Jump to content
URDU FUN CLUB
Administrator

کامیابی کی سچی کہانیاں ۔۔۔ اردو فن کلب

Recommended Posts

کہتے ہیں محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی ۔اس بات سے کسی کو انکار نہیں ۔مگر محنت کے ساتھ ساتھ مستقل مزاجی کی بھی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ایسی ہی کچھ کمپنیوں اور انسانوں کی داستاں اس تھریڈ میں شیئر کی جائے گی۔جنہوں نے ہر قسم کی مشکلات کے باوجود محنت سے کامیابی کا سفر طے کیا۔ 

 

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this image.

/monthly_2016_05/bata2.jpg.432b27b7127c75b41162a859ec772fe6.jpg">

موچی سے کمپنی مالک تک ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر

باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔

ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر ایک مزدور کے ایک فقرے سے شروع ہوا اور اس کے بعد وہ کسی جگہ رکا نہیں۔ وہ مزدور اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ واجبی سی تعلیم تھی، لیکن تجربات سے مالامال تھا۔ وہ زندگی کے پُرپیچ راستوں سے خوب واقف تھا۔ یہ اسی بوڑھے مزدور کے تجربات سے بھرپور فقرہ تھا جس نے اسے عام موچی سے ملٹی نیشنل کمپنی کا مالک بنا دیا، جس کا آج بھی شہرہ ہے۔ ٹامس نے موچی کا کام شروع کیا۔
اس کے لیے ایک دکان کھول لی اور ساتھ مزدور بھی رکھ لیے۔ یہ چند مہینے دکان چلا پایا تھا، لیکن اسے ہر قدم پر ناکامی ہو رہی تھی۔ لوگ اس کے بنائے ہوئے جوتے نہیں خریدتے تھے اور ملازمین بھی اس سے خوش نہ تھے۔ ٹامس ہمت ہار کے گھر بیٹھ گیا۔ دکان پر جانا چھوڑ دیا اور پریشان سا رہنے لگا۔ انہی دنوں ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی۔ اس نے اس کے چہرے سے پریشانی بھانپ لی اور وجہ پوچھی تو ٹامس نے ساری صورت حال بتا دی۔ بوڑھے مزدور نے کہا: ’’بیٹا! ہمیشہ تم یہ خیال کیا کرو کہ میری پروڈکٹ مہنگی ہے اور مزدوروں کو ان کی محنت سے کم تنخواہ دے رہا ہوں، اس طرح آپ یہ کوشش کرتے رہیں گے کہ کس طرح میری پروڈکٹ سستی ہو اور میرے مزدوروں کو زیادہ تنخواہ ملے۔‘‘ یہ بات تیر کی طرح ٹامس کے دل کو لگی اور اس نے ہمیشہ کے لیے اس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ 

ٹامس باٹا ’’باٹا شوز کمپنی‘‘ کا بانی ہے۔ اس نے کمپنی اپنے خاندان کے نام پر بنائی۔ اس کا خاندان ابتداء میں چیکوسلواکیا میں رہتا تھا۔ جفت سازی ان کا آبائی پیشہ ہے جو 1620ء سے ان کے ہاں چلا آ رہا ہے۔ ٹامس نے 24 اگست 1894ء میں پہلی بار جوتے کا کارخانہ لگایا۔ یہی کارخانہ بڑھتے بڑھتے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی صورت اختیار کر گیا۔ جس کا کاروبار 114 ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ 

جفت سازی آبائی پیشہ ہونے کی وجہ سے ٹامس کے لیے آسان تھا۔ جس کی وجہ سے اس نے اسی کو اپنایا۔ تقریباً 3 سو سال سے یہ کام ان کے خاندان میں چلا آ رہا تھا لیکن کسی نے اس میں ترقی کی طرف توجہ نہ دی اور اس کاروبار کو پھیلانے کی کوشش بھی نہ کی جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ باپ دادا سے ایک دکان چلی آ رہی ہے۔ اولاد میں وراثت کے طور پر تقسیم ہو جاتی ہے۔ وہ دکان بڑی ہونے کے بجائے مزید ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے، لیکن کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس کاروبار کو پھیلایا اور بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ ٹامس نے خاندانی روایت کو توڑنے کے لیے کارخانے کی بنیاد رکھی اور اپنے ساتھ 10ملازمین بھی رکھ لیے۔ ایک سال یہ کام چلا ہو گا کہ ٹامس قرض کے بوجھ تلے دبنے لگا اور مالی پریشانیوں نے اسے آگھیرا۔ اس دوران ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی، جس نے اس کی مشکل ہمیشہ کے لیے حل کر دی۔ ٹامس نے چمڑے کے جوتے بنانے کے ساتھ موٹے کپڑے  سے جوتے تیار کرنے لگا جو سستے پڑتے تھے اور لوگوں نے بھی انہیں بہت پسند کیا۔ ان جوتوں کی مقبولیت اور مانگ بڑھنے سے ملازمین کی تعداد 10 سے 50 ہو گئی۔ ٹامس نے اپنی پروڈکٹ کے سستے ہونے کی طرف توجہ دی۔ اس طرح ملازمین کی بھی اجرت کا خیال رکھا۔ٹامس نے  باٹا پرائس بھی متعارف کروائی۔ ان کی پروڈکٹ کی قیمت 9 کے ہندسے پر ختم ہوتی ہے۔ کسی چیز کی قیمت 99 یا 19.99 روپے ہو گی، جو دیکھنے میں 100 اور 20 سے اچھی لگتی ہے حالانکہ ایک عدد کا فرق پڑتا ہے۔ چار سال میں باٹا شوز کمپنی کا کام اس حد تک بڑھ گیا کہ اب مشینوں کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ اس کے علاوہ ڈیمانڈ پوری نہیں کی جا سکتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب آٹومیشن کا دور آگیا ہے۔ مشینوں اور ٹیکنالوجی سے آپ کم وقت اور قلیل خرچ سے زیادہ پروڈکٹ بنا سکتے اور منافع کما سکتے ہیں۔ 

ٹامس باٹا ہمیشہ ایک تاجر کی طرح سوچتا رہتا تھا کہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے وہ کیا کر سکتا ہے۔ وہ کاروباری حضرات سے مشاورت بھی کرتا۔ 1904ء میں اس نے اپنی کمپنی میں مکینکل پروڈکٹ تکنیک متعارف کروائی۔ اس طرح جلد ہی باٹا شوز کمپنی یورپ کی پہلی بڑی جفت ساز کمپنی بن گئی۔ 1912ء میں اس کی کمپنی کے ملازمین 600 ہو چکے تھے جو اس کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ 1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔یہ ٹامس کے لیے قرعہ فال ثابت ہوئی۔ اس کے پاس جرمن فوج کے جوتے بنانے کے آرڈر آنے لگے۔ 1914ء سے لے کر 1918ء تک اسے پہلے سے دس گنا زیادہ ملازمین رکھنے پڑگئے۔ کاروباری دنیا میں کامیابی کے ساتھ پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جنگ کے بعد اس کا کاروبار بہت مندا ہو گیا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ 1925ء میں پھر سے بزنس عروج کی طرف بڑھنے لگا۔ ٹامس کی باٹا کمپنی زلین میں تھی۔ اب یہ ایک شہر کی صورت اختیار کر گیا ۔ کمپنی بھی کئی ایکڑ زمین پر پھیل چکی تھی۔ ٹامس باٹا 1932 ء میں 56 سال کی عمر میں جہاز کے ایک حادثے میں فوت ہو گیا۔ وہ خود تو اس دنیا سے چلا گیا، لیکن آج بھی اس کے لگائے ہوئے درخت سے دنیا بھر کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

خطروں سے کھیلنے والا شیلڈن جو مسلسل ناکامیوں کے بعد 51ویں بزنس میں کامیاب ہوگیا

جمعرات کا دن تھا۔ یونیورسٹی میں صبح سے ہی چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔ ایک لان میں اسٹیج سجا ہوا تھا۔ خوبصورت شامیانے لگے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ طلبہ کی ٹولیاں جگہ جگہ نظر آ رہی تھیں۔ وہ گپ شپ میں مصروف تھے اور بات بات پر قہقہے لگا رہے تھے۔ ان کے چہروں سے خوشی کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔وہ خوش اس لیے تھے کہ آج ان سے دنیا کے دسویں امیر ترین شخص نے خطاب کرنا تھا۔ اپنی کامیابی کے راز سے پردہ اٹھانا تھا کہ بارہ سالہ اخبار فروش بچہ کیسے دنیا کا امیر ترین آدمی بن گیا۔


وہ آدمی شیلڈن تھا اور شیلڈن کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ 
شیلڈن ایڈلسن ایک امریکی بزنس مین ہے۔ جولائی 2014ء فوربس میگزین کے مطابق اس کے اثاثہ جات 36.4 ارب ڈالرز پر مشتمل ہے۔ اس مالیت کے ساتھ یہ دنیا کا دسواں امیر ترین شخص ہے۔ یہ ایک اسرائیلی اخبار کا مالک بھی ہے
بہرحال! صبح 10 بجے وہ لمحہ آن پہنچا، جس کے لیے یہ سارے انتظامات کیے گئے تھے۔ شیلڈن مائیک پر آئے اور یونیورسٹی کے طلبہ اور پروفیسر سے خطاب کرنے لگے۔ 90 منٹ کی تقریر تھی۔ آخر پر سوالات کی نشست ہوئی۔ ایک طالب نے سوال کیا: ’’آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟‘‘ 

’’میں اس کے بارے میں کبھی جان نہ سکا‘‘ شیلڈن نے کہا۔ اس کا یہ جواب طلبہ کے لیے انوکھا اور حیران کن تھا۔ ایک اور طالب علم نے ہمت کرتے ہوئے کہا: ’’یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آپ ترقی کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں، اور آپ کو کامیابی کے اسباب کا علم تک نہ ہو۔‘‘ اس تبصرے پر شیلڈن ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ میری کامیابی کے راز اور اسباب بہت ہو سکتے ہیں لیکن جس کو میں اپنی ترقی کا راز سمجھتا ہوں وہ چار حرف پر مشتمل ایک لفظ ہے۔

 رسک یعنی خطرات میں کود جانا۔ 

شیلڈن 14 اگست 1933 ء کو ایک غریب خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ شیلڈن کا بچپن ہی والدین کے لیے حیران کن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسا بچہ عطا کیا تھا جو بہت ساری خصوصیات کا مالک تھا۔ حوصلہ مندی، بہادری اور خطرات میں کود جانا اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اس سے بڑھ کر یہ خوبی تھی کہ ناکامی سے گھبرانے کے بجائے اس سے مزید سیکھتا اور آگے بڑھتا چلا جاتا۔ 

12 سال کی عمر میں شیلڈن نے اپنا بزنس کیرئیر شروع کیا۔ اس کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ وہ کوئی کاروبار کر سکتا۔ اس مشکل سے نکلنے کے لیے اس نے اپنے چچا سے دو سو ڈالر قرض لیے اور اس سے اخبار فروشی کا لائسنس خریدا۔ یہ صبح سویرے اٹھتا اور سائیکل پر اخبار لاد کر مختلف گھروں تک پہنچاتا اور پھر اسکول جاتا۔ یہ کام چار سال باقاعدگی سے چلتا رہا،لیکن اس کام میں ترقی کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ اس وجہ سے ٹافیاں بنانے والی مشین کی خرید و فروخت کا بزنس شروع کر لیا۔ اس دوران شیلڈن کو احساس ہوا کہ بزنس سے متعلق تعلیم حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ رسمی تعلیم عملی زندگی میں زیادہ ساتھ نہیں دے پاتی۔ شیلڈن ایک ٹریڈ اسکول میں بڑھنے لگا۔ ابھی تعلیم مکمل نہیں ہو پائی تھی کہ فوج میں بھرتی ہو گیا۔ کسی وجہ سے یہ فوج سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اس کے بعد سٹی کالج آف نیو یارک میں پڑھنے لگا۔ 

بزنس ’’شیلڈن‘‘ کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا تھا۔ اس لیے یہ تعلیم کے ساتھ پرس اور بیگ وغیرہ فروخت کرنے لگا۔ شیلڈن کے ساتھ ایک مسئلہ تھا جسے آپ اس کی خوبی یا عیب کہہ سکتے ہیں۔ یہ جس چیز میں نفع دیکھتا تو پہلے کام کو چھوڑ کر اس کی طرف لپک پڑتا۔ اس کے بعد یہ کیمیکل اسپرے فروخت کرنے لگا۔ 

۔1960 ء میں اس نے ایک چارٹر ٹورز بزنس شروع کیا۔ بہت سارے خیر خواہوں اور دوستوں نے اسے اس بزنس میں کودنے سے منع کیا لیکن یہ ہمیشہ رسک لیتا اور روکنے کے باوجود رکا نہیں کرتا تھا۔ ٹورزم (سیاحت) کے بزنس سے پہلے ہر کام میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن شیلڈن اس کو ناکامی نہیں کہتا تھا۔ اس کے مطابق یہ ایک رکاوٹ تھی جو اس کے راستے میں آئی اور ہٹ گئی۔ یہ بزنس اس کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ اب اس کی کاروباری زندگی ایک نئے ڈگر پر چل پڑی۔ یہ جلد ہی لاکھوں مالیت کا مالک بن گیا۔ 

اگر شیلڈن کی 30 سالہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بے شمار اتار چڑھاؤ دکھائی دیتے ہیں۔ قدم قدم پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ شیلڈن نے اپنی کاروباری زندگی میں خود سے 50 بزنس کیے۔ اگر آپ بھی بزنس کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو رسک لینا پڑے گا۔ کاروباری سفر خطرات سے پُر ہوتا ہے۔اس میں کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو رسک لیتے ہیں۔ جتنا آپ گُڑ ڈالیں، اتنا میٹھا ہوگا۔

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

یونیورسٹی کی فیس ادا نہ کرسکنے والا فریڈ ڈیلوکا سب وے کمپنی کا بانی کیسے بنا 

مقررہ تاریخ پر فیس جمع نہ کرانے والوں کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہ ہو گی۔‘‘ یہ اعلان ہونے کے بعد میری پریشانی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ کافی دنوں سے میں اپنی یونیورسٹی فیس کے بارے میں بہت پریشان تھا۔ گھر کے حالات کچھ ایسے نہ تھے کہ میں اپنی بھاری بھر کم فیس کا بوجھ اپنے والدین کے کاندھوں پر ڈال دیتا۔ادھر میرے پاس بھی اس کا بظاہر کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ اسے مقررہ دن پر ادا کرپاتا۔مجھے ڈاکٹر بننے کا بہت زیادہ شوق تھا، لیکن اب مجھے خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ کہیں میرا ڈاکٹری کا خواب چکنا چور نہ ہو جائے۔

میں ایک دن پریشانی کے عالم میں اسکول پہنچا تو نوٹس بورڈ پر آویزاں اعلان پڑھ کر مجھے شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ فیس ادا کرنے کا دن قریب آ چکا تھا اور میری جیب میں دھیلا تک نہ تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ میرا ضمیر بھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔گھر میں غربت کا ڈیرہ تھا۔ اس لیے میں اپنا تعلیمی خرچ پورا کرنے کے لیے ایک اسٹور پر کام کرتا تھا۔ وہاں سے ملنے والی مزدوری سے بمشکل گزارا ہو رہا تھا۔ یونیورسٹی کی فیس زیادہ تھی، جو میری استطاعت سے باہر تھی۔ میں پارٹ ٹائم کی جاب سے اسے پورا نہیں کر سکتا تھا۔ اپنی پریشانی کو کم کرنے کے لیے اپنے ایک پرانے اور دیرینہ دوست کے پاس چلا گیا کہ اس سے کوئی مشورہ یا بات وغیرہ کر وں، جو میری پریشانی کو ہلکا کر دے اور اس مشکل سے نکلنے کی کوئی سبیل پیدا ہو۔ 

وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس دن گرم لُوچل رہی تھی۔ چلچلاتی دھوپ اور دوپہر کا وقت۔ میں اپنے دوست کے گھر میں موجود تھا۔ میرے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ میرے دوست پیٹربک نے مجھے دیکھا تو میری پریشانی بھانپ گیا۔ میں نے ساری صورت حال بتادی۔ اس کے بعد اس نے مجھے مشورہ دیا کہ ’’آپ ایک سینڈوچ شاپ کھول لیں۔‘‘ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا،یہ جواب میری توقع سے بہت مختلف تھا۔ میں گہری سوچ میں پڑ گیا۔ پیٹر نے میری ہمت یوں بندھائی کہ اگر میں یہ بزنس شروع کروں تو وہ بھی میرا پارٹنر ہو گا۔ 

میرے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا، میرے پاس تو یونیورسٹی کی فیس دینے کے لیے کچھ نہ تھا۔ بزنس کے لیے تو سرمایہ چاہیے، وہ میں کہاں سے لاتا؟ یہ مسئلہ صرف میرے ساتھ نہ تھا، بلکہ دنیا میں جو شخص بھی بزنس کا ارادہ کرتا ہے اسے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسروں کی نوکری چاکری کرتے کرتے میں بھی تھک چکا تھا۔ اب اپنا بزنس شروع کرنے کی خواہش انگڑائی لینے لگی۔ اس تمنا کو آخر پیٹر ہی نے پورا کر دیا۔ اس نے بزنس شروع کرنے کے لیے ایک ہزار ڈالر بطورِ قرض دیے۔میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ اندھے کوکیا چاہیے دو آنکھوں کے سوا۔ 

ہم دونوں نے مل کر 1965 ء کو برج پورٹ میں ایک سب وے سینڈ وچ شاپ کھول لی۔یہی آگے چل کر دنیا کی نمبر ون کمپنی بنی۔ پہلے سال جہاں سیکھنے کو بہت کچھ ملا، وہاں مشکل حالات کا بھی خوب سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران مجھے احساس ہوا کہ بزنس کے پھیلاؤ کے لیے ایڈورٹائزنگ اور پبلسٹی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ  ویزیبلٹی بہت ضروری ہے۔یعنی دکان ایسی جگہ پر ہو، جو دور سے نظر آئے۔ اگلے ہی سال ہم دونوں دوستوں نے دوسرا اسٹور بھی کھول لیا۔ ہم نے ابتدا ہی سے اپنی پروڈکٹ ’’سینڈوچ‘‘ کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ قبول نہ کیا۔ عمدہ معیار کی وجہ سے دِنوں میں ہمارے گاہک بڑھتے گئے۔ ہماری پروڈکٹ کا شہرہ ہونے لگا۔ 

اس بڑھتی ہوئی مقبولیت اورہر دلعزیزی کو دیکھ کر میں نے عزم کیا کہ آئندہ 10 سالوں میں 32 اسٹور مزید کھولوں گا۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ میں اسی ایک اسٹور کو بھی بڑا کر سکتا تھا، لیکن اس میں کاہگوں کے لیے مسائل تھے۔ وہ ہمارے سینڈ وچ کو پسند کرتے تھے اور اس کے لیے انہیں سفر کی صعوبت بھی اٹھانی پڑتی تھی۔ مجھے یہ بات گوارا نہ تھی۔ اگر آپ بزنس کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے فرنچائزیں کھولیں۔ جب آپ کی ساکھ بن چکی ہوتی ہے تو کسٹمرز اپنے قریبی اسٹور سے آپ کی پروڈکٹ خریدنا پسند کرتے ہیں۔ فاسٹ فوڈز کے بزنس میں ضروری ہے کہ آپ مختلف جگہوں اور شہروں میں اپنی فرنچائز اور اسٹورز کھولیں۔ اتنی بات ضرور یاد رکھیں کہ اپنی پروڈکٹ اور کسٹمر سروس کی کوالٹی اور معیار میں رتی برابر فرق نہ آنے دیں، ورنہ آپ کا بزنس پانی کا بُلبُلہ ثابت ہو گا۔ کون جانتا تھا کہ فریڈ ڈیلوکا ڈاکٹر بن کر لوگوں کا علاج کرنے کے بجائے ان کی غذا کا سامان کرے گا۔ آج میری سب وےکمپنی 106 ممالک میں 41 ہزار 827 ریسٹورنٹ کے ساتھ موجود ہے۔ یہ دنیا میں فاسٹ فوڈز کی نمبر ون کمپنی ہے۔

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

اگر آپ نے فرانس، دبئی، سعودیہ، یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں کی سیر کی ہے تو ضرورت آپ کی نظروں سے

Hilton Hotels & Restaurant

نامی بلند و بالا اور پرشکوہ عمارتیں گزری ہوں گی۔ آئیے! ان کے موجد سے آپ کا تعارف کرواتے ہیں۔ کونرڈہلٹن کو ان عمارتوں کا موجد اول کہا جاتا ہے۔ اس نے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ اعلی تعلیم کے حصول کے بعد ملک میں مختلف ملازمتوں پر فائز رہا۔

وہ فطری طور پر تاجر پیدا ہوا تھا۔ اس لیے ان ملازمتوں میں اسے سکون نہ آتا تھا۔ کیلی فورنیا میں اتھارٹی برائے قانون سازی کا ممبر تھا لیکن بینک میں کام کرنے اور زیادہ پیسے کمانے اور اپنی تجارتی کمپنی چلانے کے خواب دیکھتا تھا۔ انہی خوابوں کی تکمیل کے لیے ہلٹن نے ٹیکساس کا رخ کیا۔ وہ رات کے کسی پہر ٹیکساس پہنچا۔ سفر کی وجہ سے کافی تھک چکا تھا۔ اس نے ایک ہوٹل میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا، جب ہوٹل پہنچا تو ہوٹل استقبالیہ نے سے کمرہ دینے سے معذرت کر لی کیونکہ تمام کمرے پہلے سے بک تھے۔ مزید کسی مسافر کی رہائش کے لیے گنجائش نہ تھی۔
 

ہلٹن کافی پریشان ہوا۔ اس کے دل پہ چوٹ سی لگی۔ اس نے اس محرومی کا مقابلہ انوکھے انداز سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہلٹن نے عزم کیا وہ ٹیکساس میں اپنا ہوٹل کھولے گا۔ اپنے ارادے کی تکمیل کے لیے وہ کمر بستہ ہو گیا۔ بینک میں ملازمت یا تجارتی کمپنی شروع کرنے کے بجائے اس نے ہوٹل بنانے اور خریدنے کا سوچ لیا۔ ہلٹن کی جیب میں صرف 5000 ہزار ڈالر تھے۔ اس نے بیس ہزار ڈالر بینک سے قرض لیا اور پندرہ ہزار ڈالر اپنے دوستوں سے جمع کر لیے۔ چند ہی دنوں میں ہلٹن نے ٹیکساس کے شہر سیسکومیں ایک ہوٹل خرید لیا۔ اس کا کاروبار آہستہ آہستہ پھلنے پھولنے لگا۔ 

اس نے ابتدا سے ہی گاہکوں کا اعتماد حاصل کرنے کی طرف خاص توجہ دی۔ صارفین کی خدمت کے لیے مستعد عملہ اور باقی سہولیات کا بھرپور خیال رکھا۔ اس سے لوگوں کا اعتماد ہلٹن انتظامیہ پر بڑھ گیا۔ دس سال کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ ہلٹن ٹیکساس میں سات بڑے بڑے ہوٹلوں کا مالک بن چکا تھا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں ایک دہائی قبل ہلٹن کو رات ٹھہرنے کے لیے ہوٹل میں ایک کمرہ میسر نہ آیا تھا۔ 

یہ پہلا امریکی ہوٹل ہے جس نے یورپ، اسپین، استنبول، سعودیہ اور دبئی میں اپنی شاخیں کھولیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہلٹن کے ہوٹلوں میں موجود کمروں کی تعداد 10,2000 ہے۔ جو جدید تقاضوں اور سہولیات سے لیس ہیں۔ ہلٹن ہوٹلز کا مرکزی دفتر کیلی فورنیا کے شہر بیفرلی میں واقع ہے۔ جو ریاست ہائے متحدہ امریکا میں 34 سے زائد ہوٹل براہ راست کنٹرول کرتا ہے۔ جبکہ آسٹریلیا سمیت دنیا کے دیگر ملکوں میں 18 سے زائد ہوٹلوں کے سلسلے بھی یہیں سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ 

پوری دنیا میں ان کی مختلف شاخوں کا سلسلہ 180 کے عدد کو چھوتا ہے۔ اس کامیابی کے بعد ہلٹن نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ کنسٹرکشن کا پورا شعبہ ترتیب دیا۔ انجینئروں کی ایک ٹیم، نقشہ نگار اور دیگر عملہ بھرتی کیا تاکہ تعمیرات میں کسی دوسرے کا محتاج نہ رہا جائے۔ نیو یارک سٹی میں لوگوں کا عام خیال تھا کہ ایک شہر میں ایک کمپنی کی دو برانچیں یا ایک کمپنی کے دو ہوٹل کھل جائیں تو ان کی آمدن میں کمی آ جاتی ہے، لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ ہلٹن نے نیو یارک سٹی میں دو ہوٹل کھول کر اس خیال کا شیرازہ بکھیر دیا۔ 

ہلٹن ہوٹل وہ پہلا امریکی ہوٹل ہے جس نے نیو یارک میں اپنے شیئرز بیچے۔ ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ برانچیں رکھنے کا اعزاز بھی اسی کو حاصل ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے ہوٹلوں میں گفٹ سنٹر کھولنا بھی اسی کا کارنامہ ہے۔ گفٹ سینٹر جیسی دیگر کئی سہولیات اور گاہکوں کی خدمت میں انتظامیہ نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ 1959 ء میں ہوٹل انتظامیہ نے ایئر پورٹس اور ہوائی اڈوں میں اپنے ہوٹل کھولنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے ایئر پورٹوں میں یہ سہولت دسیتاب نہ ہوتی تھی۔ اس وقت دنیا کے پچاس سے زائد ایئر پورٹوں میں ہلٹن ہوٹلز اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ کونر ڈہلٹن کی کامیابی کے تین راز ہیں: تعمیری سوچ ، خیال کو حقیقت بنانے میں سنجیدگی اور چیلنجز کا کھلے دل سے مقابلہ۔

کہا جاتا ہے اگر ہلٹن کو اس رات ہوٹل میں آرام کے لیے کمرہ مل جاتا تو آج دنیا ہلٹن ہوٹلز کے پورے سلسلے کے وجود سے محروم ہوتی۔ ہلٹن کو جب کمرہ دینے معذرت کی گئی تو اس نے مثبت اور تعمیری سوچ سوچی۔ اس نے کہا: میں اپنا ہوٹل کھولوں گا۔ اس نے اپنے خیال کو پھر محض خیال نہ رکھا بلکہ عملی جامہ پہنا کر دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کے پاس ہوٹل بنانے کے لیے سرمایہ نہ تھا لیکن وہ گھبرایا نہیں بلکہ بینک اور اپنے دوستوں کی مدد حاصل کی۔ یوں وہ اپنے عزم میں کامیاب ہو گیا۔ آج کیلی فورنیا، نیویارک، شکاگو اور واشنگٹن کے بڑے ہوٹلوں میں کامیاب ہلٹن ہوٹلز سر فہرست نظر آتے ہیں۔ کامیابی اسی شخص کے قدم چومتی ہے جو سوچتا ہے، پھر خیال کو حقیقت کا جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے اس کی سوچ خود بخود حقیقت بننا شروع ہو جاتی ہے۔ 

۔1979 ء میں کونرڈ ہلٹن انتقال کر گیا لیکن اپنے پیچھے کامیابی کے سنہرے اصول چھوڑ گیا۔ اسے ایک کمرے میں آرام کرنے سے محروم کیا گیا تھا، ہلٹن نے کئی لوگوں کے لیے کمرے بنا کر ثابت کر دیا کہ تعمیری سوچ کے حامل شخص کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ ہر چیز کی ابتدا سوچ سے ہوتی ہے۔ پھر انتھک محنت، روز شب کی تگ و دو اور عزم مصمم اس خیال کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

کامیاب تاجر کی سچی داستان ٹھیلے سے میکڈونلڈ تک

Please login or register to see this image.

/monthly_2016_05/MC2.jpg.68cf0c0189271b404100ef3393330706.jpg" alt="MC2.jpg">

مشہور ومعروف امریکی کمپنی ’’میکڈونلڈ‘‘، دنیا میں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کی سب سے بڑی چین ہے۔ اس کمپنی کے 121 ممالک میں 40 ہزار سے زائد ریسٹورنٹ کام کر رہے ہیں۔ اس کے ملازمین کی تعداد دنیا بھر میں 17 لاکھ ہے۔ کہا جاتا ہے ہر 8 امریکیوں میں سے ایک ایسا ہوتا ہے، جس نے اپنی زندگی کے کسی مرحلے میں میکڈونلڈ میں کام کیا ہوتا ہے۔ اس فاسٹ فوڈ کمپنی کے مختلف ادارے کئی شعبوں میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں

جن میں میکڈونلڈ ریسٹورنٹ، ہیم برگر یونیورسٹیز، میک برگرز، میک کیفیز، میکڈونلڈ یو ایس اے میوزیمز، روک میکڈونلڈ، رونالڈ میکڈونلڈ چیرٹی ہائوسز زیادہ مشہور ہیں۔ میکڈونلڈ کی سالانہ آمدنی 28 ہزار 75 ملین ڈالر ہے جو کہ 2014ء میں بڑھ کر 30 ہزار ملین ڈالر سالانہ ہونے کی توقع ہے۔ اس کمپنی سے روزانہ 68 ملین کسٹمرز استفادہ کرتے ہیں اور اس کمپنی کی برانڈ ویلیو 90.3 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ 
یہ سچ ہے مال کا بہت مل جانا کسی کے حق پر ہونے کی علامت ہے نہ ہی محض دولت، آخرت میں نجات کی ضمانت ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے اسباب کا صحیح تر استعمال اور وسائل سے خوب تر استفادہ ضرور فائدہ دیتا ہے۔ استعمال کرنے والا خواہ کوئی بھی ہو۔ غیر مسلم یا غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہمیں بحیثیت فرد اور بحیثیت حکومت یہ سبق دینے کے لیے کافی ہیں کہ اﷲ کے عطا کردہ لامحدود وسائل ہماری معاش اور آخرت کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے کافی وافی ہیں۔ ایک ٹھیلے سے میکڈونلڈ کی صورت میں بزنس کا شاہکار کیسے وجود میں آیا؟ ’’میکڈونلڈ‘‘ میں پیش کی جانے والی کسی بھی آئٹم کی شرعی تائید کا قصد کیے بغیر کامیا ب، محنتی اورکامران جفا کش کی داستان ملاحظہ کرتے ہیں۔

میکڈونلڈ فاسٹ فوڈ کمپنی کی ابتدا ایک ٹھیلے سے ہوئی تھی۔ 1937 ء میں امریکا کے ایک غریب شخص ’’پیٹرک میکڈونلڈ‘‘ نے کیلی فورنیا ریاست کے علاقے منرویا میں منرویا ائیرپوٹ کے قریب برگر کی ایک ریڑھی لگائی، وہ برگر دس سینٹ کا اور اس کے ساتھ اورنج جوس پانچ سینٹ کا بیچتا تھا۔ وہ تین سال اسی طرح ریڑھی لگاتا رہا، پھر 1940ء میں پیٹرک میکڈونلڈ کے دو بیٹوں رچرڈ میکڈونلڈ اور موریس میکڈونلڈ نے کیلی فورنیا میں ’’میکڈونلڈ باربی کیو‘‘ کے نام سے ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک بار بی کیو ہوٹل تھا۔ 1948ء میں ریسٹورنٹ نے اپنے گاہکوں کو بھنے قیمے کے کباب والے برگر (ہیم برگر) فرنچ فرائز اور ملک شیک فراہم کرنا شروع کردیا۔ برگر، ہوٹل کی پہچان بن گئے حتی کہ ہوٹل کے سامنے پلاٹ پارکنگ سے بھرنے لگے اور لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں لگنا شروع ہوگئیں۔ لوگ خوشی سے قطار میں کھڑے ہوتے اور برگر ہاتھ میں لیے مسکراتے چہروں کے ساتھ لوٹتے۔ یہ برگر نہ صرف ذائقے کے اعتبار سے منفرد ہوتے، بلکہ آدھی قیمت پر لوگوں کے لیے جلد از جلد نمٹانے کا بہترین کھانا بھی تھے۔ ٹھیک آٹھ برس بعد رچرڈ اور موریس نے گاہکوں کو جلد از جلد نمٹانے اور کام کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اپنے کچن پکانے کے روایتی طریقوں سے ہٹاکر جدید مشینی آلات سے ہم آہنگ کردیا۔اسی طرح میز کرسی پر سود ا فراہم کرنے کے بجائے انہوں نے ایسا پوائنٹ قائم کردیا جہاں گاہک باہر کھڑکی سے آرڈر کرتے اور وہیں پوائنٹ سے ہی اپنی چیز لے کر آگے روانہ ہوجاتے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دونوں بھائی کم قیمت اوراعلیٰ معیار کے اصول پر بھی مستقل مزاجی سے عمل درآمد کررہے تھے۔ اس چیز نے گاہکوں کی تعداد اور آمدنی میں بہت اضافہ کردیا۔ کاروبار کے حوالے سے ان کا تصور کم قیمت، اعلیٰ معیار اور گاہکوں کے حجم میں اضافے کی بنیاد پر قائم تھا۔1954ء میں انہوں نے ہنگامی طور پر 10 مزید پوائنٹ بنانے کے لیے لائسنس جاری کردیے، لیکن وہاں معیار اور کام اس طریقے سے نہ جم سکا۔ یہ صرف نام کے ہی میکڈونلڈ تھے۔ ایسے میں ملک شیک مکسر بیچنے والا ایک ہوشیار سیلز مین ’’کروک‘‘ اس منظرنامے میں داخل ہوا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ اس کے ذہن میں ایک آئیڈیا تھا۔ یہ آئیڈیا اس نے میکڈونلڈ برادران کے سامنے پیش کیا۔ برادران نے بہت نرمی سے اس بات کو رد کر دیا۔ صرف کیلفورنیا میں ہوٹل چلانا چاہتے تھے، جبکہ کروک چاہ رہا تھا کہ پورے ملک میں اس ہوٹل کی برانچز بنائی جائیں۔ 
کروک اپنی بات پر مسلسل کئی پہلوؤں سے زور دیتا رہا۔حتی کہ وہ برادران کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ تمام انتظامات اور محنت وہ خود کرے گا، جبکہ برادران ایک جگہ پر بیٹھ کراپنی تمام ملکیت کے حقوق وصول کرتے رہیں گے۔ اس سے پہلے کہ کروک فرنچائز فروخت کرنے کا آغاز کرتا، اس نے ڈس پلین  میں اپنا ایک ذاتی میکڈونلڈ ہوٹل قائم کیا۔ جہاں اعلیٰ معیار اور بہترین سروس فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے گئے۔ ہوٹل کا بیرونی خاکہ بالکل اصل میکڈونلڈ کی طرح تھا، اگرچہ ڈس پلین میں ہوٹل کو ویسی جگہ تو نہ مل سکی جیسی جگہ کیلفورنیا کے میکڈونلڈ کی تھی، لیکن پھر بھی ایک دن آیا جب یہ ہوٹل اچھی آمدنی پیدا کرنے لگا۔ اب کروک کو عتماد ہوگیا کہ وہ میکڈونلڈ کی فرنچائز فروخت کرسکتا ہے۔ چنانچہ اس سال 11 اور اگلے برس ملک بھر میں 25 سے زائد یونٹ کام کررہے تھے۔ 
۔1963ء میں ’’میکڈونلڈ‘‘ نے عورتوں اور بچوں میں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے کام کرنا شروع کردیا۔ رونالڈ میکڈونلڈ اور ہیم برگر ہیپی اور دیگر مصنوعات کے لیے مشہور ٹیلی ویژن اناؤنسر ویلارڈ اسکاٹ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ میکڈونلڈ نے اپنی پہلی بین الاقوامی شاخ کا افتتاح 1967ء میں کینیڈا میں کیا۔اس کے بعد 1970ء سے پہلے پہلے لاطینی امریکا، ایشیا، آسڑیلیا اور یورپ میں بھی اس کی شاخیں کھل گئیں۔ 1972ء میں 2200 ریستورانوں کے ساتھ میکڈونلڈ کی آمدنی 1 بلین ڈالر بڑھ چکی تھی۔ 1974ء تک مختصر مدت میں ہوٹلوں کی تعداد 3ہزار تک پہنچ گئی اور آج 120ممالک میں پھیلے 31 ہزار میکڈونلڈ ہوٹلوں میں روزانہ 54 ملین ، جبکہ آمدنی کا تخمینہ 2008 ء میں 22.8 بلین ڈالر سے لگایا گیا اور اب بھی یہی صورت حال ہے۔ میکڈونلڈ کا مصروف ترین پوائنٹ ’’پش کن اسکوائر ماسکو‘‘ میں ہے، جہاں روازنہ 40ہزار سے زائد گاہک آتے ہیں۔ہوٹل کی تاریخی کامیابی کے تین اسباب تھے۔ ’’لیڈر شپ کی مہارت، فرنچائز ماڈل اور گاہکوں کو اپنا بنانا ۔‘

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×