیحہ امرود کو ھاتھ میں گھما کر دیکھتے ھوے بولی ۔ کیوں اس میں کونسی خاص بات ھے یہ بھی عام امرودوں جیسا ھی ھے ۔ . میں نے کہا یہ صرف خاص لوگوں کے لیے ھوتا ھے زرہ اسکو بائٹ کرو اور پھر دیکھو۔۔ عبیحہ نے کندھے اچکا کر امرود کو دانتوں میں لے کر امرود کو بائٹ کیا اور کھانے لگ گئی اور ساتھ ھی بولی واو یار یہ تو بہت میٹھا ھے اور اسکا ٹیسٹ بھی بہت اچھا ھے ۔ میں نے کہا اب ذرہ امرود کو دیکھو ۔ عبیحہ نے امرود کو دیکھا تو امرود اندر سے بلکل سرخ تھا ۔ عبیحہ امرود کو بڑی حیرانگی سے دیکھتے ھوے بولی واوووووو یار یہ کیسے ھوسکتا ھے ۔ میں نے کہا یہ اوپر والے کا کام ھے وہ جو چاھے کرسکتا ھے ۔ عبیحہ بولی واقعی یار یہ تو میرے لیے سر پرائز ھے میں نے واقعی ایسا امرود اپنی زندگی میں پہلی دفعہ دیکھا ھے ۔ میں نے کہا ۔۔ اور یہ بھی یاد رکھنا کہ یہ سپیشل لوگوں کے لیے ھوتا ھے ہر ایسے غیرے کے لیے نہیں ۔۔ عبیحہ میری طرف بڑے رومینٹک انداز سے دیکھتے ھوے بولی ۔ ہممممم اسکا مطلب ھے کی ایم سپیشل فار یو ۔ میں نے اثبات میں سر ہلاتے ھوے کہا ۔ یس۔۔۔ عبیحہ بولی. واوو اور پھر عبیحہ نے بڑی مستانی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور بولی ۔ میں اس نوازش کی وجہ جان سکتی ہوں کہ میں کیوں خاص ھوں ۔۔۔ میں نے بھی عبیحہ کی نظروں کے انداز کی کاپی کرتے ھوے اسی انداز میں جواب دیا ۔ کیوں کے آپ میری سب سے خوبصورت کزن ھو اور پہلی دفعہ آپ ہمارے گھر آئی ہیں تو اتنا تو ہمارا حق بنتا ھے کہ آپکو سپیشل سمجھوں ۔۔۔ عبیحہ میری بات سن کر مسکرائی اور بڑی ادا سے اپنے سیاہ سلکی لمبے بالوں میں ھاتھ پھیرتے ھوے بالوں کو جھٹکتے ھوے بولی ۔ ہممممممم میں تو کچھ اور ھی سمجھی تھی ۔۔۔ میں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ھوے کہا ۔ میں سمجھا نہیں کہ کچھ اور۔۔۔۔۔۔ عبیحہ طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر لاتے ھوے بولی ۔ کچھ نہیں اور ساتھ ھی سر نیچے کر کے اپنے پیروں کو دیکھتے ھوے بولی ۔۔۔ چلو مما لوگوں کے پاس چلتے ہیں ۔۔ مجھے عبیحہ کا موڈ کچھ اوف لگا ۔۔ میں نے رک کر عبیحہ کے ھاتھ کو پکڑ لیا اور اسکو گھما کر اپنی طرف اسکا رخ موڑا تو عبیحہ سر جھکائے میرے سامنے فرمانبرداری سے کھڑی ھوگئ۔۔۔ میں نے عبیحہ کی ٹھوڑی کو پکڑ کر اسکا چہرہ اوپر کیا تو عبیحہ نے چہرہ تو اوپر کرلیا مگر اپنی جھیل سی آنکھوں پر پلکوں کی چادر بچھا کر آنکھوں کو چھپا لیا ۔ میں بڑے غور سے عبیحہ کے چہرے کو دیکھنے لگ گیا آج پہلی دفعہ میں عبیحہ کے چہرے کو اتنے قریب سے اور اتنے غور سے دیکھ رھا تھا ۔۔۔ بڑی بڑی کالی سیاہ آنکھیں ۔۔ تیکھا ناک گالوں کی رنگت گلابی مانند درمیانے گلابی ہونٹ نہ موٹے نہ باریک ۔ چہرہ اتنا کلین کہ کہیں بھی بالوں کی لو تک نظر نہیں آرھی تھی ۔ آنکھیں بند ھونے کے باوجود عبیحہ میری نظروں کی تاب نہ لاسکی اور ٹھوڑی سے میری انگلیاں ہٹاے بغیر ھی اپنے چہرے کا رخ دوسری طرف پھیر لیا ۔۔۔ میں نے پھر عبیحہ کا چہرہ اپنے چہرے کے سامنے کرلیا ۔ عبیحہ نے پھر چہرہ دوسری طرف کرنا چاھا مگر میں نے عبیحہ کی ٹھوڑی کو تھوڑا مضبوطی سے پکڑا تو عبیحہ نے دوبارا اپنا چہرہ دوسری طرف نہیں کیا ۔ اور ساتھ ھی میں نے ٹھوڑی کو چھوڑ کر اہنے دونوں ہاتھ عبیحہ کے کانوں کے اوپر رکھ کر اسکا چہرہ اہنے ہاتھوں کی گرفت میں لے لیا ۔۔۔ عبیحہ نے آہستہ سے بس اتنا ھی کہا یاسر پلیزززز نہ کرو ۔۔ اور پھر بند آنکھوں والی گڑیا کی طرح میرے سامنے کھڑی رھی ۔۔ میں عبیحہ کے چہرے کو تھامے اسکے گلابی شربتی ہونٹوں کو غور سے دیکھنے لگ گیا ۔ اور نجانے مجھ میں کہاں سے اتنی ہمت پیدا ھوئی کہ میرے ہونٹ عبیحہ کے ہونٹوں کی طرف بڑھنے لگے ۔۔ عبیحہ کو بھی شاید میری سانسوں کی تپش اپنے ہونٹوں ہر محسوس ھوئی اس سے پہلے کہ عبیحہ کچھ کرتی مگر تب تک دیر ھوچکی تھی میں نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر اپنے ہونٹوں کو گیلا کرتے ھی اپنے گیلے ہونٹ عبیحہ کے ہونٹوں پر رکھ دیے ۔۔ عبیحہ نے یکدم پوری آنکھیں کھولی اور اسکے منہ سے بس ممممم نکلا اور عبیحہ نے پورے ذور سے ہونٹوں کو آپس میں بھینچ لیا اور ممممم کرتی نفی میں سر ہلاتے ھوے اپنا سر پیچھے کرنے کی کوشش کرتے ھوے پیچھے کو ہونے لگ گئی مگر میں نے عبیحہ کے چہرے کو مضبوطی سے پکڑا ھوا تھا اور اسکے ہونٹوں کو چوسنے کی کوشش کررھا تھا اور عبیحہ کے پیچھے ہونے کے ساتھ میں بھی آگے کی طرف ھوتا جا رھا تھا ایسے کرتے کرتے عبیحہ درخت کے پاس چلی گئی اور اسکی کمر درخت کے ساتھ جالگی اب عبیحہ پیچھے نہیں ھوسکتی مجھے موقع مل گیا اور میں مذید آگے ہوکر بلکل عبیحہ کے ساتھ لگ گیا ۔ اچانک عبیحہ نے کچھ کہنے کے لیے اپنے شربتی ہونٹوں کو کھولا تو جیسے ھی عبیحہ نے ہونٹوں کو تھوڑا سا کھولا میں نے ساتھ ھی عبیحہ کے نچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں بھر لیا اور اسکے شربتی ہونٹ کا رس چوسنے لگ گیا عبیحہ سے اور تو کچھ نہ ھوا اس نے دونوں ہاتھ میرے سینے پر رکھ کر مجھے پیچھے دھکیلنے لگ گئی ۔۔ مگر مجھ پر تو جنون سوار ھوچکا تھا میں برابر اسکے ہونٹ کو چوسی جارھا تھا جبکہ عبیحہ ابھی تک مزاہمت کررھی تھی ۔ جب عبیحہ کی مزاہمت بڑی تو میں نے اسکے چہرے سے ہاتھ ہٹاے اور اسکے دونوں ہاتھوں کو کلائیوں سے پکڑ کر اسکے سر کے اوپر اسکے ہاتھ کرکے پکڑ لیے اورپھر اسکی نازک کلاءیوں کو ایک ھاتھ میں کر کے دوسرا ھاتھ نیچے لا کر عبیحہ کا گول مٹول تنا ھوا مما پکڑ کر دبانے لگ گیا اور ساتھ میں عبیحہ کا ہونٹ چوسنے لگ گیا ۔ میرا لن فل تن چکا تھا جو میرے انڈر ویر کو پھاڑنے پر تلا ھوا تھا ۔ عبیحہ پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھی جارہی تھی اسکے چہرے کا رنگ گلابی سے سرخ ٹماٹر جیسا ھوگیا تھا ۔ عبیحہ میرے ھاتھ سے اپنی کلائیاں چھڑوانے کی کوشش کررھی تھی مگر میرے ھاتھ سے اسکی نازک کلائیوں کا نکلنا بہت مشکل تھا ۔ آخر عبیحہ کی مزاہمت دم توڑ گئی اور عبیحہ نے خود کو میرے حوالے کردیا ۔ عبیحہ کا ایک مما میرے ہاتھ میں تھا جو تقریباََ آدھا ھی میرے ہورے ھاتھ میں آرھا تھا ۔ مجھے ایسے لگ رھا تھا کہ میں کسی روئی کے گولے کو دبا رھا ہوں ۔۔۔ عبیحہ بلکل ساکت کھڑی تھی وہ کسنگ میں بھی میرا ساتھ نہیں دے رھی تھی اور نہ ھی مزاہمت کررھی تھی ۔ کچھ دیر میں عبیحہ کا نچلا ہونٹ چوستا رھا ۔ اسی دوران مجھے محسوس ھوا کہ عبیحہ کا جسم جھٹکے کھا رھا ھے میں سمجھا شاید عبیحہ فارغ ھو رھی ھے اس وجہ سے اسکا جسم جھٹکے کھا رھا ھے ۔۔ میں نے عبیحہ کے چہرے کی طرف دیکھا تو جیسے ھی میری نظر اسکی آنکھوں پر پڑی تو اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کی ندی بہہ رھی تھی اور تب ھی مجھے ہوش آیا کہ عبیحہ کا جسم جھٹکے فارغ ھونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ہچکیاں لینے کی وجہ سے کھا رھا ھے ۔۔۔۔۔ مجھے ایکدم جھٹکا لگا اور میں جھٹکے سے عبیحہ سے الگ ھوا تو عبیحہ ساتھ ھی اونچی آواز میں رونے لگ گئی اور اس نے پہلے ہاتھ سے اپنے ہونٹ کو سہلایا اور پھر دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ کر روتے ھوے درخت کے ساتھ گھستی ھوئی نیچے پاوں کے بل بیٹھ گئی ۔۔ عبیحہ کی حالت دیکھ کر میرے تو ہاتھ پیر پھولنا شروع ھوگئے کہ یہ میں نے کیا کردیا ۔۔ میں ذور ذور سے اپنے سر کو پیٹنے لگ گیا ۔ عبیحہ مسلسل روے جارھی تھی ۔۔ آخر میں حوصلہ کرکے اسکے ساتھ درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔ اور عبیحہ کی طرف دیکھنے لگ گیا ۔ عبیحہ کو یوں روتے دیکھ کر میرے دل کو کچھ ھونے لگ گیا ۔۔ میں اپنے آپ پر ملامت کرنے لگ گیا کہ میں نے عبیحہ کے ساتھ ذبردستی کیوں کی ۔ تھوڑا صبر کرلیتا شاید وہ خود ھی پہل کرلیتی مگر تم بےصبرے نکلے ۔۔۔ میں نے حوصلہ کر کے عبیحہ کے ہاتھ پکڑ کر اسکے چہرے سے ہٹاے تو عبیحہ نے بھیگی آنکھوں سے مجھے گھورتے ھوے دیکھا ۔ عبیحہ کی آنکھیں سرخ ھوچکی تھی ۔ عبیحہ کو کچھ کہنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں تھے ۔ مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا میں نے عبیحہ کے ھاتھ کو اپنے چہرے پر مارنا شروع کردیا ۔۔ اور ساتھ ساتھ کہنے لگا ۔ مارو مجھے میں بہت گندا ھوں مجھے تمہارے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ عبیحہ جی مارو مجھے میں ہوں ھی اسی لائک ۔۔ میری وجہ سے آپکو اتنی تکلیف ھوئی میری وجہ سے آپکا سل دکھا میری وجہ سے آپ اتنا روئی ۔۔۔ میں تو معافی کے لائک بھی نہیں ھوں عبیحہ جی ۔۔ عبیحہ غور سے میرے چہرے کو دیکھی جارھی تھی ۔ اور میں اسکے ہاتھ اپنی گال پر ماری جارھا تھا تھپڑوں کی بارش میری گال پر جاری تھی ۔۔ عبیحہ نہ ھاتھ کھینچ رھی تھی اور نہ ھی کچھ بول رھی تھی بس میرے چہرے کو دیکھی. جارھی تھی ۔ تھک ہار کر میں اسکے ھاتھ کو اپنی گال کے ساتھ لگا کر رونے لگ گیا ۔۔۔ اچانک عبیحہ نے اپنا ہاتھ میرے ھاتھ سے کھینچا اور بڑی تیزی سے کھڑی ھوئی اور پھر میرے بازوں کو پکڑ کر مجھے کھڑا کیا ۔ میں سر جھکا ے کسی مجرم کی طرح عبیحہ کے سامنے کھڑاتھا ۔۔ عبیحہ نے اپنے دوپٹے سے اپنا چہرہ اور آنکھیں اچھی طرح صاف کیں اور پھر ناک کو سکیڑ کر میرے بازو کو ہلاتے ھوے بولی ۔۔ یاسر تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا ۔ کیا سوچ کر تم نے میرے ساتھ یہ گندی حرکت کی ۔ میری اور اپنی عمر کا فرق ھی دیکھ لیتے میں تم سے بڑی ھوں ۔ میں تمہاری حرکتوں کو مذاق سمجھ کر اگنور کرتی رھی مگر تم تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ عبیحہ پھر رونے لگ گئی ۔۔۔۔۔ میں سر جھکائے شرمندہ کھڑا عبیحہ کی باتیں سن رھا تھا ۔۔۔ میں نے آہستہ آہستہ سر اوپر اٹھایا اور عبیحہ کی طرف دیکھتے ھوے بولا عبیحہ جی مجھے خود نہیں پتہ چلا کہ میں کیا کررھا ھوں ۔ آپ کے حسن نے مجھے اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا میرے لاکھ کنٹرول کرنے کے باوجود بھی میں خود پر کنٹرول نہیں کرسکا ۔ یہ آپکے حسن کا جادو تھا جس نے مجھے یہ سب کرنے پر مجبور کردیا ۔۔ میں ساتھ ساتھ عبیحہ کے چہرے کو بھی دیکھ رھا تھا ۔۔ سچ کہتے ہیں سیانے ۔ کہ عورت کی سب سے بڑی کمزوری اسکی تعریف ھے ۔۔ اور میری باتوں نے عبیحہ کے چہرے پر آیا خوف اور غصہ تقریباََ ختم کردیا اور عبیحہ میری طرف گہری نظروں سے دیکھنے لگ گئی ۔۔ میں نے جب دیکھا کہ میرا وار کامیاب ھورھا ھے تو میں نے پھر عبیحہ کے حسن کی تعریف کرتے ھوے ساتھ ھی اسکے سامنے ھاتھ جوڑتے ھوے کہا ۔ عبیحہ جی آپ سے ذیادہ خوبصورت لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی میں کیا کرتا آپ کے اس حسین چہرے کو جو چاند سا چہرہ دکھتا ھے اسے اتنا قریب دیکھ کر میں بہک گیا تھا میں خود پر کنٹرول نہیں کرسکا ۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ساتھ ھی اپنے جوڑے ھاتھوں کو اپنے ہونٹوں کے ساتھ لگا کر رونے کی ایکٹنگ کرنے لگ گیا ۔۔ تبھی عبیحہ نے دونوں ھاتھوں سے میرے جڑے ھاتھ پکڑے اور میرے چہرے سے ہٹا کر بولی ۔ یاسر کیا میں تمہیں بہت اچھی لگتی ھوں ۔۔۔ میں نے ناک کو سکیڑتے ھوے اثبات میں سرہلایا ۔۔ عبیحہ پھر بولی کتنی اچھی لگتی ھوں ۔۔ میں نے سر جھکائے آہستہ سے کہا ۔ اسکا ثبوت آپ پہلے دیکھ چکی ہیں ۔۔ عبیحہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور میری ٹھوڑی کو پکڑ کر اوپر کرتے ھوے بولی ۔ اادھر میری طرف دیکھو ۔ میں نے پلکوں کو اوپر اٹھایا تو سامنے عبیحہ کا مسکراتا ھوا چہرہ دیکھنے کو ملا ۔ عبیحہ بولی اب میری طرف دیکھ کر بولو کہ میں تمہیں کتنی اچھی لگتی ھوں ۔۔ میں نے کہا بہتتتتتتت ذیادہ ۔۔ عبیحہ بولی بس اچھی ھی لگتی ھوں ۔۔ میں عبیحہ کی بات سن کر خاموش رھا تو عبیحہ ایک قدم آگے بڑی اور میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر مجھے پیچھے کیا تو میں پیچھے ھوکر درخت کے ساتھ لگ گیا عبیحہ پھر ایک قدم آگے بڑھی اور بلکل میرے ساتھ لگ گئی اور میرے دونوں ھاتھوں کو پکڑ کر میرے سر کے اوپر بلکل ایسے کردیا جیسے میں نے ذبردستی عبیحہ کے ہاتھ اسکے سر کے اوپر کر کے پکڑے ھوے تھے ۔ فرق بس یہ تھا کہ میں نے ایک ھاتھ سے اسکی دونوں کلائیان پکڑی تھیں جبکہ اس نے دونوں ھاتھون سے میری کلائیوں کو پکڑ کر میرے سر سے اوپر کر کے درخت کے ساتھ لگایا ھوا تھا ۔ اس وجہ سے اسکے ممے میرے سینے کے ساتھ ٹچ ھورھے تھے جبکہ ایسا کرنے کے لیے عبیحہ کو پنجوں کے بل ھونا پڑا ۔ کیوں کے میرا قد عبیحہ سے چار پانچ انچ لمبا تھا ۔ عبیحہ نے میرے ھاتھ اوپر کر کے میرے ہونٹون کے پاس اپنے ہونٹ کرتے ھوے آہستہ سے کہا آنکھیں بند کرو ۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ اور پھر مجھے عبیحہ کی گرم سانسیں اپنے نتھنوں سے ٹکراتی محسوس ھوءیں ۔ میرا پھر سے سارا معاملہ خراب ھونا شروع ھوگیا ۔ اتنے میں عبیحہ کی آواز پھر میرے کانوں سے ٹکرائی ۔ اب بولو میں تمہیں کتنی اچھی لگتی ھوں۔۔۔ میں نے کپکپاتی آواز میں آہستہ سے کہا بببہتتتتت اچھی ۔۔ نجانے میری ایسی کیفیت کیوں ھوگئی تھی میرا جسم کانپ رھا تھا میری زبان میرا ساتھ نہیں دے رھی تھی میں خود کو عبیحہ کے سامنے بہت کمزور محسوس کررھا تھا ۔ عبیحہ کی سانس پھر میرے نتھنوں سے ٹکرائی اور ساتھ ھی مجھے اپنے ہونٹوں پر عبیحہ کی زبان کی نوک پھرتی محسوس ھوئی ۔ میں چاہ کر بھی آپنی آنکھیں نہیں کھول پا رھا تھا ۔ میری کیفیت کسی لاچار بےبس جیسی ھوگئی تھی ۔۔ جیسے ھی عبیحہ کی زبان نے میرے ہونٹوں کو چھوا تو میرا جسم کانپ آٹھا اور ناچاہتے ھوے بھی میرے ہونٹ خود باخود کھل گئے عبیحہ نے زبان میرے کھلے ہونٹوں کے اندر پھیر کر پھر واپس کھینچ لی اور پھر بڑی ھی سیکسی آواز نکال کر آہستہ سے بولی ۔ کتنا چاہتے ھو مجھے ۔۔۔ میں اسکے سحر میں جکڑا ھوا آہستہ سے بولا ۔ بببببہتتتتتت ذیادہ ۔۔ عبیحہ نے پھر زبان نکالی اور میرے نچلے ہونٹ پر زبان کی نوک رکھ کر نوک کو بڑے ھی سلو موشن میں رینگتے ھوے میری گال کی طرف لانے لگی اور گال پر پہنچ کر پوری گال کو زبان سے چاٹا اور پھر زبان کی نوک میری گال پر رکھ کر زبان کو میرے کان کی لو تک لے آئی اور میرے کان کی لو سے نیچے زبان کی نوک کو پھیرتے ھوے کان کے پیچھے لے گئی اور یکدم عبیحہ نے پورا منہ کھولا اور میرا دائیاں کان منہ میں ڈال کر لمبا سانس میرے کان میں چھوڑتے ھوے ۔۔۔ ھااااااااااااا کیا۔۔۔ افففففففففففف دوستو میری تو جان میری ٹانگوں میں چلی گئی اور میرا سارا جسم کانپ گیا اور میرے منہ سے آہہہہہہہہہہہہہ نکلا لن اس قدر اکڑ گیا کہ مجھے درد محسوس ھونے لگ گئی ۔ . میری ٹانگیں کانپنے لگ گئی ۔ ظالم نے پتہ نہیں کونسا منتر میرے کان میں پھونک دیا کہ مجھے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ھوئی ۔۔ واقعی دنیا پَلی تو پَلی اسی تے کُش وی نئی۔۔ پاویں لکھ پھدیاں پاڑیاں۔۔۔ آج پھدی میرا لن پھاڑنے کے چکر میں تھی ۔۔۔ عبیحہ نے میرے کان میں ھاااااااااا کر کے ایکدم میرے کان کو منہ سے نکال کر اپنا چہرہ پیچھے کر لیا اور پھر میرے ہونٹوں کے پاس اپنا اپنے ہونٹ لے آئی اور پھر آہستہ سے بولی ۔ یاسرررررررر۔۔ میں اسکے سحر میں جکڑا بولا ۔ جججججی ۔ عبیحہ بڑے رومینٹک انداز سے بولی ۔ میرے لیئے کیا کرسکتے ھو۔۔۔ میں نے بنا رکے کہا ۔ سب کچھ سب کچھ ۔۔۔ عبیحہ نے پھر زبان باہر نکالی اور میرے منہ کے اندر گھسیڑ کر زبان کی نوک سے میری زبان کو چھیڑنے لگ گئی جواب میں میری زبان نے بھی حرکت کی اور اسکی زبان کو چھونا چاھا تو عبیحہ نے جلدی سے زبان واپس کھینچی اور میرے ہونٹوں کو اپنے یونٹوں میں بھر کر نفی میں سر ہلایا اور پھر ہونٹوں کو چھوڑ کر آہستہ سے بولی تم کچھ نہ کرو مجھے کرنے دو ۔۔ میں نے پھر اثبات میں سرہلایا اور بولا ججججججی اچھا ۔ اور عبیحہ نے پھر زبان کو میرے منہ کے اندر ڈالا اور زبان کو میرے منہ میں چاروں طرف گھمانے لگی اور پھر سے میری زبان کو چھیڑنے لگ گئی ۔۔ اور پھر زبان کو باہر نکال کر میرے نچلے ھونٹ کو منہ میں ڈال کر ذور سے چوسا اور چھوڑ دیا اور زبان کی نوک میرے نچلے ہونٹ سے نیچے رکھ کر نوک کو سرکاتے ھوے میری ٹھوڑی پر لے آئی ۔۔ میری کلین شیو تھی اور وہ بھی تازہ شیو کی ھوئی تھی جس کی وجہ سے میری سکن بلکل بالوں سے پاک تھی اس لیے عبیحہ کو کوئی ہرابلم نہیں ھورھی تھی ۔ عبیحہ زبان کی نوک کو مذید نیچے لاتے ھوے ٹھوڑئ سے ھوتے ھوے نیچے میرے گلے پر لے آئی اورمیری شہ رگ پر زبان کی نوک رکھ کر عبیحہ نے ایکدم پوری زبان کو میرے گلے پر پھیرا اور میرے گلے کو چاٹتے ھوے ٹھوڑی تک زبان کو لے آئی اور ایسے ھی نیچے سے اوپر تک میرے سارے گلے کو چاٹنے لگ گئی ۔۔ ھاےےےےےے مرگیاااااااااااا۔۔ یہ میرے منہ سے اس وقت نکلا ۔۔۔ دوستو میں وہ مزہ وہ نشہ وہ اس لزت کی کیفیت لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا ۔۔ میرا جسم پھر کانپا عبیحہ کے ممے میرے سینے کے ساتھ اور اسکی پھدی والا حصہ میرے ٹراوزر میں بنے تمبو کے ساتھ لگا ھوا تھا ۔ میری بس ھوگئی تھی میری برداشت ختم ھوچکی تھی ۔ کہ اے سالی تے اج مینوں لکوں ای لے گئی ۔۔۔ میں نے جھٹکے سے ہاتھ نیچے کیے جو بنا کسی مشکل کے عبیحہ کے ہاتھوں سے نکل گئے اور ھاتھوں کو نیچے لیجاتے ھی میں نے سب سے پہلے اپنے ٹراوزر کی ڈوری کھینچ کر کھول دی اور پھر بڑی ھی پھرتی سے میں نے عبیحہ کی گانڈ سے شرٹ اوپر کی ۔ اس سے پہلے کے عبیحہ کچھ کرتی میں نے جھٹکے سے عبیحہ کی شلوار کو لاسٹک والی جگہ سے پکڑا اور نیچے کی طرف کھینچ کر اسکی گانڈ سے نیچے کردیا ۔۔ اور اسکی قمیض کو پکڑ کر گانڈ سے اوپر کردیا ۔۔۔ عبیحہ میرے اس اچانک پاگل پن سے گبھرا گئی اور اس کے سارے منتر شو منتر ھوگئے ۔۔ عبیحہ نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی مگر اب کون اسے پیچھے ہٹنے دیتا ۔ میں نے پورا ھاتھ عبیحہ کی ننگی گانڈ کی دراڑ میں ڈال کر انگلی اسکی پھدی کے اوپر رکھ دی ۔ اور ہاتھ کو اوپر کر کے پھدی اور گانڈ پر ذور ڈالتے عبیحہ کو اوپر کردیا ۔ عبیحہ پیچھے تو نہ ھوسکی مگر میرے سینے پر دونوں ھاتھ رکھ کر مجھے پیچھے دھکلیتے ھوے کہنے لگی ۔ ننننننہیں یاسر یہ کیا کررھے ھو نہیں ایسا مت کرو چھوڑو مجھے پلیزززز چھوڑو ۔ مگر اب کون اس جادوگرنی کی آواز سنتا ۔۔ میں نے بڑی پھرتی سے دوسرا ھاتھ نیچے لیجاکر اپنا ٹرازور انڈر ویر سمیت نیچے کر کے لن کو پھدی کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے آزاد کردیا ۔۔ اور ساتھ ھی عبیحہ کی قمیض کو پکڑ کر آگے سے بھی اوپر کرتے ھوے لن اسکے چڈوں میں گھسیڑ دیا ۔۔ اففففف مجھے ایسا لگا جیسے میرا لن کسی فوم کی گرفت میں آگیا ھے کیونکہ لن چڈوں گھستے ھی عبیحہ نے چڈوں کو بھینچ لیا تھا اور ھاتھ نیچے لیجا کر میری ناف پر ھاتھ رکھے مجھے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرنی لگ گئی اور ساتھ ھی اسکا رنگ اڑ گیا تھا عبیحہ احتجاج کے ساتھ رونے بھی لگ گئی ۔ کہ یاسر میں ایسی لڑکی نہی ھوں میرے ساتھ یہ ظلم مت کرنا میں مرجاوں گی میری عزت برباد ھوجاے گی ۔ تمہیں فلاں کا واسطہ فلاں کا واسطہ ۔ مگر مجھے کچھ سنائی نہیں دے رھا تھا ۔ عبیحہ کی پھدی میرے لن کے ساتھ چپکی ھوئی تھی پھدی کا گیلا پن اور بالوں سے پاک ملائم پھدی کی گرمائش بتا رھی تھی کہ پھدی میں بھی آگ لگی ھوئی ھے ۔ میں نے جوش میں بھی تھوڑا ہوش سے کام لیتے ھوے لن پھدی کے اندر کرنے کا ارادہ ملتوی کرتے ھوے ۔۔ ویسے ھی چڈوں میں گھسے مارنا شروع ھوگیا اور ساتھ ھی عبیحہ کو کہنے لگ گیا ۔ جان اب مجھے نہ روکو میں خود سے کنٹرول کھو بیٹھا ھوں ۔۔ عبیحہ بولی ۔ یاسر میں برباد ھو جاوں گی چھوڑ دو مجھے نہ کرو نہ کرو ۔ میں نے اسکے بےوجہ شور شرابے کو خاموش کرانے کے لیے اسے دھمکی دی اور بولا ۔۔ چپ ھوجاو مجھے ایسے ھی فارغ ھونے دو ورنہ میں نے تمہاری پھدی کے اندر سارا لن ڈال دینا ھے چپ کر کے مجھے کرنے دو اور خود بھی مزہ لو ۔۔ میری دھمکی کارگر ثابت ھوئی کیونکہ عبیحہ کو میری کیفیت اور جنون دیکھ کر یقین ھوگیا تھا کہ مجھ پر اب اسکی چیخ پکار کا اثر نہیں ھونے والا ۔ اسلیے خاموشی ھی بہتر ھے شاید خاموشی سے پھدی کا نقصان بچ جاے ۔۔ میری بات سنتے ہی عبیحہ خاموش ھوگئی اور پھر آہستہ سے بولی یاسر اندر تو نہیں کرو گے میں گھسے مارتا ھوا بوا بولا کہا نہ کہ نہیں اندر کرتا اب خاموش ھوجاو ۔۔ عبیحہ نے اثبات میں سر ہلایا اور خاموش ھوگئی ۔ اب پوزیشن یہ تھی کہ عبیحہ کی شلوار اسکے گھٹنوں تک تھی اور اسکی قمیض گانڈ اور ناف سے اوپر تھی جبکہ میرا لن ھی صرف ٹراوزر سے باہر تھا ۔ اور میرا ایک ھاتھ عبیحہ کی گانڈ کی دراڑ میں تھا اور دوسرا ھاتھ اسکی کے چوتڑے پر اور عبیحہ کے دونوں ھاتھ میرے کندھوں کو پکڑے ھوے تھے ۔ اور میں اسکے نرم نرم روئی کے گولے جیسے چڈوں مین لن گھسیڑ کر گھسے مار رھا تھا اور ساتھ ساتھ اسکی گانڈ کے دراڑ میں ھاتھ ڈالے اسکی پھدی کو بھی انگلی سے رِب کررھا تھا اور دوسرے ھاتھ سے اسکے ملائم چوتڑے کو بھی دبارھا تھا ۔ کچھ ھی دیر میں میرے لن نے پھدی کو رگڑ رگڑ کر مذید گیلا کردیا اور عبیحہ کی بھی آنکھیں بند ھونے لگ گئی اور میں نے ساتھ ھی اسکے نچلے ھونٹ کو منہ میں بھر لیا اور اسکا ہونٹ چوستے ھوے گھسے مارنے لگ گیا عبیحہ بھی اب گھسوں مین میرا ساتھ دینا شروع ھوگئی اور وہ بھی کبھی چڈوں کو ڈھیلا چھوڑتی تو کبھی کس کر لن کو جکڑ لیتی اور پھدی کو لن کے ساتھ رگڑتے ھوے میرا اوپر والا ہونٹ بےدردی سے چوستی کچھ ھی دیر میں عبیحہ کی سپیڈ مجھ سے بھی تیز ھوگئی اور پھر اس نے بہت ھی ذور سے چڈوں کو بھینچ کر میرے لن کو جکڑ لیا اور گانڈ کی دراڑ میں گھسے میرے ھاتھ کو جکڑ لیا اور پھر اسکی پھدی سے گرم گرم منی مجھے اپنے لن پر محسوس ھونے لگ گئی اور ساتھ ھی اسکے جسم نے زبردست جھٹکے کھانے شروع کردیے اور اسکے منہ سے غوں غوں مممممممم کی اوازیں میرے منہ کے اندر نکلنا شروع ھوگئی ۔عبیحہ کی پھدی مذید گیلی ھونے کی وجہ سے میرا لن بھی چکنا ھوگیا اور مجھے گھسے مارنے میں مذید آسانی اور ذیادہ مزہ آنے لگ گیا ۔ میں نے اپنے گھسوں کی رفتار مذید تیز کردی اور چند ذور دار گھسوں کے بعد میرے لن سے منی کی پچکاریاں عبیحہ کے چڈوں میں ھی نکلنے لگ گئیں اور میں نے اسکی گانڈ کو مذید اپنی طرف کر کے اسے اپنے ساتھ چپکا لیا اور اسکے ہونٹ کو کھانے کے انداز میں چوسنے لگ گیا ۔۔ میری قسمت ماڑی کہ مجھے یہ بھی ہوش نہ رھا کہ ہم کھڑے کہاں ہیں جگہ کونسی ھے کوئی بھی آسکتا ھے ۔ اس سے پہلے کہ ہم دونوں سنبھلتے کہ اچانک ۔۔۔۔؟؟؟؟
  6. السلام عليكم امید ھے کہ سب بھائی خیریت سے ہوں گے ۔ بھائیوں سے معذرت چاہتا ھوں کہ نجی مصروفیات کی وجہ سے اپڈیٹ میں تاخیر ھوئی ۔ امید ھے کہ میری مجبوری کو سمجھتے ھوے سب بھائی ناراض نہیں ہوں گے اور امید ھے کہ بہت جلد آپ بھائیوں کی خدمت میں نئی اپڈیٹ پیش کروں گا ۔
  7. update.... .1 کچھ دیر بعد جب میڈم اور میں نارمل ھوے تو میڈم نے ایکدم مجھے پیچھے کو دھکا دیا اور اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنے نیچے پھدی کی طرف دیکھ کر رونے لگ گئی اور گھٹنوں میں سر دے کر روتے ھوے اپنے آپ کو کوسنے لگ گئی ۔۔۔ یہ میں نے کیا کردیا اپنی عزت اپنے ھی ھاتھوں برباد کر دی اب مجھ سے شادی کون کرے گا میں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رھی ۔ میں حیران پریشان میڈم سونیا کی طرف دیکھنے لگ گیا کہ اب اسکو کیا ھوا خود ھی تو اس نے مجھے چودنے پر اکسایا تھا اور اب کیوں پچھتا رھی ھے ۔۔ میں یہ ھی سوچ رھا تھا کہ میری نظر میڈم کی ٹانگوں کے نیچے پھدی پر پڑی تو میں ایکدم گبھرا گیا ۔ وہاں سب کچھ ھی سرخ ھوگیا تھا ۔۔۔ پھدی بھی خون سے لال تھی اور نیچے گدی پر بھی خون کا بڑا سا دھبہ بنا ھوا تھا ۔ میں آنکھیں پھاڑے دیکھتا رھا اور پھر میں نےجب اپنے لن پر نظر ڈالی تو ادھر بھی یہ ھی حال تھا ۔۔ یاسر بھائی میں تو ایکدم سے ڈر گیا تھا کہ یہ کیا ماجرا ھے لن پھدی خون سے کیوں لتھڑے ھوے ہیں ۔۔ خوف سے میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ کنواری لڑکی کی سیل ٹوٹنے سے خون لازمی نکلتا ھے ۔۔ میں نے کچھ دیر کے بعد میڈم کے کندھے کو پکڑ کر ہلایا کی میم آپ کے نیچے سے خون بہہ رھا ھے ۔ میڈم سونیا نے سر اٹھایا اور میری طرف سرخ آنکھیں نکال کر دیکھا اور غصے سے بولی ۔۔ دفعہ ھوجاو ادھر سے میری زندگی تباہ کردی ھے تم نے ۔۔ آئندہ مجھے اپنی شکل مت دیکھانا ۔۔ میں نے خود کو سنبھالتے ھوے کہا۔۔ میں نے ایسا کیا کردیا میم جو آپ اتنا ناراض ھو رھی ہیں ۔۔ میڈم سونیا کے چہرے پر ایکدم حیرانگی نمودار ھوئی اور مجھے گھورتے ھوے بولی ۔۔ سب کچھ تو کرلیا ھے اب بھی. پوچھ رھے ھو کہ کیا کیا تم نے ۔ میرا کنوارہ پن ختم کردیا جسکو میں نے اپنے شوہر کے لیے سنبھال کر رکھا تھا ۔ مگر آج تم نے مجھے کسی کا نہ چھوڑا ۔۔ میں نے کہا میم میں تو اپنے وعدے پر قائم تھا مگر آپ نے خود پکڑ کر اپنے اندر ڈالا تھا ۔۔ میڈم سونیا میری طرف دونوں ھاتھ کرکے ہلاتے ھوے بولی ۔ خاموش ھوجاو اور چلے جاو یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دو ۔ میں نے خاموشی سے کھڑا ھوا اور اپنا ٹراوزر اوپر کر کے ڈوری باندھی اور اپنی بکس اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھا اور دروازے کے پاس پہنچ کر کھڑے ھوکر میڈم کی طرف مڑ کر دیکھا جو اپنا ٹائٹس پہن کر اوپر کررھی تھی ۔ میں نے ایک نظر ڈال کر دروازہ کھولا اور باہر بالکونی میں آیا اور پھر باہر کا دروازہ کھول کر بائک لی اور گھر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوستو سلمان کی سٹوری سن کر میرا تو لن پھٹنے والا ھوچکا تھا ۔۔ جسے میں ٹانگوں کے بیچ دبا کر مزہ لے رھا تھا ۔ سلمان اپنی میڈم کے ساتھ سیکس کا بتا کر خاموش ھوا تو میں نے کہا اسکے بعد پھر کتنی دفعہ لی تو سلمان بازو اوپر کر کے انگڑائی لیتے ھوے بولی ۔۔ یاسر بھائی اسکے بعد بڑی ٹینشن بنی رھی ۔۔ میں نے کہا وہ بھی بتا دے پھر کیا ھوا تو سلمان بولا بسسسسس یار آج کے لیے اتنا ھی کافی ھے مجھے تو نیند آرھی ھے ۔۔ میں نے ٹائم دیکھا تو ایک بجنے والا تھا صبح دکان پر بھی جانا تھا اس لیے میں نے سلمان کو ذیادہ مجبور نہیں کیا اور کہا یار بڑا مزہ آیا تیری سٹوری سن کر کیا محنت کی تم نے میڈم سونیا کی سیل توڑنے کے لیے ۔۔ اور یہ کہتے ھوے میں اٹھا اور اپنے لن کو ٹانگوں میں بھینچ کر چلتا ھوا اپنی چارپائی پر آیا اور کچھ دیر ہم پھر ادھر ادھر کی باتیں کرتے رھے اور پھر دونوں کو باری باری نیند نے گھیر لیا ۔۔ صبح امی نے اٹھایا کہ یاسر اٹھ جاو دکان ہر نہیں جانا اور ناشتہ بھی لانا ھے ۔۔۔ میں جلدی سے اٹھا اور سلمان کو اٹھایا کہ دکان پر نہیں جانا میرے ساتھ تو سلمان بولا نہیں یاسر بھائی مجھے ابھی سونا ھے میں اسے بستر پر چھوڑ کر باہر صحن میں آیا نہا کر فریش ھوا اور بائک نکال کر شہر گیا وہاں سے ناشتہ لیا اور پھر گاوں آیا گھر ناشتہ دے کر میں بغیر ناشتہ کیے واپس چلا گیا کیوں کے مجھے کافی دیر ھوچکی تھی امی نے بڑا اصرار کیا کہ ناشتہ کرکے جاو مگر میں نے واپسی کا راستہ پکڑا اور سیدھا ضوفی کے گھر پہنچا ۔۔ ضوفی کو ساتھ لیا اور دکان پر آگیا۔۔ سارا دن کام میں گزر گیا شام کو جلدی دکان بند کی اگلے دن جمعہ تھا مہمانوں کو گاوں کی سیر کروانی تھی اس لیے لاہور جانے کا ارادہ ملتوی کردیا ۔ ضوفی کو گھر چھوڑنے گیا تو میں نے آنٹی کے سامنے ضوفی کو کہا کہ کل ہوسکتا ھے کہ میرا شہر کا چکر نہ لگے اس لیے ناراض مت ھونا کیونکہ پرسوں خالہ نے واپس چلے جانا ھے اس لیے میں نے کل انکو گاوں کی سیر کروانی ھے ۔ اور پھر آنٹی کو کہا کہ آپ بھی ضوفی اور ماہی کو لے کر آجانا مگر آنٹی نے معذرت کرلی کہ جب تمہاری خالہ چلی جاے گی ہم پھر آئیں گے ۔۔ جبکہ ضوفی متواتر مجھے گھوری جارھی تھی اور منہ پر ھاتھ پھیر پھیر کر مجھے اشارے سے دھمکیاں دے رھی تھی کہ اگر کل نہ آے تو دیکھ لوں گی تمہیں ۔۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد میں نے آنٹی سے اجازت لی اور باہر نکلنے لگا تو ضوفی مجھے دروازے پر ھی گھیر کر کھڑی ھوگئی اور بولی ۔۔۔ یہ ڈرامے امی کو دیکھا کر مطمین کرسکتے ھوے مجھے نہیں۔۔ کل اگر تم نہ آے تو میں نے تم سے کبھی بات نہیں کرنی ۔۔ میں نے لاکھ کوشش کی کہ ضوفی میری مجبوری سمجھ سکے مگر وہ اپنی بات پر بضد تھی ۔۔ آخر میں نے ھار مانی کہ کوشش کروں گا شام کو چکر لگاوں گا تو ضوفی بولی ۔ نہ آنا تم پھر تمہیں بتاوں گی ۔۔ میں اسکی بات سن کر مسکرایا اور ۔ پیچھے دیکھا کہ آنٹی تو نہیں دیکھ رھی اور موقع پاکر ضوفی کو جپھی ڈال کر ایک لمبی فرنچ کس کی اور پھر باہر نکل کر بائک پر بیٹھا اور گاوں کی طرف روانہ ہوگیا ۔ گھر پہنچا تو صحن میں خوب رونق لگی ھوئی تھی آنٹی فوزیہ اور عظمی نسرین بھی آئی ھوئیں تھی جو عبیرہ اور نازی کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی جبکہ سلمان کامران کے ساتھ کھیل رھا تھا ۔۔ مجھے دیکھ کر سب ھی میری طرف متوجہ ھوے میں نے سبکو سلام کیا اور امی آنٹی فوزیہ اور خالہ کے پاس جاکر بیٹھ گیا ۔۔ کچھ دیر انکے ساتھ باتیں کرنے کے بعد میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو مجھے عبیحہ کہیں نظر نہ آئی میں سمجھ گیا کہ میڈم کمرے میں کوئی ناول پڑھنے میں مصروف ھوگی ۔ سلمان بھی آکر میرے پاس ھی بیٹھ گیا تھا ۔۔ میں نے سلمان سے پوچھا سنا کیسا گزرہ دن سلمان بولا ۔ بس یار سارا دن بورھوتا رھا ھوں اس سے اچھا تھا کہ تمہارے ساتھ دکان پر چلا جاتا ۔ میں نے کہا ۔ میں نے تو صبح تجھے بڑا اٹھایا تھا مگر تجھے نیند پیاری تھی ۔۔ اتنے میں عبیرہ میرے پاس آئی اور بولی یاسر بھائی کل آپ نے دکان پر نہیں جانا اتنے دن ھوگئے ہیں ہمیں آے ھوے ابھی تک گاوں کی سیر نہیں کی ۔۔ میں نے کہا ٹھیک ھے جی میں جمعہ کو ویسے بھی چھٹی ھی کرتا ھوں تو کل آپ کو پورا گاوں دیکھاوں گا باغ اور نہر اور فصلیں ۔۔ تو عبیرہ خوشی سے اچھلنے لگی اور بولی ۔ تھینکیو یاسر بھائی ۔۔ اور پھر بھاگتی ھوئی نازی عظمی نسرین اور اپنی چھوٹی بہن کے پاس چلی گئی انکو جاکر خوش خبری سنانے لگ گئی ۔۔ کچھ ھی دیر میں گھر چڑیا گھر بن گیا سب ھی اونچی آواز میں باتیں کرنا شروع ھوگئے ۔ اتنے میں کمرے سے عبیحہ بڑے غصے سے باہر نکلی اور اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر اونچی آواز میں چلائی ۔stopped.. سب ھی اسکی آواز سن کر ایکدم خاموش ھوگئے ۔ اور پھر عبیحہ چلاتے ھوے عبیرہ کو بولی تم نےکتا کھایا ھوا ھے تمہاری زبان ایک منٹ کے لیے نہیں رکتی کتنا شور مچا رکھا ھے جانور کہیں کی اور اسکے ساتھ ھی عبیحہ پیر پٹختے ھوے واپس کمرے میں چلی گئی ۔۔ سلمان عبیرہ کو دیکھتے ھوے بولا ۔ اب سکون آگیا بےعزتی کروا کے ۔ عبیرہ جو پہلے ھی اپنی بےعزتی پر غصے سے بھری بیٹھی تھی ۔ اس نے اپنی چپل اتاری اور سلمان کو مارنے کے لیے اسکے کی طرف بھاگی تو سلمان اپنا بچاو کرنے کے لیے باہر گلی کی طرف بھاگ کھڑا ھوا۔ جبکہ عبیرہ دروازے سے کچھ پیچھے ھی سلمان کی طرف چپل پھینکتے ھوے ۔ کتا کمینا باندر چوڑا کہہ کر اپنا غصہ اتارنے لگ گئی ۔۔ جبکہ سلمان باہر گلی میں چلا گیا ۔۔ سب ان دونوں کی لڑائی دیکھ کر ہنسنے لگ گئے جبکہ خالہ عبیرہ کو بولنے لگ گئی کہ بھائی ھے تیرا شرم کرو ۔۔ میں بھی ہنستہ ھوا اپنی جگہ سے اٹھا اور عبیحہ کے کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔ میں کمرے میں پہنچا تو عبیحہ حسب توقع کرسی پر بیٹھی ناول پڑھنے میں ھی مصروف تھی۔۔ میں نے دروازے سے اندر داخل ھوتے ھوے گلہ کھنگار کر عبیحہ کو اپنے آنے کا احساس دلوایا ۔۔ آواز سن کر عبیحہ نے سر اٹھایا اور میری طرف دیکھا تو میں نے مسکرا کر عبیحہ کی نظروں کا جواب دیا ۔ اور چلتا ھوا اسکے قریب پہنچا اور بولا ۔۔ عبیحہ جی سوری آپ کو ڈسٹرب کیا ۔ وہ دراصل آپ سے ایک بات پوچھنی تھی اگر آپ برا نہ منائیں تو ۔۔۔ .۔ عبیحہ نے ناول کو بند کیا اور بڑی توجہ سے میری طرف دیکھتے ھو سر ہلا کر بولی ہاں بولو کیا کہنا ھے ۔۔ میں نے دوسری کرسی کو پکڑ کر گھیسٹتے ھوے عبیحہ کے سامنے لے آیا اور اسپر بیٹھتے ھوے بولا ۔۔ عبیحہ جی دراصل میں نے یہ کہنا تھا کہ آپ اتنی دور سے ہمارے گھر آئیں ہیں اور وہ بھی پہلی دفعہ ۔ اور جب سے آپ آئی ہیں میں نے آپ کو یوں ھی کمرے میں بند پایا ھے میں آپ سے یوں بےرخی اور تنہائی پسند کی وجہ جان سکتا ھوں ۔۔ عبیحہ بڑے سیریئس انداز میں بولی ۔ دیکھو مسٹر یاسر مجھے یہ شور شرابا اور فضول گفتگو بلکل بھی پسند نہی ھے میں اپنی مرضی کی لائف گزارتی ھوں کسی کی ماتحت رھ کر نہیں اور مجھے جو پسند ھو میں وہ ھی کرتی ہوں ۔۔۔۔ میں نے کہا دیکھیں عبیحہ جی بیشک آپ اپنے سٹائل سے زندگی گزاریں مجھے اسپر کوئی اعتراض نہیں ھے اور نہ ھی مجھے کوئی حق ھے کہ میں کسی بات کے لیے آپکو مجبور کروں ۔۔ بیشک ہم غریب ھیں گاوں کے سادہ لوح ہیں مگر اسکے باوجود بھی ہمارے دل میں مہمانوں کی بہت عزت ھوتی ھے ہم مہمانوں کو اوپر والے کی رحمت سمجھتے ہیں ۔ آپ چند دن یہاں گزارنے آئی ہیں تو کم ازکم آپ میزبانوں کی خوشی کے لیے ھی ہمارے ساتھ کچھ وقت گزاریں تاکہ ہم آپ کو یاد رکھیں کہ ہماری کزن کتنی اچھی اور ملنسار ھے ۔ آپ کا یوں اکیلے بیٹھنا ہمیں اپنی توہین کا احساس دلاتا ھے کہ ہم اتنے ھی برے ہیں کہ آپ ہمارے بیچ میں بیٹھنا پسند نہیں کرتی اور اس دن میں اتنی محبت سے آپ کے لیے سپیشل آئسکریم پیک کروا کے لایا تھا ۔ مگر آپ نے کیسے بےرخی سے میرے خلوص کو دھتکار دیا ۔ اور اس کے باوجود میں آپ کو بازار لے جانے کے لیے کہنے آیا آپ نے پھر میرے خلوص کو بےدردی سے ٹھکرا دیا ۔ آپ پڑھی لکھی سمجھدار ہیں کیا آپ کی تعلیم آپ کو یہ کہتی ھے کہ اگر کوئی خلوص دل سے آپکو دعوت دے تو آپ اسکو سنگدلی سے منہ توڑ جواب دیتے ھوے اسکا دل توڑ دیں ۔۔ میری باتیں عبیحہ کے دل پر اثر کررھی تھیں جسکا ثبوت اس کے چہرے پر آئی شرمندگی بتا رھی تھی ۔۔ میں نے لوہا گرم دیکھتے ھوے موقع کا فائدہ اٹھایا اور اگلی ضرب لگائی جو ہر عورت کی کمزوری ھوتی ھے ۔۔ میں نے کرسی پر بیٹھے اپنا پہلو بدلہ اور پھر بولا ۔ دیکھیں عبیحہ جی مجھے پتہ ھے کہ آپ دل کی بہت اچھی ہیں نرم دل ہیں آپ کے اندر ایک بہت اچھی سلجھی ہوئی لڑکی چھپی ھوئی ھے اوپر والے نے آپ کو ظاہری حسن سے بھی خوب نوازہ ھے اور باطنی حسن سے بھی ۔ تو پھر آپ کیوں اندر کی اس حسین اور چلبلی لڑکی کو چھپا کر ہم غریبوں کا دل توڑ رہیں ہیں ۔ آپ کو پتہ ھے کہ دلوں میں اوپر والا بستہ ھے اور آپ ہمارے خلوص اور محبت کو ٹھکرا کر کیوں گناہ گار ھورہیں ہیں ۔۔ عبیحہ کا سر خم ھوگیا تھا اور وہ بلکل خاموشی سے سر جھکائے مجسمہ بنے بیٹھی تھی ۔۔ میں اپنی بات مکمل کرکے اٹھا اور جاتے جاتے بولا ۔ مجھے امید ھے کہ آپ میری کسی بات کا برا نہیں منائیں گی ۔ اگر پھر بھی میری کوئی بات بری لگی ھو تو پلیززز مجھے معاف کردینا ۔۔ اور پھر میں دروازے کی طرف بڑھا ابھی میں دروازے کے قریب ھی پہنچا تھا کہ مجھے پیچھے سے عبیحہ کی آواز آئئ ۔۔۔ یاسر۔۔۔۔۔ میرے چلتے ھوے قدم وہیں رک گئے اور میں نے بڑے سنجیدہ انداز میں گردن گھما کر عبیحہ کی طرف دیکھا ۔۔ جو اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑی ھوچکی تھی اور شرمندہ سی سر جھکائے کھڑی تھی ۔۔ میں نے اپنا رخ تبدیل کر کے منہ عبیحہ کی طرف کرکے کھڑا ہوگیا اور بولا ۔۔ جی فرمائیں۔۔ عبیحہ قدموں کو گھسیٹتے ھوے چلتی ھوئی میری طرف آئی اور آہستہ سے بولی سوری یاسر ۔۔۔ میں نے آپ لوگوں کا دل دکھایا پلیزز مجھے معاف کردو ۔۔ میں نے اپنی محنت کا پھل ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ھوے کہا ۔۔ شکریہ عبیحہ جی آپ نے میری عزت رکھ لی میرا مان رکھ لیا ۔ آپ کے ان چند لفظوں نے مجھے سب کچھ بھلا دیا ھے ۔ مجھے خوشی ھوگی اگر آپ باہر آکر سب کے بیچ بیٹھیں گی اور سب کے ساتھ ہنسی مزاق کریں گی ۔ دیکھیں کل کا دن آپ ہماری مہمان ہیں پرسوں آپ نے چلے جانا ھے تو کیوں نہ جتنا وقت آپ ادھر ہیں تو ہمارے ساتھ ہنسی خوشی سے گزار لیں ۔۔ عبیحہ نے سراٹھا کر میری طرف بڑے غور سے دیکھا اور پھر میں نے پہلی دفعہ عبیحہ کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی ۔ اور عبیحہ بولی تم چلو میں آتی ہیں ۔۔ میں نے دونوں ھاتھوں کے مکے بنا کر ہوا میں اچھالتے ھوے یسسسسسس کہا اور آگے بڑھ کر عبیحہ کو کندھوں سے پکڑتے ھوے والہانہ انداز میں بولا تھینکیو عبیحہ جی تھیینکیو یو آر سو سویٹ ۔ اور مجھے نہ جانے کیا سوجھی میں نے عبیحہ کو اپنے سینے کے ساتھ چپکا لیا عبیحہ کے سیکسی چھتیس کے ممے میرے سینے کے ساتھ لگ گئے اور میں ایک ھی بات کری جا رھا تھا ۔ . تھینکیو تھینکیو تھینکیو ۔۔ عبیحہ میرے ساتھ لگنے سے ایکدم گبھرا گئی اور جھٹکے سے مجھ سے الگ ھوتے ھوے بولی ۔ یاسررررر یہ کیا بتمیزی ھے چھوڑو مجھے ۔۔ مجھے بھی اپنی غلطی کا احساس ھوا میں شرمندہ سا ھوکر بولا ۔۔ سوری عبیحہ جی دراصل آپ کو مسکراتے دیکھ کر میں خوشی سے پاگل ھوگیا تھا اس لیے خود پر کنٹرول نہ کرسکا ۔۔ اگر آپ کو برا لگا تو پلیزززز معاف کردیں ۔ میں نے بڑا معصوم سا چہرہ بنا کر اپنے دونوں کان پکڑ لیے ۔ عبیحہ میری حرکت دیکھ کر غصے میں بھی مسکرا پڑی ۔ اور پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی اور بولی جاو دفعہ ھو جاو مین آتی ہوں ۔۔۔ میں نے پھر یسسسس کیا اور باہر نکل گیا ۔ تو سلمان مجھے کمرے سے نکلتا دیکھ کر بولا واہ یار میں تجھے باہر ڈھونڈ رھا تھا اور تم ادھر کمرے میں گھسے ھوے تھے ۔۔ میں نے مسکراتے ھوے کہا ۔ وہ یار میں عبیحہ کے پاس بیٹھا ھوا اس سے باتیں کررھا تھا ۔۔ سلمان میری بات سن کر حیران پریشان ھوکر بولا ۔ جانے دے یار کیوں میرے ساتھ جوک کر رھا ھے ۔ تم آپی کے ساتھ باتیں کررھے تھے ۔ I don't blv it yaar. میں نے کہا یار میں مزاق نہیں کررھا کیا میں عبیحہ کے ساتھ باتیں نہیں کرسکتا ۔ سلمان بولا کرسکتے ھو کیوں نہیں بلکل کرسکتے ھو ۔۔ مگر آپی نے تو کبھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر باتیں نہیں کی تو تمہارے ساتھ کیسے باتیں کرنے لگ گئی مجھے تو یہ بات ہضم نہیں ھورھی ۔۔ میں نے کہا تم باتیں کرنے کی بات کررھے ھو ۔ کہو تو بازار چلتے ھیں اور میں عبیحہ کو بھی ساتھ لیجا کر دیکھادوں تمہیں بلکہ کل گاوں دیکھنے بھی اسے ساتھ لیجاوں تو ۔۔۔ میری بات سن کر سلمان ہنس ہنس کر دھرا ہونے لگ گیا ۔ اور پھر ذور ذور سے اپنے ماتھے پر تھپڑ مارتے ھوے بولا ۔ یار تم پاگل تو نہیں ہوگئے ۔۔۔ میں نے کہا لگالو شرط ۔ سلمان بولا جانے دو یار ہار جاوگے ۔ جیسے عبیرہ سے اس دن شرط ھارگئے تھے ۔ میں نے کہا اس دن کو چھوڑو اب کی بات کرو ۔ سلمان بولا اب کونسا تمہارے پاس الہ دین کا چراغ آگیا ھے جو تم اتنے اعتماد سے کہہ رھے ھو ۔ میں نے کہا اس بات کو چھوڑو یہ تمہارا مسئلہ نہیں ھے ۔ وہ میری سر درد ھے کہ میں جیسے بھی عبیحہ کو راضی کروں ۔۔ تو سلمان بولا اوکے ٹھیک ھے اگر تمہیں ہارنے کا شوق ھی پڑ گیا ھے تو ٹھیک ھے لگی شرط اگر آپی نہ گئی تو تم سب گھر والوں ہوٹل سے کھانا کھلاو گے وہ بھی مٹن کڑاہی ۔۔ اور اگر آپی چلی گئی تو میں سب کو کھلاوں گا ۔۔ اگر منظور ھے تو بولو ۔ سلمان نے میری طرف ھاتھ کیا میں نے اسکے ھاتھ پر ھاتھ مارتے ھوےکہا منظور ھے ۔۔ سلمان قہقہہ لگاتے ھوے بولا ۔ بھاگنے نہیں دوں گا ۔۔ میں نے سینہ چوڑا کرتے ھوے کہا ۔ مرد کی زبان ھے بچوووووو۔۔ اتنے میں عبیرہ ہم دونوں کو بحث کرتے دیکھ کر ہمارے قریب آئی اور میرے اور سلمان کے کندھے پر ھاتھ رکھتے ھوے بولی ۔ کس بات پر شرط لگ رھی ھے بردرزززززز۔۔۔۔۔ سلمان ہنستے ھوے بولا ۔ کل ہوٹل سے کھانا کھانے کی تیاری کرلو وہ بھی مٹن کڑاہی سے ۔۔ عبیرہ حیرانگی سے بولی وہ کس خوشی میں جی ۔ سلمان بڑے پراعتماد سے بولا ۔ یاسر بھائی کھلا رھے ہیں کل سب کو ہوٹل سے کھانااااااااا۔ عبیرہ خوشی سے ہاتھ پر ھاتھ مارتے ھوے بولی واوووووووو اور پھر ایکدم سنجیدہ ھوتے ھوے بولی ۔ مگر سلمان بھائی پتہ تو چلے کہ یاسر بھائی کس خوشی میں سبکو دعوت کھلا رھے ہیں۔۔ سلمان ہنستے ھوے بولا ۔ خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے ۔۔ عبیرہ ناسمجھنے والے انداز سے بولی ۔ کیا مطلب میں سمجھی نہیں ۔۔ کس بات کی مجبوری۔۔ سلمان بولا وہ اس لیے کہ یاسر بھائی شرط ھاریں گے ابھی کچھ دیر بعد ۔۔ ھاریں گے کیا بلکہ ہار چکے ہیں اڈوانس میں بتا رھا ھوں ۔۔ عبیرہ بڑے تجسس سے سلمان کی طرف دیکھتے ھوے بولی ۔۔ کس بات کی شرط کونسی شرط۔۔ مجھے بھی بتاو۔۔ سلمان بولا ۔ یہ جناب مجھ سے شرط لگا بیٹھے ہیں کہ آپی عبیحہ کو آج بازار ساتھ لے کر جاءیں گے اور کل جب ہم گاوں کی سیر کرنے جائیں گے تو تب بھی آپی ہمارے ساتھ جاے گی اور انکو یہ جناب ساتھ جانے کے لیے راضی کریں گے ۔۔ اور اگر آپی نہ گئی تو شرط کے مطابق یہ جناب سب گھر والوں کو ہوٹل سے مٹن کڑاہی کھلائیں گے اور اگر آپی چلی گئی تو پھر یہ خادم سبکو دعوت کھلاے گا ۔۔ سلمان کی تقریر سننے کے بعد عبیرہ دونوں ہاتھ ماتھے پر مار کر سر پکڑ کر نیچے پاوں کے بل بیٹھ گئی اور پھر کھڑی ھوکر بولی لو جی آ بیل مجھے مار ۔ آپ تو پھنس گئے بردر اب بس ہوٹل چلنے کی تیاری کرین ۔۔ میں نے بڑے پراعتماد سے کہا یہ تو وقت آنے پر پتہ چلے گا کہ کون سارا خرچہ کرتا ھے ۔۔ پھر میں نے سلمان کے پیٹ پر انگلی مارتے ھوے کہا ۔ بچو اتنے پیسے بھی پاس ہیں یہ نہ ھو کہ بعد میں سب کے سامنے شرمندہ ھوجاو ۔ اگر نہیں ہیں تو بتا دو تاکہ میں تم پر رحم کھاتے ھوے شرط میں کمی کردوں اور صرف آئسکریم پر ھی تمہاری جان چھڑوا دوں ۔۔ سلمان بڑی شوخی سے سینہ چوڑا کرتے ھوے بولا . میری فکر چھوڑو اپنی فکر کرو سیدھا یہ کہو کہ تم اپنی جان بچانا چاہتے ھو ۔۔ میں. نے ہنستے ھوے اپنے سینے پر ہاتھ مارتے ھوے کہا ۔ بچوووو یہ مرد کی زبان ھے بھاگوں گا نہیں ۔ میں تو آنے والے وقت میں تمہاری جو ذلالت ھونی ھے اسکو سوچ سوچ کر پریشان ھورھا ھوں اور مجھے تو وہ وقت ابھی سے نظر آرھا ھے جب تم سب کے سامنے پیسے کم پڑجانے پر شرمندہ ھوگے ۔۔ سلمان بولا ۔ برادرررررر میری فکر چھوڑو اپنی فکر کرو ۔۔ اتنے میں مجھے عبیحہ کمرے سے نکل کر سب گھر والوں کی طرف آتی دیکھائی دی ۔۔۔ میں جلدی سے عبیحہ کی طرف انگلی کرتے ھوے بولا ۔۔ بچووووم تم میری فکر چھوڑو ادھر دیکھو اور اپنی فکر کرو ووووو۔ سلمان اور عبیرہ نے چونک کر گردن گھما کر عبیحہ کی طرف دیکھا جو عظمی اور نسرین کے پاس کھڑی ھوکر ان سے ہنستے ھوے ھاتھ ملا کر مل رھی تھی ۔۔ سلمان اورعبیرہ کا، منہ ایسے ھوگیا جیسے انکو سانپ سونگھ گیا ھو ۔۔۔ میں نے ایک ھاتھ سلمان کے کندھے پر رکھا اور دوسرا عبیرہ کے اور بولا ۔ سناو بہنا جی اور بھیاء جی ۔۔۔ ابھی بھی وقت ھے مجھ سے معافی مانگ لو تو رحم کھا کر شرط کم کر دوں گا ۔۔ سلمان میری طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔ ارے بھئی شرط کمرے سے باہر نکلنے کی نہیں لگی تھی جو اتنا خوش ھو رھے ھو بلکہ گھر سے باہر جانے کی لگی ھے ۔ ذیادہ خوش نہ ھو ۔۔ میں نے کہا چلو تمہاری یہ غلط فہمی بھی دور کردیتا ھوں تم بس اب دیکھتے جاو ۔۔۔ یہ کہتے ھوے میں عبیحہ کی جانب بڑھا جو اب ہنس ہنس کر نازی عظمی اور نسرین سے باتیں کررھی تھی ۔ لگ ھی نہیں رھا تھا کہ یہ وہ ھی سڑئیل لڑکی ھے جو شاید زندگی میں کبھی ہنسی نہ ھو ۔ اور اب ایسے لگ رھا تھا کہ اس سے شوخ چنچل کوئی ھے ھی نہیں ۔۔ میں چلتا ھوا انکے پاس پہنچا اور کھڑا ھوکر انکی باتیں سننے لگ گیا ۔ تو عبیحہ بڑی شوخی سے میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ یاسر تمہیں شرم نہیں آتی لڑکیوں کی باتیں سنتے ھوے ۔۔ تو نسرین بڑے سڑئیل انداز میں ھاتھ لہراتے ھوے بولی ۔ شرم ھوگی تو ھی آے گی ۔۔۔ میں نے نسرین کے سر پر انگلیاں رکھیں اور انگلیوں سے اسکے سر کو جکڑتے ھوے کہا تیرے اندر تو بڑی شرم ھے ۔۔ نسرین درد سے چیخ کر بولی ۔ امییییییییی ھاےےےےے میرا سر ۔ کتا بےغیرت بےشرم کھوتا۔۔۔۔ آنٹی فوزیہ نے میری طرف دیکھا تو ہنسنے لگ گئی جبکہ امی مجھے ڈانٹنے لگ گئیں ۔۔ کھوتے جنا ھوگیا اے پر حرکتاں او ای بچیاں والیاں اے ۔ شرم کریا کر ہن توں بچا نئی ریا جوان پیناں نال ہاتھا پائی نئی کری دی پتہ نئی کدوں تینوں عقل آوے گی ۔۔ میں نے اچھی طرح نسرین کے سر کو انگلیوں میں جکڑ کر دبایا اور پھر چھوڑ کر سلمان کی طرف چلا گیا ۔ جبکہ نسرین ابھی بھی مجھے سڑی سڑی جھلی بھنی سنا رھی تھی ۔۔ سلمان بولا کوئی حال نئی تیرا یار بیچاری کا سر ھی مروڑ دیا ۔۔ میں نے کہا یار یہ بڑی شیطان کی نانی ھے میری بچپن کی فرینڈ ھے میں اسے بچپن سے جانتا ھوں ہماری اسی طرح نوک جھونک ھوتی رھتی ھے ۔۔ سلمان ہنستے ھوے بولا گُڈ یار بچپن کے فرینڈ بھی کیا خوب ھوتے ہیں بڑے ھوکر بھی عادتیں نہیں بدلتی جب بھی ملتے ہیں ۔ بچپن کی طرح ھی ایک دوسرے کے ساتھ پیش آتے ہیں ۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا ہاں یار سچ کہا بلکل ایسا ھی ھے ۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد آنٹی فوزیہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ اپنے گھر چلی گئی اور جاتے جاتے نسرین مجھے گھورتے ھوے ہاتھ میری طرف کرتے ھوے لعنت لعنت کرتی ھوئی چلی گئی ۔۔ جسکو دیکھ کر سلمان بھی کافی محفوظ ھوا ۔ اور کتنی دیر اسکا سٹائل بناتے ھوے مجھے لعنت لعنت کرتے چھیڑتا رھا ۔۔ پھر ہم سب نے مل کر اکھٹے بیٹھ کر کھانا کھایا ۔ اور یہ دیکھ سب ھی حیران تھے اور ان میں سے سب سے ذیادہ حیران اور پریشان سلمان تھا کہ عبیحہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رھی تھی اور وہ بھی بڑھ چڑھ کر سب کو کبھی سالن ڈال کر دیتی تو کبھی روٹی پکڑاتی ۔۔ اور میں سلمان کو کہنی مارتے ھوے عبیحہ کی طرف اشارے کر کر کے اسے شرط ھارنے کا سگنل دے کر مذید پریشان کررھا تھا ۔۔۔ کچھ دیر بعد سب نے کھانا کھایا اور سب باری باری دستر خوان سے اٹھنا شروع ھوگئے اور اگلا بم سلمان پر تب گرا جب عبیحہ کھانے کے برتن اٹھوانے میں آپی اور امی کی مدد کررھی تھی ۔۔۔ اور عبیرہ سلمان کو اشارے کر کر کے مذید ڈراے جارھی تھی کہ بچووووو تم تو گئے۔۔۔ اور سلمان بیچارہ ہاتھ مسلتا کبھی ادھر جاتا تو کبھی ادھر ۔۔ مگر وہ پھر بھی اس امید پر خوش تھا کہ ھوسکتا ھے کہ آپی عبیحہ ہمارے ساتھ باہر نہ جاے ۔۔ . جبکہ مجھے بھی کوئی خاص امید نہیں تھی کہ واقعی عبیحہ ہمارے ساتھ چلنے پر راضی ھوجاے گی مگر پھر بھی میرا دل کہہ رھا تھا کہ وہ ضرور جاے گی ۔۔ خیر وہ گھڑی بھی آن پہنچی جب میں نے سلمان کو کہا کہ چلو شاباش گاڑی سٹارٹ کرو اور میں سبکو لے کر آتا ھوں ۔۔ تو سلمان بجھے بجھے دل کے ساتھ قدموں کو گھسیڑتا ھوا باہر نکل گیا اور میں نے عبیرہ اور اعبیر اور کامران نازی کو شہر چل کر آئسکریم کھانے کی نوید سنائی تو بچے تو سیکینڈوں بھاگتے ھوے گاڑی میں جا بیٹھے جبکہ نازی اور عبیرہ گاون پہننے میں مصروف ھوگئیں میں نے امی اور خالہ کو بتایا کہ میں عبیحہ کو بھی ساتھ لیجانے لگا ھوں تو خالہ نے بھی حیریت کا اظہار کرتے ھوے کہا کہ بیٹا وہ نہیں جاے گی اگر پھر بھی تم اسے لیجانا چاہتے ھو تو اسے کہہ کر دیکھ لو مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ تم لوگوں کے ساتھ جاے گی ۔۔ اتنے میں نازی اور عبیرہ تیار ھوکر مجھے چلنے کا کہنے لگ گئیں جبکہ عبیحہ شاید پھر کمرے میں چلی گئی تھی میں نے ان دونوں کو کہا کہ تم گاڑی میں چل کر بیٹھو میں عبیحہ کو لے کر آیا ۔۔۔ تو دونوں میرا مزاق اڑاتی ھوئی باہر چلی گئیں ۔۔۔ میں بڑے کانفیڈنس کے ساتھ کمرے میں گیا تو یہ دیکھ کر حیران رھی گیا کہ عبیحہ خود ھی اپنا بستر بچھا رھی تھی ۔۔ مجھے اندر داخل ھوتے دیکھ کر مسکراتے ھوے میری طرف دیکھنے لگ گئی ۔ میں نے عبیحہ کی طرف دیکھتے ھوے تعریفی کلمات کہے اور بولا واہ جی واہ اتنی بڑی تبدیلی اور وہ بھی اتنی جلدی ۔ ویسے میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں آپکا شکریہ ادا کرسکوں ۔ آپ واقعی جتنی اوپر سے خوبصورت ہیں اس سے ذیادہ آپ اندر سے بھی خوبصورت اور اچھی ہیں ۔ عبیحہ چارپائی پر چادر بچھاتے ھوے بولی اب تو تم خوش ھو نہ اپنے مہمانوں سے اب تو تمہارا دل نہیں دکھ رھا ۔۔ میں نے کہا میں تو آپکو مسکراتا ھوا دیکھ کر ھی اتنا خوش ھوگیا تھا کہ بتا نہیں سکتا ۔ عبیحہ چارپائی پر تکیہ رکھتے ھوے بولی ۔ چلو شکر ھے جو تم خوش ھوگئے ۔ ورنہ مجھے افسوس ھی رہتا کہ میری وجہ سے کسی کا دل دکھا ۔ میں نے بات کو سمیٹتے ھوے کہا ۔ وووہ جی عبیحہ جی ایک اور گزارش تھی اگر آپ. برا نہ مانیں ۔ تو عبیحہ چونک کر میری طرف دیکھتے ھوے بولی اب کیا ھے ۔۔ میں نے کیا ووووہ جی ہم شہر چلے تھے سب ۔۔ تو اگر آپ بھی ہمارے ساتھ چلتی تو مجھے اچھا لگتا اسی بہانے آپ سے باتیں کرنے کا موقع بھی مل جاے گا ۔۔ عبیحہ نے بڑی گہری نظر سے میری طرف دیکھا اور پھر بولی ۔ دیکھو یاسر جتنا میں کر سکتی تھی وہ کرلیا وہ بھی تمہاری خوشی کی خاطر ۔ مگر یہ بازاروں میں جانا ہوٹلوں میں بیٹھنا مجھے بلکل بھی پسند نہیں اس لیے ناراض مت ھونا ایم سوری میں نہیں جاسکتی ۔۔۔ ہاں تم میرے لیے آئسکریم لے آنا وہ میں کھا لوں گی ۔۔ عبیحہ کی بات سن کر میں تو ایکدم گبھرا گیا اور اپنے کیے کراے پر پانی پھرتا اور پھر سلمان اور عبیرہ کی طنزیں اور مزاق نظر آنے لگ گیا ۔۔ میں نے پھر منمناتے ہوے عبیحہ کو کہا ۔ عبیحہ جی پلیزززز میری ریکوئسٹ ھے آپ سے آپ ہمارے ساتھ چلیں دیکھیں ہم کچھ ھی دیر مین آجائیں گے اور آپ کے لیے ہم ہوٹل کے اندر بھی نہیں جائیں گے بلکہ سب کے سب گاڑی میں ھی بیٹھے رہیں گے پلیزززززززززز عبیحہ جی یییییی۔۔۔ عبیحہ میرے اصرار پر چڑ سی گئی اور دونوں مٹھیاں بھینچ کر بولی ۔۔ یاسر پلیززززززز جاو میں نے کہا نہ کہ مجھے یہ سب بلکل پسند نہیں ھے تو پھر تم کیوں بار بار ضد کررھے ھو ۔۔ پلیزززجاو تم میں سونے لگی ھوں ۔۔ یہ کہتے ھوے عبیحہ اپنی گول مٹول گانڈ کو چارپائی پر رکھتے ھوے بڑے بڑے مموں کو چھلکاتے ھوے چارپائی پر لیٹ گئی اور تکیے کو سر کے نیچے سہی کرتے ھوے سینے کو تھوڑا سا اوپر کیا جس سے اسکے تنے ھوے ممے مذید اوپر کو اچھلے اور پھر اس نے مجھے اگنور کرتے ھوے آنکھیں موند لیں ۔۔ مجھے اسپر غصہ بھی آرھا تھا اور اپنی بےبسی پر دکھ بھی ھورھا تھا ۔ بات شرط کی جیت یا ھار کی نہیں تھی بلکہ بات میری عزت انا کی تھی ۔۔ میں چند لمحے خاموشی سے کھڑا عبیحہ کی سانسوں کو گنتا رھا جو اسکے اوپر نیچے ھوتے ممے مجھے گنوا رھے تھے ۔ کہ عبیحہ کی چھٹی حس نے مموں کو تاڑتی میری نظروں کی شکایت کی تو عبیحہ نے آنکھیں کھول کر میری نظروں کا تعاقب کرلیا ۔ اور پھر مموں پر دوپٹہ سہی کرتے ھوے بولی ۔ تم گئے نہیں ابھی ۔ میں نے سارے جہاں کی بےبسی مسکینی اور لاچاری اپنے چہرے پر لاکر ہاتھ جوڑ کر عبیحہ کی طرف کیے اور بولا ۔ عبیحہ جی میں بڑے مان کے ساتھ آپکو اپنے ساتھ لیجانے کے لیے آیا تھا ۔ پلیززززززززز میری لاج رکھ لیں پلیززززززز آپکو اوپر والے کا واسطہ ۔پلیززززززز۔ عبیحہ نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ھوے لمبا سا سانس بھر کر چھوڑا اور ذوررر سے آنکھیں بند کرکے کھولیں اور میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ . یاسر تمہیں میری بات کیوں نہیں سمجھ آتی ۔۔ اس سے آگے کہ عبیحہ کچھ بولتی ۔۔ میں اسپر پھٹ پڑا۔۔ بسسسس عبیحہ جی میں تو بڑے مان دعوے کے ساتھ آپ کو بلانے آیا تھا مگر یہ میری بھول تھی کہ آپ کے دل میں ہم غریبوں کے لیے کوئی جگہ ھوگی ۔ میں بھول گیا تھا کہ میرے ساتھ جانے سے آپکی امیری پر آپ کی شان پر داغ لگ جاے گا ۔ کوئی بات نہیں عبیحہ جی آئندہ میں آپکو کسی بات پر مجبور نہیں کروں گا بلکہ کبھی آپ کے سامنے ھی نہیں آوں گا جیسے آپ خوش۔۔۔۔۔ اور پھر میں نے جاتے ھوے ڈائلگ مارا ۔۔ بڑے بے آبرو ھوکر تیرے کوچے سے نکلے عبیحہ جییییییییییءءءء یہ کہتے ھوے میں تیز تیز قدموں سے کمرے سے باہر نکلا اور صحن سے ھوتا ھوا باہر دروازے پر پہنچا تو مجھے دروازے سے نکلتا دیکھ کر سلمان اور عبیرہ چو چو چو چو کرنے لگ گئے ۔۔ میں نے جاکر بڑے غصے سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور آگے فرنٹ سیٹ پر جاکر سلمان کے ساتھ بیٹھ گیا اور دونوں ھاتھ اپنے چہرے پر پھیرتے ھوے خود کو ریلیکس کرنے لگ گیا ۔۔ سلمان شوخی سے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ھوے بولا یار بھوک پھر بہت ذور کی لگ گئی ھے کیا خیال ھی ابھی شہر چل کر پہلے مٹن کڑاھی نہ کھالی جاے اور پھر پیچھے منہ کر کے بولا کیوں سسٹرز کیا کہتی ہیں ۔۔ عبیرہ شوخی سے بولی میں نے تو پہلے ھی بھائی کو وارن کیا تھا کہ جانے دو ہم سے پنگا اٹ از ناٹ چنگا۔۔۔ مگر بھیاء جی کو نہ جانے کس خوش فہمی نے گھیر لیا تھا ۔۔ پھر سلمان اور عبیرہ کے قہقہے گاڑی میں گونج اٹھے ۔۔ اور میں شرمندہ اور غصے کے ملے جلے تاثرات لیے اندر ھی اندر کُڑھنے لگا ۔۔ اور پھر سلمان نے گاڑی کی چابی گھماتے ھوے گاڑی سٹارٹ کی اور مجھے کندھا مارتے ھے گاڑی کا گئیر لگا کر بولا ۔ چلیں بردر یا پھر ابھی بھی کوئی امید باقی ھے ۔۔ میں نے آہستہ سے کہا ہاں چلو ۔ تو سلمان بولا ۔ یعنی کہ آپ شرط ھارگئے ۔۔ میں نے تھوڑا غصے سے کہا چلو یاررررررر۔ سلمان پھر بولا ۔ چلیں ۔۔ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔ سلمان پھر بولا ۔ تو پھر میں گاڑی چلانے لگا ھوں ۔۔۔ اس سے پہلے کہ مجھے مذید غصہ آتا اور میں سلمان کو کچھ الٹا سیدھا بولتا کہ اچانک سلمان کی طرف سےبڑی شوخ اور چنچل آواز آئی ۔ بڑی جلدی ھے جانے کی مجھے تو ساتھ لیتے جاو۔۔ اس شوخ چنچل آواز کو سن کر اور اس چہرے کو دیکھ کر میرے چہرے پر سارے جہان کی خوشیاں لوٹ آئیں اور سلمان کے چہرے کا رنگ بھی اڑ گیا اور اس پر غم کے پہاڑ گر پڑے چند لمحے پہلے ہنستہ مسکراتا چہرہ غمگین ھوگیا جیسے اسکا سب کچھ لُٹ گیا ھو ۔ اور گاڑی میں ھوتی سب کی چہہ میگوئیاں ایسے ختم ھوئیں جیسے سب نے کوئی ڈراونا سین دیکھ لیا ھو ۔ عبیرہ کی بھی بولتی بند ۔ اور سلمان تو ایسے تھا جیسے اسکو موت کا فرشتہ نظر آگیا ھو ۔۔ سلمان کا منہ کھلے کا کھلا رھ گیا ۔ تو عبیحہ کی دوبارا آواز آئی جو سلمان کی آنکھوں کے آگے ھاتھ ہلاتے ھوے اور پھر اسے کندھے سے ہلاتے ھوے کہہ رھی تھی ۔ کدھر گم ھوگئے ھو مجھے دیکھ کر تمہاری شکل بیماروں جیسی کیوں ھوگئی ھے ۔۔ میں جلدی سے فرنٹ سیٹ سے اترا اور پیچھے والا دروازہ کھول کر عبیحہ کو کہا کہ آپ آگے سللللللمااااااان کے ساتھ تشریف رکھیں میں پیچھے بیٹھ جاتا ھوں تو عبیحہ جلدی سے گاڑی کے آگے سے گھوم کر میرے پاس آئی اور بولی ۔ نہیں تم آگے بیٹھوں مین پیچھے بیٹھتی ھوں ۔۔ میں نے اوکے کہا تو جیسے ھی میری نظر سلمان پر پڑی تو میں باوجود کوشش کہ اپنی ہنسی کو نہیں روک پایا ۔ سلمان ذور ذور سے سٹیئرنگ پر سر مار رھا تھا تو کبھی مکے مار رھا تھا ۔ میں ہنسی کو دباتے ھوے آگے بیٹھ گیا اور سلمان کو کندھا مارتے ھوے بولا چلیں۔۔۔ اور پھر اپنے پیٹ پر ھاتھ پھیرتے ھوے بولا ۔ یار بھوک تو مجھے بھی ا ب بہت لگ رھی ھے ویسے تمہارا آئڈیا برا نہیں تھا کہ پہلے شہر چل کر کھانا ھی کھا لیتے ھیں ۔۔ سلمان نے گھور کر میری طرف دیکھا تو میں نے مسکراتے ھو ے انگھوٹھے سے پہلے پیچھے کی طرف اشارہ کیا کہ عبیحہ آگئی ھے اور پھر ھاتھ آگے کرتے ھوے اسے چلنے کا کہا ۔ سلمان غصے سے دانت پیستا ھوا منہ ھی منہ میں بڑ بڑاتا ھوا بڑے غصے سے گئیر لگانے لگا اور پھر جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھائی کے گاڑی کے ٹائروں کی چیخیں اور پیچھے بیٹھیں سب مستورات کی بچوں سمیت چیخیں نکل گئیں اور عبیحہ سلمان کو غصے سے ڈانٹتے ہوئے بولی ۔ پاگل ھوگئے جاہل انسان ۔۔ آرام سے نہیں چلا سکتے ۔ میں نے جلتی پر تیل پھینکا اور بولا ۔ بیچارے کو بھوک لگی ھے اس لیے جلدی میں ھے ۔ تو پیچھے بیٹھی عبیرہ کی ہنسی نکل گئی اور سلمان غصے سے تلملا اٹھا اور عبیحہ کی وجہ سے اس نے میرا اور عبیرہ کا غصہ گاڑی کی سپیڈ پر نکال دیا ۔ .2. سلمان کی تیز ڈرائیونگ نے ہم جلد ھی شہر پہنچا دیا اور پھر سلمان نے ہوٹل کے سامنے بریک ماری تو میں نے گردن گھما کر پیچھے عبیحہ کو دیکھتے ھوے کہا کہ ہوٹل کے اندر چلیں یا پھر ادھر گاڑی میں بیٹھ کر ھی آئسکریم کھانی ھے ۔ عبیحہ بولی جیسے آپ سبکو اچھا لگے ۔۔ میں نے عبیرہ سے پوچھا تو وہ بولی ہوٹل میں چلتے ہیں تو سب نے اسکی ہمایت میں کہا یاسر بھائی ہوٹل میں بیٹھ کر کھائیں گے ۔۔ میں دروازہ کھولتے ھوے کہا تو چلو پھر سب ۔ سب ھی باری باری اتر کر ہوٹل کی طرف چل دیے اور سب سے آخر میں سلمان جو پیچھے سے عبیحہ کو مکے دیکھاتا ھوا آرھا تھا ۔۔ ہوٹل میں آئسکریم کھاتے ھوے بھی سب نے خوب ہلا گلا کیا عبیحہ کامران کو گود میں بیٹھا کر آئسکریم کھلا رھی تھی ۔ اور وہ متواتر شرارتیں کری جارھا تھا کہ اچانک کامران کا ہاتھ عبیحہ کے ھاتھ میں پکڑے آئسکریم کے کپ کو لگا تو کپ الٹ کر عبیحہ کے مموں پر گرا اور ساری آئسکریم عبیحہ کے اوپر الٹ گئی عبیحہ چیختی چلاتی کھڑی ھو کر ٹشو سے اپنے مموں کی اور پیٹ کی جگہ کے کپڑے کو صاف کرنے لگ گئی مگر اسکے باوجود عبیحہ کی آگے سے ساری شرٹ خراب ھوچکی تھی ۔۔ اچھے بھلے سب ہنسی مزاق کررھے تھے عبیحہ کی وجہ سے ماحول ایکدم سنجدیدہ ھوگیا سب نے جلدی جلدی آئسکریم کھائی کیوں کے عبیحہ غصے سے کامران پر چلائی جارہی تھی اور وہ بیچارہ بھی رونا شروع ھوگیا تھا ۔ کچھ دیر بعد سب ہوٹل سے نکلے اور واپسی پر عبیرہ بولی یاسر بھائی آپ نے اپنی شاپ ہمیں نہیں دیکھائی ۔۔ میں نے کہا یہ کونسی مشکل بات ھے چلو ابھی دیکھ لو یہاں سے سے قریب ھی ھے ۔۔ عبیحہ بولی نہیں یاسر گھر چلو میری شرٹ گیلی ھوگئی ھے مجھے الجھن ھورھی ھے عبیحہ کی بات میں نے ان سنی کی اور میں نے سلمان کو گاڑی بازار کی طرف موڑنے کا کہا تو سلمان نے بڑبڑاتے ھوے گاڑی مین بازار کی طرف موڑ دی ۔ کچھ ھی دیر میں ہم بوتیک کے سامنے کھڑے تھے میں نے اتر کر دکان کھولی تو اور لائٹ جلائی تو سب ھی باری باری بوتیک کے اندر آگئے ۔۔ اندر داخل ھوتے ھی عبیحہ عبیرہ اعبیر تینوں بہنیں بوتیک دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور ورائٹی کی بھی بہت تعریف کرتی رہیں ۔ میں نے تینوں بہنوں کو ایک ایک سوٹ لینے کی آفر کی مگر عبیحہ نے سختی سے دونوں کو منع کردیا اور خود بھی سوٹ لینے سے انکاری ھوگئی ۔ میں نے بڑی کوشش کی مگر عبیحہ نہ مانی ۔ میں نے عبیحہ کو کہا سامنے ٹرائی روم ھے تمہیں جونسا ڈریس پسند ھے یہاں چینج کرسکتی ھو تمہاری شرٹ ساری خراب ھوچکی ھے ۔ مگر عبیحہ نہ مانی اور بولی نہیں میں گھر جاکر ھی چینج کرلوں گی بس اب چلو سب ۔۔ ۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد ہم واپس گھر آگئے۔۔ گھر آتے ھی عبیحہ کمرے کی طرف بھاگ گئی جبکہ باقی سارے پھر صحن میں ھی بیٹھ گئے جبکہ باہر کافی سردی محسوس ھورھی تھی مگر سب ہنسی مزاق میں لگے ھوے تھے اس لیے انکو سردی کیا پرواہ نہیں تھی ۔۔ میں ان سب کو صحن میں چھوڑ کر بھا قیصر کے کمرے میں گیا ۔۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ہمارے گھر کا نقشہ کچھ ایسا تھا کہ پہلے بیٹھک تھی پھر بھا قیصر کا کمرہ اور اسکے ساتھ نازی کا کمرہ اور اسکے ساتھ امی ابو کا کمرہ اور آخر میں ایک خالی کمرہ تھا جس میں صرف چار پائیاں ھی پڑی ھوئیں تھی ۔ اور ان سب کمروں میں ایک سے دوسرے کمرے میں جانے کے لیے اندر دروازے تھے یعنی سب کمرے ایک دوسرے سے اٹیچ تھے ۔ میں جیسے ھی بھا کے کمرے میں پہنچا تو اچانک میرے دماغ میں خیال آیا کہ کیوں نہ عبیحہ کا شکریہ ادا کردوں کہ اس نے آج میری عزت رکھ لی ۔ میں یہ سوچ کر اندر کمرے سے ھی اٹیچ دروازے کی بڑھا اور بنا سوچے سمجھے دروازہ کھول کر دوسرے کمرے میں داخل ھوگیا ۔ اففففففففففف کاش کی وقت وہیں تھم جاتا کیا منظر تھا سامنے کا کیا ھی دلکش نظارہ تھا ۔ عبیحہ. ہلکے گلابی رنگ کے بریزیر میں شلوار پہنے کھڑی تاول سے اپنے ننگے پیٹ اور بریزیر سے باہر ننگے مموں کو جلدی جلدی صاف کرنے میں مصروف تھی تاول شاید گیلا تھا جس سے آئسکریم کی چکناہٹ صاف کر رھی تھی ۔۔ جیسے ھی دروازہ کھلا اور میں اندر داخل ھوا تو میری نظر سیدھی عبیحہ کی گلابی مانند رنگت پر پڑھی چٹا سفید پیٹ اور چٹے سفید گلابی مانند ادھ ننگے تنے ھوے ممے اور بریئزیر کا رنگ بھی ایسا کہ لگتا تھا کہ سارے ھی ممے بلکل ننگے ہیں بریزیر کا نام نشان نہیں ۔ میری آنکھیں وہیں پتھر سی ہوگئیں ۔ جبکہ عبیحہ کی نظر جب میری نظر سے ٹکرائی تو اسکے ھاتھ سے تاول گر گیا اور اسکا ننگا بدن مذید عیاں ھوگیا۔۔۔ وہ بھی وہیں پتھر کی ھوگئی ۔۔ نہ وہ کچھ بولی نہ میں کچھ بولا زبانیں گنگ آنکھیں پتھر۔۔ نہ لب ہلے نہ سانس چلی ۔ چند لمحے ھی گزرے تھے کہ عبیحہ کے دونوں ھاتھ بلند ھوے اور اپنے سر کی طرف گئے اور ھاتھوں نے کانوں کو ڈھانپا اور پھر عبیحہ کے منہ سے ایک ذبردست چیخ نکلی اور ساتھ ھی عبیحہ پاوں کے بل بیٹھتی گئی ۔ عبیحہ کی چیخ سنتے ھی میری تو ایکدم گانڈ پھٹنے والی ھوگئی اور تو مجھے کچھ نہ سوجا میں نے وہیں سے واپس بھا کے کمرے جلدی سے داخل ھوا اور دوڑتا ھوا بیٹھک میں چلا گیا اور جاکر چارپائی پر لیٹ گیا ۔ دوستو میری کیفیت ایسی تھی جیسے سردی میں بندا کانپتا ھے ۔ کیوں کے عبیحہ نے جتنی ذور سے چیخ ماری تھی اسکی چیخ سب گھر والوں نے سنی ھوگی اور اسکی چیخ نکلنے کی وجہ میں تھا اور میری ذلت اب طے تھی ۔ ڈر کے مارے میری ٹانگیں کانپی جارھی تھی ۔ میں نے جلدی سے کھیس پکڑا اور خود کو سمیٹتے ھوے اپنے آپکو ایسے کھیس کے اندر چھپا لیا جیسے کوئی مجھے ڈھونڈ نہ پاے ۔ جبکہ قسم سے میں اس نیت سے گیا ھی نہیں تھا کہ عبیحہ کپڑے بدل رھی ھوگی اور میں اسے دیکھوں گا یہ خیال تو میرے دماغ میں ہرگز نہ تھا ۔ بلکہ میں نے تو کبھی عبیحہ کی طرف غلط نظر سے دیکھا بھی نہیں تھا ۔ مجھے پکا یقین تھا کہ یاسر بیٹا آج تجھے کوئی نہیں بچاے گا اور آج تو پھنسے گا اور سب کے ھاتھوں ذلیل بھی ھوگا وہ بھی ناجائز ۔۔۔۔ وسوسوں نے میری جان لینے والی کردی ۔ ادھر باہر کیا ھورھا تھا مجھے کچھ سنائی نہیں دے رھا تھا ۔ کیونکہ دروازہ بند تھا اس لیے باہر کی آوازیں بیٹھک میں نہیں آرھی تھی جبکہ مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں دروازے کے پاس جاکر کان لگا کر ھی باہر کے حالات معلوم کرسکوں ۔ مجھے پکا یقین تھا کہ عبیحہ جتنی منہ پھٹ ھے وہ لازمی سبکو چیخنے کی وجہ بتاے گی ۔ مجھے لیٹے ابھی دس پندرہ منٹ ھی گزرے تھے کہ اچانک ذور سے بیٹھک کا دروازہ کھلا اور اسکے ساتھ ھی سلمان کی آواز نے میرا دل دہلا دیا ۔ کہ لے یاسر بیٹے ھوجا اب تیار تیری شامت تو آئی رے۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
  8. ۔دوستو سٹوری لکھنا اور تسلسل برقرار رکھنا کتنا مشکل ھے یہ مجھے اب احساس ھورھا ھے قسم سے بڑا مشکل کام ھے یہ ۔ اگر آپ سب بھائیوں کا پیار اور توجہ مجھے حاصل نہ ھوتی تو میں کب کا سٹوری کو بیچ میں چھوڑ کر بھاگ چکا ھوتا ھے قسم سے دماغ کی لسی بن جاتی ھے ایک اپڈیٹ تیار کرنے میں۔۔ باقی آپ سب بھائیوں کا پیار اور توجہ یوں ھی حاصل رھی تو آپ بھائیوں کو باشرط زندگی کبھی بھی مایوس نہی ھونے دوں گا ۔ جتنا پیار آپ سب سے مل رھا ھے مجھے تو اسکی امید بھی نہیں تھی ۔ یہ آپ سب بھائیوں کا بڑا پن ھے کہ مجھ جیسے اناڑی لکھاری کی اتنی حوصلہ افزائی کررھے ہیں ۔ جیوندے رو تے ہسدے وسدے رو ۔ شالا سدا سُکھی رو
×
×
  • Create New...