Jump to content
URDU FUN CLUB
tanu1751

چا چی کا دیوانہ

Recommended Posts

میری انٹرنیٹ پر کسی بھی فورم پہ پہلی تحریر ہے اور اردو میں بھی پہلا تجربہ ہے اسلئے کسی بھی لفظی غلطی کی پیشگی معذرت چاہتا ہوں ایک بات کی گارنٹی دیتا ہوں کہ یہ خالصتا میری اپنی اصلی اور حقیقت پر مبنی کہانی ہے میرا نام کاشف ہے اور میرا تعلق پنجاب کے شہر شیخوپورہ کے نواحی علاقےسے ہے لیکن والد صاحب کی نوکری اسلام آباد میں ہو گئی اور میں اور میری فیملی وہاں شفٹ ہو گئے. یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں بارہویں کے امتحان دے کر فارغ ہوا تھا اور دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی اور نیٹ کے استعمال کے علاوہ کوئی اور خاص کام نہیں تھا ایک ایسا کام تھا جو میں بلا ناغہ دسویں کے بعد رات کو سونے سے پہلے کیا کرتا تھا وہ یہ کے پورا ایک گھنٹہ زیتون کے تیل سے اپنے لن کی مالش کیا کرتا تھا اور مالش کی بدولت تقریبا 2 انچ موٹا اور 6 انچ لمبا ہو چکا تھا لیکن بدقستمی سے آج تک اِس کو پھدی کا مزہ نہیں چکھا پایا تھا پِھر ایک دن میری زندگی نے پلٹا کھایا اور مجھے سیکس اور پھدی کی دُنیا سے پہلی دفعہ روشناس کروایا .ہوا کچھ یوں کے میں نے شیخوپورہ اپنےآ با ئی گھر جانے کا پروگرام بنایا جہاں پے اب میری دادی اور دو چچا اور ان کی فیملی کے لوگ رہتے ہیں بڑے چچا کی شادی ہوئی ہے اور سرکاری ملازم تھے اور وہ فوت ہو چکے ہیں ان کے دو بچے ہیں بیٹے کی 16 سال عمر ہے اور بیٹی وہ 14 سال کی ہے اور چھوٹے چچا کی شادی نہیں ہوئی وہ بھی نوکری کرتے ہیں اور وہ بھی سرکاری ملازم ہیں جب میں وہاں شام کو پنچا تو بہت گرمی تھی جون کا مہینہ چل رہا تھا مجھے دیکھ کر وہاں سب خوش ہوئے ہم سب نے مل کے كھانا کھایا اور سونے کی تیاری کرنے لگے گاؤں اور دیہاتوں کا ماحول یہ ہی ہوتا کے لوگ کھلے صحن یا چھت پر سوتے ہیں چھوٹے چچا اور بڑے چچا کا بیٹا نیچے اپنے کمرے میں ہی سوتے تھے ویسے بھی چچا کے بیٹے کو رات کو دیر تک ٹی وی دیکھنے کا شوق تھا چچی نے چھت پر میری بھی چار پائی لگا دی تھی میں سفر کی وجہ سے تھکا ہوا تھا اور چار پائی پے لیٹ گیا اور کچھ دیر میں ہی میری آنکھ لگ گئی رات کو جب سب سوئے ہوئے تھے اچانک مجھے گرمی کی وجہ سے پیاس اور گرمی محسوس ہوئی اور گرمی اور پیاس کی شدت سے میری آنکھ کھل گئی ساتھ چار پائی پر چچی سوئی ہوئی تھی جب وہاں دیکھا تو ان کی چار پائی خالی تھی میں نے سوچا ہو سکتا ہے باتھ روم گئی ہوں یا پیاس لگنے کی وجہ سے پانی پینے کے لیے گئی ہوں میں چار پائی سے اٹھا اور چھت پر بنا ہوا ایک کمرا تھا جس میں پانی کا کولر پڑا ہوا تھا اس کمرے کی طرف چل پڑا جب میں کمرے کے دروازے پے پونچا تو دروازہ بند تھا لیکن دروازے کے نیچے سے ہلکی سی روشنی آ رہی تھی میں تو پہلے حیراں ہوا اگر چچی پانی پینے آئی ہیں تو دروازہ بند کر کے کیوں پانی پی رہی ہیں اور اگر وہ اندر نہیں ہیں تو پِھر یہ روشنی کس چیز کی ہے میں نے دروازے کو ہلکا سا پُش کر کے کھولنے کی کوشش کی تو وہ اندر سے لاک تھا میں ابھی اِس ہی سوچ میں تھا کے مجھے اندر سے کسی کے دروازے کی طرف چل کے آنے کی آواز آئی میں جلدی میں یہاں وہاں دیکھا مجھے کمرے کے ساتھ باہر والی سائڈ پے ایک ڈربہ نظر آیا اس کی بیک سائڈ پے کوئی 2 سے 3 فٹ جگہ خالی تھی میں جلدی میں وہاں جا کےچھپ گیا. کچھ ہی منٹوں کے بعد ہلکا سا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور کوئی باہر نکلا اور ادھر اُدھر دیکھ کے سیدھا ڈربہ کے ساتھ بنی ہوئی کیاری کی طرف آنے لگا میں نے غور سے دیکھا تو مجھے چچی دکھائی دی جو کے کیاری کی طرف آ رہی تھی اور میں کیاری کے ساتھ بنے ہوئے ڈربہ جو کے 4 سے 5 فٹ اونچا تھا اس كے پیچھے پاؤں کے بل بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا لیکن مجھے وہاں کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا لیکن مجھے چاند کی روشنی میں صاف نظر آ رہا تھا جب چچی کیاری کے قریب پنچ گئی تو میں نے دیکھا کے چچی نے شلوار نہیں پہنی ہوئی ہے اور وہ نیچی سے پوری ننگی ہیں. جب وہ کیاری کے پس پنچ گئی تو انہوں نے اپنی قمیض آگے سے جب اُٹھائی تو مجھے جھٹکا سا لگا چچی واقعہ ہی نیچے سے پوری ننگی تھی اور میں نے پہلی دفعہ چچی کی صاف سُتھری بالوں سے صاف چکنی پھدی دیکھی . حیرت کا دوسرا جھٹکا اور لگا کے 2 بچوں کی پیدائش کے بعد بھی ان کی پھدی کسی بُندمٹھی کی طرح تھی جیسے کنواری گوری لڑکیوں کی میں نے موویز میں دیکھی تھی. چچی نے آہستہ آہستہ اپنی پھدی پے ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور کچھ ہی دیر میں نے دیکھا کے ان کی پھدی سے پیشاب کی ایک تیز دھا ر سیدھا کیاری کی مٹی پر گرنے لگی اور اس وقعت جو آواز میرے کانوں میں گھونج رہی تھی وہ مجھے مدھوش کر رہی تھی میں یہ نظارہ کوئی ایک منٹ تک دیکھتا رہا جب وہ وہاں سے فارغ ہوئی تو دوبارہ اس ہی کمرے کی طرف واپس چلی گئی . میں ان کے جانے کے کوئی دو منٹ کے بعد چپکے سے وہاں سے نکلا اور کمرے کی طرف گیا اور اب کی بار دروازہ ہکا سا کھلا ہوا تھا لیکن ہلکی سی روشنی پِھر آ رہی تھی میں نے آہستہ سے تھوڑا دروازے کو پُش کیا اور صرف آدھا جسم ہی اندر کر کے جھانکا تو تھوڑا اندھیرا ہونے کے باوجود اندر کا جو منظر دیکھا وہ میرے ہوش ہی اڑا دینے کے لیے کافی تھا اندر چچی لیفٹ سائڈ پے ایک کونے میں چٹآ ئی کے اوپر پوری ننگی گھوری بنی ہوئی تھی اور ان کی پشت دروازے کی طرف اور منہ دوسری طرف تھا اور ان کے ایک ہاتھ میں 7 انچ سکریں والا کیو موبائل تھا .جس میں ایک سیکس فلم چل رہی تھی اور فلم میں لڑکا لڑکی کو گھوری بنا کے ہی چودھ رہا تھا اور چچی کا دوسرا ہاتھ نیچے سے اپنی پھدی پے تھا اور وہ اپنی درمیانی بڑی انگلی پوری اپنی پھدی کے اندر باہر کر رہی تھیں اور آہستہ آہ آہ اوہ اوہ کی آوازیں نکل رہی تھیں . دوسری چیز جو حیران طلب تھی وہ یہ کے چچی کا پورا کا پورا جِسَم مست تھا ان کا قد 5 ’ 3 " انچ تھا اور 2 بچوں کی بعد بھی ان کا جسم بالکل سڈول اور فٹ تھا . . معمولی سا پیٹ نکلا ہوا تھا نا ہونے کے برابر اور ان کے ممے ٹائیٹ اور موٹے موٹے تھے اور سب سے زیادہ ان کے جِسَم کی خاص بات ان کی گانڈ تھی جو کے ان کی کمر اور پیٹ کے لحاظ سے کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی .اِس منظر کے دوران میری نظر چٹآ ئی پے گئی تو ایک گاجر دیکھی جو کے سائز میں 4 انچ تک لمبی اور 1 انچ تک چوڑی نظر آ رہی تھی میں یہ ہی سوچ رہا تھا کے میں نے موبائل پے غور سے دیکھا تو فلم میں اب لڑکا لڑکی کی گانڈ میں اپنا لن ڈال رہا تھا اور لڑکی چیلا رہی تھی چچی نے موبائل کی آواز اتنی ہی رکھی تھی کے آواز کمرے سے باہر سنائی نہیں جا سکتی تھی . چچی نے وہ گاجر اُٹھائی پہلے اس کو منہ میں ڈال کے تھوڑا گیلاکیا اور پِھر نیچے سے ہاتھ ڈال کے اس کو اپنی گانڈ کی موری پے رکھ کے ہلکا سا پُش کیا تو میں حیراں ہو گیا کےنصف گاجر آسانی سے اندر چلی گئی .یہ نظارہ دیکھ کے میں ہوش کھو بیٹھا اور اپنی شلوار کا نالہ ڈھیلا کیا اور شلوار میں ہاتھ ڈال کے اپنے لن کی مٹھ مارنے لگا میرا لن اس وقعت لوہے کی را ڈ کی طرح سخت ہو چکا تھا گانڈ کی موری میری سب سے بڑی کمزوری تھی . یہ بات نہیں ہے کے میں کوئی لونڈے باز ہوں اور نا ہی ایسا کوئی شوق رکھتا ہوں . . لیکن لڑکی کے معاملے میں گانڈ کا دیوانہ ہوں. چچی گاجر کو اندر باہر کر رہی تھی اور آہستہ آہستہ کرا ہ رہی تھی فلم میں جب لڑکے نے اپنی رفتار تیز کی تو میں نے دیکھا کے چچی بھی مزید گرم ہوں گئی ہیں اور یکا یک میں نے دیکھا انہوں نے گاجر کو تھوڑا اور پُش کیا تو وہ پوری اندر باہر ہونے لگی اور چچی بھی فل مستی میں آ گئی اور میں نے بھی مٹھ تیز کر دی مستی میں میری آنکھیں بند ہوں گئی میں چچی کی گانڈ کا تصور کر کے مست ہو گیا . . . جب 8 سے10 منٹ کے بعد میری منی کا فوارہ چھو ٹا تو میں تصور ات کی دُنیا سے واپس آ گیا اور جب آنکھیں کھولیں تو میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی

 

جب میں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا چچی کا رنگ اڑا ہوا تھا اور ان کی نظر کبھی میرے لن کی طرف اور کبھی میرے چہرے پے تھی اور میں ابھی خوف اور شرمندگی کی ہی سوچ میں تھا کے چچی کی آواز میرے کا نوں تک پہنچی کا شی تم یہاں کیا کر رہے ہو تو میں بغیر چچی کی طرف دیکھے تیزی سے چلتا ہوا سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے باتھ روم میں جا کر اندر سے لاک لگا لیا اور خوف اور شرمندگی سے سوچنے لگا کے آب آگے کیا ہو گا میں چچی کا سامنا کیسے کروں گا اگر انہوں نے کسی کو بتا دیا تو ابو کی مار اور خاص کر سب سے چھوٹے چچا کے با رے میں سوچ کر ہی میری پھٹ کے ہاتھ میں آ گئی میرے چھوٹے چچا سخت طبیعت کے مالک تھے اور میں نے بچپن میں ان بہت دفعہ مار کھائی تھی

 


میں وہاں نصف گھنٹے تک بیٹھا رہا اور سوچتا رہا اور پِھر ہمت کر کے اٹھا منہ ہاتھ دھویا اور اپنے لن کی صفائی کی اور دبے پاؤں چلتا ہوا چھت پے آ گیا اور پہلے چچی کی چار پائی دیکھی تو وہ دوسری طرف منہ کر کے لیٹی ہوئی تھی میں چپکے سے آ کر بغیر کوئی آواز کیے ہوئے اپنی چار پائی پے آ کے لیٹ گیا اور صبح کا انتظار کرتے کرتے نا جانے کب آنکھ لگ گئی اور سو گیا . . . صبح کوئی 9 بجے کا وقعت تھا جب چچی کی بیٹی نے مجھے آ کے جگایا کے کا شی بھائی اٹھو دادی اور امی نیچے ناشتےکے لیے بلا رہی ہیں ..


میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھا اور سیدھا باتھ روم میں گھس گیا اور نہا دھو کے ناشتے کے لیے سب کے ساتھ بیٹھ گیا دادی اور بچے بھی ناشتہ کر رہے تھے چھوٹے چچا اخبار پڑھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ ناشتہ بھی کر رہے تھے اور چچی کچن سے چیزیں لا کر ناشتہ لگا رہی تھیں میں چوری چوری چچی کی طرف ہی دیکھ رہا تھا . . جب ناشتہ لگ گیا تو چچی بھی آ کر ناشتہ کرنے لگیں جب میری اور چچی کی نظریں ملی تو ہم دونوں نے نظریں چرا لی . . ہم دونوں ایک سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے
میں بار بار چچی کی طرف دیکھ رہا تھا اچانک چچی نے مجھے قہر آلود نظر سے دیکھا تو میں دَر گیا اور منہ نیچے کر کے ناشتہ کرنے لگا اور ایک عجیب سا خوف تھا دِل میں کے چچی نے ناشتے کے بعد اگر چچا کو بتا دیا تو میری خیر نہیں ہے آج . . اِس ہی سوچ میں نوالہ حلق سے مشکل سے اُتَر رہا تھا . . . میں ان ہی سوچوں میں گم تھا کے چچا بولے بچو بیگس اٹھا لو سکول جانے کا وقعت ہو گیا ہے . . . اور مجھے کہا کا شی بیٹا شام کو ڈیوٹی کے بعد تم سے باتیں کریں گے میں نے بس اتنا ہی کہا.. جی چچا . . اور وہ چند منٹ کے بعد بچوں کے ساتھ چلے گئے.
دادی اپنے کمرے میں چلی گئی اور چچی نے برتن اٹھا کے کچن میں رکھنے شروع کر دیئے میں بھی چپکے سے اٹھا اور ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کے ٹی وی دیکھنے لگا ٹی وی میں خاص دِل نہیں لگ رہا تھا بار بار ایک ہی بات دماغ میں آ رہی تھی کے ابھی تک چچی نے چچا کو رات والی بات نہیں بتائی ہے . . لیکن وہ چچا کو کسی بھی ٹائم بتا دیں گی تو پِھر کیا ہو گا بس یہ ہی خوف مجھے کھاے جا رہا تھا,
کچن میں سے چچی کے برتن دو هنے کی آواز آ رہی تھی پِھر کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کے چچی پورے گھر میں جھاڑو دینے لگی پہلے صحن میں پِھر باقی کمروں میں بھی جب وہ ٹی وی والے کمرے میں آئی اور مجھے تھوڑا رو کھے سے انداز میں بولا کے کا شی باہر جاؤ مجھے کمرہ صاف کرنے دو.. صفائی کے بعد بیٹھ کے ٹی وی دیکھ لینا . . میں خاموشی سے اٹھا اور باہر صحن میں پری ہوئی چار پائی پئے آ کے بیٹھ گیا ، ، اور پِھر کچھ دیر بعد میں نے دیکھا چچی ٹی وی والے کمرے سے صفائی کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی .. اور میں پِھر ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور ٹی وی لگا لیا لیکن دماغ کہیں اور تھا . . تھوڑی دیر بعد کمرے کی کھڑکی سے دیکھا کے چچی اپنے کمرے سے نکل کر باتھ روم کی طرف جا رہی ہیں اور پِھر اندر داخل ہو کر اندر سےدروازہ لاک ہونے کی آواز آئی 
میرے دماغ میں پِھر شیطان نے دستک دی اور میں رات والے واقعہ کے با رے میں سوچنے لگا اور دماغ میں پِھر چچی کے موٹے موٹے ممے اور ان کی گانڈ کی موری کا سوچ کر ہی میرے لن نے انگڑائی لی اور میرا ہاتھ ایک مرتبہ پِھر شلوار کے اوپر ہی اپنے لن کو مسلنے لگا اور میرے تن بدن میں گرمی بھرنے لگی . . اور میں آہستہ آہستہ چچی کی گانڈ کی موری کا سوچ کا مٹھ مارنے لگا..
اچانک میں وہاں سے اٹھا اور باتھ روم کی طرف چلنے لگا اور باتھ روم کے دروازے کے پاس پہنچ کر میں دروازے کے اندر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا لیکن دروازہ لوہے کا بنا ہوا تھا اور اس میں کوئی خاص ایسی جگہ نہیں تھی جس سے اندر دیکھا جا سکتا تھا اور میرے بدن کی گرمی نے مجھے پاگل کر دیا تھا اور میں ساتھ ساتھ اپنا لن مسل رہا تھا اور اندر دیکھنے کے لیے جگہ تلاش کر رہا تھا یکدم مجھے جہاں دروازے کا لاک تھا اس کے بالکل نیچے چھوٹا سا سوراخ نظر آیا میں نے فوراً وہاں آنکھ لگائی اور اندر دیکھا تو اندر کا منظر دیکھ کر حو ش کھو گئےاس وقعت چچی نل کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوئے انداز میں تھوڑی جھکی ہوئی تھی اور ٹانگوں کو تھوڑا سا کھولا ہوا تھا اور ہاتھ کو نیچے سے لا کر صابن کو اپنی گانڈ کی دراڑ میں آہستہ آہستہ رگڑ رہی تھی اور ہلکی ہلکی کرا رہی تھی 
تھوڑی دیر بعد انہوں نے صابن کی بجائے اپنی درمیانی بڑی انگلی اپنی گانڈ کی موری کے اندر اور باہر کرنا شروع کر دی اور پوری انگلی گانڈ کے اندر لیتی رہی کچھ دیر بعد وہ سیدھی ہوئی اور اپنا منہ دروازے کی طرف کر لیا میں دَر کے مارے فوراً ہٹ گیا . . لیکن کچھ دیر بعد ڈرتے ڈرتے میں نے پِھر دیکھا تو اب کی بار ان کی بالوں سے سُتھری پھدی بالکل میرے آنکھوں کے سامنے تھی اور پھدی کے ہونٹ آپس میں بالکل جوڑے ہوئے تھے . . اور پِھر چچی نے اپنی انگلی کو اپنی پھدی کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا ، ، میں دیکھ رہا تھا کے چچی کی اور تیز تیز آواز نکل رہی تھی پِھر وہ دو انگلیاں یک مشت اندر باہر کرنے لگیں اور تیز تیر مٹھ مارنے لگیں اور میں یہ نظارہ دیکھ کر شلوار کے اوپر ہی اپنے لن کی مٹھ لگا رہا تھا اور جیسے چچی تیزی سے مٹھ لگا رہی تھی میں باہر لگا ہوا تھا اور چند منٹ کے بعد ہی میں نے دیکھا کے ان کی پھدی سے ڈھیر سارا پانی نکل کر ان کی ٹانگوں کے درمیان بہہ رہا تھا اور پِھر ان کے فارغ ہوتے ہی میں نے بھی شلوار کے اندر ہی منی کا فوارہ چھو ر دیا


میں ابھی اِس نظارے میں مگھن تھا کے چچی نیچے بیٹھ گئی اور ان کا منہ تو پہلے ہی دروازے کی طرف تھا اور مجھے یوں لگا کے انہوں نے مجھے سوراخ سے دیکھتے ہوئے دیکھ لیا ہے وہ اس وقعت بالکل سوراخ کی طرف دیکھ رہی تھی میری تو اس وقعت پھٹ کے ہاتھ میں آ گئی اور میں وہاں سے بھاگتا ہوا دادی کے ساتھ والے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر کے بیٹھ گیا اور خوف سے پاگل ہو گیا اور سوچنے لگا كے یہ میں نے پِھر کیا غلطی کر دی ہے آب تو میری خیر نہیں ہے اور چچی آج ضرور چچا کو بتا کر رہیں گی اور میری آج شامت اے گی
میں اِس ہی کشمکش میں بیٹھا ہوا سوچ رہا تھا کے آگے کیا ہو گا میرے ساتھ… تھوڑی ہی دیر بعد مجھے باتھ روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور پِھر کسی کے قدموں کی آواز آہستہ آہستہ میرے کانوں میںگونجنے لگی اور وہ آواز جس کمرے میں بیٹھ ہوا تھا اس کے نزدیک آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اور میر دِل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی جیسے ہی وہ آواز کمرے کے پاس پہنچی تو میں خوف سےکانپنے لگا لیکن پِھر مجھے ساتھ والے کمرے کے دروازے کے بند ہونے کی آواز آئی اور تھوڑی سی خاموشی ہو گئی ساتھ والا کمرا چچی کا اپنا بیڈروم تھا میں نئے ہمت کی اور آہستہ سے چلتے ہوئے کمرے کے دروازے کا لاک کھولا جس میں بیٹھا ہوا تھا اور تھوڑا سا کھول کے باہر دیکھا تو ساتھ والا کمرا بند تھا میں تھوڑا سا سکون میں آیا اور واپس دروازہ بند کر کے اندر کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور دروازہ لاک نہیں کیا اور چار پائی پے بیٹھ کر سوچنے لگا کے اگر چچی مجھے سے خود بات کرتی ہے تو آگے سے کیا جواب دوں گا اور اگر وہ شام کو چچا کو بتا دے گی تو کیسے بچ سکوں گا..میں ان ہی سوچوں میں گم سم بیٹھا تھا اور کوئی نصف گھنٹے کے بعد یکدم مجھے میرے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور میں نے منہ اٹھا کے دیکھا تو سامنے دروازے پے چچی تھی اور ان کو دیکھ کر میرا رنگ پیلا ہو گیا اور وہ کمرے میں داخل ہوئی اور دروازہ بند کر دیا اور چلتی ہوئی میں جس چار پائی پر بیٹھ تھا اس کے سامنے والی چار پائی پر آ کر بیٹھ گئی اور تھوڑی دیر کے لیے خاموشی ہو گئی . . . . میں خوف سے ان کے ساتھ آنکھیں نہیں ملا سکتا تھا اِس لیے میں منہ نیچے کر کے بیٹھا ہوا تھا کوئی 5 منٹ کی خاموشی کے بعد چچی کی آواز میرے کانوں میں گونجی . . . انہوں نے کہا کا شی تم آخر ایسا کیوں کر رہے ہو شرم نہیں آتی تم رات کو بھی بغیر اِجازَت کمرے میں آ گئے اور وہاں پے بیہودہ حرکت کر رہے تھے اور آج باتھ روم میں بھی یہ ہی حرکت کی ہے . . . میں تمہاری چچی ہوں تمہاری ماں برابر ہوں اور تم مجھ پر گندی نظر رکھتے ہو..
میں بس ان کی ب باتیں سن رہا تھا لیکن آگے سے جواب دینے کی ہمت مجھ میں نہیں تھی . . انہوں نے پِھر سخت لہجے میں کہا جواب دو آگے سے بولتے کیوں نہیں . . . میں اب ان کو کیا جواب دیتا غلطی میری اپنی تھی . . پِھر چچی بولی آج میں تمھارے چچا کو شام کو بتا یں گی کے تم کتنے گندے دماغ کے ہو… تا کہ وہ تمہار ے دماغ سے گند نکال سکے . . . ان کی بات سن کر میری پھٹ کے ہاتھ میں آ گئی میں فوراً اٹھا اور چچی کے پاؤں میں گر گیا اور ان سے مانگنے لگا اور ان سے معاف کی بھیک مانگنے لگا اور دوبارہ سے ایسی حرکت نا کرنے کی توبہ کرنے لگا اور بار بار ان سے کہنے لگا چچی مجھے معاف کر دے چچا کو نہ بتا ےمیں دوبارہ کبھی بھی نہیں کروں گا..
تھوڑی دیر بعد چچی کو مجھے پے رحم آ گیا . . انہوں نے کہا کہ میں آج تمہیں معاف کر رہی ہوں اور چچا سے بھی بات نہیں کروں گی لیکن آئِنْدَہ ایسی حرکت ہوئی تو یاد رکھنا مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ، ، ، میری جان میں جان آئی اور میں نے کہا چچی میں وعدہ کرتا ہوں آئِنْدَہ ایسا کبھی نہیں ہو گا اور پِھر وہ اٹھ کر باہر چلی گئی.. میں چار پائی پے لیٹ گیا اور سوچنے لگا چل کا شی بیٹا آج تو بچت ہو گئی آگے سے بہت مہتات رہنا ہو گا.. پِھر اِس طرح ہی کچھ دن گزر گئے ہو میں بھی نارمل ہو گیا اور چچی سے بھی سی بات چیت ہوتی رہی اور چچا اور باقی سب گھر والوں سے بھی اٹھنا بیٹھنا چلتا رہا…
پِھر ایک دن دوپہر کے وقعت دادی اپنے کمرے میں تھی اور چچی بھی گھر کا کام ختم کر کے اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی اور بچے 3 بجے گھر آتے تھے اور چچا 5 بجے آتے تھے . . مجھے خیال آیا سب اپنے کمروں میں ہیں اور ٹائم بھی اچھا ہے اور میں اپنا زیتون کا تیل بھی ساتھ لے کر آیا ہوا تھا میں نے بیگ سے تیل کی شیشی نکالی اور چچی کے ساتھ والا کمرا اس میں ہی دروازہ بند کر کے اپنی چار پائی پر بیٹھ گیا اور اپنی شلوار پوری اُتار دی اور تیل سے اپنے لن کی مالش کرنے لگا میں نے سوچا ابھی کوئی بھی تنگ نہیں کرے گا اور اپنے موبائل پے سیکس ویڈیو لگا لی اور اس کو دیکھ کر اپنے لن کی مالش کرنے لگا لیکن آواز کو اتنا ہی رکھا کے صرف میرے کانوں تک ہی پہنچ سکے اور مالش میں مشغول ہو گیا..
میں اپنے لن کی مالش اور ویڈیو دیکھنے میں اتنا مشغول تھا کہ مجھے کوئی خبر نہیں کہ کب کمرے کا دروازہ کھلا جو کہ مجھے لاک کرنا یاد نہ رہا اور کب سے چچی مجھے مالش کرتی ہوئی دیکھ رہی تھی جیسے ہی میری نظر چچی پر پری تو لن کی مالش کے رفتار اور چچی کا میرے لن کے اوپر نظریں گھا ڑ ے ہوئے اور میرے جذبات بے قابو ہونے سے منی کا فوارہ سیدھا ہوا میں اڑتا ہوا چار پائی سے نیچے گر رہا تھا اور جیسے ہی چچی کی نظر میری نظر سے ملی وہ یکدم دروازہ بند کر کہ اپنے کمرے میں چلی گئی مجھے ان کا کے کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی اور میں ہوش میں آ گیا …
میں نے جلدی سے شلوار پہنی اور بھاگتا ہوا چچی کے دروازے کو کانپتے ہوئے ہاتھ سے دستک دی تو اندر سے ہلکی سی آواز آئی کون ہے میں نے کہا چچی میں ہوں وہ تھوڑا اونچی آواز میں بولی ابھی تم جاؤ مجھے تم سے ابھی کوئی بات نہیں کرنی . . میں نے دوبارہ الجا ییا لہجے میں کہا چچی بس ایک دفعہ میری بات سن لیں تھوڑی سی خاموشی کے بعد آواز آئی آ جاؤ میں نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا اور نظریں جھکائے ہوئے اندر داخل ہوا تو چچی نے کہا دروازہ بند کر دو میں نے دروازہ بند کر دیا تو انہوں نے کہا یہاں آؤ بیڈ پے بیٹھو میں ڈرتے ڈرتے بیڈ کے دوسرے کنارے پے جا کر کھڑا ہو گیا . . وہ پِھر بولی بیٹھ جاؤ میں چُپ کر کے بیٹھ گیا اور خاموش ہو گیا . . . انہوں نے کہا بولو کیا کہنا ہے
میں نے مسكین سی شکل بنا کے اور آہستہ سی آواز میں کہا چچی مجھے معاف کر دیں میری سے غلطی ہو گئی ہے . . . تو وہ آگے سے بولی کا شی مجھے سمجھ نہیں آتی کے تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے تم جب سے آ ے ہو عجیب سی اور گندی گندی حرکات کر رہے ہو . . بیٹا یہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اگر تمھارے چچا کو پتہ چل گیا تو تمہاری شامت آ جائے گی . . میں خاموشی سے بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا . . . دوبارہ انہوں نے کہا کا شی تم یہ سب کیوں کرتے ہو کچھ تو اپنا خیال کرو جو تم حرکت ابھی کر رہے تھے یہ تمہاری صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے تم کیوں نہیں سمجھتے ہو . . . میں نے بہت ہلکی سی آواز میں کہا میں کیا کروں مجھے سے کنٹرول نہیں ہوتا . . . چچی نے فوراً کہا . . کیا کہا تم نے . . . میں مزید دَر گیا . . . . چچی بولی بیٹا یہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے تم سمجھتے کیوں نہیں ہو . . انہوں نے کہا یہ سب چھور دو میں نے کہا چچی میں کوشش کروں گا دوبارہ نا کروں لیکن آپ کسی کو نا بتائیں . . . انہوں نے کہا ٹھیک ہے تم دوبارہ نہیں کرو گے تو میں کسی سے بھی بات نہیں کروں گی . . . میں نے کہا شکریہ تو میں اٹھ کر باہر جانے لگا تو میرا لن تو ویسے بھی مالش اور منی کے نکلنے سے گیلا تھا تو اِس سے میرے شلوار پوری آگے سے گیلی ہوئی تھی چچی نے کہا یہ شلوار اُتار کے مجھے دو میں اِس کو دھو دیتی ہوں ساری شلوار گندی کر دی ہے . . میں نے کہا جی اچھا . . جب باہر جانے لگا تو انہوں نے پِھر پوچھا یہ تیل کون سا ہے اور کہاں سے لے ہو . . میں خاموش ہو گیا تو پِھر وہ بولی بتاؤ بھی میں نے کہا وہ میں اسلام آباد سے لے کر آیا تھا اور یہ زیتون کا تیل ہے . . پِھر انہوں نے پوچھا تیل کے ساتھ کیوں کرتے ہو . . تو میں خاموش ہو گیا اور جواب دینے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی . . پِھر انہوں نے پوچھا بتاؤ بھی . . میں نے آہستہ سے کہا وہ مجھے بتاتے ہوئے شرم آتی ہے . . تو انہوں نے طنزیہ کہا کیوں جب کر رہے تھے تو شرم نہیں آتی اور بتاتے ہوئے شرم آتی ہے . . میں ان کی بات سن کر شرمندہ ہو گیا . بولو تیل کے ساتھ کیوں کرتے ہو . . میں نے پِھر ہمت کر کے کہا کے اِس سے لن لمبا اور مضبوط ہوتا ہے . . انہوں نے کہا یہ سب تم کو کس نے سکھایا ہے . . میں نے کہا کسی نے بھی نہیں بس انٹرنیٹ سے پتہ لگا تھا . . اور میں یہ بتا کے تیزی سے باہر نکل گیا…
اس کے بَعْد میں نے اپنی شلوار بَدَل کر گندی شلوار کو باتھ روم کے اندر واشنگ مشین میں رکھ دیا اور جا کر ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کے ٹی وی دیکھنے لگا اس دن پِھر کچھ خاص بات نا ہوئی چچا کے ساتھ رات باتیں ہوتی رہی وہ پڑھائی کے متعلق پوچھتے رہے اور میں رات کو سونے تک چچی سے کتراتا رہا اور دن گزر گیا . . اگلے دن میں صبح اٹھا اور ناشتہ کیا سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے میں ٹی وی والے کمرے میں جا کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا . . 
میں ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ کوئی 2 گھنٹے بَعْد چچی اپنا کام ختم کر کے ٹی وی والے کمرے میں آئی اس وقعت کوئی ساڑھے دس کا ٹائم تھا اور آ کر بولی کا شی بیٹا یہ پیسے لو اور بازار سے جا کر دن کو پکانے کے لیے سبزی لے آؤ اور مجھے پیسے دے کر جانے لگی تو دروازے کے پاس پہنچ کر دوبارہ بولی کے گھر کی چابی کچن کے دروازے کے ساتھ کیل پر لٹکی ہوئی ہے جاتے ہوئے لے جانا ہو سکتا ہے جب تم واپس آؤ میں باتھ روم میں نہا رہی ہوں تو تم دروازہ خود ہی باہر سے کھول کے اندر آ جانا . . میں نے کہا جی ٹھیک ہے اور وہ اپنے کمرے میں چلی گئی . . میں وہاں سے اٹھا چابی لی اور باہر کی طرف نکل گیا . . . یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ بازار ہمارے گھر سے کوئی تقریباً 1 کلو میٹر دور تھا آنے اور جانے اور سبزی خریدنے میں مجھے تقریباً 2 گھنٹے لگنے تھے اور میں پیدل ہی چلنے کا سوچا اور ٹائم بھی گزر جانا تھا اور بازار کی طرف نکل گیا میں گھر سے کوئی تھوڑی دور ہی آیا تھا کے میرے پیچھےسےموٹربائیک آئی اور میرے پاس آ کر رکی میں نے غور کیا تو وہ ہما را ہمسایہ تھا ندیم چچا مجھے دیکھ کر رک گئے تھے اور مجھ سے بولی کا شی بیٹا کہا ں جا رہے ہو میں نے کہا چچا بازار جا رہا ہوں سبزی لنے تو وہ آگے سے بولے آؤ بیٹا بیٹھو میں بھی بازار ہی جا رہا ہوں میڈیکل اسٹور سے دوائی لینی تھی . میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور ہم بازار چلے گئے وہاں سے میں نے سبزی لی اور چچا نے بھی دوائی لی اور ہم کوئی تقریباً 30 منٹ میں ہی واپس آ گئے اور انہوں نے مجھے میرے گھر کے سامنے اتارا میں نے ان کا شکریہ ا دا کیا اور وہ اپنے گھر چلے گئے میں اپنے دروازے پے کھڑا اور گھنٹی دینے لگا تو مجھے یاد آیا کے میرے پاس چابی جو ہے اور ویسے بھی چچی باتھ روم میں نہا رہی ہو گی میں نے سبزی کا تھیلہ نیچے رکھا اور جیب سے چابی نکال کے دروازہ کھولا اور سبزی کا تھیلہ اٹھا کے اندر داخل ہو گیا جب میں اندر داخل ہوا تو صحن میں مجھے موٹربائیک کھڑی نظر آئی میں نے غور کیا تو حیران ہوا چچا کی موٹر بائیک تو یہ نہیں ہے اور وہ اِس ٹائم گھر نہیں ہو سکتے وہ تو ڈیوٹی پے گئے ہوئے تھے اور وہ شام کو 5 بجے آتے تھے تو یہ کس کی موٹر بائیک ہے خیر میں نے دروازہ بند کیا اور سبزی والا تھیلہ اٹھا کے کچن میں رکھا اور چابی بھی کیل کے ساتھ دوبارہ لٹکا دہی اور کچن میں رکھی فریج میں سے ٹھنڈا پانی پیا اور پِھر ٹی وی والے کمرے کی طرف چل پڑا جب میں کچن سے نکل کر چچی کےکمرہ جو کے کچن کے ساتھ بنا ہوا تھا وہاں سے گزرا تو مجھے ان کے کمرے دروازے کے پاس سے عجیب سی ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی تھی میں چونک گیا اور ایک سائڈ پے ہٹ کر کھڑا ہو کر سوچنے لگا کے یہ کس قسِم کی آوازیں ہیں میں نے دیکھا دروازہ بھی بند ہے میں نے آہستہ سے دروازے کا ہینڈل گھما کر کھول کر دیکھنے کی کوشش کی تو مایوس ہوا دروازہ اندر سے لاک تھا
میں دَر بھی رہا تھا اور سوچ رہا تھا کے اندر کیسے دیکھوں کہ اندر سے کس چیز کی آوازیں آ رہی ہیں . . پِھر میں کمرے کی کھڑکی طرف لپکا کے ہو سکتا ہے کہ وہاں سے اندر دیکھ سکوں جب میں نے کھڑکی کے پاس دیکھا تو مجھے کھڑکی کے دوسرے کونے سے پردہ تھوڑا سا ہٹا ہوا نظر آیا میں نے بہت ہی احتیاط سے اندر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا اب کی دفعہ میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا جیسے ہی میں نے اس جگہ سے اندر دیکھا تو اندر کا منظر دیکھ کر میں اپنے حواس کھو بیٹھ کیوں اندر کا منظر میرے لیے دِل دِھلا دینے کے لیے کافی تھا اندر میں نے دیکھا سامنے صوفہ پر چچی کا کزن ماموں کا بیٹا شوکت جو کے شیخوپورہ میں سرکاری اسکول کا استاد تھا وہ صوفے پر بالکل ننگا بیٹھا ہوا تھا اور اس کا رخ کھڑکی کی طرف تھا لیکن منہ اوپر چھت کی طرف تھا اور آنکھیں بند تھیں اور چچی اس کے آگے پوری ننگی گھوری بنی ہوئی تھی اور ان کا منہ شوکت انکل کی گود میں اوپر نیچے ہو رہا تھا اور گانڈ کا رخ کھڑکی کی طرف تھا جو کہ یقیناً وہ انکل کے لن کے چو پے لگا رہی تھی اور وہ مسلسل انکل کا لن منہ میں لے کر تیزی کے ساتھ چو پے لگا رہی تھی اور انکل اپنے ہاتھ سے ان کے سر کو اپنے لن کے اوپر نیچے دبا رہے تھے اور ہلکی ہلکی آواز میں آہ ..آہ..اوہ ..او.. کر رہے تھے یہ نظارہ دیکھ کا میرے لن بھی کھڑا ہو گیا اور اور میں شلوار کے اوپر ہی اپنے ہاتھ سے اپنا لن کو مسلنے لگا اور اندر کا نظارہ دیکھنے لگا میں نے غور کیا آنٹی کی گانڈ کی موری بھی کافی کھلی ہوئی تھی اور برائون رنگ کی تھی اور آنٹی کے چو پے لگانے کی وجہ سے ان کی گانڈ کی موری کبھی کھل رہی تھی کبھی بند ہو رہی تھی یہ دیکھا کا میرا لن مزید اکڑ گیا اور میں نے لن اور تیزی سے مسلنا شروع کر دیا..
میں یہ منظر کوئی 10 منٹ تک سے دیکھ رہا تھا پِھر انکل کی آواز آئی بھابی اب بس کرو اور بیڈ پے چلو اب مجھے تمہاری پھدی اور گانڈ کو ڈھیلا کَرنا ہے . . چچی بھی رک گئی اور لن کو منہ سے نکالا اور بہت مدھوش اندازِ میں بولی شوکت آج مجھے فارغ نا کروایا تو تمہاری خیر نہیں ہے . . . انکل بولے جان بے فکر رہو آج میں نے حکیم سے گولی لے کر دودھ کے ساتھ کھائی ہوئی ہے آج میں جلدی فارغ نہیں ہوں گا اور آپ کی پھدی اور گانڈ کی پیاس بُجھا کر جاؤں گا . . چچی یہ سن کر خوش ہو گئی اور اٹھ کر بیڈ پر جا کر سیدھی لیٹ گئی اور انکل بھی بیڈ پر چڑھ گئے میں نے غور سے دیکھا تو انکل کا لن با مشکل سے ساڑھے چا ر انچ تک لگ رہا تھا اور نا ہی اتنا موٹا تھا . . . یہ دیکھ کر میں اندر ہی اندر خوش ہوا چلو میرا لن انکل سے بڑا بھی ہے موٹا بھی ہے . . پِھر انکل چچی کے ٹانگوں کو کھول کر ان کے درمیان بیٹھ گئے اور پِھر اپنا لن ہاتھ میں پکڑ کر چچی کی پھدی پے سیٹ کرنے لگے اور پِھر ان کی چکنی اور نرم ملائم پھدی کے ہونٹ کھول کر اپنا ٹوپا اس پے سیٹ کیا اور ہلکا سا پُش کیا تو ان کا ٹوپا آرام سے اندر چلا گیا اور چچی کے منہ سے ہلکی سی کی آواز نکل گئی اور انہوں نے اپنی ٹانگوں کو انکل کی کمر سے جکر لیا اور پِھر انکل نے ایک زور کا جھٹکا مارا اور پورا کا پورا لن چچی کی پھدی میں اُتار دیا اور انہوں نے بھی نیچے سے گانڈ اٹھا کر ساتھ دینے لگیں اور پِھر دیکھتے دیکھتے انکل نے گھسے مارنے شروع کر دیئے اور چچی بھی ان کا فل ساتھ دینے لگی اور منہ سے مستی بھری آوازیں نکالنے لگی اور ان کے کمرے میں د ھپ د ھپ کی آوازیں آنے لگیں اور چچی بھی باربار کہہ رہی تھی (شوکت ہور زور لا تیز تیز کر اج میری پھدی دی اگ ٹھنڈی کر دے(
اور یہ نظارہ دیکھ کر میرا برا حال تھا اور دماغ میں یہ ہی خیال آ رہا تھا کہ مجھے ہر وقعت گندے کاموں سے باز آنے اور تمیز سکھانے اور چچا کی دھمکی لگا کر مجھے دبانے والی آج اپنے ہی گھر میں اپنے سگے کزن کے ساتھ رنڈی بنی ہوئی ہے مجھے اس وقعت چچی پے یہ سوچ کرغصہ بھی آ رہا تھا اور اندر کا نظارہ دیکھ کر مزہ بھی . . یکدم میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا اور میں نے فوراً اپنی جیب سے اپنا موبائل نکالا اور اس کا کیمرہ آن کر کے اندر کا جو منظر تھا اس کی ویڈیو بنانے لگا اوردوسرے ہاتھ سے اپنے لن کو بھی مسل رہا تھا چچی اندر بڑے مزے سے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر لن اندر لے رہی تھی اور انکل بھی فل جوش میں ان کو چودھ رہے تھے اور چچی بھی مستی بھری آوازیں نکال رہی تھی یہ کام کوئی 15 منٹ تک چلتا رہا اور چچی ایک دفعہ فارغ بھی ہو چکی تھی لیکن انکل ابھی بھی فارغ نہیں ہوئے تھے اور میں تقریباً 8 منٹ کی ویڈیو بنا چکا تھا اور پِھر انکل کی آواز آئی بھابی اب گھوری بن جاؤ مجھے تمہاری گانڈ مارنی ہے . . میں نے یہ سنا تو چچی کے اٹھنے سے پہلے وہاں سے تھوڑا ہٹ گیا تا کہ وہ مجھے دیکھ نا سکے . . کوئی 2 منٹ کے بَعْد میں نے دوبارہ بڑی ہی احتیاط سے آگے ہو کر دیکھا تو چچی گھوری بنی ہوئی تھی اور اس کا اور انکل کا منہ کھڑکی کی طرف ہی تھا لیکن دونوں اپنی آنکھیں بند کر کے چدائی میں مصروف تھے اور انکل دھکے پے دھکے لگا رہے تھے اور چچی مستی میں آوازیں نکال رہی تھی اور کہہ رہی تھی ( شوکت پورا لن اندر پا .. انکل بولے.. بھابی پورے دا پورا اندر اے ایک وی سو تر باہر نہیں اے ) چچی پِھر بولی شوکت تیرا اے لن میرے بُنڈ وچ کج وی نہیں کر دا میری بُنڈ وچ اگ لگی پئی اے ) تو انکل بولے (گشتیے توں وڈے وڈے لن لیندی اے تینوں میرا لن تے کج وی نہیں لگنا . . . چچی پِھر بولی ہاں گشتی دیا تیرے وچ ہوں کج نہیں ریا چل جلدی کر تے تیز تیز اندر باہر کر تے اپنا پانی اندر چھڈھ تے جا . . . نہیں تے کا شی آندہ پیاہو وے گا (. . انکل نے بھی اپنی رفتار تیز تیز کر دی اور میں نے بھی اپنے لن کی مٹھ تیز کر دی اور میرا کچھ دیر بَعْد شلوار میں ہی پانی نکل گیا اور میرے تھوڑی دیر بَعْد ہی انکل کے لن نے اپنا پانی چچی کی گانڈ میں چھوڑ دیا اور اچانک چچی نے آنکھیں کھولیں اور ان کی نظر سیدھی کھڑکی پر پڑ ی اور ان کے چہرے کی ہوائیں اڑ گئیں اور رنگ پیلا زرد پڑ گیا اور منہ سے چیخ نکل گئی اور میں وہاں سے بھاگتا ہوا دروازہ کھول کر گھر سے باہر چلا گیا

اس دن گھر سے باہر بھاگ جانے کے بعد میں شام تک باہر ہی آوارہ گردی کرتا رہا اور دن کو ہوئےواقعہ کے متعلق سوچتا رہا اور میں نے اپنے دماغ میں ایک پلان تیار کر لیا تھا . اور پِھر شام کو گھر آ گیا اور گھر کے دروازے پے آ کر گھنٹی بجائی اور تھوڑی دیر بعد میرے کزن نے دروازہ کھولا اور میں گھر میں داخل ہوا اور سیدھا باتھ روم میں گھس گیا اور فریش ہو کر چپکے سے ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا . مجھے اب چچی کا خوف نہیں تھا میں ان کا سارا کھیل دیکھ چکا تھا اور مجھے پتہ تھا اب چچی بھی میری کوئی بات کسی سے نہیں کرنے والی اِس لیے میں اِس لحاظ سے پورا مطمئن تھاتھوڑی دیر کے بعد میری کزن نے آ کر مجھے بلایا کے آ کر كھانا کھا لو سب انتظارکر رہے ہیں . میں نے ٹی وی بند کیا اور کھانے والے کمرے میں چلا گیا وہاں پے سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے چچی بھی بیٹھی ہوئی تھی لیکن ان کی نظریں نیچے ہی تھیںمیں کھانے کے دوران بار بار چچی کو دیکھتا رہا لیکن چچی میرے ساتھ آنکھیں نہیں ملا رہی تھی . . پِھر جیسے ہی كھانا ختم ہوا اور چچی برتن اٹھا کے کچن میں رکھنے لگی اور چچا نے ٹی وی والے کمرے میں جا کر ٹی وی پے خبریں لگا لی اور بچے اپنی پڑھائی کرنے لگے دادی اپنے کمرے میں نماز پڑھنے چلی گئیمیں بھی وہاں سے اٹھا اور ٹی وی والے کمرے میں جا کر چچا کے ساتھ ٹی وی دیکھنے لگا کچھ دیر وہاں چچا سے گپ شپ لگی پِھر وہ اٹھ کر چلے گئے اور میں وہاں ٹی وی دیکھنے لگا تھوڑی دیر بعد میں نے کھڑکی سے دیکھا چچی اوپر چھت کی طرف جا رہی ہیں میں وہاں ٹی وی دیکھنے میں مشغول رہا کچھ دیر بعد چچی نیچے آ گئی اور دوبارہ اپنے کمرے میں چلی گئی جہاں ان کے بچے پڑھائی کر رہے تھے . . میں بھی تھوڑی دیر ٹی وی دیکھتا رہا اور مجھے نیند آنے لگی اور میں ٹی وی بند کر کے چھت پر چلا گیا وہاں پے چچی نے چار پائییاں لگا دی تھی میں وہاں اپنے چار پائی پے لیٹ گیا اور پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی اور میں نیند کی آغوش میں چلا گیا آنکھ تب کھلی جب میرا کزن مجھے صبح ناشتے کے لیے اٹھا رہا تھامیں اٹھا اور نیچے باتھ روم میں جا کر گھس گیا اور نہا دھو کے باہر نکلا اور سیدھا آ کر ناشتے پے بیٹھ گیا سب حسب معمول ناشتہ کر رہے تھے چچی کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی میری نظر ملتے ہی اس نے فوراً نظریں نیچے کر لیں اور ناشتہ کرنے لگی میں دِل میں بہت خوش ہوا کے کا شی بیٹا اب تو تیرا کام ہو کر رہے گا چچا نے ناشتہ ختم کیا اور بچوں سے بولے چلو بچو تیار ہو جاؤ اسکول کے لیے اور چچا اپنے کمرے میں چلے گئے اور دادی بھی اپنے کمرے میں چلی گئی اور چچی برتن اٹھانے لگی میں بھی جلدی سے ناشتہ ختم کیا اور ٹی وی والے کمرے میں ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا میں اب سوچ رہا تھا کہ چچی کچن کا کام ختم کر کے گھر کی صفائی کرے گی اور وہ ٹی وی والے کمرے میں بھی اے گی میں اِس کشمکش میں تھا کے چچی سے بات کیسے شروع کی جائے اور ساتھ ہی چچی کے آنے کا انتظار کر رہا تھاتھوڑی دیر بعد میں نے کھڑکی سے دیکھا کے چچی کچن سے نکلی اور صحن میں صفائی کرنے لگی اور پِھر اس نے باقی سب کمروں کی صفائی بھی کر لی آخر میں وہ ٹی وی والے کمرے کی صفائی کرتی تھی میں نے دیکھا چچی نے جب باقی کمروں کی صفائی ختم کر لی تو وہ سیدھی پِھر اپنے کمرے میں چلی گئی میں حیراں ہوا چچی نے ٹی وی والے کمرے کی صفائی کیوں نہیں کی پِھر مجھے خیال آیا چچی ضرور کل والی بات کی وجہ سے مجھے سے سامنہ نہیں کرنا چاہتی ہو اور اس کے دِل میں ایک خوف بھی ہو گا کے کا شی نے اگر کل والی بات کا پوچھ لیا تو کیا جواب دوں گی اور میں اپنی جگہ چچی کی کل والی حرکت دیکھنے کے باوجود ہمت نہیں ہو رہی تھی کے بات کیسے شروع کروںپِھر میں وہاں پے ہی بیٹھ کر ٹی وی دیکھتا رہا اور دن کے11 بج گئے اور میں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کر اپنا پورا پلان بنا چکا تھا میں نے ہمت کی اور چچی کے کمرے کی طرف چل پڑا اور ان کے دروازے پے جا کر دستک دی لیکن اندر سے کوئی آواز نہیں آئی میں 2 منٹ تک انتظار کرتا رہا لیکن کوئی اندر سے آواز نہیں آئی پِھر میں نے دروازے کو ہلکا سا پُش کیا تو دروازہ کھل گیا میں نے آرام سے دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تو سامنے دیکھا چچی اپنے بیڈ پے بیٹھی ہوئی تھی اور مجھے دیکھتے ہی ان کا رنگ پیلا زرد ہو گیا اور بہت ہی آہستہ اور کانپتی آواز میرے کانوں میں آئی کیا کام ہے میں آرام سے چلتے ہوئے بیڈ کے دوسرے کونے پے بیٹھ گیا اور آہستہ سے کہا کے مجھے آپ سے بات کرنی تھی چچی بیڈ پے ہی بیٹھے بیٹھے آگے کو بڑھی اور میرے بالکل نزدیک آ کر میرے گھٹنے کو ہاتھ لگا کر سسکیاں لینے لگی اور کہنے لگی کا شی مجھے معاف کر دو میرے سے غلطی ہو گئی خدا کے لیے کسی کو نہیں بتانا اگر گھر میں کسی کو پتہ چل گیا تو مجھے گھر سے نکل دیں گے اور میں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہوں گی میں نے ہمت کر کے آگے سے کہا چچی آپ نے یہ کام کیوں کیا آپ کو اپنے بچوں یا گھر میں کسی کی بھی عزت کا خیال نہیں تھا . . . . وہ اور رونے لگی اور کہنے لگی کا شی بیٹا میں بہک گئی تھی خدا کے لیے مجھے معاف کر دو میں آگے سے دوبارہ یہ کام کبھی نہیں کروں گی.. میں نے پِھر کہا چچی اگر میری جگہ چچا ہوتے اور آپ کو یہ حرکت کرتے دیکھ لیتے تو پِھر آپ کا کیا حال ہونا تھا یہ آپ نے سوچا ہے. چچی نے پِھر گھٹنے پکڑ لیے اور کہا کا شی اب تک ان کو نہیں پتہ اور نہ ہی انہوں نے دیکھا ہے اور خدا کے لیے تم بھی نہ بتاؤ میں وعدہ کرتی ہوں میں تمہاری باتیں راز میں رکھوں گی اور تم میری رکھومیں نے ہمت کی اور چچی کی رانوں پے ہاتھ رکھا اور آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا کے چچی میں نے کون سا غلط کام کیا ہے جو آپ میری باتیں راز میں رکھو گی . چچی نے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور بولی کے تم جو یہ اپنے لن کے ساتھ کھیل کھیلتے ہو اور مجھے چپکے سے دیکھتے ہو یہ غلط بات نہیں ہے تو اور کیا ہے چچی دوبارہ اپنی جگہ پے جا کر ٹانگیں لمبی کر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور میری طرف دیکھنے لگیمیں اپنی جگہ سے اٹھا اور چچی والی سائڈ پے جا کر ان کی ٹانگوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور پِھر میں میں نے ان کی رانوں پئے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور اِس دفعہ میں نے ان کی پھدی کے بالکل قریب ہاتھ رکھ کر ہاتھ پھیررہا تھا اور بولا چچی میں تو صرف اپنے لن کی مالش کرتا ہوں اور جو ہر جوان لڑکا اپنی عمر میں کرتا ہے اور آپ کو جو میں چپکے سے دیکھتا ہوں اِس بات کا کیا ثبوت آپ کے پاس ہے جو آپ کسی کو میرا بتاؤ گی اور ساتھ ہی میں نے اپنا ہاتھ ان کی پھدی پے رکھ کر مسلنا شروع کر دیا . . چچی میری یہ حرکت دیکھ کر اچھل پری اور میرے منہ پے زور دار تھپڑ مار کر بولی شرم نہیں آتی تم اپنی سگی چچی کے ساتھ یہ بیہودہ حرکت کر رہے ہو اور تمھارے پاس کیا ثبوت ہے کے میں اپنے کزن کے ساتھ غلط کام کر رہی تھی . . . چچی کے تھپڑ مارنے پر میرا دماغ گھوم گیا اور مجھے شدید غصہ آ گیا اور میں وہاں سے اٹھ کر دروازے کی طرف جانے لگا اور دروازے پر پہنچ کر میرے دماغ میں خیال آیا چچی کو ابھی تک یہ پتہ ہی نہیں ہے کے میرا پاس ان کے کالے کرتوت کی ویڈیو بنی پڑی ہے میں کمرے سے باہر نکلا اور ساتھ والے کمرے میں پڑا ہوا میرا موبائل جو کے میں نے چارجنگ پے لگایا ہوا تھا لینے چلا گیا اور اور میرا دماغ بہت تیزی کے ساتھ کام کر رہا تھا مجھے میرے دِل سے آواز آئی کا شی بیٹا غصے سے کام نہیں ہوش سے کام لو نہیں تو اپنے لن کو پھدی کا سوا دکبھی بھی چکھا نہیں پاؤ گے.میں ساتھ والے کمرے میں داخل ہوا اور اپنا موبائل اٹھایا اور دوبارہ چچی کی کمرے میں داخل ہوا اِس دفعہ میں نے کوئی دستک نہیں دی اور اندر آ کر سیدھا ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا وہ تھوڑا ہٹ کا بیٹھ گئی میں نے موبائل پے ویڈیو لگائی اور موبائل کی اسکریں چچی کے منہ کی طرف کر دی چچی کی نظر جب موبائل کی اسکریں پر پری اور اپنے یار سے چدائی کرواتے ہوئے کی ویڈیو دیکھی تو اس کے چہرے کا رنگ پیلا زرد ہو گیا اور وہ ویڈیو بھی دیکھ رہی تھی اور کانپ بھی رہی تھی اس نے فوراً میرے ہاتھ سے موبائل کھینچنے کی کوشش کی جو کے مجھے پہلے ہی علم میں تھا اور میں نے فوراً اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور بیڈ سے اٹھ کر ساتھ پڑی ہوئی کرسی پے بیٹھ گیا اور چچی کا منہ دیکھنے لگا چچی نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا تم نے یہ ویڈیو کیسے بنائی میں نئے کہا چچی آپ کیا سمجھتی ہو کے میں اس ٹائم ہی آیا تھا جب آپ نے مجھے دیکھ لیا تھا . نہیں میں نے آپ کا مکمل شو دیکھا تھا اور اس ٹائم ہی آپ کی ویڈیو بھی بنائی تھی . اور میں نے کہا اب کیا خیال ہے میری پیاری چچی جان میرے پاس تو آپ کا پکا ثبوت ہے اب بتاؤ کیسا وہ منظر ہو گا جب یہ ویڈیو چچا دیکھیں گے اور پِھر بعد میں آپ کے ساتھ جو ہو گا یہ تو آپ نے مجھے تھپڑ مارتے ہوئے بھی نہیں سوچا تھا . . ہا ہا ہاچچی فوراً بیڈ سے اٹھی اور سیدھی میرے پاؤں میں آ کر بیٹھ گئی اور رونے لگی کا شی مجھے معاف کر دو میں نے تم پے ہاتھ اٹھایا خدا کے لیے یہ ویڈیو کو ختم کر دو خدا کے لیے کسی کو نا دیکھنا میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں میں زندگی میں دوبارہ یہ کام نہیں کروں گی خدا کے لیے کا شی میرا گھر برباد ہونے سے بچالو یہ ویڈیو کو اپنے موبائل سے ختم کر دو اگر یہ کسی نے دیکھ لی تو قیامت آ جائے گی اور ساتھ میں پیروں میں ہاتھ رکھ کر روئے جا رہی تھی میں نے آگے سے جواب دیا چچی اِس ویڈیو کی وجہ سے ہی تم میرے پیروں میں بیٹھی معافی مانگ رہی ہو اگر یہ ویڈیو نہ ہوتی تو آج جو تم نے میرے اوپر ہاتھ نہ اٹھایا ہوتا اور مجھے سے ثبوت کا نہ پوچھا ہوتا. چچی بولی کا شی مجھے معاف کر دو میں بہک گئی تھی اور اپنے آپ پر کنٹرول نا رکھ سکی تھی اِس لیے اپنی پیاس بجھانے کے لیے یہ غلط کام کیا . . تم بھی مرد ہو تم بھی تو اپنے جِسَم کی پیاس بجھانے کے لیے اپنے ہاتھ سے تسکین لیتے ہو اور تم نے بھی کسی عورت کے ساتھ اپنے جِسَم کی تسکین دی ہو گی میں نے چچی سے کہا ہاں یہ سچ ہے کے میں اپنے جِسَم کی پیاس بجھانے کے لیے اپنے ہاتھ سے تسکین لیتا ہوں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آج تک میں نے کسی عورت کے ساتھ یہ کام نہیں کیا ہے .لیکن آپ تو شادی شدہ ہیں اور آپ کے بچے ہیں کل کو یہ بات کسی کو پتہ چلے گی تو آپ کی اپنی اور گھر والوں کی عزت کا کیا ہو گا اور آپ کے بچوں کا کیا بنے گا یہ آپ نے کبھی سوچا ہے اور دوسرا آپ جو یہ کہہ رہی ہیں کے میں بہک گئی تھی یہ غلط کام کرنے کے لیے آپ جب اپنے کزن کے ساتھ یہ کام کر رہی تھی میں نے آپ کی سب باتیں سنی آپ کی باتوں سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ آپ یہ کام پہلی دفعہ نہیں کافی ٹائم سے کر رہی ہیں اور کافی لوگوں سے کر چکی ہیں کیا سچ نہیں ہے ؟ … چچی نے رونا بند کر دیا تھا پِھر وہ بولی کا شی تم نے سب کچھ دیکھ بھی لیا ہے اور سن بھی لیا ہے تم کو پتہ ہے میں ابھی جوان ہوں جب تمھارے چچا فوت ہوئے تو میری عمر اس ٹائم 32 سال تھی تمھارے چچا کے فوت ہونے کے2 سال بعد تک میں اکیلی برداشت کرتی رہی اور سہتی رہی لیکن تم خود سوچو میں ایک جوان عورت ہوں میرے بھی جذبات ہیں احساسات ہیں میں نے مجبور ہو کر یہ قدم اٹھایا اور باہر منہ مار کے بدنامی سے بچنے کے لیے اپنے گھر میں ہی اپنے جِسَم کی تسکین کے لیے اپنے کزن کے ساتھ تعلق بنایا تھا. پِھر چچی تھوڑی دیر خاموش رہی اور کوئی 2 منٹ کی خاموشی کے بعد بولی کا شی تم میرا سب کچھ دیکھ بھی چکے ہو اور جان بھی چکے ہو اب تمہاری مرضی ہے کے تم یہ سب کچھ اپنے چچا کو دیکھا کر میری زندگی برباد کر سکتے ہو اور یا ایک اور حَل بھی ہے اور پِھر وہ خاموش ہو گئی . میں تعجب میں تھا کے دوسرا حَل کون سا ہے میں نے خاموشی کو توڑتے ہوئے چچی سے سوالیا نظروں سے پوچھا آپ دوسرے کس حَل کی بات کر رہی ہیں چچی نے چہرہ اٹھا کر میری طرف دیکھ اور پِھر اپنی نظریں نیچے کر کے بولی اگر تم میرا یہ راز کسی کو نہ بتاؤ تو میں تمہاری جسم کی پیاس بجھانے کے لیے تمہاری کافی مدد کر سکتی ہوں مجھے پتہ چل چکا تھا چچی اب کافی حد تک میرے کنٹرول میں آ چکی ہیں لیکن میں پِھر بھی اپنی مردانگی میں رہنا چاہتا تھا اِس لیے میں نے پِھر سوال کیا آپ میری کیسے اور کس طرح مدد کر سکتی ہیں. چچی نے کہا تم اچھی طرح جانتے ہو میں تمہاری کیسے مدد کر سکتی ہوں تم بچے نا بنو . میں نے کہا آپ کو پتہ ہے میں نے آج تک کسی عورت کے ساتھ اِس قسِم کا کوئی تعلق نہیں رکھا ہے اِس لیے آپ سے پوچھ رہا ہوں آپ کیسے میری مدد کر سکتی ہیں . چچی نے لمبی سی سانس لی اور بولی جیسے تم اپنے لن کی مالش کرتے ہو اور میں عورت کے ہاتھ سے تمہاری وہ تسکین پوری کر سکتی ہوں اور تمھارے لن کو عورت کی پھدی کا مزہ بھی چکھا سکتی ہوں اور یہ اس صورت میں ہی ہو سکتا ہے جب تم مجھ سے وعدہ کرو کے تم میرےراز کو راز رکھو گے اور میری ویڈیو بھی کسی کو نہیں دکھاؤ گے. میرا لن چچی کی باتیں سن کے شلوار میں ہی فل ایکشن میں کھڑا ہو چکا تھا اور میری جھولی میں ہی ل تمبو بنا ہوا تھا جو کے چچی نے بھی دیکھا لیا تھا اور وہ یہ دیکھ کر مسکرا رہی تھی. میں نے چچی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے لن پے رکھ دیا اور بولا چچی آپ کی آفر بری نہیں ہے لیکن اِس میں مزہ تب ہی ہے جب اِس پے مکمل عمل بھی ہو آپ اِس کو اپنی پھدی کا سیر کروا دو پِھر ہی ثابت ہو گا کے یہ ڈیل پکی ہے یا صرف جان چھو ر وانے کے لیے دانہ پھینکا جا رہا ہےچچی نے میرا لن چھو ر دیا اور اٹھ کر بیڈ پے بیٹھ گئی اور پِھر میری طرف منہ کر کے بولی میں تمہاری سگی چچی ہوں میں تمہارا لن اپنی پھدی میں نہیں لے سکتی ہاں فلحال صرف تمھارے لن کی مالش کر سکتی ہوں اور تمھارے لن کے لیے میری پھدی نہیں کسی اور کی پھدی کا انتظام کر سکتی ہوں بولو کیا منظور ہے کے نہیں.. میں سوچنے لگا کتنی بڑی رنڈی کی بچی ہے اپنے آپ کتنے آرام سے سائڈ پے کروا رہی ہے اور کسی اپنے جیسی دوسری رنڈی کو میرے لیے پیش کر رہی ہے میں نے دِل میں سوچ کا شی بیٹا اِس رنڈی کا پکا ثبوت تو ویسے ہی تیرے پاس موجود ہے اور اِس کی پھدی ایک نہ ایک دن تو مل ہی جائے گی فلحال اِس کی بات بات مان لیجائے اور اِس کے ذریعےدوسری رنڈیوں کا مزہ پہلے لے لیا جائے پِھر اِس رنڈی کا تو آگے اور پیچھےسے اکاؤنٹ بعد میں بھی کھولا جا سکتا ہے. یکدم چچی کی آواز میرے کانوں میں پڑی وہ پوچھ رہی تھی پِھر کیا سوچا ہے منظور ہے یا نہیں . میں کرسی سے اٹھ کر ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور دوبارہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھا اور ان کے کان میں میں کہا مجھے منظور ہے وہ آگے سے مسکرائی اور میرے لن کو دبا کر بولی تم کافی سمجھدار ہو لیکن ابھی ایسا کرو ساتھ والے کمرے میں چلو اور اپنے بیگ سے تیل نکل کر کمرے میں بیٹھو میں وہاں آتی ہوں وہاں پے ہی تمہارا کام کروں گی اِس کمرے میں دادی کبھی بھی باتھ روم جانے کے لیے میرے روم میں بھی آ سکتی ہیں میں وہاں سے اٹھا اور ساتھ والے کمرے میں چلا گیا اور وہاں پے میرا بیگ پڑا ہوا تھا میں نے بیگ سے تیل نکالا اور چار پائی کے پس رکھ دیا اور دروازہ بند کر کے اپنے کپڑے اُتَر دیئے اور میں چار پائی کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گیا اور چچی کا انتظار کرنے لگا.کوئی منٹ کے بعد دروازہ کھلا اور چچی اندر داخل ہوئی انہوں نے اپنے کپڑے بَدَل لیے تھے کاٹن کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جو کے کافی حد تک ٹرانسپیرینٹ تھی چچی اندر داخل ہوئی اور میرے پے نظر پڑھی تو مجھے پورا ننگا دیکھا کر اور پِھر میرے فل کھڑے ہوئے لن کو دیکھ کر دیکھے ہی جا رہی تھی دروازہ اندر سے بند کر کے وہ میری چارپائی پے آ کر بیٹھ گئی اور بدستور میرے لن کو دیکھے جا رہی تھی میں نے چچی سے پوچھا کیا ہوا چچی جان اتنا غور سے کیا دیکھ رہی ہیں . . پِھر وہ مجھے بولی کا شی تیرا لن شلوار کے اوپر سے پکڑا تھا تو اتنا زیادہ محسوس نہیں ہوا تھا لیکن ابھی ننگا لن دیکھ رہی ہوں حیراں ہوں تمہارا اِس عمر میں ہی لن اتنا جاندار ہے لمبائی اور موٹائی بھی اچھی خاصی ہے اور اِس کی ٹوپی بھی کافی بڑی ہے . میں نے کہا چچی یہ سب زیتون کے تیل کا کمال ہے ابھی تو تم نے لن ہاتھ میں پکڑ کر دیکھا ہے تو یہ حال ہے جب اندر لو گی تو ہمیشہ یاد نا رکھا تو کہنا . چچی آگے سے مصنوعی غصے سے بولی کا شی میں تمہاری سگی چچی ہوں اور میں اپنی پھدی تم کو نہیں دے سکتی لیکن اپنی پھدی کے بدلے میں تمھارے لیے کسی اور کی پھدی کا بندوبست ضرور کر کے دوں گی . . میں نے دِل میں سوچا چچی تیری وی ماں دی پھدی تیری بھی لے کر رہوں گا اور تیرےذریعے دوسری پھدیوں کا مزہ چکھاوں بھی گا. میں نے کہا چلو چچی جان آپ کی مان لیتا ہوں لیکن فلحال تو میرے لن کی مالش تو شروع کرو . چچی نے آگے براہ کے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اس کو پہلے اپنے ہاتھ کی مدد سے ناپنا شروع کر دیا اور پِھر بولی کا شی ویسے تیرا لن ہے بڑا کڑ ا کے دا ر .لمبائی بھی ٹھیک ہے اور موٹائی بھی اور پِھر وہ میرے لن کو ہاتھ سے اوپر نیچے کرنے لگی اور آہستہ آہستہ مٹھ لگانے لگی میں نے چار پائی کے نیچے پڑی ہوئی زیتون کی بوتل چچی کو دی اور کہا چچی تیل سے شروع کرو اصل مالش کا مزہ تو زیتون کے تیل سے ہے.انہوں نے تیل اپنے ہاتھ میں ڈالا اور پِھر میرے لن کے چاروں طرف ہاتھ پھرا کر اس کی مالش شروع کر دی چچی کے ہاتھ سے مالش کا اپنا ہی مزہ تھا چچی کسی ماہر رنڈی کی طرح اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر میرے لن کی مالش شروع کر دی اور میری آنکھیں سرور میں بند ہونے لگی چچی کے نرم ملائم ہاتھوں کا احساس اور تیل کی مالش سے میرا لن فل جوبن میں تھا اور میرے لن کی رگیں ان کے مسلسل ہاتھ چلانے کی وجہ سے پھول رہی تھیں پِھر چچی کی آواز میرے کانوں میں گونجی کا شی کیا سچ میں تم نے آج تک کسی عورت کی پھدی نہیں لی ہے یا مجھے سے جھوٹ بول رہے ہو اسلام آباد میں تو اتنی زیادہ ماڈرن اور فیشن والی لڑکیاں ہیں. میں آگے سے کہا آپ کی بات سچ ہے کے اسلام آباد میں فیشن اور ماڈرن لڑکیوں کی ریل پیل ہے لیکن وہاں بھی اتنی جلدی ہاتھ میں نہیں آتی ہیں اور وہاں پر ابو کا ڈر بھی ہر وقعت ساتھ رہتا ہے اِس لیے آج تک نا کوئی چانس ملا نا کبھی ہمت ہوئی ہےاب چچی نے لن کے ساتھ ساتھ میرے ٹٹوں کی بھی مالش شروع کر دی تھی اور پورا ہاتھ نیچے لے جا کر ٹٹوں کو خوب مسل مسل کے مالش کر رہی تھی چچی کوئی 5 منٹ سے میرے لن کی مسلسل مالش کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہی تھی پِھر بولیں کہ کا شی تمھارے لن کی ٹوپی کافی بڑی ہے اور گول مول ہے یہ جس کس کی بھی گانڈ کی موری میں گھسے گی اس کا مور ا بنا دے گی میں نے کہا چچی اب تو یہ تمہاری ہی ڈیوٹی ہے کے اِس لن کو اگر اپنی پھدی یا گانڈ نہیں دے سکتی ہو تو جلدی سے کسی اور پھدی اور گانڈ کا رستہ دیکھا دوچچی ہاتھ تیزی تیزی سے چلا رہی تھی اور پِھر بولی ہاں کا شی بیٹا فکر نا کر میں جلدی ہی تیرے شیر کے لیے کوئی ٹائیٹ سے پھدی کا بندوبست کروں گی اور ساتھ ساتھ مالش جاری رکھے ہوئے تھی میں نے چچی سے کہا کے ویسے چچی کس کو میرے لیے لاؤ گی تو وہ بولیں جب آئے گی تو خود ہی پتہ چل جائے گا اتنی فکر میں کیوں ہو . میں نے پِھر کہا پِھر بھی چچی جان بتاؤ نا وہ کون ہے جس کی پھدی پہلی دفعہ میرے نصیب میں آئے گی چچی بولی اچھا بتاتی ہوں پہلے یہ تو بتا تم نے کیا ٹائمنگ والی گولی کھائی ہوئی ہے جو تیرا 10 منٹ سے اوپر ٹائم ہو گیا ہے ابھی تک تیرا پانی ہی نہیں نکلا گولی کے بغیر تو مردوں کا زیادہ سے زیادہ 5 سے 7 منٹ میں پانی نکل آتا ہے . میں کھلکھلا کے ہنسا اور چچی سے بولا چچی یہ کمال کسی گولی کا نہیں ہے یہ صرف زیتون کے تیل کا کمال ہے میں 8 سال سے اپنے لن کی اِس ہی تیل سے مالش کر رہا ہوں یہ ٹائمنگ اور لمبائی اور موٹائی سب اِس تیل کا کمال ہے میری لمبائی تو ابھی تقریباً 6 انچ ہے میں نے تو پڑھا ہے کے اِس تیل سے لوگوں نے 9 انچ تک بھی لمبا لن بنایا ہے چچی نے دوبارہ پوچھا کے ویسے تیرا پانی مٹھ مارنے کے کتنی دیر بعد میں نکل آتا ہے میں نے کہا ویسے مٹھ تو میں کم ہی مارتا ہوں کیونکہ اگر مٹھ زیادہ مارتا ہوتا تو آج میرا لن ڈھیلا ہو چکا ہوتا لیکن کبھی کبھی جب شہوت زیادہ چڑھی ہوئی ہو تو مٹھ ماروں تو 15 سے 20 منٹ کے درمیان میں پانی نکل آتا ہے چچی حیراں ہو کر بولی واہ کیا کمال کا تیل ہے ایک میرا کزن ہے اگر گولی کھا کے اے تو گزارا کرتا ہے نہیں تو بغیر گولی کے تو وہ 5 منٹ کے اندر اندر میرے فارغ ہونے سے پہلے ہی فارغ ہو جاتا ہ ہے چچی باتیں بھی کر رہی تھی لیکن ساتھ ساتھ مالش کرنا اس نے جاری رکھا ہوا تھا میں نے چچی سے دوبارہ پوچھا چچی جان بتاؤ نا وہ عورت کون ہے جس کی پھدی مجھے کھلاؤ گی چچی نے کہا پڑوس میں میری ایک دوست ہے اس کی ایک ہی بیٹی ہے 24 سال اس کی عمر ہے اس کی شادی آج سے 3 سال پہلے گجرات میں ہوئی تھی لیکن بدقستمی سے شادی کے 1 سال بعد ہی اس کے میاں کا ایکسڈینٹ ہو گیا اور وہ اس میں ہی فوت ہو گیا تھا اس کے بعد وہ بیچاری 2 سال سے اپنی ماں کے پاس ہی رہ رہی ہے اور جب کبھی ہمارے گھر میں کام زیادہ ہو تو وہ آتی رہتی ہے اور سلائی کا کام بھی مجھے سے سیکھتی رہتی ہے میری بہت اچھی سہیلی بھی ہے اور اپنے سارے دکھ سکھ بھی مجھ سے ہی بانٹتی ہے اس بیچاری نے بھی اپنے میاں کے فوت ہونے کے بعد سے لے کر اب تک بہت صبر کیا ہوا ہے لیکن وہ تو مجھے سے بھی زیادہ جوان ہے اور گرم لڑکی ہے مجھے بہت دفعہ کہہ چکی ہے باجی میری پھدی کی آگ کو بھی ٹھنڈا کرنے کا انتظام کرو لیکن میں اس کو بہت دفعہ ٹال چکی ہوں کہ موقع ملا تو تمھارے لیے کچھ کروں گی وہ بیچاری کافی ٹائم سے میرے اِس لا رے میں ہی بیٹھی ہوئی ہے میں نے چچی سے سوال کیا چچی اس کو میرے لیے رضی کیسے کرو گی نا میں نے اس کو دیکھا ہوا ہے اور نا اس نے مجھے دیکھا ہوا ہے چچی بولی اِس بات کی فکر تم نا کرو وہ اپنی ہوس کی آگ میں بہت گرم ہے اس کو کسی بھی لن کی شدید طلب ہے وہ بس یہ ہی چاہتی ہے کے جو بھی ہو اپنا بندہ ہو جو جب دِل کرے مزہ بھی دے اور باہر کسی کے سامنے بدنام بھی نا کرے سو وہ تم ہی ہو میری نظر میں اور جب میں نے اس کو تمھارے متعلق اعتماد میں کر دینا ہے تو اس نے راضی خوشی دبا کے اپنی پھدی مر وا نی ہے تم سے. چچی کی باتیں سن کے میرے اندر لڈو پھوٹ رہے تھے اور لن نے بھی جھٹکا مارا اور ساتھ میں چچی مالش کم اور مٹھ زیادہ مار رہی تھی اِس دوران ہی میری منی کا ایک بڑا سا قطرہ میری لن کی ٹوپی پے نمودار ہوا چچی نے منی کا قطرہ ٹوپی پے دیکھا تو ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی اور انہوں نے اپنا منہ آگے کی طرف کیا اور بالکل میرے لن کی ٹوپی کر قریب کر کے اپنی زبان سے قطرے کو چاٹ لیا منی کا قطرہ چاٹنے کے بعد چچی بولی کا شی تمہاری منی کا سوا د بڑا ہی مزے دار اور تھوڑا سا نمکین ہے چچی کی زُبان میرے لن پے لگنے کی دیر تھی میرے جسم کے اندر ایک دلکش لہر دور گئی چچی نے کہا کا شی بیٹا آج مجھے تمہاری منی نکالنی ہے کیا تم تیار ہو میں نے کہا چچی جان آپ کے لیے تو جان بھی حاضر ہے آپ ذرا مٹھ تیز کریں منی خود ہی نکل آئے گی چچی نے اپنا ہاتھ میرے لن پے اور تیز کر دیا مٹھ لگانے لگی چچی نے دوسرے ہاتھ سے اپنی قمیض اوپر کر لی اور اپنے ممّے ننگے کر دیئے انہوں نے نیچے برا نہیں پہنی ہوئی تھی چچی کے ممّے موٹے موٹے اور گورے چیٹے تھے اور ان پے برائون رنگ کے نپل بہت ہی دلکش منظر پیش کر رہے تھے چچی نے کہا کا شی بیٹا جب منی نکلنے لگے تو اپنی ساری منی میرے مموں کے اوپر گرانا میں اٹھ کے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا آب میرا لن بالکل چچی کے مموں کے سامنے آ گیا تھا اور چچی آب مستی میں آنکھیں بند کر کے تیز تیز مٹھ لگا رہی تھی اور ساتھ ساتھ منہ سے مستی بھری آوازیں نکل رہی تھی آہ آہ اوہ اوہ آہ اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی 5 منٹ کے بعد میری منی کا فوارہ چھو ٹا اور سیدھا چچی کے مموں کے اوپر گرنے لگا چچی نے بھی میری گرم گرم منی محسوس کر کے اپنی آنکھیں کھول لیں تھیں پِھر میں نے دیکھا کے چچی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ساری منی اپنے مموں کے اوپر مل دی اور پِھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی سچ میں تمہارا لن کمال ہے اور نیچے اپنے پھدی والی جگہ مجھے دکھائی اور بولی دیکھو تمہاری مالش سے میں کتنا پانی چھوڑچکی ہوں حقیقت میں ان کی شلوار نیچے سے پوری گیلی ہوئی تھی اور تمہاری گرم گرم منی میں نے اپنے مموں پے مل دی ہے میں نے سنا ہے مرد کی منی سے عورت کا جسم بہت پھلتا پھولتا ہےپِھر چچی نے اپنی قمیض کے پلو کے ساتھ ہی میرا لن کو صاف کیا اور اپنی قمیض ٹھیک کی اور چار پائی سے اٹھ کر باہر جانے لگی جب دروازے تک پہنچی تو میں نے پیچھے سے پوچھا چچی اپنی سہیلی کی پھدی کس دن کھلا رہی ہو وہ پیچھے مڑی اور ذرا سا مسکرائی اور بولی صبر کرو صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے میں نے کہا چچی آپ نے اب پیاس اور بڑھا دی ہے اب صبر کہاں سے کروں تو وہ کھلکھلا کے ہنسی اور پِھر بولی کے بچوں کو اسکول سے آنے دو جب وہ دوپہرکو سو جائیں گے تو میں ان کے گھر جاؤں گی اور کل کا پروگرام پکا کروا دوں گی اب تم بھی اٹھو اور جا کا نہا لو اور میں بھی نہا کے كھانا بنانے لگی ہوں.چچی کے کمرے سے باہر جانے کے بعد میں چار پائی سے اترا اور اپنے کپڑے پہنے اور کمرے سے باہر دیکھا چچی کے اپنے کمرے کے اٹیچ باتھ روم میں پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی میں بھی صحن میں بنے باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا اور کوئی آدھے گھنٹے بعد باہر نکلا تو دیکھا چچی کچن میں كھانا پکا رہی تھی میں اس ہی کمرے میں چلا گیا جہاں میرا بیگ رکھا ہوا تھا بیگ میں سے کپڑے نکال کر استری کیے اور پہن کر باہر آیا تو چچی کچن میں ہی تھی میں سیدھا ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کر ٹی وی پر انڈین مووی دیکھنے لگا اور پتہ ہی نہیں چلا کافی ٹائم گزر گیا اور باہر مرکزی دروازے پے گھنٹی بجی اور میں نے کھڑکی سے دیکھا چچی میں دروازہ کھول رہی تھی اور ان کے بچے اسکول سے آ گئے تھے . بچے اندر داخل ہوئے تو چچی نے ان سے کہا چلو بچو جلدی سے کپڑے بَدَل لو منہ ہاتھ دھو لو كھانا تیار ہے پِھر بچے کپڑے تبدیل کرنے چلے گئے اور پِھر چچی وہاں سے سیدھی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر بولی کا شی بیٹا کچن میں آ کر کھانے والے برتن رکھا دو اور آ کر كھانا بھی کھا لو . میں نے ٹی وی بند کیا اور کچن میں جا کر برتن اٹھا کر دستر خواں پر رکھنے لگا اور کچھ دیر بعد بچے اور دادی بھی اپنے کمرے سے نکل کر وہاں آ گین اور پِھر سب نے مل کر كھانا کھایا کھانے کھا کر میں نے برتن کچن میں رکھ دیئے اور ہاتھ دھو کر دوبارہ ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا اور بچے بھی كھانا کھا کر چچی کے ساتھ والے روم میں سونے کے لیے چلے گئے اور دادی بھی اپنے کمرے میں آرام کرنے چلی گئی اور کچھ دیر بعد میں نے دیکھا چچی کچن کا کام ختم کر کے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی. اور میں ٹی وی پے فلم دیکھنے میں مشغول ہو گیا کوئی آدھے گھنٹے کے بعد میں نے دیکھا کے چچی اپنے کمرے سے نکل کر ٹی وی والے کمرے میں آئی اور بولی کا شی میں محلے میں پڑوسی کے ہاں جا رہی ہوں تھوڑی دیر بعد آ جاؤں گی تم اندر سے دروازہ بند کر لو اور ساتھ ہی مجھے ایک سیکسی سی سمائل اور آنکھ مار دی. میں نے کہا جی ٹھیک ہے چچی جان اور وہ میرے آگے آگے چلتی ہوئی گھر سے باہر چلی گئی میں نے دروازہ اندر سے بند کر دیا اور دوبارہ ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی دیکھنے لگا لیکن اب فلم پے دِل نہیں لگا رہا تھا یہ ہی بار بار سوچ آ رہی تھی کیا چچی کی سہیلی مان جائے گی اگر وہ مان جائے گی تو میرا تو پہلا تجربہ ہے کیسے کروں گا لیکن اندر اندر ہی لڈو بھی پھوٹ رہے تھے کے زندگی میں پہلی دفعہ میرا لن بھی ایک پھدی کا مزہ چکھے گا. میں ان ہی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا اور پتہ ہی نہیں چلا ایک گھنٹے سے زیادہ کا ٹائم گزر گیا اور میں نے ٹائم دیکھا تو 5 بجنے میں 10منٹ باقی تھے اور 5 بجے تو چچا بھی گھر آ جاتے ہیں لیکن چچی ابھی تک نہیں آئی تھی یہ سوچ رہا تھا باہر گھنٹی بجی میں فوراً اٹھا اور جا کر دروازہ کھولا تو سامنے چچی ہی تھی وہ جلدی سے اندر آ گئی اور سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی اور میں نے دروازہ بند کیا اور چچی کے کمرے کی طرف چل گیا ابھی میں چچی کی کمرے کے دروازے پے ہی پہنچا تھا کے دوبارہ گھنٹی بجی میں پِھر دروازے کی طرف لپکا اور دروازہ کھولا تو اب کی بار چچا تھے میں نے ان کو دیکھا اور سلام کیا وہ جواب دے کر اپنی موٹر بائیک اندر لے آئے اور صحن میں ایک کون پے شیڈ کے نیچے کھڑی کر دی اور پِھر اپنا آفس بیگ لے کر اپنے کمرے میں چلے گئے میں نے اب چچی کی کمرے کی طرف جانا مناسب نہیں سمجھا اور دوبارہ ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کا بیٹھ گیا . . کوئی آدھے گھنٹے کے بعد چچا بھی کپڑے بَدَل کر نہا دھو کر ٹی وی والے کمرے میں آ گئے میں نے ریموٹ ان کو دے دیا انہوں نے نیوز والا چینل لگا لیا اور ٹی وی دیکھنے لگے میں نے دوبارہ چچی کی کچن کی طرف جاتے ہوئے دیکھا لیکن میں نے اپنی جگہ پے ہی بیٹھا رہنا بہتر سمجھا اور کچھ دیر بعد چچی چائےکے دو کپ لی کر ٹی وی والے کمرے میں آئی اور چچا کو سلام کیا اور پِھر ہم دونوں کو چائےدے کر باہر چلی گئی. اور پِھر اس دن رات سونے تک میری چچی سے کوئی بات نا ہو سکی اور سب كھانا کھا کر روز مرا ہ کے معمول کی طرح رات کو سو گئے اور میں بھی چھت پے اپنی چار پائی پے سو گیا. اگلی صبح میں کسی کے جگانے سے پہلے ہی اٹھ گیا تھا کیونکہ مجھے پتہ تھا آج میری قسمت کھلنے والی ہے اور میں اٹھ کر سیدھا نیچے باتھ روم کی طرف جانے لگا جب میں صحن میں پہنچا تو چچی سے سامنا ہوا ان کے ساتھ نظر ملی تو وہ مجھے بڑی سیکسی سمائل کے ساتھ دیکھ رہی تھی اور میں سیدھا باتھ روم میں گھس گیا.نہا دھو کر میں باہر نکل آیا تو سب لوگ دستر خواں پے بیٹھے ہوئے تھے میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا اور ناشتے کے بعد سب اپنے اپنے کاموں پے چل نکلے میں بھی ناشتہ کر کے ٹی وی والے کمرے میں جا کر ٹی وی دیکھنے لگا پاکستان انڈیا کا میچ لگا ہوا تھا وہ دیکھنے لگا اور باہر سب کے جانے کے بعد چچی کچن کا کام ختم کر کے گھر کی صاف صفائی پے لگ گئی تقریباً 11بجے کا ٹائم ہو گیا تھا جب چچی آخر میں ٹی وی والے کمرے میں صفائی کے لیے آئی اور صفائی کرنے لگی . میں کچھ دیر ان کی طرف سے کسی بات کے شروع کرنے کا انتظار کیا لیکن انہوں نے کوئی بات نہیں کی اور اپنے کام میں لگی رہی اور پِھر میں نے ہی خاموشی کو توڑا اور چچی کو کہا چچی جان ہم غریبوں کا کیا سوچا ہے . چچی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور بڑی ہی سیکسی سمائل دے کر بولی کے ٹھنڈا کر کے كھانا سیکھو اتنی کیا جلدی ہے . . میں نے کہا چچی جان جلدی تو ہو گی آپ نے اپنی سہیلی کی پھدی کی کا بتا کے میرے جذبات کو اور بڑھا دیا ہے اب کیسے قابو کروں ان کو. چچی میری باتیں سنی اور بولی ہو جائے گا بچے ہو جائے گا تھوڑا حوصلہ رکھ . . . اور دوبارہ اپنا کام کرنے لگی اور کچھ دیر بعد اپنا کام ختم کر کے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی . میں بس چچی کا جواب سن کر تھوڑا مایوس ہو کر دوبارہ ٹی وی دیکھنے لگا جب تقریباً پونے بارہ کا ٹائم ہوا تو چچی میرے کمرے میں دوبارہ آئی اور آ کر بولی چل بھتیجےتیار ہو جا تھوڑی دیر میں میری سہیلی آ رہی ہے تم ایسا کرو میرے کمرے میں جا کر انتظار کرو میں اس کو لے کر وہاں ہی آؤں گی . میں تو یہ سن کر خوشی سے جھومنے لگا اور ٹی وی بند کر کے سیدھا چچی کی بیڈروم میں جا کر ان کے ڈبل بیڈ پے جا کر بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا. کوئی10 منٹ کے بعد باہر کی گھنٹی بجی اور مجھے گھنٹی بجنے کے ساتھ ہی باہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور کسی لڑکی کی چچی کی ساتھ باتیں سنائی دینے لگی . . پِھر یہ آوازیں نزدیک ہوتی ہوئی محسوس ہوئی اور تھوڑی دیر بعد چچی نے اپنے بیڈروم کا دروازہ کھولا تو سامنے چچی اور وہ لڑکی کھڑی تھی جب میری نظر اس لڑکی پے پڑی تو اس نے فوراً شرما کے اپنا منہ نیچے کر لیا اور پِھر چچی اندر داخل ہوئی اور مجھے سیکسی سی سمائل دی چچی بیڈ کے پاس پہنچ گئی لیکن وہ لڑکی دروازے پے ہی کھڑی تھی چچی نے پیچھے دیکھا تو اس لڑکی سے بولی نورین کیا ہوا اندر آؤ نا شرما کیوں رہی ہے وہ لڑکی پِھر چچی کی آواز پے چلتی ہوئی اندر آئی اور بیڈ کے ساتھ رکھی ہوئی کرسیوں میں سے ایک کرسی پے بیٹھ گئی. پِھر چچی میری طرف دیکھ کر بولی لوبھتیجے تم دونوں کا سکون اور مزے کا بندوبست میں نے کر دیا ہے اب تم دونوں کے پاس تقریباً 2 گھنٹے ہیں دونوں اپنی اپنی آگ کو ٹھنڈا کر لو اور پِھر بولی بھتیجے ذرا خیال رکھنا میری سہیلی کا یہ بہت میری خاص سہیلی ہے اور نرم اور نازک بھی ہے اِس کو مزہ بھی دینا اور زیادہ تکلیف نا دینا. چچی پِھر بولی میں ٹی وی والے کمرے میں ہی ہوں باہر کا خیال میں رکھوں گی تم دونوں بے فکر ہو کر ایک دوسرے سے مزہ لو اور اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو ساتھ والے کمرے میں مجھے آ کر بتا دینا اور پِھر چچی یہ کہہ کر باہر چلی گئی اور دروازہ بند کر دیا . اب میں اور وہ لڑکی ہی دونوں کمرے میں تھے اور لڑکی اتنی شرمیلی تھی کے نیچے ہی دیکھ رہی تھی میں نے کچھ دیر تو اس کے ری ایکشن کا انتظار کیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ اس کا کسی غیر مرد کے ساتھ پہلا تجربہ تھا اور میرا بھی لیکن میری تو ساری جھجھک چچی کی باتوں سے ختم ہو چکی تھی. پِھر میں نے ہی ہمت کی اور اس لڑکی سے کہا کے نورین جی یہاں بیڈ پے آ کر آرام سے بیٹھ جائیں وہاں کرسی پے تنگ ہو رہی ہوں گی . میں نے غور سے دیکھا اس کا چہرے کا رنگ میری بات سن کر لال سوراخ ہو گیا تھا اور بدستور نیچے ہی دیکھ رہی تھی . لیکن وہ کرسی پے ہی بیٹھی رہی اور وہاں سے نا ہلی اور دھیمی سی آواز میں بولی جی میں یہاں ٹھیک ہوں . میں نے دِل میں سوچا کا شی بیٹا خود ہی سب کچھ کرنا ہو گا نہیں تو سارا ٹائم اِس ہی چکر میں گزر جائے گا . میں بیڈ سے اٹھا اور جا کر جس جگہ لڑکی بیٹھی تھی اس کے ساتھ والی کرسی پے بیٹھ گیا . اور پِھر میں نے اس کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما تو اس نے فوراً شرما کے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا . میں نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کے کان میں جا کر بولا نورین جی ڈرنےکی ضرورت نہیں ہے میں آپ کو کوئی کھا تو نہیں جاؤں گا . ہم دونوں کو ہی پتہ ہے آج ہم اِس کمرے میں کیوں ہیں تو پِھر شرما کیوں رہی ہیں . میرے پے پورا بھروسہ رکھو آپ کو کوئی میری طرف سے نقصان نہیں ہو گا اور نا ہی کبھی بھی بدنام کروں گا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے.اب کی بار اس نے اپنا ہاتھ نہیں کھینچا اور تھوڑا سا آرام سے بیٹھ گئی اور اب وہ بیڈ کی طرف دیکھ رہی تھی . میں نے اس کا ہاتھ سہلایا اور پِھر اس کے کان میں بولا نورین جی کیا موڈ ہے بیڈ پے چلیں اور ایک دوسرے کی پیاس کو ختم کریں تو وہ شرما گئی اور بہت ہی ہلکی سی آواز میں بولی جی جیسے آپ کی مرضی . میں نئے ہاتھ پکڑ کے ہی اس کو کھڑا کیا اور دوسرا ہاتھ نیچے سے اس کی گانڈ میں سے نکال کر اٹھا لیا اور بیڈ پے لے گیا جب میں نے اس کو اٹھایا تو اس کے موٹے موٹے ممے میرے سینے کے ساتھ لگے تو میرا لن نے ایک زور دار جھٹکا مارا اور میں اس کو اٹھا کے بیڈ پے درمیان میں لیٹا دیا اور ساتھ ہی خود اس کے ساتھ لیٹ گیا . میں نے ایک ہاتھ اس کی گردن کے نیچے سے ڈال کر اس کو اپنے ساتھ لگا لیا اور اس کے رسیلے ہونٹوں کو چومنے لگا . تھوڑی ہی دیر میں نورین نے اپنا منہ کھول لیا میں سمجھ گیا کے وہ آب ایک دوسرے کے ہونٹوں کا رس پینا چاہتی ہے . میں نے بھی جواب میں اپنے ہونٹ اس کے ہونٹ کے ساتھ ملا دیئے اور ہم ایک دوسرے کا رس پینے لگے . میں نے محسوس کیا وہ میری زُبان اپنے منہ میں لے کر بڑے ہی سرور کے ساتھ چوس رہی ہے . وہ جیسے جیسے میری زُبان چوس رہی تھی میں مزے کی دنیا میں ڈوبتہ جا رہا تھا . میں نے بھی اس کے ساتھ ساتھ اس کی زُبان کو چوسنا شروع کر دیا اور اپنے ایک ہاتھ کو اس کی قمیض کے اندر ڈال کے اس کے مموں کو سہلانے لگا اور اس کی نپلز کو سہلانے لگا . جب اس کے نپلز کے ساتھ میں نے کھیلنا شروع کیا تو وہ اور مستی میں آ گئی اور مجھے اور زیادہ طاقت کے ساتھ اپنی دونوں بانہوں میں جڑ لیا . اور ہم ایک دوسرے کی زُبان بھی مسلسل چوس رہے تھے میں نے اب اپنا ہاتھ قمیض سے نکالا اور ناف کے پاس لے گیا اور اس کی شلوار میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگا مجھے حیرت کا جھٹکا لگا اس نے شلوار میں لاسٹک ڈالا ہوا تھا اور میرا ہاتھ آرام سے اس کی شلوار میں گھس گیا اور سیدھا پھدی کے ہونٹوں سے جا لگا اور حیرت کا دوسرا جھٹکا لگا کے اس کی پھدی کلین شیوڈ اور نرم ملائم تھی اور اس کے پھدی گرم گرم پانی چھوڑ رہی تھی. میں نے اپنی درمیانی انگلی اس کی پھدی کے اندر داخل کی تو اس کی منہ سے ایک دلکش سی خمار بھری آواز نکلی ہا اے میں مر گئی . میں اپنی آدھی انگلی اندر باہر کرنے لگا اور وہ نشیلی آوازیں نکالنے لگی میں نے کچھ دیر کے لیے ہاتھ روک کر اپنے ہاتھ سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے تانے ہوئے لن پے رکھ دیا اس نے میرے لوں کو مٹھی میں پکڑ کر پِھر آواز نکالی ہا اے میں مر گئی اور وہ اپنے نرم ملائم ہاتھ سے میرے لوں کو آہستہ آہستہ سہلانے لگی اور میں دوبارہ اس کی شلوار میں ہاتھ ڈال کے اپنی انگلی اس کی پھدی کے اندر باہر کرنے لگا یہ مزہ کوئی 5منٹ تک چلتا رہا پِھر میں نے اس کے کان میں کہا جان آب ہم دونوں کو پورا مزہ لینا چاہیے. وہ بولی جو آپ کی مرضی میں بیڈ پے کھڑا ہو گیا اور اپنے کپڑے لگا وہ بھی اٹھ کر اپنے کپڑے لگی اور کچھ ہی دیر میں ہم دونوں پورے ننگے ہو گئے اس نے جب میرے تنے ہوئے لن کو نزدیک سے دیکھا تو شرما گئی . میں نے کہا اتنا کچھ ہونے کے بَعْد بھی شرما رہی ہو . وہ بولی ایسی بات نہیں ہے . پِھر وہ دوبارہ بیڈ پے سیدھی لیٹ گئی میں وہاں سے اس کی ٹانگوں کو کھول کے درمیان میں بیٹھ گیا اور اس کی پھدی کے پاس اپنا منہ لگا کے اس کی پھدی کو چاٹنے لگا جب میں نے اس کی پھدی میں اپنی زُبان ڈالی تو وہ مست ہو کر اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر اور میرے سر اور اپنی پھدی پے دبانے لگی اور منہ سے آوازیں نکالنے لگی آہ آہ آہ اوہ اوہ . . میں کوئی10 منٹ تک اس کی پھدی کی سکنگ کرتا رہا اور وہ میری سکنگ سے ایک دافع فارغ ہو چکی تھی جس کا اندازہ مجھے اس وقعت ہوا جب میں نے اس کی پھدی کا نمکین پانی اپنی زُبان پے محسوس کیا . پِھر وہ بولی کا شی جی اب اور ہمت نہیں ہے آپ بس اندر ڈالو مجھے ٹھنڈا کرو . میں نے کہا نورین جی ٹھنڈا تو میں آپ کو کروں گا ضرور لیکن پہلے میرے لن کا ایک اچھا سا چوپا لگا کے اِس کو آپ کی پھدی میں لینڈنگ کے لیے تیار تو کرو . وہ بولی جی ٹھیک ہے اور پِھر گھوری اسٹائل میں ہو کر میرے لن کو منہ میں لے لیا اور اس کو ٹوپی سے لے کر جہاں تک ہو سکا اپنے منہ میں لیتی اور پِھر اندر باہر کرنے لگی . اندر ہی اندر وہ اپنی زُبان کو گول گھوما کے میرے لن کو چاٹتی تو میرے اندر سرور کی لہر دوڑ جاتی. اس کے ہو شر با چو پوں سے میرا لن فل آکر کر تن گیا اور میں نے اس کو مزید چو پے لگانے سے روک دیا اور اس کو بولا کے وہ سیدھی ٹانگیں کھول کر لیٹ جائے . وہ جب لیٹ گئی اور میں پِھر ایک دفعہ اس کی ٹانگوں کے درمیان آ کر بیٹھ گیا اور اس کی ٹانگوں کو اپنے کندھوں پے رکھ لیا اور اپنا لن اس کی پھدی پے سیٹ کر کے پہلے ٹوپی کو اندر گھسایا اور پِھر باقی لن اندر کرنے لگا وہ نیچے سے تھوڑا کسمسا رہی تھی اس کی پھدی ایسے لگ رہی تھی کے جیسے لوہے کی بھٹی میں اپنا لن ڈال دیا ہو اور اس کی پھدی ٹائیٹ بھی کافی تھی اور جیسے جیسے لن اندر جا رہا تھا وہ میرے لن پے اپنی پھدی کی گرفت اور ٹائیٹ کرتی جا رہی تھی جس سے مجھے ایک الگ ہی سرور مل رہا تھا. جب میرا لن تقریباً 5 انچ تک اندر اُتَر چکا تھا تو نورین نے اپنے ہاتھ میرے سینے پے رکھ دیئے اور بولی بس اب اور اندر نہیں لے سکوں گی اب یہاں تک ہی اندر باہر کرو . میں نے نے کہا جان تقریباً سارا تو اندر جا چکا ہے بس 1 انچ ہی رہ گیا ہے تھوڑا اور برداشت کر لو جب پورا اندر ہو جائے گا تو جب ہم دونوں کا جسم جھٹکے لگنے سے ایک دوسرے سے ملے گا تم ہم دونوں کو بہت زیادہ مزہ آئے گا اور ایک دوسرے کے جسموں کی گرمائش سے اور لطف آئے گا . وہ بولی ٹھیک ہے لیکن آب باقی کا ایک ہی جھٹکے میں اندر کر دو میں ایک ہی دفعہ برداشت کر لوں گی . اور پِھر پورا اندر کر کے تھوڑی دیر بعد جھٹکے مارنا شروع کرنا . میں نے آگے ہو کر اپنے ہونٹ نورین کے ہونٹوں کے ساتھ لاک کر دیئے اور ایک زور دار جھٹکا مارا اور پورا لن اندر اُتَر گیا نورین کی ایک چیخ میرے منہ میں ہی نکل کر اندر ہی رہ گئی اور پِھر میں اس کے اوپر ہی تھوڑی دیر کے لیے لیٹ گیا. اور پِھر میں نے کوئی 3 سے 4 منٹ کے بعد آہستہ آہستہ اپنا لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا . میری کوشش یہ ہی تھی کے اس کو درد کم سے کم ہو اِس لیے میں نے پہلے 5 منٹ تک آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کر دیا . . لیکن جیسے ہی نورین نے لن کو اپنے اندر آرام سے اندر باہر ہونا محسوس کیا اس نے کہا آب درد نہیں ہو رہا آپ تھوڑا تیز تیز کریں میں نے اپنی رفتار تیز کر دی اور پورا اندر گھساکر پِھر باہر تک واپس لا کر اندر باہر جھٹکے لگانے لگا جھٹکوں سے دھپ دھپ کی آوازیں آنے لگیں اور نورین بھی مستی میں منہ سے نشیلی اور سیکسی آوازیں نکلنے لگی اور جب نورین نے نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کے پھدی مروانہ شروع کی تو میں نے بھی طوفانی جھٹکے مارنے شروع کر دیئے . اور پورا کمرا ہماری چدائی کی آوازوں سے گونجتا رہا اور میں مزید اس کو 10منٹ تک چودا اور وہ اِس دوران 2 دفعہ فارغ ہو چکی تھی . میں جب فل چدائی کے بعد فارغ ہونے پے آیا تو میں نے نورین سے پوچھا پانی کہاں نکالوں تو اس نے خمار بھری آواز میں کہا اندر ہی چھوڑ دو میں اپنی پھدی میں تمہارا گرم گرم پانی محسوس کرنا چاہتی ہوں میں نے اس کے بعد اپنا پانی کا گرم گرم لاوا اس کی پھدی کے اندر چھوڑ دیا اور اس کے اوپر لیٹ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگا. جب میری سانسیں بَحال ہوئیں تو میں اس کے پہلو میں لیٹ گیا اور پِھر ہمارے درمیان کوئی 5 منٹ تک خاموشی رہی . . پِھر نورین نے ہی خاموشی توڑی اور بولی کا شی آج مجھے زندگی کا اصل مزہ اور سکھ نصیب ہوا ہے 2 سال سے اپنی ہوس کی آگ میں جل رہی تھی . میں نے کہا تم نے تو اپنے میاں کے ساتھ کچھ مہینے تو رہی ہو تو کیا اس نے کبھی تم کو یہ سکھ نہیں دیا . اس نے کہا میں نے اپنے میاں کے ساتھ کوئی 8 سے10 دفعہ ہی کیا تھا کیونکہ میرے میاں دوسرے شہر میں جاب کرتے تھے اور کام کی تھکن اور زیادہ تر گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے میں یہ خوشی حاصل نہیں کر سکی اور آج تم سے بھی کوئی 2 سال بعد کر رہی ہوں . وہ بھی اگر بھابی کو میرا احساس نہیں ہوتا تو میں پتہ نہیں کتنا ٹائم اور برداشت کرتی . میں نے پوچھا ویسے میرے ساتھ یہ کام کر کے کیسا لگا سچ سچ بتانا . تو وہ بولی پہلے پہلے تو ڈر بھی تھا اور شرم بھی لیکن بھابی نے آپ کے متعلق مجھے کل سب بتا دیا تھا اور آج جب آپ نے مجھے کرسی پے بیٹھ کر جو کچھ بھی کہا وہ میرے اعتبار کے لیے کافی تھا . میں نے کہا مزہ اپنے میاں کے ساتھ آیا یا میرے ساتھ آیا . . تو وہ بولی حقیقت میں آپ کے ساتھ سب سے زیادہ مزہ آیا وہ تو زیادہ سے زیادہ 5 منٹ کے اندر فارغ ہو جاتے تھے اور میں زیادہ تر درمیان میں ہی رہ جاتی تھی . آپ کا ٹائم تو ان سے زیادہ ہے . اور آپ کا ان سے لمبا اور موٹا بھی ہے ان کا تو آپ سے میری پوری ایک انگلی چھوٹا تھا . پِھر میں نے کہا اب آگے کا کیا موڈ ہے اگلا رائونڈ لگانا ہے یا موڈ نہیں ہے. وہ آگے سے بولی آپ کا کیا موڈ ہے آپ جو کہو گے وہ ہی میری مرضی ہو گی . میں نے کہا میرا تو موڈ ہے لیکن میرا موڈ کچھ نیا کرنے کا ہے وہ بھی اگر آپ ساتھ دو گی تو نہیں تو نہیں کروں گا . اس نے کہا آپ بتاؤ کیا کرنا ہے . میں پوری کوشش کروں گی وہ کر سکوں . میں نے کہا نورین میرا تمہاری گانڈ مارنے کا موڈ ہے اگر تم راضی ہو تو . وہ میری بات ان کر تھوڑی دیر خاموش ہو گئی . میں نے کچھ دیر بعد خاموشی توڑی اور کہا اگر تم راضی نہیں ہو گی تو میں کبھی بھی نہیں کروں گا . وہ بولی ایسی بات نہیں ہے میں نے آج تک گانڈ میں اندر نہیں لیا ہے . اور بھابی سے مجھے پتہ چلا تھا کے گانڈ میں پہلی دفعہ بہت درد ہوتی ہے . میں نے کہا ہاں یہ تو سچ ہے پہلی دفعہ گانڈ میں کافی درد ہوتی ہے لیکن پہلی دفعہ کے بعد پِھر پھدی جتنا مزہ بھی ملتا ہے . وہ آگے سے بولی ٹھیک ہے میں تیار ہوں لیکن ایک تو آپ کوئی لوشن یا تیل اپنے لن پے بھی لگا لو اور میری گانڈ کی سوراخ پے بھی لگا دو پِھر بہت ہی آرام آرام سے اندر کرنا . دوسرا اگر میری ہمت جواب دے گئی تو آپ روک دینا اور باہر نکل لینا . میں نے کہا ٹھیک ہا مجھے منظور ہے . میں نے کمرے میں رکھی ہوئی چچی کی ڈریسنگ ٹیبل پے نظر ماری تو میں دیکھ کر حیران رہ گیا کے میری زیتون کے تیل کی بوتل ان کے ٹیبل پر پری ہوئی ہے . میں یہ دیکھ کر دِل میں سوچا چچی بڑی رنڈی ہے اس کو پوری تیاری کر کے رہی ہوئی تھی . پِھر میں نے نورین کو کہا تم گھوری بن جاؤ میں تیل لگاتا ہوں میں نے ڈریسنگ ٹیبل سے تیل لیا اور سب سے پہلے نورین کی گانڈ کی موری میں انگلی کو آرام آرام سے اندر ڈال کر تیل سے نرم کر دیا اور کافی تیل اوپر مل دیا . پِھر اپنے لن کو بھی تیل کے ساتھ گیلا کر دیا اور پِھر میں گھٹنوں کے بل کھڑا ہوکر اپنے لن کو نورین کی پھدی پے سیٹ کیا اور پہلے اپنے لن کی ٹوپی کو اندر ڈالنے کی کوشش کرنے لگا میں نے تھوڑا سا پُش کیا تو میری آدھی سے بھی کم ٹوپی اندر گھس گئی لیکن نورین درد کی وجہ سے آگے ہو گئی اور میری ٹوپی پِھر باہر نکل آئی. وہ بولی کا شی آپ کا بہت موٹا ہے یہ اندر نہیں جائے گا مجھے بہت دَرْد ہو گی . میں نے کہا جان تھوڑا سا دَرْد میرے لیے بردست کر لو میں بہت ہی آرام سے اندر کروں گا . تاکہ تم کو کم سے کم دَرْد ہو . وہ بولی چلو ٹھیک ہے کرو . میں نے کہا جان تھوڑا سا برداشت کر لو اب آگے نا ھونا . میں نے آب کی بار آرام سے ٹوپی کو گانڈ کے سوراخ پے رکھا اور ہلکا سا زور دیا تو تقریباً آدھی ٹوپی اندر گھس گئی اِس دفعہ نورین آگے نا ہوئی لیکن اس کے منہ سے دَرْد بھری آواز نکلی ہا اے ا می جی . میں وہاں ہی رک گیا اور تھوڑا انتظار کیا پِھر میں نے دوبارہ ہمت کر کے آرام سے پُش کرنے کی کوشش کی تو آئی دفعہ نورین نے غلطی سے پیچھے کو جھٹکا مار دیا اور میری پوری ٹوپی رنگ تک اس کی گانڈ میں اُتَر گئی اور نورین کے منہ سے خوفناک چیخ نکل گئی میرا اور نورین کا منہ دروازے اور اس کے ساتھ بنی ہوئی کھڑکی کی طرف ہی تھا . نورین کی چیخ کی وجہ سے میں ڈر گیا تھا میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا تو وہاں جالی دار پردہ لگا ہوا تھا جس سے اندر آسانی کے ساتھ دیکھا جا سکتا تھا . میں نے وہاں ایک چچی کی ہم عمر عورت کو کھڑے ہوئے دیکھا وہ ہماری کوئی رشتہ دار نہیں تھی لیکن وہ محلے کی ہو سکتی تھی . اس کی نظر میری نظر سے ملی تو وہ فوراً پیچھے ہٹ گئی لیکن یہ بات مجھے نہیں پتہ تھی کے وہ عورت ہمیں کب سے دیکھ رہی تھی بس اِس ہی سوچ میں میں گم تھا اور میں نے بھی جلدی میں بغیر سوچے سمجھے اپنا لن نورین کی گانڈ میں سے باہر کھینچ لیا جس کا اس کو مزید دَرْد اٹھانا پڑا جب نورین سیدھی ہوئی تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کے اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے . میرا تو دِل ہی پھٹ گیا اور مجھے افسوس اور غم کا شدید جھٹکا لگا کے یہ میں نے کیا کے میں نے نورین رلا دیا ہے . میں نے فوراً نورین کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اس کو دیوانہ وار چومنے لگا اور اس کو دلاسہ دینے لگا اور وہ کافی دیر بعد جب بہل کے چُپ کر گئی تو میں نے اس کو کہا نورین مجھے معاف کر دو میرا مقصد تکلیف دینا نہیں تھا یار میرے سے غلطی سے ہو گیا میں نے بہت آرام سے کرنے کی کوشش کی تھی . . مجھے معاف کر دو . وہ تھوڑی دیر بعد بولی کا شی تمہارا قصور نہیں ہے میری غلطی تھی میں غلطی سے پیچھے کو ہو گئی اور یہ تکلیف مجھے ملی . پِھر وہ کافی دیر میری جھولی میںبیٹھی رہی اور پِھر کچھ دیر بعد اٹھ کر باتھ روم جانے لگی تو جب کھڑی ہوئی تو وہ چل نہیں سکتی تھی اِس لیے بیڈ پے دوبارہ بیٹھ گئی میں نے اس کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور باتھ روم لے گیا اور اس نے اپنی صفائی کی پِھر میں اس کو اٹھا کر باہر لے آیا اور بیڈ پے بیٹھا دیا میں نے اس کو کہا نورین تم بیڈ پے اُلٹا لیٹ جاؤ میں تمہاری درد کا حَل نکالتا ہوں میں نے چچی کی ڈریسنگ ٹیبل پے رکھا ہوا لوشن اور موو کریم لی اور بیڈ پے بیٹھ کر پہلے لوشن سے نورین کے گانڈ کا سوراخ کو مساج کر کے نرم کیا اور پِھر موو کریم لگا دی جس سے اس کو کافی حد تک سکون ملا تھا . پِھر اس نے کپڑے پہن لیے اور دروازہ کھول کر باہر چلی گئی اور کچھ دیر بعد میں نے دیکھا باہر کا دروازہ کھلا ہے اور کوئی باہر چلا گیا .

تھوڑی دیر کے بعد میں نے چچی کے باتھ روم میں ہی نہا لیا اور اور جب نہا کر باہر نکلا تو چچی اپنے بیڈ پے بیٹھی ہوئی تھی . . میرے ان سے نظر ملی تو وہ مجھے دیکھ کر بڑے ہی سیکسی انداز میں مسکرا رہی تھی . میں تھوڑا سا شرما گیا تو آگے سے بولی کیوں کیا ہوا بھتیجےپھدی مار کے آب تو بڑی شرم آ رہی ہے . سناؤ تیرے اندر کی گرمی نکلی ہے کے نہیں . کیسی تھی میری سہیلی اور اس کی تنگ پھدی . میں چلتا ہوا کرسی پے بیٹھ گیا اور بولا چچی گرمی بھی نکل گئی اور تمہاری سہیلی ہے بڑی نمکین اور مزے کا مال تھی . چچی بولی بس تو میرے راز کا راز بنا کے رکھ اور مجھے اپنا مزہ لوٹنے دے پِھر دیکھ کیسے عیش کرواتی . میں نے کہا چچی جان آپ اب بے فکر رہو آپ اِس غریب کا خیال رکھو آپ کو کسی قسِم کی ٹینشن نہیں ہو گی . چچی نے مجھے کہا ویسے بھتیجے تم نے میری سہیلی کے ساتھ اچھا نہیں کیا پہلی دفعہ میں ہی اس بیچاری کی بُنڈ میں اپنا لن گھسا دیا تم نے, بندہ تھوڑا ٹھنڈا کر کے کھاتا ہے تم تو ایک ہی باری میں سب کھانے کے چکر میں ہوتے ہو وہ بیچاری بڑی ہی مشکل سے چل کے گھر گئی ہے بندہ تھوڑا سا تو خیال کرتا ہے . چچی کی بات سن کر میں شرمندہ ہو گیا حقیقت میں مجھے نورین کو کچھ ٹائم دینا چائے تھا میں نے چچی سے کہا چچی جان مجھ سے غلطی ہو گئی ہے مجھے خود اِس بات کا بہت دکھ ہوا تھا اس وقعت لیکن اب میں آگے سے پورا پورا خیال رکھوں گا . . بلکہ اپنی استاد اپنی چچی جان سے پوچھ کے ہی کیا کروں گا اور ساتھ ہی چچی کو آنکھ مار دی وہ بھی مجھے دیکھ کر ہنس پری اور آنکھ مار دی. یکدم مجھے اس عورت کا خیال آیا تو میں نے چچی سے پوچھا کے چچی ایک بات بتاؤ میں جب نورین کو چود رہا تھا تو کھڑکی سے ایک عورت اندر دیکھ رہی تھی وہ عورت کون تھی اور کب سے وہ ہمیں دیکھ رہی تھی . چچی بولی جب تم مجھے چودواتے ہوئے دیکھ سکتے ہو تو کیا میں نہیں دیکھ سکتی تھی اِس لیے میں نے کمرے کی کھڑکی کھول دی تھی اور اس کے آگے پردہ کر دیا تھا میں تو بس اتنا ہی دیکھ کر گرم ہو گئی تھی جب نورین تیرے لن کے چو پے لگا رہی تھی پِھر میں وہاں سے چلی گئی تھی اور جو عورت تم نے دیکھی تھی وہ ہمارے اپنے محلے کی عورت تھی اور میں اکثر اس کو اپنے جسم کی مالش کروانے کے لیے وہاں سے بلا لیتی ہوں نورین بھی کافی دفعہ اپنی مالش اس کروا چکی ہے. وہ دوسرے کمرے میں میری مالش کر رہی تھی وہ بھی میری اور نورین کی رازدان ہے اور سب جانتی ہے . وہ نورین کو پہلی دفعہ چودواتے ہوئے دیکھنا چاہتی تھی اِس لیے وہ کافی دیر تک تم لوگوں کو دیکھ رہی تھی . مزے کی بات بتاؤں وہ بھی بہت گرم عورت ہے کبھی ٹائم نکال کے اس کا بھی مزہ کروا دوں گی . پہلے یہ تو بتاؤ پہلی دفعہ کسی عورت کے اندر ڈال کے کیسا محسوس کیا ہے . میں نے کہا چچی حقیقت میں نورین بڑی ہی صاف سُتھری اور نمکین لڑکی ہے اور اس کی پھدی بھی کافی تنگ اور گرم ہےچودکے مزہ آ گیا تھا لیکن ایک حسرت پوری نہیں ہوئی . چچی بولی پہلی بات تو یہ ہے کے نورین کا ابھی تک کوئی بچہ نہیں ہوا ہے اور وہ بیچاری تو اپنے میاں کے بعد تم سےچودوا رہی تھی اِس لیے اس کی پھدی گرم بھی ہے اور تنگ بھی . . دوسرا بات تیری حسرت کی وہ بھی پوری ہو جائے گی فکر نا کر مجھے پتہ ہے بُنڈ میں ڈالنے کا بڑا شوق ہے اور اکثر مرد پھدی سے زیادہ تنگ موری کو زیادہ پسند کرتے ہیں تیری وہ بھی حسرت پوری کر دوں گی. چچی یہ بات آپ کی سچ ہے کے مرد زیادہ تر تنگ موری کو پسند کرتے ہیں لیکن کئی لونڈے بازی کے بھی شوقین ہوتے ہیں . . لیکن میرا حساب اور ہے مجھے لونڈے بازی کا ذرا سی بھی شوق نہیں ہے اور نا ہی کبھی دماغ میں ایسا خیال آیا ہے میرا بس بُنڈ کی موری کا شوق عورت تک ہے وہ بھی اس کی رضامندی سے . . میں نے نورین کے ساتھ کرنے سے پہلے بھی اس کو پوچھ کر اس کی رضامندی سے کیا تھا بے شک آپ اس سے پوچھ لینا . چچی بولی چلو ٹھیک ہے باقی باتیں بعد میں کسی اور ٹائم کریں گے تم ابھی باہر جاؤ اور سبزی والے سے آلو لے آؤ بچے بھی آنے والے ہیں میں نہا کے كھانا بناتی ہوں. میں وہاں سے اٹھا اور باہر کی طرف نکل گیا اور اس دن رات تک سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا اور اگلے دن بھی سب وہ ہی معمول کے حساب سے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے اگلے دن میں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا اور چینل بَدَل بَدَل کے دیکھ رہا تھا پِھر ایک جگہ پے) اچ بی و( چینل لگا ہوا تھا اس پے بیسک انسٹنکٹ لگی ہوئی تھی اس میں کافی گرم اور سیکس والے سین بھی تھے جس کو دیکھ کر میرا لن شلوار میں تن کر کھڑا ہو گیا تھا . میں نے وہاں بیٹھے بیٹھے ہی اپنا لن سہلانا شروع کر دیا جب گرمی پورے جسم میں چلنے لگی تو میں نے سوچا اپنے کمرے میں جا کر مٹھ لگائی جائے میں جب ٹی وی والے کمرے سے باہر نکلا تو میری نظر کچن میں پری وہاں چچی شیلف کے پاس کھڑی سبزی کاٹ رہی تھی اور ان کی موتی بُنڈ میری طرف تھی . ان کی بُنڈ دیکھ کر میرا لن تن کے اور لوہے کا راڈ بن گیا اور میں آہستہ سے چلتے ہوئے کچن میں گیا اور چچی کے بالکل پیچھے کھڑا ہو کر اپنا لن ان کی بُنڈ کی دڑ اڑ میں دبا کر پوچھنے لگا چچی جان آج کیا پکا رہی ہیں میں آپ کی مدد کر دوں. چچی نے جب میرے لن اپنی بُنڈ کی لکیر میں محسوس کیا اور اپنا نیچے والا ہونٹ کاٹتے ہوئے بولی بھتیجےاتنی دن بعد چچی کی مدد کا خیال آیا ہے اور اپنی بُنڈ میرے لن پے اور دباتے ہوئے بولی بھتیجےمدد میری نہیں تم اپنی مدد کروانے آے ہو یہاں اور آگے سے ہنسنے لگی . میں نے بھی چچی کے مموں کو آگے سے پکڑ لیا اور اپنا لن اور آگے کو دبا کے چچی کی بُنڈ کی دڑ اڑ میں پھنسا دیا اور بولا کے چچی جان پِھر کر دو نا اپنے بھتیجےکی مدد کیوں تڑپا رہی ہو. چچی کے منہ سے گرم گرم سانسیں نکل رہی تھی اور پِھر انہوں نے اپنی ٹانگوں کو نیچے سے تھوڑا کھولا اور اور نیچے اپنا ہاتھ لے جا کر میرا لن کو پکڑ کر اپنی بُنڈ کی موری پے سیٹ کیا اور دوبارہ اپنی ٹانگوں کو بند کر کے بولی چل آہستہ آہستہ جھٹکے مار اور خود بھی مزہ لے اور مجھے بھی دے فارغ ہو اور جا . میں نے کہا چچی اتنا سب کچھ کر لیا ہے تو شلوار اُتَر کے اندر ڈالنے دو نا . وہ بولی جتنا کہا ہے وہ کر میں نے اس دن بھی سمجھایا تھا کے میں جتنا کر سکتی ہوں کر دیا کروں گی لیکن اندر کبھی نہیں لوں گی اس کے لیے تمہیں اور اچھا چھا مال ضرور کھلا دیا کروں گی. مجھے چچی کی بات پے غصہ تو بہت آیا لیکن چُپ رہنا ہی بہتر سمجھا مجھے پتہ تھا ایک نا ایک دن تو چچی کی ضرور مار کے رہوں گا لیکن اِس سے پہلے اِس کو ناراض کر کے اِس کے ذریعےدوسرا مال کھانے کو ملنا بند ہو جائے گا. میں نے بھی مسکا مارتے ہوئے کہا چلو چچی جان کوئی بات نہیں آپ تو میری جان ہیں مجھے آپ نیا نیا مال کھلا دیا کرو میں خوش ہوں آپ سے . چچی بولی چل پِھر آہستہ آہستہ سے جھٹکے مار اور مزہ لے اور مجھے بھی دے . میں نے چچی کی نرم نرم بُنڈ میں اپنا لن پھنسا کے جھٹکے مارنا شروع کر دیئے اور ساتھ ساتھ چچی کی مموں سے اور نپلز کے ساتھ بھی کرنا شروع کر دی اور چچی بھی شیلف پے ہاتھ رکھ کر تھوڑا سا آگے کو جھک گئی اور اپنے بُنڈ کو بڑ ے ہی سیکسی انداز میں آگے پیچھے کرنے لگی اور سیکسی سیکسی آوازیں نکلنے لگی مجھے ایک عجیب سا مزہ آ رہا تھا درمیان میں چچی کبھی کبھی اپنی بُنڈ کو ڈھیلا چھوڑتی اور پِھر بند کر لیتی جس سے مجھے ایک دلفریب سرور مل رہا تھا اور میں آنکھیں بند کر کے مزے کی دنیا میں ڈوبا ہوا تھا کافی دیر جھٹکے لگانے کے بعد مجھے چچی کی شلوار نیچے سے گیلی ہوئی محسوس ہوئی تو مجھے لگا چچی چھوٹ گئی ہے لیکن پِھر بھی وہ بڑ ے ہی ر دھم کے ساتھ آگے پیچھے ہو رہی تھی چچی کا پانی نکلنے کی وجہ سے نیچے ان کی بُنڈ والی جگہ ساری گیلی ہو گئی تھی جس سے عجیب سی آوازیں نکل رہی تھی جو مجھے مدھوش کر رہی تھی اور کوئی10 سے 12 منٹ کے بعد میرا بھی پانی کا فوارہ چچی کی بُنڈ کی میں نکلنے لگا اور مجھے اپنی ٹانگوں میں جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی لیکن مزہ اتنا آیا تھا کے بیان نہیں کر سکتا . . اور پِھر میں پیچھے کو ہو کر نیچے زمین پے بیٹھ کر سانس لینے لگا چچی سیدھی ہوئی اور بولی سنا بھتیجےکیسی لگی میری بُنڈ . میں نے سانس بَحال کر کے کہا واہ چچی کمال کی بُنڈ ہے آپ نے تو آج دِل خوش کر دیا. چچی نے کہا اب جا کر نہا لو میں بھی نہانے جا رہی ہوں . اور وہ اپنے کمرے میں بنے باتھ روم میں چلی گئی اور میں صحن میں بنے ہوئے باتھ روم میں گھس گیا . میں نہا کے اپنے روم میں جا کرٹرا وزَرپہن لی اور دوبارہ آ کر ٹی وی دیکھنے لگا . چچی بھی نہا کے کچن میں اپنا کام ختم کر رہی تھی سارا کام ختم کر کے وہ اپنے کمرے میں جانے لگی تو ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر بولی کا شی بیٹا میرا کمرے میں آؤ کچھ باتیں کرنی ہیں یہاں دادی کا کمرا ساتھ میں ہے آواز چلی جائے گی . یں نے ٹی وی بند کیا اور چچی کے ساتھ ان کے کمرے میں آ کر کرسی پے بیٹھ گیا اور چچی اپنے بیڈ پے بیٹھ گئی . میں نے پوچھا کیا بات کرنی ہے آپ بتائیں . تو کہتی ہیں کے دیکھو کا شی بیٹا جو کچھ بھی تمھارے اور میرے درمیان چل رہا ہے وہ کسی کے آگے بھول کے بھی ذکر نہیں کرنا نہیں تو ہم دونوں کو جو ذلت اٹھانا پرے گی وہ تمہیں بہت اچھی طرح پتہ ہے . میں نے کہا چچی آپ کیوں فکر کرتی ہیں میں کسی کو بھی نہیں بتاؤں گا اور نا کسی کو اپنے اِس تعلق میں شامل کروں گا . آپ کیوں فکرمند ہیں اتنی . وہ بولی دیکھو کا شی بیٹا ابھی تم اتنی بڑے نہیں ہو اِس لیے ڈ ر لگتا ہے کے کہئیں بھی تمہاری زُبان سے یہ بات نکل گئی تو ہم دونوں کی خیر نہیں ہو گی . اِس لیے تمہیں با بار تاکید کر رہی ہوں . میں نے کہا چچی جان آپ بالکل بے فکر ہو جائیں میں اگر اتنا بڑا نہیں ہوں تو اتنا چھوٹا بھی نہیں ہوں اِس لیے آپ اپنے دماغ سے یہ نکال دیں کے میں کسی کو یہ بات بتا کر آپ کو بھی ذلیل کرواؤں گا اور اپنے پیروں پے بھی کلہاڑی ماروں گا . چچی بولی شاباش بیٹا اگر تم اپنے وعدے پے قائم رہے تو دیکھتے جاؤ میں تمہیں کتنی عیش کرواتی ہوں . میں نے کہا چچی آپ تو اندر بھی نہیں کروانے دیتی ہو تو کچھ اور کرو نا آج نورین کوچودے ہوئے بھی 3 دن ہو گئے ہیں. چچی بولی مجھے پتہ ہے کل اتوار ہے اور سب گھر پے ہوں گے اِس لیے کل کا دن نکالو پرسوں دن میں تمہیں ایک اور پھدی اور مست بُنڈ کا کھلا دوں گی. میں نے کہا واہ کیا بات ہے چچی دِل خوش کر دیا ہے لیکن یہ تو بتاؤ کون ہے تمھارے علاوہ جس کی گانڈ اتنی مست ہے . وہ بولی میں بتاؤں گی تو تمہیں یقین نہیں آئے گا . میں نے کہا آپ بتاؤ تو سہی وہ کون ہے کوئی اپنی رشتہ دار ہے کیا ؟ وہ بولی نہیں رشتہ دار نہیں ہے اپنے محلے کی ہی ہے وہ کوئی اور نہیں نورین کی امی ہے . جب چچی کے منہ سے سنا تو میں اچھل پڑا اور حیرت سے چچی کو دیکھنے لگا. چچی آگے سے بولی کے لگا نا حیرت کا جھٹکا . میں نے کہا واقعی چچی آپ سچ کہہ رہی ہیں کے نورین کی امی بھی… اور آپ نے ان کو کیسے راضی کیا اور کیا وہ نورین کا میرے ساتھ والا معاملا بھی جانتی ہیں. چچی بولی آرام سے آرام سے اتنی کیا جلدی ہے اتنے سوال ایک ہی دفعہ میں پوچھ لیے ہیں . میں نے کہا چچی آپ نے بات ہی ایسی سنائی ہے مجھے ابھی تک یقین نہیں ہو رہا ہے . وہ بولی یقین آ جائے گا تھوڑا صبر کرو . اور کہنے لگی کے نورین کی امی کو تمہارا اور نورین کا معاملا بالکل بھی نہیں پتہ ہے اور نا ہی تم نے اس کے ساتھ کسی بھی بات کا ذکر کرنا ہے . اس کو تو میرا اور نورین کا معاملا بھی نہیں پتہ ہے اس کا میرے ساتھ اور حساب ہے اور نورین کے ساتھ اور ہے . تمہیں یہ باتیں تھوڑا عرصے بعد خود ہی سمجھ آ جائیں گی . مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کے چچی کیا پہیلیاں بُجھا رہی ہے . میں نے کہا چچی جان میں ان سے کسی قسِم کا کوئی بھی ذکر نہیں کروں گا آپ بے فکر ہو جاؤ اور لیکن یہ تو بتاؤ کے وہ آپ کے ساتھ کیسے سیٹ ہیں اور وہ اتنی آسانی سے کیسے میرے سےچودوانے میں راضی ہوں گی یہ تو آپ کو بتانا ہی پڑے گا. چچی کہتی ہے ٹھیک ہے بتاتی ہوں لیکن پہلے کمرے کا دروازہ بند کر دو آواز باہر نا جائے
میں نے دروازہ بند کیا اور کرسی کھینچ کے بیڈ کے پاس رکھ کر بیٹھ گیا اور چچی کی طرف دیکھنے لگا . چچی بولی کے نورین کی امی عشرت میری سہیلی بہت پہلے سے تھی جب میں شادی ہو کر کے یہاں آئی تھی اس کے کوئی 3 یا 4 سال بعد وہ میری بڑی پکی سہیلی بن گئی تھی کیونکہ وہ عمر میں مجھے سے 3 سال بڑی تھی اِس لیے میں اپنی ہر بات ہر دکھ سکھ اس کے ساتھ بانٹتی تھی اور آہستہ آہستہ وہ اور میں آپس میں اپنے ہر دکھ سکھ بانٹتے تھے اِس لحاظ سے وہ میری اور میں اس کی زندگی کی سب باتیں جانتے ہیں یوں سمجھ لو وہ میری پہلی اور سب سے پرانی رازدان تھی. عشرت کے میاں سعودیہ میں ملازمت کرتے تھے اور وہ 2 سال بعد ہی 2 یا 3 مہینے کے لیے گھر آتے تھے وہ یہ ہی وہ ٹائم ہوتا تھا جب عشرت خوش رہتی تھی اور اس کی بیٹی بھی خوب باپ کے ساتھ اچھا ٹائم گزرتی تھی . شروع شروع میں تو عشرت کا میاں بھی جوان تھا اور جب سعودیہ سے آتا تھا تو خوب اچھی طرح دن رات عشرت کی پھدی کی گرمی اُتارتا تھا ان دنوں میں عشرت بہت خوش نظر آتی تھی . پِھر آہستہ آہستہ کوئی 10یا 12 سال جب گزر گئے تو وہ زیادہ عشرت کو خوش نہیں رکھ سکتا تھا وہ باہر رہ کر شو گر کا مریض بن گیا تھا اور زیادہ دیر تک عشرت کو خوش نہیں رکھ سکتا تھا عشرت اور اس کے میاں کی عمر میں بھی فرق تھا اس کا میاں عشرت سے 7 سال بڑا تھا اِس لیے عشرت اس کے مقابلے میں زیادہ گرم اور جوان تھی اِس لیے وہ بیچاری دِل پے پتھر رکھ کے ٹائم گزار دیتی تھی. عشرت مجھے اپنا دکھ آ کر بتاتی تھی لیکن میں اس وقعت اس کی کچھ بھی مدد نہیں کر سکتی تھی اس وقعت تمھارے چچا زندہ تھے اور میں ان کے ساتھ بہت اچھا وقعت گزر رہی تھی تمھارے چچا مجھے ہر لحاظ سے خوش رکھتے تھے اس کا لن بھی تمھارے جتنا لمبا تھا لیکن اتنا موٹا نہیں تھا جتنا تمہارا ہے . عشرت کا میاں جب آتا تھا تو اپنی پوری کوشش کرتا تھا کے وہ اپنی بِیوِی کو مطمئن کر سکے لیکن وہ نہیں کر پاتا تھا وہ شو گر کی وجہ سے 3 سے 4 منٹ کے اندر فارغ ہو جاتا تھا بیماری کی وجہ سے اس کی سانس پھول جاتی تھی. اور عشرت بیچاری 2 سال انتظار کرتی رہتی تھی اور جب میاں آتا تھا تو بھی بیچاری اپنی آگ میں سلگتی رہتی تھی . وہ اپنے من کا بوجھ میرے ساتھ اپنا دکھ بانٹ کر پورا کر لیتی تھی . اور میں میں کئی سال تک اس کو دلاسہ دیتی رہتی تھی اور کچھ نہیں کر سکی . اور پِھر عشرت کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس کو وہ آج بھی اپنے دِل میں بسا کر بیٹھی ہے جو صرف میرے یا اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں پتہ . ہوا کچھ یوں کے عشرت کے گھر کے ساتھ میں ہمارے ایک اور محلے دار رہتے ہیں ان کا 1 بیٹا اور 2 بیٹیاں ہیں بیٹیاں بڑی ہیں ان کی شادی ہو چکی ہے اور بیٹا اس وقعت چھوٹا تھا لیکن آب وہ بھی شادی شدہ ہو چکا ہے ایک بچے کا باپ ہے اور دبئی میں بینک کا ملازم ہے . عشرت کا ان کے گھر آنا جانا تھا اور اس لڑکے کی ماں عشرت کی ہمسائی اور دوست بھی تھی اِس لیے ان کا بیٹا عشرت لوگوں کے گھر کا کام بھی کر دیا کرتا تھا گھر کے کام کر دیتا تھا بِل جمع کروانا گھر کا سودا سلف لے کر آنا وغیرہ وغیرہ . اس کا عشرت کے گھر آنا جانا عام تھا وہ لڑکا عشرت کو عشرت آنٹی کہہ کر بلاتا تھا . اور اپنے گھر کی طرح ان کے گھر کا بھی خیال رکھتا تھا .
اس لڑکے کی عمر اس وقعت کوئی 22سال تھی اور اچھا صحت مند بھی تھا اس کے باپ کی اچھی خاصی بڑی شیخوپورہمیں اپنی کریانہ کی دکان تھی. جب نورین کی شادی نہیں ہوئی تھی اس وقعت وہ بس اگر کوئی گھر کا کام ہوتا تھا تو عشرت کے گھر آتا جاتا تھا . لیکن جب نورین کی شادی ہو گئی تو وہ عشرت کے گھر زیادہ آتا جاتا تھا اور عشرت سے کہتا تھا کے آنٹی آپ اکیلی ہوتی ہیں اِس لیے میں آپ کا ہاتھ بارنے کے لیے آ جاتا ہوں باجی نورین کے بعد آپ تو اکیلی ہو کر رہ گیں ہیں . عشرت بھی اس کا بڑا خیال رکھتی تھی . وہ اکثر عشرت سے اس کے میاں کے متعلق پوچھتا رہتا تھا کے وہ اتنا زیادہ عرصہ باہر کیوں رہتے ہیں وہ آپ کے ساتھ کیوں نہیں رہتے ان کو آپ کا خیال رکھنا چائے اِس طرح کی باتوں سے وہ عشرت کی دِل جوئی کیا کرتا تھا . عشرت بھی ایک عورت تھی عورت کی کوئی دِل جوئی کرے اس کا خیال رکھے تو عورت اس پے مکمل بھروسہ کر کے اپنا دکھ بانٹ لیتی ہے عشرت نے بھی آہستہ آہستہ ایسا ہی کیا اور وہ اس لڑکے کے ساتھ گُھل مل گئی اور اپنی دکھ اس کے ساتھ بانٹنے لگی. عشرت نے آہستہ آہستہ اس کو اپنا سب کچھ مان کر سب کچھ بتانے لگی اور اس کو اپنی اور اپنے میاں کے ساتھ تعلق کا بھی بتا دیا . عشرت مجھے یہ باتیں بتاتی رہتی تھی میں اس کو بس یہ ہی کہتی تھی عشرت ذرا سنبھل کر یہ بچہ ہے کہیں بدنام نا کر دے تمہاری باتیں باہر لوگوں کو نا بتاتا پھرے . وہ مجھے کہتی تھی فکر نا کر میں اس کو جانتی ہوں وہ ایسا کبھی بھی نہیں کرے گا میں نے بھی زمانہ دیکھا ہے . ایک دن اس لڑکے کے گھر کی موٹر خراب ہو گئی تو وہ عشرت کے گھر آ گیا اور آ کر بولا عشرت آنٹی پانی والی موٹر خراب ہو گئی ہے مجھے نہانا ہے کیا میں آپ کے گھر نہا سکتا ہوں . عشرت نے کہا یہ تمہارا اپنا گھر ہے جو چیز مرضی ہے استعمال کرو اِس میں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے . اور وہ شکریہ بول کر نہانے کے لیے باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا جب وہ نہا رہا تھا تو بجلی چلی گئی اور عشرت کا گھر گراؤنڈ فلور پے تھا اِس لیے تھوڑا بند بند تھا بجلی جانے سے تھوڑا اندھیرا ہو جاتا تھا اِس لیے باتھ روم میں بھی اندھیرا ہو گیا اور وہ لڑکا ڈر کے مارے اندر سے بولا آنٹی یہاں بہت اندھیرا ہے مجھے ڈر لگ رہا ہے کیا میں دروازہ کھول کے نہا لوں . عشرت اس لڑکے کی بات پے ہنسنے لگی اور بولی بیٹا دروازہ کھول لو اندھیرا تو باہر بھی ہے تم دروازہ کھول کے نہا لو. وہ لڑکا دروازہ کھول کے نہانے لگا اور عشرت باتھ روم کے بالکل سامنے بنے کچن میں ایمرجنسی لائٹ لگا کر ہانڈی بنا رہی تھی. کوئی آدھے گھنٹے کے بعد بجلی آ گئی تو باتھ روم کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور اور کچن سامنے ہونے کی وجہ سے جب عشرت کی نظر باتھ روم کے اندر گئی تو وہ وہاں کا منظر دیکھ کر ہکا بقا ہو گئی اور حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اندر کا منظر دیکھنے لگی اندر وہ لڑکا عشرت کا انڈرویئر اپنے لن پے چڑہا کے اور شیمپو لگا کے بڑی تیزی سے مٹھ لگا رہا تھا. جب اس لڑکے کی نظر عشرت پے پڑی تو اس کا رنگ لال سرخ ہو گیا اور وہ ڈر کے مارے اس نے جلدی سے دروازہ بند کر دیا عشرت بھی دروازہ بند ہونے کی وجہ سے اپنے حواس میں واپس آ گئی. عشرت چولہا بند کر کے جلدی سے اپنے بیڈروم میں جا کر دروازہ بند کر بیٹھ گئی اور سوچنے لگی یہ میں نے آج کیا دیکھ لیا اور بار بار اس کو اس لڑکے کا لن اور اپنا انڈرویئر اپنی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا اور عشرت کے میاں کو بھی چھٹی کاٹ کر باہر گئے ہوئے 1 سال ہو گیا تھا . نا چاہتے ہوئے بھی عشرت کے دِل اور دماغ میں وہ منظر اور اس کا لن چھایا ہوا تھا . آہستہ آہستہ سوچتے ہوئے عشرت نے محسوس کیا کے اس کی پھدی نیچے سے ہلکا ہلکا پانی چھوڑ رہی ہے اور اس کے نپلز سخت ہو گئے ہیں. عشرت کو اپنے اوپر کنٹرول نا رہا اور اس نے اپنی شلوار اُتار دی اور اپنی انگلی کو اپنی پھدی کے اندر باہر کر کے اپنی پھدی کو ٹھنڈا کرنے لگی اور تھوڑی دیر مٹھ لگانے کے بعد اس کی پھدی نے ڈھیر سارا پانی چھوڑ دیا اور وہ سکون میں آ گئی جب اس کو تھوڑا ہوش آیا تو اٹھ کے بیٹھ گئی اور بیڈ پے دیکھا تو اس کا بیڈ کافی زیادہ گیلا ہوا تھا اس کا پانی بہت زیادہ نکلا تھا وہ حیران تھی کے اس کا پہلے کبھی اتنا پانی نہیں نکلا جتنا آج نکلا ہے . اس نے جلدی سے الماری میں سے نئی چادر نکالی اور بیڈ پے ڈال دی اور پرانی چادر کو اٹھا کر اور ہلکا سا دروازہ کھول کے باہر کو دیکھا تھا تو اس کی نظر باتھ روم کے دروازے کی طرف گئی تو وہ کھلا ہوا تھا وہ آہستہ آہستہ سے چلتی ہوئی باتھ روم میں آ کر دیکھا تو اندر کوئی نہیں تھا وہ لڑکا کب کا جا چکا تھا . عشرت نے گندی چادر گندے کپڑوں میں پھینک دی اور باتھ روم میں داخل ہو کر اندر مشین میں سے اپنا انڈرویئر دیکھنے لگی اس کا اور منی سے بھرا انڈرویئر کپڑوں کے نیچے اس کو مل گیا اس نے جب وہ انڈر وئیر اٹھایا تو اس میں سے اس لڑکے کی منی کی ایک عجیب سے بو آ رہی تھی جو عشرت کو پِھر مدھوش کر رہی تھی . لیکن عشرت نے فوراً اپنے آپ کو سنبھالا اور وہ انڈرویئر اور اور سب کپڑے دھونے بیٹھ گئی. عشرت کا اس واقعہ کے بعد اب دِل اور دماغ اس لڑکے کے لن پے ہی کھویا رہتا تھا وہ ڈرتی تھی کے اگر وہ غلط فیصلہ کر کے اس لڑکے کے ساتھ کچھ کر لیتی ہے تو بدنام ہو جائے گی . لیکن دوسری طرف اس کے اندر کی عورت اور آگ اس کو کہتی تھی کے تیرے پاس اپنی جسم کی بھوک اور آگ ٹھنڈی کرنے کا اور کوئی موقع نہیں ہے یہ لڑکا ٹھیک ہے اِس کے ساتھ اپنا تعلق بنا لو اور خود بھی عیش کرو اور اس لڑکے کو بھی کرواؤ وہ بھی پیاسا ہے اور تم بھی پیاسی ہو . اور اگر وہ تمہیں بدنام کرنا چاہتا تو وہ تمہاری زندگی کی سب باتیں جانتا ہے لیکن پِھر بھی بدنام نہیں کیا آج تک . بس ان سوچوں کے بعد عشرت فیصلہ کر چکی تھی کے اس کو اب کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے 3 دن ہو گئے تھے وہ لڑکا عشرت کے گھر دوبارہ نہیں آیا اور عشرت یہاں انتظار میں تھی کے وہ آئے تو کوئی بات آگے چلے لیکن وہ نہیں آیا اور چوتھے روز عشرت خود اس لڑکے کے گھر چلی گئی جب ان کے گھر داخل ہوئی تو وہ صحن میں کھڑی اپنی موٹر بائیک دھو رہا تھا . اس کی نظر عشرت پے پڑی تو ڈرکے مارے اس کا رنگ لال سرخ ہو گیا اور بھاگ کر اندر کمرے میں چلا گیا . عشرت اس کی ماں کے پاس بیٹھ گئی اور یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگی اور پِھر تھوڑی دیر بعد اس لڑکے کی ماں سے بولی بہن ذرا اپنے بیٹے کو میرے گھر بھیجنا مجھے تھوڑا سودا سلف منگوانا ہے تو وہ آگے سے بولی کیوں نہیں بہن میں ابھی اس کو کہتی ہوں اس کی ماں نے آواز لگائی بیٹا باہر آؤ وہ جب باہر آیا تو عشرت سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا اور منہ نیچے کر کے ہی اپنی ماں کی باتیں سن رہا تھا اس کی ماں نے کہا بیٹا آنٹی کے گھر چلے جانا ان کو کچھ گھر کا سودا سلف منگوانا ہے . وہ لڑکا بولا جی ٹھیک ہے امی جی میں چلا جاؤں گا اور پِھر اندر چلا گیا اور عشرت تھوڑی یہاں وہاں کی باتیں کر کے وہاں سے گھر آ گئی . اور اس لڑکے کا گھر آنے کا انتظار کرنے لگی . دوپھر کے وقعت وہ لڑکا عشرت کے گھر آیا اور عشرت نے اس کو اندر بلا لیا لیکن اس لڑکے کا چہرہ صاف بتا رہا تھا وہ کافی زیادہ ڈرا ہوا تھا . عشرت نے اس وقعت اس سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس کو پیسے اور سودا سلف کی رسید دی تا کے وہ لے آئے وہ لڑکا سودا لینے چلا گیا اور کوئی 1 گھنٹہ بعد واپس آیا تو عشرت نے اس کے لیے شربت بنا کے رکھا ہوا تھا اس کو کمرے میں اور دے کر خود سودا سلف رکھنے کچن میں چلی گئی وہ کچن سے فارغ ہو کر دوبارہ کمرے میں گئی تو وہ لڑکا پی چکا تھا اور عشرت کو دیکھ کر اٹھ کر جانے لگا تو عشرت نے اس کو روک لیا اور کہا کے یہاں ہی بیٹھو مجھے تم سے ضروری باتیں کرنی ہے . وہ لڑکا آگے سے بولا آنٹی مجھے کہیں جانا میں پِھر آؤں گا تو عشرت بولی نہیں مجھے ابھی تم سے بات کرنی ہے تم اتنا ڈر کیوں رہے ہو آرام سے بیٹھو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی . وہ لڑکا عشرت کی بات سن کے وہاں پے رکھے ہوئے صوفہ پے بیٹھ گیا پِھر عشرت نے اس سے کہا تم اتنے دن میرے گھر کیوں نہیں آئے اور مجھ سے اتنا کیوں ڈررہے ہو وہ آگے سے بولا آنٹی جی میں مصروف تھا اِس لیے نہیں آیا . آنٹی نے کہا آگے تو تم جتنا بھی مصروف ہو پِھر بھی ایک دفعہ ضرور آتے تھے اور بڑا میری مدد کرتے تھے آب ان 3 دن میں کیا ہوا ہے جو نیا ہے . وہ آگے سے چُپ ہو گیا عشرت اس کے خوف اور اندر کے جذبات سمجھ رہی تھی اِس لیے اس نے خود ہی بات شروع کرنے کی پہل کی اور اس لڑکے سے بولی کے تم اس دن والے واقعہ سے دَر کر میرے گھر نہیں آئے تھے نا جو تم باتھ روم میں کر رہے تھےعشرت کی بات سن کر وہ لڑکے کو پسینہ آنے لگا اور خاموش بیٹھ رہا پِھر عشرت نے کہا دیکھو مجھے سے ڈرنے کی نہیں ہے میں کسی کو بھی تمہاری اِس حرکت کا نہیں بتاؤں گی لیکن اِس کے بدلے تم کو مجھے سے کھل کر بات کرنی ہو گی . اس لڑکے کو تھوڑا حوصلہ ملا اور آگے سے بولا جی ٹھیک ہے . 
عشرت نے کہا جب پہلے تم میرے پاس آتے تھے تو میں اپنے سارے دکھ سکھ بانٹتی تھی اور تم کو اپنے اور اپنے میاں کے بھی تعلق کا بتایا تھا . پِھر بھی تم مجھ سے اتنا کیوں شرما یا ڈر رہے ہو میں پہلے کی ہی طرح تمہاری دوست بھی ہوں اور خیر خواہ بھی. وہ لڑکا بولا آنٹی جی ایسی بات نہیں ہے میں بھی آپ کا دوست ہی ہوں لیکن اس دن مجھ سے غلطی ہو گئی تھی میں نے آپ کا انڈرویئر دیکھا تو کنٹرول نا کر سکا اور وہ حرکت کر بیٹھا مجھے آپ اس غلطی کی سزا جو بھی دو گی مجھے منظور ہو گی . عشرت نے کہا غلطی انسان ہی کرتا ہے اور میں اِس کی کوئی بھی سزا تمہیں نہیں دوں گی لیکن مجھے یہ بتاؤ تم اپنے ساتھ یہ ظلم کیوں کرتے ہو تم تو اچھے کالج میں پڑھتے رہے ہو وہاں تو لڑکیاں بھی تھی کیا تمہاری کسی لڑکی سے کوئی دوستی نہیں تھی جس سے تم اپنے اندر کی پیاس بُجھا سکتے . وہ بولا میری لڑکیاں دوست تھیں لیکن اِس کام کے لیے کبھی ہمت ہی نہیں ہو سکی ابو کی سخت طبیعت کی وجہ سے ہمیشہ ڈر لگتا تھا . عشرت نے کہا تو پِھر میرے انڈرویئر کے ساتھ اپنی پیاس بجھانے کی ہمت کیسے آ گئی سچ سچ بتانا تمہاری اندر کی فیلنگ کیا ہیں میں برا نہیں منائوں گی. وہ بولا آنٹی جی سچ یہ ہے کے جب میں آپ سے آپ کے میاں کے بارے میں سوال جواب کرتا تھا تو آگے سے آپ اپنے میاں کی جو باتیں بتاتی تھیں تو مجھے آپ کا دکھ ہوتا تھا اور آپ مجھے پہلے دن سے ہی اچھی لگتی تھی اور میں دِل میں سوچتا تھا کے کاش میں عشرت آنٹی کا میاں ہوتا تو ان کو کبھی بھی اکیلا چھوڑ کر نا جاتا اور ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا اور آپ کو ہر لحاظ سے خوش رکھتا بس یہ ہی میں سوچتا تھا اور دِل میں خواہش رکھتا تھا . عشرت نے کہا میں تم پے بھروسہ کرتی تھی اِس لیے تمہیں اپنا سب بتایا مجھے پتہ تھا تم مجھے کہیں بھی بدنام نہیں کرو گے اور آج بھی مجھے تم پے بھروسہ ہے لیکن بیٹا میں تم سے عمر میں کافی بڑی ہوں تمہاری اور میری عمر میں 14سال کا فرق ہے اور تم ایک جوان اور صحت مند لڑکے ہو تمہیں تو اِس عمر میں کوئی جوان لڑکی کا ساتھ چاہیے تم اپنے سے اتنی بڑی عورت سے کس طرح گزارا کرو گے وہ لڑکا بولا آنٹی آپ خود کو بڑھاسمجھتی ہیں لیکن آپ ہیں نہیں اور مجھے پتہ ہے آپ کے جذبات اور پیاس کسی بھی جوان لڑکی سے کم نہیں ہیں آپ کا جسم اِس چیز کی گواہی دیتا ہے. عشرت نے کہا تمہیں پتہ ہے نا میری ایک جوان شادی شدہ بیٹی بھی ہے اگر کہیں سے اس کو کسی بات کا پتہ لگ گیا یا کسی اور کو تو میں تو جیتے جی مر جاؤں گی . وہ لڑکا بولا آنٹی جی میں آپ کے گھر میں کتنے سالوں سے آ رہا ہوں اور آپ نے اپنی ہر بات مجھ کو بتائی ہے اور آج تک آپ کی کوئی بات محلے میں کسی کے منہ سے سنی ہو تو بتائیں . عشرت اس کا جواب سن کے خاموش ہو گئی اور پِھر وہاں سے اٹھی اور باہر جانے لگی تو اس لڑکے سے بولی تم بیٹھو میں ابھی آتی ہوں وہ باہر نکلی اور باہر میں دروازہ اندر سے بند کر کے دوبارہ اپنے کمرے میں آ گئی اور اپنا دروازہ بند کر کے اپنے بیڈ پے بیٹھ گئی اور اس لڑکے کو کہا آج تمہاری آنٹی تمہیں تمھارے حوالے کرتی ہے آؤ دونوں مل کے اپنی پیاس بجھا ئیں . اور پِھر اِس طرح اس لڑکے نے پہلے دن عشرت کی 4 گھنٹے تک چودا اور عشرت پِھر لگاتار اس سے ہر دوسرے دن اپنے ہی گھر میں کئی کئی گھنٹےچودوا کر مزہ لیتی تھی اور اس لڑکے کی خواہش پے پہلی دفعہ عشرت نے اس سے اپنی بُنڈ مروائی تھی جو وہ پِھر لگاتار مرواتی تھی کیونکہ عشرت کے میاں نے کبھی بھی اس کی بُنڈ میں نہیں ڈالا تھا اور یوں وہ لڑکا عشرت کو نورین کے بیوہ ہو کر گھر واپس آنے کے بعد بھی چودتاتھا نورین کے ہوتے ہوئے میں عشرت کی مدد کیا کرتی تھی عشرت کو جب بھی اس لڑکے سے ملنا ہوتا تھا میں نورین کو اپنے گھر بلا لیتی تھی یا کبھی اس کو اپنے ساتھ لے کر اپنی امی کے گھر چلی جاتی تھی یوں یہ سلسلہ بھی تقریباً 2 سال تک چلتا رہا اس لڑکے کی شادی بھی ہو گئی تھی لیکن وہ عشرت کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھے ہوئے تھا اور اس کو ہر لحاظ سے خوش رکھتا تھا ابھی کوئی 3 مہینے پہلے وہ لڑکا دبئی چلا گیا ہے لیکن وہ وہاں ہر چوتھے دن عشرت سے فون پے بات کرتا رہتا ہے . . . اِس سارےمعاملے کا نورین کو کچھ بھی نہیں پتہ ہے اس کی ماں اس کی نظر میں ٹھیک ہے اور اب اس کی ماں کو تمھارا اور نورین کا بھی نہیں پتہ ہے. چچی نے کہا جب اپنے گھر پے کوئی مسئلہ ہوتا تھا تو میں اِس کے بدلے میں عشرت کے گھر میں کئی دفعہ اپنے کزن کو بلا کر چودوا چکی ہوں .
چچی کی یہ ساری کہانی سن کے میں حیران تھا کے چچی کتنی بڑی کھلاڑی عورت ہے وہ اپنے چسکےاور مزے کی خاطر کتنے بڑے بڑے کام کر لیتی ہے میں نے کہا چچی یہ تو بتاؤ عشرت آنٹی میرے لیے کیسے مان جائے گی اس کو ابھی تک تو آپ نے میرے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا ہے اور وہ ابھی تک تو اس لڑکے کے پیار میں ہی مبتلا ہے وہ میرے ساتھ کیسے راضی ہو گی . چچی بولی یہ میرا مسئلہ ہے اس کو کیسے راضی کرنا ہے تم فکر نا کرو پرسوں تم کو اس کی پھدی بھی ملے گی اور بُنڈ بھی . ویسے بھی وہ لڑکا چلا گیا ہے اب پتہ نہیں کتنے سال بعد آتا ہے عشرت اس کے انتظار میں تو نہیں بیٹھی رہے گی اور فون پے باتیں کر لینے سے جسم کی گرمی اور پیاس تھوڑی ختم ہوتی ہے . . . رہی بات اس کو تمہارے بارے میں اعتماد میں لینے کی اور یقین دلانے کی وہ میں کر لوں گی تم بے فکر ہو جاؤ میں کل دو پہر میں جاؤں گی اس کی طرف اور اس کو راضی کر کے آؤں گی اور تم پرسوں تک بس انتظار کرو. میں نے کہا ٹھیک ہے چچی جان آپ اِس کام کی ماہر ہیں مجھے یقین ہے . چچی بولی پرسوں تک تم نے دو دو پھدییا ںکھا لینی ہیں ذرا اب یاد رکھنا میں نے بھی تم سے اپنا کام نکلوانا ہے . میں نے کہا چچی آپ کے لیے جان بھی حاضر ہے آپ حکم کرو ابھی آپ کی پھدی کی گرمی دور کر دیتا ہوں . . 
چچی مصنوعی غصے سے بولی میں تم سے چودوا نے کی بات نہیں کر رہی میں کسی اور کی بات کر رہی ہوں تم نے بس میری مدد کرنی ہے . میں نے کہا چچی جان میں حاضر ہوں جب حکم کرو بندہ حاضر ہو گا . چچی بولی ٹھیک ہے ٹھیک ہے دیکھا جائے گا ابھی اٹھو اور کوئی اور کام کرو بچے آنے والے ہیں مجھے بھی روٹیاں بنانی ہیں. چچی اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی اور میں بھی دوبارہ ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور ٹی وی دیکھنے لگا شام کو جب چچا گھر آئے تو ان کے ساتھ چچی کی نند سائمہ بھی تھی اس کی چچی کے دوسرے نمبر والے بھائی سے شادی ہوئی تھی اور وہ رشتے میں چچی کی خالہ زاد کزن بھی تھی . اس کا میاں چچی کا بھائی سعودیہ میں ملازمت کرتا تھا . اور ان کی چار سال کی بچی بھی تھی . چچی کے بھائی اور سائمہ کی منگنی بہت پہلے کی ہوئی تھی لیکن شادی منگنی کے کافی عرصے کے بعد جا کر ہوئی تھی مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے. سائمہ آنٹی کی شادی 27 یا 28 سال کی عمر میں جا کر ہوئی تھی کیونکہ چچی کے بھائی کا پاکستان میں کوئی خاص روزگار نہیں تھا وہ کسی پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا . اِس لیے سائمہ آنٹی کے ابو نے اپنی بیٹی کی شادی جب چچی کا بھائی سعودیہ چلا گیا تھا اس کے 3 سال بعد کی تھی تھی سائمہ اور چچی آپس میں سہیلیاں بھی تھی اور سکول اور کالج میں ایک ساتھ پڑھتی تھیں. سائمہ کا میاں تو ملک سے باہر ہوتا تھا تو وہ اکثر چچی کے پاس آ کر ایک یا 2 دن کے لیے رہتی تھی . آج بھی وہ چچا کے ساتھ گھر آئی ہوئی تھی . جب سے میں اور میری فیملی اسلام آباد شفٹ ہو گئے تھے تو بہت کم ہی ملاقات ہوئی تھی اور آج بھی کوئی 1 سال سے زیادہ عرصے کے بعد ملاقات ہوئی تھی . میں نے اس کو سلام کیا تو آگے سے بولی واہ کا شی تم تو آب اسلام آباد میں جا کر اور زیادہ چٹے اور صحت مند ہو گئے ہو . میں نے کہا ایسی بات نہیں ہے آنٹی میں تو اب بھی پہلے جیسا ہی ہوں. سائمہ آنٹی نے آگے ہو کر مجھے اپنے گلے لگایا اور میری فیملی کے بارے میں حال حوال پوچھا اور پِھر سب ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گئے اور چچا نہانے کے لیے چلے گئے . رات کو سب نے مل کر كھانا کھایا اور سائمہ آنٹی اور چچی اور ان کے بچے رات دیر تک باتیں کرتے رہے کیونکہ صبح اتوار تھا چھٹی تھی میں بھی ٹی وی والے کمرے میں ٹی وی دیکھتا رہا چچا بھی وہاں بیٹھ کر اپنے آفس کا کوئی کام کر رہے تھے . چچا کوئی11 بجے اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلے گئے میں بھی چھت پر جا کر اپنی چار پائی پے لیٹ گیا لیکن آج اوپر ٹوٹل 3 چار پائی تھیں میں اور دادی اور چچی کا بیٹا اوپر سو گئے اور چچی اور ان کی نند اور ان کی بیٹی نیچے اپنے کمرے میں سو گئے تھے. میں تو لیٹ کر عشرت کے بارے میں سوچتا رہا اور پتہ نہیں کب نیند آ گئی اور سو گیا اور صبح چچی کا بیٹا مجھے ناشتے کے لیے اٹھا رہا تھا . میں وہاں سے اٹھا اور نیچے جا کر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا اور نہا کر دستر خوان پے کر بیٹھ گیا وہاں چچی ناشتہ لگا رہی تھی اور باقی سب بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے . چچی کے بچے سائمہ آنٹی کے ساتھ شگل میلا لگا رہے تھے . پِھر وہاں سب نے ناشتہ کیا اور چچا اور میں ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گئے اور گپ شپ لگانے لگے اور چچی اور سائمہ آنٹی کچن کا کام ختم کرنے میں مصروف ہو گیں. تقریباً 11بجے کے قریب چچی کا بیٹا ٹی وی والے کمرے میں آیا اور آ کر چچا سے بولا کے چچا ہم دونوں بہن بھائی نے آپ کے ساتھ بازار جانا ہے وہاں سے کچھ بکس اور چیزیں لینی ہیں . چچا بولے تم تیار ہو جاؤ میں بھی کپڑے بَدَل کر آتا ہوں اور چچا وہاں سے اٹھا کر اپنے کمرے میں چلے گئے. پِھر تھوڑی دیر بعد چچا بچوں کو موٹر بائیک پے لے کر بازار چلے گئے اور سائمہ آنٹی چچی کے کمرے میں چلی گئی اور چچی گھر کی صفا ئی کرنے لگی لیکن آج چچی نے بس صحن کو صاف کیا کمروں کو نہیں اور وہاں سے فارغ ہو کر وہ بھی اپنے کمرے میں چلی گئی . میں بھی ٹی وی پے انڈین مووی دیکھنے میں مصروف تھا تقریباً 12 بجے کا ٹائم تھا میں سوچ رہا تھا کے آج تو سائمہ آنٹی گھر آئی ہوئی ہے تو چچی کب عشرت کے گھر جائے گی اور کل کا پلان کیسے بنے گا میں بس یہ ہی سوچوں میں گم تھا . پِھر مجھے پیاس لگی تو میں اٹھ کر کچن میں پانی پینے چلا گیا. میں نے کچن سے پانی پیا اور واپس ٹی وی والے کمرے کی طرف آیا تو دروازے پے پہنچا تو چچی کے کمرے کی کھڑکی ساتھ میں ہی تھی اس میں سے آواز میرے کانوں میں آئی سائمہ آنٹی چچی سے کہہ رہی تھی اور کتنا برداشت کروں یہ سب آپ کے بھائی کا قصور ہے . میں نے یہ بات سنی تو میں سوچنے لگا کے سائمہ آنٹی اپنے میاں کی کس بات کی شکایت کر رہی ہے . میں ٹی وی والے کمرے کی بجا ے چچی کی کھڑکی کی ساتھ جا کر کھڑا ہو گیا تو اندر دیکھا تو چچی اور سائمہ آنٹی دونوں بیڈ پے بیٹھی ہوئی ہیں . میں ان کی باتیں غور سے سنے لگا. چچی سائمہ آنٹی سے بولی کے دیکھو سائمہ میں بھی عورت ہوں تمہارے جذبات سمجھ سکتی ہوں . لیکن نعیم ( چچی کا پہلے نمبر والا بھائی ) جو کر رہا ہے وہ غلط ہے اگر گھر میں کسی کو پتہ چل گیا تو بربادی ہو جائے گی اور خاص کر نعیم کی بِیوِی وہ تو موقع کی تلاش میں رہتی ہے اس کو تو اپنے باپ کے پیسوں کا بہت مان ہے وہ تو اپنی ماں کی وجہ سے ہی نعیم کے ساتھ رشتے کے لیے راضی ہوئی تھی نہیں تو وہ تو اِس رشتے پے راضی ہی نہیں تھی اور اگر اس کو یہ بات پتہ چل گئی تو پورے گھر میں بربادی ہو جائے گی. سائمہ آنٹی بولی اِس میں میرا قصور نہیں ہے تمھارے بھائی کا قصور ہے وہ یہ حرکت میرے ساتھ پچھلے 6 مہینے سے کر رہا ہے جب میرا میاں چھٹی کاٹ کر واپس گیا تھا اس کے بَعْد سے نعیم بھائی نے مجھے تنگ کَرنا شروع کر دیا ہے . میں بہت دفعہ ان کو ڈانٹ چکی ہوں لیکن وہ باز نہیں آتے ہیں . شروع شروع میں تو وہ صرف بول کر گندی گندی باتیں کر کے تنگ کرتے تھے پِھر آہستہ آہستہ ان کا حوصلہ بڑھتاگیااور وہ جہاں بھی مجھے اکیلا کچن میں یا گھر میں کسی جگہ دیکھتے تو کبھی میرے مموں کو سہلا دیتے تھے کبھی کچن میں جب کام کر رہی ہوتی تھی تو میری بُنڈ پے ہاتھ پھر کر چلے جاتے تھے جب کبھی دیکھا گھر میں کوئی دور دور تک نہیں ہے اپنے لن کو پورا کھڑا کر کے کچن میں جاتے اور مجھے پیچھے سے پکڑ کر اپنا لن میری بُنڈ کی لکیر میں رگڑ دیتے تھے . میں نئے کئی بار ان کو دھکا دے کر کئی دفعہ ان کو منع کرنے کی کوشش کی لیکن ان پے کچھ اثر ہی نہیں ہوتا اور پچھلے ہفتے تو انہوں نے حد ہی پار کر دی تھی میں رات کو میں اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی کوئی رات کے 1 بجے سب سو رہے تھے وہ پورا ننگا ہو کر میرے کمرے میں آ گئے اور اندھیرے میں آ کر میرے ساتھ میرے بیڈ پے لیٹ گئے اور میرے ساتھ چمٹ گئے . اور مجھے منہ پے گلے پے کس کرنے لگے پہلے تو میں ڈر گئی یہ کون آدھی رات کو آ گیا ہے میں نے فوراً ٹیبل لیمپ جلایا تو دیکھا تو وہ نعیم بھائی تھے اور انہوں نے میرے منہ پے اپنا ہاتھ رکھ دیا اور میرے کانوں میں بولے سائمہ آرام سے لییً رہو اور مزہ لو شور نہیں کَرنا نہیں تو تم خود بھی بدنام ہو جاؤ گی . اور پِھر تھوڑی دیر بَعْد میرے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو میں نے کہا نعیم بھائی آپ کو شرم نہیں آتی میں آپ بھائی کی بِیوِی ہوں آپ کیوں میری زندگی برباد کرنے لگے ہوئے ہیں . وہ بولے سائمہ تیرا میاں 2 سال باہر رہتا ہے اور 2 مہینے گھر مجھے پتہ ہے .تم اس کے بغیر 2 سال نہیں رہ سکتی اِس لیے خود بھی مزہ لو اور مجھے بھی لینے دو . میں نے کہا نعیم بھائی مجھے نہیں مزہ لینا اور میں اپنے میاں کے بغیر اکیلی رہ سکتی ہوں آپ خدا کے لیے یہاں سے چلے جائیں کسی نے دیکھ لیا تو قیامت آ جائے گی . نعیم بھائی آگے سے بولے کے میری بِیوِی بھی ہفتے میں ایک دفعہ مجھے اپنے پاس جانے دیتی ہے ا می نے میرے گلے یہ لڑکی ڈال ڈی ہے اس کا غرور ہی اتنا ہے اور مجھے اپنے آپ کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی اور مجھے روز مزہ چاہیے میں جوان ہوں میرے بھی جذبات ہیں سائمہ تم ہی میرا خیال کرو یقین کرو یہ بات تمھارے اور میرے درمیان ہی رہے گی میں تمہیں اتنا خوش کروں گا کے تم مجھے ہمیشہ یاد رکھو گی . اِس لیے مان جاؤ اور ضد نا کرو. میں نے پِھر ان سے کہا نعیم بھائی آپ خدا کے لیے یہاں سے چلے جائیں میری زندگی برباد نا کریں میں اپنی زندگی میں خوش ہوں میں کل بھابھی سے آپ کے لیے بات کروں گی کے وہ آپ کا خیال کرے آپ یہاں سے جائیں . نعیم بھائی بولے سائمہ تم پاگل مت بنو تم میری بِیوِی کو نہیں جانتی اگر اس کے ساتھ میری کوئی بھی بات کرو گی تو کچھ نا کر کے بھی وہ تم کو بدنام کر دے گی . اِس لیے ضد نہیں کرو میں نے کہا نعیم بھائی میں اپنی عزت آپ کو نہیں دے سکتی وہ آپ کے بھائی کی عزت ہے میں یہ کام نہیں کروا سکتی . نعیم بھائی بولے چلو اگر اندر نہیں کروا سکتی تو کچھ تو کرو اور میرا پانی نکلوا دو . پِھر میں تھوڑی دیر خاموش ہو گئی اور سوچنے لگی کے نعیم بھائی کی باتیں تو سچ ہے میں 2 سال اپنے میاں کے بغیر رہتی ہوں اور اپنی انگلی سے ہی اپنی پیاس بُجھا لیتی ہوں مجھے نعیم بھائی کے ساتھ تعلق بنا لینا چاہیے . لیکن پِھر میرے دِل اور دماغ میں اپنے میاں کی عزت اور نعیم بھائی کی بِیوِی کا خیال آیا کے اگر کل کو کسی دن بھی نعیم بھائی کی بِیوِی کو بات پتہ چل گئی تو میری تو پوری زندگی برباد ہو جائے گی کیونکہ وہ ایک شقی مزاج کی عورت تھی اس سے کسی بھلے کی امید نہیں کی جا سکتی تھی . اور نعیم بھائی یہاں سے کچھ کیے بنا بھی نہیں جائیں گے . میں نے سوچا کیوں نا اپنے ہاتھ سے نعیم بھائی کا پانی نکلوا دیتی ہوں اور اپنی جان چھو ر وا لیتی ہوں. میں نے کہا نعیم بھائی میں اپنے ہاتھ سے آپ کی مٹھ لگا دیتی ہوں اور آپ کا پانی نکلوا دیتی ہوں لیکن میری ایک شرط ہے آپ گھر میں مجھے پِھر تنگ نہیں کریں گے اور نا ہی میں آپ سے اِس کے علاوہ کچھ اور کروں گی . نعیم بھائی بولے پِھر میری بھی ایک شرت پے ہو سکتا ہے اگر تم مجھے جب میں کہوں تو میرے لن کا چوپا لگا کے میرا پانی نکلوا دیا کرو تو میں تمہاری سب باتیں مانوں گا نہ تنگ کروں گا اور نہ ہی اِس کے علاوہ کچھ اور مانگوں گا اگر منظور ہے تو بتاؤ . میں نے کہا کے یہ بھی کوئی گھا ٹے کا سودا نہیں ہے باقی چیزوں سے تو بچ جاؤں گی میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن یہ کام ہر روز نہیں ہو گا ہفتے میں ایک باریا دو بارہی ہو گا . تو نعیم بھائی بولے ٹھیک ہے مجھے منظور ہے . پِھر میں نے کہا آپ نیچے اُتَر کر کھڑے ہو جائیں . نعیم بھائی پہلے ہی سے ننگے تھے وہ بیڈ سے اُتَر کر نیچے فراش پے کھڑے ہو گئے اور میں بھی اپنے پیر بیڈ سے نیچے لٹکا کر بیٹھ گئی اب نعیم کا لن میرے منہ کے بالکل سامنے تھا میں نے اپنے ہاتھ سے ان کا لن پکڑا اور اس کو آگے پیچھے کر کے سہلانے لگی 2 سے 3 منٹ سہلانے کے بَعْد نعیم بھائی کا لن نیم حالت میں کھڑا ہو گیا پِھر میں نے منہ آگے کر کے پہلے نعیم بھائی کے لن کی ٹوپی منہ میں لی اور اس کو تھوڑی دیر تک چاٹتی رہی اور چاٹنے سے ان کا لن پورا کھڑا ہو چکا تھا آن ان کے منہ سے 
سسکار یاں نکل رہی تھیں پِھر میں نے آہستہ آہستہ لن کو منہ میں لینا شروع کر دیا اور کبھی گول گول اور کبھی آگے پیچھے ہو کر ان
کے چو پے لگانے لگی مجھے کوئی 5 منٹ ہو گئے تھے چو پے لگاتے ہوئے اور نعیم بھائی کا لن تن کر اور سخت ہو گیا تھا اور انہوں نے اپنے ھاتھوں سے میرا چہرہ پکڑ لیا اور اس کو آگے پیچھے کرنے لگے جیسے وہ میرے منہ کو چود رہے ہوں 2 منٹ بَعْد ہی ان کے منہ سے سسکار یاں اور تیز ہوں گئیں تھیں. مجھے یوں لگا وہ آب چھوٹنے والے ہیں میں نے اپنا منہ ہٹانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے میرا چہرہ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور پِھر ان کا گرم پانی کا لاوا میرے منہ میں چھوٹنے لگا ان کی منی کا ذائقہ نمکین اور گرم تھا جب مجھے پیریڈز ہوتے تھے.میر ےمیاں بھی کئی دفعہ میرے منہ چھوٹ جایا کرتے تھے لیکن میں واش روم میں جا کر سارا پانی باہر پھینک دیتی تھی کبھی اندر بھی اندرنہیں کیا پِھر جب نعیم بھائی سارا پانی میرے منہ میں چھوڑ چکے تو میرا چہرہ چھوڑ دیا میں وہاں سے بھاگ کر اپنے اٹیچ باتھ روم میں گھس گئی اور ساری منی باہر پھینک دی اور جب کلی کر کے اور منہ صاف کر کے واپس آئی تو نعیم بھائی جا چکے تھے
سائمہ آنْٹی کی سڑی بات سن کر باہر میرا برا حال ہو چکا تھا اور میرا لن پورے جوش میں کھڑا سلامی دے رہا تھا . سائمہ آنْٹی پِھر بولی کے تمھارے بھائی کو آب تک 2 دفعہ چوپا لگا کر فارغ کروا چکی ہوں اِس کے علاوہ اور کچھ نہیں کرنے دیا لیکن میں بھی عورت ہوں میرے بھی جذبات ہیں مجھے ڈر ہے کے میں کسی دن بھی اپنی پیاس اور جذبات میں آ کر بہک جاؤں گی اِس لیے میں تمہیں یہ بات بتا رہی ہوں کچھ میری ذات کا سوچو اور اپنے بھائی کا بھی سوچو اور مجھے بتاؤ مجھے کیا کَرنا چاہیے . چچی سائمہ آنْٹی سے بولی پہلے تو تمہیں میرے بھائی کو چو پے لگوا نے پے بھی راضی نہیں ہونا چاہیے تھالیکن یہ بھی تم نے ٹھیک کیا کے اس کو تم نے اپنا پورا جسم نہیں دیا اِس لیے تھوڑی ابھی بچت ہی ہے . لیکن میں اپنے بھائی کو جانتی ہوں وہ منہ پھٹ قسِم کا بندہ ہے پیٹ کا بہت ہلکا ہے کل کو اگر تم نے کبھی بھی کسی وجہ سے اس کو کسی بات سے نہ کی تو وہ سب کے سامنے تمہیں ذلیل بھی کروا دے گا . اور دوسرا اس کی بِیوِی ایک نمبر حرامن عورت ہے اس کو شق بھی ہو گیا تو وہ پورے گھر میں قیامت لے آئے گی. 
سائمہ آنْٹی بولی اِس لیے تو تمہیں کہہ رہی ہوں مجھے بتاؤ میں کیا کروں خود تو تم شوکت اور عرفان کے ساتھ اپنا وقعت کتنے مزے سے گزا ر رہی ہو اور اپنی پیاس اور آگ کو ٹھنڈا کر لیتی ہو . لیکن میری سہیلی اور کزن ہو کر بھی آج تک تم نے میرا نہیں سوچا ایک میاں ہے وہ 2 مہینے تو دن رات مزہ دیتا ہے پِھر 2 سال کے لیے تڑپتا ہوا چھوڑ کر چلا جاتا ہے . اور دوسرا تمھارا نعیم بھائی اس پے بھروسہ کر کے تو میں اپنی زندگی برباد نہیں کر سکتی . چچی سائمہ آنْٹی کی بات سن کر بولی ( ہولی بول نی بدمعاشےدیواراں دے وی کن ہوندےنی(میں باہر کھڑا آنٹی سائمہ کی یہ بات سن کر حیران پریشان ہو گیا کےواقعی میں چچی تو ہی بہت بڑی رنڈی اور کھلاڑی عورت ہے . فوراً میرے دماغ میں آیا کے عرفان تو چچی کی ا می کی کزن کا بیٹا ہے وہ لاہور میں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتا تھا مجھے سے 2 سال ہی بڑا تھا ان کا اپنا گھر بھی چچی لوگوں کی ا می کی ہی گلی میں تھا وہ چچی کے امی کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا میری اس سے کافی دفعہ شادیوں پے ملاقات ہوئی تھی میری اس سے رشتے دار کی حد تک ہی سلام دعا تھی.اب یا تو وہ ہی تھا یا کوئی اور باہر کا بندہ ہے مجھے شق چچی کی ا می کی کزن کے بیٹے پے ہی ہو رہا تھا جو چچی کا یار بنا ہوا تھا یہ سوال میں نے اپنے دِل اور دماغ میں رکھ لیا تھا کے وقعت آنے پے اِس کا جواب چچی سے لوں گا. چچی بولی دیکھو سائمہ مجھے تمہارے سارے جذبات کا اندازہ ہے تم مجھے کچھ وقعت دو میں سوچ کر تمہیں بتاؤں گی کے آگے کیا کرنا ہے اور تیرے اندر کی آگ کو کیسے ٹھنڈا کرنا ہے اور اپنے بھائی سے کیسے جان چھوڑ وانی ہے . تم ایک کام کرو جب تک میں اِس پے مکمل سوچ نہیں لیتی تم وہ ہی کرو جو میرا بھائی کہتا ہے لیکن بھول کے بھی اس سے اندر نہیں کروانا بس جس کام پے وہ راضی ہے وہ کرتی جاؤ میں بہت جلدی تمہارے لیے کوئی نا کوئی حَل سوچ لوں گی . اور یہ بات اب کسی کے ساتھ بھی شیئر نہیں کرنی ہے تم نے نہیں تو یہ بات باہر نکل گئی تو تم جانتی ہو تم عورت ہو سارا الزام تم پے لگا کر تمہاری ہی زندگی خراب کر دیں گے. پِھر چچی نے سائمہ آنٹی سے کہا اٹھو اپنا منہ ہاتھ دھو لو میں کچن میں كھانا بنانے جا رہی ہوں كھانا کھا لو پِھر میں کا شی کو کہتی ہوں وہ اپنے چچا کی موٹر بائیک پے تمہیں گھر چھوڑ آئے گا . میں چچی کے کمرے سے نکلنے سے پہلے ہی ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور تھوڑی دیر بعد چچی وہاں سے گزاری اور مجھےسر سری سی نگاہ سے دیکھا اور آگے کو چلی گئی یکدم وہ کچن کے دروازے سے واپس ٹی وی والے کمرے میں آئی اور مجھ سے آ کر بولی کا شی بیٹا تھوڑی دیر میں چچا اور بچے واپس آ جائیں گے تم كھانا کھا کراپنے چچا کی موٹر بائیک پے سائمہ آنٹی کو ہمارے گھر چھوڑ آنا . میں نے کہا جی ٹھیک ہے چچی جان میں حاضر ہوں آپ بے فکر ہو جائیں اور چچی کی یوں شو کروایا کے مجھے ان کی اور سائمہ آنٹی کے درمیان ہوئی کوئی بات کا علم ہی نہیں ہے. پِھر چچی کچن کی طرف چلی گئی اور اِس کے بعد سائمہ آنٹی کو دیکھا تو وہ بھی چچی کے کمرے سے منہ ہاتھ دھو کر باہر کو نکل کر کچن میں چلی گئی . اور میں ٹی وی دیکھنے لگا کوئی 2 بجے کے ٹائم چچا اور بچے واپس آ گئے اور سب نے پِھر مل کر كھانا کھایا اور كھانا کھا کر چچی نے چچا سے کہا آپ کا شی کو موٹر بائیک کی چا بی دے دیں وہ سائمہ کو گھر چھوڑ آئے گا آپ آرام کر لیں . چچا نے مجھے چا بی دے دی اور تاکید کی بیٹا آرام سے چلا کر لے کر جانا تمھارے ابو سے سنا ہے تم بہت تیز موٹر بائیک چلاتے ہو . میں نے کہا چچا آپ بے فکر ہو جائیں میں آرام سے چلا کر جاؤں گا . پِھر سائمہ آنٹی نے مجھے کہا کا شی بیٹا تیار ہو جاؤ میں بھی باتھ روم سے ہو کر آتی ہوں اور پِھر چلتے ہیں میں نے کہا جی آنٹی ٹھیک ہے . اور میں اپنے کمرے میں چلا گیا اور دروازہ بند کر کے شلوار قمیض پہن لی اور تیار ہو کر باہر آیا اور موٹر بائیک کو گھر سے باہر نکال کر سائمہ آنٹی کا انتظار کرنے لگا اور کوئی 5 منٹ بعد وہ بھی آ گئی اور پیچھے موٹر بائیک پے بیٹھ گئی میں نے موٹر بائیک اسٹارٹ کی اور آگے کو چل پڑا آنٹی نے اپنا ہاتھ میری بازو کے نیچے سے نکال کر میرے پیٹ پے رکھ پکڑ ہوا تھا اور میں آرام آرام سے جا رہا تھا ہمارے علاقےمیں پکی سڑک کم ہی تھی اِس لیے جمپ زیادہ لگ تھے میں پِھر بھی آہستہ آہستہ چلا کر جا رہا تھا لیکن ٹوٹی ہوئی سڑک اور جمپ کی وجہ سے جھٹکے بھی لگ رہے تھے اور اِس دوران میں سائمہ آنٹی کے ممے میری کمر میں بار بار لگ رہے تھے اور ان کے نرم نرم ممے اور ان کی نپلز میری کمر پے جب لگتے تھے میرے جسم میں کر نٹ دوڑجاتا تھا ایک الگ ہی مزہ آ رہا تھا. سائمہ آنٹی پیچھے بار بار اپنے آپ کو سنبھال رہی تھی. سائمہ آنٹی کے مموں کا میرے جسم کے ساتھ ٹچ ہونے سے میں فل مزہ لے رہا تھا میرا لن ان کے مموں کی ٹچ ہونے سے شلوار میں پورا آکڑ کر کھڑا ہوا تھا اور سائمہ آنٹی کا ہاتھ میرے پیٹ پر تھا جب ہم سائمہ آنٹی کے گھر کے نزدیک ہی تھے تو ان کی گلی میں مور کاٹ تے ہوئے ایک جمپ آیا اور ہم دونوں کو جھٹکا لگا اور سائمہ آنٹی کا ہاتھ سلپ ہو کر سیدھا میرے لن پے آ گیا اور ان کا پورا ہاتھ مجھے اپنے لن پے محسوس ہوا اور یہ سب کچھ اچانک ہوا تھا پِھر میں نے ان کے گھر کے باہر بائیک روک دی دو پہر کا وقعت تھا کوئی بھی گلی میں نہیں تھا بالکل سناٹا تھا جب سائمہ آنٹی نیچے اتری تو میری طرف دیکھ کر غصے سے بولی کا شی یہ کیا بیہودگی تھی تمہیں شرم نہیں آتی . میں نے فوراً کہا آنٹی مجھے معاف کر دیں اچانک جمپ آ گیا تھا اِس لیے کنٹرول نہیں کر سکا . اور وہ غصے میں مجھے اتنا بول کر اندر چلی گئی کی اگر اندر آنا ہے تو آ جاؤ نہیں تو جاؤ . میں بائیک پے بیٹھ سوچ رہا تھا کے اندر جاؤں یا نہیں لیکن یکدم مجھے یاد آیا کے آنٹی کا ہاتھ میرے لن پے لگا تھا ہو سکتا ہے وہ میرا ان کے مموں سے مزہ لینے اور لن پے ہاتھ لگنے کو سمجھ گئی ہوں اور میری اِس حرکت پے ان کو غصہ آ گیا ہو گا اِس لیے انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا تھا . میں نے وہاں 1 منٹ بھی رکنا خطرے سے کم نا سمجھا اور بائیک اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف واپس نکل آیا. گھر واپس آ کے بائیک اندر صحن میں کھڑی کر دی اور چا بی دینے کے لیے چچا کے روم کی طرف گیا دروازہ کھولا تو وہ سوئے ہوئے تھے میں نے چا بی ان کی ٹیبل پے رکھی اور دروازہ بند کر کے چچی کے روم کی طرف چلا گیا ان کو بتا دوں کے میں سائمہ آنٹی کو چھوڑ آیا ہوں جب ان کے روم میں گیا تو ان کے بچے اندر سوئے ہوئے تھے چچی نہیں تھی اور ان کا باتھ روم کا دروازہ بھی کھلا تھا میں ان کے کمرے سے باہر نکل آیا اور ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا. میں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کر سوچ رہا تھا کے میری آج والی حرکت اگر سائمہ آنٹی نے چچی کو بتا دی تو پِھر کیا ہو گا . پِھر خیال آیا سائمہ آنٹی کون سا پاکباز ہے اگر کوئی بات کرے گی تو مجھے بھی اس کا بہت راز اب پتہ لگ چکا ہے اِس لیے میں نے دماغ سے یہ بات نکال دی پِھر خیال آیا ہو سکتا ہے چچی عشرت کی طرف گئی ہوں عشرت کا سوچ کر ہی میرے اندر لڈو پھوٹنے لگے. میں پِھر ٹی وی پے کرکٹ کا میچ دیکھنے لگا مجھے واپس آ کر بھی کوئی 1 گھنٹے سے زیادہ ٹائم ہو گیا تھا لیکن چچی ابھی تک واپس نہیں آئی تھی تھوڑی دیر بعد ہی باہر کی گھنٹی بجی میں نے جا کر دروازہ کھولا تو چچی ہی تھی . اندر آ کر مجھے سے پوچھا سناؤ سائمہ کو چھوڑ آئے ہو راستے میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا میں نے کہا نہیں چچی کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور ان کو چھوڑ آیا ہوں . آپ سنائیں کہا گئی ہوئی تھی وہ بڑے ہی قاتلانہ سمائل دے کر بولی جیسے تمہیں نہیں پتہ میں کہا گئی تھی . میں آگے سے ہنسنے لگا اور پوچھا تو بتائیں پِھر کیا ہوا کوئی بات بنی کے نہیں ؟ چچی بولی بھتیجےفکر نا کر اپنے لن کی آج اچھی طرح زیتون کے تیل مالش کر لے کل ایک بڑی ہی منجھی ہوئی پھدی کو تم نے ٹھنڈا کرنا ہے ساری بات ہو گئی ہے پروگرام تیار ہو گیا ہے میں تمہیں کل سب کے چلے جانے کے بعد سمجھا دوں گی کیا کرنا ہے . میں خوشی سے اچھلنے لگا اور اٹھ کر چچی کو گلے لگا لیا چچی نے میرے لن کو پکڑ کر سہلایا اور بولی آب بس تم اپنی تیاری کر لو مجھے چھوڑو کوئی آ جائے گا سب گھر پے ہیں اور وہ اپنے کمرے میں چلی گئی. چچی کے جانے کے بعد میں اندر اندر ہی بہت خوش ہو رہا تھا کے دوسری پھدی تو ملے گی ہی لیکن زندگی میں پہلی دفعہ کسی کی بُنڈ میں اپنا لن ڈالوں گا . یہ سوچ کر ہی میرا لن جوش میں جھٹکے کھانے لگا.
پِھر رات تک سب معمول کے حساب سے چلتا رہا اور سب اپنے اپنے ٹائم پے سو گئے صبح بچوں کو سکول اور چچا کو آفس جانا تھا . اگلے دن میں سو کر اٹھا نہا دھو کر ناشتہ کر کے ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا . جب سب چلے گئے تو تقریباً 9 بجے کے ٹائم چچی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر بولی کا شی تم 11بجے تک تیار ہو جانا میں تمہیں لے کر عشرت کے گھر جاؤں گی وہاں عشرت تمہیں کچھ سودا سلف کے لیے کہے گی تو تم سودا سلف لے کر دوبارہ عشرت کے گھر آ جانا میں تمھارے جانے کے بعد نورین کو کسی کام کا کہہ کر اپنے گھر لے آؤں گی اور جب تم سودا لے کر آؤ گے تو پِھر عشرت اکیلی ہو گی تمھارےپاس 2 گھنٹے ہوں گے اور تم اپنا کام پورا کر کے گھر آ جانا . میں چچی کا پلان سن کر واہ واہ کر اٹھا اور چچی کو بولا آپ بے فکر ہو جاؤ میں ابھی اپنے کمرے میں جا کر 1 گھنٹہ لن کی مالش کر لیتا ہوں اور پِھر 11بجے تک میں تیار ہو جاؤں گا اور پِھر چچی گھر کا کام ختم کرنے کے لیے چلی گئی. میں چچی کے جانے کے بعد اپنے کمرے میں گیا اور وہاں اپنے لن کی اچھی طرح مالش کی اور پِھر اٹھ کر نئی شلوار قمیض اِسْتْری کی اور پِھر نہانے کے لیے باتھ روم میں گھس گیا اور نہا کر باہر نکلا اور ٹائم دیکھا تو ابھی 11بجنے میں 20 منٹ باقی تھے میں آ کر ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا اور تھوڑی دیر بعد چچی بھی اپنا کام ختم کر کے اور باتھ روم سے منہ ہاتھ دھو کر کپڑے بَدَل کر آ گئی اور چچی نے مجھے ایک چا بی دے کر کہا جب واپس آؤ تو خود ہی دروازہ کھول کے آ جانا . اور پِھر ہم عشرت کے گھر چلے گئے عشرت کا گھر ہمارے گھر کے ساتھ 3 گھر چھوڑ کر بنا ہوا تھا . عشرت کے گھر کے دروازے پے جا کر چچی نے دستک دی اور تھوڑی دیر بعد نورین نے دروازہ کھولا چچی کو دیکھ کر سلام کیا اور مجھے دیکھ کر حیران ہو گئی . چچی نے فوراً کہا کا شی اِس لیے آیا ہے کے تمہاری امی نے گھر کا کچھ سودا سلف منگوانا تھا یہ سن کر اس کو تھوڑا حوصلہ ہوا . ور نہ تو اس کا چہرہ بتا رہا تھا وہ تھوڑا پریشان سی ہو گئی تھی . پِھر ہم اندر داخل ہوئے تو نورین نے دروازہ بند کر دیا اور بولی امی اپنے کمرے میں ہی ہیں میں اور چچی عشرت کے کمرے میں آ گئے جب ہم اندر داخل ہوئے تو عشرت بیڈ پے بیٹھی ہوئی تھی میں نے جب دیکھا تو حیران ہو گیا کے عشرت ایک جوان بیٹی کے بعد بھی کتنی ٹائیٹ اور سیکسی عورت ہے اس کے جسم کا انگ انگ سیکسی اور کساہواتھا میں تو دیکھ کر ہی اندر سے خوشی کے مارے پاگل ہو گیا. عشرت کی نظر جب مجھ سے ملی تو ہم دونوں نے شرما کر منہ دوسری طرف کر لیا اور پِھر میں اور چچی وہاں صوفہ پے بیٹھ گئے . عشرت نورین سے بولی بیٹی جاؤ ان کے لیے کچھ کھانے پینے کے لیے لے کر آؤ تو چچی فوراً بولی نہیں عشرت میرا بالکل کسی چیز پے دِل نہیں ہے مجھے تو ضروری کام تھا اِس لیے نورین کو بلانے کے لیے بھی آئی تھی تم ایسا کرو کا شی کو پیسے اور رسید دو .وہ جب تمہارا سودا سلف لے آئے تو اِس کو کھلا پلا دینا . تمہارا مہمان ہے میں تو روز آتی جاتی ہوں اور میں تو نورین کو لے کر جا رہی ہوں . عشرت نے کہا چلو جیسے تمہاری مرضی اور مجھے اپنے پرس سے پیسے اور ایک سودے کی رسید بنا کر دی کے بیٹا یہ لے آؤ میں نے دونوں چیزیں لیں اور ان کے گھر سے باہر نکل آیا اور بازار کی طرف آ گیا . بازار آ کر سودا سلف لیا اور پِھر گھر واپسی کی طرف چل پڑا جب عشرت کے گھر تک واپسی آیا تو تقریباً پونے 1 ہو چکے تھے. گرمی بھی تھی اِس لیے پسینہ بھی آیا ہوا تھا عشرت کے گھر کے دروازے پے دستک دی تو تھوڑی دیر بَعْد عشرت نے دروازہ کھولا مجھے دیکھ کر تھوڑا مسکرائی اور مجھے اندر آنے کا کہا میں سودا سلف کا تھیلہ لے کر اندر داخل ہو گیا اور عشرت بھی دروازہ بند کر کے اندر آ گئی میں نے کہا آنٹی اِس سامان کو کہا رکھوں تو وہ بولی بیٹا اِس کو کچن میں شیلف پے رکھ دو میں نے کچن کی شیلف پے سامان رکھ دیا تو عشرت بولی بیٹا تم اندر کمرے میں آ کر بیٹھو میں تمہارے لیے کچھ ٹھنڈا لے کر آتی ہوں بہت گرمی ہے تمہیں تو پسینہ بھی بہت آیا ہے اور مجھے اپنے کمرے میں بیٹھا دیا اور روم کولر چلا دیا . تھوڑی دیر میں میرا سارا پسینہ خشک ہو گیا اور اور عشرت بھی میرے لیے ٹھنڈا روح افزا بنا کر بھی لے آئی . میں نئے پانی پیا اور صوفہ پے آرام سے بیٹھ گیا اور عشرت بھی اپنے بیڈ پے خاموشی سے بیٹھ گئی ہم دونوں یوں ہی کچھ دیر خاموشی سے بیٹھے رہے ہم دونوں ہی بات شروع کرنے سے شرما رہے تھے . پِھر میں نے ہی ہمت کی اور کہا آنٹی انکل کو کتنا عرصہ ہو گیا ہے واپس گئے ہوئے تو وہ بولی تقریباً 1 سال تو ہو گیا ہے . پِھر میں نے کہا چلو آنٹی آب آپ اکیلی نہیں ہیں نورین باجی بھی تو آپ کے ساتھ ہیں کوئی تو ہے جو آپ کے دکھ سکھ کا ساتھی ہے. لیکن شادی شدہ عورت کی اور بھی ضروریات ہوتی ہیں یہ بات میں نے بہت آہستہ آواز میں کی تھی جو آنٹی نے سن لی تھی اور ان کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا اور پِھر میں نے دیکھا کے ان کی آنکھ سے موٹا سا آنسو کا قطرہ نکلا ہے . میں نے صوفہ سے اٹھ کر ان کے بیڈ پے جا کر بیٹھ گیا اور ان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا آنٹی آپ رَو کیوں رہی ہیں میں آپ کا دکھ سمجھ سکتا ہوں اگر انکل یہاں نہیں ہیں تو ہم سب یہاں ہیں ناآپ کا خیال رکھنے کے لیے آپ مجھ پے بھی بھروسہ کر سکتی ہیں . کبھی بھی آپ کو دھوکہ نہیں دوں گا. آنٹی نے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور میرے کاندھے پے سر رکھ کر بولی شکریہ بیٹا اور آہستہ آہستہ آواز میں رونے لگی میں نے آنٹی کو تھوڑا سا اپنے سے الگ کیا اور اور ان کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا اور اپنے ہونٹ آنٹی کے ہونٹوں پے رکھ دیئے اور ان کو کس کرنے لگا آنٹی نے بھی جب یہ دیکھا تو اپنے منہ کھول لیا اور پِھر ہم ایک دوسرے کو فرینچ کس کرنے لگے اور میں نے ان کو نیچے سے ہاتھ ڈال کر اپنی جھولی میں بیٹھا لیا اور بڑی مہارت سے ان کے ہونٹوں کو چُوسنے لگا میرے چُوسنے سے آنٹی گرم ہو چکی تھی اور انہوں نے بھی مجھے پیچھے گردن میں ہاتھ ڈال کر مجھے جکڑ لیا تھا اور ہم دونوں ایک دوسرے کی زُبان کو چوس رہے تھے . اِس دوران میں میرا لن نیچے لوہے کا راڈ بن چکا تھا اور ہم دونوں اپنی کسسنگ اور سکنگ میں مصروف تھے . کوئی 2 سے 3 منٹ کے بعد آنٹی نے اپنے آپ کو میری جھولی سے تھوڑا سا اوپر اٹھایا اور اپنے ایک ہاتھ کو نیچے لے جا کر میرے لن کو سیدھا کر کر کے تھوڑا سہلایا اور پِھر اپنی بُنڈ کی دراڑ میں پھنسا کر اوپر بیٹھ گئی اور دوبارہ کسسنگ کرنے لگی اور نیچے سے کبھی اپنی بُنڈ کو بند کرتی اور کبھی کھولتی میرا تو مزے سے برا حال ہو گیا تھا میں ہواؤں میں اڑ رہا تھا. اور یہ سلسلہ کوئی10 منٹ تک چلتا رہا پِھر میں نے آنٹی کے کان میں کہا آنٹی کیا خیال ہے اصلی مزے کا کام شروع کیا جائے . تو وہ آگے سے مدھوش آواز میں بولی 
کر و نہ جانی منع کس نے کیا ہے . ہم دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوئے اور اپنے اپنے کپڑے اُتار نے لگے میں نے اپنی شلوار قمیض کو اُتار دیا اور بنیان بھی اُتار کر پورا ننگا ہو گیا جب آنٹی نے میرا پورا تنا ہوا ننگا لن دیکھا تو مدھوش آواز میں بولی واہ کا شی کیا مال رکھا ہے تم نے. میں نے جواباً کہا آگے آگے دیکھو آنٹی ہوتا ہے کیا. پِھر آنٹی نے بھی اپنے اپنے سارے کپڑے اُتار دیئے اور پوری ننگی ہو گئی . آنٹی کا جسم بہت ہی کسا ہوا تھا اور بل کھاتا جسم تھا . آنٹی نے کہا کا شی بیٹا کیا غورسےدیکھ رہے ہو میں نے کہا آنٹی آپ کا جسم بڑا ہی مزے دار ہے بالکل کسا ہوا ہے وہ آگے سے ہنسی اور بولی یہ سارا کمال اس لڑکے کا ہے جو مجھے تقریباً 2 سال تک لگاتار ہر دوسرے دن چود تا تھا جب جسم کی بھوک پوری ہوتی رہے تو جسم ایسا ہی رہتا ہے. آنٹی کی پھدی بالکل بالوں سے صاف تھی لگتا تھا آج ہی انہوں نے شیو کی تھی آنٹی کی پھدی کا منہ تھوڑا سا بڑا تھا لیکن پھدی کے ہونٹ آپس میں جڑے ہوئے تھے . پِھر آنٹی جب پوری ننگی ہو گئی تو مجھ سے بولی اب بتاؤ کا شی بیٹا کیا کرنا ہے میاں نے کہا آپ سیدھی لیٹ کر تھوڑی سی ٹانگیں کھول لیں میں پہلے آپ کی پھدی کو چاٹ کر مزہ دیتا ہوں. پِھر باقی کام بعد میں کریں گے . وہ ٹانگیں کھول کر بیڈ پے لیٹ گئی میں بھی ان کی ٹانگوں کے درمیان منہ رکھ کر ان کی پھدی پے پہلے کسسنگ کی اور پِھر اپنی زُبان سے سکنگ شروع کر دی میں اپنی زُبان پوری اندر پھدی میں لے جاتا اور کبھی باہر کر رہا تھا زُبان سے پھدی کی چود آئی کر رہا تھا اور آنٹی اپنے ہاتھ میرے سر پے رکھ کر اوپر سے دبا رہی رہی تھی اور اپنے منہ سے سیکسی سیکسی آوازیں نکال رہی تھی اوہ اوہ آہ اوہ آہ اور کوئی 3 سے 4 منٹ بعد ہی آنٹی کا جسم جھٹکے مارنے لگا اور آنٹی کی پھدی نے کافی سارا پانی چھوڑ دیا جو میری زُبان پے بھی آ کر لگا اور آنٹی نڈھال ہو کر سانسیں لینی لگی . پِھر میں اٹھ کر ان کے ساتھ ٹانگیں لمبی کر کے بیٹھ گیا آنٹی کی جب سانس بَحال ہوئی تو آنٹی اٹھ کر بیٹھ گئی اور میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور سہلانے لگی پِھر آگے کو جھک کر میرے لن پے کس کی اور پِھر لن کو منہ میں لے لیا اور اس کی چو پے لگانے لگی آنٹی چو پے لگانے میں ماسٹر تھی میرا پورا لن اندر منہ میں لے لیتی تھی اور بڑے ہی سٹائل کے ساتھ چو پے لگا رہی تھی کبھی لن کو منہ میں لیتی کبھی ٹٹو ں کو منہ میں لے کر چُوستی تھی آنٹی کے چو پوں نے مجھے پاگل کر دیا تھا اور وہ مسلسل چو پے لگا رہی تھی 5 سے 7 منٹ تک چو پے لگانے کے بعد مجھے محسوس ہوا میرا پانی نکلنے والا ہے یکدم میرے دماغ میں خیال آیا 2 گھنٹے میں 3 دفعہ اپنا پانی نکالنا بہت مشکل ہو جائے گا اور گانڈ مارنے کا کام نہیں ہو سکے گا میں نے فوراً اپنا لن آنٹی کے منہ سے نکال لیا آنٹی نے میری آنکھوں میں حیرت سے دیکھا تو میں نے کہا آنٹی جی آپ کی پھدی مارنے کا دِل کر رہا ہے آنٹی سیدھی ہو کر لیٹ گئی میں بھی آنٹی کی ٹانگوں کی درمیان آ کر بیٹھ گیا اور ان کی ٹانگیں اپنے کاندھے پے رکھ کر اپنا لن ان کی پھدی پے سیٹ کیا اور آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا آنٹی کی پھدی اندر سے گیلی بھی تھی اور گرم بھی میرا لن آہستہ آہستہ اندر جا رہا تھا اور پِھر میں نے اپنا پورا لن اندر جڑ تک گھسا دیا اور پِھر کچھ سیکنڈ کے لیے رک گیا اور پِھر دوبارہ لن باہر پھدی کے سرے تک لا کر دوبارہ دھکا لگایا تو آنٹی کے منہ سے مزے کی سسکی نکل گئی اور پِھر میں بھی بڑے ردھم میں آنٹی کی پھدی میں لن کو اندر باہر کرنے لگا. جوں جوں میں آنٹی کو چود رہا تھا ویسے ویسے آنٹی کے منہ سے لذّت کی سسکا ریاں نکل رہی تھی گھر میں کوئی بھی نہیں تھا اور آنٹی مزے اور لذّت میں آوازیں نکال رہی تھی. اوہ اوہ آہ اوہ آہ آہ اوہ اور نیچے سے دھپ دھپ کی آوازیں آ رہی تھیں اور آنٹی مجھے کہہ رہی تھی) ہا اے کا شی میرے جانی پورا اندر تک جان دے ہور تیز تیز کر میری پھدی دی آگ نوں آج ٹھنڈا کر دے (آنٹی کی بات سن کر میں آنٹی کو اور دیوانہ وار چود نے لگا اِس دوران ہی آنٹی نے اپنی ٹانگوں سے میری کمر کو پیچھے سے جڑت لیا اور مجھے اپنے جسم کےساتھ اور جوڑ لیا اور نیچے سے اپنی بُنڈ اٹھا اٹھا کے ساتھ دینے لگی اور اونچی اونچی آوازیں نکالنےلگی اوہ اوہ آہ اوہ آہ آہ اوہ… اور پِھر کچھ دیر بعد مجھے پھدی کے اندر اپنے لن پے آنٹی کی منی کا گرم گرم لاوا محسوس ہوا اور پِھر اندر پچ پچ کی آوازیں آنے لگی اور پھدی کے اندر کام کافی سلپری ہو گیا تھا اور مجھے بھی جوش چڑھ گیا تھا میں نےطوفانی دھکے لگانے شروع کر دیئے اور کوئی مزید5 سے 7 منٹ کے بعد میں نےبھی آنٹی کے اندر ہی اپنی منی کا لاوا چھوڑ دیا اور آنٹی کے اوپر ہی لیٹ کر ہانپنے لگا. جب میری سانسیں بَحال ہوگیں تو میں آنٹی کے اوپر سے اٹھا اور ان کے پہلو میں لیٹ گیا . . پِھر ہمارے درمیان 5 منٹ تک کوئی بات نہیں ہوئی پِھر آنٹی بولیں واہ کا شی تمھارے آج ساتھ مزہ آ گیا ہےتم میں اور اس لڑکے میں کوئی فرق نہیں ہے وہ بھی تمہاری طرح ہی تھا اِس طرح ہی چود تا تھا مجھے مکمل فارغ کر کے ہی فارغ ہوتا تھا تم بھی ایسے ہی ہو . پِھر آنٹی بیڈ سے اٹھی اور باہر چلی گئی میں وہاں ہی لیٹا رہا اور پِھر آنٹی تھوڑی دیر بعد کمرے میں دوبارہ آئی اور ان کے ہاتھ میں ٹھنڈا دودھ کا مگ تھا. جس میں
چھو وارے پیس کر ڈالے ہوئے تھے . میں پورا مگ پی گیا اور پی کر مجھے ایک نئی طاقت سی محسوس ہو رہی تھی . آنٹی مجھے دودھ دے کر خود باتھ روم میں چلی گئی تھی پِھر وہاں سے اپنی پھدی کی صفائی کر کے واپس آ کر بیڈ پے میرے ساتھ بیٹھ گئی اور اب تک فل ننگی حالت میں ہی گھر میں گھوم رہی تھی . پِھر میرے ساتھ آ کر بیٹھ کر میرے لن کو کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلانے لگی میں نے پوچھا آنٹی میرا لن اور اس لڑکے کا لن ایک جیسا ہی ہے کیا . وہ بولی ہاں تمہاری اور اس لڑکے کے لن کی لمبائی اور موٹا ئی ایک جیسی ہے بس تھوڑا سا فرق یہ ہے کے تمھارے لن کی ٹوپی اس کے لن سے تھوڑی موٹی اور بڑی ہے باقی سب ایک جیسا ہی ہے. پِھر آنٹی نے مجھے سے پوچھا اب آگے کیا موڈہے . میں نے آنٹی کی بُنڈ پے ہاتھ پھیرکر آنکھ مار کر کہاموڈ تو زبردست قسم کا ہے اگر آپ ساتھ دیں تو وہ بڑی ہی قاتلانہ سمائل دے کر بولی مجھے تمہاری چچی نے کل بتایا تھا میرےبھتیجےکو بُنڈ مارنےکا بڑا شوق ہے . تو میں نے کہا تو آنٹی پِھر آپ کا کیا موڈ ہے .تو وہ آگے سے بولی تم نے مجھے آج خوش کر دیا ہے مجھے تمہاری شکل میں ایک اور اچھا ساتھی مل گیا ہے . میرا وہ ہی موڈ ہے جو تمہارا ہے . میں نے کہا آنٹی تو پِھر دیر کس بات کی ہے ذرا میرے لن کی تھوڑا تیار کر دو تا کے وہ تمہاری خوب خدمت کر سکے وہ بولی کیوں نہیں جانی اور وہ میرے لن پے دوبارہ جھک گئی اور میرے لن کے پِھر چو پے لگانے لگی. کوئی 5 منٹ کے اندر ہی آنٹی کے جاندار چو پوں نے میرے لن کو لوہے کے راڈ کی طرح بنا دیا تھا پِھر میں نے آنٹی سے کہا آنٹی آپ گھوڑی بن جائیں تاکے آپ کی سواری کی جا سکے تو وہ بیڈ پے گھوڑی بن گئی اور اپنی بُنڈ میری طرف کر دی آنٹی کی بُنڈ بڑی ہی نرم ملائم تھی اور ان کی موری نا اتنی زیادہ بڑی تھی نا اتنی چھوٹی تھی اور موری کا رنگ ہلکا برائون تھا اور بالوں سے پاک صاف تھی. لگتا تھا آنٹی اپنے پورے جسم کی و یکس کرواتی تھی اور اپنے جسم کو بڑا ہی نرم ملائم بنا کر رکھتی تھی . میں نے کہا آنٹی کوئی تیل یا لوشن ہو گا انہوں نے پوچھا کیوں کس لیے چاہیے تو میں نے کہا آپ کی بُنڈ پے اور اپنے لن پے لگا لوں گا اِس سے آپ کو تکلیف کم ہو گی . آنٹی بولی فکر نہ کرو تم پہلے نہیں ہو جو اِس موری میں ڈال رہے ہو بہت دفعہ اِس موری میں لے چکی ہوں اب عادت ہو گئی ہے تم تھوڑی تھوک اپنے لن پے اور تھوڑی میری بُنڈ پے لگا لو اور اندر ڈال کر شروع کرو . میں نے ایسا ہی کیا اور تھوک لگا کر اپنا لن اندر ڈالنے لگا اپنے لن کی ٹوپی کو آنٹی کی موری پے رکھا اور اندر دبانے لگا اور تھوڑا سا پُش کیا تو میری پوری ٹوپی تھوڑی سی رکاوٹ کے بَعْد رنگ تک اندر چلی گئی اور آنٹی کے منہ سے ایک لمبی سے آہ نکل گئی . میں نے کہا آنٹی درد ہو رہی ہے کیا تو وہ بولی ہاں لیکن اتنی نہیں اور ویسے بھی جب رگڑ لگ کر اور تھوڑا درد محسوس کر کے ہی اصل مزہ ملتا ہے .تم اپنا کام جاری رکھو میں آنٹی کی بات سن کر اور جوش میں آنے کا فیصلہ کر لیا اور پِھر میں نے تھوڑا کھڑا ہو کر اپنے لن کو اندر دبانے لگا اور آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا اور پِھر دیکھتے ہی دیکھتے اپنا پورا لن آنٹی کی بُنڈ میں اُتار دیا میرا ٹٹے ان کی گانڈ سے ٹکرا رہے تھے . پورا اندر کر کے پِھر کچھ دیر رک گیا اور پِھر آنٹی کو بولا آنٹی تیار ہو جاؤ اب میں دھکے لگاؤں گا .وہ آگے سے بولی ہاں ہاں شروع کرو اور پِھر میں نے لن باہر موری کے سرے تک کھینچ کر دوبارہ اندر باہر دھکے لگانے شروع کر دیئے اور میرا لن پھنس پھنس کر اندر جا رہا تھا اور مجھے ایک بہت ہی دِلکش مزہ مل رہا تھا اور آنٹی جب میں لن کو باہر کرتا تو بُنڈ بند کر لیتی اور جب پورا اندر کرتا پِھر بھی بُنڈ بند کر لیتی تھی. آنٹی کی اِس حرکت سے میرا لن آنٹی کی بُنڈ کے اندر پھنس کر اور رگڑ کھا کر اندر باہر ہو رہا تھا. میں مزے اور لذّت سے ساتویں آسمان میں اڑ رہا تھا میرا پورا جسم لذّت سر شار سے ہو گیا تھا اور میں گھوڑی والی ہی پوزیشن میں آنٹی کو 5 منٹ تک چودتا رہا اور آنٹی کی آہ آہ آہ کی اونچی اونچی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں پِھر میں نے پوزیشن بدلنے کا سوچا اور لن کو باہر نکا ل کر آنٹی کو کہا کے وہ بیڈ سے اُتَر کر نیچے کھڑی ہو جائیں اور ایک ٹانگ بیڈ پے رکھ لیں اور دوسری نیچے فرش پر ہی رہنے دیں آنٹی نے ایسا ہی کیا اور میں نے پیچھے سے کھڑا ہو کر لن کو آنٹی کی بُنڈ کی موری پے رکھ کر جھٹکا مارا اور پورا لن ایک ہی جھٹکے میں بُنڈ کے اندر اُتار دیا آنٹی کے منہ سے اونچی آواز نکلی ہا اے میں مر گئی اور پِھر میں نے اِس ہی سٹائل میں آنٹی کو مزید 5 منٹ تک چودا آنٹی پورے مزے سے چودوا رہی تھی پِھر مجھے اپنے لن میں ہلچل محسوس ہوئی میں سمجھ گیا تھا آب پانی نکلنے والا ہے میں نے کہا آنٹی پانی کہا ں نکالوں تو بڑی مدھوش آواز میں بولی اندر ہی چھوڑ دو میں نے اپنی منی کا فوارہ آنٹی کی بُنڈ کے اندر ہی چھوڑ دیا جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تو میں نے لن کو باہر نکال لیا اور بیڈ پے لیٹ کر سانسیں لینے لگا. آنٹی بھی میرے ساتھ بیڈ پے اُلٹا منہ گر گئی اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگی . جب ہم دونوں کی سانسیں بَحال ہوئی تو آنٹی بولی واہ کا شی میری جان کتنے مہینے کی پیاس تھی جو تم نے آج بجھا دی ہے آج مجھے بڑے دن بعد سکون کی نیند آئے گی میں نے کہا آنٹی مجھے بھی آپ کے ساتھ بڑا مزہ آیا ہے .اب جب تک یہاں ہوں آپ حکم کرنا میں آپ کی خدمت کرنے آ جاؤں گا آنٹی نے مجھے لمبی سی فرینچ کس کی اور شکریہ بولا پِھر یکدم آنٹی کے گھر کا باہر کا دروازہ بجنے لگا میں تو ڈر ہی گیا اور آنٹی بھی تھوڑا پریشان ہو گئی پِھر آنٹی نے مجھے کہا کا شی بیٹا ہو سکتا ہے نورین واپس آ گئی ہو تم ایسا کرو جلدی سے کپڑے پہنو اور اور چل کر بیٹھک میں بیٹھو میں باہر دیکھتی ہوں میں نے فوراً کپڑے پہنے اور آنٹی نے بھی کپڑے پہنے اور کمرے کی حالت ٹھیک کی اور بیڈ کی چادر بھی ٹھیک کی میں فوراً بیٹھک میں آ کر بڑا ہی شریف بچہ بن کر بیٹھ گیا. آنٹی نے دروازہ کھولا پِھر کوئی عورت اندر آ گئی لیکن اس کی آواز سے لگ رہا تھا وہ نورین نہیں تھی میں بیٹھک سے اٹھ کر باہر آیا تو دیکھا کوئی اور عورت تھی میں اس کو نہیں جانتا تھا اس کی نظر مجھ سے ملی تو پِھر وہ عشرت آنٹی کی طرف دیکھنے لگی عشرت آنٹی اس کا سوال سمجھ گئی آنٹی نے کہا رضیہ یہ کا شی ہے ثمینہ ( میری چچی کا نام ) کا بھتیجا ہے اور اِس کو بلایا تھا گھر میں سودا سلف لے کر آنا تھا وہ یہ لے کر آیا تھا تو اِس کو پانی وغیرہ کے لیے بلا لیا ویسے بھی یہ ہمارا مہمان ہے اسلام آباد سے آیا ہے میں آنٹی کی حاضر جوابی کی دِل میں داد دیئے بنا نہ رہ سکا . پِھر آنٹی مجھ سے بولی کا شی بیٹا یہ رضیہ آنٹی ہیں یہ بھی ہماری محلے دار ہیں میں نے ان کو سلام کیا اور پِھر عشرت آنٹی سے کہا آنٹی میں گھر جا رہا ہوں میں نے پانی پی لیا ہے چچی انتظار کر رہی ہوں گی . آنٹی نے کہا ٹھیک ہے بیٹا تم جاؤ لیکن جب تک یہاں ہو چکر لگاتے رہا کرو یہ بھی تمہارا اپنا گھر ہے . میں نے کہا جی آنٹی ضرور اور اتنا بول کر عشرت آنٹی کے گھر سے باہر نکل آیا. باہر نکل کر سکھ کا سانس لیا چلو اچھا ہی ہوا عشرت آنٹی نے معاملا سنبھل لیا نہیں تو محلے میں نیا ڈرامہ بن جانا تھا . میں وہاں سے گھر آیا اور چا بی تو چچی نے مجھے پہلے ہی دے دی تھی میں نے دروازہ کھول کر اندر آ گیا میں سوچ رہا تھا اتنی دیر ہو گئی نورین اپنے گھر واپس کیوں نہیں آئی کہیں وہ چچی کے ساتھ کسی کے گھر یا بازار نا چلی گئی ہو میں گھر میں اندر داخل ہو کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تا کے شلوار قمیض بَدَل کر ٹرا و ز پہن لوں میں نے کپڑے بَدَل کر جوں ہی اپنے کمرے سے باہر نکلنے لگا مجھے چچی کے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور پِھر مجھے چچی اور نورین کے ہنسنے کی آواز میرے کانوں میں سنائی دی لیکن حیرت کا جھٹکا ایک اور لگا جب ایک اور مردانہ آواز مجھے سنائی دی میں نے دروازے کو کھولنے کے بجا ئے کھڑکی جو صحن کی طرف کھلتی تھی وہاں سے دیکھا تو نورین اور چچی کے ساتھ جو بندہ کھڑا تھا اس کو دیکھ 
کر میرے ہوش اڑ گئے اور میں حیرت زدہ شکل لے کر بس دیکھتا ہی رہ گیا.

اس وقعت جو میری آنکھوں نے دیکھا مجھے اس پے یقین نہیں ہو رہا تھا کیونکہ کھڑکی میں سے جس بندے کو میں نے دیکھا تھا وہ چچی کی بڑی بہن کا میاں عرفان تھا . جس کا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور میرے دِل اور دماغ میں پہلے عرفان انکل کا نام و نشان بھی نہیں تھا . وہ چچی سے پورے 8 سال بڑ ے تھے . اور ان کے اپنے بچے جوان تھے ان کی 2 بیٹیاں اور 1 بیٹا تھا بڑی بیٹی کو عمر تقریباً 20 سال تھی وہ بھی میری طرح ہی ایف س سی کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی . باقی بیٹا اور بیٹی چھوٹے تھے وہ بھی ابھی اسکول میں پڑھ رہے تھے عرفان انکل 18سال باہر سعودیہ میں رہے تھے اور وہ اچھے صحت مند اور کافی اچھے جسم و جان کے مالک تھے . اور اب لاہور میں ان کا اپنا چاول کا ہو ل سیل کا کاروبار تھا .اور میں حیران تھا ان کی بِیوِی چچی کی بڑی بہن خود خوبصورت اور ایک سیکسی جسم کی مالک تھی پِھر انکل نے کیسے چچی کو پھنسا لیا میرے دماغ میں بہت سے سوال چل رہے تھے. جن کے جواب صرف چچی کے پاس ہی تھے . لیکن پِھر میں نے سوچا مرد ایک گھوڑا ہے اپنا لوڑا اس کے لیے ہتھوڑا ہے آج تک اس نے کسی کو نہیں چھوڑا ہے. میں وہاں کمرے میں ہی چار پای پے لیٹ گیا اور جو آج دیکھا اس کے بارے میں سوچنے لگا اور سوچتے سوچتے میں نے اپنے دِل اور دماغ میں ایک پلان بنا لیا تھا جو کے خطرناک بھی ہو سکتا تھا لیکن میں نے اپنے پلان کوپكہ بنا لیا تھا . ان ہی سوچوں میں پتہ ہی نا چلا مجھے نیند آگئی اور میں وہاں ہی سو گیا مجھے ہوش تب آیا جب شام کو چچا جان مجھے جگا رہے تھے میں ان کی آواز پے فوراً اٹھ گیا انہوں نے پوچھا) کا شی پترخیر تے ہے نا (آج کیوں دن میں ہی سویا ہوا ہے میں نے کہا چچا جان آج ہمسا ےمیں آنٹی کا سامان بازار سے لے کر آیا تھا اور وہاں سے تھکا ہوا آیا تھا اور چار پای پے آکر لیٹ گیا پتہ ہی نہیں چلا اور سو گیا . چچا جان بولے چل اٹھ جا کے منہ ہاتھ دھو چائے بن گئی ہے آکر پی لواور خود باہر چلے گئے. میں وہاں سے اٹھا اور باہر نکل کر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا ویسے بھی عشرت آنٹی کو چودکر ابھی تک میں نہا یا نہیں تھا اِس لیے نہا کر باہر نکل آیا اور جب میں ٹی وی والے کمرے میں جانے لگا میں نے کچن میں دیکھا چچی وہاں کچھ کام کر رہی تھی میں نے سر سری سی نظر مار کے ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا وہاں چچا پہلے ہی ٹی وی پے نیوز دیکھ رہے تھے . پِھر تھوڑی دیر بَعْد چچی نے مجھے چائے کا کپ لا کر دیا میں نے ان کو پہلے جیسا ہی نارمل موڈ شو کروایا اور وہ چائے دے کر باہر چلی گئی پِھر وہ دن رات تک معمول کی طرح گزر گیا اگلے دن صبح ناشتہ کر کے سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف اور میں بھی وہ ہی روٹین کی طرح ٹی وی والے کمرے میں ٹی وی دیکھنے لگا . تقریباً ساڑے 11بجے چچی سب کام نمٹا کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور پِھر آدھے گھنٹے بَعْد میرے نمبر پے چچی کا ایس ایم ایس آیا میرے کمرے میں آؤ تم سے بات کرنی ہے میں تو پہلے ہی انتظار میں تھا . میں نے ٹی وی بند کیا اور چچی کے کمرے میں چلا گیا کمرے میں داخل ہو کر کمرے کا دروازہ بند کیا اور چچی کے بیڈ کے پاس رکھی کرسی پے جا کر بیٹھ گیا . چچی نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا پِھر مجھے سے پوچھا کا شی جی سناؤ کیا بنا کل کو کوئی مزہ بھی آیا کے نہیں . میں تھوڑا سا مسکرا کر جواب دیا چچی جان آپ جیسی کھلاڑی عورت نے بندوبست کیا ہو تو بندہ مزے کے بغیر رہ سکتا ہے . وہ آگے سے بولی پِھر دبا کر عشرت کی پھدی ماری ہے نا اور اس کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے کے نہیں ، میں نے کہا چچی جی پھدی بھی دبا کر ماری ہے اور بُنڈ بھی اچھی طرح دِل کھول کر بجای ہے اور اس کو اپنا مرید بھی بنا لیا ہے . پِھر چچی تھوڑا اکڑ کر بولی دیکھا نہ بھتیجےمیرے ساتھ رہو گے تو عیش کرو گے . میں نے دِل میں سوچا )چچی ہون تے تیری وی بہن نوں لن نہ دتا تے فیر آکھی(میں فیصلہ کر چکا تھا کے اب چچی کے ساتھ کھل کر کھیلنا ہے اِس لیے میں نے کھل کر بات کرنے کا سوچا . چچی مجھے یوں چُپ بیٹھ کر بولی کیوں بھتیجےکیا سوچ رہا ہے. میں نے کہا چچی مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے تو چچی آگے سے بولی ہاں بولو کیا بات ہے . میں نے ہمت کر کے کہا چچی آپ نے خود کہا ہے کے میرے ساتھ رہو گے تو عیش کرو گے اِس لیے میں سوچ رہا ہوں کے آپ کو بھی کھل کر عیش کر وآؤں اور خود بھی کروں اِس لیے اب کوئی نیا مال بھی چیک کرواؤ نہ . چچی نے مجھے گھور کر اور سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا اور بولی تمہارا کیا مطلب ہے نورین اور عشرت دونوں کو تم چیک کر کر چکے ہو اور جب چاہو ان کو دوبارہ چود سکتے ہو پِھر نیا مال کون سا تمھارے لیے میں لے کر آؤں. میں نے کہا چچی آپ ایک کھلاڑی عورت ہیں مجھے لگتا ہے آپ اور بھی اچھا اچھا مال مجھے چیک کروا سکتی ہیں اِس کے بدلے میں آپ کو میری طرف سےآپ کے لیے جو خدمت ہو گی میں دِل وجان سے کرنے کو تیار ہوں. چچی تھوڑا سا سیدھا ہو کر بیٹھ گئی اور بولی کا شی تمہارا کہنے کا مطلب کیا ہے تم کہنا کیا چاہتے ہو ذرا کھل کر بات کرو مجھے تمہاری سمجھ نہیں آ رہی تم کیا بکواس کر رہے ہو ان کے لہجے میں تھوڑا اب غصہ بھی تھا. میں نے بھی ہمت کرنے کا فیصلہ کیا اور چچی کو کہا چچی مجھے آپ کی بھابی سائمہ آنٹی کو چودنا ہے اور پِھر میں اپنا پتہ پھینک کر خاموش ہو کر بیٹھ گیا اور چچی کی طرف دیکھنے لگا. چچی نے نہ آؤ دیکھا نہ تا ؤ دیکھا اور ایک زور دار تھپڑ میرے منہ پر دے مارا اور فل غصے میں بولی شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تمہیں ایسی گھٹیہ بات مجھے سے کرتے ہوئے تم کتنے بدتمیز اور گھٹیہ انسان ہو میں نے تمھارے اوپر بھروسہ کیا اور تمھارے لیے اتنا کچھ کروا کے دیا اور تم میرے ہی گھر کی عزت پے نظر رکھ کر بیٹھے ہو. میرے اندر چچی کا تھپڑ کھا کر آگ لگ گئی تھی میں کھڑا ہو گیا اور اونچی آواز میں بولا تیری بہن نوں لن رنڈی گشتی مجھے پے ہاتھ اٹھا کر تم نے اچھا نہیں کیا میں نے کہا گشتی تمہاری اوقات کیا ہے میں تمھارے بارے میں سب کچھ جان چکا ہوں اور تم گھر کی عزت یا اپنی بھابی کی بات کر رہی ہو جو بہن چودکی بچی اپنے ہی دیور کے لن کے چو پے لگاتی ہے اور تم جو اپنے آپ کو آج تک بڑی پاک باز دکھاتی آئی ہو تمہاری اوقات کیا ہے تم نے تو اپنے کزن کے ساتھ ساتھ اپنے بہنوئی کو بھی نہیں چھوڑا اور پتہ نہیں کن کن کے لن لے چکی ہو اور مجھے بول رہی ہو گھٹیہ انسان آج آنے دو چچا کو تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے تمھارے تو شوکت کے ساتھ پکے ثبوت میرے پاس موجود ہیں اب جو بات ہو گی چچا کے سامنے ہو گی . میری باتیں سن کر چچی کے چہرے کا رنگ لال سرخ ہو چکا تھا جان نکل چکی تھی ان کی اور میں یہ بول کر دروازے کی طرف لپکا میں ابھی دروازہ کھولنے ہی لگا تھا چچی بھاگ کر میرے پاؤں میں آ کر گر گئی اور رونے لگی اور معافیاں مانگنے لگی اور میرے پاؤں پکڑ لیے. کا شی بیٹا مجھے معاف کر دو بیٹا مجھ سے غلطی ہو گئی میں نے تم پے ہاتھ اٹھایا خدا کیے مجھے معاف کر دو تم میرے پاس بیٹھو ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں لیکن خدا کے لیے اپنے چچا سے بات نہ کرنا میں جیتے جی مر جاؤں گی میں کسی کو منہ دیکھا نے کے قابل نہیں رہوں گی . میں نے صاف الفاظ میں چچی کو بول دیا چچی ا ب اگر تم چاہتی ہو کے میں یہ بات چچا یا کسی اور نا بتاؤں تو یہ آخری دفعہ ہی ہو گا اور اب کی بار وہ ہی ہو گا جو میں کہوں گا اگر آپ پورا پورا ساتھ دو گی تو ٹھیک ہے میں بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہوں اگر میری یہ بات منظور نہیں ہے تو مجھے جانے دو پِھر میرے رکنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ا ب میں تمہاری کسی بھی قسم کی باتوں میں نہیں آؤں گا. چچی آگے سے بولی ٹھیک ہے کا شی بیٹا میں تمہاری ہر بات ماننے کو تیار ہوں لیکن آؤ بیٹھ کر بات کرتے ہیں. میں دوبارہ کرسی کھینچ کر بیڈ کے ساتھ لگا کر بیٹھ گیا اور چچی بھی بیڈ پے آ کر بیٹھ گئی اور پِھر میں نے کہا ہاں چچی اب بتاؤ کیا سوچا ہے . چچی نے پوچھا تمہیں یہ سا ر ی باتیں کہاں سے پتہ چلی ہیں کیا تمہیں عشرت نے بتائی ہیں . میں نے کہا چچی مجھے کسی نے بھی نہیں بتائی پِھر میں نے جو کچھ دیکھا اور سنا سب چچی کو بتا دیا . چچی اب میری باتیں سن کر سمجھ گئی تھی کے مجھے اب ہر بات کا پتہ لگ چکا ہے اِس لیے اب جان چھڑ وانا بہت مشکل ہے. چچی بولی دیکھو کا شی بیٹا جو تم نے دیکھا اور سنا وہ سب کچھ سچ ہے لیکن شوکت اور عرفان بھائی کے علاوہ میرا کسی کے ساتھ کوئی چکر نہیں ہے اور نہیں ہی میں نے ان کے علاوہ کوئی اور مرد سے کروایا ہے اِس لیے ان دونوں کے علاوہ تم اپنے دماغ میں کسی اور کا شق نہ رکھو . رہی بات سائمہ کی وہ میں اپنی پوری کوشش کروں گی کے اس کو تمھارے لیے منا سکوں لیکن وعدہ نہیں کر سکتی . میں نے کہا چچی جان میں آپ کو بھی اچھی طرح جانتا ہوں آپ کتنی بڑی کھلاڑی عورت ہو اور آپ کی بھابی کو بھی جو آپ کو کتنے عرصے سے کسی لن کے لیے کہہ رہی ہے اِس لیے آپ یہ نا کہو کے میں کچھ نہیں کر سکتی آپ کر بھی سکتی ہیں اور آپ کی بھابی بھی کروا سکتی ہے اِس لیے زیادہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ویسے بھی آپ نے اس کی پھدی کو ٹھنڈا کرنے کا وعدہ اس سے کیا ہے تو وہ آپ میرے لیے اس کو راضی کر لیں اور مجھے یہ بھی پتہ ہے آپ اس کو بہت آسانی سے منا بھی لیں گی. فی الحال میں نے چچی کو چودنے کا نہ کہاکیونکہ مجھے پتہ تھا پہلے اِس کے ذریعےدوسرا مال کھاؤں گا پِھر اِس کی پھدی اور بُنڈ کی بینڈ بجا ؤں گا. چچی نے کہا ویسے کا شی تم ہو بڑے کمینے میں تمہیں بچہ سمجھتی تھی لیکن تم تو شوکت اور عرفان بھائی سے بڑے کھلاڑی ہو اب ویسے بھی تم سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے اب تو تم میرے سب سے زیادہ راز دان بن گئے ہو آب مزہ آئے گا . دیکھو کا شی عیش تو میں اب تمہیں کھل کر کراؤں گی لیکن میرا ایک کام بھی پکا کروا نا پڑے گا بولو کرواؤ گے . میں نے کہا چچی جان میں نے پہلے بھی کہا تھا آپ کا ہر کام مجھے منظور ہے آپ حکم کرو میں ضرور پورا کروں گا . لیکن آپ نے ابھی تک بتایا ہی نہیں آپ کا کون سا کام ہے جو ابھی تک مجھے نہیں بتا رہی چچی بولی یہ کام کسی کو بھی نہیں پتہ نا عشرت کو نا نورین کو نا سائمہ کو نا ہی کسی اور کو یہ پہلی دفعہ تمہیں بتا رہی ہوں . میں نے کہا آپ بتاؤ میں سن رہا ہوں چچی نے کہا پوری بات پِھر کسی دن بتاؤں گی لیکن فلحال کام یہ ہے کے تمہیں میں سائمہ کے علاوہ اور بھی بہت اچھا مال کھلاؤں گی جو تم نے زندگی میں سوچابھی نہیں ہو گا لیکن بدلے میں تمہیں میرے لیے ایک بندہ ہے اس کو راضی کرنا ہو گا اس کو پورا اعتماد میں لے کر میرا لیے تیار کرنا ہو گا جس سے میں اپنی پھدی کو ٹھنڈا کروا سکوں. میں نے چچی کو کہا چچی میں نے کہا تھا نا تم ایک بہت بڑی گشتی اور کھلاڑی عورت ہو دیکھ لو تمہارا دو دو لن سے گزارا نہیں ہوتا اب تم اور لن کی طرف دیکھ رہی ہو اور مجھے 2 پھد یاں کھلا کر کہتی ہو اور کچھ نہیں کر سکتی . چچی بولی اچھا اچھا ٹھیک ہے کچھ دو اور کچھ لو اگر منظور ہے تو . میں نے کہا مجھے منظور ہے پہلے یہ تو بتاؤ وہ بندہ کون ہے جس کو راضی کرنا ہے . چچی بولی فکر نہ کرو وہ بھی اپنا رشتے دَار ہے اور تم اس کو جانتے ہو اور مجھے امید ہے تم اس کو آسانی سے منا لو گے. میں نے کہا چلو ٹھیک ہے مجھے منظور ہے لیکن پہلے میرا کام کرواؤ آج ہی سے سائمہ آنٹی کے پلان پے کام شروع کرو . چچی بولی حوصلہ رکھو اتنی جلدی بھی کیا ہے گرم گرم کھانے سے منہ جل جاتا ہے . میں نے کہا چچی مجھے پتہ ہے لیکن میرا پاس اب وقعت بہت کم ہے مجھے یہاں آئے ہوئے تقریباً 20 دن ہو گئے ہیں اور کچھ دن اور بعد مجھے ابو کی کال آ جائے گی کے واپس آؤ اور آ کر اگلی پڑھائی کی بھاگ دور شروع کرو اور یہ نا ہو کے آپ کا کام بھی درمیان میں رہ جائے اور میرے بھی اور میں نے دِل میں سوچا چچی تمہاری بھی لے کر جاؤں گا وہ پروگرام تو بڑا ہی زبردست میں نے سوچ رکھا ہے. چچی بولی اچھا ٹھیک ہے ابھی میرے موبائل میں بیلنس بھی نہیں ہے پیکج بھی نہیں لگ سکتا کل دن میں اس کو کال کروں گی اور پلان بنا لوں گی . میں نے کہا چچی سائمہ آنٹی کا نمبر کس نیٹ ورک کا ہے تو انہوں نے کہا جیز کا ہے میں نے کہا میرا جیز کا نمبر ہے اور بھی پورے مہینے والا پیکج لگا ہوا ہے آپ میرے موبائل سے کال کرو ابھی تو بچے آنے میں بھی کافی ٹائم باقی ہے میں ٹی وی والے کمرے سے اپنا موبائل لے کر آتا ہوں چچی نے کہا اچھا بابا ٹھیک ہے سائمہ تو تمھارے دماغ پے سوار ہو گئی ہے میں وہاں سے ٹی وی والے کمرے میں آیا اور اپنا موبائل اٹھایا یکدم میرے دماغ میں ایک پلان آیا میں نے اپنے موبائل پے کال ریکارڈنگ
کو ایکٹیو کر دیا تا کہ چچی اور سائمہ آنٹی کی جو بات ہو وہ ریکارڈ ہو سکے اور پِھر میں ان کے درمیان ہوئی ساری باتیں سن سکوں گا. میں دوبارہ چچی کے کمرے میں آیا اور موبائل کھول کر چچی کو دے دیا چچی نے اپنے موبائل سے اس کا نمبر نکال کر میرے موبائل سے ڈائل کر دیا میں نے کہا چچی آپ آرام سے بیٹھ کر باتیں کرو اور اس کو راضی کرو میں ٹی وی والے کمرے میں ٹی وی دیکھتا ہوں جب بات ہو جائے تو مجھے بتا دینا اور دوسری طرف کسی نے فون اٹھا لیا تھا چچی نے بولا ہیلو سائمہ میں ثمینہ بول رہی ہوں اور مجھے آنکھوں کے اشارے سے بولا تم جاؤ میں پِھر وہاں سے نکل آیا اور ٹی وی پے کر بیٹھ گیا. کوئی سوا ایک بجے کی قریب چچی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر مجھے میرے موبائل دیا اور میں نے سوالیہ نظروں سے چچی کی طرف دیکھا تو چچی نے کہا میں نے اس سے بات کی ہے وہ ابھی پوری طرح راضی نہیں ہوئی ہے اس کو تمہاری طرف سے کافی ڈر ہے اس نے کہا میں سوچ کر جواب دوں گی لہذا تم بھی ابھی انتظار کرو میں کل دن میں پِھر اس سے بات کروں گی. اور چچی موبائل دے کر کچن میں چلی گئی میں نے سوچا چچی نے تقریباً آدھا گھنٹہ بات کی ہے اور اِس میں 2 باتیں تو نہیں ہوئی ہوں گی اِس لیے میں نے سوچا میں ریکارڈنگ سن کر ساری بات پتہ لگا لوں گا ان دونوں کے درمیان کیا بات ہوئی ہے . پِھر میں نے جب بچے اور چچی دو پہر کو آرام کر رہے ہوتے ہیں اس ٹائم اپنے کمرے میں ہیڈ فون لگا کر سن لوں گا . پِھر تھوڑی دیر بعد بچے بھی آ گئے اور سب نے مل کر كھانا کھایا اور میں اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا اور بچے اور چچی اپنے کمرے میں چلے گئے میں نے موبائل میں ہیڈ فون لگا کر ریکارڈنگ کو سننے لگا. سائمہ آنٹی نے پوچھا یہ نمبر کس کا ہے تو چچی نے بتایا یہ کا شی کا نمبر ہے تو سائمہ آنٹی نے کہا اور سناؤ خیریت سے فون کیا ہے . چچی نے کہا ہاں خیریت سے ہی کیا ہے تم سناؤ کیا کر رہی تھی آنٹی نے کہا کچھ نہیں آج سارے کپڑے دھوئے ہیں تھک گئی تھی اپنے کمرے میں بیٹھی آرام کر رہی تھی چچی نے کہا اور سناؤ نعیم بھائی نے اس کے بعد تو گھر میں آگے پیچھے تنگ تو نہیں کیا ؟ آنٹی نے کہا نہیں اب گھر میں تنگ نہیں کرتے ہیں اب تھوڑا سکون ہے لیکن جس دن میں تمھارے گھر سے واپس آئی تھی تو اس دن شام کو میں کچن میں اکیلی تھی تو وہاں آ گئے اور آ کر کہا سائمہ آج رات کو چو پا لگا دو 5 دن ہو گئے ہیں تم نے دوبارہ چو پا نہیں لگایا آج بڑا دِل کر رہا ہے تو میں نے کہا نعیم بھائی آج نہیں کل رات کو میرے کمرے میں آ جانا میں کر دوں گی بس پِھر وہ چلے گئے اور آج رات کو وہ میرے کمرے میں آئیں گے . چچی نے مذاق میں کہا اچھا تو آج میری بنو رانی لن کا چو پا لگا ے گی آنٹی نے کہا ہاں اور کیا کروں مروں نا تو اور کیا کروں میرے نصیب میں صرف منہ میں ہی لینا لکھا ہے پھدی کی آگ تو مجھے اپنی انگلی یا گاجر سے ٹھنڈی کرنی پڑتی ہے. ا ب میری قسمت تیری طرح تو نہیں ہے نہ کے جب دِل کرتا ہے لن آگے پیچھے سے اندر لیتی ہے اور آج تک اپنی سہیلی کا سوچا تک نہیں ہے . چچی نے کہا ناراض کیوں ہوتی ہے تیرا بھی کچھ نا کچھ ہو جائے گا . چچی نے کہا ایک بات بتا نعیم بھائی سے تم کروا نہیں سکتی وہ تو بہت بڑا رسک ہیں اور گھر کے باہر کسی کے ساتھ تم چل نہیں سکتی وہ بدنام بھی کر سکتا ہے پِھر گھوم پِھر کے جو بھی بندہ ہو گا وہ اپنا ہی گھر کا یا رشتے دار ہی ہو گا . آنٹی نے کہا ثمینہ جو بھی ہو پکا بندہ ہو راز دار بندہ ہو جو مزہ دے بھی اور لے بھی اور بدنام بھی نا کرے. چچی نے کہا دیکھ سائمہ شوکت اور عرفان بھائی کے ساتھ بھی تمہارا کام نہیں کروا سکتی ان دونوں کو میں آج تک خود اکیلی ہی بھگھت رہی ہوں اور دونوں کو ایک دوسرے کا کچھ نہیں پتہ اور اگر میں شوکت یا عرفان بھائی میں سے کسی کے ساتھ بھی کرنے کا کہوں تو وہ تو فوراً تیار ہو جائیں گے لیکن پِھر وہ مجھے بلیک میل کر کے خاندان میں اور بھی لوگوں کو کروانے کا کہیں گے اب تک تو ان دونوں کی نظر میں ہی خراب ہوں باقی تو بچے ہوئے ہیں اِس لیے ان دونوں کے علاوہ کوئی اور نیا بندہ تیرے لیے دیکھنا ہو گا.سائمہ آنٹی نے کہا ثمینہ کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو لیکن نیا بندہ اور کون ہو گا تیری نظر میں جو پکا بندہ ہو اور بدنام بھی نہ کرے چچی نے کہا ایک بندہ ہے تو لیکن تمہیں یقین نہیں آئے گا اور ہو سکتا ہے تم اس کے لیے راضی بھی نا ہو . آنٹی نے کہا کون ہے وہ تم پہلے بتاؤ تو سہی . چچی نے کہا اور کوئی نہیں ہے میری نظر میں اپنا کا شی ہی ہے سائمہ آنٹی نے جب یہ سنا تو حیرت سے بولی کیا کہہ رہی ہو ثمینہ تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا ہے یہ تم کیا بات کر رہی ہو سائمہ آنٹی نے کہا اس کی عمر اور ہماری عمر میں کتنا فرق ہے وہ رشتے میں ہمارابھتیجالگتا ہے. چچی نے کہا میں ٹھیک کہہ رہی ہوں وہ ہی پکا بندہ ہے اور وہ بدنام بھی نہیں کرے گا . آنٹی نے آگے سے کہا ثمینہ مجھے تولگتاہے تم تو پکی گشتی بن گئی ہو اور اپنےبھتیجے کو بھی نہیں چھوڑا اور اس کے نیچے بھی لیٹ گئی ہو. چچی نے کہا بد ماشے میری بات تو پہلے سن لو پِھر اپنی بکواس بھی کر لیناچچی نے کہا سائمہ اب جو میں بات بتانے لگی ہوں وہ غور سے سنو پِھر مجھے اپنا فیصلہ بتا دینا پِھر چچی نے اس کو اپنی اور انکل شوکت کی چدائی کا واقعہ اور میرے پاس اس کا ویڈیو ثبوت کا بتایا پِھر جو چچی اور سائمہ آنٹی کے درمیان جو اس دن باتیں ہوئی وہ والا واقعہ سنا دیا اور اس میں سے نورین یا عشرت آنٹی کا واقعہ گول کر گئی وہ اس کو نہیں بتای.چچی نے کہا سائمہ وہ تمھارے اور نعیم کے درمیان جو ہوا اس نے اس دن باہر سب سن لیا تھا اور میرا شوکت کے ساتھ تو اس کے پاس ویڈیو ہے اور اب وہ اس دن سے میرے پیچھے لگا ہوا ہے کے مجھ سے بھی چدائی کرواؤ لیکن میں ابھی تک صرف اس کے لن کی مٹھ ماری ہے یا کپڑوں کے اوپر ہی اس کو مزہ دیا ہے لیکن ابھی تک اور کچھ نہیں کروایا اور اب وہ تمہاری باتیں بھی سن چکا ہے اِس لیے مجھے کہتا ہے چچی آپ سائمہ آنٹی کے لیے جو بندہ تلاش کر رہی ہو وہ مجھے ہی آگے کرو اور میرا سائمہ آنٹی کے ساتھ مزہ کرواؤ اور کہتا ہے آپ دونوں مجھے خوش کرو میں آپ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھوں گا اور کبھی بھی بدنام نہیں کروں گا اور ویسے بھی مجھے سائمہ آنٹی بہت اچھی لگتی ہے اور کہتا ہے آپ میرا خیال رکھو میں آپ دونوں کا خیال رکھوں گا اور جب آپ کہو گے آپ کی خدمت کیا کروں گا . اب تم بتاؤ سائمہ اب آگے تمہارا کیا فیصلہ ہے. سائمہ آنٹی نے کہا میری تو پوری بات سن کر جان نکل گئی ہے اور تم فیصلہ پوچھ رہی ہو . چچی نے کہا دیکھو سائمہ اگر کا شی کچہ بندہ ہوتا تو اتنے دن ہونے کے باوجود اس نے وہ ویڈیو اپنے چچا کو دیکھا دینی تھی اور تمہاری باتیں بھی لیکن اس نے ابھی تک کسی کو نہیں بتائی ہیں اور اب جوان لڑکا ہے اور گھر کا بندہ ہے مجھے تو یقین ہو گیا ہے وہ بدنام نہیں کرے گا تم بھی مان جاؤ دونوں مل کر ایک اور جوان لن سے مزہ لیں گے . ویسے بھی میں نے اس کی مٹھ لگائی ہے اس کا لن کافی جان دار اور موٹا اور لمبا بھی ہے . آنٹی سائمہ نے کہا اگر اتنا ہی پسند ہے تو ابھی تک خود کیوں نہیں لیا اس کا لن مجھے کیوں کہہ رہی ہے . چچی نے کہا دیکھو میرا اس کے ساتھ ڈائریکٹ چچی بھتیجےکا رشتہ ہے تمہارا نہیں ہے میں اِس لیے کہہ رہی ہوں پہلے تمہارا کام کروا رہی ہوں کے تم دونوں کو دیکھ کر مجھے بھی تھوڑا حوصلہ مل جائے گا . ویسے تو وہ مجھے چودے گا ہی چودے گا کیونکہ اس کے پاس میری ویڈیو جو ہے. سائمہ آنٹی نے کہا ہاں مجھے پتہ ہے وہ جوان ہے اور اس کا لن بھی کافی جان دار ہے . چچی نے حیرت سے پوچھا تمہیں کیسے پتہ ہے تو آنٹی سائمہ نے اس دن والا واقعہ سنا دیا جو موٹر بائیک پے ان کی گلی میں پیش آیا آنٹی نے کہا رستے میں اتنے جمپ تھے پوری سڑک خراب تھی اور میرے ممے اس کی کمر پے لگ رہے تھے میں بار بار اپنے آپ کو سمبھال رہی تھی لیکن پِھر بھی میرے ممے اس کے ساتھ ٹچ ہو رہے تھے پِھر گلی میں جو جمپ لگا اس نے تو میرے چودا طبق روشن کر دیئے تھے چچی نے کہا پِھر تم نے اس کو کیا کہا آنٹی نے کہا مجھے اس وقعت غصہ آ گیا تھا میں نے اس کو کافی ڈانٹ دیا تھا اور سیدھے منہ اندر آنے کا بھی نہیں بولا اور اندر چلی گئی اور وہ باہر سے واپس چلا گیا. چچی نے کہا بد ماشے لن کو بھی محسوس کر لیا اور اوپر سے میرے ہیرے جیسے بھتیجےکو ڈانٹ بھی دیا کتنی سنگدل ہو تم . آنٹی نے کہا میرے ساتھ تو پہلی دفعہ ہوا تھا غصہ تو آنا ہی تھا اور میں تو اس کو بھتیجاہی سمجھتی تھی مجھے کیا پتہ تھا وہ تو کیا کیا گل کھلا رہا ہے . چچی نے کہا اس بچارے نے تو ابھی کچھ کیا ہی نہیں ہے گل تو ہم دونوں کھلا رہی ہیں . چچی نے کہا سائمہ پِھر کیا سوچا ہے مجھے بتاؤ سائمہ آنٹی نے کہا ثمینہ یقین کرو ایک تو وہ ہم سے کافی چھوٹا ہے اور اوپر سے بھتیجابھی ہے مجھے تو سوچ کر ہی بہت شرم آ رہی ہے اور ڈر بھی لگ رہا ہے کے ہے تو وہ بچہ ہی نا اگر غلطی سے بھی کسی کے سامنے کچھ بول دیا تو تمھارے ساتھ ساتھ میری زندگی بھی برباد ہو جائے گی. چچی نے کہا ثمینہ جب سے وہ آیا ہے اس کو بہت دفعہ آزما چکی ہوں اور مجھے یقین ہو گیا ہے وہ کچا بندہ نہیں ہے اور کبھی کچھ نہیں بولے گا بدنام بھی نہیں کرے گا اور یقین کرو پورا پورا مزہ دے گا بھی اور لے گا بھی میں نے اس کی مٹھ بھی بہت دن سوچ سمجھ کر اور آزما کر لگائی تھی اور مزے کی بات بتاؤں اس کی ٹائمنگ بھی کافی اچھی ہے 1 سے 2 بار کسی بھی عورت کا کا پانی نکلوا کر ہی خود فارغ ہوتا ہے . میں نے جب اس کی مٹھ لگائی تھی تو تقریباً اس نے لگ بھگ 15 منٹ بعد پانی چھوڑا تھا . چچی نے کہا تم اچھی طرح سوچ لو اس کی پکا بندہ ہونے کی گارنٹی میں دیتی ہوں باقی تمہارا اپنا فیصلہ ہے میں کل دن کو پِھر کال کروں گی تم کل تک اچھی طرح سوچ لو . سائمہ آنٹی نے کہا ٹھیک ہے میں سوچتی ہوں کل تک تمہیں سوچ کر بتا دوں گی . ویسے ثمینہ ہم کریں گے کہاں . تو چچی نے کہا اس کی فکر نا کرو میرے گھر میں میرے بیڈروم میں آرام سکون سے کر لینا دن کو میں اور کا شی اور دادی ہی ہوتے ہیں تمہیں تو پتہ دادی اپنے کمرے میں ہی ہر وقعت رہتی ہیں بیمار ہیں اِس لیے اگر تمہارا پروگرام بن گیا تو میں تمہیں یہاں بلا لوں گی تم دونوں اندر مزہ کَرنا میں باہر پہرہ بھی دوں گی . آنٹی نے کہا چلو ٹھیک ہے میں کل تک سوچ کر بتاؤں گی . پِھر چچی نے کہا ایک بات تو بتاؤ سائمہ . آنٹی نے کہا ہاں پوچھو چچی نے کہا اپنے میاں سے کبھی بُنڈ میں کروایا ہے ؟ تو آنٹی نے کہا نہیں ثمینہ بُنڈ میں کبھی نہیں لیا تمھارے بھائی نے بھی نے بہت کوشش کی لیکن میں کبھی راضی نہیں ہوئی بڑی درد ہوتی ہے آنٹی نے کہا تم کیوں پوچھ رہی ہو چچی نے کہا کا شی کو لڑکیوں کی بُنڈ میں ڈالنے کا بہت شوق ہے اِس لیے پوچھا تھا . آنٹی نے کہا نہ بابا نہ میرے میاں کا لن کا شی سے تھوڑا چھوٹا ہے وہ اندر نہیں لے سکتی تو کا شی کا تو لن موٹا بھی ہے میرے میا ں سے تھوڑا بڑا بھی ہے وہ تو میری کنواری بُنڈ کو پھاڑ کر رکھ دے گا بُنڈ میں نہیں کروا سکتی . چچی نے کہا چلو جیسے تمہاری مرضی میں فون بند کرنے لگی ہوں میں کل پِھر دن کو کال کروں گی تم سوچ لینا اور کل اپنے فیصلہ بتا دینا . آنٹی نے کہا ٹھیک ہے اور پِھر فون کٹ گیا اور یہاں دونوں کی باتیں سن کر میرے لن فل جوش میں کھڑا سلامی دے رہا تھا میں اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا اور زیتون کے تیل کے ساتھ مالش شروع کر دی . 1 گھنٹہ مالش کرنے کے بَعْد کمرے سے نکل کر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا نہا کر دوبارہ آ کر ٹی وی والے کمرے میں ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا اور پِھر وہ دن بھی معمول کی طرح گزر گیا اور خاص نئی بات نہیں ہوئی . اگلے دن وہ ہی روٹین کی طرح ٹی وی دیکھنے بیٹھ گیا چچی اپنے معمول کے کاموں میں مصروف تھی اور پِھر اپنے کام نمٹا اپنے کمرے میں چلی گئی اس وقعت 12 بج چکے تھے . میں نے خود ہی ٹی وی بند کیا اور چچی کے کمرے میں چلا گیا اندر داخل ہوا تو چچی کمرے میں نہیں تھی وہ باتھ روم میں نہا رہی تھی میں کرسی پے جا کر بیٹھ گیا اور ان کا باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا کوئی منٹ بَعْد چچی باتھ روم سے نکل آئی مجھے کرسی پے بیٹھے دیکھا تو پوچھا کیوں خیر ہے نا . میں نے کہا خیر ہی خیر ہے آج آپ نے سائمہ آنٹی کو دوبارہ کال کرنی تھی اِس لیے آپ کے پاس آیا تھا چچی نے کہا بڑی گرمی چڑی ہوئی ہے سائمہ کی جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے . میں نے کہا چچی جان آج 3 دن ہو گئے ہیں عشرت کو چودے ہوئے اور ویسے بھی میرے پاس وقعت کم ہے واپس بھی جانا ہے اس سے پہلے اپنا اور آپ کا کام تو کروا کے ہی جاؤں گا . چچی نے کہا ٹھیک ہے تم بیٹھو میں بال بنا لوں پِھر کال کرتی ہوں پِھر چچی ڈریسنگ ٹیبل کے آگے بیٹھ کر بال بنانا لگی اور 5 منٹ میں ہی فارغ ہو گئی . پِھر مجھے کہا اپنے نمبر سے اس کا نمبر ملا دو میں بات کرتی ہوں . میں نے نمبر ڈ ا ئل کر دیا جب بیل جانے لگی تو فون چچی کو دے دیا اور خود اٹھ کر باہر آ گیا اور دوبارہ ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا آج بھی میں نے ریکارڈنگ ایکٹیو کی ہوئی تھی کوئی 15 سے 20 منٹ بَعْد ہی چچی ٹی وی والے کمرے میں آ گئی اور مجھے اپنے کمرے میں بلا کر لے گئی میں ٹی وی بند کر کے ان کے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور سوالیہ نظروں سے چچی کی طرف دیکھنے لگا چچی نے میرا موبائل مجھے واپس کیا اور بولی دیکھو کا شی سائمہ ما ن تو گئی ہے لیکن اس کو تمہاری طرف سے کچھ دِل میں ڈر بیٹھ ہوا ہے وہ تمہیں ابھی بھی بچہ ہی سمجھ رہی ہے اور ڈر رہی ہے کے تم کسی کو بتا نا دو نہیں تو اس کی زندگی خراب ہو جائے گی . اِس لیے میں نے پرسوں اس کو اپنے گھر بلا لیا ہے وہ جب آئے گی میں تم دونوں کو موقع دوں گی تم کمرے میں جا کر اس کو اعتماد میں لینا اور پِھر جب اس کو پورا یقین ہو جائے تو پِھر دونوں شروع ہو جانا . میں نے چچی سے کہا چچی جان آپ بے فکر ہو جاؤ اس کو آنے دو اس کو یقین اور اعتماد میں لینا میرا کام ہے . چچی نے کہا تم سمجھدار ہو مجھے پتہ ہے تم کر لو گے . میں نے پِھر کہا چچی آپ کے بد ےکا کام کب کَرنا ہے اس کی کوئی ڈیٹیل بتاؤ تو وہ بولی تم پرسوں پہلے سائمہ والا کام پورا کر لو اس کے بَعْد میں نے اپنا ہی کام کروا ہے تم سے میں تمہیں اس دن سب بتا دوں گی . میں نے کہا ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی پِھر میں نے کہا چچی پرسوں تو ابھی دور ہے آج کا آدھا دن کل کا پورا دن ہے آج تھوڑی مہربانی کریں اور ایک ٹائیٹ سا چو پا لگا دیں . چچی نے کہا ابھی تو مشکل ہے جب بچے اسکول سے آئیں گے كھانا کھا کر سو جائیں گے میں تمھارے کمرے میں آؤں گی اس وقعت اپنے بھتیجےکو ٹائیٹ کا چو پا لگا دوں گی اب خوش میں نے کہا خوش ہی خوش چچی جان . اور پِھر اٹھ کر پِھر ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی دیکھنے لگا اور ہیڈ فون لگا کر ریکارڈنگ سننے لگا آج کی ریکارڈنگ میں خاص بات کوئی نہیں تھی جو باتیں چچی نے کہی تھی وہ ہی تھی پِھر میں ٹی وی دیکھنے میں مشغول ہو گیا . کچھ دیر بَعْد بچے بھی آ گئے اور ہم نے كھانا کھایا میں كھانا کھا کر اپنے کمرے میں آ کر چارپائی پے لیٹ گیا اور چچی کا انتظار کرنے لگا . کوئی آدھے گھنٹے بَعْد چچی میرے کمرے میں داخل ہوئی اور پِھر دروازہ لاک لگا کر چارپائی پے آ کر بیٹھ گئی . میں چارپائی پے اٹھ کر بیٹھ گیا چچی نے کہا مجھے بھی آج بڑے دن ہو گئے ہیں اپنا پانی نکالے ہوئے آج میرابھی پانی نکلوا دو . میں نے کہا کیوں نہیں چچی جان آپ حکم کرو کیا کَرنا ہے . چچی نے کہا تم اپنے سارے کپڑے اُتار دو میں بھی اُتار تی ہوں اور میں اپنی پھدی تمھارے منہ پے رکھ کر اپنا منہ تمھارے لن پے رکھ کر چو پے لگا تی ہوں تم میری پھدی کی سکنگ کرو میں تمہارے لن کے چو پے لگا تی ہوں . چچی کا مطلب 69 سٹائل تھا میں سمجھ گیا تھا اِس لیے میں نیچے ٹانگیں سیدھی کر کے لیٹ گیا تھا اور چچی وہ ہی اسٹائل میں میرے اوپر آ کر لیٹ گئی چچی کی پھدی بالکل شیوڈ تھی اور ہلکا ہلکا پانی چھوڑ رہی تھی میں نے چچی کی پھدی کی چاٹنا شروع کر دیا اور چچی نے میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر چاٹ رہی تھی گول گول زبان گھوما رہی تھی اور درمیان میں ٹوپی کے ہیڈ پے بنی موری پے اپنی زُبان رگڑ دیتی تھی جس سے میرے جسم میں کر نٹ دوڑ جاتا تھا اور دوسری طرف میں اب چچی کی پھدی کو ھاتھوں سے کھول کر زُبان اندر باہر کر رہا تھا جس سے چچی کو مزہ آ رہا تھا اور چچی اپنی پھدی کو میرے منہ پے دبا رہی تھی . نیچے چچی نے میرے ٹٹوں کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا میں تو آسمان میں اڑ رہا تھا . اور یہاں میں چچی کو اپنی زُبان سے چود رہا تھا اور چچی پھدی کو آگے پیچھے کر کے مزہ لے رہی تھی پِھر میں نے اپنی زُبان اور تیزی کے ساتھ اندر باہر کرنے لگا اور ساتھ میں اپنی ایک انگلی چچی کی بُنڈ کے سراخ میں گھسا دی تھی جس کی وجہ سے چچی اور جوش میں آ گئی تھی اور پِھر مزید 3 سے 4 منٹ کے بعد چچی نے اپنے گرم گرم اور نمکین پانی میرے منہ پے چھوڑ دیا . چچی نے اپنا پانی نکلنے کے بعد میرے لن کو جتنا ہو سکتا تھا منہ میں لے کر چو پا لگانے لگی اور لن کو منہ کے اندر ہی اپنی زُبان کو میرے لن پے گو گول گھوما رہی تھی اور کبھی زُبان سے دباتی اور کبھی چھوڑتی جیسے وہ زُبان سے مٹھ لگا رہی ہو. اور میں چچی کے جاندار چو پوں کی وجہ سے لذّت اور سرور کی دنیا میں ڈوبا ہوا تھا . پِھر میں نے دوبارہ چچی کی بُنڈ کے سوراخ کے اوپر اپنی زُبان پھیری تو چچی کا پورا جسم کانپ گیا اور ان کے منہ سے لمبی سی سسکی نکالیام م م م …..پِھر میں پِھر اپنی بڑی والی انگلی چچی کی بُنڈ کے سوراخ میں ڈال کر اندر باہر کرنے لگا اور ساتھ ساتھ زُبان سے پھدی چُوسنے لگا . جس سے چچی پِھر مزہ لینے لگی اور اپنی بُنڈ کو اٹھا اٹھا کر میری پوری انگلی اندر باہر کروانے لگی اور دوسری طرف وہ مسلسل میرے لن کو پورا منہ میں لے کر بڑی گرمجوشی سے چو پے لگا رہی تھی ہم دونوں کے درمیان یہ سلسلہ کوئی مزید 8 سے 10منٹ چلا اور چچی کی پھدی نے اپنا گرم گرم لاوا میرے منہ پے چھوڑ دیا اور وہاں میں نے اپنی منی کا پورا لاوا چچی کے منہ میں چھوڑ دیا تھا جب میرے لن سے مال گرنا بند ہو گیا تو چچی نے میرے لن اپنے منہ سے باہر نکال لیا اور میں نے دیکھا چچی میرا پورا مال پی چکی تھی میں حیران بھی ہوا اور خوش بھی کے چچی نے تو آج کمال کر دیا ہے. پِھر چچی سیدھی ہو کر میرے ساتھ چارپائی پے لیٹ گئی ہم دونوں تھوڑی دیر تک اپنی سانسیں بَحال کرتے رہے پِھر چچی بولی واہ کا شی میری جان آج تو مزہ آ گیا 2 دفعہ پانی نکلا ہے میرا اور تیری منی بھی بڑی مزے دار اور گرم گرم تھی . میں نے کہا چچی اِس لیے تو کہا تھا خدمت کا موقع دیتی رہا کرو پِھر دیکھو کیسے تمہیں خوش کرتا ہوں . چچی بولی کیوں نہیں کیوں نہیں اب تو یہ مزہ چلتا رہے گا. پِھر تھوڑی دیر بعد چچی اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی تھوڑی دیر بعد بچے اٹھ جائیں گے اور تمھارے چچا بھی آنے والے ہیں میں اپنے باتھ روم میں نہانے جا رہی ہوں پِھر میں نے چائے بھی بنانی ہے تم بھی جا کر نہا لو پِھر وہ اٹھی اپنی شلوار قمیض پہنی اور دروازہ کھول کر باہر چلی گئی . میں نے بھی اپنے شلوار پہنی اور بنیان پہن کر باتھ روم میں نہانے کے لیے گھس گیا . نہا دھو کر باہر نکلا ٹرا و زیر اور شرٹ پہن کر ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا اور پِھر تھوڑی دیر بعد چچی بھی اپنے کمرے میں سے نکل کر کچن میں چلی گئی اور کوئی 1 گھنٹے بعد ہی چچا بھی گھر آ گئے اور پِھر وہ باقی کا دن بھی معمول کی طرح گزر گیا اور اگلے دن صبح ناشتےپے چچی نے چچا کو کہا آپ آج واپسی پے سائمہ کو ساتھ لے آئیں میں نے کل اس کے ساتھ دن کو بازار جانا ہے اس نے کچھ اپنی چیزیں لینی ہیں اور میں نے اپنی بھی لینی ہیں . چچا نے کہا ٹھیک ہے میں شام کو واپسی پے اس کو ساتھ لے آؤں گا . اب مجھے تسلی ہو گئی تھی کے اب سائمہ آنٹی تو آئے گی ہی آئے گی. میں روٹین کی طرح ٹی وی دیکھ رہا تھا کے یکدم میرے موبائل کی گھنٹی بجی میں نے موبائل چارجنگ پے لگایا ہوا تھا وہاں سے موبائل اٹھا کر دیکھا تو ابو کی کال تھی . مجھے شق ہو گیا تھا کے واپسی کا بلاوا
آ گیا ہے میں نے کال پک کی اور ابو کو سلام کیا اور ان کا اور باقی سب گھر والوں کا حال حوال پوچھا ابو نے مجھے سے پوچھا کیوں میاں وہاں جا کر اپنے ماں باپ بہن بھائی کو بھول ہی گئے ہو نہ کوئی فون نا بات خیر تو ہے نہ میں نے کہا خیر ہی ہے ابو بس ویسے ہی یہاں آ کر دِل لگ گیا تھا سب کے ساتھ اِس لیے کال نہیں کر سکا پِھر ابو نے کہا میاں واپسی کا کیا پروگرام ہے آگے کوئی پڑھائی وغیرہ کرنی ہے یا ایسے ہی زندگی گزارنی ہے . میں نے کہا ابو آگے پڑھنا ہی ہے اور کیا کرنا ہے فارغ تو ٹائم نہیں گزرتا . ابو نے کہا پِھر آگے کیا پروگرام ہے کب واپس آنا ہے . میں نے کہا ابو تھوڑے دن تک رزلٹ آنے والا ہے اور پِھر ایڈمیشن لینا ہے میں اگلے ہفتے میں واپس آ جاؤں گا آپ بے فکر ہو جائیں . ابو نے کہا ٹھیک ہے بیٹا اپنا خیال رکھنا اور گھر میں سب کو ماں جی اور اپنے چچا کو سب کو سلام دینا میں نے کہا جی ابو میں دے دوں گا اور پِھر سلام کر کے کال کٹ گئی. میں نے دوبارہ فون چارجنگ پے لگایا اور باہر دیکھا چچی کچن میں اپنا کام کر رہی تھی میں نے سوچا چچی جب اپنا کام ختم کر کے اپنے کمرے میں جائے گی تو میں پِھر ان کے کمرے میں جا کر بات کروں گا اور میں یہ ہی سوچ کر دوبارہ ٹی وی دیکھنے لگا اور پتہ ہی نہیں چلا سارے بج گئے تھے میں نے باہر دیکھا تو چچی اپنا کام ختم کر کے اپنے کمرے میں جا چکی تھی میں نے ٹی وی بند کیا اور چچی کی کمرے میں چلا گیا اندر داخل ہوا تو چچی کسی سے فون پے بات کر رہی تھی میں نے آنکھوں کے اشارے سے پوچھا تو انہوں نے مجھے کرسی پے بیٹھنے کا اشارہ کیا میں کرسی پے بیٹھ گیا چچی اپنی آ می سے فون پے بات کر رہی تھی پِھر 5 منٹ کے بعد چچی نے بات کر کے کال کٹ کر دی . میں نے چچی سے پوچھا خیریت تھی تو چچی نے کہا خیریت ہی ہے میں نے سائمہ کو کال کی تھی کے آج تمہیں لینے آئیں گے اور پِھر اس کے ہی فون پے ا می کا حال حوال پوچھ لیے . تم سناؤ خیریت ہے . میں نے بھی کہا خیر ہی ہے لیکن چچی اب میرے پاس دن کم ہیں مجھے کچھ دیر پہلے ابو کی کال آئی ہوئی تھی انہوں نے واپسی کا پوچھا ہے میں نے ان کو یہ ہی کہا ہے میں اگلے ہفتے واپس آ جاؤں گا. چچی میرے پاس ہفتہ ہی باقی بچا ہے آپ کوئی ایسا کام کرو کے یہ ہفتہ روز ہی کوئی نا کوئی پھدی ملے تا کے جاتے جاتے گرمی تو نکال کر جاؤں پِھر پتہ نہیں کتنے مہینے بعد چکر لگتا ہے . چچی میری بات سن کر ہنسنے لگی اور پِھر بولی تیری گرمی ہے کے آتَش فشاں ہے جو ختم ہی نہیں ہوتا . میں نے کہا چچی جان جوانی کا خون ہے اور ویسے بھی لن کو جب پھدی کا منہ لگ جاتا ہے تو اِس کو ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی موری کی تلاش رہتی ہے . چچی نے کہا ہاں یہ تو ہے جب میں بھی نئی نئی شادی ہو کر آئی تھی تو جوان اور گرم تھی اور تمھارے چچا اور میں تقریباً ہر دوسرے دن ہی خوب دبا کر چودا ئی کرتے تھے جو تمھارے چچا کے ساتھ 11سال نکالے وہ بڑے ہی شاندار اور مزے کی دن تھے کوئی فکر نہیں ہوتی تھی . پِھر ان کی موت کے بعد یہ سلسلہ کافی سال تک بند رہا اور پِھر شوکت اور عرفان بھائی کے ساتھ سلسلہ کوئی 3 سال پہلے شروع ہوا تھا جو آج تک ہے لیکن وہ مزہ نہیں ہے جو تمھارے چچا کا تھا شوکت بھی مہینے میں 2 یا 3 دفعہ آتا ہے اور عرفان بھائی مہینے میں 5 سے 6 دفعہ چکر لگاتے ہیں اور اِس طرح کچھ گزارا ہو جاتا ہےمیں نے کہا چچی یہ نورین کب سے عرفان انکل سے چودو رہی ہے چچی بولی نہیں وہ جس دن تم نے دیکھا تھا اس دن پہلی دفعہ نورین نے عرفان بھائی سے کروایا تھا. میں نے کہا آپ نے نورین کے لیے بھی دوسرے لن کا بندوبست کر دیا ہے تو چچی بولی کا شی نورین بیچاری بہت مجبور ہے اس کی عمر دیکھو خود سوچو وہ کس طرح اپنے جذبات کنٹرول کرے عشرت تو پِھر بھی اپنے میاں یا اس لڑکے سے کروا کروا کے اپنا وقعت گزار چکی ہے اور نورین بیچاری تو ابھی بچی ہے اور جوان ہے . بس اِس لیے ہی میں نے اس کو عرفان بھائی کے ساتھ ملایا ہے نہیں تو میں نے آج تک عرفان بھائی اور شوکت کبھی باہر یا خاندان کی کسی عورت کو دیکھنے بھی نہیں دیا کئی دفعہ شوکت نے نورین کو میرے گھر دیکھا ہے اس نے کئی دفعہ مجھے نورین کے لیے کہا ہے لیکن میں نے کبھی بھی اس کی بات کو سنا تک نہیں ہے شوکت پے بھروسہ کسی عورت کے لیے نہیں کر سکتی او وہ کنوارہ ہے ہر کوئی شق کر سکتا ہے اور عرفان بھائی شادی شدہ ہیں بچے ہیں گھر میں یہاں وہاں ان پے کوئی شق بھی نہیں کر سکتا اِس لیے پہلی دفعہ عرفان بھائی کو نورین سے ملایا ہے. میں نے کہا چچی یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں میں بھی یہاں نہیں رہتا جو نورین کو ہر دوسرے دن چود لیتا اور اس کی گرمی نکال دیتا چلو عرفان بھائی تو نزدیک ہی ہیں آتے جاتے رہتے ہیں آپ کا اور نورین کا کام تو چلتا رہے گا . چچی نے کہا کا شی تم بھی کیا یاد کرو گے تمہیں اگر اسلام آباد میں بھی کسی پھدی کا انتظام کر دوں تو مانوگے . میں حیرت اور سوالیہ نظروں سے چچی کا منہ دیکھنے لگا چچی میرا منہ دیکھ کر مسکرائی اور بولی بتاؤ پِھر انتظام کر دوں وہاں بھی تمہارا میں نے چچی سے کہا نیکی اور پوچھ پوچھ چچی اگر ایسا کام ہو جائے تو میں آپ کو اپنا گرو مان لوں گا . چچی نے کہا جس پھدی کا میں تمہیں بتاؤں گی تمھارے منہ میں پانی آ جائے گا اور تو اور تمہیں جھٹکا ضرور لگے گا . اب تو میرا تجسس اور بڑھ گیا تھا . میں نے کہا چچی کیوں جان لے رہی ہو بتاؤ نہ چچی نے کہا حوصلہ رکھ حوصلہ رکھ بتاتی ہوں ابھی پِھر چچی نے کہا تمھارے اور فوزیہ کے گھر کا فاصلہ کتنا ہے وہاں میں نے کہا 2 گلیاں چھوڑ کر ان کا گھر ہے . چچی نے کہا روز آتے جاتے ہو ان کے گھر میں نے کہا روز تو نہیں لیکن ان کے گھر آنا جانا کوئی مشکل نہیں ہے عام سی بات ہے چاہوں تو روز جا سکتا ہوں چاہوں تو کبھی کبھی اور کئی دفعہ ان کے گھر بھی رات کو سویا ہوں آپ بات بتاؤ کرنا کیا ہے. فوزیہ آنٹی کا بتا دوں وہ میرے اسلم ماموں کی وائف ہیں اور ان کا دو اسٹوری گھر ہے اوپر اسلم ماموں اور نیچے فوزیہ آنٹی کے بھائی نزیر انکل رہتے ہیں اسلم ماموں ڈاکٹر ہیں اور نزیر انکل کسی پرائیویٹ کمپنی میں ملازم ہیں فوزیہ آنٹی کا بھانجا فیصل نزیر انکل کا بیٹا میرے سے 2 سال بڑا تھا یونیورسٹی میں پڑھتا تھا اور چھوٹا بیٹا کامی10 سال کا تھا وہ اسکول میں پڑھتا تھا.فوزیہ آنٹی ہمارے خاندان کی نہیں ہیں اسلم ماموں نے آؤٹ آف خاندان مرضی سے شادی کی ہوئی تھی اور فوزیہ آنٹی ہمارے خاندان کی بہت ہی خوبصورت اور سیکسی عورت تھی جس کسی بھی خاندان کے موقع پے جاتی تھی تو ہر مرد کی نظر ان پے ہوتی تھی لیکن وہ کسی کو بھی گھاس نہیں ڈالتی تھی تھوڑی مغرور ٹائپ کی عورت تھی لیکن اتنی زیادہ بھی نہیں تھی. میری ان کے ساتھ بھی اچھی گپ شپ تھی لیکن اِس طرح کی نہیں تھی . فوزیہ آنٹی کی ایک ہی بیٹی تھی نازیہ جو مجھ سے 4 سال چھوٹی تھی وہ میٹرک کے رزلٹ کا انتظار کر رہی تھی. میں نے پِھر پوچھا چچی آپ مجھے پہیلی نا بجھاؤ آپ سیدھی اور اندر کی بات بتاؤ. چچی نے کہا وہ جو فوزیہ کا بھانجا ہے فیصل وہ تمہاری فوزیہ آنٹی کا یار ہے اور تمہاری فوزیہ آنٹی اپنے بھانجےسے پچھلے 2 سے 3 سال سے چودوا رہی ہے. چچی کی بات سن کر مجھے واقعہ ہی حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا کیونکہ میں فوزیہ آنٹی کو بہت اچھی طرح جانتا تھا وہ بلا کی خوبصورت اور ایک حَسِین عورت تھی خاندان میں اور بھی بہت اچھے اور جوان ہینڈسم مرد تھے فوزیہ آنٹی نے ان کو تو کبھی گھاس نہیں ڈالی اور فیصل بھی بس ٹھیک ہی تھا مجھے اب تک چچی کی کہی ہوئی بات کا یقین نہیں آ رہا تھا میں نے چچی سے کہا چچی آپ واقعہ ہی سچ بول رہی ہیں. اور آپ کو یہ بات کیسے پتہ چلی ہے. چچی نے کہا یہ بات بالکل سچ ہے اور مجھے یہ بات فوزیہ کی جو کزن ہے فرح جس کی میری 
خالہ کے بیٹے سے شادی ہوئی ہے وہ بھی میری بہت اچھی سہیلی ہے لیکن وہ ایسی عورت نہیں ہے وہ تمہاری فوزیہ آنٹی کی کلاس فیلو اور کزن کے ساتھ ساتھ بہت اچھی دوست بھی ہے اس نے مجھے یہ بات بتائی تھی . چچی بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی فوزیہ آنٹی کی کزن فرح کا رشتہ بھی فوزیہ آنٹی کے ہمارے خاندان میں شادی ہونے کے بَعْد ہی ہوا تھا . چچی کی خالہ شادی ہو کر لاہور میں رہتی ہیں . ان کا بیٹا راشد نادرہ میں اچھی پوسٹ پے آفیسر ہے . 
پِھر میں نے چچی سے پوچھا کے چچی فرح آنٹی کو فوزیہ آنٹی کی یہ بات کیسے اور کب پتہ چلی تو چچی نے کہا شادی سے پہلے فرح اسلام آباد میں ہی اپنے ماں باپ کے گھر رہتی تھی اور جب تمھارے اسلم ماموں باہر کسی ملک میں ٹریننگ وغیرہ یا کسی اپنے دفتر کے کام سے جاتے تھے تو فوزیہ فرح کو اپنے ہاں بلا لیتی تھی اور فرح اس کے ہاں جا کر رہا کرتی تھی بس یوں ہی ایک دن فرح نے بتایا وہ اور فوزیہ اور اس کی بیٹی ایک ہی کمرے میں سو جایا کرتے تھے تو ایک دن رات کو وہ پانی پینے کے لیے اٹھی جب باہر کچن میں پانی پی کر واپس جانے لگی تو فرح کہتی ہے میں نے سوچا اٹھ تو گئی ہوں تو باتھ روم جا کر پیشاب بھی کر کے سو جاتی ہوں وہ کہتی ہے جب میں باتھ روم کی طرف گئی تو باتھ روم سے پہلے جو کمرا تھا وہ فوزیہ کی بیٹی کا تھا جب اس کا باپ نہیں ہوتا تھا وہ اپنی ماں کے کمرے میں سو جایا کرتی تھی فرح کہتی ہے جب میں اس کمرے کے آگے سے گزری تو دروازے کے پاس ہی مجھے عجیب عجیب سی گھٹی گھٹی آوازیں آ رہی تھیں تو فرح کہتی ہے میں وہاں ہی رک گئی اور سوچنے لگی اتنی رات کو اِس کمرے میں کون ہے اور میںڈر بھی گئی تھی پِھر کہتی ہے میں نے دروازے کے نیچے دیکھا ہلکی ہلکی روشنی آ رہی تھی پِھر فرح نے یہاں وہاں دیکھا کھڑکی تو بند تھی اور اس کے آگے پردے آئے ہوئے تھے تو فرح نے دروازے کے کی ہو ل سے دیکھنے لگی پہلے تو اس کو کچھ خاص نظر نا آیا باہر اندھیرا تھا پِھر فرح نے ایک آنکھ بند کر کے دوسری آنکھ سے اندر دیکھا تو جو اس نے اندر دیکھا تو اس کو شدید جھٹکا لگا کیونکہ اندر فوزیہ پوری ننگی ہو کر اُلٹا لیتی ہوئی تھی اور اوپر فوزیہ کا بھانجا فیصل پورا ننگا ہو کر پیچھے اس کی پھدی میں لن کو اندر باہر کر رہا تھا اور فوزیہ کے منہ سے گھٹی گھٹی سی سیکس آوازیں نکل رہی تھیں جو فرح کہتی ہے میں باہر تک سن رہی تھی . 
چچی کہتی ہے فرح نے وہاں پے وہ سارا شو دیکھا اور پِھر اس کو پتہ چلا تھا اور پِھر فرح اور فوزیہ کی بہت اچھی دوستی تھی اگلے دن ہی فرح نے فوزیہ کو رات والی بات بتائی اور اس سے پوچھنے لگی كے یہ کیا ڈرامہ ہے . فرح کہتی ہے پہلے تو فوزیہ نے بات کو چھپا نے کی کوشش کی لیکن بَعْد میں اس نے فرح کو ساری بات بتا دی تھی اور پِھر کئی دفعہ فرح اس کے گھر میں ہی رات کو فوزیہ کے لیے پہرہ دیا کرتی تھی . مجھے چچی کی بات سن کر اب مکمل یقین ہو گیا تھا . میں نے کہا چچی فرح آنٹی نے کبھی فوزیہ آنٹی کو یا فوزیہ نے فرح آنٹی کو اس کام میں شامل ہونے کا نہیں کہا چچی میری طرف گھور ا دیکھا پِھر بولی لگتا ہے تمہیں اب فرح پے بھی دِل آ گیا ہے . میں نے کہا ایسی بات نہیں ہے میں ویسے ہی پوچھ رہا تھا و ہ بھی عورت ہے جب کسی کو پتہ ہو اندر کیا ہو رہا ہے یا و ہ دیکھ بھی رہی ہو تو بندے کا دِل تو کرتا ہے نا تو چچی نے کہا ویسے فرح نے فوزیہ کے ساتھ مل کا کچھ نہیں کیا اور نا ہی فیصل کے ساتھ اس نے کچھ کیا ہے ویسے میں کچھ کہہ نہیں سکتی اور اب تو شادی کے بَعْد وہ بڑی خوش ہے اس کا میاں اچھا خاصا ہے روز چودتا ہو گا جب روز لن مل رہا ہو تو پِھر باہر منہ مارنے کی کیا ضرورت ہے . چچی نے کہا اب تمہیں سمجھ آ گئی ہے نا تمہیں کیا کَرنا ہے . میں نے کہا چچی آپ بے فکر ہو جاؤ اب میں جانو ں اور میرا کام اب تو فوزیہ کو چود کر ہی چھوڑوں گا . چچی نے کہا جب فوزیہ کو مرید بنا لو گے ہو سکتا ہے اس کےذریعےکوئی اور مال بھی وہاں مل جائے یا ہو سکتا ہے فرح ہی مل جائے اب یہ تو فوزیہ پے ہی ہے وہ کیا کرتی ہے . میں نے کہا چچی کل تو سائمہ آنٹی کا اکاؤنٹ کھولنا ہے لیکن میں جب واپس جاؤں گا اس سے ایک دن پہلے آپ کو نورین کو ایک ساتھ اِس ہی بیڈ پے چود کر جاؤں گا اب یاد رکھنا میری بات کو ، چچی نے کہا ہاں اب تو ہر چیز تمھارے ساتھ کھل گئی ہے فکر نہ کرو تمہاری یہ بھی حسرت پوری کر دوں گی . 
ویسے چچی آپ میری گرو ہیں آپ نے اسلام آباد میں ہی پکی پکی پھدی کا بندوبست کر دیا ہے اور یہاں پے بھی اب جب آؤ آپ کے ساتھ وہاں ہو تو فوزیہ آنٹی کے ساتھ مزہ آ گیا ہے . میں نے کہا چچی اب بتاؤ کس بندے کو تمھارے لیے راضی کَرنا ہے چچی بولی تمہیں کوئی بات پتہ چل جائے تو پیچھا نہیں چھوڑتے ہو . میں نے کہا اب تو اتنا کچھ بتا چکی ہو یہ بتانے میں کیا حرج ہے . چچی نے کہا میری چھوٹی بہن کا جو ایک ہی دیور ہے نا بلال اس کو میرے لیے راضی کَرنا ہے . میں چچی کا منہ حیرت سے دیکھنے لگا اور چچی سے پوچھا اس پے آپ کی نظر کیسے آ گئی ہے بلال نے میٹرک کی ہوئی تھی اور چچی کی امی کے محلے میں ہی اپنے باپ کی دکان چلاتا تھا باپ اس کا فوت ہو گیا تھا . وہ میرا ہی ہم عمر تھا لیکن صحت میں مجھ سے تھوڑا اچھا تھا . میں اس کو جانتا تھا اس کے ساتھ میری گپ شپ تھی . میں نے کہا چچی اس پے نظر کیسے آ گئی ہے یا اس میں کون سی خاص با ت ہے . تو چچی نے کہا 2 باتیں ہیں ایک تو یہ کے وہ یہاں نزدیک ہی رہتا ہے اور میری امی کے گھر اور ہمارے گھر آتا جاتا رہتا ہے . اور اس سے میں ہفتے میں 3 یا 4 دفعہ ملاقات کر سکتی ہوں کبھی اپنے گھر کبھی امی کے گھر میں ایک تو یہ فائدہ ہے . دوسرا فائدہ یہ ہے کے اس کا لن بڑا ہی موٹا تازہ اور جاندار ہے . میں نے کہا چچی تم نے جب اس کا لن لیا ہی نہیں ہے تو تمہیں کیسے پتہ ہے کے اس کا لن ایسا ہے یا ویسا ہے . چچی نے کہا وہ مجھے اِس لیے پتہ ہے کیونکہ جب میری چھوٹی بہن کی شادی تھی تو وہ ہمارے گھر مہندی پے آیا ہوا تھا اور اس رات کافی ہلہ گلا اور رش بھی تھا تو رات کو جب سب مہندی لگا رہے تھے تو دلہن کے پاس کافی رش تھا میں دلہن کی کرسی کے پیچھے کھڑی تھی تو یہ بھی وہاں کھڑا تھا تو اِس نے اتنے رش میں بھی جگہ بنا کر اور بڑی احتیاط سے میری بُنڈ میں اپنا موٹا تازہ لن پھنسا کر پورا مزہ لیا تھا اور میں نے وہاں اِس کے لن کو محسوس کیا تھا. تو اِس کے لن کا پتہ چلا تھا. میں نے کہا چچی جب وہ آپ کو پورا مزہ دے رہا تھا اور آپ کو بھی مزہ مل رہا تھا تو اس ٹائم ہی اس کو اپنے ساتھ سیٹ کر لینا تھا آج مجھے کیوں کہہ رہی ہیں . چچی نے کہا کا شی تم بھی پاگل ہو اس کے بھائی کی میری بہن کے ساتھ شادی ہو رہی تھی نیا نیا رشتہ بن رہا تھا اگر وہاں میں اپنا گل کھلا دیتی اور کوئی اور دیکھ لیتا تو کیا عزت رہ جانی تھی . اِس لیے میں نے اس لڑکے کو اپنے کوئی بھی موڈ شو نہیں کروایا اور وہ جب وہاں سے چلا گیا تو گھر میں اکیلے میں اس کو پکڑ کر تھوڑا ڈانٹ دیا اور ڈرا دھمکا دیا کے تمہیں شرم نہیں آتی اپنی ماں بیٹی پے گندی نظر رکھتے ہوئے میں تمہاری امی سے بات کروں گی وہ بے چارہ ڈر گیا اور میرے پاؤں پڑ گیا مجھے معاف کر دیں آئندہ کبھی نہیں کروں گا اور پِھر میں نے اس کو معاف کر دیا لیکن اس کے بَعْد آج تک وہ ہمارے گھر ضرور 
آتا ہے لیکن میرے سے ڈرا ڈرا ہی رہتا ہے اور بھاگتا رہتا ہے اور اِس بات کو 6 مہینے ہونے والے ہیں لیکن اب سوچتی ہوں غلط ہی کیا اپنے ہی فائدہ خراب کر دیا کیونکہ اس کی خاندان میں کم ہی آنا جانا ہے اور دوسرا آوارہ گرد ٹائپ کا بندہ نہیں ہے دکان سے گھر اور گھر سے دکان باہر بھی کوئی خاص دوست یار نہیں ہے ایسا بندہ ٹھیک رہتا ہے بدنام نہیں کر سکتا اِس لیے اب تمہیں کہہ رہی ہوں تم اس کو میرے لیے راضی کرو . وہ تو پہلے ہی میرے ساتھ تعلق بنانا چاہتا تھا لیکن میں نے ہی غلطی کر دی تھی . لیکن تم اس کے ہم عمر ہو پہلے اس کو اعتماد میں لو پِھر گپ شپ میں ہی اندر کی بات پوچھ لینا اور پِھر میں نے چچی کے منہ پے ہاتھ رکھ دیا اور کہا آپ بے فکر ہو جاؤ آپ کا کام ہو جائے گا جانے سے پہلے ہی آپ کی اور اس کی ملاقات کروا کر جاؤں گا آپ بے فکر ہو جاؤ. چچی نے کہا اب اٹھو اور جا کر کوئی اور کام کرو میں نے كھانا پکانا ہے بچے آنے والے ہیں . میں وہاں سے اٹھا باتھ روم میں جا کر نہانے لگا اور نہا کر دوبارہ آ کر ٹی وی دیکھنے لگا چچی کچن میں کام کر رہی تھی . پِھر شام تک کچھ نا ہوا اور شام کو جب چچا گھر آئے تو ان کے ساتھ سائمہ آنٹی بھی تھی میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے بڑی آہستہ آواز میں جواب دیا لیکن وہ مجھ سے نظریں چرا رہی تھیں پِھر رات کو سب نے مل کر كھانا کھایا اور سب اپنی اپنی جگہ پے جا کر سو گئے صبح میں خود ہی اٹھ گیا آج مجھے دن ہونے کا بے صبری سے انتظار تھا آج مجھے سائمہ آنٹی کو چودنا تھا میں صبح نہا دھو کر ناشتہ کر کے ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیاسب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے تھے لیکن میں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کر بےچین تھا ٹائم گزر ہی نہیں رہا تھا پِھر ایسے کر ٹائم گزر گیا جب دن کے 12 بجے تو چچی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر مجھے بولا ہاں بھی بھتیجےتیار ہو نا میں نے کہا تیار تو ہوں تھوڑا ڈر بھی لگ رہا ہے کے سائمہ آنٹی کا رو یہ کیسا ہو گا.
چچی نے کہا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اس کا اپنا دِل ہے تو یہاں تک چل کر آئی ہے تم جاؤ اور اپنا کام شروع کرو . میں چچی کی بات پے غور کیا تو سمجھ آئی چچی کہہ تو بالکل ٹھیک رہی ہے . میں بھی وہاں سے اٹھا اور سیدھا چچی کے کمرے میں جا کر دروازہ اندر سے بند کیا اور جا کر کرسی پے بیٹھ گیا سائمہ آنٹی بیڈ پے بیٹھی ہوئی تھی اس کی نظر اپنی جھولی کی طرف تھی میری طرف نہیں دیکھ رہی تھی . میں اور وہ دونوں خاموشی سے بیٹھے تھے میں سائمہ آنٹی کی طرف سے بات شروع ہونے کا انتظار کر رہا تھا اور وہ شاید میرا انتظار کر رہی تھی. پِھر میں نے ہی ہمت کرنے کا سوچا اور آہستہ آواز میں کہا آنٹی آپ کا کیا حال ہے کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں ، آنٹی نے شرما کر تھوڑا سا منہ اوپر کیا اور آہستہ آواز میں بولی میں ٹھیک ہوں تم سے ناراض کس لیے ہوں گی . میں نے کہا آنٹی پِھر آپ بات کیوں نہیں کر رہی ہیں تو وہ بولی جواب دے تو رہی ہوں . پِھر میری نظر کھڑکی پے گئی تو وہاں سے تھوڑا سا پردہ ہٹا ہوا تھا میں کرسی سے اٹھا اور کھڑکی کو پہلے بند کیا اور پِھر پردے کو آگے کر دیا ا ب کمرے میں کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا . پِھر دوبارہ آ کر سائمہ آنٹی کے ساتھ بیڈ پے آ کر بیٹھ گیا . اور میں نے کہا آنٹی مجھے پتہ ہے آپ کے اندر ایک خوف یا ڈر بیٹھا ہوا ہے کے میں کوئی کچہ بندہ ہوں آپ کے ساتھ تعلق بنا کر باہر لوگوں کو بتا دوں گا اور آپ کو بدنام کر دوں گا . آنٹی نے منہ اوپر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا اور پِھر دوبارہ منہ نیچے کر لیا . میں نے ہمت کر کے آنٹی کا ایک ہاتھ پکڑ لیا تو آنٹی نے فوراً پیچھے کھینچ لیا . میں نے دوبارہ پِھر ہمت کی اور ہاتھ پکڑ لیا اور بولا آنٹی آپ میرے اوپر پورا یقین اور کر سکتی ہیں میں کبھی بھی آپ کی بدنام نہیں کروں گا . اور آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کے میں آپ کی یا چچی کی یا کوئی بھی اپنے خاندان کی عورت کی عزت کو باہر لوگوں میں اچھالتا پھروں گا.
آپ مکمل یقین رکھیں اگر آپ میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں بھی بنائیں گی تو بھی باہر کسی کو نہیں بتاؤں گا گھر کی بات کسی باہر والے سے کروں گا تو اپنی ہی عزت خراب کروں گا . لہذا آپ میری طرف سے بے فکر ہو جائیں . اگر آپ کو میری بات سن کر بھی بھروسہ نہیں ہے تو آپ دروازہ کھول کر باہر چلی جائیں میں آپ کو نہیں روکوں گا میں ابھی باتھ روم میں جا رہا ہوں اگر میرے واپس آنے تک آپ نے جانا ہے تو آپ چلی جائیں اگر مجھ پر بھروسہ ہے تو آپ پِھر بیٹھی رہیں اور میرا ساتھ دیں . میں بیڈ سے اٹھ کر چچی کے باتھ روم میں گھس گیا اور اندر واش بیسن پے کھڑا ہو کر سوچنے لگا پتہ نہیں سائمہ آنٹی کیا فیصلہ کرتی ہے . میں نے اپنی قمیض اُتار کر اندر باتھ روم میں لٹکا ڈی اور بنیان اور شلوار میں ہی باتھ روم کا دروازہ کھولا تو سامنے دیکھا تو سائمہ آنٹی بیٹھی ہوئی تھی انہوں نے اپنے منہ اٹھا کر مجھے دیکھا اور تھوڑا سا مسکرا کر دوبارہ منہ نیچے کر لیا میں سائمہ آنٹی کا اشارہ سمجھ گیا تھا . میں دوبارہ بیڈ پے جا کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور اِس دفعہ میں نے اپنا ایک بازو ان کی گردن میں ڈال کر ان کے کاندھے پے رکھ دیا اور باتیں کرنے لگا . میں نے کہا آنٹی آپ کو ایک بات کہوں تو آنٹی نے کہا ہاں بولو میں نے کہا آنٹی مجھے آپ بہت اچھی لگتی ہیں آنٹی نے کہا میرے میں ایسی کون سی خاص بات جو کسی اور میں نہیں ہے . میں نے کہا آنٹی آپ کے اندر بہت سی خاص باتیں ہیں آنٹی نے کہا کون کون سی میں نے کہا پہلی بات تو یہ آپ جب غصہ کرتی ہیں تو آپ بہت اچھی لگتی ہیں آپ کے غصے میں بھی اَپْنایَت سی ہوتی ہے آنٹی نے میری طرف دیکھا اور کہا اچھا اور کون سی بات اچھی لگتی ہے . میں نے کہا آپ کی سب سے اچھی بات یہ ہا کے آپ کی سمائل بہت اچھی ہے جب آپ سمائل دیتی ہیں آپ کے دونوں طرف ڈمپل پڑ جاتے ہیں . اور آپ کی آنکھیں بہت ہی نشیلی اور گہری ہیں بندہ اِس میں دیکھتا دیکھتا ڈوب جاتا ہے اور ساتھ ہی میں نے اپنے ہاتھ کو تھوڑا حرکت دی اور کاندھے سے آگے کرتا ہوا نیچے ان کا رائٹ سائڈ والامما پکڑ لیا اور آہستہ سا سہلا دیا میری یکدم حرکت نے آنٹی کو جھٹکا دیا لیکن انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور خاموش بیٹھی رہی . جب میں نے اپنی حرکت میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کی تو میں نے آنٹی کا رائٹ سائڈ والا ممے کو آہستہ آہستہ سہلانے لگا اور میرے منہ آنٹی کے منہ کے قریب ہی تھا میں آنٹی کی منہ سے گرم گرم سانسیں محسوس کر رہا تھا . آنٹی نے خمار بھری آواز میں پِھر پوچھا اور کون سی بات میں نے کہا آپ کے یہ ہونٹ بہت ہی کمال کے ہیں دِل کرتا ہے ان کوساری زندگی چوستا ہی رہوں . اور ساتھ ہی میں نے آنٹی کا چہرہ اپنے دوسرے ہاتھ سے اپنی طرف کیا اور ان کے ہونٹوں پے ہونٹ رکھ ایک لمبی سی فرینچ کس کر دی . آنٹی میرے ممے سہلانے اور فرینچ کس سے گرم ہو چکی تھی میں ویسے بیڈ پے ٹانگیں فولڈ کر کے بیٹھ تھا اور آنٹی بھی اِس ہی اسٹائل میں بیٹھی تھی . پِھر آنٹی نے اپنے جسم کو تھوڑا سا اٹھا کر اور اپنی رائٹ سائڈ والی ٹانگ گھوما کر میری دوسری طرف کر کے میری جھولی میں بیٹھ گئی جیسے بندہ بیٹھی ہوئی پوزیشن میں چودتا ہے سیم وہ ہی پوزیشن تھی ہم دونوں کی اور چچی نے بیٹھ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پے رکھ کر کس کرنے لگی اور میں بھی آنٹی کا پورا پورا ساتھ دینے لگا . میں نے اپنا منہ کھول دیا تا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کی زُبان کی بھی سکنگ کر سکیں اور آنٹی نے بھی ویسے ہی کیا پِھر ہم دیوانا وار ایک دوسرے کی زُبان اور ہونٹوں کی سکنگ کر رہے تھے . کوئی 8 سے 10منٹ کے بَعْد میں نے اگلا قدم اٹھانے کا سوچااور آنٹی کے کان میں کہا سائمہ میری جان آپ کا حکم ہو تو اصلی مزے کا کام شروع کریں . تو آنٹی بڑی ہی مدھوش آواز میں بولی میں تو کب سے تڑپ رہی ہوں اصلی مزے کے لیے تم ہی دیر کر رہے ہو . میں نے جب یہ سنا تو آنٹی کو گود میں سے اٹھایا اور ان کو بولا چلو آنٹی پِھر ننگی ہو جاؤ اگر اصلی مزہ لینا ہے تو میں بھی اپنی بنیان اور شلواراُتار نے لگا اور آنٹی بھی اپنی شلوار قمیض اُتار نے لگی انہوں نے قمیض اُتار ی اور پِھر اپنی بر ا بھی اُتار کر بیڈ پے ہی پھینک ڈی آنٹی کے ممے کمال کے تھے بالکل سفید اور اس پر موٹے موٹے پنک رنگ کے نپلز تھے آنٹی کی 4 سال کی بچی بھی تھی اِس لیے فیڈنگ کی وجہ سے ان کے نپلز کافی موٹے موٹے تھے اور آنٹی کے ممے بھی کھڑے کھڑے تھے پِھر آنٹی نے جب اپنی شلوار اُتار ی تو نیچے انڈرویئر نہیں پہنا ہوا تھا اور آنٹی نے شلوار اُتار کر بھی بیڈ پے ہی پھینک دی اور پوری ننگی ہو گئی جب آنٹی سیدھی ہوئی تو ان کی پھدی بھی کیا کمال کی تھی بالکل بالوں سے صاف شیوڈ تھی اور آنٹی کی پھدی بھی نورین کی پھدی کی طرح ہی تھی لیکن آنٹی کی پھدی کا منہ بچی پیدا ہونے کی وجہ سے تھوڑا بڑا ہو گیا تھا لیکن ان کی پھدی کے ہونٹ بالکل کنواری لڑکیوں کی طرح اندر والی سائڈ تھے . 
آنٹی کا جسم بچی ہونے کے بَعْد بھی کافی سمارٹ تھا اور سڈول جسم تھا . میں نے آنٹی سے پوچھا آنٹی میرے لیے کیا حکم ہے تو آنٹی نے کہا پہلے تم میری پھدی کی سکنگ کرو لیکن میں جس اسٹائل میں کہوں گی اس ہی پوزیشن میں ہی کرنی ہے . اس کے بَعْد میں تمہاری غلام جو تم کہو گے وہ ہی ہو گا . میں نے کہا مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے آپ بتائیں مجھے کس پوزیشن میں ھونا ہے تو آنٹی نے کہا تم بیڈ پے سیدھا لیٹ جاؤ میں اپنی پھدی تمھارے منہ پے رکھوں گی اور تمہیں نیچے سے سکنگ کرنی ہے جب تک میرا پانی نہیں نکل آتا . میں نے کہا ٹھیک ہے مجھے منظور ہے اور میں بیڈ پے لیٹ گیا اور آنٹی اوپر آ کر میرے منہ پے اپنی پھدی کو تھوڑا سا اٹھا کر رکھا اور مجھے سے بولی کا شی میری جان چلو شروع کرو میں نے پہلے آنٹی کی پھدی پے کس کی پِھر تھوڑی دیر باہر والی سائڈ کو چاٹآا ر ہا پِھر اپنے ھاتھوں سے آنٹی کی پھدی کو کھول کر اپنی زُبان اندر باہر کرنے لگا جب میں زُبان اندر باہر کر رہا تھا تو آنٹی اوپر نیچے ہو کر زُبان اندر باہر کروا رہی تھی اور اپنے منہ سے سیکسی سیکسی آوازیں نکال رہی تھی اور میں نیچے ان کو پھدی کی سکنگ کر رہا تھا پِھر میں اپنی زُبان کو آنٹی کی بُنڈ کے سوراخ سے لے کر پھدی تک چاٹ رہا تھا جب میری زُبان آنٹی کی بُنڈ کے سوراخ پے لگتی تھی ان کا پورا جسم کانپ جاتا تھا اور وہ لمبی سسکیاں لیتی تھی . مجھے سکنگ کرتے ہوئے کوئی 7 سے 8 منٹ ہو گئے تھے لیکن ابھی تک آنٹی کا پانی نہیں نکلا تھا مجھے لگتا تھا آنٹی کا سٹیمنا کافی اچھا ہے میں دوبارہ پِھر آنٹی کی پھدی میں اپنی زُبان سے چدائی کرنے لگا اور اِس دفعہ اپنی سپیڈ تیز کر دی اور کوئی 3 سے 4 منٹ کے اندر ہی آنٹی اونچی اونچی آوازیں نکال رہی تھی اور پِھر انہوں نے اپنا پانی چھوڑ دیا ان کا پانی کافی گرم تھا اور زیادہ نمکین بھی نہیں تھا پِھر آنٹی اوپر سے ہٹ گئی اور بیڈ پے لیٹ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی اور میں وہاں سے اٹھ کر باتھ روم گیا اپنا منہ دھویا اور کلی کر کے واپس بیڈ پے آ کر لیٹ گیا . 
جب میں آنٹی کے ساتھ بیڈ پے آ کر لیٹ گیا تو آنٹی نے کہا کا شی آج مزہ آ گیا تم تو کمال کی پھدی کی سکنگ کر تے ہو اور جو تم نے میری بُنڈ کے سوراخ پے زُبان پھیری ہے اس نے تو مجھے پاگل کر دیا تھا میرے میاں سے مجھے اتنا مزہ کبھی نہیں آیا جتنا تمھارے ساتھ آیا ہے وہ پھدی کی سکنگ کے زیادہ شوقین نہیں ہے. میں نے کہا آنٹی آپ بھی بڑی کمال کی چیز ہو مجھے بھی آپ کے ساتھ مزہ آیا ہے اور آپ کی بُنڈ بھی بڑی نرم نرم ہے . آنٹی نے کہا مجھے ثمینہ نے بتایا تھا کے تمہیں بُنڈ میں ڈالنے کا بہت شوق ہے .کا شی ایسی کیا بات بُنڈ میں ہے. میں نے کہا آنٹی بُنڈ کا اپنا ہی مزہ ہے ایک تو بُنڈ کا سوراخ تھوڑا تنگ ہوتا ہے اور دوسرا اس میں لن پھنس پھنس کر جاتا ہے اور تنگ موری میں لن کو جب رگڑ لگتی ہے تو مزہ آ جاتا ہے . آنٹی نے کہا پہلے کس کی بُنڈ میں ڈالا ہے . میں نے سوچا چچی نے سائمہ آنٹی کو نورین اور عشرت آنٹی کا نہیں بتایا ہے اِس لیے مجھے بھی ان کو ابھی نہیں بتانا چاہیے. میں جب سوچ رہا تھا تو آنٹی نے کہا کیا سوچ رہے ہو میں نے کہا آنٹی جی میری قسمت اتنی اچھی کہاں ہے جو میں کسی کی بُنڈ یا پھدی مارتا میں نے تو ابھی تک چچی کی بھی پھدی یا بُنڈ نہیں ماری بس ان سے مٹھ ہی ماورائی ہے . میں تو پہلی دفعہ عورت کے ساتھ بھی آپ کے ساتھ ہی کر رہا ہوں . آنٹی نے کہا پِھر تمہیں بُنڈ میں ڈالنا اور پھدی کی سکنگ کا کیسا پتہ ہے . میں نے کہا آنٹی یہ کام تو میں نے سیکس والی فلم دیکھ دیکھ کر سیکھا ہے انٹرنیٹ پے بہت موویز ہیں وہاں سے دیکھ کر ہی یہ سب کچھ پتہ چلا ہے . آنٹی نے کہا واقعہ ہی تم میرے ساتھ پہلی دفعہ کر رہے ہو . میں نے کہا جی آنٹی جی بالکل پہلی دفعہ کر رہا ہوں آپ پہلی عورت ہو میری زندگی کی چچی نے تو مٹھ بھی بہت مشکل سے ماری تھی جب میں نے ان کو چودنے کا کہا تو منع کر دیا اور پِھر آپ کے لیے بھی بہت مشکل سے راضی ہوئی تھی وہ بھی اگر آپ کا راز یا ان کو میں نے شوکت انکل کے ساتھ نا دیکھا ہوتا . آنٹی کو میری بنائی ہوئی فلم پے یقین آ گیا تھا . آنٹی نے کہا ثمینہ بڑی کنجری ہے وہ اتنی آسانی سے کسی کے نیچے نہیں لیٹ جاتی پوری حرامن ہے . تمھارے نیچے بھی سوچ سمجھ کر ہی لییٹے گی . میں نے بھی کہا ہاں نا آنٹی مجھے پتہ ہے وہ آپ کے ساتھ کام کروا کے خود نہیں دے گی اور مجھے آپ کے ساتھ کروا کے بلیک میل کیا کرے گی . اور آپ تو بس پھدی میں ہی لے سکتی ہیں بُنڈ والی حسرت تو میری زندگی میں رہ ہی جائے گی . آنٹی نے میری طرف دیکھا اور پِھر کچھ دیر خاموشی سے سوچتی رہی پِھر کچھ دیر بَعْد بولی کا شی باہر آواز تو نہیں جاتی ہے . میں نے کہا آنٹی میں نے کھڑکی بند کر دی تھی .اب آواز باہر نہیں جا سکتی ہے . آنٹی نے کہا کا شی میں تمہاری بُنڈ والی حسرت پوری کر سکتی ہوں اگر تم کسی کو بھی نا بتاؤ اور نا ہی ثمینہ کو یہ بات پتہ چلے اگر یہ بات تمھارے اور میرے درمیان رہ سکتی ہے تو میں تمہاری بُنڈ والی حسرت پوری کروا سکتی ہوں . میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور آنٹی کا ہاتھ پکڑ کر کہا آنٹی آپ مجھ پر مکمل بھروسہ کر سکتی ہیں اِس کمرے میں جو بات ہو گی وہ یہاں ہی دفن ہو جائے گی آپ سے وعدہ کرتا ہوں آپ میری حسرت پورا کریں یہ بات کسی کی بھی پتہ نہیں چلے گی . 
آنٹی نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا پکا وعدہ ہے نا تمہارا . میں نے آنٹی کے ہاتھ پے کس کر کے کہا پکا وعدہ ہے . پِھر آنٹی نے کہا یہ تو تمہیں پتہ ہے میں تو بُنڈ میں نہیں لے سکتی لیکن تمہاری یہ حسرت پوری کروا سکتی ہوں . میں نے فوراً کہا کسی سے کروا سکتی ہیں . آنٹی نے کہا آرام سے آرام سے پِھر آنٹی میرے اور قریب بیٹھ گئی اور بولی کے تم میری بڑی بہن کو جانتے ہو نا . میں نے کہا آنٹی کیوں مذاق کر رہی ہیں میں آپ کے پورے خاندان کو جانتا ہوں وہ تو پِھر آپ کی بڑی بہن آسمہ آنٹی ہیں . لیکن آپ یہ کیوں پوچھ رہی ہیں . آنٹی نے کہا تمہیں تو پتہ ہے میری باجی کو آج سے 8 سال پہلے طلاق ہو چکی ہے اور وہ اس وقعت سے ہی اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے گھر مطلب امی کے گھر میں ہی رہتی ہیں . میں نے کہا ہاں آنٹی مجھے آسمہ آنٹی کی طلاق کا بھی پتہ ہے اور ان کی بیٹی نازیہ کا بھی پتہ ہے. اور یہ بھی پتہ ہے کے آسمہ آنٹی طلاق کے بَعْد سے اب تک آپ کی امی کے پاس ہی رہ رہی ہیں . آنٹی نے کہا بس تو پِھر میں باجی سے تمہارا کام اور تمھاری ملاقات کروا دوں گی . تم اپنی حسرت بھی ان سے پوری کر لینا اور باجی کا بھی کام ہو جائے گا . میں آنٹی کی بات سن کا ہکا بقا ہو گیا تھا . آنٹی بھی میرا منہ دیکھ رہی تھی میں نے آنٹی سے کہا آنٹی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں آپ ہوش میں تو ہیں . آنٹی نے نیچے ہاتھ کر کے میرا لن پکڑ لیا اور اس کو آہستہ آہستہ سہلانے لگی اور بولی ہاں کا شی میں ہوش میں ہی ہوں اور ٹھیک کہہ رہی ہوں . میں نے آنٹی سے کہا آنٹی آپ اپنی باجی کو کیسے راضی کریں گی اور کیا وہ میرے ساتھ کرنے کے لیے راضی ہو جائیں گی میری اور ان کی عمر میں کم سے کم 16 سے 17‬ سال کا فرق ہے . ان کی بیٹی کی عمر میرے خیال میں 21 یا22 سال ہے وہ مجھے سے 2 یا 3 سال چھوٹی ہے . میں ایک قسم کا آنٹی آسمہ کی بیٹی عمر کا ہوں. بھلا وہ میرے ساتھ کیسے راضی ہو جائے گی اور آپ کیسے اپنی باجی سے بات کریں گی وہ تو آپ کا بھی منہ توڑ کر رکھ دیں گی . میری بات سن کا آنٹی تھوڑا مسکرائی اور کہنے لگی کا شی یہ تمہاری پرا بلم نہیں ہے یہ میری ہے . تم کیوں فکر کر رہے ہو . میں سارا بندوبست کر کے ہی تمہیں وہاں لے کر جاؤں گی . میں نے کہا پِھر بھی آنٹی مجھے کچھ تو سمجھاؤ . آنٹی نے کہا دیکھو کا شی باجی اور میری عمر میں زیادہ فرق نہیں ہے م میری عمر 32 سال ہے اور ان کی 40 سال ہے اور میرے اور باجی کے آپس میں بہن کا رشتہ تو ہے ہی ہے لیکن ہم آپس میں بہت اچھی دوست بھی ہیں ہماری ایک دوسرے کی کوئی بھی عام اور خاص بات چھپی ہوئی نہیں ہے . ہم دونوں اپنا دکھ سکھ آپس میں شیئر کرتی رہتی ہیں . اور مجھے ان کی ساری باتیں اور ان کی ضروریات اور میری ساری باتیں اور ضروریات پتہ ہیں یہاں تک کے دونوں کی ازدواجی ضروریات کا بھی پتہ ہے . اِس لیے میری ان سے کھلی گپ شپ ہے اور میری شادی سے پہلے انہوں نے ہی مجھے اپنے میاں کو کیسے راضی اور خوش رکھنا ہے سب کچھ بتایا اور سکھایا بھی تھا . اور مجھے اپنی باجی کی طلاق سے پہلے بھی ان کے میاں کے ساتھ ساری عام اور خاص باتیں پتہ تھی اور باجی کو میری پتہ تھی . اور طلاق کے بَعْد سے باجی جب سے گھر واپس آ گئی ہیں بیچاری گھٹ گھٹ کر ہی زندگی گزر رہی ہیں . مرد کے بغیر عورت کا جینا بہت مشکل ہوتا ہے یہ باتیں تم نہیں سمجھ سکتے اور میں تو پِھر بھی شادی کے بَعْد سے اب تک اپنے میاں سے ہر سکھ اور مزہ لے رہی ہوں لیکن وہ تو بیچاری 8 سال سے اکیلی اپنے جذبات اور آگ کو اندر ہی اندر برداشت کر رہی ہے اور میں ان کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی . کیونکہ میں نے ان کے لیے بہت دفعہ کوئی بھروسے والا اور پکا بندہ تلاش کرتی رہتی تھی خاندان میں بھی اور باہر بھی لیکن مجھے کوئی بھی خاص بھروسے والا اور پکا بندہ آج تک نہیں ملا اِس لیے میں ان کے لیے کچھ نا کر سکی لیکن اب تمہیں دیکھ کر اور آزما کر مجھے خوشی ہے کے میں اپنی باجی کے لیے بھی کچھ نا کچھ کر سکوں گی . اِس لیے تمہاری ان سےملاقات کراوںگی .تا کہ تم بھی اپنی حسرت پوری کر سکو اور ان کو بھی تھوڑا سا کچھ دن کا مزہ تو مل جائے گا . ا ب تم بتاؤ تم کیا کہتے ہو موڈ ہے . میں نے کہا آنٹی موڈ نہ بھی ہو لیکن اب آپ کے پیچھے اور آنٹی آسمہ کو خوش کرنے کے لیے ضرور کروں گا . لیکن یہ کام کب ہو گا اور کیسے ہو گا . کیونکہ آپ کی ا می کا گھر تو جہلم میں ہے یا وہ یہاں آپ کے سسرال میں کیسے آئیں گی اور میرے پاس صرف 1 ہفتہ باقی ہے میں نے اگلے ہفتہ کو واپس اسلام آباد جانا ہے . آنٹی نے کہا باجی یہاں نہیں آ سکتی ہیں اور نہ ہی یہاں آسانی سے یہ کام ہو سکتا ہے اِس کام کے لیے تمہیں میرے ساتھ جہلم چلنا ہو گا . اور 1 ہفتہ بہت ہے اگر تم تیار ہو تو ہم کل یا پرسو ں چلے جائیں گے اور وہاں 2 یا 3 دن رہ کر واپس آ جائیں گے اور ان 2 یا 3 دن میں تم باجی کے ساتھ کھل کر مزہ کر لینا اور میں بھی اور مزہ لے لوں گی . آنٹی کا پلان ہے بڑا زبردست تھا کیونکہ ان کے گھر میں بہت آسانی سے یہ کام ہو سکتا تھا کیونکہ ان کا ڈبل اسٹوری مکان تھا نیچے آنٹی کی امی اور ابو اور اوپر آنٹی آسمہ رہتی تھیں . اور آنٹی سائمہ کے ابو ریلوئے میں تھے اور ہفتہ میں زیادہ دن باہر ہی رہتے تھے کبھی لاہور کبھی کراچی کبھی پنڈی وغیرہ وغیرہ . کیونکہ وہ سپر وائزر تھے اور ٹرین کے ساتھ ساتھ جاتے تھے. آنٹی نے کہا کیا سوچ رہے ہو میں نے کہا آنٹی لیکن میں آپ کے ساتھ جاؤں گا کیسے وہ تو سمجھاؤ . تو آنٹی نے کہا میں آج گھر چلی جاؤں گی اور کل دن کو ثمینہ کو کال کروں گی کے مجھے اپنی ا می کے گھر سے کال آئی ہے کے ا می بیمار ہیں اِس لیے مجھے ان کا پتہ کرنے کے لیے جانا ہے اور گھر میں میرے ساتھ کوئی جانے والا نہیں ہے تم کا شی کو میرے ساتھ 2 یا 3 دن کے لیے بھیج دو . اور ثمینہ کو میں منا لوں گی اور کل ہی میں فون کر کے اپنی باجی سے بھی بات پکی کر لوں گی اور ان کو تمھارے لیے راضی کر لوں گی پِھر تم میری طرف آ جانا اور پِھر ہم یہاں سے ٹرین میں بیٹھ کر چلے جائیں گے . میں آنٹی کا پلان سن کا خوش ہو گیا اور ان کے مموں کو پکڑ کر سہلانے لگا اور بولا آنٹی جی مزہ آ گیا آپ کا پلان زبردست ہے میں تیار ہوں . پِھر آنٹی بھی خوش ہو گئی اور بولی اب تمہارا کام تو ہو گیا ہے .اور اپنی پھدی کی طرف اشارہ کر کے بولی یہ نیچے سے بار بار رَو رہی ہے اب اِس کا کچھ کرو . میں نے کہا کیوں نہیں آنٹی جی میں تو آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے میرے لن کو تو آپ کی پھدی میں لینڈنگ کرنے کے لیے تیار کریں . تو آنٹی نے کہا بتاؤ مجھے کیا کَرنا ہے میں نے کہا آنٹی جی آپ میری ٹانگوں کے درمیان آ کر بیٹھ جاؤ اور میرے لن کو منہ میں ڈال کر تیار کرو پِھر میں نے بیڈ پے ہی اپنی ٹانگیں کھول دی اور آنٹی میری ٹانگوں کے درمیان آ کر گھوڑی والے سٹائل میں بیٹھ گئی اور پہلے میرے لن کی ٹوپی پے کس کرنے لگی پِھر کبھی لن پے اور کبھی ٹٹوں پے کرنے لگی اور کچھ دیر بَعْد ہی انہوں نے میری ٹوپی کو منہ میں لے لیا اور اس کو چاٹنے لگی کبھی ٹوپی کی موری پے زُبان کبھی پوری ٹوپی کے اوپر گول گول زُبان پھیر رہی تھیں . پِھر انہوں نے وہاں سے منہ ہٹایا اور میرے ٹٹوں کو منہ میں لے کر ان کا چوپا لگانے لگی اور کچھ دیر تک یہ ہی کرتی رہی پِھر انہوں نے دوبارہ میرے لن کو منہ مین لے لیا اور پورا لن منہ میں لے کر چوپا لگانے لگی آنٹی کے چوپے بڑے ہی جاندار تھے اور درمیان میں منہ کو آگے پیچھے بھی کر رہی تھی جیسے اپنے منہ کی چدائی کروا رہی ہوں . یہ سلسلہ کوئی 10منٹ تک چلتا رہا جب میرے لن پورا تن گیا اور لوہے کا راڈ بن گیا تو میں نے آنٹی کو روک دیا اور ان کو بیڈ پے سیدھا لیٹ جانے کا کہا اور خود ان کی ٹانگوں میں آ کر بیٹھ گیا اور ان کی دونوں ٹانگوں کو اپنے کاندھے پے رکھ لیا اور پہلے لن کی ٹوپی پھدی کے منہ پے رکھ کر ہلکا سا پُش کیا تو آنٹی کی منہ سے ایک لمبی سی سسکی نکل گئی . پِھر میں نے کچھ دیر رک کر آہستہ آہستہ اپنا لن اندر کرنے لگا اور جب آدھا لن اندر چلا گیا تو پِھر رک گیا اور اب کی بار میں نے ایک ہی جھٹکا مار کے پورا لن آنٹی کی پھدی میں گھسا دیا اور آنٹی کے منہ سے زوردار آواز آئی 
ہا اے امی جی میں مر گئی . پِھر میں پورا لن اندر کر کے ان کے اوپر لیٹ گیا آنٹی بولی کا شی تم کتنے ظالم ہو ایک ہی دفعہ میں اندر گھسا دیا ہے آرام سے نہیں کر سکتے تھے . میں نے کہا آنٹی جی معاف کر دو آئندہ ایسا نہیں کروں گا اور آنٹی کو آنکھ مار دی اور کہا آنٹی جی چدائی میں جب تھوڑا درد نا ملے تو مزہ نہیں آتا ہے . آنٹی بھی میری بات سن کر مسکرا دی . پِھر میں نے دوبارہ لن کو آہستہ آہستہ حرکت دی اور اندر باہر کرنے لگا شروع میں تو آہستہ آہستہ اندر باہر کر رہا تھا لیکن جب لن رواں ہو گیا تو پِھر تھوڑی سپیڈ تیز کر دی اور آنٹی بھی نیچے سے مستی میں آوازیں نکالرہی تھی . اوہ اوہ آہ آہ اوہ آہ . جب آنٹی کو بھی مزہ آنے لگا تو انہوں نے اپنی بُنڈ نیچے سے اٹھا اٹھا کر ساتھ دینا شروع کر دیا اور اپنی دونوں ٹانگوں کو میری کمر کے ارد گرد لپیٹ لیا میں بھی جوش میں آ گیا اور سپیڈ کو مزید تیز کر دیا اور دھکے پے دھکے لگانے لگا میں آنٹی کو مسلسل 5 سے 7 منٹ سے چود رہا تھا . پِھر اِس ہی پوزیشن میں میں تھوڑا تھک گیا تھا میں نے پوزیشن بدلنے کا سوچا اور آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ گھوڑی بن جاؤ میں آپ کو پیچھے سے کرتا ہوں آنٹی میری بات سن کر میرا منہ دیکھنے لگی میں ان کا ری ایکشن دیکھ کر ہنس پڑا اور کہا آنٹی جی آپ کیوں ڈر رہی ہیں میں پیچھے بُنڈ میں نہیں ڈالوں گا گھوڑی سٹائل میں آپ کی پھدی ہی ماروں گا اور آپ کی مرضی کے بغیر میں کبھی بھی آپ کی بُنڈ کو نہیں ماروں گا . آنٹی کو میری بات سن کر حوصلہ ہوا اور وہ بیڈ پے ہی گھوڑی بن گئی اور میں پیچھے آ کرگھٹنوں کے بل ہو کر اپنا لن ان کی پھدی میں گھسا دیا اور دھکے پے دھکے لگانے لگا کمرے میں کی آوازیں گونج رہی تھیں اور آنٹی بھی منہ سے مستی بھری آوازیں نکال رہی تھیں . مجھے آنٹی کو چودتے ہوئے کوئی 10منٹ سے زیادہ ٹائم ہو گیا تھا لیکن ابھی تک آنٹی کا پانی نہیں نکلا تھا . میں نے سوچا میرا پانی بھی لگ بھاگ 15 منٹ تک نکل ہی آتا ہے اور اگر اس سے پہلے آنٹی کا پانی نا نکلا تو بڑی شرمندگی والی بات ہے میں آب بیڈ پے کھڑا ہو گیا اور کھڑا ہو کر جھک کر آنٹی کی پھدی میں لن ڈال دیا اور طوفانی جھٹکے لگانے لگا میری اِس پوزیشن سے لن سیدھا آنٹی کی بچہ دانی کو چھو رہا تھا اور ا ب آنٹی بھی نیچے سے اور گرم ہو چکی تھی اور لذّت اور گرمی میں سیکسی سیکسی آوازیں نکال رہی تھی). کا شی میرے جان ہولی کر میری پھدی وچ درد شروع ہو گیا اے( لیکن میں آنٹی کی کہاں سن رہا تھا میں تو دھکے پے دھکے ٹھوک رہا تھا اور مزید 3 سے 4 منٹ کے کے بَعْد آنٹی کی پھدی نے اندر سے ہی میرے لن کو جکڑنا شروع کر دیا تھا میں سمجھ گیا تھا آب آنٹی کا پانی نکلنے والا ہے میں نے بھی اپنی سپیڈ کم نا کی اورتیزی سے دھکے لگاتا رہا اور پِھر یکدم مجھے آنٹی کی آواز کانوں میں آئی ہا اے امی جی میں مر گئی اور اندر آنٹی نے میرے لن پے اپنا پانی چھوڑ دیا تھا . آنٹی کی گرم گرم منی نکلنے سے اندر کا کام بہت کیچ کیچ پچ پچ ہو گیا تھا. اور میں نے بھی اِس حالت میں اپنی منی کا لاوا آنٹی کی پھدی میں چھوڑ دیا اور آنٹی کے اوپر ہی گر گیا جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تو اپنا لن باہر نکال کر آنٹی کے پہلو میں منہ کے بل ہی لیٹ گیا اور آنٹی بھی وہاں ہی منہ کے بل لیٹ گئی اور ہم اپنی اپنی سانسیں بَحال کرنے لگے جب ہماری سانسیں بَحال ہو گئی تو آنٹی بولی واہ کا شی میرے جانی آج تو تمھارے ساتھ سواد آ گیا ہے. حقیقت میں تمہاری چدائی میں عورت کا پانی نکل کر ہی رہتا ہے . میں نے کہا آنٹی جی بس آپ اِس طرح ہی ساتھ دو تو آپ کو ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھوں گا . آنٹی نے کہا کیوں نہیں میری جان جب دِل کرے گا مزہ لوں گی بھی اور دوں گی بھی اب تو یہ چلتا ہی رہے گا. پِھر آنٹی نے کہا میں ثمینہ والے باتھ روم میں نہانے لگی ہوں اور تم بھی باہر جا کر دوسرے باتھ روم میں نہا لو اور ہمارے درمیان ہوئی کسی بات کا بھی ذکر سائمہ سے نہیں کَرنا . میں نے کہا آنٹی آپ بے فکر ہو جائیں اور پِھر آنٹی باتھ روم میں چلی گئی اور میں نے اپنی شلوار اور بنیان پہنی اور دروازہ کھول کر باہر نکلا جب باہر نکلا تو کچن کی طرف دیکھا تو چچی وہاں کچھ پکا رہی تھی . میں پِھر وہاں سے سیدھا باتھ روم میں جا کر گھس گیا اور نہانے لگا . جب نہا کر باہر نکلا اور دوبارہ اپنے کمرے میں جا کر ٹرا و زَر پہن لیا اور آ کر ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ گیا لیکن آنٹی سائمہ ابھی بھی چچی کے کمرے میں ہی تھی تھوڑی دیر بَعْد چچی ٹی وی والے کمرے میں آ گئی اور آ کر میرے ساتھ بیٹھ گئی اور پوچھنے لگی سناؤ کا شی کیا حال ہے مزہ آیا کے نہیں ، میں نے نے کہا چچی جان یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے مزہ ایسا ویسا آیا کے بتا نہیں سکتا سچ میں آنٹی سائمہ بہت کمال کی چیز ہے . چچی نے کہا اور سناؤ زیادہ مسئلہ تو نہیں ہوا اس کو منانے میں ، میں نے نے کہا چچی تھوڑا ہوا تھا میں نے ان کومنالیا تھا اوراپنامرید بھی بنا لیا ہے اب آگے کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے . چچی نے کہا چلو اچھا ہوا تمہیں بھی نیا مال مل گیا اور سائمہ کی آگ بھی ٹھنڈی ہو گئی ہے . پِھر چچی نے کہا میں روٹیاں بنانے جا رہی ہوں تم اور سائمہ پہلے كھانا کھا لو پِھر تمہیں سائمہ کو اس کے گھر پے چھوڑنا ہے تم اس کو رکشے پے چھوڑ آنا اور اس پے ہی واپس آ جانا تمھارے چچا تو شام کو لیٹ آتے ہیں پِھر دیر ہو جائے گی . میں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں ہے چچی میں چھوڑ آتا ہوں . اور پِھر چچی اٹھ کر چلی گئی. پِھر تھوڑی دیر بَعْد میں نے اور سائمہ آنٹی نے كھانا کھایا اور پِھر کھانے کے بَعْد ہم دونوں گھر سے نکل آئے راستے میں رکشہ لیا اور آنٹی سائمہ کے گھر کی طرف چلے گئے راستے میں آنٹی سائمہ نے کوئی بات نہیں کی جب ہم سائمہ آنٹی کے گھر پاس پہنچے تو میں نے کہا آنٹی جی میں اِس رکشے میں واپس چلا جاؤں گا تو آنٹی نے کہا اندر آؤ نا چائے نہیں پیو گے . میں نے کہا آنٹی پِھر کبھی پی لوں گا اب دیر ہو جائے گی . آنٹی نے کہا ٹھیک ہے لیکن تم اپنی تیاری رکھنا میں کل ثمینہ کو کال کروں گی . میں نے کہا آنٹی بے فکر ہو جائیں میں تیار ہی تیار ہوں اور پِھر میں اس ہی رکشے میں گھر واپس آ گیا . گھر آیا تو بچے آئے ہوئے تھے چچی نے پوچھا چھوڑ آئے ہو میں نے کہا جی چھوڑ آیا ہوں پِھر چچی اپنے کمرے میں چلی گئی میں ٹی وی والے کمرے میں آ کر صوفہ پے لیٹ گیا . پِھر وہ دن بھی معمول کے مطابق گزر گیا اور اگلی صبح میں اٹھ کر اپنی روٹین کے مطابق ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ گیا لیکن آج مجھے انتظار تھا چچی کا کے ان کو سائمہ آنٹی کا فون آئے گا اور وہ پِھر مجھ سے بات کریں گی . انتظار بندے کو بے چین کر دیتا ہے کچھ یہ ہی حال میرا تھا ٹائم گزر ہی نہیں رہا تھا . لیکن پِھر تقریباً 12 بجے کا ٹائم ہو گا جب چچی کے کمرے میں رکھا ہوا ان کا موبائل پے کال آ گئی اور بیل بجنے لگی چچی کچن میں تھی جب انہوں نے اپنے موبائل کی گھنٹی کی آواز سنی تو کچن سے اپنے کمرے میں چلی گئی میں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ بس یہ ہی انتظار کر رہا تھا کے کب چچی آئے گی اور مجھ سے بات کرے گی . کوئی 15 سے 20 منٹ کے بَعْد چچی اپنے کمرے سے نکلی اور ٹی وی والے کمرے کے سامنے سے گزر کر کچن میں چلی گئی میں تھوڑا حیران ہو گیا چچی بات کرنے کے لیے میری طرف کیوں نہیں آئی مجھے غصہ بھی بہت آیا لیکن پِھر میں نے سوچا ہو سکتا ہے سائمہ آنٹی کی کال ہی نا ہو کسی اور نے کال کی ہو اور میں ایسے ہی فکر مند ہو رہا ہوں. تقریباً 1 بجے کا ٹائم ہو گا جب چچی کچن کا سارا کام ختم کر کے ٹی وی والے کمرے میں آگئی اور آ کر میرے ساتھ صوفہ پے بیٹھ گئی . اور پوچھنے لگی سناؤ کا شی کیا چل رہا ہے . میں نے کہا کچھ نہیں چچی بس ٹی وی دیکھ رہا ہوں . پِھر چچی نے کہا کا شی تم سے ایک کام تھا اگر تمہیں کوئی مسئلہ نہ ہو . میں نے کہا چچی آپ حکم کرو کیا کام ہے . چچی نے کہا ابھی تھوڑی دیر پہلے سائمہ کا فون آیا تھا وہ بتا رہی تھی اس کی ا می کافی بیمار ہیں اور وہ ان کا پتہ کرنے کے لیے اپنے گھر جانا چاہتی ہے لیکن وہ اکیلی تو جا نہیں سکتی اور گھر میں ایسا کوئی بندہ نہیں ہے جو اس کے ساتھ چلا جائے اور پِھر 2 یا 3 دن بَعْد اس کو لے کر واپس آ جائے . میں نے کہا چچی مجھے اِس میں کیا کام کَرنا ہے . تو چچی بولی دیکھو کا شی تم تو فارغ ہی ہو اور کوئی خاص کام بھی نہیں ہے اگر تم اس کے ساتھ چلے جاؤ اور 2 یا 3 دن میں واپس آ جانا سائمہ اپنی ا می سے بھی مل آئے گی نہیں تو اس کو لے کر جانے والا کوئی نہیں ہے . میں اندر سے تو بہت خوش تھا لیکن میں چچی کی شق نہیں ہونے دینا چاہتا تھا اِس لیے میں نے کہا لیکن چچی میں نے تو اگلے ہفتہ کو واپس جانا ہے . چچی نے کہا اگلے ہفتہ کو ابھی پورے 7 دن باقی ہیں اور تم نے تو صرف 2 یا 3 دن کے لیے جانا ہے . میں نے پِھر کہا چلو ٹھیک ہے آنٹی اگر 2 یا 3 دن کی بات ہے تو میں چلا جاتا ہوں لیکن جانا کب اور کیسے ہے . تو چچی بولی کل صبح ہی 7 بجے والی ٹرین میں جانا ہے تم صبح جلدی اٹھ کر میری ا می کے گھر چلے جانا اور پِھر سائمہ کو لے کر اسٹیشن پے ٹکٹس تو سائمہ کے ابو نے پہلے ہی بُک کروا دی ہیں اِس لیے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا . میں نے کہا چچی ٹھیک ہے آپ سائمہ آنٹی کو بول دیں میں تیار ہوں میں کل 6 بجے ان کے گھر تیار ہو کرآجاؤں گا . چچی بھی میری بات سن کر خوش ہو گئی اور میرا شکریہ ادا کرنے لگی اور پِھر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی . جب چچی چلی گئی میں اندر ہی اندر بہت خوش تھا مجھے ایک اور نئی پھدی اور بُنڈ مل رہی تھی . میں کافی عرصہ پہلے سائمہ آنٹی کے گھر جہلم گیا تھا اور میں سوچ رہا تھا پتہ نہیں اب آنٹی آسمہ کیسی ہوں گی اور میں کیسے ان کے ساتھ یہ کام کر پاؤں گا . پِھر وہ دن بھی رات تک معمول کے مطابق گزر گیا لیکن رات میں جلدی سو گیا کیونکہ مجھے صبح جلدی اٹھ کر تیار ہو کر سائمہ آنٹی کے گھر جانا تھا اور وہاں سے جہلم کے لیے نکلنا تھا میں صبح 5 بجے کا الارم موبائل پے لگا کر سویا تھا . صبح جب 5 بجے الارم بجا تو میں فوراً اٹھ گیا جب میں اٹھا تو ساتھ والی چار پائی دیکھی وہ خالی تھی چچی نہیں تھی خیر میں وہاں سے سیدھا نیچے آ کر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا اور نہا کر اپنے کمرے میں آ گیا اور آ کر اپنے کپڑے بدلنے لگا کمرے میں میری ایک شلوار قمیض پہلے سے اِسْتْری ہوئی تھی میں حیران تھا یہ کس نے کر دی ہے خیر میں نے وہ پہنی اور ایک شلوار قمیض شاپر میں رکھ لی ساتھ لے کر جانے کے لیے . اور تیار ہو کر کمرے سے باہر نکلا تو چچی کچن میں میرے لیے ناشتہ لے کر ٹی وی والے کمرے میں رکھ رہی تھی میں ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور چچی بھی وہاں ہی ساتھ بیٹھ گئی اور میں ناشتہ کرنے لگا چچی نے کہا تم جلدی سو گئے تھے اپنے کپڑے بھی اِسْتْری نہیں کیے اِس لیے میں نے رات کو کر دیئے تھے میں نے چچی کا شکریہ ادا کیا پِھر ناشتہ کر کے اپنے موبائل پے دیکھا تو 6 بجنے میں 15 منٹ باقی تھے میں نے چچی کو کہا چچی میں جا رہا ہوں آپ اندر سے دروازہ بند کر لیں اور میں چچا کو رات کو بتا نہیں سکا اِس لیے آپ بتا دیں . چچی نے کہا ٹھیک ہے میں بتا دوں گی . پِھر میں گھر سے نکلا اور باہر آ کر رکشہ پکڑا اور سیدھا آنٹی سائمہ کے گھر کی نکل آیا میں 6 بج کر 15 منٹ پے آنٹی سائمہ کے گھر تھا آنٹی سائمہ بھی پہلے سے تیار تھی اور ان کی بچی بھی تیار تھی . پِھر میں اور آنٹی سائمہ اور ان کی بچی باہر نکل کر دوبارہ رکشہ کروایا اور اسٹیشن کی طرف نکل آئے. سٹیشن پہنچ کر سائمہ آنٹی نے کہا کا شی وہ سامنے ٹکٹس گھر میں رفیق چچا ہوں گے ان کو بتانا میں یاسین صاحب کے گھر سے آیا ہوں مجھے ٹکٹس دے دیں . میں وہاں بیگ رکھ کر ٹکٹس گھر کی طرف گیا اور وہاں جا کر پوچھا رفیق چچا کون ہیں ایک لگ بھاگ 55سال کا بندہ بولا میں ہی رفیق ہوں کیا کام ہے . میں نے کہا میں یاسین صاحب کے گھر سے آیا ہوں ٹکٹس چاہیے وہ بندہ فوراً اٹھ کر باہر آ گیا اور مجھے 2 ٹکٹس دیئے اور بولا بیٹا یاسین صاحب کی بیٹی کہاں ہیں میں نے کہا چچا وہ سامنے کھڑی ہیں وہ بندہ میرے ساتھ چل کر آنٹی سائمہ کے پاس آ گیا اور آ کر سلام کیا اور آنٹی کے سر پے ہاتھ پھیرا اور بولا بیٹی سناؤ کیسی ہو اِس دفعہ تو بہت عرصے کے بعد گھر جا رہی ہو . آنٹی نے کہا بس چچا یہ بھی اپنا گھر ہے گھر کی ذمہ داری اور بہت کام ہوتے ہیں اِس لیے ٹائم نہیں نکلتا . پِھر وہ بندہ ہمیں خود ٹرین میں بیٹھا کر اور تسلی کر کے پِھر سلام دعا کے بعد چلا گیا. ہم جب ٹرین میں اپنا سامان رکھ کر بیٹھ گئے تو میں نے آنٹی سائمہ سے پوچھا واہ آنٹی جی کیا بات ہے بڑا پرٹوکول ہے آپ کا تو آنٹی آگے سے ہنسنے لگی اور بولی بس کا شی یہ سب ابو کی مہربانی اور بدولت ہے . پِھر کچھ دیر بعد ٹرین بھی آہستہ آہستہ چل پڑی اور کچھ ہی دیر بعد ٹرین نے سپیڈ پکڑ لی آنٹی کی بچی آنٹی کی گود میں ہی سو رہی تھی اور آنٹی اس کو سلا رہی تھی میں کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا جب آنٹی کی بچی مکمل سو گئی تو آنٹی اس کو اٹھا کر اپنی لیفٹ سائڈ پے سیٹ کے اوپر لیٹا دیا اور پِھر رائٹ سائڈ پے کھڑکی میں دیکھنے لگی . میں نے کہا آنٹی جی ویسے کتنی دیر کا سفر جہلم کا ہے یہاں سے تو آنٹی نے کہا اگر ٹرین میں مسئلہ نہ ہو تو ہم تقریباً ساڑےگیا رہ بجے جہلم ہوں گے اور گھر تقریباً 12 بجے ہوں گے ٹوٹل تقریباً 5 گھنٹے لگ جاتے ہیں . مجھے پیشاب کی حاجت ہوئی میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی میں باتھ روم سے ہو کر آتا ہوں آنٹی نے کہا ٹھیک ہے. میں باتھ روم سے ہو کر دوبارہ اپنی سیٹ پے بیٹھ گیا اور جب واپس آیا تو آنٹی اپنی سیٹ پے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر کے آرام کر رہی تھی . میں نے بھی ان کو تنگ کَرنا مناسب نا سمجھا اور اپنے موبائل میں گانے لگا کر اور ہیڈ فون لگا کر سننے لگا آنٹی شاید سو گئی تھی اور میں بھی گانے سننے میں مشغول تھا اور ٹائم کا پتہ ہی نا چلا اور تقریباً10 بج چکے تھے اور ٹرین راستے میں 3 سے 4 جگہ پے رکی بھی تھی پِھر میں نے دیکھا تو آنٹی نے حرکت کی اور اپنی آنکھیں کھول لیں اور آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور پوچھا ٹائم کیا ہو گیا ہے میں نے کہا آنٹی جی10 بج گئے ہیں . آنٹی نے کہا کافی ٹائم ہو گیا ہے مجھے پتہ ہی نہیں چلا میں نے آنٹی سے پوچھا آنٹی جی خیریت ہے لگتا ہے آپ رات کو سوئی نہیں ہیں . آنٹی نے میری طرف دیکھا اور پِھر تھوڑا شرما کر اور مسکرا کر باہر کھڑکی کی طرف دیکھنے لگی . میں حیران ہوا آنٹی میری بات پے شرما اور مسکرا کیوں رہی ہیں . ہماری والی بر تھ میں کوئی اور بندہ نہیں تھا وہ خالی تھی . میں آنٹی کے اور قریب ہوا اور ان سے پوچھا آنٹی خیر ہے نا آپ میری بات پے شرما اور مسکرا کیوں رہی ہیں . آنٹی نے میری طرف دیکھا اور بولی کچھ نہیں اور پِھر شرما گئی . مجھے شق ہو گیا تھا ضرور کوئی بات ہے میں نے کہا آنٹی جی اب ہم اتنے پرائے ہو گئے ہیں کے ایک دن میں آپ سے بات بھی نہیں بتا رہی ہیں . تو آنٹی نے کہا نہیں کا شی میری جان ایسی بات نہیں ہے . اصل میں میں رات کو ٹھیک طرح سے سو نہیں سکی مجھے نیند بھی 2 بجے کے بَعْد آئی اور صبح 5 بجے اٹھ گئی اور تیاری کرنے لگی . میں نے کہا آنٹی جی اِس میں شرمانے کیا بات ہے یہ تو عام سی بات ہے . تو آنٹی نے کہا اصل میں کا شی رات کو میں 12 بجے تک اپنا اور چھوٹی کا بیگ تیار کر کے اپنے کمرے میں لیٹ گئی تھی لیکن پِھر وہ ہی ہوا جس کا ڈ ر تھا نعیم بھائی میرے کمرے میں آ گئے اور مجھے تنگ کرنے لگے اور کہنے لگے سائمہ تم تو جا رہی ہو میرا کیا بنے گا میں اتنے دن کیسے تمھارے بنا رہوں گا . بس پِھر انہوں نے مجھے 1 گھنٹہ تنگ کیا اور 2 دفعہ اپنے لن کا چوپا لگوایا اور 2 دفعہ پانی چھوڑ کر چلے گئے اِس لیے مجھے اِس کام کی وجہ سے 2 بج گئے اور میں لیٹ سوئی تھی. میں نے کہا اچھا تو یہ بات تھی . پِھر میں نے کہا آنٹی جی پتہ نہیں کیوں نعیم انکل آپ کے پیچھے کیوں پڑے ہیں ان کی اپنی اتنی مست اور سیکسی بِیوِی ہے اور اگر ان کی بِیوِی ان کو گھاس نہیں ڈالتی تو یہ ان کی ناکامی ہے کیونکہ مرد کو اپنی بِیوِی کی خود کنٹرول میں رکھنا چاہیےانکل تو بہت ہی ڈرپوک ہیں اور دوسرے کے مال پے شیر بن جاتے ہیں . آنٹی میری بات سن کر ہنسنے لگی اور بولی ٹھیک کہہ رہے ہو تم کا شی نعیم بھائی بالکل ایسے ہی ہیں . چھوڑو ان کو اپنی کوئی بات کرتے ہیں . میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی اگلا پروگرام کیا ہے آپ نے آنٹی آسمہ سے بات کر لی ہے نا . آنٹی نے کہا پروگرام فٹ ہے میں نے کل ثمینہ کو کال کرنے سے پہلے اپنی باجی کو کال کی تھی پورے 2 گھنٹے ان سے بات ہوئی ہے ان کو میں نے پوری کہانی اپنی تمہاری اور ثمینہ کی سنا دی ہے اور ان کو تمھارے لیے اعتماد میں لینے کی پوری کوشش کی ہے تم فکر نہ کرو کام ہو جائے گا . میں آنٹی کی بات سن کر حیران ہو گیا کے ہم جہلم پہنچنے والے ہیں اور ابھی تک آنٹی نے اپنی باجی کو مکمل تیار نہیں کیا ہے . میں نے کہا آنٹی جی آپ کا کیا مطلب ہے ابھی تک آپ نے ان کے ساتھ پکا کوئی پروگرام نہیں بنا یا ہے . آنٹی نے کہا کا شی میرے جانی تم کیوں فکر کر رہے ہو میں ہوں نا جب یہاں تک لے آئی ہوں تو تمہارا اگلا کام بھی کروا کے دوں گی تمہیں مجھ پے بھروسہ نہیں ہے ہے کیا ؟ میں آنٹی کی بات سن کر خاموش ہو گیا اور پِھر تھوڑی دیر بَعْد بولا ٹھیک ہے آنٹی جی کوئی بات نہیں مجھے آپ پے پورا بھروسہ ہے. اور پِھر یوں ہی ادھر اُدھر کی باتوں میں ٹائم گزر گیا اور ہم آنٹی کی ا می کے شہر جہلم میں داخل ہو گئے . اور پِھر تقریباً 11بج کر 40 منٹ پے ہم جہلم پہنچ گئے اور وہاں پہنچ کر میں نے آنٹی کا بیگ اٹھا لیا اور آنٹی نے اپنی بچی کو اٹھا لیا اسٹیشن سے نکل کر ہم نے رکشے میں بیٹھ کر آنٹی کی ا می کے گھر کی طرف نکل آئے . ہم تقریباً آدھے گھنٹے میں آنٹی سائمہ کی ا می کی گلی میں ان کے گھر کے دروازے پے کھڑے تھے میں نے رکشہ والے کو پیسے دیئے اور پِھر آنٹی نے اپنی ا می کے گھر کی گھنٹی بجائی تو کچھ دیر بَعْد دروازہ کھل گیا اور جس نے دروازہ کھولا اس کو دیکھ کر میرے ہوش ہی اڑ گئے کیونکہ وہ آسمہ آنٹی کی بیٹی نازیہ تھی وہ ایک خوبصورت کلی بن چکی تھی اس کا جسم بھی کافی بل کھاتا ہوں اور سیکسی ہو گیا تھا . اس نے سائمہ آنٹی کو دیکھا تو خوشی سے بولی سلام خالہ جان اور ان کے گلے لگ کر پیار کرنے لگی پِھر میری طرف نظر پڑی تو مجھے تھوڑا سا شرما کر سلام کیا میں نے بھی سلام کا جواب دیا اور پِھر ہم گھر کے اندر داخل ہو گئے . ہم اندر داخل ہو کر ٹی وی لاؤنج میں آ گئے وہاں پے سامان رکھا اور آنٹی نے اپنی بچی کی نازیہ کو پکڑا دیا اور اور میں اور آنٹی ان کی امی کے بیڈروم میں آ گے وہاں ان کی ا می بیڈ پے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھیں آنٹی نے آگے ہو کر اپنی ا می کو سلام کیا اور گلے لگا لیا اور ان کو منہ پے ماتھے پے پیار کرنے لگی ان کی امی بھی ان کو پیار کر رہی تھی . پِھر میرے پے نظر پڑی تو میں نے آگے ہو کر ان کو سلام کیا اور تھوڑا سا آگے جھک گیا انہوں نے میرے سر پے ہاتھ پھیرا اور مجھے خوشی سے دعا دی . پِھر ہم وہاں ہی بیٹھ گئے تھوڑی دیر بَعْد نازیہ ہمارے لیے ٹھنڈا شربت بنا کر لے آئی . ہم نے شربت پیا اور پِھر آنٹی اپنی امی سے باتیں کرنے لگی آنٹی کی امی نے مجھ سے میرے گھر میں سب کا حال حوال پوچھا اور پِھر ہمیں باتیں کرتے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی لیکن ابھی تک آنٹی آسمہ نظر نہیں آ رہی تھیں . آنٹی سائمہ نے نازیہ سے پوچھا نازی بیٹا باجی کہاں ہیں وہ نظر نہیں آ رہی تو نازیہ نے کہا خالہ جان آپ کو تو پتہ ہے ان کی عادت کا وہ اسکول گئی ہوئی ہیں. 2 بجے تک واپس آ جائیں گی آج کہہ رہی تھیں کے سائمہ آ رہی ہے میں 3 دن کی چھٹی لے لوں گی. آسمہ آنٹی سرکاری ملازم تھیں وہ پنجاب گورنمنٹ ہائی اسکول کی ٹیچر تھیں . میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی مجھے واش روم جانا ہے تو آنٹی نے نازیہ کو کہا کے نازی بیٹا کا شی کو واش روم دیکھا دو. نازیہ نے کہا جی خالہ جان اور مجھے اپنے ساتھ آنے کا کہا اور میں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا جب میں اس کے پیچھے جا رہا تھا میں نے اس کی گانڈ پے غور کیا وہ بڑے ہی مست انداز میں گول گول مٹک رہی تھی جیسے کسی شادی شدہ عورت کی ہوتی ہے میرا دیکھا کر لن کھڑا ہونے لگا میں نے فوراً اپنے آپ پر قابو کیا اور پِھر اس نے مجھے واش روم دکھایا اور وہ پِھر چلی گئی میں واش روم میں گھس گیا اور کپڑے نکال کر نہانے لگا. اچھی طرح نہا دھو کر کپڑے پہن کر باہر نکل آیا اور آ کر ٹی وی لاؤنج میں صوفہ پے بیٹھ گیا کچھ دیر بَعْد آنٹی اور نازیہ بھی وہاں آ گئی آنٹی نے پوچھا نازی بیٹا کھانے کا کیا پروگرام ہے نازیہ نے کہا خالہ جان چکن تو پك گیا ہے چاول چولھے کے اوپر پك رہے ہیں تھوڑی دیر بَعْد وہ بھی تیار ہو جائیں گے اور ا می بھی اسکول سے آ جائیں گی پِھر سب مل کر كھانا کھاتے ہیں . آنٹی نے کہا چلو کچن میں چلتے ہیں سلاد رائتہ وغیرہ تیار کرتے ہیں پِھر كھانا لگا دیں گے اور وہ دونوں کچن میں چلی گیں. اور میں نے ریموٹ سے ٹی وی آن کر دیا اور ٹی وی دیکھنے لگا . تقریبا آدھے گھنٹے بَعْد باہر دروازے پے گھنٹی بجی میں نے دیکھا نازیہ کچن سے نکل کر باہر دروازے کی طرف چلی گئی اور آنٹی بھی کچن سے باہر آ گئی اور کچھ دیر بَعْد آنٹی آسمہ ٹی وی لاؤنج میں آ گئی سائمہ آنٹی ان کو دیکھ کر سلام کیا اور ان کے گلے لگ گئی دونوں بہن بڑی خوش دلی کے ساتھ ایک دوسرے کو ملیں . لیکن میں صوفہ پے بیٹھا حیرت کا مجسمہ بنا ہوا تھا کیونکہ میں آسمہ آنٹی کو دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا وہ بہت زیادہ بَدَل چکی تھیں میں ان کو تقریبا 5 یا 6 سال بَعْد دیکھ رہا تھا . وہ کافی نکھر چکی تھیں اور ان کا جسم ایک دم کسا ہوا اور بل کھاتا جسم تھا اور ان کے ممے اور گانڈ ان کی کمر کی حساب سے کافی باہر کو نکلے ہوئے تھے . آپ یوں سمجھ لیں ان کا پورے کا پوراجسم سٹیج اَداکارَہ سائمہ خان کی طرح تھا. میں حیرت سے تب باہر نکلا جب سائمہ آنٹی اور آسمہ آنٹی سامنے صوفہ پے آ کر بیٹھی اور سائمہ آنٹی کی آواز میرے کانوں میں آئی کا شی میں چونک گیا تو سائمہ آنٹی نے پوچھا کیا ہوا کا شی بیٹا . میں تھوڑا شرمندہ ہو گیا اور آسمہ آنٹی کو سلام کیا تو انہوں نے مجھے اچھے طریقے سے جواب دیا لیکن میں ان سے مکمل نظریں نہ ملا سکا اور ان کا بھی یہ ہی حال تھا . پِھر دونوں بہن مل کر باتیں کرنے لگی اور کچھ دیر بعد ہی آسمہ آنٹی نے کہا نازی چلو بیٹا كھانا لگاؤ سب کو بھوک لگی ہو گی . نازیہ نے کہا جی ا می سب کچھ تیار ہے میں ابھی لگا دیتی ہوں اور وہ کچن میں چلی گئی. پِھر کچھ دیر بَعْد كھانا لگ گیا آنٹی کی ا می نیچے نہیں بیٹھ سکتی تھیں اِس لیے ان کو بیڈ پے ہی كھانا دے دیا اور باقی سب نیچے بیٹھ کر كھانا کھانے لگے . كھانا کھا کر میں دوبارہ اٹھ کر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گیا اور نازیہ اور سائمہ آنٹی برتن اٹھانے لگے . تھوڑی دیر بَعْد سائمہ آنٹی ٹی وی لاؤنج میں آ گئی تو میں ان سے کہا آنٹی میں تھوڑا تھک گیا ہوں سفر کی وجہ سے تھوڑا آرام کَرنا چاہتا ہوں . تو آنٹی سائمہ نے اپنی باجی کو آواز دی جو کے اپنی ا می کے کمرے میں بیٹھی تھیں وہ بھی اٹھ کر ٹی وی لاؤنج میں آ گئی اور سائمہ آنٹی سے پوچھا کیا بات ہے . سائمہ آنٹی نے کہا باجی کا شی سفر کی وجہ سے تھوڑا تھک گیا ہے آرام کَرنا چاہتا ہے اِس کو ایک ہی دفعہ کوئی کمرہ دے دو تا کہ جب تک ہم یہاں ہیں وہ وہاں سو جایا کرے گا . تو آسمہ آنٹی نے کہا سائمہ اِس کو اوپر والی اسٹوری پے ڈرائنگ روم کے ساتھ والا کمرے میں لے جاؤ وہاں ہی سو جایا کرے گا کیونکہ جب سے ا می کی طبیعت خراب رہنے لگی ہےزیادہ تر نازی نیچے ہی امی کے کمرے میں سوتی ہے . اِس لیے اس کا اوپر کمرہ خالی رہتا ہے وہ کا شی کو دے دو . سائمہ آنٹی نے کہا ٹھیک ہے باجی . اور مجھے لے کر اوپر چلی گئی اور مجھے کمرہ دیکھا دیا وہ کمرہ بہت اچھا سیٹ ہوا تھا سنگل بیڈ لگا ہوا تھا اور اس میں ایک کمپیوٹر ٹیبل اور اس پے کمپیوٹر پڑا ہوا تھا مجھے لگتا تھا شاید وہ نازیہ استعمال کرتی تھی . پِھر آنٹی نے کہا کا شی تم یہاں ہی 2 یا 3 دن رہو گے کمرہ ٹھیک ہے نہ میں نے کہا جی آنٹی جی ٹھیک ہے پِھر وہ چلی گئی . نیچے کی سٹوری میں ایک بیڈروم تھا کیونکہ وہاں ڈرائنگ روم اور بیڈروم کے درمیان میں ٹی وی لاؤنج بنا ہوا تھا لیکن اوپر 2 بیڈ روم بنے ہوئے تھے ڈرائنگ روم کے ساتھ ٹی وی لاؤنج نہیں بلکہ نازیہ کا بیڈروم بنا تھا اور اس کے ساتھ شاید آسمہ آنٹی کا اپنا بیڈروم تھا. میں پِھر بیڈ پے لیٹ گیا اور پتہ ہی نہیں چلا تھکن کی وجہ سے نیند آ گئی اور سو گیا کوئی 5 بجے ٹائم تھا جب مجھے کوئی جگارہا تھا میں کروٹ لے کر اٹھا تو دیکھا نازیہ مجھے اٹھا رہی تھی میں جب اٹھ گیا تو اس نے کہا آپ نیچے آ جائیں چائے تیار ہیں سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں . میں نے کہا ٹھیک ہے میں منہ ہاتھ دھو کر آتا ہوں. اس نے کہا ڈرائنگ روم کے ساتھ بھی اٹیچ باتھ روم ہے اورامی کے بیڈ کے ساتھ بھی ہے جس میں مرضی ہے چلے جائیں . اور یہ کہہ کر وہ چلی گئی . میں بیڈ سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکلا اور آنٹی کے بیڈروم کے اندر چلا گیا آسمہ آنٹی کا بیڈروم بھی کافی زبردست بنا ہوا تھا ڈبل بیڈ لگا ہوا تھا ڈریسنگ ٹیبل اور ساتھ میں صوفہ بھی لگا ہوا تھا . میں ان کے بیڈروم کے اٹیچ باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا آسمہ آنٹی کا باتھ روم بھی صاف اور کافی بڑا بنا ہوا تھا . میں نہا کر باہر نکل آیا اور نیچے ٹی وی لاؤنج میں چلا گیا سب وہاں بیٹھے چائے پی رہے تھے میں بھی چائے پینے لگا اور ساتھ ٹی وی دیکھنے لگا اور سائمہ آنٹی اپنی باجی سے باتیں کر رہی تھی اور نازیہ سائمہ آنٹی کی بچی کے ساتھ کھیل رہی تھی . جب میں ٹی وی دیکھ رہا تھا تو یکدم میری نظر آسمہ آنٹی کے نیچے پڑی میں دھنگ رہ گیا انہوں نےصوفے پے بیٹھ کر ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری ٹانگ پے رکھ کر زَرا سا اپنا جسم موڑ کر سائمہ آنٹی سے بات کر رہی تھی لیکن نیچے جو سین بنا ہوا تھا وہ بڑا ہی دلکش تھا ان کی موٹی تازی باہر کو نکلی ہوئی گانڈ کا ایک حصہ صاف عیاں تھا اور یہ دیکھ کر میر ے منہ میں پانی آ گیا تھا اور لن نیچے شلوار کے اندر جھٹکے کھا رہا تھا میں نے اپنی ٹانگوں کو جوڑ کر اپنے لن کو نیچے دبانے لگا مجھے پتہ ہی نہ چلا سائمہ آنٹی مجھے کب سے دیکھ رہی تھی میری جب اس سے نظر ملی تو مجھے بڑی ہی قاتلا نہ مسکان دی میں بھی آگے سے مسکرا دیا. پِھر وہاں پے بیٹھے بیٹھے کافی دیر ہو گئی تھی درمیان میں آسماں آنٹی نے مجھ سے میری پڑھائی اور میرے گھر کے سب لوگوں کے بارے میں بھی پوچھا میں ان کو نارمل جواب دیتا رہا . پِھر وہاں بیٹھے بیٹھے ہی 7 بج چکے تھے . پِھر آسمہ آنٹی نے نازیہ سے کہا نازی بیٹا رات کے کھانے کی تیاری کرو اور سائمہ آنٹی سے بولی سائمہ میں ذرا اوپر جا رہی ہوں مجھے سکول کا کچھ کام باقی رہ گیا تھا وہ ختم کرنا ہے ہے پِھر میں 3 دن فارغ ہوں اس کے بَعْد مل بیٹھ کر کھلی گپ شپ لگائیں گے . سائمہ آنٹی نے کہا ٹھیک ہے باجی آپ اپنا کام کر لو میں نازی کے ساتھ کچن میں اس کی کچھ مدد کر دوں اور پِھر آسمہ آنٹی اٹھ کر اوپر چلی گئی اور سائمہ آنٹی اور نازیہ کچن میں چلی گئی جاتے ہوئے سائمہ آنٹی نے کہا کا شی بیٹا تم ذرا چھوٹی کے ساتھ کھیلو میں تھوڑا کچن کا کام کروا کے آتی ہوں . میں نے کہا ٹھیک آنٹی جی آپ جائیں کوئی مسئلہ نہیں ہے . اور پِھر میں آنٹی کی بیٹی کے ساتھ کھیلنے لگا کھیلتے کھیلتے پتہ ہی نہ چلا 1 گھنٹہ گزر گیا اور سائمہ آنٹی دوبارہ ٹی وی لاؤنج میں آئی اور مجھے سے چھوٹی کو لے لیا .اور صوفے پے میرے ساتھ بیٹھ گئی نازیہ ابھی بھی کچن میں تھی . آنٹی نے آہستہ آواز میں مجھے کہا کیوں کا شی میرے جانی تمہارا تو باجی کو دیکھ کر یہ حال ہے تو آگے کیا ہو گا . میں نے بھی آہستہ آواز میں کہا آنٹی جی یقین کرو آپ کی باجی بہت کی کمال کی چیز ہیں میں نے ان کو جب سے دیکھا ہے تو نہ پوچھو نیچے لن کا کیا حال ہے . میں نے کہا آنٹی جی کچھ بھی کر کے جلدی سے آسمہ آنٹی کو منا لو مجھ سے اب کنٹرول نہیں ہوتا ہے . آنٹی میری طرف دیکھ کر اور بولی آرام سے بیٹا آرام سے گرم گرم کھانے سے منہ جل جاتا ہے ٹھنڈا کر کے کھاؤ گے تو خوب مزہ لو گے . اور فکر نہ کرو آج رات کو میں نے باجی کو منا لینا ہے اور ہو سکتا ہے آج رات کو ہی تمہارا کام کروا دو ںگی یا کل تو لازمی کروا دوں گی .پِھر نازیہ بھی ٹی وی لاؤنج میں آ گئی اور آ کر صوفے پے بیٹھ گئی آنٹی سائمہ اب خاموش ہو گئی تھی نازیہ نے سائمہ آنٹی سے کہا خالہ جان میں نے ا می کو بہت دفعہ کہا ہے اب کچن میں ا ےسی لگوا دیں اتنی گرمی میں کام نہیں ہوتا ہے لیکن ا می سنتی ہی نہیں ہیں . سائمہ آنٹی نازیہ کی بات سن کر ہنسنے لگی اور بولی نازی بیٹا گرمی کی عادت اچھی رہتی ہے کیا پتہ تمہاری جہاں شادی ہو کر جائے وہاں وہ ا ےسی نہ لگوا سکتے ہوں پِھر کیا کرو گی . نازیہ آنٹی کی بات سن کر چیڑگئی اور بولی خالہ جان آپ بھی ا می کی طرح شروع ہو گئی ہیں . اور سائمہ آنٹی بھی کھل کھلا کر ہنسنے لگی میں بھی سن کر مسکرا نے لگا مجھے دیکھ کر نازیہ شرما گئی اور غصے سے اٹھ کر اپنی نانی کی کمرے میں چلی گئی. مجھے لگا شاید میرا مسکرانا اس کو اچھا نہیں لگا وہ زیادہ غصہ کر گئی ہے . مجھے تھوڑا دکھ بھی ہوا کیونکہ میری اس پے بھی نیت خراب ہو چکی تھی وہ جسم کے لحاظ سے اپنی ا می کی کاپی تھی .اس کے جسم نے بھی مجھے سوچنے پے مجبور کر دیا تھا لیکن میں نازیہ سے پہلے زیادہ اس کی ا می کا اکاؤنٹ کھولنے میں دلچسپی لے رہا تھا . یوں خاموش بیٹھ کر سوچتے ہوئے سائمہ آنٹی نے میری طرف دیکھا تو پوچھا کا شی خیر ہے نا کیا سوچ رہے ہو . میں نے کہا کچھ نہیں آنٹی جی کچھ نہیں سوچ رہا . پِھر میں ٹی وی دیکھنے لگا تقریباً 9 بجے کے قریب سائمہ آنٹی نے نازیہ کو آواز دی نازی بیٹا ذرا یہاں آؤ نازیہ اپنی نانی کے کمرے سے ٹی وی لاؤنج میں آئی تو آنٹی سائمہ نے کہا نازی بیٹا میں مذاق کر رہی تھی مجھے معاف کر دو . نازیہ نے فوراً سائمہ آنٹی کے گلے میں ہاتھ ڈال کر ان کا ماتھا چُوما اور بولی خالہ جان آپ کیسی بات کر رہی ہیں مجھے پتہ ہے ا می بھی اور آپ مجھ تنگ کرنے کے لیے مذاق کرتی ہیں . مجھے کبھی بھی برا نہیں لگا . پِھر آنٹی نے کہا بیٹا جاؤ اندر جا کر چولھا بند کر دو اور اوپر جا کر اپنی امی کو بلا لاؤ پِھر خانہ کھاتے ہیں . نازیہ نے کہا ٹھیک ہے خالہ جان اور اٹھ کر پہلے کچن میں گئی اور پِھر اوپر اپنی امی کوبلانے چلی گئی . تھوڑی دیر بعد نیچے آئی اور بولی خالہ جان
ا می آ رہی ہیں میں كھانا لگاتی ہوں پِھر سائمہ آنٹی بھی اٹھ کر کچن میں چلی گئی اور انہوں نے كھانا لگا دیا اور اوپر سے آسمہ آنٹی بھی نیچے آ گئی اور سب مل کر كھانا کھانے لگے. كھانا کھانے کے بَعْد میں واش روم میں چلا گیا وہاں سے فارغ ہو کر ٹی وی لاؤنج میں آ کر ٹی وی دیکھنے لگا نازیہ اور سائمہ آنٹی برتن کچن میں رکھ چکی تھیں نازیہ کچن میں برتن دھو رہی تھی اور نازیہ آنٹی اور سائمہ آنٹی اپنی ا می کے کمرے میں ہی بیٹھ کر آپس میں باتیں کر رہی تھیں . میں باہر ٹی وی دیکھ رہا تھا تھوڑی دیر بَعْد سائمہ آنٹی اور ان کی بہن کمرے کی لائٹ آف کر کے باہر آ گئے اور آنٹی سائمہ اور ان کی بہن وہاں میں آپس میں باتیں کر رہی تھیں نازیہ بھی وہاں آ کر چھوٹی کے ساتھ کھیل رہی تھی میں ٹی وی دیکھنے میں ہی مشغول تھا پِھر میری نظر گھڑی پے گئی تو11 بج چکے تھے اور سائمہ آنٹی کی بیٹی نازیہ کی گود میں سو چکی تھی اور نازیہ اپنے موبائل پے شاید کوئی گیم یا کچھ اور کر رہی تھی . اور سائمہ آنٹی اور ان کی بہن باتیں کر رہی تھیں . مجھے نیند بھی آ رہی تھی پِھر سائمہ آنٹی نے کہا باجی رات کافی ہو گئی ہے آؤ اوپر چلتے ہیں آپ کے کمرے میں باقی باتیں کر لیں گے کا شی بھی تھک گیا ہو گا یہ بھی سو جائے گا . سائمہ آنٹی نے نازیہ سے کہا نازی بیٹا چھوٹی کو مجھے دے دو . پِھر آسمہ آنٹی نے کہا نازی بیٹا تم چھوٹی کو خالہ کو دے دو اور ہم بھی اوپر اپنے کمرے میں جا رہے ہیں تم بھی جا کر سو جاؤ . نازیہ نے کہا جی ا می ٹھیک ہے اور چھوٹی کو آنٹی سائمہ کو دے دیا اور خود اپنی نانی کے کمرے میں چلی گئی میں نے ٹی وی بند کیا اور اوپر اس کمرے میں آ گیا تھوڑی دیر بَعْد سائمہ آنٹی اور ان کی بہن بھی اوپر آ گئی . مجھے ان کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی . میں بیڈ پے لیٹ گیا اور سوچنے لگا ہو سکتا ہے اب سائمہ آنٹی اکیلے میں آسمہ آنٹی سے بات کرے گی اور اگر ان کو منا لیا تو شاید آج ہی کام ہو جائے نہیں تو کل ہی ہو گا میں بس ان ہی سوچوں میں گم تھاکے مجھے نیند آ گئی اور میں سو گیا . رات کا تقریباً 1 بجے کا ٹائم ہو گا جب میری پیاس کی وجہ سے آنکھ کھل گئی اور میں بیڈ پے اٹھ کر بیٹھ گیا یہاں وہاں دیکھا پانی کا جگ نہیں تھا میں بیڈ سے اٹھا اور کمرے کا دروازہ کھول کر باہر لیفٹ سائڈ پے جو آسمہ آنٹی کا بیڈروم تھا اس کے سامنے چھوٹا سا کچن بنا ہوا تھا اس میں پانی کا کولر پڑا ہوا تھا میں وہاں کچن میں گیا لائٹ آن کر کے گلاس میں پانی پیا اور لائٹ آف کر کے واپس اپنے کمرے میں جانے لگا تو مجھے آسمہ آنٹی کے کمرے کے دروازے کے نیچے ہلکی ہلکی روشنی آتی ہوئی نظر آئی . میں تھوڑا حیران ہوا یہ لوگ ابھی تک جاگ رہے ہیں . پِھر یکدم میرے دماغ میں خیال آیا ہو سکتا ہے سائمہ آنٹی آسمہ آنٹی کو میرے لیے راضی کر رہی ہوں . بس یہ ہی سوچتے ہوئے میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا دروازے کے پاس آیا دروازے کے بالکل نزدیک ہو کر اندر کی کوئی حرکت سنے لگا ہونے نزدیک سے میرا شق ٹھیک نکلا کیونکہ مجھے آنٹی آسمہ اور سائمہ آنٹی کی باتیں کرنے کی آواز سنائی دے رہی تھی . سائمہ آنٹی آسمہ آنٹی سے کہہ رہی تھی باجی مجھے سمجھ نہیں لگتی آپ کو ڈرکس بات کا ہے . آسمہ آنٹی نے کہا دیکھو سائمہ میں مانتی ہوں کے کا شی گھر کا بندہ ہے اور اس پے بھروسہ بھی کیا جا سکتا ہے اور وہ بدنام بھی نہیں کرے گا . لیکن مجھے ڈر جس بات کا ہے وہ صرف یہ کے اگر کل کو کہیں سے بھی یہ بات کا نازیہ کو پتہ چلتا ہے میں تو مر جاؤں گی . میری بیٹی میرے بارےمیں کیا سوچے گی دنیا کیا کہے گی کے جوان بیٹی کی ماں اپنی بیٹی کی عمر کے لڑکے کو یار بنا یا ہوا ہے تم سمجھتی کیوں نہیں ہو اِس بات کو سائمہ . کچھ دیر تک اندر خاموشی ہو گئی . پِھر سائمہ آنٹی بولی دیکھو باجی میری بات غور سے سنو . پہلی تو بات یہ ہے کے جو کے آپ بھی مانتی ہیں کے کا شی گھر کا بندہ ہے او بھروسے کا بندہ ہے اور بدنام نہیں کرے گا . آسمہ آنٹی نے کہا ہاں ٹھیک ہے تو پِھر سائمہ آنٹی نے کہا مثال کے طور پر اگر آپ کا شی کے ساتھ اپنا تعلق بنا لیتی ہیں اور آپ دونوں کے تعلق کے بارے میں نازی کو پتہ چل بھی جاتا تو کچھ بھی نہیں ہو گا آپ خود سوچو اگر نازی کو بات پتہ چل بھی جاتی ہے تو کیا وہ باہر لوگوں کو کو جا کر یہ بتا ئے گی کے میری ماں کا ایک یار ہے وہ اس سے مزے لیتی ہے . کیا وہ اپنے گھر کی عزت یا اپنی ماں کی عزت یوں لوگوں میں اُچھالتی پھرے گی . اگر اس کو پتہ چل جاتا ہے تو زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا وہ آپ کے ساتھ یا میرے ساتھ بات کرے گی ہم دونوں سے ناراض ہو گی اور تو اور وہ ا می تک کو نہیں بتا ئے گی آپ بے شک مجھ سے یہ لکھوا کر رکھ لو . اور اگر وہ مجھ سے بات کرے گی یا آپ سے کرے گی تو میرے پاس اس کا بھی حَل ہے میں اس کو ایک دوست بن کر اعتماد میں لوں گی آپ کی اندر کی گھٹی گھٹی زندگی کے بارے میں جب اس کو بتاؤں گی تو وہ سمجھ جائے گی کیونکہ وہ بھی ایک عورت ہے . اس نے بھی شادی ہو کر کسی کے ساتھ جانا ہے اس نے بھی یہ سب معاملات آگے چل کر دیکھنے ہیں . پِھر کچھ دیر کے لیے خاموشی ہو گئی اور دوبارہ پِھر سائمہ آنٹی بولی باجی 3 دن میں تو نازی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا اور ان 3 دن میں ہی میں نازی کو اپنی ایک اچھی دوست بھی بنا لوں گی . اور 3 دن میں اگر آپ کے کا شی کے ساتھ کھل کر مزہ کر لو تو آپ کے اگلے کچھ دن سکون رہے گا . پِھر آنٹی آسمہ کی آواز آئی اس نے کہا سائمہ ایک اور بات ہے . سائمہ آنٹی نے کہا کیا بات ہے . سائمہ میری ترقی ہو گئی ہے اور ساتھ ہی ٹرانسفر بھی ہو گئی ہے اور اگلے مہینے سے مجھے راولپنڈی کے ایک سکول میں جوائن کرنا ہے اور پِھر تو مجھے وہاں ہی مکان بھی لینا ہو گا اور نازی بھی وہاں ساتھ چلی جائے گی میں نے ابو کو بھی 2 دن پہلے بتا دیا تھا انہوں نے کہا بیٹا تمہاری تو مجبوری ہے جانا ہی جانا ہے میری ریٹائرمنٹ اگلے سال کو ہو رہی ہے چند مہینے ہی رہ گئے ہیں میں ایسا کرتا ہوں کے اب ہی ریٹائرمنٹ لے لیتا ہوں میں تمہاری ماں کو خود سنبھال لوں گا کبھی کبھی تمھارے پاس آ کر بھی میں اور تمہاری ا می رہ لیا کریں گے . سائمہ آنٹی نے کہا تو باجی اِس میں پریشانی کی کیا بات ہے . آسمہ آنٹی بولی جب میں راولپنڈی شفٹ ہو جاؤں گی تو کا شی کو بھی پتہ ہو گا اور وہ جب دِل کرے گا آ جایا کرے گا اور کسی نا کسی دن تو وہاں نازی کو پتہ چل جائے گا پِھر کیا ہو گا . یہ اصل پریشانی ہے. سائمہ آنٹی نے کہا باجی آپ یہ بتاؤ کے اگر نازی کا مسئلہ حَل ہو جائے تو آپ کا شی کے ساتھ کرنے کو تیار ہیں . آسمہ آنٹی کی طرف سے خاموشی تھی پِھر آنٹی سائمہ نے کہا بتاؤ نا باجی آپ تیار ہیں تو آسمہ آنٹی نے کہا لیکن سائمہ تم کرو گی کیا اور کیسے. تو سائمہ آنٹی نے کہا باجی یہ میرا مسئلہ ہے میں جو بھی کروں گی اس میں آپ نازی کے آگے کبھی شرمندہ نہیں ہوں گی اور نہ ہی نازی آپ کو کچھ کہے گی میں یہ کام خالہ بن کر نہیں دوست بن کر کروں گی . اور آپ بے فکر ہو جائیں اگر آپ پنڈی شفٹ ہو جائیں گی اور وہاں نازی کو پتہ چل بھی گیا تو نازی کچھ بھی آپ کو نہیں کہے گی اور نہ ہی ناراض ہو گی . بس آپ یہ بتاؤ آپ کا شی کے ساتھ کرنے کو تیار ہو . پِھر شاید آنٹی آسمہ کو سائمہ آنٹی کی باتوں پے یقین آ گیا تھا انہوں نے کہا میں تیار ہوں اگر نازی کی طرف سے کوئی مسئلہ نہ ہو تو . سائمہ آنٹی نے کہا آپ بے فکر ہو جائیں نازی کو میں ان 3 دن میں سیٹ کر دوں گی آپ نازی کی فکر اپنے دماغ سے نکا ل دیں . پِھر آسمہ آنٹی نے کہا ٹھیک ہے مجھے منظور ہے . باہر یہ سن کر میں خوشی سے پاگل ہو گیا تھا . لیکن یہ سوال میرے دماغ میں بھی تھا کے سائمہ آنٹی نازی کو کیسے سیٹ کرے گی ہو نہ ہو ہے تو سائمہ آنٹی اس کی خالہ لیکن پِھر دماغ کے ایک کونے میں سے آواز آئی شاید عورت ہی عورت کو سمجھ سکتی ہے. پِھر سائمہ آنٹی نے کہا باجی کیا موڈ ہے کا شی کو بلا لوں یہاں ہی ابھی ہی سے شروع کر لیتے ہیں . آسمہ آنٹی فوراً بولی سائمہ بڑی تو بے شرم ہے تمہیں تو مجھ سے بھی زیادہ جلدی ہے اور اتنی رات کو کہاں اس بے چارے کو تنگ کر کے اٹھائے گی . سائمہ آنٹی نے کہا مجھے جلدی نہیں ہے جلدی اس بے چارے کو ہے جو بس کسی نہ کسی طرح آپ کی پھدی اور بُنڈ مارنا چاہتا ہے . آسمہ آنٹی نے کہا سائمہ یہ تم کیا کہہ رہی ہو . سائمہ آنٹی نے کہا ہاں باجی ٹھیک کہہ رہی ہوں آج جب آپ اور میں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے تو آپ جس اسٹائل میں بیٹھی ہوئی تھیں اس وقعت میں کا شی کو ہی دیکھ رہی تھی وہ آپ کی بُنڈ کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے ابھی اٹھ کر کھا جائے گا اور وہ بار بار اپنے لن کو اپنی ٹانگوں کے درمیان دبا کر چھپا رہا تھا . آسمہ آنٹی نے کہا کیا تم سچ میں ٹھیک کہہ رہی ہو . تو سائمہ آنٹی نے کہا ہاں باجی بالکل سچ کہہ رہی ہوں اور بعد میں میں نے اس پوچھا تھا کے وہ کیا دیکھ رہا تھا تو اس نے بتایا آنٹی جی آپ کی بہن کمال کی چیز ہے جب سے آیا ہوں آپ کی باجی نے میرا برا حال کر دیا ہے آپ جلدی کر کے ان کو منا لو میرا بڑا برا حال ہے. آسمہ آنٹی آگے سے بولی سائمہ میں تو اس کو بچہ سمجھ رہی تھی لیکن وہ تو پورا کھلاڑی ہے . تو سائمہ آنٹی نے کہا باجی کیا بتاؤں کھلاڑی کتنا جاندار ہے قسم سے رگڑ رگڑ کر چودتا ہے میں نے ثمینہ کے گھر اس سے 2 دفعہ اپنا پانی نکلوا یا تھا ایک دفعہ اس نے میری پھدی کی سکنگ کر کے اور دوسری دفعہ میری پھدی کو چود کر دونوں دفعہ میں میرا پانی نکلوا کر ہی اپنا پانی چھوڑا تھا. مزہ آ جاتا ہے اور باجی اس کی عمر کے حساب سے دیکھا جائے تو اس کا لن بھی ٹھیک ٹھا ک ہے میرا میاں اور اور آپ کے میاں سے تو کافی حد بہتر ہے. آسمہ آنٹی نے کہا سائمہ بس کر تیری باتیں سن کر ہی نیچے میری پھدی پانی چھوڑ نے لگی ہے . سائمہ آنٹی نے کہا باجی دیکھا باتیں سن کر یہ حال ہے تو سوچو جب اندر لو گی تو کیا حالت ہو گی اِس لیے کہہ رہی ہوں میں اس کو بلا لاتی ہوں اور پِھر دِل بھر کر رات پوری مزہ لو میں بچی کو لے کر اس کے کمرے میں چلی جاؤں گی آپ اکیلے میں جتنا چاہے مزہ لے لینا. آسمہ آنٹی نے کہا نہیں سائمہ ابھی نہیں ابھی رہنے دو وہ بھی بیچارا سویا ہو گا اس کو اٹھا کر تنگ کرنا اچھا نہیں ہے کل کو دوپہر کو تم امی کے کمرے میں ہی سو جانا اور تمہیں دیکھ کر نازی بھی سو جائے گی اور پِھر شام کو ہی اٹھے گی میرے پاس 2 سے 3 گھنٹے ہوں گے تم کا شی کو میرے کمرے میں بھیج دینا . اور ویسے بھی میں کل صبح اٹھ کر اپنی نیچے سے بھی اچھی طرح صفائی کر لوں گی . سائمہ آنٹی نے کہا ٹھیک ہے باجی جیسے آپ کی مرضی کل ہی کر لینا . پِھر سائمہ آنٹی نے کہا باجی ایک اور بات آپ کو بتانی تھی کہ کا شی بُنڈ کا بہت شوقین ہے آپ نے اپنے میاں کے ساتھ کافی دفعہ ٹرائی کی ہوئی ہے کا شی کو بھی اپنی بُنڈ کا مزہ کروا دینا . آسمہ آنٹی بولی سائمہ بُنڈ میں تو میں نے کافی دفعہ لیا ہے لیکن ابھی تو کتنے سال ہو گئے ہیں ایک پینسل تک اندر نہیں لی ہے اور تم یہ بھی کہہ رہی ہو کے اس کا لن میرے میاں سے بھی کافی بہتر ہے . اتنے عرصے بعد پتہ نہیں اس کا لے سکوں گی بھی یا نہیں . سائمہ آنٹی نے کہا باجی یہ تو سچ ہے کے اس کا لن آپ کے اور میرے میاں سے بھی لمبا بھی ہے اور موٹا بھی ہے لیکن آپ نے تو پِھر بھی اندر کافی دفعہ لیا ہوا ہے تھوڑی بہت تو شاید مشکل ہو گی لیکن زیادہ نہیں ہو گی اگر ہوئی بھی تو آپ تھوڑا آئل یا لوشن وغیرہ اپنی بُنڈ میں اور اس کے لن پے لگا لینا پِھر آسانی سے اندر چلا جائے گا. آسمہ آنٹی نے کہا اچھا ٹھیک ہے میں پوری کوشش کروں گی . پِھر آسمہ آنٹی نے کہا سائمہ میرے اور کا شی کا جو تعلق ہے اس کا ثمینہ کو تو نہیں پتہ ہے نہ . کیونکہ اس کو پتہ چلنے کے بعد میں اس کے سامنے بھی گندی ہو جاؤں گی . تو سائمہ آنٹی نے کہا باجی آپ بالکل بے فکر ہو جائیں ثمینہ کو کچھ بھی نہیں پتہ ہے یہ بات آپ کو مجھے اور کا شی کی علاوہ ابھی تک کسی اور کو پتہ نہیں . میں اتنی پاگل نہیں ہوں کے اپنی باجی کی ہی بات کسی اور یا ثمینہ کو بتاؤں گی اور اپنے گھر کی عزت کو خراب کروں گی . اور میں نے کا شی کو بھی بتا دیا تھا وہ کسی سے بھی بات نہیں کرے گا اس نے مجھ سے پکا وعدہ کیا ہوا ہے. پِھر آسمہ آنٹی نے کہا چلو سائمہ اب سوتے ہیں بہت دیر ہو چکی ہے باتیں کرتے کرتے 3 بجنے والے ہیں ٹائم کا پتہ ہی نہیں چلا تم لائٹ کو آف کر دو . اب مجھے پکا یقین ہو چکا تھا کے کل میرا لن آسمہ آنٹی کی بُنڈ میں ہو گا اور میں وہاں سے اٹھا اور اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پے لیٹ گیا اور پتہ ہی نہیں کب آنکھ لگ گئی اور سو گیا . صبح میری آنکھ اس وقعت کھلی جب نازیہ مجھے ہلا ہلا کر اٹھا رہی تھی میں اس کے زور سے ہلانے پے یکدم اَٹھ گیا وہ بھی ڈر گئی اور نیچے بھاگ گئی میں نے اپنے موبائل پے ٹائم دیکھا تو صبح کے11 بج چکے تھے میں وہاں سے اٹھا اور سیدھا آسمہ آنٹی کے بیڈروم والے باتھ روم میں گیا وہاں گیا تو مجھے اندر پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی میں فوراً وہاں سے نکلا اور ڈرائنگ روم کے ساتھ بنے ہوئے باتھ روم میں گھس گیا اور کپڑے اُتار کر نہانے لگا میری آنکھیں ہی نہیں کھل رہی تھیں کیونکہ رات کو 3 بجے تک رات والی فلم دیکھتا رہا تھا میں دیر تک شاور کے نیچے کھڑا رہا پِھر اچھی طرح فریش ہو کر ہی باہر نکلا کمرے میں آ کر اپنے موبائل اٹھایا اور نیچے جا کر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گیا وہاں نازیہ بیٹھی سائمہ آنٹی کی بیٹی کے ساتھ کھیل رہی تھی اور سائمہ آنٹی اپنی امی کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی پِھر کچھ دیر بَعْد سائمہ آنٹی باہر آئی اور مجھے دیکھا تو کہنے لگی کا شی خیریت ہے نا طبیعت ٹھیک ہے تمہاری اتنی دیر تک سوئے ہوئے تھے . میں نے کہا آنٹی جی طبیعت ٹھیک ہے بس کل کے سفر کی وجہ سے تھوڑی تھکن زیادہ ہی تھی اِس لیے اتنا سویا ہوں . پِھر سائمہ آنٹی نے نازیہ سے کہا نازی بیٹا امی کہا ں ہیں تو نازیہ نے کہا خالہ جان وہ اوپر اپنے باتھ روم میں نہا رہی ہیں . تو سائمہ آنٹی نے کہا بیٹا تم کا شی کو ناشتہ دو میں اوپر باجی کے پاس سے ہو کر آتی ہوں . پِھر سائمہ آنٹی اوپر چلی گئی اور کچھ دیر بَعْد نازیہ نے مجھے ناشتہ دیا میں اکیلا ہی ناشتہ کر رہا تھا کیونکہ باقی سب لوگ صبح 8 بجے کے اٹھے ہوئے تھے وہ ناشتہ کر چکے تھے. پِھر میں ناشتے سے فارغ ہو گیا تو باتھ روم میں جا کر ہاتھ دھو کر واپس آ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا میری واپسی سے پہلے نازیہ نے برتن اٹھا لیے تھے . میں ٹی وی میں ہی مشغول کافی دیر ہو گئی تھی لیکن سائمہ آنٹی واپس نہیں آئی تھی اور نہ ہی آسماں آنٹی آئی تھی پِھر مزید کچھ دیر بعد سائمہ آنٹی اور آسمہ آنٹی نیچے آ گئی اور آ کر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گئی آج آنٹی آسمہ نے کالے رنگ کا کا ٹن کا سوٹ پہنا تھا اور اس کا پجامہ بڑا ہی تنگ تھا اس میں وہ بہت ہی سیکسی لگ رہی تھی . لیکن وہ آج مجھے سے نظریں چرا رہی تھی جب بھی ہماری آپس میں ملتی وہ شرما کر آنکھیں چرا لیتی تھی. پِھر سامنے والے صوفے پے بیٹھ کر وہ دونوں بہن آپس میں باتیں کر رہی تھیں اور میں ٹی وی دیکھ رہا تھا کچھ دیر بَعْد آسمہ آنٹی نے کہا نازی بیٹا دن کے کھانے کا کیا بندوبست کیا ہے . تو نازیہ نے کہا ا می سبزی چولھے پے رکھی ہوئی ہے سبزی کے بَعْد روٹیاں بنانی ہیں اور سلاد رائتہ بنا لوں گی اس وقعت 1 بجنے میں 20 منٹ باقی تھے . میں نے سائمہ آنٹی کو کہا آنٹی جی میرا موڈ کھانے کا نہیں ہے میں نے تو ناشتہ بہت لیٹ کیا ہے اِس لیے میرے لیے روتی نا بنائیں . سائمہ آنٹی نے کہا ٹھیک ہے کا شی بیٹا پِھر میں وہاں کوئی آدھا گھنٹہ مزید بیٹھا رہا اور جب آنٹی لوگ كھانا کھانے لگے تو میں اس سے پہلے ہی اَٹھ کر اوپر اپنے کمرے میں آ گیا اور آ کر لیٹ گیا اور اپنے موبائل پے گیمز کھیلنے لگا . کوئی آدھے گھنٹے بَعْد سائمہ آنٹی میرے کمرے میں آئی اور آ کر دروازہ بند کر کے میرے بیڈ پے آ کر بیٹھ گئی اور میرا لن جو نیم حالت میں تھا اس کو پکڑ لیا اور بولی کا شی میرے جانی تیرا کام ہو گیا ہے باجی راضی ہو گئی ہیں آج ہی کچھ دیر بَعْد تمہیں میں بتاؤں گی تم ان کے کمرے میں چلے جانا اور شام تک تمھارے پاس 2 سے 3 گھنٹے ہوں گے اس میں باجی کے ساتھ فل مزہ کر لینا . میں اٹھ کر سائمہ آنٹی کو گلے لگا لیے اور پِھر ان کے ہونٹوں پے ایک لمبی سے فرینچ کس کی اور کہا آنٹی آپ نے کمال کر دیا ہے پِھر آنٹی تھوڑا سا مجھ سے الگ ہوئی اور اَٹھ کر کھڑی ہو گئی اور مجھے کہا کے میں جب تمھارے نمبر پر ایس ایم ایس کروں گی تم اس وقعت خاموشی سے باجی کے بیڈروم میں چلے جانا ان کا بیڈروم کا دروازہ کھلا ہو گا اندر جا کر دروازہ اندر سے بند کر لینا اور اپنے کام پورا کر کے تقریباً 5 بجے سے پہلے پہلے دوبارہ اِس ہی کمرے میں آ کر لیٹ جانا . میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں آپ بے فکر ہو جائیں.
تقریباً ڈھائی بجے کا ٹائم ہو گا جب مجھے سائمہ آنٹی کا ایس ایم ایس آیا کے کا شی تم ٹھیک 5 منٹ کے بعد باجی کے کمرے میں چلے جاؤ جب آنٹی کا ایس ایم ایس آیا ایک دفعہ تو میرا دِل دھک دھک کر اٹھا پِھر میں نے اپنے آپ کو تھوڑا کنٹرول کیا اور پِھر بیڈ سے اٹھا اور دروازہ کھول کر آسمہ آنٹی کے دروازے پے جا کر دستک دی اور پِھر خود ہی دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا اندر آسمہ آنٹی اپنے صوفے پے بیٹھی ہوئی تھی لیکن وہ شرم سے میرے ساتھ نظر نہیں ملا پا رہی تھی . میں نے دروازہ بند کر کے اندر سے لوک کر دیا اور آہستہ آہستہ سے چلتا ہوا صوفے پے جا کر آنٹی کے ساتھ بیٹھ گیا میرے اور آنٹی کے درمیان صرف چند انچ کا ہی فاصلہ رہ گیا تھا. پِھر میں وہاں کچھ دیر خاموشی سے بیٹھا رہا سچ میں میری اپنی ہمت بات شروع کرنے کی نہیں ہو رہی تھی سمجھ نہیں آ رہی تھی بات کہاں سے شروع کروں . پِھر یکدم میرے دماغ میں ایک بات آئی اور میں نے آسمہ آنٹی سے کہا آنٹی جی مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کے آپ ہمارے شہر میں اب آنے والی ہیں آپ بے فکر ہو جائیں آپ کو وہ پرایا شہر نہیں لگے گا . آسمہ آنٹی نے فوراً منہ اٹھا کر حیرت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور میں بھی سمجھ گیا تھا کے میں نے غلطی کر دی ہے کیونکہ یہ باتیں تو سائمہ آنٹی اور آسمہ آنٹی کے درمیان ہوئی تھیں مجھے کیسے پتہ چلی . آسمہ آنٹی کے چہرے پے یہ ہی حیرت تھی. لیکن میں نے موقع کی نزاکت کو سمجھا اور پِھر سچ بتانے کا ہی فیصلہ کیا اور پِھر میں نے آنٹی کو ساری بات بتا دی جو میں نے کل رات کو سنی تھی . مجھے بڑی خوشی ہوئی کے آسمہ آنٹی پوری بات سن کر اطمینان میں تھی . اب تک ہم دونوں کے درمیان کافی حد تک شرم اور پرایا پن کم ہو چکا تھا . پِھر میں نے ہی آگے بھڑنے کا سوچااور ہمت کر کے آسمہ آنٹی کا ہاتھ پکڑ لیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے سہلا نے لگا جس کا آنٹی نے کوئی برا نہیں منایا. پِھر میں آنٹی کے ساتھ بالکل جڑ کر بیٹھ گیا ہمارا جسم ایک دوسرے کے ساتھ چپک گیا تھا . میں نے ایک ہاتھ گردن میں ڈال کر آنٹی کا منہ اپنی طرف کر کے اپنے ہونٹ ان کے ہونٹوں پے رکھ دیئے اور فرینچ کس کرنے لگا آنٹی نے کچھ دیر تو کوئی ریسپونس نہ دیا لیکن پِھر خود ہی میرا ساتھ دینے لگی اور فرینچ کس کرنے لگی . میں ان کو مزی10د منٹ تک فرینچ کس کرتا رہا اور وہ میری اور میں ان کی زُبان منہ میں لے کر سک کرتے رہے جب میں نے تھوڑا مزید اگلا قدم اٹھانے کا سوچا اور اپنے منہ الگ کیا تو آنٹی کی آنکھوں میں دیکھا تو آنٹی کی آنکھیں لال سرخ ہوئی تھیں اور ان کی آنكھوں سے صاف پتہ چل رہا تھا وہ مکمل نشے میں آ گئی ہیں. میں صوفے سے اٹھا اور پِھر ایک ہاتھ آنٹی کی گردن میں ڈالا اور دوسرا ہاتھ آنٹی کی گانڈ کی نیچے سے ڈال کر اٹھا لیا اور ان کو اٹھا کر بیڈ پے لے آیا . اور پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ اپنے کپڑے اُتار دیں میں بھی اُتار رہا ہوں پِھر آپ کو ایک مزے کی دنیا کی سیر کرواتا ہوں . میں اپنے کپڑے اُتار نے لگا میں نے اپنی قمیض پِھر اپنی بنیان اور پِھر آخر میں اپنی شلوار بھی اُتار دی نیچے میرا لن لوہے کی را ڈ کی طرح بالکل سیدھا کھڑا ہوا آنٹی کو سلامی دے رہا تھا . آنٹی کی نظر میرے لن پے گئی تو دیکھ کر آنٹی کی آنکھیں اور کھل گئی اور انہوں نے اپنی زُبان باہر نکال کر اپنے ہونٹوں پے پھیری . پِھر آنٹی بھی اپنے کپڑے اُتار نے لگی آنٹی نے اپنی قمیض اُتاری تو نیچے برا نہیں پہنی ہوئی تھی یکدم ان کو موٹے موٹے گورے ممے سامنے آ گئے آنٹی کے ممے اب تک کی سب عورتںر جن کو میں چود چکا تھا ان سے بڑے تھے اور ان کے نپلز بھی گول گول اور برائون رنگ کے تھے . انہوں جب نے اپنی شلوار ُتاری تو انہوں نے نیچے انڈرویئر بھی نہیں پہنا ہوا تھا. اور ان کی پھدی کو دیکھ کر میں د نگ رہ گیا کیونکہ نیچے ان کا پورا جسم کسی22 سال کی لڑکی سے کم نا تھا میں حیران تھا آنٹی نے تو ایک بچی کو بھی پیدا کیا ہے پِھر یہ کیسے ممکن ہے ان کا جسم اتنا کسا ہوا اور نرم وملائم اور چکنی پھدی ہے بالکل بالوں سے صاف شفاف اور درمیانے سائز کا پھدی کا منہ اور وہ بھی آپس میں جڑا ہوا تھا. آنٹی نے پوچھا کا شی بیٹا کیا دیکھ رہے ہو . میں نے کہا آنٹی آپ کا پورے کا پورا جسم کمال کا ہے . لگتا ہے آج مزہ آ جائے گا . آنٹی میری بات سن کر مسکرا نے لگی . پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ سیدھی لیٹ جاؤ میں آپ کی پھدی کی سکنگ کرتا ہوں . آنٹی میری بات سن کر سیدھی لیٹ گئی اور میں ان کی ٹانگوں میں آ کر ان کو کھولا اور منہ کے بل لیٹ گیا میرا منہ آنٹی کی پھدی پے تھا . پِھر میں نے پہلے اس پے آگے پیچھے کس کرنے لگا آنٹی سیکسی سیکسی سسکیاں لینے لگی . پِھر میں زُبان نکا ل کر آنٹی کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا آنٹی کو بھی مزہ آ رہا تھا وہ میرے سر پے ہاتھ رکھ رکھ میرے بالوں میں اپنی انگلیاں پھر رہی تھی . کچھ دیر یہ مزہ کروا کے میں نے دونوں ہاتھ سے آنٹی کی پھدی کے لبوں کو کھولا اور اپنی زُبان اندر باہر کرنے لگا شاید آنٹی کو یہ حرکت نے زیادہ ہی گرم کر دیا تھا ان کا پورا جسم ایک دفعہ جھٹکا کھا گیا پہلے تو میں آہستہ آہستہ زُبان اندر باہر کر رہا تھا پِھر میں نے آنٹی کو تڑپانے کے لیے اپنی سپیڈ کو اور تیز کر دیا زُبان اور اندر باہر کرنے لگا اپنی زُبان سے آنٹی کی پھدی کی چدائی کرنے لگا. آنٹی کے منہ سے لذّت اور خماری میں تیز تیز سیکسی سیکسی سسکیاں نکل رہی تھی اور وہ نیچے سے بُنڈ اٹھا کر زُبان اندر باہر کروا رہی تھی اور اوپر سے میرا سر پھدی پے بھی دبا رہی تھی میں نے ان کو 5 سے 7 منٹ تک اِس طرح ہی زُبان سے چودا اور پِھر آخر میں انہوں نے ایک جھٹکا مار کے اپنا گرم گرم پانی میرے منہ پے ہی چھوڑ دیا اور ہانپنے لگی میں بھی سائڈ پے ہو کر لیٹ گیا پِھر اٹھ کر باتھ روم میں چلا گیا وہاں سے منہ دھویا کلی کی اور واپس آ کر آنٹی کے پہلو میں آ کر لیٹ گیا. میں جب واپس آ کر بیڈ پے لیٹا تو آنٹی کی حالت نارمل ہو چکی تھی پِھر وہ مجھ سے بولی کا شی بیٹا آج تو تم نے کمال کر دیا مجھے ایک نئی چیز سے روشناس کروایا ہے . میں نے کہا آنٹی اِس میں نیا کیا ہے آپ نے پہلے اپنے میاں کے ساتھ نہیں کیا . تو آنٹی بولی میرے میاں زُبان سے سکنگ تو دور کی بات ہے انہوں نے کبھی پھدی پے کس تک نہیں کی تھی 2 یا 3 دفعہ بس کس کی تھی وہ بھی میں نے ان کو بار بار کہہ کر تب جا کر انہوں نے کس کی تھی . آج والا مزہ تو تم سے پہلی دفعہ مجھے زندگی میں ملا ہے . پِھر میں آنٹی کو کہا آنٹی جی پِھر آگے کیا موڈ ہے اِس خادم کو آگے چل کر موقع دیا کریں گی جب آپ راولپنڈی شفٹ ہو جائیں گی . تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا تم نے اپنا بنا لیا ہے اب تو میں تمہاری ہوں جب تمہارا دِل کرے آ جایا کرنا اور اپنی بھی اور اِس پیاسی آنٹی کی بھی پیاس بُجھا دیا کرنا. آنٹی جی میں تو آپ کی خدمت دِل وجان سے کرنے کے لیے تیار ہوں آپ بے فکر ہو جاؤ جب آپ وہاں شفٹ ہو جائیں گی میں آپ کی اتنی خدمت کروں گا کے آپ کسی اور کو بھول جائیں گی . آنٹی میری بات سن کر مجھے گلے لگا لیا اور ایک لمبی سی فرینچ کس کرنے لگی . اور نیچے سے میرا لن پکڑ کر سہلا نے لگی اور پِھر آنٹی اَٹھ کر بیٹھ گئی اور میری ٹانگوں کے پاس اپنا منہ لے گئی اور میرے لن کو منہ میں لے لیا اور اس کے
چو پے لگانے لگی آنٹی کے چو پے اتنی ٹائیٹ تھے کے میرا لن 2 سے 3 منٹ کے اندر ہی فل جوش میں کھڑا ہو گیا میں نے آنٹی کے منہ سے اپنا لن نکال لیا اور آنٹی کو بولا آنٹی جی لیٹ جاؤ ابھی آپ کی اور خدمت کرنی ہے آنٹی سیدھا لیٹ گئی میں ٹانگوں کے درمیان آ کر بیٹھ گیا اور ٹانگیں اٹھا کر کندھے پے رکھ لی اور اپنے لن کو آنٹی کی پھدی کی موری پے سیٹ کیا اور پہلا جھٹکا مارا تو پوری ٹوپی اندر چلی گئی آنٹی کی منہ سے ہلکی سی آہ نکل گئی . پِھر میں کچھ دیر رک گیا اور آگے کو ہو کر آنٹی کے منہ میں اپنی زُبان دے دی اور ان کی زُبان کو بھی سک کرنے لگا اور پِھر ایک زوردار جھٹکا مارا اور پورے کا پورا لن جڑ تک ان کی پھدی میں اُتار دیا ان کے منہ سے ایک تکلیف بھری کرا ہ نکلی جو میرے منہ میں ہی رہ گئی اور میں پِھر وہاں ہی کچھ دیر کے لیے لیٹ گیا اور کوئی حرکت نا کی اور آنٹی کی آنکھیں بند تھی . کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد میں نے آہستہ آہستہ اپنے ل لن کو حرکت دی اور اس کو اندر باہر کرنے لگا جب 5 منٹ تک آہستہ آہستہ اندر باہر کرتا رہا تو پھدی بھی اپنی جگہ سیٹ ہو گئی تھی اور لن آسانی سے اندر باہر ہو رہا تھا اور آنٹی نے بھی آنکھیں کھول لی تھیں اور اپنے ہاتھوں سے میری کمر کے پیچھے سے پکڑ لیا تھا میں نے تھوڑی سپیڈ تیز کر دی آب آنٹی کو بھی مزہ آ رہا تھا اور ان کے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکل رہی تھی آہ آہ اوہ آہ آہ اوہ آہ . . جب آنٹی کو مزہ زیادہ آنے لگا اور وہ ان کی آوازیں بھی اونچی ہو گیں تھیں انہوں نے اپنی ٹانگوں کو بھی پیچھے سے میری کمر میں ڈال کر جڑن لیا تھا میں بھی آنٹی کا اشارہ سمجھ گیا تھا میں نے اپنی سپیڈ فل تیز کر دی اور دھکے پے دھکےلگانے لگا کمرے میں آنٹی کی اونچی اونچی سیکسی سیکسی سسکا ریاں اورمیرےدھکے پے دھکےمارنے کی وجہ سے جو دھپ دھپ کی آواز نکل رہی تھی وہ سب آوازیں پورے کمرے میں گونج رہیں تھیں. میرے طوفانی جھٹکوں کے درمیان ہی آنٹی نے میرے لن پے اپنی منی کا گرم گرم لاوا چھوڑ دیا اور اب تو کام اور زیادہ اندر گھیلا ہو چکا تھا اِس لیے آنٹی کی منی چھوڑنے کی کوئی 3 سے 4 منٹ بعد ہی میں نے اپنی ساری منی کا لاوا آنٹی کی پھدی کے اندر ہی چھوڑ دیا. اور میں نڈھال ہو کر آنٹی کے اوپر ہی گر گیا اور ہانپنے لگا .میری جب کچھ سانسیں بَحال ہوئی تو میں آنٹی کے اوپر سے اٹھ کر ان کے ساتھ لیٹ گیا آنکھیں بند کر لیں پِھر ہم دونوں کوئی 10منٹ تک خاموشی سے لیٹے رہے. پِھر آنٹی نے ہی بات شروع کی کا شی بیٹا آج تو مزہ ہی آ گیا ہے سائمہ ٹھیک کہہ رہی تھی تم عورت کا پانی نکلوا کے ہی چھوڑ تے ہو . آج کتنے سال بعد مجھے دوبارہ مکمل جسمانی سکون ملا ہے.
میں نے آگے سے کہا بس آنٹی جی آپ اِس طرح ہی خدمت کا موقع دیتی رہیں تو میں آپ کے سکون کا بندوبست کرتا رہوں گا ویسے بھی میں تو اسلام آباد میں رہتا ہوں کبھی کبھی شیخوپورہ جاتا ہوں اِس لیے اسلام آباد میں کوئی نہیں ہے جس کے ساتھ میں کوئی مزہ کر سکوں اِس لیے اگر آپ وہاں راولپنڈی شفٹ ہو جائیں گی تو آپ کے سکون کا بھی بندوبست ہو جائے گا اور میرا بھی بھلا ہو جائے گا . آنٹی نے کہا کیوں نہیں کا شی بیٹا میں تو اب تمہاری غلام ہوں جب دِل کرے آ جایا کرنا لیکن ایک بات کا خاص خیال رکھناکے تمہارا اور میرے تعلق کا کسی کو بھی پتہ نہیں چلنا چائے نہیں تو تمہیں پتہ ہے نا میں ایک جواں بیٹی کی ماں بھی ہوں میری اور میری بیٹی کی پوری زندگی خراب ہو جائے گی . میں نے کہا آنٹی جی آپ میری طرف سے مکمل اطمینان رکھیں اور بے فکر ہو جائیں آپ کو کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے. پِھر ہم کافی دیر یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے اور ٹائم دیکھا تو 4 بج گئے تھے میں نے سوچا سائمہ آنٹی نے کہا تھا 5 سے پہلے پہلے کام پورا کر کے اپنے کمرے میں چلے جانا . میں نے سوچا اب آنٹی کے ساتھ آخری رائونڈ بُنڈ میں لگا کر اپنے کمرے میں چلے جانا چاہیے . میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آب آپ کیا کیا موڈ ہے آگے کچھ نیا کرنا کا دِل ہے یا نہیں . تو آنٹی شاید میری بات سمجھ گئی تھی اور بولی کا شی بیٹا موڈ اور دِل تمھارے ساتھ ہی ہے لیکن سوچ رہی ہوں اتنے عرصے بعد بُنڈ میں اندر لے سکوں گی بھی نہیں . میں نے کہا آنٹی جی آپ کا اگر موڈ ہے اور دِل سے راضی ہیں تو میں بہت ہی آرام سے اپنا کام کروں گا اور کوشش کروں گا کے آپ کو کم سے کم تکلیف ہو . اور اگر آپ کا دِل نہیں مان رہا تو بھی کوئی بات نہیں ہے مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے میں آپ کی رضامندی کے بغیر نہیں کروں گا. آنٹی نے کہا ٹھیک ہے کا شی بیٹا میں بالکل تیار ہوں بتاؤ مجھے کیا کرنا ہے میں نے کہا آنٹی جی آپ صوفے پے اپنے بازو صوفے کی ٹیک کے اوپر رکھ کر گھوڑی اسٹائل میں جھک جائیں اور میں پیچھے سے کھڑا ہو کر آرام آرام سے اندر ڈ الوں گا لیکن اس سے پہلے مجھے آپ کوئی تیل یا لوشن دے دیں . تو آنٹی نے کہا تیل تو کمرے میں موجود نہیں ہے لیکن لوشن ہے وہ ڈریسنگ ٹیبل پے رکھا ہوا ہے لے لو. میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی جی آپ جا کر وہ پوزیشن بنا لیں میں لوشن لے کر آتا ہوں میں نے ڈریسنگ ٹیبل سے لوشن اٹھا یا اور صوفے کے پاس آ گیا وہاں آنٹی میری بتائی ہوئی پوزیشن میں ہی تھی ان کی بُنڈ کی موری پیچھے بالکل عیاں تھی موری کا رنگ برائون تھا اور موری زیادہ بڑی بھی نہیں تھی اور نہ ہی اتنی چھوٹی تھی . اور بالکل صاف تھی . میں نے ہاتھ پے لوشن نکالا اور پِھر اپنی ایک انگلی پے لگا کر آنٹی کی بُنڈ کے اوپر اور پِھر اندر باہر اچھی طرح اس کو نرم کر دیا اور پِھر میں نے لوشن کو اپنے لن پے اچھی طرح لگا دیا اور اس کو گھیلا کر دیا پِھر میں نے لوشن کی بوتل سائڈ پے پے رکھ کر اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور اس کی ٹوپی کو آنٹی کی موری پے سیٹ کیا اور پِھر ہلکا سا پُش کیا لیکن وہ لوشن کی وجہ سے سلپ ہو گیا اور اندر نہیں گیا . میں نے پِھر لن کو موری پے سیٹ کیا اور اِس دفعہ پہلے کی نسبت تھوڑا زیادہ پُش کیا تو میری ٹوپی تقریباً آنٹی کی بُنڈ میں گھس گئی میں نے اس ہی ٹائم پے اور زور لگا کے پوری ٹوپی کو اندر رنگ تک گھسا دیا آنٹی کے منہ سے ایک لمبی سی آہ نکل گئی اور انہوں سے اپنے ہاتھ کو پیچھے کر کے میرے پیٹ پے رکھ کر اشارہ دیا کے ابھی اور زیادہ اندر نہیں کرنا. میں وہاں ہی رک گیا کچھ دیر بعد آنٹی نے اپنا ہاتھ ہٹا کر دوبارہ صوفے کی ٹیک پے رکھ لیا میں سمجھ گیا تھا اب حرکت کر سکتا ہوں . اِس لیے میں نے لن کو آہستہ آہستہ اندر کرنا شروع کر دیا میں نے آنٹی کی موری کے اندر کافی زیادہ لوشن لگایا تھا اِس لیے لن زیادہ تنگ ہو کر اندر نہیں جا رہا تھا پِھر تقریباً جب ایک انچ یا اس سے کچھ زیادہ باقی باہر رہ گیا تو میں رک گیا اور رکنے کے کچھ ہی لمحوں کے بعد میں نے زور کا جھٹکا مارا اور پورا لن جڑ تک آنٹی کی موری میں گھسا دیا اور آنٹی کے منہ سے یکدم آواز نکلی ہا اے آ می جی میں مر گئ. میں پِھر وہاں ہی رک گیا اور کوئی 2 منٹ تک کوئی مزید حرکت نہ کی پِھر جب میں نے دیکھا اب کچھ سکون ہو گیا ہو گا میں نے پِھر آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کرنے لگا اور میں 5 منٹ تک آہستہ آہستہ ہی اندر باہر کرتا رہا جس سے اب لن اندر موری میں رواں ہو گیا تھا اور میں نے محسوس کیا اب آنٹی بھی آگے پیچھے کو ہو رہی ہیں اور ساتھ دے رہی ہیں پِھر میں نے نیچے سے ہاتھ ڈال کر ان کے ممے پکڑ لیے اور اور اپنی دھکے تیز کر دیئے اور دوسری طرف اب آنٹی کو بھی نشہ چڑ گیا تھا وہ بھی اس ہی سپیڈ سے آگے پیچھے ہو کر لن اندر باہر لے رہی تھی اور ان کے منہ سے سسکا ریاں نکل رہی تھیں اور کمرے میں دھپ دھپ کی آواز گونج رہی تھی. آنٹی کی سیکسی آوازوں نے مجھے اور زیادہ گرم کر دیا تھا میں نے طوفانی جھٹکے لگانے شروع کر دیئے اور پِھر یکدم آنٹی کا جسم جھٹکے کھانے لگا میں سمجھ گیا تھا آنٹی کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا ہے میں نے بھی اپنی رفتار کو جاری رکھا اور پِھر کو 5 سے 7 منٹ کے اندر ہی میں نے بھی اپنی منی کا فوارہ آنٹی کی بُنڈ کے اندر چھوڑ دیا اور ہانپنے لگا جب میرے لن سے منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تو میں نے لن کو باہر نکال لیا اور صوفے پے ہی گر گیا اور آنٹی بھی صوفے پے ہی لیٹ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی. کافی دیر بعد جب ہم دونوں کی سانسیں بَحال ہوئیں تو میں نے کہا واہ آنٹی جی کمال کر دیا ہے آپ نے آپ کی بُنڈ مار کر میری روح خوش ہو گئی ہے قسم لے لو ایسا مزہ پہلے نہیں آیا . آنٹی نے کہا مزہ مجھے بھی بہت آیا ہے تم نے بہت اچھے طریقے سے کیا ہے میں ڈ ر رہی تھی اتنے عرصے بعد پتہ نہیں اندر لے سکوں گی بھی نہیں اور تمھارا لن بھی لمبا اور موٹا تھا ایک ٹائم پر تم نے مجھے کافی درد دیا تھا. لیکن تمھارے لیے وہ بھی میں نے برداشت کر لیا ہے . میں نے کہا جی مجھے پتہ ہے میں نے آخر میں جھٹکا زور سے مارا تھا آپ کو تکلیف ہوئی ہو گی . اس کے لیے آپ سے معافی چاہتا ہوں بس بندہ نشے میں ہو تو پتہ نہیں چلتا ہے . آنٹی نے کہا کوئی بات نہیں ہے کا شی بیٹا مزہ لینے کے لیے اتنا درد تو برداشت کرنا پڑتا ہے. پِھر آنٹی کو میں نے اپنا نمبر دے دیا اور ان کا بھی نمبر لے لیا اور ان کو کہا جب آپ راولپنڈی آئیں گی تو مجھے پہلے کال کر دینا میں آپ کے لیے وہاں اچھا سے گھر بھی تلاش کر دوں گا اور آپ کا سامن بھی گھر میں سیٹ کروا دوں گا . آنٹی نے مجھے لمبی سی فرینچ کس کی اور کہا شکریہ بیٹا میں آنے سے پہلے تمہیں ضرور کال کروں گی اب میرا اس شہر میں تمہاری فیملی اور تمھارے سوا اور کون ہو گا . پِھر میں نے ٹائم دیکھا تو 4 بج کر35 منٹ ہو چکے تھے میں وہاں سے اٹھنے لگا تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا میرے باتھ روم میں ہی نہا لو . میں نے کہا آنٹی ضرور نہا لیتا لیکن ٹائم ایسا ہے کے نازیہ کبھی بھی اوپر آ سکتی ہے اور پِھر کوئی بھی مسئلہ بن سکتا ہے اِس لیے میں ڈرائنگ روم کے ساتھ والے باتھ روم میں نہا لیتا ہوں آپ اپنے باتھ روم میں نہا لو . آنٹی میری بات سن کر خوش ہو گئی تھی . پِھر میں وہاں سے نکلا اور دوسرے باتھ روم میں جا کر گھس گیا اور اچھی طرح نہا دھو کر اپنے کمرے میں آیا کپڑے تبدیل کیے اور ٹائم دیکھا تو 5 سے اوپر ٹائم ہو گیا تھا . میں کمرے سے نکلا اور نیچے ٹی وی لاؤنج میں چلا گیا وہاں پے سائمہ آنٹی اور آسمہ آنٹی بیٹھی باتیں کر رہی تھی اور نازیہ بھی وہاں بیٹھی کوئی دال صاف کر رہی تھی میں جا کر دوسرے صوفہ پے بیٹھ گیا اور ٹی وی لگا لیا میں نے تھوڑی دیر بعد جب آسمہ آنٹی کو دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی میں نے بھی مسکرا کر جواب دیا پِھر میری نظر سائمہ پے گئی وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی انہوں نے مجھے آنکھوں کے اشارے سے پوچھا آب کیا حال ہے میں نے بھی آنکھوں کے اشارے سے جواب دے دیا کے سب کچھ بہت ہی زبردست ہوا ہے. پِھر رات تک میں وہاں ہی بیٹھا رہا اور رات کو كھانا کھا کر ہی اوپر اپنے کمرے میں گیا اور رات کو تقریباً 1 بجے سائمہ آنٹی میرے کمرے میں آ گئی تھی اور میں نے اس کو پورا ایک گھنٹہ لگا کر اس کو چودا اور 2 دفعہ ان کا پانی نکلوایا پِھر وہ مطمن ہو کر اپنے کمرے میں چلی گئی.
اِس ہی طرح میں نے اگلے دن رات کو آسمہ آنٹی کو ان کے کمرے میں 1 بجے سے لے کر صبح 4 تک چودتا رہا اور ان کو بھی 3 دفعہ پھدی اور گانڈ میں فارغ کروایا اور خود بھی ہوا سائمہ آنٹی اس وقعت میرے والے کمرے میں اپنی بیٹی کے ساتھ سوئی ہوئی تھی . اس سے اگلا دن ہمارا آخری تھا کیونکہ وہ دن گزار کر اگلی صبح کو مجھے اور سائمہ آنٹی کو واپس شیخوپورہ جانا تھا. لہذا آخری دن میں نے دو پہر کو سائمہ آنٹی کو اپنے کمرے میں ایک دفعہ چودا اور آسماں آنٹی کو رات کے وقعت میں نے اپنے کمرے مطلب نازیہ کے کمرے میں بلا لیا تھا . لیکن رات کو جب میں آسمہ آنٹی کو چودرہا تھا تو ایک دھماکہ ہو گیا تھا . کیونکہ میں نے بیڈ کا گدا زمین پے بچھادیا تھا اور اس کے اوپر ہی آسمہ آنٹی کوچودرہا تھا اور یہ والا کمرہ سیڑھیوں کے بالکل نزدیک بنا ہوا تھا اور اس ہی طرف کمرے کی چھوٹی سی کھڑکی بھی تھی جس سے رات کے سناٹے میں آواز نیچے ٹی وی لاؤنج تک سنی جا سکتی تھی . ہوا یوں میں اِشرَت آنٹی کی طرح ہی آسمہ آنٹی کو گھوڑی بنا کر پیچھے اپنی ٹانگوں پے کھڑا ہو کر تھوڑا جھک کر آنٹی کے بُنڈ مار رہا تھا اِس پوزیشن میں لن پورا اندر تک جا کر جڑ تک ٹکراتا ہے تو عورت کو زیادہ مزا بھی اور تکلیف بھی محسوس ہوتی ہے کیونکہ مرد اِس پوزیشن میں پوری طاقت آسانی سے استعمال کر رہا ہوتا ہے . بس میں بھی کچھ یہ ہی کر رہا تھا اور میں نے یہ ہی سوچا تھا کے رات کا ٹائم ہے اور سائمہ آنٹی آسمہ آنٹی کے کمرے میں سوئی ہوئی ہے اور نیچے سے کس نے اوپر انا ہے سب سوئے ہوئے ہوں گے اِس لیے میں نے وہ چھوٹی کھڑکی کا پردہ اور اس کو بند کَرنا ضروری نہیں سمجھا حالاں کہ کھڑکی کی ایک سائڈ پوری بند تھی اور دوسری بھی تھوڑی سی ہی کھلی ہوئی تھی تا کہ کمرے میں حبس نا بن جائے. لیکن جو ہو کر رہتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے . کیونکہ نیچے شاید نازیہ پانی پینے یا باتھ روم جانے کے لیے اٹھی ہوئی تھی اور اس نے اگر کچن میں یا باتھ روم میں جانا تھا تو ٹی وی لاؤنج میں سے گزر کر ہی جانا تھا اِس لیے دونوں صورتوں میں اس کو آواز تو آنی ہی آنی تھی . اور یہ ہی ہوا اس نے آسمہ آنٹی کی سسکا ریاں شاید نازیہ نے سن لی تھی اور وہ اوپر آ گئی تھی اور وہ اوپر آ کر کھڑکی کے پاس پتہ نہیں کب سے کھڑی ہم دونوں کو دیکھ رہی تھی . حالاں کہ میں نے کمرے میں زیرو کا بلب لگایا ہوا تھا لیکن اس میں بھی باہر کا بندہ آسانی سے دیکھ سکتا تھا اب آسمہ آنٹی تو گھوڑی بنی ہوئی تھی اور اس کا منہ نیچے زمین پے تھا اور وہ تو دیکھ نہ سکی لیکن میری یکدم نظر کھڑکی پے پڑنے کی وجہ سے میرے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی کیونکہ نازیہ سب کچھ صاف صاف دیکھ چکی تھی وہ وہاں میرے اس کو دیکھنے کا بَعْد شاید چند لمحے ہی ٹھہری تھی لیکن اس کا چہرہ صاف بتا رہا تھا وہ ایک دم لال سرخ ہوا تھا اور غصہ اور بے یقینی کی کیفیت اس کے چہرے پے صاف عیاں تھی اور پِھر وہ کچھ ہی لمحوں میں وہاں سے غائب ہو گئی تھی . میری تو ا ب ہمت ہی جواب دے گئی تھی اور اِس کیفیت میں ہی میں نے نا جانے کب آنٹی کی بُنڈ میں اپنی منی چھوڑ دی تھی مجھے اِس بات کا بالکل بھی اندازہ نہ تھا اور پِھر میں فوراً گدےہی پے منہ کے بل گرگیا تھا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں . کچھ دیر بَعْد ہی آنٹی نارمل ہو کر بولی سناؤ کا شی بیٹا مزہ آیا . لیکن میں تو شاید پتہ نہیں کن سوچوں میں تھا میرا دماغ کام کَرنا چھوڑ گیا تھا آنٹی شاید بولتی رہی تھی لیکن میں کوئی بھی جواب نہیں دے رہا تھا اور میری آنکھیں بند تھی اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا وہ کب وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی . ان کو کچھ بھی نہیں پتہ تھا کے کیا دھماکہ ہو چکا ہے اور میں اِس دھماکے کی وجہ سے بہت زیادہ ہل گیا تھا اور پتہ ہی نہیں چلا مجھے کب نیند آ گئی اور میں سو گیا میری آنکھ اس ٹائم کھلی جب سائمہ آنٹی مجھے صبح کے 6 بجے زور زور سے ہلا کر اٹھا رہی تھی میں ان کے زور سے ہلانے کی وجہ سے فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا تو سائمہ آنٹی نے کہا کا شی ٹرین نکل جائے گی جلدی سے منہ ہاتھ دھو لو ہم کو اسٹیشن جانا ہے . میں فوراً اٹھا نہایا بھی نہیں اور جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر باہر آ کر اپنا بیگ اٹھایا اور نیچے چلا گیا نیچے آسمہ آنٹی نے بریڈ اور چائے گرم کی ہوئی تھی میں نے بس آدھا کپ چائے پی اور ایک آدھی سی بریڈ لی کیونکہ میں وہاں اب رکنا نہیں چاہتا تھا یہ شکر تھا نازیہ ابھی تک سوئی ہوئی تھی میں اس کا سامنہ نہیں کر سکتا تھا میں نے اور آنٹی سائمہ نے بھی آسمہ آنٹی کو سلام دعا کی ان کی ا می بھی جاگ رہی تھیں ان کو بھی سلام دعا کی پِھر ہم دونوں گھر سے نکل کر اسٹیشن کی طرف آ گئے

 

جاری ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

گھر سے لے کر اسٹیشن تک میں بالکل خاموش بیٹھا رہا میرا دماغ کہیں اور ہی لگا ہوا تھا . اسٹیشن پہنچ کر ہم نے تھوڑی دیر ہی انتظار کیا اور پِھر ٹرین آ کر اسٹیشن پے رکی ہم اپنی برتھ میں آ کر بیٹھ گئے . ہماری آنے اور جانے کی ٹکٹس تو پہلے ہی نزیر چچا نے بُک کروائی ہوئی تھیں اور ہمارے پاس آنے جانے کی دونوں سائڈ کی ٹکٹس پہلے سے موجود تھیں لہذا ہم برتھ میں آ کر بیٹھ گئے . آنٹی کی بیٹی تو گھر سے لے کر اب تک سوئی ہوئی تھی . ٹرین اپنے وقعت پے چل پڑی لیکن میں بدستور خاموش تھا اور کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا . ہمیں ٹرین میں سفر کرتے ہوئے تقریباً 1 گھنٹہ ہو چکا تھا لیکن ابھی تک ہم دونوں کے درمیان کوئی بات شروع نہیں ہوئی تھی . لیکن سائمہ آنٹی بار بار میری طرف دیکھ رہی تھی لیکن بات کوئی نہیں کر رہی تھی . پِھر آنٹی نے ہی بات شروع کی اور مجھے پوچھا کا شی کہاں کھوئے ہوئے ہو خیر ہے نہ اتنے خاموش کیوں ہو صبح سے لے کر ابھی تک خاموش بیٹھے ہو کچھ بول کیوں نہیں رہے ہو . تم نے تو 3 دن دِل بھر کا مزہ کیا ہے پِھر منہ کیوں لٹکا ے بیٹھے ہو . میں آنٹی کی بات سن کر ان کی طرف دیکھا اور پِھر دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا لیکن آنٹی کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا . آنٹی کی بیٹی ابھی تک ان کی جھولی میں ہی سوئی تھی . آنٹی نے اپنی بیٹی کو سیٹ کے اوپر لیٹا دیا اور پِھر میری طرف دیکھ کر بولی کیا بات ہے کا شی کیا مسئلہ ہے تم مجھے کچھ پریشان لگ رہے ہو . مجھے سائمہ آنٹی کو کوئی بھی بات بتانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی . لیکن پِھر سائمہ آنٹی نے کہا کیا مسئلہ ہے مجھے بتاؤ تم اتنے پریشان کیوں ہو اتنا کچھ ہمارے درمیان ہونے کے باوجود تمہیں مجھ پے اعتماد نہیں ہے. میں نے سائمہ آنٹی سے کہا ایسی بات نہیں ہے آنٹی جی بس تھوڑی پریشانی بنی ہوئی تھی اِس لیے خاموش بیٹھا تھا اور آپ کو بتانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی

آنٹی میری بات سن کر اپنی سیٹ سے اٹھ کر میری والی سیٹ پے آ کر بیٹھ گئی اور میرے کاندھے پے ہاتھ رکھ کر بولی کا شی بیٹا مجھے بتاؤ کیا مسئلہ ہے . میں نے پِھر ہمت کی اور رات کو جو دھماکہ ہوا تھا اس کی پوری ڈیٹیل سائمہ آنٹی کو بتا دی . میری پوری بات سن کر آنٹی کا منہ لال سوراخ ہو چکا تھا اور ان کے ماتھے پے پسینہ صاف نظر آ رہا تھا . وہ میری بات سن کر پہلے تو کچھ دیر منہ نیچے کر کے بیٹھی رہی . پِھر یکدم میرے کاندھے سے پکڑ کر مجھے زور سے ہلایا اور بولی کا شی اتنی بڑی بات ہو گئی تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں . میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی یہ سب رات کا واقعہ ہے اس ٹائم سب سوئے ہوئے تھے میں اس ٹائم کس کو جا کر بتاتا اور صبح کو ہم واپسی کے لیے نکل آئے ہیں . آسمہ آنٹی کو میں بتا نہیں سکتا تھا اور آپ کی ا می بھی جاگ رہیں تھیں . اگر میں بتاتا تو کس کو بتاتا اور کب بتاتا . اور اگر آسمہ آنٹی کو بتا دیتا تو ان کا تو رات کو ہی ہارٹ فیل ہو جانا تھا . آنٹی میری بات سن کر پِھر خاموش ہو گئی اور پِھر جلدی سے اٹھی اور اپنی سیٹ پے جا کر اپنے بیگ سے موبائل نکالا اور ٹائم دیکھنے لگی ابھی تقریباً8.30ہوئے تھے. پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ نے تو آسمہ آنٹی کو پورا یقین کروایا تھا کے آپ نازیہ کو سمجھا دیں گی اور اس کو اعتماد میں کر لیں گی . کیا آپ نے نازیہ سے بات نہیں کی تھی . آنٹی نے کہا کا شی میں نے نازیہ سے اِس لیے بات نہیں کی تھی کے ابھی تو تم صرف 3 دن کے لیے آئے ہو اور 3 دن میں کون سا نازیہ کو پتہ چل جائے گا اور جب باجی راولپنڈی چلی جائیں گی تو وہاں پے میں خود باجی کے پاس کچھ دن کے لیے چلی جاؤں گی اور وہاں ہی نازیہ کو ایک دوست بن کر اعتماد میں لے لوں گی اور سب کچھ سمجھا دوں گی . لیکن مجھے کیا پتہ تھا کے اس کو اتنی جلدی بات پتہ چل جائے گی 

Share this post


Link to post
Share on other sites


سائمہ آنٹی کی بات سن کر میری پھٹ کے ہاتھ میں آ گئی . میں نے کہا آنٹی جی اِس کا مطلب ہے کے آپ نے ابھی تک نازیہ سے کوئی بھی کسی قسِم کی بات نہیں کی ہے . تو آنٹی نے کہا ہاں کا شی ایسا ہی ہے . میں نے کہا آنٹی یہ تو کام بہت خراب ہو جائے گا اور آسمہ آنٹی کا کیا بنے گا وہ تو پہلے ہی بہت ڈری ہوئی تھی . آنٹی کا اپنے چہرہ بتا رہا تھا ان کو مجھ سے زیادہ پریشانی لگ گئی تھی. آنٹی بار بار موبائل پے ٹائم دیکھ رہی تھی میں نے آنٹی سے کہا آنٹی آپ نے اب کیا سوچا ہے . تو آنٹی نے کہا مجھے باجی کو بات پتہ لگنے سے پہلے نازیہ سے بات کرنا ہو گی اس کا منہ بند کروانا ہو گا . میں نے کہا تو آنٹی جی یہ اب کیسے ہو گا . تو آنٹی نے کہا باجی اِس ٹائم اسکول ہو گی اور وہ 2 بجے واپس آئے گی . مجھے اس سے پہلے نازیہ سے بات کرنی ہے اور نازیہ صبح 9 بجے تک اَٹھ جاتی ہے مجھے اس کے اٹھنے کا انتظار ہے پِھر میں اس سے فون پے بات کروں گی . میں نے اپنے موبائل میں دیکھا 9 بجنے میں ابھی 15 منٹ باقی تھے . پِھر ہم دونوں خاموش ہو کر بیٹھ گئے . سائمہ آنٹی کا چہرہ دیکھا تو وہ کسی گہری سوچ میں تھیں . اور میں بھی 9 بجنے کا انتظار کر رہا تھا . یکدم ہی آنٹی نے کہا کا شی مجھے موبائل پے بیلنس چاہیے کیونکہ نازیہ کا نیٹ ورک اور ہے اس پے میرا پیکج نہیں چل سکتا . میں نے کہا آنٹی جی اس کا نیٹ ورک کون سا ہے آنٹی نے کہا یو فون کا ہے میں نے کہا آنٹی جی میرا نمبر تو جیز کا ہے اگر آپ اس سے کریں گی تو پیکج کے بغیر 20 سے 25 منٹ بات ہو سکتی ہے ، آنٹی نے کہا کا شی یہ مسئلہ ایسا ہے اِس میں کافی ٹائم لگ سکتا ہے مجھے زیادہ بیلنس چاہیے 


میں نے کہا آنٹی جی پِھر تو تھوڑی دیر میں اگلا اسٹیشن آنے والا ہے میں وہاں سے آپ کو 500 کا بیلنس ڈلوا دیتا ہوں آپ آرام سے کھل کر بات کر لینا . تو آنٹی نے کہا ٹھیک ہے . جب اسٹیشن پے گاڑی رکے تو فوراً جا کر بیلنس ڈال دو مجھے جلد سے جلد نازیہ سے بات کرنی ہے . میں نے کہا آنٹی جی آپ فکر نہ کریں . کوئی.15 9 کا ٹائم ہو گا جب ٹرین نے اپنا ہارن بجایا تو میں سمجھ گیا اگلا اسٹیشن آ گیا ہے میں وہاں سے فوراً اٹھا اور ٹرین کے دروازے پے چلا گیا اور کوئی 5 منٹ بَعْد ہی ٹرین اسٹیشن پے جا کر رکی میں فوراً اونچے اترا اور جا کر اسٹیشن پے ایک شاپ بنی تھی وہاں سے دکاندار کو کہا بھائی موبائل کارڈ چاہیے تو اس نے کہا کارڈز نہیں ہیں ایزی لوڈ ہے . میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے آپ کو میں نمبر لکھواتا ہوں مجھے اس پے 500 کا بیلنس ڈال دیں اس نے فوراً نمبر پے بیلنس ٹرانسفر کر دیا میں نے اس کو 500 دیئے اور کچھ کھانے پینےکی اور چیزیں لیں اور کچھ دیر بَعْد اپنی برتھ میں آ گیا . جب میں برتھ میں اندر داخل ہوا تو سائمہ آنٹی نے شاید نازیہ کو کال ملائی ہوئی تھی مجھے دیکھ کر سائمہ آنٹی نے اشارہ کیا کے خاموشی سے بیٹھ جاؤ . میں وہاں سیٹ پے ہی چیزیں رکھ دیں آنٹی پہلے تو اس کے ساتھ نارمل یہاں وہاں کی باتیں کر رہی تھی پِھر میں نے سوچا آنٹی کو آرام سے بات کرنی چاہیے میں اٹھ کر برتھ سے باہر نکل آیا اور دروازے کے پاس کھڑا ہو کر باہر دیکھنے لگا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا لگ رہی تھی میں وہاں ہی دروازے میں بیٹھ گیا. مجھے وہاں بیٹھے بیٹھے پتہ ہی نہیں چلا کافی ٹائم ہو گیا تھا میں نے موبائل پے ٹائم دیکھا تو مجھے وہاں بیٹھے بیٹھے تقریباً 1 گھنٹہ گزر چکا تھا 


میں وہاں سے اٹھا اور اپنی برتھ کی طرف چلا گیا جب برتھ کے پاس پہنچا تو دیکھا آنٹی فون پے بات کر رہی تھی . میں یہ دیکھ کر حیراں بھی ہوا . میں نے برتھ کی بجاے وہاں سے سیدھا باتھ روم میں چلا گیا اور پِھر باتھ روم سے فارغ ہو کر باہر نکلا تو باتھ روم کے دروازے پے ایک بڑی ہی سیکسی سی کوئی لگ بھاگ 23یا24 سال کی لڑکی کھڑی باتھ روم خالی ہونے کا انتظار کر رہی تھی . جب ہم دونوں کی نظر آپس میں ملی تو میں اس کو دیکھ کر سمائل پاس کی اس نے بھی مجھے ہلکی سی سمائل پاس کی اور فوراً باتھ روم میں گھس کر دروازہ بند کر لیا میں وہاں ہی ساتھ میں ٹرین کے دروازے پے کھڑا ہو گیا اور باہر کی ٹھنڈی ہوا لینے لگا . کوئی 5 منٹ بَعْد ہی باتھ روم کا دروازہ کھلا اور وہ لڑکی باہر نکلی اور دوبارہ پِھر ہماری نظر ملی تو وہ اب تھوڑا شرما گئی اور سمائل دے کر اپنی برتھ کی طرف چلی گئی . جب وہ اپنی برتھ کی طرف جا رہی تھی تو اس کا پیچھے سے جسم دیکھا تو لن کو ایک زور کا جھٹکا لگا کیونکہ اس کی گانڈ اس کی کمر کے حساب سے کافی بڑی اور باہر کو نکلی ہوئی تھی اور چلتے ہوئے اوپر نیچے مٹک رہی تھی میں ابھی اس کی بُنڈ کا نظارہ ہی لے رہا تھا کے یکدم وہ لڑکی اپنی برتھ کے پاس پہنچ کر میری طرف دیکھا تو میں ڈر گیا اس نے شاید مجھے اپنی گانڈ کو گھور تے ہوئے دیکھ لیا تھا . اس نے مجھے مصنوعی سا غصہ دکھایا اور پِھر ہلکی سی سمائل دے کر اور شرما کر اپنی برتھ میں چلی گئی . میں اس لڑکی کو سمجھ گیا تھا کے اِس کو دانہ ڈالا جا سکتا ہے . میں وہاں دروازے پے ہی کھڑا ہو کر اس کے بارے میں سوچنے لگا کے شاید کوئی بات بن جائے . پِھر یکدم میرے دماغ میں ایک خیال آیا . میں نے یہاں وہاں دیکھا اور بوگی کے دوسرے کون پے ایک بندہ کھڑا سگریٹ پی رہا تھا میں چلتا ہوا وہاں گیا اور اس کو کہا بھائی صاحب آپ کے پاس کوئی پین ہے . تو اس نے اپنی فرنٹ جیب میں لگی پین مجھے دی میں نے اس کو اپنی جیب میں رکھی جو ٹکٹ تھی اس کو پھاڑ کر اس پے اپنا نمبر لکھا اور پین واپس اس بندے کو دے کر دوبارہ اس ہی دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور انتظار کرنے لگا شاید وہ لڑکی دوبارہ آئے تو کوئی دانہ ڈالوں گا


اور پِھر میرا شق ٹھیک ثابت ہوا کوئی 15 منٹ بعد دوبارہ وہ اپنی برتھ سے باہر نکلی اور دوبارہ باتھ روم کی طرف آنے لگی جب وہ رستے میں آ رہی تھی تو مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی . میں نے دوسرے بندے کی نظر سے بچ کر جلدی سے وہ نمبر والا کاغذ باتھ روم کے بالکل سامنے بنی ہوئی کھڑکی میں پھنسا دیا اور اس لڑکی کو اشارے سے سمجھا دیا اور دوبارہ دروازے سے باہر دیکھنے لگا جب وہ لڑکی باتھ روم میں چلی گئی میں فوراً وہاں سے چلتا ہوا اپنی برتھ میں آ گیا اور آ کر اپنی سیٹ پے بیٹھ گیا. جب میں سیٹ پے آ کر بیٹھا تو دیکھا اس ٹائم سائمہ آنٹی اپنا موبائل اپنے بیگ میں رکھ رہی تھی . لگتا تھا ابھی شاید کال بند ہوئی ہے . پِھر میں نے آنٹی سائمہ کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے پے ایک اطمینان تھا . میں نے آنٹی سے پوچھا آنٹی کیا ہوا کچھ مجھے بھی بتاؤ نازیہ نے کیا کہا ہے . آنٹی نے ایک لمبی سی سانس لی اور مجھے کہا کے کا شی بے فکر ہو جاؤ اب کوئی خطرے کی بات نہیں ہے میں نے نازیہ سے پوری بات کر لی ہے اور اس کو مکمل اعتماد میں لے لیا ہے اور وہ اب اپنی امی سے کسی بھی قسم کی بات نہیں کرے گی . میں نے کہا آنٹی پِھر بھی آپ بتاؤ تو آپ نے کیسے اس کو منایا ہے . تو آنٹی نے کہا یہ لمبی اسٹوری ہے میں پِھر کسی وقعت تمہیں بتاؤں گی ابھی ٹائم تھوڑا رہ گیا ہے شیخوپورہ آنے میں تھوڑا ٹائم باقی رہ گیا ہے . میں پِھر کسی دن تمہیں ڈیٹیل میں بتاؤں گی . ابھی تو میں نے نازیہ کو سمجھا دیا ہے اور مکمل اپنے اعتماد میں لے لیا ہے اب مجھے گھر پہنچ کر باجی سے بات کرنی ہے اور ان کو مکمل یقین کروانا ہے اور باقی رہی تمہاری بات میں آج باجی کے سکول سے چھٹی کرنے سے پہلے پہلے بات کر لوں گی


لیکن تم نے باجی کے ساتھ فلحال نہ ہی فون پے کوئی بھی رابطہ نہیں کرنا ہے اور نا ہی جب وہ راولپنڈی میں ہوں گی تو . جب باجی تمہیں خود راولپنڈی میں سیٹ ہو کر حالات سیٹ ہو جائیں گے تو وہ خود تم سے رابطہ کریں گی میں بھی ان کوسمجھا دوں گی . لیکن اس سے پہلے ان سے رابطہ نہ کرنا کیونکہ میں نازیہ کو پورا اعتماد اور موقع دینا چاہتی ہوں تا کہ بَعْد میں بھی کوئی مسئلہ نہ ہو . میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی جیسے آپ کی مرضی . اور پِھر میں نے آنٹی کو کھانے پینے کی چیزیں دی اور پِھر ہم یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے . اور میں یہ بھی سوچ رہا تھا کے شاید اس لڑکی نے وہ کاغذ وہاں سے اٹھایا بھی ہے کے نہیں . اور اگر اٹھا بھی لیا تو پتہ نہیں فون کرے گی بھی یا نہیں . تقریباً پونے بارہ بجے ہم شیخوپورہ اسٹیشن پے پہنچ گئے. پِھر اسٹیشن سے رکشہ کروایا اور سیدھا سائمہ آنٹی کے گھر آ گئے میں نے ان کو وہاں ان کے گھر چھوڑا اور اپنے گھر کی طرف آ گیا مجھے چچی کی امی نے بہت روکا کے كھانا کھا کر چلے جانا لیکن میں نے کہا مجھے بھوک نہیں ہے اور وہاں سے نکل کر اپنے گھر آ گیا اور جب گھر آیا چچی گھر پے ہی تھیں انہوں نے دروازہ کھولا پِھر مجھ سے سب کے بارے میں حال احوال پوچھا اور میں پِھر گرمی کی وجہ سے تنگ ہو گیا تھا میں نہانے کے لیے باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا. پِھر وہ دن بھی یوں ہی عام دن کے طرح گزر گیا اور میں اپنی روٹین کے مطابق ٹی وی دیکھ رہا تھا کے یکدم مجھے چچی کا وہ کام یاد آ گیا جو انہوں نے مجھے کہا تھا کے بلال جو کے ان کی چھوٹی بہن کا دیور ہے اس کو چچی کے لیے تیار کرنا ہے . میں تو یہ بھول ہی گیا تھا اور سوچنے لگا چچی نے میرے اتنے کام کرواےہیں اور میں نے اب تک ان کا ایک بھی کام نہیں کیا . میرے پاس اب دن بھی تھوڑے رہ گئے تھے آج جمعرات تھی اور اتوار والے دن مجھے واپس بھی جانا تھا . پِھر میں نے سوچا مجھے بلال والا کام آج سے ہی شروع کر دینا چاہیے اور اگر زیادہ کوئی مسئلہ ہوا تھا 2 یا 3 دن اور رہ لوں گا اور بلال والا کام کر کے ہی واپس اسلام آباد جاؤں گا . بس یہ ہی خیال آتے ہی میں نے ٹی وی بند کیا اور باہر آیا تو چچی کچن کا کام کر رہی تھی اور ابھی صبح کے10 ہی بجے تھے


میں نے چچی سے کہا چچی میں باہر جا رہا ہوں مجھے تھوڑی دیر ہو جائے گی آپ دروازہ بند کر لیں . تو چچی نے کہا کا شی بیٹا آج یکدم کہاں کا پروگرام بنا لیا ہے. میں نے کہا چچی جان ٹائم تھوڑا ہے اور آپ کا کام بھی تو کرنا ہے میں تو بھول گیا تھا اب یاد آیا ہے اِس لیے اس کام کے لیے جا رہا ہوں . میری بات سن کر چچی کے چہرے پے ایک رونق سی آ گئی . پِھر وہاں سے نکلا رکشہ کروایا اور سیدھا چچی کی امی کے محلے میں آ گیا جہاں پے بلال کی دکان تھی . جب میں بلال کی دکان پے پہنچا تو مجھے دیکھا کر حیران ہو گیا اور دکان سے باہر آ کر مجھے گلے لگا کر ملا اور بولا. ) واہ کا شی یار آج چن کیتھوں نکل آیا اے (میں نے کہا نہیں یار ایسی بات نہیں ہے . اور پِھر ہم دونوں گپ لگاتے ہوئے اندر دکان میں آ کر بیٹھ گئے بلال نے اپنی دکان سے ہی ٹھنڈی پیپسی کی بوتل کھول کر مجھے پیش کی جو میں گرمی ہونے کی وجہ سے بنا دیر کیے پی گیا .
بلال مجھ سے پوچھنے لگا یار کا شی تم اتنے دن سے یہاں آئے ہوئے ہو میری طرف آنے کا آج ٹائم ملا ہے. میں نے کہا نہیں یار ایسی بات نہیں ہے میں ذرا گھر کے کاموں میں مصروف تھا اِس لیے ٹائم نہیں مل سکا . میں نے کہا تم سناؤ کام دھندہ کیسا چل رہا ہے اور گھر میں سب کیسے ہیں . تو کہنے لگا گھر میں سب ٹھیک ہے کام بھی اچھا چل رہا ہے دال روٹی نکل آتی ہے . پِھر ہم یوں ہی یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے . باتوں ہی باتوں میں نے اس سے پوچھا یار شادی کب کر رہا ہے اب تو تم ہی گھر میں اکیلے رہ گئے ہو . تو وہ آگے سے بولا یار میری کس کو فکر ہے ہے یہاں جب بھی گھر والوں کو کہتا ہوں آگے سے کہتے ہیں ابھی دو یا چار سال صبر کرو . یار کا شی خود ہی بتا بندہ کتنا انتظار کرے اب تو دکان کو چلا تا ہوں پورا پورا خرچہ گھر میں دیتا ہوں


لیکن پِھر بھی میرے لیے کوئی ابھی راضی نہیں ہوتا بندہ ا ب کیا کرے کیسے گھر والوں کو کہے کے ا ب اکیلا گزارا نہیں ہوتا ہے . میں نے بلال کی کمر پے ہاتھ رکھ کر کہا یار حوصلہ رکھ ہو جائے گا . پِھر میں نے ویسے ہی گول مول کر کے کہا یار شادی نہیں ہوئی تو تم کون سا ویسے ہی بیٹھے ہو گے کسی نہ کسی کے ساتھ تو اپنا چکر لگایا ہی ہو گا . وہ میری بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا کا شی یار یہ شہر نہیں ہے کے یہاں اتنا آسانی سے بندہ چکر چلا لیتا ہے . یہاں پے گلی محلے میں ہر بندے کی دوسرے بندے پے نظر ہوتی ہے . میں نے کہا یار اب ایسی بھی بات نہیں ہے کے تیرے جیسا بندہ چُپ کر کے بیٹھا ہو اور کچھ بھی نہ کیا ہو . بلال میری طرف دیکھنے لگا پِھر اٹھ کر دکان کے دونوں طرف دیکھا پِھر کرسی پے بیٹھ گیا اور بولا یار ایسی بات نہیں ہے کا شی یار ایک آدھا بندہ تو رکھنا ہی پڑتا ہے لیکن یار اس کا بھی ڈر ہی لگا رہتا ہے محلے داری ہے اور سب لوگ یہاں جانتے ہیں . اِس لیے آج تک اس سے زیادہ مزہ نہیں مل پایا. میں نے کہا یار ہاں یہ تو ہے لیکن چلو یہ تو ہے کے تیرا ہفتے میں ایک دفعہ پانی تو نکلوا ہی دیتی ہو گی . تو بلال نے کہا ہاں یار ایک دفعہ تو ہو ہی جاتا ہے لیکن کبھی نہیں بھی ہوتا وہ بھی ڈرتی رہتی ہے اور مجھے بھی ڈر ہی لگا رہتا ہے . میں نے کہا یار بلال وہ خوش نصیب کون ہے جس کا تیرے ساتھ چکر ہے کوئی اپنی رشتہ دار ہے یا باہر گلی محلے کی ہے . تو بلال نے کہا کا شی یار اپنی کوئی رشتہ دار ہوتی تو کیا ہی بات تھی رشتہ دار سے تو بندے کو ڈر نہیں ہوتا ہے بندہ اپنے رشتہ داروں کے گھر تو آتا جاتا رہتا ہے اِس لیے زیادہ مسئلہ نہیں بنتا . یہ والی تو گلی کی ہے شادی شدہ ہے اِس کی دو ہی بیٹیاں ہیں میاں اس کا فوت ہو چکا ہے . میری دکان سے سودا سلف لینی آتی جاتی رہتی ہے بس ایسے ہی اس کے ساتھ بات سیٹ ہو گئی تھی اور پِھر آہستہ آہستہ اس کو لائن پے لے آیا تھا اب کبھی کبھی موقع ملتا ہے تو اپنا مزہ لے لیتا ہوں . لیکن یار ہر وقعت دِل میں ڈر ہی لگا رہتا ہے کے کسی نہ کسی کو پتہ چل گیا تو بڑی ہی بدنامی ہو گی . میں نے کہا یار یہ بات تو ہے لیکن پِھر تو کسی رشتہ داروں میں ہی کیوں نہیں کسی سے چکر چلا لیتا تم تو یہاں ہی رہتے ہو تھوڑی سی ہمت کرو آگے پیچھے دیکھو کوئی نہ کوئی مل جائے گی . تو فوراً بولا یار کا شی دیکھنا کیا ہے بندے تو 2 ہیں جن کا پکا پتہ ہے وہ پہلے بھی کسی کے ساتھ سیٹ ہیں بس میری ہی ہمت نہیں ہوتی . یہ بات کر کے بلال ایک دم خاموش ہو گیا شاید وہ یہ بات نہیں بتانا چاہتا تھا . وہ اب مجھ سے نظر چرا رہا تھا 

میں نے کہا یار بلال کیا ہوا چُپ کیوں ہو گئے ہو تو وہ آگے سے کچھ نا بولا میں اس کے اندر کا خوف سمجھ چکا تھا . میں اپنی کرسی اس کی کرسی کے نزدیک کی اور کہا یار بلال تو میرا یار ہے اور ہم آپس میں رشتہ دار بھی ہیں اور تیری میری اتنی کھلی گپ شپ ہے پِھر تم کیوں ڈر گئے ہو . میں تمہاری کوئی بھی بات کسی کو نہیں بتاؤں گا . تم کھل کر بتاؤ مجھے کون ہے اپنے رشتہ داروں میں جس کا تمہیں پتہ ہے . بلال تھوڑی دیر خاموش رہا پِھر بولا دیکھ یار کا شی اگر میں تمہیں اگر بتا بھی دوں گا تم غصہ کرو گے اور ہماری رشتہ داری خراب ہو جائے گی . میں نے کہا یار بلال میرے اوپر پورا بھروسہ رکھ نہ ہی میں تم سے ناراض ہوں گا اور نہ ہی غصہ کروں گا . بلال بولا سوچ لو کا شی اگر تمہیں بات پتہ چلی تو پِھر مجھے نہیں پتہ تمہارا آگے سے کیا ری ایکشن ہو گا . میں نے کہا یار تو فکر نہ کر یار تم نے تو پِھر یہاں پے کوئی نہ کوئی پھدی کا مزہ لے لیا ہے لیکن میں نے آج تک پھدی کی شکل تک نہیں دیکھی ہے . بلال ہکا بقا ہو کر میرا منہ دیکھنے لگا اور بولا یار کا شی آب جانے دے یار اسلام آباد جیسے شہر میں رہ کر تم نے آج تک پھدی نہیں دیکھی ہو گی . یہ بات مجھے حزم نہیں ہو رہی ہے . میں نے کہا یار بلال میرے سے قسم لے لو جو آج تک کسی پھدی کی شکل تک دیکھی ہو . یار یہ بات سچ ہے کے شہر میں یہ سب ہوتا ہے لیکن یار میں آج تک نہیں کر سکا کوئی لڑکی نہیں ملی اگر مل بھی جاتی تو اس کو کہاں لے کر جاتا اور مزہ کرتا اور تمہیں تو میرے ابو کا پتہ ہے ان کو شق بھی ہوا تو میری چمڑی اُتار دیں گے . بلال بولا ہاں یار یہ تو بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے تیرے ابو والی بات تو مجھے پتہ ہے . میں نے کہا یار بلال تم تو بڑے شکاری ہو یار مجھے بھی کوئی مزہ کروا دو . میری بات سن کر بلال ہنسنے لگا اور بولا اچھا یار تو بھی کیا یار کرے گا میں تیرے لیے کچھ نہ کچھ کرتا ہوں . پِھر میں نے کہا یار بلال بتا نہ اپنے رشتہ داروں میں کون ہے تو بلال پِھر کھڑا ہوا دکان کے دونوں طرف دیکھا اور پِھر اپنی کرسی پے بیٹھ کر لمبی سی سانس لی اور میرے نزدیک ہو کر بولا یار کا شی بندے تو دو ہیں. جن کا مجھے پکا پتہ ہے وہ دو جگہ پے مزہ لے رہے ہیں . ایک تو باجی ثوبیہ ہے جو نعیم بھائی کی سالی ہے اس کی شادی اپنی خا لہ کے بیٹے سے ہوئی ہے اس کا میاں کراچی میں کسی کمپنی میں کام کرتا ہے اور 2 مہینے بَعْد ہی گھر آ تا جاتا ہے . اور باجی ثوبیہ نے اپنے ہی دیور کے ساتھ چکر چلا یا ہوا ہے اس کے دیور کو تم جانتے ہی ہو . میں نے کہا ہاں جانتا ہوں خالد کو بڑی اچھی طرح جانتا ہوں وہ تو ہمارا ہی ہم عمر ہے لیکن یار باجی خالد سے تو کافی بڑی ہیں کم سے کم بھی 6 یا 7 سال کا فرق ہے . تو یہ کیسے ممکن ہے كے وہ خالد سے ہی مزہ لے رہی ہے . بلال نے کہا یار کا شی عورت کو بس تگھڑے لن کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ نہیں . اور ویسے بھی خالد سے میری بڑی گپ شپ ہے وہ بہت بڑا رنڈی بازہے اس نے کافی مال رکھا ہوا ہے . لیکن اس بہن چودنے آج تک دوست ہوتے ہوئے بھی مجھے کبھی کوئی مال ٹیسٹ نہیں کروایا . 
میں نے کہا جب تمہیں یہ پتہ ہے تو تم نے باجی کو ڈائریکٹ ہی دانہ ڈال دینا تھا . تو بلال بولا یار دانہ تو کب کا ہی ڈال دینا تھا لیکن تھوڑا مشکل تھا کیونکہ خالد ہر ٹائم گھر میں ہوتا ہے . اب خالد لاہور جار ہا ہے اب وہ وہاں ہاسٹل میں ہی رہے گا اور ہفتے کے ہفتے ہی گھر آیا کرے گا اِس لیے میں اب اپنا دانہ باجی کو ڈالوں گا


میں نے کہا اچھا تو دوسرا بندہ کون ہے . ابھی میں نے یہ سوال پوچھا ہی تھا کے یکدم دکان پے ایک عورت آ کر کھڑی ہوئی اور آ کر بولی بلال یہ یہ چیزیں دے دو . بلال اس عورت کو دیکھ کرمسکرا رہا تھا لیکن اس عورت نے اپنے چہرے پے کوئی بھی بات عیاں نہ ہونے دی . میں تھوڑی دیر کے لیے اٹھ کر دکان سے باہر آ گیا تا کہ بلال آرام سے اس عورت کو فارغ کر سکے میں جب باہر آیا تو پِھر اس عورت پے غور کیا وہ ایک درمیانےقد کی تھی اور اس کا جسم بھرا ہوا تھا لیکن وہ موٹی نہیں تھی اس کی گانڈ بھی کافی باہر کی نکلی ہوئی تھی اور ممے بھی موٹے موٹے تھے اس کا رنگ سانولا تھا . 
وہ عورت کوئی 10منٹ تک وہاں کھڑی چیزیں لیتی رہی اس کے ساتھ ایک 8 یا 9 سال کی بچی بھی تھی شاید اس کی بیٹی تھی . پِھر وہ عورت اپنا سامان لے کر چلی گئی میں دوبارہ دکان کے اندر آ کر کرسی پے بیٹھ گیا . میں نے بلال سے پوچھا یار یہ عورت کون تھی جس کو دیکھ کر تم بڑا مسکرا رہے تھے . تو بلال میری بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا یار کا شی یہ ہی تو وہ ہے جس کے ساتھ تیرے بھائی کا چکر ہے یہ ہی تو آج کل میری جان بنی ہوئی ہے اور میں اِس سے پورا پورا مزہ لے رہا ہوں . میں نے کہا یار بلال مال تو بڑا فٹ تم نے رکھا ہوا ہے . بلال نے کہا ہاں یار بڑی ہی گرم چیز ہے فل مزہ دیتی ہے . لیکن تو فکر نہ کر تیرا کام اِس سے کروا دوں گا . میں نے کہا واہ بلال یار میرے منہ کی بات لے لی ہے . بلال نے کہا مجھے 2 یا 3 دن دے دو میں تیرے لیے اِس کو رازی کر لوں گا . پِھر میں نے کہا یار ٹائم ہی ٹائم ہے یار . میں نے کہا یار بلال اب بتا بھی دو اپنے رشتہ داروں میں دوسرا بندہ کون ہے. تو بلال نے کہا دیکھ کا شی جس کا میں ابھی بتانے لگا ہوں اس کا سن کر تم نے غصہ نہیں کرنا ہے لیکن میں یہ بات پکی بتا رہا ہوں کے یہ بات سچ ہے . میں نے کہا یار تو بے فکر ہو جا مجھے بتاؤ کون ہے وہ . تو بلال نے کہا وہ کوئی اور نہیں تمہاری چچی ثمینہ ہے . میں نے ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا کیا.. تو بلال فوراً بولا میں نے کہا تھا نہ تم غصہ کر جاؤ گے اِس لیے میں نہیں بتا رہا تھا . میں نے کہا نہیں یار ایسی بات نہیں ہے مجھے غصہ نہیں آ رہا ہے اصل میں مجھے یقین نہیں آ رہا ہے . بلال نے کہا کا شی یار یہ سچ ہے ثمینہ باجی کا بہت عرصے سے چکر چل رہا ہے وہ اس کے ساتھ پورا پورا مزہ لیتی ہے میں نے کہا کون ہے تو بلال نے کہا اس کا اپنا کزن شوکت ہے جس سے وہ بہت عرصہ پہلے سے مزہ لے رہی ہے اور مجھے بھی بہت پہلے کا پتہ ہے . میں نے کہا جب تمہیں پتہ تھا تم نے پِھر ثمینہ چچی کو کیوں نہیں دانہ ڈَا لا . تو پِھر اس نے مجھے وہ والا واقعہ سنایا جو مجھے چچی نے بھی اپنی بہن کی شادی کا سنایا تھا . بلال نے کہا اس کے بَعْد میں نے دوبارہ کوشش نہیں کی لیکن ثمینہ باجی ابھی بھی شوکت سے مزہ لیتی ہے . پِھر میں نے بلال کو کہا یار تم نے مجھے بہت بڑی بات بتائی ہے مجھے تو یقین نہیں ہو رہا ہے . بلال نے کہا یار یقین آ جائے گا . بلال نے کہا جب سے تم آئے ہو ثمینہ باجی اپنے گھر میں ہی شوکت کو مل چکی ہے تمہیں پتہ نہیں ہے . میں نے کہا یار تم کیا بات کر رہے ہو تو وہ بولا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں جب شوکت ثمینہ باجی کے گھر گیا تھا تو میں اس کا پیچھا کرتے کرتے ثمینہ باجی کے گھر تک گیا تھا وہ اندر تمھارے گھر گیا تھا . میں نے کہا یار یہ کس دن کی با ت ہے تو بلال نے مجھے دن یاد کروایا تو میں نے فوراً کہا ہاں یار مجھے یاد آیا اس دن چچی نے مجھے کچھ سامان لینے کے لیے بازار بھیجا تھا ہو سکتا ہے اس ٹائم میں وہ آیا ہو گا . تو بلال نے کہا ہاں یار یہ ہی ہوا ہو گا . پِھر بلال نے کہا کا شی اگر تم یہاں کچھ اور دن رہو گے تو میں تمہیں تمہاری آنکھوں سے دیکھا دوں گا جب شوکت ثمینہ باجی کے گھر جائے گا . تو میں نے کہا یار کوئی بات نہیں ہے میں کچھ دن اور رک جاؤں گا میں یہ کھیل دیکھ کر ہی جاؤں گا . مجھے بلال کی دکان پے بیٹھے بیٹھے بہت ٹائم گزر چکا تھا جب ٹائم دیکھا تو 3 بجنے والے تھے میں نے بلال سے کہا یار بہت ٹائم ہو گیا ہے میں اب گھر چلتا ہوں کل پِھر دوبارہ چکر لگاؤں گا پِھر بیٹھ کر باتیں کریں گے . تو بلال نے کہا یار میں بھی دکان بند کر کے گھر جاؤں گا كھانا کھانے کے لیے تم بھی چلو كھانا کھا کر ہی جانا میں نے کہا نہیں یار چچی انتظار کر رہی ہوں گی . میں پِھر کسی دن کھا لوں گا . تو بلال نے کہا چلو ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی اور میں وہاں سے نکل کر رکشہ کروایا اور واپس گھر آ گیا میں جب گھر واپس آیا تو بچے اپنے کمرے میں آرام کر رہے تھے اور چچی بھی دروازہ کھول کر خود اپنے کمرے میں چلی گئی میں باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا نہا کر ٹی وی والے کمرے میں آ گیا تھوڑی دیر بَعْد چچی نے مجھے كھانا دیا


اور میں كھانا کھانے لگا میرے كھانا کھانے کے بَعْد چچی نے برتن اٹھا لیے اور کچن میں چلی گئی میں وہاں بیٹھا ٹی وی دیکھنے لگا چچی کچن سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور تقریباً کوئی 15 منٹ بَعْد ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر میرے ساتھ بیٹھ گئی اور مجھے سے بلا ل کے بارے میں پوچھا تو میں نے ان کو گلی والی عورت کے علاوہ پوری بات بتا دی جو میرے اور بلال کے درمیان ہوئی تھی جس کو سن کر چچی کو کافی اطمینان ہو گیا تھا . پِھر انہوں نے پوچھا کا شی نعیم بھائی کی سالی تو بہت بڑی کھلاڑی نکلی ہے میں تو جب بھی اس کو کسی رشتہ دار کے گھر میں دیکھا ہے وہ بہت ہی معصوم سی اور بھولی بھالی نظر آتی ہے مجھے یہ نہیں پتہ تھا کے وہ تو ہر روز لن لے کر سوتی ہے . اب میں اپنی بھابی کو بھی سیدھا کر دوں گی اس نے ہمارے گھر میں سب کو تنگ کر کے رکھا ہوا ہے اب مجھے جو بات پتہ چلی ہے میں تو اب اس کا منہ توڑدوں گی . پِھر چچی نے کہا خیر یہ باتیں چھوڑو یہ بتاؤ اب آگے کیا سوچا ہے بلال کو کیسے تیار کرنا ہے . میں نے کہا چچی جان آپ بے فکر ہو جاؤ . میں آپ کا مسئلہ حَل کر کے ہی جاؤں گا . چچی میری بات سن کر خوش ہو گئی . اتنی دیر میں ہی چچی کی بیٹی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور بولی ا می دیکھو نا بھائی مجھے میری گیم نہیں دے رہا ہے وہ مجھے مار رہا ہے . چچی اپنی بیٹی کی بات سن کر اس کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی. پِھر رات تک کوئی خاص بات نہ ہوئی اور وہ دن بھی یوں ہی گزر گیا اگلے دن میں جان بوجھ کر بلال کی دکان پے نہیں گیا . اور چچی بھی یہ دیکھ کر حیرا ن ہوئی لیکن مجھے سے کوئی بات نہ کی اور وہ دن بھی ایسے ہی گزر گیا . اگلے دن میں نے دوبارہ چچی کو بلال کا بولا اور اس کی دکان پے چلا گیا . وہ مجھے دیکھ کر خوش ہو گیا اور پوچھنے لگا یار کا شی کل کیوں نہیں آیا . میں نے کہا یار چچا کا ایک ضروری کام تھا اِس لیے وہاں چلا گیا اور تمہاری طرف نہیں آ سکا.
پِھر میں نے پوچھا اور سنا کیا نئی تازی ہے . تو وہ بولا یار کل تم نہیں آئے تھے میں کل اپنی محلے والی کے پاس گیا تھا اور جم کر اس کو چودا ہے اگر تم یہاں کل آ جاتے تو میں تمہیں دکان پے بیٹھا کر خود چلا جاتا لیکن تم نہیں آئے اِس لیے میں دکان بند کر کے ہی چلا گیا تھا . لیکن تیرے لیے ایک خوش خبری ہے کا شی میرے یار . میں نے فوراً کہا کیا خوش خبری ہے یار جلدی بتا . تو وہ بولا میں کل گیا تھا اپنی محلے والی کے پاس تو میں نے وہاں اپنا مزہ لے کر تیری بات اس سے کی تھی . پہلے تو وہ سن کر ناراض ہو گئی اور میری بات ہی نہیں مان رہی تھی . پِھر میں نے اس کو آخر میں دھمکی لگائی کے اگر تم میرے کزن کو خوش نہیں کرو گی تو میرے ساتھ تمہارا تعلق ختم اور میں دوبارہ تمھارے پاس نہیں آیا کروں گا . میں نے کہا تو پِھر اس نے کیا کہا تو وہ آگے سے بولا بولنا کیا تھا میری دھمکی کام کر گئی تھی اس کو بھی میرے علاوہ کس نے محلے میں پوچھنا تھا کیونکہ وہ بہت ڈرتی ہے اور میرے ساتھ بھی کوئی 1 سال بَعْد جا کر راضی ہوئی تھی . اِس لیے وہ مجھے نہیں چھوڑ سکتی اور ویسے بھی تیرا بھائی کا ہتھیار جو عورت لے لیتی ہے وہ دیوانی ہو جاتی ہے . میں نے کہا یار بلال پِھر کب مجھے بھی مزہ کروا رہا ہے . تو وہ بولا یار ہو جائے گا جلدی ہو جائے گا اس کی بڑی بیٹی کی عمر 16 سال ہے وہ بڑی ہے سب سمجھتی ہے وہ ہر اتوار کو اپنی دادی کے گھر جاتی ہے اس دن ہی میں اپنی پوری کوشش کروں گا تیرا کام ہو جائے . میں نے کہا یار بلال اگر تم میرا یہ کام کروا دو تو میں بھی تمہاری ایک مدد کر سکتا ہوں . وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا اور بولا کیسی مدد کا شی یار . میں نے کہا دیکھ بلال تم نے مجھے اس دن بتایا تھا کے ثمینہ چچی کا شوکت کے ساتھ چکر ہے 


اگر تم بھی چچی کا مزہ لینا ہو تو میں کچھ مدد کر سکتا ہوں . وہ حیران ہو کر میری طرف دیکھنے لگا اور کرسی میرے نزدیک کر کے مجھ سے بولا یار کا شی تو کیا پہیلیاں بجھا رہا ہے پوری بات بتا نہ . میں نے کہا یار میں تمہیں چچی کی ڈائریکٹ تو پھدی لے کر دے نہیں سکتا ہاں تمہیں اس کی پھدی تک پہنچنے تک کا راستہ بتا سکتا ہوں بلال نے کہا
کا شی یار میں ثمینہ باجی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں بس تم مجھے بتاؤ کرنا کیا ہے . میں نے کہا ہو گا یہ کے جس دن شوکت اب چچی کو ملنے آئے گا اس دن چچی لازمی مجھے باہر کسی کام کے لیے بھیج دے گی اس دن میں جب بازار جاؤں گا تو تم ہمارے گھر کے نزدیک ہی مجھے ملنا میں تمہیں گھر کی چابی دے دوں گا میں بازار چلا جاؤں گا تم ہمارے گھر چلے جانا اور آرام سے دروازہ کھول کر اندر چچی کے کمرے کے پاس چلے جانا اور میں کوشش کروں گا ان کے کمرے کی کھڑکی کھلی رکھوں تم وہاں سے ان کو خود دیکھ لینا اور پِھر اپنے موبائل پے ان کے شو کی چھوٹی سی ویڈیو بنا لینا اور وہاں سے نکل آنا اور پِھر تمھارے پاس پکا ثبوت ہو گا تم چچی کو بلیک میل کر کے ان کو چو د سکتے ہو . بلال میری بات سن کر خوش ہو گیا اور مجھے گلے لگا لیا . پِھر میں نے کہا بلال یار میں تو چچی کے ساتھ مزہ لے نہیں سکتا کیونکہ وہ میری سگی چچی ہے میرا ان کا رشتہ بھی ایسا ہے کے میں کچھ نہیں کر سکتا . لیکن تم جو بھی کرو گے . اس میں ایک بات کا خیال رکھنا کے اگر تمہارا چچی کے ساتھ کام بن جاتا ہے تو کسی کو بھی نہیں بتانا نہیں تو تمہیں پتہ ہے نہ بدنامی کتنی ہو گی . جیسے تم نے مجھے گلی والی عورت کا بتایا ہے بھول کر بھی کسی اور کو اپنا اور چچی کا نہیں بتانا . نہیں تو رشتہ داری بھی خراب ہو جائے گی اور بدنامی بھی بہت ہو گی . بلال بات سن کر بولا کا شی یار تم نے مجھے اتنا پاگل یا کم عقل سمجھا ہوا ہے . کے میں اپنے ہی رشتہ دار کی بات کسی اور کو بتاؤں گا مجھے ثمینہ باجی کی بات 2 سال سے پتہ ہے لیکن آج تک کسی کو نہیں بتائی تمہیں بھی ڈر کے ہی بتائی ہے اور تم رشتہ دار بھی ہو میرے یار بھی ہو اور رہی بات اس گلی والی عورت کی وہ کون سا ہماری رشتہ دار ہے اور ویسے بھی تم پہلے بندے ہو جس کے ساتھ وہ میرے علاوہ کرے گی وہ بھی میری اِجازَت کے ساتھ نہیں تو وہ میرے علاوہ کسی کو گھاس بھی نہیں ڈالتی ہے . اور ثمینہ چچی کا بتا کر میں اپنے پاؤں پے خود کلہاڑی نہیں ماروں گا . تم میری طرف سے بے فکر ہو جاؤ یہ بات مرتے دم تک میرے دِل میں ہی رہے گی . بلال کی باتیں سن کر اطمینان ہو گیا تھا اور اب میں سکون میں تھا. میں نے کہا بلال یار میں پِھر اتوار والے دن کا پروگرام پکا سمجھوں 


تو بلال نے کہا ہاں یار پکا ہی پکا ہے اب تو ہر حال میں اتوار والے دن تیرا کام کروا دوں گا . تم کل کو دن 11بجے تک آ جانا جب دوپہرکا ٹائم ہو گا میں دکان بند کر کے تمہیں اس کے گھر لے جاؤں گا اور خود كھانا کھانے گھر چلا جاؤں گا تمھارے پاس تقریباً 1 گھنٹے سے زیادہ کا ٹائم ہو گا تم آرام سے مزہ لے لینا اور مجھے پِھر مس کال کر دینا میں تمہیں آ کر لے جاؤں گا . میں نے کہا یہ ٹھیک پروگرام ہے میں ضرور کل 11 بجے تک پہنچ جاؤں گا . میں نے بلال کو کہا یار تمہیں کیا لگتا ہے اب شوکت آئے گا دوبارہ چچی کی ملنے تو بلال بولا یار کا شی وہ تو ہر ہفتے میں ایک چکر ضرور لگاتا ہے یہ تم آئے ہوئے ہو اِس لیے وہ ڈ ر کے مارے نہیں آ رہا . ویسے بھی اس کو اب چکر لگا ئے ہوئے ہفتہ ہونے والا ہے وہ اِس ہفتے میں ضرور آئے گا . پِھر میں نے پوچھا یار بلال ایک بات تو بتا یہ گلی والی آنٹی بُنڈ میں بھی لیتی ہے یا نہیں تو بلال ہنسنے لگا اور بولا یار سچی بات ہے مجھے تو آج تک اس نے بُنڈ میں کرنے نہیں دیا ہو سکتا ہے تمہیں کرنے دے لیکن پکا کچھ کہہ نہیں سکتا . ویسے کا شی یار بُنڈ کا تو مجھے بھی بڑا شوق ہے یار تنگ موری کس کو نہیں اچھی لگتی . اور یار ایک بات بتاؤں وہ ثویبہ باجی بُنڈ میں بھی لیتی ہے . اس کے ساتھ اگر میرا چکر چل گیا تو اس کی بُنڈ میں ضرور ڈ الوں گا. میں نے بلال سے پوچھا ویسے یار تم کو پہلی دفعہ خالد اور ثوبیہ باجی کا کیسے پتہ چلا تھا . تو بلال نے کہا یار تمہیں تو پتہ ہے ہمارا گھر اور خالد لوگوں کا گھر ساتھ ساتھ ہیں بس ایسے ہی ایک دن میں دوپہرکو گھر كھانا کھانے گیا ہوا تھا تو میں نے نہا کر کپڑے بھی بدلنے تھے اِس لیے میری ا می نے سارے کپڑے دھو کر چھت پے ڈالے ہوئے تھے میں اپنے کپڑے لینے کے لیے جب چھت پے گیا تو خالد لوگوں کی دوسری سٹوری ہماری چھت سے صاف نظر آتی ہے اور ان کا کچن بھی باہر والی سائڈ پے صحن میں بنا ہوا ہے اور شادی کے بعد سے لے کر ثوبیہ باجی اوپر والی اسٹوری پے ہی رہتی ہیں . میں جب اوپر چھت پے گیا تھا میری نظر ان کے صحن میں بنے ہوئے کچن میں گئی تو میں نے وہاں خالد کو ثوبیہ باجی کو چودتےہوئے دیکھا تھا . ثوبیہ باجی کچن کے شیلف پے بازو رکھ کر جھکی ہوئی تھی اور ان کی شلوار نیچے پاؤں میں پڑی تھی اور قمیض کمر تک اوپر اُٹھی ہوئی تھی اور پیچھے سے خالد نےسرف بنیان پہنی ہوئی تھی اور شلوار اس کی بھی پاؤں میں پڑی ہوئی تھی اور وہ ثوبیہ باجی کی بُنڈ میں لن اندر باہر کر رہا تھا . بس وہاں پے ہی ان کا پورا شو دیکھا تھا اور پِھر جب خالد دکان پے آتا تھا تو میں نے اس کو پوچھا تھا جو بعد میں اس نے اپنے اور ثوبیہ باجی کے تعلق کا مجھے پورا بتایا تھا . بلال کی باتیں سن کر میرا لن پورے جوش میں کھڑا ہو گیا تھا کیونکہ میں چچی کی بھابی کی بھی جانتا تھا اور اس کی بہن ثوبیہ کو بھی دونوں بہن بم تھیں دونوں بہن کا مست قسِم کا جسم تھا

دونوں بہن کا مست قسِم کا جسم تھا. پِھر میں نے کہا یار بلال تو ثوبیہ باجی کو دانہ ڈال اور پہلے اپنے کام سیدھا کر میں جب اگلی دفعہ آؤں گا تو پِھر مجھے بھی مزہ کروا دینا ابھی تو میرے پاس زیادہ دن نہیں ہیں اِس لیے گلی والے مال سے ہی مزہ لے لیتا ہوں . بلال نے کہا ٹھیک ہے کا شی یار اب جب تم اگلی دفعہ آؤ گے تو تمہیں ثوبیہ باجی کا مزہ کروا دوں . گا . ہو سکتا ہے کوئی اور مال بھی تمہیں چیک کروا دوں . میں حیران ہو کر بلال کی طرف دیکھنے لگا کے اور مال کون سا ہے جس کی بات کر رہا ہے . بلال میرا ری ایکشن دیکھ کر ہنسنے لگا اور بولا یار کا شی بے فکر رہو یار میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کے جب ثوبیہ باجی کو اپنے ساتھ سیٹ کر لوں گا تو ہو سکتا ہے ثوبیہ باجی کی مدد سے کوئی اور مال بھی رشتہ دار وںمیں کھانے کو مل جائے تم یہ عورتوں کو نہیں جانتے یہ بڑی چالاک ہوتی ہیں ان کو اندر خانہ سب کی خبر ہوتی ہے . میں بلال کی بات سن کر سوچنے لگا کے یار بلال کہہ تو ٹھیک رہا ہے . چلو اگلی دفعہ آؤں گا تو دیکھتے ہیں ثوبیہ باجی کے علاوہ اور کون سا مال کھانے کو ملے گا . پِھر میں اور بلال یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے اور میں پِھر وہاں سے گھر آ گیا اور آ کر چچی کو اپنے پروگرام کی علاوہ سب بتا دیا اور میں نے کہا چچی 
آپ منگل کو شوکت کو بلا لو اور اس سے مزہ بھی لے لو اور بلال والا کام بھی اس دن پورا ہو جائے گا پِھر اس کو میں آپ کا نمبر دے جاؤں گا وہ آپ کو خود کال کرے گا اور بس پِھر تھوڑا سا غصہ اور نخرا دکھا کر مان جانا اور گھر بلا کر مزہ لے لینا پِھر ایک دفعہ راسته کھل گیا تو پِھر آگے کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا. چچی میرا پلان سن کر ایک دم خوش ہو گئی اور آگے ہو کر مجھے ایک لمبی سی فرینچ کس دی . پِھر میں نے چچی کو کہا چچی جی آپ عشرت آنٹی سے بات کر لینا میں بدھ کو ان کی طرف جاؤں گا اور مزہ لوں گا اور جمعرات کو میں نے آپ کو نورین کو دونوں کو ایک ساتھ چودنا ہے میرا وعدہ یاد ہے نہ آپ کو اور پِھر جمه کو صبح میں نے اسلام آباد واپس جانا ہے . چچی میری بات سن کر بولی ہاں کا شی میری جان مجھے اپنا وعدہ یاد ہے تم بے فکر ہو جاؤ میں عشرت کو بول دوں گی اور بدھ کو اس کی طرف چلے جانا اور جمعرات کو میرے اور نورین کے ساتھ بھی کر لینا اب خوش ہو . میں نے کہا چچی جان خوش ہی خوش ہوں

 

Share this post


Link to post
Share on other sites


میں نے کہا چچی جان خوش ہی خوش ہوں . پِھر چچی کچھ دیر بعد اٹھ کر چلی گئی اور وہ دن بھی گزر گیا اگلا دن اتوار تھا میں صبح ہی اٹھ گیا اور سب کے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہونے کے بعد اپنے کمرے میں جا کر زیتون کے تیل لیا اور باتھ روم میں گھس گیا اور کوئی 1 گھنٹہ دبا کر لن کی مالش کی اور پِھر نہا دھو کر گھر میں چچی کو بتا کر بلال کی طرف نکل آیا .تقریباً 11.30ہو گئے تھے جب میں اس کی دکان پے پہنچ گیا تھا. بلال مجھے دیکھ کر بولا یار میں سمجھا تھا تو شاید بھول گیا ہے اِس لیے دیر سے آیا ہے . میں نے کہا نہیں یار زندگی میں پہلی دفعہ پھدی مل رہی ہے اور وہ بھی بھول جاتا یہ کیسے ممکن ہے میں ذرا رات کو لیٹ سویا تھا آج اتوار تھا سب گھر پے ہی ہیں سب رات کو لیٹ سوئے تھے اِس لیے میں بھی لیٹ سویا اور آنکھ بھی لیٹ ہی کھلی ہے . بلال نے کہا گھر چچا کو کیا بتا کر آئے ہو . تو میں نے کہا یہ بتایا ہے كے میں بلال کی طرف جا رہا ہوں تھوڑی دیر بعد آ جاؤں گا . اور پِھر تمہاری طرف آ گیا ہوں اب تم بتاؤ اگلا پروگرام کیا ہے . بلال نے کہا پروگرام پکا ہے بے فکر ہو جاؤ بات ہو گئی ہے اس کی بیٹی صبح ہی دادی کے گھر چلی گئی ہے . میں تقریباً 1 بجے دکان بند کروں گا اس ٹائم گلی سنسان ہوتی ہے اور کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا میں تمہیں اس کے گھر چھوڑ آؤں گا تم اپنا کام کر کے مجھے مس کال دے دینا میں آ کر تمہیں لے جاؤں گا . اور کوشش کرنا 3 بجے سے پہلے پہلے کام پورا کر کے مجھے مس کال کر دینا . زیادہ دیر اچھی نہیں ہوتی محلے داری بھی دیکھنی پڑتی ہے . میں نے بلال کو کہا یار تو بے فکر ہو جا جیسا تم کہہ رہے ہو میں ویسا ہی کروں گا . پِھر میں اور بلال یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے اور تقریباً پونے ایک بجے بلال نے کہا کا شی تیاری پکڑ لے ابھی ہم ان کے گھر ہی جائیں گے . میں نے کہا یار میں تو تیار ہی تیار ہوں . پِھر بلال دکان کے باہر پڑی چیزیں اندر رکھنے لگا اور اور ساری چیزیں اندر رکھ کر مجھے دکان سے باہر آنے کا کہا اور پِھر ہم دکان بند کر کے اس عورت کے گھر کی طرف چلے گئے . اس عورت کا گھر بلال کی دکان سے زیادہ دور نہیں تھا اس گلی کے آخر میں ایک ڈبل اسٹوری گھر تھا جس اوپر والی اسٹوری پے وہ عورت رہتی تھی دو پہر کا ٹائم تھا گلی سنسان تھی پِھر ہم جب اس عورت کے دروازے کے پاس پہنچےتو بلال نے اپنے موبائل سے کوئی نمبرملایااور کوئی 1 منٹ بعد ہی چھوٹا والا دروازہ کھلا یہ دروازہ اوپر والی اسٹوری پے جا رہا تھا علیحدہ رستہ بنا ہوا تھا. پِھر بلال آگے آگے اور میں پیچھے اس کے چلتا ہوا اوپر چلے گئے وہ عورت اوپر اپنے کچن کے پاس کھڑی تھی . پِھر بلال نے کہا باجی یہ آپ کا مہمان ہے اِس کا اچھا سا خیال رکھنا ہے . وہ عورت بلال کی بات سن کر آہستہ سے بولی اچھا ٹھیک ہے . اور پِھر بلال یہ بول کر چلا گیا وہ عورت مجھےسےبولی آپ اندر کمرے میں بیٹھو میں آتی ہوں . وہ مجھے اپنے بیڈروم میں بیٹھا کر خود باہر چلی گئی


مجھے تھوڑی دیر بَعْد نیچے کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی اور پِھر تھوڑی دیر بَعْد ہی وہ عورت میرے لیے ٹھنڈی پیپسی گلاس میں ڈال کر لے آئی . اور مجھے گلاس دے کر پِھر باہر چلی گئی . میں نے گلاس کو ایک منٹ کے اندر ہی خالی کر دیا . اور گلاس کو پاس میں رکھی ٹیبل میں رکھ دیا . اور میں اس عورت کا انتظار کرنے لگا کوئی10 منٹ کے بَعْد وہ عورت دوبارہ کمرے میں آئی اور آ کر کمرے میں رکھی ہوئی کرسی پے بیٹھ گئی اور میں اس کے بیڈ پے بیٹھا تھا . کچھ دیر بَعْد عورت بولی آپ كھاناكھا ئیں گے . میں نے کہا نہیں آنٹی مجھے بھوک نہیں ہے . تو وہ عورت خاموش ہو گئی . میں نے ہمت کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ میرے پاس ٹائم کم تھا . میں نے کہا آنٹی جی آپ کے میاں کب فوت ہوئے تھے . تو وہ بولی وہ آج سے 4 سال پہلے ہارٹ اٹیک کی وجہ سے فوت ہوئے تھے . پِھر میں نے پوچھا آپ کی بیٹی کس کلاس میں پڑھتی ہے . تو وہ بولی اس نے ابھی میٹرک کا امتحان دیا ہے وہ اپنے رزلٹ کا انتظار کر رہی ہے. میں نے اب ڈائریکٹ بات شروع کرنے کا سوچا اور بولا آنٹی جی آپ کو تو پتہ ہے میں یہاں کس لیے آیا ہوں . اِس لیے میں آپ ڈائریکٹ ہی پوچھ رہا ہوں کے آپ کا کیا دِل ہے اگر آپ ہنسی خوشی راضی ہیں تو مجھے بہت خوشی ہو گی اور میرا مکمل یقین رکھیں کے میں آپ کو کسی قسم کا نقصان نہیں دوں گا اور نہ ہی آپ کی عزت کو باہر کسی کے آگے خراب کروں گا اور نہ ہی کبھی آپ کو بلیک میل کروں گا . یہ میرا آپ سے وعدہ ہے اور ویسے بھی میں یہاں تو رہتا نہیں ہوں میں تو اسلام آباد میں رہتا ہوں یہاں اپنی دادی کے گھر ہی آتا ہوں . اور پِھر دوبارہ واپس چلا جاؤں گا اور کبھی کبھی یہاں آنے ہوتا ہے . اِس لیے آپ کو مجھ سے کوئی بھی پریشانی نہیں ہو گی . باقی آپ کی اپنی مرضی ہے اگر آپ دِل سے راضی نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں میں ابھی آپ کے گھر سے چلا جاتا ہوں. وہ عورت میری بات سن کر خاموش بیٹھی رہی اور پِھر تھوڑی دیر بعد اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی . اور کچھ دیر بعد دوبارہ کمرے میں آئی اور آ کر اندر سے دروازہ بند کر دیا اور باقی لائٹس آف کر کے زیرو کا بلب آن کر کے بیڈ پے آ کر میرے ساتھ بیٹھ گئی . مجھے آنٹی کا اشارہ سمجھ لگ گیا تھا. میں نے بھی اور ہمت کی اور آنٹی کی گردن سے ہاتھ ڈال کر اپنے اور نزدیک کر لیا اور اپنے ہونٹ ان کے ہونٹوں پے رکھ دیئے اور فرینچ کس کرنے لگا . آنٹی بھی کافی گرم عورت تھی جلد ہی اس نے اپنے بازو میری گردن میں ڈال کر میرا فل ساتھ دینے لگی . اور ہم نے کوئی 5منٹ تک اسٹائل میں ایک دوسرے کو فرینچ کس کی میں لگاتار آنٹی کی زُبان اپنے منہ میں لے کر سک کر رہا تھا اور آنٹی بھی ایسے ہی میرا ساتھ دے رہی تھی


پِھر میں نے آنٹی کو بیڈ کے اوپر ہی لیٹا دیا تھا اور ان کے اوپر چڑھ کر ان کو پورے جوش سے کسسنگ اور سکنگ کر رہا تھا آنٹی کی منہ سے بڑی ہی سیکسی آوازیں نکل رہی تھیں . میں تقریباً 10سے 15 منٹ تک آنٹی کے ساتھ سکنگ اور کسسنگ کرتا رہا پِھر میں نے اور مزہ لینے کا سوچا اور آنٹی کے کان میں کہا آنٹی جی کپڑے اُتار دیتے ہیں پِھر میں آپ کو اور مزہ دیتا ہوں وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی کا شی تم خود ہی میرے کپڑے اُتار دو . میں حیران ہوا میرا نام آنٹی کو کس نے بتایا ہے پِھر مجھے یادآیا بلال نے ہی بتایا ہو گا اور میں نے آنٹی کے کپڑے اُتار دیئے آنٹی نے برا پہنی ہوئی تھی وہ بھی اُتار دی آنٹی کے ممے کافی بڑے بڑے اور موٹے تھے ان پے برائون رنگ کی گول گول نپلز بنے ہوئے تھے. جب آنٹی کی شلوار اُتار ی تو نیچے انڈرویئر نہیں پہنا ہوا تھا اور ان کی پھدی بھی کمال کی تھی لگتا تھا آج ہی شیو کی ہے. پھدی کا منہ تھوڑا کھلا تھا لیکن پھدی کے ہونٹ اندر کی طرف ہی تھے یونکہ 2 بچے ہونے کی وجہ سے اتنا فرق تو پڑنا ہی تھا. پِھر میں نے اپنے کپڑے اُتار دیئے اور جب میں پورا ننگا ہو گیا تو آنٹی نے میرا لن دیکھنے لگی . میں نے کہا آنٹی جی کیسا لگا میرا ہتھیار تو آنٹی بولی اچھا ہے لیکن بلال کا تم سے تھوڑا بڑا ہے لیکن تمہاری ٹوپی بلال کے لن سے تھوڑی بڑی ہے. پِھر آنٹی کو میں نے کہا آپ لیٹ جاؤ میں آپ کو مزہ دیتا ہوں جب آنٹی لیٹ گئی تو میں ان کی ٹانگوں کے درمیان آ کر منہ کے بل لیٹ گیا آنٹی حیران ہو کر مجھے دیکھ رہی تھی . شاید اس کو نہیں پتہ تھا میں کیا کرنے لگا ہوں . لیکن جب میں نے اپنی زُبان نکل کر آنٹی پھدی پے پھیری تو آنٹی کے منہ سے ایک لذّت بھری سسکی نکل گئی . اور بولی کا شی یہ کیسا مزہ ہے مجھے آج پہلی دفعہ ایسا مزہ ملا ہے یہ تم نے کہاں سے سیکھا ہے . میں نے کہا آنٹی یہ تو عام سی بات ہے یہ تو تقریباً ہر مرد کرتا ہے . تو آنٹی نے کہا یقین کرو کا شی بیٹا نہ آج تک میرے میا ں نے ایسا کیا اور اور نہ ہی بلال نے تم پہلے ہو جو یہ مزہ دے رہے ہو . میں نے کہا آنٹی جی پِھر آپ دیکھتی جاؤ میں آج آپ کو کیسا مزہ دیتا ہوں . پِھر میں نے آنٹی کی پھدی چاٹنی شروع کر دی میں اپنی زُبان آنٹی کی بُنڈ کی موری سے لے کر پھدی کی موری تک اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر پھیر رہا تھا اور آنٹی کے منہ سے اونچی اونچی لذّت بھری آوازیں نکل رہی تھیں . . ہا ہا اوہ اوہ آہ آہ آہ اوہ آہ.. میں کوئی 5 منٹ تک آنٹی کی پھدی اور بُنڈ کی موری کو سک کرتا رہا پِھر میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے آنٹی کی پھدی کا منہ کھولا اور اپنی زُبان کو پورا اندر باہر کرنے لگا میری اِس حرکت نے آنٹی کو پاگل کر دیا تھا اور وہ نیچے سے بُنڈ اٹھا کر میری زُبان اپنی پھدی میں لے رہی تھی

میں نے کچھ دیر تو آہستہ آہستہ کیا پِھر میں نے آنٹی کو فل مزہ دینے کے لیے اپنی سپیڈ تیز کر دی جس سے آنٹی اور زیادہ مست ہو گئی تھی اور میرے سر پے ہاتھ رکھ دیئے تھے اور اپنے ہاتھوں سے مجھے اوپر سے دبا رہی تھی اور نیچے سے اپنی بُنڈ اٹھا کر زُبان سے چود وا رہی تھی اور اس کو لمبی لمبی سسکیاں اور لذّت بھری آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں. اور کچھ دیر بعد ہی آنٹی کا جسم اکڑ نے لگا اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے میرے سر کو اپنی پھدی پے دبا دیا اور نیچے سے اپنی بُنڈ بھی اٹھا لی تھی . اور کچھ ہی لمحوں کے بعد مجھے آنٹی کا گرم گرم لاوا اپنے منہ اور زُبان پے محسوس ہوا اور آنٹی نے کافی زیادہ اپنا پانی میرے منہ پے چھوڑا . آنٹی اپنا پانی چھوڑ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی اور ہانپ رہی تھی. میں اٹھ کر آنٹی کے ساتھ ہی بیڈ پے ان کے پہلو میں لیٹ گیا . کچھ دیر بعد جب آنٹی کی سانسیں بہال ہوئی تو آنٹی بولی واہ کا شی بیٹا آج تو مزہ ہی آ گیا ایسا مزہ مجھے زندگی میں کبھی نہیں ملا آج میں نے سب سے زیادہ پانی چھوڑا ہے . تم نے میری آج گرمی نکال دی ہے. پِھر میں نے کہا آنٹی جی آپ کا باتھ روم کہاں پے ہے مجھے اپنا منہ دھونا ہے . آنٹی فوراً اٹھی اور لائٹ آن کی جب میں نے فل لائٹ میں ان کی گانڈ کو پیچھے سے دیکھا تو میرا لن نیچے سے سلامی دینے لگا آنٹی کی بُنڈ بڑی ہی مزے کی تھی ان کا جسم کافی سڈول تھا اور بُنڈ کی دونوں سائڈ کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی . میں نے سوچا باتھ روم سے واپس آ کر آنٹی سے بُنڈ مروا نے کا پوچھوں گا . آنٹی نے دروازہ کھولا اور مجھے بولی بیٹا وہ سامنے باتھ روم ہے وہاں چلے جاؤ میں بیڈ سے اٹھ کر باتھ روم چلا گیا . جب منہ دھو کر اور کلی کر کے کمرے میں آیا تو آنٹی بیڈ پے ہی ننگی لیی ہوئی تھی . میں بھی ابھی تک ننگا ہی تھا میں بیڈ پے جا کر ان کے ساتھ لیٹ گیا . پِھر میں نے آنٹی سے کہا آنٹی جی میں آپ سے ایک بات کرنی تھی اگر آپ برا نہ مانو تو وہ بولی پوچھو پوچھو میں برا نہیں مانو ں گی . میں نے کہا آنٹی جی مجھے بُنڈ مارنے کا بہت شوق ہے کیا آپ نے کبھی بُنڈ میں لیا ہے . آنٹی میری بات سن کر میری طرف دیکھا اور بولی کا شی بیٹا مجھے پتہ ہے جوان لڑکوں کو تنگ موری کا بہت شوق ہوتا ہے بلال بھی مجھے کئی دفعہ کہہ چکا ہے لیکن بیٹا میں نے آج تک کبھی بُنڈ میں نہیں لیااور نہ ہی میں لے سکتی ہوں . یہ لن پھدی میں ہی اتنا تنگ اور درد دیتے ہیں تو بُنڈ میں تو سوچ کر ہی ڈ ر لگ جاتا ہے. میں آنٹی کی بات سن کر تھوڑا مایوس بھی ہوا اور خاموش ہو گیا . آنٹی نے کہا کا شی تمہیں میری بات اچھی نہیں لگی . میں نے کہا نہیں آنٹی جی ایسی بات نہیں ہے میں آپ کی اِجازَت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا اِس لیے آپ سے پہلے پوچھ لیا تھا . آنٹی تھوڑی دیر خاموش ہو گئی پِھر بولی کا شی ایک بات کہوں تم کسی کو بتاؤ گے تو نہیں میں نے کہا آنٹی جی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں میں کوئی بچہ ہوں یا پاگل ہوں جو اپنے ہی پاؤں پے کلہاڑی ماروں گا . آپ بتاؤ کیا بتانا ہے . آنٹی نے کہا کا شی تم نے آج جو مجھے مزہ دیا ہے یقین کرو زندگی میں کسی نے نہیں دیا مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کے مرد زُبان سے بھی ایسا مزہ دے سکتا ہے . اور آج تم نے مجھے خوش کر دیا ہے . اِس لیے میں تمہیں ناراض نہیں کر سکتی میں تمہیں اپنی بُنڈ تو نہیں دے سکتی لیکن تمھارے لیے ایک بہت ہی ٹائیٹ پھدی کا انتظام کروا سکتی ہوں اور اگر تمہاری اس سے بات بن جائے تو تم اس کو بُنڈ کے لیے بھی راضی کر سکتے ہو . لیکن ایک شرت یہ ہے کے یہ بات بلال کو بھی نہیں پتہ چلنی چاہیے . میں نے کہا آنٹی جی آپ مجھ پے مکمل یقین رکھیں میں یہ بات آخر دم تک کسی کو نہیں بتاؤں گا

۰
آپ بتاؤ وہ کون ہے . آنٹی نے کہا وہ میرے میاں کی بہن ہے . اس کی شادی کو ابھی 1 سال ہی ہوا ہے وہ لاہور میں رہتے ہیں . لیکن اب اس کے میاں کی ٹرانسفر تمھارے شہر میں ہو گئی ہے وہ شادی کے بَعْد سے تقریباً 6 مہینے سے وہاں اسلام آباد میں ہی رہتا ہے . وہ لاہور میں کسی پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا لیکن پِھر اس کی کمپنی کو اسلام آباد میں کام ملا تھا تو وہاں چلا گیا ہے ابھی تو وہ وہاں اکیلا رہتا ہے . لیکن میں کچھ دن پہلے لاہور گئی تھی تو میرے میاں کی بہن نے بتایا کے اس کے میاں کا وہاں کام لمبا عرصے کا ہے اِس لیے وہ چاہتا ہے کے اپنی بِیوِی کو بھی ساتھ وہاں لے جائے گا اور وہاں کرا یہ کے گھر لے کر رہے گا. میں نے کہا آنٹی جی ان کی ابھی نئی شادی ہوئی ہے اور ان کا میاں بھی ان کے ساتھ ہے اور وہ تو ان کو کبھی بھی لن کی کمی محسوس نہیں ہونے دے گا . پِھر اِس میں میرا حساب کیسے فٹ ہو گا. آنٹی بولی حوصلہ رکھو میں پوری بات بتا رہی ہوں نہ پہلے پوری بات سن لو پِھر اپنا فیصلہ کر لینا . میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی جی آپ بولو جو بھی بولنا ہے . پِھر آنٹی نے کہا ایک تو یہ ہے شاید میرے میاں کی بہن اگلے ایک مہینے تک وہاں چلی جائے گی . دوسرا یہ ہے کے میرے میاں کی بہن میری بہت اچھی سہیلی بھی ہے جب میرے میاں زندہ تھے تو وہ یہاں کئی کئی مہینے میرے پاس آ کر رہتی تھی . میری اس کے ساتھ کھلی گپ شپ تھی وہ اپنی ہر بات مجھے سے ہی شیئر کرتی تھی . اور یہ بھی بتا دوں وہ ایک بڑی گرم لڑکی تھی . وہ جوان بھی ہے اور جذبات بھی رکھتی ہے . جوانی میں تو ہر عورت کا خواب ہوتا ہے کے اس کو ایسا مرد ملے جو اس کو دِل وجان سے جسمانی اور دنیاوی لحاظ سے ہر وقعت خوش رکھے . اور جب اس کی شادی ہو گئی تھی تو بھی وہ مجھے سے یہاں ملنے آتی رہتی تھی . اس نے مجھے بتایا تھا اس کا میاں اچھا بندہ ہے لیکن مسئلہ یہ ہے وہ جسمانی لحاظ سے زیادہ خوش نہیں رکھ سکتا . وہ میرے ساتھ تقریباً ہفتے میں 2 یا 3 دفعہ کرتا ضرور ہے لیکن وہ اپنا پانی چھوڑ کر پیچھے ہو جاتا ہے اور مجھے رستے میں ہی چھوڑ دیتا ہے . اور میں اکیلے ہی کبھی اپنی انگلی سے کبھی کچھ اور کر کے اپنے جسم کو تسکین دے کر ٹائم گزر دیتی ہوں


اس کو میرے اور بلال کے تعلق کا بھی پتہ ہے . اس نے ایک دفعہ بہت تنگ ہو کر مجھے کہا بھی تھا بھابی مجھے بھی ایک دفعہ بلال سے کروا دو . لیکن میں نے منع کر دیا تھا . کیونکہ اگر میں بلال سے ایک دفعہ اس کا کام کروا دیتی تو تو بلال کا بس نہیں چلتا اس کو ہر روز ہی پھدی چاہیے وہ پھدی کے معاملے میں بہت ٹھرکی ہے اور جب ایک دفعہ اس کا کام ہو جانا تھا تو اس نے پھدی کے چکر میں میرے میاں کی بہن مہوش کے پیچھے لاہور تک چلے جانا تھا اور وہاں پے مسئلہ بن جانا تھا. کیونکہ مہوش کا سسرال جوائنٹ فیملی سسٹم ہے اور اس کا دیور وکیل بھی ہے اور بڑا سخت مزاج کا بندہ ہے . کسی نہ کسی دن اگر بلال وہاں پکڑا جاتا تو مہوش کی زندگی برباد ہو جانی تھی . بس اِس ڈ ر سے ہی آج تک میں نے مہوش کا کام نہیں کروایا اور نہ ہی بلال کو کبھی مہوش کا پتہ لگنے دیا ہے . میں نے کہا آنٹی جی میں آپ کی پوری بات سمجھ گیا ہوں لیکن میرا ایک سوال ہے کے جب مہوش اسلام آباد چلی جائے گی تو میرا اس کے گھر آنا جانا کیسے ہو گا اور دوسرا اس کے میاں کا کیا ہو گا اگر اس کو پتہ چل گیا تو پِھر کیا ہو گا . آنٹی نے کہا دیکھو کا شی تم خود اسلام آباد میں رہتے ہو تمہیں تو وہاں کا ماحول زیادہ پتہ ہے وہاں شہر کا ماحول اتنا بے حس ہے کے ساتھ والے کا نہیں پتہ ہوتا . اِس لیے تمھارے لیے یہ تو مسئلہ نہیں ہو گا کے تم مہوش کے کیا لگتے ہو . دوسرا اس کا میاں وہ کون سا ہر ٹائم گھر پے ہوتا ہے وہ تو صبح گھر سے جاتا ہے اور رات کو گھر واپس آتا ہے اور ہفتے میں ایک دن ہی اس کو چھٹی ہوتی ہے . اور رہی بات مہوش کی اس کو میں تمھارے بارے میں سب کچھ بتا دوں گی پِھر جب وہ اسلام آباد چلی جائے گی میں تمہیں اس کا موبائل نمبر دے دوں گی تم پہلے فون پے ہی اس کے ساتھ کچھ عرصہ گپ شپ لگا لیا کرنا جب دیکھو وہ مکمل راضی ہو گئی ہے تو بس پِھر وہ خود ہی تمہیں ملنے کا بھی بتا دے گی . اور ویسے بھی مجھے پتہ ہے تمہیں اس کو راضی کرنے میں 1 مہینہ بھی نہیں لگے گا کیونکہ میں بھی اس کو تمھارے بارے میں مکمل اعتماد میں کر لوں گی کچھ تم خود کر لینا بس پِھر سمجھو ایک گرم اور ٹائیٹ پھدی اپنے ہی شہر میں مل جائے گی اور ہو سکتا ہے بُنڈ بھی مل جائے . میں آنٹی کی بات سن کر خوش ہو گیا میرے اندر کی کیفیت یہ تھی کے اندر ہی اندر دِل میں لڈو پھوٹ رہے تھے

کیونکہ میرے لیے اسلام آباد میں ہی 3 پھد یوں کا بندوبست ہو گیا تھا اب میرا اپنےہی شہر میں کام بن گیا تھا. میں نے آنٹی کو کہا واہ آنٹی جی کمال کا بندوبست کیا ہے آپ نے دِل خوش ہو گیا ہے . آنٹی نے کہا بس ایک بات کا خیال رکھنا یہ بات بلال کو پتہ نا چلے اور دوسرا مہوش کے ساتھ بھی پورے دھیان سے ہی ملتے رہنا . میں نے کہا آنٹی جی آپ بے فکر ہو جائیں . پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آگے کا کیا موڈ ہے آنٹی نے کہا تم بتاؤ کیا کرنا ہے میں نے کہا آنٹی جی پہلے تو میرے ہتھیار کو کھڑا کریں پِھر ہی میں اگلا کچھ کرتا ہوں . تو آنٹی نے کہا تم لیٹ جاؤ میں ابھی اِس کے اندر جان ڈالتی ہوں . میں ٹانگیں سیدھی کر کے لیٹ گیا . اور آنٹی گھوڑی اسٹائل میں میرے سیدھے ہاتھ والی سائڈ میں آ گئی اور میرے لن کی ٹوپی کو پہلے کس کیا پِھر اس کو اپنے منہ میں لے لیا اور آہستہ آہستہ اس کو چوپنے لگی . آنٹی بڑے ہی آرام آرام سے چوپا لگا رہی تھی . آہستہ آہستہ میرے لن میں جان واپس آ رہی تھی . اور پِھر جب میرا لن نیم حالت میں کھڑا ہو گیا تو پِھر اپنے ہاتھ پے تھوک لگا کر اس کی آہستہ آہستہ مٹھ لگانے لگی جب میرا لن کافی حد تک کھڑا ہو گیا تو دوبارہ اپنے منہ میں لے لیا پہلے تو لن کی ٹوپی پے ہی گول گول زُبان گھوما رہی تھی پِھر آہستہ آہستہ پورے لن کو منہ میں لے کر اس پے گول گول زُبان گھوما کر چوپا لگا رہی تھی درمیان میں وہ اپنی زُبان سے میرے لن کو جڑہ لیتی تھی جس سے میرے لن کو عجیب سا جھٹکا اور مزہ ملتا تھا. پِھر آنٹی نے اپنا منہ اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا اور لن پے منہ کو تیزی کے ساتھ اوپر نیچے کر رہی تھی جیسے ان کے منہ کی چدائی ہو رہی ہو . پہلے تو آنٹی آہستہ آہستہ کر رہی تھی لیکن پِھر اپنی سپیڈ کافی تیز کر رہی تھی میرے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکل رہی تھیں آنٹی کو چوپے لگاتے ہوئے کوئی 5 سے 7 منٹ ہو گئے تھے . میرے مزے کے مارے برا حال تھا پِھر آنٹی کے چوپوں نے طوفانی شکل اختیار کر لی . اور مجھے بھی اپنے لن لی اندر کے حرکت محسوس ہوئی میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی میرا پانی نکلنے والا ہے تو آنٹی نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کے منہ میں ہی نکال دو اور پِھر مزید 2 سے 3 منٹ کے اندر جیسے میرے لن کی جان نکل گئی تھی میری منی کا فوارہ آنٹی کے منہ کے اندر ہی چھوٹنے لگا 

جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تو آنٹی نے اپنا منہ میرے لن سے ہٹایا اور میری آنکھوں میں دیکھا اور آنکھ مار کے میری ساری منی ایک ہی سانس میں گھٹک گئی میں حیران منہ سے ان کو دیکھتا رہ گیا
پِھر آنٹی نے منہ کے بل ہی بیڈ پے لیٹ گئی . اور میں بھی اپنی آنکھیں بند کر کے کچھ دیر لیٹا رہا . کوئی 5 منٹ بَعْد ہی آنٹی نے کہا کا شی بیٹا کیسا لگا اپنی آنٹی کا چوپا تو میں نے کہا آنٹی جی آج تو مزہ آ گیا ہے . پِھر آنٹی وہاں سے ننگی اٹھی اور اپنے کچن میں چلی گئی اور تھوڑی دیر بَعْد اس نے 2 گلاس دودھ کے پکڑے ہوئے تھے اور دودھ میں شہد بھی ڈَالا ہوا تھا . ایک مجھے دیا اور ایک خود لے کر بیڈ پے ہی بیٹھ کر پینے لگی میں بھی اپنا گلاس لے کر دودھ پینے لگا . میں نے کمرے میں لگی گھڑی پے نظر ماری تو.10 2 کا ٹائم ہو چکا تھا . اور مجھے بلال کی بات یاد آئی کے 3 سے پہلے پہلے کام نمٹا کر یہاں سے نکلنا ہے . میں نے جلدی سے اپنا گلاس خالی کیا اور آنٹی بھی اپنا گلاس خالی کر چکی تھی انہوں نے میرے سے گلاس لیا اور باہر کچن میں چلی گئی . تھوڑی دیر بَعْد آنٹی آ کر دوبارہ میرے ساتھ ننگی ہی لیٹ گئی . اور پوچھنے لگی ویسے کا شی سچ میں تم نے آج تک کسی عورت کو نہیں چودا ہے تمھارے یہ سب ایکشن سے لگتا تو نہیں ہے کے تم نے کسی کو ابھی تک چودا نہ ہو . تو میں نے کہا آنٹی جی سچ میں یہ میرا پہلی دفعہ ہے اور رہی بات مجھے یہ سب پتہ ہونے کی آج کل کیبل اور نیٹ کا دور ہے ہر چیز عام ہے بچے بچے کو پتہ ہے . آنٹی نے کہا ہاں یہ بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو . میں ایسا ایک تجربہ دیکھ چکی ہوں . میں نے کہا وہ کیسے آنٹی جی تو آنٹی نے کہا میرے گھر میں بھی کیبل لگی ہوئی ہے تمہیں تو پتہ ہے کیبل پے کتنے گندے گندے چینل لگے ہوئے ہیں اور میری ایک جوان بیٹی بھی ہے . وہ آج کل فارغ ہی ہے اور اپنے رزلٹ کا انتظار کر رہی ہے . اِس لیے ایک رات کو میں سو گئی تھی لیکن وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی وہ بھی یہاں ہی میرے ساتھ سوتی ہے . رات کو اچانک میری پیاس کی وجہ سے آنکھ کھلی تو دیکھا میری بڑی بیٹی ٹی وی دیکھ رہی تھی ٹی وی پے کوئی انگلش فلم لگی تھی اس میں کوئی گوری کسی گورے مرد کی جھولی میں بیٹھی ہوئی تھی مرد نے صرف انڈرویئر پہنا ہوا تھا اور لڑکی بھی صرف انڈرویئر اور برا میں ہی تھی اور وہ مرد لڑکی کے منہ میں منہ ڈال کر چوس رہا تھا میں تو دیکھ کر ہی پاگل ہو گئی اور غصہ بھی آیا اور اپنی بیٹی کو ڈانٹ دیا کے ٹی وی بند کرو اتنی رات تک لگایا ہوا ہے . بس وہ بھی ڈر کر 
ٹی وی بند کر کے سو گئی


میں نے کہا آنٹی جی خیال رکھا کریں آپ کی بیٹی جوان ہے اور سب کچھ دیکھتی اور سمجھتی بھی ہے اور اِس عمر میں تو اسکول سے بھی لڑکیوں کو اپنی سہیلیوں سے کافی کچھ پتہ چل جاتا ہے . اِس لیے تھوڑا پیار سے محبت سے اپنی بیٹی کو ماں نہیں دوست بن کر سمجھاؤ . اور کوشش کر کے اس کی ہر خواہش پوری کر دیا کرو . مجھے امید ہے وہ سب کچھ سمجھ جائے گی . آنٹی نے کہا ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو لیکن وہ جوان ہے میں اس کی یہ والی خواہش تو پوری نہیں کروا سکتی یہ تو شادی کے بَعْد ہی پوری ہو سکتی ہے باقی میں اس کو خوش رکھ سکتی ہوں میں دوست بن کر ہی اس کو سمجھا دیا کروں گی . لیکن ڈر لگتا ہے جوانی کا خون ہے کہیں محلے میں یا اور کہیں غلط حرکت نا کر بیٹھے اور شادی سے پہلے ہی بدنام ہو جائے . میں نے کہا آنٹی جی میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں لیکن اگر وہ کوئی غلط نہ کر بیٹھے. لیکن اس سے بہتر ہے کے آپ اس کی ماں نہیں دوست بن جاؤ وہ آپ سے اپنی ہر بات شیئر کرے گی . اس کو اچھے اور برے کی تمیز بھی بتا دو. آنٹی جی بیٹی کی سب سے بڑی رازدان اور خیر خواہ ایک ماں ہی ہو سکتی ہے اِس لیے مجھے جو ٹھیک لگا آپ کو بتا دیا باقی آپ کی مرضی.. آنٹی نے کہا کا شی بیٹا کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو میں اِس کے بارے میں سوچوں گی پِھر خود ہی کوئی حَل نکال لوں گی . میں نے کہا آنٹی جی ٹائم تھوڑا ہے.30 2 ہو گئے ہیں میرا دِل ہے جلدی سے ایک رائونڈ لگا لینا چاہیے اور آپ کی پھدی کو بھی لن کی سیر کروا دینی چاہیے آپ کا کیا خیال ہے. آنٹی نے ٹائم دیکھا اور بولی تم ٹھیک کہہ رہے ہو میں نے کہا آنٹی جی اپنا موبائل نمبر دے دو تا کہ آپ سے رابطہ کر سکوں پِھر بلال آ جائے گا . آنٹی نے مجھے اپنا موبائل نمبر دے دیا میں اپنے موبائل سیف کیا اور پِھر بیڈ پے لیٹ گیا اور آنٹی نے میرے لن کے ایک بار پِھر چوپے لگانے شروع کر دیئے اور کوئی 5 منٹ میں ہی میرا لن دوبارہ ا کڑ کر کھڑا ہو گیا پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ گھو ڑ ی اسٹائل بنا لو میں پیچھے سے آپ کی پھدی ماروں گا . آنٹی فوراً گھوڑی بن گئی اور میں پیچھے جا کر آنٹی کی پھدی میں ٹوپی کو گھسایا اور پِھر آہستہ آہستہ لن ڈالنے لگا جب آدھا لن اندر کر دیا تو باقی کا لن ایک ہی جھٹکے میں پھدی کے اندر کر دیا آنٹی کے منہ سے ایک آہ نکل گئی پہلے تو آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کرتا رہا پِھر میں نے اپنے جھٹکے تیز کر دیئے اور لن کو آنٹی کی پھدی کی گہرائی تک اندر باہر کر رہا تھا . آنٹی بھی مزے میں آوازیں نکال رہی تھیں آہ اوہ آہ اوہ اوہ. مجھے آنٹی کو چودتےہوئے کوئی 5 سے 7 منٹ ہو گئے تھے پِھر میں اِس پوزیشن میں خود بھی تھک گیا تھا 


اور آنٹی بھی کافی تھک گئی تھی میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ اِس ہی پوزیشن میں نیچے لیٹ جائیں اور اپنی ٹانگیں تھوڑی کھول لیں . آنٹی نے وہ ہی پوزیشن بنا لی جو میں نے کہی تھی میں اب گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پہلے لن کو آنٹی کی پھدی پے سیٹ کیا اور اِس دفعہ ایک ہی جھٹکے میں لن پورا اندر اُتار دیا . اور آنٹی کے منہ سے آواز نکلی ہا اے امی جی. میں لن پورا اندر کر کے آنٹی کے اوپر ہی منہ کے بل لیٹ گیا آنٹی کے نرم نرم بُنڈ کا احساس مجھے پاگل کر رہا تھا پِھر میں نے اپنے جسم کو حرکت دی اور آہستہ آہستہ اپنے لن کو پھدی کے اندر باہر کرنے لگا تھوڑی ہی دیر میں لن پھدی کے اندر رواں ہو گیا اور آنٹی کے منہ سے بھی خمار بھری آوازیں نکل رہی تھیں پِھر میں نے اپنی رفتار کو مزید تیز کر دیا آنٹی کو بھی فل مزہ آ رہا تھا آنٹی بھی جوش میں آ کر اپنی بُنڈ پیچھے کو اٹھا رہی تھی اور ہمارے جسم کے ٹکرانے سے دھپ دھپ کی آواز نکل رہی تھی . میں اِس پوزیشن میں آنٹی کو تقریباً 5 منٹ تک اور چود تا رہا پِھر آنٹی نے اپنی پھدی کو میرے لن پے کسنا شروع کر دیا اور اپنی سپیڈ نیچے سے اور تیز کر دی تھی مجھے سمجھ آ گئی تھی کے آنٹی کا لاوا چھوٹنے والا ہے اور وہ ہی ہوا آنٹی نے ایک زوردار منہ سے آہ کی آواز نکالی اور اپنی منی کا فوارہ میرے لن پے ہی اندر چھوڑنا شروع کر دیا اب اندر کام کافی گرم اور گیلا ہو چکا تھا میں نے بھی طوفانی جھٹکے لگانے شروع کر دیئے اور مزید 2 سے 3 منٹ کے بعد اپنی منی کا فوارہ آنٹی کی پھدی میں چھوڑ دیا اور ان کے اوپر ہی گر کر ہانپنے لگا. جب میرے لن کا آخری قطرہ بھی آنٹی کی پھدی میں نکل گیا تو میں ان کے اوپر سے ہٹ کر ان کے ساتھ بیڈ پے ہی لیٹ گیا . جب ہم دونوں کی سانسیں بَحال ہوئی تو میں نے کہا آنٹی جی پہلی دفعہ زندگی میں پھدی مار کر مزہ آ گیا ہے . آنٹی نے کہا مجھے بھی بہت مزہ آیا ہے تمہاری ٹائمنگ اچھی ہے بلال کی ٹائمنگ سے کافی بہتر ہے اس کا لن تم سے بڑا ہے لیکن اس کی ٹائمنگ بھی تم سے کم ہے اور اس کے لن کی ٹوپی بھی تم سے چھوٹی ہے . ابھی تو تم کو میرے پھدی مار کر مزہ آیا ہے جب مہوش کی مارو گے تو مجھے یاد کرو گے اس کے پھدی بہت تنگ ہو گی . اس نے آج تک اپنے میاں کے علاوہ کسی سے بھی نہیں کروایا اس اس کے میاں کا لن بھی 4 انچ کا ہے تمہارا لے گی تو دنیا بھول جائے گی اور تم اس کی لو گے تو مجھے بھول جاؤ گے


میں نے کہا آنٹی جی کیسی بات کرتی ہیں آپ تو پہلے ہیں مہوش بعد میں ہے اگر آپ مہوش کا رستہ نہ بتاتی تو مجھے کوئی اس کا مزہ مل سکتا تھا اور ویسے بھی مہوش تو وہاں کے لیے ہے یہاں کے لیے تو آپ ہی ہو . اب جب بھی یہاں آیا کروں گا ڈائریکٹ آپ سے ہی رابطہ کروں گا. پِھر میں نے گھڑی کی طرف دیکھا تو 3 بجنے میں10 منٹ رہ گئے تھے میں نے فوراً بلال کے نمبر پے مس کال دی پِھر میں نے اور آنٹی نے اپنے اپنے کپڑے پہن لیے اور آنٹی اپنے بیڈ کی حالت ٹھیک کرنے لگی کوئی 5 منٹ بعد ہی گھر کی گھنٹی بجی میں سمجھ گیا بلال آ گیا ہے . میں نے کہا آنٹی جی میں چلتا ہوں بلال نیچے آ گیا ہے . آنٹی کو لمبی سے فرینچ کس کی اور آنٹی کے گھر سے باہر نکل آیا اور بلال کے ساتھ اس کی دکان پے آ گیا گلی میں کوئی بھی نہیں تھا . پِھر دکان پے آ کر میں نے بلال کو پوری سٹوری سنا دی اس میں مہوش والی بات گول کر دی اور پِھر کچھ دیر بلال کے ساتھ بیٹھ کر اپنے گھر واپس آ گیا. گھر واپس آ کر میں نے نہایا اور پِھر ٹرا و زَر شرٹ پہن کر ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد چچا بھی آ گئے اور پوچھنے لگے کیوں کا شی بیٹا آج کہا غائب تھے . میں نے کہا کہیں نہیں چچا جان میں ذرا بلال کو ملنے گیا تھا جب سے آیا تھا اس کو ملا نہیں اور آج سوچا اس کو مل آؤں اِس لیے وہاں گیا ہوا تھا . چچا نے کہا اچھی بات ہے اور بھابی بتا رہیں تھیں کے تم جمه والے دن واپس جا رہے ہو . میں نے کہا جی چچا جان ابو کی کال آئی تھی انہوں نے واپس بلا لیا ہے اور کہا ہے واپس آ کر آگے کی پڑھائی کا کچھ کروں تو چچا نے کہا ہاں بیٹا پڑھائی تو ضروری ہے بھائی جان کو تمہاری فکر زیادہ رہتی ہے ان کی ساری امید تم سے ہے . تم اچھا پڑھ لکھ جاؤ گے تو کسی مقام تک پہنچوگے.میں نے کہا جی چچا جان میں جانتا ہوں اِس لیے واپس جا رہا ہوں اور جا کر کسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لوں گا . چچا نے کہا بیٹا بہت اچھی بات ہے مجھے تم سے یہ ہی امید تھی پِھر میں اور چچا یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے اور یوں ہی رات ہو گئی چچا اور بچے جلدی سو گئے صبح ان کو جانا تھا اور میں بھی 11بجے تھک کر اوپر پے جا کر سو گیا

اگلے دن صبح اٹھ کر نہا دھو کر سب کے ساتھ ناشتہ کیا اور چچا اپنے کام پے اور بچے اسکول چلے گئے . میں ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور ٹی وی دیکھنے لگا تقریباً 12بجے کے قریب میں ٹی وی والے کمرے سے نکلا تو دیکھا چچی شاید آج اپنا کام جلدی ختم کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی . میں ان کے کمرے میں چلا گیا لیکن وہ کمرے میں نہیں بلکہ وہ اپنے باتھ روم میں نہا رہی تھی . اور ان کے باتھ روم کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا . میں باتھ روم میں جا کر دروازہ کھول دیا چچی اندر بیٹھی نہا رہی تھی مجھے دیکھا اور مصنوعی سا غصہ کر کے بولی شرم نہیں آتی نہاتے ہوئے بھی پیچھا نہیں چھوڑو گے . میں ان کی بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا کیا کروں چچی جان آپ چیز ہی ایسی ہو پیچھا چھوڑنے کو دِل ہی نہیں کرتا . پِھر چچی بھی ہنسنے لگی اور بولی ایک کام کرو میری کمر پے صابن رگڑ کر مل دو . میں تھوڑا اندر ہو کر بیٹھ گیا اور صابن لے کر آنٹی کی کمر کو اچھی طرح سے رگڑ نے لگا اور پِھر چچی بولی بس ٹھیک ہے تم کمرے میں بیٹھو میں نہا کر آتی ہوں . میں ان کے کمرے میں کرسی پے بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد ہی چچی نہا کر باہر آ گئی اور ڈریسنگ ٹیبل پے بیٹھ کر اپنے بال سکھانے لگی. جب وہ اپنے بال سوکھا کر فارغ ہو گئی تو میری طرف منہ کر کے بولی سناؤ کا شی کیا رپورٹ ہے بلال والا کام پکا ہو گیا ہے . میں نے کہا جی آنٹی جی پکا ہو گیا ہے . آنٹی نے کہا میں نے شوکت کو میسیج کر دیا ہے وہ بھی کل 11بجے تک آ جائے گا . اور آج بچے واپس آ جائیں تو میں عشرت کی طرف جاؤں گی اس کو بدھ والے دن کا پروگرام بنا کر آ جاؤں گی . میں نے کہا بس چچی جان ٹھیک ہے مجھے منظور ہے . چچی نے کہا کا شی ویسے بلال مجھے کب کال کرے گا تمھارے ہوتے ہوئے ہی کرے گا یا تمھارے جانے کے بعد کرے گا . میں نے کہا چچی جان وہ میرے بعد ہی کرے گا میں جمه کو جا رہا ہوں وہ آپ کو ہفتے والے دن کال کرے گا میں اس کو سمجھا دوں گا اور آپ 2 یا 3 دن اس کو تھوڑا نخرا دیکھا دینا پِھر اگلی منگل یا بدھ کو بلا لینا اور مزہ لے لینا اس کے بعد تو آپ کی جب مرضی ہو گی بلا لیا کرنا. آنٹی نے کہا کا شی تم نے میرے پکا بندوبست کر دیا ہے میں بہت خوش ہوں . میں نے کہا چچی جان ایک بات تو بتاؤ کیا آپ نورین اور عشرت اور سائمہ آنٹی کو بھی بلال سے چدواؤ گی . تو چچی بولی نہیں کا شی نورین اور سائمہ کو میں کبھی بھی بلال سے نہیں ملواؤںگی لیکن عشرت کا شاید میں کچھ کروا دوں لیکن وہ بھی ابھی میں نے پکا سوچا نہیں ہے میں سوچ کرفیصلہ کروں گی. میں نے کہا چچی جان آپ نورین اور سائمہ آنٹی کا کیوں نہیں کرو گی کوئی خاص بات ہے . تو چچی نے کہا خاص بات کوئی نہیں ہے نورین میری سہیلی ہے اور وہ ابھی جوان ہے اور کچھ عرصہ بعد اس کی دوبارہ شادی بھی شاید ہو جائے گی 

Share this post


Link to post
Share on other sites

اِس لیے میں اس کو اتنے لوگوں سے خراب نہیں کروانا چاہتی وہ بس تمھارے ساتھ کبھی کبھی جب تم یہاں آؤ گے یا عرفان بھائی کے ساتھ ہی ٹھیک ہے بلال کے لیے نہیں کر سکتی . اور رہی بات سائمہ کی وہ میری بھابی ہے تمھارے ساتھ بھی اس کاکام مجبور ہو کر کروایا تھا . اگر بلال کو سائمہ کا بھی پتہ لگ گیا تو خاندان میں بات نکلتے ہوئے دیر نہیں لگے گی اور ویسے بھی بلال میری چھوٹی بہن کا دیور ہے اس کو اِس بات کا پتہ بھی نہیں چلنا چاہیے. میں نے کہا چچی جان میں آپ کی بات اچھی طرح سمجھ گیا ہوں . پِھر میں اور چچی یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے اور تقریباً 1 بج گیا تھا پِھر چچی نے کہا تم بیٹھو میں کچن میں جا رہی ہوں كھانا بھی تیار کرنا ہے. چچی کے جانے کے بعد میں بھی اٹھ کر ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور ٹی وی دیکھنے لگا . پِھر وہ باقی دن بھی معمول کی طرح ہی گزر گیا . اگلی صبح میں ناشتہ کر کے ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا میں نے میسیج کر کے بلال کو سارا پروگرام سمجھا دیا تھا اور اس کو11 بجے سے پہلے ہی ایک جگہ کا بتا دیا جہاں سے ہم دونوں کو کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا پِھر تقریباً 10.15 پے میں نے چچی کو ساری بات بتائی اور ان سے چابی لے کر گھر سے باہر آ گیا اور وہاں جا کر انتظار کرنے لگا جہاں میں نے بلال کو ٹائم دیا ہوا تھا . تقریباً 10.35 پے بلال اس جگہ پے آ گیا جہاں میں نے اس کو بلایا تھا ہم وہاں ایک سائڈ پے ہو کر بیٹھ گئے اور میں نے بلال کو کہا یار بلال مجھے لگتا ہے آج شوکت آئے گا کیونکہ مجھے چچی نے آج بازار سامان لینے کے لیے بھیج دیا ہے. بلال میری بات سن کر اچھلنے لگا اور بولا یار کا شی آج میں خوشی سے پاگل ہو جاؤں گا . آج میں ثمینہ باجی کو شوکت کے ساتھ دیکھوں گا اور پِھر بعد میں ثمینہ باجی کی میں بھی ماروں گا یہ سوچ کر ہی میں خوشی سے پاگل ہو رہا ہوں . میں نے کہا اچھا یار ٹھیک ہے لیکن اتنا پاگل نا بن جانا سارا کام ہی خراب کر دو یہ سارا کام بڑا ہی دھیان سے کرنا نہیں تو مشکل ہو جائے گی میں نے تو واپس چلا جانا ہے تم نے پیچھے سے سنبھالنا ہے . بلال سریس ہو گیا اور بولا کا شی میرے یار تو بے فکر ہو جا . میں نے اس کو گھر کی چابی دی اور موبائل پے ٹائم دیکھا 11بج چکے تھے . میں نے کہا میں بازار جا رہا ہوں تم کوئی 15 سے 20 منٹ کے بعد گھر چلے جانا اور زیادہ شور نہیں کرنا اور آرام سے اندر داخل ہو کر اور اپنا کام پورا کر کے اِس جگہ ہی آ جانا میں تمھارا یہاں ہی انتظار کروں گا . شوکت کو اور چچی کو تمھارے گھر میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی آواز بھی نہیں آنی چاہیے . بلال بولا کا شی یار تو بے فکر ہو جا کسی کو کانو کان خبر نہیں ہو گی . پِھر میں اس کو چابی دے کر بازار کی طرف نکل آیا. میں بازار میں گھوم رہا تھا تقریباً12.20 ٹائم ہو گا جب مجھے بلال کی کال آ گئی . اور وہ مجھے بولا کا شی تم کہاں ہو میں اس جگہ ہی تمہارا انتظار کر رہا ہوں . میں نے کہا تم 15 سے 20 منٹ میرا وہاں ہی انتظار کرو میں آ رہا ہوں . میں بازار سے سیدھا نکلا اور تقریباً12.40 پے بلال کے پاس پہنچ گیا اور بلال نے مجھے ویڈیو دکھائی اس نے کوئی 6 منٹ کی ویڈیو بنائی ہوئی تھی اس میں شوکت چچی کی لیٹا کر پھدی مار رہا تھا. میں نے ویڈیو دیکھ کر جان بوجھ کر ایکٹنگ کی اور بولا یار بلال تم واقعہ ہی ٹھیک کہہ رہے تھے یہ تو سچ میں شوکت چچی کو چودتا ہے . بلال نے کہا دیکھا کا شی میں نے کہا تھا نہ . اب یقین آ گیا ہے . میں نے کہا سچ میں یار تم بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے


میں نے کہا بلال آب تم کیسے کرو گے . تو بلال نے کہا کا شی تم مجھے ثمینہ باجی کا موبائل نمبر دے دو . ویسے تو میں اپنی بھابی ثمینہ کی بہن سے بھی لے سکتا ہوں لیکن میں اس کو کسی شق میں نہیں ڈالنا چاہتا . اِس لیے تم مجھے نمبر دے دو پِھر دیکھو میں ثمینہ باجی کو کیسے دانہ ڈالتا ہوں
میں نے کہا ٹھیک ہے بلال یار میں تمہیں نمبر دے دیتا ہوں لیکن میں 1 شرط ہے . تو بلال بولا کا شی یار تیری 2 شرط مجھے منظور ہے تو بتا کیا کرنا ہے . میں نے کہا ایک تو تم نے چچی کو کال میرے جانے کے بعد کرنی ہے میں جمه کو واپس جا رہا ہوں تم بے شک ہفتے والے دن کال کر لینا لیکن چچی کو پیار محبت سے راضی کرنا . جلد بازی نہیں کرنا یہ نہ ہو کام خراب ہو جائے . تو بلال بولا کا شی یار تو میری طرف سے بے فکر ہو جا یار مجھے پتہ ہے اِس کام میں رشتہ داری بھی جا سکتی ہے اور بدنامی بھی ہو سکتی ہے اِس لیے میں پیار محبت سے راضی کروں گا . پِھر میں نے کہا دوسری شرط یہ ہے کے جب میں دوبارہ واپس آؤں گا تو مجھے ثوبیہ باجی کی پھدی کا چانس لے کر دے گا . میری بات سن کر بلال ہنسنے لگا اور بولا کا شی میرے یار یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے تو بے فکر ہو جا جب تم دوبارہ آؤ گے تو ثوبیہ باجی کی پھدی اور بُنڈ تمہیں گفٹ دوں گا اور ہو سکتا ہے کسی اور رشتہ دار کی پھدی بھی مل جائے . میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا اور پِھر بلال نے مجھے چابی دی اور کہا میں دکان پے جا رہا ہوں . تم کل میری طرف چکر لگا لینا میں نے کہا کل تو مشکل ہے میں پرسوں ضرور چاکر لگا لوں گا تو بلال نے کہا ٹھیک ہے جیسے تیری مرضی اور وہ وہاں سے چلا گیا . میں وہاں کافی دیر اکیلا بیٹھا رہا پِھر کافی دیر انتظار کرنے کے بعد میں نے ٹائم دیکھا تو 1.10 ہو چکے تھے میں نے سوچا اب تو شوکت چلا گیا ہو گا . کیونکہ چچی نے کہا تھا کے تم 1 بجے واپس آ جانا . میں وہاں سے اٹھا اور گھر کی طرف آ گیا اور آ کر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور سامنے دیکھا چچی کے دروازے کی ایک سائڈ کھلی ہوئی تھی میں سمجھ گیا کے شوکت چلا گیا ہے . میں دروازہ بند کر کے چچی کے کمرے میں چلا گیا چچی باتھ روم میں نہا رہی تھی اِس دفعہ دروازہ بند تھا . میں وہاں ہی کرسی پے بیٹھ کر چچی کا انتظار کرنے لگا. 10منٹ کے بعد چچی نہا کر باہر نکلی اور مجھے سامنے دیکھا تو دیکھا مسکرا نے لگی میں بھی جواب میں مسکرا نے لگا . 


چچی اپنی ڈریسنگ ٹیبل پے بیٹھ گئی اور بال سکھانے لگی. پِھر چچی نے کہا سناؤ
کا شی کیا بنا . میں نے کہا چچی جی میرا کام ختم ہو گیا ہے اور آپ کا کام بھی مکمل ہو گیا ہے میرا رول جہاں تک تھا وہ پورا ہو چکا ہے . اب آگے آپ کا اور بلال کا رول ہے . چچی میری بات سن کر خوش ہو گئی اور اطمینان ان کے چہرے پے عیاں تھا. میں نے کہا چچی آپ کل عشرت آنٹی کی طرف کیوں نہیں گیں تھیں . تو چچی نے کہا میں نے جانا تھا لیکن میری آنکھ لگ گئی تھی جب آنکھ کھلی تو 5 بجنے میں تھوڑا ٹائم ہی باقی رہ گیا تھا پِھر تمھارے چچا نے آ جانا تھا تو میں نہیں نکل سکتی تھی . لیکن تم بے فکر رہو میں آج ضرور جاؤں گی بچوں کو آنے دو كھانا دے کر میں عشرت کی طرف ضرور جاؤں گی . میں نے کہا چلو ٹھیک ہے چچی جیسے آپ کی مرضی میں نہانے جا رہا ہوں آج بہت گرمی تھی اور میں کمرے سے نکل کر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا. میں نہا کر ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا اور پِھر بچے بھی اسکول سے آ گئے اور چچی نے مجھے بھی كھانا دیا اور اپنے بچوں کو بھی كھانا دیا . كھانا کھا کر چچی نے برتن کچن میں رکھ کر کچن کا کام مکمل کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی اور تقریباً10 منٹ بعد میں نے دیکھا چچی تیار ہو کر گھر سے باہر چلی گئی . میں سمجھ گیا تھا کے چچی اب عشرت آنٹی کی طرف گئی ہیں . اور میں ٹی وی دیکھنے لگا . کافی دیر بعد چچی واپس آ گئی میں نے دروازہ کھولا وہ گھر میں اندر آ کر اپنے کمرے میں چلی گئی . میں دوبارہ پِھر ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی دیکھنے لگا . اس دن میری چچی سے دوبارہ کوئی بات نہ ہوئی اور نہ ہی چچی نے عشرت کے گھر سے واپس آنے کے بعد بھی مجھے کچھ بتایا . اور باقی کا دن بھی ایسے ہی گزر گیا. اگلے دن صبح جب سب اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے اور میں بھی ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہا تھا تو تقریباً 10بجے کے قریب چچی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور بولی کے ابھی تقریباً 11بجے تک نورین آ جائے گی تو تم کوئی بہانہ بنا کر گھر سے باہر چلے جانا اور پِھر عشرت کے گھر چلے جانا وہ تمہارا انتظار کر رہی ہو گی . اور 1 بجے تک اپنا کام پورا کر کے واپس آ جانا. میں چچی کی بات سن کر خوش ہو گیا اور آگے سے بولا ٹھیک ہے میں سمجھ گیا . اور پِھر چچی دوبارہ کچن میں چلی گئی . میں ٹی وی دیکھنے لگا . تقریباً 11بجے باہر گھنٹی بجی میں نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے نورین کھڑی تھی مجھے دیکھ کر شرما گئی . اور اندر آ گئی . میں دروازہ بند کر کے واپس ٹی وی والے کمرے میں آیا تو نورین کچن کے دروازے کے پاس کھڑی ہو کر مجھے ہی دیکھ رہی تھی

میں نے اس کو فلائنگ کس کر دی وہ شرما گئی اور مسکرا کر اندر کچن میں دیکھنے لگی. میں ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور10 منٹ تک بیٹھا رہا پِھر ٹی وی بند کیا اور باہر نکل کر چچی کو کہا چچی جان میں ذرا بلال کی طرف جا رہا ہوں . تھوڑی دیر تک واپس آ جاؤں گا . نورین نے مڑ کر مجھے دیکھا جب میں نے اس کا چہرہ دیکھا تو تھوڑا سا اداس تھی مجھے اس پے بڑا پیار آیا . میں نے اس کو دوبارہ فلائنگ کس کی تو وہ خوش ہو گئی. میں گھر سے نکل کر سیدھا عشرت آنٹی کے دروازے پے جا کر دستک دی کوئی 1 منٹ بعد ہی عشرت آنٹی نے دروازہ کھولا مجھے دیکھا کر تھوڑا شرما گئی پِھر مجھے کہا آؤ بیٹا اندر آ جاؤ . میں اندر داخل ہو کر سیدھا آنٹی کے بیڈروم میں آ گیا آنٹی نے دروازہ بند کیا اور شاید وہ کچن میں چلی گئی تھی . میں نے جلدی سے اپنے سارے کپڑے اُتار دیئے اور پورا ننگا ہو کر بیڈ پے لیٹ گیا . کوئی 5 منٹ بعد ہی عشرت آنٹی شربت بنا کر کمرے میں داخل ہوئی تو مجھے اپنے بیڈ پے ننگا دیکھا کر شرما گئی اور نظر نیچے کر لی اور چلتی ہوئی شربت کی ٹرے کو ڈریسنگ ٹیبل پے رکھنے لگی میں فوراً سے اٹھا ان کو ٹرے رکھنے کے بعد ان کو پیچھے سے پکڑ لیا وہ اور زیادہ شرما گئی اور اپنے منہ پے ہاتھ رکھ لیے. میں نے ہاتھ آگے کر کے ان کی قمیض میں ہاتھ ڈال کر ان کے ممے پکڑ لیے اور ان کی مموں کو مسلنے لگا خوشی بھی ہوئی انہوں نے قمیض کے نیچے کچھ بھی نہیں پہنا تھا میں نے ان کے کان میں کہا جانے من چھوڑو اِس شربت کو آؤ مل کر ایک دوسرے کا شربت پیتے ہیں میرے ہاتھ ان کے مموں پے لگتے ہی وہ گرم ہو گئی اور پیچھے کو مڑ کر میری گرد میں بازو ڈال لیے اور مجھے ہونٹوں پے کس کرنے لگی. پِھر میں نے جھٹ پٹ میں ان کو پورا ننگا کر دیا اور اٹھا کر بیڈ پے لے آیا اور پِھر میں نے تقریباً ان کو دو سے ڈھائی گھنٹے میں جم کر ان کی پھدی اور بُنڈ کو بجایا کے مزہ آ گیا اور عشرت آنٹی کو 3 دفعہ فارغ کروایا اور خود 2 دفعہ ہوا. آخر میں جب ہم دونوں مکمل طور پے مطمئن ہو گئے 

 

تو عشرت آنٹی نے کہا کا شی ثمینہ بتا رہی تھی تم جمه کو واپس جا رہے ہو . دوبارہ پِھر کب آؤ گے . میں نے کہا آنٹی جی جلدی تو چکر نہیں لگے گا لیکن امید ہے جب دسمبر میں آخری دنوں کی10 سے 15 چھٹیاں ہوں گی تب ہی کوئی چکر لگے گا. تو عشرت آنٹی تھوڑا اداس ہو گئی اور بولی اِس کا مطلب ہے اب دسمبر تک انتظار کرنا پڑے گا . میں نے کہا آنٹی جی یہ تو ہے . لیکن آپ فکر نہ کریں میں چچی کو بولوں گا وہ آپ کا خیال ضرور کریں گی . آپ کو تو پتہ ہے نہ ان کے پاس کوئی نا کوئی جگاڑ ضرور ہوتا ہے . میں بھی آپ کے لیے ان کو بول دوں گا. عشرت آنٹی نے نیچے سے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر مجھے ایک لمبی سی فرینچ کس کی اور بولی
کا شی تم ضرور ثمینہ سے میری بات کر کے جانا . وہ میری بات سے زیادہ تمہاری بات زیادہ سنتی ہے . ورنہ دسمبر تک میرا کیا ہو گا. میں نے عشرت آنٹی کی بُنڈ کی موری میں انگلی ڈال کر بولا جانے من بے فکر ہو جاؤ میں آپ کی بات کر کے جاؤں گا اور ان کو بول جاؤں گا کے عشرت آنٹی کا دسمبر تک خیال لازمی رکھے . عشرت میری بات سن خوش ہو گئی . پِھر میں نے اور عشرت آنٹی نے مل کر نہایا وہاں بھی خوب مزہ لیا اور پِھر میں عشرت آنٹی کو آخری لمبی کس کر کے اپنے گھر آ گیا. جب میں گھر واپس آ کر دروازے پے گھنٹی دی تو تھوڑی دیر بعد نورین نے ہی دروازہ کھولا مجھے دیکھ کر اس کے چہرہ کھل اٹھا . میں نے پِھر فلائنگ کس کی تو اِس دفعہ اس نے کیچ کر کے اپنے ہونٹوں پے لگا لی . میں اس کی یہ ادا دیکھ کر خوش ہو گیا . پِھر وہ اندر چچی کی کمرے میں چلی گئی میں نے خود دروازہ بند کیا اور سیدھا چچی کے کمرے میں چلا گیا چچی بیڈ پے بیٹھی ہوئی تھی اور نورین بیڈ کے پاس رکھی کرسی پے بیٹھی تھی . میں بھی نورین کی ساتھ والی کرسی پے بیٹھ گیا . چچی نے پوچھا کا شی آ گئے ہو سناؤ بلال کیسا ہے کیا تم ان کے گھر بھی گئے تھے میری چھوٹی بہن سے ملاقات ہوئی ہے . میں نے کہا چچی جان بلال ٹھیک ہے میں ان کے گھر نہیں گیا بس دکان پے ہی بیٹھ کر گپ شپ لگا لی تھی پِھر وہاں سے گھر آ گیا ہوں. چچی نے کہا اچھا ٹھیک ہے اور پِھر بیڈ سے اٹھ کر بولی میں تھوڑا کچن میں کام کر لوں ابھی آتی ہوں 

چچی یہ بول کر کمرے سے چلی گئی اور اب میں اور نورین اکیلے تھے. چچی کے باہر جاتے ہی نورین اٹھ کر بیڈ پے بیٹھ گئی میں بھی اٹھ کر بیڈ پے بیٹھ گیا اور نورین کی گردن میں ایک ہاتھ ڈال کر اور دوسرا ہاتھ اس کی بُنڈ کے نیچے سے ڈال کر اٹھا کر اپنی جھولی میں بیٹھا لیا اور اپنے دوں ہاتھ اس کے قمیض کے اندر ڈال کر اس کی نپلز کو پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ مسلنے لگا . نورین نے آنکھیں بند کر لیں تھیں اور اپنا سر پیچھے میرے کاندھے پے رکھ کر منہ سے گرم گرم لمبی لمبی سانسیں لینے لگی . میں نے اس کے کان میں کہا نورین میری جان کیا حال ہے . وہ منہ سے کچھ نہیں بول رہی تھی . بس سر ہلا کر کہا ٹھیک ہوں . پِھر میں نے کہا جان آج اتنے دن بعد اپنی زیارت نصیب کروائی ہے . تو پِھر بھی کچھ نہ بولی اور لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی دوسری طرف میں مسلسل اس کی نپلز کو مسئلہ رہا تھا . پِھر میں نے اس کے کان میں کہا نورین میری جان کل کا کیا پروگرام ہے کل پِھر مزہ کروا رہی ہو کے نہیں . تو اِس دفعہ آہستہ سی آواز میں بولی جی میں تو روز تیار ہوں آپ ہی ٹائم نہیں دیتے ہیں. میں نے اپنا منہ آگے کر کے اس کے ہونٹوں کو اپنے منہ میں لے کر چُوسنے لگا اور پِھر کچھ دیر بَعْد بولا جان آپ کے لیے تو ٹائم ہی ٹائم ہے کہو تو ابھی شروع کریں . تو وہ فوراً بولی نہیں ابھی نہیں ابھی مجھے گھر جانا ہے بہت دیر ہو گئی ہےامی انتظار کر رہی ہوں گی . میں نے کہا ٹھیک ہے جان کل ہی کر لیں گے . پِھر وہ آہستہ سے بولی آپ سے ایک بات پوچھنی تھی . میں نے کہا ہاں جان ضرور پوچھو کیا پوچھنا ہے . تو وہ بولی باجی ثمینہ بتا رہیں تھیں کہ اور پِھر وہ خاموش ہو گئی . میں نے کہا کیا کہا چچی نے تو وہ بولی وہ کہہ رہیں تھیں کے آپ باجی ثمینہ اور مجھے دونوں کو ایک ساتھ کرنا چاھتے ہیں . میں نے کہا ہاں جان میں نے ہی کہا ہے کیوں کیا بات ہے تمہیں کوئی مسئلہ ہے . تو وہ بولی مسئلہ تو کوئی نہیں ہے لیکن شرم بہت آئے گی باجی ثمینہ کے سامنے ہی میں کیسے کر سکتی ہوں . میں نے ایک لمبی فرینچ کس کی اور کہا نورین میری جان اِس میں شرم کی کون سی بات ہے ان کو تمہارا سب کچھ پتہ ہے تمہیں ان کا سب کچھ پتہ ہے . اور تو اور تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ سکنگ اور کسسنگ کر کے بھی تو مزہ لیتی ہو . پِھر میرے ساتھ میں کیا مسئلہ ہے . میری بات سن کر اس کا چہرہ لال سرخ ہو گیا اور خاموش ہو گئی . پِھر میں نے کہا اچھا جان اگر تمہارا دِل نہیں کرتا تو رہنے دو میں بھی نہیں کروں گا . وہ بولی جی نہیں ایسی بات نہیں ہے آپ کے لیے تو کچھ بھی کر سکتی ہوں . بس تھوڑی سی شرم آ رہی تھی 


لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہے میں کر لوں گی . میں نے کہا سوچ لو اگر تمہارا دِل نہیں ہے تو بتا دو میں تمہیں زبردستی نہیں کروں گا . کیونکہ تم تو میری جان ہو . وہ میری بات سن کر شرما گئی اور بولی نہیں نہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں دِل سے خوش ہوں . میں کل آ جاؤں گی پِھر مل کر کریں گے . میں ابھی تک اس کی نپلز کو مسئل رہا تھا پِھر یکدم چچی کمرے میں آ گئی اور جب نورین کو میری جھولی میں دیکھا اور میرے ہاتھ نورین کی نپلز پے دیکھے تو مجھے دیکھا کر مسکرا نے لگی لیکن نورین نے اپنے ہاتھ اپنے منہ پے رکھ لیے تھے وہ شرما رہی تھی . چچی چلتی ہوئی ہمارے نزدیک آئی اور پہلے نورین کے منہ سے اس کے ہاتھ ہٹا ے اور پِھر اپنا منہ آگے کر کے نورین کو ایک لمبی سی فرینچ کس کی پِھر میرے منہ کے پاس کر کے مجھے کی اور نورین کو بولا نورین اپنی باجی سے کیا شرمانا تم مجھے اور میں تمہیں کتنی دفعہ ننگی دیکھ چکی ہیں اور مزہ بھی لے چکی ہیں . نورین چچی کی بات سن کر مسکرا نے لگی پِھر وہ کچھ دیر ایسے ہی بیٹھی رہی پِھر وہاں سے اٹھی اور اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور بولی میں گھر جا رہی ہوں میں کل صبح آج والے ٹائم پے ہی آ جاؤں گی . اور وہ پِھر اپنے گھر چلی گئی.
نورین کے چلے جانے کے بعد چچی بھی دوبارہ کچن میں چلی گئی . میں بھی چچی کے کمرے میں سے اٹھا اور ٹی وی والے کمرے میں چلا گیا میں جب عشرت آنٹی کے گھر گیا تھا تو اپنا موبائل ٹی وی والے کمرے میں ہی چارجنگ پے لگا کر گیا تھا . میں نے جا کر موبائل چارجنگ سے ہٹایا اور دیکھا تو اس پے 4 مس کال ان نون نمبر سے آئی ہوئی تھیں . یہ نمبر میرے لیے انجان تھا اور مس کال کے ساتھ ایک ایس ایم ایس بھی آیا ہوا تھا . میں نے ایس ایم ایس کو اوپن کیا اور اس میں لکھا تھا آپ کا کیا حال ہے . آپ تو ہم کو بھول ہی گئے ہیں اور اب کال بھی نہیں اٹھاتے . میں حیران تھا یہ کون ہے جو مجھے جانتا ہے اور میں نہیں جانتا . میں ٹی وی والے کمرے میں ہی بیٹھ کر کافی دیر تک سوچتا رہا آخر یہ کون ہے . پِھر میں نے اٹھ کر باہر دیکھا تو چچی کچن میں کام کر رہی تھی میں ٹی وی والے کمرے میں سے نکلا اور اپنے کمرے میں چلا گیا وہاں جا کر دروازہ بند کر کے میں نے اس ہی ان نون نمبر پے کال ملا دی . تھوڑی دیر بعد رنگ جانا شروع ہو گئی . کافی دیر تک رنگ بجتی رہی لیکن آگے سے کسی نے کال پک نہیں کی . میں تقریباً 5 منٹ انتظار کر کے دوبارہ پِھر کال کی لیکن پِھر کسی نے کال پک نہیں کی . آخر کار میں نے ایس ایم ایس اس نمبر پے بھیج دیا اور پوچھا کے آپ کون ہیں اور آپ مجھے کیسے جانتے ہیں اور میرے نمبر کہاں سے ملا ہے . پِھر میں اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر دوبارہ ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا. میں کافی دیر تک ایس ایم ایس کے جواب کا انتظار کرتا رہا لیکن کوئی جواب نہیں آیا پِھر بچے بھی گھر آ گئے تھے چچی نے ہم سب کو كھانا دیا جب میں كھانا کھا رہا تھا میرے موبائل پے ایس ایم ایس آیا میں جلدی سے كھانا ختم کیا اور جا کر ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ گیا اور اپنے موبائل میں ایس ایم ایس کو اوپن کیا تو اس میں لکھا تھا کے واہ جی واہ جناب تو اتنی جلدی ہی ہمیں بھول گئے ہیں

میں جواب دیا میں بھولا نہیں ہوں جی بس یاد نہیں آ رہا آپ مہربانی کر کے یاد کروا دیں . پِھر آگے سے جواب آیا اچھا جی آپ تو ٹرین میں ایسے مسکرا رہے تھے اور گھور رہے تھے جیسے میرے ساتھ آپ کا کوئی پرانا رشتہ ہو . میں اس کا آخری ایس ایم ایس پڑ ھ کر حیرت کا جھٹکا لگا کے یہ تو وہ ہی ٹرین والی لڑکی ہے جس کو میں نے کاغذ پائے نمبر لکھ کر چھوڑ آیا تھا . میں نے فوراً اس لڑکی کو جواب دیا میں معافی چاہتا ہوں مجھے پتہ نہیں چلا کے یہ آپ ہیں . پِھر اس لڑکی کا ایس ایم ایس آیا شکر ہے آپ نے مجھے پہچان لیے نہیں تو میں سمجھی تھی ٹرین میں صرف اتفاق ہی ہو سکتا ہے حقیقت نہیں ہو سکتا. میں نے ایس ایم ایس کیا کے مجھے یقین نہیں تھا آپ وہاں کھڑکی سے میرا نمبر اٹھاؤ گی . لیکن آج یقین ہو گیا ہے ویسے آپ چیز ہی ایسی ہیں آپ کو کوئی بھول سکتا ہے . . . آگے سے اس لڑکی کا ایس ایم ایس آیا جس میں بس اِموشن شو کیا تھا م م م م م…پِھر میں نے اس لڑکی کو کہا اتنی دیر ہو گئی ہے یہ تو بتا دیں میں کس دلربہ سے بات کر رہا ہوں کوئی نام تو ہو گا آپ کا . آگے سے اس کا ایس ایم ایس آیا میں حنا ہوں اور بطورنرس جاب کرتی ہوں اور لاہور کی رہنے والی ہوں . آپ کی تعریف کیا ہے. میں نے اس کو اپنا نام ٹھیک بتایا اور کہا میں ابھی پڑ ھ رہا ہوں . لیکن اس کو یہ بتایا کے میرا تعلق شیخوپورہ سے ہے یہ نہیں بتایا کے میں اسلام آباد میں رہتا ہوں. میں نے پِھر اس سے پوچھا کے آپ ٹرین میں کہاں سے آ رہی تھیں . تو حنا کا جواب آیا کے میں راولپنڈی میں سرکاری اسپتال میں بطور نرس کام کرتی ہوں میں اس دن اپنی مہینہ وار چھٹیوں پے راولپنڈی سے اپنے گھر لاہور آ رہی تھی. جب مجھے پتہ چلا حنا راولپنڈی میں میں کام کرتی ہے تو میں خوشی سے پاگل ہو گیا تھا میرا دِل قابو میں نہیں رہا تھا . میں نے اپنے دِل میں سوچا واہ کیا حَسِین اتفاق ہے کے اب اپنے ہی شہر میں دو دو کنواری پھد یوں کا مزہ ملے گا میرا یہ سوچ کر دِل میں لڈ و پھوٹ رہے تھے. میں نے دِل میں فیصلہ کر لیا میں جب واپس جاؤں گا تو سب سے پہلے حنا کو اسپتال میں مل کر سرپرائز دوں گا ابھی اس کو نہیں بتاؤں گا کہ میں بھی آپ کے نزدیک اسلام آباد میں رہتا ہوں. پِھر میں نے ایس ایم ایس کیا کے آپ کتنے دن کی چھوٹی پے گھر آتی ہو تو اس نے جواب دیا مجھے ہر مہینے 6 چھٹیاں ملتی ہیں . میں آب سوموار کو واپس ڈیوٹی جوائن کروں گی. پِھر میں نے ایس ایم ایس کیا حنا جی پِھر کیا سوچا ہے

اِس ناچیز سے دوستی کرنا پسند کریں گی . تو اس کا جواب آیا آپ ناچیز کہاں ہیں آپ تو ہر چیز کو بڑے ہی پرکھ سے دیکھتے ہیں. میں حنا کی بات سمجھ گیا تھا وہ مجھے اپنی گانڈ کو گور نے کا اشارہ دے رہی تھی . میں نے آگے سے اِموشن ایس ایم ایس کیا پِھر میں نے کہا حنا جی میں نے آپ کو اپنی گڈ بُک میں رکھ لیا ہے آپ بھی مجھے اپنی گڈ بُک میں سیو کر لیں اب تو ملاقات ہوتی رہے گی . آگے سے اس کا ایس ایم ایس آیا جی ٹھیک ہے لیکن آپ تو شیخوپورہ میں رہتے ہیں میں لاہور میں بس چھٹیوں میں ہی آتی ہوں پِھر ملاقات کہاں ہو گی. میں نے جواب دیا کے حنا جی دِل میں جگہ ہونی چاہیے ملاقات بھی ہو جائے گی آپ کیوں فکر کرتی ہیں لاہور ہو یا راولپنڈی دونوں ہی پاکستان میں ہیں کون سا پاکستان سے باہر ہیں جو ملاقات نہیں ہو سکے گی. میں نے پوچھا ویسے حنا جی آپ کی شادی ہوئی ہے یا ابھی کنواری ہی ہیں . تو آگے سے جواب آیا شادی تو ابھی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ابھی تک کسی کو چھونے دیا ہے لیکن میں بھی جوان ہوں جذبات رکھتی ہوں کبھی کبھی خود ہی اپنے سے مزہ کر لیتی ہوں اتنا تو حق ہے نہ مجھے میں نے جواب دیا کیوں نہیں حنا جی . کیا ہمیں بھی اپنی زیارت کا کبھی موقع دیں گی یا ہم اپنا منہ بند ہی رکھیں . تو آگے سے حنا کا جواب آیا ابھی تو شروعات ہے آگے آگے دیکھیں شاید کچھ آپ کو فائدہ ہو ہی جائے امید پے دنیا قائم ہے. میں حنا کا جواب سن کر خوش ہو گیا اور مجھے سمجھ لگ گئی تھی کے یہ لڑکی لمبے عرصے تک ساتھ چلنے والی ہے . پِھر حنا کا ایس ایم ایس آیا کے ابھی جب تک میں یہاں لاہور اپنے گھر پے ہوں آپ مجھے کال نہ کریں اور نہ ہی خود ایس ایم ایس کریں میں خود آپ سے رابطہ کروں گی میں جب واپس ڈیوٹی پے جاؤں گی تو آپ کو کال کر کے بتا دوں گی پِھر کال پے ہی گپ شپ لگا لیا کریں گے. میں نے حنا کو کہا حنا جی آپ کا حکم سر آنکھوں پے آپ جیسا کہیں گی ویسا ہی ہو گا. پِھر حنا کی طرف سے آخری ایس ایم ایس آیا ابھی مجھے کچھ گھر کا کام ہے میں پِھر ٹائم نکال کر بات کروں گی 

یا واپس راولپنڈی جا کر ہی لمبی بات کریں گے . میں نے بھی جواب میں او کے لکھ کر ساتھ میں کسسنگ والے سمائلی اِموشن بھیج دیئے. پِھر میں وہاں بیٹھ کر کافی دیر تک حنا کے بارے میں سوچتا رہا اور کئی پلان بناتا رہا مجھے پتہ ہی نہیں چلا شام کے 5 بجنے والے تھے چچا کے آنے کا ٹائم ہو گیا تھا. پِھر وہ باقی کا دن بھی گزر گیا اور اگلا دن جمعرات تھی میرا یہاں آخری دن تھا لیکن یادگار دن تھا . کیونکہ آج کے دن ہی میں نے نورین کو اور چچی کو اکٹھا چود نا تھا. میں ناشتہ کر کے کچھ دیر تک ٹی وی دیکھتا رہا اور پِھر تقریباً 10بجے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا وہاں میں نے زیتون کے تیل سے 1 گھنٹہ لگا کر لن کی مالش کی اور پِھر اٹھ کر باہر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا جب میں نہا کر باہر نکلا تو دیکھا نورین آئی ہوئی تھی اور چچی کے کمرے میں ہی بیٹھی تھی آج اس نے کالے رنگ کا لان کا سوٹ پہنا تھا وہ اس میں قیامت لگ رہی تھی. چچی نے مجھے باتھ روم سے باہر نکلتے دیکھا اور اشارہ کیا کے میں ان کے کمرے میں بیٹھوںوہ کچن کا کام ختم کر کے آتی ہیں . میں پہلے اپنے کمرے میں گیا وہاں سے بس ٹر او زَر اور اوپر بنیان پہنی اور پِھر کمرے سے نکل کر چچی کے کمرے میں چلا گیا نورین بیڈ پے لیٹی ہوئی تھی مجھے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئی. میں نے نورین کو کہا اٹھ کیوں گئی ہو لیٹی رہو اور آنکھ مار کر بولا آج تو سارا لیٹ کر ہی کام ہونا ہے . وہ میری بات سن کر شرما گئی اور اپنا منہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا . پِھر میں بھی جا کر بیڈ پے اس کے ساتھ لیٹ گیا اور اس کو بھی لیٹا لیا . اور اس کا منہ اپنی طرف کر کے اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے لیے اور ان کو سک کرنے لگا. ہم دونوں ابھی کسسنگ ہی کر رہے تھے تو چچی بھی آ گیں اور بولی صبر کرو یار مجھے بھی تو ساتھ میں شامل کرو اور پِھر چچی نے اپنے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دیا کھڑکی بھی بند کر کے پردہ بھی آگے کر دیا . پِھر بیڈ پے آ گئی . اور اب چچی میرے ایک طرف اور نورین میرے دوسرے طرف لیٹی ہوئی تھیں پہلے میں نے نورین کو کس کرتا رہا اور چچی مجھے میری گردن پے اور میرے کان پے کس کر رہی تھی اور ساتھ میں ہی نیچے سے ٹر او زَر کے اندر ہاتھ ڈال کر میرے لن کو بھی آہستہ آہستہ سہلا رہی تھی پِھر کچھ دیر بعد میں نے نورین کو چھوڑ کر چچی کو کس کرنے لگا چچی نورین کے مقابلے میں تھوڑا زیادہ تجربہ رکھتی تھی اِس لیے ان کی سکنگ اور کسسنگ کافی جاندار تھی جب میں چچی کے ساتھ کس کر رہا تھا تو نورین میرے گالوں پے پر میری گردن پے کسسنگ کر رہی تھی چچی نے اپنے ہاتھ میرے ٹر او زَر سے نکالا اور نورین کر ہاتھ پکڑ کر میرے ٹر او زَر میں گسادیا اور میرے لن اس کے ہاتھ میں دیا نورین کا ہاتھ لگتے ہی مجھے عجیب سا مزہ ملا نورین کا جسم کافی نرم تھا اس کے ہاتھ بھی کافی سوفٹ اور نرم تھے. میں اِس طرح ہی کافی دیر تک چچی کے ساتھ مزہ کرتا رہا پِھر چچی اٹھ کر بیٹھ گئی

اور نورین سے بولی نورین چلو اپنے کپڑے اُتار دو اور خود بھی کپڑے اُتار نے لگی میں نے بھی ان کے دیکھا دیکھی اپنے کپڑے اُتار دیئے اور چند لمحوں بعد ہی میں نورین اور چچی پورے ننگے ہو گئے تھے چچی نے بھی تازہ تازہ شیو کی تھی ان کی پھدی بھی چمک رہی تھی . اور نورین کی تو پھدی ہے ہی بڑی سوفٹ تھی اور اس کا منہ بھی چھوٹا سا تھا . پِھر چچی نے کہا کا شی نورین نیچے لیٹ جائے گی تم اِس کی ٹانگوں میں لیٹ کر اِس کی پھدی کو مزہ دو میں نورین کے منہ میں اپنی پھدی رکھ کر مزہ لیتی ہوں . ویسے بھی نورین کہتی ہے میں نے کا شی سے ہی اپنی پھدی چسوا نی ہے. میں نے کہا کیوں نہیں چچی جان نورین کا حکم ہے تو ضرور کروں گا . اور پِھر نورین اپنی ٹانگوں کو کھول کر لیٹ گئی اور میں بھی اس کی ٹانگوں میں منہ کے بل لیٹ گیا اور اس کو پھدی سے لے کر بُنڈ کے سوراخ تک پہلے کس کرتا رہا پِھر آہستہ آہستہ اپنی زُبان سے اس کو چاٹنے لگا. جب میں نے پہلی دفعہ اپنی زُبان نورین کی پھدی سے لے کر بُنڈ کی موری تک پھیری تو اس کے جسم نے ایک جھٹکا کھایا اور اس کے پورا جسم آہستہ آہستہ کانپنے لگا. اور دوسری طرف چچی اپنے اپنی دونوں ٹانگیں پھیلا کر نورین کے منہ پر گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی تھی اور نیچے سے نورین اپنی زُبان سے چچی کی پھدی چاٹ رہی تھی. چچی کے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکل رہیں تھیں . پِھر میں نے یہاں نورین کی پھدی پے اپنی رفتار تھوڑی تیر کر دی تھی اور اس کو پھدی اور بُنڈ کی موری کو اچھی طرح سک کر رہا تھا . یہ سلسلہ کوئی 5 سے 7 منٹ تک چلتا رہا میں نے اب نورین کو اور مزہ دینے کا سوچا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے اس کی پھدی کو کھولا پِھر اپنی زُبان کو آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا میری اِس حرکت سے اب نورین کا جسم اور زیادہ کانپنے لگا تھا لیکن میں نے اپنا کام جاری رکھا اور پِھر کوئی 5 منٹ بعد ہی میں نے اپنی رفتار تیز کر دی اور اپنی زُبان کو اندر باہر کر کے نورین کی پھدی کو زُبان سے ہی چودنے لگا اب نورین بھی جوش میں آ گئی تھی

 

اور وہ اپنی بُنڈ نیچے سے اٹھا اٹھا کر زُبان اندر لینے لگی اور دوسری طرف چچی کی منہ سے سیکسی سیکسی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہیں تھیں اب وہ کہہ رہی تھی ہا اے نی نورین آج اپنی پا بھی دی پھدی نوں کچہ کھا جا نی . اور اونچی اونچی آہ آہ اوہ اوہ آہ کی آوازیں نکال رہی تھی آوازیں تو شاید نورین کی بھی میری زُبان کی چدائی کی وجہ سے نکل رہی تھیں لیکن نورین کے منہ پے چچی کی پھدی ہونے کی وجہ سے آواز زیادہ نہیں نکل رہی تھی. پِھر میں نے بھی اپنی سپیڈ تیز کر دی اور زُبان کو پھدی کے اندر باہر کرنے لگا کچھ دیر بعد مجھے نورین کا جسم اکڑتا ہوا محسوس ہوا میں سمجھ گیا اب نورین اپنی پیک پے ہے وہ اب چند ہی لمحوں میں اپنا پانی چھوڑ دے گی اور وہ ہی ہوا اگلے 2 منٹ میں دونوں نورین نے اور چچی نے ایک ساتھ اپنا پانی چھوڑا دیا چچی اور نورین دونوں بیڈ پے گر گیں تھیں اور دونوں ہانپ رہیں تھیں. پِھر میں وہاں سے اٹھا اور سیدھا باتھ روم میں گھس گیا اور اپنا منہ دھویا اور کلی کی اور پِھر دوبارہ آ کر بیڈ پے لیٹ گیا . کچھ دیر بعد چچی اور نورین کی سانسیں بَحال ہو چکی تھیں . پِھر چچی نے کہا کا شی کیسا لگا مزہ آیا کے نہیں . میں نے کہا چچی جی مجھے تو بہت مزہ آیا ہے اب بس اپنے لن کو آپ دونوں کا مزہ کروانا ہے اِس دفعہ نورین نے میرا لن ہاتھ میں پکڑ کر بولی کا شی جی اِس کا بھی بندوبست کر دیتے ہیں آپ فکر کیوں کرتے ہیں . میں نے نورین کو فرینچ کس کی ہنسنے لگا . پِھر ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے . پِھر میں نے پوچھا چچی جی اب آگے کا کیا موڈ ہے تو چچی نے کہا تم بتاؤ آج تمہاری مرضی چلے گی . میں نے نورین کی طرف دیکھا اور پوچھا نورین تم کیا کہتی ہو تو نورین نے کہا آپ جو کہیں گے مجھے منظور ہو گا . میں نے کہا چچی بات یہ ہے کے نورین تو گانڈ میں لے گی نہیں اِس لیے میرا دِل ہے پہلے نورین کی پھدی مار لی جائے پِھر بعد میں دوسرا رائونڈ آپ کے ساتھ آپ کی گانڈ میں لگا لیں گے آپ کیا کہتی ہیں. چچی اور نورین دونوں بولی ہمیں منظور ہے . میں نے پِھر نورین کو کہا نورین پِھر سیدھا لیٹ کر اپنی تھوڑی ٹانگیں کھول لو


نورین نے ایسے ہی کیا اور لیٹ گئی میں اس کی ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گیا اس کو دونوں ٹانگوں کو اپنے کندھوں پے رکھ چچی دوسری طرف آ کر لیٹ گئی اور اپنی سائڈ نورین کی طرف کر لی پِھر میرا لن ہاتھ میں پکڑ کر نورین کی پھدی پے سیٹ کیا اور مجھے بولا کا شی آرام سے کرنا یہ میری شہزادی ہے اِس کو درد نہیں ہونا چاہیے. میں نے کہا چچی جی آپ بے فکر ہو جائیں نورین میری جان ہے میں آرام سے ہی کروں گا . اور پِھر چچی نے لن کو موری پے سیٹ کروایا اور بولی ٹوپی کو آہستہ آہستہ اندر کرو میں نے اپنے لن کو حرکت دی اور ہلکا سا پُش کیا میری آدھی ٹوپی نورین کی پھدی میں چلی گئی جس کو نورین آرام سے برداشت کر گئی . پِھر میں نے دوسری دفعہ پِھر زور لگایا اور پُش کیا اِس دفعہ پوری ٹوپی رنگ تک پھدی میں چلی گئی . اور نورین کے منہ سے ہلکی سی آہ نکل گئی . چچی فوراً بولی کا شی آرام سے کرو میری شہزادی کو درد ہو رہا ہے . میں نے کہا جی چچی جان .نورین کی آنکھیں بند تھیں . پِھر میں تھوڑی دیر کے لیے رک گیا چچی نے آگے ہو کر میرا لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور شاید وہ ناپ رہی تھی پِھر میری آنکھوں میں دیکھا اور مجھے مسکرا کر اشارہ کیا کے باقی کا لن ایک ہی جھٹکے میں اندر کر دو . میں چچی کی طرف حیران ہو کر دیکھا لیکن چچی نے کہا جانے دو . میں نے بھی جوش میں آ کر ایک زوردار جھٹکا مارا اور اپنا پورا کا پورا لن نورین کی پھدی میں جڑ تک اُتار دیا پِھر نورین کے منہ سے اونچی سی آواز نکلی ہا اے ثمینہ باجی میں میں مر گئی. چچی نے فوراً اپنا منہ نورین کے منہ پے رکھ دیا اور اس کو پیار سے کس کرنے لگی اور کہنے لگی کچھ نہیں ہوا نورین میری جان مزہ لینے کے لیے اتنا دردتو سہنا پڑتا ہے . پِھر کچھ دیر بعد نورین کو راحت محسوس ہوئی اس نے آنکھیں کھولیں اور چچی کو کہا باجی آپ بڑی ظالم ہیں جب آپ کا شی کو اشارہ کر رہیں تھیں میں نے دیکھ لیا تھا . چچی ہنسنے لگی اور بولی میری بنو جب تک درد نہ ہو تو مزہ نہیں ملتا . اب جو ہونا تھا ہو گیا اب مزہ ہی مزہ ہے . پِھر چچی نے اپنا ایک ممہ پکڑ کر اس کی نپل نورین کے منہ میں دے دی اور مجھے کہا کا شی بیٹا اب تم اپنا کام شروع کرو. میں نے پِھر آہستہ آہستہ اپنا لن نورین کی پھدی میں اندر باہر کرنے لگا جب میرا لن رواں ہو گیا تو میں نے اپنی سپیڈ تھوڑی تیز کر دی آب شاید نورین کو بھی مزہ آ رہا تھا وہ بھی اپنے منہ سے سیکسی سیکسی آوازیں نکال رہی تھی 

 


میں اس کو 5 سے 7 منٹ تک چودتا رہا . پِھر میں نے اپنے آخری ایکشن کا سوچا اور اپنی سپیڈ کو مزید تیز کر دیا جس سے نورین کو بھی جوش مل گیا تھا وہ بھی نیچے سے بُنڈ اٹھا اٹھا کر لن اندر کروا رہی تھی . پِھر میں نے نورین کی ٹانگوں کو نیچے رکھا اور آگے کو جھک کر اپنے طوفانی جھٹکے لگانے لگا نورین نے اب اپنی ٹانگیں میری کمر کے پیچھے کر کے مجھے جڑ. لیا تھا اور وہ بھی بُنڈ فل ہوا میں اٹھا کا ساتھ دے تھی . میرے 3 سے 4 منٹ کے جھٹکوں نے نورین کی پھدی کو ڈھیلا کر دیا تھا اِس لیے اس نے اپنی منی کا فوارہ اندر چھوڑ دیا تھا جو كے مجھے اپنے لن پے بھی محسوس ہو رہا تھا . مجھ سے اب اور زیادہ برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا میں نے کوئی 2 منٹ ہی اور جھٹکے لگا کر میں بھی نورین کی پھدی کے اندر ہی فارغ ہو گیا اور اس کے اوپر ہی منہ کے بل گر گیا اور ہانپنے لگا. پِھر کچھ دیر بعد میں اٹھ کر نورین کے ساتھ بیڈ پے لیٹ گیا . کافی دیر بعد چچی نے نورین کو پوچھا سناؤ میری بنو کیسا لگا مزہ آیا کے نہیں . تو تھوڑی بعد نورین بولی باجی مزہ تو آتا ہی کا شی سے ہے . عرفان بھائی كے لن میں وہ بات نہیں ہے جو کا شی میں ہے . چچی نے کہا ہاں میری بنو یہ بات تو ہے لیکن یہ بھی دیکھو کا شی اور عرفان بھائی کی عمر میں کتنا فرق ہے کا شی ابھی جوان ہے تازہ خون ہے . عرفان بھائی اِس عمر میں اب کا شی کا مقابلہ تو نہیں کر سکتے . لیکن یہ بھی تو سوچو جب کا شی چلا جائے گا تو نہ ہونے سے بہتر ہے عرفان بھائی سے اپنا ٹائم پاس کر سکتے ہیں . تو نورین بولی جی باجی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں . پِھر چچی شلوار قمیض پہن کر باہر جانے لگی تو نورین نے پوچھا باجی آپ کہاں جا رہی ہیں تو چچی نے کہا میں کچن سے کچھ طاقت والی چیز لے کر آتی ہوں میری بنو اور میرا بھتیجا تھک گئے ہوں گے . نورین چچی کی بات سن کر خوش ہو گئی. پِھر تھوڑی دیر بعد چچی 2 گلاس میں دودھ ڈال کر لے آئی دودھ میں چچی نے چھو ارے پیس کر ڈالے ہوئے تھے

میں نے اور نورین نے دودھ پی لیا دودھ پی کر مجھے کافی اچھا محسوس ہو رہا تھا توانائی بَحال ہو گئی تھی. پِھر میں اور نورین اور چچی کافی دیر تک آپس میں باتیں کرتے رہے چچی نے گھڑی پے ٹائم دیکھا تو 1 بجنے والا تھا چچی نے کہا کا شی کیا موڈ ہے آخری رائونڈ لگا لیں پِھر نورین کو بھی گھر جانا ہے اور بچے بھی آ جائیں گے . میں نے کہا ٹھیک ہے چچی جان تھوڑا ساتھ دو اور لن کو تیار کرو تا کہ وہ آپ کی خدمت کر سکے . تو نورین فوراً بولی باجی میں تیار کر دوں . تو چچی نے کہا چلو میری بنو کر دو پِھر نورین نے میرے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور پہلے اس کو ہاتھ سے کچھ دیر سہلایا جب لن نیم حالت میں ہو گیا تو پِھر نورین نے اس کو منہ میں لے لیا اور اس کے چو پے لگانے لگی نورین کی زُبان میرے لن پے عجیب ہی مزہ چھوڑ رہی تھی ، نورین نے 5 منٹ کے اندر ہی میرے لن میں فل جان ڈال دی اور میرے لن لوہے کی راڈ کی طرح کھڑا ہو گیا. میں نے چچی کو کہا چچی جان آپ بیڈ سے اُتَر کر نیچے کھڑی ہو جائیں اور اپنی ایک ٹانگ آگے کر کے بیڈ پے رکھ لیں اور دوسری ٹانگ زمین پے ہی رہنے دیں اور گھوڑی سٹائل میں جھک جائیں میں پیچھے سے کھڑا ہو کر لن ڈالوں گا. چچی نے میری بتائی ہوئی پوزیشن بنا لی میں بیڈ سے اٹھ کر نیچے کھڑا ہو گیا اب چچی کی گانڈ کی موری بالکل میرے لن کے سامنے تھی میں نے اپنا لن ان کی موری پے فٹ کیا تو نورین میرے ساتھ آ کر کھڑی ہو گئی میرے لن کو پکڑ کر بولی کا شی جی آرام سے کرنا میری دفعہ بھی آپ نے بہت ظلم کیا تھا یہ بُنڈ کی موری ہے اِس میں دردہوتا ہے باجی کو تکلیف ہو گی . میں نے کہا نورین جانی بے فکر رہو مجھے پتہ ہے یہ بُنڈ کی موری ہے . میں نے لن کو موری پے فٹ کر کے ہلکا سا جھٹکا مارا تو میری ٹوپی چچی کی بُنڈ میں آدھی اندر چلی گئی . لیکن چچی نے کوئی خاص ری ایکشن نہیں دیا تھا . مجھے پتہ تھا چچی کافی دفعہ کروا چکی ہیں ان کو خاص فرق نئی پڑ ے گا . پِھر میں نے اِس دفعہ تھوڑا زور کا جھٹکا مارا میری پوری ٹوپی اندر موری میں گھس گئی چچی کا جسم نیچے سے تھوڑا کسمسا گیا. مجھے پتہ تھا میرے لن کی ٹوپی تھوڑی زیادہ بڑی ہے اِس لیے چچی کی اب کافی محسوس ہوئی ہے . پِھر میں وہاں ہی رک گیا اور تھوڑی دیر انتظار کرنے لگا پِھر چند لمحوں بعد میں نے ایک زور کا جھٹکا مارا اور اپنا پورا لن چچی کی گانڈ میں اُتار دیا چچی کو میرا یہ جھٹکا کافی محسوس ہوا وہ اِس جھٹکے سے آگے کو مزید جھک گئی اور منہ سے آواز نکلی ہا اے. نورین یہ دیکھ کر فوراً بولی کا شی جی آپ کتنے ظالم ہیں میری باجی کو کتنی تکلیف دے رہے ہیں . میں نے کہا نورین جان یہ تکلیف تو تم نے بھی سہی ہے اس ٹائم تو چچی نے ہی کہا تھا کے پورا اندر ڈال دو

 

تو نورین بولی میری بات اور ہے لیکن ثمینہ باجی کو تو آپ بہت تکلیف دے رہے ہیں . پِھر کچھ دیر بعد چچی کو جب کچھ راحت محسوس ہوئی تو انہوں نے کہا نورین میری بنو یہ مزہ ایسا ہے کے اِس میں درد نہ ہو تو مزہ نہیں آتا اِس لیے تم میری فکر نہیں کرو اور مجھ سے کہا کا شی بیٹا تم اب اندر باہر کرو . میں نے آہستہ آہستہ اپنے لن کو اندر باہر باہر کرنا شروع کر دیا کوئی 2 سے 3 منٹ کے اندر ہی میرے لن کافی حد تک رواں ہو چکا تھا میں نے اب اپنی سپیڈ تھوڑی تیز کر دی تھی اور اب چچی بھی آگے پیچھے ہو کر ساتھ دے رہی تھی چچی کے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکل رہی تھیں آہ آہ اوہ آہ اوہ آہ اوہ. میں اِس پوزیشن میں چچی کو لگاتار 7 سے 8 منٹ تک چودتا رہا میں خود اب تھوڑا تھک چکا تھا میں نے چچی کو کہا چچی جان آپ بیڈ پے گھوڑی بن جاؤ میں اب وہاں آپ کو چودتا ہوں . چچی بھی شاید اِس پوزیشن میں تھک چکی تھی اِس لیے وہ فوراً بیڈ کے اوپر جا کر گھوڑی بن گئی میں نے پیچھے جا کر کھڑا ہو کر تھوڑا جھک کر لن دوبارہ اندر ڈال دیا اِس دفعہ میں نے 2 سے 3 جھٹکوں میں لن اندر کیا اور پِھر میں نے کچھ دیر آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کیا پِھر اپنی سپیڈ تیز کر دی اِس پوزیشن میں لن اندر گہرائی تک جا کر محسوس ہوتا ہے عورت کو مزہ بھی اور تکلیف بھی ہوتی ہے . میں جھٹکے پے جھٹکے لگا رہا تھا . اور ہمارے جسم آپس میں ٹکرانے کی وجہ سےدھپ دھپ کی آوازیں کمرے میں گونج رہیں تھیں اور چچی بھی اونچی آواز میں آہ آہ اوہ آہ اوہ آہ کر رہی تھی . نورین پاس میں بیٹھی لن کو اندر باہر ہوتے ہوئے بڑے ہی غورسے دیکھ رہی تھی . پِھر میں نے اپنا لن چچی کی پھدی سے نکالا اور نورین کو بولا نورین جانی اِس کو اپنے منہ میں لے کر تھوڑا گیلا کرو پِھر تمہاری باجی کو درد شاید کم ہو گا . اس نے پہلے اپنی پاس رکھی قمیض سے میرے لن کو صاف کیا اور پِھر اپنے منہ میں لے کر چوپا لگانے لگی 2 منٹ بَعْد میرا لن کافی گیلا ہو چکا تھا نورین نے اپنے منہ کا کافی تھوک بھی میرے لن پے مل دیا تھا . میں نے دوبارہ لن چچی کی پھدی میں گسا دیا اور جھٹکے مارے لگا اِس دفعہ نورین نے نیچے سے ہاتھ ڈال کر اپنی دو انگلیاں چچی کی پھدی میں گسا دیں اور اندر باہر کرنے لگی اب چچی کو دونوں طرف سے مزہ مل رہا تھا. میں نے بھی اوپر سے اپنے جھٹکے مزید تیز کر دیئے تھے چچی کے منہ سے غوں غوں کی آوازیں نکل رہی تھیں

مجھے اِس پوزیشن میں چچی کی گانڈ مارتے ہوئے 5 سے 7 منٹ ہو گئے تھے مجھے اب اپنی ٹانگوں میں تھکن صاف محسوس ہو رہی تھی . مجھے پتہ تھا اب میں اپنا پانی چھوڑ دوں گا اِس لیے میں نے اپنے آخری طاقت سے جھٹکے لگانے لگا اور کوئی مزید 2 سے 3 منٹ کے اندر ہی میرے لن نے منی کا لاوا چچی کی بُنڈ کے اندر ہی چھوڑ دیا تھا اور شاید چچی بھی نیچے سے نورین کی انگللیوں کی وجہ سے اپنا پانی چھوڑ چکی تھی . چچی ویسے ہی منہ کے بل لیٹ گئی اور میں بھی ان کے اوپر منہ کے بل لیٹ گیا میرا لن ابھی تک چچی کی بُنڈ کے اندر تھا . جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تومیں نے اپنا لن باہر نکال کر چچی کے پہلو میں ہی لیٹ گیا . پِھر میں اور چچی کافی دیر تک ایسے ہی لیٹے رہے . کوئی 10منٹ بعد جب ہماری سانسیں بَحال ہوئیں تو چچی نے کہا واہ کا شی میری جان آج تو چس آ گئی ہے . بُنڈ میں لن تھا اور نیچے سے نورین کی انگلیاں تھیں یقین کرو مزہ آ گیا ہے پِھر چچی نے گھڑی پے ٹائم دیکھ کر کہا کا شی 1.40ہو گئے ہیں نورین کو بھی گھر سے آئے ہوئے بہت ٹائم ہو گیا ہے بچے بھی آنے والے ہیں میں نے روٹی بھی بنانی ہے . اب ہم کو اٹھنا چاہیے پِھر میں نے اور نورین نے اور چچی نے اپنے اپنے کپڑے پہن لیے اور چچی اور نورین نے کمرے کی حالت بھی ٹھیک کر دی پِھر میں نے دروازہ کھول دیا نورین بولی باجی میں جا رہی ہوں . وہ جب جانے لگی تو میں نے اس کو آخری لمبی سی فرینچ کس دی اور پِھر وہ اپنے گھر چلی گئی اور میں وہاں سے سیدھا باتھ روم میں نہانے کے لیے گھس گیا اور چچی کچن میں چلی گئی . پِھر باقی کا دن بھی گزر گیا رات کو چچا سے کافی دیر باتیں ہوتی رہیں دادی کے ساتھ بھی کچھ ٹائم گزارا پِھر سب سو گئے . لیکن رات کے تقریباً 2 بجے مجھے چچی نے آرام سے اٹھا دیا اور چھت پے ہی بنے ہوئے کمرے میں بلا کر لے گئی وہاں پے میں نے چچی کو 1 دفعہ مزید چودا لیکن اِس دفعہ چچی کی پھدی کو بجایا اور اپنا اور چچی کا ایک دفعہ پانی نکلوایا. پِھر میں اور چچی سو گئے صبح میں اپنے ٹائم پے ہی اٹھ گیا کیونکہ مجھے آج واپس جانا تھا میں نیچے جا کر نہا دھو کر سب کے ساتھ ناشتہ کیا اور پِھر چچا اور بچے مجھ سے مل کر چلے گئے میں نے 9 بجے گاڑی میں بیٹھنا تھا 

 

پِھر میں نے آخری دفعہ چچی کو کچن میں پکڑ کر 2 سے 3 دفعہ لمبی فرینچ کس کی اور پِھر دادی کے کمرے میں جا کر ان کو سلام دعا کر کے گھر سے نکل آیا اور باہر آ کر رکشہ لیا اور شیخوپورہ آ گیا اور 9 بجے اسلام آباد والی گاڑی میں بیٹھ گیا اپنے گھر اسلام آباد واپس آ گیا .


دوستو آج میری کہانی کا پہلا حصہ ختم ہو گیا ہے اب میں اپنی کہانی کے اگلے حصے کو جلد لکھنا شروع کروں گا . . . اور آپ سب کے لیے پِھر دوبارہ اگلے حصے کے ساتھ حاضر ہوں گا . . . لیکن آپ لوگوں کی پذیرائی دیکھ کر ہی اگلاحصہ آپ کی خدمت میں پیش کروں گا . . . اگر آپ کو میری کہانی کا پہلا حصہ پسند نہیں آیا ہو گا تو شاید میں پِھر دوبارہ دوسرا حصہ نہ لکھ سکوں …………کہانی کے بارے میں آپ کی قیمتی آرا کا منتظر رہوں گا . . . . . . شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

جب میں اسلام آباد اپنے گھر واپس آ گیا میرا دِل ہی نہیں لگ رہا تھا . کیونکہ مجھے شیخوپورہ میں گزارے ہوئے دن اور نورین عشرت آنٹی ثمینہ چچی سائمہ آنٹی اور بلال والی آنٹی سب یاد آ رہے تھے . لیکن میں کیا کر سکتا تھا مجھے واپس بھی آنا تھا اور آ کر اپنی اگلی پڑھائی کا کچھ کرنا تھا . خیر میں نے مہوش اور آسمہ آنٹی سے پہلے فوزیہ آنٹی اور حنا کے معاملے کو پہلے سیٹ کرنا ہے . میں نے حنا کے ساتھ ملنے کا پلان بنانے لگا . مجھے آئے ہوئے 4 دن ہو گئے تھے آج منگل تھا میں سوچا حنا لاہور سے واپس آ چکی ہو گی اور وہ پنڈی میں اپنی ڈیوٹی پے آ چکی ہو گی . میں صبح کے ٹائم یونیورسٹی کے لیے نکل گیا میں نے 3 یونیورسٹی کی انفارمیشن اکٹھی کر چکا تھا ٹائم دیکھا تو 1 بجنے والا تھا میں سیدھا گھر آ گیا اور آ کر نہا دھو کر كھانا کھایا اور اپنے بیڈروم میں گیا اور تقریباً 3 بجے کے وقعت میں نے اپنے نمبر سے حنا کا ایس ایم ایس کیا کے کیا حال ہے کیسی ہو راولپنڈی چلی گئی ہو . میں ایس ایم ایس بھیج کر جواب کا انتظار کرنے لگا . لیکن کوئی جواب نہیں آیا . میں نے اپنا لیپ ٹاپ لگا لیا اور کچھ سائیٹس دیکھنے لگا . کوئی 20 منٹ بَعْد مجھے ایس ایم ایس آیا میں دیکھا وہ حنا کا ہی تھا اس نے جواب دیا میں ٹھیک ہوں میں راولپنڈی میں ہوں ڈیوٹی پے ہی ہوں تم سناؤ کیسے ہو آج کیسے یاد کر لیا . میں نے جواب دیا آپ کوئی بھولنے والی چیز ہیں . آپ تو ہمیشہ دِل میں ہیں . وہ الگ بات ہے آپ ہی بھول جاتی ہیں . آپ نے کہا تھا میں راولپنڈی جا کر رابطہ کروں گی لیکن آپ نے نہیں کیا میں کل آپ کی کال یا ایس ایم ایس کا انتظار کرتا رہا تھا . آج خود کر دیا . تو آگے سے حنا کا جواب آیا سوری ڈیئر میں کل آ کر کافی مصروف تھی کل شام تک 2 آپْریشَن تھے اس کے لیے مصروف تھی ٹائم ہی نہیں ملا . پِھر میں نے حنا کے ساتھ کچھ یہاں وہاں کی باتیں کرتا رہا باتوں باتوں میں نے اس کے اسپتال کا نام اور کس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتی ہے کا پوچھ لیا . وہ اسپتال زیادہ دور نہیں تھا . خیر کچھ دیر گپ شپ لگاکر بائے بول دیا اِس طرح ہی میں نے اس سے جمه تک 2 اور مرتبہ ایس ایم ایس پے گپ شپ لگائی . لیکن میں نے اس کو اپنےبارے میں نہیں بتایا کے میں اسلام آباد میں رہتا ہوں . میں اصل میں اس کو سرپرائز دینا چاہتا تھا . اِس لیے ہفتے والے دن شیو وغیرہ کی پینٹ شرٹ پہنی اور موٹر بائیک نکالی اور پنڈی کی طرف نکل آیا . اور پِھر میں حنا کےبتا ے ہوئے اسپتال پہنچ گیا . موٹر بائیک کو پارکنگ میں کھڑا کر کے میں اسپتال کے اندر چلا گیا حنا گا  ئِینی ڈیپارٹمنٹ میں ڈیوٹی دیتی تھی . میں نے رسپشن سے حنا کے ڈیپارٹمنٹ کا پتہ کیا اس نے مجھے رستہ بتا دیا میں تلاش کرتا ہوا حنا کے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے کھڑا ہو گیا میرے دِل دھک دھک کر رہا تھا کیوں مجھے یہ ڈر تھا کہیں حنا برا نا مانجائے . لیکن میں نے پِھر ہمت کی اورگیٹ کھول کر اندر چلا گیا اندر داخل ہوا تو دیکھا باہر ویٹنگ میں کافی اور خواتین مریض بیٹھی تھیں. . ان میں زیادہ تر پریگننٹ خواتین تھیں . میں نے یہاں وہاں دیکھا مجھے ایک سائڈ پے رسپشن نظر آیا . میں چلتا ہوا وہاں گیا وہاں ایک لڑکی منہ نیچے کر کے پیپرز پے کچھ لکھ رہی تھی . میں قریب پہنچ کر اس لڑکی سے بولی مجھے حنا سے ملنا ہے . جب اس لڑکی نے سر اٹھایا تو میں حیران رہ گیا وہ حنا تھی منہ نیچے کر بیٹھی کچھ لکھ رہی تھی . اس نے مجھے دیکھا وہ حیران ہو کر ہکا بقا رہ گئی اور حیرت سے میرا منہ دیکھتی رہ گئی . اور پِھر بولی کا شی آپ یہاں کب اور کیسے آئے ہیں . میں نے کہا دیکھ لیں دِل میں چاہت ہو تو بندہ کہیں بھی ہو آ ہی جاتا ہے . بس میں ب بھی آ گیا ہوں . وہ میری بات سن کر مسکرائی . اتنی دیر میں ایک اور نرس آئی وہ بھی کیا کمال کا چیز تھی ایک دم ٹائیٹ مال تھی یا 32 سال کی ایک گوری چیھ اور ایک دم سیکسی آنٹی ٹائپ تھی . ممے بھی کافی اچھے تھے اس کے بھرا ہوا جسم تھا اس کا . میں نے اس کی شرٹ پے لگے بیچ پر نام پڑھ تو شازیہ لکھا ہوا تھا . ابھی میں اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا تو حنا بولی شازیہ تم تھوڑا یہاں دیکھو میں ابھی آتی ہوں میرامہمان آیا ہے . میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں . اور مجھے کہا کا شی آؤ باہر چلتےہیں . حنا رسپشن سے نکل کر آگے آگے چل پڑی میں اس کے پیچھے چل پڑا میں نے گیٹ کے قریب پہنچ کر مڑ کر دیکھا شازیہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی میں نے شرارتی سی سمائل پاس کی تو وہ بھی مجھے دیکھ کر مسکرا پڑی اور پِھر منہ نیچے کر لیا . میں پِھر وہاں سے حنا کے ساتھ کیفیٹیریا میں آ گئے حنا نے کچھ آرڈر کیا اور میں اور وہ جہاں اسٹاف کے لوگ بیٹھتے تھے وہاں آ کر بیٹھ گئے . پِھر حنا بولی کا شی تم یہاں کیسے اور کب آئے ہو تو میں نے آنکھ مار کے کہا حنا جی ابھی موٹر بائیک پے آدھا گھنٹہ پہلے آیا ہوں. تو میری بات سن کر حیران ہو ہوئی اور بولی میں سمجھی نہیں تم کیا کہہ رہے ہو . میں نے کہا حنا جی میں نے آپ کو سرپرائز دینا تھا اِس لیے آپ سے چھپا کر رکھا اصل میں میں اسلام آباد میں رہتا ہوں اور پِھر میں نے حنا کو اپنی ساری اسٹوری سنا دی . وہ کافی حیران بھی ہوئی اور خوش بھی ہوئی . میں نے کہا حنا جی اب تو ہم آپ کے دِل کے بہت قریب ہیں اب تو ملنے کا موقع دے ہی دیا کریں گی . تو وہ میری بات پے مسکرا نے لگی اور بولی ابھی بھی تو ملنے ہی آئے ہو . میں نے کہا ہاں یہ تو ہے ، ویسے آپ کو چھٹی کب ہوتی ہے . تو حنا نے کہا میری لگاتار ڈیوٹی ہوتی ہے میں مہینے کے آخر پے لے کر گھر چلی جاتی ہوں . میں نے کہا آپ یہاں کہا ںرہتی ہیں تو حنا نے کہا میرے اسپتال کے بالکل آخر پے اسپتال کا ہاسٹل ہے وہاں ہی رہتی ہوں . میں نے کہا حنا جی آپ کی ڈیوٹی ٹائم یہ ہی ہے تو وہ بولی 3 دن ڈے میں ہوتی ہے 3 دن نائٹ میں . جب نائٹ میں ہوتی ہے تو دن کو ہاسٹل میں سارا دن سوئی رہتی ہوں . جب دن کو ہوتی ہے تو رات کو سوئی رہتی ہوں .   میں نے آنکھ مار کر کہا چپلیں اچھی بات ہے جب نائٹ کی ڈیوٹی ہو گی تو دن کو کبھی کبھی ہمیں بھی اپنی خدمت کا موقع تو دیا کریں گی نہ تو حنا میری بات سن کر شرما گئی اور منہ نیچے کر لیا . پِھر کچھ دیر بَعْد ویٹر چائے اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے آیا . ہم وہ بھی کھاتے پیتے رہے اور یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے . پِھر میں مزید کچھ دیر گپ شپ لگا کر واپس گھر آ گیا . اب میری حنا سے تقریباً ہر روز بات ہونے لگی اور درمیان میں میں جب وہ کہتی تو اس کو اسپتال میں مل آتا تھا . میں نے اس کے ساتھ کھلا مذاق شروع کر دیا تھا . سیکس کے موضوع پے بھی بات ہونے لگی لیکن میں نے ابھی تک اس کے ساتھ کچھ کرنے کا نہیں کہا تھا . ایک دن میں اس کے ساتھ رات کو ایس ایم ایس پے بات کر رہا تھا تو میں نے پوچھا حنا ایک بات سچ سچ بتاؤ گی تو وہ بولی ہاں پوچھ لو میں کوشش کروں گی . میں نے کہا حنا تم نے کہا تھا کے تم ابھی کنواری ہو اور کسی کے ساتھ چکر بھی نہیں رکھا لیکن پِھر یہ کیا بات ہے کے تمہاری بُنڈ پیچھے سے مست اور موٹی ہے تمہاری کمر کے حساب سے کافی باہر کی نکلی ہوئی ہے

. ایسی بُنڈ تو زیادہ تر شادی شدہ عورت کی ہوتی ہے . حنا میری بات سن کر خاموش ہو گئی تھی . میں نے پوچھا حنا جی اگر سچ نہیں بتانا چاہتی تو جھوٹ ہی بتا دیں . تو وہ بولی کا شی تم بہت تیز اور چالاک لڑکے ہو . میں نے جب ٹرین میں دیکھا تھا مجھے لگا تم ایک پڑھے لکھے لڑکے ہو ڈیٹ وغیرہ یا لڑکیوں سے دوستی کرتے ہو گے . لیکن مجھے نہیں پتہ تھا تم تو پکے کھلاڑی ہو . اور عورت کا پورا ایکسرے اُتار لیتے ہو . میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا حنا جی اب ایسا ظلم بھی نہیں کرو . میں اتنا بڑا بھی کھلاڑی نہیں ہوں . آج تک حقیقت میں پھدی کی شکل تک نہیں دیکھی ہے . انٹرنیٹ پے یا موویز وغیرہ میں ہی دیکھی ہے . تو وہ بولی کا شی جی میں انتی بھی سیدھی یا بچی نہیں ہوں جو تم جیسے کھلاڑی کو سمجھ نہیں سکتی . تم پکے شکاری ہو . اور مجھے یقین ہے تم نے نا صرف پھدی کی شکل دیکھی ہے بلکہ تم نے کتنی دفعہ ماری بھی ہوئی ہے اور تم نے کتنی دفعہ گانڈ بھی ماری ہوئی ہے . میں اس کی بات سن کر کھل کھلا کر ہنسا . میں نے کہا حنا جی اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے . ہاں 2 یا 3 دفعہ کیا ضرور ہے لیکن جس طرح آپ میری تعریف کر رہی ہیں . ایسا کچھ بھی نہیں ہے . حنا نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ کون ہے وہ جس اب تک 2 یا 3 دفعہ کر چکے ہو . تو میں نے کہا حنا جی یہ باتیں فون پے بتانے والی نہیں ہوتی ہیں . تھوڑا صبر کریں جب آپ سے اکیلے میں ملاقات ہو گی اور پیار محبت کی بات ہو گی تو پِھر میں آپ کو اپنے پیار محبت کی اسٹوری بھی سنا دوں گا . حنا بولی آرام سے جناب ابھی مجھ سے پیار محبت والا کام تھوڑا لیٹ ہے . ابھی تو آپ کے بارے میں کچھ سمجھنا ہے دیکھنا ہے پِھر کچھ سوچوں گی . میں نے کہا حنا جی دِل توڑنرہی ہیں بندہ جھوٹی تسلی ہی دے دیتا ہے . . تو وہ ہنسنے لگی اور بولی میں نے کب دِل توڑا ہے میں نے بس یہ ہی کہا ہے تھوڑا صبر کریں . میں نے کہا چلو ٹھیک ہے حنا جی آپ کے لیے یہ بھی منظور ہے . پِھر میں نے کہا حنا جی آپ تو مجھے سے بھی زیادہ چالاک ہیں میں نے آپ کو کچھ پوچھا تھا آپ نے مجھے میری ہی باتوں میں الجھا کر رکھ دیا ہے . اب زیادہ ظلم نہ کریں اور بتا دیں یہ آپ کی مست اور اتنی سیکسی بُنڈ کا کیا راز ہے . پِھر میں نے یکدم پوچھ حنا جی آپ کے روم میں آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے تو وہ بولی نہیں میں اکیلی ہی ہوں میری روم میٹ کی آج نائٹ ڈیوٹی ہے اِس لیے میں اکیلی ہوں . آپ کیوں پوچھ رہے ہیں . میں نے کہا حنا جی آپ اور میں اتنی پرسنل اور گرم گرم باتیں کر رہے ہیں . کوئی سن نہ لے اِس لیے پوچھ رہا تھا . تو وہ بولی تم نے مجھے اتنا پاگل سمجھ رکھا ہے . کے میں کسی کے بھی سامنے تمھارے ساتھ اتنی کھلی کھلی باتیں کروں گی . میں نے کہا ہاں جی مجھے پتہ ہے آپ کافی سمجھدار ہیں . پِھر میں نے کہا اب بتا بھی دیں کیوں تڑپا رہی ہیں . حنا آگے سے بولی آپ جان کر کیا کریں گے وہ بات تو اب پرانی ہو چکی ہے . میں نے کہا حنا جی بات تو پرانی ہے لیکن اِس بات نے ہی تو آپ کے جسم کو چارچاند لگا دیا ہے آپ کو ایک مست اور سڈول جسم دے دیا ہے اِس لیے تو جاننا چاہتا ہوں آخر اِس مست اور سیکسی جسم کے پیچھے راز کیا ہے . کیونکہ آپ نے تو ابھی شادی بھی نہیں کی ہوئی ہے اور کنواری بھی ہیں پِھر یہ کیسے ممکن ہوا ہے . حنا آگے سے بولی آپ کو میرے جسم میں میری بُنڈ کے علاوہ اور کچھ اچھا نہیں لگا جو میری بُنڈ کے ہی عاشق ہو گئے ہیں . تو میں نے کہا حنا جی آپ کیا بات کر رہی ہیں . آپ تو سر سے لے کر پاؤں تک سراپا حسن ہیں آپ کی ایک ایک چیز بھرپور طریقے سے عیاں ہے . آپ کے ممے آپ کی بُنڈ آپ کا کسا ہوا پیٹ ہر چیز ہی مست ہے . حنا بولی واہ کیا بات ہے آپ کو میں سچ میں ایسی لگتی ہوں یا بس مجھ سے مزہ لینے کے لیے سب تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں اور ویسے بھی آپ نے پورے جسم میں ایک خاص حصے کا تو نام ہی نہیں لیا . میں نے کہا حنا جی سچ کہہ رہا ہوں تعریف کر کے اگر مزہ لینے کے موڈ میں ہوتا تو آج آپ سے بات کرتے ہوئے تقریباً 20 دن سے زیادہ ہو گئے ہیں میں پہلا ہفتہ ہی تعریفوں کے پل باندھ کر آپ سے کچھ نہ کچھ وصول کر چکا ہوتا اور اگر نہ کچھ ہو سکتا تو شاید آج آپ سے بات بھی نہیں کر رہا ہوتا . اِس لیے آپ کے ساتھ مخلص ہوں اور دِل سے عزت اور چاہت رکھتا ہوں تو آپ کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں کر رہا آپ جب ملنے کے لیے بلاتی ہیں تو ہی آتا ہوں . اب مجھے نہیں پتہ آپ خود مجھ سے بس اچھے اور یادگار دوست کی حد تک تعلق بنانا چاہتی ہیں یاپكہ شادی کا رشتہ بھی بنانا چاہتی ہیں . اور آپ کے جسم کے خاص حصے کو میں بھلا کیسے بھول سکتا ہوں وہ ہی تو ایک یاد کرنے والی چیز ہے لیکن کیا کروں میں نے ابھی تک اس کا منہ تک نہیں دیکھا پِھر اس کی تعریف کیسے کرتا . یہ سب باتیں بول کر میں خاموش ہو گیا . پِھر حنا بولی کا شی جی ایک بات صاف صاف بتا دینا چاہتی ہوں . کہ شادی والے رشتے کا میں نہیں کر سکتی میری منگنی بہت پہلے ہی میرے کزن کے ساتھ ہو چکی ہے میں اس وقعت میٹرک میں تھی جب ہوئی تھی . میرا منگیتر انگلینڈ میں ہے وہ وہاں پڑھنے کے لیے گیا ہوا ہے . اس کی اگلے سال ڈگری مکمل ہو جائے گی . پِھر آ کر وہ شادی کرے گا . ہاں دوستی کا رشتہ میں آپ سے پکا بنا سکتی ہوں . شادی سے پہلے بھی رکھ سکتی ہوں اور شادی کے بَعْد میں بھی . یہ بات سچ ہے میں نے آپ کو جب ٹرین میں دیکھا تھا تو مجھے آپ پہلی ہی نظر میں پسند آ گئے تھے . اگر میری مجبوری نہ ہوتی شاید میں آپ سے ہی شادی کر لیتی . لیکن میری مجبوری ہے . میرے ابو فوت ہو چکے ہیں اس کے بَعْد گھر میں میں اور میری ا می اور ایک بڑی باجی ہیں جن کی شادی ہو چکی ہے وہ لاہور میں ہی رہتی ہیں اور میرا ایک چھوٹا بھائی ہے جس کی عمر ابھی صرف 12 سال ہے وہ ابھی میں پڑھ رہا ہے . میں اپنے گھر کا سب خرچہ خود چلاتی ہوں . میرا منگیتر میری خالہ کا بیٹا ہے میری خالہ کا ایک ہی بیٹا ہے اور میری ا می کی ایک بہن ہے اور کوئی بہن یا بھائی نہیں ہیں . اِس لیے میری ا می کی بس خواہش ہے کے میں اپنی خالہ کی بہو بنوں . میں اپنی ا می سے بہت پیار کرتی ہوں اِس لیے میں ان کو کبھی بھی نہ نہیں کر سکتی . کیونکہ میری بڑی باجی نے اپنی مرضی سے پھوپھی کے گھر شادی کی تھی لیکن اب وہ بھی اپنے میاں سے خوش نہیں ہے میں آپ کو پِھر کسی وقعت ان کی اسٹوری سنائوں گی اِس لیے اب میں ہی ہوں جس سے وہ اپنی خواہش پوری کر سکتی ہیں . اِس لیے میری مجبوری ہے . میں نے کہا حنا جی میں آپ کی مجبوری کو سمجھ سکتا ہوں اِس لیے میری طرف سے بے فکر ہو جائیں . آپ نے مجھے شادی سے پہلے اور بَعْد میں بھی اپنا دوست بنا لیا ہے تو مجھے یہ ہی بہت خوشی ہے . پِھر میں نے کہا اچھا حنا جی اب تو ہم دوست بن گئے ہیں اب تو وہ بات بتا دیں جو میں نے پہلے پوچھا تھا . تو حنا نے لمبی سی سانس لی اور بولی کہ آپ میری زندگی کے پہلے بدںے ہو جس کو میں اپنا راز اور اپنے دِل کی باتیں بتا رہی ہوں . پِھر اس نے کہا کا شی یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے میٹرک کے فائنل پیپر دینے تھے . میں دن رات تیاری کر رہی تھی . مجھے تھوڑا کیمسٹری اور میتھ میں مشکل آ رہی تھی . میں نے ا می کو کہا امی مجھے ان دو پیپرز کے لیے 1 مہینہ کے لیے ٹیوشن لینی ہے

تو ا می نے کہا میں دیکھتی ہوں محلے میں کون ایسی لڑکی ہے جو تمہیں پڑھا سکے پِھر ا می نے آگے پیچھے دیکھا تو کوئی لڑکی ٹیچر نہ ملی لڑکے ہی مل رہے تھے اِس لیے ا می کسی بھروسے کے بندے کی علاوہ یقین نہیں کرتی تھی . ا می نے خالہ سے بات کی تو خالہ نے ا می کو کہا کے باہر جانے کی کیا ضرورت ہے . عامر ہے نہ وہ حنا کو پڑھا دے گا . تو ا می خوش ہو گئی کیونکہ ا می کو بھروسہ بھی تھا اور دوسرا ا می نے میرے لیا عامر کو ہی شادی کے لیے چنا ہوا تھا . خالہ اور عامر بھی یہ بات جانتا تھے عامر شروع سے ہی مجھے بہت پسند کرتا تھا لیکن ہماری منگنی نہیں ہوئی تھی خالہ اور ا می نے آپس میں ہی بات پکی کی ہوئی تھی جس کا مجھے بھی اور عامر کو بھی پتہ تھا . عامر نے ایف س سی مکمل کر لی تھی . وہ اپنے رزلٹ کا انتظار کر رہا تھا . اِس لیے خالہ نے عامر کو بول کر مجھے پڑھانے کا بول دیا . وہ فارغ تھا اِس لیے وہ رازی ہو گیا اور اگلے دن ہی 3 بجے کے وقعت ہمارے گھر آ گیا ا می اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اس کی کافی خدمت کی اور وہ مجھے اس دن 5 بجے تک پڑھا کر چلا گیا . ایسی طرح ہی 3 دن گزر گئے اور عامر آ جاتا اور مجھ پڑھاے کر چلا جاتا . ا می اور میرا چھوٹا بھائی تو دو پہر کو سو تھے ابو کام پے ہوتے تھے . اِس لیے عامر روز آ کر مجھے میرے کمرے میں ہی پڑھا کر چلا جاتا تھا . 5 سے 6 دن بَعْد کی بات ہے گھر میں سب سوئے ہوئے تھے میں عامر سے اپنے کمرے میں پڑھ رہی تھی . تو عامر نے مجھے کہا حنا تمہیں پتہ ہے تمہاری اور میری بات پکی ہوئی ہے اور تم سے میری شادی ہو گی . میں تھوڑا سا شرما گئی اور آہستہ آواز میں بولی جی عامر بھائی مجھے پتہ ہے . عامر نے کہا حنا تم پاگل ہو تمہاری اور میری شادی ہو گی اور تم میری بِیوِی بنو گی اور تم مجھے بھائی بلا رہی ہو . تو میں اس کی بات سن کر شرما گئی اور منہ نیچے کر لیا . تو اس نے کہا مجھے آئِنْدَہ سے بھائی نہیں کہنا مجھے بس میرے نام عامر سے بلا لیا کرو . تو میں بولی ا می اور خالہ میرے بارے میں کیا سوچے گی کے میں آپ کو نام سے بلاتی ہوں . تو عامر نے کہا پاگل کوئی بھی کچھ نہیں بولے  گا سب کو پتہ ہے تم سے میری شادی ہو گی اِس لیے کوئی بھی برا نہیں مناے گا بس تم مجھے میرے نام سے پکارا کرو . میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے . پِھر وہ مجھے پڑھا کر چلا گیا . اگلے دن پِھر جب میں پڑھ رہی تھی تو عامر نے کہا حنا ایک بات تو بتاؤ میں تمہیں کیسا لگتا ہوں تم مجھے پسند کرتی ہو یا نہیں . تو میں خاموش ہو گئی . اور پِھر عامر نے پوچھا بتاؤ نا حنا . میں نے کہا عامر آپ بہت اچھے ہیں . تو وہ بولا میں تمہیں پسند ہوں یا نہیں تو میں نے کہا آپ کیوں پوچھ رہے ہیں تو اس نے کہا پہلے تم بتاؤ نہ . میں نے کہا جی تو وہ بولا حنا میں بھی تمہیں بہت پسند کرتا ہوں . اور میرا ہاتھ پکڑ لیا میں نے فوراً اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور بولی عامر یہ آپ کیا کر رہے ہیں تو وہ بولا حنا تم کیوں ڈر رہی ہو میں تمھارے ہونے والا میاں ہوں تم میری بِیوِی بنو گی پِھر کیوں مجھ سےڈر رہی ہو . میں اس کی بات سن کر بولی عامر یہ ٹھیک نہیں ہے ابھی شادی ہوئی تو نہیں ہے نہ یہ سب کچھ شادی سے پہلے ٹھیک نہیں ہے . تو وہ خاموش ہو گیا اور مجھے پڑھا کر چلا گیا . اگلے 3 سے 4 دن تک وہ مجھے آ کر پڑھا کر چلا جاتا تھا . مجھے اندازہ ہو گیا تھا عامر مجھے سے ناراض ہے ایک دن میں نے کہا عامر مجھ سے ناراض کیوں ہیں . تو وہ بولا حنا تم مجھے اپنا نہیں سمجھتی ہو اور مجھے پتہ ہے تم مجھے پسند بھی نہیں کرتی ہو . تو میں نے کہا کس نے آپ کو کہا ہے میں آپ کو پسند کرتی ہوں . لیکن عامر شادی سے پہلے اِس طرح کا کوئی بھی کام غلط ہےاگر مجھے کچھ ہو گیا تو امی اور خالہ کیا سوچے گی خاندان میں سب لوگ برا بھلا کہیں گے . بدنامی ہو گی . تو وہ بولا حنا مجھے سب پتہ ہے . لیکن میں تم سے ایسا کوئی غلط کام نہیں کروں گا جس سے تمہیں کوئی برا بھلا کہے یا خاندان کی عزت خراب ہو . لیکن ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تو پکڑ سکتے ہیں پیار کی باتیں تو کر سکتے ہیں . میں اس کی بات سن کر شرما گئی اور میرا منہ لال سرخ ہو گیا اور میں نیچے دیکھنے لگی . تو عامر بولا حنا میرا یقین کرو میں کبھی بھی تمہیں کوئی نقصان نہیں دوں گا . میں دوسرا والا کام شادی کے بَعْد ہی کروں گا لیکن ہم ایک دوسرے سے پیار کی باتیں اور کس تو کر سکتے ہیں . میں پِھر شرما گئی اور کچھ نہ بولی . اس نے کہا حنا بتاؤ نہ جواب دو . میں نے آہستہ سے کہا میں سوچ کر جواب دوں گی . پِھر اس دن بھی وہ مجھے پڑھا کر چلا گیا اگلے 2 دن تک میں نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا پِھر 1 دن اس نے تھوڑا سا پڑھا کر مجھے پوچھا حنا تم نے کیا سوچا ہے میں نے کہا عامر اگر ا می نے یا کسی نے دیکھ لیا تو بہت مسئلہ بن جائے گا . تو وہ بولا حنا کچھ بھی نہیں نہیں ہو گا جب میں آتا ہوں سب سوئے ہوتے ہیں کسی کو کچھ بھی نہیں پتہ چلے گا خالہ کو تو پتہ ہے حنا اندر پڑھ رہی ہے اور ہم کون سا دوسرا والا کام کریں گے بس ویسے ہی باتیں کریں گے یا کس وغیرہ . میں اس کی بات سن کر خاموش ہو گئی تووہ بولا بتاؤ پِھر تم راضی ہو تو میں نے آہستہ سا اپنا سر ہاں میں ہلا دیا . پِھر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا حنا تمہیں پتہ ہے شادی والی رات کو میاں بِیوِی کیا کرتے ہیں . تو میں اس کی بات سن کر شرم سے لال سرخ ہو گئی اور اپنے منہ نیچے کر لیا . اور کچھ نہ بولی . عامر نے دوبارہ پِھر پوچھا بتاؤ بھی اگر نہیں پتہ تو میں بتاؤں . تو میں نے سر ہلا کر کہا ہاں تو اس نے کہا حنا شادی والی رات کو سھاگ رات بولتے ہیں اس رات میاں بِیوِی ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں اور اس رات کو میا ںاپنی بِیوِی کے ساتھ وہ والاکام بھی کرتا ہے . مجھے اس کی بات سن کر بہت شرم آ رہی تھی . عامر پِھر بولا تم بھی کچھ بولو نہ تو میں نے کہا کیا بولوں تو وہ بولا کچھ بتاؤ اسکول کی سہیلیوں نےکچھ تو بتایا ہو گا . تو میں نے کہا کچھ خاص نہیں بتایا میری ایک ہی پکی سہیلی ہے اس کی باجی کی شادی ہوئی تھی تو اس نے مجھے اپنی باجی کا بتایا تھا کے شادی والی رات کو باجی اور ان کی میاں بہت پیار کرتے رہے ہیں اور سارے کپڑے اُتار کر وہ والاکام بھی کیا تھا . . پِھر میں خاموش ہو گئی . تو وہ بولا حنا تمہیں پتہ ہے پہلی دفعہ بہت درد بھی ہوتا ہے . تو میں نے کہا ہاں سنا تھا میری سہیلی بتا رہی تھی . پِھر عامر نے میرے ہاتھ کو چوم لیا اور بولا میں اب جا رہا ہوں پِھر کل باتیں کریں گے . پِھر اس دن کے بَعْد اکثر وہ میرا ہاتھ پکڑ لیتا اور باتیں کرتا رہتا پِھر درمیان میں وہ میری گالوں پے اور پِھر کچھ دن بَعْد میرے ہونٹوں پے کس کرنے لگا . اب میری بھی شرم کافی حد تک ختم ہو چکی تھی . میں اور وہ ایک دوسرے کو منہ میں منہ ڈال کر کس کرتے تھے .

پِھر ایک دن عامر نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پے رکھ دیا میرے جسم میں کر نٹ دور گیا میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور بولی عامر یہ کیا ہے تو وہ بولا حنا یہ ہی تو ہے جو عورت کی وہ میری پھدی کی طرف اشارہ کر کے بولا اس کے اندر جاتا ہے تو میاں بِیوِی کو مزہ آتا ہے اور پِھر بچہ بھی پیدا ہوتا ہے . عامر نے پِھر میرے ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پے رکھ دیا اس کا لن شلوار کے  اندر تن کر فل کھڑا تھا میں نے تھوڑی دیر کوئی حرکت نہیں کی پِھر عامر نے ہی میرے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھ کر اوپر نیچے کرنے لگا اور اپنے لن کو میرے ہاتھ سے سہلانے لگا . چند لمحوں بَعْد اس نے ہاتھ اٹھا لیا لیکن میں اپنے ہاتھ کو اوپر نیچے کرتی رہی اور عامر کا لن سہلا تی رہی . کافی دیر میرا سہلانے کی وجہ سے اس نے اپنی شلوار میں اپنی منی چھوڑ دی تھی اس کی شلوار کافی گیلی ہو گئی تھی میں نے پوچھا عامر یہ کیا ہے تو اس نے کہا حنا یہ ہی تو مال ہے جو عورت کی پھدی میں جاتا ہے تو عورت کو مزہ بھی آ تا ہے اور بچہ بھی پیدا ہوتا ہے . پِھر اس دن کے بَعْد وہ روز کچھ دیر پڑھا کر مجھے سے اپنا لن سہلوا تا تھا اس نے مجھے مٹھ مارنا سکھا دی تھی کچھ دن بَعْد تو وہ اپنی شلوار سے لن باہر نکال کر مجھ سے مٹھ مرواتا تھا . اور وہ میرے قمیض کے اوپر سے ہی میرے چھوٹے چھوٹے ممے پڑ  کر دباتا اور سہلاتا رہتا تھا اور میں اس کے لن کی مٹھ لگاتی تھی . کچھ دن تو ایسا ہی چلتا رہا پِھر ایک دن اس نے مجھے کہا حنا اپنی شلوار اُتار کر اپنی پھدی تو دکھاؤ تو میں نے منع کر دیا وہ مجھے بار بار کہتا رہا وہ لگاتار میری 2 دن تک منت سماجت کرتا رہا پِھر آخر کار میں نے ہار مان لی اور اپنی شلوار اُتار کر اس کو اپنی پھدی دیکھا دی میری پھدی ایک دم ٹائیٹ تھی ابھی اس پے اتنے بال بھی نہیں آئے تھے . وہ میری پھدی دیکھ کر پاگل ہو گیا اور آگے کو جھک کر میری پھدی کو کس کر دی . مجھے لذّت کا ایک شدید جھٹکا لگا . پہلی بار کسی نے میری پھدی کو ھواتھا . پِھر وہ آہستہ آہستہ میری پھدی کو اپنے ہاتھ کی انگلی سے سہلاتا رہا اور کچھ دیر بَعْد ہی میری پھدی سے پانی رَسنے لگا مجھے اس کی انگلی کی وجہ سے ایک عجیب مزہ مل رہا تھا میں جنت کی سیر کر رہی تھی . پِھر میں اس کے سامنے کھلتی گئی اور پِھر وہ مجھ روز پہلے آ کر میری پھدی کے ساتھ کھیلتا تھا میری پھدی کو اپنی زُبان کے ساتھ چومتا اور چاٹتا رہتا تھا اور جب میری پھدی اپنا پانی چھوڑ دیتی تھی تو وہ پِھر بَعْد میں اپنے لن کی مجھ سے مٹھ لگوا تا تھا . ہمارا یہ سلسلہ کافی دن تک چلتا رہا . پِھر میرے پیپر بھی ہو گئے تھے اور پیپر بہت اچھے ہوئے تھے تو میں نےامی کو بول کر خالہ کو بولا دیا کے عامر بھائی کو کہے کے وہ مجھے کالج کے لیے شروع سے ہی پڑھاناشروع کر دے کیونکہ کالج کی پڑھائی تیز اور مشکل ہے . امی اور خالہ مان گئی تھیں . مجھے آب عامر سے مزہ لینے کی عادت بن چکی تھی . عامر نے بھی آگے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا تھا صبح جاتا اور دن کو آ کر مجھے کالج کا تھوڑا پڑھاکر پِھر مجھے پیار اور لذّت کا سبق دیتا تھا . لیکن اس نے مجھے کبھی بھی اندر کروانے کا نہیں کہا اور نہ ہی وہ کرنا چاہتا تھا . بَعْد میں تو میں اور وہ اور زیادہ کھل گئے تھے جب سب سوئے ہوتے تھے میں اور وہ کمرے کا دروازہ لاک کر کے پورے ننگے ہو کر مزہ کرتے تھے . وہ میرا 2 دفعہ پانی نکلوا دیا کرتا تھا ایک دفعہ میری پھدی کو اپنی زُبان سے سک کرتا تھا اور دوسری دفعہ وہ بیڈ پے ننگا بیٹھ جاتا تھا اور مجھے اپنی جھولی میں بیٹھا لیتا تھا اور اپنے لن اور میری بُنڈ کی لکیر میں تیل لگا کر اور کبھی کوئی لوشن لگا کر اپنا لن میری بُنڈ کی لکیر میں پھنسا کر مجھے آگے پیچھے کرتا رہتا اور اپنے دونوں ھاتھوں سے میری نپلز کو پکڑ لیتا تھا نیچے اس کا لن میری بُنڈ کی موری کے اوپر آگے پیچھے رگڑ تا رہتا تھا مجھے اتنا مزہ ملتا تھا کے میں بتا نہیں سکتی اور پِھر وہ ایسے ہی میری بُنڈ کے اوپر ہی اپنی گرم گرم منی چھوڑ دیتا تھا اور ایک دفعہ وہ میری پھدی چاٹتا تھا اور دوسری دفعہ جب مجھے اپنے لن پے بیٹھا کر میری بُنڈ میں لن کو تیل لگا کا رگڑ تا تھا تو میں 2 دفعہ پانی چھوڑ دیتی تھی میرا اِس طرح ہی عامر کے ساتھ 2 سال گزر چکے تھا . پِھر میں جب کے آخری سال میں تھی تو اس کا باہر انگلینڈ میں اسٹڈی ویزا لگ گیا اور وہ چلا گیا میں نے بھی نرسنگ کے3 سال مکمل کیے اور مجھے بَعْد میں سرکاری جاب مل گئی اور میں اس کے بَعْد سے یہاں اِس اسپتال میں تقریباً 2 سال ہو گئے ہیں نوکری کر رہی ہوں . اب اس کو گئے ہوئے 3 سال سے اوپر ہو گئے ہیں وہ اگلے سال واپس آئے گا تو میری اس سے شادی ہو جائے گی . بس اِس طرح ہی عامر سے مزہ لے لے کر میرے ممے اور میری بُنڈ بڑی ہو گئی ہے . میں حنا کی اسٹوری سن کر فل گرم ہو چکا تھا میرا لن ٹرا و زَر کے اندر ہی تن کر کھڑا ہو چکا تھا . پِھر حنا بولی کیا ہوا کا شی کہیں کچھ کام خراب تو نہیں ہو گیا . تو میں بولا ظالم اتنی مست اور سیکسی اسٹوری سنائی ہے وہ سن کر کس کافر کا کام خراب نہیں ہو گا . تو وہ بولی تو پِھر چلے جاؤ نہ اپنی اس والی کے پاس جس کے ساتھ 2 سے 3 دفعہ کر چکے ہو . تو میں نے کہا حنا ضرور چلا جاتا لیکن وہ بہت دور ہے وہ شیخوپورہ میں رہتی ہے. یہاں اسلام آباد میں کوئی نہیں ہے بس اپنے ہاتھ سے ہی گزارا ہے . اِس لیے تو آپ کی خدمت لینا چاہتا ہوں حنا میری بات سن کر ہنسنے لگی اور بولی ابھی تو نا ممکن ہے ہاں تھوڑا صبر کرو شاید بَعْد میں کچھ مل جائے . میں نے کہا ٹھیک ہے حنا جی جیسے آپ کی مرضی اور کچھ دیر مزید باتیں کی تو حنا نے کہا میں سونے لگی ہوں پِھر بات ہو گی . اور پِھر میں بھی سو گیا . اگلے 2 دن دوبارہ میرا حنا کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا . لیکن میں اگلے دن فوزیہ آنٹی کے گھر گیا فیصل سے بات ہوئی اور فوزیہ آنٹی کو جب میں نے دیکھا میرا لن جوش میں آ گیا کیا فوزیہ آنٹی کا غضب کا جسم تھا اور بلا کی خوبصورت بھی اور گوری چیک سمارٹ عورت تھی اس کا بل کھاتا ہوا جسم تھا . مجھے جب چچی کی باتیں یاد آنے لگی تو میں نے دِل میں سوچا فوزیہ آنٹی بھی کیا مال ہے اور یہ بھی کس گانڈو کے ساتھ سیٹ ہے . اگر کبھی میرے ساتھ سیٹ ہوگئی تو اِس کی گانڈ اور پھدی کو ایسا ٹھنڈا کروں گا کہ فیصل کو بھی بھول جائے گی . پِھر میں کچھ دیر فیصل کے ساتھ گپ شپ لگا کر واپس آ گیا مجھے فوزیہ آنٹی کی طرف سے کوئی مشکوک حرکت نظر نہیں آئی . لیکن مجھے پتہ تھا . و جو کچھ بھی کرے گی رات کے اندھیرے میں کرے گی . میں گھر واپس آ گیا . پِھر مزید 2 دن کچھ خاص نہ ہوا . لیکن پِھر ایک دن  دن کے 11بجے میں نے حنا کو ایس ایم ایس کیا کہاںہو کیسی ہو تو اس کا جواب آیا ڈیوٹی پے ہوں تو میں نے کہا لنچ کب کرو گی تو وہ بولی تو 1 سے 2 کے درمیان ہے . میں نے کہا کیا موڈ ہے میرا آج باہر کھانے کا موڈ ہو رہا ہے ساتھ چلو گی تو وہ بولی کہا ں جانا ہے تو میں نے کہاسیورفوڈ چلتے ہیں تو اس نے کہا ٹھیک ہے وہ نزدیک ہے

مجھے واپس بھی آنا ہے . میں نے کہا تم ریڈی رہنا میں 1 بجے تمہیں اسپتال کے گیٹ سے پک کروں گا . اور پِھر میں نہا دھو کر شیو کی کپڑے چینج کر کے 12:30پے گھر سے نکل آیا اور 1 بجے اسپتال کے گیٹ پے پہنچ گیا . 5 منٹ بَعْد حنا مجھے باہر آتی ہوئی نظر آئی وہ مجھے دیکھ کر مسکرا پڑی اور آ کر پیچھے بائیک پے بیٹھ گئی اور میں اس کو لے کرسیور فوڈ کی طرف نکل آیا . رستے میں اس نے اپنا ہاتھ میرے کاندھے پے رکھا تھا . میں نے کہا حنا جی میں آپ کا دوست ہوں بھائی تو نہیں ہوں کم سے کم دوست کی طرح تو بیٹھو . حنا میری بات سمجھ گئی اور اپنا ہاتھ آگے کر کے میرے پیٹ پے رکھ کر پکڑ لیا . میں نے آہستہ سے کہا زیادہ نیچے نہیں کرنا نیچےعلاقہ غیر ہے پِھر مشکل ہو جائے گی . میں نے سائڈ والے شیشےسے دیکھا وہ میری بات سن کر مسکرا رہی تھی . اور آہستہ سا میرے کان کے پاس منہ کر کے بولی کبھی تو علاقہ غیر دیکھنا ہی پڑے گا . مجھے اس کی بات سن کر مستی چڑھ گئی . اور میں خوش ہو گیا پِھر ہم سیورفوڈ پے آ گئے . یہاں ہم نے كھانا کھایا کھانے کے دوران میں نے کہا حنا جی آپ کی روم میٹ وہ ہی لڑکی ہے نہ جو اس دن رسپشن پے کھڑی تھی . شازیہ نام کی تو حنا بولی نہیں وہ نہیں ہے وہ تو پنڈی کی ہے اس کا اپنا گھر ہے شادی شدہ ہے اس کا 6 سال کا بیٹا ہے . میری روم میٹ گجرات کی ہے . اس کا نام فرزانہ ہے وہ اس دن روم میں سوئی ہوئی تھی اس کی نائٹ ڈیوٹی تھی . میں نے آنکھ مارتے ہوئے کہا حنا جی ویسے آپ کی سہیلی شازیہ شادی شدہ تو نہیں لگتی . حنا میری بات سن کر تھوڑا مصنوعی غصہ دیکھا کر بولی اب جناب کا اس پے بھی دِل آ گیا ہے . میں نے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے میں تو ویسے بات کر رہا تھا کے وہ شادی شدہ لگتی نہیں ہے . حنا مسکرا کر اور آہستہ سے بولی اکثر آنکھیں دھوکہ کھا جاتی ہیں . وہ بڑی کمینی اور تیز چیز ہے . میاں کے ہوتے ہوئے بھی گا  ئِینی کے ڈاکٹر سے روز چودا تی ہے . میں حنا کی بات سن کر حیران رہ گیا . میں نے کہا واقعہ ہی آپ سچ کہہ رہی ہو تو حنا بولی ابھی پوری بات نہیں بتا سکتی رات کو فون پے بات کریں گے تو اس کیا کہانی بتاؤں گی . ہم كھانا کھا کر وہاں سے نکلے اور پِھر میں نے حنا کو اسپتال چھوڑ کر گھر واپس آ گیا اور آ کر سو گیا شام کو اٹھ کر نہا دھو کرچائےپی اور اپنا لیپ ٹاپ آن کر کے بیٹھ گیا اور سائیٹس اوپن کر کے دیکھنے لگا مجھے پتہ ہی چلا رات کے 9 بج گئے میرا چھوٹا بھائی میرے روم میں بلانے آیا اور بولا کے بھائی آ کر كھانا کھا لو پِھر میں نے سب کے ساتھ مل کر كھانا کھایا اور کھانے کے کے بعد ابو نے پوچھ بیٹا پِھر کیا سوچا ہے تو میں نے کہا ابو میں 3 یونیورسٹیز کی انفو لی ہے پِھر ابو کے ساتھ اسٹڈی کے معاملے پے باتیں ہوتی رہیں اور پِھر ابو اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے میں نے ٹائم دیکھا تو 30:10 ہو گئے تھے میں بھی وہاں سے اٹھ کر دوبارہ اپنے بیڈروم میں آ گیا اور بیڈ پے آ کر لیٹ گیا . تقریباً 11بجے میں نے حنا کو ایس ایم ایس کیا اور پوچھ کے وہ کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے . تو اس نے بتایا وہ فارغ ہے اور اپنے روم میں ہے . پِھر میں نے اس کو کال ملا لی اور اس کے ساتھ باتیں کرنے لگا . باتوں ہی باتوں میں میں نے اس سے دن والی بات کا ذکر کیا کے وہ مجھے شازیہ والی بات کے اس کا کیا چکر ہے . حنا نے کہا کا شی جی ویسے آپ بہت ضدی ہو بات کو بھولتے نہیں ہو . میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا کے حنا جی بچہ جب تک ضد نہ کرے تو ماں دودھ بھی نہیں دیتی . اور آپ نے دن کو خود کہا تھا کے رات کو فون پے بتاؤں گی . آگے سے حنا نے کہا کا شی جی کبھی ماں کی دودھ کے علاوہ بھی کسی کا دودھ پیا ہے یا نہیں تو میں نے کہا حنا جی دودھ تو خیر نہیں پیا ہاں البتہ دودھ پلانے والی کے ساتھ مزہ کافی کیا ہے . پِھر میں نے پوچھا حنا جی آپ نے بھی کسی کو دودھ پلایا ہے تو بولی ہاں عامر روز پہلے میرے نپلز منہ میں لے کر کتنی کتنی دیر تک چوستا رہتا تھا اورسہلا تا بھی رہتا تھا اِس لیے تو یہ اتنی بڑے اور موٹے ہو گئے ہیں . میں نے کہا حنا جی آپ کی نپلز کیسی ہیں اور کس رنگ کی ہیں . تو حنا نے کہا نپلز کافی بڑی اور گول گول ہو چکی ہیں اور ان کا رنگ پنک ہے . میں نے کہا حنا جی مجھے پنک رنگ کی نپلز بہت پسند ہیں . پِھر میں نے حنا کو یاد دلایا حنا جی آپ مجھے مطلب کی بات بتاتی نہیں ہیں اور مجھے کہیں اور ہی الجھا دیتی ہیں . تو حنا میری بات سن کر ہنسے لگی . پِھر حنا نے کہا کا شی جی جس کی آپ بات کر رہے ہو وہ بہت کمینی اور تیز چیز ہے . اصل میں وہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی پرانی نرس ہے وہ سب کو جانتی ہے اور سب اس کو جانتے ہیں . مجھے تو بس اپنے ڈیپارٹمنٹ کی ڈاکٹر کا ہی پتہ ہے کیونکہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دونوں کو رنگے  ہاتھوں دیکھاتھا باقی سنا ہے کے اس کے کوئی 2 سے 3 لوگوں کے ساتھ چکر ہیں . ایک دن میری اور اس کی نائٹ ڈیوٹی تھی. میں جب رسپشن پے بیٹھی کام کر رہی تھی تو شازیہ نے کہا کے وہ رائونڈ پے جا رہی ہے . اور مجھے یہ کہہ کر وہ چلی گئی میں تقریباً وہاں آدھا گھنٹہ بیٹھی رہی لیکن وہ واپس نہیں آئی . اور اِس دوران ہی ایک مریض کے ساتھ کوئی اٹینڈڈ میرے پاس آیا اور بولا کے اس کے مریض کو دردہو رہی ہے آپ تھوڑا چیک کریں . میں حیران ہوئی کے شازیہ تو رائونڈ پے ہے پِھر یہ میرے پاس آیا ہے . خیر میں اس کے ساتھ چلی گئی اور جا کر اس کی وائف کو چیک کیا اور پین کلر کا انجیکشن لگا کر واپس آ گئی میں جس وارڈ میں گئی تھی وہ آخری وارڈ تھا اس سے پہلے 3 اور وارڈ بنے ہوئے تھے میں نے آتے ہوئے سارے وارڈ میں نظر ماری مجھے شازیہ نظر نہیں آئی میں حیران تھی وہ کہاںچلی گئی ہے . میں وہاں سے سیدھی رسپشن پے آئی تو وہاں بھی ابھی تک نہیں آئی تھی . میں رسپشن پے بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی . لیکن اور میرے مزید 15 منٹ انتظار کرنے کے بَعْد بھی نہ آئی . مجھے پیشاب آیا ہوا تھا میں اپنے اسٹاف روم کے باتھ روم میں چلی گئی وہاں پیشاب کر کے جب واپس آ رہی تھی تو اسٹاف روم سے اگلا ڈاکٹر کا روم تھا اس کے روم کی کھڑکی پے جو گلاس لگا تھا اس میں اگر باہر اندھیرا ہو اور اندر تھوڑی سی بھی روشنی ہو تو نظر آ جاتا تھا . میں نے کھڑکی سے آنکھ لگا کر دیکھا تو اندر کا منظر دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے تھے کیونکہ اندر ڈاکٹر اور شازیہ پورے ننگے ہوئے تھے اور ڈاکٹر اپنے صوفےپے بیٹھا تھا اور شازیہ اس کی گودھ میں دونوں طرف ٹانگیں کر کے نیچے سے ڈاکٹر کا لن اندر لے رہی تھی مجھے آواز تو نہیں آ رہی تھی . لیکن میں صرف دیکھ سکتی تھی . شازیہ پورے جسم کو ہوا میں اٹھا کر پِھر نیچے ہوتی تھی اِس سے ڈاکٹر کا پورا لن شازیہ کی پھدی کے اندر باہر ہو رہا تھا . میں یہ دیکھ کر خود گرم ہو گئی تھی میں اندر بھی دیکھ رہی تھی اور اپنے ایک ہاتھ سے اپنی پھدی کو بھی مسل رہی تھی . میں نے وہاں تقریباً آدھا گھنٹہ شازیہ اور ڈاکٹر کی چدائی دیکھی رہی تھی جس میں آخر میں شازیہ نے ڈاکٹر کا لن اپنی گانڈ میں بھی لیا تھا . ان کی چدائی دیکھ کر میں خود کافی گرم ہو گئی تھی اور اپنے ہاتھ سے ہی اپنا بھی ایک دفعہ پانی نکلوا دیا تھا . اور میرے پینٹی نیچے سے پوری گیلی ہو گئی تھی میں وہاں سے دوبارہ اپنے اسٹاف روم والے باتھ روم میں گئی اور اپنی پینٹی اُتار کر اپنے بیگ میں رکھ لی اور اپنی پھدی کو دھو کر دوبارہ رسپشن پے آ گئی اور آ کر دیکھا تو شازیہ میرے سے پہلے آ کر بیٹھی تھی مجھے سے پوچھنے لگا کے تم کہاں گئی تھی میں نے کہا میں رائونڈ پے گئی تھی

ایک مریض کو درد تھا چیک کرنے گئی تھی . میں نے اس کو پوچھا وہ کہاں تھی تو اس نے جھوٹ بول کر کہا وہ رائونڈ سے ہو کر باتھ روم میں چلی گئی تھی . خیر وہ دن گزر گیا اگلے دن رات کو تقریباً 1 بجے کا ٹائم ہو گا ہم دونوں رسپشن پے ہی بیٹھی تھیں میں نے اس کو کل دیکھا سارا واقعہ سنا دیا جو کچھ میں نے دیکھا تھا پہلے تو کافی جھوٹ بولنے کی کوشش کی پِھر میری طرف سے اعتماد ہونے کی وجہ سے اپنے ساری سٹوری مجھے سنا دی . اور مجھے یہ بھی کہا کے حنا ڈاکٹر تمہارا بہت دیوانہ ہے کہتا ہے حنا کی لے دو اگر تم راضی ہو تو میں تمہیں بھی مزہ کروا سکتی ہوں . وہ ڈاکٹر تمہارا اور تمہاری روم میٹ کا بہت دیوانہ ہے . باربار مجھے تم دونوں کے لیے کہتا ہے . میں نے شازیہ کی باتیں سن کر کہا مجھے نہیں لینا مزہ ڈاکٹر سے اور نہ مجھے دوبارہ کہنا خود جو مرضی کرو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اور میں نہ ہی کسی اور تمہارا بتاؤں گی . پِھر اِس طرح ہی مجھے شازیہ کا پتہ چلا تھا . میں نے کہا حنا جی آپ نے 2 دفعہ ایک دفعہ اپنی فل گرم سٹوری اور دوسری شازیہ کی بتا کر میری آگ کو اور بھڑکا دیا ہے . آج میرا لن پِھر ایک دم ٹائیٹ ہو گیا ہے اِس کا کچھ کر دو . تو حنا نے کہا میں کیا کر سکتی ہوں . ابھی صبر کرو پِھر کبھی سوچوں گی . میں نے کہا حنا جی آپ بے شک آپ اندر ابھی نہیں کرواؤ لیکن اوپر اوپر سے مزہ یا عامر جیسا مزہ مجھے بھی دے دو . تو وہ میری بات سن کر خاموش ہو گئی . میں نے پِھر کہا حنا جی کیا سوچا ہے یقین کرو میں اندر نہیں کروں گا نہ ہی آپ کی مرضی کے بغیر کچھ اور کروں گا لیکن آپ عامر جیسا مزہ مجھے بھی کروا سکتی ہیں اِس میں میرے اور آپ کا دونوں کا فائدہ ہو جائے گا . حنا نے کہا چلو ٹھیک ہے مجھے کل تک سوچنے کا ٹائم دو میں تمہیں کل میسیج کر کے بتا دوں گی کے میں راضی ہو ں یا نہیں لیکن جو میں کہوں گی وہ ہی ہو گا اس سے زیادہ کے لیے مجھے ابھی ٹائم چاہیے میں ابھی اندر نہیں کروا سکتی . میں نے کہا حنا جی مجھے منظور ہے آپ جو کہو گی ویسا ہی ہو گا . پِھر اس نے مجھے کل کا بتا کر بائے بول کر کال کٹ کر دی پِھر میں بھی سو گیا اور اگلے دن میں صبح 12 بجے اٹھا نہا دھو کر ناشتہ کر کے اپنا لیپ ٹاپ لگا کر بیٹھ گیا . تقریباً 1:25 پے مجھے حنا کامیسیج آیا کے کیا کر رہے ہو تو میں نے جواب دیا لیپ ٹاپ پے گانے سن رہا ہوں . تو اس نے کہا کا شی جی کیا یاد کرو گے میں تمہیں عامر جیسا مزہ دینے کے لیے تیار ہوں لیکن میری ایک شرط ہے کے ایک تو میں اندر نہیں کرواؤں گی دوسرا یہ کام میرے ہاسٹل میں میرے روم میں ہو گا . میں نے کہا حنا جی آپ کی سب شرط منظور ہے لیکن میں آپ کے ہاسٹل میں کیسے آؤں گا . وہ تو لیڈیز ہاسٹل ہے . تو حنا نے کہا آج بھی میری نائٹ ڈیوٹی ہے اور کل دن کو میں اپنے روم میں ہوں گی میری روم میٹ بھی ڈیوٹی پے ہو گی . تم کل دن کو تقریباً 1:15 پے میرے ہاسٹل آ جانا اس ٹائم گارڈ كھانا کھانے اپنے روم میں بیٹھ ہوتا ہے تم اس وقعت ہی گیٹ سے اندر آ جانا اور سیدھا پہلا فلور پے روم نمبر21 میں آ جانا دروازہ کھلا ہو گا اس ٹائم دو پہر ہوتی ہے کوئی بھی وہاں نہیں ہوتا . میں نے کہا حنا جی میں سمجھ گیا ہوں میں کل آ جاؤں گا . اور پِھر میں تو ہوا ؤںمیں تھا میرے اندرلڈو پھوٹ رہے تھےکل دن تک ٹائم گزارنا میرے لیے مشکل ہو گیا تھا . خیر وقعت گزر ہی گیا میں اگلے دن 1:15پے حنا کے ہاسٹل کے گیٹ کے نزدیک کھڑا تھا میں نے آگے پیچھے نظر ماری اور دیکھا کوئی بھی نہیں تھا گارڈ بھی وہاں گیٹ پے نہیں تھا . میں آرام سے چلتا ہوا گیٹ سے اندر داخل ہوا اور فرسٹ فلور پے21 نمبر روم کے پاس پہنچ کر ہلکی سی دستک دی اور پِھر دروازہ کھولا تو وہ کھلا ہوا تھا اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر کے دیکھا حنا اپنے بیڈ پے بیٹھی تھی مجھے دیکھتے ہی کھڑئی ہو گئی اور مجھے آ کر سلام کیا پِھر میں وہاں دوسرے بیڈ پے بیٹھ گیا وہ اپنے بیڈ پے بیٹھ گئی . دونوں طرف سنگل بیڈ تھا . پِھر حنا نے پوچھ کیا پیو گے میں نے کہا حنا جی ابھی تو آپ کو پینے کا دِل کر رہا ہے وہ میری بات سن کا مسکرا پڑی اور پِھر مجھے ایک جوس دیا اور دوسرا خود کھول کر پینے لگی میں بھی جوس پینے لگا جوس پی کر میں اٹھ کر حنا کے بیڈ پے جا کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور میں نے کہا جان جی کیا پروگرام ہے تو وہ بولی وہ ہی پروگرام ہے جو تمہارا ہے . میں نے کہا حنا جی ٹائم تھوڑا ہے میرا تو دِل ہے کپڑے اُتار دیتے ہیں اور اپنا مزہ پورا کر لیتے ہیں اس نے کہا ٹھیک ہے اور کھڑی ہو کر اپنے کپڑے اُتار نے لگا اور اس نے اپنے شلوار اور قمیض اُتار دی نیچے سے وہ پوری ننگی تھی اس کا کیا کمال کا مست جسم تھا آج تک چچی یا نورین یا آسمہ آنٹی یا سائمہ آنٹی کسی کا بھی ایسا جسم نہیں تھا جو حنا کا تھا ایک دم کسا ہوا ٹائیٹ جسم تھا موٹے موٹے ممے گول اور باہر کو نکلی ہوئی گانڈ اور مناسب سا پیٹ میں تو اس کا جسم دیکھ کر خوش ہو گیا تھا . میں نے کہا حنا جی کیا مست جسم ہے آپ کا کرو دیکھ کر ہی منہ میں پانی آ گیا ہے اور آپ کی گانڈ اور بالکل مٹھی بند پھدی کیا کام کی چیز آپ نے چھپا رکھی ہے . وہ میری بات سنا کا مسکرا پڑی . پِھر میں نے اپنے کپڑے اُتار دیئے حنا مجھے ہی دیکھ رہی تھی جب میں نے اپنا انڈرویئر اتارا اور میرا لن کسی سپرنگ کی طرح اچھل کر باہر آیا تو میں نے دیکھا میرا لن دیکھ کر حنا کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اور نشہ سا آ گیا تھا . اور مجھے سے بولی کا شی جی آپ نے بہت ظالم چیز رکھی ہے . میری تو پھدی نے دیکھ کر پانی چھوڑ نا شروع کر دیا ہے آپ کا تو عامر سے موٹا بھی ہے اور لمبا بھی اندر لے کر مزہ آ جائے گا. میں نے کہا حنا جی ایک نا ایک دن اِس کی سیر آپ کو ضرور کرواؤں گا . تو حنا بولی اب تو جلدی ہی اِس کو اندر لینے کے لیے سوچنا پڑے گا . اور حنا نے آ کر میرا لن پکڑ لیا اور بولی یقین کرو کا شی تمہارا لن بہت مزے کا ہے . پِھر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی . اور میرے لن کو کی ٹوپی کو منہ میں لے لیا . اور آہستہ آہستہ اس کا چوپا لگا نے لگی ابھی اس کو میرا لن کی ٹوپی کو منہ میں لیے ہوئے 1 منٹ ہی ہوا تھا کے دھماکہ ہوا اور کمرے کا دروازہ باہر سے کسی نے کھولا اور اندر کا منظر دیکھا تو آنے والا بھی اور ہم دونوں بھی ایک جگہ پے ہی وہاں ہی شیل ہو گئے 


جاری ہے . . . . . . .

دروازہ کھول کر اندر آنے والی حنا کی روم میٹ مسرت تھی اس کی جب نظر میرے اور حنا کے اوپر پری تو وہ ہمیں حیرت سے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھتی ہی رہ گئی کیونکہ میں اور حنا دونوں ننگے تھے اور حنا گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے میں منہ میرا لن تھا . پِھر جب حنا نے اپنے منہ سے میرا لن باہر نکالا اور مسرت سے بولی تم یہاں کیا کر رہی ہو . مسرت حنا کی بات سن کر چونک گئی اور بغیر کچھ بولے ہوئے باہر بھاگ گئی . حنا وہاں سے اٹھی اور جا کر دروازہ بند کیا اور دوبارہ آ کر میرے پاس کھڑی ہو کر بولی کا شی فکر نہ کرو یہ میری روم میٹ مسرت ہے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے . اور حنا دوبارہ اپنے کے بل بیٹھ گئی اور میرے لن کو منہ میں لے لیا اور اس کا چوپا لگا نے لگی حنا میرا پورا لن اپنے منہ میں لینے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ پورا کیا آدھا بھی منہ میں نہیں لے پا رہی تھی . حنا کا چوپا لگا نے کا اسٹائل بہت ہی نرالا تھا وہ اپنے منہ کے اندر ہی اپنی تھوک کو جمع کر کے اس سے لن کے اوپر گول گول زُبان پھیر رہی تھی جس سے مجھے ایک عجیب اور دِلکش مزہ مل رہا تھا . درمیان میں کبھی کبھی حنا میرے لن کی ٹوپی کو اپنے دانتوں میں دبا کر ہلکا سا کاٹ بھی رہی تھی مزے کے ساتھ ساتھ ہلکی سی ٹِیس بھی اٹھتی تھی. پِھر میں بیڈ پے بیٹھ گیا حنا آگے ہو کر میری گود میں سر رکھ کر میرا لن منہ میں لے کر چوپا لگا نے لگی . حنا کے چوپوں نے مجھے پاگل کر دیا تھا کیونکہ وہ 1 سیکنڈ کے لیے بھی لن کو منہ سے باہر نہیں نکالتی تھی عامر نے اس کو اچھا خاصا سکھا دیا تھا حنا کو چوپےلگاتے ہوئے کوئی10 منٹ ہو چکے تھے . میرا لن فل تن کر کھڑا ہو چکا تھا . مجھے اب محسوس ہو رہا تھا کے تھوڑی دیر مزید چوپا لگا نے سے میری منی نکل آئے گی . میں نے حنا کے سر سے پکڑ کر اس کو روک دیا اس نے اپنی آنکھوں کے اشارےسے مجھے پوچھا میں نے کہا کے اور مزید نہیں کرو منی نکل آئے گی . تو وہ اَٹھ کر میرے ساتھ بیٹھ گئی . اور میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر چیک کیا اور بولی کا شی تمہارا لن اندر لینے کے لیے اتنا دِل کر رہا ہے کہ میں بتا نہیں سکتی لیکن یہاں میں اندر نہیں لے سکتی کیونکہ یہاں میری چیخوں کی آواز باہر سنی جا سکتی ہے نہیں تو میں آج ہی تمھارے لن کو اپنی پھدی میں اندر لے لیتی . پِھر وہ اٹھی ان نے اپنی الماری سے تیل کی بوتل نکالی اور اس میں سے کچھ تیل نکال کر پہلے میرے لن کو اچھی طرح نرم اور گیلا کیا پِھر تیل مجھے دیا اور بولی کا شی تیل نکال کر میری بُنڈ کی موری اور اس کی دراڑ میں میں اچھی طرح لگا دو . میں نے تیل سے بُنڈ کی دراڑ کو اچھی طرح تیل سے نرم کیا اور گیلا کر دیا پِھر میں نے اپنی دونوں ٹانگیں اوپر بیڈ پے رکھ لی حنا بھی اٹھ کر میری گود میں آکر بیٹھ گئی اور اپنے ایک ہاتھ سے میرے لن کو پکڑ کر اپنی بُنڈ کی دراڑ میں پھنسا لیا اور پِھر اپنی بُنڈ کو آگے پیچھے کرنے لگی حنا کا منہ دوسری طرف تھا میں نے آگے ہاتھ کر کے حنا کے ممے پکڑ لیے حنا کے ممے روئی کی طرح نرم ملائم تھے . حنا جس اسٹائل سے اپنی بُنڈ کو میرے لن کے اوپر رگڑ رہی تھی میرے لن کے اندر کر نٹ دور رہا تھا. میں بُنڈ کی دراڑ میں لن پھنسا کر رگڑ نے کا تجربہ پہلی دفعہ کر رہا تھا . مجھے بہت زیادہ مزہ آ رہا تھا حنا کی موٹی تازی اور نرم نرم بُنڈ اور اس کی بُنڈ کی دراڑ میں میرا لن سلپ ہو کر رگڑ کھا رہا تھا . حنا نے میرے لن کو اپنی بُنڈ کی دراڑ میں اچھی طرح پھنسا لیا تھا اور لن کو سختی سے پکڑا ہوا تھا اور آگے پیچھے ہو رہی تھی اور تیل کی وجہ سے پوچ پوچ کی آوازیں نکل رہیں تھیں. حنا کے منہ سے سسکیاں نکل رہیں تھیں . اور وہ سیکسی اور مدھوش ہوا میں بولی کا شی جی آپ کے لن نے مجھے پاگل کر ہے دِل کرتا ہے ایک جھٹکے میں اپنی بُنڈ میں لے لوں . کا شی جی کہیں اور بندوبست کرو مجھے تمہارا لن جلدی سے جلدی اپنی پھدی اور بُنڈ کے اندر لینا ہے . میں نے کہا حنا جی فکر نہ کرو میں کوئی نہ کوئی حَل نکالتا ہوں حنا کو اپنی بُنڈ میرے لن پے رگڑ تے ہوئے کافی ٹائم ہو چکا تھا اس نے میرا ہاتھ پڑم کر اپنی پھدی کے اوپر رکھ دیا اور بولی کا شی جی اپنی بڑی والی انگلی اِس میں ڈال کر اِس کو تھوڑا سکون دو میں نے اپنی انگلی اس کی پھدی پے رکھ کر ہلکی سی پُش کی میری آدھی انگلی اندر چلی گئی حنا تھوڑا سی کسمسا گئی میں نے کہا حنا جی اتنا کافی ہے تو بولی نہیں جان پوری اندر کرو . میں نے تھوڑا اور زور لگایا اور پوری انگلی اندر کر دی حنا کے منہ سے ہلکی سی آہ نکلی پِھر میں نے 2 منٹ کے وقفے کے بعد انگلی کو اندر باہر کرنے لگا . حنا کو اور زیادہ مدہوشی چڑھ گئی تھی . وہ اور زیادہ سسکیاں لینے لگی تھی . میں اپنی انگلی کو حنا کی پھدی کے اندر باہر کر رہا تھا اور حنا اپنی بُنڈ کو میرے لن کے اوپر تیزی سے رگڑ رہی تھی . نیچے سے مسلسل رگڑ نے کی وجہ سے میرے لن کی رگیں پھولنے لگیں تھیں مجھے محسوس ہو رہا تھا اب میرا پانی نکلنے والا ہے . میں نے اپنی انگلی کو اور تیز ی سے اندر باہر کرنے لگا حنا کو مزید جوش چڑھ گیا اور وہ بھی اپنی بُنڈ کو اور تیزی سے رگڑ نے لگی اور اس کے منہ سے اوہ آہ اوہ اوہ آہ آہ کی آوازیں نکل رہیں تھیں . پِھر کوئی 3 سے 4 منٹ کے اندر پہلے حنا کی پھدی نے اپنا گرم گرم پانی چھوڑا میری پوری انگلی گیلی ہو گئی تھی اور اس کی گرم گرم منی اس کی پھدی سے باہر رس رہی تھی . اور اس کے 1 منٹ بعد ہی میرے لن نے حنا کی بُنڈ میں میں نے اپنی منی کا لاوا چھوڑ دیا . میرا لن حنا کی بُنڈ کی دراڑ میں جھٹکے مار مار کے پانی چھوڑ رہا تھا. جب میں اور حنا مکمل سکون میں ہو گئے تو حنا میری گود سے اٹھ کر اپنے کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم میں چلی گئی اور کچھ دیر بعد اپنی صاف صفائی کر کے واپس آئی وہ ابھی بھی ننگی ہی تھی . پِھر میں وہاں سے اٹھا باتھ روم میں جا کر اپنے آپ کو صاف کیا اور پِھر ننگا ہی آ کر حنا کے ساتھ بیڈ پے بیٹھ گیا اور اس کو ایک لمبی سی فرینچ کس کی اور پوچھا جان مزہ آیا کہ نہیں . تو وہ بولی کا شی مزہ تو بہت آیا ہے لیکن اب اندر آگ اور زیادہ لگ چکی ہے اب تمھارے لن کو اندر لینا ہے . میں نے کہا حنا جان فکر نہ کرو میں کوئی اچھی سی سیف جگہ کر بندوبست ضرور کروں گا . پِھر تمہیں اپنے لن کی سیر ضرور کروا وں گا . حنا نے گھڑی پے ٹائم دیکھا 2 بجنے میں10 منٹ باقی تھے . حنا نے کہا کا شی 2 بجے گارڈ پِھر گیٹ پے باہر کھڑا ہو جائے گا تم اس سے پہلے پہلے نکل جاؤ اگر اس نے دیکھ لیا تو میرے لیے مسئلہ ہو جائے گا . میں نے جلدی سے کپڑے پہنے اور حنا کو ایک آخری فرینچ کس دی اور کمرے سے نکل کر نیچے گراؤنڈ فلور سے باہر گیٹ پے آیا ابھی تک گارڈ نہیں آیا تھا میں بغیر آواز کیے آرام سے باہر نکل گیا اور پارکنگ سے اپنی موٹر بائیک نکالی اور گھر واپس آ گیا میں کافی تھک چکا تھا اِس لیے میں گھر آتے ہی اپنے روم میں جا کر سو گیا. تقریباً رات کے 8 بجے تھے جب میرا چھوٹا بھائی مجھے جگا رہا تھا اور بول رہا تھا بھائی اٹھو ابو اور ا می بلا رہے ہیں آ کر كھانا کھا لو . میں فوراً اٹھا واشروم میں گیا منہ ہاتھ دھو کر فریش ہوا اور پِھر باہر جہاں سب لوگ بیٹھے كھانا کھا رہے تھے میں بھی وہاں جا کر سب کے ساتھ كھانا کھانے لگا . ابو نے پوچھا بیٹا کیا بات آج کہاں مصروف تھے اور آ کر اتنی دیر تک سوئے رہے ہو میں نے فوراً بہانہ بنایا ابو میں دوست کی طرف گیا تھا اس کے ساتھ 1 اور یونیورسٹی کی معلومات لی ہے پِھر اِس طرح ہی میں اور ابو باتیں کرتے رہے . پِھر میں تقریباً 9 بجے اٹھ کر دوبارہ اپنے کمرے میں آ گیا اور لیپ ٹاپ لگا کر بیٹھ گیا. تقریباً 10بجے کے قریب مجھے حنا کا ایس ایم ایس آیا کے کیا کر رہے ہو . میں نے حنا کو کال کی اور بتایا میں میں اپنے کمرے بیٹھا ہوں لیپ ٹاپ استعمال کر رہا تھا . تم سناؤ کیا کر رہی ہو . تو وہ بولی میں ڈیوٹی پے ہوں اکیلی بیٹھی تھی سوچا تم سے گھپ شپ لگا لوں . پِھر میں نے کہا سناؤ دن کو مزہ آیا تھا . تو بولی کا شی کچھ نہ پوچھو بہت برا حال ہے نیچے پھدی رو رہی ہے . جب سے اِس نے تمہارا لن دیکھا ہے اِس کی آگ اور بھڑک گئی ہے . میں نے کہا حنا جی دِل تو میرا بھی بہت کر رہا ہے بہت دن ہو گئے ہیں اپنے اِس لن کو کسی پھدی کی سیر نہیں کروائی یہ بھی تنگ کر رہا ہے . آپ تھوڑا صبر کرو میں کچھ نہ کچھ حَل نکالتا ہوں. پِھر میں نے کہا حنا جی آپ کی روم میٹ نے بعد میں آپ سے کیا کہا تھا . کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا . تو وہ بولی کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہے . وہ میری بڑی پکی سہیلی اور دکھ سکھ کی ساتھی ہے . اس کو بعد میں میں نے سب بتا دیا تھا . ویسے بھی وہ کون سی بچی ہے سب جانتی ہے اور سب کچھ کروا چکی ہے . میں نے کہا حنا جی آپ کیسے جانتی ہیں وہ سب کچھ کروا چکی ہے . تو حنا نے کہا اس نے اور میں نے ایک ہی دن اسپتال میں جوائن کیا تھا اور وہ شروع سے ہی میری روم میٹ ہے اور میری بہت اچھی سہیلی اور راز دان بھی ہے . اس کی ہر بات مجھے پتہ ہے اور میری اس کو پتہ ہے . میں نے اس کو تمہارا پہلے بتایا ہوا تھا لیکن آج والی ملاقات کا نہیں بتایا تھا میں نے سوچا رات کو جب آئے گی تو بتا دوں گی لیکن وہ دن کو ہی کمرے میں آ گئی تھی اصل میں اس کے پیریڈز والے دن تھے وہ روم نے اپنا پیڈ لینے کے لیے آئی تھی. میں نے کہا حنا جی ویسے وہ کس کس سے کروا چکی ہے ہمیں بھی بتاؤ . تو حنا نے کہا کا شی جی وہ کوئی گشتی نہیں ہے جو ہر کسی سے کرواتی ہے . وہ تو اس کا منگیترہے وہ کبھی کبھی مہینے میں ایک دفعہ یا دو دفعہ یہاں چکر لگاتا ہے تو اس کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے یہاں ہی کسی ہوٹل میں دونوں رات گزرتے ہیں اور دونوں مزہ لیتے ہیں میں نے کہا ایک سے ہی مزہ لیتی ہے یا کوئی اور بھی ہے . تو حنا نے کہا فل حال تو ایک ہی ہے . لیکن آج اس نے مجھے ایک اور بات کہی ہے .

وہ جب کمرے میں آئی تھی تو اس نے تمہارا لوں دیکھا تھا اس کو بھی تمہارا لن بہت پسند آیا ہے . وہ مجھے کہہ رہی تھی حنا مجھے بھی اپنے دوست سے مزہ کرواؤ نہ اس کا لن بہت موٹا ہے مجھے بڑا پسند آیا ہے . تو میں نے کہا تو حنا جی آپ نے پِھر اس کے بارے میں کیا سوچا ہے . تو حنا نے کہا کا شی جی میں اس کو بھی اور شازیہ کو بھی تمھارے لن کا مزہ ضرور کروا ؤ ں گی لیکن ان دونوں سے پہلے میں نے خود تمہارا لن لینا ہے . اِس پے پہلا حق میرا ہے . جب میں تمھارے لن سے سکون حاصل کر لوں گی پِھر میں اس دونوں کا مزہ آپ کو کروا ؤ ں گی . میں نے کہا حنا جی یہ تو سچ ہے اِس پے پہلا حق آپ کا ہے . مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے . پِھر ہم یوں ہی باتیں کرتے رہے اور رات کے 12 بج گئے میں نے پِھر حنا کو بولا مجھے نیند آ رہی ہے میں سونے لگا ہوں پِھر بات ہو گی اور پِھر حنا کو گڈ بائے بول کر لیٹ گیا اور پتہ ہی نہیں چلا کب نیند آ گئی اور صبح بجے آنکھ کھلی. آج مجھے کوئی خاص کام نہیں تھا آج ہفتے والا دن تھا ہفتے اور اتوار کو فیصل گھر پے ہی ہوتا تھا . میں نے اس کی طرف چکر لگانے کا سوچا . اور تیار ہو کر فیصل کی طرف چلا گیا جب اس کے گھر پہنچ کر گھنٹی بجای تو تھوڑی دیر بعد فیصل کی ا می نے دروازہ کھولا . فیصل کی ا می ایک گوری چیٹی اور قدآور اور بھرے ہوئے جسم کی مالک تھی . ان کی عمر قریبا 45 کے لگ بھاگ تھی لیکن وہ اپنی عمر کے حساب سے کافی جوان نظر آتی تھی . ان کا نام مریم تھا. مریم آنٹی نے مجھے دیکھا اور بولی کا شی بیٹا کیا حال ہے آج بہت دن بعد چکر لگایا ہے . میں نے کہا آنٹی میں ٹھیک ہوں اصل میں آگے ایڈمیشن لینا ہے اس چکر میں تھوڑا مصروف تھا اِس لیے چکر نہیں لگا سکا . پِھر مریم آنٹی نے کہا بیٹا ا می کیسی ہیں . تو میں نے کہا آنٹی جی ا می بھی بالکل ٹھیک ہیں . میں نے کہا آنٹی جی فیصل کہاں ہے . تو آنٹی نے مجھے اندر آنے کے لیے رستہ دیا اور بولی بیٹا وہ تھوڑا مارکیٹ تک کچھ سامان لینے گیا ہے کافی دیر ہو گئی ہے وہ اب آنے والا ہو گا آؤ اندر آؤ اندر آ کر بیٹھو وہ آتا ہی ہو گا میں گھر میں داخل ہو کر ٹی وی لاؤنج میں آ کر بیٹھ گیا اور فیصل کا انتظار کرنے لگا آنٹی نے کہا بیٹا تم بیٹھو میں کچھ ٹھنڈا بنا کر لاتی ہوں اور وہ یہ بول کر کچن میں چلی گئی ان کا کچن ٹی وی لاؤنج کے ساتھ ہی بنا ہوا تھا آنٹی نے گلے میں صرف دوپٹہ ڈالا ہوا تھا . آنٹی مجھے کچن میں سے نظر آ رہیں تھیں میں نے آنكہ بچا کر دیکھا ان کا جسم کیا مست جسم تھا بڑے بڑے موٹے موٹے ممے اور موٹی موٹی رانیں اور باہر کی نکلی ہوئی گانڈ ان کا سر سے پاؤں تک پورا جسم کمال کا تھا . آنٹی کا مست جسم دیکھ کر شلوار کے اندر ہی میرا لن جھٹکے کھا رہا تھا . میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے لن کو نیچے دبا کر اپنی ٹانگوں کو جوڑلیا اور دوسری طرف دیکھنے لگا . کچھ ہی دیر میں آنٹی میرے لیے شربت بنا کر لے آئی . جب آنٹی میرے آگے آ کر مجھے تھوڑا سا جھک کر شربت دینے لگی میری نظر جب آنٹی کے کھلے ہوئے گلے میں گئی مجھے حیرت کا جھٹکا لگا کیونکے آنٹی کی قمیض کا گلا کافی کھلا تھا اس میں سے ان کو گورے چٹے موٹے موٹے ممے صاف نظر آ رہے تھے . اور آنٹی نے نیچے برا بھی نہیں پہنی ہوئی تھی . میں ابھی آنٹی کے ممے دیکھنے میں ہی محو تھا کے مجھے آنٹی نے کہا بیٹا گلاس تو پکڑومیں نے آنٹی کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی اور ان کا چہرہ شرم سے لال سرخ ہو چکا تھا میں بھی کافی شرمندہ ہوا . اور آنٹی سے کہا سوری آنٹی اور گلاس پکڑ لیا جیسے ہی میں نے گلاس پکڑ کر صوفے پے پیچھے ہو کر بیٹھنے لگا میری ٹانگیں یکدم تھوڑی سی کھل گئی اور میرا لن سپرنگ کی طرح اُچھل کر شلوار میں تمبو بن گیا . اور آنٹی نے دیکھ لیا تھا اور وہ اور زیادہ شرما کر تیزی کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی . مجھے بھی بہت افسوس ہوا کے یہ مجھ سے کیا غلطی ہو گئی ہے . آنٹی میرے بارے میں کیا سوچتی ہو گی . اور اگر انہوں نے میری حرکت کا میری ا می کو بتا دیا تو میری خیر نہیں ہے . میں نے فوراً شربت پیا اور اٹھ کر آنٹی کے کمرے میں گیا . اور اندر داخل ہو کر دیکھا تو آنٹی اندر نہیں تھی شاید وہ اپنے باتھ روم میں تھی . میں وہاں ہی بیڈ پے بیٹھ گیا کوئی 5 منٹ بَعْد آنٹی باہر نکلی اور مجھے دیکھا تو پِھر شرما گئی . اور منہ دوسری طرف کر لیا . میں فوراً اٹھا آنٹی کے پاس جا کر آنٹی کا ہاتھ پکڑ کر کہا آنٹی جی مجھے معاف کر دیں . میرا یہ مطلب نہیں تھا مجھ سے غلطی ہو گئی ہے . مجھے معاف کر دیں . میں کچھ دیر آنٹی کی منتںا کرتا رہا پِھر کچھ دیر بَعْد آنٹی نے کہا کوئی بات نہیں بیٹا . میں تمہیں معاف کیا لیکن بیٹا یہ بات کسی اور سے نہیں کرنا نہیں تو ہم دونوں کی بدنامی ہو گی . میں نے کہا جی آنٹی میں کسی سے بھی نہیں کروں . گا اور پِھر میں دوبارہ آ کر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گیا اور فیصل کا انتظار کرنے لگا . آنٹی بھی باہر آ کر سامنے صوفے پے بیٹھ گئی . اور ٹی وی لگا دیا میں بھی ٹی وی دیکھنے لگا میں چوری چوری اکھیو ں سے آنٹی کو دیکھ رہا تھا آنٹی فلحال ٹی وی ہی دیکھ رہی تھی . پِھر وہاں ٹیبل پے اخبار رکھی تھی میں وہ اٹھا کر پڑھنے لگا . کچھ دیر بعد یکدم میں نے تھوڑی سی اخبار کے کونے سے دیکھا تو حیران ہو گیا کیونکہ آنٹی کی نظر میری جھولی کی طرف تھی شاید وہ میرا لن دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی ان کی آنکھیں سرخی مائل صاف نظر آ رہی تھی شاید جب سے مریم آنٹی نے میرا لن دیکھا تھا ان کے اندر گرمی پیدا ہو گئی تھی . میں دوبارہ اپنے لن کا دیدار کروانے کے کوشش شروع کر دی . میں نے اپنے منہ کے آگے اخبار کر کے آنٹی مریم کے مموں کو دماغ میں لا کر یاد کرنے لگا اور کوئی 2 سے 3 منٹ کے اندر ہی میرا لن پِھر شلوار میں تمبو بن گیا تھا . میں نے پِھر اخبار کے کونے سے آنٹی کو دیکھا وہ میرے لن کو اب اور زیادہ غور سے دیکھ رہی تھی . اور اپنے ہونٹوں کو اپنے دانتوں سے کاٹ رہی تھی. میں ان اِس حساب سے دیکھ رہا تھا کہ وہ میرا منہ نہیں دیکھ سکتی تھی . میں نے اپنا ہاتھ نیچے کر کے اپنے ہاتھ سے لن کو پکڑ کر اس کو اوپر نیچے خارش کے بہانے کیا اور مریم آنٹی کو لن کا پورا دیدار کروایا . میں ان کو بھی دیکھ رہا تھا میری اِس حرکت سے آنٹی نے اپنے ہونٹوں پے زُبان پھیری دی . یکدم ہی باہر کی گھنٹی بجی تو آنٹی چونک گئی اور بولی کا شی بیٹا شاید فیصل آ گیا ہے . میں نے کہا جی آنٹی میں جا کر دیکھتا ہوں . اور کھڑا ہو گیا میرا لن اب بھی کھڑا تھا . آنٹی نے کہا نہیں نہیں تم نہیں جاؤ میں جا کر دیکھتی ہوں ان کی نظر میرے لن پے ہی تھی اور وہ پِھر میری آنکھوں میں دیکھ کر شرما اور مسکرا کر چلی گئی اور دروازہ کھول نے کے لیے چلی گئی . دروازہ کھول کر آنٹی اپنے روم میں چلی گئی اور فیصل بھی اندر آ گیا اور مجھے دیکھ کر بولا یار کا شی کہاں غائب ہو گیا ہے اتنے دن سے ملا ہی نہیں . میں نے اس کو آنٹی کو جو بتایا تھا وہ اس کو بھی بتا دیا پِھر فیصل بولا چل کا شی میرے کمرے میں چلتے ہیں اور اپنی امی کو بولا امی آپ كھانا تیار کر لیں آج کا شی بھی یہاں ہی كھانا کھائے گا. میں فیصل کے ساتھ اس کے کمرے میں آ گیا اور آ کر گھپ شپ لگا نے لگا . میں نے سے کہا سنا آج کل کیا چل رہا ہے . اور سنا کوئی نیو مووی ڈائون لوڈ کی ہے کوئی نیا مال آیا ہے کے نہیں تو بولا یار مال تو ڈھیر جمع کیا ہے تو جب گاؤں گیا ہوا تھا تو میں نے کافی مال ڈائون لوڈ کیا تھا . اگر آج رات یہاں رک جا تو آج جی بھر کر دیکھ لینا میں نے کہا یار نیا مال ہو اور میں نہ رکوں یہ کیسے ہو سکتا ہے . میں گھر بول دوں گا . اور آج رات سارا نیا مال دیکھوں گا . پِھر میں اور فیصل ہنسنے لگے . میں نے کہا یار فیصل یہ فلم دیکھ دیکھ کر دِل بھر گیا ہے اب تو حقیقت میں کچھ کرنے کا دِل کرتا ہے . فیصل نے کہا ہاں یار یہ بات تو ہے جو خود کرنے کا مزہ ہے وہ فلم میں کہا ں آتا ہے . میں نے کہا یار اپنی تو قسمت ہی خراب ہے . ابھی تک زندگی میں کسی کی پھدی مارنا تو دور کی بات ہے حقیقت میں دیکھی تک نہیں ہے. فیصل میری بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا یار کا شی اردگرد تھوڑا مال ہے چود نے کے لیے کسی کو بھی تھوڑا ٹائم دو اور سیٹ کرو اور کام ڈال دو . میں نے کہا یار مجھ سے یہ کام کہاں ہوتا ہے

اور اگر کوئی پھنس بھی گئی تو اس کو کہاں پے لے جا کر کروں گا . فیصل بولا یار باہر کے مال میں تھوڑا مشکل ہوتی ہے . لیکن اپنے ہی خاندان میں ہی کوئی مال دیکھو اور تھوڑا ٹائم دو تو کوئی نہ کوئی بندہ مل ہی جاتا ہے . اور اپنے خاندان کے بندے کو کون سا کسی اور جگہ لے جانا پڑتا ہے بس ایک دفعہ سیٹ ہو گیا اس کو جب ٹائم ملا بندہ چود لیتا ہے . میں نے کہا یار فیصل یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے . اگر خاندان میں بندہ تلاش کرے اور کوئی آگے سے منہ توڑ د ے تو پِھر بے عز تی بھی بہت ہوتی ہے . فیصل بولا یار تیری با ت ٹھیک ہے . لیکن بندہ دیکھ کر ہی دانہ ڈالنا چاہیے تھوڑا اس بندے پے نظر رکھنی پڑتی ہے اگر لگے کے وہ بندہ دانہ ڈالنے کے قابل ہے تو ڈال دینا چاہیے اگر نہیں تو چھوڑ دینا چاہیے . میں نے کہا فیصل یار مجھے تو بندہ تلاش کرنے اور سمجھنے میں مشکل لگتی ہے . تو ہی کوئی بندہ بتا دے یا اگر تیری کسی کے ساتھ کوئی سیٹنگ ہے تو میرا کام بھی کروا دے . فیصل بولا یار ہمیشہ اپنا شکار خود کر کے كھانا چاہیے . میں نے بھی اپنا شکار خود کیا ہے . اور جب دِل کرتا ہے مزہ لیتا ہوں . تم بھی خود کوشش کرو تمہیں بھی شکار مل جائے گا . میں نے کہا چلو ٹھیک ہے یار لیکن یہ تو بتاؤ تمہاری کس کے ساتھ سیٹنگ ہے . تو وہ بولا یار تم میرے دوست بھی ہو کزن بھی ہو میری 3 کے ساتھ پکی سیٹنگ ہے لیکن یہ نہیں بتا سکتا وہ کون ہیں . میں فیصل کی بات سے تھوڑا مایوس ہوا . لیکن میں نے ایک اور پتہ پھینکا اور کہا چل یار جیسے تیری مرضی لیکن کسی بھی 1 کا تو بتا دے یقین کر میں کسی سے بھی نہیں بات کروں گا . تو وہ ہنسنے لگا اور بولا یار میں نہیں بتا سکتا لیکن تو اپنا شکار خود کر اگر تیرا شکار بھی وہ ہی نکلا جو میرے والا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا . پِھر دونوں مل کر مزہ کریں گے . میں تمہیں نہیں بتا سکتا کیونکہ میری سیٹنگ جس کے ساتھ ہے وہ خاندان کے لوگ ہیں اور شادی شدہ ہیں . میں نے ان سے وعدہ کیا ہوا ہے . اور ہاں تمہیں ایک ہنٹ دیتا ہوں کے تم بھی خاندان میں شادی شدہ عورت کا شکار کرو . وہ جلدی راضی ہو جاتی ہے اور اس کا  ڈر بھی نہیں ہوتا . میں نے کہا چل یار ٹھیک ہے جیسے تیری مرضی میں خود کچھ نہ کچھ کرتا ہوں . فیصل بولا اگر کوئی بندہ مل جائے تو مجھے بتا دینا میں تیری اور ہیلپ کر دوں گا ہو سکتا ہے تیرا کوئی اور شکار ہو پِھر تم مجھے اپنا شکار کھلا دینا میں تمہیں اپنا شکار کھلا دوں گا . پِھر ہم باتیں کر رہے تھے تو مریم آنٹی اندر آ گئی اور بولی چلو بیٹا كھانا لگ گیا ہے آ کر دونوں کھا لو پِھر میں نے اور فیصل نے مل کر كھانا کھایا اور دوبارہ آ کر فیصل کے کمرے میں بیٹھ گئے . میں اور وہ یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے تھوڑی دیر بعد میں نے فیصل سے کہا یار میں اوپر جا کر ما موں سے مل لوں نہیں تو وہ ناراض ہو جائیں گے کے آیا ہے اور ملا بھی نہیں تو فیصل بولا کا شی یار انکل تو کراچی گئے ہوئے ہیں وہ تو منگل کو واپس آئیں گے . تو میں نے کہا اچھا چلو میں فوزیہ آنٹی سے مل کر آتا ہوں . اور یہ بول کر اوپر فوزیہ آنٹی کے پاس آ گیا فوزیہ آنٹی نے مجھے دیکھا اور ماتھے پے پیار کیا اور بولی کا شی بیٹا آج کہاں بھول گئے ہو . میں نے کہا آنٹی میں تھوڑا مصروف تھا یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا تھا اس چکر میں بھاگ دور کر رہا تھا . میں ان کے بیڈروم میں ہی بیٹھ گیا اور وہاں ہی فوزیہ آنٹی کی بیٹی بھی آ گئی اور مجھے سلام کیا . پِھر فوزیہ آنٹی نے اپنی بیٹی کو کہا بیٹا جاؤ بھائی کے لیے پیپسی ڈال کر لے کر آؤ . اور وہ چلی گئی میں نے آنٹی سے پوچھا آنٹی انکل کہاں گئے ہیں میری بات سن کر سے بولی بیٹا کہاں جانا ہے کراچی گئے ہوئے ہیں گھر میں تو بس منہ دیکھنے کے لیے آتے ہیں . گھر والوں کی فکر کہاں ہوتی ہے ان کو بس اپنی نوکری کے چکر میں بھاگتے رہتے ہیں . میں نے کہا آنٹی جی آپ لوگوں کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں اور رہی بات آپ کی فکر کی تو میں ہوں نہ آپ کی فکر کے لیے . آنٹی نے میری طرف حیرت سے دیکھا تو میں نے کہا آنٹی جی مجھ سے مراد سب لوگ ا می انکل نزیر فیصل بھی تو ہے میں نے فیصل کے نام پے تھوڑا زور دیا تھا . میں نے نوٹ کیا فیصل کے نام سے آنٹی تھوڑا مسکرا پڑی تھی . اور بولی ہاں یہ تو ہے آپ لوگ نہ ہوں تو بندہ گھٹ گھٹ کر مر جائے . پِھر آنٹی کی بیٹی پیپسی گلاس میں ڈال کر لے آئی . میں اس سے گلاس لے کر پینے لگا . میں نے کہا آنٹی جی اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو مجھے بتا دیا کریں ما موں نہیں ہیں تو میں ہوں میں کر دیا کروں گا . آپ مجھے پے بھروسہ کر سکتی ہیں میں بھی آپ کا بھانجا ہوں کوئی غیر تو نہیں ہوں . آنٹی میری بات سن کر میری طرف دیکھنے لگی اور پِھر منہ نیچے کر کے آہستہ سے بولی اب تم ہر کام تو نہیں کر سکتے ہو . میں نے آنٹی کی بات سن لی تھی . پِھر میں نے کہا آنٹی جی ما موں نے کب واپس انا ہے . تو آنٹی نے کہا منگل کو واپس آنا ہے . میں نے کہا آنٹی جی اگر مجھے اپنا سمجھتی ہیں اور بھروسہ رکھتی ہیں مجھے اپنا ہر قسم کا کام بتا دیا کریں میں کی جگہ کر دیا کروں گا آپ کو مایوس نہیں کروں گا . آنٹی نے میری بات سن کر نظر بھر کر میری طرف دیکھا اور بولی ٹھیک ہے بیٹا اگر کوئی کام ہوا تو میں بتا دوں گی لیکن کچھ کام ایسے ہوتے ہیں وہ اب تم سے تو نہیں کروا سکتی . میں نے کہا آنٹی مجھے یہ تو نہیں پتہ آپ کس کام کا کہہ رہی ہیں لیں اگر پِھر بھی بلائیں گی تو ضرور کرنے کی کوشش کروں گا آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گا . آنٹی نے میری آنکھوں میں دیکھا اور پِھر نظریں کر لیں. پِھر آنٹی نے کہا کا شی بیٹا ایڈمیشن ہو گیا ہے میں نے کہا آنٹی جی بس سمجھ لیں ہو گیا ہے . آنٹی نے کہا چلو اچھی بات ہے اب یونیورسٹی میں جاؤ گے تو کوئی اچھی سی گرل فرینڈ بھی مل جائے گی . میں نے کہا آنٹی ہماری ایسی قسمت کہاں ہے اسکول اور کالج میں تو ملی نہیں . یونیورسٹی میں کہاں سے ملے گی اور ویسے بھی کون لفٹ کروائی گی. ہر کوئی یہ ہی سمجھ لیتی ہے یہ ابھی بچہ ہے . ابکون سمجھائےبچے کو کبھی آزما کر تو دیکھو میں نے یہ بات آہستہ آواز میں کہی تھی لیکن آنٹی نے پِھر بھی سن لی تھی. آنٹی میری بات سن کر مسکرا پری اور بولی دِل چھوٹا نہ کرو بیٹا کوئی نہ کوئی مل جائے گی . پِھر یکدم فیصل اوپر آ گیا اور آ کر صوفے پے بیٹھ گیا . آنٹی نے کہا فیصل ساما ن لے آئے تھے تو فیصل بولا جی پھو پھو لے آیا تھا آنٹی نے کہا جو میں نے کہا تھا وہ بھی لے آئے ہو . اور فیصل کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرا نے لگی. فیصل بولا جی وہ بھی لے آیا تھا . پِھر آنٹی نے کہا فیصل رات کو فارغ ہو کر نازیہ کا کمپیوٹر ٹھیک کر دینا وہ بار بار مجھے کہہ کر تھک گئی ہے . تو فیصل بولا پھو پھو آج ضرور کر دوں گا . اور آنٹی نے کہا وہ جو میں نے چیزیں منگوائی ہیں وہ لے آؤ مجھے چیک کرنی ہیں. پِھر میں نے کہا آنٹی جی میں نیچے چلتا ہوں مجھے فیصل کے کمپیوٹر پے کچھ کام کرنا ہے . میں رات کو بھی یہاں ہی ہوں پِھر چکر لگاؤں گا . میں گلاس ٹیبل پے رکھ رہا تھا لیکن میں نے دیکھا آنٹی میری بات سن کر فیصل کی طرف دیکھا تو فیصل نے آگے سے آنٹی کو آنکھ مار دی . میں نے دونوں کو محسوس نہیں ہونے دیا کے میں نے دیکھ لیا ہے اور میں پِھر نیچے آ گیا . اور آ کر فیصل کے لیپ ٹاپ پے موویز دیکھنے لگا اس وقعت شام کے 5 بج چکے تھے میں نے کال کر کے اپنے گھر بتا دیا تھا مجھے فیصل سے کام ہے میں رات یہاں ہی رکوں گا . جب میں موویز دیکھ رہا تھا تو سوچ رہا تھا کے جب میں نے رات کو رکنے کی بات کی تو آنٹی نے فیصل کی طرف کیوں دیکھا اور فیصل نے آگے سے آنکھ کیوں ماری . مجھے ان دونوں کی اِس بات کی سمجھ نہ لگی. میں موویز دیکھ رہا تھا فیصل نے کافی گرم مال ڈائون لوڈ کیا ہوا تھا میرا لن تن کر شلوار میں ہی کھڑا ہو گیا تھا . رات کے تقریبا 8 نج گئے تھے فیصل آیا اور بولا کا شی كھانا تیار ہے آ كھانا کھاتے ہیں پِھر آ کر تسلی سے دیکھ لینا . میں وہاں سے اٹھا باتھ روم گیا منہ ہاتھ دھو کر باہر جا کر كھانا کھایا اور پِھر کچھ دیر وہاں پے انکل نزیر سے بھی ملاقات ہوئی اور کچھ دیر ان سے گھپ شپ لگتی رہی . پِھر وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے اور آنٹی کچن میں اپنا کام کرتی رہی . میں بھی وہاں سے اٹھ کر دوبارہ فیصل کے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا . اور دوبارہ لیپ ٹاپ آن کر کے موویز دیکھنے لگا فیصل باہر ٹی وی دیکھ رہا تھا

تقریبا 10بجے کے قریب وہ کمرے میں آیا اور بیٹھ گیا اور بولا سنا کا شی کیسا مال ہے میں نے کہا یار فیصل بڑا ہی ظالم اور گرم مال ڈائون لوڈ کیا ہے دِل کرتا ہے ابھی یہاں کوئی پھدی ملے اس کو رگڑ دوں . تو فیصل میری بات سن کر ہنسنے لگا . پِھر میں اور وہ یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے پِھر تقریبا 11بجے فیصل نے کہا یار میں تھوڑی دیر بَعْد آتا ہوں تم مزہ کرو اگر نیند آ رہی ہو تو سو جانا میں پِھر نازیہ کے کمپیوٹر کا بھول گیا تھا صبح پھو پھو نے پِھر مجھے سنا دینی ہیں میں اس کا کمپیوٹر ٹھیک کر آتا ہوں ویسے بھی نازیہ پھو پھو کے کمرے میں سوتی ہے کمپیوٹر نازیہ کے اپنے کمرے میں رکھا ہے میں ٹھیک کر کے آ جاتا ہوں. میں نے کہا ٹھیک ہے . فیصل چلا گیا اور میں مووی دیکھنے میں مشغول ہو گیا . تقریباً رات کے 12 سے اوپر ٹائم ہو چکا تھا فیصل ابھی تک نہیں آیا تھا . مجھے پیاس بھی لگی ہوئی تھی اور کمرے میں پانی بھی نہیں رکھا تھا . میں نے سوچا باہر کچن میں چل کر پانی پی آتا ہوں اور لیپ ٹاپ ایک سائڈ پے رکھا اور کمرے سے باہر نکل آیا باہر بالکل اندھیرا تھا زیرو کا بلب چل رہا تھا . اس کی روشنی بھی کم تھی بندہ غور سے ہی کسی چیز کو دیکھ سکتا تھا میں کمرے سے نکل کر کچن میں آیا اور لائٹ کو آن کیے بغیر ہی فریج میں سے پانی کی بوتل نکالی اور پانی پینے لگا میں میں پانی کی بوتل کمرے میں ساتھ لے کر جانے کا سوچا ابھی میں فریج بند کر کے آگے ہی ہونے لگا تھا کہ کچن کی لائٹ یکدم آن ہو گئی مجھے ایک زور کا جھٹکا لگا کیونکہ سامنے مریم آنٹی پوری ننگی حالت میں شاید فریج میں سے پانی پینے آئی ہوئی تھی . آنٹی کے جسم پے ایک بھی کپڑے کا نام نشان نہیں تھا بالکل ننگی تھی جب میری اور ان کی نظریں ملی تو ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر وہاں ہی ساکت ہو گئے . آنٹی اور میں ایک دوسرے کو پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہے تھے . میں زیادہ دیر آنٹی کی آنکھوں میں دیکھا نہ سکا اور نظریں نیچے کر لیں جب میں نے آنٹی کے نیچے والی سائڈ پے دیکھا تو دنگ رہ گیا کیونکہ آنٹی کی پھدی ایک دم صاف شفاف بالوں سے صاف تھی اور ان کی پھدی سے گیلا گیلا پانی رس رہا تھا شاید وہ ابھی ابھی انکل نزیرسے چودا کر آ رہیں تھیں . میں نے آہستہ سے کہا سوری آنٹی جی میں پانی پینے آیا تھا . آنٹی میری آواز سے شاید چونک گئی تھی . اور وہ تیزی کے ساتھ وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئی . مجھے ان کے کمرے کا دروازہ بند ہونے کی اواز آئی . میں بھی وہاں سے دوبارہ کمرے میں آ گیا . مجھے بار بار آنٹی ننگے جسم کا خیال آ رہا تھا ایک دم ٹائیٹ اور کسا ہوا جسم تھا اور پھدی بھی کیا مست پھدی تھی . میرا لن جھٹکے کھانے لگا تھا. میں نے لیپ ٹاپ آف کر دیا اور بیٹھ کر مریم آنٹی کے بارے میں سوچنے لگا کیونکہ بَقَوْل فیصل کے جو دانہ ڈالنے کے قابل ہو اس کو دانہ ڈال دینا چائے میں نے سوچا چلو پِھر اب مریم آنٹی کو دانہ ڈال کر دیکھوں گا . میں ان ہو سوچوں میں گم تھا کے ٹائم دیکھا 1 بجنےوالے تھے فیصل ابھی تک نہیں آیا تھا . مجھے جو شق تھا وہ یقین میں بَدَلنے لگا میں نے سوچا شاید آج فیصل اور فوزیہ آنٹی رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں میں دوبارہ پِھر اٹھا اور اپنا موبائل بھی اٹھا لیا میں سوچ رہا تھا اگر آج فیصل اور فوزیہ آنٹی کو ایک ساتھ دیکھ لوں تو ان کی چپکے سے ویڈیو بنا لوں گا جس سے مجھے ثبوت مل جائے گا پِھر میں فوزیہ آنٹی کے لیے اپنا رستہ بنا لوں گا . میں نے کمرے کا دروازہ کھولا اور آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر چلا گیا اوپر لائٹ آف تھیں لیکن کچن کی لائٹ جل رہی تھی . نازیہ کا کمرہ سیڑھیوں کے ساتھ ہی آگے کر بنا ہوا تھا میں آہستہ آہستہ سے چلتا ہوا جب نازیہ کے کمرے کے پاس گیا تو مجھے پیچھے سے کچن میں کسی کی آہستہ سے آواز آئی میں فوراً ہی چھت والی سیڑھیوں میں چڑھ کر اوپر بیٹھ گیا وہاں اندھیرا تھا کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا. کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کچن سے فوزیہ آنٹی نکلی اور سیدھا نازیہ کے کمرے میں چلی گئی لیکن آنٹی کی حالت دیکھ کر مجھے زور کا جھٹکا لگا کیونکہ وہ مکمل ننگی حالت میں تھی . اندھیرے کی وجہ سے میں ان کا جسم زیادہ غور سے نہ دیکھ سکا . مجھے اب یقین ہو گیا تھا کے فیصل بھی اندر ہے اور فیصل اور فوزیہ آنٹی اندر مزہ لے رہے ہیں . آج میرا کام پورا ہونے والا تھا. فوزیہ آنٹی کمرے میں داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا مجھے تھوڑی مایوسی ہوئی . میں سیڑھیوں سے نیچے اُتَر کر دوبارہ آہستہ سے چلتا ہوا . کمرے کے پاس آیااور دیکھا دروازہ بند تھا دروازے کے کی ہول سے دیکھنےکوشش کی لیکن مجھے کچھ بھی صاف نظر نہیں آیا . نازیہ کے کمرے کی کھڑکی ٹیر س والی سائڈ پے باہر کو بنی ہوئی تھی آخری وہ ہی جگہ بچی ہوئی تھی جہاں سے کچھ اندر دیکھا جا سکتا تھا میں آرام سے چلتا ہوا کمرے سے آگے والی سائڈ پے جا کر آرام سے کا دروازہ کھولا اور پِھر ٹیر س پے جا کر دروازہ باہر والی سائڈ سے بند کر دیا اور آہستہ سے چلتا ہوا کھڑکی کے پاس پہنچ گیا میرے اندر خوشی سے لڈ و پھوٹنے لگے کیونکہ کھڑکی سے روشنی باہر آ رہی تھی اِس کا مطلب تھا کھڑکی کا کچھ حصہ کھلا ہوا تھا. میں بغیر آواز کیے ہوئے کھڑکی کے پاس جا کر تھوڑا سا آگے ہو کر اندر دیکھا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ اندر بیڈ بالکل کھڑکی کے نزدیک رکھا ہوا تھا . اور فوزیہ آنٹی اور فیصل پورے ننگے ہو کر بیڈ پے لیےپ ہوئے تھےپِھر مجھے فوزیہ آنٹی کی آواز سنائی دی فوزیہ آنٹی نے کہا فیصل آج تو کا شی آیا ہوا تھا لیکن کل کو 10بجے تک اوپر آ جانا تا کہ 4 سے 5 گھنٹے فل مزہ کر سکیں . تو فیصل نے کہا جی پھو پھو جان میں کل ٹائم پے آ جاؤں گا . فیصل نے کہا پھو پھو میرے کام کا کیا بنایا ہے . تو فوزیہ آنٹی نے کہا فیصل بیٹا تھوڑا صبر کرو تمہارا کام کروا دوں گی . میں اپنی کوشش کر رہی ہوں جلدی ہی تیرے لن کو نوشین کی کنواری پھدی کا مزہ کروا دوں گی لیکن مجھے کچھ ٹائم دو . میں اس کو آہستہ آہستہ لائن پے لے کر آ رہی ہوں . میں فوزیہ آنٹی کی بات سن کر حیران رہ گیا تھا کیونکہ نوشین فوزیہ آنٹی کی بڑی بہن کی بیٹی تھی . وہ بھی کوئی 22سال کی لڑکی تھی . کافی خوبصورت اور سیکسی جسم کی لڑکی تھی . میں نے اس کو کافی دفعہ فنکشن پے دیکھا تھا. فیصل نے کہا پھو پھو جب سے اس کی پھدی کو اس دن آپ کے باتھ روم میں دیکھا ہے لن پے قابو نہیں ہوتا ہے . فوزیہ آنٹی نے کہا ہاں مجھے پتہ ہے . لیکن تھوڑا مجھے ٹائم دو . میں اس کا کام تم سے ضرور کروا دوں گی . فل حال تم مجھ سے اور اپنی خالہ سے مزہ لو .دو دوپھد یاں گھر میں مل جاتی ہیں پِھر بھی تمہارا دِل نہیں بھرتا ہے . فوزیہ آنٹی کی بات سن کر میرا دماغ گھوم گیا تھا . کیونکہ مجھے آج پتہ چل رہا تھا کے فیصل فوزیہ آنٹی کے علاوہ اپنی خالہ کو بھی چو د چکاہے . فیصل کی خالہ نوشین آنٹی بھی  ایک محلہ چھوڑ کر رہتی تھیں . ان کی عمر 35سال کے قریب تھی . وہ کافی نین نقش اور بھرے ہوئے سیکسی جسم کی مالک تھیں ان کے میاں کا زاتی گھر تھا ان کے میاں فوت ہو چکے تھے اور وہ 4 سال بیوہ تھیں ان کے 2 بچے تھے بڑی بیٹی 8 سال کی اور چھوٹا بیٹا 5 سال کا تھا . ان کے میاں کی اپنی 3 دکانیں تھیں ان سے جو رینٹ اور جوگھر کا ایک پورشن رینٹ پے دیا ہوا تھا اس کے رینٹ سے ان کا گھر چلتا تھا . وہ اپنے بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی تھیں. فیصل نے کہا پھو پھو خالہ سے بھی کام آپ نے ہی کروایا تھا تو فوزیہ آنٹی بولی ہیں مجھے یاد ہے . اور نوشین باجی تو ابھی جوان ہیں جذبات رکھتی ہیں . انہوں نے بہت عرصہ برداشت کیا ہے اب وہ کچھ مہینوں سے سکون میں آئی ہیں جب سے تم ان کو چودتے ہو . اب وہ خوش رہتی ہیں . فیصل نے کہا پھو پھو اِس لیے تو آپ کو کہتا ہوں آپ امی سے کہہ کر میری اور نازیہ کی بات پکی کروا دیں . پِھر جب میری نازیہ سے شادی ہو جائے گی تو نازیہ کے ساتھ آپ کو بھی اور خالہ کو تینوں کو خوش رکھا کروں گا . تو فوزیہ آنٹی نے کہا بیٹا میں تو خود یہ ہی چاہتی ہوں میری بیٹی کے علاوہ میرا اور نوشین باجی کا کام بھی چلتا رہے گا . میں تو تمھارے انکل کو بہت دفعہ کہہ چکی ہوں لیکن ان کی سوئی کا شی پے ہی اٹکی ہوئی ہے . کہتے ہیں میں نازیہ کی شادی صرف کا شی سے ہی کروں گا . فیصل بولا پھو پھو کا شی میں ایسی کون سی بات ہے جو مجھے میں نہیں ہے اور انکل اس کے ساتھ نازیہ کی کرنا چاہتے ہیں. فوزیہ آنٹی نے کہا فیصل بیٹا مجھے خود معلوم نہیں ہے . لیکن ایک بات تو بتاؤ تم نے اپنا لیپ ٹاپ کا شی کو کیوں دیا ہے اس میں اگر اس نے وہ والی ساری فلم دیکھ لیں تو پِھر . فیصل نے کہا پھو پھو کا شی بھی وہ والی فلم دیکھنے کا بہت شوقین ہے وہ آج رات رکا ہی صرف ان فلم کو دیکھنے لی لیے ہے . فوزیہ آنٹی حیران ہوتے ہوئے بولی اچھا اِس کا مطلب ہے کا شی بھی جوان ہو گیا ہے . تو فوزیہ آنٹی نے کہا کیا تم نے اس کا لن دیکھا ہے تو فیصل نے کہا نہیں پھو پھو دیکھا تو نہیں ہے . ہاں البتہ وہ جوان کافی ہو گیا ہے . وہ بھی اب پھدی مارنے کے چکر میں رہتا ہے مجھے بھی کہہ رہا تھا کے کوئی مال ہے تو بتاؤ لیکن میں نے نہ کر دیا اور کہا میرے پاس خود کچھ نہیں ہے میں بھی تمہاری طرح تلاش کر رہا ہوں . فوزیہ آنٹی فیصل کی بات سن کر بولی اچھا اِس لیے  کہہ رہا تھا ہر کوئی مجھے بچہ سمجھتا ہے . کوئی لفٹ نہیں کرواتا . فیصل نے کہا آپ کو کب کہا تو آنٹی نے کہا میں نے اس کو آج ویسے ہی تھوڑا چیک کرنے کے لیے کہا تھا کے اب تو یونیورسٹی میں گرل فرینڈ بنا لو گے تو مجھے آگے سے اس نے یہ کہا تھا. پِھر فیصل نے کہا پھو پھو ذرا فٹ سا لن کا چوپا لگا کر کھڑا کرو پِھر مجھے آپ کی گانڈ مار نی ہے . تو فوزیہ آنٹی بولی کیوں نہیں پھو پھو کی جان میری گانڈ میں خود بہت دن سے خارش ہو رہی ہے . آج تمہارا لن لے کر خارش ختم ہو گی . پِھر میں نے تھوڑا سا مزید آگے ہو کر دیکھا تو فوزیہ آنٹی نے کا لن منہ میں لے لیا تھا

اور کسی کنجری کی طرح چوپا لگا رہی تھی . میں نے فوراً اپنی جیب سے موبائل نکالا اور ویڈیو آن کر کے ریکارڈنگ
کرنے لگا . میں نے دیکھا فیصل کا لن لگ بھگ 5 انچ تک لمبا تھا اور اور اتنا زیادہ موٹا بھی نہیں تھا . لن کی ٹوپی بھی لن کی موٹائی کے حساب جتنی موٹی تھی فوزیہ آنٹی مسلسل لن کے چو پے لگا رہی تھی . چو پے لگا نے کی وجہ سے فیصل کے منہ سے سسکیاں نکل رہیں تھیں . کوئی 3 سے 4 منٹ کے اندر ہی فیصل کی ہمت جواب دے گئی اور بولا پھو پھو بس کریں میرا پانی نکل جائے گا اور پِھر میں نے دیکھا فوزیہ آنٹی گھوڑی بن گئی اور فیصل ان کے پیچھے جاکر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اپنے لن کو فوزیہ آنٹی کی گانڈ کی موری پے سیٹ کیا میں نے دیکھا فوزیہ آنٹی کی گانڈ کی موری نہ اتنی زیادہ چھوٹی تھی نہ زیادہ بڑی تھی درمیانے سائز کی موری تھی اور اس کی موری کا رنگ برائون تھا . فیصل نے اپنے لن پے تھوڑا تھوک لگایا اور پِھر تھوڑا سا فوزیہ آنٹی کی موری پے لگا کر اپنا لن موری پے سیٹ کیا اور جھٹکا مارا تو فیصل کی پوری ٹوپی موری کے اندر چلی گئی . فوزیہ آنٹی کے منہ سے آواز آئی آہ اور پِھر فیصل آہستہ آہستہ لن اندر کر رہا تھا . میں نے دیکھا کچھ دیر میں ہی فیصل نے اپنا پورا لن فوزیہ آنٹی کی گانڈ میں داخل کر دیا فیصل نے کہا پھو پھو جب پورا لن گانڈ میں لے کر آپ گانڈ کو سختی سے بند کر لیتی ہو یقین کرو مزہ آ جاتا ہے دِل کرتا ہے کبھی بھی لن آپ کی گانڈ سے باہر نہ نکالوں . تو فوزیہ آنٹی نے کہا بیٹا تو کس نے کہا باہر نکالنے کو اندر ہی رہنے دو مجھے تو خود سکون ملتا ہے دِل چاہتا ہے کوئی ایسا ہو جو ہر وقعت لن میری پھدی اور گانڈ کے اندر ڈال کر رکھے . پِھر آنٹی نے کہا فیصل میری جان اب جھٹکے لگاؤ میری خارش کو ختم کرو . مجھے سکون دو . پِھر فیصل اپنا لن آنٹی کی گانڈ کے اندر باہر کرنے لگا . اور آنٹی بھی مدہوشی میں آوازیں نکال رہی تھی . آہ آہ اوہ آہ آہ آہ . زور سے کرو بیٹا اور زور سے کرو آج پھاڑ دو اپنی پھو پھو کی گانڈ کو . فوزیہ آنٹی کی باتیں سن کر مجھے خود جوش چڑھ گیا تھا میرا لن لوہے کا راڈ بن گیا تھا میں ایک ہاتھ سے ویڈیو اور دوسرے ہاتھ سے اپنے لن کی مٹھ لگا رہا تھا . اور اندر فیصل فوزیہ آنٹی کی گانڈ مار رہا تھا . پِھر میں نے دیکھا فیصل نے اپنی سپیڈ تیز کر دی تھی اور اس کے ساتھ فوزیہ آنٹی کی سسکیاں بھی کافی تیز ہو گئیں تھیں . پِھر کوئی 5 سے 7 منٹ کے بعد ہی فیصل نے شاید اپنی منی فوزیہ آنٹی کی گانڈ میں نکال دی تھی اور وہ فوزیہ آنٹی کے اوپر ہی گر کر ہانپ رہا تھا. میں نے موبائل دیکھا کافی ویڈیو بن چکی تھی اور اس ویڈیو میں فوزیہ آنٹی اور فیصل کی آواز بھی صاف سنی جا سکتی تھی . پِھر میں نے موبائل سے ویڈیو بنانا بند کر دی اور اندر دیکھا تو فوزیہ آنٹی اور فیصل بیڈ پے آرام کر رہے تھے . فیصل نے کہا پھو پھو میں اب چلتا ہوں کہیں کا شی اوپر ہی نہ آ جائے تو پھو پھو نے کہا رات کے 2 بجنے والے ہیں وہ اب سو چکا ہو گا . ابھی بیٹھو 1 رائونڈ اور لگاتے ہیں . تو فیصل نے کہا پھو پھو اب اور ہمت نہیں ہے 2 دفعہ ہو چکا ہے . کل پِھر کر لیں گے . پھو پھو نے کہا جو آج میں نے تم کو میڈیسن منگوا کر دی ہیں وہ اب روز لیا کرو پِھر کچھ دن بعد دیکھنا تمھارے اندر کیسے جان آتی ہے . اور تمہاری ٹائمنگ بھی اچھی ہو جائے گی تمھارے انکل بھی استعمال کرتے ہیں اِس لیے وہ فٹ رہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے وہ زیادہ تر گھر سے باہر رہتے ہیں . اور میں گھر میں اکیلی رہتی ہوں . فیصل نے کہا پھو پھو جان میں ہوں نہ آپ کے لیے آپ فکر کیوں کرتی ہیں . اور میں روز وہ والی دوائی لوں گا تھوڑا صبر کریں پِھر دیکھنا میری ٹائمنگ اور اینرجی بھی ٹھیک ہو جائے گی پِھر آپ کو جم کا چودا کروں گابس پھو پھو آپ کسی طرح بھی چکر چلا کر میری شادی نازیہ سے کروا دیں پِھر دیکھنا میں آپ ماں بیٹی کو کیسے دن رات خوش رکھتا . روز آپ کی اور آپ کی بیٹی کو مزہ دیا کروں گا . فوزیہ آنٹی نے کہا ہاں بیٹا میں پوری کوشش کروں گی . پِھر فیصل نے کہا پھو پھو میں چلتا ہوں رات بہت ہو گئی ہے مجھے نیند آ رہی ہے کل میں ٹائم سے اوپر آ جاؤں گا . پِھر مل کر مزہ کریں گے . میں نے دیکھا کہ فیصل جا رہا ہے تو میں فوراً ہی چپکے سے ٹیر س سے اندر آیا دروازہ بند کر کے سیڑھیوں سے اترتا ہوا نیچے کمرے میں چلا گیا لائٹ کو آف کر کے میں آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا تھوڑی دیر بعد فیصل کمرے میں آیا اور پِھر بیڈ پے میرے ساتھ آ کر لیٹ گیا پِھر مجھے بھی پتہ نہیں کب نیند آ گئی اور میں سو گیا اور صبح میری آنکھ10 بجے کھلی وہ بھی مریم آنٹی ہم دونوں کو جگا رہی تھی. میں جلدی سے اٹھ گیا میری نظر جب مریم آنٹی سے ملی تو وہ شرما گئی اور مسکرا کر باہر چلی گئی . میں اٹھا واشروم میں گیا نہا دھو کر باہر نکلا تو فیصل بھی اٹھ چکا تھا . مجھے دیکھتے ہی پوچھا کے رات کو کب سو گئے تھے تو میں نے کہا میں تمھارے جانے کے 1 گھنٹے بعد سو گیا تھا پِھر وہ اٹھ کر واشروم چلا گیا10 منٹ بعد نہا دھو کر باہر آیا پِھر ہم نے ناشتہ کیا . میں جب ناشتہ کر رہا تھا تو میں نے نوٹ کیا مریم آنٹی مجھے چور اکھیو ں سے دیکھ رہی ہیں پِھر جب میری اور ان کی نظر ملتی تو وہ شرما جاتی اور منہ نیچے کر لیتی تھیں . پِھر میں نے ناشتہ کر کے فیصل اور مریم آنٹی سے اِجازَت لے کر اپنے گھر آ گیا اور آ کر سب سے پہلے اپنے موبائل سے فوزیہ آنٹی اور فیصل کی ویڈیو کو اپنے لیپ ٹاپ پے کاپی کر کے سیف کر لیا . اور اب میں مریم آنٹی اور فوزیہ آنٹی دونوں کو ایک ساتھ دانہ ڈالنے کا سوچنے لگا اور اپنے دماغ میں پلان بنانے لگاتقریباً 1 بجے کا وقعت ہو گا جب میرے موبائل پے حنا کا ایس ایم ایس آیا اور پوچھ رہی تھی کے کہاں ہو کیا کر رہے ہو . میں نے حنا کو کال ملا لی اور کہا میں ٹھیک ہوں اور گھر پے ہوں تم کیسی ہو کیا کر رہی ہو . تو حنا نے کہا میں ٹھیک ہوں میں آج ڈیوٹی پے ہوں ابھی لنچ ٹائم تھا كھانا کھا رہی تھی سوچا تم سے بات کرو لوں حنا نے کہا سناؤ کسی جگہ کا بندوبست ہوا ہے یا نہیں مجھ سے اب برداشت نہیں ہوتا ہے . جلدی کچھ کرو مجھے اب کچھ کروانا ہے . تو میں نے کہا حنا جی جگہ کا تو فلحال بندوبست نہیں ہوا میں سوچ رہا ہوں کہاں سے بندوبست کروں کیونکہ میں نے پہلے کبھی نہیں کیا میں شیخوپورہ ہی کیا تھا لیکن وہ رشتہ دار تھی اس کے گھر پے ہی کیا تھا یہاں کبھی موقع نہیں ملا اور نہ کچھ کر سکا ہوحنا نے کہا کسی ہوٹل میں چلے ہیں . تو میں نے کہا مجھے ہوٹل وغیرہ کا کوئی پکا پتہ نہیں ہے کون سا سیف ہے . تو حنا نے کہا میں مسرت سے پوچھ لیتی ہوں وہ اپنے منگیتر کے ساتھ کافی دفعہ یہاں کسی ہوٹل میں رات گزر چکی ہے . اس کو پتہ ہو گا میں اس سے پوچھ لوں گی پِھر تمہیں بتا دوں گی . میں نے کہا ٹھیک ہے آپ اس سے پتہ کر لینا مجھے رات کو بتا دینا پِھر میں کچھ نہ کچھ بندوبست کر لوں گاحنا نے ٹھیک ہے میں مسرت سے پتہ کر کے آپ کو رات کو کال کروں گی . پِھر اس نے کال کٹ کر دی . دن کو كھانا کھا کر میں پِھر لیپ ٹاپ لگا کر بیٹھ گیا اور یونیورسٹیز کی معلومات تلاش کرنے لگاپِھر یوں ہی رات کو كھانا کھا کر میں اپنے بیڈروم میں بیٹھا فوزیہ آنٹی اور مریم آنٹی کے بارے میں سوچ رہا تھا . کے ان دونوں کو دانہ کیسے ڈالا جائے فوزیہ آنٹی تو اب میرے ہاتھ میں تھی اس کا پکا ثبوت ہاتھ لگ چکا تھا لیکن مریم آنٹی کے لیے کچھ اور محنت کرنا تھی . میں یہ ہی سوچ رہا تھا کے مجھے حنا کی مس کال آئی میں نے اس کو کال کی تو وہ آگے سے بہت خوش تھی اور بولی کا شی جی میں نے مسرت سے پتہ کروا لیا ہے پِھر حنا نے مجھے پنڈی کے ایک ہوٹل کا بتایا میں نے وہ ہوٹل دیکھا ہوا تھا کافی سیف جگہ پے ہوٹل تھا . حنا نے کہا مسرت نے بتایا کے ہم جب بھی اس ہوٹل میں جاتے ہیں تو یہ ہی شو کرتے ہیں ہم میاں بِیوِی ہیں اور لاہور سے کسی کام کے سلسلے میں یہاں آئے ہیں ہوٹل والے مسرت کے منگیتر آئی ڈ کارڈ پے کمرے دے دیتے ہیں. میں نے کہا ٹھیک ہے پِھر کب کا موڈ ہے تو حنا نے کہا کل میری نائٹ ڈیوٹی ہے میں سارا دن فارغ ہوں تم صبح مجھے10 بجے پک کر لو پِھر ہم وہاں ہوٹل چلے جائیں گے . ہمارے پاس شام تک ٹائم ہو گا میری ڈیوٹی 8 بجے اسٹارٹ ہو گی تم مجھے 6 بجے تک اسپتال چھوڑ دینا . میں نے کہا ٹھیک ہے . میں کل10 بجے تمہیں پک کر لوں گا . حنا نے کہا میں اب اور بات نہیں کر سکتی مجھے کل کے لیے تیاری کرنی ہے . میں نے کہا کیا تیاری کرنی ہے . تو حنا نے کہا اچھا جی جیسے آپ کو تو پتہ نہیں ہے کے کیا تیاری کرنی ہوتی ہے . میں نے کہا میری بِیوِی تو ہے نہیں اور نہ ہی میں عورت ہوں جو مجھے پتہ ہو گا کہ کیا کیا کیا تیاری کرنی ہوتی ہے . حنا نے کہا آپ کو سب پتہ ہے بس لڑکی کے منہ سے سننا چاہتے ہیں . میں نے کہا تو پِھر بتا دیں نہ جی . تو حنا نے کہا اب آپ لڑکوں کے نخرے ہی بہت ہیں کہتے ہیں پھدی صاف اور نرم وملائم ہونی چائے ایک بھی بال نہیں ہونا چاہیےاب صاف اور نرم اور ملائم پھدی بنانے کے لیے تھوڑی تیاری تو کرنی پڑتی ہے میں نے کہا حنا جی پھدی سک کرنے کا مزہ ہی تب آتا ہے جب وہ صاف شفاف بالوں سے پاک ہو اور نرم وملائم ہو چاٹنے کا مزہ آ جاتا ہے . تو حنا نے کہا اچھا ٹھیک ہے میں ویسے ہی بنا دوں گی لیکن اب مجھے اِجازَت دیں میں تھوڑی تیاری کر لوں. میں نے ٹائم دیکھا تو 11بج رہے تھے میں نے سوچا آج ٹائم سے سو جاتا ہوں پِھر صبح ٹائم پے اٹھ کر چلا جاؤں گا . میں نے لائٹ آف کی اور سو گیا میری آنکھ صبح 9 بجے کھلی جب مجھے حنا کا ایس ایم ایس آیا ہوا تھا کے آپ آ رہے ہو نہ .میں نے جواب دیا بس تیار ہو رہا ہوں آ رہا ہوں . میں بیڈ سے اٹھا اور نہا دھو کر فریش ہوا تھوڑا سا ناشتہ کیا ٹائم دیکھا تو  9:30 ہو رہے تھے میں موٹر بائیک کے بغیر ہی گھر سے نکلا ٹَیکسی لی اور اسپتال کی طرف نکل آیا . اسپتال سے پہلے ہی میں وہاں اُتَر گیا اور اس کو پے کر کے اسپتال کے گیٹ پے جا کر کھڑا ہو گیا تقریباً ابھی 10بجنے میں 5 منٹ باقی تھے مجھے حنا گیٹ کی طرف آتی ہوئی نظرآئی جب میرے پاس آئی میں نے سلام دعا کی تو اس نے سوالیہ نظروں سے پوچھا کے موٹر بائیک کہاں ہے تو میں نے کہا بَعْد میں بتاؤں گا ابھی چلو . میں نے وہاں سے ٹَیکسی لی اس کو ساتھ لیا اور وہاں سے نکل آئے میں نے ہوٹل سے کافی پہلے ہی ٹَیکسی رکوا دی اور اس کو پے کر کے حنا کو ساتھ لیا ہوٹل کے ساتھ بنی مارکیٹ سے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لی حنا نے برقع پہن رکھا تھا پِھر ہم کچھ چیزیں لے کر ہوٹل کی طرف آ گئے جب ہم ہوٹل کے پاس پہنچاتو ہوٹل کے باہر ایک بندہ ملا اور بول رہا تھا فیملی روم کے لیے یہاں سے داخل ہوں میں اور حنا وہاں سے داخل ہو کر اندر گئے تو رسپشن پے ایک لڑکی بیٹھی تھی وہ لڑکی پتلی سی نین نقش والی لڑکی تھی 

چودنے والا مال تھا اس نے ہمیں سلام کیا اور پِھر میں نے اس کو بتایا کے ہم میاں بِیوِی ہیں شیخوپورہ سے آئے ہیں . ہمیں ایک دن کے لیے روم چاہیے . تو اس لڑکی نے ہلکی سی مجھے سمائل پاس کی اور مجھے کہا آپ اپنا آئی ڈی کارڈ دیں میں نے آئی ڈ کارڈ شو کیا اس نے نام اور پتہ لکھا میرا پتہ شیخوپورہ کا لکھا ہوا تھا . اِس لیے زیادہ کوئی مسئلہ نہ بنا پِھر اس نے میرا نمبر بھی مانگا اور نوٹ کر لیا اور مجھے 38نمبر روم کی چابی دی . اور بولی آپ دوسرے فلور پے سیدھے ہاتھ میں آخری روم ہے وہ روم نمبر 38ہے . پِھر میں حنا کو لے کر اوپر چلا گیا میں روم کے پاس پہنچ کر دیکھا یہ کافی سیف جگہ پے روم تھا . اور وہاں کوئی خاص بندہ بھی نظر نہیں آ رہا تھا . میں نے دروازہ کھولا اور میں اور حنا اندر چلے گئے. میں نے دروازہ بند کر کے لائٹس آن کی حنا نے بھی اندر داخل ہو کر اپنا بیگ بیڈ پے رکھا اور اپنا برقع اُتار نے لگا . برقع اُتار کر ایک سائڈ پے رکھ دیا اور پِھر بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی میرے دماغ میں فوراً ایک خیال آیا میں دوبارہ دروازے کے پاس گیا اور دروازے کو اوپر سے لے کر نیچے تک چیک کیا کہیں کوئی کیمرہ تو نہیں لگا لیکن وہاں کوئی ایسی چیز نہیں تھی پِھر میں نے چھت پے دیکھا آگے پیچھے سب جگہ پے دیکھا جہاں ا ےسی لگا تھا وہاں بھی دیکھا مجھے کچھ نظر نہیں آیا مجھے تھوڑی تسلی ہو گئی حنا میری حرکتوں کو بڑے ہی غور سے دیکھ رہی تھی پِھر میں نے اپنے موبائل کا کیمرہ آن کیا اور روم کی سب لائٹس آف کر دیں اور پورے روم میں چیک کرنے لگا . میں نے ایک جگہ پڑھاتھا کہ اگر آپ روم کی لائٹس آف کر دیں اور اپنے موبائل کے کیمرہ کو آن کر کے آگے پیچھے کر کے چیک کریں تو اگر اس روم میں کوئی کیمرہ لگا ہو تو موبائل پے اس کی ریڈ لائٹ کو شو کر دیتا ہے . میں نے پورے کمرے کو چیک کیا مجھے کوئی کیمرہ نہ ملا اب مجھے مکمل تسلی تھی میں نے لائٹ کو آن کیا تو حنا میرا منہ دیکھ رہی تھی میں نے اس کی طرف دیکھا اور اس کو بولا جان میں تمہاری سب باتوں کا جواب ابھی دے دیتا ہوں . میں نے اپنے جھوتے اُتار کر اور قمیض اُتار کر بیڈ پے حنا کے ساتھ جا کر بیٹھ گیامیں نے حنا کا ہاتھ اپنے ھاتھوں میں پکڑ لیا اور بولا جان میں موٹر بائیک اِس لیے نہیں لے کر آیا کیونکہ جب موٹر بائیک پے ہم ہوٹل میں آئیں گے تو ہوٹل والوں کو شق ہو جانا تھا کے یہ موٹر بائیک پے شیخوپورہ سے آئے ہیں . دوسرا میں نے ہوٹل سے پہلے ہی ٹَیکسی اِس لیے رکوا دی تھی کیونکہ اگر میں ہوٹل کے بالکل قریب آ کر اترتا تو ٹَیکسی والے بہت حرامی ہوتے ہیں یہ سب سمجھتےہیں کے یہ جوڑا ڈیٹ پے ہے اور ہوٹل میں کچھ کرنے کے لیے جا رہے ہیں اِس لیے میں نے اس کو کسی قسِم کا شق نہیں ہونے دیا . اور اب کمرے میں جو میں چیک کر رہا تھا وہ یہ کہ ہوٹل میں یہ کام بہت ہوتے ہیں اکثر ہوٹل والوں نے رومز کے اندر کیمرہ لگایا ہوتا ہے وہ اندر کی کارروائی ریکاڈکر کے بَعْد میں بندےکو بلیک میل کرتے ہیں . اِس لیے میں یہ سب کچھ چیک کر رہا تھا . میری حنا جان ہوٹل میں آ کر یہ کام کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا تم سمجھتی ہو . حنا مجھے حیرت بھری آنکھوں سے دیکھ رہی تھی پِھر آگےبڑھ کر میری گردن میں بازو ڈال کر مجھے لمبی سی فرینچ کس کی اور بولی واہ کا شی جی تم بہت تیز اور ذہین ہو تم تو نے میرا دِل خوش کر دیا ہے مجھے اتنی باتوں کا بالکل بھی نہیں پتہ تھا میں اب مسرت کو بھی یہ سمجھا دوں گی تا کہ وہ بھی آگے سے احتیاط کرے. پِھر میں نے کہا حنا جی میں کوئی تیز نہیں ہوں زمانہ بہت تیز ہے زمانہ بہت کچھ سکھا دیتا ہے اور تیز کر دیتا ہےپِھر حنا بیڈ سے اٹھی اور باتھ روم میں چلی گئی میں وہاں بیڈ پے بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا کوئی15 منٹ کے بعد حنا واپس آئی تو میں حیران رہ گیا اس نے اپنے سارے کپڑے اُتار دیئے تھے اور وہ ایک ٹاول میں باہر آئی تھی اور ٹاول بھی صرف اس کے مموں سے لے کر اس کی پھدی سے کوئی 3 یا 4 انچ تک ہی لمبا تھا باقی اس کی سب کچھ ننگا ہی نظر آ رہا تھاحنا بیڈ پے آ کر میرے ساتھ بیٹھ گئی . اور مجھے دیکھ کر مسکرا نے لگی . میں نے حنا سے کہا حنا جی ایک بات تو بتاؤ ابھی تک آپ کنواری ہو . اور یہ بات عامر بھی جانتا ہے اور آج اگر آپ کی سیل میں توڑ دیتا ہوں تو جب آپ کی شادی عامر سے ہو گی سھاگ رات کو اس کو پتہ چلے گا اس کی بِیوِی کی پہلے ہی کھل چکی ہے . تو پِھر آپ کے لیے مسئلہ نہیں ہو گا . تو حنا میری بات سن کا مسکرا پڑی اور بولی مجھے سب کچھ پتہ ہے . لیکن میں ایک نرس بھی ہوں اور نرس آدھی ڈاکٹر ہوتی ہے . اس کا حَل بھی میرے پاس ہے ہمارے میڈیکل میں بہت سی میڈیسن ایسی ہیں جس سے آپ پھدی کو دوبارہ تنگ بھی کر سکتی ہیں اور کھلا بھی کر سکتی ہیں . اور خون نکلنا کوئی ضروری نہیں ہوتا . میں بھی اس ٹائم میڈیسن سے اپنی پھدی کو تھوڑا تھنگ بنا لوں گی امر جب اندر ڈالے گا اس کو خود محسوس ہو گا کے وہ کسی کنواری پھدی میں اپنا لن ڈال رہا ہے . کافی حَل ہیں . آپ فکر نہ کرو . میں نے کہا چلو ٹھیک ہے . آپ کو بہتر پتہ ہو گا . میں نے کہا حنا جی آپ کو پتہ ہے نہ آج آپ کو پہلی دفعہ درد کافی ہو گا اِس لیے آپ تیار ہو نہ تو حنا نے کہا ہاں مجھے پتہ ہے میں سب جانتی ہوں . میں نے پھدی میں لن لینے سے زیادہ عورت کا بچہ نکلتے ہوئے بہت دفعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا جس میں عورت کی پھدی کافی زیادہ پھٹ جاتی ہے . وہ اِس سے زیادہ تکلیف والا کام ہوتا ہے . ویسے بھی میں پین لیس کریم اور تیل ساتھ لے کر آئی ہوں . میں حنا کی بات سن کر حیران ہو گیا اور بولا حنا جی آپ تو پوری تیاری کے ساتھ آئی ہیں تو حنا ہنسنے لگی اور بولی ہاں یہ تیاری تو کرنی پڑتی ہے . میں نے کہا حنا جی آپ نے اسپتال میں بہت زیادہ پھدیا ں دیکھی ہوں گی اور گانڈ کی موریا ں بھی دیکھی ہوں گی . حنا میری بات سن کر ہنسنے لگی . اور بولی ہاں بہت دفعہ اور بہت سی لڑکیوں کی دیکھی ہیں . اب تو دیکھ دیکھ کر دِل بھر گیا میں نے کہا حنا جی مجھے بڑا شوق ہے دیکھنے کا . تو حنا ہنسنے لگی اور بولی کبھی تمہارا یہ شوق بھی پورا کروا دوں گی . میں نے کہا حنا جی آپ کو کیا لگتا ہے ہر میاں بِیوِی شادی کے بعد گانڈ میں ضرور کرتے ہیں . آپ نے تو لڑکیوں کی کافی موریا ں دیکھی ہوں گی.

حنا نے کہا ہاں میں نے کافی دیکھی ہیں لیکن ان میں زیادہ تر جن کا دوسرا بچہ پیدا ہو رہا ہوتا ہے تو وہ لڑکیاں زیادہ تر گانڈ میں کرواتی ہیں ان کی گانڈ کی موری کا سائز دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کے یہ گانڈ میں بھی لن لیتی ہیں . لیکن کئی تو نہیں بھی کرواتی ہیں . لیکن جن کی گانڈ کی موری سیل پیک ہوتی ہے ان کی پھدی کی موری کافی زیادہ کھل چکی ہوتی ہے ویسے بھی جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے پہلا سال تو دونوں میاں بِیوِی روز ہی کرتے ہیں اب جو لڑکی روز لن لے گی اس کی پھدی تو کھل ہی جائے گی . میری کافی زیادہ اسلام آباد اور پنڈی کی عورتیں اور لڑکیاں میری دوست ہیں چیک اپ کروانے کے لیے آتی رہتی ہیں کافی کی ڈلیوری بھی میں نے خود کرروائی ہے. کافی کے ساتھ کھلی گھپ شپ بھی لگتی ہے وہ اپنی چدائی کے قصے سناتی رہتی ہیں . کئی ایسی بھی ہیں جو شادی شدہ نہیں ہیں وہ بھی اپنے کسی دوست یا یار سے کرواتی ہیں پِھر منتھلی اپنا چیک اپ وغیرہ کرواتی ہیں . ان میں زیادہ تر پیشہ ور ہیں جو پیسے لے کر کر کرواتی ہیں. اب میں ہر ایک کی اسٹوری تمہیں سنانے لگوں تو سال لگ جائے اور ہمارے پاس ٹائم کم ہے ہمیں خود اپنا مزہ کرنا چاہیے ویسے فون پے میں کبھی کبھی کسی کا قصہ سنا دیا کروں گی . میں نے کہا حنا جی وہ تو ٹھیک ہے قصہ ہی سنایا کریں گی یا کسی کے ساتھ کوئی مزہ بھی کروا یں گی . تو حنا ہنسنے لگی اور بولی . بہت کمینے ہو اچھا ٹھیک ہے مجھے خوش رکھو تمہیں اچھی اچھی ٹائیٹ پھدی کھلا دیا کروں گی . لیکن اس کے لیے مجھے خوش رکھنا اور مطمئن کرنا شرط ہےمیں نے کہا حِنا جی آپ کی ہر شرط سر آنکھوں پر آپ پہلے باقی سب بعدمیں ہیں . پِھر میں نے اپنی شلوار اور بنیان بھی اُتار دی حِنا نے میرا لن دیکھا جو نیم حالَت میں تھا اس کو پکڑ لیا اور اس کو سہلانے لگی اور بولی جب میں رات کو پھدی کی صفای کر رہی تھی تو مسرت نے مجھے پِھر تمہارا کہا تھا میں نے اس کو کہا کے میں کا شی سے تیرا کام کروا دوں گی لیکن کا شی کو گانڈ مار نے کا بہت شوق ہے کیا تم گانڈ میں کروا لو گی . کیونکہ مجھے پہلے پتہ تھا کے مسرت نے پہلے گانڈ میں کبھی نہیں کروایا ہے . تو وہ آگے سے بولی کوئی مسئلہ نہیں ہے ایک دفعہ کا شی میری پھدی کو جم کر رگڑ دے میں گانڈ میں بھی اس کا لن لے لوں گی. میں نے موبائل پے ٹائم دیکھا ہمیں باتیں کرتے کرتے 12 بج گئے تھے . میں نے کہا حنا جی کیا خیال ہے حنا نے کہا میں تو کب سے انتظار کر رہی ہوں تم ہی ہو جو باتیں لے کر بیٹھے ہو . پِھر میں نے کہا اچھا پِھر ایک کام کریں اپنے شیر کا ذرا ٹائیٹ سا چوپا لگایں اور اِس کو آپ کو سلامی دینے کے کیے تیار کریں . حنا نے اپنا ٹاول اُتار دیا اور پوری ننگی ہو کر گھوڑی بن گئی اور میری لن کی ٹوپی کو اپنے منہ میں لے لیا اور اس پے زُبان کو گول گول گھوما کر چاٹنے لگی حنا بڑے ہی جوش کے ساتھ لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر چوپ رہی تھی . اس کی زُبان کی گرفت کافی سخت تھی میرے لن میں آہستہ آہستہ جان آ رہی تھی. پِھر حنا پورا لن منہ میں لے کر چوپا لگا نے کی کوشش کر رہی تھی لیکن لن تھوڑا بڑا اور موٹا ہونے کی وجہ سے اس کے منہ میں پورا اندر نہیں جا رہا تھا اور اپنے منہ کو آگے پیچھے کر کے اور اپنی زُبان کو گھوما گھوما کر لوں کا چوپا لگا رہی تھی حنا انتہائی دل جمعی سے لن چوس رہی تھی. آہستہ آہستہ اس کی چوپوںمیں شدت آ گئی تھی تھی اور میرا لن اس کے منہ میں ہی تن کر کھڑا ہو گیا تھا اور میرا لن کسی لوہے کے را ڈ کی طرح سخت ہو چکا تھا . پِھر حنا نے مزید 2 سے 3 منٹ اور چوپا لگایا اور پِھر اپنی کافی زیادہ تھوک میرے لن پے مل دی اور بولی کا شی تمہار لن اب فل موڈ میں آ چکا ہے میری پھدی کی سکنگ پِھر کر لینا بس اب اِس کو میری پھدی کے اندر کرو . میری پھدی کا نیچے رو رو کر برا حال ہو چکا ہے. میں
نے حنا کو بستر پر لٹا یا میں حنا کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑاوہی ہونٹ جنہوں نے کچھ ہی دیر پہلے میرے لن کی خوب سیوا کی تھی. ان کا خوب رس چوسہ حنا بھی فل گرم ہو چکی تھی اور میری ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوس رہی تھی اور کبھی کبھی کاٹ بھی رہی تھی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب لوہا گرم ہے میں نے حنا کی ٹانگیں کھولیں اور ان کے بیچ آکر بیٹھ آگیا میں پھدی پر جھکا اور اپنی زبان اس کے اندر داخل کردی  اپنی گرم پھدی پر میری زبان محسوس کر کے حنا  نے بے خود ہوکر آنکھیں بند کرلیں  اور میں اپنے  ہاتھ آگے کر کے حنا کے ممے دبانے لگامیں نے اپنی زُبان سے اور اپنی تھوک سے حنا کی پھدی کو کافی زیادہ نرم اور گیلا کر دیا تھا
میں نے حنا کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور اپنے لن کو اس کی نازک پھدی کی موری پر رکھ کر ایک ہلکا سا دھکا لگا یا تو اس کا لن حنا کی پھدی سے پھسل گیا. حنا نے آنکھیں کھولی اور اپنے بیگ سے تیل کی بوتل نکال کر مجھے دی اور بولی کا شی تیل اپنے لن پے بھی اور میری پھدی پے بھی لگا دو مجھے بھی دردتھوڑا کم ہو گا اور تمہارا لن بھی آسانی سے اندر چلا جائے گا. پِھر میں نے تیل لے کر پہلے اپنے لن کو اچھی تارا نرم اور گیلا کیا پِھر حنا پھدی کو بھی کر دیا اور تیل کی بوتل ایک سائڈ پے رکھ کر اپنے لن کی ٹوپی کو حنا کی پھدی کی موری پے سیٹ کیا اور حنا کی پھدی کے لبوں کو کھول کر ایک جھٹکا مارا میرے لن کی پوری ٹوپی حنا کی پھدی کے اندر اُتَر گئی اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور درد بھری آواز میں بولی ہا اے ا می جی میں مر گئی . میں اس کی آواز سن کر تھوڑا ڈر بھی گیا اور وہاں ہی رک گیا . تقریباً 5 منٹ کے بعد جب حنا کو تھوڑا سکون محسوس ہوا تو وہ بولی کا شی آج تو تم نے مجھے مار ہی دیا ہے . میں نے کہا حنا جی میں نے کہا تھا کے پہلی دفعہ کافی درد ہوتا ہے . حنا نے کہا ہاں مجھے پتہ ہے لیکن تم نے بھی تو ایک جھٹکےمیں اندر کر دیا تھا . میں نے کہا حنا جی میں اگر آہستہ آہستہ کرتا تو اندر بھی نہیں جانا تھا اور آپ کو تکلیف بھی زیادہ محسوس ہونی تھی اِس ایک میں آپ کو ایک دفعہ ہی تکلیف ہوئی ہےمیں نے کہا ابھی تو ٹوپی اندر گئی لن تو پورا باہر ہے تو حنا بولی مجھے پتہ ہے پورا جب اندر ہوتا ہے تو بچہ دانی تک جا کر فٹ ہوتا ہے . لیکن اب آرام آرام سے کرنا ہے پِھر حنا نے کہا آہستہ اندر کرو میں نے آہستہ آہستہ لن کو اندر دبانا شروع کیا حنا نے اپنے ہاتھ بھی میرے سینے پے رکھے ہوئے تھے تا کہ میں زیادہ زور سے جھٹکا نہ مار سکوں اِس لیے میں آہستہ آہستہ اندر کر رہا تھا تقریباً میرا 2 انچ سے زیادہ لن اندر جا چکا تھا لیکن حنا کا منہ لال سرخ ہو چکا تھا آنکھیں اور زیادہ پھیل گئی تھیں . اور درد اس کے چہرے پے عیاں تھاجب میرا آدھا لن اندر گھس چکا تھا تو حنا نے مجھے روک دیا اس کی آنکھوں میں نمی تھی مجھے اس پے بہت پیار آیا میں نے کہا میں اور اندر نہیں کرتا ہوں بس یہاں تک ہی اندر باہر کر لیتا ہوں . تو حنا درد بھری آواز میں بولی نہیں کا شی لن تو پورا اندر لے کر رہوں گی چاہے جتنی مرضی درد ہو لیکن تم تھوڑا رک جاؤ مجھے تھوڑا سا سکون ملنے دو پِھر دوبارہ اندر کرنا . میں پِھر وہاں تھوڑی دیر رک گیا تقریباً 5 منٹ مزید انتظار کے بعد حنا نے کہا کا شی اب اندر کرو لیکن مجھ سے بار بار کا درد برداشت نہیں ہوتا بس باقی کا لن ایک ہی جھٹکے میں اندر کرو . میں نے کہا حنا جی سوچ لو تو اس نے کہا میں نے سوچ لیا اب بس ایک جھٹکے میں اندر کر دو . میں نے آگے ہو کر حنا کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹ میں بھینچ لیا اور پِھر اپنے بازو حنا کی کمر میں ڈال کر ایک زور دار جھٹکا مارا میرا پورا لن حنا کی پھدی کو چیرتا ہوں اندر گہرائی میں اُتَر گیا حنا کا منہ میرے منہ میں ہونے کی وجہ سے اس کی ایک زور دار چیخ میرے منہ میں ہی رہ گئی لیکن اس کی آنکھوں سے پانی کا سیلاب نکل آیا تھا وہ دردسےبلبلا اٹھی تھی اور اس نے مجھے پیچھے سے میری کمر میں ہاتھ ڈال کر جھکڑ لیا تھا اور سختی کے ساتھ اپنے ساتھ چمٹا لیا تھا. میں بھی کافی دیر تک اس کے اوپر ایسے ہی پڑا رہا اور ہلا نہیں تقریباً 10منٹ کے بعد حنا کی درد بھری آواز آئی کا شی آج تو تم نے میری جان نکال دی ہے . میری پھدی کے اندر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے کوئی لوہےکی گرم سلاخ میری پھدی کوچِیر تی ہوئی اندر گھس گئی ہے . میری پھدی میں بہت سخت جلن ہو رہی ہے. میں نے کہا حنا جان یہ درد پہلی دفعہ ہوتا ہے تھوڑا صبر کرو ابھی یہ درداور جلن کم ہو جائے گی یہ ایک دفعہ ہی ہوتی ہے اِس کی بعد تو مزہ ہی مزہ ہے . پِھر میں مزید 5 منٹ تک کوئی حرکت نہ کی . کچھ دیر بعد حنا نے کہا کا شی آہستہ آہستہ اندر باہر کرو میں نے اپنے جسم کو حرکت دی اور اپنے لن کو آہستہ آہستہ اندر باہر حرکت دینے لگا میں تقریباً 5 سے 7 منٹ تک لن کو آرام سے اندر باہر کر رہا تھا آب لن نے اپنا رستہ بنا لیا تھا اور لن آسانی سے اندر باہر ہو رہا تھا اور حنا کی درد بھری سسکیاں بھی اب لذّت میں بَدَل رہیں تھیں پِھر حنا کو بھی شاید تھوڑی راحت محسوس ہو رہی تھی اس نے اپنی ٹانگوں کو میری کمر کے پیچھے کر کے جڑولیا اور بولی کا شی تھوڑا تیز کرو اب مزہ آ رہا ہے . میں نے اپنی رفتار میں تھوڑی تیزی لے آیا تھا . حنا کے منہ سے ہی سسکیاں نکل رہیں تھیں آہ اوہ آہ آہ آہ اوہ اوہ آہ . پِھر میں نے دیکھا حنا کو مزہ آ رہا ہے میں اور تیز تیز جھٹکے مارنے لگا حنا بھی اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن اندر کروا رہی تھی . اور آوازیں نکل رہی تھی کہہ رہی ہا اے کا شی اور زور سے کرو تمھارے لن نے ٹھنڈ ڈال دی ہےمجھے حنا کی پھدی میں لن کو رگڑ تے ہوئے 10سے 12 منٹ ہو چکے تھے اور حنا ایک دفعہ اپنا پانی چھوڑ چکی تھی جس سے پھدی کے اندر کافی گیلا اور گرم کام ہو چکا تھا اور میرا لن باہر ہونے کی وجہ سے پچ پچ کی آوازیں اس کی پھدی سے نکل رہیں تھیں . مجھے بھی اپنے لن کی رگیں پھولتی ہوئی محسوس ہو رہیں تھیں میں نے پِھر اپنے جاندار جھٹکے لگانے شروع کر دیئے اور مزید 3 سے 4 منٹ جاندار جھٹکے مار کر حنا کی پھدی کے اندر ہی فارغ ہو گیا تھا اور حنا بھی میرا ساتھ دوسری دفعہ فارغ ہو چکی تھی اس کی پھدی کے اندر میری منی کا سیلاب نکل آیا تھا میں ہانپتا ہوا اس کے اوپر گر گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا اور میرے نیچے حنا بھی بری طرح ہانپ رہی تھی. پِھر جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تو میں حنا کے اوپر سے ہٹ کر اس کے ساتھ بیڈ کے اوپر لیٹ گیا . میں اور حنا تقریباً آدھا گھنٹے تک یوں ہی لیے  رہے اور کوئی بات نہ کی پِھر حنا ہی میرے ساتھ چپک گئی اور بولی کا شی میری جان کیسی لگی ہے میری کنواری پھدی میں نے کہا حنا جی مزہ آ گیا ہے آج پہلی دفعہ کنواری پھدی کا مزہ چکھ کر میرے لن کو خون کا منہ لگ گیا ہے . اور یہ اور شیر ہو گیا ہے . پِھر میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور میں نے بیڈ کی چادر دیکھی اس پے کافی زیادہ خون لگا ہوا تھا . حنا بھی ہمت کر کے اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنی پھدی کا خون دیکھا اور حیران رہ گئی اور بولی اتنا زیادہ خون کیا میری پھدی سے نکلا ہے . میں نے کہا ہاں جان یہ تمھارے کنوارے پن کا ثبوت ہے. پِھر حنا نے کہا کا شی بھوک لگی ہے لیکن اس سے پہلے مجھے باتھ روم جانا ہے لیکن میری پھدی میں اتنی درد ہے مجھ سے چلا نہیں جا سکتا . تو میں نے کہا جان تم فکر کیوں کرتی ہو میں ہوں نہ میں اپنی جان کو اٹھا کر باتھ روم لے کر جاؤں گا پِھر میں نے حنا کو اٹھا لیا اور باتھ روم میں لے گیا وہاں میں نے گرم پانی کا نل کھولا اور حنا کی پھدی کو اپنے ہاتھ سے صاف کرنے لگا جب میں حنا کی پھدی کو بڑے ہی پیارسےصاف کر رہا تھا وہ میرے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیر رہی تھی پِھر میں نے اس کی پھدی کو اچھی طرح صاف کیا تو حنا نے کہا کا شی مجھے پیشاب کرنا ہے تو میں نے کہا جان تو کر لو نہ تو وہ بولی مجھے شرم آتی ہے . میں نے کہا اِس میں شرم آنے والی کیا بات ہے لن لینے کے بعد بھی کوئی شرم باقی رہ جاتی ہے پِھر میں نے حنا کو اپنی گود میں بیٹھا لیا اور کہا جان اب پیشاب کرو وہ شرما کر مجھ سے چپک گئی اور میرے کان میں بولی بہت بے شرم ہو اور پِھر پیشاب کرنے لگی اس کا گرم گرم پیشاب مجھے اپنے لن پے گرتا محسوس ہوا تو میرا لن جوش میں جھٹکے کھانے لگا اور جھٹکے میں نیچے سے حنا کی گانڈ اور پھدی کے ساتھ کھیل رہا تھا مجھے بڑا مزہ آ رہا تھا حنا بھی مزہ لے رہی تھی پِھر جب حنا نے پیشاب کر لیا تو پِھر میں نے اس کی پھدی اور اپنے لن کو اچھی طرح دھو کر اس کو اٹھا کر بیڈ پے لے آیا . اور وہ بیڈ پے لیٹ گئی اور اپنے بیگ سے مجھے ایک کریم دی اور بولی اِس کو میری پھدی کے اوپر اور اندر مساج کر دو اِس سے مجھے سکون مل جائے گا . میں نے اس کریم نے اچھی طرح اس کی پھدی کو مساج کر دیا . پِھر کچھ دیر بعد میں نے شاپر سے پیپسی اور بریانی وغیرہ نکالی اور حنا کے آگے رکھ دی اور وہ اور میں كھانا کھانے لگے. كھانا کھانے کے بعد مجھے تھوڑی نیندآنے لگی میں نے ٹائم دیکھا تو 2 بج چکے تھے میں نے حنا کو کہا حنا تھوڑا آرام کر لیتے ہیں پِھر 4 بجے کے قریب گانڈ والا رائونڈ لگا لیں گے . تو حنا نے کہا ٹھیک ہے اور پِھر میں اور وہ دونوں ننگے ہی ایک دوسرے کی بانہوں میں سو گئے میں نے اپنے موبائل پے 4 بجے کا الارم لگا دیا تھا . 4 بجے جب الارم بجا تو میں اٹھ گیا میں حیران ہوا حنا مجھے سے پہلے ہی جاگی ہوئی تھی اور بڑے ہی پیار سے میری طرف دیکھ رہی تھی . میں بھی اٹھ کر بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور حنا کو کہا جان کیا دیکھ رہی ہو . تو وہ بولی کاش عامر میری میری زندگی میں نہ ہوتا تو میں تمہاری بِیوِی ہوتی اور روز اِس طرح ہی تم سے مزہ لیتی . تو میں نے کہا جان تو کیا ہوا بِیوِی بن کر مزہ نہیں لے سکتی ہو تو گرل فرینڈ بن کر مزہ تو لے ہی سکتی ہو . اور پِھر ہم دونوں ہنسنے لگے. میں نے کہا جان ہمارے پاس ٹائم 2 گھنٹے ہی بچے ہیں . کیا خیال ہے آخری رائونڈ لگا لیں . تو حنا نے کہا ہاں میں تو تیار ہوں اب تو پھدی کی بھی درد کافی حد تک ختم ہو چکی ہے .

میں نے کہا جان اب پہلے میں تمہاری پھدی کو سک کرتا ہوں اور تم میرے لن کا چوپا لگاؤ . ہم دونوں 69 اسٹائل میں کرتے ہیں تو وہ میرے اوپر آ گئی اور میرے لن کو اپنے منہ میں لے لیا اور ادھر میں نے اس کی پھدی کو اپنے منہ میں لے کر چاٹنے لگا پہلے میں اوپر اوپر سے ہی چاٹ رہا تھا پِھر میں نے پھدی کی موری سے لے کر گانڈ کی موری تک زُبان پھیرنا شروع کر دی حنا کو جب اپنی گانڈ کی موری پے میری زُبان محسوس ہوئی وہ اور گرم ہو گئی اس نے میرا لن کو اور سختی سے منہ میں پکڑ کر چوپا لگا نے لگی . میں بھی کچھ دیر تک اس کی پھدی اور گانڈ کی موری کے اوپر اپنی زُبان پھیرتا رہا پِھر میں نے اپنی 2 انگلیوں سے اس کی پھدی کے لبوں کو کھولا اور اپنی زُبان اندر داخل کر دی حنا کا جسم کانپ اٹھا اس نے اپنی پھدی کو میرے منہ پے اور زور سے دبا دیا میں نے اپنی زُبان کو حنا کی پھدی کے اندر باہر کرنے لگا پہلے تو آہستہ آہستہ کرتا رہا جب مجھے محسوس ہوا حنا کی پھدی رِسْنا شروع ہو گئی ہے میں نے اپنی زُبان کو اور تیز تیز حنا کی پھدی کے اندر باہر کرنے لگا اور اپنی زُبان سے اس کی پھدی کو چودنے لگ میں نے نے محسوس کیا حنا کا جسم اکڑ نے لگا ہے شاید وہ اب اپنا پانی چھوڑ نے والا تھی اس نے میرا لن بھی چوپا لگا کر فل ٹائیٹ کر دیا تھا اور جب اس کی پھدی نے منی چھوڑ دی اس نے میرا لن اپنے منہ سے نکال دیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگی . پِھر وہ جب مکمل طور پے فارغ ہو گئی وہ میرے اوپر سے ہٹ گئی میں اٹھ کر باتھ روم میں گیا اور اپنے منہ دھویا اور کلی کر کے واپس بیڈ پے آ کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا حنا نے بوتل سے تیل نکالا اور میرے لن کی مالش شروع کر دی اور لن کو کافی گیلا کر دیا پِھر اپنی گانڈ کی موری پے بھی تیل لگا لیا اور موری کے اندر بھی تیل سے نرم کر دیا . تو میں نے کہا جان گانڈ میں بھی کافی دردہو گا . تو اس نے کہا مجھے پتہ ہے ایک دفعہ عامر نے میری گانڈ میں اپنی ٹوپی ڈالی تھی اِس لیے مجھے کچھ اندازہ ہے . لیکن تم بھی آہستہ آہستہ سے کرو . اور پِھر اٹھ کر گھوڑی بن گئی میں اٹھ کر گھٹنوں کے بل اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا حنا نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی گانڈ کے پٹ کو کھولا اور بولی کا شی موری پے لن سیٹ کرو اور آہستہ آہستہ اندر کرو . میں نے لن کو حنا کی گانڈ کی موری پے سیٹ کیا ہلکا سا پُش کیا تو میری آدھی ٹوپی اندر چلی گئی . حنا کے منہ سے آواز نکلی آہ . پِھر میں نے دوبارہ تھوڑا زیادہ زور کا جھٹکا مارا میری پوری ٹوپی حنا کی گانڈ میں گھس گئی حنا کے منہ سے آواز آئی ہا اے ا می جی میں مر گئی. حنا نے پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا اور بولی کا شی تم بہت ظالم ہو ہر دفعہ جھٹکا مار کے ہی اندر کرتے ہو . میں نے کہا جان اب نہیں کرتا ویسے بھی میرے لن کی ٹوپی ہی کافی موٹی ہے وہ اب اندر چلی گئی اب لن آرام سے اندر چلا جائے گا . تو حنا بولی آرام سے کہاں چلا جائے گا گھوڑے جتنا لن رکھا ہے اور کہتے ہو آرام سے اندر چلا جائے گامیں نے کہا اب جان کا جو حکم ہو گا ویسے ہی ہو گا . حنا نے کہا آہستہ آہستہ اندر کرو . اور تھوڑا تیل میری موری کے اوپر اور ڈال دو میں نے تیل اور ڈال دیا اور اپنے لن پے زور دینے لگا میں آہستہ آہستہ لن اندر کر رہا تھا . حنا نیچے سے درد بھری آوازیں نکال رہی تھی . جب میرا تقریباً 2 انچ تک لن باہر رہ گیا تو حنا نے کہا کا شی اب اور نہیں کرنا میں مر جاؤں گی مجھے بہت درد ہو رہی ہے . میں نے دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے . میں پِھر وہاں ہی ر ک گیا کافی دیر میں اپنا لن وہاں ہی پھنسا کر بیٹھا رہا تقریباً 10منٹ کے بَعْد حنا نے کہا اب اور اندر نہیں کرو یہاں تک ہی اندر باہر کرو میں نے پِھر اپنے لن کو آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا تقریباً 5 منٹ تک میں بہت ہی آرام آرام سے اندر باہر کر رہا تھا حنا کو شدید درد ہو رہی تھی وہ نیچے سے کرا رہ ہی تھی . لیکن وہ مجھے اندر باہر کرنے سے روک نہیں رہی تھی . پِھر مزید 5 منٹ کے بَعْد حنا نے کہا آب کچھ بہتر محسوس ہو رہا ہے اب تھوڑا تیز تیز اندر باہر کرو . میں نے اپنی رفتار کو تیز کر دیا اب حنا بھی تھوڑا حرکت کر کے آگے پیچھے ہو رہی ہی اور آوازیں نکال رہی تھی . آہ آہ اوہ اوہ آہ آہ اوہ . پِھر میں نے دیکھ اس کی سسکیاں لذّت میں بَدَل چکی تھیں وہ لذّت بھری سسکیاں لے رہی تھی مجھے بھی تھوڑا جوش آ گیا میں نے جھٹکے تیز کر دیا اور پِھر میں نے ایک ہی جھٹکے میں پورا لن جڑ تک اُتار دیا . حنا کے چیخ نکلی میں مر گئی ا می جی . اور میں نے ا ب رکنا مناسب نہ سمجھا اور جھٹکے لگاتا رہا حنا شروع میں تو روتی رہی لیکن پِھر بَعْد میں نارمل ہو گئی اور میں جھٹکے لگاتا رہا اب لن گانڈ میں کافی حد تک رواں ہو چکا تھا پِھر میں اپنے پیروں پے کھڑا ہو گیا اور اپنے ہاتھ آگے کر کے حنا کی ممے پکڑ لیے اور جاندار جھٹکے مار نے لگا . حنا بھی آب فل میرا ساتھ دے رہی تھی . اور نیچے سے اپنی پھدی میں انگلی ڈال کا تیزی سے اندر باہر کر رہی تھی . پِھر مجھے محسوس ہوا اب پانی نکلنے والا ہے میں آخری 2 منٹ پوری طاقت سے جھٹکے لگا ے اور حنا کی گانڈ میں ہی اپنی منی کا لاوا چھوڑا دیا حنا بھی نیچے منہ کے بل گر گئی اور میں بھی اس کے ساتھ گرگیا میرا لن بدستور حنا کی گانڈ کے تھا. جب میری ساری منی نکل گئی میں نے لن کو باہر نکالا تو دیکھا میرا لن پے خون لگا ہوا تھا اور حنا کی گانڈ کی موری میں بھی خون لگا ہوا تھا . میں اور حنا وہاں کچھ دیر آرام کرتے رہے پِھر میں حنا کو اٹھا کر باتھ روم میں لے گیا اور اس نے اور میں نے ایک ساتھ شاور لیا اور فریش ہو کر صاف صفائی کر کے میں اس کو دوبارہ اٹھا کر بیڈ پے لے آیا . میں نے کریم سے دوبارہ اس کی گانڈ کی موری کے اندر مساج کر دیا اور وہ لیٹ گئی . اور میں بھی اس کے ساتھ لیٹ گیا . کوئی 15 سے 20 منٹ بعد دروازے پے دستک ہوئی میں چونک گیا اور حنا بھی چونک گئی میں نے اشارے سے حنا کو خاموش رہنے کا کہا اور خود ٹاول باندھ کر دروازے کے پاس گیا . دروازے پے باہر دیکھنے والا چھوٹا سا مرر لگا ہوا تھا میں نے اس میں سے دیکھا تو وہ رسپشن والی لڑکی کھڑی تھی فوراً میرے دِل میں ایک خیال آیا اور میں نے حنا کو آنکھ ماری اور اپنا ٹاول نکال کر بیڈ پے پھینک دیا اور دروازہ کھول دیا . باہر جب لڑکی نے مجھے دیکھا تو مجھے ننگا دیکھ کر شرما گئی اور منہ نیچے کر لیا اور بولی سر آپ کھانے میں کیا کھایں گے اور وہ نظریں نیچے کر کے میرے لن کو دیکھ رہی تھی . اور اپنے ہونٹ کاٹ رہی تھی . میں نے کہا کھانے کا دِل تو نہیں ہے لیکن آپ چائے پلا دیں اگر خالص دودھ ہے تو وہ میری بات سن کر شرما گئی اور بولی جی ٹھیک ہے . میں بھیج دیتی ہوں . اور جب وہ مڑ کر جانے لگی تو دوبارہ میرے لن کو دیکھا اور پِھر میری آنکھوں میں دیکھا اور مجھے آنکھ مار کر چلی گئی . میں سمجھ گیا تھا یہ شکار بھی تیار ہے میں نے دروازہ بند کر دیا اور حنا کے پاس آ گیا حنا نے کہا لگتا ہے اِس بیچاری کو بھی لن کی شدید طلب ہے . میں نے کہا ہاں جان اِس کی طلب میں پوری کر دوں گا اور یہ ہم دونوں کی طلب پوری کروا دیا کرے گی . حنا میری بات سمجھ گئی اور بولی یہ تو ہے . پِھر میں نے کہا حنا آب آگے کیا موڈ ہے تو حنا نے کہا ٹائم کیا ہوا ہے میں نے کہا 5 ہو گئے ہیں تو حنا نے کہا 6 بجے نکلتے ہیں تم مجھے اسپتال چھوڑ دینا . میں نے کہا ٹھیک ہے اور میں نے کہا جان اب تو آپ نے اپنا حق لے لیا ہے اب مسرت کا حق کب دو گی . حنا نے کہا فکر نہ کرو اب تمہیں بہت سی اچھی اچھی گرم پھدی کھلایا کروں گی بہت ہیں میرے پاس جو لن کے لیے ترس رہی ہیں لیکن صبر رکھو صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے . میں جلدی ہی مسرت کا کام تم سے کروا دوں گی . پِھر میں اور حنا یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے پِھر ہم تیار ہو ہو کر کمرے سے نکل کر نیچے رسپشن پے آ گئے وہ لڑکی وہاں ہی بیٹھی تھی مجھے دیکھا اور شرما کر ھلکی سی سمائل پاس کی میں نے اس کو پیسے پے کیے اور شکریہ بولا اس لڑکی نے اپنے ہوٹل کا کارڈ دیا اور بولی سر یہ ہمارا کارڈ ہے یہ رکھ لیں جب دوبارہ پنڈی آئیں تو ہمارے مہمان ہی بنیں اگلی دفعہ آپ کی اور بھی خاص سیوا کریں گے اور مجھے آنکھ مار دی حنا نے بھی دیکھا لیا تھا حنا نے اور میں نے دونوں نے اس کو سمائل پاس کی اور ہم وہاں سے نکل کر ٹَیکسی لی اور میں نے حنا کو اسپتال چھوڑا اور خود گھر آ گیا .

جاری ہے . . . . . . . . .

حنا کی پھدی مار کر میرے لن کو خون منہ لگ گیا تھا کیونکہ زندگی میں پہلی دفعہ کنواری پھدی چودنے کا موقع ملا تھا . اور حقیقت میں مجھے حنا کے جسم نے پاگل سا کر دیا تھا پِھر کچھ دن بعد ہی میرا یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہو گیا . اور اِس دوران میری حنا کے ساتھ فون پر بات ہوتی رہی . میری کلاسز کا ٹائم شام کے ٹائم میں تھا مجھے دن کو 3 بجے یونیورسٹی جانا ہوتا تھا اور ہفتے میں 5 دن کلاسز تھیں . میں اب اپنی اگلی پڑھائی پر بھی دھیان دے رہا تھا . میری جب بھی حنا سے فون پر بات ہوتی میں اس کو اس کی روم میٹ مسرت کا پوچھتا رہا کے اس کے ساتھ کب ملاقات کراؤ گی . وہ مجھے جلد ہی ملوا نے کا ہر بار کہہ دیتی تھی . پِھر ایک ہفتے والے دن میں دوبارہ فیصل کے گھر چلا گیا اگلے دن چھٹی تھی اِس لیے میں اس کے پاس چلا گیا اس کے گھر جا کر جب دستک دی تو فیصل کی امی نے دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر ان کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک آ گئی میں نے پوچھا آنٹی فیصل کہاں ہے تو انہوں نے کہا بیٹا وہ تو اپنی خالہ کی طرف گیا ہے تھوڑی دیر تک آ جائے گا آؤ تم اندر آؤ باہر کیوں کھڑے ہو تو میں آنٹی کی بات سن کر اندر چلا گیا اور آ کر ان کے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد آنٹی بھی آ گئیں اور میرے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیں میں آنٹی سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا کیونکہ اس رات میں نے آنٹی کو مکمل ننگی حالت میں دیکھ لیا تھا . آنٹی نے مجھ سے پوچھا کا شی بیٹا امی کیسی ہیں اور گھر میں سب کیسے ہیں تو میں نے کہا آنٹی امی اور سب گھر والے ٹھیک ہیں آپ کو سلام دے رہے تھے . پِھر آنٹی نے کہا بیٹا تم بیٹھو میں تمھارے لیے کچھ ٹھنڈا لے کر آتی ہوں . اور جب وہ اٹھ کر کچن کی طرف جا رہیں تھیں میں نے ان کی طرف دیکھا تو میں حیران ہو گیا آنٹی نے جو آج لباس پہنا ہوا تھا اس میں سے آنٹی کا جسم کپڑے پھاڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا . آنٹی نے ایک تنگ سی سرخ رنگ کی قمیض اور اس کے نیچے سفید رنگ کا کاٹن کا بہت ہی ٹائیٹ سا پجامہ پہنا ہوا تھا یوں لگتا تھا آنٹی نے کوئی جینز کی پینٹ پہنی ہوئی تھی اس میں سے آنٹی کی سڈول رانوں اور ان کی گانڈ کے اُبھار صاف نظر آ رہے تھے. پِھر کچھ دیر بعد جب آنٹی گلاس میں کولڈ ڈرنک ڈال کر لے آئی تو ایک گلاس مجھے اور ایک خود لے کر دوبارہ پِھر سامنے رکھے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئی اور ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ کے اوپر چڑھا کر رکھ لیا اور اپنے جسم کو ذرا سا موڑ لیا جس سے آنٹی کی گانڈ کا ایک پٹ ٹائیٹ پجامہ میں بالکل عیاں ہو گیا اس کاٹن کے پجامہ میں آنٹی کی سفید ران اور ان کی گول مٹول موٹی تازی گانڈ کا پٹ صاف نظر آ رہا تھا یہ دیکھ کر میری حالت خراب ہونے شروع ہو گئی اور آج میں نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور پینٹ میں ہی میرا لن سر اٹھانے لگا تھا . اور میں اپنی ٹانگوں کو ادھر اُدھر کر کے اپنے لن کو پینٹ میں ہی ایڈجسٹ کر رہا تھا آنٹی میری حالت دیکھ کر سمجھ گئی تھی اور ایک عجیب سی مسکان دے رہی تھیں. اور میں پہلے ہی آنٹی سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا . آنٹی نے کہا کا شی بیٹا کیا ہوا خیر تو ہے کیوں تنگ ہو رہے ہو میں نے کہا نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ہے آنٹی نے کہا بیٹا اِس عمر میں ایسا ہوتا ہے میں سب سمجھ سکتی ہوں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے . میں نے آنٹی کے منہ سے یہ بات سن کر تھوڑا سا حوصلہ ہوا اور میں نے آہستہ سے کہا آنٹی میں اس رات والی بات پر بھی آپ سے شرمندہ ہوں اور معافی چاہتا ہوں تو آنٹی نے کہا بیٹا کا شی بات نہیں ہے اس رات تو میری غلطی تھی مجھے خیال کرنا چاہیے تھا میں خود ہی بغیر کپڑوں کے کمرے سے باہر آ گئی تھی . اور پِھر جب میری نظر اچانک اوپر اٹھی تو میری سانس ہی جیسے رک گئی ہو کیونکہ آنٹی نے اپنی ایک ٹانگ کو فولڈ کر کے صوفے کے اوپر رکھا ہوا تھا جس سے ان کی پھدی والی جگہ سامنے نظر آ رہی تھی اور ان کی پھدی والی جگہ پر آنٹی کی تھوڑی سی شلوار پھٹی ہوئی تھی جس میں آنٹی کی کلین شیوڈ پھدی کی ہونٹ نظر آ رہے تھے . اور یہ دیکھ کر میرا لن پینٹ میں جھٹکے کھانے لگا تھا . میں نے پینٹ کے اوپر ہی اپنی لن پر ہاتھ رکھ کر نیچے دبانے لگا اور جب میں نے آنٹی کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہیں تھیں اور میری حالت دیکھ کر ان کے چہرے پر ایک ایک دِل فریب سمائل تھی میں آنٹی کے چہرے پر سمائل دیکھ کر حیران ہو گیا تھا . پِھر آنٹی نے کہا بیٹا میں کچن میں كھانا بنا لیتی ہوں تھوڑی دیر تک فیصل بھی آ جائے گا پِھر مل کر كھانا کھا لیں گے . اور وہ اٹھ کر باتھ روم میں جانے لگی تو میں نے آنٹی کو پیچھے سے دیکھا تو ان کی قمیض پیچھے سے اٹھی ہوئی تھی اور شلوار ان کی گانڈ کی دراڑ میں پھنسی ہوئی تھی اور ان کی گانڈ اوپر نیچے ہو کر مٹک رہی تھی اور یہ نظارہ دیکھ کر میرا لن مزید جھٹکے کھانے لگا تھا . جب آنٹی کچن میں چلی گئی تو انہوں نے اپنا دوپٹہ ایک طرف رکھ دیا اور کچن میں کام کرنے لگی اور مجھے کچن میں سے ہی آواز دے کر بولی کے کا شی بیٹا ٹی وی لگا لو میں نے ٹی وی لگا لیا اور ٹی وی پر اس وقعت عمران ہاشمی کی مووی مرڈر لگی ہوئی تھی کچن سے ٹی وی نظر نہیں آتا تھا اِس لیے میں بے فکر ہو کر دیکھنے لگا تقریباً 20 منٹ بعد جب مرڈر فلم کا وہ سین آیا جس میں عمران ہاشمی ملیکا شراوت کو پیار کر رہا ہوتا ہے . اس ٹائم ہی اچانک آنٹی خالی گلاس اٹھا نے کے لیے کچن سے نکل کر ٹی وی لاؤنج میں آ گئیں اور جب ان کی نظر سامنے ٹی وی پر پ لن ی تو میں فوراً ریموٹ اٹھا کر چنیل بدلنے کی کوشش کرنے لگا لیکن دیر ہو چکی آنٹی سب کچھ دیکھ چکی تھی آنٹی میری پینٹ میں بےی ہوئے اُبھار کو بھی دیکھ چکی تھی اور اِس دفعہ انہوں نے اپنی زُبان ہونٹوں پر پھیری اور ایک سیکسی سی سمائل دے کر دوبارہ کچن میں چلی گئی . میں آب آنٹی کی حرکت اور طلب کو کچھ کچھ سمجھنے لگا تھاجب آنٹی کچن میں چلی گئی تو میں مووی دیکھنے لگا اور سیکس سین دیکھ کر میرا لن جھٹکے کھانے لگا تھا میں کچھ دیر ٹی وی دیکھا اور پِھر ٹی وی بند کر کے کچن میں آنٹی کے پاس چلا گیا اور ان کے پاس کھڑا ہو کر پوچھنے لگا آنٹی اگر آپ کو میری مدد کی ضرورت ہے تو میں حاضر ہوں آنٹی نے مجھے اپنے پاس دیکھا تو مسکرا کر بولی بیٹا یہاں بہت گرمی ہے تم جاؤ میں كھانا بنا لوں گی تو میں نے دیکھا آنٹی کے ماتھے سے پسینہ بہہ کر ان کے نرم ملائم گالوں پر بہہ رہا تھا اور میں نے کہا آنٹی جی کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر کوئی کام کرنا ہے تو مجھے بتا دیں میں مدد کر دیتا ہوں . تو آنٹی نے کہا بیٹا تم سلاد اور رائتہ بنا لو میں چنج پلاؤ پکا رہی ہوں . میں نے سلاد کا سامان لیا اور شیلف پر رکھ کر سلاد بنانے لگاجب میں سلاد بنا رہا تھا تو آنٹی کو سنک پر کچھ کام کرنا تھا اور سنک میرے ساتھ آگے کر کے بنا ہوا تھا آنٹی نے کہا بیٹا تھوڑا رستہ دینا مجھے سنک استعمال کرنا ہے تو میں تھوڑا پیچھے ہٹ گیا میری پینٹ میں ابھی تک اُبھار بنا ہوا تھا اور لن پینٹ کے اندر ہی تن کر کھڑا تھا . جب آنٹی میرے آگے سے گزری تو ان کی نرم اور موٹی تازی گانڈ میرے لن کے اُبھار کے ساتھ اچھی طرح ٹچ ہو گئی آنٹی کی گانڈ روئی کی طرح نرم تھی . میرے لن پر آنٹی کی گانڈ لگنے سے اور زیادہ جوش آ گیا تھا . آنٹی نے بھی اپنی گانڈ پر میرے لن کو محسوس کر لیا تھا اِس لیے پیچھے مڑ کر دیکھ کر مجھے ایک سیکسی سی سمائل دی . پِھر کچھ دیر سنک استعمال کر کے جب دوبارہ آنٹی میرے آگے سے گزری تو اِس دفعہ اپنی گانڈ کو مزید میری طرف کر کے کچھ سیکنڈ کے کیے میرے لن کے اُبھار پر رگڑ دیا جس سے میرے پورے جسم میں ایک کر نٹ دو ڑ گیا اور آنٹی کے منہ سے بھی ایک آہ سی نکل گئی

مجھے اب یقین ہو گیا تھا کے لوہا گرم ہے اور آنٹی کا بھی اپنا فل موڈ ہے . میں نے اپنے دماغ میں آنٹی کے ساتھ مزہ کرنے کے لیے پلان بنانا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ سلاد بنا رہا تھا پِھر میں نے آنٹی سے پوچھا کے انکل شام کو کتنے بجے آتے ہیں تو آنٹی نے کہا عام طور پر وہ 6 بجے گھر آجاتے ہیں لیکن آج تھوڑا لیٹ آئیں گے ان کے آفس میں آج میٹنگ ہے وہ آج کہہ کر گئے تھے کے آج لیٹ آؤں گا 10 بجے آئیں گےمیں نے سلاد بنا دی تھی اب رائتہ بنا نے لگا جب میں نے رائتہ بھی بنا دیا تو میرے کام ختم ہو گیا اور میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی اور کوئی کام ہے بتاؤ تو آنٹی نے کہا بیٹا بہت ہو گیا ہے اب تم جاؤ یہاں گرمی ہے تو میں نے کہا آنٹی جی آپ میری فکر نہیں کرو میں نے کہا آنٹی جی میں نے آج تک پلاؤنہیں بنایا ہے آپ مجھے بھی سکھا دیں کے اِس میں کیا کیا کرنا پڑتا ہے اور میں یہ بول کر آنٹی کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا آنٹی نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور بولی بیٹا اِس میں کیا مشکل ہے ابھی سکھا دیتی ہوں جب آنٹی نے یہ کہا تو میں تھوڑا آگے ہو گیا اب میرے اور آنٹی کے جسم میں بس 1 انچ کا فرق باقی رہ گیا تھا . میں نے کہا جی آنٹی آب بتاؤ پِھر آنٹی مجھے بتانے لگی کےپلاؤ  کیسے بناتے ہیں جب آنٹی نے کہا کے اتنا پانی اِس میں ڈالا جاتا ہے دیکھ لو تو میں آگے ہو کر اپنے جسم کو آنٹی کی گانڈ کے ساتھ ٹچ کر دیا اور آگے ہو کر دیکھنے لگا آنٹی نے جب اپنی گانڈ پر میرے لن کے اُبھار کو محسوس کیا تو تو ان کے منہ سے ایک ہلکی سی سسکی نکل گئی . اور انہوں نے بھی اپنی گانڈ کو تھوڑا پیچھے کی طرف دبا دیا اور میرے لن پر آہستہ آہستہ رگڑ نے لگی مجھے آنٹی کی گانڈ کو اپنے لن پر محسوس کر کے ایک نشہ سا چڑھ گیا تھاجب آنٹی اپنی گانڈ کو میرے لن پر رگڑ رہی تھی ان کے منہ سے گرم گرم سانسیں چل رہیں تھیں . میں نے بھی یہ دیکھا کر مزید آگے ہو کر اپنے لن کو تھوڑا اور آنٹی کی گانڈ کی دراڑ میں پھنسا دیا اور میں بھی اپنے جسم کو آہستہ آہستہ آگے پیچھے حرکت دینے لگا . اب شاید آنٹی کو زیادہ مزہ آنے لگا تھا ان کے منہ سے سسکیاں نکل رہیں تھیں میں نے اپنا ایک بازو آگے کر کے آنٹی کے پیٹ کے اوپر رکھ کر ان کے پیٹ پر ہاتھ پھیر نے لگا اور پیچھے سے اپنا لن ان کی گانڈ پر بھی رگڑ نے لگا . میں ایک الگ ہی دنیا میں چلا گیا تھا . اب تو آنٹی نے بھی اپنی گانڈ کو میرے لن پر اور زور سے دبانا شروع کر دیا تھا میں نے اب پہلے والا ہاتھ اوپر لا کر آنٹی کے ممے کو پکڑ لیا اور دوسرا ہاتھ بھی آگے کر کے آنٹی کی پھدی کے پاس رکھ کر قمیض کے اوپر ہی مسلنے لگا میری اِس حرکت سے آنٹی کے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا انہوں نے لذّت بھری آواز میں بولا کا شی بیٹا یہ کیا کر رہے ہو بیٹا تو میں نے بھی جوش میں کہا آنٹی جی میں اپنی پیاری آنٹی کو وہ ہی مزہ دے رہا ہوں جس کے لیے وہ ترس رہی ہیں . تو آنٹی میری بات سن کر اور زیادہ سسکیاں لینے لگی . پِھر کچھ دیر بعد ہی آنٹی نے اپنا ایک ہاتھ پیچھے کر کے میری پینٹ کی ذپ پر رکھا اور میری پینٹ کی ذپ کو کھول کر اپنا ہاتھ اندر ڈال دیا اور میرے لن کو پکڑ لیا اندر میرا لن تن کر کھڑا تھا انڈرویئر میں نے پہنا ہی نہیں ہوا تھا اور میرا لن پینٹ کے اندر ہی قید تھا اور آنٹی کا ہاتھ لگنے کی وجہ سے اور زیادہ جھٹکے کھانے لگا تھا . آنٹی نے کچھ دیر میرے لن کو اپنے ہاتھ سے سہلایا اور پِھر مستی بھری آواز میں بولی کا شی بیٹا اِس کو کیوں قید کر کے رکھا ہے اِس بے چارے کو آزاد کرو . اِس کے ساتھ ہی خود ہی میرے لن کو نکال کر پینٹ سے باہر کر دیا . اور آنٹی نے اپنی گانڈ کے آگے سے اپنی قمیض کو ہٹا کر میرے لن کو اپنی شلوار کے اوپر ہی اپنی گانڈ کی دراڑ میں پھنسا دیا اور آگے پیچھے ہونے لگی . اب میرے لن اب گانڈ میں فل پھنسا ہوا تھا اور میں مزے کی ایک اور دنیا میں چلا گیا تھا . میں نے اپنے ہاتھ سے آنٹی کے قمیض کے نیچے سے ڈال کر ان کے ممے کو پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے قمیض کو آگے سے ہٹا کر آنٹی کی پھدی والی جگہ پر رکھ دیا میرے ہاتھ وہاں چلا گیا جہاں آنٹی کی شلوار پھٹی ہوئی تھی میں نے پھٹی ہوئی شلوار میں نے اپنی لمبی والی انگلی کو اندر ڈال کر آنٹی کی پھدی کے ہونٹوں پر پھیر نے لگا آنٹی کی سسکیاں اب اور تیز ہو کر کچن میں گونجنے لگیں تھیں کچھ دیر اپنی انگلی کو پھدی کے ہونٹوں پر پھیر کر میں نے اپنی انگلی کو آنٹی کی پھدی کے اندر کرنے لگا آنٹی کی پھدی اندر سے پوری طرح گیلی اور گرم تھی اور میں نے آہستہ آہستہ اپنی پوری انگلی آنٹی کی پھدی کے اندر کر دی اور آنٹی کے منہ سے ایک آواز آئی آہ اور میں دوسری طرف اپنے لن کو بھی آنٹی کے گانڈ کی دراڑ میں پھنسا کر آگے پیچھے ہو رہا تھا اور اپنی انگلی کو بھی آنٹی کی پھدی کے اندر باہر کر رہا تھا . میں تقریباً 5 منٹ تک اپنی انگلی کو آنٹی کی پھدی کے اندر باہر کرتا رہا اور ان کے سسکیاں کچن میں گونج رہیں تھیں اور پِھر آخر میں آنٹی کی پھدی نے اپنی گرم گرمی منی چھوڑ دی اور آنٹی کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور آنٹی آہ آہ اُوں آہ کی آوازیں نکال رہی تھی . جب آنٹی نے اپنا سارا پانی نکال دیا تو پیچھے مڑ کر میرے آنکھوں میں دیکھا اور بولی کا شی بیٹا مزہ آ گیا ہے تمہاری انگلی میں جادو ہے . اور پوچھا کے کیا تمہارا پانی نکل گیا تو میں نے نہ میں سر ہلا دیا تو آنٹی نے کہا کوئی بات نہیں بیٹا میں ابھی اپنے بیٹے کو پیار دیتی ہوں اور آگے سے مڑ کر میرے طرف سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئی اور پِھر اپنے پاؤں کے بل بیٹھ کر میری پینٹ کی بیلٹ کو کھولا اور پِھر میری پینٹ کو میرے گھٹنوں تک نیچے کر دیا میرا لن پورا تن کر سپرنگ کی طرح باہر آیا تو آنٹی پھٹی پھٹی نظروں سے میرے لن کو دیکھنے لگی اور پِھر بولی کا شی بیٹا تمہارا لن تو کافی بڑا اور موٹا بھی ہے تمہاری عمر کے حساب سے لگتا نہیں تھا کے تمہارا لن اتنا جاندار موٹا اور لمبا ہو گا . اور میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور کچھ دیر تک اس کو ہاتھ میں ہی سہلا تی رہی اور پِھر تھوڑا آگے ہو کر پہلے میرے لن کی ٹوپی پر ایک کس دی پِھر لن پر کس کی اور پِھر کچھ کس کرنے کے بعد اپنا منہ کھول کر لن کو ٹوپی پر اپنی زُبان کو پھیر دی ور پِھر میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر آئس کریم کی طرح چُوسنے لگی . ابھی آنٹی میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر چوس رہی تھی کے باہر دروازے پر گھنٹی بجی اور میں اور آنٹی دونوں ہی چونک گئے اور آنٹی فوراً کھڑی ہوئی اور بولی کا شی بیٹا اپنی پینٹ پہن لو اور ٹی وی لاؤنج میں جا کر بیٹھو میں دروازہ کھولتی ہوں شاید فیصل آ گیا ہے . اور مجھے ہونٹوں پر ایک کس دی اور میرے کان میں کہا کا شی بیٹا فکر نہیں کرنا میں تمہیں کسی نہ کسی دن پِھر موقع دوں گی اور دِل بھر کر دونوں مزہ کریں گے . میں نے آنٹی کو سمائل دی اور اپنی پینٹ پہن کر ٹی وی لاؤنج میں جا کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا . آنٹی باہر دروازہ کھولنے چلی گئی باہر فیصل ہی تھا اندر آ کر مجھ سے ملا اور پوچھنے لگا کے اتنے دن سے کہاں تھے میں نے بتایا میں مصروف تھا یونیورسٹی شروع ہو گئی ہے . پِھر میں نے اور آنٹی نے اور فیصل نے مل کر كھانا کھایا اور میں شام کو اپنے گھر آ گیا . میں اندر سے بہت خوش تھا کے اب تو ایک اور مست پھدی کا انتظام ہو گیا ہے اور جلدی ہی آنٹی کی پھدی میں لن ڈال دوں گا . اور یہ ہی سوچ سوچ کر میرے اندر لڈو پھوٹ رہے تھے. پِھر کچھ دن یوں ہی گزر گئے میری فون پر حنا کے ساتھ بات چل رہی تھی اور اس کو کافی دفعہ میں مسرت کے ساتھ مزہ کروانے کا کہہ چکا تھا وہ ہر دفعہ یہ ہی کہتی تھی کے جلدی کوئی نہ کوئی موقع مل جائے گا . دوسری طرف میں فوزیہ آنٹی کے متعلق بھی سوچ رہا تھا کے ان کا بھی مزہ لینا ہے .

میں آج فیصل کے ساتھ اگلے ہفتے والے دن رات کو رہنے کا پلان بنا کر آیا تھا فیصل نے مجھے بتایا تھا کہ اس نے انٹرنیٹ سے کافی مال ڈائون لوڈ کر رکھا ہے میں نے اس کے ساتھ اگلے ہفتے کا پروگرام سیٹ کر لیا اور میں نے سوچ رکھا تھا اس دن ہی فوزیہ آنٹی کے ساتھ کوئی نہ کوئی بات آگے چلا لوں گا اور اگر موقع ملا تو فیصل کی امی کا بھی مزہ لے لوں گا . سوموار کو میں یونیورسٹی گیا ہوا تھا کے مجھے حنا کا ایس ایم ایس آیا کے اگر فری ہو تو مجھے کال کرو میں نے اس کو بتایا میں ابھی یونیورسٹی میں ہوں میں رات کو 9 بجے تک تمہیں کال کروں گا . اور میں یونیورسٹی سے چھٹی کر کے گھر آیا كھانا وغیرہ کھا کر تقریباً جب 9 بجے کا ٹائم تھا میں نے حنا کو کال کی اور پوچھا کے کیا بات ہے تو حنا نے کہا کے تمھارے لیے خوش خبری ہے . میں نے فوراً پوچھا کیا خوش خبری ہے . تو اس نے کہا ہفتے والے دن پورے ملک میں سرکاری چھٹی ہے اور اتوار کو ویسے چھٹی ہوتی ہے اِس لیے ہمارے ہاسٹل کی زیادہ تر لڑکیاں اپنے اپنے گھر کو جا رہی ہیں لیکن میں نے اور مسرت نے یہاں ہی رکنے کا فیصلہ کیا ہے اور میرا موڈ ہے تم ہفتے والے دن رات کو کسی طرح بھی خاموشی سے ہمارے ہاسٹل میں آ جاؤ اور رات وہاں ہی رہو پِھر تم اور میں اور مسرت مل کر مزہ کریں گے میں نے مسرت کو بھی پوچھا ہے وہ بھی راضی ہے . اب تم بتاؤ کیا موڈ ہے . میں تو حنا کی بات سن کر پاگل ہو گیا تھا ایک ساتھ دو پھدیاں مل رہیں تھیں موڈ تو پکا ہی پکا تھامیں نے فوراً کہا کے میرا موڈ پکا ہے مجھے منظور ہے لیکن میں ہاسٹل میں کیسے آؤں گا وہاں تھمارے ہاسٹل کا گارڈ کھڑا ہوتا ہے تو حنا نے کہا جیسے وہ دن کو كھانا کھانے کے لیے اپنے کمرے میں ہوتا ہے اس طرح رات کو بھی 8 بجے کے قریب وہ گیٹ کے ساتھ ہی اپنے کمرے میں بیٹھ کر كھانا کھاتا ہے تم کسی طرح بھی خاموشی سے اندر داخل ہو جاؤ اب یہ تم پر ہے کے مزہ لینے کے لیے کیا کر سکتے ہو اور ہنسنے لگی میں نے کہا حنا جی اب تو کچھ بھی ہو جائے مزہ لینے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا آپ بے فکر ہو جاؤ آپ اور مسرت تیار رہنا میں 8 بجے آپ کے کمرے میں  پہنچ  جاؤں گا. اور پِھر میں نے حنا سے کہا حنا جی ایک بات تو بتاؤ مسرت گانڈ میں بھی کرواتی ہے تو حنا آگے سے ہنسنے لگی اور بولی کا شی جی سچ کہہ رہی ہوں آپ پنجابی نہیں ہو آپ مجھے پٹھان لگتے ہو جو پھدی سے زیادہ گانڈ کے دیوانے لگتے ہو . میں بھی اس کی بات سن کر ہنس پڑا اور بولا نہیں حنا جی ایسی بات نہیں ہے ہاں مجھے گانڈ مار نے کا شوق ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کے میں پٹھان نہیں پنجابی ہی ہوں کیونکہ مجھے صرف لڑکیوں کی گانڈ کا شوق ہے پٹھان کو تو صرف لڑکوں کی گانڈ کا شوق ہوتا ہے اور نہ ہی میں نے آج تک کسی لڑکے سے کیا ہے اور نہ ہی اِس چیز کو پسند کرتا ہوں . حنا نے کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن مسرت کا مجھے پکا پتہ نہیں ہے کے وہ گانڈ میں کرواتی ہے یا نہیں لیکن کا شی جی فکر نہ کرو اگر اس نے گانڈ میں نہیں کرنے دیا تو آپ اس کی پھدی میں کر لینا اور میری گانڈ میں کر لینا . آپ کا بھی مزہ پورا ہو جائے گا . میں نے کہا حنا جی آپ کی یہ ہی محبت اور ادا میری جان نکال لیتی ہےپِھر میں کچھ دیر اور حنا کے ساتھ گھپ شپ لگاتا رہا اور پِھر تقریباً 11 بجے تک پِھر فون بند کر کے سو گیا . اس دن کے بعد میری حنا سے جمه والے دن رات کو بات ہوئی جس میں اس کو اپنا پکا آنے کا پلان بتا دیا اور پِھر یوں ہفتے والا دن بھی آ گیا اور اس دن میں نے اپنی انڈر شیو کی اور اپنی پوری تیاری کر کے شام کو ریڈی ہو کر حنا کے ہاسٹل کی طرف چلا گیا آج چھٹی تھی ٹریفک بھی نہیں تھی میں جلدی ہی اسپتال کی پارکنگ میں پہنچ گیا اور اپنی موٹر بائیک کو وہاں پارکنگ میں پارک کر دیا اور اپنے موبائل سے حنا کو ایس ایم ایس کر دیا کے میں پارکنگ میں کھڑا ہوں پارکنگ سے ہاسٹل کا رستہ 5 منٹ کا تھا حنا نے کہا جب گارڈ كھانا کھانے کمرے میں جائے گا وہ مجھے مس کال دے گی پِھر تم آ جانا اس وقعت 8 بجنے میں 15 منٹ باقی تھے میں پارکنگ میں کچھ دیر کھڑا ہو گیا تقریباً 10 منٹ بعد ہی مجھے حنا کی مس کال آئی میں سمجھ گیا تھا میں پارکنگ سے تیزی کے ساتھ چلتا ہوا ہاسٹل کے گیٹ پر پہنچ گیاگیٹ کے ایک طرف کھڑا ہو کر دیکھا تو گارڈ وہاں موجود نہیں تھا میں آگے ہو کر گیٹ کے چھوٹے دروازے پر گیا جو کھلا ہوا تھا . میں نے خاموشی سے اندر داخل ہوا اور گارڈ کے کمرے کی مخالف سمت جو دیوار کے ساتھ رستہ بنا ہوا تھا اس طرف سے خاموشی سے چلتا ہوا ہاسٹل کی بِلڈنگ کے پاس پہنچ گیا . بِلڈنگ کے اندر داخل ہو کر گراؤنڈ فلور پر میں لوبی میں ایک لائٹ جل رہی تھی اور گراؤنڈ فلور پر میں نے اندازہ لگایا کے صرف 1 کمرے کی کھڑکی سے لائٹ جلتی ہوئی نظر آ رہی تھی باقی سب کے آگے اندھیرا تھا میں بغیر آواز کیے ہوئے فرسٹ فلور پر آ گیا یہاں پر ہی حنا کا بھی روم تھا میں جیسے ہی فرسٹ فلور پر پہنچا تو پہلے کمرے کی کھڑکی سے لائٹ آتی ہوئی نظر آ رہی تھی . اور اس لائن میں جو آخری کمرہ تھا اس میں سے لائٹ جلتی ہوئی نظر آ رہی تھی باقی ہر جگہ اندھیرا تھا لوبی کی صرف 1 ہی لائٹ جل رہی تھی . جس آخری کمرے میں سے لائٹ آ رہی تھی وہ حنا کا تھا میں اب کافی حد تک خوش تھا کے اِس کا مطلب ہے اِس فلور پر زیادہ لوگ نہیں ہیں اور حنا کے کمرے کے ساتھ بنے ہوئے 4 کمرے بھی آج خالی ہیں شاید وہ لڑکیاں گھر چلی گئیں ہیں میں پِھر بغیر آواز کیے ہوئے چلتا ہوا بالکل حنا کے کمرے کے دروازے پر جا کر کھڑا ہو گیا اور اپنے موبائل سے حنا کے نمبر پر مس کال دی 5 سیکنڈ بعد ہی حنا نے بغیر کوئی آواز کیے ہوئے دروازہ کھول دیا مجھے سامنے دیکھ کر اچھل پڑی اور آگے ہو کر میرے گلے لگ گئی اور میرے ہونٹ چومنے لگی پِھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اندر لے گئی اور پِھر اندر سے دروازہ بند کر دیا میں جب اندر داخل ہوا تو حنا اکیلی تھی مسرت نہیں تھی میں تھوڑا حیران ہوا لیکن فلحال خاموش ہی رہا اور پِھر میں حنا والے بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا حنا مسرت والے بیڈ پر بیٹھ گئی اور مجھے دیکھ کر مسکرا نے لگی اور کہنے لگی واہ کا شی جی آپ نے آج دِل خوش کر دیا ہے میں سمجھ رہی تھی آب شاید ڈر جاؤ گے اور نہیں آؤ گے آپ نے آج کمال کر دیا

میں نے کہا حنا جی آپ بلاؤ تو میں نہ آؤں یہ کیسے ہو سکتا ہے . اب تو آپ سے دِل لگی سی ہو گئی ہے حنا پِھر اٹھ کر گلاس میں کولڈ ڈرنک ڈالنے لگی اور اور پِھر مجھے ایک گلاس دیا دوسرا خود لے لیا اور مسرت والے بیڈ پر بیٹھ گئی تو میں نے کہا حنا جی آپ کی سہیلی نظر نہیں آ رہی کیا اس کا موڈ نہیں بن سکا تو حنا نے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے اس کا موڈ تو میرے سے زیادہ ہے جب سے تمہاری اور اپنی ہوٹل والی اسٹوری سنائی ہے وہ مجھے خود کافی دفعہ کہہ چکی ہے کے میری بھی کا شی سے ملاقات کروا دو لیکن مجھے ہی کوئی مناسب موقع نہیں مل رہا تھا اور آج ملا ہے تو تمہیں بلا لیا ہے اور مسرت بھی اندر باتھ روم میں ہے تمھارے لیے اِسْپیشَل تیاری کر رہی ہے . اور مجھے آنکھ مار دی . میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا. پِھر کوئی 10 منٹ بعد ہی مسرت باتھ روم سے باہر نکل آئی مجھے سے جب نظر ملی تو شرما سی گئی مسرت ایک سانولے رنگ کی کشش والی اور نین نقش والی لڑکی تھی . اس نے دوپٹہ اتارا ہوا تھا اس کا جسم کافی بھرا ہوا اور سڈول جسم تھا ممے بھی 36 کے لگ رہے تھے اور گانڈ اور رانںے کافی بھری ہوئی تھیں . حنا شاید میری آنکھوں کی طرف ہی دیکھ رہی تھی فوراً بولی کا شی تم تو ایسے دیکھ رہے ہو جیسے مسرت کو ابھی کھا ہی جاؤ گے . میں حنا کی بات سن کر مسکرا پڑا اور بولا ایسی بات نہیں ہے حنا جی بس دیکھ رہا تھا آپ کی دوست بھی کافی پیاری اور سیکسی ہیں میری بات سن کر مسرت کا چہرہ لال سرخ ہو گیا . اور وہ کمرے میں لگے شیشے کے پاس جا کر اپنے بال بنانے لگی. پِھر حنا بھی اٹھی اور کمرے کے ساتھ ایک چھوٹا سا اسٹور نما کمرا بنا ہوا تھا اس میں چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد 3 پلیٹس میں پلاؤ ڈال کے لے آئی اور مسرت نے بھی اپنے بال بنا لیے تھے وہ بھی ہمارے ساتھ ہی نیچے کارپٹ پر بیٹھ کر کر كھانا کھانے لگی كھانا وغیرہ کھا کر حنا نے مجھے کولڈ ڈرنک دی اور ایک گلاس میں مسرت کو خود بھی اپنے گلاس میں ڈال کر دونوں مسرت والے بیڈ پر بیٹھ گیں اور میں حنا والے بیڈ پر بیٹھ گیا . میں نے حنا سے کہا حنا جی آپ کی دوست بہت خاموش طبیعت ہیں کوئی بات وغیرہ نہیں کر رہی ہیں تو حنا نے کہا بہت باتیں کرتی ہے بس تمھارے سامنے پہلی دفعہ ہے نہ اِس لیے شرما رہی ہے جب تمہارا پورا لن اندر لے گی تو ساری شرم اِس کی ختم ہو جائے گی مسرت نے شرما کر حنا کی کمر میں مکا مارا تو حنا بولی مجھے کیوں مار رہی ہو خود ہی تو اتنے دنوں سے میرے پیچھے پڑ ی ہوئی تھی کے کب کا شی سے ملاقات کراؤ گی اب وہ آ گیا ہے تو شرما کیوں رہی ہو.مسرت نے بھی حنا کو کہا تم بھی تو صبح سے اچھل رہی ہو بار بار ٹائم کا پوچھ رہی تھی کے کب رات کو 8 ہوں گے تو حنا نے کہا ہاں میں پوچھ رہی تھی کا شی تو میرا یار ہے مجھے تو اِس سے پیار ہے جتنا مزہ مجھے کا شی کے ساتھ آیا تھا تمہیں بتا نہیں سکتی میں تو خوش ہوں . میں نے کہا یار آپ دونوں کیوں لڑ رہی ہو میں تم دونوں کے لیے ہی آیا ہوں . آج کی رات آپ دونوں کے نام اور پِھر حنا اٹھ کر میرے والے بیڈ پر آ گئی اور میرے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی اور ایک ہاتھ سے کولڈ ڈرنک پی رہی تھی اور دوسرا ہاتھ میری ران پر پھیر رہی تھی. پِھر کچھ دیر میں ہی حنا نے اپنی کولڈ ڈرنک ختم کر کے گلاس کو ایک سائڈ پر رکھ دیا اور دوبارہ پِھر میرے ساتھ چپک گئی اب ایک ہاتھ میرے سینے پر دوسرا ہاتھ میری ران پر پھیر رہی تھی . حنا نے کہا مسرت کیا دیکھ رہی ہو اب شرم وغیرہ کو چھوڑو اور آ جاؤ مزہ لیں مسرت نے کہا حنا بڑی والی لائٹ کو آ ف کر دو چھوٹی والی لائٹ آن کر دو پِھر میں بھی آتی ہوں . حنا نے اپنے بیڈ کے ساتھ لگے سوئچ سے بڑی لائٹ آ ف کر دی اور زیرو کا بلب آن کر دیا زیرو کے بلب سے بھی کافی روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی. پِھر حنا نے خود ہی آگے ہو کر میری شرٹ کی بٹن کو کھولنا شروع کر دیا اور پِھر شرٹ کو میرے بازو سے باہر نکال کر ایک سائڈ پر رکھ دیا اور پِھر میرے بنیان بھی اُتار دی اب میں اوپر سے پورا ننگا تھا . اور مسرت بھی اٹھ کر حنا والے بیڈ پر آ گئی میری لیفٹ سائڈ پر حنا اور رائٹ سائڈ پر مسرت آ کر بیٹھ گئی اور وہ بھی میرے ساتھ چپک گئی حنا اور مسرت نے پہلے ہی اپنا اپنا دوپٹہ اُتار کر رکھا ہوا تھا. حنا اور نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور مسرت نے اپنی انگلیاں میرے سینے کے بالوں میں پھیر نی شروع کر دیں اور دوسرے ہاتھ سے وہ میرے لن کے پاس ہی ہاتھ رکھ کر میری ران کو دبا رہی تھی . میرے لن پہلے ہی نیم کھڑی حالت میں پینٹ میں تھا . اور اوپر سے حنا میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر بدستور چوس رہی تھی اور مسرت میرے سینے کے بالوں سے کھیل رہی تھی . مسرت میرے ننگے کاندھے پر ہلکی ہلکی کس بھی کر رہی تھی . میرے اور حنا اور مسرت کے درمیان یہ کھیل کوئی 5 منٹ سے چل رہا تھا. مسرت میرے لن کے نزدیک ہی میری ران کو مسل اور دبا رہی تھی میں خود ہی اپنے ہاتھ سے مسرت کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن کے اوپر رکھ دیا اور میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی آنکھوں میں ایک چمک اور نشہ تھا پِھر کچھ ہی دیر میں مسرت نے میرے لن پر اپنے ہاتھ کو دبانا شروع کر دیا وہ بہت پیار سے لن کو دبا رہی تھی اور ساتھ ساتھ میرے کاندھے پر کس کر رہی تھی . حنا اور میں ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چُوسنے میں لگے ہوئے تھے . پِھر جب حنا کافی دیر میرے ہونٹ چُوسنے کے بعد اس نے اپنے آپ کو مجھے سے الگ کیا اور مسرت کو بولی اب تمہاری باری ہے . میں نے مسرت کی طرف منہ کیا تو مسرت نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے اس کی نرم ملائم اور گرم ہونٹ تھے میں نے جب اپنی زُبان اس کے منہ میں دی تو اس نے بہت ہی آرام آرام سے میری زُبان کو چوسنا شروع کر دیا مسرت کی گرم گرم سانسیں مجھے محسوس ہو رہیں تھیں .دوسری طرف حنا نے میری پینٹ کی بیلٹ کھولی پِھر پینٹ کا ہُک کھول کر ذپ بھی کھول دی اور میرے پاؤں کی طرف جا کر میرے پینٹ کو آہستہ آہستہ کھینچنے لگی میں نے اپنی گانڈ کو تھوڑا سا اٹھا کر اس کو پینٹ اُتار نے میں مدد کی اور پِھر اس نے میری پینٹ اُتار کر ایک سائڈ پر رکھ دی آج میں پینٹ کے نیچے انڈرویئر نہیں پہن کر آیا تھا کیونکہ مجھے پتہ تھا آج مزہ کرنے کا دن ہے حنا نے جب میرے نیم کھڑی ہوئی حالت میں لن کو دیکھا تو بولی یہ ہے میرا اصل دوست جس نے مجھے اپنے دیوانہ کر دیا ہے مسرت جو میرے ہونٹوں کو اور میری زُبان کو چوس رہی تھی اس نے منہ ہٹا کر دیکھا تو اس کی آنکھوں میں بھی ایک عجیب سی چمک آ گئی حنا بولی مسرت دیکھو اب بتاؤ کا شی کا بڑا ہے یا تمھارے منگیتر کا بڑا ہے . تو مسرت نے آگے ہو کر اپنے نرم ہاتھوں سے میرے لن کو پکڑا اور حنا کو کہا یہ تو ابھی فل کھڑا بھی نہیں ہے تو اتنا بڑا لگ رہا ہے یہ تو حقیقت میں میرے منگیتر کے لن سے بڑا ہے . حنا نے کہا تو پِھر بتاؤ آج پورا لو گی اندر تو مسرت نے میرے لن کو سہلا کر بولا حنا مزہ ہی پورا لینے میں ہے میرے منگیتر کا اِس سے چھوٹا ہے یہ کافی بڑا اور موٹا ہے مجھے درد تو ہو گی میں نے کبھی اتنا بڑا نہیں لیا ہے صرف اپنے منگیتر کا ہی لیا ہے اس کا 4 انچ جتنا ہے لیکن پِھر بھی میں یہ پورا اندر لوں گی .مسرت نے دوبارہ میرے ساتھ کسسنگ کرنا شروع کر دی اور حنا نے میرے لن کی ٹوپی کو اپنے منہ میں لے لیا اور اس کو چُوسنے لگی تقریباً 2 منٹ مزید کسسنگ کے بعد مسرت بھی الگ ہو گئی اس کو اب میرے لن کی زیادہ طلب تھی . وہ بھی آگے ہو کر کر میرے لن کے اوپر جھک گئی حنا میرے لن کی ٹوپی کو چوس رہی تھی مسرت نے بھی اپنی جگہ بنا کر میرے ٹودں کو اپنے منہ میں لے لیا وہ میرے ٹویں کو چوس رہی تھی . حنا کچھ دیر میرے لن کی ٹوپی کو چوس کر پِھر وہ آہستہ آہستہ پورے لن کو منہ میں لے کر چوپا لگانے لگی . حنا نے آدھے سے بھی زیادہ لن منہ میں بھر لیا تھا اور اس پر اپنی زُبان کو گھما گھما کر وہ میرے لن کے چو پے لگا رہی تھی . کچھ دیر بعد حنا نے میرے لن کا چوپا لگا کر مسرت کو کہا مسرت اب تم بھی تھوڑا آئس کریم کا مزہ لے لو تو مسرت نے میرے لن کو منہ میں لے لیا مسرت کی زُبان میں ایک جادو تھا اس کا منہ اور زُبان کافی گرم تھی وہ اپنی زُبان اور گول گول گھما کر میرے لن کا اپنے منہ کے اندر ہی مساج کر رہی تھی . مجھے ایسا مزہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا . اِس طرح کو کا چوپا مسرت پہلی تھی جو لگا رہی تھی . مسرت جس طرح مساج کر کے میرے لن کا چوپا لگا رہی تھی دل کرتا تھا کے لن کو اس کے منہ کے اندر ہی رکھوں اور کچھ نہ کروں

مسرت اور حنا کے چو پوں نے میرے لن کے اندر ایک جان ڈال دی تھی میں میرا لن لوہے کے راڈ کی طرح کھڑا تھا میں نے حنا سے پوچھا حنا جی کس نے اب آگے آنا ہے تو حنا نے کہا مسرت کی پھدی کو ٹھنڈا کرو یہ بہت دنوں سے میرے پیچھے لگی ہوئی تھی میں تو اپنی جان کو آج پہلے اپنی گانڈ دوں گی پِھر پھدی میں کروا لوں گی . میں نے مسرت کی طرف دیکھا تو اس نے کہا میں تیار ہو آپ بتاؤ کس پوزیشن میں کرنا ہے تو میں نے کہا آپ بتاؤ آپ کو کس پوزیشن میں اچھا لگا ہے تو مسرت نے کہا مجھے تو سیدھا لیٹ کر مزہ زیادہ آتا ہے جب ٹانگیں کاندھے پر رکھی ہوں تو لن پورا اندر تک جاتا ہے تو میں نے کہا ٹھیک ہے آپ سیدھی لیٹ جاؤ میں ویسے ہی کر لیتا ہوں. مسرت اور حنا نے اپنے کپڑے اُتار دیئے تھے اور وہ بھی پوری طرح ننگی ہوں گیں تھیں مسرت اپنی ٹانگوں کو چوڑا کر کے میرے آگے سیدھی لیٹ گئی اس کی پھدی پر ایک بال تک نہیں تھی کلین شیوڈ پھدی تھا اس کی پھدی کے ہونٹ آپس میں جڑے ہوئے تھے اس کی پھدی کا منہ چھوٹا سا تھا. میں نے حنا کو کہا جان تھوڑا لن کو گیلا کر دو تو حنا نے اپنے منہ میں لے کر تھوک سے کافی حد تک گیلا کر دیا پِھر خود ہی میرے لن کو پکڑ کر مسرت کی پھدی کے منہ پر سیٹ کیا اور مجھے بولا کا شی دھکا لگاؤ میں نے ایک دھکا لگایا میرے لن کی ٹوپی مسرت کی پھدی کے اندر جا گھسی حنا کے منہ سے ایک آواز آئی آہ حنا شرم کرو اتنا بھی ظلم نہیں کرو مجھ پر حنا نے کہا لن لینے کی مستی چڑی تھی اب لو لن کو ابھی تو صرف ٹوپی گئی ہے تو بول رہی ہو ابھی تو پورا لن باقی ہے مسرت نے کہا کا شی جی تھوڑا آرام سے کرو آپ کا لن کافی بڑا اور موٹا ہے . میں نے پِھر اپنے لن کو آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے اندر کرنا شروع کر دیا مسرت کی پھدی کافی تنگ تھی میرے لن کو اس کی پھدی نے کافی ٹائیٹ کیا ہوا تھا . لیکن میں پِھر بھی لن کو اندر کر رہا تھا میرا آدھے سے زیادہ لن اندر چلا گیا تھا یکدم ہی حنا نے مجھے پیچھے سے دھکا دیا اور میرا پورا لن ایک جھٹکے میں مسرت کی پھدی کی جڑ تک اُتَر گیا مسرت کی ایک کافی اونچی درد بھری آواز نکلی ہا اے میں مر گئی کمینی کتی حنا میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی تم بہت ظالم ہو حنا نے آنکھ مار کے کہا ہاں کر لینا جو کرنا ہے لن لینا ہو تو درد کو سہنا پڑتا ہے . درد کے بغیر چدائی کا مزہ ہی بیکار ہے. میرا پورا لن مسرت کی پھدی کے اندر تھا میں وہاں ہی رک گیا اور اپنے جسم کو کسی قسِم کی حرکت نہیں دے رہا تھا . ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کے اب اپنے لن کو آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کرتا ہوں تو اس وقعت ہی حنا کا موبائل بجنے لگا . حنا جو میرے پاس ہی بیٹھی تھی اس نے ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھایا اور کال کو دیکھ کر غصے میں بولی اِس کتی کو اتنی رات کو کیا مسئلہ ہو گیا ہے . حنا نے کال پک کی تھوڑی دیر بات کر کے کال ختم ہو گئی تو میں نے دیکھا حنا کا منہ اترا ہوا تھا اور غصہ بھی کافی تھا . میں نے پوچھا حنا خیر ہے تو حنا بولی خیر ہی تو نہیں ہے . جب کبھی کوئی اپنی لائف انجوئے کرنے کا موقع ملتا ہے کوئی نہ کوئی مصیبت آ جاتی ہےمیں نے کہا کیا بات ہے تو حنا نے کہا وہ ہماری ایک ڈیوٹی نرس کا فون تھا اس نے مجھے ایمرجنسی میں بلایا ہے ایک ایمرجنسی ڈلیوری کیس آیا ہے اور کوئی نرس یہاں ہے نہیں ہے تو کسی نے میرا بتا دیا ہے کے میں گھر نہیں گئی یہاں ہی ہوں اِس لیے اس نے مجھے بلا لیا ہے . مسرت جو نیچے لیی  ہوئی تھی اور میرا لن اس کی پھدی کے اندر تھا اور اب وہ کافی حد تک سکون میں تھی اس نے حنا کو کہا حنا تم کا شی کے ساتھ مزہ کرو میں تمہاری جگہ چلی جاتی ہوں . تو حنا نے کہا نہیں مسرت کوئی بات نہیں ہے میں تو پہلے بھی مزہ لے چکی ہوں دوبارہ کبھی بھی کا شی کے ساتھ ہوٹل میں بھی جا کر مزہ لے لوں گی تم آج رات کھل کر مزہ کرو میں تیار ہو کر اسپتال جا رہی ہوں کوشش کر کے جلدی واپس آ جاؤں گی اور شاید 1 رائونڈ میں بھی لگوا لوں لیکن اگر لیٹ ہو گئی تو تم دونوں مزہ کر لینا اور حنا نے کہا کا شی تم صبح جلدی ہی ہاسٹل سے نکل جانا صبح کے وقعت کسی نے دیکھ لیا تو مشکل ہو سکتی ہے . تو میں نے کہا ٹھیک ہے میں صبح ہی نکل جاؤں گا . پِھر حنا اٹھ کر باتھ روم چلی گئی اور 10 منٹ بعد ہی تیار ہو کر کمرے سے نکل گئی میرا لن مسرت کی پھدی میں تھا میں اٹھ نہ سکا اور حنا بس دروازہ بند کر کے چلی گئی . میں نے پِھر اپنے لن کو آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کر دیا پہلے تو میں نے اپنی سپیڈ نارمل ہی رکھی اور آہستہ آہستہ مسرت کی پھدی میں دھکے لگا رہا تھا . کچھ دیر میں مسرت کو بھی مزہ آنے لگا تھا اس نے نیچے سے اپنے جسم کو حرکت دے کر ساتھ دینا شروع کر دیا تھا . مسرت کی ٹانگیں میرے کاندھے پر رکھی ہوئی تھیں . جب مسرت کو مزہ آ رہا تھا اس نے اپنی ٹانگوں کو میری کمر کی پیچھے سےجرر لیا تھا. اور اپنی گانڈ کو اٹھا کر لن پھدی کے اندر کروا رہی تھی . مجھے مسرت کو چود تے ہوئے 5 سے 7 منٹ گزر چکے تھے اب میرے جھٹکوں میں بھی کافی حد تک تیزی آ چکی تھی . اور مسرت کی لذّت بھری سسکیاں کمرے میں گونج رہیں تھیں . . . آہ آہ اوہ اوہ آہ آہ اوہ کا شی جی اور زور لگا کر پھدی مارو مجھے بہت مزہ آ رہا ہے . مسرت کی باتیں سن کر مجھے بھی جوش چڑھ گیا تھا میں یکایک اپنے پوری طاقت سے مسرت کی پھدی مار نے لگا تھا میرے اور اس کے جسم سے دھپ دھپ کی آوازیں نکل رہیں تھیں . اور مسرت کی اپنی سسکیاں بھی پورے کمرے میں گونج رہیں تھیں . میرے جاندار جھٹکوں نے مسرت کی پھدی کو ڈھیلا کر دیا اور اس کی پھدی نے گرم گرم منی کا لاوا چھوڑنا شروع کر دیا . مسرت کا پورا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور کانپ رہا تھا . مسرت کی پھدی کا گرم پانی جب میرے لن کے اوپر گرا تو مجھے اور زیادہ شہوت سی چڑھ گئی میں نے طوفانی انداز اپنا لیا اور اپنی فل طاقت سے مسرت کی پھدی کو چودنے لگا اور تقریباً 3 سے 4 منٹ کی مزید چدائی کے بعد میں نے بھی اپنی منی کا لاوا مسرت کی پھدی میں چھوڑنا شروع کر دیا . اور تھک کر ہانپ رہا تھا اور مسرت کے اوپر ہی گر گیا اور دوسری طرف میرے لن بدستور مسرت کی پھدی میں منی چھوڑ رہا تھا . جب میرے لن نے اپنی منی کا آخری قطرہ بھی نکال دیا تو میں مسرت کے اوپر سے ہٹ کر ایک سائڈ پر ہو کر اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا . مسرت بھی لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی پِھر کچھ بعد وہ اٹھ کر باتھ روم چلی گئی اور 10 منٹ بعد باتھ روم سے فریش ہو کر دوبارہ ننگی ہی میرے ساتھ آ کر لیٹ گئی پِھر اس کے بعد میں باتھ روم گیا اور فریش ہو کر دوبارہ مسرت کے ساتھ آ کر لیٹ گیا . میں نے اس کو کہا کے مزہ آیا کے نہیں تو اس نے کہا بہت مزہ آیا ہے تمہارا لن بہت ہی مزے کا ہے . بچہ دانی تک جا کر لگتا ہے اور تمھارے جھٹکے تو پھدی کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں . آج پہلی بار زندگی میں کسی لن نے میری پھدی کو اچھی طرح ٹھنڈا کیا ہے . میرا منگیتر  بھی کرتا ہے لیکن اس کی ٹائمنگ بہت تھوڑی ہے . وہ 4 یا 5 منٹ سے زیادہ نہیں کر سکتا لیکن تم تو عورت کا پانی نکلوا کر بھی اس کے بعد جا کر اپنا پانی چھورتے ہو . مزہ آ جاتا ہے. میں نے کہا مسرت جی ایک بات پوچھوں تو مسرت نے کہا ہاں پوچھو تو میں نے کہا کبھی گانڈ میں کروایا ہے تو وہ میری بات سن کر مسکرا پڑی اور بولی مجھے آج ہی حنا بھی پوچھ رہی تھی . اور بتا رہی تھی تم گانڈ کے بھی بہت شوق رکھتے ہو . لیکن سچ یہ ہے کے میں نے ابھی تک گانڈ میں نہیں کروایا ہے . لیکن تمھارے لیے یہ بھی درد برداشت کر لوں گی لیکن آج نہیں گانڈ میں کروانے کے لیے یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے ہوٹل میں ہو سکتا ہے ہوٹل میں پروگرام بنا لیں گے وہاں کر لینا یہاں میری چیخوں کو سن کر ہر کوئی بھاگ کر آ جائے گا کیونکہ مجھے پتہ ہے تمہارا لن گانڈ میں لے کر مجھے بہت زیادہ تکلیف اٹھانا پڑے گی . تو میں نے کہا ٹھیک ہے کوئی بات نہیں ہوٹل میں ہی کسی دن پروگرام بنا لیں گے . پِھر اس رات میں نے مسرت کو مزید ایک دفعہ جم کر چودا اور صبح 6 بجے تک حنا واپس نہیں آئی اور میں 6 بجے ابھی کچھ کچھ اندھیرا تھا میں خاموشی سے گیٹ کھول کر باہر نکلا صبح کا ٹائم تھا کوئی خاص لوگ نہیں تھے میں پارکنگ میں آ گیا اور وہاں سے اپنی موٹر بائیک نکال کر اپنے گھر آ گیا .

مسرت کے ساتھ مزہ کرنے کے بعد مجھے اب اس کی گانڈ مارنے کا شوق پیدا ہو گیا تھا . میں اب چاہتا تھا کے کوئی نہ کوئی موقع بن سکے تو میں مسرت کے ساتھ کسی ہوٹل میں پلان بنا کر اس کی گانڈ کا مزہ بھی چکھ سکوں اور دِل میں اِس بات کی بھی خوشی تھی کے مسرت گانڈ کے لحاظ سے ابھی کنواری تھی . لیکن مسرت کے ساتھ دوبارہ مزہ کرنے کا پلان ابھی دور تھا اِس لیے اس دن کے بعد میں ایک بار پِھر اپنی پڑھائی پر دھیان دینے لگا 2 دن بعد ایک دن رات کو میری حنا کے ساتھ فون پر گھپ شپ لگ رہی تھی تو اس نے مجھے بتایا کے مسرت تو تمھارے لن کی دیوانی ہو گئی ہے مجھے کہتی ہے دِل کرتا ہے کاش کا شی میرا میاں ہوتا تو میں روز اس کا لن لیتی . میں حنا کی بات سن کر ہنس پڑا اور اس کو کہا حنا جی اس کو کہو کے ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے اگر میاں نہیں ہوں دوست تو ہوں وہ جب بھی کہے گی تو میں حاضر ہو جاؤں گا اور اپنے لن کی سیر کروا دیا کروں گا . اس دن کافی دیر تک میں حنا کے ساتھ گھپ شپ لگاتا رہا پِھر اس نے مجھے بتایا کے میں 2 دن بعد لاہور گھر جا رہی ہوں اور اگلے سوموار کو دوبارہ ڈیوٹی پر آؤں گی . اور پِھر اس دن رات میری اس سے آخری فون پر بات ہوئی . جب جمه کو میری کلاسز ختم ہو گئیں تو میں کافی پر سکون تھا . مجھے اِس ہفتے کو فیصل کی طرف بھی جانا تھا اور رات اس کی طرف ہی رکنا تھا . اور ہفتے والے دن میں شام کو فیصل کی طرف چلا گیا اس کی گھر پہنچ کر دروازے پر دستک دی تو تھوڑی دیر بعد فیصل کی امی نے دروازہ کھولا مجھے دیکھا تو ان کے چہرے پر ایک عجیب سی نشیلی سی مسکان آ گئی اور مجھے سے بولیں کا شی بیٹا کیا حال ہے کہاں تھے اتنے دن تو میں نے کہا آنٹی میں تو یہاں ہی تھا بس پڑھائی میں مصروف تھا اِس لیے چکر نہیں لگا سکا آنٹی نے مجھے اندر جانے کا رستہ دیا میں اندر داخل ہو کر سیدھا ٹی وی لاؤنج میں آ گیا وہاں فیصل کی ابو پہلے ہی بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے میں نے ان کو سلام کیا اور صوفے پر بیٹھ گیا انکل نے پوچھا اور کا شی بیٹا سناؤ کیا حال ہے گھر میں سب کیسے ہیں ابو کیسے ہیں تو میں نے کہا انکل سب ٹھیک ہے ابو بھی ٹھیک ہیں انکل نے کہا بیٹا آج کافی دن بعد نظر آئے ہو کہاں آج کل ہوتے ہو تو میں نے کہا نہیں انکل ایسی بات نہیں ہے اصل میں جب سے یونیورسٹی شروع کی ہے اِس لیے زیادہ مصروف ہو گیا ہوں پڑھائی بھی تھوڑی مشکل ہو گئی ہے بس اِس لیے ہی چکر نہیں لگ سکا . آنٹی میرے لیے کولڈ ڈرنک ڈال کر لے آئی اور مجھے پیش کی اور پِھر انکل والے صوفے پر ہی بیٹھ گئیں اور میں نے تھوڑی سی کولڈ ڈرنک پی اور آنٹی سے پوچھا آنٹی فیصل کہاں ہے وہ نظر نہیں آ رہا تو آنٹی نے کہا بیٹا وہ اپنی فوزیہ آنٹی کے ساتھ مارکیٹ گیا ہوا ہے تمھاری فوزیہ آنٹی نے کچھ چیزیں خرید نی تھیں اِس لیے فیصل اس کے ساتھ گیا ہوا ہے کافی دیر ہو گئی ہے گئے ہوئے بس تھوڑی دیر تک واپس آ جائیں گے . میں آنٹی کی بات سن کر کولڈ ڈرنک پینے لگا اور کولڈ ڈرنک کو پی کر گلاس کو ٹیبل پر رکھ دیا آنٹی نے گلاس لیا اور کچن کی طرف چلی گئیں اور جاتے ہوئے بولیں کے کا شی بیٹا تم ٹی وی دیکھو اور اپنے انکل کے ساتھ باتیں کرو فیصل بھی آتا ہی ہو گا میں ذرا کچن میں رات کا كھانا بنانے لگی ہوں . اور پِھر وہ کچن کی طرف چلی گئیں .ٹی وی پر کرکٹ میچ لگا ہوا تھا میں اور انکل میچ دیکھنے لگے تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد دروازے پر دستک ہوئی تو میں نے انکل کو کہا انکل آپ بیٹھو میں باہر دیکھتا ہوں میں نے دروازہ کھولا تو سامنے فیصل اور فوزیہ آنٹی تھے فیصل نے مجھے دیکھا تو پوچھا کا شی یار سنا تم کب آئے میں نے کہا یار میں ابھی تھوڑی دیر پہلےآیا ہوں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا . فیصل نے مجھے آنکھ ماری اور بولا ہاں مجھے پتہ ہے تم میرا کیوں انتظار کر رہے تھے . فیصل بھی شاید سمجھ گیا تھا میں بس اس کی بات سن کر مسکرا پڑا اور کچھ نہ بول سکا میں نے فوزیہ آنٹی کو سلام کیا تو آنٹی نے سلام کا جواب دیا اور کہا کیوں کا شی بیٹا کون سی ایسی خاص با ت ہے جس کے لیے تم فیصل کا انتظار کر رہے تھے مجھے بھی تو پتہ چلے میں فوزیہ آنٹی کی بات سن کا تھوڑا بوکھلہ سا گیا اور بولا نہیں نہیں آنٹی ایسی بات نہیں ہے فیصل تو بس مذاق کر رہا ہے . پِھر وہ دونوں اندر آ گئے فوزیہ آنٹی جب اوپر جانے لگی تو مجھے کہا کا شی بیٹا فارغ ہو کر میری طرف بھی چکر لگا لینا تو میں نے کہا جی آنٹی ضرور میں آؤں گا اور فیصل نیچے اپنے ٹی وی لاؤنج میں آ گیا میں بھی ٹی وی لاؤنج میں آ کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا پِھر ہم دونوں گھپ شپ لگانے لگے . اس وقعت رات کے 8 بج رہے تھے تقریباً کوئی 1 گھنٹے بعد فیصل کی امی ٹی وی لاؤنج میں آئی اور کہا آپ سب ہاتھ منہ دھو لو كھانا تیار ہے . انکل اٹھ کر اپنے روم میں چلے گئے اور میں اور فیصل نے واشروم سے ہاتھ دھو کر واپس آ کر جہاں كھانا لگا تھا وہاں آ کر بیٹھ گئے انکل بھی کچھ دیر میں آ گئے اور پِھر ہم سب نے مل کر كھانا کھایا كھانا کھا کر انکل اپنے کمرے میں دوبارہ واپس چلے گئے آنٹی کھانے والے برتن اٹھا کر کچن میں چلی گیں اور میں اور فیصل دونوں اٹھ کر فیصل کے کمرے میں آ گئے جب میں فیصل کے کمرے میں آیا تو میں نے اس سے کہا یار تم نے تو آج مروا دینا تھا فوزیہ آنٹی کو شق میں ڈال دیا تھا . تو فیصل میری بات سن کر ہنس پڑا اور بولا کچھ نہیں ہوتا یار آنٹی تمہیں کھا تھوڑا جائے گی ویسے بھی اب ہم جوان ہیں ڈر ڈر کے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے . پِھر فیصل نے اپنا پی سی آن کر دیا اور بولا یار کا شی میں نے اِس ہفتے کافی مال ڈائون لوڈ کیا ہے ایک انڈین پورن مووی بھی ڈائون لوڈ کی ہے وہ بڑی مزے کی مووی ہے تم دیکھو گے تو ضرور مٹھ مارو گے اصل میں مجھے لیپ ٹاپ پر کچھ یونیورسٹی کا کام کرنا ہے اِس لیے وہ میں استعمال کروں گا آج میں نے مال اِس پی سی پر ڈال دیا ہے تم اِس پر دیکھ لو . میں نے اس کو کہا ٹھیک ہے پِھر میں اور وہ کچھ دیر یہاں وہاں کی گھپ شپ لگاتے رہے تقریباً جب 10 : 30 کا ٹائم ہوا تو فیصل نے کہا کا شی میں ٹی وی لاؤنج میں جا کر اپنا یونیورسٹی کا کام کر لیتا ہوں اِس لیے تم تسلی سے اور آرام سے کمرے میں بیٹھ کر مزہ کرو ہو سکتا ہے مجھے کام ختم کرتے دیر ہو جائے تو میں وہاں صوفے پر ہی سو جاؤں گاتم اپنا مزہ پورا کر کے سو جانا میں نے کہا ٹھیک ہے یار کوئی مسئلہ نہیں ہے . پِھر کچھ دیر بعد فیصل اپنا لیپ ٹاپ لے کر کر کمرے سے باہر چلا گیا اور میں نے پی سی پر جس فولڈر میں فیصل نے مال جمع کیا تھا اس کو اوپن کیا تو اس میں کافی مال تھا میں ایک ایک کر کے دیکھنے لگا فیصل نے واقعہ ہی بہت گرم اور مزے کا مال ڈائون لوڈ کر رکھا تھا یہ مال دیکھ کر میرا لن شلوار کے اندر ہی تن کر کھڑا ہو چکا تھا . میں 2 گھنٹے میں تقریباً پورا فولڈر دیکھ چکا تھا اِس میں زیادہ تر شارٹ کلپ تھے 5 سے 10 منٹ والے اور اِس فولڈر میں ہی ایک اور فولڈر بنا تھا اس پر خاص لکھاتھا. میں نے وہ اوپن کیا تو اس میں ایک ویڈیو رکھی تھی میں نے سوچا فیصل جس انڈین پورن مووی کی بات کر رہا تھا شاید یہ وہ والی ہی ویڈیو ہے کیونکہ میں نے فولڈر کے اندر ابھی تک جو ویڈیو دیکھی تھیں اس میں ابھی تک ایسی کوئی انڈین پورن مووی نہیں تھی . میں نے اس ویڈیو کو آن کرنے سے پہل ٹائم دیکھا تو رات کے 12 بج رہے تھے مجھے اتنا گرم مال دیکھ کر گرمی سی چڑھ گئی تھی اور مجھے پیاس بھی لگی ہوئی تھی میں کمرے سے نکل کر کر کچن میں آیا اور فریزر سے ٹھنڈا پانی پیا جب میں واپس کچن سے کمرے کی طرف جانے لگا تو ٹی وی لاؤنج میں نظر ماری تو مجھے کوئی بندہ نظر نہیں آیا نہ ہی صوفے پر کوئی لیٹا ہوا نظر آیا میں تھوڑا حیران ہوا کے فیصل کہاں گیا ہے وہ تو کہہ رہا تھا کے اس نے یونیورسٹی کا کچھ کام کرنا ہے لیکن وہ تو یہاں نہیں ہے میرا دماغ پِھر چلنے لگا اور یکدم مجھے خیال آیا ہو نہ ہو اِس دفعہ بھی فیصل نے مجھے سے ڈرامہ کیا ہے وہ اصل میں اوپر گیا ہے اور فوزیہ آنٹی کے ساتھ مزہ کر رہا ہو گا میں نے آگے ہو کر پورے ٹی وی لاؤنج میں نظر ماری واقعی ہی وہاں کوئی بھی نہیں تھا اب مجھے یقین ہو چلا تھا کے فیصل اوپر فوزیہ آنٹی کے ساتھ ہی ہے . پِھر میں اس کو اگنور کر کے دوبارہ فیصل والے کمرے میں آ گیا کیونکہ میں فیصل اور فوزیہ آنٹی کا ننگا کھیل پہلے بھی دیکھ چکا تھا اِس لیے مجھے اب بھی پتہ تھا کے ضرور فوزیہ آنٹی اوپر فیصل سے چودوا رہی ہے . خیر میں کمرے میں آ کر دوبارہ پی سی پر بیٹھ گیا اور اب میں نے وہ ہی انڈین پورن مووی لگا لی شروع میں یہ مووی سوےریکل تھی لیکن واقعہ میں ہی یہ ایک زبردست مووی تھی یہ ہندی زُبان میں تھی اِس میں ڈائیلاگ سب ہندی میں تھے جس سے مووی کا اور زیادہ مزہ آ رہا تھا . مووی دیکھ کر ایک دفعہ پِھر میرے لن پِھر لوہے کا راڈ بن گیا تھا میں اپنی شلوار کا ناڑ ہ کھولا اور اپنی شلوار اُتار کر بیڈ پر پھینک دی اور قمیض تو میں نے پہلے ہی اُ تاری ہوئی تھی میری رات کو قمیض اُتار کر سونے کی عادت تھی اِس لیے اب میں صرف اپنی بنیان میں تھا کمرے کا دروازہ بند تھا اِس لیے میں بے فکر تھا کے اتنی رات کو کون آئے گا اِس لیے فل مزہ لینے کے لیے اپنی شلوار بھی اُتار دی . اور ایک ٹانگ کو زمین پر رکھ کر اور دوسری ٹانگ کو کمپیوٹر ٹیبل پر رکھ کر ایک ہاتھ سے اپنے لن کو پکڑ لیا اور اس کی ہلکی ہلکی مٹھ مارنے لگا اور ساتھ ساتھ مووی دیکھ رہا تھا . کمرے میں ٹیبل لیمپ جل رہا تھا اور ٹیبل لیمپ کی بھی کافی روشنی تھی جس سے کمرے میں ہر چیز آسانی سے دیکھی جا سکتی تھی . میں نے اپنے کان میں ہینڈ فری لگا کر مووی دیکھا رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے لن کی مٹھ لگا رہا میں اتنا مگن تھا کے یکدم دروازہ کھلا اور فیصل کی امی کمرے میں آ گئیں اور جب ان کی نظر مجھ پر پڑ ی تو مجھے دیکھ کر حیران رہ گئیں اور ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا لیکن ان کی آنکھوں میں میرے لن کو دیکھ کر ایک نشہ بھی تھا آنٹی کمرے کا دروازہ بند کر کے فیصل کے بیڈ پر جا کر بیٹھ گئیں میں جلدی سے سیدھا ہوا اور بیڈ پر رکھی اپنی شلوار کو 1 منٹ سے بھی پہلے پہن لیا اور آنٹی کو کہا سوری آنٹی ، تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا سوری تو مجھے کرنا چاہیے

کیونکہ مجھے یوں اِس طرح کمرے میں نہیں آنا چاہیے تھا دستک دینی چاہیے تھی . میں نے کہا نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ آپ کا اپنا گھر ہے آپ جب چاہو جیسے چاہو آ جا سکتی ہیں . اصل میں مجھے ہی خیال کرنا چاہیے تھا مجھے اِس طرح نہیں بیٹھنا چاہیے تھا میں باتوں باتوں میں بھول گیا تھا کمپیوٹر پر ابھی تک وہ انڈین سیکس فلم چل رہی تھی جس کو آنٹی بھی بہت غور سے دیکھ رہی تھی . میں نے فوراً اٹھ کر مووی بند کی اور کمپیوٹر کو آف کر دیا تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے تم جوان ہو جذبات رکھتے ہو مجھے پتہ ہے اِس عمر میں جوان لڑکے کی بھی کچھ ضرورت ہوتی ہے اِس لیے شرمانے کی ضرورت نہیں ہے . کمرے میں سے روشنی آ رہی تھی تو میں دیکھنے آئی تھی کے کہیں تم لوگ سو گئے ہو گے اور لائٹ آف نہیں کی ہو گی اِس لیے بند کرنے آئی تھی . پِھر آنٹی نے کہا کا شی بیٹا ایک بات پوچھوں تو برا تو مانو گے تو میں نے کہا جی آنٹی پوچھ لیں میں بھلا کیوں برا مانوں گا تو آنٹی نے کہا بیٹا تم جو دیکھ رہے تھے میں تمہیں منع نہیں کر رہی تم بے شک دیکھو تم جوان ہو جوانی میں ہر مرد کی طلب ہوتی ہے لیکن بیٹا جوتم اپنے ساتھ کر رہے تھے وہ ٹھیک نہیں ہے وہ تمہاری صحت کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہے میں آنٹی کی بات سمجھ گیا تھا . میں نے آہستہ سے کہا جی آنٹی میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں لیکن جب میں مووی دیکھ رہا تھا تو اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں کر سکا اِس لیے کر رہا تھا . آنٹی نے کہا کا شی بیٹا تمہاری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے میرا مطلب ہے کسی لڑکی سے دوستی وغیرہ نہیں ہے تو میں نے کہا نہیں آنٹی میری کوئی بھی گرل فرینڈ نہیں ہے اِس لیے تو اپنے ہاتھ پر ہی گزارا کر رہا ہوں . آنٹی اپنی ٹانگیں بیڈ پر سیدھی کر کے بیٹھ گئی میں بھی بیڈ پر دوسری سائڈ پر بیٹھا ہوا تھا . آنٹی نے کہا کا شی بیٹا ایک بات کہوں میں نے کہا جی آنٹی آنٹی نے کہا کا شی بیٹا میرا بھی تمہاری طرح کی ہی  کچھ حال ہے . میں نے کہا کیوں آنٹی آپ کو کیا مسئلہ ہے آپ تو شادی شدہ ہیں انکل ہیں وہ آپ کا خیال تو رکھتے ہوں گے . تو آنٹی نے ایک آہ بھری اور تھوڑا دُکھی لہجے میں کہا بیٹا تم سچ کہتے ہو لیکن حقیقت تھوڑی اور ہے . ہاں میں شادی شدہ ضرور ہوں لیکن جسمانی مزے سے دور ہوں . اصل میں بیٹا تمھارے انکل شو گر کے مریض ہیں اور دوسرا وہ زیادہ تر اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں اِس لیے وہ میرے لیے ٹائم نہیں نکال پاتے . اور یہ کہتے ہوئے آنٹی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے میں آگے ہوکر آنٹی کے ساتھ بیٹھ گیا ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور بولا سوری آنٹی مجھے نہیں پتہ تھا آپ اندر کتنا دُکھی ہیں . تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا میں یہ سب کچھ 7 سال سے بحگھت رہی ہوں . اپنے جذبات اور جسم کے پیاس میں جل رہی ہوں . بیٹا اس دن بھی کچن میں بھی میں اپنے جذبات سے مجبور ہو کر بہک گئی تھی اِس لیے میں تھوڑا شرمندہ بھی تھی . میں نے آنٹی کے ہاتھ کو پکڑ کر سہلایا اور کہا نہیں آنٹی آپ دُکھی نہ ہو میری دِل میں ایسی کوئی بات نہیں ہے . آپ کی عزت میرے دِل میں ویسے ہی ہے جو پہلے تھی . آنٹی نے خوشی سے میرے گالوں کو چوم لیا اور بولی بیٹا تم بہت اچھے بیٹے اور انسان ہو تم کسی کا بھی دکھ آسانی سے سمجھ لیتے ہو . میں نے کہا آنٹی میری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے اِس لیے میں تو مجبور ہو کر یہ کام کرتا ہوں اگر کوئی عورت میری زندگی میں ہوتی تو میں اپنے ہاتھ سے گزارا نہیں کرتا . آنٹی میں تو کافی عرصے سے کوئی قابل اعتماد پارٹنر کی تلاش میں ہوں جس کے ساتھ مزہ کر سکوں لیکن ابھی تک اِس میں کامیابی نہیں ہوئی ہے . لیکن اگر اور پِھر میں چُپ ہو گیا آنٹی نے میری طرف دیکھا اور بولی بیٹا بولو نہ چُپ کیوں ہو گئے ہو . میں نے کہا آنٹی آپ ناراض تو نہیں ہوں گی تو آنٹی نے کہا نہیں بیٹا میں ناراض نہیں ہوں گی . تو میں نے کہا آنٹی اگر آپ مجھ پر اعتماد کرتی ہیں تو میں آپ کے جذبات کی قدر کر سکتا ہوں آپ سے رشتہ قائم کر سکتا ہوں لیکن اگر آپ دِل سے راضی ہوں تو نہیں تو اگر آپ راضی نہیں ہیں تو پِھر بھی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ میں بھی کوئی اعتماد والا پارٹنر تلاش کر رہا ہوں . اور آپ کو بھی کسی کی ضرورت ہے . تو آنٹی نے میری طرف دیکھا پِھر دوبارہ منہ نیچے کر لیا اور کچھ دیر سوچتی رہی پِھر میری طرف دیکھا اور پِھر آگے ہو کر اپنے گرم اور نرم ملائم ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور مجھے فرینچ کس کرنے لگی . ایک لمبی سی فرینچ کس کر کر کے آنٹی نے اپنے آپ کو مجھے سے الگ کیا اور میری گردن میں بانہوں کو ڈال دیا اور بولی کا شی بیٹا مجھے پتہ ہے تمھارے اور میرا رشتہ اِس بات کی اِجازَت نہیں دیتا ہے . لیکن میں پِھر بھی اپنے دِل سے تمھارے ساتھ دینے کو تیار ہوں اب مجھے سے اور زیادہ اکیلا پن برداشت نہیں ہوتا . میں نے آنٹی کی طرف سے رضامندی دیکھی تو آنٹی کو اپنی طرف کھینچ لیا اور ان کو بیڈ پر لیٹا کر ان کے اوپر ہو کر ان کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چُوسنے لگا . آنٹی نے جب یہ دیکھا تو انہوں نے بھی کھل کر میرا ساتھ دینا شروع کر دیا . آنٹی کا کس کرنے کا اسٹائل بہت ہی دبنگ قسِم کا تھا ان کے ہونٹوں کی گرمی بتا رہی تھی کے آنٹی کے اندر آگ بھری ہوئی ہے . میں بھی مسلسل آنٹی کے ہونٹوں کو چوس رہا تھا اور آنٹی بھی جواب میں بھرپور ساتھ دے رہی تھی . میرے اور آنٹی کے درمیان ایک دوسرے کو چُوسنے اور چومنے کا سلسلہ تقریباً 5 سے 7 منٹ تک چلتا رہا . پِھر میں خود ہی آنٹی سے الگ ہو گیا . جب آنٹی کی آنکھوں میں دیکھا تو ایک نشہ اور سرخی تھی . میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی اصل مزہ لینا ہے تو آنٹی تھوڑا اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی کا شی مزہ تو لینا ہے لیکن ایک بات کا دَر ہے . تمھارے انکل دوسرے کمرے میں سو رہے ہیں اور یہاں یہ کام ہو نہیں سکتا ہے کیونکہ فیصل کسی بھی وقعت اوپر سے آ سکتا ہے . مجھے پتہ ہے وہ سگریٹ پیتا ہے وہ چھت پر جا سگریٹ پی رہا ہو گا اور تھوڑی دیر میں آ جائے گا اِس لیے یہ کام تھوڑا آج مشکل لگ رہا ہے . میں تو فیصل کا جانتا تھا کے وہ کہاں پر ہے اور کیا کر رہا ہے اور کب تک واپس آئے گا اِس لیے میں نے کہا آنٹی جی آپ فیصل کی فکر نہیں کرو اس کے آنے سے پہلے ہم اپنا پورا پورا مزہ کر لیں گے بس آپ تیار ہو یا نہیں تو آنٹی نےحیرت سے میری طرف دیکھا اور پوچھا تمہیں کیسے پتہ کے لیٹ آئے گا تو میں نے کہا میں پِھر کسی وقعت آپ کو بتا دوں گا . لیکن ابھی ہمارے پاس ٹائم ہے اگر آپ نے مزہ لیام ہے توبتائیں تو آنٹی نے کہا ٹھیک ہے اگر تمہیں اتنا ہی یقین ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے تو میں نے کہا آنٹی جی آپ اپنے کپڑے اُتار دیں میں بھی اُتار دیتا ہوں پِھر جم کر مزہ لیتے ہیں تو آنٹی نے وہاں بیٹھے بیٹھے ہی اپنی قمیض اُتار دی آنٹی نے نیچے برا نہیں پہنی تھی ان کی موٹے موٹے گول مٹول گورے گورے ممے اچھل کر باہر آ گئے ان کی مموں پر برائون رنگ کی موٹے موٹے نپلز تھے . پِھر آنٹی نے اپنی شلوار جس میں لاسٹک ڈالا ہوا تھا وہ بھی ایک جھٹکے میں ہی اُتار دی اور شلوار کی نیچے بھی انہوں نے کچھ نہیں پہنا تھا انہوں نے اپنے کپڑے اُتار کر نیچے بیڈ کے پھینک دیئے اور اپنی ٹانگوں کو چوڑا کر کے بیڈ پر لیٹ گئی ان کی پھدی ڈبل رو ٹی کی طرح پھولی ہوئی تھی پھدی کا منہ درمیانے سائز کا تھا اور ان کی پھدی کلین شیوڈ تھی . میں نے اپنی شلوار اُتار دی میرا لن تو پہلے ہی مووی دیکھا کر کافی حد تک اکڑ کر کھڑا تھاآنٹی کی نظر جب میرے لن پر پڑی تو ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی انہوں نے ہاتھ آگے کر کے میرے لن پکڑ لیا اور اس کو اپنے نرم نرم ہاتھوں سے سہلانا شروع کر دیا اور اپنے ہونٹوں کو کاٹ کر بولیں کا شی تمھارا لن ہے بہت جاندار تمھارے انکل سے بھی بڑا اور موٹا ہے جو بھی تمہاری بِیوِی بنے گی وہ تو دن رات عیش کرے گی . میں آنٹی کی بات سن کر مسکرا پڑا اور بولا آنٹی جی آپ بھی تو ابھی عیش کرو گی . تو آنٹی بھی مسکرا پڑی اور پِھر بولی کا شی تم میرے اوپر آ جاؤ میں تمھارے لن کا چوپا لگا دیتی ہوں تم تھوڑا میری پھدی کو اپنی زُبان سے ٹھنڈا کر دو . میں آنٹی کی بات سن کر آنٹی کے اوپر آ گیا ہم دونوں 69 پوزیشن میں آ گئے تھے میں نے آنٹی کی پھدی کے پاس منہ کر کے سونگا تو مجھے ایک بھینی  بھینی  سی خوشبو آ رہی تھی جو میرے نتھنوں میں چڑھ کر مجھے ایک نشہ سا چڑھا رہی تھی . پِھر میں نے سب سے پہلے آنٹی کی پھدی کے ہونٹوں پر کس کی پِھر آنٹی کی پھدی کی ارد گرد کس کرنے لگا میرے کس کرنے سے آنٹی کا جسم آہستہ آہستہ لرز رہا تھا . دوسری طرف آنٹی نے میرے لن کی ٹوپی کو اپنے منہ میں لے لیا اور ٹوپی کے سوراخ پر اور باقی حصوں پر اپنی زُبان رگڑ نے لگی . کچھ دیر تک میرے لن کی ٹوپی کو اپنی زُبان کا جادو دیکھا کر پِھر آنٹی نے آہستہ آہستہ لن کو اپنے منہ کے اندر بھرنا شروع کر دیا آنٹی کا منہ بہت گرم تھا مجھے اپنے لن پر آنٹی کے منہ کی تپش محسوس ہو رہی تھی . اور دیکھتے ہی دیکھتے آنٹی نے تقریباً آدھے سے بھی زیادہ میرا لن اپنے منہ کے اندر لے لیا تھا .

اور اب اس پر اپنی زُبان کی گرفت مضبوط کر دی تھی . اور اپنی زُبان کو لن کے اوپر گول گول گھما کر اپنی زُبان سے لن کی مالش کر رہی تھی . آنٹی کا یہ اسٹائل میرے لیے بہت ہی مزے والا تھا . اور پِھر یہاں میں نے بھی اپنی زُبان سے آنٹی کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا تھا پہلے تو زُبان سے پِھر پھدی کے ہونٹوں کو کھول کر زُبان کو پھدی کے اندر گھما گھما کر میں آنٹی کی پھدی کی چاٹ رہا تھا . آنٹی کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا . اور آنٹی نے اپنی پھدی کا مزہ دیکھ کر میرے لن پر اپنے چو پے کو اور تیز کر دیا تھا اور جاندار چو پے لگا رہی تھی . پِھر یکدم ہی آنٹی کی پھدی نے جھٹکا لینا شروع کر دیا میں سمجھ گیا تھا اب آنٹی اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے اور میری مزید 2 منٹ کی پھدی کی سکنگ نے آنٹی کی پھدی کو ڈھیلا کر دیا اور آنٹی نے اپنی گرم گرم منی کا لاوا چھوڑنا شروع کر دیا . دوسری طرف میرے لن بھی کافی زیادہ تن گیا تھا اور لوہے کا راڈ بن گیا تھا میں آنٹی کے اوپر سے اٹھا اور بیڈ پر بیٹھ گیا . آنٹی کو کافی سانس چڑھا ہوا تھا کچھ دیر سانس بَحال ہونے کے بعد وہ بیڈسےاٹھی اور کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم میں چلی گئی اور اپنی پھدی کی صفائی کر کے واپس کمرے میں آئی اور دوبارہ اپنی ٹانگوں کو کھول کر لیٹ گئی میں آنٹی کا اشارہ سمجھ گیا تھا اِس لیے میں بھی اٹھا اور آنٹی کی ٹانگوں کے درمیان آ کر بیٹھ گیا . اپنے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر آنٹی کی پھدی کے منہ پر رکھا تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا تھوڑا آرام سے کرنا تمہارا کافی بڑا اور موٹا ہے میں نے 1 مہینے سے کچھ اندر نہیں لیا ہے . میں نے کہا آنٹی آپ بے فکر ہو جائیں لیکن تھوڑا بہت درد تو سہنا پڑے گا آنٹی میری بات سن کر مسکرا پڑی اور بولی ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہاری مرضی پِھر میں نے لن کو پھدی کے منہ پر سیٹ کیا تو آنٹی نے خود ہی اپنی ٹانگوں کو اٹھا کر میرے کندھوں پر رکھ دیا میں نے تھوڑا آگے ہو کر لن کو پھدی کے اندر دبایا تو میرے لن کو آنٹی کی پھدی کا نرم ملائم لمس محسوس ہو کر جھٹکا لگا آنٹی کا پورا جسم روئی کی طرح نرم ملائم تھا . پِھر میں نے لن کو موری پر سیٹ کیا تھوڑا زور سے پُش کیا تو ایک پچ کی آواز نکلی اور میرے لن کی ٹوپی آنٹی کی پھدی کے اندر چلی گئی آنٹی کے منہ سے لمبی سی آہ کی آواز آئی اور بولی بیٹا آرام سے کرو کیوں اپنی آنٹی کو مارنا چاہتے ہو . پِھر میں نے اپنے لن پر آہستہ آہستہ زور دینا شروع کر دیا آنٹی کی پھدی کی اندرونی دیواروں میں میرا لن پھنسا ہوا تھا آنٹی کی پھدی واقعہ میں ہی اچھی خاصی ٹائیٹ تھی اور گرم بھی کافی تھی . میں اپنے لن کو پھدی کے اندر دبا رہا تھا میرے لن کو اندر دبانے سے آنٹی کا چہرہ بتا رہا تھا کے ان کو مزہ بھی اور تکلیف بھی ہو رہی تھی . جب میرا آدھا لن آنٹی کی پھدی کے اندر گھس گیا تو میں تھوڑی دیر کے لیے رک گیا آنٹی لمبی لمبی سانس لے رہی تھی . پِھر 1 منت کے بعد میں نے پِھر لن کو اندر کرنا شروع کر دیا آنٹی کی پھدی کی گرپ بہت ٹائیٹ ہو چکی تھی جب میرا 1 انچ یا کچھ زیادہ لن باقی رہ گیا تو مجھے محسوس ہوا جیسے آنٹی کی پھدی ہی ختم ہو گئی ہو اور مزید لن اندر نہیں جا رہا تھا میں کافی دیر کوشش کرتا رہا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا پِھر میں نے آگے ہو کر آنٹی کے منہ کو اپنے منہ میں لے لیا اور ان کے ہونٹوں کا رس چُوسنے لگا اور یکدم ایک زور کا جھٹکا مارا اور اپنا باقی لن آنٹی کی پھدی کے اندر اُتار دیا . آنٹی کے منہ سے ایک چیخ نکلی لیکن میں نے پہلے ہی ان کے منہ کو اپنے منہ میں لیا ہوا تھا اِس لیے ان کی چیخ کی آواز میرے منہ کے اندر ہی رہ گئی پِھر کچھ دیر بعد میں نے آنٹی کا منہ چھوڑا تو ان کا چہرہ دیکھا تو وہ لال سرخ ہوا تھا اور ان کو کافی تکلیف بھی محسوس ہو رہی تھی کچھ دیر بعد آنٹی بولی کا شی بیٹا تم نے تو آج مجھے مار دیا ہے . تمھارے آخری جھٹکے نے تو میری جان نکال دی تھی . تمہارا لن کافی بڑا اور موٹا ہے میری پھدی نے آج پہلی دفعہ اتنا موٹا اور بڑا لن اپنے اندر لیا ہے اِس لیے کافی تکلیف برداشت کرنا پڑ رہی ہے . میں نے کہا آنٹی جی کوئی بات نہیں ہے بس ایک دفعہ لن پورا اندر لے لیا ہے اب آگے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا آپ کی پھدی نے میرے لن کی جگہ بنا لی ہے اب آگے سے یہ آپ کو اصلی مزہ دیا کرے گا . پِھر کچھ دیر رکنے کے بعد میں نے اپنے لن کو آنٹی کی پھدی کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا ابھی میں آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کر رہا تھا کیونکہ مجھے اندازہ تھا کے آنٹی کی تکلیف ابھی کم نہیں ہوئی ہے میں تقریباً 5 منٹ تک آرام آرام سے لن کو پھدی کے اندر باہر کرتا رہا جب کچھ دیر بعد آنٹی کی لذّت بھری سسکیاں میرے کان میں پڑی تو میں سمجھ گیا تھا کے اب آنٹی کو مزہ آ رہا ہے اور پِھر میں نے بھی اپنی سپیڈ تیز کر دی تھی رات کا ٹائم تھا ہر طرف خاموشی تھی میں جب آنٹی کی پھدی میں جھٹکے مار رہا تھا تو میرے اور آنٹی کے جسم آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے دھپ دھپ کی آوازیں گونج رہیں تھیں . میرے دھکوں میں بھی تیزی آ گئی تھی کیونکہ آنٹی کی سسکیوں آہ آہ آہ آہ اوہ اوہ آہ اوہ آہ اوہ نے میرا جوش اور بڑھا دیا تھا . آنٹی نے اپنی ٹانگیں میرے کاندھے پر رکھی ہوئی تھیں لیکن جب میں اپنی سپیڈ سے ان کی پھدی میں دھکے لگا رہا تھا توانہوں نے اپنی ٹانگوں کو میری کمر کے پیچھے کر کے جڑے لیا تھا اور وہ سسکیاں لے رہی تھی آہ آہ کا شی بیٹا اور زور سے کرو بیٹا آج پھاڑ دو اپنی آنٹی کی پھدی کو بیٹا بہت عرصے بعد اصلی لن کا مزہ ملا ہے آہ آہ اوہ آہ  … آنٹی کی سسکیوں نے میرا جوش اور زیادہ بڑھا دیا تھا میں نے اپنی فل سپیڈ کے ساتھ جھٹکے لگانے شروع کر دیئے تھے . میرے مزید طوفانی جھٹکوں نے آنٹی کی پھدی کو ڈھیلا کر دیا اور آنٹی کا جسم ا کڑ نے لگا اور کچھ ہی سیکنڈ میں آنٹی کی پھدی نے اپنا گرم گرم پانی چھوڑ دیا جو مجھے اپنے لن پر بھی گرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا . آنٹی کی پھدی کا پانی کافی زیادہ گرم تھا جس نے میرے لن میں بھی حرارت پیدا کر دی تھی اور میرے لن میں بھی ہلچل شروع ہو گئی تھی میں نے پِھر آخری 2 سے 3 منٹ مزید اپنی پوری طاقت سے آنٹی کی پھدی میں دھکے پر دھکے لگائے اور پِھر آخری جھٹکے میں اپنی منی کا فوارہ آنٹی کی پھدی کے اندر ہی چھوڑنا شروع کر دیا 10 سے15منٹ کی چدائی سے میں تھک چکا تھا اور میں اب آنٹی کے اوپر ہی گر کر بری طرح ہانپ رہا تھا . میرا لن آنٹی کی پھدی میں ہی مسلسل پانی چھوڑ رہا تھا جب میرے لن نے منی کا آخری قطرہ بھی نکال دیا تو میں پِھر آنٹی کے اوپر سے ہٹ کر ایک سائڈ پر لیٹ گیا اور اپنی سانسیں بَحال کرتا رہا آنٹی بھی کافی زیادہ تھک چکی تھیں وہ بھی لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی . 5 منٹ بعد آنٹی ننگی ہی بیڈ سے اٹھ کر باتھ روم میں چلی گئی . اور باتھ روم میں کچھ دیر بعد فریش ہو کر باہر آ کر ننگی ہی بیڈ پر لیٹ گئی پِھر ان کے بعد میں باتھ روم میں چلا گیا اور اپنے لن کو اچھی طرح دھو کر اور اپنا منہ ہاتھ دھو کر دوبارہ آ کر آنٹی کے ساتھ لیٹ گیا . آنٹی نے کہا کا شی تم واقعہ ہی کمال کی چدائی کرتے ہو آج مجھے زندگی میں اصلی مزہ ملا ہے میری پھدی کو سہی رگڑ کر چودا ہے تم نے اور مجھے خوشی ہے کے مجھے جم کر چودنے والا پارٹنر مل گیا ہے لیکن کا شی بیٹا مجھ سے وعدہ کرو تم مجھے یوں ہی مزہ دو گے اور خوش رکھو گے تو میں نے کہا آنٹی جی آپ کیوں فکر کرتی ہیں میں آپ کو جب آپ کا دِل کر گا خوش کر دیا کروں گا . پِھر آنٹی نے کہا کا شی بیٹا مجھے اب چلنا چاہیے کافی دیر ہو چکی ہے فیصل آتا ہی ہو گا . اس کو بہت سی گندی عادت پر گئی ہے سگریٹ پینے کی اور پِھر آنٹی خاموش ہو گئی میں نے کہا آنٹی آپ چُپ کیوں ہو گئی ہیں اور کیا ؟ تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا میں تمہیں ایک بات بتا دیتی ہوں لیکن وعدہ کرو تم یہ بات اپنے تک رکھو گے کسی سے بھی اِس بات کا ذکر نہیں کرو گے نہیں تو ہماری بہت بدنامی ہو گی . میں نے کہا آنٹی جی آپ لوگوں کی بدنامی میری بدنامی ہے آپ بے فکر ہو جائیں آپ کھل کر بتائیں کیا مسئلہ ہے تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا فیصل کوایک دفعہ میں نے بہت حیران کن کام کرتے دیکھا تھا اس دن سے میں فیصل کی وجہ سے پریشان رہتی ہوں . میں نے کہا آنٹی جی آپ کھل کر بتائیں آپ نے کیا دیکھا ہے تو آنٹی نے کہا بیٹا آج سے تقریباً 1 سال پہلے دن کے وقعت میں گھر سے باہر مارکیٹ کچھ چیزیں خریدنے کے لیے گئی ہوئی تھی تو جب میں مارکیٹ سے کوئی 1 گھنٹے بعد واپس گھر آئی تو میرے پاس اپنے گھر کی چابی ہوتی ہے میں خود ہی دروازہ کھول کر گھر کے اندر آ گئی اور مارکیٹ سے لائی ہوئی چیزوں کو کچن میں رکھ دیا میں مارکیٹ سے جو چیزیں لے کر آئی تھی اس میں چاول میں دکان پر ہی بھول آئی تھی میں نے سوچا میں فیصل کو بھیج کر منگوا لیتی ہو اِس لیے ہی میں کچن سے نکل کر فیصل کے کمرے کی طرف چلی گئی جب میں فیصل کے کمرے کے دروازے پر آئی تو مجھے دروازے کے پاس ہی ایک زور کا جھٹکا لگا کیونکہ کمرے کے اندر سے مجھے عجیب عجیب سی آوازیں آ رہی تھیں اور یہ آوازیں کسی عورت کی محسوس ہو رہیں تھیں . میں ایک دم چونک گئی کے فیصل کے کمرے میں یہ عورت کون ہے اور یہ آوازیں کیسی ہیں اب میں شادی شدہ عورت ہوں اِس لیے میں ان آوازوں کو فوراً پہچان گئی اور میرے دِل کی دھڑکن تیز ہو گئی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کے فیصل اندر کسی عورت کے ساتھ کیا کر رہا ہے اور یہ عورت کون ہے . میں نے سوچا کے میں دروازہ کھول کر دیکھتی ہوں جب میں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو دروازہ اندر سے بند تھا . مجھے غصہ بھی بہت آیا لیکن پِھر میں نے سوچا کے اندر کیسے دیکھوں یکدم میرے دماغ میں آیا کے باہر والی سائڈ پر جو فیصل کے کمرے کی کھڑکی ہے اس کا شیشہ کچھ دن پہلے بال لگنے کی وجہ سے تھوڑا ٹوٹ گیا تھا شاید وہاں سے ہی کچھ اندر دیکھ سکوں میں یہ ہی سوچتے ہوئے کھڑکی کی طرف چلی گئی جب میں کھڑکی کے پاس آئی تو دیکھا شیشے میں سے تو دیکھا جا سکتا ہے لیکن شیشے کے آگے پردہ آیا ہوا ہے . میں نے یہاں وہاں دیکھا اور مجھے باہر صحن میں لکڑی کی ایک چھوٹی سی چھڑی یاد آئی میں فوراً صحن میں گئی وہ چھڑی اٹھا کر دوبارہ کھڑکی کے پاس آئی اور کھڑکی کے ایک سائڈ پر ہو کر میں نے جہاں سے شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اس میں سے چھڑی کو تھوڑا اندر کر کے پردے کو چھڑی کی مدد سے تھوڑا سا ہٹا کر اندر کی طرف آنکھ لگا کر دیکھا تو اندر کا جو منظر میری آنکھوں نے دیکھا وہ میرا دِل دھہلا دینے کے لیے کافی تھا میں حیرت بھری آنکھوں سے اندر کا سارا منظر دیکھ رہی تھی اور میرا سانس رکنے لگا تھا اور میں اندر کا منظر 2 منٹ سے زیادہ نہ دیکھ سکی اور آہستہ سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آ کر دروازہ بند کر کے اپنے بیڈ پر لیٹ گئی

مجھے ٹھنڈے پسینے آ رہے تھے . میں نے جو دیکھا مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا . کیونکہ اندر فیصل اور میری سگی بہن مطلب فیصل اور اس کی خالہ دونوں ننگے بیڈ پر تھے اور فیصل اپنی خالہ نوشین کو گھوڑی بنا کر چو د رہا تھا اور جو آوازیں باہر آ رہیں تھیں وہ میری بہن نوشین کی تھیں . میں یہاں آنٹی کی بات سن کر خود حیران ہوا کے آنٹی کو فیصل اور نوشین آنٹی کا پتہ ہے لیکن آنٹی کو فوزیہ آنٹی کا شاید پتہ نہیں ہے . پِھر آنٹی نے کہا میں اس دن سوچتے سوچتے سو گئی شام کو میں جب جاگی تو باہر ٹی وی لاؤنج میں آئی تو سامنے نوشین بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی مجھے دیکھا تو بولی باجی آپ اٹھ گئی ہیں میں بھی دن کو آئی تھی جب آپ مارکیٹ گئی ہوئی تھیں . مجھے غصہ تو بہت تھا لیکن میں نے اس کو محسوس نہیں ہونے دیا اور بولی کے ہاں میں واپس آ کر تھک گئی تھی اِس لیے سو گئی تم سناؤ کیا حال ہے بچے کیسے ہیں . بس کا شی مجھے پتہ ہے فیصل نوشین کے ساتھ کرتا ہے اس کے گھر جا کر بھی کر لیتا ہے لیکن مجھے آج تک نہ ہی اپنی بہن سے بات کرنے کی ہمت ہوئی ہے نہ ہی فیصل سے . میں نے کہا آنٹی آپ کو بات کرنے کی کیا ضرورت ہے آپ ان دونوں کو مزہ کرنے دو . آنٹی نے کہا بیٹا تم کیا کہہ رہے ہو یہ گناہ ہے تو میں نے کہا آنٹی جی میں نے اور آپ نے جو کیا یہ گناہ نہیں ہے کیا تو آنٹی میری بات سن کر سوچنے لگی . میں نے کہا آنٹی میری بات غور سے سنیں اگر آپ کا بیٹا فیصل باہر کسی غلط جگہ منہ مارتا اور پکڑا جاتا تو بدنامی کس کی ہونی تھی اور اگر آپ کی بہن باہر کہیں منہ مارتی تو پِھر بدنامی کس کی ہونی تھی دونوں حالت میں آپ کی ہی بدنامی ہونی تھی آپ کا بیٹا بھی جوان ہے اس کے نیچے بھی لن لگا ہوا ہے اس کو بھی طلب ہے آپ کی بہن بھی ایک قسم کی جوان بیوہ عورت ہے اس کے بھی جذبات ہیں اگر گھر میں ہی وہ آپس میں ایک دوسرے کو مزہ دے رہے ہیں تو کون سی غلط بات ہے . گھر کی بات گھر میں ہی رہ جائے گی . بدنامی کا دَر بھی نہیں ہو گا اور دونوں کو مزہ بھی پورا ہوتا رہے گا اب آپ اپنی مثال ہی لے لیں اگر آپ اپنے جذبات سے تنگ آ کر باہر کوئی غلط قدم اٹھا لیتی تو نقصان یا بدنامی آپ کو ہی ہونی تھی باہر کا بندہ تو بلیک میل بھی کر سکتا ہے . اب وہ ہی مزہ میں آپ کو دے رہا ہوں آپ کو دَر نہیں ہے نہ میں تو آپ کا اپنا ہوں میں تو آپ کی بات کسی کی نہیں بتاؤں گا کیونکہ گھر کی بات لوگوں کو بتا دوں گاتو میری اپنی بدنامی ہے . آنٹی میری پوری بات کو سمجھ چکی تھیں پِھر کچھ دیر بعد بولیں کا شی بیٹا تم واقعی ہی ٹھیک کہہ رہے ہو میں نے کبھی بھی اِس حساب سے نہیں سوچا تھا . پِھر آنٹی نے کہا لیکن کا شی بیٹا تم کہہ رہے تھے وہ اتنی جلدی واپس نہیں آئے گا تمہیں کیسے پتہ ہے وہ تو بس سگریٹ پینے کے لیے اوپر آخری چھت پر جاتا ہے پِھر کوئی آدھے گھنٹے بعد آ جاتا ہے . تو میں نے کہا آنٹی جی آپ بھی کمال کرتی ہیں آپ کو یہ تو پتہ ہے فیصل نوشین آنٹی کے ساتھ مزہ کرتا ہے لیکن آپ کو آج تک یہ ہی پتہ نہیں چل سکا کے آپ کے اِس ہی گھر میں آپ کا بیٹا کسی اور کے ساتھ بھی مزہ کرتا ہے . آنٹی حیرت بھری آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگی اور کچھ دیر بعد بولی کا شی بیٹا تم کہنا کیا چاہتے ہو . تو میں نے کہا آنٹی جی میں آپ کو یہاں ہی کچھ اپنے موبائل میں بھی دیکھا سکتا ہوں لیکن شاید آپ کو یقین یا مزہ نہ آئے اِس لیے میں آپ کودیکھانا چاہتا ہوں اگر آپ دیکھنا چاہتی ہیں تو بتائیں تو آنٹی نے کہا کیا مطلب ہے میں اٹھ کر اپنی شلوار پہنی اور آنٹی کو بولا آپ اپنے کپڑے پہنو میں آپ کو دکھاتا ہوں آنٹی نے اپنی شلوار پہنی اور پِھر قمیض برا اور انڈرویئر تو انہوں نے پہلے ہی نہیں پہنا ہوا تھا میں ان کو لے کر کمرے سے نکلا اور ان کو خاموشی سے کہا آپ میری پیچھے پیچھے بغیر آواز کیے ہوئے آؤ میں آگے ہو کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر آ گیا آنٹی بھی میرے پیچھے تھی . اور میرا یقین بالکل سچ ثابت ہوا جس کمرے میں فیصل اور آنٹی فوزیہ پہلے چدائی کرتے تھے اس کمرے سے ابھی بھی روشنی آتی ہوئی نظر آ رہی تھی . آنٹی میرے پیچھے پیچھے اوپر آ گئی آنٹی نے اشارے سے پوچھا کیا کر رہے ہو میں نے اشارے سے کہا آپ بس میرے پیچھے آتی جاؤ میں نے ٹیر س والی سائڈ کا دروازہ بہت ہی آہستہ سے کھول دیا اور آنٹی کو اشارے کیا کے وہ ٹیر س  پر آ جائے جب میں اور آنٹی ٹیر س  پر آ گئے تو میں نے دروازہ ٹیر س  والی سائڈ سے بند کر دیا تا کہ کوئی شق پیدا نہیں ہو میں ٹیر س  پر جا کر کمرے کی اس کھڑکی پاس چلا گیا جو ٹیر س  کی طرف بنی ہوئی تھی . آنٹی بھی خاموشی سے میرے پیچھے چلتی ہوئی آ گئی اور میرے بالکل قریب آ کر کھڑی ہو گئی اور میرے کان میں آہستہ سے بولی کا شی بیٹا یہاں کیا کر رہے ہو کیا دیاھطنا ہے مجھے تو میں نے کہا آنٹی جی اپنی آنکھوں کو کھول لو ابھی آپ جو دیکھو گی آپ کو ایک جھٹکا لگنے والا ہے پِھر میں نے آگے ہو کر کھڑکی کے پاس ہو کر اندر کی طرف دیکھا قسمت اچھی تھی اس دن کی طرح آج بھی پردہ کھڑکی سے ہٹا ہوا تھا میں نے اندر دیکھا تو پہلے تو میرے اپنے لن کو ایک جھٹکا سا لگا کیونکہ اندر کا سین ہی کچھ ایسا تھا فوزیہ آنٹی گھوڑی بنی ہوئی تھی ان کا منہ کھڑکی کی مخالف سمت میں تھا پر فیصل پیچھے سے اپنی زُبان کے ساتھ ان کی گانڈ کی موری کو چاٹ رہا تھا . میرا لن تو جھٹکے کھانے لگا تھا پِھر مجھے ہوش آیا میں تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور پِھر آنٹی کو رستہ دے کر آگے کیا اور ان کے کان میں کہا آنٹی جی کھڑکی کی سائڈ سے اندر دیکھو زیادہ آگے نہیں جانا نہیں تو وہ آپ کو دیکھ لیں گے آنٹی آگے ہوئی اور کھڑکی کے پاس جا کر تھوڑا سا آگے ہو کر اندر دیکھنے لگی میں اب آنٹی کے پیچھے کھڑا تھا آنٹی نے کوئی 1 منٹ اندر کا سین دیکھا اور پِھر یکدم پیچھے ہو گئی ان کا سانس پھولا ہوا تھا.و ہ لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی . تقریباً 2 سے 3 منٹ بعد جب ان کی سانس کچھ بہتر ہوئی تو میں نے اپنے منہ کو ان کے کان کے پاس لے جا کر کہا کیوں آنٹی کیسا لگا اپنےبیٹےاور اس کی پھو پھو کا جھٹکا آنٹی نے میری طرف دیکھا پِھر کچھ دیر خاموش رہی پِھر کچھ دیر بعد خود ہی بولی کا شی بیٹا یہ کیا  میں حقیقت میں دیکھ رہی ہوں یا خواب ہے تو میں نے کہا آنٹی جی یہ حقیقت ہے . آنٹی نے کہا تم یہ سب کب سے جانتے ہو پِھر میں نے ان کو آخری دفعہ والی پوری اسٹوری سنا دی . پِھر کچھ دیر بعد آنٹی نے پِھر اندر دیکھنا شروع کر دیا میں پیچھے پیچھے تھا لیکن مجھے نہیں پتہ تھا اب اندر کون سا سین چل رہا ہے لیکن میں اندازہ لگا سکتا تھا کے فیصل فوزیہ آنٹی کی گانڈ مار رہا ہو گا . اب کی بار آنٹی لگن کے ساتھ اندر دیکھ رہی تھی یکدم میری نظر آنٹی پر پڑی تو میں حیران ہوا کیونکہ آنٹی نیچے سے اپنی شلوار میں ہاتھ ڈال کر اپنی پھدی کو بھی مسل رہی تھی . پِھر مجھے بھی جوش آ گیا میرا لن تو پہلے ہی فوزیہ آنٹی کی گانڈ کو دیکھ کر کھڑا ہو چکا تھا . میں نے اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر آنٹی کے پیچھے کھڑا ہو کر آنٹی کی گانڈ کی دراڑ میں پھنسا دیا اور ہلکا ہلکا آگے پیچھے ہونے لگا آنٹی نے پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا اور ایک نشیلی سی سمائل دی اور پِھر آگے دیکھنے لگی اور اپنی گانڈ کو بھی ہلکی ہلکی میرے لن پر دبانے لگی . پِھر کچھ ہی دیر میں میرا لن آنٹی کی گانڈ کی گرمی کی وجہ سے بہت زیادہ جوش میں آ گیا تھا اور مجھے کافی دن ہو گئے تھے کسی لڑکی کی گانڈ مارے ہوئے آخری دفعہ حنا کی گانڈ ہوٹل میں ماری تھی . میں نے آنٹی کے کان میں کہا آنٹی جی اگر آپ برا نہ مانو تو جیسے فیصل فوزیہ آنٹی کی گانڈ مار رہا ہے کیا میں بھی یہاں آپ کی گانڈ میں لن ڈال سکتا  ہوں تو آنٹی نے پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا اور پِھر بولی کا شی یہاں میری آواز اندر بھی جا سکتی ہے تو میں نے کہا جب فوزیہ آنٹی اپنی آوازیں نکالنا شروع کرے گی آپ بھی نکلتی رہنا ان کو سمجھ نہیں آئے گی تو آنٹی نے کہا ٹھیک ہے لیکن پہلے مجھے تمھارے لن کو تھوڑا گھییلا کرنے دو یہ بہت موٹا ہے میری گانڈ پھاڑ کر رکھ دے گا میں نے کہا ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی پِھر آنٹی نیچے ہو کر بیٹھ گئی میری شلوار کا ناڑہ کھولا اور میرے لن کو اپنے منہ میں لے لیا اور تقریباً 2 سے 3 منٹ چوپا لگا کر اس پر اپنے منہ کا کافی زیادہ تھوک بھی مل دیا پِھر وہ کھڑی ہو گئی اور اپنی لاسٹک والی شلوار اُتار کر گھٹنوں تک کر دی اور تھوڑا سا اپنے جسم کو آگے جھکا کر گھوڑی اسٹائل میں ہو گئی اور پیچھے مڑ کر مجھے اشارے کیا کے اب اندر ڈالو اور خود اندر کا نظارہ دیکھنے لگی . میں نے اپنے منہ سے تھوک نکال کر آنٹی کی قمیض کو پیچھے سے گانڈ سے اٹھا کر ان کی گانڈ کی موری پر لگا دیا پِھر تھوڑا اور تھوک نکال کر انگلی سے آنٹی کی گانڈ میں بھی لگا دیا آنٹی کی گانڈ کافی نرم تھی . پِھر میں نے اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر آنٹی کی گانڈ کی موری پر سیٹ کیا اور ہلکا سا زور لگا کر پُش کیا تو ایک پچ کی آواز سے میرے لن کی ٹوپی گانڈ میں چلی گئی . آنٹی کی گانڈ نہ اتنی ٹائیٹ تھی نہ اتنی کھلی تھی . اِس لیے میری ٹوپی جب اندر گئی تو آنٹی کو شاید زیادہ تکلیف محسوس نہ ہوئی یا شاید ان کو تکلیف ہوئی ہو گی لیکن وہ آواز نہ کوئی سن لے اِس لیے برداشت کر گئی ہیں . پِھر میں نے آہستہ آہستہ لن کو آنٹی کی گانڈ کے اندر کرنا شروع کر دیا جب میرا آدھا لن آنٹی کی گانڈ میں چلا گیا تو آنٹی نے اپنا ہاتھ پیچھے کر کے میرے پیٹ پر رکھ کر مجھے رکنے کا اشارہ کیا میں وہاں ہی رک گیا پِھر آنٹی نے نیچے ہاتھ کر کے میرے لن پر رکھ کر چیک کیا شاید وہ یہ چیک کر رہی تھیں کے کتنا باقی رہ گیا ہے . پِھر انہوں نے ہاتھ اٹھا لیا اور مجھے آہستہ آواز میں کہا کا شی بیٹا اتنا ہی اندر باہر کر لو تمہارا کافی موٹا اور بڑا ہے یہ میری گانڈ کو پھاڑ دے گا تو میں نے کہا آنٹی جی سیکس میں جب تک تھوڑی بہت تکلیف نہ ہو تو مزہ ہی نہیں آتا ہے پلیز تھوڑا سا اور برداشت کر لو میں بہت آہستہ آہستہ اندر کر رہا ہوں پِھر آنٹی نے اپنے دو دو پےن کا پوک اپنے دانتوں میں دے دیا میں سمجھ گیا کے اب آنٹی تیار ہے میں نے بھی پِھر لن کو آہستہ آہستہ نادر کرنا شروع کر دیا آنٹی کی گانڈ اب مجھے اپنے لن پر کافی ٹائیٹ ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی . لیکن میں پِھر بھی اپنے لن کو گانڈ کے اندر دبا رہا تھا جب میرا لن کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تو مجھے لگا اب شاید کوئی زو ر لگایا تو آنٹی کی برداشت سے بات باہر نہ ہو جائے اِس لیے میں نے مزید آگے کرنا مناسب نہیں سمجھا اور 1 منٹ کے بعد ہی لن کو وہاں تک ہی اندر باہر کرنے لگا میں بہت ہی آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کر رہا تھا میرا لنڈپھنس پھنس کر اندر باہر ہو رہا تھا آنٹی بدستور اندر ہی دیکھ رہی تھی میں تقریباً 5 منٹ تک آہستہ آہستہ لن کو گانڈ کے اندر باہر کرتا رہا جب کافی دیر بعد میرے لن نے گانڈ کے اندر اپنا رستہ بنا لیا تو پِھر میں نے اپنی رفتار کو تھوڑا تیز کر دیا آنٹی کو بھی شاید اب کچھ راحت محسوس ہو گئی تھی انہوں نے بھی اپنی گانڈ کو حرکت دینا شروع کر دی اور میرے دھکوں کے ساتھ اپنی گانڈ کو آگے پیچھے کرنے لگی . پِھر میں نے جب دیکھا آنٹی کو بھی کافی مزہ آ رہا ہے میں نے اپنا ایک ہاتھ آنٹی کے منہ پر رکھا اور ایک زور کا جھٹکا مارا اور اِس دفعہ میرا پورا لن جڑ تک آنٹی کی گانڈ میں اُتار دیا مجھے پتہ تھا آنٹی کو شدید درد ہوا ہو گا اور ان کی چیخ بھی نکلی ہو گئی لیکن میرا ہاتھ منہ پر ہونے کی وجہ سے آواز باہر نہ نکل سکی اور پِھر میں لن کو ایسے ہی اندر باہر کرتا رہا پِھر کچھ دیر بعد آنٹی کے منہ سے ہاتھ ہٹا دیا آنٹی نے پیچھے مڑ کر مجھے ناراض نظروں سے دیکھا اور پِھر ایک سمائل بھی دے دی میں خوش ہو گیا اور پِھر لن کو گانڈ کے اندر باہر کرنے لگا میں نے آگے ہو کر آنٹی کو کہا آنٹی جی اندر کا سین کیا ہے تو آنٹی نے کہا فیصل فوزیہ کی گانڈ میں لن اندر باہر کر رہا ہے پِھر میں یہ سن کر اور جوش میں آ کر لن کو آنٹی کی گانڈ کے اندر باہر کرنے لگا مجھے آنٹی کی گانڈ مارتے ہوئے تقریباً 10 منٹ کا ٹائم ہو چکا تھا اور کھڑا ہو کر چودنے میں میری ٹانگوں میں ہمت جواب دے رہی تھی پِھر میں نے بھی اپنی پوری طاقت سے لن کو کو گانڈ کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا اور مزید 2 منٹ کے دھکوں کے بعد میں نے آنٹی کی گانڈ میں ہی اپنا گرم گرم پانی چھوڑا دیا . اور آنٹی کی کمر پر سر رکھ کر ہانپنے لگا جب آنٹی کی گانڈ نے میری منی کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا تو میں پیچھے ہو کر اپنا لن نکال لیا آنٹی بھی سیدھی ہو گئی اور اپنی شلوار پہن لی اور میرے کان میں کہا وہ دونوں بھی اندر جلدی فارغ ہونے والے ہیں ان سے پہلے پہلے یہاں سے نکل جانا چاہیے پِھر میں اور آنٹی خاموشی سے دروازہ بند کر کے نیچے آ گئے میں فیصل والے کمرے میں آ کر سو گیا

اور آنٹی اپنے کمرے میں چلی گئی میں فیصل والے کمرے میں آ کر تھک کر بیڈ پر لیٹ گیا اور پتہ ہی نہیں چلا سو گیا صبح آنٹی نے ہی آ کر جگایا اور کہا کا شی بیٹا اٹھ جاؤ ناشتہ تیار ہے اور میں اٹھ کر نہا دھو کر فریش ہوا اور ناشتہ کیا فیصل ابھی بھی ٹی وی لاؤنج کے صوفے پر سویا ہوا تھا میں ناشتہ کر کے آنٹی سے اِجازَت لے کر اپنے گھر آ گیا . آنٹی کی پھدی اور گانڈ مار کر میں کافی سکون میں ہو گیا تھا اور مجھے اندر ہی اندر یہ بھی خوشی تھی کے جب کوئی اور جگاڑ نہیں ہو گاتو آنٹی کے ساتھ مزہ کر کے ٹائم پاس کیا جا سکتا تھا اور سب سے بڑا فائدہ یہ کے مجھے فوزیہ آنٹی کی تک پہنچنے تک آنٹی کی مدد بھی حاصل ہو جائے گی . اگلا دن سوموار تھا اور میں اپنی روٹین کے مطابق اپنی پڑھائی میں مصروف ہو گیا تھا اور سوموار سے لے کر بدھ تک میں یونیورسٹی میں ہی مصروف تھا  بدھ  والے دن میں یونیورسٹی میں لیکچر لے رہا تھا . اچانک مجھے کسی اجنبی نمبر سے کال آئی میں لیکچر کے دوران اپنا موبائل زیادہ تر وائیبریشن پر ہی رکھتا تھا اِس لیے جب میرا موبائل وائیبریٹ ہوا تو میں نے موبائل چیک کیا تو کوئی اجنبی نمبر تھا اور میں لیکچر کے دوران کال بھی پک نہیں کر سکتا تھا اِس لیے اس اجنبی نمبر سے مجھے دو دفعہ کال آئی لیکن مجبوری کی وجہ سے میں پک نہ کر سکا پِھر کوئی 5 منٹ بعد اس اجنبی نمبر سے مجھے میسیج آیا کے میں حنا کی دوست مسرت ہوں یہ میرا نمبر ہے آپ میری کال کیوں نہیں پک کر رہے ہیں تو میں نے فوراً جوابی میسیج بھیجا کے میں معافی چاہتا ہوں ایک تو میں یونیورسٹی میں ہوں اور لیکچر لے رہا ہوں کال پک نہیں کر سکتا دوسرا مجھے نہیں پتہ تھا یہ آپ کا نمبر ہے . پِھر میں نے ایک اور میسیج بھیجا کے آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا ہے تو کچھ دیر بعد مسرت کا میسیج آیا میں نے آپ کا نمبر حنا کے موبائل سے لیا ہے اس کو نہیں پتہ ہے آپ بھی اس کو نہیں بتانا تو میں نے کہا مسرت جی کوئی بات نہیں ہے آپ فکر نہ کریں میں حنا کو نہیں بتاؤں گا . میں نے مسرت سے پوچھا کے آپ نے آج ہمیں کیسے یاد کر لیا ہے تو مسرت کا میسیج آیا کے آپ تو مجھے بھولے ہی نہیں ہیں جب سے آپ سے اس رات مزہ لیا ہے میرا تو سکون ہی آپ نے چھین لیا ہے . میں نے کہا مسرت جی آپ بھی کوئی کم مزہ نہیں دیتی ہیں مجھے بھی آپ کے ساتھ اس رات بہت مزہ آیا تھا . پِھر کچھ دیر مسرت کا کوئی میسیج نہیں آیا میرا لیکچر بھی ختم ہونے والا تھا پِھر 1 گھنٹے وقفہ تھا پِھر ایک اور لیکچر تھا جیسے ہی لیکچر ختم ہوا تو میں یونیورسٹی کے پارک میں آ گیا اور مسرت کے نمبر پر کال ملا دی 2 یا 4 بیل کے بعد ہی اس نے کال پک کی اور مجھے کہا میں 2 منٹ بعد آپ کو مس کال کرتی ہوں پِھر آپ کال کرنا میں نے کہا ٹھیک ہے . کوئی 5 منٹ کے انتظار کے بعد مسرت کی مس کال آئی اور پِھر میں نے کال ملا دی 2 بیل کے بعد ہی اس نے کال پک کی اور بولی اصل میں نیچے ہاسٹل کی شاپ پر کھڑی تھی ابھی اپنے کمرے میں آئی ہوں اب کھل کر بات کر سکتی ہوں . پِھر میں نے کچھ دیر یہاں وہاں کی باتیں کی اور پِھر میں نے مسرت سے پوچھا خیر سے کال کی تھی تو اس نے کہا کیا واقعہ میں ہی آپ کو میرے ساتھ مزہ آیا تھا تومیں نے کہا ہاں مسرت جی بہت مزہ آیا تھا آپ کا جسم کافی اچھا اور سیکسی ہے مجھے بہت مزہ آیا تھاتومسرت نے کہا تو پِھر اِس جسم کا اور مزہ لینے کا موڈ ہے ؟ تو میں نے کہا کیوں نہیں مسرت جی کس کافر کو انکار ہو گاتو وہ بولی مجھے بھی بس اب آپ سے ملنے کے بعد آپ کی اور زیادہ طلب ہو گئی ہے اِس لیے میرا موڈ تھا میں اور آپ ایک اور ایک ساتھ ملاقات کریں . تو میں نے کہا کیوں نہیں مسرت جی مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں تو تیار ہی تیار ہوں . تو مسرت نے کہا اصل میں آپ کو کال بھی اِس لیے ہی کی تھی کے میری اِس پورےہفتے میں نائٹ ڈیوٹی ہے اور حنا کی ڈے ٹائم ڈیوٹی ہے اِس لیے میں سوچ رہی تھی کے کل جمعرات ہے اگر آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہو تو میں اور آپ کل دن کا پلان بنا کر ہوٹل میں چلتے ہیں اور وہاں کھل کا مزہ لے لیں گے اور وہاں آپ کی ایک اور خواہش پوری کر دوں گی آپ کو گانڈ مارنے کا شوق ہے نہ تو میں آپ کو اپنی کنواری گانڈ گفٹ میں دوں گی . میں مسرت کی بات سن کر ایک دم کھل اٹھا مسرت کی گانڈ حقیقت میں ہی کمال کی گول اور موٹی تازی پتلی کمر کے ساتھ بنی ہوئی تھی . میں نے کہا میں تیار ہوں آپ بتاؤ کب اور کیسے چلنا ہے تو اس نے کہا آپ کل یونیورسٹی جاؤ گے تو میں نے کہا میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں کل چھیک لے لوں گا تو مسرت نے کہا تو پِھر ٹھیک ہے میں آج نائٹ ڈیوٹی کر کے تقریباً صبح 5 بجے چھیئ کروں گی اور 12 بجے تک میں اپنی نیند پوری کر لوں گی آپ مجھے 1 بجے اسپتال کے باہر میں آپ کا انتظار کروں گی وہاں مجھے پک کر لینا اور پِھر ہم دونوں ہوٹل چلے جائیں گے وہاں اپنا مزہ پورا کر کے آپ مجھے 5 بجے سے پہلے پہلے اسپتال چھوڑ دینا کیونکہ میری 8 بجے ڈیوٹی ہو گی اور 5 بجے حنا چھٹی کر کے کمرے میں آ جائے گی میں اس کے آنے سے پہلے کمرے میں ہوں گی تو اس کو کسی قسِم کا شق نہیں ہو گا آپ بھی اس سے اِس بات کا ذکر نہیں کرنا نہیں تو وہ مجھے سے ناراض ہو جائے گی تو میں نے کہا مسرت جی آپ فکر کیوں کرتی ہیں . جیسا آپ کہیں گی ویسا ہی ہو گاتو مسرت نے کہا تو پِھر میری طرف سے پروگرام پکا ہے تو میں نے کہا ٹھیک ہے میری طرف سے بھی پکا ہے میں کل 1 بجے آپ کو اسپتال کے باہر پک کر لوں گا اور پِھر کچھ دیر مزید یہاں وہاں کی باتیں کر کے کال ختم ہو گئی اور میں بھی کافی خوش تھا کے کل ایک کنواری گانڈ ملے گی . پِھر میں یونیورسٹی سے فارغ ہو کر گھر واپس آ گیا تقریباً رات كے 7 بجے تھے میں اپنے بیڈروم میں لیپ ٹاپ لگا کر بیٹھا تھا یکدم میرے دماغ میں ایک خیال آیا میں نے فوراً اپنے وولٹ سے کارڈ نکالا جو مجھے اس رسپشن والی لڑکی نے دیا تھا جب میں اور حنا ہوٹل میں گئے تھے . میں نے کارڈ کی بیک سائڈ پر ایک نمبر لکھا تھا اس نمبر پر کال کی کوئی 2 سے 3 بیل کے بعد لڑکی نے کال پک اس کی آواز سے میں سمجھ گیا تھا یہ وہ ہی رسپشن والی لڑکی ہے میں سلام کے بعد اس کو اپنا بتایا تو وہ فوراً مجھے پہچان گئی اور مجھ سے شکوہ کرنے لگی آپ پِھر دوبارہ آئے ہی نہیں تو میں نے کہا اصل میں تھوڑا مصروف تھا پِھر اس کو میں نے کہا آپ اِس وقعت ہوٹل میں ہیں تو کہنے لگی نہیں میں اپنے گھر ہوں میری ڈیوٹی 6 بجے ختم ہو جاتی ہے تو میں نے کہا اصل میں مجھے کل پِھر اپنے پارٹنر کے ساتھ آپ کے ہوٹل میں آنا ہے کیا آپ کوئی اچھا سا کمرہ میرے لیے کل صرف 2 یا 3 گھنٹے کے لیے ارینج کروا سکتی ہیں تو وہ بولی کیوں نہیں آپ جب کہو آپ کو اچھا سا کمرہ مل جائے گا میں نے کہا اگر آپ وہ ہی کمرہ جو اس دن مجھے دیا تھا.و ہ ہی دے دیں تو بہت اچھا ہو گا تو اس نے کہا کوئی مسئلہ نہیں ہے میں کل صبح کی وہ کمرہ ریڈی کروا دوں گی آپ بے فکر ہو کر آ جاؤ . پِھر اس نے ایسی بات کی میں خود حیران ہو گیا اس نے کہا آپ کبھی ہمیں بھی اپنی خدمت کا موقع دیں آپ کو فل مزہ دوں گی . اور ساتھ ہی بولی ویسے میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں لیکن اس دن آپ کو دیکھا تھا آپ پر دِل آ گیا تھا اِس لیے آپ کو آفر دے رہی ہوں تو میں نے کہا آپ کا نام کیا ہے تو اس نے کہا میرا نام سعدیہ ہے تو میں نے کہا سعدیہ جی آپ سے میرا وعدہ رہا آپ کو خدمت کو موقع ضرور دوں گا آپ  بس کل کا میرا کام پورا کروا دیں بہت جلدی آپ کی خدمت کے لیے یہ نا چیز آپ کو ضرور خدمت کا موقع دے گا سعدیہ میری بات سن کر خوش ہو گئی اور اس نے کہا آپ بے فکر ہو جائیں آپ سمجھو آپ کا کام ہو گیا ہے . پِھر کچھ دیر مزید باتیں کر کے کال ختم ہو گئی . میں نے اپنی اچھی انڈر شیو کی اور پِھر رات کو ہی اپنی تیاری کر لی اور رات کو سو گیا صبح میری آنکھ 10 بجے کھلی میں اٹھ کر ناشتہ کیا پِھر کپڑے وغیرہ تیار کیے اور 12 بجے تک میں تیار تھا پِھر میں12:30 پر بائیک لے کر گھر سے نکل آیا اور تقریباً 1:05 پر میں اسپتال کے باہر پہنچ گیا ٹائم کے مطابق مسرت مجھے اسپتال کے باہر مل گئی میں نے اس کو بائیک پر ساتھ بیٹھا لیا اس نےبرقع پہنا تھا یہ اس نے اچھا کیا تھا میرے لیے بھی سیف تھا پِھر تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہی ہم اس ہوٹل میں تھے رسپشن پر اس لڑکی نے ہم دونوں کو ویلکم کیا اور پِھر وہ لڑکی ہم دونوں کو لے کر اس ہی روم میں آ گئی جب ہم اس کے ساتھ جا رہے تھے تو جب ہم لوگ سیڑھیاں چڑھ رہے تھے تو سعدیہ آگے تھی میں نے پیچھے سے اس کو دیکھا تو میں اس وقعت شلوار قمیض میں تھا میرےلن کو ایک جھٹکا لگا کیونکہ سعدیہ کی گانڈ کافی زیادہ موٹی اور اوپر نیچے ہو رہی تھی اور مجھے پکا شق ہو گیا تھا کے سعدیہ نے کھل کر اپنی گانڈ ماورائی ہوئی ہے خیر اصل بات تو اس کے ساتھ ملاقات کے بعد ہی پتہ چل سکتی تھی پِھر ہم وہ ہی کمرے میں آ گئے سعدیہ ہم دونوں کو کمرے میں چھوڑ کر چلی گئی جب جانے لگی تو مجھے ایک سیکسی سی سمائل دے کر بولی سر کچھ چاہیےتو بتا دیں تو میں نے مسرت کی طرف دیکھا تو اس نے کہا میں كھانا کھا کر آئی ہوں اپنے لیے منگوا لو تو میں نے سعدیہ کو کہا مجھے بھی زیادہ بھوک نہیں ہے بس کچھ کولڈ ڈرنک اور چپس وغیرہ بھیج دیں وہ پِھر سیکسی سمائل دے کر جی سر بول کر چلی گئی . میں نے اٹھ کر کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور آ کر بیڈ پر بیٹھ گیا مسرت نے اپنا برقع اتارا تو میں دنگ رہ گیا وہ بلیک برقع کے اندر مکمل طور پر ننگی تھی . میں نے حیرت سے مسرت کو دیکھا تو مجھے آنکھ مار کر بولی کا شی جی جب مزہ لینا ہو تو یہ کپڑے پِھر کس کام کے اور ہنس پڑی میں بھی اس کی بات سن کر ہنس پڑا پِھر وہ واشروم کا بول کر واشروم چلی گئی کوئی 10 منٹ بعد ہی دروازے پر دستک ہوئی اور میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک بندہ کولڈ ڈرنک اور چپس وغیرہ اور برگر وغیرہ تھے میں نے اس کو کہا میں نے تو برگر نہیں کہے تھے تو اس نے کہا سر مجھے تو نہیں پتہ جی نیچے میڈم نے جو آرڈر دیا تھاو ہ میں لے آیا پِھر میں اس کی بات سن کر سمجھ گیا اور مسکرا پڑا میں نے وہ چیزیں لے لیں اور پِھر وہ بندہ چلا گیا میں نے دروازہ بندہ کر دیا اور چیزیں اندر ٹیبل پر رکھ دیں کوئی 5 منٹ بعد مسرت واشروم سے باہر نکل آئی وہ مکمل طور پر ننگی تھی . مسرت کا جسم ایک دم مست تھا اس کے جسم کی ایک خاص بات یہ تھی کے اس کا جسم مچھلی کی طرح تھا جو بھی اس کے اوپر ہوتا وہ پھسل جاتا تھا . مسرت آ کر بیڈ پر بیٹھ