Jump to content
URDU FUN CLUB
Young Heart

پاکستان میں جسم فروشی

Recommended Posts

رائٹر : منصور مہدی

 

ہر معاشرے اورخطے میں جسم فروش افراد پائے جاتے ہیں، مشرق ہو یا مغرب اور افریقہ ہو یا ایشیاءجہاں پر انسان بستے ہیں وہاں پر جسم فروشی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہو تی ہیں ۔بعض ممالک میں جسم فروشی کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور سیکس ورکرز قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے امور انجام دیتے ہیں اور ان کے بھی وہ حقوق اور استحقاق ہیں جو عام شہریوں کو حاصل ہیں جبکہ بعض ممالک میں جسم فروشی پر پابندی ہے اور وہاں پر ایسے لوگوں کو سزائیں دی جاتی ہیں۔جسم فروشی دنیا کا ایک قدیم پیشہ ہے اور اس کی سب سے بنیادی وجہ انسان کے اندر حیوانی جبلت اور نفسانی خواہش کی موجودگی ہے۔ اس پیشے کو جہاں پر بعض لوگ اپنی مرضی سے اپناتے ہیں وہاں پر خصوصاً تیسری دنیا کے ممالک میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جنہیں جبر و استحصال کے سبب اس پیشے میں شامل ہونا پڑتاہے۔ اس کی دیگر وجوہات میں نہ صرف غربت اور بے روزگاری ہے بلکہ تعلیم کی کمی ،معاشرے کی بکھرتی ہوئی انسانی قدریں ، دولت کی غیر مساویانہ تقسیم ،طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ، آبادی میں بے پناہ اضافہ ، مردوں کا خواتین پر بے جا جبر وتشدد ، قانون کی عدم حکمرانی ، اسلامی تعلیمات سے دوری ، بے راہروی ، ڈش اور انٹر نیٹ تک عام رسائی شامل ہے ۔ ہمارے ملک میں بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے اور تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے جس وجہ سے نہ صرف سنجیدہ طبقوں بلکہ عام شہریوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے ۔ کوئی شہر اور علاقہ ایسا نہیں ہے کہ جہاں پرجسم فروش افرادموجود نہ ہوں مگر بعض اوقات حکومتی اداروں کی طرف سے مناسب کاروائی کے نتیجے میں یہ کام چوری چھپے ہونے لگتا ہے اور کبھی ان اداروں کی سرپرستی کی وجہ سے کھلے عام ہونے لگتا ہے۔اکثریتی ممالک میں ایسے افراد کیلئے مخصوص علاقے ہوتے ہیں جنہیں ریڈ لائٹ زون یا بازار حسن کہا جاتاہے۔ لاہور میں موجودہ بازار حسن(ہیرا منڈی) سینکڑوں سال قبل قائم ہوا ۔ اس بازار میں شاہی دربار ، وزاراءاور امراءکی محفلوں میں لوک گیت گانے اور روایتی رقص پیش کرنے والی طوائفیں اور ان کے سازندے رہا کرتے تھے یہاں بسنے والے یہ خاندان بڑے مہذب اور با اخلاق ہوتے تھے اور ان کے پاس شہر کے رئیس اپنی اولادوں کو تعلیم و تربیت کے لئے بھیجا کرتے تھے.

Please login or register to see this link.

جبکہ جسم فروش عورتیں لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع موجودہ لنڈے بازار میں رہا کرتی تھیں یہ بازار سکھوں کے دور حکومت تک قائم رہا۔ سکھاشاہی کے دوران اس بازار میں بیٹھی چندخواتین کی وجہ سے جب ہندو مسلم فسادات ہوئے تو کشمیر کے مسلمان راجہ نے لنڈا بازار کی تمام عمارتیں خرید لیں اور یہاں سے تمام افراد کو نکال دیا گیاچنانچہ یہاں پر آباد خاندان پرانی انارکلی کے علاقے میں منتقل ہو گئے مگر انگریز دور حکومت میں یہاں قائم ہونے والی فوجی بیرکوں کی وجہ سے حکومت نے ان سے یہ علاقہ بھی خالی کروا لیا جس پر یہاں سے متعدد خاندان ہیرامنڈی میں منتقل ہو گئے اس طرح ہیرامنڈای میں بھی جسم فروشی کے اڈے قائم ہو گئے یہ سلسلہ پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رہا مگرجب جنرل ضیا ءالحق کے دور میں بازار حسن کو بند کر دیا گیا اور یہاں پر کسی بھی قسم کی پرفارمنس ممنوع قرار دے دی گئی تو یہاں کے رہنے والے خاندان شہر کے مختلف علاقوں میں شفٹ ہو گئے اور یوں ایک محضوص علاقے میں قائم ہیرامنڈی پورے شہر میں پھیل گئی اور یہی حال پورے ملک کا ہوا ۔لاہور شہر میں کوئی ایسی آبادی نہیں کہ جہاں پر کوٹھی خانے موجود نہ ہوں جبکہ بڑی مارکیٹوں ، سڑکوں ، درباروں،باغوں ، پارکوں اور اہم علاقوں میں بھی ان کی بھرمار رہتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق لاہور میں 2 لاکھ کے قریب جسم فروش خواتین اور لڑکے موجود ہیں جن میں 12\13 سال کی عمر تک سے لیکر 40\45 سال کی عمر تک کے افراد شامل ہیں اور ان کی تعداد میں 200 سے لیکر 300 افرادتک ماہانہ اضافہ ہو رہا ہے جبکہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس مانیٹرنگ گروپ(IHRM) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 15لاکھ کے قریب جسم فروش افراد موجود ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور انکے مطابق اس کی بنیادی وجہ غربت ہے کیونکہ کل آبادی کے 45فیصد افراد انتہائی غریب ہیں جن میں سے بیشتراپنی بنیادی ضروتوں کو پورا کرنے کیلئے اس پیشے کو مجبوراً اپنا لیتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ان میں44فیصد خواتین غربت ،32فیصد دھوکے اور فریب ،18فیصد جبر وتشدد،4فیصد وہ خواتین جو انہی گھرانوں میں پیدا ہوئیں اور 2فیصد اپنی مرضی سے شامل ہیں۔ کیونکہ جسم فروشی میں معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل ہیں ان میں سے ایسی خواتین بھی ہیں جو صرف 50 روپے میں اپنی عزت بیچ دیتی ہیں اور بعض ایسی ہیں ہیں جو اپنے آپ کو پیش کرنے کیلئے لاکھوں روپے وصول کر تی ہیں غریب خاندان سے تعلق رکھے والی خواتین انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کررہی ہیں اور ان کے بچے دو وقت کی روٹی کو بھی ترستے ہیں جبکہ بعض خواتین نے پوش علاقوں میں عالیشان مکانات بنائے ہوئے ہیں اور ان کی ہلکی سی مسکراہٹ پر سونے چاندی کے ڈھیر لگ جاتے ہیں ۔ جسم فروشی میں اگرچہ ہر دور میں ہیجڑوں کا بھی کردار رہا ہے مگر موجودہ دور میں نو عمر بچوں کی شمولیت خاصی تشویش کی بات ہے۔اس پیشے میں سامنے نظر آنے والی خواتین اور لڑکوں کے علاوہ پس پردہ بڑے بڑے افراد اورگروہ کام کر رہے ہوتے ہیں جن کے رکن مختلف طریقوں اور لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں اس کام کی جانب راغب کرتے ہیں اور اس گروہ کے افراد نوعمر بچوں اور بچیوں کو ورغلا کر اغواءبھی کر لیتے ہیں اوربعد ازاں انہیں زبردستی اس دھندے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ جیسا کے بعض اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہوئیں کہ جن کے مطابق لاہور کے بعض بڑے کوٹھی خانوں کی مشہور خواتین زلزلہ زدہ علاقوں سے بے سہارا بچیوں کو لانے کیلئے سرگرم ہو گئیں اور انھوں نے اپنے کارندے ان علاقوں میں بھیج دیے۔ویسے بھی بعض علاقوں میں رقم کے عوض خواتین کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور نو عمر لڑکوں سے دوستیاں رکھنا برا  نہیں سمجھا جاتا۔ چند ہفتے قبل زلزلہ آنے سے قبل صوبہ سرحد میں ایک آدمی کی لڑکے سے شادی کافی عرصہ اخبارات کی زینت بنی رہی۔

Please login or register to see this link.


جبکہ اس مقصدکیلئے بیرون ممالک سے بھی خواتین کو لایا جاتاہے۔ ایک سروے کے مطابق گزشتہ 10 سالوں میں بنگلہ دیش سے 5 لاکھ خواتین ،برما سے 20 ہزار ،افغانستان سے ایک لاکھ اور روسی ریاستوں اور دیگر ممالک سے ہزاروں خواتین پاکستان آئیں اور جسم فروشی کے پیشہ سے منسلک ہوگئی ان میں سے متعدد خواتین ایسی ہیں کہ جنہوں نے اس پیشہ کواپنی مرضی سے اپنایا جبکہ اکثریت ایسی خواتین کی ہیں کہ جن کو ان کی مجبوریاں اس پیشہ میں لانے کا سبب بنی ،ان گرہووں کے ارکان بنگلہ دیش اور برما سے نوجوان لڑکیوں کو ملازمت اور مستقبل کے سنہرے خواب دیکھا کر لاتے ہیں اوربعد  میں انھیں ملک کے مختلف شہروں میں فروخت کر دیا جاتا ہے اور یوں یہ لڑکیاں بازار حسن کی زینت بن جاتی ہیں۔لاہور کے علاوہ دیگر شہروں میں بعض ایسے کوٹھی خانے موجود ہیں کہ جہاں پر غیر ملکی خصوصاً روسی ریاستوں سے تعلق رکھنے والی خواتین موجود ہیں ۔کراچی ،لاہور اورحیدرآباد کے بعد اب پشاور میں غیر ملکی سیکس ورکرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔جب سے افغانستان میں امریکی اور یورپی فوجوں نے ڈیرے ڈالے ہیں اور کابل میں ڈالروں کی بھرمار کے علاوہ کلب قائم ہوئے تب سے امریکہ ،مشرقی یورپ، یورپ اور روسی ریاستوں کی سیکس ورکرز خواتین نے کابل کا رخ کر لیا ۔ ہمارے ملک میں اس پیشے کی موجودگی کی وجوہات درج بالا ہیں وہاں پر ہمارے معاشرے پر ہندو تہذیب اور کلچر کے بھی نمایاں اثرات ہیں ہندو مذہب میں تو سیکس کی تعلیم دی جاتی ہے جبکہ ہندووں کے شولنگ دیوتا سیکس کے دیوتا ہیں اور اس کے بھارت میں بڑے بڑے مندر ہیں جہاں پر دیوداسیاں شو لنگ کی پوجا کرتیں ہیں جبکہ دیگر خواتین بھی مندر میں عبادت کیلئے آتی ہیں۔ نیشنل کمیشن فار ویمن کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ایک کروڑ سے زائد خواتین بطور سیکس ورکر کے کام کرتی ہیں جس میں سے 40فیصد خواتین ایسی ہیں کہ جنہیں بھارت کے دور دراز علاقوں سے اغوا کر کے،زبردستی ،جبر وتشدد اور دیگر دھوکے اور فریب سے لایا گیا ہے

 

Please login or register to see this link.

ان میں سے 41.8فیصد خواتین 18سے 25سال کی ہیں جبکہ 6.21فیصد لڑکیاں18سال سے کم عمر کی ہیں۔56.79فیصد خواتین ان پڑھ اور تعلیم سے عاری ہیں اور 47فیصد سیکنڈری سکول کی تعلیم سے لیکر کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ہیں ان مین زیادہ تر کا تعلق ہندووں کی نچلی ذاتوں سے ہے جبکہ 30فیصد غیر شادی شدہ لڑکیوں کے ساتھ70فیصد شادی شدہ خواتین شامل ہیں۔
بنگلادیش کی 32 سالہ نصرت کا کہنا ہے کہ وہ نرائن گنج بنگلہ دیش کی رہنے والی ہے اور پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہے 8 سال پہلے اچھی ملازمت کا جھانسہ دیکر براستہ بھارت پاکستان لائی گئی اور اندرون سندھ ایک شخص نے 50 ہزار روپے کے عوض مجھے خرید لیا وہ ایک اچھا انسان تھا اگرچہ میرے ساتھ بھی برتاﺅ تو وہی ہوتا تھا جو دوسری عورتوں کے ساتھ مگر اس نے مجھے رہنے کو مکان دیا ہوا تھا اور کھانے پینے کو بھی دیتا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد میں لاہور آگئی اوریہاں پرمیں نے نوکر ی تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر مجھے نوکری نہ ملی جبکہ کھا نا پینا اور دوسری ضروریات زندگی بھی پورا کر نی تھیں مکان کا کرایہ ادا کرنا تھا چنانچہ اب دوبارہ میں نے جسم فروشی کا پیشہ اختیار کر لیا ہے اور اب میرے گھر میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے اور میرے ساتھ میری منہ بولی خالہ بھی رہتی ہے افغانستان کے شہر مراز شریف کی رہنے والی 40 سالہ ماریہ نے بتایا کہ 20 سال قبل اس کا شوہر اور دیگر عزیزواقارب افغان جنگ و جدل میں مارے گئے جبکہ اس وقت میرا 2 سال کا بیٹا بھی تھااس وقت اس علاقے سے ایک قافلہ پاکستان میں آ رہاتھا میں بھی اس قافلے کے ساتھ پاکستان آ گئی چند دن میں کیمپ میں رہی اور پھر دوسرے لوگوں کے ساتھ پشاور چلی گئی جہاں پر میری ملاقات ایسے خاندان سے ہوئی جو جسم فروشی کا دھندہ کرتے تھے جن کے ساتھ میں لاہور آگئی اور میں نے بھی یہی دھندہ اپنا لیا
بازار حسن میں پیداہونے والی 34 سالہ نائلہ نے بتایا کہ میں بچپن سے ہی موسیقی اور رقص سے لگاﺅ رکھتی ہوں میں اپنی چاروں بیٹیوں کو بھی یہی کام سیکھا رہی ہوں اس نے مزید بتایا کہ میں اس طبقے سے تعلق رکھتی ہوں جو اپنے گھر بیٹی پیداہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور میں اپنے اس پیشے سے مطمئن ہوں۔
سنہ 1988میں اولمپک کھیلوں سے قبل کوریا کے شہر سیﺅل کا بازار حسن ایک چھوٹی سی سڑک پر عام اور پرانے کمروں پر مشتمل تھا مگر اولمپک کھیلوں کے انعقاد کے لئے جب وہاں کی حکومت نے سیول کو بین الاقوامی شہر کا درجہ دیا اور اہم سڑکوں ، بازاروں اور گلیوں کو توسیع دی گئی

Please login or register to see this link.

 اور اہم مراکز نئے سرے سے تعمیر کیے گئے تو سیول کے بازار حسن کی قسمت بدل گئی۔سیول کے جنوب میں ایک وسیع سڑک پر ایک منزلہ خوبصورت اور جدید عمارتیں تعمیر کی گئی جن کے فرنٹ پر ایک آرائشی کمرہ جس کے سامنے شیشہ لگا ہوا تھا بھی بنائے گئے ۔کھیلوں کے انعقاد سے قبل ہی پرانے بازار حسن کے باسیوں کو اس نئے بازار میں منتقل کر دیا گیا اور کھیلوں کے شروع ہوتے ہی اس بازار کی رونقیں بھی عروج پر پہنچ گئیں جبکہ شیشوں کے کمرے میں بیٹھی لڑکیا ں اپنی خوبصورت اداﺅں سے مردوں کو لبھاتی۔ اسی طرح یورپ کے ممالک میں بھی بازار حسن ہیں یہاں پر کام کرنے والیوں کو فاحشہ کہنے کی بجائے سیکس ورکر کہا جاتا ہے جو مردوں کی فطری خواہش کی تکمیل کے بعد اپنا طے شدہ معاوضہ وصول کرنے کی حقدار ہوتی ہے جبکہ یہاں پر کام کرنے والیوں کا ہر ماہ باقاعدگی سے میڈیکل ٹیسٹ ہوتا ہے اور کسی قسم کی خطرناک بیماری کی صورت میں اسے کام کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔یورپ اور دیگر ممالک میں سیکس ورکرز متعدد یونینیں قائم ہیں جو سیکس ورکر کے قانونی حقوق کا تحفظ کرتی ہیں۔ جبکہ ایشیائی ممالک میں بھارت پہلے نمبر پر ہے کہ جہاں سب سے زیادہ جسم فروشی ہوتی ہے اور اب بھارت میں بھی سیکس ورکرز نے اپنے تحفظ کے لئے انجمنیں بنا لی ہیں جو حکومتی اور عدالتی سطح پر ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کر رہی ہیں۔انٹرنیشنل یونین آف سیکس ورکرز کے ممبر اس وقت دنیا بھر کے ممالک میں موجود ہیں ۔اس کے ممبروں میں نہ صرف سیکس ورکرز شامل ہیں بلکہ بعض ایسے عام افراد بھی شامل ہیں جن کو سیکس ورکرز مہیا کر کے یہ یونین اپنے مفادات کا تحفظ کر تی ہے ۔ اسی طرح مئی 2005میں امریکہ میں سان فرانسسکو سیکس ورکرز کا چوتھا سالانہ فلم اینڈ آرٹس فیسٹیول منعقد ہوا جس کے پروگرام ایک ہفتہ تک چلتے رہے ان پروگراموں میں امریکہ بھر سے مختلف طبقہ فکر کے افراد نے شرکت کی ۔سیکس ورکرز کے تحفظ کے بارے میں تقاریر کے علاوہ سمینار اور ورکشاپس کا انعقاد ہوا ۔ اس انجمن کے سان فرانسسکو کے علاوہ دیگر شہروں میں ایسے ادارے موجود ہیں کہ جہاں پرسیکس کی تعلیم کے علاوہ عملی تربیت بھی دی جاتی ہے۔
فطری جذبات کی بے ہنگم اور ناجائز طریقوں سے تکمیل کی وجہ سے آج دنیا ایڈ زجیسے موذی اور لا علاج مرض کے شکنجے میں آچکی ہے ۔افریقی ممالک سے شروع ہونے والی یہ بیماری آج دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔ ایڈز کے مرض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بیماری دراصل بندروں کی بیماری ہے اور غیر فطری کاموںکی وجہ سے انسانوں میں منتقل ہوئی ۔اس بیماری میں مبتلا ہونے والے افراد کے اندر مختلف بیماریوں سے بچاﺅ کی قدرتی قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے اور متاثرہ شخص کسی بھی بیماری کی زد میں آ کر موت سے ہمکنار ہو جاتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس موذی مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں اور سب سے زیادہ افراد کا تعلق افریقی ممالک سے ہے جب کہ بھارت میں بھی ہزاروں افراد اس بیماری کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں پاکستان میں بھی متعد د افراد ایڈز میں مبتلا ہیں۔1987میں پاکستان میں ایڈز کا پہلا مریض رپورٹ کیا گیا جبکہ اب 70سے80ہزار افراد ایڈز میں مبتلا ہے اور یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔

  سیکس ورکرز سے متعلق ہر معاشرے کی مختلف اصول و ضابطے ہیں بعض قوموں نے اسے قبول کر کے ان سے متعلق قانون وضع کر لیے اور انھیں کچھ حقوق بھی دیے جبکہ دیگر ممالک میں سخت سزائیں موجود ہیں مگرقانون کی موجودگی یا عدم موجودگی کی پروا کیے بغیر اس پیشہ کے افراد تمام دنیا بشمول اسلامی ممالک میں موجود ہیں۔ایسی معاشرتی برائیوں سے اسی وقت نجات مل سکتی ہے کہ جب یہاں سے مکمل طور پر غربت کا خاتمہ کیا جائے اور قانون کی حکمرانی قائم ہو اور خواتین پر جبر وتشدد کا خاتمہ ہو اور اسلامی تعلیمات سے لگاﺅں پیدا کیا جائے اور صرف حکومت ہی نہیں بلکہ مذہبی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں اور عام شہری ملکر اس پیشے کے قوموں ، قبیلوں اور نسلوں میں پھیلنے والے اثرات سے آگاہی اور شعور دیں۔

 

(یہ آرٹیکل منصورمہدی ڈاٹ ورلڈپریس ڈاٹ کام سے کاپی کیا گیا ہے)
 

Edited by Young Heart
  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

اعدادو شمار اور تاریخی پس منظر کے ساتھ حقائق کو جاننا واقعی بڑی گراں قدر معلومات کا ذریعہ ہوتا ہے۔


بہت ہی مفصل اور معلوماتی مضمون تھا۔


پڑھ کر خاصا افسوس بھی ہوا اور آگاہی بھی حاصل ہوئی۔


  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

جسم فروشی کے لیے لڑکیوں کی دبئی اسمگلنگ


 



فیصل آباد: شمائلہ* نے کبھی کمپیوٹر انجینئر بننے کا خواب دیکھا تھا، لیکن اس کے بجائے سولہ برس کی یہ روشن آنکھوں والی پاکستانی لڑکی کو دھوکے سے متحدہ عرب امارات میں جسم فروشی کے دھندے میں دھکیل دیا گیا، اور اس کے لیے جنسی زیادتی، تشدد اور ظلم و ستم پر مبنی چار برس طویل ایک ڈراؤنا خواب شروع ہوگیا۔


پاکستان طویل عرصے سے اس خلیجی ریاست کے لیے سستے مزدوروں کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے، خاص طور پر اس کے تعمیراتی شعبے کے لیے جس میں زور و شور کے ساتھ کام جاری ہے۔


لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ سینکڑوں نوجوان پاکستانی خواتین کو بھی ہر سال دبئی کے نائٹ کلبوں اور جسم فروشی کے اڈوں میں جنسی تجارت کی فراہمی کے لیے اسمگل کردیا جاتا ہے۔


شمائلہ اور ان کی بہن رابعہ * بھی ان میں سے ایک تھیں۔


ان کے وہاں سے فرار کے ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرجانے بعد بھی شمائلہ کادرد اب بھی ان کی لڑکھڑاتی چال، ان کے متذبذب لہجے اور ان کے جسم پر نقش ہوچکا ہے، جس پر تشدد کے ان گنت نشانات موجود ہیں۔


ٹانگوں کی لمبائی میں عدم توازن سے انہیں چلنے میں دشواری ہوتی ہے، جو گئے ایک آپریشن نشانی ہے، جو انہیں دبئی اسمگلنگ کرنے والے گروہ کی جانب سے تین مرتبہ گولی مارنے کے بعد کیا گیا تھا۔


شمائلہ اور رابعہ 2013ء میں کسی طرح سے اپنے اذیت رسانوں کی گرفت سے نکلنے کی گوشش میں کامیاب ہوئیں، اور زندہ بھی ہیں، وہ ایک کچی آبادی میں دو کمروں کے ایک گھر اندر انتقامی حملے کے خوف سے چھپ گئی تھیں۔


ان کے مکمل نام اور ان کے شہروں کے نام ان کے تحفظ کی خاطر پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔


صوبۂ پنجاب میں ان کے آبائی قصبے میں جب ان کی مصیبت کے دن چل رہے تھے اور ان کا خاندان معاشی تنگی سے دوچار تھا، اس دوران عائشہ نامی ایک پڑوسن نے ان دونوں بہنوں کو کچھ گھریلو کام کی پیشکش کی۔


کچھ عرصے بعد عائشہ نے ان دونوں بہنوں کو اپنے بیوٹی پارلر میں کام کرنے کے لیے دبئی لے جانے کی تجویز پیش کی۔ اس نے جعلی کاغذات حاصل کیے اور ان کی مدد سے کم عمر شمائلہ کو پاکستان سے باہر لے گئی۔


رابعہ پر جو کچھ گزری اس سے وہ بہت زیادہ مجروح ہیں، وہ اپنی کربناک آزمائش کو بمشکل ہی بیان کرسکیں۔


اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے شمائلہ نے ان خوفناک واقعات کا انکشاف کیا جو دبئی میں ان کا انتظار کررہے تھے۔


شمائلہ نے بتایا ’’عائشہ ہمیں ایئرپورٹ کے واش روم کی طرف لے گئی اور ہمیں بتایا کہ اس کے گاہکوں کے لیے ہم سے جنسی خدمات لی جائیں گی۔ ہم نے رونا شروع کردیا تو اس نے ہمیں بتایا کہ ہم نے جعلی کاغذات پر سفر کیا ہے، اور اگر ہم نے کچھ بھی کہا تو ہمیں پولیس کے حوالے کردیا جائے گا۔‘‘


جب انہیں متبادل کوئی صورت دکھائی نہ دی تو دونوں بہنیں یہ سوچتے ہوئے عائشہ کے ساتھ چلی گئیں، کہ وہ گاہکوں کے ساتھ جنسی تعلق سے بچنے کی پوری کوشش کریں گی۔


شمائلہ نے کہا ’’پہلی مرتبہ وہ خود بھی کمرے میں موجود تھی اور اس نے گاہکوں کی خواہش کی تسکین کے لیے ہمیں مجبور کیا۔ اس کے سامنے اور اس کی مدد کے ذریعے ہمارے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔‘‘


بعد میں عائشہ نے اپنے گاہکوں سے کہا کہ وہ اس کے نمبر پر کال کرکے اپنے موبائل فون ساتھ رکھیں تاکہ اس دوران کیا ہورہا ہےوہ سنتی رہے۔


شمائلہ نے کہا ’’ہم نے جب ریپ کے دوران گاہکوں سے تعاون کرنے سے انکار کیا تو اس نے ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا، اس نے ہمیں بتایا کہ کمرے کے اندر جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ اس سے اچھی طرح واقف ہے۔‘‘


یہ عورت انہیں باہر جانے یا ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ بات کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ انہوں نے پاکستان میں اپنے گھر والوں کے ساتھ کبھی کبھار ہی فون پر بات ہوئی، اور انہیں دھمکی دی جاتی تھی کہ ان سے یہاں کے بارے میں کو ئی بات نہ کی جائے۔


شمائلہ نے کہا ’’وہ ہم میں سے ایک کو پکڑ لیتی تھی اور دوسری بہن سے کہتی تھی کہ اپنے والدین سے بات کرو، ساتھ ہی دھمکی دیتی تھی کہ اگر جسم فروشی کے اس اڈّے کے بارے میں کوئی انکشاف کیا تو وہ ہمیں قتل کردے گی۔‘‘


وقتاً فوقتاً عائشہ ان خواتین کو پاکستان واپس لے جاتی تھی، تاکہ ان کے ویزے کی تجدید کرواسکے۔ انہیں دھمکی دی جاتی تھی کہ وہ خاموش رہیں، اگر انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ ان کے ساتھ دھوکہ دیا گیا تھا، تو وہ ان کے پورے خاندان کو قتل کروادے گی۔


فرار میں کامیابی، لیکن محدود آزادی


آخرکار یہ بہنیں مارچ 2013ء میں اپنی بڑی بہن قمر کو اپنے اوپر گزرنے والے عذاب کے بارے بتانے کی ہمت کر پائیں اور یہاں سے نکلنے میں کامیاب بھی ہوسکیں۔


شمائلہ نے بتایا ’’عائشہ کا بھائی اور اس کے شوہر کا چھوٹا بھائی ہمارے گھر پہنچے اور انہوں نے مجھ پر تین گولیاں فائر کیں۔ اس عورت نے پولیس اہلکار کو ہسپتال بھیجا، جس نے مجھے ہراساں کیا اور مجھ سے کہا کہ اس کے باوجود کہ میری ٹانگ میں سرجری ہوئی تھی، میں چلنا شروع کردوں۔‘‘


یہ خاندان ہسپتال سے نکلنے پر مجبور ہوگیا اور روپوش ہوگیا، اس لیے کہ ان کے پڑوسیوں نے بھی ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرنا شروع کردیا تھا۔


شمائلہ کے خاندان نے عدالت سے رابطہ کیا کہ وہ عائشہ اور اس کے شوہر اشفاق کی جانب سے چلائے جانے والے انسانی اسمگلنگ کے اس گروہ کو پکڑنے کے لیے کارروائی کرے۔


عدالت نے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو کارروائی کا حکم دیا ، لیکن اس کیس میں اب تک بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔


ذوالفقار علی بھٹہ جو شمائلہ کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کے اکثر سیاستدانوں اور پولیس کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔


ذوالفقار علی بھٹہ نے بتایا ’’کئی گروہ ہر ہفتے درجنوں نوجوان لڑکیوں کو دبئی جسم فروشی کے لیے اسمگل کرتے ہیں۔ ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کرتا۔‘‘


انہوں نے کہا کہ ’’اس کیس کا مرکزی ملزم اشفاق ایف آئی اے کے حکام کے سامنے عدالت سے فرار ہوگیا تھا۔ عدالت کی جانب سے اس کی ضمانت منسوخ کیے جانے کے باوجود انہوں نے اس کو گرفتار نہیں کیا۔‘‘


انسانی اسمگلنگ پر امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرین کو تحفظ کی پیشکش اور کارروائی سے اشارہ ملتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت جنسی تجارت کے لیے اسمگلنگ سے نمنٹے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔


امریکی رپورٹ کا کہنا ہے کہ 2013ء میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے چالیس متاثرین کا پتہ لگایا تھا، اور انہیں ریاست کے فنڈ سے چلنے والی پناہ گاہوں میں بھیج دیا تھا۔


فیصل آباد میں ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید شاہد حسن نے اے ایف پی کو بتایا ’’یہ درست ہے کہ سینکڑوں لڑکیوں کو بیوٹی پارلرز ، میوزک اور ڈانس کلبوں میں کام کرنے کے لیے دبئی لے جایا جارہا ہے، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ انہیں جسم فروشی کے لیے اسمگل کیا گیا تھا۔‘‘


شمائلہ اور رابعہ کی آزمائشوں میں کمی آئی ہے، لیکن ختم نہیں ہوئی۔


عائشہ نے عدالت میں خود کو پیش کردیا تھا، لیکن اب وہ ضمانت پر آزاد ہے۔ یہ دونوں بہنیں اب بھی اپنی زندگی کے لیے خوفزدہ ہیں کہ کوئی مسلح شخص انہیں مارنے کے لیے واپس آجائے گا۔


  • ان دونوں بہنوں کے نام اور شناخت ان کے تحفظ کی خاطر تبدیل کردیے گئے ہیں۔

(یہ آرٹیکل ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی سے کاپی کیا گیا ہے)


Edited by Young Heart
  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

جسم فروشی


 


تحریر


سید جون علی شاہ


شعبہ ابلاغ عامہ ، جامعہ کراچی


 


وقت اور زمانہ ہزاروں سال کے دورِ جاہلیت سے ترقی کرتا کرتا لاکھوں داستانیں رقم کرتا ہوا مہذباورترقی یافتہ دور میں آپہنچا لیکن معاشرتی عصبیت،ثقافتی انحراف ،ثقافتی خلیج ،فرقہ واریت ،لسانیت ،اور درجہ بندی کے سنگین مسائل آج بھی موجود ہیں ۔یہ مسائل اپنی جگہ لیکن خاص طور پر ان میں جسم فروشی کا کاروبار سرِفہرست نظر آتا ہے جو اسلامی ریاست پاکستان میں فروغ پا رہا ہے حالانکہ دنیا کا کوئی     بھی ملک اس سے بری الذمہ نہیں ۔


تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں قبائلی نظام مختلف گروہوں اور فرقوں کی صورت میں الگ تھلگ ایک ایسا زمینی خطہ رہا ہے جہاں پیشہ وارانہ لوگ مخصوص مہارت کے ساتھ مختلف چیزیں تیار کرتے تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ ان مہارتوں کے حامل افراد مختلف خاندان میں تقسیم ہوئے ۔کوئی لوھار ، کوئی سنار ، کوئی موچی ، کوئی دھوبی ، کوئی سقہ ، کوئی کونجڑا ،اور کوئی خاندان تجّار ا ور مختلف پیشوں کے اعتبار سے بھی خاندان بنے ۔جبکہ معاشرے نے جسم فروشی کے کاروبار کو بھی فروغ دیا۔ جہاں سمندری تجارت میں ترقی ہوئی وہیں دلالوں کو اچھے گاہک بھی طوائفوں کے لئے ملنے لگے۔یہاں کے لوگ چونکہ جسم فروشی کے کاروبار میں خود ملوث تھے اس لئے عورتوں کو جسم فروشی کے لئے استعمال میں لاتے تھے ۔


جسم فروشی کو اٹھارویں صدی میں برطانوی حکومت کی طرف سے جنوبی ایشیا میں پہلی بار قانونی اجازت دی گئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جسم فروشی کی ذمہ داری سونپی گئی جبکہ جسم فروش اضلاع کو ٹیکس جمع کرنے کی ذمہ داری اور صحت اور حفظانِ صحت کی خدمات سر انجام دینے کا موقعہ دیا گیا۔


تقسیم کے بعد پاکستان کو وراثتاً بدنامِ زمانہ بازار ِ حُسن (ہیرا منڈی)لاہور اور ملتان کے بد نام اضلاع ملے جہاں اُمرا اور نوابین ،گلوکاراوں اور طوائفوں کو بلوایا جاتا تھا۔ ناچ گانے کے ساتھ جنسی تجارت کُھلے ۔۔۔کی جاتی تھی ان اضلاع میں راولپنڈی ، فیصل آباد ، قصائی گلی ، غلام آباد ، امین پور بازار بھی شامل ہیں ۔ہیرا منڈی راشنائی دروازہ ،بادشاہی مسجد لاہور قلعہ اور حضوری باغ لاہور کے اندرون شہر کے مغربی کونے میں واقع ایک بازار ہے جو شاہی محلہ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔دراصل مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے وزیر ہیرا سنگھ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس بازار کا نام ہیرا منڈی رکھا تھا اور برطانوی حکومت نے فوجیوں کی تفریح کے لئے یہ بازار ِحُسن کھلوایا تھا۔


22فروری 2014کی رپورٹ کے مطابق فلپائن ، اُزبکستان اور ترکمانستان سے آنے والی حسینائیں غیر قانونی طور پر لاہور میں رہائش پذیر ہیں اور مُدّت ختم ہونے کے باوجود اپنے ویزوں میں توسیع نہیں کرا تیں ۔اُن حسیناوں کا کہنا ہے کہ وزارت ِ داخلہ کے مخصوص افسران !ان کو ویزوں کی توسیع دے دیتے ہیں ۔ صرف لاہور میں تقریباً 75,000ہزار خواتین جسم فروشی کے دھندے میں ملوث ہیں ۔


ہیرا منڈی میں غیر ملکوں کو رات گزارنے کے لئے 5000ہزار سے 10,000ہزار روپے تک دینے پڑتے ہیں جبکہ غیر معمولی گاھکوں کے لئے 20,000ہزار سے 40,000ہزار تک کے ریٹ مقرر ہیں ۔ایک bloggerبلاگر نے سفرِ لاہور کے دوران ایک بلاگ میں لکھا ہے کہ وہاں ٹیلی وژن اور فلمی ستارے بھی جنسی خدمات کے لئے دستیاب ہیں ان کی اُجرت 50,000ہزار سے 1,00,000لاکھ روپے تک ہے لیکن اُن سے تعلقات قائم کرنے کے لئے سفارشی رابطہ اچھا ہونا ضروری ہے ۔ایک مقامی عام طوائف 2000ہزار سے 3000ہزارروپے یومیہ کماتی ہے۔


کالم یگار جاوید چودھری کی رپورٹ کے مطابق 90فیصد طوائفوں کی عمر 15سے 35سال ہے ،ان کو اس کام میں 15سال ہو چکے ہیں ۔اس کاروبار میں جوان لڑکیوں کی مانگ ذیادہ ہے اس لئے 35فیصد طوائفوں کی جنسی تجارت 18سال کی عمر سے شروع ہو جاتی ہے۔


نیپئر روڈ سندھ پاکستان کے شہر میں ہی واقع ہے اور چارلس نیپئرجو صوبہ سندھ کے پہلے برطانوی گورنر تھے کے نام سے منسوب ہے۔ نیپئر روڈ رقص ہال اور تھیٹر کا لبادہ اُھڑے ہوئے دراصل ایک جسم فروشی کا اڈّا ہے۔ جہاں عورتیں لوگوں کی تفریح کے لئے مُجرہ اور جسم فرشی کا کاروبار کرتی ہیں اور اس (RED LIGHT AREA) سرخ روشنی والے علاقوں میں جیسی کاروبار کے لئے دلالوں کو طوائفیں فراہم کی جاتی ہیں ۔


اس کے علاوہ ڈی ۔ایچ ۔ائے کراچی میں بھی جسم فروشی کا قدیم ترین مرکز موجودہے جس کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ڈی۔ایچ ۔ائے ،فیز 5خیابان ِ سجاعت کو بدنام ِزمانہ شہرت حاصل ہے ۔اس کو علاوہ زمزمہ بلیوارڈZAMZAMA BOULEVARD) (کے سنگم پر واقع ایک علاقہ ہے جہاں لڑکیاں آٹو رکشہ اور دلال کی مدد سے صبح سویرے تا رات گئے جسم فروشی کا دھندہ کرتی ہیں ۔کراچی میں طوایفوں کی تعداد میں ایک دھائی سے بھی کم میں 50فیصداضافہ ہوا ہے۔ ان میں 13سے 15سال کی عمر کی بھی ہیں مگر 20سے 30سال کے درمیان کی ذیادہ ہیں ۔یہاں ایک طوایف یومیہ 2000ہزار جبکہ ماہانہ اوسطاً40,000ہزار کے قریب کماتی ہے۔پاکستان سوسائٹی ایک مقامی فلاحی تنظیم کے مطابق کراچی میں 1,00,00لاکھ خواتین جسم فروشی کی تجارت میں ملوث ہیں اورCHARITYکے سربراہ سلیم اعظم کے مطابق یہ تعداد پاکستان میں ان (جسم فروشوں )کی مجموعی آبادی کو 20فیصد ہے۔جبکہ دوسرے نمبر پر لاہور آتا ہے جہاں خواتین اس دھندے میں ملوث ہیں ۔2001میں ایک سروے کے مطابق اسلام آباد میں 20,000ہزار خواتین جسم فروشی کی تجارت میں ملوث ہیں ۔


PRESIDENT OF GENDER REPRODUCTIVE HEALTH FORUMعلیم بیگ نے کہا ہے کے کہ 2010میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ جسم فروشوں کو ملازمت دیں گے اور ماہانہ وظیفہ 2500روپے بھی دیں گے تاکہ معاشرے سے برائی کو ختم کیا جا سکے۔ مگر اب تک وہ کام پورا نہ ہو سکا۔ نئی حکومت اور نئے چیف جسٹس پاکستان میں آگئے ۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔اس بات سے تو دنیا بھی با خبر ہے کہ جسم فروشی کی سب سے بڑی وجہ غربت وافلاس ہے۔بھکاری لڑکیاں شہر کے ہر چوراہے پر اور مارکیٹ میں پائی جاتی ہیں ۔ان میں کچھ بھکارن لڑکیاں جسم فروشی کا کام کرتی ہیں ۔ان کے اطوار و انداز سے صاف پتہ چل جاتا ہے کہ یہ طوائفیں ہیں ۔CENTER OF EXELLENCY FOR WOMEN STUDYجامعہ کراچی کی جانب سے شہر کے 17مختلف مقامات پر بھکاری لڑکیوں سے انٹرویو لیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق ان لڑکیوں کی 78فیصد تعداد 12سے15سال کے درمیان ہے۔ 13فیصد کی عمر 9سے11سال ہے اور 9فیصد کی عمر 6سے8سال ہے ۔ ان میں 17فیصد جنسی تجربہ کار ہیں ،15فیصد نے کہا کہ جسم فروشی میں ان کی رضامندی شامل ہے،2فیصد نے کہا کہ ان کو کام کا لالچ دے کر لایا جاتا ہے، 3فیصد کا کہنا ہے وہ عصمت دری کا شکار ہوئیں ہیں ،ان 3فیصد میں 2نے کہا کہ ان کے رشتہ داروں نے ان کے ساتھ ذیادتی کی اور اس راستہ پر لگادیا، جبکہ ایک نے کہا کہ اس کا باپ زبردستی اسے اس کام کے لئے لوگوں کے حوالے کرتا ہے۔67فیصد نے کہا کہ لوگ ہمیں پیسوں کی پیشکش کر تے ہیں جبکہ 33فیصد نے کہا کہ نہیں ۔بھکاری لڑکیوں کو جسم فروشی کو عوض 100سے2000ہزار روپے ملتے ہیں ۔ 73فیصد کا کہنا ہے کہ ان کی روز کی آمدن ان کی مائیں اُن سے لے لیتی ہیں ۔22فیصد نے کہا کہ اُن کی آمدن اُن کا باپ لے لیتا ہے۔ جبکہ 5فیصد کا کہنا ہے کہ اُن کے بھائی اُن سے آمدن کی رقم لے لیتے ہیں ۔


سابقہ وزیرِاعظم کی مُشیر محترمہ یاسمین رحمان کہتی ہیں کہ ایک اسلامی ریاست سے جسم فروشی کے کاروبار کو ختم کرنا اشد ضروری ہے مگر یہ کام تب تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک طوائفوں کو اُن کے حقوق نہ دے دئے جائیں ۔


WOMEN ORGANIZATION FOR RIGHTS AND DEVELOPMENTکی ایگزیکٹو ڈائرکٹر اقصہ خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جنسی کارکنان کے بارے میں کُھل کر بات چیت نہیں کی جاتی اور اُس کو حرام کرنا کہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔تقسیم کے بعدکسی غیر سرکاری اور سرکاری تنظیم نے جنسی کارکنان کے حقوق اور بحالی کے لئے کوئی کام سر انجام نہیں دیا، ہاں !ایچ آئی وی ایڈز کے بارے میں بات کرتے وقت وہ صرف ان معاملات پر غور کر رہے ہیں ۔اقوامِ متحدہ نے دنیا بھر کے ممالک میں جسم فروشی کے خلاف تادیبی خواتین سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تجویز پیش کی ہے اور ایچ ۔آئی ۔وی کی روک تھام کے لیے غیر قانونی انجکشن اور منشیات کے رضاکارانہ استعمال کوغیر قانونی اور جرم قرار دیا ہے۔


یہ کمیشن 15ریاستوں کے سابق سربراہ ،قانونی علمأکرام اور ایچ۔ آئی۔ وی کے کارکنان پر مشتعمل ہے۔2010میں اقوامِ متحدہ کے جنرل سکریٹری بان کی مون نے جسم فروشی اور ایچ۔ آئی۔ وی کے خلاف مشترکہ اجلاس منعقد کیا جس کو GLOBAL COMMESSION ON HIV AND THE LAW،UNITED NATION AND DEVELOPMENT PROGRAMاور UNAIDS کی حمایت حاصل تھی ۔اجلاس میں تمام ممالک سے جسم فروشی اور جسم کی اسمگلنگ کی حمایت میں تمام قوانین کو منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی۔کمیشن کے مطابق 116ممالک ایسے ہیں جن میں جسم فروشی کے خلاف تادیبی قوانین موجود ہیں ۔جبکہ 80ملکوں میں اس کی حمایت میں بھی کچھ قوانین موجود ہیں ان کے مطابق لڑکیاں پیسوں کے لئے یہ کام کر سکتی ہیں ۔مگر 2009میں بان کی مون نے اس رپورٹ کو دُھراتے ہوئے مسترد کردیا۔محمد ذیاالحق کے دور میں پاکستان بہ حیثیت اسلامی ریاست جسم فروشی کو بُری نگاہ سے دیکھاگیا اور عصمت دری کے خاتمہ کے لئے کوششیں کی گئیں جبکہ موسیقی اور رقص پر بھی پابندی عائد کی گئی رقص گاہوں میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمی واقع ہوئی جبکہ سرخ روشنی والے علاقوں میں پولیس چوکیاں قائم کی گئیں ان میں تمام لوگ جن کی وہاں آمدورفت زیادہ تھی ان کا نام رجسٹر میں ریکارڈ کے طور پر رکھا گیا اور اُن تمام راستوں کو غیر قانونی کردیا گیا۔


اورامر قابلِ ذکر یہ بھی ہے کہ امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والے لوگ عموماًدوسری اور تیسری بیوی رکھتے ہیں درحقیقت جو ان کی رکھیل ہوتی ہیں بدلہ میں وہ ان کو پیسہ دیتے ہیں اوراُن سے نیم مستقل جنسی تعلقات رکھتے ہیں اور ان تعلقات سے پیداہونے والے بچوں کو باپ کی طرف سے سپورٹ حاصل ہوتی ہے ۔اچھے شہری علاقوں میں طوائفیں زیادہ تر تعلیم یافےہ اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں یہ اپنے تحفظ اور پناہ گاہ کے لئے کمائی گئی رقم کا 40سے50فیصد ایجنٹ کو دیتی ہیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے کام میں مداخلت نہ کریں ۔ہمارے ملک میں جسم فروشی ایک کُھلا راز ہے لیکن غیر قانونی طور پر موجود ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جسم فروشی زیادہ تر بازارِحُسن اور کال گرلز اور خصوصاً پنجاب کے جسم فروشی کے اڈوں سے فروغ پا رہی ہے۔اگر عصمت فروشی کو پاکستان میں قانونی حیثیت دے دی جائے تو گھریلو تشدُدسے ہونے والی جسم فروشی میں 25فیصد کمی آئے گی؟۔


ملک کے کچھ علاقے خاص طور پر وفاق کے زیرِانتظامیہ قبائلی علاقوں میں عصمت فروشی کے کوئی اڈے نہیں بلکہ روایتی طور پر عصمت فروشی غیر قانونی ہے۔اگر ایسا کوئی جرم ہو جائے تو اُسے موت کی سزا (سنگسار)سنائی جاتی ہے۔جسم فروشی کے بڑھتے ہوئے کاروبار کو مدِنظر رکھتے ہوئے غیر سرکاری ادارے ایڈز اور تعصب کا شکار ہونے والے لوگوں کے لئے فکر مند ہیں مگر با ت وہیں کی وہیں ہے کہ بحث زیرِغور ہے ،مگراقدامات کچھ نہیں ہیں ۔ عصمت فروشی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں جبکہ (HOMOSEXUALITY)ہم جنس پرستوں کو ملک میں کالعدم قرار دیا گیا ہے ۔پاکستان میں پینل کوڈ کی دفعہ 377کے تحت مجرم کو 100کوڑے اور دو سال قید کی سزا ہے۔پاکستانی قانون 1892کے برطانوی پینل کوڈکی وجہ سے بہت اثر انداز ہوا ہے اور موجودہ پاکستانی قانون کا اہم عنصر ہے۔1979سے پہلے بالغوں کے درمیان جنسی تعلقات جرم نہیں تھا بس ممنوع قرار دیا گیا تھا ۔ مگر بعد میں زنا آرڈیننس نافذ کیا گیا ۔لاہور میں ہیرا منڈی اور سرگودھا میں 12نمبر چورنگی کی طرح پاکستان کے بہت سے علاقے گورنمنٹ لائسنس یافتہ ہیں اور پولس سیاسی وجوہات کی بنا پر ان کی حفاظت کرتی ہے۔


پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 371-Aاور371-Bکے تحت جب ایک عورت فروخت کی جاتی ہے یا اُسے کوئی شخص کرائے پر لیتا ہے یا کوئی اُسے طوائف بننے پر مجبور کرتا ہئ تو ایسے شخص کو قانون کے مطابق 25سال قید کا حکوم ہے جبکہ کرمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 373کے تحت کسی کو ناجائز محنت پر مجبور کرنا ایک قابل ِتعزیر جرم ہے۔ جس کی پاداش میں پانچ سال قید اورجرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔


  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites
جسم فروشی کے ’ڈیرے





مناء رانا


بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور








Please login or register to see this image.


 




پاکستان میں جسم فروشی اگرچہ قانونی طور پر جرم ہے لیکن ملک میں امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سے پیدا ہونے والی خلیج سے جس طرح کئی نوجوان لڑکے چوری چکاری یا ڈاکہ زنی کی طرف راغب ہوئے اسی طرح کئی جوان لڑکیاں بھی پیسے کمانے اور گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے مجبور ہوئیں کہ اپنے جسموں کو جنس بنا کر منڈیوں میں رکھیں۔ اس طرح جسم ایک جنس بنا اور جنس کے بھوکے مردوں نے اس کے دام لگائے۔ جتنا بکے گا دام اتنا ملیں گے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کی وجہ سے دن بدن اس پیشے سے وابستہ افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔


صوبۂ پنجاب کی تحصیل چنیوٹ کے ایک گاؤں کی رہائشی کنیز فاطمہ ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہوئی۔ اس کے باپ نے کھیتوں میں مزدوری کر کے اپنے سات بچوں کو پالا۔ کنیز کو میٹرک تک تعلیم دلوائی اور اس کی شادی کر دی۔ یہاں تک سب ٹھیک تھا۔ لیکن زندگی اس کے بعد کنیز کے لیے تنگ ہوتی گئی۔ کنیز کہتی ہے کہ اس کا شوہر کچھ نہیں کماتا تھا، اس کے دو بچے بھی ہوگئے۔اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے اس نے محنت مزدوری کرنے کی ٹھانی لیکن جس گھر میں وہ گھریلو ملازمہ بن کر گئی وہ ایک ’ڈیرہ‘ تھا۔


کنیز کے مطابق اس کے دھندے میں ڈیرہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں بہت سی لڑکیاں جسم فروشی کے لیے موجود ہوتی ہیں۔ کبھی یہ لڑکیاں بن سنور کر باہر جاتی ہیں اور کبھی گھر میں ہی اپنے گاہکوں سے ملتی ہیں۔ اس ڈیرے کا انتظام کوئی مرد یا کوئی عورت چلاتی ہے اور ایسی عورتوں کو میڈم یا آنٹی کہا جاتا ہے۔


اس ڈیرے میں عورتوں سے دھندہ کروانے والے شخص نے کنیز کو ’آسان‘ طریقے سے دولت کمانے کا گر بتایا۔ اس نے اسے منڈی بہاؤ الدین میں ایک ڈیرے پر بھیجا اور چونکہ کنیز پڑھی لکھی تھی اور حساب کتاب کر سکتی تھی اس لیے وہ ڈیرے کی انچارج بن گئی۔


اسی دوران اس کے شوہر کو اس کی حرکتوں کی خبر ہوئی۔ اس نے اسے گاؤں بلا کر گولی ماری جو اس کی ٹانگ پر لگی۔ کنیز نے شوہر سے طلاق لے لی اور ٹانگ کا علاج کروا کر ’مڈل وومن‘ بن گئی۔




 




اب کنیز لاہور میں رہتی ہے اور لاہور اور دوسرے کئی شہروں کے ڈیروں پر لڑکیاں پہنچاتی ہے اور ان سے کمیشن لیتی ہے۔ اسے ایک لڑکی فراہم کرنے کے پانچ سے دس ہزار روپے مل جاتے ہیں۔ کمیشن کے کم یا زیادہ ہونے کا تعلق لڑکی کی خوبصورتی سے ہے۔


کنیز کہتی ہے کہ وہ ڈیرے والوں کو ضمانت بھی دیتی ہے کہ لڑکی بھاگے گی نہیں۔ اس کے مطابق غربت سے تنگ آئے ہوئے لڑکیوں کے ماں باپ، بھائی اور شوہر تک لڑکیوں کو اس کے پاس لاتے ہیں کہ انہیں کسی ڈیرے پر جسم فروشی کی نوکری دلا دے اور لڑکیوں کے یہ ورثاء ان کی کمائی ایڈوانس میں لے جاتے ہیں اور پھر ہر مہینے ڈیرے والوں سے پیسہ وصول کرتے ہیں۔


کئی لڑکیاں خود بھی کنیز کے پاس آتیں ہیں کہ ہمیں یہ کام دلا دو۔ یہ لڑکیاں اس جنسی مشقت کی قیمت بھی خود ہی وصول کرتی ہیں۔ کنیز کے مطابق ڈیرے سےاگر کوئی صرف چند گھنٹے کے لیے لڑکی کو لیتا ہے تو وہ ایک ہزار سے پندرہ سو تک دیتا ہے جس میں لڑکی کو دو تین سو ملتے ہیں باقی ڈیرے والی آنٹی رکھتی ہے اور تمام رات گزارنے پر لڑکی کو پندرہ سو سے دو ہزار تک مل جاتے ہیں لیکن اسے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ڈیرے کی انچارج نے خود کتنے وصول کیے۔


کنیز کے مطابق ’لڑکی کی رات کی قیمت کا دارومدار اس کے حسن پر بھی ہوتا ہے جتنی حسین ہو گی اتنے دام زیادہ ملیں گے‘۔


کنیز کہتی ہے کہ یوں تو وہ کئی شہروں کے ڈیروں میں لڑکیاں دینےجاتی ہے لیکن راولپنڈی، اسلام آباد اور بہاول پور کے ڈیروں سے اس کا زیادہ رابطہ ہے اور اس کے بقول وہاں کے ڈیروں پر دو دو سو لڑکیاں ہوتی ہیں۔ اس کے بقول اس میں کوئی شک نہیں کہ غربت کے سبب کئی لڑکیوں کے ورثاء ان سے یہ پیشہ کرواتے ہیں لیکن کئی لڑکیاں اپنی مرضی سے کام کرنے آتی ہیں۔کئی ایک کے گھر والے یہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کام کرتی ہیں۔


اس دھندے میں ہر طرح کی لڑکیاں ہیں لیکن کنیز کے بقول اس کے پاس وہی زیادہ آتی ہیں یا لائی جاتیں ہیں جن کا مسئلہ غربت ہوتا ہے۔


کنیز کے گھر میں لاہور ہی کی ایک لڑکی ندا رہائش پذیر ہے۔ بیس سال کی عمر، رنگ گورا اور معصوم سا دل لبھانے والا چہرا۔






 


ندا کا کہنا ہے کہ وہ ماں کی مرضی سے اس پیشے میں آئی ہے۔’جب پہلی مرتبہ اس کام کے لیے گئی تو ماں کا لیا ہوا دس ہزار روپے کا قرض چکانا تھا۔‘ اس وقت ندا کی عمر چودہ سال تھی اور بقول اس کے وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اسے کرنا کیا ہے۔






ندا کی کہانی بھی ان ہزاروں لاکھوں غریب لڑکیوں کی کہانی ہے جنہیں غربت وہ کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جسے معاشرہ اچھا نہیں سمجھتا۔ ایک سال کی تھی کہ باپ چل بسا، بڑا بھائی ہے جو ہیروئن کا نشہ کرتا ہے اور اسے باقی چھوٹے بہن بھائیوں کا پیٹ پالنا ہے۔ ندا کہتی ہے کہ اس کے گھر میں کسی کو معلوم نہیں کہ وہ اس دھندے سے وابستہ ہے۔ اس کی سہلیاں تک یہ نہیں جانتیں اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ راز کبھی کھلنے نہ پائے کیونکہ بقول اسکے اپنے پیٹ سے کوئی خود کپڑا اٹھاتا ہے۔


ندا کی پیشہ ورانہ زندگی کی کئی تلخ یادیں ہیں جو ندا کو بہت افسردہ کر دیتی ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ گاہک نے ڈیمانڈ پوری نہ کرنے پر اس سے بہت بد سلوکی کی۔ایک بار گاہک نے اسے برہنہ کمرے سے باہر نکال دیا۔ ندا کو تمام دوسری لڑکیوں کی طرح شادی کرنے کا شوق ہے۔اس کا دل چاہتا ہے کہ اس کا کمانے والا شوہر ہو جو زندگی کی تمام ضروریات پوری کرے، سسرالی رشتے دار ہوں اور اس کے بچے ہوں۔ لیکن اسے ڈر لگتا ہے کہ جس پیشے سے وہ وابستہ ہے ایسا لگتا ہے کہ کبھی بھی کوئی اس سے شادی نہیں کرے گا۔


ندا کو اپنا پیشہ برا لگتا ہے وہ کہتی ہے کہاگر حکومت یا کوئی اور ادارہ اس کے خاندان کے اخراجات اٹھا لے جس میں زیادہ کچھ نہیں بس مکان کا کرایہ، یوٹیلٹی بلز، مہینے کا راشن اور کچھ پیسے بہن بھائیوں کے کپڑے جوتوں کے لیے مل جائیں تو وہ اس دھندے کو چھوڑ دے گی۔


ندا کے برعکس ماریہ اس پیشے میں اپنی مرضی سے آئی۔ اس کے بقول اس کا شوہر نکھٹو تھا، اس کے دو بیٹے ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھائے اور انہیں زندگی کی ہر سہولت دے۔ ماریہ کی ایک سہیلی نے اسے پیسہ کمانے کا یہ طریقہ بتایا اور اس طرح وہ اس دھندے میں آ گئی۔


ماریہ اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکی ہے۔ کئی شہروں کے ڈیروں پر جسم فروشی کرتی رہی لیکن زیادہ وقت گزرا جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں۔ماریہ بتاتی ہے کہ وہ وہاں ہوٹلوں میں بھی اور بڑے بڑے گھروں میں بھی اپنے گاہکوں کے پاس جاتی تھی۔


ماریہ کے بقول اس کے گاہکوں میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں یہاں تک کہ گورے یعنی غیر ملکی بھی اس کے گاہک ہیں اور وہ اسے ٹپ بھی دیتے ہیں۔ ماریہ کا کہنا ہے کہ دوسرے شہروں کی نسبت اسلام آباد کے لوگوں کا رویہ اس کے ساتھ کافی بہتر رہا۔ ’وہ ڈیسنٹ تھے۔ ان کا اٹھنے بیٹھنے کا، بات کرنے کا، کھانے پینے کا طریقہ کافی اچھا تھا۔‘






میں سوچتی ہوں کہ ہر روز نئے آدمی کے پاس جانے کی بجائے ایک سے ہی اتنے پیسے مل جائیں تو اچھا ہے


 






ماریہ نے کہا کہ ’کوئی ہمیں اپنا تعارف تو نہیں کراتا لیکن انسان کے رویے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کوئی بڑا افسر یا بڑا آدمی ہے۔‘


اس پیشے میں کافی تجربہ کار ہونے کے باوجود ماریہ اپنی آمدنی کے لیے ڈیرے والوں کی محتاج ہے کیونکہ ڈیرے والے تمام لڑکیوں کی کمائی خود وصول کرتے ہیں اور پھر اپنا حصہ رکھ کر لڑکی کو دیتے ہیں۔ ماریہ کہ بقول انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ڈیرے والے نے گاہک سے کتنا وصول کیا البتہ ٹپ ہماری ہوتی ہے۔


ماریہ کہتی ہے کہ اسلام آباد میں وہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ماہانہ کما لیتی تھی لیکن اخراجات زیادہ ہیں اور بچت نہیں ہوتی۔ اخراجات میں وہ طبی ٹیسٹ بھی شامل ہیں جو ماریہ کو ہر دو ماہ بعد کروانے پڑتے ہیں جن میں ایڈز تک کا ٹیسٹ شامل ہے اور ان ٹیسٹوں کے لیے اسے کافی رقم خرچنا پڑتی ہے۔


اسلام آباد میں اچھی آمدنی کے باوجود ماریہ لاہور آ گئی کیونکہ اسے اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور وہاں بڑے بڑے ہوٹلوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد ڈر لگنے لگا تھا۔ ماریہ کے بچے اسکی ایک منہ بولی بہن کے پاس ہیں اور انگریزی میڈیم سکول میں پڑھتے ہیں۔ اب اس کے اخراجات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ اگر اب وہ چاہے بھی تو اس دھندے کو چھوڑ نہیں سکتی۔ لیکن ماریہ کو احساس ہے کہ آخر کب تک کوئی عورت جسم فروشی کر سکتی ہے آخر عمر تو بڑھتی جاتی ہے اس لیے وہ چاہتی ہے کہ کوئی اور انتظام ہو جائے۔


ماریہ کا کہنا ہے کہ اسے ایک امیر آدمی نے داشتہ بنانے کی پیشکش کی ہے ’جو مجھے مکان بھی لے کر دے گا اور میرے بچوں کی پڑھائی سمیت میرے تمام اخراجات اٹھائے گا۔ اس آدمی کی بیوی کو بھی اعتراض نہیں کیونکہ اس کی بیوی بہت فربہ ہے اور وہ اپنے شوہر کو خوش دیکھنا چاہتی ہے اور میں سوچتی ہوں کہ ہر روز نئے آدمی کے پاس جانے کی بجائے ایک سے ہی اتنے پیسے مل جائیں تو اچھا ہے۔‘


کنیز کے پاس اس پیشے سے منسلک چند خوفناک کہانیاں بھی ہیں اور ان لڑکیوں سے مل کر لگتا ہے کہ شاید سب ہی کے ذہنوں پر اس طرح کی کہانیوں کا خوف ہے۔ ایک بار کنیز نے ایک لڑکی کومنڈی بہاؤ الدین میں گاہکوں کے پاس بھیجا، وہ جرائم پیشہ تھے اور انہوں نے اس لڑکی کے سامنے اپنے ہی ایک ساتھی کو مار کر نہر میں پھینک دیا۔لڑکی اتنی خوفزدہ ہوئی کہ کئی ماہ بستر پر پڑی رہی۔


ملکوال کے علاقے میں ایک ڈیرے والی کو اس کے عاشق نے بے وفائی پر گولی مار دی لیکن کوئی کیس رجسٹر نہ ہوا۔ کنیز بتاتی ہے کہ کئی گاہک انلڑکیوں کو بھی شراب پلانا چاہتے ہیں جو شراب نہیں پیتیں۔ کئی طرح کی ڈیمانڈز کرتے ہیں اور اگر لڑکی کوئی ڈیمانڈ پوری نہ کرتی تو اسے گولی مار کر لاش غائب کر دیتے ہیں اور ڈیرے والی آنٹی یا اس کے وارثوں کو کہہ دیتے ہیں کہ آپ کی لڑکی بھاگ گئی ہے۔


اس پیشے میں آنے والی کئی لڑکیاں نشہ کرنے لگتی ہیں۔ پیشے کا خوف اور تھکن ان لڑکیوں کو مجبور کر دیتا ہے کہ زنگی کی تلخیوں کو بھلانے کے لیے نشے کا سہارا لیں۔


ڈیروں پر گردش کرنے والی ان عبرت ناک کہانیوں کے باوجود پاکستان میں جسم فروشی کے دھندے میں آنے والی عورتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور کنیز فاطمہ کے بقول ہر گلی محلے میں ایسے ڈیرے ہیں جہاں لڑکیاں جسم فروشی کرتی ہیں۔ کنیز کے مطابق جب سے وہ اس پیشے میں آئی ہے اس میں لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہی دیکھا ہے اور اتنی کم سن لڑکیوں کو خود ان کے ورثاء لے کر آتے ہیں کہ ’میرا بھی دل دہل جاتا ہے۔‘


پاکستان میں کہ جہاں بڑھتی ہوئی غربت دہشت گردی اور خود کش حملوں کا ایک سبب کہی جاتی ہے وہاں جسم فروشی کے دھندے میں آنے والی لڑکیوں میں اضافہ بھی غربت کا ہی شاخشانہ ہے۔


Edited by Young Heart
  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ آخری آرٹیکل میں نے کہیں پر پہلے بھی پڑھا ہے۔


بہت خوب جناب۔


جسم فروشی پر کافی جامع معلومات دیئے ہیں آپ نے۔


 


ہم تھریڈ کو آگے بڑھاتے ہیں اور قارئیں سے وہ عوامل جاننا چاہتے ہیں جو ان کے مطابق جسم فروشی کا باعث بنتے ہیں یا بن سکتے ہیں۔


غربت مجبوری اور دیگر تو ہمارے سامنے ہیں مگر کئی ایسے پوشیدہ عوامل ہیں جو ہم لوگ نہیں جانتے۔


جسم فروشی کی اب نئی اور جدت بھری شکلیں سامنے آنے لگی ہیں جو کوئی رائیٹر لکھنے کی جسارت نہیں کرتا۔


مگر سیکس فورم میں یہ آزادی ہے کہ ہم کھل کر لکھ سکتے ہیں۔


  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

بالکل درست


ان آرٹیکلز سے جو معلومات کی بنیاد ہمیں مل رہی ہے اس پر ہم نہ صرف مزید تعمیری گفتگو کر سکتے ہیں بلکہ جو پہلو تشنہ رہ گئے ہیں انہیں بھی زیر بحث لاسکتے ہیں


اور زیر بحث پہلوؤں کی بنیاد کوئی واقعہ یا خبر ہو تو بات زیادہ وزنی ہو سکتی ہے


Edited by Young Heart
  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

افسروں کی زیرسرپرستی لیڈیز پولیس اہلکاروں کی جسم فروشی کا انکشاف

لاہور (محمد اعظم چودھری) محکمہ پولیس میں قانون کی آڑ میں خواتین اہلکاروں کی جسم فروشی کے مکروہ دھندے کے انکشافات ہوئے ہیں‘ جسم فروشی کے اس نیٹ ورک کو کئی اعلیٰ پولیس و سِول افسروں کی سرپرستی حاصل ہے جبکہ کئی خواتین پولیس افسر و اہلکار اس میں براہِ راست ملوث ہیں۔ اس سکینڈل کا انکشاف ہونے پر ایس ایس پی آپریشن نے ایک لیڈی انسپکٹر سمیت 4 خواتین اہلکاورں کو معطل کرکے انکوائری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق 8مئی کو پولیس لائنز میں تعینات لیڈی کانسٹیبل نازش رحمن‘ سندس اور (ز) پنجاب یونیورسٹی میں امتحانی ڈیوٹی سرانجام دے رہی تھیں۔ ڈیوٹی کے بعد وہ گھر چلی گئیں تو لائن محرر ستارہ نے کانسٹیبل (ن) کے موبائل پر اطلاع دی کہ وہ لیڈی کانسٹیبل (س) کو ساتھ لے کر سبزہ زار ایم بلاک کی کوٹھی نمبر 513 پر ڈیوٹی کرنے چلی جائے اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی کہ یونیفارم کی بجائے سادہ کپڑوں میں ڈیوٹی پر جانا ہے۔ کانسٹیبل (ن) کا (س) سے رابطہ نہ ہو سکا تو محرر ستارہ نے (ز) نامی کانسٹیبل کو اس کے ہمراہ 513 ایم پر بھجوا دیا۔ دونوں متعلقہ کوٹھی پر پہنچیں تو وہاں ایک کمرے میں تین آدمی ٹی وی پر فحش گانے دیکھتے ہوئے سگریٹ نوشی کر رہے تھے‘ دروازہ کھولنے والے نے خود کو ایل ڈی اے کا ملازم ظاہر کیا۔ یہ ماحول دیکھ کر دونوں خواتین باہر نکل گئیں اور لیڈی محرر کو فون کرکے صورتحال سے آگاہ کیا جس پر اس نے ایل ڈی اے کے ایک انسپکٹر فاروق کا موبائل نمبر دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ’’ڈیوٹی‘‘ کے بارے میں اس سے رابطہ کرو‘ رابطہ کرنے کے کچھ دیر بعد ہی فاروق وہاں پہنچ گیا اور دونوں خواتین کو اندر لے جاکر دست درازی شروع کر دی‘ دونوں اہلکاروں نے اسی وقت تھانہ سبزہ زار میں فون پر اطلاع دی تو نفری کی کمی کے باعث انہیں فوراً تھانے پہنچنے کا کہا گیا‘ وہاں پہنچ کر ایس ایچ او کی موجودگی کی وجہ سے انویسٹی گیشن انچارج انسپکٹر دانش رانجھا کو ساری صورتحال بتائی‘ اسی دوران ستارہ کا فون آ گیا جس نے دونوں کانسٹیبلان کی تھانہ سبزہ زار پہنچنے پر سرزنش کی اور ہدایت کی کہ کسی سے بھی واقعہ کا ذکر کئے بغیر گھر چلی جائو ’’تمہاری ڈیوٹی ختم ہو گئی ہے‘‘۔ بعدازاں ایس ایچ او سبزہ زار نے ستارہ کو فون کرکے ’’پراسرار ڈیوٹی‘‘ کے بارے میں پوچھا تو محرر نے جواب دیا کہ یہ سب کچھ ریزرو انسپکٹر لائن شافعہ بخت کے حکم پر کیا جا رہا ہے لہٰذا اس سے دریافت کر لیں۔ ایس ایچ او نے 513ایم بالک سبزہ زار میں مقیم ایل ڈی اے کے عیاش انسپکٹر فاروق کو فون کیا تو اس نے جواباً کہا کہ وہ نہیں آسکتا جو کر سکتے ہو کر لو۔ ایس ایچ او نے روزنامچے میں ایک رپٹ درج کی اور خواتین اہلکاروں کو ہدایت کی کہ اپنے ڈی ایس پی اور ایس پی ہیڈ کوارٹرز کے روبرو پیش ہوکر تمام واقعہ بتائو۔ بعدازاں ایس ایس پی آپریشن چودھری شفیق احمد نے لائن کی ریزرو انسپکٹر شافعہ بخت‘ لیڈی محرر ستارہ‘ کانسٹیبلان (ن)‘ (س) اور (ز) کو دفتر طلب کرکے تمام واقعہ سنا اور (ز) کے سوا دیگر چاروں کو معطل کرکے ایس ایس پی کوآرڈی نیشن عمران ارشد کو انکوائری کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قانون کی آڑ میں جسم فروشی کے اس مکروہ دھندے کی ’’کمانڈر‘‘ ریزرو انسپکٹر شافعہ بخت ہے جو پہلے بھی ایسے ہی الزام میں معطل ہو چکی ہے اور سفارش کے ذریعے بحال ہو کر دوبارہ آر آئی تعینات ہو گئی اور ایس ایس پی آپریشن کی جانب سے معطل ہونے کے بعد وہ دوبارہ اپنے سفارشی ایک ایس ایس پی کے پاس گئی‘ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لیڈی کانسٹیبل ’’سپلائی‘‘ کرنے کا دھندہ کئی سالوں سے جاری ہے اور کئی اعلیٰ پولیس افسر بھی ماتحت اہلکاروں کا ’’استحصال‘‘ کرتے رہتے ہیں۔ مذکورہ ’’سکینڈل‘‘ کا حصہ بننے والی ایک لیڈی کانسٹیبل کا کہنا ہے کہ اگر اسے تحفظ کی گارنٹی دی جائے تو وہ اس مکروہ دھندے میں ملوث پولیس و سِول افسروں سمیت کئی شرفاء کا پول کھول سکتی ہے۔ ایس ایس پی آپریشن چودھری شفیق نے بتایا کہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور انکوائری رپورٹ کی روشنی میں کیس کا فیصلہ کیا جائے گا۔

نوائے وقت

Edited by Young Heart
  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

پچھلے سال تین پولیس ہلکاروں کو فوجی نے دہشت گردی سے نمٹنے کی ٹریننگ دی تھی۔


ان میں شاید دس کے قریب خواتین بھی تھیں۔


جب ٹریننگ مکمل ہو گئی تو ان کی تعیناتی کا عمل شروع ہوا۔


ہم سب کو بحیثیت قوم شرمندہ ہونا چاہیے کہ جتنے اچھے نشانہ باز اور اچھے پولیس والے تھے وہ سب وی آئی پی پولیس افسران کی حفاظت پر معمور ہو گئے اور جتنی خوش شکل پولیس اہلکار خواتین تھیں وہ سب آفیسرز کے گھروں میں تعینات ہو گئیں جہاں ان کا مصرف کام والی ماسی اور داشتہ سے زیادہ نہیں تھا۔


ہم نے ایک ٹاسک فورس کا یہ حشر کیا جو دہشت گردی کے خلاف موثر ٹرینڈ تھی۔


ایک خاتون نے بتایا کہ انھوں نے بنک جاب کی اور منیجر آپریشنز نے بڑی جلدی ہی اپنی نفسانی خواہشات کے اشارے دینے شروع کر دیئے۔ جب انھوں نے انکار کیے تو اس نے دن رات ان کی اتنی بےعزتی کرنا شروع کی کہ وہ کئی بار خود کشی پر آمادہ ہونے لگیں۔ بالاخر انھوں نے تبادلہ کروا لیا اور دوسری برانچ میں آ گئیں۔ یہاں بھی ان کے ساتھ ویسا ہی رویہ کسی اور نے روا رکھا اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک وہ ہار مان کر ایک اعلیٰ افسر کے ساتھ روابط نہیں قائم کر سکیں۔جونہی ان کے روابط شروع ہوئے جاب آسان سے آسان تر ہوتی گئی اور انھوں نے افئیر کی حد تک دوستی برقرار رکھی تو جان چھوٹی۔ بڑی مشکل سے وہ جنسی تعلقات سے خود کو محفوظ رکھ پائیں۔

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

نہایت ہی افسوسناک ہے اور قومی المیہ ہے

ہمارے ملک میں طبقہ خواص اور اعلٰی افسران ہر کسی کو ذاتی ملازم سمجھتے ہیں

پہلا ایشو جس کاذکر آپ نے کیا کہ انتہائی تربیت یافتہ افراد جنہیں بہتر کام کے لیے تربیت دی گئی جن سے شاید بہتر خدمات لی جاسکتی تھیں انہیں اپنے باپ کا ملازم سمجھا گیا  اور ذاتی باڈی گارڈ بنا دیا گیا

تو درحقیقت یہ وہ سوچ ہے جس کی بدولت ہماری سول ایسٹیبلشمنٹ پبلک پراپرٹی اور اثاثوں کو ذاتی پراپرٹی سمجھتی ہے  جیسے یہ ملک اور اس کی دولت  ان کے باپ کی جاگیر ہے

 

دوسرا ہمارے ہاں مرد عورت کو صرف ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں - اگر افسر ہیں اور ماتحت عورت ہے تو خواہش لینے کی ہی ہوگی

اور اپنی حیثیت اور پوزیشن کا ناجائز استعمال کرنے کی کوشش ضرور کریں گے - میرے نزدیک تو یہ زنا بالجبر جیسی ہی بات ہے

کرتی ہونگی بہت سی خواتین شوقیہ ملازمت  - لیکن میرا مشاہدہ ہے زیادہ تر مجبوری میں ملازمت کرتی ہیں  - ہونگی کچھ عورتیں ترسی ہوئی یا خواہشمند - شاید پچھلے کچھ عرصے میں یہ تعداد بھی بڑھی ہوگی- لیکن میرے خیال میں اکثریت کو ایسا سمجھنا درست نہیں- لیکن کیا کریں  کسی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانے میں بہت ماہر ہیں ہم لوگ

 

اور بیشتر خواتین جو جسم فروشی کے دھندے کے لیے مجبور ہوتی ہیں تو دراصل ہم مردوں نے ان کے لیے کوئی آپشن نہیں چھوڑی ہوتی

ملازمتوں میں عورتوں کو جنسی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ ایک تلخ حقیقت تو ہے

 

اور جس طرح اپنی پروموشن کے لیے ماتحت ملازمین افسر کی ہر جائز ناجائز ماننے پر مجبور ہوتے ہیں تو عورتیں بھی ہوسکتی ہیں

Edited by Young Heart
  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

اگر ہم اوپر شئر کیے گئے آرٹیکل میں دیے گئے جسم فروشی سے متعلق اعدادو شمار پر بھروسہ کریں تو یہ کچھ یوں ہیں


ا- پاکستان میں اندازاََ 15 لاکھ جسم فروشی کے پیشے سے وابستہ ہیں یہ تعداد پچھلے دس سالوں میں بہت تیزی سے بڑھی ہے


اا- انٹر نیشنل ہیومین رائٹ گروپ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ان جسم فروش عورتوں میں 44 فیصد غربت، 32 فیصد دھوکے اور فریب، 18 فیصد جبروتشدد، 4 فیصد خاندانی پیشے، اور 2 فیصد اپنی مرضی سے شامل ہیں


 


ہم اگر دھوکے، فریب، جبروتشدد پر غور کریں تو اس کا مطلب یہی سمجھ میں آتا ہے کہ اس سے مراد بلیک میلنگ، زبردستی، اغوا، ماتحت خواتین کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانا وغیرہ ہے (مزید وجوہات بھی ہوسکتی ہیں) بلیک میلنگ کا ایک بڑا ذریعہ آج کل ویڈیو ریکارڈنگ وغیرہ بھی ہے


اور 50 فیصد خواتین دھوکے، فریب اور جبروتشدد کی وجہ سے اگر اس پیشے میں ہیں


تو یہ دھوکہ فریب دینے والے کون ہیں ، جبروتشدد کرنے والے کون ہیں

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

فی زمانہ ہر انسان جو کسی لڑکی سے تعلقات یا روابط استوار کر لیتا ہے وہ تصاویر یا ویڈیوز کی ڈیمانڈ کرتا ہے۔ لڑکیاں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی تصاویر لیک ہو سکتی ہیں وہ بڑے شوق سے یا تو خود اپنی ننگی ویڈیو بنا کر بھیجتی ہیں یا سیکس کے دوروان ویڈیو بنواتی ہیں۔ اس کے پیچھے جو  نفسیات کارفرما ہوتی ہے وہ یہی ہوتی ہے کہ ان کے سامنے ایسی درجنوں مثالیں باتصویر موجود ہوتی ہیں جب دیسی لڑکیاں ننگی ہو کر تصاویر کھینچوا رہی ہیں۔


 


ہم یہ سوچتے ہیں کہ ان کو عبرت محسوس ہو گی مگر ان کو عبرت کی بجائے بعض اوقات تحریک ملتی ہے۔ وہ بھی ان کی دیکھا دیکھی اس دوڑ میں حصہ لینے کی کوشش کرتی ہے۔


ایک لڑکی کی ننگی ویڈیو دیکھ کر دوسری کو یہ سوچنا چاہیے کہ میری بھی ایسے ہر کسی کے موبائل میں پھیل سکتی ہے،مگر وہ سوچتی ہے کہ جب اس نے بنوا لی تو میں کیوں نہیں؟ 


یہ سب کچھ تب تک تو بڑا پرلطف اور ہیجان انگیز رہتا ہے  جب تک یہ موبائل فون یا صرف ایک انسان کی دسترس تک رہتا ہے۔ جب یہ سارے زمانے میں پھیل جائے تب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی سنگینی کیا ہے؟


میں ایسی کسی لڑکی کو نہیں جانتا جس نے جنسی تعلقات استوار ہونے کے بعد تصویر یا ویڈیو سے منع کیا ہو۔ورنہ ہر لڑکی بخوشی ویڈیو دے دیتی ہے۔


دراصل کئی لڑکیاں اندھے اعتماد کا مظاہرہ کرتی ہیں،بعض جان بوجھ کر ضرورت سے زیادہ فراخ دلی ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں،بعض ویسے ہی اپنے جنسی تجربات میں پورن ویڈیوز کا حصہ بننے کی فینٹسی پوری کرتی ہیں۔ بعض کو یہ تک اندیشہ ہوتا ہے کہ میری ویڈیو آگے کسی کو دکھائی جائے گی۔ایسے میں کئی یہ سوال بھی کرتی ہیں کہ فلاں نے دیکھ کر میرے بارے میں کیا رائے دی؟


یہ خود اپنی قبر کھودنے والی بات ہے۔ اور آج کے دور میں ہر دوسری لڑکی یہ قبر کھودنے میں مصروف ہے۔


اب بات آتی ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو یہ تصاویر لیتے ہیں یا آگے شئیر کرتے ہیں۔


ہر لڑکا جس کی دسترس میں ایک عدد جوان لڑکی موجود ہے وہ چاہتا ہے کہ سارا شہر اس کے جنسی کارنامے کے متعلق جان لے اور اس کے لیے وہ باتصویر ثبوت ہاتھ میں لیے لیے گھومتا ہے۔ اوپر سے جب سے سیکس فورم یا پورن سائیٹس آئی ہیں وہ پوری دنیا کو دکھانے کے درپے ہو جاتا ہے۔ بعض افراد ان کو اس وقت شائع کرتے ہیں جب لڑکی کی طرف سے کوئی منفی رویہ دیکھنے میں آیا ہو،جیسے اس سے دل بھر گیا ہو،کوئی اور سیٹ ہو گئی ہو،لڑکی کی شادی ہو گئی ہو،لڑکی سے تعلقات ختم ہو گئے ہوں،وغیرہ۔تب یہ انتقامی طور پر شائع کی جاتی ہیں۔


بعض اوقات یہ غلطی سے بھی لیک آؤٹ ہو جاتی ہیں اکثر لوگ دوسروں کے موبائل یا کمپیوٹر سے اس قسم کی چیزیں کاپی کر لیتے ہیں۔


بعض لوگ باقاعدہ پلاننگ سے لڑکی کی ویڈیو بناتے ہیں اور پھر اس کے بعد اسے پیسوں یا سیکس کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ ان کیسز میں عموماً ایک بندہ لڑکی پھنساتا ہے اور اسے ایسی جگہ لے جاتا ہے جہاں اس کی ویڈیو بن جاتی ہے،بعد میں سب یار دوست اس لڑکی سے زیادتی کرتے ہیں۔وہ ویڈیو کی وجہ سے بار بار زیادتی کا نشانہ بنتی ہے۔یہ واقعات بھی ان دنوں خاصے عام ہو گئے ہیں۔ اتنا سنگین جرم اتنی آسانی اور اتنی دیدہ دلیری سے کیا جاتا ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔


کئی بار لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر ویڈیو شوٹ کی جاتی ہے تاکہ وہ منہ بند رکھے اور آئندہ بھی اس سے سیکس کرنے کا در کھلا رہے۔


  • Like 5

Share this post


Link to post
Share on other sites

Girls Jo ghar se bhagti hain for love marriage unko lovers sale kar dete hain.

 

Girls Jo modeling k liya bhagti hain unko bhi prostitute bana dete hain.

NGO walay bhi girls Ko use karte hain in sex.

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×