Jump to content
URDU FUN CLUB
Young Heart

ذکر اُس پری وش کا

Recommended Posts

(تحریر یوسف ثانی)​
اللہ کی ایک مشہور اور اشرف مخلوق کی دو اقسام ہیں۔ ایک کو انسان کہتے یں اور دوسری کو عورت۔ عورتیں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک وہ جن پر شاعر حضرات غزل کہتے ہیں اور جن کے وجود سے تصویر کائنات میں رنگ بھرا جاتا ہے۔ دوسری قسم بیوی کہلاتی ہے۔ جس طرح کسی بچے کی معصومیت اُس وقت ختم ہو جاتی ہے جب وہ بڑا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عورت کی ساری خوبیاں اُس وقت ہوا ہو جاتی ہیں جب وہ زَن سے رَن، میرا مطلب ہے بیوی بن جاتی ہے۔ بیوی کو بیگم بھی کہتے ہیں۔ شنید ہے کہ سنہرے دور میں یہ بے غم کہلاتی تھی کیونکہ ان کا کام شوہروں کو ہر غم سے بے غم کرنا ہوتا تھا۔ دور اور کام تبدیل ہوتے ہی نام بھی تبدیل ہو کر بیگم رہ گیا۔
 
اعلٰی ثانوی جماعت کے ایک استاد نے طلباء سے پوچھا کہ بیویاں زیادہ تر کس کے کام آتی ہیں؟ ایک شریر طالبعلم نے فوراً جواب دیا "سر لطیفوں کے۔" جی ہاں بیویاں زیادہ تر لطیفوں ہی کے کام آتی ہیں۔ دُنیا میں اب تک جتنے بھی لطیفے تخلیق کئے گئے ہیں، اُن میں سے بھاری اکثریت کا تعلق بیویوں ہی سے ہے۔ بیوی کو ہندی زبان میں استری بھی کہتے ہیں۔ ایک صاحب کی کپڑے پریس کرنے والی استری خراب ہو گئی تو وہ اپنے پڑوسی سکھ سے استری ادھار مانگنے پہنچ گیا جو مزاج کے ذرا تیز تھے۔ سردار جی جب دروازے پر آئے تو وہ ہچکچاتے ہوئے بولے، "سردار جی وُہ ذرا آپ کی استری ۔۔۔۔ سردار جی نے اُسے گھورتے ہوئے ذرا باآواز بلند کہا، "کیا ہوا میری استری کو؟" سردار جی کی بلند آواز سُن کر اُن کی دھرم پتنی بھی دروازے پر آن کھڑی ہوئی۔ سردار جی غصے سے اپنی بیگم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے، یہ رہی میری استری۔۔۔ پڑوسی نے جلدی سے کہا نہیں سردار جی وُہ کپڑوں والی استری۔۔۔ سردار جی چلائے "تو کیا تمہیں اس کے کپڑے نظر نہیں آ رہے؟" پڑوسی مزید گھبراہٹ میں بولا، سردار جی۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔ وہ وہ والی استری جو کرنٹ مارتی ہے۔ سردار جی ایک زور دار قہقہہ بلند کیا اور بولے، پُتر ذرا ہتھ لا کے تے ویکھ۔
 
تعلیم بالغاں کی ایک کلاس میں ایک استاد نے ایک شادی شدہ شاگرد سے پوچھا، بیوی اور ٹی وی کیا فرق ہے؟​
شاگرد نے جواب دیا، "ہیں تو یہ دونوں بڑے مزے کی چیز لیکن ٹی وی میں ایک اضافی خوبی بھی ہے اور وہ یہ کہ آپ جب چاہیں، اُس کی بولتی (ہوئی آواز) بند بھی کر سکتے ہیں۔"​

دُنیا بھر کے مَردوں (مُردوں نہیں) کی معلومات بیویوں کے بارے میں کم و بیش ایک سی ہوتی ہیں۔ وہ اپنی بیوی کے بارے میں کم سے کم اور دوسروں کی بیویوں کے بارے میں بیش یعنی زیادہ سے زیادہ جانتے ہیں۔ بیویاں غیر شوہروں کو مرغوب اور شوہروں کو غیر مرغوب ہوتی ہیں۔ بیویوں کے بارے میں ایک محقق نے اپنی تحقیق کو شائع کرنے سے انکار کر دیا، وجہ پوچھی تو کہنے لگا، میں اپنی تحقیق اُس وقت شائع کرواؤں گا جب میرا ایک پاؤں قبر میں ہو گا اور کتاب شائع ہوتے ہی میں اپنا دوسرا پاؤں بھی قبر میں ڈال لوں گا۔ بیویوں کے بارے میں زیادہ تر تفصیلات کنواروں نے لکھی ہیں۔ کیونکہ شادی کے بعد وہ بیوی کو پیارے ہو چُکے ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں منہ کھولنے کے قابل نہیں رہتے۔ معروف مزاح نگار ڈاکٹر یونس بٹ نے بیویوں کے بارے میں جتنا کچھ لکھا ہے (اور اس کے علاوہ انھوں نے لکھا ہی کیا ہے) وہ سب کے سب ان کے کنوار پنے (گنوار پنے نہیں) کی تحریریں ہیں۔

 

بیوی کے بغیر زندگی گزارنا مشکل اور بیوی کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل تر ہے۔ بیویاں غریبوں کے لئے باعثِ رحمت اور خوشحال لوگوں کے لئے باعثِ زحمت ہوتی ہیں۔ جب ایک غریب جوان باورچی، دھوبی، چوکیدار، ملازم وغیرہ کی تنخواہوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا تو شادی کر کے ان سب کی جگہ چند ہزار روپے تاحیات تنخواہ پر ایک بیوی کو گھر میں لے آتا ہے۔ اگر کسی شوہر یا بیوی کے جذبات تاحیات تنخواہ کی اصطلاح سے مجروع ہوتے ہیں تو وہ اس کی جگہ حق مہر پڑھ لے۔​

 

اُردو کا ایک محاورہ ہے اُونٹ رے اُونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ گمان غالب ہے کہ اس محاورے کا موجد کنوارہ ہی مرا ہو گا۔ اگر وہ شوہر بن چُکا ہوتا تو وہ اس محاورے کا اَپ ڈیٹ کئے بغیر نہیں مرتا۔ ایسا ہی انگریزی کا ایک مقولہ ہے No Life Without Wife یہاں Without سے پہلے With Or بھی ہونا چاہیے تھا۔ کہتے ہیں کہ بچے ہمیشہ اپنے اور بیوی دوسروں کی اچھی لگتی ہے۔ جس نگاہ کو کوئی عورت اچھی لگ رہی ہوتی ہے، بدقسمتی یا خوش قسمتی سے وہ اُس کی بیوی نہیں ہوتی۔ جبکہ اُسی محفل میں وہ عورت اپنے شوہر کو ذرا بھی اچھی نہیں لگ رہی ہوتی کیونکہ اُس کے شوہر کو دیگر خواتین اچھی لگ رہی ہوتی ہیں۔ بیک وقت اچھی لگنے اور اچھی نہ لگنے کا اعجاز صرف ایک بیوی ہی کو حاصل ہے۔ دُنیا کی کوئی اور ہستی یا تو اچھی ہوتی ہے یا بُری (دونوں ہر گز نہیں) جیسے دُنیا کی سب سے اچھی ہستی ماں ہوتی ہے (بشرطیکہ وہ آپ کی ہو، آپ کے بچوں کی نہیں)۔ آپ کی ماں اگرچہ آپ کے باپ کی بیوی ہی ہوتی ہے لیکن جب تک آپ اپنی ماں کی عظمت کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں وہ بیچاری اُس وقت تک صرف اور صرف ماں بن چُکی ہوتی ہے۔ پھر ماں کی عظمت کی ایک وجہ اُس کی لازوال مامتا بھی ہے۔ بیوی کے پاس لازوال مامتا نہیں ہوتی اور جو کُچھ ہوتا ہے، وہ سب زوال پذیر ہوتا ہے۔​

 

میرا ایک دوست "ج" اپنی اہلیہ کو نااہلیہ کہہ کر پکارتا ہے۔ وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ اہلیہ تو تُم اُس وقت کہلاتیں جب میں کسی بڑے کام کا اہل ہوتا۔ اور اگر میں کسی بڑے کام کا اہل ہوتا تو کم از کم تُم میری اہلیہ نہ ہوتیں۔ ایک دانشور کہتا ہے کہ اگر آپ کے فادر غریب ہیں تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں، یہ سراسر آپ کی قسمت کا قصور ہے لیکن اگر آپ کے فادر ان لاء بھی غریب ہیں تو یہ سراسر آپ کا قصور ہے۔ جس کی سزا آپ کی اہلیہ، میرا مطلب ہے کہ نااہلیہ کو ضرور ملنی چاہیے۔ اگرچہ اُسے ایک سزا پہلے ہی ملی ہوئی ہے لیکن کم از کم آپ اُس سزا کا تصور نہیں کر سکتے۔ بھلا کوئی اپنا تصور خود کیسے کر سکتا ہے؟​

 

دُنیا کا بیشتر مزاحیہ ادب بیوی کے گرد، اور رومانوی ادب غیر بیوی کے گرد گھومتا ہے۔ حتیٰ کہ مزاحیہ شاعری بھی بیوی ہی پر کہی جاتی ہے۔ جبکہ غیر بیوی پر شاعر جو کچھ کہتا ہے، اُسے غزل کہتے ہیں۔​
 
میری بیوی قبر میں لیتی ہے کس ہنگام سے​
میں بھی ہوں آرام سے اور وہ بھی ہے آرام سے​
​​
اپنی زندہ بیوی پر یہ شعر سید ضمیر جعفری مرحوم نے کہا تھا اور وہ بھی اس لئے کہ وہ محض ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک فوجی میجر بھی تھے۔ میں بھی بیویات پر یہ تحریر اُس وقت لکھ رہا ہوں جبکہ میں اپنی ذاتی بیوی سے سینکڑوں میل دُور ہوں۔ اوور دُور دُور تک اُس کے قریب ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ شاید یہ اُس سے دُوری کا فیض ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔ مردم شناس تو سارے ہی ہوتے ہیں، لیکن خانم شناس صرف اور صرف ایک شوہر ہی ہو سکتا ہے۔ علامہ اقبال کا مشہور شعر ۔۔۔۔​
 
ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے​
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
​کی مندرجہ ذیل پیروڈی جہاں تک مُجھے یاد پڑتا ہے، میں نے اُس وقت کی تھی جب میں اپنی بیوی سے ہی نہیں بلکہ اپنے مُلک سے بھی دور تھا۔ اور اس وقت تک نیک بخت کا پاسپورٹ بھی نہیں بنا تھا۔​
 
ایک شوہر جسے تُو گران سمجھتی ہے​
ہزار شوہروں سے دیتا ہے عورت کو نجات​
 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

بہت ہی عمدہ خاکہ کھینچا گیا ہے۔ جو ادیب کے خانم شناس ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×