Jump to content
URDU FUN CLUB
(._.)Milestone(._.)

سائبر کرائم بل آخر ہے کس بلا کا نام۔۔۔؟

Recommended Posts

ایسی سرگرمی جس میں کمپیوٹرز یا نیٹ ورکس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کسی کو ہدف یا مجرمانہ سرگرمیاں کی جائیں یا کمپیوٹر کی دنیا سے جڑی ایسی سرگرمیاں جو یا تو غیرقانونی ہوں یا انہیں مخصوص فریقین کی جانب سے خلاف قانون سمجھا جائے اور ان میں عالمی الیکٹرونک نیٹ ورکس کو استعمال کیا جائے انہیں سائبر کرائم سمجھا جاتا ہے۔ عام لحاظ سے بات کی جائے تو مختلف سطحوں پر سائبر کرائمز کے ذریعے لوگوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی، ہیکنگ، سوشل نیٹ ورکس میں استحصال، معلومات انفراسٹرکچر پر سائبر حملے، سائبر دہشتگردی، مجرمانہ رسائی، فحش پیغامات، ای میلز، دھمکی آمیز پیغامات و ای میلز، ڈیٹا تک غیرقانونی رسائی وغیرہ وغیرہ۔

پاکستان میں کافی تنقید، تجاویز اور ترامیم کے بعد بالاآخر قومی اسمبلی نے پاکستان الیکٹرانک کرائمز بل منظور کر لیا ہے۔مجوزہ قانون کی منظوری کس قدر شفاف تھی اور اس میں قانون سازوں کی کتنی دلچسپی تھی، اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ 342 ممبران کے ایوان میں سے صرف 30 ممبران حاضر تھے۔اب جبکہ یہ پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں سے منظور ہو چکا ہے، تب بھی یہ تنازعات سے پاک نہیں ہے۔تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر تجویز کی گئی چند سخت ترین سزاؤں اور شقوں میں ردوبدل کی گئی ہے، مگر اب بھی ایسا بہت کچھ ہے جس کا غلط فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، آزادی اظہار اور اختلافِ رائے کو دبانے، اور آگہی کی کمی کی وجہ سے سرزد ہونے والے اقدامات کو طویل قید اور بھاری جرمانے عائد کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔مختلف مراحل میں اس بل پرجو تنقید سب سے زیادہ ہوئی ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ بل ان افراد نے تحریر کیا ہے، جو کہ ڈیجیٹل دنیا کی اونچ نیچ اور حقائق سے لاعلم ہیں۔ صرف ایک ٹیکسٹ میسج بھیجنے کی سزا 3 ماہ قید تک قرار پا سکتی ہے۔منفی مقاصد کے لیے ویب سائٹ قائم کرنے پر" تین سال قید اور بھاری جرمانہ۔ منفی مقاصد میں کیا کیا چیزیں شامل ہیں؟اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نفرت انگیز تقاریر و بیانات کی اجازت ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔لیکن کوئی بھی شخص جو یہ جانتا ہے کہ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں اختلافِ رائے کا گلا کس طرح گھونٹا گیا تھا، وہ یہ بھی جانتا ہے کہ مذہب یا فرقے کی بنیاد پر تنازعات پیدا کرنے اور نفرت پھیلانے کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ کسی چیز کے نفرت انگیز ہونے یا نہ ہونے کی غلط تشریح بھی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کو سائبر سرگرمیوں کو ضوابط میں لانے کے لیے ایک فریم ورک درکار ہے کیونکہ ہم ایسے ملک میں ہیں جہاں ٹیکنالوجی کا غلط استعمال عسکریت پسندی اور دہشتگردی سے لے کر افراد کی نجی زندگی میں مداخلت، یعنی ذاتی معلومات کی چوری، بلیک میلنگ اور اکاؤنٹ ہیکنگ تک میں کیا جاتا ہے۔یہ قانون ابھی سینیٹ میں جائے گا۔ اس میں موجود مسائل کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمارے پاس اب بھی وقت ہے۔

سوشل میڈیا ایک ہی پلیٹ فارم تھا جہاں اپنی رائے کا اظہار کرسکتے تھے مگر اس پر بھی پابندی لگا کر حکومت نے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ فیس بک اور ٹویٹر ہی ایسا چینل تھا جہاں آپ اپنی مرضی سے کسی پارٹی، گروپ اور نظریے کی حمایت کر سکتے تھے۔ مگر بدقسمتی سے نام انہاد حکمرانوں نے عام لوگوں سے یہ حق چھین لیا ہے۔ عوام کی سوچ، ذہن اور خیالات کے اظہار پر پابندی کی بجائے اس قانون میں مزید ترامیم کرنی چاہئے۔

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ ایک اہم موضوع ہے
 اور اس کے دونوں ہی پہلو ہیں

اس میں کیا شک ہے اکہ اچھا برا استعمال ہر چیز کا ہی ہوتا ہے

یہی حال سوشل میڈیا کا بھی ہے

لیکن جب معاشرہ ہمارے معاشرے کی طرح انحطاط پذیر ہو جاتا ہے تو اس طرح کی چیزوں کا استعمال زیادہ تر منفی ہی ہوتا ہے

اوپر دیا گیا نقطۃ نظر یقینا ایک پہلو کی حد تک ٹھیک ہے

لیکن کیا کیا جائے جہاں سوشل میڈیا کو لوگوں کی پرائیویٹ لائف برباد کرنے، شریف یا سفید پوش گھرانوں کی لڑکیوں کی پرائیویٹ تصویریں، ویڈیوز ان کی مرضی کے بغیر یا بلیک میلنگ کی مقصد کے لیے اپ لوڈ کرنے کے استعمال کیا جائے

جس کے ذریعے کوئی بھی کسی کی بھی عزت اتنی آسانی سے اچھال سکتا ہو اور محفوظ رہ سکتا ہو

کہیں تو کوئی قانون یا چیک ہونا چاہیے

کیا انٹرنیٹ پر موجود ننگی دیسی ویڈیوز اور سیلفیوں کا سارا مواد لڑکیوں اور لڑکیوں کے خاندانوں کی رضامندگی سے اپ لوڈڈ ہے

جو لوگ ایسا مواد اپ لوڈ کرتے ہیں کیسا محسوس کریں گے جب ان کی اپنی خاندان کی لڑکیوں کا مواد کوئی اور اپ لوڈ کرے

باقی سائبر کرائم اس کے علاوہ ہیں

تو میرے خیال میں اس بات یا قانوں کا یک رخا پہلو نہیں ہے - ریاست میں کوئی بھی چیز شتر بے مہار نہیں ہونی چاہیے

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

سائبر کرائم : آپ کو کیا معلوم ہونا چاہئے

جب دنیا کی ممتاز ترین کمپنیوں کے 580 سنیئر ایگزیکٹوز اور سی ای اوز سے ایک سروے میں بین الاقوامی کاروباری سرگرمیوں کو لاحق خطرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب میں سرفہرست تین مسائل کی اس ترتیب میں درجہ بندی کی ، زیادہ ٹیکسز، صارفین کی کمی اور سائبر کرائم۔

جون 2014 میں جارج ٹاﺅن یونیورسٹی کے سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کی سامنے آنے والی ایک تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا تھا کہ سائبر کرائم کے نتیجے میں دنیا کو ہونے والا سالانہ نقصان 375 سے 575 ارب ڈالرز کے درمیان ہے۔

یہ اعدادوشمار انٹرنیٹ پر ہونے والے کاروبار کے پندرہ سے بیس فیصد حصے کے برابر ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ سیکیورٹی فرم میکافی نے بھی جون 2014 میں سالانہ نقصانات کی رپورٹ مرتب کی جس کے مطابق سائبر کرائم کے نتیجے میں عالمی معیشت کو چار سو ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔

سائبر کرائم کی ایک عام تعریف یہ بیان کی جاتی ہے کہ ہر ایسی سرگرمی جس میں کمپیوٹرز یا نیٹ ورکس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کسی کو ہدف یا مجرمانہ سرگرمیاں کی جائیں یا کمپیوٹر کی دنیا سے جڑی ایسی سرگرمیاں جو یا تو غیرقانونی ہو یا انہیں مخصوص فریقین کی جانب سے خلاف قانون سمجھا جائے اور ان میں عالمی الیکٹرونک نیٹ ورکس کو استعمال کیا جائے انہیں سائبر کرائم سمجھا جائے گا۔

عام فہم انداز میں بات کی جائے تو مختلف سطحوں پر سائبر کرائمز کے ذریعے لوگوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی، ہیکنگ، سوشل نیٹ ورکس میں استحصال، معلومات انفراسٹرکچر پر سائبر حملے، سائبر دہشتگردی، مجرمانہ رسائی، فحش پیغامات، ای میلز، دھمکی آمیز پیغامات و ای میلز، ڈیٹا تک غیرقانونی رسائی وغیرہ وغیرہ۔

ہماری قومی قانونی ڈھانچے میں سائبر کرائمز کی روک تھام کے حوالے سے الیکٹرونک ٹرانزیکشن آرڈنینس 2002 اور پاکستانی ٹیلی کمیونیکشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 جیسے قوانین نافذ ہیں، جبکہ 2009 میں پریوینٹیشن آف الیکٹرونک کرائمز آرڈنینس بھی سامنا آیا مگر وہ نافذ نہیں کیونکہ وہ تاحال فعال نہیں ہوسکا ہے۔

ان قوانین کے تحت ہیکنگ، غیر قانونی رسائی (کسی ای میل اکاﺅنٹ کی ہیکنگ)، مداخلت، پرائیویسی کی خلاف ورزی، الیکٹرونک و ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچان اور گرے ٹریفک سمیت دیگر کو اہم جرائم قرار دیا گیا ہے، تاہم ان میں کئی اہم سائبر کرائمز کو شامل تو نہیں کیا جنھیں 2009 کے قانون کا حصہ بنایا گیا جیسے فحش پیغامات و ای میلز، دھمکی آمیز پیغامات و ای میلز، سائبر اسٹاکنگ، اسپامنگ، الیکٹرونک فراڈ، سائبر دہشت گردی اور اینکرپشن کا غلط استعمال وغیرہ۔

تو اگر آپ سائبر کرائم کا ہدف بن جانے کی صورت میں کیا کریں گے؟ سائبر کرائمز کی شکایت نیشنل ریسپانس سینٹر فار سائبرکرائمز (این آر تھری سی) کے پاس اس ای میل ایڈریس

helpdesk@nr3c.gov.pk

پر تمام دستاویزات کے ساتھ درج کرائی جاسکتی ہے۔

شکایت درج کرانے کے طریقہ کار کے حوالے سے سوالات کے لیے

Please login or register to see this link.

سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

یہ ادارہ 2007 میں اپنے قیام کے بعد سے سائبر کرائمز کے تمام درجوں کی شکایات کو موصول کررہا ہے۔

اب تک این آر تھری سی کو جو تین سب سے بڑی شکایات موصول ہوئی وہ اس ترتیب سے ہیں، ڈیٹا تک مجرمانہ رسائی، دھمکی آمیز کالز اور الیکٹرونک فراڈ۔ اس ادارے میں ایک شکایت کو درج کرانے کا عمل ایک شکایت جمع کرانے سے شروع ہوتا ہے چاہے تحریری ہو یا آن لائن شکل میں۔ نامکمل اور نامعلوم افراد کی شاکایت کو یہ ادارہ زیرغور نہیں لاتا اور یہ ضروری ہے کہ اپنا کیس درج کراتے وقت مدعی تمام پہلوﺅں کو مکمل کرے تاکہ اسے ابتدائی سطح پر مسترد نہ کیا جاسکے۔

اگلے مرحلے میں این آر تھری سی کی جانب سے قانونی جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ جانا جاسکے جمع کرائی گئی درخواست اس حوالے سے نافذ قوانین کی کسی شق پر پورا ترتی ہے یا نہیں اور ایسا ہونے کی صورت میں فیلڈ آفس کی جانب سے شکایت کی تصدیق کاعمل شروع کیا جاتا ہے۔

اگر کوئی شکایت نافذ قوانین کی شقوں سے میل نہ کھاتی ہو اس کو مسترد کرنے کے احکامات جاری ہوجاتے ہیں جبکہ تصدیق عمرحلے کے دوران شکایت کنندہ سے مختلف ذرائع کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے جیسے تحریری سمن، ای میل یا ٹیلیفون وغیرہ۔

اس مرحلے میں شکایت کنندہ سے اس کے پاس معلومات یا اطلاعات کے حوالے سے پوچھا جاتا ہے تاکہ شکایت کے مستند ہونے کے بارے میں جانچا جاسکے۔ اس مرحلے میں ناکامی کی صورت میں بھی شکایت کی فائل بند ہونے کے احکامات جاری ہوجاتے ہیں تاہم تصدیقی عمل کامیاب ہوجائے تو پھر تحقیقاتی مرحلہ شروع ہوتا ہے۔

اس مرحلے میں ایک تفتیشی افسر عام طور پر تحقیقات کے عمل کو آگے بڑھاتا ہے اور تصدیق شدہ معلومات کو تفتیشی اصولوں کے پیمانے میں پرکھتا ہے۔ عام طور پر اس مرحلے میں ملزمان کی شناخت اور ان کا محل وقوع تلاش کرلیا جاتا ہے۔

مگر یہ تحقیقاتی مرحلہ بھی متعدد وجوہات کی بناءپر روکا جاسکتا جیسے شواہد کی عدم دستیابی یا شکایت کنندہ کا اپنی شکایت کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہ رکھنا وغیرہ، تاہم کسی تحقیقات کا کامیاب اختتام ایک ایف آئی آر درج ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔

تیکنیکی اور ڈیجیٹل فارنسک رپورٹس تحقیقاتی مرحلے میں عام طور پر اور ایف آئی آر رجسٹر ہونے کے بعد بھی درکار ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر ایک شکایت درج کرانے سے شروع ہونے والا سفر تصدیق، تحقیقات اور ایف آئی آر کی شکل میں مکمل ہوتا ہے۔

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

تحریر: واصف شکیل

پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات بدقسمتی سے سالوں پرانے ہیں ۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جیسے جیسے دور جدید ہورہا ہے خواتین کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کے طریقوں میں بھی جدیدیت آتی جارہی ہے مثلاً انٹرنیٹ استعمال کرنے والی خواتین خصوصاً کالج اوریونیورسٹیز میں پڑھنے والی لڑکیوں کو” آن لائن بلیک میلنگ “کا طریقہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے مقدمے میں ایک مجرم کو فیس بک پر جعلی اکاوٴنٹ بنا کر ایک لڑکی کو بلیک میل کرنے پر تین سال قید اور25ہزار روپے جرمانہ ہوچکا ہے۔ مجرم عامر جنجوعہ کی ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم لڑکی سے دوستی ہوگئی، مگر یہ جاننے کے بعد کہ عامر ایک بس کنڈیکٹر ہے لڑکی نے شادی سے انکار کردیا
اس انکار پر مجرم نے اسے دھمکیاں دینا شروع کردیں اور آخر کار اس کی قابل اعتراض تصویر فیس بک پر شائع کردی جس پر لڑکی کے گھر والوں نے اس کی تعلیم کا سلسلہ منقطع کردیا اور ایف آئی اے میں اس کے خلاف درخواست دے دی
پچھلے ایک سال کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے کو3027 سائبر کرائمز کی شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں سے تقریباً 45فیصد خواتین کے خلاف ہراسمنٹ کے حوالے سے تھیں
نگہت داد جو آن لائن حقوق اور ان کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی این جی او ڈیجیٹل رائٹس فاوٴنڈیشن کی ڈائریکٹر ہیں ، ان کا اس بارے میں کہنا ہے کہ بلیک میلنگ، دھمکیاں، آن لائن ہراساں کرنے، لڑکیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے کے واقعات میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ معاشرے میں بڑھتی لاقانونیت اور خواتین کیلئے غیر موزوں ماحول کا عکاس ہے
گز شتہ ماہ ایف آئی اے راولپنڈی سائبر کرائم ونگ نے ایک 3 رکنی گینگ کو گرفتار کیا جو لڑکیوں کے فیس بک اکاؤنٹس ہیک کر کے ان کو ہراساں کرتا تھا۔ ملزم بلال حسین نے 80فیس بک اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کا اعتراف کیا۔ تفتیش کے دوران اس نے بتایا کہ وہ یہ کام گزشتہ کچھ مہینوں سے کر رہا ہے اور وہ فیس بک پیج کے ذریعے ہیکنگ کرنا جانتا ہے
یہ کیسے ممکن ہے کہ فیس بک اکاؤنٹس کو ہیک کرلیا جائے اور پھر بلیک میل کیا جائے؟ کیا یہ اتنا آسان ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے نگہت داد کا کہنا تھا” ہیکرز انٹرنیٹ یوزرز کی آن لائن سیکورٹی میں موجود کمزوریوں اور خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسا کرپاتے ہیں۔ آسان پاس ورڈ، کمزور سیکورٹی سیٹنگز یوزرز کو ایکسپوز کردیتی ہیں اور ان کا اکاؤنٹ آسانی سے چوری ہوجاتا ہے، اس لئے انٹرنیٹ یوزرز کو اس بات کی آگاہی ہونی چاہیے کہ کس طرح وہ اپنے آپ کو سائبر ورلڈ میں محفوظ کرسکتے ہیں
پاکستان میں ہزاروں ایسے جرائم ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر رپورٹ نہیں کروائے جاتے۔ اسی طرح آن لائن ہراساں اور بلیک میلنگ کا بھی رپورٹنگ تناسب بہت کم ہے۔ اس کی ایک وجوہ عام لو گ تھانہ کچہری کے چکر لگانے سے کتراتے ہیں اور ایسے معاملات جو خواتین سے متعلق ہوں اسے چھپا کے رکھنے میں عافیت جانتے ہیں
اگست میں ایف آئی اے نے ایک اورگینگ کو پکڑا جو لڑکیوں کے فیس بک اکاؤ نٹس ہیک کرکے ان کی پرائیویٹ کمیونیکیشن کو آن لائن کردیتا تھا اور پھر انہیں بلیک میل کرتا تھا، بیچاری لڑکیا ں کافی عرصے تک ان کے ہاتھوں پریشان ہوتی رہیں صرف اس وجہ سے کہ اس کا منظر عام پر آجانا رسوائی کا سبب بن سکتا تھا
جہاں تک موجودہ قواتین کا تعلق ہے تو ایف آئی اے فی الحال الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس 2002اور پاکستان پینل کوڈ کا سہار ا لے کر کارروائی کرتی ہے مگر اس میں خامیاں اور کمزوریاں ہونے کی بنا پراکثر ملزم بچ نکلتا ہے
نگہت داد کا اس بارے میں کہنا تھا ” اس بڑھتے رجحان کو روکنے کے لئے سخت قانون کی ضرورت ہے مگر جو قانون بنائے جا رہے ہیں ان میں ایسے لوپ ہولز چھوڑے گئے ہیں جس سے اس کے غلط استعمال کا خطرہ ہے۔ اس سوال پر کہ اگر سوشل میڈیا کے استعمال کو ایک خاص تعلیمی معیار کا پابند کردیا جائے تو کیا یہ حل ممکن ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا امتیازی ہوگا اور لوگ معلومات کے ایک اہم ذریعے سے محروم رہ جائیں گے اور اس طرح کردنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا
آن لائن ہراسمنٹ کے خلاف درخواست جمع کرانا قدرے آسان ہے اور اس حوالے سے ایف آئی اے کافی متحرک ہے۔شکایت درج کرانے کے تین طریقے ہیں، ایک یہ کہ ہیلپ لائن نمبرپر کال کی جاسکتی ہے۔
دوسرے طریقے کے مطابق نیشنل ریسپانس سینٹر فار سائبر کرائم کی ویب سائٹ پر آن لائن دستیاب فارم پْر کیا جاسکتا ہے۔
تیسرا یہ کہ تمام معلومات اور شواہد جمع کر کے ہیلپ ڈیسک پر ای میل کردی جائے جس کا ایڈریس سائٹ پر موجود ہے۔
نگہت داد کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ خاص طور پر سوشل میڈیا کے استعمال کو محفوظ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ آپ کو اس بارے میں مکمل آگاہی ہو تبھی آپ بلیک میلنگ اور دوسرے ہتھکنڈوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سائبر کرائم کا شکار ہونے والے بالخصوص خواتین ان جرائم کی پردہ پوشی کرنے کے بجائے ان کی شکایت کریں تاکہ ایسے مجرم عبرت کا نشان بن سکیں۔سائبرکرائم پر خاموشی بھی مجرمانہ فعل ہے۔

 

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ-2  ستمبر 2015) اسلام آباد راولپنڈی میں سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکیوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق بلیک میلرز کے لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس اور موبائل فونز تحویل میں لے لئے۔ بلیک میلرز لڑکیوں سے دوستی کرکے تصاویر اور ویڈیوز بناتے تھے۔ سائبر کرائم ونگ کو 6 ماہ میں بلیک میلنگ کی 100 سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔ والدین کی شکایات پر تینوں بلیک میلرز کو گرفتار کیا گیا۔ آئندہ چند روز میں مزید بلیک میلرز کی گرفتاری کا امکان ہے۔

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

پاکستان میں سائبر کرائم بڑھنے لگے

ہمارے یہاں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ کوئی نئی ٹیکنالوجی آنے کے کیا کیا نقصانات ہوسکتے ہیں اور ان سے بچنے کے لیے کیا تدبیر کی جانی چاہیے۔ تھری جی ٹیکنالوجی کی پاکستان آمد کے حوالے سے بھی یہی صورت حال سامنے آئی ہے۔

اس جدید ٹیکنالوجی کے پاکستان آنے پر بہت خوشیاں منائی گئیں، بہت شور ہوا، لیکن متعلقہ اداروں نے اس امر پر غور نہیں کیا کہ یہ ٹیکنالوجی اپنے ساتھ کچھ خطرات بھی لارہی ہے، جن کا تیکنیکی بنیادوں پر سدباب کیا جانا ضروری ہے۔ سو وہی ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق تھری جی ٹیکنالوجی آنے کے بعد پاکستان میں سائبر کرائم کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

ملک بھر میں تیزی سے بڑھتے سائبر کرائمز کی نوعیت مختلف قسم کی ہے، جن میں سے ایک بلیک میلنگ بھی ہے۔ منفی ذہنیت کے حامل افراد کی جانب سے وڈیوکالنگ کے ذریعے نوجوان لڑکیوں اور خواتین سے بات چیت کرکے اس بات چیت کو ریکارڈ کرلیا جاتا ہے، پھر یا تو اس مکالمے کو کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپ لوڈ کردیا جاتا ہے یا ایسا کرنے کی دھمکی دے کر ان لڑکیوں اور خواتین کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ اس گھناؤنے فعل کے حامل جرائم کے بڑھنے کے ساتھ تھری جی ٹیکنالوجی کی آمد کے بعد دھوکہ دہی کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت پورے ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تین کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جو کہ ملک کی مجموعی آبادی کا سولہ فی صد سے زاید ہے، جب پاکستان میں فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد رواں سال کے ستمبر تک ایک کروڑ چون لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور ہر بارہ سیکنڈ بعد ایک نیا صارف فیس بک سے وابستہ ہورہا ہے۔ یہ مجموعی آبادی کا آٹھ فی صد بنتا ہے، جس سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں آن لائن سرگرمیاں کس تیزی سے فروغ پارہی ہیں اور پاکستانی ان سے وابستہ ہورہے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں سماجی کے ساتھ تجارتی اور مالی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ چناں چہ ہمارے ملک میں اسی رفتار سے سائبر کرائم کی تعداد اور رفتار بڑھ رہی ہے۔

اس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں صورت حال مزید خراب ہوجائے گی، کیوں کہ موبائل فون صارفین کی بہت بڑی تعداد مختلف کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے تیز ترین تھری جی انٹرنیٹ پیکیجز حاصل کررہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے بعد اسمارٹ فونز کے ذریعے وڈیو بنانا اور اس کو کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپ لوڈ کرنا آسان اور سستا ہوگیا ہے۔ اس کے لیے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

اسی طرح تھری جی ٹیکنالوجی کے ذریعے وڈیوکالنگ بہت آسان ہوگئی ہے اور صارفین کی بہت بڑی تعداد ٹینگو، اسکائپ اور واٹس اپ کے ذریعے وڈیو کالنگ کی سہولت استعمال کررہی ہے، جب کہ مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد اس سہولت کے اپنے ناپاک مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں اور ان کے جرائم میں بلیک میلنگ سرفہرست ہے۔ مختلف ممالک میں فیس بک سمیت دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر کسی کو بدنام کرنے یا بلیک میل کرنے پر ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت اور فوری ایکشن لیا جاتا ہے اور اس جرم کے مرتکب افراد سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن پاکستان میں ایسی شکایات کو سردخانے کی نذر کردیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف لاہور میں اب تک ایسی کئی لڑکیاں اور خواتین خودکشی کرچکی ہیں جن کی نامناسب وڈیوز اور تصاویر فیس بک سمیت دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اپ لوڈ کردی گئی تھیں اور انھیں بدنام کیا جارہا تھا۔یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو بلیک میل کرنے کے واقعات تو طویل عرصے سے جاری ہیں لیکن تھری جی ٹیکنالوجی آنے کے بعد ان میں تیزی آگئی ہے۔ تھری جی ٹیکنالوجی آنے سے پہلے سائبر کرائم کی وارداتیں کرنے والے افراد عمومی طور پر کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کا سہارا لیتے تھے، اور انٹرنیٹ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے کنکشن استعمال کرتے تھے۔

انھیں ان کے کمپیوٹر کی آئی پی اور انٹرنیٹ کنکشن کی رجسٹریشن کی مدد سے ٹریس کرلیا جاتا تھا، جب کہ موبائل سے اس نوعیت کی واردات کرنا بہت مشکل کام تھا، لیکن پاکستان میں تھری جی ٹیکنالوجی آنے کے بعد ہر موبائل کمپنی نے اپنے صارفین کو ان کی موبائل سِموں کے ذریعے تیزترین انٹرنیٹ سروس فراہم کرنی شروع کردی ہے، جس کی وجہ سے صارفین اپنے موبائل فون پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے علاوہ سماجی رابطوں کے دیگر نیٹ ورکس اسکائپ، ٹینگو، واٹس اپ اور وائبر وغیرہ آسانی سے چلاسکتے ہیں، بل کہ ان کے ذریعے وڈیو کالنگ بھی بہت آسان ہوگئی ہے۔

یہ آسانی جہاں عام صارفین کے لیے سہولت لائی ہے، وہیں مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد کے لیے بھی اس کی وجہ سے ان کا کام آسان ہوگیا ہے۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ بلیک میلنگ اور سائبر کرائم کی دیگر وارداتوں کے انسداد کے لیے کوئی سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہیں کیے جارہے۔ حکومت کی جانب سے موبائل کمپنیوں کو تھری جی ٹیکنالوجی کی نیلامی میں شرکت کی دعوت دی گئی تو یہ نہیں سوچا گیا کہ عوام کو تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت دینے کے ساتھ ہی اس کے منفی استعمال کو روکنے کے لیے کوئی نظام وضع کیا جانا چاہیے، اس بے پرواہی کی وجہ سے آج کتنی ہی زندگیاں متاثر ہورہی ہیں۔

یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ سائبر کرائم کی وارداتوں پر کام کرنے والے ایک افسر کے مطابق اس وقت سب سے بڑا مسئلہ موبائل فون کی غیرقانونی سموں کا پھیلاؤ ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے جرم کرنے والا شخص اگر اپنے نام کی رجسٹرڈ سِم کے ذریعے جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا سراغ لگانا مشکل کام نہیں، لیکن اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے نام کی سم یا غیرقانونی طور پر حاصل کی گئی سم پر تھری جی ٹیکنالوجی حاصل کرکے کوئی مجرمانہ حرکت کرتا ہے تو اس کا سراغ لگانا بہت مشکل ہے۔ اگر حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں نے اس صورت حال پر توجہ نہ دی تو ملک میں سائبر کرائم کی وارداتیں خوف ناک حد تک بڑھ جائیں گی۔

دوسری طرف اس حوالے سے خواتین کو بھی پوری طرح محتاط رہنا چاہیے اور نوجوان لڑکیوں کے والدین کو بھی اس حوالے سے پوری طرح چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔ ہماری اس تحریر کا مقصد یہی ہے کہ ایک طرف حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں کی اس خوف ناک صورت حال کی طرف متوجہ کیا جائے اور دوسری طرف لڑکیوں اور خواتین کو اس خطرے سے آگاہ کیا جائے۔

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

ملک میں خصوصی سائبر کرائم الرٹ ایس ایم ایس سروس شروع

Please login or register to see this image.

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارےایف آئی اے نے ملکی تاریخ میں پہلی بار سائبر کرائمز کے حوالے سے خصوصی سائبر کرائم الرٹ ایس ایم ایس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ملکی تاریخ میں پہلی بار سائبر کرائمز کے حوالے سے خصوصی سائبر کرائم الرٹ ایس ایم ایس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا ملک بھر میں باقاعدہ آغاز کل سے ہو گا۔

سائبر کرائم ایس ایم ایس الرٹ سروس کا افتتاح کل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اکبر خان ہوتی کریں گے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سائبر کرائم کے ذریعے متاثرہ شخص ویب سائٹ یا متعلقہ ادارے کی مکمل معلومات ایک ایس ایم ایس کے ذریعے سائبر کرائم الرٹ سروس کے نمبر پرکرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سروس سے سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ اور دیگر جرائم کا جہاں خاتمہ ہوگا وہیں سائبر کرائم کے بڑے گروہ قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہیکنگ اور بلیک میلنگ کے متاثرین کے لیے 7 رہنما نکات

پورے خطے میں برقی مواصلات استعمال کرنے میں پاکستان سب سے آگے ہے اور اس کے علاوہ پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ سستے ترین داموں دستیاب ہے (تھری جی، فور جی کے نرخ 5 ڈالر فی 10 گیگا بائٹ تک گر چکے ہیں)۔ پاکستان میں 4 کروڑ اسمارٹ فون صارفین میں سے اکثریت انٹرنیٹ کا استعمال کرتی ہے۔

ایک طرف تو یہ اچھی بات ہے مگر دوسری جانب ہمارے درمیان موجود غلط لوگوں کو تیز ترین انٹرنیٹ تک آسان رسائی بھی حاصل ہے، جس سے وہ اپنی کارروائیاں آسانی سے اور بلا خوف و خطر کر سکتے ہیں۔ اور ہمیشہ کی طرح خواتین ہی ان کارروائیوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنتی ہیں۔

پہلے کم معاشرتی پابندیاں تھیں کہ اب پاکستانی خواتین کے لیے آن لائن دنیا بھی ایک علاقہ ممنوعہ بنتی جا رہی ہے؟ ویسے کچھ حد تک تو یہ بن بھی چکی ہے۔

غلط لوگوں کا طریقہء واردات بہت سادہ ہوتا ہے۔ وہ کئی ناموں سے آئی ڈیز بناتے ہیں جس سے وہ خواتین کی ذاتی معلومات اکٹھی کر سکیں، تاکہ انہیں انٹرنیٹ پر اور حقیقی زندگی میں ہراساں کیا جا سکے۔

کالے بازاروں کے ذریعے سستے سوفٹ ویئر اور ہارڈویئر تک بڑھتی ہوئی رسائی کسی بھی شخص کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے موبائل یا کمپیوٹر ہیک کرنا آسان بناتی ہے۔

سات اقدام جو آپ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے کر سکتے ہیں۔

یہاں پر ان سات سب سے مؤثر اقدامات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو ایک انٹرنیٹ صارف کو استعمال کرنے چاہیئں تاکہ 1: ذاتی معلومات کے ذریعے بلیک میلنگ سے بچا جا سکے۔ 2: اگر انٹرنیٹ پر ہراساں کیا جا رہا ہو تو مناسب اقدامات کر سکیں۔

1: مضبوط پاس ورڈ منتخب کریں اور انہیں باقاعدگی سے تبدیل کریں

پاس ورڈز کی مضبوطی اہمیت رکھتی ہے، اسے کبھی نظرانداز نہ کریں۔ اس کے علاوہ اپنے تمام آن لائن پلیٹ فارمز پر دوہری ویریفکیشن آن کر دیں (فیس بک، جی میل اور ٹوئٹر پر یہ فیچر موجود ہے)۔ یہ ایک اہم حفاظتی اقدام ہے اور اگر کسی ہیکر کو آپ کا پاس ورڈ مل بھی گیا، تب بھی وہ آپ کا اکاؤنٹ نہیں کھول سکے گا کیونکہ پاس ورڈ ڈالنے پر ایک حفاظتی کوڈ آپ کے موبائل پر بھیجا جائے گا جو ہیکر کو معلوم نہیں ہوگا۔

جیسے ہی آپ کو محسوس ہو کہ آپ کا اکاؤنٹ کسی نے استعمال کیا ہے، فوراً اپنے تمام اکاؤنٹس کے پاس ورڈ تبدیل کر دیں، نہ کہ صرف ایک کے۔ ورنہ کسی ہیکر کے لیے ایک پاس ورڈ معلوم ہونے کی صورت میں دوسرے اکاؤنٹس کے پاس ورڈ کا اندازہ لگانا بہت آسان ہے۔ آپ اسے تمام اکاؤنٹس کے پاس ورڈ ایک دوسرے سے مختلف رکھ کر بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔

2: فوراً حکام کو آگاہ کریں

ایک بار جب آپ پاس ورڈ تبدیل کر چکیں، تو اپنے اکاؤنٹ کے ہیک ہونے کی اطلاع متعلقہ ویب سائٹ کو دیں۔ اگر آپ اپنے اکاؤنٹ کا کنٹرول واپس حاصل کرنے میں ناکام ہیں، تو یہ اور بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ تمام بڑی ویب سائٹس عام طور پر فوراً جواب دیتی ہیں۔

3: اپنے خاندان اور دوستوں کو آگاہ کریں

رپورٹ کرنے کے بعد اس ویب سائٹ کو آپ سے رابطہ کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ اس وقت تک آپ اپنے دوستوں اور گھر والوں سے رابطہ کریں اور انہیں اس کی اطلاع دیں، تاکہ وہ آپ کے ہیک شدہ اکاؤنٹ سے کوئی رابطہ نہ کریں۔

اپنے گھر والوں، والدین اور سرپرستوں کو آگاہ کرنا بہت ضروری ہے، خاص طور پر اگر آپ محسوس کرتے ہوں کہ بعد میں معاملہ خراب ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ چیزیں غلط موڑ لیں، اپنے گھر والوں کا اعتماد حاصل کر لینا چاہیے۔

4: بلیک میلرز کے مطالبات نہ مانیں

اگر کوئی شخص ہراساں کرنے کے بعد بلیک میلنگ پر اتر آئے، اور آپ کی ذاتی معلومات ڈیلیٹ کرنے کے بدلے آپ سے رقم کا تقاضہ کرے، تو اس کے مطالبات تسلیم نہ کریں۔ اس کے آگے مت جھکیں، کیونکہ اس بات کا کافی امکان ہے کہ وہ آپ کو ایک بار پھر بلیک میل کرنے کی کوشش کرے گا اور آپ کبھی بھی اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ آپ سے رقم لے کر وہ آپ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کرے گا بھی یا نہیں۔

5: ہراساں کیے جانے کی اطلاع ایف آئی اے کو دیں — وہ انتہائی فعال ہیں

اگر آپ کو کوئی انٹرنیٹ پر ہراساں یا بلیک میل کر رہا ہو، تو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے

Please login or register to see this link.

آپ کو انہیں اپنی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی کیونکہ

NR3C

واضح وجوہات کی بناء پر گمنام شکایتوں پر کارروائی نہیں کرتا۔

مجرم کے خلاف باقاعدہ درخواست کا اندراج انتہائی ضروری ہے۔ ایف آئی اے کا یہ NR3C ڈپارٹمنٹ بہت فعال ہے اور سائبر کرائمز کی شکایتوں پر فوری کارروائی کرتا ہے، اور آپ کی مدد کے لیے سب سے کارگر ادارہ یہی ثابت ہوگا۔ [ایف آئی اے کی ہیلپ لائن: 9911]

  • 5.1: اگر آپ بچے ہیں، تو آپ اپنے سرپرست سے کہہ کر شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ اور اگر آپ اپنے گھر والوں کو بیچ میں نہیں لانا چاہتے، تو اپنے دوستوں یا اساتذہ سے کہیں کہ وہ اس سلسلے میں آپ کی مدد کریں۔

  • 5.2: یاد رکھیں کہ جرم کی اطلاع دینا نہ صرف مستقبل میں آپ کو مزید ہراساں کیے جانے سے بچائے گا، بلکہ یہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ دوسرے بھی اس تلخ تجربے سے نہ گزریں جس سے آپ گزرے ہیں۔

  • 5.3: آپ سائبر کرائم کی اطلاع یا تو ان کا آن لائن فارم پر کر کے دے سکتے ہیں، یا تمام ضروری معلومات بمعہ ثبوت (بلیک میلر کے پیغامات کے اسکرین شاٹس) اس ای میل ایڈریس پر بھیج سکتے ہیں:

    Please login or register to see this link.

  • 5.4: یہ یاد رکھنا بھی اہم ہے کہ دھمکی آمیز فون کالز NR3C کے دائرہ کار میں نہیں آتیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے آپ کو اپنے قریبی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروانی ہوگی۔

6: اگر آپ کا کوئی دوست شکار ہے، تو اس کی مدد کریں

بلیک میلنگ کا نشانہ بننے والوں کے قریبی لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے شخص کی مدد کریں، کیونکہ زیادہ تر لوگوں کو آن لائن ہراساں کیے جانے کے تکلیف دہ مرحلے کے دوران اپنے گھر سے مدد نہیں ملتی۔

متاثرہ شخص کے لیے: اگر آپ بلیک میلنگ کے بارے میں اپنے گھر والوں کو اعتماد میں نہیں لے سکتے، تو اپنے دوستوں یا کسی بھی قریبی شخص سے رابطہ کریں۔ آپ کو کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ملے گا جو آپ کی درست رہنمائی کرے گا اور آپ کو مدد فراہم کرے گا۔

7: کوشش کریں کہ مجرم کا اتا پتہ معلوم ہو سکے

گھر والوں اور دوستوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ متاثرہ شخص ایسے کسی بھی یونیورسٹی، کالج، دفتر یا کسی اور ادارے کی مدد حاصل کر سکے، جہاں سے مجرم کا تعلق ہونے کا شبہ ہے۔ کیونکہ متاثرہ شخص ایسی صورتحال میں عام طور پر خوفزدہ ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دوست اور گھر والے قدم بڑھائیں اور سرکاری اداروں اور ان اداروں کو اطلاع دیں جہاں ہیکر کام کرتا ہے، اگر معلوم ہو تو۔


اگر آپ کو مزید کسی رہنمائی کی ضرورت ہو، تو آپ کبھی بھی 'ہمارا انٹرنیٹ' نامی ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔ اس میں

Please login or register to see this link.

ہمارا انٹرنیٹ ایک پاکستانی غیر سرکاری ادارے

Please login or register to see this link.

کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستانی خواتین کو آن لائن بلیک میلنگ سے بچانا اور محفوظ انٹرنیٹ اور موبائل ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان میں پہلے ہی بہت کم خواتین انٹرنیٹ پر موجود ہیں، اور اس طرح کے معاملات رپورٹ ہونے پر امکان رہتا ہے کہ ان کے گھر والے ان کی انٹرنیٹ تک رسائی پر مزید پابندیاں عائد کر دیں گے۔

انٹرنیٹ تک رسائی خواتین کے لیے نہایت اہم ہے، نہ صرف پاکستان میں، بلکہ دنیا بھر میں، تاکہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں، اور تعلیمی اور معاشی مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اس لیے اگر ہم آن لائن جرائم اور ہراساں کیے جانے یا بلیک میلنگ کو آغاز میں ہی ختم کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں مضبوط بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×