Jump to content
URDU FUN CLUB
Young Heart

سوشل میڈیا دوستی - ریپ اور قتل

Recommended Posts

واقعی بہت دلخراش ہوتی ہیں ایسی خبریں مگر لوگ ہیں کہ پھر بھی باز نہیں آتے۔


بس اب انھیں ہدایت کی ہی ضرورت ہے۔


  • Like 6

Share this post


Link to post
Share on other sites

پاکستان میں لڑکی کے ریپ کی فلم بنانے اورشیئر ہونے کی کہانی

پاکستان کے ایک دیہاتی علاقے میں نوجوان لڑکی سے جنسی درندگی اور اس کی ویڈیو بنائے جانے پر لڑکی خاموش رہی لیکن جب موبائل فون اور انٹرنیٹ پر ویڈیو کی بڑی تعداد میں شیئرنگ ہوئی تو انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو مذکورہ ویڈیو شیئرنگ سے روکنے کیلئے کچھ کوشش کی گئی ۔
برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘نے پاکستان میں ایک ریپ کے کیس کو اجاگر کیا گیا جس کی ویڈیو عام کردی گئی تھی جس کے بعد انگریزی کہانی کاقارئین کی آسانی کیلئے اردومیں ترجمہ کیاجارہاہے۔
رپورٹ کے مطابق23سالہ سعدیہ (اصل نام نہیں )کاخیال تھاکہ اگر وہ خاموش رہی تواس سے اُس کی بدنامی نہیں ہوگی اور لوگ ریپ کا شکار ہونیوالی کے حوالے سے شناخت نہیں بنائیں گے لیکن کچھ دنوں یا ہفتوں بعد بدفعلی کی دوویڈیوز شیئرہوناشروع ہوگئیں ،ایک کا دورانیہ پانچ منٹ اور دوسری کا چالیس منٹ تھا۔ ویڈیو میں دکھایاگیاکہ چارافراد لڑکی کاباری باری ریپ کرتے ہیں اور جب وہ رحم کی اپیل کرتی ہے توجلدہی پنجاب کے قصبوں اور دیہاتوں میں ویڈیو پھیلناشروع ہوجاتی ہے ۔
سعدیہ کے والد نے بتایاکہ ’خاندان میں ویڈیو دیکھنے والا پہلا شخص بڑا بھائی تھاجس نے ویڈیو دیکھ کر سعدیہ کو پہچانا اور پھر اُن کے پاس آیا، سعدیہ بہت شرمند ہ تھی اور باپ ہونے کی وجہ سے اُس نے مجھے نہیں بتایا، اگرا ُس کی والدہ زندہ ہوتیں تو یقین ہے کہ وہ اُنہیں لازمی بتاتی ‘۔معاملہ علم میں آنے کے بعد رپورٹ درج کرائی اور چھوٹے سے علاقے میں ملزمان کو شناخت کرنا مشکل نہیں تھااور چاروں کو گرفتارکرلیاگیا۔ لڑکی کی عمر ابھی 23سال ہے لیکن وہ اس سے کہیں کم عمر دکھائی دیتی ہے ، والدہ کی وفات کے بعد اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی وہ ماں کی طرح پرورش کررہی ہے ۔
سعدیہ نے بتایاکہ’ وہ اپنی چھوٹی بہن کا سکول یونیفارم خریدنے دکان پر جارہی تھی کہ اسلحہ کے زور پر چارافراد نے اُسے کارمیں ڈال لیاگیا، ایک ویران گھر میں لے جاکر جنسی زیادتی کی جبکہ ایک موبائل فون سے ویڈیو بناتے رہے ، رحم کی اپیل کرنے پر ملزموں نے مزید تشددکا نشانہ بناناشروع کردیا،ملزمان کاکہناتھاکہ اگر اُن کی بات نہ مانی گئی تو وہ ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال کر پھیلادیں گے اور اُس کے بہن بھائیوں کو بھی نقصان پہنچائیں گے “۔ سعدیہ کاکہناتھاکہ اُسے اپنی فکر نہیں لیکن وہ نہیں چاہتیں کہ اُس کی وجہ سے اُس کے بہن بھائیوں کو نقصان پہنچے اوریہی وجہ تھی کہ کسی سے ذکر نہیں کیا، وہ بڑے پیمانے پر ویڈیو پھیلنے سے باخبرہے،بہت سے لوگ صرف تفریح کیلئے یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں ‘۔
بی بی سی کے مطابق فیس بک سمیت سوشل میڈیا اور بلوٹوتھ کے ذریعے موبائل فون پر بڑی تعداد میں شیئرہوئیں اور تاحال شیئرنگ ہورہی ہے کیونکہ اِسے روکنے کیلئے پاکستان میں قانون ہی موجود نہیں ۔ سعدیہ پنجاب کے ایک روایتی گاﺅں میں رہتی ہے جس کے کچے گھر کے اردگرد گنے کے کھیت ہیں ۔
بی بی سی کی نمائندہ نے لکھاکہ جب وہ تھانے میں ریمانڈ پر موجود ملزموں سے ملنے گئی تواُنہوں نے خبر عام کرنے سے روکنے کے لیے ہاتھ جوڑ لیے ، اُن کا مقدمہ تاحال زیرسماعت ہے ۔ ملزموں پر اغواء، گینگ ریپ او رفحاشی پھیلانے کا الزام عائد کیاگیاہے جبکہ ویڈیو تاحال آن لائن موجود ہے لیکن پولیس کا موقف ہے کہ وہ ویڈیو کوہٹانے کیلئے کوشش کررہے ہیں ، جہاں تک گینگ ریپ کا تعلق ہے تو ویڈیو کی موجودگی کی وجہ سے سعدیہ کا کیس کافی مضبوط ہے ۔
ویڈیو کی موجودگی کی وجہ سے سعدیہ اپنے ہی گھر میں قیدی بن کر رہ گئی ہیں۔
سائبرکرائم سے متعلق ماہروکلاءکا کہناہے کہ پاکستان میں ایساکوئی مخصوص قانون موجود نہیں جس کے تحت ویب سائیٹس کو حکم دیاجائے کہ ویڈیو ہٹائی جائے ، سیاسی عدم دلچسپی کی وجہ سے مستقبل قریب میں بھی ایسی کوئی پیش رفت دکھائی دیتی نظر نہیں آرہی ۔
بی بی سی نے لکھاکہ یہ معاملہ عالمی نشریاتی ادارے کے علم میں اس وقت آیا جب ایک شہری نے فیس بک پیج پر ویڈیو کے ساتھ اپیل کی تھی ، دلخراش مناظر دیکھنے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔

Edited by Young Heart
  • Like 5

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ واقعہ کافی عرصے سے زیر بحث ہے۔ لڑکی کے ریپ کی ویڈیو کے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔


نہ ہی سائبر کرائم کا کوئی قانون بن سکا ہے۔


  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

ریپ اور ریپسٹ


تحریر: وسعت اللہ خان


جولائی 22، 2014


 


انگریزی میں ریپ کی اصطلاح موجودہ معنوں میں پندرھویں صدی سے استعمال ہونی شروع ہوئی۔اس سے قبل ریپ سے مراد لوٹ مار اور استحصال وغیرہ ہوتا تھا۔لیکن آج ریپ کا ایک ہی مطلب ہے یعنی کسی کے جسم پر طاقت و تشدد کے ذریعے جنسی قبضہ۔ضروری نہیں کہ یہ طاقت جسمانی ہی ہو۔نفسیاتی طور پر شکار کا ذہنی کنٹرول حاصل کرکے اس کی رضامندی کے بغیر یا اس کی وقتی بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنسی مقاصد پورے کرنا بھی ریپ ہی کے زمرے میں آتا ہے۔جیسے کسی ہم جنس یا جنسِ مخالف سے دوستی کرنا اور پھر نشے کی حالت میں یا سوتے ہوئے یا بہلا پھسلا کر دھونس، دھمکی اور تصاویر سمیت بلیک میلنگ کا کوئی بھی طریقہ استعمال کرتے ہوئے اس کا جسمانی کنٹرول جنسی مقاصد کے لیے حاصل کرلینا۔


ریپ کے شکار اور شکاری کے لیے عمر کی قید نہیں۔لیکن عام طور سے ریپ کا شکار کم سن بچے یا بچی سے لے کر پچاس برس تک عمر کی خواتین ہوتی ہیں۔جب کہ شکاری پرائمری  اسکول  کے جسمانی طور پر طاقتور بچے سے لے کر ساٹھ پینسٹھ برس تک کا آدمی کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ضروری نہیں کہ ریپ کا شکاری مرد ہی ہو اور شکار عورت ہی۔ایک ہی جنس کے لوگ بھی شکار اور شکاری ہوسکتے ہیں اور مرد بھی عورت کے ہاتھوں ریپ ہوسکتا ہے۔


زیادہ تر وارداتوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم ریپسٹ یا ریپ کے شکار ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔زیادہ تر جاننے والے ہی شکار اور شکاری بنتے ہیں۔ان میں قریبی رشتے داروں سے لے کر محلے اور شہر داروں تک کوئی بھی ہوسکتا ہے۔اس طرح کی وارداتوں میں سے زیادہ تر پوشیدہ رہ جاتی ہیں یا رکھی جاتی ہیں اور بعض معاشروں میں تو ان وارداتوں کو چھپانے کا تناسب اسی سے نوے فیصد تک پایا جاتا ہے۔


گویا بہت کم وارداتیں سامنے آنے کے سبب بہت کم سزا ملتی ہے اور بہت کم زخم خوردگان کی جسمانی و نفسیاتی بحالی ممکن ہوتی ہے۔مگر دیکھا گیا ہے کہ وارداتیں چھپانے یا نظر انداز کرنے یا بھول جانے سے ریپ کم نہیں ہوتے بلکہ اور بڑھ جاتے ہیں۔لیکن چھپانے اور ظاہر کرنے کا دار و مدار بھی اس پر ہے کہ معاشرے کی ثقافتی ، مذہبی ، سیاسی و اقتصادی ساخت کیا ہے اور قانون کی عمومی عمل داری کتنی ہے یا نہیں ہے۔عموماً ریپسٹ تین طرح کے ہوتے ہیں۔وہ جو کسی غصے یا انتقام کے جذبے کے تحت یہ کام کرتے ہیں۔ان کی وارادت انفرادی و اجتماعی دونوں طرح سے ہوسکتی ہے۔پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک میں ریپ کی زیادہ تر وارداتوں کے پیچھے یہی محرک دیکھا گیا ہے۔


دوسری قسم کے ریپسٹ کو آپ چاہیں تو پاور ریپسٹ کہہ سکتے ہیں۔ان میں بیوی ، گرل فرینڈ ، گھریلو ملازمہ یا ملازم  یا کسی ماتحت یا بے بس نظر آنے والے اجنبی وغیرہ کو اپنی جسمانی ، مالی و سماجی قوت سے زیر کرنے والوں سے لے کر بچوں اور عورتوں کی رکھوالی کے ذمے دار فلاحی رضاکاروں ، اساتذہ ، جیل کے قیدیوں ، باوردی سرکاری اہلکاروں اور کارپوریٹ و دفتری باسز سمیت کوئی بھی ہوسکتا ہے۔تھانوں اور عسکری اداروں کی تحویل میں ملزموں کے ریپ کے لیے قانون کی کتابوں میں کسٹوڈیل ریپ کی اصطلاح موجود ہے۔


ریپسٹ کی تیسری قسم سیڈسٹک یا شکار کی اذیت ناکی سے لطف اٹھانے والوں پر مشتمل ہوتی ہے۔آدمی اذیت پسند کیوں بنتا ہے ؟ اس کے انفرادی و اجتماعی محرکات ایک علیحدہ نفسیاتی و سماجی بحث کے متقاضی ہیں۔اس طرح کے ریپسٹ اپنے شکار کو طرح طرح کی من پسند جسمانی و ذہنی اذیت ناکی سے گذار کر جنسی تلذز حاصل کرتے ہیں۔وہ مار پیٹ سے لے کر شکار کے حساس و نازک اعضا اور چہرے تک کو مسخ کرسکتے ہیں اور قتل بھی کرسکتے ہیں اور بعد از قتل بھی جسم کو مسخ کرسکتے ہیں۔ان سب حرکتوں سے انھیں ایک طرح کا سکون حاصل ہوتا ہے اور اگر وہ کسی کی نظروں میں نہ آئیں تو اگلے شکار کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔عموماً سیڈسٹ ریپسٹ اپنا کام انفرادی طور پر کرتے ہیں لیکن ایسی بھی مثالیں ہیں کہ ایک سے زائد اذیت پسند ریپسٹ گروپ کی شکل میں واردات کرتے ہیں حالانکہ ایسی مثالیں کم کم ہیں۔


ریپ کسی دشمن گروہ کے خلاف بطور ہتھیار بھی استعمال ہوتا ہے۔اور آج سے نہیں پرانے زمانے سے ایسا ہورہا ہے۔عورتیں اور نو عمر بچے ہمیشہ سے مالِ غنیمت کے زمرے میں شامل رہے ہیں۔ریپ بطور ہتھیار حریف کو علاقے سے نکالنے یا اسے ذلیل و رسوا کرکے مسلسل زیر رکھنے کی کوشش کے طور پر استعمال ہوتا آیا ہے۔خانہ جنگی ہو کہ کھلی جنگ ریپ کا ہتھیار ہر ایسی صورتِ حال میں آزمایا جاتا ہے۔میری یا مجھ سے بڑی عمر کے لوگوں کی یادداشت میں جو بڑے بڑے واقعات ہیں، ان میں سن سینتالیس کی تقسیم کی خونریزی ، مشرقی پاکستان ، بوسنیا اور روانڈا کی خانہ جنگی اور کشمیر کا قضیہ شامل ہیں۔


پہلی عالمی جنگ کے بعد سے بیسویں صدی کے تقریباً ہر بحران میں ریپ بطور ہتھیار استعمال ہوا۔جاپان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پچھلی صدی کے پہلے نصف میں منظم طریقے سے کوریا اور چین کے علاقے منچوریا اور نانجنگ پر نوآبادیاتی قبضے کے دوران لاکھوں مقامی عورتوں کو حملہ آور فوج کی جنسی تسکین کے لیے قحبہ خانوں میں بٹھا دیا۔ان عورتوں کے لیے ’’ کمفرٹ ویمن ’’ کی اصطلاح وضع کی گئی۔


عجیب بات ہے کہ انیس سو انچاس کے جنیوا کنونشن سے پہلے ریپ جنگی جرائم کے فہرست میں شامل نہیں تھا۔اسی لیے نازیوں کے خلاف نورمبرگ ٹرائل اور جاپانی جنگی مجرموں کے خلاف ٹوکیو ٹرائل میں ریپ کی فردِ جرم عائد نہیں ہوسکی۔ البتہ جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے روانڈا میں نسل کشی کے مقدمے کی سماعت کے دوران انیس سو اٹھانوے میں یہ تاریخی رولنگ دی کہ دورانِ جنگ ریپ بھی انسانیت کے خلاف جرائم کی فہرست میں شامل ہے۔


عام طور سے ریپ کے شکار کے ساتھ وقتی ہمدردی تو کی جاتی ہے لیکن پھر اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔حالانکہ جتنی نفسیاتی مدد کی اسے ضرورت ہوتی ہے شائد ہی کسی کو ہو۔ریپ کے تجربے سے گذرنے والا نفسیاتی و جسمانی طور پر بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔اس پر کبھی غصہ غالب آجاتا ہے ، کبھی دشمنی کا جذبہ عود کر آتا ہے اور کبھی کنفیوژن تو کبھی خوف کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔وہ اچانک چیخ اور دھاڑ بھی سکتا ہے اور سکتے کی کیفیت میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔اسے نہ تو اپنے جذبات پر قابو رہتا ہے نہ ہی اعصابی نظام پر۔اس کی بھوک اور نیند بری طرح متاثر ہوتی ہے۔


اگر اسے بروقت نفسیاتی مدد اور قریبی لوگوں کی توجہ نہ ملے تو خود کو زندگی سے الگ تھلگ کرتا چلا جاتا ہے اور انتہائی قدم کے طور پر اپنی جان بھی لے سکتا ہے۔یہ تمام مسائل ریپ کے شکار  کی نفسیاتی و جسمانی بے بسی سے جنم لیتے ہیں۔اور یہی وہ وقت ہے جب اس کے پیارے اسے گلے لگا کر اور اپنے قریب رکھ کے بتائیں کہ جو کچھ بھی ہوا اس میں وہ بے قصور ہے اور ان حالات میں جو بھی ہوتا اس کے ساتھ یہی ہوتا۔


اسے اشد ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ہو جو زندگی پر اس کا اعتماد پھر سے بحال کرے۔ان حالات میں اسے معنی خیز نگاہوں سے دیکھنا ، رویہ بدل لینا ، اسی کو بار بار قصور وار ٹھہرانا اور پھر کٹہرے میں کھڑا کرکے مزے لے لے کر سوال و جواب کرنا اور اس کے نام کی تشہیر کرنا۔یہ سب حرکتیں دراصل ایک اور ریپ کے مترادف ہیں۔


ریپ ختم تو نہیں ہوسکتا البتہ کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔اس کے لیے قوانین کو کاغذ پر سخت کرنے سے زیادہ ان پر واقعی عمل درآمد کی ضرورت ہے۔اپنے بچوں اور بچیوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ گھر کے اندر اور باہر کس سے کس حد تک تعلق رکھ سکتے ہیں اور حد عبور ہونے کی صورت میں کون کون سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔انھیں عمر کے ساتھ ساتھ  بدلتی جسمانی و جذباتی تبدیلیوں کے اسباب کے بارے میں  بااعتماد بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ لاعلمی و تاریکی میں کسی اپنے یا پرائے کا شکار نہ بن جائیں۔


انھیں ان لالچی ترغیبات کے بارے میں کھل کے بتانے کی ضرورت ہے جو ان کے لیے پھندہ ثابت ہو سکتی ہیں۔انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ زندگی نہ تو بالکل تاریک ہے نہ ہی مکمل روشن۔دنیا نامی اس جنگل میں محتاط بھی رہنا ہے ، خونخوار جانوروں کی بھی پہچان رکھنی ہے اور زندگی کا لطف بھی اٹھانا ہے۔انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ناگہانی مصیبت کبھی بھی کسی بھی وقت آسکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم حوصلہ ہار جاؤ۔ہم ہیں نا…


  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

بہت ہی معلوماتی آرٹیکل ہے۔ واقعی ریپ پر نہایت عمدہ اور جامع مضمون ہے۔ پڑھ کر کئی باتوں کی وضاحت ہو گئی۔


  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

وسعت اللہ خان ایک بہت منجھے ہوئے کالم نگار ہیں

جس موضوع پر لکھتے ہیں کمال لکھتے ہیں

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

جنسی بے راہ روی اور میڈیا کی ذمہ داری

سرفراز شیخ / September 18, 2013
 

لاہور میں ایک دل خراش واقعہ جو رپورٹ ہوگیا‘ ایک معصوم کلی کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا نہ جانے کتنی سنبل درندگی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں جو رپورٹ تک نہیں ہوپاتیں۔ ہمارے معاشرے میں اس طرح کے واقعات بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ درندوں کے لیے چھوٹے بچے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں پڑوسی ملک بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔ یہ کیس بھی میڈیا کے لیے ٹرائل کیس تھا۔ میڈیا نے اس پر مہم چلائی اور ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔ اور اب پانچوں مجرموں کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ میڈیا نے کیس کو اچھالا‘ قانون نے اپنا حق ادا کیا‘ مجرموں کو سزا ہوگئی۔ لیکن کیا واقعات رک گئے؟

 

دہلی میں اجتماعی زیادتی کے کیس کے بعد بھارت میں اجتماعی زیادتی کے واقعات میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس جرم کے بڑھتے رجحان نے بھارت کو بھی پریشان کردیا ہے یہی حالات پاکستان میں بھی ہیں جنسی زیادتی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ کا شور اینکر پرسن‘ سیاست دان‘ انسانی حقوق کی علمبردار اور قانون دان کررہے ہیں لیکن کوئی بھی ان واقعات کی وجوہات پر بات نہیں کررہا۔ دہلی کے اس کیس سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ میڈیا ان واقعات کا سدباب تو نہ کرسکا بلکہ ایسے کئی اور واقعات کامحرک ثابت ہوا ہے اور اس بات کو بھی واضح کردیا ہے کہ قانون اس کا حل پیش نہیں کرسکتا بلکہ یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے اس کا حل بھی سماجی ماہرین ہی پیش کرسکتے ہیں۔

 

گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان اور بھارت میں ٹی وی چینل‘ موبائل فون‘ انٹرنیٹ ملک کے کونے کونے میں پھیل چکا ہے۔ مواصلات کے یہ ذرائع پوری آب و تاب کے ساتھ فحاشی و عریانی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ٹی وی ڈراما ہوں یا ٹی وی کمرشل‘ کرکٹ میچ ہو یا نیوز بلیٹن‘ گھنٹہ آفر‘ SMS بنڈل‘ فحش ویب سائٹس اور فلمیں میڈیا کا بغور جائزہ لیں تو معاشرے کی اصلاح کے لیے ان کا کردار نظر نہیں آتا بلکہ موجود حالات میں جتنے بھی معاشرتی مسائل پیدا ہورہے ہیں اس کے بڑھانے میں میڈیا کاکردار ہی نظر آتا ہے۔

 

دونوں ممالک کا میڈیا مغربی میڈیا کا چربہ کرتا ہے‘ وہاں پر معاشرے میں پھیلی بے حیائی‘ عریانی و فحاشی کو ہمارے معاشرے کے لیے رول ماڈل بنا کر پیش کرتا ہے۔ مغرب میں فحاشی و عریانی کا موجد میڈیا نہیں ہے بلکہ میڈیا کی مقبولیت سے قبل ہی وہاں کے معاشرے میں فحاشی و عریانی اور بے حیائی عام تھی‘ خاندانی نظام تباہ ہوچکا تھا‘ وہاں کی ثقافت‘ روایات دم توڑ چکی تھی‘ قحبہ خانے عام تھے‘ ناجائز اولاد کو قانونی حیثیت مل چکی تھی‘ جنسی تعلقات قائم کرنا انتہائی آسان ہوچکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میڈیا کو ایسے طبقے کو متوجہ کرنے کے لیے عریانی و فحاشی کو بطور مارکیٹنگ استعمال کرنا پڑا جو ان کے معاشرے میں عام تھی‘ مغربی میڈیا میں فحاشی و عریانی کو وہاں کے معاشرے نے باآسانی قبول کرلیا جو ان کے لیے قابل اعتراض بات نہیں تھی۔

 

لیکن ہمارا معاملہ یکسر مختلف ہے۔
ایک طرف ہمارے معاشرے میں آج بھی روایات زندہ ہیں‘ رسم و رواج کی پابندی کی جاتی ہے‘ ثقافت سے لگائو ہے‘ مذہب کے لیے آج بھی عقیدت موجود ہے‘ برادری سسٹم انتہائی مضبوط ہے‘ خاندانی نظام کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے جب کہ دوسری طرف ہمارا میڈیا مغربی میڈیا کو کاپی کرتے ہوئے ان کے معاشرے کو ہمارے لیے ماڈل بنا کر پیش کررہا ہے۔ ہمارے ڈرامے‘ فلمیں‘ خبریں‘ اشتہارات‘ گھنٹہ آفر‘ SMS بنڈل‘ رسائل و جرائد سب ہمارے معاشرے میں مغربی سفیر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں اور وہان پر پھیلی بے حیائی کو یہاں پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میڈیا کی اس مسلسل کوشش نے ہمارے معاشرے میں ثقافتی خلش (Cultural Lag) پیدا کردی ہے۔ نوجوانوں کو بے حیائی کی جانب تو راغب کیا جاہا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں قائم ہماری ثقافت‘ برادری نظام‘ خاندانی نظام‘ مذہب‘ روایات اس بے حیائی کو تسلیم نہیں کرپاتی۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی گرل فرینڈ کا تصور بہت برا سمجھا جاتا ہے‘ قحبہ خانے‘ نائٹ کلب‘ ناجائز رشتے کو آج بھی تسلیم نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ نوجوان جنسی بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی جنسی تسکین کی خاطر درندگی اختیار کرتے ہیں‘ کبھی نوجوان لڑکیاں ان کا شکار ہوتی ہیں اور کبھی معصوم کلیاں۔

 

ان تمام واقعات کی ذمہ داری دیگر سماجی اداروں کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی عائد ہوتی ہے۔ میڈیا آج لیڈنگ رول ادا کررہا ہے اگر میڈیا واقعی مخلص ہے تو اسے اپنے قبلے کا تعین کرنا چاہیے اور اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے۔ ہمارے معاشرے کو مغربی معاشرے میں ڈھالنے کی کوششیں جاری رہیں تو اس طرح کئی کلیاں مسلتی رہیں گی اور ٹاک شو چلتے رہیں گے‘ ریٹنگ بھی بڑھتی رہے گی۔
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

Edited by Administrator
  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this image.

/monthly_2017_05/307463_details.png.101f2fd35b0d042af6369f49302b9952.png" alt="307463_details.png.101f2fd35b0d042af6369f49302b9952.png" />

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

اوچ شریف: سوشل میڈیا پر دوستی کا بھیانک انجام ، لڑکی نے شادی نہ کرنے پر انجینئر قتل کرا کر رقیب سے شادی کرلی

تاریخ : ۱۵ جنوری، ۲۰۱۷

اوچ شریف (آن لائن) سوشل میڈیا پر آشنائی کا بھیانک انجام نکلا، لڑکی نے انجینئر کو قتل کرواکر رقیب سے شادی کرلی۔ تفصیلات کے مطابق سرگودھا کے علاقہ پرانا ساہیوال کی رہائشی ایم فل کی طالبہ ملزمہ وحیدہ اور بھکر کے ذیشان کی سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی، ذیشان اوچ شریف میں نجی تعمیراتی کمپنی میں بطور سپروائزر ملازم تھا، دونوں نے ایک دوسرے سے شادی کے وعدے کئے۔ ایک ماہ قبل ذیشان نے شادی سے انکار کیا تو ملزمہ نے اپنے دوسرے دوست وقاص جو اس سے شادی کا خواہشمند تھا کے سامنے شرط رکھی کہ اگروہ ذیشان کو قتل کردے تو وہ اس سے شادی کر لے گی۔ ملزم وقاص ذیشان کو مبینہ طور پرقتل کر کے فرار ہو گیا اور دونوں نے شادی کرلی، تھانہ اوچ شریف پولیس نے کال ڈیٹا کے ذریعے ملزمان کوٹریس کرکے ملزم جوڑے کو گرفتار کر کے آلہ قتل بھی برآمدکرلیا۔

 

دوسرے اخبار سے یہی خبر

ہیڈ پنجند(نامہ نگار)سوشل میڈیا پر لگنے والی دوستی نے تین گھرانے تباہ کردئیے،شادی سے انکار پر ایم۔فل کی طالبہ نے اپنے انجینئیردوست کو دوسرے دوست کے ہاتھوں قتل کرادیا۔،پولیس نے قاتل ملزم اورملزمہ دونوں کوگرفتار کرلیا۔سرگودھاکے علاقہ پرانا ساہیوال کی رہائشی ایم۔فل کی طالبہ وحیدہ ستار اوربھکر کے رہائشی ذیشان کے مابین سوشل میڈیا کے ذریعے لگنے والی دوستی میں دونوں نے (بقیہ نمبر40صفحہ7پر )
ایک دوسرے سے شادی کے وعدے کئیے ۔اس دوران دونوں متعددبارملتے بھی رہے۔ایک ماہ قبل ذیشان نے شادی سے انکارکیا تووحیدہ نے اپنے ایک اوردوست وقاص جواس شادی کا خواہشمند تھا۔اسکے لیے یہ شرط رکھی کہ وہ ذیشان کو قتل کرے گا۔تو ہی وہ اس سے شادی کرے گی بکھرکارہائشی انجینئیر ذیشان اوچشریف میں نجی تعمیراتی کمپنی میں بطور سپروائزر کام کررہا تھا۔چنانچہ وقاص اسلحہ سمیت اوچشریف آیااور ذیشان کو قتل کرڈالااورفرارہوگیا۔بعدازاں دونوں نے شادی کرلی۔تھانہ اوچ شریف پولیس نے کال ڈیٹا کے ذریعے ملزمان کوٹریس کرکے وقاص اور وحیدہ ستار کو گرفتار آلہ قتل بھی برآمد کرلیا ہے۔

Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

سوشل میڈیا پر دوستی، شادی کا وعدہ، سندھ یونیورسٹی طالبہ کی خود کشی کا سبب بنا، ملزم گرفتار

حیدرآباد (ویب ڈیسک) سندھ یونیورسٹی ہاسٹل میں طالبہ نائلہ رندکی خود کشی کا واقعہ فیس بک دوستی کا نتیجہ نکلا ،پو لیس نے بلیک میل کرنے والے عادی ملزم کو گرفتارکر کے اس کے موبائل سے مزید30طالبات کی تصاویر و قابل اعتراض وڈیوزبرآمد کر لیں۔ ملزم انیس خاصخیلی نجی کالج کا لیکچرار اور قائد عوام یونیورسٹی نوابشاہ کے رجسٹرار کا بیٹا ہے۔ڈی آئی جی حیدرآبادخادم حسین رند اور ایس ایس پی جام شوروکیپٹن طارق ولایت نے جمعہ کو مشترکہ ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ نائلہ خود کشی کیس میں گرفتاری کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کردی گئی ہے ،ملزم کی گرفتاری کے بعد نائلہ خود کشی کیس کا معمہ حل ہو گیا ہے۔
ڈی آئی جی آفس شہباز بلڈنگ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے ڈی آئی جی حیدرآباد خادم حسین رند نے کہا کہ یکم جنوری کو سندھ یونیو رسٹی کے ماروی ہاسٹل میں شعبہ سندھی سالِ آخر کی طالبہ نائلہ رند نے خود کشی کی تھی جس کے بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے واقعہ کا نو ٹس لیتے ہو ئے تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔ جس کے بعد پولیس نے دیانت داری سے تفتیش شروع کر کے خود کشی کا پس منظر جاننے کی کوشش کی، ہاسٹل کے کمرے سے ملنے والے نائلہ کے موبائل فون کے فرانزک ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ اسے قائد عوام یونیورسٹی نوابشاہ کے رجسٹرار کا بیٹا ،مہران گرامر کالج جام شورو کا لیکچرار انیس احمد خاصخیلی جو ایم اے انگریزی ہے، شادی کا جھانسہ دیکراسے بلیک میل کررہا تھا۔ پو لیس نے انیس خاص خیلی کا نام سامنے آنے پراس کے موبائل فون کا فرانزک ٹیسٹ کیا توفون ریکارڈ سے نائلہ کی تصویر ، کال ریکارڈ اوردیگر30سے زائد قابلِ اعتراض وڈیوز برآمد ہو ئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ نائلہ رند دراصل انیس احمد خاصخیلی ولد غلام رسول خاصخیلی کی بلیک میلنگ کا شکار ہو ئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگرچہ نائلہ اور انیس دونوں نے اپنے اپنے موبائل فون کا بیشتر ڈیٹا ڈیلٹ کردیا تھا لیکن ڈی ایس آر کے زریعہ ہم نے یہ ڈیٹا بھی نکلوالیاتھا، جس کے مطابق خود کشی سے21منٹ قبل تقریباً 24منٹ تک نائلہ او ر انیس کی موبائل پر گفتگو ہو ئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ موبائل فون کے ریکارڈ کے مطابق نائلہ اور انیس خاص خیلی میں تین ماہ سے تعلقات تھے۔ ان کی دوستی فیس بک کے ذریعہ ہو ئی تھی۔ ڈی آئی جی حیدرآبا د نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق یہ خود کشی کا واقعہ ہے، جو ایک ردِ عمل میں کی گئی ہے۔ انیس نے نائلہ کو استعمال کیا اور پھر شادی سے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں متوفی طالبہ کے حاملہ ہو نے سے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ قتل،قتل شبِعمد،کہلاتا ہے،جس میں انسان ذہنی دباﺅ اورپشیمانی کی وجہ سے ایسا قدم اٹھاتا ہے۔ انیس خاصخیلی نے سائبر کرائم کیا، بلیک میل کر کے خوف و دہشت پھیلائی جس کے نتیجے میں ایک انسانی جان ضائع ہو ئی۔ انہوں نے کہاکہ نائلہ رند کے اہلِ خانہ کی مدعیت میں جام شورو تھانہ میں گرفتا ر ملزم انیس کیخلاف دفعہ نمبر پی پی سی ۳۱۶، ۵۰۹ اور اے ٹی اے ۶/۷ اور سائبر کرائم کی دفعات9،13کے تحت ایف آئی در ج کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابلِ ضمانت جرم ہے جس پرانیس کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ڈی آئی جی حیدرآبا د نے کہا کہ انیس احمد خاصخیلی ایک عادی مجرم ہے ،جس کے موبائل ڈیٹا سے30لڑکیوں کو بلیک میل کر نے اور ان کی قابلِ اعتراض وڈیوز اور تصاویر بھی ملی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جو بھی متاثرہ لڑکیا ں اورخواتین پولیس سے رابطہ کریں گی اور اپنے ساتھ ہو نے والے غلط سلوک کی شکایت کریں گی، انہیں مکمل تحفظ کے ساتھ انصاف دلوایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے تفتیشی رپورٹ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اور متعلقہ حکام کو ارسال کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ہم نے تفتیش و تحقیقات کا عمل اس لیے کیا کہ معزز اساتذہ و طالبات کی حرمت کو ملحوظ رکھا جاسکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ والدین اپنی بچیوں کو یونیورسٹی بھیجیں اور کسی قسم کے خوف کا شکار نہ ہوں۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ روز کمشنر حیدرآباد نے یونیورسٹی کا دورہ کرکے ہماری تفتیش پر نہیں یونیورسٹی کی کمیٹی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا، تاہم اس دوران یونیورسٹی اور ہاسٹل انتطامیہ کی جو کمزوریاں سامنے آئی ہیں فی الحال اس پر بات نہیں کرنا چاہتا،دوران تفتیش یہ کمزوریاں یونیورسٹی انتظامیہ،اساتذہ اور نائلہ کی ساتھی طالبات سے انکوائری کے دوران سامنے آئیں ہیں، ہاسٹل میں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں۔ ڈی آئی جی حیدرآباد خادم حسین رند نے اس مو قع پر اعلان کیا کہ ڈی آئی جی آفس میں ایک واچ یونٹ قائم کیا جارہا ہے جو کا م کے مقامات (ورک پیلس )پر خواتین کو ہراساں کرنے کے کیسز دیکھے گا۔ واچ یو نٹ میں پولیس کے علاوہ باہر کے لوگوں کو بھی لیا جائے گا۔ اس یونٹ میں یونیورسٹیز، بینک اور محکمہ پولیس سمیت دیگر اداروں میں کام کرنے والی خواتین کے معاملات دیکھے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کام کے مقامات( ورک پیلس) پر لڑکیوں کو ہراساں کرنے کا معاملہ محتسب کے دائرہ اختیار میں آتا ہے لیکن ڈی آئی جی آفس میں خصوصی طورپر اس یونٹ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے، تاکہ مظلوم لڑکیوں اور خواتین کو فوری امد اد اور قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر ایس ایس پی جام شورو طارق ولایت نے کہا کہ ہمیں ہاسٹل سے نیند کی گولیوں کے خالی پتے بھی ملے ہیں،ثبوت بہت ہیں،یہ شواہد ہم عدالت میں پیش کریں گے۔

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

سوشل میڈیا فراڈ اور بلیک میلنگ کا دھندہ بن گیا۔جانیے ایک اور تباہ ہوتی زندگی کی حقیقت

2017 ,مارچ 28

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا کے ذریعے فراڈ اور بلیک میلنگ کا دھندہ اس قدر عام ہوگیا ہے کہ اپنی ذاتی نوعیت کی معلومات کسی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر پوسٹ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے۔ امریکی خاتون مکایا کیر کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک واقعہ سوشل میڈیا فراڈ کی تازہ ترین مثال ہے۔ مکایا کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون آن لائن معاشقوں کے لئے ان کی تصاویر استعمال کررہی تھی۔ یہ خاتون مکایا کی تصاویر ان کے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا اکاﺅنٹس سے چوری کرتی تھی اور پھر انہیں اپنی تصاویر کے طور پر پیش کرتی تھی۔ مکایا کے سامنے یہ تشویشناک انکشاف اس وقت آیا جب ایک امریکی باکسر نے ان سے رابطہ کیا کیونکہ وہ انہیں نیوزی لینڈ میں رہنے والی اپنی محبوبہ سمجھ رہا تھا۔ مکایا کو پتہ چلا کہ امریکی باکسر کو دھوکا دینے والی خاتون گزشتہ سات سال سے ان کی تصاویر چوری کررہی تھی اور مسلسل انہیں اپنے گھناﺅنے مقاصد کے لئے استعمال کررہی تھی۔ اس نے تصاویر میں موجود مکایا کی سہیلیوں اور رشتہ داروں کو بھی خودساختہ نام دے رکھے تھے اور انہیں اپنے دوست اور عزیز و اقارب ظاہر کرتی تھی۔مکایا کا کہنا ہے کہ امریکی باکسر ان کے ساتھ رابطہ نہ کرتا تو انہیں کبھی علم نہ ہوتا کہ ان کی تصاویر سوشل میڈیا سے چوری کرکے شرمناک مقاصد کے لئے استعمال کی جارہی ہیں اور یہ سلسلہ سات سالوں سے جاری تھا۔ ان کی تصاویر چوری کرنے والی خاتون کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ کی رہائشی ہیں۔ پولیس اسے گرفتار کرنے کے لئے قانونی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ کوئی ایک دو دن کی بات نہیں ہے پچھلے کئی مہینوں سے ایسے ہزاروں واقعاد دیکھنے اور سننے پر ملے ہیں لیکن ان سب کے باوجود پولیس اس پر کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام ہے۔

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ویڈیوز، تصاویر سے بلیک میلنگ

  فروری 28, 2017

لاہور(ویب ڈیسک) فیس بک پر خواتین اور بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز ،تصاویر اپ لوڈ کر کے انہیں بلیک میل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا، ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کو 2 ماہ میں 500 سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں ،حکام چکراکر رہ گئے۔

روزنامہ دنیا کے مطابق موبائل فون ،لیپ ٹاپ اور خفیہ کیمروں کے ذریعے خواتین کو بہلا پھسلا کر ہوٹلز یا مخصوص جگہوں پر بلا کر ان کی غیر اخلاقی ویڈیوز ،تصاویر بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ذہنی طور پر بیمار یہ ملزم خواتین اوربچوں کواپناشکار بنارہے ہیں ،ایف آئی اے ذرائع کا کہناہے کہ نو عمر لڑکیوں کی بڑی تعداد عشق اور محبت کے نام پر اپنی عزتوں سے کھیل رہی ہیں،2ماہ کے دوران بلیک میلنگ کے حوالے سے 500سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں جبکہ انکوائریاں مکمل کرکے 17مقدمات درج کئے اور 15ملزموں کو گرفتار کرلیاگیا۔

حکام کا کہناہے کہ عملہ کم ہونے کی وجہ سے بھی ایف آئی اے کو موصو ل ہونے والی درخواستوں پر کارروائی کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔گزشتہ روز ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو بناکر اسے بلیک میل کرنے کی دھمکیاں دینے والے ملزم محمد وسیم کو گرفتار کر لیا۔

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×