Jump to content
URDU FUN CLUB
URDU FUN CLUB

نادان چوہا

Recommended Posts

................نادان چوہا ......................

کسی جنگل میں ایک بھیڑیا رہتا تھا- ایک دن وہ بھیڑیا ایک شکاری کے جال میں پھنس گیا- بہت زور لگایا مگر جال سے نکل نہ پایا، بلکہ مذید اُلجھ گیا- اِسی تگ و دو میں جال کی ڈوریاں اُس کے جسم میں گڑ گئیں اور جسم سےخون رسنے لگا- اتنے میں قریب سے ایک چوہے کا گزر ہوا- بھیڑیا اُسے دیکھتے ہی انتہائی لجاجت سےبولا: "بھائی چوہے! میری مدد کرو، میں اس جال میں بری طرح پھنس گیا ہوں، تم مہربانی کرو اور اپنے تیز دانتوں سے اس جال کو کاٹ دو تا کہ میں آزاد ہو جاؤں۔" چوہا بولا: "نہ بابا نہ! اگر میں نے تمہیں آزاد ی دلا دی تو تم سب سے پہلے مجھے ہی ہڑپ کر جاؤ گے۔" بھیڑیا بولا: "تم ٹھیک کہتے ہو ۔ میری فطرت کچھ ایسی ہی ہے، مگر تمہارے اس احسان کے بدلے میں وعدہ کرتا ہوں کہ نہ صرف میں اپنے آپ پر قابو رکھوں بلکہ جب تمہیں کسی اور درندے نے تنگ کیا تو میں تمہاری مدد کروں گا-" قصہ مختصر کافی دیر تک منت سماجت کرنے کے بعد بھیڑیے نے چوہے کو راضی کر ہی لیا اور یوں چوہے نے اس جال کو اپنے تیز دانتوں سے کتر ڈالا۔
بھیڑیے نے آزاد ہوتے ہی چوہے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج سے تم میرے ساتھ رہو گے اور مجال ہے کہ جنگل کا کوئی دوسرا جانور تمھاری طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے- چوہا بہت ہی خوش ہو گیا اور ننھا سا سینہ پھلا کر جنگل میں گھومنے لگا- جب بھی کوئی لگڑبھگا، جنگلی بلی، گیدڑ، لومڑی، وغیرہ اس کی طرف حملہ کرنے کے لیے بڑھتے وہ فوراً بھیڑیے کو بلا لیتا اور بھیڑیا بھی فوراً ہی لبیک کہتا ہوا چوہے کی مدد کو آن پہنچتا اور حملہ آور کو مار بھگاتا- یہ دیکھ کر چوہے کی ہمت اتنی بڑھ گئی کے راہ چلتے ہر چھوٹے بڑے جانور کی بے عزتی کرنے لگا اور یوں جنگل کے تمام جانور چوہے سے نفرت کرنے لگے- ایک دن کچھ شکاری دوبارہ جنگل میں آئے اور انہوں نے بھیڑیے پر گولی چلائی- گولی بھیڑیے کی ٹانگ پر لگی پر جان بچ گئی- لنگڑا بھیڑیا اب شکار کرنے کے قابل نہ رہا- معذوری کی حالت میں بھوک کی شدت بڑھتی گئی مگر کوئی بھی جانور شکار نہ کر سکا- دوسری طرف بھیڑیے کی پشت پناہی کے زعم میں چوہے نے سرے راہ ایک لومڑی کی بے عزتی کر دی- لومڑی غصہ میں آ کر چوہے کو پکڑنے کے لیے لپکی تو چوہا فوراً بھاگ کر بھیڑیے کے پاس آ گیا- لومڑی یہ دیکھ کر دور ہی رُک گئی مگر موٹے تازے چوہے کو دیکھ کربھیڑیے کی نیت میں فتور آ گیا اور بھوک چمک اُٹھی- اُس نے ایک ہی پنجہ مار کر چوہے کو دبوچ لیا ۔ چوہے نے جو بھڑیے کے خطرناک تیور دیکھے تو خوفزدہ ہو کر بولا: "بھائی بھیڑیے یہ کیا کر رہے ہو؟ میرے احسان کا یہ بدلہ دے رہے ہو؟" بھیڑیا بولا: "کمبخت تو نے بھی تو اُس دن کے بعد سے جنگل کے تمام جانوروں کو بے عزت کر کے اپنی اوقات سے زیادہ مزے کیے ہیں اور کسی خوف کے نہ ہونے کے سبب کھا کھا کر خوب موٹا ہو گیا ہے- چل اب میرا خالی شکم سیر کر-" بھیڑیے نے یہ کہا اور ایک ہی بار میں سالم چوہے کو ہڑپ کر گیا-
سبق:
- عادت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے مگر فطرت پر قابو پانا ممکن نہیں- سانپ کو لاکھ دودھ پلاؤ مگر وہ کاٹےگا ضرور!
- بے جوڑ دوستی اکثر اوقات دیرپا نہیں ہوتی اور کبھی نہ کبھی نقصان پہنچاتی ہے-
- کسی پر کیے گئے احسان کی قیمت کبھی نہیں وصول کرنی چاہیے- اس سے نیکی بھی ضائع ہوتی ہے اور انسان کا وقار بھی مٹی میں مل جاتا ہے-
- طاقتور کے مزاج اور وعدے کا کوئی بھروسا نہیں- وہ جب چاہے اسے بدل دیتا ہے-
- انسان کو ہمیشہ اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اور اللہ کے بعد صرف اپنے ہی قوت بازو پر بھروسا کرنا چاہیے-
- زرا سی طاقت ملتے ہی کم ظرف کی طرح بے جا اچھل کود اور اکڑفوں نفرت کو پھیلانے کا سبب بنتی ہے جس سے آخر کارنقصان ہی ہوتا ہے-

  • Like 5

Share this post


Link to post
Share on other sites

بہت ہی زبردست شئرنگ ہے


اور آخر میں جو نتائج نکالے گئے ہیں بہترین ہیں


Edited by Young Heart
  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×