Jump to content
URDU FUN CLUB
Administrator

ایک عرض ایک حقیقت

Recommended Posts

 ایک عرض ایک حقیقت 

-------------------------------:

اگر قارون کو بتا دیا جائے کہ آپکی جیب میں رکھا اے ٹی ایم کارڈ اس کے خزانوں کی ان چابیوں سے زیادہ مفید ہے جنہیں اس کے وقت کے طاقتور ترین انسان بھی اٹھانے سے عاجز تھے تو قارون پر کیا بیتے گی؟

 

اگر کسریٰ کو بتا دیا جائے کہ آپ کے گھر کی بیٹھک میں رکھا صوفہ اس کے تخت سے کہیں زیادہ آرام دہ ہے تو اس کے دل پر کیا گزرے گی؟

 

اور اگر قیصر روم کو بتا دیا جائے کہ اس کے غلام شتر مرغ کے پروں سے بنے جن پنکھوں سے اسے جیسی اور جتنی ہوا پہنچایا کرتے تھے آپ کے گھر کے درمیانہ سے سپلٹ اے سی کے ہزارویں حصے کے برابر بھی نہیں تھی تو اسے کیسا لگے گا؟

 

آپ اپنے پرانی سی کرولا کار لیکر ہلاکو خاں کے سامنے فراٹے بھرتے ہوئے گزر جائیے، کیا اب بھی اس

کی اپنے گھوڑوں پر سواری کا تکبر اور نخوت برقرار رہی ہوگی؟

 

ہرقل خاص مٹی سے بنی صراحی سے ٹھنڈا پانی لیکر پیتا تھا تو دنیا اس کی اِس آسائش پر حسد کیا کرتی تھی۔ تو اگر اسے اپنے گھر کا کولر دکھا دے تو وہ کیا سوچے گا؟

 

خلیفہ منصور کے غلام اس کیلئے ٹھنڈے اور گرم پانی کو ملا کر غسل کا اہتمام کرتے تھے اور وہ اپنے آپ میں پھولا نہیں سمایا کرتا تھا، کیسا لگے گا اسے اگر وہ تیرے گھر میں بنی جاکوزی دیکھ لے تو؟

 

اونٹوں پر سوار ہو کر حج کیلئے گھر سے نکلتے تھے اور مہینوں میں پہنچتے تھے اور آج تو چاہے تو جہاز میں سوار چند گھنٹوں میں مکہ پہنچ سکتا ہے۔

 

مان لیجیئے کہ آپ بادشاہوں کی سی راحت میں ہی نہیں رہ رہے، مگر سچ یہ ہے کہ بادشاہ آپ جیسی راحت کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ کیا کیجیئے کہ آپ سے تو جب بھی ملیں آپ اپنے نصیب سے نالاں ہی نظر آتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ آپ کی جتنی راحتیں اور وسعتیں بڑھ رہی ہیں آپ کا سینہ اتنا ہی تنگ ہوتا جا رہا ہے؟

 

 شکر ادا کیجیئے خالق کی ان نعمتوں کا جن کا شمار بھی نہیں کیا جا سکتا، بقولہ تعالیٰ: ﴿اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں ان پر نگاہ نہ کرنا۔ اور تمہاری پروردگار کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے﴾طه: 131

*

*

ایک یاد دہانی جو سب سے پہلے میرے اپنے لیئے ہے۔ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا ہو:آمین

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

Beshaq insaan na shukra ha or rahay Ga jab tak khud se ziyada ameer ki taraf dekhta rahay Ga or jis din khud se ghareeb insaan ki taraf nigah karay Ga shuker Guzar ban Jay Ga.

Thanks admin ek behtareen sharing ha

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×