Jump to content
URDU FUN CLUB
Young Heart

لڑکیوں میں جنسی تعلیم کی ضرورت

Recommended Posts

لڑکیوں میں جنسی تعلیم کی ضرورت

 

رائٹر: نبیلہ ملک

(آج سے تقریباََ دس سال پہلے لکھا گیا ایک آرٹیکل)

جب لڑکیاں لڑکپن میں داخل ہوتی ہیں تو ایک دوسرے کو اپنے رازوں میں شریک کرنا شروع کرتی ہیں۔ وہ سیکشوئل لطیفے جو کہ انہوں نے اپنی کسی بڑی کزن یا خالہ وغیرہ سے سنے ہوتے ہیں ایک دوسرے کو سناتی ہیں (یہ ویسے تو ایک انہونی ہے مگر جن خاندانوں میں ایسی خواتین موجود ہوتی ہیں، جوان لڑکیوں کے والدین اپنی بچیوں کو ان سے دور رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں)۔ تاہم اکثر لڑکیاں ریپروڈکٹو پراسس اور اس سے متعلق اصطلاحات سے انجان ہوتی ہیں اور سیکشوئل لطیفے نہ سمجھ میں آنے کے باوجود سمجھنے کا ڈھونگ کرتی ہیں۔

یہ لڑکیاں کم از کم یہ سمجھتی ہیں کہ سیکس اور سیکشوئیلٹی انسانی فطرت کے مطابق ہے، مسئلہ ان لڑکیوں کا ہے جو کہ کسی دباؤ کی وجہ سے سیکشوئل مذاق سمجھ آنے کے باوجود نہ سمجھنے کا ڈرامہ کرتی ہیں۔ ایسی لڑکیاں معاشرتی دباؤ کا شکار ہیں جو کہ ان سے 100 فیصد معصومیت کا تقاضہ کرتا ہے۔

Please login or register to see this image.

یہاں تک کہ وہ مجبور ہوجائے

5287e7819e0408a18cb8ea9464d3651563adf44c

97a6cdf56b5f285dd05db8176f703373afdd4b6e معاشرتی دباؤ اور ناپسندیدگی کی وجہ سے لڑکی کے پاس لڑکے کو جاننے کا واحد طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے مہینوں تک فون پر بات چیت کرتی رہے یہاں تک کہ اسکا تجسس اور شوق اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ لڑکے سے ملنے پر مجبور ہو جائے۔
ed179769b45f49c9cdd68934f9e85c6a14033297
 

اٹھارہ سال اور اس سے اوپر عمر کی لڑکیوں میں سیکشوئیلٹی سے متعلق شرمندہ سی خاموشی عام گپ بازی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ لڑکیاں صرف اپنی خاص سہیلیوں سے اس قسم کی گفتگو کرتی ہیں۔ انفرادی تجسس گروہ کے تجسس میں بدل جاتا ہے۔ سب اپنی معلومات کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہیں۔ کوئی سنے سنائے قصےاپنے گروپ کے ساتھ بانٹتی ہے تو کوئی بھائیوں سے چرایا ہوا مواد گروپ میں تقسیم کرتی ہیں۔ لیکن کوئی بھی ایسا ذریعہ نہیں جہاں سیکس سے متعلق معلومات تک براہِ راست رسائی ممکن ہو۔

اس سے مجھے ایک دلچسپ قصہ یاد آتا ہے۔ پانچ لڑکیوں کے ایک گروہ نے سیکشوئیلٹی کے بارے میں اپنے تجسس پر بہادری کی ٹھانی۔ انہوں نے ایک سہیلی کے گھر جمع ہوکر بالغوں والی فلم دیکھنے کا فیصلہ کیا جہاں پر ایک کمرے میں انکو ٹی وی اور وی سی آر مہیّا تھے۔ کئی دنوں کی منصوبہ بندی کے بعد آخرکار وہ دن آ پہنچا جس کا سب کو بے چینی سے انتظار تھا۔ ان میں سے ایک جو کہ گاڑی چلانا جانتی تھی اس نے والدین سے کھانے پینے کا سامان خریدنے اور فلم کرائے پر لینے کا بہانہ کر کے گاڑی لے لی۔ منصوبے کے مطابق پانچوں لڑکیاں بالغوں والی فلم کرائے پر لینے کے لیے انتہائی جوش و خروش میں گھر سے نکل کھڑی ہوئیں۔

سوال یہ تھا کہ وہ فلم لینے جائیں کہاں! فیصلہ یہ ہوا کہ خاندان کے جاننے والے آس پاس کے دکانداروں میں سے کسی کے پاس نہ جایا جائے۔ لہٰذا وہ ایک نئے علاقے میں گئیں اور ایک دکان دیکھ کر گاڑی روک لی۔ سب اس بات پر بہت خوش تھیں کہ آخرکار ان کو سیکس کے متعلق ان تمام سوالات کے جوابات مل جائیں گے جن کو پوچھنے کی ان میں سے کسی میں ہمت نہیں تھی۔

سب دکان کے اندر داخل ہوئیں۔ پانچ خوش شکل لڑکیوں کا گروپ دکان میں داخل ہوا تو سب نگاہیں ان پر جم گئیں۔ لڑکیاں اس صورتحال کے لئیے ہرگز تیار نہ تھیں۔ گھبراہٹ کے مارے وہ بالغوں والی فلم کے متعلق پوچھنے کی ہمت نہ کر سکیں۔ انہوں نے ایک ایسی فلم کے متعلق پوچھا جو کہ ریلیز بھی نہیں ہوئی تھی اور دکان چھوڑ کر باہر آ گئیں۔ اس کے بعد وہ ایک اور دکان پر گئیں جہاں پر نسبتاً کم لوگ تھے۔ اپنی موجودگی کو غیرمحسوس بنانے کے لئیے پانچوں لڑکیاں دکان میں پھیل گئیں اور مختلف پوسٹرز وغیرہ دیکھنے شروع کر دیے۔ جب دوسرے گاہک چلے گئے اور ان کو دکاندار کے ساتھ اکیلے میں بات کرنے کا موقع مل گیا تو سب اس کے گرد جمع ہو گئیں اور فلموں کی فہرست دیکھنی شروع کر دی۔ دکاندار سے بالغوں والی فلم کے متعلق پوچھنا بظاہرایک آسان سا کام تھا مگر ان لڑکیوں کو بہت بڑا پہاڑ سر کرنے کے مترادف لگ رہا تھا۔ کوشش کے باوجود ان میں سے کوئی بھی اپنے اندر سوال کرنے کی ہمت نہ جمع کر سکی۔

ان میں سے ایک لڑکی سیکس کے متعلق سب سے زیادہ معلومات کا دعوٰی کرتی تھی اور ایک طرح سے گروپ لیڈر تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس وقت سب لڑکیوں کی نگاہیں اس پر جمی ہوئی ہیں۔ بہت کوشش کے باوجود اس کے منہ سے بھی الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔ بالآخر 20 منٹ کی تگ ودو کے بعد لڑکیاں ایک ایسی فلم لے کر دکان سے نکل آئیں جس کا دور دور تک سیکشوئیلٹی سے کوئی تعلق نہ تھا۔

اسی طرح کے چند اور تجربات کے بعد لڑکیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انکو اپنے جاننے والے دکانداروں کے پاس جانا چاہئیے کہ شاید اپنے جاننے والے دکانداروں سے مطلوبہ فلم مانگنا آسان ہو۔ گروپ کی لیڈر لڑکی نے ایک فلم کا نام بھی یاد کر لیا۔ اس نے اپنے جاننے والے دکاندار سے وہ فلم مانگنے کی ہمت بھی کر لی مگر دکاندار نے اس کو فلم دینے سے صاف انکار کر دیا۔ دکاندار نے انتہائی غیر دلچسپ طریقے سے کہا: ’میں تم لوگوں کو یہ فلم نہیں دے سکتا‘ اور یہ کہنے کے بعد دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ اس غیر متوقع جواب سے ان سب کو اتنا دھچکا لگا کہ ان میں سے کوئی دکاندار سے انکار کی وجہ بھی نہ پوچھ سکی اور خاموشی سے دکان چھوڑ کر باہر نکل آئیں۔

Please login or register to see this image.

افسوس

bbcd1325dba9e340d2c2caa3713671b2de9a6dab

97a6cdf56b5f285dd05db8176f703373afdd4b6e ۔۔۔مگر انکی قسمت اچھی نہیں تھی۔ فلم کے نام اور تعارف میں سیکس سے متعلق کافی اشارے کنائے تو تھے مگر فلم بہت ہی صاف ستھری تھی۔
ed179769b45f49c9cdd68934f9e85c6a14033297
 


اگلی دکان میں وہ صرف پوسٹرز دیکھتی رہیں اور فلموں کے تعارف پڑھتی رہیں۔ وہ بالغوں والی فلم کے متعلق تو نہ پوچھ سکیں تاہم ایک فلم جو کہ نام سے سیکشوئیلٹی کے متعلق لگ رہی تھی، اسے لے کر خوش خوش گھر کی طرف روانہ ہوئیں۔

گھر پہنچتے ہی انہوں نے کمرے کا دروازہ بند کیا، جلدی جلدی فلم وی سی آر میں ڈالی اور سیکس سے متعلق حصے تک پہنچنے کے لئیے فلم کو فارورڈ کیا۔ مگر افسوس انکی قسمت اچھی نہیں تھی۔ فلم کے نام اور تعارف میں سیکس سے متعلق کافی اشارے کنائے تو تھے مگر فلم بہت ہی صاف ستھری تھی۔

یہ دن ان پانچوں لڑکیوں کے لئیے ایک یادگار دن تھا جس میں ہنسی مزاح تو بہت ہوا مگر سیکس سے متعلق کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔

18 سال سے 25 سال تک کی عمر لڑکیوں کی شادی کی صحیح عمر سمجھا جاتا ہے۔ لڑکیوں کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ان کے والدین نے ان کے لیے ساتھی کی تلاش شروع کر دی ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ زیادہ تر درمیانے طبقے کے خاندانوں میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ لڑکیاں اپنے لیے شادی کے پروپوزل کا بندوبست خود کر لیں مگر یہ صرف اسی صورت میں قابلِ قبول ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو کسی تقریب کے دوران اتفاقاً ملاقات میں پسند کر لیں۔ اس پروپوزل میں ہونے والے شوہر کے ساتھ کسی قسم کا ذاتی تعلق ہرگز قابلِ قبول نہیں۔

کچھ سمجھ دار لڑکیاں اپنے ماں باپ کے سامنے اپنی پسند ناپسند کبھی اشاروں کنائیوں میں اور کبھی اپنی پسند کے لڑکے میں دلچسپی لے کر ظاہر کر دیتی ہیں۔ کچھ بہادر لڑکیاں اپنی پسند سے افئیرز بھی چلا لیتی ہیں مگر معاشرے کی ناپسندیدگی اور دباؤ کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اکثر ایسی صورتحال میں پھنس جاتی ہیں جس میں انکی مرضی شامل نہیں ہوتی۔مثال کے طور پر اگر ایک لڑکی کسی لڑکے میں دلچسپی رکھتی ہے وہ اسکی چائے یا کافی کی دعوت قبول نہیں کر سکتی حالانکہ ایک دوسرے کو بہتر طور پر جاننے کے لیئے یا اپنے احساسات کی تصدیق کرنے کے لیئے ایک پبلک جگہ کے تحفظ میں ساتھ مل کر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیئے۔ مگر معاشرتی دباؤ اور ناپسندیدگی کی وجہ سے لڑکی کے پاس لڑکے کو جاننے کا واحد طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے مہینوں تک فون پر بات چیت کرتی رہے یہاں تک کہ اسکا تجسس اور شوق اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ لڑکے سے ملنے پر مجبور ہو جائے۔

عموماً لڑکیوں کو بہکانے کا قصوروار لڑکوں کو ٹھہرایا جاتا ہے لیکن بسا اوقات ایسی کسی بھی صورتحال میں دونوں ہی جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں۔ درحقیقت معاشرہ جوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ملنے جلنے کی کوئی گنجائش نہیں دیتا اور ان پابندیوں کی بناء پر جب نقصان دہ نتائج سامنے آتے ہیں تو اس کی وجہ ان حدوں کو پار کرنا ٹھہراتا ہے جب کہ یہی غیر فطرتی معاشرتی اقدار اور حدود ان مسائل کی جڑ ہوتی ہیں۔

ان وجوہات کی بناء پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو لڑکیاں اپنے والدین پر اندھے اعتماد یا موقع نہ ملنے کی وجہ سے ان معاملات سے دور رہتی ہیں، وہ محبت کے تباہ کن اثرات سے بھی محفوظ رہتی ہیں اورایک طے شدہ شادی کے مفید اور محفوظ بندھن میں بندھ جاتی ہیں۔ پس یہ دلیل دی جاتی ہے کہ شادی سے پہلے اپنے سیکشوئل جذبات کا انکار کرنے میں ہی لڑکیوں کا بھلا ہے۔ چونکہ کسی کو اپنے فطری جذبات کو رد کرنے پر قائل کرنا انتہائی بےتکی بات ہے لہٰذا معاشرہ اس بات پر یقین کرنے لگا ہے کہ عورتوں کی کوئی سیکشوئل ضروریات ہوتی ہی نہیں۔

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

نہایت ہی عمدہ اور بہترین موضوع ہے۔


لڑکیوں کو سیکس کے متعلق مناسب معلومات ہونی چاہیئں۔


ان معلومات میں ان کے جسم میں ہونے والی جنسی تبدیلیوں کا مفصل ذکر ہو اور مردوزن کے باہم تعلقات کو اس انداز میں بیان کیا جائے کہ وہ ہیجان انگیز ثابت نہ ہو بلکہ وہ قدرے مشعل راہ ہو۔


لڑکی ان معلومات کی بنا پر اپنی اگلی زندگی کو مضبوط اور باکردار انداز میں بسر کرے۔


  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس سے ملتا جلتا واقعہ مجھے یاد آ گیا کہ ایک بار میری ایک کلاس فیلو نے مجھ سے لیپ ٹاپ مانگا۔


میں نے اسی وقت دینے کی بجائے شام کو دینے کا وعدہ کر لیا۔


آج سے دس سال پہلے لیپ ٹاپ اتنا عام نہیں تھا اور کم ہی لوگوں کے پاس ہوا کرتا تھا۔


میں نے دو گھنٹے لگا کر تمام پورن یو ایس بی سے کاپی کر کے کمپیوٹر میں منتقل کی اور پھر لیپ ٹاپ اسے دے دیا۔


وہ لیپ ٹاپ اگلے دن ہی لوٹ آیا۔پھر سے سب کچھ واپس کاپی کیا اور لیپ ٹاپ استعمال کرنے لگا۔


یہ بات اپنی گرل فرینڈ کو بتائی کہ فلاں نے مجھ سے دو چار دن پہلے لیپ ٹاپ لیا تھا کہ ہاسٹل میں کچھ کام ہے۔میں نے خوب خجل ہو کر دو دفعہ کاپی پیسٹ  کی خواری برداشت کی ہے۔


میری گرل فرینڈ ہنس کر بولی کہ انھوں نے وہی تو دیکھنا ہو گی جو تم نے کاپی کر لی تھی۔


خیر، دس بارہ دنوں بعد میں نے دوستوں کے اصرار پر لیپ ٹاپ خود ہی اسے دوبارہ دے دیا کہ میں گھر جا رہا ہوں تم رکھ لو،ہاسٹل میں لڑکے اسے چھیڑتے ہیں۔


اس بار میں نے تمام ہسٹری ڈیلیٹ کر کے اسے دیا اور دس بارہ نہایت عمدہ پورن کلپ وہاں بظاہر چھپا کر رکھے تھے۔


ایک ہفتے بعد مجھے لیپ ٹاپ واپس ملا۔


میں نے اس میں ری سینٹ فائلز دیکھیں تو وہ سب کی سب پورن کلپ والی تھیں۔


یعنی میری گرل فرینڈ کی بات درست تھی وہ لڑکیاں پورن ہی دیکھنا چاہتی تھیں۔ خیر، اس بات کا تذکرہ کبھی نہیں ہوا۔ نہ انھوں نے کبھی ذکر کیا کہ تمہارے لیپ ٹاپ میں پورن تھیں نہ میں نے کبھی ذکر کیا کہ مجھے معلوم ہے کہ تم لوگوں نے وہ سب ویڈیوز دیکھی تھیں۔


  • Like 7

Share this post


Link to post
Share on other sites

سندھ کے گاؤں میں لڑکیوں کے لیے جنسی تعلیم


جوہی: صاف ستھری قطاروں میں پاکستانی لڑکیاں سفید اسکارف پہنے، محتاط ہوکر اپنے ٹیچر کی باتیں سن رہی تھیں، جو انہیں ان کے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں وضاحت کررہی تھیں۔ جب ٹیچر نے پوچھا کہ اگر ایک اجنبی ان کے جسم کو چھوتا ہے تو وہ اس وقت کیا کریں گی، یہ سن کر کلا س کی سبھی لڑکیاں بھڑک اُٹھیں۔


ایک نے کہا کہ ’’اس وقت زور زور سے چلّانا چاہیٔے۔ ‘‘دوسری نے تجویز دی کہ ’’اس کو دانت کاٹ لینا چاہیٔے۔‘‘ تیسری نے کہا ’’اپنے ناخنوں سے اس کو بُری طرح نوچ لینا چاہیٔے۔‘‘


جنسی تعلیم مغربی اسکولوں میں عام ہے لیکن ان روایت شکن اسباق کو اب گہرے قدامت پرست پاکستان میں بھی جگہ مل رہی ہے، اس مسلم ملک کی آبادی اٹھارہ کروڑ لوگوں پر مشتمل ہے۔


پاکستان میں عوامی سطح پر جنس کے بارے میں بات کرنا ممنوع ہے اور یہاں تک کہ اس پر موت کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ والدین محض شادی پر رقص کرنے یا کھڑکی سے باہر دیکھنے جیسے معصومانہ جرائم پر اپنی بیٹیوں کے گلے کاٹ دیتے ہیں یا ان کے چہرے پر تیزاب پھینک دیتے ہیں۔


پاکستان میں کسی بھی جگہ پر کسی قسم کی منظم جنسی تعلیم نہیں دی جاتی ہے۔ کچھ علاقوں میں تو اس پر پابندی عائد ہے۔


لیکن غربت سے متاثرہ صوبہ سندھ کے ایک شہر جوہی کے گاؤں میں کام کرنے والے اساتذہ کا کہنا ہے کہ ان کی جنسی تعلیم کے منصوبے کو بہت سے گھرانوں کی حمایت حاصل ہے۔


ولیج شاد آباد تنظیم کی جانب سے چلائے جانے والے آٹھ اسکولوں میں سات سو لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔


ان کی جنسی تعلیم کے اسباق آٹھ سال کی عمر سے شروع ہوتے ہیں، جب ان کے جسم میں تبدیلیاں آنے لگتی ہیں، اس وقت ان کو بتایا جاتا ہے کہ ان کے کیا حقوق ہیں اور انہیں اپنی حفاظت کس طرح کرنی چاہیٔے۔


اس تنظیم کے سربراہ اکبر لاشاری کہتے ہیں ’’ہم اپنی آنکھیں بند کرکے نہیں کر سکتے۔ یہ ایسا موضوع ہے، جس پر لوگ بات نہیں کرنا چاہتے، لیکن یہ ہماری زندگی کی حقیقت ہے۔‘‘


زندگی کے حقائق:


اکبر لاشاری نے کہا کہ گاؤں کی زیادہ تر لڑکیاں بلوغت کی زندگی میں یہ جانے بغیر داخل ہوجاتی ہیں، کہ ان کے ایّام شروع ہوجائیں گے یا ان کو جنسی عمل کے بارے میں سمجھائے بغیر ان کی شادی کردی جاتی ہے۔


یہ اسباق یہاں تک کہ لڑکیوں کو ازدواجی ریپ کے بارے میں تعلیم دینا، پاکستان میں ایک انقلابی خیال ہے، جہاں پر ایک شریکِ حیات کا جنسی عمل پر مجبور کیا جانا جرم نہیں ہے۔


اکبر لاشاری نے بتایا ’’ہم ان سے کہتے ہیں کہ اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو اُن کے شوہر انہیں جنسی عمل کے لیے مجبور نہیں کرسکتے۔‘‘


انہوں نے کہا یہ اسباق لازمی اسباق کے علاوہ ہیں، اور ان کے بارے میں والدین سے ان کی بیٹیوں کے داخلے سے پہلے بات کرلی جاتی ہے۔ اس پر کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا اور اسکول کو کسی طرح کی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔


ان آٹھ اسکولوں کو ایک آسٹریلین کمپنی بی ایچ پی بلیٹن کا تعاون حاصل ہے، جو قریبی گیس پلانٹ پر کام کرتی ہے، لیکن اکبر لاشاری کہتے ہیں کہ جنسی تعلیم گاؤں کے لوگوں کا اپنا خیال تھا۔


یہاں کی ایک ٹیچر سارہ بلوچ جن کی پیلی شلوار قمیض اسکول کے گرد آلود احاطے میں چمک رہی تھی، نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ لڑکیوں کی مدد کرنے سے وہ سمجھ جائیں گی کہ بڑے ہونے کا کیا مطلب ہے۔


انہوں نے کہا ’’جب لڑکیوں کے ایّام شروع ہوتے ہیں تو وہ خیال کرتی ہیں کہ یہ بہت شرمناک ہے اور وہ اپنے والدین سے بھی اس بارے میں بات نہیں کرتیں، اور سوچتی ہیں کہ وہ بیمار ہوگئی ہیں۔‘‘


سارہ بلوچ کچی اینٹوں سے بنے ہوئے تین کلاس رومز کے چھوٹے سے اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ چوتھی جماعت کو کلاس روم سے باہر بیٹھنا پڑتا ہے، اس لیے کہ اس کلاس میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔


دو لڑکیوں کے لیے بنائی گئی سیٹ پر ٹھنس کر بیٹھی تین لڑکیاں سارہ بلوچ کو توجہ سے سن رہیں تھیں۔ ایک کارڈ پر دکھایا گیا تھا کہ ایک لڑکی ایک بوڑھے شخص کو اپنی ٹانگ چھونے سے روک رہی ہے۔


دوسرے کارڈ میں لڑکیوں سے کہا گیا تھا کہ اگر ان کاکوئی پیچھا کرتا ہے تو وہ اپنے اندر ہمت پیدا کرکے اپنے والدین یا دوستوں سے اس کے بارے میں بتائیں۔


یہ لڑکیاں شرمیلی ہیں لیکن یہ اسباق انہیں اچھی طرح یاد ہوگئے ہیں۔


’’میرا جسم صرف میرا ہے، اور اس پر صرف میرا حق ہے۔ اگر کوئی شخص میرے جسم کے پوشیدہ حصوں کو چھوتا ہے تو میں اس کو دانت کاٹ لوں گی یا اس کے منہ پر تھپڑ ماروں گی۔‘‘ دس سال کی عظمٰی پنہور نے یہ کہا اور یقیناً یہ کہتے ہوئے وہ شرما رہی تھی۔


ان اسباق میں شادی کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔


سولہ برس کی ساجدہ بلوچ نے سرجھکا کر کہا ’’ہماری ٹیچرز نے ہمیں سب کچھ بتا دیا ہے کہ جب ہماری شادی ہوگی تو ہمیں کیا کرنا ہوگا۔ اب ہم یہ جان چکی ہیں کہ ہمیں کیاکرنا چاہیٔے اور کیا نہیں کرنا چاہیٔے۔‘‘


اس وقت سے آگے:


پاکستان کے اہم اسکولوں میں سے کچھ جن میں اعلٰی درجے کی شہرت رکھنے والے بیکن ہاؤس اسکول سسٹم بھی شامل ہیں، اس قسم کی جنسی تعلیم دینے پر غور کررہے ہیں، جس پر جوہی میں عمل کیا جارہاہے۔


بیکن ہاؤس کی ڈائریکٹر آف اسٹڈیز روحی حق کہتی ہیں ’’لڑکیاں جنس کے بارے میں اپنے والدین سے بات کرتے ہوئے شرماتی ہیں۔‘‘


یہ مطالبہ یقینی طور پر ہے۔ لاہور میں مقیم ارشد جاوید جنسی تعلیم پر تین کتابیں تحریر کرچکے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی کتابیں ہر سال سات ہزار کی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں۔ کوئی بھی اسکول یہ کتابیں نہیں خریدتا۔


لیکن ہر ایک ان اسباق سے اتفاق نہیں کرتا، کچھ حصوں سے اس لیے کہ نوجوان کے بارے میں بالغ ہونے سے پہلے جنسی تعلق کی توقع نہیں کی جاتی۔ حال ہی میں حکومت نے ایک نجی اسکول کو مجبور کیا تھا کہ وہ اپنے نصاب سے جنسی تعلیم کے تمام اسباق خارج کردے۔


آل پرائیویٹ اسکول فیڈریشن جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ملک بھر کے ایک لاکھ باون ہزار تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیم ہے، اس کے سربراہ مرزا کاشف علی کہتے ہیں کہ ’’یہ ہمارے مذہب اور آئین کے خلاف ہے۔ اس کی اسکول کی سطح پر اجازت نہیں ہونی چاہیٔے۔‘‘


صوبہ سندھ کے وزیرِ تعلیم نثار احمد کھوڑو کو جب جوہی میں جنسی تعلیم کے بارے میں بتایا گیا تو وہ یہ سن کر چونک گئے، انہوں نے کہا کہ ’’پڑوسی ملک ہندوستان میں بہت سے سرکاری اسکولوں میں باقاعدہ جنسی تعلیم دی جارہی ہے، لیکن پاکستان کے سرکاری اسکولوں کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘‘


انہوں نے کہا ’’لڑکیوں کے لیے جنسی تعلیم؟ وہ یہ کس طرح کرسکتے ہیں؟ یہ ہمارے نصاب کا حصہ نہیں ہے، چاہے سرکاری نصاب ہویا نجی اسکولوں کا نصاب۔‘‘


لیکن طاہر اشرفی جو ایک اعتدال پسند مذہبی علماء کے اتحاد پاکستان علماء کونسل کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ اس طرح کے اسباق کی اسلامی قوانین کے تحت اجازت ہےجبکہ وہ مخلوط نہ ہوں اور تھیوری تک محدود ہوں۔


انہوں نے کہا ’’اگر اساتذہ خواتین ہیں، تو وہ شریعت کی حدود میں لڑکیوں کو اس طرح کی معلومات فراہم کرسکتی ہیں۔‘‘



 


یہ کالم انٹر نیٹ سے کاپی کیا گیا ہے


Edited by Young Heart
  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

میری کہانی: ’محبت، میں اور ’ٹھنڈا گوشت

 

 

یہ کہانی انٹرنیٹ سے کاپی کی گئی ہے -- رائٹر نے فرضی نام استعمال کیا ہے - یہ کہانی کچھ دس سال پہلے لکھی گئی تھی

 

بات کہاں سے شروع کروں، سمجھ نہیں آ رہی۔ میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں۔ سڑک پر چلتی ہوئی لڑکیوں کو پیچھے سے اس وقت تک دیکھتا رہتا ہوں جب تک وہ گلی میں مڑ نہ جائیں یا میں کسی سے ٹکرا نہ جاؤں۔ میرا مسئلہ شاید پوری نوجوان نسل کا مسئلہ ہے، یعنی سیکشوئل فرسٹریشن۔

 

میں نے پہلی بار’مشت زنی‘ کلاس ٹو میں یا اس سے بھی پہلے کی ہوگی۔ ختنے کے بعد مجھے بار بار جھنجلاہٹ محسوس ہوتی۔ میں کھجاتا رہتا اور پھر مزا آنے لگتا۔ اس طرح مشت زنی کا یہ سلسہ شروع ہوا اور آج بھی چل رہا ہے۔

میری عمر اس وقت تینتیس سال ہے اور ایک بیٹے کا باپ ہوں۔ میں پروفیشنل گریجویٹ ہوں، قد پانچ فٹ آٹھ انچ ہے، کھیلوں میں شامل رہا ہوں، خوش شکل ہوں اور خوش مزاج تھا۔

کافی ڈراموں اور اشتہاروں میں ہیرو آ چکا ہوں۔ موسیقی، مصوری، ادب، شاعری، خوبصورت چیزیں، خوبصورت چہرے، خوبصورت آوازیں میری کمزوری ہیں۔

اور لڑکی۔۔۔؟ جی بالکل۔ خوبصورت لڑکی میری بہت بڑی کمزوری ہے۔
شادی سے پہلے میری دو تین لڑکیوں سے ہیلو ہائے رہی۔ خط و کتابت بھی رہی مگر صرف ہیلو ہائے تک یا کبھی کوئی تحفے وغیرہ تک۔ میں شروع سے ہی حلال اور حرام کے چکر میں پِستا رہا ہوں۔ زناء کرنا، شراب پینا، یہ سب کچھ میرے لئے ناقابلِ معافی گناہ ہیں۔

بچپن سے میرا تعلق ایک لڑکی سے تھا۔ جب ہم دونوں کو پتہ بھی نہیں تھا کہ ہم سب گھر والوں سے چھپ کر، دوپہر کو، رات کو یا کھیل کے دوران، کیا کیا کرتے رہتے ہیں۔ بس اتنا پتہ تھا کہ یہ سب کچھ بہت مزے کا ہوتا ہے اور اگر گھر والوں کو اس بات کو پتہ چل گیا تو بہت مار پڑے گی۔ کالج لائف تک میرا اس لڑکی سے بہت تعلق رہا۔

 

شادی کے بارے میں میرا ایمان ہے کہ رشتے آسمانوں پہ بنتے ہیں، میں نے بھی قسمت آزمانے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔شادی سے پہلے کسی لڑکی سے جنسی تعلق اس لئے نہیں قائم کیا تھا کہ ایک تو زناء کرنا گناہ ہے اور یہ کہ میں ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا جو بالکل پاک دامن ہو۔ جس کے لئے اخلاقاً یہ شرط تھی کہ میں بھی پاک دامن رہوں۔ پہلی لڑکی سے بھی میں ایک فاصلے سے ملتا تھا تا کہ وہ کنواری رہے۔

میری بیوی ایک ایم ایس سی پاس لڑکی ہے جو بنیادی طور پر ایک گاؤں کے پڑھے لکھے خاندان کی بیٹی ہے۔ اس کے بھائیوں سے میری دوستی تھی۔ خاتون بھی اچھی، خوش شکل، امور خانہ داری سے واقف اور سنجیدہ طبیعت کی مالک ہیں۔ اس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو گھرہستن لڑکی میں ہونی چاہئیں۔ لیکن ایک پوائنٹ پر آکر زندگی کا سارا مزہ ختم ہو جاتا ہے۔

شادی سے پہلے شاید ہم دونوں میں مشکل سے تین چار باتیں ہوئی ہوں گی اور جب بھی میں نے اسے کال کی وہ بس ہاں ہوں میں بات کرتی۔ مجھے اچھا لگتا کہ بالکل مشرقی لڑکی ہے، شرم حجاب وغیرہ وغیرہ۔

ہماری شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔ شادی کے چار پانچ دن ایسے ہی گزر گئے۔ یاروں دوستوں نے بھی جینا حرام کیا ہوا تھا۔ کیا کیا ہوا بتاؤ؟ بلی ماری کہ نہیں؟ اور اس طرح کی بہت سی بکواس۔ میں یہ سب کچھ ہنسی مذاق میں اڑاتا رہا۔ جتنے دن میں اپنے والدین کے گھر میں رہا ہم دونوں کے درمیان کچھ نہیں ہوا۔ میں جب بھی اس کے قریب جانے کی کوشش کرتا وہ مجھے روک دیتی۔ میں کافی کنفیوژ بھی رہا کہ آخر معاملہ کیا ہے؟ شاید مخصوص ایام ہوں گے جو لڑکیوں کا جسمانی مسئلہ ہے۔

 

پھر مجھے یہ بھی لگا کہ شاید وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے اور مجھے وہ ابھی تک قبول نہیں کر پا رہی۔ میں نے ایک بار اس سے پوچھا تو وہ بہت روئی اور ناراض رہی کہ میں نے ایسا سوچا بھی کیوں؟ میں اس سے بہت شرمندہ بھی ہوا اور اندر ہی اندر خوش بھی کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ بات آئی گئی ہو گئی۔

ان دنوں محرم شروع ہو چکا تھا اور چوں کہ وہ شیعہ گٌھرانے سے تعلق رکھتی ہے تو میں سمجھا کہ وہ احترام میں سیکس سے دور رہ رہی ہے۔ محرم کے دوران ہی میں اسے چھوڑ کر کراچی آگیا تا کہ گھر کو ٹھیک ٹھا ک کر کے اسے لے آؤں۔ گھر کو رنگ وغیرہ کروایا، فرنیچر کارپٹ غرض کے جو کچھ میں کر سکتا تھا سب کیا اور اسے کراچی بلا لیا۔ جس رات وہ گھر آئی میں نے بیڈ روم کو پھولوں سے سجایا ہوا تھا۔ اسے یہ سب کچھ بہت اچھا لگا اور میں بہت خوش تھا کہ آج سے ہماری ازدواجی زندگی شروع ہوچکی ہے۔

رات کو کھانا وغیرہ کھا کر میں اس کے قریب گیا تو وہ بہت تھکی ہوئی تھی۔ میں اسے پیار کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر وہ خاموش پڑی رہتی اور پھر سمٹنے لگتی۔ ہاتھ لگانے پر جھٹک دیتی، اسے گدگدی ہونے لگتی۔

اب میں باقاعدہ پریشان ہونے لگا۔ دو چار دن اور اسی طرح گزر گئے۔ میرا یہ عالم تھا کہ گھر میں دم گھٹنے لگتا، رات ہوتی اور میری وحشت بڑھنے لگتی اور ساری ساری رات اسی طرح گزر جاتی کہ میں اس کے پاس جاتا اور وہ مجھ سے دور بھاگتی رہتی۔

’ہم ہیں مشتاق اوروہ بیزار، یا الٰہی یہ ماجرہ کیا ہے‘ بلکہ یہ ماجرہ کیوں ہے؟ کیوں ہے؟ کیووووووووووووووں ہے؟ والی بات تھی۔

قصہ مختصر ایک دن میں نے اسے بٹھا کر باقاعدہ پوچھا کہ تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ وہ بولی کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ تمھارے ساتھ ہے۔ تم پتہ نہیں کیا کیا حرکتیں کرتے رہے ہو، مجھے یہ سب کچھ عجیب لگتا ہے۔ میں اور سٹپٹا گیا کہ یہ کیا کہہ رہی ہے۔ خیر میں نے اس سے بہت آرام سے پوچھا کہ شوہر کے اور بھی حقوق ہوتے ہیں اور سیکس بھی ہر مرد اور عورت کی بنیادی جبلت میں آتا ہے۔ ہماری اولاد کیسے ہوگی؟

 

میں حیران پریشان رہ گیا جب اس نے مجھے قسم کھا کر بتایا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ شادی سے پہلے اس کی بڑی بہنوں نے ، کزنز نے اور سرپرستوں نے اسے کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔ کیا واقعی وہ اتنی بےخبر ہے؟ وہ بھی آج کل کے دور میں ۔ یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ہوئی لڑکی جو ٹی وی بھی دیکھتی ہے اور جو بہت ساری بھانجوں اور بھتیجوں کی خالہ اور پھپھو بھی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

حیرت اور غصہ دونوں میرے دائیں اور بائیں کاندھے پر کھڑے ناچ رہے تھے۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ اپنی کسی شادی شدہ دوست سے ملے، اس کو ساری بات بتائے اور اس سے پوچھے کہ کیا کیا ہوتا ہے۔ دوسرے دن وہ اپنی ایک قریبی شادی شدہ دوست سے ملی اور اسے سب کچھ بتایا۔ اس نے پہلے تو سن کر خوب ڈانٹا کہ تم اب تک گھاس چنتی رہی ہو؟ شکر کرو کہ ان تین ماہ میں اس نے تمہیں گھر نہیں بھجوا دیا یا تمھارے گھر تک بات نہیں پہنچی۔ تمھارا شوہر واقعی صبر کر رہا ہے۔ یہ کام تو تمھیں پہلے تین دن میں کر لینا چاہیے تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی غلط قدم اٹھائے تم فوراً اس سے جا کر معافی مانگو اور جو کچھ وہ کہتا ہے ویسا کرو۔

رات کو وہ مجھ سے پوری گائناکالوجی اور فزیالوجی پوچھتی رہی۔ تھیوری سمجھ لینے کے بعد پریکٹیکل کے وقت پھر وہی بھاگنا، سمٹنا، گدگدی۔ ہزار کوششیں کر لینے کے بعد ہوتا یہ کہ میں اس دوران فارغ ہو جاتا اور چپ کر کے سو جاتا۔

آپ میری حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

 

سیکس بری طرح مجھ پر سوار رہنے لگا۔ مزاج میں اتنا چڑچڑا پن، برداشت بالکل ختم ہونے لگی اور میں اپنے کام میں بھی ڈسٹرب ہوتا رہا، گھر میں بھی اور دوستوں کے درمیان بھی۔

میری بیوی میرا بہت خیال رکھنے لگی۔ کھانا گرم گرم، کپڑے دھلے ہوئے استری شدہ اور کم پیسوں میں بھی بہت اچھی طرح گھر چلانا۔ مگر یہ سب کچھ تو شادی سے پہلے میرا ملازم بھی کر دیا کرتا تھا۔ جس خانے کو بھرنے کے لیے شادی کی تھی وہ خالی تھا۔ ایک بار میں نے ایک ڈاکٹر سے پوچھ کر اسے ’ریلیکسنگ ٹیبلٹ‘ دی تاکہ وہ تھوڑی سے ڈراؤزی اور ریلیکس رہے۔ مگر وہ بالکل ہی سونے لگی۔

زور زبردستی کسی نہ کسی طرح میں ایک بچے کا باپ بھی بن گیا جو بالکل ان پلینڈ تھا۔ بچہ آنے کے دوران بھی میں اس سے دور رہا۔ پھر بیچ میں محرم کے دن بھی۔ میرا مسئلہ بڑھتا جا رہا تھا۔

یہ نہیں کہ وہ مجھے بالکل انکار کر دیتی۔ مسئلہ تھا کہ وہ ترس کھا کر اپنے آپ کو میرے حوالے کر دیتی، مجھے یوں لگتا کہ جیسے سیکس بھیک میں مل رہا ہو۔ جو آمادگی، جو شرکت اور جو مستی ہونی چاہیے (جو مجھے اس پہلی والی لڑکی سے ملتی تھی) وہ کہیں بھی نظر نہیں آتی تھی۔ بس ایک خاموش جسم کے ساتھ آپ کشتی لڑتے رہیں اور جب تھک جائیں تو اٹھ جائیں۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ میں نے اسے کچھ بتایا نہ ہو۔ جتنا علم مجھے کاماسوترہ کی کتابوں اور اسی طرح کی فلمیں دیکھنے سے ملا تھا وہ سب میں اسے بتا چکا تھا۔ بلکہ ایک بار تو اسے فلم بھی دکھائی مگر اس کے نزدیک یہ سب بے حیائی کے کام ہیں۔

اس کو اچھی شاعری پسند ہے، تصوف پر یقین رکھتی ہے مگر سیکس سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

 

آپ کو شاید یہ لگ رہا ہو کہ میں اپنی بیوی کی برائیاں کر رہا ہوں تو میں معذرت چاہوں گا آپ سب سے بھی اور اپنی بیوی سے بھی جس سے میں اتنی محبت کرتا ہوں کہ کبھی کسی طوائف کے پاس بھی نہیں گیا۔ ایک دو بار موقع بھی ملا مگر ہمت نہیں ہوئی۔ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ حلال اور حرام والا معاملہ اور پھر بیوی سے بےوفائی کا تصور اور سب سے بڑی بات یہ کہ اگر وہ کسی اور آدمی کے پاس جائے تو کیا میں برداشت کر سکوں گا؟

کہتے ہیں کہ نیند کی حالت میں آپ کا لاشعور کام کرتا ہے ۔ میں نے بڑا محسوس کیا کہ جب بھی نیند میں میں نے اس کے جسم پر ہاتھ رکھا اس نے بری طرح میرا ہاتھ جھٹک دیا۔ یہ تذلیل نہیں تو اور کیا ہے۔ حالانکہ وہ جان بوجھ کر یہ سب نہیں کرتی مگر جو چیز لاشعوری طور پر ہو رہی ہو اس کا آپ کیا کر سکتے ہیں۔

میری ذہنی حالت کچھ ٹھیک نہیں رہتی۔ میں دوا کا استعمال کم کرتا ہوں مگر سوچ رہا ہوں کہ کسی سائکائٹرسٹ سے ملوں اور کوئی اینٹی ڈپریشن کھانا شروع کروں۔ مگر کوئی ایسی ترغیب نہیں مل رہی جس سے میں اپنی بیوں کے اندر کوئی تبدیلی لاسکوں یا پھر اپنے اوپر کنٹرول پا سکوں۔ وہ بیچاری جب میرا خراب موڈ دیکھتی ہے تو خود بھی بہت پریشان ہو جاتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ اپنے آپ کو میرے آگے پیش کرے۔ مگر وہی ٹھنڈا گوشت، مجھے لگتا ہے کہ میں بھی منٹو کی کہانی ’ٹھنڈا گوشت‘ والا سردار جی بن جاؤں گا۔

شادی کو ڈھائی سال ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں کوئی رات ایسے نہیں ہوگی کہ میری بیوں نے مجھے خود سے چوما ہو یا مجھے سیکس کی دعوت دی ہو۔ اگر مجھے اس کے بھرپور سیکس کا ایک لمحہ بھی مل جاتا تو شاید میں یہ سب کچھ نہ لکھتا۔

 

ساری دنیا ہمیں بہت خوش و خرم جوڑا سمجھتی ہے۔ آج تک ہم دونوں کے گھر والوں کو ذرا سا بھی احساس نہیں ہوا کہ ہمارے درمیان کوئی مسئلہ ہے۔ لیکن خود میرے لئے گناہ اور ثواب، حلال اور حرام، وفا اور بےوفائی جیسے الفاظ کے معنی اب بدلتے نظر آتے ہیں۔

Edited by Young Heart
  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

 یہ آرٹیکل سو فیصد ایک ایسی لڑکی کی عکاسی کرتا ہے جس کے پاس جنسی معلومات کی کمی ہو۔


یہ بعض کیسز میں اس قدر خطرناک ہو جاتا ہے کہ لڑکی مہینوں بلکہ سالوں تک شوہر کو تعلقات کی اجازت نہیں دیتی۔


اگر کبھی سیکس کرنا پڑ جائے تو اسے لگتا ہے کہ شوہر اس کے ساتھ ریپ کر رہا ہے۔


اس لیے مناسب جنسی معلومات ہونا ازحد ضروری ہے۔


  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

برسوں پہلے ایک دوست نے اس سے ملتا جلتا واقعہ سنایا کہ انھوں نے شادی کے بعد بیوی سے کرنا چاہا تو اس سے باقاعدہ اپنا بچاؤ کیا۔


پہلی ہی رات میاں بیوی ہی ہلکی سی دھینگا مشتی ہو گئی۔


انھوں نے ولیمے کے بعد دوبارہ کوشش کی تو اس حد تک کامیاب ہو گئے کہ بیوی کو نیم برہنہ کر دیا۔ بیوی نے شور مچانا شروع کیا تو وہ پسپائی اختیار کر گئے۔


شام کو بیوی کے میکے مدعو تھے اور اس نے ان کے ساتھ واپس جانے سے سرے سے انکار کر دیا اور گھر والوں سے کہہ دیا کہ وہ ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔


شادی کے ایک دن بعد ہی جب ایسے حالات ہوں تو سب کا پریشان ہونا بنتا ہے۔


لڑکی سے پوچھیں تو وہ جواب نہ دے اور لڑکے کو معلوم ہی نہ ہو کہ مسلئہ کیا ہے؟


خیر،لڑکی کی بھابھی نے کرید کر پوچھا تو اس نے بتا دیا کہ اس نے میرے ساتھ بدتمیزی کی اور مجھ سے بدفعلی کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ میری قمیض تک اتار دی اور یہاں وہاں منہ لگایا۔


لڑکی کی بھابھی نے اپنی ساس کو بتایا جس نے سمدھن کو بھی وہیں بلا لیا۔ تینوں خواتین نے اسے سمجھایا کہ وہ شوہر ہے اور ایسا کرنا عین فطری ہے۔


خیر، بڑی مشکلوں سے اسے راضی کیا اور اس کی بھابھی نے اس کے شوہر کو بھی بلا کر ساری صورتحال سمجھائی کہ بھائی مرحلہ وار ٓآگے بڑھو۔


وہ صاحب شریف انسان تھے مان گئے اور بوس وکنار سے شروع کیا اور کہیں پندرہ بیس دن بعد دخول تک پہنچے۔

  • Like 5

Share this post


Link to post
Share on other sites

آپ کی ایک کہانی بھی اسی موضوع سے ملتی جلتی تھی


حق زوجیت


 ایک عمدہ کہانی تھی


 


ہم جس خول میں رہتے ہیں اس سے باہر کی دنیا اور رویوں کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں


لڑکی کس مزاج کی ہے اس بات کا انحصار لڑکی کی جبلت کے ساتھ ساتھ اس  ماحول پر بھی ہوتا ہے جس میں وہ پروان چڑھی ہو


 


ہمارے جاننے والوں میں بھی ایک لڑکی تھی، ماڈرن فیملی، خوشحال اور خاندانی رکھ رکھاؤ والے، لڑکیوں کو کسی حد تک آزادی بھی حاصل تھی


لڑکی کی شادی ہوئی تو اسے اس تصور سے ہی گھن محسوس ہوتی تھی کہ لڑکا اسے برہنہ کر ے گا - اس کے پوشیدہ اعضاء نہ صرف دیکھے گا بلکہ اپنا عضو ڈالنے  جیسا غلیظ اور گندا کام اس کے ساتھ کرے  گا - اگر جذبات کا انداز ایسا ہو تو کونسا شہوانی جذبہ


 


دو ہفتوں تک اس نے لڑکے کو قریب پھٹکنے نہیں دیا - لڑکا بھی اس کا کزن تھا


جس نے لڑکی کو سمجھا صبر کیا، پھر لڑکی کی ماں سے بات کی


 


لیکن لڑکی کی ماں کی ہمت نہ ہوئی بیٹی سے اس موضوع پر بات کرنے کی - اس نے لڑکی کی سہیلی کی خدمات لیں اور لڑکی کو سمجھایا گیا


 


اب اس لڑکی کے تین بچے ہیں - خوش و خرم اور مثالی فیملی ہے


تو ایسی سیچویشن میں جلد بازی بھی نقصان کا باعث ہوتی ہے


 


کچھ لڑکیاں اس احساس سے جینا چاہتی ہیں کہ ان کے شوہر کے نزدیک اہمیت صرف ان کی جسم کی نہیں بلکہ ان کی ذات کی ہے


اور ازدواجی رشتہ صرف شہوت کا نہیں روح کا ہے


  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

سیکس ایجوکیشن

(یہ کالم انٹرنیٹ سے کاپی کیا گیا ہے)

ہمارے ہاں زیادہ تر جنسی مسائل جنسی تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہی ہیں- بعض اوقات تو یہاں تک دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی کو کوئی جنسی مسلہ ہوتا بھی نہیں ہے بس جنسی تعلیم کی کمی کی وجہ سے خود کو جنسی طور سے بیمار سمجھا جا رہا ہوتا ہے-
میں نے کچھ ےسے لوگوں کے بارے میں بھی سنا ہے جو جنسی لحاظ سے مکمّل فٹ ہوتے ہیں لیکن خود کو بیمار سمجھتے ہیں- اور اس کی وجہ سے شادی تک نہیں کرتے- اور اگر کر بھی لیتے ہیں تو ازدواجی تعلقات قائم نہیں کر پتے- اس کے نتیجہ میں ایک تو بیچاری لڑکی کی زندگی برباد ہوتی ہے اور دوسرا ایسے لوگ خود اپنی زندگی بھی اجیرن بنا لیتے ہیں-
کچھ عرصۂ قبل میں نے ایک ا یسے نوجوان کے بارے میں سنا جو خود کو ذہنی طور پر جنسی لحاظ سے بیمار سمجھتا تھا- جس کا کہنا یہ تھا کہ وہ اپنی بیوی کو جنسی اعتبار سے satisfy نہیں کر سکتا- لیکن جب اس کے ٹیسٹ کیے گئے تو وہ بلکل نارمل تھا- لیکن اس کا ذہن یہ قبل نہیں کر پا رہا تھا-
اس لیے اس نے شادی کے چند دن بعد ہی اپنی بیوی سمیت خود کشی کر لی-
اور میں آپ کو ایک اور بات بتاتا چلوں کے آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ مسلمان ہیں ہمارا مذہب ایک مکمّل ضابطہ حیات ہے-
اسلام حق بات کہنے سے نہیں روکتا- الله نے جب آدم کو پیدا کیا تو ان کے ساتھ امّا ں حوا کو بھی پیدا کیا کیونکہ جنسی پہلو انسانی زندگی کی ایک اھم حقیقت ہے -
الله تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ ( میں نے تمہاری جنس میں سے تمہارے لیے بیویاں بنائیں تا کہ تم ان کے پاس آرام حاصل کرو )
قرآن پاک حق بات کہنے سے نہیں شرماتا - اسی لیے قرآن میں مباشرت، زنا ، مباشرت کے طریقے ، رحم ، منی وغیرہ کا ذکر ہے- اسلام نے بری وضاحت سے انسانی زندگی کے جنسی پہلووں پر روشنی ڈالی ہے- لیکن بدقسمتی سے لوگ اس سے اگاہ نہیں ہیں- اور جو جنسی تعلیم کی بات کرتا ہے اس پر فتوے دیے جاتے ہیں- خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے تعلیم نہایت ضروری ہے اور میرے خیال میں پاکستان میں سب کو جنسی تعلیم حاصل کرنی چاہیے-
مردوں عورتوں بچیوں حتیٰ کہ بوڑھوں کو بھی جنسی تعلیم حاصل کرنی چاہیے-
خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے جنسی تعلیم نہایت ضروری ہے- چاہیے تو یہ تھا کے یہ تعلیم ہمیں قرآن و حدیث کی روشنی میں خوبصورت اور بہتر طریقے سے دی جاتی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا- اور ان کی جگہ دیواروں پر لگی اشتہارات ، نیم حکیموں اور عطائ ڈاکٹروں نے لے لی ہے-
اور تو اور جن کتابوں سے جنسی تعلیم حاصل کی جا رہی ہے ان میں بھی خرافات اور تباہ کن مواد کے علاوہ کچھ نہیں ہے- جس سے جنسی مسائل اور جنسی جرائم دونو ہی بڑھ رہے ہیں-
جنسی تعلیم کی کمی کی وجہ سے خاص کر نیے شادی شدہ جوڑوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے- ان مسائل کے سلجھاؤ کی لا علمی کی وجہ سے بہت سی شادیاں تباہ ہو جاتی ہیں اور بہت سے لوگ خود کشی کر لیتے ہیں-
جنسی تعلیم نہ صرف زندگی کو خوش گوار بناتی ہے بلکے اس کی مدد سے جنسی جرائم مثلا زنا بالجبر اور ہم جنس پرستی وغیرہ کو روکا جا سکتا ہے- مغرب میں جنسی تعلیم تعلیمی اداروں میں دی جاتی ہے- لیکن وہاں اس کا اثر الٹا ہوتا ہے- اور وہ زنا کی طرف مایل ہو جاتے ہیں- جنسی تعلیم دینے کے لیے سب سے زیادہ موزوں والدین ہیں نہ کے تعلیمی ادارے - اس لیے اس چیز کی ذمداری والدین پر بنتی ہے- لہذا والدین کو اس معاملے میں زیادہ تعلیم کی ضرورت ہے- تا کے وہ اپنی آنے والی نسل کو بخوبی تعلیم دے سکیں-
ایک اور اہم بات کے یہ تعلیم بچوں کو مرحلہ وار ملنی چاہیے

مثلا چھوٹے لڑکوں کو علم ہو کے رات کو سوتے ہوۓ پیشاب کی جگہ سے کوئی سفید چیز نکل سکتی ہے جو کے فطری بات ہے نہ کے کوئی بیماری ہے- اسی طرح لڑکیوں کو بھی پتا ہونا چاہیے کے ان کی شرم گاہ سے خون آ سکتا ہے جو کے فطری بات ہے نہ کہ کوئی بیماری ہے-
ہم لوگ اپنے بچوں کو جنسی تعلیم دینا برا سمجھتے ہیں لیکن ایسی باتیں انہیں خود دوسرے طریقوں سے مل جاتی ہیں- مثلا سکول کالج یونیورسٹی وغیرہ یا دوستوں سے جن سے کہ ظاہر سی بات ہے سہی معلومات تو بہت کم ملے گی لیکن بچہ بہک ضرور سکتا ہے-
جی ہاں یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ اگر بچے کو صحیح طریقے سے جنسی تعلیم نہ دی جائے تو پھر وہ غلط اور تباہ کن طریقوں سے جنسی معلومات حاصل کرتا ہے- اور ہماری آج کی نوجوان نسل اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے- بچوں کو مرحلہ وار جنسی تعلیم دینی چاہیے اور شادی سے پہلے پہلے اس کی جنسی تعلیم مکمل کر لینی چاہیے-
اس کے جسم کے جنسی حصّوں کا کیا کیا کام ہے اور حمل مباشرت حلال و حرام اور پیدایش وغیرہ کی مکمل تعلیم دی دینی چاہیے تا کہ وہ اپنی اگلی نسل کو با آسانی یہ تعلیم منتقل کر سکے

Edited by Young Heart
  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

1 incident main bataon?

 

1larki ki shadi howi tu husband ne jab kiss Kia tu wo sahi rahi but jab breasts touch kiye tu wo ronay lag gai.

Husband bohat insensitive tha uss ne ulta forcefully nude kar diya.

Phir with rope tie up kar k kiya tu wo behosh ho gai.

Next day wo hosh mein na aai. Then they took her to hospital tu dr ne kaha k rape howa hai. Police Ko bula liya.Larki ne bhi kaha k mujhe band k kiya hai tu case ban gaya.

Even larki ki family bhi boli rape howa hai.

Tu phir Larki Ko 2 month psychiatrist k pass le jaya gaya taka wo normal ho sakay.Wo normal ho ggai but divorce li and never married again.

L

  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

لو یہ کونسی انوکھی بات ہے۔ یہ تو بہت سی لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

کچھ دن پہلے ایک لڑکی کی شادی ہوئی تو وہ بہت ڈری کہ وہ ننگا کیوں کر رہا ہے مجھے۔

جب اندر گیا تو رونے لگ اگلے دن امی کو بولا مجھے لے جاؤ یہ بہت غلط آدمی ہی۔ اگر ابو کو پتا چلا تو وہ مجھے اور اس کو جان سے مار دیں گے۔

امی نے بولا خیر ہے یہ سب ہوتا ہے۔ وہ پھر بھی نہ مانی تو ماں ساتھ لے گئی اور سب بتایا کہ یہ کرنا ہوتا ہے تو اور رونے لگ گئی کہ امی آپ کو میں اتنا اچھا سمجھتی تھی آپ بھی یہ گندا کام کرتی ہے۔ 

بڑی مشکل سے وہ مانی شوہر کو سب نے بولا اب تم مت کرنا۔

کچھ دنوں کے بعد خود ہی بولی کہ کر لو مگر مجھے فل ننگا مت کرنا اور درد مت دینا۔

  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

 یہ سب تو جناب ٹھیک ہے کہ لڑکیوں جنسی تعلیم ہونی چاہیے۔ ایک سوال میرے ذہن میں آیا ہے کہ آپ دونوں خواتین  سے پوچھوں کہ آپ دونوں کو جنسی معلومات کہاں سے ملیں اور کیا کیا ملیں ۔

اس کے علاوہ سیکس کی  آگاہی کیسے ہوئی؟

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Yeh tu bohat he personal ho gaya g.

Main jab class 5 mein thi tu 1 girl ne hum 4-5 friends ko apni aunty ka bataya k unka baby howa hai or wo baby se pehle pregnant thi. Sath he bataya k jab larki ko blood aata hai tu phir wo baby peda kar sakti hai, us ki chest se milk ane lagta hai, iss liya wo bigger in szie ho jate hain.

Baby k larki ko boy k neeche shalwar hata kar laitna hota hai, boy larki k ander apna MADA enter karta jo ander ja kar baby ban jata hai.

yeh information was my 1st on sex.

then after knowing that main ne movies dekhi tu mujhe sub mein se aisi baatain samaj aane lagi.

main ne kuch stories bhi read ki Imran seies mein bhi 1 larki thi jis ko 1 aadmi bister mein anay ko bolta hai.

iss type ki bohat sari baatain thi, phir jab mujhe bhi periods start howe tu confirm ho gaya k sub sach hai.

jab 9-10 nein aai tab tak full info thi k kese hota hai, is ko sex kehte hain yeh sub log karte hain, iss se maza aata hai, full kapray utar k hota hai.

girl to girl boy to boy rape prostitution waghera sub ka tab friends se baatin kar k pata chala tha.

complete sex ka mujhe after engagment pata chala jab meri cousin ne mujhe kaha k kuch pochna hai tu poch lo.

i asked every thing and then when came intenet on cell fone tu my husband sent me videos and clips.

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں نے ایک انگلش مووی دیکھی تھی بروس لی والی۔ جس میں ایک لڑکی بروس لی سے ملنے آتی ہے تو اسے گلے لگا کر اس کی نیکر اتار لگتا ہے۔ مجھے بہت عجیب فیل ہوا کہ وہ نیکر کیوں اتارتا ہے۔ اسی فلم میں بروس لی ایک لڑکی کے ساتھ سیکس کرتا ہے۔ وہ پہلا سیکس سین تھا جس میں مجھے پتا چلا کہ لڑکی لڑکا ننگے ہو کر بھی کسنگ کرتے ہیں۔

پھر موویز میں ریپ سین دیکھے تو سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہوا ہے۔

آغاز مووی میں سنیل سیٹھی کی بہن کا روڈ پر ریپ دیکھ کر سمجھ آنے لگا کہ اگر مرضی سے ننگے ہو کر کرو تو کوئی بات نہیں اگر کوئی گندا بندہ زبردستی سب کے سامنے یا مار پیٹ کر کرے تو بہت غلط ہے۔ 

مجھے لگتا تھا کہ لڑکی کو فل ننگا کر کے لڑکا اس کے اوپر چڑھ کر اس کا جگہ جگہ کاٹتا ہے یا نوچتا ہے۔

پھر ایک کزن نے فل بتایا کہ اس کو سیکس کہتے ہیں اور لڑکی کو نوچتا نہیں ہے بلکہ اپنا وہ اس کے اندر ڈال کر مسلتے ہیں جس سے لڑکے کا سارا پانی لڑکی باڈی کے اندر ریلیز ہو جاتا ہے اور لڑکی اس کے بعد ناپاک ہو جاتی ہے اور اس کو ہی عزت لوٹنا کہتے ہیں۔

بعد میں کلاس سیون تک سب پتا چل گیا کہ یہ تو نارمل ہے اور ایک دو ایسی گرلز بھی مل گئیں جنہوں نے اصل میں کیا ہوا بھی تھا۔ انھوں نے سب سمجھایا کہ کیسے کس ہوتی ہے کیسے لڑکی نیچے لیٹتی ہے کتنا بڑا ہوتا ہے اور کیسے موو کرتے ہیں۔

ایف ایس سی کے بعد تو کئی لڑکیاں مل گئی جن کے پاس فل سیکس کلپس تھے۔

  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×