Jump to content
URDU FUN CLUB
Young Heart

پاکستان میں کم عمر بچوں سے سیکس اور جنسی زیادتی

Recommended Posts

پچھلے دنوں قصور کے واقعے کا بہت چرچا رہا


کہ قصور کے ایک گاؤں میں 8 تا 14 سال کے لڑکوں سے زیادتی کرنے والا کوئی گینگ تھا


جس نے سینکڑوں کی تعداد میں کم عمر لڑکوں سے جنسی زیادتیاں کیں، ویڈیوز بنائیں، بلیک میل کیا اور شاید ہی گاؤں کا کوئی بچہ  زیادتی سے بچ پایا


خبریں اس بات کی بھی تھیں کہ کسی زمین کا جھگڑا تھا، کیسز اور ویڈیوز کی تعداد میں مبالغہ آرائی تھی، کیسز اور ویڈیوز تو ہیں مگرکوئی 30 یا


40


اس بحث سے قطعہ نظر کہ کتنی مبالغہ آرائی اور کس قدر حقیقت تھی - لیکن اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کہ 8 سے 14 سال کے کم عمر بچوں میں جنسی بے راہ روی کےرجحانات اور کم عمر لڑکوں سے جنسی زیادتی کے واقعات صرف قصور میں نہیں پورے ملک کے ہر شہر اور گاؤں میں ہیں


 


اس تھریڈ کا مقصد فی زمانہ بڑھتے ہوئے بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات اور بچوں میں بڑھتے سیکس رجحان کے حقائق/وجوہات کے مختلف پہلوؤں کے زیر بحث لانا ہے


 


(نوٹ: اس تھڑیڈ کا مقصد بچوں سے سیکس کو پروموٹ کرنا ہرگز نہیں ہے)


 


ہمارے پاس اس موضوع میں دو  ذیلی موضوعات  ہوسکتے ہیں


ا- بچوں سے جنسی زیادتی


اا- بچوں میں سیکس کا رجحان


 


ان دونوں موضوعات پر ہم درج ذیل پہلوؤں کا تجزیہ کریں گے


پس منظر، طبقہ، علاقہ، معاشی حالات ، خاندانی سیٹ اپ، والدین کی لاپرواہیاں، خواندگی اور شعور کا اثر، محلوں، مدرسوں اور سکولوں میں واقعات، محلے کے اوباش اور آوارہ لڑکوں کا رول، میڈیا اور انٹر نیٹ کا رول


اور مزید یہ کہ اس میں بچوں سے زیادتی کرنے والے گینگ، جرائم پیشہ افراد، بلیک میلنگ اور بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات، بچوں کے جرائم کی راہ پر پڑنے کے خطرات


 


ان پہلوؤں اور نکات پر آپ کا جو بھی تجربہ ہے اسے شئر کیجیے


Edited by Young Heart
  • Like 7

Share this post


Link to post
Share on other sites

 پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسے واقعات کی بھرمار ہے۔


ایسے علاقے جہاں بچے کھلے عام گلی محلوں میں گھنٹوں کھیلتے کودتے یا آوارہ گھومتے ہیں وہاں ایسا ہونا بعید از امکان نہیں۔ایسے علاقے یا ماحول جہاں لڑکیاں سخت پردے کی وجہ سے گھروں سے نہیں نکلتیں وہاں بھی لڑکیاں کی بجائے بچے نشانہ بنتے ہیں۔


جن گھرانوں یا علاقوں میں بچے گھر سے باہر جائیں اور گھر والے باز پرس کرتے ہوں کہ کہاں گئے،کیوں گئے،کس کے ساتھ گئے،اٹھنا بیٹھنا کس کس کے ساتھ ہے تو وہاں پر ایسے معاملات پر روک تھام رہتی ہے۔ ایک آدھ ایسا کیس ہو بھی جائے تو کرنے والے کو سزا یا بڑی تھوتھو ہوتی ہے۔


مگر جن جگہوں پر پتا چل جائے اور خاموشی اختیار کی جاتی ہو،والدین کو بچوں کی کوئی خبر ہی نہ ہو،کوئی فکر ہی نہ ہو وہاں ایسا ہوتا ہی ہے۔


قانون اور سرکار کی ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوتی ۔ اس کی ذمہ داری سب سے پہلے والدین،پھر اہل علاقہ کی بنتی ہے،وہ ایسا کوئی جرم ہوتا دیکھیں تو نظر انداز نہ کریں اور اس کے خلاف کوئی نہ کوئی سخت قدم اٹھائیں۔


آخر میں جب جرم کی نشاندہی ہو جائے تو پھر قانون اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ انصاف کو آسان یقینی اور جلد بنائے۔


یہ نہ ہو کہ جے ای ٹی بنتی رہے اور مہینوں بعد ہی چالان ہی پیش ہوتے رہیں۔

  • Like 6

Share this post


Link to post
Share on other sites

سنہ 2000 میں بھی ایک سکینڈل مشہور ہوا تھا


جاوید اقبال نامی ایک شخص نے اقرار کیا کہ اس نے تقریباََ 100 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد انہیں قتل کیا اور تیزاب والے ڈرموں میں بند کیا


مجرم بڑے سکون کے ساتھ یہ کام برسوں کرتا رہا اور پکڑا نہیں گیا


آخر خود ہی اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا اور اپنے جرائم سے پردہ اٹھایا


 


اس طرح کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا نسبتا آسان ہے - کرنے والے برسوں کرتے رہتے ہیں ۔۔ بچے غائب اور قتل تک ہو جاتے ہیں -- کسی کو علم بھی نہیں ہوتا -  پولیس اور  عدالتوں کی کارکردگی پر تو کیا تبصرہ کریں -- لیکن پھر بھی علاقے میں کسی کو پتہ ہی نہیں تھا --- ایسا کیوں ؟؟؟ کیا بچوں کے والدین نہیں تھے --- سو بچے اتنی خاموشی سے کیسےزیادتی کاشکار ہوکر قتل ہوگئے


 


 میرے خیال میں علاقے، گھرانے اور معاشی حالات کا اس  طرح کے واقعات میں گہرا عمل دخل ہے - جس کا تھوڑا سا ذکر ڈاکٹر صاحب نے بھی اپنی کمنٹس میں کیا ہے - ہم بھی روزسڑکوں پر بے تحاشا بچوں کو بھیک مانگتے یا آوارہ گردی کرتے دیکھتے ہیں


 


اسی لیے سب سے پہلے اسی سوال پر فوکس کرنا چاہتا ہوں کہ


 


بچے جو اتنی آسانی سے جنسی زیادتی کے لیے شکار کرلیے جاتے ہیں اس میں ان کے معاشی حالات، علاقے، طبقے اور گھرانے کے کا کتنا عمل دخل ہے ؟؟؟


Edited by Young Heart
  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

بچے جو اتنی آسانی سے جنسی زیادتی کے لیے شکار کرلیے جاتے ہیں اس میں ان کے معاشی حالات، علاقے، طبقے اور گھرانے کے کا کتنا عمل دخل ہے ؟؟؟


 


 


سوال بڑا اہم اور موجودہ حالات کی مناسبت سے ہے۔


سب سے پہلی چیز معاشی حالات ہیں۔ ایسے بچے جن کے گھریلو حالات بہت زیادہ خراب ہیں اور وہ بھیک مانگنے یا معمولی چیزیں فروخت کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔وہ سب سے زیادہ آسان ٹارگٹ ہوتے ہیں۔


ایسے بھکاری بچوں کے ساتھ عام لوگوں کا رویہ بڑا سخت اور برا ہوتا ہے۔خود میرا بھی اکثر اوقات رویہ ان کے ساتھ سخت ہوتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ ان کو کسی طرح میں اس کام سے باز رکھ سکوں۔ان کو پیسے دینا تو الٹا شہہ دینا ہو گا کہ ذرا سی منت کرنے سے پیسے مل جاتے ہیں اور انسان ہلکا سا منہ ٹیڑھا کرے تو دن میں سو دو سو کما سکتا ہے۔


اگر کسی طرح ان بچوں کو یہ احساس ہو جائے کہ بھیک مانگنے سے پیسے نہیں ملیں گے تو شاید یہ کسی بہتر کام میں لگ جائیں۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ وہ بہتر کام بھی کوئی خاص مناسب نہیں ہوتا۔


یہ بچے نشئیوں اور دیگر شکاری افراد کا آسان شکار ہوتے ہیں۔ ان کے اغیاب پر بھی کسی کو کوئی تردد نہیں ہوتا۔ ایسے بچے گھر آئیں یا نہ آئیں ،گھر والوں کو کوئی پروا نہیں ہوتی۔ گھر کا ماحول ہی اکثر بچوں کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر بچوں کا کسی بھی وجہ سے گھر میں دل لگتا ہے تو وہ بچے محفوظ رہتے ہیں،یہ دل پڑھائی میں،ٹی وی میں یا بےشک ویڈیو گیمز میں ہی ہو،کوئی مضائقہ نہیں،مگر دل گھر میں لگے۔ہم جن بچوں کی بات کر رہے ہیں وہ تو بنیادی ضروریات سے محروم ہوتے ہیں،یہ تو ان کے لیے عیاشیوں سے بھی بڑی کوئی چیز ہو گی۔بھیک مانگنے والے  بچوں کے ساتھ بچیاں بھی ہوتی ہیں اور یہ کام مزید بگاڑ کی طرف چلا جاتا ہے۔سڑک پر موجود بچے ایک قسم کے لاوارث سمجھے جاتے ہیں،کوئی ان کے ساتھ کیسا بھی سلوک کر لے کسی کو فکر یا پروا نہیں۔


ورکشاپ اور دیگر جگہوں پر چھوٹے چھوٹے بچے کام کرتے ہیں،یہاں ان کے ساتھ بڑا سخت سلوک ہوتا ہے اور استاد خوب مار کٹائی کرتے ہیں اور سوائے روٹی کے کچھ نہیں دیتے۔ مگر ایک مثبت پہلو یہاں یہ ہے کہ یہ بچے کل کو روزگار کمانے کے لائق ہو جاتے ہیں۔ ایسی جگہوں پر بھی بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے،استاد ہو گیا اور اس کا کوئی دیگر شاگرد یا کوئی اور بندہ۔ اس کے علاوہ عام طور پر بچیاں گھروں میں کام کرنے پر معمور ہوتی ہیں تو وہاں بھی جنسی استحصال ہوتا ہے۔


جہاں غربت اور اس جیسے دیگر مسائل ہوں گے یہ چیزیں زیادہ ہوں گی۔


بھیک مانگنے کے علاوہ جہاں بچے کام کاج کر کے پیسے کماتے ہیں وہاں ضروری نہیں کہ ان کے ساتھ  جنسی زیادتی ہو، مگر ایسا ہونا بعید از امکان نہیں اور خوب ہوتا ہے۔


ہمارے گھر کے کچھ فاصلے پر ایک لکڑی کے فرنیچر کی ورکشاپ ہے جو بیس پچیس سال سے قائم ہے۔ اس کا مالک حافظ قرآن ہے اور بڑا دین دار بندہ ہے۔


ہر اذان کے بعد وہ تمام شاگردوں کو سارا کام چھوڑ پر وضو کر کے نماز پڑھنے کو کہتا ہے۔ شام کو تمام ورکروں کو ان کے تجربے کے حساب سے پچاس،بیس یا جو بھی روپے اس نے طے کیے ہیں وہ دیتا ہے۔


ہر بچے سے نماز اور دیگر دعائیں روز سنتا ہے۔ اس کے  پرانے شاگردوں نے اپنی اپنی ورکشاپیں مختلف جگہوں پر بنا لی ہیں مگر آج بھی اس استاد سے ملتے ہیں تو  اس کے ہاتھ چومتے ہیں۔


اس کے برعکس ہر دوسری ورکشاپ میں چھوٹے کے ساتھ جانوروں جیسی مار پیٹ اور زیادتی ہوتی ہے۔


ورکشاپ،نائی،ٹیلرز،الیکٹریشن،پلمبر اور باقی سبھی دکانوں پر اسی طرح بچے شاگرد کے طور پر ہوتے ہیں اور ان کا استحصال ہوتا ہے۔


غربت اور ںاخواندگی بڑی وجہ ہے ایسے مسائل کی۔


 


علاقے کی جہاں تک بات ہے تو ایسا گنجان آباد علاقوں میں زیادہ ہوتا ہے کیوں کہ افراد زیادہ ہوتے ہیں تو ان میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ کچھ دیندار اور کچھ نہایت بدقماش۔


 پسماندہ اور غریب علاقوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ منشیات اور دیگر اقسام کی بری لت بھی انسان کو ایسے گھناؤنے کام پر اکساتی ہے۔


 


ہر وہ طبقہ جہاں کسی نہ کسی وجہ سے بچوں پر توجہ کم سے کم ہو جائے ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ توجہ غربت میں کم  ہو۔ ہو سکتا ہے کہ امارت میں بھی بچوں سے توجہ ہٹ جائے،ماں اپنے کاموں میں مشغول اور باپ کاروبار میں۔


ہمارا ایک کلاس فیلو تھا جس کے ماں باپ دونوں ڈاکٹر تھے اور مشہور ترین ڈاکٹر تھے۔وہ ہر وقت مریضوں میں گھرے رہتے اور گھر میں رات کو سونے آتے۔ اس بندے نے زندگی میں ہر برا کام کیا تھا،لونڈے بازی،طوائفوں کے پاس جانا،شراب نوشی،منشیات کا استعمال اور جو بھی برائی انسان سوچ سکتا ہے۔ وجہ یہی تھی کہ ماں باپ پیسہ کمانے میں مصروف تھے اور ان کو پروا ہی نہیں تھی کہ بچوں کا کیا بنتا ہے۔


 


ایسے گھرانے جہاں کمزور خاندانی نظام ہو۔ ماں باپ کو بچوں کی فکر یا پروا نہ ہو،بچوں کا گھر سے تعلق یا لگاؤ برائے نام یا نہ ہونے کے برابر ہو،وہاں یہ کام زیادہ ہوتے ہیں۔

  • Like 5

Share this post


Link to post
Share on other sites

بہت خوب ڈاکٹر صاحب

بہت اچھے انداز سے آپ نے احاطہ کیا ہے اس ٹاپک کا

لیکن میرے ذہن میں یہاں ایک سوال  اورہے - آپ کے جواب سے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے بچوں کو جنسی زیادتی کا شکار کرنے والے افراد عموماََ باہر کے ہوتے ہیں یا اجنبی ہی ہوتے ہیں

کیا گھر کے افراد ، رشتہ دار یا جاننے والے نہیں ہوتے ؟؟
 

Edited by Young Heart
  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

چند حقائق - بچوں سے جنسی زیادتی سے متعلق


ا- جنسی زیادتی کے اکثریت واقعات میں باہر والوں یا اجنبیوں کا کردار کم ہوتا ہے اور گھر کے افراد،عزیز رشتہ دار، ہمسایہ، دوست، استاد اور پڑوس کے دکاندار کا کردار زیادہ ہوتا ہے جن پر اعتبار کیا جاتا ہے - ایک اندازے کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں 80٪ فیصد کوئی قریبی شخص ملوث ہوتا ہے۔ کوئی ایسا شخص جسے بچہ جانتا ہےیا جسے بچے کے گھر والے جانتے ہیں


اا- اہل خانہ کے کسی فرد سے زیادتی کو عموماََ نظرانداز کیا جاتا ہے


ااا- زیادہ تر واقعات میں لالچ یا بلیک میلنگ کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے


اااا- شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں واقعات کا تناسب زیادہ ہے


ااااا- اس طرح کے واقعات ہر طبقے، علاقے اور خاندان میں ہو سکتے ہیں لیکن غریب خاندانوں اور علاقوں میں اس کی شرح زیادہ ہے


اااااا- ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں 10 بدنام شہروں میں راولپنڈی پہلے، لاہور دوسرے اور کوئٹہ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ اوکاڑہ چوتھے، خیرپور پانچویں، فیصل آباد چھٹے، پاکپتن ساتویں، قصور آٹھویں، سیالکوٹ نویں اور شیخوپورہ دسویں نمبر پر ہے


تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ خیبر پختون خواہ کو اس معاملے میں خوامخواہ زیادہ بدنام کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں بچوں سے جنسی زیادتی کے 10 بدنام شہروں میں سے آٹھ پنجاب کے ہیں - قصور جس کا واقعہ مشہور ہوا اس فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہے اور راولپنڈی، لاہور سب سے بدنام شہر ہیں


ااااااا- عموماََ خیال کیا جاتا ہے کہ بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا کم عقل، غبی یا کسی نفسیاتی مسئلے کا شکار ہوتا ہے جبکہ اکثریت معاشرتی طور پر بہتر پوزیشن میں ہوتے ہیں


Edited by Young Heart
  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

جی ہاں درست فرمایا کہ اکثریت انہی کی ہوتی ہے جو قریبی ہوتے ہیں۔

اوپر والے تمام عوامل ان جگہوں پر پائے جاتے ہیں جہاں بچے آسان شکار ہوتے ہیں یا والدین ان کی جانب سے مکمل لاپروائی برتتے ہیں۔

یہ والا کیس کہ گھر کے افراد میں سے کوئی زیادتی کرے،یہ تو سب سے زیادہ خطرناک ہے۔

اس میں تو بچے کو چار دیواری ہی میں  خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

جیسا کہ پچھلے کمنٹ میں کہا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں 80٪ فیصد کوئی قریبی شخص ملوث ہوتا ہے۔ کوئی ایسا شخص جسے بچہ جانتا ہےیا جسے بچے کے گھر والے جانتے ہیں اور اعتبار کرتے ہیں


یہ درج ذیل افراد ہو سکتے ہیں -بھائی/بہن (بڑے یا ہم عمر)، کزنز، دوست، پڑوسی (ہم عمر یا بڑی عمر کے)، کوئی قریبی رشتہ دار، استاد، پڑھانے والے قاری، پڑوس کے دکاندار


زیادہ تر واقعات میں لالچ یا بلیک میلنگ کا طریقہ اختیا رہوتا ہے


 


سوال یہ ہے کہ  یہ کون  سے قریبی افراد کیا کیا ممکنہ حربے استعمال کرسکتے ہیں بچوں کو پھنسانے کے لیے - لالچ کس قسم کا ہو سکتا ہے - بلیک میلنگ کس قسم کی ہوسکتی ہے


ان قریبی لوگوں کے سامنے بچوں کے بہکنے یا مجبور ہونے کی وجوہات کیا کیا ہو سکتی ہیں


Edited by Young Heart
  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہر انسان کے تعلق کی نوعیت مختلف ہونے کی بنا پر اس کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔


ایک استاد ہے تو اس کا خوف اور رعب ہی کافی ہے۔وہ اس کا استعمال کر کے ڈرا دھمکا کر بہلا پھسلا لیتا ہے۔


ایک ویڈیو گیم کی دکان والا ہے تو زائد سکے دے کر پٹا سکتا ہے۔


کوئی اور دکان والا ہے تو وہ بھی مفت اشیا دے کر چکر دے سکتا ہے۔


کوئی رشتہ دار ہے تو وہ بہلا پھسلا سکتا ہے کہ پہلے بچے کے ساتھ پیار محبت سے پیش آئے،اسے گھمائے پھرائے اور دھیرے دھیرے سیکس کی طرف لے جائے۔


اس کے بعد اگلا نمبر آتا ہے کہ اکثر بچوں کو یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ یہ کام غلط ہے۔ ان کو پہلے اس طرح رام کیا جاتا ہے کہ کر لو مزا آئے گا اور بدلے میں میں تمہیں فلاں فلاں چیز یا تحفہ دوں گا۔


ایسے میں بچے کو اگر کوئی لت لگی ہے تو وہ بھی کام آتی ہے،جیسے اسے کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے،پتنگوں کا شوق ہے یا اس قسم کی کوئی اور چیز ہے تو وہ بھی اس قسم کی چیز کے بدلے جھانسے میں آ جاتا ہے۔


پھر بلیک میلنگ کا بھی حربہ استعمال ہوتا ہے کہ اس کی کوئی غلطی یا کوئی بات پکڑ لی اور کہا کہ میرا کہا مانو ورنہ میں سب کو بتا دوں گا۔


  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

اسی موضوع سے متعلق مجھے ایک ویب سائٹ پر منصور مہدی کا لکھا ہوا آرٹیکل ملا جسے میں یہاں کاپی کررہا ہوں

 

رائٹر : منصور مہدی
 

میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا اور مجھے روزانہ اپنے گھر سے سکول جانے کے لیے ایک قبرستان کی حدود سے گزرنا پڑتا تھا۔ سردیوں کے ایک دن کا واقعہ ہے کہ جب چھٹی کر کے میں واپس گھر آرہا تھا تو بارش شروع ہو گئی ۔ قبرستان کے ایک کونے میں ایک نامکمل ساکمرہ تھا جو گورکھنوں کے استعمال میں تھا۔جہاں پر رات کے وقت اکثر گاں کے آوارہ لڑکے آ کر بیٹھتے تھے اور چرس اور بھنگ وغیرہ پیتے تھے۔ جبکہ دن کے وقت وہ کمرہ اکثر خالی پڑا رہتا۔ بارش سے بچنے کے لیے میں دوڑ کر اس کمرے میں چلا گیا۔
کمرے کے وسط میں سوکھی لکڑیاں جل رہی تھی جس کے گرد دو بڑی عمر کے لڑکے بیٹھے چرس پی رہے تھے۔ ان میں ایک تو ہمارے گاں کے نمبردار کا لڑکا تھا اور دوسرا اس کا ایک دوست تھا جوقریبی گاں کے ایک زمیندار کا بیٹا تھا۔ بارش کی وجہ سے میرے کپڑے بھیگ چکے تھے چنانچہ میں آگ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ میں اپنے کپڑے سوکھا رہا تھا کہزمیندار کے لڑکے نے یکدم مجھے پیچھے سے پکڑ لیااور مجھے پیار کرنے لگا۔ مجھے بہت برا لگا اور میں نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی مگر اس نے مجھ پر مزید اپنی گرفت مضبوط کر لی۔
میں نے نمبردار کے لڑکے کی طرف دیکھا اور مدد کرنے کو کہا کہ اپنے دوست کو منع کرے اور مجھے چھوڑے۔ مگر نمبرادار کے لڑکے نے بھی ہنسنا شروع کر دیا اور گالی دیکر کہنے لگا کہ “کی ہویا ہے” جب نمبردار کے لڑکے نے میری مدد نہ کی تو اس کے دوست کا حوصلہ اور بلند ہو گیا اور اس نے مجھے پکڑ کر چٹائی پر گرا دیا اور خود میرے اوپر گر گیا۔
میں بہت رویا اور چلایا مگر وہ باز نہ آیا ۔ اس کے بعد نمبردار کے بیٹے نے بھی وہی کچھ کیا ۔بعد میں انھوں نے مجھے دھمکی دی کہ اگر یہ بات کسی کو بتائی تو تمہاری خیر نہیں ہوگی۔ بہرحال میں جب گھر واپس آیا تو بہت پریشان رہا۔ وہ رات میرے لیے ایک بھیانک رات سے کم نہیں تھی۔
اگلے روز میرا سکول جانے کو بھی دل نہ کیا کیونکہ میں ڈر رہا تھا کہ راستے میں مجھے قبرستان سے پھر گزرنا ہے۔ میں کئی روز تک جب سکول نہ گیا تو میری ماں نے مجھ سے سکول نہ جانے کی وجہ پوچھی ۔ مگر میں خاموش رہا کیونکہ میرے والدین بہت غریب تھے اور مجھے معلوم تھا کہ وہ نمبردار اور زمیندار کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اگلے روز میں میں بڑی ہمت کر کے سکول گیا اور جب واپسی پر آرہا تھا تو جونہی قبرستان میں داخل ہوا تو وہی نمبردار کے بیٹے کا دوست کھڑا تھا ۔ میں نے اسے دیکھتے ہی بھاگنے کی کوشش کی مگر اس نے مجھے پکڑ لیا اور پھر کمرے میں لے گیا۔
بس میری بد قسمتی کی کہانی یہی سے شروع ہو جاتی ہے۔ اب دوسرے تیسرے دن نمبردار کا لڑکا یا پھر اس کے دوست میرے ساتھ وہی سلوک کرتے ۔ آخر کار میں بھی اس کا عادی ہو گیا ۔پھر میں نے اس کے عوض ان سے پیسے بھی مانگنے شروع کر دیے۔ جب دو تین سال اسی طرح گزر گئے اورمیں اس کام میں ہوشیار ہو گیا تو ایک دن اپنے ایک دوست کے ساتھ گاں سے بھاگ کر شہر آگیا۔ اب مجھے شہر آئے ہوئے بھی 15/16سال ہو گئے ہیں۔
میں یہاں شہر میں سلمہ ستارے کا کام کرتا ہوں ۔ ایک بڑا سا گھر کرایے پر لیا ہوا ہے ۔ وہاں12/13 سال سے لیکر 20/25سال کی عمر کے لڑکے کام کرتے ہیں۔ جن میں سے بیشتر جسم فروشی کا کام کرتے ہے۔ ان میں نئے آنے والوں سے تو میں پہلے اپنے ساتھ ہونی والی زیادتی کا بدلہ لیتا ہوں اور بعد میں اسی دھندے پر لگا دیتا ہوں۔
یہ کہانی لاہور سے تقریباً 250کلومیٹردور جنوب میں جی ٹی پر واقع ایک شہر کے رہائشی کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ صرف میں ہی نہیں بلکہ مجھے جیسے سینکڑوں لڑکے ہیں کہ جن کے ساتھ بچپن میں ان کے کسی دوست، گاں کے فرد ، استاد یا رشتہ دار کزن وغیرہ کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بنے۔ان میں سے کچھ تو خوش قسمتی سے مزید زیادتی کا نشانہ بننے سے بچے رہے لیکن بد قسمت لڑکے بار بار زیادتی کا نشانہ بن کر پھر ایسے ہی بن جاتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ بچوں کا یہ استحصال ساری دنیا میں کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ آسان ٹارگٹ ہوتے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کے وکیل نوید عباس کہتے ہیں کہ پاکستان میں رپورٹ کئے جانےوالے واقعات کے مطابق ہر روز تین سے پانچ بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں اور زیادہ تر حالات میں مجرم اپنی شناخت چھپانے کے لئیے ان معصوم پھولوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ غیر رپورٹ کئے جانیوالے واقعات کے اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ریسرچ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ یہ زیادتی کرنےوالے اجنبی لوگوں کی نسبت جاننے والے ، والدین کے یا خاندان کے دوست اور قریبی رشتے دار ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ مجرم کوئی بڑا بچہ بھی ہو سکتا ہے۔مجرم عام طور پر بچوں کو خوفزدہ کردیتے ہیں۔ وہ اس جرم کا بوجھ بچے پر ڈالدیتے ہیں اور انہیں یہ تائثر دیتے ہیں کہ اب اگر انکے والدین کو یہ بات پتہ چلی تو وہ بہت ناراض ہونگے۔ اس طرح سے وہ بچے کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ محرومیوں کے شکار بعض بچوں میں کسی بھی قسم کا لالچ ڈال دیتے ہیں۔ بعض بچوں کو یہ ایک کھیل بنا کر پیش کرتے ہیں جو دو بہت قریبی یا محبت کرنے والے دوست کھیلتے ہیں۔ بعض بچوں کو خوفزدہ کر دیتے ہیں اور بچے یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے والدین کو بتانے کی صورت میں وہ والدین کے لئے شرمندگی کا باعث بن جائیں گے یاانکے والدین کو کوءبہت شدید نقصان پہنچے گا۔ بعض بچے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ کوءبھی بات سمجھ نہیں پاتے۔
لاہور ہائی کورٹ کے وکیل سلیم بٹ کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گذشتہ پانچ برس کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں اضافہ ہوا ہے۔ سال گذشتہ میں2 ہزار بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور ان میں سے180سے زائدبچوں کو جنسی تشدد، اغواءیا بدفعلی کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ جبکہ پانچ سال کے اعداد و شمار کے مطابق8 ہزار بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی اورایک ہزار سے زائد بچوں کو اس عمل کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق گذشتہ دو سال سے جنسی زیادتی کے سب سے زیادہ واقعات لاہور میں ہوئے ہیں۔ ا±ن کا کہنا ہےیہ وہ کیس ہیں جو ذرائع ابلاغ میں سامنے آئے ہیں جبکہ زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
شاہد حسن ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ ایسے ہی زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی اکثریت پھر پیسوں کے عوض جسم فروشی کا کام شروع کر دیتے ہیں۔ جبکہ موجودہ دور ایسے نو عمر بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو خاصی تشویش کی بات ہے۔ ان میں14/15سال کے لڑکوں سے لیکر25/30سال تک کے لڑکے شامل ہیں۔انھوں نے بتایا کہ لڑکوں کی جسم فروشی اس معاشرے میں کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایک عرصے سے ہو رہی ہے۔ انھوں نے برطانوی رائٹر Richard Francis Burton کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا جو 1842میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم ہونے کے بعد بھارت میں آئے اور اس دوران مختلف شہروں میں تعینات رہے۔کراچی کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ ”کراچی میںایک ایسا قحبہ خانہ موجود تھا کہ جہاں صرف لڑکے ہی ملا کرتے تھے اورافغان علاقوں میں کم عمر لڑکے کی دوستی کو برا نہیں سمجھا جاتا“۔ جبکہ اب تو تقریباً ہر شہر میں ایسے مخصوص علاقے موجود ہیں کہ جہاں پر لڑکے بطور جسم فروش کام کرتے ہیں۔ کراچی کے حوالے سے انھوں نے مزیدبتایا کہ اس کام میں زیادہ تر اپر اور مڈل کلاس خاندانوں سے تعلق رکھنے والے لڑکے شامل ہیں۔جو ویڈیوگیم شاپس، ریسٹورنٹس، کولڈ ڈرنک اور فاسٹ فوڈز سپاٹ پرملتے ہیں جبکہ لوئر کلاس خاندانوں کے لڑکے زیادہ تر گلشن اقبال، سبزی منڈی، کھارادر، لی مارکیٹ ، لانڈھی ، ملیر اور لیاری کے علاقوں میں ملتے ہیں۔ جیسے ان لڑکوں کے گاہک ہوتے ہیں ویسے ہی یہ لڑکے بھی اپنا شکار بس سٹاپوں، شاپنگ سنٹرز، سنیما، فلم اندسٹری، ہوٹل کی لابی، پارکس، ریلوے اسٹیشن، ہسپتال، سکولوں کالجوں کے گرانڈ، نجی عمارتوں کی سیڑھیاں اور لفٹیں ، تاریخی مقامات میں خود بھی ڈھونٹتے ہیں۔ ان لڑکوں میں، ان پڑھ اور کم پڑھے لکھے لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ گریجویٹ سطح کی تعلیم رکھنے والے بھی شامل ہیں۔ یہ لڑکے50ہزار سے70ہزار روپے تک ماہانہ کماتے ہیں جبکہ وہ لڑکے جو غیر ملکی سیاحوں وغیرہ کیلئے کام کرتے ہیں وہ ان سے زیادہ کماتے ہیں جبکہ انگریزی زبان بھی بولنا جانتے ہیں۔ ان لڑکوں میں ایک ایسی قسم ہے جو صرف ہوٹلوں کے کمروں تک اپنی خدمات پیش کرتے ہیں جبکہ دوسرے گاہک کے گھر یا اس کی جگہ پر بھی جاتے ہیں۔ چھوٹی عمر کے کچھ ایسے لڑکے بھی ہیں جو پارٹ ٹائم یہ کام کرتے ہیں اور دوران سفر کار میں یا رات کے وقت باغات اور دیگر جگہوں پر ہی اپنی خدمات پیش کر دیتے ہیں۔ پارٹ ٹائم کام کرنے والوں میں زیادہ تر طالب علم، بطور سیلز مین کام کرنے والے لڑکے،ہوٹل اور گیراجوں میں کام کرنے والے لڑکے شامل ہیں جو مزید پیسوں کے حصول کیلئے کام کرتے ہیں۔ جبکہ ایسے لڑکے بھی موجود ہیں جو صرف یہ کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ لڑکیوں کی نسبت لڑکوں کو کسی جگہ پر باآسانی لے جا سکتا ہے شاید اسی سہولت کی وجہ سے لڑکوں کے کام کو فروغ ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔
نوید عباس ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچپن سے ہی اپنوں بچوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں ۔انھوں نے تمام والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ایسے کسی سانحے کا شکار نہ ہوں تو ہمیں انہیں آسان ٹارگٹ ہونے سے بچانا پڑیگا۔ اسکی پہلی شرط یہ ہے کہ آپ اپنے بچے سے چاہے ماں ہوں یا باپ باتیں کرنے کی یا کمیونیکیٹ کرنے کی عادت ڈالیں۔ اگر آپکا بچہ اسکول میں پڑھتا ہے تو سارے دن کے بعد اس سے کسی وقت گپ شپ کریں جس میں اسے زیادہ سے زیادہ بولنے کا موقع دیں اور اپنی باتیں بے حد کم رکھیں۔ ان باتوں میں نوٹ کرتے رہیں کہ بچے کے دوست کس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ ٹیچرز سے اسکے روابط کیسے جارہے ہیں۔ اسکول وین والا آپ کے بچے سے کیسی اور کسطرح سے گفتگو کرتا ہے۔ یہاں یہ بھی دھیان میں رکھیں کہ کوئی بڑا شخص آپکے بچے کو غیر معمولی توجہ اور تحفے تحائف کیوں دے رہا ہے۔ گفتگو میں کبھی اپنے بچے کو ٹوک کر ہوشیار نہ کریں کہ آپکو آگے کی باتیں بتانے سے جھجھک جائے۔
اپنے آپ پر سے اپنے بچے کے اعتماد کو کبھی متزلزل نہیں ہونے دیں۔ اسے اس بات کا یقین ہونا چاہئیے کہ آپ اسے سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔ بچوں کو ڈسپلن کا عادی بنانے میں یا تعلیم کی طرف توجہ دینے میں بیجا سختی سے گریز کریں۔ جو بات پیار سے سلجھ سکتی ہو اسے ڈانٹ ڈپٹ سے نہ کریں۔ ورنہ جو بھی شخص ان سے نرمی اور محبت سے بات کریگا وہ اسکی ہر بات ماننے لگیں گے۔
بچوں کو کسی بڑے کے پاس اکیلا چھوڑنے سے گریز کریں۔ اگر ایسا کرنا بہت ضروری ہو تو صورت حال اس طرح رکھیں کہ وہ جگہ کھلی ہو جہاں زیادہ سے زیادہ لوگ انہیں دیکھ سکتے ہوں۔
اگر بچہ کسی بڑے شخص کے پاس چاہے وہ آپکا قریبی دوست ہو ، رشتے دار یا اسکا بڑا کزن، جانے سے گھبراتا ہے تو اس پر دبا نہ ڈالیں کہ وہ ضرور انکے پاس جائے۔
اگر بچہ کسی شخص کے پاس اکیلا نہیں رہنا چاہتا تو اسے مجبور نہ کریں کہ وہ اسکے ساتھ ضرور رہے۔
یاد رہے کہ اس قسم کے معاملات میں بچے جھوٹ نہیں بولتے اگر وہ کسی شخص کی چاہے وہ آپکو کتنا ہی عزیز ہو کوئی بھی اس طرح کی بات آپکو بتاتے ہیں تو انکی بات پر یقین کریں اور انکی مدد کریں۔
اکثر والدین بازار جاتے ہوئے یا باہر نکلتے ہوئے اپنے بچوں کو رشتے داروں کے یہاں یا محلے پڑوس میں چھوڑ جاتے ہیں۔ کوشش کریں کہ چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ رکھیں، یہ اگر ممکن نہ ہو تو واپس آکر اپنے بچے سے تفصیلی پوچھیں کہ اس نے یہ وقت وہاں کیسے گذارا۔
اس بات پر بھی نظر رکھیں کہ آپکا بچہ کن لوگوں کے ساتھ وقت گذارنا زیادہ پسند کرتا ہے اور کیوں۔
جو بچے انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں ان کی کڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔ انہیں اچھی طرح سمجھا دیں کہ اپنا ذاتی یا گھر کا فون نمبر کبھی نیٹ پر استعمال نہ کریں، اپنے اسکول اور کلاس کے بارے میں معلومات اجنبی لوگوں کو نہ دیں۔ کسی اجنبی سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہ رکھیں۔ گھر میں کمپیوٹر ایسی جگہ پر رکھیں کہ اس کی اسکرین آپ کو چلتے پھرتے نظر آتی رہے۔ انہیں کبھی بھی بچوں کے کمروں میں نہ رکھیں۔ اور نہ ہی کسی الگ تھلگ جگہ پر۔ ان سوفٹ وئیرز کے بارے میں معلوم کرتے رہیں جو کمپیوٹر پر مختلف سائیٹس کو فلٹر کرتے رہیں۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر سدرا کاظمی کا کہنا ہے کہ اگر بچے میں آپ درج ذیل عالامات دیکھتے ہیں تو ان پرتوجہ دیں۔بلا وجہ غیر معمولی غصہ، ڈپریشن، الگ تھلگ رہنااور ایسی گفتگو کرنا جو انکی عمر کے حساب سے مناسب نہ ہوں۔ بلا وجہ انکے کپڑے پھٹے ہوں یا ان پر مخصوص داغ، جسم پر نیل یا کھرونچوں کے نشانات جن کی وجہ بچہ آپکو نہ بتا پائے۔ انکے اعضائے مخصوصہ کے پاس سرخی، سوجن، بار بار ہونے والے پیشاب کی نالی کے انفیکشن، پیٹ درد اور مستقل پریشان رہنا۔ یہ ضروری نہیں کہا کہ ان میں سے ہر علامت اسی طرف جاتی ہو۔ مگر بچوں کی ان علامتوں کی سنجیدگی سے وجہ معلوم کریں۔یہ بھی یاد رکھیں کہ اکثر صورتوں میں کوئی واضح علامت نہیں ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو انکے جسم کے متعلق ابتدائی معلومات اس طرح دینی چاہئیے کہ انہیں یہ اندازہ ہو جائے کہ انکے جسم کے کس حصے کو لوگ چھو سکتے ہیں اور کس حصے کو نہیں۔ یعنی ان میں ستر کا احساس نہ صرف پیدا کریں بلکہ اگر کوئی اسکی خلاف ورزی کرتا ہے تو بچے کو یہ اعتماد دیں کہ وہ آپ کو فوراً بتائے۔ بچے ہمارا مستقبل ہیں یقیناً ہم میں سے کوئی نہیں چاہے گا ان نازک پھولوں کو کوئی اپنے سخت ہاتھوں اور حیوانیت سے مسل دے۔

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

عنوان: خوف کی چاردیواری


تحریر: زوفین ٹی ابراہیم


 


ہمارا معاشرہ بچوں سے زیادتی خصوصاً جنسی زیادتی کا اعتراف بہت ہی کم کرتا ہے۔ ایک طویل عرصے سے پاکستانی معاشرہ گھر کی چار دیواری کے اندر اس قسم کی زیادتی کا اعتراف ہی نہیں کررہا تھا۔ درحقیقت پاکستانی معاشرے میں مضبوطی سے گُتھا ہوا خاندانی نظام بچوں پر ہونے والے اس گھناؤنے ظلم پر پردہ ڈال دیتا ہے۔


اس مسئلے پر کام کرنے والی ساحل نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے 2011 کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ معصوم بچوں پر جنسی حملوں اور زیادتی کے 88 فیصد واقعات گھروں میں ہی ہوتے ہیں۔ جبکہ اکثر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اخبارات اور غیر سرکاری تنظیموں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا جو ساحل نے جمع کیا ہے اس کے تحت صرف 2011 میں  بچوں سے زیادتی کے 2,942 واقعا ت ہوئے ۔ دوسرے الفاظ میں ہرروز آٹھ بچے جنسی ذیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔


ایک ماہرِ نفسیات، ڈاکٹر آشا بیدار کے مطابق ، ' بچوں سے جنسی زیادتی یا چائلڈ سیکشولیٹی ابیوز ( سی ایس اے ) وہ عمل ہے جس میں کوئی بالغ یا یا بڑی عمر کی بچہ کسی (چھوٹے) بچے کو جنسی عمل کیلئے استعمال کرے۔ اس میں بوسہ لینے، چھونے اور سہلانے جیسے بظاہر بے ضرر عمل سے لے کر سنگین جنسی  زیادتی جیسے عمل شامل ہیں۔ '


تحقیق کے مطابق حملہ آوروں میں وہی شامل ہوتے ہیں جن پر بچہ اعتماد کرتا ہے جن میں والدین، عزیز رشتے دار، استاد اور پڑوس کے دوکاندار وغیرہ شامل ہیں اور عام تاثر کے برخلاف اس میں اجنبیوں کا کردار بہت کم ہوتا ہے۔


اسلام آباد کی ایک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عنبرین احمد کہتی ہیں کہ ' کئی مرتبہ بچے قابلِ اعتماد افراد کے حوالے کردیئے جاتے ہیں۔' '


انہوں نے کہا  کہ کئی مرتبہ گھروں میں آنے والے مولویوں کے ہاتھوں بچے زیادتی کا شکار بنتے ہیں-لیکن اگر اہلِ خانہ کے کسی فرد کی جانب سے بچے سے زیادتی کا ارتکاب کیا جاتا ہے تو ہمیشہ اسے نظر انداز کردیا جاتا ہے اور بچے کی تکلیف  ایک خفیہ پردے کے نیچے چھپ جاتی ہے۔ ڈاکٹر عنبرین کے مطابق چونکہ خاندانی تانے بانے اتنی مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں اور اقدار کو اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ اکثر وہ گھریلو جنسی ذیادتی  یا انسیسٹ کے درمیان ایک دیوار کی طرح حائل ہوجاتے ہیں۔ چونکہ بچوں سے زیادتی کا انکار ویسے ہی کیا جاتا لیکن گھر کی کسی فرد کی جانب سے جنسی زیادتی کے معاملے میں انکار یا نظر انداز کرنے میں مزید شدت آجاتی ہے۔


' ایسے کئی واقعات ہوئے کہ بچے نے کسی ایک (ماں یا باپ) سے اس کا اظہار بھی کیا لیکن اس کا ردِ عمل یہی آتا ہے کہ بچے کی بات کا بھروسہ نہیں کیا جاتا


عنبرین نے کہا کہ بچی یا بچے سے یہی کہا جاتا ہے کہ اسے غلط فہمی ہوئی ہے اور اسے ایسا سوچنے کا بھی منع کیا جاتا ہے کیونکہ جس کا نام لیا جارہا ہے وہ بہت قابلِ احترام ہے۔ بدترین حالت وہ ہوتی ہے جس میں بچے کو معتوب کیا جاتا ہے۔ بعض مرتبہ تو یہ دیکھا گیا ہے کہ بچے کی بات کو سچ تو مان لیا جاتا ہے لیکن لب سی لئے جاتے اور چُپ رہا جاتا ہے۔


اور اسطرح بچے کو مزید اسی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے۔' عنبرین احمد نے کہا۔ اس طرح گھریلو جنسی زیادتی کا دائرہ پھیلتا رہتا ہے اور مزید بچے اس کا نوالہ بنتے ہیں۔


بیدار کے مطابق طاقت کی بجائے جذباتی بلیک میلنگ بچوں سے زیادتی کا سب سے عام طریقہ ہے۔ حملہ آور عموماً بچے پر الزام عائد کرکے اسے خاموش رہنے پر مجبور کرتا ہے۔


' اکثر وہ ( حملہ آور)  قابلِ اعتبارواحترام ہوتے ہیں اور اپنی پوزیشن سے واقف بھی ہوتے ہیں۔ بچہ خود بھی اس حقیقت کو جانتا ہے۔ یہ خود اس بچے کیلئے مشکل ہوتا ہے کہ وہ آخر اس واقعے کا کس کو بتائے،' احمد نے کہا ۔


بیدار کے مطابق زیادتی کرنے والا یہ جانتا ہے کہ بچہ فطری طور پر پیار، توجہ اور تفریح کی جانب راغب ہوتا ہے اور جب بچہ تنہا اور زد میں ہو تو وہ اسے استعمال کرتا ہے۔


' زیادتی کا شکار ہونے کے بعد بچہ زبان نہ کھولے، اسے یقینی بنانے کیلئے حملہ آور رشوت ( مثلاً رقم، ٹافیوں یا ذیادہ توجہ وغیرہ ) استعمال کرتا ہے ، یا پھر اس 'تجربے' کو خاص تفریحی راز کہتا ہے۔ وہ بچے کو خوف اور دھمکیوں میں اُلجھاتے ہیں لیکن  طاقت استعمال نہیں کرتے کیونکہ قوت استعمال کرنے سے بات ظاہر ہوسکتی ہے۔ اگر زیادتی کرنے والے بچے کے بہت قریب ہو تو وہ اس کی عادات، پسند ، ناپسند اور کمزوریوں سے خوب واقف ہوتے ہیں اور ان کیلئے واردات کرنا اور اس سے نمٹنا دونوں ہی آسان ہوتا ہے۔


عام خیا ل ہے  کہ ذیادہ تر بچیاں ہی جنسی زیادتی کی شکار ہوتی ہیں لیکن بچے بھی یکساں طور پر اس کا نشانہ بنتے ہیں۔ دوسری جانب بچوں سے زیادتی کے واقعات محض ان پڑھ اور غریب طبقوں تک محدود نہیں۔ ' یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے، ہر خطے، ہر طبقے ، ہر معاشی گروہ میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ لڑکے جنسی زیادتی کا بہت زیادہ شکار ہوتے ہیں لڑکیوں کے برابر ہی۔ وجہ یہ ہے کہ معاشرتی لحاظ سے لڑکیوں کا ذیادہ خیال رکھا جاتا ہے جبکہ لڑکوں کے بارے میں عام تاثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی حفاظت خود کرلیتے ہیں۔


جنسی زیادتی: اپنے بچے پر نظر رکھئے


اگر کوئی بچہ جنسی زیادتی کا شکار ہوتا ہے تو کئی ایک علامات سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر آشا بیدار کے مطابق والدین کو نظر رکھنی چاہئے کہ کیا ان کے بچے کے رویے اور برتاؤ میں کوئی فوری تبدیلی تو نہیں ہورہی ہے۔ ' نیند ، خوراک کے دورانئے میں تبدیلی، اسکول میں کارکردگی خراب ہونا، خوف اور ڈراؤنے خواب ، غصہ اور تناؤ ( خصوصاً کھلونوں اور جانوروں پر) میں اضافہ ، افسردگی اور اُداسی وغیرہ پر نظر رکھی جائے


انہوں نے کہا۔اس کے ساتھ ساتھ معاشرے سے بے رخی کا رویہ ، بہت چھوٹے بچے کی طرح کا برتاؤ، بہت رونا، اچانک تکلیف اور درد اُٹھنا، پیٹ میں درد اور بچے کی خود اعتمادی میں کمی جیسی چیزوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے


انہوں نے کہا۔جہاں تک بڑے بچوں اور بلوغت میں قدم رکھنے والے نو عمر بچوں کا سوال ہے تو جرائم میں پڑنے کے علاوہ وہ مختلف زیادتی اور دیگر خطرناک کاموں کی جانب مائل ہوسکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان رویوں کو شروع کرنے میں جنسی زیادتی کا دخل ہو۔ اسی لئے والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کو خیال رکھنا ہوگا کہ کیا ان کا بچہ شدید دباؤ اور ہیجان سے تو نہیں گزرہا۔


بیدار نے بتایا کہ بچوں کو جنسی زیادتی سے بچانے کیلئے سربراہ ور والدین بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسی طرح وہ ذیادتی کے شکار بچوں کو سنبھلانے اور نارمل بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان کا کے مطابق والدین تحفوں ، ذیادہ توجہ اور محبت دے کر ایسا کرسکتے ہیں۔


ان کا اصرار ہےکہ سب سے ضروری ہے کہ بچے یہاں تک کہ بڑے بچوں سے بھی بات کی جائے کہ وہ اپنی حفاظت کیسے کریں۔


والدین اور بچے کے درمیان ایسے مسائل پر گفتگو کے راستے ہمیشہ کھلے ہونے چاہئے تاکہ بچے اپنے تمام مسائل اور الجھنوں پر نہ صرف والدین سے بات کرتے رہیں بلکہ مشورے بھی لیتے رہے اور کسی زیادتی کے بعد اس سے والدین کو آگاہ کرسکیں۔


بچے پر یقین نہ رکھنا، اس پر الزام لگانا یا غصے کا اظہار کرنا نہ صرف بچے کو آپ سے مزید دور کردے گا بلکہ ضروری ہے کہ (جنسی) زیادتی پر بچے کو موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے۔


 


غلط فہمیاں اور حقائق


غلط فہمی: صرف غریب علاقوں اور خاندانوں میں ہی بچوں سے زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں۔


حقیقت: بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات ہر طبقے ، معاشرے اور خاندان میں ہوسکتے ہیں۔


غلط فہمی: بچے سے جنسی زیادتی کے ساتھ ساتھ اس پر جسمانی تشدد بھی کیا جاتا ہے۔


حقیقت: اکثر رپورٹ ہونے والے کیسوں میں بچوں پر زیادتی کرنے والا اسے تشدد کا نشانہ نہیں بناتا بلکہ بلیک میل کرتے ہوئے اس کے جذبات سے کھیلتا ہے۔


غلط فہمی: بچوں سے (جنسی) زیادتی کرنے والوں کی نفسیاتی الجھنوں میں گرفتار اور غبی ہوتے ہیں۔


حقیقت: صرف معمولی تعداد میں ایسا ہوتا ہے کہ بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا کم عقل، غبی یا کسی نفسیاتی مسئلے کا شکار ہوتا ہے جبکہ اکثریت معاشرے میں شامل ہوتی ہے اور وہ معاشرتی طور پر بہتر پوزیشن میں ہوتے ہیں۔


غلط فہمی:بچوں سے جنسی زیادتی کےواقعات عموماً گھروں سے باہر ہوتے ہیں اور حملہ آور عموماً اجنبی ہوتے ہیں۔


حقیقت: جنسی زیادتی کےاکثر واقعات گھروں میں ہی ہوتےہیں۔ اکثر واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ حملہ آور خاندان کے قریب ہوتا ہے اور بچہ اس پر اعتماد کرتا ہے۔


غلط فہمی: بچے کی جنسی زیادتی کی رپورٹ سے فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔


حقیقت: اگر ایک بچے سے جنسی زیادتی کی رپورٹ نہ کرائی جائے تو حملہ آور کا حوصلہ بڑھتا ہے اور وہ مزید بچوں کا نشانہ بتاتا ہے۔


 


بشکریہ: سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی چائلڈ رائٹس ( سپارک)ا


 


(یہ آرٹیکل ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی سے کاپی کیا گیا ہے)

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

بالکل درست بتایا گیا ہے۔ اس آرٹیکل میں حقیقتاً تمام عوامل کا احاطہ کیا گیا ہے۔


شئیر کرنے کا شکریہ۔


  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں نے اس موضوع پر تحقیق کی تو بکھرا بکھرا بہت سا مفید مواد مختلف سائٹس پر ملا


اس موضوع پر کام ہوا ہے لیکن جامع انداز میں ایک جگہ اکٹھا نہیں ہے


میری کوشش ہے کہ اس موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ ہو جائے


اور جو لوگ اپنے گھر کے چھوٹے بچوں کو ممکنہ جنسی زیادتی سے بچانا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ تھڑیڈ بہتر رہنمائی کا ذریعہ ہو


Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

تحریر: رضوان صفدر


 


فیصل آباد ضلعی پولیس کے مطابق سال 2014ء کے دوران ضلع فیصل آباد میں کم از کم 101 بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنے۔ متاثرہ بچوں کی اکثریت کا تعلق صنعتی علاقوں سے تھا۔


پولیس سے لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بد فعلی یا جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث پائے جانے والے زیادہ تر افراد کوئی اور نہیں بلکہ بچوں کے اپنے ہی قریبی ساتھی، دوست، محلے دار اور  راشتہ دار تھے۔


سب سے زیادہ 32 واقعات مدینہ ٹاؤن اور اس میں شامل صنعتی علاقوں، منصورہ آباد اور کھڑلیانوالہ میں پیش آئے جبکہ اقبال ٹاؤن کے علاقوں میں 23، لائلپور ٹاؤن میں 17، جڑانوالہ ٹاؤن سمیت بچیکی اور روڈالا میں 15 اور تحصیل صدر یعنی دیہی علاقوں میں سب سے کم 14 واقعات رپورٹ ہوئے۔


ان واقعات میں ملوث پائے گئے تقریباً 134 افراد میں سے پولیس 124 کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہی جبکہ 88 کیسز کا چالان کرتے ہوئے انھیں پاکستان پینل کوڈ کی شق نمبر 377 کے تحت مقدمات چلانے کے لیے عدالت بھیج دیا گیا۔


پاکستان پینل کوڈ کے تحت بچوں کے ساتھ بد فعلی یا جنسی زیادتی کا مرتکب پائے جانے والے مجرموں کو عدالت کی جانب سے جرمانوں کے ساتھ ساتھ کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔


لیکن فیصل آباد کی ضلعی عدالتوں اور پولیس کے پاس ایسے کوئی اعداد و شمار موجود نہیں تھے جن سے یہ اندازہ لگ سکے کہ گزشتہ سال بد فعلی میں ملوث کتنے مجرموں کو سزائیں سنائی گئیں۔


 


بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے حوالے سے ساحل نامی تنظیم کی تازہ ترین رپورٹ یہ کہتی ہے کہ سال 2014ء میں جنوری سے جون تک پاکستان میں تقریباً اٹھارہ سو بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنے۔


ساحل کے مطابق پاکستان میں روزانہ اوسطاً 9 سے 10 بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات پیش آتے ہیں اور ان واقعات میں گزشتہ سال کی نسبت 48 فیصد اضافہ ہو چُکا ہے۔


سٹی پولیس آفیسر فیصل آباد نے سُجاگ کو بتایا کہ بد فعلی کے کیسوں میں مشکل یہ ہوتی ہے کہ بچوں کے والدین اور رشتہ دار معاشرے کے خوف سے مجرموں کے خلاف کاروائی کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ یہی پہلو مجرموں کے لیے مزید جرم کی راہ ہموار کرتا ہے۔


انھوں نے مزید کہا ہے بچوں کو ہر طرح کے تشدد سے بچانے کے لیے موثر قانون سازی اور خاص طور پر ملازمت پیشہ طبقے میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔


انھوں نے اپیل کی کہ شہری اپنے ارد گرد بچوں کے ساتھ تشدد کا کوئی واقعہ ہوتا دیکھیں تو فوراً پولیس کو رپورٹ کریں تاکہ بروقت کاروائی کر کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔


زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں سوشل سائنسسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر اقبال ظفر کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ گھٹن کا شکار ہو چکا ہے جہاں والدین بچوں اور بچے والدین کے ساتھ جنسی معاملات پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔


ان کا ماننا ہے کہ یہ ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو جنسی تعلیم دیں اور جنسی زیادتی سے بچنے کے طریقوں سے آگاہ کریں۔


انہوں نے مزید کہا کہ غربت کی وجہ سے لوگ اپنے کم سن بچوں کو کام پر دھکیل دیتے ہیں جہاں وہ اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے حکومتی سطح پر نئے طریقے اپنانے کی ضرورت ہے۔


 


(یہ آرٹیکل فیصل آباد ڈاٹ سجاگ ڈاٹ اوآرجی سے کاپی کیا گیا ہے)


  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×