Jump to content
URDU FUN CLUB
Young Heart

روزانہ جنسی مباشرت مفید

Recommended Posts

 

Please login or register to see this image.

جوان نطفہ یا تخم بیضے کو بارآور بنانے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں

 

 

ایک تحقیق کے مطابق روزانہ جنسی مباشرت مردوں میں مادۂ منویہ یا سپرم کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ہوتی ہے جس کی وجہ سے بیضے کی بارآوری نسبتاً زیادہ آسانی سے ہوجاتی ہے۔

اس بات کا پتہ اس وقت چلا جب ایک مطالعے کے دوران ایسے مردوں کو روزانہ مادۂ منویہ خارج کرنے کو کہا گیا جنہیں باپ بننے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ ایک ہفتے کے اس عمل کے بعد دیکھنے میں آیا کہ ان افراد کے نطفۂ کے جو نمونے حاصل کیے گئے ان میں ڈی این اے کا نقصان کم تھا۔

فرٹیلیٹی (بچے پیدا کرنے کی صلاحیت) سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلوی محقق کا کہنا تھا کہ بچوں کے خواہشمند جوڑوں کے لیے ان کا عمومی مشورہ یہ ہی ہے کہ وہ ہر دوسرے یا تیسرے روز جنسی صحبت کریں۔

ابتدائی تحقیق کے مطابق اس کے امید افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

آسٹریلوی شہر سِڈنی کے ڈاکٹر ڈیوِڈ گرِیننگ کا کہنا تھا کہ اس تحقیق میں حصہ لینے والے دس میں سے آٹھ مردوں کے نطفے میں ڈی این کا کا نقصان بارہ فی صد کم نظر آیا۔

اگرچہ اس عمل کے ایک ہفتے کے بعد نطفے یا تخم کی مجموعی تعداد اٹھارہ کروڑ سے کم ہو کر صرف سات کروڑ رہ گئی تھی مگر یہ تعداد بھی بارآوری کے لیے کافی ہے۔

یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ نئے بننے والے نطفے یا سپرم زیادہ متحرک اور فعال تھے۔

اس سے یہ نظریہ سامنے آیا کہ سپرم جتنے زیادہ وقت کے لیے خصیوں میں رہیں گے ان میں ڈی این اے کے نقصان کا احتمال بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا اور خصیے کی گرمی ان میں سستی پیدا کر دے گی۔

تاہم ڈاکٹر گرِیننگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر روزانہ جنسی مباشرت کو زیادہ عرصے مثلاً دو ہفتوں تک جاری رکھا جائے تو ہوسکتا ہے کہ مادۂ منویہ میں تخم کی تعداد بارآوری کے لیے درکار حد سے کم ہوجائے۔

البتہ اس عمل کا اس وقت جاری رکھنا زیادہ مفید ہے جب عورت کا حیض ختم کے بعد (بالعموم بارہ سے سولہ روز) انڈہ یا بیضہ بن کر رحم کی جانب محوِ سفر ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر گریننگ کا کہنا ہے کہ دریا کو بہتے رہنا چاہئے۔

 

 

(یہ آرٹیکل بی بی سی اردو سے کاپی کیا گیا ہے)

 

  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

بالکل درست۔۔سو فیصد ایسا ہی ہے۔ یہ معلومات بڑی مفید ہیں اور تمام مردوزن کے لیے نہایت فائدہ مند ہیں۔


صرف افزائش نسل ہی نہیں روزانہ سیکس کے لاتعداد فائدے ہیں۔


  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

بہتے رہنا چاہیے لیکن رفتار میں تغیر رہنا چاہیے --- ہمیشہ ایک سی نہیں ہونی چاہیے

کبھی مدھم تو کبھی تیز، کبھی ٹھہراؤ تو کبھی ظغیانی

اور کبھی کبھار ٹھاٹھیں مارتا دریا بھی مزا دیتا ہے

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

ریگولر سیکس مردوزن دونوں کے لیے یکساں مفید ہے - صحت کے اعتبار سے بھی

سب سے بڑا فائدہ تو نفسیاتی ہے کہ ہر وقت ذہن میں سیکس سوار رہنے کی بجائے انسان نارمل انداز میں زندگی کے باقی اہم معاملات پر توجہ دے گا

اور اپنے روزمرہ کے دوسرے اہم کام مؤئثر انداز میں سرانجام دے گا

ہمارے ہاں چونکہ شادیاں لیٹ ہوتی ہیں

اور سیکسی خواہشات تیرا سال کی عمر میں بلوغت کے بعد شروع ہوجاتی ہیں

اور اکثریت اگلے دس سے پندرہ سال سیکس کے لیے ترستی اور تڑپتی رہتی ہے

نفسیاتی طور پر اس کے برے اثرات اس طرح ہوتے ہیں کہ سیکس کی یہ بھوک اور محرومی ہمارے لوگوں کو اس کام کے لیے ندیدہ بنا دیتی ہے

پھر جب سیکس کا موقع ملتا ہے تو بے ہنگم اور بے ڈھنگے طریقے سے کرتے ہیں - نارمل انداز سے نہیں کرتے

دوسرا اپنی پڑھائی اور پروفیشنل کام بھی توجہ سے نہیں کرتے ہر وقت لڑکی کے پیچھے رالیں ٹپکاتے رہتے ہیں

ہمارے لوگوں کے بارے میں مشہور کہاوت ہے --- کہ مغرب میں مردوں کے لن پہ عورت اور دماغ میں کام ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں مردوں کے لن پہ کام اور دماغ میں عورت ہوتی ہے اسی لیے کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرپاتے

لڑکیوں کی جنسی ضروریات بھی چونکہ یکساں ہوتی ہیں اسلیے نفسیاتی مسائل تو ان کے بھی ہوتے ہیں

ان کے نفسیاتی مسائل کیا ہوسکتے ہیں یہ میں چاہوں گا کہ آپ کچھ غوروفکر کر کے روشنی ڈالیے

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ سب تھڑیڈز میں نے مختلف اوقات میں شروع کیے کچھ نیک نیتی کے ساتھ کہ بہتر معلومات شئیر ہوں

لیکن مجھے ہرگز امید نہیں تھی کہ کبھی ان تھڑیڈز پر اسطرح بامقصد اور تعمیری گفتگو کا آغاز بھی ہوجائے گا

میں تہہ دل سے تحریم اور ماہ نور کا شکر گذار ہوں جنہوں نے ان تھڑیڈز میں جان پیدا کی

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں نے پوچھا ہے کہ لڑکی جب سیکس نہیں کرپاتی تو اسکے نفسیاتی طور پر کیا منفی اثرات ہوتے ہیں شخصیت پر

یہاں مفروضہ یہی ہے کہ جنسی ضروریات تو مرد و عورت کی یکساں ہوتی ہیں اور سیکس سے محرومی مردوزن دونوں کے لیے نفسیاتی مسائل کا باعث ہے

سوال یہ ہے کہ لڑکی کو کس قسم کے نفسیاتی مسائل ہوسکتے ہیں

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

Larki agar apne ooper sex Ko bohat sawar kar le tu bohat problem ho jatay hain

Periods disturb

Infections bhI

Pain in head.agar uski need out of control ho jai tu wo kisi hadh tak ja sakti hai for sex.Any where and anyone .

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

یہ آخری بات جو آپ نے کہی کہ اگر اس کی نیند آؤٹ ہوجائے تو وہ سیکس کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، کسی سے بھی کہیں بھی

کیا واقعی ؟؟؟؟؟

یہ بات آپ کیسے کہہ سکتی ہیں

کوئی ذاتی تجربہ ہوا ہے اس بات کا یا کوئی واقعہ دیکھا ہے ؟؟؟

اور کیا ایسی کوئی لڑکی آپ کی نظر سے گذری جس نے سیکس اپنے اوپر سوار کرلیا

Edited by Young Heart
  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

yes main ne dekha hai.

1 friend ko apne cousin se pyar tha wo bhi uss k sath sex karna chahata tha agar koi moqa ni mil raha tha. kai bar try ki magar jagah ya akele milne ka chance ni bana.

wo dono whats app per he apni gandi pics share karte or call per he sex karte. wo har waqt bus yehi sochti k kash kisi din sub kahin chalay jain or wo aa jai tu sex ho jai.

us ko yeh sub gynae issues hote thay kio k wo har waqt wet from down rehti thi.

wo kisi bi hadh tak ja sakti thi sex k liya, ghar walon ko sleeping pills bi dene ko tayar thi k wo raat ko aa jai, ghar se bhagne ko bhi, but wo larka bohat darpook tha ooper se student tha tu kuch bhi ni kar sakta tha.

jab bohat zayada masla kharab howa tu wo sochne lagi k koi bhi kar de ab tu. but wo family bohat sakht thi.

but itni koshish k baad bi wo cousin se ni kar saki, wo bohat bemar ho gai or main issue he sex ki frustration thi, wo karwane ko pagal thi but wo boy se mil no sakti thi.

then uski 1 aunty ne bola k iss ki shadi kar do jaldi se.

unhon ne shadi kar di 2 weeks mein he , ab wo apni family mein set hai ..

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

uski shadi bari age k aadmi se howi thi jo 32 ka tha or wo uss waqt 19 ki thi but bohat heavy si body thi. wo khud batati hai k main shadi k baad khud husband ko kehti k mujhe satisfy kia karo. wo bohat zayada karta tha tab he wo satisfy hoti thi, ab bhi wo kehti hai k jitna husband karta hai uss se meri requirement poori ni hai.

  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×