Jump to content
URDU FUN CLUB

Search the Community

Showing results for tags 'hunce'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • ...::: U|Fun Announcements Club :::...
    • News & ­Announcements
    • Members Introduction
    • Complains & Suggestions
  • ...::: U|Fun General Knowledge Club :::...
    • General Knowledge
    • Cyber Shot (No Nude)
  • ...::: U|Fun Digital Library Club :::...
    • Own Writers Urdu Novels
    • Social New Writers Club
    • Urdu Poetry Ghazals Poems
  • ...::: U|Fun Buy and Sale Club :::...
    • Buy & Sale Your Products
  • ...::: U|Fun Adult Multimedia Club [Strictly For 18+] :::...
    • Users Chit Chat + (18)
    • Sex Advice with Doctors
    • Urdu Sexy Jokes Poetry
  • ...::: U|Fun Urdu Inpage & Pic Sex Stories Club Normal Standard :::...
    • Urdu Adult Inpage Stories
    • Roman Urdu / Hindi Sex Stories
    • Picture Stories (By UFC Writers)
    • Incomplete Stories (No Update)
  • ...::: U|Fun Premium Membership Subscribe Club :::...
    • Purchase VIP Membership
  • ...::: U|Fun High Standard Premium Club :::...
    • Pardes Serial Novel VIP Edition
    • Hawas Serial Novel VIP Edition
    • Aahni Grift Serial Novel VIP Edition
    • Kamran and Head Mistress VIP Edition
  • ...::: U|Fun Urdu Inpage & Pic Stories High Standard Paid Files :::...
    • Urdu Inpage Stories Paid Files
    • Urdu Picture Stories Paid Files
  • ...::: U|Fun Recycle Bin Club :::...
    • Recycle Bin

Categories

  • Urdu Sex Stories High Standard
  • Urdu Pic Stories High Standard

Product Groups

  • Make Your Membership Plan
  • Make Y

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Found 1 result

  1. "اچھا میری بات غور سے سنو"۔ عامر اپنی نئی نویلی دلہن ایمن کو "سمجھاتے ہوئے بولا! "تمھیں آج سے بہت سے نئے سبق سیکھنا ہوں گے۔ یہاں جاب پر لوگ تمھاری خوبصورتی کی تعریف کریں گے تو برا مان کر چانٹا مت مار دینا اور نہ ہی بدلے میں یہ کہنے لگ جانا پلیزکہ " گھر میں تمھاری ماں بہنیں نہیں ہیں کیا وغیرہ وغیرہ " ۔ وہ ایمن کو بہت رسان سے نئے ملک میں رہنے کے طریقے سمجھا رہا تھا۔ "دیکھو یہ امریکہ ہے اور یہاں کا سسٹم بالکل الٹ ہے پاکستان سے، یہاں بات بات میں دوسرے کی تعریف کرنےکا بہت رواج ہے ۔اس تعریف میں مرد و عورت کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی نہ ہی تمھاری تعریف کرنے والے کا مطلب تم سے کوئی فلرٹ کرنا ہو گا ، بس یہ لوگ یوں ہی ہر خوبصورت چیز کی تعریف کر دیتے ہیں اور چونکہ تم بہت خوبصورت ہو تو پہلے سے اسکے لئے ذہنی طور پر تیار رہو۔ تمھیں جواب میں مسکرا کر صرف سب کو شکریہ کہنا ہے اور کچھ نہیں ۔ اگر اس ملک میں سروائیو کرنا چاہتی ہو تو تمھیں اپنے آپ کو بہت بدلنا پڑے گا اور یہی تمام امریکی مینرز تمھیں فوراً سیکھنے ہونگے" ۔ وہ ذرا سا سانس لینے کو رکا اور اسے پیار سے دیکھتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا۔ "مجھے دبو قسم کی جی حضوری کرنے والی لڑکیاں بالکل پسند نہیں۔۔ میں چاہتا ہوں مجھے تم پر اور تمھارے اپنی ذات پر اعتماد سے فخر محسوس ہو اور سب لوگ میری بیوی کی تعریف کریں۔ ویسے بھی اصل اہمیت تو یہاں صرف تمھارے کام کی ہی ہو نے والی ہے ، تمھاری صورت کی نہیں کیونکہ وہ سب ثانوی باتیں ہیں تو گیند تمھارے کورٹ میں ہے اب اور دیکھنا یہ ہے کہ تم کونسے کونسے نئے سبق کتنی جلدی سیکھتی ہو"۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭ عامر ایک اینٹرنیشل کمپنی میں کام کرتا تھا۔ وہ بہت زیادہ اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ عورت صلاحتیوں میں مرد کے برابر ہے اور اِسے اسکے اظہار کا پورا پورا موقع ملنا چاہیئے، اسی لئے وہ کھبی بھی کسی بھی موقعے پر خود کو بہت جدت پسند کہلوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا اور خود اپنی بیوی پر بے جا پابندیوں کا قائل بھی ہرگز نہیں تھا۔ آج وہ اپنی بیوی کو اپنے آفس میں کام کرنے کے طریقے بتا رہا جسے وہ اپنے آفس میں خالی ہونے والی ویکینسی کے انٹرویو کے لئے لایا تھا اور اتفاق سے وہ فوراً ہی اسکے آفس میں اسی دن اپائینٹ بھی کر لی گء تھی گو کہ ان دونوں کا ڈیپارٹمنٹ الگ الگ تھا مگر انکے آفس ساتھ ساتھ تھے اور بیچ میں شیشے کی دیواریں تھیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو سن تو نہیں سکتے تھے مگر سارا دن اشاروں کی زبان اور چہرے کے اتار چڑھاؤ کی مدد سے ایک دوسرے کی حالت سے باخبر رہا کرتے تھے ٭٭٭٭٭٭٭٭ شروع شروع میں ایمن کو بہت مشکل ہو رہی تھی کیونکہ وہ پاکستان میں ایک قدامت پسند فیملی سے تعلق رکھتی تھی مگر اسکو زندگی بھر یہی بتایا گیا تھا کہ اسے ایک مشرقی بیوی کی طرح آنکھیں بند کر کے صرف اپنے شوہر کا کہا ماننا ہے۔ ایمن خود کو اس نئے معاشرے میں ڈھالنے کے لئے اور اپنے شوہر کی خوشی کی خاطر یہ سب نا پسندیدہ کام بھی کرتی جا رہی تھی اور تیزی سے خود کو اسی جدید طرز زندگی کا عادی بنا رہی تھی ۔ آفس میں کوئی بھی مرد یا عورت ایسا نہ تھا جس نے ایمن کی حسن اور ذہانت کی تعریف نا کی ہو اور سب لوگ بار بار عامر کو بہت خوش قسمت بھی کہتے جسکی بیوی نہ صرف بہت ذہین و فطین اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت خوش اخلاق تھی بلکہ بچوں کی طرح جاب پر عامر کا خیال بھی رکھتی تھی۔ کبھی اسکے لئے کام کے دوران کچن سے چائے بنا کر لا دیتی اور کبھی لنچ گرم کر کے ٹرے میں رکھ کر اسکے آفس میں رکھ آتی ۔ سب لوگ عامر کا مذاق اڑاتے تھے کہ ایمن تمھاری بیوی سے ذیادہ تمھاری بےبی سٹیر لگتی ہے۔ کتنے لکی ہو تم! کاش ہم کو و بھی ایسی بیوی مل سکتی لائف میں مگر امریکن کلچر میں یہ تو ناممکن ہے۔ عامر یہ سب سن کر خوشی سے پھولے نا سماتا اور بہت غرور سے اپنی پیاری بیوی کو دیکھتا جو اسکی پسند تھی اور کتنی قربانیاں دینے کے بعد اسکو ملی تھی۔ پورے خاندان کو ناراض کرنے کے بعد کہیں اسکو پا سکا تھا۔ اب وہ ڈھیروں خوشیاں ایمن کی گود میں بھر دینا چاہتا تھا اور پہلا ثبوت یہی تھا کہ اس نے ایمن کو اپنے آفس میں بالکل اپنی برابری کی سطح پرلا بٹھایا تھا اور اب پورے عالم میں ایمن کی شکل میں اسکی پسند کا ڈنکا بج رہا تھا اس لئے اسکا فخر کرنا اتنا بےجا بھی نہیں تھا ۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭ عامر نے ایمن کی وارڈروب امریکن کپڑوں سے بھر دی اور صبح شام اسے امریکن لہجے میں انگلش بولنا سیکھا رہا تھا۔ کھبی تو خود اسکو لڑکیوں والے کپڑے پہن کر اٹھنا بیٹھنا اور چلنا سیکھاتا اور کھبی کسی ماڈل کی طرح فائلیں پکڑے امریکن لہجے میں انگلش بول بول کر آداب گفتگو سمجھانے کی کوشش کرتا۔ کھبی ایمن سنجیدگی سے عامر کو سنتی اور کھبی اسکی ایسی حرکتوں پر ہنستے ہنستےلوٹ پوٹ ہو جاتی۔ ایک دن ایسے ہی صبح صبح جب ان دونوں کے علاوہ آفس میں ابھی کوئی بھی نہیں آیا تھا اور موقع سے فائدہ اٹھا کر وہ اسکو ایکہ ہاتھ میں فائل پکڑے اور دوسرے میں کافی کے کپ میں پانی بھر کے اس کپ کو بڑی ادا سے پکڑے آہستگی سے چلتے ہوئے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو مسکرا مسکرا کر گڈ مارننگ کہنا سیکھا رہا تھا کہ جذبات میں بظاہر سامنے نظر نا آنے والی شیشے کی دیوار کو خالی جگہ سمجھ کر دھم سے ٹکرا گیا اور کافی کے کپ والا سارا پانی بھی اسکے کپڑوں پر گر گیا اور خود بھی چاروں شانے چت ہو گیا۔ ایمن کو پہلے تو سمجھ نا آیا کہ اس بات پر ہنسے یا جا کر اسکو اٹھائے ۔ پہلے تو وہ جی بھر کے ہنستی رہی اور پھر جب عامر کی تکلیف کا احساس ہوا تو اسکو اٹھانےکے لئے بھاگی اور جب نیچے جھکی تو اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔ "عامر ! یہ مت بھول جانا کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم پاکستانی ہیں اور ہمیشہ پاکستانی ہی رہیں گے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسے ملک کے کپڑے پہنیں اور کونسے لہجے میں انگلش بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔"۔ جاری ہے
×