Jump to content
URDU FUN CLUB
Young Heart

مجھے تم سے محبت ہے

Recommended Posts

مجھے تم سے محبت ہے

میں جب بھی اس سے کہتا ہوں
مجھے تم سے محبت ہے
وہ مجھ سے پوچھتی ہے کہ
بتاؤ نا! کہ کتنی ہے؟
میں بازو کھول کر کہتا ہوں کہ
زمیں سے آسماں تک ہے
فلک کی کہکشاں تک ہے
میرے دل سے تیرے دل تک
مکاں سے لا مکاں تک ہے

وہ کہتی ھے، کہ بس اتنی!!!
میں کہتا ھوں
یہ بہتی ھے
لہو کی تیز حدت میں
میرے جذبوں کی شدت میں
تیرے امکاں کی حسرت میں
میرے وجداں کی جدت میں

وہ کہتی ہے
نہیں کافی ابھی تک یہ
میں کہتا ہوں
ہوا کی سرسراہٹ ہے
تیرے قدموں  کی آھٹ ہے
کسی شب کے کسی پل میں
مجسم کھنکھناہٹ ہے
وہ کہتی ہے یہ کیسے فیل (محسوس) ہوتی ھے؟؟
میں کہتا ہوں
چمکتی دھوپ کی مانند
بلوریں سوت کی مانند
صبح کی شبنمی رت میں
لہکتی کوک کی مانند

وہ کہتی ہے
مجھے بہکاوے دیتے ہو؟
مجھے سچ سچ بتاؤ نا
مجھے تم چاہتے بھی ہو
یا بس بہلاوے دیتے ہو؟

میں کہتا ہوں
مجھے تم سے محبت ہے
کہ جیسے پنچھی پر کھولے
ہوا کے دوش پر جھولے
کہ جیسے برف پگھلے اور
جیسے موتیا پھولے

وہ کہتی ھے
مجھے الو بناتے ہو!!
مجھے اتنا کیوں چاہتے ھو؟

میں اس سے پوچھتا ہوں اب
تمھیں مجھ سے محبت ہے؟
بتاؤ نا کہ، کتنی ہے
وہ بازو کھول کے
مجھ سے لپٹ کے
جھوم جاتی ہے
میری آنکھوں کو کر کے بند
مجھ کو چوم جاتی ھے
دکھا کے مجھ کو وہ چٹکی
دھیرے سے مسکراتی ھے
میرے کانوں میں کہتی ھے
فقط اتنی
بس اتنی سی۔۔۔۔!!
  • Like 5

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

وہ کہتی ہے سنو جاناں محبت موم کا گھر ہے

میں کہتا ہوں کہ جس دل میں ذرا بھی بدگمانی ہو
وہاں کچھ اور ہو تو ہو محبت ہو نہیں سکتی

وہ کہتی ہے سدا ایسے ہی کیا تم مجھ کو چاہو گے
کہ میں اس میں کمی بالکل گوارا کر نہیں سکتی

میں کہتا ہوں محبت کیا ہے یہ تم نے سکھایا ہے
مجھے تم سے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں آتا

وہ کہتی ہے جدائی سے بہت ڈرتا ہے میرا دل
کہ خود کو تم سے ہٹ کر دیکھنا ممکن نہیں ہے اب

میں کہتا ہوں کہ یہی خدشے بہت مجھ کو ستاتے ہیں
مگر سچ ہے محبت میں جدائی ساتھ چلتی ہے

وہ کہتی ہے بتاؤ کیا میرے بن جی سکو گے تم
میری یادیں، میری آنکھیں، میری باتیں بھلا دو گے

میں کہتا ہوں کبھی اس بات پر سوچا نہیں میں نے
اگر اک پل کو بھی سوچوں تو سانسیں رکنے لگتی ہیں

وہ کہتی ہےتمہیں مجھ سے محبت اس قدر کیوں ہے
کہ میں اک عام سی لڑکی ہوں تمہیں کیوں خاص لگتی ہوں

میں کہتا ہوں کبھی خود کو میری آنکھوں سے تم دیکھو
میری دیوانگی کیوں ہے یہ خود ہی جان جاؤ گی

وہ کہتی ہے مجھے وارفتگی سے دیکھتے کیوں ہو
کہ میں خود کو بہت ہی قیمتی محسوس کرتی ہوں

میں کہتا ہوں متاع جاں بہت انمول ہوتی ہے
تمہیں جب دیکھتا ہوں زندگی محسوس ہوتی ہے

وہ کہتی ہے بتاؤ نا کسے کھونے سے ڈرتے ہو
بتاؤ کون ہے وہ جسکو یہ موسم بلاتے ہیں

میں کہتا ہوں یہ میری شاعری ہے آئینہ دل کا
ذرا دیکھو بتاؤ کیا تمہیں اس میں نظر آیا

وہ کہتی ہے کہ آتش جی بہت باتیں بناتے ہو
مگر سچ ہے کہ یہ باتیں بہت ہی شاد رکھتی ہیں

میں کہتا ہوں یہ سب باتیں، فسانے اک بہانہ ہیں
کہ پل کچھ زندگانی کے تمہارے ساتھ کٹ جائیں

پھر اس کے بعد خاموشی کا  دلکش رقص ہوتا ہے
یہ آنکھیں بولتی ہیں اور  لب خاموش رہتے ہیں
  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

ساحل
ریت
سمندر
لہریں
بستی
جنگل
صحرا
دریا
خوشبو
بارش
بادل
موسم
پھول
دریچے
سورج
چاند
اور
ستارے
آج یہ سب کچھ نام تمہارے
خواب کی باتیں
یاد کے قصے
سوچ کے پہلو
درد کے آنسو
چین کے نغمے
اترتے وقت کے
بہتے دھارے
آج یہ سب کچھ نام تمہارے
روح کی آھٹ
جسم کی جنبش
خون کی حدت
سانس کی لرزش
آنکھ کا آنسو
ہونٹ کی رنگت
چاہت کے عنوان یہ سارے
آج یہ سب کچھ نام تمہارے

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites


تم جب بھی گھر پر آتے ہو
اور سب سے باتیں کرتے ہو
میں اوٹ سے پردے کی جاناں
بس تم کو دیکھتی رہتی ہوں
اک تم کو دیکھنے کی خاطر
میں کتنی پاگل رہتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو۔

جب دروازے پر دستک ہو
یا گھنٹی فون کی بجتی ہو
میں چھوڑ کے سب کچھ بھاگتی ہوں
اور تم کو جو نہ پاؤں تو
جی بھر کے رونے لگتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو

محفل میں کہیں بھی جانا ہو
کپڑوں کا سلیکشن کرنا ہو
رنگ بہت سے سامنے بکھرے ہوں
اس رنگ پہ دل آ جاتا ہے
جو رنگ کہ تم کو بھاتا ہے
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو

روزانہ اپنے کالج میں
کسی اور کا لیکچر سنتے ہوئے
یا بریک کے خالی گھنٹے میں
سکھیوں سے باتیں کرتے ہوئے
میرے دھیاں میں تم آ جاتے ہو
میں، میں نہیں رہتی پھر جاناں
میں تم میں گم ہو جاتی ہوں
بس خوابوں میں کھو جاتی ہوں
ان آنکھوں میں کھو جاتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو

جس چہرے پر بھی نگاہ پڑے
ہر چہرہ تم سا لگتا ہے
وہ شام ہو یا دھوپ سمے
سب کتنا بھلا سا لگتا ہے
جانے یہ کیسا نشہ ہے
گرمی کا تپتا موسم بھی
جاڑے کا مہینہ لگتا ہے
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو

تم جب بھی سامنے آتے ہو
میں تم سے سننا چاہتی ہوں
کاش کبھی تم یہ کہ دو
تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو
تم بھی مجھ کو بہت ہی چاہتے ہو
لیکن جانے تم کیوں چپ ہو
یہ سوچ کے دل گھبراتا ہے
ایسا تو نہیں ہے نا جاناں
سب میری نظر کا دھوکہ ہے
تم نے مجھ کو چاہا ہی نہ ہو
کوءی اور ہی دل میں رہتا ہو
میں تم سے پوچھنا چاہتی ہوں
میں تم سے کہنا چاہتی ہوں
لیکن کچھ پوچھ نہیں سکتی
مانا کہ محبت ہے پھر بھی
لب اپنے کھول نہیں سکتی
میں لڑکی ہوں کیسے کہ دوں
میں کیسی محبت کرتی ہوں
میں تم سے یہ کیسے پوچھوں
تم کیسی محبت کرتے ہو

چپ چاپ سی میں ہو جاتی ہوں
پھر دل میں اپنے کہتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو

(خلیل اللہ فاروقی)

Share this post


Link to post
Share on other sites

تم کیسی محبت کرتے ہو
(ایک ڈرامے کا ٹائٹل سونگ)


تم جہاں بھی بیٹھ کے جاتے ہو
جس چیز کو ہاتھ لگاتے ہو
میں وہیں پہ بیٹھا رہتا ہوں
اس چیز کو چھوتا رہتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو
میں ایسی محبت کرتا ہوں
بے خواب سجے گلدانوں میں
آنکھوں سے کونپل چنتا ہوں
کوئی لمس اگر چھو جائے تو
میں پہروں اس کو گنتا ہوں
کچھ باتیں سنتا رہتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو
تم جہاں بھی بیٹھ کر جاتے ہو
جس چیز کو ہاتھ لگاتے ہو
میں وہیں پہ بیٹھا رہتا ہوں
اس چیز کو چھوتا رہتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو
میں ایسی محبت کرتا ہوں

 

 

Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

شیریں بھی نہیں لیلیٰ بھی نہیں
میں ہیر نہیں عذرا بھی نہیں
وہ قصّہ ہیں افسانہ ہیں
وہ گیت ہیں پریم ترانہ ہیں
میں زندہ ایک حقیقت ہوں
میں جذبہء عشق کی شدت ہوں
میں تم کو دیکھ کے جیتی ہوں
میں ہر پل تم پہ مرتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟

جب ہاتھ دُعا کو اُٹھتے ہیں
الفاظ کہیں کھو جاتے ہیں
بس دھیان تمھارا رہتا ہے
اور آنسو بہتے رہتے ہیں
ہر خواب تمھارا پورا ہو
اس رب کی منّت کرتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟

مجھے ٹھنڈک راس نہیں آتی
مجھے بارش سے خوف آتا ہے
پر جس دن سے معلوم ہوا
یہ موسم تم کو بھاتا ہے
اب جب بھی ساون آتا ہے
بارش میں بھیگتی رہتی ہوں
قطروں میں تمہی کو ڈھونڈتی ہوں
بوندوں سے تمھارا پوچھتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟

وہ فیض ہو میر ہو غالب ہو
وہ اصغر جگر ہو جالب ہو
وہ سیف عدیم ہو فرحت ہو
وہ ساجد ہو وہ امجد ہو
سب میری فہم سے بالا ہے
کیسا یہ کھیل نرالا ہے
ان سب کو گھنٹوں پڑھتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟

سب کہتے ہیں اس دنیا کا
ہر رنگ تمہی سے روشن ہے
مرے عشق کے دعویدار ہیں سب
سب مجھ کو دیوی کہتے ہیں
پر مجھ کو ایسا لگتا ہے
ہر رنگ تمہی پر جچتا ہے
تم نا ہو تو بیرنگ ہوں میں
بے رونق ہے تصویر مِری
مِرے جذبوں کی سچائی ہو تم
تم سے ہے جڑی تقدیر مِری
جو خاک تمھیں چُھو جاتی ہے
اس مٹی پر میں مرتی ہوں
میں ایسی محبت کرتی ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

مجھے تم سے محبت ہو گئی تھی
کہ تم اپنے اکیلے پن کا دکھ لے کر
مرے رستے میں آئے تھے
تمھاری آنکھ سے تنہائی کا آزار بہتا تھا
سو میں نے تم کو اُن چہروں کی قربت بخش دی
ایسے مناظر تم پہ روشن کردئیے
جن پر بصارت ناز کرنے کے بہانے ڈھونڈ تی ہے
تمھاری گفتگو مایوس سناٹوں کا جنگل تھی
سو میں نے تم کو ایسی محفلوں کی
اولیں صف میں بٹھایا
ایسے لوگوں سے ملایا
جہاں ہونٹوں کی جنبش
نو جواں قصوں میں ڈھلتی ہے
قہقہوں کی رسم چلتی ہے
تمھیں اپنی سماعت سے بھی شکوہ تھا
کہ تم نے نغمگی کے دن نہیں دیکھے
حرف کو آواز کے پہلو میں خوابیدہ نہیں پایا
سو میں بھی گنگاتی

صبح کی مانند لہجوں کو
تمھارے ذوق کی محروم خلوتوں میں بلا لایا
کئی رس گھولتی شامیں

تمھاری روح میں بیدار کر ڈالیں

مگر ہونا وہی تھا
مگرہونا وہی تھا

جو تعلق جوڑنے والوں کا دیرینہ مقدر ہے
گذشتہ رات تم نے مجھ کو
بے مصرف سمجھ کر
اپنے ہنگاموں کی جانب ہی نظر رکھی

لہٰذا اب اجازت دو
مرے رستے کی جانب غور سے دیکھو
وہ دیکھو
ایک درماندہ مسافر
میری قربت کے لئے بے چین لگتا ہے
تم اس کی آنکھ سے
تنہائی کا آزار بہتا دیکھ سکتے ہو
اور اس کی گفتگو
مایوس سناٹوں کا جنگل ہے
اسے اپنی سماعت سے بھی شکوہ ہے
مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں سن کے اسکی سب باتیں
فقط اتنا ہی کہتا ہوں
خفا ہونا، منا لینا
یہ صدیوں سے روایت ہے
محبت کی علامت ہے
گلے شکوے کرو مجھ سے
تمہیں یہ سب اجازت ہے
مگر اک بات میری بھی
ذرا تم یار رکھ لینا
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
ہوا‏ئیں رخ بدلتی ہیں
خزا‏‏ئیں لوٹ آتی ہیں
خطائیں ہو ہی جاتی ہیں
خفا ہونا بھی ممکن ہے
خطا ہونا بھی ممکن ہے
ہمیشہ یاد رکھنا تم
تعلق روٹھ جانے سے
کبھی ٹوٹا نہیں کرتے

Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

نقش کہن

شانوں پہ کس کے اشک بہایا کریں گی آپ

روٹھے گا کون؟ کس کو منایا کریں گی آپ

وہ جارہا ہے صبح محبت کا کارواں

اب شام کو کہیں بھی نہ جایا کریں گی آپ

اب کون خود پرست ستائے گا آپ کو

کس بے وفا کے ناز اٹھایا کریں گی آپ

پہروں شب فراق میں تاروں کو دیکھ کر

شکلیں مٹا مٹا کے بنایا کریں گی آپ

گمنام الجھنوں میں گزاریں گی رات دن

بیکار اپنے جی کو جلایا کریں گی آپ

اب لذت سماعت رھرو کے واسطے

اونچے سروں میں گیت نہ گایا کریں گی آپ

ہمجولیوں کو اپنی بسوز تصورات

ماضی کے واقعات سنایا کریں گی آپ

اب وہ شرارتوں کے زمانے گذر گئے

چونکے گا کون کس کو ڈرایا کریں گی آپ؟

فرقت میں دور گوشہ نشینی بھی آئیگا

ملنے سہیلیوں سے نہ جایا کریں گی آپ

غصے میں نوکروں سے بھی الجھیں گی بار بار

معمولی بات کو بھی بڑھایا کریں گی آپ

پھر اس کے بعد ایک وہ منزل بھی آئے گی

دل سے مرا خیال مٹایا کریں گی آپ

حالات نو بہ نو کے مسلسل ہجوم میں

کوشش سے اپنے جی کو لگایا کریں گی آپ

آئے گا پھر وہ دن بھی تغیر کے دور میں

دل میں کوئی خلش ہی نہ پایا کریں گی آپ

نقش کہن کو دل سے مٹانا ہی چاہیے

گذرے ہوئے دنوں کو بھلانا ہی چاہیے



اُن کا جواب

جب آپ کو قریب نہ پایا کروں گی میں
رُوٹھوں گی خود سے، خود کو منایا کروں گی میں
اب میرے آنسوؤں کی پناہیں نہیں رہیں
اب اپنے آنسوؤں کو چھپایا کروں گی میں
رخصت ہوا ہے صبحِ محبت کا کارواں
اب کس کے پاس شام کو جایا کروں گی میں
ہاں وہ شرارتوں کے زمانے گزر گۓ
اب حسرتوں کے داغ اُٹھایا کروں گی میں
مطلب ہی اب نہیں کسی بات سے مجھے
اب بات بات کو نہ بڑھایا کروں گی میں
انجام کے اداس اندھیروں میں بیٹھ کر
آغاز کے چراغ جلایا کروں گی میں
ہم جھولیوں کو اپنی با سوزِ تصورات
ماضی کا وقت سنایا کروں گی میں
حیرت ہے آپ کا مرے بارے میں یہ خیال
دل میں کوئی خلش ہی نہ پایا کروں گی میں
شکلین بنا بنا کے مٹایا کریں گے آپ
شکلین مٹا مٹا کے بنایا کروں گی میں
حالات سے نباہ، یہ کیا کررہے ہیں آپ
حالات کا مذاق اُڑایا کروں گی میں
کیا ہو گۓ ہیں آپ بھی کچھ مصلحت پسند
کیا اب فریبِ ہجر ہی کھایا کروں گی میں
کیا اِ ضترابِ روح بھی برباد ہو گیا
کیا یوں ہی اپنے دل کو جلایا کروں گی میں
ہے اس روِش کا نام اگر زندگی تو پھر
خود زندگی کو بحث میں لایا کروں گی میں
بس آپ ہی نہ دیجیے یہ مشورے مجھے
ہیں اور بھی ستم جو اُٹھایا کروں گی میں
’’نقشِ کہن‘‘کو دل سے مٹایا نہ جائے گا
گزرے ہوئے دنوں کو بُھلایا نہ جائے گا

(جون ایلیا)

Share this post


Link to post
Share on other sites

میری جان
ٹھیک کہتی ہو
ہماری اس محبت کا

بھلا کیا فائدہ ہو گا ؟
ہمارے درمیاں جو دوریاں ہیں
کم نہیں ہوں گی
کبھی بارش کے موسم میں
ہمیشہ ساتھ رہنے کی

جو خواہش دل میں جاگی تھی
جو سپنے ہم نے دیکھے تھے
وہ سپنے ٹوٹ جا ئیں گے
میری جان
ٹھیک کہتی ہو
مقدر کے لکھے کو ہی

اگر تسلیم کرنا ہے
تو پھر ایسی محبت کا
بھلا کیا فائدہ ہو گا ؟
مگر اس کو
اگر چاہو تو میری بے بسی کہہ لو
مجھے تم سے محبت ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

محبت زندگی ہے اور جب یہ زندگی
دِن رات کی تفریق سے آزاد ہو جائے
تو ماہ و سال کی گِنتی کے وہ معنی نہیں رہتے
جو اَب تک تھے
سِمٹ جاتے ہیں سب رشتے
اک ایسے سلسلے کی خوش نگاہی میں
کہ اک دوجے کی آنکھوں میں ہُمکتے خواب بھی ہم دیکھ سکتے ہیں
جہاں ہم سانس لیتے ہیں
اور جن کی نیلگوں چادر کے دامن میں
ہمارے "ہست" کا پیکر سنورتا ہے
وہ صدیوں کے پُرانے، آشنا اور اَن بنے منظر
کئی رنگوں میں ڈھلتے
خوشبوؤں کی لہر میں تحلیل ہوتے ہیں
زمیں چہرہ بدلتی ہے، آسماں تبدیل ہوتے ہیں
محبت بھی وفا صورت
کسی قانون اور کُلیئے کے سانچے میں نہیں ڈھلتی
کہ یہ بھی انگلیوں کے ان نشانوں کی طرح سے ہے
کہ جو ہر ہاتھ میں ہو کر بھی آپس میں نہیں ملتے
یہ ایسی روشنی ہے
جس کے اربوں رُوپ ہیں لیکن
جسے دیکھو وہ یکتا ہے
نہ کوئی مختلف اِن میں نہ کوئی ایک جیسا ہے
محبت استعارا بھی، محبت زندگی بھی ہے
ازل کا نور ہے اس میں، اَبد کی تیرگی بھی ہے
اِسی میں بھید ہیں سارے، اِسی میں آگہی بھی ہے

(امجد اسلام امجد)

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×