Jump to content
URDU FUN CLUB
lund4phuddies

فرامینِ راجہ

Recommended Posts

پیارے سجنوں اور سجنیوں
آج ہم آپ کے لیے اپنے گرو 

راجہ لنڈ مہاراج

 کی زندگی سے کچھ انمول فرامین لے کر حاضر ہوئے ہیں۔۔

امید ہے پسند آئیں گے۔
ہاں تو ہمارے گرو 
راجہ لنڈ مہاراج فرما گئے ہیں کہ


بھگت جنوں۔۔ اور پیاری پیاری سُندریوں

میں نے اپنے جیون کال میں یہ پانچ باتیں سیکھیں ہیں ۔

لنڈ چوت سے کبھی وفادار نہیں ہوتا
عزت صرف کنواری چوت کی ہے چُدی ہوئی چوت کی نہیں
غریب کو کوئی چوت نہیں ملتی
لنڈ جس کے اندر داخل ہو وہی اُس کو نچوڑ لیتا ہے
لوگ اچھی صورت کے بجائے اچھی چوت کو ترجیح دیتے ہیں

اور اس کے علاوہ۔۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ۔۔


چوت اور بھوک پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہ کرو

لنڈ اور ٹھنڈ کبھی بھی لگ سکتے ہیں

گانڈ اور جھانٹ ہمیشہ صاف رکھو

ممے اور پھدی ہمیشہ دبا کے رکھو

موتنے سے پہلے اور موتنے کے بعد ہمیشہ مُٹھ ضرور مارو

مہینہ کے سترہ دن چوت اور باقی دن گانڈ مارو

عورت کی جانگھیں اور مرد کی بھانچیں کبھی بھی پھیل سکتی ہیں

لنڈ پہ چوت، شریر پر بھوت اور زمین پر مُوت، اپنا راستہ خود بناتے ہیں

سیدھا ہو یا ٹیڑھا، پتلا ہو یا موٹا، لمبا ہو یا چھوٹا، جائےگا تو صرف چوت میں ہی۔

شادی کی سہاگ رات اور بارش میں پریمی کا ساتھ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

 

 

 

  • Like 6

Share this post


Link to post
Share on other sites


راجہ لنڈ مہاراج

 کے انمول فرامین کا سلسلہ جاری ہے

اُسی میں سے ایک بہترین انتخاب

راجہ لنڈ مہاراج

 کی ایک انمول غزل

جب بھی چاہیں اک نئی چوتڑ کھجا لیتے ہیں لوگ
ایک پھدی میں کئی لوڑے پھنسا لیتے ہیں لوگ


چود بھی دیتے ہیں دبا کر اپنے مطلب کے لیے
پیدا ہوجائے جو بچہ، نظریں چُرا لیتے ہیں لوگ

خود لذتی کی انہیں عادت سی شاید پڑ گئی
مصنوعی چوت ربڑ کی لنڈ پہ چڑھا لیتے ہیں لوگ


ہے بجا انکی شکایت لیکن اس کا علاج کیا
چوتیں خود اپنے ہی ہاتھوں پھدے بنا لیتے ہیں لوگ

ہو خوشی بھی اُن کو حاصل یہ ضروری تو نہیں
لنڈ چُھپانے کے لیے چوت میں گھسا دیتے ہیں لوگ


اس قدر لذت ہے اُن کو چوت کے اس کام سے
روز لنڈ اپنا کہیں وہ چوت میں دے آتے ہیں لوگ

یہ بھی دیکھا ہے کہ جب آتا ہے چُدنے کا مقام
لڑکی کی ٹانگوں کو اپنے کندھے پہ اٹھا لیتے ہیں لوگ


چوت پھدی ان کا دھرم ہے روک مت انکو راجہؔ
لنڈ کھجاتے ہیں یہ اپنا، تیرا کیا لیتے ہیں لوگ

  • Like 6

Share this post


Link to post
Share on other sites

امیزنگ راجہ ۔۔۔۔کمال کا لکھا ہے۔۔۔پڑھ کر مزہ آ گیا۔۔۔بہت دنوں بعد تمہاری پوسٹ پڑھنے کو ملی۔۔۔اگر ہو سکے تو تم اس تھریڈ کو اپڈیٹ کرتے رہو۔۔۔شکریہ


  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Admin

Kachi

Aur

KD

aap sb ka shukria Farameen e Raja ko pasand krnay ka

 

Admin Sb.. is ko ap ki khwahish ka lehaz krty howay main update krta rahoon ga...

 

aur Kachi Sb.. ap Jameel Noori Nastaleeq fonts install kr lijye to phr ap ko problem nahi hogi.

 

Thanks Alots Once Again

and Keep Visiting

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہماری خواہش کا لحاظ کرنے کا بہت شکریہ۔۔۔۔۔عرض کیا ہے !۔


 


اب تو اتنی بھی میسر نہیں نسل بڑھانے میں 


بہا دیا کرتے تھے جتنی ہم غسل خانے میں


  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

wah admin ji.. ye howi na baat.. aakhir kharboozay ko dekh kr kharboozay nay rang pakard hi liya na..

 

 

very nice and great thoughtss waqi.. aaj kal to logo ko itni bhi mayassar nahi... thts really wonderfull sach main

 

hansi ruknay ka naam nahi le rahi...

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_biggrin.png" alt=":D" srcset="https://urdufunclub.win/uploads/emoticons/biggrin@2x.png 2x" width="20" height="20" /> :D

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_biggrin.png" alt=":D" srcset="https://urdufunclub.win/uploads/emoticons/biggrin@2x.png 2x" width="20" height="20" />

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

ونڈر فل راجہ ۔۔۔۔کمال لکھا ہے تم نے۔۔ہو سکے تو مزید بھی لکھو،،،،،شکریہ


  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک نظم پیش خدمت ہے۔۔ نظم کا عنوان ہے


تیری چوت پھٹنے تک


 


تیری گانڈ ،تیرے ہونٹ اور تیری چوت پھٹنے تک


گھُسا پاؤں گا میں کیا لنڈ  تیری چوت پھٹنے تک


 


میرا لنڈ پھدیوں میں گھُس کے لوڑا بن گیا تو کیا


تیری گانڈ میں گھُسے گا میرا لنڈ تیری چوت پھٹنے تک


 


مجھے معلوم تھا کب یہ، ہمیں ایسے چُدانا ہوگا


تجھے تو میرا لنڈ لینا تھا آکر کو اپنی چوت پھٹنے تک


 


تیری تو چوت میں ہر دفعہ بس کشش اتنی سی تھی


ایک میرا لوڑا کھینچ لیا تو نے اپنی چوت چُدنے تک


 


جو چودتا ہوں تو پھر آسان نہیں مجھ سے بچ پانا


گانڈ بھی پھاڑ کے رکھ دیتا ہوں تیری چوت  پھٹنے تک


 


سوچتا ہوں  اپنا کلام بند کر دوں اے راجہؔ  لنڈ فارپھدیز


کہ کتنی چوتیں اور چُدیں گی  ایک ایک چوت پھٹنے تک


  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

دور رہنے کے لیے


 روز مٹھ لگا لیتا ہوں اُس سے دور رہنے کے لیے


سوتے میں نُنّو دبا لیتا ہوں اُس سے دور رہنے کےلیے


 


چاہ کر بھی وہ میرے خیالوں سے نکل نہیں پاتی


لنڈ کی ماں چود دیتا ہوں اُس سے دور رہنے کے لیے


جب جب خیال آتا ہے کہ ماروں اُس کی پھدی راجہؔ


تبھی پچکاری چھوڑ دیتا ہوں اُس سے دور رہنے کےلیے

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

جنہیں ہم چوودنا چاہیں                                        وہ اکثر روٹھ جاتے ہیں


 


جنہیں ہم چوودنا چاہیں وہ اکثر روٹھ جاتے ہیں


بھلا ہو اِس چُدا ئی کا،  کہ لنڈ جو چوت میں جاتے ہیں


۔۔۔۔


چُدائیں کس طرح اُن کو کبھی لی تھی جو جھانٹوں سے


کبھی لی تھی جو جھانٹوں سے


ٹپک جاتے ہیں جب لوڑے، ٹپک جاتے ہیں جب لوڑے


تو اُن کو خوب سُناتے ہیں


جنہیں ہم چوودنا چاہیں وہ اکثر روٹھ جاتے ہیں


۔۔۔۔۔


کسی کی چوت کے لب تھے  یا گلاب کی پنکھڑی تھی


گلاب کی پنکھڑی تھی


جہاں کی تھی کبھی چُدائی، وہ بستر یاد آتے ہیں


جنہیں ہم چوودنا چاہیں وہ اکثر روٹھ جاتے ہیں


۔۔۔۔۔۔۔۔


رہے اے پھدی تو   چُدتی ، یہی کہتا ہے لنڈ میرا


رہے اے پھدی تو   چُدتی ، یہی کہتا ہے لنڈ میرا


جنہیں قسمت میں چُدنا ہے، جنہیں قسمت میں چُدنا ہے


وہ چُد کر یاد آتے ہیں۔۔


جنہیں ہم چوودنا چاہیں وہ اکثر روٹھ جاتے ہیں


  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×