Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Administrator

فیس بک پر ہمدردی کے اظہار کے لئے ایک نیا بٹن

Recommended Posts

فیس بک پر ہمدردی کے اظہار کے لئے ایک نیا بٹن
 

facebook-thumb-sympthy-590x615.png
فیس بک کے بارے میں خبر ہے کہ وہ تعزیت ، ہمدردی یا دکھ کے اظہار کے لئے sympathy بٹن پر کام کرتی رہی ہے۔ اس وقت فیس بک صارفین کو صرف لائک کا بٹن میسر ہے۔ جس کا استعمال ہر اسٹیٹس پر بہت نامناسب ثابت ہوسکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی صارف اپنی اسٹیٹس اپ ڈیٹ میں والدین کے انتقال کی خبر لگائے اور اس کے دوست اسے لائک کریں تو یہ صورت حال کافی خفگی پیدا کرسکتی ہے۔ اس لئے اکثر صارفین اسٹیٹس پر تبصرہ کرکے اپنے دکھ یا تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
فیس بک صارفین کا ایک عرصے سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ فیس بک لائک کےبٹن کے ساتھ ناپسندیدگی کے اظہار کے لئے بھی کوئی بٹن مہیا کرے۔ لیکن فیس بک نے اب تک ایسے کسی بٹن کو شامل کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے۔
facebook-thumb-sympthy-287x300.pngسمپتھی بٹن کے بارے میں علم كمپیشن ریسرچ ڈے کے دوران اس وقت ہوا جب ایک شائق نے سوال و جواب کے سیشن کے دوران سوال پوچھا کہ اگر کوئی فرد کسی کے عزیز کے انتقال کی اطلاع کو لائک کرے تو یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ کیا فیس بک اس میں کوئی تبدیلی کرے گا؟اس کے جواب میں فیس بک کے انجینئر ڈین موریئلو نے کہا کمپنی کے ایک دوسرے انجینئر نے فیس بک ہیک اوتھون کے دوران سمپتھی بٹن کا منصوبہ پیش کیا تھا جو صارفین کو کسی اسٹیٹس کو لائک کرنے کے بجائے اس پر ہمدردی کا اظہار کرنے کی سہولت دیتا تھا۔
فیس بک نے اس سمپتھی بٹن کو عام کرنے کا فی الحال کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا۔ لیکن یہ بات دلچسپ ہے کہ فیس بک میں کی جانے والی اکثر تبدیلیاں ہیک اوتھون کے دوران پیش کئے گئے آئیڈیاز کی بدولت ہی ہوتی ہیں۔ لہذا یہ امید کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں شاید کبھی فیس بک یہ سمپتھی بٹن عام کردے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے گولڈ  ممبرز اور ماسٹر ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے  گولڈ اور ماسٹر سیکشن میں  پوسٹ کی جا رہی ہے۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...