Jump to content
URDU FUN CLUB
lund4phuddies

رابعہ چُد گئی دو لوڑوں سے

Recommended Posts

رابعہ چُد گئی دو لوڑوں سے

کہانی بیان کرنے والی: رابعہ انصاری  
تحریر۔۔ اور کسی کی نہیں صرف  اور صرف۔۔۔ آپ کے پیارے راجہ شاہی کی۔۔ ہی ہی ہی ہی۔۔
مٹھ مارنے نہ بیٹھ جانا ری پلائی ضرور دینا

 

میں ان دنوں اپنے چچا کے یہاں آئی ہوئی تھی. میں ایم اے کی طالبہ تھی. چچا بزنس کے سلسلے میں کچھ دنوں کے لیےاسلام آبادگئے ہوئے تھے. چاچی کے گھر پر ٹیوشن پڑھاتی تھی. چاچی کا نام صائمہ تھا. ان کی عمر 35 سال کی تھی. اس کے پاس کالج کےدو طالب علم پڑھنے آتے تھے. سراج اور ندیم نام تھا ان کا. دونوں ہی 20 - 21 سال کے تھے. مجھے پہلے دن سے ہی وہ ہائے ہیلو کرنے لگے تھے. ان سے میری جلد ہی دوستی ہو گئی تھی. اوپر کا کمرہ خالی تھا سو صائمہ انہیں وہیں پڑھایا کرتی تھی.

ایک بار جب صائمہ ٹیوشن پڑھا رہی تھی تب میں کسی کام سے اوپر کمرے میں گئی. جیسے ہی میں کمرے کے پاس پهچي تو مجھے سسکاری کی آواز سنائی پڑی. میں ہوشیار ہو گئی. تبھی مجھے دوبارہ ہیلو کی آواز سنائی پڑی. مینے دھیرے سے كھڈكي سے جھانک کر دیکھا. وہ لڑکے صائمہ کی چونچیاں دبا رہے تھے. صائمہ نے پینٹ کے اوپر سے ہی ایک کا لنڈ پکڑ رکھا تھا. صائمہ بار بار لذت سے سسکاریاں بھر رہی تھی. میں دبے پاؤں پیچھے ہٹ گئی اور نیچے اتر آئی.

میرے سارے جسم میں سنسنی پھیل گئی تھی. میں اپنے کمرے میں آکر بستر پر لیٹ گئی. میری ساںسیں تیز چل رہی تھی. میرے من میں بےچینی بھرنے لگی تھی. مجھ سے رہا نہیں گیا ...... میں پھر سے دبے پاؤں اوپر گئی ... میں نے پھر سے جھانک کر دیکھا ... مجھے پسینہ چھوٹنے لگ گیا. کمرے میں تمام ننگے تھے ... سراج نے اپنا لنڈ صائمہ کی چوت میں ڈال رکھا تھا ... اور طبیعت سے چود رہا تھا ...... ندیم نے اپنا لنڈ صائمہ کے منہ میں دے رکھا تھا ... میں پھر نیچے آ گی .. میری چوت بھی گیلی ہو چکی تھی ... میں اپنی چوت دبا کر بیٹھ گی. میں بھی جوان تھی ... میرے پاس بھی جوانی کا مکمل خزانہ تھا. میرے من میں بھی چدوانے کی تیز خواہش اٹھنے لگی. میری چونچیاں سخت ہونے لگی ... جوانی کا جوش ہلکورے مارنے لگا۔

میں من مار کر کمرے سے باہر نکل آئی ... پاس کی دکان سے اپنا موبائل ريچارج کروانے لگی. جب میں واپس آئی تو ان کا پروگرام ختم ہو چکا تھا. سراج اور ندیم جانے کی تیاری میں تھے. مجھے دیکھ کر کر وہ دونوں ہی مسكرايے، میں نے بھی انہیں ترچھی نگاہوں سے مسکرا کر دیکھا. وہ دونوں چلے گئے اور میں صائمہ کی قسمت پر جل اٹھی ... جو کہ دو جوان لوڑوں کی مالکن تھی. میرے من میں ہلچل ہو رہی تھی .... من پوری طرح بے چین تھا ...... مجھ سے صائمہ کی چدائی برداشت نہیں ہو پا رہی تھی.

رات کے قریب 10 بج رہے تھے .... میں نے کمرے کی لائٹ بند کر دی اور سونے کے لئے لیٹ گئی. پر نیند کہاں تھی؟ رہ رہ کر صائمہ کی چدائی کی یاد آ رہی تھی. میں نے اپنی پینٹی اتاری، رات کو میں برا نہیں پہنتی تھی. میں نے سوچا کہ چوت میں انگلی کر کے جھڑ جاتی ہوں ...... پر مجھے اسی وقت باہر کچھ آواز آئی ... میں نے دروازے سے جھانک کر دیکھا تو سراج اور ندیم صائمہ کے کمرے کی طرف جا رہے تھے. میں نے اپنے کمرے کے دروازے کے سوراخ میں آنکھیں گاڑ دیں، یہ دروازہ چچا کے کمرے میں کھلتا تھا، اور سننے کی کوشش کرنے لگی. مجھے یہ سن کر حیرانی ہوئی کہ صائمہ ان دونوں کے ساتھ میری چدائی کا پروگرام بنا رہی تھی .. کیسے ..؟

وہ تینوں میرے کمرے کی طرف آنے لگے. میں بھاگ کر اپنے بستر پر آ کر لیٹ گی. مجھے لگا کہ وہ تینوں میرے کمرے کے باہر آگئے ہے ...... تبھی میرے کمرے کا دروازہ کھلا ... میں نے دیکھا صائمہ پہلے مزہر آئی ... پھر دونوں ان کے پیچھے پیچھے آئے ....... میں نے سونے کا بہانہ کیا. ندیم نے دروازہ مزہر سے بند کر دیا. مگر تینوں میرے ساتھ کیا کریں گے ...... کیا عصمت دری ... یعنی میری چدائی ... میرا دل خوشی کے مارے اچھلنے لگا ... بغیر کچھ مانگے دل کی مراد پوری ہو جائے تو ... پھر اوپر والے کا شکریہ کرو .... میرا سوچنا بالکل صحیح نکلا. سراج نے لائٹ جلا دی ... مجھے دیکھ کر ان دونوں کے منہ میں پانی آ گیا. میں نے پینٹی اور برا ویسے بھی نہیں پہن رکھی تھی. سکرٹ بھی رانوں سے اوپر آ چکا تھا. مزہر سے میری چوت جھلک تھی.

سراج نے بستر پر پاس بیٹھ کر میری چھوٹی سی قمیض کو اوپر کر دیا. میرے ننگی چونچیاں اس کے سامنے تنی ہوئی کھڑی تھی. میرے جسم میں سنسنی بھر آیا ... مجھے لگ رہا تھا کہ میری چونچیاں پکڑ کر مسل دے ... لیکن اس نے بڑے پیار سے میرے پستان سہلايے ... میری نوکوں کو ہولے ہولے سے پکڑ کر مسلتے ہوئے گھمایا. اتنے میں ندیم نے میرے سکرٹ کو اونچا کر کے میری چوت ننگی کر دی. اچانک مجھے میری چوت پر گیلاپن لگا ...... ندیم کی زبان سے تھوک میری چوت پر ٹپکا کر اسے چاٹ لیا تھا ...... میں تڑپ اٹھی ... پر مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا. صائمہ نے میرے دونوں ہاتھ اوپر کس کر پکڑ لیے. ندیم نے میری ٹاںگے چیر کر پھیلا دی. اور میری ٹانگوں کے بیچ میں آ گیا. اب مجھے لگ گیا کہ میں چدنے والی ہوں ...... تو میں نے ڈرامہ شروع کر دیا ...... میں نے جاگ جانے کا ناٹک کیا ...

"ارے یہ کیا ...... چھوڑ دو مجھے ......... چاچی ..."

"چپ ہو جا ... کتیا ... مزے لے اب ..."

"چاچی ... نہیں پلیز ......"

اتنے میں ندیم کا لنڈ میری چوت میں گھس گیا. دل میں مستی چھا گئی. چوت کو لنڈ مل گیا تھا ... تیز گدگدی سی اٹھی.

"ندیم .. یہ کیا کر دیا تو نے .. مجھے چھوڑ دے ...... مت کر ناں ... مادرچود .."

"رابعہ رانی ... ایسی مست جوان لڑکی کو تو چدنا ہی پڑتا ہے ... دیکھ كيسی ٹائیٹ چوت ہے ... اب ہم تیری بہن چود دیں گے." ندیم مست ہو کر بولا.

سراج میرے چوچیوں کو چوس رہا تھا ... صائمہ نے خود کے کپڑے اتار پھینكے ... وہ پوری نںگی ہو گی. ہم سب کو پتہ تھا کہ پروگرام کامیاب ہو چکا ہے. صائمہ نے سراج کی پینٹ اور قمیض اتار کر اسے ننگا کر دیا. ندیم پہلے ہی نںگا ہو چکا تھا. چاچی مجھے سمجھا رہی تھی

"دیکھ رابعہ ... لنڈ تو تیری چوت میں فٹ ہو ہی گیا ہے ... مزہ لے لے ... ناں '

"چاچی ... پلیز ... مت کرو نہ ... دیکھو میں مر جاؤں گی ..." میں نے پھر ڈرامہ کیا. چاچی نے میرے ہونٹ چومتے ہوئے کہا

"اچھا ... دو منٹ کے بعد چھوڑ دیں گے ... مزا نہیں آئے ... تو نہیں صحیح ... بس"

چاچی سمجھ چکی تھی ... کہ میں یوں ہی اوپر سے کہہ رہی ہوں اور واقعی میں مجھے مزا آ رہا ہے.

"ندیم ... مت کرو ...... اسے اچھا نہیں لگ رہا ہے ... چلو میری ماں چود دو ..."

ارے یہ کیا ہو گیا ... میں نے فورا نرد اضطراری ......

"چاچی ... تم بڑی خراب ہو ... ایک دم حرامن ... ماں کی لوڑي"

میں نے نیچے سے ندیم کو نیچے سے چوتڑ اچھال کر ایک تیز دھکا دیا .... اور سراج کا لنڈ پکڑ کر اپنے منہ میں ڈال دیا. میری پُھرتي دیکھ کر دونوں کو مستی آ گئی. دونوں سسکاریاں بھرنے لگے. چاچی نے سراج اور ندیم کو روک دیا.

"اب دیکھو کوئی زبردستی نہیں کرنا ہے ... یہ مادرچود تو ... رابعہ راضی ہے ..."

وہ دونوں بستر پر بیٹھ گئے ... میرے بچے ہوئے جسم کے کپڑے بھی اتار دیے. پھر صائمہ اُن دونوں کو بتانے لگی کہ انہیں کیا کرنا ہے ... میں نے اپنی بات رکھ دی، "پہلے ندیم کو میرے پر چڈھنے دو ... اس کا لنڈ میری چوت میں رہنے دو ... پھر بات کرو ..."

"چلو ندیم تم رابعہ کو چود ڈالو ... سراج تم مجھے چودو ... پھر تبدیل کر لیں گے ..."

ندیم مجھ سے لپٹ گیا ... مجھے بری طرح سے چومنے چاٹنے لگا ... اس نے فورا مجھے گھوڑی بنایا ... اور اپنا کڑک لنڈ میری گانڈ پر مارنے لگا. تو ندیم اب میری گانڈ چودیگا. میری گانڈ میں اس نے ڈھیر سارا تھوک لگایا اور لنڈ کو چھید پر رکھ کر مزہر دبا کر گھسا دیا ... اس کا لال سپادہ پھڑک سے مزہر گھس گیا. میں مزے سے نہال ہو گئی ... دوسرے دھکے میں نصف لنڈ مزہر تھا ... تیسرا دھکا لنڈ کو مکمل جڑ تک لے گیا ...... گانڈ میں نے کئی بار چدائی تھی ... اس لئے مجھے اس میں بہت مزا آتا ہے ... اس کی گانڈ میں فںسا ہوا موٹا سا لنڈ مجھے بہت ہی مزہ دے رہا تھا. ندیم اب دھیرے دھیرے دھکے تیز کرنے لگا ... ادھر سراج اور صائمہ میرے ساتھ ہی آ گئے ... شاید سراج کو میں زیادہ پسند آ رہی تھی ... سراج نے میری چونچیاں پکڑ کر دبانی شروع کر دیں ... صائمہ  بھی اپنے فن دکھانے لگی ... اس نے اپنی دو انگلیوں کو میری چوت میں گھسا دیا. میرے منہ سے مزہ کی ہنسی اور سسکاریاں نکلنے لگی. ندیم کی دھکے مارنے کی رفتار تیز ہو گئی تھی ... اس کے منہ سے لذت آمیز سسکیاں تیز ہو اٹھی تھی. میرے چوتڑ اپنے آپ اچھلے جا رہے تھے. مجھے ایسے گانڈ مروانے میں بڑا مزہ آتا تھا. ندیم کے دھکے بڑھنے لگے .. اس کا جسم اكڑنے لگا.

اچانک صائمہ نے میری چوت سے دونوں انگلیاں نکال دی اور ندیم کے دونوں چوتڈوں کو کس کس کے دبانے لگی. تبھی ندیم کے لنڈ نے میری گانڈ کے اندر ہی اپنا لاوا تیزی سے چھوڑ دیا. صائمہ اسکی چوتڑوں کو دباتي ہی رہی جب تک کہ اس کا پورا لاوا نہیں چھوٹ گیا. تب سراج نے اس کی جگہ لے لی. سراج بستر پر لیٹ گیا اس کا کھڑا لنڈ میری چوت کو دعوت دے رہا تھا ... میں سراج پر چڑھ گئی اور اس کے لنڈ کو براہ راست چوت پر ٹکا دیا ... اور پھر ہولے سے لنڈ پر دبا دیا ...

"آہ ...... چد گئی رے ... چاچی .."

"چد جا ... رابعہ ... تیری قسمت اچھی ہے کہ پہلی بار میں ہی تجھے دو دو لنڈ بغیر کچھ محنت کیے ہی مل گئے ...... چد جا چھنال اب ..."

"چاچی ...... آئی لو یو ...... آپ کے دل کی بات جانتی ہیں ... آپ بڑی حرامن ہیں ..." میری بات سن کر صائمہ مسکرا اٹھی ...

"اب چدنے میں دل لگا ... رنڈي مزا آئے گا ..."

"ہیلو چاچی ...... چد تو رہی ہوں ناں ... دیکھو نا کس طرح موٹے تگڑے جوان لنڈ ہیں ... میری تو ماں چود دیں گے یہ"

اب ندیم نے صائمہ کے پستان پکڑ لیے ... اور لنڈ صائمہ کی گانڈ میں گھسانے لگا ... وہ پھر سے تیار ہو چکا تھا. صائمہ ہنس کر بولی - "دیکھا ندیم کو ... گانڈ مارنے میں ماہر ہے ...... اسے صرف گانڈ مارنا ہی اچھا لگتا ہے ..."

میں اب سراج پر لیٹ گئی تھی ... سراج نیچے سے چدائی کا مزہ لے رہا تھا. میں اوپر سے اسے زبردست جھٹکوں سے چود رہی تھی. میری گانڈ سے ندیم کا ویرے نکل کر اس کے لنڈ کو تر کر رہا تھا.

"میرے راجا ... ہائے ...... کیا لنڈ ہے ... میری چوت پھاڑ دے ... بادشاہ ..."  یہ کہتے ہوئے اس کے کھلے ہوئے منہ میں میں نے اپنا منہ چپکا دیا ... میرے تھوک سے اس کا چہرہ گیلا ہو گیا تھا .. پر میں اسے چاٹے جا رہی تھی. مجھے کچھ بھی ہوش نہیں تھا. میرا پورا زور اس کے لنڈ پر تھا. فچ فچ کی مدھر آوازیں ماحول کو اور سیکسی بنا رہی تھی. چوت کے دھکوں سے فچ فچ کہ آواز کے ساتھ منی کے چھيٹے بھی اچھل رہے تھے. ادھر ندیم صائمہ کی گانڈ چودنے میں لگا تھا.

اچانک سراج نے انگڑائی لی .. اسکا لنڈ كڑكنے لگا ... بے حد ٹائیٹ ہو گیا ... اسکا چہرہ لال ہو گیا ... دانت بھنچ گئے ......

"میں گیا ...... رانی ...... نکلا ... ہائے...... گیا ...."

میں نے دھکوں کی رفتار بڑھا دی ... اپنی چوت ٹائیٹ کر لی ......... اور میرا بھی نکلنے کو تیار ہو گیا. میں نے چوت ٹائیٹ کر کے دو دھکے کھینچ کے مارے ...... تو اس کی اور میری لذت کی گہرائیاں ہر حد کو  پار کر گئیں- "بادشاہ ...... میں تو پوری چد گی ......... گئی میں تو ...... نکلا میرا  بھی... ہائے ..."

ادھر سراج کو جھٹکے لگنے شروع ہو گئے تھے ... اسکا لنڈجھٹکے مار مار کر پچکاری چھوڑ رہا تھا. میں بھی جھڑنے لگی تھی ...... ہم دونوں نے ایک دوسرے کو کس کر پکڑ لیا. ہمارا مال نکلتا رہا .... اب ہم پورے جھڑ چکے تھے. ہم ایسے ہی پڑے سستاتے رہے ... پھر میں بستر پر سے اتر گئی.

ندیم بھی جھڑنے والا تھا. اس کا لنڈ صائمہ کی چوت چود رہا تھا. مے اور سراج نے فورا ان کی مدد کی ... صائمہ کے چوچیوں کو میں نے کھینچنا اور مروڈنا چالو کر دیا. سراج نے ندیم کے چوتڑوں کوزور زور سے دبانے لگا ... صائمہ اچانک آہستہ سے چیخ اٹھی ... "رابعہ ... چھوڑ میری چوچي کو ...... میں گئی ...... ہائے ... بس کر ندیم ..."

پر ندیم تو عروج پر پهنچ گیا تھا ... چوتڑوں کے دباتے ہی اس کا لنڈ برس پڑا ...... سارا لاوا صائمہ کی چوت میں بھرنے لگا. میں نے ندیم کے چوتڑوں کو تھپتھپايا ... اور پیار کر لیا ...

سراج، میں، صائمہ وہیں بستر پر لیٹ گئے .. اور باتیں کرنے لگے. میں بولی - "چاچی ...... آج تو کس کر چد گئی ... تھینك یو ... چاچی."

"میں نے تجھے دیکھ لیا تھا ... پھر جب دوسری بار آئی تو مجھے سمجھ گی ... کہ تو چدنا چاہتی ہے ..."

"چاچی ... جب معلوم تھا تو وہیں پکڑ کر کیوں نہیں چود دیا ..."

"نہیں رابعہ رانی ... بغیر تڑپ کے ... چدائی کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہے ..."

"نہیں چاچی ...... آپ مجھے پکڑ کے چدوا دیتی ... تو بھی مجھے چدنا تو تھا ہی ناں"

"اور اب چدنے میں مزید مزا آیا نا ں"

"ہاں ... ہائے چاچی ......... من شانت ہو گیا ... چوت کی کھجلی مٹ گئی ..."

ندیم اور سراج بستر کے ایک کونے میں ننگے پڑے ہی خراٹے بھر رہے تھے ... ہم دونوں بھی نہ جانے کب باتیں کرتے کرتے سو گئے تھے ...

 

ختم شُد

  • Like 5

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_emo_furious.gif" alt="x-(" /> 

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_emo_timebomb.gif" alt=":timebomb:" />  >:/ 

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_emo_skip.gif" alt=":jump:" />

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×