Jump to content
URDU FUN CLUB
Story Maker

کُھلی زپ

Recommended Posts

۔افغانستان سے تعلق رکھنے والی یاسمین ہم سے ایک بلاک  دور رہتی تھی ۔ یاسمین سے میری ملاقات ایک شاپنگ سنٹر میں ہوئی تھی ۔  ہم دونوں نے شاید ایک دوسرے میں کشش محسوس کی کیونکہ ہم جلد ہی ایک دوسرےکی دوست بن گئیں ۔ آپ کو بھی ایسا اتفاق ہوا ہوگا  کہ ایک اجنبی سے مل کے یوں محسوس ہوا ہو کہ اس سے مدت سے آشنائی ہے یہی ہمارے ساتھ ہوا ۔ أس کو کسی ملنے والے کے لئے گفٹ خریدنا تھا اور شاید فیصلہ نہیں کرپارہی تھی کہ کونسا بہتر رہے گا ۔ مجھے دیسی سمجھ کر اس نے اپنی الجھن بتائی تو میں نے موقع محل کے مطابق أسے اپنی رائے دی اور وہ بہت خوش ہوئی کہ میں نے بھی أسے وہی بتایا جو اسے بھی پسند تھا ۔ میں تو شاپنگ کرچکی تھی اس لئے ادائیگی کے لئے لائن میں لگ گئی ۔ کچھ دیر بعد یاسمین بھی آگئی اور میرے پیچھے کھڑی ہو گئی ۔ لائن بڑی تھی ۔ ہم دونوں باتیں کرنے میں لگ گیئں ۔ میں نے محسوس کیا کہ یاسمین سے باتیں کرتے ہوئے بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا اور وہ بھی مجھ سے مل کرخوش نظر آرھی تھی  ۔ اپنی باری پر ادائیگی کر کے ہم باھر آئیں تو میں نے یاسمین سے کہا کہ ایک کوفی ہوجائے وہ میری آفر پر میرے ساتھ قریبی کورنر پر کوفی شاپ میں داخل ہوئی ۔ ہم دونوں کوفی اور سنیکس لے کر ایک ٹیبل پر براجمان ہو گئں اور ایک دوسرے کے بارے میں جاننا شروع کردیا یعنی تفصیلی تعارف ۔   اس کے بعد پھر ملاقات کے وعہدے پر ہم  اپنے اپنے گھر چلی آئیں ۔ اس طرح ہم میں ایک تعلق سا پیدا ہوگیا ہماری طبیعت خیالات کافی ملتے جلتے تھے جس کی وجہ سے ہم میں جلد ہی پکی دوستی ہوگئی ۔ شروع میں ہفتہ میں ایک بار پھر دوبار ملنا شروع ہوگیا اور جلد ہی ہم روزانہ ملنا شروع ہو گئیں چونکہ ایک ہی بلاک دور تھے ایک دوسرے سے تو کئی بار دن میں ایک سے زیادہ بار بھی ملاقات ہوجاتی ۔ اب شاپنگ پر جاناہو یا پکنک پر ہم دونوں اکٹھے ہی جاتیں اور ہماری دوستی کی بدولت ہمارے خاوند بھی ایک دوسرے سے نہ صرف متعارف ہوئے بلکہ أن دونوں میں بھی دوستی ہوگئی ۔ اکثر اوقات ہم ڈنر ایک دوسرے کے ہاں کرتے ۔ اب دونوں فیملیز میں کافی انڈر سٹینڈنگ ہوگئی
یاسمین مجھ سے پانچ سال چھوٹی تھی میں أس وقت تقریبا تیس سےکچھ اوپر ہونگی۔ میچور ہو کر بھی ہم دونوں کی طبیت سے بچپنا نہ گیا تھا بعض اوقات تو ہم دونوں ٹین ایجرز کی طرح حرکتیں کر گذرتیں تھیں ۔ وہ مجھے آپا یا آپی کہتی تھی  ۔ اور میں أسے یاسمین ہی کہ کر مخاطب کرتی ۔  ہم ایک دوسرے کی رازدار بن چکی تھیں ۔ ہم  پسند ناپسند فینٹا سیس اور خواہشات شئیر کرلیتی تھیں اور ہم مل کر کئی بارکسی نہ کسی کو مذاق کا نشانہ بنانے سے بھی نہ چوکتیں ۔ کسی ہینڈ سم مردانہ وجاہت کے حامل فرد کو دیکھ کر جب دل دھڑکنا بھول جاتا اور ٹانگیں بے جان محسوس ہونے لگتیں تب بھی ہم مذاق کرنے سے باز نہ آتیں ۔ یاسمین اگر تم کو چانس ملے تو کیا کروگی ، میں یاسمین سے پوچھتی ، ارے آپی یہ تو بس دیکھنے کی چیز ہے اس کو دیکھ دیکھ کر بھیگتی اور گیلی ہوتی  رہتی ۔ آنکھیں اس کی بلائیں لیتی رہتیں ۔ سچی مچی ، ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ ۔ یاسمین ایک ٹھنڈی آہ بھر کر ایک ہی سانس میں کہہ جاتی ، میں قہقہہ لگا کر کہتی ارے یاسمین دیکھنے کی چیز تو اس نے چھپارکھی ہے تو یاسمین شرمانے کی اداکاری کرتے ہوئے کہتی۔ آپی تم بھی نا ۔ خیر اسی طرح ہمارا مذاق اور نوک جھونک چلتی رہتی  ۔ 

ایک بار ہم دونوں ہسپتال گئی ہوئی تھیں  یاسمین کی اپوائمنٹ تھی  ابھی اس کا ڈاکٹر ایمرجنسی میٹنگ میں تھا اور ہم دونوں وارڈ کے دروازے کے باھر ایک بنچ پر بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھیں اور اچھے جُولی موڈ میں تھیں ۔ اچانک یاسمین بولی أف آپی دیکھ اس خوبصورت جوڑے کو، میں نے أس طرف گردن گُھما کر دیکھا جدھر وہ دیکھ رہی تھی ۔ مین گیٹ کی طرف سے ایک پاکستانی جوڑا آرہا تھا اور اتنی خوبصورت جوڑی تھی کہ نظر لگنے کا خطرہ تھا أسے ۔ میرے زہن میں فورا ایک شرارت آئی اور یاسمین سے بولی کہ دیکھ اس بانکے کو نروس کرتی ہوں  ، یاسمین بولی ۔ آپی اس کی بیوی ساتھ ہے ، میں نے ان سُنی کرتے ہوئے مرد کو اشارا کیا ، جلدی جلدی چلتے ہوئےپاس آ کر أس نے  استفہامیہ نظروں سے میری طرف دیکھا ۔  اس کی بیوی پیچھے رہ گئی تھی ۔ میں شرگوشیانہ انداز میں بولی سر آپکی زپ کُھلی ہوئی ہے ۔ اتنے تک اس کی وائف بھی قریب آگئی تھی ۔  أس کے چہرے کے تاثرات بدلے جیسےکچھ سوچ رہا ہو مگر أس نے کوئی بات نہیں کی اور وارڈ کے دروازے  پر جاکر اس نے وائف کے لئے دروازہ کھولا اور جب وہ اندر داخل ہوگئی  تو اندر جاتےہوئے اس نے اپنی زپ پر ہاتھ  لگا کر چیک کیا وہ تو بند تھی ، اس نے ہماری طرف دیکھا اور خجالت بھری مسکراھٹ  مسکرا کر اندر بیوی کے پیچھے چلا گیا ۔ ہم دونوں نے ایک قہقہہ ایک دوسرے کے ہاتھوں پر ہاتھ مارتے ہوے لگایا ۔ یہ مذاق ہم عموما کرتی تھیں ۔ ہر آدمی کا رد عمل مختلف ہوتا کئی تو وہیں چیک کرنے لگ جاتے ۔ بس یونہی دل لگی کرتے رہتے یاسمین کی باری آنے میں ابھی کافی ٹائم تھا ۔ اس کےڈاکٹر کی میٹنگ کی وجہ سے شیڈول ہی لیٹ ہو گیا تھا ۔ ابھی پندرہ منٹ نہیں گذرے تھے کہ وہی بھلے مانس اکیلے ہی باہر نکلے اور سیدھا ہماری طرف آئے اورمجھے کہنے لگے کہ جی غلطی سے آج زپ بھی بند نہیں کرسکا اور انڈر وئیر پہننا بھی بھول گیا ۔اتنا سنتے ہی میری نظر بے ساختہ اس کی زپ پر پڑی جو کھلی ہوئی تھی اور أس کا نیم ایستادہ براؤن کوبرا نظر آیا  میرے تو خجالت سے  پسینے چُھوٹ گئے اور نظریں جھک گئیں اس نے ایک وزٹنگ کارڈ یاسمین کو دیا کہ میں بیرسٹر ایٹ لاء ہوں کبھی ضرورت ہو تو میری خدمات حاضر ہیں ۔ یاسمین کے ہاتھ سے وہ کارڈ میں نے لےکر پھینک دیا ۔ اس نے کوئی اور بات نہ کی زپ بند کرتے ہوئے واپس وارڈ میں چلا گیا یاسمین بولی آپی نہلے پر دھلا اس کو کہتے ہیں اور جھک کر اس کا کارڈ أٹھا لیا
میں خجالت اور شرمندگی سے سر جُھکائے خاموش رہی ۔ مُذاق میں بات کافی بڑھ گئی تھی اور میرا جی چاہتا تھا کہ میں وہاں سے بھاگ جاؤں ۔ کچھ سُجھ نہیں رہا تھا کہ کہاں جا مروں ۔ غلطی میری اپنی تھی پہل میری طرف سے ہوئی تھی اس کا ردِ عمل غیر متوقع ضرور تھا مگر میں اس کو بلیم نہیں کرسکتی تھی ۔ یاسمین نے میرا موڈ خراب دیکھ کر لطیفے وغیرہ سنانے کی کوشش کی مگر مجھے کچھ بھی تو اچھا نہیں لگ رہا تھا اتنے میں یاسمین کی ٹرن آگئی اس کا نام پکارے جانے کے ساتھ ہی ہم دونوں وارڈ کے اندر چلی گئیں وہ ڈاکٹر آفس میں داخل ہوئی اور میں باھر ویٹنگ روم میں بیٹھ گئی ۔ اچانک مجھے خیال آیا وہ بھی یہیں ہوگا ۔ میں نے چور آنکھوں سے ادھرأدھر نظر دوڑائی وہ مجھے نظر نہیں آیا میں نے سکون کا سانس لیا اب میں اس کی حرکت پر حیران ہو رہی تھی ۔  کُھلی زپ کے ساتھ وہ باھر نکلا اور بنا انڈر وئیر پہنے وہ چل کے ہمارے پاس آیا  ۔ اگر کوئی دیکھ لیتا تو وہ اندر بھی ہوسکتا تھا  بلا کی خوداعتمادی کا أس نے مظاھرکیا تھا مگر کیا وہ سچ مچ انڈر وئیر نہیں پہن کر آیا تھا یا وہ پہنتا ہی نہیں تھا ۔ را ئٹ سائیڈ دیکھا تو بیت الخلا تھا ۔ مجھے خیال آیا ۔ أس مرد شریف نے بیت الخلا میں جاکر انڈر وئیر اتارا ہوگا اور پھر باھر ہماری طرف گیا ہوگا ۔ اب چونکہ اکیلی تھی اس لئے خیالات کی یلغار تھی اور میں تھی ۔ ۔ اچانک  پنٹ کی کھلی زپ کے اندر جو جھلک دیکھ پائی وہ میرے  سامنے آگئی ۔ ایک أچٹتی ہوئی نظر ہی أس پر ڈالی تھی  جس کا تاثر کوئی بُرا نہ تھا اب جو اس کے بارے خیال کیا تواقرار کرنے پر مجبور ہوں کہ واقعی جیسے اس کی پرسنلیٹی غضب کی تھی ۔ چھ فیٹ قد چوڑے شانے گورا چٹا رنگ نیلگوں آنکھیں اور چھوٹی چھوٹی مونچھیں اس کی شخصیت چھا جانے والی تھی، اسی طرح اس کا نیم ایستادہ کوبرا بھی اپنا جواب آپ ہی تھا ۔ درحقیقت وہ بہت ہی پیارا دکھا مجھے ۔ یہ سوچ کر میں شرما کے مُسکرادی ۔
،، آپی کیا بات ہے
شکر ہے آپ کا مُوڈ تو ٹھیک ہوا ۔ یاسمین ڈاکٹر کو دکھا کر آچکی تھی ۔ میں نے کہا میرے موڈ کو کیا ہونا تھا ، سچ بولو اب کیا سوچ ری تھیں آپ ، یاسمین نے سوال داغا ، ارے کچھ نہیں یوں ہی جو ہوا اچھ نہیں ہوا میں نے بات ٹالتے ہوئے کہا ، اوہ میں نے سمجھا شاید آپ کُھلی زپ کے بارے  میں سوچ رہی تھیں ، یاسمین نے چُٹکی لی،۔
چل ہٹ میں کیوں سوچنے لگی اس کے بارے ، میرا لہجہ خود میرے جھوٹے ہونے کی گواہی تھا جسے ہو سکتا ہے یاسمین نے بھی محسوس کیا ہو ۔ وہ بولی ، کچھ بھی کہیں میں نے بھی
دیکھا ہے چیز تو زبردست تھی ابھی تک گُدگُدی ہو رہی اس نے نیچے ٹانگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تومیں  مُسکرادی۔ اب ہم قریبی فارمیسی پر میڈیسن لینے کو رُکے اور لے کر پلٹے  تو دیکھا تو وہ میاں بیوی  بھی کار پارک کرچکے تھےاور اتر کر ہماری طرف ہی
بڑھے آ رہے تھے ۔ باقی آئندہ 

 

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے


اب ہم قریبی فارمیسی پر میڈیسن لینے کو رُکے اور لے کر پلٹے  تو دیکھا تو وہ میاں بیوی  بھی کار پارک کرچکے تھےاور اتر کر ہماری طرف ہی
بڑھے آ رہے تھے ۔

اب کوئی چارہ کار نہ تھا  أنہوں نے بھی میڈیسن لینی ہوگی ۔ وہ صاحب سیدھا ہمارے پاس آکر رُکے  ہائے ، مجھے جاوید کہتے ہیں اور یہ میری وائف شمیم جاوید ہیں ۔
ہم نے بھی ہائے بول کے شمیم سے ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف کرایا،
 جی میں سیما ناز ہوں اور یہ میری دوست یاسمین سکندر ہیں ۔
 جاوید نے  شاید بیوی کی تسلی کے لئے بات بنائی اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے کہ صبح جس کیس کا آپ نے اشارہ کیا تھا وہ فکس ہوجائیگا۔ اصل میں صبح جب میں نے ان
سے کُھلی زپ کی بات کی تھی تو أن کی وائف تھوڑا دور ہونے کی وجہ سے جان نہ پائی تھیں کہ بات کیا ہوئی تھی ۔
 ۔ اوہ تھینک یو جاوید صاحب ، میں نے نظریں چُراتے ہوئےجواب دیا
  اور شمیم سے کہا ،  آپ سےمل کر بڑی خوشی ہوئی ۔ ہم تھوڑا جلدی میں ہیں  اس لئے  ہم چلتے ہیں اجازت دیں ۔ اور ان کا جواب سُنے بنا جلدی سے گاڑی میں جاکر سانس لی ۔ میرا تو سانس پھول گیا تھا جیسے میلوں بھاگ کر آ رہی ہوں ۔ یاسمین ڈرائیونگ کر رہی تھی اور میرا بغورجائزہ لے رہی تھی ۔  گھر کے قریب ہم لوگ کافی شاپ میں گپ شپ لگاتے تھے أس نے گاڑی اس کے سامنے پارک کی تو میں نے کہا یاسمین اندر نہیں جاتے یہیں کافی لے آؤ، وہ اندر جاکے د و کوفی مگ لے آئی ۔ کہنے لگی کیا خیال ہے ، میں نے حیرانگی سے پوچھا ، کس بارے میں ؟،  ارے جاوید صاحب کو کیس دیں کہ نہیں وہ آنکھ مینچتے ہوئے بولی ۔ ارے چھوڑ یار ،  وہ در اصل میرا عندیہ لینےکی کوشش میں تھی ۔  یوں ہی ہلکی پھلکی بات چیت کے بعد یاسمین نے مجھے گھر ڈراپ کیا اور جانے سے پہلے مجھے جاوید کا وزٹنگ کارڈ دیا ۔ میں نے کہا یاسمین  تم خود اسے اپنےپاس رکھو  مجھے ضرورت نہیں ۔ اورگھر کے اندر داخل ہو گئی ۔ کافی اپ سیٹ تھی میں ۔ سیدھا غسل لینے کے لئے باتھ روم گئی  ٹب میں نیم گرم پانی فل کیا اور اس میں دراز ہوگئی   میں کافی سُبکی محسوس کر رہی تھی اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ اکیلے میں خوب رودوں ۔ میرا تجربہ ہے جب بھی ایسی صورت حال ہو کہ سر بھاری اور دل اداس اور بوجھل ہوتو رولینے سے کافی سے زیادہ شانتی محسوس کرتی ہوں ۔ سو جیسے جیسے آج کے واقعے پر غور کرتی اتنا ہی اپنی نادانی اور پریشانی پر آنسو نکلتے ۔ کافی دیر کے بعد جسم کا تناؤ کچھ کم ہوا ۔ ایک تو گرم گرم آنسو اور ٹب کا نیم گرم پانی تریاق ثابت ہوا ۔ میں نے گرم شاور لیا اور باھر آ کر
کچن میں گئی اور  جُوس لے کر ٹی وی لگایا اور انجوائے کرنے لگی ۔ ٹی وی کے
 ایک چینل پر  بیسک انسٹنکٹ  مل گئی ۔ میری پسندیدہ مووی تھی ایک دو بار پہلے بھی دیکھ چکی تھی ایک بار تو مووی تھیٹر میں یاسمین کے ساتھ دیکھی تھی ۔ پھر بھی اسی کو دیکھنے لگی ۔ مووی دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کیوں نہ رضا  کو فون کروں تاکہ آتے ہوئے ڈنر کے لئے پارسل ہی لیتے آئیں کہ میرا من کچھ کرنے کو نہیں چاہ رہا تھا۔ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ میرے میاں رضا آبھی گئے ۔ میں نے جلدی جلدی ڈنر تیار کیا اورڈنر کرنے کے بعد پھر ٹی وی دیکھنے لگ گئے ۔ کیا بات ہے جانم ، کچھ پریشان نظر آرہی ہو تم ۔ رضا نے تشویش بھرے لہجہ میں پوچھا ،
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں جانی ، آج ھسپتال گئی یاسمین کے ساتھ اور بور ہوتی رہی
ہوں اس لئے تھوڑی تھکاوٹ محسوس کر ری ہوں  میں جماہی  لیتے ہوئے بولی ،
میں واقعی تھکاوٹ محسوس کر رہی تھی ، تھوڑی دیر بعد میں نے کہا ، رضا ڈارلنگ
میں تو بیڈ روم میں جارہی ہوں  ۔ شب بخیر ۔ ،
 ٹھیک ہے میں بھی آتا ہوں خبروں کودیکھ کے
میں  پیٹی برا میں سوتی ہوں لائٹ آف کی  کھڑکی سے چاند کی چاندنی نے ہمارے بیڈ کو روشنی کے ہالہ میں لے رکھا تھا ، میں بیڈ پر دراز ہوگئی اور لیٹتے ہی میری آنکھ لگ گئی ۔
کچھ دیر گذری ہوگی کہ رضا آئے اور بیڈ پر لیٹ گئے ۔  میں ابھی پوری طرح سو نہیں پائی تھی  اس لئےسوتے میں محسوس کررہی تھی ۔  میں پہلو کے بل لیٹی ہوئی تھی رضا نے مجھے
پیچھے سے لپٹا لیا ۔ میں نے کسمساتے ہوئے کہا ،  رضا میں تھکی ہوئی ہوں جانی ،،
تم کو بھی آج ہی تھکنا تھا ، تم کو پتا تو ہے کہ آج کونسی رات ہے ،، اور میرے ہاتھ  پکڑ
کر اپنے اکڑے ہوئے پر رکھ دیا ۔ میں نے أسے آہستہ سے دبا کر پوچھا ،،کونسی رات ہے آج ،، جب انہوں نے کہا چاند کی چودھویں رات ہے ،، تو فوری أٹھ گئی  اور رضا سے بولی
سوری رضا مجھے صبح یادتھا کہ آج تماری رات ہےاور میں نے سوچا یاسمین کے ساتھ
ہسپتال سے ہو کر آونگی تو تمہری ڈش صاف کر رکھوں گی اور سچ جانی پھر زہن سے
نکل گیا ۔ در اصل چاند کی چودھویں اور پندرھویں دو راتوں کو رضا اپنے آپ میں نہ رہتے
تھے ۔ چونکہ معمول سے ہٹ کر ان میں وحشیانہ پن آجاتا تھا وہ طبیعت میں گرانی اور بے چینی محسوس کرتے اور شروع شروع میں تو مارنے مرنے پر بھی تُل جاتے پھر میں نےسیکس کرنے کی ٹرائی تو آہستہ آہیستہ بہتر ہوتے گئے سیکس  وحشیانہ مجھے بھی اچھا لگن لگا ہے ۔ آج شام جب وہ آئے تھے تو ان کی نظروں میں وحشت تو میں نے محسوس کی تھی مگر اپنے خیالوں میں ایسی گم تھی اس طرف خیال ہی نہ گیا ۔ اب انہوں نے مجھے گلے سے لگا کر بھینچا اورمیرے پورے جسم پر ہاتھوں کو ہولے ہولے پھیرنے لگ گئے ۔ میں نے ان کا ہاتھ میں لے رکھا تھا اسے مساج کرنے کے ساتھ ساتھ ہولے ہولے دبا رہی تھی ۔ شروع میں  تو میری طبیعت اس طرف مائل نہ تھی مگر رضا کی جو حالت ہوتی اس کا احساس کرکے اس کا ستھ دینے کا فیصلہ کیا ۔ مگر
جب ان کا ہاتھ میں لیا تو جاوید کی کھلی زپ کے اندر کی جھلک کی طرف خیال چلا گیا
میں نے فوری جُھک کر اس کے دوتین بوسے لئے ۔ ادھر رضا نے بھی میری طرح بے صبری دکھائی اور پینٹی کے اوپر سے ہی رانی کو کُجھانے لگے ۔ میں نے ٹانگیں زرا کھول
دیں اور ان کے ہونٹ ہونٹوں میں لے کر چبانے لگی ۔ رضاکے پتلے پتلے ہونٹ میری
کمزوری ہیں ۔ رضا نے میری پینٹی کو کھینچا تو میں نے تھوڑا اوپر أٹھ کر ان کا اپنی پینٹی
أتارنا آسان کردیا انہوں نے گھٹنوں تک پینٹی اتاری تو میں نے پاؤں کی مدد سے اتار کے
نیچے پھینک دی ۔ اب أنہوں نے برہنہ رانی پر  ہاتھ سے مساج کرنا شروع کر دیا اور  درمیانی أنگلی پر دباؤ بھی ڈالتے ۔ میرے ہاتھ میں ان کا فولادی ہتھیار  تھا اور میں اس وقت اپنے
آپ کو خوش قسمت ترین سمجھ رہی تھی جیسے جیسے چاند اوپر آتا جار رہاتھا جاوید کی حالت بدلتی جا رہی ۔ أس کے ہاتھوں میں سختی آرہی تھی

-------------------------------

 

رضا نے ایک بار کہا تھا کہ چوودھویں رات  کو  بالکل صاف اور  کلین ہو میں ہمیشہ
کلین رکھتی ہوں ہر ہفتہ  میں صفائی مگر اس رات کے لئے تو میں خصوصی اہتمام کرتی تھی
مگر آج مجھ سے کوتاہی ہوگئی اور اب رضا جب ہاتھ سے اسے مساج کر رہے ہیں تو مجھے خود بال محسوس ہوتے  اور گُد گُدی سی ہوتی ہے ۔ ان کی درمیانیی انگلی بار بار لکییر پر
دباؤ ڈالتی اور کسی وقت وہ أسے اپنی مُٹھی میں بھی بھر لیتے  میری رانی کے لپس بھرے بھرے سے ہیں مگر سموتھ ہیں  جب وہ ہاتھ میں لے لیں تو ان کا ہاتھ بھر جاتا ان کو شاید
اچھا لگتا ہو تبھی وہ مییرے بوسے لینے لگتے میں بھی ان کے ہونٹ چوسنے کا مزہ لیتی
انہوں نے ساتھ ساتھ میرے مموں پر برابر توجہ رکھی برا تومیں نے پینٹی کے أترتےہی  أتار دی تھی ۔ میرے نپل تن گئے ۔ ادھر انہوں نے نچے چوت پر مساج جاری رکھا تھا اب أنگلی کا
دباؤ ڈالتے تو لکیر کُھل سی جاتی اور أنگلی چوت کے گیلا پن سے خود بھی گیلی ہوجاتی
اب چوت  کا رس اس کے منہ پرآپہنچا تھا اوررضا کا ہاتھ اس کو تھپک رہا تھا جس کی
آواز بھی آرہی تھی ۔ میں مست ہوتی جارہی تھی رضا کے لن سے مجھے کُھلی زپ کا
خیال آرہا تھا ۔ میں نے اس کے اکڑے ہوئے کو بوسے دئیے پھر اوپر نچے چاٹا ۔  جس سے
رضا برانگیختہ ہو کر چوت پپر زوز زور کی تھپکی لگاتا میں نے لن کو منہ ڈال لیا
اور چوپا لگانے لگی ۔ رضا لیٹ گئے اور میری ٹانگیں اپنی طرف کر لیں میں سمجھ گئی اب
جانی اسے کاٹ کھائے  گا اس کا منہ چوت کے قریب آیا اور سُونگھنےلگا تو اس کی گرم سانسیں محسوس کر کے میں کانپ أٹھی ۔ اس نے انگلی ڈال کے رس نکال کے چکھا اور پھر
اس نے چوت کے لپس پر بوسہ دیا اور پھر چوسنے لگا  میں چوپا لگا رہی تھی اور مزے سے
دوھری ہوئی جارہی تھی ۔ رضا جانتا تھا کہ میں زیادہ دیر نہیں نکال پاؤں گی چوت کے دانے
پر ہلکے ہلکے بائٹ کرتا اور پھر چوسنے لگتا ساتھ ساتھ انگلی بھی  کرتا میں نے دو تین
چار جھٹکے لئے اور جھڑ گئی سارا  رس رضا نے پی لیا چوت بہنے کے باوجود  چمنی
ہئی تھی ایک آگ لگی ہوئی تھی اس میں ، میں  رضا کے لن کو چوس رہی تھی کہ رضا
نے میرے بال پکڑ کراوپر آنے کا اشارہ کیا میں تو یہی مانگ رہی تھی رضا سیدھا ہوکر
لیٹے تو میں ان کے اوپر بیٹھنے لگی تو رضا نے ساتھ پڑے ہوئے کپڑے سے میری چوت صاف کی او رانگلی پر کپڑا لپیٹ کر اندرسے بھی خشک کی پھر میں نے لن کو پکڑ کر چوت کے اوپر مسلا جس سے چوت اسے  اندر لینے کو تیار ہوگئی  میں نے لن کی ٹوپی پر چوت
کے منہ کو رکھا اور ایکدم بیٹھ گئی اکڑا ہوا لن غڑاپ سے سب کچھ چیرتا ہوا اندر جا ٹکرایا میں مستی میں سر پٹختی اوپر نیچے ہونے لگی  کبھی پیچھے کی جانب  ہوتی تو کبھی آگے ہو کررضا کے ہونٹ کاٹنے لگتی ۔ میں مدھوشی میں ألٹی سیدھی حرکتیں کرتی رضا میرے مموں کو پکڑے ان کو دباتا کبھی سر أٹھا کر ان کو چومتا ایک مستی کا عالم تھا اور ہم تھے اچانک رضا نیچے سے ہلنے لگا میں نے اس کا ساتھ دیا اس کے جواب میں میں بھی اوپر نیچے ہوتی رضا نے جلد ہی  ہتھیا ڈالدئیے اور وہیں لیٹے لیٹے ہی ایک پچکاری ماری چوت کی ساری دیواریں مزے سے دعائیں لگیں کیونکہ پچکاری بار بار نکلی جس سے چوت کے اندر کی آگ ٹھنڈی ہو گئی

میں رضا کے اوپر ہی گر گئی اور اس کا لن آہستہ آہستہ باھر کا راستہ دیکھنے لگا
تھڑی ہی دیر بعد چوت نے لن کا سارا رس پی لیا اور لن سُکڑ کے باھر آگیا ۔ رضا
میرے بالوں ہاتھ پھیرنے لگے میں ان کے چھاتی کے بالوں پر اپنے گال رگڑنےلگی
اور ان کے نپل کو چوسنے لگی ۔ چاند کے جوبن میں آنے میں تھوژا وقت رہ گیا تھا
ادھر رضا بے چینی محسوس کرنے لگے میں یونہی برہنہ کچن میں جار تھنڈا دودھ لے
آئی ۔ اور رضا کو پینے کو دیا وہ گھونٹ گھونٹ  پیتے رہے اور میں انکی بلائیں لیتی
رہی ۔ آج کی چُدائی کا بڑا مزہ آیا تھا اور ابھی تو چاند نے کامل ہونا تھا ۔ میں نے رضا سے کہا ،، رضا تم لیٹ جاؤ،، وہ لیٹ گئے تو میں ان کا جسم دبانے لگی ان کا جسم اتنا گرم تھا
جیسے ایک سو چار کا بُخار ہو ۔ مگر میں جانتی تھی یہ بخار نہیں چاند کے ساتھ ساتھ یہ
بھی نیچے ہوتا جا ئے گا  ۔ جب میں رضا کی رانوں کو دبانے لگی تو دیکھا کہ اس کا لن
پھ سر أٹھا رہا ہے میں اسے پیار کرنے سے اپنے آپ کو باز نہ رکھ سکی اور وہ مچل أٹھا
میں پیار سے أسے سہلانے لگی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ کھلی زپ سے باھر نکل
آیا ہو میں نے اسے منہ  میں ڈال لیا اور اپنی زبان کی نوک سے اس کی ٹوپی کو  کُجھانے لگی ، رضا کو مزہ ملا تو أس نے آنکھیں کھولیں اور مجھے بالوں سے پکڑکر اپنی طرف کھیچ کر ساتھ لٹا لیا اور مجھےگلے لگا کر اتنی زور سے بھینچا کہ میں سمجھی کہ میری کوئی
ایک آدھ پسلی ٹوٹ جائے گی  اب میں نے اسے سنبھالنا تھا کیونکہ چاندجوبن پر آنے والا تھا
میں نےاسے چومتے ہوئے بٹھایا اور خود اس کے سامنے لیٹ گئی وہ میری طرف دیکھ رہا تھا
کچھ جانی پہچانی کچھ اجنبی نظروں سے  ۔ میرے جسم ک وہ بڑے غور دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔

وہ میرے اوپر جُھک گیا پہلے اس نے میرے گال چُھوئے اور پھر
  میرے ہونٹوں کو مسلنے لگا
اور پھر اس نے میرے ہونٹوں کو چوما اور پھر گردن کو چومتے ہوئے میرے مموں کو ہاتھ میں لے کر مساج کرتا رہا ۔  ۔ اس نے نپلز منہ میں لےکر چوسے  او بڑے پیار سے مسلے
پھر وہ پیٹ کو چومتا میری ناف کو بڑے غور سے دیکھتا رہا میری ناف زرا گہری ہے
 اس میں پہلے انگلی گھماتا پھر اپنی زبان ڈال کر چاٹتا رہا ۔ میں اس کی عجیب وغریب حرکتیں
دیکھتی رہی مگر اب میں خود گرم ہونے لگی تھی ۔ میری چوت نئے سرے سے پھدکنے لگی تھی ۔ رضا میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھا میری چوت کو تاڑ رہا تھا ۔ اور دانےکو مسل رہا تھا
میں نے أس کے سر کے بالوں سے پکڑ کر اوپر کی جانب کھینچا اور ٹانگوں سے اس کی پیٹھ
کو جکڑ لیا اور ہاتھ سے اس کے لن کو پکڑ کر اپنی چوت پر ٹکا دیا اور دونوں ہاتھوں کا دباؤ
اس کے کولہوں پر ڈال کر آگے کی طرف دبایا اور خود اپنے چوتڑ کچھ اوپر کئے تو لن پھسلتا
ہوا اندر ہو گیا ۔ رضا سے بولی جانی مجھے چودو زور زور سے چودو ۔اور رضا نے ایک زوردار دھکا لگایا اور میرا انجر پنجر ہل گیا۔  رضا اب ایک مشین کی طرح شروع ہوگیا میں نے کچھ دیر تو اپنی ٹانگوں میں جکڑے رکھا مگر کب تک۔ أس نے میری ٹانگیں  اپنے کاندھوں پر رکھ لیں او زور دار جھٹکے لگانے لگا ۔اس کا ہر جھٹکا مجھے مزے کے کنارے
 پہنچا دیتا  میں مست ہو کر رضا کو چومتی اور کاٹتی ۔ مجھے ایسا سرؤر مل رہا تھا جس کی خواہش ہر لڑکی عورت چودواتے ہوئے کرتی ہے ۔ میں چُد رہی تھی اور رضا ظالموں کی طرح مجھے ہٹ ہٹ کر چود رہا تھا وہ لن کو چوت کے منہ تک لے آتا اور پھر ایک زور دار دھکا لگاتا ۔ میں اب پوزیشن بدلنا چاہتی تھی کہ پیٹھ بل جھٹکے کھا کھا کر کمر دھری ہوئی جارہی تھی ۔ میں نے رضا سے کہا ، جانی میں گھوڑی بن جاؤں تم سواری کرنا بڑا مزہ آئے
گا ۔رضا کچھ بولا نہیں مگر میں نے ٹانگیں اس کےشانوں سے نیچے اتار کر گھوڑی کی
طرح کھڑی ہوگئی ۔ رضا نے پیچھے سے لن ٹکرایا تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں غلط دروازے میں نہ داخل ہو جائے میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا اور اس دو زانو بنا کر اس
کے لن پر چوت ٹکادی اورر اوپر سے زور لگا کر اندر کرلیا اور  آہستہ آہستہ گھوڑی کی
پوزیشن میں آگئی ۔ اب میں نے رضا کے دونوں ہاتھوں میں اپنے ممے دے دئیے اور خود
پیچھےاور آگے ہوئی ۔ رضا نےمیرا جواب دیا اور پھر شروع ہوگیا پتہ نہیں کتنے  ہارس پاور
کا دھکا ہوگا ۔ میرا تو اندر باھر  ہل کر رہ گیا   مگر میں ایک ایک جھٹکے پر رضاکی بلائیں
لیتی ۔ میں پھر فارغ ہوچکی تھی چاند  اپنے عروج پر جاکر آگے نکل چکا تھا ، رضا اب بھی
مستی میں تھا ۔ میں نے رضا کو کہا تھوڑا رکو اور اس کے نیچے سے نکل کر اس کے سامنے آکر اس کی ٹانگیں سامنے کی طرف سیدھی کرکے بٹھایا او ر اسے پیار کرنے لگی اس نے بے اختیار مجھے لپٹا لیا میں اسکی طرف منہ کر کے اسکی رانوں پر بیٹھی ہوئی تھی اس کا کھڑا لن میری ناف سے ٹکرا رہا تھا ۔ میں نے کپڑے سے اپنی چوت کا پانی خشک کیا او اس کے لن کے اوپر بیٹھ کر رضا کو چودنے لگی ۔ وہ بھی ساتھ دے رہاتھا میری چوت سُوج چکی تھی اب  رضا کو فارغ ہونا تھا کچھ دیر تو اسی طرح رہے اور پھر اچانک رضا نے مجھے لٹادیا او میرےساتھ لیٹ گیا  اس نے میری ٹانگ أٹھا کر لن میری چوت میں ڈالدیا یہ رضا کی پسندیدہ پوزیشن تھی کہ میں پیٹھ بل لیٹی ہوتی اور رضا پہلو بل لیٹ کر میری ٹانگ اٹھاکر اپنا لن ڈال دیتا  اس طرح دونوں لیٹ کر  کرتے۔ میں سمجھ گئی اس کی وحشت کم  ہوگئی ہے وہ بڑے رومانٹک انداز میں چود رہا تھا میں نے تو آج رات بہت سواد لیا تھا  ۔ دو چار سوادی جھٹکے لگا کر رضا بھی فارغ ہو گئے اور ہم دونوں اسی طرح ایک دوسرے سے چمٹ کر سوگئے ۔ رضاکی حرارت کافی کم ہوگئی تھی ۔ صبح رضا کے جگانے پر میریی آنکھ کھلی رضا کافی لئے کھڑا تھا ۔ میں نےکافی لیتے ہوئے اسکی طرف جو دیکھا تو ہنسی نہ روک سکی ۔ رضا کی گالوں پر میرے دانتوں کے نشاں صاف نظر آرہے تھے ۔ اس کی گردن اور سینہ پر نشان تھے ۔ رضا بولے رات کو تم  کچھ زیادہ ہی مزہ دے رہی تھی ،  رضا تم ہو بھی مزے دار ، اب اسے کیا بولتی کہ رات کو تمہارے ساتھ ساتھ کوئی او بھی ہمارے ساتھ تھا
زپ کھول کے  ۔۔۔
میں نے رضا سے کہا جانی  میں تو سونے لگی ہوں  ناشتہ   اٹھ کرکر لوں گی ،
 اوکے جانم تم ارام کرو اور میرے لپس چوم کر ہنستے ہوئےبولے آج رات کا کیاپروگرام ہے ،
اوہ رضا رات کو تم نےمیری پُھدی کا پُھدا بنا دیا ہے اب  ایک ہفتہ تو اسکے قریب
بھی نہ آنا ۔ ،میں اسے پھدی دکھاتے ہوئے بولی ۔  رات کو پینٹی پہنے بنا ہی سو گئی تھی ، رضا پھدی دیکھ کے کہنے لگے ارے یہ تو پہلے سے بھی سوہنی لگ رہی ہے اور ہاتھ سے اسے تھپکا ، مجھے تھوڑا سا درد محسوس ہوا، رضا نے مجھے گدگدیاں کرنی شروع کردیں ۔ میں بستر پر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی کہ رضا نے میری ٹانگوں کو قابو میں کیا اور اپنے ہونٹ میری چوت پر رکھ دئیے أف رضا کیا کرنے لگے ہو وہ کچھ نہ بولے بس چومتے رہے میرے سانس بھی بھاری ہونے لگے رضا نے چو م کر مجھے کہا اس کا شکریہ توادا کرنا تھا اور باھر نکل گئے ۔ مجھے مایوسی ہوئی تھوڑی دیر پہلے جو میں ایک ہفتہ تک ہاتھ نہ لگانے کا کہ رہی تھی اس کے ہونٹ لگتے ہی من چاہ رہا ابھی ایک راؤنڈ ہوجائے ۔
میں ٹیلیفون کی گھنٹیی پر أٹھ گئی اور  ہیلو کہا تو یاسمین تھی
آپی ابھی تک سو ری ہو ،، یاسمین نے پوچھا
ہاں کیا ٹائم ہوا ہے ، میں نے پوچھا
آپی ایک بج گیا ہے ، اب تو ظہر ہونے کو ہے یاسمین  نے بتایا
کیوں آپی رات کس کے خیال نے سونے نہیں دیا ، یاسمین چہکی،،
کسی کی یاد نے نہیں رضا  نے جگائے رکھا  ۔
اوہ آئی سی ، پر آپی اب أس کا کیا کرنا ہے
کس کی بات کر رہی ہویاسمین ، میں نے پوچھا
آپی آپ بھی ناں کل جس نے اپنا کارڈ دیا تھا جاوید ، بھول گئی کیا آپ
نہیں یاسمین تم خود ہی اس کو برت لو میرا بالکل من نہیں ہے ۔ میں نے تھوڑا ریزرو
ہونے کی کوشش کی ۔ یاسمین فورا بولی ایسےکیسے ہوسکتا آپی  جب تک آپ ساتھ نہ
دیں تو کچھ بھی نہ کرپاؤنگی ۔ تو پھر تم کیاچاہتی ہو  میں نے پوچھا ،
آپی آپ میرے ہاں آجائیں اس کو فون کرتے ہیں ۔ یاسمین نےتجویز دی ۔
ایسا کرو اسے فون کرلو بات آگے بڑھی تو میں پھر ہی کچھ سوچوں گی ۔
اچھا آپی اگر آپ ہہی چاہتی  ہیں تو ایسے ہی کرتی ہوں ۔
ٹھیک ہے یاسمین آج تو تھکی ہوئی ہوں ، تم بات کرلو کل میں تمہارے ہآں آ جاونگی
پھر کچھ سوچتے ہیں  کچھ کرنا ہے یا نہیں ۔ لگتا ہے یاسمین سچ مچ اس سے چدوانے
کے بے قرار  ہے ۔ جاوید ہے ہی اتنا ینڈسم کہ یاسمین یا میرے جیسی کبھیی کھائے بنا نہ
رہے 
باقی آئندہ

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

اس کہانی کو اب آپ پورا کریں جب میں نے اس کہانی کو یہاں پوسٹ کرنا شروع کیا تھا تب سیماب ناز نے کہانی جاری رکھی تھی

اب وہ اس کہانی کو مکمل نہیں کررہی ہیں تو آپ سے درخواست ہے کہ آپ کہانی کو مکمل کردیں۔

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں کہانی نہیں لکھ سکتی۔ مجھ میں وہ فور سائیٹ نہیں ہے اور نہ ہی میں اتنی لمبی ٹائپنگ کر سکتی ہوں۔

دن اور شام کو مشکل سے وقت نکال کر آن لائن ہوتی ہوں۔

کمنٹ بھی بہت مشکل سے ٹائپ ہوتے ہیں۔ میں تو پڑھتی بھی قسطوں میں ہوں۔ پہلے کہانیاں سیو کر کے بعد میں پڑھتی تھی۔ اب یہاں کی تو سیو بھی نہیں ہو سکتیں۔

  • Like 4

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×