Jump to content
URDU FUN CLUB

Search the Community

Showing results for tags 'urdufunclub'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • ...::: U|Fun Announcements Club :::...
    • News & ­Announcements
    • Members Introduction
    • Complains & Suggestions
  • ...::: U|Fun General Knowledge Club :::...
    • General Knowledge
    • Cyber Shot (No Nude)
  • ...::: U|Fun Digital Library Club :::...
    • Own Writers Urdu Novels
    • Social New Writers Club
    • Urdu Poetry Ghazals Poems
  • ...::: U|Fun Buy and Sale Club :::...
    • Buy & Sale Your Products
  • ...::: U|Fun Adult Multimedia Club [Strictly For 18+] :::...
    • Users Chit Chat + (18)
    • Sex Advice with Doctors
    • Urdu Sexy Jokes Poetry
  • ...::: U|Fun Urdu Inpage & Pic Sex Stories Club Normal Standard :::...
    • Urdu Adult Inpage Stories
    • Roman Urdu / Hindi Sex Stories
    • Picture Stories (By UFC Writers)
    • Incomplete Stories (No Update)
  • ...::: U|Fun Premium Membership Subscribe Club :::...
    • Purchase VIP Membership
  • ...::: U|Fun High Standard Premium Club :::...
    • Pardes Serial Novel VIP Edition
    • Hawas Serial Novel VIP Edition
    • Aahni Grift Serial Novel VIP Edition
    • Kamran and Head Mistress VIP Edition
  • ...::: U|Fun Urdu Inpage & Pic Stories High Standard Paid Files :::...
    • Urdu Inpage Stories Paid Files
    • Urdu Picture Stories Paid Files
  • ...::: U|Fun Recycle Bin Club :::...
    • Recycle Bin

Categories

  • Urdu Sex Stories High Standard
  • Urdu Pic Stories High Standard

Product Groups

  • Golden Points Packages
  • Community Rank Packages
  • Free Files Bandwidth Packages
  • Paid Files Downloads Packages

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Found 59 results

  1. سائیکالوجی کا پریکٹیکل ہو رہا تھا! پروفیسر نے ایک چوہے کے لیے ایک طرف کیک رکھ دیا اور دوسری طرف چوہیا رکھ دی، چوہا فوراً کیک کی طرف لپکا، پروفیسر نے کیک کو بدل کر بریڈ رکھی تو چوہا بریڈ کی طرف لپکا، مختلف کھانے بدل بدل کر دیکھے مگر چوہا ہر دفعہ کھانے کی ہی طرف بھاگا- پروفیسر طلباء کی طرف سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بولا، بس ثابت ہو گیا کہ بھوک ہی سب سے بڑی کمزوری ہے- ""سر ایک دفعہ چوہیا بھی بدل کر دیکھ لیں، ہو سکتا ہے یہ اس کی بیوی ہو-"" کلاس روم کے آخری بنچ سے آواز آئی????
  2. بچپن اور لڑکپن میں بڑے شوق سے گندے گندے اشعار سنا کرتے تھے اس تھڑیڈ میں ادھر ادھر سے سنے سنائے گندے اشعار یا نظمیں شئر کی جائیں گی تو پہلی نظم حاضر خدمت ہے عرضِ حیات کا ہے ارمان بھوسڑی کا چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا وہ دیکھو اپنے اندر دو دو چڑھا رہی ہے ڈر ہے کہ ہو نہ جائے چالان بھوسڑی کا جب سے ہوئی ہے شادی معشوق کی کسی سے جینے کا نہیں کوئی ارمان بھوسڑی کا چوتیں بنی ربڑ کی اور پلاسٹک کے لنڈ کیا کیا بنا رہا ہے جاپان بھوسڑی کا اب چودا بھی جا رہا ہے مندروں کی جانب کیا ماں چدوا رہا ہے شیطان بھوسڑی کا وہ دیکھو چھت کے اوپر جوڑی بنا رہے ہیں اور ڈر ہے کہ آ نہ جائے بڑا بھائی بھوسڑی کا معشوق نے کہا ہے سگریٹ نہ پینا جانو گٹکا چبا رہا ہے عمران بھوسڑی کا وہ آئے ہمارے گھر میں ہمیں لنڈ خبر نہیں ہے یہ ماں چدوا رہا تھا چوکیدار بھوسڑی کا ہے رات بہت کالی گھر پہ سنبھل کے جانا رستے میں چھن نہ جائے موبائیل بھوسڑی کا گانڈ مارنے کا شوق تو ہم بھی رکھتے ہیں یہ کیا کام دیکھا رہا ہے پٹھان بھوسڑی کا لوڑے اپنے سنبھال لو میرے دوستوں ورنہ بس رہ جائے گا نام بھوسڑی کا اس نظم کی آڈیو ملاحظہ ہو
  3. *دَردِ کی تحریر* بابا بابا! تِین دِن رہ گئے ہیں قربانی والی عید میں۔ ہمیں بھی گوشت ملے گا نا؟ بابا، ہاں ہاں کیوں نہی بِالکُل ملے گا۔۔ لیکن بابا پچھلی عید پر تو کسی نے بھی ہمیں گوشت نہیں دیا تھا، اب تو پورا سال ہو گیا ہے گوشت دیکھے ہوئے بھی، نہیں شازیہ، اللہ نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھا، میری پیاری بیٹی، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیۓ حاجی صاحب قربانی کے لئے بڑا جانور لے کر آئے ہیں، اور مولوی صاحب بھی تو بکرا لے کر آئے ہیں، ہم غریبوں کے لیے ہی تو قربانی کا گوشت ہوتا ہے، امیر لوگ تو سارا سال گوشت ہی کھاتے ہیں، آج عیدالضحٰی پے مولوی صاحب بیان فرما رہے ہیں کہ قربانی میں غریب مسکین لوگوں کو نہیں بھولنا چاہئے۔۔ ان کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔۔ خیر شازیہ کا باپ بھی نماز ادا کر کے گھر پھنچ گیا، گھنٹہ بھر انتظار کرنے کے بعد شازیہ بولی۔۔ بابا ابھی تک گوشت نہیں آیا، بڑی بہن رافیہ بولی۔۔ چپ ہو جاٶ شازی بابا کو تنگ نہ کرو۔ وہ چپ چاپ دونوں کی باتیں سنتا رہا اور نظرانداز کرتا رہا۔۔ کافی دیر کے بعد بھی جب کہیں سے گوشت نہیں آیا تو شازیہ کی ماں بولی۔ سنیۓ میں نے تو پیاز ٹماٹر بھی کاٹ دیۓ ہیں۔ لیکن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا، کہیں بھول تو نہیں گۓ ہماری طرف گوشت بجھوانا۔ آپ خود جا کر مانگ لائیں، شازیہ کی ماں تمہیں تو پتہ ھے آج تک ہم نےکبھی کسی سے مانگانہیں ، اللہ کوئ نہ کوئ سبب پیدا کرے گا۔۔ دوپہر گزرنے کے بعد شازیہ کے اسرار پر پہلے حاجی صاحب کے گھر گئے، اور بولے حاجی صاحب۔ میں آپ کا پڑوسی ہوں کیا قربانی کا گوشت مل سکتا ہے؟ یہ سننا تھا کہ حاجی صاحب کا رنگ لال پیلا ہونے لگا، اور حقارت سے بولے پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں گوشت مانگنے، تڑاخ سے دروازہ بند کر دیا ۔۔ توہین کے احساس سے اسکی آنکھوں میں آنسو گۓ۔۔ اور بھوجل قدموں سے چل پڑا راستے میں مولوی صاحب کے گھر کی طرف قدم اٹھے اور وہاں بھی وہی دست سوال۔ مولوی صاحب نے گوشت کا سن کر عجیب سی نظروں سے دیکھا اور چلے گۓ۔ تھوڑی دیر بعدد باہر آۓ تو شاپر دے کر جلدی سے اندر چلۓ گۓ۔ جیسے اس نے گوشت مانگ کر گناہ کر دیا ہو۔۔ گھر پہنچ کر دیکھا تو صرف ہڈیاں اور چربی۔۔ خاموشی سے اٹھ کرکمرے میں چلے گئے اور خاموشی سے رونے لگ گئے۔ بیوی آئ اور بولی کوئی بات نہیں۔۔ آپ غمگین نہ ہوں۔ میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔۔ تھوڑی دیر بعد شازیہ کمرے میں آئ۔ اور بولی بابا، ہمیں گوشت نہںں کھانا ۔ میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ویسے بھی، یہ سننا تھا کہ آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے لیکن رونے والے وہ اکیلے نہیں تھے۔۔ دونوں بچیاں اور بیوی بھی آنسو بہا رہے تھے۔۔ اتنے میں پڑوس والے اکرم کی آواز آئ۔۔ جو سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا۔۔ انور بھائی، دروازہ کھولو، دروازہ کھولا تو اکرم نے تین چار کلو گوشت کا شاپر پکڑا دیا، اور بولا ، گاٶں سے چھوٹا بھائ لایا ہے۔ اتنا ہم اکیلے نہیں کھا سکتے۔ یہ تم بھی کھا لینا خوشی اورتشکر کے احساس سے آنکھوں میں آنسو آ گۓ ۔ اور اکرم کے لیۓ دل سے دعا نکلنے لگی۔ گوشت کھا کر ابھی فارغ ھوۓ ہی تھے کہ بہت زور کا طوفان آیا ۔ بارش شروع ہو گئ۔ اسکے ساتھ ہی بجلی چلی گئی۔ دوسرے دن بھی بجلی نہی آئی۔ پتہ کیا تو معلوم ہوا ٹرانسفارمر جل گیا۔ تیسرے دن شازیہ کو لے کرباہر آئے تو دیکھا کہ، مولوی صاحب اور حاجی صاحب بہت سا گوشت باہر پھینک رہے تھے ۔ جو بجلی نہ ہونےکی وجہ سے خراب ہو چکا تھا۔ اور اس پر کُتے جھپٹ رہے تھے۔ شازیہ بولی، بابا۔ کیا کُتوں کے لیۓ قربانی کی تھی؟ وہ شازیہ کا چہرہ دیکھتے رہ گیے ۔ اور مولوی اور حاجی صاحب نے یہ سُن کر گردن جھکا لی۔ خدرا احساس کریں غریب اور مسکین لوگوں کا۔ یہ صِرف تحریر ھی نہیں، اپنے آس پاس خود دار مساکین کی ضرورتوں سے ہمہ وقت آگاہ رھنے کی درخواست بھی ھے۔
  4. ایک-کہانی-بڑی-پرانی پرانے زمانے میں چین کے شمالی علاقہ میں ایک بوڑ ھا آدمی رہتا تھا۔ اس کے مکان کی سمت جنوب کی طرف تھی۔ اس بوڑ ھے آدمی کی مشکل یہ تھی کہ اس کے دروازے کے سامنے دو اونچے اونچے پہاڑ کھڑ ے ہوئے تھے ۔ ان پہاڑ وں کی وجہ سے سورج کی کرنیں اس کے گھر میں کبھی نہ پہونچتی تھیں ۔ ایک دن اس بوڑ ھے آدمی نے اپنے جوان بیٹوں کو بلایا اور کہا کہ آؤ ہم اس پہ...اڑ کو کھود کر یہاں سے ہٹادیں تاکہ سورج کی کرنیں ہمارے گھر میں بلاروک ٹوک داخل ہو سکیں ۔ بوڑ ھے آدمی کے پڑ وسی کو اس کا یہ منصوبہ معلوم ہوا تو وہ اس پر ہنسا۔ اس نے بوڑ ھے آدمی سے کہا: میں یہ جانتا تھا کہ تم ایک بے وقوف آدمی ہو لیکن مجھے یہ گمان نہ تھا کہ تم اتنے زیادہ بے عقل ہو گے ۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ تم اپنی کھدائی کے ذریعے ان اونچے پہاڑ وں کو یہاں سے ہٹادو۔ بوڑ ھے آدمی نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا: تمہارا کہنا درست ہے لیکن اگر میں مر گیا تو اس کے بعد میرے بیٹے اس کو کھودیں گے ۔ ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے ، اور پھر ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے ۔ اس طرح کھدائی کا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ تم جانتے ہو کہ پہاڑ آئندہ اور زیادہ بڑ ے نہیں ہوجائیں گے ۔ ہر مزید کھدائی ان کے حجم کو کم کرتی رہے گی۔ اس طرح آج کے دن نہیں تو کسی اگلے دن یہ مصیبت ہمارے گھر کے سامنے سے دور ہو چکی ہو گی۔ یہ کہانی بہت خوبصورتی کے ساتھ بتا رہی ہے کہ بڑ ی کامیابی کے لیے ہمیشہ بڑ ا منصوبہ درکار ہوتا ہے ۔ اگر آپ اس دنیا میں کوئی بڑ ی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بڑ ے منصوبہ کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے اور ان تمام تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے جو ایک بڑ ے منصوبے کو مسلسل چلانے کے لیے ضروری ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسائل کے مقابلہ میں ان کے حل کی طاقت زیادہ ہوتی ہے ۔ مسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں اور حل ہمیشہ لامحدود۔ اگر آپ حل کی ا سکیم کو نسل در نسل چلا سکیں تو آپ ہر پہاڑ کو کاٹ سکتے ہیں اور ہر دریا کو عبور کرسکتے ہیں۔ جو شخص لگاتار عمل کرنے کے لیے تیار ہو اس کے لیے کوئی پہاڑ پہاڑ نہیں اور کوئی دریا دریا نہیں ۔
  5. Hi frnds.Mai nay socha k yahan koi sexy se threads banaon to zehan mai aya k q na Cyber sex se related bnaon..so thora introduction de deti hun thread ka k krna kia hai.its so simple jesay k ap mai say akser log mobile pay ya chating mai sex krtay hain same wesay he krna hai is thread mai b...i think ap log smj gay hon gay mazeed smjany ki zarort ni......so jo jo participate krna chahay wo I M IN keh kr enter ho jay.... lesbian nd Gay pasnd krnay walay frnd b a sktay hain..... So m In nd looking for A partner jo start lay skay
  6. ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ ، ٭ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ/ ﮐﻨﻮﺍﺭﮮ ﭘﻦ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ٭ ﺍﮔﻼ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻨﺴﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ ٭ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ٭ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺮﺩ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﺟﻤﻠﮯ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻨﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺏ ﺫﺭﺍ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﯿﺠﯿﮯ : ٭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﮩﻠﯿﺎﮞ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ۔ ٭ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ٭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﺍﺏ ﮈﮬﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺭﯾﻞ ﮔﺎﮌﯼ ﻓﻮﺕ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔ ٭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﻌﺾ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﻏﺒﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯽ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻧﺎ / ﮔﮭﻮﻣﻨﺎ ﭘﮭﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﻌﺾ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﭼﮭﭩﮑﺎﺭﺍ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ۔ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ ﭘﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﺴﻞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻧﺎﺑﻠﺪ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﻏﻠﻂ ﻣﻔﺎﮨﯿﻢ ﻭ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﺼﻮﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺯﺩﻭﺍﺟﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻠﺒﯽ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﺯﺩﻭﺍﺟﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﻞ ﺍﺯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﯾﮑﺴﺮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﺳﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺗﺎ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺧﺮﯾﺪﻟﯽ ﻭﺭﻧﮧ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺫﻣﮯ ﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﻮﭨﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﮯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﮩﺎﺑﮭﯽ ) ﻡ۔ ﻣﮩﻢ ( ﺟﺐ ﮨﻢ ﺷﺎﺩﯼ ﯾﺎ ﺯﻭﺍﺝ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺘﺐ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺯﻭﺍﺝ ﯾﺎ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﯾﻮﮞ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻋﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﻋﻔﺖ ﻭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮔﯽ ﮐﺎ ﺣﺼﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻭ ﭘﺎﺋﯿﺪﺍﺭ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﻗﯿﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﻭ ﭘﯿﺎﺭ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﻣﺤﺾ ﺟﻨﺴﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﻓﮩﻤﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﻢ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﻠﯽ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮏ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺋﯿﺪﺍﺭ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻨﺖ ﺻﺮﻑ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺎﻝ، ﺣﮑﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭺ ﻭ ﻓﮑﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﻧﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﮐﮯ ﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻭ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
  7. MACHLI Aor LARKI Me Kya Farq He MACHLI pani se niklny k bad tarapti he Or LARKI pani K niklny se pehly tarapti he Veena Malik ka karachi k Machero se khitab.
  8. Secretary Roti Hui Apne Boss Ke Cabin Mein Aayi Aur Boss Se Puchha. Secretary: “Sir, Aap Mujhe Naukri Se Nikaal To Nahi Rahe?†Boss Hairan Hote Hue: “Nahi To, Tumhe Kisne Kaha?†Secretary: “Wo Aapne Cabin Se Sofa Aur Bed Hatwa Diya Na Isliye“
  9. شادی Ú©Û’ Ú©Ú†Ú¾ دن بعد بارش برسنے Ù„Ú¯ÛŒ WIFE: Ù†Ûانے Ú©Ùˆ دل Ú†Ø§Û Ø±Ûا ÛÛ’ HUSBAND: تم تو خود سراپا حسن ÛÙˆ بھیگ کر میرے جذبات کا امتحان نا لو After 5 Years WIFE: ا٠کتنے مزے Ú©ÛŒ بارش ÛÙˆ رÛÛŒ ÛÛ’ Ù†Ûانے Ú©Ùˆ دل چاÛتا ÛÛ’ HUSBAND: مسجد سے ØªØ®ØªÛ Ù…Ù†Ú¯ÙˆØ§ لوں ایک ÛÛŒ بار Ù†Ûا لینا
  10. مالکن Ú©ÛŒ Ù¾ÛŒ ایچ ÚˆÛŒ Ú©ÛŒ ڈگری دیوار پر Ù„Ú¯ÛŒ دیکھ کر هر روز نوکرانی توبه توبه کرتی تھی ایک دن مالکن Ù†Û’ پوچھ Ù‡ÛŒ لیا Ú©Ù‡ یه تم میری ڈگری دیکھ کر توبه توبه کیوں کرتی هو؟؟ بی بی جی دسیوں تک جاتے جاتے ماسٹر Ù†Û’ مجھے ٨٠بار چودا تھا میں سوچتی هوں Ú©Ù‡ ڈگری لینے تک اپ کا تو بÛت برا حال هوا هو گا
  11. Aurat Chappal Wali Dukaan Pe. Aurat: “Bhaiya, Ek Chappal Dikhao?†Dukandar: “Number Kya Hai?†Aurat: “36 Number†Dukandar: “Bhabhi Ji, Dimag Pe Zor Laga Ke Socho, Kya Lene Aayi Ho“
  12. مرد اور عورت کا Ø±Ø´ØªÛ Ø¨Ú¾ÛŒ عجیب Ûوتا ÛÛ’ دور رÛÙˆ تو جدائی اور پاس رÛÙˆ تو : : : : : : : لڑائی Ûاں Ûاں ÙˆÛ Ø¨Ú¾ÛŒ Ûوتا ÛÛ’ جو آپ سوچ رÛÛ’ ÛÙˆ
  13. میاں بیوی ہر سال عوامی میلے میں جایا کرتے تھے اور جب بھی بیوی ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے کی خواہش ظاہر کرتی۔ میاں فورا کہتا : "بیگم پانچ ہزار روپے لگیں گے اور تمہیں پتہ ہے پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔" ایک دفعہ میلے میں گئے تو بیگم بولی "میاں جی ۔ اب میں ستر سال کی ہوگئی ہوں۔ اگر اس دفعہ ہیلی کاپٹر کی سیر نہ کی تو شاید میری یہ خواہش کبھی پوری نہ ہو سکے" میاں پھر بولا " بیگم تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔" ہیلی کاپٹر کا کپتان ان کی باتیں سن رہا تھا۔ اسے خاتون پر ترس آیا اور ان سے بولا میں ایک شرط پر آپ کو ہیلی کاپٹر کی سیر کرا سکتا ہوں کہ آپ تمام راستے میں خاموش رہیں گے اور اگر کسی نے بھی منہ کھولا تو پانچ ہزار روپے دینے پڑیں گے۔" کپتان نے بوڑھے میاں بیوی کو ہیلی کاپٹر میں بٹھاتے ہی خوب کرتب کئے۔ ہیلی کاپٹر کو دائیں بائیں موڑا۔ جھٹکے دیے۔ الٹ پھیریاں لگوائیں۔ مگر وہ میاں بیوی کے منہ سے ایک بھی لفظ نہ نکلوا سکا۔ بالآخر جب کپتان زمین پر اترا تو اس نے بوڑھے سے کہا کہ آج تک میری ایسی چالوں کے نتیجے میں مسافر کچھ نہ کچھ ضرور بول کر شرط ہار جاتے ہیں اور پانچ ہزار روپے مجھے مل جاتے ہیں۔ لیکن میری ہزار کوشش کے باوجود آپ خاموش رہے، کیوں؟ بوڑھا بولا، " کیپٹن ۔ جب تم نے ہمیں بٹھا کر پہلا کرتب دکھایا تو میری بیوی باہر گر گئی مگر ميں خاموش رہا کیوں کہ تمہیں معلوم ہے پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔"
  14. کسی تجربہ گاہ میں ایک سائنس دان تتلی کے لاروے پر تجربات کررہاتھا۔ لاروا تتلی بننے کے آخری مراحل میں تھا۔ کچھ ہی دیر میں اس لاروے نے ایک مکمل تتلی کا روپ دھار لینا تھا۔ سائنس دان نے دیکھا کہ لاروے میں ایک سوراخ بن گیا ہے۔یہ خول کافی چھوٹا تھا۔ اتنا چھوٹا کہ تتلی کے لئے اس سے باہر آنا ممکن نہیں تھالیکن تتلی خوب زور لگاتے ہوئے اس سوراخ کے ذریعے باہر آنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ سائنس دان نے سوچا کیوں نہ میں اس تتلی کی مشکل آسان کرتے ہوئے اس سوراخ کو ذرا وسیع کردوں تاکہ تتلی آسانی سے باہر آسکے۔ اور اس نے ایسا ہی کیا۔ ایک آلےکی مدد سے اس نے لاروے کے خول میں سوراخ کو اتنا چوڑا کردیا کہ تتلی آسانی سے باہرآسکتی تھی۔ آخر کار تتلی ذرا سے دیر میں لاروے سے باہر آگئی۔ مگر .... سائنسدان کو اس وقت شدید حیرت ہوئی جب اس نے دیکھا کہ تتلی باوجود کوشش کے اڑ نہیں پارہی۔ حتیٰ کہ اس کے پر تک پورے نہیں کھل رہے۔ بظاہر ایسے عوامل نظر نہیں آرہے تھےجو تتلی کی اس معذوری کی وجہ ہوں۔ ایسی پریشانی کے عالم میں وہ سائنس دان تتلی کواپنے سنیئر سائنس دان کے پاس لے گیا اور سارا ماجرا سنا۔ سنیئر سائنس دان نےایک سرد آہ بھری اور کہا " رے نا وہی انسان کے انسان! .... اور دے دی نا اسے عمربھر کی معذوری ۔ جب تتلی لاروے سے باہر آنے کے لئے زور لگا رہی ہوتی ہے تو اس وقت چند مادے اس کے پروں میں سرایت کرجاتے ہیں۔ انہی مادوں کی وجہ سے تتلی کے پروں میں جان آتی ہے اور تتلی اڑنے کے قابل ہوجاتی ہے۔" زندگی بھی ایک ایسی ہی تتلی ے جو مشکلات کے لاروے میں بند ہے۔ مشکلات سے گزر کر ہی زندگی اپنے اصل مقصد کوپاتی ہے۔ تو اپنی کوشش جاری رکھئے اور دوسروں پر انحصار نہ کریں۔ آپ کی مشکلات، اللہ اور خود آپ کے سوا کوئی دوسرا دور نہیں کرسکتا.
  15. Dear Moderator, Super Moderator, Co Admin & Admin! Mera New Thread Hazir Hay. Ap Sb say itni guzarish hay ke isay joke section ya poem section main move mat kijye ga. just think ke yeh aik zarurat-e-rishta ka ad hay aur isi munasibat say isay Chit Chat main post kiya hay hope aap log bura nahi manayn gayn. han to females member is ko just thread na samjhna apni apni details ke saath reply zarur karna
  16. سبق آموز واقعہ شام کے وقت ڈرائیور ایک خالی وین دوڑائے چلا جا رھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک بابا جی سواری کے انتظار میں کھڑے ہیں اچانک گاڑی کے ٹائر چرچرائے اور گاڑی آھستہ ھوتے ھوئے سڑک کے ایک طرف کھڑی ھو چکی تھی.. بابا جی آگے بڑھے اور وین کا دروازہ کھول کر ڈرائیور سے پچھلی سیٹ پر آبیٹھے... “کہاں جانا ھے آپ کو بابا جی؟“ ڈرائیور نے گاڑی دوڑاتے ھوئے سوال کیا۔ “مجھے کہیں نہیں جانا ھے... صرف آپ کے پاس بھیجا گیا ھے مجھے.... میں موت کا فرشتہ ھوں...“ “ہاہاہا... خوب مذاق کرتے ھیں آپ بھی بابا جی۔“ ڈرائیور نے قہقہہ لگایا... تھوڑی دیر بعد ڈرائیور کو سڑک کے کنارے دو عورتیں کھڑی نظر آئیں۔ ایک نے وین کو رکنے کا اشارہ کیا۔ ڈرائیور نے گاڑی روک دی۔ وہ خوش تھا کہ چلو گھر جاتے ھوئے کچھ پیسے بن جائیں گے... اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو عورتیں بابا جی سے پچھلی سیٹ پر جا بیٹھیں... باجی! کہاں جانا ھے آپ کو؟“ ڈرائیور نے سٹیرنگ سنبھالتے ھوئے کہا۔۔ “ہمیں حیات نگر جانا ھے“ ایک عورت نے جواب دیا... ٹھیک ھے باجی... اور بابا جی اب آپ بھی بتا ھی دیں کہ آپ کو کہاں جانا ھے“ ڈرائیور نے گاڑی چلاتے ہوئے کہا.. “میں آپ کو بتا تو چکا ھوں کہ میں موت کا فرشتہ ھوں... عزرائیل... اور یہ کہ تمھاری موت گاڑی میں لکھی ھوئی ھے... مجھے اور کہیں نھیں جانا۔“ “ہاہاہاہا... ویگن میں ایک بار پھر قہقہہ بلند ھوا... “سنو سنو باجی! یہ بابا جی کہتے ھیں کہ میں موت کا فرشتہ ھوں... ہاہاہا...“ ڈرائیور نے خواتین کو مخاطب کر کے قہقہہ لگایا اور گاڑی مزید تیز کردی۔ “موت کا فرشتہ؟ بابا جی؟ کون بابا؟ کون موت کا فرشتہ؟ یہاں تو کوئی بھی نھیں ھے۔۔۔“ عورتوں نے حیرت سے جواب دیا۔۔ “ آپ دیکھو تو سہی... میرے پیچھے جو سفید کپڑے پہنے بابا جی بیٹھے ھیں... آپ سے اگلی سیٹ پر“ ڈرائیور نے دھیان سے گاڑی چلاتے ھوئے کہا... “ نہیں تو ادھر تو کوئی بابا جی نہیں ہے..... آپ مذاق کر رہے ھیں...“ عورتوں نے کہا تو ڈرائیور کا رنگ فق ھو گیا اس نے گاڑی روک دی... اب جو چپکے سے پیچھے دیکھا تو بزرگ کی آنکھوں سے وحشت ٹپک رھی تھی... جب کہ دونوں عورتیں بےنیاز ھو کر اپنی باتوں میں مگن تھیں... ڈرائیور خوفزدہ ھو گیا اور ڈر کے مارے کانپنے لگا... “تیری موت اسی گاڑی میں لکھی ھوئی تھی... اب وقت آن پہنچا ہے...“ موت کے فرشتے نے سرد لہجے میں کہا اور ڈرائیور کی طرف اپنا بھاری بھرکم ھاتھ بڑھا دیا... گاڑی میں ایک زوردار چیخ بلند ھوئی... ڈرائیور نے گاڑی کا دروازہ کھولا قریبی کھیتوں میں جاتی ھوئی پگڈنڈی پر دوڑ لگادی... دوڑتے ھوئے اچانک اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو موت کا جعلی فرشتہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گاڑی بھگا کے لے جا رھا تھا، جب کہ پیچھے بیٹھی خواتین کے قہقہے بلند ھو رہے تھے... اور ساتھ ھی وکٹری کی علامت بنائی جارھی تھی... ڈرائیور اب موت کے فرشتے کی ساری حقیقت سمجھ چکا تھا.... بےچارا سڑک کے کنارے خالی ھاتھ مل رھا تھا... (تو جناب! اس طرح بھی لوٹنے کی واردات ھو سکتی ھے... دھیان رکھیے گا)
  17. ہیلپ لائن:? السلام علیکم۔ دس از ہیلپ لائن کسٹمر: مجھے یہ بتائیے کہ میں?اس پروگرام کو کیسے انسٹال کروں۔ یہ میرے نئے موبائل فون کے ساتھ آیا ہے۔مجھے صرف تھوڑی سی رہنمائی چاہئے۔ مجھے پہلے سے کافی معلومات ہیں۔ میں?کمپیوٹرڈیپارٹمنٹ میں?کام کرتا ہوں۔ ہیلپ لائن: سب سے پہلے سر آپ اس پروگرام کی سی ڈی کو کمپیوٹر میں?لوڈ کریں۔ اور پھر “مائی کمپیوٹر“کو کھولیں۔ کسٹمر:?یہ آپ کیا کہ رہے ہیں؟میں?کیسے آپ کے کمپیوٹر کو کھول سکتا ہوں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلپ لائن:?ابھی آپ اپنا پاس ورڈ لکھیں۔ اے بڑے حروف میں، ایف چھوٹے حروف میں اور پھر سات کا ہندسہ۔ کسٹمر:?جی میں?سمجھ گیا۔ ویسے کیا یہ سات کا ہندسہ بھی بڑے حروف میں لکھنا ہے یا چھوٹے میں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ کسٹمر:?میں?انٹر نیٹ سے منسلک نہیں?ہو سک رہا۔ یہ پاس ورڈ کا مسئلہ دیتا ہے۔ ہیلپ لائن: جی کیا آپ کو یقین ہے کہ پاس ورڈ درست ہے؟ کسٹمر: جی، میں?نے اپنے دوست کو یہی پاس ورڈ لکھتے دیکھا تھا۔ ہیلپ لائن:?جی کیا مجھے وہ پاس ورڈ بتائیں گے؟ میں لسٹ سے چیک کر کے بتاتی ہوں۔ کسٹمر: پانچ بار ستارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسٹمر: ایک بہت بڑا مسئلہ ہو گیا ہے۔ میرے دوست نے مجھے ایک سکرین سیور انسٹال کر کے دیا ہے۔ویسے تو یہ صحیح کام کرتا ہے مگر جونہی ماؤس ہلاتا ہوں، وہ غائب ہو جاتا ہے۔
  18. اَن مِٹ قرض ایک بیٹا پڑھ لکھ کر بہت بڑا آدمی بن گیا. والد کی وفات کے بعد ماں نے ہر طرح کا کام کر کے اسے اس قابل بنا دیا تھا. شادی کے بعد بیوی کو ماں سے شکایت رہنے لگی کہ وہ ان کے اسٹیٹس میں فٹ نہیں ہے. لوگوں کو بتانے میں انہیں حجاب ہوتا کہ یہ ان پڑھ ان کی ماں - ساس ہے. بات بڑھنے پر بیٹے نے ایک دن ماں سے کہا - "ماں .. میں چاہتا ہوں کہ میں اب اس قابل ہو گیا ہوں کہ کوئی بھی قرض ادا کر سکتا ہوں. میں اور تم دونوں خوش رہیں اس لیے آج تم مجھ پر کئے گئے اب تک کے سارے اخراجات سود سمیت ملا کر بتا دو. میں وہ ادا کر دوں گا. پھر ہم الگ الگ سکھی رہیں گے. ماں نے سوچ کر جواب دیا -"بیٹا _ حساب ذرا لمبا ہے، سوچ کر بتانا پڑے گا. مجھے تھوڑا وقت چاہیے." بیٹے نے کہا - "ماں .... کوئی جلدي نہیں ہے. دو - چار دنوں میں بات کرنا." رات ہوئی، سب سو گئے. ماں نے ایک لوٹے میں پانی لیا اور بیٹے کے کمرے میں آئی. بیٹا جہاں سو رہا تھا اس کے ایک طرف پانی ڈال دیا. بیٹے نے کروٹ لے لی. ماں نے دوسری طرف بھی پانی ڈال دیا. بیٹے نے جس طرف بھی کروٹ لی .. ماں اسی طرف پانی ڈالتی رہی تو پریشان ہو کر بیٹا اٹھ کر كھيج کر بولا کہ ماں یہ کیا ہے؟ میرے بستر کو پانی پانی کیوں کر ڈالا ...؟ ماں بولی -"بیٹا، تونے مجھ سے پوری زندگی کا حساب بنانے کو کہا تھا. میں ابھی یہ حساب لگا رہی تھی کہ میں نے کتنی راتیں تیرے بچپن میں تیرے بستر گیلا کر دینے سے جاگتے ہوئے كاٹي ہیں. یہ تو پہلی رات ہے اور تو ابھی سے گھبرا گیا ..؟ میں نے تو ابھی حساب شروع بھی نہیں کیا ہے جسے تو ادا کر پائے. " ماں کی اس بات نے بیٹے کے دل کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا. پھر وہ رات اس نے سوچنے میں ہی گزار دی. شاید اسے یہ احساس ہو گیا تھا کہ ماں کا قرض کبھی نہیں اتارا جاسکتا
  19. ابا! آج آپ نہیں ہیں میں بہت دیر سے سر جھکائے اپنے کام میں مصروف تھی۔ میرا سارا دھیان صرف اور صرف اپنے سامنے رکھے کاغذوں پہ تھا کہ اچانک ایک آواز نے مجھے ڈسٹرب کیا۔۔ ٹپ ٹپ ٹپ۔۔ میں نے بار ہا اپنا سر جھٹک کر واپس اپنے کام میں مصروف ہونے کی ناکام کوشش کی ۔۔۔ ۔ ٹپ ٹپ ٹپ۔۔۔ ۔ یہ کیسی آواز ہے؟ کہاں سے آ رہی ہے؟ میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔۔ یہ آواز تو کہیں پاس سے ہی آ رہی تھی۔ میں اٹھ کر کھڑکی کی طرف بڑھی کہ باہر جھانک کر دیکھوں ۔ ارے یہ آواز تو کھڑکی پر پڑنے والے بارش کی بوندوں کی ہے۔ میں نے جھٹ سے کھڑکی کھولی اور اپنی ہتھیلیوں کو جوڑ کر بارش کی بوندوں کو جمع کرنے لگی۔ میری یہ بےساختہ حرکت مجھے بہت سال پیچھے لے گئی۔ سردیوں کا موسم، بارش زوروں پر اور ۔۔۔ ۔۔ ایک چھوٹی سی بچی اپنے بابا کا ہاتھ تھامے بارش کی بوندوں کو جمع کرنے کی ضد کر رہی ہے۔ بابا ہنستے جا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیٹا! بارش کو کبھی کوئی مٹھی میں قید کر سکتا ہے کیا؟ پانی نے تو بہہ جانا ہے۔ اور میرا بچہ بھیگ کر بیمار ہو جائے گا، کوئی اور کھیل کھیلتے ہیں۔ لیکن وہ بچی آنکھوں میں آنسوؤں لیے ایک ہی ضد کیے جا رہی ہے کہ اس نے بارش کے ان قطروں کو پکڑنا ہے۔ اور آخرکار اس کے بابا اس کی اس ضد کے آگے ہار مان لیتے ہیں اور اس کا ہاتھ پکڑ کر گارڈن میں لے جاتے ہیں، جہاں وہ اپنے چھوٹے سے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو جوڑ کر پانی جمع کے اپنے بابا پر اچھال دیتی ہے، ہر بار ایسا کرتے ہوئے اس کی ہنسی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ بابا اور میں، بارش کو کتنے سال ایسے ہی انجوائے کرتے رہے، وقت گزرتا رہا اور ۔۔۔ کیا وقت اتنا جلدی بیت جاتا ہے۔ آج وہی بارش ہے، اُسی کمرے کی وہی کھڑکی ہے، کھڑکی پر گرنے والی بارش کی بوندوں کی آواز بھی ویسی ہی ہے، میں بھی ہوں پر ایک کمی ہے۔۔۔ بابا! آج آپ نہیں ہیں۔۔
  20. باپ رات کو دیر سے گھر لوٹ آیا۔ مسلسل کام کرنے کی وجہ سے تھکاوٹ اور چڑچڑاپن محسوس کر رہا تھا۔ اس کا کم سن بیٹا اس کے انتظار میں دروازے کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ باپ کے بیٹھتے ہی بیٹے نے کہا ابو! کیا میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟ ہاں بیٹا! کیوں نہیں، پوچھو۔ ابو آپ ایک گھنٹے میں کتنا کماتے ہو؟ باپ نےغصے سے کہا یہ سوچنا تمہارا کام نہیں۔ اس طرح کا سوال تمہارے ذہن میں آیا کیسے؟ بیٹا بولا بس یوں ہی، میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ ایک گھنٹے میں کتنا کما لیتے ہو؟ باپ: اگر تم ضروری جاننا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے۔ (سوچتے ہوئے) 500 روپے۔ بیٹا: او ہو۔۔۔ ۔ (کہتے ہوئے مایوسی سے اپنا سر جھکا لیا پھر اچانک اس کے ذہن میں کوئی بات آئی تو اس نے سر اٹھا کر کہا ابو! کیا آپ مجھے 250 روپے قرض دو گے؟ باپ کا پارا ایک دم چڑھ گیا۔ "کیا تم مجھ سے صرف اس وجہ سے پوچھ رہے تھے کہ کسی گھٹیا کھلونے یا اس طرح کی دوسری چیزیں خریدنے کے لیے مجھ سے قرض مانگ سکو تو بہتر یہی ہے کہ جاؤ اپنے کمرے میں اور بستر پر سو جاؤ۔ اس طرح کی چھچھوری حرکت کرتے ہوئے تمہیں ذرا بھی احساس نہیں ہے کہ تمہارا باپ ایک گھنٹے میں اتنے پیسے کتنی مشکل اور خون پسینہ بہا کر حاصل کرتا ہے۔" بیٹا خاموشی سے مڑا اور اپنے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا۔ باپ صوفے پر بیٹھ گیا۔ ابھی تک غصے سے بیٹے کے اس حرکت کے متعلق سوچ رہا تھا کہ کیوں اسے مجھ سے اتنے پیسے مانگنے کی ضرورت پڑ گئی؟ گھنٹے بھر بعد جب اس کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا پڑ گیا تو دوبارہ سوچنے لگا۔ ہو سکتا ہے کہ اسے کسی بہت ضروری چیز خریدنا ہے جو کہ مہنگا ہوگا اس لیے مجھ سے اتنے پیسے مانگ رہا تھا۔ ویسے تو اس نے کبھی مجھ سے اتنے پیسے نہیں مانگے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے وہ بیٹے کے کمرے کی طرف بڑھا اور دروازہ کھولا اور پوچھا کیا تم سو گئے بیٹا؟ بیٹا اٹھ کر بیٹھ بیٹھا اور کہا نہیں ابو! جاگ رہا ہوں۔ باپ: مجھے لگتا ہے کہ میں نے تم سے کافی سختی سے پیش آیا۔ دراصل آج میں نے بہت سخت اور تھکا دینے والا دن گزارا ہے۔ اس لیے تم پر ناراض ہو گیا۔ یہ لو 250 روپے۔ بیٹا (خوشی سے مسکراتے ہوئے): بہت بہت شکریہ ابو! واؤ۔ ایک ہاتھ میں پیسے لے کر دوسرے ہاتھ کو اپنے تکیے کی طرف بڑھایا اور جب اپنا ہاتھ تکیے کے نیچے سے نکالا تو اس کی مٹھی میں چند مڑے تڑے نوٹ دبے ہوئے تھے۔ دونوں پیسے باہم ملا کر گننا شروع کیا۔ گننے کے بعد باپ کی طرف دیکھا۔ باپ نے جب دیکھا کہ بیٹے کے پاس پہلے سے بھی پیسے ہیں تو اس کا غصہ دوبارہ چڑھنا شروع ہو گیا۔ باپ: جب تمہارے پاس پہلے ہی سے اتنے پیسے ہیں تو تمہیں مزید پیسے مانگنے کی کیوں ضرورت پڑ رہی ہے؟ بیٹا: دراصل میرے پیسے کم پڑ رہے تھے لیکن اب پورے ہیں۔ اب میرے پاس پورے 500 روپے ہیں۔ (پیسے باپ کی طرف بڑھاتے ہوئے) ابو! میں آپ سے آپ کا ایک گھنٹہ خریدنا چاہتا ہوں۔ پلیز کل آپ ایک گھنٹہ پہلے آ جائیے گا تاکہ میں آپ کے ساتھ کھانا کھا سکوں۔ باپ سکتے میں آ گیا۔ بانہیں پھیلا کر بیٹے کو آغوش میں لے لیا اور گلوگیر آواز سے اس سے اپنے رویہ کی معافی مانگنے لگا۔ ذرا سوچئے! کہیں ایسا تو نہیں کہ زندگی کی روزمرہ کی بھاگ دوڑ میں آپ بھی اپنے بچے یا دوسرے گھر والوں کو وقت نہ دے پا رہے ہوں؟
  21. میر ی یا داشت کے کِسی خانے میں اِس سے زیادہ وسیع میدان کا منظر نہیں تھا۔تا حدِّ نِگاہ سر ہی سر نظر آ رہے تھے۔جی ہاں میں میدانِ حشر میں کھڑا تھا۔مرد و زن کی اکثریت خُود کلامی کے اَنداز میں اپنیے سر جھٹک رہی تھی۔میں بھی دِل ہی دِل میں اپنی دُنیا میں گُزری زندگی کا جائزہ لیے جا رہا تھا۔مُجھے اپنے کندھے کُچھ ہلکے محسوس ہو رہے تھے کیونکہ کِراماً کاتبین یعنی میرے دائیں اور بائیں کندھوں پر متعیّن فرشتے بھی آج پہلی بار میرے پہلو میں کھڑے تھے۔یہ دیکھ کر میں پُھولے نہیں سما رہا تھا کہ میرے دائیں ہاتھ پہ کھڑے فرشتے کے سامنے مُجھ سے متعلق کھاتوں کا ایک انبار لگا تھا۔میرے لئے یہ منظر کُچھ زیادہ غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ میں نے دُنیاوی زندگی حتی المقدور شریعت کے مطابق گُزاری تھی۔ میرے بائیں ہاتھ پہ کھڑے فرشتے کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کاپی تھی جس سے میرے لیے یہ اَخذ کرنا کُچھ زیادہ مُشکل نہیں تھا کہ میرے صغیرہ کبیرہ گُناہوں کی تعداد بہت کم تھی۔مُجھے اپنی کامیابی یقینی نظر آ رہی تھی لیکن حتمی نتیجہ سامنے آنے کا اِنتظا ر ضروری تھا۔اچانک ایک عجیب واقعہ ہوا۔اُس ہجوم میں سے ایک فرشتہ نمودار ہوا اور اُس نے ایک رجسٹر میرے بائیں ہاتھ والے فرشتے کے سامنے رکھ دیا۔شش و پنج میں مُبتلا میں اِس کی وجہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک اور اجنبی فرشتے نے 2 رجسٹر میرے بائیں ہاتھ والے فرشتے کے سامنے رکھ دیے۔اور پھر یہ سِلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔فرشتے آتے رہے اور میرے بائیں ہاتھ پر کھاتوں کا ایک پہاڑ کھڑا ہوتا چلا گیا۔میرے اندر احتجاج کا ایک طُوفان مچلنے لگا۔میں نے بائیں ہاتھ والے فرشتے کو مُخاطب کرتے ہوئے حیرت سے پُوچھا جناب یہ سب کیا ہے؟اِن کھاتوں میں کِس کے گناہ ہیں۔جناب یہ سب بھی آپ کے گُناہ ہیں۔فرشتے نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔لیکن اِن میں ہے کیا؟میری آواز کافی بلند تھی۔جناب یہ آپ کی طرف سے بھیجے گئے گندے،غلیظ،اورفحاشی پھیلانے والے sms ہیں۔میرے پاؤں کے نیچے سے زمین سرک چُکی تھی۔میں نے جب اپنے حافظے پر زور دیا تو یاد آیا کہ میں تو صِرف ایک ہی جِگری دوست کو اِس طرح کےMessages فارورڈ کیا کرتا تھا۔اگر یہ میر ے ہیں تو آپ نے کیوں نہیں لِکھے؟یہ دُوسرے فرشتے کیوں لا رہے ہیں؟میں نے احتجاجی لہجے میں فرشتے سے پُوچھا۔جی آپ جو Messageفارورڈ کیا کرتے تھے وہ میری اِس کاپی میں درج ہیں۔لیکن آپ جِس دوست کو فارورڈ کیا کرتے تھے اُس کے پاس 300 دوستوں کا پُورا گروپ تھا۔آپ کا بھیجا ہوا Message وہ اپنے گروپ کو فارورڈکرتا تھا اور اُس گروپ کا ہر ممبر اپنے گروپ کو۔اس طرح یہ سفر اُس وقت تک چلتا رہتا جب تک وہMessage پُرانا نہ ہو جاتا۔آج وہ سب آپ کے فارورڈ کیے ہوئے Message واپس آپ کو فارورڈ کر رہے ہیں اِسی لئے آپ کے بائیں ہاتھ کھاتوں کے پہاڑ کا حُجم لمحہ بہ لمحہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔مُجھے اپنے جسم کے ہر مسام سے پسینے کے چشمے پُھوٹتے صاف محسوس ہو رہے تھے۔مین نے بھی خُود کلامی کے اَنداز میں اَپنا سر جھٹکنا شُروع کر دیا۔اَچانک میرا سر کِسی سخت چیز سے ٹکرایا۔درد کی ایک تیز لہر میرے سر میں دوڑ گئی۔میرا سر اپنے لکڑی کے بیڈ کے سرہانے سے ٹکرایا تھا۔ میں پسینے میں شرابور اپنے بیڈ پر پڑا تھا۔رات کے تین بج رہے تھے۔میں نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اُٹھایا۔اِس وقت بھی میرے دوستوں کی طرف سے فارورڈ کئے گئے 13 عدد Message میری توجہ کے مُنتظر تھے۔
  22. یقین کامل ایک کوہ پیما سخت سردی کے موسم میں برف کے پہاڑ کے اوپر چڑھ رہا کہ رات ہوگئ پر وہ رکا نہیں اور اپنی چڑھائی جاری رکھی۔ اس بار جب اس نے اپنا کُندہ برف میں پھنسانا چاہا تو وہ صحیح طرح سے پھنس نہ سکا اور وہ اپنے ہی زور میں رسی پکڑے کئ فٹ نیچے آگیا۔ اب حالت یہ تھی کہ وہ زمین اور آسمان کے درمیان اس طرح معلق ہوگیا کہ اگر اسی طرح لٹکا رہتا تو سردی سے ٹھٹر کے مر جاتا۔ اسی حالت میں وہ بڑے لجاحت سے خدا سے دعا کرتا ہے۔ آسمان سے آواز آتی ہے کیا تجھے مجھ پہ کامل یقین ہے؟ وہ جواب دیتا ہے یقیناً مجھے تیری ذات پہ مکمل بھروسہ ہے۔ آواز آتی ہے کہ تو پھر اپنی رسی کاٹ دے۔ وہ تذبذب کا شکار ہوتا ہے پر رسی کاٹنے سے انکار کردیتا ہے۔ صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک کوہ پیما سردی سے ٹھٹر کے مرگیا ہے اور زمین سے صرف دو فٹ اوپر ہے۔ کیا ہمیں بھی ایسا یقین ہے ؟؟؟
×