Jump to content
URDU FUN CLUB
Story Maker

Zindagi ka Safar زندگی کا سفر

Recommended Posts

یہ کہانی میری خود کی لکھی ہوئی ہے۔ میں نے اس کہانی کو

دوسرے فورمز پر لکھی لیکن کسی بھی طرح کا اچھا رسپانس نہیں ملا۔  ہلکی پھلکی عزت افزائی ہوئی تو سوچا یہاں بھی پوسٹ کردوں۔

 

شکریہ

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

میرا نام عثمان ہے. میں آزاد کشمیر کے ایک (گاؤں) میں رہتا ہوں۔

.

 

میرا خاندان 3 بہنوں، ماں باپ، اورمجھ پر مشتمل تھا۔

 

تعارف: ...

 

ماں: ماں۔۔۔ وہ 45 سال کی عمر کی عورت ہیں.

 

والد: والد ... 47 سالہ آدمی تھے.

 

(امی، ابو کو ان کے نام سے نہیں پکارتی تھی، عثمان کے ابا جی ایسا کہہ کر پکارتی تھی)

 

پہلی بہن ... فرزانہ ( 25 سال کی عمر)، میں نے ان کی شخصیت سے ہی ان کا سازؑ کا اندازہ لگایا 38- 28 - 36 ... جسم کا رنگ نارمل... سب کے لئے تیار کھانا تیار کرنا، سب کام کرنا ان کی تمام ذمہ داریاں تھی

پھر شادی کے ان کی تمام ذمہ داریاں، منجھلی بہن غزالہ نے اپنے سر لے لی

 

فرزانہ باجی نے پہلے ہی شادی کر لی تھی اور اپنے شوہر کے ساتھ سٹی کے علاقے محکمہ برقیات میں کام کرتا تھا۔۔

 

دونوں میاں بیوی سٹی کے علاقے میں رہتے تھے، سب کے سامنے وہ ایک کامیاب ازدواجی زندگی گزار رہے تھے ...

 

منجھلی بہن ... غزالہ ... ان کی شادی فل ھال نہیں ہوی تھی ... عمر 22 ... ان کی فگر 36 26 34 ... بڑی بہن کی شادی ہو جانے کی وجہ سے غزالہ باجی نے اپنی پڑھاءی چھوڑ دی۔

یا

یہ بھی وجہ ہو سکتی تھی کہ میری بہن کو پڑھاءی میں دلچیسپی نہ تھی

 

 

 

میری بہن غزالہ کو صرف ایک خاص بیماری تھی۔ کوءی ایسی ویسی نہیں، بس جیسے ہی فارغ وقت ملتا، 

 

میری بہن فورا رسالہ جات لے کر چھت پر چلی جاتی اور دن رات ایک کرکے رسالہ پڑھتی رہتی۔

 

تیسری بہن ... طاہرہ ... 20 سال کی عمر ... فگر 34 26 36 ... طاہرہ کے جسم کی جسامت کافی زیادہ پھیلی ہوءی تھی ...

 

طاہرہ کو بس ایک ہی بری عادت تھی، سونے کی، وہ کافی دیر تک سوتی رہتی تھی۔

 

خاندان کا آخری ایک رکن ہے ... میں ...

 

میں: عثمان .. میری اس وقت عمر ۱۸ سال تھی جب یہ تمام واقعات شروع ہوءے ...

 

 

 

 

 

Update 1

اپڈیٹ نمبر۱

سکول لاءف میں سکس کے متعلق کافی کچھ معلوم ہوچکا تھا، لیکن یہ خود کبھی سکس نہیں کیا تھا۔ شاید سکس اس وقت نصیب میں نہ تھا۔

خالق میٹرک میں نہم جماعت کے امتحان میں بری طرح فیل ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے اسے دوبارہ نہم جماعت میں بیٹھنا پڑا۔

اس نے اس مرتبہ سائنس کے مضامین چھوڑ، آرٹس کے مضامین رکھ لیے تھے۔ جبکہ میں نے باءیو سائنس میں داخلہ لیا۔ کیونکہ میرے والدین مجھے ساءنس پڑھانے چاہتے تھے۔

 

 

خیر، میں نے کافی سن رکھا تھا کہ سئنیر سے دوستی کرنے سے سکول لائف میں مسئلے مسائل نہیں ہوتے، اسی سوچ کو نظر میں رکھتے ہوئے میں نے خالق سے دوستی کرنے کا سوچا اور میں اس مقصد میں کامیاب بھی ہو گیا۔

میری روٹین صبح اٹھنا، تیار ہونا، سکول جانا، سکول کے بعد گھر آنا بس یہی تھی۔ سکول میں بریک ٹائم خالق ، اور خالق کمپنی میں بیٹھنا پھر گھر چلے آنا بس یہی روٹین تھی۔

 

میں ویسے بھی پڑھائِ میں کافی بہتر تھا، اس لیے ٹیچرز نے شاید مجھے اسی قابلیت کی بنیاد پر مجھے سکول کی اسمبلی اور کلاس کا ہیڈ بھی بنادیا گیا۔

خالق نے مجھے اپنے دوستوں سے متعارف کروادیا تھا، تا کہ وقت آنے پر وہ میری، اور میں ان کی مدد کرسکوں ۔

میری دوستی کلاس کے لڑکوں سے بھی ہونے لگی تھی۔ کچھ سے ہائے ہیلوبھی ہوتی تھی، ان میں سے ایک گروپ بھی بن گیا جس میں کافی لڑکے تھے، جن کو میں لیڈ کرتا تھا،

بریک ٹائم میں خالق اپنی گرل فرینڈ جوکہ آج کل اس کی بیوی ہے، اس کے ساتھ کیے گئے سکس کو ہم سب سے شئیر کرتا اور میرے علاوہ سب سکس کے نشے میں ڈوپ جاتے، 

 

بس یہی میری بورنگ لائف تھی جو بس کسی نہ کسی طرح گزر رہی تھی۔

 

ایک دن ایسے ہی بریک ٹائم میں، میں اپنے دوست خالق کے پاس چلا گیا۔

ان میں سے ایک دوست نے خالق کو خاموش ہوجانے کا اشارہ کیا لیکن خالق کے خاموش ہونے تک میرے کانوں تک خالق کی زبان سے نکلی ہوئی کچھ باتیں میرے کانوں تک پہنچ چکی تھی۔

خالق کو اس بات کا اندازہ ہو چکا تھا اس لیے خالق نے میرے لیے جگہ بنائی اور دوبارہ سے اپنی رام لیلا شروع کردی۔

خالق: میں صبح جب سکول میں آیا تو کافی زیادہ دیر ہوچکی تھی(نالائق طالب علموں کو کوئی بھی نہیں پوچھتا، خالق کا ویسے بھی یہ معمول تھا) میں سمجھا کہ کلاس میں سب موجود ہیں، اس لیے میں سیدھا کلاس کے اندر داخل ہوگیا۔

دوستو! یقین مانو۔۔۔ ہمارے بیالوجی والے سر فلاں لڑکے کو چود رہے تھے۔ پہلے تو مجھے کافی زیادہ عجیب محسوس ہوا، پھر میں کچھ دیر تک وہاں کھڑا سوچتا رہا کہ ابھی شور مچا کر بائیو کے سر کے کالے کرتوت سب سے کو بتلا دوں۔

لیکن پھر سوچا کہ ایسا ہو سکتا ہے سر مجھے سکول سے ہی نکال نہ دیں۔ میں انہیں سوچو میں گم تھا کہ تبھی سر کی نظر مجھ پر پڑی۔

سر کچھ لمحوں کے لیے رکے، لیکن انہوں نے مسکراتے ہوئے دوبارہ سے اپنے سٹوڈنٹ کی گانڈ مارنا شروع کردی۔

سر نے گانڈ مارتے ہوئے میری طرف مسکراتے ہوئے دیکھا، پتا نہیں کیوں، مجھ سے ہلکی سی مسکراہٹ لبوں سے نکل گئی۔ سر نے مجھے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا، لیکن میں سکول میں یہ سب کرنا نہیں چاہتا تھا اس لیے خاموشی سے وہاں سے واپس آگیا۔‘‘

خیر قصہ مختصر یہ کہ خالق نے ہم سب کو خاموش رہنے کا بول کراپنی مجلس برخاست کردی۔

 

 

 

پھر کچھ دنوں کے بعد خالق کا ٹاپک ۔۔۔سکیس کی طرف مڑ گیا، ہم سب کے لیے یہ سب کچھ بلکل نیا تھا، ہم خالق کی باتوں کو سن لینے کے علاوہ اور کیا کرسکتے تھے اس لیے خاموشی سے ہم خالق کی باتیں سنتے رہتے تھے۔

ایک دن میں بریک ٹائم میں تھوڑا سا لیٹ خالق، خالق کے دوستوں کی کمپنی (مجلس) میں گیا تو دیکھا کہ خالق آج اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔ میں خاموشی سے خالق کے قریب جا بیٹھا۔

سلام دعا کے بعد میں نے خالق سے اس کے دوستوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ سب ایسے ہی گھمنے گئے ہیں۔ مجھے عجیب لگا میں کچھ دیر خالق کے پاس بیٹھا رہا پھر خاموشی سے اٹھ کر اپنی کلاس میں آگیا۔

اگلے دن، میرے کتابی گروپ میں سے ۱ لڑکے نے مجھے سائڈ پر لے جا کر کہا: بھائی! میری ۱ پرابلم ہے، پلیز انکار نہ کرنا، میں نے اسے بات جاری رکھنے کا اشارہ کیا،

لڑکا: بھائی ہم دونوں کے گھر کافی قریب ہیں اس لیے بھائی تم مجھے میرے گھر یا میں تمہارے گھر آجا یا کروں گا پڑھنے کیلئے۔ اس سے یہ ہوگا کہ ہم دونوں کی پڑھائی اچھے سے ہو جایا کرے گی۔

میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد ہاں بول دی، لیکن میں نے اسے اپنی امی سے اجازت لینے کا کام سونپ دیا۔ اس نے اپنی بہن کو بھیج کر میری امی کو رام کرلیا، میں اسے روزانہ تو نہیں ، لیکن دو دن بعد لازمی جا کر ریاضی کے سوالات سمجھایا کرتا تھا۔

ایک دن، شام کے وقت وہ اور اسکی امی ہمارے گھر آگئی مختصر یہ کہ اس کی امی نے بتایا کہ ان کی دوسری بیٹی درمیانے طبقے کی طلبہ ہے، اس لیے میرے بیٹے کے ساتھ ساتھ میری بیٹی کو بھی عثمان تھوڑا بہت سمجھا دیا کرے۔ وقت گزرتا گیا ظاہر سی بات تھی میرے دل میں ایسا ویسا کچھ خاص تھا نہیں، جو میں بولتا کہ ٹیوشن کے وقت میں نے یہ کردیا یا وہ کردیا۔ لیکن میرا فائدہ یہ تھا کہ میرا بورنگ وقت اب آسانی سے کٹنے لگا تھا۔

نہم جماعت کے پیپرز کے وقت امی نے مجھے میرے کمرے کے علاوہ ایک اور کمرا دے دیا، میں اب امی اور اپنی بہنوں کے سامنے رہ کر خود بھی پڑھتا اور اپنے کلاس فیلو اور اسکی بہن کو بھی پڑھا دیا کرتا تھا۔ امتحانات کے دن مزید قریب آنے پر میرے سٹوڈنٹس کی تعداد دو سے چودہ ہو گئی جن میں لڑکے، لڑکیاں تھی۔ میرے لیے یہ مشکل کام تو تھا ہی، لیکن اس مشکل کام میں، میری مدد میری بہن طاہرہ نے شروع کردی۔ لڑکیوں کے اکثر مسئلے وہ حل کردیتی، کچھ میں خود۔

میں کسی کے بھی سامنے بن سنور کر نہیں جاتا تھا بس ایسے ہی سمپل سا رہتا تھا۔ خیر ہمارے گھر میں ۱ ہی ایسا کمرا تھا جہاں ہم سب کے کپڑے(دھلے ہوئے، اور گندے) پڑے ہوتے تھے جس کا دل کرتا وہ اپنے کپڑے اٹھا کر باتھ روم میں چلا جاتا اور نہا کر تبدیل کرلیتا۔ میرے ذہن میں اس وقت تک ایسا کوئی خیال نہیں تھا کہ میں اپنی بہنوں کے انڈرگارمنٹس کو وہاں سے اٹھا کر استعمال کرتا یا اپنی سکیسی سکیسی کیوٹ سی سٹوڈنٹس کے ساتھ کچھ کرنے کا خیال اپنے دماغ میں لاتا۔

امتحانات سے پہلے رول نمبر سلپ آتی تھی، اس لیے ۱ دن ہم سب سکول پہنچے تو وہاں مجھے خالق اور خالق کے دوستوں کا جڑمٹ نظر آیا۔ خالق نے مجھے اپنے پاس بیٹھالیا اور اپنے دوستوں کو وہاں سے جانے کا کہا اور ان میں سے ایک کو میری رول نمبر سلپ لانے کا بول دیا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے مخالف سمت میں بیٹھے تھے۔ میری پیٹھ دیوار کی جانب اور خالق کی دوسری جانب تھی۔

خالق: اور سناؤ کیسے رہے یہ دن؟

میں: بس یار! ایسے ہی گزر گئے سمجھ ہی نہیں آئے کہ چھٹیاں کیسے گزرگئی؟

خالق(مسکراتے ہوئے): اچھا جی۔۔۔ سارا دن آٹھ نو پھدیوں کے درمیان رہتے تھے تو کیسے نہ گزرتے یہ دن؟؟؟ 

میں تھوڑا سا شرمایا لیکن پھر بھی مسکراتے ہوئے بولا: کہاں یار۔۔۔ وہ سب مجھ سے دو تین سال چھوٹی ہیں۔ ان کو یہ سب کہاں سے معلوم ہوگا؟؟

خالق نے زور سے قہقہ لگایا اور میرے پٹ(ران) پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا: آلہ کنجرا۔۔۔ ہن سمجھ آئی۔۔۔ تمہاری تو سچ میں نیت خراب تھی ان سب پر۔۔۔

میں تھوڑا مزید شرماتے ہوئے بولا: قسم سے یار! ایسا کچھ بھی نہیں تھا میرے ذہن میں۔۔آج ہی تیری زبان سے سن رہا ہوں۔۔۔

خالق: اگر تیرے ذہن میں ابھی یہ بات آئی ہے تو اُس وقت یہ بات کیوں نہیں آئی جب اس لڑکے نے تمہیں اپنے گھر بلایا تھا۔(یہ وہی لڑکا تھا جو ہمارے بائیولوجی کے سر سے اپنی گانڈ مروا رہا تھا)

میں: اچھا چھوڑ یار۔۔۔ میرا تو کوئی ایسا ارادہ نہیں تھا ان سب لڑکیوں پر، ویسے بھی گھر پر سب ہی ہوتے تھے۔

خالق: ایسا سُن ۔۔۔ کون سی والی لڑکی تمہیں زیادہ پسند آئی؟

میں(سوچتے ہوئے): نہیں یار میں نے کسی ایک بھی لڑکی کو غور سے نہیں دیکھا، جو بولوں کہ کون سی لڑکی زیادہ خوبصورت ہے؟

خالق: اچھا چھوڑ! یہ بتا کہ ان چودہ دنوں میں کون سی لڑکی نے کون سی برا پہن رکھی تھی۔ سنا ہے چھوٹی لڑکیاں صرف کپڑا پہنتی ہیں۔

میں نے اس مرتبہ بھی انکار کردیا جس پر خالق نے مجھے ہلکا سا تھپڑ مارتے ہوئے بولا: تُو ساری زندگی شریف ہی بنا رہیے، بھابی جی نُو آکھی، میں تواڈی لتا نہیں، تُو میری چُک۔ بہن چود۔۔۔ حرامی کی اولاد۔ (خالق نے غصے میں آخر کار مجھے گالی دے دی)

 

خالق کی بات سن کر میرے چہرے پر شرم و شرمندگی سے ایثار پھیل گئے۔ خالق نے میری اس حالت کو کم کرنے لیے میرے سامنے اپنے پاس رکھے سموسے کردیے۔ ہم دونوں آہستہ آہستہ سموسے کھاتے ہوئے باتیں کرنے لگے۔

 

خالق: اچھا یار۔۔۔ یہ تو بتاؤ کہ تمہیں مردانہ سکس کے بارے میں کچھ معلوم ہے کہ نہیں؟

 

میں: یار سچ بولوں تو مجھے اس سیکس کی الف ب پ بھی نہیں معلوم، تم تو مردانہ سیکس کے بارے میں پوچھ رہے مجھے اس چیز کے بارے میں صرف تم سے معلوم پڑا ہے۔ ایک سچ یہ بھی ہے کہ آج دن تک میں نے کسی لڑکی کی طرف دیکھا بھی نہیں، تم تو مردانہ سیکس کے بارے میں بات کررہے ہو۔

 

خالق مسکراتے ہوئے: اچھا پھر میرا یار کنوارہ ہے۔ ویسے ایک بات تو بتا۔۔۔(میں نے سوالیہ نظروں سے خالق کی جانب دیکھا) اچھا  یہ بتا کہ، تو نے کبھی اپنا ہاتھ چلایا ہے اپنے ہتھیار پر؟؟؟

 

خالق کے ڈائریکٹ پوائنٹ پر آنے پر میں تھوڑا سا کنفوز ہوا پھر آہستہ سے بول دیا: نہیں

 

خالق: اچھا۔۔۔ تو نے یہ کام کرتے ہوئے کسی کو دیکھا ہے؟

 

میں: نہیں یار۔۔۔ میں نے کبھی کوئی کام نہیں کیا اور نہ کسی کو یہ کام کرتا دیکھا ہے۔

 

میرے چہرے پر سیکس کی باتیں کرتے ہوئے نائٹی سی سمائل پھیل چکی تھی۔ خالق میرے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر کھلکھلا کر ہنسنے لگا، خالق نے ایک نظر اپنے پیچھے مڑکر دیکھا جہاں پرنسپل آفس کے سامنے کافی بھیڑ جمع تھی، پھر مجھ سے مخاطب ہوا

 

چل توجھے کچھ دیکھاتا ہوں‘‘ میں خالق کے ساتھ ہو لیا، ہم دونوں کچھ لمحوں کے بعد بیالوجی کی کلاس روم کی کھڑکی کے سامنے تھے۔ پہلے خالق کچھ دیر تک اندر جھانکتا رہا۔

 

Edited by DR KHAN
copy paste error
  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

یار کہانی میں کچھ ربط کی کمی ہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ کئی پیراگراف دہرائے گئے ہیں۔

یعنی کاپی پیسٹ میں کہیں غلطی ہو گئی ہے۔

میں دیکھتا ہوں اگر ایڈٹ ہو سکے تو۔

باقی اس فورم پر انسسٹ قطعی طور پر منع ہے۔

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

dear doctor bro.

is kahani mein incest sex nahi aye ga,.. thanks for comment here.

agar aap ko mehsoos howa hai k kuch paragraphs doubled hain to un ko edit kar dain q k aap moderator hain

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

پھر کچھ سیکنڈز کے بعد خالق نے اپنے ہاتھ کی اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا اب ہم دونوں اس پوزیشن میں کھڑے تھے خالق ٹھیک میرے پیچھے اور میں سے آگے۔۔۔
اندر کا نظارہ یہ تھا کہ سر اپنے اُسی سٹوڈنٹ کو پرائیویٹ تعلیم دے رہے تھے آج پہلی مرتبہ میں نے ایسا نظارہ دیکھ رہا تھا۔ جب خالق اس سیکس کے متعلق مجھ سے پوچھ رہا تھا تب میرا ہتھیار آہستہ آہستہ کھڑاہونے لگا تھا اب یہ منظر دیکھ کر میرے ہتھیار پر کیا گزری ہوگی یہ تو وہی جانتے ہیں جو ایسا سین (منظر) خود براہ راست دیکھ چکے ہیں۔
خالق(سرگوشی): دیکھ رہے اپنے سر کو؟؟؟ کیسے اپنے اسٹوڈنٹ کو پڑھا رہے ہیں ’’پاس کروانے کے لیے‘‘
میں نے کمرے کے اندر ہونے والی گفتگو کو سننے لگا، اسٹوڈنٹ اپنے سر سے سیکس کرواتے ہوئے انسسٹ کررہا تھا کہ وہ اب تو اچھے نمبروں سے پاس کروا دیا جائے گا نا۔۔۔ جب کہ سر خود اس کی نرم، موٹی، باہر کو نکلی گانڈ کی گرمی میں کھوئے تھے۔ ہاں کیوں نہیں، تمہیں میں اچھے نمبرات سے پاس کروا دوں گا۔
سر کے یہ الفاظ سننے تھے کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کسی کا ہاتھ میرے ہتھیار پر آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ میں تھوڑا سا پیچھے کو ہو کر مڑنے لگا تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔
کیوں کہ یہ ہاتھ خالق کا تھا۔ خالق کمینی مسکراہٹ کی ساتھ میرے ننگے کیے ہوئے ہتھیار کو اپنے ہاتھ میں آگے پیچھے کرکے مٹھ لگائے جا رہا تھا۔

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

خالق نے میری طرف ایک نظر ڈالی اور آہستہ آہستہ اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے پیچھے کرکے خود کو بھی اور مجھے بھی جنسی تسکین دینے لگا، میری آنکھیں آہستہ آہستہ سرور میں بند ہونے والی تھی لیکن کلاس کے اندر بائیو کے ٹیچر کی موجودگی کی وجہ سے اپنی آنکھیں بند نہ کرسکا۔ میں نے خالق کو بھی روکنا مناسب نہ سمجھا۔

میں نے اپنا سر گھوما کر بائیو کلاس کی کھڑکی سے اندر کی طرف دیکھا تو وہاں بائیو سر اور وہ سٹوڈنٹ موجود نہ تھے۔ خالق سرگوشی کرتے ہوئے:سر چلے گئے نا!

میں(لڑکھڑاتی آواز میں): ہاں۔۔۔

خالق(مسکراتے ہوئے): ایسے مارتے ہیں مُٹھ۔۔ (میری سمجھ میں خالق کی بات آرہی تھی، میں اس وقت انجانی کیفیت میں مبتلا اپنے خشک پڑتے گلے کو تر کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ تبھی خالق کے لُنڈ نے اپنا پانی چھوڑنا شروع کردیا میں بڑے غور سے اس عمل کو دیکھ رہا تھا۔)

خالق اپنی پینٹ کو چڑھا کر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا

خالق:۔ ویسے  میری جان نے کافی تازہ بنا رکھا ہے اپنے شیر کو۔۔۔

جیسے ہی خالق کا مثبت کمنٹ کو میں نے سنا تو میری نظر میرے ہتھیار پر پہلی بار گئی۔ میں نے پہلی مرتبہ اپنے شیرکی طرف دیکھا جو تن کر خالق کے ہاتھ میں لہرا رہا تھا ۔خالق اپنے کام میں مصروف تھا۔

میں: بس کر یار۔۔۔ چل یہاں سے۔۔۔ (خالق کے چہرے پر ہلکی سی حیرت کی لہر چھائی پھر خالق نے اُسی وقت میرے لنڈ پر اپنے منہ میں موجود تھوک کو پھینکا اور تیزی سے مٹھ لگانے لگا۔ خالق تو اپنے کام میں مصروف تھا لیکن مجھ سے مزید کھڑا رہنا محال ہوتا جارہا تھا۔ میں نے ایک منٹ تک خود کو روکے رکھا پھر خالق کو پیچھے کر کے وہاں سے نکل آیا۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ میرا پانی کیوں نہیں نکلا جبکہ خالق کا پانی نکل چکا تھا۔ میں جب سکول سے نکل رہا تھا تب خالق نے مجھے آواز دے کر روک لیا۔ جیسے ہی ہمیں تنہائی ملی اسی وقت خالق نے اپنی جیب سے ایک کالے رنگ کا شاپر نکال کر مجھے دیا۔ ’’اس میں ایک چیز ہے اسے تُو اپنے ہتھیار پر ملتے رہنا ایک نہ ایک دن تیرا بھی پانی نکل جائے گا۔ نہ بھی نکلے تُو بس اس چیز سے مزے کرتے رہنا اور ہاں۔۔۔ کسی کو دیکھانا مت۔۔۔ یہ نہ ہو کہ تیری امی تیرے ساتھ ساتھ مجھے بھی میرے گھر سے نکلوا دیں۔

 

میں نے ہاں میں سر ہلایا اور گھر کے لیے نکل پڑا۔ گھر پر جب اکیلا تھا تب میں وہ شاپر نکالا اور ہاتھ ڈال کر وہ چیز نکالی۔ میرے ہاتھ میں کالے رنگ کی کپ شیپ کی درمیانی سائز کی برا تھی۔ سائز کا مجھے علم نہیں تھا کیونکہ اس برا پر ٹیگ نہیں تھا۔ اس برا سے ہلکی ہلکی بو آرہی تھی جو انسانی جسم کی ہوتی ہے۔میں دن کے ہوئے واقعے کو یاد کرتے کرتے آہستہ آہستہ اپنے کپڑے اپنے جسم سے اتارنے لگا۔ میں جب بلکل ننگا ہوگیا تب میں نے فرش پر لیٹنے کا فیصلہ کیا اور ویسا ہی کیا۔ خالق بتایا کرتا تھا کہ جب اس کی گرل فرینڈ کو جب بھی بیماری لگتی تھی تب وہ اپنی گرل فرینڈ کی برا اور پینٹی کا استعمال کرتا تھا۔  میں ان تمام باتوں کو یاد کررہا تھا اور اس برا کو سونگھتے ہوئے شہوت کی دنیا میں کھونے لگا۔ آہستہ آہستہ میرے لنڈ میں جان پڑنے لگی تھی۔

خیر،،، اس ساری کروائے کے دوران میں وہی کرتا رہا جو آج کل کے لڑکے باتھ روم یا پرائیویٹ روم میں کرتے ہیں۔ پھر جب ہوش آیا تو میں نے اس برا کو دوبارہ اسی شاپر میں ڈالا اور چھپا دیا۔ جب بھی موقع ملتا میں یہ کام لازمی کرتا۔ اس سارے کام میں میرا پانی نہیں نکلا۔ شاید میں اس وقت بالغ نہیں تھا۔آخری اردو پرچے والے دن میں نے خالق کو وہ برا واپس کردی۔ خالق نے مجھے روک لیا جب ہمیں سکول میں تنہائی ملی تو اسی وقت خالق نے اس برا کو شاپر سے نکال کر الٹ پلٹ کر دیکھا میں سمجھ گیا کہ خالق اپنی گرل فرینڈ کی برا پر کیا ڈھونڈ رہا ہے۔

خالق: ٹوائلٹ چل۔۔۔ وہیں چلتے ہیں۔۔۔ میں خالق کے پیچھے چل پڑا۔ خالق نے میری پینٹ سے میرے لنڈ کو آزاد کروایا جو کہ اسی خوشی میں کچھ نہ کچھ ہارڈ ہو چکا تھا۔ خالق میرے ہلتے ہوئےلنڈ کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔ خالق نے مجھے ایک صاف جگہ پر بیٹھا دیا اور خود بھی میرے قریب بیٹھ کر میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لے کر مسلنے لگا۔ پھر آہستہ آہستہ مٹھ لگانے لگا۔

جب میرا لنڈ تن کر تیار ہوگیا تب خالق نے اپنی گرل فرینڈ کی برا کو میرے لنڈ پر ایسے لپیٹا کہ میرا سارا لنڈ اس برا میں چھپ گیا۔خالق میرے لنڈ پر مٹھے لگائے جارہا تھا جبکہ مجھے مزے کے ساتھ ساتھ میرے لنڈ پر درد بھی ہونے لگا۔۔۔

خالق: یار۔۔۔ تیری عمر کتنی ہوگئی ہے؟ (سوچتے ہوئے)پھر بھی تیرا پانی نہیں نکل رہا۔

میں(خالق کی بات سن کر آہستہ سے بولا): تیرا کب نکلا تھا؟

خالق میری بات سن کر رک گیا۔خالق اس قدر اپنی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ میرے لنڈ میں جو جان پڑی ہوئی تھی وہ بھی جاتی رہی۔ وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ میں عثمان کو اپنی کہانی سناؤ یا نہ سناؤ؟ خالق نے میرے لنڈ کو چھوڑ کر خاموشی سے ٹوائلٹ میں سے باہر چلا گیا ۔ میں نے اپنا یونیفارم ٹھیک کیا اور خالق کے ساتھ جا بیٹھا۔

 

 

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں: خالق۔۔۔(کچھ دیر خاموشی کے بعد) کیا ہوا؟؟؟ کچھ بولو گے؟

خالق:(سوچنے کے بعد) یار۔۔۔ آج تُجھ سے کوئی وعدہ نہیں کرواؤں گا کیونکہ مجھے معلوم ہے تو سچا بندہ ہے تو نے کچھ دیر پہلے جو کچھ پوچھا تھا۔۔۔ اس کا جواب تجھے سچا لگے یا جھوٹا۔۔۔ میں ایک دن سکول سے جلدی گھر پہنچ گیا، معلوم ہوا کہ سب کسی جنازے میں شریک ہونے کے لیے گئے ہیں۔ گھر پر چچی تھی، چچی نے مجھے کھانا دیا کچھ دیر بعد میں نے کپڑے تبدیل کیے اور سو گیا۔ کچھ دیر بعد مجھے اپنے جسم پر وزن محسوس ہوا تو میری آنکھ کھل گئی۔ میں کافی ڈر گیا تھا میں سوچ رہا تھا کہ کوئی جن، بھوت یا چڑیل مجھ پر بیٹھی ہے کیونکہ مجھے ہلکا ہلکا سسکنے کی آوازیں بھی سنائی پڑرہی تھی۔ امی اکثر مجھے بولتی تھی کہ دن کو کھانا کھانے کے فورا بعد سونا نہیں چاہیے۔ اگر لڑکے دن کو سو جائیں تو ان پر جن،بھوت کا سایہ ہوجاتا ہے جو رفتہ رفتہ اس لڑکے کے پیٹ سے کھانا نکال کر کھاتے رہتے ہیں۔ میں اسی ڈر کی وجہ سے آنکھیں بند کیے لیٹا رہا، مجھے اس وقت احساس ہوا جب میرے اوپر موجود جو بھی تھی یا تھا وہ اوپر نیچے مسلسل ہونے لگا تھا۔ میرے جسم میں عجیب سی سنساہٹ ہونے لگی تھی۔ میں خاموشی سے لیٹا ہوا اپنی آنکھیں مضبوطی سے بند کیے اس کے نیچے پڑا رہا۔

میرے اوپر موجود چڑیل کے ہاتھ میں چوڑیوں کی آواز پیدا ہورہی تھی اور میں امی کی بتائی باتوں میں موجود چڑیل کے سراپے کو سوچ رہا تھا۔ میرے حلق میں کافی تھوک جمع ہو چکا تھا جو ڈر کی وجہ سے میں اندر بھی نگل نہیں سکا۔ تب اچانک میری آنکھیں فورا کھل گئی کیونکہ میں مسلسل جاگ رہا تھا اور اپنی آنکھیں بند کرنے کی کوشش میں تھک چکا تھا۔ چچی کی آنکھیں بند تھی اور ان کا جسم پر ایک بھی کپڑا موجود نہیں تھا۔ میں نے اپنی نظر چچی کے چہرے سے لے کر اپنے پیٹ تک لائی اور پھر دوبارہ سے چچی پر لے آیا جو اپنے کام میں مشغول مسکرا رہی تھی۔

عثمان۔۔۔ یقین مانو ! اُس وقت میرے اندر کوئی ہوس نہیں تھی۔ جب چچی کافی دیر تک ایسا کرتی رہی تو کچھ دیر بعد چچی مجھ پر جھک کر میری گردن میں بازو گماکر مجھے اپنے ساتھ لگا لیا اور میرے جسم سے اپنا جسم رگڑتے ہوئے مجھے چومنے چاٹنے لگیں۔ چچی نے خود کو ٹھنڈا تو کرلیا لیکن میرے جسم میں ہوس کی آگ بھر دی۔ جب چچی کو محسوس ہوا کہ میں فارغ نہیں ہوا تب چچی میرے اوپر سے الگ ہوئی اور میرے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ کر اوپر نیچے کرنے لگی۔ چچی کی پھدی سے نکلنے والا سارا پانی میرے لنڈ اور ٹٹوں کو گیلا کر چکا تھا اس لیے چچی کو میرے لنڈ کو گیلا کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ ان کے ہاتھ کی نرمی نے مجھے الگ ہی دنیا میں پہنچا دیا تھا۔ کچھ دیر بعد چچی نے دوبارہ سے وہی ننگا ناچ شروع کردیا جو کچھ دیر پہلے جاری تھا۔

کچھ دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ میرے اندر موجود سارا خون تیزی سے گردش کر رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ میرے گلے میں جون جولائی کی سخت گرمی پڑنے لگی۔ ہم دونوں ایک ساتھ فارغ ہونے لگے۔ چچی جان چکی تھی کہ میں جاگ رہا ہوں اس لیے فارغ ہونے کے دوران چچی میرے سارے جسم اپنی ہوس کے نشانات چسپا کرنے لگی۔

کچھ دیر بعد چچی مجھ سے الگ ہوئیں اور میرے بغل میں لیٹ کر اپنی پھدی میں انگلیاں ڈال کر چیک کرنے لگی۔

چچی: خالق۔۔۔ مزا آیا؟؟؟

میں کچھ بھی نہ بولا اور اپنی پیٹھ انکی طرف کر کے آہستہ آہستہ رونے لگا۔ کیونکہ میں چاچی کی بیٹی سے پیار کرنے لگا تھا اور وہ بھی۔ خیر چچی نے مجھے اسی حال پر چھوڑا اور رات کے کھانے کے بعد سے اگلی رات تک مجھ سے اپنی ہوس کی آگ ٹھنڈی کرواتی رہی۔ اب یہ روزانہ کا معمول بن چکا تھا جب بھی چچی کو موقع ملتا وہ شروع ہوجاتی۔ ایک دن جب میں سکول سے آیا تو امی نے بتایا کہ میری کزن کو بخار ہے (جس سے مجھے پیار ہوا تھا) اس لیے ہم ڈاکٹر کے پاس شہر جارہے ہیں۔ میں نے کافی بولا کہ میں ساتھ چلتا ہوں لیکن امی نے انکار کردیا۔ انکار کی وجہ یہی تھی کہ گاڑی میں جگہ نہیں تھی۔ ابو، امی، کزن، اور چچا جارہے تھے۔ اس دن بھی چچی نے اپنی آگ کو ٹھنڈا کروایا۔ اب تو مجھے اس سارے کام میں مزہ ہی مزہ ملتا تھا۔

میں(خالق کی رام لیلا سُن لینے کے بعد ): آج سب کچھ بتانے ہی والا ہے تو یہ بھی بتا دے کہ یہ سب میرے ساتھ تو کیوں کررہا ہے جب کہ۔۔۔

خالق: جب میں نہم جماعت میں تھا تب ہم دونوں کسی نہ کسی طریقے ٹائم نکال کر سکس (ہوس پوری) کرلیتے تھے، جس دن میں کسی بہانے سے چچی کو لے کر چھت پر گیا اور یہ سب کررہے تھے تب چچا اوپر آگئے۔ چچا نے ہمیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا چچی کو چچا نے نیچے بھیج دیا چچا نے مجھے اس وقت چھت پر لیٹا کر میری گانڈ کو کھول کر رکھ دیا۔ میرے چچا کو گانڈ مارنا بہت پسند تھا چچی نے کافی مرتبہ سکس کرتے وقت مجھے بتایا تھا۔ وہ اکثر چچا سے گانڈ مروانے کے بعد ادھوری رہ جاتی تھیں جس کی وجہ سے وہ روزانہ کسی نہ کسی سے چدوانے کا سوچتی، پھر ایک دن ان کو موقع مل گیا۔ اور یہ سب ہوتا چلا گیا۔ چچے کا بے شک ساڑھے پانچ یا اس سے چھوٹا تھا، لیکن میری گانڈ میں انہوں نے مرچیں ڈال دیں تھی(گانڈ مار کر)

کچھ دن کے بعد چچی میرے کمرے میں آئی اور آہستہ سے بولی کہ: میں نے تیرے چچا کو کافی سمجھایا ہے وہ اس سب کے لیے تیار ہیں لیکن ایک شرط ہے۔

میں بھی کچھ دنوں سے اس ہوس کی آگ میں جھول رہا تھا۔ اس لیے بغیر سوچے ہاں بول دی۔ ’’چچی رُک کیوں گئیں ؟؟؟ آپ اپنی شرط بتائیں۔

چچی: وہ چاہتے ہیں کہ ہم دونوں بے شک جو مرضی کریں لیکن جب اُن کا دل کرے گا تب تم ان کی ہربات مانو گے۔ کیا تم میری بات کا مطلب سمجھ رہے ہو؟؟؟

میں کافی دیر خاموش بیٹھا رہا میں سوچ رہا تھا کہ میری گانڈ کی گرمی جو چچا ختم کرسکتے ہیں اور میرے لنڈ کی گرمی چچی۔۔۔ دوسری سوچ یہ بھی کہہ رہی تھی کہ چچی کو یہ بات بولنی نہیں چاہیے تھی۔

چچی: مجھے معلوم ہے کہ تو میری بیٹی سے پیار کرتا ہے اور وہ بھی، میں تم دونوں کی شادی کروا دوں گی اگر تم چچا کی بات ٹالو گے تو یہ خواہش پوری نہیں ہوسکے گی۔

تب سے میں پہلے مجبوراَ یہ کام (چچا سے گانڈ، چچی سے مکمل سکس ) کرنے لگا پھر خود کی مرضی سے کرنے لگا۔ جب تیرے ہتھیار پر نظر گئی تب میری گانڈ کے کیڑے نے مجھے تنگ کرنا شروع کردیا۔ اب یہ فیصلہ تجھ پر چھوڑتا ہوں۔

میں: دوست۔۔۔ ہر کسی پر مشکل وقت آتا ہے، تیرا گزر گیا اب تو مزے کر میں تو چلا اپنے گھر۔

خالق: تجھے معلوم نہیں کہ یہ برا کس کی ہے؟ تو سوچ رہا ہوگا کہ یہ میں نے اپنی گرل فرینڈ کی برا لائی تھی۔ نہیں دوست۔۔۔ یہ میری چچی کی برا ہے جب پہلے پہلے وہ یہ پہنا کرتی تھی۔

میں نے اسے گالی دیتے ہوئے پوچھا: چاچی چود۔۔۔ اب تیرا کیا ارادہ ہے؟

خالق مسکراتے ہوئے: آج موڈ خراب ہوگیا اس لیے کینسل۔۔ ویسے کسی دن میرے ساتھ چلنا میری چچی کے پاس۔۔۔

میں نے اس کی طرف دیکھا جہاں اس کی آنکھوں میں صرف ہوس تھی۔ میں مسکراتے ہوئے اس کے بازو پر مکا مارتے ہوئے بولا: تیری چچی کی پھدی بھی مار لیں گے ’’مل کر‘‘ لیکن اب گھر چلتے ہیں کافی دیر ہوچکی ہے۔

 

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

دہم جماعت کی کلاسیسز کی ابتدا ہوچکی تھی، ہم سائنس والے سکول آنے لگے تھے۔ کچھ دن بعد خالق بھی آنے لگا لیکن ہمیں اُس طرح کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ خیر اسی طرح تین ماہ کا عرصہ گزرتا چلا گیا اور میری بے چینی بڑھنے لگی،

اس دوران میں جب بھی خالق کی طرف دیکھتا تو بس سوچتا رہتا کہ آج خالق سے اس کی چچی کی برا مانگوں گا لیکن نہ تو موقع ملتا اور نہ ہمت کرسکا،

ایک دن باجی غزالہ کام کاج ختم کرکے چھت پراپنے مشغلےکےلیےچلی گئی تب میں نے امی کو چیک کیا جو کہ کسی کام کے لیے گھر سے باہر گئی ہوئی تھی اور طاہرہ باجی معمول کے مطابق سو رہی تھی، میرے دماغ میں شیطان نے ڈھیرا ڈالنا شروع کردیا تھا

میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا۔ میں تیز قدموں کے ساتھ چلتا ہوا اُس کمرے میں آیا جہاں امی گندےاور صاف ہر طرح کے کپڑے رکھتی تھیں، میں نے احتیاط کے ساتھ ایک ایک کپڑے کو اٹھانا شروع کردیا۔ تاکہ مجھے کسی کی بھی برا مجھے مل جائے کافی ڈھونڈنے کے باوجود مجھے کچھ بھی نہ ملا۔ میں مایوس ہوکر باتھ روم میں جاکر مٹھ مارنے کا سوچنے لگا،

ویسے ہی میری نظر سامنے ٹنگے ہوئے کپڑوں پر گئی، جب برا کی خوشبو کا نشہ لنڈ کو ہو جائے تب انسان کسی  بھی بات کی پرواہ نہیں کرتا۔ میں نے فورا ایک ایک کرکے اپنے کپڑے اتار کر انہیں کپڑوں کے ساتھ ٹانگ دیئے جہاں دوسرے کپڑے ٹنگے ہوئے تھے۔ جیسے ہی کپڑے ٹانگے اسی وقت کچھ کپڑے جگہ کم ہونے کی وجہ سے نیچے گر پڑے۔

میں جھنجھلا کر کپڑوں کو اٹھا کر ون بائی ون ٹانگنے لگا تو میرے ہاتھ میں اچانک سے ایک عدد پینٹی آگئی۔ میری خوشی دیدنی تھی، میں نے باقی کے کپڑے دیکھے بغیر جلدی سے ٹانگے اور نیچے بیٹھ گیا اور پینٹی کو غور سے دیکھنے لگا۔

پہلی مرتبہ میں گھر کی عورتوں کے ریلیٹڈ کام کرنے کی سوچ رہا تھا۔ جیسے جیسے مجھے خالق اور خالق کی چچی کی سیکس سٹوری یاد آتی گئی میں بھی سیکس کے نشے میں چور ہوکر اپنی ہی بہن کی پینٹی کو اپنے لنڈ پر لپیٹ کر مٹھ مارنے لگا۔

میرے لنڈ پر اس پینٹی کی خوشبو نے گہرا اثر کیا، میں نابالغ ہونے کی وجہ سے اپنے لنڈ کے پانی کو باہر نہیں نکال پایا۔ میں نہانے کے بعد باہر آگیا۔

دہم کے امتحانات تک مجھے جب بھی موقع ملتا میں کسی نہ کسی کی برا یا پینٹی کا ناکام استعمال کرتا،

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک دن باجی فرزانہ گھرآئی ہوئی تھیں، انہوں نے مجھے کہا کہ ہم دونوں آج چھت پر سوئیں گئے، جس پر باجی غزالہ،طاہرہ اور امی نے انکارکردیا، ویسے بھی نیچے گرمی ہوتی تھی اس لیے میں مان گیا۔

ہم دونوں کافی فاصلے پر لیٹے ہوئے تھے، کچھ دیر بعد ہمیں نیند آگئی کچھ دیر بعد میری آنکھ ویسے ہی کھل گئی، میں آہستہ آہستہ خالق کی باتیں یاد کرنے لگا، جب شیطان کو یاد کیا جائے تو چھوٹا شیطان جھاگ جاتا ہے، میں نے اپنی شلوار کو آہستہ سے نیچے کیا اور اپنے لنڈ کو ہلانے لگا، میرا جسم چادر کی اوٹ میں تھا۔

میں ایسا کرتے کرتے ناجانے کب نیند کی وادی میں کھو گیا، میری آنکھ جب دوبارہ کھلی تب مجھے احساس ہوا کہ میرا لنڈ تھوڑا تھوڑا گیلا ہے، اور اس میں ابھی بھی تناو موجود ہے۔

میں ابھی یہی سب محسوس کررہا تھا کہ اتنی دیر میں مجھے ساتھ والے بستر سے اٹھنے کی آواز آئی میں نے اپنی آنکھیں بند ہی رکھیں،

آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرے لنڈ سے پانی نما کچھ نکل رہا ہے، میں چونکہ نیچے سے ننگا تھا اس لیے خاموش تھا۔

شاید باجی اس عمل کو دیکھ رہی تھی، کہ یہ عمل میں خود اپنے ہوش و حواس میں کررہا ہوں یا یہ قدرتی طریقے سے ہورہا ہے (اختلام)۔

مجھے تو مزہ بھی آرہا تھا کیونکہ میرے لنڈ سے نکلنے والا پانی (منی) ابھی بھی نکل رہا تھا، میری کمر آہستہ آہستہ اوپر کو اٹھتی چلی گئی میں نہیں جانتا تھا کہ باجی میرے لنڈ پر جھک چکی ہیں میری کمر کو اوپر اٹھتا محسوس کرکے باجی پیچھے ہٹنے کی سوچ رہی

تھی لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی، میرا لنڈ باجی فرزانہ کے گالوں کے ساتھ جا ٹکڑایا۔

باجی چونکہ شادی شدہ تھی اس لیے باجی اپنے شوہر کی وفادار بنتے ہوئے پیچھے ہٹی اور بولی:عثمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں کچھ بھی نہ بولا، کیوں کہ میں سچ میں کافی سکون اور حیرت میں ڈوبا ہوا تھا، مجھے خود کے اوپر سے بوجھ اترتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ باجی نے ایک بار پھر مجھے پکارا۔ میں خاموشی سے لیٹا رہا اور تب تک میرے لنڈ سے آخری چند قطرے بھی نکل گئے، جو میں دیکھ نہ سکا کہ وہ کہاں گئے۔

باجی نے آہستہ آہستہ میرے چہرے سے چادر ہٹائی میں بھی شیطان کے ہتھے چڑھ کر خاموشی سے لیٹا رہا، میں سوچ رہا تھا کہ اگر خالق کی سگی چچی خالق کے لنڈ کی دیوانی ہو کر اس کی سواری کرسکتی ہے، تو میری بڑی بہن کیوں نہیں۔

لیکن ایسا نہ ہوا باجی نے چادر ہٹا کر بڑے ہی احتیاط کے ساتھ میرے لنڈ کو صاف کیا اور ساتھ ہی ساتھ ٹانگوں کو بھی صاف کردیا، باجی نے مجھے دوبارہ سے شلوار پہنائی اور اپنی چادر (جو انہوں نے سوتے وقت اوڑھی تھی) مجھ پر ڈال کر خود بھی سونے چلی گئی۔ میں بھی کچھ دیر تک خود کو ملامت کرتے ہوئے نیند کی گہری وادیوں میں کھو گیا۔

 

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites


اگلے دن باجی نے مجھے چھٹی کروا دی، میں صبح کے وقت تھوڑی دیر سے جاگا پھر سو گیا، (ناشتہ وغیرہ کے بعد) دن کے ایک بجے میری آنکھ کھلی تو ایک بار پھر میرا ہتھیار تنا ہوا تھا، میں نے اپنی گردن اٹھا کر کمرے کا جائزہ لیا اور خاموشی سے باتھ روم میں گھس گیا۔
حسب معمول مجھے ۱ عدد گیلی پینٹی مل گئی، ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی کچھ دیر پہلے اسے اتارا گیا ہے۔ میں نے موقعہ غنیمت سمجھتے ہوئے ون بائی ون اپنے کپڑے اتارے اور نہاتے ہوئے گیلی پینٹی کی مدد سے مٹھ لگانے لگا، مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ مجھے آج گیلی پینٹی اس وقت ملی جب میں فارغ ہوسکتا تھا۔ میری بہن کی گیلی پینٹی کی خوشبو میرے ہتھیار پر اور اس سوچ نے مجھ پرکہر ڈھانا شروع کردیا تھا۔
میں فرش پر ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گیا اور اپنے ہتھیار کو پینٹی میں آگے پیچھے کرتے ہوئے تصور کی دنیا میں اپنی بہن کی پھدی مار رہا تھا۔ آخری خیال کے تحت ( میں اپنی بہن کی پھدی میں فارغ ہونے والا ہوں اور میری بہن مجھے روکنے کی بجائے مجھے اندر ہی فارغ ہونے کا بار بار بول رہی ہے) میں اس گیلی پینٹی میں ہی فارغ ہوگیا۔
منی کے نکل جانے کے باوجود میرا ہتھیار تنا ہوا باجی کی پینٹی میں اگلی چدائی کیلئے تیار تھا۔ لیکن میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا۔(ظاہر سی بات ہے ایک ہی باتھ روم تھا اس وقت، اگر کوئی زیادہ دیر لگاتا تھا تو باہر سے آوازیں کسنا شروع ہوجاتی تھی۔
شام کو میرے طالبعلم آگئے باجی نے مجھے اپنے پاس بلایا اور میری حالت درست کی، جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ میں اپنی پرسنالٹی کی اتنی زیادہ کئیر نہیں کرتا تھا۔ مجھے باجی کا ایسا کرنا کافی عجیب محسوس ہوا لیکن حالت و واقعات کی نزاکت کی بنیاد پر میں خاموش ہی رہا۔ جتنے دن باجی فرزانہ رہی، میرا ہر طرح کا خیال رکھا ہم روزانہ چھت پر سوتے میں روزانہ کسی نہ کسی طرح موقعہ ڈھونڈ کر کسی کا نہ کسی طریقے سے پینٹی یا برا کو استعمال کرتے ہوئے فارغ ہوتا رہا،
جہاں موقع ملتا میں اپنا پانی (منی) بہنوں کی پینٹیوں میں چھوڑ دیتا اور ایسا محسوس کرتا جیسا کہ میں سچ مچ اپنی تینوں بہنوں کی پھدیوں کے اندر فارغ ہورہا ہوں۔
سچ کہوں تو کبھی ایسا مزہ زندگی میں نہیں آیا جتنا اس کام میں آیا۔ بغیر چودائی کے بے حد مزہ۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہاہا
باجی نے جاتے ہوئے میرے ماتھے کو چوما ( یہ کس لاسٹ ٹائم معلوم نہیں کب ملا تھا)
خیر باجی نے جاتے جاتے باجی غزالہ کو کافی نصحیتیں کی اور باجی طاہرہ کو بھی سمجھایا۔ میں اب ٹیوشن حاصل کرنے والی لڑکیوں کی برا چیک کرنے کی کوشش میں لگا رہتا۔ کچھ لڑکیوں کی برا وغیرہ نظر آتی تھیں جب بھی مجھے موقع ملتا میں کبھی ان لڑکیوں کو سوچ کر مٹھ لگاتا کبھی اپنی بہنوں کے بارے میں سوچ کر، جب بھی اکیلا بیٹھا ہوتا تو یہ بات بھی سوچتا کہ میں اس گناہ کی دلدل میں کیوں پھنس رہا ہوں؟
خیر! بریزر کے وقت میں احتیاط لازمی کرتا لیکن پینٹی کے سامنے میں ٹِک نہ پاتا۔ سکول میں ایک دن خالق نے بتایا کہ اُس لڑکے کی گانڈ بھی اس نے خود ماری ہے اور بائیو سر سے بھی دوستی گاڑلی ہے۔
کچھ دن خالق کی باتیں سن کر میں بھی مٹھ لگا لیتا لیکن میں نے اس کو یہ بات نہیں بتائی کہ میری بھی منی نکلتی ہے۔ کچھ دن تک ہم سب پریکٹیکلز میں مصروف ہوگئے۔ پریکٹیکل کا سلسلہ رکا تو چودہ دن کی چھٹیاں ہوگئی جس دن چھٹیوں کا اعلان ہوا اس دن خالق نے مجھے روک لیا۔
خالق: عثمان۔۔۔ تیری بھابھی اور میری ساس وہاں (اشارہ کرتے ہوئے) کھڑی ہیں۔ آ تجھے ان سے ملواتا ہوں۔(راستے میں اس نے مجھے سمجھایا کہ میں اور بھابھی بازار کی طرف نکل جائیں گے اور تم اپنے مطلب کی بات کرلینا)
خالق کی ہونے والی بیوی کالے رنگ کے برقے میں موجود تھی اس کی آنکھوں سے صاف محسوس ہورہا تھا کہ خالق کی ہونے والی بیوی کم خوبصورت نہیں۔ پلان کے مطابق خالق اور اس کی ہونے والی بیوی بازار کی طرف نکل گئے اور ہم سکول کے اندر آگئے گھومتے پھرتے باتیں کرنے لگے۔ آنٹی کی گانڈ تھوڑی سی باہر کو نکلی ہوئی تھی جس کو مزید بہتر بنایا جاسکتا تھا لیکن مجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ میں ان کو اس متعلق کچھ کہتا یا کرتا۔ اگر کرتا بھی تو یہ میرا پہلا تجربہ ہوتا ۔
خیر میری بزدلی کی وجہ سے یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل گیا اور ہمارے پاس خالق اور اس کی منگیتر آگئے، خالق نے سموسے پکوڑے لائے ہوئے تھے ہم ایک سائیڈ پر بیٹھ کر کھانے لگے، آنٹی نے موقعہ دیکھتے ہوئے میری ران کو آہستگی سے دبا دی۔ 
ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کچھ لمحوں کے بعد آنٹی نے میری ران کو آہستگی سے سہلانا شروع کردیا۔
آنٹی(خالق سے): کسی دن اپنے دوست کو بھی گھر لانا۔۔۔ (خالق نے اثبات میں جواب دیا)
آنٹی نے اپنا کام بھی جاری رکھا اور بات بھی۔۔۔ آنٹی: اور ہاں کوشش کرو کہ ان دس دن میں سے کسی دن بلا لو کیونکہ کہ آخری دنوں میں تمہارا دوست قابوبھی نہیں آنے والا
خالق اور آنٹی کے چہروں پر مکروہ مسکراہٹ تھی جبکہ میرے چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے اور خالق کی منگیتر کے چہرے پر بھی۔ کچھ دیر بعد ہم سب اپنی اپنی منزل کی طرف نکل پڑے۔ ان چھٹیوں میں باجی غزالہ کے رشتے کی بات چلتی رہی،

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×