Jump to content
URDU FUN CLUB
Young Heart

! جنسی وہم جو زندگی کو تباہ کرسکتے ہیں

Recommended Posts


Please login or register to see this link.


جنس کے بارے میں لٹریچر اب پہلے سے زیادہ دستیاب ہے لیکن ہمارے ہاں اس لٹریچر کا زیادہ تر حصہ گمراہ کن ہے ۔ وہ صحیح معلومات مہیا کرنے کے بجائے اوٹ پٹانگ اور اشتعال انگیز ہوتاہے۔ چنانچہ اس اہم موضوع پر لوگوں کو سائنسی معلومات اب بھی بہت کم ملتی ہیں۔ رہے والدین اور اساتذہ تو وہ خاموش رہنا چاہتے ہیں ۔ اول تو وہ خود بھی زندگی کے اس بنیادی پہلو کے ٹھوس علم سے محروم ہوتے ہیں اور اگر ان کے پاس علم ہو تو وہ بچوں تک اس کو منتقل کرنے کی اخلاقی جرات نہیں رکھتے ۔ اس لیے ہمارے ہاں ازدواجی مسائل کا بڑا سبب جنسی توہمات ہیں۔
انگریزی زبان میں جنسی معلومات کے موضوع پر ایک اہم کتاب کئی برس پہلے انیس سو چھیاسٹھ میں شائع ہوئی تھی ۔ یہ کتاب ولیم ایچ ماسٹرز اور ورجینا ای جانسن نے مل کر لکھی تھی ۔ انہوں نے کئی جنسی وہموں کی دھجیاں اڑائی تھیں اور نئے حقائق نمایاں کیے تھے ۔ یوں انہوں نے دنیا بھر کے بے شمار مردوں اور عورتوں کو اپنی جنسی زندگی کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع دیا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر اس کتاب کو بہت شہرت ملی ، یوں امید پیدا ہوئی تھی کہ تحقیق و دریافت سے ایک نیا عہد شروع ہوگا ۔ جس میں جنس کے متعلق جہالت اور اخفا کے بجائے علم اور معلومات کو جگہ ملے گی ۔
خیر، ایسا نہیں ہوا ،جنس کے بارے میں وہم اب بھی تمام معاشروں میں پائے جاتے ہیں اور وہ ان گنت جوڑوں کی زندگی میں زہر گھول رہے ہیں ۔ اس طرح سماجی استحکام کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے ۔

عورتیں سیکس میں بہت کم دلچسپی لیتی ہیں

دنیا میں کم وبیش ہر جگہ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتیں جنس میں کم دلچسپی لیتی ہیں ۔
حقیقت مختلف ہے ۔اگر عورت صحت مند ہو تو اس کی جنسی خواہش مرد سے کم نہیں ہوتی ۔ بعض صورتوں میں مرد سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔
اچھا تو پھر یہ وہم اس قدر عام کیوں ہے ؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ روایتی طورپر لڑکوں اور لڑکیوں کی تربیت ایک دوسرے سے مختلف انداز میں کی جاتی ہے ۔ اس حقیقت کو فرانس کی مشہور ادیبہ سمون دی بوار نے اپنی کتاب ’’ سکینڈ سیکس ‘‘ کے پہلے ہی صفحے پر یوں بیان کیا ہے ’’ مرد پیدا ہوتے ہیں، جبکہ عورتیں بنائی جاتی ہیں‘‘ ۔
لڑکیوں کو مصنوعی شرم وحیا کا درس دیا جاتا ہے ۔ جبکہ لڑکوں کو زیادہ فعال اور جارحانہ کردار ادا کرنے کی تربیت دی جاتی ہے ۔ آج کے زمانے میں یہ صورت حال اگرچہ بدل رہی ہے تاہم بہت سی بالغ عورتیں اب بھی محسوس کرتی ہیں کہ ان کو ضرورت سے زیادہ شرم وحیا سے کام لینا چاہئے ۔ جنسی جذبوں کا بے باک ، کھلم کھلا اظہار ان کے لیے بہت بری بات ہے ۔لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہئے ۔

Please login or register to see this link.


اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ جنسی کارکردگی پر جس قدر توجہ دی جائے ،وہ اتنی ہی بہتر ہوجاتی ہے ۔
اس وہم کے پیچھے ذرا سی بھی سچائی نہیں ۔ اگر آپ کی سوئی اس بات پر اٹکی رہے کہ جنسی فعل کے دوران آپ کو کس شے کے بارے میں سوچنا چاہئے ،کیسے حرکت کرنی چاہئے ، کہاں چھونا چاہئے ، آپ کا ساتھی کیا سوچ رہا ہے وغیرہ تو پھر آپ خود اس فعل کے لطف سے محروم ہوجائیں گے ۔
اس لئے ماسٹرز اور جانسن کا کہنا یہ ہے کہ بہترین سیکس اس وقت نصیب ہوتا ہے جب آپ کارکردگی پر نظر رکھنا اور اس کا تجزیہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور عمل کو خودبخود آگے بڑھنے دیتے ہیں ۔ یادرکھیں کہ بے ساختہ سیکس ہی بہترین ہوتا ہے ۔

پرانے ساتھی میں لطف نہیں رہتا
یہ بھی ایک عام وہم ہے اور دنیا میں ہرجگہ ہے کہ سال ہا سال تک ایک ہی ساتھی سے جنسی تعلق قائم رہے تو وہ بے کیف اور بے مزہ ہوجایا کرتا ہے ۔
جنسی آزادی کے بہت سے مبلغ اس وہم کی حمایت کرتے ہیں ۔ لہذا یوں کہنا چاہئے کہ اگرچہ جنسی وہم روایتی اخلاقیات سے پیدا ہوتے ہیں مگر یہ وہم جدید جنسی مغالطہ اخلاق سے پیدا ہوا ہے ۔بہرحال یہ ہے وہم ہی ۔
وجہ یہ ہے کہ زندگی بھر کے ساتھی کے ساتھ سیکس خوشگوار اور پرلطف ہوسکتا ہے ۔ جنسی بوریت عموما اپنے ساتھی کو اچھی طرح نہ جاننے اور اس کے ساتھ رشتے کو گہرا نہ بنانے کے سبب پیدا ہوتی ہے ۔
بوریت کو دور کرنے کی خاطر دونوں ساتھیوں کو زیادہ تخلیقی ، جارحانہ اور قدرے بے باک طرز عمل اختیار کرنا چاہئے ۔

دوسرے کی ذمہ داری اٹھائیں 
یہ بھی ایک عام وہم ہے کہ اچھے سیکس کے لیے آپ کو اپنے ساتھی کے لطف کی ذمہ داری اٹھانی چاہئے ۔
اس وہم کے برخلاف جنس درحقیقت ایسی شے ہے جو دو افراد ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں ۔ اس لیے آپ اپنے ساتھی کی تسکین کے لیے جزوی طور پر ذمہ دار ہوسکتے ہیں لیکن مکمل ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی ۔
بنیادی طورپر یہ دوسرے فرد کا کام ہے کہ وہ اپنی تسکین کے لیے کوشش کرے ۔ تاہم آپ ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اپنے ساتھی کی مدد کرسکتے ہیں جن کی نشان دہی وہ خود کرے ۔

اٹھارہ سال کی عمر
پانچواں مقبول عام اور دنیا بھر میں پھیلا ہوا وہم یہ ہے کہ اٹھارہ برس کی عمر میں مرد کی جنسی قوت چوٹی پر ہوتی ہے ۔پھر اس کا زوال شروع ہوجاتا ہے ۔
خیر ، اس میں شبہ نہیں کہ جنسی اشتعال پیدا کرنے والا مردانہ جنسی ہارمون اٹھارہ برس کی عمر کے لگ بھگ بہت زیادہ فعال ہوتا ہے ۔ تاہم مرد کی جنسیت کا دارومدار محض عضویات پر نہیں ہے ۔ اس میں کئی اور باتیں بھی اہم ہوتی ہیں ۔ مثلا یہ کہ وہ اپنے بارے میں ، اپنے ساتھی اور جنس کے متعلق کیسے محسوس کرتا ہے ۔ اگر اس کے احساسات اور طرز فکر مثبت ہے ،صحت مند ہے تو پھر اس کی اعلی جنسی کارکردگی برقرار رہتی ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ عمر کا مرد اگر اچھی صحت کا مالک ہے ، اپنے جنسی امور کو سمجھتا ہے اور اس کو دلچسپی رکھنے والی بیوی میسر ہے تو پھر زیادہ پرلطف جنسی عمل کے لیے اس کی اہلیت اٹھارہ برس کے اس نوجوان سے بہتر ہوسکتی ہے جو جنس کو محض جسمانی فعل سمجھتا ہے ۔

چالاک عورتیں مرد کو بے بس کردیتی ہیں
یہ چرچا آپ نے کئی بار سنا ہوگا بلکہ اس بارے میں کئی بے سروپا قصے بھی سنے ہوں گے کہ تیزطرار اور خود مختار عورتیں مردوں کو عاجز کردیتی ہیں ۔
اس وہم کو دور کرنے کے لیے سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ عموما عورتیں مردوں کی جنسی بے بسی کا باعث نہیں ہوا کرتیں ۔ کسی مرد کی جنسی بے بسی کا سبب زیادہ تر اس کے اپنے وہم اور خوف ہوتے ہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ مرد کے نقطہ نظر سے سب سے زیادہ متحرک ساتھی وہ عورت ہوتی ہے جو جنسی طورپر زیادہ فعال ہو ۔ اس کے برخلاف اگر کوئی عورت مرد کو اپنا جسم پیش کرنے کے علاوہ جنسی عمل میں کوئی کردار ادا نہ کرے تو وہ مرد کو مایوس کرنے کا زیادہ سبب بنتی ہے ۔

جنسی جارحیت 
یہ سمجھا جاتا ہے کہ جنس کو دو افراد کے درمیان زیادہ جذباتی ہونا چاہئے ۔ جسمانی اور جذباتی طورپر اس کو ہمیشہ زیادہ بھڑکانے والا ہونا چاہئے۔
اس عمومی وہم کے برخلاف سچی بات یہ ہے کہ صرف قصے کہانیوں اور فلموں میں جنس ہمیشہ اس قسم کی ہوتی ہے ۔ حقیقی زندگی میں وہ کبھی زیادہ اور کبھی کم جذباتی ہوتی ہے ۔ کبھی تسکین دیتی ہے اور کبھی مایوس کرتی ہے ۔

Please login or register to see this link.

جنس کو بے ساختہ ہونا چاہئے
ایک مفہوم میں پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جنس کو بے ساختہ ہونا چاہئے ۔ تاہم بہت سے لوگ اس سے مراد یہ لیتے ہیں کہ جنسی عمل کے بارے میں پہلے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کرنی چاہئے وگرنہ اس کا سارا مزا کرکرا ہوجاتا ہے ۔
آج کی مصروف زندگی میں بہت سے جوڑوں کو پیار کرنے کے لیے طویل وقفے نصیب نہیں ہوتے ۔ چنانچہ جدید زندگی کی دوسری سرگرمیوں کی طرح جنس کے لیے بھی منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے ۔ جنس کے ہمیشہ بے ساختہ ہونے پر اصرار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جنسی زندگی بے ترتیب ہو کر رہ جائے گی ۔لہذا اس وہم سے نجات پالیجئے ۔
ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جنس کے لیے کڑی اور بے لچک منصوبہ بندی کی جائے ۔ اس کے لیے کوئی وقت طے کردیا جائے اور اس میں کسی ردوبدل کی گنجائش نہ رکھی جائے ۔ تاہم یہ تو ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے ساتھی کی رفاقت کے لیے وقت طے کریں اور پھر جوہوتا ہے ہوجائے ۔

 

(یہ آرٹیکل کامیابی ڈاٹ پی کےسےکاپی کیا گیا ہے )

Edited by Young Heart
other web link not allowed
  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

بہت ہی عمدہ جناب۔


میرا مشورہ یہ ہے کہ یہاں قاری اور ممبران ایک ایک کر کے جو جو جنسی مغالطہ انھوں نے سنا ہے وہ بیان کریں تاکہ ہم اس کی اسی تھریڈ میں تصحیح کر دیں۔


 


یوں جو جو جنسی مغالطے اس آرٹیکل میں بیان کیے گئے ہیں اس سے بہتر مغالطے ہم زیر بحث لے آئیں۔


ابتدا میں کرتا ہوں ۔


مشت زنی کے منفی اثرات


  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

لڑکپن میں بہت سی باتیں سنی تھیں مشت زنی کو لے کر


جیسے لن ٹیڑھا ہوجاتا ہے


پتلاہو جاتا ہے


جسمانی کمزوری ہو جاتی ہے


بہت زیادہ مشت زنی سے بتدریج مردانگی ختم ہو جاتی ہے اور شادی کے وقت بندہ جنسی قوت کھو دیتا ہے


بہت زیادہ مشت زنی کرنے والے کو بڑھاپے میں رعشہ ہو جاتا ہے وغیرہ


 


لیکن یہ ساری باتیں سن کر بھی کبھی مشت زنی سے باز نہیں آئے


کیا کریں لڑکی تو کبھی پھنسا نہیں پائے اسلیے مشت زنی کا ہی سہارا تھا


ہمیشہ یہ سوچ کرمشت زنی کی کہ بس آخری بار کر لیتے ہیں آئندہ نہیں کریں گے --- مگر وہ آخری بار کبھی نہ آئی


Edited by Young Heart
  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

بالکل درست۔ ایسا ہی ہے۔


مشت زنی کا قطعی کوئی نقصان نہیں ہے۔ اس سے نہ کسی قسم کی کوئی جنسی اور نہ ہی کوئی جسمانی کمزوری ہوتی ہے۔


بلکہ مشت زنی سے پرانے سپرم خارج ہوتے ہیں اور نئے پیدا ہوتے ہیں جو پہلے کی نسبت زیادہ فعال اور متحرک ہوتے ہیں۔


مشت زنی کرنے والے سیکس کی نسبت  کم جنسی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جو سیکس سے منتقل ہوتی ہوں۔


انزال کے وقت جو سرور ملتا ہے وہ انسان کو پرسکون کرتا ہے اور اچھی نیند آتی ہے۔ وہ سرور جسم میں ایسے کیمیکل پیدا کرتا ہے جو انسان کو کئی بیماریوں سے بچاتا ہے۔


مشت زنی کرنے والے پراسٹیٹ کینسر کا بھی بہت کم شکار ہوتے ہیں۔


مسلسل مشت زنی کرنے والوں کی شادی کے بعد جنسی کارکردگی اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت بہت بہتر ہوتی ہے۔


مگر مشت زنی کے کچھ اصول اور کچھ ضوابط بھی ہیں۔


جیسے لیٹ کر سیکس کے انداز میں بیڈ یا تکیے سے لن رگڑنے سے لن کو نقصان ہوتا ہے۔


عورت کی فرج نرم اور ایک لمبی ٹیوب جیسی ہوتی ہے جس میں خاصا گیلا پن اور پھسلن ہوتی ہے۔ یہ لن کو کسی زور آور رگڑ سے محفوظ رکھتی ہے،جب کہ بیڈ کی سطح یا تکیہ تو ایک چت اور سخت سطح ہوتی ہے جس میں لن مرد کے اپنے وزن کے نیچے تنی ہوئی حالت میں مسلا جاتا ہے۔


مشت زنی کے تیل اور صابن کا استعمال بھی اچھی چیز ہے،صابن جراثیم سے پاک رکھتا ہے،جلد کی صفائی بھی ہوتی رہتی ہے جبکہ تیل جلد اور رگوں کو خشکی سے


بچاتا ہے۔ اچھا مساج سائز کو بہتر بھی بناتا ہے۔


باتھ روم یا کسی ایسی جگہ جہاں منی کو بہانا یا دھونا آسان ہو وہ بہتر ہوتی ہے۔ بیڈ یا کسی بند جگہ پر منی کا اخراج مناسب نہیں کیونکہ اس سے گندگی اور داغ دھبے ہوتے ہیں۔


کسی بہت زیادہ ٹائیٹ چیز میں لن ڈال کر مشت زنی کرنا بھی لن کے پٹھوں کے لیے بےجا زور کا باعث بنتا ہے۔مشت زنی  کرنے سے پہلے یقینی کر لینا بہتر ہوتا ہے کہ ہیجان اپنے مکمل عروج پر ہے۔ اگر ہیجان کی کمی ہو گی تو  انزال اتنا پر لطف نہیں ہو گا جتنا ہونا چاہیے۔


بعض افراد کا کہنا ہے منی بڑی قیمتی چیز ہے اور ایک بار کا خارج شدہ منی دو کلو خون کے برابر ہے۔


اگر ایسا ہوتا تو مریض کو خون کی بجائے چوپا لگوانے کا مشورہ دیا جاتا۔


منی کی اہمیت تھوک سے زیادہ نہیں۔ پرانا خارج ہو گا تو نئے بن جائے گا۔


بعض افراد کثرت مشت زنی کی باتیں کرتے ہیں۔ مشت زنی کی کثرت ہو ہی نہیں سکتی۔


اگر ایک انسان مشت زنی یا سیکس کے قابل ہے اور بھرپور فٹ ہے سیکس کے لیے تو ہی اسے تناؤ اور ہیجان ہو گا ورنہ حسین سے حسین عورت بھی متوجہ نہیں کر سکے گی اور ویسی ہی فیلنگ ہو گی جیسی انزال کے فوری بعد ہو گی۔ اس لیے اگر تناؤ اور ہیجان کا احساس ہے تو بےفکر ہو جائیں کہ مشت زنی کی جا سکتی ہے۔

  • Like 6

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

 

انفیکشن کی تعریف ہے کہ جسم میں بیماری والے جراثیم کا اس مقدار میں داخلہ  کہ وہ جسم کے خلیوں کو نقصان پہنچائیں اور تیزی سے بڑھیں ۔ جراثیم کی بڑھتی آبادی جسم کے خلیوں اور پورے جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو۔

انفیکشن والے جراثیم عام طور پر منتقل بھی ہوتے ہیں۔ جراثیم کی افزائش وہاں ہوتی ہے جہاں انھیں سازگار ماحول میسر ہو،زخم،دودوھ،پیشاب،پیپ،منی،رطوبت،پسینہ،جسم کے پوشیدہ اعضا وغیرہ جراثیم کے لیے خوراک اور رہائش کی بہترین جگہیں ہیں۔ ان جگہوں کی صفائی سے ان کا اخراج ہو جاتا ہے۔

 

مشت زنی کو سب سے محفوظ سیکس کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں کسی قسم کا کوئی انفیکشن نہیں ہوتا۔ خاص طور پر مردوں کی مشت زنی تو نہایت ہی محفوظ ہے۔

میں نے اوپر بھی بتایا کہ صابن یا تیل اور کسی صاف سھری جگہ جہاں جگہ خارج کیے گئے منی کو بہایا جا سکتا ہو وہاں مشت زنی بڑی محفوظ ہوتی ہے۔

 

لڑکیاں البتہ اگر انگلی اندر داخل کر کے مشت زنی کرتی ہیں تو مشت زنی سے پہلے ہاتھ اگر طرح دھو لیں۔ مشت زنی کے بعد فرج کو بھی دھو لیں تاکہ رطوبت کہیں رہ نہ جائے اور جراثیم کی افزائش کا باعث بنے۔

اسی طرح اگر مردو زن کوئی سیکس ٹوائے استعمال کرتے ہیں تو کنڈوم کا استعمال کریں۔ ڈلڈو پر کنڈوم چڑھانے سے یہ ہوتا  ہے کہ ڈلڈو پر ہر بار نیا کنڈوم چڑھنے سے جراثیم اندر نہیں جاتے۔

اسی طرح اگر مرد حضرات کسی آرٹیفیشل ویجائنہ کا استعمال کرتے ہیں تو کنڈوم استعمال کریں تاکہ کنڈوم میں فارغ ہوں اور ویجائنہ کو جراثیم سے پاک اور محفوظ رکھا جا سکے۔

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

انزال سے پہلے لن نکال لینے سے حمل نہیں ہوتا۔


 


ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ انزال سے قبل لن نکال لینے سے حمل نہیں ہوتا،جو کہ بالکل غلط ہے۔


ہیجان کے وقت لن سے کچھ قطرے خارج ہوتے ہیں،قدرتی طور پر ان قطروں کا مقصد ہوتا ہے کہ لن کی نالی کو صاف کر دیا جائے تاکہ صاف ستھرا اور پیشاب کی نمکیات سے پاک منی خارج ہو سکے۔


مگر سائنسی جانچ سے پتا چلا ہے کہ یہ قطرے بھی حمل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور ان میں بھی سپرم پائے جاتے ہیں۔


اگر یہ بھی کسی طرح فرج کے اندر نکل جائیں یا عورت کے اندر کسی بھی ذریعے سے داخل ہو جائیں تو حمل ہو سکتا ہے۔


  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

پہلی بار عورت کو درد ہونا اور خون نکلنا ضروری ہے۔


 


 


یہ ایک بہت بڑا جنسی مغالطہ ہے۔ جو کئی زندگیاں برباد کر چکا ہے۔


قدرت نے فرج میں ایک پردہ جو کہ پردہ بکارت کے نام سے منسوب ہے ،پیدا کیا ہے۔ یہ باریک سی جھلی نما ہوتا ہے۔ پہلی بار دخول کے وقت یہ پھٹ جاتا ہے اور خون بہتا ہے۔


اس بات میں کوئی شک یا انکار نہیں۔


مگر اس کے ساتھ ساتھ کئی دیگر چیزیں بھی ہیں۔ سب سے پہلے کہ کئی لڑکیاں بنا پردہ بکارت کے ہیں پیدا ہوتی ہیں۔ کئیوں میں یہ کمزور ہوتا ہے اور بلوغت کے وقت خود ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ کئیوں میں یہ کھیل کود،بھاگنے دوڑنے،سڑھیاں چڑھنے اترنے میں پھٹ جاتا ہے۔ ایسی تمام صورتوں میں لڑکی کنواری ہونے کے باوجود پردہ بکارت سے محروم ہو جاتی ہے اور بلاوجہ معتوب ٹھہرائی جاتی ہے۔


 


اب بات کرتے ہیں درد کی۔


 ایک عام چلن ہے کہ عورت مرد سے کم عمر اور جسمانی طور پر ذرا کمزور ہوتی ہے تاکہ وہ دیرپا جنسی تعلقات کو نباہ سکے۔


مگر کئی شادیوں میں مردوزن کا تناسب ایسا نہیں ہوتا،عورت جسمانی طور پر مرد سے فربہ اور مضبوط ہوتی ہے۔ مضبوط جسمانی جثے والی عورت کے ساتھ اگر کوئی ایسا مرد سیکس کرے جس کا لن پتلا ہو،جب کہ فرج کا سوراخ کھلا ہو اور مسل مضبوط  تو عورت کو کم سے کم درد ہو گا۔ ہر انسان کی درد کو سہنے کی سکت بھی دوسرے سے جدا ہوتی ہے،کوئی ایک ٹیکا لگوا کر بےہوش ہو جاتا ہے تو کوئی ہڈیاں تڑوا کر بھی صبر کیے ہوتا ہے۔ خیر،ایسی عورت پہلی بار کے سیکس میں بھی لطف تو حاصل کرے گی مگر ویسی تکلیف کا سامنا نہیں کرے گی جیسی دوسری کوئی کمزور جسامت والی یا تنگ سوراخ والی کرے گی۔


ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موٹی لڑکیوں کی فرج بھاری وجود کے باعث تنگ محسوس ہوتی ہے اور کمزور لڑکی کی کمزور مسلز کی وجہ سے کھلی،چاہے دونوں نے سیکس نہ کیا ہو۔

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

kuch log kehtay hain k wo larki ki chal dekh kar bata saktay hain k larki virgin hai ya chudi hai..........

mera sawal yeh hai  k kaya aisa mumkin hai

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

بہت دلچسپ سوال ہے دوست

بہت سے دوستوں کو بڑی بڑی ڈینگیں مارتے سنا ہے - یہ اور اس طرح کی بہت سی باتیں

اڑتی چڑیا کے پر گننے کی باتیں کرنے والے ، اونچی اونچی پھینکنے والے ہزاروں ملتے ہیں

افسانہ گو، رائی کا پہاڑ بنانے والے

میرے خیال میں تو ایسی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینی چاہییں

لڑکی پر ہزار چدنے کا شک ہو --- لیکن جو چیز آنکھوں سے نہیں دیکھی یا کسی نے ازخود اقرار نہیں کیا - یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

بہت زبردست معلومات شئیر کی ہیں آپ ڈاکٹر صاحب

میرے نزدیک اس پوسٹ کو سبھی دوستوں کو غور سے پڑھنا چاہیے

اور خوامخواہ فضول فضول باتیں سوچ کر اپنی شریک حیات کے بارے میں شک نہیں کرنا چاہیے

جیسے پہلی بار خون ضرور نکلنا چاہیے

یا لڑکی کو زور زور کی چیخیں مارنی چاہییں یا فرج لازما تنگ ہونی چاہیے

اسی طرح کی باتوں کی وجہ سے لڑکی کو اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کے لیے ساری زندگی خوامخواہ کی پاکیزگی  و شرم و حیا کے ڈرامے کرنے پڑتے ہیں اور ہماری مشرقی بیویاں نہ خود سیکس کا لطف کھل کر لیتی ہیں اور نہ شوہروں کو دے پاتی ہیں

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

فیملی پلاننگ کے اس طریقہ کو ہم عزل کہتے ہیں

تحقیق کے مطابق پری کم میں یقینا سپرم ہونے کے چانسز ہوتے ہیں

 

میری معلومات کے مطابق عزل یا پل آؤٹ طریقہ کار میں صحیح وقت اور طریقے سے باہر نکال کر ڈسچارج ہونا اہم ہے

اگر صحیح طریقے سے باہر ڈسچارج ہوا جائے تو 97 فی صد یہ طریقہ موئثر ہے جبکہ 3 فی صد کیسز میں حمل ٹھہر جاتا ہے وجہ غالبا پری کم میں سپرم ہونے کے چانسز ہیں

اور اگر صحیح طریقے سے پل آؤٹ نہ کر پائیں تو فیملی پلاننگ میں ناکامی کے چانسز 27 فی صد تک بڑھ جاتے ہیں

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک رائے ہمارے ہاں یہ بھی پائی جاتی ہے کہ مباشرت کی کثرت اچھی نہیں ہوتی


انسان کو کمزور کر دیتی ہے یا جنسی طاقت کم کر دیتی ہے


 


تو یہ سوال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے کہ جنسی مباشرت کی فریکونسی پھر کتنی ہونی چاہیے ؟؟؟


کیا صحت کا تعلق جنسی مباشرت کی کمی بیشی سے بھی ہے؟؟؟؟؟


کیا جنسی طاقت کثرت مباشرت سے کم ہو جاتی ہے ؟؟؟؟


 


جنسی طاقت کے کم ہونے کے بارے میں کچھ اور باتیں بھی کہی جاتی ہیں


جیسے دھنیا زیادہ کھاؤ - یا اسپغول کھاؤ تو جنسی طاقت کم ہوتی ہے


اور سنگھارے کھاؤ یا دودھ میں چھوارے ابال کرپیو تو جنسی طاقت بڑھتی ہے


اس طرح کی باتوں میں کتنی حقیقت ہے؟؟؟


Edited by Young Heart
  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

پرانے وقتوں میں سمجھا جاتا تھا کہ سیکس کے لیے شدید جسمانی قوت چاہیے ہوتی ہے۔


جس انسان کی شادی ہونے والی ہوتی تھی وہ عورت برتنے سے قبل خود کو فٹ کرنے کی کوشش کرتا تھا،جس کے لیے وہ کسرت اور حکیمی معجون کھایا کرتا تھا۔ کوئی دبلا پتلا انسان مذاق کا نشانہ بنتا کہ میاں تم سے تو بیوی نہیں سنبھلنے والی۔حالانکہ مسلم معاشرے اس کے برعکس تھے،جہاں چار چار نصف سے کم عمر بیویاں بڑے آرام سے نبٹائی جاتی تھیں۔ہندوپاک معاشرے میں البتہ سیکس سے قبل جسمانی قوت حاصل کرنے کی غرض سے کئی قدیمی نسخے استعمال کرنے کا رجحان تھا،جوگی،حکیم،وید وغیرہ اس معاشرے کی پیداوار ہیں۔


دھیرے دھیرے رجحان میں بدلاؤ آنے لگا اور فی زمانہ مغربی ممالک تو ان مغالطوں سے مکمل طور پر آزاد ہو گئے ہیں،ہم ابھی بھی ان میں کسی حد تک جکڑے ہوئے ہیں۔


سیکس کے لیے جسمانی طور پر فٹ ہونا ضروری ہے کیونکہ سیکس ایک صحتمند جسم کا شغل ہے۔ جس طرح کھیل کود ایک جسمانی طور پر چست انسان ہی کر سکتا ہے،جس کے ہاتھ،سر،پیر،کمر میں درد ہو وہ بھلا کیا کھیلے گا،کودے گا۔ اس طرح کسی قسم کی جسمانی بیماری میں انسان سیکس کے لیے کیا تحریک پائے گا۔


ہر وہ انسان جو ہیجان اور اشتعال حاصل کرتا ہے وہ سمجھ لے کہ وہ مکمل طور پر فعال ہے اور سیکس کے قابل ہے۔ اس کے لیے کسی ٹیسٹ یا لیبارٹری کی ضرورت نہیں ہے۔سیکس کی طلب ہونا ہی جنسی طور پر فٹ ہونے کا سب سے بڑا سرٹیفیکیٹ ہے۔


وہ جب جب اشتعال حاصل کرے وہ سیکس کر سکتا ہے۔ سیکس بالکل بھوک کے جیسا ہے۔ جب بھوک لگے سمجھ لینا چاہیے کہ انسان کھانا کھا سکتا ہے۔ جب بھوک نہ لگے تو سمجھ لے کہ یا تو پیٹ بھرا ہوا ہے یا کوئی جسمانی مسلئہ ہے جو کھانے کو دل مائل نہیں۔


 


سوال ہے کہ سیکس کرنے سے کوئی کمزوری ہوتی ہے؟


ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ کثرت مباشرت زیادہ فٹ اور توانا رکھتی ہے۔ اکثر حضرات سیکس کے بعد زیادہ صحتمند ہو جاتے ہیں اور یار باش کہتے ہیں کہ اسے شادی راس آ گئی ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ مباشرت نے اسے بہتر صحت عطا کی ہے۔


ایک سوچ یہ تھی کہ منی بڑا طاقتور مواد ہوتا ہے جو جسم سے خارج ہو تو جسم کی جان نکل جاتی ہے،تبھی نیند اور کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔ اس کی وجہ کمزوری نہیں بلکہ سکون اور سرور ہے۔ جس کی وجہ سے سونے کا دل چاہتا ہے۔


سیکس کا صحت سے یہ تعلق ہے کہ صحت ہو گی تو سیکس کرنے کو دل چاہے گا۔ سیکس کریں گے تو صحت بہتر ہو گی۔ کثرت مباشرت سے صحت پر مثبت اثرات تو پڑتے ہیں ،منفی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ ایسا ہوتا تو چار چار بیویوں اور کئی کئی خادمائیں رکھنے والے سال دو سال میں ہی مر جاتے۔


 


 


سیکس کی فریکوئنسی کیا ہونا چاہیے؟


ایک صحتمند جوڑا بہترین اور لمبی عمر کے لیے ہفتے میں تین سے پانچ بار کرے تو وہ بہترین جوڑا سمجھا جاتا ہے۔ مگر ایسے جوڑے جو اس سے زیادہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں وہ زیادہ بھی کر سکتے ہیں۔اب وہ کتنا زیادہ ہو؟ وہ ان پر منحصر ہے کہ ان کے پاس وقت کتنا ہے،ماحول کیسا ہے؟ مواقع کتنے دستیاب ہیں، گھریلو ذمہ داریوں سے کتنی فراضت میسر آتی ہے۔ وغیرہ۔


 


سیکس کی خاص خوبی ہے کہ جتنا کیا جائے اتنی زیادہ شہوت جنم لیتی ہے۔ اس لیے کثرت سے کرنے والے زیادہ جلدی ہیجان پاتے ہیں اور زیادہ  سیکس کر سکتے ہیں۔


  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہمارے ہاں ایک مغالطہ سیکس ایجوکیشن کے بارے میں بھی ہے - کہ سیکس ایجوکیشن میں محض سیکس کرنے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں


سوال یہ ہے کہ سیکس ایجوکیشن کیا ہے؟ اور بچوں (لڑکوں اور لڑکیوں)کے لیے سیکس ایجوکیشن کا مطلب کیا ہے، یہ ایجوکیشن کون دے اور کب دے


  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×