Jump to content
You are a guest user Click to join the site
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Story Maker

مٹی کا قرض (Hard Target)وطن کا سپاہی پارٹ ٹو

Recommended Posts

کہانی کا نیا نام مٹی کا قرض رکھ دیا گیا ہے 
اپنی آرا کا اظہار لازمی کیجیے گا
منتظر ہارڈ ٹارگٹ
حا ضرِ خذمت ہے پہلی اپڈیٹ


قسط نمبر 1 :۔
میں تیز قدموں سے خالہ کے گھر کے دروازے پر پہنچا تھا ۔۔۔شام ہوچلی تھی ۔۔۔ دروازے پر دستک دی تو خالہ نے دروازہ کھولا تھا ۔۔۔ گھر میں داخل ہوا اور ڈرائنگ روم کی طرف جانے لگا ۔دروازہ کھول کر اندر جا کر بیٹھا۔۔دو راتیں پہلے والا منظر میرے سامنے پھر سے لہرایا تھا.......بڑی مشکل سے خود پر قابو پایا اور سکون کی سانس لینے لگا ۔۔ خالہ پانی لے ڈرائنگ روم میں پہنچی ......پانی پینے کے بعد میں نے ثناء کا پوچھا تو پتا چلا کہ وہ ہمارے گھر گئی ہوئی ہے ۔۔وہاں کوئی دعوت ہو رہی تھی ۔۔میں نے پوچھا کہ آپ نہیں گئیں ۔۔انہوں نے کہا کہ نہیں وقار نے آج رات آنا تھا تو میں یہیں رکی ہوئی تھیں......ہم آمنے سامنے ہی بیٹھے تھے اور یقینا خالہ کے ذہن میں بھی وہ پچھلی رات گذر رہی تھی ۔خالہ نے چائے کا پوچھا اور میں نے ہاں میں سر ہلا دیا .......مجھے اپنی کار کا خیال آیا جو میں سعدیہ کے ہاں چھوڑ آیا تھا اور سعدیہ کی گاڑی رانا ہاؤس میں کھڑی تھی ......پہلے سعدیہ کو فون کیا اسے ہلکی پھلکی بات بتا کر واپسی کا بتایا اور گاڑی کا کہا کہ میں پہنچواتا ہوں کسی زریعے سے .......۔وہ بھی کچھ دن بعد فارغ ہو رہی تھی اور واپس آنے کا کہ رہی تھی ......فون بند کیا تو مجھے زارا کا خیال آیا جو کہ یہیں پر تھی اور شاید میری منتظر بھی تھی ......وقار کو فون کیا کہ کب تک آ رہے ہو......اس نے جواب دیا کہ آ ج رات میں نکلوں گا ......میں نے سعدیہ کا نمبر اور ایڈریس دیا کہ یہاں سے میری کار لے لو اورصبح آرام سے آ جاؤ ۔۔۔ وقار نے ہامی بھر لی۔۔اور میرا پوچھ کر فون بند کر دیا ۔۔۔۔خالہ چائے لے کر پہنچ چکی تھیں ۔۔اور میرے برابر میں ہی بیٹھیں تھیں ۔۔۔۔جیسے اپنے ہاتھوں سے چائے پلانے کا ارادہ ہو ۔۔۔میں نے گہری نظر سے ان کا جائزہ لیا تو وہ بھی کچھ بے چین ہی تھیں .......ان کی آنکھوں سے محبت جھلک رہی تھی ۔۔اک لگاوٹ سی تھی ۔۔۔۔اک انداز دلبرانہ تھا ۔۔۔ میرا پوچھا کہ دو دن کیسے گذارے .......میں نے مختصرا بتایا اور وقار کا بھی کہ وہ شہر میں ایک اچھا گھر خرید رہا ہے ۔۔۔۔خالہ تھوڑی اور قریب ہوئی تھیں ۔۔۔ مجھے ان کے جسم کی گرمی ٹکرائی تھی ۔۔۔۔جس کے ساتھ ان کے جسم کی مہک بھی شامل تھی ۔۔۔میں نے جلدی سے چائے کا کپ اٹھا لیا ۔۔۔اور چائے کے سپ بھرنے لگا .......۔۔مجھے عجیب سے گھبراہٹ شرو ع ہو گئی تھی ۔۔۔
اٌس رات کو تو کچھ سمجھ نہیں آیا تھا ۔۔ثناء کی طرف سے ادھوری خواہش سی تھی ۔۔۔۔مگر اب ہوش میں ہی تھا ۔۔۔ مگر چائے خالہ کو کتنی دیر تک روک پاتی۔۔۔۔اِدھر چائے ختم اورمیں نے کپ ٹیبل پر رکھا ۔۔۔۔ادھر خالہ کچھ اور قریب کھسکی تھی ۔۔۔۔ان کے جسم کی مہک مجھ پر حاوی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔میں نے ایک نظر ڈالی ۔۔ان کا بے چین جسم اور دھڑکن ان کے سینے کو حرکت دے رہی تھی .......۔سینے کے بڑے سے ابھار تھوڑا بھی ہلتے تو مجھے گھبراہٹ کا ایک تیز جھٹکا سا لگتا .......میں نے ان کے سینے سے نظریں چْراتے ہوئے سامنے دیکھا تو خالہ کا گورا سفید چہرہ ایک پیاسی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھ رہا تھا .......۔ان کی براؤن آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھی ۔۔۔۔اب شاید میری بھی بس ہونے لگی تھی ۔۔۔۔میں جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔خالہ میں چلتا ہوں ۔۔۔کچھ دنوں میں چکر لگاتا ہوں .......خالہ بھی میری ہچکچاہٹ سمجھ گئی تھیں ۔۔۔کہنے لگیں کہ ٹھیک ہے مگر چکر لگا لینا ۔۔۔۔بھول مت جانا ۔۔۔ میں نے جلدی سے سر ہلا دیا .......اٹھ کر باہر نکلا ۔تو رخصت ہوتے ہوئے خالہ نے ایک مرتبہ پھرمیرا ہاتھ پکڑ کر دبایا ۔۔۔
میں باہر آیا اوراپنے گھر کی طرف چل پڑا .......دروازے سے داخل ہوا تو ہلچل مچ چکی تھی ۔۔۔نیا نویلا دلہا دوسری رات کے بعد دو دن بعد گھر واپس پہنچا تھا .......امی سے ملا ۔۔اس کے بعد بہنیں سامنے غصیلی نظروں سے دیکھ رہی تھیں .......۔بھائی ہمارا خیال نہیں تو بھابھی کا ہی خیال کر لو ، ، دیکھو کیسی اداس ہو گئیں ہیں ۔۔۔ثناء پیچھے کھڑی شرما رہی ہے ۔۔۔۔چاچی اور بھابھی بھی نیچے ہی تھیں ۔۔۔سب میری دْرگت بنتے دیکھ رہی تھیں ....... اور مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔میں درمیان میں مجرم بنا کھڑا ہوا تھا ۔۔آخر چاچی کو خیال آیا ، میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اوپر لانے لگیں .......کہ آرام کرو ، تھکے ہوئے لگ رہے ہو .......اور پھر مڑتے ہوئے ثناء سے کہا کہ کچھ کھانے کو بھی لے آؤ .......میں چاچی کے ہاتھوں کھینچتا ہواہوا اوپر پہنچا تھا .......اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی چاچی مجھے میں سمائی تھیں ....... میں نے بھی جواب میں انہیں بانہوں میں بھرا تھا ۔۔۔۔چاچی بھی اداس لگ رہی تھیں .......۔ ۔ ہمارے درمیان ایک انجان سا تعلق تھا جو مضبوط ہوتا جا رہا تھا .......۔وہ میری ہر بات کہے بغیر جان لیتی تھیں ۔۔۔۔اور چہرہ دیکھ کر دل کا حال پڑھ لیتی تھیں .......کچھ دیر ایسے ہی وہ میرے ساتھ لپٹی رہیں ۔۔۔اور پھر پورے چہرے پر بوسوں کی بوچھاڑ کر دی .......میں نے جلدی سے چہرہ صاف کیا اور بیڈ پر بیٹھنے لگا .......سیڑھیوں پر قدموں کی آواز آنے لگیں تھی۔۔۔چاچی بھی سائیڈ پر ہو کر بیٹھیں اور ہم نارمل بات کرنے لگے .......۔اتنے میں ثناء کمرے کا دروازہ دھکیلتی ہوئی اندر داخل ہوئی تھی ۔۔۔اس کے چہرے پر رونق آ گئی تھی ۔۔۔یا پھرنیچے شاید مناہل اور ربیعہ کی باتوں میں آ کر مصنوعی اداسی خود پر طاری کرلی تھی۔۔۔۔ثناء جوس لے کر آئی تھی۔۔۔۔چاچی نے مجھے مسکراتے ہوئے دیکھ کر دیکھا اور کھانے کا پوچھ کر باہر جانے لگیں .......۔ثناء سے جوس لیتے ہوئے میں نے کہا ۔۔تم میری بغیر اداس ہو گئیں تھیں کیا ۔۔۔ ؟
اور نہیں ہوتی کیا ۔۔ ؟ ثناء کے جواب نے میرے دل میں گھنٹی بجا دی تھی ۔۔۔۔اچھا کتنی یاد آئی تھی ۔بتانا ..... زرا ۔۔۔میں بیڈ سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھا تھا .......وہ بھی سمجھدار تھی ، کہنےلگی پہلے یہ جوس پی لیں ، پھر بتاتی ہوں ۔۔۔۔میں جوس لئے بیڈ پر بیٹھااور وہ غڑاپ سے باہر نکل گئی .......میں بے اختیار ہنسنے لگا ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد نیچے سے کھانے کی آواز آئی اور میں نیچے چلا آیا تھا ۔۔۔۔کھانا کھا کر نیچے ہی بیٹھے رہے تھے ۔۔۔چاچا بھی ساتھ تھے ۔۔ہم نے چائے ساتھ پی ۔۔۔۔بھیا اور ابا جان شہر میں ہی تھے ۔۔۔کچھ دیر تک باتیں کرتے رہے ۔۔چاچا مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ کھیتوں کی طرف چکر لگاؤ گے ۔۔۔۔میں نے انہیں بتایا کہ شاید کل آؤں گا ۔۔اور پھر اوپر اوپر کی طرف چل دیا .......
دو دن کی ذہنی اورجسمانی تھکان نے مجھے تھکا دیا تھا ۔۔۔۔بستر پر لیٹے میں جلد ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔رات کو 2 بجے میری آنکھ کھلی تھی ۔۔میں نے دائیں بائیں نظر دوڑائی ۔۔۔کمرے کی ہلکی مدھم لائٹ میں بستر پرتھوڑی سی آڑھی ترچھی ثناء لیٹی ہوئی تھی .......سیاہ بالوں میں اس کا چہرہ چمک رہا تھا ۔۔۔بند آنکھوں میں چہرے پر معصومیت بکھری ہوئی تھی ۔۔۔۔ بازو پھیلائے ہوئے سیدھ لیٹی وہ کسی دلکش پینٹنگ جیسی لگ رہی تھی ۔۔۔۔اس کے سینے کا مدھم زیروبم اس کی گہری نیند کو ظاہر کر رہا تھا ۔۔۔میں نے بے اختیار اس کے چہرے کو چوما تھا ۔۔۔ماتھے کو چومتے ہوئے میں واپس اپنی جگہ پر آیا تھا ۔ مجھے اچھا نہیں لگا تھا کہ اس کی نیند خراب کرتا ۔۔۔کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر آنکھیں بند کردیں ۔اور سونے لگا .......اچانک ایک ہاتھ میرے ہاتھوں سے ٹکرا یا تھا ۔۔۔میں نے جھٹ آنکھیں کھول دیں ۔۔۔ثناء میرے لمس سے جاگ چکی تھی ۔۔۔مگر اب بھی آنکھیں جھکی جھکی سی تھی ۔۔۔میں نے اس کا بازو پکڑ کر ہلکا سا کھینچا اور خود سے لپٹا لیا .......۔نرم و ملائم نازک سی ثناء اْسی نزاکت کے ساتھ مجھ سے آن لگی تھی ۔۔۔۔میں نے 
اس کے سرخ و سپید چہرے کو دیکھا ۔۔۔شرم اور لاج نے اس کے چہرے کو مزید دہکا دیا تھا .......جھکی ہوئی پلکیں لرز رہی تھیں ۔۔میں نے بے اختیاراس کی پلکوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے .......پھر اس کی پیشانی پر ہونٹ ثبت کیے ۔۔۔اورپھر بھر ے بھرے گالوں کو چومنے لگا .......اس کا پورا بدن مجھے سے لپٹا ہوا تھا ۔۔۔چاہت اور لذت کی ایک لہر ہم دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی ۔۔کشش کی ایک قوت ہمیں گھیرے ہوئے تھی ۔۔۔۔میں نے اسے اور شدت سے خود سے لپٹا دیا ۔۔۔ساتھ ہی پورے چہرے پر بوسوں کی بوچھاڑ جاری تھی .......جو ثناء کے چہرے کو گیلا کئے جا رہی تھی .......وہ بھی جھینپ سی گئی تھی ۔۔۔مگر میری شدت اسی تیزی سے جاری تھی .......میں پورے چہرے کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹوں پر لپکا تھا .......پتلے سرخ ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کےدرمیان دبا کر کھینچنے لگا تھا .......جس سے ہونٹ مزید سرخ ہوتے جارہے تھے ۔۔۔۔میں اسے خود میں سمائے ہوئے تھا اور ہاتھ پیچھے اس کی کمر پر گردش کر رہے تھے ۔۔۔۔اور پیچھے سے اس کے نرم و نازک چوتڑ پر ہاتھ رکھے ۔وہ تھوڑی سی آگے کو ہوئی تھی ۔۔۔میں نے ہلکےہاتھوں سے اس کےچوتڑ کو دبانا شروع کر دیا تھا .......اور ساتھ ہی اپنی طرف زور بھی دیتا تھا ۔۔۔۔میرا ہتھیار بھی انگڑائی لیتا اٹھ رہا تھا .......۔جو آگے سے ثناء کو ٹچ ہو کر اور تیزی دکھاتا .......اس کے نرم و نازک سے ممے میرے سینے سے کچھ ہی دور تھے ، جب و ہ آگے کو ہوتی یا میں بڑھتا وہ بڑے نرم انداز میں مجھے ٹچ ہو تے تھے ۔۔۔۔جیسے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہوں ......اور میں نے اس کی موجودگی محسوس کر لی تھی .......۔اس کے ممے درمیانے سائز کے گول مٹول سے تھے ۔۔۔مگر اس فٹنگ والی قمیض میں وہ بھی قیامت ڈھا رہے تھے......میں نے اسے تھوڑا سے بٹھایا اور ہاتھ اوپر کرتے ہوئے قمیض اتارنے لگا......وہ مزید خود میں سمٹنے لگی تھی .......قمیض اترتے ہی بے حد سفید نازک سا چمکتا ہوا جسم میرے سامنے تھا ۔۔۔۔سرخ رنگ کی برا میں اس کے ممے چھپے ہوئے تھے ......صرف اوپر ی حصہ اور گہری سی کلیویج نظر آتی تھی .......میں نے اس کی برا کھولتے ہوئے اسے بیڈ پر لٹا دیا تھا ۔گورے چٹے ممے اٹھ کر سامنے آئے تھے ۔۔۔۔میرے نظریں اس کے چہرے پر تھیں اور ہاتھ اس کے مموں پر ہاتھ رکھ دیے ۔۔۔ جو سفید میدے کے پیڑے جیسے لگ رہے تھے ۔۔۔۔پنک گلابی نپلز اپنی نزاکت کے ساتھ ہلکے سے لرز رہے تھے ۔۔میں بے اختیار اسے پکڑ کرمنہ میں لے جانے لگا ۔۔۔۔نپلز کواپنے زبان سے رگڑتا ہوا ۔۔۔ممے کا کچھ حصہ میرے منہ میں جا چکا تھا ۔۔۔میں بےصبری سے ممے منہ میں لئے ہوئے چوس رہا تھا ۔۔۔ثناء میرے سر پر ہاتھ رکھے میری پیاس مٹنے کے انتظار میں تھی ۔۔نپلز بھی میرے تھوک میں گیلے ہو کر چمکنے لگے تھے ...... میں انصاف کے ساتھ دونوں مموں کو برابر ٹائم دے رہا تھا ......اور کچھ دیر بعد نظریں اٹھا کر ثناء کو دیکھتا جو مجھے ہی دیکھی جا رہی تھی......اس کی سیاہ آنکھوں میں محبت کا سمندر بڑھتا جا رہا تھا .......۔۔اور چمک اس سے بھی زیادہ تھی .......
ایک ہاتھ سے میں اس کے مموں کو باری باری چوس رہا تھا ۔۔۔اور دوسرا ہاتھ نیچے لے جا کر اس کی شلوار کے اوپر سے اس کی نازک رانوں کو دبا رہا تھا ۔۔۔میراہاتھ نرم ہی تھا ۔۔۔ثناء کی بے چینی بھی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔اس کا پورا سینہ میرے تھوک سے گیلا ہوا پڑا تھا ۔۔۔۔ممے پہلے سے سختی میں تھے ۔۔اور نپلز بھی ہوشیاری کا بھرپورمظاہر ہ کر رہے تھے ۔۔۔۔میرے نچلے حصے میں بھی میٹھا سا درد ہوئے جا رہاتھا ۔۔ہتھیار اپنی سختی پر آنا چاہ رہا تھا ۔۔مگر پینٹ اسے اجازت نہیں دے رہی تھی .......۔۔میں ثناء کی سائیڈ سے کچھ درمیان کی طر ف آیا اور اس کی پیٹ کو چومتے ہوئے مزید نیچے بڑھا ۔۔۔نازک کمر کےاوپر ایک سڈول سا پیٹ تھا جس کے درمیاں ناف کا ایک چھوٹا سے گڑھا تھا ۔۔۔۔میں اس کے اندر زبان گھمانے لگا ۔۔۔۔ساتھ ہی اس کی ٹانگوں کو اٹھا کر پیروں کے بل کھڑی کر دی ۔۔۔وہ لیٹی ہوئی تھی مگر ٹانگیں اوپر کو مڑی ہوئی اور پیر بیڈ پر تھے ۔۔۔اور ان سب کے درمیان نیچے کو سفر کرتا ہو ا میرا چہرہ تھا .......۔میرے دونوں ہاتھ اس کے دائیں بائیں تھے ۔۔۔۔میں ناف سے نیچے آیا اور شلوار کو پکڑ کر نیچے کھسکانے لگا .......ساتھ ہی میری زبان بھی سفر کرتی ہوئی نیچے آئی ۔۔۔جتنی شلوار نیچے ہو رہی تھی ۔۔اتنے ہی فاصلے سے زبان بھی نیچے اتر رہی تھی ۔۔۔۔ثناء بے چینی سے ہلنے لگے تھی ۔۔۔میں تھوڑا سا اٹھا اور شلوار کو نیچے تک کھینچی اور ایک ٹانگ اٹھاکر ایک پائینچہ نکالا اور اسی طرح دوسری سائیڈ سے بھی ۔۔۔اس کی نازک پنڈلیاں اور مناسب رانیں دمک رہی تھی ۔۔۔بغیر بالوں کے چاندی جیسی رنگت والی۔۔۔پینٹی بھی اتار کر ۔۔۔میں ایک ہاتھ اس کی پنڈلیوں پر پھیرتا ہوا اوپر آیا تھا اور وہی پوزیشن سمبھال چکا تھا۔۔۔اس کی نازک سیپی جیسی چوت میرے سامنے تھی .......میں اپنے دونوں ہاتھ کو اس کی رانوں اور چوتڑ پرباری باری لے جا کر دبا رہا تھا ۔۔۔اور ہونٹ اس کی چوت پر رکھ دئے ۔۔۔ثناء نے ایک جھٹکا سا کھایا تھا ۔۔۔۔اس نے بے اختیار دونوں ٹانگیں سیدھی کرنے کی کوشش کی تھی .......میں کچھ دیر اپنے ہونٹوں سے اس کی چوت کو چومنے کے بعد پھر اوپر ہوا تھا ۔۔اور اس کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈالنے لگا ۔۔۔اٌدھر ثناء میری زبان چوسنا شروع کر رہی تھی......اِدھر میری ایک انگلی اس کی چوت میں داخل ہوئی تھی ۔۔ثناء نے سریلی آواز میں ایک سکاری بھری اور پھر میری زبان کو چوسنے لگی .......لذت کی ایک لہر اس کے نرم ہونٹوں سے نکل کر میرے بدن میں سرائیت کر رہی تھی ۔۔۔میں نے بھی اپنی انگلی کو حرکت دینے شروع کر دی تھی ۔۔۔۔اس کی چوت حد سے زیادہ تنگ تھی ۔۔انگلی بھی بڑی دقت کے ساتھ جارہی تھی ۔۔جس کے ساتھ ثناء کی سسکیاں بھی میرے منہ میں پہنچتیں ۔۔۔۔میں نہایت نرمی کے ساتھ اپنی انگلی کو آگے پیچھے کررہا تھا .......ساتھ ہی انگوٹھے کو اس کی چوت کے اوپر مسلنےلگا۔۔۔ثناء کی ٹانگوں میں بھی حرکت بڑھ رہی تھی ۔۔۔وہ ہلکے سے کمر کو بھی گردش کرتی ۔۔۔میری انگلی اندر ایڈ جسٹ ہونے لگی تو دوسری انگلی بھی میں نے ملا دی ۔۔۔۔ثناء کی ایک تیز آواز نکلی تھی ۔۔اوئی ۔۔۔سس......۔اس کا پیٹ ایک دم نیچے گیا اور پھر باہر آیا ۔۔۔۔میں نے دوسری انگلی بھی آہستگی سے آگے پیچھے کرنے لگا ۔۔اور اوپر اب میں ثناء کی زبان کو چوس رہا تھا .......اس کی آنکھیں قدرے لال سی ہونے لگیں تھی .......میری دونوں انگلیاں اپنا کام بخوبی کر رہی تھیں.......ثناء کی ٹانگوں میں بھی لرزش سی تھی .......اس نے منہ سے سسکیاں اور بڑھا دی تھی .......مناسب انداز کی یہ گرم گرم سسکیاں میرے چہرے پر ہی پڑ رہی تھی .......جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی بھی جارہی تھیں .......کچھ دیر اور گذری تھی کہ ثناء کی ٹانگوں نے ایک جھٹکا سا کھایا تھا .......اور گرم پانی میرے انگلیوں کو چھوتا ہوا گزرا تھا .......میں کچھ دیر اورہاتھ کو حرکت دے کر روک چکا تھا ۔۔۔۔
میں اوپر ہوتے ہوئے ثناء کے برابر میں آیا تھا ۔۔۔۔اور اسے خود سے چپکا چکا تھا ۔۔۔میرا ایک ہاتھ اب نیچے کو بڑھا تھا ۔۔اپنی پینٹ کا بٹن کھولتے ہوئے میں نے پینٹ نیچے کھسکائی ۔۔۔اوردونوں ہاتھوں سے اسے نیچے دھکیلنے لگا .......۔۔آگے سے اچھلتا ہوا ہتھیار باہر آیا تھا ۔۔۔اور ثناء کی رانوں سے ٹکرایا تھا ۔۔۔۔ثناء نے بے اختیار میری طرف دیکھا تھا .......گرم گرم ہتھیار اسے بتا چکا تھا کہ اگلا مرحلہ کیا ہے .......ہتھیار باہر آکر پہلے سے زیادہ تننے لگا .......۔میں نے سائیڈ ٹیبل سے ویزلین اٹھاتے ہوئے ایک ہاتھ سے اسے ہتھیار پر ملنے لگا .......ثناء مجھے جھکی جھکی نظروں سے دیکھ رہی تھی.......میں نے ویزلین سائیڈ پر رکھی.......اور اس کی سائیڈ پر ایسے کروٹ لے کر لیٹا اور کہ آدھا اس کے اوپر اور آدھا بیڈ پر تھا ۔۔۔ہتھیار اپنے گیلے پن کے ساتھ اسے چھو رہا تھا .......۔میں نے اوپر ثناء کے چہرے کی طرف نظر ڈالی ۔۔۔تو وہ بھی بے چین سی نظر آ رہی تھی .......میں اسی طرح ٹوپے کو سمبھال کر اس کی چوت کے اوپر رگڑ رہا تھا ۔۔۔۔اس کی سائیڈ پر لیٹے ہونے کی وجہ سے ہتھیار کافی فاصلے پر ہی تھا ۔بس ٹوپا اوردو انچ ہی اس کے اند ر داخل ہو پاتا ۔۔۔میں اس کے چہرے کو چومنے لگا ۔۔اور نیچے سے تھوڑا اور کھسک کر آگے ہوا تھا .......اورٹوپے کو چوت کے اوپر رکھ کر دباؤ بڑھانے لگا ۔۔۔۔ثناء نے تھوڑی سی ٹانگیں ہلائیں تھیں ، پھیلائیں تھیں ۔۔۔اور دونوں ہاتھ میرے سر پر رکھ کر دبانے لگی تھی .......میں نے دباؤ برقرار رکھا تھا ۔۔۔۔اوررگڑ کھاتا ہوا ٹوپا اندر پہنچا تھا ۔۔۔ثناء کی ایک ہلکی چیخ نکلی تھی ۔۔اس نے ٹانگیں نیچے کو دبا کر اوپر اٹھنا چاہا تھا ۔۔۔۔میرا ایک ہاتھ اس کی کمر سے نیچے پھرتا ہوا چوتڑ تک جاتا اور پھر واپس کمر تک آتا ۔۔۔۔میں نرم ہاتھوں سے مساج کر رہاتھا ۔۔ٹوپا وہیں رکا ہوا تھا .......ثناء کی چیخ کے بعد اب اوئی ۔۔۔اف۔۔۔ کی سریلی سی آواز نکل رہی تھی ۔۔۔میں نے ٹوپے کو ایسے ہی کچھ دیر رکھا اور ہاتھ اوپر لے جا کر اس کے ممے پکڑ کر دبانے لگا ۔۔۔اب کی بار میری پکڑ میں دباؤ زیادہ تھا ۔۔۔اور اس کے نپلز کو کھینچتا ہوا۔۔۔چھوڑتا تھا .......ثناء کی درد بھری سسکاری اب بھی جاری تھی ۔اس کی آنکھیں پانی سے بھری ہوئی تھی۔۔۔۔وہ درد برداشت کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔میری کمر کا حصہ ساکت ہی تھا ۔۔۔اور اوپر سے چھیڑ خانی جاری تھی ۔۔۔اس کے ممے کھینچ کھینچ کر لال ہونے لگے تھے ۔۔۔کچھ دیر بعد میں نے نیچے سے کمر کو تھوڑا آگے بڑھایا تھا ۔۔۔۔ثناء ایک مرتبہ پھر پیچھے کو ہتنے کے لئےہلی تھی ۔۔۔اور منہ سے پھر سریلی چیخ نکالی تھی ۔۔۔اس کے چہرہ کی سرخی برداشت کرتے ہوئے بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔اس کی آنکھیں مستقل مجھے رکنے کا اشارہ کر رہی تھی ۔۔۔۔میں رک رک کر اسے بہلا رہا تھا ۔۔۔وہ کچھ تھمی تھی ۔۔جب میں نے ہلکا سا دباؤ بڑھا یا ۔۔۔اس کی پھرتیز آواز نکلی تھی ۔۔۔میں خاموشی سے اس کے ہونٹوں کو چومتا رہا .......۔اس کے مموں کو تیزی سے مسلتے ہوئے مجھے 3 منٹ ہو چکے تھے ۔۔۔۔میں کروٹ لئے ہوئے تھوڑا اور آگے آیا تھا ۔۔اور ہتھیار ثناء کی چوت میں پھنستا ہوا آگے کو بڑھا تھا .......۔۔ثناء نے پھر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے روکا ۔۔راجہ بس کی درد بھری آواز آئی تھی ۔۔۔۔ثناء کی آواز میں کچھ تھا ۔۔۔۔۔میں نے بھی وہیں رکنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ساکت رہنے کے بعد آہستگی سے باہر لانے لگا ۔۔۔۔باہر بھی اتنی ہی مشکل سے گھسٹتا ہو ا آتا تھا ۔۔۔۔۔میں ٹوپے تک باہر لا کر دوبارہ سے گھسانے لگا ۔۔۔۔۔وہ پھر سے ۔۔۔سس ۔۔اوئی کرتی ہوئی ہلی تھی ۔۔۔۔میں پھر اتنا ہی اندرڈال کر واپس نکالنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ویزلین سے میرا ہتھیار بھرا ہوا تھا ۔۔اور یہ ویزلین اس کی چوت کے اوپر اورنیچے حصے پر بھی لگ چکی تھی ۔۔۔میں دوبارہ سے ہتھیار کو لبریکیٹ کیا ۔۔۔۔۔۔اور پوزیشن تبدیل کرنے لگا ۔۔۔۔۔ثناء کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھتے ہوئے میں نے اس کی ٹانگوں کو اٹھا کر اسے سینے پر لگا دیا تھا ۔۔۔۔۔اس کے چہرے پر اب بھی بے چارگی اور درد کے آثار تھے ۔۔۔۔۔۔میں بے اختیار اس کے چہرے پر جھکا اور چومنے لگا ۔
اس کے چہرے کو چومتے ہوئے ہونٹوں پر آیا اور خود کے ہونٹوں سے پکڑتا ہوا کھینچنے لگا ۔۔۔۔ثناء میرے سر پر ہاتھ رکھے سسک رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں ایسے ہی چومتے ہوئے نیچے سے ہتھیار کو چوت پر ٹکانے لگا ۔۔۔۔۔۔ہتھیار پہلے سے زیادہ لبیریکیٹ ہوا وا تھا ۔۔۔۔میں نے آہستگی سے ٹوپ اوپر رکھتے ہوئے اندر زور دیا ۔۔۔۔ثناء تھوڑی سی ہلی اور میرے سر کو پکڑ کر اپنے سینے پر جکڑنے لگی ۔۔۔۔۔۔خود سے لپٹانے لگی ۔۔۔۔میں نے تھوڑا سااور ہتھیار ڈآل کر ہلانے لگا ۔۔۔۔ثناء کی سسکیاں اور سینہ مستقل ہل رہا تھا ۔۔۔۔۔میں نے سر کو اٹھاتے ہوئے اس کو دیکھا اور ہونٹ چومنے لگا تھا ۔۔۔تین سے چار منٹ میں ثناء کی بس ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔اس کی سسکیاں تیز ہونے لگی ۔۔۔۔۔کراہیں بلند ہونے لگیں تھیں۔۔۔۔۔۔میں نے اپنی اسپیڈ کم کردی تھی ۔۔۔۔ثناء نے مجھے تشکر سے دیکھا ۔۔۔۔اور مجھے چومنے لگی ۔۔۔۔مجھے پانچ منٹ ایسے ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔میں ویسے ہی ہلتا ہوا تھوڑا سا اٹھا تھا ۔۔۔ثناء کی ٹانگیں اس کے سینے لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔میں نے اسے اسی حال میں کروٹ دے دی ۔۔۔وہ مڑی ٹانگوں کے ساتھ کروٹ لے چکی تھی ۔۔۔پیچھے سے اس کی گوری گانڈ مڑی ہوئی مزید خوبصور ت نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں اسی طرح اس کےپیچھے بیٹھا دھکے دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ثناء کی سسکیاں کچھ ہو گئیں ۔۔۔تو میں نے اسپیڈ بڑھانے کا سوچا ۔۔۔۔۔۔اور اپنی اسپیڈ کو درمیانہ کر دیا ۔۔۔۔ثناء پھر سے کراہی تھی ۔۔۔۔اور اوئی ۔۔۔۔سس ۔۔۔۔۔افف۔۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔۔کی سریلی آواز میں پکارنے لگی ۔۔۔۔۔۔اب کی بار اس کی آواز میں درد بہت ہی کم تھا ۔۔اسلئے میں بھی مطمئن تھا ۔۔اور اپنی اسپیڈ سے لگا رہا ۔۔۔۔۔۔میں نے ہاتھ بڑھا کر ثناء کے نازک سے گول مٹول سے ممے تھام لئے تھے ۔۔اور اسے پکڑتے ہوئے اسپیڈ تھوڑی اور تیز کردی ۔۔۔ثناء کی سسکیاں بھی تیز ہوئی تھی ۔۔۔۔۔آئی ۔۔۔اوئی ۔۔۔کے ساتھ وہ تھوڑی سی ٹانگ اٹھا کر فاصلہ پیدا کرتی اور ٹانگ واپس رکھ دیتی ۔۔۔۔۔۔ثناء کی بے چینی بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کے فارغ ہونے کا ٹائم قریب تھا ۔۔۔اس نے ہاتھ پیچھے بڑھا کر اپنی چوتڑ پر جمے میرے ہاتھ پر رکھ دیا ۔۔۔۔میں نے اسپیڈ تیز کرتے ہوئے ایک دو جھٹکے بھی دے دیئے ۔۔۔۔ثناء کراہی اور تیز سسکی کے ساتھ پانی چھوڑنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔میں کچھ دیر ہتھیار کو ہلاتا رہا ۔۔۔اور پھر اس کے برابر میں لیٹ گیا ۔۔۔۔ثناء کو پتا تھا کہ میں اب تک فارغ نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔مگر اب اس سے زیادہ کرنا اس کے بس میں نہیں تھا ۔۔۔وہ کچھ دیر سانس برابر کرکے اٹھی اورمیرے ہتھیار کو تھامتی ہوئی اپنے ہاتھ ہلانے لگی ۔۔۔ویزلین کے ساتھ اب اسکی چوت کا پانی بھی اس پر لگا ہوا تھا ۔۔۔۔وہ کافی دیر تک ہاتھ ہلاتی رہی ۔۔۔۔پھر بے بسی سے مجھے دیکھتی ۔۔۔۔۔آخر کافی دیر بعد میرے ہتھیار کو رحم آ گیا اور اس نے بارش برسانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔۔۔ہتھیار سیدھا ہی تھا ۔۔۔۔برابر میں ثناء بیٹھی تھی ۔۔۔۔پہلی چھینٹ کافی اوپر تک اچھل کر نیچے گری ۔۔۔کچھ بیڈ پر ۔۔۔کچھ مجھ پر اور کچھ ثناء پر ۔۔۔اور اس کے بعد کئی سیکنڈ تک ایسے ہی بارش ہوتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ثناء نے ٹشو سے صاف کیا اور میرے برابر میں لیٹ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔


اگلی صبح ویسے ہی روشن تھی ۔۔۔ میری آنکھ کھلی تو ثناء جاگی ہوئی تھی اور میرے جاگنے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔آنکھ کھولتے ہی نظر اس کے مسکراہٹ بھرے چہرے پر پڑی تھی ۔۔دل خوشی سے جھوم اٹھا تھا ۔۔۔اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔جسے وہ سمجھ چکی تھی ۔۔۔۔کچھ قریب آتے ہوئے بولی ، یہیں سے کہیں ! کیا بات ہے .......۔میں نے کہا کہ پاس تو آؤ کان میں بات کرنی ہے ۔۔۔۔وہ وہیں کھڑی مجھے اٹھنے کا اشارہ کرنے لگی تھی ۔۔۔میں جلد ی سےاٹھ کر اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔اور اپنی بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔اس کے گالوں پر بوسہ دیا ۔۔۔۔ثناء کا چہرہ شرماہٹ میں لال ہو گیا تھا ۔۔وہ خود کو چھڑوانے لگی اور کہا کہ جلدی سے تیار ہو جائیں ، سب انتظار کر رہے ہیں ۔۔میں ایک اور بوسہ دیتا ہوا باتھ روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
فریش ہو کر نیچے پہنچا تو سب ڈآئننگ ٹیبل پر بیٹھے انتظار میں ہی تھے .......۔ناشتہ شروع ہو گیا تھا ۔۔ہلکی پھلکی نونک جھونک کے ساتھ ناشتہ ختم کیا ۔۔۔چاچابھی وہیں ناشتے پر تھے ۔۔اور حسب معمول انہوں نے ناشتے کے بع

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔


اگلی صبح ویسے ہی روشن تھی ۔۔۔ میری آنکھ کھلی تو ثناء جاگی ہوئی تھی اور میرے جاگنے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔آنکھ کھولتے ہی نظر اس کے مسکراہٹ بھرے چہرے پر پڑی تھی ۔۔دل خوشی سے جھوم اٹھا تھا ۔۔۔اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔جسے وہ سمجھ چکی تھی ۔۔۔۔کچھ قریب آتے ہوئے بولی ، یہیں سے کہیں ! کیا بات ہے .......۔میں نے کہا کہ پاس تو آؤ کان میں بات کرنی ہے ۔۔۔۔وہ وہیں کھڑی مجھے اٹھنے کا اشارہ کرنے لگی تھی ۔۔۔میں جلد ی سےاٹھ کر اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔اور اپنی بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔اس کے گالوں پر بوسہ دیا ۔۔۔۔ثناء کا چہرہ شرماہٹ میں لال ہو گیا تھا ۔۔وہ خود کو چھڑوانے لگی اور کہا کہ جلدی سے تیار ہو جائیں ، سب انتظار کر رہے ہیں ۔۔میں ایک اور بوسہ دیتا ہوا باتھ روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
فریش ہو کر نیچے پہنچا تو سب ڈآئننگ ٹیبل پر بیٹھے انتظار میں ہی تھے .......۔ناشتہ شروع ہو گیا تھا ۔۔ہلکی پھلکی نونک جھونک کے ساتھ ناشتہ ختم کیا ۔۔۔چاچابھی وہیں ناشتے پر تھے ۔۔اور حسب معمول انہوں نے ناشتے کے بعد کھیتوں کی طرف جانا تھا ۔۔۔میں چائے لے کر ڈرائنگ روم میں آ گیا ۔۔۔چائے کے دوران ہی فون کی گھنٹی بجی تھی ۔۔۔وقار کا فون تھا ، وہ کار لے کہ پہنچ چکا تھا ۔۔۔میں نےاسے اسکول جاتے ہوئے گھر سے مجھے لینے کا کہا ۔۔ثناء سے پوچھا کہ یہیں رہنا ہے یاخالہ کے گھر جاؤ گی ۔۔۔اس نے کہا کہ ابھی مجھے وہیں چھوڑدیں ۔۔شام میں واپسی پر لے لیجئے گا ۔۔میں اسے تیار ہونے کا کہ کر اوپر آگیا ۔اور خود بھی تیار ہونے لگا .......۔آدھے گھنٹے میں وقار نیچے آ چکا تھا .......میں اور ثناء نیچے امی کو بتا کر کار میں بیٹھے اور خالہ کی طرف جانے لگے .......۔ثناء کو ڈراپ کر کے میں وقار کے ساتھ ہی اسکول جا پہنچا ۔۔۔۔وہاں اس نے مجھے شہر کی صورت حال بتائی ۔۔۔پیمنٹ کر دی تھی ۔اور اب کچھ دنوں میں اس کے نام پر جگہ ہونی تھی ۔۔۔۔میں خاموشی سے سن رہا تھا کہ میرے ذہن میں زارا کا خیال آیا ۔سعدیہ نے بتایا تھا کہ وہ یہیں ہاسٹل میں ہے اور سعدیہ کی جگہ پر ہے .......میں نےزارا کو ٹیکسٹ کیا اور جواب کا انتظار کرنے لگا ۔۔وقار کو میں نے زارا کے بارے میں اب تک کچھ نہیں بتایا تھا ۔۔۔۔کچھ دیر میں زارا کا میسج آ گیا تھا ۔۔وہ فارغ ہی تھی ۔۔۔میں نے اسے تیار ہونے کا کہا ۔۔۔زارا نے مجھ سے آدھا گھنٹہ مانگا تھا .......۔میں کچھ دیر اور انتظار کرنے لگا ۔۔۔وقار بھی کاروبار کی بات ختم کر کے اپنے مزاحیہ موڈ میں تھا ۔۔۔چاچا کے بارے میں پوچھنے لگا ۔۔۔۔میں نے کہا کہ فوزیہ کی یاد آ رہی ہے جو آج تمہیں چاچا کی یاد آ ئی ہے ۔۔۔۔وہ ہنسنے لگا کہ ہاں یار کچھ ایسا ہی ہے .......میں نے کہا کہ اچھا خالہ سے بات کر کے تمہارا مستقل بندوبست کرنا پڑے گا ۔۔۔وہ کچھ سنجیدہ ہوا اور کہنے لگا کہ بس یار یہ گھر کا کام مکمل ہو جائے تو پھر شادی کروں گا ۔۔امی بھی پیچھے پڑی ہوئی ہے .......اتنے میں زارا کا میسج آ گیا وہ تیار تھی ۔۔میں نے اسکول کے قریب ایک جگہ کا ایڈریس اور اپنی کار کا نمبر بتا دیا .......اور وقار سے چابی لے کر باہر نکل پڑا ۔۔۔گاڑی میں بیٹھ کر مطلوبہ جگہ پہنچا ۔۔۔زارا ابھی تک نہیں پہنچی تھی .......میں نے سعدیہ کو فون ملایا ، وہ ابھی سو کر اٹھی تھی ۔۔۔میں نے اسے بتایا کہ زارا سے بات ہوئی ہے وہ ملنے آ رہی ہے ۔۔۔کس ٹائپ کی ہے ۔۔کچھ بتاؤ .......سعدیہ نے جواب دیا کہ راجہ میں تمہارا تعارف کرواچکی ہوں ۔۔۔۔ہم بہت پرانے دوست ہیں ۔اورا یکدوسرے کے رازدار بھی ہیں .......وہ آئی تو مجھ سے ملنے تھی مگر تمہیں پتا ہے کہ مجھے اچانک آنا پڑا ہے ۔۔اس لئے ہو سکے تو اسے کچھ ٹائم دے دو ۔۔۔۔میں نے کچھ اور پوچھ کرکال کاٹ دی ۔۔۔۔اتنے میں ساتھ والی سیٹ کے شیشے پر دستک ہوئی اور دروازہ کھلاتھا ۔۔ساتھ ایک اک خوش بدن ،خوش مہک لہراتی ہوئی اندر بیٹھنے لگی .......۔۔۔سعدیہ کے بتائے ہوئے فگر سے کہیں زیادہ حسین تھی ۔۔جسم کچھ فربہ تھا ۔۔مگر یہ فربہی اسے اور زیادہ خوبصور ت بنا رہی تھی ۔۔میں بلا تکلف اسے تکتا چلا گیا ۔۔۔سرخ شرٹ کے ساتھ بلیک ٹراؤز پہنے وہ بلا کی حسین تھی ۔۔۔چہرے پر ایک نازک سی گلاسز لگی ہوئی تھی ۔۔۔بھرے بھرے گالوں کے ساتھ سیاہ کالی آنکھیں ۔۔تھوڑی سی دائروی ناک ۔۔اور ٹھوڑی میں پڑتا ہو گڑھا.......۔وہ مجھے خود کو دیکھتے ہوئے مسکرائی ۔۔۔۔ایسے کیا دیکھ رہےہیں .......میں ہڑبڑایا تھا ۔۔۔۔اور کہا ۔۔۔
کچھ نہیں بس ۔۔۔سعدیہ نے آپ کی تعریف کچھ کم کی تھی ۔۔۔آپ اس سے زیادہ ہی ہیں ۔۔۔۔اس کی ہنسی بھی اْسی کی طرح خوبصورت تھی ۔۔۔کار میں ایک جلترنگ سی گونج اٹھی تھی .......میں دوبارہ سے اسے دیکھتا گیا .......پھر پوچھا کہ کیسا لگاآپ کو ہمارا گاؤں ۔۔
ابھی تک دیکھا ہی کہاں ہے۔۔جب سے آئی ہوں بس اسکول ، ہاسٹل اور قریبی ایک پارک میں دوست کے ساتھ گئی تھی ۔۔۔آپ کا انتظار تھا ۔۔۔۔میں نے اس سے تاریخی عمارات کا پوچھا ۔۔اور اس کی دلچسپی دیکھتے ہوئے کار اس طرف گھما لی ۔زارا یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ تھی ۔۔۔اور آرٹ کی طرف رجحان تھا ۔۔۔یہاں سمر ویکیشن میں سعدیہ کے پاس آئی تھی .......۔زارا مجھے کافی ذہیں لگی تھی ۔۔ہر بات کا سلجھا ہوا جواب دیتی تھی ۔۔۔اور موقع پر اپنی کھنکتی ہوئی آواز میں ہنسنا نہیں بھولتی تھی ۔۔کل ملا کر وہ ایک پڑھاکو اسٹوڈنٹ تھی .......اس نے مجھ سے میرے مشاغل پوچھے جو میں ساتھ ساتھ بتاتا گیا ۔۔۔۔جلد ہی میں اس تاریخی عمارت کی پارکنگ میں گاڑی لگا چکا تھا ۔۔۔ہم باہر نکلے اور پارکنگ ٹکٹ لیتے ہوئے اندر داخل ہوئے ۔۔۔اس عمارت کی کلاسیکل تعمیر کو دیکھتے ہوئے ہمیں ایک گھنٹے سے زائد ہوچلا تھا۔۔۔۔زارا اس عمارت کے بار ے میں مجھ سے زیادہ جانتی تھی ۔۔۔بجائے یہ کہ میں اسے بتاتا ۔۔وہ مجھے ہرحصے کا نام اور خصوصیت بتا رہی تھی ۔۔۔اس کے بتانے کا انداز بھی اْسی کی طرح ٹہرا ٹہرا سا تھا ۔۔دھیمے لہجے میں اس کی کھنکتی ہوئی آواز ایک سحر سے پھونکتی جا رہی تھی ۔۔۔۔جس میں مزید تاثیر اس کی کلائی میں چاندی جیسی چوڑی بھرتی تھی ۔۔۔اس کی آواز کے ساتھ ،اس کی اشارہ کرتی ہوئی کلائی، اور ساتھ ہی چوڑی کی کھنک .......کافی دیر تک گھومنے کے بعد ہم تھکنے لگے تھے ۔۔۔۔باہر نکل کر اور میں نے ایک قریبی ریسٹورنٹ کی طرف گاڑی گھما دی ۔۔۔فیملی روم کی طرف بڑھتے ہوئے میں کسی معمول کی طرح ہی اس کے پیچھے تھا ۔۔۔۔ہم نے سیٹ پر بیٹھ کر آرڈر دیا اور انتظار کرنے لگے ۔۔۔۔ہم دونوں آمنے سامنے ہی بیٹھے تھے .......جبھی اس کی دلکش آواز مجھ سے ٹکرائی تھی .......۔سعدیہ نے آپ کی کافی تعریف کی تھی .......۔۔میں نے جلدی سے اس کے چہرے پر نظرڈالی ، پتا نہیں تھا کہ کس سلسلے میں تعریف تھی ۔۔۔۔میں پھر سے گڑبڑا سا گیا تھا ....... کچھ دیر اس کے چہرے کو دیکھتا رہا ۔۔۔۔وہ پھر بولی تھی ۔۔۔اور یہ آپ مجھے دیکھ کر گم سم کیوں ہو جاتے ہیں .......میں جھینپ گیا اور کہا کہ بس ایسے ہی .......۔کچھ دیر بعد ویٹر آیا تھا ۔۔۔ہم نے ریفریشمنٹ کی تھی اور پھر کار کی طرف بڑھے .......۔۔
سعدیہ نے بتایا تھا کہ آپ کی کافی زمینیں بھی ہیں ۔۔۔کیا ہم وہاں جا سکتے ہیں ۔۔۔۔زارا نے پوچھا .......۔میں نے کہا ٹھیک ہے جانے کا مسئلہ نہیں اگر آپ کو شوق ہے تو چلتے ہیں .......۔
میں نے کار کا رخ اپنی زمینوں کی طرف کر دیا اور۔۔۔دس منٹ میں ہم زمینوں پر پہنچ گئے تھے .......وہاں کام کرنے والوں کےلئے زارا ایک شہری لڑکی تھی ۔۔۔جلد ہی وہاں کام کرنے والوں کا رش لگ چکا تھا جس میں عورتیں اور مرد دونوں شامل تھیں ۔۔۔چاچا ان کو کام پر واپس بھیجتے ہوئے آگے آئے تھے ۔۔میں نےزارا کا تعار ف کروایا .......چاچا نے جلدی سے ایک عورت کوکھانے پینے کا بندوبست کرنے کا کہا ۔۔۔کچھ دیر تک زارا اور میں کھیتوں میں گھومتے رہے۔۔۔فصلیں تیار تھیں اور چاروں طرف ہریالی تھی ۔۔زارا بہت خوش نظر آرہی تھی ۔۔یہ سب اس نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا ۔۔۔کچھ دیر میں ہم پورے کھیت دیکھ چکے تھے ۔اتنے میں چاچا آئے۔۔۔۔اور ہمیں کہا کہ آؤ اندر بیٹھو ۔۔۔۔زارا چاروں طرف دیکھتی ہوئی آگے بڑھ گئی ۔۔کچھ دیر میں.......ہم اندر بنی ہوئی بیٹھک میں پہنچے تھے ۔۔۔چاچا نے کچھ دیر تک زارا سے بات کی اور پھرکہا کہ تم لوگ آرام کر و ۔۔میں کچھ کھانے کو بھجواتا ہوں .......چاچا باہر چلے گئے تو میں نے زارا سے آرام سے بیٹھنے کا کہا اور خود بھی نیم دراز ہو گیا ۔۔۔۔یہ وہی کمرے تھا جہاں میں نے اور وقار نے چاچا کو دیکھا تھا ۔۔مگر اب یہاں کا رنگ و روپ بدل چکا تھا ۔۔یہ کسی شہر کے ڈرائنگ روم جیسا لگ رہا تھا ۔۔زارا سامنے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔اور میں کرسی پر تھا ۔۔۔سامنے ہی بیڈ تھا۔۔۔اتنے میں میسج کی بیل بجی ۔۔سعدیہ کا میسج تھا ۔۔۔اس نے زارا کا پوچھا کہ کہاں تک پہنچی ہے ۔۔تم سے مانوس ہو گئی ہے یا ابھی تک دور دور ہو .......میں نے سعدیہ کو بتایا کہ بس اب کھیتوں پر ہیں ۔۔۔اور میں ابھی تک جھجک ہی رہا ہوں ۔۔۔۔سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے پہل کروں ۔۔۔اس نے کہا کہ میں نے زارا کو سب بتایا ہوا ہے ۔۔۔جیسے چاہو شروع کر دو ۔۔۔۔اتنے میں باہر سے آواز آئی تھی ۔۔۔میں موبائل رکھتا ہوا باہر گیا ۔۔۔چاچا کے ساتھ فوزیہ کھڑی تھی ۔۔ہاتھ میں ایک ٹرے تھی جس میں لسّی کے گلاس رکھے ہوئے تھے ۔۔۔مجھے دیکھ کر فوزیہ نے اسمائل دی اور ٹرے آگے بڑھا دی ۔۔۔میں نے چاچا کو اشارہ کر دیا کہ اب کسی کو نہ آنے دیں ۔۔۔۔ٹرے لے کراندر آیا تو زارا نے جلدی سے موبائل سائیڈ پر رکھا تھا .......میں نے اس کے چہرے کو دیکھا تو اندازہ ہوا کہ وہ میسج پڑھ چکی ہے ۔۔۔اس کے چہرے پر ایک اسمائل تھی ۔۔۔میں نے ٹرے اس کے برابر میں رکھتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔اور موبائل ہاتھ میں اٹھایا ۔۔۔زارا کی طرف سے ایک میسج بھیجا گیاتھا ۔۔۔کہ اچھا ابھی کچھ کرتا ہوں ۔۔۔میں نے زارا کی طرف دیکھا وہ مسکرا رہی تھی ۔۔آنکھوں کی شرارت صاف عیاں تھی ۔۔۔۔زارا نے ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کر لسّی کا گلاس اٹھا لیا ۔۔۔۔میں نے بھی اسے دیکھتے ہوئے دوسرا گلاس لے لیا ۔اور غٹا غٹ پی گیا ۔۔۔۔اس نے لسّی پی کر اپنا گلاس نیچے رکھا تو میری ہنسی چھوٹ گئی ۔۔۔۔لسی کا سفید دائرہ اس کے ہونٹوں پر بنا ہوا تھا ۔۔۔۔مجھے ہنستا ہوا دیکھ زارا پوچھنے لگی کہ کیا ہوا کیوں ہنس رہے ہو.......۔میں نے بتایا کہ تمہاری مونچھیں بن گئیں ہیں ۔۔۔اس نے ٹشو سے صاف کرنا چاہا مگر پھر بھی کچھ حصہ رہ گیا تھا ۔۔۔میں بدستور ہنس رہا تھا ۔۔آخر اس نے ٹشو میرے ہاتھ میں دیا کہ خود صاف کر دو ۔۔۔میں ٹشو لیتا ہوا اس کے برابر میں جا بیٹھا .......۔۔۔
ٹشو اس کے چہرے کی طرف بڑھایا ، مگر پھر ایک اور خیال آیا .......میں نے اس کے چہرے کو تھامتے ہوئے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئیے تھے .......۔۔۔۔ وہ تھوڑی سی پیچھے کو ہوئی تھی ۔۔۔مگر پھر میرے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے دیئے ۔۔۔اس کے ہونٹ اسی کی طرح ملائم اور نرم نرم تھے ۔۔میں نے اس کے ہونٹوں کو صاف کرتے ہوئے اوپر ی ہونٹ پر کِس کرنے لگا تھا ۔۔۔۔اس نے اپنی آنکھیں بند کر دی تھیں ۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی کس کرتے ہوئے میں نےٹرےسامنے ٹیبل پر رکھی اور ۔۔۔واپس صوفے پرزارا کے پاس بیٹھے ہوئے اس کے سر کو اپنی گود میں رکھا اوراوپر جھک گیا ۔۔اس کا چشمہ اتار کر سائیڈ پر رکھا .......۔۔زارا کی آنکھیں اب بھی بند ہی تھیں ۔۔۔اس کی لمبی زلفیں صوفے پر بکھری ہوئی تھیں ۔۔اور ان کےدرمیاں اس کے چہرے پر جھکا ہوا میں چومے جا رہا تھا ۔۔۔اس کے بھرے بھرے گالوں پر میں اپنے ہونٹ رکھتا جو پھسلے پھسلے جاتے تھے .......سرخ و سفید گالوں کے اوپر ہی اس کی سیاہ بڑی سی آنکھیں تھی ۔۔۔۔جو اس وقت بند تھیں ۔۔۔میں اس کے پورے چہرے پر اپنے ہونٹوں کے نشان ثبت کر چکا تھا .......میں اسے سہارا دے کر اٹھانے لگا ۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر اسےاپنی گود میں بٹھایا چکا تھا ۔اس کی ٹانگیں اپنے دائیں بائیں رکھتے ہوئے اس کو بڑی مشکل سے اٹھایا تھا ۔۔۔اور اپنی بانہوں میں لیتے ہوئے خود سے لپٹایا تھا .......اس کے جسم اتنا فربہ نہیں تھا جتنا اس کا سینہ تھا ۔۔۔۔موٹے اور بڑے سے ممے ،اپنے پوری اٹھان کے ساتھ ، سرخ رنگ کی شرٹ میں بری طرح سے پھنسے ہوئے تھے ........اور مجھے سے ٹچ ہوتے ہوئے اپنی سختی مجھے بتا چکے تھے ........میں نے اس کےہونٹوں کو چومتے ہوئے اسے بھی آمادہ کر رہا تھا ۔۔۔اپنے ہونٹوں اس کےہونٹوں پر رکھ کر اسے چومنے کا کہتا........کچھ دیر ایسے ہی رہی پھر اس نے میرے ہونٹوں کو چھوا تو میرے پورے جسم میں ایک لذت کی لہر دوڑ گئی ........اس کی طرف سے شروعات ہو گئی تھی........ جس نے کہاں جا کر ختم ہونا تھا کچھ معلوم نہیں تھا ........ہم نے باری مقرر کر لی تھی .......دو سے تین بار وہ میرے ہونٹوں کو چومتی اور پھر میں جواب دیتا .......۔زارا کی بند آنکھیں کھلنے لگیں تھیں۔۔۔۔ جس میں اک عجیب سے چمک میں دیکھ رہا تھا ۔۔دو چمکیلی سیاہ آنکھیں مجھ پر پلکیں جھپکائے بغیر گڑ ی ہوئی تھی ........ہمارے جسموں میں جہاں لذت کی لہریں گھوم رہی تھی ۔۔۔وہیں پر سنسناہٹ کی ایک لہر بھی ہوتی .......جو میرے اوپر بیٹھی زارا کے جسم سے نکل کر میرے پور ے بدن میں پھیل رہی تھی ........میں نے اس کے چہرے کو چھوڑتے ہوئے ہاتھ کو پیچھے کی طرف لے گیا اور اس کے بالوں کو سمیٹتا ہوا اکھٹا کرنے لگا ۔۔ساتھ ہی اس کی نرم کمر پر میرا ہاتھ گردش کرنے لگا تھا .......زارا کی شدت بڑھ رہی تھی ، وہ اب تیزی سے ہونٹ چوسنےلگی ........میں نے اسے کہاکہ اپنی زبان نکالو اور اسے چوسنے لگا ...اسکی بے قراری بڑھتی جا رہی تھی .....کچھ دیر بعد وہ بھی میری زبان کو چوس رہی تھی .......۔۔میں نے پیچھے پھیرتے ہوئے ہاتھ کو آگے لاتے ہوئے سینے کے ابھار پر لانے لگا ........زارا میرے ہاتھوں کو پکڑتی ہوئی آگے کو جھکی تھی ۔۔۔سرخ شرٹ میں اس کےممے بے تحاشہ باہر کر نکلے ہوئے تھے .......زارا نے مجھے اِس سے روکنے کے لئے بے تحاشہ بوسے شروع کر دئے تھے ........وہ بڑے جذباتی انداز میں میرے پورے چہرے ، ہونٹوں کو چومے جا رہی تھی........پرانی زارا کے اندر سے ایک نئی زارا نکلی تھی ........میرے ہاتھ اب بھی اس کے سینے پر ہی تھی، جس کے اوپر زارا نے اپنے ہاتھوں کو رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔ہلکے سے دباؤ کے ساتھ ........میں نے بھی آہستگی سے اس کےسینے پر دباؤ بڑھا نے لگا ........زارا نے اپنے ہاتھ ہٹا کر میرے سر پر رکھ دئیے تھے ........مجھے تو کھلی چھوٹ مل گئی تھی ........میں پوری آزادی سے اس کے مچلتے ہوئے مموں کو دبانے میں مصروف ہو گیا ۔۔۔۔اور اسے تھوڑا سا قریب لاتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو اس کی شرٹ کے اوپر ہی پھیرنے لگا ........اور ہاتھوں کو نیچے لے جا کر اس کی کمر سے نیچے کا سفر شروع کر دیا ........اس کی کمر زیادہ پتلی نہیں تھی ۔۔گوشت سے بھری پْری تھی ، اور نیچے سے اس کے بڑے سے چوتڑ تھے ۔۔۔میں بغیر کسی جھجک کے اس کے چوتڑ دبا رہا تھا ........زارا کاچہرہ اب بھی میرے چہرے پر گھوم رہا تھا ........مگر اب اس کی بے چینی میں محسوس کر رہاتھا ........چوتڑوں کے نیچے سے اس کی گرمی میرے ہتھیار پر بھی اثرا نداز ہو رہی تھی ........اور اب وہ بھی اٹھنے کی 
تیار ی میں تھا ........میں نے زارا کو اِسی طرح گود میں بھر کے اٹھا لیا ........اٹھاتے ہوئے پہلے میں دروازے کی طرف گیا تھا ........دروازہ اندر سےلاک کرتے ہوئے میں بیڈ پر آنے لگا ........ زارا میرے گرد ٹانگیں لپیٹی ہوئی تھی ........بیڈ پر آ کر اسے اپنےبرابر میں لٹاتے ہوئے میں اس کی طرف کروٹ پر لیٹا تھا........مگربیڈ پر ہونے کے بجائے میں آدھا سے زیادہ اْسی کے اوپر ہی جھکا ہوا تھا ........اس کے چہرے کو پھر سے چومنا شروع کردیا تھا ۔۔۔نیچے سے ہاتھوں نے بھی من مانی شروع کر دی تھی........اور اس کے نیچے میں اپنی ایک ٹانگ اس کے اوپر رکھ چکا تھا .......۔۔جہاں اس کی صحت مند رانیں بڑی خوبصورتی سی بلیک ٹراؤزر میں ابھری ہوئی تھیں ........کچھ دیر تک اس کے چہرے کو گیلا کرنے کے بعد میں تھوڑا سا سیدھا ہو کر لیٹا اور اسے خود پر کھینچنے لگا ........اور تھوڑی سی زور آزمائی کے بعد وہ مجھ پر آ چکی تھی ........اس کے چہر ہ میرے چہر ہ پر تھا ........دونوں ہاتھوں کو میرے سر کے دائیں بائیں بیڈ پر رکھتے ہوئے وہ مجھ پر جھکی ہوئی تھی ۔۔اس کے بڑے سے ممے میرے سینے پر دبے ہوئے تھے ۔۔۔میں نے اسے تھوڑا سا اوپر کی طرف اٹھایا۔۔۔اور اپنے سر کے نیچے ایک تکیہ رکھ دیا ۔۔اس کے بعد اس کی شرٹ کے نیچے حصے کو ہاتھوں میں پکڑا ۔۔۔میری نظر اس کے چہرے پر پڑی تھی ۔۔۔سیاہ آنکھیں چمک رہی تھی........ ہونٹوں پرآرزو بھری مسکراہٹ تھی ۔۔۔اس نے اپنے ہاتھوں کو تھوڑا سا اوپر اٹھا دیا ۔۔۔کھلا اشارہ ملتے ہی میں نے اپنے ہاتھوں کوحرکت دی تھی .......میں زیادہ اوپر اپنے ہاتھ نہیں اٹھا سکا ۔۔اس لئے باقی شرٹ اس نے خود ہی اتاری .......اور پھر گورے چٹے ، بھاری بھرکم ممے میرے سامنے تھے ۔۔۔۔میں نے برا کےاوپر سے ایک مرتبہ دباتے ہوئے انہیں اٹھایا ........زارا کچھ زیادہ ہی گرم ہوچکی تھی ........اس نےپیچھے ہاتھ بڑھا کرخود ہی برا کی ہک بھی کھول دی تھی ۔۔۔اورپھر ان مموں کو میں نے تھوڑا سا جھکتے دیکھا تھا .......گلابی نپلز جن کے ساتھ ایک بڑا سا تل بھی تھا ۔۔۔۔مجھے دعوت دینے لگا ۔۔۔۔زارا کی آنکھیں بھی یہیں کہ رہی تھیں ۔۔۔تو مجھے ماننے پر کیا اعتراض ہو سکتا تھا ۔۔۔۔میں اسی طر ح اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔اور گود ی میں بیٹھی زارا کے مموں کو پکڑتے ہوئے منہ میں ڈالنے لگا .......اس کی ایک سسکاری سی نکلی تھی .......ممے درمیانے سائز کے تھے .......مگر گولائی میں کافی ابھرے ہوئے تھے .......میں ایک ہاتھ میں اسے کسی آم کی طرح تھامتا اورمنہ میں ڈالے چوسنے لگتا .......۔۔میرا ایک ہاتھ اس کی بیک پر تھا ۔۔اور دوسرا ہاتھ باری باری دونوں مموں کو منہ میں پہنچا رہا تھا ۔۔۔۔زارا نے میری شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کر دئے تھے ۔۔زارا اب کھل کر سامنے آ چکی تھی .......شرم و حیا کے ساتھ ساتھ وہ گرم لڑکی بھی تھی ۔۔جو ہر مزے کو ہر انداز سے انجوائے کرنے کی کوشش کرنا چاہ رہی تھی .......۔اور اب برا کھلنے کے ساتھ ہی وہ اور بھی کھل کر سامنے آئی تھی .......اس کی آنکھوں میں شہوت کے ڈورے تیر نے لگے تھے .......۔وہ میرے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے مموں پر دباؤ ڈالنے لگی تھی ۔۔۔۔میرے اندر کا راجہ بھی باہر آنے لگا تھا .......۔۔میں نے بھی دباؤ بڑھا دیا .......زارا کی ایک تیز بھنچی ہو ئی چیخ نکلی تھی .......میرے ہاتھوں کی پکڑ میں اس کے بھاری بھرکم ممے پھنسے ہوئے تھے ۔۔۔میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور پیچھے سے اس کا ٹراؤزر بھی کھینچنے لگا ۔۔۔آدھا ٹراوزر اتر چکا تھا ۔۔۔اور وہ گھوڑی بنی ہوئی میرے اوپر جھکی ہوئی تھی ۔۔۔میں نے اسی دباؤ سے اس کے چوتڑ پر دباؤ بڑھا یا تھا .......وہ سسکیاں بھرنے لگی تھی ۔۔ساتھ ہی ہلکی سی چیخ بھی مارتی ۔۔۔جس میں واضح اشارہ تھا کہ ابھی اور گنجائش ہے ۔۔۔اور میں اور دباؤ بڑھا دیتا ۔۔۔میں اس کے مموں سے اب سیراب ہو چکا تھا .......گورے گورے ممے اب لال سرخ ہوئے تھے ، کہیں کہیں میرے دانتوں کے نشان بھی تھے .......میں نے اٹھتے ہوئے زارا کو بیڈ پر لٹایا تھا .......لیٹتے ساتھ ہی اس نے ٹانگیں بھی اٹھا لیں تھیں ۔۔۔۔میں اس کا اشارہ سمجھ کر ادھ اترا ٹراؤزر کھینچ دیا ۔۔۔اب اس کی موٹی بھری ہوئی رانیں ۔۔جس کے درمیانی حصے پر سرخ پینٹی لپٹی ہوئی تھی ۔۔۔میں اسے بھی اتارتا چلا گیا .......زارا کے حرکتیں شوخ ہوتی جا رہی تھی .......اور وہ مجھے اسی قدر ابھار رہی تھی.......اس نے اپنے پیر میرے سینے پر رکھتے ہوئے مجھے خود سے دور رکھنے کی کوشش کی .......میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو شرارت سے چمک رہا تھا ۔۔۔۔میں اس کی ٹانگیں پھیلاتے ہوئے درمیان میں آیا تھا .......اور اس کے سینے پر جھکا تھا ۔۔۔جہاں ممے اب پھیلے ہوئے تھے ۔۔۔ان کے درمیان سرخ نپلز مچل رہے تھے ۔۔۔۔پھیلی ہوئی حالت میں اس کے ممے سینے پر کافی اوپر تک پہنچے ہوئے تھے .......۔گول گول سے ، چاروں طرف یکساں گولائی کے ساتھ ۔۔۔۔میں اپنے لیفٹ ہاتھ سے اس کے مموں سمبھال رہا تھا ۔.......اور سیدھا ہاتھ نیچے لے جار کر پینٹ اتار نے لگا ۔۔۔۔جلد ہی ہتھیار قید سے باہر تھا ۔۔۔۔کھلی فضاء میں آ کر ہتھیار نے بھی جان پکڑ لی تھی ۔۔۔اورچند ہی سیکنڈ میں تن چکا تھا .......۔ٹوپا غصے میں تھا ۔۔اور ہلکی سی لرزش کے ساتھ پھول رہا تھا .......میں نے زارا کی طرف دیکھا ۔۔۔ وہ بھی میرے چہرے کو ہی دیکھ رہی تھی ۔۔جیسے پوچھ رہی ہو کہ کیاماجرہ ہے .......۔میں نےا س کی ٹانگیں دائیں بائیں پھیلاتے ہوئے موڑ دی تھی ۔۔اور پنجوں کے بل بیٹھتے ہوئے پوزیشن سمبھال لی تھی .......اس کی بھری بھری ٹانگوں کے درمیان میرا ہتھیار بھی بھرا بھرا سا لگ رہا تھا ۔۔پھولا پھولا سا لگ رہا تھا .......۔۔مگر چوت کے اوپر رکھتے ہوئے چوت بے چاری چھپ سی گئی تھی ۔۔زارا نے اپنی ٹانگوں کو تھامتے ہوئے مجھے اشارہ کر دیا تھا .......میں نے بھی ٹوپا سمبھال کر چوت پر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔زارا نے اب تک ہتھیار نہیں دیکھا تھا ۔۔۔وہ شاید مزے کو انجوائے کرنے کے چکر میں لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔یا شاید کوئی نارمل سائز ایکسپکٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔جب ٹوپا اسےٹچ ہو ا تھا ۔۔۔تبھی اس کی نظر نیچے کو پڑی تھی ۔۔۔اس نے کہنے کو منہ بھی کھولا تھا ۔۔۔مگر میں اسکے بڑے سے مموں کو جکڑنے کے لئے آگے آیا تھا ۔۔اور ساتھ ہی ٹوپے نے دستک دے تھی .......زارا نے سانس روک کر پھر سے نیچے دیکھا تھا .......۔ٹوپے کے لئے راستہ تنگ تھا ۔۔۔۔مگر میں نے پیچھے سے دباؤ بڑھا دیا ۔۔۔۔ٹوپے نے چوت کی دونوں دیواروں کو چیرا تھا ۔۔اور تباہی مچاتا ہوا اندرلپکا ۔۔۔زارا کی ایک بلند چیخ نکلی تھی ۔۔۔میں نے ممے چھوڑتے ہوئے اس کی ٹانگوں کو تھام لیا ۔۔جو اٹھ کر اس کے سینے پر لگ رہی تھی ۔۔۔ابھی ٹوپا ہی اندر پھنسا تھا ۔۔۔۔اور زارا کی ہائے ہائے شروع تھی ۔۔۔جتنی سریلی آواز تھی ۔۔۔اتنی ہی سریلی آہیں بھی تھیں ۔۔۔۔میں نے دوبارہ سے دباؤ بڑھاتا گیا اور آدھا ہتھیار اندر اتار دیا .......۔۔زارا کی پہلے سے زیادہ کراہیں نکلی تھیں ۔۔۔ٹانگیں بھی اتنی تیزی سے ہلی تھیں ۔۔۔مگر پورے طریقے سے میرے قابو میں تھی .......وہ مجھے دیکھتے ہوئے بار بار منہ کھولے اور بند کئے جا رہی تھی .............شاید کچھ کہنا چاہ رہی تھی ............دونوں ہاتھوں سے مجھے رکنے کا اشارہ بھی کر رہی تھی ............میں نے دوبارہ سے ہتھیار باہر گھسیٹا اور دوبارہ اندر دھکیل دیا ۔۔وہ پھر سے لرزی تھی...........ممے بھی باؤنس ہوئے ........مگر اس کا منہ اب بھی کھلا ہی تھا .......میں نے کچھ دیر رکنے کے بعد اب اِن آؤٹ شروع کر دیا تھا ..........ہتھیار اٌسی طرح سے پھنستا پھنساتا آنے جانے لگا .......۔زارا کی چوت نے کافی سے زیادہ پانی چھوڑ کر راستہ صاف کرنے کی کوشش کی تھی .......مگر ہتھیار کی موٹائی کسی صورت ماننے کو تیار نہ تھی ۔۔۔وہ اسی طرح اس کی چوت میں پھنستا ہوا گزرتا جا رہا تھا ۔۔زارا آدھا ہتھیار سمیٹ چکی تھی .......۔موٹے سے ہتھیار میں اس کی چوت برے طریقے سے پھنسی ہوئی تھی .......اس کی آواز اب تک لوٹ کر نہیں آئی تھی .......میں کچھ دیر اور ہتھیار آگے پیچھے کر تا رہا .......۔۔زارا کا منہ کچھ بند ہوا تھا ۔۔۔۔اس نے ایک نظر نیچے کو دیکھا اور پھر ایک زور دار آہ نکالی ۔۔اف.......ہائے ........اوئی........

Share this post


Link to post
Share on other sites

سعدیہ نے اسے جو کہانی سنائی ہو گی .........حقیقت اس سے مختلف تھی........سعدیہ نے مزے کی داستان سنائی تھی.......اور ....یہاں درد کا سبق تھا ...........وہاں سسکیاں اور مزے کے قصے تھے .........اور یہاں پر آہوں اور ہائے کا طوفان تھا .....زارا ........اب کچھ دھیرے ہونے لگی تھی ...........نارمل ہونے لگی تھی ............نیچے دیکھنے کا بعد اسے پتا چل گیا کہ آدھا ہتھیار ابھی باہر ہی ہے ...........اس نے مجھے کہا کہ راجہ بس ابھی کچھ دیر اتنا ہی کرتے رہو...........مجھے کیا اعتراض تھا........میں اپنی نارمل اسپیڈ سے ان آؤٹ کرنے لگا.......اور کچھ ہی دیر میں زارا کی چوت نے ہار مانی اور پانی چھوڑنے لگی ........میں کچھ دیر تک ہتھیار ہلاتا رہا پھر باہرکھینچ لیا ........
میں زارا کے ساتھ لیٹا تھا ۔۔ زارا اٹھی اور اپنی ٹانگوں کے درمیان ہاتھ رکھتی ہوئی بولی ...........اف راجہ کیا گھسا دیا تھا تم نے...........مجھے ایسا درد کبھی نہیں ہوا ...........میں کیا بولتا کہ بس خاموش ہی رہا .......ہتھیار اسی طرح کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔زارا میرے ساتھ بیٹھتی ہوئی اسے تھامنے لگی ۔۔۔اس کے ہاتھ جتنے صحت مند تھے ۔۔۔۔اس سے زیادہ میرا ہتھیار کھاتا پیتا لگ رہا تھا ۔۔۔اس نے اپنی مٹھی میں موٹائی کو سمبھالنے کی کوشش کی ۔۔۔مگر ابھی آدھا ہتھیار اس کی مٹھی سے باہر تھا ۔۔۔زارا دوسرا ہاتھ لا کر اس تھامنے لگی .......۔اور پھر اسی دونوں ہاتھوں کو اوپر نیچے کرنے لگی تھی .......۔میں لیٹا اس کے حرکت کرتے ہوئے بازؤوں کے درمیان اس کے موٹے سے مموں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جو ہلتے ہوئے مجھے خراج تحسین پیش کر رہے تھے ۔۔۔میں نے ہاتھ بڑھا کر انہیں تھاما اور کھینچنے لگا ۔۔۔اِدھر زارا میرے ہتھیار سے کھیلنے کے بعد اب منہ میں لینے کی کوشش میں تھی .......۔جو اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔۔۔آخر چاروں طرف سے چاٹ چاٹ کر اسے نہلانے لگی ۔۔۔۔میں اسے بھی دیکھتا ۔۔۔اس کے مموں کو بھی دیکھتا .......پیچھے سے بھری ہوئی کمر اور بڑی سے گانڈ کو بھی دیکھتا .......۔زارا نے ہتھیار کو اور زیادہ ہوشیار کر دیا تھا ۔۔۔۔جبھی میں نے اسے کہا کہ آ جاؤ ۔۔۔۔گھوڑی بنو ۔۔۔۔اور کھسک کر اسے جگہ فراہم کرنے لگا ۔۔۔وہ بھی کمال فرمانبرداری سے اسی جگہ گھوڑی بنی تھی ۔۔میں اٹھ کر اس کے پیچھے آیا تھا ۔۔۔۔دونوں چوتڑ گوشت سے بھر ے پرے تھے .......۔میں ان کے درمیان ہتھیار رکھتا ہوا دبانے لگا .......۔نیچے سے زارا نے بھی سمت کی رہنمائی کی اور چوت پر ٹکانے لگی ۔۔۔میں آگے کو جھکا تھا .......۔اور اپنے ہاتھ اس کے کندھے پررکھ کر باقی کہنی اس کی کمر پر رکھ دی تھی ۔۔۔۔کوشش تھی کہ کہنی کی نوک نہ چبھے ۔۔۔۔بس اپنے اگلے بد ن کا وزن اس کی کمر پر ڈالوں .......اور میں اپنی کوشش میں کامیاب بھی ہوا تھا ۔۔۔زارا تھوڑی سی نیچے کو بیٹھی اور پھر وزن سمبھال کر اٹھی تھی .......۔زارا اکافی صحت مند تھی اور مجھے اندازہ تھا کہ وہ میرے اوپر بدن کا وزن برداشت کر لے گی ۔۔۔اگلے حصہ کنٹرول میں آتے ہی میرے دونوں ٹانگیں قدرے جھک کر پیر اس کے آس پاس جم چکے تھے .......۔میراہتھیار اب تک اس کی ٹانگوں کے درمیان ہی پھسنا ہوا اس کی چوت کی گرمی کو محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔میں نے اگلے حصے پر وزن بڑھاتے ہوئے اپنی کمر کو ہلا یا ۔۔۔ہتھیار نیچے کو پھسلا تھا .......اور اس پر بھی زارا کی اووئی ۔۔۔نکل چکی تھی .......میں نے ایک ہاتھ پیچھے لے کر گیا اور دوبارہ سے ٹوپے کا نشانہ فکس کیا ۔۔۔۔اور ہاتھ اوپر لا کر اس کی کمر پر وزن ڈال دیا ۔۔۔۔اور پھر سے کمر کودھکا لگایا .......زارا کے منہ سے پھر ایک کراہ ۔۔۔اور .......اووئی مر گئی کی آواز نکلی تھی ۔۔۔۔وہ آگے ہوتی مگر میرا وزن اچھا خاصا تھا .......۔۔جو اسے آگے بڑھنے سے روکتا تھا .......اور پیچھے سے گھوڑا تھا ۔۔۔جس نے ابھی دوڑ لگانی تھی .......۔میں نے پیر جما کر پیچھے سے پھر ایک دھکا دیا اور آدھا ہتھیار اندر پہنچ گیا تھا .......زارا۔۔۔ برے طریقے سے ہلی تھی ۔۔۔اور شاید بیلنس کھو کر دائیں بائیں گر بھی پڑتی مگر میں نے تیزی سے اس کے اوپر کا وزن کم کیا .......۔۔۔۔جب وہ سیٹ ہو گئی تو پھر وزن دیتے ہوئے دھکا لگانے لگا ۔۔۔۔زارا لرزنے کے ساتھ ساتھ ہل رہی تھی ۔۔۔۔ہلنے کے ساتھ سسکیاں بھر رہی تھی ۔۔۔۔سسکیاں بھرنے کے ساتھ کچھ کانپ بھی رہی تھی .......
میں نے اسی طرح دھکے دیتے ہوئے اپنی اسپیڈ بڑھا دی .......زارا کی ایک تیز آہ نکلی ۔۔۔اوئی ۔۔ہائے ۔۔اف.......نیچے سے اس کے لٹکے ہوئے ممے بھی اچھلے ہوں گے ......میں نے اس کے اوپر سے ہاتھ ہٹا کر اور جھکا اور اس کے ممے تھام لئے ۔۔زارا کاوزن کم ہو چکا تھا......وہ تھوڑی سی اوپر کو اٹھی تھی ......گانڈ بھی تھوڑی سی اٹھا لی تھی ......جس سے میرا مزہ بڑھ گیا تھ......میں قریب آتے ہوئے اس کی گانڈ سے ٹکراتا تھا ۔میں اسی سوچ میں تھا کہ اچانک ۔۔میں جو پہلے آدھے ہتھیار کو گھساتا تھا ۔۔۔۔ممے پکڑنے کے چکر میں جو جھٹکا مارا تھا ۔۔تو پورا اندر اترا تھا .......زارا ایک مرتبہ بھی بلند چیخ نکالتے ہوئے آگے گئی تھی......ممے میرے ہاتھ میں ہی تھے ......میں نے واپسی کا راستہ دکھا دیا ۔۔۔۔اسی اسپیڈ سے وہ واپس آئی تھی ۔۔۔اس کے بعد میں نےپورے ہتھیار پر ہی اس رکھا تھا ۔۔۔ہر جھٹکے کے ساتھ اس کی کمر اور گانڈ بھی اوپر کو جھٹکا کھاتے تھے .......اس کی نان اسٹاپ ہائے ہائے مچی ہوئی تھی ۔۔۔۔ ۔۔زارا کی آگے نکلنے کی کوشش ناکام تھی ۔۔۔اور پیچھے سے پھنسا ہواہتھیار اسے سکون نہیں دے رہا تھا .......۔وہ راجہ راجہ کی گردان بھی لگائے ہوئے تھی .......۔میں نے پھر سے پورا ہتھیار باہر نکالا اور واپس دھکیل دیا تھا ۔۔۔وہ اوئی کی آواز کے ساتھ پھر کمر اچھالتی گانڈ نیچے کو ہوتی ۔۔۔۔اتنے میں دوسرا جھٹکا پڑتا اور اسی طرح اس کی کمر اوپر اور گانڈ نیچے کو ہوتی .......۔زارا کی اب بھی ہمت تھی جو پورا ہتھیار اس نے سہہ لیا تھا ۔۔۔پہلی مرتبہ میں تو چاچی نے بھی پورا نہیں لیا تھا .......۔۔زارا کی اوئی .......اوئی .......اور ہائے پورے کمرے میں گونج رہی تھی .......میں نے ممے اب تک سمبھالے ہوئے تھے ۔۔۔میر ے جھٹکے تیز ہورہے تھے ۔۔۔۔زارا آگے کو ہوتی تو مموں پر زور پڑتا ۔۔۔جس سے درد بڑھ جاتا ۔۔۔۔میں نے پوزیشن بدلنے کا سوچا اور ہتھیار باہر نکال لیا .......۔اٌسے بیڈ کے کنارے پر لا کر خود نیچے اتر گیا .......زارا بیڈ کے درمیانی حصے میں کنارے پر تھی ۔۔۔ٹانگیں بیڈ پر تھیں ۔۔۔۔میں نے اس اور آگے کو کھینچا اور بالکل کنارے پر لا کر دونوں ٹانگیں سیدھی پھیلا دی۔۔۔۔اس کی دونوں ایک دوسرے کے مخالف تھیں .......درمیان میں میں تھا .......ہتھیار ابھی تک لشکارے مار رہا تھا.......میں ایک ایک ہاتھ دونوں ٹانگوں پر رکھتے ہوئے انہیں کھول چکا تھا ..............اور اب درمیانی لکیر تھی پانی میں گیلی ہوئی......۔ جس کے سامنے میرا ہتھیار نئی صف بندی کر رہا تھا ......زارا اب دونوں مموں کو اپنے ہاتھو ں میں دبوچے ہوئے یہ منظر دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔اس نے اپنا سر تھوڑا سا اٹھایا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔زبان باہر نکلتی اور ہونٹوں پر گھوم کر واپس چلی جاتی......میں نے ٹوپے کو اوپر رکھ کر دباؤ بڑھنے لگا......زارا کی ٹانگیں پوری پھیلی ہوئی تھیں ۔۔میں نے ہاتھ اس کے رانوں کے اندرونی سائیڈ پر رکھ کر تھام لی تھیں ۔۔۔۔ہتھیار کا ٹوپا مخصوص آواز نکالتا ہوا تھا......زارا اوپر کو اٹھی تھی......پیٹ اندر جا کر باہر آیا تھا ......اس نے اپنے مموں پر اپنی پکڑ مضبوط کر لی تھی ۔۔۔۔۔میں نے رانوں کو تھامتے ہوئے دباؤ بڑھانے لگا ......اس کی سسکاری نکل رہی تھی......وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرے جا رہی تھی ......اور میں دباؤ بڑھاتے ہوئے مزید اندر گھسانے کی کوشش میں تھا ......زارا نے آدھا ہتھیار لے لیا تھا......میں نے اس کی ٹانگیں سمیٹ کر سیدھی اوپر کو اٹھا دی تھیں......اور اپنے بازؤوں میں دبوچ چکا تھا ......نیچے سے ہتھیار نے بھی اسپیڈ پکڑنی چاہی تھی ......زارا کی گرم گرم سسکاریاں پھر سے گونجنے لگی تھی ۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔آہ۔۔۔افف۔۔۔۔ہائے ۔۔سس۔۔میں اب پورا ہتھیار کھینچ کر باہرنکالتا اور پھر اسی اسپیڈ سے اندر بھیجتا......جس کے ساتھ ہی اس کی آواز بلند ہوتی ......میر ی حرکت تیز ہوتی جا رہی تھی......جس کا اندازہ زارا کی اونچی اور بلند سسکیوں سے بھی ہو رہا تھا ......اس کا پورا جسم لرزش کر رہا تھا......۔میرے جھٹکےاور تیز ہوئے تھے......اس کے بعد طوفانی جھٹکوں کی باری آتی تھی ......مگر کچھ دیر میں زارا ہل ہل کر بیڈ سے اوپر کھینچنے لگی تھی......میں بھی جھٹکے دیتے ہوئے اسے اوپر دھکیلنے لگا ......اور پھر اسی طرح دھکے دیتا ہوا اسے اوپر لاتے ہوئے خود بھی بیڈ پر پہنچ گیا ......اس کی جسم کی کپکپاہٹ اور سسکیاں بڑھتی گئی تھی ......مگر اٹھی ہوئ ٹانگیں میری بانہوں میں تھی ......اور نیچے سے پھیلی ہوئی گانڈ کے درمیان ہتھیار اپنی دوڑ جاری رکھے ہوئے تھا ......زارا اور ہم دونوں بیڈ کے درمیان میں پہنچ چکے تھے ......دھکے اور جھٹکے ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں رکے تھے ......اسی طرح زارا بھی ایک لمحے کے لئے چپ نہیں ہوئی تھی......وہ بھی منہ کھولے سسکیاں بھرتی رہی ......اپنی سریلی آواز میں مجھے پکارتی رہی ......بیڈ کے درمیان پہنچ کر میں نے ہتھیار باہر نکالا اورٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے اٌسے اٌسی طرح الٹا لٹا دیا ......وہ بھی کروٹ لے کر پلٹ گئی ......اب میں اس کے چوتڑ کےاوپر آیا تھا ......اور انہیں کے درمیان سے ہتھیار کو راستہ دکھایا......وہ بھی پلک جھپکنے میں منزل مقصود تک پہنچا ......اور چوت کے لبوں کو چیرتا ہوا اند ر گھسا تھا ......ا ب کی بار پورے ہتھیار نے مار کی تھی ......زارا نے سر کو جھٹکے سے اوپر اٹھایا تھا ......ایک ہلکی چیخ کے ساتھ وہ ہلی تھی......میں اس کی کمر پر ہاتھ رکھے اپنا وزن ڈال چکا تھا......اور پیچھے اس کے چوتڑ کےدرمیان ہتھیار اپنی اسپیڈ پکڑ رہا تھ......زارا کے چوتڑ بری طریقے ہلے جاتے تھے ......جن سے میں ایک سیکنڈ میں دو مرتبہ ٹکراتا تھا ......میری اسپیڈ اب بڑھنے لگی تھی ......دھکے طوفانی ہوتے گئے ۔......بیڈ بھی لرزنے لگا ۔۔۔۔اور زارا کی سسکاریاں بھی ۔۔۔۔۔۔میرے پاور فل دھکوں نے زارا کے انجر پنجر ڈھیلے کر دئے تھے......وہ اب الٹی بے سدھ لیٹی ہوئی تھی ......ہاتھ آگے بیڈ پر سیدھے تھے ......اور پورا جسم ہل رہا تھا ......میں نے اسپیڈ اور تیز کی تھی......اور پھر غراہٹوں کے ساتھ جھٹکے اور بڑھے تھے......زارا نے بھی چیخوں کے ساتھ میرا ساتھ دیا تھا ......وہ بھی فارغ ہونے کے قریب تھی ......اور...... میں بھی اپنی مدت پوری کر چکا تھا ......کچھ اور طاقتور جھٹکے پڑے تھے ......بیڈ بھی چوں چوں کرنے لگا تھا ......اور پھر ایک تیز غراہٹ کے ساتھ میں فارغ ہونے لگا......زارا بھی میرے ساتھ ہی آئی تھی......اس کی چوت میں پانی کا ایک سیلاب آیا تھا ......جنوں سرد ہونے لگا تھا ......میں نے ہتھیار باہر نکالا اور اس کے ساتھ لیٹتا چلا گیا ......
کچھ دیر میں ہم سمبھل گئے تھے ۔۔۔۔زارا حسب سابقہ مجھے سے لپٹ کر بوسوں کی بوچھاڑ کردی تھی ۔۔۔۔۔۔ہم دونوں کافی دیر تک لپٹے رہے تھے ۔۔۔پھر مجھے خیال آیا کہ ہم کہاں پر ہیں ۔۔میں نے زارا کو تیار ہونے کا کہا اور خود بھی اٹھ گیا ۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

عمران اپنے فلیٹ میں موجود تھا ۔ان دنوں سیکرٹ سروس کے پاس کوئی کیس نہ تھا اس لئے عمران کا زیادہ وقت فلیٹ پر ہی گزرتا تھا ۔کتابوں اور رسالوں کی اس کے پاس کمی نہ تھی اس لئے عمران ہر وقت نئے سائنسی رسالوں کے مطالعے میں مصروف رہتا تھا ۔۔۔صبح سویر ے ناشتہ کے ساتھ سرسر ی سا اخبار دیکھنا اور پھر اپنے مطالعے میں مصروف ہوجانا اس کا معمول تھا ۔ابھی بھی عمران اخبار دیکھ رہا تھا جس میں وہی پرانی خبریں وہی گھسے پٹے دعوے دہرائی جا رہی تھی ۔اخبار کے بعد عمران اپنے مطالعے میں مصروف ہو گیا ۔۔کہ کچھ دیر میں ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔سلیمان مارکیٹ گیا ہو ا تھا ۔۔گھنٹی ایک مرتبہ بج کر خاموش ہوئی اور دوبارہ بجنے لگی ۔۔۔۔عمران اسی طرح خاموشی سے مطالعہ کرتا رہا جیسے کوئی آواز ہی نہیں آ رہی ہو ۔۔۔جب گھنٹی تیسری بار بجنا شروع ہوئی تو عمران نے ریسیور اٹھا لیا ۔۔۔
آپ نے غلط نمبر ڈائل کیا ہے آپ کا مطلوبہ بندہ اس وقت مطالعے میں مصروف ہے ۔عمران نے مسکراتی ہوئی آواز میں کہا۔
عمران صاحب۔ٹائیگر بول رہا ہوں ۔آپ نے جو کام ذمے لگایا تھا وہ ہو گیا ۔۔شمالی علاقہ جات میں کافرستانی سیٹ اپ کا پتہ چل گیا ہے ۔۔ وہ لوگ کافی عرصے سے حلیہ بدل کر وہاں رہ رہے ہیں ۔۔علاقے کے لوگوں نے بتایا ہے کہ ان کے ہاں کچھ مہینے بعد نئے چہرے دیکھے جاتے ہیں ۔۔۔اور وہ پھروہ مہمان وہاں ٹہرنے کے بعدکہیں چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔
اچھا ۔تم راجہ کو رانا ہاؤس بلوا لو اور خود اس علاقے کی طرف روانہ ہو جاؤ ۔۔۔ مزید معلومات اکھٹی کرو ۔۔راجہ ایک ہفتے بعد تمہیں وہیں ملے گا۔۔۔۔عمران نے ٹائیگر کی بات سن کر جواب دیا اور فون رکھ دیا ۔۔۔۔
اس کے بعد عمران نے رانا ہاؤس کے نمبر ڈائل کرنا شروع کردیا ۔۔۔۔
جوزف اسپیکنگ۔۔۔جوزف کی بھاری آواز اسپیکر میں گونجی تھی ۔
کل تک راجہ تمہارے پاس پہنچ جائے گا ۔۔اٌسے ایک ہفتے بعد ٹائیگر کے ساتھ وزیرستانی علاقے کی طرف نکلنا ہے ۔۔تم اور جوانا جتنا ہو سکے اسے تربیت دو ۔۔۔ وہ مارشل آرٹ جانتا ہے ۔۔اسلحہ اور بارود کے علاوہ کم از کم اتنا کہ وہ ٹائیگر کا ساتھ دے سکے ۔۔۔جسمانی طور پر مضبوط لڑکا ہے ۔۔جلد ہی اچھے فائٹر میں ڈھل جائے گا۔۔۔۔عمران نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
اوکے باس ایسا ہی ہوگا ۔۔۔جوزف نے جواب دیا ۔۔
عمران نے فون رکھ دیا اور پھر سے مطالعے میں مصروف ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
زارا اور میں تیار ہو چکے تھے ۔۔۔چاچا نے کمرے میں چائے اور فروٹ بھجوا دیئے ۔۔۔ہم نے ریفریشمنٹ کی اور پھر زارا کو لیتا ہوا اس کے ہاسٹل چھوڑا اور پھر خالہ کے گھر کی طرف چل پڑا ۔۔۔دروازہ وقار نے کھولا تھا ۔ وہ اسکول سے آچکا تھا ۔۔۔ہم گرم جوشی سے ملےاور پھر ڈرائنگ میں بیٹھے ۔۔۔تھوڑی دیر میں نکھر ی نکھری ثناء بھی وہیں آ گئی ۔باتوں اور قہقہوں میں پتا ہی نہیں چلا کہ رات ہو گئی ۔۔۔۔رات کا کھانا ہم نے ساتھ کھایا ۔۔اور پھر اپنے گھر کی طرف واپس لوٹ آئے ۔۔۔اپنے روم میں پہنچ کر بیڈ پر لیٹا تھا ۔۔۔ثناء نیچے سے دودھ لینے گئی تھی کہ میرے موبائل کی بیل بجی ۔۔۔۔ٹائیگر کا فون تھا ۔۔۔اس نے جب پوری صورت حال بتائی تو میں خوشی سے اچھل ہی پڑا ۔۔مجھےایک ہفتے بعد اس سے وزیرستان میں ملنا تھا ۔۔۔اور کل رانا ہاؤس پہنچنے کا کہ کر ٹائیگر نے فون بند کردیا ۔۔۔
ثناء کمرے میں داخل ہوئی تو میں دل ہی دل میں مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔۔کیا ہوا کوئی خوشخبری مل گئی ہے جو اکیلے اکیلے مسکرائے جا رہے ہیں ۔۔۔ثناء نے پوچھا ۔۔۔
ہاں کچھ بات ہی ایسی ہے ۔۔ایک دوست کے ساتھ ایک ہفتے کا ٹور بنا ہے ۔۔۔پورے ملک کی سیر کو جا رہے ہیں ۔۔میں نے جلدی جلدی بتایا ۔۔۔
ثناء کچھ اداس سی ہو گئی ۔۔۔ایک ہفتے کے لئے اور وہ بھی دوستوں کے ساتھ ۔۔۔میں سوچ رہی تھی کہ ہم چلے چلتے ہیں کسی طرف ۔۔امی بھی پوچھ رہیں تھی کہ کہاں جاؤ گے ۔۔۔۔ثناء نے جواب میں کہا ۔۔
بس یہ ایک پہلا اور آخری ٹور ہے ۔اس کے بعد ہم ساتھ میں پورے ملک کی سیر کریں گے ۔۔۔۔۔۔ثناء بہل گئی تھی ۔۔اور میں اٌسے خود سے لپٹا ئے سو گیا ۔۔۔۔
اگلے دن میں جلدی اٹھا تھا ۔۔۔بیگ تیار کر کے امی کے پاس گیا ۔۔انہیں بتا کر کار لے کر شہر کی طرف چل پڑا ۔۔تیز رفتاری سے ڈرائیو کرتے ہوئے میں رانا ہاؤس پہنچا تھا ۔۔۔۔۔
جہاں جوزف میرا انتظار کر رہا تھا۔۔ میں جتنا خوشی خوشی پہنچا تھا آگے اتنا ہی مشکلات میرے سامنے تیار تھیں ۔۔۔۔جوزف اور جوانا نے رانا ہاؤس کے ایک حصے میں میری تربیت کا انتظار کیا ہوا تھا ۔۔۔۔اسی وقت سے انہوں نے میری تربیت شروع کر دی تھی جو کہ ایک ہفتے تک چلنی تھی ۔۔۔صبح کی بے تحاشہ ورزش کے بعد شوٹنگ کے لئے جانا ہوتا تھا ۔۔۔اس کے بعد بارودی مواد اور مختلف اسپائی گیجٹ کا استعمال ۔۔۔شام کے بعد فائٹنگ اور ہینڈ ٹو ہینڈ کومبیٹ کی تربیت ہوتی تھی ۔۔اور رات کو ہم آپس میں ہی فائٹ پریکٹس کرتے تھے ۔۔۔۔ایک ہفتہ کیسے گذرا مجھے پتا نہیں چلا۔۔۔بس روز بروز جسم کی سختیاں بڑھتی جارہی تھی۔۔۔دماغ میں بیلنس اور توازن بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔ جسم کی پھرتی اور دماغی ہوشیاریوں میں اضافہ ہوتا گیا تھا ۔اسٹیمنا اور طاقت بھی پہلے سے کافی بڑھ چکی تھی۔۔۔۔۔ساتھ ہی مختلف ہتھیاروں پر بھی ہاتھ بٹھا چکا تھا ۔۔میرا چہرہ پہلے سے سرخ و سپید اور آنکھوں میں ایک بجلی سی کوند آئی تھی ۔۔سینے میں ایک آگ اور جوش اپنی جگہ بنا چکے تھے ۔۔۔۔آج میرا آخری دن تھا ۔۔جب میری جوزف سے فائٹ ہوئی ۔۔ہم دونوں آمنے سامنے تھے ۔۔اور جوانا ریفری کے فرائض سرانجام دے رہا تھا ۔۔۔۔دس منٹ سے اوپر گزر چکے تھے۔۔ہم دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے تھے ۔۔اور دونوں ہی ہار ماننے کو تیار نہ تھے ۔۔۔جب میں نے تالی کی آواز سنی ۔۔۔عمران صاحب جانے کب آئے تھے ۔۔اور ہماری فائٹ دیکھ رہے تھے ۔۔ہم رک گئے ۔۔اور سانس بحال کرنے لگے ۔۔۔عمران صاحب میرے قریب آئے اور کندھے پر تھپکی دے کر بولے ۔۔اب مجھے لگ رہا ہے کہ میرا انتخاب ٹھیک تھا ۔۔چلو چینج کر کے آؤ ۔۔میں اندر انتظار کر رہا ہوں ۔۔۔میں جلدی جلدی فریش ہوا اور کمرے میں جا پہنچا ۔۔عمران صاحب سامنے صوفے پر بیٹھے تھے ۔۔میں کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
ہاں بھئی کیسے گزرے یہ دن ۔۔میرا خیال ہے کہ اب تم تیار ہو گئے ہو ۔۔عمراں نے پوچھا ۔
جی عمران صاحب! مجھے لگتا ہے کہ مجھ میں کوئی نئی روح حلول ہو گئی ہے ۔۔میں ہر طرح کی سچویشن کے لئے تیار ہوں ۔۔میں نے جواب دیا ۔۔
تمہیں کل پہاڑی علاقے کی طرف نکلنا ہے ۔۔ٹائیگر پہلے ہی جا چکا ہے ۔۔وہ تمہار ا انتظار کر رہا ہے ۔۔ابھی تمہیں صرف اپنے ملک کی حد تک ہی کام کرنا ہے جو زیادہ مشکل نہیں ہے ۔ ۔۔عمران سمجھاتے ہوئے کہ رہے تھے ۔۔
اور یہاں سے کیسے جانا چاہو گے ۔۔۔میں تمہاری فلائٹ کروا دیتا ہوں ۔۔ کل صبح روانہ ہو جانا ۔
میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔۔ٹھیک ہے عمران صاحب۔
چلو ابھی جا کر سو جاؤ کل جلدی نکلنا ہوگا۔۔۔۔عمران صاحب کی بات سن کر میں اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا جہاں آجکل میرا بسیرا تھا ۔۔۔ 
اگلی صبح مجھے جوزف نے اٹھایا تھا ۔۔۔فریش ہو کر میں ناشتہ پر پہنچا جہاں جوزف اور جوانا بھی بیٹھے انتظار کررہے تھے ۔۔میں بھی شامل ہو گیا ۔۔ناشتے کے بعد جوزف نے ایک خصوصی بیگ کی طرف اشارہ کیا کہ راجہ یہ بیگ ساتھ لے کر جانا ہے ۔۔ٹائیگر اور تمہارے کام آنے والا بہت سا سامان رکھا ہے اس میں ۔۔۔کچھ دیر میں جوزف مجھے ائیرپورٹ پر ڈراپ کر کے واپس ہو گیا ۔۔اور میں نے ائیر پورٹ کے اندر قدم بڑھا دئیے ۔۔جہاں سے میری زندگی کا ایک نیا دور شروع ہونے جا رہا تھا ۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

زارا اور میں تیار ہو چکے تھے ۔۔۔چاچا نے کمرے میں چائے اور فروٹ بھجوا دیئے ۔۔۔ہم نے ریفریشمنٹ کی اور پھر زارا کو لیتا ہوا اس کے ہاسٹل چھوڑا اور پھر خالہ کے گھر کی طرف چل پڑا ۔۔۔دروازہ وقار نے کھولا تھا ۔ وہ اسکول سے آچکا تھا ۔۔۔ہم گرم جوشی سے ملےاور پھر ڈرائنگ میں بیٹھے ۔۔۔تھوڑی دیر میں نکھر ی نکھری ثناء بھی وہیں آ گئی ۔باتوں اور قہقہوں میں پتا ہی نہیں چلا کہ رات ہو گئی ۔۔۔۔رات کا کھانا ہم نے ساتھ کھایا ۔۔اور پھر اپنے گھر کی طرف واپس لوٹ آئے ۔۔۔اپنے روم میں پہنچ کر بیڈ پر لیٹا تھا ۔۔۔ثناء نیچے سے دودھ لینے گئی تھی کہ میرے موبائل کی بیل بجی ۔۔۔۔ٹائیگر کا فون تھا ۔۔۔اس نے جب پوری صورت حال بتائی تو میں خوشی سے اچھل ہی پڑا ۔۔مجھےایک ہفتے بعد اس سے وزیرستان میں ملنا تھا ۔۔۔اور کل رانا ہاؤس پہنچنے کا کہ کر ٹائیگر نے فون بند کردیا ۔۔۔
ثناء کمرے میں داخل ہوئی تو میں دل ہی دل میں مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔۔کیا ہوا کوئی خوشخبری مل گئی ہے جو اکیلے اکیلے مسکرائے جا رہے ہیں ۔۔۔ثناء نے پوچھا ۔۔۔
ہاں کچھ بات ہی ایسی ہے ۔۔ایک دوست کے ساتھ ایک ہفتے کا ٹور بنا ہے ۔۔۔پورے ملک کی سیر کو جا رہے ہیں ۔۔میں نے جلدی جلدی بتایا ۔۔۔
ثناء کچھ اداس سی ہو گئی ۔۔۔ایک ہفتے کے لئے اور وہ بھی دوستوں کے ساتھ ۔۔۔میں سوچ رہی تھی کہ ہم چلے چلتے ہیں کسی طرف ۔۔امی بھی پوچھ رہیں تھی کہ کہاں جاؤ گے ۔۔۔۔ثناء نے جواب میں کہا ۔۔
بس یہ ایک پہلا اور آخری ٹور ہے ۔اس کے بعد ہم ساتھ میں پورے ملک کی سیر کریں گے ۔۔۔۔۔۔ثناء بہل گئی تھی ۔۔اور میں اٌسے خود سے لپٹا ئے سو گیا ۔۔۔۔
اگلے دن میں جلدی اٹھا تھا ۔۔۔بیگ تیار کر کے امی کے پاس گیا ۔۔انہیں بتا کر کار لے کر شہر کی طرف چل پڑا ۔۔تیز رفتاری سے ڈرائیو کرتے ہوئے میں رانا ہاؤس پہنچا تھا ۔۔۔۔۔
جہاں جوزف میرا انتظار کر رہا تھا۔۔ میں جتنا خوشی خوشی پہنچا تھا آگے اتنا ہی مشکلات میرے سامنے تیار تھیں ۔۔۔۔جوزف اور جوانا نے رانا ہاؤس کے ایک حصے میں میری تربیت کا انتظار کیا ہوا تھا ۔۔۔۔اسی وقت سے انہوں نے میری تربیت شروع کر دی تھی جو کہ ایک ہفتے تک چلنی تھی ۔۔۔صبح کی بے تحاشہ ورزش کے بعد شوٹنگ کے لئے جانا ہوتا تھا ۔۔۔اس کے بعد بارودی مواد اور مختلف اسپائی گیجٹ کا استعمال ۔۔۔شام کے بعد فائٹنگ اور ہینڈ ٹو ہینڈ کومبیٹ کی تربیت ہوتی تھی ۔۔اور رات کو ہم آپس میں ہی فائٹ پریکٹس کرتے تھے ۔۔۔۔ایک ہفتہ کیسے گذرا مجھے پتا نہیں چلا۔۔۔بس روز بروز جسم کی سختیاں بڑھتی جارہی تھی۔۔۔دماغ میں بیلنس اور توازن بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔ جسم کی پھرتی اور دماغی ہوشیاریوں میں اضافہ ہوتا گیا تھا ۔اسٹیمنا اور طاقت بھی پہلے سے کافی بڑھ چکی تھی۔۔۔۔۔ساتھ ہی مختلف ہتھیاروں پر بھی ہاتھ بٹھا چکا تھا ۔۔میرا چہرہ پہلے سے سرخ و سپید اور آنکھوں میں ایک بجلی سی کوند آئی تھی ۔۔سینے میں ایک آگ اور جوش اپنی جگہ بنا چکے تھے ۔۔۔۔آج میرا آخری دن تھا ۔۔جب میری جوزف سے فائٹ ہوئی ۔۔ہم دونوں آمنے سامنے تھے ۔۔اور جوانا ریفری کے فرائض سرانجام دے رہا تھا ۔۔۔۔دس منٹ سے اوپر گزر چکے تھے۔۔ہم دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے تھے ۔۔اور دونوں ہی ہار ماننے کو تیار نہ تھے ۔۔۔جب میں نے تالی کی آواز سنی ۔۔۔عمران صاحب جانے کب آئے تھے ۔۔اور ہماری فائٹ دیکھ رہے تھے ۔۔ہم رک گئے ۔۔اور سانس بحال کرنے لگے ۔۔۔عمران صاحب میرے قریب آئے اور کندھے پر تھپکی دے کر بولے ۔۔اب مجھے لگ رہا ہے کہ میرا انتخاب ٹھیک تھا ۔۔چلو چینج کر کے آؤ ۔۔میں اندر انتظار کر رہا ہوں ۔۔۔میں جلدی جلدی فریش ہوا اور کمرے میں جا پہنچا ۔۔عمران صاحب سامنے صوفے پر بیٹھے تھے ۔۔میں کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
ہاں بھئی کیسے گزرے یہ دن ۔۔میرا خیال ہے کہ اب تم تیار ہو گئے ہو ۔۔عمراں نے پوچھا ۔
جی عمران صاحب! مجھے لگتا ہے کہ مجھ میں کوئی نئی روح حلول ہو گئی ہے ۔۔میں ہر طرح کی سچویشن کے لئے تیار ہوں ۔۔میں نے جواب دیا ۔۔
تمہیں کل پہاڑی علاقے کی طرف نکلنا ہے ۔۔ٹائیگر پہلے ہی جا چکا ہے ۔۔وہ تمہار ا انتظار کر رہا ہے ۔۔ابھی تمہیں صرف اپنے ملک کی حد تک ہی کام کرنا ہے جو زیادہ مشکل نہیں ہے ۔ ۔۔عمران سمجھاتے ہوئے کہ رہے تھے ۔۔
اور یہاں سے کیسے جانا چاہو گے ۔۔۔میں تمہاری فلائٹ کروا دیتا ہوں ۔۔ کل صبح روانہ ہو جانا ۔
میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔۔ٹھیک ہے عمران صاحب۔
چلو ابھی جا کر سو جاؤ کل جلدی نکلنا ہوگا۔۔۔۔عمران صاحب کی بات سن کر میں اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا جہاں آجکل میرا بسیرا تھا ۔۔۔ 
اگلی صبح مجھے جوزف نے اٹھایا تھا ۔۔۔فریش ہو کر میں ناشتہ پر پہنچا جہاں جوزف اور جوانا بھی بیٹھے انتظار کررہے تھے ۔۔میں بھی شامل ہو گیا ۔۔ناشتے کے بعد جوزف نے ایک خصوصی بیگ کی طرف اشارہ کیا کہ راجہ یہ بیگ ساتھ لے کر جانا ہے ۔۔ٹائیگر اور تمہارے کام آنے والا بہت سا سامان رکھا ہے اس میں ۔۔۔کچھ دیر میں جوزف مجھے ائیرپورٹ پر ڈراپ کر کے واپس ہو گیا ۔۔اور میں نے ائیر پورٹ کے اندر قدم بڑھا دئیے ۔۔جہاں سے میری زندگی کا ایک نیا دور شروع ہونے جا رہا تھا ۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں بورڈنگ کاؤنٹر سے اپنا ٹکٹ اور بورڈنگ کارڈ لئے اندر کی طرف روانہ ہوا ۔۔ائیر پورٹ پر ہر طرف چہل پہل تھی ۔۔۔ملکی و غیرملکی چہرے چاروں طرف بکھرئے ہوئے تھے ۔۔میری فلائیٹ ایک پرائیوٹ جہاز سے تھی ۔۔ جو کہ ابھی ابھی شروع ہوئی تھی ۔۔اور اپنی سروس کے بارے میں کافی مشہور تھی ۔۔۔مجھے پشاور اترنا تھا ۔۔جہاں سے آگے پرائیوٹ گاڑی یا بس کے زریعے مجھے آگے جانا تھا ۔۔۔میں ویٹنگ روم میں انتظار کر رہا تھا ۔۔جب میر ے جہاز کے فلائٹ نمبر کا اعلا ن ہوا ۔۔۔میں ایک گہری سانس لئے اٹھ کھڑا ہو گیا ۔۔بیگ پہلے ہی لگیج میں بھیج چکا تھا ۔۔۔اس لئے سامان کی کوئی فکر نہیں تھا ۔۔۔ مجھ سے آگے کافی لوگ ایکدوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے تیزی سےبڑھنے کی کوشش میں تھے ۔۔میں بھی خاموشی سے ان کے پیچھے ہو گیا ۔۔جہاز میں پہنچ کر ائیر ہوسٹس کو ٹکٹ دکھا ئی جو کہ بزنس کلاس کی تھی ۔۔۔ائیر ہوسٹس بائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے میرےآگے چلنے لگی ۔۔اور میری سیٹ کے قریب آ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔یہ ایک کیبن نما پورشن تھا ۔۔جس میں آمنے سامنے دو سیٹ تھیں ۔۔۔۔درمیاں میں ایک ایل سی ڈی تھی ۔۔۔۔میں سیٹ پر بیٹھ گیا ۔۔سیٹ کی ایک طر ف پینل بنا ہوا تھا ۔۔جس سے سیٹ کی بیک پیچھے اور پھر ایک چھوٹے سے کاؤچ میں تبدیل ہو جاتی تھی ۔میں اخبار اور رسائل دیکھ رہا تھا ۔۔۔کہ کیبن کا پردہ ہلا اور ایک خوش شکل چینی لڑکی اندر داخل ہوئی ۔۔اس کے پیچھے بھی ائیر ہوسٹس تھی اور وہ اسے سیٹ دکھا کر واپس چلی گئی۔۔چینی لڑکی بھی خاموشی سے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔۔اور موبائل میں مصروف ہو گئی ۔۔۔کچھ دیر میں جہاز نے اڑان بھری اور ہوا میں تیرنے لگا ۔۔۔۔میں بیلٹ کھول کر آرام سے سیٹ پیچھے کئے نیم دراز ہو گیا ۔۔ساتھ ہی میں لڑکی کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔ چائینز قوم کے برعکس اس کی آنکھیں کچھ بڑی تھیں ۔۔۔چہرہ تھوڑا سا لمبوترہ اور عمر کوئی 28 سال کے قریب لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔لمبی فراک ٹائپ اسکرٹ پہنے ہوئے پاکستانی ڈریس بنانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔ہمارے یونیورسٹی میں کچھ فارن اسٹوڈنٹ بھی تھے ۔۔جن سے میں چینی زبان میں کچھ ہیلو ہائے سیکھ چکا تھا۔ ۔۔۔لہذا اس کا فائدہ اٹھانے کا ٹائم آ چکا تھا ۔۔۔میں نے نی ہاؤ کرتے ہوئے بات آگے بڑھائی ۔۔۔لڑکی ایکدم سے حیران ہو گئی ۔۔اسے مجھ سے چینی زبان سننے کی امید نہیں تھی ۔۔اور تھوڑی ہی دیر میں ہم بے تکلف ہو چکے تھے ۔۔۔اس کا انگلش نام سلینا تھا ۔۔اور وہ سول انجینئر تھی ۔ابھی تک غیر شادی شدہ تھی ۔۔۔۔یہاں پاک چائنا کوریڈور کے سلسلے میں آئی تھی ۔۔مگر پہلی بار پشاور جا رہی تھی ۔۔اور اس لئے گھبراہٹ کا شکار بھی تھی ۔۔۔حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے اسے اور خوف زدہ کر دیا تھا۔۔۔میں نے اسے تسلی دی اور پوچھا کہ پشاور میں کہاں جانا ہے ۔۔تو اس نے بتایا کہ اس کی دوست نے اسے ائر پورٹ پر ریسیو کرنے آنا ہے ۔میں نے اپنا نام راجہ ہی بتایا تھا ۔۔اس نے بڑی کوشش کے بعد یہ نام صحیح تلفظ کے ساتھ لیا۔۔۔۔تھوڑی دیر میں کھانا آیا ۔۔ہم کھانا کھا کر مزید باتوں میں مصروف ہوگئے ۔۔۔باتوں باتوں میں ڈیڑھ گھنٹا گزر چکا تھا ۔۔۔کہ فلائٹ اترنے کا اعلان ہوا ۔۔۔۔ہم نے جلدی جلدی اپنے نمبرز کا تبادلہ کیا ۔۔اور تیاری پکڑنے لگے ۔۔۔۔۔جلد ہی ہم جہاز سے باہر تھا ۔۔۔میں نے لگیج بیلٹ سے اپنا بیگ اٹھایا اور باہر نکلنے لگا ۔۔۔۔سلینا میرے ساتھ ہی تھی ۔۔اس کی درخواست تھی کہ جب تک اس کی دوست نہیں مل جاتی میں اس کے ساتھ ہی رہوں ۔۔۔۔۔اور میں ازلی پاکستانی ہمدردی میں اس کے ساتھ کھڑا اس کی دوست کا انتظار کرنے لگا ۔۔وہ بار بار اپنی گھڑی دیکھتی اور باہر نظر دوڑاتی ۔۔۔۔مگر اس کی دوست نظر نہیں آئی تھی ۔۔سلینا اسے کال ملا رہی تھی ۔۔مگر وہ کال بھی نہیں اٹھا رہی تھی ۔۔۔۔آدھے گھنٹے بعد میں نے اسے کہا کہ کسی ہوٹل میں روم لے کر کچھ دیر آرام کرتے ہیں جب تک تمہاری دوست آ جائے ۔۔سلینا کے پاس اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا ۔میں اسے لئے ائر پورٹ سے باہر نکلا ۔۔۔اور پرائیوٹ کیب کو ہوٹل گرینڈ کا بتا کر اندر بیٹھ گیا ۔۔بیس منٹ میں ہم ہوٹل پہنچ چکے تھے ۔ڈبل بیڈ کا ایک روم لئے ہم روم پہنچے ۔۔۔سلینا بار بار میرا شکریہ ادا کررہی تھی ۔۔کہ اگر میں نہ ہوتا تو اس کا کیا ہوتا۔۔۔میں مستقل مسکرائے جا رہا تھا ۔۔۔ہوٹل پہنچ کر ہم نے سامان رکھا اور میں نے اسے کہا کہ جائے فریش ہو جائے ۔۔۔سلینا نے مجھے کہا کہ پہلے آپ جائیں جب تک میں اپنی دوست سے رابطہ کر لوں ۔۔
میں اپنے کپڑے لئے باتھ روم گھس گیا ۔۔۔دس منٹ بعد آیا تو سلینا مطمئن بیٹھی تھی ۔۔پوچھا تو کہنے لگی کہ اس کی دوست سوات سے آگے سے آ رہی تھی مگر گاڑی رستے میں خراب ہو گئی تھی ۔۔اب سوات میں رک کر گاڑی ٹھیک ہو رہی ہے اور وہ دو گھنٹے تک پہنچی گی ۔سلینا نے اسے ہوٹل کا نام بتا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔چلو یہ تو اچھی بات ہے ۔میں نےجواب دیا ۔۔
میں بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا اور سلینا بھی فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔میری رات کی نیند کم ہوئی تھی ۔۔۔میں لیٹے لیٹے غنودگی میں چلا گیا تھا ۔۔۔جب سلینا ایک تولیہ لپیٹے ہوئے باتھ روم سے باہر آئی تھی ۔۔۔لائٹ بند کرتے ہوئے میرے برابر بیڈ پر آ گئی تھی ۔۔۔۔اور ایک مرتبہ پھر میرا شکریہ ادا کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔جو کہ شاید کسی اور انداز میں تھی ۔۔۔جب میری اس پر نظر پڑی تو وہ میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے چکی تھی ۔میری نظر بھٹک کر اس کے سینے پر لپٹے ہوئے تولیہ پر پڑی تھی ۔۔جس کے بل آہستگی سے کھل رہے تھے ۔۔۔سلینا گورے رنگ کے اسمارٹ جسم کی مالک تھی ۔۔جس کا حسن اب سامنے آتا جا رہا تھا ۔۔۔۔میں بھی اس کے ہاتھ کو تھام چکا تھا ۔۔پہل اس نے کی تھی اور جواب لازمی تھا ۔۔وہ میرے ہاتھ کو پکڑتی ہوئی میرے اوپر جھکی تھی ۔۔۔۔تولیہ کھل چکا تھا ۔۔۔اور نیم تاریکی میں اس کے گورے بدن سے ابھرتی ہوئی مہک مجھے کھینچ رہی تھی ۔سلینا اب پوری میرے اوپر جھکی میرے چہرے کو چوم رہی تھی ۔۔۔۔اس کے سینے کے ابھار میرے سینے سے ٹکرا رہے تھے ۔۔۔۔میں بھی اس کے بوسوں کاجواب اسی شدت سے دینے لگا ۔۔۔جلد ہی سلینا ہار ماننے لگی تھی ۔۔میں نے اسے بیڈ پر سیدھا لٹا تے ہوئے ۔۔اس کی طرف کروٹ لی تھی ۔۔۔۔۔تولیہ بیڈ پر بے یارو مددگار پڑا ہوا تھا ۔۔اور اس کے اوپر سلینا کا چمکتا ہوا جسم میری توجہ مانگ رہا تھا ۔۔۔۔میں بھی رانا ہاؤس میں ایک ہفتے کے دوران کسی بھی لڑکی سے دور رہا تھا ۔۔اور اب سلینا خود ہی آ بیل مجھے مار کے انداز میں مجھے ملی تھی ۔۔۔۔۔میں کیسےپیچھے ہٹتا ۔۔۔۔۔پینٹ میں میرا ہتھیار بھی زور پکڑنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔سلینا کے بال بے بی کٹ تھے ۔۔۔شولڈر تک آتے ہوئے ۔۔۔۔نیچے پتلی گردن اور اس کے نیچے درمیانی سائز کے گول مٹول سے ممے تھے ۔جس پر گلابی رنگ کے نپلز جڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔میں نے پینٹ کا بٹن کھولتے ہوئے ایک ہاتھ وہاں بڑھا دیا۔۔۔۔۔اور پینٹ کو نیچے دھکیل دیا ۔۔۔ساتھ ہی شرٹ کے بٹن بھی کھول کر لباس فطرت میں آگیا ۔۔۔۔۔۔اور سلینا کی طرف کروٹ لیتے ہوئے اس کے ممے تھام لئے ۔۔۔نرم و ملائم یہ ممےآسانی سے میرے ہاتھ میں آ رہے تھے ۔۔۔۔میں ہاتھ میں تھامتے ہوئے ان پر جھکا تھا ۔۔۔اور ایک مرتبہ چومنے کے بعد اب چوسنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔سلینا کی آنکھیں نیم بند تھیں ۔۔۔میرے سر پر ہاتھ رکھے وہ مجھے شاباشی دے رہی تھی ۔۔۔۔اور میں اور تیزی سے باری باری دونوں مموں پر منہ مارنے لگا ۔۔۔۔۔جس کا اثر سلینا کے منہ سے نکلنے والی سسکاریوں کی صورت میں نکلا تھا ۔۔۔سلینا کی سسکاری بھی اسی کی طرح سریلی اور پتلی تھی ۔۔۔۔۔۔۔نیچے میرا ہتھیار تن کر ہوشیار ہو چکاتھا ۔۔۔۔اور ممے چوستے ہوئے سلینا کی رانوں سےٹکرا رہاتھا ۔۔۔۔۔۔سلینا بھی میری طرح پہلے سے ہی گرم تھی ۔۔جس کا اندازہ اس کی سسکاریوں سے ہورہا تھا ۔۔جو دعوت کے انداز میں نکلتی جا رہی تھی ۔۔۔۔میرا ہتھیار یہ آواز سن کر اور جوش میں آرہا تھا ۔۔۔۔میں ایک ہاتھ اس کے سینے پر پھیرتے ہوئے دوسرے ہاتھ کو نیچے پیٹ کی طرف لے گیا ۔۔۔اور ناف کے اندر انگلی پھیرنے کے بعد اب اس کی ٹانگوں کے درمیان پہنچا چکا تھا ۔۔۔جہاں ایک پتلی سی لکیر گیلی ہوئے جا رہی تھی ۔۔۔میں نے انگلی اس کی چوت کے اوپر ی حصے پر رگڑتے ہوئے اندر داخل کی ۔۔۔۔سلینا کے منہ سے ایک سسکاری نکلی تھی ۔۔۔۔چوت گیلی تھی ۔۔۔انگلی پھنستے ہوئے اندر گئی تھی ۔۔۔میں آہستگی سے انگلی اندر باہر کرتا رہا ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں انگلی رواں ہوئی تو دوسری انگلی بھی شامل کر دی ۔۔۔۔سلینا نے پھر سے سسکاری بھری تھی ۔۔۔میرے دوسرا ہاتھ اور میرا منہ اوپر کی طرف اس کے مموں کو چوس کر بڑا کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔اس کا پورا سینہ میرے تھوک سے بھیگ چکا تھا ۔۔۔۔نپلز گہرے سرخ ہونے لگے تھے ۔۔۔۔مموں پر دانتوں کے نشان بھی کہیں کہیں نظر آ رہے تھے ۔۔۔۔۔سلینا نے اپنے ممے پر پھرتے ہوئے میرے ہاتھ کو پکڑ کے مجھے خود پر لانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔میں اشارہ سمجھتے ہوئے اوپر آیا تھا ۔۔۔۔۔اور اس کے چہرہ پر جھکتے ہوئے ہونٹوں کو چوسنے لگا ۔۔سلینا بھی میری کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دے رہی تھی ۔۔۔۔اس کے بعد میں نیچے کی طرف آیا ۔۔۔ایک تکیہ لے کر اس کی کمر کے نیچے رکھااور ٹانگیں اٹھا کر سینے سے لگا دی ۔۔۔۔۔اور پیروں کے بل آ کر اس کے درمیان بیٹھ گیا ۔۔۔ہتھیار اپنی پوری لمبائی اور موٹائی میں تھا ۔۔۔۔۔۔میں نے ٹوپے کو اوپر رکھا ۔۔۔۔سلینا کی آنکھیں نیم بند تھیں ۔۔وہ بند آنکھیں کئے ہوئے ہر حرکت کو محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔ٹوپا اس کی چوت کے لبوں سے بہت بڑا تھا ۔۔۔میں نے زور لگاتے ہوئے اسے اندر کیا تھا۔۔۔چوت کے لب بالکل اپنی آخری حد تک کھلے تھے ۔۔۔۔۔۔سلینا کے منہ سے ایک چیخ نکلی تھی اور اگلی آواز میں نے آہ کی سنی تھی ۔۔۔جو شاید کئی کمروں تک سنی گئی تھی ۔۔۔۔سلینا ایک جھٹکے سے اٹھی تھی ۔۔۔۔۔اور پھر نیچے ہتھیار میں پھنسی ہوئی اپنی چوت کو دیکھا ۔۔۔جو یقینا اسے بے تحاشہ درد دے رہا تھا ۔۔۔۔سلینا نے ٹانگیں نیچے کرتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔مگر میں اس کی ٹانگوں کو نیچے دباتا ہوا اس کے اوپر زور دے کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔وہ اپنے کھلے ہوئے منہ کے ساتھ مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کی نظروں میں کچھ غصہ تھا ۔۔کچھ آنسو تھے ۔۔۔۔کچھ ترس بھری نگاہیں تھیں ۔۔۔میں سلینا کی ٹانگوں کو اس کے سینے سے لگائے اوپر زور دئے بیٹھا تھا ۔۔۔۔وہ پورا منہ کھولے چلا رہی تھی ۔۔۔اوہ مائی گاڈ کی آواز تھی ۔۔۔۔۔کچھ دیر تک رکنے کے بعد میں نے اور زور دیا تھا ۔۔۔۔۔اور اب دو انچ تک ہتھیار تباہی مچاتا ہوا گھسا تھا ۔۔۔۔۔سلینا پھر تڑپی تھی ۔۔۔کانپی تھی ۔۔۔اور پھر سے چلارہی تھی ۔۔۔۔آہ۔۔۔سس۔۔۔۔۔او ہ مائی گوڈ ۔۔۔۔۔۔میں نے اوپر سے اس کے سین پر تھوک پھینکا اور دونوں ہاتھ لے جا کر ممے مسلنا لگا ۔۔۔جو مسلنے سے زیادہ نوچ جارہے تھے ۔۔۔کبھی نپلز کھینچے جار ہے تھے ۔۔۔۔۔اس کا درد زائل ہو رہا تھا ۔۔سسکاریاں اور آہیں مدھم ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ہتھیار ابھی تک اندر پھنسا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے اسے اور حرکت دی ۔۔اور آدھا اندر پہنچا دیا ۔۔۔۔۔۔سلینا پھر سے منہ کھولتی ہوئی چیخی تھی ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔سس۔۔۔۔میں کچھ دیر ٹہرا رہا اور باہر نکال کر آہتگی سے اندر باہر کرتا رہا ۔۔۔۔ہتھیار جتنی رگڑ کھاتا ہوا اندر جاتا تھا ۔۔۔اتنی ہی رگڑ کھاتا ہوا باہر آتا ۔۔۔۔۔۔سلینا ابھی تک چلا رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کی سریلی آوازیں کمرے سے باہر تک جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میں کچھ دیر تک آدھا ہتھیار ہی اندر باہر کرتا رہا تھا ۔۔۔۔۔اور اس کے ممے برابر کھینچتا رہا ۔۔۔۔۔۔سلینا کی چوت بے تحاشہ پانی چھوڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں کچھ دیر ہلکے ہلکے سے دھکے دیتا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور اس کے بعد اس کی اوپر سینے پر لگی ہوئی ٹانگوں کو پھیلا کر دائیں بائیں کر دیا ۔۔۔۔۔۔اور ہتھیار باہر کھینچ کر پھر اندر پہنچا دیا۔۔۔۔۔۔اور اس کے متوازی جھٹکے مارتا ہوا۔۔۔۔اس کے نیچے دبے بیڈ کو ہلانے لگا ۔۔۔۔۔فائیواسٹار ہوٹل کے اس بیڈ کے اسپرنگ اعلٰی کوالٹی کے تھے ۔۔۔اور اب میرا بھرپور ساتھ دے رہے تھے ۔۔۔۔میرے جھٹکوں کےساتھ بیڈ بھی سلینا کو اچھالتا ہوا میرے ہتھیار پر دھکیلتا ۔۔۔۔۔میرے ہلکے سے جھٹکے کے بدلے سلینا کے وزن کے برابر ردعمل ہوتا تھا ۔۔۔۔سلینا کی آہیں مدھم ہو کر کمرے کے اندر تک محدود ہو چکی تھی ۔۔میں اس کی ٹانگوں کو اور سختی سے پھیلا کر جھٹکے گہرے اور طاقت ور کر دئیے ۔۔۔۔ہر جھٹکے کے ساتھ اسپرنگ اسے اوپر دکھیلتا ۔۔۔اور ساتھ ہی اس کی اوہ مائی گوڈ کی آواز آتی ۔۔۔جو کہ پورے کمرے میں گونج جاتی ۔۔۔۔۔۔یہ دونوں عمل کئی منٹ تک ایسے ہی متوازی چلتے رہے ۔۔۔۔۔۔پھر ہر جھٹکے کے ساتھ اس کی یہ آواز اور تیز ہوتی گئی ۔۔۔اور اگلے دومنٹ میں تیز چلاتی ہوئی سلینا فارغ ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔چوت پانی سے بھر چکی تھی ۔۔۔جو کہ نارمل مقدار سے زیادہ پانی تھا۔۔۔۔۔۔میں اس کے اوپر سے اٹھتا ہوا سائیڈ پر بیٹھا تھا۔۔۔۔ہتھیار ابھی تک میری ٹانگوں کے درمیان لہرا رہا تھا ۔۔۔۔سلینا کی چوت کا پانی اس پر چمک رہا تھا ۔۔۔۔۔سلینا تیزی سے اٹھی تھی اور ہتھیار کوپکڑنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔پہلی بار تو ہتھیار اس کے ہاتھ سے سلپ ہو ا ۔۔۔۔۔پھر جب دونوں ہاتھوں سے پکڑ ا تو اس کی آنکھیں باہر آچکی تھی ۔۔۔اسے یقین نہیں تھا کہ اس نےیہ ہتھیار اپنے اندر لیا تھا ۔۔۔اس نے اپنی کلائی کے ساتھ ہتھیار لگایا ۔۔مگر ہتھیار اس سے کہیں بڑا تھا ۔۔۔۔دونوں ہاتھوں میں تھامتی ہوئی وہ اس پر جھکی اور منہ میں لینےلگی ۔۔مگرٹوپا ہی اس کے منہ میں پھنس رہا تھا ۔۔۔۔وہ چاروں طرف سے اسے چوسنے لگی ۔۔۔۔۔اگلے دن منٹ سلینا نے جی بھر کر اسے چوسا تھا ۔۔۔۔چاٹا تھا ۔۔۔۔۔اورپھر میرے دائیں بائیں پاؤں رکھ کر سوار ہونے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔ایک ہاتھ سے ٹوپے کو سیدھ میں رکھتے ہوئے وہ آہستگی سے بیٹھ رہی تھی ۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں اسے سہار ا دینے لگا ۔۔۔۔ٹوپ اوپر رکھ کر اس نے زور دیا تھا ۔۔جب اس کی چوت کے لب کھنچے اور ٹوپا اندر پہنچا۔۔سلینا کے منہ سے ایک تیز آہ نکلی تھی ۔۔۔۔۔سس ۔۔۔آہ۔۔۔۔اور پھر تھوک اپنے ہاتھ پر گراتی ہوئ اپنی چوت پر ملنے لگی اور کچھ تھوک ہتھیار کے نچلے حصے پر ملنے لگی ۔۔۔۔اس کے بعد سانس روک کر تھوڑی اور بیٹھی ۔۔اور آدھا ہتھیارتک اندر لے لیا۔۔۔۔۔اس کے دونوں ممے میری آنکھوں کے سامنے تھے ۔۔۔بےبی کٹ بال لہرا رہے تھے ۔۔۔دونوں ہونٹ اس کے تھوک سے گیلے ہورہے تھے ۔۔۔۔۔جس پر وہ بار بار زبان پھیرتی تھی ۔۔۔سلینا نے اب آدھے ہتھیار پر اوپر نیچے ہونا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔اس کی آہوں کے ساتھ ساتھ میں اس کے ہلتے ہوئے مموں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔جو ابھی میری پہنچ سے دور تھے ۔۔۔۔۔سلینا ابھی تک آدھے ہتھیار پر ہی سواری کر رہی تھی ۔۔۔۔۔اگلے پانچ منٹ تک اس نے اپنی پور ی جان لگا کر سواری کی تھی ۔۔۔۔۔اس کے بعد اٹھ کر بیڈ پر بیٹھی اور گھوڑی بننے لگی ۔۔میرے لئے اٹھنےکا اشارہ تھا ۔۔میں اٹھا اور پیچھے جا پہنچا جہاں گول مٹول سی گوری چٹی گانڈ میرے سامنے تھی ۔۔۔۔۔۔اس کے درمیان سے میں نے گھوڑے کو گزارا تھا ۔۔۔جو سیدھ چوت کے لب سے جا ٹکرایا۔۔۔۔سلینا تھوڑی سی اوپر کو اچھلی تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے اس کی کمر کو تھامتے ہوئے دوبارہ سے دھکا دیا ۔۔۔۔اورگھوڑا سیدھ اندر جا گھسا ۔۔۔۔۔۔سلینا پھر سے کمر کو اٹھاتی ہوئی آہ۔۔۔اوئی ۔۔۔کی آواز نکالتی ۔۔۔۔۔۔میں نے دھکوں کی اسپیڈ تھوڑی تیز کی ۔۔۔۔اور ہر دھکےکے ساتھ تھوڑا سا آگے کو بڑھتا ۔۔۔جس سے گھوڑا کچھ اور اندر تک جا پہنچتا ۔۔۔اور سلینا پھر سے کمر کو اٹھا کر چیخ مارتی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے اسی طرح سے پورا گھوڑا اندر تک پہنچا دیا تھا ۔۔۔۔سلینا اب بغیر رکے ہلکی چیخیں ماری جا رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے بھی اسپیڈ بڑھا دی تھی ۔۔۔۔۔بیڈ اب بھی میرا ساتھی تھا ۔۔۔۔۔سلینا دھکوں کے درمیان ڈس بیلنس ہونے لگی تھی ۔۔۔مگر میں اس کی کمر تھامے دھکے دیتا رہا ۔۔۔۔۔ہر دھکے کےساتھ وہ کچھ آگے کو جھکتی ۔۔۔اور میں واپس کمر سےکھینچ کر دھکا دے مارتا۔۔۔۔۔۔۔سلینا کی آہ۔۔۔۔ائی ۔۔۔اوہ ہ۔۔۔اب بھی جاری تھی ۔۔۔۔۔گھوڑے کے جھٹکے بڑھتے جا رہے تھے ۔۔اور گھوڑی بار بار آگے کو گرنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی اس کے منہ بے معنی آوازیں نکل رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے پیچھے سے اس کی دونو ں ٹانگوں کواٹھا کر اپنی بانہوں میں لے لیا اور نیچے سے دھکوں کی اسپیڈ بڑھا دی ۔۔۔وہ بیڈ پر اپنے ہاتھو ں کے بل اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔صرف ہاتھ بیڈ پر رکھے درمیانہ جسم ہوا میں اور ۔۔ٹانگیں میرے ہاتھوں میں تھی ۔۔۔اب کی بار ی میرے دھکے اسےہوا میں اچھال دیتے ۔۔۔۔۔۔۔میرے غراہٹیں سی نکلنے لگیں تھی ۔۔۔اور دھکے بڑھ کر طوفانی ہو گئے ۔۔۔۔۔سلینا کی چیخیں دوبارہ سے کمرے سے باہر تھیں ۔۔۔۔۔۔۔مگر ہم دونوں کو اس کی فکر نہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اگلے طوفانی جھٹکے اس کے تن بدن کو بری طریقے سے ہلا چکے تھے ۔۔۔۔وہ برے طریقے سے ہوا میں لہرا رہی تھی ۔۔۔اور پیچھے سے گھوڑا اپنی پوری شدت سے دوڑے جا رہا تھا ۔۔۔گھوڑی ہمت ہار چکی تھی ۔۔اور اب پانی برسانے کی فکر میں تھی ۔۔۔۔گھوڑا بھی بے چین ہوا چلا تھا ۔۔۔اور ساتھ ہی آنا چاہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔جھٹکے کچھ اورتیز ہوئے اور دونوں نے ایک ساتھ پانی برسا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔پانی کا ایک سیلاب تھا جو اس کی چوت سے گرتا ہوا بیڈکی چاد ر کو گیلا کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔دو چار اور جھٹکے مارنے کے بعد میں نے اسے چھوڑا اور وہ بے حال ہوئی بیڈ پر گری ۔۔۔۔میں بھی برابر میں لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔۔دس منٹ بعد وہ اٹھی اور سہارا لیتی ہوئی باتھ روم میں گھسی تھی ۔۔۔ٹائم پورا ہو چکا تھا ۔۔اور اس کی دوست پہنچنے ہی والی تھی ۔۔۔۔وہی ہوا ۔۔ادھر وہ باہر نکلی او ر ادھر دروازے پر دستک ہوئی ۔۔۔۔میں کپڑے پہن چکا تھا ۔۔۔دروازے پر پہنچا اور کھول دیا ۔۔۔۔باہر ایک چھوٹی سی چینی گڑیا ایک پاکستانی کے ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔سلینا پر نظر پڑتے ہی وہ اندر آئی تھی اور اس سے جا کر لپٹ گئی تھی ۔۔۔۔۔وہ پاکستانی ساتھ گارڈ کے طور پر تھا ۔۔۔اور ڈرائیور بھی تھا ۔۔۔۔۔اس نے سلینا کا بیگ اٹھایا اور نیچے چلا گیا ۔۔۔سلینا نے اس ننھی منی چینی گڑیا کا تعارف کروایا ۔۔جس کا نام روزی تھا ۔۔۔اور جب عمر پتا چلی تو وہ سلینا سے ایک سال بڑی تھی ۔۔۔جبکہ شکل سے وہ 16 سال کی کوئی لڑکی لگ رہی تھی ۔۔۔روزی نے بھی میرا شکریہ ادا کیا کہ میں نے اس کی دوست کا خیال رکھا ۔۔۔اسے کیا پتا کہ کیسے خیال رکھا تھا ۔۔سلینا جانے کو تیار تھی ۔۔مجھے سے گلے ملی اور کہا کہ دوبارہ ضرور ملنا ۔۔میں تمہیں فون کروں گی ۔۔۔۔میں نے بھی جوابی کس کرتے ہوئے اسے رخصت کیا اور بیڈ پر لیٹ کر آرام کرنے لگا ۔۔۔شام کو آگے کا سفر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

قسط نمبر 3۔
شام کو میں اٹھا تو ٹائیگر کی مس کالز آئی ہوئی تھیں ۔۔۔اس سے بات ہوئی کہ رات کی بس سے وزیرستان کے لئے نکل رہا ہوں ۔۔صبح تک پہنچ جاؤں گا۔۔۔اس سے آگے کا سفر مجھے ٹائیگر کے ساتھ کرنا تھا ۔۔ ٹائیگر نے محتاط رہنے کا کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔میں نے اگلی کال اپنے گھر میں کی تھی ۔۔ثناء سے کچھ دیر بات کرنے کے بعد باہر آیا اور ٹیکسی لے کہ پشاور کی مشہور نمک منڈی چلا گیا جہاں کے کھانے دنیا بھر میں مشہور تھے ۔۔۔ٹیکسی والے کو انتظار کا کہا ہوا تھا ۔۔کھانے کے بعد اس نے مجھے بس اڈے چھوڑ دیا ۔۔۔میں نے اپنے حلیہ میں نمایا ں تبدیلی کر لی تھی ۔۔۔آف وائٹ سوٹ کے ساتھ واسکٹ اور سر پرمخصوص پشاوری ٹوپی تھی ۔۔۔۔ہلکی بڑھی ہو ئی شیو اور سرخ و سپید چہرے کے ساتھ میں پٹھان ہی لگ رہا تھا۔ جب تک میں بات نہ کرتا کوئی مجھے پہچان نہیں سکتا تھا ۔۔۔اڈے سے ٹکٹ خرید کر میں بس میں جا بیٹھا تھا ۔۔۔ بس میں ہر طرف مخصوص مہک اور اونچی آواز میں باتوں کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔۔میں کچھ دیر تک تودائیں بائیں دیکھتا رہا ۔۔۔۔پھر چلتی بس میں کب نیند آئی مجھے کچھ پتا نہ چلا ۔۔۔۔۔رات کے تین کا ٹائم ہو گا جب بس کہیں رکی تھی ۔۔۔باہر آیا تو ہوٹل سامنے تھا جس پر تکے اور گوشت بھونا جا رہا تھا ۔۔۔میں نے کنڈیکٹر سے پوچھا تو بتایا کہ یہ لکی مروت ہے ۔۔آگے کچھ ہی گھنٹوں کا سفر باقی ہے ۔۔میں ایک اچھی چائے کا آڈر دے کر سامنے بنے تخت پر بیٹھ گیا ۔ ۔۔یہاں مجھے خواتین کی اکثر تعداد مخصوص ٹوپی والے برقعے میں نظر آرہی تھی ۔۔۔چائے پی کر میں بس پر جا بیٹھا ۔۔۔اور پھر نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔۔صبح میری آنکھ شور شرابا میں کھلی تھی ۔۔۔بس وزیرستان اڈے پر پہنچ چکی تھی ۔۔۔میں بھی جلدی سے اتر آیا اور کنڈیکٹر کو کہہ کر اپنا بیگ نکلوایا ۔۔۔ٹائیگر کو میں نے دور کھڑے دیکھ لیا تھا۔۔۔بیگ لے کر میں اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔وہ بھی میری طرح مقامی حلیئے میں ہی تھا۔۔ہم بڑے پرتپاک انداز میں ملے تھے ۔۔۔۔سامنے ہی ملٹری ماڈل کی گرین جیپ کھڑی تھی ۔۔۔۔ہم جیپ پر سوار ہوئے ۔۔اور ٹائیگر نے جیپ آگے بڑھا دی ۔۔۔۔۔۔صبح کا وقت تھا ۔۔اور میں حیرانگی سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔یہ علاقہ چاروں طرف سے پہاڑی سلسلے سے گھرا ہوا تھا ۔۔اور انہی کے درمیان سے ہماری جیپ گزر رہی تھی ۔۔۔دس منٹ کے سفر کے بعد ہماری جیپ ایک رہائشی علاقے میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ٹائیگر نے جیب ایک بڑی سی حویلی نما کے سامنے روکی تھی ۔۔۔ہارن کی مخصوص آواز کے ساتھ ہی بڑا سا گیٹ کھلا تھا۔۔۔۔۔جیپ غراتی ہوئی اندر داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔جیپ رکتے ہی میں اترا تھا ۔۔۔۔۔سامنے ہی ایک جوان لڑکا پاؤچ باندھے ہوئے قریب آیا ۔۔۔ٹائیگر صیب آپ آگئی ہے۔۔۔لڑکے کی اردو بھی اس کی طرح گلابی ہی تھی ۔
ٹائیگر نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ راجہ صاحب ہیں اور کچھ دن ہمارے ساتھ رہیں گے۔ ۔۔لڑکے کا نام اجمل خان تھا یہ حویلی اٌسی کی تھی ۔۔۔۔۔اجمل خان کےساتھ ہاتھ ملا کر ہم اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔ حویلی میں نچلا پورشن ہمارے پاس تھا اور اوپر ی حصے میں اجمل خان کی فیملی رہ رہی تھی ۔۔۔اجمل عمران صاحب کا ہی دوست تھا ۔اور اس علاقے میں اسلحے کی دکان چلاتا تھا ۔۔۔ایک ہفتے سے ٹائیگر اسی کے ساتھ رہ رہا تھا ۔۔۔ٹائیگر کی مصروفیت دیکھ کر اجمل نے اپنی دکان بند کر دی تھی اور اب ہر وقت اسی کے ساتھ مسلح گھومتا تھا۔۔۔یہ علاقہ خطرناک بھی تھا ۔۔اور اجنبیوں کے لئے کسی بھی وقت بڑی مشکل کھڑی ہوسکتی تھی ۔۔۔۔
اجمل خان بھی ہمارے پیچھے ہی چلا آیا تھا ۔۔ٹائیگر نے اسے ناشتہ کا کہا ۔۔تھوڑی دیر میں نان اور بھیڑ کے گوشت کا سالن میرے سامنے تھا ۔۔۔ناشتہ کے بعد ٹائیگر مجھے ایک اور روم میں لے گیا ۔۔۔جسے اس وقت آپریشن روم کا نام دیا جا سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔ایک طرف ایک بڑا نقشہ ٹنگا ہوا تھا ۔۔۔۔سامنے ایک ٹیبل اور کئی کرسیاں لگی ہوئی تھیں ۔۔۔۔ٹائیگر نے مجھے بیٹھنے کااشارہ کیا اور صورتحال سمجھانےلگا ۔۔۔۔۔۔۔ان علاقوں میں قبائل سسٹم چلتا تھا ۔۔۔اور کچھ عرصے سے ازبک ، اوغور لوگ یہاں ہجرت کر کے آئے تھے ۔۔وزیرستان کے ہی ایک بڑے قبیلے نے انہیں پناہ دی تھی ۔۔اور اپنے علاقے ان کے حوالے کئے تھے ۔۔۔۔یہ ازبک جتنے معصوم دکھتے تھے اتنے ہی وحشی اور بے غیرت بھی ہیں ۔اپنی عورتوں کو یہاں پر رہنے کے لئے استعمال کرنا اور یہاں کے مردوں سے شادی کروانا ان کا معمول بنتا گیا ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی ہر طرح کے جرائم میں بھی ملوث تھے ۔۔منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ میں بھی ان کا یہاں ہاتھ تھا ۔۔۔افغانستان سے آنے والے انڈین ایجنٹ بھی بھیس بدل کر انہیں کے ساتھ رہ رہے تھے ۔۔پیسے کی ان کو کوئی کمی نہ تھی ۔۔اور وزیرستان کے قبائلی لڑکوں کو بھڑکا کر اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنا ۔۔اور وقتا فوقتا اپنے انڈین ایجنٹ کو افغان سرحد سے لا کر پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھیجنا ان کا کام تھا ۔۔۔۔وقت کے ساتھ ہی یہ اپنی جڑیں اتنی مضبوط کر چکے تھے ۔۔۔کہ اب یہاں ان کے ساتھ چھیڑ خانی کرنا ان قبائل سے جنگ کے مترادف تھا جو کافی بڑا مسئلہ تھا ۔۔۔یہ قبائل ہر بات کو غیرت پر لے لیتے اور یہ جنگ معصوم لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔۔
پھر اس کا کیا حل نکالا ہے آپ نے ٹائیگر صاحب ۔۔۔میں نے پوری بات سمجھتے ہوئے پوچھا ۔
ہمارا مقصد ان کے درمیان انڈین ایجنٹ کو نشانہ بنانا ہے ۔۔۔جو یہاں ایک بڑی حویلی میں بڑے سیٹ اپ کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔۔کئی ایجنٹ نے یہاں ازبک عورتوں سے شادی بھی کر لی ہے ۔۔۔ اس کے لئے میں نے ان کی حویلی کے سامنے ہی اجمل خان کی مدد سے گھر کرائے پر لیا ہے ۔۔اجمل خان اور میں باری باری وہاں جا کر ڈیوٹی دیتے ہیں ۔۔ ۔۔۔نگرانی اور مانیٹرنگ کا سبھی کام وہی ہوتا ہے ۔۔۔ہم نے کچھ ڈکٹا فون اور سامنے کیمرے فٹ کئے ہوئے ہیں ۔ جس سے آنے جانے والوں کا پتا چلتا ہے ۔۔ہر چیز نوٹ ہور ہی ہے ۔۔ کل تک سب رپورٹ عمران صاحب کو بھیجیں گے ۔پھر جیسے ان کا حکم ہو ۔۔ ۔ٹائیگر نے آگے کی تفصیل بتا دی ۔۔
اب تیاری پکڑو ۔۔ میں تمہیں اس گھر میں لے جاتا ہوں ۔ تم بھی وہاں کا جائزہ لے لو ۔۔میں بھی تیار ہی تھا ۔اجمل آج کی رات رہ کر آیا تھا اور اگلی رات ہم میں سے کسی ایک کو گزارنی ہے ۔اوپر فیملی کی طرف سے رات کا کھانا پیک ہو کر آ گیا تو ہم باہر آئے اور جیپ لے کر نکل پڑے ۔۔۔۔راستے میں ٹائیگر مجھے علاقے کا محل و وقوع اورپہچان کروا رہا تھا ۔۔۔میں دلجمعی سے سب چیزیں سمجھ رہا تھا ۔۔۔ہم جس قبیلے میں تھے ۔ وہ پاکستان کی افواج کا حامی اور پاکستان سے محبت کرنے والا تھا ۔۔۔اور جس طرف ہم جا رہے تھے ان کی محب وطنی کو دیمک لگ چکی تھی ۔۔۔اسی طرح ان دونوں قبائل کی بھی آپس میں نہیں بنتی تھی ۔۔۔میں ٹائیگر کی باتوں پر سر ہلاتے جا رہا تھا ۔۔اور دائیں بائیں نظریں دوڑا رہا تھا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہم پھر سے ایک رہائش علاقے میں داخل ہوئے تھے ۔۔قریبی مارکیٹ سے گزرتے ہوئے میں نے اسلحہ کی مارکیٹ اور کھلے عام اسلحہ بکتا دیکھا ۔راکٹ لانچر اور مشین گنیں سر عام بکھری ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔ساتھ ہی تھوڑے تھوڑے وقفے بعد مسلح لوگوں کے جتھے دیکھ رہا تھا ۔۔جو ہر آنے والے لوگوں کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔یہ میرانشاہ کا علاقہ تھا۔۔۔۔۔میں یہ صور ت حال دیکھ کر کچھ گھبرا سا گیا تھا ۔۔ایک تو یہ علاقہ میرے لئے نیا اور دوسرایہ صورتحال بھی نئی تھی ۔۔۔ٹائیگر گذرتے ہوئے مخصوص انداز میں ہاتھ ہلاتا ہوا اندر مارکیٹ سے گذ ررہا تھا ۔۔۔۔انہی مارکیٹ سے گذرتے ہوئے ہم ایک گھر کے سامنے پہنچے تھے ۔۔جیپ باہر روکتے ہوئے ٹائیگر باہر کودا اور ساتھ گھر کی بیل بجا ئی ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں دروازہ کھلا اور میں ٹائیگر کے پیچھے اندر داخل ہوا ۔۔۔دروازہ کے پیچھے کوئی تھا جس نے دروازہ بند کیا تھا ۔۔۔میں ٹائیگر کے پیچھے چلتا ہوا جا رہا تھا ۔۔کہ پیچھے سے ہلکی پائل کی آواز آئی تھی ۔۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایسا لگا کہ جیسے اندھیرے سے چاند نکل کر سامنے آیا ہو ۔۔۔۔۔ایک بڑی سی بھاری چادر کے اندرلپٹا ہوا جسم میرے سامنے تھا۔۔۔۔چادر سے ایک خوبصورت چہرہ جھلک رہا تھا ۔۔۔۔۔سرخ و سپید چہرہ جس پر سیاہ غزال آنکھیں غضب ڈھا رہی تھی ۔۔۔۔لڑکی نے چادر سے آدھا چہرہ چھپایا ہوا تھا ۔ایک آنکھ چادر کے اندر تھی ۔۔۔جبکہ دوسری آنکھ میں مجھے دیکھتے ہوئے حیرت نظر آرہی تھی ۔لڑکی کے اٹھے ہوئے نازک ہاتھوں میں چاندی کی چوڑیاں جگمگا رہی تھیں ۔۔۔۔۔ٹائیگر کی آواز آئی تو میں آگے دیکھنے لگا۔۔۔صحن کے سائیڈ سے ایک سیڑھی اوپر جا رہی تھی ۔۔ٹائیگر اوپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیڑھی چڑھنے لگا ۔۔اور میں پیچھے چل پڑا ۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

جلد ہی ہم ایک کھڑکی کے سامنے تھے ۔۔راجہ صاحب یہ گھر ہے جس کی نگرانی کی جارہی ہے ۔۔۔۔۔ٹائیگر نے کہا ۔
میں نے نظریں اٹھائیں تو ایک بڑی سے کھلی حویلی میرے سامنے تھی ۔۔۔بڑا سا ایک باغ اور اس کے پیچھے کمروں کی ایک لائن تھی ۔۔چاروں طرف چوکیاں بنائی گئیں تھیں ۔۔جس میں ابھی بھی لوگ پہرہ دے رہے تھے ۔۔جبکہ اندر کیطرف ایک کار اورلینڈ کروزر صاف نظر آرہی تھی ۔۔حویلی کے در دیوار چیخ چیخ کر اسے مشکوک بنا رہے تھے ۔کمر ے کے باہر ہی ایک مورچہ سا بنا ہوا تھا ۔۔جس پر مشین گن سیٹ تھی ۔۔۔یہ باہر سے گھر جیسا تھا ۔مگر اندر سے کوئی چھاؤنی دِکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد ٹائیگر مجھے نیچے لایا جہاں ایک اسکرین پر گلی کا منظر اور حویلی کے اندر کا منظر صاف نظر آرہےتھے ۔۔۔حویلی کے مختلف کونوں پر ایک ایک کیمرہ فکس تھا ۔۔جو چاروں طرف کا مناظر بخوبی دکھا رہاتھا ۔۔۔اتنے میں وہ لڑکی دوبارہ اندر داخل ہوئی تو اس کے ہاتھ میں چائے کے دو کپ تھے ۔۔۔کپ پکڑاتی ہوئی وہ رکی تھی کہ ٹائیگر نے کہا ۔۔
یہ گل بانو ہے ۔۔پشاور یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ۔۔بہت بہادر لڑکی ہے ۔۔ اس کے بھائی کو انہی لوگوں نے کچھ دن پہلے گولی ماری تھی ۔۔اس کے بعد یہ پڑھائی چھوڑ کر ان سے انتقام پر تل گئی ۔۔میں نے اسے اسی حویلی کے گرد منڈلاتے ہوئے دیکھا تو اپنے ساتھ ملا لیا ۔۔۔اجمل اورگل بانو نےمیاں بیوی کی حیثیت سے یہ گھر کرائے پر لیا تھا ۔۔۔۔میں نے گل بانو کے خوبصورت چہرے پر نظر دوڑائی جو سرخ ہو چلا تھا اورجس پر عزم صاف دکھ رہا تھا ۔۔۔
اور یہ راجہ ہے ۔۔میرا بہت اچھا دوست ہے ۔۔اور اس مشن میں ہمارے ساتھ ہے ۔ٹائیگر نے میری طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔
گل بانو نے بھی مجھے کھوجتی نگاہوں سے دیکھا اور باہر چلی گئی ۔۔۔ہم اسکرین کے سامنے بیٹھے چائے پینے لگے ۔۔۔۔۔۔
چائے پی کر میں سامنے رکھی ٹیبل کی طرف بڑھ گیا ۔۔جس پر وائٹ پیپر پر پوری حویلی کا نقشہ سے بنا ہوا تھا ۔۔۔۔اور پنسل کی مدد سے ایپ ڈیٹ کیا جارہا تھا ۔۔۔۔
ساتھ ہی ایک کونے پر آنے جانے والے افراد کی تعداد اور تصاویر چسپاں کی گئی تھی ۔۔۔میں نے نظر دوڑائی تو یہ پانچ لوگ تھے ۔۔۔4 آدمی اور ایک عورت ۔۔جبکہ دو آدمیوں نےیہیں مقامی عورتوں سے شادی بھی کر رکھی تھی ۔۔۔جبکہ ایک آدمی ابھی تک ادھر ادھر منہ مارتا پھرتا تھا ۔۔ان انڈینز نے اب داڑھیاں رکھ کر خود کو مسلمانوں کے روپ میں ڈھالا ہوا تھا ۔۔یہاں تک کہ قریبی مسجد میں نماز پڑھنے بھی جاتے تھے ۔۔اپنے پیسے اور منشیات کی بے تحاشہ فراوانی کی وجہ سے مقامی سردار بھی ان کے زیر اثر تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ چوکیوں پر معمور لوگ اسی علاقے کے جنگجو تھے ۔۔اور صبح شام ان کی ڈیوٹی تبدیل ہوتی تھی ۔۔۔کام کرنے والی دو خادمہ کو ملا کر اس گھر میں ایک درجن سے زائد افراد تھے ۔۔۔۔جن میں سے آدھے سے زائد لڑنے بھرنے میں ماہر تھے ۔۔۔اور ان کے اطمینان کی اصل وجہ اس قبیلے کی تائید تھی جو ان لوگوں کو حاصل تھی ۔جو کسی بھی ایکشن کی صورت میں چاروں طرف سے مدد کے لئے تیار تھے۔۔۔۔ میں کافی حد تک صورتحال سمجھ چکا تھا ۔۔۔۔
ٹائیگر صاحب میں تمام حالات سمجھ چکا ہوں ۔۔میرےذہن میں ایکشن پلان بھی بن چکا ہے ۔۔۔آپ عمران صاحب سے مشورہ کر لیں ۔۔ہمیں جلد از جلد یہ کام مکمل کرنا چاہئے ۔۔۔۔میں نے جذباتی لہجے میں کہا۔۔
راجہ صاحب جلد بازی اچھی نہیں ہے ۔۔۔۔ہم نے اس حویلی کی ٹرانسمیڑ کالز اور فون ٹیپ کرنے کا بندوبست بھی کیا ہے ۔۔۔اور جلد ہے کچھ نئے انکشافات ہونے والے ہیں ۔۔۔اس لئے ہم ٹہرے ہوئے ہیں ۔۔۔
ابھی آپ بتائیں کہ یہاں رکیں گے کہ اجمل خان کو بھجواؤں ۔۔۔مجھے کچھ دنوں کے لئے پشاور جانا ہے ۔۔کچھ سامان اوربندوں سے ملنا ہے ۔ہمیں جیمرز کی ضرورت ہے۔۔۔دو دن میں میری واپس ہو جائے گی ۔۔۔۔۔میں نے رکنے کی حامی بھر لی ۔۔۔
اس کے بعد ٹائیگر نے مجھے باہر جانے سے منع کیا کہ آپ یہاں کی زبان نہیں جانتے ہیں ۔۔۔اس لئے باہر گل بانو ہی جائے گی ۔۔۔باقی اجمل یہاں سب سامان پہنچا دے گا۔۔۔آپ بس دو دن تک یہیں نگرانی کا خیال رکھیں ۔۔جب تک میں نہیں آ جاتا ۔۔۔۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔۔
میں جیپ یہاں چھوڑے جا رہا ہوں ۔۔۔اجمل کے پاس دوسر ی گاڑی ہے ۔۔۔ٹائیگر نے گل بانو کو بھی کچھ ہدایا ت دی ۔۔اور اجمل کو فون کرنے لگا۔۔۔جلد ہی اجمل خان وہاں پہنچ چکا تھا ۔۔اورٹائیگر اس کے ساتھ چلاگیا ۔۔۔
اس کے بعد میں کمرے میں اکیلا رہ گیا ۔۔۔اسکرین سامنے یہ تھی۔۔۔میں اسے دیکھنے لگا ۔۔۔کیمروں کے ساتھ حساس مائکروفون فٹ تھے ۔۔۔جس کی آواز سامنے ہیڈ فون میں سنی جا سکتی تھی ۔۔۔۔میں نے ٹیبل پر رکھی رپورٹس دیکھنی شروع کر دی ۔۔ان ایجنٹ کے چہرے میرے دماغ پر نقش ہو چکے تھے ۔۔۔نفرت سے میرے جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئی ۔۔۔۔میرے وطن کو برباد کرنے والے میرے سامنے ہی تھے ۔۔۔ایک رپورٹ میں گھر کے ہر شخص کے باہر آنے جانے والے کی ٹائمنگ درج تھی ۔۔اور ساتھ ہی پہرہ داروں کی ٹائمنگ ۔۔۔رات دس بجے کے بعد پہرہ تبدیل ہوتا تھا ۔۔۔اور نئے پہرہ داراگلی صبح دس بجے تک رکتے تھے ۔۔۔میں تمام باتیں ذہن نشین کرتا جا رہا تھا ۔۔۔
اتنے میں گل بانو کمرے میں داخل ہوئی اور دوپہر کھانے کا پوچھنے لگی ۔۔۔۔اس کی کھنکتی ہوئی آواز نے مجھے ساکت کر دیا تھا ۔۔۔پھر جب دوبارہ اس نے پوچھا تو میں گڑبڑا گیا ۔۔۔
کھانے کی بھوک نہیں ہے ۔۔۔ شام میں کچھ کھاتے ہیں ۔۔۔وہ جواب سنتی ہوئی واپس مڑ گئی ۔۔گل بانو کی بڑی سی آنکھیں نشیلی سی تھی تھیں ۔۔خاموشی میں بھی باتیں کرتیں آنکھیں ۔۔۔۔۔ میں کافی دیر تک اس کی پشت دیکھتا رہا ۔۔۔گل بانو پاکستان کے اس علاقے کے حسن کا اک شاہکار تھی ۔۔۔۔تھوڑی سی صحت مندی کی طرف مائل۔۔۔۔گوری رنگت ۔۔سیاہ بڑی آنکھیں ۔۔۔نسوانی حسن سے بے حد مالا مال تھی ۔۔۔۔اس کا حسن چادر میں چھپانے کے باوجود ظاہر تھا ۔۔۔۔میرا دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی تھی ۔۔مگر ابھی اس وقت یہ کام زیادہ ضروری تھا ۔۔۔۔میں نے سر جھٹک کر اسکریں پر نظر جمادی ۔۔۔۔ہر آنے جانے والی کی نقل و حمل کو سامنے کاغذ پر اتارنا تھا ۔۔۔۔جس پر ہمیں فائنل پلان بنانا تھا ۔۔۔ایک چیز کا مجھے اندازہ ہو چکا تھا ۔۔کہ یہ پورا کام ایک گولی کی آواز کے بغیر ہی کرنا ہے ۔۔ورنہ یہ پورا علاقہ مشین گنوں کے گولیوں کی بارش میں تبدیل ہو جائے گا ۔۔۔ان ایجنٹ کی اصل سیکورٹی ان بے وقوف لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اچھے اور برے کا فرق بھول چکے تھے ۔۔۔۔مجھے اسکرین کے سامنے بیٹھے دو گھنٹے سے زائد ہوچکے تھے ، کہ گل بانوپھر کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔۔آپ کچھ آرام کر لیں ۔۔۔اتنی دیر میں دیکھتی ہوں ۔۔۔میں بھی بیٹھے بیٹھے تھک چکا تھا ۔۔کرسی کھسا کر اٹھ گیا ۔۔اور ساتھ کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔۔۔گل بانو نے میری سیٹ سمبھال لی تھی ۔۔۔۔۔
میری آنکھ شام کو کھلی تھی ۔۔۔ہلکاسا اندھیرا پھیل چکا تھا ۔۔۔میں جلدی سے ہاتھ منہ دھوتا ہوا ۔۔۔مانیٹرنگ روم میں داخل ہوا ۔۔۔۔گل بانو بھی کرسی پر بیٹھے بیٹھے سو چکی تھی ۔۔۔میں اس کے قریب ہوا اور اس کے حسن کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔سوئی ہوئی حالت میں بھی اس کا چہرہ تمتما رہا تھا ۔۔۔۔۔سینے پر بے تحاشہ اٹھان تھی ۔۔جس پر موٹی سی چادر تھی جو اسے مزید چھپانے کے بجائے مزید ابھار رہے تھے ۔۔۔۔۔میں تھوڑا قریب ہوا تھا کہ گل بانو کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔۔وہ مجھے تکتے ہوئے دیکھ کر ایک دم سے اٹھی تھی ۔۔۔۔میں دوبارہ سے گڑ بڑا سا گیا تھا ۔۔۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔گل بانو نے چادر ٹھیک کرتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔
وہ ۔۔وہ ۔۔تمہیں جگانے آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔میں ہکلا گیا تھا ۔۔۔
گل بانو اٹھی اور مجھے گھورتی ہوئی باہر جانے لگی ۔۔۔اور میں کرسی پر بیٹھ کر اپنا سر پکڑ کہ بیٹھ گیا۔۔کچھ دیر بعدگل بانو اندر آئی تو اس کو موڈ کچھ بہتر تھا ۔۔مجھ سے کھانے کا پوچھ کر کہنے لگی ، میں قریبی دکان سے ہو کر آتی ہوں ۔۔آپ جب تک یہیں انتظار کریں ۔۔یہ اجمل بھی ابھی تک نہیں آیا ہے ۔۔۔میں نے ہاں میں سر ہلادیا ۔۔۔
گل بانو نے بڑی سی چادر لپیٹ کر ایک آنکھ کھلی چھوڑی ہوئی تھی ۔۔۔تیار ہو کر اس نے ایک نظر مجھ پر ڈالی اور پھر باہر چل پڑی ۔۔۔دروازے سے نکلتے ہی وہ مجھے کیمرے پر نظر آئی تھی ۔۔۔۔ایک کیمرہ اس طرح لگایا گیا تھا کہ پوری گلی نظر آتی تھی ۔۔۔۔۔میں گل بانو کو تیز قدموں سے چلتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔وہ گلی کے کنارے سے آگے جا کر اسکریں سے غائب ہوگئی ۔۔۔شام کا دھندلکا پھیل چکا تھا ۔۔۔اور دیہاتوں کیطرح یہ علاقہ بھی شام ہوتےہی سنسان سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔ سامنے والے گھر پر پہرےدار اسی طرح چوکس تھے ۔۔۔میں اسی طرح اسکریں پر نظریں جمائے بیٹھا رہا ۔۔۔۔دس منٹ گزرے تھے کہ میں نے گل بانو کو دوبارہ سے گلی میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا ۔۔اس کے ہاتھ میں دو بڑے شاپر تھے ۔۔۔۔۔چلنے کی اسپیڈ اسی طرح تیز تھی ۔۔۔۔وہ ابھی آدھی گلی تک پہنچی تھی کہ میری نظریں رک سی گئیں۔۔۔۔۔میں نے گل بانو کے پیچھے ایک لینڈ کروزر کو آہستگی سے بڑھتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔گل بانو کو ابھی تک اندازہ نہیں ہو ا تھا ۔۔۔۔۔لینڈ کروزر والا اس سے کچھ قدم پیچھے ہی اپنی گاڑی بڑھا رہا تھا ۔۔۔۔گل بانو ابھی دروازے سے دس فیٹ کے فاصلے پر ہی تھی ۔۔۔کہ لینڈ کروزر نے اسپیڈ بڑھائی تھی ۔۔۔۔گل بانوسے تھوڑاآگے آتے ہوئے اس کی ٹائر چرچرائے تھے ۔۔اور پچھلی سیٹ سے ایک بھاری بھرکم آدمی تیزی سے اترا ۔۔۔۔گل بانو ایک دم روڈ کی سائیڈ پر ہوئی تھی ۔۔۔۔وہ آدمی تیزی سے گل بانو پر لپکا تھا ۔۔۔اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی ۔۔وہ اس اپنی بانہوں میں دبوچے ہوئے واپس ہونے لگا۔۔۔۔گل بانو کی مزاحمت جاری تھی ۔۔وہ بے تحاشہ ہاتھ پیر مار رہی تھی ۔۔۔مگر سب بے سود تھا ۔۔۔۔اس آدمی نےاسے پچھلے دروازے سے اندر پھینکا اور خود بیٹھتے ہوئے دروازہ بند کر دیا ۔۔ساتھ ہی لینڈ کروزر تیزی سے بڑھتی ہوئی ہمارے گھر کے سامنے والے دروازے پر رکی اور اندر داخل ہو گئی ۔۔۔۔۔میں سانس روکےیہ سب منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔میں نے دوسرے کیمرے کی طرف نظر دوڑائی جو حویلی کے سامنے ایک پول پر لگایا گیا تھا ۔۔جہاں سے اندر کا منظر دکھتا تھا۔۔۔۔گاڑی سے وہی آدمی گل بانو کو کھینچتا ہوا نکلا تھا ۔۔۔۔اور رہائشی کمروں کی طرف لے جانے لگا۔۔۔گل بانواپنے پیر مار رہی تھی ۔۔ مگر کوئی فائدہ نہیں تھا

 

میں اپنا سرپکڑ کے بیٹھ چکا تھا ۔۔۔مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ سب اتنی جلدی ہونا ہوگا۔۔۔میں نے ٹائیگر کو کال ملائی مگر رابطہ نہ ہوسکا ۔۔وہ کسی سگنل کے بغیر علاقے سے گذر رہا تھا ۔۔۔۔میں سوچ میں پڑ گیا کہ اب کیا کیا جائے ۔۔ٹائم کم تھا ۔۔اور رات ہونے سے پہلے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا تھا ۔۔۔میں نے ٹائم ٹیبل دیکھا۔۔۔پہرہ کی تبدیلی میں ایک گھنٹہ باقی تھا ۔۔۔اور یہی ٹائم تھا جب میں اندر گھس سکتا تھا ۔۔۔۔میں جلد ی سے اٹھ گیا ۔۔۔۔۔ایک بیگ میں لایا تھا ۔۔جبکہ دوسرا بیگ یہیں موجود تھا ۔۔۔دونوں بیگ کھول کر میں نے سارا سامان ٹیبل پر پھیلا دیا ۔۔۔ ایک ہتھیار وں سے بھرا ہوا تھا ۔۔جبکہ دوسرے میں ایمونیشن اور کچھ ریموٹ کنٹرول بم وغیرہ تھے ۔۔۔میں نے پہلے اپنے کپڑوں کے اوپر توجہ دی ۔۔۔شلوار قمیض اتار کر ایک چست ٹراوزر اور جیکٹ پہنی ۔۔۔اس کے اوپر ایک پاؤچ باندھ دیا ۔۔۔۔سائلنسر لگا ایک پسٹل اورایک چاقو پاؤچ میں فکس کر دیا ۔۔۔ایک سب مشین گن لے کر میں نے کندھے سے لٹکا دی تھی۔۔۔ہائی شوز پہن کر میں کسی ایکشن مووی کے ہیرو جیسادکھنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔ایک چھوٹا شکاری چاقو اپنے موزے میں چھپا کر میں پورا تیار تھا ۔۔۔۔ٹائم دیکھا تو ابھی بیس منٹ بچے تھے ۔۔۔میں کچن میں گیا اور جلدی سے ایک کپ چائے تیار کرنے لگا ۔۔۔۔۔چائے لے کر واپس اسکرین کے سامنے آیا اور تمام اہم پوائنٹ ذہن نشین کرنے لگا ۔۔۔۔۔حویلی کی چار دیواری کے کونے پر چوکی بنی ہوئی تھی ۔۔۔جس پر پہرے دار تھے ۔۔۔اندر ایک مورچہ ٹاپ جگہ پر ایک آدمی بیٹھا تھا ۔۔۔۔اس کے علاوہ اندر جتنے بھی لوگ تھے وہ ایک سیکنڈ کے نوٹس پر مسلح ہو سکتے تھے ۔۔۔۔
یہ میری پہلی گن فائٹ تھی ۔۔۔۔شوٹنگ رینج میں پریکٹس اور عملی زندگی میں کافی فرق تھا ۔اور آج مجھے یہی فرق مٹانا تھا ۔۔۔۔۔۔
باہر گلی میں اندھیر ا بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔دس بجنے میں پانچ منٹ ہی باقی تھے کہ میں دروازے پر آ گیا ۔۔۔موبائل سائلنٹ پر کر چکاتھا ۔۔۔اور ہلکا سا دروازہ کھولتا ہو ا میں جھری سے جھانک رہا تھا ۔۔۔۔۔پہرہ کی تبدیل کاٹائم تھا ۔۔۔سامنے والے پہرہ دار کو آوازآئی تھی ۔۔۔اسنے نیچے دیکھا اور اونچی آواز میں کچھ کہتے ہوئے نیچے اترنے لگا۔۔۔میں نےدروازہ کھولا اور بیٹھے بیٹھے دوڑ لگا دی ۔۔۔جلدہی میں سامنے والے گھر کی دیوار کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔میں دیوار کے ساتھ تیز تیز چلتے ہوئے پچھلی سائیڈ پر جانے لگا ۔۔میرے پاس ایک منٹ سے بھی کم ٹائم تھا ۔۔۔میں نے اسپیڈ اور تیز کی اورحویلی کے بیک پر پہنچ گیا ۔۔۔جہاں میری خوش قسمتی ایک ٹرک کی صور ت میں میرے سامنے تھی ۔۔۔۔میں نے برق رفتار ی سے ٹرک کے پچھلے حصے پر چڑھنا شروع کر دیا ۔۔اورٹرک ڈرائیور کے اوپری حصے سے حویلی کی دیوار پر چھلانگ لگا دی ۔۔۔ایک سیکنڈ کے لئے میں دیوار پر ٹھہرا تھا اور پھر اندر کود پڑا۔۔۔۔نرم شوز تھے ۔۔اور میں نیچے جا کر بیٹھتے ہوئے قلابازی کھا چکا تھا ۔۔۔۔نقشے کے حساب سے یہاں گھاس تھی ۔۔اور قریب ہی کوٹھری تھی ۔۔جس کے ساتھ میں ٹیک لگا چکا تھا ۔۔۔۔۔
میں کچھ دیر ٹہرا رہا ۔۔۔پہرے دار تبدیل ہو چکے تھے ۔۔اور پرانے پہرے دار اونچی آواز میں باتیں کرتے ہوئے باہر جا رہے تھے ۔۔۔۔کچھ دیر میں نئے پہرہ دار سیٹ ہوگئے تو میں حرکت میں آیا ۔۔۔۔مجھے سے دس فٹ دائیں طرف وہ مورچہ والا بندہ تھا۔۔۔۔۔میں بیٹھے بیٹھے اس کی طر ف کھسکنے لگا ۔۔۔۔جلد ہی کمرے کی اوٹ سے میں اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔مشین گن کے پیچھے بیٹھے ہوئے وہ مسلسل سگریٹ پھونک رہا تھا ۔۔۔میں کچھ دیر اسے بیٹھا دیکھتا رہا۔۔اس کی ساری توجہ سامنے کی طرف ہی تھی ۔۔۔۔سائیڈوں سے وہ بے خبر نظر آ رہا تھا۔۔۔۔یہ گھر کی اندرونی سائیڈ تھی اوریہاں سے گھروالوں کے علاوہ کوئی آ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔اندھیرا میرا ساتھ دے رہا تھا ۔۔میں نے اسی طرح سے دبے قدموں اس کی طرف بڑھنا شروع کر دیا ۔۔۔میرا دائیں طرف کئی کمروں کے دروازے تھے ، جو کسی بھی وقت کھل سکتے تھے ۔۔۔میں آہستگی سے بڑھتا جار ہا تھا ۔۔۔ایک مخصوص فاصلے تک میں پہنچ کر رک گیا ۔۔یہاں سے مجھے ایک تیز جست میں فاصلہ طے کرنا تھا ۔۔۔۔اور وہی ہوا ۔۔میں اڑتا ہوا اس کی بیک پر پہنچا تھا ۔۔۔دائیں ہاتھ اس کے منہ پر جما کر دوسرے ہاتھ کا نیک لاک جما چکا تھا ۔۔۔۔انسانی جبلت کے تحت وہ اپنی گردن چھڑوانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔ساتھ ہی ٹانگ مار کرچیزیں گرانے کی کوشش کی ۔۔۔مگر میں اس سے پہلے ہی اسے اچھال کر اس کے مورچے سے کھینچ چکا تھا ۔۔۔۔اور پھر گھسیٹتا ہوا اسی کوٹھر ی کی طرف لے چلا ۔ وہ پیر کو زمیں پر مارتے ہوئے آواز پیدا کرنے کی کوشش کر تا ۔۔۔مگر میں اسے اچھالتا ہوا کچھ قدم تک کھینچتا ۔۔۔۔اسی طرح میں اپنی پرانی جگہ پر پہنچ چکاتھا ۔۔اس بندے کی ہمت جواب دے چکی تھی ۔۔اور اگلے 30 سیکنڈ میں وہ بے ہوشی کی نیند سو چکا تھا ۔۔میں نے اس کی قمیض اتاری اوردوحصے کر کے ایک سے باندھ دیا ۔ساتھ شلوار کے ناڑے سے مدد لی۔۔۔اور دوسرا ٹکڑا اس کے منہ میں ٹھونس دیا ۔۔۔۔
اب میں کمروں کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔کچھ کمرے اندر سے روشن تھے اور کچھ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے ۔۔میں ہر کمرے کےدروازے پر جا کر کان لگا تا ۔۔اور سن گن لیتا ۔۔۔ایک کمر ے کے دروازے پر رکا تو اندر سے گھٹی گھٹی سی آواز آ رہی تھی ۔۔۔مجھے لگا کہ جیسے گل بانو کی آواز ہو ۔۔۔۔میں نے جھری سے جھانکنے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی ۔۔میں نے پسٹل نکال کر سیفٹی لاک ہٹایا۔۔اس کے بعد دروازے کا ہینڈ ل گھمایا ۔۔اندر نیم اندھیرا تھا ۔۔۔اور سامنے بیڈ پر گل بانو ہاتھ پیر بندھی ہوئی تھی ۔۔اس کے کپڑے کئی جگہ سے پھٹے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔منہ میں رومال تھا ۔۔۔۔میں بیٹھے بیٹھے ایک قدم آگے بڑھا ۔گل بانو کی آنکھیں کچھ پھیلی تھی ۔۔۔۔وہ غوں غوں کی آواز نکال رہی تھی ۔۔۔شاید کچھ منع کر رہی تھی ۔۔۔اچانک مجھے لگا کہ میرے پیچھے کوئی آیا ہے ۔۔۔میں مڑ رہا تھا کہ ایک تیز چوٹ سر کے پچھلے حصے میں پڑی ۔۔۔ستارے سے ناچ گئے تھے ۔۔میں بے اختیار آگے کو گرا تھا ۔۔۔اور دوسری پڑنے والی چوٹ مجھے ہوش و حواس سے بیگانہ کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

قسط نمبر چار ۔۔۔
مجھے ہوش میں لانے والی بھی چوٹ ہی تھی ۔۔۔۔پوری قوت سے لگائی ہوئی ضرب نے میرے آنکھیں کھول دی تھیں ۔۔۔۔میں نے جھٹپٹاتے ہوئے آنکھیں کھولی ۔۔یہ کوئی اور کمرہ تھا ۔۔۔سامنے کسی عدالت جیسا منظر تھا ۔۔تین خبیث چہرہ لوگ مجھے گھور رہے تھے ۔۔ان کے برابر میں ایک عورت نما لڑکی کھڑی تھی ۔۔۔۔چار میں سے ایک کو میں پہچان چکا تھا ۔۔۔گل بانو کو اسی نے اغوا کیا تھا ۔۔۔میں ایک کرسی پر بیٹھا تھا اور ہاتھ پیچھے کو بندھے ہوئے تھے ۔۔۔ سب کے چہروں پر نفرت ٹپک رہی تھی ۔۔۔پانچواں شخص میرے برابر میں ہی تھا ۔۔اور مجھے ہوش میں اْسی نے لایا تھا۔۔۔۔ہاتھ میں ایک چمڑے کی بیلٹ تھامے ہوئے تھے ۔۔جسے وقفے وقفے سے لہراتا رہا تھا۔۔۔۔
کون ہو تم اور یہاں اندر کیسے داخل ہوئے ۔۔ عورت کی غراتی ہوئی آواز میرے کانوں میں پڑی تھی ۔۔۔
میری بیوی کو تم لوگوں نے اغوا کیا ہے ۔۔اور تم پوچھتے ہو کہ اندر کیسے داخل ہوئے ۔۔۔میں نے بھی اسی ترشی سے جواب دیا تھا۔۔۔
میں ان پانچوں کا بخوبی جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔میرے اندازے کے مطابق یہی وہ انڈین ایجنٹ تھے ۔۔جو بہادرستان سے آنے والوں کو ریسیو کرتے ہوئے آگے بھیجتے تھے ۔۔۔میں نے اپنے ہاتھو ں کو حرکت دینی شروع کر دی ۔۔مگر بہت سختی سے ہاتھ باندھے گئے تھے ۔۔شکر یہ تھا کہ میرے پیر آزاد تھے ۔۔۔عورت ان کی باس لگ رہی تھی ۔۔اور سوال و جواب وہی کر رہی تھی ۔۔۔۔
اور یہ جو سامان تمہارے پاس سے نکلا ہے ، یہ تو اس بلڈنگ کو اڑانے کے لئے کافی ہے ۔سامنے میرے جسم سے اترا ہوا سامان پڑا ہوا تھا۔۔۔سچ سچ بتاؤ کہ کس ارادہ سے آئے ہو ۔۔۔عورت پھر غرائی تھی ۔۔اور ساتھ ہی میرے ساتھ والے بندے کو اشارہ کیا تھا ۔۔۔بیلٹ میری گردن کے پیچھے پڑی تھی ۔۔تارے ناچ گئے تھے ۔۔
میں نے سچ بتا دیا ہے جو بتانا تھا ۔۔۔میں مستقل اس عورت کو گھور رہا تھا ۔۔۔
عورت نے اس بندے کو کہا کہ کل صبح تک یہ ہمیں بولتا ہوا چاہئے ۔۔۔
میڈ م آپ بالکل فکر نہ کریں کل یہ آپ کو اپنی کہانی خود سنائے گا ۔۔۔آپ آرام کریں ۔۔
عورت اور وہ تینوں آدمی پلٹ چکے تھے ۔۔۔دروازے بند ہوتے ہی وہ آدمی میرے سامنے آیا تھا ۔۔۔۔چہرہ پر تھپڑ مارنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔مگر میرے جمے ہوئے پیر اس کے منہ پر پڑے وہ الٹ کر گرا ۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں اٹھ چکا تھا ۔۔۔کھڑے ہوتے ہی میں نے جمپ کی تھی ۔۔اور پیچھے بندھے ہوئے ہاتھ نیچے سے گھومتے ہوئے سامنے آئے تھے ۔۔۔۔وہ آدمی اٹھ چکا تھا ۔۔اور تیزی سے مجھ پر جھپٹا ۔۔۔۔مگر ناک پر پڑنے والی طوفانی ٹکر اسے دوبارہ الٹا چکی تھی ۔۔۔اب کی بار وہ کافی دیر تک لیٹا ہی رہا تھا ۔۔میں نے بندھے ہاتھوں سے موزے کے نیچے سے چاقو کھینچ لیا تھا ۔۔۔۔اور دانتوں میں دبا کر رسی کاٹنے لگا ۔۔۔۔۔اتنےمیں وہ آدمی تیزی سے الماری کی طرف بھاگا ۔۔۔الماری کھولتے ہی سامنے میرا سامان رکھا تھا ۔۔۔اس نے پستول اٹھانے کی سوچی ہو گی ۔۔۔مگر پشت میں اترنے والا چاقو اس کے دل کےقریب لگا ۔۔۔وہ اسی طرح گرتا چلا گیا ۔۔۔۔پیچھے سے میں جھپٹتا ہوا پہنچا تھا ۔۔۔اگلے تین منٹ میں سارا سامان ویسے ہی سج چکا تھا ۔۔۔چاقو نکال کر صاف کیا اور پھر باہر نکل آیا ۔۔۔سائلنسر لگا پسٹل میرے ہاتھ میں تھا ۔۔۔میں پہلے جس کمرے میں تھا ۔۔ابھی بھی اسی کے برابر ی کمرے میں تھا ۔۔۔۔اسی دروازے کے قریب پہنچا تو گل بانو کے چیخنے کی آواز آئی تھی ۔۔۔۔میں نے دروازے پر ایک ٹھوکر رسید کی ۔۔دروازے کے کھلتے ہیں میں اندر تھا ۔۔۔گل بانو کے اوپر جھکا وہ شخص حیرت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا تھا کہ پیشانی پر لگنے والی گولی اس کی آنکھوں کو بے نور کر چکی تھی ۔۔۔گل بانو کے ہاتھ اب تک بندھے تھے ۔۔پیروں سے اسے دھکا دیتی ہوئی گل بانو اٹھی تھی ۔۔۔اور اس کےچہرے پر تھوک پھینکتی ہوئی آگے آئی ۔۔میں نے گل بانو کے ہاتھ کھولے اورچادر اٹھا کر اسے اوڑھا دی ۔۔۔ اسے لئے دوسر ے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔دروازے کے لاک پر فائر مارتا ہوا میں اندر پہنچا تھا ۔۔۔جہاں وہ میڈم اپنے یار سے لپٹی ہوئ رات رنگیں کر رہی تھی ۔۔۔۔دو گولیاں کھانے کے بعد وہ دونوں بھی ابدی نیند سو چکے تھے ۔۔۔باہر نکلا تو تیسرا آدمی بھی آواز سن کر نیم برہنہ باہر بھاگنے لگا تھا ۔اس کی موت پیچھے سے آنے والی گولی پر لکھی تھی ۔۔اپنے بھگوان کو یاد کرتا ہوا وہ بھی عدم سدھار گیا ۔۔۔میں نے باقی کمرے چیک کئے مگر چوتھا بندہ نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔۔میں باری باری دوبارہ سے تمام کمرے چیک کئے مگر وہ غائب ہی تھا ۔۔۔۔۔ایک کمرے میں پہنچا تو وہاں فرش سے وائبریشن کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔۔آدھا گھنٹہ مزید وہاں سر کھپانے کے بعد مجھے بیڈ کے نیچے سے راستہ مل گیا ۔۔نیچے ایک تہ خانہ تھا ۔۔۔میں اندھیرے میں ٹٹولتا ہوا نیچے اترا تھا ۔۔۔اند ر ایک طرف ٹرانسمیٹر اور دوسری مشینری فٹ تھی ۔۔اور دوسری طرف بھگوان کے بت رکھے مندر بنا ہوا تھا ۔۔جس کے سامنے بیٹھا ہوا وہ شخص مجھے مطلوب تھا ۔۔۔میں اس کیطرف بڑھا ۔۔اور سر کےپیچھے پسٹل رکھتے ہوئے ٹرائیگر دبا دیا ۔۔۔۔۔میں واپس تیزی سے آیا اور اس الماری سے بم نکالتا ہوا نیچے پہنچا۔۔۔۔ٹرانسمیٹر کےساتھ بم لگاتا ہوا اوپر آیا ۔۔۔۔اوپر کےکمرے پر بم لگا کر باہر برآمدے میں آیا ۔۔۔گل بانو کو لئے اسی کوٹھری تک پہنچا ۔۔۔گل بانو کواٹھاتے ہوئے ہوئے میری رومانوی حسیں بیدار ہوچکی تھیں ۔۔۔سر پر چڑھی ہوئی سرخی کم ہونےلگی تھی ۔۔۔گل بانو کچھ بھاری تھی ۔۔مگر میرے مضبوط ہاتھو ں میں اٹھتی ہوئی اس نے دیوار پر ہاتھ جمائے ۔۔اور پھر اوپر چڑھتی ہوئی دیوار پر رکی تھی۔۔۔ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کر مجھے اٹھانے لگی ۔۔مجھے کیا اٹھاتی مگر اس کہ جھکے ہوئے گریبان سے اندر کی تصویر نظر آئی ۔۔تو میں ہڑبڑا گیا ۔۔۔۔گل بانو بھی جلدی سے شرماتی ہوئی اوپر اٹھی تھی۔۔۔میں نے ایک جمپ لی اور دیوار پرچڑ ھ گیا ۔۔رات تین کا ٹائم تھا اور پہرےدار نیند کی آغوش میں تھے ۔۔ ہم جلدی سےاتر کر اپنے گھر کی طرف چلے ۔۔۔۔گھر کے سامنے پہنچے تھے کہ۔۔گلی کے کونے سے کسی گاڑی کی ایک روشنی ابھری تھی ۔۔۔۔۔۔گل بانو کی خوف زدہ آواز آئی تھی ۔۔راجہ یہاں سے نکلنے کی کر و۔۔۔میں نے جیپ تیزی سے اسٹارٹ کی ۔اورآگے بڑھ گیا ۔۔۔۔پیچھے ہم جا نہیں سکتے تھے ۔۔۔گل بانو کے مطابق یہ انہیں کے ساتھی تھے جو رات کو دیر گئے آتے تھے ۔۔۔۔میں نے بیک ویو کو دیکھتے ہوئے اسپیڈ بڑھا دی ۔۔۔۔۔جیپ کی آواز کے ساتھ پہرےدار جاگے تھے ۔۔۔۔۔گل بانومیرے برابر میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔میں آگے سے موڑ کر پیچھے پشاور کی طرف جانا چاہتا تھا ۔۔۔۔مگر گل بانو نے سیدھا جانے کا کہا اور میں نے جیپ ہوا میں اڑا دی۔۔۔۔۔۔پیچھے آنے والی گاڑی کی اسپیڈ تیز ہوئی تھی ۔۔وہ اسی حویلی کے سامنے رکی تھی ۔۔۔۔اور صورتحال جاننےکے بعد اندر داخ ہوئی تھی ۔۔۔ ۔میں نے موقع مناسب جانا اور ریموٹ کا بٹن دبا دیا ۔۔۔۔ایک بلندآگ کاگولہ اٹھا تھا ۔۔۔اور ساتھ ہی دھماکے کی خوفناک آواز ۔۔۔۔۔میں نے گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔۔۔۔ہائی وے پر پہنچ کر میں نے پھر واپس کا سوچا ۔۔۔گل بانو نے کہا کہ آگے وانا کی طرف میرے ماموں رہتے ہیں ۔۔ہم وہاں محفوظ رہیں گے ۔۔۔مجھے راستہ پتا ہے میں بتاتی جاؤں گی ۔۔
اس پہاڑی علاقوں کے درمیان میں جتنی تیز ڈرائیونگ کر سکتا تھا ۔۔۔میں نے کی ۔یہ میر ی بہترین ڈرائیونگ میں سے ایک تھی ۔۔۔۔۔۔صبح بھی قریب آ رہی تھی ۔۔۔
کچھ دیر میں آبادی کے آثار سامنے آئے تھے ۔۔گل بانو مجھے راستہ بتاتی گئی ۔۔۔اور پھر ایک خوبصورت سے بنگلے کے سامنے ہماری جیپ رکی تھی ۔۔۔۔
یہ میری دوست کا گھر ہے ۔ اس ٹائم ماموں کے ہاں جانا مناسب نہیں ہے ۔۔ناشتہ کر کے آرام سے جائیں گے ۔۔گل بانو نے سرگوشی کی ۔۔
رات کی اس بھاگ دوڑ میں وہ میرے کافی قریب آ چکی تھی ۔۔شاید اس کے انتقام پورے ہونے کی خوشی تھی ۔۔یا پھر میں نے اس کی عزت بچائی اس کی ۔۔۔۔گل بانو جیپ سے اتری اور دروازے کی بیل بجانے لگی ۔۔۔جلد ہی ایک لڑکا دروازے پر آیا تھا ۔۔اور پھر گل بانو کے ساتھ اندر چلا گیا ۔میں نے اپنا سامان اتارا ۔۔اور اسلحہ بیگ میں رکھتے ہوئے صرف ٹراؤزر اور جیکٹ میں آگیا ۔۔۔میں جیپ سے اترا تو گل بانو اپنی دوست کے ساتھ دروازے پر پہنچی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔اس نے مسکراتے ہوئے مجھے پخیر راغلے کہا اوراندر دعوت دی ۔۔۔گل بانو کی یہ دوست بھی اسی کی طرح صحت مند اور گوری چٹی تھی ۔۔۔بھرے بھرے گالوں پر چھوٹے چھوٹے سرخ دانے اسے مزید پرکشش بنارہے تھے ۔۔۔۔لڑکا پیچھے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر میں ہم فریش ہونے کے بعدناشتے پر اکھٹے تھے ۔۔۔۔گل بانو کی دوست کا نام زرتاش تھا ۔۔۔اور اس کے ساتھ لڑکا اس کا کزن جان شیر کالج اسٹوڈنٹ تھا ۔۔۔۔زرتاش کی عمر 27 سال تھی ۔۔شادی اب تک نہیں ہوئی تھی ۔۔اور ان کے والدین ایک شادی میں پشاور گئے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔جان شیر ہنس مکھ لڑکا تھا ۔۔اس کی ہلکی سی مونچھیں آ رہی تھیں ۔۔اور اردو بھی ٹوٹی پھوٹی بولتا تھا ۔۔۔ہم جلد ہی آپس میں فری ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ناشتہ کے بعد جان شیر مجھے باہر لے جانا چاہ رہا تھا ۔۔۔مگر میں رات جاگا ہوا تھا ۔۔آرام کا موڈ تھا ۔۔۔اس لئے دوپہر تک کی اجاز ت لے اپنےکمرے میں آ گیا۔۔زرتاش نے ایک مہمان خانہ ہمارے لئے مختص کر کے گل بانو کو بھی وہیں ٹہرنے کا کہا تھا ۔۔۔اور اپنے کپڑے بھیجے جو اسے کافی کھلے تھے ۔۔۔گل بانو نے کپڑے بیڈ پر رکھے اور کہا کہ پہلے آپ نہا لیں ۔۔پھر آرام کر لیجئے گا ۔۔پوری رات کے تھکے ہوئے ہیں ۔۔میں نے ہامی بھری اور باتھ روم میں چلا گیا۔۔۔
کپڑے اتار کر میں گرم پانی کے شاور کے نیچے کھڑا تھا۔۔۔گردن پر جلن مچ رہی تھی ۔۔۔۔۔جہاں اس کمینے نے بیلٹ ماری تھی ۔۔۔۔میں کافی دیر تک شاور کے نیچے کھڑا تھا ۔۔۔جبھی میں نے باتھ روم کا دروازہ کھلنے کی آواز سنی تھی ۔۔۔۔۔میں جلدی سے گھوما تھا ۔۔اور پھرمیری آنکھیں پھیلتی چلی گئیں ۔۔۔۔۔دروازے سے گل بانو اندر داخل ہو رہی تھی ۔۔۔۔شدت جذبات سے اس کے گال لال ہوئے وے تھے ۔۔۔۔اپنے انہی کپڑوںمیں وہ اندر آئی تھی ۔۔۔۔ہلکے سے سرخ مائل بال پھیلے ہوئے اس کی کمر سے نیچے آ رہے تھے ۔۔۔وہ چادر جو ہر وقت اسے لپیٹے رکھتی تھی ۔۔اس وقت شاید اندر بیڈ پر رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔سینے کے ابھار میرے سامنے ہی تھے ۔۔قمیض میں پھنسے ہوئے یہ بڑے بڑے سے ابھار مغرور سے انداز میں تن کر کھڑے تھے ۔۔۔اور چلتی ہوئی گل بانو کے ساتھ ہلکے ہلکے سے ہلتے ۔۔ابھاروں کی اونچائی نے قمیض اور اس کے جسم کے درمیان فاصلہ برقرار رکھا تھا ۔۔۔جس سے اس کی گولائیاں اور رنگ جھلکے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔گل بانو میرے قریب آچکی تھی ۔۔۔شاور کا پانی اس پر بھی گر رہا تھا ۔۔۔میرے قریب آ کر وہ میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جہاں سوائے حیرانی کے کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔

کیا یہ خواب ہے ۔۔میں اپنی آنکھیں مسلتا ہوا بڑ بڑایا تھا ۔۔۔۔۔
اور جب قریب آئی گل بانو نے مجھے ہاتھ سے پکڑا تو احساس ہو ا کہ یہ خواب نہیں ہے ۔۔۔۔اس کے جسم کی گرمی اور مہک مجھے بے چین کئے جارہی تھی ۔۔۔۔اس کا انداز ، اس کا جسم ، اس کی مہک ، سب پاگل کردینے والا تھا ۔میں نے اسے اپنی بانہوں میں بھر کر شاور کے نیچے کر دیا ۔۔۔۔۔۔پانی ہم دونو ں پر گر رہا تھا ۔۔۔۔گل بانو کے پورے کپڑے بھیگ چکے تھے ۔۔۔۔جس سے اس کی برا اور اندر کا گورا رنگ باہر جھلک رہا تھا ۔۔۔۔اس کی آنکھوںمیں مستی اور ہونٹوں پر شرارت تھی ۔۔۔میں نے جھک کر اس کے چہرہ پر بوسہ دیا ۔۔۔اور پھر نرم گرم سے ہونٹ تھام لئے ۔۔۔۔کیا نرمی تھی ۔۔ان ہونٹوں میں ۔۔۔میں بھی بے اختیار چومتا گیا ۔۔۔۔پانی اب بھی ہمارے اوپر گرتا ہوا ہمیں بھگا رہا تھا۔۔۔۔۔مستی اور شہوت کی لہریں سی دوڑنے لگی تھی ۔۔۔۔گل بانو کا سینہ مجھ سے ٹکرایا تو ایک سرشاری سی دوڑ گئی ۔۔۔پانی گرتے ہوئے بھی اس کا پور ا جسم گر م ہی تھا ۔۔۔میں نے اس کے ہونٹوں کو چومتےہوئے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ دیئے ۔۔۔مغرور مخروطی چٹانیں اپنے عروج پر سختی سے قائم تھی ۔۔میرے ہاتھ نےدبانا چاہا تھا ۔۔۔مگر وہ پھر سے اپنی جگہ سمبھال چکی تھیں ۔۔۔۔گل بانو کے منہ سے گرم گرم سانسیں نکل رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کے ہاتھ میری کمر پر تھے ۔۔۔ہلکے سا مساج کرتی ہوئی ۔۔۔۔ابھی تک میں ہی ہونٹ چوم رہا تھا ۔اور ساتھ ہی ہاتھ نیچے لےجا کر اسے کر بڑے سے گول گول چوتڑ پر رکھا ۔۔۔کیا نرم نرم تھے ۔۔۔۔۔اور جب اس نے میری کمر پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا سا اٹھ کر میرے ہونٹے چومے تو میں جھوم گیا ۔۔کیا شدت تھی ۔۔۔کیا گرمی تھی ۔۔۔میں اسکی قمیض کو اوپر اٹھانے لگا ۔۔۔وہ مستی بھری نظروں سے دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔اور جب میں نے قمیض اتاری تو گورے چٹے ، بھاری بھرکم دودھ کے بڑے سے ڈونگے میرے سامنے مچل رہے تھے ۔۔۔۔میں نے بے اختیار سے اس کی برا کے اوپر سے انہیں دبایا تھا ۔۔۔۔اور وہ اوپر کو اٹھتے ہوئے مزید گہرا دائرہ بنانے لگے ۔۔۔۔۔مجھ پر مستی کی لہریں بار بار حملہ کر رہی تھیں ۔۔۔۔میں نے دوبارہ سے اسے خود سے چمٹا لیا ۔۔نیچے سے میرا ہتھیار بھی کھڑا ہوا سلامی دے رہا تھا ۔۔۔میں نے شاور بندکیا اور گل بانو کو ہاتھ میں اٹھا لیا ۔۔۔وہ میری بانہوں میں اٹھی ہوئی مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔میں باتھ روم سے باہر آیا اور اسے بیڈ پر لٹاتے ہوئے اس کے اوپر آ گیا ۔۔۔۔اس کے چہرہ پر پانی کے قطرے بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔جو میں اپنے لبوں سے سمیٹتا جار ہا تھا ۔۔۔پورا چہرہ چوم چوم کر میں نے چمکا دیا تھا ۔۔۔اور اس کے بعد اس کی برا کو اتارتے ہوئے پورے سینے کے حصے کو ۔۔۔بڑے سے مموں کو پانی کے قطروں سے صاف کر چکا تھا ۔۔۔۔۔اور اب اس کی شلوار نیچے کھینچنے لگا تھا ۔۔گل بانو بھی مستی میں تھی ۔۔۔اس کی سسکیاں نکل رہی تھیں ۔۔۔۔۔بے چینی سے اپنی ٹانگوں کو ہلائے اور اٹھائے جارہی تھی ۔۔۔اس کی شلوار اتارنے کے بعد پینٹی بھی کھینچ دی ۔۔۔نیچے اسکی بڑی سی ابھری ہوئی اور پھولی ہوئی چوت میرے سامنے تھی ۔۔۔۔ہلکےہلکے سے گولڈن بال دِکھ رہے تھے۔۔۔گل بانوں کی رانیں کافی موٹی اور صحت مند تھیں ۔۔۔۔میں اس کی ٹانگوں کے درمیان آ کر اس کے ممے چوسنے شروع کر دیے ۔۔۔۔۔ممے تھے کہ یہ دودھ کی تھیلیاں تھیں۔۔۔۔بار بارمیرے منہ سے نکلتے اور میں پھر دوبار ہ سے تھام کر منہ میں پہنچاتا ۔۔۔۔۔۔۔گل بانو سر کے نیچے تکیہ رکھے مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔نیچے میرا ہتھیار فل تن کر انگڑائیاں لے رہا تھا ۔۔۔۔۔میں کچھ دیر تک اس کے ممے چوستا رہا ۔۔اور جب دل بھر گیا توپیچھے ہٹ گیا ۔۔۔گل بانو کی ٹانگیں اٹھا کر میں اس کے درمیان جا بیٹھا تھا۔۔۔۔ہتھیار کا ٹوپ اوپر رکھا ۔۔۔۔۔دونوں رانوں کے درمیان ٹوپا خوشی سے مست ہو رہا تھا ۔گل بانو مجھے دیکھی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے ٹوپا کو چوت پر رکھ کر دباؤ دیا ۔۔۔۔۔چوت باہر سے جتنی پھولی ہوئی تھی ۔۔اندر سے اتنی ہی تنگ تھی۔۔۔ٹوپا اندر جا کر پھنس چکا تھا ۔۔۔گل بانو کی ایک چیخ نکلی تھی ۔۔۔اوئی مورے مڑ شم ۔۔۔۔مورے مڑ شم ۔۔۔اوئی ماں مر گئ ۔۔۔۔
اس نے ہلنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں پکڑ لیں ۔۔۔۔اور تھوڑا سا اٹھ کر اس کے اوپر آ گیا ۔۔۔۔۔گل بانو ابھی بھی چیخیں ماری جارہی تھی ۔۔۔مور مڑ شم ۔۔دا ڈیر خٹ دے ۔۔۔میں نےتھوڑا سا اوپر ہو کر اس کےہلتے ہوئے بڑے سے ممے تھامے اور ایک دھکا اور دے دیا ۔۔۔۔۔۔اس کی چوت نےہتھیار کو پوری طرح سے جکڑ کر رکھا تھا ۔۔آگے جانے کے سب راستے بند تھے ۔۔۔مگر ہتھیار کے ٹوپےنے تباہی مچاتے ہوئے اپنا راستہ بنایا تھا ۔۔گل بانو کے بڑے سے ممےاچھل اچھل کر گر ےتھے ۔۔جیسے کسی اچلتی کودتی گاڑی میں لوگ خود کو سمبھالنےکی کوشش کرتے ہیں ۔۔ایسے ہی اس کے ممے اچھلے اور مچلے جارہے تھے ۔۔۔۔۔گل بانو ایک ہاتھ منہ پر رکھتے ہوئے آواز کنٹرول کر رہی تھی ۔۔۔اوردوسرا ہاتھ نیچے اپنی چوت پر گردش کر رہا تھا ۔۔۔۔میں نے تھوڑا سا ہلتے ہوئے ہتھیار کو تھوڑا سا اور آگے پہنچایا تھا ۔۔۔۔گل بانو اٹھ کرمجھے روکنے لگی تھی ۔۔۔۔مگرمیں اس پر جھکتا ہوااس کے چہر ے کی طرف گیا ۔۔اور اسے چومنے لگا ۔۔۔ہونٹوں کو اتنی زور سے کاٹا کہ وہ چلااٹھی ۔۔۔۔نیچے اس کے بڑے بڑے سے ممے سہمے ہوئے لرز رہے تھے ۔۔۔۔میں کچھ دیر تک ایسے ہی اس پر لیٹا تسلی دیتا رہا ۔۔۔کچھ دیر میں وہ نارمل ہوئی تو اٹھ کر واپس آیا ۔۔اور دونوں ٹانگیں تھام کر ہلنا شروع کیا ۔۔۔۔گل بانو اب بھی مجھے آہستہ آہستہ ہلنے کا کہ رہی تھی ۔۔۔۔میں آہستہ سے ہلتا رہا ۔۔اور جب وہ کچھ اور نارمل ہوئی تو ۔۔ٹوپا باہر نکال کر آدھے تک اندر پہنچادیا ۔۔۔۔گل بانو پھر بلبلائی تھی ۔۔اور پھر سےاس کی بے ساختہ چیخ نکلی تھی ۔۔۔۔میں آدھے تک پہنچا کر رکا رہا ۔۔۔اور پھر آہستہ سے اندر باہر کرنے لگا ۔۔۔۔گل بانو ابھی بھی آہستگی سے کراہتی رہی ۔۔۔۔۔اور میں آہستہ دھکے دیتا ہوا جھٹکوں پر آیا ۔۔۔۔۔ہر جھٹکے کے ساتھ اس کا پورا بدن کانپ جاتا ۔۔۔اور اوئی ۔۔۔ہائے ۔۔۔۔سس کی آواز نکلتی ۔۔۔۔۔میں نے اس کی ایک ٹانگ نیچے لٹا دی ۔۔اور دوسری ٹانگ کو ہوا میں اٹھا کر اپنے سینے سے لگا دیا ۔۔۔۔اور پھر سے ٹوپے کو اندر باہر کرنے لگا ۔۔۔گل بانو کی پھر سے ہائے نکلی تھی ۔۔۔اب کی بار میں کئی منٹ تک مستقل دھکے دیتا رہا ۔۔۔۔اور پھر اسی طرح اسے کروٹ دے کر الٹا کر دیا ۔۔۔۔اب میں اس کے نرم نرم چوتڑ پر سوار تھا ۔۔۔اور جھٹکے پہلے سے تیز کر دیے تھے ۔۔۔گل بانو بھی ساتھ ساتھ چلاتی جارہی تھی ۔۔۔اس کے چھوٹنے کا ٹائم قریب تھا ۔۔۔اور پھر وہ ایک تیز آواز کے ساتھ فارغ ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔میں کچھ اور جھٹکے دئے مگر گل بانو نے مجھے اپنے اوپر کھینچ کر خود سے لپٹا لیا ۔۔۔راجہ ابھی بس ۔۔۔شام کو باقی کر لینا ۔۔۔مجھے بہت درد ہے ۔۔میں نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر ہامی بھر لی ۔۔۔۔۔۔ہمیں پھر سےبھوک لگ رہی تھی ۔۔۔میں نے گل بانو کو کپڑے پہننے کا اشارہ کیا ۔۔۔اور باہر آ گئے ۔۔ہمارے خیال میں یہ دوپہر کھانے کا ٹائم تھا ۔۔۔۔۔ایک کمرے کے سامنے گزرتے ہوئے کچھ ناموس سی آوازی سنائیں دیں ۔۔۔پہلے گل بانو نے کی ہول سے اندر جھانکا ۔۔اور پھر مجھے اشارہ کیا ۔۔میں بیٹھ کر کی ہول کے سامنے آیا ۔۔۔تو عجیب منظر میرے سامنے تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...