Jump to content
URDU FUN CLUB
DR KHAN

Pakistan mein sex

Recommended Posts

ان دنوں ایک بڑی گرما گرم سیکس کی گفتگو چل رہی ہے جس میں فائزہ،ایڈمن اور ینگ ہارٹ نے بڑے جوش سے حصہ لیا۔


میں نے سوچا کہ اسی گفتگو کو اس سیکشن میں ایک الگ تھریڈ کے طور پر بھی چلایا جائے تاکہ تمام اکٹھا ہو سکے۔


موضوع تھا کہ پاکستان میں سیکس۔


اس پر خاصی باتیں ہوئیں۔


اب میں نے سوچا کہ اسے ذرا آرگنائز کیا جائے۔


اس تھریڈ میں قارئین اس پر اپنے رائے دیں،بحث و مباحثہ کریں اور تجربات شئیر کریں۔


 


زیر بحث لانے کے لیے جوپوائنٹس جو میرے ذہن میں ہیں ،وہ ہیں کہ


پاکستان میں کس عمر میں لڑکیاں سیکس کرتی ہیں؟


شادی سے پہلے کیا تناسب ہوتا ہے،دس میں سے کتنی ہوتی ہیں؟


کس پس منظر اور گھریلو ماحول کی لڑکیاں سیکس کی طرف جلدی راغب ہوتی ہیں؟


 کس طبقے کی لڑکیاں زیادہ راغب ہوتی ہیں؟


سوچ اور سمجھ کے فرق سے کیا تبدیلی آتی ہے؟


معاشی حالت سے کیا اثر ہوتا ہے؟


کس علاقے کی لڑکیاں زیادہ ہوتی ہیں؟


کس قسم کے خاندانی سیٹ اپ،ماڈرن،لبرل،اوپن،پردہ دار،سخت،انتہا پسند وغیرہ کی لڑکیاں ہوتی ہیں؟


خواندگی اور شعور کا کیا عمل دخل ہوتا ہے؟


لڑکی کی اپنی شخصیت کے کون سے پہلو اسے اس چیز پر مجبور کرتے ہیں؟


کس قسم کی صحبت یا میل ملاپ اس کا باعث بنتا ہے؟


ٹیکنالوجی اور میڈیا کا کیا رول ہے؟


سکول کالج اور دیگر اداروں کا کیا رول ہے؟


والدین کا کیا رول ہے؟


بھائی بہنوں کے کردار کا کتنا اثر ہوتا ہے؟


رشتہ داروں اور ملازموں کا کتنا حصہ ہے؟


ان تمام نکات کے علاوہ جس کے ذہن میں مزید نکات آئیں وہ یہاں پوسٹ کرے۔


 


یہ نکات اس لیے شئیر کیے کہ اس میں جس جس پوائنٹ پر کسی کا تجربہ ہے وہ شئیر کر سکتا ہے۔


انہی نکات اور تجربات کی بنیاد پر ہم اگلی کہانیوں کے مواد کو اکٹھا کریں گے۔ 


  • Like 8

Share this post


Link to post
Share on other sites

زبردست تھریڈ سٹارٹ کیا ہے

سبھی سوالات بہت اہم ہیں - جس پر سب کو سوچنا چاہیے، اپنے مشاہدے اور تجربات شئر کرنے چاہییں

 

جیسے میری فیلنگز یہ ہیں کہ اگرچہ ہمارے معاشرے میں بے راہ روی بڑھ رہی ہے - لیکن اس کا وہ تناسب نہیں ہے جو سیکس کہانیاں پڑھ کر لگتا ہے

 

اگر ایک ٹین ایج لڑکی کو اکسا کر، وقت سے پہلے اس کا تجسس بڑھا کر بہکا دیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ لڑکی پہلے سے ہی خراب تھی اور ترسی ہوئی تھی

کسی کو بہکانا ، فریب دے کر غلط راہ پر لگانا زیادہ آسان ہے کیونکہ گناہ کے کام زیادہ پرکشش اور خوشنما ہوتے ہیں

یہی اگر بہکانے والا ماحول درست ہوجائے - مواقع مشکل کردیے جائیں تو زیادہ تر لڑکیاں غلط کار نہیں ہوتیں

 

 

ہاں ہم اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ یہ تناسب پچھلے دس سالوں میں خاصا زیادہ ہوا ہے

 

اور اگلے دس سالوں میں ہم کہاں ہونگے --- کچھ کہنا مشکل ہے --- ہر نئی جنریشن پچھلی سے دو چار قدم آگے نکل رہی ہے
 

  • Like 7

Share this post


Link to post
Share on other sites

 آپ کا کہنا بجا ہے کہ کہانیوں میں جو تناسب بیان کیا جاتا ہے وہ بےانتہا زیادہ ہوتا ہے۔


دراصل کہانی ہوتی ہی اسی  انسان یا واقعے کی ہے جو عام حالات سے ہٹ کر ہوتا ہے۔


جس لڑکی نے سیکس نہیں کیا،کبھی اس معاملے میں پڑی نہیں وہ کہانی لکھنے کے لائق ہی نہیں۔


کہانی اسی کی بنے گی جو یا تو سیکس کر چکی ہے،وہ بھی بڑے غیرمعمولی انداز میں یا پھر اس نے غیرمساعد حالات میں بھی عصمت کی حفاظت کی۔


ایک چیز جو میں یہاں بیان کرنا چاہوں گا کہ جنریشن گیپ کی بات آپ نے درست کی۔


جو معلومات ہمارے بچوں کے پاس ہیں وہ ہمارے پاس نہیں۔


اس میں سیکس کی نالج بھی شامل ہے۔


جیسا کہ آپ کو معلوم نہیں ہو گا کہ محلے کی کس کس بچی کا کس کے ساتھ چکر ہے مگر اس بچی کے ساتھ کے ٹین ایجرز کو خوب پتا ہو گا۔جب میں بچہ تھا تو محلے کی اچھی بری ہر لڑکی کا پتا تھا،سکول کی ہر بچی کے پتا تھا۔اب محلے کے کسی بندے کی خبر ہی نہیں،بچیوں کی دور کی بات ہے۔


میری ایک بڑی پرانی عادت ہے کہ جو بھی بچی سیٹ ہوئی یا اس سے دوستی ہوئی خوب کرید کرید کر معلومات نکالیں۔


اس نے پہلی بار سیکس کہاں دیکھا،سنا،کیسے پتا چلا،کس کے ذریعے پتا چلا،کس کے ساتھ کیا،کیسے کیا،کیوں کیا؟ تمہارے اردگرد کیا ماحول ہے،تمہاری سہیلی نے کیسے کیا،سہیلی کی سہیلی نے کیسے کیا؟  


یہ سب معلومات دراصل ایک انسائیکلوپیڈیا بن جاتی ہیں اور انسان کو حالات کا صحیح اندازہ ہو جاتا  ہے۔


فورم کے ہی ایک دوست نے اپنے محلے کی داستان سنائی کہ ایک غریب  بیوہ کی تین بیٹیاں تھیں۔ ایک صاحب حیثیت بندے نے بڑی بیٹی سے بیاہ رچایا اور باقی دو کو یونہی چودتا رہا۔


بیوہ مجبور تھی اور تینوں بیٹیاں ایک ہی بندے کے چنگل میں چدتی رہیں۔


بڑی بیس بائیس کی تھی جبکہ چھوٹی شاید سترہ اٹھارہ کی اور سب سے چھوٹی پندرہ سولہ کی۔ بیوہ مجبور اور کمزور تھی اس بندے کو روک نہ سکی تو تینوں کو برباد ہوتا دیکھتی رہی۔ یہ کوئی افسانہ نہیں ،اصل


حقیقت ہے جو اسی دنیا کی ہے،جس کا کوئی ریکارڈ نہیں،کہیں درج نہیں۔کوئی ویڈیو یا سیلفی نہیں۔


کوئی بھی لڑکی یا بچی بری نہیں ہوتی،یہاں تک کہ سیکس کر لینے والی بھی بری نہیں ہوتی۔اصل چیز وہ حالات ہیں جو اسے بستر تک لے جاتے ہیں۔


اس تھریڈ میں ہم وہ حالات بھی زیرغور لائیں گے جن کے بعد لڑکی سیکس کے لیے راضی ہو جاتی ہے۔ابتدا اسی سے کرتے ہیں۔


سوال یہ ہے کہ وہ کون کون سے عوامل ہیں جو ایک نیک اور شریف لڑکی کو بہکا کر سیکس کی طرف لے جاتے ہیں۔


  • Like 10

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

بچہ تو فطرت پر ہی پیدا ہوتا ہے

حالات اور ماحول اس کی شخصیت بناتے ہیں

غالبا ََ ماحول، مواقع اور کلچر اکثریت کے کریکٹر پر اثر انداز ضرور ہوتے ہے، کلچر میں اگر کوئی غلط بات کو غلط ہی نہ سمجھے تو بہکنےکے چانسز اور بھی زیادہ

چلیں اگر کوئی پکی عمر میں گناہ کرتا ہے - تو اس کو مورد الزام ٹھہرانا پھر بھی جائز ہو گا

لیکن 14، 15 یا 16 سال کی لڑکی - یہ تو بالکل کچی عمر ہے

 

ایک پہلو تو اس راہ پر چلنے کا یہ ہے کہ

آج کل کے ڈرامے، فلمیں، گانے، شاعری کسی محبوب کے ہونے کا شوق پیدا کردیتے ہیں،  کہ کوئی شاہ رخ یا سلمان خان ہو، محبت بھری باتیں کرے، گھمائے پھرائے، رومانٹک گانے گائے، تارے توڑ کر لانے کے وعدے کرے

یہ سب چیزیں لڑکی اپنے والدین کے ساتھ ہی دیکھ رہی ہوتی  ہے اور کسی کے نزدیک غلط بھی نہیں - کسی کو سروکار نہیں کہ اس کے ذہن پر کیا اثرات ہیں

رابطے آجکل ہیں ہی بہت آسان، موبائل انٹر نیٹ تک سب کی رسائی ہے

 اگر کسی لڑکی کو اس کی کچھ سہیلیاں یا کزنز اسے اپنے افیئر کے بارے میں گلیمرس اور پر کشش انداز میں بتائیں گی

اور ماں کی بجائے اس سہیلی سے سیکس کی تفصیلات ملیں گی تو بہت ہیجان انگیز اور گمراہ کن ہوسکتی ہیں

لڑکی جتنی بھی معصوم اور اچھی ہو - 14، 15 سال کی عمر میں لڑکوں کو دیکھ کر اس کے دل میں چاہے جانے اور پیار محبت کی خواہش تو مچل سکتی ہے

میرے خیال میں عموما لڑکیاں رومنٹک ہوتی ہیں - ان کے دل میں تو سچی اور آفاقی محبت والی خواہش ہی ہوتی ہے

یہاں وہ اس لڑکے پر اعتبار کرنے کو تیار ہوجاتی ہے جو اسے اپنی محبت کا یقین دلا دے

آگے کے مراحل خود بخود طے ہوتے جاتے ہیں

چدنے کے بعد بھلے پچھتاتی رہیں

 

یہ تو اس راہ پر چلنے کا ایک بڑا کامن پیٹرن ہے

 

لڑکوں کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں کو اکثریت لڑکیوں کو کس نظر سے دیکھتی ہے

اگر سچی محبت بھی کریں گے پھر بھی چودنا ضرور چاہیں گے

  • Like 5

Share this post


Link to post
Share on other sites

بہت سیر حاصل گفتگو ہو رہی ہےتھریڈ میں۔اضافہ کرنا چاہونگی کہ ڈاکٹر فیصل کا یہ سوال کہ ہ وہ کون کون سے عوامل ہیں جو ایک نیک اور شریف لڑکی کو بہکا کر سیکس کی طرف لے جاتے ہیں۔میں سمجھتی ہوں کہ اس کے کئی عوامل ہیں۔ گھر کا یا اسکول کالج  کا ماحول۔ غلط دوستی یا اا جنسی لتریچر ۔ نیٹ ک آزادانہ استعمال یہ سب وہ عوامل ہیں جو ایک سیدھی سادی نیک بچی کو غلط راستے پر ڈال دیتے ہیں۔کچی عمر میں ہی پیار محبت کے جھانسے میں آکر بھی کئی لڑکیاں اپنی عصمت گنو دیتی ہیں جیسا کہ میں نے اپنی ایک نا مکمل کہانی میں بیان کیا تھا ۔


  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے


لڑکے اور لڑکی میں پیار محبت ہوئی


تنہائی میں ملاقاتیں ہوئیں


چدنے تک نوبت پہنچ گئی


 


تو


اپنے پیار کو چودنے کے بعد کتنے فی صد لڑکے شادی بھی کرنے پر تیار ہوتے ہیں

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

پیار کا جھانسہ دے کر چودنے پر راضی کرنے کے لیے ایک بڑا ہی کامن  ڈائیلاگ جوبولا جاتا ہے


 


شادی کے بعد بھی تو یہ سب کرنا ہی ہے


تو اگر ابھی کر بھی لیتے ہیں تو کیا ہوا - آخر شادی تو تمہارے ساتھ ہی کرنی ہے


Edited by Young Heart
  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

آپ کی کہانی پڑھ کر ہی اندازہ ہوگا کہ پیار کے جھانسے میں آکر کیسے چودا جاتا ہے


 


یہ جھانسے ایک بہت بڑی حقیقت ہیں


 


کہانی ضرور مکمل کریں


 


ادھوری کیوں چھوڑدی ہے


  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×