Jump to content
URDU FUN CLUB
Story Maker

My Poetry Collection

Recommended Posts


ہجر کرتے یا کوئی وصل گوارا کرتے 
ہم بہرحال بسر خواب تمہاراکرتے
ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم
خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے
اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمھاری خاطر
اتنی دُور آگئے دُنیا سے کنارہ کرتے
محوِ آرائشِ رُخ ہے وہ قیامت سرِ بام
آنکھ گر آئینہ ہوتی تو نظارہ کرتے
ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے
کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے
جب ہے یہ خانۂ دل آپ کی خلوت کے لئے 
پھر کوئی آئے یہاں، کیسے گوارا کرتے
کون رکھتا ہے اندھیرے میں دیا، آنکھ میں خواب
تیری جانب ہی ترے لوگ اشارہ کرتے
ظرفِ آئینہ کہاں اور ترا حُسن کہاں
ہم ترے چہرے سے آئینہ سنوارا کرتے
(عبید اللہ علیم)

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

Mirza Galib Latest*
***************
*Hazaroun Note The Aise Ki Har Note Pe Dam Nikle,*
*Bahot Nikle Mere Ghar Se Magar Phir Bhi Kam Nikle !*
*Nikalna Bank Se Notoun Ka Sunte Aaye Hain Lekin,*
*Bahot Be-Abro Ho kar State Bank* *Se Hum Nikle !*
*Bacha Nahi Jeib Mein Sau Ka Note Ek Bhi Ab,*
*Hui Subha Aur Ghar Se ATM Khojte Hum Nikle !*
*Is Daur Me Koi Toh Uss Bank Ka Pata Bata De,*
*Jahan Bina Line Me Lage Paise Le Ke Hum Nikle !*
*Is Muflisi Me Nahi Hai Farq Jeene Aur Marne Ka,*
*Usi Ko Dekh Kar Jeete Hain Jis Dhan Pe Dam Nikle !*
*Khuda Ke Waaste ATM Me Kuch Toh Daal De Zaalim,*
*Kahin Aisa Na Ho Yahan Se Bhi Khaali Jeib Hum Nikle !*

Share this post


Link to post
Share on other sites

*چنگاریاں نہ ڈال میرے دل کے گھاؤ میں*
*میں خود ہی جل رہا هوں دکھوں کے الاؤ میں*
*ھے کوئی اہلِ دل جو خریدے میرا مزاج*
*میں زخم بیچتا ھـوں محبّت کے بھاؤ میں*
✍?.... محمد عمران

Share this post


Link to post
Share on other sites

مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا 
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
گرادیا ھے تو ساحل پہ انتظار نہ کر 
اگر وہ ڈوب گیا ھے تو دور نکلے گا
اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف
ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا
یقیں نہ آئےتواک بات پوچھ کر دیکھو 
جو ہنس رھا ھے وہ زخموں سے چور نکلے گا
اس آستین سے اشکوں کو پوچھنے والے 
اس آستین سے خنجر ضرور نکلے گا
✍?....محمد عمران

Share this post


Link to post
Share on other sites


اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے
خواب ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے
اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا
سرخ شعلوں سے جو کھیلو گے تو جل جاؤ گے
دے رہے ہیں تمہیں جو لوگ رفاقت کا فریب
ان کی تاریخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے
اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگِ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے
خوابگاہوں سے نکلتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو
دھوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاؤ گے
تیز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو
بھیڑ میں سست چلو گے تو کچل جاؤ گے
ہمسفر ڈھونڈو، نہ رہبر کا سہارا چاہو
ٹھوکریں کھاؤ گے تو خود ہی سنبھل جاؤ گے
تم ہو ایک زندہ و جاوید روایت کے چراغ
تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے
صبحِ صادق مجھے مطلوب ہے میں کس سے کہوں
تم تو بھولے ہو چراغوں سے بہل جاؤ گے

Share this post


Link to post
Share on other sites


شیطان کی نسل میں وفاداری نہیں ھوتی
سچ کہوں توبریلویت میں بیداری نہیں ھوتی
لاکھ عشق رسول ؐ کا دعوی کرے باطل
بغیراطاعت رسولؑ کےطرف داری نہیں ھوتی
بڑے شوق سےکہتےہوہم عاشق رسول ؐ ہیں 
عاشقوں کی زبان یوں بازاری نہیں ہوتی

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب گناہ و ثواب بکتے ہیں
مان لیجیے جناب بکتےہیں
پہلے پہلے غریب بکتےتھے
اب توعزت مآب بکتے ہیں
بے ضمیروں کی راج نیتی میں
جاہ و منصب،خطاب بکتےہیں
شیخ،واعظ،وزیر اور شاعر
سب یہاں پر جناب بکتے ہیں
دور تھا انقلاب آتے تھے
آج کل انقلاب بکتے ہیں
دل کی باتیں حبیب جھوٹی ہیں
دل بھی خانہ خراب بکتے ہیں؟
‏ ( حبیب جالب)

Share this post


Link to post
Share on other sites


ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، 
ہر کام کرنے میں.
ضروری بات کہنی ہو، 
کوئی وعدہ نبھانا ہو،
اسے آواز دینی ہو، 
اسے واپس بلانا ہو،
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں.
مدد کرنی ہو اس کی،
یار کی ڈھارس بندھانا ہو،
بہت دیرینہ رستوں پر، 
کسی سے ملنے جانا ہو،
بدلتے موسموں کی سیر میں، 
دل کو لگانا ہو،
کسی کو یاد رکھنا ہو، 
کسی کو بھول جانا ہو،
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں.
کسی کو موت سے پہلے، 
کسی غم سے بچانا ہو،
حقیقت اور تھی کچھ، 
اس کو جا کے يہ بتانا ہو،
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں. 
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں.
شاعر: منیر نیازی.
انتخاب: عاطف رانجھا.

Share this post


Link to post
Share on other sites


ﺑﺎﺩﺑﺎﮞ ﮐﮭُﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ
ﻣﯿﮟ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﮐﻨﺎﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ
ﯾﻮﮞ ﺑﭽﮭﮍﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﮞ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻣﮕﺮ
ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻣﮍ ﮐﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ
ﮐﺲ ﺷﺒﺎﮨﺖ ﮐﻮ ﻟﯿﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﭼﺎﻧﺪ
ﺍﮮ ﺷﺐِ ﮨﺠﺮﺍﮞ! ﺫﺭﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ
ﮐﯿﺎ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﺴﭙﺎ ﮨﻮﺋﮯ
ﺍُﻥ ﮨﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﻣﯿﮟ ﺻﻒ ﺁﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ
ﺟﺐ ﺑﻨﺎﻡِ ﺩﻝ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﮨﻢ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ
ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﺎ ﮨﻮﺍ ﭘﺮﭼﻢ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ
ﺟﯿﺘﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﺎ ﺯﯾﺎﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﮨﮯ
ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺯﯼ ﮨﺎﺭﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺧﺴﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ
ﺁﺋﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮨﯽ ﮐﭽﮫ ﮐﻢ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ
ﺟﺎﻧﮯ ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺩﮐﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ
ﺍﯾﮏ ﻣﺸﺖِ ﺧﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﯽ ﺯﺩ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ
(پروین شاکر)

Share this post


Link to post
Share on other sites

اندھیری رات ٹھکانے لگا کے آتے ہیں
چلو کہ اپنی صبح کو جگا کے آتے ہیں
سبھی جو مان رھے ہیں، بہت اندھیرا ھے
چراغ جوڑ کے سورج بنا کے آتے ہیں
ہجومِ شہر پہ سکتہ کہ پہل کون کرے
صلیبِ شہر کو آؤ سجا کے آتے ہیں
یہ رات روز جو ہم سے خراج مانگے ھے
ہزار سر کا چڑھاوا، چڑھا کے آتے ہیں
نہیں ھے کچھ بھی بچا اب، بجز یہ زنجیریں
اُٹھو یہ مال و متاع بھی، لٹا کے آتے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولیے،
میں جانتی تھی، پال رہی ہوں سنپولیے!
بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی،
اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بگھو لیے.
پلکوں پہ کچی نیندوں کا رس پھیلتا ہو جب،
ایسے میں آنکھ دھوپ کے رخ کیسے کھولیے.
تیری برہنہ پائی کے دکھ بانٹتے ہوئے،
ہم نے خود اپنے پاوں میں کانٹے چھبو لیے.
میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی،
سب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رولیے.
" خوشبو کہیں نہ جائے" یہ اصرار ہے بہت،
اور یہ بھی آرزو کہ ذرا زلف کھولیے.
پروین شاکر...

Share this post


Link to post
Share on other sites

Poet: John Elia
اُس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں
ہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں
میں اُسی طرح تو بہلتا ہوں
اور سب جس طرح بہلتے ہیں
وہ ہے جان اب ہر ایک محفل کی
ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں
کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے، ہم اُس سے جلتے ہیں
ہے اُسے دور کا سفر در پیش
ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں
ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی
چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد
دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
تم بنو رنگ، تم بنو خوشبو
ہم تو اپنے سخن میں ڈھلتے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

Poet: جون ایلیا
جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی
چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی
چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر
اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی
سو گئی ہوگی وہ شفق اندام
سبز قندیل جل رہی ہوگی
سرخ اور سبز وادیوںکی طرف
وہ مرے ساتھ چل رہی ہوگی
چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر
اب وہ کروٹ بدل رہی ہوگی
پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر
وہ تنے سے پھسل رہی ہوگی
نیلگوں جھیل ناف تک پہنے
صندلیں جسم مل رہی ہوگی
ہو کے وہ خوابِ عیش سے بیدار
کتنی ہی دیر شل رہی ہوگی

Share this post


Link to post
Share on other sites

Poet: Allama Iqbal
کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد
مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد
یہ مدرسہ یہ جواں یہ سرور و رعنائی
انہیں کے دم سے ہے مے خانۂ فرنگ آباد
نہ فلسفی سے نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو
یہ دل کی موت وہ اندیشہ و نظر کا فساد
فقیہہ شہر کی تحقیر کیا مجال مری
مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد
خرید سکتے ہیں دنیا میں عشرت پرویز
خدا کی دین ہے سرمایۂ غم فرہاد
کئے ہیں فاش رموز قلندری میں نے
کہ فکر مدرسہ و خانقاہ ہو آزاد
رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم
عصا نہ ہو تو کلیمیؑ ہے کار بے بنیاد

Share this post


Link to post
Share on other sites

Poet: Allama Iqbal
اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد
یہ مشت خاک یہ صرصر یہ وسعت افلاک
کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد
ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل
یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد
قصوروار غریب الدیار ہوں لیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد
مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے
وہ دشت سادہ وہ تیرا جہان بے بنیاد
خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں
وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد
مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×