Jump to content
URDU FUN CLUB
Administrator

خدا ،،، از اردو فن کلب

Recommended Posts

آذر کی نگاہوں نے نور کے چہرے کا طواف کیا اور سونے کے کنگن اس کی نازک کلائیوں میں پہنا دئیے ،۔

"محبت کا دیوتا اپنی داسی کے جسم کی پور پور پر حاکم ہے اور اس کی تمنا ہے یہ داسی اسے ایسے چاہے کہ اس کے جسم سے پہلے اس کی روح اسے سجدہ کرے"۔

 "میں تمہیں کبھی سجدہ نہیں کروں گی کیونکہ یہ صرف خدا کا حق ہے اور نہ میں تمہیں ایسے چاہ سکتی ہوں جیسا تم چاہتے ہو"۔

نور مزاحمت کرناچاہتی تھی مگر تھم گئی اور اپنے آنسو پی گئی۔ سبھی کچھ بدل گیا ، زمین پر محبت کی ایک رات نے ان دونوں کو اس طرح ایک دوسرے سے متعارف کروایا کہ سمندر میں ڈوب کر وہ پھر موج اور کنارہ ہو گئے۔ " اب تم گھر سنبھالو ، میں روزگار دیکھتا ہوں"، آذر نے تقسیم کر دی۔ نور نے سر جُھکا دیا۔ مرد کی دسترس میں اگر تقدیر کا قلم ہوتا تو اس کی تقسیم سدا یونہی رہتی۔ آذر کے بنائے ہوئے اصول اس کے خواہشوں کے عنوان ٹھہرے ، وہ کیا تھی اور کیا بن گئی ۔ اس کے وجود پر ہر رشتے کی کھال تھی مگر ہر روپ میں ڈھل کر وہ اب نور نہیں تھی۔ عیش و آرام اس کی دہلیز پر دربان تھا اور وہ داسی ہی تھی جس نے اس عرصہ میں سینکڑوں بار سب سے زیادہ "جی" لفظ اپنے ہونٹوں سے ادا کیا تھا۔

پہلی ایک رات کے سوا وہ کبھی اس کے ساتھ ایک کمرے میں نہیں سویا تھا۔ محل نما گھر میں دیواریں تھیں اور ان دیواروں پر آویزاں تصویروں کے آسیب تھے۔ جب بھی اس نے خود کو شمار کرنا چاہا آذر کا سایا اسے اس طرح جمع کرتا کہ حلق کے کانٹے پاؤں میں چبھنے لگتے اور وہ اس حصار سے باہر ایک قدم بھی نہ رکھ پاتی۔محبت پرات میں رکھا آٹا نہیں تھا جسے وہ اپنے گداز ہاتھوں سے گوندھ کر تسکین کی آنچ پر پکا کر اسے شکم سیر کر دیتی۔ اسے کیا معلوم تھا چاہت کے پل صراط پر اپنی جسم کی ہر آنکھ کو اندھا کرنا پڑتا ہےاور روح کی موت سے یہ راستے گلاب ہوتے ہیں۔

سمجھوتوں کے کانٹوں کی چبھن سے ایک دن اس کی چیخ نکل گئی"، "آذر مجھے آزاد کر دو"۔ "

یہ شاہانہ زندگی اور دولت کی فروانی اسے تم قید کہتی ہو"، "نہیں میں تمہاری بند مٹھی کی بات کر رہی ہوں ، اسے کھول دو"، "سنو نور..."، آذر نے اس کی ٹھوڑی کو اپنے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے اونچا کیا اور اپنے ہونٹوں سے نکلنے والی سرسراتی ہوا سے اس کی پلکوں کو چھوا ، " ایسا کبھی پہلے اس خاندان میں نہیں ہوا لیکن چونکہ تم ایک اعلٰی تعلیم یافتہ ہستی ہو تو جاؤ ، تمہارے پَروں پر طلاق کی مہر لگا کر تمہیں چھوڑ دوں گا ، اپنی قابلیت جا کر دفتروں میں منواؤ ، آخر تم نے مقابلے کے امتحان میں پہلی پوزیشین لی تھی"۔ اس ستم گر کی وجاہت میں غرور اور لاتعلقی اسے دیوتا کے مقام تک لے گئی تھی۔ اس سے آگے نور کے پَر کٹے ہوئے تھے اس نے اس کے بچوں کو چھین لینا تھا_ اس نے کب طلاق چاہی تھی۔ آذر کی بند مٹھی میں اس کی آزادی کے ساتھ ممتا کا دانہ بھی پڑا تھا اور ممتا کے قحط میں اشکوں کے دریا تھے اور سانسوں کی ٹوٹی کشتیاں تھیں۔ اس کا جب جی چاہتا اسے علیحدہ اپنے کمرے میں بلا لیتا اور جب الارم دل دہلاتا وہ اپنا آپ سمیٹ کر بچوں کے پاس آ کر لیٹ جاتی۔ آذر سے محبت میں پہل اور اس کے ساتھ نبھاہ کی ضد نے اسے تنہا کر دیا تھا۔آذر کی دولت اور وجاہت نور جیسی قبول صورت لڑکی کی ذہانت پر بھاری تھی۔ محبوب کا پلڑا والدین کے جوڑے ہوئے ہاتھوں سے بہت اوپر تھا۔ اب ماں بن کر اس کے اندر کے درد نے اسے تڑپایا تھا۔ " ماں...."، اسی نام کی تسبیح پر اب آنسو کا ہر قطرہ اس کے بدن پر ٹپکتا تھا۔ پچھتاوا اس کے حال کو اٹھا کر پیچھے پٹخ رہا تھا اور اس کا وجود موجودہ وقت کی سوئیوں میں گھٹ رہا تھا۔ اس کے دونوں بیٹے اب اس کے قد کے برابر آ گئے تھے۔آذر کی جان اور مان تھے وہ دونوں آذر کی وجاہت اور نور کی تربیت ان کے روپ وکردار میں ڈھل کر گھر کو منور کئے تھی۔ دیواروں پراب ان کے دونوں بیٹوں کی بھی قدآور تصاویر تھیں۔داخلی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی بلکل سامنےاس کے ساس سسر کی سنہرے فریم والی تصویر تھی۔آذر اور اس کی شادی کی تصویر ہال کمرے کی شمالی دیوار پر لگی تھی اور یہ واحد تصویر تھی جس میں وہ ایک ساتھ تھے۔اسے کبھی ہنسی آتی اس ایک ساتھ کے عکس پر جس میں دلہن بنی وہ آذر کے سینے سے لگی کھڑی تھی۔بھاری زیورات اور سرخ عروسی جوڑا نہ جانے کہاں رکھا تھا۔ کنگن ابھی تک اس کے ہاتھوں میں تھے اور اس پہلی رات کا متکبرانہ آذر کا لمس اسے اپنے دیوتا کی داسی بنا کر سرنگوں کئے تھا۔ دو راتوں سے آذر کھانے کی میز پر نہیں آیا۔ اس کے لئے یہ نئی بات نہیں تھی مگر بچے مضطرب تھے باپ سے نئی فرمائش کرنے کو ، مگر وہ جانتے تھے کہ انہیں باپ کے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں،  " ماما پاپا کو کال کریں"، بڑے بیٹے سے پہلے ہی چھوٹے بیٹے نے کال کر کے پتہ کر لیا کہ وہ ملک سے باہر ہیں،  " اوہ یار ہمیشہ کی طرح پاپا کبھی کچھ نہیں بتاتے ، ماما آپ بھی نہیں پوچھتیں ان سے کچھ"، ملازم میز پر کھانا لگا رہے تھے اور بڑے بیٹے کی بات پر وہ چپ رہی۔ اس نے اب سوچنا چھوڑ دیا تھا اور خود کو اس طرح الجھا لیا تھا کہ کتنے ڈھیر سارے سوال ڈائری میں لکھ کر آگے سوالیہ نشان لگا کر مطمئن ہو جاتی۔ اگلے دن صبح کے اخبارات میں ایک خوبصورت ماڈل گرل نے سوال اٹھایا تھا ، "آخر یہ دولت کے نشے میں بہکے ہوئے رئیس اپنے بستر کی چادر کی طرح کب تک ہمیں استعمال کرکے بدلتے رہیں گے ، جو مرد اور عورت ایک ساتھ رہیں انہیں میاں بیوی کا درجہ دیا جائے کیونکہ نکاح میں لائی ہوئی عورت کو تو یہ پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں"۔ نور نے اخبار ناشتے کی میز پر اسی طرح چھوڑ دیا ، جانتی تھی بچے نیٹ پر بھی یہ خبر دیکھ سکتے ہیں۔ اسے اپنے والدین کو ڈھونڈنا تھا جنہیں یہ شہر چھوڑے برسوں بیت گئے تھے ۔ وہ کیوں بھلا بیٹھی تھی کہ جہاں خدا نے اپنے شرک سے منع فرمایا ہے وہیں ساتھ ہی والدین کی اطاعت کا حکم لگایا ہے۔ بچے اپنے باپ کے بارے میں اخبارات کی خبروں سے پریشان اور سراپا احتجاج تھے اور وہ انہیں اپنی گود میں چھپا کر ایسے بہلا رہی تھی ۔جیسے وہ انہیں بچپن سے مطمئن کرتی آرہی تھی۔ اس نے کبھی حساب ہی نہیں رکھا تھا کہ کون سی ماڈل گرل کب تک اس گھر کی دیواروں کی تصویروں کے پیچھے چھپکلی بن کر چھپی رہی۔ لمحہ بھر میں نور نے فیصلہ کر لیا۔جب بچے اعلٰی تعلیم کے لئے بیرون ملک جائیں گے تو وہ بھی ان کے ساتھ جائے گی اور شادی کی تصویر میں سدا اسی طرح آذر کے ساتھ رہے گی کہ دل مجبور ہے اور ممتا زنجیر ہے۔

یہ ہے محبت کوئی چاہ کر اپنی ہستی کو خاک بنا کر اڑاتا ہے اور کوئی چاہے جانے کی تمنا میں خدا بن جاتا ہے۔

" آذر دیوتا نہیں نور داسی نہیں"

آج اس نے ڈائری میں سوال نہیں جواب لکھے تھے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×