Jump to content
URDU FUN CLUB

Recommended Posts


سرفروش 2 ۔۔ قسط نمبر 1 ۔۔۔

عاصم جیپ ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔اور میں اس کے ساتھ بیٹھا باتوں میں مصروف تھا ۔۔۔جہاں تک میرا خیال تھا کہ عاصم نے پوجا کو بھی کوئی ٹوپی پہنائی ہوگی ۔۔۔۔مگر یہ تو طے تھا کہ ا ب انٹیلی جنس پاگل کتوں کی طرح ہمارے پیچھے پڑ چکی ہے ۔۔۔۔ایک ہی ہفتے میں انڈیا کے دو بڑے اڈے ہم نے تباہ کر کے ڈرون ٹیکنالوجی کو درہم برہم کر دیا تھا۔۔۔جو مشن عمراں صاحب نے میرے ذمے لگایا تھا ۔۔وہ کافی حد تک پورا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔انہی سوچوں میں تھا کہ عاصم نے ایک ہوٹل کے سامنے جیپ روک دی ۔۔۔۔میری طرح وہ بھی چائے کا شیدائی تھا۔۔ چائے کا آرڈر دے کر ہم ہوٹل کے سامنے ہی تخت پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔سامنے ہی الیکٹرونکس کی کئی دکانیں تھیں ۔۔۔۔عاصم مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر کے سامنے چلا گیا ۔۔۔۔۔اور کار میں بیٹھتے ہوئے ایک شخص کے قریب سے گزرتے ہوئے موبائل اڑا لایا ۔۔۔۔۔اس شخص کو اندازہ نہیں ہو ا۔۔وہ سیدھا کار لے کر بڑھتا چلا گیا ۔۔اسی طرح ایک اور چلتے پھرتے بندے سے پرس بھی نکال لایا ۔۔۔۔۔عاصم واپس آیا اور لدھیانے میں رضوان کو کال کرنے لگا۔۔رضوان وہی لڑکا تھا جو عاصم کے بعد سارے گروپ کو سمبھالتا تھا ۔۔۔۔۔مگر آگے سے شاید آپریٹر کا میسج آ رہا تھا کہ آپ کا مطلوبہ نمبر بند ہے ۔۔۔۔۔عاصم نے ایک اور نمبر ٹرائی کیا ۔۔۔۔یہاں فون اٹھا لیا گیا ۔۔۔۔۔عاصم نے رضوان کا پوچھا ۔۔۔۔آگے سے سننے والے جواب کے بعد عاصم کے چہرے پر سرخی تیر گئی ۔۔۔۔۔باقی لوگ کہاں ہیں ابھی ۔۔۔۔
اور پھر کچھ ہدایا ت دے کر فون بند کر دیا ۔۔۔۔۔۔میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔رضوان کل رات سے غائب ہے ۔۔۔اپنے اڈے پر بھی نہیں پہنچا۔۔۔اور نمبر بھی بند ہے ۔۔۔اور ایسا آج تک نہیں ہوا ہے ۔
ویسے بھی آپ کے آنے کے بعد میں نے انہیں تمام معاملات سے الگ رہنے کا کہا ۔۔۔کہ سب آپ کے لئے ریزرو رہیں گے ۔۔۔اور نگاہوں میں بھی نہیں آئیں گے ۔۔۔
میں اسے بغور دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ہم نے پچھلی رات ہی جو اڈا تباہ کیا تھا ۔۔۔اس کے بعد تو اتنی جلدی کوئی بھی حرکت میں نہیں آتا ۔۔۔۔ اور پچھلے شملے پر حملے کے وقت تو یہ سب تھے بھی نہیں ۔۔بس میں اور عاصم تھے ۔۔۔۔۔۔میں کڑیا ں ملاتے گیا۔۔۔۔اور دونوں واقعات میں صرف ایک چیز مشترک تھی ۔۔۔۔اور وہ اس شملے کے کنٹرولنگ سسٹم سے اٹھائی ہوئی گاڑی ۔۔۔۔۔میں نے عاصم نے پوچھا کہ اس جیپ کا کیا ہوا تھا جو تم لے کر نکلے تھے ۔۔۔
عاصم چونک پڑ ا۔۔۔۔۔۔ اوہ ہ۔۔۔۔۔وہ جیپ تو رضوان کو ہی ٹھکانے لگانے بھیجا تھا ۔۔۔وہ بیچنے کی بات کر رہا تھا کہ کچھ پیسے ہاتھ آئیں گے ۔۔۔مگر میں نے اسے نہر میں پھینکنے کا کہا تھا۔۔۔یہ وہیں سے ٹریس ہو ا ہو گا۔۔بعد میں میں نے بھی نہیں پوچھا تھا۔۔۔۔۔پوری کہانی ہماری سمجھ میں آ گئی تھی ۔۔۔۔۔عاصم نے جلدی جلدی چائے پی اور اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔چلیں راجہ صاحب ۔۔ 
میں نے بھی تیزی سے چائے ختم کی ۔۔۔۔۔عاصم ہوٹل والے کی طرف گیا ۔۔اور کہنے لگا کہ ہمیں کسی کام سے آگے جانا ہے ۔۔۔۔یہ جیپ وہ اپنے پاس رکھے ۔کل تک وہ واپس آ کر جیپ لے جائے گا۔۔۔ہوٹل والے کو کیا انکار تھا ۔۔۔اس نے کہا باؤ جی ۔۔جیپ ہوٹل کے پیچھے کچے پر لگا دئیو۔۔۔۔۔۔عاصم نے ایسے ہی کیا ۔۔۔اور پھر ہم روڈ کراس کر کے اس طرف آ گئے ۔۔۔۔۔سامنے سے ایک لوکل بس آ رہی تھی ۔۔۔ جالندھر کی آوازیں لگاتا ہوا کنڈیکٹر ہمارے سامنے کودا ۔۔۔۔۔۔عاصم نے مجھے اشارہ کیا اور بس پر سوار ہو گیا ۔۔۔۔وہ کچھ سنجید ہ ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ کافی عرصے سے انڈیا میں تھا ۔۔۔اور ہاتھ پاؤں بچا کر کام کر رہا تھا ۔۔۔۔۔مگر اب صورتحال مختلف ہو رہی تھی ۔۔۔اور میرا بھی یہی حال تھا ۔۔۔نیپا ل سے آنے کےبعد عاصم کے ساتھ اور سپورٹ نے میری بھرپور مدد کی ۔۔۔۔جس کی وجہ سے میں نے صرف مشن پر ہی فوکس رکھا تھا ۔۔۔اور دوسری طاقت ہماری تیز رفتاری تھی۔۔۔۔۔جتنی دیر میں ٹریسنگ ہوتی ۔۔میں مشن ختم کر کے یا تو انڈیا سے باہر ہوتا ۔۔۔یا پھر کسی نئے حلیے ۔۔۔۔۔ 
عاصم نے ایک نظر بس کے مسافروں پر ڈالی ۔۔۔۔۔اور پھر درمیانی سیٹ کی طرف بڑ ھ گیا ۔۔کارنر سیٹ پر بیٹھے ہوئے اس نے مجھے اپنے سائیڈپر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔میں بھی خاموشی سے جا بیٹھا ۔۔۔۔چوری کے پرس سے کرایا دیتے ہوئے اس نے میری طرف بھی اشارہ کر دیا ۔۔کنڈیکٹر نے ایک نظر مجھے دیکھا اور آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔ہمارا سفر چار گھنٹے کا تھا۔۔
جالندھر کے ٹول پلازے سے بس کچھ آگے گئی ۔۔کہ عاصم نے میرا ہاتھ تھام اور کنڈیکٹر کو آواز دی ۔۔۔۔ہم دروازے پر پہنچے ۔۔۔۔۔موبائل اور پرس اس نے اسی سیٹ کے نیچے رکھ دیا ۔۔اس نے کنڈیکٹر کو رکنے کا کہا اور ہم اتر گئے ۔۔۔یہ ہائی وے کا بڑا روڈ تھا۔۔۔اور کنارے پر کھیتوں کی اک طویل لائن تھی ۔۔۔۔۔عاصم مجھے لئے کھیتوں میں چلتا گیا ۔۔کچھ دور جا کر کچھ کچے مکان نظرآئے ۔۔۔سامنے ہی ایک آدمی چارپائی پر بیٹھا حقہ گڑ گڑا رہا تھا ۔۔۔عاصم کو دیکھتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔پنجابی میں بات کرتا ہوا عاصم چارپائی پر جا بیٹھا ۔۔۔۔۔عاصم نے اسے کھانے کا بندوبست کرنے کا کہا ۔۔۔اور حقہ کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے انکار کیا ۔۔ چائے کی لت کم تھی کہ حقہ بھی پیا جائے ۔۔۔۔۔کھانا کچھ دیر بعد آ گیا ۔۔۔۔کھانے کے بعد لسی ڈکارنے کے بعدعاصم اندر بڑھ گیا ۔۔کچھ دیر بعد ایک بائک اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی ۔۔۔۔اور عاصم ہیلمٹ پہنے ہوئے باہر آیا ۔۔۔۔ دو سائیلنسر والی یہ بھاری بھرکم ہونڈا نئی نظر آرہی تھی ۔۔۔میں پیچھے جا بیٹھا ۔۔۔اور آگے کا سفر شروع ہو ا۔۔۔۔کھیتوں کے درمیان سے نکلنےکے بعد عاصم نے بائک اڑا دی ۔۔۔۔۔۔اگلے دس منٹ میں ہم شہر میں داخل ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔ٹول پلازے سے کچھ آگے ہی ناکے لگ چکے تھے ۔۔۔۔۔جو عاصم نے کھیتوں کے درمیان سے ہی گذارے ۔۔۔آنے والی ہر بس کو روکا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔اور شاید ہماری بس کو بھی روکا گیا ہو گا۔۔۔۔انہی کھیتوں کے درمیان سے ہم شہر میں داخل ہوئے ۔۔۔لدھیانے اور جالندھر دونوں ہی لاہور سے زیادہ مختلف نظر نہیں آتے تھے ۔۔۔۔جالندھر سے لدھیانے کا 60 کلو میٹر کا فاصلہ تھا ۔۔۔۔عاصم تیزی سے بائک بھگائے جا رہا تھا۔۔۔۔ہم ہائی وے کےساتھ گذرنے والے شہری روڈ پر سفر کر رہے تھے ۔۔۔۔جہاں روزمرہ کی ٹریفک چل رہی تھی ۔۔اور عاصم تیزی سےبائک دائیں بائیں گھماتا ہوا نکلتا جا رہا تھا۔۔۔ایک گھنٹے سے کچھ اوپر کا ٹائم تھا کہ ہم لدھیانے میں داخل ہو گئے ۔۔۔۔ دوپہر کے تین بجے کا ٹائم تھا ۔۔عاصم نے بائک ایک ہوٹل کے سامنے روکی اور چائے کا کہہ کر سامنے پی سی او کی طرف چل پڑ ا۔۔۔۔۔ہمارے چائے پینے تک جیپ آ چکی تھی ۔۔۔۔اور جیپ پر سوار لڑکے کوبھی میں پہچان چکا تھا ۔۔یہ وہی تھا جو اس اڈے پر چائے سر و کرتے ہوئے نظر آیا تھا ۔۔۔ آصف دبلے پتلے جسم کا لڑکا مگر تیز چمک آنکھوں میں نمایا ں تھی ۔۔۔۔قریب آ کر عاصم سے گلے ملا اور مجھے سے ملتے ہوئے سامنے جا بیٹھا ۔۔جیب سے موبائل اور جیپ کی چابیاں نکالتے ہوئے عاصم کی طرف بڑھا دی ۔۔۔عاصم نے رضوان کا پوچھا ۔۔۔مگر آصف نے انکار میں سر ہلا دیا۔۔۔۔۔اس کا اب تک کوئی پتا نہیں تھا۔عاصم نے نئی رپورٹ پوچھی ۔۔۔تو آصف نے بتایا کہ انٹیلی جنس کا کوئی نیو آفیسر صبح پہنچا ہے ۔۔۔پولیس اور انٹیلی جنس کی کمبائن میٹنگ ہوئی ہے ۔۔۔اور صبح سے پولیس کافی ایکٹو اور جگہ جگہ چھاپے مار رہی تھی ۔۔۔حالات بگڑ رہے ہیں ۔۔۔۔اورمیڈیا کو بھی ان معاملات سے دور رکھا جا رہا ہے ۔۔۔یہ خبر بھی پولیس کے اندر کے بندے سے ملی ہے ۔۔۔عاصم نے کچھ سوچا اور پھر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔بائک کی چاپی آصف کو دے کر پیچھے آنے کا کہا ۔۔اور جیپ پر آ کر بیٹھ گیا ۔۔میں ساتھ ہی تھا ۔۔راجہ صاحب آپ کا کیا پلان ہے ۔۔۔۔۔میں سوچ رہا ہوں کہ آپ کو جالندھر سے امرتسر بھجوا دوں ۔۔وہاں سکھوں کا ایک گروپ ہے ۔۔۔جو سیالکوٹ سائیڈ سے آپ کو بارڈر کراس کرو ا دے گا۔۔۔۔یا پھر کوئی نیا پاسپورٹ بنوا کر باہر بھجوا دیتا ہوں ۔۔آپ کے جانے کے بعد میں سکون سے یہ معاملات ڈیل کر لوں گا۔۔۔۔۔۔
مجھے واپس کی جلدی تو تھی ۔۔مگر عاصم کو فکر مندی میں دیکھ کر میں رک گیا ۔۔۔۔میں نے اس کہا کہ پہلے یہ معاملہ نبٹا تے ہیں ۔مجھے لگتا ہے کہ یہ اتنی آسان کھیر نہیں ہے ۔۔۔اس کے بعد ۔۔۔اور ٹائم نکال کر عمراں صاحب سے بھی بات کرنی ہو گی ۔۔۔۔اور یہ کیسے سوچ لیا کہ میں مشکل میں تمہیں چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔۔۔۔۔
عاصم نے مجھے دیکھا اور جیپ آگے بڑھا دی ۔۔آصف پیچھے بائک پر آ رہا تھا۔۔۔۔جیپ کی رفتار تیز تھی ۔۔اور رخ اسی اڈے کیطر ف تھا ۔۔جہاں میں کچھ دن پہلے رہ چکا تھا۔۔۔۔رہائش علاقے میں یہ ایک بڑی عمارت تھی۔۔۔جو ایک بڑی چار دیواری سے گھری ہوئی تھی ۔۔۔ہم علاقے میں داخل ہی ہوئے تھے ۔۔۔۔کہ تیز فائرنگ کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔چار سے پانچ رائفلوں کی گھن گرج کی آواز تھی ۔۔۔۔عاصم نے چونک کر مجھے دیکھا ۔۔اور ہونٹ بھینچتے ہوئے ایکسلیٹر دبا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عاصم تیزی سے اپنے اڈے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔ابھی تین گلیاں دور تھے کہ پولیس کے بیرئیرنے راستہ روک دیا۔۔۔۔آگے اور کاریں بھی کھڑی تھی ۔۔۔اور لوگ باہر نکلے صورتحال معلوم کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔ہر طرف پاکستانی آتنگ وادی کا شور تھا۔۔کچھ یہ بڑ بڑا رہے تھے ۔۔اور کچھ انڈرورلڈ کے کسی لیڈر کی بات کر رہے تھے۔۔۔۔۔اڈے کی طرف سے بھی جوابی فائر آیا تھا۔۔۔ہم دونوں باہر آچکے تھے ۔۔۔۔۔میڈیا کے لوگ بھی پہنچ چکے تھے ۔۔۔وین کے اوپر چڑھے ویڈیو بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے ۔۔۔عاصم نے آگے جانے کی کوشش کی مگر ایک موٹی توند والے نے ڈنڈ ا لہراتے ہوئے واپس جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔عاصم کا چہرہ سرخ ہو ا۔۔۔میں نے آگے بڑھ کر اسے تھاما اور واپس جیپ کی طرف لے آیا ۔۔۔یہ وقت ہوش کا تھا ۔۔۔اور جوش سارے کام کو بگاڑ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔عاصم نےموبائل نکالا اور اندر رابطہ کرنے لگا۔۔۔۔مگر آس پاس کوئی جیمرلگا ہوا تھا۔۔۔اور سگنل غائب تھے ۔۔فائرنگ کی تیز آوازیں وقفے وقفے سے آ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔آصف بھی بائک لگا کر ہمارے پیچھے آ یا ۔۔اس کے چہرے پر بھی اپنے ساتھیوں کے لئے فکر مندی کے آثار تھے ۔۔۔۔۔وہ ہماری طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا کہ کیا کیا جائے ۔۔۔۔۔میں نے آصف کو کہا کہ وہ آس پاس کی خبر لے کہ کتنی نفری ہے ۔۔اور کیا اطلاعات ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اتنے میں میری نگاہ سامنے میڈیا کے گاڑی پر پڑی ۔۔۔۔۔۔۔جہاں مائک پکڑے ہوئے ایک حسین دوشیزہ کیمرہ مین سے جھگڑ رہی تھی ۔۔۔۔میں نے غور کیا تو معاملہ سمجھ آ گیا۔۔۔وہ کیمرہ مین کو آگے لے جانا چاہ رہی تھی ۔۔۔مگر وہ بزدل فائرنگ کی آوازوں سے کانپ رہا تھا۔۔اور جانے سے انکار کر رہا تھا۔۔۔۔لڑکی کافی سے زیادہ خوبصورت تھی ۔۔اور غصے میں اور زیادہ سرخ ہو ئے جارہی تھی ۔۔۔۔میں نے عاصم سے کہا کہ میں اس کے ساتھ اندر جارہا ہوں۔۔۔وہ کسی طرح اڈے کے پچھلی سائیڈ پر آنے کی کوشش کرے ۔۔۔۔میں اندر جانے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔۔۔عاصم پلان سمجھ گیا۔۔۔میرے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے وہ جیپ کی طرف گیا اور پیچھے نکالنے لگا۔۔۔میں تیز ی سے اس میڈیا کی گاڑی کی طر ف بڑھا ۔۔۔۔
اور اس لڑکی کے سامنے آیا ۔لڑکی کچھ چونکی اورسوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔"میڈم میں ماس میڈیا کا اسٹوڈنٹ ہوں" ۔۔۔۔۔اور اگر آپ چاہیں تو کیمرہ مین کی جگہ میں جا سکتا ہوں ۔۔۔۔۔اس کے بدلے میں اگر آپ چاہیں تو میری جاب لگوا سکتیں ہیں ۔۔۔۔۔میرے چہرے پر غربت کےسارے آثار طاری ہو گئے۔۔
اس لڑکی نے جانچتی نگاہوں سے مجھے دیکھا ۔۔۔ میں نے زیادہ ٹائم نہیں دیا۔اور کیمرہ کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔۔۔۔۔کیمرے والے کی تو جان بچی تھی ۔۔اس نے جلدی سے کیمر ہ اتارا اور میری طرف بڑھا دیا ۔۔۔کیمرے کی بیلٹ اپنے بازو میں گھماتے ہوئے دیکھا تو وہ ابھی بھی شش و پنج میں تھی ۔۔۔میں نے کہا میڈم ٹائم کم ہے ۔۔۔چلیں ۔۔۔۔۔لڑکی ابھی تک سوچ ہی رہی تھی ۔۔۔۔خوبصورت آنکھیں الجھن کا شکار تھیں ۔۔۔۔مگر میرا سکون اسے مطمئن کر رہا تھا۔۔۔۔وہ تیزی سے اپنی وین کی طرف بڑھی اور ایک کارڈ میری شرٹ پر ٹکا دیا۔۔۔ ایک ہیلمٹ نکال کر خود پہنچا ۔۔دوسر ا مجھے پہناتے ہوئے بولی ۔۔۔میرا نام مادھوری ہے ۔۔۔۔۔اور تم ۔
میں نے اپنا نام راجہ ہی بتایا تھا ۔۔۔۔۔۔مادھوری مجھے دیکھتے ہوئے باہر آئی ۔۔۔اور مجھے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔پولیس کے بیرئیر کو میڈیا کے کارڈ نے بے اثر کر دیا۔۔۔۔۔گلی کے کونے پر ہی پولیس کی چار سےپانچ گاڑیاں تھی ۔۔۔جن کی اوٹ میں پوزیشن لئے ہوئے پولیس والے بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ہم سائیڈ کے مکان اور دکان کے سامنے سے جھکے جھکے ہوئے بڑھتے گئے ۔۔۔۔مادھوری میرے آگے تھی ۔۔۔اور میں کیمرہ لئے اس کے پیچھے ۔۔۔۔گلی کے کونے پر پہنچتے ہی منظر میرے سامنے تھے ۔۔۔۔۔سامنے تیس فیٹ کے فاصلے پر وہ عمارت تھی ۔۔۔مین گیٹ بند تھا۔۔۔۔سامنے کی طرف پولیس کی مزید 5 سے 6 گاڑیوں لگی ہوئی تھی ۔۔ ۔۔اور سائیڈ پر ہوٹر لگی ایک وائٹ جیپ ۔۔۔۔۔سب پولیس والے پوزیشن سمبھالے ہوئے تھے ۔۔۔اور وقفے وقفے سے فائرنگ کا جواب دے رہے تھے ۔۔۔۔۔وائٹ جیپ کے پیچھے اوٹ میں کوئی افسر تھا ۔۔۔جو میگا فون پر اعلان کر رہا تھا کہ وہ لوگ باہر آ جائیں ۔۔انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔۔۔اڈے کی طرف سے بھی فائرنگ آ رہی تھی ۔۔۔۔۔اور اندر اسلحے کا تو مجھے پتا تھا کہ وہ پورا ایک دن سکون سے خرچ کر سکتے ہیں ۔۔میں نے آس پاس نظر دوڑائی۔۔۔۔پولیس والے ایک ترتیب سے قریبی عمارتوں کی چھتوں پر آتے جا رہے تھے ۔۔اور وقفے وقفے سے آگے بڑھتے ہوئے پیچھے کی طرف جار ہے تھے۔۔۔۔میرا ذہن تیزی سے کام کر رہا تھا۔۔۔۔افسر میگافون پر ان سے ڈیل کی بات کرنے لگا تو میں چونکا ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں اندازہ ہو گیا کہ پہلے ہلے میں اندر گھسنے والے پولیس کے کچھ جوان ابھی باندی بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔وہ افسر ان کو چھوڑتے اور شرط ماننے کی بات کر رہا تھا ۔۔۔جو کہ شاید ہی سچ ہو ۔۔۔۔۔مادھوری نے میری طر ف مڑ کر دیکھا ۔۔۔میں نے کیمرہ آن کرتے ہوئےاسے اوکے کا سائن دکھایا ۔۔۔۔مادھور ی نے مائک پر بولتے ہوئے رپورٹنگ شروع کر دی ۔۔میں اس کے ہاتھ کے اشار ے کے مطابق کیمرہ گھماتے ہوئے زوم کرنے لگا۔۔۔۔۔ہم ساتھ ساتھ قریب ہوتے جار ہے تھے ۔۔۔۔اس افسر نے ہمیں آتے ہوئے دیکھا اور غصے میں پیچھے ہٹنے کا کہا ۔۔۔مگر مادھوری نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا۔۔۔اور ہم اوٹ میں سے ہوتے ہوئے عمارت کے سامنے جا پہنچے ۔۔۔ مادھوری مائک پر بولتی ہوئی کہنے لگی ۔۔ابھی ہم کھڑے ہیں اس آپریشن کی کمانڈ کرنے والے اے سی پی کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔اور مائک اس کی طرف بڑھا کر کچھ پوچھنے لگی ۔۔۔۔میرے کیمرے کا رخ اس کی طرف اور نگاہیں اوپر گھوم رہی تھی ۔۔۔۔میں نے اوپر کے فلور پر کپڑے کے جھلک دیکھ لی تھی ۔۔۔۔اور شاید اوپر سے بھی ہمیں دیکھا جا چکا تھا۔۔میں نے سوچا کے اندر والوں کو کسی طرح اشارہ دوں یا پھر اپنا چہرہ دکھا دوں ۔۔۔۔اے سی پی ابھی بھی پیچھے ہٹنے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔تبھی اوپر سے ایک پتھر آ کر ہمارے سامنے گرا۔اندر والے نے میرے دل کی بات سن لی تھی۔۔۔۔۔۔مادھوری ایک دم بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔اے سی پی بھی جلدی سے اوٹ میں بھاگا۔۔۔میں نے غور سے دیکھا تو پتھر پر کاغذ لپیٹا ہوا تھا ۔۔۔اے سی پی بھی شرمندہ ہوئے واپس آیا ۔۔۔اور کاغذ کھول کردیکھنے لگا۔۔جہاں ہندی میں لکھا تھا ۔۔کہ وہ اپنی مانگ دینا چاہتے ہیں ۔۔۔۔اور اس رپورٹر لڑکی کو اندر بلا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔اے سی پی پریشان سا ہو گیا ۔۔۔۔پہلے ہی چار جوان اندر جا کر یرغمال تھے ۔۔اور اب یہ رپورٹر بھی ۔
۔۔مادھوری نے میری طرف دیکھا ۔۔میں نے ہامی بھر لی ۔۔۔۔۔مادھوری کے اندر جانے پر میں حیران ہوا ۔۔۔۔۔۔وہ کافی بے خطر لگ رہی تھی ۔۔۔یہ شاید پروفیشلزم تھا یا وہ واقعی اتنی بے خطر تھی ۔۔۔اے سی پی موبائل میں کسی اوپر کے افسر سے بات کر نے لگا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں کار وہاں آ کر رکی ۔۔۔۔۔ یہ انٹیلی جنس کے لوگ تھے ۔۔۔۔میں نے اپنا چہرہ کیمرے کے پیچھے چھپا لیا۔۔۔
انٹیلی جنس والے سیدھے اے سی پی کے پاس گئے ۔۔۔اور بات چیت کرنے لگے ۔۔۔۔میرا ذہن تیزی سے گردش میں تھا۔۔۔۔رضوان نے اگر زبان کھولی تھی تو کس حد تک کھولی تھی ۔۔۔؟اگر وہ پاکستانی ایجنٹ کے بارے میں بتاتا تو یہاں کچھ اور منظر ہونا تھا ۔۔۔۔۔انہیں صرف ہلکا شک تھا یا کوئی اور بات تھی ۔۔۔یا پھر صرف رضوان کی رہائش پر چیکنگ کے لئے آئے اور جوابی فائرنگ نے مشکوک کیا ہے ۔۔
اتنے میں اے سی پی نے مادھوری کو بلایا ۔۔۔اور اس سے پھر پوچھا ۔ ۔۔۔مادھوری تو اندر جانے کو تیار تھی ۔۔۔۔ایک وائیرلیس مائکرو فون مادھور ی کو دیا گیا کہ اپنے کان پر لگا دیں ۔۔۔۔اے سی پی نے مادھوری کو اکیلے جانے کا کہا ۔۔مگر اس نے میرے بغیر جانے سے انکار کیا ۔۔کہ اسے اپنے چینل کو بھی جواب دینا ہے ۔۔۔اور کچھ فوٹیج حاصل کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔اے سی پی نے ایک نظر مجھے دیکھا ۔۔اور پھر آگے بڑھنے کا اشارہ دے دیا۔۔۔میگا فون پر چلاتے ہوئے اس نے فائر نہ کرنے اور مادھوری کو اندر بھیجنے کا بتایا ۔۔۔۔میں نے ایک نظر پیچھے ڈالی ۔۔۔سامنے والے گھر کی چھت پر اسنائپر ز آ چکی تھیں ۔۔۔۔مادھوری درمیانے قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔میں کیمرہ آن کئے آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔دروازہ کھلا تھا ۔۔۔اندر گھستے ہی میں نے بارود کی بو محسوس کی ۔۔ساتھ ہی گولیوں کے بکھرے ہوئے شیل دیکھے ۔۔۔۔شروع شروع کی فائرنگ یہی سے ہوئی تھی ۔۔اور پھر یہ اوپر اور اندر مورچہ بند ہوئے ۔۔۔ہم اندر کی بلڈنگ میں داخل ہوئے ۔۔۔۔دروازے کے پیچھے سے ہینڈز اپ کی آواز آئی تھی ۔۔۔۔۔اور ساتھ ایک لڑکا آگے آیا چہرے پر نقاب لگا تھا ۔۔مادھور ی کے ہاتھ اٹھوا کر چیکنگ کی ۔۔اور میری طرف آیا ۔۔کیمرہ ہٹتے ہی وہ چونکا تھا ۔۔۔میں نے جلدی سے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ ہونے کا اشارہ کیا ۔۔۔وہ سمجھ گیا ۔اور مادھوری کولے کر آگے گیا ۔۔اور کچھ دیر کے لئے باتھ روم میں بند کر آیا ۔۔۔۔میں نے کیمرہ سائیڈ پر پھینکا ۔۔۔وہ لڑکا واپس آ گیا ۔۔۔راجہ بھائی ۔۔۔۔آپ یہاں ۔۔۔عاصم بھی نہیں ہیں یہاں ۔۔۔اور رضوان بھی شام سے غائب ہے ۔۔۔میں نے اسے کہا کہ عاصم بھی آ چکا ہے ۔۔۔۔پچھلی سائیڈ پر ہے ۔۔۔لڑکوں کو اکھٹا کر لو ۔۔۔۔۔۔میں تیزی سے اوپر گیا ۔۔اور پچھلی سائیڈ کا جائزہ لیا ۔۔۔۔مجھے عاصم کی جیپ کی جھلک نظر آ گئی تھی ۔۔۔دائیں بائیں پولیس والے آئے ہوئے تھے ۔۔۔۔پچھلی سائیڈ پر ایک بڑا نالہ گزررہا تھا ۔۔ جس کی وجہ سے پیچھے سے راستہ بالکل بند تھا ۔۔۔اور شاید اسی لئے پولیس والے بھی دائیں بائیں دھیان لگائے ہوئے تھے ۔۔۔۔میں جلدی سے نیچے پہنچا۔۔۔۔لڑکے کا نام ناصر تھا ۔۔۔۔۔اس کے ساتھ تین اور لڑکے تھے ۔۔۔میں نے پولیس والوں کا پوچھا ۔۔۔وہ سائیڈ کے کمرے میں بندھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔میں نے ناصر کو اوپر کی منزل اور نچلی منزل میں بم لگانے کا کہا ۔۔۔اور باقی لوگوں کو پولیس کی وردی اتار کر خودپہننے کا کہا۔۔باہر سے میگا فون پر اے سی پی کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں پولیس والوں کے جسم پرلڑکوں کے کپڑے تھے ۔۔۔میں نے منہ بند کرتے ہوئے ان کے چہرے پر نقاب چڑھوا دئے ۔۔۔۔۔اور چاروں کے ہاتھ کندھے تک اٹھوا کر آپس میں بندھوا دیئے ۔لڑکوں سے گن لے کر وہ پیچھے کندھے پر ٹانگ دی ۔۔۔۔۔۔اب پہلی نظر میں ایسا لگتا تھا کہ جیسے چاروں سرنڈر کر رہے ہیں ۔۔۔۔میں نے ایک لڑکے کو ساتھ لیا ۔۔اور پچھلی سائیڈ پر آ گیا۔۔
اور دیوار کا جائزہ لینے لگا ۔۔اگر یہ دیوار ٹوٹ جائے توپیچھے نالا تھا۔۔۔اتنے میں ناصر بھی آ گیا۔۔۔میں نے کہا کہ یہ دیوار توڑنی ہے ۔۔۔۔ناصر واپس گیا ۔۔اور ایک ہتھوڑا لے آیا ۔۔۔راجہ صاحب یہاں ایک ونڈو تھی ۔۔۔۔مگر بدبو کی وجہ سے بند کر اوپر پلستر کر دیا تھا۔۔۔۔وہ ہتھوڑا مارتے ہوئےکھڑکی ڈھونڈنے لگا۔۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں وہا ں پلستر اکھڑتے ہوئے کھڑکی کو واضح کر رہا تھا۔۔۔۔میں نے ناصر سے ہتھوڑا لیا ۔۔۔اور اسے مادھوری کی آنکھوں پر پٹی باندھتے ہوئے لانے کا کہا ۔۔۔۔ساتھ مائک کا بھی بتا دیا کہ وہ بھی اتار دینا۔۔۔۔۔ناصر وہاں چلا گیا۔۔۔میں نے لڑکوں کو اشارہ کیا کہ وہ کھڑکی کے پاس رہیں ۔اور صوفے کو اٹھا کر یہاں رکھ دیں ۔۔۔۔۔اور اوپر چلا گیا۔۔۔۔وہاں الماری میں عاصم کا کافی قیمتی سامان رکھا ہوا تھا۔۔۔وہ ایک بیگ میں لیتا ہوا نیچے آیا ۔۔۔۔مادھوری بھی آچکی تھی ۔۔۔اور بند آنکھوں پر پٹی کے ساتھ وہیں کھڑی تھی ۔۔میں نے سب کو چپ رہنے کا کہا اور ناصر کے ساتھ اندر آ گیا۔۔۔۔چاروں پولیس والے ویسے ہی کھڑے تھے ۔۔انہیں لے کر ہم مین گیٹ پرپہنچے ۔۔۔۔گیٹ سے نکال کر ہم نے انہیں سیدھا جانے کا کہا ۔۔۔وہ ہاتھ اٹھائے ہوئے چل رہے تھے ۔۔۔منہ تو پہلے ہی بند تھے ۔۔۔ایک کے پیچھے رائفل بھی لٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔۔گیٹ ہم پیچھے سے انہیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مین گیٹ سے دو قدم آ گے گئے ہوں گے ۔۔کہ سامنے سے فائر آیا تھا ۔۔۔اسنائپر اور رائفل ایک ساتھ گرجیں تھیں ۔۔۔۔اور وہ چاروں وہیں لہو میں بھیگتے ہوئے گر گئے ۔۔۔۔۔مجھے پہلے اندازہ تھا کہ یہیں ہونا ۔۔میں نے ناصر کا ہاتھ پکڑا اور واپس بھاگا ۔۔۔اب پولیس نے اندر گھسنا تھا ۔۔۔اور ٹائم کم تھا۔۔۔
ناصرسے بم کے ریموٹ کا پوچھا ۔۔۔اس نے نکال کر مجھے دے دیا۔۔۔۔۔ہم واپس بلڈنگ کی بیک سائیڈ پر تھے ۔۔۔لڑکے فائرنگ کی آواز سن چکے تھے ۔۔۔۔میں نے کھڑکی کھولی ۔۔۔صوفے باہر سیٹ ہو چکا تھا۔۔۔۔میں نے اشارے میں کہا ۔۔"میں ریموٹ دباؤں گا ۔۔۔اور تم لوگوں نے سیدھا آگے بھاگنا ہے ۔۔۔۔میں اور ناصر مادھور ی کو لائیں گے ۔۔"۔۔۔۔۔وہ سمجھ چکے تھے۔۔۔مجھے مین گیٹ سے شور کی آواز آئی تھی ۔۔۔ 
میں نے لڑکوں کو کھڑکی سے باہر اترنے کا کہا ۔۔۔پھر مادھوری اور ناصر کو بھی ۔۔۔اور باہر آتے ہوئے بٹن دبا دیا۔۔۔۔۔۔ایک دھماکے کے ساتھ گردو غبار کا طوفان اٹھا تھا ۔ جو دائیں بائیں والے پولیس والوں پر بھی گرا ہو گا۔۔۔۔ناصر نے بم اوپر والی منزل پر لگایا تھا ۔۔اور ملبہ چھت کے ٹوٹنے سے نیچے جا گرا تھا ۔۔۔لڑکے فورا صوفے پر پیر رکھتے ہوئے نالے کو کراس کیا اور بھاگے ۔۔۔۔۔۔۔میں نے ناصر کو آگے بھیجا اور مادھور ی کو اٹھا کر صوفے پر کھڑا کیا ۔۔۔۔اور آگے چلنے کے لئے ہلکا سا دھکا دیا۔۔۔۔مادھوری آگے کو قدم کھسکانے لگی ۔۔۔۔ناصر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا ۔۔۔۔۔اور اٹھاتے ہوئے صوفے سے اتار دیا ۔۔۔میں نے بھی تیزی دکھائی اور صوفے کو پھلانگتا ہوا آگے آیا ۔۔ساتھ ہی صوفے کو لات مارتے ہوئے نالے میں گرا دیا۔۔۔اور ۔۔۔مادھوری کا ہاتھ پکڑ کراسے کھینچتے ہوئے بھگانے لگا۔۔۔۔۔دوسرا ہاتھ ناصر نے پکڑ لیا۔۔۔۔ابھی گردو غبار تھما نہیں تھا کہ ہم نے آدھا راستہ طے کر لیا۔۔۔تیزی سے ہم پہنچے تو عاصم جیپ اسٹارٹ کئے انتظار میں تھا ۔۔۔۔۔۔مادھوری کو اٹھا کر جیپ میں ڈالا اور خود بھی آگے آگیا۔۔۔۔ناصر بھی پیچھے چڑھ گیا ۔۔۔۔آصف بائک لئے تیزی سے آگیا بڑھا اور راستہ کلئیر کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔جیپ ایک جھٹکے سے آگے بڑھی ۔۔۔اور پھر گلیوں میں تیزی سے سفر شروع ہو گیا۔۔۔اگلے دس منٹ میں ہم گلیوں میں گھومتے ہوئے ایک گھر کے سامنے پہنچے ۔۔ ۔ویسے بھی ۔۔پولیس کی وردی میں بیٹھے لڑکے کافی مشکوک لگ رہے تھے ۔۔۔عاصم نے ہارن دیا ۔۔۔۔اور گیٹ کھلتے ہی جیپ اندر لے گیا۔۔۔۔آصف پیچھے تھا ۔۔وہ بھی بائک لئے اندر آ گیا۔۔۔۔
یہ چار کمروں کا ایک کشادہ گھر تھا۔۔۔۔عاصم نے سب کو کپڑے تبدیل کرنے کا کہا۔۔۔۔۔دس منٹ میں سبھی اکھٹے ہو چکے تھے ۔۔۔۔عاصم اندر گیا اور نوٹوں کی ایک گڈی لے آیا ۔۔اور کھول کر سب میں بانٹ دئے۔۔۔اور پہلی ٹرین یا بس پکڑ شہر چھوڑنے کا کہا ۔۔۔۔تمام لوگوں کو رخصت کرنے کے بعد عاصم نے مجھےکہا کہ اگر ہو سکے تو آپ کلدیپ کور کی طرف چلے جائیں ۔۔۔میں اور آصف رضوان کا پتا کر کے آپ سے رابطہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔میں نے کہا ٹھیک ہے ۔۔۔عاصم نے کافی سارے نوٹ میرے حوالے کئے ۔موبائل ۔اور بائک کی چابی بھی ۔۔۔۔۔۔اور یہ مادھوری کا کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔میں نے پوچھا ۔۔
اسے میں کہیں چھوڑ کر آتا ہوں ۔۔ورنہ پولیس پیچھا نہیں چھوڑے گی ۔۔۔۔عاصم نے کہا ۔
میں بائک کی چابی لئے باہر آ گیا۔۔۔۔بائک اسٹارٹ کی اور تیزی سے سفر کرتا ہوا مین روڈ پر آیا۔۔۔۔راستے میں کلدیپ کے کالج کا ایڈریس پوچھا ۔۔اور سیدھا وہاں جا پہنچا۔۔بائک پارکنگ میں لگا کر باہر آیا۔۔شام ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔اور اکا دکا اسٹوڈنٹ کے گروپ باہر لان میں بیٹھے نظر آ رہے تھے ۔۔۔میں دائیں بائیں نظریں گھماتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔۔کلدیپ کو سرپرائز دینے کا ارادہ تھا ۔۔۔۔مگر یہاں پر تو کوئی گہما گہمی نظر نہیں آرہی تھی ۔۔۔
ایک اسٹوڈنٹ اکیلا جا رہا تھا ۔۔۔۔میں تیزی سے اس کی طرف لپکا ۔۔۔اور کلدیپ کور کے بارے میں پوچھا ۔۔۔۔۔پہلے تو اس نے مجھے اوپر سے نیچے دیکھا ۔۔۔۔اور پھر پوچھنے لگا کہ آپ کو اس سے کیا کام ہے ۔۔۔مجھے وہ کچھ گھبرایا ہوا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔میں نے تھوڑا سختی سے کہا کہ جس سے کام ہے اسے بتاؤں گا ۔۔۔۔۔کہاں ہے وہ ۔۔۔۔؟ 
میرے پیچھے آئیے ۔۔۔۔اس نے اپنے کندھے پر پہنے بیگ کو اچھال کر اوپر کیا اورآگے چل پڑا ۔۔۔۔۔۔۔میں ہاتھ میں چابی گھماتا ہوا اس کے پیچھے جا رہا تھا۔۔۔۔۔کالج کی بیک سائیڈ پر ہی ہاسٹلز کی لائن بنی تھی ۔۔۔۔اور میں دیکھتے ہی سمجھ گیاتھا کہ ایک طرف بوائز ہاسٹل ہے دوسر ی طرف گرلز۔۔۔۔سامنے کھڑکیوں پر کپڑے خشک ہونے کے لئے ٹنگے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ہاسٹل کی فضاء میں کچھ گھبراہٹ کی بو آئی تھی ۔۔۔۔جو بھی دکھ رہا تھا ۔۔پریشان چہرے کے ساتھ تھا۔۔
وہ لڑکا مجھے لئے گرلز ہاسٹل کے سامنے پہنچا ۔۔۔اور اندر جا کر انچارج کو کلدیپ کو بلانے کا کہا ۔۔۔۔۔پھر باہر آ کر مجھے انتظار کرنے کا کہا ۔۔اور غور سے دیکھتے ہوئے واپس چلا گیا ۔۔۔۔ تین سے چار منٹ میں کلدیپ آ چکی تھی ۔۔۔۔ہلکے گرین کلر کی قمیض کے ساتھ پنک کلر کی شلوار پہنی ہوئی تھی ۔۔۔۔وہ حیرت بھری نگاہوں سے باہر آئی ۔۔۔۔مجھے دیکھتے ہی ایکدم سے چونکی اور تیزی سے میری طرف بڑھی ۔۔۔۔راجہ تم ۔۔۔۔ایسے اچانک ۔۔۔ اس کے منہ کے الفاظ بکھر گئےتھے ۔۔۔۔۔۔میرے قریب آ کر میرے بازو تھام کر یقین کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔"میں تو سمجھی تھی کہ اب آپ سے کبھی ملاقات نہ ہو پائے گی ۔۔"۔۔۔کلدیپ کی محبت بھری آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔اور پھر جلدی سے میر ا ہاتھ تھام کر اندر کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔
گرلز ہاسٹل میں بوائز کا داخلہ ممنوع تھا ۔۔۔۔وارڈن نے دیکھا اور روکنے کی کوشش کی ۔۔۔مگر کلدیپ کے گھورنے پر خاموش ہی رہا۔۔۔۔میرے اندازے کے مطابق اس نے اپنا رعب و دبدبہ باقی رکھا تھا۔
کلدیپ جلدی سے مجھے لئے فرسٹ فلور پر آئی ۔۔۔جس کے سب سے آخری کمرہ اس کا تھا ۔۔۔وہ مجھے تیزی سے کھینچتے ہوئے لے کر جارہی تھی ۔۔۔اوپر کوریڈور میں کھڑی لڑکیا ں ہمیں حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے مجھے اندر کھینچا تھا ۔۔۔اور دروازہ بند کرتے ہوئے مجھ سے لپٹ گئی ۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔۔۔میں نے بھی گرم جوشی سے جواب دیا ۔۔۔اور اسے اپنے بازؤوں میں بھر لیا ۔۔۔۔۔۔اس کے جسم میں لرزش طاری تھی ۔۔۔۔میں نے اسے اٹھا یا ۔۔۔اور چہرے پر بوسے ثبت کرنے لگا۔۔۔۔۔بہنے والے آنسوؤں کو چومنے لگا۔۔۔۔۔میرے بوسوں کو محسوس کر کے اس کے آنسو اور تیزی سے نکلے ۔۔۔
آخر مجھے بولنا پڑا ۔۔۔"بے وقوف لڑکی ۔۔چپ ہو جاؤ ورنہ میں واپس چلا جاؤں گا"۔۔۔اس نے اپنی جھکی ہوئی نظریں اٹھائی اور شکوہ بھری نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔
شکر تھا کہ اس کے آنسو رک گئے تھے ۔۔۔۔میں نے کمرے کا جائزہ لیا۔۔۔۔کچھ بڑا کمرہ تھا ۔۔جس میں ایک طرف الماری ۔۔۔اوربیڈ ۔۔۔دوسری طرف اسٹڈی ٹیبل اور کتابوں کی شیلف رکھی ہوئی تھی ۔۔۔میں اسے بیڈ پر لٹاتے ہوئے اس کے برابر میں آ گیا۔۔۔۔ اس کے بعد اس کا سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو ا۔۔۔۔۔ہمیں الگ ہوئے چار سے پانچ دن ہی ہوئے تھے ۔۔۔۔۔اس لئے جلدہی میں نے مختصر اپنی کہانی سنا دی تھی ۔۔۔۔اور پھرمیں اس سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ہم برابر میں ایک دوسرے کی طرف منہ کئے ہوئے لیٹے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔اس کی خوبصورت آنکھوں میں اب تک نمی تھی۔۔۔۔اس نے موضوع بدل دیا ۔۔۔۔اور کہنے لگی کہ کل بتاتی ہوں ۔۔۔ابھی کچھ اور ضرور ی کام ہیں ۔۔۔۔۔۔میں نے پوچھا کہ اور کیا ضرور ی کام ۔۔۔۔۔اس کی نگاہیں اٹھیں تھی ۔۔۔۔۔جن میں شوخی بھی تھی ۔۔۔محبت بھی تھی ۔۔۔۔۔انداز بھی تھا ۔۔۔طلب بھی تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے بھی دیر نہ کی اور اسے اپنے بانہوں میں بھر لیا۔۔۔۔۔۔وہ ہلکے پھلے وجود کی طرح میرے سینے سے آن لگی تھی۔۔دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں۔۔۔۔۔اور ہونٹوں نے ایک دوسرے کو تھام لیا۔۔۔جسم آپس میں چپکے گئے تھے۔۔۔جوانی اپنی تڑپ دکھا رہی تھی۔۔۔میں نے کلدیپ کور کوچومتے ہوئے اپنے اوپر کھینچا تھا۔۔۔میرے اوپر لیٹی ہوئی وہ میرے آئی او ر ہونٹ سے ہونٹ ٹکرانے لگی ۔۔۔۔اور میں ہاتھوں کو کمر پر پھیرتے ہوئے نیچے لے گیا۔۔۔نرم نرم چوتڑ میرا ہی انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔دونوں ہاتھوں سے دباتے ہوئے میں سر اٹھا کر کلدیپ کا ساتھ دینے لگا۔۔۔۔۔جو ہونٹوں کو چومنے میں مگن تھی۔۔۔سینے کی نرم اور گول گولائیا ں میرے سینے میں دبی ہوئی تھی۔۔۔۔کلدیپ کے بال کھل چکے تھے ۔۔۔اور اب مجھے پر بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔جن کےدرمیان چمکتا ہوا چہرہ میرے اوپر جھکا ہوا تھا۔۔۔۔۔میرے جسم میں لذت دوڑنے لگی تھی۔۔۔اور نیچے سست پڑا ہوا ہتھیار جان پکڑنے لگا۔۔۔میں اپنے ہاتھ کلدیپ کے چوتڑ سے نیچے ران کی طر ف لے گیا۔۔اور اسے بھی اپنے ہاتھوں کی سختی سے روشناس کروانےلگا۔۔۔کلدیپ کے ہونٹوں سے گرم گرم آہیں میرے چہرے پر بکھر رہی تھی۔۔۔۔۔
ہماری پہلی ملاقات اچانک سے ہوئی ۔۔اور وہ رات بھی ایسے ہی گذری ۔۔۔۔کلدیپ پہلی رات کی بیوی کی طرح خود کو میرے سپرد کر رکھا تھا۔۔۔۔۔ہر چیز کی میں ہی پہل کر رہا تھا۔۔مگر اب وہ خود پہل کرتی ہوئی اپنی محبت دکھا رہی تھی ۔۔۔۔بڑی گرم جوشی اور شدت سے ہونٹوں کو چومتی ہوئی میرے اوپر لیٹی ہوئ تھی۔۔۔اور میں اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتا۔۔۔چوتڑ کو دباتا ۔۔اور پھر رانوں سے ہاتھ گھماتے ہوئے واپس چوتڑ اور کمر پر آتا ۔۔۔۔کلدیپ کے ہونٹ چومنے کا انداز اناڑیوں جیسے تھا۔۔۔اس کے لرزتے ہوئے ہونٹ میرے ہونٹوں کو پکڑ نے کی کوشش کرتے اور پھرہونٹوں میں بھر کر چوسے جاتے۔۔۔میں اس کے چوتڑوں کو دباتا ہوا ہاتھ ان کے درمیان لے جا کر نچلی طرف مساج شروع کیا ۔۔۔دونوں چوتڑ کو دباتے ہوئے درمیانی انگلی نیچے لے جا کر مسلنا شروع کیا۔۔۔۔۔کلدیپ کچھ ہلی اور اچھلی ۔۔۔۔اور پھر ٹانگیں دائیں بائیں پھیلا دیں۔۔۔اور پھر مزید ہلکا ہلکا مساج کرنے لگا۔۔۔ساتھ ساتھ چوتڑوں کو مستقل اپنے پکڑ میں ہی رکھا تھا۔۔۔۔اوپر کی طرف کلدیپ کے ہونٹ مجھے پر آنےلگے تو اپنی زبان نکال کراس کے منہ میں ڈال دی ۔۔۔کلدیپ نے اس تبدیلی کو دیکھا اور پھر جی جان سے زبان چوسنے میں لگ گئی۔۔۔۔اور کچھ دیر بعد اپنی زبان نکال کر میرے منہ میں ڈال دی ۔۔۔۔میں بھی جوابی طرز پر چوسنے لگا۔۔۔۔۔کلدیپ کی آنکھیں سرخ ہوتی جا رہی تھیں۔۔۔اور میرا ہتھیار اب سختی پکڑ کر تنگ کر رہا تھا۔۔میں نے کلدیپ کو کچھ اور من مانی کرنے دی ۔۔۔اور پھر اترنے کا کہا ۔۔۔۔مگر وہ اترنے پر راضی نہ ہوئی ۔۔۔اور سینے پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔شرارتی نظروں سے دیکھتی ہوئی شرٹ کے بٹن کھولنے لگی۔۔۔۔آنکھیں جتنی شرارتی تھیں ۔اور فدا ہونے والا انداز تھا۔اتنی ہی میرے لئے تسکین کا باعث تھی۔۔
میرا بھی دل چاہا کہ یہ خوبصورت چہرہ ایسا ہی کھلا کھلا رہے ۔۔۔یہ ہونٹ ہمیشہ ایسے ہی مسکراتے ہی رہیں ۔۔۔۔۔کلدیپ نے بھی میری نگاہوں کی تپش کو محسوس کر لیاتھا 
۔شرٹ کے بٹن کھول کر اب وہ کچھ نیچے کو کھسکی اور میرے سینے پر جھک گئی ۔۔۔۔۔اس کے نرم ریشمی بال بھی ساتھ ہی آئے تھے ۔۔۔ٹھوڑی کو چومتی ہوئی وہ سینے پر آئی ۔۔۔اورمیرے کندھے پر ہاتھ رکھے سینے پر لب رکھ دئے ۔۔۔۔گرم گرم ہونٹ ۔۔۔ساتھ ہی قدرے گیلا پن بھی ۔۔۔میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کے بالوں کو سمیٹا اور پیچھے کی طرف کر کے اکھٹا کرنے لگا۔۔۔وہ ایسے ہی سینے کو چومتے ہوئے نپل پرزبان پھیرنے لگی ۔۔۔۔ساتھ ساتھ اوپر دیکھتی ہوئی میرےچہرے کوبھی دیکھتی ۔۔جس پرلذت اور خوشی کے آثار اسے مزید شدت پر ابھارتے ۔۔۔۔میں بھی اپنے سینے پرگیلا پن محسوس کر نے لگا۔۔۔میرے جذبات مشتعل ہونے لگے ۔۔۔میں نے اسے خود پر بٹھایا ۔۔اور اس کی قمیض کے کنارے پکڑ لئے ۔۔ہلکے گرین کلر کی قمیض اتاری ۔۔۔کلدیپ شرماتے ہوئے میرے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔۔۔اس کا گرم جسم مجھ سے لگا تو جہاں بے پناہ نرمی کا احساس ہوا وہیں پر میری برداشت بھی جواب دینے لگی۔۔۔میں نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر رکھا اور اٹھتے ہوئے کروٹ لے گیا۔۔۔۔کلدیپ نیچے آ گئی ۔۔۔۔میری شرٹ کے بٹن تو کھلے ہی تھے ۔۔۔ایک سیکنڈ میں ہی میرا اوپر بدن ننگا تھا۔۔۔میں بھی کلدیپ پر جھک گیا۔۔۔۔۔جہاں اوپر سرخ پنکھڑی جیسے ہونٹ اور نیچے گلابی نپلز شرارت بھرے انداز سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔میں نے اس کے چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو کانوں کے پیچھے پھنسایا ۔۔اور کان کی لو کو چومتا ہوا ٹھوڑی تک آیا۔۔۔اور پھر گردن پر ہونٹ پھیرتا ہوا نیچے آیا۔۔جہاں برا میں پھنسے دو سرخ سیب میرے منتظر تھے ۔۔۔۔کچھ دیربنتی ہوئی کلیویج کو دیکھا ۔۔۔نہ زیادہ گہری اور نہ ہی زیادہ کم ۔۔۔اور پھر برا کے اوپر سے سیبوں کو دباتا ہوا سائیڈ پر چلا گیا۔۔۔کلدیپ بھی بھانپ چکی تھی ۔۔ہلکی سی اٹھی ۔۔اور میں نے ہاتھ پیچھے لے کر ہک کھول دی۔۔۔اور برا سائیڈ پر رکھ دی۔۔۔چھوٹے درمیانی سائز کے گول مٹول سیب میرے سامنے تھی ۔۔۔۔میں نے ایک نظر کلدیپ کو دیکھا اور پھر جھک گیا۔۔۔ایک سیب میرے ہاتھ کے نیچے مچلنے لگا۔۔۔اور دوسرے پر ہونٹ دبا کر چوسنے لگا۔۔۔چھوٹے سے گلابی نپلز اس وقت میرے ہونٹوں میں پھنسے ہوئے تھے ۔۔اور میں ہونٹوں کو آپس میں رگڑے جا رہا تھا۔۔۔میرے ہاتھ نے مموں کو بالکل پیچھےسے دبائے رکھا تھا۔۔جس سے نپل اور آگے کی طرف نکل آیا تھا۔۔۔ساتھ ہی میں نے نپل کے گرد بننے والے گلابی دائرے کو بھی ہونٹوں کی رگڑ میں شامل کر لیا۔۔۔جس سے نپل ہونٹوں کی حد سے نکل کر اندر گئے ۔۔جہاں زبان کی نوک ان کا اچھے سے مساج کرنے لگی۔۔۔۔۔کلدیپ مجھے دیکھ رہی تھی۔۔اس کے منہ سے نکلنے والی گرم گرم سانسیں جاری تھیں۔۔۔۔میرے دوسرے ہاتھ دوسرے ممے پر تھا۔۔۔جو اس وقت دباتے ہوئے اس کا رس نکالنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
کلدیپ کے منہ سے ایک تیز سسکی نکلی ۔۔۔میں نے اس کے سیدھے والے ممے کو منہ میں بھرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔بے اختیار اس کا ہاتھ میرے بالوں پر گیا۔۔۔میں اپنی کوشش میں مصروف ہی رہا ۔۔۔اور دوبارہ سے ممے کو پیچھے سے دبا کر منہ میں بھرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔اس کوشش میں میرے دانت بھی اس کے ممے بھی لگتے اور ہلکا سا درد دیتے ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر تک میں اس کا رس پیتا رہا ۔۔اور پھردوسرے ممے کی طرف مڑ گیا۔۔۔۔اسے میرے ہاتھوں نے دبا دبا کر تیار کر رکھا تھا۔۔۔میں نے جلدی سے منہ میں بھرا اور بے صبری سے چوسنے لگا۔۔۔۔چس چس کی مخصوص آواز کچھ دیر بھی میرے منہ سے نکل جاتی ۔۔۔۔میں ان سب سے بےخبر چوسنے میں مشغول تھا۔۔۔۔پچھلا والا مما بھی ایک دم سرخ سا ہو گیا۔۔۔میرا تھوک اس پر لگ کر اسے چمکا رہا تھا۔۔۔جب دانت کچھ زور سے لگتے تو کلدیپ کی سسکی سی نکلتی ۔۔جو اسی کی طرح نازک اور سریلی تھی۔۔۔ساتھ ہی میرے بال بھی کھینچ دیتی۔
ایک تیز ابال میرے نچلے حصے کی طرف آمادہ سفر تھا۔۔۔۔اور جسم کے ہر حصے سے انرجی کی لہریں میرے ہتھیار تک پہنچ کر اسے جگا رہی تھی۔۔۔اور شاید یہی حال کلدیپ کا بھی تھا۔۔۔تبھی اس کی ٹانگیں بھی بے چینی دکھانے لگی۔۔۔۔۔میں چوستے ہوئے نیچے کو کھسکا اور گورے خوبصورت پیٹ کو چومتا ہوا نیچے کو آیا۔۔۔ساتھ ہی میرے ہاتھ اس کی شلوار پر رکے ۔۔اور اسے بھی لئے میں تھوڑا اور نیچے کو کھسکا ۔۔
اس کی خوبصورت رانوں نے جھلک دکھائی تھی۔۔۔۔جس پر ایک بھی بال نہیں تھا۔۔۔میں نے رانوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے شلوار نیچے کھینچ دی۔۔۔سلک جیسا احساس میرے ہاتھوں کو محسوس ہوا ۔صحت مند رانیں میرے سامنے تھیں۔۔۔سرخ پینٹی گیلی ہو چکی تھی۔۔۔اگلا نمبر اسی کا تھا۔۔اسے بھی اتار کے شلوار کے ساتھ بیڈکے کنارے رکھ دیا۔۔۔اوپر دیکھا تو کلدیپ نے آنکھیں بند کر دی تھی۔۔۔۔۔۔میں نے جلدی سےاپنی پینٹ بھی نیچے اتار دی ۔۔۔اور انڈروئیر بھی ساتھ۔۔۔۔۔ہتھیار پینٹ سے رگڑ کھا کر سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔اور شاید ناراض بھی ۔۔۔
میں اوپر کلدیپ کے اوپر جھک گیا۔۔۔۔۔میرے گرم گرم ہونٹ اس کے بند پلکوں پر جارکے ۔۔۔اور پھر چومتے ہوئے میں نیچے آیا ۔۔گال شدت جذبات سے سرخ تھے ۔۔۔انہیں بھی چومتے ہوئے گلابی پنکھڑیوں پر آیا۔۔۔۔اور ہونٹوں میں تھام کر چومنے لگا۔۔۔میرے ہاتھ اس کے پیٹ پر گردش کر رہے تھے ۔۔۔اور وہاں سےنیچے اترتے ہوئے رانوں پر آئے ۔۔دونوں ہاتھ دونوں سائیڈز پر تھے ۔۔اور رانوں کے ساتھ ساتھ آدھے چوتڑ بھی دبے ہوئے تھے ۔۔۔۔انگلیاں چوتڑ کی طرف اور انگوٹھے چوت کے طرف ۔۔دونوں انگوٹھوں کے درمیان ہی پتلے سے سرخ دو باریک لب تھے ۔۔۔۔میں ہلکے سے انگوٹھوں کو ان کے آس پاس حرکت دیتا رہا۔۔۔۔اوپر اسی تیزی سے گلابی پنکھڑیوں پر حملے جاری تھی۔۔۔۔۔کلدیپ کی آنکھیں کھل گئی تھی ۔۔۔۔ٹانگیں کچھ ہلنے اور مچلنے لگیں تھیں ۔۔۔۔
میں ہونٹوں کو چومتے ہوئے واپس مموں پر آیا۔۔۔ساتھ ہی میرے ایک ہاتھ نے چوتڑ پر دباؤ ختم کر دیا۔۔۔اور چوت کے لبوں پر آگیا۔۔جس کے کناروں پر پانی کی چمک دکھ رہی تھی۔۔۔میں نے انگوٹھے کو اوپر ی حصے پر مسلتے ہوئے درمیانی انگلی کو لب پر رکھے رگڑنے لگا۔۔۔کلدیپ کچھ مچلی ۔۔کچھ سسکی ۔۔۔میں نے ایک ممے سے ہونٹ ہٹا کر دوسرے پر رکھ دئیے ۔۔۔اور ساتھ ہی چوت پر رگڑتی ہوئی انگلی اندر داخل ہوئی ۔۔۔جہاں گیلے پن کے ساتھ گرمی پھوٹ رہی تھی۔۔۔۔کلدیپ کی باآواز سسکی نکلی ۔۔۔۔اس کی ٹانگیں ہلکی سی اٹھ کر دوبارہ لیٹ گئیں ۔۔۔میں ہلکے ہلکے اندا ز میں انگلی کو ہلانے لگا۔۔۔ساتھ انگوٹھے سے اوپر ی حصے کر مسلتا رہا۔۔۔۔کلدیپ کی بے چینی اور بڑھ گئی ۔۔۔میں نے اس کی آنکھوں کو دیکھا ۔۔۔جہاں پرعجیب سے نشہ تیر رہا تھا۔۔۔میں اوپر کو اٹھا۔۔اور اس کے چہرے پر ٹوٹ پڑا ۔۔۔۔میرے بوسوں کی ایک برسات تھی۔۔۔۔بوچھاڑ تھی ۔۔۔جو اس کے پورے چہرے کو لپیٹ میں لینے لگی۔۔۔۔وہ دفاع میں اپنے چہرے کو سامنے لا کر سامنے کرنے لگی۔۔۔میں نے اس کا موقع نہیں دیا۔۔۔۔۔اورناک سے اس کے چہرے کو سائیڈ پر دباتا ہوا اسی طرح چومتا رہا ۔۔۔ان بھیگے ہوئے بوسوں نے ایک مرتبہ پھر اس کا چہرہ گیلا کر دیا ۔۔۔نیچے بھی حال کچھ یہی تھا۔۔۔میرے ہاتھ کی حرکت ساتھ ساتھ تیز ہوئی ۔۔اور اب دوسری انگلی بھی ساتھ شامل ہو کر چوت میں پہنچ گئی۔۔۔۔۔کلدیپ کے منہ سے سسکیاں نکلے جا رہی تھی۔۔۔ساتھ ہی کمر بھی ہلکے ہلکے جھٹکے کھاتی۔۔۔۔اس کا ایک ہاتھ میرے نیچے والے ہاتھ پر تھا۔۔۔جس کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔۔
اگلے ایک سے دو منٹ میں کلدیپ کچھ اور تڑپی اور پھر میری انگلیوں کو گیلا کرنا شروع کر دیا۔۔۔چوت سمٹی اور پھر پانی بہانے لگی۔۔۔۔۔۔۔میں کچھ دیر ایسےہی انگلی ہلاتا رہا۔۔۔کلدیپ بھی گہرے گہر ے سانس لینے لگی۔۔۔میں کروٹ لئے ساتھ میں لیٹ گیا۔۔۔کلدیپ مجھے دیکھتے ہوئے مسکرائی اور لپٹنےلگی۔۔۔مگر اب کی بار ہمارے درمیان میرا ہتھیار ظالم سماج بن کر آیا۔۔۔۔اور کلدیپ کو دور ہی روک دیا۔۔۔کلدیپ نے نیچے نظر ڈالی ۔۔۔اور پھر ہاتھ لے جا کر پکڑنے لگی۔۔۔۔اس کی نگاہوں میں عجیب سی چمک اور حیرانگی تھی۔۔۔۔اس نے پہلی مرتبہ یہ نہیں دیکھا ۔۔۔۔صرف محسوس کیا تھا۔۔۔اور اب دیکھ کر حیران تھی ۔۔جیسے پوچھ رہی ہو یہ کیسے اندر گیا تھا۔۔۔۔اس نے ٹوپے کو ہتھیلی پر رکھا اور بند کرنے کی کوشش کی ۔۔۔آدھی ہتھیلی بھی بمشکل بند ہوتی تھی۔۔۔۔کچھ دیر تک وہ دباتی رہی ۔۔اور میں اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس کرنے لگا۔۔نرم و نازک ہاتھ تھے ۔۔۔اور ان کے درمیان سخت اور توانا ہتھیار ۔۔۔
کلدیپ ابھی تک حیرانگی میں ہی تھی۔۔۔اور پورے ہتھیار کو دباتے ہوئے چیک کرنے لگی ۔۔۔۔مجھے گد گد ی کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔۔ٹوپے سے نیچے اور زیادہ پھولے ہوئے اور چوڑے حصے کو اس نے غور سے دیکھا۔۔۔۔اور نیچے جڑ تک پہنچی ۔۔۔۔۔اس نے دوسرے ہاتھ کو لا کر اسے قابو کرنے کی کوشش کی ۔۔۔ایک ہاتھ جڑ سے رکھا اور دوسرا اس کے بعد ۔۔۔۔۔ابھی بھی آدھے سے زیادہ ہتھیار باہر ہی تھا ۔۔۔وہ جڑ والے ہاتھ کو اٹھا کر پھر اوپر والے ہاتھ پر لائی ۔۔۔۔ابھی بھی ٹوپے کے دو تین انچ باہر تھا ۔۔۔کلدیپ کی حیرت دیکھنے لائق تھی۔۔اور ہتھیار کا ٹوپا یہ دیکھ کر اور خوشی سے مچلنے لگا۔۔۔
وہ نیچے جھک کر اسے چومنے لگی۔۔۔اس کے پنکھڑیوں جیسے ہونٹ ٹوپے پر آئے اور پھر سائیڈ سے چومتی ہوئی نیچے جانے لگی۔۔۔ہتھیار مزید خوشی سے پھولنے لگا۔۔۔۔میں نے خود پر گرے ہوئے اس کے بالوں کو سمیٹا اور پیچھے گر ا دیا ۔۔کلدیپ کے بال بھی اسی کی طرح ریشمی تھی۔۔۔سیاہ بال جیسے مجھے پسند تھے ۔۔کلدیپ اب زبان نکالے ٹوپے کو گیلے کرنے کی کوشش میں تھی۔۔۔۔عقلمند تھی اس لئے یہ تو پتا تھا کہ یہ اس کے منہ میں نہیں جانے والا۔۔۔۔۔۔اور پھر زبان نکال کر چاروں طرف سے چاٹنے لگی۔۔۔۔۔میں اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔اور وہ بھی ہر تھوڑی دیر بعد اوپر نظر ڈال لیتی۔۔۔۔جیسے پوچھ رہی ہو کہ میں مطمئن تو ہوں۔۔۔۔۔
کلدیپ میرے سائیڈ پر تھی ۔۔۔اور مجھ پر جھکے ہونے کی وجہ سے اس کی بیک میرے سامنے تھی۔۔۔۔گوری رنگت میں پتلی کمر اور نیچے گول مٹول سے چوتڑ ۔۔۔جو پوری گولائی میں باہر کو گھومے ہوئے تھے۔۔۔میں کمر اور گردن پر انگلیاں پھیرنے لگا۔۔۔
ادھر کلدیپ نے پورے ہتھیار کو چمکا دیا تھا۔۔۔۔وہ تھوک اکھٹا کرتی ہو ئی اوپر پھینکتی ۔۔۔اور پھر چومتے ہوئے پورے ہتھیار پر ملتی ۔۔۔۔اس کے نرم ہونٹ عجب ہی مزا دے رہے تھے ۔۔۔اور ٹوپا تو اور پھولے جا رہا تھا۔۔۔میں کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نیچے گیا ۔۔اور چوتڑ پر بھی ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔گورے گورے یہ چوتڑ میرے ہاتھوں کی سختی سے سرخ ہونے لگے ۔۔۔۔۔میں کچھ دیر دباتا رہا۔۔۔۔اور نیچے سے پھر چوت تک انگلیاں لے گیا۔۔۔
چوت ایک مرتبہ پھر پانی چھوڑنے لگی تھی ۔۔اور میری بھی بس ہو چکی تھی۔۔۔میں نے کلدیپ کو سیدھا کیا ۔۔۔اور لٹانے لگا۔۔۔شاید اس کا پہلے سواری کا ارادہ تھا۔۔۔مگر ہتھیار دیکھنے کے بعد اس کا ہمت کرنا مشکل تھا۔۔۔میں اس لٹاکر نیچے کھسک گیا۔۔اور ٹانگیں اٹھا کر اسکے سینے سے لگا دیں۔۔کلدیپ کے منہ سے نکلا تھا۔۔۔راجہ آرام سے ۔۔۔۔حالانکہ وہ پہلے یہ آدھا تک لے چکی تھی۔۔۔مگر اب وہ دیکھ بھی چکی تھی۔۔اس لئے نفسیاتی طور پر زیادہ محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔
میں نے انگلی سے چوت کے لبوں کو دیکھا ۔۔جس نے گیلی ہونے کے بعد اب ایک مرتبہ پھر پانی بہانا شروع کر دیا۔۔۔۔ٹانگیں سینے پر رکھے کلدیپ مجھے دیکھ رہی تھی۔۔میں نے ٹوپے کو دیکھا جو چمک رہا تھا۔۔اور پھرچوت کے لبوں پر رکھ دیا۔۔۔۔میں پاؤں کے بل پر بیٹھ گیا ۔قدرے آگے جھک گیا ۔۔اور ٹوپے پر دباؤ بڑھنے لگا۔۔۔۔۔کلدیپ نے میرے بازو پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے ۔۔میں نے ٹوپے کےپیچھے ہاتھ رکھے اسے دبانے لگا۔۔۔۔چوت کے لب کچھ کھلے ۔۔۔۔کچھ پھیلے ۔۔۔۔کچھ چِرے ۔۔۔اور ٹوپا اندر جا پھنسا ۔۔۔کلدیپ سانس روکے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔منہ کھل بند ہو رہا تھا۔۔۔۔اور آنکھیں بتا رہی تھی کہ اسے درد کی لہریں پہنچ چکی ہیں۔۔۔میں دوسرے ہاتھ سے چوت کے اوپری حصے پر انگوٹھا گھمانے لگا۔۔۔اور آہستگی سے دباؤ بڑھانے لگا۔۔۔چوت کے لب کچھ اور کھلے تھے ۔۔۔دباؤ اور بڑھا ۔۔۔۔اور ۔۔۔ٹوپا اندر راستہ بناتا ہوا جانے لگا۔۔۔۔۔قریب دو انچ کے جاتے ہی کلدیپ نے میرے بازو پر زور بڑھا دیا۔۔۔۔میں کچھ رکا۔۔۔اور ویسے ہی مساج کرتا رہا۔۔۔۔۔اور پھر سے سفر شروع کر دیا ۔۔
ٹوپا اسی طرح پھنستا پھنساتا جا رہا تھا۔۔۔اور آدھے کے قریب جا چکا تھا۔۔۔۔کلدیپ کی گرم گرم سسکیاں نکلے جا رہی تھی ۔۔۔جن کے درمیان اوہ ہ۔۔۔آہ۔۔۔۔۔سس۔۔۔۔بھی شامل تھی۔۔میں آدھے تک پہنچا کر کچھ دیر رکا۔۔۔اور پھر ہلکے ہلانے لگا۔۔۔کلدیپ کا جسم بھی ساتھ ہی حرکت میں آیا ۔۔۔۔۔گہرے گہرے سانس کے سانس پیٹ بھی حرکت کر رہا تھا۔۔۔اور اس کی انگلیاں میں دبی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ہلانے کے بعد میں نے ٹوپے کو آہستہ سے باہر نکالنا شروع کیا ۔۔۔ٹوپے تک لا کر روک دیا۔۔۔۔جہاں تک ہتھیار اندر گیا تھا ۔۔وہاں تک چوت کے پانی سے گیلا دائرہ بنا ہوا تھا۔۔۔باہر نکال کر کلدیپ کو دیکھا ۔۔۔کچھ مطمئن تھی۔۔۔۔مگر آنکھیں بتا رہی تھی کہ پیاس پہلے سے بڑھ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے دوبارہ سے ٹوپے کو آگے کی طرف بڑھانا شرو ع کر دیا۔۔۔۔۔کلدیپ پھر سے کچھ ہلی ۔۔۔۔ٹوپا اسی طرح آگے بڑھتا گیا۔۔سسکیاں پھر سے اونچی ہوئی تھیں۔۔۔او ہ ہ۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔میں تھوڑا پیچھے کو ہٹ کر گھٹنے کے بل آ گیا۔۔۔ کلدیپ کے ہاتھ جو میرے بازو پر تھے ۔۔وہ ملا کر اپنے ہاتھوں میں پکڑ لئے ۔۔۔اور کمر کو ہلکے ہلانا شروع کردیا ۔۔۔۔کلدیپ کے بازوؤں نے دونوں مموں کو آپس میں جوڑ کردرمیان میں گہری کلیویج سی نکال دی تھی ۔۔۔کمر کے ساتھ اس کا جسم ہلتا ۔۔۔اور جسم کے ساتھ ا س کے ممے بھی باؤنس ہوتے ۔۔۔۔اس نے سسکتے ہوئے ہوئے اپنے مموں کو دیکھا ۔۔۔اورپھر ہونٹوں کو بھینچنے لگی۔۔۔۔۔۔ہلکی ہلکی گرم سریلی آہیں مجھے بھی گرما رہی تھیں ۔۔۔میں اسی طرح مستقل ایک ہی اسپیڈ سے کمر کو ہلاتا رہا۔۔۔کلدیپ کے سسکاریوں میں شہوت سی پکار رہی تھی۔۔۔۔جو شاید مجھے بلا بھی رہی تھی۔۔۔میں نے ایسا ہی کیا۔۔۔اس کی ٹانگیں جو میرے سینے سے لگی ہوئی تھی۔۔۔اسے واپس کلدیپ کے سینے سے لگا دیا۔۔اور پاؤں کے بل پر آ کر کچھ اٹھ گیا۔۔۔۔اور ٹانگو ں کو کھینچتا ہوا مزید اسے اٹھا کر موڑ دیا۔۔۔۔کلدیپ نے حیرانگی سے یہ منظر دیکھا۔۔۔۔اور ساتھ ہی ایک منہ کھولتی ہوئی ایک ہلکی چیخ ماری۔۔۔۔میں نے کچھ تیز اسپیڈ میں دھکا دے دیا ۔کلدیپ ایک دم سے ہلی تھی۔۔۔ساتھ ہی آہ ہ۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔سس ۔۔کی آواز سے کمرہ گونج اٹھا۔۔میں نے ٹوپے کو باہر نکالا۔۔اور اس کے بعد درمیانی اسپیڈ سے دھکے مارنے لگا۔۔۔۔۔جو کہ اوپر سے نیچے کی طرف لپکتے ۔۔۔ابھی تک آدھا ہی ہتھیار اندر تھا ۔۔مگر ان جھٹکوں نے لمبائی کا فرق بھلا دیا۔۔۔اور کلدیپ کی تیز تیزآہوں اور ہلکی چیخوں کو جگا دیا تھا۔۔۔میں ہتھیار کو ٹوپے تک باہر نکالتا ۔۔اور پھر ایک پریشر سے واپس دے مارتا ۔۔۔۔۔کلدیپ بری طرح ہلتی اورچلاتی ۔۔آہ ۔۔۔۔اوئی ۔۔۔اوہ ہ۔۔۔
یہ ہاسٹل کا روم تھا۔۔۔۔مگر یہ آوازیں کلدیپ کے کنٹرول میں نہیں تھیں۔۔۔۔۔میرے جھٹکے اسی طرح درمیانی اسپیڈ پر ۔۔اور گہرائی میں لگتے ۔۔۔۔کلدیپ درد کے ساتھ ساتھ مزے میں بھی تھی۔۔۔۔اس نے اپنی ٹانگوں کے درمیان سے ہاتھ نکال کر میر ی گردن کے گرد گھما دئے ۔۔۔۔اور میں قدرے اور آگے جھک گیا۔۔۔۔اب کے مار اور زیادہ زور کی تھی۔۔۔ہتھیار اپنی پوری لمبائی کے ساتھ گھستا ۔۔۔۔۔اور کلدیپ کو تڑپا دیتا ۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔اوہ۔۔۔۔سس۔۔۔۔کلدیپ نے زیادہ دیر نہیں لگائی ۔۔۔اور اگلے کچھ جھٹکوں میں ہی پانی چھوڑ کر نڈھا ل ہو گئی۔۔۔۔میں ہتھیار کو اندر ہی رکھے اس کے چہرے پر جھک گیا۔۔اور چومنے لگا۔۔۔جہاں پر ہلکے پسینے کاآثار تھے ۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ہونٹ چومنے کے ساتھ ساتھ مموں کے ساتھ چھیڑ خانی جاری تھی ۔۔۔انداز بدل گیا تھا ۔۔پکڑ سخت تھی۔۔۔۔میں دونوں ہاتھوں سے نپلز کو ہلکے ہلکے کھینچا جا رہا تھا۔۔۔۔۔کھڑے کھڑے سے نپلز مزید سرخ ہوئے جا رہے تھے ۔۔۔۔میں نے ہتھیار باہر نکالا اور کلدیپ کے برابر میں آ گیا۔۔۔وہ مجھ سے لپٹی ہوئی چومنے لگی۔۔۔اور میں بھرپور جواب دینے لگا۔۔۔۔۔دس سے پندر ہ منٹ بعد مجھے لگا کہ کلدیپ پھر سے گرم ہور ہی ہے ۔۔۔۔اس کے بوسوں میں شدت آنے لگی۔۔۔اپنی ٹانگیں وہ میرے گرد لپیٹنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ساتھ ہی اس کا ایک ہاتھ نیچے ٹٹولتا ہوا ہتھیار تک پہنچا ۔۔جو پھر سے سختی پکڑ چکا تھا۔۔۔کلدیپ کے ہاتھوں کا لمس پا کر اور تننے لگا۔۔۔۔کلدیپ بھی اسے پکڑ کر کھینچنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔جیسے بدلا لے رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔
اب کی بار میں نے کلدیپ کو گھوڑی بنایا اور پیچھے پوزیشن سمبھال لی ۔۔۔۔کلدیپ کے گول گورے چوتڑ کے درمیانی میرا سرخ ہتھیار شان سے جگہ بناتا ہوا اندر گھسنے لگا۔۔۔میں نے کمر تھام لی ۔۔اور دباؤ بڑھانے لگا۔۔۔۔ٹوپے ویسے ہی پھنستا ہوا گھسا۔۔۔۔کلدیپ کچھ آگے کو جھکی ۔۔۔میں نے کمر کو کھینچتے ہوئےہلکے سا جھٹکا دیا۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔کی سریلی آواز آئی۔۔
کلدیپ کا بال بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔اور پتلی کمر میرے ہاتھوں میں تھی۔۔۔۔میرے ہلکے ہلکے سے جھٹکے جاری تھی۔۔۔۔کلدیپ بھی ہلکے سے کراہتی ۔۔۔سسکتی ۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔اوہ ہ۔۔۔
جھکتے ہوئے میں نے اس کے بالوں کو اکھٹا کیا ۔۔اور پیچھے کی طرف ہلکے سے کھینچ کر کمر پر اپنے ہاتھوں کے نیچے دبا دئے ۔۔۔اب زیادہ کھینچنے کا امکان نہیں تھا۔۔۔مگربال اب اس کے چہرے کو بالکل بھی نیچے نہیں جانے دے دے رہے تھے ۔۔۔میرے جھٹکے کچھ درمیانی ہوئے ۔۔۔کلدیپ پکڑے جانے کے باجود با ر بار آگے کو ہلتی ۔۔میر ا مزہ خراب ہونے لگا تومیں گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔اور کلدیپ کو بھی اسی طرح اٹھا کر اپنےسینے سے ٹیک لگوا دی۔۔۔۔اب دوبارہ سے جھٹکے دینےلگا۔۔۔اپنے ہاتھ میں نے اس کے سینے کے گرد گھمائے ۔۔۔بال ویسے ہی پیچھے کو لٹکے ہوئے ۔۔۔۔اور میرے دھکے جاری ۔۔۔۔
کلدیپ کی بیک مجھ سے لگی ہوئی تھی۔۔۔۔چہرے مجھ سے کچھ آگے ہی تھا۔۔۔میں اس کی گردن کو چومتے ہوئے دھکے ماری جارہا تھا۔۔۔اس نے سسکتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔اور چہرہ ملانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ا س کا چہرہ بتا رہا تھا کہ اس پوزیشن میں درد زیادہ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔سسکاریاں بھی زیادہ درد بھری تھیں۔۔۔۔۔ہر جھٹکے کے ساتھ میں میرا نچلا حصہ اس کے چوتڑسے ٹکراتا ۔۔۔جس کی آواز اور مزہ دونوں جدا تھے ۔۔۔میں نے کلدیپ کے سینے پر بندھے ہوئے ہاتھوں کو کھولا ۔۔۔اور اوپر ٹٹولتے ہوئے دونوں مموں کو تھام لیا۔۔۔۔جو اکیلے مچل مچل کر تھکنے لگے تھے ۔۔۔۔میرے ہاتھوں کی گرمی سے دوبارہ مسکرانے لگے ۔۔۔میں نے اسپیڈ کچھ اور بڑھا دی ۔۔۔۔دھکے تیز ہوئے ۔۔۔تو سسکاریاں کیوں نہ تیز ہوتیں ۔۔۔۔۔مجھے لگا جیسے میں فارغ ہونے لگاہوں۔۔۔اور شاید کلدیپ بھی ۔۔۔
میں نے اسے آگے جھکاتے ہوئے لیٹنے کا کہا۔۔۔۔کلدیپ ہاتھ بیڈ پر رکھے الٹی لیٹ گئی ۔۔۔۔میں بھی ساتھ ہی آگے آیا ۔میرا سینہ اس کی بیک سے چپکا ہوا تھا۔۔۔۔۔ہتھیار ویسے ہی اند ر رہا۔۔۔
دونوں گھٹنے میں نے کلدیپ کی ٹانگوں کے گرد رکھ کر انہیں آپس میں ملا دیا۔۔۔۔اوپر سے اس کے بال سائیڈ پر کرتے ہوئے گردن چومنے لگا۔۔۔۔۔
ساتھ ہی تھوڑا سا کھسک کر گھٹنے آگے کھینچ لایا ۔۔۔۔اور کمر اٹھا دی ۔۔۔اس کے بعد پھر سے دھکے جاری ۔۔۔۔۔جو آہستہ آہستہ تیزی پکڑتے جار ہے تھے ۔۔۔۔کلدیپ پھر سے چلانے لگی ۔۔۔۔۔اوہ ہ ۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔ اوئی ۔۔۔۔۔میں اسی تیزی سے لیٹے لیٹے جھٹکے بڑھانے لگا۔۔۔۔۔اسپیڈ تیز ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔نیچے سے کلدیپ بھی ہل جل مچا رہی تھی ۔۔۔۔میں مستقل اس کے گردن اور سائیڈ پر ہوئے چہرے کر چوم رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔میری سانسیں بھی تیز ہونے لگیں تھی ۔۔۔۔۔جھٹکے اب طوفانی ہو چلے ۔۔۔۔جس نے کلدیپ کو اور تڑپا دیا۔۔۔۔وہ شاید اٹھنے کی کوشش کرتی ۔۔۔مگریہ الٹا اس کے لئے نقصان کا باعث تھا۔۔میرے جھٹکے سے وہ دوبارہ بیڈ میں جا گھستی ۔۔۔۔۔جو مستقل چوں چوں کی آواز وں سے ساتھ والوں کو جگا رہا تھا۔۔۔۔
کلدیپ کی بس ہو گئی تھی ۔۔۔۔طوفانی جھٹکے ابھی شروع ہی تھے ۔۔۔۔مگر وہ ہمت ہار گئی ۔۔۔۔۔اور پانی چھوڑنے لگی۔۔۔۔میں اگلے دو منٹ ایسے ہی لگا رہا ۔۔۔کلدیپ چپ ہو کر تھم سی گئی ۔۔۔۔مگر بیڈ اسی طرح ہر جھٹکے کے ساتھ چوں چوں کرتا رہا ۔۔۔۔۔اور پھر میرا بھی فوارہ چھوٹا ۔۔۔۔تین چار جھٹکے مار کر میں کلدیپ پر ہی لیٹ گیا۔۔۔۔اور بھی سائڈ پر کروٹ لے لی۔۔۔۔
وہ کچھ چپ چپ تھی ۔۔۔۔مگر میں نے اسے بانہوں میں بھرا تو اسی محبت سے لپٹ گئی ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی ہم لیٹے رہے ۔۔۔۔۔اور پھر سوتے چلے گئے ۔۔۔۔


قسط نمبر 2 ٭٭٭٭٭٭٭
اگلی صبح ہم جلدی اٹھے تھے ۔۔۔۔کلدیپ مجھ سے پہلے اٹھی تھی اور تیار ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھا تو وہ تیار ہونے کا کہنے لگی ۔۔میں اٹھ کر بیٹھ گیااور اسے اپنے پاس بٹھایا ۔۔۔اور اس کی مصروفیات پوچھنے لگا۔۔اس نے مختصر مجھے کہانی سنادی جو کچھ یوں تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے الگ ہونے کے بعد کلدیپ کالج واپس آئی ۔۔۔۔اس کے بھائی کی موت کے بعد وہ خود تو اپنی اسٹوڈنٹ یونین کی صدر بن گئی ۔۔۔۔مگر اس کا بھائی اس یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ کمیٹی کا صدر بھی تھا ۔۔۔اور ان کے اصول کے مطابق دوبارہ سے الیکشن ہونے تھے ۔۔۔۔۔۔جس کی تیاری زور و شور سے جاری تھی ۔۔۔۔۔۔پچھلے کئ دنوں میں ان دونوں یونین کی آپس میں مڈ بھیڑ بھی ہوچکی تھی ۔۔۔۔اور اب آج ان کے الیکشن کا دن تھا۔۔دوسری یونین بی جے پی کا اسٹوڈنٹ ونگ تھا ۔۔۔جودنیا میں سب سے بڑی اسٹوڈنٹ فیڈیریشن کے دعوے دار بھی تھی۔۔۔مگر اس کا ماٹو غنڈہ گردی ، اور لالچ اور ہندو ازم کا فروغ ہی تھا۔۔۔بی جے پی کا نام آتے میں کچھ سیدھا ہو گیا۔۔۔اس کی نحوست اور سیاہ کارناموں سے اچھی طرح واقف تھا۔۔۔انڈیا کا موجودہ صدر بھی اسی پارٹی کاتھا ۔۔میں نے اس اسٹوڈنٹ ونگ کا نام پوچھا تو کلدیپ نے اے بی وی پی بتایا جو کہ اَکھل بھارتیہ ودھیارتی پریشاد کا مخفف تھا ۔۔۔۔۔اب جو بھی یونین کالج کا الیکشن جیت جائے گی ۔۔۔وہ اسٹاف ممبرز کی کمیٹی میں بھی شامل ہوں گے ۔اور یونیورسٹی سے بھی بھرپور سپورٹ ملے گی ۔۔۔
پچھلی رات ہی اے بی وی پی کے لڑکوں نے کلدیپ کے لڑکوں پر حملہ کر کے انہیں زخمی بھی کیا ۔۔۔۔اس کے بعد کلدیپ نے لڑکیوں سے مدد لی ۔۔۔اور انہیں پورے کالج میں کلدیپ کو ووٹ دینے کے لئے رضا مند کیا ۔۔۔۔آج دس بجے سے الیکشن شروع ہونے تھے ۔۔۔۔کالج کی بھی اسی لئے چھٹی تھی ۔۔۔۔۔مگر کلدیپ کو ڈر تھا کہ اے بی وی پی کی طرف سے پھر غنڈہ گردی ہو گی ۔۔اور وہ اسٹوڈنٹ کو فورس کر کے اپنے حق میں ووٹ ڈلوائیں گے ۔۔۔۔۔میں ساری صورتحال کو تیزی سے سمجھ رہا تھا ۔۔۔اگر کلدیپ یہ الیکشن جیت جاتی ہے تو ہمار ا کام کافی آسان اور تیزی سے ہو سکتا تھا ۔۔۔نوجوانوں کی یہ کھیپ خالصتان کے حق میں تیزی سے راہ ہموار کر سکتی تھی ۔۔
اچانک میرے زہن میں اس دولت کاخیال آیا جو جیوتی کے پاس رکھی تھی ۔۔۔۔۔میں نے کلدیپ سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس نے اپنی چھوٹی بہن کو خود راج گڑھ بھیجا ہے ۔۔۔۔۔وہ بھی اسی کالج میں پڑھتی تھی ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ان سب مومنٹ میں شامل ہے ۔۔۔سمرن کور کل شام گئی تھی ۔۔۔اور آج ہی اسے واپس لوٹنا تھا۔۔۔۔جیوتی سے فون پر بات ہو گئی تھی ۔۔۔۔
اتنا کہہ کر کلدیپ نے کہا کہ اب آپ تیار ہو جائیں ۔۔۔۔۔سمرن کور بھی پہنچنے والی ہو گئی ۔۔۔مجھے ایڈمن بلاک میں جا کر کام چیک کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔سمرن کو میں بتا دیتی ہوں وہ آپ کو ناشتہ کروا دے گی۔۔۔میں نے کہا ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔کلدیپ کور اٹھ کر باہر چلی گئی تو میں دوبارہ بستر پر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بات مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔کہ پنجابیوں کی اکثریت والے اس علاقے میں ہندو شدت پسند تنظیم کیا کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔یا تو بی جے پی کی بھرپور سپورٹ ہے ۔۔اور ساتھ حکومتی اداروں کی بھی ۔۔جو سکھ اسٹوڈنٹ کو زیادہ منظم نہیں دیکھنا چاہتے تھے ۔۔۔۔ میں انہی سوچوں میں دوبارہ نیند میں گم ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
میری آنکھ چوڑی کی کھنکھناہٹ سے کھلی تھی ۔۔۔۔۔آنکھ کھولی تو چہرے کے اوپر ایک نازک کلائی چٹکی بجا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ہوش بحال ہوا تو ایک سریلی آواز بھی میرے کانوں میں آئی ۔۔۔۔
۔"اٹھ بھی جائیں ۔۔۔۔۔کیا رات سوئے نہیں تھے ۔۔۔۔باجی نے جلدی بلایا ہے ۔۔"۔۔۔۔۔۔۔
میں نے آنکھیں پوری کھولی اور اٹھ کر بیٹھا گیا ۔۔۔۔۔۔سامنے ہی ایک نازک حسینہ کھڑی مسکرا رہی تھی ۔۔۔چہرے پر بلا کی معصومیت اور ہونٹوں پر شوخی رقصاں تھی ۔۔۔۔۔۔یہ سِمرن کَور تھی ۔
جیجا جی ۔۔۔۔اب اٹھ بھی جائیں ۔۔۔۔۔باجی نے تو کہا تھا کہ آپ تیار بیٹھے ہیں ۔۔ ۔۔سمرن کور کی چہکار پھر گونجی تھی ۔
خیر تو ہے ۔۔۔میں تمہار ا جیجا کب سے بن گیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔میں نے پاؤں بیڈ سے نیچے گھسیٹے اور اٹیچ باتھ میں گھس گیا۔۔۔دس منٹ میں نہا کر وہی کپڑے پہنے اور باہر آیا ۔۔
سمرن کور بیڈ پر بیٹھی میری منتظر تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ڈریسنگ ٹیبل کیطرف گیا اور بال بنانے لگا۔
سمرن کور میرے پیچھے ہی آئے تھی ۔۔۔۔۔بس بس ہمیں پتا ہے کہ آپ کتنے خوبصورت ہیں ۔۔۔۔باجی تو ہر وقت آپ کی باتیں کیا کرتیں ہیں ۔۔۔۔پتا نہیں کیا جادو کر دیا ہے ان پر ۔۔
میں نے حیرت سے شیشے میں اس بولتی چڑیا کو دیکھا۔۔۔جو مستقل بولے ہی جارہی تھی ۔۔۔پتا نہیں کلدیپ کور نے اسے جیوتی کے پاس کس طرح بھیج دیا تھا ۔۔۔یہ تو خود اعلان کرتی ہوئی آتی کہ مجھے لوٹ لو میرے پاس دولت ہے ۔۔۔
۔"ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔"۔۔۔۔سمرن پھر بولی تھی ۔۔۔۔کچھ نہیں ۔۔چلو کہاں چلنا ہے ۔۔۔۔۔میں نے پوچھا۔
آپ ناشتہ یہاں کریں گے یا کینٹین میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ٹائم دیکھا۔ ساڑھے نو کا ٹائم تھا ۔۔
یہ تمہاری باجی کا الیکشن کب شروع ہے ۔۔۔؟ میں نے پوچھا۔
ویسے تو دس بجے شروع ہے ۔۔۔۔۔مگر کچھ دیر بھی ہوسکتی ہے ۔۔۔۔سمرن بولی ۔
اچھا چلو پھر کینٹین چلتے ہیں ۔۔۔تم چلتے ہوئے مجھے کالج بھی دکھا دینا۔۔۔۔۔۔سمرن تو پہلے ہی تیار تھی کہ اسے بولنے کا موقع ملے۔۔
چلیں میرے ساتھ ۔۔۔۔اور تیزی سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔میں بھی اس کے پیچھے چل پڑا ۔۔۔۔۔۔۔ کالج کی اسٹڈی بلڈنگ کے تین فلور تھے ۔۔۔اور یہ انگلش کے ایل کی طرف بلڈنگ تھی ۔۔۔۔جس کے ایک کونے پر ایڈمن آفس تھا ۔۔۔دوسرے کونے پر کینٹین تھی۔۔۔۔۔جبکہ سامنے وسیع لان نما باغ تھا۔۔۔۔۔۔باغ کے درمیان ہی ایک کچا روڈ تھا ۔۔جو کالج کے مین گیٹ تک جاتا تھا ۔۔۔۔سمرن مجھے ایڈمن بلاک کے سامنے سے گھماتی ہوئی کینٹین میں پہنچی ۔باہر کی طر ف ایک کاؤنٹر بنا ہوا تھا ۔۔جس پر ٹین کی چادر سے چھپرا کیا ہوا تھا۔۔۔جبکہ اندر بیٹھنے کا اچھا نظام تھا۔۔۔۔۔۔یہاں ممبر شپ سسٹم تھا ۔۔۔سمرن میرے لئے آرڈر دیتی گئی ۔۔ساتھ ساتھ میری طرف سوالیہ نظروں سے پوچھتی رہی ہے ۔۔۔۔۔۔میں اشارے سے سر ہلاتا گیا۔
ہم ایک کونے کی ٹیبل پر جا بیٹھے۔۔۔کچھ ہی دیر میں ناشتہ سامنے تھا ۔۔۔۔میں ناشتے پر ٹوٹ پڑا ۔۔۔۔رات سے بھوکا تھا ۔۔۔۔۔کلدیپ سے ملنے کے چکر میں بھول ہی گیا تھا۔۔۔
سمرن مجھے دیکھنے میں مصروف تھی ۔۔۔اور چپڑ چپڑ بولے جا رہی تھی ۔۔۔۔ایک ہاتھ میں پراندہ گھماتے ہوئے نہ جانے کیا کیا بولے جارہی تھی ۔۔۔۔۔باجی نے آپ کے بارے میں یہ کہا ۔۔۔۔وہ کہا ۔۔۔۔
اور آپ کہاں کے راجہ ہو۔۔۔کسی ریاست کے ہو ۔۔۔۔۔۔یا پھر کوئی نواب ہو گے ۔۔۔۔۔سمرن میری طرف جھکتے ہوئے سرگوشی میں بولی ۔
مجھے اس کی باتوں پر ہنسی ہی آ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میرا نام راجہ ہے ۔۔اور میں کہیں کا راجہ نہیں ہوں ۔۔۔سمجھ گئیں۔۔۔
سمرن کی کھٹی میٹھی باتوں میں پتا ہی نہیں چلا کہ کب سارا ناشتہ ختم ہو گیا۔۔۔۔۔۔مجھے تو بس اس کی حیرت بھری آواز آئی ۔۔۔ہیں ں ۔۔۔سارا ختم کر دیا ۔۔۔میں نے مصنوعی غصے سے اس کو گھورا ۔۔
اچھا اچھا ٹھیک ۔۔۔کونسا میں نے پیسے دینے ہیں ۔۔۔۔باجی کے اکاؤنٹ سے ناشتہ منگوایا تھا۔۔۔۔وہ ہنستے ہوئے بولی ۔
اور پھرہم اٹھ کر باہر آ گئے ۔۔۔۔میں نے ٹائم دیکھا ۔۔الیکشن کی ٹائمنگ قریب تھی ۔۔۔اور اسٹوڈنٹ کا رش بھی بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔سمرن مجھے لئے ہوئے فرسٹ فلور پر لے آئی ۔۔۔ اب ہم کینٹین کے اوپر تھوڑا سا سائیڈ پر تھے ۔۔میں چاروں طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔موسم کچھ تبدیل ہوا تھا ۔۔۔ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی ۔۔۔۔۔سمرن کو دیکھا تو وہ خود سے بے پروا اسی طرح کچھ بتاتی جا رہی تھی ۔۔
کالج کے مین گیٹ کے سامنے ہجوم بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔اسٹوڈنٹ تیزی سے اندر اکھٹے ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔کچھ کے ہاتھوں میں پلے کارڈ ۔۔۔۔اور بینرز پکڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔
وہ دیکھیں ۔۔۔۔باجی کا نام لکھا ہے ۔۔۔سمرن نے ایک طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔کالج کے مین گیٹ پر ایک بڑا سا بینر تھا ۔۔جس میں دونوں امیدواروں کی تصویریں لگی ہوئی تھی ۔۔۔
یہ ساتھ والا وشنو پربھاکر ہے ۔۔۔۔۔۔کل اس نے باجی سے بدتمیزی بھی کی ۔۔اور لڑکوں سے مار کٹائی بھی۔۔۔۔سمرن کی لائیو کمنٹری جاری تھی۔۔
میں نے وشنو کو بغور دیکھا ۔۔۔آنکھوں سے خباثت نمایا ں تھی۔۔۔اور کہیں سے بھی اسٹوڈنٹ تو لگتا نہیں تھا۔۔اتنے میں کالج کے باہر جیپ کے زور دار ہارن اور اسپیکر کی آواز آئی ۔۔۔۔۔فلک شگاف آواز میں بی جے پی کے گانے بج رہے تھے ۔۔۔۔ڈرائیونگ سیٹ پر میں نے وشنو کو دیکھا ۔۔۔۔سفید کپڑے پہنے ماتھے پر لالی لگائے۔۔۔منہ میں پان چبا رہا تھا۔۔پیچھے بیٹھے اس کے چمچے اس کے لئے نعرے لگا رہے تھے۔۔۔
اتنے میں ایڈمن بلاک کی طرف سے میگا فون پر کوئی اعلان ہوا ۔۔۔۔۔۔تمام اسٹوڈنٹ اس طرف چل پڑے۔۔۔۔ہم بھی اوپر ی منزل پر اس کے متوازی چلنے لگے ۔۔۔اور کچھ دیر میں ایڈمن بلاک کے اوپر تھے ۔۔۔
یہاں دو لائنیں بننا شروع ہو گئیں ۔۔۔۔۔ہر امیدوار کی اپنی لائن تھی ۔۔۔اور اسے باری باری اپنی پرچی اندر ڈال کر آنا تھی ۔۔۔۔۔یہ کوئی شفاف طریقہ تو تھا نہیں ۔۔۔۔۔سب کو پتا ہی تھا کہ اس کے ووٹر کتنے ہیں ۔۔۔۔
اس لئے سب ظاہر ہی رکھا ہوا تھا۔۔۔۔کلدیپ کور مجھے اب تک نظر نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔مگر میں نے اس کی ووٹنگ کی بڑھتی ہوئی تعداد کو نوٹ کر لیا ۔۔۔۔۔اگلے دس منٹ میں ووٹنگ شروع ہو گئیں تھی۔۔۔۔وشنو کی لائن میں صرف گنتی کے ہی لوگ تھے ۔۔۔۔۔۔جن کے چہرے بتا رہے تھے کہ وہ مجبورا آئے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔آدھے گھنٹے کے قریب ووٹنگ چلی ہو گی ۔۔۔۔۔۔کہ میں نے وشنو اور اس کے چمچوں کو ہاتھوں میں ڈنڈے لئے آتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔نیچے سکھ اسٹوڈنٹ میں بھی ہلچل مچ گئی تھی۔۔۔۔میں نے کالج انتظامیہ کو دیکھا ۔۔دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔۔۔سمرن نے بتا یا کہ وہ آج آئے ہی نہیں کہ جو بھی فیصلہ کر نا ہے آپس میں کر لو۔
وشنو ہاتھ میں ڈنڈا پکڑے ہوئے لائن کے درمیان میں پہنچا۔۔۔۔۔اور ایک لڑکے کا گریبان پکڑتے ہوئے اس اپنی لائن کی طرف دھکیلا۔۔۔۔۔دوسرے لڑکے کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ۔۔۔ایک لڑکے نے کچھ چوں چراں کی ۔۔وشنو نے ڈنڈا گھما کر اس کے کمر پر رسید کیا ۔۔۔۔۔تبھی میں نے ایک جوشیلے جوان کو آتے ہوئے دیکھا ۔۔۔یہ کلدیپ کی یونین کا ہی تھا۔۔۔اس نے چلاتے ہوئے سب کو اکھٹا کرنا شروع کیا ۔۔ساتھ ہی کلدیپ کے نام کے نعرے بھی لگانے لگا۔۔۔۔سب لڑکوں نے مل کر جوا ب دیا ۔۔۔اور وشنو کے سامنے جڑ جڑ کر کھڑے ہوتے گئے ۔۔۔یہ اتحاد کا سادہ سا مظاہرہ تھا۔۔۔۔جس کا اثر وشنو پر بھی پڑا تھا۔۔۔اس کے ساتھ صرف سات یا آٹھ چمچے تھے ۔۔۔مگر یہاں چار سو سے اوپر لڑکے تھے ۔۔۔۔۔وشنو کچھ دیر غصے میں گھورتا رہا ہے ۔۔۔۔منہ سے گالیاں بکتا رہا ۔۔۔۔پان اس کے منہ سے گر رہا تھا۔۔۔ڈنڈا غصے سے پھینک کر وہ پیچھے چلا گیا۔
لڑکے پھر اپنی پہلے والی لائن پر آگئے ۔۔اور ووٹنگ شروع ہو گئی ۔۔۔
میں نے وشنو کو نگاہوں میں رکھا تھا۔۔۔ساتھ ساتھ سمرن کی باتیں بھی سن رہا تھا ۔۔جو وشنو کی شان میں گستاخیاں کئے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔وشنو اپنی جیپ کے قریب گیا تھا۔۔۔اور جیب سے موبائل ملا کر کہیں بات کرنے لگا۔۔۔۔ہاتھ ہلا ہلا کر وہ کسی بات پر زور دے رہا تھا۔۔۔۔اور پھر فون بند کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے بات کرنے لگا۔۔۔۔
ادھر سمرن بغیر رکے بولنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔اسے بھی کلدیپ نظر نہیں آئی تھی ۔۔۔وہ نیچے جا کر اسے ڈھونڈنا چاہ رہی تھی۔۔۔۔
میں نے اسے روکا ۔۔۔میری چھٹی حس خطرے کا سائرن بجا رہی تھی ۔۔۔۔میں نے چاروں طرف نظریں دوڑانا شروع کر دی ۔۔۔۔۔وشنو کے لڑکوں کی لائن ختم ہو چکی تھی ۔۔۔اب صرف کلدیپ کے طرف دار ہی بچے تھے ۔۔۔میں نے ٹائم دیکھا ۔۔۔پونے گیارہ کا ٹائم تھا۔۔۔تبھی کالج کے دروازے پر دو جیپوں کو آتے دیکھا۔۔۔۔۔وشنو کی جیپ بھی اس کے پیچھے ہی آئی تھی ۔۔۔۔تیز رفتاری سے آتے ہوئے یہ لوگ سیدھا ایڈمن بلاک کے سامنے رکے تھے ۔۔۔۔گردو غبار کا ایک بادل اٹھا۔۔۔اور آس پاس کے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے گیا۔۔۔اور پھر میں نے اگلی جیب سے ایک آدمی کو اترتے ہوئے دیکھا۔۔اونچے لمبے قد کے ساتھ ۔۔کالا چہرہ جس پر زخموں کے بے شمار نشان تھے۔۔۔۔ہاتھ میں آہنی مکہ لگایا ہوا تھا۔۔۔اور اس کے پیچھے بارہ سے پندرہ اس کے بندے اترے ۔۔میرے اندازے کے مطابق یہ بی جے پی کے غنڈے تھے ۔۔۔۔۔۔لاٹھیوں ، سریوں اور چین لئے ہوئے یہ سب نیم مسلح ہی تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔سکھوں میں ایک مرتبہ پھر ہڑبونگ مچی تھی ۔۔۔۔
وشنو نے اونچے قد والے کو اس لڑکے کی طرف اشارہ کر کے دکھایا جس نےپہلے آگے آ کر نعرے لگائے تھے ۔۔۔۔۔وہ اس کی طرف بڑھا ۔۔۔اور گریبان سے گھسیٹتا ہوا اسے درمیان میں لے آیا۔۔۔۔اور مارنا شروع کر دیا۔اس نے بے دریغ پیٹ اور چہرے پر مکے برسانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔لڑکے کے چہرے سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا۔مزاحمت کی کوشش کی تھی ۔۔مگر اونچے قد والا کافی طاقتور تھا ۔۔۔لڑکا اس کےہاتھ پر جھول ہی رہا تھا۔۔۔۔۔سمرن مجھ سے لگ کر کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔اس کا جسم بھی لرزش میں تھا ۔۔اور منہ بالکل بند تھا۔۔۔۔
تبھی میں نے ایڈمن بلاک سے کلدیپ کور کو نکلتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔اس کا انداز ہی جدا تھا۔۔۔۔۔نیلے رنگ کے سوٹ پر وہ پیلے رنگ کی مخصوص سکھ اسٹائل کی پگڑی پہنے ہوئے تھی ۔۔۔۔۔دوپٹا بھی کندھےسے نیچے آ کر سائڈ پر بندھا ہوا تھا۔۔۔۔وہ قریب آتے ہوئے اس اونچے قد کے آدمی کے سامنے آئی اور چلاتے ہوئے اس لڑکے کو چھڑوانے لگی ۔۔۔۔۔۔
سمرن کور بھی اپنی باجی کو دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔اور پہلے سے زیادہ مضبوطی سے مجھ سے جڑگئی۔۔۔
کلدیپ کے درمیان میں آنے کے بعد اس اونچے آدمی نے وشنو کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کہ یہ کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور وشنو کے اشارے نے میرے تن بدن میں آگ لگائی تھی ۔۔۔اس نے یہی کہا تھا کہ کوئی لحاظ نہ کیا جائے ۔اور اسے بھی مارے۔۔۔۔میں نے اس اونچے قد والے کے چہرے کو مڑتے دیکھا ۔۔۔میں نے سمرن کو پیچھے دھکیلا۔۔۔میرے نیچے ایڈمن بلاک کا چھجا تھا۔۔۔۔میں تیزی سے اس پر کودا تھا۔۔۔مجھےامید تھی کہ وہ میرا وزن سمبھال لے گا۔۔۔۔ٹین کی چادر کی آواز گونجی تھی۔چھجے پر قدم پڑتے ہی میں بھاگا۔۔۔میں نے دو سے تین قدم تیز بھاگتے ہوئے کنارے پر آ کر ایک جمپ لی ۔۔۔اور اڑتا ہوا ان کے سامنے آن کھڑا ہوا ۔۔۔۔اونچے قد والے نے کلدیپ کے لئے ہاتھ اٹھا دیا تھا۔۔۔اور اب وہ ہاتھ ہوا میں اٹھائے ہوئے مجھے دیکھ رہا تھا۔جیسے اس نئی انٹر ی کا پوچھ رہا ہو ۔۔۔۔میں اس کے دائیں طرف تھا ۔۔۔اور سامنے کلدیپ کھڑی تھی ۔۔۔نیچے وہ لڑکالوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔۔کلدیپ کے آنے سے اس کی جان بخشی ہو گئی ۔
میری آنکھوں کی سرخی میرے ارادوں کا پتا بتا رہی تھی ۔۔جس میں اس کے لئے غصہ ہی غصہ تھا۔۔۔۔اونچے قد والے کو بھی اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔اس نےاپنی سیدھی ٹانگ اٹھا کر میری طرف ماری تھی ۔۔۔میں اس کی ٹانگ کی رینج میں تو تھا ۔۔۔مگر ٹانگ پہنچنے تک وہی رکتا ۔۔۔یہ کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔۔۔میں اسی سرعت سے حرکت میں آیا تھا۔۔۔اور ٹانگ پوری کھلنے سے پہلے ہی کلدیپ اور اس کے درمیانی حصے میں پہنچا ۔۔۔اس کی آنکھوں میں حیرت چمکی ۔۔۔۔مگر اگلا لمحہ اس پر بہت بھاری پڑا تھا۔۔۔۔میرا فولادی مکہ اس کی ٹھوڑی کے نیچے پڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔میں نے جبڑے کی ہڈی کو فوکس کرنے کے بجائے حلق کے نرم حصے کو ٹارگٹ کیا تھا۔۔اور زور کے ساتھ میرا غصہ بھی شامل تھا۔۔۔۔۔وہ کریہہ آواز میں چلاتے ہوئے پیچھے گرا ۔۔۔۔اس کی سانسیں یقینا رکی ہو گی ۔۔۔۔۔آنکھیں باہر آتے ہوئے میں نے بھی دیکھی اور کلدیپ نے بھی ۔۔۔۔۔پیچھے کھڑا اس کے چمچہ ہاتھ میں سریا لیے مجھ پر لپکا تھا۔۔۔دائیں ہاتھ میں سریا گھماتا ہوا میری طرف آیا ۔میں نے پیچھے مڑے بغیر ہاتھ گھما کر کلدیپ کو پیچھے دھکیلا ۔۔۔اور تھوڑا آگے آگیا۔۔۔میں اس کے بازو کے نیچے گھومتے ہوئے کب اس کی پشت پر آیا یہ اسکو پتا بھی نہیں چلا۔۔۔۔ اس کے بازو کے نیچے سے گھومتے ہوئے اس کی پشت پر آیا اورساتھ ہی اسکا کالر تھام کر کھینچ دیا۔۔۔تیزی سے آگے کو جھپٹتے ہوئے اس چمچے کی گردن پیچھے کو مڑی تھی ۔۔۔۔ہاتھ ہوا میں لہرا گئے۔۔۔۔۔دوسرے ہی لمحے میری فرنٹ کک پوری قوت سے اس کے کولہے پر پڑی تھی ۔۔۔۔۔۔اس کے دونوں ٹانگیں ہوا میں اچھل کر لہرائیں تھیں اور۔۔۔میں نے کالر سے کھینچتے ہوئے اسے پوری قوت سے زمیں پر پٹخ دیا۔۔۔۔۔۔کچھ مٹی بھی اڑی ۔۔۔۔اور کمر پر لگنے والی یہ ضرب اس کی سانسیں روک چکی تھی ۔۔۔۔۔
ماحول ایک دن سنسان سا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔پن ڈراپ سائلنس پھیل چکی تھی ۔۔۔جس میں صرف ان دونوں غنڈوں کی ہائے ہائے گونجنے لگی۔۔۔۔۔اب کی بار دو غنڈوں نے ایک ساتھ بڑھنے کی ہمت کی تھی۔۔۔ہاتھ میں چین لپیٹ ہوئے یہ دونوں میری طرف بڑھے ۔۔۔۔۔۔۔میں نے ان کی بڑھنے کی اسپیڈ کو کیلکلولیٹ کیا ۔۔۔اور ایک قدم آگے بڑھتا ہوا ہوا میں اچھل گیا۔۔۔۔میں ہوا میں اچھلتا ہوا گھوما تھا ۔۔۔ساتھ ہی دونوں ککس تیزی سے پیچھے کی طرف گئی ۔۔اور نشانہ ان کے سر تھے ۔۔۔۔۔۔جو صحیح سے پڑی تھی۔۔اور دونوں کو پیچھے الٹا چکی تھیں۔۔۔۔۔میں ہوا میں گھومتے ہوئے ہی سیدھا ہو کر کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔۔
چاروں طرف سناٹا تھا ۔۔۔۔۔اونچے قد والے کے ساتھ آنے والے تمام لوگ شش و پنج میں تھے ۔۔۔وشنو آگے بڑھا ۔۔اور انہیں آگے دھکیلنے کی کوشش کی ۔۔۔اس کے چمچے بھی آگے آئے تھے ۔۔۔اور اب چاروں طرف سے گھیرا ڈالنے کی کوشش میں تھے ۔۔۔وشنو ہاتھ میں ہاکی لئے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔۔ساتھ آس پاس والوں کو بھی ہلا شیری دیتے ہوئے حملہ کرنے پر اکسا رہا تھا۔۔میں نے نظریں سامنے دوڑائی۔۔۔چار کے کم ہونے کے بعد اب بھی پندرہ کے قریب لوگ تھے ۔۔۔۔اور وشنو انہیں لیڈ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا ۔۔میں نے پیچھے دیکھا ۔۔۔لڑکے سب خاموش تماشائی بنے تھے ۔۔۔۔جیسے میں سپر مین کی طرف کرتب دکھاؤں۔۔۔اور ان سب کو پھونک مار کر اڑا دوں۔۔۔۔
میں نے کلدیپ پر نظر ڈالی ۔۔۔وہ بھی گم سم سی تھی ۔۔۔۔اگلا لمحہ سب کے لئے حیران کن تھا ۔۔۔
۔ "جے بولے سو نہال"۔۔۔۔۔میرے منہ سے بلندگونج دار آواز نکلی تھی ۔۔اور اس لان میں پھیل گئی۔
میں سکھوں کے گڑھ میں کھڑا تھا ۔۔۔اور یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ یہ الفاظ نہیں پہچانتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا اندازہ ٹھیک نکلا۔۔۔۔۔میرے پیچھے ہلچل سی مچی ۔۔۔۔اور پھر ست سری اکال کا نعرہ بلند ہوا۔
ساتھ ہی لڑکوں کا ہجوم تیزی سے آگے بڑھا۔۔۔۔میں نےکلدیپ کو اپنے پیچھے کیا ۔۔۔اور آہستگی سے پیچھے ہٹنے لگا۔۔۔۔۔ وشنو کی نظریں مجھ پر گڑی تھی ۔۔۔اور مجھے تک پہنچنے کی کوشش میں تھا۔۔۔مگر پرجوش لڑکے اب ان پر ٹوٹ چکے تھے ۔۔۔۔۔۔میں بالکل پیچھے ہٹ گیا تھا۔اس قسم کی لڑائیوں سے مجھے شدید الرجک تھی ۔۔جس میں نہ اپنوں کا پتا چلتا ہوا اور نہ پرایوں کا ۔۔۔۔۔اتنے میں سمرن کور بھی اوپر سے آ کر ہمارے ساتھ آ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔۔اگلے دس منٹ میں میدان صاف تھا۔۔تمام غنڈے بری طریقے سے پٹ کر ادھ موے ہوچکے تھے ۔۔۔اور لڑکے انہیں ڈنڈہ ڈولی کرتے ہوئے جیپوں میں ڈال رہے تھے ۔۔کافی لڑکے میری طرف آئے اور ہاتھ ملاتے ہوئے تعارف کروانے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی نے پولیس کو فون کر دیا۔۔۔۔۔۔کالج کے مین گیٹ سے سائرن کی آواز آئی تھی ۔۔۔۔۔۔یہ بھی بی جے پی کے لڑکوں کی طرف سے کی گئی تھی ۔۔وہ مار پیٹ کر سکھ اسٹوڈنٹ کو ہی پولیس کے حوالے کرنے کا سوچ کر آئے تھے ۔۔۔مگر ان کی چال انہی پر الٹ گئی۔۔۔۔۔پولیس جیپ اور پیچھے والی گاڑی کالج کے گیٹ پر رکی ۔۔۔لڑکے سامنے آ کر نعرہ بازی کرنے لگے ۔۔۔۔۔اتنے میں کلدیپ میرے قریب ہوئی ۔۔۔۔راجہ تم یہا ں سے نکلو ۔۔۔۔۔۔سب کی نظروں میں آچکے ہو ۔۔۔۔یہ صرف تمہیں ہی ڈھونڈیں گے ۔۔۔۔۔
اور سمرن کو مخاطب کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔راجہ کو لے کر بے بے کے پاس چلی جاؤ ۔۔۔۔۔میں بھی شام تک معاملہ نبٹا کر آتی ہوں۔۔۔۔۔
میرے پاس بائک کی چابی تھی ۔۔۔۔۔پارکنگ سے بائک لے کر ہاسٹل کے پچھلے گیٹ سے باہر نکل گیا۔۔۔سمرن میرے پیچھے بائک پر تھی ۔۔۔۔۔۔اور بائک ہوا میں پرواز کر رہی تھی۔۔۔۔
سمرن پیچھے مجھ سے چپکی ہوئی راستہ بتا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ ماحول کا اثر ختم ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ٹھنڈی ہوا کے ساتھ دل میں سرور کی لہریں رقصاں تھیں ۔۔۔۔ سمرن حسب معمول میرے کان سے چپکی ہوئی راستہ بتا رہی تھی ۔۔۔۔اس کو شاید پتا بھی نہیں ہو گا کہ اس کے سینے کی گولائیاں میری کندھے میں دبی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔مجھ پر بھی عجیب سی کیفیت طاری ہوئی جا رہی تھی ۔۔۔میں نے اپنے خیال کو جھٹکا ۔۔۔۔سمرن خوبصورت تو بے حد تھی ۔۔۔۔مگر اس کی معصومیت مجھے ایسا کچھ بھی سوچنے سے روک رہی تھی ۔۔۔۔سیدھے روڈ پر چلتے ہوئے ہمیں دس منٹ سے اوپر ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔بائک پوری رفتار سےدوڑ رہی تھی ۔۔۔۔تبھی سمرن نے مجھے لیفٹ پر مڑنے کا کہا ۔۔۔یہاں کھیتوں کے ساتھ ساتھ کافی رہائشی مکان تھے ۔۔۔۔۔دو گلیوں کے اندر گھومنے کے بعد ہم ایک حویلی کے سامنے تھے ۔۔۔۔سمرن ایسے ہی اچھلتی ہوئی اتری ۔۔۔اور پھاٹک کے اندر ہاتھ ڈال کر کنڈی کھول لی ۔۔۔۔۔پتلی انگلیاں جو تھیں ۔۔۔۔۔مجھے بائک اندر لے آنے کا اشارہ کر کے وہ اندر کی دوڑی ۔۔۔۔۔۔بائک کی آواز سن کر اندر سے ایک خوبصورت خاتوں نکلی ۔۔۔جو یقینا کلدیپ اور سمرن کور کی بے بے ہی تھی۔۔۔آنکھیں سمرن کور کی طرح ڈارک براؤن تھی ۔۔۔اور اس عمر میں متناسب جسم کی مالک تھی ۔۔۔۔۔۔سمرن جا کر ان سے لپٹ چکی تھی ۔۔۔۔۔بے بے یہ راجہ ہے ۔۔۔۔۔کلدیپ باجی کے۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ کہتی ہوئی ایکد م سے رکی ۔۔پھر مجھے دیکھنے لگی ۔۔
میں بائک سے اتر گیا ۔۔۔اور آگے کی طرف بڑھا ۔۔دونوں ہاتھ اٹھا کر واہے گرو کی جے کہی ۔۔۔۔۔بے بے نے بھی اسی طر ح جواب دیا ۔
کلدیپ نے بتا دیا تھا انہیں کہ میں نے ہی ان کے بیٹے کے قاتل کو مارا تھا ۔۔۔۔۔بے بے راجیش کو گالیاں نکالتی ہوئی مجھے دعائیں بھی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔پھر سمرن کو آواز دیتیں ہوئی بولی ۔۔۔۔جا ؤ کچھ کھانے پینے کا کرو ۔۔۔۔۔
سمرن مجھے لئے ایک کمرے میں لے گئی ۔۔۔۔یہ ان کے بیٹے کا کمرہ تھا۔۔۔۔۔ایک طرف دیوار پر کرپان ۔۔۔اور دو نالی بندوق ٹنگی ہوئی تھی ۔۔۔ساتھ ہی کلدیپ کے باپ اور بیٹے کی ایک ساتھ تصویر لگی تھی ۔کمرہ بڑا تھا ۔۔۔ایک طرف بیڈ لگا ہوا تھا۔۔سامنے چارپائی اور ایک جستی الماری رکھی تھی ۔۔۔۔۔میں دیکھ ہی رہا تھاکہ بے بے اندر داخل ہوئی ۔۔مجھے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے وہ چارپائی پر بیٹھ گئیں۔۔۔۔۔۔میرے سامنے بیٹھی وہ کچھ دیر تک اپنے بیٹے کے بارے میں بات کرتی رہیں ۔۔۔اتنے میں سمرن لسی کا ایک جگ لئے اندر آئی ۔۔۔۔۔گلاس بھی کسی جگ سے کم نہیں تھا۔۔۔پورا بھر کے میرے حوالے کیا تو میں گلاس کو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔خیر بڑی مشکل سے گلاس ختم کیا ۔۔۔بے بے کھانے کا پوچھ کر باہر چلی گئیں ۔۔۔۔ان کے جاتے ہی سمرن کے منہ سے قہقہہ چھوٹا تھا۔۔۔۔۔میں نےسوالیہ نظروں سے دیکھا۔
وہ میرے چہرے کی طرف اشارہ کررہی تھی ۔۔۔۔میں انجان بن گیا ۔۔۔آخر وہ خود ہی قریب آئی ۔۔اور اپنی انگلی سے صاف کر کے دکھانے لگی ۔"۔یہ لگی تھیں آپ کے ہونٹوں پر ۔"۔
میں نے اسی کی انگلیوں کو پکڑا اور دوبارہ سے ہونٹوں پر پھیر کر ٹھیک سے صاف کر دیا ۔۔سمرن کے چہرے پر عجیب سے تاثرات آئے مگر کچھ کہا نہیں ۔۔۔۔میں نے بیڈ پر کمر سیدھی کی ۔۔۔۔سمرن باہر چلی گئی۔ا ۔۔۔۔۔۔۔لسی مکھن اور فیٹ سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔۔جس کا ثبوت کچھ ہی دیر میں مجھے نیند آنے لگی تھی ۔۔۔اور میں اسی طرح ٹیک لگائے ہوئے سو گیا۔۔۔۔
میں تقریبا چار سے پانچ گھنٹے بے خبر سویا تھا۔۔۔۔۔۔آنکھ کھلی تو شام ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔میں اٹھ کر بیٹھا تو سمرن لپک کر میرے پاس آئی تھی ۔۔۔۔۔ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔"آپ کی طبیعیت تو ٹھیک ہے۔"۔
وہ خود سے اب بھی بے خبر تھی ۔۔تنگ کپڑوں میں منہ زور جوانی چھلک رہی تھی۔۔۔۔۔مجھے پر جھکی ہوئی میرے ماتھے پر ہاتھ رکھے وہ بخار چیک کرنے میں تھی ۔۔ ۔۔میں بیڈ کے کنارے سے تھوڑا دور تھا ۔۔۔اس لئے وہ جھک کر میرے ماتھے پر ہی زور ڈالے ہوئے تھی ۔۔۔مجھے شرارت سوجھی ۔۔۔میں ماتھے کو پیچھے لے گیا۔۔۔۔۔سمرن کا زور اسی پر تھے ۔۔۔وہ لہراتی ہوئی میرے اوپر گری تھی ۔۔۔۔۔کچے آموں جیسی مہک میرے نتھنوں میں آئی تھی ۔۔۔۔۔اس کے چہر ہ بھی میرے اوپر ہی آیا تھا۔۔۔وہ کچھ دیر میری آنکھوں میں دیکھتی رہی ۔۔۔۔جس میں شرارت نمایا ں تھیں ۔۔۔ میں نے اسے اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھا یا ۔۔اور خود پر سے اٹھانے لگا ۔۔۔سمرن نے عجیب سے نظروں سے دیکھا اور پھر نارمل ہوئی۔۔اور پھرمصنوعی غصے میں چلانے لگی۔
اور اگلے دس منٹ وہ مجھ سے اسی بات پر جھگڑ رہی تھی ۔۔۔۔کہ میں نے یہ جان بوجھ کر کیا ہے ۔۔۔۔اور میرا موقف تھا کہ تم خود میرے اوپر گری تھیں ۔۔۔میں نے تو ہاتھ بھی نہیں لگایا ۔۔لڑنا تو مجھے چاہئے تھا اور الٹا تم مجھے ہی ڈانٹ رہی ہو۔۔
یہ بحث شاید جاری رہتی کہ کلدیپ کور کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔وہ آ چکی تھی یا ابھی آواز سن کر اندر آئی تھی ۔۔۔۔۔اس کے چہرے پر خوشی کے تاثر تھی ۔۔۔ اپنی بہن کی پرواہ کئے بغیر وہ میرے قریب بیڈ پر بیٹھی اور مجھ سے پر جھکتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔ہم الیکشن جیت چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔وشنو پربھاکر کو صرف 30 ووٹ ملے ہیں ۔۔۔۔۔ لڑائی کی وجہ سے اس کے باقی ووٹ بھی ہمارے پاس آئے ہیں ۔۔۔۔اور پولیس کے آنے کے بعد ہم نے انہی کے خلاف رپورٹ بھی درج کروادی ۔۔۔۔۔۔۔
راجہ یہ صرف تمہاری وجہ سے ہوا ۔۔۔۔۔میری پیشانی کو چومتے ہوئے وہ بولی تھی ۔۔۔۔۔میں نے سمرن کی طرف دیکھا وہ بغور ہمیں ہی دیکھ رہی تھی ۔۔مجھے دیکھتا دیکھ کر ایک دم اٹھی اور باہر چلی گئی ۔۔اس کے بعد کلدیپ کور صحیح سے مجھے سے لپٹ گئی ۔۔۔میں نے بھی اسے بیڈ پر اوپر کھینچ لیا ۔۔۔اورہونٹوں پر ہونٹ جما دئیے ۔ابھی یہ سلسلہ آگے بڑھتا کہ۔۔۔اتنے میں سمرن کور پھر اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔۔۔اور زور سے کھنکھارتے ہوئے قریب آنے لگی ۔۔۔۔مجھے بے اختیار ہنسی آئی تھی ۔۔۔میں نے کلدیپ کو سائیڈ پر ہٹا یا ۔۔وہ اپنی قمیض ٹھیک کرنے لگی ۔۔۔۔سمرن کور کے ہاتھ میں وہ بیگ تھا جو وہ جیوتی سے لے کر آئی تھی ۔۔۔
یہ لیں باجی چیک کر لیں ۔۔۔۔سب پورا ہے ۔۔۔۔مخاطب باجی تھی ۔۔۔مگر سمرن کی شرارتی نظریں مجھ پر تھیں ۔۔۔جیسے کہہ رہی ہوں دیکھا کیسے روک دیا آپ لوگوں کو ۔۔۔
سمرن بیڈ پر بیٹھی بیگ کھولنے لگی۔۔۔۔۔۔سب سے پہلے بڑے نوٹوں کی گڈیاں نکلنے لگیں ۔۔۔۔۔قریب بیس سے اوپر یہ گڈیاں تھیں ۔۔۔۔۔جو شاید پچاس لاکھ کے قریب تھے ۔۔۔اس کے بعد زیوارت کا ایک ڈھیر تھا۔۔۔رنگا رنگ جواہرات سے بنے ہوئے سیٹ تھے ۔۔۔۔سونے کے بھاری بھرکم سیٹ سے لے کر چاندی کی پائل تک سب ہی اس میں موجود تھا۔۔۔
کلدیپ مجھے بغور دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ اتنی دولت اتنی آسانی سے دینے والا شخص کوئی معمولی نہیں ہو سکتا ہے ۔۔اور میں سوچ رہا تھا کہ جیوتی نے اپنا وعدہ پورا کیا ۔۔اس نے آدھی سے زیادہ دولت یہاں بھجوا دی تھی۔۔۔
میں نے سمرن کو یہ سمیٹنے کا کہا اور بھوک کی آواز لگائی ۔۔۔۔دوپہر سے بھوکا ہوں ۔۔۔۔کچھ تو خیال کرو۔۔۔۔سمرن بیگ میں جلدی سے سب کچھ بھر کر باہر کو بھاگی ۔۔۔۔
کلدیپ میرے ہاتھوں کو تھامتی ہوئے کہنے لگی ۔۔راجہ اس دولت کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔جو کام تم نے کہا ہے ۔۔وہ ہرقیمت پر ہو کر رہے گا ۔۔۔میں اس کے لئے اپنے پیسے خرچ کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔
۔"مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ تمہیں یہ سب لینے میں کیا اعتراض ہے ۔"۔۔ میں نے اس سے پوچھا ۔
راجہ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب لینے کے بعد ہماری محبت میں فرق نہ آ جائے ۔۔۔میں چاہتی ہوں کہ ہمارے درمیان بے لوث محبت ہو ۔۔۔کسی غرض کے بغیر ۔۔۔۔
اس سے پہلے ہماری کوئی اور بات ہوتی ۔۔سمرن بھاگتی ہوئی واپس آئی ۔۔۔۔کھانا لگ گیا ہے ۔۔آ جائیں ۔۔۔۔وہ شاید ہمیں تنہائی نہیں دینا چاہتی تھی ۔۔
میں ہاتھ دھوتا ہوا باہر آ گیا ۔۔۔۔۔چاند کی روشنی میں دو چارپائیوں کے درمیان ایک ٹیبل پر کھانا رکھا ہوا تھا ۔۔۔کھانا کھا کر میں واپس اسی روم میں آ گیا ۔۔
کلدیپ تھوڑی ہی دیر میں چائے لے کر آ گئی ۔۔۔۔اس سے پہلی ملاقات میں میں نے کافی بار چائے کی فرمائش کی تھی ۔۔۔اور اس کو یہ بات یاد تھی ۔۔۔
چائے میرے ہاتھ میں پکڑاتی ہوئی وہ مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔کچھ پراسرار سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔میں نے پوچھا ۔۔مگر اس نے منع کر دیا۔۔
چائے پی کر میں نے موبائل آن کیا۔۔۔ پہلی کال عاصم کو کی تھی ۔۔۔۔۔۔اور پہلی ہی بیل پر فون ریسیو کیا گیا تھا۔۔۔
۔"کیا بات ہے جگر ۔آخر ہماری یاد آہی گئی آپ کو۔۔۔کلدیپ نے ٹائم کیسے دے دیا ہم سے بات کرنے کے لئے ۔۔۔"۔ اس کی شگفتہ آواز میرے کانوں میں پڑی ۔
اور ہاں اب تو کلدیپ کے ساتھ ساتھ سمرن بھی آپ کے آس پاس دِکھ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عاصم نے اگلا حملہ کیا تھا۔
میں چونکا ۔۔۔۔۔یار مجھ پر جاسوسی کی ضرورت پڑ رہی ہے کیا ۔۔۔میرے لہجے میں مصنوعی ناراضگی تھی۔۔
یارا آپ کو اکیلا بھیج کر کافی عجیب سے لگا ۔۔۔۔دوستوں کو اکیلا نہیں چھوڑتے آپ تو پھر جگر ہو ۔۔۔۔اس لئے آصف کو پیچھے بھیج دیا۔۔وہ آپ کو کلدیپ کے گھر تک چھوڑ کر واپس آیا اور پورا قصہ سنایا۔۔ایسے لگتا ہے کہ میں خو د وہیں تھا۔
بی جے پی کے غنڈوں کو اچھا سبق سنایا۔۔۔۔۔اچھا راجہ صاحب میں خود آپ کو فون کرنے والا تھا۔۔۔۔۔عاصم سنجیدہ چکا تھا۔
را کا ایک نیا انٹیلی جنس چیف آ چکا ہے ۔۔۔کرنل راٹھور نام ہے ۔۔۔۔راجیش سے ہزار گنا تیز اور ہوشیار ہے ۔۔۔۔۔میرے خیال سے لدھیانہ میں رہنا اب خطرے سے خالی نہیں ہے ۔۔۔۔آپ جلد از جلد ممبئی کے لئے نکل جائیں ۔۔۔یہ فون ضائع کردیجئے گا۔۔۔۔۔مجھے امید ہے کہ کلدیپ آپ کو اطمینان سے ٹرین میں سوار کروادے گی ۔۔۔میں آج رات ہی نکل رہا ہوں ۔۔۔۔۔وہاں جا کر آپ کے لئے گراؤنڈ تیار کرتا ہوں ۔۔۔۔۔آپ ممبئی ٹرین اسٹیشن کے سامنے سردار ہوٹل میں آئیے گا۔۔۔کاونٹر پر ناصر آپ کو ملے گا۔۔۔۔۔وہ مجھ تک پہنچا دے گا۔۔۔
میں نے جلدی سے ساری معلومات ذہن نشین کی اور فون بند کر دیا۔۔۔۔بیٹری اور سم نکال کر الگ الگ رکھ دی ۔۔آج کے ترقی یافتہ دور میں سہولت کے ساتھ ساتھ نقصان بھی ہے۔۔انٹرنیٹ اورموبائل سگنل سے جڑی ہوئی ہرچیز آپ کو پکڑوانے کی پوری کوشش کرتی ہے ۔۔۔اور شکر تھا کہ میں نے یہ سب چیزی بہت ہی کم ٹائم کےلئے استعمال کی ۔۔۔عاصم بھی دوسروں کے موبائل استعمال کر کے پھینک دیا کرتا تھا۔۔۔
کلدیپ مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔عاصم کےساتھ میری محبت دیکھ کر وہ بھی حیران ہوتی کہ آج کے دور میں بھی ایسے دوست ملتے ہیں ۔۔۔۔میں نے ٹانگیں پھیلاتے ہوئے پوچھا کہ سونے کا کہاں پروگرام ہے ۔۔۔۔ ؟ 
کلدیپ مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔اتنی جلدی کیا ہے سرتاج ۔۔۔۔ بس تھوڑا انتظار ۔۔۔میں نے سمرن کو آپ کا روم تیار کرنے کا کہا ۔۔۔میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔کچھ الگ چمک تھی ۔میں نے سوچا ۔پھر مطمئن ہو کر بیٹھ گیا۔۔جو بھی ہے خود ہی سامنے آئے گا۔
میں نے اگلے ایک گھنٹے میں کلدیپ کو ان پیسوں کا استعمال سمجھادیا ۔یہ ایک کروڑ سے زیادہ کی رقم تھی۔۔۔آدھے پیسے انویسٹ کرنے کے لئے تھے ۔۔۔اور آدھے استعمال کے لئے ۔۔۔۔لدھیانہ میں دس سے زائد کالج تھے ۔۔۔اور آٹھ یونیورسٹیز تھیں ۔۔۔۔ان سب سے ہم ہزاروں کی تعداد میں اسٹوڈنس اپنی یونین میں شامل کر سکتے تھے ۔۔۔۔۔میں کلدیپ سےمعلومات لینے کے ساتھ آئندہ کا پلان بھی بنا کر دیتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔ہر مہینے کی اسٹوڈنس میٹنگ اور اس میں اپنے یونیورسٹی کے اسٹاف کو بھی شامل کرنے کا کہا ۔۔۔اسی طرح یہاں کی شہری انتظامیہ کے ساتھ بھی تعاون بڑھانے اور ان سے راہ رسم بڑھانے پر بھی زور دیا۔۔۔۔اور آخری کام ایسے گروپ کی تشکیل تھا جو ماردھاڑ کے کام باآسانی کر سکے ۔۔۔ہر جگہ گھی سیدھی انگلیوں سے نہیں نکلتا۔۔تاکہ آج یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعات سے بھی نبٹا جا سکے۔۔۔۔اس گروپ کی تشکیل کے لئے میں نے اس کہا کہ وہ خود کل عاصم سے بات کر لے ۔۔وہ کوئی اچھا بندوبست کر دے گا۔۔۔۔۔۔تقریبا تمام معاملا ت کلدیپ کو سمجھ آ گئے تھے ۔۔۔ کام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔اور کام دیکھتے ہوئے مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ پیسے بھی کم پڑ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
رات کے دس سے اوپر کا ٹائم تھا جب کلدیپ نے مجھے کہا کہ چلیں آپ کا روم تیار ہو گیا ہو گا۔۔۔۔۔۔میں اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔باہر برآمدے میں نکل کر ایک کمرے کی طرف وہ چلی۔۔۔۔میں اس کے پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ہلکی بلیو کلر کی لائٹ روشن تھی ۔۔۔۔۔اور ایک طرف دو بیڈ آپس میں سے جڑے ہوئے تھے ۔۔۔یہ شاید کلدیپ اور سمرن کا جوائنٹ روم تھا۔۔۔۔بیڈ پر بڑا سا لحاف پڑا تھا ۔۔۔۔موسم اتنا سرد نہیں تھا۔۔پھر بھی ہلکی ضرورت محسوس کی جاسکتی تھی ۔۔۔۔۔کلدیپ بیڈ کے کنارے کھڑی تھی۔۔۔اور براؤن آنکھوں کی چمک میں صاف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔میں اس کا دل سمجھ چکا تھا۔۔۔۔اس لئے پاؤں خالی کرتا ہوا بیڈ پر آگیا ۔۔۔کلدیپ کنارے کی سائیڈ پر تھی ۔۔۔مجھے بیڈ کے درمیان میں دھکیلتی ہوئی لحاف اوڑھا دیا۔۔۔میں بھی آج کی رات یادگار بنانا چاہتا تھا۔۔ابھی تک کلدیپ کو میں نے جانے کا نہیں بتا یا تھا۔میرے سر کے نیچے تکیے رکھ کر اونچا کیا ۔۔اور خود بھی لحاف کے اندر ہوتی ہوئی میرے قریب آئی ۔۔۔اندھیرا تھا۔۔مگر جسم کی مخصوص بو کے ساتھ۔۔اس کا نرم و نازک بد ن مجھ میں لپٹا تھا ۔۔۔میں نے بانہیں کھول کر اسے سمیٹ لیا۔۔۔اس کے بال کھلتے چلے گئے۔۔میرے گال سے گال لگائے اس نے سرگوشی کی تھی ۔۔۔راجہ بھول تو نہیں جاؤ گے ۔۔۔۔میں نے اس کے چہرے کو اٹھاتے ہوئے سامنے کیا ۔۔
آنکھوں میں چمک کے ساتھ نمی تھی ۔۔میں نے دونوں ہاتھو ں میں چہرے کو تھامتے ہوئے بوسے دینے لگا۔۔۔۔شروع آنکھوں سے کیا تھا۔۔۔اور پھر ہونٹوں پر جا رکا ۔۔۔ اور جوابی سرگوشی کی
۔" ایسا نہیں ہو سکتا ہے ۔۔۔" ۔۔"۔میں تمہیں ہمیشہ یادر رکھوں گا۔"۔۔میں نے کلدیپ کو جانے کا نہیں کہا تھا مگر شاید اسے اندازہ ہو گیا تھا۔کہ میری روانگی قریب ہی ہے۔۔ 
کلدیپ پھر کان کے قریب آتی ہوئی بولی ۔۔"۔میری زندگی میں آنے والے آپ پہلے اور آخری ہیں ۔۔۔اس کے بعد کبھی کوئی اور نہیں آے گا۔۔"۔۔کاش میں آپ کو اپنی محبت کا یقین دلا سکتی۔''۔۔
کلدیپ سے پہلی ملاقات میں وہ صرف ایک سخت گیر اور جنگجو لڑکی لگی تھی۔۔۔۔مجھے انداز ہ نہیں تھا کہ ہمارا تعلق اتنا زیادہ دیر تک چلے گا۔۔۔اور اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ لڑکی میری محبت میں پڑ جائےگی۔۔میں نے بھی جواباکہا ۔۔۔"۔تمہیں یقین دلانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔مجھے تمہار ی بات پر پورا بھروسہ ہے ۔"۔۔
مجھے اس کالہجہ عاصم کی طرح لگا تھا ۔۔جب آخری رات طیارے پر اسٹنٹ کرتے ہوئے وہ مجھ سے باتیں کر رہا تھا۔۔کھویا کھویا سا لہجہ ۔۔اور دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے جذبات ۔۔۔۔میں ڈر سا گیا۔۔۔کہ کلدیپ بھی کہیں کچھ ایسا نہ کرنے جا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔میں نے باتوں سے روکتے ہوئے اسے گلے سے لگایا۔۔اور کافی دیر لگائے رکھا۔۔۔ایک ٹھنڈک سے میرے دل میں اترتی جارہی تھی ۔۔۔اس کی بھی یہی حالت تھی ۔۔۔اور شاید یہی ہمارے جذبات اور خلوص کی سچائی کی بھی علامت تھی۔۔۔۔
کلدیپ بھی سانس روکے مجھے سے لپٹی ہوئی تھی۔۔۔۔اس کی باتیں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔۔۔۔اور ایک بار تو مجھے ایسے لگا جیسے آج کی رات باتوں میں ہی ختم ہو جائے گی۔۔۔
۔"راجہ میں نے سب سے زیادہ محبت اپنے بھائی سے کی ۔وہ چلا گیا تو اس کی جگہ اوپر والے نے تمہیں بھیج دیا۔"۔۔کلدیپ بہت زیادہ جذباتی ہوئی جا رہی تھی ۔۔۔میں نے اسے سمیٹتے ہوئے تسلی دینے کی کوشش کی۔
۔"۔دوسری محبت مجھے اپنی بہن سمرن کور سے تھی۔ہم دونوں آپس میں دوست بھی ہیں راز دار بھی ہیں۔۔۔۔اور آج میں چاہتی ہوں کہ اسے بھی تمہیں سونپ دوں ۔"۔
مجھے ایک جھٹکا سا لگا۔۔پہلے پہل تو میں نے الفاظ پر غور کیا کہ یہ کہا کیا گیا ہے۔۔؟۔۔۔اتنے میں مجھے اپنے لحاف کی دوسری طرف کسی اور کا احساس ہوا ۔۔۔میں تیزی سےپلٹا ۔۔۔اور لحاف کو اٹھاتے ہوئے دیکھا۔۔۔یہ سمرن کور تھی۔۔۔بند آنکھوں کے ساتھ لیٹی ہوئی ۔۔۔۔کسی مومی گڑیا کی طرح لگ رہی تھی۔۔
میں واپس گھوما۔۔کلدیپ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔جیسے کہہ رہی ہے کہ یہ میری طرف سے تحفہ ہے۔۔میری بے پناہ محبت کا ثبوت ہے۔۔۔میری سب سے قیمتی چیز تمہارے حوالے ہے۔۔۔اس کی نم آنکھیں مستقل باتیں کئے جا رہی تھی ۔۔جن میں ہمیشہ کی چاہت اور محبت کا سوال تھا۔۔۔۔میں کچھ دیر دیکھتا رہا ۔۔اور گم سم سا ہو گیا۔۔۔مجھے کبھی بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ سب دیکھنا پڑے گا۔۔۔کلدیپ ایسی محبت کر بیٹھے گی۔۔۔جو نہ کوئی سرحددیکھتی ہے نہ کو ئی مذہب۔۔جس میں فقط چاہت ہوتی ہے ۔۔دیوانگی ہوتی ۔۔جنوں ہوتا ہے ۔۔۔جو یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے والا بھی اتنا پیار کرتا ہے یا نہیں ۔۔۔یہ بس خود کو قربان کر دینے والا جذبہ ہوتا ہے۔۔۔
میرے دل میں بھی یہی خواہش اٹھی کہ اگر اس کی کوئی بھی خواہش ہو تو میں وہ ہر قیمت پر پوری کروں ۔۔۔وہ بس اشارہ کرے ۔۔اور تارے توڑ کر لادوں۔۔۔۔کلدیپ مجھے بھی گم سم دیکھ کر قریب ہوئی ۔۔اور مجھے پلٹتے ہوئے بولی ۔۔اس طرف جائیے کوئی انتظار کر رہا ہے ۔۔۔۔کلدیپ زور لگاتی ہوئی مجھے پلٹا رہی تھی۔۔۔میں سیدھا ہوا۔۔۔اور بجائےاس طرف مڑنے کے واپس کلدیپ کی طرف آیا۔۔۔اس کی نم آنکھیں تیزی سے بہنے لگی۔۔میں کلدیپ کو گلے سے لگا کر بہنے والے آنسو چومنے لگا۔۔کلدیپ نےمجھے الگ کرتے ہوئے سمرن کی طرف دھکیل دیا۔
میں نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔جس نے دوبارہ سے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔۔۔میں نے پہلی نظر میں دیکھ لیا تھا کہ اس نے کچھ بھی نہیں پہنا ہوا ۔۔۔۔مگر پورے بدن پر پہنے ہوئے وہ زیور تھے جو میں نے کلدیپ کو دئے تھے ۔۔۔۔میں نے لحاف تھوڑ ا سا اٹھاتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا ۔۔سمرن کور کسی مومی گڑیا کی طرح لگ رہی تھی۔۔۔ماتھے پر جھومر ۔۔۔ناک میں چاندی کی لونگ۔۔ساتھ ہی سونے کے سیٹ اور چوڑیاں پہنی ہوئی۔۔۔کمر پر مخصوص نازک سی زنجیر بندھی ہوئی ۔۔۔۔بند آنکھوں میں ایسے لگ رہی تھی جیسے کسی خوبصورت خواب میں ہو ۔۔۔نازک اتنی کہ ہاتھ لگے تو پگھل جائے ۔۔۔۔اس کی شوخی تو میں دیکھ ہی چکا تھا ۔۔مگر خاموشی بھی کمال تھی۔۔۔میں نے اسے اپنی طرف کروٹ کروائی ۔۔۔۔کمرے میں چھن چھن کی مخصوص آواز گونجی ۔۔۔ساتھ ہی اس کا جسم بھی سامنے آگیا۔۔۔۔کسی نازک کلی جیسا بدن ۔۔جو ہلکے ہلکے سے لرزش میں تھا۔۔۔۔شرماہٹ کی وجہ سے چہرے پر سرخی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔میں نے اس کے ہاتھ کو تھام جو ٹھنڈا ہو رہا تھا ۔۔اور اپنے ہونٹوں سے لگا لیا۔۔۔وہ کچھ کسمسائی ۔۔۔کچھ اور شرمائی۔۔۔۔اور چوری چھپے آنکھ کھول کر دیکھنے لگی۔۔۔۔میں کھسک کر قریب ہوا۔۔اور چہرے کو تھوڑا سا اوپر اٹھایا ۔۔جو نیچے ہوئے جا رہا تھا۔۔۔معصومیت اور خوبصورتی کا شاہکار ۔۔لطافت اور نزاکت کا پیکر۔۔۔پتلے گلابی ہونٹ ۔۔۔۔سرخی مائل گال جس پر مسکراتے ہوئے گڑھا سا بن جاتا ۔۔۔
میں نے اپنی انگلیاں ماتھے پر رکھیں ۔۔۔اور نیچے لے کر آنے لگا۔۔۔ہونٹوں پر آ کر انگلیاں رک گئیں۔۔۔جیسے ہونٹ نیچے جانے نہ دے رہے ہوں۔۔اس کے جسم کی نرماہٹ مجھ پر بے تحاشہ اثر انداز ہو رہی تھی۔۔۔اور میں نے بے اختیار اپنے ہونٹ اس کے گالوں پر رکھے ۔۔۔۔اور پھر پورے چہرے کو چومنے لگا۔۔۔۔۔ہر بوسے کے ساتھ اس میں ایک لہر سی دوڑ جاتی ۔۔۔ایسے لگ رہا تھا جیسے بت بنی ہوئی شہزادی میں جان آتی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔
کلدیپ پیچھے سے مجھ سے لپٹی ہوئی تھی۔۔۔۔اس نے ہاتھ بڑھا کر میری شرٹ کے بٹن کھولنےشروع کر دئے تھے ۔۔۔بٹن کھل گئے تو میں کچھ دیر رکھا اور ہاتھ نیچے لے جا پیچھے کر دئے ۔۔کلدیپ نے شرٹ کھینچ لی۔۔۔کلدیپ اب لحاف میں ہی نیچے کی طرف کھسکی اور پینٹ اتارنے لگی ۔۔۔میں واپس سمرن کی طرف آیا۔۔۔۔بوسے دوبارہ سے شروع تھے ۔۔۔گال چومتے ہوئے ٹھوڑی پر آیا۔۔۔اور پھر نیچے گردن چومتا ہوا ا نازک کندھے پر آیا۔۔۔سمرن کور اسی طرح سیدھی لیٹی ہوئی تھی ۔۔میں نے اپنی طرف کروٹ دیتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھا۔۔۔اپنا ایک ہاتھ اس کے سر کے نیچے رکھتے ہوئے چہرے کو اپنے سامنے کر دیا۔۔۔۔۔ہونٹ ایک دوسرے کو پیاسی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔جیسے مدتوں سے ملاقات کے خواہشمند ہوں ۔۔۔میں نے بھی زیادہ دیر نہ کی ۔۔اور وصال کر وا دیا۔۔۔
کیا نرم نرم ہونٹ تھے ۔۔کیا نزاکت تھی۔۔کیا شیرینی تھی۔۔۔میں کچھ دیر تو انہیں میں ہی گم ہو گیا۔۔۔۔دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر لے گیا ۔۔۔اور اسے خود سے لپٹا لیا۔۔۔۔ایک نازک سا پری پیکر مجھ میں چھپ گیا تھا۔۔۔۔میرے پورے جسم میں لذت آمیز لہریں ابھریں تھیں۔۔۔جو آہستہ آہستہ بڑھتے ہوئے طوفان بننے جارہی تھیں۔۔۔۔
کلدیپ نےپینٹ اتا ر لی تھی۔۔۔اور اب کی بار وہ پیچھےسے مجھے لپٹی تو انداز ہ ہو گیا کہ وہ خود بھی کپڑوں سے آزاد ہے ۔۔۔۔وہ فطری لباس میں مجھ میں پیوست ہوئی تھی۔۔۔۔۔آگے سمرن کور تھی ۔۔۔اور پیچھے کلدیپ کور ۔۔۔۔۔۔میں نے اپنے ہونٹوں سے سمرن کے چہرے کو اٹھایا اور چومنا شروع کیا ۔۔۔۔۔۔میرے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر گردش کرتے ہوئے نیچے جا رہے تھے ۔۔۔شروع میں اس کے ہاتھ کو جب چوما تھا ۔۔۔تو ٹھنڈے لگ رہےتھے ۔۔۔مگر اب پورا بدن تیزی سے گرمی پکڑتا جا رہا تھا۔۔۔جو اپنےساتھ ساتھ مجھ میں بھی گرمی دوڑ ا رہا تھا۔۔۔۔میں سمرن کے ہونٹوں کو چومتا ہوا اپنے ہونٹ بھی کچھ دیر اس کے ہونٹوں میں رکھتا ۔۔۔جیسے کہہ رہا ہوں کہ وہ بھی جواب دے ۔۔۔۔۔کچھ دیر ایسا کرنےکے بعد اسے شاید اندازہ ہوا ۔۔۔اور بت بنی ہوئی شہزادی میں حرکت ہوئی ۔۔ہونٹوں میں جنبش ہوئی ۔۔۔اور پہلی مرتبہ اس نے میرے ہونٹوں کو پکڑنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔میرے اندر ایک نشے اور سرور کی لہر دوڑی ۔۔۔۔مجھے ایسے ہی لگا تھا جیسے پہلی بار کسی نے میرے ہونٹوں کو چھوا ہوا ۔۔۔۔سمرن تھوڑی سی کوشش کر کے پھر رک گئی ۔۔۔۔۔میں نے ایک مرتبہ پھر سے اس کے ہونٹ چومے اور انتظار کرنے لگا۔۔۔۔اس نے پھر سے اپنے ہونٹوں کو جنبش دی ۔۔
کلدیپ نے مجھے اور خود کو کپڑوں سے آزاد کر دیا تھا۔۔۔اور اس وقت جب سمرن میری بانہوں میں چھپی ہوئی تھی ۔۔۔۔ہتھیار بھی اپنی لمبائی میں آ کر اس کی ٹانگوں میں سے گزر رہا تھا۔۔۔ میں نے سمرن کو اٹھائے ہوئے کروٹ لی ۔۔۔اور اپنے اور کلدیپ کے درمیان میں لٹا دیا ۔۔۔۔سمرن کسی ہلکے پھلکے وجود کی طرح میرے بازؤوں میں اٹھی ۔۔اور اسی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہمارے درمیان میں آ گئی ۔۔۔کلدیپ بھی اسے دیکھ کر پر جوش ہو گئی ۔۔۔۔آخر کیوں نہ ہوتی ۔۔۔مومی گڑیا کی نزاکت اور معصومیت ایسی کہ دشمن کو بھی پیار آ جائے ۔۔۔اور وہ تو پھر بھی اس کی بہن تھی ۔۔اس سے سب سے زیادہ پیار کرنے والی۔۔۔۔۔
سمرن ہمارے درمیان آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹی تھی ۔۔۔کلدیپ اور میں دونوں ہی اس کا سینہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔جہاں گلابی نپلز چھوٹے چھوٹے ابھاروں کے اوپر مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔۔اس کے جسم بھر ا بھرا تھا۔۔۔۔نازک اورپتلا پیٹ ۔۔۔سڈول رانیں ۔۔۔۔۔کلدیپ بے اختیار اس کے ایک نپل پر جھک گئی ۔۔اورہونٹوں میں لئے ہوئے چوسنے لگی۔۔۔۔۔دوسرے نپل پر میں نے اپنے ہونٹ رکھ دئے ۔۔۔۔اور چوسنے لگا۔۔۔۔چھوٹے چھوٹے سے ابھار تھے جو کسی بڑے لیموں کی طرح تھے ۔۔اور بڑی آسانی سے میرے منہ میں آ رہے تھے ۔۔۔میں اپنے ہونٹوں میں دبا کرزبان سے مساج کر رہا تھا۔۔۔۔سمرن کا جسم ہلکے سے لرزہ تھا۔۔۔۔۔اس نے بھی اپنی باجی کو اپنے سینے پرجھکے محسوس کر لیا تھا۔۔۔۔اور پھر ہلکے سے آنکھیں کھول لی۔۔۔۔۔ہلکی سرخی لئے ہوئے یہ آنکھیں کسی گہرے نشے میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔۔ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ کسی نیند کی حالت میں ہے ۔۔۔۔۔کلدیپ کو بھی حرکت محسوس ہوئی تو اس نے بھی اپنا سر اٹھا ۔۔۔۔اور سمرن کور کی آنکھیں کھلی دیکھیں ۔۔۔تو بے اختیار اس کو چومنے لگی ۔۔سمرن بھی ایک دم کھلتے ہوئے اس کا ساتھ دینے لگی ۔۔۔۔۔میں نے حیرت سے دیکھا ۔۔کچھ دیر پہلے ہی تو مجھ سے سیکھا ۔۔اور اب اپنی باجی پر آزما رہی ہے ۔۔۔۔بڑی چالاک نکلی یہ سمرن تو۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں بہنیں آپس میں جس طرح سے ہونٹ چومنے میں لگیں تھیں۔۔۔۔مجھے بے انتہا گرمی چڑھنے لگی ۔۔۔۔۔دونوں ہی بے حد حسین ۔۔۔۔ایک اگر کھلا ہوا گلاب تو دوسری ادھ کھلی کلی جیسے ۔۔۔ایک اگرمحبت کی علامت تھی ۔۔تو دوسری معصومیت اور نزاکت کا پیکر تھی ۔۔۔۔۔۔
میں نے کلدیپ کو پیچھے ہٹا یا ۔۔۔دونوں سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگیں ۔۔۔۔جیسے اس دخل نامعقولات کی وجہ جاننا چاہ رہی ہوں ۔۔۔۔اور پھر سمرن کور کی کروٹ اپنی طرف کر دی۔۔۔اور اسے اشارہ کیا کہ اپنا ہنر یہاں آزمائے ۔۔۔۔پیچھے سے کلدیپ نے بھی اس سے سینے لگائے اس کے چہرے کو میری طرف موڑ دیا۔۔۔سمرن نے نازک ہونٹوں سے مجھے پہلا بوسہ دیا ۔۔۔۔اور پھر دوسر ا۔۔۔۔کیا نرم نرم لمس تھے ۔۔۔تھوڑے گیلے گیلے سے ۔۔۔۔۔۔میں مزے میں ڈوب گیا۔۔۔اور پھر سمرن میرے ہونٹوں پر آئی ۔۔۔اور چومنے کی کوشش کی ۔۔میں آنکھیں بند کئے پوری طرح محسوس کر رہا تھا۔۔۔کہ اس کی ناک میری ناک سے ٹکرائی تو میں نے آنکھیں کھول دیں۔۔۔میں ہنس پڑا ۔۔سمرن کچھ شرمندہ سی ہوئی ۔۔۔۔پیچھے سے کلدیپ بھی ہنس پڑی ۔۔۔اس کے ہاتھ سمرن کے سینے پر تھے ۔۔۔جسے وہ پھیرتی ہوئی نیچے پیٹ تک لے کر جا رہی تھی۔۔ہاتھ ہٹا کر اس نے سمرن کے چہرے کوتھوڑا موڑتے ہوئے میرے چہرے پر جما دیئے ۔۔۔۔پنکھڑی سے مجھ سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔اب کی بار میری برداشت کم پڑ گئی ۔۔۔میں اس کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر پیچھے ہٹنے سے روکا۔۔۔۔اور پھر بھرپور طریقے سے چومنا شروع کیا ۔۔۔۔چومنے کے بعد چوسنا شروع کر دیا ۔۔۔میں نے اسے سانس لینے کو موقع بھی نہیں دیا ۔۔۔اور کئی منٹوں تک مستقل چوستا رہا۔۔۔۔ا س کی آنکھیں کچھ پھیلیں ۔مجھے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی ۔۔۔اور پھر ناک سے ہلکے ہلکے سانس کھینچنے لگی۔۔۔۔۔میں اسی طرح پوری شدت سے ہونٹ چوسے جا رہا تھا۔۔۔جب تک میرادل نہیں بھرا میں پوری شدت سے چوستا رہا ۔۔۔۔۔سمرن کی شرم اب ختم ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔اپنی باجی کو دیکھنے کے بعد اس کی شوخی واپس آتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔ایک ہاتھ میرے ہتھیار کو لگا تو میں نے کلدیپ کو دیکھا ۔۔۔وہ مسکرا رہی تھی۔۔۔۔میرا ہتھیار سمرن کی ٹانگوں میں سے اس کی طرف جھانک رہا تھا۔۔۔۔۔کلدیپ جہاں سمرن کو پیچھے سے چوم رہی تھی ۔۔اب اسے بھی ہاتھوں میں تھامتی ہوئی دبانے لگی۔۔۔۔۔
میں نے اپنی زبان نکالتے ہوئے سمرن کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی ۔۔۔وہ سمجھی شاید اس بھی ہونٹوں سے چوسنا ہے ۔۔وہ زبان کی نوک پر ہی ہونٹ دبانے لگی۔۔۔۔میں نے تھوڑا زور لگایا ۔۔اور اسکے دانتوں کو کھولتا ہوا زبان اندر لے گیا۔۔اور پھر کچھ دیر رکا ۔۔۔سمرن نے اب چوسنے کی کوشش کی ۔۔۔اور اسے کامیابی بھی ہوئی ۔۔۔مجھے بےحد مزا آیا تھا۔۔۔
اور اب تو اخیر ہی ہو گئی ۔۔۔اس نے چوستے ہوئے اپنی ٹانگ اٹھاتے ہوئے میرے اوپر رکھنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔جیسے غیر ارادی طور پر ہوا ہو۔۔یا پھر جان بوجھ کر۔۔۔مگر میں نے اپنی ٹانگ کو آگے بڑھا کر درمیان میں رگڑنے لگا۔۔۔ہتھیار بھی یہیں سے ہو کر کلدیپ تک پہنچ رہا تھا ۔۔۔
سمرن اب کسنگ اور چوسنے میں ایکسپرٹ ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔اس کی فطری نزاکت ان دونوں میں بھی ظاہر ہونے لگی۔۔۔وہ بڑے انداز اور نزاکت سے چومنے اور چاٹنے کا کام کر رہی تھی ۔۔ادھر کلدیپ اٹھ کر باہر جانے لگی۔۔ایک چادر اس نے اوڑھی تھی ۔۔میں نے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔۔اور پھر سمرن کو سیدھا کرتے ہوئے اس کے اوپر جھک گیا۔۔۔۔چھوٹے چھوٹے ابھار چومنے اور چوسنے کی وجہ سے لال ہو نے لگے تھے ۔۔۔مگر ابھی بھی کسر باقی تھی ۔۔۔جو میں پوری کرنے لگا۔۔۔۔ایک ابھار کے نپل کو اپنی انگوٹھے اور انگلی کی مدد سے پکڑا ۔۔۔۔اور دوسرے پر اپنے ہونٹ رکھ کر چوسنے لگا۔۔۔۔
اب کی بار انداز مختلف تھا ۔۔۔۔۔اور شاید سمرن کور نے بھی پہلی مرتبہ یہ انداز دیکھا۔۔۔۔۔اس کے منہ سے بے اختیار سسکی نکلی۔۔۔آواز کی لہریں کچھ دیر اس کمرے میں گردش کرتی رہیں ۔۔۔۔۔اور پھر دوسری سسکی اس سے بھی زیادہ شہوت انگیز تھی۔۔۔۔۔۔کھنکتی ہوئی آواز تھی۔۔۔۔۔جس میں مزے کے ساتھ ہلکا درد کا پہلو بھی تھا۔۔۔۔
اپنا دوسرا ہاتھ میں اس کے پیٹ پر پھیرنے لگا۔۔۔۔ناف کے سوراخ میں کچھ دیر انگلی گھماتا رہا ۔۔۔اور پھر ناف سے نیچے ہاتھ پھسلنے لگا۔۔۔۔سمرن کور ایک دم بے چین ہونےلگی۔میرے سر پر اس کے ہاتھ آگئے۔۔۔۔۔میں نے ناف سے نیچے ہلکے سے باریک بال محسوس کئے ۔۔۔اور پھر میری انگلیوں نے اس کی سیپی کو محسوس کیا تھا۔۔۔۔یہ پورا حصہ انتہائی گرم تھا ۔۔۔۔میں نے سیپی پر انگلی پھیری ۔۔۔۔۔ہلکے سے گیلے پن کا احساس ہو ا۔۔۔اور پھر مستقل انگلی پھیرنے لگا۔۔۔۔سمرن کی سسکیاں کچھ مختلف ہوئیں تھیں ۔۔۔جیسے یہاں سے الگ قسم کا مزہ ملا ہوا۔۔۔۔میں نے ایک ابھار سے اپنے ہونٹ اٹھا کر دوسرے پر رکھ دئے ۔۔اور اسی شدت سے چوسنے لگا۔۔۔۔سمرن مستقل سسکیاں بھرتی ہوئی ٹانگوں کو بھی دائیں بائیں ہلا رہی تھی۔۔۔
اتنے میں کلدیپ کمرے میں واپس آئی ۔۔۔۔اس کے ہاتھ میں ایک پیالہ تھا۔۔۔جس میں مکھن کے بڑے سے پیڑے دیکھ کر میں مسکرا اٹھا ۔۔۔۔جس لحاف کے اندر ہم نے یہ سب شروع کیا تھا وہ بیڈ کے نیچے کی طرف گر ا پڑا تھا۔۔۔۔جسموں کی گرمی میں اس کی ضرورت ہی کہاں تھی۔۔۔۔۔سمرن نے بھی حیرت سے کلدیپ کے ہاتھ کو دیکھا ۔۔۔۔کلدیپ اپنی چادر اتار کر بیڈ پر واپس آئی ۔۔۔۔اور دوبارہ سے لحاف سیٹ کرنے لگی۔۔۔۔میں بھی واپس اپنی پوزیشن پر آیا۔۔۔کلدیپ کو دیکھ کر ہاتھ بھی رکے تھے۔۔۔۔۔میں واپس اس کے ابھاروں کو چوسنے لگا۔۔۔۔۔کلدیپ اس کے برابر ہی آ کر لیٹی۔۔۔۔اس کا دودھیا جسم بھی دعوت دے رہا تھا ۔۔مگر سمرن کی کشش ادھر دیکھنے کی اجاز ت بھی نہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔میں ابھاروں کو چوسنے لگا۔۔۔۔اتنے میں کلدیپ نے مکھن کا ایک ٹکڑا اس کے سینے پر ڈالا ۔۔۔جو تیرتے ہوئے ابھار کے اوپر آنے لگا۔۔میں نے اس کا تعاقب کیا ۔۔اور عین نپل کے اوپر آ کر پکڑ لیا ۔۔۔نپل بھی ساتھ ہی میرے منہ میں آئے تھے ۔۔۔نمکین سا زائقہ محسوس ہوا ۔۔۔۔۔میرے چوسنا بھی شدید تھا ۔۔۔جس نے سمرن کی بھی کراہ نکالی تھی۔۔۔۔۔اتنے میں کلدیپ لحاف میں نیچے کی طرف کھسک گئی ۔۔۔میں نے لحاف تھوڑا پیچھے کر دیا ۔۔۔ایسے کہ کلدیپ خود تو لحاف میں تھی ۔۔۔۔۔مگر سمرن باہر ہی تھی۔۔۔۔۔کلدیپ نے اس کی ٹانگیں کھولیں تھیں۔۔۔اور درمیان میں آگئی ۔۔۔مکھن کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اس نے ناف کے اوپر اور نیچے پھیلا دئے ۔۔مکھن کی سفید ی سے ناف کے نیچے کا پورا حصہ سفید ہو گیا ۔۔۔۔نازک سی چوت کے باریک لب بھی چھپ گئے ۔۔۔کلدیپ تھوڑی اور پیچھے ہوئی۔۔اور پھر جھک کر چوسنے لگی۔۔پہلے ناف سے اور پھر۔۔تھوڑی ہی دیر میں وہ چوت کے اوپر آ گئی ۔۔۔۔۔
میں اپنے کام میں مصروف تھا۔۔۔۔ایکدم سے سمرن کی کمر اوپر اونچی اچھلی ۔۔۔۔میں نے نیچے دیکھا تو کلدیپ کو سمرن کے درمیان میں دیکھا۔۔۔۔سمرن کی سسکیاں اور تیز نکلی ۔۔۔ساتھ ہی کمر ایک مرتبہ پھر سے اچھلی ۔۔۔۔۔اور پھر کمرہ اس کی سسکیوں سے گونجنے لگا۔۔۔وہ بے خبری میں میرے بال کھینچے جا رہی تھی۔۔۔میں نے بھی اپنی طرف سے بھرپور چوسائی شروع کی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔سمرن منہ کھولے ہوئے سسکیاں بھرتی جا رہی تھی ۔۔۔اس کی ٹانگیں بار بار تڑپ کر دائیں بائیں پھیلتی ۔۔۔مگر کلدیپ ان سب سے بے خبر سکون سےزبان پھیرتی ہوئی اندر باہر کر رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کا ایک ہاتھ حرکت میں آیا ۔۔۔۔اور میری طرف آنے لگا۔۔۔۔پہلے رانوں پر پہنچا۔۔۔اور پھر میرے ہتھیار پر آ گیا۔۔۔ایسے لگا جیسے وہ دونوں کو ایک ہی وقت میں تیار کر رہی ہو ۔۔۔۔اس کےہاتھ میں کچھ مکھن باقی تھا۔۔۔جو میرے ہتھیار پر ملتے ہوئے آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔سمرن کور کی سسکاریاں اور بڑھ چکی تھی ۔۔۔اب وہ باربار کمر کو جھٹکے دئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔آنکھیں بند ہو چلی تھیں۔۔۔۔اورپھر ایک زور دار سسکاری سے اس نے کمر کو اچھالا۔۔۔اور ہلکے ہلکے لرزتی رہی ہے ۔۔۔۔کانپتے ہوئے جسم کے ساتھ اس نے پانی چھوڑا تھا۔۔۔کلدیپ نے خود کو روکا نہیں تھا۔۔۔وہ ایسے ہی زبان کو حرکت دیتی رہی تھی۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد طوفان تھما تو سمرن کور بھی تھم کر لیٹ گئی ۔۔۔اس کی آنکھوں میں گہرے سکون کی علامات تھیں ۔گہرے گہرے سانس لیتی ہوئی وہ لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔ادھر کلدیپ کا ایک ہاتھ میرے ہتھیار کی بھی مالش کر رہا تھا۔۔۔۔۔کلدیپ سمرن کے درمیان سے اٹھتی ہوئی اس کے اوپر آنے لگی۔۔۔۔سمرن بھی اب صحیح سے اپنی باجی کے بدن کو محسوس کر رہی تھی ۔۔۔کلدیپ اوپر آ کر لیٹتی ہوئی اسے چومنے لگی ۔۔۔سمر ن بھی جواب دینے لگی۔۔۔۔میں نے کلدیپ کی کمر کو دیکھا۔جہاں لمبے سیاہ بال بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔بھرے بھرے بدن اور گرماتی جوانی کے ساتھ وہ بھی للچا رہی تھی۔۔۔۔۔اگلے پانچ منٹ کلدیپ اور سمرن آپس میں لپٹے ہوئے ایکدوسرے سے بوس و کنار کرتے رہے ۔۔آخر میں نے کلدیپ کے اوپر ہاتھ رکھا۔۔۔اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔سمجھ تو گئی تھی۔۔۔اور پھر سائیڈ پر ہوتی ہوئی اس کے برابر میں جا لیٹی۔۔۔۔میں لحاف اٹھاتے ہوئے سمرن کے درمیان آیا۔۔نازک سی پنڈلیوں پر پائل بندھی ہوئی تھی ۔۔سمرن بھی مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔میں نے مکھن اٹھاتے ہوئے اچھےسے ہتھیار پر لگا دیا ۔۔۔۔کلدیپ سمرن کو چومتے ہوئے اس کا دھیان ہٹا رہی تھی۔۔۔مجھے دیکھتے ہوئے آنکھوں سے اشارہ کرنے لگی۔۔۔جیسے خیال رکھنے کا کہہ رہی ہو۔۔۔۔اور سمرن پر جھکے ہوئے ایک ہاتھ نیچے لے جا کر چوت پر پھیرنے لگی۔۔۔۔۔۔میں نے سمرن کی ٹانگوں کو موڑتے ہوئے تھوڑا سا اٹھا دیا ۔۔۔۔۔۔۔اور ٹوپے کو اوپر رکھتے ہوئے رگڑنے لگا۔۔۔کلدیپ کا ایک ہاتھ بھی وہیں تھا۔۔اس نے اوپری طرف کے چوت کے دانے کو مسلنا شروع کردیا۔۔۔
میں نے خود کو ایڈجسٹ کیا۔۔۔اور ٹانگوں کو تھوڑا اور کھول دیا۔۔۔ٹوپے کو رکھتے ہوئے میں نے دباؤ بڑھایا ۔۔۔۔سمرن تھوڑی ہلی ۔۔۔میں مستقل دباؤ بڑھاتے ہوئے آگے کو ہوا ۔۔سختی سے ہتھیار کو پکڑے ہوئے میں اوپر یا نیچے پھسلنے سے روک رہا تھا۔۔۔۔دونوں لب کھل رہے تھے ۔۔ٹوپا بھی جگہ بنا نے لگا۔۔۔۔اور ایک ہلکے سے جھٹکے سے اندر جا رکا۔۔۔۔۔سمرن کے منہ سے نکلنے والی کراہ کافی بلند تھی۔۔۔اووئی۔۔۔۔۔۔کی آواز کمرے میں گونجی ۔۔۔کلدیپ اس کے اوپر جھکی ایک ہاتھ چوت پر مسل رہی تھی ۔۔اور خود اس کے چہرے اور مموں کو چومتے جارہی تھی۔۔۔اس نے سمرن کی چوت پر اپنے ہاتھ کو اٹھا کر مجھے رکنے کاکہا۔۔۔اور کچھ دیر تک اسے تسلیاں دیتی رہی ۔۔۔۔میں نے کچھ دیر رک کر آگے بڑھنا شروع کیا۔۔۔ہتھیار آگےسےا ور زیادہ موٹا اور پھیلا ہوا تھا۔۔۔۔اسی طرح پھنسے ہوئے آگے جانے لگا۔۔۔سمرن ابھی تک کنواری ہی تھی۔۔۔۔اور آگے اس کی برداشت کا امتحا ن بھی ہونے والا تھا۔۔۔میں ہلکے ہلکے سے دباؤ بڑھا ر ہا تھا۔۔۔ کہ سمرن ایک دم تڑپی ۔۔۔اس کے منہ سے ایک تیز چیخ نکلی ۔۔۔۔اس کا جسم ڈھیلا پڑنے لگا۔۔۔کلدیپ مستقل اسے تسلیاں دیتی ہوئی چومے جارہی تھی۔۔۔میں کچھ دیر رکا رہا۔۔۔۔۔سمر ن روتے ہوئے کلدیپ کو مجھے ہٹانے کا کہہ رہی تھی۔۔اور کلدیپ بے تحاشہ اسے چہرے پر چومے جارہی تھی۔۔۔اس کے مموں کو نپلز کو مسلے جا رہی تھی۔۔۔۔۔سمرن کا رونا دھونا کم ہونے لگاتھا ۔۔۔۔اور اندر پھنسا ہوا ہتھیار اسے محسوس ہونے لگا۔۔جو رکا ہوا اسی کے اشارے کا منتظر تھا ۔۔
میں نے سمرن کی آواز کو ہلکے ہوتے ہوئے محسوس کیا ۔۔۔تو ہلکے سے ہلا ۔۔۔مگر ڈری سہمی سمرن ایک مرتبہ پھر چلا اٹھی۔۔۔اور رکنے کا کہنے لگی۔۔میں پھر کچھ دیر تک رکا ہی رہا جب تک وہ نارمل نہیں ہو گئی۔۔۔
جب مجھے کلدیپ نے ہلکے سے بڑھنے کااشارہ کیا تو میں نےہلکی سی وائیبریشن شروع کردی۔۔۔۔سمرن سمرن ساتھ ساتھ کراہنےلگی۔۔میں ہلانے کے ساتھ ساتھ آگے بھی بڑھنے لگا۔۔۔کچھ دیر میں سمرن کا ڈر اور خوف کافی حدتک ٹھیک ہو چکا تھا۔۔۔درد بڑھنے کے بجائے کمی کی طرف جا رہا تھا۔جن میں کلدیپ کی کوششوں کا بھی کافی دخل تھا۔۔۔میں اسی طرح ہلتے ہلتے ہتھیار کو باہر نکلانے لگا۔۔۔۔سمرن بھی ساتھ ساتھ اسی انداز میں ہل رہی تھی۔۔۔میں نےہتھیار کو باہر نکال لیا۔۔۔اور صاف کرتے ہوئے دوبارہ مکھن مالش کرکے واپس چوت کے لبوں پر رکھ دیا۔۔۔۔سمرن اب ہلکی سی اٹھتی ہوئی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ہتھیار کو اس نے بھی حیرت سے دیکھا اور پھر کلدیپ کو دیکھنے لگی جیسے تصدیق کرنا چاہ رہی ہو۔۔۔۔اس کی پیشانی پر پسینہ کے قطرے چمک رہے تھے۔۔۔۔۔
میں واپس ٹوپے کو رکھتے ہوئے دباؤ ڈالے بڑھنے لگا۔۔۔۔سمرن اسی طر ح دیکھ رہی تھی۔۔۔کسک رہی تھی۔۔۔اور کلدیپ اس کے ساتھ بیٹھی اس کے سینے پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔۔۔۔ہتھیار اسی طرح پھنستا ہوا اندر بڑھا چلا آ رہا تھا۔۔۔۔پھسلن کے باعث کوئی دقت تو نہیں تھی۔۔مگر دائیں بائیں چوت میں پھنسے ہوئے وہ سمرن کو تڑپائے جا رہا تھا۔۔۔میں وہیں واپس تک آ کر رکا ۔۔۔اور ہلکے ہلکے سے دھکے شروع کر دئیے ۔۔۔۔ہلکی پھلکی سمرن کور کا پورا جسم بھی ایسے ہی حرکت میں ہلنے لگا۔۔۔میں نے اس کی سیدھی ٹانگ کو دائیں طرف کیا ۔۔اور بائیں والی کو اوپر اٹھا دیا۔۔۔ساتھ ہی دھکے جاری رکھے ۔۔۔۔سمرن کی منہ سے سسکاریاں بہہ نکلی تھیں۔۔۔۔۔ابھی کچھ دیر ہی گذری تھی ۔۔۔کہ ایسے ہی سسکتے ہوئے اس نے جھٹکے کھائے اور پانی چھوڑنے لگی۔۔۔
میں ہتھیار کو باہر کھینچتے ہوئے تھوڑا سائیڈ پر ہوا ۔۔۔سمرن کی ٹانگ واپس رکھتے ہوئے اسے سائیڈ پر کیا ۔۔۔۔ا ور کلدیپ کی طرف آ گیا۔۔۔اس کی ٹانگیں میرے ہاتھوں میں آئی ۔۔اور میں نے اٹھاتے ہوئے اس اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔صحت مند رانیں میرے بازؤوں میں تھی۔۔۔میں اس کو پورا اٹھاتے ہوئے اوپر جھکنے لگا۔۔۔ہتھیار ویسے ہی تنا ہوا تھا۔۔۔جو سیدھا اس کی ٹانگوں کے درمیان لہرا رہا تھا۔۔۔کلدیپ کو چومنے کے لئے میں آگے کی طرف جھکتا گیا۔۔۔۔درمیان میں اس کی ٹانگیں بھی آخری حد تک اوپر کو لگ چکی تھیں ۔۔۔ادھر میں نے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کی ۔۔۔ادھر ٹوپے نے کلدیپ کی چوت پر دستک دے ڈالی۔۔
میں نے زور دیتے ہوئے ٹوپے کو اندر اتار ا۔۔۔۔اور پھر ایک ہی جھٹکے سے اندر گھسا دیا۔۔۔۔۔کلدیپ کے منہ سے بھی ویسے ہی کراہ نکلی ۔۔۔آہ۔۔۔۔سس۔۔۔۔۔جسے سمرن نے حیرانگی سے سنا ۔اور اپنی باجی کو اس پوزیشن میں دیکھنے لگی۔۔۔۔۔میں گھسانے کے بعد رکا نہیں بلکہ دھکے مارنے شروع کر دیا۔۔۔۔۔جس کا جواب بھی کلدیپ نے سسکاریوں کی شکل میں دیا۔۔۔۔۔وہ میرے نیچے دبی ہوئی تھی۔۔۔میں کلدیپ کے ہونٹ چومتے ہوئے مستقل دھکے دئے جا رہا تھا۔۔۔۔۔دھکوں کے زوردار ایفیکٹ نے بیڈ کو ہلنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔۔میں پچھلے ایک گھنٹے سے سمرن کے ساتھ مصروف تھا۔۔ایک دباؤ سا جسم میں اکھٹا ہونے لگا۔۔۔پھر سمرن بھی جلدی فارغ ہوئی ۔۔اور اب یہ سارا غصہ کلدیپ پر نکلنے لگا۔۔۔میں بغیر رکے دھکےپر دھکے دینے لگا۔۔۔۔کلدیپ کی منہ سے سسکاریاں نکل نکل کمرے میں گم ہونے لگیں ۔
سمرن ہمیں دیکھ رہی تھی۔۔۔میرے جھٹکے کچھ اور تیز ہوئے ۔۔۔۔میں اپنے پورے وزن کے ساتھ جھٹکے مار رہا تھا۔۔۔کلدیپ کی بس ہو نے لگی ۔او ہ ہ ۔۔۔آہ۔۔۔۔بڑھتی جا رہی تھی۔۔اس نے مجھے اشارہ کیا۔۔میں پیچھے ہٹا اور اس کی ٹانگیں نیچے رکھتے ہوئے گھوڑی بننے کا کہا ۔۔۔۔کلدیپ سمرن کی طرف خود کو موڑتی ہوئی گھوڑی بننے لگی۔۔میں پیچھے سے آیا اور چوتڑوں کے درمیان ہتھیار پھنسا کر پھر سے دھکے شروع کر دئے۔۔۔۔۔اسپیڈ پہلے والی ہی رکھی تھی۔۔۔نیچے اس کے ممے لہراتے ہوئے جھول رہے تھے ۔۔۔سمرن کبھی اس کو دیکھتی اور کبھی مجھے دیکھتی ۔۔۔۔جو پورے زور و شور سے اس کے باجی کی سسکیاں نکلوا رہا تھا۔۔۔میں نے جھٹکے تیز کرنے شروع کر دئے ۔۔۔۔۔کلدیپ بار بار آگے کی طرف جاتی ۔۔۔میں اس کی کمر پکڑے دھکے ماری جا رہا تھا ۔۔۔۔یہ دھکے اسے آگے کی طرف دھکیلتے ہوئے لٹا نے لگے تھے ۔۔۔اور پھر ایسے ہی ایک تیز دھکے سے وہ سمرن کے اوپر گری ۔۔۔۔۔میں نے ابھی اسپیڈ اور تیز ہی کی تھی ۔۔۔۔۔کہ کلدیپ بھی اوہ۔۔۔۔آہ۔۔۔۔کرتی ہوئی چھوٹ گئی ۔۔۔۔سمرن کو دیکھتے ہوئے وہ بھی کافی سے زیادہ گرم ہوئی تھی ۔۔اسی لئے جلدی ہی اپنی منزل کو پہنچ گئی۔۔۔جبکہ میں اسی طرح دوبارہ سمرن کی طرف بڑھا ۔۔۔۔مگر وہ کلدیپ کو دیکھتی ہوئی کچھ پریشان لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے سمر ن کی ٹانگیں پھیلا دیں ۔۔۔۔۔اور دوبارہ سے پوزیشن سمبھال لی ۔۔۔۔
سمرن خوف ذدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ہتھیار کلدیپ کے پانی سے گیلا ہوا تھا۔۔۔میں نے ٹوپے کو رکھتے ہوئے دھکا دیا ۔۔۔۔۔سمرن کے منہ سے بے اختیار آ ہ ہ۔۔اوئی ئی۔۔۔۔۔نکلی ۔۔ٹانگوں کو دائیں بائیں پھیلائےہوئے میں نے خود کو پنجوں پر لے آیا۔۔۔۔۔اور دوبارہ سے دھکے دیتے ہوئے اسپیڈ تیز کرنے لگا۔۔۔۔سمرن کے لئے یہ اسپیڈ اور یہ مزہ دونوں نئے تھے ۔۔۔۔۔بھاری بھرکم ہتھیار تباہی مچاتا ہوا ایکشن میں تھا۔۔۔۔سمرن کچھ دیر تو ہونٹ بھینچ کر آواز روکنے کی کوشش کر نے لگی۔۔۔۔۔۔مگر جیسے جیسے اسپیڈ بڑھ رہی تھی ۔۔۔ا س کی حالت خراب ہوتی جارہی تھی۔۔۔رنگ لال سرخ ہوتا گیا۔۔۔اسپیڈ بڑھ کر تیز ہوئی ۔۔۔۔۔اور سمرن کا منہ کھل گیا۔۔۔۔سس۔۔۔ائی۔۔۔آہ ہ۔۔۔۔ ۔اس نے اپنے ہاتھوں کو منہ پر رکھتے ہوئے آواز بند کرنے کی کوشش کی ۔۔مگر دھکوں سے ہاتھ خود ہی ہٹ جاتا ۔۔۔اور آواز باہر آجاتی ۔۔۔۔دھکے بڑھتے جا رہے تھے ۔۔۔۔سمرن کا پورا وجود لرزش میں تھا۔۔۔کانپ رہا تھا۔۔اور منہ سے آہیں نکلے جارہی تھیں ۔۔۔۔میں نے اسپیڈ کچھ اور بڑھائی ۔۔۔مجھے لگا یہ میں بھی فارغ ہونے والا ہوں۔۔۔۔۔اسپیڈ طوفانی کرنے کا بہت دل چاہا ۔۔۔۔مگر سمرن کی حالت ایسی نہیں تھی ۔۔۔اور کلدیپ تو پہلے ہی نڈھال لیٹی ہوئ ہمیں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
سمرن کی آوازیں بتا رہیں تھی کہ وہ پھر سے فارغ ہونے والی ہے ۔۔۔۔غیر ارادی طور پر اس کا ہاتھ اپنے سینے پر اور نیچے آنے لگا۔۔۔۔۔۔آہیں اور سسکیاں اسی طرح جاری تھیں ۔۔۔۔۔۔میں نےجھٹکے تھوڑے ہی تیز کئے ۔۔۔۔۔۔سمرن کی آہیں اور بلند ہوئیں ۔۔۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں دونوں ملاتے ہوئے اوپر کی طرف اس کے سینے سے لگا دیں ۔۔۔۔۔۔۔اور دھکوں کو جھٹکوں کی شکل میں لے آیا ۔۔۔۔نازک سمرن کور جھٹکوں کو برداشت کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔اس کا جسم بھی پھسلتا ہوا آگے کو جاتا ہے ۔۔میرے جسم میں بھی تناؤ بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور پھر یہ تناؤ بڑھتے ہوئے نیچے کا سفر کرنے لگا۔۔۔سمرن بھی بے چین تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔جھٹکے ویسے ہی تھے۔۔۔۔۔کہ سمرن کی اونچی آہ نکلی ۔۔۔۔اور پھر چوت میں گیلے پن کی برسات ہوئی ۔۔۔میں نے ایک دوجھٹکے اور مارے ۔۔۔۔اور پھر فوارہ چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔جسم کا تناؤ ایکدم سے نکلا ۔۔۔۔۔اورمیں ہلکا پھلکا ہوا ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد ہم تینوں ایسے ہی ساتھ ساتھ لیٹے سونے کی کوشش کرنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

قسط نمبر ۔۔۔ 3 ۔۔۔۔٭٭٭٭٭
یہ کرنل راٹھور کا آفس ہے ۔جہاں راٹھور اس وقت بے چینی سے ٹہل رہا ہے ۔۔۔بلند قامت ، اپنے ایجنسی میں پلاننگ کرنے میں ماہر سمجھا جانے والا ۔پڑوسی ملک میں کامیابی سے کئی مشن سرانجام دے چکا تھا۔۔میجر راجیش کی موت کے بعد یہاں اپوائنٹ ہوا تھا۔۔ابھی وہ میجر راجیش کی رپورٹ کو ہی فالو کر رہا تھا کہ شملے میں ائر پورٹ حملے کا پتا چلا اور وہ وہاں روانہ ہو گیا۔۔۔۔۔ وہ کل ہی یہاں شملے سے واپس پہنچا تھا۔۔۔ڈرونز کے اسٹیشن میں ہونے والے اس بلاسٹ نے ائیرپورٹ کے اس حصے کو ہی غائب کر دیا تھا۔۔۔خوش قسمتی سے شوٹنگ والے اس دھماکے سے محفوظ رہے ۔۔۔۔۔گونج دار آواز پر تمام لوگ پہلے تو یہی سمجھے کہ یہ بھی کسی شوٹنگ کا حصہ ہے ۔۔مگر ڈائریکٹر نے خود پولیس کو فون کیا ۔۔۔اتنی دیر میں طیارے بھی واپس اتر گئے ۔۔اور ائیرپورٹ کی سیکورٹی والے بھی پہنچ گئے ۔۔۔۔اور پھر پتا چلا کہ تخریب کاروں کی کاروائی ہے ۔۔۔شوٹنگ بند ہو چکی تھی ۔۔مگر کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔پوجا عاصم کے لئے پریشان تھی ۔۔اگر وہ خود طیارے سے کو دا تھا تو اب تک اسے آ جانا چاہئے تھا۔۔۔۔پولیس نے سب کو روک کر رکھا تھا۔۔۔اور را کے اسپیشل آفیسر کے آنے پر تفتیش شروع ہوئی ۔۔۔کرنل راٹھور کا پہلا سوال ہی یہی تھا کہ آپ کی ٹیم میں سے کون کون سے ممبرز غائب ہیں ۔۔۔۔مگر ڈائریکٹر کی اپنی ٹیم تو پوری ہی تھی ۔۔۔اس نے جلدی سے کل رات دو نوجوان لڑکوں کی آمد کا بتا یا کہ انہیں میں سے ایک نے یہ اسٹنٹ کیا ۔۔اور اس کے فورا بعد سے وہ دونوں غائب ہیں ۔۔۔۔جلد ہی پوجا کی بھی پیشی ہو گئی ۔۔۔اس نے جلد ہی بتا یا دیا کہ وہ دونو ں اسے ٹورسٹ کمپنی میں گائیڈ کے طور پر ملے تھے ۔۔۔۔راٹھور نے دونوں لڑکوں کی تصویر یا ویڈیو کا پوچھا ۔۔مگر وہ بھی کسی کے پاس نہیں تھی ۔۔اسٹنٹ والا بندہ تو آل ریڈی میک اپ میں تھا۔۔۔اور دوسرے پر کسی کا فوکس بھی نہیں تھا۔۔۔۔آخر راٹھور وہاں سے پوجا اور دوسرے لوگوں سے اسکیچ بنوا کر لدھیانے واپس آ گیا۔۔۔اور اب ایک ٹیم اس نےٹورسٹ کمپنی بھیج دی تھی۔۔۔
ٹہلتا ہوا راٹھور جب تھکنے لگا تو اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔اس کے سامنے کل لدھیانے میں ہونے والے شوٹ آؤٹ کی رپورٹ پڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔جہاں پہلے پولیس کے کچھ لوگوں کو باندی بنا گیا ۔۔اور پھر انہیں باہر بھیج کر پچھلی طرف سے فرار ہو گئے۔۔۔۔را کے لوگوں نے جب پچھلی طرف کا معائنہ کیا تو اندازہ ہو گیا کہ یہاں سے ایک جیپ انہیں لے کر گئی ہے۔۔۔ اور پھر ایک اطلاع پر ایک گھر میں جیپ کی موجودگی کی خبر ملی۔۔۔چھاپا مارا گیا تو پتا چلا کہ وہ گھر بھی خالی ہے ۔۔۔۔۔تمام اسٹیشن اور بس اڈوں پر اس نےاپنے بندے بھیج دئے تھے ۔جو اسکیچ والوں کو تلاش کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔آج اسے لدھیانے کالج میں بھی دنگے کی اطلاع مل چکی تھی۔۔۔۔اور اب وہ ان تینوں کےواقعات کی کڑیا ں ملانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ۔۔اس کے سامنے ٹیبل پر ایک بڑے سے پیپر پر تینوں واقعات کی ٹائمنگ اور شواہد لکھے ہوئے تھے ۔۔اور وہ انہیں جوڑتے ہوئے لنک تلاش کر رہا تھا۔
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی ۔۔اور پھر اس کا اسٹنٹ اندر داخل ہوا ۔۔ یہ گپتا تھا۔۔۔اور شوٹ آؤٹ والے معاملے کی تحقیق کر رہا تھا۔۔۔اندر داخل ہو کر اس نے نمستے کہا ۔۔اور ایک فائل سامنے رکھ دی۔۔۔۔سر وہ جیپ چوری کی تھی ۔۔۔۔پچھلے کئی دنوں سے اس جیپ کی چوری کی ایف آئی آر درج تھی ۔۔۔۔اس گھر میں چند لوگ داخل ضرور ہوئے تھے ۔۔۔مگر فورا ہی وہاں سے نکل بھی گئے ۔۔یہ اس رپورٹر کے بیان کی کاپی ہے ۔۔ساتھ ہی اس کا بنایا ہوا اسکیچ ہے ۔۔۔اس کے ساتھ جو نوجوان تھا۔راجہ نام بتایا تھا۔۔۔۔وہ اندر گیا تھا۔۔اور پھر فرار ہونے والوں کے ساتھ ہی نکل گیا۔۔۔۔ راٹھور نے فائل کھولی اور اسکیچ کو دیکھنے لگا۔یہ اسکیچ شملے والے اسکیچ میں سے ایک سےکافی حد تک مشابہت رکھتا تھا۔۔اس کے چہرے پر جوش کے آثار آگئے ۔۔۔۔اس نے گپتا کو دونوں اسکیچ پکڑائے اور کہا کہ دونوں کو میچ کر کے مزید ڈیفائن کر کے لے آؤ ۔۔۔اور باہر کافی کا بھی کہہ دو۔۔۔۔
کچھ دیر میں کافی اس کی ٹیبل پر تھی۔۔۔گپتا کچھ دیر بعد آیا اور اسکیچ سامنے رکھ دئے ۔۔۔۔دونوں اسکیچ کی مماثلت کو اکھٹا کر کے تیسر ا اسکیچ بنایا گیا تھا۔۔۔۔راٹھور نے گپتا کو نیا اسکیچ تمام لوگوں میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس اسٹیشن بھی بھجوانے کا آرڈر کردئے ۔۔۔اور یہ ہدایت دی کہ گرفتار کرنے کے بجائے فورا یہاں پر اطلا ع کی جائے ۔۔۔ساتھ ہی اسٹیشن اور اڈوں پر تعینات اپنے لوگوں میں بھی یہ تصویر بھجوانے کا کہہ دیا۔۔۔۔۔شام ہو نے لگی تھی ۔۔۔۔اس نے گپتا کو کسی ایمرجنسی میں بلوانے کا کہہ کر اپنے کوارٹر کی طرف چلا گیا۔۔۔پچھلے کئی دنوں سے وہ سفر میں تھا۔۔اور نیند کی شدید کی کمی تھی ۔۔۔یہاں آفس کی بلڈنگ میں ہی تمام لوگوں کو کوارٹرز دئے گئے تھے ۔۔۔۔۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلی صبح بڑی دلکش تھی ۔۔۔۔سمرن اور کلدیپ دونوں اٹھ چکی تھیں ۔۔۔۔میں جلدی سے اٹھا ۔۔۔سامنے ہی ایک سوٹ استری ہوا رکھا تھا ۔۔میں سوٹ اٹھاکر باتھ روم میں چلا گیا ۔۔۔۔ہلکے نیم گر م پانی کے نیچے اگلا پلان سوچنے لگا۔۔۔۔عاصم ممبئی نکل گیا ہوگا۔۔۔اور آج مجھے بھی جانا تھا۔۔۔میرے ذہن میں جیوتی کا خیال آیا ۔۔۔اس سے فون پر بات بھی نہیں کی تھی ۔۔۔۔اور باقی دولت بھی اسی کے پاس رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔میں نے سوچا کہ ممبئی کے لئے نکلنے سے پہلے راج گڑھ کا ایک چکر لگا لوں ۔۔۔۔۔۔ ممبئی میں پیسوں کی ضرورت بھی ہوگی ۔۔اورجیوتی سے ایک ملاقات بھی ہو جائے گی ۔۔۔۔انہیں سوچوں میں سوٹ پہنے باہر آیا ۔۔۔۔سوٹ مجھے کچھ تنگ تھا ۔۔مگر اس فٹنگ میں اور بھی اچھا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔میں باہر آیا تو رات کے کھانے کی طرح ناشتہ بھی برآمدے میں لگ رہا تھا۔۔۔میں بھی آکر چارپائی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔سمرن میرے سامنے نہیں آئی ۔۔کلدیپ اور بے بے ہی ناشتہ آ کر رکھ رہی تھیں۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ناشتہ شروع ہوکر ختم ہو گیا۔۔۔۔میں نے کلدیپ کو بتایا کہ مجھے آج نکلنا ہے ۔۔۔اس نے چونکتے ہوئے دیکھا ۔۔۔میں نے کہا کل والے واقعات کے بعد یہاں رہنا ٹھیک نہیں ہے ۔۔اس لئے میں عاصم کے پاس جا رہا ہوں ۔۔۔جیسے ہی ٹائم ملے گا میں چکر لگا لوں گا۔۔۔۔کلدیپ مطمئن ہو گئی تھی ۔۔۔ناشتہ کے بعد چائے آئی تھی ۔۔۔۔میں چائے پی کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔بائک کی چابی کلدیپ کو دے دی کہ عاصم کا کوئی بندہ آ کر بائک لے جائے گا۔۔۔۔۔۔بے بے سے دعائیں لیں ۔۔۔اور دروازے کی طرف چلا ۔۔میرا ارادے بس اڈے جا کر راج گڑھ کی بس لینے کا تھا۔۔۔کلدیپ نے کافی سارے پیسے میری جیب میں ٹھونس دئے تھے ۔۔۔دروازے تک پہنچا تھا۔۔۔۔تب سمرن پیچھے سے آئی تھی ۔۔۔۔شرم سے اس کا گال سرخ ہو رہے تھے ۔۔۔۔جیوتی اور وہ دونوں ساتھ کھڑے تھے ۔۔میں نے آگے بڑھ کر سمرن کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔۔۔جیوتی مجھ سے لگی کھڑی تھی ۔۔۔۔دونوں سے مل کر باہر نکل آیا ۔۔۔۔۔۔یہ چاہتیں بھی بڑی عجیب ہوتیں ۔۔بالکل وارداتوں جیسی ۔۔۔اچانک اور جان لیوا۔۔۔اور آج کل کے دور میں سچی محبتیں کون کرتا ہے ۔۔۔۔۔میں انہیں باتوں میں چلتا ہوا مین روڈ تک آ گیا ۔۔۔اور ٹیکسی کو روکتے ہوئے اڈے جانے کا کہا۔۔۔۔۔اڈے تک پہنچ کر اسے کہا کہ مجھے راج گڑھ والی بس پر بٹھا دے میں یہاں نیا ہوں ۔۔۔۔۔ٹیکسی والے نے مجھے بس تک پہنچا دیا تھا ۔۔۔میں ٹکٹ لے کر بس پر چڑھ گیا۔۔۔۔۔یہاں سے چار گھنٹے کا فاصلہ تھا ۔۔۔۔مجھے جیوتی کا ایڈریس تو بھولا ہوا تھا ۔۔مگر اس کا نمبر یاد تھا۔۔۔۔۔۔سوچا کہ راج گڑھ پہنچ کر کال کرتا ہوں ۔۔۔۔دوپہر شروع ہورہی تھی جب میں راج گڑھ پہنچا ۔۔۔۔۔یہیں پر عاصم کی پرانی کھٹارا بائک پر میں گھوما تھا۔۔۔۔۔میں نے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے موبائل کے لئے شکار ڈھونڈنے لگا۔۔۔۔۔پھر کچھ سوچ کر ایک دکان والے کے پاس گیا اور اسے پیسے دے کر ایک کال کرنے کے لئے موبائل مانگا۔۔۔یہ چوری چکاری میں مجھے کوئی خاص مہارت نہیں تھیں ۔۔۔پکڑا جاتا توا لگ کہانی بنتی ۔۔۔اس لئے سکون سےموبائل لے جیوتی کو کال ملائی ۔۔۔
حسب توقع میری آواز سننے کے بعد خاموشی چھا چکی تھی ۔۔۔اور پھر اس کی خوبصورت آواز سنائی دی ۔۔۔"کہاں ہو راجہ ۔۔۔" ۔۔
میں نے اسے بتایا کہ میں راج گڑ ھ میں ہوں ۔۔۔۔اور دکان والےسے ایڈریس پوچھ کر اسے بتا دیا۔۔۔۔۔اس نے فون پر ہی بھا گ دوڑ شروع کر دی تھی ۔۔گارڈ کو کار نکالنے کی آواز مجھ تک بھی آئی ۔۔میں نے فون بند کر دیا۔۔اور دکان سے باہر آ گیا ۔۔۔۔دس منٹ میں وہ میرے سامنے تھی ۔۔۔۔۔بلیک ساڑھی میں ۔۔۔۔پہلے سے زیادہ شگفتہ اور خوبصورت دکھ رہی تھی ۔۔۔روشن سیاہ آنکھوں میں شوق اور حسرت کروٹ لے رہا تھا ۔۔۔میں گاڑی کی طرف بڑھا اور پچھلی سیٹ پر جا بیٹھا ۔۔۔۔ڈرائیور نے گاڑی واپس گھمادی ۔۔۔۔ جیوتی اور میں پچھلی سیٹ پر ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔میرے ہاتھوں کو تھامتی ہوئی وہ دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔گاڑی اس کے عالیشان بنگلے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔کار کا دروازہ کھول کر اس نے مجھے باہر آنے کا کہا ۔۔۔میں باہر آیا ۔اور اس کے پیچھے چل پڑا ۔۔۔۔گھر کسی محل سے کم نہیں تھا ۔۔۔اورمجھے لئے اپنے بیڈ روم کی طرف ہی گئی تھی ۔۔۔میں کمرے میں داخل ہو کرچاروں طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔۔سرخ رنگ سے انٹیرئیر سجا ہوا تھا۔۔۔۔۔میں گھوم پھر کر کمرے کے جائزے لے رہ تھا ۔۔۔جیوتی دروازہ بند کر دوڑتی ہوئی آئی تھی ۔۔۔۔اور مجھے لیتی ہوئی بیڈ روم پر گری تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے اسے تھاما ۔۔۔خود میں سمیٹا ۔۔۔۔اور پھر بوسوں کی ایک بارش تھی ۔۔۔ شدت تھی ۔۔۔۔دیوانہ پن تھا۔۔۔میں بھی بھرپور جواب دینے لگا۔۔۔۔اس کی ساڑھی کب کی کھل چکی تھی ۔ ۔۔۔گوری رنگت آنکھوں کو چندھیا رہی تھی ۔۔۔۔اور نرم و ناز ک بدن جیسے گھلتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔میں نے کروٹ لے کر اسے نیچے لٹایا اور خود اوپر آیا ۔۔اب کی بار حملہ میری طرف سے تھا ۔۔۔سانسوں سے نکلتی پھنکاروں میں چہرے کا کوئی حصہ نہیں بچا تھا جو باقی رہ گیا ہو۔۔۔۔سب جگہ میرے ہونٹ نے نشانیاں ثبت کی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔میری شدت سے اسے کچھ سکون ملا تھا۔۔۔کچھ تسلی ہوئی تھی ۔۔۔۔جبھی وہ بولی ۔۔اچھا ابھی رکو ۔۔۔میں کچھ پینے کو لاتی ہوں ۔۔۔میں نے آخری بوسہ دیتا ۔۔۔اور سائیڈ پر لیٹ گیا ۔۔جیوتی اٹھ کر باہر جانے لگی ۔۔۔۔ساڑھی لپیٹنے کی کوشش اس نے نہیں کی تھی ۔۔۔شاید کوئی اور بنگلے میں نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بیڈ پر ہی لیٹا ہوا تھا ۔۔۔رات کی ادھوری نیند اور صبح کے بس کے سفر نے تھکا وٹ دے دی تھی ۔۔۔جیوتی واپس آئی تو جگ میں فریش جوس بنا ہوا تھا۔۔۔جوس دے کر وہ مجھے سے گزارے ہوئے دنوں کا پوچھنے لگی ۔۔۔کہاں رہے ۔۔کیسے رہے ۔۔۔۔میں نے مختصرا کہانی سنا دی ۔۔۔۔جو مشن سے ہٹ کر باقی سب کچھ پر مشتمل تھی ۔۔ ۔۔کلدیپ کے لئے دوسری کہانی تھی ۔۔اور جیوتی کے لئے دوسری ۔۔۔
جیوتی نے کھانا کا پوچھا ۔۔۔۔پھر خود ہی بولی کے چلو کہیں باہر جا کر کھاتے ہیں ۔۔۔۔
میں نے اسے بتایا کہ مجھے شاپنگ بھی کرنی ہے ۔۔۔آگے کے سفر کے لئے میرے پاس بیگ بھی نہیں تھا۔۔۔اور میں چاہ رہا تھا کہ کم از کم میں مسافروں کے حلئے میں تو آ جاوں۔۔۔۔
جیوتی فورا بولی ۔۔"چلو یہ تو اچھا ہے ۔۔پہلے بہت ساری شاپنگ اور پھر کسی اچھے ریسٹورنٹ میں کھانا۔۔"۔۔میں نے بھی ہامی بھر لی۔۔
جیوتی بیڈ کے سرہانے جگ رکھتے ہوئے بولی۔۔۔"میں بس تیار ہو جاؤں پھر چلتے ہیں ۔"۔۔۔۔۔۔اور پھر الماری کی طرف بڑھ گئی۔۔کچھ دیر بعد میرےسامنے کپڑے کے ڈھیر لگا کر پوچھنے لگی۔۔کہ اس میں سے کونسے پہنوں ۔۔۔میں نے پرپل کلر کی ایک ساڑھی کی طرف اشارہ کر دیا ۔۔جو میرا فیورٹ بھی تھا ۔۔اور جیوتی کی گوری رنگت پر کھلتا بھی تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد جیوتی اٹیچ باتھ کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔دروازہ کھول کر اس نے پلٹ کر دیکھا ۔نگاہیں اور مسکراہٹ دونوں جگمگااٹھیں ۔۔۔۔جیسے بلا رہی ہوں ۔۔۔
میں نے ایک مرتبہ سوچا ۔۔مگر جیوتی کے پر کشش جسم کے آگے دماغ نے کام چھوڑ دیا۔۔۔میں نے بھی شرٹ اور پینٹ اتارکر بیڈ پر رکھی اور اندر چل پڑا ۔۔۔
گلاس ڈور سلائیڈ کرتے ہوئے میں اندر داخل ہو ا۔۔۔جیوتی شاور کے نیچے کھڑی میری ہی منتظر تھی۔۔۔۔۔پانی کے قطرے اس کے سلکی جسم پر تیرتے ہوئے جا رہے تھے ۔۔۔جسم کےنشیب و فراز قطروں کو تھوڑا سا آہستہ کرتے اور پھراتنی ہی تیزی سے نیچے بھیج دیتے ۔۔۔میری نظر گرتے ہوئے پانی کے ساتھ نیچے گئی اور پھر دوبارہ اٹھ گئی ۔۔۔جہاں بھرا بھرا شاداب جسم دعوت دے رہا تھا۔۔۔بالوں کو کمر کی طرف گراتے ہوئے جیوتی کی نگاہوں میں فخر سا تھا ۔۔جیسے کہہ رہی ہوکہ نہیں روک پائے نہ خود ۔۔۔۔۔میں اْسے دیکھتے ہوئے قریب پہنچ گیا۔۔جہاں۔۔پانی کے نیچے چمکتا ہوا ہوا وجود آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔۔۔شادابی رنگت میں کسی سانچے میں ڈھلا ہوا جسم ، کتابی چہرہ ، گلابی گال ، سیاہ کالی آنکھیں ، پنکھڑیوں جیسے ہونٹ ، جس کے نچلے حصے پر تل ، جو اس کے حسن کو چار چاند لگا رہاتھا۔۔۔
میں قریب پہنا تو جیوتی نے رخ موڑ لیا ۔۔۔۔اور دوسری طرف منہ کر کھڑی ہوئی ۔لمبے بالوں کے نیچے پتلی کمر۔۔اور بھرے بھرے چوتڑ ۔۔۔جو پوری گولائی میں باہر کو نکلے ہوئے تھے ۔سڈول رانیں۔۔۔میں بھی شاور کے نیچے کھڑا جیوتی کو پیچھے سے ٹیک لگا نے لگا۔۔۔نرم نرم چوتڑ میرے فرنٹ سے ٹچ ہوئے تو ہتھیار بھی اکڑنےلگا۔۔۔میں نے اپنی بانہیں اس کے سینے کے گر د لپیٹ دیں ۔۔۔جہاں گول گول ممے ہلکے سے ڈھلکے ہوئے تھے۔۔میں نے دونوں ہاتھ اس کے عین نیچے ہی لپیٹے تھے ۔۔کہ ممے میری کلائی پر آ کر لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔اوپر شاور سے پانی گر کر مجھے بھی گیلا کرنے لگا۔۔۔میں گرتے پانی میں جیوتی کی گردن پر جھکا اور چومنے لگا۔۔۔۔۔۔جیوتی نے گھٹنوں کو ہلکا سا ڈھیلا کرتے ہوئے پیچھے کی طرف اپنے چوتڑوں کوزور دیا۔۔۔۔۔ہتھیار کی تو خوشی دیکھنے والی تھی۔۔۔۔چوتڑوں کے ساتھ ٹچ ہوتے ہیں وہ جھٹ سختی پکڑنے لگا۔۔۔میں جیوتی کی گردن اور پچھلے حصے کو چومتا ہوا ایک ہاتھ کھول کر نیچے لگے گیا ۔۔۔متوازن پیٹ درمیان میں ناف پر سے ہاتھ پھیرتے ہوئے چوت پر پہنچا ۔۔۔۔۔۔ابھی ہاتھ رکھا ہی تھا کہ جیوتی نے دوبارہ پیچھے کو زور دیا۔اس کے گرم گرم چوتڑ مجھے اپنی رانوں پر محسوس ہوئے۔۔لہراتا ہوا ہتھیار اس کے چوتڑوں کے درمیان سے ٹچ ہوتا ہوا نیچے جا رہا تھا۔۔۔دباؤ پڑنے سے مجھے بھی مزہ سا محسوس ہوا ۔۔۔۔میں نے آگے کی طرف زور دیا۔۔۔۔اور ہتھیار اس کی ڈبل روٹیوں کے درمیان اور آگے کی طرف جا کر لگنے لگا۔۔دونوں چوتڑوں نے ہتھیار کو جکڑ لیا تھا۔۔۔۔۔جیوتی بھی آنکھیں بند کئے ہوئے ہتھیار کی سختی اور لمس کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔میں نے پہلے ہاتھ کو مموں کے اوپر رکھتے ہوئے مسلنے لگا۔۔ایک ہاتھ میں مشکل سے سمانے والے یہ موٹے گول ممے ۔۔ہلکے ہلکے سے دب رہے تھے۔۔۔۔پانی اوپر سے گر رہا تھا ۔۔اور ایسے لگ رہا تھا کہ میں جیسے پانی سے اسے دھونے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔نپل بھی کھڑے ہونے لگے ۔۔۔۔۔دوسرے ہاتھ ابھی بھی چوت کے اوپر حرکت کر تا ہوا لبوں کے درمیان پھر رہا تھا۔۔۔۔۔جیوتی نے اپنے چہرہ سائیڈ پر کرتے ہوئے میری طرف کرنے کی کوشش کی ۔۔۔لب سے لب کی ملنے کی کوشش ہونے لگی۔۔۔۔۔بہتے ہوئے پانی کے نیچے کسنگ کا مزہ ہی کچھ اور ہی تھا۔۔۔پانی عین ہمارے چہروں کے اوپر گرتے ہوئے ہونٹوں سے ہوتا ہوا نیچے گرتا۔۔۔
ہتھیار جلد ہی تن کر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔اسے شکار کی بوتو مل رہی تھی ۔۔۔مگر فی الحال نظروں سے اوجھل ہی تھا۔۔۔اس کی بے چینی بھی دیکھنے والی تھی ۔۔۔۔
میں نے جیوتی کو موڑتے ہوئے رخ اپنی طرف کر دیا۔۔۔شاور کے گرتے ہوئے پانی میں سے دودھ کے دو جام نمودار ہوئے تھے ۔۔۔بس منہ لگانےکی دیر تھی ۔۔جیوتی بھی میرا اشارہ سمجھ گئی تھی ۔۔اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دئے ۔۔۔۔۔میں ہلکا سا جھکا تھا۔۔۔اور جیوتی کو گود میں اٹھا چکا تھا۔۔۔۔میری کمر کے گرد ٹانگیں لپیٹی ہوئی وہ کمر کو اندر دباتی ہوئی تھوڑی اٹھی۔۔۔۔دودھ کے چشمے ابھر کر سامنے آئے تھے ۔۔۔۔۔میں نے بھی ہلکے سے جھکتے ہوئے جام کو منہ سے لگا دیا ۔۔۔اوپر سے بہتا ہوا پانی اس کے سینے اور میرے چہرے پر یکساں گر رہا تھا ۔۔۔۔۔میں نے ایک نپل کو منہ میں دبوچا اور چوسنے لگا۔۔۔جیوتی میری گردن کے گرد ہاتھ لپیٹے چپ تھی ۔۔۔مزے سے اس کی آنکھیں بند ہوئے جا رہی تھیں ۔۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ کمر سے ہٹایا اور نیچے لے گیا ۔۔جہاں بھرے بھرے سے چوتڑ میرے منتظر تھے ۔۔۔میں پہلے ایک ہاتھ لے کر گیا ۔۔پھر جیوتی کو دیکھا کہ وہ مضبوطی سے جمی ہوئی ہے ۔۔تو دوسرے ہاتھ بھی نیچے ہی لے گیا ۔۔۔۔جہاں گوشت سے بھرے بھرے نرم چوتڑ میرے منتظر تھے ۔۔۔۔رعایت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔پورے ہتھیلی چوتڑوں پر رکھے ہوئے بھینچتی تو ۔۔۔۔جیوتی کے منہ سے کراہ نکال کر ہی چھوڑتی ۔۔۔۔اوپر کی طرف ایک جام سے سیر ہوگیا تو دوسرے پر آگیا ۔۔۔پہلے والا ممے سرخ ہو کر شاباشی دے رہا تھا۔۔۔۔اب دوسرے کی باری تھی ۔۔میں اسے بھی بے صبری سے چوسنے لگا۔۔۔۔۔میں ایک ہاتھ چوتڑ کی طرف رکھے ، دوسرے ہاتھ کو شاور کی طرف لے گیا ۔۔اور شاور بند کر دیا ۔شاور بند ہونےکے بعد مجھے جیوتی کی کچھ سسکیاں سنائی دیں۔۔۔جن میں کراہ بھی شامل ہوتی ۔۔۔پانی کی آواز میں مجھے اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔میں شاید زیادہ ہی سختی کر گیا تھا۔۔۔مگر جیوتی نے مجھے نہیں ٹوکا۔۔۔۔پانی بندہونے کے بعد میں نے جیوتی کے سینے پر بہنے والے قطرے چومے اور باہر کی طرف آگیا ۔۔۔وا ش رو م کےسلپری فرش پر کوئی ایڈونچر کرنے کا موڈ نہیں تھا۔۔۔جیوتی نے بھی آنکھیں کھول لی تھیں ۔۔۔اوراب خوب گیلے گیلے بوسے دیئے جا رہی تھی ۔۔۔جو میرے چہرے پر اپنے نشان چھوڑے جارہے تھے ۔۔۔۔میں اسی طرح جیوتی کو گود میں اٹھائے بیڈ کے پاس پہنچا اور اسے بیڈ پر اچھال دیا۔۔۔۔ بیڈ پر گرتے ہی سیدھی ہوئی اور چمکتی ہوئی سیاہ آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔چیلنچ کر رہی تھی یا پھر انداز محبوبی تھا ۔۔۔میں کچھ نہیں سمجھا ۔۔۔اور بیڈ پر پاؤں رکھے اوپر آگیا ۔۔میں جیوتی کے برابر میں آیا ۔۔اوپر جھکنے لگا۔۔۔۔۔جیوتی پھرتی سے سائیڈ پر ہوئی اور مجھے گراتی ہوئی اوپر آنے لگی۔۔۔میں نے بھی خود کو ڈھیلا چھوڑا ۔۔۔۔اور سر کے نیچے تکیہ رکھ کر اس کے سپرد ہو گیا۔۔میرے دائیں بائیں ٹانگیں رکھے جیوتی میرےسینے سے کچھ نیچے بیٹھی تھی ۔۔۔۔بھرے بھرے دودھ سے بھرے جام لہرا رہے تھے ۔۔۔۔جن پر نپل کے آس پاس میرے دانتوں کے نشان بخوبی دیکھے جا سکتے تھے ۔۔۔نپل بھی خوب لمبے ہوئے تھے ۔۔۔اس سے پہلے میں مزید نظارے کرتا۔۔۔۔جیوتی میرے چہرے پر جھکی اور چومنے لگی ۔۔۔پیشانی سے لے کر ٹھوڑی تک اس نے کوئی حصہ نہیں چھوڑا ۔۔۔چومتی ہوئی اپنے گیلا پن پھیلا تی رہی ۔۔۔۔اس کے نر م نرم ممے میرے سینے پر ٹچ ہوتے ہوئے گد گدی کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔۔چہرے چومتی ہوئی جیوتی نیچے کو کھسکی ۔۔۔۔یہ کھسکنا ایسا تھا کہ ہتھیار کو جگا گیا تھا۔۔۔۔۔میرے اوپر جھکی ہوئی جیوتی اپنی چوت کو رگڑتی ہوئی نیچے کو کھسکی اور ہتھیار کو چوتڑ ٹچ کرتی ہوئی رکی۔۔۔۔۔۔۔۔ہتھیار نیچے دونوں چوتڑوں کے درمیان پھر سختی پکڑنے لگا۔۔۔۔۔بے چینی اسے بھی شروع ہوئی اور مجھے بھی ۔۔۔۔ساتھ ہی چوت سے بہنے والا گیلے پن کا احساس بھی ہو ا ۔۔۔اب یہ شاور والا پانی تھا یا کوئی دوسرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیوتی چومتی ہوئی گردن پر آئی ۔۔۔میں اس کی ناک سے نکلنے والی گرم گرم سانسیں محسوس کر سکتا تھا۔۔۔۔۔ساتھ ہی اس کے جسم کی مخصوس مہک بھی ۔۔۔۔جس میں شہوت بھی تھی ، اور خمار بھی۔۔۔۔۔۔جیوتی کچھ اور نیچے کو کھسکی اور اب تنے ہوئے ہتھیار کے اوپر رگڑ کھاتی ہوئی نیچے کو ہوئی ۔۔۔۔ساتھ ہی مزید جھکتی ہوئی میرے سینے پر آئی ۔۔۔نرم گرم ہونٹ میرے سینے پر لگے اور نپل کی جگہ پر چومتے ہوئے اپنی زبان پھیرنے لگی۔۔۔۔اس کی نظر میری طرف بھی اٹھ جاتی جیسے جانچنے کی کوشش کر رہی ہو ۔۔۔نیچےہتھیار اس کی چوت کے عین اوپر سے گذرتا ہوا چوتڑوں کے درمیان سے پیچھے جا رہا تھا۔۔۔۔جیوتی نپل پر زبان پھیرتے ہوئی ہونٹوں سے دبانے لگی ۔۔۔۔ساتھ ہی اس کی کمر ہلکی سی ہلکی ۔۔۔۔اور پھر ہلکی سے اپنی کمر کو گولائی میں حرکت دینے لگی۔۔۔۔ہتھیار اپنی لمبائی اور چوڑائی میں تھا اور رگڑ کھاتے ہوئے مزید پھولنے کی کوشش میں تھا۔۔۔جیوتی بھی اس کیفیت سے مزے لے رہی تھی۔۔۔۔۔
میرے دونوں نپل کو ہونٹوں میں دبا تی ہوئی جیوتی ساتھ ساتھ تھوک بھی گراتی ۔۔۔۔۔پورے سینے کو اچھے سے چوم کر جیوتی مزید نیچے کو کھسکی ۔۔۔۔۔۔ابھی بھی آدھا ہتھیار اس کے نیچے اور آدھا پچھلی طرف سے باہر تھا۔۔۔۔جیوتی سینے سے ہوتی ہوئی ناف پر آئی ۔۔۔۔ناف میں اپنی زبان پھیرتے ہوئے دوبارہ سے مجھے دیکھا۔۔۔میں بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔سیاہ آنکھوں میں اس وقت سرخ ڈورے تیر رہے تھے ۔۔۔۔ساتھ ساتھ میری برداشت بھی جواب دینے لگی ۔۔۔۔۔ہتھیار اب جوش کے مارے آخری حد تک پھول چکا تھا۔۔۔۔جیوتی ناف سے ہوتی اور نیچے کوہوئی اور گھٹنے پر جابیٹھی ۔۔۔تبھی نیچے سے ہتھیار کو اوپر آنے کا موقع ملا۔۔۔اور وہ تیزی سے کھلتے ہوئے اسپرنگ کی طرح۔۔۔۔۔۔۔جیوتی کے دونوں مموں کے درمیان سے ہوتا ہوا سامنے آیا۔۔۔کچھ دیر شان سے لہرایا ۔۔۔۔جیوتی نے حیرت سے دیکھا ۔۔۔پچھلی بار میں نے دیکھنے نہیں دیا تھا۔۔میں اس وقت پجاری کہ روپ میں تھا اور ڈر تھا کہ وہ پہچان لے گی۔۔۔اور اب کی بار میں بھول چکا تھا۔۔جیوتی نے حیران سے ٹوپے کو دیکھا ۔۔جو اسوقت لال سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔جیوتی نے دونوں ہاتھوں میں ہتھیار کو پکڑا تھا۔۔اور اوپر جھک کر چومنے لگی۔۔۔ٹوپے پر زبان پھیر کر اس نے منہ میں لینے کی کوشش کی۔۔۔۔۔کافی دیر کوشش کے بعد بھی ناکام رہی ۔۔۔ٹوپا ابھی بھی دانتوں سے ٹکرا رہا تھا۔۔۔جیوتی نے شرابی آنکھوں سے مجھے دیکھا ۔۔۔اور پھر ہار مانتی ہوئی چاروں طرف اپنی زبان پھیرنے لگی۔۔ہتھیار خوشی سے جھومنے لگا۔۔جیوتی پوری دلجمعی سے چاروں طرف سے اسے چوم رہی تھی ۔۔۔۔۔منہ میں تھوک اکھٹا کرتی ہوئی وہ اس پر گراتی اور پھر چاروں طرف پھیلاتی جاتی ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں پورا ہتھیار اس کے تھوک سے گیلا ہو چکا تھا۔۔۔ساتھ ساتھ جیوتی کا مجھے شرابی انداز میں دیکھنا مزید ہیجان میں مبتلا کر دیتا۔۔۔۔مزید کسر اس کے ہلتے ہوئے صحت مند ممے کر دیتے ۔۔۔۔جو جھومتے ہوئے میری ٹانگوں سے ٹچ ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔ایک مرتبہ پوری جڑ تک ہتھیار تک چوم کر جیوتی رکی تو میں نے اسے اوپر کھینچ لیا۔۔۔بھرا بھرا جسم مجھے پر لپٹا ہوا آیا۔۔۔۔اپنی سائیڈ پر کروٹ دیتے ہوئے لٹا کر میں نے اس کی ایک ٹانگ اٹھا دی ۔۔۔میری کلائی اور بازو کے درمیان اس کی ٹانگ تھی ۔۔۔جو میں نے پوری اٹھا دی تھی ۔۔۔دوسری ٹانگ ویسے ہی نیچے تھی ۔۔۔ہتھیار لہرا تا ہوا اپنی منزل ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔جیوتی اپنا ہاتھ نیچے لے گئے ۔۔اور ٹوپے کو اپنی چوت کے لبوں پر رکھتے ہوئے اشارہ کیا ۔۔۔۔۔نرم نرم سا لمس مجھ اپنے ٹوپے پر محسوس ہو ا۔۔۔۔می نے دباؤ بڑھاتے ہوئے آگے کو زور دیا ۔۔۔۔کسی نرم سی چیز نے ٹوپے کو اپنی پکڑ میں لے لیا تھا۔۔۔۔ساتھ ہی جیوتی کی منہ سے آہ نکلی ۔۔۔۔۔سس۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔یہ گرم گرم سی آہ سیدھی میرے چہرے پر آئی تھی ۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ اس کی گردن کے نیچے دے کر اس اٹھا لیا تھا۔۔۔اب جیوتی اوپر سے میرے لیول پر تھی ۔۔۔۔۔اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے میں نے اگلا دھکا دیا تھا۔۔۔۔جیوتی کا منہ کھل سا گیا۔۔۔آہ۔۔۔۔آرام سے ۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔ساتھ ہی ہونٹ بھنچتی ہوئی آنکھیں بند کرنے لگی۔۔۔۔اس کے گورے گورے صحت مند ممے ہمارے درمیان ہی تھے ۔۔۔۔اور میرے سینے سے لگے ہوئے تھے۔۔۔۔میں نے اپنے ہاتھ میں اس کی ٹانگ کو تھوڑا اچھالتے ہوئے اور اوپر کیا ۔۔اپنے ہاتھ کو سیٹ کیا ۔۔۔۔اور ہتھیار کو ہلکے سے پیچھے کھینچتے ہوئے دوبارہ سے جھٹکا دے مارا ۔۔۔۔آدھا ہتھیار اندر جا پھنسا تھا۔۔۔ساتھ ہی جیوتی کی ہلکی سی اور کراہ نکلی ۔۔۔اوئی ۔۔۔۔سس۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔میں دوبارہ سے جیوتی کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے ہلکے ہلکے دھکے دینے لگا۔۔۔ساتھ ہی اپنی زبان جیوتی کے منہ میں داخل کر دی ۔۔۔۔جسے وہ بھرپور مزے سے چوستی ۔۔۔۔۔میں نے اگلے جھٹکا دوبارہ مار ا تھا۔۔۔۔۔جیوتی کا جسم بھی جھٹکے سے لرزا۔۔۔۔اس نے میر ی زبان پر اپنے دانت گاڑ دئے ۔۔۔۔میں نے ایک نظر اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔جہاں شرارت تھی ۔۔۔اور جواب دینا بھی ضروری تھا۔۔۔
وہ اب دوبارہ سے زبان چوسنے لگی تھی۔۔۔میں نے ہتھیار کو آدھے میں رکھ کر ایک زور دار جھٹکا اور مارا ۔۔اس جھٹکے نے اس کی جو کروٹ میری سائیڈ پر تھی ۔۔۔اسے سیدھا لٹا دیا تھا۔۔۔۔میں ویسے ہی سیدھا کروٹ لیتے ہوا اس کے اوپر آیا۔۔ہمارے لب جو ملے ہوئے تھے وہ الگ الگ ہو گئے ۔۔۔۔اس کی ایک ٹانگ میرےنیچے دبی ہوئی تھی ۔۔۔دوسری اسی طرح میرےہاتھوں میں تھی۔۔۔ٹوپا تباہی مچاتا ہوا ندر تک گھسا تھا۔۔۔جیوتی کے منہ سے پھر آہ۔۔۔سس۔۔۔۔اوئی ۔۔کی زوردار آواز نکلی ۔۔۔۔۔میں گھٹنے کے بل پر آتا ہوا اس کی دوسری ٹانگ بھی اٹھانے لگا۔۔۔۔اگلے ہی لمحے اس کی دونوں ٹانگیں ہوا میں کھڑی ہوئی اس کے سینے کی طرف جا رہی تھی ۔۔میں جتنا اس کو موڑ سکتا تھا اتنے پیچھے کی طرف گرا دیا تھا۔۔ اور گھٹنے کے بل سے اپنے پاؤں کے بل پر آگیا۔۔۔اور تیز دھکے شروع کئے ۔۔اس کے بھاری گول چوتڑ کافی حد تک اوپر اٹھے ہوئے تھے ۔۔۔صرف کمر کا اوپر حصہ ہی بیڈ پر تھا۔۔۔نچلی کمر ۔۔چوتڑسب اوپر کی طرف گول ہوئے تھے ۔۔۔۔میرے جھٹکے نہایت تباہ کن تھے ۔۔۔جن کے جواب میں جیوتی کی بلند آہیں اور سسکیاں گونجنے لگیں۔۔۔۔آہ۔۔۔اوئی ۔۔۔اوہ۔۔۔۔سس ۔۔۔میں اسی طرح طرح ٹھہر ٹھہر کر گہرے جھٹکے مارنے لگا۔۔۔جیوتی کی نگاہوں میں ویسی ہی چمک تھی ۔۔۔جیسے کہہ رہی ہو کہ اور ظلم کر لو جتنا کرنا ہے ۔۔۔اس کے دونوں ممے بھی اس کے چہرے کی طرف گئے ہوئے تھے ۔۔۔۔ہر جھٹکے کے ساتھ وہ بھی کانپ اٹھتے ۔۔۔میں کچھ دیرایسے ہی جھٹکے مارتا رہا ۔۔۔پھر ایسے لگا کہ جیوتی فارغ ہونے والی ہے تو رک گیا۔۔۔ہتھیار باہر نکا ل کر سائیڈ پر لیٹ گیا ۔۔اور جیوتی کو اپنے اوپر آنے کا اشار ہ کیا ۔۔۔جیوتی بھی اٹھ گئی ۔۔۔۔اور اوپر آتی ہوئی ٹانگیں دائیں بائیں کرنے لگی۔۔۔ساتھ ہی ایک ہاتھ میرے سینے پر رکھتی ہوئی آگے کو جھکی ۔۔۔اور دوسرے ہاتھ سے ٹوپے کو چوت کی سیدھ پر لانے لگی ۔۔ٹوپے کو چوت میں پھنسا کر آہ نکالتی ہوئی وہ میرے پیٹ پر بیٹھنے لگی۔۔۔۔ساتھ ہی دوسرے ہاتھ کو بھی میرے سینے پر رکھے دئے ۔۔۔۔دونوں بازوؤں کے درمیان سے اس گورے گورے موٹے ممے باہر کو نکلے ہوئے تھے ۔۔۔جیوتی ہلکے سے میرے اوپر کھسکنے لگی۔۔۔ہتھیار ابھی بھی آدھے کے قریب اندر ہی تھا۔۔۔جیوتی نے کمر کو ہلکے سے ہلانا شروع کر دیا ۔۔۔جو دائرے میں گھوم کرکبھی چھ بناتی کبھی آٹھ ۔۔۔۔مجھے مزہ آ رہا تھا۔۔۔اور جیوتی کو مجھ سے زیادہ ۔۔۔۔ہتھیار اپنی پوری موٹائی کے ساتھ اندر جکڑ ا ہوا تھا۔۔۔۔جبکہ آدھے سے زیادہ ابھی اس کے پیٹ پر بیٹھنے کی وجہ سے باہر ہی تھا۔۔۔۔۔جیوتی کمر کو ہلاتی ہوئی آہیں بھرتی جا رہی تھی ۔۔۔میں اس کے لال ہوتے ہوئے چہرے کو دیکھتا۔۔۔پھر باؤنس ہوتے ہوئے موٹے مموں کو دیکھتا ۔۔۔جو آگے کی طرف جھکے ہوئے تھے ۔۔۔اور مستقل ہلتے جا رہے تھے ۔۔۔۔میں نے سر کے نیچے سے اپنے ہاتھ نکالے اور دونوں ممے تھام لیے ۔۔مٹھی میں پکڑتے ہوئے نپلز کو اپنی ایک انگلی اور انگوٹھے سے مسلنے لگا۔۔۔۔جیوتی کی آہیں کچھ اور گہری ہوئی تھی ۔۔۔۔اس کے نرم نرم چوتڑ میرے جسم میں شہوت کو جگا رہے تھے ۔۔آنکھیں بند کئے ہوئے وہ کمر کو گھماتی جا رہی تھی ۔۔۔سس سس۔۔ کی مخصوص آواز ہونٹوں سے نکل رہی تھی ۔۔۔میں نے ایک نظر جیوتی کے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔اور پھر پیر بیڈ پر جما کر گھٹنے اونچے کر دئے ۔۔۔۔۔جیوتی نے اس تبدیلی کو محسوس کر کے آنکھیں کھولیں ۔۔۔میں نے ہاتھوں سے کھسکاتے ہوئے اسے پیچھے دھکیلنے لگا۔۔۔ساتھ ہی اس کےچوتڑ بھی تھوڑےسے اوپر اٹھا دئے ۔اس کے لئے اسے آگے میرے اوپر جھکنا پڑا ۔۔۔۔ایک طرح سے اب جیوتی میرے اوپر گھوڑی کے جیسے بنی ہوی تھی ۔۔۔۔اس کے بال ابھی بھی قدرے گیلے تھے ۔۔۔آگے کی طرف جھکتے ہوئے سائیڈوں پر پھسل گئے۔موٹے گول ممے ہوا میں لہرا نے لگا۔۔۔میں نے ایک مرتبہ کمر کو اٹھاتے ہوئے گول گھمایا ۔۔۔چوت میں پھنسا ہوا ہتھیار بھی دائیں بائیں زور مارنے لگا۔۔۔۔اور پھر ایک زور دار جھٹکا مارا ۔۔۔ہتھیار تیزی اسپیڈ کے ساتھ اندر کو لپکا ۔۔۔اور پوری لمبائی کے ساتھ اندر جا ٹکرایا۔۔۔جیوتی ایکد م سے میرے سینے پر گری ۔۔۔۔اسکے منہ سے چیخ نکلی ۔آآہ ہ۔۔۔۔سس۔۔۔۔ہمم۔۔۔۔۔میں دونوں ہاتھ اس کے بھاری بھرکم چوتڑ وں پر رکھتے ہوئے دوسرا جھٹکا دے مارا ۔۔۔یہ پہلےسے بھی زیادہ شدید تھا۔۔جیوتی پھر سے چلائی تھی۔۔اوئی مر گئی ۔۔۔آہ۔۔۔۔افف۔۔۔سس۔۔۔۔میں نے اپنے دونوں ہاتھوں اس کی کمر کے گردلپیٹے ۔۔۔۔نرم نرم موٹے ممے میرے سینے میں دب سے گئے ۔۔۔۔اور پھر اپنی کمر اٹھا کر جھٹکے مارنے شروع کردئے ۔۔۔جیوتی ہر جھٹکے پر چلا اٹھتی ۔۔۔۔آئی ۔۔آہ۔۔۔اوہ ہ۔۔۔میرے جھٹکے ابھی تک درمیانی اسپیڈ پر ہی تھے ۔۔۔تیز ہونے لگا۔۔۔۔بیڈ میری اسپیڈ اور طاقت سے بری طریقے سے کانپنے لگا۔۔۔۔اسپرنگ اچھلتے ہوئے ہمیں اوپر کو اچھالتے ۔۔۔۔۔میرے اور جیوتی کے درمیان اس کے موٹے ممے بھی رگڑ کھانے لگے تھے ۔۔۔۔میری رانیں پوری قوت سے جیوتی کے بھاری چوتڑ سے ٹکراتے تو دھپ دھپ کی مخصوص آواز گونج جاتی ۔۔۔بیک گراؤنڈ میں اسپرنگ اور بیڈ کی چوں چوں بھی اپنی جگہ بنا رہی تھی ۔۔۔اس کلاسیکل میوزک میں جیوتی کی آہ ۔۔۔اوہ ۔۔۔سس ۔۔اوئی ۔۔۔کا مرکز ی کردار تھا۔۔۔جو سب سے اونچی اور کمرے کو گرما رہی تھی۔۔۔جیوتی کا رنگ لال سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔میرے جھٹکے کچھ دیر اسی طرح تیز ی سے جاری تھی ۔۔۔۔مجھے لگا کہ جیوتی چھوٹنے والی ہے تو میں نے پھر پوزیشن تبدیل کرنے کا سوچا۔۔۔اور اس کی کمر کے گرد اپنے ہاتھ کھول دئے ۔۔وہ گہر ی سانسیں لیتی ہوئی اٹھنے لگی ۔۔۔سینے پر ہاتھ رکھ کر ابھی اٹھ ہی رہی تھی کہ پیچھے سے پڑنے والے جھٹکے نے اسے پھر گرا دیا۔۔کچھ دیر جھٹکوں کی شدت کا اندازہ کرتی ہوئی وہ پھر اٹھی ۔۔اور دونوں ہاتھ میرے سینے پر رکھتی ہوئی خود کو قابو کرنے لگے ۔۔منہ زور گھوڑے کی سواری مشکل تھی۔۔۔۔۔سسکیاں اس کے منہ سے بے اختیار ہی نکل رہی تھیں ۔۔۔اور اب میں اچھلتے ہوئے ممے بھی صاف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ایک دوزور دار جھٹکے مار کر میں رکا۔۔۔او ر سائیڈ پر گرا دیا۔۔اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔سر کی طرف سے تکئے اٹھا کر درمیان میں رکھے ۔۔۔اور جیوتی کو اس پر الٹا لٹا دیا۔۔۔تکئے اس کے پیٹ سے کچھ نیچے آئے تھے ۔۔اور پیچھے سے چوتڑ کو اٹھا رہے تھے ۔۔۔پوزیشن بنا کر پیچھے آیا۔۔اور ہتھیا ر کے ٹوپے کو چوت میں پھنسادیا ۔۔ساتھ ہی ہلکا دھکے دیتا ہوا ا س کے چوتڑ وں پر بیٹھنے لگا۔۔۔۔نرم نرم چوتڑمیرے بیٹھنے کے لئے زبردست تھے ۔۔۔مگر بیٹھنا کس کو تھا۔۔۔میں نے اس کی کمر تھامی اور دھکے بڑھانے لگا۔۔۔۔اب مزے کا دوسر ا رخ تھا۔۔۔۔اور جیوتی کی ابھی سے سسکیاں بتا رہی تھی کہ اسے بھی الگ مزہ آیا ہے ۔۔۔میں پاؤں کے بل اس پر بیٹھا تھا۔۔۔اور میرے درمیان اس کے نرم بھاری بھرکم چوتڑ تھے ۔۔۔میں نے کمر سے ہاتھ ہٹا کر اسکے کندھے پر رکھ دئے ۔۔۔اور آگے کو جھکتے ہوئے جھٹکے تیز کرنے لگا۔۔۔۔۔اس کی پوری گولائی میں اٹھےہوئے چوتڑ ۔۔جن سے میں پوری قوت سے ٹکرا رہا تھا ۔۔ہر جھٹکے کے بعد کانپ سے جاتے ۔۔۔۔۔ایسے ہی جھٹکے مارتے ہوئے میں نے اپنی کہنیاں اس کے دائیں بائیں ٹکا دی ۔۔۔اور پورا اس پر جھک گیا۔۔۔میرے اوپر ی سینہ اس کے کندھے سے کچھ نیچےلگا ہوا تھا۔۔۔اور پھر اس کی گردن اور کندھے کو چومنے لگا۔۔پاؤں میں نے اسی کی طرح سیدھے کر کے گھٹنے اس کے دائیں بائیں رکھ دئے تھے ۔۔۔اور اس کی ٹانگوں کواپنے گھٹنے میں دباتا ہوا جھٹکے مارنے لگا۔۔۔گردن چومتے ہوئے میں ا س کی سسکیاں بھی سن رہا تھا۔۔جو مدھم مدھم سی ۔۔اوہ ہ ۔۔۔سس۔۔۔آئی ۔اوہ ہ۔۔۔۔کر کے نکلتی جارہی تھی۔۔
ہم دونوں فارغ ہونے کے قریب ہی تھے ۔۔۔میں نے اسپیڈ بڑھا کر تیز کر دی ۔۔۔۔۔پوری قوت سے میری کمر اٹھتی اور بھرپور جھٹکے کے ساتھ جیوتی کے اندر ہتھیار گھس جاتا ۔۔۔جو جیوتی اور بیڈ دونوں کو نیچے جھکنے پر مجبور کر دیتا ۔۔۔۔میری اسپیڈ بڑھتی ہوئی طوفانی ہوئ۔۔۔۔۔جیوتی کی آہوں اور سسکیوں سے کمرہ گونج رہا تھا۔۔یہی وقت تھا جب میرے منہ غراہٹ نکلی تھی ۔۔۔سانسوں سے نکلنے والی پھنکا ر تھی ۔۔۔جس نے میری اسپیڈ کو اور طوفانی کیا ۔۔گرم گرم سانسیں جیوتی کی گردن اور چہرے سے ٹکرا رہی تھی ۔۔۔۔جس کی تاب نہ لاتے ہو ئے جیوتی نے ہلکی سی کمر اٹھائی ۔۔۔تیز سسکی لیتے ہوئے پانی چھوڑنے لگی۔۔۔چوت میں پانی بہہ نکلا تھا۔۔میں بھی کچھ دیر اورجھٹکے مارنے کے بعد فوارہ چھوڑنے لگا۔۔۔۔۔چوت میں سیلاب بہا تھا۔۔۔جیوتی بے دم ہو کر گہری سانسیں لینے لگی۔۔میں اس کے اوپر سے ہٹ کر سائیڈ پر ہو گیا۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جیوتی اٹھی ۔۔اور تیار ہونے لگی۔۔۔پرپل کلر کی ساڑھی میں کافی سج دھج کر تیار ہوئی ۔۔۔۔۔ہم باہر آئے تو اس نے ڈرائیور سے چابی لے کر میرے حوالے کر دی ۔۔۔اور خود اگلی سیٹ پر آ بیٹھی ۔۔۔
میں نے کار باہر نکالی اور شاپنگ سینٹر جا پہنچے ۔۔جیوتی نے میرے لئے کافی نئی پینٹ شرٹ خریدی ۔۔۔کلدیپ کے دئے ہوئے کافی پیسے میرے پاس تھے ۔۔مگر جیوتی نے خرچ کرنے ہی نہیں دئے ۔۔۔واپس پر میں جیوتی کو جیولری کی شاپ پر لے گیا۔۔اپنے پیسوں سے اس کے لئے ایک ہار خریدا۔۔۔وہیں پر ایک شیشے میں مجھے شک ہوا کہ کوئی ہماری نگرانی کر رہا ہے ۔۔۔کافی ماہرانہ انداز سے ہمارے پیچھے تھا۔۔یہ تو جیولری شاپ میں شیشوں کی قطاریں تھیں ، جو نظر میں آ گیا۔۔۔۔میں ہوشیا ر ہو گیا۔۔اس کے بعد میں جیوتی کولے کر کافی شاپس پر گھومتا رہا ۔۔۔کچھ دیر بعد مجھے یقین ہو گیا کہ وہ ہمارے پیچھے ہی تھا۔۔جیوتی میری حرکتیں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔۔مگر میں نے کچھ نہ بتا یا۔۔آخری شاپ میں ہم شوز کے دکان میں گئے اور جوگرز خریدے ۔۔۔شاپنگ کے بعد ہم ہوٹل جاپہنچے ۔۔۔اور کھانا کھانے لگے۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
راٹھور گہری نیند میں تھا کہ کسی نے اسے جھنجھوڑ کر اٹھایا ۔۔۔یہ گپتا تھا اس کا اسٹنٹ۔۔۔۔۔راٹھور جلدی سے اٹھتے ہوئے ہوشیا ر ہو گیا ۔۔۔سر راج گڑھ سے کال آئی ہے ۔ارجنٹ ہے۔۔۔راٹھور جلدی سے اٹھا اور اپنے آفس میں پہنچا۔۔کچھ دیر بعد گپتا بھی کافی لئے ہو ئے آفس میں آ گیا۔۔۔۔سر آج صبح ہی وجے کی کال آئی تھی ۔۔۔اس نے اس اسکیچ والے کو بس اڈے پر دیکھا تھا۔۔۔آپ سو رہے تھے تو میں نے اس پیچھا کرنے کا کہا۔۔۔۔اور ابھی اس کی دوبارہ کال آئی ہے وہ بندہ یہاں سے راج گڑھ پہنچا ہے ۔۔۔وجے آپ سے بات کرنا چاہ رہا ہے ۔۔۔۔
راٹھور نے کافی کا کپ اٹھا یا ۔۔اور اسے کال ملانے کا کہا۔۔۔۔گپتا نے کال ملا کر فون راٹھور کے ہاتھ میں تھما دیا۔۔
۔"ہاں وجے بولو ۔۔"۔۔۔سر یہ راجہ نامی بندہ جیوتی میڈم کے ساتھ ہے ۔۔۔اور یہ میجر راجیش کی بیوی بھی ہے ۔۔"۔۔ وجے کی بات سن کر راٹھور اچھل پڑا ۔۔۔
۔"یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔تم نے ٹھیک سے دیکھا تو ہے ۔۔۔"۔۔۔راٹھور سختی سے بولا۔۔
سر میں ان کو اچھے سے جانتا ہوں ۔۔کچھ عرصے پہلے راجیش سرنے میری ڈیوٹی ان کے ساتھ گارڈ کے طور پر لگائی تھی۔۔ اور یہ دونوں ابھی شام سے ہی شاپنگ میں مصروف ہیں ۔۔ایسا لگ رہا ہے جیسے سفر کا ارادہ ہے ۔۔آپ جلدی ٹیم کے ساتھ آ جائیں ۔۔۔
راٹھور کی نیند ہوا ہو گئی تھی ۔۔اس نے وجے کو ہوشیار رہنے کا کہہ کر اپنے ساتھ دو تین آدمی منگوانے کا کہا۔۔اور فون بند کر دیا۔۔ گپتا کو راج گڑھ میں اپنے آفس اور پولیس کے بندوں کو تیار رہنے کا کہہ کر اپنے خصوصی فون کی طرف بڑھ گیا۔۔وہ اپنے ڈائریکٹر سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔۔
اس نے گپتا کو خاموش رہنے کا اشارہ کہہ کر کال ملائی ۔۔۔اور پھر رابطہ ہونے پر ساری صورتحال بتا دی۔
مگر آگے سے آنے والی آواز نے اس کے ہوش اڑا دئے تھے ۔۔۔"راٹھور ۔۔تم یہ راجہ کو چھوڑو۔۔اور اس کے ساتھیوں کا پتا کرو۔۔۔وہ اس سے زیادہ اہم ہیں ۔۔راجہ کے پیچھے ہمارے ایک خاص سیکشن کا ایجنٹ ہے ۔۔اور کافی پلاننگ کے ساتھ ہے ۔۔تمہاری مداخلت سے الگ مسئلہ ہو جائے گا۔تم اسے چھوڑ کر دوسروں کو ڈھونڈ نکالو۔۔"
سر ہم راجہ کو پکڑ کر اس کےساتھیوں کا پتا چلا سکتے ہیں ۔۔۔۔مگر ڈائریکٹر نے سخت لہجے میں اسے منع کر دیا۔
راٹھور فون بند کر کے واپس اپنی کرسی پر آگیا۔۔۔باقی بچی ہوئی کاپی پیتے ہوئے گپتا کو وجے کو واپس بلانے کا کہہ دیا۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہم رات کافی لیٹ واپس آئے تھے ۔۔۔۔میں نے جیوتی کو بتایا کہ مجھے کل ممبئی کے لئے نکلنا ہے ۔۔۔وہ عجیب سی نظروں سے دیکھتی رہی ۔۔۔۔میرا جلدی سونے کا ارادہ تھا ۔۔۔اور بغیر کسی ایڈونچر کے ۔۔۔۔۔۔جیوتی سمجھ گئی تھی ۔میرے لئے دود ھ کاجگ گلاس لائی اور سرہانے رکھ دیا۔۔۔اور بیڈ پرچادر اوڑھ کر میرے ساتھ ہی لیٹ گئی ۔دودھ پی کر میں بھی دراز ہو گیا۔۔آدھے گھنٹے سوچ کی پرواز کرتے کرتے میں نیند میں جا چکا تھا۔۔۔۔خوابوں کی دنیا 
میں ہو ا میں پروا ز کرتا ہوا اپنے گھر پہنچا تھا۔۔۔۔۔اندر داخل ہو ا تو امی جان ، اور ابو سب میرے لئے پریشان تھے ۔۔ان سب سے ملتا ہوا اوپرآیا تو ثناء بیٹھی رو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔بڑی مشکل سے اسے چپ کروایا ۔۔۔اس کے بعد وقار کو دیکھا ۔۔۔جوزف جوانا کے پاس رانا ہاؤس چلا گیا۔۔۔۔اس کے بعد وزیرستان میں گزرے ہوئے دن میرے سامنے آئے ۔۔گل بانو کا حسین اور دلکش چہرہ مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔انہی یادوں کو خوابوں میں دیکھ ہی رہا تھا۔۔کہ اچانک خود کو ایک جنگل میں پایا ۔۔۔۔۔سیاہی مائل درختوں سے بھرا ہوا یہ جنگل خود بھی سیاہ تھا۔۔۔اور میں نیچے زمین پر لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔اٹھ کر بیٹھااور چاروں طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔مجھے ایسے لگا رہا تھا جیسے میں یہ سب حقیقت میں دیکھ رہا ہوں ۔۔۔اپنے بدن پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔۔سب کچھ حقیقت ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔منظر تبدیل ہوا ۔۔۔۔میں کسی قید خانے میں تھا۔۔ہاتھ اور پاؤں زنجیروں میں قید تھے ۔۔میں نے سامنے کسی کو آتے ہوئے دیکھا ۔۔۔اور اٹھ کر اسے آوازیں دینے لگا۔۔۔وہ آدمی کسی کالے لبادے میں چھپا ہوا تھا ۔۔۔قریب آتے ہوئے اس نے لبادہ ہٹایا۔۔یہ ایک مکروہ اور خوفناک چہرہ تھا۔۔۔آنکھوں میں نے پناہ کاجل۔۔۔ماتھے پر لکیریں ۔۔۔۔۔اور ہاتھ میں ایک برتن ۔۔۔جسے میں خون جیسا کوئی مائع تھا۔۔۔مجھے دیکھتے ہوئے وہ ہنسا ۔۔اور برتن میری طرف اچھال دیا۔۔۔۔میں نے بچنے کی کوشش میں ایک چھلانگ لگائی۔ ۔اور منظر بدل گیا۔۔۔میں کسی کمرے میں تھا ۔۔۔اور کھڑکی سے باہر جھانک رہا تھا۔۔۔باہر بہت سے لوگ درمیان میں آگ جلائے کچھ پڑھ رہے تھے ۔۔۔۔میں نے سمجھنے کی کوشش کی مگر کچھ سمجھ نہ آیا۔۔۔اتنے میں پیچھے سے مجھے کسی نے کھینچا ۔۔۔منظر پھر بدل گیا۔۔۔میں چھپ چھپ کر باہر جانے کی کوشش میں ہوں ۔۔اور قید خانے کے دروازے پر ہوں ۔۔۔اتنے میں کچھ سائے میری طرف لپکتے ہیں ۔۔۔میں نے دور کرنے کی بڑی کوشش کی۔۔۔مگر وہ آ کر میرے سینے سے لپٹ گئے ۔۔۔۔میرا سانس تیزی سے بند ہو رہا تھا۔۔۔ایسے لگا جیسے مرنے لگاہوں ۔۔۔میرا ہاتھ ان کے درمیان سے نکلے جا رہے تھے ۔۔۔۔اتنے میں ایک خوشبو سی محسوس ہوئی ۔۔جو میرے چاروں طرف تیزی سے پھیلی۔۔اور سائے مجھے چھوڑتے ہوئے پیچھے ہٹ گئے ۔۔۔۔۔میں دھڑام سے نیچے گرا۔۔۔اور میری آنکھ کھل گئی ۔۔چاروں طرف دیکھا تو وہ جیوتی کا بیڈ روم تھا ۔۔جیوتی بے خبر سو رہی تھی ۔میرا پورا جسم پسینے میں شرابور تھا۔۔۔۔۔بیڈروم کا سرخ رنگ دیکھ کر مجھے ابھی بھی گھبراہٹ ہو رہی تھی ۔۔۔۔میں نے قریب رکھے ہوئے جگ سے دودھ نکالا اور پینے لگا۔۔۔۔جیوتی ابھی بھی معصومیت سے سو رہی تھی ۔۔۔۔میں کچھ دیر لیٹا سوچتا رہا ۔۔۔۔خوابوں سے سلسلہ پرانا تھا ۔۔مگر ایسا خواب میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔میں کروٹ بدل کر لیٹنے لگا۔۔۔اور پھر سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔کچھ دیر بعد میں دوبارہ سو گیا تھا۔۔۔اب کی بار میری آنکھ رانا ہاؤس میں کھلی تھی ۔۔۔۔جوز ف مجھے جھنجھوڑ کر اٹھا رہا تھا ۔۔۔میں آنکھیں ملتے ہوئے اٹھا ۔۔۔جوز ف اٹھ کر پانی لینے چلا گیا۔۔۔تو عمراں صاحب میرے قریب آئے تھے ۔۔۔کیا حال ہیں راجہ ۔۔۔آواز وہی تھی ۔۔چہکتی ہوئی ۔۔۔۔
ٹھیک ہوں عمران صاحب ۔۔۔۔۔۔
عمراں صاحب میرے ساتھ آ کر بیٹھ چکے تھے ۔۔۔۔ان کا چہرہ کچھ سنجید ہ ہو چلا تھا۔۔۔راجہ کچھ باتیں بتانی ہیں ۔۔۔۔غور سے سنو اور ذہن میں بٹھا لو ۔۔۔۔۔۔مجھے پہلے اندازہ نہیں تھا کہ یہ وقت اتنی جلدی آئے گا۔۔۔تم بھی اپنی جلد بازی کی وجہ سے ان سے خودٹکرا جاؤ گے ۔۔۔۔مجھے بھی ابھی اچانک اٹھا کر بتا یا گیا ہے کہ تمہیں خبر دار کر دیا جائے ۔۔۔۔۔ 
میں کچھ بھی نہیں سمجھا تھا۔۔۔۔۔اور یہ بات بھی نہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ خواب ہے یا حقیقت ہے ۔۔۔سب کچھ اتنا کلئیر تھا جیسے ایچ ڈی کے اندر خواب دیکھ رہا ہوں ۔۔
عمراں صاحب کی دوبارہ آوا زآئی ۔۔۔۔راجہ ہمارا دشمن چالاک ہی نہیں بلکہ مکار بھی ہے ۔۔۔۔وہ ہر ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے جو ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے ۔۔۔۔چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑے ۔۔۔۔۔
اسی لئے را اور انٹیلی جنس کے لوگوں نے ایک خصوصی سیکشن بنایا ہے ۔۔۔۔۔جہاں کالے جادو کے ماہر جادوگر ، ، پنڈتوں اور ساھوؤں کو اکھٹا کیا گیا ہے ۔۔۔۔ ان کو ہر طرح کی سہولیات دے کر ہماری طرف کے جتنے نیک اور مخلص لوگ ہیں ان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔کئی سال پہلےجب یہ سیکشن ابتدائی مراحل میں تھا تو میں ٹیم کے ساتھ آ کر اس کا خاتمہ کر چکا تھا۔۔۔مگر اب یہ پہلے سے زیادہ بڑا اور جدید ہو چکا ہے ۔۔۔یہ لوگ شیطان کی عبادت کرتے ہیں ۔۔۔اور ہر وقت ناپاکی میں لپٹے رہتے تھے ۔۔۔کالے جادو کی مدد سے انہیں کچھ قوتیں بھی حاصل ہوئیں ۔۔۔۔اور یہ سب وہ تمہارے خلاف استعمال کرنے والے ہیں ۔۔۔۔۔
مجھے پہلے پتا ہوتا توتمہیں پوری تیاری سے بھیجتا ۔۔۔۔۔مگر اب بس اتنا سمجھ لو یہ ہماری طرف کہ ہر شخص کے دل میں ایک روشنی ہوتی ہے ۔۔۔۔جو ہروقت اس کے ساتھ رہتی ہے ۔۔۔ نیکی کرنے سے یہ بڑھتی ہے ۔۔اور برائی سے کم ہوتی ہے ۔۔۔۔تم جتنا اس پر یقین کرو گے ۔۔۔یہ تمہاری مدد کرے گی ۔۔۔۔۔یہیں یقین کی قوت تمہار ا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔۔۔دوسرا ہتھیار تمہاری پاکی ہے ۔۔۔کوشش کرنا کہ پاک حالت میں رہ سکو ۔۔۔
میں یہ سب سن کر گنگ ہو چکا تھا۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔مگر عمرا ن صاحب کی آواز کی سنجیدگی بتا رہی تھی کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔۔۔۔۔۔۔
عمراں صاحب آپ تو مجھے جانتے ہیں کہ میں کیسا بندہ ہوں ۔۔۔یہ سب میں کیسے کر پاؤں گا۔۔۔"میں نے پوچھا"۔ 
راجہ تم جیسے بھی ہو ۔۔ ان سے ہزار گنا بہتر ہو جو تاریکی میں رہتے ہیں ۔۔۔۔ان باتوں پر اب سوچنا چھوڑو ۔۔اور اپنی تمام دماغی صلاحیتیں اکھٹی کر لو ۔۔۔امتحان آنے والا ہے۔۔۔۔اورہاں ۔۔اس تاریک دنیا کی مخالف ایک اور مخلوق بھی کر رہی ہے جو آگ سے بنی ہے ۔۔یہ بھی ہماری طرح اچھے لوگ ہیں ۔۔اور امن کے لئے کام کرنا چاہ رہے ہیں ۔۔۔۔یہ تمہارے آس پاس رہیں گے اور حفاظت بھی کریں گے ۔۔۔انہوں نے ہی مجھے تمہیں خبردار کرنے کا کہا تھا۔
عمران صاحب کی باتیں میرے اوپر سے ہی گذر رہی تھی ۔۔۔۔مگر میں بغور سن رہا تھا۔۔۔عمران صاحب اٹھنے لگے تو میں نے پوچھا ۔۔
ایک بات تو بتا دیں کہ یہ سب فرضی خواب ہے ۔۔یا آپ واقعی کسی زریعے سے مجھے خبردار کر رہے ہیں ۔۔۔
عمران صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ وہ میرے سر پر ہاتھ رکھ کر بالوں کو بکھیرتے ہوئے اٹھ کر باہر جانے لگے۔۔۔میں اٹھ کر ساتھ جانے لگا۔۔۔مگر وہ ہوا میں سرائیت کر چکے تھے ۔۔۔۔فی الحال مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تھا۔۔۔بس اک خواب ہی لگ رہا تھا ۔۔۔کچھ ہی دیر میں بیدار ہو چکا تھا۔۔۔۔ٹائم دیکھا تو صبح کے چھ بج رہے تھے ۔۔۔۔جیوتی اسی طرح بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔۔میں نے چہرے پر آتے ہوئی بالوں کی لٹیں سمیٹی اور دوبارہ سے کانوں کے پیچھے رکھنے لگا۔۔۔۔جیوتی کی آنکھیں کھل گئیں ۔۔۔مجھے مسکراتے ہوئے دیکھنے لگی۔۔۔میں نے اسے اپنے جانے کا بتا یا کہ ممبئی جانے کے لئے اٹھنا ہے ۔۔۔ وہ جلدی سے اٹھی ۔۔۔اور کافی کا کہہ کر باہر چلی گئی۔میں بستر سے نکل کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا۔۔۔رات والا خواب یاد آ رہا تھا ۔۔۔۔کمرے کا سرخ رنگ مجھے کچھ چڑا رہا تھا ۔۔۔۔جیسے مجھ پر ہنس رہا ہو۔۔۔۔۔جیوتی کافی کا ایک بڑا کپ لے کر آئی اور میرے ہاتھ میں پکڑا کر واپس چلی گئی ۔۔۔۔۔میں کافی پکڑے کمرے میں ٹہلنے لگا۔۔یہ سرخ رنگ مجھے مستقل پن کر رہا تھا ۔۔میں کافی پیتے ہوئے چل پھر رہا تھا ۔۔۔۔اور تبھی میری نظر بیڈ کے بالکل اوپر پڑی تھی ۔ دیوار پر ایک بڑی سی آنکھ بنی ہوئی تھی ۔۔۔مجھے حیرت ہوئی تھی ۔۔۔۔کل رات یہ مجھے نظر نہیں آئی تھی ۔۔۔۔یہ اکلوتی آنکھ بھی مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔میں گڑبڑا چکا تھا۔۔۔کچھ نہ کچھ گڑ بڑ تھی ۔۔۔تبھی میرے پیچھے جیوتی کی سریلی آواز آئی تھی ۔۔۔جس میں اب کچھ اور ہی تاثر تھا ۔۔۔۔ایسے کیا دیکھ رہے ہو راجہ جی ۔۔۔۔۔میں نے پیچھے پلٹنے سے پہلے کافی کے کپ پر نظر ڈالی ۔۔۔آدھی سے زیادہ کافی میں پی چکا تھا ۔۔۔۔مین پیچھے مڑا ۔۔۔۔مگر ایسے لگا جیسے سلو موشن میں سب کچھ حرکت ہو رہی ہو ۔۔۔۔۔جیوتی کے ہونٹوں پر اپنی کامیابی کی مسکراہٹ جگمگا رہی تھی ۔۔۔کپ میرے ہاتھوں سے چھوٹ گیا ۔۔۔اور میں خود بھی گرتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

قسط نمبر 4 ۔ ۔ ۔ 
میں ہوش میں آچکا تھا ۔۔۔مگر میرا پورا جسم حرکت کرنے سے قاصر تھا۔۔صرف آنکھیں کی پتلیاں حرکت کر رہی تھیں ۔۔۔۔میں کسی گاڑی میں تھا ۔۔اور گاڑی پوری تیزی سے سفر کر رہی تھی ۔۔۔شاید ایمبولینس تھی ۔۔۔۔کیونکہ وقفے وقفے سے سائرن کی آواز میرے کانوں میں آ جاتی ۔۔۔۔۔پچھلے واقعات میرے سامنے سے گزر رہے تھے ۔۔۔۔۔جیوتی میری شکار تھی ۔۔۔یا میں جیوتی کا شکار ۔۔۔۔۔ 
پھر عاصم کا خیال آیا ۔۔۔۔اسے بتا کر جیوتی کی طرف آنا چاہئے تھا ۔۔۔۔۔میری گمشدگی میں وہ میرے پیچھے ضرور آ تا ۔۔۔۔کلدیپ کو بھی تو نہیں بتا یا تھا۔۔۔۔میں نے منہ سے آواز نکالنے کی کوشش کی ۔۔۔مگر زبان بھی حرکت نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میں کافی دیر تک ایسے ہی ایمبولینس کی چھت کو گھورتا رہا ۔ذہن سوچنے پر تیار نہیں تھا۔۔ابھی بھی غنودگی کی کیفیت طاری تھی۔۔۔اور پھر دوبارہ نیند میں گم ہو گیا۔۔۔
دوسری بار ہوش آیا تو میں کسی جانور کی پشت پرپیٹ کے بل لٹکا ہوا تھا۔۔۔گھوڑا یا خچر نما کوئی جانور تھا۔۔۔جو کسی جنگل میں سفر کررہا تھا۔۔۔میرا جسم اب بھی مفلوج ہی تھا۔۔۔۔آگے پیچھے کچھ اور جانور بھی چل رہے تھے ۔۔۔۔میں نے پوری کوشش کی کہ سر کو حرکت دے سکوں ۔۔۔یا آنکھوں کو کچھ گھما سکو ں ۔۔۔۔مگر زیادہ فرق نہیں پڑا میں صرف کھسکتی ہوئی زمیں کو ہی دیکھ پا رہا تھا۔۔۔یہ سفر بھی کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔۔۔گھوڑے رکے سانس لینے لگے ۔۔اور پھر دوبارہ سے سفر شروع ہوا ۔۔۔رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔۔۔مگر سفر جاری رہا۔۔۔۔گھوڑے اپنی منزل سے بخوبی واقف تھے ۔۔۔۔۔۔۔آدھی رات تک تو میں جاگتا رہا اور پھر دوبارہ سے نیند میں۔۔پورا بدن درد سے چور تھا۔۔۔ شاید یہی نیند میری تھکن اور درد کا تریاق بھی تھی۔۔۔۔
مجھے اس حال میں شاید تیسرا دن تھا۔۔۔۔اب کی بار آنکھ کھلی نظارہ کچھ اور تھا۔۔۔یہ کسی کوٹھری کا منظر تھا۔۔۔ چھوٹا سا کمرے تھا ۔۔جس کے ایک طرف زنگ آلود سلاخیں لگی ہوئی تھی ۔۔میں حیرت سے یہ سب دیکھنے لگا۔۔۔جسم میں کمزوری کا شدید احساس تھا۔۔شاید وہی آخر ی کافی میرے معدے میں گئی تھی ۔جو جیوتی نے پلائی تھی ۔۔۔مستقل سفر سے جوڑ جوڑ درد کر رہا تھا۔۔۔۔۔میں نے پیروں کی طرف دیکھا تو وہاں بھی آہنی بیڑیاں بندھی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔دونوں بیڑی آپس میں ایک زنجیر سے منسلک تھی ۔۔۔مگر کچھ بڑی زنجیر تھی ۔۔میں آہستہ سے پاؤں کو حرکت کر سکتا تھا۔۔لڑکھڑاتے ہوئے میں اٹھا ۔۔اور سلاخیں تھام کر کھڑا ہوا گیا۔۔۔۔میں نے آواز دینے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔اپنی ہی آواز اجنبی لگ رہی تھی۔۔۔۔دو تین آوازوں کے بعد کوئی حرکت نہ ہوئی تو میں لڑکھڑا تا ہوا واپس بیٹھ گیا ۔۔۔۔باقی ماندہ توانائی بچانے کی ضرورت تھی ۔۔۔مجھے ایسے ہی بیٹھے ہوئے کافی دیر ہوئی تھی ۔۔۔۔میں بے سدھ ہوا غنودگی میں جا رہا تھا۔۔۔وقفے وقفے سے آنکھیں کھلتی اور پھر بند ہو جاتیں ۔۔۔۔میں نے شاید قدموں کی آواز سنی تھی ۔۔۔اب تو سماعت بھی دھوکہ دینے لگی تھی ۔۔۔کوئی چلتا ہوا میرے قریب آیا تھا ۔۔۔۔میں نے آنکھ کھول کر دیکھنے کی کوشش کی ۔اندھیرے میں سائے جیسا تھا۔۔۔۔اس نے سلاخوں سے کوئی چیز اندر کھسکائی تھی ۔۔۔۔یہ چھوٹی سی مٹی کی دو پیالیاں تھیں ۔۔۔ایک میں آدھے کپ جتنا پانی تھا۔۔۔اور دوسرے میں گیلی روٹی رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔میں نے ہاتھ بڑھا کر پانی کی پیالی اٹھانے کی کوشش کی ۔۔۔۔ایسا پانی میں نے کبھی نہیں پیا تھا۔۔۔عجیب سے مہک اٹھ رہی تھی ۔۔۔۔۔منہ گیلا ہوا تو روٹی بھی اٹھا کر کھا نے شروع کی ۔۔اس کا زائقہ بھی عجیب ہی تھا۔۔۔میں نے بڑی مشکل سے یہ حلق سے اتاری ۔پیٹ میں جو کچھ بھی گیا تھا۔۔وہ بھوک تو کیا مٹا تا الٹی ایک جلن سی مچا دی تھی ۔۔۔۔ساتھ ہی اٹھنے والے مروڑ نے مجھے نڈھال کر دیا ۔۔۔۔۔میں پیٹ پکڑے دوہر ا ہو گیا۔۔۔اور اسی درد کے عالم دوبارہ بے ہوش ہو گیا ۔۔۔۔۔
بے ہوشی کی عالم میں بھی مجھے درد کا احساس تھا۔۔۔۔کراہیں اسی طرح جاری تھیں ۔۔۔۔پھرخود ہی ان سب سے بے خبر ہوا ۔۔۔۔
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا کہ میری آنکھ کھلی ۔۔۔۔۔میرے کانوں میں عجیب سی آوازیں تھیں ۔۔۔۔۔جیسے کوئی کورس میں کچھ پڑھ رہا ہو ۔۔۔۔کوئی ورد ۔۔۔یا کوئی منتر ۔۔۔۔۔۔الفاظ ایک ردھم میں چلتے ۔۔۔اور سانس کے کم ہوتے ہوئے آواز کم ہوتی جاتی ۔۔۔۔اور ایک جھٹکے سے تیزآواز سے شروع ہوتے ۔۔۔۔میں نے الفاظ پر غور کرنے کی کوشش کی مگر کچھ سمجھ نہیں آیا ۔۔۔۔۔ہندی کی کوئی ابتدائی شکل ۔۔۔۔یا پھر سنسکرت کے الفاظ ۔۔۔
میں کافی دیر تک یہ سنتا رہا ۔۔۔۔ساتھ ہی کچھ گھنٹیوں کی آواز بھی آئی ۔۔۔۔۔ان گھنٹیوں میں بھی اک ردھم اور سحر تھا ۔۔۔جو مجھے اک بار پھر نیند کی وادی میں دھکیل چکا تھا۔۔۔
اگلی صبح میری آنکھ کھلی ۔۔۔۔۔منہ کا زائقہ بے حد کڑوا ہو چکا تھا۔۔۔۔میں نے تھوک اکھٹا کرکے نگلنے کی کوشش کی ۔۔مگر ناکام ۔۔۔آخر ہمت کر کے اٹھا ۔۔اور پانی کی آواز لگائی ۔۔چند آوازیں لگائیں تھیں کہ مجھے قدموں کی آواز آئی ۔۔۔۔۔ہلکے رفتار سے چلتا ہوا کوئی میر ی طرف آرہا تھا ۔۔۔حسب سابقہ میں کچھ فاصلےسے زیادہ دیکھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔اندھیر ا کافی زیادہ تھا۔۔۔۔۔وہ جو کوئی بھی تھا ۔۔۔سر سے پاؤں تک ایک ہی لبادے میں تھا ۔۔ ۔۔۔سر پر ایک ٹوپا سا تھا ۔۔۔جو آدھے چہرے کو چھپا رہا تھا۔۔۔اور وہی کپڑے کندھوں سے نیچے تک گھٹنوں تک آتا۔۔۔نائٹ سوٹ ٹائپ کا کوئی لباس تھا۔۔۔۔اور پھر وہ شخص مجھ سے چند قدموں کے فاصلے پر آگیا ۔۔۔۔میں نے غور سے دیکھا ۔۔۔۔یہ کوئی لڑکی تھی ۔۔۔۔اور لباس بالکل جالی دار تھا۔۔۔۔جس سے اس کے بدن کے نشیب و فراز پوری فراغ دلی کے ساتھ جھلک رہے تھے۔۔۔۔۔۔مجھے جو چیز اس پر سب سے زیادہ اچھی لگی ۔۔۔۔وہ پانی کا ایک کٹورا تھا۔۔۔جو اس کے ہاتھ میں تھا۔۔۔سلاخوں کے درمیان سے اس نے کٹور ا بڑھا یا ۔۔۔میں نے بے صبری سے تھاما ۔۔۔اور پینے لگا۔۔۔۔۔۔پانی پی کر کٹور ا واپس کیا تو لڑکی کے سر کا ہڈ سِرکاتھا۔۔۔۔۔یہ کوئی اور نہیں جیوتی تھی ۔۔۔
مجھے دیکھ کر عجیب سی مسکراہٹ تھی اس کے چہرے پر ۔۔۔۔۔۔جیسے پوچھ رہی کہ کیسے قابو کیا تمہیں۔۔۔۔۔اور سچ تو یہ ہے کہ مجھے ابھی تک غور کرنے کا موقع نہیں ملا تھا کہ جیوتی کے معاملے میں مجھ سے کب اور کہاں گڑ بڑ ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔اور میں ضرور یہ سوچنا چاہ رہا تھا ۔۔۔۔اسی سے آگے یہ سب کڑیا ں بن سکتیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔جیوتی واپس نہیں گئی تھی ۔۔۔۔۔بلکہ وہی کھڑی مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔میں نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔۔وہ مطمئن انداز میں کھڑی تھی ۔۔۔۔اور پھر مجھے اس کے پیچھے دو بلند قامت انسان آتے دکھائی دئے ۔۔قریب آکر جیوتی کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔۔سیاہ توانا جسم ۔۔اور بے تاثر سا چہرہ۔۔کرخت نقوش کے ساتھ سرخ آنکھیں۔۔۔مضبوط جثہ والے یہ لوگ بھی اسی انداز کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔۔بس رنگت کا فرق تھا۔۔جیوتی کےقریب پہنچ کر وہ رکےتھے کہ جیوتی نے انہیں حکم دیا ۔۔۔"اسے کھول کر باہر نکالو۔۔۔"۔۔ااس سے مجھے ایک اندازہ تو ہوا کہ وہ یہاں کسی حیثیت کی مالک تھی ۔
ایک غلام نے اپنے لباس میں ہاتھ ڈالا اور ایک چابی نکالی ۔۔۔اور سلاخوں کا تالا کھولنے لگا۔۔۔اس کے بعد دوسر ے غلام نے کوئی زنجیر سی نکالی ۔۔۔۔۔اور سلاخوں سے اندر آ کر میرے ہاتھ میں پہنانے لگا۔۔۔۔ہتھکڑی نما کڑے میرے ہاتھوں میں تھے ۔۔اور درمیان میں ایک اور زنجیر ۔۔۔جسے جیوتی نےپکڑ کر مجھے آگے کو کھینچا ۔۔۔۔۔قدم لڑکھڑائے تھے ۔۔۔۔۔۔۔مگر مجھے ایک توانائی ضرور مل گئی ۔۔جیوتی کے بدلے ہوئے تیور نے مجھے ہوشیار کر دیا۔۔۔۔مجھے کسی بھی طرح اس عورت کے آگےخود کو سمبھالنا تھا۔۔۔۔۔جسم کی جو بھی حالت ہو اس کے سامنے مسکرانا تھا۔کل تک میرے نیچے دبی ہوئی یہ عورت آج مجھے غلام بنانے کا سوچ رہی تھی تو یہ نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔مجھے خود کو اکھٹا کرنا تھا۔اور کوئی کمزور ی ظاہر نہیں کرنی تھی۔۔۔۔اور یہی راجہ کا انداز بھی تھا۔۔ حالات کا تقاضا بھی ۔۔۔۔میں نے ایک گہری سانس کھینچی ۔۔۔اور باہر قدم نکالتا ہوا آگے بڑھا ۔۔۔میرے انداز میں پھرتی تھی ۔۔۔۔۔جیوتی نے حیرت سے مجھے دیکھا ۔۔۔اور آگے بڑھ گئی ۔۔۔دونوں غلام میرے پیچھے پیچھے چلنے لگے ۔۔۔۔۔
میں نے آگے بڑھتے ہوئے چاروں طرف دیکھا ۔۔۔پتھر کی سپاٹ دیواریں تھیں ۔۔ایسے لگتا تھا کہ جیسے۔یہ کوئی بلند و بالا پہاڑہو۔۔۔جسے اندر سے کاٹ کراور تراش کر ایک عمارت کی شکل دی گئی تھی ۔۔۔سورج اور چاند کا کوئی نشان نہیں تھا۔۔صرف دیواروں پر لیمپ روشن ہو کر مناسب روشنی دے رے تھے۔۔اس ہال سے چاروں سائیڈ پر ایک راہداری سے نکل کر جا رہی تھی۔۔۔۔جیوتی بھی مجھے لے کر ایسی ہی راستے کی طرف چلی تھی ۔۔۔اور راہداری کے اختتام پر ایک چھوٹے ہال میں پہنچے ۔یہ بھی اسی انداز کا سپاٹ پتھروں کا اایک گنبد نما ہال تھا۔۔۔۔ اندر جاتے ہی میرا سر گھوم چکا تھا۔۔ایک عجیب سے مہک اور بو مچی ہوئی تھی۔اوپر دیکھا تھا۔۔۔چاروں طرف ہندو دھرم کے جھوٹے خداؤں کے بت رکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔یہ سب بت زمیں سے کوئ بیس فٹ اوپر بنے ہوئے تھے ۔۔۔ایک بارتو مجھے ایسے لگا کہ یہ بھی پہاڑ کے اندر ہی سے تراشے گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر جیوتی مجھے لئے ایک طرف مڑتی چلی گئی ۔۔۔میرے سامنے ایک چبوترہ تھا۔۔۔۔جس پرایک اسٹریچر ٹائپ کا بستر سا تھا۔۔۔۔سر کی جگہ پر ایک بڑالکڑی کا ٹکڑا تھا۔۔۔اور ساتھ ہی ایک تلوار رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔جس کے کنارے پر سےسرخ نشان نمایا ں تھے ۔۔۔میں نے دوبارہ اسٹریچر کو دیکھا ۔۔۔ارد گرد خون پڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔یہ شاید قربان گاہ تھی ۔۔۔جہاں بلّی دی جاتی تھی ۔۔۔وہ مہک وہیں سے اٹھ رہی تھی۔۔۔اتنے میں میں نے اوپر کے حصے پر ایک حرکت دیکھی ۔۔۔۔۔یہ بھی لبادہ پہنے ہوئے کوئی انسان تھا۔۔۔پیٹھ ہماری طرف کئے یہ آلتی پالتی مار کر بیٹھا تھا۔۔۔جیوتی اس کے آگے جھک چکی تھی ۔۔۔۔۔میں نے اس کی پیچھے سے برہنہ ہوتی ہوئی ٹانگوں اور کولہوں کو دیکھا ۔۔۔۔۔لبادہ بالکل ہی اٹھ چکا تھا۔۔۔۔جیوتی اس کے آگے سجدہ کرکے اٹھی اور مجھے بھی اشارہ کرنےلگی ۔۔۔پھر زور سے کہا۔۔پیچھے کھڑے ہوئے دونوں غلام بھی جھکے ہوئے تھے ۔۔۔مگر کسی بت یا اس انسان کے آگے سجدہ کرنے میرے بس سے باہر تھا۔۔۔۔۔میں حرکت کئے بغیر کھڑا رہا ۔۔۔تبھی جیوتی نے پیچھے غلام کو کوئی اشارہ کیا تھا۔۔۔۔اس کا بھاری بھرکم ہاتھ میری گردن پر پڑا اور میں بے اختیار آگے کو جا گرا ۔۔۔۔۔میرا سر سامنے قربان گاہ سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔درد کی ایک تیز لہر کوندی ۔۔۔۔۔۔میں بے اختیار کراہا ۔۔ہمت اکھٹی کر کے چبوترے کا سہا را لیا۔۔۔اور پھر ہاتھ رکھتا ہوا اٹھنے لگا۔۔۔۔۔اب آدھا ہی اٹھا تھا کہ پیچھے سے ایک لات پڑی ۔۔۔۔اور میں دوبارہ قربان گاہ سے چپک گیا۔۔۔۔میرا جسم بے جان ہو رہا تھا۔۔۔۔بازؤوں میں طاقت نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔دوسرے غلام نے مجھے ٹانگ سے پکڑ کر کھینچا ۔۔۔جیوتی مجھے ترس بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔اور اس ترس سے مجھے نفرت تھی۔۔۔میں نے اپنی ٹانگ کو آخری زور اکھٹا کرتے ہوئے جھٹکا دیا ۔۔۔۔ٹانگ غلام کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔۔۔وہ غلام پیچھے کو ہوا تھا۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ دوسراغلام مجھ پر جھپٹتا ۔۔۔میں نے ایک گونجیلی آواز سنی ۔۔۔۔۔"رک جاؤ "۔ساتھ ہی ہاتھ اٹھاتے ہوئے کوئی اشارہ کیا۔۔۔ میں نے گردن گھمائی ۔۔۔اوپر بیٹھا آدمی بیٹھے بیٹھے سیدھا ہورہا تھا۔۔۔۔میں بھی کہنی ٹکا تے ہوئے سیدھا ہوا اور اٹھنے لگا۔۔۔۔
وہ آدمی اب ہمارے سامنے اسی طرح اونچائی پر آلتی پالتی مارتے ہوئے بیٹھا ہوا تھا۔۔"۔۔۔کیا بات ہے بالک ۔۔۔کیا چیز تجھے ہمارے سامنے جھکنے سے روکتی ہے ۔۔"۔۔ ۔کون ہے ایسی طاقت جو ہمارے سامنے کھڑی ہو سکے ۔۔۔ہم ہی یہاں کے کرتا دھرتا ہیں ۔۔۔اور ہم ہی یہاں کے خدا ۔۔۔۔۔۔چلو جھک جاؤ ہمارے سامنے ۔۔۔۔۔
اس کی آواز میں تنویمی صلاحیت تھی۔۔۔۔۔مگر اتنی بھی نہیں کہ مجھے سجدے پر مجبور کر سکے ۔۔جھک جاؤ ہمارے سامنے ۔۔۔دوسری مرتبہ پھر کہا۔۔۔تبھی اس نے غضبناک ہو کر اپنے سر سے وہ کپڑا ہٹایا ۔۔۔۔۔اور میں دیکھ کر حیران رہ گیا ۔۔۔یہ وہی شخص تھا جسے میں خواب میں دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔وہی ماتھے پر لکیریں ۔۔۔۔۔سیاہ گہر ی کالی آنکھیں ۔جس میں بے پناہ سرخی ۔۔۔۔۔۔وہی وحشتناک چہرہ ۔۔۔۔۔۔۔بھدے سیاہ ہونٹ ۔۔۔۔۔۔
میں خواب کو یکسر فراموش کر چکا تھا۔۔۔۔۔مگر اب اس کی شکل نے مجھے اس کی جھلکیاں یاد کرو ا دی تھیں۔۔۔اس آدمی نے غصے میں پھر مجھے پکارا تھا ۔۔۔۔بالک جل جائے گا۔۔۔بھسم ہو جائے گا۔۔۔۔جھک جا ۔۔۔۔
میں نے محسوس کیا کہ جیوتی اور وہ دونوں غلام کانپ گئے تھے ۔۔۔۔اچانک اس آدمی نے میری طرف اشارہ کیا ۔۔اس کے ہاتھوں سے ا ک چنگاری نکلی۔اور۔۔۔اک آگ سی میری طرف لپکی ۔۔۔۔میں پیچھے ہٹا ۔۔۔۔۔مگر وہ تیزی سے آتے ہوئے میرے سامنے گری اوردائرہ بناتی ہوئی پیچھے گھوم گئی ۔۔۔۔۔۔آگ کے شعلےتیزی سے بھڑکے تھے ۔۔۔۔جیوتی اور غلام پیچھے ہٹ چکے تھے ۔۔۔اور تیزی سے گھٹنوں کے بل جھک کر سر جھکا لئے ۔۔۔۔۔میں نے باہر چھلانگ لگانی چاہی مگر ایک تو پیروں کی زنجیر اوردوسرا شعلے تیزی سے بلند ہو کر میرے قد کے برابر ہوئے ۔۔۔۔۔ساتھ ہی میرے کپڑ وں کو آگے لگ چکی تھی ۔۔۔۔۔میں نے بندھے ہاتھوں سے بجھانے کی کوشش کی مگر ناسود۔۔۔۔۔۔۔ایک تیز جلن میرے پورے بدن پر مچی اور تیز سے تیز تر ہونے لگی ۔۔۔۔میرے منہ سے بے اختیار چیخیں نکلی ۔۔۔۔۔۔اور پھر تیز ہوتی رہیں ۔۔۔۔یہاں تک کہ میں بے ہوش ہو گیا۔۔
مجھے ہوش آیا تو میں اپنے قید خانے میں ہی تھا۔۔میرے کپڑے کافی جگہوں سے جل چکے تھے ۔۔۔مگر حیرت انگیز طور پر جسم محفوظ تھا ۔۔۔بس کہیں کہیں سرخی نظر آرہی تھی ۔اور جلد میں جلن ہو رہی تھی۔۔۔میں نے قید خانے کو دوبارہ دیکھا۔۔۔۔۔جیوتی اور اس کے غلاموں نے ہی مجھے یہاں پہنچا یا ہو گا۔۔۔۔میں تیزی سے حالات کا مشاہد ہ کر رہا تھا۔۔۔
ساتھ ہی پہاڑ کی اس ساخت کو بھی ۔۔۔۔یہ کوئی بہت ہی بڑا پہاڑ تھا۔۔۔جس کے اندریہ پورا انتظام بھی تھا۔۔۔۔۔روشنی کا یہاں کوئی انتظام نہیں تھا۔۔۔۔۔بس پیٹرو میکس لیمپ ہی تھے۔۔۔۔یہاں کے انتظام شاید ان غلاموں کے ذمے ہی تھے ۔۔۔۔میں قید خانے سے ٹیک لگائے سوچ رہا تھا ۔۔۔ساتھ ہی اپنی زنجیروں اور بیڑیوں پر بھی غور کر رہا تھا۔۔۔اگر مجھے کوئی کوئی تار مل جاتی تو اس پر قسمت آزمائی کی جاسکتی تھی ۔۔۔کھانے کے نام پر مجھے آدھی روٹی اور پانی کا ایک پیالہ صبح اور شام دیا جا رہا تھا۔۔۔۔یہ یقینا مجھے جسمانی طور پر کمزور کرنے کی کوشش تھی۔۔۔۔جسم ساتھ نہ دے تو دماغ صرف سوچتا ہی رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔اس پہاڑ کے اندر صبح اور شام کی تفریق نہیں تھی ۔۔۔مگر میرا ذہن اپنی بائیلوجیکل کلاک کو استعمال کرتے ہوئے مجھے انداز ہ کر وا رہا تھا کہ ابھی شام پھیل رہی ہے ۔۔۔۔۔اور مجھے اب شام کے کھانے کا انتظار تھا۔۔۔
جیوتی کے قدموں کی آہٹ میں نے سن لی تھی ۔۔۔اور پیچھے آتے ہوئے دونوں غلاموں کو بھی دیکھ لیا تھا۔۔۔۔۔۔جیوتی ان کے آدھے تک بھی نہیں آتی تھی ۔۔۔۔اس کے جسم پر وہی ایک لبادہ تھا۔۔۔۔جو گھٹنے تک ہی پہنچ پاتا ۔۔۔۔۔کپڑا بے حد باریک جالی دار ۔۔۔اور سر پر وہی ٹوپ تھا۔۔۔۔۔
دونوں غلاموں کے ہاتھ میں ایک ایک پیالہ تھا۔۔۔۔۔انہوں نے سلاخوں سے پیالے اندر سرکائے ۔۔۔۔۔۔اور میں بے اختیار ان پر ٹوٹ پڑا ۔۔۔۔۔۔آدھی روٹی کھاتے ہوئے ٹائم ہی کتنا لگتا ہے ۔۔۔۔۔میں جلدی جلدی حلق سے اتارنے لگا۔۔۔جیوتی کا قہقہہ گونجا تھا۔۔۔میں نے حیرت سے دیکھا ۔۔۔۔"خود کو راجہ کہلوانے والا آج آدھی روٹی کو بھی ترس رہا ہے ۔۔"۔۔۔اس کی زہر بھری آواز گونجی تھی ۔۔میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور پانی کے کٹورے کو اٹھائے اسے بھی پی گیا۔۔۔۔۔۔پیاس شدید تھی ۔۔اور اس سے نہیں بجھی تھی۔۔۔۔
میں نے نظریں اٹھا کر جیوتی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور اٹھ کر غلاموں کی طرف دیکھ کر پانی کا کہنے لگا۔۔۔کٹورہ باہر نکلا کر ان کے سامنے ہلاتے ہوئے پانی کہنے لگا۔۔۔۔۔جیوتی پھر ہنس پڑی ۔۔۔
۔"راجہ ۔۔یہ دونوں غلام بہرے اور گونگے ہیں ۔۔۔۔۔یہ کیا یہاں ان جیسے جتنے بھی غلام ہیں وہ سب گونگے بہرے ہیں ۔۔۔یہ صرف اشارے ہی سمجھ سکتے ہیں ۔۔"۔
میں نےحیرت سے انہیں دیکھا ۔۔۔ان کے چہرے کے نقش ابھی تک سپاٹ ہی تھے ۔۔۔۔کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔میں واپس قید خانے کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
میرے زہن میں یہی سوال تھا کہ میں جیوتی کے ہاتھ کیسے لگا۔۔جیوتی نے بھی میرے چہرے پر سوچ کی لہریں پڑھ لیں۔۔۔۔۔اور کہنے لگی۔۔یہی سوچ رہے ہو کہ تم یہاں کیسے پہنچے ۔۔۔یہ جیوتی جو تمہاری دیوانی ہو ا کرتی تھی ۔۔۔آج تمہارے سامنے کیسے کھڑی ہے ۔۔۔۔میں اور راجیش دونوں ایک ساتھ ہی انٹیلی جنس میں بھرتی ہوئے تھے ۔۔۔مگر پھر را کا سپر نیچرل سیکشن بنا تو میں نے اپنا ٹرانسفر وہا ں کرو الیا۔۔۔۔بھارت کے ہر مندر میں اس سیکشن سے خصوصی لوگ تعینات تھے۔۔میں بھی اس مندر میں ہر ہفتے جایا کرتی تھی ۔۔جہاں تم سے پہلی ملاقات ہوئی۔۔۔اورتم اس اطلاع پر یقین کر بیٹھے جو مندر کے اطراف میں پھیلائی گئی تھی۔۔۔مجھے اسی رات ہی شک ہو چکا تھا کہ یہ پجاری نہیں کوئی اور ہے ۔۔۔کیونکہ جو پجاری میرے نیچے کام کرتا تھا ۔۔۔اس میں اتنی ہمت کیسے آ سکتی تھی کہ مجھے اپنے بستر پر لے جاسکے ۔۔۔۔دوسرا شک اس پر ہواجب تم نے ساری دولت لپیٹ کر میرے حوالے کر دی۔۔۔وہاں سے واپس پر میں نے اپنی ایجنسی میں رپورٹ کی ۔۔۔اور اس کیس پر کام کرنے کے لئے اجازت مانگی ۔۔۔۔یہ کیس راجیش سے لے کر مجھے دے دیا گیا۔۔اور اس کے فورا بعد تم نے اسے مارڈالا۔۔۔میں نے اسی وقت سے پلاننگ شروع کر دی ۔۔۔۔اور تمہیں محسوس بھی نہیں ہونے دیا۔۔مجھے یقین تھا کہ تم مجھ سے ایک بار ضرور ملنے آؤ گے ۔۔۔اور ایسا ہی ہوا ۔۔تم اتنے بے خبر نکلے کہ تم نے پجاری کے روپ میں مجھ سے ملنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔۔۔شاید تمہیں یقین ہو کہ میں تم پر مرمٹی ہوں ۔۔۔اور اب کہیں نہیں جا سکتی نہ کسی کو بتا سکتی ہوں۔۔۔۔
جیوتی کے بات سن کر میرے زہن میں دھماکے شروع ہو چکے تھے ۔۔۔۔اور اپنی بے وقوفی پر ۔غصہ بھی۔۔ایک تواس حرافہ کی باتوں پر یقین کر بیٹھا تھا۔جو ساتھ جینے مرنے کی قسم کھارہی تھی۔۔اور اپنی آخری غلطی پر بھی ۔۔۔جیوتی کو سرپرائز دینے کے شوق میں بھول بیٹھا کہ پچھلی بار اس سے پجاری کے روپ میں ملا تھا۔۔۔۔مگر اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا۔۔۔۔اور آئندہ زندگی میں یہ غلطی نہیں دہرانی تھی۔۔۔۔۔
جیوتی مجھے دیکھتے ہوئے میری بے بسی کو پورا انجوائے کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ "۔راجہ میں تم سے اک آخری بات کرنے آئی ہوں ۔۔۔۔یہ تمہارے پاس آخری چانس ہے ۔تمہاری موت کے آرڈر کب کے جاری ہوچکے ہیں ۔مگر تم خود مجھ سے ملنے آئے ۔تمہیں اپنے روپ میں دیکھ کر اچھے لگے ۔۔۔حوصلے سے آگے بڑھنا جانتے ہو۔۔اس لئے پلان تبدیل کر دیا۔۔اگر چاہو تو ہمارے ساتھ مل جاؤ ۔۔۔۔۔تمہیں دنیا کی ہر نعمت ملے گی ۔۔۔تمہارے ہی ملک کا سب سے بڑا عہدہ تمہیں پیش کیا جائے گا۔۔ویسے بھی تمہارے ملک کے دن گنے جا چکے ہیں۔۔۔دنیا کی سپر پاورز اسے نگلنے کے لئے تیار بیٹھی ہیں۔۔۔جیوتی سلاخوں کے قریب آتے ہوئے بولی۔۔
۔"اور اس کے لئے مجھے کیا کرنا ہوگا۔۔۔۔اس تمہارے پاکھنڈی مہارج کے آگے جھکنا ہوگا۔۔۔؟ ۔۔۔اور ان کے اشاروں پر ناچنا ہوگا۔۔"۔اپنےملک سے غداری کرنی ہو گئی۔۔۔۔۔ میری آواز میں بھی تیزی تھی ۔۔۔ نہیں جیوتی ۔۔۔تم نے راجہ کو پہچاننے میں غلطی کر دی ہے ۔۔۔۔۔اپنے وطن سے غداری تو دور کی بات ۔۔۔میں اس پجاری کے سامنے اپنی انگلی بھی نہیں جھکا سکتا ہے ۔۔۔"۔جیوتی نے مجھ میں آگ سی لگا دی تھی۔۔۔
دیکھو راجہ ۔۔۔۔یہ لوگ تمہیں مار ڈالیں گے ۔۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ تم اپنے وطن سے دور بے بسی کی ایسی موت مرو۔۔۔۔ اگر تم مان جاؤ تو میں تمہاری جان بخشی کراتے ہوئے تمہیں یہاں سے نکال سکتی ہوں ۔۔۔اور پھر میں بھی ہمیشہ کے لئے تمہارے ساتھ رہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیوتی کی آواز کچھ معنی خیز ہوئی تھی ۔۔۔
شاید اسے اپنی خوبصورتی اور شباب کا بہت غرور تھا۔۔۔۔میں نے ایک نظراس کے سراپے پر ڈالی ۔۔۔۔وطن کے سرفروش کو جسم پیش کیا جا رہا تھا۔۔
میں اٹھ کر کھڑا ہوا ۔جیوتی کی باتوں نے مجھے تڑپا دیا تھا۔۔پنجرے میں بند کر کے یہ مجھے خریدنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔میں اٹھ کر آگے آیا۔اور منہ میں تھوک جمع کرنے لگا۔۔۔قریب آ کراس کے سامنے تھوک دیا۔۔۔۔چہرے پر پھینکنے کا دل نہیں کیا ۔۔۔یہ نہ بولے کہ بے بس ہو ا تو ایسی اوچھی حرکت پر آ گیا راجہ ۔۔
اور واپس اپنی جگہ پر آ گیا۔۔۔۔۔جیوتی کے چہرہ سرخ کر تپ گیا تھا ۔۔۔۔۔اس کی ساری ہمدردی ہوا ہو گئی تھی ۔میرا جواب اسے سمجھ آ گیا تھا۔۔۔اور اب گالیاں دیتی ہوئی مجھے میرے انجام سے ڈرانے لگی ۔۔۔۔میں سکون سے دیکھنے لگا۔۔تبھی اس نے پیچھے کھڑے ہوئے غلاموں کو اشار ہ کیا ۔۔۔ایک تیزی سے آگے بڑھا اور سلاخوں کو کھولنے لگا۔۔۔دروازہ کھلتے ہی دوسرا اندر کی طرف لپکا ۔۔۔اس سے پہلے کہ میں سمجھتا ۔۔اس کا ہاتھ گھوما ۔۔۔اور ایک فولادی گرز میرے چہرے پر پڑا ۔۔۔میں الٹ کر پیچھے جا گرا ۔۔میرے سر میں ایک تیز دھماکہ سا ہوا ۔آنکھوں کے آگے تارے سے ناچ گئے ۔۔۔کچھ سیکنڈ کے لئے ذہن ماؤف سا ہو گیا۔۔۔۔اتنے میں پچھلے والا بھی اندر آیا ۔۔۔اور میرے سامنے جھکتے ہوئےپاؤں کی زنجیروں پر ہاتھ ڈالا۔۔۔۔اگلے ہی لمحے میں اس کے ہاتھوں پر جھول رہا ۔۔۔۔میر ا وزن اتنا بھی کم نہیں تھا۔۔۔مگر اس نے مجھے کسی کھلونے کی طرح اٹھایا ہوا تھا۔۔۔بیڑیاں میرے پاؤں کو کاٹنےلگیں تھیں۔۔۔پورے سر میں درد کی لہریں ابل رہی تھیں۔۔۔شاید سر پھٹ بھی گیا تھا۔۔۔دوسرا غلام ساتھ ہی اشارے کا منتظر تھا۔۔۔جیوتی سلاخوں کے قریب آتے ہوئے بولی ۔۔"۔راجہ ۔۔میرے ایک اشارے پر یہ تمہاری بوٹی بوٹی الگ کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ان کے سامنے تو موت خود کانپ جاتی ہے ۔۔۔تمہارے پاس آخری چانس ہے ۔۔مان جاؤ ۔۔"۔
مجھےعمران صاحب کی بات یاد آ گئی تھی۔۔۔آزمائش آنے والی تھی ۔۔اور شاید یہیں سے میری آزمائش شروع تھی۔۔
میں نے اپنی آواز اکھٹی کی ۔۔"میرا جواب وہی ہے ۔۔جو دے چکا ہوں ۔۔۔اپنے ا ن غلاموں سے کہہ دو اپنے بازؤوں کے زور کو آزما لیں ۔۔۔"۔
میرے لہجے میں یقین تھا۔۔۔عزم تھا۔۔اور نہ بکنے کی گونج تھی۔۔جیوتی نے انہیں اشارہ کر کے باہر بلا یا۔۔۔۔جیسے ہی اس نے نے میرے پاؤں کی زنجیر چھوڑی ۔۔۔اور میں تیر کی طرح نیچے گرا۔۔۔ہاتھ رکھنے کی کوشش کی ۔۔مگر اتنا زور کہاں تھا۔۔۔پھر بھی میں پوری کوشش کر کے اپنے سر کو بچا گیا تھا۔۔اور کم سے کم دباؤ کو سر پرلگنے دیا۔
سلاخیں دوبارہ بند ہو گئیں تھیں۔۔۔۔میں سر کو تھامتا ہوا سیدھا ہونے لگا۔۔۔۔دھماکے اب تک جاری تھے۔۔جیوتی پیچھے کو ہٹنے لگی۔۔۔اور دونوں غلاموں کے درمیان جا کھڑی ہوئی۔
تبھی اس نے عجیب حر کت کی ۔۔۔۔۔سر پر رکھے ہوئے اپنے ہْڈ کو اس نے نیچے گرایا ۔۔۔۔۔۔وہ پورا جالی دار لباس سرکتا ہوا نیچے جا گرا تھا۔۔۔اس کے چیختا چنگھاڑتا ہوا جسم میرے سامنا تھا۔۔۔۔وہ ایک قدم چلتی ہوئی سلاخوں کے پاس آئی ۔۔۔اور ادا سے میرے سامنے لہرا کر بولی ۔۔۔۔"تم کیا سمجھتے تھے کہ میں تم پر فدا ہو گئیں ہوں ۔۔۔۔اک بار تمہارے ساتھ لیٹ گئی تو تمہاری دیوانی ہو گئی ۔۔۔" ۔ ۔۔راجہ یہ تمہاری بھول تھی ۔۔۔انہیں دیکھو ۔۔۔۔یہ تم سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جیوتی پیچھے کو ہٹتی ہوئی ایک غلام سے ٹیک لگانے لگی۔۔۔وہ دونوں ایسے ہی ساکت کھڑے تھے ۔۔۔۔۔جیوتی نے دونوں ہاتھ پیچھے لے جا کراس کے چہرے پر رکھے۔۔۔اور خود اپنے جسم کو اس کے جسم پررگڑنے لگی۔۔۔۔۔جیوتی اس کے سینے تک ہی آتی تھی۔۔۔۔غلام کا لباس بھی نیچے جا گرا ۔۔۔۔اور نیچے کالا سیاہ پتھریلا جسم نمایا ں تھا۔۔۔۔جیوتی نے غلام کے کے سینے پر زبان پھیرتے ہوئے نپل پر گھمانی شروع کر دی ۔۔۔۔دوسرا غلام ایسے ہی مشینی انداز میں کھڑا تھا۔۔۔جیسے حکم کا محتاج ہو ۔۔۔۔۔جیوتی کا انداز ایسا تھا جیسے وہ یہ سب مجھے دکھانا چاہتی ہے ۔۔اور شاید اپنی بے عزتی کا بدلہ بھی ۔۔
میں ان دونوں غلاموں کا جائزہ لیا۔۔۔اونچے قد اور بے حد چوڑے جسم کے مالک ۔۔جسم بے حد سیاہ تھا۔۔اور کالی ہی آنکھیں ۔۔۔جن میں کوئی تاثر نہیں آتا تھا۔
مجھے یہ دونوں کسی خاص عمل سے طاقتور بنائے ہوئے لگتے تھے ۔۔۔۔ اسے لگتا تھا کہ جیسے کسی نے ہاتھ پر گوشت رکھ کران پر منڈھا ہو۔۔۔۔یہ باہر کی دنیا کے کسی بھی باڈی بلڈرز سے عجیب اور الگ جسم تھے ۔۔۔جسم کے ان حصوں پر بھی گوشت تھا۔۔جہاں پراْن لوگوں کا نہیں ہوتا ۔۔۔۔پنڈلی کا نچلا حصہ بھی اوپر کے حصے کی طرح گوشت سے بھرا ہوا تھا۔۔۔پاؤں بے حد پھیلے ہوئے اور انگلیاں کسی طرح بھی انسانی نہیں تھی ۔۔۔ہاتھ بھی اسی طرح۔۔اور کلائی پر بھی بازور کی طرح بے تحاشا گوشت ۔۔۔۔۔اور یہ سب ڈھیلا ڈھالا نہیں ۔۔۔بلکہ سختی سے جماہو اچمک رہا تھا۔۔۔
میں حیرت سے انہیں دیکھتا ہوا موازنہ کر رہا تھا۔۔۔اگر میں زنجیریں اور سلاخوں سے نکلنے میں کامیاب ہو بھی جاتا تو ۔۔۔انہیں سے مجھے ٹکرانا تھا۔۔۔
ادھر جیوتی ایک غلام سے پشت لگائے ہوئے اپنی کمر کو گھمائے جا رہی تھی ۔۔اپنے چوتڑ اس کی طرف کئے ہوئےرگڑے جا رہی تھی۔۔۔۔اس نے دوسرے غلام کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے آنے کا کہا ۔۔۔وہ جیوتی کے بالکل سامنے اس کی طرف رخ کر کے کھڑا تھا۔۔دونوں غلام آمنے سامنے آگئے اور جیوتی ان کے درمیان میں۔۔۔۔جیوتی پچھلے غلام کی طرف چوتڑ کرتی ہوئی ہلکی سے جھکی ۔۔۔اور سامنے والے غلام کا لبادہ اتار دیا ۔۔۔۔۔ان کاپچھلا جسم بھی میرے سامنے تھا۔۔۔۔۔اور حیرت انگیز طور پر یہ بھی بہت ہی منفرد اور عجیب تھا۔۔۔۔پوری کمر پر ایک انداز اور مقدار کا گوشت تھا۔۔۔۔چوتڑ بے حد بڑے اور گول۔۔۔۔۔اور رانیں بھی ایسے ہی جیسے کسی نے تھری ڈی پرنٹر پر بنائی ہوئی ہوں ۔۔۔میں دل یہ دل میں ان کے وزن کا اندازہ کرنے لگا۔۔۔۔یہ کم سے کم تین سو کلو کے اوپر کے انسان تھے ۔۔اور شاید انسان تھے بھی یا کسی جنگلی سانڈ کو کھڑا کر دیا تھا۔۔۔
اور ان کے درمیان جیوتی کھڑی ہوئی اپنے جسم کو ہلکورے دے رہی تھی ۔۔۔۔اس نے سامنے والے غلام کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اس اپنی طرف کھینچا ۔۔۔۔۔غلام اس سے کہاں ہلتا۔۔۔۔البتہ وہ خود ایک قدم اور آگے بڑھ گیا ۔۔جیوتی نے پیچھے والے کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اسے بھی آگے کی طرف کیا ۔۔۔وہ بھی آگے کی طرف بڑھا۔۔۔۔ساتھ ہی جیوتی اس کے آگے لگتی ہوئی اگلے سے آن لگی ۔۔جیسے بلڈوزر کسی چھوٹی موٹی چیز کو آگے کی طرف دبا کر پچکا دیتا ہے۔۔۔۔۔دونوں غلام اپنے درمیان پھنسی اس چوزی کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔جو نہ جانے کیا کرنا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔۔جیوتی مجھے نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔۔مگر اس کے ہاتھ سامنے والے کے سینے پر حرکت کرتے تو کہنی مجھے سائیڈ سے جھلک جاتی۔۔۔۔۔
سامنے والے نظارے نے مجھے ایک بار پھر ششدر کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔جیوتی نے دونوں غلاموں کے ہاتھوں کو آپس میں ملوا دیا تھا۔۔۔۔دونوں نے شاید انگلیاں ایکدوسرے کے ہاتھوں میں پھنسا کر ہاتھ سیدھے کر دئے ۔۔۔۔۔اور جیوتی سہار الیتی ہوئی ان کے ہاتھوں پر کھڑی ہونےلگی۔۔۔۔اس نے دونوں غلاموں کو ہاتھ اوپر کرنے کا کہا ۔۔۔اوراب جیوتی ان کے درمیان اٹھتی ہوئی اوپر ہونےلگی ۔۔۔یہ بالکل لفٹ جیسا منظر تھا۔۔۔۔اور نیچے دونوں ہاتھ اتنے بڑے تھے کہ جیوتی بڑے آرا م سے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔ہاتھ اتنے اٹھ چکے تھے کہ جیوتی کا نچلا حصہ ان کے سامنے آچکا تھا۔۔۔جیوتی میری آنکھوںمیں حیرت دیکھتی ہوئی مسکرائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔وہ ان دونوں کے درمیان جھکنے لگی ۔۔۔اس طرح کے پچھلے والے کے منہ کے سامنے اس کے چوتڑ آ گئی ۔۔۔۔۔اس نے پھر اشارہ کیا ۔۔۔کالے حبشی کی لمبی زبان نکلی ۔۔اور جیوتی کے چوتڑ پر پھرنے لگی۔۔۔۔۔ادھر سامنے سے اس نے اگلے غلام کے چہرے پر اپنے چہرے کو رکھتی ہوئی چاٹنے لگی۔۔۔۔
مجھے نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔کہ جیوتی کے زبان کے لمس کا اس کے چہرے یا ہونٹوں پر اثر ہوتا ہو۔۔۔۔۔دونوں کی اوپری اسکن اتنی موٹی تھی کہ حساسیت بالکل ختم لگی تھی ۔۔۔۔مگر جیوتی کے گرم گرم سسکاریوں نے بتا دیا تھا کہ پچھلے غلام کی زبان اسے مزا دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
میں نے اب تک دونوں غلاموں کے لن نہیں دیکھے تھے ۔۔۔۔مگر اندازہ ہو گیا تھا کہ آج کی رات جیوتی پر پھر بہت بھاری پڑے گی ۔۔۔۔اس نے صرف مجھے بھڑکانے کے لئے یہ سب شروع کیا تھا۔۔۔اسے اتنا پتا تھا کہ یہ غلام طاقتور ہیں ۔۔۔مگر میں دیکھ چکا تھا کہ انہیں خصوصی انجکشن یا عمل نے غیر انسانی بھی بنا دیا ہے ۔۔۔
جیوتی کی اگلی حرکت اورحیرت انگیز تھی ۔۔۔۔وہ دونوں غلاموں کے ہاتھو ں پر اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔اس نے ایک پاؤں اٹھا کر سامنے والے کے کندھے پر رکھ دیا۔۔۔۔ساتھ ہی دوسرا پاؤں اٹھاتی ہوئی دوسر ے کندھے پر ۔۔۔دونوں ٹانگوں اگلے غلام کے سر کے دائیں بائیں آ چکیں تھیں۔۔سر اس نے پچھلےوالے کے کندھے پر رکھ کراپنے ہاتھ اس کے سر کے گرد گھمادیا۔۔
جیوتی نے شاید اگلے والے غلام کے کندھے پر رکھی ہوئی ٹانگوں پر زور دیا ۔۔۔وہ ایک قدم اور آگے آیا ۔۔۔جیوتی نے ٹانگیں اور کھول کر اسے راستہ دیا ۔۔۔۔اور اب غلام کے سامنے اس کی چوت کے لب تھے ۔۔۔۔جیوتی نے زبان باہر نکلاتے ہوئے اسے بھی زبان نکالنے کا کہا۔۔۔غلام نے اپنی لمبی لال سرخ زبان نکال لی تھی ۔۔۔اور اب چوت کے ان لبوں پر پھیرتے جا رہا تھا۔۔۔۔جیوتی کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔۔۔وہ ایک مرتبہ زبان نیچے سے اوپر لاتا تووہ چوتڑ کے سوراخ اور چوت کے لب دونوں پر پھر جاتی ۔۔۔۔جیوتی ساتھ ساتھ ہلتی بھی جارہی تھی ۔۔۔۔۔ہر بار ہلکے سے اچھل جاتی ۔۔۔۔۔غلام کو شاید اسے مزے کا احساس تھا یا نہیں وہ مستقل اس حرکت کو دہرائے جا رہا تھا۔۔۔۔اس کی نظر جیوتی کے اچھلتے ہوئے مموں پر تھی ۔۔۔گوشت سے پْر یہ ممے گول گول تھے ۔۔۔جن کےا چھلنے کا منظر بھی کچھ اور تھا۔۔۔جیوتی کے پتلا سپاٹ پیٹ نیچے کو ہلکا سا دب کر اچھلتا ۔۔۔۔۔ساتھ ہی ممے بھی اچھل کر رہ جاتے ۔۔۔۔جیوتی نے پچھلے غلام کے کندھے پر سر رکھا ہوا تھا۔۔۔۔اب اس کے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے سینے پر رکھوانے لگی۔۔۔۔۔دونوں ممے بڑے اور اوپر کو نکلے ہونے کے باوجود ایسے چھپے تھے جیسے تھے ہی نہیں۔۔۔۔۔۔جیوتی کو ان کے ہاتھوں کا وزن اپنے مموں پر محسوس ہوا ۔۔۔مزہ بھی آیا ۔۔۔۔اس نے ہاتھوں کو گھمانے کا کہا۔۔۔۔مگر یہ گھمانا نہیں تھا۔۔۔غلام کے ہاتھ جب گھومے تھے تواس نے نیچے دبے ہوئے مموں کو ابھی ایسا رگڑا دیا کہ وہ تڑپ اٹھی ۔۔۔۔اس کی بے اختیار چیخ نکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔غلاموں کو اس کے چیخنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی ۔۔مگر میں نے جیوتی کی چیخ میں درد کو صاف محسوس کر لیا۔۔۔۔یہ دس دس کلو کے ہاتھ اس کے سینے پر پہلے ہی وزن دار تھے ۔۔۔۔اور اب گھومنے کی وجہ سے تو آفت ہو گئے تھے ۔۔جیوتی نے فورا سے پہلے اس کے ہاتھوں کو روک دیا۔۔اور صر ف ان کے وزن سے ہی مزہ محسوس کرنے لگی۔۔ جو کہ شاید ہی مزہ تھا۔
اگلا غلام ویسے ہی اپنی لمبی زبان اس کی چوت پر پھیرنے کے بعد اب اندر گھسا رہا تھا۔۔۔۔جیوتی ایک دم اچھلی تھی ۔۔مگر پھر سسکاریان بھرنے لگی۔۔۔اس بلند پہاڑ کے اندر یہ سسکاریں بھی گونج رہی تھی۔۔۔پچھلے غلام نے ویسے ہی دونوں ہتھیلی جیوتی کے مموں پر رکھی ہوئی تھیں۔۔جیوتی نے اسے اوپری بدن پر ہاتھ پھیرنے کے کہا۔۔۔وہ ایسے ہی سینے سے ہاتھ پھیرتا اور پیٹ تک لے جاتا ۔۔اور پھر واپس ۔۔۔۔۔دونوں ممے گہرے سرخ ہو چکے تھے ۔۔۔۔اس کے منہ سے نکلنے والی سسکیاں بتا رہی تھیں کہ وہ فارغ ہونے والی ہے ۔۔۔اور وہی ہو ا کچھ دیر بعدکے بعد اس نے ہلکا سا اچھلتے ہوئے پانی چھوڑدیا۔۔۔۔اگلے غلام کی زبان سے نمکین پانی ٹکرایا ۔۔اور وہ اسے بھی چاٹنے لگا۔۔۔ 
جیوتی نے سامنے والے غلام کے کندھے سے اپنی ٹانگیں اتار لیں ۔۔۔۔اب وہ پچھلے والے کی گردن میں ہاتھ ڈالے لٹکی ہوئی تھی۔۔۔اس نے سامنے والے کو اپنے لال ہوتے ہوئے مموں کو چوسنے کا کہا ۔۔۔۔شاید درد سے تسکین چاہ رہی تھی ۔۔۔۔سامنے والا بھی اور قریب ہو کر جھک گیا ۔۔اور دونوں خربوزے جیسے مموں کو دیکھنے لگا۔۔۔چوت نے تو اسے کچھ عجیب سا مزہ دیا ۔۔اب یہ پتا نہیں کیسے مزے دیتا۔۔۔
اس نے جیوتی کی نیچے لٹکتی ہوئی ٹانگوں کو پکڑ کر ہلکا سا اٹھایا ۔۔۔اور مموں پر جھک گیا ۔۔میرے ایک ہاتھ میں نہ سمانے والے ممے اب اس غلام کے سامنے تھے ۔۔اس نے اپنا بڑا اسا منہ کھولا ۔۔۔اور اس پورے ممے کو ایک ساتھ ہی منہ میں بھر نے کی کوشش کی۔۔۔۔۔جیوتی کی چیخ نے ماحول پھر گرما دیا ۔۔اسے شاید دانت لگے تھے ۔۔اور دباؤ بھی شدید تھا۔ ۔۔۔اس نے تیزی سے ہاتھ بڑھا کر غلام کے چہرے کو ہٹا نے کی کوشش کی ۔۔مگر پھر سے چلا اٹھی ۔۔اس کے ممے اس کے منہ میں ہی تھے ۔۔۔جس وہ عجیب انداز میں چوس رہا تھا۔۔ممے نکلنے مشکل ہو گئے ۔۔اس نے بڑے ضبط سے اس درد کو برداشت کیا۔۔۔کراہیں مستقل نکلے جا رہی تھیں۔۔غلام کے منہ سے نکلنے والا بے تحاشہ تھوک اس کے سینے پر پھسلتانیچے گر رہا تھا۔۔۔جیسے ہی غلام سانس لینے کے لئے رکا۔۔جیوتی نے جلدی سے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے منہ کھولنے کو کہا ۔۔اور پھر سکون کا سانس لیا۔۔ پچھلے والے غلام کا تو مجھے پتا نہیں ۔۔۔۔مگر اگلا والا چوت اور ا س کے بھاری بھرکم مموں کو چوسنے کے بعد کچھ پرجوش سا لگ رہا تھا ۔۔جیسے آگے کہ مرحلے جاننے کے لئے بے چین ہو ا جا رہا ہو۔۔۔اس نے حسرت بھری نگاہوں سے دوسرے ممے کو دیکھا ۔۔جیسے اسے بھی چوسنا چاہ رہا تھا۔۔۔مگر جیوتی کی بس ہو چکی تھی ۔پہلے وال مما لال سرخ ہوا تھا جس سے تھوک ابھی تک ٹپک رہا تھا۔۔۔۔۔جیوتی پچھلے والے کی گردن سے ہاتھ کھول کر زمیں پر کودی ۔۔۔۔آگے والے غلام نے حیرت سے اس کے ہلتے ہوئے مموں کو دیکھا ۔۔جنہوں نے باؤنس لیا تھا۔۔جیوتی اس کی طرف بڑھی اور اس سے ٹیک لگاتی ہوئی اسے اٹھانے کا کہا۔۔۔آگے والے غلام کو ہوشیاری تو آئی ہی گئی تھی۔۔۔۔اس نے جیوتی کے چوتڑوں کو چھوتے ہوئے نیچے رانوں پر ہاتھ ڈالے اور گڑیا کی طرح گود میں اٹھا لیا۔۔۔۔ساتھ ہی اس کی ٹانگیں بھی کھول دیں ۔۔۔۔جیوتی دونوں ٹانگیں کھولے اس کے بازؤوں میں تھی ۔۔۔۔یہ ایسی ہی پوزیشن تھی جیسے چھوڑے بچوں کو مائیں یورین کر واتی ہوئی پکڑتی ہیں ۔۔۔۔۔جیوتی کے اشارے کو دیکھ کر پیچھے والا غلام بڑھا اور اپنی زبان نکالتے ہوئے چوت پر جھک گیا۔۔۔۔ٹانگیں کافی کھولی ہوئی تھی ۔۔اس لئے کوئی دقت نہیں ہوئی ۔۔ وہ بھی کچھ دیر چاٹنے لگا ۔۔اور پھر پہلے والے کی طرح لمبی زبان نکالی اور جیوتی کی چوت میں داخل کر دی ۔۔۔۔۔زبان اندر تک ڈالنے کے بعد اس نے ہونٹ بھی اوپر ہی رکھ دئے ۔۔۔اور زبان ہلانے لگا۔۔جیوتی کے منہ سے سسکاریاں برآمد ہوئیں ۔۔۔ جو رفتہ رفتہ بڑھنے لگی۔۔
میں کھڑے کھڑے تھکنے لگا ۔۔تو پیچھے بیٹھ کر ٹیک لگا لی ۔۔یہ سب دیکھ کر میرے جسم میں کوئی احساس نہیں جاگا۔۔۔جیوتی کا اصل روپ میرے سامنے آنے کے بعد میرے اندر سرد مہری سی جاگ گئی تھی۔۔اب وہ جیتی یا مرتی مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ۔۔۔۔میں تو بس اس کے جانے کاانتظار کر رہا تھا کہ یہ جائے اور میں سکون سے آئندہ کا سوچ سکوں۔۔۔۔
میں اسی سوچ میں گم تھا ۔۔۔۔کہ جیوتی کی چیخ نے مجھے نظر اٹھانے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔دوبارہ سے ایک غلام نے اس کےمموں پر ہاتھ رکھ کر دبانے کی کوشش کی تھی ۔۔ان کے لئے بھی یہ غیرمعمولی چیز تھی ۔۔بہت ہی نرم اور گول مٹول سی ۔۔۔ان کے اپنے جسم تو ٹھوس اور سیاہ تھے ۔۔۔۔۔جیوتی کراہتی ہوئی درد برداشت کر رہی تھی ۔۔اس کی بلند سسکیاں اور کراہیں گونج رہی تھی۔۔۔۔۔پیچھے والا اب تک اس کی چوت میں زبان ڈالے چوسنے میں مصروف تھا۔۔۔میرے دیکھتے ہی دیکھتے ہی جیوتی نے دوبارہ سے پانی چھوڑ دیا۔۔۔اس کے ساتھ ہی جیوتی نے نیچے اترنے کا اشارہ کیا ۔۔جیوتی اترتے ہوئے کھڑی ہوئی اور ایک نظر مجھ پر ڈالی ۔۔۔مجھے سکون سے بیٹھا دیکھ کر اسے آگ تو ضرور لگی۔میں نے سر کے درد کو برداشت کرتے ہوئے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا لی۔۔۔۔مگر پھر جوابی مصنوعی مسکراہٹ دیتی ہوئی واپس غلام کی طرف متوجہ ہو گئی۔۔۔۔میری طرف منہ کرتی ہوئی اس نے دونوں غلامو ں کو اپنے دائیں بائیں کھڑا کردیا۔۔۔۔اور ان کے جسم پر ہاتھ پھیرتی ہوئ اپنی کمر گھمانی شروع کی ۔۔۔۔یہ لہراتا ہوا انداز تھا۔۔۔۔جس کو غلام حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔۔مگر میں جانتا تھا کہ جیوتی یہ سب مجھے دکھانے کے لئے کر رہی ہے ۔۔وہ ان دونوں کے سینے پر ہاتھ پھیرتی ہوئی نیچے آئی اور دونوں کے لن والی جگہ پر ٹٹولنے لگی۔۔۔وہ دونوں کے لن کو باری باری دیکھتی اور ہلاتی ہوئی ہاتھ کو آگے پیچھے کرتی ۔۔۔
وہ کافی دیر تک ایسے ہی کرتی رہی۔۔۔ایک بار تو میں سمجھا کہ لن جیسی کوئی چیز ہی ان میں نہیں ہے ۔۔۔مگر جیوتی کے ہاتھ میں کچھ تھا جسے وہ بے دردی سے کھینچے جا رہی تھی۔۔۔۔کچھ دیر بعد دونوں غلاموں کے چہرے کو دیکھتی ۔۔۔۔۔اور ان کے تاثرات دیکھتی ۔۔اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس کے انداز میں بے چینی سی تھی۔۔۔
اور تھوڑی ہی دیر میں اس کے ہاتھ میں سیاہ رنگت کی کوئی چیز دکھنے لگی۔۔۔جیوتی مستقل اسے دباتی ہوئی کھینچے جا رہی تھی۔۔۔کوئی عام شخص ہوتا تو چیخ مار دیتا ۔۔۔مگر دونوں غلام اسی طرح سکون سے کھڑے تھے۔۔کچھ ہی دیر میں جیوتی کے ہاتھ میں دبے ہوئے سیاہ گوشت کے لوتھڑے مزید شکل اختیار کرنے لگے۔۔جہاں وہ پھولتے ہوئے موٹے ہو رہے تھے ۔۔وہیں پر لمبائی بھی اختیار کر رہے تھے ۔۔۔۔۔جیوتی کے ہاتھوں نے ان میں زندگی دوڑا دی تھی۔۔اور اب وہ جیوتی کے ہاتھوں سے ہی نکلنے کو بے تاب تھے ۔۔۔۔۔اس کے چہرے پر کچھ پریشانی کے آثار آئے تھے ۔۔۔میں نے آنکھیں سکیڑ کر بغور دیکھا۔۔۔یہ لمبائی میں میرے ہتھیار سے کچھ کم ۔۔۔مگر موٹائی اور چوڑائی میں مجھ سے ڈیڑھ گنا تو ضرور تھے ۔کسی سیاہ ناگ کی طرح لہراتے ہوئے ۔۔۔اور ابھی بھی مزید پھیلتے جا رہے تھے ۔۔۔۔جیوتی کچھ دیر کو رکی تھی ۔۔۔مگر پھر ایک غلام نے اس کے ہاتھ کو دوبارہ رکھ کر اپنے لن کو ہلوانا شروع کیا ۔۔۔جیوتی نے چونک کر اسےدیکھا ۔۔اور پھر ہلانے میں مصروف ہو گئی ۔۔۔وہ کسی خواب کی سی کیفیت میں لگ رہی تھی۔۔۔۔اور پھر وہ ایک لن کو ہلاتی ہوئی دوسرے پر جھکی ۔۔اور چومنے کی کوشش کی ۔۔۔۔اس غلام کے لئے حیران ہونے کا وقت تھا۔وہ حیرانگی سے دیکھ ہی رہا تھا ۔کہ۔۔جیوتی نے اسے چاروں طرف سے چاٹنا شروع کیا ۔۔۔چاروں طرف زبان پھیرتی ہوئی جیوتی ایک نظر اوپر بھی ڈال ڈال لیتی ۔۔۔۔لن مزید سخت ہونا شروع ہوئے ۔۔۔۔اور جیوتی کے لئے مزید مشکل کا باعث بھی۔۔۔دوسرا غلام جھکی ہوئی جیوتی کے چوتڑوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نیچے لئے جا رہا تھا۔۔جھکنے کی وجہ سے اس کے چوتڑ کھل کر سامنے آئے تھے ۔۔اور دیکھنے والے کے لئے دلکش نظارہ تھا۔۔مگر میں اپنی ایک غلطی کی وجہ سے ان سلاخوں میں خود کو کوس رہا تھا۔۔۔۔غلام اپنے بھاری بھرکم اور پتھریلے ہاتھوں سے وہ جیوتی کی چوت کو سہلا رہا تھا۔۔۔جیوتی نے اگلے والے کے لن کوچاروں طرف سے خوب گیلا کر دیا تھا۔۔۔۔۔مزید چہرے کو اوپر لا کر تھوک گرانے لگی ۔۔۔۔کافی سارا تھوک گرانے کے بعد ہاتھوں سے اسے پورے لن پر ملنے لگی۔۔۔تھوک کے ملنے سے لن چکنا ہو چکا تھا۔۔دونوں ہاتھوں میں اسے سمبھالتے ہوئے جیوتی چاروں طرف سے زبان پھیر رہی تھی۔۔۔۔پیچھے والاغلام اس کے پھیلے ہوئے چوتڑوں کے کو دبانے کے ساتھ ساتھ درمیان میں اپنی انگلی بھی پھیر رہا تھا ۔۔جو گانڈ اور چوت دونوں کے چھیدوں پر رگڑ کھا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
جیوتی اب کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔اور اگلے غلام کو دیکھنے والے لگی ۔۔۔جس کی آنکھیں کسی شکاری کی طرح چمک رہی تھیں ۔۔۔سیاہ آنکھوں میں وحشت کی سرخی واضح تھی۔۔۔جیوتی نے اپنی ایک ٹانگ اٹھاتے ہوئے غلام کے بازو کی طرف لائی ۔۔۔۔۔وہ اشارہ سمجھ گیا تھا۔۔۔آگے بڑھا ۔۔اور جیوتی کی ٹانگ میں کلائی گزارتے ہوئے اسے مزید اٹھا دیا۔۔۔۔ساتھ ہی جیوتی نے اس کے لن کو اٹھاتے ہوئے اپنی چوت کے لبوں پر رگڑنے لگی۔۔۔۔وہ لن کے درمیان حصے کو پکڑے ہوئے ٹوپے کو اپنی چوت پر رگڑ رہی تھی۔۔۔۔۔۔جو اس دیوہیکل لن کے سامنے سہمی ہوئ لگ رہی تھی۔۔۔۔۔جیوتی کو اپنی چوت پر ٹوپے کو رگڑتے دیکھ کر غلام سمجھ گیا تھا۔۔۔وہ اب قدرے سیدھا ہوا ۔۔اور جیوتی کے سامنے ایڈجسٹ ہو گیا۔۔۔۔کلائی کو ہلکا سا اور اٹھا دیا ۔۔اور اپنے لن کو جڑ سے پکڑ کر آگے کو دھکیلنے لگا۔۔ٹوپے کی موٹائی ہی اتنی تھی کہ اند ر گھس جاتی تو بڑی بات تھی۔۔۔۔۔غلام نے کچھ تیزی دکھائی ۔۔۔اور زور لگانے لگا۔۔مگر ٹوپا اندر کیا گھستا۔۔۔۔الٹا جیوتی کو پیچھے دھکیل دیا۔۔۔۔جیوتی کا اکلوتا زمین پر رکھا ہوا پیر اٹھا ۔۔اور ایک قدم پیچھے چلا گیا۔۔۔اگلاغلام دوبارہ زور لگانے لگا۔۔۔تھوڑا زور زیادہ ہوا تو جیوتی کےچہرے پر تکلیف کے آثار نمودار ہو گئے ۔۔۔۔مگر غلام ان سب کے بے خبر اپنے زور رمیں مصروف تھا۔۔اس نے اپنے بائیں بازو کے جھٹکا دے کر جیوتی کی ٹانگ کو اور اٹھایا ۔۔جیوتی لٹک سی گئی۔۔۔۔۔غلام نے اس کی بغل میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اس سمبھالا ۔۔۔اوردوبارہ وحشی زور لگانے لگا۔۔۔۔مگر ٹوپا اپنی سیدھ نہیں برقرار رکھ پایا ۔۔۔اور جیوتی کی ایک چیخ کے ساتھ پیچھے کی طرف پھسل گیا۔۔۔۔۔اتنے میں پچھلے غلام کو جانے کیا ہوا ۔۔۔۔جیوتی پیچھے ہٹتے ہوئے اس سے تو لگ ہی چکی تھی۔۔۔۔اس نے پیچھے سے اس کی دوسر ی لٹکتی ہوئی ٹانگ کو اٹھا لیا۔اور تھوڑا سا مزید کھول لیا۔۔۔ایک ٹانگ تو اگلے غلام کے ہاتھ میں پہلے ہی تھی ۔۔۔اور دوسری پچھلے والے نے اٹھا لی تھی۔۔جیوتی اب ٹانگیں کھولے ہوئے ہوا میں تھی۔۔۔پیچھے والا نے جہاں جیوتی کی ٹانگ اٹھا ئی تھی ۔۔وہیں اپنی ٹیک بھی پیچھے لگا ئی ۔۔۔اب جیوتی کا پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا تھا۔۔۔۔ٹیک لگتے ہی جیوتی کا پیچھے کو لہرانا بند ہوا ۔۔۔۔ساتھ ہی اس کی کربناک چیخ گونج اٹھی۔۔
اگلا اسی طرح زور میں مصروف تھا۔۔اور جیوتی کے بدن پیچھے کو ہٹ رہا تھا۔۔جیسے ہی پیچھے کو ہٹنا رکا۔۔۔اگلے والے کا موٹا ٹوپا اندر جا گھسا۔۔۔۔۔جیوتی کا منہ کھل اور آنکھیں اوپر کو چڑھ گئی تھی۔۔۔۔اس کی ایک ہی چیخ کے بعد خاموشی تھی۔۔۔منہ بند ہوا ۔۔اورآنکھیں بند ہو ئیں۔۔۔۔سینہ تیزی سے پھول پچک رہا تھا۔۔۔اس نے پوری قوت سے اپنے ہاتھ سامنے والے کے سینے پر گاڑ دئیے تھے ۔۔۔ناخن اندر کھبے ہوئے تھے ۔۔۔مگر اس کے چہرے پر کوئی اثر ہی نہیں تھا۔۔لیکن یہ ضرور ہوا کہ وہ رک سا گیا۔۔۔۔اس کو بھی اپنے ٹوپے پر بے پناہ دباؤ کا احساس ہو ا۔۔۔۔پچھلے غلام نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو جیوتی کے مموں پر رکھتے ہوئے ہلانے لگا۔۔جیسے کوئی مساج کر رہا ہو ۔۔۔۔جیوتی کو سیٹ ہونے میں ٹائم لگنا تھا۔۔۔جو درد اٹھا تھا وہ ختم تو ہو گیا ۔۔۔مگر لہریں اب تک اٹھ رہیں تھیں ۔۔۔اس کی چوت نے پانی کا سیلاب بہا کر راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی ۔۔اس نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔اور اگلے غلام کو دیکھا ۔۔۔جو اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔اگلی نظر میری طرف اٹھی تھی۔۔۔اس کی چیخ نے کچھ دیر کو تو مجھے بھی پریشان کیا ۔۔مگر اس نے جو کیا وہ اسی کو بھرنا تھا۔۔۔۔ جیوتی کو آنکھیں کھولتے دیکھ کر غلام تھوڑا سا ہلا ۔۔۔۔اور ٹوپے کو بھی ہلکا سا ہلا ڈالا ۔۔۔جیوتی پھر سے چیخی ۔۔غلام کو پیچھے ہٹانےکی کوشش کی ۔۔۔مگر وہ سو سال بھی کوشش کرتی تو اسے ہلا بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔پچھلا غلام اس کے مموں پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔جیوتی کے چیخوں نے اس کے لن کو ہوشیا ر کر دیا تھا۔۔۔۔اس کا لن بھی سختی پکڑے ہوئے جیوتی کے نچلے حصے کو ٹچ ہو رہا تھا۔۔۔
جیوتی کچھ دیر منہ کھولے ہوئے کراہتی رہی ۔اوہ ہ ہ۔۔۔آہ ہ ہ۔۔۔اوئی۔۔۔۔درد پھر سے جاگا تھا۔۔۔۔وہ اونچی اونچی سسکیاں نکالتی ہوئی درد باہر پھینک رہی تھی۔مم مم۔۔۔سس ۔۔آہ ہ ۔۔۔۔جس کی آواز یں اس ویران سے ہال میں گونج رہی تھی۔۔جیوتی کی چیخیں زرا سی ہلکی ہوئیں تھیں۔۔۔اور اگلے غلام نے زور لگاتے ہوئے کچھ اور فاصلہ کم کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ا س کے لئے یہ انوکھا ہی مزا تھا۔۔۔چیخیں اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھ رہی تھی۔۔۔وہ پہلے ہی جیوتی کی ایسی ہی چیخوں میں اس کے مزے کو بھی دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔جیوتی ایک دم تڑپی ۔آہ ہ ہ۔۔۔مر گئی۔۔۔اوئی۔۔۔آہ ہ۔۔۔ٹوپا اندر گھس کر تباہی مچا چکا تھا۔۔۔اس نے ٹانگ کھینچ کر اترنے کی کوشش کی ۔۔۔مگر یہ ناممکن ہی تھا۔۔۔۔ٹانگ اگلے غلام کے مضبوط ہاتھوں میں تھی۔۔۔جیوتی کی چیخوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اگلے غلام نے کچھ اور زور لگایا ۔۔۔اور آدھے کے قریب لن اندر گھسا دیا۔۔بے ہنگم سا پھیلا ہوا یہ لن آدھے کے قریب اندر جا کر پھنس چکا تھا۔۔۔میں نے جیوتی کے جسم کو ڈھیلا پڑتےہوئے دیکھا۔۔۔وہ نڈھال ہو چکی تھی ۔۔۔چیخنے کی ہمت جواب دے چکی تھی۔۔چہرے سے پسینہ بہتا ہوا نیچے اتر رہا تھا۔۔۔وہ بالکل ڈھیلی پڑ چکی تھی۔۔آنکھیں بند تھیں۔۔۔۔اگلے غلام ان سب سے بے خبر ہلکے ہلکے ہلنے میں مصروف تھا۔۔۔اس کے لن اپنی جگہ بنا رہا تھا۔۔۔اس کے ہلنے میں پورے جسم کا وزن تھا۔۔جو آگے کسی دیوار کو بھی خاطر میں نہ لاتا ۔۔۔اور یہ تو جیوتی کی چوت تھی۔۔جو اس وقت جلن اور دباؤ سے مستقل کراہ رہی تھی۔۔پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔سسکیاں لے رہی تھیں۔۔۔غلام کو ہلتے ہوئے کئی منٹ ہو چکے تھے ۔۔۔جیوتی اسی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہوش سے بیگانہ نظر آ رہی تھی۔۔۔کراہیں اس کے منہ سے نکل رہی تھی۔۔۔مگر ہاتھ اسی طرح بے جان انداز میں ہل رہے تھے ۔۔۔۔۔غلام کے دھکے جاری تھے ۔۔پچھلے والے نے جیوتی کے سارے وزن کو سمبھال لیا تھا۔۔۔اور دوسرا ہاتھ اس کی بغل سے گزارتے ہوئے اٹھائے رکھا ۔۔۔
جیوتی کا بدن ہر دھکے کے بعد بے جان سے انداز میں ہلتا ۔۔۔گورے بدن کے ساتھ اوپر موٹے ممے بھی لہرائے جاتے ۔۔۔۔مگر اس کی طرف دھیان کسی کو نہیں تھا۔۔۔انہیں دھکوں میں جیوتی ایک گہری سانس لیتی ہوئی ہوش میں آئی۔۔۔اور کراہتے ہوئے نیچے دیکھا۔۔۔جہاں اگلے غلام کے لن نے اپنی جگہ بنا لی تھی۔۔۔چوت کی دیواروں نے اس کے لن کو پوری قوت سے دبوچ رکھا تھا۔۔اور غلام کے بھرپور دھکے اسے آگے پیچھے ہلائے جا رہے تھے۔۔۔جیوتی اپنے ہاتھوں کو نیچے لے گئی۔۔۔اور چوت کے اوپری حصے پر پھیرنے لگی۔۔۔ابھی بھی لن کا کچھ حصہ باہر تھا۔۔۔تکلیف دہ سسکیاں اب تک نکل رہیں تھیں۔۔۔اس نے چوت کو تھوڑا ہی مسلا تھا۔۔کہ لگا کہ فارغ ہونے والی ہے ۔۔۔۔کمر کو ہلکے سے جھٹکا لگا۔۔۔اور پانی چھوٹا۔۔اگلے غلام کو اس کا کیا پتا چلتا۔۔۔مگر جیوتی نے اسے روکا۔۔۔اور ٹانگ نیچے اتارنے لگی۔۔پچھلے والے نے بھی ٹانگ چھوڑ کر نیچے رکھی۔۔جیوتی بمشکل ٹانگوں کو اکھٹا کرتی ہوئی کھڑی ہوئی ۔۔۔درد پھر سے جاگا۔۔۔۔
جیوتی نے پیچھے نظر دوڑائی تو پچھلا غلام بھی دیکھی جار ہا تھا۔۔جیسے اپنی باری کا پوچھ رہا ہو ۔۔۔جیوتی نے کافی دیر سے اسے اگنور کر رکھا تھا۔۔۔وہ بھی شرافت سے اپنی باری کا منتظر رہا ۔۔۔جیوتی اب اسے سہارنے کے قابل تو تھی نہیں۔۔۔البتہ کچھ اور کام دیا جا سکتا تھا۔۔۔۔جیوتی نے اسے کچھ سمجھایا ۔۔۔اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے جیوتی کی کمر میں ہاتھ ڈالا ۔۔اور اوپر اٹھا دیا ۔۔ساتھ ہی گھماتے ہوئے اس کا سر زمین کی طرف کر کے پاؤں اوپر کر دئے ۔۔۔جیوتی اس کی رانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے خود کو سیدھ میں لائی ۔۔اور اپنی ٹانگیں اس کے کندھے پر رکھ دیں۔۔چوت غلام کے چہرے کے سامنے آئی تو اس نے بھی زبان نکال لی۔۔۔۔۔ادھرنیچے جیوتی اس کے نیم جان کھڑے اس کے لن کوایک ہاتھ سے پکڑے اپنے منہ کے قریب لے ائی ۔۔۔۔کمر ابھی تک اسی غلام کے ہاتھوں میں تھی ۔۔جسے اس نے آسانی سے سمبھالا ہوا تھا۔۔۔اس کے لن پر جیوتی کے کھردری زبان لگی تو وہ اس میں بھی لذت کی لہر دوڑ گئی۔۔۔کافی دیر سے وہ اسے اگلے والے کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔اب اس کی باری تھی۔۔۔اس نے اپنے چوتڑ کو دباتے ہوئے کمر کو آگے کی طرف اٹھا دیا۔۔۔اب لن جیوتی کے اور قریب تھا۔۔۔وہ بھی چاروں طرف زبان پھیرتی ہوئی چاٹنے لگی۔۔۔اس کی چوت کا درد کچھ تھمنے لگا۔۔۔غلام کی لمبی زبان اندر جا کر مرہم کا کام دے رہی تھی۔۔۔جلن پھر تازہ ہوتی ۔۔۔مگر پھر ٹھنڈک سی پڑ جاتی۔۔۔۔لمبی زبان اندر تک جاتی ۔۔۔تو اس کے ہونٹ بھی جیوتی کی چوت کے لبوں پر آ رکتے ۔۔۔۔غلام پوری مشاقی سے سر آگے پیچھے کرتے ہوئے زبان ہلا رہا تھا۔۔۔زبان کو سختی سے سیدھا کئے وہ ہلائے جا رہا تھا۔۔۔۔۔
الٹی لٹکی ہوئی جیوتی کے ممے نیچے کو جھکے ہوئے تھے ۔۔۔۔اگلا غلام قریب جا کر بیٹھا۔۔اور اسے تھام کر ہلانے لگا۔۔دبانے لگا۔۔۔اسے یہ نرم نرم سے گوشت کی گیندیں بہت پسند آئیں تھی۔۔۔اور جب پچھلی دفعہ اس نے اس پر ہاتھ رکھ کر گھمایا تھا تو مزہ ہی الگ تھا۔۔وہ ابھی بھی لمبے نپل کو پکڑتا ہوا کھینچ رہا تھا۔۔۔ممے پورے باہر کو آتے ہوئے کھنچ سے جاتے ۔۔۔۔۔جیوتی کو تکلیف تو ہو رہی تھی ۔۔مگر اوپر چوت کے مزے نے اسے ہر چیز سے بےخبر کر رکھا تھا۔۔۔اسی مزے میں اس کا جسم دوبارہ گرمی پکڑنے لگا۔۔۔۔اس کی چوت پھر سے سکڑنے اور پھیلنے لگی۔۔۔ادھر پچھلے غلام کا لن بھی تیاری پکڑ چکا تھا۔۔۔جیوتی کے تھوک سے لت پت ہوا۔۔۔۔اور سختی میں آیا ہوا تھا۔۔۔جیوتی کچھ دیر اور چوستی رہی ۔۔۔اور پھر نیچے اترنے لگی۔۔۔۔۔اگلاغلام پیچھے ہٹ گیا۔۔وہ ایک بار کے مزے لے چکا تھا۔۔مگرا بھی اگلے نمبر کے انتظار میں تھا۔۔۔
جیوتی نیچے اتر کر کھڑی ہوئی ۔۔اس کی ٹانگیں بے پناہ درد کر رہی تھیں۔۔۔وہ آگے بڑھی اور اگلے غلام کی گردن پر ہاتھ ڈالے لٹک گئی ۔۔۔غلام نے کمر پکڑے ہوئے اسے مزید اٹھا دیا۔۔ٹانگیں اس کے گرد لپیٹ کر اس نے ہاتھ چھوڑ دئے ۔۔۔وزن اگلے نے بآسانی اٹھا لیا۔۔۔۔پچھلا غلام بھی ساتھ ہی آیا۔۔۔اور چوتڑوں کو پھیلا تے ہوئے لن کو آگے کی طرف رگڑا ۔۔۔۔۔لن اس کے گانڈ کے چھید پر سے سلپ ہوتا ہوا آگے ٹکرایا۔۔۔جیوتی نے جلدی سے ہاتھ پیچھے لے کر لن کو تھاما۔۔۔اس سے کوئی بعید نہیں تھا۔۔کہ وہ گانڈ کے چھید میں دھکیل دیتا ۔۔۔اور ٹوپے کو ہلاتی ہوئی چوت کے لبوں پر لائی ۔۔۔ساتھ ہی اپنے ہونٹوں کو مضبوطی سے دبا دیا۔۔۔ہونے والے درد کا اسے اندازہ تھا۔۔۔۔ٹوپے کو آگے رکاوٹ لگی تو غلام نے ہلکا سا دھکا دے دیا۔۔
ٹوپا چوت کے لبوں پر دبااور اندر کو زور لگانے لگا۔۔۔آہوں اور سسکیوں نے دوبارہ واپس پکڑی ۔۔۔۔۔جیوتی ہلکی سی اٹھی ۔۔۔دوبارہ سےدھکے دیا گیا۔۔۔ساتھ ہی پچھلے والے نے کمر بھی پکڑ لی۔۔جیوتی کے اٹھنے کا راستہ بند ہوا۔۔۔وہ اگلے غلام کے جسم کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔۔۔۔بھاری بھرکم ممے اس کے سینے میں دبے ہوئے تھے ۔۔۔۔پیچھے والے نے کمرپکڑے دوبارہ دھکا دیا۔۔۔اور ٹوپے کو اندر پہنچا دیا۔۔جیوتی کی سریلی چیخ نکلی ۔۔۔جلن اور تکلیف دوبارہ سے زندہ ہو گئی۔۔۔۔۔پیچھے والے کو ایک انجانے مزہ کے احساس ہوا۔۔۔اس نے اپنے چوتڑ دبا کر تیزی سے دھکا دیا۔۔۔جیوتی درمیاں میں چپک سی گئی۔۔۔۔اس کے منہ سے پھر کراہیں نکلیں۔۔۔آہ۔۔سس ۔۔۔اوہ ہ۔۔۔یہ لن بھی اسی انداز میں اندر جکڑا جا چکا تھا۔۔۔جیوتی اگلے والی کی گردن کے گرد بانہیں لپیٹ کر تھم سی گئی۔۔سر اس نے سائیڈ پر رکھ لیا تھا۔۔۔منہ سے دبی دبی کراہیں جاری تھیں۔۔۔۔۔پیچھے والے نے دھکے دینے شروع کیے ۔۔اور اپنی پوری قوت سے دھکے دینے لگا۔۔جیوتی کی پہلی ٹھکائی سے اس نے سبق سیکھ لیاتھا ۔۔اس لئے بغیر کسی کہنے کہ اس نے دھکا مارنے شروع کر دئے ۔۔۔۔جیوتی کی کراہیں بھی اونچی ہونے لگیں۔۔۔آہ ہ۔۔۔اوہ ہ۔۔۔سس ۔۔۔اوئی ۔۔اسے لن اندر چیرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔چوت پانی چھوڑے جارہی تھی ۔۔مگر دیوہیکل لن پھسل کر اور اندر جا کر تباہی مچاتا۔۔۔۔جیوتی کے بدن پہلے ہی اگلے سے چپکا ہوا تھا۔۔اب دھکے کے ساتھ اور جا کر لگتا ۔۔۔۔پچھلے والے نے دھکوں کی مشین چلا دی تھیں۔۔۔۔جیوتی اونچی آواز میں چیخے جا رہی تھی۔آہ ہ ہ۔ سس ۔۔اوئی۔اائی۔۔۔مگر پیچھے والے کو روکنا مشکل تھا۔۔اس نے بڑا صبر کیا تھا۔۔اس مزے کو لینے کے لئے ۔۔۔۔۔جکڑی ہوئی چوت اسے بےحد لطف دے رہی تھی۔۔۔اک انجانا سا مزہ تھا۔۔۔جس سے وہ اب تک ناواقف ہی تھا۔۔۔چوتڑ دبا کر اس نے دھکے اور طاقت ور کر دئے ۔۔اور پوری قوت سے جھٹکے مارتا۔۔۔۔تو اگلے غلام بھی ہل سا جاتا ۔۔۔جیوتی کو درد نے پھر سے بے حال کر دیا ۔۔۔درد کے ساتھ اسپیڈ اور قوت اسے لرزائے جار ہی تھی۔۔۔جیوتی کی سسکیوں اور آہوں نے ماحول میں اک گونج سی پیدا کر دی ۔۔۔۔۔اس کی سسکیاں رونے میں تبدیل ہونے لگی۔۔۔۔۔وہ پیچھے والے کو رکنے کا کہتی ۔۔۔مگر وہ کان بند کئے جھٹکوں کو تیز کرتا رہا ۔۔۔۔میں نے جیوتی کے چہرے پر آنسو بہتے ہوئے محسوس کئے ۔۔۔۔۔اس کی آنکھیں بند تھیں ۔۔۔اور آنسو کنارے سے گررہے تھے ۔۔۔۔جھٹکے کوئی طوفانی ہوئے تھے ۔۔۔۔چیخوں سے جیوتی کا گلا بیٹھ رہا تھا۔۔۔پھر بھی وہ ہر دو سیکنڈ بعد کراہ اور سسکی نکال پھینکتی ۔۔۔اس کے جسم نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔چوت پانی چھوڑے جارہی تھی ۔۔۔مگر اتنی جگہ بھی نہیں تھی کہ کوئی قطرہ بھی باہر آ ن گرتا ۔۔۔۔۔بس غلام کے لن کے قدرے گیلا ہی گرپاتا ۔۔۔۔پے درپے بھرپور جھٹکوں نے جیوتی کو پھر بے حال کر دیا۔۔۔وہ بے جان سی ہوئی اگلے سے لپٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔پچھلے والے کا فارغ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔۔
اتنے میں میں نے مخصوص گھنٹی کی آواز سنی ۔۔۔۔ساتھ ہی کچھ پڑھنے کی آواز آئی ۔یہ آواز مجھے پچھلی رات بھی آئی تھی۔۔۔کوئی منتر یا اشلوک پڑھنے جیسی ۔۔یہ دور سے آتی ہوئی آواز تھی ۔۔۔جس نے دونوں غلاموں کو چونکا دیا تھا۔۔۔پیچھے والا جلدی سے ہٹا ۔۔۔اس کا کالاسیاہ ناگ چمک رہا تھا۔۔۔۔اگلے والے نے جلدی سے جیوتی کے نیچے اتار ا۔۔پیچھے ہٹ کر دونوں نے اپنے لبادے اٹھا کر سر پر رکھ دئے ۔۔۔۔جیوتی نیم مردہ حالت میں دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔اس کی جان بخشی ہو گئی تھی ۔۔۔۔دونوں غلام لبادہ اوڑھ کر موؤدب کھڑے ہوئے کہ جیوتی نے انہیں اشارہ کیا۔۔اور وہ تیز قدموں سے چلتے ہوئے اسی ہال کی طرف چلے گئے جہاں آج مجھے لے جایا گیا تھا۔۔۔۔جیوتی نے کچھ دیر سانس برابر کی ۔۔۔۔۔اور پھر گھسٹتی ہوئی اپنے لبادے تک پہنچی ۔۔۔لڑکھڑا کر اٹھ کر پہنا اور ایک طرف نکلتی چلی گئی۔۔
مجھے طنز کا نشانہ بنانے والی خود ہی شکار بن گئی تھی۔۔۔میں کچھ دیر یہ منتر اور اشلوک سنتا رہا ۔۔۔مخصوص وقفے کے بعد اٹھنے والی گھنٹی کی آواز مجھے سحر میں جکڑ رہی تھی۔۔۔۔کچھ دیر بعد میں بھی پاؤں پھیلائے سو گیا۔۔۔ 

قسط نمبر 5۔۔۔
عاصم کو ممبئی آئےہوئے پانچواں دن تھا۔اس نے آتے ہی ممبئی کے انڈر ورلڈ میں پرانے تعلقات کھڑ کا دیئے تھے ۔۔۔۔یہاں کام کرنے کے لئے انڈر ورلڈ سے تعاون لازمی تھا۔۔۔اور وہ خود بھی غیر ضروری جھنجٹ سے دور ہی رہتا تھا۔۔۔اس سے اصل کام پر کوئی فرق بھی نہیں پڑتا ۔۔۔۔مگر راجہ اب تک نہیں پہنچا تھا۔۔۔۔۔ وہ کچھ متفکر ہونے لگا۔۔۔۔راجہ کو آنے میں اتنی دیر نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔۔۔اور روزانہ ناصر کی دہائی الگ ۔۔۔۔اس کی ڈیوٹی سردار ہوٹل میں کاونٹر پر تھی ۔۔۔۔کاوئنٹر کلرک یہیں عاصم کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔رات کو کلرک واپس چلا جاتا ۔۔۔۔۔۔ یہ ہوٹل بھی عاصم کا اپنا تھا ۔۔۔اور بہت سے فوائد کا حامل بھی ۔۔۔۔پچھلے دو دنوں سے ناصر رات کو واپس آتا تو یہی کہتا ۔۔۔عاصم بھائی کچھ اور سیٹنگ بنا لیں ۔۔۔۔۔روزانہ 8 گھنٹے وہاں کھڑا ہونا ۔۔۔اور گاہکوں سے جھک جھک کرنا بہت مشکل ہے ۔چار سو کے روم کے پیچھے دو گھنٹے تک بحث کرتے ہیں لوگ۔۔۔۔آپ مارا ماری کا کام لے لو ۔۔مگر یہ نہ کرواؤ ۔۔۔۔اس کے چڑ چڑا پن سبھی کو ہنسا دیتا ہے ۔۔۔۔ ناصر خود بھی مذاقا ہی کہتا تھا۔۔۔۔ وسیم اور شاکر دونوں اسے مزید چڑاتے ۔۔۔۔۔آج بھی شام کو ناصر آیا تو وہی حال تھا۔۔۔۔مگر عاصم خود گہر ی سوچ میں تھا۔۔۔۔ناصر کا چہرہ بتا رہا تھا کہ راجہ اب تک نہیں پہنچا ہے ۔۔۔ وسیم اور شاکر کو ٹرین اسٹیشن میں ہی کھڑا کیا ہوا تھا۔۔۔وہ بھی کچھ دیر پہلے ہی آئے تھے ۔۔۔۔۔ ناصر ہوٹل سے آتے ہوئے کھانا لے کر آتا تھا ۔۔۔۔آج بھی کھانے کے وقت کوئی چہکار نہیں تھی ۔۔۔نہ ہی ناصر کا مذاق اڑایا گیا تھا۔۔۔۔۔اور نہ ہی شاکر نے اس کی نقل اتاری ۔۔۔۔سب خاموشی سے کھانا کھانے میں مصروف تھے ۔۔۔۔۔۔شاکر کھانے کے بعد برتن سمیٹ کر چائے لینے چلا گیا۔۔۔یہ سب عاصم کے قریبی تھے ۔۔۔اور اس کے مزاج کو خوب سمجھتے تھے ۔۔۔۔۔ناصر اس وقت عاصم کے سامنے ہی بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔خوبصورت چہرے پر تفکر کی لکیریں نمایاں تھی ۔۔۔۔۔اور سب جانتے تھے کہ عاصم ان سب کے لئےبھی ایسے ہی پریشان رہتا تھا۔۔۔۔۔
عاصم نے سوچتے ہوئے سر اٹھایا ۔۔۔اور ناصر کو موبائل لانے کا کہا۔۔۔ناصر اٹھ کر باہر چلا گیا۔۔۔۔اوپر الماری میں ایک ٹوٹا پھوٹا موبائل تھا ۔۔۔چائنا کا پانچ سو میں بکنےوالا یہ موبائل کسی کھلونے کے جیسے تھا۔۔۔۔بلیک وائٹ اسکریں ۔۔۔مگر سب جانتے تھے کہ یہ عاصم کا خاص موبائل تھا۔۔۔۔اسے ٹریس کرنا ناممکنات میں سے تھا ۔۔۔نہ آئی ایم ای اے نمبر ۔۔۔اور نہ کوئی اورکوڈ ۔۔۔۔صرف سم کی لوکیش ٹریس ہوتی ۔۔۔جو وہ ہر کال کے بعد تبدیل کرتا رہتا تھا۔۔۔۔۔ناصر موبائل لے کر واپس آیا تو چائے آ چکی تھی ۔۔۔۔۔عاصم نے فون لے کر کلدیپ کو کال ملا دی ۔۔۔۔
۔" ہیلو کور جی ۔۔۔۔کیا حال ہیں آپ کے ۔۔۔۔۔ راجہ صاحب سے دل نہیں بھرا آپ کا ۔۔۔۔۔یہاں بھی کچھ ان کے چاہنے والے ہیں ۔۔۔۔۔"۔ عاصم کی آواز میں شگفتگی تھی ۔۔کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ پریشان ہے۔"
اگلی طرف خاموشی تھی ۔۔۔۔کلدیپ گم سم ہو گئی تھی ۔۔"کیا کہ رہے ہیں آپ ۔۔۔راجہ تو آپ سے بات کے اگلے دن ہی یہاں سے چلا گیا تھا۔۔"۔۔۔کلدیپ کے لہجے میں سچائی کے ساتھ پریشانی بھی تھی ۔۔
عاصم بھی سوچ میں ڈوب گیا ۔۔۔۔۔" پھر راجہ صاحب کہاں جا سکتے ہیں ۔۔ہم تو انتظار میں ہیں ۔۔۔۔اب تک ۔۔۔عاصم بولا۔۔
آگے کلدیپ کا لہجہ اور گلوگیر ہو چکا تھا۔۔۔۔عاصم نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ فکر نہ کریں ۔۔میں کل واپس آ رہا ہوں ۔۔۔آپ یاد کرنے کی کوشش کریں کہ انہوں نے جانےسے پہلے کچھ کہا تو نہیں ۔۔۔اور فون بند کر دیا۔۔۔۔اس کے چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔۔۔جبڑے غصے سے بھنچ چکے تھے۔۔۔کچھ دیر عاصم سوچتا رہا ۔۔۔اور پھر۔۔۔۔ناصر کو فون پکڑا تے ہوئے اس نے کہا ۔۔۔۔" امرتسر سے لڑکوں کو لدھیانہ بلوا لو۔۔۔" ۔۔۔اور یہ چیتا آج کل کہاں ہے ۔۔۔" ۔۔عاصم کے لہجے میں کوئی ایسی بات تھی جس نے ناصر کود ہلا دیا تھا۔۔۔۔"۔کیا ہوا عاصم بھائی راجہ صاحب خیریت سے تو ہیں ۔"۔۔۔۔۔۔
امرتسر کے لڑکے عاصم کے اپنے تربیت یافتہ تھے ۔۔ اور یہ بارڈر پر وصولی اور لانچنگ کا کام کرتے تھے ۔۔۔۔یہ سب بہادری اور جانبازی میں بے مثل تھے ۔۔۔روزانہ انڈین فورس کے نیچے سے بندے اور سامان لے کر آنا اور جانا ۔۔۔اور مشکل وقت پر فورس کی تعداد کی پرواہ کئے بغیر ان سے بھڑ جانا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔۔موت کی آنکھوں میں آنکھوں میں ڈال کر جینے والے تھے ۔۔۔کہنے کو عاصم کی اسپیشل فورس تھے یہ لوگ۔۔۔۔۔۔
۔"ان لوگوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ راجہ صاحب پر کوئی خراش نہ آئے ورنہ ۔۔۔آج کے بعد کوئی را اور انٹیلی جنس میں بھرتی ہونے کا سوچے کا بھی نہیں ۔۔یہاں کی گلیوں میں خون کی ندیاں بہیں گی۔"۔۔۔۔عاصم کا لہجہ پتھریلا تھا۔۔اور چہرہ سرخ آگ کی طرف بھڑکا ہوا تھا۔
تم چیتے کو بولوکہ عاصم نے بلایا ہے ۔۔جہاں بھی ہہو کل تک وہ لدھیانے اپنے ریڈ لائٹ اڈے پر پہنچے ۔۔۔۔۔اور امرتسر کے لڑکوں کو بھی ۔۔۔ہم ابھی دس منٹ میں نکل رہے ہیں ۔۔چیتے کا نام سن کر ناصر ایک دم چونکا تھا۔۔۔پھر جلدی سے موبائل کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلےدن عاصم لدھیانے پہنچ چکا تھا۔۔۔اور ابھی صوفے پر بیٹھا تھا ۔چائے کا کپ اس کے سامنے تھا۔۔دو دنوں سے وہ صرف چائے ہی پی رہا تھا۔۔ناصر نے بڑی مشکل سے کچھ بسکٹ کھلائے تھے ۔۔۔۔سامنے شاکر ، وسیم اور ناصر اپنی رپورٹ دے رہے تھے ۔۔۔۔ناصر نے کلدیپ کے گھر سے بائک اٹھا لی تھی ۔۔اور آج سارا دن کرنل راٹھور کی ٹریسنگ میں لگا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔شاکر کو ٹیکسی اسٹینڈ اور بس اڈے بھیجا تھا۔۔۔۔۔اور وسیم اسلحے کے لئے گیا ہوا تھا۔۔۔آصف کو وہ یہیں چھوڑ کر گیا تھا۔۔وہ بھی آنے والا تھا۔۔
یہ عاصم کا ایک اور اڈا تھا ۔۔۔جس کے پچھلی طرف طوائفوں کا مخصوص علاقہ تھا۔۔۔۔یہاں آنے والے کسی اجنبی کوشک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا ۔۔اور انٹیلی جنس بھی دور رہتی تھی ۔۔کیونکہ ا س کے اپنے افسر یہاں باقاعدگی سے آتے تھے ۔۔جو پینے کے بعد اپنے راز اگلتے تھے ۔۔۔۔جو اپنی اہمیت کی بنا پر فروخت کئے جاتے ۔۔۔اور عاصم ہی ان رازوں کا خریدار تھا۔۔۔۔۔۔یہاں کا مشہور نام نیلم بائی تھی ۔۔۔۔۔جو اپنی خوبصورتی اور نزاکت کی وجہ سے پورے پنجاب میں مشہور تھی ۔۔اٹھارہ سال کی عمر میں ہی اس کی ماں مر گئی تھی ۔۔اور یہ اڈا اس کے پاس آ گیا۔۔۔اپنی کم عمری کے باوجود اس نے اس کام کو سمبھالا ہوا تھا۔۔۔اس نے اس بازار میں اپنی قیمت نہیں لگوائی تھی۔۔۔بلکہ بڑی ہوشیاری سے خود کوانمول رکھا ہوا تھا۔۔۔اس کی چاہت کرنے والےبہت تھے ۔۔۔مگر سب جانتے تھےکہ وہ کسی کو نہیں ملے گی ۔۔۔۔اور اس کمی کونیلم بائی نے پورے ہندوستا ن کی خوبصورت لڑکیوں کو اکھٹا کر کےپوراکیا تھا۔۔۔
عاصم کا یہ اڈا تین منزلہ تھا۔۔۔۔کشادہ گراؤنڈ فلور پارکنگ کے لئے ۔۔۔۔سیکنڈ فلورمیں سب لڑکے رہتے تھے ۔۔۔اور تیسرا فلور صرف عاصم کے لئے مخصوص تھا۔۔یہاں کوئی اور نہیں آتا تھا۔۔۔۔
عاصم نے سب کی رپورٹس سن کر ناصر سے کہا ائیرپورٹ جا کر گاڑیاں اٹھا لے ۔۔۔پارکنگ والے کو سمجھا دینا ۔۔۔۔۔عاصم کی ائیرپورٹ پر سیٹنگ تھی ۔۔۔جو لوگ کم ٹائم کے لئے دوسر ے شہروں میں جاتے تھے ۔۔وہ اپنی گاڑیاں ائیرپورٹ پارکنگ میں ہی کھڑی کرتے اور اپنی ریٹرن ٹکٹ کے مطابق پارکنگ آفس سے رسید بنوا لیتے ۔۔۔۔۔۔۔عاصم اس درمیانی وقفے میں گاڑیاں استعمال کر کے واپس بھجوا دیتا ۔۔۔۔کیمروں سے بچنے کی الگ سیٹنگ تھی ۔۔۔اور پارکنگ والے کوکمیشن بھی مل جاتا تھا۔۔۔۔ویسے بھی وہ رسید میں وہ یہ بات لکھ دیتے تھے کہ ہم کسی نقصان کے ذمہ دار نہیں ہیں ۔۔۔
عاصم ناصر کو بھیج کر اٹھا۔۔۔۔اور شاکر کوکہتے ہوئے اوپر آ گیا جیسے ہی چیتا اور امرتسر کے لڑکے پہنچے اسے بلوا لیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔
عاصم تیسری منزل پر پہنچ کر اپنے کمرے میں داخل ہو ا۔۔۔دروازہ بند کیا۔۔۔۔اورالماری کی طرف بڑھا..دروازہ کھول کر اس نے الماری کی بیک پرانگلی سے دو تین مرتبہ دستک دی ۔۔۔۔۔الماری کی بیک نہیں تھی ۔۔اور نہ ہی پیچھے دیوار ۔۔۔۔الماری کے ہی ہم رنگ کارڈ بورڈ کادروازہ تھا۔۔۔۔عاصم دستک دے کر واپس آیا اور بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔سائیڈ پر فریج سے پانی کی بوتل نکال کر منہ سے لگا دی اور ایک سانس میں پیتا چلا گیا۔۔۔۔۔
کچھ ہی منٹوں میں الماری سے کھٹ پٹ کی آواز آئی تھی ۔۔۔۔۔۔الماری کے پٹ کھلے ۔۔خوشبو کے دلفریب جھونکے کے ساتھ ایک حسینہ درآمد ہو ئی۔۔۔الماری بند کرتی ہوئی وہ مڑی ۔اور قریب آنے لگی۔۔۔۔۔مسکراہٹ اور حسن دونوں دل فریفتہ اور دل آویز تھے ۔۔۔۔۔بلیو کلر کی فراک جس پر چمکیلے ستارے ٹنگے ہوئے تھے ۔۔غزال آنکھیں۔۔جس میں مقنا طیسی چمک ۔۔کشمیری سیب جیسے گال ۔۔۔کمر سے نیچے آتے ہوئے سیاہ بال ۔۔۔۔۔گریبان کافی کشادہ تھے ۔۔۔جسے سینے کے ابھار نے اچھے سے پْر کیا ہوا تھا۔۔کمر پر بندھی ہوئی پٹی جہاں اس کی پتلی کمر کو ظاہر کرتے وہیں سینے کی اٹھان کو اور بھی نمایاں کر رہے تھے۔۔۔چوڑی دار پاجامے میں پھنسی ہوئی سڈول رانیں اسے حسین تر بنا رہی تھیں۔نسوانی حسن سے مالا مال ۔۔ہر طرح کے قاتلانہ ہتھیاروں سے لیس۔۔۔دلکش چال چلتی ہوئی وہ عاصم کے سامنے آئی ۔ہلکی سی جھکی۔۔"کنیز آپ کی خدمت میں حاضر ہے ۔۔۔اتنے عرصے بعد ہماری یاد کیسے آ گئی ۔"۔۔۔۔۔ آواز بھی اسی کیطرح حسین اور خوبصورت تھی ۔۔جس سے جھلکنے والا پیار نمایا ں تھا۔۔
یہ نیلم تھی ۔۔۔۔ہزاروں لوگوں کے دل کی دھڑکن ۔۔مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ۔۔ خود عاصم پر فدا تھی ۔۔۔۔۔ایک اندھیری رات میں جب نیلم کی جان اور عزت خطرے میں تھی ۔۔۔۔عاصم وہاں اسے بچانے کے لئے غیبی امداد بن کر آیا ۔۔۔اس کے بعد نیلم اسکی طر ف مائل ہوئی ۔۔اس کی مردانہ وجاہت پر مرمٹی تھی۔۔۔۔۔مگر عاصم نے کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔۔نیلم نے اس کے بعد اسے اپنے دل میں بسا لیا تھا۔۔۔۔۔۔عاصم نے اس کا علاقہ دیکھا تو اس کے ٹھکانے کے پیچھے ہی ایک اڈا بنا ڈالا ۔۔۔۔۔جہاں وہ اس وقت موجود تھا۔۔یہ سب سے محفوظ علاقہ بھی تھا۔۔
عاصم نے ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر قریب آنے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔۔نیلم قریب آ کر بیٹھی ۔۔۔اور عاصم کو بغور دیکھنے لگی ۔۔۔۔جس کے چہرے پر تفکر اور پریشانی کے سب آثار تھے ۔۔۔آنکھیں سرخ انگارہ بنی ہوئی تھیں۔۔۔۔
۔"۔کیا بات ہے جہاں پناہ ۔۔۔۔۔ اس حسین چہر ے پر یہ پریشانی اچھی نہیں لگتی ۔۔۔۔۔حکم کریں ہم آپ کی کیا مدد کرسکتے ہیں ۔۔"۔ نیلم عاصم کے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی۔
عاصم نے مختصر راجہ کے بارے میں بتا دیا۔۔۔اور کہنے لگا۔۔۔اب تم ہوشیار ہو جاؤ ۔۔۔جتنی بھی لڑکیاں ہے سب کوبتا دو ۔۔۔اس حوالے سے کوئی بھی خبر ہو ۔۔۔ڈھونڈ کر نکالنے کی کوشش کریں ۔۔۔میں اپنا نمبر پہلی بار آن رکھ رہاہوں ۔۔اور تم نے پہلی فرصت میں مجھے اطلاع کرنی ہے ۔۔۔۔۔
نیلم سمجھ گئی ۔اور شرارتی لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔ویسے حیرت ہے ابھی تک کوئی لڑکی تو آپ کی نیندیں نہیں اڑا سکی ۔۔۔اس نوجوان سے ملنا ہی پڑے گا۔۔جس نے آپ کی نیندیں اڑا دیں ہیں۔۔۔۔
۔"اچھا اب تم جاؤ ۔۔۔ٹائم کم ہے میرے پاس ۔۔۔۔"۔۔۔عاصم نے اسے ٹالتے ہوئے واپس جانے کا کہا۔۔
نیلم اسے اس حال میں چھوڑ کے جانے والی نہیں تھی۔۔۔سرتاج میری لڑکیاں ہوشیار ہی رہتی ہیں ۔۔اور آپ کی ہدایات کے مطابق میں سب سے روزانہ رپورٹ لیتی ہوں ۔۔اب تک کوئی ایسی خبر نہیں آئی ۔۔راٹھور کی خبر میں آپ کودے چکی ہو ں ۔۔۔آگے بھی دیتی رہوں گی۔۔۔۔ابھی کنیز کو کچھ خدمت کا موقع دیں ۔۔۔۔آپ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں۔۔۔
عاصم نے بچنے کی کوشش کی مگر نیلم اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر دبانے لگی ۔۔۔اس کے نرم ہاتھ عاصم کی پیشانی پر حرکت کر رہے تھے جو اس وقت بہت تپی ہوئی تھی ۔۔۔۔
نیلم بھی اس کی یہ حالت دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔اس نےعاصم کو اس سے بھی خطرناک حالتوں میں سکون میں دیکھا ۔۔۔پچھلی مرتبہ جب آیا تو جسم میں تین گولیاں لگی ہوئی تھی ۔۔اور شہر بھر کی پولیس اور انٹیلی جنس اس کے پیچھے تھی ۔۔۔مگر وہ مسکراتے ہوئے ایسے آتا جاتا جیسے اسے کوئی فکر ہی نہ ہو ۔۔۔۔۔مگر یہ والی فکر مندی اس سے کہیں زیادہ تھی۔۔۔جس نے اس کے جسم کو دہکا دیا ۔۔۔۔نیلم کا دل چاہا کہ کہ عاصم کے چہرے پر اپنے ہونٹ رکھ دے ۔۔۔مگر عاصم کے غصے سے ڈر بھی رہی تھی ۔۔۔۔۔کافی دیر تک وہ سر دباتی رہی ۔۔۔۔۔عاصم نے آنکھیں موند لیں تھیں ۔۔۔۔شاید سکون مل رہا تھا۔۔۔۔۔۔آخر نیلم نے ہمت کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔۔۔اس کے چہرہ عاصم کے چہرے پر جھکا ۔۔۔اور جلتی ہوئی پیشانی پر ہونٹ رکھ دئے ۔۔۔۔گھنی سیاہ زلفیں عاصم کے اوپر سایہ کر چکی تھیں۔۔۔۔۔۔جن کی خوشبو پھیل سی گئی تھی ۔۔۔۔عاصم نے ایک لمحے کے لئے آنکھیں کھولیں اور دوبارہ بند کر لیں ۔۔۔۔بیڈ کے نیچے سے ٹانگیں اٹھا کر اوپر رکھ لیں ۔۔۔
نیلم نے ہونٹ پیشانی پر جگہ جگہ رکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ بے اختیار چوم رہی تھی ۔۔اس کی شدید خواہش تھی کہ عاصم کے اس درد اور غم کی کیفیت کو اپنے اندر سمیٹ لے ۔۔۔۔عاصم کے غصے کا ڈر کم ہونے لگا۔۔۔تو اس نے عاصم کے سرخ ہونٹوں پر بھی ہونٹ رکھ لئے اور چومنے لگی۔۔۔۔کچھ دیر تک وہ دائیں بائیں ہر چیز سے بے نیاز ہو کر ہونٹ ہی چومتی رہی ۔۔۔۔اسے لگا کہ اس کے اپنے اندر کا سکون رخصت ہوا چاہتا ہے ۔۔۔۔دل میں انگڑائیاں اٹھنے لگیں ۔۔۔نیلم نے ہمیشہ خود کو سمبھال کر ہی رکھا تھا۔۔۔۔سینکڑوں خوبصورت جوان اس کے اڈے پر آتے تھے ۔۔۔۔۔مگر نیلم کا رکھ رکھاؤ اور برتاؤ ایسے ہوتا کہ وہ خود ہی شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ جاتے ۔۔۔صرف عاصم ہی ایسا تھا جس کے سامنے اس کا دل ہر حد پھلانگنے کو کرتا تھا۔۔۔اور اب اس حالت میں اسے دیکھ کر اس کا دل بھی چھلنی ہوا جا رہا تھا۔ وہ ہونٹ چومتی پھر پیشانی پر آئی ۔۔۔اوربند آنکھوں پر کچھ دیر تک ہونٹ رکھ کر سکون پہنچانے لگی۔۔۔آہستہ آہستہ سے اس کے ہاتھ بھی اپنی گود میں سر رکھے عاصم کے بازؤوں پر گئے ۔۔۔اور ہلکے ہلکے دبانے لگے ۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ عاصم کے سینے پر بھی ہاتھ پھیر رہی تھی۔۔۔ادھر عاصم کی اندر کی آگ بھی کچھ مدھم ہوئی ۔۔۔۔۔نیلم کے لمس نے اسےکچھ ٹھنڈا کر دیا تھا۔۔اور وہ سمجھ رہا تھا کہ اس کی یہ ذہنی کیفیت اس کے اپنے لئے صحیح نہیں ہے ، وہ راجہ کو ڈھونڈ بھی نہیں پائے گا۔۔۔۔اور ایسے ہی خود کو تکلیف میں رکھے گا۔ ۔۔اب وہ اپنے دماغ کو ریلیکس اور ڈھیلا چھوڑتے ہوئے آنکھیں بند کئے لیٹا تھا۔۔اسے کچھ دیر تک اپنے ذہن میں کسی خیال کو نہیں آنے دینا تھا۔۔۔تاکہ یہاں سے اٹھ کر اپنی تمام تر توجہ ایک ہی طرف مرکوز رکھے ۔۔۔
نیلم اس کے پورے چہرے کو چوم چکی تھی ۔۔۔ناک اور ٹھوڑی کو بھی نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔اور اب اس کے سینے پر چہرہ جھکا دیا۔۔ایک خوشگوار سی مہک عاصم کے نتھنوں میں سمائی۔۔یہ جوانی کی مہک تھی ۔۔۔آتش برساتی ہوئی ۔۔۔۔طوفان اٹھاتی ہوئی ۔۔۔اور ہر کسی کو اپنے مرکز کی طرف کھینچتی ہوئی ۔۔۔نیلم نے عاصم کی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے اپنے ہونٹ اس پر رکھ دئے ۔۔۔اور اب کشادہ سینے کو چوم رہی تھی۔۔
اس کے سینے کے بے تحاشہ ابھار عاصم کے چہرے پر دبے ہوئے تھے ۔۔۔جسے عاصم محسوس کر رہا تھا۔۔۔جہاں نیلم بھی بہکتی جا رہی تھی ، وہیں عاصم کے اندر بھی سرور اور لذت کی لہریں دوڑ رہی تھیں ۔۔۔۔۔نیلم اس کے اوپر جھکی ہوئی سینے کو چومتی جا رہی تھی ۔۔۔نیلم تھوڑی سی اٹھی ۔۔ ۔۔سامنے سے تکیہ اٹھا کر اپنے سامنے رکھا ۔۔۔اور عاصم کے سر کو ہلکا سا اٹھاتی ہوئی اس پر شفٹ کر دیا۔۔۔۔اورپھرایک ٹانگ اوپر رکھتی ہوئی عاصم پرچھانے لگی۔۔۔عاصم کے لئے اس کا وزن کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔مگر اسکی ہمت اور چاہت کی داد دئے بغیر نہ رہ سکا ۔۔۔نیچے سے اس کے لن میں بھی حرکت ہوئی تھی ۔۔۔نیلے فراک میں ملبوس گرم جسم اس کے اوپر آیا ۔۔۔۔نیلم اب بے اختیار ہو کر عاصم کے چہرے کو چوم رہی تھی ۔۔۔اس کے دل کی عجب حالت تھی ۔۔سالوں سے اس موقع کا انتظار کر رہی تھی ۔اور آج یہ وقت آیا بھی اس وقت جب عاصم خود پریشان تھا۔۔۔اور نیلم اسی کا مداوا کرنے کی کوشش کررہی تھی ۔۔۔اسے اپنی حالت میں واپس لانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔جہاں اس کا اصل روپ تھا۔۔وہی لہجہ ، جو دوستوں کے لئے برف اور دشمنوں کے لئے آگ ہی آگ تھا۔۔نیلم عاصم کےا وپر لیٹی اس کے چہرے کو چوم کر اب نیچے کو کھسکی ۔۔۔اور سینے کو چومنے لگی۔۔۔اس کے اپنے جسم میں اک جوالا مکھی پھوٹ رہا تھا۔۔جو عاصم کے جسم کی گرمی اورلمس سے اور بڑھتا جا رہا تھا۔۔نیلم نے سائیڈ پر رکھے ہوئے عاصم کے ہاتھ کو اٹھایا اور اپنے چہرے پر پھیرنے لگی۔۔۔۔اور پھر ہونٹوں پر رکھ کر چومنے لگی۔۔۔عاصم نےایکدم سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔اور ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔ اور نیلم کو دیکھنے لگا۔۔۔۔اس کی آنکھیں نم تھیں ۔۔۔اور حسر ت ، امید اور خوشی صاف دکھ رہی تھی ۔۔۔۔عاصم ایک لمحے کو رکا اس کا اپنا دل ڈوب سا گیا۔۔۔۔چاہت کرنے والوں کو تڑپا نا اس کی عادت نہیں تھی ۔۔یہ تو بس اس کے کام کا تقاضا تھا کہ ہر جذباتیت سے دور رہے ۔۔۔مگر نیلم کی ان آنکھوں کی حسرت نے اسے تڑپا دیا تھا ۔۔۔ اْس کی کیفیت ویسے ہی تھی کہ اک بار پیار سے دیکھ لو اور پھر جان بھی لے لو۔۔۔۔۔۔۔عاصم کا صبر بھی جواب دینے لگا۔۔بندھے ہوئے بند ٹوٹے تھے ۔۔۔۔اور اک سیلاب امڈ آیا۔ اس نے اپنے اوپر لیٹی نیلم کو پکڑا۔۔۔ اور ساتھ لٹاتے ہوئے اس کے اوپر آ گیا۔۔۔۔نیلم کے چہرے پر بوسوں کی ایک بوچھاڑ پڑی۔۔۔۔جس نے اس کے چہرے کو گیلا بھی کر دیا۔۔۔نیلم اک دم سے سرشار سی ہو گئی ۔۔۔برسوں کی خشک زمیں پر پانی پڑا تھا۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ عاصم میں پیوست ہو جائے ۔اٌس میں چھپ جائے ۔۔۔ادھر عاصم کے بوسے بھی کوئی عام نہیں تھے ۔۔ان میں محبت کی مٹھاس تھی ۔۔۔چاہت کی وسعت تھی ۔۔۔نیلم کا انگ انگ جھوم اٹھا تھا۔۔۔اس کی اب بس ایک ہی خواہش تھی ۔۔کہ یہ وقت یہیں رک جائے ۔۔۔۔یہی لمس ہو ۔۔۔یہی بوسہ ہو ۔۔۔اور یہی احساس ہو ۔
عاصم کے بوسے بڑھتے جا رہے تھے۔۔۔۔ایک ہاتھ اس نے نیلم کی کمر میں ڈالا ۔۔۔اور اسے بیڈ پر سیدھا کر کے لٹا دیا۔۔نیلم چمکتی ہوئی آنکھوں سے اپنے محبوب کو دیکھ رہی تھی ۔۔جس کی آنکھوں میں چاہت کی شمع جل اٹھی تھی۔۔۔۔عاصم نیلم کو لٹا کر خود بھی ساتھ ہی آیا ۔۔۔اسی کے تکیہ پر سر رکھے ہوئے اس کے چہرے کو اپنی طرف کرتے ہوئے ہونٹوں سے ہونٹ پیوست کر دیا۔۔۔ ایک کرنٹ سا نکلا اور دونوں جسموں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔۔۔۔عاصم دوسرا ہاتھ نیلم کی کمر کی طرف لے گیا۔۔۔اور اسے خود سے چپکا دیا۔۔۔نیلم کے سینے کےتنے ہوئے ابھار عاصم کے سینے سے ٹکرائے تھے ۔۔
عاصم کے ہاتھ نے فراک کے پیچھے کی ڈوری کھول دی۔۔فراک کچھ کھل سی گئی ۔۔اور پھر چومتے ہوئے ایک ہاتھ نیچے لے جاکر رانوں پر پھیرنے لگا۔۔۔سڈول گوری رانیں اس کا ہاتھوں کا لمس پا کر سمٹ سی گئیں۔۔۔۔عاصم نے رانوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اوپر لانے لگا۔۔۔جو فراک کے اندر ہی سفر کر تا ہوا۔۔۔اس کی نازک کمر تک پہنچا ۔۔وہاں بھی اپنے لمس سے آگ بھڑکاتے ہوئے اوپر آیا ۔۔۔نیلم کی بیک پر ہاتھ پھیرتے ہوئے عاصم زور شور سے اس کے ہونٹ میں چومے اور چوسے جا رہا تھا۔۔۔ اس کی زبان حرکت کرتی ہوئی نیلم کے منہ میں پہنچی ۔۔۔دونوں زبانیں آپس میں لڑ نے لگیں ۔۔۔عجیب سے سنسنی دونوں کے جسموں میں بھرتی جا رہی تھی ۔۔۔۔بے چینی الگ حملے کر رہی تھی۔۔۔۔جنوں اپنے عروج پر لپک رہاتھا ۔۔۔عاصم کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آگے کی طر ف آیا۔۔۔فراک کے اندر حرکت کرتے ہوئے پیٹ پر اس کے گرم ہاتھ پھر رہے تھے ۔۔۔ناف کے اندر انگلی پھیرنے کے بعد اوپر کی طرف آیا۔۔۔جہاں برا میں قید دودھ کے پیالے تھے ۔چھلکتے ہوئے ۔۔امڈتے ہوئے ۔۔عاصم کے ہاتھوں کو اپنے سینے پر پا کر نیلم ایک دم سے کانپی ۔۔۔اس کے جسم میں کرنٹ سا دوڑا ۔۔۔اور پھر جسم کو ڈھیلا چھوڑی ہوئی عاصم کے لمس کو محسوس کرنے لگی۔۔۔ادھر زبانیں بھی کم نہیں تھی۔۔۔۔نیلم عاصم کی زبان کو اپنے منہ میں دبوچے چوس رہی تھی ۔۔۔عاصم کے بدن میں کرنٹ سا دوڑتا جا رہا تھا۔۔۔اس کے ہاتھ نیلم کے سینے کی گولائیوں پر حرکت کر رہا تھا۔۔۔برا کے اوپر ہاتھ پھیرتے ہوئے عاصم کچھ دباتا جا رہا تھا۔۔۔سختی سے ابھرے ہوئے ممے بھی خوش تھے ۔۔اور برا سے نکلنے کی بھرپور کوشش کرنے لگے ۔۔۔۔عاصم نے ایک ہاتھ نیلم کے نیچے لے جا کر اسے خود پر سوار کر دیا ۔۔اب نیلم عاصم کےاوپر ہی لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔ہونٹ سے ہونٹ ویسے ہی ملے تھے ۔۔سینے سے سینے ملا ہوا تھا۔۔اور عاصم کے دونوں ہاتھ اس کی فراک کے اندر سے اس کے چوتڑوں پر دبے ہوئے تھے ۔۔عاصم کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نیچے رانوں تک لے جاتا۔۔۔۔نیلم نے عاصم کی زبان اچھے سے چوس لی تھی ۔۔اور اب عاصم کے منہ اپنی زبان دئے لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔اور عاصم مزے سے چوسے جا رہا تھا۔۔۔مزے اور لطف کی لہریں دونوں کے جسم میں رقصاں تھی۔۔۔۔عاصم چوتڑ سے ہاتھ اٹھا کر اوپر لے گیا ۔۔اور فراک کے اندر سے برا کی ہک کھول دی ۔۔۔۔نیلم نے ہاتھ دائیں بائیں رکھتے ہوئے خود کو اٹھایا ۔۔اور عاصم نے برا نکال کر باہر رکھ دی ۔۔۔۔گورے گورے بھرے بھرے ابھار فراک کے کشادہ گریبان سے باہر نکلنے کو بے تاب ہونے لگے ۔۔۔۔یہ عاصم کے سینے پر دبکے ہونے کےساتھ ساتھ آدھے آدھے باہر کو بھی نکلے پڑ رہے تھے ۔۔۔عاصم کی نظر پڑی تو وہ بھی مچل اٹھا ۔۔۔۔نیلم کی زبان منہ سے نکالتے ہوئے اس نے نیلم کو خود پر بٹھایا۔۔۔اور خود بھی بیڈ سے اٹھنے لگا۔۔۔نیلم ابھی بھی اس کی گود میں پاؤں دائیں بائیں کئے ہوئے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔عاصم نے جھٹ فراک کو ہاتھوں میں سمیٹا اوراٹھاتا چلا گیا۔۔۔نیلم بھی ہاتھ اٹھائے دیکھ رہی تھی ۔۔اس کا محبوب اسے بے لباس کر رہا تھا۔۔۔۔چاندی جیسا چمکتا ہوا بدن عاصم کے سامنے تھے ۔۔۔خوبصور ت پیٹ ۔۔پتلی کمر۔۔ناف کا گول سوراخ جو کم دلکش نہ تھا۔۔۔ اوپر اپنی پوری اٹھان کے ساتھ ۔۔تنے ہوئےقدرے بھاری سے ممے۔پوری گولائی سے باہر کو اٹھے ہوئے ۔۔جن پر گلابی نپل اسے حسین تر بنا رہے تھے ۔۔۔۔عاصم نے بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ ان پر رکھ دئے تووہ بے تاب ہو کر باہر کو ابھرنے لگے ۔۔۔عاصم کے ہاتھ اسے قابو کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔۔۔۔مگر بے چین سے دودھ کے جام بار بار امڈ سے جاتے ۔۔۔آخر عاصم نے ایک پر اپنے ہونٹ رکھ دئے ۔۔۔اور چوسنے لگا۔۔۔نیلم کے جسم میں لطافت اپنے عروج پر پہنچ رہی تھی ۔۔۔۔گیلے ہونٹوں کو اپنے ممے پر محسوس کرنا ۔۔اور پھر چوسنے کا زبردست انداز۔۔۔ہلکے ہلکے سے دانت اس کے نپل سے رگڑ کھارہے تھے۔۔نیلم نے بے اختیار آنکھیں بند کرتی ہوئی اپنے ہاتھ عاصم کے سر پر رکھ دئے ۔۔۔۔۔عاصم باری باری دونوں ممو ں کو چوستا ہوا اپنے ہاتھوں کو پیچھے لے گیا۔۔۔اور اپنی گود میں بیٹھی نیلم کی کمر سے نیچے پھیرتا ہوا ۔۔۔چوتڑ وں کے پاس پہنچا۔۔۔پاجامے کو ہلکا سے کھسکا کر اپنے ہاتھ اندر داخل کر دیے ۔۔۔۔نرم نرم چوتڑ وں کو دباتے ہوئے وہ ساتھ ساتھ دونوں ممے چوسے جا رہا تھا۔۔۔۔۔نیلم آنکھیں بند کئے ہوئے بیٹھی تھی۔۔اس کے دونوں ہاتھ عاصم کے سر پر تھے ۔۔۔کمر کو اندر کرتے ہوئے سینے کو کھل کر باہر نکالا ہوا تھا۔۔۔عاصم کے ہاتھوں کے لمس کو محسوس کر کے اس کی چوت میں سرسراہٹ ہونی شروع ہو گئی تھی۔۔۔۔اور عاصم ان سب سے بے خبر ا س کے گورے مموں کو گیلا کرنے میں مصروف تھا۔۔جو عاصم کے تھوک سے بھرپور گیلے ہوئے جا رہے تھے ۔۔۔عاصم چوستے چوستے دونوں مموں کے درمیان جہاں تک نیچے جھک سکتا تھا ۔۔چوم کر واپس اوپر آ جاتا۔۔۔پیچھے اس کے ہاتھ چوتڑوں میں دھنسے ہوئے پچھلی سائیڈ سے چوت کی طرف پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔نیلم کو بھرپور رگڑ لگ رہی تھی ۔۔وہ ہلکی سی اٹھ کر عاصم کے ہاتھوں کو راستہ دینے لگی ۔۔۔اور عاصم کے ہاتھ اس کی کنواری چوت کے لبوں پر پہنچے اور پینٹی کے اوپر سے ہلکا مساج کرنے لگے ۔۔۔۔نیلم کے منہ سے سسکی سی نکلی ۔۔۔عاصم ہاتھ پیچھے لے گیا ۔۔اور اب پینٹی میں ڈال کر دوبارہ واپس آیا۔۔عاصم کے ہاتھ کے لمس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔۔۔چوت کے لبوں تک ہاتھ کا پہنچنا تھا کہ نیلم کی بے چینی دیکھنے والی ہو گئی ۔۔۔ہلکے سے اٹھی۔۔۔اور بے اختیار عاصم کے سر کو اپنے سینے پر دبانے لگی۔۔۔۔عاصم بھی چوتڑ دباتے ہوئے چوت کے لبوں پر انگلی رگڑنے لگا۔۔۔۔ایک ہاتھ سامنے سے لا کر پاجامے کو اورنیچے دھکیل دیا ۔۔۔اور پینٹی بھی نیچے سرکا دی ۔۔۔۔نازک سی سیپی نما چوت سامنے تھی۔۔۔۔صاف ستھری اور نکھری نکھری سی ۔۔۔عاصم نے ہاتھو ں میں تھام کر دبانے لگا۔۔۔۔نیلم کے منہ سے دبی دبی سسکیاں نکلنے لگی۔۔۔اس کے جسم جھٹکے کھا رہا تھا۔۔۔۔عاصم نے انگلی پھیرتے ہوئے اندر داخل کرنا چاہی ۔۔۔۔مگر چوت آسانی سے ماننے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔عاصم نے زور دیا ۔۔۔تو ایک تیز ۔۔۔سس ۔۔۔سس ۔۔۔مم کی آواز کے ساتھ انگلی اندر پھنس گئی ۔نیلم کے منہ سے بےاختیار سسکاریاں نکل گئیں۔۔۔۔۔عاصم انگلی کو ہلکے سے ہلانے لگا۔۔۔اوپر نیلم کے ممے چوس چوس کر لال ہونے لگے تھے ۔۔ساتھ ہی اس کے جسم میں شہوت کا طوفان سمٹتا ہوا نیچے کا رخ کر رہا تھا۔۔جہاں عاصم کی انگلی گیلی ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔لیس دار پانی اس کی انگلی سے چپکتا جا رہا تھا۔۔۔نیلم کے جسم میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔اس کی پتلی نازک کمر ہلکورے لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔چوت پانی چھوڑے جا رہی تھی ۔۔ادھر عاصم کا اپنا حال بھی ایسا ہی تھا۔۔۔۔اس کے صحت مند لن سختی پکڑ کر پینٹ میں دہائیاں دے رہا تھا۔۔۔۔اس نے ایسے ہی نیلم کو گود میں بٹھائے خود کو گھمالیا۔۔۔اور بیڈ کے اوپر کی طرف منہ کرتے ہوئے نیلم کو تکیہ پر لٹا دیا۔۔۔ساتھ ہی اپنی شرٹ اتار دی۔۔۔۔نیلم نے بیڈ کے کنارے لائٹ کا بٹن بند کر دیا۔
جب تک عاصم نے کپڑوں سے مکمل آزادی حاصل کی ۔۔۔ان کی آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہو چکی تھیں۔۔۔۔پیچھے کھڑکی سے ہلکی روشنی آ رہی تھی۔۔عاصم نے نیلم کا بھی پاجامہ اتار دیا ۔۔۔اور اب اس کے قریب لیٹتا ہوااس کے اوپر جھکنے لگا۔۔۔نیلم کو اس کے ہلکے پسینے میں مکس اک مہک سی آئی ۔۔۔جس نے اسے مزید گرمی کی طرف دھکیل دیا۔۔۔ساتھ ہی عاصم کے موٹا صحت مند لن اس کی رانوں سے ٹکرا یا ۔۔جو اس کے جسم سے بھی زیادہ گرم ہوا جا رہا تھا ۔۔۔۔نیلم کو اپنی طرف کروٹ کرواتے ہوئے عاصم نے اس کی ایک ٹانگ اٹھا لی تھی ۔۔۔لن کے موٹا ٹوپا لہراتا ہوا اپنی منزل ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔چوت سے بہنے والے پانی کی اسمیل نے اسے اپنی طرف کھینچا ۔۔ساتھ ہی عاصم نے ہلکا سےاٹھتے ہوئے خود کو ایڈجسٹ کیا ۔اور ٹوپے کو چوت کے گیلے لبوں تک پہنچا دیا۔۔۔۔ٹوپے کی گرمی سے چوت اور پگھلی تھی۔۔۔ساتھ ہی ٹوپے نے پھنستے ہوئے اندر کا سفر شروع کیا ۔۔۔
نیلم نے سانسیں روک لی تھیں۔۔۔۔اس درد کا اندازہ تھا۔۔مگراس سے زیادہ وصل کے یہ لمحات عزیز تھے ۔۔۔۔برسوں کی آرزو رنگ لائی تھی۔۔۔اور اس محبوب کی آغوش کو پایا تھا۔۔
سانس روکتی ہوئی وہ اندر آتے ہوئے ٹوپے کو محسوس کرنے لگی۔۔۔جو قدرے پھسلتا ہوا اندر کو آ رہا تھا۔۔۔درد کی لہریں اٹھی تھیں ۔۔۔موٹے ٹوپے نےچوت کے دونوں لبوں کو کھینچ کر رکھ دیا تھا۔۔۔
عاصم اس کی ٹانگ اٹھائے ہوئے آہستگی سے دباؤ بڑھاتے جا رہا تھا۔۔۔ٹوپا زور لگاتے ہوئے اندر جا پھنسا تھا۔۔ساتھ ہی نیلم کے منہ سے تیز سسکی نکلی ۔۔اس نے نم آنکھوں سے عاصم کو دیکھا ۔۔ جو بڑی محبت سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
ٹوپے کو کچھ دیر روکے رکھ کر عاصم نے آگے کو بڑھا نا شروع کر دیا۔۔۔اسے اندازہ تھا کہ نیلم پہلی بار اس درد سے گذر رہی تھی ۔۔۔کیچڑ میں کھلے کنول کی مانند وہ اس ماحول میں بھی خود کو الگ رکھے ہوئے تھی ۔۔۔۔۔۔چوت میں پھنسا ہوا لن لمحہ بہ لمحہ اندر کو پھسل رہا تھا۔۔۔۔۔نیلم کی آنکھوں کے کونے پر آنسو نمودار ہوئے ۔اس نے اپنے ہاتھ کو عاصم کے کندھے پر رکھ دیا۔۔۔۔دبی دبی سی آہیں تھیں۔۔۔وہ برداشت کا بھرپور مظاہر ہ کر رہی تھی۔۔۔عاصم اپنی کمر کو روکتا ہوا چہرے کو آگے لے گیا۔۔۔اور نیلم کو چومنے لگا۔۔۔آنکھوں کو چومتا ہوا کناروں پر آیا۔۔۔اور آنسو کوسمیٹتا ہوا نیچے ہونٹوں پر آ گیا۔۔۔۔نیلم کےبھنچے ہوئے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں تھام لیا۔۔۔۔نیلم کو کچھ تسلی سی ہوئی ۔۔۔۔۔عاصم کچھ دیر اس کے ہونٹوں کو چومتا رہا ۔۔۔اس کے بھاری ممے نیچے کو لہرا رہے تھے ۔۔۔۔۔ممے جتنے زیادہ تنے ہوئے اور سخت تھے ۔۔اس سے زیادہ باہر کو گولائی میں بھی نکلے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔یہی وجہ تھی اپنے بھرپور سائز کی وجہ سے ہلکے سے نیچے کو جھک سے گئے تھے ۔۔۔۔نیلم عاصم کے ہونٹوں سے کچھ بہلی تو عاصم کی کمر پھر آگے کو سرکی ۔۔۔عاصم نے ہلکی سی رکاوٹ کو محسوس کیا ۔۔اور ہلکے سے لن کو دھکیلا ۔۔۔نیلم کے ہونٹ پہلے ہی اس کے ہونٹوں میں تھے ۔۔ہلکی چیخ اور۔۔۔سریلی سی اوئی ۔۔۔اوہ ہ۔۔۔کی آواز کے ساتھ اس کے ہونٹ باہر کو نکلے ۔۔پنکھڑی جیسے خوبصورت ہونٹ کچھ لرزے ۔۔۔۔۔آنکھیں پھر سے برسیں ۔۔۔۔۔سس سس کی آوازیں کچھ دیر نکلتی رہی ۔۔۔۔جب تک عاصم اس کے چہرے کو چوم رہا تھا۔۔۔۔نیلم کی چوت سے درد کی لہریں اٹھ رہی تھیں ۔۔اور بڑے معصومیت بھرے انداز میں اوئی ۔۔سس۔۔۔اوئی ۔۔جاری تھی۔۔۔مگر عاصم کے دلاسے اسے مطمئن کرنے کے لئے کافی تھے ۔۔۔ہلکی ہلکی سی اوئی ۔۔۔سس ۔۔سس کی آواز کے ساتھ عاصم کا لن بھی وائیبریشن میں تھا۔۔۔۔۔۔عاصم کچھ دیر رکنے کے بعد پھرحرکت کرنے لگا۔۔۔۔اور آدھے کے قریب لن اندر تک پہنچا دیا۔۔۔نیلم کی سسکی کچھ تیز ہوئی۔۔بے چینی سی ابھری۔۔۔۔مگر پھر عاصم کے رک جانے پر وہ بھی تھم گئی۔۔۔عاصم نے اپنی اوپر ی ٹانگ کو موڑتے ہوئے قدرے اوپر کیا۔۔۔۔جس ہاتھ سے نیلم کی ایک ٹانگ کو اوپر اٹھایا ہوا تھا ۔۔اس کوہلکے سے ہٹاتے ہوئے اپنی ٹانگ سے ری پلیس کر دیا۔۔۔ ۔۔موڑی ہوئی ٹانگ اس نے نیلم کی اٹھی ہوئی ٹانگ کے نیچے لگا دی تھی۔۔۔اور اوپری ہاتھ آزاد کر لیا۔۔۔
اس کا ہاتھ نیلم کی پشت اور کمر پر حرکت کر رہا تھا۔۔۔گرم ہاتھ اپنے لمس کا جادو جگاتا ہوا سامنے پہنچا ۔۔۔۔جہاں بھاری ممے تنہائی محسو س کر رہے تھے ۔۔۔عاصم کے ہاتھوں نے انہیں تھاما ۔۔۔اور ہلکے ہلکے دبانے لگا۔۔۔نیلم اپنا درد بھول سی گئی۔۔۔۔درد سے زیادہ اب عاصم کے ہاتھوں کے لمس اسے محسوس ہو رہا تھا۔۔۔گرمی سے بھرپور ہاتھ اسے بھی گرمی پہنچانے لگا۔۔۔۔دونوں مموں کو باری باری دباتے ہوئے عاصم نے کمر کو ہلانا شروع کر دیا۔۔۔
پھنسا ہو ا لن اپنی جگہ بنا چکا تھا۔۔۔اور ہلتے ہلتے ہوئے آگے کو سفر بھی شروع کر رہا تھا۔۔۔نیلم کی سریلی سسکاریاں بھی بلند ہو نے لگی۔۔کوئل کی کوک سےمشابہہ۔۔آواز کی دلکشی اس وقت اپنے عروج پر تھی ۔۔۔اور سننے والے کانوں کو بے حد بھلی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔عاصم کمر کو ہلاتے ہوئے آگے کو سرک رہا تھا۔۔۔دھکے ابھی تک اس نے شروع نہیں کئے تھے ۔۔۔بس لن اپنی جگہ بنانی کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔نیلم اپنی زندگی کے حسین لمحے کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔اس کے جسم میں کھنچاؤ سا پیدا ہونے لگا۔۔۔انجانی لہریں پورے جسم سے اکھٹی ہو کر نیچے کی طرف رقصاں تھیں۔۔۔۔خوبصورت ہونٹوں سےمزید سسکاریاں امڈ آئیں۔۔۔۔۔اور اس کی چوت پانی چھوڑنے لگی۔۔۔۔گرم گرم پانی عاصم کے لن پرلپٹنے لگا۔۔اور خراج دینے لگا۔۔۔۔
عاصم نے کچھ ہلکے سے دھکے دیتے ہوئے لن کو باہر نکالا ۔۔۔۔۔صحت مند ٹوپے پر پانی کے ساتھ ساتھ سرخی بھی تھی ۔۔۔۔۔۔ جو نیلم کے کنوار ی ہونے کا ثبوت تھے ۔۔۔گہری گہری سانسیں لیتیں نیلم عاصم سے لپٹ چکی تھی۔۔۔۔۔عاصم نے ابھی اس خود پر سوار کراتے ہوئے بھرپور جواب دیا ۔۔بوسوں کی ایک بارش تھی۔۔عاصم کا کشادہ سینہ نیلم کے بھاری اور خوبصورت مموں کے لئے چھوٹا محسوس ہو رہا تھا۔۔جو پوری طرح سے دبے ہوئےہونے کے بعد اوپر کی طرف ابھرآئے تھے۔۔۔۔اور ٹانگیں عاصم کے ٹانگوں کے درمیان اکھٹی تھیں۔۔درمیان میں عاصم کا لن بھی مزے سے لیٹ سے گیاتھا۔۔۔۔۔
ہلکے سے اندھیر ے میں دونوں جسم آپس میں لپٹے جا رہے تھے ۔۔۔شدت سے جاری بوسے ہلکی سی آواز بھی نکالتے ۔۔۔گیلے ہونٹ آپس میں جڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔عاصم کے دونوں ہاتھ نیلم کی کمر پر گھوم کر اب چوتڑوں پر آگئے تھے ۔۔۔۔نرم نرم اور گول موٹے سے یہ چوتڑ بھی کم خوبصورت نہیں تھے ۔۔۔۔۔خوب صاف اور گوری رنگت کے یہ چوتڑ ۔دودھ اور میدے کی آمیزش والے۔۔ابھی عاصم کے ہاتھوں کی سختی سی لال ہو رہے تھے ۔۔۔۔عاصم دونوں ہاتھوں سے دباتے ہوئےہلکی سی کمر بھی اٹھا رہا تھا۔۔۔جس سے درمیان میں دبا ہوا لن بھی مزے لے رہا تھا۔۔۔اسے دونوں جسم کی مشترکہ رگڑ سی مل رہی تھی۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں دونوں جسم پھر سے گرمی پکڑ چکے تھے ۔۔۔۔عاصم نیلم کوسائیڈ پر لٹائے ہوئے اس کےاوپر آیا۔۔۔۔سڈول رانیں بالوں سے پاک ریشم جیسی تھیں۔۔۔ہاتھ ان پر سلپ ہوئے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔عاصم درمیان میں آتے ہوئےاس کی ٹانگوں کو اٹھانے لگا۔۔۔اور درمیاں میں آن بیٹھا۔۔۔درمیان میں اس کا صحت مند لن لہرا رہا تھا۔سختی سے تنا ہوا۔۔۔۔ٹوپا صاف ہو چکا تھا۔۔۔اور نئے مزے کے لئے تیار تھا۔۔۔نیلم بھی شرم سی محسوس کر رہی تھی۔۔۔ٹانگیں اٹھانے کا پہلا اتفاق جو تھا۔۔۔عاصم نے ایک ہاتھ سے ٹوپے کو چوت پر رگڑا ۔۔۔۔اور اندر کی طرف دھکیل دیا۔۔۔۔سریلی سی اوئی۔۔۔آ ہ ہ۔۔۔گونجی۔۔۔۔
عاصم ہلکے ہلکے اندر کرتا ہوا آگے کو جھکتا رہا۔۔۔۔نیلم بھی ہلکی سسکیوں سے اس کا استقبال کرنے لگی۔۔۔۔جو بے اختیار ہی نکلے جا رہی تھی۔۔۔۔ممے ہلکے ہلکے سے ہلے جا رہے تھے ۔۔جیسے وہ بھی کسی جھولے میں بیٹھے ہوئے ہوں۔۔۔۔۔عاصم ہلکا سا اٹھتے ہوئے پنجوں کے بل پر بیٹھا۔۔۔۔۔او ر جھکتے ہوئےنیلم کے مموں پر ہاتھ رکھ دئے ۔۔۔۔۔نرم نرم سے مکھن کے پیڑے اس کے نیچے دب سے گئے ۔۔۔۔عاصم نے ساتھ ہی اپنے دھکے تیز کر دئے ۔۔۔۔۔۔دونوں مموں پر ہاتھ رکھے وہ دھکے دینے لگے۔۔۔۔۔۔نیلم بھی لذت اور مزے کا انوکھا لطف محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔گرم گرم سسکاریاں اس کے اختیار میں کہاں تھیں۔۔۔۔بس نکلے ہی جا رہی تھیں۔۔۔۔۔وہ ہونٹ بند کرنا بھی چاہتی تو نہ کر پاتی۔۔۔۔درمیان میں کوئ دھکا تیز لگتا تو پوری ہل سی جاتی ۔۔۔سسکاری بھی پہلے سی اونچی نکل جاتی ۔۔۔مگر جو مزہ وہ محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔اسے ان سسکاریوں میں بیان کرنا مشکل تھا۔۔۔۔پھر بھی کوشش پوری تھی۔۔
عاصم نے دونوں مموں کو دباتے ہوئے دھکے تیز کئے ۔۔۔۔اور ہاتھ اٹھا تے ہوئےنیلم کی ٹانگوں پر رکھ کر مزید اوپر کر دی۔۔۔رانوں کے نچلے حصے پر ہاتھ رکھ کر اس نے دباؤ ڈالا ۔۔۔۔ساتھ ہی دھکے تیز کر دئے ۔۔۔نیلم کی شہوت سے بھرپور ۔۔اوئی۔۔۔آہ ہ۔۔۔سس ۔۔۔۔جاری تھیں۔۔۔۔؎
عاصم کو اسی انداز میں دھکے مارتے ہوئے کچھ دیر ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔نیلم کی سسکاریاں مزید بلند اور فرحت آمیز ہو گئیں تھیں۔۔۔۔۔عاصم کو لگا کہ وہ چھوٹنے والی ہے تو اس نے پوزیشن بدلنے کا سوچا۔۔۔اس ابھی کچھ دیر باتی تھی۔۔۔۔رکتے ہوئے نیلم کی ٹانگیں نیچے کیں ۔۔۔۔اوراس کروٹ کر کے الٹا لٹا دیا۔۔۔۔پتلی کمر کے نیچے بھاری سے دلکش چوتڑ تھے ۔۔۔۔نرم نرم اورخوب گول مٹول سے۔۔۔
سیاہ بال نیچے تک آئے ہوئے تھے ۔۔۔۔عاصم نے انہیں سمیٹا ۔۔۔۔اور چوتڑوں پر جا بیٹھا ۔۔۔بالوں کے دو حصے کرکے دائیں بائیں پھیلا دئے ۔۔۔۔اور ہلکا سا اٹھ کر لن کو چوتڑو ں کے درمیان گھساتے ہوئےچوت تک پہنچا دیا۔۔۔نیلم خاموشی سے محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔تکیہ اس کے سینے کے نیچے تھا ۔۔۔بازو اوپر کی طرف کئے ہوئے وہ الٹی لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔عاصم نے دھکا دیتے ہوئے لن کو اندر پھنسایا ۔۔۔۔نیلم کے منہ سے بے ساختہ اوئی۔۔۔سس ۔۔نکلی ۔۔۔یہ کچھ الگ ہی مزہ تھا۔۔۔۔زبان ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے اس نے سس سس کی مخصو ص آواز نکالی ۔۔۔۔۔۔۔عاصم اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر کچھ وزن ڈالے ہوئے تھا۔۔۔۔اب قدرے تیز دھکوں سے شروع ہوا۔۔۔۔۔ہر دھکے کے ساتھ نیلم کے نرم نرم چوتڑ اسے بونس میں مزہ دے رہے تھے ۔۔۔جن سے وہ ٹکرائے جا رہا تھا۔۔۔اور انہیں ہلائے جا رہا تھا ۔۔لرزائے جا رہا تھا۔۔۔۔۔ساتھ ہی نیلم کی دلکش سسکیاں بھی ماحول میں ابھرنے لگیں ۔۔۔۔۔۔اس کے بھاری بھرکم ممے تکئے سے رگڑ کھاتے تو مزہ بھی دے جاتے ۔۔۔اوپر سے عاصم کے دھکے جو تیزی پکڑتے جا رہے تھے۔۔۔جواس رفتار میں بیڈ کو بھی ہلا رہے تھے ۔۔۔۔۔اتنے میں عاصم نے اس کے ہاتھوں کو موڑتے ہوئے پیچھے لے آیا۔۔۔اور دونوں ہاتھوں کو اکھٹا کر کے اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔ہاتھ ہلکے سے کھنچے تھے جس نے نیلم کے کندھوں کو پیچھے کی طرف اٹھا دیا ۔۔۔۔نیلم نے اپنا سر بھی کچھ اٹھا لیا۔۔۔عاصم اب اس کے ہاتھوں کو پکڑے ہوئے دھکے تیز تر کرنے لگا۔۔۔اس کا وقت قریب تھا۔۔۔ساتھ ہی نیلم کا بھی ۔۔۔اور اس بار وہ ساتھ ساتھ چھوٹنا چاہ رہا تھا۔۔۔
نیلم کی سسکاریں گونج رہی تھیں۔۔۔اوئی۔۔۔آہ۔۔۔۔سس ۔۔۔ ساتھ ہی عاصم کے اس کے چوتڑوں ےسے ٹکرانے کی تھپ تھپ بھی آرہی تھیں۔۔۔عاصم پوری قوت سے دھکے مارے جا رہا تھا۔۔۔اور پھر یہ جھٹکے مزید تیز ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔نیلم کے ہاتھ چھوڑ کروہ اس کی کمر پر لیٹتا چلا گیا۔۔۔پنجوں کے بل سے اٹھتےہوئے ٹانگیں بھی سیدھی کر لیں ۔۔۔۔۔اب وہ پورا نیلم کے جسم سے چپک سا گیا۔۔۔بال سائیڈ پر کر کے گردن چومی ۔۔۔۔۔۔اوراپنی ٹانگوں کو دباتے ہوئے نیلم کی ٹانگوں کو اورآپس میں جوڑ دیا ۔۔۔۔ساتھ ہی دھواں دار دھکے شروع کر دیا۔۔۔نیلم بھی منہ کھولے سسکیاں اور آہیں بھرنے لگیں۔۔۔۔یہ تیزی اسے اور بلند آواز پر مجبور کر رہی تھیں۔۔۔عاصم اس کی گردن چومتے ہوئے سائیڈسے گال چومنے لگا۔۔۔۔۔گرم گرم سانسیں ۔۔اور پھنکاریں اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی۔۔۔۔۔۔اتنے میں نیلم کے جسم میں بے چینی ہوئی۔۔۔۔اس نے کمر کے ساتھ چوتڑوں کو بھی ہلکا سا اوپر کو اٹھایا۔۔۔ساتھ ہی اس کی چوت نے پھر سے پانی چھوڑا ۔۔۔عاصم بھی قریب ہی تھا۔۔۔۔اس نے دھکے کچھ اور طوفانی کئے ۔۔۔۔۔اور پھر فوارہ چھوڑ دیا۔۔۔۔نیلم نےاس کے پانی کو محسوس کیا تھا۔اس کی سسکیاں بھی دم توڑنے لگیں۔۔۔۔دونوں کے جسم میں ایک اطمینان بھرتا چلا گیا۔۔۔۔اتنے میں انٹر کام کی بیل بجی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
عاصم نیچے آ گیا تھا ۔۔۔شاکر نے انٹرکام پر اسے چیتے کی اطلاع دے دی تھی ۔۔۔۔عاصم سیکنڈ فلور پر پہنچا تو چیتا سامنے ہی صوفے پر بیٹھا۔۔دراز قد ۔۔۔۔نیلی آنکھیں ۔۔اور کندھے تک آتے بال ۔۔تھوڑی سی بڑھی ہوئی شیو ۔۔۔یونانی شہزادے جیسا چہرہ ۔۔کشادہ سینہ جس میں دوستوں کی محبت ہی محبت ۔۔اوردشمنوں کے لئے آگ ہی آگ ۔۔۔۔بے مثال مسکراہٹ ۔۔۔جسے شایددنیا کو کوئی خطرہ بھی نہ روک سکے ۔۔گھن گرج جیسی آواز جو سامنے والے پر سحر طاری کردے ۔۔۔۔وہ صحیح معنوں میں چیتا ہی تھا۔۔۔یہ لقب اسے عاصم نے ہی دیا تھا۔۔۔
چیتا پہلے عاصم کا رائٹ ہینڈ تھا ۔۔۔۔۔یہ پہلا بندہ تھا جو عاصم کے ساتھ اٹیچ ہوا ۔۔۔دونوں کافی عرصے تک ساتھ ہی رہےتھے ۔۔ہر معرکے اور ہر تفریح میں ایک ساتھ۔۔۔اور پھر چیتے کے ساتھ ایک ٹریجڈی ہوئی تھی ۔۔۔اس کی بیوی اور ماں باپ کو را والوں نے انتقام کا نشانہ بنایا ۔۔۔۔اس کے بعد چیتے کے کام کا انداز بدل گیا ۔۔۔وہ سراپا قہر تھا۔۔۔۔جس پر بھی گرتا جلا کر راکھ کر دیتا ۔۔۔آندھی تھا جو ہر کسی کو اڑا کر لے جاتا ۔۔۔اخلاقیات کے سبھی قانون اس نے توڑ ڈالے تھے ۔۔۔۔۔۔عاصم نے سمجھانے کی بہت کوشش کی ۔۔مگر چیتے کی اپنی مجبوری تھی ۔۔۔بیوی اور ماں باپ کا چہرہ ہر وقت اس کی آنکھوں میں رہتا ۔۔۔۔وہ اپنے انتقام سے باز نہیں آ سکتا تھا۔۔۔۔اور عاصم کے کام کا تقاضا تھا کہ وہ غیر ضروری پھڈوں سے دور رہے ۔۔۔۔اور خود کو نیوٹرل رکھے ۔۔۔۔۔چیتا بھی یہ سب سمجھتا تھا ۔۔۔اس لئے ایک رات اسے الوداع کر کے چلا گیا ۔۔کہ جب بلاؤ گے تو واپس آ جاؤں گا۔۔۔
اور آج وہ وقت آ چکا تھا ۔۔۔عاصم قریب آیا تو چیتا اٹھ کر لپٹ چکا تھا۔۔۔۔دونوں کی آنکھیں نم تھیں ۔۔۔اور شکوؤں کا اک انبار تھا۔۔۔۔دونوں نے ایک عرصے سے ایک دوسرے کو بھلا رکھا تھا۔۔۔اور اب ملے تو آنسوؤں کی برساتیں تھیں۔۔۔۔۔دونوں اپنے کشادہ سینے ملائے کھڑے تھے ۔۔۔شاکر اور وسیم حیرانگی سے یہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔انہوں نے چیتے کا نام ہی سنا تھا۔۔۔آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔عاصم اس کی پیٹھ پر مستقل تھپکی دے رہا تھا۔۔۔آخر بڑی مشکل سے دونوں الگ ہوئے ۔۔۔اور پھر ایک ساتھ صوفے پر جا بیٹھے ۔۔عاصم چیتے کی آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولا ۔۔۔مردوں کو آنسو اچھے نہیں لگتے ۔۔۔چیتا بھی مسکرایا ۔۔اگر یہ بات ہے تو اپنی آنکھیں بھی دیکھ لیں ۔۔۔۔۔وہ بھی کچھ برسی برسی لگ رہی ہیں ۔۔۔۔عاصم بھی مسکرا گیا۔۔۔اور شاید راجہ کی خبر سننے کے بعد پہلی مرتبہ مسکرا یا تھا۔۔
اتنے میں ناصر بھی کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔۔اس نے ائیر پورٹ سے گاڑیاں نکلوا کر کنٹینر میں لوڈ کر والی تھیں ۔۔۔اور اب یہ کنٹینر کچھ دور کھڑا تھا۔۔۔وہ بھی چیتے سے گلے ملا ۔۔اور پھر شاکر اور وسیم کو لئے باہر چلا گیا۔۔
چیتا پھر عاصم کی طرف متوجہ ہوا۔"شہزادے آج ہماری یاد کیسے آئی ہے ۔۔۔ویسے سچ تو یہ ہے کہ اب تو نہیں بلاتا تو میں نے خود آ جانا تھا۔۔۔بہت ٹائم ہو گیا دور رہے ۔۔۔اب بس ساتھ رہیں گے ۔۔ساتھ مریں گے۔"۔۔
عاصم مسکرایا ۔۔۔۔"مریں ہمارے دشمن ۔۔۔ہم نے تو ہمیشہ زندہ رہنا ہے ۔۔۔۔واقعی میں بہت دوری ہو گئی تھی ۔۔۔میں بھی کافی دنوں سے پچھتا رہا کہ کیوں جانے دیا تجھ کو ۔۔۔۔"۔
اچھا ۔۔ اب کام کی طر ف آتے ہیں ۔۔۔اپنا ایک جگر آیا ہوا ہے ۔۔پاکستان سے ۔۔۔۔۔تیرے ہی انداز کا بندہ ہے ۔۔۔۔اس کے کام کے انداز نے مجھے تیری یاد دلا دی ۔۔۔۔بہت کم عرصے میں و ہ دل میں گھر کر گیا تھا۔۔۔چار دن سے اوپر ہو گئے ہیں ۔۔۔اس کا کچھ پتا نہیں ہے ۔۔۔۔۔اس کو ٹریس کرنا ہے ۔۔۔۔۔اور آزاد کروانا ہے ۔۔۔۔"۔۔ عاصم نے سنجیدہ آواز میں پوری بات بتائی ۔۔۔
اور پھر شملہ میں اپنی اور راجہ کی کارستانی سنا دی کہ کیسے ڈرون اڈے کو تباہ کیا تھا۔۔۔۔۔چیتا اس کا آخر ی حصہ سن کر مسکرا یا ۔۔۔"تو اس کا مطلب ہے رسک لینے اور سرپرائز دینے کی عادت نہیں بدلی ۔۔"۔
عاصم بھی ہنستے ہوئے بولا ۔۔"۔۔بس یارو ں کے بغیر بھی کوئی زندگی ہوتی ہے ۔۔۔۔جب تم نہیں تو ہم بھی نہیں ۔۔۔"۔
اچھا عاصم بس ایک وعدہ ۔۔۔۔۔کام میں کوئی روک ٹوک نہیں چلے گی۔۔۔کوئی اصول نہیں ۔۔۔اور کمانڈ بھی میں خود کروں گا۔۔۔آپ کو آپ کا راجہ ملے گا۔۔۔صحیح سلامت ملے گا۔۔۔۔آپ کا جگر ہے تو ہمارا بھی کلیجہ تو ہوگا۔۔۔۔آخر میں چیتے نے آنکھ ماری تھی ۔۔۔۔عاصم ہنستے ہوئے بولا ۔۔ٹھیک ہے شہزادے آج سے آپ کاحکم چلے گا۔۔۔
اچھا عاصم صاحب آپ اپنی سی آئی ڈی سمبھالیں ۔۔۔میں جب تک لڑکوں کو دیکھ لوں ۔۔۔ابھی بلونگڑے لگ رہے ہیں ۔۔۔۔عاصم بے اختیار ہنسا تھا۔۔
اتنے میں باہر گاڑیاں رکنے کی آواز آئی ۔۔۔۔۔چیتا اور عاصم اٹھ کر باہر چلے گئے ۔۔۔۔۔تین گاڑیاں آ چکی تھیں ۔۔۔ایک کار اور دو جیپ ٹائپ کی گاڑیاں تھیں۔۔۔چیتے نے ایک نظر دیکھا اور اورپھر ناصر کو بونٹ کھولنے کا اشارہ کیا۔۔۔جو ابھی ڈرائیونگ سیٹ پر ہی بیٹھا تھا۔۔بونٹ کھول کر ایک نظر اندر ڈالی ۔۔۔اور بونٹ واپس بند کر دیا۔۔۔۔
یہ گاڑیاں نہیں چلیں گیں ۔۔۔۔جاؤ واپس چھوڑ آؤ ۔۔۔۔ناصر کا منہ حیرت سے کھل گیا ۔۔ پورے ائیرپورٹ سے وہ چن کر بہترین گاڑیاں لایا تھا۔۔۔
چیتا عاصم کی طرف مڑا ۔۔۔۔یار وہ اپنا شوروم والا بندہ زندہ ہے یا مر گیا۔۔۔۔۔۔
زندہ ہے ۔۔ابھی ۔۔۔میں فون کر دیتا ہوں ۔۔۔تم چکر لگا لو۔۔۔بس گاڑی کوئی ہیر پھیر والی نہ اٹھا لینا۔۔۔۔عاصم نے کہا ۔
شہزادے فکر نہ کر ۔۔۔۔میں ابھی آیا ۔۔۔۔اور ناصر سے بائک کی چابی لے کر باہر انہیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
عاصم نے کندھے اچکا ئے ۔۔۔اور واپس اندر کمرے میں چلا گیا۔۔اس نے دوبارہ سے کلدیپ کو فون ملایا ۔۔۔۔اسے جیوتی کاخیال آیا تھا۔۔۔مگر اس کا نمبر نہیں تھا۔۔سوچا شاید کلدیپ کو پتا ہو۔۔۔کلدیپ سے بات ہوئی ۔۔۔وہ بھی بہت فکر مند تھی ۔۔۔۔مگر جیوتی کا نمبر اس کے پاس بھی نہیں تھا۔۔۔پھر سوچا کہ شاکر اور وسیم میں سے کسی کو راج گڑھ بھیج دے تا کہ جیوتی سے بھی پتا چلے سکے ۔۔۔۔
امرتسر سے لڑکے اب تک نہیں آئے ۔۔۔۔آج کا پورا دن تو انتظامات میں ہی جا رہا تھا۔۔۔پھر اسے یاد آیا کہ کار ڈیلر کو فون کرلے ۔۔۔۔۔ٹویوٹا کمپنی کے اس شوروم سے ان کی پرانی جان پہچان تھی۔۔۔۔یہ بیک ڈور سے چوری کی گاڑی اور بینڈ گاڑیاں بھی امپورٹ کرتے تھے ۔۔۔۔۔اور چیتا وہاں جا کر کچھ گل کھلانے والا ہوگا۔۔۔۔عاصم نے فون ملایا ۔۔۔اور مینیجر کو کہہ دیا کہ چیتا آرہا ہے اس کی ہدایات کے مطابق گاڑی تیار کرے ۔۔پیسے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جائیں گے ۔۔۔مینجر نے اوکے سر کہا توعاصم نے فون بند کر دیا۔۔۔۔
عاصم خیالوں میں گم تھا ۔۔۔شام ہونے کو آئی تھی ۔۔۔۔اور چیتے کاکوئی اتا پتا نہیں تھا۔۔۔۔فون تو اس کے پاس تھا نہیں ۔۔۔۔۔رات کے نو بجے ہوں گے ۔۔۔جب باہر سے گھن گرج کی آواز آئی ۔۔۔عاصم اٹھ کر باہر آیا ۔۔۔۔دیوہیکل چمکتی ہوئی پک اپ اندر داخل ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ابھی پہلی گاڑی ہی اندرآنے لگی تھی کہ سائیڈ سے چیتے کی بائک بجلی کی تیزی سے اندر گھسی ۔۔۔۔بائک سیدھی عاصم کی طر ف آئی ۔۔اور بریک مار کر سلپ کرتے ہوئے چیتا نے بائک روکی تھی ۔۔۔۔اور پھر مسکراتے ہوئے اترا۔۔۔۔۔۔دو گاڑیاں ایک کے بعد ایک اند ر داخل ہوئیں ۔۔۔۔۔۔تیسری کی گنجائش نہیں تھی ۔۔۔وہ باہر ہی رکی رہی ۔۔۔۔۔
یہ ٹیوٹا کمپنی کی ٹنڈرا تھی ۔سرمئی رنگ میں سلور بمپر لگا ہوا تھا۔۔۔۔ٹنڈرا کو مزید موڈیفائی کیا گیا تھا۔۔جو چیتے کے ہی کام ہو سکتے ہیں ۔۔۔سسپنشن کو مزید اٹھا دیا گیا۔۔۔اور گرپ والے ٹائر لگ دیے تھے ۔۔۔۔سامنے کی طرف ایک مضبوط بمپر کا اضافہ تھا۔۔۔دوسری گاڑی ٹیوٹا کی ہی فور رنر تھی ۔۔اس کی رنگت سفید تھی ۔۔پیچھے سے بند تھی۔۔۔وہ بھی ایسی ہی موڈیفائی تھی ۔۔۔۔۔مگر عاصم کو پتا تھا کہ اصل تڑکا تو چیتے نے انجن اور ایسیلیریشن پر لگوایا ہو گا۔۔۔۔
چیتے بائک سے اتر کر ساتھ کھڑا ہو گیا تھا۔۔شہزادے تینوں گاڑیاں تھوڑی سی مختلف لی ہیں ۔۔۔۔۔ایک جیسی گاڑیاں جلد نظروں میں آئیں گی ۔۔۔۔تینوں گاڑیاں فل لوڈڈ ہیں ۔اور اندر کی طرف دھاتی پلیٹیں ا س کافی حد تک بلٹ پروف بھی بنائیں گیں ۔۔۔ساتھ تینوں کی چھت کے لئے پورٹیبل اسٹینڈ بنوایا ہے ۔۔۔۔جہاں پر مشین گن ایک سیکنڈ میں فکس ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔اور مزے کی بات تو بتائی نہیں ۔۔۔میں وہیں سے ایک اور کام کی طرف چلا گیا تھا۔۔ناصر نے بتایا کہ آپ نے وسیم کو اسلحے کا کہا تھا ۔۔اور میں اسے دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ کس قسم کا اسلحہ ہو گا۔۔۔آئیے اپنے نئے ہتھیار دیکھیں ۔۔۔۔۔اور پھر عاصم کا ہاتھ پکڑ کر فور رنر کے پاس آیا ۔۔۔بیک ڈور کھولتے ہوئے اس نے اندر دیکھنے کا کہا ۔۔۔۔عاصم نے جھانکا تو سانس بھر کر رہ گیا۔۔۔۔دنیا کے تباہ کن اور مہلک ہتھیاروں کا ایک ڈھیر رکھا تھا۔۔مشین گن سے شروع ہو کر راکٹ لانچر تک ۔پسٹل سے لے ایم ون سکس۔۔اور پی نائن زیرو سے لے کر منی گرینیڈ لانچر ۔۔۔۔اور ساتھ چھوٹے کواڈ کوپٹر۔۔۔۔ وہ پوری دکان اٹھا لایا تھا۔ ۔۔عاصم نے ہتھیار دیکھ کر دروازہ بند کیا ۔۔۔۔اور ڈانٹے ہوئے پوچھا کچھ ہمارے پیٹ کا بھی پتا ہے ۔۔۔بھوک سے مرے جارہے ہیں ۔۔۔دوپہر کا کھانا پہلے ہی گم ہو گیا۔
۔"ارے شہزادے جب چیتا ہے تو پھر کیا غم ہے ۔۔۔۔اسپیشل تندوری چکن اور قیمے بھرے نان لایا ہوں ۔۔ساتھ تیری پسند کی لسی بھی ۔۔۔۔"۔۔اور پھر بائک سے سامان اتارنے لگا۔۔ناصر نے اسے بتا دیا تھا کہ عاصم بالکل بھی کھانے پر توجہ نہیں دے رہا ۔۔۔اور اب اسی کے منہ سے کھانے کا سن کر سب خوش ہو گئے ۔۔۔۔عاصم کی بھوک واپس آ چکی تھی۔
ناصر اور وسیم حیرت سے چیتے کی پھرتیاں دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔اور خوشی بھی ان کے چہرے سے ظاہر تھی ۔عاصم بھی ان کے لئے اچھا تھا۔۔مگر وہ اس سے زیادہ بے تکلف نہیں تھے ۔۔اور ادب کا دائرہ رکھتے تھے ۔۔۔مگر چیتا توآتے ہی سب سے بے تکلف ہو چلا تھا۔۔۔۔۔۔اتنے میں شاکر بھی اندر آ گیا۔۔اس کے پاس تیسری گاڑی تھی ۔۔جو اس سے ملتا جلتا ہی ماڈل تھا ۔۔ٹیوٹا ٹیکوما ۔ ۔۔یہ شاید ڈبل کیبن تھی۔۔۔۔۔
جلد ہی سب کھانے پر بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔کھانا کھا کر لسی کا دور چلا ۔۔امرتسر کےلڑکے آ گئے تھے ۔۔وہ بھی کافی پرجوش تھے۔۔عاصم سے دھواں دار ملاقات کر کے بیٹھنے کے موڈ میں تھے۔۔مگر۔۔چیتے نے انہیں کھانا کھلا کر سلا دیا تھا۔وہ لمبے سفر سے آئے تھے ۔اور صبح کو جلدی نکلنا تھا۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد پلان بننا شرو ع ہو گیا۔۔سب فائنل کر کے الارم سیٹ کیا گیا ۔۔اور سب سو گئے ۔۔۔۔
۔۔۔صبح چار بجے انہوں نے حملے کاٹائم رکھا تھا۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Share this post


Link to post
Share on other sites

قسط نمبر 6۔۔۔٭٭٭٭
میں رات کو کب سویا ۔۔۔پتا نہیں چلا ۔۔آدھی رات کے بعد اشلوک اور منتر پڑھنے کی وہ آوازیں پھر آئیں تھیں ۔۔۔۔ساتھ ہی گھنٹیوں کی مترنم آواز بھی۔۔۔اور میں وہ سننے کے بعد نیند میں چلا گیا۔۔۔۔اپنی مخصوص مقدار کی نیند لینے کے بعد میں اٹھا۔۔۔ناشتے آنے کا ٹائم ہونے لگا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ دونوں غلام آ گئے ۔۔دونوں نے روٹی اور پانی کے کٹورے اندر کھسکائے ۔۔۔اور وہیں کھڑے رہے ۔۔شاید میرے کھانے پینے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔روٹی کھاتے ہوئے ان کے چہروں کو دیکھ رہا جس پر چمک صاف ظاہر تھی ۔۔۔۔انہیں لہو منہ لگ گیا تھا۔۔۔۔اگر یہ دونوں میرے ساتھ مل جاتے تو یہاں ان سب پر قابو پانا آسان تھا۔۔۔پھر یاد آیا کہ جیوتی نے کہا تھا کہ ایسے اور بھی غلام ہیں یہاں پر ۔۔۔۔میں روٹی کھاتے ہوئے انہیں اشارے کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔کل رات جیوتی کے اشارے میں نے دیکھے تھے ۔۔۔یہ مخصوص ٹائپ کے اشارے تھے ۔۔۔یا شاید کوئی گونگو ں جیسی کوئی زبان ہی تھی۔۔۔مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔۔۔۔میں نے روٹی کھا کر پانی پی لیا۔۔۔۔دونوں چیزوں پہلے دن کی طرح بد زائقہ ہی تھیں ۔۔۔۔مگر میرے ٹیسٹ بڈ ز اب ان کے عادی ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔کھانا کھا کر میں نے ان کو اشارے سے بتایا کہ مجھے حاجت کے لئے جانا ہے ۔۔۔۔اگلے دس منٹ میں مختلف قسم کے اشارے ہی کرتا رہا ۔۔آخر ۔۔۔ایک نے چابی نکالی ۔۔۔اور سلاخوں پر لگا تالا کھولنے لگا۔۔۔۔۔سلاخیں کھول کرا نہوں نے مجھے اٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔اور دوسرے نے میرے ہاتھوں کی زنجیر تھام لی ۔۔اب وہ مجھے لئے ہوئےدائیں طرف والے پچھلے دروازے کی طرف چل پڑا۔۔۔اندھیری گلیو ں سے نکلتا ہوا یہ راستہ ایک اندھیرے کمرے پر ختم ہوا ۔۔۔مجھے بْو سے اندازہ ہوا کہ یہ حاجت کے لئے ہی استعمال ہوتا ہے ۔۔۔میں فارغ ہو کر اتھا تو ایک کھڑکی میرے سامنے تھی ۔۔۔نظر دوڑائی تو سامنے کی طرف جنگل ہی نظر آیا۔۔۔۔مجھے ایسا لگا جیسے میں یہ سب پہلے دیکھ چکا ہوں۔۔واپس باہر آیا تو۔۔میرا سفر پھر شروع تھا۔۔۔ایک میرے آگے چل رہا تھا ۔۔اور دوسرا پیچھے ۔۔۔۔چلتے ہوئے ہم اسی جگہ پر آئے تھے جہاں کل پجاری کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔۔۔اب کی بار کچھ تبدیلی سی نظر آئی۔۔۔۔اور میں نے بھی غور سے ہر چیز کا جائزہ لیا۔۔۔
اندر سے پہاڑ کو کسی گنبد کی طرح ترا شا گیا تھا۔۔۔۔۔اور دیکھنے میں پہاڑ کی اونچائی تین منزل کے قریب تھی ۔۔۔پہلی منزل پر میں نے کل ہندو ازم کے بت دیکھے تھے ۔۔آج پوری نظر ڈالی تو مجھے پانچ کونے والے اسٹار اور چھ کونے والے اسٹار بھی نظر آ گئے ۔۔۔۔۔ساتھ ہی کچھ خاکے تراشے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔جن میں ایک آنکھ ۔۔۔۔کے ساتھ کچھ چہرے بھی بنے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔یہ یا تو شیطان کی خیالی تصاویر تھیں ۔۔۔یا پھر دجال کی۔۔۔۔اس کے علاوہ اور خفیہ مذاہب کے نشان بھی بنے ہوئے تھے ۔۔۔یہ پورے گنبد میں اوپر کی طرف چاروں سائیڈ پر بنے ہوئے تھے۔۔۔
دوسر ی منزل پر جہاں وہ مہاراج بیٹھا تھا۔۔۔۔اس کی سیدھ میں ہی ایک دائرہ سا بنا ہوا تھا۔۔۔۔اور آج وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔ان سب کے لبادوں کے مختلف رنگ تھے ۔۔۔۔اور مخصوص فاصلے پر بیٹھے تھے ۔۔۔مجھےسمجھ نہیں آیا کہ یہ اوپر کیسے پہنچے ۔۔۔۔غور کر کے دیکھا تو۔ہر کسی کے بیٹھنے کی جگہ کے ساتھ ہی چھوٹے دروازے بھی نظر آ گئے ۔۔۔مجھے ایسا لگا جیسے یہ سب میرے لئے یہاں آئے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔میں آگے بڑھتا ہوا نظریں گھمائے جا رہا تھا۔۔۔۔تبھی میری نظر جیوتی پر پڑی ۔۔۔۔۔پیلی رنگت لئے وہ ایک کرسی پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔شاید سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھیں۔۔۔۔اسی لیے آج وہ کھانا دینے بھی نہیں آئی ۔۔۔جیوتی کے سامنے ایک فائل رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔مجھے وہ غلام اس پہاڑی گنبد کےبالکل درمیان کھڑا کر کے واپس پیچھے ہٹ کر کھڑے ہو گئے ۔۔میں نے جیوتی کو مسکراتے ہوئے دیکھاتھا۔۔۔کل بے چاری خود اپنے جال میں پھنسی تھی ۔۔۔۔۔۔مگر اس کی نگاہوں میں کچھ اور ہی تھا۔۔میرے لئے تنبیہ تھی۔۔۔۔اتنے میں اسی مہاراج کی آواز آئی۔۔۔۔وہ زور سے کوئی اشلوک پڑ رہا تھا۔۔اس بند جگہ میں آواز گونج رہی تھی۔۔۔۔وہ کچھ دیر تک اشلوک پڑھتا رہا ۔۔تب تک میں نے چاروں طرف نظریں گھما لیں ۔۔۔۔۔آس پاس کے لوگ مجھے مختلف قومیتوں کے لگے تھے۔۔۔اور شایدکالے جادو کے ماہرین بھی ۔۔۔۔۔۔
ان میں دو تین عورتیں بھی تھیں ۔۔۔۔جن کے لمبے بال باہر لبادے سے جھلک رہے تھے ۔۔۔۔۔۔تمام لبادے ایک ہی قسم کے تھے ۔۔۔۔۔جالی دار اور ایک ہی کپڑے پر مشتمل ۔۔۔۔۔۔صرف رنگت ہی مختلف تھی۔۔۔۔
مہاراج کے اشلوک ختم ہوئے تو اس نے جیوتی کو کچھ کہا ۔۔۔۔۔جیوتی نے سامنے رکھی فائل کھو ل دی ۔۔۔اور پڑھنی شروع کی ۔۔۔
یہ میری ہی فائل تھی ۔۔۔اور میرے جرائم پر مشتمل تھی۔۔۔۔۔
اس اپرادک کا پہلا جرم یہ ہے کہ یہ غیر قانونی طریقے سے اس دھرتی ماں پر داخل ہو ا۔۔۔۔اور ایک پوتر مندر پر جا کر اس کا اپمان کیا۔۔۔۔۔اس کے مہا پجاری کے ساتھ بدسلوکی کی ۔۔اور پھر وہاں سے دولت لوٹ کر فرار ہو گیا۔۔۔جیوتی نے پہلا بم پھوڑا تھا۔۔
میں اچھل پڑا تھا۔۔۔۔مجھے ہنسی آئی کہ وہ پجاری جن حرکتوں ملوث تھا ۔۔وہ کسی کو نظر نہیں آئی تھی ۔وہ خود کتنوں کی عزت لوٹ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرا جرم شملے کا بتا کر تیسرا جرم راجیش کی جان لینا تھی۔۔۔۔اس کے بعد چوتھا ڈروں طیارے والا۔۔۔۔۔ یہ سب بھارت ماتا کو نقصان پہنچانے کی کوشش تھی۔۔سب سے بڑا جرم تو بتایا ہی نہیں تھا۔۔وہ جرم پاکستان سے تعلق تھا۔۔۔آگے اس نے کچھ جذباتی لہجے میں تقریر کی ۔۔۔جو مہاراج نے جلد ہی چپ کروا دی ۔۔۔
اب میں سمجھ چکا تھا ۔۔کہ یہ کوئی عدالت ہی لگی ہے ۔۔۔۔جہاں مجھے ایک مجرم کے طور پر پیش کیا گیاہے ۔۔۔۔مگر فیصلہ کرنے والے کون تھے ۔۔۔۔میں ان سب سے بے خبرہی تھا۔۔۔
مہاراج نے جیوتی کو چپ کروا دیا تھا۔۔۔۔اور اب لبادے میں منہ جھکائے چپ بیٹھا ۔۔۔مجھے یہ سب ڈرامہ ہی لگا۔۔۔۔۔اور پھر کچھ اور آوازیں آئی ۔۔۔۔شاید ووٹنگ ہو رہی تھی ۔۔۔۔مہاراج سب کی سنتے ہوئے سر ہلائے جا رہاتھا۔۔۔۔اور پھر اس نے سر اٹھایا ۔۔۔۔ اس پاکی جاسوس کی وجہ سے ہمارے مقدس بھگوانوں کا جو اپمان ہوا ہے ۔ اور دھرم کی رسمیں بھشٹ ہوئی ہیں۔۔۔۔۔اس کی سزا یہ ہے کہ اگلی پورن ماشی کی رات۔۔اس کو کالی ماتا کے چرنوں میں بلی چڑھائی جائے گی۔۔۔۔۔۔۔جیوتی چپ چاپ میری طرف دیکھے چہرے کا جائز ہ لے رہی تھی۔۔
میں اسی طرح مطمئن کھڑا تھا۔۔۔مہاراج نے کچھ لفظ کہے ۔۔۔پیچھے کھڑے ہوئے غلام میرے پاس آئے۔اور مجھے واپس لے کر جانے لگا۔۔۔میں نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے نظریں گھمائیں اور واپس چل پڑا۔۔۔
مجھے اپنےقید خانے میں ویسے ہی بند کر دیا گیا ۔۔۔۔کچھ دیر بعد جیوتی میرے پاس آئی ۔۔اس کے چلنے میں اب تک لڑ کھڑا ہٹ تھی۔۔اور لباس تبدیل ہوچکا تھا۔۔۔۔سلاخوں کے قریب آ کر بولی ۔۔۔۔راجہ میں آج یہاں سے جا رہی ہوں ۔۔۔میرا کام ختم ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔میں نے بڑی کوشش کی کہ تمہاری جان بچ جاتی ۔۔۔۔مہاراج بھی چاہتے تھے کہ تم ہماری طرف آجاؤ ۔۔۔مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔اس قید خانے سے فرار نا ممکن ہے ۔۔۔۔۔پورن ماشی کی رات پانچ دنوں کے بعد ہے ۔۔۔۔۔۔۔اس رات کو یہ تمہارے خون سے جشن منائیں گے ۔بس یہی دن بچے ہیں تمہار ے پاس۔۔۔۔
میں اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔اور سمجھ بھی رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔میں نے بس ایک ہی جواب دیا ۔۔"۔واپس جا کر اپنی حفاظت کا بندوبست کر لینا۔۔۔جتنی چاہو فورس آگے پیچھے لگا لینا ۔۔۔جتنے تہہ خانوںمیں چھپ سکتی ہو چھپ جانا ۔۔۔۔۔۔میرے دوست تم تک ضرور پہنچیں گے۔۔۔۔وہ باو فا لوگ ہیں ۔۔۔۔تم دنیا کے کسی کونے میں ان سے نہیں بچ سکتی ۔۔۔۔جب وہ تم تک پہنچ جائیں تو میرا سلام کہنا ۔۔۔اور کہنا کہ میں انہیں بہت یا د کرتا ہوں۔"۔۔۔۔۔جیوتی نے میری آواز کو سنا ۔۔۔لہجے کو پرکھا۔۔۔۔اس میں مضبوطی اور یقین تھا۔۔۔۔اور پھر عجیب سی نظروں سے دیکھتی ہوئی چلی گئی۔۔شاید سمجھ رہی تھی کہ میرا دماغ گھوم گیا ہے۔۔
میں واپس مڑا ۔۔۔۔اور قید خانے کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔
رہ رہ کر مجھے وہ خواب یاد آ رہا تھا ۔۔۔اور یہ بھی محسوس ہو رہا تھا کہ اس پورے خواب کا اس واقعہ سے گہر ا تعلق ہے ۔باہر جو جنگل میں نے دیکھا وہ بھی دیکھا بھالا لگ رہا تھا۔۔اور اس مہاراج کا چہرہ تو میں کبھی نہیں بھول سکتا ۔۔۔اس دن خواب میں اسی کو دیکھا تھا میں نے۔۔۔میں جیسے جیسے سوچتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔سر کا درد ہی بڑھ رہا تھا۔۔
انہی سوچوں میں مجھے لگا کہ شام ہونے لگی ہے ۔۔۔۔اور پھر روٹی اور پانی بھی آگیا ۔۔۔۔میں نے دوبارہ ان غلاموں سے اشارے میں بات کرنے کی کوشش کی ۔۔۔مگر وہ سپاٹ نظروں سے دیکھتے ہی رہے ۔۔۔۔۔میں کھانے میں مصروف ہو گیا۔۔۔ساتھ ہی سوچ بھی آئی تھی ۔۔۔یہ لوگ بھی کچھ نہ کچھ کھاتے ہوں گے ۔۔اور جتنے لوگ میں اوپر دیکھ کر آیا تھا ۔۔۔۔۔وہ بھی کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے ہوں گے۔۔۔
اس کامطلب یہ پہاڑنما عمارت اتنی سادی نہیں ہے ۔۔۔۔میں نے ابھی کچھ ہی مناظر دیکھیں ہیں اسکے ۔۔۔۔۔۔۔۔روٹی کھا کر میں نے پانی پیا۔۔۔اور کٹورے باہر نکال کر ان کو پکڑائے ۔۔۔۔۔اور پھر واپس آ کر زمین پر لیٹ گیا۔۔۔۔۔اندر کا موسم معتدل تھا۔۔۔۔اس لئے سردی اور گرمی کااحساس بالکل نہیں تھا۔۔۔۔میرے ذہن میں عاصم کا خیال آیا۔۔۔۔وہ میرے پیچھے چپ بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھا۔۔۔۔اور اب تک وہ جانے کیا کر چکا تھا۔۔۔۔جیوتی کے مطابق مجھے پورن ماشی کے دن بھینٹ چڑھانا جانا تھا۔۔۔۔اور ابھی پانچ دن باقی تھے ۔۔۔میں نے زمین پر ایک طرف پانچ نشان بنا دئے ۔۔۔۔۔اب مجھے کم از کم یاد تو رہتا کہ میں کتنے دن زندہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں سلاخوں کے قریب آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔اور باہر کی سمت نظریں گاڑ لیں ۔۔۔۔۔میں اوپر جہاں تک نظر جاتی ۔۔ اچھے سے جائزہ لینےلگا۔۔۔ایک ایک انچ کا۔ جتنا دائیں بائی نظر دوڑ سکتی تھی۔۔۔۔میں دیکھ رہا تھا۔۔۔مجھے دوسرے منزل کے آس پاس ان چھوٹے راستوں کی تلاش تھی ۔۔جن سے وہ مہاراج لوگ وہاں اوپر پہنچتے تھے ۔۔۔۔اگر اْس پورشن میں یہ سسٹم ہو تا تو یہاں بھی ہونا چاہئے تھا۔۔۔۔مجھے سوائے چند چوکور سوراخوں کے کچھ نظر نہیں آیا ۔۔۔اس کے بعد میں نے اپنی زنجیریں اور سلاخوں پر دھیان دیا۔۔۔یہ تالے پرانے اسٹائل کے تھے ۔۔۔۔اور کوشش کرنے پر کھل سکتے تھے ۔۔سلاخوں کو ہلا ہلا کر چیک کیا ۔۔۔جہاں پر یہ دیوار سے گڑیں تھیں وہاں زور لگا کر دیکھتا رہا۔۔سلاخوں کی چابیاں انہیں غلاموں کے پاس ہوتی ہے ۔۔۔۔۔میرے اندازے کے مطابق یہ غلام ذہنی طور پر بہت کمزور تھے ۔۔۔شروع سے ہی ۔۔یا پھر انہیں تربیت ہی ایسی دی کہ اپنا دماغ استعمال کرنے کی زحمت ہی محسوس نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔
سوچتے ہوئےمیں اپنے ہاتھوں کی زنجیری کھڑ کا رہا کہ سامنے سے پھر آہٹ ہوئی ۔۔۔۔۔۔اب کی بار انہیں غلاموں میں سے کوئی آ رہا تھا۔۔۔میں نے چلنے کا مخصوص انداز دیکھ لیا تھا۔۔۔۔مخصوس انداز میں جھومتے ہوئے کوئی آ رہا تھا ۔۔دوسرا بڑا مسئلہ ان کے چہروں کا تھا۔۔۔ان کے چہرے بھی کافی حد تک ایک جیسے تھے ۔۔۔۔جیسے سب جڑواں بھائی ہوں ۔۔یا پھر ایک ہی برادری کے ہوں۔
اس غلام کے ہاتھ میں بھی ایک کٹورہ تھا۔۔۔اس نے قریب آ کر یہ کٹورہ میرے ہاتھ میں پکڑا دیا۔۔۔معمول میں کچھ تبدیلی تھی ۔۔پہلے تو مانگنے پر نہ ملے ۔۔اور آج بن مانگے ۔۔۔۔میں نے پیالہ منہ سے لگا لیا اور غٹا غٹ۔پانی پینے لگا۔۔۔ مجھے اس میں کچھ خوشبو محسوس ہوئی ۔۔۔جیسے کیوڑہ ملا یا ہوا ہو ۔۔۔۔میں نے ایک نظر غلام کو دیکھا ۔۔۔وہ سپاٹ نظروں سے مجھے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔میں نے پانی پی کر کٹورہ واپس دے دیا۔۔۔وہ اسی انداز میں چلتا ہوا واپس چلا گیا۔۔۔
میں آج سوچ رہا تھا کہ رات جاگتا رہوں اور یہ آدھی رات کو آنے والی آوازوں کا سراغ لگایا جائے ۔۔۔۔۔یا کم سے کم یہ ہی سمجھا جائے کہ ان کا مطلب کیا ہے ۔۔۔
میں نے واپس بیٹھنے سے پہلے قیدخانے تینو ں دیواروں کو تھپ تھپا کر دیکھنے شروع کیا ۔۔۔شاید کوئی آواز میں فرق ہوتا ۔۔۔مگر ساری آوازیں ٹھوس ایک جیسی ہی تھیں۔۔۔۔میں واپس آ کر بیٹھ گیا۔۔
اچانک مجھے اپنے جسم میں کچھ تبدیل محسوس ہوئی ۔۔۔۔ایک عجیب سے حرارت تھی ۔۔جو پورے بدن میں امڈے جا رہی تھی ۔ایک مرتبہ تو دماغ چکرا گیا ۔۔مگر پھر واپس روشنی سی آئی۔۔۔مجھے ایسا لگا کہ پسینے بہ جائیں گے ۔۔مگر پسینہ نہیں نکلا ۔۔۔شاید پانی ہی جسم میں نہیں تھا۔۔۔۔حرارت مستقل تیزی سے بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔ساتھ ہی عجیب سی لہریں میرے جسم میں گردش کر رہی تھیں ۔۔۔۔مجھے لگا جیسے کسی نے زہر دیا ہو۔۔۔۔۔میں نے سلاخوں سے ہاتھ نکال کر آواز لگائی۔۔۔۔۔آوازیں دیتا رہا مگر کوئی نہ آیا ۔۔۔۔میرے جسم میں اکڑن شروع تھی۔۔۔۔اور پھر مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا ۔۔۔۔جسم میں پیدا ہونے والی حرارت کم ہو گئیں تھی۔۔۔اور اس کی جگہ لہریں شدت پکڑ رہی تھی ۔۔۔۔یہ قوت بخش لہریں تھیں ۔۔۔مجھے ایسے لگا کہ میری کمزوری ختم ہو رہی ہو ۔۔۔۔۔میں کچھ مطمئن ہوا کہ زہر نہیں ہے ۔۔۔۔۔مگر ابھی امتحان باقی تھا۔۔یہ لہریں اکھٹی ہو کر کمرسے نیچے جمع ہونے لگیں۔۔۔۔اور میں نے اپنے ہتھیا ر میں جان آتی ہوئی دیکھی ۔۔۔میں پھر سے بے چین ہو گیا ۔۔۔۔یہ بے چینی کسی اور چیز کی تھی۔۔۔میرے اندر شہوت بھڑک رہی تھی ۔۔۔اور اس قید خانے میں ۔۔۔؟
سوال تو بہت اٹھ رہے تھے ۔۔۔۔یہ سب اسی مشروب کے کارنامے تھے ۔۔پورے جسم میں مستقل آگ سی بھڑک رہی تھی ۔۔دل کے دھڑکنے کی آواز میں اپنی کنپٹی میں سن رہا تھا۔۔دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔اتنے میں میں نے کسی کی آہٹ سنی ۔۔۔وہی غلام واپس آرہا تھا۔۔۔قریب آ کر اس نے سلاخیں کھولیں ۔۔۔۔اورمیری زنجیر لے کر واپس چل پڑا ۔۔۔۔اب کی بار پہلے والا درواز ہ نہیں تھا۔۔۔بلکہ قیدخانے کی دیوار کے ساتھ ہی بائیں طرف ایک دروازہ تھا۔۔۔ہم راہداریوں سے نکل کر ایک گھومتی ہوئی سیڑھی تک پہنچے ۔۔۔یہ بھی پہاڑ کے اندرونی حصے کو تراش کر بنائی گئی تھی ۔۔۔۔۔غلام میرے آگے آگے چل رہا تھا۔۔۔پاؤں میں زنجیروں کی وجہ سے بمشکل ایک ہی اسٹیپ رکھ پا ر ہا تھا۔۔مگر میں کوشش کر کے چڑھتا رہا ۔اس مشروب کے کارنامے یہاں بھی تھے ۔۔۔میرے اندر سے کمزوری ختم تھی ۔۔۔۔۔سیڑھیوں کے گھومتے ہوئے اسٹیپ ختم ہو گئے تھے ۔۔اور اب سامنے کئی راہداریا ں بنی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔غلام ان میں سے ایک کی طرف چل پڑا۔۔۔۔ایک بڑی گلی سے دس کے قریب چھوٹی گلیاں نکل رہی تھیں ۔۔اور ہم ان میں سے ایک میں رواں دواں تھے ۔۔۔۔۔۔یہاں پر بھی ہر طرف تیل کےچراغ جلے ہوئے تھے ۔۔۔ ۔۔۔گلی کے کونے پر ایک چوکور کھڑکی نما سوراخ تھا۔۔۔غلام رک گیا ۔۔اور مجھے اندر جانے کا اشارہ کرنے لگا۔۔شاید اس کی منزل یہیں تک تھی۔۔۔۔۔میں کھڑکی کے کونے پر بیٹھا اور دونوں پیر گھما کر اندر لے آیا۔۔۔۔میرے سامنے ایک چھوٹا سا کمرا تھا۔کچھ تاریک سا تھا۔۔۔جس کی مہک بتا رہی تھی کہ یہاں صنف نازک کا بسیر ا ہے ۔۔۔۔میں کھڑا ہوا تو مجھےاندازہ ہوا کہ اس کمرے کی ہائیٹ بہت ہی کم ہے ۔۔۔میرا سر اوپر چھت سے ٹکر ا رہا تھا۔۔۔۔ایک طرف بستر رکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔جبکہ دوسری طرف بھی ایسے ہی کھڑکی نما سوراخ تھا۔۔۔۔
کمرے میں میری چھن چھن کی آواز گونجنے لگی۔۔۔۔جسم میں توانائی بدستور حرکت کر رہی تھی اور اس کا محور میرا نچلا حصہ ہی تھا۔۔۔میں خود کے یہاں بلائے جانے کا مقصد سوچ رہا تھا۔۔ ۔کہ دائیں طرف سے آہٹ ہوئی ۔۔نظریں گھمائیں توبے اختیار آنکھیں چندھیا گئیں ۔۔۔۔ایک حسینہ مسکرا رہی تھی۔۔۔اس کی مسکراہٹ سے یہ چھوٹا سا نیم تاریک کمرہ جگمگا اٹھا چکا ۔۔۔۔مشرقی نقش و نگا رکے ساتھ گورا بدن ۔نیلے کلر کی آنکھیں ۔۔۔کتابی چہرہ جس کے دائیں بائیں سے ہلکے سفید کلر کے بال لہرا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ کالے رنگ کا جالی دار سوٹ ۔۔۔یہ لبادے سے کچھ مختلف تھا۔۔گلے میں ایک لاکٹ پہنا ہوا تھا ۔۔جسے میں نے حیرت سے دیکھا۔۔۔وہ بھی مجھے اپنا جائزہ لیتی ہوئی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔تم راجہ ہو ۔۔۔۔۔؟ پاکستان سے ۔۔۔۔۔؟۔۔۔کمرے میں جلترنگ بجی اٹھی۔
میں نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔اور اپنے ہاتھوں کو ایک نظر دیکھا ۔۔مجھے امید نہیں تھی کہ اتنی خوبصورت لڑکی سے اس حالت میں ملاقات ہو گی ۔۔۔
۔"مجھے ساحرہ کہتے ہیں ۔۔۔۔"۔۔ میں مصر سے ہوں۔۔ 
ٹھیک ہی کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔واقعی میں کسی ساحرہ سے کم نہیں ہو ۔۔۔۔۔۔میں بڑ بڑایا ۔
اس کے چہرے پر مسکان آئی ۔۔جیسے اس نے میر ی بات سن لی ہو ۔۔۔۔نام کے علاوہ کام میں بھی ساحرہ ہی ہوں ۔۔۔۔۔کل جب تمہیں مہاراج کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔۔میں وہیں تھی۔۔۔ اور حیران بھی ۔۔۔تمہیں موت سے ڈر نہیں لگتا۔۔ویسے میں نے سنا ہے کہ تمہار ےملک کے لوگ بہت بہادر ہوتے ہیں ۔۔۔
میرے اصول یہی کہتے ہیں کہ موت کا اپنا وقت مقرر ہے ۔۔۔نہ ایک سیکنڈ پہلے ۔۔اور نہ ایک سیکنڈ بعد میں ۔اس لئے میں ان چیزوں سے پریشان نہیں ہوتا۔۔۔ میں نے جواب دیا۔ساحرہ کی نگاہوں جلی ہوئی شرٹ سے جھانکتے ہوئے میرے کسرتی بدن پر تھیں۔۔۔۔۔کل کی آگ سے میری شرٹ چیتھڑوں میں تبدیل ہو گئی تھی۔۔اور پینٹ کا بھی کچھ حصہ ہی سلامت تھا۔۔
ساحر ہ کا مجھ سے برتاؤ دوستا نہ تھا۔لہجے میں کوئی دشمنی کا تاثر نہیں تھا۔۔۔مجھے امید پیدا ہو گئی کہ میں کچھ مزید جان پاؤں گا یہاں کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔اس نے قریب رکھے برتن میں سے پانی نکالا ۔۔۔اور میری طرف بڑھایا ۔۔۔
پیا سا تو میں تھا ہی ۔۔۔غٹا غٹ پی گیا۔۔۔۔اور اگلے ہی لمحے مجھے احساس ہو ا۔۔۔۔یہ وہی مشروب تھا۔۔جو کچھ دیر میرے پاس پہنچا تھا۔۔۔میرے چہرے پر حیرانگی دیکھ کر وہ پھر مسکرائی تھی ۔۔اسے بھی شاید میری جسمانی کیفیت کا اندازہ تھا۔۔۔تبھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔
غضب کی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔متوازن سفید دانت چمک اٹھے ۔۔۔۔میں پچھلے تین سالوں سے یہاں ہوں ۔۔"ساحرہ بات کرنا چاہ رہی تھی"۔
میرا پانچ سالوں کا کانٹریکٹ ہے ۔۔۔۔اس کے بعد واپس چلی جاؤں گی ۔۔۔۔اور تمہارے پاس بھی پانچ ہی دن ہیں ۔۔۔۔۔ٹھیک کہا نا میں نے ۔۔۔ساحرہ سوالیہ اندا ز میں پوچھ رہی تھی۔
میں نےہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔مجھے لگا جیسے اس نے مجھے اپنی تین سالوں کی پیاس کے بارے میں بتانے کی کوشش کی تھی۔۔اس کا انداز ہی اتنا لگاوٹ والا اور آواز کی جھنکار ایسی ہی تھی۔۔۔۔اب یہ واقعی میں تھا۔۔یا اس مشروب کا خمار تھا ۔۔جو تیزی سے مجھے اپنی لپیٹ میں رہ رہا تھا۔۔۔۔۔گرمی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔اور اس قاتل حسینہ کے سامنے تو اور بھی شدت سے محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔وہ بھی میرا ہی جائز ہ لے رہی تھی ۔۔۔۔۔اور پھر میں نے اسکی آنکھوں میں چمک اٹھتی دیکھی ۔۔۔جس میں پیاس بھی تھی ۔۔دعوت بھی تھی ۔۔۔میں نے دوبارہ سے اپنی بیڑیوں کو دیکھا ۔۔۔
۔" یہ نہیں کھل سکتیں ۔۔۔اس کی چابی مہاراج کے پاس ہوتی ہے ۔۔وہی غلام کو دے کر بھیجتے ہیں ۔۔۔"۔۔۔۔ساحرہ کا لہجہ صاف چغلی کھا رہا تھا۔۔۔کہ جو بھی کرنا ہے اسی کے ساتھ کرنا ہے ۔۔
میں نے ساحرہ کے پیچھے خود کو آئینہ میں دیکھا ۔۔۔چہرہ پیلااور سیاہ مائل ہو رہا تھا۔۔۔۔اس نے بھی مجھے شیشے میں جائز ہ لیتے دیکھا تو ایک سائیڈ پر اشار ہ کر دیا ۔۔میں اٹھ کر چلا گیا۔۔۔اور چہرہ دھونے لگا۔۔نہانے کا دل تو ہو رہا تھا۔۔مگر اس حالت میں نہا نا مشکل تھا۔۔۔ہاتھ منہ دھو کر باہر آیا ۔۔۔منہ سے ابھی بھی کیوڑہ جیسی ہی خوشبو آ رہی تھی۔۔۔اور جسم میں ویسے ہی لہریں گھوم رہی تھیں۔خود کواتنی آزادی میں پا کر۔۔ایک مرتبہ تو میرا دل ہوا کہ ساحرہ کو ہی آڑ بنا کر نکلنے کی کوشش کروں ۔۔لیکن پھر خود ہی انکار کر دیا۔۔۔۔بزدلوں والا کام لگ رہاتھا۔۔
ساحرہ نے کھسکتے ہوئے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔اس کے چہرے پر میرے لئےتعریفی تاثر تھا۔۔۔پاکستان میں کیا کام کرتے تھے ۔۔۔میں نے سنا ہے کہ تم کسی ایجنسی میں ہو۔۔۔ساحرہ نے پوچھا۔
۔"نہیں ۔۔۔ایجنسی والے ایسے قید کہاں ہوتے ہیں ۔۔۔میں بس عام سا شہری ہوں۔۔میرا وطن مجھے اعزاز دینا چاہ رہا تھا تو یہ کام ذمے لگا دیا۔۔۔اصل لوگ تو جان ہتھیلیوں پر لے کر پھرتے ہیں ۔انہیں قید کرنا ان بزدلوں کے بس کی بات بھی نہیں۔"۔۔میں نے حیرانگی سے دیکھتے ہوئے اسے جواب دیا۔۔جو سچ ہی تھا۔۔۔وطن کے لئے جان دینے والے تو اور ہی لوگ ہوتے ہیں ۔۔
مگر تم بھی کم بہادر نہیں لگتے ہو ۔۔۔۔"ساحرہ کی نگاہوں میں چمک تھی ۔۔
اور تم بھی کم خوبصورت نہیں ہو ۔۔افسوس ہے کہ ہماری ملاقات ایسے حالات میں ہوئی ہے ۔۔ساتھ ہی کچھ آگے کو کھسکا تو ۔۔۔۔اس کا پیکر کسی بگولے کی طرح مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔۔۔۔جسم سےبے پناہ گرمائش اٹھ رہی تھی ۔۔۔کھسکنے کے ساتھ ہی مجھے کچھ عجیب سا احساس ہوا۔شاید آگے کھسک کر مجھ سے غلطی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔کوئی مقناطیسی کشش تھی جومجھے جکڑتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔کچھ خوابناک جیسا ماحول لگ رہا تھا ۔۔میں نے دھندلی ہوتی آنکھوں سے ساحرہ کو دیکھا ۔وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔اور پھر جانے کیا ہوا میں نے۔۔ اس کے ہاتھ کو اٹھاتے ہوئے چوم لیا۔۔۔۔۔ساحرہ کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی ۔۔۔میں نے کچھ بولنے کے لئے منہ کھولا۔۔۔مگر الفاظ ٹوٹ سے گئے ۔۔میرے جسم سے میرا اختیار ختم ہوتا جا رہا تھا۔۔۔میں کسی گہرے اثر میں آیا گیا تھا۔۔۔۔ساتھ ہی ساحرہ کا چہر ہ کچھ آگے کو ہوا ۔۔۔۔اور میرا چہر ہ بھی بڑھتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔اس کے نرم ہونٹوں سے میرے ہونٹ ٹکرائے ۔۔۔۔۔
عجیب سا احساس تھا۔۔جیسے کوئی خواب یا کوئی غنودگی ۔۔۔
ساحرہ کے نرم نرم ہونٹ مجھے اچھے سے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔ہر چیز سلو موشن میں حرکت کر رہی تھی ۔۔۔میرے ہاتھ حرکت میں آئے تھے ۔۔۔ایک ہاتھ اس کی کمر پر گیا۔۔۔اور دوسرا اس کی رانوں پر۔۔۔۔میں نے جسم کی نرماہٹ کو بہت شدت سے محسوس کیا ۔۔۔۔جیسے میرے احساسات بہت ہی لطیف ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔۔ہر چیز کئی گنا زیادہ ہی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔اس کی آنکھیں پہلے سے زیادہ گہری لگ رہی تھیں۔۔جن میں ڈوبتا جا رہا تھا۔۔۔۔ساحرہ میرے ہونٹوں کو دباتے جا رہی تھی ۔۔۔ایک گرم سی لہر میرے منہ میں داخل ہوئی ۔۔۔ساتھ ہی اندر بننے والے آتش فشاں نے بھی زور پکڑنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔مشروب سے بننے والی لہریں پوری قوت سے باہر کر نکلنے کی کوشش کرتیں ۔۔۔میری پوری کمرمیں زور دینے والی یہ لہریں ۔۔ہتھیار کی سمت جا رہی تھیں ۔۔۔۔اورٹوپے کی طرف سب سے زیادہ زور دے رہیں تھیں۔۔۔ہتھیار آج سب سے زیادہ سخت حالت میں تھا۔۔۔اور پینٹ میں دبے ہونے کی وجہ سے مجھے تکلیف بھی ہو رہی تھی۔۔۔۔ساحرہ شاید اسی کو مداوا کرنے کو تھی۔۔۔نرم انداز میں ہونٹ سے ہونٹ مل رہےتھے ۔۔۔۔رگڑ رہے تھے ۔۔۔ایکدوسرے کو دبا رہے تھے۔۔۔
میرا ہاتھ حرکت کرتا ہوا اوپر آنے لگا۔۔۔۔سینے پر ابھرے ہوئے گول سنگترے میرے منتظر تھے۔۔۔۔ہاتھ ابھی آدھے تک ہی پہنچا تھا کہ رک گیا۔۔۔میں بھول رہا تھا کہ کہ زنجیر ہاتھوں میں بندھی ہوئی ہے ۔۔۔آخر دوسرے ہاتھ کو بھی ساتھ ہی اوپر لے آیا۔۔۔۔۔کالی جالی دار اس قمیض سے آدھے آدھے ممے جھانک رہے تھے ۔۔۔میرے دونوں ہاتھ لگتے ہی کچھ اور اوپر کو اٹھے ۔۔۔اور گہری کلیویج ظاہر ہونے لگی۔۔۔ساتھ ہی ساحرہ کے منہ سے گرم گرم سسکی سی نکلی ۔۔۔۔اس نے پیاسی نگاہوں سے مجھے دیکھا ۔۔اور پھر ہونٹ چومنے میں مگن ہو گئی۔۔۔۔اس کے جسم سے اٹھنے والی خوشبو اور گرمی مجھ پر حاوی ہو چکی تھی۔۔۔۔۔آنکھوں سے نکلنے والی مقناطیس لہریں مجھے جکڑنے میں مگن تھیں۔۔۔۔میں اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہو چکا تھا۔۔۔اپنے آس پاس صرف مجھے ساحرہ کی مہک اور گرمی ہی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ان سب کے درمیان زنجیر کی چھن چھن کی آواز سی آ جاتی ۔۔۔۔ساحرہ ہونٹ چومتی ہوئی اپنے ہاتھ میرے چہرے پر رکھے ہوئے تھی ۔۔۔۔۔ہلکے سے زور دے کر وہ میرے چہرے کو پیچھے گرانے لگی۔۔۔میں پیچھے بیڈ پر جا گرا ۔۔۔ساحرہ ساتھ ہی آئی ۔۔۔۔ساتھ ہی اس کی ایک ران اٹھتی ہوئی میر ے اوپر آئی۔۔۔۔۔نیچے سے ہتھیار اور زیادہ اکڑگیا۔۔۔اس نے جھٹکے مارے تھے ۔۔۔مگر فی الحال وہ پینٹ میں مقید ہی تھا۔۔۔۔۔۔ساحرہ کا چومنا اب تک جاری تھا۔۔۔۔ساتھ ہی اس کے ہاتھ مجھے اپنی کمر میں پھیرتے ہوئے محسوس ہونے لگے ۔۔۔مجھے عجیب احساس ہوا تھا۔۔۔ساحرہ کے ہاتھ بے حد گر م تھے ۔۔۔۔جیسے کسی ہیٹر کے سامنے رکھ کر وہ مجھے ٹچ کر رہی ہو ۔۔یا پھر 104 کا بخار ہو رہا ہو ۔۔۔۔اس کے پورے جسم سے ہی ایسے گرم گرم لہریں نکل رہی تھیں۔۔۔پتا نہیں یہ کیا ماجرہ تھا۔۔۔مگر میری کمر پر یہ گرم ہاتھ بہت عجب احساس دے رہے تھے ۔۔۔۔میری شرٹ کی حالت پہلے ہی خراب تھی ۔۔ساحرہ کے ہاتھ لگتے ہی چرر چرر کی آواز کے ساتھ ہی وہ میرے جسم سے الگ ہو گئی۔۔۔۔۔میرا اوپر جسم ننگا ہو چکا تھا۔۔۔اس کے بعد ساحرہ کے ہاتھ نیچے پینٹ کی طرف آئے تھے ۔۔اور بٹن کھولتے ہوئے نیچے سرکانے لگی۔۔۔۔جلد ہی ہتھیار آزادی پا چکا تھا۔۔۔اور بھرپور جھٹکے سے ابھرتا ہوا سامنے آیا۔۔۔۔ساحرہ نےاسے پکڑنے کی کوشش کی ۔۔۔۔اس کے نرم اور بے حد گرم ہاتھوں کا لمس پا کر وہ اور زیادہ ہوشیار ہو گیا۔۔۔ساحرہ نے ہاتھ میں پکڑا ، دبایا ۔۔ اور پھر میرے ہونٹوں سے ہونٹ ہٹا کر نیچے دیکھا ۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں ستائش کے ساتھ حیرت کی بھی چمک تھی۔۔۔۔مجھے سے بھرپور طریقے سے لپٹی ہوئی وہ اپنی رانوں میں ہتھیار کو دبانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔ہتھیار کو اور کیا چاہئے تھے۔۔۔وہ اپنی پوری سختی کے ساتھ ساحرہ کی نرم نرم رانوں میں دھنسنے لگا۔۔۔۔ساحرہ اب کی بار مجھے لپٹنے لگی تھی تومیں نے اپنے ہاتھ اٹھا دیئے تھے ۔۔۔۔ساحرہ کے گرم گرم بوسوں کے ساتھ ہی ہاتھ نیچے لا یا اور اس کےگرد گھیرا بنا چکا تھا۔میں نے اسے خود میں ہلکا سا دبایا۔۔۔مگر ساحرہ ان سب سے بے خبر مجھ سے لپٹے اور چومے جا رہی تھی۔انہیں بوسو ں اور لپٹنے کے دوران وہ مجھے سیدھا کرتی ہوئی میرے اوپر آ گئی۔۔اور رانوں کو آپس میں رگڑتے ہوئے ہتھیار کوبھی دبانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔ایسے لگ رہا تھا جیسے ہتھیار کو دیکھتے ہی اس نے بوسٹ پکڑ لیا ہوا۔۔۔۔کافی مشتعل جیسی لگنے لگی۔۔۔۔۔میرے اوپر لیٹے ہونے کی وجہ سے اس کے نرم ممے میرے سینے پر دبے ہوئے تھے ۔۔۔۔قمیض سے باہر نکلنے کی پوری کوشش کر نے میں مگن ۔۔۔۔۔۔اتنے میں ساحرہ اپنے ہاتھ نیچے لے گئی۔۔۔اور شاید اپنی شلوار کو نیچے سرکا یا۔۔۔۔کیونکہ اب کی بار ہتھیار اس کی جلد سے جا لگا ۔۔۔۔ساحرہ نے اسے رانوں میں دبایا۔۔۔جہاں وہ اوپر کی طرف اس کی چوت کے لبوں سے بھی مَس ہو رہاتھا۔۔۔۔اندر سے نکلنے والے آگ کے بگولے ہتھیار پر نکل کر لگ رہے تھے۔۔۔۔
اتنے میں ساحرہ نے اٹھنے کی کوشش کی ۔۔۔۔میں نے اپنے ز نجیر میں بندھے ہاتھوں کو اٹھادیا ۔۔۔اورساحرہ میرے اوپر بیٹھنے لگی۔۔۔۔اس کی نگاہوں کی پیاس امڈی جا رہی تھی۔۔۔میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری ۔۔۔۔گھٹنے دائیں بائیں رکھ کر ۔۔۔اور ہلکی سی اٹھی ۔۔۔اس کے گرم ہاتھوں نے ہتھیار کو تھاما۔۔۔اور اوپر کی طرف اٹھاتے ہوئے اپنی چوت کے لبوں پر جما دیا۔۔۔۔ساحرہ پہلے ہی اوپر کیطرف بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔ہتھیار اپنی پوری لمبائی اور ٹوپا پوری موٹائی کے ساتھ اس کی چوت کے لبوں سے جا لگا۔۔۔۔گرم گرم لہریں اور گیلے قطرے مجھے اپنے ٹوپے پر محسوس ہوئے تھے ۔۔۔۔ساتھ ہی ساحرہ نے نیچے کو زور دینا شروع کیا۔۔۔۔لرزتے ہونٹوں سے سسکاری بھرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔میں اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔جہاں سرخی نمایا ں تھی۔۔بلوری آنکھیں بھرپور چمک رہی تھیں۔۔۔۔ٹوپا چوت کے لبوں پر جم کر کھڑا تھا۔۔۔اور ساحرہ کے زور پر گھسنے کو تیار نہ تھا۔۔۔میں نے یہ دیکھ کر اپنی کمر کو ہلکے سے حرکت دی۔۔۔ٹوپے نے تیزی دکھائی۔۔اور چوت کے لبوں پر پھنستے ہوئے اندر پہنچا۔۔۔۔ساحرہ کے منہ سے اوئی۔۔۔کی آواز نکلی۔۔۔ایکدم سے میرے اوپر لیٹی تھی۔۔۔ٹوپا ویسے ہی اندر جکڑا ہوا تھا۔۔۔
میرے ہاتھ اوپر کی طرف تھے ۔۔۔۔۔میں بندھے ہاتھوں کو نیچے لے گیا۔۔۔اور ساحرہ کی کمر پر رکھے ۔۔۔قمیض ویسے ہی پہنی ہوئ تھی ۔۔اسے اوپر کی طرف اکھٹا کر دیا۔۔۔نیچے چوتڑ بھی آدھے شلوار میں پھنسے ہوئے تھے ۔۔۔شلوار نیچے سرکادی ۔۔۔۔اور بھرے بھرے گول چوتڑ پر ہاتھ رکھے دبانے لگا۔۔۔۔ساحرہ کے منہ سے سسکاریں اب تک جاری تھیں۔۔۔۔۔اس نے میرے سینے پر ہاتھ رکھے اور اٹھنے لگی۔۔۔۔۔اور اپنی کمر کو اٹھا تے ہوئے پیچھے ہونے لگی۔۔۔سسکیاں بھرتی ہوئی وہ پیچھے ہٹنے لگی۔۔دونوں ہونٹ آپس میں بھنچے ہوئے تھے۔۔۔سسکاری لیتے وقت کھلتے اور پھر بند ہو جاتے۔۔۔میں نے بھی کمر کو اٹھاکر ساتھ دینےکی کوشش کی ۔۔۔مگر ساحرہ نے میرے سینے پر دباؤ ڈالتے ہوئے روکا۔۔۔میں نے کمر واپس بیڈ پر رکھ دی۔۔۔۔۔ساحرہ کے جھکے ہونے کی وجہ سے میری نظر اس کے گول مموں کو دیکھ رہی تھی۔۔جو نیچے کولٹکے ہوئے تیرتے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔منظر خاصا دلکش تھا مگر میرے ہاتھ اتنے ہی دور ۔۔۔۔۔ساحرہ ہلکے ہلکے نیچے ہوتی ہوئی ہتھیار کو اپنے اندر لے رہی تھی۔۔۔۔میں اس کے چوتڑ دباتے ہوئے اس کی سسکیاں سن رہا تھا۔۔۔۔اٹھے ہوئے چوتڑ کافی زیادہ باہر کو نکلے ہوئے تھے ۔۔۔۔ساحرہ آدھے کے قریب ہتھیار اندر لے کر رکی ۔۔۔اور دوبارہ سے میرے سینے پر لیٹ گئی ۔۔۔۔منہ سے گرم گرم سسکیاں جاریں تھیں۔۔۔۔میں نے چوتڑ دباتے ہوئے ہلکی سی کمر اٹھائی تو وہ سسک اٹھی۔۔۔ساتھ ہی میرے سینے پر کہنی لگی۔۔جیسے رکنے کا اشار ہ ہو ۔۔۔۔اتنے میں اس نے پیچھے سے اپنی کمر اٹھانی شروع کی ۔۔۔ہتھیار نکلنا شروع ہو گیا۔۔۔۔ٹوپے تک پہنچ کر وہ رک گئی۔۔۔۔۔میں نے بھی گھٹنے اونچے کر کے پیر قریب رکھ دئے ۔۔۔اور چوتڑوں کو دباتے ہوئے کمر کو ہلکے ہلکے اٹھانے لگا۔۔
ٹوپا چوت میں ہی جکڑا ہوا تھا۔۔۔میری کمر اٹھتے ہی وہ اندر کو لپکا۔۔۔میں نے چوتڑ کو قابو کرتے ہوئے اوپر جانے سے روکے رکھا۔۔۔۔اور پھر کمرکو دھکے دینے شروع کر دیا۔۔۔اس کی گرم گرم چوت مجھے بھی عجب مز ا دے رہی تھی۔۔۔دھکے جاری تھی۔۔۔۔ساحرہ کے منہ سے ویسے ہی دبی دبی سسکیاں نکل کر میرے چہرے پر پڑ رہی تھی۔۔۔۔بلوری آنکھیں دمکنے لگیں تھیں۔۔۔۔سفید جیسے بال میرے اوپر گرے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔میں بھی دھکے دیتے ہوئے اسپیڈ پکڑ تا جا رہا تھا۔۔۔۔۔مگر ساحرہ نے ابھی تک محفوظ فاصلہ درمیان میں رکھا تھا۔۔جس کی وجہ سے میں پوری کوشش کے باوجود بھی آدھا ہتھیار ہی اندر پہنچا پاتا۔۔۔۔۔۔اسپیڈ تیز ہوتے ہی ساحرہ کی سسکیاں بھی تیز ہوئیں۔۔۔۔۔میں چوتڑوں کو نیچے دبانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ساحرہ بھی ہوشیا ر تھی۔۔۔وہ بھی اوپر رہنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔میں نے یہ کسر اپنی تیزی سے پوری کی ۔۔۔اور خوب تیزتیز جھٹکے مارے ۔۔۔۔۔ساحرہ کی سسکیاں اور بلند ہونے لگیں۔۔۔۔اوپر ہو کر اس نے میرے منہ کو چومنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ادھر میں نے اس کے چوتڑ چھوڑے اور بندھے ہاتھوں کو اوپر کمر پر لے آیا۔۔۔کمر پر آتے ہی میں نے کچھ زور لگایا۔۔۔اور اسے خود میں پیوست کر دیا۔۔۔۔یقینی طور پر اس کی کمر بھی کچھ نیچے ہوئی۔۔۔۔۔اس کے منہ سے اوئی۔۔۔۔آئی۔۔۔سس کی آواز نکلی ۔تھی۔۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی ۔مگر میں نے اپنے گھٹنے اٹھا کر اس کے چوتڑوں کے گرد جوڑ دئے ۔۔۔ساتھ ہی میرے ہتھیار نے بھی اندر تباہی مچا دی ۔۔۔آدھے سے کہیں زیادہ اندرجا پھنسا تھا ۔۔۔۔۔ساحرہ کے منہ سے چیخ نکلی تھی۔۔۔ہلکا سا سر اٹھا کر میں ہونٹ بھی جکڑ چکا تھا۔۔۔کچھ دیر رکا۔۔۔اپنے گھٹنے ویسے ہی اسکے چوتڑوں کے اوپر جمے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔پیر زنجیر میں پھنسے ہونے کی وجہ سے مجھے درد بھی ہوا۔۔۔۔۔کیونکہ جتنا زور میں اوپر گھٹنے پر لگا رہا تھا اتنا ہی زور سے زنجیر میرے پاؤں میں دب رہی تھی۔۔۔۔۔۔
ساحرہ نےاٹھنے کے لئے آخری زور مارا ۔۔۔۔مگر ہمت ہار دی ۔۔یہ اس کے بس کی بات نہیں تھی۔۔۔ہونٹ چوم کر ہٹا تو اس کی بلوری آنکھیں نم تھیں ۔۔۔۔۔شکوہ بھری نگاہیں ۔۔۔۔میں نے ایک نظر دیکھا اور گھٹنے چھوڑ کر پیچھے کر دئے ۔۔۔۔۔۔مگر اس نے اٹھنے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔میں نے کمرپر بندھے ہاتھوں کو حرکت دی ۔۔۔او ر چوتڑوں پر جا کر دبانے لگا۔۔۔ساحرہ ویسے ہی میرے اوپر گری مجھے دیکھے جارہی تھی۔۔۔چوتڑوں پر میری مضبوط گرفت اس کی سسکاریوں کو اور بڑھا رہی تھی۔۔۔۔میں نے کمر کو ہلاتے ہوئے اوپر دھکیلا ۔۔۔۔ساحرہ بھی ہلکی سی اوپر کو اٹھی ۔۔۔۔میں نے ہلکے ہلکے دھکے دیتے ہوئے اسپیڈ بڑھا دی۔۔۔۔۔مگر کچھ ہی منٹ میں ساحرہ کی چوت بھی ہمت ہار گئی ۔۔اور پانی چھوڑنے لگی۔۔۔اس کے جسم نے تیزی سے جھٹکے کھائے ۔۔۔اور گر م گرم پانی میرے ہتھیار کے اردگرد جگہ بنانے لگا۔۔۔
کچھ دیر ہم ایسے لیٹے رہے۔۔میں نے اپنی پینٹ اوپر کھینچ لی۔۔ہتھیار ایسے ہی تنا ہواباہر تھا۔۔اس کے بیٹھنے کا کوئی امکان نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ساحرہ کے جسم کی گرمی پہلے سے کم ہو گئی تھی۔۔۔سالوں کی پیاس کو کچھ تشنگی سی ملی تھی۔۔۔۔۔میرے سینے پر سر رکھے وہ باتیں کئے جا رہی تھی۔۔۔اپنے گھر اور فیملی کے بارے میں بتایا ۔۔۔۔اور پھر کیسے ایک حادثے نے اسے کالے علم کو سیکھنے پر مجبور کیا۔۔۔اور وہ کچھ ہی عرصے میں مصر کی مشہور ساحرہ بن گئی۔۔۔۔۔۔اسی شہرت میں اسے یہاں مہاراج کی آفر ملی تھی۔۔۔۔اور وہ سب کچھ چھوڑ کر یہاں آ گئی۔۔۔۔میں نے یہاں کے بار ے میں پوچھنا شروع کر دیا۔۔۔۔یہ مہاراج ہی اس سیکشن کا چیف تھا ۔۔اور جیوتی اس کی نائب تھی۔جو دلی میں واقع باقاعدہ اس سیکشن کے آفس میں بیٹھتی تھی۔۔جہاں ہر چیز کمپیوٹرائزڈ انداز میں رپورٹ کی جاتی تھی۔۔۔۔ساحرہ اور جیوتی میں کچھ دوستی بھی رہی تھی۔۔۔یہ ساری معلومات اسے جیوتی نے ہی دی تھی۔۔۔
ابھی میں اس جگہ کے بارے میں پوچھنے والا تھا کہ میرے کانوں سے وہی گھنٹی کی آواز ٹکرائی ۔۔
رات کا کچھ پہر گذر چکا تھا۔۔ٹائم وہی ایک مخصوص تھا۔۔اور آواز بھی ویسے ہی۔۔۔وہی اشلوک ، وہی ورد اور وہی گھنٹیاں ۔۔۔۔۔میں اٹھ کردوسری طرف کی کھڑکی کی طرف گیا۔۔اور باہر جھانکا۔۔یہ وہی ہال تھا جہاں میری پیشی ہوئی تھی ۔۔۔اور شاید ساحرہ یہیں سے اتر کر بیٹھی تھی۔کھڑکی کے ساتھ ہی نیچے بیٹھنے کی جگہ تھی۔۔ساتھ ہی اور بھی جگہیں بھی بنی ہوئی تھی۔۔۔اور ایسی ہی کھڑکیوں چاروں طرف دائرے میں تھی۔۔۔۔۔میں نے سامنے دیکھا تو عجب منظر میرے سامنے تھے ۔۔۔درمیاں میں آگ جلا کر پندرہ کے قریب لوگ ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔جھکے ہونے کی وجہ سے میں سب کے چہرے نہیں دیکھ پایا ۔۔۔مگر مہاراج کو پہچان چکا تھا۔۔۔گھنٹی اس کی ہاتھ میں تھے ۔جسے وہ وقفے وقفے سے بجا رہا تھا۔۔۔۔اور پھر ایک اور نظارہ ۔۔۔۔۔تمام لوگوں کے سامنے کپڑے کی بنے ہوئے گڈے رکھے ہوئےتھے ۔۔۔۔۔جس پر وہ کچھ پڑھتے ہوئے پھونکتے ۔۔۔۔اور پاس رکھی ہوئی سوئیاں اس گڈے میں چبھوتے جاتے ۔۔۔۔۔میں نے اس سے پہلے یہ صرف سنا ہی تھا۔۔۔مگر اب یہ باجماعت منظر میرے سامنے ہی تھا۔۔۔۔میں مزید غور کر تا ۔۔۔مگر ساحرہ نے مجھے پیچھے سے پکڑ کر کھینچا۔۔۔۔۔میں واپس بیڈ پر آیا۔۔۔وہ پھر مجھ سے لپٹی ہوئی تھی۔۔۔اس کی نیت ابھی تک نہیں بھری تھی۔۔۔۔۔۔۔میں نے حیرانگی سے اس سے پوچھا یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔؟
۔" یہ سب کالے جادو کے ماہرین ہیں ۔۔۔ان میں سے کچھ عبرانی ہیں ۔۔ کچھ افریقی ہیں ۔۔۔ ہائکین بھی ہیں ۔۔۔یہ سب اپنے فن میں ماہر ہیں ۔۔۔یہ یہاں بیٹھ کر نیک لوگ اور جن سے ان کو خطرہ ہو ان پر جادو کرتے ہیں ۔۔اس کے علاوہ ووڈو کے بھی کچھ ماہر لوگ ہیں یہ انڈو نیشیا سے آئے ہوئے ہیں۔۔"۔۔ ساحرہ میرے سینے میں سر چھپاتی ہوئی کہنے لگی۔۔
میں حیرت سے گنگ تھا۔۔۔۔تو یہ لوگ کامیاب بھی ہوتے ہیں یا پھر ایسے ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے پوچھا۔
۔" اگر کوئی بندہ ان کے جادو سے بچ بھی جائے تو وہ اپنے راستے سے ضرور ہٹ جاتا ہے ۔۔۔۔۔ورنہ بعض تو ایسے ہیں کہ جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔۔"۔ ساحرہ بولی۔
اور تم اپنے ملک کی اس نو سالہ عارفہ کو کیوں بھول رہے ہو ۔۔جو 9 سال کی عمر میں مائیکروسوفٹ کا ریکارڈ توڑ چکی تھی۔۔۔اسے کوئی بیماری نہیں تھی۔۔۔۔بس اچانک مرگی کے جیسے دورے پڑے اور وہ ہارٹ اٹیک سے مر گئی۔۔۔اس کے علاوہ سینکڑوں لوگ ہیں تمہارے ملک کے ۔۔۔۔جو گمنامی سے خدمت کرتے کرتے اچانک اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔۔۔۔۔۔۔میں چپ سادھ چکا تھا۔۔الفاظ ختم ہوچکے تھے ۔۔
مجھے لگا کہ جیسے میں نے یہاں تک پہنچنے میں بہت دیر کر دی ۔۔۔عمراں صاحب نے ٹھیک کہا تھا دشمن وہاں سے حملے کرتا ہے جہاں اگلے کے خیال تک نہیں جاتا ۔۔۔اگلے ہی لمحے مجھے ایک جھٹکا لگا۔۔۔میں خواب میں یہ کھڑکی دیکھ چکا تھا۔۔اور ایسے ہی مجھے کسی نے پیچھے سے کھینچا تھا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ۔۔؟؟۔۔۔اتنے میں ساحرہ نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔اس نے کچھ معلومات تو دی ۔ ۔۔۔مگر اب خراج لینے کے چکر میں تھی۔۔اس کی پیاس بجھی نہیں تھی۔۔۔
میں اٹھ کر قریب والی ٹیبل پر گیا۔۔۔۔زنجیروں کی چھن چھن میں وہاں پہنچا اور پیالے میں مشروب لے کر ساحرہ کی طرف بڑھا دیا۔۔۔۔ساحر ہ نے شرارت بھری نگاہوں سے دیکھا۔۔اور منہ سے لگا کر پینے لگی۔۔۔مگر پھر واپس اٹھی ۔۔اور دوسرا جام میرے لئے بھر کر مجھے پلانے لگی۔۔۔۔میں پہلے ہی فل فارم میں تھا۔۔۔اور اگر پوری رات بھی لگا رہتا تو فارغ نہیں ہونا تھا۔۔۔۔۔مگر ساحرہ نے پلا کر ہی چھوڑا ۔۔۔میں واپس آیا۔۔۔ساحرہ خود کو بے لباس کر رہی تھی۔۔۔کپڑے ایک ایک کر کے کم ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔۔اور چمکتا دمکتا وجود باہر آتا جا رہا تھا۔۔۔ساحرہ بلاشبہ حسین تھی۔۔۔۔۔پتلی کمرسے پیچھے اٹھے ہوئے چوتڑبھرپور گولائی کے ساتھ تھے ۔۔نیچے سڈول رانیں بھی بھری بھری تھیں۔۔۔ ۔۔اوپری بدن کی نسبت نچلا بدن زیادہ بھرا ہوا تھا۔۔۔۔میں واپس بیڈ پر آیا۔۔۔اور اس کے برابر میں جا لیٹا۔۔۔۔ساحرہ فارغ ہوتے ہی آئی ۔۔۔۔اور میرے ہاتھوں کو اوپر کرتی ہوئ اوپر سوار ہونے لگی۔۔ہتھیار کو اس نے اپنے پیچھے نکال لیا۔۔۔میں نے ہلتے ہوئے اس کے گول سنگتروں کو دیکھا۔۔۔اور بے اختیار ہاتھ بڑھا دیا۔۔۔درمیان زنجیر کی لمبائی بھی اتفاقیہ طور پر اتنی ہی تھی۔۔۔۔میرے دونوں ہاتھوں نے بیک وقت اس کے سنگتروں کو تھاما ۔۔۔۔بمشکل میرے ہاتھوں میں سمانے والے یہ نرم نرم سے گول مٹول مچلے جا رہے تھے۔۔۔۔۔میں بھی دباتے ہوئے رس جما کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ساحرہ میرے اوپر جھکی ان سنگتروں کو مجھ تک پہنچانے لگی۔۔۔۔اس کے جسم میں گرمی پھر سے شروع ہوئی تھی۔۔۔اور شاید اسی مشروب کی وجہ سے ۔۔۔اور اس کی کیفیت بھی میری طرح ہی تھی ۔۔۔جیسے میں پہلے والی کیفیت کو محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔ساحرہ کے سنگترے مجھ پر لہرا رہے تھے ۔۔۔میں نے ہونٹوں میں دبوچ کر دبانے کی کوشش کی ۔۔نپل ہی منہ میں آیا ۔۔دوبارہ کوشش کی ۔۔۔آخر ساحرہ ہی کچھ اور نیچے ہوئی اور سنگتروں کو ہی ہونٹوں پر دبانے لگی۔۔۔۔نرم نرم سنگتروں کے ساتھ ساحرہ کی مہک مجھ سے ٹکرائی۔۔۔باری باری دونوں سنگتروں کو چسوانے کے بعد وہ پھر سے سواری کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔
میں نے ساحرہ کی کمر پر ہاتھ رکھے کھسکاتے ہوئےسائیڈ پر لٹا دیا۔۔۔۔اور خود اس کے اوپر آنے لگا۔۔۔کہنیاں میں نے دائیں بائیں ٹکا دی تھیں۔۔۔اور گھٹنے کے بل پر آ گیا۔۔درمیان میں ہتھیار لہرا رہا تھا۔۔جسے ساحرہ کے گرم ہاتھوں نے تھام لیا۔۔۔سختی میں کوئی کمی نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ساحرہ ٹوپے کو دباتی ہوئی اپنی چوت کے لبوں پرٹکانے لگی ۔۔۔میں نے بھی لبوں کے درمیان محسوس کرتے ہوئے دباؤبڑھا دیا ۔۔۔۔۔۔ساحرہ کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے ۔۔۔۔۔اور ٹوپے اندر گھستا چلا گیا۔۔۔۔۔سس ۔۔آہ ہ۔۔۔۔کی آوازوں میں اس کے چہرے پر جھک گیا۔۔۔ساتھ ہی اپنی ٹانگیں سیدھی کیں ۔۔۔اور نیچے آتے ہو ا ہتھیار بھی اندر لیتا چلا گیا۔۔۔۔۔ساحرہ کے منہ سے گر م گرم سسکیاں نکلی تھی۔۔آہیں برآمد ہوئیں تھیں۔۔۔۔میں نے اپنی ٹانگیں جوڑی ۔۔۔اور دوبارہ سےکمرکو اٹھاتے ہوئے واپس ہتھیار کو اندردھکیل دیا۔۔۔۔۔۔چوت ابھی بھی کافی تنگ تھی ۔۔مگراسے ہتھیار کی موٹائی کا انداز ہو چکا تھا۔۔اس لئے خود ہی راستہ دے رہی تھی ۔۔۔میں نے ہونٹوں کو چومنے کے ساتھ ہی دھکے شروع کر دیے ۔۔۔۔۔اور گرم گرم سسکاریوں سے آہوں تک کا سفر شروع ہو گیا۔۔۔باہر سے اشلوک پڑھنے کی آواز ۔۔۔۔اور اندر ساحرہ کی گرم گرم آہیں ۔۔۔۔۔جو مجھے توانائی فراہم کر رہی تھیں اور میں تیزہوتا جا رہا تھا۔۔سس ۔۔آہ۔۔سس کی آوازیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔۔۔۔۔گول گول سنگترےمیر ے نیچے ہی تھے ۔۔۔اور مستقل ہلتے ہوئے نپل مجھے چھو جاتے ۔۔۔۔۔میں دھکے تیز کرتا رہا ۔۔دھکوں کی تیزی کے ساتھ ہی بیڈ بھی ہلنے جلنے لگا۔۔۔۔۔ساحرہ کے جسم پر پسینہ نمودار ہو گیا۔۔۔میں نے اسپیڈ تیز کرتے ہوئے بڑھا دی۔۔۔۔ساحرہ کی اوہ ہ ۔۔۔آ ہ ہ ۔۔بھی ویسے ہی زور پکڑتی جا رہی تھی۔۔۔۔ساحرہ کا منہ کھلا ہوا تھا۔۔۔۔اور مجھے دیکھتی ہوئ بے اختیار سسکے جا رہی تھی۔۔۔۔۔میں نے کچھ دیر تک ایسے ہی نان اسٹاپ دھکے مارے تھے ۔۔۔ساحرہ کی سسکیاریاں بڑھی تھیں ۔۔۔اور لگ رہا تھا کہ وہ شاید پھر فارغ ہو جائے ۔۔۔۔
میں دھکے دیتے ہوئے اس پر لیٹا ۔۔اوربندھے ہاتھ اس کے کندھے پر رکھے اور کروٹ لے کر سیدھا ہو گیا۔۔۔۔ہاتھ اسکواٹھاتے ہوئے میرے ساتھ ہی اوپر لے آگئے۔۔ہتھیار ویسے ہی اندر تھا۔۔۔اور ساحرہ میرے اوپر لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔دونوں سنگترے پوری نرمی کے ساتھ میرے سینے پر دبے ۔۔۔اس کے پورے بال میرے چہرے پر پھیل گئے ۔۔۔۔میں نےٹانگیں ہلکی سی پھیلائیں ۔۔۔اور ساحرہ کواوپر اچھا لا۔۔۔۔۔کمر سے زور لگاتے ہوئے اچھالا تھا۔۔۔ساحرہ کا نچلا حصہ جس تیزی سے اٹھا اسی اسپیڈ سے واپس ہتھیار پر آیا تھا۔۔۔۔میں نےہاتھ نیچے لے جااس کے چوتڑ پر رکھے اوردباتے ہوئے دوبارہ سے اچھالنا شروع کردیا۔۔۔
مشروب کا اثر عارضی ہی سہی مگر میری جسمانی طاقت مجھے واپس مل چکی تھی۔۔۔اور بخوبی ساحرہ کو اسی انداز میں اچھال پا رہا تھا۔۔۔اس طرح ہتھیار اپنی پوری لمبائی کے ساتھ اندر تک جا رہا تھا۔۔۔۔پہلی ہی اچھال میں ہی ساحرہ کی چیخ نکلی تھی۔۔۔۔۔مگر پھر وہ خود کو سمبھالنے لگی۔۔۔اسے اپنا وزن بھی بیلنس کرنا پڑ رہا تھا۔۔۔میں پوری قوت سے اسےاچھال کر واپس بیڈ تک آتا ۔۔اور کچھ ہی لمحے میں ساحرہ بھی مجھے پر آن گرتی۔۔۔۔۔۔اور میں دوبارہ اچھال دیتا ۔۔۔۔بیڈ پر زلزلہ سا آ گیا۔۔۔میں اسپیڈ بڑھا تا گیا۔۔۔ساحر ہ کے منہ سے بلند آواز میں سسکیاں نکل رہی تھیں جن کو چیخیں کہنا مناسب ہو گا۔۔۔۔۔ہمارے سینے ویسے ہی ملے ہوئے تھے ۔۔صرف نچلی کمر ہی حرکت کر رہی تھی۔۔۔میرے دھکے تیزی ہوتے جارہے تھے ۔۔۔۔۔اسپیڈ طوفانی ہوتی جا رہی تھی۔۔اور۔ساحرہ کے ایک مرتبہ اچھلنے پر میں دوبار جھٹکے مارنے لگا۔۔۔۔اب اسے واپس مجھے پرآنے کی ضرورت نہیں رہی ۔۔۔میرے مستقل جھٹکوں نے اسے ہوا میں ہی سمبھال رکھا تھا ۔۔۔۔سسکیاں اس کے منہ سے بہے جا رہی تھی۔۔۔میری بھی سانسیں تیز ہونے لگیں۔۔۔ناک سے پھنکاریں نکلنے کو آئیں۔۔۔۔۔۔۔اور وہی چنگھاڑ جو شاید میری پہچان بھی تھی۔۔۔۔ساحرہ کی بس ہو گئی تھی۔۔۔طوفانی اسپیڈ میں وہ کچھ دیر ہی سہار سکی ۔۔۔اور اگلے چند منٹوں میں فارغ ہو گئی۔۔۔میں بھی قریب تھا۔۔۔۔۔دو سے تین منٹ میں میرا بھی فوارا چھوٹا ۔۔۔۔اور میں اسپیڈ کم کرتا ہوا نیچے ہوتا گیا۔۔۔بیڈ پر پہنچے کر کچھ جھٹکے اور دئے ۔۔۔اور پھرسکون آتا گیا۔۔۔۔۔۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


قسط نمبر 7 ۔۔۔۔

عاصم رات کو اوپر آ گیا تھا۔چیتے نے اسے زبردستی سونے کے لئے اوپر بھیج دیا تھا۔۔۔۔نیلم بھی آ ئی۔دوبارہ سے وصل کے شوق میں مگر عاصم نے منع کر دیا۔۔وہ کل دن کے لئے فریش رہنا چاہ رہا تھا۔۔۔اس نے نیلم کو مزید کام ذمے لگا کر دے دئے تھے۔۔ ۔اگر وہ کل شام کو یہاں واپس نہیں آتا تو نیلم اس کمرے میں آ کر اس کاضرور ی سامان اپنے پاس لے جاتی ۔۔اور یہ راستہ بھی ہمیشہ کے لئے بند کر دیتی ۔۔۔۔۔۔صبح سب سے پہلے چیتا ہی اٹھا تھا ۔۔ناصر اور وسیم کو اٹھاتے ہوئے اس نے ناشتہ بنانے پر لگا دیا۔۔۔ساتھ ہی باقی لڑکوں کو بھی اٹھانے چلا گیا۔۔۔۔ناشتہ ریڈی میڈ قسم کا تھا۔۔جو گاڑی میں ہی کھایا جانا تھا۔۔۔امرتسر کے لڑکوں کو اٹھا کر تیار کروایا ۔ان کے لباس تیار کروائے۔انڈین آرمی کی یہ خصوصی وردی وہ کل ہی لے کر آیا تھا۔یہ وردی انہوں نے اپنے دوسرےکپڑوں کے اوپر ہی پہننی تھی۔۔اس کے بعد ہلکی سی بریفنگ دینے لگا۔۔۔رات ہی کوچیتے نے ناصر اور وسیم کی مدد سے انٹیلی جنس کے ہیڈ کوارٹر کے نقشہ بنا لیا تھا۔۔ لڑکوں کو کام سمجھا کر اسی حساب سے اسلحہ بھی حوالے کر دیا۔۔ساتھ ہی ماسک اور دستانے بھی۔۔ یہ بار ہ کے قریب نوجوان تھے۔۔۔اور سب کے سب جری اوربے خطر تھے۔۔۔عاصم اور چیتے کے ساتھ کئی معرکوں میں شریک رہے تھے۔۔۔اور سب سے بڑی بات ان سب کی آپس میں ذہنی ہم آہنگی تھی ۔۔ایک دوسرے پر جان چھڑکنے والی ٹیم شاید ہی کہیں اور دیکھی جائے ۔۔۔
ان سب کاموں سے فارغ ہو کر چیتا عاصم کے پاس چلا گیا اور اسے اٹھا کر واپس نیچے آ گیا۔۔۔لڑکے بھی تیار ہو چکے تھے۔۔۔جلد ہی سب ڈرائنگ روم میں اکھٹے ہو گئے۔۔۔۔حملے کے پورا پلان چیتے نے ہی بنایا تھا۔۔۔وہ پوری رات پلان تیار کر کے 4 بجے سو یا تھا۔رات اس نے کئ جگہ پر فون بھی کئے ۔کچھ پرانے دوستوں سے رابطے اور معلومات لیں۔۔۔۔اور چھ بجے ہلکی سی نیند لے کر بیدار ہو گیا۔۔۔عاصم کو بھی اس پر پورا بھروسہ تھا۔۔اس لئے اس نے زیادہ پوچھا بھی نہیں کہ وہ خود بتا دے گا۔۔۔۔
چیتے نے تین ٹیم بنائیں تھیں ۔۔پہلی میں وہ خود اور عاصم کے ساتھ چار لڑکوں کولایا تھا۔۔دوسری میں شاکر تھااس کے ساتھ بھی چار لڑکے ہی تھے ۔۔۔تیسری ٹیم میں ناصر اوروسیم اور باقی چاروں لڑکے تھے ۔
چیتے نے گاڑیاں باہر نکال لی تھیں ۔۔ٹیکوما کی ڈرائیونگ وہ خود کر نے والا تھا۔۔۔درمیان میں فور رنر کو رکھ کر۔اسی میں ہی سارا اسلحہ اکھٹا کیا ہوا تھا ۔اور شاکر ڈرائیونگ سیٹ پر تھا۔۔۔اور سب سے پیچھے ٹنڈرا تھی ۔۔مشین گن کی سیٹنگ اسی پر تھی ۔جو اس کے پچھلے کھلے حصے میں سیٹ ہو سکتی تھی۔۔اسٹینڈ پہلے ہی بنوا لیا تھا۔۔وہ کور فائر اور بیک اپ کے لئے بہترین تھی۔۔۔ناصر۔اور وسیم اس گاڑی میں آنے تھے۔۔۔یہ علاقہ وہ تھا جو پوری رات جاگتا تھا اور صبح ہوتے ہی سب سو جاتے تھے ۔۔۔اس لئےبے فکری سے گاڑیاں باہر لائن میں کھڑی کر دی گئی ۔۔چیتے نےاپناایک بیگ الگ تیار کیا تھا۔ وہ بھی اپنی والی گاڑی میں رکھ دیاتھا۔۔اس کے ساتھ ساتھ 2 ، 2 کلو کے وزنی بیگ اس نے تینوں گاڑیوں میں رکھے تھے ۔۔جن میں بارود بھرا ہوا تھا۔۔۔
چیتے تمام کاموں سے فارغ ہو کر عاصم کے پاس آ گیا۔۔جو فون ہاتھ میں لئے سوچ میں گم تھا۔۔۔۔۔"چلیں جگر ۔۔۔تیار ی سب مکمل ہے ۔۔۔" ۔آپ کا انتظار ہے۔۔عاصم بھی نیچے آ گیا۔اس نے بھی وردی پہن لی تھی۔۔۔اور رینک کے لحاظ سے وہ میجر تھا۔۔۔
چیتے نے عاصم کی طرف خصوصی ماسک اور دستانے بڑھا دئے ۔۔یہ ماسک پہننے کے بعد چہرے یکسر تبدیل کر دیتے تھے ۔۔۔۔تمام لڑکوں کے پاس ایک ہی قسم کے ماسک تھے ۔چھوٹے پسٹل اور کچھ ایمونیشن ہر کسی کے پاس تھا۔۔اور باقی اسلحہ گاڑی میں ہی رکھا ہوا تھا۔۔۔۔ساتھ ہی ہر ٹیم ممبرکو ایک ایک وائیرلیس ہینڈ فری دے دئیے گئے تھے۔۔۔چیتے نے سب کی طرف دیکھا ۔۔سب ہی پرجوش اور تیار تھے ۔بارڈر پر سختی کی وجہ سے وہ بھی کچھ دنوں سے خاموش ہی بیٹھے تھے۔۔مگر اب عاصم کے بلانے پر اپنے محبوب مشغلہ پر واپس آگئے تھے ۔۔گولیوں کی گھن گرج میں جینا اور مرنا۔۔۔دشمن سرزمین پر ایسا حملہ کرنے جا رہے تھے ۔۔۔جس میں کچھ پتا نہیں تھا کہ واپس ہو گئی یا نہیں ۔۔بس اپنے ایک دوست کو چھڑوانے کی خاطر سب موت کے منہ میں کودنے کو تیار تھے ۔اتنے میں ناصر نے آ کر سب کا ناشتہ پکڑا دیا ۔۔ساتھ ہی پانی کی ایک چھوٹی بوتل بھی۔۔۔۔۔چیتے نے عاصم کا ہاتھ پکڑا اور چاروں لڑکوں کو لے کر باہر چلا گیا۔۔"۔باقی سب لوگ ایک ایک منٹ بعد آجائیں ۔"۔اور پھر باہر آ گیا۔۔۔
تینوں گاڑیاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑی تھیں۔۔۔۔عاصم نے ٹیکوما کو دیکھا تو چونکا۔۔۔۔اس کے پچھلے حصے پر بائک بھی بندھی ہوئی تھی۔۔۔یہ کیا ہے ۔۔۔اس نے چیتے سے پوچھا۔
شہزادے میں نے سوچا اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔۔۔۔جہاں بڑی گاڑیاں ساتھ نہیں دیتی وہاں پر بائک ساتھ دے دیتی ہے ۔۔۔ویسے بھی پیچھے تو کسی کو بیٹھنا نہیں تھا ۔۔۔اور نہ ہی عاصم کو اس پر اعتراض تھا۔۔۔۔۔۔چیتے نے ڈرائیونگ سیٹ سمبھا لی تھی۔۔۔اور عاصم ساتھ بیٹھ گیا۔۔لڑکے پچھلے کیبن پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔چیتے بیک مرر سے جائزہ لے رہا تھا ۔۔کچھ ہی دیر میں دوسرا گروپ بھی آکر فور رنر پر بیٹھ گیا۔۔۔عاصم نے گاڑی اسٹارٹ کی اور ہلکی سی اسپیڈ میں گلی کے کونے تک جانے لگا۔۔۔جب تک تیسری ٹنڈرا میں ناصر اور ٹنڈرا آکر بیٹھے۔۔۔دوسری گاڑی بھی اسٹارٹ ہو کر پہلی کے پیچھے جانے لگی۔۔۔۔جلد ہی تینوں گاڑیاں مین روڈ پر نکل کر فراٹے بھرنے لگیں۔۔۔گاڑی میں ہی ناشتہ شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
را کا ہیڈ کوارٹر شہر سے باہر ہی ایک کھلے مقام پر ہے۔۔۔۔۔چاروں طرف سے اونچی دیواروں اور چیک پوسٹس کے گھیرے میں یہ بڑے کمپاؤنڈ کی صورت میں ہے ۔۔۔اندر آئی بی اور را کا ایک مشترکہ ریکروٹمنٹ سینٹر اور ٹریننگ سینٹر بھی ہے ۔۔۔۔3 انٹرنس رکھی گئی ہیں ۔۔جس میں ایک ٹریننگ سینٹر کی طرف ،، دوسری یہاں کے رہائشی لوگوں کی طرف ،، اور تیسری را کے آفس کی طرف جاتی ہے ۔۔
را کی طرف والی انٹرنس کو مختلف بیرئرز اور رکاوٹوں سے روکا گیا ۔۔پتھر کے بڑے بڑے بلاک کی مدد سے گھومتے ہوئے راستے تھے ۔۔جہاںصرف پیدل بندہ ہی جا سکتا تھا۔۔۔۔جبکہ تین سے چار چیک پوسٹ بھی بنائی گئیں ۔۔اور غیر متعلقہ بندہ پہلی چیک پوسٹ پر ہی روکا جاتا ہے۔اوپر تین سے چار اسنائپر پوسٹ بھی بنی ہوئی تھیں۔۔۔کسی بھی فائر کی صورت میں یہاں شہر بھر کی پولیس اور اندر کے کمانڈوز سیکنڈوں میں پہنچ سکتے ہیں۔۔۔باقی انٹرنس پر بھی سیکورٹی تھی ، مگر وہ اس کی نسبت ہلکی اور گیپ زیادہ تھے ۔۔۔۔۔رہائشی پر بھی بیرئیرز لگائے گئے تھے۔۔۔اور چیک پوسٹس بھی تھیں۔۔۔۔مگر وہاں کے لوگ اتنے الرٹ نہیں تھے ۔۔

چیتے کا پلان ٹریننگ سینٹر کی طرف سے گھسنے کا تھا۔۔۔۔۔یہاں سیکورٹی کم رکھی تھی ۔۔اور را کے آفس کی طرف کا فاصلہ بھی کم تھا۔۔۔ہیڈ کوارٹر کے قریب پہنچتےہی اس نےوائرلیس ہینڈ فری پر میسج دیا۔۔۔۔
۔" تمام لوگ تیار رہیں ۔۔۔کوئی بھی دوسرے ہتھیار نہیں استعمال کرے ، صرف سائلنسر والے ہتھیار ۔۔"۔۔پہلی چیک پوسٹ پر قبضے کے بعد سب اپنی اپنی لوکیشن پر چلے جائیں گے ۔۔"۔۔
چیتے کی آواز سب سے سنی۔۔۔اور جواب دے دیا۔۔۔چیتے نے گاڑی روڈ سے اتار دی تھی۔اور آگے کچے میں کمپاؤنڈ کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔اور ساتھ ہی سب سے پیچھے والی ٹنڈرا کو گھوم کر آنے کا کہا۔۔۔اور تیزی سے گاڑی کمپاؤنڈ کی دیوار سے لگا کر اسپیڈ ہلکی کر دی۔۔۔۔یہ را کے ہیڈکوارٹر کی بالکل مخالف سمت تھی ۔۔۔۔اور صبح کاٹائم بھی ۔۔گاڑی بالکل کمپاؤنڈ کی دیوار کے ساتھ آگے مین گیٹ کی طرف بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔اتنے میں ناصر اور وسیم بھی دوسری طرف سے اسی طرح دیوار سے لگتے ہوئے آگے آنے لگے۔۔۔۔۔۔چیتا نے مین گیٹ سے کچھ فاصلے پر روکی اور ہائی بیم دیتے ہوئے ناصر کو بھی رکنے کا اشارہ کیا۔۔فور رنر میں شاکر تھا۔۔جو عاصم کے پیچھے ہی تھا۔۔۔
عاصم کی طرف دیکھا تو وہ پسٹل کے میگزین چیک کر کے واپس چڑھا رہا تھا۔۔۔۔چیتے نے پچھلے کیبن میں لڑکوں کو بھی تیار رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔اور پھر عاصم کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔"جگر چلیں ۔۔اجازت ہے ۔۔"۔۔۔عاصم نے مسکراتے ہوئے پسٹل کا چیمبر چڑھایا ،سلائیڈ کی مخصوص آواز کے ساتھ چیتے کی طرف دیکھا جیسے جواب دے دیاہو۔۔۔۔۔چیتے نے اپنی پسٹل نکال کر گود میں رکھی ۔۔۔۔اور ریس پر پاؤں دبا دیا۔۔
چیتے کی گاڑی اندر مڑتے ہی پیچھے والی فور رنر وہیں آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔۔اور اشارہ ملتے ہی اندر گھسنے کی منتظر۔
چیتا گاڑی موڑ کر اندر لیتا گیا۔گیٹ سے 20 قدم کے فاصلے پر ہی بیرئیر اور چیک پوسٹ بنی ہوئی تھیں۔۔۔۔بیریئر کے قریب گاڑی آہستہ کی ۔۔۔۔دونوں طرف چیک پوسٹ تھی۔۔۔۔چیتے نےگاڑی چیک پوسٹ کے سامنے ہی روکی تھی۔۔۔ایک ہی سیکنڈ میں اس نے کیمرے چیک کر لئے تھے ۔اندر موجود آدمی بھی۔۔۔۔اور چیک پوسٹ والے نے ان کی وردیاں بھی۔۔۔چیتا اس وقت کیپٹن کے رینک میں تھا۔۔ صرف اس کے لمبے بال ایسے تھے جو اس وردی میں کہیں بھی سیٹ نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔۔اور اسی نے چیک پوسٹ والے کو محتاط ہونے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔۔عاصم نے دوسری چیک پوسٹ پر بھی دو بندے دیکھ لئے تھے ۔۔۔جو اسی کیطر ف تھی۔
اتنے میں چیتے نے سامنے رکھے ہوئے پیپر ز نکال کر چیک پوسٹ والے کو دئے ۔۔۔۔اور کہا یہ پیپر چیک کر لیں۔۔۔اتنے میں اس کا ساتھی بھی قریب ہی آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔
پیپر کو پڑھتے ہی چیک پوسٹ والے کے چہرے پر غصے کے تاثرات آئے ۔۔۔۔یہ پچھلی رات کے قیمے والے نان اور کھانے کا بل تھا۔۔۔اس نے نظریں اٹھائیں ۔۔۔سامنے ہی پسٹل کی لمبی نال اس کی منتظر تھی۔۔ٹک ٹک کی مخصوص آواز کے ساتھ دو فائر ہوئے ۔.۔۔۔۔اس سے پہلے کہ دوسری چیک پوسٹ والا کچھ سمجھتا ۔۔۔عاصم نے بھی ہاتھ باہر نکال لیا۔۔دو فائر اس کی طرف سے ہوئے تھے ۔۔۔سائیلنسر کی موجودگی پسٹل کی ایکوریسی پر ایفیکٹ ڈالتی ہے ۔۔۔لیکن اگر آپ سائلنسر کے ساتھ ہی پریکٹس رکھیں تو نشانے قابل داد لگتے ہیں۔۔۔۔اور یہی وجہ ہے کہ دونوں نے فائر پیشانی پر ہی کئے تھے ۔۔۔پسٹل کے فائر کے ساتھ ہی دونوں طرف کے دروازے آہستگی سے کھلے اور دو لڑکے اتر کر نیچے بیٹھے ۔۔۔اور بیٹھ کر چلتے ہوئے قدموں سے چیک پوسٹ کی طرف بڑھے ۔۔۔گھوم کر وہ اندر آئے اور چیک کر نے کے بعد کلئیر کا اشارہ کر دیا۔۔۔۔۔اتنی میں دوسری طرف سے بھی کلئیر کا اشارہ مل گیا۔۔۔پیچھے بیٹھے دونوں لڑکے بھی اتر گئے تھے ۔۔۔اور چیک پوسٹ میں جاپہنچے ۔۔۔۔بیرئیر ہٹ چکا تھا۔۔چیتے کی گاڑی ایک جھٹکے سے اٹھی ۔۔۔اور موڑ کاٹتی ہوئی آگے جا کر رکی ۔ساتھ ہی درختوں کے جھنڈ تھے۔۔انہی کے درمیان گاڑی کھڑی کر دی۔۔۔۔چیک پوسٹ والے لڑکے تیزی سے وردیاں تبدیل کرنے لگے۔۔۔۔دو منٹ میں وردیاں تبدیل ہو کر لڑکے چیک پوسٹ پر سیٹ ہو چکے تھے ۔۔۔۔چیتے نے دوسری گاڑیوں کو اندر آنے کا اشارہ دے دیا۔۔۔۔بھاری گاڑیوں کی گھن گرج میں پہلے فور رنر اندر داخل ہوئی ۔۔۔اور اس کے پیچھے ٹنڈرا ۔۔۔۔۔۔۔تینوں گاڑیاں ساتھ درختوں کے جھنڈ میں جا کر لگ گئیں۔۔۔۔۔شاکر نے جلدی سے ہتھیار نکال کر تقسیم کرنے شروع کر دئے ۔۔۔۔اسی کی گاڑ ی میں سارے ہتھیار رکھے گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
ہتھیار تقسیم ہوتے ہی اگلا مرحلہ شروع ہو ا۔۔۔چیتے کے ساتھ آئے ہوئے لڑکے وہیں چیک پوسٹ پر پوزیشن سمبھال چکے تھے ۔۔۔ناصر اور وسیم چاروں لڑکوں کے ساتھ رہائشی علاقے کی طرف پوزیشن لینے چلے گئے ۔۔۔۔انہیں بھی خاموشی سے چیک پوسٹ پر قبضے کے بعد وہیں پوزیشن سمبھالنی تھی۔۔۔۔۔۔ٹیکوما وہیں کھڑی کر کے چیتا اور عاصم فور رنر میں آگئے ۔۔یہ گاڑی بند بھی تھی ۔۔اور فائرنگ کی صورت میں بچت کی گنجائش زیادہ تھی۔۔۔۔چیتے نے شاکر کو گاڑی آگے بڑھنے کا اشارہ کر دیا۔۔۔۔
ابھی تک سب کام خاموشی سے ہی ہوا تھا۔۔۔۔۔صبح سویرے کا ٹائم تھا ۔۔۔اندر کی طرف چہل پہل شروع ہو رہی تھی۔۔۔۔
ایک ہی گاڑی میں یہ سب جھکے جھکے سے بیٹھے تھے ۔۔اور گاڑی را کے ہیڈ کوارٹر کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔کچھ دیر گاڑی چلتی رہی ۔۔اوپر اسناپئر پوزیشن بھی نظر آ رہی تھیں۔۔۔چیتےنے لڑکوں کی طرف مخصوص اشارہ کر دیاتھا ۔۔۔ہیڈکوارٹر کی عمارت قریب نظر آنا شروع ہو گئی۔۔۔تھوڑا آگے ہی گئے تھے کہ ایک چیک پوسٹ اور نظر آئی ۔۔یہ اندر کی طرف سے ٹریننگ سینٹر کی طرف تھی۔۔شاکر نے بھی گاڑی ساتھ ہی لگائی۔۔۔چیک پوسٹ میں ایک ہی گارڈ تھا۔۔۔شاکر نے جیب سے آئی ڈی کارڈ نکالا اور آگے بڑھا دیا۔۔۔مگر پھر اچانک اس کا ہاتھ کانپا اور کارڈ نیچے گر گیا۔شاکر گیٹ کھول کر اترنے لگا۔۔۔ساتھ ہی پچھلے گیٹ سے چیتا بھی سرکتا ہوا نکلا اور چیک پوسٹ کے پیچھے پہنچ گیا۔۔۔اندر جاتے ہی اس نے گارڈ کی گردن دبوچی تھی۔۔آگے بھی ایک بیرئیر تھا۔۔یہ الیکٹرونک موٹر سے کنٹرول ہونے والا بیرئر تھا۔جس کا پینل گارڈ کے برابر میں ہی تھا۔۔۔اور شاید اندر جانے والے مخصوص کارڈ کو سلائیڈ کرتے تھے ۔۔۔۔چیتا کچھ دیر گارڈ کی جیب میں تلاشی لیتا رہا ۔لیکن کوئی کارڈ یا کی نہیں ملی۔۔قریب کوئی ایمرجنسی سوئچ بھی نہیں ملا۔۔اس نے پینل کو غور سے دیکھا ۔۔گارڈ کی لکڑی کی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے وائرنگ کی تاروں پر ہاتھ ڈالا ۔۔اور زور دار جھٹکا دیا۔۔۔کچھ تاریں ٹوٹ گئیں تھیں اور کچھ باقی ۔۔۔اگلے جھٹکے میں پوری تار اس کے ہاتھ میں تھی۔۔۔چیتے نے جلدی سے باری باری تما م تاروں کو آپس میں اسپارک کرنا شروع کر دی ۔۔۔تیسری مرتبہ میں ہی کامیابی ملی ۔۔۔اور بیرئیر اٹھتا چلا گیا۔۔۔چیتے نے اس تار کو جوڑ دیا۔۔اور جھکے جھکے باہر آگیا۔۔۔فور رنر چل پڑی ۔۔پچھلا دروازہ کھلا ۔۔اور چیتا اس میں سوار ہو گیا۔۔گاڑی اب ہیڈ کوارٹر کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔مگر اس سے پہلے شاکر گاڑی باہر والی چیک پوسٹ کی طرف لے گیا۔۔۔یہ اس کی اندر کی سائیڈ تھی۔۔۔۔قریب آتے ہوئے شاکر نے گاڑی کچھ آہستہ کی ۔۔۔ دونوں سائیڈ کے دروازے کھلے تھے ۔۔۔۔اور دد دو لڑکے دونوں طرف سے یکے بعد دیگرے نیچے کودے ۔۔۔۔۔پسٹل ہاتھ میں تھامے وہ تیزی سے رول ہونا شروع ہوئے ۔۔۔۔۔اور اٹھ کر جھکے جھکے انداز میں چیک پوسٹ کیطرف بڑھنے لگے ۔۔۔۔۔ا نہیں یہ ایریا بغیر کسی آواز کے کلیئر کرنا تھا۔۔
شاکر ان کو چیک پوسٹ کے قریب اتار کر واپس ہیڈ کوارٹر کی بلڈنگ کی طرف آ گیا۔۔۔۔پیچھے عاصم اور چیتا بالکل تیار تھا۔۔۔چیتے نے شاکر سے کہا۔۔۔گاڑی سائیڈ میں کھڑی کر دو اور ہمارے ساتھ چلو ۔۔۔
بلڈنگ کی دیوار سے فور رنر لگا کر چابی اسی میں چھوڑی ۔۔۔اور تینوں باہر آ گئے ۔۔۔۔۔تینوں کے جسم پر انڈین آرمی کی مخصوص یونیفارم تھی۔۔۔تیزی سے عمارت کے اندر داخل ہوئے ۔۔۔سب سے پہلے کاؤنٹر کی طرف بڑھے ۔۔۔۔عاصم چلتا ہوا آگے جا رہا تھا۔۔۔۔اس کی اوٹ لیتے ہوئے چیتے نے پسٹل سمبھال لی ۔۔۔۔جبکہ شاکر نےدائیں بائیں کا دھیان رکھا ہوا تھا۔۔۔کاؤنٹر پر کھڑے شخص نے انہیں غور سے دیکھا۔۔۔چہرے پر الجھن کے آثار تھے ۔۔۔مگر زیادہ سوچنے کا ٹائم نہیں ملا ۔۔۔۔قریب آتے ہی چیتے نے رخ بدلا اور تیزی سے کاؤنٹر میں داخل ہوا ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ گارڈ مڑتا ۔۔۔چیتےاس کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے پیچھے اٹھا چکا تھا۔۔۔عاصم اور شاکر نے چاروں طرف نظر ڈالی ۔۔۔اتنے میں چیتے نے اس گارڈ سے کرنل راٹھور کے آفس کا پوچھا۔۔۔۔گارڈ کو تینوں کی سرخ آنکھوں سے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کہ مرنے مارنے کے ارادے سے آئے ہیں ۔۔۔اس نے جلدی سے تیسرے فلور کی طرف اشارہ کیا۔۔ساتھ ہی اس کی کنپٹی پر دھماکہ سا ہوا ۔۔اور وہ بے ہوش ہو گیا۔
اتنے میں تینوں کے ہیڈ سیٹ میں ناصر کی آواز آئی تھی۔"۔سر ہماری سائیڈ پر حالات صاف ہو گئے ۔۔"۔
چیتے نے جلدی سے کہا ۔۔
پوزیشن لے لو۔۔۔۔ اور ہوشیار رہو ۔۔"۔۔۔اتنے میں دوسرے گروپ کی بھی اطلاع آ گئی ۔۔وہاں بھی ایریا کلئیر تھا۔
چیتے نے عاصم کی طرف دیکھا ۔۔۔اور تیز قدموں سے سیڑھیوں کی طرف بڑھا ۔۔۔سیکنڈ فلور خالی ہی نظر آ رہا تھا۔۔عاصم اور شاکر کو تما م روم کلئیرز کرنے کا کہہ کر وہ۔۔ بھاگتے ہوئے تیسری فلور پر پہنچا ۔۔یہاں دونوں طرف لائن سے کمرے بنے ہوئے تھے ۔۔۔۔چیتے نے پہلے والے دروازے کےہینڈل پر ہاتھ ڈالا۔۔۔یہ لاک تھا۔۔ ۔۔۔چیتے دبے قدموں سے بڑھتا گیا۔۔۔ایک دروازے پر اسے کرنل راٹھور کی نیم پلیٹ نظر آ گئی ۔۔۔اس نے دروازے کے ہینڈ ل کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔اورکھولتے ہوئے اندر سرکا ۔۔۔اندر کی طرف کوئی درواز ے کے قریب ہی تھا جو دروازہ کھلنے کی آواز سن کر پلٹا۔۔۔۔اس کے ہاتھ تیزی سے اپنے کوٹ کے اندر بڑھے تھے۔۔۔
چیتے نےاپنا پسٹل سیدھا کرنے کے بجائے آگے کو جھپٹا مارا۔۔۔اس کے سینے کی بھرپور ٹکر سامنے والے کے سینے پر لگی ۔۔۔ساتھ ہی چیتے نے اس کی دونوں رانوں کے پچھلے حصے پر ہاتھ ڈال کر جھٹکا دے دیا ۔۔۔اب یہ کہنا مشکل تھا کہ پہلے اس کی ٹانگیں زمیں سے اٹھیں ۔۔۔یا چیتے کی سر کی ٹکر پہلے سینے پر پڑی ۔۔۔۔مگر سامنے والے اڑتا ہوا پیچھے جا گرا تھا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ اس کے ہوش برابر ہوتے ۔۔۔۔۔چیتے نے زقند بھری تھی ۔۔۔اور ٹیبل کے اوپر سے ہوتے ہوئے اس کے سامنے پہنچا ۔۔۔سر پر ایک زور دار ٹھوکر پڑی۔اور اس شخص کے آگے تارے سے ناچ گئے۔۔۔چیتے کا ہاتھ اس کے کوٹ میں گیا ۔۔۔اور پسٹل نکال کر سائیڈ پر پھینک دی ۔۔۔چیتے نے اس کے گریبان میں ہاتھ ڈالا ۔۔اور اگلے ہی لمحے وہ اس کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا۔۔۔چیتے نے اسے اٹھاتے ہوئے دوبارہ ٹیبل کے اوپر اچھال دیا۔۔۔۔چیتا دوبار ہ اس کی طرف لپکا ۔۔۔اور ٹیبل سے باہر کو نکلتی ہوئی اسکی گردن اپنے مضبوط شکنجے میں جکڑ لی۔۔۔اتنے میں عاصم اور شاکر بھی وہاں آن پہنچے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس آدمی کے پسینے بہہ نکلے تھے ۔۔۔اس نے بولنے کی کوشش کی ۔۔مگر پھس پھسا کر رہ گیا۔۔۔۔۔چیتے کے بازو اس کی گردن پر تھے ۔۔۔۔۔اتنے میں عاصم بھی اس کے قریب آ گیا۔۔۔۔اس نے چیتے کو گرفت ہلکی کرنے کا کہا۔۔۔سامنے والےکے گڑ گڑانے کی آواز نے اسے شک میں ڈال دیا تھا۔۔۔یہ کرنل نہیں ہو سکتا تھا ۔۔۔۔۔اور پھر اسنے منہ سے بھی اعتراف کر لیا کہ وہ اس کا اسٹنٹ گپتا ہے ۔۔۔۔
عاصم نے چیتے کومزید گرفت کم کرتے ہوئے کرنل کا پوچھا۔۔۔" سر دیر سے آتے ہیں ۔۔۔ابھی اپنے گھر میں ہی ہوں گے ۔۔۔۔عاصم نے جلدی سے گھر کا نمبر پوچھا۔۔"۔
اور سیٹ پر ناصر کو کہا کہ رہائشی ایریا اس مکان میں دو بندے بھیجے ۔۔۔وہاں سے کسی کو نکلنے نہ دے ۔۔ہم پہنچ رہے ہیں ۔۔۔۔۔"۔سر میں ایک لڑکے کے ساتھ خود جا رہا ہوں ۔۔۔وسیم ہے یہاں پر ۔۔ناصر نے جلدی سے جواب دیا۔
چیتے نے گپتا سے کسی قیدی کا پوچھا ۔۔مگر اسے نہیں پتا تھا آخر اسے بھی بے ہوش کر دیا۔۔۔۔اور تیزی سےنیچے اترنے لگا۔۔۔ابھی وہ عمارت سے باہر کو نکلے ہی تھے ۔۔۔کہ تڑ تڑا ہٹ کی آواز گونجی ۔۔۔چھوٹے پسٹل کے پے درپے فائر تھے ۔۔۔جو ہیڈکوارٹر کے سائڈ کی چیک پوسٹ سے آئے تھے ۔۔۔ساتھ ہی اسنائپر کے فائر کی آواز گونجی ۔۔۔مخصوص گونجدار یہ آواز ہزاروں میں پہچانی جا سکتی تھی۔۔۔۔چیتے نے جلدی سے ہینڈ فری میں پوچھا۔۔ایک لڑکے کی آواز آئی ۔۔۔" سر ایک گاڑی میں دولوگ آئے تھے ۔۔۔شاید انہیں شک ہو ا ہے ۔۔۔۔گاڑی بھی تیزی سے پیچھے لے گئے ہیں ۔۔اور فائر بھی انہیں کی سائیڈ سے ہوا ہے ۔۔۔"۔
تم لوگ انہیں کچھ دیر روکے رکھو ۔۔۔۔اسنائپر کا خاص خیال رکھنا۔۔۔میں کچھ دیر میں بتاتا ہوں۔۔۔۔یہ کہہ کر چیتے نے تیزی سے فور رنر کی طرف دوڑ لگائی۔۔۔عاصم اور شاکر بھی دوڑتے ہوئے پیچھے آئے ۔۔۔۔گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے چیتے نے ناصر سے وائرلیس پرکہا ۔۔۔" ہمیں گائیڈ کرو ۔۔ میں رہائش علاقے کی طرف آ رہا ہوں۔۔۔"۔۔ اور تیزی سےگاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔
پورے سینٹر میں ہلچل مچ چکی تھی۔۔۔لوگ حالات جاننے کے لئے ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے ۔۔۔مگر کسی کو کچھ پتا نہیں تھا۔۔۔اتنے میں پیچھے سے پھر فائر کی آواز آئی تھی۔۔عاصم اور شاکر نے پسٹل سمبھال لی تھی کہ اگر کوئی مسلح شخص دکھے تو اڑایا جائے ۔۔۔۔۔۔۔چیتا تیزی سے رہائشی علاقے کی طر ف پہنچا تھا۔۔ناصر اسے گائیڈ کر رہا تھا۔۔۔۔جلد ہی مطلوبہ مکان نمبر کے سامنے تھا۔اتنے میں ناصر بھی دوڑتا ہوا قریب آ گیا۔۔۔۔چیتے نے اسے اور شاکر کو باہر ہوشیار رہنے کا کہا۔۔۔۔اور خود تیزی سے مکان کے دروازے کی طرف بڑھا ۔۔۔اس نے بھاگتے ہوئے عاصم کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔اور دونوں تیزی سے دوڑے ہوئے دروازے سے ٹکرائے ۔۔۔۔۔۔ٹکر پورے وزن سے لگی تھی ۔۔دروازے کو کھلنا ہی تھا۔۔اس کا لاک ٹوٹ چکا تھا۔۔۔اندر جاتے ہی چیتے نے پسٹل سمبھال لی۔۔کچن اور ڈرائنگ روم کوچیک کرتے ہوئے اس نے عاصم کو بیڈروم کی طرف بھیجا ۔۔۔۔
عاصم بے بیڈ روم کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا ۔۔۔۔اسے پیچھے کسی کی موجودگی کا اندازہ ہو ا۔۔۔مگر کوئی بری طرح اس سے لپٹ کر اس کے بازو جکڑ چکا تھا۔۔یہ کرنل تھا اور دروازے کھلنے کی آواز پر ہوشیا ر ہو گیا تھا۔۔۔۔پسٹل اب بے فائدہ تھا ۔۔اسے دور اچھال کر عاصم نے اپنی بیک کو دیوار سے ٹکرایا ۔۔کرنل جو عاصم کو اٹھا کر پٹخنے کی کوشش میں تھا۔۔بری طرح بلبلا اٹھا۔۔کرنل کی پیٹھ دیوار سے لگی تھی۔۔مگر وہ برداشت کر گیا۔۔اس نے اپنی گرفت پھر مظبوط کر لی۔۔۔عاصم تیزی سے اسے ٹکراتے جارہا تھا۔۔۔۔۔اسی دوران کرنل سے چوک ہو گئی ۔۔۔۔۔اپنی سر کو پیچھے لگنے والی چوٹ سے بچانے کے لئے وہ کچھ آگے لے آیا تھا ۔۔۔عاصم اسی کے انتظار میں تھا۔۔۔اس کا سر جھٹکے سے پیچھے اٹھا۔تباہ کن ٹکر ناک پر لگی۔۔اور کرنل کے ناک پر خون کا فوارہ چھوٹا ۔۔۔ایک لمحے کے لئے کرنل کی گرفت ہلکی ہوئی ۔۔عاصم ایک دم سے تڑپا اورگرفت کو کھولتے ہوئے اپنے پیر کو کرنل کے پیر کے پیچھے لے گیا۔۔۔ساتھ ہی جھکتے ہوئے اس کرنل کے دونوں پیر اٹھاتے ہوئےاسے سامنے اچھالے ۔۔۔کرنل کی رہی سہی گرفت بھی ختم ہوچکی تھی۔۔۔ہوا میں اڑتا ہوا وہ ڈریسنگ ٹیبل پر جا گرا۔۔۔۔ 
کرنل خون پونچھتا ہوا تیزی سے اٹھا ۔اس نے سامنے والے کو دیکھ کر پہچان لیا ۔۔یہ دوسرے اسکیچ والے سے ملتا جلتا تھا۔۔۔خو د کو اچھالتے ہوئے اس نے حملہ کرنے کی پوزیشن بنائی ۔۔۔اورآگے بڑھنے لگا۔۔۔اس کے حملہ کرنے کے انداز کو دیکھ کر عاصم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔اتنے میں پیچھے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔۔۔۔کرنل نے دروازہ کھلتے دیکھ کر تیزی سے چھلانگ لگائی تھی۔۔اگر اسے یہ سوچ آئی تھی کہ عاصم پیچھے مڑے گا تو یہ غلط تھا۔۔۔خود پر آتے ہوئے کرنل کو اس نے فرنٹ کک سے واپس اچھال دیا تھا۔۔۔۔۔اتنے میں پیچھے سے چیتے کی آواز آئی۔۔
۔"یہاں تو کرنل صاحب کی پٹا ئی شروع ہو چکی ہے ۔۔۔" ۔۔۔شہزادے جلدی ۔۔۔ٹائم کم ہے ۔۔۔اور اطمینان سے کرنل کے بیڈ پر جا بیٹھا۔۔
کرنل اٹھ کر خونخوار نظروں سے گھو ر رہا تھا۔۔۔۔عاصم نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا ۔۔میرا ایک دوست تمہارے پاس ہے ۔۔۔وہ مجھے واپس کر دو ۔۔تو تمہار ی جان بخش دوں گا۔۔۔ورنہ تمہاری جسم کی ایک ایک ہڈی بھی ٹوٹتے ہوئے مجھے اس کا پتا بتائیں گیں۔۔
کرنل نے جواب دینے کے بجائے قریب آنا شروع کیا۔۔۔اور اب سنمبھلتے ہوئے پاس آ کر اس نے حملہ شروع کیا۔۔۔۔۔بائیں ہاتھ کے مکے کا جھانسا دیتے ہوئے سیدھے ہاتھ کے پنجے کو ناک پر مارنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ساتھ ہی اس کا گھٹنا بھی اٹھتے ہوئے عاصم کے قریب پہنچا۔۔۔عاصم نے کھڑے کھڑے صرف اپنے سر کو گھمایا تھا ۔۔۔اور ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئےاس کے گھٹنے سے گھٹنے ٹکرا دیا۔۔۔کرنل بے اختیار پیچھے کو ہٹا۔۔۔درد کی ٹیسیں اسے چیخنے پر مجبور کر رہی ہیں ۔۔۔۔لگتا ہے اسرائیلوں نے تمہیں صحیح سے ٹرین نہیں کیا۔۔۔جان چھڑانے کے لئے بچوں والی ٹیکنک سکھادیں۔۔۔۔عاصم مسکرایا تھا۔
کرنل چونکا۔۔۔۔۔عاصم مزید کہ رہا تھا ۔۔کریو میگا کے اس انداز سے تو ہر کوئی واقف ہے ۔۔۔۔مجھے را کے ایک آفیسر سے اس بچپنے کی امید کم ہی تھی۔۔۔
کرنل نے دانت پیستے ہوئے پھرحملہ کیا۔۔اب کی بار عاصم نے پیچھے ہٹنے کا موقع نہیں دیا۔۔اس کے وار کو خالی کرتے ہوئے پہلا مکہ کرنل کے جبڑے کو ہلا گیا۔۔سر کی طوفانی ٹکر دوبارہ سے ناک پر لگی۔۔۔اوندھے ہوتے ہوئے کرنل کی رائیڈ سائیڈ پر عاصم آتا ہوا ہلکا سے گھوما ۔اس کی کہنی پیچھے کو آئی اور زوردار ضرب سے پسلی ٹوٹنے کی آواز گونج گئی۔۔
اتنے میں فائرنگ کی آواز آئی ۔۔۔۔چیتا جلدی سے اٹھا ۔۔۔شہزادے آپ اس سے راجہ کا پتا کر و ۔۔۔میں باہر سمبھالتا ہوں۔۔۔اور بھاگتا ہوا باہر آگیا۔۔
۔" ہاں کیا رپورٹ ہے ۔۔۔" ۔چیتے نے وائرلیس پر پوچھا۔۔اور۔با ہر آ کرفو ر رنر کی پچھلی طرف بڑھا ۔۔۔بیک ڈور کھولتے ہوئے اس نے ایم 4 اے نکال لی تھی۔۔۔۔میگزین اٹھا کر اس نے جیبوں میں رکھے ۔اتنے میں ریڈیو پر وسیم کی آواز آئی ۔۔سر باہر پولیس کی گاڑیاں آ چکی ہیں ۔6 سے زیادہ گاڑیاں ہیں۔۔ایک گاڑی نے داخل ہونے کی کوشش کی ۔مگر فائرنگ کے بعد واپس ہو گئے ۔۔دیواریں کود کر یہ نہیں آسکتے ہیں ۔۔کوئی اور راستہ اختیار کریں گے ۔۔۔۔
ناصر اور شاکر چیتے کے قریب آ گئے ۔۔۔۔""ناصر رہائش ایریا میں کتنے بندے ہیں ۔۔"۔۔چیتے نے پوچھا۔
۔سر تین بندے اور وسیم ہے ۔۔۔میں ایک لڑکے کے ساتھ یہاں آگیا تھا۔ وہ راٹھور کے مکان کی پچھلی طرف ہے۔۔"۔
چیتے نےفو ر رنر کی ڈرائیونگ سیٹ سمبھال لی ۔اور ساتھ ناصر کو کہا۔۔تم اس لڑکے کو عاصم کے ساتھ رہنے کا کہہ کر رہائشی علاقے کی طرف جاؤ ۔۔ وہاں شاید اگلا حملہ ہو ۔۔۔۔۔میں شاکر کے ساتھ ٹریننگ سینٹر کی چیک پوسٹ پر جا رہا ہوں ۔۔اب یہ وہاں سے انٹری کی کوشش کریں گے ۔۔۔۔۔شاکر بھی جلدی سے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔چیتے نے گاڑی دوبارہ سے اڑا دی۔۔۔۔۔وہ تیزی سے ٹریننگ سینٹرکے گیٹ کی طرف جا رہا تھا۔۔۔پچھلے حملے کے بعد یہ خاموشی اسے ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔اور یہی ہوا ۔۔ابھی وہ قریب ہی تھا۔۔کہ اس سمت سے تڑ تڑاہٹ کی آواز آئی۔کلاشنکوف اور انساس کی مخصوص آواز تھی۔۔چیتے نے شاکر کو پچھلی سیٹ پر بھیجا۔۔۔اور۔ ریس پر دباؤ بڑھا دیا۔۔۔ چیک پوسٹ کے قریب پہنچے ہی اسے صورتحال کا اندا زہ ہو گیا۔اسکی رائیٹ سائیڈ پر ٹریننگ سینٹر کا گیٹ تھا۔۔۔جس سے کچھ آگے چیک پوسٹ تھی۔۔۔فورس والے بڑی جیپ کوپیچھے سے دھکیلتے ہوئے آگے چلا رہے تھے۔یہ اے ٹی ایس کی بڑی جیپ تھی۔۔جو انڈیا کی اسپیشل اینٹی ٹیرورسٹ اسکواڈ کی تھی۔۔اس کے پیچھے تین سے چار جوان کور لیتے ہوئے فائر کر رہے تھے۔۔۔چیتے نے اپنی گاڑی تیزی سے سامنے لا کر ہلکا سا گھمایا تھا۔۔۔گردو غبار اٹھا ۔۔۔ساتھ ہی۔۔ایک ہاتھ اسٹئیرنگ پر رکھے ہوئے دوسرے ہاتھ سے رائفل ونڈو سے باہر نکلی تھی۔۔۔اور تڑتڑاہٹ کی آواز گونج گئی۔۔۔چھوٹا برسٹ مار ا گیا تھا۔۔۔۔فورس والوں کی توجہ ادھر مبذول ہوئی ۔۔۔جوابی فائرنگ کرتے ہوئے لڑکے بھی ایکدم سے خو ش ہو گئے ۔ چیک پوسٹ کے پیچھے پوزیشن لیئے ہوئے ان لوگوں نے سر باہر نکالا اور ایک کمانڈو کو نشانہ بنا دیا۔۔۔۔۔۔
چیتا تیزی سے اپنی جیپ اسی درختوں کے جھنڈ کے قریب لے گیا۔۔۔رائفل سمبھال کر وہ نیچے کودا۔۔۔اور تیزی سے چیک پوسٹ کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ساتھ ہی اس کی آواز ریڈیو میں گونجی ۔۔" نیچے لیٹ جاؤ ۔۔اور ان کے پیروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرو۔"۔۔۔۔
چیتا بھاگتا ہوا چیک پوسٹ پرپہنچا۔شاکر اس کے پیچھے ہی تھا۔۔۔اتنی میں دیر میں دو اور کمانڈوزنشانہ بن چکے تھے۔۔۔۔۔۔اور باقی پیچھے ہٹ گئے تھے ۔۔۔
چیتے نے دوبارہ میسج بھیجا ۔۔۔۔" ہر گروپ کے دو دو دبندے پیچھے کا بھی خیال رکھیں ۔۔اندر کا ایریا کلئیر نہیں ہے ۔۔۔اسلحہ کم نہیں ہو گا۔ ۔۔۔اندر سے بھی کاروائی ہو سکتی ہے ۔۔۔"۔
اتنے میں گیٹ سے پھر بھاری فائر ہونے لگا ۔۔کمانڈوز نے گیٹ کی سیدھ میں کافی دور پوزیشن سبھالی لی تھی۔۔۔اور بے تحاشہ فائرنگ کر رہے تھے ۔۔۔چیک پوسٹ کی دیوار اکھڑنے لگی تھی۔۔۔چیتے نے جوابی فائر کیا۔۔۔اور دوسروں کو رینگتے ہوئے سائیڈو ں پر نکلنے کا کہا۔۔۔۔اور پھر خود بھی چیک پوسٹ سے ہٹ کر سائیڈ پر ہو گیا۔۔۔ایک ایک لڑکے گیٹ کے قریب ہوگئے تھے ۔۔۔اور وقفے وقفے سے باہر فائر کرنے لگے۔۔۔۔
چیتے کوعاصم کی طرف سے جواب کا انتظار تھا۔۔اسے ابھی تک کرنل سے معلومات لے لینی چاہئے تھی ۔۔۔اتنے میں را کے ہیڈ کوارٹر کی طرف سے بھاری فائرنگ کی آواز آئی۔چھوٹے اور بڑ ے ہتھیار کی مخصوص آواز تھی۔۔۔درمیان میں اسنائپر بھی گرج رہی تھی۔۔۔۔چیتا فکر مند تھا۔وہاں سے بھی فورسز گھسنے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔مگر لڑکوں کی فائرنگ اسے مطمئن کر رہی تھی۔۔یہ کھلے ڈلے سنگل فائر تھے ۔۔۔۔جو سامنے والے کو تنبیہ کر رہے تھے ۔کہ اندر گھسنا منع ہے۔۔اور یہ بھی بتا رہے تھے کہ وہ بہتر پوزیشن میں ہیں ۔۔۔۔
اتنے میں رہائش علاقے کی طرف سے بھی مشین گن کی فائرنگ گونجی۔۔۔۔چیتا بے اختیارمسکرادیا۔۔۔۔انڈین کمانڈوز ہر جگہ کو چیک کرتے ہوئے کمزوری ڈھونڈ رہے تھے ۔۔۔۔مگر اب تک انہیں ہر جگہ سے بھرپور جواب مل رہا تھا۔۔۔۔اتنے میں عاصم کی آواز ریڈیو پر آئی۔۔۔۔" چیتے کہاں ہو تم ۔۔۔"۔۔۔
شہزادے میں تو یہیں ہوں ۔۔آ پ کے انتظار میں۔۔۔راٹھور کیا بولتا ہے ۔۔۔۔۔چیتے نے جواب دیا۔
۔" یار راجہ یہاں نہیں ہے ۔۔۔ کوئی اسپیشل سیکشن ہے را کا ۔۔۔وہی ہینڈل کر رہا ہے ۔۔۔راٹھور سے کال کروائی تھی ڈائریکٹر کو ۔۔۔۔وہ کمینی جیوتی ہی اسے لے اڑی ہے ۔۔۔"۔ عاصم کی گم سم آواز آئی ۔۔
۔" چلو جگر ۔۔۔ فکر نہ کرو ۔۔۔۔جہاں بھی ہے ۔۔۔ہم اسے ڈھونڈ لیں گے ۔۔میں بھی اپنے موڈ میں واپس آ جاؤں۔۔۔۔اپنے راجہ کے لئے ہی اب تک رکا ہوا تھا۔۔"۔۔چیتے نے چہکتے ہوئے کہا۔اور ہا ں آپ باہر والے لڑکے کو لے کررہائش علاقے میں ناصر اور وسیم کے پاس چلے جاؤ ۔۔۔میں بھی آتا ہوں۔۔۔۔
تینوں گیٹ سے مستقل فائرنگ کی آواز آ رہی تھی ۔کمانڈوز نے ایک بار پھر داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔۔مگر ناکامی ہوئی۔۔ساتھ ہی ایک ہیلی کاپٹر کی آواز سنائی دی۔۔۔تیزی سے اڑتا ہوا یہ ہیلی کاپٹر سینٹرکے گرد گھوم رہا تھا۔۔۔ناصر اور وسیم کی طرف مشین گن تھی ۔۔انہوں نے فائر کئے ۔۔مگر بچت ہو گئی ۔۔فائر کے بعد ہیلی کاپٹر مزید اونچا ہوا ۔۔۔اور چکر لگا کر واپس ہو گیا۔۔۔۔چیتے نے یہ سب دیکھا ۔۔۔اور رینگتے ہوئےگاڑیوں کی طرف بڑھا۔۔۔پہلے اپنی ٹیکوما پر چڑھا ۔۔۔اور اس پر بندھی ہوئی اپنی بائک اتارنے لگا۔۔۔ساتھ ہی اپنا بیگ بھی نکال کر پہن لیا۔۔۔رائفل سے دوسرا کلپ اٹیچ کر کے واپس پہن لی۔۔۔
اتنے میں پھر سے ہیلی کا پٹروں کی آواز آنے لگی۔۔۔۔ایک ہیلی کاپٹر سینٹر کےدرمیانی حصے پر آیا ۔۔۔۔اس سے رسی نیچے گری۔۔۔اور پھر کمانڈوز اترنا شروع ہو گئے ۔۔۔اترنے کی جگہ کافی دور تھی۔۔۔اگر وہ وہاں توجہ کرتے تو مین گیٹ سے فورس نے اندر گھس آ نا تھا۔۔۔
ساتھ ہی ہیڈکوارٹر والے لڑکوں کی طرف سے آواز آئی ۔۔۔سر یہاں پر بکتر بند گاڑیاں اندر گھسنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔۔۔انہیں روکنا مشکل ہے۔۔۔
اتنے میں مزید کچھ ہیلی کاپڑ قریب کے گیٹ کے سامنے فورسز کو اتارنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی ایک بکتر بند گاڑی آگے کھڑی اے ٹی ایس کی جیپ سے ٹکرائی ۔۔۔۔۔شاکر اور لڑکوں کے طرف سے آگ اگلی جا رہی تھی۔۔۔۔مگر بکتر بند گاڑی ان سے بے نیاز لگ رہی تھی۔۔برستی گولیوں میں وہ پیچھے کو ہٹی اور ایک زوردار ٹکر دے ماری۔۔
صرف ناصر اور وسیم کی طرف سے اگلا حملہ نہیں ہوا تھا۔۔۔۔وہاں سے مشین گن کے فائر کی وجہ سے کمانڈوز داخل ہوتے ہوئے گھبرا رہے تھے ۔۔چیتا بھاگتا ہوا فوررنر کے پچھلے حصے پر گیا۔۔۔اورراکٹ لانچر اٹھالیا۔۔دو شیل اٹھاتے ہوئے چیک پوسٹ کے قریب آ کر ۔۔گھٹنا زمیں پر ٹیک کر بیٹھ گیا۔۔۔بکتر بند گاڑی دوبارہ سے اے ٹی ایس کی جیپ کو دھکیلتی ہوئی آ رہی تھی۔۔۔شوں کی مخصوص آواز سے راکٹ نکلا ۔۔اور سیدھا بکتر بند سے جاٹکرایا۔۔۔ایک کان پھاڑ دھماکا ہوا ۔بکتر بند گاڑی بری طریقے سے لرزتے ہوئے پیچھے کو کھسکی تھی۔اس کی ایک سائیڈ پر گہر ا شکاف پڑ چکا تھا۔۔۔۔شاکر دوڑتا ہوا آیا۔۔۔اور دوسرا شیل لانچر میں ڈالتا ہوا چیتے کے کندھے پر ہاتھ مارا ۔۔۔چیتے نے پھر نشانہ لیتے ہوئے دوسرا راکٹ فائر کیا۔۔۔اب کی بار بکتر بند کا فیول ٹینک بھی ساتھ پھٹا تھا۔۔۔دھماکے کی آواز سے بکتر بند ہوا میں اچھلی ۔۔۔اور دوبارہ نیچے آئی۔۔آگ نے اسے پوری طرح لپیٹ میں لے لیاتھا۔۔۔ڈرائیور نے زخمی حالت میں باہر کودنے کی کوشش کی مگر۔۔۔۔لڑکوں نے اسے فائر پر رکھ دیا۔۔۔
چیتے نے راکٹ لانچر وہیں چھوڑا اور ٹیکوما کی ڈرائیونگ سیٹ سمبھال لی اور تیزی سے رہائش علاقے کی طرف دوڑا دی ۔۔۔۔۔۔ناصر اور وسیم کی گاڑی اسے دور سے نظر آ گئی تھی۔۔ریڈیو پر اس پرمشین گن اوپر اٹیچ کرنے کا کہہ کر گاڑی اسٹارٹ کرنے کا کہا۔۔۔اپنی گاڑی اس کے ساتھ کھڑی کر کے وہ نیچے اترا۔۔۔عاصم بھی مسلح نظر آرہا تھا۔۔اور پوزیشن لئے بیٹھا تھا۔۔اسے وکٹری کا نشان دکھا کر جلدی سے ٹنڈرا کے پچھلے کھلے حصے میں پہنچ گیا۔۔۔مشین گن اٹیچ ہو گئی تھی ۔۔۔اور نیچے گولیوں کے ڈبے کم نہیں تھے۔۔۔چیتے نے ناصر کوڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا کہا۔۔اور ہیڈ کوارٹر کی طرف لے جانے کا کہا۔۔۔ناصر نے ایسا ہی کیا ۔۔۔۔
کچھ ہی سیکنڈ میں ٹنڈرا گھوم کر مڑی اور گردوغبار کا بادل پھیلاتے ہوئے ہیڈ کوارٹر والی پوسٹ کی طرف روانہ ہوگئی ۔۔۔۔۔درمیانی کیبن میں دو لڑکے رائفلیں لئے تیار بیٹھے تھے ۔۔۔اور اونچی ٹنڈرا تیزی سے اڑی جا رہی تھی۔۔۔۔۔پیچھے کھلے حصے میں چیتا مشین گن پر کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔اس کی نگاہوں چاروں طرف گھوم رہی تھی۔۔۔۔۔۔ہیڈکوارٹر کے سامنے پہنچتے ہی اس نے ناصر کو گاڑی زگ زیگ دوڑانے کا کہا۔۔۔۔۔اور مشین گن کا رخ اسنائپر پوسٹ کی طرف کر دیا۔۔۔۔۔اسنائپر کا ایک فائر گونجا ۔۔۔۔۔مگر مس ہو گیا۔۔۔۔چیتے نے مشین گن کا رخ اس طرف کیا ۔۔۔اور ٹرائیگر پر انگلی رکھ دی۔۔۔سیکنڈوں کے حساب کئی کلو کا لوہا ہوا میں پرواز کرتا ہوا چیک پوسٹ پر لگا۔۔اور پیچھے بیٹھے ہوئے اسنائپر کو بھی چھلنی کر گیا۔۔۔۔چیتے نے دوسرے اسنائپر کی طرف مشین گن موڑ دی۔۔۔۔وہاں بھی برسٹ کھول دیا۔۔۔۔خالی خول تیزی سے جیپ میں اکھٹے ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔بارود کی بو کے ساتھ دھواں بھی اکھٹا ہو رہا تھا۔۔۔۔بیچ کے کیبن میں بیٹھے لڑکے چیک پوسٹ سے گھسنے والی گاڑی پر فائر کر رہے تھے ۔۔چیتے نے دوسرے اسنائپر کو بھی نشانہ بناڈالا تھا۔۔۔۔آخری اسنائپر کچھ پریشان ہو گیا۔۔۔تیزی سے گھومتی ہوئ پک اپ پر نشانہ لگانا مشکل ہو رہاتھا۔۔۔۔اتنے میں قضا نے اس کا رخ کر لیا۔۔۔مشین گن کا برسٹ اس پر کھولا گیاتھا۔۔۔
چیتے نے اب مین گیٹ کی طرف فائر کھول دیا ۔۔۔۔اور باہر والے چاروں لڑکوں کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔۔۔وہ اپنی پوزیشن سے فائر کرتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگے ۔۔۔۔اورجلد ہی ٹنڈرا پر چڑھ کر بیٹھے گئے ۔۔۔ایک آگے ناصر کے ساتھ جا بیٹھا۔۔چیتے نے ٹریننگ سینٹر والے گیٹ پر شاکر کو میسج دیا کہ وہ بھی فور رنر اسٹارٹ کرے ۔۔۔۔۔ہم یہاں سے نکلنے والے ہیں ۔۔۔دو لڑکے گیٹ پر فائر کرتے رہے ۔۔تاکہ فورس انٹر نہ ہو سکے ۔۔۔۔۔
اور ساتھ ہی ناصر سے کہا کہ فائر کرتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگے ۔۔۔۔۔ناصر گاڑی بیک کرتا ہو ا پیچھے چلتا آ رہا تھا۔۔۔اتنے میں پیچھے سے فائر کی آواز آئی ۔۔۔۔ایک گولی چیتے کے بازو کو چھیدتے ہوئے گزر گئی۔۔۔ہیلی کاپٹر سے اترنے والے کمانڈوز پیچھے پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔۔چیتے نے جلدی سے مشین گن کا رخ موڑ کر پیچھے کر دیا۔۔۔اور دوبارہ سے برسٹ کھول دیا۔لڑکے بھی جلدی سے ٹنڈرا کے کھلے حصے میں پوزیشن لے کر بیٹھ گئے ۔۔۔ناصر کو بھی پیچھے سے آنے والے فائر کا اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔اس نے تیزی سے گاڑی موڑی ۔۔۔اور سامنے کا رخ دینے لگا۔۔۔۔دونوں کیبن سے لڑکے باہر نکل کر جوابی فائر کرنے لگے ۔۔یہ ہیلی کاپٹر سے اترنے والا گروپ تھا۔۔جو پوزیشن لیتے ہوئے اس سائیڈ پر آ رہا تھا۔۔ناصر تیزی سے گاڑی کو مختلف زاویوں سے گھمانے لگا۔۔۔گاڑی کے چاروں سائیڈ سے گولیوں کی بارش برس رہی تھی۔۔۔کمانڈوز جو آگے بڑھ کر میدان میں آچکے تھے ۔۔۔کچھ تو وہیں چھلنی ہو گئے ۔۔اور کچھ واپس بھاگ کر کور ڈھونڈنے لگے ۔۔۔۔مگر مشین گن کی گولیوں نے انہیں یہاں بھی بھون دیا تھا۔۔۔۔۔۔
ناصر نے اسپیڈ تیز کر دی ۔۔۔اور ٹریننگ سینٹر کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔وہاں پر گاڑی تیار تھی ۔۔۔شاکر اور ایک لڑکے فائرنگ کر رہے تھے ۔۔۔باقی گاڑی میں بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔ناصر نے گاڑی سامنے روکی ۔۔۔چیتے نے کور فائر دیتے ہوئے شاکر کو واپس اپنی گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔۔۔ساتھ ہی عاصم کو بھی اگلا میسج بھیج دیا کہ وہ ٹیکوما کی ڈرائیونگ سیٹ سمبھال لے ۔۔۔۔شاکر نے جیسے ہی گاڑی آگے بڑھائی۔۔چیتا مشین گن دوسرے لڑکے کو دیتے ہوئے نیچے اتر آیا۔۔۔اور کہا میں بائک لے کر آتا ہوں تم لوگ نکلو۔۔۔۔۔۔۔
رہائشی علاقے کی طرف آئیں ۔۔۔تو یہاں عاصم ٹیکوما کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا پیچھے بیک ویو میں دیکھ رہا تھا۔۔۔جلد ہی اس نے فور رنر اور اس کے پیچھے ٹنڈرا کو آتے دیکھا۔۔۔۔۔۔
ساتھ ہی چیتے کی آواز آئی ۔۔۔"جگر گاڑی نکال لو ۔۔۔۔۔ہم پیچھے آ رہے ہیں ۔۔۔۔"۔۔۔دلی کے طرف جانے والے راستہ کی طرف جاناہے ۔۔۔
عاصم نے ایک نظر پھر پیچھے ڈالی ۔۔۔۔اور پھر ریس پر پاؤں رکھ دیا ۔۔۔۔بھاری پک اپ غراتی ہوئی اٹھی تھی۔۔۔۔۔اور رہائشی گیٹ سے نکلتی چلی گئی۔۔۔۔۔بیرئیرز پہلے ہی اٹھا دیے گئے تھے ۔۔اس ایریا میں زیادہ فورس نہیں آئی تھی۔۔۔شاید اپنے لوگوں کے بچاؤ کی خاطر ۔۔کہ کہیں وہ نہ مارے جائیں۔۔۔۔۔پیچھے شاکر نے دیکھا اور ریس پر پاؤں دبا دیا۔۔۔وہ بھی اس کے پیچھے آیا۔۔۔۔اس کی جیپ بھی لوڈ ہو چکی تھی۔۔۔اور اس کے پیچھے ٹنڈرا نکلی ۔۔۔۔۔۔مشین گن کا رخ پیچھے کی طرف تھا ۔۔۔اورپانچ پانچ شارٹ کے برسٹ مارے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔
گیٹ پر کھڑی فورس نے دوسرے گیٹ سے نکلتے ہوئے تینوں گاڑیوں کو اور پیچھے اٹھتے ہوئے دھویں کو دیکھا۔۔۔۔بھاگتے ہوئے اپنی گاڑیوں میں بیٹھے ۔۔۔اور پیچھے جانے لگے ۔۔۔۔اے ٹی ایس کو بنے ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔۔۔۔ممبئی ہوٹل حملے کے بعد ہی اس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا تھا۔۔۔۔۔پنجاب میں یہ پہلا واقعہ تھا۔۔اور اے ٹی ایس کے لئے بد نامی کا باعث بھی ۔۔۔۔۔چیتا جو اس وقت اپنی بائک کے ساتھ درختوں کے جھنڈ میں موجود تھا۔۔۔۔۔۔اے ٹی ایس کی گاڑیوں کی آواز سن کر مسکرایا ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ اندر والی فورس گیٹ تک پہنچتے ۔۔۔۔۔وہ بائک کو کک مارتے ہوئے روانہ ہو گیا۔۔۔۔گیٹ سے نکلتے ہوئے اس نےبالکل مخالف راستہ اختیار کیا تھا۔۔۔۔
عاصم تیزی سے دلی کی طرف جانی والی ہائی وے پر ٹیکوما بھگا رہا تھا۔۔۔اس کے بالکل پیچھے شاکر تھا۔۔۔اور آخر میں وہی ناصر اور وسیم ۔۔جن کی مشین گن کی فائرنگ پولیس اور اے ٹی ایس کی گاڑیوں کو قریب نہیں آنے دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔عاصم کو کچھ دیر چیتے کی آواز نہیں آئی تو اس نے ریڈیو پر پوچھا ۔۔۔"چیتے کہاں ہو تم ۔۔۔"۔۔۔۔۔مگر کوئی جواب نہیں آیا۔
دوبارہ پوچھا تو لڑکے نے کہا کہ وہ وہیں پر بائک لے کر اتر گئے تھے ۔۔۔۔۔کہہ رہے تھے میں پیچھے آ رہا ہوں ۔۔۔۔
عاصم پریشان ہو گیا۔۔۔"اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔یہ فورس کی گاڑیوں کو ہٹ کر و۔۔۔۔۔"۔۔۔ان کے ٹائروں کو نشانہ بناؤ ۔۔ساتھ ہی گاڑی کی اسپیڈ اور تیز کر دی۔۔
مشین گن وسیم نے سمبھال لی تھی۔۔۔اس نے پچھلی گاڑیوں کے ٹائروں پر نشانے لگانے شروع کر دیے ۔۔۔فورس کی جیپ بھی تیز ہوئی تھی۔۔۔مگر سامنے کے دونوں ٹائر فلیٹ ہونے کے بعد ایک دم سے بیٹھی۔۔۔پیچھے والی جیپ اس سے ٹکرائی اور دونوں گھسٹتی ہوئی روڈ سے اتر تی چلی گئیں۔۔۔۔۔۔پیچھے والی گاڑیاں پھیل گئیں ۔۔۔اور تیز رفتاری سے قریب آنے لگی۔۔۔۔ہوٹر بھیانک آواز میں چلا رہا تھا۔۔۔مگر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں تھا۔۔۔۔۔اتنے میں عاصم نے پیچھے سے بائک آتی ہوئی دیکھی ۔۔۔۔اس نے وسیم کو مشین گن ہلکی کرتے ہوئے کور دینے کا کہا۔۔
چیتے کی بائک زن کر کے دو اے ٹی ایس کی جیپ کے درمیان سے نکلی ۔۔۔۔۔۔۔اس کے دونوں ہاتھوں میں سے کوئی چیز نکل کر ان کی جیپ پر جا چپکی تھی۔۔۔۔اگلی ا ے ٹی ایس پر بھی ایسے ہی چیز چپکا کر اس نے اسپیڈ تیز کردی۔۔۔۔۔وسیم کافی ہوشیاری سے فورسز کی جیپ کو ایک خاص اسپیڈ سے آگے نہیں آنے دے رہا تھا۔۔۔۔یہی وجہ تھی کہ چیتے نہایت آسانی سے ان کے درمیان سے ہوتا ہوا آگے آتا جا رہا تھا۔۔۔۔لمبے بال ہوا میں اڑ رہے تھے ۔۔۔اور بے فکری سے دائیں بائیں بائک گھماتا ہوا آ رہا تھا۔۔اس کا ایک بازو پہلے ہی خون میں تر بتر تھا۔۔اب دوبارہ۔اس پر بھی فائر ہوئے تھے ۔۔فورس کو شک ہو اتھا کہ وہ بھی انہی کے ساتھ ہے ۔۔۔۔۔۔۔چیتے نے بائک ٹنڈرا کے قریب لاتے ہوئےعاصم کو آنکھ ماری ۔۔جو اسی کی سیدھ میں سائیڈ مرر سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔اوربائک کا ہینڈل چھوڑ کرپک اپ کے پچھلے کھلے حصے سے لٹک گیا۔۔۔دوڑتی ہوئی بائک ، ایک دم سے گری ۔۔۔اور قلابازی کھاتی ہوئی پیچھے جانے لگی۔۔۔چیتے نے پک اپ پر چڑھتے ہوئے ہاتھ جھاڑے ۔۔۔۔۔
فضاء میں ہیلی کاپٹروں کی مخصوص آوازیں گونجنے لگیں۔۔۔۔دو ہیلی کاپٹر تیزی سے قریب آ رہے تھے ۔۔۔پیچھے سے آنے والے ہیلی کاپٹر فورسز کے جیپ کے اوپر اڑ رہے تھے ۔۔۔۔چیتے نے اپنے بیگ میں سے ریموٹ کنٹرول نکال لیا۔۔۔اور ناصر سے کہا کہ گاڑی بالکل آہستہ کر لو ۔۔۔ناصر نے بریک پر پاؤں رکھ دیا۔۔۔۔۔فورسز کی گاڑی تیزی سے قریب ہوئی تھی۔۔۔۔ہیلی کاپٹر ان کے اوپر اڑ رہے تھے ۔۔۔کہ چیتے نے ریموٹ کا بٹن دبا دیا۔۔۔آگ کے شعلوں میں تیزی سے تینوں جیپیں ہوا میں اڑیں۔۔۔دھماکے کی آواز کے ساتھ اڑ کر آگے آن گری ۔۔۔۔۔ہیلی کاپٹر ایک دم سےاوپر ہو گیا۔۔تینوں جیپیں جل رہیں تھی۔۔۔۔اور اندر بیٹھنے والے بھی اپنی منزل پر پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔اتنے میں وسیم کی مشین گن کی تڑ تڑاہٹ گونجی ۔۔۔۔۔نشانہ ہیلی کاپٹر ہی تھا۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ بھی آگے کا ڈھیر بنے زمیں پر گرے پڑے تھے۔۔۔۔
۔چیتے نے دیکھ کر ناصر کو کہا کہ گاڑی اگلی والی کے اور قریب کر دے ۔۔۔۔اور پھر تیزی سے ٹنڈرا کے کیبن کی چھت پر چڑھ گیا۔۔۔وہاں سےپھسلتا ہوا بونٹ پر آیا۔۔شاکر نے یہ دیکھاتو اپنی گاڑی درمیان سے نکال دی۔۔۔ناصر نے اسپیڈ تیز کرتے ہوئے ٹیکوما کے ساتھ لگا دی۔۔۔۔چیتے نے جمپ لگائی تھی اور ٹیکوما کے پچھلے حصے میں سوا ر ہو گیا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ عاصم کے ساتھ بیٹھا کہہ رہا تھا۔۔۔"سنا ہے جگر آپ ہمیں یاد کر رہے تھے ۔۔"۔۔۔
عاصم کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔اچھا ٹھیک ہے ۔۔آگے کا کیا پلان ہے ۔۔اتنے میں اس کی نظر چیتے کے بازو پر پڑی ۔۔۔جہاں خون کے نشان نظر آ رہے تھے ۔۔"یہ ایسا ہی ہے۔۔۔خون رک گیاہے ۔۔۔گولی چھو کر نکلی ہے ۔۔۔ویسے بھی ہماری قسمت میں سینے پر لگنے والی گولی لکھی کہاں ہے ۔۔اور پھر۔
چیتے نے گھڑی کی طرف دیکھا۔۔۔۔"پلان بالکل سیدھا ہے ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں راجدھانی ایکسپریس ہماری بائیں سائیڈ سے گزرنی والی ہے ۔۔"۔۔۔
عاصم ہنس پڑا ۔۔۔۔کچھ ہی منٹوں میں ریل کی کوک گونج اٹھی۔۔۔۔عاصم نے ٹیکوما کا اسٹیرئنگ موڑا اور کچے میں اتار دی۔۔۔بائیں طرف سے ریل کی پٹری گزر رہی تھی۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر وہاں سے ریل زمیں لرزاتی ہوئ گزری ۔۔۔۔۔اس کے گزرنے کے بعد عاصم نے دوبارہ سے ہینڈل کاٹا ۔۔۔اور پٹری پر آگیا۔۔۔چوڑی پک اپ کے ٹائر آسانی سے پٹری پر آگئے تھے ۔۔۔۔ساتھ ہی عاصم نے اسیپڈ بڑھا دی۔۔۔۔
چیتے نے پیچھے دیکھا ۔۔۔باقی لوگ بھی ایسا ہی کر رہے تھے ۔ناصر درمیان میں آ گیا تھا۔۔۔اس کی گاڑی بھی آسانی سے پٹری پر چڑھ گئی تھی۔۔۔۔اتنے میں چیتے کی آواز گونجی ۔"۔چلو دوستو ۔۔۔سواری بدلنے کا ٹائم ہو گیاہے ۔۔۔صرف پسٹل ہی اپنے ساتھ رکھنا ۔۔باقی سب یہیں پر چھوڑ دو ۔اوراپنے اصلی کپڑوں میں واپس آ جاؤ۔ ۔۔"۔۔شاکر اپنی ٹیم کے ساتھ فرید آباد اسٹیشن اترے گا۔۔۔۔ناصر اور وسیم گراگرام اسٹیشن پر ۔۔۔۔اسٹیشن سے اتر کر سب دلی پہننے کی کوشش کریں ۔۔۔۔اب وہیں پر محفل لگائیں گے ۔۔۔
اگلے دو منٹوں میں سب کپڑے تبدیل کئے تیار بیٹھے تھے ۔۔ماسک اتر چکے تھے ۔۔۔۔۔۔اب کی بار فو ر رنر سب سے پیچھے تھی۔۔۔شاکر نے گاڑی آگے لگائی ۔۔ایک لڑکے نے بونٹ پر جھکتے ہوئے اگلی گاڑی کے ہک کو بمپر پراٹکا دیا۔۔یہ بھی چیتے کی ہی سیٹنگ تھی جو اس نے کل کروائی تھی۔۔دونوں گاڑیاں آپس میں اٹیچ ہو گئیں تھی۔۔۔شاکر نے گاڑی نیوٹرل کر دی ۔۔۔اتنے میں لڑکے چڑھتےہوئے درمیانی پک اپ پر آنے لگے۔۔آخر میں شاکر بھی آ گیا۔۔۔اتنے میں وسیم نے بھی باہر نکلتے ہوئے یہی سین عاصم کی گاڑی کے ساتھ کیا ۔۔اور اس گاڑی کو عاصم کی گاڑی سے اٹیچ کر دیا ۔۔۔اب دونوں گاڑیوں کو عاصم کی پک اپ کھینچ رہی تھی۔۔سارے لڑکے درمیانی گاڑی پر اکھٹے ہونے لگے ۔۔۔۔۔۔اتنے میں عاصم نے ٹیکوما کو ٹرین کے پچھلے حصے سے لگا دیا۔۔۔۔چیتا کھڑکی سے باہر نکلا ۔۔۔اور اپنے بیگ میں سےآنکڑہ نکال کر ٹرین کی پچھلی طرف لٹکانے لگا۔۔۔دو تین کوششوں میں آنکڑہ اٹک چکا تھا۔۔اتنے میں لڑکے پیچھے سے آنے شروع ہوئے اورا یک ایک کر کے اوپر چڑھنے شروع ہوئے ۔۔رسی کاپچھلا حصہ چیتے نے بونٹ میں گھما کر ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔آخر میں عاصم ہی رہ گیا تھا۔۔۔اس نے رائفل کو اٹھاتے ہوئے ریس کی جگہ پر فکس کر دیا ۔۔ابھی اسپیڈ کم نہیں ہو سکتی ۔۔۔اور پھر کھڑکی پر پاؤں رکھتا ہوا باہر آ گیا۔۔۔۔جہاں چیتا اس کا منتظر تھا۔۔۔۔"۔چلیں جگر ۔۔۔۔"۔۔
اور پھر عاصم کو پہلے آپ کا اشارہ کرنے لگا۔۔۔عاصم نے مسکراتے ہوئے دیکھا ۔۔اور پھر رسی تھام لی۔اور ٹرین پر چڑھنے لگا ۔۔۔سارے لڑکے اندر پہنچ چکے تھے ۔۔۔اور اب ایڈجسٹ ہونے کی کوشش میں تھے ۔۔۔۔
عاصم کے اوپر پہنچے کے بعد چیتے نے رسی بونٹ سے کھولی ۔۔۔۔اور اوپر چڑھنے لگا۔۔۔۔اوپر پہنچ کر اس نے پھر سے اپنے بیگ کو کھولا۔۔۔۔اب کی بار دوسرا ریموٹ کنٹرول تھا۔۔
پہلے بٹن پر سب سے پچھلی گاڑی میں دھماکہ ہوا ۔۔۔تینوں گاڑیاں لرز کر رہ گئیں ۔۔پچھلی گاڑی ایک دم سے اچھلی ۔۔اور پٹری سےہٹ کر الٹ گئی۔۔۔۔اگلی گاڑی کچھ سلو ہونے لگی تھی۔۔۔رائفل بھی ریس سے ہٹ چکی تھی۔۔جیسے ہی تینوں گاڑیاں کچھ سلو ہوتی ہوئیں دور ہونے لگیں ۔۔۔۔۔چیتے نے باقی دو بٹن بھی دبا دیئے۔۔۔۔۔۔۔دو دھماکے ایک ساتھ ہوئے ۔۔۔اور تینوں گاڑیاں بکھرتی چلی گئیں۔۔۔۔۔دھمک ان تک بھی پہنچی تھی ۔۔چیتے نے مسکراتےہوئے عاصم کو دیکھا ۔۔اور۔۔اس کے بعددونوں ٹرین کے اوپر چلنے لگے ۔۔۔اگلی بوگیوں کے قریب آ کر انہیں نیچے اترنا تھا۔۔
ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دونوں تیزی سے ٹرین کی چھت پر چلتے ہوئے آر ہے تھے ۔۔۔اتنے میں سائیڈ روڈ سے ہوٹر کی آواز آئی۔۔۔۔پولیس کی جیپو ں کا ایک قافلہ تیزی سے آگے جا رہا تھا۔۔۔دونوں نیچے جھک گئے ۔۔۔اور بوگی کے دروازے کی طرف آنے لگے۔۔۔سہارے کے لئے دروازے پر لگا ہوا پائپ گھومتا ہوا اوپر تک آ رہا تھا۔۔۔عاصم نے اس پر ہاتھ ڈالا اور نیچے جھول گیا۔۔۔۔چیتا بھی پیچھے ہی آیا تھا۔۔۔۔
دوپہر شروع ہو چکی تھی۔۔۔۔ٹرین میں اونگھتے اور باہر کا نظارہ کرنے والے لوگوں نے چونکتے ہوئے انہیں دیکھا اور پھر دوبارہ مشغول ہوگئے ۔۔۔۔بوگی کے درمیانی حصے پر ٹہر کر پیچھے نظر ڈالی ۔۔۔اپنی پارٹی کا کوئی بندہ نظر نہیں آ رہا تھا۔۔۔چیتے نے عاصم کی طرف دیکھا تو اس نے اگلی سمت اشارہ کر دیا۔۔۔۔چیتا دائیں بائیں دیکھتا ہوا آگے چلنے لگا۔۔سو کلو میڑ کے آس پاس بھاگتی ہوئی ٹرین کافی ہموار سفر کر رہی تھی۔۔۔اس حصے میں فیملیز کی تعداد زیادہ تھی۔۔۔لوگ چیتے کو دیکھ کر چونک سے جاتے ۔۔۔اس کا حلیہ ۔۔۔اورسرخ ہوتی شرٹ سب کو نظر آ رہی تھی۔۔۔اتنے میں عاصم نے ایک جوان لڑکے کو دیکھا جو فون پر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔۔۔اوپر کے خانے میں بیگ بھی شاید اسی کا تھا۔۔۔عاصم اس کے برابر میں کھڑا ہو گیا۔۔اور بیگ سیدھا کر لیا۔۔ڈبل زپ کے ساتھ تا لا لگا ہوا تھا۔۔۔۔زپ سے کچھ فاصلے پر ہی اس نے اپنی انگلی کھبو دی ۔۔۔۔۔زپ کی پٹی الگ الگ ہو گئی ۔۔۔۔۔۔اس نے تین چار شرٹ نکال کر چیتے کو دکھائی۔۔ایک کا سائز اور رنگ میچ ہو نے لگا تو اس نے چیتے کو پکڑا دی۔۔۔چیتا واش رو م چلا گیا اور چینج کرنے لگا۔۔۔اتنے میں عاصم نے زپ کو آگے کی طرف زور دیتے ہوئے واپس لے آیا۔۔۔ڈبل زپ لگے ہونے کیو جہ سے کھلی ہوئی پٹی دوبارہ بند ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔عاصم نے بیگ واپس موڑ دیا ۔۔۔اور نوجوان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے تھینکس کہا ۔۔اور آگے بڑھا ۔۔۔پیچھے نوجوان نے فون کان سے ہٹایا اورکچھ دیر حیرت میں رہا کہ شکریہ کس بات کاادا کیا گیاہے ۔۔۔۔
چیتا واش روم سے ہاتھ منہ دھو کر چینج کر کے آ گیا۔۔۔اور پھر دونوں آگے چلنے لگے ۔۔اگلے بوگی کینٹین کی تھی ۔۔جہاں سے اشتہا آمیز خوشبو نکل کر پھیل رہی تھی۔۔۔چیتے نے حسب معمول اندر جھانکا اور آگے چل پڑا ۔۔۔۔اس سے آگے فرسٹ کلاس شروع ہو رہی تھی۔۔۔۔جہاں اے سی کی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ ماحول کافی خوشگوار تھا۔۔۔۔۔۔یہاں کیبن سسٹم تھا۔۔جو سلائیڈنگ ڈور سے کھل یا بند ہوتا تھا۔اور ایک سائڈ میں کوریڈور سی بنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔چیتے نےپہلے ڈور کو سلائیڈ کیا ۔۔اور جھانک کر سور ی کہا ۔۔اور آگے چل پڑا۔۔۔اتنے میں عاصم پیچھے سے آیا ۔۔۔اور گیٹ بند کرنے لگا۔۔اس کی نظر اندر پڑی تھی۔۔وہ چونکا اور سلائیڈ کرتے ہوئے جلدی سے آگے چل پڑا۔۔۔۔۔مگر دیر ہو گئی تھی۔۔۔۔۔کوئی تیزی سے اٹھ کر ان کے پیچھے آیا تھا۔۔۔چیتے کے کان میں نسوانی آواز آئی تو وہ چونک کر مڑا ۔۔۔۔پیچھے کوئی خوبصورت لڑکی عاصم کو بلا رہی تھی۔۔۔اور عاصم اسے چوری چھپے آگے بڑھنے کا اشارہ کر رہا تھا۔۔۔اتنے میں لڑکی چلتے ہوئے عاصم کے پاس پہنچی ۔۔اور اسے اپنی طرف موڑا ۔۔۔۔یہ پوجا تھی۔۔۔مشہور فلم ڈائریکٹر کی بیٹی۔۔۔جس سے عاصم شملہ میں مل چکا تھا۔۔۔۔کچھ دیر غیر یقینی انداز میں دیکھنے کے بعد وہ عاصم سے لپٹ چکی تھی ۔۔۔چیتے نے بڑے خوشگوار انداز میں اس سین کو انجوائے کیا ۔۔اور کہا کہ ہمیں بھی تعار ف کروایا جائے ۔۔اس نازک اندام حسینہ کا ۔۔عاصم کچھ کہنے ہی لگا تھا۔۔۔کہ ۔پوجا نے عاصم کا ہاتھ پڑا اور اپنے کیبن میں کھینچ کر لے جانے لگی۔۔۔عاصم نے چیتے کا بازو پکڑا ۔۔۔اور اسے بھی ساتھ ہی گھسیٹ لیا۔۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

قسط نمبر8۔
مجھے ساحرہ نے جھنجھوڑ کر اٹھایا ۔۔۔۔۔میں چند گھنٹے ہی سو پایا تھا ۔۔۔۔ رات کا کافی حصہ ساحرہ کے ساتھ گزرا ۔۔اور پچھلے کئی دنوں میں یہ واحد رات تھی جس میں مجھے بیڈ کی نرم آغوش کے ساتھ ساتھ ساحرہ کا پہلو بھی ملا تھا۔۔۔میں نے حیرت سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔کپڑوں سے بے پروا ساحرہ میرے سامنے تھی ۔۔"اٹھو ۔۔۔واپس جانے کا ٹائم آ گیا ہے ۔۔۔میں جلدی سے اٹھا ۔۔۔۔اور کپڑے درست کرنے لگا ۔۔۔ہاتھوں اور پیروں میں زنجیریں ویسے ہی تھیں ۔۔۔۔۔میں بیڈ سے نیچے اترا اور باہر نکلنے سے پہلے اس صراحی کی طرف چلا گیا ۔۔۔جس سے رات کو ساحرہ نے مشروب ڈال کر دیا تھا۔۔۔میں نے آدھا پیالے پی کر واپس رکھ دیا۔۔۔۔واپس مڑا تو ساحرہ میرے پیچھے کھڑی تھی ۔۔۔نگاہوں میں آسودگی تھی ۔۔۔برسوں کی پیاس بجھ چکی تھی ۔۔۔۔۔اور پھر میں نے اس کی آواز سنی "راجہ میری باتوں پر غور کرنا ۔۔۔۔۔تمہاری اگر جیوتی سے کوئی ان بن تھی تو اسے بھول جاؤ ، یہاں مہاراج کی چلتی ہے ۔۔۔اور جیوتی ان کی فقط اک غلام ہے ۔۔۔۔۔تمہیں ایک سے ایک حسین چہرے یہاں مل جائیں گے ۔۔۔۔بس تم ایک بار ساتھ رہنے کی ہامی بھر لو ۔۔۔۔۔۔"۔
میں نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا اور پلٹ گیا۔۔۔۔۔کھڑکی نما دروازے تک پہن کر رکا ۔۔۔اور میری گونجدار آواز اس چھوٹے سے کمرے میں گونج اٹھی ۔۔۔" اپنے وطن کے خلاف کام کرنے سے بہتر ہے کہ میں اسی قیدخانے میں رہوں "۔۔۔۔اورکھڑکی میں بیٹھتے ہوئےپاؤں باہر لٹکا دیا۔۔۔۔۔غلام میرا انتطار کر رہا تھا۔۔۔۔۔شاید اسے یہی ٹائم بتایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔میں اسی طرح زنجیروں کی چھن چھن میں واپس اپنے قید خانے میں پہنچا ۔۔۔۔۔میری نگاہیں چاروں طرف گھومتی ہوئی راستوں کو جانچ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔غلام نے مجھے سلاخوں سے اندر دھکیل دیا ۔۔۔اور تالا لگا کر واپس چلا گیا ۔۔۔
اس کے جاتے ہی میں حرکت میں آ گیا۔۔۔آج رات جو میں نے دیکھا تو وہ کم بیش وہی منظر تھا جو خواب میں دیکھا تھا۔ ۔۔۔آگ جلا کر ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگ ۔۔۔۔۔جو کالے جادو اور شیطان کی پوجا کر کے نیک لوگوں کے خلاف کام کرتے ہیں ۔۔۔۔اور اچانک جس نے مجھے پیچھے کھینچا تھا۔۔۔وہ ساحرہ ہی تھی۔۔۔۔میں نے اپنا منہ کھولا ۔۔۔اور ہئر پن نکال لیں ۔۔۔۔یہ پن مجھے ساحرہ کے کمرے میں ہی نظر آئیں تھیں ۔۔اٹھتے ہوئے جب میں مشروب پینے گیا تو یہ بھی میرے منہ میں منتقل ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔۔اور مجھے پوری امید تھی کہ قید خانے اور زنجیر ےکے تالے اس سے کھل جائیں گی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے پن نکال کر ہاتھ میں بندھی زنجیروں کے گرد ایسے موڑ دیں کہ کسی بھی وقت دوبارہ میرے ہاتھوں میں آ جائیں ۔۔۔۔۔اس کے بعد کچھ دیر سونے لیٹ گیا۔۔ابھی رات کی کافی نیند باقی ہی تھی۔۔۔۔۔
میری آنکھ کھلی تو شام ہونے کو تھی ۔۔۔۔۔۔صبح کا ناشتہ آیا ہوا تھا۔۔مگر میرا کھانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔صبح پئے گئے مشروب کی عجب تاثیر تھی ۔۔۔۔میں ابھی تک فریش محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔کئی دنوں کی بھوک اور کمزور ی ایسے غائب ہوئی تھی جیسے کبھی تھی ہی نہیں ۔۔۔۔اب یہ مجھے پتا نہیں تھا کہ اس کا اثر کب تک رہنا ہے ۔۔۔۔میں نے قید خانے میں لگائی گئی لکیر میں سے ایک لکیر اور کم کر دی ۔۔۔۔۔میری زندگی کی ایک لکیر اور کم ہو گئی تھی۔۔۔۔اورپرسوں کا دن میری بھینٹ کا دن تھا۔۔۔۔
میں ابھی واپس ٹیک لگا کربیٹھنے والا تھا کہ مجھے ڈھول کی آواز آئی ۔۔۔بلند آواز کے ساتھ بجنے والے ڈھول۔۔۔۔اور ساتھ وہی گھنٹی کی آواز کے ساتھ کوئی اشلوک پڑ ھ رہا تھا۔۔۔میں چونک پڑا ۔۔۔۔۔یہ آوازیں تو آدھی رات کے بعد شروع ہوتیں تھیں ۔۔۔۔۔۔مگر آج سرشام ہی شروع ہو گئیں۔۔۔۔اتنے میں میرے پیچھے آہٹ ہوئی ۔۔۔دونوں قوی ہیکل غلام میری طرف چلتے ہوئے آرہے تھے ۔۔۔قریب آ کر انہوں نے میری زنجیریں کھولیں ۔۔۔۔۔اور مجھے لے کر چلتے ہوئے جانے لگے ۔۔۔۔۔وہی جگہ جہاں مہاراج اور دوسرے لوگوں بیٹھا کر تے تھے ۔۔۔۔۔ میرے بدن میں چستی آ گئی تھی۔۔۔۔۔مگر میں ایسے ہی کمزور قدم اٹھاتا ہوا چلنے لگا۔۔۔ڈھول کی آواز تیز ہونے لگی ۔۔۔۔۔ساتھ ہی میرے دل کی دھڑکن بھی ۔۔۔۔۔ڈھول کی آواز ایسی ہی تھی کہ دل کی دھڑکن کے ساتھ میچ ہو رہی تھی ۔۔۔۔اور ہر آواز کے ساتھ ہی عجیب سی سنسنی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اتنے میں ہم اس ہال میں داخل ہوگئے ۔۔۔۔۔آج مہاراج نیچے زمیں پر اترا ہوا تھا۔۔۔۔لبادے کی جگہ اس نے ایک دھوتی باندھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔اور سیاہ مکروفریب سے بھرے ہوئے چہرے میں پہلے سے زیادہ نفرت دلا رہا تھا۔گھنٹی اس کے ہاتھ میں تھی جسے وہ کچھ پڑھنے کے بعد ہلاتا۔۔۔۔۔میرے پیچھے آئے ہوئے غلام مجھے لئے اک کونے میں کھڑے ہوئے گئے ۔۔۔۔میں خاموشی سے کھڑا اوپر کا جائزہ لینے لگا۔۔جہاں یہ سب جادو کے ماہریں کی بیٹھنے کی جگہ تھی ۔۔۔۔آج وہاں کوئی بھی نہیں تھی ۔۔۔۔اور تبھی اس ہال کے دوسری طرف کوئی اندر دخل ہوا تھا۔۔۔۔یہ لبادے پہنے ہوئے تین آدمی تھے ۔۔۔۔اور ان کے پیچھےنظر ڈال کر میں حیران رہ گیا ۔۔۔۔یہ سانولی سنولی رنگت والی دلکش لڑکیا ں تھیں ۔۔۔۔جن کے بد ن پر ایک بھی کپڑا نہیں تھا۔۔۔لمبے سیاہ بال پیچھے گرے ہوئے تھے ۔۔۔چہرے معصومیت سے بھرے ہوئے تھے ۔۔۔صاف پتا چل رہا تھا کہ ابھی ابھی انہوں نے بلوغت میں قدم رکھا ہے ۔۔۔مشکل سے 14 سے 15 سال کی عمر ہو گئی ۔۔۔۔آنکھوں میں عجیب سی اداسی ۔۔۔۔۔۔لبادے پہنے ہوئے لوگوں پر نظر پڑی تو احساس ہو ا کہ یہ وہی رات والے جادو کے ماہرین ہیں ۔۔۔ایک سیاہ فام افریقن اور دوسرا انڈونیشئن تھا۔۔۔تیسرا کسی مغربی ملک کا لگ رہا تھا۔۔جبکہ ان کے پیچھے وہی غلام طرز کے دو قوی ہیکل جناتی انسان تھے۔
میں ابھی سمجھنے سے قاصر تھا کہ یہ کیا ہونے جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈھول اسی طرح بج رہا تھا۔۔۔۔۔مہاراج نے گھنٹی رکھتے ہوئے اشارہ کیا ۔۔۔لبادے والے جادوگروں نے لڑکیوں کو ایک طرف کھڑا کیا ۔۔۔اور خود ایک سائیڈ پر کھڑے ہوئے گئے ۔۔۔پیچھے والے غلام بھی ایک سائڈ پر ہوگئے ۔۔شکل صور ت میں یہ بھی میرے والے غلاموں کے ہمشکل ہی تھے ۔۔۔۔۔۔۔اچانک سے ڈھول کا انداز بدل گیا۔۔۔۔وقفے وقفے سے پڑنی والی ضرب اب ایک ردھم کے ساتھ تیز ہونے جا رہی تھی۔۔۔۔۔مہاراج نے چبوترے کے قریب رکھا ہوا پیا لہ اٹھایا ۔۔اور لڑکیوں کی جانب بڑھا ۔۔۔۔۔پیالے میں کوئی سرخ سیال مادہ تھا۔۔۔۔۔مہاراج نے بلند آواز میں کچھ پڑھتے ہوئے اس میں انگلی ڈالی ۔۔۔اور پہلی لڑکی کے ماتھے پر نشان لگایا۔۔۔۔۔اس کے بعد ٹھوڑی پر ٹکا لگا تے ہوئے نیچے آ گیا۔۔۔اس کی انگلی کنواری لڑکی کے سینے پرحرکت کرتی ہوئی کچھ نقش بنا رہی تھی ۔۔اس نے پستان کے ابھار کے برابر ایک دائرہ بنایا ۔۔۔اور اوپر کچھ لکھنے لگا۔۔۔۔لڑکی کے جسم میں بے چینی شروع ہوئی۔۔۔۔۔۔مہاراج اس کے سینے پر لکھتا ہوا پیٹ تک آیا۔۔اس کی انگلی ناف کے نیچے تک آئی ۔۔۔اور لکھتے ہوئے وہ دائیں طرف گھوم گیا۔۔۔۔۔کمر پر بھی اس نے ایسے ہی لکھا ۔۔۔۔اور پھر لڑکی کو دو قدم سائیڈ پر کھڑا کرتے ہوئے دوسری لڑکی کی طرف چلا گیا۔۔۔۔یہ لڑکی بھی اسی کی ہم عمر تھی ۔۔۔مگر جسم کچھ بھرا بھرا تھا۔۔آنکھوں میں ویسے ہی وحشت تھی ۔۔۔۔مہاراج نے اس کے جسم پر بھی نقش بناتے ہوئے پہلی کے ساتھ کھڑا کر دیا ۔۔بلند آواز کے اشلوک اس کے منہ سے نکل رہے تھے۔۔۔۔ڈھول کی آواز اسی طرح بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔تیسری لڑکی بھی نشان دار ہونے کے بعد ساتھ کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔مہاراج نے یہ پیالہ رکھتے ہوئے دوسرا پیالہ اٹھایا۔۔۔۔اور تینوں لڑکیوں کوپلانے لگا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں لڑکیوں کے چہرے لال ہونےلگے ۔۔۔۔مجھے شک سا ہوا کہ یہ وہی رات والے مشرو ب کی طرف کا کوئی مائع ہے جو جسم میں ہیجان کو بڑھا دیتا ہے ۔۔۔۔۔لڑکیوں کے جسم میں پیدا ہونے والی بے چینی میرے اندازے کی تصدیق کر رہی تھی ۔۔۔
مہاراج پیچھے ہٹا ۔۔۔۔اور اس نے پھر کوئی اونچی آواز میں نعرہ لگایا۔۔۔۔۔۔تینوں جادو کے ماہریں میں سے ایک آگے بڑھا ۔۔۔۔یہ کوئی افریقن وچ تھا۔۔۔۔آگے بڑھتے ہوئے اس نے اپنے لبادے کی ڈوری کھولی دی تھی۔۔۔۔اور لڑکی کے قریب پہنچنے تک اس کالبادہ پیچھے کو ڈھلک گیا ۔۔۔۔لڑکی کے قریب پہنچ کر اس نے اسے بازؤوں میں اٹھا لیا۔لڑکی کسی گڑیا کی طرح اس کے ہاتھوں میں تھی۔۔لڑکی کے بدن سے ٹچ ہوتے ہی اس افریقن کے جسم میں بھی جنبش ہوئی ۔۔۔۔۔اس کا نیم مردہ لن جان پکڑنے لگا تھا۔۔۔لڑکی کو اٹھائے وہ چبوترے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔میں اس کے بڑے ہوتے ہوئے لن کو دیکھنے لگا۔۔۔مجھے سمجھ آ رہی تھی کہ یہاں کیا نظارہ ہونے والا ہے ۔۔۔۔۔۔۔افریقن نے چبوترے پرلڑکی کو لٹا دیا۔۔۔۔۔لڑکی کےچہرے پر عجیب سے تاثرات تھے ۔۔۔۔۔افریقن نے اپنے سختی سے تنے ہوئے لن کو دیکھا ۔۔۔۔اور ہاتھ میں پکڑتا ہوا لڑکی کی چوت پر رگڑنے لگا۔۔۔۔۔اس کا لن مزید تننے لگا۔۔۔
ڈھول کی آواز تیز ہونے لگی۔۔۔۔اور افریقن نے لڑکی کی ٹانگیں اٹھا کراپنےسینے سے ٹکا دیں اور مزید آگے بڑھ آیا۔۔۔۔۔تنا ہوا لن اب لڑکی کے ناف کے اوپر سے ہوتا ہوا پیٹ تک پہنچ رہا تھا۔۔۔لڑکی کے چہرے پر اب بھی عجیب ہی تاثرات تھے ۔۔۔متوحش آنکھوں اور لال چہرے سے وہ افریقن کو ہی تکے جا رہی تھی۔۔۔۔۔اچانک افریقن اپنے موٹے لن کو لے کر پیچھے ہٹا ۔۔۔۔او ر چوت کے لبوں پر رکھتے ہوئےایک دھکا لگایا۔۔۔۔۔۔کنواری چوت کے کنارے چرے تھے ۔۔۔۔۔اور موٹا لن اندر جا پھنسا ۔۔۔۔۔لڑکی کے منہ سے ایک دلدوز چیخ نکلی ۔۔۔۔۔ اس کا اوپری جسم ایک جھٹکے سے اٹھا۔۔۔۔منہ پر تکلیف کے بے پناہ آثار تھے ۔۔۔۔۔تبھی افریقن نے اس کے چھوٹے سے ابھاروں پر موجود نپل کو اپنی انگلی اورانگوٹھے میں پکڑتے ہوئے مسل ڈالا ۔۔۔۔۔لڑکی پھر سے چیخ اٹھی ۔۔کرب ناک آواز سے میں بھی ہل گیا تھا۔۔۔اسکی چیخ پورے ہال میں گونج گئی۔۔۔۔۔افریقن نے دوسرے دھکے میں آدھے سے زیادہ لن اندر پھنسا دیا ۔۔۔۔لڑکی بری طرح چیختے ہوئےاٹھنے کی کوشش کی میں تھی ۔۔۔۔چہرے خون کی طرح سرخ ہونے لگا۔۔۔۔۔مگر افریقن نے آگے بڑھتے ہوئے اس کی ٹانگیں خطرناک حد تک اوپر کی طرف موڑ دیں ۔۔۔۔اور خود چبوترے پر ایک ٹانگ رکھتا ہوا آگے جھکتا رہا ۔۔۔ساتھ ہی اس کی کمر نے ایک اور جھٹکا مارا ۔۔۔۔اور پورا لن لڑکی کی کنواری چوت میں پہنچا دیا۔۔۔۔لڑکی پھر سے تڑپی تھی ۔۔۔آنکھیں اوپر کی طرف ۔۔۔اور منہ کھل گیا۔۔۔۔۔ڈھول کی آواز آہستہ آہستہ کم ہونے لگی ۔۔۔۔اور وہی ہارٹ بیٹ کے انداز میں آنے لگی ۔۔۔۔
افریقن نے لن کو پیچھے کھینچا ۔۔۔۔۔اور دوبارہ سے جھٹکا دے مارا ۔۔۔۔۔۔کالے سیاہ ناگ جیسے لن پر خون کے قطرے تیر رہے تھے ۔۔۔۔۔جو لڑکی کی چوت سے نیچے بھی گر رہے تھے ۔۔۔۔۔مگر افریقن کو کسی بات کی پروا ہ نہیں تھی ۔۔۔۔اس کے جھٹکے لمحہ بہ لمحہ تیز ہونے لگا۔۔۔۔۔ساتھ ہی لڑکی کا جسم بھی چبوترے پر گھسٹنے لگا۔۔۔۔۔لڑکی مستقل درد بھرے انداز میں چلا رہی تھی۔۔۔اذیت اس کی آواز میں نمایا ں تھی۔۔۔۔۔میں نے باقی لڑکیوں کی طرف دیکھا ۔۔۔اور حیران رہ گیا۔۔۔۔۔۔ ا ن کے چہرے پر خوف کے آثار کے بجائےحیرت تھی ۔۔۔۔۔پھر مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کسی جادہ کے زیر اثر ہی ہیں ۔۔۔۔۔۔جو انہیں بھاگنے کے بجائے رکنے پر مجبور کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔افریقین نے لڑکی کے بازو کو پکڑ کر اسے اٹھا لیا۔۔۔۔اور اپنے لن کی سوار ی کروانے لگا۔۔۔۔۔۔۔لڑکی کی آواز اب بیٹھنے لگی ۔۔افریقن نے اپنے لن پر اسے اچھالنا شروع کر دیا ۔۔۔۔لڑکی کی ٹانگیں افریقن کے کندھے پر ٹکی ہوئی تھی ۔۔۔۔اور اوپر بدن بھی افریقن کے بازؤوں میں تھے ۔۔۔نیچے سے اس کا موٹا لن تیزی سے کنواری چوت میں گھس نکل رہا تھا۔۔۔۔لڑکی بے دم سی ہو رہی تھی ۔۔۔ایسے لگا جیسے وہ فارغ ہوئی ہو ۔۔۔۔۔اتنے میں افریقن نے اسے واپس چبوترے پر لٹا دیا۔۔۔۔۔۔۔اور دھکے تیزی سے پیلنے لگا۔۔۔۔۔اتنے میں مہاراج نے تیسرے غلام کو کوئی اشارہ کیا ۔۔۔۔وہ چلتا ہوا چبوترے کے قریب آیا۔۔۔اور قریب پڑی ہوئی تلوار اٹھا لی ۔۔۔
میرے جسم میں تھرتھری سی دوڑگئی ۔۔۔۔۔۔۔یہ یقینا اس لڑکی کی گردن اڑا نا چاہ رہا تھا۔۔۔۔افریقن کے دھکے اب ہلکے ہونے لگے ۔۔۔۔ساتھ ہی اس نے لڑکی کو سیٹ کرتے ہوئے اس کی گرد ن چبوترے سے نیچے لڑھاکا دی ۔۔۔۔۔غلام کے ہاتھ تلوار کو تھامے ہوئے اٹھ چکے تھے ۔۔۔۔۔
میری سانسیں رکنے لگیں ۔۔میرے سامنے ایک معصوم کی جان جانے والی تھی ۔۔۔اور اگر میں کچھ نہ کر تا تو ہمیشہ افسوس رہتا ۔۔۔میں نے پیچھے کھڑے ہوئے غلاموں کو دیکھا ۔۔۔جن کے ہاتھوں میں میری زنجیریں تھی۔۔اور ایکشن کے لئے تیار ہو گیا۔۔۔پیچھے جھانکتے ہوئے میں نے اپنے جسم کو ہوا میں اچھالتے ہوئے پیچھے کی طرف دونوں ٹانگیں ماریں۔۔۔۔۔ان کی نظر میں میری جسمانی حالت اس قابل نہیں تھی۔۔۔۔۔کہ میں ایسی حرکت کرتا ۔۔۔میں اتنا اچھلا تھا کہ دونوں ٹانگوں ان کے چہروں پر پڑیں ۔۔جیسے ہی میری زنجیریں ان کے ہاتھوں سے نکلتی۔۔۔ میرا ارادہ آگے کی طرف لوٹ لگانے کا تھا۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔میری دونوں کک ان کے چہروں پر پڑی ۔۔۔۔مجھے لگا جیسے کسی سخت چٹان پر پاؤں دے مارا ہو۔۔ بجائے یہ کہ زنجیریں ان کے ہاتھوں سے چھوٹتی ۔۔۔۔میں جھول گیا ۔۔۔۔ساتھ ہی ایک غلام کا مکہ میرے سر کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔آنکھوں کے آگے تارے سے ناچے اوراور ہوش سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔
ہوش آیا ۔۔۔تو اپنے قید خانے میں تھا ۔۔۔۔سر میں ٹیسیں اٹھ رہیں تھیں۔۔۔۔میں جلدی سےاٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔آدھی رات کا وقت تھا۔۔۔کھانا ساتھ رکھا ہوا تھا۔۔پیالہ اٹھا کر اپنے سامنے رکھا ۔۔۔مگر کھانے کی ہمت نہ ہو سکی ۔۔۔وہی تلوار اور لڑکی کی چیخیں میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔۔۔میں نے پیالہ سائیڈ پر کھسکا دیا۔۔۔اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔میرے پا س آج کل آخری رات تھی ۔۔۔۔۔آج رات یہ خونریزی دیکھ کر میری دل قلابازیاں کھا رہا تھا ۔۔۔۔۔میں نے پنیں نکال کرسیدھی کرنی شروع کر دیں ۔۔۔۔۔اب یہاں رکنا محال تھا۔۔۔بس اس پہاڑی عمارت سے کسی طرح باہر نکلنا تھا۔۔۔۔پن سیدھی کر کے ایک میں نے ہک کی شکل میں بنا لی۔۔۔۔اور دوسری پن میں ہلکی سی لہریں بنادیں ۔۔۔۔دونوں پنیں پہلے پاؤں کی بیڑیوں میں داخل ہوئی ۔۔۔۔میری سماعتیں اور ہاتھ کی جنبش پنوں کو ٹکراتے ہوئے محسوس کر رہی تھی ۔۔۔کچھ ہی دیر میں کلک کی آواز ابھری ۔۔۔۔اورپاؤں کھل گئے ۔۔۔۔زنجیریں کھول کر احتیاط سے رکھی اور ہاتھ کھولنےلگا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہاتھ بھی آزاد تھے ۔۔۔۔اٹھ کر ہلکا سا وارم اپ کیا ۔۔۔خوشی سے میرا بد ن جھوم اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔اس کے بعد میں سلاخوں کی طرف بڑھا ۔۔۔
سلاخوں کا تالہ اس سے بھی ہلکا ثابت ہوا ۔۔۔۔آخری رکاوٹ کو عبور کر میں باہر ہال میں آ گیا۔۔۔۔
چند دنوں کی قید میں مجھےاس عمارت کا کافی حد تک اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔میرے قید خانے کے دائیں طرف وہی ہال تھا جہاں میں کل شام تھا۔۔۔اور بائیں طرف اوپر کی طرف رہائشی کمرے تھے ۔۔۔میں تیزی سے سامنے کی طرف بڑھا ۔۔۔میں چاروں طرف دیکھتا ہوا دبے قدموں بڑھتا جا رہاتھا ۔۔۔ساحرہ نے مجھے بتا دیا یہاں پر کیمرے وغیرہ کچھ نہیں ہیں ۔۔۔صرف مہاراج ہی ٹرانسمیٹر اور موبائل استعمال کر سکتا تھا۔۔۔۔۔میں تیزی سے باہر کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔ہال کے کونے پر راہداری تھی ۔۔جسے کے آخری سرے پر باہر کا دروازہ تھا۔۔۔۔میں نے روشنی دیکھی اور خوشی سے راہداری پر قدم رکھ دیا۔۔۔۔اگلے ہی لمحے میرے جسم میں آگ بھڑک اٹھی ۔۔۔میرے منہ سے ہلکی سی کراہ نکلی ۔۔۔۔۔میں نیچے گرا اور لوٹ پوٹ ہونے لگا۔۔۔تیز ہوتی ہوئی حرارت مجھےکراہنے پرمجبور کر رہی تھی ۔۔پھر میں نے لوٹ پوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ آگے کا سفر بھی شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔آگ آہستہ آہستہ بجھنے لگی ۔۔۔دھواں کے ساتھ ساتھ مجھے جسم میں تیز جلن کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔جیسے جیسے دروازے کے قریب ہوتا گیا۔۔ٹھنڈی ہوا میرا استقبال کرنے لگی ۔۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں جمپ لگاتا ہوا میں باہر آ گیا۔۔۔۔۔چاروں طرف جنگل تھا۔۔۔۔جس کے درمیان یہ عمارت تھی۔۔میں نے چاروں طرف کا جائزہ لیا۔۔۔اورپھر ایک طرف دوڑ لگا دی۔۔۔۔مجھے جلد از جلد اس عمارت سے دور ہو نا تھا۔۔۔۔ابھی چند قدم ہی بھاگا تھا۔۔کہ پیچھے سے کسی کے ہنسنے کی آواز آئی ۔۔۔۔۔آواز سو فیصد نسوانی تھی ۔اور لوچ سے بھرپور تھی۔۔۔مگر اسوقت مجھے بہت زہر لگی ۔۔۔میں تیزی سے مڑا ۔۔۔۔اور سفید ریشمی لبادے پہنے ہوئے ایک قتالہ میرے سامنے تھی ۔۔۔ابھی آگے بڑھنے یا دوبارہ بھاگنے کا سوچ ہی رہا تھا۔۔۔کہ اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں میری طرف اٹھ گئیں۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی کچھ سائے میری طرف لپکے ۔۔۔۔۔۔مٹیالی رنگت کے انسانی شکل جیسے دھواں والے سائے میری طرف بڑھے ۔۔۔۔۔ایک لہراتے ہوئے میری پچھلی طرف چلا گیا ۔۔۔اور دوسرے دو میرے سامنے رکتے ہوئے اپنے ہاتھ میرے گلے پر رکھنے لگے ۔۔۔میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی ۔۔۔ مگر میرے ہاتھ ان کے اندر ہی گھوم کر رہ گئے ۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی ایک تیز دباؤ میرے گلے میں پڑا ۔۔۔۔۔میں کھانستا ہوا بے اختیار بیٹھتا چلا گیا۔۔۔دباؤ بے پناہ تھا۔۔۔اور چھڑوانے کی سب کوششیں بیکار ۔۔۔۔۔۔میں نے ڈوبتی نگاہوں سے سامنے دیکھا۔۔۔۔۔جہاں سفید لبادے میں خوبصورت چہرہ بڑی دلچسپی سے مجھے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔میں زمیں پر لوٹ پوٹ ہو نے لگا۔۔۔مگر سانس گلے میں اٹک چکی تھی ۔۔۔آنکھیں باہر ابھر آئی تھیں۔۔۔۔تبھی اس لڑکی نے میری طرف بڑھے ہاتھوں کو پیچھے کھینچا ۔۔۔۔۔اور دباؤ کچھ کم ہوا ۔۔۔۔سانس کی ایک رقیق سے لہر میرے پھیپھڑوں میں داخل ہوئی۔۔۔۔۔جان میں جان آئی ۔۔۔۔اورمیں تیزی سے سانس اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔
۔"اتنا آسان سمجھا تھا کہ یہاں سے بھاگ جاؤ گے ۔۔۔۔۔"۔۔۔ لڑکی کے ہنسنے کے بعد دوسری آواز میرے کانوں میں پڑی تھی۔۔
مجھے دوسری زندگی مل گئی تھی ۔۔۔۔۔میں گلےکو مسلتا ہوا اٹھا اور کھڑا ہو گیا۔۔۔۔آنکھوں کے آگے تارے اب تک ناچ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔میں نے دوبارہ سے نگاہیں اٹھاتے ہوئے اس ہوش ربا حسن کو دیکھا ۔۔۔۔ جو تیزی سے میرا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔۔۔ساتھ ہی اس نے کچھ پڑھتے ہوئے مجھ پر پھونکا ۔۔۔۔اور میں دوبارہ سے زنجیروں میں مقید ہو گیا۔۔۔۔۔یہ پہلے جیسی ہتھکڑیاں تھیں ۔۔۔جو میرے ہاتھوں کو ساتھ جوڑتے ہوئے باندھ چکی تھیں۔۔۔۔۔اور پھر مجھے اپنے پیچھے چلنے کا اشارہ کر کے وہ لڑکی آگے کی طرف چل پڑی ۔۔۔۔۔
۔"تو تم ساحرہ کے قابو بھی نہیں آئے ۔۔۔۔لڑکی نے پیچھے مڑتے ہوئے کہا اور دوبارہ چل پڑی ۔۔
میں کچھ چونکا ۔۔۔۔اسے رات والےقصے کا پتا تھا جو میری رات ساحرہ کے پہلو میں گذری ۔۔۔۔۔۔اور پھر دوبارہ سے اس لڑکی کی آواز گونجی ۔۔
ساحرہ نے تمہارا پہلو بھی گرم کیا ۔۔۔مگر تم نے اس کے باتوں کا کوئی اثر نہیں لیا ۔۔۔۔اس کا مطلب ہے کہ کافی تیز ہو ۔۔۔۔
لڑکی مجھے لیتے ہوئے اسی قیدخانے میں لائی تھی۔۔۔اور دروازے پر رکتی ہوئی مجھے اندر داخل ہونے کا اشارہ کرنے لگی۔۔۔میں سوچ چکا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔
چہرے پر حیرت اور معصومیت لاتے ہوئے میں اس کے سامنے سے گذرا ۔۔۔اور سلاخوں میں جا کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔چہرے پر سوالیہ انداز نمایا ں تھا۔۔۔۔
جسے لڑکی نے بھی دیکھ لیا۔۔۔اور اس کے خوبصورت لب حرکت میں آئے ۔۔" میرا نام شارا ہے ۔۔" ۔۔میں گریٹ اسرائیل سے ہوں ۔۔۔اور کبالہ جادو کی ماہر ہوں ۔۔۔۔
وہ اپنی نیشنلٹی نہ بھی بتاتی تو میں اس کے آواز کے غرور کو پہچان سکتا تھا۔۔۔۔دنیا میں کوئی اور قوم خود پر اس سے زیادہ فخر اور غرور نہیں کر سکتی ۔۔۔۔
میں اس سے مرعوب ہو چکا تھا۔۔۔۔۔اور شارا نے بخوبی میرے چہرے پر مرعوبیت کے آثار دیکھے تھے ۔۔۔
میں دوبارہ بولا۔۔۔" تو تم بھی ساحرہ کی طرح یہاں پر کنٹریکٹ پر آئی ہو ۔۔۔"۔۔۔
شارا کے چہرے پر کبیدگی آئی ۔۔۔۔" میں کنٹریکٹ پر کام نہیں کرتی ۔۔۔۔مجھے اپنے کام سے یہاں بھیجا گیاہے ۔۔۔۔تمہارے ملک سے زیادہ نفرت ہمیں کسی سے بھی نہیں ۔۔۔اور اس لئے ان لوگوں کو تیار کرنے یہاں آئی ہو ۔۔۔۔۔"۔
میں سمجھ رہا تھا کہ یہ بھی اسرائیلی انٹیلی جنس کی طرف سے بھیجی گئی ہے ۔۔۔ہمارے ملک کے خلاف انڈیا اسرائیل گٹھ جوڑ کب چھپا ہوا تھا۔۔۔۔شارا اپنی شان میں مزید کچھ کہے جارہی تھی ۔۔۔۔مگر میرا دماغ کہیں اور جا اٹکا ۔۔۔۔میرا خواب پورا ہو چکا تھا۔۔۔میں نے اپنی طرف جو سائے لپکتے ہوئے دیکھے تھے ۔۔۔۔وہ شارا ہی کے غلام تھے ۔۔عمراں صاحب کا مسکراتا ہوا چہرہ میرے سامنے اور کانوں میں ان کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔۔۔۔مجھے آزمائش کے لئے تیار رہنے کا کہا تھا۔۔۔۔ساتھ ہی یقین کی قوت کو اپنے عروج پر پہنچانے کی ضرورت تھی ۔۔وہی میرے رہائی کی پہلی کڑی تھی۔۔۔ساتھ ہی اچھے لوگوں کی مدد بھی آنی تھی جو ان تاریک اور سیاہ جادو کے خلاف تھے ۔۔۔۔۔۔مجھے پاکی کی ضرورت تھی ۔۔۔مگر یہاں پر پاکی کیسے ہو ۔۔۔۔یہ سوال میرے اندر گونج گیا۔۔۔۔
میں تیزی سے خیال سے نکال کر حال میں پہنچا ۔۔۔۔۔۔شارا اسی طرح کہنے میں مصروف تھی۔۔۔" کیا تم میری تھوڑی سی مدد کرو گی۔۔۔۔"۔۔میں اسے ٹوکتے ہوئے بولا ۔۔
شارا چونکی ۔۔۔اور پھر دیکھنے لگی جیسے پوچھ رہی ہو کیسی مدد۔۔۔۔۔۔۔" میں بولا ۔۔میں یہاں قید خانے کے واش روم استعمال کر کے تھک چکا ہوں۔۔۔۔ایک بار باہر جنگل میں کھلے میں جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
شارا کا چہرہ ایک دم ہلکا ہوا ۔۔۔۔جیسے اسے میری خواہش جان کر مایوسی ہوئی ہو ۔۔۔۔۔میں نے دوبارہ سے نرم لہجے میں اس کی منت کی ۔۔۔۔۔وہ کچھ دیر مجھے ٹٹولتی رہی ۔۔۔اور پھر باہر آنے کا اشارہ کر دیا۔۔۔۔میں اس کے پیچھے چلتا ہوا باہر پہنچا ۔۔۔۔۔ایک طرف اونچے ٹیلا میرے سامنے تھا ۔۔۔میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چل پڑا ۔۔۔۔پیچھے سے شارا کی آواز آئی ۔۔میں زنجیریں کھول رہی ہوں۔۔۔۔اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ بھاگ پاؤ گے تو یہ ناممکن ہے ۔۔۔۔یہ پورا جنگل ہمارے حصار میں ہے ۔۔۔نہ کوئی جا سکتا ہے نہ کوئی آ سکتا ہے ۔۔۔۔" ۔۔ساتھ ہی میرے ہاتھوں سے زنجیریں غائب ہو گئیں۔۔
میں سکون سے چلتا ہوا ٹیلے کے پیچھے پہنچا ۔۔۔۔مجھے غسل کی ضرورت تھی ۔۔۔۔مگر ایک امید تھی کہ میں مٹی سے پاکی حاصل کر لوں گا۔۔۔۔یہاں پانی کم از کم میرے اختیار میں نہیں تھا ۔۔۔۔میں تیزی سے چلتا ہوا ایک اونچے مٹی کےپتھروں کے قریب پہنچا ۔۔۔۔اور ہاتھ مارتے ہوئے جھاڑ کر اپنے چہرے پر ملنے لگا۔۔۔۔اس کے بعد دونوں کلائیوں تک مٹی ملی ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں میرا عمل مکمل ہو چکا تھا۔۔۔۔میں خود کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔۔میں اٹھتا ہوا ٹیلے کے پیچھے سے نکلا ۔۔۔۔اور چلتاہوا شارا کے سامنے پہنچا ۔۔۔۔جو دونوں ہاتھ سینے پر باندھے مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔۔نگاہیں میرے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔۔۔میرے چہرے کا سکون اسے کچھ پریشان کر رہا تھا۔ وہ مجھے گھورتی ہوئی واپس قید خانے میں جانے کا کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔مگر میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔۔۔مجھے اپنے یقین کا امتحان لینا تھا۔۔۔۔اپنی قوت ارادی کو آزمانا تھا۔۔۔اپنے اورا کے زریعے اس جادو کی سیاہی کو روکنا تھا۔۔۔اور میں اس کے لئے تیار تھا۔۔۔
شارا دوبارا سے تیز لہجے میں غرائی ۔۔۔۔۔"۔۔چلو واپس تمہارا کام ہو گیا ہے ۔۔۔۔"۔
مگر مجھے اتنی جلدی نہیں تھی ۔۔۔۔اور تبھی شارا نے دوبارہ سے اپنی انگلیاں تیزی سے میری طرف جھٹکیں ۔۔۔۔۔۔میری طرف آگ کا ایک گولا لپکا ۔۔۔۔۔تیز حدت اور سنناتی ہوئی آواز کے ساتھ میری طرف بڑھا ۔۔۔۔۔مگر میں بڑے سکون سے شارا کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔جو خود بھی جل اٹھیں تھی۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی میرے ارد گرد ایک خوشبودار مہک سی آئ ۔۔۔یہ رات کی رانی کے مشابہہ نہایت ہلکی سی خوشبو تھی۔۔۔۔ساتھ ہی میرے کانوں میں ایک خوبصورت سی آواز آئی ۔۔" بے فکر رہو ۔۔۔یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ پائے گی ۔۔۔۔" ۔۔۔۔
اس آواز نے مجھے مزید تازہ دم کر دیا تھا ۔۔۔۔۔آگ مجھ تک پہنچی تھی ۔۔۔اور سامنے آتی ہوئی ایسے مٹنے لگی جیسے سامنے سے کوئی اس بجھا رہا ہو ۔۔۔۔۔
شارا جھٹکا کھا چکی تھی ۔۔۔اور اب اس کی انگلیوں سے سائے نکلے تھے ۔۔۔۔۔۔جو میر ی طرف بڑھے تھے ۔۔۔۔اور یہی وقت تھا جب میں نے اپنے قدم بھی آگے بڑھا دئے ۔۔۔۔سائے میرے گرد آکر مجھے پکڑنے کی کوشش میں مصروف تھے ۔۔۔۔مگر جیسے میں انہیں نہیں پکڑ سکتا تھا۔۔۔وہ بھی نہیں پکڑ سکتے تھے ۔۔۔۔۔میں چلتا ہوا شارا کے قریب آیا ۔۔۔۔اور اس کےگلے میں ہاتھ ڈال دیا ۔۔۔۔۔بدلے کا وقت آ چکا تھا۔۔۔شارا نے کچھ پڑھتے ہوئے مجھ پر مزید پھونکا ۔۔۔۔یہ نیلی آگ جیسی کوئی چیز تھی ۔۔۔۔۔جو حدت میں سرخ آگ سے کہیں زیادہ تھی ۔۔۔۔۔اور مجھ پر گرتی ہوئی میرے پورے کپڑے غائب کر چکی تھی ۔۔۔میرے جسم پر پہلے کے جیسے کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔۔میں بجلی کی سی تیزی سے شارا کی طرف لپکا۔۔۔اس کے بعد میں مخصوص انداز میں تیرتا ہوا اس کےپہلو میں آیا ۔۔۔۔میرا بازو اس کے گلے میں گھومتا ہو ا سیٹ ہو نے لگا۔۔۔۔شارا کے پیچھے آتے ہوئے میں نیچے بیٹھنے لگا۔بازو شارا کی گردن کے گرد لپٹ چکا تھا۔۔۔بازو میں پھنسی ہوئی شارا کی گردن بھی ساتھ آئی تھی۔۔۔۔نیچے بیٹھتے ہوئے ایک کٹک کی آواز آئی ۔۔۔۔۔اور شارا بے جان ہو کر گر گئی۔۔۔میرے ملک کے ایک دشمن کا خاتمہ ہو چکا تھا۔۔۔مگر اب مہاراج اور اس کے غلاموں کے ساتھ جادوگروں کا ایک گروپ بھی تھا۔۔۔میں تیزی سے اٹھا ۔۔۔اور شرما گیا۔۔۔۔۔کپڑے غائب تھے ۔۔۔شارا کے جسم سے سفید لبادے کو اٹھاتے ہوئے میں نے پہنا۔۔۔۔۔اب دور سے میری شناخت مشکل تھی ۔۔۔میں انہی کے جیسے لباس میں تھا۔۔
اتنے میں میرے کانوں میں وہ پہلی جیسی آواز آئی ۔۔۔واپس قید خانے میں جا کر خود کو قید کر لو ۔۔اور اپنی پاکی کو برقرار رکھنا۔۔۔ورنہ ہم کوئی مدد نہیں کر سکیں گے ۔۔۔
میں نے جلدی سے پوچھا ۔۔کہ تم لوگ ہو کون ۔۔۔۔ ساتھ ہی قید خانےکی طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔
۔" جیسے آدم زاد مٹی کی مخلوق ہے ۔۔۔۔ہم آگ سے بنے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔کہیں صدیوں سے اسی جنگل میں تھے ۔۔۔۔۔ان کالے جادو کی وجہ سے ہمارے جنگل کا امن خراب ہوا۔۔۔۔"۔۔باقی باتیں تمہیں عمران صاحب بتادیں گے۔۔۔
میں کسی خواب میں چلتا ہوا واپس آیا تھا۔۔۔۔اور خود کو قید خانے میں بند کرتا ہوا لیٹ گیا۔۔۔۔اب کل کا دن کیا دکھائے ۔۔۔کسے پتا تھا۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پوجا کھینچتے ہوئے عاصم کو لئے اپنے کیبن میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔عاصم کا دوسرا ہاتھ چیتے کے ہاتھ میں تھا۔۔تینوں ایک لائن میں کیبن کے اندر پہنچے ۔۔۔۔۔یہ دو لمبائی کے رخ پر بنی ہوئی سیٹوں کا ایک کیبن تھا۔۔۔درمیان میں چھوٹی ڈائننگ ٹیبل ۔۔۔۔اوپر کی طرف ایک ایل سی ڈی لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ایک سیٹ پر ایک خوبصورت لڑکی پنک کلر کی شرٹ پہنے ہوئے بیٹھی تھی ۔۔چمکدار آنکھوں،قدرے صحت مند اور سیب جیسے بھرے بھرے گالوں والی وہ لڑکی یہ اچانک دو بن بلائے مہمانوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔تبھی پوجا نے تعارف کروایا ۔۔۔" یہ میری دوست کیتھرین ٹریسا ہے ۔۔۔۔میں اسے کیتھی کہتی ہوں ۔۔" ۔۔یہ ماڈلنگ اور تامل موویز میں ایکٹریس ہے ۔۔۔اور ابھی میں اسے اپنے پاپا سے ملوانے ممبئی جارہی ہوں ۔۔۔۔" ۔۔۔

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

اور پھر پوجا نے عاصم کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔۔اور یہ وہی ہیں جو شملہ میں مجھے ملے تھے ۔۔۔جن کا قصہ میں ابھی تمہیں سنا رہی تھی ۔۔۔" ۔۔
کیتھی نے مسکراتی آنکھوں سے عاصم کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور پھر اس کی نگاہیں پیچھے کھڑے چیتے پر جا ٹکی ۔۔۔۔جو پیچھے بڑے مؤدب انداز میں کھڑا تھا۔۔۔
عاصم جلدی سے بولا ۔۔میرا تعارف تو ہو ہی چکا ہے ۔۔اور ۔" یہ میرا دوست ، جگر ، راز دار سب کچھ ہے " ۔۔۔۔ہم اسے پیار سے چیتا کہتے ہیں ۔
پوجا نے عاصم کو جلدی سے اپنے سامنے والی سیٹ پر بٹھایا اور سوال و جواب کا سلسلہ شروع کر دیا۔۔۔
عاصم اتنی دیر میں اسٹوری سوچ چکا تھا۔۔۔اور شروع ہو گیا۔۔۔۔" جہاز سے کودنے کے بعد میں نے تمہیں سرپرائز دینے کا سوچا تھا۔۔۔اس لئے خاموشی سےواپس آیا ۔۔پھر پتا چلا کہ میرا دوست راجہ کہیں آگے پیچھے ہو گیا ہے۔۔۔۔ساتھ ہی پولیس کو اس پر کوئی شک ہوا تھا ۔۔۔اس لئے پہلے وہ کام نبٹایا ۔۔۔۔واپس آیا تو پتا چلا کہ تم ممبئی چلی گئی ہو ۔۔۔۔اس لئے اب تمہیں ڈھونڈنے نکلا ہوں ۔۔۔۔" ۔۔اور تم ہو کہ ٹرین میں ہی مل گئیں ۔۔۔۔
عاصم جلد ہی پوجا کو رام کر چکا تھا۔۔۔۔پوجا وہی تھی جو مشہور ڈائریکٹر بھٹ کی بیٹی تھی۔۔۔۔۔اور عاصم کو اسٹنٹ کروانے میں مدد کی تھی۔۔۔۔دل ہی دل میں وہ عاصم پر فد ا تھی ۔۔۔اور عاصم بھی یہ بات جانتا تھا۔۔مگر اس وقت مشن کی وجہ سے اسے ٹائم نہیں دے پایا تھا۔۔۔
پوجا اور عاصم کے درمیاں چند جذباتی جملوں کا تبادلہ ہونے لگا۔۔۔تو کیتھی اور چیتے دونوں آپس میں متوجہ ہوگئے ۔۔۔۔دونوں مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔جھینپ رہے تھے ۔۔۔۔۔تبھی چیتے نے کیتھی سے اس کے بارے میں سوال کیا ۔۔: " میں دوبئی میں رہی ہوں ۔۔۔ہائی کالج کے بعد بنگلور میں شفٹ ہو گئی ۔۔۔کچھ عرصے تامل موویز میں کام کیا ۔۔۔اب بالی وڈ کا ارادہ ہے ۔۔" ۔ کیتھی کا بات کرنے کا انداز ایسا تھا جیسے موتی منہ سے نکل رہے ہوں ۔
واقعی آپ جیسی بیوٹی کو بالی وڈ میں ہونا چاہئے تھا۔۔۔چیتے کی بات سن کر کیتھی کی آنکھیں مزید جگمگا اٹھیں تھی۔دونوں مزید باتیں کرنے لگا۔۔۔تبھی ٹرین کی اسپیڈ کم ہونے لگی ۔۔۔۔چیتے نے چونک کر عاصم کی طرف دیکھا ۔۔۔عاصم سمجھ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ایک منٹ آنے کا کہہ کر باہر آ گیا۔۔۔
کیبن سے نکل کر وہ بوگی کی انٹرنیس کی طرف بڑھا ۔۔۔۔اور دروازہ کھول کر باہر دیکھا ۔۔۔ٹرین کسی اسٹیشن پر رک رہی تھی ۔۔۔۔عاصم کی تیز نگاہیں چاروں طرف کا جائزہ لے رہی تھیں ۔۔۔۔ابھی تک ہائی وے کی پولیس کو یہ اندازہ نہیں ہوا تھاکہ وہ ٹرین میں سوار ہو چکے ہیں ۔۔۔مگر جلدہی اسٹیشن پولیس اورآئی بی کے لوگوں سے بھرنے والے تھے ۔۔۔۔یہ چھوٹا اسٹیشن تھا۔۔ٹرین جلد ہی چل پڑی ۔۔۔عاصم گیٹ بند کرکے واپس مڑا ۔۔۔۔۔۔یہاں کوئی اس کا منتظر تھا۔۔۔نرم گرم خوشبودار جسم اس سے ٹکرا اور سمانے کی کوشش کرنے لگا۔عاصم نے بھی بانہیں کھول کرسمیٹ لیا۔۔۔۔دونوں جسم کچھ دیر لپٹے رہے ۔۔اور پھر عاصم نے پوجا کو الگ کیا ۔۔جو نم آنکھوں سے اسے ہی تک رہی تھی ۔۔۔عاصم نے دوبارہ اسے خود سے لگاتے ہوئے چوم لیا۔۔۔۔ماتھے کوچومتے ہوئے وہ آنکھوں پر آیا ۔۔۔۔اور پھر گالوں پر ہونٹ ثبت کرنے لگا۔۔ٹرین کے ہلکے ہلکے سے جھٹکے دونوں جسموں کوآپس میں ٹکرا رہے تھے ۔۔۔جوانی بے تحاشہ امڈتی ہوئی آپس میں ٹکرا رہی تھی۔۔۔۔۔۔اتنے میں پوجا پیچھے ہٹی ۔۔۔۔۔سانسیں تیز اور بکھری ہوئی ۔۔اور پھر ٹوٹے ہوئے الفاظ ا س کے منہ سے نکلے ۔۔۔"۔یہاں نہیں گھر جا کر۔۔۔ابھی کیتھی کیا سوچے گی ۔۔"۔
عاصم نے پوجا کا ہاتھ پکڑا اور واپس کیبن میں داخل ہوا۔۔۔۔اور ساتھ ہی پوجا کو معنی خیز نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔۔۔چیتا جو پہلے سامنے والی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔ابھی کیتھی کے برابر میں بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا۔۔۔۔عاصم تو چیتے کو اچھی سے جانتا تھا۔۔مگر پوجا حیرانی میں تھی کہ کیتھی تو کسی سے فری نہیں ہوتی مگر یہاں پر کیسے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی ہو جیسے سالوں سے ایک دوسرے کو جانتی ہو ۔۔۔۔۔
عاصم اور پوجا سامنے والی سیٹ پر جا بیٹھے اور خود بھی باتوں میں مصروف ہو گئے ۔۔۔۔۔،کچھ ہی دیر میں ایک اور اسٹیشن آیا ۔۔جہاں ان کے ایک گروپ نے اترنا تھا۔۔۔اور تھوڑی ہی دیر میں ممبئی اسٹیشن آ گیا۔۔۔چاروں سامان سمیٹ کر ٹرین سے اتر گئے ۔۔عاصم نے عقابی نگاہوں سے چاروں طرف دیکھا ۔۔۔اسٹیشن پر پولیس کی بھاری بھرکم نفری جمع تھی ۔۔۔ساتھ ہی انڈین فوجی بھی چوکنا کھڑے تھے ۔۔۔۔۔عاصم نے پوجا کا بیگ پکڑ تے ہوئے اس کو آگے کر دیا اور خود پیچھے اس کی اوٹ میں چلنے لگا۔۔۔۔۔۔۔رش کافی زیادہ تھا۔۔۔۔۔اس کی تیز نگاہوں نے بیگ سر پر اٹھائے ہوئے ایک شخص کو تاڑ لیا تھا۔۔۔جس نے سامنے شرٹ کی جیب میں اپنا ٹکٹ رکھا ہوا تھا۔۔۔مناسب قدموں سے چلتے ہوئے عاصم اس کے برابر آیا ۔۔اس کا ہاتھ حرکت میں آیا ۔۔دوسرے آدمی کی جیب سے ٹکٹ بڑی صفائی سے عاصم کے پاس پہنچ چکا تھا۔۔۔۔گیٹ تک پہنچتے ہوئے اس نے ایک ٹکٹ اور پیدا کر کے پوجا کے ہاتھ میں پکڑا دیا ۔پوجا نے چاروں ٹکٹ ۔۔چیکر کے ہاتھ میں ٹکٹ رکھے اوروہ چاروں باہر آ گئے ۔۔۔یہاں کا موسم قدرے گرم تھا۔۔۔پوجا نے قریبی کیب اسٹیشن پر بات کی ۔۔۔اور کیب لیتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑے ۔۔۔۔
پوجا کے پیرنٹس الگ رہتے تھے ۔۔۔۔اور پوجا کے لئے انڈیا کے تمام بڑے شہروں میں کئی شاندار بنگلے خرید کر دئے ہوئے تھے۔۔۔۔یہاں ممبئی میں بھی اس کا ایک ایسا ہی بنگلہ تھا۔۔۔جو ممبئی کےایک پوش علاقہ ڈیفنس کالونی میں تھا تھا جہاں بہت سے بالی وڈ اسٹار رہتے تھے ۔۔ممبئی سے عاصم کی بھی پرانی دوستی تھی۔۔۔راجہ کے آنے سے پہلے عاصم یہیں پر تھا ، اور راجہ کے لئے گراؤنڈ تیار کر رہا تھا ، مگر اب پوجا کے ساتھ جانے میں ہی اسے بہتری محسوس ہو رہی تھی۔۔حالات کا جائزہ لیتے ہی اس نے واپس اپنے اڈے پر آنے کا سوچا تھا۔۔۔نئے ماڈل کی کیب تیزی سے ہموار رستوں پر چلی جارہی تھی۔۔۔۔جلد ہی کیب نے انہیں ایک شاندار بنگلے کے سامنے اتار دیا ۔۔۔باہر گارڈ نے انہیں دیکھتے ہی دروازہ کھول دیا۔۔۔۔اندر داخل ہوتے ہی ایک خوبصورت لان میں سے گزرتے ہوئے اندر داخل ہوئے ۔۔۔پوجا نے چیتے اور کیتھی کو ان کے کمرے دکھاتے ہوئے عاصم کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔اور اپنے شاہانہ بیڈ روم کا دروازہ کھولتی ہوئی اندر آئی ۔۔۔ریڈ کلر کی تھیم سے سجا ہوا یہ کمرہ کسی بڑے ہال سے کم نہیں تھا۔۔۔ایک کارنر میں دو منزلہ بیڈ مشہور ڈزنی کارٹون کی تھیم میں بنا ہوا تھا۔۔۔۔سائیڈ کی الماری کسی درخت کے تنے میں بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔عاصم نے حیرانی سے چاروں طرف دیکھا ۔۔۔۔۔پوجا نے اشتیاق سے پوچھا ۔۔" کیسا لگا میرا کمرہ ۔۔۔" ۔۔عاصم نے خوش دلی سے تعریف کی ۔۔۔۔۔بہت خوب صورت ڈیکوریٹ کیا ہے ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ فریش ہو کر باہر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے ۔۔۔۔کھانا کھا کر چاروں کا آرام کا موڈ تھا۔۔عاصم اور چیتا ایک خطرناک ایکشن کے بعد اور کیتھی اورپوجا سفر کی تھکاوٹ سے چور تھے ۔۔۔۔۔پوجا عاصم کو لئے اپنے بیڈ پر جا پہنچی ۔۔۔اور دونوں ایک دوسرے سے لپٹے سونے لگے ۔۔
شام کے چار بجے تھے ۔۔۔۔عاصم کی آنکھ کھلی ۔۔۔۔پوجا اس کے پہلو میں بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔۔چہرہ کسی معصوم شہزادی کی طرح ۔۔۔۔۔سیاہ لمبے بالوں کے درمیان چمک رہا تھا۔۔۔اس سلیپنگ سوٹ میں اس کے حسن کھل کر سامنے آیا ہوا تھا۔۔۔۔سامنے سے مخروطی ابھار کسی کے دل کو بھی للچانے کے لئے کافی تھے ۔۔۔عاصم نے ایک نظر ڈالی ۔۔۔اور پھر تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔۔پہلے باتھ روم میں گیا ۔۔۔اور باتھ لینے کے بعد باہر آ گیا۔۔۔۔۔جہاں چیتا اس کا منتظر تھا۔۔پوجا سے اس کی کار کی چابی اس نے پہلے ہی لے رکھی تھی۔۔۔۔۔تیزی سے کار نکالتے ہوئے واپس اسٹیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔جہاں باقی دو گروپ بھی پہنچنے تھے ۔۔۔جلد ہی وہ اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں بیٹھا تھا۔ناصر ، وسیم اور شاکر کو اس نے جیوتی کوٹریس کرنے پر لگا دیا تھا۔۔اور۔۔۔امرتسر سے آئے ہوئے لڑکوں کو ایک جگہ بھجوا کر اب وہ چائے سامنے رکھ کر سوچ میں گم تھا۔۔۔۔کرنل سے ملنے والی معلومات کے مطابق را کا کوئی سپر نیچرل سیکشن ہے ۔۔۔۔اور جیوتی اس میں کسی اچھے عہدے پر تھی ۔۔۔۔راجہ کے گرد بنایا ہوا جال اسی کا تھا۔۔یہ سیکشن را کے باقی سیکشن سے کافی مختلف تھا۔۔مہاراج نامی شخص اس کا چیف تھا ۔۔ جو انڈیا میں کالے جادو کا سب سے بڑا ماہر تھا۔۔۔اسے را نے اسپیشل ٹریننگ دے کر اس سیکشن کا چیف بنایا تھا۔۔۔۔اور اس مہاراج کی شکل و صورت اور آفس آج تک کوئی نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔چائے پیتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔چیتے کو اشارہ کرتے ہوئے دونوں ڈریسنگ روم کی طرف بڑھے ۔۔۔۔۔۔شیشے کے سامنے بیٹھتے ہوئے دونوں نے کام شروع کر دیا ۔۔۔۔۔درازوں سے میک اپ کا سامان نکلنے لگا۔۔۔اور سامنے ڈھیر ہوتا گیا ۔۔۔دونوں کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے ۔۔رنگت ہلکی سی تبدیل ہونے کے بعد۔۔ داڑھی ان کے چہروں پر چسپاں ہونے لگی ۔۔۔۔۔بھاری مونچھیں نے چہرے کا کچھ حصہ اور چھپا دیا۔۔۔۔۔اور اس کے بعد ایک بڑی سے پگڑی پہن کر تیار تھے ۔۔لباس انہوں نے تھری پیس رکھا پہنا تھا۔۔۔ساتھ ۔۔۔ہاتھ میں کڑا ڈالا ۔۔۔۔اور ایک دوسرے کو جانچتی نظروں سے دیکھنے کے بعد مسکرا دئے ۔۔۔میک اپ مکمل تھا۔۔اسی میک اپ کی مناسبت سے شناختی کارڈ اور لائسنس نکالا۔ یہ ایک ریٹائر سکھ کرنل کا میک اپ تھا جو اب خالصہ تحریک میں کام کر رہا تھا۔۔۔باہر آ کر کار سٹارٹ کی ۔۔۔اور تیزی سے روانہ ہو گئے ۔۔
وہ تیزی سے سیکرٹریٹ کی طرف بڑھے جا رہے تھے ۔۔۔۔جہاں پرانڈین گورنمنٹ آفسز تھے ۔۔۔حفاظتی بیرئیر اور پولیس کے جوانوں کی تعداد بتا رہی تھی کہ وہ عام ایریا سے نکل کر آرمی میں داخل ہو گئے ۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں ایک ہائی سیکورٹی بلڈنگ کے قریب تھے ۔۔۔۔۔۔30 منزلہ یہ بلڈنگ کسی فائیو اسٹار ہوٹل کی طرح دکھ رہی تھی ۔۔۔۔مگر اندر سے را کی ایک اسپیشل میٹنگ پلیس اور ریکارڈ روم بھی تھا۔۔بلڈنگ میں داخل ہونے سے پہلے اپنی شناختی کارڈ کا اندراج کروایا ۔۔۔۔اور اندر موجود آفیسر کا حوالہ اور سیکورٹی سے بات کروانے کے بعد دونوں اندر داخل ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ایک آفس میں بیٹھے تھے ۔۔۔یہ ریکارڈ روم کے ایک اسسٹنٹ آفیسررام گوپال کا کمرہ تھا۔۔۔ عاصم نے آتے ہی انہیں کام کا اشارہ دے دیا ۔۔۔اور اب وہ چائے کی چسکیاں لینے میں مصروف تھا۔۔
کچھ ہی دیر میں رام گوپال آفس میں داخل ہوا ۔۔۔۔چائے پینے میں معلومات کا تبادلہ ہوچکا تھا۔۔۔عاصم چائے پیتے ہی اٹھا۔ اور ہاتھ ملاتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کی ۔۔" کیپٹن احسن ۔۔۔۔بہت بہت شکریہ "۔
۔یہ آفیسر آئی ایس آئی کا ہی ایک اسپائی تھا جو پچھلے بیس سال سے اس پوسٹ پر کام کر رہا تھا۔۔ہر نئے سیکشن کی رپورٹ کی کاربن کاپی عاصم اسی سے لے کر پیچھے بھیجتا تھا۔۔
پچھلے طویل عرصے سے اس سیٹ پر کام کرتے ہوئے احسن نے ایک آرمی آفیسر کی بیٹی سے ہی شادی کی تھی۔۔۔پاکستان میں اس کے بوڑھے والدین سالوں سے اس کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔مگر یہ گمنام لوگ وطن سے دور ان دیکھی لڑائی لڑنے میں مصروف تھے ۔۔۔۔۔۔رام گوپال کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے احسن کی یہی خواہش ہوتی کہ کوئی اسے اس کے اصل نام سے بھی پکارے ۔۔۔۔اور عاصم جب بھی آتا ۔۔اس کے کان میں یہی الفاظ دہرا تا ۔۔۔جو احسن کی سالوں کی تھکاوٹ اور اداسی کو فورا دور کردیتے ۔۔۔۔۔
باہر آتے ہی وہ اپنے ٹھکانے پہنچے ۔۔۔میک اپ اتارکر واپس اپنے حلئے میں آ گئے۔۔۔کچھ ہی دیر میں ناصر ، وسیم اور شاکر بھی آ گئے ۔۔۔۔اور عاصم تینوں کی رپورٹ سننے لگا۔۔۔کیپٹن احسن سے اسے جیوتی کی رہائش اورآفس کا پتا چل گیا تھا۔۔۔۔مہاراج ایک گمنا م نام ہی تھا۔۔۔سارا کام جیوتی ہی کرتی تھی ۔۔۔مزید کنفرمیشن ناصر سے ہو گئی تھی۔۔۔۔یہ راج گڑھ جہاں جیوتی اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی وہاں سے جیوتی کے پس منظر کو جانتا تھا۔۔۔اور ابھی اس کے ماں باپ کی کھوج سے یہاں کا ایڈریس نکال لایا تھا۔۔۔۔عاصم اور چیتا ساتھ بیٹھے پلان بنارہے تھے کہ اچانک چیتا بولا ۔" جگر ۔۔۔یہ جیوتی کا کام مجھ پر چھوڑ دو ۔۔۔ آج رات میں اسے تکمیل تک پہنچا دوں گا۔۔۔آپ واپس پوجا کی طرف چلے جائیں ۔۔۔ایسا نہ کہ زیادہ دیر سے اسے شک پڑ جائے ۔۔۔۔اور ابھی ہمیں مزید اس کی ضرورت ہے ۔۔"۔۔۔۔
عاصم نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔مگر تم بھی کام کرتے ہی وہاں آ جانا ہے ۔۔۔۔شاید کیتھی بھی تمہیں یاد کرتی ہو ۔۔۔۔۔ساتھ ہی آنکھ بھی دے ماری ۔۔۔۔چیتا مسکرا دیا ۔۔۔ٹھیک ہے جگر ۔۔۔۔۔بس یہ راجہ کا پتا چل جائے ۔۔۔پھر یہ سب چلتا ہی رہے گا۔۔۔۔
عاصم چیتے سے ملتا ہوا اٹھ گیا ۔۔اسے یقین تھا کہ جیوتی کا کام چیتا بخوبی کر لے گا۔۔۔۔باہر پوجا کی کار میں بیٹھا وہ واپس چل پڑا ۔۔۔۔۔راستہ اسے یاد تھا ۔۔۔تیزرفتاری سے سفر کرتاہوا وہ پوجا کے بنگلے کے سامنےپہنچ گیا۔۔۔گارڈ گاڑی پہچان کر گیٹ کھولنے لگا۔۔۔۔کار کھڑکی کر کے عاصم اندر پوجا کے بیڈ روم کی طرف بڑھا۔۔دروازہ کھول کر اند ر داخل ہو ا تو بیڈ پر کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔اتنے میں باتھ روم کا دروازہ کھلا ۔۔۔اور پوجا باہر آئی ۔۔۔تولیہ لپیٹے ہوئے ۔۔۔گیلے بالوں سے پانی کے قطرے گر رہے تھے ۔۔۔بال دائیں بائیں پھیلے ہوئے درمیان حسن کو اجاگر کررہے تھے ۔۔میک اپ سے پاک شادابی رنگت کھل کر دلوں کی دھڑکن تیز کر رہی تھی۔ریشمی سڈول رانیں ۔۔۔اور نازک پنڈلیاں نظر ہٹنے نہیں دے رہیں تھیں۔۔۔۔تولیہ حشر سامان سینے کے ابھاروں کو چھپانے کے بجائے مزید نمایا ں کر رہا تھا۔۔۔عاصم نے ایک نظر قریب آتی پوجا کو دیکھا ۔۔۔اور بیڈ پر رکھے کپڑے اس کی طرف بڑھا دئے ۔۔۔۔۔۔مگر پوجا کا کپڑے پکڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔قریب آتے ہوئے اس نے عاصم کو ہلکا سے پیچھے دھکیلا ۔۔۔۔۔اور اس کے اوپر آتی ہوئی بوسہ دینے لگی۔۔۔۔گیلے پن کے ساتھ ہی پوجا کی حیوانی مہک عاصم کے نتھنوں میں پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔۔اس کے جسم میں بھی شہوت بھڑک اٹھی۔۔۔۔تیزی سے کروٹ لیتے ہوئے اس نے پوجا کو نیچے لٹایا ۔۔۔۔اور جوابی بوسے سے حملہ کر دیا۔۔۔دونوں بے صبری سے ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے چومے جارہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔تولیہ پہلے تو بے ترتیب ہو ا۔۔۔۔۔۔اور پھر سامنے سے کھل گیا۔۔۔۔۔پوجا کی آنکھیں بند ہو گئیں۔۔۔۔۔۔مگر عاصم ۔۔۔۔۔
اس سے آنکھیں کیسے بند ہوتیں ۔۔۔۔۔۔دودھ سے بھرے ہوئے ابھار ۔۔۔۔۔پوری اٹھان کیساتھ اسے تک رہے تھے ۔۔۔۔بلا رہے تھے ۔۔۔۔دعوت دے رہے تھے ۔۔۔نپلز تھے کہ مچلے جا رہے تھے ۔۔۔ہلے جارہے تھے ۔۔۔۔مسکرائے جارہے تھے ۔۔۔۔۔۔عاصم نے اپنے گھٹنے پوجا کے دائیں بائیں رکھ کر اس طرح اٹھ گیا ۔۔۔کہ ہونٹ ابھی تک پوجا کے ہونٹوں میں پیوست تھے ۔۔۔اور دونوں ہاتھوں سے تیزی سے شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔۔۔چند ہی سیکنڈوں میں وہ شرٹ اتار کر پینٹ کو کھسکا چکا تھا۔۔۔۔۔۔اور پھر واپس پوجا کی کروٹ میں لیٹتے ہوئے اس نے باقی پینٹ بھی اتار دی ۔۔۔۔۔اور پھر پوجا کو اٹھاتے ہوئے اپنے اوپر سوار کر لیا ۔۔۔۔۔۔۔تولیہ بیڈ پر رہ گیا ۔۔۔
تنے ہوئے ممے پہلے تو لہرائے ۔۔۔۔پھر عاصم کے سینے پر آ کر دب گئے ۔۔۔۔۔۔ہونٹ ویسے ہی آپس میں پیوست ہوئے ایکدوسرے کو چوسی جا رے تھے ۔۔۔۔۔عاصم کے لن نے بھی انگڑائی لی اور درمیان میں اپنی ٹانگ اٹکانا ضروری سمجھا ۔۔۔۔پوجا ہلکے سے اچھلی ۔۔۔۔۔۔لن نے سیدھی اس کی چوت پر دستک دی تھی۔۔۔۔اور ساتھ ہی اپنی لمبائی اور موٹائی کو بڑھانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔
دونوں کے جسم لباس سے عاری تھے ۔۔۔۔۔اور ننگی حالت میں ایکدوسرے سے لپٹے ہوئے تھے ۔۔۔۔عاصم کروٹ لئے ہوئےپوجا کے اوپر آیا ۔۔۔۔جہاں اس کے موٹے موٹے ممے ابھرے ہوئے تھے ۔۔۔۔ہلکا سا نیچے کھسکتا ہوا وہ نیچے آیا ۔۔۔۔اور ایک ممے کو منہ میں دبوچ لیا۔۔۔۔اس کے دونوں ہاتھ پوجا کے ہاتھوں کو اوپر لے جا کر روک چکے تھے ۔۔۔۔۔منہ میں ممے کو دباتے ہوئے عاصم نے چوسنا شروع کر دیا تھا۔۔باری باری دونوں مموں کو چوسے جا رہا تھا۔۔۔۔۔پوجا کی آنکھیں بند ۔۔۔مگر ہلکی ہلکی سسکیاں جاری تھیں ۔۔۔۔چہرہ سرخ ہوئے جا رہا تھا۔۔۔جسم کی بے چینی بڑھنا شروع ہو گئی۔۔۔۔
عاصم کا بھی یہی حال تھا ۔۔۔۔لن تن کر کھڑا تھا۔رگیں پھول کر موٹی ہوئی جارہی تھیں ۔۔۔ٹوپا اپنی گولائی بڑھاتا جا رہا تھا۔۔۔اور پھر اس نے دونوں ہاتھ پوجا کی رانوں کے نیچے لے جا کر اسے اٹھا لیا ۔۔۔۔ساتھ ہی اوپر اٹھتا ہواپوجا کے ہونٹ پر ہونٹ رکھ دئے ۔۔۔۔۔لن پوری تناؤ کے ساتھ چوت پر ٹک چکا تھا۔۔۔۔ٹوپے چوت کے منہ کو چھپا چکا تھا۔۔۔۔پوجا نے آنکھیں کھولتے ہوئے عاصم کو دیکھا ۔۔۔۔جو اس پر پوری طرح سے آ چکا تھا۔۔۔۔۔۔اور پھر آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔لن نے چوت کی لائن کومحسوس کر کے دباؤ بڑھا دیا۔۔۔۔۔خوب پھولا ہوا ٹوپا چوت کی لائنوں کو دباتا ہوا اندر پہنچا۔۔۔۔پوجا کے منہ سے سسکی نکلی ۔۔۔عاصم نے رکتے ہوئے پوجا کے چومنا شروع کر دیا۔۔۔۔ساتھ ہی دھیرے دھیرے لن کو اندر اتارنے لگا۔۔۔۔۔پوجا کے منہ سے آہیں اور سسکیاں جاری ہو گئیں ۔۔۔۔۔ساتھ ہی عاصم نے بھی کمر اٹھائی اور لن دوبارہ سے اندر پہنچا دیا ۔۔۔۔ہلکے ہلکے سے دھکے جاری تھے ۔۔
عاصم نے اپنے پیروں کو تھوڑا پھیلاتے ہوئے واپس ایڈجسٹ کیا ۔۔۔۔۔پوجا کی ٹانگیں پھیلاتے ہوئے دائیں بائیں کر کے دونوں مموں کو تھام لئے ۔۔۔۔اور اسپیڈ تیز کر دی۔۔۔دھکے تیز ہوئے تو پوجا کی بھی سسکیوں میں تیزی اور آواز بلند ہونے لگی ۔۔۔۔۔دونوں ہاتھ عاصم کے بازؤوں پر رکھے ہوئے بے خود ہونے لگی ۔۔۔۔۔اتنے میں عاصم نے پوجا کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور اسے اوپر اٹھا لیا۔۔۔ساتھ ہی نیچے بیٹھتے ہوئے خود کو پیچھے گرا دیا ۔۔۔۔۔۔اب پوجا عاصم کے اوپر آئی ہوئی سواری کرنے کو تیار تھی ۔۔۔پہل عاصم نے ہی کی اور اوپر کو اچھالا تھا۔۔پوجا بھی عاصم کے سینے پر ہاتھ رکھتی ہوئی خود کو اوپر نیچے کرنے لگی ۔۔۔۔مگر ان سب سے تیز عاصم کا لن تھا ۔۔جو کسی پسٹن کی طرح اسپیڈ پکڑے ہوئے تھا۔۔۔۔جو کبھی تو چوت کے اندر سے ہو کر باہر آتا ۔۔۔۔اور کبھی عاصم کا اوپر ی بدن پوجا کے نچلے بدن سے ٹکرا کر اسے بھی اچھال دیتا ۔۔۔۔پوجا سواری کرتی ہوئی خود کو بھی سمبھال رہی تھی ۔۔۔۔۔عاصم نے اس کے اچھلتے ہوئے مموں کو تھامتے ہوئے اسپیڈ تیز کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پوجا گرنے لگی ۔تو جلدی سے آگے کو لیٹ گئی ۔۔۔اور گھٹنےرکھتی ہوئی کمر کو اٹھا کر اوپر نیچے کرنے لگی ۔۔۔عاصم کی اسپیڈ اور تیز ہوتی گئی ۔۔۔اس نے پوجا کی کمر پر ہاتھ لپیٹ کر اسے خود سے لپٹا لیا۔۔۔اور نیچے دھکوں کی مشین چلا دی۔۔۔۔پوجا کے پاس اب سسکنے اور آہیں بھرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں تھا۔۔۔جو بڑھتے ہوئے چیخنے کا سا انداز اختیار کر رہا تھا۔۔۔اس بات سے بے خبر کے قریبی کمرے میں کیتھی بھی موجود تھی۔۔۔
عاصم کا جوش کسی صورت کم ہونے کو نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔پوجا کی کمر پر بازو لپیٹتے ہوئے وہ اٹھ گیا۔۔۔دھکے ویسے ہی جاری و ساری تھے ۔۔۔۔دود سے بھرے ممے عاصم کے سینے پر دبے ہوئے تھے ۔۔۔۔اور اب پوجا نے اس کی کمر کے گرد اپنے پیر لپیٹ دئے ۔۔۔ 
سامنے ہی فروزن کی تھیم میں سجا ہوا چھوٹا سا کاؤچ تھا۔۔۔۔جو بیٹھنے کے ساتھ ساتھ ہلکا سا جھولتا تھا۔۔۔۔عاصم نے پوجا کے چوتڑ اس کے ساتھ ٹکائے اور دوبارہ سے دھکے شروع کرد ئے ۔۔۔۔۔اب پوجا جھولے بھی لے رہی تھی ۔۔اورآگے سے عاصم کا لن بھی ۔۔۔منہ سے سسکیاں جاری ۔۔۔۔۔آہیں بہیں جارہی تھیں۔۔۔۔۔اور عاصم کے دھکے بھی تیزی سے رواں دواں۔۔۔۔۔دونوں کی منزل قریب ہی تھی۔۔۔۔جب عاصم نے رکتے ہوئے پوجا کو گھوڑی بنایا ۔۔۔۔اور خود بھی پیچھے سے جھولے پر سوار ہو گیا۔۔۔۔دھکے پہلے سے زیادہ جاندار تھے ۔۔۔۔اور پوجا کی سسکیاں بھی بلند اور گونج دار ۔۔۔۔۔۔پوجا کی کمر پر ہلکا سا زور دیتے ہوئے نیچے دبایا ۔۔۔۔۔اوردونوں ہاتھ وہیں رکھتے ہوئے جھٹکےتیز کر دیے ۔۔۔پوجا کی منزل بھی قریب تھی ۔۔۔۔دونوں بازو نیچے ٹکا کر اس نے سر رکھ دیا۔۔۔۔۔جھٹکے تیزی سے جھولے اور پوجا دونوں کو لرزائے جارہے تھے ۔۔۔۔۔عاصم کے جھٹکے بھی آخری تھے ۔۔۔اور پھر اس نے چوت میں گیلا پن محسوس کیا ۔۔پوجا فارغ ہورہی تھی ۔۔۔۔اس کی کمر ہلکی سی اٹھی ۔۔۔۔ساتھ ہی عاصم نے بھی جھٹکے مارتے ہوئے اپنا پانی بھی چھوڑ دیا۔۔۔۔اور جھولے پر ہی ساتھ لیٹ گیا۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Share this post


Link to post
Share on other sites

قسط نمبر 9۔
عاصم کے نکلنے کے بعد چیتا حرکت میں آ گیا ۔۔۔۔۔جیوتی کا ایڈریس اس کے پاس تھا۔۔۔۔ شاکر ، وسیم اور ناصر کو تیاری کا کہہ کر وہ خود بھی تیار ہونے لگا۔۔۔۔۔ایڈریس کے مطابق اس نے سیٹلائٹ میپ کھول لئے تھے ۔۔۔۔اور تمام داخلی راستوں اور اخراجی راستے اس نے اپنے سامنے نوٹ کر نا شروع کر دئے ۔۔۔۔عاصم کی طرح ہر چیز کی پہلے سے پلاننگ کرنا اس کی بھی عادت تھی۔۔۔۔جیوتی ایک عام سی رہائش کالونی میں رہ رہی تھی۔۔۔وہاں اس کے شناخت یونیورسٹی کے ٹیچر کی تھی۔۔۔رات کے 11 بجے سے اوپر کاٹائم تھا ، جب چاروں دو بائکس لے کر نکل گئے ۔۔یہ بھی عاصم کا ہی سبق تھا ۔۔۔ایک عرصے سے شہروں میں رہتے ہوئے ان دونوں نے ہر طرح کے خطروں کا سامنا کیا تھا۔۔ اس طرح کے مشن میں بائکس ہی کارآمد ہوتیں تھیں ۔۔۔بائکس میں خصوصی آلٹریشن ان دونوں کا شوق بھی تھا۔۔اورضرورت بھی ۔۔۔دو ہونڈا 175 اپنی مخصوص آواز کے ساتھ روڈ پر آئیں ۔۔۔۔اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو گئیں ۔۔۔۔۔پندرہ منٹ کار استہ تھا۔۔۔تیز رفتاری سے فاصلہ طے کرتے ہوئے جیوتی کی کوٹھی کے سامنے پہنچ گئے ۔۔۔۔چیتے نےشاکر اور وسیم کو پچھلی طرف سے بھیج دیا۔۔۔۔اور خود سامنے کی طرف آگیا۔۔بائک اس نے کچھ پیچھے لگا دی تھی۔۔۔اور کوٹھی کے سامنے آ گیا۔۔۔۔اس کی تیز نگاہوں نے کوٹھی کے آس پاس کا معائنہ کر لیا ۔۔ہر طرف خاموشی تھی۔۔۔۔سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مست تھے ۔۔۔جیوتی کی کوٹھی دو منزلہ تھی۔۔۔جہاں اوپر ی منزل پر روشنی دکھ رہی تھی۔۔۔۔۔چیتے نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے ایک انگڑائی لی ۔۔۔۔۔اونچائی نوٹ کی ۔۔۔۔۔اور پھر تیزی سے دوڑتا ہوا دروازے کی طرف آیا۔۔۔۔قریب پہنچتے ہوئے اس نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر ٹکائے اورقلابازی کھا گیا ۔۔۔ہوا میں اس کے پیر گھومتے ہوئےدوسری طرف زمین پر لگے ۔۔۔ساتھ ہی اوپر ی جسم بھی گھومتا ہوا ایک قلابازی او ر کھا گیا۔۔۔۔۔دوسری مرتبہ ہاتھ زمیں پر رکھے تو اسپیڈ کافی تیز تھی ۔۔اب کی بار اس کا اوپری جسم نیچے نہیں آیا ۔۔۔۔بلکہ رول ہوتا ہوااونچا اچھلا۔۔۔۔۔ایک قلابازی کھائی۔۔۔اور نیچے آنے کے بجائے وہیں سے دوبارہ رول ہوا ۔۔۔اب وہ دروازے کی اونچائی کے برابر میں تھا۔۔۔۔تیسری قلابازی نے اسے دروازےکے اندر پہنچا دیاتھا۔۔اندر آتے ہوئے اس کا جسم تیرتے ہوئے نیچے بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔۔پاؤں زمیں پر لاتے ہوئے وہ بیٹھ گیا ۔۔۔اور تیزی سے رول ہوتا ہوا سائیڈ پر ہو گیا۔۔۔اس پورے عمل میں اسے تین سے چار سیکنڈ لگے تھے ۔۔۔۔کچھ دیر حفاظتی انتظآمات اور حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اس نے دروازے کی طرف ہاتھ بڑھا دیا ۔۔۔۔ناصر قریب ہی تھا۔۔۔۔لپکتا جھپکتا اندر گھس گیا۔۔۔۔ناصر نے سائیلنسر لگا پسٹل ہاتھ میں پکڑلیا۔۔۔۔اور چیتے کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔۔۔۔۔۔جو مستعدی سے اوٹ لیتا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔لاوئنج کے دروازے کے لاک کو ایک زوردار جھٹکے نے توڑ دیا تھا۔۔۔۔لاؤنج کے دائیں طرف سے سیڑھیا ں اوپر جا رہی تھیں۔۔۔۔چیتے نے ناصر کو نیچے کا چیک کرنے کا کہہ کر خود اوپر زینے چڑھنے لگا۔۔۔۔اوپر ی منزل میں اسے ایک کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہو ا۔۔۔اس نے تیزی سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔۔۔۔ساتھ ہی اس کے ہاتھ میں پسٹل نمودار ہو گیا۔۔۔۔کمرے میں کوئی نہیں تھا۔۔۔تبھی باتھ روم کا دروازہ کھلا ۔۔۔اورجیوتی تولیہ لپیٹے ہوئے باہر آئی ۔۔۔۔چیتے کو دیکھ کر ایک لمحے کے لئے چونکی ۔۔۔اور پھر ڈرے ڈرے لہجے میں بولی ۔۔۔"۔کون ہو تم ۔۔۔" ۔۔
چیتا بھی جیوتی کے حلئے سے اس کو پہچان گیا تھا۔۔۔اور بغور اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ بولا ۔۔" مس جیوتی تمہیں ہماری آمد کا یقین تو تھا۔۔۔۔مگر اتنی جلدی کوئی آئے گا۔۔۔شاید یہ نہیں تھا۔۔۔"۔۔
جیوتی نے پھر ڈرتے ہوئے کہا ۔۔۔"۔تمہیں جو چاہئے یہاں سے لے جاؤ ۔۔۔مگر مجھے چھوڑ دو ۔۔جیوتی کے لہجے میں آزمائش صاف تھی ، جیسے اس پتا ہو کہ یہ چور نہ ہوں ۔۔۔۔۔ساتھ ہی اسنے اپنے تولیہ کو حرکت دیتے ہوئے کلیویج کو ظاہر کیا ۔۔۔۔چیتے کی نگاہیں ایک لمحے کو بھی نہیں ہلی تھی۔۔۔جیوتی کی نگاہوں نے بھی دیکھ لیا تھا۔۔کہ مقابل کوئی عام شخص نہیں ہے ۔۔۔۔اس کے طوفانی بدن کے آگے جو ٹہر جائے وہ عام کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔اتنے میں پیچھے ناصر ، شاکر اور وسیم کو لے کر پہنچ گیا۔۔۔
چیتے نے دبنگ آوا ز میں کہا ۔۔۔۔تمہارے پاس صرف 2 منٹ ہیں ۔۔۔راجہ صاحب کا پتا بتا دو۔۔۔۔ورنہ جو تمہارے ساتھ یہاں ہو گا وہ نہ کسی کو دکھا سکو گی ۔۔۔ نہ بتا سکو گی ۔۔۔۔۔
جیوتی نے ایک لمحے کو چیتے کی طرف دیکھا ۔ چلتی ہوئی بیڈ کے قریب آئی۔۔اور بیڈ کے کنارے بیٹھتے ہوئے اپنےتولیہ کو ڈھیلا کیا ۔۔اور۔۔اب وہ ایک ٹانگ پر ٹانگ رکھے کر دلربائی کے انداز میں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔بولی۔" کو ن ۔۔راجہ ۔۔میں کسی راجہ کو نہیں جانتی ۔۔۔"۔۔
چیتے کے خون نے جوش مارا تھا۔۔۔۔۔اس نے آگے بڑھتے ہوئے شاکر اور وسیم کو اشارہ کیا ۔۔۔دونوں نے جا کر جیوتی کو جکڑ لیا ۔۔۔چیتے نے ناصر کی طرف مخصوص اشارہ کیا ۔۔۔ناصر تیزی سے باہر نکل گیا۔۔۔
چیتے نے سائڈ ٹیبل اور الماریوں کی تلاشی لینی شروع کر دی ۔۔کچھ ہی دیر میں وہ سب چیزیں کھنگال چکا تھا۔۔۔۔۔ادھر جیوتی اب پوری عریاں ہو چکی تھی۔شاکر اور وسیم نے اس صرف پکڑا تھا۔۔۔مگر اس نے خود ہی اپنےتولیہ کو اتار پھینکا تھا۔۔اور نہایت ہیجان انگیز انداز میں پاؤں پھیلائے بیڈ پر بکھری تھی۔۔۔تبھی چیتے کی نظر اس کے فون پر پڑی ۔۔۔۔۔مشہور کمپنی کا جدید اسمارٹ فون تھا۔۔۔چیتے نے اسے کھول کر چیکنگ شروع کر دی۔ٹچ لاک کو جیوتی کے انگوٹھے سے کھولتے ہوئے اس نے موبائل میں گھسنا شروع کر دیا۔۔۔۔اتنے میں ناصر واپس کمرے میں آگیا ۔۔نیچے کچن سے وہ چھپکلی ، لال بیگ اور اسی قبیلے کی مختلف کیڑے مکوڑے پکڑ لایا تھا۔۔۔۔سب سے پہلے جیوتی کے منہ میں کپڑا ٹھونستے ہوئے اس نے چھپکلی کی دم کو دھاگے سے باندھا ۔۔۔اور اس کے سینے پر اتار دی۔۔۔۔چھپکلی تیزی سے دائیں بائیں حرکت کرنے لگی۔۔۔۔جیوتی کے جسم نے ایک جھٹکا کھا یا ۔۔۔۔اس نے چیخ مارنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ساتھ ہی پسینہ اس کے جسم سے بہہ نکلا ۔۔۔چھپکلی اس کے سینے پر سے ہوتی ہوئی اوپر کو چڑھتی آ رہی تھی۔۔۔۔ساتھ ہی جیوتی کی حالت بھی خراب ہوتی گئی۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں اس کے کس بل نکل چکے تھے ۔۔۔۔۔۔ناصر نے کپڑا منہ سے نکالا تو وہ تیز تیز لہجے میں بولنے لگی ۔۔۔۔" اسے کسی خاص جگہ رکھا گیا ہے ۔۔۔وہاں کوئی نہیں جاسکتا ۔۔۔مجھے خود بھی وہاں آنکھوں پر پٹی باندھ کر لیا جاتا ہے ۔صرف ہیلی کاپٹرہی وہاں اتر سکتاہے۔۔میں نے صرف عمارت کی انٹرنس دیکھی ہے ۔۔۔باقی کچھ نہیں پتا۔۔"۔۔
چیتا جو اس کا اسمارٹ فون چیک کررہا تھا۔۔۔۔اس کی طرف مڑا ۔۔۔۔اور بولا ۔۔"۔جو جو معلوم ہے بتاتی جاؤ ۔۔۔باقی ہم پتا کر لیں گے ۔۔۔"۔۔۔اس کے بعد جیوتی شروع ہو گئی۔اس نے راجہ صاحب کے اغواء سے لے کر قید سب قصہ سنا دیا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں چیتے کو اندازہ ہو گیا کہ وہ سچ کہہ رہی ہے ۔۔یہاں سے دو گھنٹے کی مسافت پر کوئی جنگل نما علاقہ ہے جہاں راجہ صاحب کو رکھا گیاہے ۔۔۔"۔۔۔چیتے نے قریب رکھے ہوئے لیپ ٹاپ کو کھولا ۔۔۔اور انڈیا کا میپ چیک کرنے لگا۔۔۔۔دو گھنٹے کی مسافت میں تین سے چار ایریا آ رہے تھے ۔۔۔۔۔اچانک چیتا چونک پڑا ۔۔۔۔۔اس نے تیزی سے اسمارٹ فون میں موجود ایک پکچر کھولی ۔۔۔اور پوچھا ۔۔" یہ پکچر تم نے اسی علاقے میں لی تھی۔۔"۔
۔" ہاں آخری مرتبہ ہیلی کاپڑ کو آتے ہوئے دیر ہو گئی تو میں نے پکچر لی ۔۔۔"۔۔۔جیوتی ایسے بولی جیسے اس سوال کی سمجھ نہ آئی ہو ۔۔۔
یہ ایک سیلفی پکچر تھی ۔۔جس کے بیک گراؤنڈ میں ایک عمارت نظر آرہی تھی۔۔۔پتھروں سے بنی ہوئی یہ عمارت کم از کم چار منزلہ تھی۔۔۔۔چیتے نےقریب رکھی ہوئی ڈیٹا کیبل اٹھائی ۔۔۔اور پکچر لیپ ٹاپ پر ٹرانسفر کر دی ۔۔۔۔۔تھوڑی دیر میں پکچر کی پراپرٹیز کھولی تو خوشی سے اچھل پڑا ۔۔۔۔۔۔بے دھیانی میں جیوتی کے موبائل کا جی پی ایس آن تھا۔۔۔اور پکچر میں جیو ٹیگ ہو چکا تھا۔۔۔اس نے تیزی سے پکچر کے کوارڈینیٹ ڈھونڈنے شروع کر دئے ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں دونوں ویلیوز اس نے کاپی پیسٹ کر کے سیٹلائٹ میں ڈالی ۔۔۔سیکنڈوں میں سرچ کمپلیٹ ہوئی اور ایک میپ بنایا ہوا آگیا۔۔۔جس میں نیپال بارڈر کے قریب انڈین ایریا تھا۔۔۔جو آسام کہلاتا تھا۔۔۔۔زوم کرنے پر چیتے نے مایونگ نامی گاؤں ڈھونڈ لیا۔۔۔۔اور اب وہ اس عمارت کو سرچ کر رہا تھا۔۔جس کا جیوتی نے بتایا تھا۔۔۔۔۔جلد ہی عمارت کا ٹو ڈی ویو اس کے سامنے تھا۔۔اس علاقے میں وہی ایک بڑی عمارت تھی جو پہاڑوں کے درمیان اسی کے انداز میں بنی ہوئی تھی۔۔۔۔چیتے نے جلدی سے ایڈریس ذہن میں بٹھاتے ہوئےلیپ ٹاپ بند کر دیا۔۔۔۔۔۔اس کا پورا جسم خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔۔۔۔منزل اس کے قریب تھی ۔۔۔۔
اس نے اٹھتے ہوئے جیوتی کو دیکھا ۔۔۔جو اسے پرجوش دیکھے حیران تھی۔اور بولا ۔۔۔۔۔تو تمہیں اپنے جسم پر بڑا غرور ہے ۔۔۔۔۔جو ہر جگہ اسے پیش کرنا شروع کر دیتی ہو ۔۔۔آج تمہاری یہ خواہش بھی پوری کردیتا ہوں۔۔۔۔۔
چیتے نے ہتھیلی کے ایک وار سے لیپ ٹاپ توڑ دیا۔۔۔۔اور جیوتی کا موبائل دونوں گیس کے چولہے کو آن کر کے اوپر رکھ آیا۔۔۔۔۔۔اندر آتے ہوئے اس نے جیوتی کی گاڑی دیکھ لی تھی۔۔۔۔ناصر کو جیوتی کو باندھ کراس کی گاڑی میں ڈالنے کا کہہ کر وہ باہر نکل آیا۔۔۔۔۔تینوں کو بائک میں اڈے واپس جانے کا کہہ کروہ تیزی سے گاڑی میں سوار ہو گیا۔۔۔۔تھوڑی دیر میں اس کی گاڑی شہر کے ایک پسماندہ علاقے کی طرف دوڑ رہی تھی۔۔۔۔اور پھر اس نے ایک پل کے نیچے سوتے ہوئے سینکڑوں لوگوں کو دیکھ لیا۔۔۔۔گاڑی تیزی سے اس کی طرف گھمائی ۔۔۔۔۔ساتھ ہی لائٹ ہائی بیم کر دی۔۔ہارن پر ہاتھ بھی رکھ دیا۔۔۔۔سوئے ہوئے لوگوں کے قریب چرچرانے کی آواز کے ساتھ لائٹ پڑی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔۔۔۔۔۔چیتا کچھ دیر ایسے ہی گاڑی گھماتا رہا ۔۔۔۔یہاں تک کے سو کے قریب لوگ بیدار ہو گئے ۔۔۔یہ غریب دیہاتوں کے لوگ تھے جو مزدوری کرنے ممبئی آئے تھے ۔۔۔۔اور کام کر کے روڈ کنارے سو جاتے تھے ۔۔۔۔چیتے نے گاڑی روک کر شیشہ نیچے کیا ۔۔۔۔اور کھڑے لوگوں میں سے ایک کو بلایا ۔۔۔۔"کیا نام ہے تمہار ا ۔۔۔۔"۔چیتے نے پوچھا۔
"رمیش سرکار"۔۔۔۔۔جو اسکی عالیشان گاڑی دیکھ کر کوئی افسر سمجھا تھا۔۔
کتنے دنوں سے گھر نہیں گئے ہو ۔۔۔۔۔چیتے نے پھر پوچھا ۔۔
چار مہینے ہو گئے سرکار۔۔۔۔۔پچھلی ہولی پر گیا تھا۔۔۔رمیش گھگھیاتے ہوئے بولا۔۔۔۔
گاڑی میں اچھا مال پڑا ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔پوری رات سب مزے کرو۔۔۔۔۔ساتھ ہی گاڑی کی اندرونی لائٹ آن کر دی ۔۔رمیش نے گاڑی کے قریب آتے ہوئے اندر جھانکا۔۔۔۔
جیوتی کا گورا چٹا بھرا بھرا جسم دعوت ہی دعوت تھا۔۔۔۔۔۔رمیش نے چیتے سے پوچھ کر باقی آدمیوں کو بھی بلوا لیا ۔یہ سو سے زائد آدمی تھے ۔۔۔۔۔جو حیرانگی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔۔۔۔کچھ دیر میں وہاں میلہ لگ گیا۔۔۔۔رمیش نے چیتے کی اجازت لیتے ہوئے پچھلا دروازہ کھولا اور جیوتی کو باہر کھینچ لیا۔۔۔جس کی آنکھیں خوف کے مارے باہر آ گئیں تھی۔۔۔ہر جگہ اپنے حسن کو استعمال کرنے والی اپنی منزل کو پہنچ گئی ۔۔۔یہاں اس کے حسن کے خوب مزے ہونے والے تھے۔۔۔۔اس کے گرد لوگوں کا ہجوم تھا۔۔۔جو ایسے خوبصورت جسم کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے جو صرف ان کے خوابوں میں ہی آسکتا تھا۔۔چیتے نے رمیش کو بلاتے ہوئے جیب سے اچھی خاصی رقم نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دی ۔۔۔ساتھ پینے کے لئے بھی کچھ منگوا لو ۔۔اور پھر۔۔۔۔چیتے نے شیشہ اوپر کرتے ہوئے گاڑی گھمانے لگا۔۔۔۔کہ رمیش نے پوچھا ۔۔۔صاحب مزے کر کے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔؟
چیتے نے گلے کے قریب مخصوص انداز میں ہاتھ گھماتے ہوئے اشارہ کر دیا۔۔۔۔رمیش سمجھ گیا کہ کیا کیا کرناہے ۔دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے اس نے چیتے کی جاتی ہوئی گاڑی کو دیکھا۔۔اور خوشی خوشی بھگوان کا شکر ادا کرنے لگا جس نے اتنا تگڑا مال فراہم کر دیا۔۔۔۔آج کی رات ان سب بے گھروں کی یادگار بننے والی تھی۔۔۔

Please login or register to see this quote.

new episodes hazir hain

Share this post


Link to post
Share on other sites

چیتے نے گاڑی راستے میں چھوڑتے ہوئے کیب لی ۔۔۔اور پوجا کے گھر کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔رات کے دو بج رہے تھے ۔۔باہر گارڈ جاگ رہا تھا ۔۔۔اس نے پہچان کر دروازہ کھول دیا۔۔۔۔اند ر پہنچ کر وہ سیدھا عاصم کے کمرے کی طرف گیا۔۔۔تاکہ آج کی رپورٹ دے سکے ۔۔۔مگر کمرے کے دروازے پر پہنچ کر اس کے حساس کانوں نے اندر سے آنے والی سسکیوں اور آہوں کی آوازیں سن لیں ۔۔۔۔۔چیتا وہیں سے پلٹ گیا ۔وہ خوشی اور جوش میں تھا۔۔۔۔عاصم کا لگایا ہوا ایک کام اس نے بڑی تیز رفتاری سے مکمل کر لیا تھا۔آتے ہی پہلی خبر وہ اسے سنا نے چاہ رہا تھا۔۔۔مگر اندر اس کا دوست مصروف تھا۔۔ ۔۔اس نے کچن کا رخ کیا ۔۔۔۔بھوک سے برا حال تھا۔۔۔۔۔پھر خیال آیا کہ کیتھی نے کچھ کھایا یا نہیں ۔۔۔۔واپس اس کے روم کی طرف آ گیا۔۔۔کہ اس سے بھی پوچھ لیا جائے ۔۔۔دروازہ کھلا ہی تھا ۔۔۔۔وہ ہلکی سی ناک کر کے اندر داخل ہو گیا۔۔۔۔ساتھ ہی کوئی ہڑ بڑا کر واپس مڑا تھا۔۔یہ کیتھی تھی جو دیوار سے لگی ہوئی پوجا اور عاصم کی آواز یں سن رہی تھیں۔۔اس کے اپنے کپڑے بے ترتیب حالت میں تھے ۔۔۔شاید ابھی سو کر اٹھی تھی۔۔۔۔۔چیتے کو دیکھ کر ایک د م پزل ہو گئی۔۔۔۔چیتے نے اگنور کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔"۔تم نے ڈنر کر لیا ہے ۔۔۔یا ابھی کر نا ہے ۔۔"۔۔
۔"نہیں ۔۔۔۔ابھی کھانا کھانا ہے ۔۔۔۔پتانہیں پوجا کو کیا ہوا ۔۔۔۔سو کر اٹھی ہے تو واپس ہی نہیں آئی اب تک ۔میں اسی کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔" ۔۔کیتھی ہکلاتے ہوئے بولی۔۔
چیتا نے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔اور کچن کی طرف چل پڑا ۔۔۔
سب سے پہلے اس نے فریج کی طرف دھیان دیا ۔۔اور پھر کچن کے کیبنٹ چیک کرنے لگا۔۔۔اتنے میں کیتھی بھی اس کے پیچھے آن کھڑی ہوئی ۔چیتے نے پلٹ کر دیکھا ۔۔حسن خوابیدہ خوابیدہ تھا۔۔۔اور پڑنے والی نظر کو واپس ہٹنے نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔کیتھی ۔ابھی تک شب خوابی کے لباس میں ۔کھلے بالوں کے ساتھ اس کے پیچھے کھڑی تھی۔۔۔وہ بھی بھوک سے بے حال ۔تھی۔کیونکہ انہوں نے دوپہر میں بھی کم کھایا تھا سفر کی تھکا ن کی وجہ سے ۔۔۔اور اب رات کے تین بج چکے تھے ۔۔۔۔۔چیتے نے کیتھی سے پوچا کہ کیا کیا بنا سکو گی ۔۔۔۔" مگر کیتھی کا جواب نفی میں تھا۔بے چارگی سے بتانے لگی کہ ۔اسے کچھ بھی بنانے نہیں آتا تھا۔۔۔" ۔۔
چیتے نے نظر بھر کر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور پھر فریج میں سے جیم اور مکھن نکال کر سامنے رکھنے لگا۔۔۔۔ساتھ ہی بولا ۔۔" مس کیتھی خود کو خوش قسمت لوگوں میں شامل کر لیں ۔۔کیونکہ دنیا میں کم ہی لوگ جنہوں نے میرے ہاتھ کا ناشتہ کھایا ۔۔۔۔۔"۔"
کیتھی بھی فورا سے بولی ۔۔۔"۔ایسے لوگ بھی بہت ہی کم ہیں جن سے میں اتنے کم ٹائم میں فری ہوئی ہوں ۔۔۔۔اس لحاظ سے تم بھی خوش نصیب ہوئے ۔۔"۔
چیتا مسکرا دیا ۔۔چلو حساب برابر ۔۔۔۔۔۔ایک چولہے پر اس نے چائے رکھ دی تھی۔۔۔بریڈ نکال کر اس کے کنارے کاٹ دئے ۔۔۔فریج میں سے فروزن چکن کباب مل گئے تھے ۔۔۔۔اس نے بریڈ کو سینکتے ہوئے سینڈوچ بنانے شرو ع کر دئے ۔۔۔چکن کباب کو وہ توے پر سینکتے ہوئے بریڈ میں رکھ کر ساتھ کچھ سلاد اور مایونیز ڈال کر بند کرتا جا رہا تھا۔۔۔کچھ ہی دیر میں چائے بھی ریڈی تھی۔۔۔
کیتھی حیرت سے چیتے کو دیکھ رہی تھی۔۔لمبے بال اور نیلی آنکھوں نے اسے ایک الگ ہی کشش دی تھی۔۔۔اور اب تیزی سےاس کے چلتے ہوئے ہاتھ ۔۔جیسے سالوں سے وہ یہی کام کرتا ہو ۔۔
چائے کپ میں ڈال کر دوسری ٹرے اس نے کیتھی کو پکڑائی ۔۔۔۔سیلف سروس میم ۔۔۔۔اور پھر آگے چلتا ہوا کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔۔
بیڈ پر ہی تشریف کاٹوکرا رکھتے ہوئے دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے اور ناشتہ شروع کردیا۔۔۔دونوں کی نونک جھونک جاری رہی ۔۔۔کیتھی کے بقول اس کے ساتھ ناشتہ کرنے والا بھی خوش قسمتی کا حقدار تھا۔۔۔ناشتہ ختم ہوتا جا رہا تھا۔۔۔اس کے بعد چائےبھی سامنے آ گئی ۔۔۔جب کیتھی نے پوچھا کہ ابھی تم کہاں گئے ہوئے تھے ۔۔۔
چیتے نے بتایا کہ "ایک پرانے دوست کے پاس گیا تھا۔۔"۔۔۔اور پھر چیتے نے پوچھا کہ وہ کیا کرتی رہی ۔۔۔۔
۔"میں بھی ابھی کچھ دیر ہی سو کر اٹھی تھی۔۔۔"۔۔۔کیتھی نے بات ختم کی تو چیتے نے معنی خیز نگاہوں سے ایسے دیکھا جیسے سمجھ گیا ہو کہ اس کے اٹھنے کی وجہ کیا تھی۔۔۔۔
اور واقعی میں وجہ وہی ہی تھی ۔۔۔۔پوجا اور عاصم کی بلند سسکیوں اور آوازوں نے ہی اسے جگایا تھا۔۔کیتھی نے اسے گھور کر دیکھا ۔۔۔۔اور برتن اٹھاتی ہوئی باہر چلی گئی۔۔۔۔۔۔چیتے نے واپس جاتی ہوئی کیتھی کو دیکھا تو اس کے اپنے دل میں ہلچل مچ گئی ۔۔۔۔۔اسے سالوں گزر گئے تھے ۔۔۔۔۔فیملی ختم ہونے کے بعد اس نے کبھی صنف نازک کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔۔مگر آج بڑے عرصے بعد کیتھی سامنے آئی تو اس کے دل کی دھڑکن بج اٹھی تھی۔۔۔۔۔اس نے بیڈ پر ٹیک لگالی ۔۔۔۔اتنے میں کیتھی دروازہ کھولتی ہوئی باہر نکل گئی ۔۔۔شب خوابی کے لباس میں ظاہر ہوتی اس کی سڈول رانیں ہلچل مچانے کے لئے کافی تھیں۔اس کا دل چاہا کہ باقی شب اس کے ساتھ گزرے ۔۔۔۔۔مگر کیتھی ایک مشہور ایکٹریس تھی ۔۔۔اور چیتا اندازہ نہیں کر پا رہا تھا کیسے اس کا ری ایکشن آئے گا۔۔۔۔۔اسی سوچ میں وہ گم تھا کہ کیتھی واپس آ گئی۔۔۔۔دروازہ بند کرتے ہوئے کیتھی واپس مڑی ۔۔۔۔اور ایک ہاتھ سر کے بالوں میں سہلاتے ہوئے چیتا کی طرف نگاہ ڈالی ۔۔انداز ایسا ہی تھا جیسے بال سنوارے جا رہے ہوں ۔۔مگر۔۔۔نگاہیں مستی سے بھرپور ۔۔۔۔۔چیتے کو لگا جیسے اسے سگنل دیا جا رہا ہے ۔۔۔اس نے بھی شوخ نگاہوں سے اسے دیکھا ۔۔۔اور پھر بیڈ سے اٹھتے ہوئے سامنے اپنے بیڈ کی طرف جانے لگا۔۔۔۔اتنے میں کیتھی کی آواز آئی ۔۔۔" کیا تم میرے بیک کا لاک کھول دو گے ۔۔۔۔"۔۔نمبر لگانے کے باوجود لاک نہیں کھول رہا ۔۔مجھے چینچ کر نے ہیں۔۔
چیتا واپس مڑا ۔۔۔۔اور دوبارہ سے کیتھی کی طرف نگاہ ڈالی ۔۔۔جو امید بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔اور پھر بیگ کی طرف دیکھا ۔۔۔جو اس کے بیڈ کے سرہانے ہی رکھا ہوا تھا۔۔۔اور پھر بیڈ کے قریب آتے ہوئے بیگ اٹھا کر اسے بیڈ پر رکھ دیا۔۔۔۔
یہ چار نمبر والا لاک تھا ۔۔۔۔چیتے نے نمبرز پوچھ کر لگائے ۔۔۔۔۔۔مگر لاک پھر بھی نہیں کھل رہا تھا۔۔۔۔کچھ دیر وہ نمبرز آگے پیچھے ہلاتا رہا ۔۔۔۔مگر کچھ نہ ہو ا۔۔۔۔کیتھی اس کےقریب آ بیٹھی تھی۔۔۔۔آخر اس نے وہی عاصم والا طریقہ آزمایا ۔۔۔۔۔چابی کی مدد سے زپ کے درمیانی حصے پر زور ڈالا اور زپ کے جڑے ہوئے حصے الگ کر دئے ۔۔۔۔۔۔"یہ عارضی حل ہے ۔۔امید ہے کہ تمہار ا کام چل جائے گا۔"۔۔۔چیتے نے بیگ مکمل کھولتے ہوئے اس کے سامنے رکھ دیا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں کیتھی نے اپنے کپڑے سامنے پھیلا دئیے تھے ۔۔۔۔اور سوٹ منتخب کرنے لگی ۔۔۔
اتنے میں چیتے نے اپنے پیر کھسکائے ۔۔۔۔اور سامنے دوسرے بیڈ پر جا لیٹا ۔۔۔۔۔آج کی پوری رات جاگتے ہوئے گذری تھی ۔۔۔اور اب وہ آرام کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔امید تھی کہ کل کا دن پھر سے سفر میں ہوگا۔۔۔۔۔بیڈ پر لیٹ کر اس نے آنکھیں بند کر دیں ۔۔۔۔اور نیند کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔
پوجا اور عاصم کی ہیجان انگیز آوازیں سن کر کیتھی کے دل میں بھی کچھ کچھ ہونے لگاتھا ۔۔۔۔۔۔۔اگر اس کی دوست عاصم کے ساتھ یہ سب کر سکتی تھی تو پوجا کی دوست ہونےکے ناطے عاصم کے دوست پر بھی اس کا حق تھا۔۔
جب چیتا ناشتہ بنانے کچن کی طرف گیا ۔۔۔تو وہ بھی اپنے بال کھولتی ہوئی اس کے پیچھے چل پڑی ۔۔۔۔۔شب خوابی کے لباس کو اس نے کندھے سے کچھ نیچے کھسکا دیا تھا۔۔۔۔اوپر کے بٹن کو کھولتے ہوئے اپنی کلیویج بھی ظاہر کر دی ۔۔۔
اب وہ بڑی بے صبری سے چیتے کی پیش قدمی کا انتظار کررہی تھی۔۔۔۔۔چیتے کی جسامت اور نقش دیکھ کر وہ پہلے ہی اس پر فد ا ہوگئی تھی۔۔۔۔اس کی مردانہ وجاہت کسی کو بھی پگھلانے کے لئے کافی تھی۔۔۔۔ناشتے کے دوران چیتے نے اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔۔۔۔۔وہ بار بار خود کو ایڈجسٹ کرنے کے بہانے مزید عریاں کرنے کی کوشش کرتی ۔۔۔۔۔۔اور پھر جب برتن کچن میں واپس رکھ کر آئی تو بڑا نشیلا انداز اپنا کر اس نے چیتے کی طرف دیکھا۔۔۔۔اب تو اس کو پورا یقین تھا کہ چیتے اس کی طرف بڑھے گا۔۔۔۔۔۔مگر یہ جوان اس کے لئے چیلنج بنتا جا رہاتھا۔۔۔۔۔اور پھر جب وہ اس کے بیڈ سے اٹھ کر جانے لگا ۔۔۔تو اسے لگا کہ بازی اس کے ہاتھ سے نکل رہی ہے ۔۔۔۔اس نے جلدی سے بیگ کا بہانہ بنا کر اسے واپس بلانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔اور غلط نمبر بتا کر کہا کہ یہ بیگ نہیں کھل رہا ۔۔۔اور جب چیتے بیگ کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔کیتھی اس پر جھک سی گئی ۔۔۔۔اور اپنی نسوانی مہک اسے پہنچانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔مگر چیتے نے اس پر بھی کوئی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔۔۔۔کیتھی اب تپ سی گئی۔۔۔۔اس کے اندر کی آگ بھڑکتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اس نے غصیلی نظروں سے سامنے بیڈ پر لیٹے چیتے کی طرف دیکھا ۔۔۔اور کہا ۔۔"اب کی بار بچ کے دکھانا ۔۔۔تو مانوں گی ۔۔۔"۔۔
کچھ دیر میں وہ کپڑے لئے باتھ روم میں چلی گئی ۔۔۔۔۔اس کوٹھی کی طرح یہ بھی بڑے ہی زبردست انداز میں بنا ہوا تھا۔۔۔۔ایک طرف گلاس کیبن جس میں تین اطراف سے شاور سسٹم۔۔۔۔۔۔اور باہر کی طرف ایک تکون شکل کا بڑا سا باتھنگ ٹب بنایا گیا تھا۔۔۔۔۔کیتھی نے اندر داخل ہوتے ہی کپڑے اتارے ۔۔۔۔۔۔اور خود کو شیشے میں دیکھنے لگی ۔۔۔اس کے ہوشربا جسم کے آگے کسی نے پہلی مرتبہ ٹہرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔اب وہ اپنی آخری کوشش کرنے جارہی تھی۔۔۔۔۔گلاس کیبن میں پہنچ کر اس نے شاور کھول دئے ۔۔۔۔اور باتھنگ جیل لئے خود پر انڈیلنے لگی ۔۔۔۔۔کیبن خوشگوار مہک سے معطر ہو گیا تھا۔۔۔۔۔بال شیمپو کرنے کے بعد وہ باہر آئی ۔۔۔۔اور خود کو پھر شیشے میں دیکھا۔۔۔۔۔۔اس کا ریشمی بدن مزید خوبصورت ہو گیا تھا۔۔۔۔وہ دوبارہ سے گلاس کیبن میں آئی ۔۔۔شاور کھول کر باہر دکھتے ہوئے ایک ہلکی سی چیخ ماری ۔۔۔۔۔اب اداکاری کا وقت تھا جس کے لئے وہ مشہور تھی۔۔۔
چیتاابھی نیند کی وادی میں جانے ہی والا تھا۔۔۔کہ اس باتھ روم کی طرف سے کیتھی کی چیخ کی آواز آئی ۔۔۔۔۔۔اسے اندازہ ہو گیا کہ چیخ بے ساختہ نہیں بلکہ جان بوجھ کر ماری گئی ہے ۔۔۔۔۔۔پھر بھی وہ تیزی سے اٹھا۔۔اور باتھ روم کی طرف بڑھا ۔۔۔دروازہ کھلا تھا۔۔۔۔۔اس نے پوچھنے کی کوشش کی کہ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔کہ کیتھی نے ایک ہلکی سی چیخ اور مار دی۔۔۔۔اب کی بار باہر رکنے کا فائدہ نہیں تھا۔۔۔چیتے نے جلدی سے قدم اندر بڑھا دیا۔۔۔۔گلاس کیبن میں شاور چل رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے نیچے ایک کونے میں کھڑی کیتھی ڈرنے کے انداز میں سائیڈ پر لگی ہوئی تھی۔۔۔۔دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اس کے چہرے پر خوف کے آثار تھے ۔۔۔۔چیتا ایسے ہی اندر چلاآیا۔۔۔۔۔شاور اسے گیلا کرچکا تھا۔۔۔۔۔۔سامنے ہی کیتھی کا خوبصورت بھر بھرا بدن اس کےسامنے تھا۔۔۔۔۔اس نے تیزی سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔کیتھی رکتے ہوئے بولی ۔۔۔۔وہ کاکروچ یہاں سے نکل کر آرہا تھا۔۔۔۔
چیتے نے دل ہی دل میں اس کی ایکٹنگ کو داد تھی ۔۔۔اور دائیں بائیں نظر دوڑانے لگا۔۔۔۔مگر کاکروچ ہوتا تو نظر آتا ۔۔۔۔آخر وہ کیتھی کی طرف لپکا۔۔۔۔جو اس کے بالکل ہی پیچھے کھڑی تھی ۔۔۔ہاتھ سینے سے ہٹ چکے تھے ۔۔اور چیتے کے مڑنے پر کیتھی اس کے سر پر ہاتھ رکھے اس کے ہونٹ پر ہونٹ رکھ چکی تھی۔۔۔۔
چیتے کے جسم میں گرمی اور شہوت کا ایک بگولا اڑا تھا۔۔۔۔۔۔ایک کرنٹ تھا جو پورے جسم میں دوڑ گیا تھا۔۔۔اس نے اپنا ایک ہاتھ کیتھی کی کمر میں ڈالا اور اسے خود سے مزید چپکا دیا۔۔۔شاور اب دونوں پر گر رہا تھا۔۔۔پانی دونوں کے سروں سے ہوتا ہوا چہرے پر آتا ۔۔۔اور چپکے ہوئے ہونٹوں سے نیچے گرنے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔۔۔ہونٹوں کو چپکائے ہوئے چیتے نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔نہانے کا مزہ کپڑوں میں کب آتا تھا۔۔۔۔اور پھر پینٹ بھی نیچے سرکادی۔۔۔۔۔اوپر جان پکڑتا ہوا اس کا جاندار ہتھیار تیزی سے کھڑا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔اتری ہوئی شرٹ اور پینٹ چیتے کے پیروں کے قریب ہی رکھی تھی ۔۔جسے اس نے پیر مارتے ہوئے باہر اچھال دیا۔۔۔۔اور پھر۔۔چیتے نے دونوں ہاتھ کیتھی کے چوتڑوں پر رکھے ۔۔۔۔بھرپور گولائی کے ساتھ یہ چوتڑ کافی بڑے تھے۔۔جسے چیتے نے دبانا شروع کر دیا تھا۔۔۔چیتے کے ہاتھ کے لمس اور دباؤ سے کیتھی تھوڑی آگے کو ہوئی ۔۔۔۔۔۔جہاں ایک جاندار قسم کے راڈ نے اس کا استقبال کیا ۔۔۔جو اس ٹھنڈے پانی کے گرنے کے باجود کافی گرم تھا۔۔۔۔یہ راڈ سیدھا کیتھی کی چوت سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔اور پھر وہیں اپنی جگہ بنانے لگا۔۔۔۔۔دونوں خوب ایکدوسرے کے ہونٹ چوسے جارہے تھے۔۔۔۔۔اور پھر چیتے نے کیتھی کی کمر کو تھامتے ہوئے اسے اوپر اٹھا لیا۔۔۔۔۔کیتھی نے جلدی سے ٹانگیں چیتے کی سڈول کمر کے گرد لپیٹ لی۔۔۔۔۔۔چیتے نے بھی جھکتے ہوئے کیتھی کی مسمیوں کو دیکھا۔۔۔۔۔تھوڑی چھوڑی تھیں۔۔۔۔مگر لمبے گلابی نپل نے اسے ایک چونچ کی شکل دیتے ہوئے باہر نکالا تھا۔۔۔۔۔چیتے نے ایک ہی بار میں اسے منہ میں بھرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔کیتھی کے منہ سے سریلی سی سسکاری نکلی ۔۔۔۔۔۔۔چیتے نے بے صبری سے باری باری دونوں مسمیوں کو چوسنا شروع کیا۔۔۔۔نیچے اس کے ہاتھ کیتھی کے بڑے سے چوتڑوں اور ان کے درمیان چوت کے چھید پر گھوم رہے تھے ۔۔۔مساج کر رہے تھے ۔۔۔۔۔کیتھی پہلی ہی گرمی کھائی ہوئی تھی۔۔۔اب اور زیادہ آگ اگلنے لگی ۔۔۔۔اس کے منہ سے گرم گرم سسکاریاں۔۔۔اور آہیں نکل کر پورے باتھ روم میں پھیلنے لگیں۔۔۔۔۔۔چیتے کا گرم راڈ بھی کھڑے ہوئے جھٹکے کھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
دونوں مسمیوں کے رس چوستے ہوئے چیتا انہیں لال کر چکا تھا۔۔۔۔اس کی بے صبری تھی کہ کم ہونے میں نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔۔اوپر کیتھی کی سسکیاں تھیں کہ رکنے میں نہیں آرہی تھیں ۔۔۔سریلی آواز میں اس کے سرخ ہونٹوں سے سسکیاں نکل کر بکھری جارہی تھیں۔۔۔۔۔۔اسے بھی چاہت کا شدت بھرا انداز اچھا لگا تھا۔۔۔۔چیتے کے کندھے پر ہاتھ رکھے وہ سسکیاں بھرے جارہی تھی۔۔۔دونوں کے جذبات آخری حدوں پر پہنچ رہے تھے ۔۔۔۔جب چیتے نے کیتھی کو اٹھائے ہوئے اندر بیڈ کا رخ کیا ۔۔۔۔۔۔کیتھی کے بیڈ پر سامان بکھرا پڑا تھا۔۔۔۔اس لئے سیدھا اپنے بیڈ پر جا لٹایا۔۔۔۔۔۔کیتھی کی کالی سیاہ آنکھیں چمک رہی تھیں۔اس کے سر کے نیچے تکیہ دے کر وہ نیچے کو کھسک گیا۔۔چیتا ٹانگوں کے قریب آتے ہوئےبیٹھ چکا تھا۔۔۔۔۔۔کیتھی کی ٹانگیں پھیلا دیں تھیں ۔۔۔۔۔اور پھر گھٹنے ٹیکتا ہوا آگے کو جھک گیا۔۔۔۔لمبے راڈ کی موٹی ٹوپی بھی لہراتی ہوئی کیتھی کی چوت پر آ کر ٹک گئی تھی۔۔۔۔۔چیتے نے ہلکا سا زور دیتے ہوئے ٹوپے کو اندر پھنسایا ۔۔۔۔اور کیتھی کے چہرے پر مزید جھک گیا۔۔۔ لن کی ٹوپی نے کیتھی کے چہرے کے نقوش کو تھوڑا تبدیل کیا ۔۔۔۔مگر وہ برداشت کر گئی ۔۔۔اور اب خود پر جھکے ہوئے چیتے کے ہونٹ تھامنے لگی ۔۔اس کی ٹانگیں دائیں بائیں پھیلیں ہوئی تھی۔۔۔۔اتنے میں چیتے نے دباؤ بڑھانا شروع کیا ۔۔۔موٹا لن تیز ی سے پھنستا ہوا اندر کو بڑھا ۔۔۔۔کیتھی کے منہ سے سسکاریاں نکلی ۔۔سس ۔۔آہ ہ۔۔۔۔سس۔۔۔۔۔درد کی ایک لہر اس کے جسم میں دوڑی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لن اس کی توقع سے زیادہ موٹا تھا۔۔۔۔۔اور ہلکے درد کے ساتھ اب بھی مزید اندر کی طرف سفر کر رہا تھا۔۔۔۔کیتھی کا درد بڑھا ۔۔۔تو اس نے چیتے کی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس رکنے کا کہا۔۔۔۔۔۔۔چیتا نے رکتے ہوئے اس کے ہونٹ چوسنے شروع کر دئے ۔۔۔ساتھ ہلکے ہلکے اپنی کمر کو ہلانا شروع کیا ۔۔۔۔کیتھی کے منہ سے درد بھری سسکاریاں جاری تھیں۔۔۔۔۔۔چیتے نے اس کے ہاتھ جو اس کی کمر پر تھے ۔۔۔۔۔اسے لیتے ہوئے کیتھی کے سر کے اوپر لا کر جوڑ دئے ۔۔۔اپنے دونوں ہاتھ اس کے سرکی بیک پر رکھے وہ چہرے کو مزید اونچا کرنے لگا ۔۔۔۔۔اور دوبارہ سے چہرے پر جھک گیا۔۔۔۔اور لرزتے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لینے لگا۔۔۔۔اس کے موٹے راڈ نےآدھے کے قریب کیتھی کی چوت میں جگہ بنا لی تھی۔۔۔۔۔اور اب تیزی سے آگے پیچھے ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔چہرے کو چوم کر چیتا کچھ نیچے آیا۔۔۔اور اس کے ممے بھی چوسنے لگا۔۔۔۔۔جن کا گیلا پن خشک ہو گیا تھا۔۔۔۔کیتھی کا منہ آزاد ہو ا تو سسکیاں پھر کمرے میں گونجنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ادھر چیتے نے بھی موٹے راڈ کو اور اندر تک دبانا شروع کیا ۔۔۔۔۔ہر بار وہ تھوڑا اندر گھسانے کے بعد واپس نکالتا ۔۔۔۔اور پھر اسپیڈ دیتے ہوئے واپس وہیں تک لے آتا۔۔۔۔۔۔اسی طرح اس نے دھکے تیز کرنے شروع کر دیا۔۔۔۔کیتھی کی عجب حالت تھی ۔۔۔مزے اور درد کے احساس سے اس کی سسکیاں نکلے جا رہی تھی۔۔۔۔سس۔سس۔۔۔آہ ہ ہ۔۔۔۔آہ ہ ہ۔۔۔۔۔اس نے چیتے کے بالوں کو پکڑے رکھا تھا۔۔۔۔اور درد کی لہر کے ساتھ اسے بھی کھینچنے لگتی۔۔۔۔۔چیتے کے دھکے اب جھٹکوں میں بدل کر خوب اندر تک پہنچتے ۔۔۔۔اور کیتھی کے منہ سے بے اختیار ۔۔۔آہ ۔۔اوئی۔۔۔۔نکال دیتے ۔۔۔۔۔۔اسی میں کیتھی کے نے چیتے کے بالوں کو کھینچ کر اسے اوپر کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔اس کے جذبات میں طوفان آیا تھا۔۔۔جو اب چوت میں بہنے کو تیار تھا۔۔۔۔چیتا بھی سمجھ گیا ۔۔۔اور دونوں ہاتھ اس کی ٹانگوں کے نیچے لے جا کر اوپر اٹھا دیا ۔۔۔اور خود اس کے اوپر جھک کر ہونٹ تھام لئے ۔۔۔۔۔نیچے سے کیتھی کی کمر کچھ اٹھی تھی۔۔۔۔۔مگر چیتے کے زور دار جھٹکے اب اسے نیچے کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔۔۔کیتھی کا پورا جسم ایک الگ ہی لذت سے سرشار تھا۔۔۔۔اس کی چوت بہنے کے تیار تھی ۔۔۔۔اور پھر ایک زور دارجھٹکے سے اس کا پانی چھوٹا ۔۔۔۔۔منہ سے ایک ہلکی چیخ نکلی ۔۔۔جسم لرزا۔۔۔۔۔چیتے نے کہنی ٹکا کر خود کو اوپر اٹھا لیا۔۔۔۔نیچےتیز سانسیں لیتی ہوئی کیتھی آنکھیں کھول کر چیتے کو دیکھنے لگی۔۔
چیتا بھی اوپر آتا ہوا سائیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔۔۔کیتھی کارخ اس نے دوسری طرف کرتے ہوئے خود سے چپکا لیا۔۔۔۔۔۔اس کا گرم راڈ ابھی تک ویسے ہی کھڑا تھا۔۔۔اور کیتھی کے چوتڑ وں سے ہوتا ہو دوسری طرف جا رہا تھا۔۔۔۔۔کیتھی نے رخ موڑتے ہوئے چیتے کی طرف دیکھا۔۔۔اس کی نگاہوں میں سکون تھا ، تسکین تھی ۔۔۔مگر چیتا ابھی تک درمیان میں تھا ۔۔۔۔۔۔اس نے کیتھی کے بھاری چوتڑ دیکھے ۔۔۔۔۔اس کے جسم کا خوبصور ت ترین حصہ یہی تھا۔۔۔۔سڈول اور خوبصورت رانیں ۔۔۔۔۔اور بھاری گول چوتڑ۔۔۔۔چیتا دائیں بائیں دیکھ رہا تھا۔۔۔اسے ویزلیں نظر آ گئی تھی۔۔۔
اتنے میں کیتھی نے کروٹ بد لی ۔۔۔اور اس کی طرف رخ کر دیا ۔۔۔۔اس کے ہاتھ نیچے کی طرف گئے ۔۔۔اور ڈھونڈنے کے انداز میں چیتے کے راڈ کو تھامنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔ جو ابھی تک گرم ہی تھا۔۔۔کیتھی کے چوت کا پانی بھی اس ٹھنڈا نہیں کر سکا تھا۔۔۔۔کیتھی نے حیرانگی سے اس موٹے اور لمبے راڈ کو دیکھا۔۔۔۔۔۔خوبصورت سا سرخ ٹوپا۔۔۔۔۔۔اور اس نے نیچے مزید ہوتا ہوا راڈ ۔۔۔جو جڑ کے قریب سے اچھا خاصا موٹا بن رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔کیتھی نے ہلکے سے دباتے ہوئے اس پکڑنا شروع کیا ۔۔۔آگے پیچھے ہلانا شروع کیا ۔۔۔۔۔اتنے میں چیتے نے ہاتھ بڑھا کر ویزلین اٹھا لی۔۔۔۔۔اور کیتھی کو پکڑ ا دی ۔۔۔۔۔کیتھی نے ویزلین دیکھتے ہوئے سمجھ گئی کہ اسے راڈ پر لگانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اس نےڈبی کی آدھی ویزلین نکال کراس کے گرم راڈ پر لگا دی ۔۔۔۔۔۔اور پورے راڈ پر ملنے لگی ۔۔۔۔اب راڈ کم نظر آ رہا تھا۔۔۔۔اور ویزلیں زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔کیتھی کے اپنے ہاتھ بھی ویزلین میں تتر بتر تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پوری طرح ملنے کے بعد کیتھی ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ چیتے نے اس دوبار ہ سے رخ موڑنے کا کہا۔۔۔۔۔۔۔۔کیتھی نے ناسمجھی کے انداز سے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر چیتے نے اس کروٹ بدلوا دی ۔۔۔۔۔اور اس کی ایک ٹانگ اٹھوا کر اوپر کروا دی ۔۔۔۔۔دوسری ٹانگ ویسے ہی سیدھی تھی۔۔۔۔۔۔گانڈ کا چھید اب سامنے ہی تھا ۔۔۔مگر کیتھی اب بھی بے خبر ہی لگ رہی تھی۔۔۔اور جب چیتے کے ویزلین میں ڈوبے راڈ نے اس کے گانڈ کے چھید کو چھوا ۔۔۔۔۔۔تو کیتھی ایک دم سے اچھل گئی ۔۔۔اسے سمجھ آگئی ۔۔۔۔۔۔وہ تیزی سے مڑنے لگی ۔۔۔مگر چیتے نے اس کے ساتھ لگتے ہوئے اس واپس آنے سے روک دیا۔۔۔۔۔۔۔۔کیتھی بے چارگی سے بول رہی تھی۔۔۔پلیز ۔۔یہاں نہیں ۔۔۔میں نے یہاں کبھی نہیں کیا ۔۔۔تم آگے سے لے لو۔۔۔۔۔۔
مگر چیتے اس بھاری چوتڑ اور موٹی گانڈ کو کیسے چھوڑ سکتا تھا۔۔۔۔پورا تامل اس کے چوتڑ پر فد ا تھا ۔۔پھر چیتا کیسے معاف کر دیتا۔۔۔۔چیتے نے اسے چومتے ہوئے سرگوشی کی ۔۔۔کہ اسی لئے ویزلین لگائی ہے ۔۔۔درد نہیں ہو گا۔۔۔ تم بے فکر رہو ۔۔۔۔۔
مگر کیتھی کو شاید درد کا احساس تھا ۔۔۔۔وہ ابھی بھی روکنے کے موڈ میں ہی تھی۔۔۔۔۔مگر چیتے نے اس کو چومتے ہوئے اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے ۔۔۔۔۔اور آگے کھسکتے ہوئے ایک ٹانگ اسکے اوپر رکھ دی ۔۔۔۔کیتھی تڑپ کر رہ گئی ۔۔آخر بولی ۔۔۔۔اچھا رکو میں خود ڈالوں گی ۔۔۔۔۔
چیتا اس کی بات پر مسکرایا۔۔۔اور ٹانگ اٹھا کر پیچھے کر دی۔۔۔۔اس کا موٹا راڈ ویسے ہی کیتھی کے ٹانگوں کے درمیان میں تھا۔۔۔۔اتنے میں کیتھی اپنا ہاتھ نیچے لے آئی ۔۔۔۔اور راڈ کو درمیان سے پکڑا ۔۔۔۔۔اور آہستہ آہستہ اپنے گانڈ کے چھید پر رکھنے لگی۔۔۔۔۔چھید اب بھی ٹوپے کے مقابلے میں ننھا سا تھا۔۔۔۔چیتا مزید کچھ آگے کھسک گیا۔۔۔۔کیتھی اپنے نازک ہاتھوں میں راڈ کو پکڑے اپنی گانڈ کے چھید پر زور دینے لگی۔۔۔۔۔مگر یہ کام اتنی آسانی سےنہیں ہونے والا تھا۔۔۔۔۔اس نے اپنے پورے ہاتھ کی ویزلین اپنے چھید پر مل دی ۔۔۔ساتھ ہی چیتے کے راڈ کو بھی جڑ سے پکڑا ۔۔۔۔۔اور اوپر لاتے ہوئے ساری ویزلین اتار لی۔۔۔۔اسے بھی اپنے چھید میں گھسانے لگی ۔۔۔۔چیتا اس کی کارگردگی پر مطمئن تھا۔۔۔۔اور آگے سے اس کے دودھ دبانے میں مصروف تھا۔۔۔۔کیتھی بار بار نیچے دیکھنے کی کوشش کرتی ۔۔۔۔۔۔اور چھید کو پورا ویزلین میں چھپانے لگی۔۔۔۔
کچھ دیر بعد اس نےپھر سے کوشش کی ۔۔۔مگر ٹوپا تھا کہ اندر جانے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔بار بار کی کوششوں سے چھید بھی کچھ نرم اور کھلنے لگا تھا۔۔۔۔۔کیتھی بار بار اسے چھید پر دباتی ۔۔۔۔۔۔مگر اس کا اپنا ہاتھ ہی راڈ پر سے سلپ ہوجا تا۔۔۔۔چیتا یہ سب محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔اور ایسے ہی ٹائم جب کیتھی اندر کو زور لگارہی تھی۔۔۔چیتے نےہلکا سا راڈ کو جھٹکا دے دیا ۔۔۔وہ تیر کی طرح اندر کو لپکا ۔۔۔۔کیتھی کے منہ سے ایک زوردار چیخ نکلی ۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔اف۔۔۔۔۔آ ہ ہ۔۔۔۔۔وہ آگے جانے کی کوشش کرتی ۔۔۔۔مگر چیتے نے اس کی کمر اور ٹانگ پر ہاتھ کے دباؤ سے اسے وہیں قابو کئے رکا۔۔۔۔۔۔ٹوپا اندر جا کر رکا ہوا تھا۔۔۔اور اندر کی گرمی کو محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔کیتھی کا ہاتھ اپنی گانڈ پر دبا ہوا تھا۔۔۔۔اور منہ سے درد بھری آوازیں جاری تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔چیتا اسی طرح ساکت رہا تھا۔۔۔۔اس کے ہاتھ ہی تھے جو کیتھی کے چہرے پر گھومتے ۔۔۔اور نیچے اس کے مموں کو مسلتے اور دباتے ۔۔۔۔وہ اگر چہرہ آگے لاتا تو کیتھی کی حالت اور خراب ہونی تھی۔۔۔۔۔اس لئے چیتا نے ہاتھ نیچے لے جا کر اس کی چوت کو مسلنا شروع کیا ۔۔۔۔کچھ دیر میں کیتھی ریلیکس ہونےلگی۔۔۔۔مگر ہلنے چلنے سے قاصر ہی تھی۔۔۔۔چیتے مستقل اس کی چوت کے دانے کو مسلے جا رہاتھا ۔۔۔۔اور پھر ہلکی سی حرکت شروع کی۔۔۔۔۔۔کیتھی پھر سے چیخ اٹھی ۔۔۔۔۔ہاتھ پیچھے لے کر چیتے کو روکنے لگی۔۔مگر چیتا اس طرح وائیبریشن کر رہا تھا۔۔۔۔راڈ کا ٹوپا تو اندر ہی پھنسا تھا۔۔اب مزید بھی کچھ اندر جا رہا تھا۔۔۔۔کیتھی درد کی شدت کا احساس کر چکی تھی ۔۔۔۔اور برداشت کرنے کی کوشش میں تھی۔۔۔۔اس کے لئے یہ پہلا تجربہ تھا۔۔۔اور کچھ نئے احساسات کے ساتھ بھی۔۔۔۔درد اور بالکل مختلف قسم کا مزہ ۔۔۔۔۔اس نے چیتے کی ٹانگوں سے ہاتھ ہٹا دیا۔۔۔۔۔چیتے ہلکے ہلتے ہوئے راڈ کو اندر پہنچا نے لگا۔۔۔۔۔۔کیتھی کے منہ سے سسکیاں اور آہیں جاری تھی۔۔۔۔وہ اس درد کو انجوائے کرتی ہوئی منہ سے آہیں بھر رہی تھی۔۔۔۔آہ ۔۔۔آہ ۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔سس۔۔۔مگر دوسر ا مسئلہ چیتے کے راڈ کا تھا ۔۔۔جو اب مزید نیچے کی طرف موٹا ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔مگر کیتھی جس انداز میں آہیں بھر رہی تھی ۔۔۔۔لگ رہ تھا کہ وہ بھرپور طریقے سے اس درد کے مزے لے رہی ہے ۔۔۔۔چیتے کے دل میں کیا آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے ہلکا سا خود کو آگے کھسکاتے ہوئے مزید آگے آیا۔۔۔اور کیتھی کو آگے کی طرف کروٹ دیتے ہوئے الٹا کر دیا۔۔۔۔۔وہ خود بھی اسی ٹائمنگ میں اس کے ساتھ آیا۔۔۔۔اور اب اس کے اوپر لیٹنے کے انداز میں تھا۔۔۔۔۔۔کمر اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔مگر اوپر جسم کیتھی کی کمر سے لگاہوا تھا۔۔۔۔اور ٹانگیں اس کی ٹانگوں کو ساتھ جوڑ کو انہی کے گرد تھی۔۔۔۔۔پیچھے سے کیتھی کی شاندار گانڈ باہر کو نکلی ہوئی ۔۔۔جس کے درمیان چیتے کا راڈ پھنسا ہوا تھا۔۔چیتے نے کیتھی کے بال ایک سائیڈ پر کر رکھے تھے ۔۔۔اور اب اس کی گردن کے پچھلے حصے کو چوم رہا تھا۔۔۔۔۔اس کے راڈ کا آدھا حصہ ابھی تک باہر ہی تھا۔۔۔۔جو اب نامحسوس انداز میں اندر سلپ ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔کیتھی کو بس درد کا ہلکا ہی احساس تھا۔۔۔۔۔اس نے اپنے چہرے کوسائڈ پر کرتے ہوئے خود پر جھکے چیتے کودیکھا۔۔۔۔جو اس پر تقریبا لیٹاہوا ہی تھا۔۔اس کے ممے پورے دباؤ سے بیڈ پر دبے ہوئے تھے۔۔۔۔۔چیتے کی رانیں اس کے چوتڑ کے ساتھ لگی ہوئی ایک عجب لطف دے رہی تھیں۔۔۔۔اسے بھی احساس تھا کہ چیتے کا راڈ مزید اندر اترتا جا رہا ہے ۔۔۔۔درد کی لہریں پھر زور پکڑنے لگی تھی۔۔سسکیاں اور آہیں جار ی تھی۔۔۔۔۔مگر وہ اسے چیتے کی خاطر برداشت کرنے کے لئے تیار تھی ۔۔۔۔چیتا آہستہ سے اپنی کمر نیچے لا رہا تھا۔۔۔اسے بھی گانڈ مزید تنگ ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ویزلین نے کام دکھایا تھا۔۔۔۔اور کافی پھسلن پید ا کر رکھی تھی۔۔۔۔اس کے حساب سے راڈ کافی حد تک اندر پہنچ چکا تھا۔۔۔۔۔۔چیتے نے ہاتھ کیتھی کے دائیں بائیں رکھے اور آگےسے خود کو اوپر اٹھا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔اور اپنی کمر اٹھاتے ہوئے راڈ کو ٹوپے تک باہر نکالا اور دوبارہ تیزی سے اندر پھنسا دیا۔۔۔۔کیتھی کے منہ سے پھر چیخ نکلی ۔۔۔اسے چھید چیرتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔اور پھر تو کراہوں اور چیخوں کی لائن ہی شروع ہو گئی ۔۔۔۔چیتے کے کمر اٹھتی اور۔۔۔۔۔دھپ کی آواز کے ساتھ اس کے چوتڑ سے ٹکراتی ۔۔۔۔۔اس نے اپنا سر اٹھا لیا۔۔۔۔۔اور خود کی کمر کو نیچے بیڈ پر دبانے لگی۔۔۔۔مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑا ۔۔۔۔چیتے کا راڈ اسی طرح اس کی گانڈ کے چھید کوچیرتے ہوئے اندر گھستا۔۔۔۔اور کراہیں نکال دیتا ۔۔۔۔اس کے پاؤں پیچھے سے اٹھ کر چیتے کی کمر پر لگ رہے تھے ۔۔۔۔اب یہ کسے پتا تھا کہ روک رہے ہیں یا مزید ایڑ لگا رہے ہیں ۔۔۔چیتے کے دھکے اسی طرح بڑھتے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔دھپ دھپ کی آوازیں ۔۔۔۔بیگ گراؤنڈ میں اس کی سریلی کراہیں ۔۔سس۔۔آہ ۔۔۔آہ ۔۔۔۔۔۔چیتے کے بھرپور دھکوں اور زور نے کیتھی کے چوتڑ لال کر دئے تھے ۔۔۔۔اس کے چہرے پر الگ ہی رنگ تھے ۔۔۔۔درد اور مزے کی آمیزش کے ساتھ ۔۔۔۔۔اس نے اپنی ٹانگیں پھیلا دی۔۔۔۔۔اس کی چوت میں بھی سر سراہٹ دوڑنے لگی تھی ۔۔۔۔اسے بھی پیاس لگ گئی تھی۔۔۔۔اس نے سائیڈ پر سرگوشی کرتے ہوئے چیتے سے کہا ۔۔۔جان اب آگے سے ۔۔۔۔۔۔چیتا سمجھ گیا ۔۔۔اور پیچھے ہٹتے ہوئے بیٹھ گیا۔۔۔۔بیڈ کی چادر سے راڈ کو صاف کرتے ہوئے اس نے کیتھی کو گھوڑی بنایا اور دوبارہ پیچھے آ گیا۔۔۔۔۔چوت مزے سے گیلی ہی تھی ۔۔۔۔۔۔اس نے بڑی خوشی سے چیتے کے راڈ کا استقبال کیا ۔۔۔۔۔جو لپکتا جھپکتا اندر گھسا۔۔۔۔اگلا جھٹکا خطرناک تھا ۔۔جو کیتھی کو آگے جھٹکا دے چکا تھا۔۔۔۔۔پورا راڈجڑ تک اندر جا گھسا تھا۔۔۔۔کیتھی نے سر اٹھاتے ہوئے منہ کھولا ۔۔۔اور گرم گرم آہ باہر کی ۔۔۔۔۔اسے پھر سے درد ہوا تھا۔۔۔۔چوت کےآخری حصے نے چیتے کے راڈ کو روک اور جکڑ رکھا تھا۔۔۔۔کیتھی کو کافی اندر تک محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔اس کے بعد چیتے نے کوئی گنجائش نہیں رکھی ۔۔۔اس کا بھی وقت قریب تھا ۔۔پچھلے چالیس منٹ سے وہ گھوڑے کی طرح ٹھکائی کر رہا تھا۔۔۔اور اب ۔۔گھوڑی بنی ہوئی کیتھی پر وہ پوری قوت سے سوار تھا۔۔۔۔۔اس کی کمر کو پوری طاقت سے پیچھے کھینچتا ۔۔۔۔اور خود کو آگے ۔۔۔۔۔۔کیتھی کا پورا جسم ہل رہا تھا۔۔۔۔۔منہ سے سسکیاں ۔۔۔آہیں ۔۔۔۔سریلی چیخیں ۔۔۔۔۔سب ایک ساتھ ہی تھے ۔۔۔۔۔۔۔چیتے نے آگے کو جھکتے ہوئے اس کے ممے تھامے ۔۔۔۔اور انہیں بھی ساتھ کھینچنے لگا۔۔۔۔۔۔۔اس کی انگلیاں اور انگوٹھے کیتھی کے چھوٹے مموں کو مسلے جا رہے تھے۔۔۔۔۔کیتھی کا جسم درد کرنے لگا تھا۔۔۔۔وہ خود کو سمبھال نہیں پائی اور آگے کی طر ف لیٹتی چلی گئی ۔۔۔۔۔۔چیتا بھی اس کے ساتھ ہی آیا ۔۔۔۔اور اوپر لیٹ گیا۔۔۔دھکے اب بھی جاری تھے ۔۔۔۔اسی تیزی کے ساتھ ۔۔۔۔چیتے کو لگا کہ اس کا ٹائم بھی قریب ہے ۔۔۔۔۔سنسنا ہٹ سی پورے جسم میں دوڑنے لگی۔۔۔۔ادھر کیتھی بھی دوبارہ سے قریب تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر دھکوں اور جھٹکوں کے ایسے ہی طوفان میں دونوں کے جسم کانپے ۔۔۔۔۔۔دونوں کے پانی ایک ساتھ چوت میں چھوٹے ۔۔۔۔۔۔کیتھی ایکدم سکون میں آگئی ۔۔۔اب کی بار چیتا بھی ساتھ آیا تھا۔۔۔وہ خوش تھی ۔۔۔ورنہ مزید اس کے اندر ہمت نہیں تھی۔۔۔۔کچھ دیر تک دونو ں ایسے ہی لپٹے رہے ۔۔۔۔۔اور پھر چیتے نے کیتھی کو اٹھا کر باتھ روم کا رخ کیا جہاں دونوں نے ساتھ نہانا تھا۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نہانے کے دوران چیتے نے ایک شفٹ اور لگا لی تھی۔۔۔اتنے عرصے بعد اسے ایک خوبصورت لڑکی ملی تھی ۔۔۔۔جو ہاٹ ہونے کا ساتھ ساتھ اب اس کے لئے دل میں جگہ بھی رکھتی تھی۔۔۔۔۔۔پھر کون خود کو روک پاتا۔۔۔۔نہا کر وہ باہرنکلے اور بانہوں میں بانہیں ڈال کر سو گئے۔۔۔۔۔چیتے نے رسٹ واچ پر بارہ بجے کا ٹائم سیٹ کیا تھا۔۔۔۔۔۔سونے سے پہلے وہ ناصر کو ایک فون کر چکا تھا۔۔۔۔بارہ بجے اٹھا ۔۔تو کیتھی اسی طرح سونے میں مگن تھی ۔۔۔چمکتا ہوا بدن اور چہرہ بھرپور معصومیت اور سکون میں تھا۔۔۔چیتے نے بوسہ دیا ۔۔۔اور پھر کپڑے پہنتے ہوئے باہر آنے لگا۔۔۔۔۔باہر سے کھانے کی خوشبو آرہی تھی ۔۔۔۔کھانا بنانے والا آچکا تھا۔۔۔باہر پوجا اور عاصم باتوں میں مصروف تھے ۔۔۔۔چیتے کو دیکھ کر عاصم نے اسے پاس ہی بلا لیا۔۔۔۔اور ساتھ ہی پوجا کو ناشتے کا کہہ دیا ۔۔۔۔اور پھر چیتے نے رات کی رپورٹ اور جیوتی کا حشر بھی بتا دیا ۔۔۔۔۔۔عاصم مسکرا دیا ۔۔جیسے اسے یہی امید ہو ۔۔۔۔۔۔راجہ صاحب کا ایڈریس سن کر عاصم مزید خوش ہو گیا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ ناشتہ کر کے ایک پرائیوٹ فلائنگ کمپنی کی طرف جا رہے تھے ۔۔۔جہاں ناصر نے ان کے لئے ہیلی کاپڑ کا بندوبست کر رکھا تھا۔
پوجا کو ایک نئی کہانی سنا دی ۔۔۔۔۔۔اور ایک دن میں واپس کا کہا تھا۔۔جبکہ کیتھی اسی طرح نیند میں مگن تھی۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

Please login or register to see this image.

/monthly_2017_11/22.jpg.688c05f9209d159a481f4a3381ec2ed5.jpg" alt="22.jpg.688c05f9209d159a481f4a3381ec2ed5.jpg" />

Share this post


Link to post
Share on other sites

ٍ 
قسط نمبر 10۔۔۔

میری آنکھ دیر سے کھلی ۔۔۔۔۔رات کافی دیر تک میں ویسے ہی لیٹا رہا تھا۔۔۔۔۔آدھی رات کے بعد ویسے ہی گھنٹی اور اشلوک پڑھنے کی آواز یں آئی تھیں ۔۔۔۔۔اور وہی مجھے نیند میں دھکیلنے کا باعث بنی ۔۔۔۔۔میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔میرا ناشتہ آ گیا تھا۔۔۔آنکھیں ملتے ہوئے میں نے پیالے قریب کھینچے ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ ہاتھ بڑھا تا ۔۔۔میرے آس پاس وہی خوشبودار مہک پھیل چکی تھی۔۔۔۔۔اور پھر ایک آواز کانوں میں گونجی ۔۔۔۔" رک جاؤ ۔۔۔تم یہ نہیں کھا سکتے ۔۔۔۔اس میں خون ملایا گیا ہے ۔۔۔" ۔
میں چونک پڑا ۔۔۔اور بولا ۔۔۔" میں سمجھا نہیں ۔۔" ۔۔۔آواز پھر آئی ۔۔کل تین لڑکیوں کی قربانی دی گئی ہے ۔۔۔اور اس میں اسی کا خون شامل ہے ۔۔"۔
مجھے ابکائی سی آئی ۔۔اور میں پیالے باہر رکھتا ہوا واپس دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
خوشبو اب بھی میرے آس پاس ہی تھی۔۔۔اس لئے میں نے پوچھا ۔۔"کیا تمہیں عمراں صاحب نے بھیجا ہے ۔۔؟" ۔۔
۔ تم یہ کہہ سکتے ہو ۔۔ان کی مرضی سے میں یہاں آئی تھی۔۔۔اس جنگل میں ہمارا پورا قبیلہ رہتا ہے ۔۔۔اور میرا باپ جنات کے قبیلے کا عامل ہے ۔۔۔" ۔ جب سے ان کالے جادو کے ماہریں نے یہاں کالے عمل شروع کیے ۔۔۔ہماری آب و ہوا اور سکون متاثر ہو ئے ۔۔۔شروع میں جنات کے بچے بھی ان کے شکار بنے ۔۔۔جس کی وجہ سے۔۔کافی جن غصےمیں یہاں حملہ بھی کرنے آئے ۔۔۔۔مگر ان کالے جادو کے ماہریں نے انہیں بھگا دیا ۔۔۔۔اور بے حد طاقتور حصار بھی باندھ دئے ۔۔۔۔" ۔اس کے بعد جنات میرے باباکے پاس آئے ۔۔۔تو انہوں نے روحانی حل کے بجائے زمینی حقائق کے زریعے اس کا حل نکالا ۔۔۔۔اور عمران صاحب کے پاس خود گزارش لے کر گئے ۔۔۔۔" ۔۔عمران صاحب نے بات مان لی ۔۔۔اور پھر تم سے بات کی ۔۔
میں اس کی بات غور سے سن رہا تھا۔۔۔۔کچھ میرے سر کے اوپر سے جا رہی تھی ۔۔۔۔اور کچھ گتھیاں بھی کھل رہی تھیں ۔۔۔"۔
میں پھر بولا تم نے اپنا نام نہیں بتایا ۔۔۔میرا نام تو تمہیں پتا چل گیا ہو گا۔۔۔
ایک شوخ آواز میرے کانوں میں آئی ۔۔۔"بہت جلدی ہے ۔۔میرا نام جاننے کی ۔۔۔۔عشنیا ہے میرا نام ۔۔۔۔" ۔اور میں تمہیں بڑی اچھی طرح سے جانتی ہوں۔۔یہ الفاظ بڑ بڑاہٹ میں کہے گئے تھے۔۔۔
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔۔اس لئے میں نے پوچھ لی ۔۔"۔تم نے ابھی کہا کہ یہاں حصار باندھا گیا ہے ۔۔۔مگر پھر تم کیسے آ گئیں ۔۔"۔۔
عشنیا پھر بولی ۔۔۔" اس کا حل میرے بابانے نکالا ہے ۔۔۔اور ایک خاص عمل کے زریعے میں اس حصار میں داخل ہو گئی ہو ں ۔۔۔مگر ان پر حملہ کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔۔۔میں یہاں صرف تمہاری مدد اور کالے جادو سے حفاظت کروں گی۔۔"۔ 
ٹھیک ہے میں سمجھ گیا ہوں ۔۔۔۔مگر اب آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔جیسے ہی شارا کی موت کا پتا چلے گا۔۔۔یہ لوگ سیدھے میرے پاس ہی آئیں گے ۔۔۔میں سوچتے ہوئے بولا۔
بس آج کا دن ہی تو ہے ۔۔۔آ ج شام تمہاری بھینٹ چڑھنے والی ہے ۔۔اور جس جسم کو یہ شیطان کے نام کر دیتے ہیں ۔۔اسے کوئی تکلیف نہیں دیں گے ۔اس لئے فکر کی ضرورت نہیں ۔۔" ۔عشنیا کی شوخ آواز آئی ۔۔۔
۔"تو تم یہاں میری موت کا منظر دیکھنے آئی ہو ۔۔" ۔۔۔میں جل گیا۔۔
۔"نہیں ۔۔۔بس ہمیں کچھ انتظار کرنا ہے ۔۔آج شام تک کا ۔۔۔کچھ اور لوگ یہاں پہنچنے والے ہیں۔۔۔" ۔۔۔عشنیا کی سرگوشی دوبارہ سنائی دی ۔
تمہاری عمر کیا ہے۔۔۔میں نے پوچھا۔
۔"صرف چارسو سال ۔۔۔۔" ۔۔عشنیا بولی ۔۔
میں حیرت سے اچھل گیا تھا۔۔۔چار سو سال کا مطلب تم بہت بوڑھی ہوگی۔۔۔دانت بھی گر گئے ہوں گے ۔۔۔لاٹھی کے سہارے چلتی ہو گی۔۔"۔۔میں نے مدھم آواز میں کہا۔۔
۔" بدلہ لے رہے ہو ۔۔۔؟ جنات میں ایسی ہی عمر ہوتی ہے ۔۔۔میرے باپ کی سات سو سال عمر ہے ۔۔۔اور تین سو سال کا مطلب تمہاری دنیا کے بیس سال کی عمر کے برابر ہوتی ہے ۔۔" ۔عشنیا جلدی سے بولی ۔۔
۔۔"ٹھیک ہے میں سمجھ گیا ۔۔۔آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔مجھے اب یہاں الجھن ہونے لگی ہے ۔۔۔"۔۔
۔" تم کچھ دیر آرام کر لو ۔۔۔بھوک برداشت کر لو تو بہتر ہے ۔ورنہ کچھ لے آتی ہوں۔۔۔شام میں جب قربانی کا ٹائم آئے گا تو میں آ جاؤں گی ۔۔۔وہی ٹائم کچھ کر گزرنے کا ہوگا۔۔" ۔۔عشنیا نے کہا ۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے ۔بھوک برداشت کر لوں گا۔۔۔اور پھر وہ خوشبو چلی گی۔۔اور میں اسی طرح قیدخانے میں ٹیک لگائے بیٹھا رہا۔عشنیا کی کھنکتی آواز نے مجھ میں پھر سے ہمت جگا دی تھی۔۔۔اور آج شام تو میری بھینٹ بھی چڑھنے والی تھی۔۔اس لئے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا۔۔۔اصل مسئلہ ان دیو نما غلاموں کا تھا ۔۔جو دو سے تین تھے ۔۔۔مگر ان کے ہوتے ہوئے کسی ایکشن کی گنجائش نہیں بچتی ۔۔۔۔میں خالی ذہن کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔۔جب کوئی کام نہیں بچا تو دوبارہ نیند میں چلا گیا۔شام چار سے پانچ کا ٹائم ہو گا ۔۔۔کہ وہ ڈھول اونچی آواز میں بجنا شروع ہو گئے ۔۔۔۔۔آواز یں بے تحاشہ تیز اور دل ہلانے والیں تھیں۔میری آنکھ کھل گئی تھی۔۔۔۔۔میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ۔آوازیں اسی ہال سے آ رہیں تھیں۔۔۔اور پھر میں نے تینوں غلاموں کو آتے ہوئے دیکھا ۔۔آگے آگے مہاراج چلتا ہوا آرہا تھا ۔۔۔کچھ ہی دیر میں میرے سامنے تھا۔اپنے بدنما اور سیاہ کرخت چہرے کے ساتھ ۔۔۔۔۔ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ ۔۔۔۔۔چلو بالک ۔۔۔۔امرہونے کا ٹائم آ گیاہے ۔۔۔
میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
پچھلاغلام آگے آ کر سلاخیں کھولنے لگا۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں زنجیروں میں مقید میں ان کے آگے جا رہا تھا۔۔۔وہی ہال تھا۔۔۔وہی ڈھول کی آواز ۔۔۔۔بس شکار کچھ اور تھا۔۔۔
میں تیزی سے نتھنے کھینچ کر خوشبو سونگھ رہا تھا۔۔۔مگر عشنیا اب تک نہیں آئی تھی۔۔۔میرے ماتھے پر پسینا چمکا ۔۔۔۔اور پھر سیدھا نیچے کی طرف سفر کرنے لگا۔۔۔ایک دن پہلے کا منظر میرے سامنے ہی تھا۔۔جب ان کنواری لڑکیوں کی قربانی دی گئی تھی۔۔۔۔۔میں چلتے ہوئے ہال میں پہنچ گیا ۔۔۔یہاں پر آج سارے جادوگر دائرہ بنا کر کھڑے تھے ۔۔ویسے ہی لبادہ اوڑھے ۔۔۔۔۔ہاتھوں میں شمع اٹھائے کچھ پڑھنے میں مصروف تھے ۔۔ایک مخصوص ردھم میں ۔۔۔۔۔میری نظر ساحرہ پر پڑی ۔۔۔۔۔جو ابھی ابھی آنکھوں سے کہہ رہی تھی کہ ہماری طرف آ جاؤ ۔۔۔مگر ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔
مجھے لائے ہوئے غلام مجھے درمیان میں کھڑے کرکے پیچھے ہٹ چکے تھے ۔۔۔ایک غلام نے ہال کے چاروں طرف کے چراغوں کو جلا دیا تھا۔۔جلتی ہوئی آگ کے ساتھ مجھے ایک بو بھی آئی ۔۔پتا نہیں کس چیز کی تھی۔۔۔۔مہاراج کے اونچے اشلوک لمبے ہوتے گئے ۔۔۔۔۔ڈھول کی آواز بلند ہونے کے ساتھ ردھم میں تیز ہوتی گئی ۔۔۔۔۔۔اور پھر اشلوک کے آخری لفظ کے ساتھ ایک زور دار ڈھول پر چوٹ پڑی ۔۔۔کچھ سیکنڈ کی خاموشی رہی ۔۔۔اور ۔۔۔پھر ایک اور ڈھول پر دھپ لگی ۔۔۔۔اس کے بعد۔مہاراج نے اشارہ کردیا کہ اسے چبوترے کی طرف لے آؤ ۔۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی ڈھول دوبارہ بجے ۔۔۔۔۔تینوں غلام میرے طرف بڑھے ۔۔۔۔۔ زنجیریں کھول دیں ۔۔۔اور دو نے بازو پکڑ لئے ۔۔تیسرا میرے آگے آگے چلنے لگا۔۔۔۔میں نے گھسٹتے ہوئے خود کو روکنے کی کوشش کی ۔۔۔۔مگر میں سلپ ہوتا ہوا آگے کو جارہا تھا۔۔۔۔میری دونوں کہنیاں ان کو لگنے کے لئے مچل رہی تھی ۔۔۔مگر پوری قوت کے باوجود ان تک نہ پہنچ پاتیں ۔۔زوردار جھٹکے بھی بے اثر ہو رہے تھے ۔۔۔۔میں اپنی بھرپور کوشش ہی کر رہا تھا۔۔۔۔میں گھسٹتے ہوئے چبوترے پر پہنچ گیا۔۔۔۔ آگے والا غلام رکا ۔۔۔۔اور میر ی ٹانگیں پکڑ کر مجھے چبوترے پر ڈال دیا۔۔۔۔۔ایک عجیب سے بو مجھے آئی تھی ۔اور یہ پہلے والی جیسی ہی تھے ۔۔۔۔شاید کل والا خون تھا۔۔۔۔۔مگر اب اس کا وقت نہیں تھا۔میری باری آ چکی تھی ۔۔۔بلند ارادوں اور حوصلوں کے سامنے ایک رکاوٹ آئی تھی ۔۔۔اور اس سے نبٹنے کے لئے ان ۔۔غلاموں کی حیوانی طاقت کا مقابلہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔۔مہارج اشلوک پڑھتا ہوا آگے آنے لگا ۔۔۔۔۔۔اوراس کے ہاتھ تلوار کی طرف بڑھے ۔۔تلوار ہاتھ میں تولتے ہوئے وہ میرے قریب آیا ۔۔۔۔۔مہاراج کو راستہ دینے کے کے لئے ایک غلام نے گرفت ڈھیلی کی ۔۔اور کچھ آگے کو ہوا ۔۔۔۔یہی وقت تھا جب میں نے حرکت میں آنے کا سوچا ۔۔۔۔میرا پورا جسم تڑپا تھا۔۔۔اور ایک زور جھٹکا میں نے اپنی ٹانگوں کو دیا ۔۔۔۔میرے پاؤں اس کی گرفت سے آزاد ہو گئے تھے ۔۔۔۔ساتھ ہی میں نے اپنے پورے جسم کو پچھلی طرف اچھالا۔۔۔۔۔۔زندگی داؤ پر لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔اور مجھے یقین تھا کہ میں دونوں غلاموں کے پیچھے پہنچ جاؤں گا۔۔۔۔اور ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔میرے ہاتھ ان کے ہاتھوں میں تھے ۔اور پیٹھ چبوترے سے لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔میں نے غلاموں کے ہاتھوں کو ہی کو کھینچتے ہوئے قوت حاصل کی اور دونوں پیر ہوا میں گھومتے ہوئے ان کےپیچھے آئے ۔۔۔ان کے وہم و گما ن میں بھی نہیں تھا کہ میں ایسے وقت میں کوشش کر وں گا۔۔۔اور یہی میرے لئے فائدہ مند ثابت ہوا ۔۔۔۔۔غلاموں کےہاتھ کچھ دیر تک میرے ساتھ آئے اور پھر چھوٹ گئے ۔۔۔۔میں نیچے گرتے ہی تیزی سے ایک طرف قلابازی کھا گیا۔زنجیر۔ایک سے دو سیکنڈ میں یہ پورا واقعہ ہوا ۔۔۔۔۔۔ٹانگ پکڑنے والا غلام تیزی سے میری طرف آیا ۔۔۔۔مگر میں آگے کی طرف بھاگنے کا پوز بنا کر واپس گھوما اور اس کی ٹانگوں کے درمیان سے نکلتا ہوا پیچھے آیا ۔۔۔۔۔چبوترے پر ٹانگ رکھتا ہوا اچھلا۔۔۔۔اور مڑتے ہوئے دونوں غلامو ں کے اوپر سے ہوتا ہوا آگے جا گرا۔۔۔۔۔۔مہاراج مجھے سے کچھ قدم دوری پر تھا۔۔۔۔میں تیزی سے اس کی طرف دوڑا۔۔۔۔۔وہ بھی ہوشیا ر تھا۔۔۔تیزی سے تلوار چلاتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگا۔۔۔۔ساتھ ہی منہ سے کچھ پڑھتے ہوئے پڑھنے لگا۔۔۔
تمام جادوگروں میں ہلچل مچ چکی تھی۔۔۔۔۔۔اور وہ سب پھیل کر مجھے دیکھنے میں مگن تھے ۔۔مہاراج نے کچھ پڑھتے ہوئے اپنی انگلیاں میری طرف جھٹکی ۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی میرے گرد آگ کا ایک دائرہ نمودار ہو گیا۔۔۔۔۔باقی جادوگروں نے بھی سمبھلتے ہوئے کچھ پڑھنا شروع کیا ۔۔۔اور میرے گرد آگ کے بنے ہوئے دائروں میں اضافہ کرنے لگے ۔۔ہر آگ کا رنگ دوسری سے الگ اور تپش میں فرق تھا۔۔۔۔میں نے ساحرہ کی طرف دیکھا ۔۔۔وہ خاموشی سے دیکھ رہی تھی ۔اسکے ہاتھ اور ہونٹ حرکت نہیں کر رہے تھے ۔۔۔اور۔۔اس کیطرف سے کوئی دائرہ نہیں آیا تھا۔۔شاید اسے یقین ہو کہ میرے لئے یہ آگ ہی کافی ہو ۔۔۔یا پھر اس کے ساتھ گزاری ہوئی رات کی وجہ سے کوئی گنجائش دینا چاہ رہی ہو ۔۔۔۔میرے ارد گرد دس سے زائد دائر ے بن چکے تھے ۔تپش بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔میرے پورے جسم سے پسینہ بہہ نکلا ۔۔۔۔ساتھ ہی دائرے فاصلہ کم کرتے ہوئے قریب ہونے لگے۔۔۔۔تینوں غلاموں کے چہرے پر بھی دہشت نمایا ں تھی۔یہ جادو کے کرشمے ان کے لئے بھی دہشتناک تھے۔۔تینوں دیوار کے پاس جو مؤدب کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔
اور تبھی ہال کے دوسرے دروازے پر مجھے کچھ سائے نظر آئے ۔۔۔میں چونک سا گیا ۔۔۔۔ان پاپیوں کے سوا کون آ سکتا تھا یہاں ۔۔۔۔۔۔اور پھر مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا ۔۔۔۔۔سب سے آگے دوڑتا ہوا میرا دوست عاصم تھا ۔۔۔اس کے پیچھے سرخ رنگت والا ایک نوجوان بھاگتا ہوا آیا تھا۔۔۔۔جس لمبے بال ہوا میں لہراتے ہوئے اس سے کچھ پیچھے ہی تھے ۔۔۔اور رکنےکے بعد اس سے ملے ۔پھولی ہو ئی سانسوں کے ساتھ وہ میرے سامنے آن رکے۔۔۔وہ بھی مجھے دیکھ چکے تھے ۔۔۔۔دونوں کی آنکھوں میں محبت مجھے صاف دکھ رہی تھی ۔۔آگ کے دائروں نے ہمارے گرد فاصلے حائل کر رکھے تھے۔۔۔۔۔آگ کے دائرے دیکھ کر انہوں نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں ۔۔۔۔۔اور پھر پجاری کی طرف بڑھنے لگے۔۔وہی ان کا باس نظر آتا تھا۔۔۔اور اس وقت طیش بھری نظروں سے انہیں گھور رہا تھا۔۔۔اتنے میں غلام بھی حرکت میں آ کر ان کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے ۔۔۔۔میں نے انہیں آواز دیتے ہوئے ہوشیا ر کیا ۔۔۔۔۔
اور پھر چھن کی آواز کے ساتھ آگ کا پہلا دائرہ مٹا ۔۔۔۔دوسرا مٹا ۔۔۔۔اور پھر ایک ایک کر کے کم ہونے لگے۔۔۔ساتھ ہی عشنیا کی خوشگوار مہک میری ناک میں آئی ۔۔۔۔۔میرے دوست آ چکے تھے ۔۔۔دائرے ختم ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔جیسے ہی آخری دائرہ ختم ہوا ۔۔۔۔میں عاصم کی طرف بڑھا ۔۔۔۔وہ بھی تیزی سے میری طرف آیا ۔۔۔گرم جوشی سے ہم لپٹ گئے تھے ۔۔۔۔آس پاس سے بے نیاز ۔۔۔۔جہاں مہاراج کی آنکھیں پھیل چکی تھی۔اس نے اوپر دیکھتے ہوئے اپنے کچھ اور منتر آزمانے شروع کئے ۔۔۔۔۔۔حیرت اور خوف اس کی آنکھوں میں نمایا ں تھی۔۔۔۔حیرت میرے دوستوں پر ۔۔۔۔اور خوف کہ اس کی پہلی والی آگ بجھ چکی تھی۔۔۔۔۔ابھی میں ہم معانقے میں ہی تھے کہ عشنیا کی آواز میرے کانوں میں آئی ۔۔مہاراج اپنا آخری وار کرنے جا رہا ہے ۔۔۔۔میں اسے روکنے کی کوشش کرتی ہوں ۔۔۔۔تم جب تک ان غلاموں سے نبٹو۔۔۔۔۔۔باقی جسمانی لڑائی تم خود دیکھو ۔۔۔۔وقت کم ہے ۔۔۔ہم جلدی سے الگ ہوئے ۔۔۔۔اور یہی بہتر تھا ۔۔۔۔تینوں غلام دھم دھم کر کے ہماری طرف آرہے تھے ۔۔۔۔اگلا غلام ہم سے تین قدم کے فاصلے پر تھا ۔۔۔۔کہ لمبے بالوںوالے نوجوان نے ایک زقند بھری ۔۔۔۔۔اس کے دونوں پاؤں اگلے غلام کے سینے پر پڑے ۔۔۔۔ساتھ ہی وہ پیچھے کی طرف قلا بازی کھاتا ہوا کھڑا ہو گیا۔۔ضرب یقینا زور دار تھی ۔۔۔مگر آگے بھی کچھ کم نہ تھا۔۔
۔۔" یہ چیتا ہے ۔۔۔اپنا جگر ۔۔۔۔" ۔۔۔۔عاصم کی آواز میرے کانوں میں آئی۔چیتے نے حیرت سے اس گوشت پوست کے پہاڑ کو دیکھا ۔۔۔جن پر فلائنگ کک کا کوئی اثر نہیں تھا۔۔۔۔۔میں تیزی سے آگے آیا ۔۔۔میری زنجیریں اور بیڑیاں کچھ فاصلے پر تھیں ۔۔میں نے وہ اٹھا کر ایک اپنے پاس رکھی ۔۔۔اور ایک چیتے کی طرف اچھال دی۔۔۔۔اور ۔اور چیتے کو تھپکی دیتے ہوئے اس کے برابر میں کھڑا ہو گیا۔۔۔میں نے زنجیر کو اپنے بند مکے پر لپیٹنا شروع کیا ۔۔۔اور اوپر کلائی تک لے آیا۔۔۔۔اب ایک آہنی مکہ تیار تھا۔۔۔چیتے نے بھی مجھے دیکھتے ہوئے زنجیر لپیٹ لی تھی۔۔۔۔۔۔عاصم بھی میرے برابر میں آگیا۔۔۔۔۔اور پھر ایک معرکہ شروع ہو گیا۔۔۔پہل میں نے کی تھی۔۔اپنے سامنے والے غلام کی طرف لپکا ۔۔۔تیزی سے اس کی طرف بھاگتا ہوا گیا ۔۔۔اور ٹانگوں کے درمیاں سے سلپ ہوتا ہوا دوسری طرف پہنچا۔۔۔۔۔۔۔میرا آہنی مکہ پوری قوت سے اس کی ٹانگوں کے درمیاں لگا۔۔۔۔مگر وہ دیو قامت صرف ہلکا سا ہلا ہی تھا۔۔۔اس کے چہرے پر کوئی تکلیف کا آثار نہیں تھا۔۔۔۔۔عاصم اور چیتا میرے ساتھ ہی آئے تھے ۔۔۔۔۔۔ہم ان کی سائیڈوں سے نکل کر پیچھے آ چکے تھے ۔۔۔۔غلام آہستگی سے مڑ رہے تھے ۔۔۔ہماری لگائیں گئی چوٹوں کا کوئی اثر نہیں تھا۔۔۔۔ہم نے پھر سے تابڑ توڑ اٹیک شروع کئے ۔۔۔سر سے لے کر پاؤں تک تمام کمزور اور نازک حصوں کو نشانہ بنا ڈالا ۔۔۔۔۔ہم پوری قوت سے تباہ کن ضربیں لگا رہے تھے ۔۔۔۔۔مگر وہ ان پر اثر انداز نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ان کا ڈیل ڈول تیز حرکت سے روک رہا تھا۔۔۔بس یہی ہمارے فائد ے کی چیز تھی ۔۔۔ہم تیزی سے اٹیک کرتے اور پھر سائڈ پر ہو جاتے ۔۔۔بس کوشش یہ تھی کہ ان کے ہاتھ کوئی نہ لگے ۔۔۔۔چیتا اپنی جمناسٹک کے کرتب دکھا رہا تھا۔۔۔۔غلاموں کے منہ سے نکلنے والے غراہٹ بتا رہی تھی کہ ان کی جھنجلاہٹ اپنے عروج پر تھی ۔ہم بھی ہانپ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ان کی پوری پھرتی کے باوجود ہم نے انہیں پکڑائی نہیں دی تھی۔۔۔۔مگر سچ یہ تھا کہ اب تک ہم بھی انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے تھے ۔۔۔۔بس خود ہی تھک رہے تھے ۔۔۔۔اور تبھی میر ی نظرایک غلام کے گلے پر پڑی تھی ۔۔۔۔۔۔اور پھر میری دماغ میں بجلی کوند گئی۔۔۔۔۔میں نے عاصم کو دونوں ہاتھ ملا کر اشارہ کیا ۔۔۔۔وہ سمجھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔اوردونوں ہاتھ آگے جوڑ دئے ۔۔۔میں بھاگتا ہوا آیا۔۔۔اور اس کے ہاتھ پر پاؤں رکھتے ہوئے آگے کو اچھلا ۔۔۔ساتھ ہی عاصم نے بھی دھکا دیتے ہوئے مجھے اچھالا۔۔۔۔میں تیرتا ہوا ایک غلام کے سرکے قریب پہنچا ۔۔۔۔۔میری پوری جسم کی طاقت میر ی ٹھوکر میں تھی۔۔۔۔اور وہ ٹھوکر اس غلام کے گلے پر بنے ہوئے بڑے سے ابھار پر پڑی تھی ۔۔یہ ایک بڑا سا گومڑ تھا۔۔جو ہرگز قدرتی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔ایک تباہ کن چیخ نے پورے ہال کو ہلا دیا تھا۔۔غلام کے دونوں ہاتھ اس کے گلے پر آ ٹکے ۔۔۔اور وہ اوپر دیکھتے ہوئے چیخ مارنے لگا۔۔۔رنگت سیاہ سے سیاہ ہوتی گئی۔۔۔۔ساتھ ہی میں بھی پیچھے کی طرف جا گڑا ۔۔۔۔اور۔۔۔۔تیزی سے قلابازی کھاتا ہوا ن کی پہنچ سے دور نکلنے لگا۔۔غلاموں کی اونچائی کی وجہ سے یہ حصہ پہلے ہماری نظر سے غائب تھا۔۔اور شاید ان کا کمزور حصہ تھا۔۔ان غلاموں پر اسٹیرائیڈ اور دوسری ہارمونز کی ڈرگز کے تجربات ہوئے جنہوں نے انہیں مضبوط اور پہاڑی جسم تو دے دیا تھا ۔۔۔مگرحد سے زیادہ پاور فل ڈوزیج نے بدلے میں کینسر جیسا مرض بھی ملا۔۔۔۔جس کا پھوڑا گلے پرہی بنا ہوا تھا۔۔۔۔۔تینوں غلاموں کے ایک جیسے چہرے ۔۔۔۔اور ایک ہی جگہ پر پھوڑا بنا ہوا تھا۔۔۔۔عاصم اور چیتا دونوں چوٹ کا انداز سمجھ چکے تھے ۔۔انہیں کمزور حصہ مل گیا تھا۔۔۔۔۔اب وہ دوسرے حملے کے لئے پر تول رہے تھے ۔۔۔۔کچھ ہی سیکنڈ میں دوسرے غلام کے اوپر چیتا اڑتا ہوا آیا اور دوبارہ سے فلائنگ کک دے ماری ۔۔۔اب کی بار وہ غلام پیچھے جا گرا ۔۔۔۔اس کے گلے پر بنا ہوا یہ بڑا سا پھوڑا پھٹ گیا تھا۔۔۔۔۔
میں تیزی سے اٹھتا ہوا عاصم کی طرف آنے لگا۔۔۔دوسرا غلام بھی چیتے کی فلائنگ کک کا نشانہ بن گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔اب باقی ایک ہی تھا ۔ہم تینوں نے انہیں نشانے پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں وہ بھی زمین پر گرے نظر آئے ۔۔۔۔۔تینوں کے چہرے پر بے پناہ تکلیف کے آثار تھے ۔۔۔اور خون کا بہاؤ مستقل جاری تھا۔۔۔جو انہیں خوف زدہ کر رہا تھا۔۔۔وہ پہلی بار اپنے جسم سے خون بہتا دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔اس سے پہلے یہ خون دوسروں کے جسم سے نکالتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خون کا بہاؤ کسی بھی طرح رکنے میں نہیں آ رہا تھا۔۔۔انہیں فوری فرسٹ ایڈ کی ضرورت تھی ۔۔۔مگر وہ ہم دے نہیں سکتے تھے۔۔غلاموں کو اسی طرح سسکتا چھوڑ کر 
ہم مہاراج کی طرف آگئے ۔جوسائڈ پر کھڑے ہوئے حیرت سے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے ۔۔وہ اپنے سارے حربے شاید آزما چکا تھا۔۔۔مگر ہمار ا بال بھی بیکا نہ ہو ا۔۔۔۔۔۔۔اور آخری امید پر کہ ہم ان غلاموں کے قابو آ جائیں گے ۔۔۔مہاراج اب مزید کونے میں سمٹ گیا۔۔۔۔تمام جادوگر ان کے ساتھ ہی تھے ۔۔اب ہم ان پر حملہ آور ہو چکے تھے ۔۔۔۔وطن عزیز کے یہ نادیدہ دشمن اب ہمارے ہاتھ کے نیچے تھے ۔۔۔۔۔۔ہم تینوں کے ہاتھ بجلی بن کر ان پر گر رہے تھے ۔۔۔کوئی لات کھا کر ادھر گرتا ۔۔۔کوئی مکہ بازی کے مزے چکھ رہا تھا۔۔ہم نے ان سب کو فٹ بال بنا لیا ۔۔۔۔۔جادو کے علاوہ ان کا کوئی مددگارنہیں تھا۔۔۔اور اس کو عشنیا ناکارہ بناتی رہی۔ہم کچھ دیر میں انہیں لہو لہان کر چکے تھے ۔۔۔ساحرہ سائڈ پر ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔مگر عاصم کے ایک تھپڑ نے اسے نیچے گرا دیا۔۔۔۔۔چیتے کے ہاتھ میں تلوار آ گئی تھی۔۔۔۔۔۔عاصم اور چیتے نے کسی کو معاف نہیں کیا۔۔۔ساحرہ نے میری طرف مدد بھری نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔مگر میں نے منہ پھیرلیا۔۔۔ملک دشمنوں کے لئے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔۔۔مہاراج کی موت کے بعد ہم نے مٹی کا تیل چھڑک کر پوری عمارت میں آگ لگادی ۔۔۔تلاشی ہو گئی تھی۔۔یہ پوری عمارت ہی عجیب بھول بھلیوں میں بنی ہوئی تھی ۔۔۔ایک طرف ہمیں انسانی کھوپڑیاں ملیں ۔۔جو ان کے جادو میں استعمال ہوتی ہے ۔۔۔ایک کمرہ انسانی کپڑوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔۔انہی میں سے ۔۔مجھے ایک پہننے لائق سوٹ مل گیا ۔۔لبادے چھوڑ کر میں نے وہ پہن لیا۔۔۔۔۔اور پھر ہم تینوں دوست باہر آگئے ۔۔۔۔۔عشنیا کی سرگوشیاں جاری تھیں۔۔۔اس نے شکریہ ادا کیا ۔۔وہ بہت خوش تھی کہ ایک جادو کے مرکز کا خاتمہ ہوا۔۔۔۔اور مجھے یہ تھا کہ عمراں صاحب کی طرف سے دیا گیا ایک اور مشن پورا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔عاصم نے مجھے بتایا کہ یہ مایونگ نامی ایک گاؤں جس کے اوپر ی طرف یہ پہاڑ بنایا گیا تھا۔۔۔ہم چلتے ہوئے نیچے آنے لگے ۔۔چیتے سے بات چیت شروع ہو گئی تھی ۔۔۔وہ ان لوگوں مین سے تھا جو جلد ہی اپنے اپنے سے محسوس ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔عاصم اور چیتا آسام تک ہیلی کاپڑ پرآئے تھے ۔۔۔۔۔اور پھر آگے سے گاڑی کرائے پر لی ۔۔۔۔جنگل پورا انہوں نے دوڑتے ہوئے پار کیا تھا۔۔۔۔واپسی پر اب ہم جنگل دوبارہ سے پار کرنا ہے ۔۔۔یہ مایونگ نامی گاؤں کالا جادو اور اس کے جادوگروں کی وجہ سے کافی مشہور تھا۔۔۔اور اسی کے درمیان انڈیا نے اپنا یہ سپر نیچرل سیکشن بنایا تھا۔۔۔۔۔جس کی حفاظت سائنسی آلات کے بجائے جادو کے حصار سے کی گئی تھی ۔۔۔۔۔
چیتا اور میں مزید تیزی سے گھلتے ملتے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔اس کی دلنشین مسکراہٹ اور آنکھیں دیکھ کر میں بھی فین ہوچلاتھا ۔۔۔۔سبک رفتار اور چست و توانا ۔۔ہر جگہ تیزی سے پیش پیش ۔۔۔۔ہم تیزی سے چلتے جا رہے تھے ۔۔۔۔رات گہری ہو چکی تھی۔۔میر ے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے تھے ۔۔۔۔پچھلی رات سے میں بھوکا تھا۔۔۔اور اس ایکشن کی مشقت کے بعد اور کمزوری محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔عشنیا میرے کانوں میں راستہ بتارہی تھی۔۔۔۔اور عاصم اور چیتا میرے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔۔۔۔صبح کے دھندلکے جب پھیلے ۔۔۔ہم ایک گاؤں میں پہنچ چکے تھے ۔۔۔زیادہ اندر جانے کے بجائے باہر ہی ایک چائے کا ڈھابہ بنا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ہم اس تازہ کھلنے والے دیہاتی ہوٹل کے باہر بیٹھے۔۔۔۔کافی ٹائم بعد چائے پینے کا اتفاق ہو رہا تھا۔۔۔۔عاصم نے چیتے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔وہ سمجھ گیا۔۔۔۔۔دکان دار ابھی دکان کھولنے اور صاف کرنےمیں لگا ہو ا تھا۔۔۔۔چیتا اٹھ کر دودھ کا پوچھ کر خود چائے بنانے لگا۔۔۔۔۔ 
کچھ ہی دیر میں گرما گرم دودھ پتی ہمارے سامنے تھی ۔۔۔چائے کے پہلے سپ کے ساتھ ہی ہم دونوں نے تعریفی انداز میں چیتے کو دیکھا ۔۔۔مخصوص دورانیہ تک کھولانے کے بعد اس میں ایک چاکلیٹی زائقہ آچکا تھا۔۔جو ہم دونوں کو بے حد پسند تھی۔۔۔۔چیتا ہماری تعریف دیکھ کرشرمانے کی ایکٹنگ کرنے لگا۔۔
۔"شرما تو ایسے رہے ہو جیسے کوئی نئی نویلی دلہن ہو ۔۔۔۔"۔۔۔عاصم بولا۔۔۔اور ہم ہنس پڑے ۔۔
چائے پی کر عاصم کہنے لگا۔۔۔کہ کچھ دیر آرام کرتے ہیں ۔۔پھر نکلتے ہیں ۔۔۔ہم نے چائے والے سے ہی پوچھا ۔۔۔اس نے پیچھے چارپائی کا بتا دیا ۔۔۔اور کرایا بھی بتا دیا۔۔۔۔یہ چارپائی ہوٹل کی طرح کوئی چیز تھا۔۔جہاں سونے والے کو چارپائی بھی ملتی ۔۔۔۔ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔۔چائے پی کر ہم چارپائیوں پر جا لیٹے ۔۔۔ارادہ یہی تھا کہ کچھ دیر آرام کیا جائے ۔۔۔اور پھر شام کو واپس ممبئی کی طرف نکلیں ۔۔۔۔۔۔ہم تینوں لیٹ گئے ۔۔۔
اتنے میں مجھے اپنے پاس سرسراہٹ کی آواز آئی ۔۔مخصوص مہک ۔۔اور پھر عشنیا کی آواز آئی ۔۔۔واپس جا رہے ہو ۔۔؟۔
۔" ہاں ۔۔۔واپس ہی جانا ہے ۔۔۔یہاں کون ہے میرا جس کے لئے رکوں ۔۔۔"۔ میں نے جواب دیا ۔۔
۔"ابھی ہم اتنے بھی برے نہیں کہ مہمانوں کا شکریہ بھی ادا نہیں کر سکیں۔۔۔میرے ساتھ چلو ۔۔۔"۔۔۔عشنیا بولی ۔۔
۔" ۔۔۔۔کہاں جانا ہے ۔۔۔۔میرے دوست یہاں لیٹے ہوئے ہیں ۔۔۔"۔۔۔میں گھبرا سا گیا ۔۔۔
۔" زیادہ ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔تمہاری پوری زندگی میرے سامنے ہے ۔۔نہ ہی اتنے معصوم ہو ۔۔۔اور نہ ہی سادہ۔۔یہ ایسے ہی سوتے رہیں گے ۔۔میں انکی حفاظت کا بندوبست کر رہی ہوں ۔۔۔کچھ جنات یہاں پہرہ دیتے رہیں گے۔۔"۔۔۔۔عشنیا بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اٹھ کر بیٹھا۔۔اور چارپائی سے اتر گیا۔۔مجھے ایسے لگا کہ مجھے کسی نے اٹھایا ہے ۔۔۔اور پھر ہوا کی تیز سر سرہٹ میرے کانوں میں پڑی ۔۔۔۔اگلے ہی سیکنڈ میں میں کسی جنگل کے درمیان کھڑا تھا۔۔۔۔عشنیا میرے کان میں بولی ۔۔۔" یہاں ہمارا گھر ہے ۔۔۔اور ہمارا قبیلہ رہتا ہے ۔۔۔" ۔۔۔
میں عجیب ہی کیفیت محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔کچھ خواب جیسا ۔۔۔مگر عشنیا کی آواز مجھے واپس حقیقت میں کھینچ لاتی ۔۔۔۔۔میں نے عشنیا سے کہا کہ مجھے واپس جانا ہے ۔۔۔واپس چھوڑ دو ۔۔۔۔۔
۔" عشنیا کا ہنستا ہوا قہقہہ میرے کانوں میں پڑا ۔۔۔۔۔۔وہ بری طرح ہنس رہی تھی ۔۔۔۔۔"۔
میرے سامنے اچانک ہی بجلی چمکی ۔۔۔۔۔ اور پھر نے ایک حسین لڑکی کونمودار ہوتے دیکھا ۔۔حسین کہنا کچھ کم ہو گا۔۔۔۔شاید پری تھی۔۔۔۔یا پھر کوئی اور ۔۔۔۔۔میں مبہوت ہو چکا تھا۔چمکتا دمکتا حسن۔۔۔۔بد ن جیسے کسی نازک پھول کی پتیوں جیسا۔۔۔دھیمے قدموں کے ساتھ مسکراتی ہوئی میرے سامنے آرہی تھی۔۔نزاکت سے بھرپور کمر ۔۔۔۔لمبے سیال بال بلاشبہ اس کے پیروں تک آرہے تھے ۔۔۔چہرہ نہایت خوبصورت۔اور آنکھیں بڑی بڑی۔۔۔۔ان کی چمک ایسی کہ میں پگھل کر ساکت ہو چکا تھا۔۔میں صرف اک نظر ہی اس کے چہرے پر ڈال سکا اور دائیں بائیں نظر گھما لی۔۔جسم کی رنگت ایسی جیسے کسی چاندی میں ڈھلی ہوئی ۔۔۔۔۔اور اس پر ا س کا لباس ۔۔۔۔۔۔جو جسم پر ایسے سجا ہوا تھا جیسے یہیں پر رکھ کر بنایا گیا ہو۔۔۔پورا لباس کندھے سے نیچے گھٹنوں تک آرہا تھا۔۔۔کہیں سلائی نہیں ۔۔۔اور نہ ہی کچھ اور ۔۔۔بس ایک چمکدار سی لہر تھی جو پورے بدن پر لپٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔اور پھر میرے قریب آتے ہوئے اس کی شوخ آواز آئی ۔۔" کتنے جلد باز ہوتے ہیں یہ آدم زاد ۔۔۔۔۔" ۔۔ اب جا کر دکھاؤ ۔۔۔
حقیقت میں میری بولتی بند ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میں ہکلا کر رہ گیا ۔۔اس کا حسن میری نگاہوں کو خیرہ کر رہا تھا۔۔۔میرے برابر کھڑے ہوتے ہوئے اس نے ایک مرتبہ پھر ہاتھ پکڑا۔۔۔۔۔ا ب کی بار لمس ایسا تھا کہ میں جھٹکا کھا گیا۔۔۔میرے ساتھ قدم بڑھاؤ ۔۔عشنیا کی آواز آئی ۔۔
میں نے ایک قدم اٹھایا۔۔۔۔ساتھ ہی ویسے ہی ہوا کی سرسراہٹ ، جیسے ہم نے بہت سا فاصلہ طے کر لیا ہو۔۔۔۔۔۔میری آنکھیں بند ہوگئیں تھیں ۔۔۔اور جب آنکھ کھولی ۔۔تو عجیب منظر تھے ۔۔۔یہ مصر کے اہرام جیسا کوئی علاقہ تھا۔۔۔چاروں طرف تکون جیسے مکانات تھے ۔۔۔۔جن کے سامنے بچے کھیل رہے تھے ۔۔۔یہ پانچ سو سے اوپر مکان تھے ۔۔۔۔اتنے میں ایک بڑے سے مکان سے بوڑھا آدمی باہر آیا۔۔۔عشنیا فورا ان کی طرف بڑھی ۔۔میں بھی ساتھ ہی تھا۔۔ہم ان کے قریب پہنچے تو عشنیا آگے کو جھکتی ہوئی بولی ۔۔۔بابا یہ راجہ ہے ۔۔۔ساتھ ہی میرا اصل نام بھی بتا دیا ۔۔۔۔۔۔میں ایک مرتبہ پھر حیران رہ گیا۔۔میرا اپنا نام والدیں کے علاوہ کسی کو بھی نہیں پتا تھا۔۔تو پھر اسے کیسے پتا چلا۔۔۔۔۔
اتنے میں بابا مجھے گلےسے لگا چکے تھے ۔۔۔میں بھی پرجوش انداز میں ملا۔۔مجھے لئے ہوئے مکان میں داخل ہوئے ۔۔یہ پورا مکان لکڑی کا بنا ہوا تھا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں دستر خوان لگ گیا ۔۔۔۔مجھے بڑی شفقت سے اپنے قریب بٹھا یا ۔۔۔۔اور باتیں پوچھنے لگے ۔۔۔میں مکمل طور پر مسحور ہو چکا تھا۔۔۔اسلئے صرف ہاں ۔۔۔ہوں ۔۔۔میں ہی جواب دے رہا تھا۔۔میں نے فروٹ کی طرف ہاتھ بڑھا یا ۔۔۔دسترخوان پر پرندوں کے گوشت بھنے ہوئے تھے ۔۔۔مگر یہ سب اس وقت بھاری لگ رہا تھا۔۔۔کچھ دیر میں قہوے پی کر بابا نے مجھے رخصت کیا ۔انہوں نے بھی میرا شکریہ ادا کیا کہ اس کالے جنگل اورجادو سے نجات دلائی ۔۔۔۔اور ساتھ ہی عشنیا سے کہا کہ انہیں واپس چھوڑ آؤ ۔۔۔عشنیا نے پھر میرا ہاتھ پکڑا اور پھر دوبارہ وہی سر سراہٹ گونجی گئی۔۔۔۔ہم واپس اسی جنگل میں تھے جو شاید ان کی بستی کا دروازہ تھا۔۔۔ عشنیا کے ہاتھ کا لمس میرے لئے بے حد عجیب تھا۔۔۔۔۔کچھ دن ہی پہلے ایک مشروب سے واسطہ پڑا ۔۔۔۔۔مگر یہ اس سے بھی عجیب اور توانائی کو برانگیختہ کرنے والا تھا۔۔۔۔۔۔عشنیا میرے ہاتھوں کو چھوڑ کر میرے سامنے کھڑی ہوئی تو ۔۔۔۔۔دوبارہ سے میری آنکھیں خیرہ ہونے لگیں ۔۔۔۔میں نے نظریں دائیں بائیں بھٹکادیں ۔۔۔۔۔مگر ۔۔
عشنیا نے ایک قدم آگے بڑھا یا۔۔۔۔قریبی فاصلہ سمٹ کر مختصر ہو گیا۔۔۔سانسوں سے سانسیں ٹکرائیں۔۔۔۔"کیا میں تمہیں جانتی نہیں ہوں راجہ صاحب ۔۔"۔۔۔
اس کی آواز کی شوخی ۔۔۔کھنک نے میرے پسینے چھڑوا دئے تھے ۔۔۔اور پھر میں نے نظریں اٹھا دیں۔۔۔۔عشنیا کی نگاہوں نے سب داستا ن سنا دی تھی۔۔۔۔چمکتی ہوئی غزال آنکھیں ۔۔۔۔۔جن میں محبت کے ڈورے تیر رہے تھے ۔۔۔۔پنکھڑیوں سے زیادہ نازک اور سرخ ہونٹ ۔۔۔۔۔۔۔جو انتظار میں تھے ۔۔۔۔۔میری اٹھی ہوئی نگاہوں نے بھی جواب دے دیا ۔۔۔۔۔۔۔جسے دیکھ کر عشنیا کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔جیسے اسے یہی امید ہو ۔۔۔۔۔میرے سامنے کھڑے ہو کر اس نے میرے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے اور چہرے کو آگے بڑھایا ۔۔۔۔۔میرا چہر ہ بھی خود بخود آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔اس کے نرم و نازک ہونٹ لگتے ہی مجھے ایک کرنٹ سا لگا ۔۔۔۔ساتھ ہی مجھے ایسے لگا جیسے آس پاس کا منظر پھر سے تبدیل ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔اور ایسا ہی تھا۔۔۔۔۔عشنیا ہلکے سے پیچھے ہٹی ۔۔۔۔۔اور میں نے دائیں بائیں نظر دوڑائی ۔۔پہاڑوں کی وادی کے درمیان ۔۔۔یہ ایک خوبصورت جھیل تھی۔۔۔۔۔جس کے نیلگوں پانی میں آسمان تیر رہا تھا۔۔۔۔میر ا ہاتھ پکڑے ہوئے وہ آگے بڑھتی گئ۔۔۔۔پہلے پانی میرے گھٹنے تک آیا۔۔۔۔اور پھر پیٹ تک۔۔۔۔۔میں نے عشنیا کی طرف دیکھا ۔۔۔۔وہ ابھی بھی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔اور پھر ہم دونوں کے سینے تک پانی آ گیا۔۔۔۔۔۔عشنیا نے ایک نظر مجھے دیکھا ۔۔۔۔اور پانی میں ڈبکی لگا دی ۔۔۔۔۔انداز ایسا تھا کہ جیسے کوئی جل پری ہو۔۔۔۔۔اور پانی اس کا گھر ۔۔۔۔۔۔میرے پاس اس کو فالو کرنے کے کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔۔میں بھی اندر تیر گیا۔۔۔۔۔شفاف پانی میں کسی جل پری کی طرح وہ تیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔اس کی نازک کمر ۔۔۔۔ہلکورے بھررہی تھی۔۔۔اورپاؤں تیزی سے پیچھے کو پانی دھکیلتے۔۔۔۔اس کے بال اس کے قد سے تھوڑے ہی چھوٹے تھے ۔۔۔اور پانی میں اس کے ساتھ ہی تیر رہے تھے ۔۔۔پتلی کمر کے ساتھ متوازن تیرتے ہوئے بال لہرا رہے تھے۔۔ساتھ ہی میری دھڑکنیں بھی بے ترتیب ہو رہی تھیں۔
پانی نہایت شیریں ۔۔اور صاف شفاف تھا۔۔۔۔میری ساری تھکن رفع ہو گئی تھی ۔اتنے دنوں کا میل کچیل ختم ہو چکا تھا۔۔۔۔میری اصلی رنگت ظاہر ہو چکی تھی۔۔۔۔۔ جذبات کی گرمی باہر آتی ہوئی مجھے واپس اپنی شخصیت میں دھکیل رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔میں نے آگے تیرتی ہوئی عشنیا کو دیکھا ۔۔۔۔۔اور پھر اپنی اسپیڈ بڑھا دی ۔۔۔۔۔عمراں صاحب کی دی گئی ٹریننگ میں سوئمنگ کی بھی کلاسز تھی۔۔۔۔اور اب وہ میرے کام آ رہی تھی۔۔۔۔میں نے انڈر واٹر سوئمنگ کرتے ہوئے عشنیا کو جا پکڑا تھا۔۔۔۔۔ اسکی پتلی کمر اور نچلا حصہ دیکھ کر دل بے اختیار دھڑکنے پر آ گیا۔۔۔اس کا لباس اس کے جسم پر مزید چپک گیا تھا۔۔۔۔سڈول رانیں اور پنڈلیاں کسی کو بھی پاگل کرنے کے لئے کافی تھے۔۔۔۔عشنیا کے پاؤں میرے ہاتھوں میں آئے ۔۔۔۔اور میں نے ہلکے سے کھینچتے ہوئے خود کو آگے دھکیلا۔۔۔میں تیرتا ہوا اس کے اوپر آیا تھا۔۔۔۔میر ے بازو اس کے پیٹ کے گرد لپٹے ۔۔۔۔ساتھ ہی میں پوری قوت سے پاؤں پیچھے دھکیلتے ہوئے اسے لئے اوپر آ گیا۔۔۔۔پانی سے باہر آتے ہی اس کا جلوہ پھر ظاہر ہوا ۔۔۔۔۔میں ایک عجیب سے بے خودی ۔۔۔اورسحر محسوس کر رہا تھا۔۔۔تیرے ہوئے میں جھیل کے کنارے پہنچا۔۔۔۔عشنیا میرے ساتھ ہی تھی ۔۔ہم نے قدم باہر باہر نکالا ۔۔پانی اس کے جسم سے تیرتا ہوا نیچے جا رہا تھا۔۔۔۔۔لمبے بال اس کی کمر پر چپک کر چھپا رہے تھے۔۔۔سینے سے اترتا ہوا پانی کسی چشمے کا منظر پیش کر رہے تھے۔۔۔میں ایک مرتبہ پھر گم سم ہو گیا تھا۔۔۔۔میرا ہاتھ پکڑ کر چلتے ہوئے اس نے دوسری طرف اشارہ کیا۔۔۔۔میں نے نگاہیں اٹھائی ۔۔اور حیران گیا ۔۔پہلے میری نظر اس طرف نہیں گئی تھی ۔۔۔۔یہ ایک پھولوں سے بنی ہوئی جھونپڑی تھی۔۔۔میں اس کے برابر میں چلتا ہو ا جا رہا تھا۔۔۔۔عشنیا میرا ہاتھ پکڑے اندر داخل ہو گئی ۔۔۔جھونپڑی کافی بڑی تھی ۔۔اور دو سے تین حصوں پر مشتمل تھی۔۔۔۔۔ایک طرف بڑا سا بیڈ بنا ہوا تھا۔۔۔جو مختلف قسم کے پھولوں کے ساتھ مزین تھا۔۔۔۔جس نے بھی یہ بنایا تھا اس کے تخیل کو داد دی ۔۔۔۔مختلف رنگت کے پھول آپس میں ایک مخصوس مناسبت سے ملے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔عشنیا مجھے بیڈ پر دھکیلتی ہوئی خود بھی اوپر آگئی ۔۔۔۔۔ساتھ ہی ایک منفرد خوشبو سے میرا دماغ معطر ہو گیا۔۔۔۔۔میری نظر فورا نیچے بیڈ پر پڑی ۔۔۔۔جو نزاکت سے ہچکولے کھا رہا تھا۔۔۔۔۔اور پھر پورے بیڈ کا بغور جائزہ لیا۔۔۔ ۔۔پھولوں کی سیٹنگ ایسی تھی کہ ایک خاص خوشبو سی بن رہی تھی۔۔۔۔اور پھولوں کے جتنا نزدیک ہو ۔۔۔اتنی ہی خوشبو ہلکی ہوتی ہوئی ناک میں جارہی تھی۔۔۔۔۔میں کچھ دیر تو بیڈ ہی سونگھتا رہا۔۔۔۔۔۔اور پھر سامنے خوشبودار بدن پر نظر ڈال لی۔۔۔جو میرے ہوش اڑانے کے لئے کافی تھا۔۔۔جھیل کے پانی نے اس کے گیلے بدن کو اور ریشمی بنا دیا تھا۔۔۔۔پہلے سے زیادہ چمکدار ۔۔۔۔۔میں کسی مقناطیس کی طرف کھینچتا گیا۔۔۔۔اور بازو سے تھام لیا۔۔۔آنکھوں پر نظر ڈالی تو خود کو گہرائی میں ڈوبتے ہوئے پایا ۔۔۔۔مجھے ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ اسے ایک بوسہ ہی دے پاتا۔۔۔۔۔۔عشنیا نے میرے ہاتھوں کو ہلکا سا کھینچا ۔۔اور پھر میرے اوپر جھکی ۔۔میرے ہونٹ سیدھے اس کے چہرے پر جا ٹکے تھے ۔۔۔پورے چہرے پر بوسہ دیتے ہوئےمیں ہلکا سا کھسکا۔۔۔اور حسن کی دیوی کو اپنی سائیڈ پر لٹا تا گیا۔۔۔۔۔عشنیا جھکتی ہوئی بیڈ پر لیٹ چکی تھی۔۔۔اس کے سینے کی اٹھان۔۔۔سرکش چٹانوں کی طرف بلند و بالا ۔۔۔۔۔کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتیں ہوئیں۔۔میرے سامنے تھیں۔۔۔میں اس کے چہرے کو بوسہ دیتے ہوئے اس پر جھک چکا تھا۔۔۔۔۔۔سیاہ آنکھیں جوچمکتی ہوئی مجھ پر گڑی تھی۔اب حیا کے پردوں میں چھپتی ہوئی بند ہونے لگیں ۔۔۔اور میں پوری شدت سے اس کے حسن کو خراج پیش کر رہا تھا۔۔۔۔۔بوسے بڑھتے جا رہے تھے ۔۔۔ہر بوسہ پہلے سے زیادہ گرم اور لمباہوتا ۔۔۔ہر بوسے کے بعد مجھے تشنگی سے ہونے لگتی اور میں دوبار ہونٹ چپکا دیتا۔۔صبر کب کا ہوا ہو چکا تھا۔۔۔اور اب بے صبری تھی ، بے قراری تھی۔۔۔۔عشنیا کے ہونٹوں کی قاشیں میری لمس کی تلاش میں تھی۔۔۔۔پورے چہرے کو چومتا ہوا میں ہونٹوں پر آ گیا۔۔۔۔اور ان پیاسے لبوں کو چومنے لگا۔۔۔چوسنے لگا۔۔۔۔۔نرم و نازک پنکھڑیوں جیسے ہونٹ کھلنے لگے تھے ۔۔بڑی نزاکت سے میرے ہونٹوں میں دبتے اور آزاد ہوتے ۔۔۔میں فرحت اور خوشی میں ڈوبتا جا رہا تھا۔۔۔۔ساتھ ہی ہلکی سی کروٹ آگے کرتے ہوئے اپنا کچھ وز ن اس پر ڈال دیا ۔۔۔اس کا ریشمی بدن زرا سا کسمسایا اور پھر میرے نیچے ایڈ جسٹ ہو گیا۔۔بند آنکھیں ہلکی سی کھلیں اور پھر بند ہو گئیں ۔۔۔۔۔ہمارے بدن اب تک گیلے گیلے ہی تھے ۔۔۔۔۔مگر جسموں سے نکلنے والی گرمی کے سامنے زیادہ دیر ٹہرنے والے نہیں تھے ۔۔۔۔۔میں بے صبری سے عشنیا کے ہونٹ چوسنے کے بعدٹھوڑی سے پانی کے قطرے چوم رہا تھا۔۔۔۔۔اور پھر نیچے آتاہوا صراحی دار گردن پر پہنچا ۔۔۔۔۔عشنیا کچھ کسمسائی ۔۔۔اور پھر چہرہ دوسری طرف کر دیا ۔۔۔۔۔گردن چومتا ہوا میں کندھوں پر آیا ۔۔۔۔۔۔جہاں چمکتا ہوا بدن کپڑا اس کے بدن پر چسپاں تھا ۔۔۔۔۔میرے ہاتھ لگتے ہی اس نے پھسلتے ہوئے نیچے کا سفر شروع کردیا۔۔۔۔عشنیا مزید سمٹی تھی۔۔۔۔جہاں جہاں سے کپڑا ہٹتا جا رہا تھا ۔۔۔میرے ہونٹ اپنے نشان ثبت کرتے جارہے تھے ۔۔۔۔چاندی جیسا چمکتا ہوا بدن میرے سامنے عیاں ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔ساتھ ہی میرے جسم کی حرارت بھی تیزی پکڑتے جارہی تھی۔۔۔۔۔۔۔عشنیا کے جسم کی کشش اور لمس نے ایک عجیب سے قوت جگا دی تھی۔۔۔۔۔میں ہلکے سرور میں تھا۔۔۔۔۔اورجذبات تھے کہ آتش فشاں کا روپ دھار رہے تھے ۔۔۔۔۔
میں نے عشنیا کے کندھے ننگے کر دئے تھے ۔۔۔اور اب کپڑا نیچے کو پھسلتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔سینے کی اونچی چٹانوں نے کچھ روکنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔مگر میں نے ہلکا زور سے کھینچتے ہوئے آزاد کیا ۔۔۔۔میرے سامنے جام آچکے تھے ۔۔۔چمکتی ہوئی رنگت ۔۔۔۔۔پوری گولائیوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔اونچی اٹھان کے ساتھ ۔۔۔۔۔بے فکری اور سختی سے کھڑے ہوئے ۔۔۔۔۔درمیان میں پنک کلر کے چھوٹا سا دائرہ ۔۔۔۔۔۔جو اسکو مزید چار چاند لگا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔عشنیا پھر سے سمٹی تھی ۔۔۔۔۔۔بند آنکھوں میں اسے اپنی بے لباسی کا احساس ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔اور میں پھر جام پر جھک گیا ۔۔پنک نپلز کو بڑی نزاکت سے اپنے ہونٹوں میں دبایا تھا۔۔۔۔۔دوسرے جام پر اپنے ہاتھ کو رکھا ۔۔۔۔جو میرے ہاتھوں سے باہر نکلنے کو بے تاب ہونے لگا۔۔۔۔ہلکا سا دباؤ ڈالتے ہوئے میں نے انہیں سمبھالا ۔۔۔۔۔اور پہلے جام پر اپنے ہونٹ رکھے اسے چوسنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔منہ کھولتے ہوئے میں اس جام کو تھامنے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔۔جو بار بار پھسلتا ہوا باہر نکلنے کی کوشش کرتا ۔۔۔عشنیا کی دھڑکنیں بھی تیز ہو چلیں تھی ۔۔۔۔منہ سے نکلنے والی ہلکی سی آہیں میرے کانوں میں پہنچ رہی تھیں۔۔۔۔۔میرے اپنے جسم کا آتش فشاں بھی زور پکڑ چکا تھا۔۔۔۔ہتھیار اپنی سختی میں آ چکا تھا۔۔۔۔اور عشنیا کی سائیڈ سے ٹکرا رہا تھا۔۔۔۔
میں نے جام کو چومنے اور منہ میں بھرنے کی کوشش کے ساتھ اپنے ایک فارغ ہاتھ سے اس کے کپڑے کو مزید نیچے پھسلانے لگا۔۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں کپڑا نیچے حرکت کرتا ہوا اس کی ٹانگوں کے درمیان پہنچ چکا تھا۔۔۔آگے میرے پاؤں نے ذمہ داری سمبھالی ۔۔۔اور اسے عشنیا کی ٹانگوں سے نیچے اتار دیا۔۔۔۔۔۔۔میں نیچے نہیں دیکھ پا رہا تھا۔۔۔مگر میرے تخیل نے مجھے اس کے بدن کے نشیب و فراز دکھا دئے تھے ۔۔۔۔میں نے ہونٹ پہلے جام سے ہٹا کر دوسرے جام پر رکھ دئے ۔۔۔۔اور انہیں چومنے اور چوسنے لگا۔۔۔۔میرے اندر کی گرمی نے مجھے اپنے والے انداز میں آنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔جس میں عشنیا کی کشش کا بھی بڑا حصہ تھا۔۔۔۔۔میں بے خود ہو کر ا س میں گم ہو نے لگا۔۔۔۔اس کے سینے کو چومتے ہوئے میں زرا سخت اندازاپنانے لگا۔۔۔۔اس کے سینے کے جام پر میرا دباؤ بڑھ گیا۔۔۔۔ہونٹوں کی پکڑ اور چوسائی نے بھی زور پکڑا۔۔۔۔۔عشنیا کی سسکیاں بھی اس کے ساتھ بڑھی ۔۔۔۔۔۔اس کے نپل اکڑ کر مزید لمبے ہونے لگے ۔۔۔میں نےپہلی بار اتنے گلابی نپل دیکھے تھے ۔۔۔۔۔میں نے اس کے نپلز چوستے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھائے ۔۔۔اور اپنی شرٹ اتارنے لگا۔۔۔۔اور اس کے بعد پینٹ سے بھی خود کو آزاد کر دیا۔۔۔۔۔ہم دونوں اب برہنہ تھے ۔۔۔۔۔۔۔میں نے عشنیا کو اپنی طرف کروٹ دیتے ہوئے خود سے لپٹا دیا۔۔اس کے بال سمیٹ کر تھوڑے پیچھے کر دیے ۔۔۔۔۔ہماری ننگے بدن آپس میں ملے تھے ۔۔۔۔۔۔اس کے اکڑے ہوئے جام میرے سینے پر جاٹکے ۔۔۔۔۔اس کے نپلز نے اپنی سختی سے اپنا تعارف کروایا ۔۔۔میرے ہاتھ بے اختیار اس کی کمر پر گھوم رہے تھے ۔۔۔۔اور پھر اس کی پتلی کمرپر ہوتے ہوئے چوتڑوں پر آئے ۔۔۔۔نہایت ہی مناسب سائز کے ساتھ ، بھرپور گولائی لئے ہوئے یہ چوتڑ میرے ہاتھوں میں دبے ۔۔۔۔۔۔۔میں سخت ہاتھوں سے انہیں دبانے لگا۔۔۔۔۔۔اوپر ہم دونوں کے ہونٹ آپس میں ملے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔عشنیا نے بھی میرے ہونٹوں کو ہلکے سے پکڑا ۔۔۔۔اور چومنے کی کوشش کی ۔۔مجھے بے اختیار پیار آیا ۔۔۔میں نے بھی جواب میں بھرپور طریقے سے اس کے ہونٹوں کا رس پیا۔۔۔۔۔۔
میرا ہتھیار تن کر جولانی میں آچکا تھا۔۔۔۔جوش سے فل پھولا ہوا۔۔۔۔۔۔خوشی سے مزید لمبائی اختیار کررہا تھا۔۔۔۔۔میں نے عشنیا کے چوتڑوں کو ہلکا سے پھیلاتے ہوئے اپنے ہتھیار کو راستہ دکھایا۔۔۔۔اور وہ اس کی چوت کے لبوں پر رگڑ کھاتا ہوا پیچھے کی طرف آیا۔۔۔۔۔۔میں اب اس کے چوتڑوں کو دباتا ہوا اپنے ہتھیار کو بھی ہلکے سے آگے پیچھے کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
اوپر کی طرف ہونٹ چوستے ہوئے میں نے عشنیا کے منہ میں اپنی زبان داخل کی ۔۔۔۔۔اس کے ہونٹ چوسنے کی کوشش کے ساتھ اس کے دانت میری زبان سے ٹکرائے ۔۔۔۔۔اور پھر وہ ہونٹ بھول کر زبان ہی چوسنے لگی۔۔۔۔۔۔میرے اندر شہوت اور لذت کی لہریں زور پکڑنے لگیں ۔۔۔۔۔۔عجیب سے ایک لہر تھی جو نیچے کی طرف اور بڑھتی اور ہتھیار کے ٹوپے تک جا کر لگتی۔۔۔۔اور اسے اور پھولنے پر مجبور کرتی ۔۔۔۔۔۔۔عشنیا بڑے مزے سے میری زبان چوسنے میں مگن تھی ۔۔۔۔آنکھیں نیم وا تھی۔۔۔۔۔سخت اکڑے ہوئے جام میرے سینے پر دبے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔جو کبھی ہلکی سی رگڑ بھی کھا جاتے ۔۔۔
عشنیا زبان چوسنے کے ساتھ اپنی زبان بھی لڑانے لگی تھی ۔۔۔کچھ دیر بعد اس نے اپنی زبان میرے منہ میں پہنچادی ۔۔۔اب میری باری تھی ۔۔۔میں بھی بڑے مزے سے چوسنے لگے ۔۔۔۔ہمارے تھوک کافی دیر سے ایکدوسرے میں مکس ہو رہے تھے ۔۔عجب لذت تھی اس کے تھوک میں۔۔۔۔۔ہونٹ پہلے سے زیادہ سرخ ہوچکے تھے ۔۔۔۔آنکھوں کی چمک پہلے سے زیادہ بڑھ چکی تھی ۔۔۔اور پیاس جھلکنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔میرے ہتھیار نے بھی جھٹکے دے کر مجھے کچھ سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔۔مگر ابھی تک ہم اوپر ی لذت میں ہی مگن تھے ۔۔۔میں عشنیا کے ہونٹ چوسے جا رہا تھا۔۔۔۔اس کے چوتڑ دبائی جارہا تھا۔۔۔۔۔اور ان سب کے درمیاں میرا ہتھیار اس کی ٹانگوں میں پھنسا ہوا آگے پیچھے سرک رہا تھا۔۔۔۔اس کے جسم میں بھی بے چینی شروع تھی۔۔۔۔
عشنیا اپنے قبیلے کے سردار کی بیٹی تھی۔۔۔۔بے حد حسین اور دلکش ۔۔۔۔۔ہزاروں جن زاد اس سے شادی کے خواہش مند تھے ۔۔۔مگر اس کا باپ کی خواہش کی مطابق کوئی رشتہ نہیں مل سکا ۔۔۔۔عشنیا نے بھی خود کو سمبھال کر رکھا تھا۔۔۔میں پہلا آدم زاد تھا جو اس کے پہلو میں آیا تھا۔۔۔۔۔کچھ دیر تک تو میں اس کی قربت کے اثر اور نشے میں تھے ۔۔۔۔۔مگر یہی نشہ مجھے میری فطری انداز کی طرف دھکیلنے لگا۔۔۔جہاں عقیدت کے ساتھ چاہت بھی تھی ۔۔۔چاہت کے ساتھ شدت بھی تھی ۔۔۔۔اور شدت کے ساتھ وہ مزہ جو کہ میری پہچان بھی تھی ۔۔۔۔
ہم دونوں کے جسم شہوت اور مزے کے دائرے میں گھوم رہے تھے ۔۔۔۔میرا ہتھیار بھرپور خوشی میں ناچ رہا تھا۔۔۔۔۔پہلے سے کہیں زیادہ موٹا اور سخت تنا ہوا تھا۔۔۔۔ابھی اس وقت عشنیا کی نازک رانوں سے ٹکرا رہا تھا۔۔۔۔عشنیا بھی اسے محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔موٹا اور وزنی ہتھیار اسے اپنی سختی سے روشناس کرو ا رہا تھا۔۔۔۔۔ہم دونوں کے کپڑے کب کے اترے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔اور دومختلف تخلیق ایکدوسرے سے لپٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔ایک کا تعلق آگ سے تھا ۔۔۔اور دوسرے کا مٹی ۔۔۔۔۔مگر اس وقت دونوں ہی تپے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ایک دوسرے میں گم تھے ۔۔۔۔۔شہوت اور لذت میں ڈوبے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔آپس میں مدغم ہوئے تھے ۔۔۔۔مجھے نہیں اندازہ تھا کہ کہ عشنیا ہتھیار کیسے لے پائے گی ۔۔۔۔۔مجھے اس کے جسم کا گداز اور نزاکت زیادہ ہی لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میں کروٹ لیتے ہوئے اس کے اوپر آ گیا۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔۔۔عشنیا کے آنکھیں جو شروع میں بند تھیں ۔۔۔۔۔اب ہلکی سے کھلی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔میری کمر اٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔اور ہتھیار نیچے اس کے پیٹ پر لیٹا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔کسی ناگ کی مانند ۔۔۔۔میں نے عشنیا کے چہرے کو چومتے ہوئے اپنی طرف رخ کیا۔۔۔اور نیم وا آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔۔وہ تیار ہی تھی ۔۔۔۔میں اس کو چومتے ہوئے نیچے آیا ۔۔۔۔اور اس کے دودھ کے جام پر جھک گیا۔۔۔۔۔جو پہلی بار کسی دوسرے کا لمس محسوس کر نے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔مجھے ایسے لگا جیسے کسی مکھن کی ڈلی کو منہ میں لینے کی کوشش کی ہو ۔۔۔۔اتنے نازک اور نرم ممے پہلی بار میں نے دیکھے۔۔ممے نرم تو تھے ۔۔مگر نیچے ڈھلکے ہوئے ہر گز نہ تھے ۔۔۔بلکہ اسی طرح اٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔عشنیا کی آنکھیں پھر بند ہو چلی تھی ۔۔۔اس کے ہونٹوں نے سریلی آواز سے مجھے ویلکم کیا۔۔۔۔۔میں دوسر ے ممے کو پکڑتے ہوئے ۔۔۔پہلے کو چومنے لگا۔۔۔۔۔چوسنے لگا۔۔منہ میں بھرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔کچھ دیر دونوں جاموں سے لطف اندوز ہو کر میں نیچے آیا۔۔۔۔۔جہاں نازک سیپ پر پانی چمک رہا تھا۔۔۔میں نے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔۔اور پھر جھک گیا۔۔۔۔۔اتنی نازک چوت میں نے پہلی مرتبہ ہی دیکھی ۔۔۔اور میں خود کو روک نہیں پا رہا تھا۔۔میرے ہونٹ نے اس کے چوت کے لبوں کو چوما تھا۔۔۔۔ساتھ ہی عنشیا کے جسم میں وائیبریشن دوڑ گئی۔۔۔۔اس کی ٹانگیں ہلی تھی اور ملنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔میں چوت کے لبوں کو چومتا ہوا اس کے دانے پر اپنی زبان رگڑ رہا تھا۔۔۔۔۔میرے دونوں ہاتھ اوپر تھے ۔۔۔اور عشنیا کے جام پر گھوم رہے تھے ۔۔۔۔۔عشنیا کی بے چینی بڑھنے لگی تھی ۔۔۔سریلی سسکیوں نے مجھے بھی مدہوش سا کر دیا۔۔۔۔اور پھر کچھ دیر میں ایسے ہی چومتا اور چوستا رہا ۔۔۔۔۔اور پھر اٹھ کر بیٹھ گیا۔عشنیا نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا ۔۔۔وہ مدھوشی کے نشے میں تھی۔۔۔۔ میں اس کی ٹانگوں کے درمیان آ بیٹھا۔۔۔۔۔ٹانگیں دائیں بائیں پھیلا دی۔۔۔۔عشنیا کو بھی انداز ہ تھا ۔۔کہ کیا ہونے جا رہا ہے ۔۔۔۔۔میں نے ہتھیار کے ٹوپے کو ہلکا سا گیلا کیا ۔۔۔۔اور چوت کے لبوں پر ٹکا دیا۔۔۔۔۔مجھے اندازہ تھا کہ چوت اندر سے گیلی ہی ہو گی۔۔۔۔۔اپنے ہاتھ میں عشنیا کے پیٹ پر پھیرتے ہوئے اوپر لے گیا۔۔۔اور مموں پر رکھ دیے ۔۔۔ساتھ ہی اٹھتا ہوا کچھ اوپر آ گیا۔۔۔۔۔ٹوپا چوت کے لبوں پر جم چکا تھا۔۔۔۔میں نے مموں کو دباتے ہوئے ہلکا سا مسلا۔۔۔۔اور ٹوپے پر دباؤ بڑھا دیا۔۔۔۔ٹوپے نے چوت کے لبوں کو اندر کی دھکیلتا ہوا جگہ بنائی ۔۔۔۔اوراندر جا پھنسا۔۔۔۔۔۔۔عشنیا کی سسکاری نے مجھے اوپر دیکھنے پر مجبور کیا ۔۔۔۔درد کی شدت سے سر دائیں بائیں کرتی ہوئی وہ بے چین دکھ رہی تھی۔۔۔میں نے اس کے مموں کو مسلنا اور ملنا جاری رکھا۔۔۔۔ممے بھی پہلے سے کچھ سخت اور اکڑ ے ہوئے تھے۔۔۔مجھے دبانے میں پہلے سے زیادہ مزہ آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے ٹوپے کو مزید اندر دھکیلنے کی کوشش کی ۔۔۔۔عشنیا ایک دم اوپر کی طرف ہو گئی ۔۔۔۔۔۔اس کے منہ کی سسکی پہلے سے بلند تھی۔۔۔۔میں ہلکی ہلکی حرکت کرتے جا رہا تھا۔۔۔۔عشنیا کی چوت نے بے تحاشہ پانی بہاناشروع کر دیا۔۔۔۔۔جو رگڑ سے جھاگ کی صورت باہر نمودار ہو رہی تھی۔۔۔۔۔اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے عشنیا اب بھی بے چین تھی۔۔۔۔۔نیم وا آنکھوں میں نمی تھی ۔۔۔جو سائڈ سے بہتی ہوئی نیچے جا رہی تھی۔۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ سے اس کی چوت کے دانے کو مسلنا شروع کیا ۔۔۔۔۔اورہتھیار کو اندر دھکیلنا جاری رکھا ۔۔۔ابھی آدھے سے زیادہ ہتھیار باہر ہی تھا۔۔۔۔میں مستقل مزاجی سے ہتھیار کو آگے پیچھے کر رہا تھا۔۔۔اس کی چوت کا پانی میری مدد کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر میں آدھا ہتھیار اندر جا پھنسا تھا۔۔۔۔۔میں نےسائڈ سے اس کی ٹانگیں اٹھا کر تھوڑی سی دوہری کر دی۔۔۔۔اور خود گھٹنے کے بل بیٹھ گیا۔۔۔اور اسی طرح ہتھیار کو آگے پیچھے کر تا رہا ۔۔۔۔اچانک مجھے اک عجیب احساس ہوا ۔۔۔۔عشنیا کا جسم گرم ہونے لگا۔۔۔۔۔۔پہلے مجھے شک سا لگا۔۔۔۔پھر میں نے اس کے بدن کو کچھ دیر بعد دوبارہ چھوا تو پورا بدن ہی گرم ہورہا تھا۔۔۔۔۔یہ گرمی بڑھتی جارہی تھی ۔۔۔یہاں تک میرا ہاتھ رکھنا بھی مشکل ہونے لگا۔۔۔۔یہی حال اس کی چوت کا بھی تھا ۔۔جہاں میرے ہتھیار اس گرمی کو اور زیادہ محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔میں نے اوپر عشنیا کی طرف دیکھا ۔۔۔وہ ویسے ہی تھی ۔۔۔درد کی حالت میں ۔۔۔۔اسے شاید اس کا احساس نہیں تھا۔۔۔۔ایک دل میں آیا کہ اس سے دور ہو جاؤں ۔۔۔مگر یہ بھی مشکل تھا۔۔۔اسے درمیاں میں چھوڑ کر پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور یہ گرمی برداشت سے باہر ہوتی جارہی تھی ۔۔۔۔۔۔اتنے میں میرے منہ سے کراہ نکل گئی ۔۔۔عشنیا نے چونک کر میری طرف دیکھا۔۔۔۔میں نے اس کے جسم سے ہاتھ اٹھا لئے تھے ۔۔۔۔مگر ہتھیار اس طرح چوت میں تھا۔۔۔میں کوشش کر رہا تھا کہ اپنے باقی جسم کو اس سے دور ہی رکھوں ۔۔۔۔۔درد کو برداشت کرنے کی کوشش میں میرا اپنا جسم بھی لال سرخ ہونے لگاتھا ۔۔۔عشنیا نے میری حالت دیکھ لی تھی۔۔۔اور شاید سمجھ بھی ۔۔۔اس نے مجھے پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔مگر میں نے اسے روک دیا۔۔۔۔۔اور اپنے دھکے کچھ بڑھانے لگا۔۔۔اب عشنیا کی بھی سسکی نکلی۔۔۔۔میں نے اپنے دھکوں کی اسپیڈ بڑھانی شروع کر دی۔۔۔۔مجھےہر حال میں عشنیا کو فارغ کروانا تھا۔۔۔۔جھٹکے ایسے تھے کہ عشنیا کے منہ سے چیخ نکلی ۔۔۔میرا آدھے سے زیادہ ہتھیار اس کے اندر تھا۔۔۔مجھے ہتھیار کی اسکن اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔میں اس کے اوپر جھک آیا ۔۔۔دائیں بائیں ہاتھ ٹکا کر اپنے پیر بھی دائیں بائیں پھیلا دیے ۔۔۔۔۔۔۔اور پوری قوت سے جھٹکے مارنے لگا۔۔۔۔ہتھیار ٹوپے تک باہر نکلتا اور پھر تباہی مچاتا ہوا اندر جاپہنچتا ۔۔۔۔۔۔عشنیا کی اپنی حالت خراب تھی۔۔۔۔زور دار آہیں اور سسکیاں ہر طرف پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔جن میں درد اور مزے دونوں کا امتزاج تھا۔۔۔۔۔
ادھر ہر کچھ دیر بعد میری بھی چیخ نکل جاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔عشنیا مجھے بھی دیکھتی ۔۔۔اور اپنا درد بھی سمبھالتی ۔۔۔۔اس کا جسم پسینے میں تر بتر تھا۔اور چیخیں تھیں کے کہ بے اختیار نکلے جارہی تھی۔۔۔اور میرا بھی یہی حال تھا۔۔۔۔میرے جھٹکے تباہ کن ہونے لگے ۔۔۔۔۔۔۔ٹوپے نے عشنیا کی چوت کی گہرائی کو ناپ لیا تھا۔۔۔اور پوری طاقت سے آخر تک مار کرتا۔۔۔۔۔۔اور پھر میری مراد بر آئی ۔۔۔۔۔عشنیا کی آوازوں میں کچھ تبدیلی آئی ۔۔۔۔گہری سانسوں کے ساتھ آہیں بلند ہوئی ۔۔۔۔۔۔اور پھر چوت کے اندر ایک سیلاب سا آیا۔۔۔۔۔۔۔۔پانی اسقدر تھاکہ مستقل باہر گرنے لگا۔۔۔۔۔۔میرے ہتھیار کی گرمی کچھ کم ہوئی ۔۔۔۔۔۔میں نے جلدی سے ہتھیار باہر نکالا اور سائیڈ میں گر گیا۔۔۔عشنیا کی سانسیں جیسی ہی برابر ہوئی ۔۔۔وہ جلدی سے اٹھی اور مجھ پر جھک گئی ۔۔۔۔۔۔اس کے نازک ہاتھ میرے ماتھے پر آئے ۔۔۔۔جو آگ جیسا تپ رہا تھا۔۔۔۔اس کے آنسو میرے چہرے پر گرے تھے۔۔۔۔۔میں نیم بے ہوشی میں چلا گیا۔۔۔عشنیا کچھ بڑبڑاتی جارہی تھی ۔۔۔" مجھ سے بھول ہو گئی ۔۔۔۔پہلے اس کا توڑ کر لینا چاہئے تھے ۔۔"۔۔۔
میں نے عشنیا کے ہونٹ اپنے ماتھے پر محسوس کئے ۔۔۔۔اور پھر دوبارہ سے سرسراہٹ کی آواز کے ساتھ میں حرکت میں آیا۔۔۔عشنیا تیزی سے مجھے لیتی ہوئی جھیل کے پانی میں اترتی گئی۔۔۔ٹھنڈ اور برف کا احساس تھا ۔۔جو مجھے پھر سے زندہ کر گیا۔۔۔۔عشنیا مجھے لئے گہرائی میں اتری تھی۔۔۔۔۔جہاں پانی کی ٹھنڈ اور زیادہ تھی۔۔میں اب ہوش میں آ نے لگا۔۔۔۔میری آنکھ کھلتا دیکھ کر عشنیا مجھے اوپر سطح پر لے آئی ۔۔۔میں نے سانس کھینچتے ہوئے پھیپڑوں کو زندہ کیا۔۔۔۔۔تن بدن میں ایک روشنی سی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے عشنیا کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔آنسو اب بھی اس کی آنکھوں سے جاری تھے ۔۔۔۔۔۔اس کے ہاتھ میرے ہاتھوں میں تھے ۔۔۔اور گرمی ختم ہو چکی تھی۔۔۔
میں نے مسکراتے ہوئے دیکھا۔۔۔اور کہا۔۔" جیسے تم مجھے دیکھ رہی ہو ایسے تو مردے بھی زندہ ہو جائیں ۔۔۔اور میں تو پھر بھی زندہ ہو ں۔۔۔" ۔۔۔
عشنیا مجھ سے لپٹ گئی ۔۔۔۔۔اب اس کا جسم ویسے ہی نارمل ہو چکا تھا۔۔۔میں اسے خود سے لپٹائے باہر کنارے کی طرف تیرنے لگا۔۔۔۔۔باہر آ کر اپنے جسم پر دیکھا ۔۔تو وہاں سرخ آبلے سے بنے ہوئے تھے ۔۔پورے جسم کا یہی حال تھا۔۔۔۔ہتھیار اسی طرح کھڑا تھا۔۔۔۔اس کی اسکن بھی سرخ سے سیاہ ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔عشنیا نے میرا پورا جسم دیکھا تو پھر پریشان ہو گئی ۔۔۔میں نے اسے مطمئن کیا ۔۔۔۔مگر وہ مزید پریشان ہونے لگی۔۔اور کہا کچھ دیر ٹہرو۔۔۔میں آتی ہوئی ۔۔۔وہ کچھ ہی سیکنڈ میں غائب ہو کر واپس آئی تھی۔۔۔۔۔۔اس کے ہاتھ میں ایک پیالہ تھا۔۔۔۔۔مٹی کے اس پیالے میں کوئی مشروب تھا ۔۔۔جو عشنیا نے میرے ہونٹوں سے لگا دیا۔۔۔۔۔مشروب کی تاثیر انتہائی ٹھنڈی تھی۔۔۔۔اور میں نے ٹھنڈ کی ایک لہر اپنے سینے میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عشنیا نے پورا مشروب پلا کر سائڈ پر گلا س رکھا۔۔۔۔اور مجھے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔میرا پورا جسم ٹھنڈ اختیار کرتا جا رہا تھا۔۔۔اور پھر میں نے اپنے آبلوں کو مندمل ہوتے دیکھا۔۔۔۔۔۔وہ تیزی سے ختم ہوتے جا رہے تھے۔۔۔۔۔عشنیا بھی یہ دیکھ رہی تھی۔۔۔اس کے چہرے پر بھی سکون تیرنے لگا۔۔۔۔پریشان چہرہ پھر دلکشی اختیار کرنے لگا۔۔۔۔۔اسے انداز تھا کہ میں نے اس کی خاطر یہ سب درد سہا تھا۔۔۔۔۔ورنہ میں پہلے ہی الگ ہو کر ان سب سے بچ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔میرے جسم واپس ٹھیک ہو گیا تھا۔۔۔۔اور جذبات ویسے ہی ابھرنے لگے تھے ۔۔۔۔عشنیا نے بھی میری شرارت بھری نگاہیں پہچان لیں تھیں۔۔۔فورا قریب آ کر میری گود میں بیٹھی ۔۔۔۔۔راجہ صاحب ۔۔۔بس ابھی کے لئے کافی ہے ۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ آپ مزید درد برداشت کریں ۔۔۔۔
میں نے اس کی کمر پر ہاتھ ڈالا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔وہ دھان پان سی جن زادی میرے سینے سے لپٹی ہوئی تھی۔۔۔دودھ کے بھرے ہوئےجام میرےسینے پر دب کر اوپر اٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔میں اسے لپٹائے جھیل میں چھلانگ لگا چکا تھا۔۔۔۔
عشنیا کی گرمی کا توڑ میں سوچ چکا تھا۔۔۔۔جھیل کے اندر اترتے ہی میں نےپاؤں مارے اور سطح پر آ گیا۔۔۔۔عشنیا اسی طرح مجھے سے لپٹی تھی ۔۔۔۔۔ہونٹ سے ہونٹ ملائے میں اسے چومے جارہا تھا۔۔۔۔۔اس کے ہونٹوں کے مٹھاس مجھے کبھی نہیں بھولنےوالی تھی۔۔۔۔۔میں کسی پیاسے کی طرح چس چس کرتا اس کے ہونٹ چوس رہا تھا۔۔۔عشنیا بھی میرا سر پکڑے جواب دینے میں مصروف تھی ۔۔۔اس کی گرم جوشی پہلے سے بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔جیسے میری آزمائش کے بعد اسے مجھے پر یقین بڑھ گیا تھا۔۔۔۔اب وہ پہلے سے زیادہ بوسے دینے میں مصروف تھی۔۔۔میں اسی طرح چومتے ہوئے اس کنارے کی طرف لے گیا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں میرے پاؤں جھیل کی زمین پر لگے تھے۔۔۔۔۔۔۔یہاں پانی قدرے کم تھا۔۔۔۔اور نچلے حصے میں نرم گھاس لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔میں کچھ اور باہر آیا ۔۔۔یہاں پانی اور کم ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔اور پھر ایک جگہ مناسب دیکھ کر میں بیٹھ گیا۔۔۔عشنیا اب تک سمجھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔میں گھاس پر لیٹنے لگا۔۔۔۔اسطرح کہ صرف میرے چہرے کا کچھ حصہ پانی سے باہر تھا۔۔۔اب عشنیا سمجھ چکی تھی ۔۔۔۔اور مجھے پرلیٹتی ہوئی مجھ پر آگئی۔۔۔۔۔بڑی محبت سے میرے ہونٹوں کو چوستی ہوئی وہ نیچے ہونے لگی۔۔۔۔کشادہ سینے کو چومنے لگی۔۔۔۔۔کچھ کچھ دیر بعد اوپر دیکھتی تو بہت خوبصورت لگتی ۔۔۔ستارے جیسے چمک اس کی آنکھوں میں تھی۔۔۔۔۔نیچےہوتی ہوئی وہ میرے ہتھیار تک پہنچی اور تھامنے لگی۔۔۔۔۔دونوں ہاتھوں میں پکڑنے لگی۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر تک ہلانے کے بعد اب وہ پھر سے مجھے پر بیٹھنے کی تیار ی کرنے لگی۔۔۔۔۔پاؤں دائیں بائیں گھاس پر رکھ کر وہ میرے اوپر تھی ۔۔ہتھیار اب تک اس کے ہاتھ میں ہی تھا ۔۔۔اور پھر ٹوپے کا رخ اوپر کی طرف کرتے ہوئے وہ اس پر بیٹھنے لگی۔۔۔۔۔کیا دلکش نظارہ تھا۔۔۔۔۔اس کے چہرے کا تاثرات ۔۔۔چمکتا بدن ۔۔۔۔سامنے کی طرف دو حسین جام ۔۔۔۔۔۔نازک سا پیٹ ۔۔۔نزاکت بھری کمر ۔۔۔۔۔۔۔جسے میں پکڑے ہوئے اس سہار ا دئیے ہوئے تھا۔۔۔۔۔۔۔اسی بیٹھنے کی کوشش میں وہ ٹوپا اندر لے چکی تھی۔۔۔۔۔اس کے منہ سے سسکی نکلی ۔۔۔آہ ۔۔۔سس۔۔۔۔۔اور پھر وہ آگے ہوتے ہوئی میرے پیٹ پر بیٹھنے لگی۔۔۔ہتھیار نے اسے پیٹ پر بیٹھنے کے بجائے میرے سینےپر بٹھایا ۔۔۔۔۔بیٹھنے کے بعد وہ میرے اوپر جھک گئی۔۔۔۔۔۔اور کان میں کہنے لگی ۔۔۔جان اگر پھر تمہیں حرارت محسوس ہو تو بتادینا۔۔۔۔پہلے اس کا حل کریں گے ۔۔۔۔۔اب کی بار برداشت مت کرنا۔۔۔۔اور پھر چومتی ہوئی وہ نیچے کو کھسکنے لگی ۔۔۔۔۔۔میں اس کے ہلتے ہوئے مموں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔جو میرے چہرے کے اوپر ہی لہرا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔عشنیا کے منہ سے سسکیاں نکلی تھی ۔۔۔۔۔۔ہتھیار اس کے اندر جا پھنس چکا تھا۔۔۔مزید اند ر لینے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔۔مجھے پر جھکتی ہوئی مجھے چومنے لگی۔۔۔۔اس کی نازک کمر اور بھاری چوتڑ نے ایک خوبصورت سا کَرو دیا تھا۔۔۔۔۔اپنی کمر کو ہلاتی ہوئی ۔۔۔۔سسکیاں بھرتی ہوئی وہ کچھ اور ہی دکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔میں نے آگے اس کے ہلتے ہوئے مموں کو تھاما۔۔۔وہ کچھ اٹھ گئی ۔۔۔اور پیروں کے بل پر اوپر نیچے ہونے لگی۔۔۔ادھر میں اس کے مموں کو دبانے میں مگن تھا۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد۔۔میں نے اپنے سیدھے پیروں کو واپس لاتے ہوئے گھٹنے اٹھا دیے تھے ۔۔۔۔۔اور اب اس کا ساتھ دینے کے لئے تیار تھا۔۔۔۔۔۔میرا پہلا جھٹکا خاصا زور دار تھا۔۔۔عشنیا چیخ مارتی ہوئ مجھ پر گری تھی۔۔۔۔۔۔۔ہتھیار کسی میزائل کی طرح اس کے اندر کھبا تھا۔۔۔۔۔میں نے اس کے گرد اپنے بازو لپیٹے اور پھر دھکے دینے لگا۔۔۔۔۔۔اس کے سخت ممے میرے سینے پر دبے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔سسکیاں منہ سے نکلی جارہی تھی۔۔۔۔۔سس ۔۔آہ ہ۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔اور مین نے نیچے سے بغیر رکے اسیپیڈ بڑھاتے جا رہا تھا۔۔میرے دھکے اسے اوپر اچھالتے اور پھر وہ نیچے بھی ساتھ ہی آتی ۔۔۔ہتھیار بری طرح سے اس کی چوت میں پھنسا ہوا تھا۔۔۔۔میری بھی لذت کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔اس کی چوت میں اوپر کی طرف جاتا ہوا ہتھیار بھرپور رگڑ کھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
میں نے عشنیاکے گرد ہاتھ کھولتے ہوئے نیچے لے گیا۔۔۔۔اور اس کے چوتڑ تھام کر دبانے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی کوشش سے مجھ پر سواری کر رہی تھی۔۔۔میرے بھرپور جھٹکے اسے گرانے کی کوشش میں۔۔۔۔۔۔جھٹکوں کی اک مشین جاری تھی۔۔۔۔۔۔عشنیا کی سریلی آہیں اور سسکیاں مجھے مزید اکسا رہی تھی۔۔۔۔۔۔مجھے عشنیا کے جسم کی گرمی پھر محسوس ہوئی ۔۔۔مگر یہ پہلے سے بہت کم تھی ۔۔۔اور پانی میں ہونے کی وجہ سے مجھ پر زیادہ اثر اندا ز میں نہیں تھی۔۔۔۔۔۔مگر میرا ہتھیاراسی طرح عشنیا پر اثر انداز ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ منہ کھولے ہوئے بھرپور سسکیاں اور آہیں بھر رہی تھی۔۔۔۔سس۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔۔ہم م مم۔۔۔۔۔
میں نے اس خود سے لگایا اور کروٹ بدل لی۔۔۔۔۔۔۔اب کی بار وہ میری جگہ پر لیٹی تھی۔۔۔اور میں اوپر تھا۔۔۔ہم دونوں کے چہرے پانی سے باہر تھے ۔۔۔۔۔۔باقی پورا جسم پانی کے اندر ۔۔۔عشنیا کوآکسیجن کی اتنی ضرورت نہیں تھی۔۔۔وہ پانی میں بھی کافی دیر تک رہ سکتی تھی ۔۔۔۔۔اس لئے میں مزید نیچے کھسک گیا۔۔۔۔اب وہ پوری پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔اور میرا صرف سر ہی باہر تھا۔۔۔۔ پاؤں کے نیچے اچھی خاصی گھاس تھی ۔۔۔جہاں میرے پاؤں جم سکتے تھے ۔۔۔۔۔۔میں نے پاؤں جما کر عشنیا کی نازک پنڈلیوں کو پکڑا اور اٹھانے لگا۔۔۔۔۔اس کی ٹانگیں اٹھ کر اس کے سینے پر آن لگی۔۔۔۔۔۔میں پورا اس پر جھک گیا تھا۔۔۔۔۔ہونٹ چومنے کے بعد میں نے ہتھیار کے ٹوپے کو اس کی چوت پر دبا دیا۔۔۔۔میں نے ٹوپے کو اندر پھنسایا ۔۔۔اور پہلے جھٹکا ہی زور دار مارا۔۔۔۔۔میں ابھی پانی کے اندر ہی تھا۔۔۔۔اور کچھ کچھ دیر بعد باہر سر نکال کر سانس لیتا ۔۔۔۔اور دوبارہ اس پر جھک جاتا۔۔۔عشنیا کے منہ کھلا تو بلبلے سے نکلے ۔۔۔۔۔مجھے کوئی آواز نہیں آئی ۔۔۔۔مگر میری اسپیڈ اور اگلے دھکے نے اسے ہلا ضرور دیاتھا۔۔۔۔میں اپنی فطری دیوانگی میں اترتا گیا۔۔۔۔۔اور وہی دھکے شروع کیے ۔۔۔جو میری پہچا ن بھی تھے ۔۔۔۔۔ہر دھکے کے ساتھ عشنیا کا جسم لرزتا ۔۔۔اور آگے کو کھسکتا ۔۔۔۔۔۔اور میں سانس روکے اسے مزید آگے کرنے لگا۔۔۔۔۔عشنیا کے جسم کی گرمی اب بڑھنے لگی تھی۔۔۔مگر میرے لئے قابل برداشت تھی۔۔۔۔۔۔میرا ہتھیار اب اس کی چوت کی گہرائی کی سیر کر رہا تھا۔۔۔۔جھٹکے پوری طاقت سے پڑ رہے تھے ۔۔۔۔۔میں ہر کچھ دیر بعد پانی میں جاتا اور عشنیا کو چوم کر ۔۔۔تسلی دے کر پھر سر باہر نکال لیتا۔۔۔۔۔میری کمر کی حرکت سے آس پاس کے پانی میں بھرپور آوازیں آرہی تھی۔۔۔لہریں بنتی ہوئی دور جارہی تھی۔۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد میں نے پوزیشن تبدیل کرنے کا سوچا ۔۔۔۔۔اور عشنیا کو گھوڑی بنا دیا۔۔۔۔۔وہ نازک مزاج ان پوزیشن پر حیران بھی تھی ۔۔۔اور الگ الگ لطف بھی اٹھار ہی تھی ۔۔۔
میں نے اسے اسی جگہ گھوڑی بنایا تھا۔۔۔۔اس لئے پانی کی اونچائی کی بھی وہی سیٹنگ تھی ۔۔۔میں اگر جھکتا تو پانی کے اندر اور تھوڑا ٹھتا تو باہر آجاتا ۔۔۔عشنیا کے لمبے بال میں نے لپیٹ کر ان کا ایک گولا سا بنادیا ۔۔۔۔اور اب اسے تھامے ہوئے پیچھے سے دھکے لگانے لگا۔۔۔۔۔زندگی میں پہلی بار بنی ہوئی ہوئی گھوڑی کے چوتڑوں کے درمیان میرا ہتھیار اس کی چوت میں گھسا ہوا تھا۔۔۔۔میرا دھکے اسی طرح تیز تھے ۔۔۔۔۔بس طوفانی ہونا باقی تھے ۔۔۔۔۔۔۔عشنیا کے جسم کی گرمی بتا رہی تھی کہ وہ بھی اب فارغ ہونے کے قریب ہے ۔۔۔۔۔۔اور پھر طوفانی ہونے کا ٹائم آ گیا۔۔۔میر ے منہ سے مخصوص پھنکاریں نکلی تھیں۔۔۔۔عشنیا نے گھاس کو مضبوطی سے پکڑ کر خود کو آگے جانے سے روک رکھا تھا۔۔۔مگر پیچھے سے لگنے والے طوفانی دھکے اسے آگے کو دھکیلے دیتے ۔۔۔۔۔منہ سے نکلنے والے بلبلے باہر سطح پر آ کر ختم ہوجاتے ۔۔۔۔میں اسی طرح کچھ دیر بعد باہر سے سانس بھرتا اور اند ر آ جاتا۔۔۔۔میں نے اس کے بال چھوڑتے ہوئے اس کے ممے تھام لئے ۔۔۔۔اوردبا دبا کر دھکے مارنے لگا۔۔۔میری سانسیں بے ترتیب ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔اور پھر میرے اندر بھی ایک طوفان اکھٹا ہونے لگا۔۔۔۔۔اور ہتھیار کے اندر پہنچنے لگا۔۔۔۔۔چنگھاڑیں کچھ اور تیز ہوئی ۔۔۔۔۔۔اسپیڈ اور بڑھی ۔۔۔۔۔۔۔۔اتنے میں عشنیا کی چوت میں پانی کا سیلاب آیا۔۔۔۔۔اس کے اگلے سیکنڈ میں میرا بھی طوفان بہنے لگا۔۔۔۔۔اس کی چوت سے ہم دونوں کا پانی نکلا اور پانی میں تیرتا ہوا اوپر آنے لگا۔۔۔۔چند سیکنڈوں میں اس کے جسم کی گرمی کم ہوتی گئی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے اسے پانی سے اٹھایا ۔۔۔۔اور بانہوں میں بھر لیا۔۔۔۔اس کا برا حال تھا۔۔۔چہرے کا رنگ قدرے بدلا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں کی مسکراہٹ نے بتا یا کہ اس نے بھی اس صورتحال میں مزے کئے ۔۔۔۔۔۔اور ابھی ہونٹوں پر لگنے والے اس کے ہونٹ کہہ رہے تھے کہ میں اس کی توقع پر پورا اترا ہوں ۔۔۔۔عشنیا کو لئے ہوئے میں واپس اس پھولوں کے بستر پر آیا ۔۔۔جہاں ہم کچھ دیر آرام کرنے والے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Last Episode



قسط نمبر 11 ۔۔
عشنیا کے ساتھ وہ گزرے ہوئے پل میرے یادگار گزرے تھے ۔۔۔۔ہم کافی دیر اس پھولوں والے مکان میں رہے ۔۔۔
اس کے بعد عشنیا مجھے چھوڑ کر کچھ دیرکے لئے گئی۔۔۔اور اب کی باراس کے ہاتھ میں پھر کوئی مشروب تھا۔۔۔میری گود میں بیٹھے اس نے مجھے مشروب پلایا ۔۔۔اور کہنے لگی"یہ ہماری پوری جنات کی قوم کی طرف سے تمہارے لئے تحفہ ہے ۔۔میرے بابا سینکڑوں سالوں کی کٹھن کے بعد یہ مشروب حاصل کر پائے تھے ۔۔اسے صرف جنات کے سردار ہی استعمال کر پاتے ہیں۔۔۔"۔۔مجھے وہ مشروب بے زائقہ پانی جیسا ہی لگا ۔۔۔مگر میں عشنیا کی خوشی کے لئے پی گیا۔۔۔گلاس واپس لیتے ہوئے اس نے کہا ۔۔۔اس کا اثر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ خود ظاہر ہوتا جائے گا۔۔۔۔۔
ہم کافی دیر آپس میں باتیں کررہے تھے ۔۔۔۔ہم دونوں کا دل نہیں بھرا تھا۔۔۔تشنگی کا احساس اب بھی باقی تھا۔۔۔۔۔بوسے اب بھی جاری تھی ۔۔۔سرگوشی اسی طرح ہو رہی تھی۔۔۔۔مجھے واپسی کا بھی احساس تھا۔۔۔۔۔اور شاید عشنیا کو بھی واپس جانا تھا۔۔۔۔۔ہم دونوں نے ایکدوسرے سے نہ بھولنے کے وعدے لئے ۔۔۔۔اس کے بعد عشنیا نے میرے انگوٹھے اور سیدھی انگلی کے درمیان تین نقطے سے لگائے ۔۔۔۔۔۔" تم جب بھی مجھے بلانا چاہو گے ۔۔۔۔ان نقطوں کی مدد سے بلا سکتے ہو ۔۔۔" ۔۔۔اور جب میں آنا چاہوں گی ۔۔۔تو تمہیں خود ہی پتا چل جائے گا۔۔۔۔۔عشنیا کی کھنکتی ہوئی آواز کی ہنسی مجھے بے حد اچھی لگی ۔۔۔۔
اس کے بعد عشنیا مجھے لئے واپس اسی گاؤں میں لے آگئی ۔۔۔جہاں عاصم اور چیتا سو رہے تھے ۔۔۔۔عشنیا ہیلی کاپٹر تک پہنچے تک ہماری ساتھ ہی تھے ۔۔۔۔۔اور جب ہمارا ہیلی کاپٹر اڑا ۔۔۔۔۔عشنیا کاالوداعی بوسہ کافی دیر تک میرے گال پر محسوس ہوتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ممبئی آئے ہوئے مجھے دوسرا دن تھا۔۔۔۔۔قید ختم ہو گئی ۔۔۔اور اب آزادی ہی آزادی ۔۔ہم ایک خوبصورت سے بنگلے میں مقیم تھے ۔۔ناصر ، وسیم اور شاکر مجھ سے مل چکے تھے ۔۔۔۔ہم سب بہت گرم جوشی سے ملے ۔۔وہ تینوں بھی اداس تھے ۔۔ سب نے میرے لئے بہت کوشش کی تھی۔۔۔ہم ایک دن ساتھ ہی رہے ۔۔۔ناصر میرے ساتھ ہی تھا۔۔۔اور پوری کہانی سنا رہا تھا کہ کیسے ہم نے را کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا تھا۔۔۔میں خاموشی سے سننے لگا۔۔۔عاصم میرے بعد چپ نہیں رہا تھا ۔۔اس نے پوری انٹیلی جنس کو ہلا دیا تھا۔۔۔۔۔۔اگلے دن عاصم نے تینوں لڑکوں کو ممبئی میں ایک اور جگہ بھیج دیا۔۔جیوتی کا حشر مجھے پتا چل چکا تھا۔۔۔اور میں خوش بھی تھا ۔۔۔۔۔امرتسر کےلڑکے واپس جا چکے تھے ۔۔۔اور اپنی بارڈر کی مخصوص کاروائیوں میں مصروف ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔ادھر ہمارا ۔۔۔بنگلہ جتنا بڑا تھا ۔۔۔ہم اتنے ہی مختصر ۔۔۔۔۔ایک ہی کمرے کے اکلوتےبیڈ پر آڑتے ترچھے سوتے ۔۔۔۔۔۔چیتے کے ہاتھ کے کھانے کھاتے ۔۔۔۔۔اورآپس کی تفریح میں دن گزار دیتے ۔۔۔راوی عیش ہی عیش لکھ رہا تھا۔۔۔ایسی ہی صبح تھی ۔۔۔۔۔جب دروازے پر دستک ہوئی ۔میری آنکھ کھلی ۔۔۔۔میں حیران ہوا ۔۔۔باہر ملازم تو خود سے اندر آتا نہیں تھا۔۔۔اور ہم تینوں ساتھ ہی تھے ۔۔۔۔۔۔عاصم اور چیتے دونوں لپٹے سو رہے تھے ۔۔۔دستک کی آواز پر عاصم نے بھی آنکھیں کھولیں۔۔۔۔اور مجھے اشارہ کرتے ہوئے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔میں اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔جہاں حیرت میری منتظر تھی۔۔۔۔دروازہ کھلتے ہی کلدیپ میرے سامنے تھی۔۔۔۔۔۔مجھ سے لپٹ چکی تھی ۔اور۔ساتھ ہی اس کا رونا شروع ہو چکا تھا۔۔۔ہچکیوں لیتے ہوئے وہ بے اختیار روئے جار ہی تھی ۔کندھے پر سر رکھے اس نے کچھ سیکنڈ میں گیلا کر دیاتھا۔۔۔۔۔میں اسے سمیٹ کر چپ کروانے لگا۔۔۔۔مگر اس کا رونا تھا کہ بڑھنے ہی لگا۔۔۔۔میں نے ایک نظر عاصم کی طرف ڈالی ۔۔۔۔اور پھر کلدیپ کو خود سے الگ کرتے ہوئےاس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے ۔۔۔۔یہی طریقہ مجھے سمجھ آیا تھا اسے چپ کروانے کا۔۔اور یہی ہوا۔۔۔پہلے اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں ۔۔رونا بند ہو گیا۔۔اور پھر مجھے دور ہٹانے لگی ۔دھکیلنے لگی۔۔۔۔کمر ے میں عاصم کی موجودگی سے وہ بھی واقف تھی۔۔میں کچھ دیراس کے ہونٹ چوسنے کے بعد الگ ہوا ۔۔۔۔وہ بھی شرم کے مارے لال سرخ ہوئے جارہی تھی۔۔۔میں نے بتایا کہ وہ دونوں سو رہے تھے ۔۔۔پھر وہ مطمئن ہو ئی ۔۔۔۔اور پھر ہم باہر آ کر لاؤنج میں بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔میں نے کلدیپ کوساری روئیداد سنا دی ۔۔جتنا مختصر کر سکتا تھا۔۔۔اتنا کیا ۔۔۔اور کچھ باتیں سنسر بھی ۔۔۔۔۔۔۔جیوتی کا دی اینڈ بھی بتا دیا ۔۔اور چیتے کا تعارف بھی ۔۔۔۔کلدیپ ساری باتیں سن کر مطمئن ہو چکی تھی ۔۔۔عاصم نے اسے رات ہی فون کر میرے آنے کا بتا کر ایڈریس بتا دیا تھا ۔۔۔۔۔اور کلدیپ کوئی سامان وغیرہ لئے بغیر جو پہلی فلائٹ ملی ۔۔۔وہ لے کر یہاں آگئی ۔باہر گارڈ کو عاصم نے کلدیپ کا بتا دیا تھا۔۔۔۔اور اب وہ میرے سامنے تھی۔۔۔۔میں نے اس سے سمرن کا پوچھا ۔۔وہ بھی پریشان تھی ۔۔۔اور آنا چاہ رہی تھی ۔۔مگر کلدیپ نے اسے وہیں رکنے کا کہاتھا۔۔میرے چہرے کو دیکھتے ہوئے اسے لگا جیسے میں کمزور ہو چکا تھا۔۔۔۔۔اور شاید کسی حد تک ایسا ہی تھا۔۔۔۔۔اس قید نے جسمانی سے زیادہ ذہنی کمزور ی دی تھی ۔۔۔۔۔یک بعد دیگر عجیب و غریب واقعات نے ذہن ماؤف کر رکھا تھا۔۔
۔اتنے میں اس نے میرے ناشتہ کا پوچھا ۔۔۔۔میں نے انکار میں سر ہلا کر اسے کچن میں لے آیا۔۔۔۔۔۔ساری چیزیں تھیں ۔۔کلدیپ بغیر آرام کئے ناشتہ بنانے میں لگ گئی۔۔۔کچھ ہی دیر میں کچن دیسی کھانے کی خوشبوؤں سے بھر چکا تھا۔۔۔۔میں ساتھ ساتھ کلدیپ کو تاڑنے میں مصروف تھا۔۔۔۔وہ بھی اس کا نوٹس لے رہی تھی ۔۔۔اور محفوظ ہو رہی تھی۔۔۔۔ہماری محبت ایسی ہی تھی ۔اس کی رنگت پہلےسے کھل چکی تھی۔۔۔ناشتہ بننے کے آخری مراحل تھے ۔۔۔۔کہ میں فریش ہونے چلا گیا۔۔۔۔۔۔اور اسی اثناء میں عاصم اور چیتا بھی اٹھ چکے تھے ۔۔
کچھ ہی دیر میں ہم سب ڈائننگ ٹیبل پر اکھٹے تھے ۔۔۔۔چیتے نے بھی کلدیپ سے فری ہونے میں ٹائم نہیں لگایا ۔۔۔۔خوش گپیوں میں ناشتہ ختم ۔۔۔اور پھر چائے ۔۔۔۔۔اس کے بعد سوچا گیا کہ کہ کیا کریں ۔۔۔۔عاصم کی تجویز تھی کہ شاپنگ پر چلتے ہیں ۔۔۔۔ہم سب ہی پردیسوں کی طرح تھے ۔۔۔۔کچھ بھی پہننے اوڑھنے کو نہیں تھا۔۔۔۔یہ بس عاصم ہی کہ مہربانی تھی کہ اپنے ہرٹھکانے پر اس نے مختلف سائز کے کپڑے رکھوائے ہوئے تھے ۔۔۔۔ورنہ ہم ننگ تڑنگ ہی پھرتے ۔۔۔۔۔
سب نے عاصم کی تجویز پر ہامی بھر لی۔۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں ہم کار میں بیٹھے شاپنگ سینٹر کی طرف رواں دواں ہوئے ۔۔ڈرائیونگ عاصم کر رہا تھا۔۔۔اس کے برابر میں چیتا بیٹھا شگوفے چھوڑ رہا تھا۔۔۔۔۔میں اور کلدیپ پیچھے بیٹھے تھے ۔۔۔۔کلدیپ میرے کندھے پر سر رکھے بیٹھی تھی۔۔۔اور میرے ذہن میں پچھلے ہفتے کی قید کے واقعات گھوم رہے تھے ۔۔۔۔واقعی وقت ایک جیسا نہیں رہتا ۔۔۔۔۔۔صرف دو دن پہلے میری بھینٹ چڑھنے والی تھی۔۔اور آج میں آزاد اپنے دوستوں میں تھا۔۔۔۔۔جو ایکدوسرے پر جان چھڑکنے والے ۔۔۔۔ہر طرح کی مشکلات میں مسکرانے ۔۔۔۔اور موت کے منہ میں زندگی کا مزہ لینے والے تھے ۔۔۔۔مجھے بے اختیار عمراں صاحب کی یاد آئی ۔۔۔۔ان کا وقت سے پہلے خبردار کرنا میری زندگی بچا گیا تھا۔۔۔۔اور اب میں ان سے بات کرنے کے لئے مچل رہا تھا۔۔۔کچھ باتیں اب بھی کھلنے سے رہ گئیں تھی۔۔۔وہ سب میں ان سے پوچھنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔اتنے میں عاصم ایک شاپنگ پلازہ کی پارکنگ میں داخل ہو چکا تھا۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہم اوبرائے شاپنگ مال کے سامنے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتا تھا کہ عاصم کے پاس پیسوں کا کیا سین ہے ۔۔۔میں نے اس سے اشارے سے پوچھا ۔۔۔اس نے مطمئن ہونے کا جواب دے کر خاموشی سےایک کریڈٹ کارڈ میری طرف بڑھا دیا ۔۔۔۔اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے اس کارڈ پر اجیت رائے کا نام نقش تھا۔۔۔جو یقینا ہم میں سے کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔ہم شاپنگ سینٹر میں داخل ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔گراؤنڈ فلور پر مختلف قسم کی شاپس جبکہ فرسٹ فلور پورا لیڈیز اور بچوں کے لئے مخصوص تھا۔۔۔عاصم مجھے اورکلدیپ کو فرسٹ فلور کی طرف دھکیلتا ہوا خود چیتے کے ساتھ سیکنڈ فلور کے اسکلیٹر پر چڑھ گیا۔۔۔۔۔
لیڈیز فرسٹ کے اصول کے مطابق پہلے میں لیڈیز شاپ میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔اور کلدیپ کے لئے سوٹ دیکھنے شروع کئے ۔۔۔
شاپنگ میں ہمیں ایک گھنٹہ ہو چلا تھا۔۔۔۔کلدیپ کی شاپنگ پوری ہو چکی تھی۔۔۔۔۔کپڑوں سے لے کر جیولری اور کاسمیٹکس تک ہم کافی کچھ لے چکے تھے ۔۔۔۔۔اس کے بعد سیکنڈ فلور پر آئے ۔۔۔۔یہاں عاصم اور چیتا بھی شاپرز سے لدے پھندے تھے ۔۔۔۔۔میں نے جلدی سی اپنی شاپنگ نبٹائی ۔۔۔۔اور پھر تھرڈ فلور پر واقع سینما کی طرف چلے گئے ۔۔۔۔۔اگلے ڈھائی گھنٹے ہم مووی میں مگن رہے تھے ۔۔۔۔اور اس کے بعد فوڈ کورٹ ۔۔۔۔اس کے بعد لنچ کر کے واپسی ۔۔۔۔۔ہم سب خوش تھے ۔۔۔۔میرا ذہن میں کسی حد تک ڈائیورٹ ہو رہا تھا۔۔۔۔گھر واپس آ کر ہم آرام کے لئے لیٹ گئے ۔۔۔۔کلدیپ بھی سفر سے آئی تھی۔۔۔۔عاصم نے ایک بیڈروم اور کھلوا لیاتھا ۔۔۔۔جہاں میں اور کلدیپ شفٹ ہو گئے ۔۔۔جبکہ عاصم اور چیتا اسی پہلےوالے کمرے میں تھے ۔۔۔۔۔
میری آنکھ شام میں کھلی تھی ۔۔۔۔ساتھ نظر دوڑائی ۔۔۔کلدیپ اٹھ چکی تھی۔۔۔اور باہر لاؤنج میں باتوں کی آواز آ رہی تھی۔۔۔۔۔میں بھی فریشن ہو کر باہر آ گیا۔۔۔جہاں گرما گرم بحث جاری تھی ۔۔۔۔۔
مجھے دیکھتے ہی عاصم نے آواز دی ۔۔۔۔" جگر ادھر آ جاؤ ۔۔۔۔۔یہاں سازشیں بنائی جا رہی ہے ۔۔۔۔"۔۔۔۔۔میں قدرے حیران ہوا ۔۔۔۔اور عاصم کے پاس جا بیٹھا ۔۔ہاں کیسی سازش ۔۔۔۔؟۔
اتنے میں کلدیپ نے چائے کا کپ میرے سامنے رکھا ۔۔۔۔اور خود سامنے جا بیٹھی۔۔اس نے نئےخرید ے گئے کپڑوں میں سے ہی ایک سوٹ پہنا تھا ۔۔جو کافی جچ رہا تھا۔۔ ۔چیتا اس کے برابر میں بیٹھا مسکرائے جا رہا تھا۔۔
اتنے میں کلدیپ بولی ۔۔۔۔"پہلے یہ چائے پی لیں ۔۔۔پھر ساری بات سناتے ہیں ۔۔۔۔"۔۔
میں نے چائے کا کپ اٹھایا ۔۔۔اور پھر عاصم کی طرف دیکھا ۔۔۔۔" یار اپنی چائے اور کھانے پر پابندی لگ رہی تھی ۔۔۔اب خصوصی ڈائٹ پلان بنے گا۔۔۔"۔۔
میں نے واپس کلدیپ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اتنے میں چیتا بولا۔۔۔۔۔ٹھہرو میں بتاتا ۔۔۔۔حضرات ۔راجہ صاحب کی صحت اور فٹنس کو لے کر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔۔۔کہ اگلے کچھ دن آپ کو دوبارہ سے ورزش شروع کرنی ہے ۔۔۔۔اس قید میں آپ کی کارگردگی کافی خراب رہی ہے ۔۔۔۔ایک تو لڑکی کے ہاتھ اغواء ہوئے ۔۔۔اپنا پورا ریکارڈ خراب کیا ۔۔۔اور پھر مجبورا ہمیں آپ کے لئے اتنا کٹھن اٹھانا پڑا ۔۔۔۔۔ساتھ آپ نے اپنی صحت کا بھی بیڑا غرق کیا ہے ۔۔۔۔" ۔۔اس لئے آگے کےدن باہر کا کھانا بند ۔۔۔۔صرف کلدیپ دیدی کے ہاتھ کا خصوصی کھانے ملے گا۔۔۔اور ورزش میں آپ کا انسٹرکٹر ہو گا یہ بندہ عاجز ۔۔۔۔"۔۔۔
چیتے کا نیوز بلیٹن بند ہو اتو میں نے عاصم کو دیکھا ۔۔۔۔۔" یار میں نے بہت سمجھایا کہ ہمیں ان سب کی ضرورت نہیں ۔۔۔بس کچھ دن عیاشی کرنے دو خود ٹھیک ہو جائیں گے مگر یہ مانتے نہیں ۔۔۔۔۔"۔۔۔اور مجھے بھی آپ کے ساتھ دینے کے جرم میں اس سز ا میں شامل کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔عاصم بے چارگی سے بولا۔۔۔
میں نے چائے کا آخری سپ لیتے ہوئے کپ رکھا ۔۔۔اور کہا ٹھیک ہے مجھے منظور ہے ۔۔۔۔لیکن تم دونوں بھی ہمارے ساتھ ورزش میں شامل ہوگے ۔۔جو ہم کھائیں گے وہ تم لوگ کو بھی کھانا پڑے گا۔۔۔۔۔ کلدیپ نے خاموشی کی زبان میں مجھے شاباشی دی ۔۔چیتے کی بولتی بند ہو گئی تھی۔۔۔۔
اس کے بعد اگلے 2 ہفتے ہمارے کیسے گذرے ۔۔۔۔آپ اندازہ لگا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کلدیپ اور چیتا دونوں ایک ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔۔ادھر عاصم اور میں ۔۔۔۔۔کلدیپ کور نے ملازم کو بھجوا کر کھانے پکانے کےسامان سے کچن بھر دیا۔۔۔۔۔۔اور چیتا جا کر ورزشی سامان لے کر آگیا۔۔۔ہم نے ایک کمرے کو ایک چھوٹے سے جم کی شکل دے دی ۔۔۔۔۔۔۔صبح پانچ بجے اٹھ کر ہماری جاگنگ شروع ہوتی ۔۔۔کلدیپ بھی ساتھ ہی اٹھتی ۔۔۔۔اور کچھ دیر جاگنگ کر کے کچن کی طرف چلی جاتی ۔۔۔۔۔ہم جاگنگ کرنے کے بعد ورزش میں لگ جاتے ۔۔۔۔کلدیپ فریش جوس بنوا کر اپنے خود ساختہ جم میں پہنچا دیتی ۔۔۔ہماری ورزش جاری رہتی تھی۔۔۔۔۔چیتا کا فوکس میری اسٹرینٹھ ایکسرسائز پر تھا۔۔۔اور عاصم ویٹ ایکسر سائز کی طرف چلاگیا ۔۔۔۔۔ہم دو گھنٹے جم میں ورک آؤٹ کرتے ۔۔۔۔۔اتنے میں کلدیپ پروٹین شیک پہنچا دیتی ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد تیس منٹ ہم سوئمنگ کرتے ۔۔۔جو اسی بنگلے کے پچھلی طرف بنا ہوا تھا۔۔۔۔اور پھرکچھ ریلکس کرنے کے بعد ناشتے پر ۔۔۔۔۔میری چائے بند ہو گئی۔۔۔چینی اور نمک بھی کافی حد تک کم ۔۔ناشتے میں جلدی ہضم ہونے والی اور زیادہ کیلوریز والی غذائیں شامل تھیں۔۔۔۔۔۔ناشتے کے بعد ہم آرام کرنے چلے جاتے ۔۔۔۔۔دوپہر کے کھانے کے بعد کچھ دیر آپس میں گیمز کھیلتے ۔۔۔۔اور شام میں چیتے مجھے جمناسٹک اور اسٹیچنگ ایکسرسائز کرواتا ۔۔۔۔۔۔ان سب کے درمیان کلدیپ کے مختلف کھانے اور جوسز پینے پڑتے تھے ۔۔۔۔۔رات کھانے کےبعد ہم اکھٹے بیڈمنٹن کھیلتے ۔۔۔۔۔
ہمارا تیسرا ہفتہ ختم ہونے والا تھا۔۔۔۔۔عاصم اور میں بری طرح تھک چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔تھکن صرف پھیکے کھانوں کی تھی ۔۔۔۔۔ورنہ فٹنس میں ہم پہلے سے کافی بہتر ہو چکے تھے ۔۔۔پرانی صحت بھی واپس آ چکی تھی۔۔چستی اور پھرتی ویسے ہی جسم میں رقصاں تھی۔۔۔۔۔چہرے پہلے سے زیادہ سرخ و سپید ۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ بے زائقہ کھانوں کی اب بس ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔عاصم کو بھی میری حالت کا انداز تھا۔۔ایک دن ۔ہم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں پلان بنایا ۔۔۔۔۔عاصم نے بنگلے کے ملازم سے بائک منگوا لی تھی۔۔۔رات کو جیسے ہی کلدیپ نیند میں گئی ۔۔۔۔۔۔میں اٹھ کر باہر آ گیا۔۔۔۔جہاں عاصم میرا منتظر تھا۔۔چیتا بھی سو چکا تھا۔۔۔۔صبح جلدی اٹھنے کے خیال سے یہ لوگ جلدی سوتے تھے ۔۔۔ہم نے جلدی سے کپڑے تبدیل کئے ۔۔۔۔اور بائک لئے باہر آ گئے ۔۔۔عاصم نے روڈ پر پہنچے ہی بائک دوڑا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔..عاصم کسی مشہور فوڈ اسٹریٹ کی طرف جا رہا تھا۔۔۔ جہاں ہم اپنی زبان کا زنگ اتار سکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تین ہفتے بعد باہر آ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم کسی قید سے آزاد ہو ئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ممبئی بھی کراچی ہی کی طرف گنجان شہر ہے ۔۔۔۔۔۔۔جہاں ایک طرف سے سمندر کا ساحل لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔یہ شہر پوری رات جاگتا تھا۔۔۔اور اب بھی آدھی رات ہونے میں کچھ دیر باقی تھی۔۔۔مگر رش ایسے ہی جاری تھی۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہم بڑے میاں نامی ریسٹورنٹ کے سامنے تھے ۔۔۔۔۔یہ ممبئی کے مشہور ریسٹورنٹ میں سے ایک تھا۔۔۔۔۔۔آرڈر دینے کےبعد ہم باہر بنے تخت پر بیٹھ گئے ۔۔۔کچھ ہی دیر میں کباب ، بیدا روٹی ۔۔۔۔آ چکی تھی ۔۔۔ہم دونوں نے ایک دوسرے کی دیکھا ۔۔۔اور پھر شروع ہو گئے ۔۔۔پہلے لقمے نے ہی ہمیں آسمان پر پہنچا دیا۔۔۔زبان نے پانی بہانا شروع کر دیا۔۔۔۔جلدی جلدی ہاتھ صاف کرتے ہوئے ہم دوسرے آئٹم کی طرف چلے گئے ۔۔۔۔۔۔بھیل پوری ، اور وڑا پاؤ کے ٹھیلوں کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔جو زائقے میں کچھ کم نہ تھے ۔۔کچھ ہی دیر میں ہم۔۔ہم اوپر تک لبا لب بھر چکے تھے ۔۔۔مگر نیت تھی کہ بھری نہیں ۔۔۔۔۔۔اور آنکھیں اب بھی چاروں طرف گردش کر رہی تھیں کہ کچھ اور کھانے کو ملے ۔۔۔۔۔۔اتنے میں عاصم نے کچھ آئٹم پارسل کروانے شروع کر دئے ۔۔۔۔یہ وہ کھانے تھے جو ہم چکھ نہین سکے تھے ۔۔۔اور صبح ہونے سے پہلے ایک شفٹ اور لگانے والے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب کرنے کے ہم کچھ مطمئن ہو گئے ۔۔اور پھر ایک مشہور چائے شاپ پر پہنچے ۔۔۔تین ہفتے بعد چائے کا پہلا کپ معدے میں انڈیلا ۔۔۔۔۔۔۔اور واپسی کی راہ لی ۔۔۔۔بائک میں ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔۔ راستہ مجھے یاد تھا۔۔۔۔۔بائک باہر گارڈ کے پاس کھڑی کر کے ہم اندر داخل ہو گئے ۔.۔۔۔لان کراس کر کے اندر داخل ہوئے ہی تھے ۔۔۔۔کہ سامنے کلدیپ اور چیتا دونوں کھڑے ہمیں گھور رہے تھے ۔۔۔۔۔۔عاصم نے جلدی سے کھانے کے پارسل پیچھے چھپایا ۔۔۔۔۔۔پہلے کلدیپ ہی بولی تھی۔"کہاں سے آ رہے ہو ۔۔۔"۔۔۔۔۔
میں خاموشی سے دیکھتے ہوئے صورتحال کو انجوائے کر رہا تھا۔۔۔۔کہ عاصم بولا۔۔۔"باہر گارڈ کے پاس گئے تھے ۔۔۔۔اس کچھ کام سمجھانا تھا۔۔"۔۔۔
اتنے میں کھانے کی خوشبو چیتے کے آس پاس پہنچ گئی ۔۔۔۔وہ جلدی سےاٹھ کر عاصم کے قریب آ گیا ۔۔۔اور شاپر دیکھ کر بولا ۔۔دیدی یہ دیکھیں ۔۔۔یہ باہر سے کچھ لے کر آئے ہیں ۔۔
چیتے کی آواز پر کلدیپ بھی آگے آئی۔۔۔اور عاصم کے سامنے ہاتھ پھیلا دئے ۔۔۔۔۔۔عاصم نے بے چارگی سے کھانے کا شاپر آگے بڑھا دیا۔۔۔۔ دونوں نے معنی خیز انداز سے ہمیں دیکھا ۔۔۔اور پھرشاپر کھول کر ہمارے سامنے بیٹھ گئے ۔۔۔کچھ ہی دیر میں ٹیبل پھر سج گئی تھی ۔۔۔۔۔مگر ہمارے کھانے پر رکاوٹ لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔دونوں نے چسکے لے لے کر ہمارے سامنے ہی چٹخارے دار کھانا کھایا ۔۔۔ہم دونوں بے چارگی سے دیکھ ہی رہے تھے ۔۔۔چیتے کی شوخی دیکھنے والی تھی ۔۔۔۔اسے آج وہ زائقے بھی مل رہے تھے جو پہلے ان کھانوں میں تھے بھی نہیں ۔۔۔کلدیپ بھی مزے لے کر کھا رہی تھی ۔۔۔۔ہم دونوں بے بسی سے انہیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
اس چھوٹے سے ایڈونچر کے بعد ہم اپنے کمرے میں پہنچ گئے ۔۔۔۔۔کلدیپ میرے برابر میں آ لیٹی ۔۔۔۔۔میری طرف سائیڈ کئے ہوئے۔۔۔۔۔چہرے سے چہرے کو ملالیا ۔۔۔۔اوربولی ۔۔جان اتنے تنگ آ گئے ہو گئے ہو کیا پھیکے کھانے کھا کر ۔۔۔۔۔۔
میں نے کہا ۔۔نہیں ایسی بات نہیں ۔۔۔بس ویسے ہی زائقہ بدلنے کا دل چاہا ۔۔۔۔"۔۔ مگر کلدیپ سمجھ چکی تھی کہ ہماری بس ہو چکی تھی ۔۔۔"۔۔۔
۔" ٹھیک ہے جان آج سے ساری پابندی ختم ۔۔۔۔کل ہم سب باہر جا کر کھانے کھائیں گے ۔۔۔"۔۔۔کلدیپ بولی ۔
میں خوش ہو گیا تھا۔۔۔۔اس کا مطلب ہے کہ دوسری پابندی بھی ختم ۔۔۔۔۔۔میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
اس کی نظریں جھک گئیں تھیں ۔۔۔جواب اثبات میں ہی تھا ۔۔۔۔۔۔اور اس کے بعد میں کہاں رکنے والا تھا۔ ۔۔جب سے ایکسر سائز اور ڈائٹ شروع ہوئی تھی ۔۔کلدیپ نے ہمارے ملاپ پر بھی پابندی لگائی تھی ۔۔اس نے بڑے منت بھرے انداز میں درخواست کی تھی ۔۔۔اس لئے میں خاموش ہی رہا تھا ۔۔۔اور اب یہ شرمیلا انداز بتا رہا تھا کہ اس سے بھی اور جدائی برداشت نہیں ہورہی۔۔۔۔
ہم دونوں لپٹ چکے تھے ۔۔۔۔۔۔ایک دوسرے میں سما چکے تھے ۔۔۔۔۔میں نے کلدیپ کے چہرے کو پکڑے ہوئے چومنا شروع کر دیا ۔۔۔بوسوں کی بوچھاڑ تھی ۔۔جو اس پر گرتی جارہی تھی۔۔۔۔۔میں اسے اپنے سینے پر دباتے ہوئے ہونٹ چوس رہا تھا۔۔۔نر م اور بڑے ممے میرے سینے پر دبے ہوئے تھے ۔۔۔..پنجاب کا حسن اپنی پوری آب و تاب سے میرے سامنے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔گلابی رنگت ۔۔۔۔۔۔ سیاہ بڑی بڑی آنکھیں ۔۔۔۔۔کمر تک آتے لمبے بال ۔۔۔۔۔بھرا بھرا گداز بدن ۔۔۔۔۔جس پر سامنے کی طرف بے تحاشہ بڑے ابھار ۔۔۔۔۔اس کے حسن کو چار چاند لگا دیتے ۔۔۔۔۔۔میں ہونٹ چومتا ہوا اس کی کمر تھامنے لگا۔۔۔۔۔۔بے اختیار اس کی کمر سے قمیض اٹھاتے ہوئے میں نے اس کی ننگی کمر تک رسائی حاصل کی ۔۔۔۔۔اور پھر اسی طرح ہاتھ نیچے شلوار میں گھسا دئیے۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں بھاری بھرکم چوتڑ مخصوص لمس پا کر خوش ہوگئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہونٹ چوسے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی ۔۔۔۔۔کلدیپ مجھے سے چپکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔گداز سینہ میرے سینے پر دبا ہوا تھا۔۔۔۔مگر مجھے پھر بھی فاصلہ سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔میں نے کروٹ لیتے ہوئے اسے نیچے لٹایا ۔۔۔۔۔اور خود اس کے اوپر لیٹ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ہاتھوں نے اس کے چہرے کو تھاما۔۔۔۔۔۔اور ٹانگیں اس کے ٹانگوں کو اکھٹا کر کے انہیں جکڑ چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔درمیان میں میرا ہتھیار تننے لگا ۔۔۔۔۔۔اکڑنے لگا۔۔۔۔پھولنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
میں نےکلدیپ کے پورے چہرے کو چومتے ہوئے اپنے تھوک سے گیلا کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔وہ شکایتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔مگر مجھے پتا تھا کہ اسے کتنی شکایت ہونی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ہونٹ چوستے ہوئے کھینچنے لگا۔۔۔۔تین ہفتے کی پابند ی کے بعد اتنا تو میرا بھی حق تھا۔۔۔۔۔۔۔کلدیپ میری کمر پر ہاتھ پھیرنے پر مگن تھی ۔۔۔جو کبھی نرمی سے پھرتا ۔۔۔۔اور کبھی اس میں بھی سختی آ جاتی ۔۔۔میں ان سب سے بے خبر اب نیچے کا رخ کرنے لگا۔۔۔۔۔ہلکا سا اٹھتے ہوئے میں نے کلدیپ کی قمیض کو اوپر اٹھایا۔۔۔۔۔کلدیپ سمجھ کر تھوڑی سی اٹھی۔۔۔۔میں نے زور لگاتے ہوئے قمیض اس کے بازوؤں سے نکال دی۔۔۔۔۔۔کیا شاندار نظارہ تھا۔۔۔۔دودھ سے بھرے ہوئے ممے برا سے باہر آنے کو بے قرار تھے ۔۔۔۔۔۔میں نے برا کو نیچے کھسکاتے ہوئے دودھ کے جام اوپر کو اٹھا دیے ۔۔۔۔اور ان پر جھک گیا۔۔۔۔۔۔۔۔تنے ہوئے ممے پوری اٹھان سے اوپر کا رخ کئے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔میں نے پہلے ایک سائیڈ کے ممے کو تھام اور منہ میں دبوچ لیا۔۔۔۔۔کلدیپ کے منہ سے سسکی نکلی۔۔۔۔سس۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد میرے رکنے کا سوال ہی نہیں تھا۔۔۔میں دونوں مموں کو چومتے ہوئے سب کچھ فراموش کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔کلدیپ کی بے چینی بھی بڑھی تھی ۔۔۔سسکیاں بھی اونچی ہوئی ۔۔۔۔۔ممے چوس چوس کر لال ہوئے جارہے تھے ۔۔میری بے صبری سے چوسنے کی آواز نکلتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔کلدیپ ہونٹ بھینچے مجھے دیکھی جارہی تھی۔۔۔۔جیسے کسی شرارتی بچے کو گھورا جا رہا ہو۔۔۔۔۔۔میں واپس اس کے چہرے کی طرف آیا ۔۔۔۔تسکین اور محبت سے اسے پھر چوما۔۔۔۔۔۔اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔۔۔۔۔کلدیپ نے نیچے میری پینٹ کی طرف ہاتھ بڑھائے اور بٹن کھولنے لگی ۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر میں اس کے کے ساتھ پہلو میں لیٹا تھا۔۔۔کلدیپ محبت پاش نگاہوں سے دیکھتی ہوئی میرے ہتھیار کو تھامنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔اور وہ تھا کہ شوخی میں باہر نکلنے کی کوشش میں تھا۔۔۔۔کلدیپ کا ہاتھ بھی بڑا تھا۔۔۔مگر ہتھیار کی موٹائی کو ناپنے میں ناکام تھا ۔۔۔۔۔اور لمبائی میں اس کی کلائی جتنا ۔۔۔۔۔۔کچھ عرصے پہلے کلدیپ کی چیخیں نکلوا چکا تھا۔۔۔۔اور آج پھر سے کلدیپ اس کے مزے لینے والی تھی۔۔۔۔۔۔
اپنے پورے زور سے کلدیپ ہتھیار کو دبانے میں مگن تھی۔۔۔۔جیسے مجھ سے بدل لے رہی ہو۔۔۔۔۔دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہوئے وہ اسے لمبائی کے رخ پر بھی کھینچتی۔۔۔۔اور ہتھیار مزید اکڑتے ہوئے جھٹکے کھانے لگتا۔۔۔۔
میں سائیڈ سے اس کے نپل پکڑ کر کھینچ رہا تھا۔۔۔۔جتنے زور سے میں نپل کھینچتا ۔۔۔اتنے ہی زور سے وہ ہتھیار پر اپنا زور صرف کرتی ۔۔اسے موڑنے کی کوشش کرتی ۔۔۔۔مگر ہتھیار کی موٹائی اتنی تھی کہ وہ اس کے زور کو بے اثر کر رہی تھی۔۔۔میں کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔اور پھر خود پر سوار کر دیا۔۔کلدیپ میری ٹانگوں پر آ کر بیٹھی۔۔۔۔اوراس موٹے ناگ کو منہ میں لینے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ٹوپا ہی بامشکل اس کے منہ میں جا پاتا ۔۔۔۔آخر چاروں طرف زبان پھیرتی ہوئی گیلا کرنے لگی۔۔۔۔۔اور میں ان سب کے درمیان اس کے ہلتے جلتے مموں پر نظر ڈال لیتا۔۔۔۔جو تیزی سے مچلے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔
کلدیپ نے کچھ دیر میں ہتھیار کو گیلا کر دیا میں نے اس کے ہاتھ پکڑے ۔۔۔۔اور اسے اوپر کی طرف کھینچ لیا۔۔۔نرم نرم گرم گرم ممے میرے سینے پر دبے ۔۔۔اب وہ میرے سینے پر ہونٹ لگائے اسے چومنے لگی ۔۔۔کشادہ سینہ اس کے منہ سے نکلنے والے تھوک سے گیلا ہو تا جا رہا تھا۔۔۔میں نے موقع مناسب سمجھا ۔۔۔۔اور اسکی شلوار کو نیچے کھسکانے لگا۔۔۔جہاں سڈول رانیں اور گوشت سے بھرپور چوتڑ بھی میرے منتظر تھے ۔۔۔شلوار اتار کر میں نے اسکی پینٹی بھی کھسکا دی۔۔۔۔بھاری گول چوتڑ ۔۔۔جو میرے لمس کے لئے بے قرار تھے ۔۔۔۔میں نے انہیں اپنی ہتھیلی میں دبوچا ۔۔۔۔اور دبانے لگا۔۔۔۔کلدیپ کے منہ سے گرم گرم سانسیں میرے چہرے پر پڑ رہیں تھیں۔۔۔۔۔ 
میں نے کلدیپ کو سائیڈ پر کرتے ہوئے لٹا دیا۔۔۔۔میری طرف کروٹ لئے کلدیپ شوخ نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔اپنا ہاتھ اس کے سر کے نیچے رکھتے ہوئے میں نے کلدیپ کو اور قریب کر دیا۔۔۔۔اور دوسرے ہاتھ سے ہتھیار کی شافٹ کو پکڑتے ہوئے کلدیپ کی چوت کے لبو ں پر ٹکادیا ۔۔۔کلدیپ نے اپنی اوپری ٹانگ ہلکے سے اٹھائی ۔۔اتنے میں ٹوپے نے اندر تباہی مچا دی ۔۔۔۔۔گیلی چوت نے بے اختیار آنسو بہائے ۔۔۔۔۔ ٹوپا اندر جا کر پھنسا ہوا تھا۔۔۔۔میں نے اپنی ٹانگ اس کے اوپر رکھتے ہوئے ایک دھکے سے ہتھیار کو اندر دھکیلا ۔۔۔۔چوت پہلی جیسے ہی تنگ تھی ۔۔۔تو درد بھی پہلے جیسے ہی ہونا تھا۔۔۔۔اس کے منہ سے سس ۔۔۔سس ۔۔آئی کی آواز آئی ۔۔۔ہم دونوں کے چہرے ساتھ ساتھ تھے ۔۔۔۔اور قریب آ کر ملنے لگے ۔۔۔جڑنے لگے ۔۔۔۔میں نے کمر کو ہلاتے ہوئے مزید اندر کی طرف دھکا دیا۔۔۔۔کلدیپ کے منہ سے اب اوئی ۔۔۔کی سریلی آواز نکلی ۔۔۔۔ہونٹ دبائے ہوئے وہ درد برداشت کر رہی تھی ۔۔۔میں نے کچھ دیر ایسے ہی رہتے ہوئے دھکے لگانے شروع کر دیا ۔۔۔۔۔اپنے سیدھے ہاتھ سے اس کی ٹانگ کو اٹھاتے ہوئے میں مزید قریب کھسکا تھا۔۔۔۔اور دوبارہ سے کمرہلائے ہوئے اسے دھکے دینے لگا۔۔۔اس طرح دھکے زیادہ تیز نہیں تھے ۔۔۔مگر کلدیپ کے لئے یہ بھی سہنے مشکل ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے زخمی نگاہوں سے مجھے دیکھا ۔۔جیسے کو ئی شکوہ کر رہی ہو ۔۔۔۔
میں ایسے ہی دھکے دیتے ہوئے اسے پیچھے کی طرف لٹانے لگا۔۔۔۔اور دوسری ٹانگ بھی اٹھاتے ہوئے اپنے بازوؤں کو نیچے سے گزروا دیا۔۔میرے ہاتھ اس کے مموں پر آگئے تھے ۔۔۔جو اب اوپری طرف اچھلے جا رہے تھے۔۔۔۔اور ان پر پکڑ مضبوط کرتے ہوئے میں اس پر مزید جھک گیا۔۔۔۔۔اور پھر پہلا دھکامارا ۔۔۔۔اب کی بار پورا ہتھیار اندر تک پہنچا تھا۔۔۔۔۔۔۔کلدیپ کے منہ سے ہلکی چیخ نکلی ۔۔۔۔مجھے دیکھتے ہوئے اس نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری ۔۔۔۔۔۔۔اور اگلا جھٹکا سہنے لگی ۔۔۔جو پہلے سے زیادہ زور دار تھا۔۔۔۔اس نے بھی چیخ نکلوا دی تھی۔۔۔۔۔۔اس کے بعد میرے دھکوں نے کلدیپ کو ہلا کررکھ دیا ۔۔۔۔۔۔پے درپے پڑنے والے دھکے اب اسے سکون سے ٹکنے نہیں دے رہے تھے ۔۔۔۔۔۔پورا بیڈ زلزلے کی زد میں تھا۔۔۔۔۔ساتھ ساتھ کلدیپ کی روکنے کی کوشش کرنے کے باوجود بھرپور آہیں ۔۔۔سسکیاں ۔۔۔۔۔۔آہ ہ ہ۔۔۔سس ۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔۔میں ایک سیکنڈ کے لئے رکا ۔۔۔اور اس سائیڈ پر کروٹ کرتے ہوئے دونوں ٹانگیں ملا دیں ۔۔۔۔پیچھے سے اس کے گول چوتڑ نکل آئے تھے ۔۔۔جس کے درمیان نازک چوت میں ہتھیار جکڑا ہوا تھا۔۔۔میں نے خود کو پنجوں کے بل پر کرتے ہوئے ایک ہاتھ اس کی کمر اور دوسرا ران پر رکھا۔۔۔اور دوبارہ سے اس کو ہلا دیا۔۔۔۔بھرپور دھکے سے شروع کرتے ہوئے اسپیڈ تیز کرنے لگا۔۔۔۔کلدیپ کی سسکیاں بھی زور پکڑنے لگی ۔۔۔۔۔مجھے لگا جیسے وہ چھوٹنے والی ہے ۔۔۔۔اور یہی ہو ا کچھ اور دھکوں کے بعد اس کی چوت نے ہار مان لی تھی۔۔۔۔میں نے سائیڈ پر لیٹتے ہوئے اس اپنی طرف کھینچا۔۔۔مگر کلدیپ سیدھی ہتھیار کی طرف گئی تھی ۔۔۔اسے بغور دیکھتے ہوئے مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔۔شکوہ بجا تھا۔۔۔میں نے اسے بانہوں میں بھر لیا۔۔۔۔وہ میرے کان میں منمنائی تھی ۔۔'' بہت درد دیتا ہے یہ ظالم۔۔
میں نے اس کی کان کی لو اپنے ہونٹوں میں پکڑی اور چوسنے لگا۔۔۔اسے خود سے لگائے میں اس کا رخ دوسری طرف کر چکا تھا۔۔۔۔۔میرا ہتھیار اس کے چوتڑوں پر ٹچ ہو رہے تھے ۔۔۔۔کلدیپ نے ایک ہاتھ پیچھے لاتے ہوئے اسے دوبارہ پکڑا ۔۔۔۔۔ہلکا سا گیلا تھا۔۔۔جو کلدیپ کے پانی کا ہی کمال تھا۔۔۔اگلے دس منٹ میں پھر سواری شرو ع ہونے والی تھی۔۔۔میں کلدیپ کو گھوڑی بنا کر اس کے پیچھے آ گیا۔۔۔۔۔وہ اپنے سینے کے نیچے تکیے رکھ کر اس پر لیٹ چکی تھی۔۔۔البتہ کمر اور چوتڑ کا حصہ ابھی تک اٹھا ہوا تھا۔۔۔۔جہاں میرے ہتھیار نے بھرپور دھکے لگانے تھے ۔۔۔۔۔۔۔میں نے کلدیپ کے نرم نرم چوتڑوں پر ہاتھ رکھے ٹوپے کو اوپر ٹکانے لگا۔۔۔۔۔۔چوت کے لبوں نے اس کے لئے جگہ بنانی شروع کر دی ۔۔۔۔باقی ٹوپے نے خود زور مارا ۔۔۔۔اور پھنستا ہوا اندر جانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کلدیپ کے منہ سے پھر سسکاری نکلی ۔۔۔۔۔آگے جھکی ہوئی حالت میں اس نے اپنی کہنی ٹکا دی ۔۔۔۔اور میرے دھکوں کے لئے تیار ہونے لگی ۔۔۔۔میں اس کی کمر کو پکڑے ۔۔۔اپنے ہتھیار کو اندر تک پہنچانے لگا۔۔۔۔پوری لمبائی کے ساتھ انچ انچ میں اندر دھکیلتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔جو کلدیپ کو بھی اسی طرح اندر سماتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔آخر تک پہنچانے کے بعد میں نے واپس نکالا ۔۔۔اور پہلے سے تیز واپس دھکیلا۔۔۔کلدیپ اوئی ۔۔۔سس کرتی ہوئی ہلکی سی اٹھی ۔۔۔۔اور پھر نیچے جھکنے لگا۔۔۔۔۔میں اب آدھے آدھے جھٹکے دینا شروع ہوا ۔۔۔۔۔جو کلدیپ کو سسکیاں بھرنے پر مجبور کرنے لگے ۔۔۔۔۔سریلی آواز میں وہ بھی ہلکے ہلکے آہیں بھر کر میری ہمت بڑھانے لگی ۔۔۔۔۔میں نے ساتھ ہی اسپیڈ بڑھا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے آگے جھک گیا۔۔۔۔۔۔اپنے گھٹنے اس کے دائیں بائیں ٹکا کر میں نے کچھ وزن اس کے چوتڑ پر بھی ڈالا ۔۔اس نے چوتڑ کچھ نیچے کر دیے ۔۔۔۔۔۔۔ اب میں آسانی سے بھرپور قوت سے جھٹکے مارنے لگتا۔۔۔۔میرے جھٹکے کلدیپ کو بھی بیڈ کے اندر دھنسا دیتے ۔۔۔۔۔۔۔اس کی آہوں اور سسکیوں میں کچھ درد کی لہریں نکلیں ۔۔۔۔۔۔۔سس ۔۔۔۔آ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔میں اسی طرح رک رک کر ۔۔۔۔طاقت ور جھٹکے مارنے لگا ۔۔۔۔۔۔کلدیپ الٹی لیٹی درد بھری سسکیاں لے رہی تھی۔۔۔۔۔اوئی ۔۔۔اوئ ۔۔۔۔کی آواز نکال رہی تھی۔
اس کے نرم نرم چوتڑ سے ٹکرا کر مجھے بھی دہرا مزہ مل رہ تھا۔۔۔۔۔۔میں نے کلدیپ کے سینے کےنیچے رکھا ہوا تکیہ پیچھے کھینچتے ہوئے اس کے پیٹ کے نیچے کردیا۔۔۔۔اور اس کے اوپر لیٹ گیا۔۔۔۔۔اس کی گردن چومتے ہوئے میں اپنے ہاتھ نیچے اس کے سینے پر لے گیا۔۔۔۔اور نرم گرم مموں کو تھامنے لگا۔۔۔جو بیڈ پر دب رہے تھے ۔۔۔۔۔مگر اب میری مٹھی اور پکڑ میں آ کر مسلے جارہے تھے ۔۔۔۔۔۔کلدیپ کا چہر ہ سرخ ہونے لگا۔۔۔۔۔منہ سے آوازیں اور زیادہ نکلنے لگی تھیں۔۔۔۔۔یا میں قریب ہونے کی وجہ سے اب زیادہ اچھے سے اس کی آوازیں سن رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔سریلی اور لوچ سے بھرپور یہ آوازیں اس کو ملنے والے درد اور مزے کا اشتراک تھی۔۔۔۔۔۔میں نے اس کے ممے دبانے شروع کیے تو اس نے ہلکے سے اپنے چوتڑ اٹھائے ۔۔۔۔۔شاید میرے وزن کو ایڈ جسٹ کرنے کی کوشش تھی ۔۔۔۔۔مگر میں غلط سمجھا ۔۔۔۔مجھے لگا کہ میرے جنوں کو آواز دی گئی ہے ۔۔۔۔۔میں نے اس کے مموں کو دبوچا ۔۔۔اور پیچھے سے دھکوں کی برسات کر دی۔۔۔۔کلدیپ کے منہ سے آہیں نکل گئی ۔۔اوئی ۔۔۔آہ ہ ۔۔۔۔سس۔۔۔۔۔اوئے۔۔۔۔۔۔وہ پھر سے نیچے بیڈ میں دبی ۔۔۔۔۔اپنی ٹانگوں کو پھیلاتے ہوئے اس نے خود کو سمبھالا ۔۔۔۔۔اور میرے دھکوں کو روکنے لگی ۔۔۔میں سانس روک کر کر ایک کے بعد ایک دھکے لگاتا گیا۔۔...۔۔۔اس کی کمر سے لگ کر میں نے بھرپور لگائے ۔۔۔۔۔میرے ہونٹوں اس کی گردن کو چوم رہے تھے ۔۔۔۔۔اور نیچے سے ہتھیار اس کی چوت کی گہرائیوں کو ۔۔۔۔۔۔کلدیپ سسکیاں بھر رہی تھی۔۔۔۔آہیں بھر رہی تھی۔۔۔۔۔میرے دھکوں سے دھپ دھپ کی مخصوص آواز بھی آتی ۔۔۔۔۔میں پورے جوش سے اس سے ٹکرا رہا تھا۔۔۔۔۔ 
ایسے ہی دھکے لگاتے ہوئے میں سیدھے ہوا ۔۔۔۔اور کلدیپ کو خود پر سوار کرنے لگا۔۔۔میں اس کا چہر ہ دیکھنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔کلدیپ میرے اوپر آ کر بیٹھی ۔۔۔ہتھیار کا ٹوپا لے کر وہ پیٹ پر آ ئی تھی۔۔۔اور اب آہستگی سے پیچھے پیچھے ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔اس کے چہرے کے تاثرات میرے لئے انمول تھے۔۔۔۔میں اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لئے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔اس کے سینے کے ابھار اس کے ساتھ ہی ہل رہےتھے ۔۔۔۔انہیں ہلانے لگا۔۔اچھالنے لگا۔۔۔۔۔کلدیپ نے میرے سینے پر کہنی ٹکائی ۔۔۔اور نیچےجھک آئی ۔۔سیاہ لمبے بال مجھے پر آئے ۔۔۔۔۔گرم گرم آہیں میرے چہرے پر گریں ۔۔۔مجھے چومتے ہوئے اس نے کمر ہلانی شروع کی ۔۔۔۔۔۔گولائی میں چوتڑوں کو ہلاتے ہوئے اس نے پورا وزن مجھ پر ڈال دیا تھا۔۔۔۔۔ہونٹوں میں ہونٹ دبوچے وہ سسک بھی جاتی ۔۔۔۔۔آہ بھی بھر لیتی ۔۔۔۔اور پھر میرے ہونٹ بھی تھام لیتی۔۔۔۔۔۔۔ابھی پورا ہتھیار اس نے اندر نہیں لیا تھا۔۔۔پیٹ پر بیٹھے بس مجھ پر جھکی تھی۔۔۔۔اور وہیں ہل رہی تھی۔۔۔۔۔۔میں نے چوتڑ پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے اسے نیچے کھسکانا شروع کیا۔۔۔۔۔۔زخمی انداز میں دیکھتے ہوئے وہ اٹھی ۔۔۔۔۔۔اور ہاتھ میرے سینے پر رکھ کر پیچھے ہٹنے لگی ۔۔۔۔میں نے اس کے ہاتھوں کے اندر سے اپنے ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دئے ۔۔۔۔اور مچلنے والے مموں کو دبانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کلدیپ ابھی تک اوپر نیچے ہی ہو رہی تھی۔۔۔گھٹنے میرے دائیں بائیں ٹکا کر سواری کر ہی تھی۔۔۔۔۔سسکیاں اب بھی جاری تھی۔۔۔۔مگر پہلے سے کم ۔۔۔۔میں کچھ دیر تک یہ خوبصور ت نظارہ دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔شرابی آنکھوں سے لطف اندوز ہوتا رہا تھا ۔۔۔۔۔اور پھر خود بھی میدان میں آ گیا۔۔۔۔۔۔ہلکے سے کلدیپ کو اوپر دھکیل کر میں اپنے پیر پیچھے لے آیا ۔۔کلدیپ سمجھ گئی تھی ۔۔۔۔آگے کو جھکتی ہوئی وہ میرے چہرے کے قریب آئی ۔۔۔۔۔کہنیاں میرے سینے پر گڑ گئیں تھی۔۔۔۔۔میں نے پہلی بار اسے اچھالا۔۔۔۔۔اور واپسی پر وہ پورے ہتھیار کو لئے اوپر ان بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔منہ سے سسکیاں نکلی تھیں ۔۔۔۔آہ ہ ہ۔۔۔۔سسس۔۔اوئی ۔۔۔افف ۔۔۔۔۔اس کے بعد میں نےاچھالنے کے بجائے وہیں پر اپنے اسپیڈ تیز کرنے لگا۔۔۔۔زیادہ اوپر اٹھنے کے بجائے کے میں کم اٹھتا ۔۔۔۔۔۔مگر اسپیڈ ایسی تھی کہ کلدیپ کے واپس ایڈ جسٹ ہونے سے پہلے ہی تین چار بار میں اندر ٹھوک چکا ہوتا ۔۔۔۔۔کلدیپ کا پورا جسم وائیبریٹ ہونے لگا۔۔۔۔ممے اچھل اچھل کر بے حال ہونے لگا۔۔۔۔منہ سے سسکیوں اور آہوں کی لائن چل پڑی ۔۔۔۔آہ ہ۔۔۔سس ۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔۔۔کلدیپ اس وائیبریشن میں بھی مجھے چومنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔میں نے اسپیڈ ہلکی کرتے ہوئے اس متوازن کیا ۔۔۔۔اور ہونٹ چوم کر دوبارہ سے اسپیڈ تیز کردی ۔۔۔۔کلدیپ پھر کچھ اوپر اٹھ گئی ۔۔۔۔اس کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا۔۔۔۔اوپر اچھل رہا تھا۔۔۔۔۔وہ بھی شاید فارغ ہونے والی تھی۔۔۔۔اور میں بھی قریب ۔۔۔۔۔۔۔۔میری اسپیڈ اور بڑھی تھی۔۔۔۔۔وہی طوفانی رفتار جو میری پہچان بھی ۔۔۔۔۔کلدیپ اب مجھے پر لیٹ ہی گئی تھی۔۔۔۔۔۔ممے میرےسینے پر رگڑ کھارہے تھے ۔۔۔۔۔میں نے اسکی کمر کے گرد ہاتھ لپیٹے اور پوری قوت سے اچھالے مارنے لگا۔۔۔۔۔۔۔اسپیڈ بڑھتی جارہی تھی۔۔۔۔اور اسی اسپیڈ سے اس کی چیخیں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسپیڈ طوفانی ہوئ ۔۔۔۔۔۔میرا لاوہ بھی نکلنے والا تھا۔۔۔۔اور پھر ایک فوارے کی طرح میں چھوٹا ۔۔۔۔گاڑھے محلول نے چوت کو پھسلا دیا تھا۔۔۔۔۔اور پھر کلدیپ بھی اس میں حصہ ملانے لگی ۔۔۔۔تیز سسکیوں میں اس نے اپنا پانی چھوڑا۔۔۔۔۔اور پھر بے دم ہو کر میرے سینے پر ہی لیٹ گئی ۔۔۔۔کچھ دیر سانس برابر کر کے ہم اسی طرح سو گئے ۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلی صبح میری آنکھ کھلی تو بستر خالی تھا ۔۔۔۔۔کلدیپ اٹھ کر باہر گئی تھی ۔۔۔میں بھی فریش ہو کر باہر آ گیا ۔۔۔۔کچن سے ناشتے کی مہک آ رہی تھی ۔۔۔۔میں نے اندر آتے ہوئے کلدیپ سے پوچھا ۔۔۔"یہ آج اتنا سناٹا کیوں ہیں ۔۔۔۔دونوں حضرات کہاں غائب ہیں ۔۔۔"۔۔۔
کلدیپ نے پلٹ کر جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔" آپ کےکوئی دوست آ رہے ہیں ۔۔۔انہیں ریسیو کرنے گئے ہیں ۔۔۔' ۔۔
میں کچھ حیران ہوا ۔۔۔۔میرے دوست ۔۔۔۔۔ابھی تک کچھ پہلے ہی ناصر لوگ مل کر گئے ۔۔۔۔اس کے علاوہ تو کوئی خاص دوست تھا نہیں ۔۔۔میں نے عاصم کو فون کرنے کا سوچا ۔۔۔مگر پھر ارادہ بدل کر کہ خود ہی پتا چل جائے گا۔۔کچن میں آ گیا۔۔۔کلدیپ نہا کر کچن میں آئی تھی۔۔۔اور گیلے بالوں کی مہک مجھے پھر ورغلا رہی تھی ۔۔۔۔مجھے تاکتا دیکھ کر اس کے چہرے پر بھی رنگ سجے ۔۔۔۔" جائیں یہ سامان باہر رکھیں ۔۔۔۔کچھ کام بھی کر لیا کریں ۔۔" ۔۔کلدیپ شرماتی ہوئی بولی ۔۔۔۔۔۔۔میرا دل تو بہت ڈولا۔۔۔میں نے پیچھے سے اسے جپھی دیتے ہوئے چوما۔۔۔اور کچن سے سامان اٹھا کر ڈآئننگ ٹیبل پر رکھنے لگا۔۔۔۔۔۔آج کافی تیاریاں تھیں۔۔۔۔ابھی تقریبا ٹیبل سجی ہی تھی۔۔۔۔۔کہ باہر سے عاصم کے بات کرنےکی آواز آنے لگی۔۔۔۔ساتھ دوسری آواز میری جانی پہچانی تھی۔۔۔میرے خون میں گرمی دوڑ گئی ۔۔۔۔دل خوشی سے بھر گیا۔۔۔اور اتنے میں وہ سب لوگ اندر داخل ہوئے ۔۔۔۔۔۔آگے عاصم کے ساتھ عمران صاحب ۔۔۔۔اور پیچھے چیتا اور ٹائیگر باتیں کرتے ہوئے آ رہے تھے ۔۔۔۔
میں تیزی سے ان کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔عمراں صاحب کے سینے سے لگ کر مجھے بڑے بھائی جیسی گرم جوشی ملی تھی ۔۔۔۔کافی دیر میں ان سے لپٹا رہا ۔۔۔۔وہ بھی محبت سے میری پیٹھ سہلاتے رہے ۔۔۔۔اس کے بعد ٹائیگر سے ملا ۔۔کافی وقت پہلے ایک مشن پر ہم نے ساتھ کام کیا تھا۔۔۔۔اس کے بعد اب تک ملاقات نہیں ہو سکی ۔۔۔۔اور اب اچانک ہی ملاقات ۔۔۔مجھے ان دونوں سے اپنے وطن کی خوشبو آئی۔۔۔۔
کلدیپ نے بھی سر جھکا کر عمراں صاحب سے سر پر ہاتھ رکھوایا ۔۔۔۔وہ بھی انہیں میرے استاد اور بھائی کی حیثیت سے جانتی تھی ۔۔۔اور عمراں صاحب بھلا کیسے اس سے بے خبر رہ سکتے تھے ۔۔۔
ہم ناشتے کی ٹیبل پر آ بیٹھے ۔۔۔۔۔جلدی جلدی ناشتہ کر کے ہم اٹھ گئے ۔۔۔عمران صاحب نے کلدیپ کو کافی کا کہہ کر مجھے ساتھ لئے اندر آ گئے ۔۔۔۔باقی تینوں باہر ہی صوفوں پر ڈھیر ہوئے قصے سنانے لگے ۔۔۔۔۔۔
میں اندر عمراں صاحب کے لئے بیڈ روم میں آ گیا۔۔۔۔اور ان کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔کچھ دیر خاموشی ہی رہی ۔۔۔۔۔ان کی چمکدار آنکھیں میرے اندر تک کا سفر کر رہیں تھیں ۔۔۔۔اور پھر بولے ۔۔" چلو شروع کرو ۔۔۔کیا کیا پوچھنا چاہ رہے ہو ۔۔۔" ۔۔۔
میں نے ایک گہر ی سانس لیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔قید میں جانے سے پہلے وہ خواب جس میں آپ مجھے دکھائی دئے تھے ۔۔۔۔اور کچھ سمجھا رہے تھے ۔۔
۔" میرے پاس کچھ عرصے سے را کے اس سپر نیچرل سیکشن کی معلومات پہنچ رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔اور پھر جنات کے ہی دوستوں نے مجھے بتایا کہ یہ آپ کے وطن کے خلاف سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔۔" ۔۔۔میں اس وقت کسی اور کام میں مصروف تھا۔۔اتنے میں مجھے نئی اطلا ع ملی کی اسی سیکشن کی سیکنڈ ہینڈ تمہارے پیچھے لگ چکی ہے ۔۔۔۔۔فون پر رابطے کا یا اطلاع کا وقت نہیں تھا ۔۔تو پھر میں نے ٹیلی پیتھی کی مدد سے تمہیں ہوشیا ر کیا ۔ساتھ ہی خواب کے زریعے تمہاری رہنمائی ایک اور بڑی شخصیت نے بھی کی ۔۔جو آتشی مخلوق کی طرف سے تھی۔۔۔۔اور مجھے خوشی ہے کہ تم نے اچھے سے ان سب کا مقابلہ کیا ۔۔۔۔۔"۔
میں ان کی باتیں سن رہا تھا۔۔سمجھ رہا تھا۔۔۔
اور ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ تمہارے حوالے سے یہودی لابی میں بھی کافی ہلچل ہے ۔۔۔۔۔سب سےپہلے ڈرون اڈے پر جو تم نے اسرائیلوں کو کیفر کردار تک پہنچا یا۔۔۔۔اس کے بعداس مشن میں ان ہی کی ایک اسپیشل ایجنٹ شارا کی موت نے انہیں تمہار ی راہ دکھا دی ہے ۔۔۔۔ساتھ ہی عمران صاحب نے اپنے موبائل پر ایک ویڈیو پلے کر دی۔۔۔۔۔یہ اسرائیل کی ایجنسیوں کے سربراہاں کی کو ئی میٹنگ تھی ۔۔۔۔ایک سربراہ نے سامنے فائل لہرائی جس پر میرا ہی نام لکھا تھا۔۔۔۔میرے جسم میں سنسنی دوڑنے لگی۔۔۔۔۔۔میرے خلاف ایک ڈیتھ اسکواڈ ہائر کیا جارہا تھا۔۔۔جو دنیا کے ہر کونے تک میرا تعاقب کرے ۔۔۔اور قتل کرے گا۔۔۔۔۔مگر ان میں ایک بندہ اور بھی تھا ۔۔۔جو مجھے اپنے مقصد کے لئے ہائر کرنے کی بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔مگر اس کی بات کو وہاں نہیں سنا گیا۔۔۔اور میٹنگ ختم ہو گئی ۔۔۔
میں نے ویڈیو ختم ہونے کے بعد عمراں صاحب کی طرف دیکھا۔۔یہ کچھ دن پہلے کی ویڈیو ہے ۔۔۔۔" مبارک ہو تمہیں اسرائیل سے منظوری مل گئی ہے ۔۔۔۔جس مقصد پر ہو ۔۔۔جس لائن پر ہو ۔۔وہ ٹھیک ہے۔۔۔" انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔اور ہاں اب پہلے سے زیادہ ہوشیا ررہنے کی ضرورت ہے۔۔یہ اسکواڈ تمہارے آس پاس پہنچنے ہی والا ہوگا۔۔۔۔۔۔
میں خاموش رہا ۔۔۔مگر اندر سے دل بلیوں اچھل رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔دشمنوں کی طرف سے تعریف سننے کوملے تو کیوں نہ خوش ہو ا جائے ۔۔۔۔
اس کے بعد عمران صاحب بولے ۔۔۔تمہار ا اگلا مشن اسی لئے اسرائیل میں ہے ۔۔۔۔ساری ڈیٹیل میں آہستہ آہستہ بتاؤں گا ۔۔۔اس سے پہلے تمہیں کچھ مزید چیزیں سکھانی ہیں ۔۔مجھے لگ رہا ہے کہ تمہیں اس کی ضرورت پڑنے والی ہے ۔۔۔۔۔عمراں صاحب کی نظریں گہری سوچ میں لگ رہی تھی ۔۔۔چہرے پر تفکرات کے آثار تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے بھی جلدی سے ہامی بھر لی۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
قسط نمبر 12۔
اب آگے کی کمانڈ عمراں صاحب نے سمبھال لی ۔۔۔۔۔میری ذہنی مشقیں شروع ہو چکی تھی۔۔۔گھنٹوں مراقبے میں بٹھانے کے بعد ہپناٹزم او ر دوسرے علوم کی پریکٹس کروائی جاتی ۔۔۔۔۔ساتھ ساتھ شام میں جسمانی ورزش بھی جاری تھیں ۔۔۔۔۔۔ٹائیگر ، چیتا اور عاصم ذمے انڈرورلڈ میں کوئی کام لگایا گیا تھا۔۔۔وہ تینوں بھی صبح کو جاتے اور شام کو لوٹتے ۔۔۔۔۔۔میرے باہر نکلنے پر پابندی لگ چکی تھی۔۔۔
تین ہفتے مزید ایسے ہی گزرے ۔۔۔۔میری زہنی استطاعت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا۔۔ساتھ ہی مجھے خودمیں کچھ تبدیلی کا بھی احساس ہوا۔۔۔میرے دوڑنے کی اسپیڈ پہلے کئی گنا تیز ہو گئی تھی۔۔۔اس کے علاوہ جسمانی تبدیلیاں تھی جو مجھے سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔اس کے بعد عمران صاحب کافی دیر تک میری مائنڈ پروگرامنگ کرتے رہے ۔۔۔۔میں ڈیپ ٹرانس میں ہونے کی وجہ سے ان کی باتیں سن نہیں پاتا ۔۔۔مگر یہ تھا کہ یہ سب خود وقت کے حساب سے میرے سامنے آئے گا۔۔۔اور میرے لئے فائدہ مند ہی ہو گا۔۔۔۔ایک مہینے کے بعد عمران صاحب میری طرف سے بالکل مطمئن ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔انہوں نے عاصم کو میرا نیا پاسپورٹ ۔۔۔اور کاغذات بنانے کا کہہ دیا تھا۔۔۔۔میں اپنی نئی اڑان کے لئے تیار تھا۔۔۔۔
عمران صاحب کو واپس بھی جانا تھا۔۔۔۔۔۔ایسی ہی ایک شام وہ جس طرح آئے تھے ۔۔۔واپس چلے گئے ۔۔۔انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ واپس گھر کا چکر لگانا چاہو تو لگا لو ۔۔۔پھر وہیں سے نکل جانا ۔۔۔۔۔مگر میں کچھ کر گزرنے کے بعد ہی واپس جانا چاہ رہا تھا۔۔۔۔اور ابھی بہت کرنا باقی تھا۔۔
میرا پاسپورٹ بن کر آ چکا تھا۔۔۔۔نئے نام اور نئی پہچان کے ساتھ ۔۔۔۔میں پروفیسر مدن لال تھا۔۔۔انڈین ایٹمی سائن دان ۔۔۔۔۔۔جو اس گورنمنٹ سے ناراض تھا۔۔۔۔اور کسی عالمی طاقت کے ساتھ مل کر بڑا گیم کھیلنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔کل رات کی میری فلائٹ تھی۔۔چیتا اور عاصم اسی سلسلے میں مصروف تھے ۔۔۔اور اس بنگلے میں آج میں اور کلدیپ اکیلے ہی تھے۔۔
کلدیپ اور میں ایکدوسرے سے لپٹے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔بوسو ں کے ساتھ اس کی آنکھوں سے آنسو بھی جاری تھے ۔۔۔۔جدائی کا وقت آ چکا تھا۔۔۔۔ مگر آخری ملاقات بھی کم خوبصور ت نہیں تھی ۔۔۔۔۔ہم دونو ں کے کپڑے اتر کر بیڈ سے نیچے جا گرے تھے ۔۔۔۔۔ہم دونوں بھرپور شدت سے ایک دوسرے کو چوم رہے تھے ۔۔۔۔چوس رہے تھے ۔۔۔کاٹ رہے تھے ۔۔۔کبھی وہ میرے اوپر سوار ہو جاتی ۔۔۔۔اور کبھی میں اس پر ۔۔۔
کلدیپ میرے اوپر آئی ہوئی تھی ۔۔۔سینے پر دبے ہوئے اس کے بھرپور ممے ۔۔۔۔۔اور میرے ہاتھ اس کے چوتڑوں کو دبوچتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔نیچے سے میرا ہتھیار بھی اپنی مستی میں تھا ۔۔۔اسی طرح کچھ دیر مستی کرتے ہوئے میں نے کلدیپ کو نیچے لٹایا۔۔۔۔اور خود اس پر آ گیا۔۔۔۔ٹانگیں اٹھا کر میں اسے دہرا کر چکا تھا ۔۔۔اور خود بھی اس پر جھک گیا۔۔۔۔۔ہتھیار کا ٹوپا اپنی مخصوص جگہ ٹک چکا تھا۔۔۔۔۔۔اور پھر ایک دھکے سے اسے میں نے اندر کا راستہ دکھا یا۔۔۔۔کلدیپ آج فل مستی میں تھی۔۔۔۔شہوت بھری سسکیاں اور چیخیں پہلے سے بہت بلند تھیں۔۔۔۔۔۔۔میں بھی دھکے دیتےہوئے اس کو بیڈ میں دھنسانے لگا۔۔۔ہر جھٹکا پہلے سے زوردار ۔۔۔۔اور اس پر کلدیپ کی ۔۔۔آہ ہ۔۔افف ۔۔۔سس ۔۔۔۔۔پورے کمرے میں گونج جاتی ۔۔۔۔میرے جھٹکے آج اسے تڑپا بھی رہے تھے ۔۔۔۔ترسا بھی رہے تھے ۔۔۔۔۔بلوا بھی رہے تھے ۔۔۔۔۔اس کی کمر ہوا میں اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔چوت میرے ہتھیار میں پھنسی اوپر کی طرف تھی۔۔۔۔۔۔۔اتنے میں میرے حساس کانوں میں باہر کسی کے دبے پاؤں چلنے کی آواز آئی۔۔۔۔۔چیتا اور عاصم ایسے نہیں آسکتے تھے ۔۔۔۔یہ کوئی اور ہی تھا۔۔اتنے میں نے ایک ڈرون کو کھڑکی کی طرف آتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔کھڑکی پر کچھ دیر رکا رہا۔۔۔۔اور پھر واپس ہوا ۔۔کمرے میں ہلکی روشنی تھی ۔۔۔پھر بھی وہ اندر کا نظارہ دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔میرے جھٹکے اسی طرح طاقتور اندا ز میں کلدیپ کو لگ رہے تھے ۔۔۔۔وہ بھی مستی میں آہیں بھرتی جارہی تھی۔۔۔مگر میرے کان اب آس پاس کی آواز ہی سن رہے تھے ۔۔۔۔۔اتنے میں دروازے پر کسی کی ہلکی سی آہٹ ہوئی ۔۔۔۔اور کسی نے ناب گھمائی ۔۔۔۔
میں نے سامنے لیٹی ہوئی کلدیپ کی کمر پر ہاتھ ڈالا ۔۔۔۔۔۔اور اسے خود سے لپٹائے ہوئے نیچے اتر آیا۔۔۔۔ہتھیار ابھی تک اندر ہی تھا ۔۔۔اور اس کی چوت کواچھے سے بجا رہا تھا۔۔۔۔کلدیپ کے اچھلنے سے اس کے ممے بھی میرے سامنے ہلنے میں لگے ہوئےتھے ۔۔۔۔۔میں نےایک ہاتھ کلدیپ کی کمر پر رکھا ۔۔۔۔اور دوسرے ہاتھ سے ساتھ رکھی ہوئی شیشے کی پلیٹ اٹھا لی۔۔۔ناب دوبارہ سے گھومی تھی ۔۔۔ساتھ ہی کوئی تیزی سے اندر آیا ۔۔۔۔ہاتھ میں سائلنسر لیے پستول کے ساتھ بیڈ کی طر ف اشارہ کیا۔۔مگر میں وہاں کہاں تھا ۔۔اتنے میں شیشے کی پلیٹ پور ی قوت سے اس کے حلق پر جا لگی ۔۔۔۔۔قوت میرے ہاتھ کی تھی ۔۔۔اور پلیٹ بالکل کھڑی حالت میں تھی۔۔۔۔اس کی سانسیں رک گئیں ۔۔۔۔۔گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھنے سے پہلے میں اس کی پسٹل تھام چکا تھا۔۔۔۔ساتھ ہی ایڑی کی چوٹ اس کی کھوپڑی بجا چکی تھی۔۔۔۔
میرے دھکوں پر بے حال ہوتی کلدیپ کو اس تبدیلی کو احساس ہو گیاتھا ۔۔۔مگر میں نے اس کی پیٹھ کو دیوار سے لگائے دوبارہ دھکوں کی مشین چلا دی۔۔۔۔۔اس کی سسکیاں اور آہیں پھر سے جاری ہو گئی ۔۔۔۔۔
ڈرون پھر سے کھڑکی پر آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔ساتھ ہی دروازہ دوبارہ کھلا ۔۔۔اور دو بندوں نے چارج کیا ۔۔۔۔۔میری پسٹل نے شعلے اگلے تھے ۔۔۔۔اور دونوں ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں زمین بوس ہو ئے ۔۔تیسر ا فائر میں نے ڈرون پر کیا ۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی فائرنگ کا ایک تیز شور آیا ۔۔۔میں تیزی سے کلدیپ کو خود سے چپکائے بیڈ کے نیچے سرک گیا۔۔۔۔۔اس کی منزل قریب ہی تھا۔۔۔بیڈ کے نیچے میں بھی اسکے اوپر چپک سا گیا۔۔۔۔میں نے اپنی ٹانگوں سے اس کی ٹانگوں کو قابو کیا ۔۔۔۔اور گہرائی میں دھکے دینے لگا۔۔۔۔ساتھ ہی کلدیپ کے ہونٹوں میں تھام کر رس پینے لگا۔۔۔۔۔۔اس کی مزے دار سسکیاں اور آہیں جاری تھیں ۔۔۔آہ ہ۔۔۔سس ۔۔۔۔او ہ ہ ۔۔۔۔
اوپر فائرنگ کرنے والوں نے اپنی جی بھر کے دل خوش کیا ۔۔۔۔میرے ذہن نے کیلکولیشن کر لی تھی۔۔۔۔باقی چار آدمی ہی تھے ۔۔۔۔جن میں دو کلاشنکوف اور دو مشین پسٹل والے تھے ۔۔فائرنگ کی مخصوص آواز نے مجھے بتا دیاتھا۔۔۔۔۔ اب بے تحاشہ فائرنگ کرتے اندر داخل ہونے کی کوشش میں تھے ۔۔۔۔میں دروازے کی طرف کان لگائے ۔۔۔۔۔کلدیپ کو آخری جھٹکے مار رہا تھا۔۔۔۔اور پھر میری توقع کے خلاف کھڑکی سے کوئی اندر کودا ۔۔۔۔۔۔شیشہ میں پہلے ہی توڑ چکا تھا۔۔۔۔اس لئے آنے والے کو کوئی دقت نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔اور نہ آواز ۔۔۔۔۔۔۔میں نے تیزی سے پسٹل دوسر ے ہاتھ میں منتقل کیا ۔۔۔اورنظر آنے والے پیروں کو نشانہ بنایا۔۔۔کچھ سیکنڈ میں ہی ایک اور پیر بھی اندر کودے ۔۔۔وہ بھی گرکر سینے پر گولی کھا کر گرے ۔۔۔۔میں نے کلدیپ کو دیکھا ۔میرے ایکشن کے درمیان لگنے والے طاقتور دھکوں نے اسے بھی منز ل پہنچا دیا تھا۔۔۔اور اب اس سب صورتحال میں سکون سے لیٹی تھی ۔۔۔اسے مجھ پر پورا یقین تھا۔۔۔اور یہی یقین میری طاقت بھی ۔۔۔میں نے اوپر ہوتے ہوئے اسے محبت بھرا بوسہ دیا۔۔۔اور باہر کھسک آیا۔۔۔۔۔بیڈ سے اس کے کپڑے نیچے پھینک د ئے ۔۔۔۔
کمرے میں پڑے ہوئے حملہ آوروں کی میں پسٹل اٹھا چکا تھا۔۔۔۔میرے اندازے کے مطابق اب باہر دو ہی لوگ بچے تھے۔۔۔۔جو اسی کمرے کے دروازے پر تھے ۔۔۔میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا ۔۔۔اور وہاں سے باہر نکل آیا ۔۔۔۔۔اور دیوار کی اوٹ لیتے ہوئے کمرے کے دروازے کی طر ف آنے لگا۔۔۔۔ میں نے پسٹل سامنے تاننے ہوئے موڑ کاٹا ۔۔۔ایک آدمی اندر گھس چکا تھا۔۔۔اور دوسرا اس وقت آدھا باہر ہی تھا۔۔۔مجھے کچھ دیر ہوئی تھی ۔۔میں نے یکے بعد دیگرے پسٹل کے فائر کئے۔۔۔۔اور تیزی سے آگے کیطر ف بھاگا۔۔۔۔اتنے میں اوپر کمرے کی چھت سے مجھ پر برسٹ پڑا ۔۔۔۔۔اوپر بھی دو لوگ موجود تھے ۔۔۔۔اور خاموشی سے میرے باہر آنے کے انتظار میں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک گولی میرے کندے سے ہوتی ہوئی نکلی ۔۔۔۔۔۔اور دوسری ران میں گھسی ۔۔اوپر سے لگنے والی گولیوں نے مجھے اندر سے چھید دیا تھا۔۔۔ساتھ ہی اندر کمرے میں فائر گونجے ۔۔۔۔۔۔۔
میری سانسیں رکنے لگیں تھیں ۔۔۔۔میں اپنے زخموں کی پروا کئے بغیر اندر کی طرف بھاگا ۔۔۔اور۔۔۔ بگولے کی طرح کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔اندر موجود حملہ آور بجلی کی سی تیزی سے مڑا تھا۔۔۔مگر میں اس سے پہلے اسے اپنے کندھے کی بھرپور ٹکر سے اچھال چکا تھا۔۔۔۔ساتھ ہی میرا ہاتھ حرکت میں آیا ۔۔۔اور اس کے زمین پر گرنے سے پہلے اس کے جسم بھی بے شمار سوراخ بنتے چلے گئے ۔۔۔۔۔۔میں نے بیڈ کے نیچے جھانکا ۔۔۔مجھے لگا میر ی جان نکل گئی ہے ۔۔۔۔۔۔کلدیپ کور خون کے تالاب میں لیٹی ہوئی تھی۔۔۔میری نظروں کے سامنے سرخ سرخ سے دائرے بن رہے تھے ۔۔میں وہیں گرا ۔۔۔۔۔اور اس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہیں رہا ۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
مجھے ہوش آیا تو ہسپتال کے بیڈ پر تھا ۔۔۔ایک سائیڈ پر خون کی بوتلیں میرے جسم میں خون پہنچا رہی تھی۔۔۔۔۔میرے کندھے پر بینڈیج باندھی ہوئی تھی ۔۔۔۔ران پر بھی پلاسٹر لگا ہو ا تھا۔۔۔۔میں نے چندھیائی ہوئی آنکھوں سے سامنے دیکھا ۔۔۔۔میرا یار عاصم اور چیتا دونوں میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔میں نے سائیڈ پر دیکھا تو کلدیپ مجھے ہوش میں آتے ہوئے دیکھ کر اٹھ رہی تھی ۔۔۔۔۔میرے منہ سے بے اختیار کلدیپ نکلا۔۔۔۔میں تیزی سے اٹھ کر اس کے قریب جانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔۔۔مگر اس سے پہلے ہی کلدیپ مجھے بیڈ پر مجھے لٹا چکی تھی۔۔۔۔میرے یار بھی میری طرف لپکے تھے ۔۔۔۔۔۔میں نے بند ہوتی آنکھوں سے ان کے ہاتھوں کے محبت بھرے لمس کو محسوس کیا ۔۔۔۔اور پھر بے ہوش ہو گیا۔۔۔
کتنے گھنٹے گزر ے ۔۔۔ کتنے دن گزرے ۔۔۔۔۔مجھے کچھ علم نہیں ۔۔۔میں ہوش میں آتا اور کلدیپ کو اپنے سامنے دیکھ کر دوبارہ بے ہوش آ جاتا ۔۔۔۔۔اس کا خون بھرا جسم میرے سامنے آ جاتا۔۔۔۔مجھے ہسپتا ل سے گھر شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔۔۔۔کندھے کا زخم اور ران بھی کافی مندمل ہو گئی تھی ۔۔۔۔اب چیتا اور عاصم ہی میری بینڈیج تبدیل کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔کلدیپ کو میرے سامنے آنے سے روک دیا گیا تھا۔۔۔۔وہ مجھے پھر نظر نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔میں خالی خالی نگاہوں سے اپنے دوستوں کو دیکھتا ۔۔۔۔۔یا باہر لان میں آ کر بیٹھا رہتا ۔۔میرے لئے ایک وہیل چئیر تھی جس پر عاصم مجھے گھماتا رہتا ۔۔۔باتیں کرتا رہتا مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔میری ذہنی حالت نے اب ٹھیک ہونا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔میں نے اس صورتحال کو قبول کر لیا تھا۔۔۔۔ایسا ہی ایک دن تھا۔۔۔۔۔جب عاصم مجھے کھانا کھلا کر ہٹا تو میں نے اسے واپس بٹھا دیا اور پوچھا ۔۔۔۔" یہ سب کیسے ہوا ۔۔۔۔۔کلدیپ کہاں ہے ۔۔۔ابھی وہ میرے سامنے کیوں نہیں آتی ۔۔۔"۔۔
عاصم بے چارگی سے بولا ۔۔۔۔" یا ر ہم سےغلطی ہو گئی ۔۔۔۔۔ہمیں آپ لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہئے تھا۔۔۔"۔۔۔" کلدیپ ہم سے روٹھ گئی ہے ۔۔۔اب کبھی نہیں آئے گی ۔۔۔" ۔۔۔
میں نے اس کی آنکھوں سے آنسو گرتے دیکھے ۔۔۔۔۔خود میرا بھی یہی حال تھا۔۔۔۔اس کا نام لینے پر ہی میرے آنسو بہنے لگتے تھے ۔۔۔۔"تو پھر وہ کون ہے جو میرے سامنے آتی تھی۔۔۔"۔۔۔میں نے عاصم سے پھر پوچھا ۔
۔۔" وہ سمرن کور ہے ۔۔۔۔۔۔کلدیپ کے بعد وہ بھی ٹوٹ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے اسے یہی روک لیا ہے ۔۔۔وہی آپ کا خیال رکھ رہی تھی ۔۔۔" ۔۔۔عاصم بولا۔۔۔۔" اگر ہو سکے تو اس سے بھی مل لیں ۔۔۔جب سے آپ اسے کلدیپ سمجھتے ہیں ۔۔۔۔وہ بھی بکھر جاتی ہے ۔۔۔اور دھاڑیں مار کر روتی ہے ۔۔۔۔"۔۔
میں نے عاصم کی طرف دیکھا اور چلو مجھے اس کے پاس لے چلو۔۔۔۔۔عاصم مجھے سہار ا دیتے ہوئے اٹھانے لگا۔۔۔۔اور پھر گھر کے اندر ونی حصے کی طرف لے جانے لگا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہم سمرن کور کے کمرے کے باہر تھے ۔۔۔میں نے ہلکی سی دستک دی ۔۔۔۔۔۔۔قدموں کی آہٹ آئی ۔۔۔۔اور پھر دروازہ کھلا۔۔۔۔۔۔۔۔جو چہرہ مجھے نظر آیا ۔۔۔وہ کلدیپ کا ہی تھا ۔۔۔مگر میں سمجھ گیا تھا کہ یہ سب میرا خیال ہی ہے ۔۔۔۔میرے منہ سے کلدیپ نکلتے نکلتے رہ گیا۔۔۔۔اور پھر میں نے سمرن کو پکارا۔۔۔۔۔۔۔وہ کسی بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔میں آگے بڑھ کر اس کو سمبھالنے لگا۔۔۔۔۔اس نے پھر سے میرے زخموں کو آگ لگا دی تھی۔۔۔۔ہم دونوں آپس میں لگے کافی دیر تک روتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔اسے بھی ہم دونوں سے یکساں ہی محبت تھی ۔۔۔۔۔میری خاطر ہی اس نے سمرن کو میرے حوالے کیا تھا ۔۔۔۔۔اور آج ہم دونوں کو ہی اکیلے چھوڑ کر چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔عاصم پانی لے کر آ گیا تھا ۔۔اور سمرن کو آرام کرنے کا کہہ کر مجھے باہر لے آیا۔۔۔۔۔۔ہم گھر کے باہر لان میں آگئے تھے ۔۔۔۔۔۔عاصم نے گھر تبدیل کر لیا تھا۔۔۔۔۔اور اچھا ہی کیا تھا۔۔۔۔اس گھر میں اب میں کیسے جا سکتا ہے ۔۔۔۔
عاصم باہر آ کر مجھ سے پھر لپٹ گیا۔۔۔۔" یار مجھے معاف کردو ۔۔۔۔۔مجھے اب تک ایسے ہی لگ رہا ہے کہ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔اگر ہم دس منٹ پہلے آ جاتے تو کلدیپ بچ سکتی تھی ۔۔۔ہم جب گھر پہنچے تو آپ زخمی حالت میں وہاں پڑے تھے ۔۔۔اور گھر میں کوئی نہیں تھا۔۔" ۔۔۔۔میں نے اسے تھپکی دی ۔۔۔ نہیں دوست ۔۔۔۔جانے والوں کو کوئی نہیں روک سکتا ۔۔" بس اسے جانا ہی تھا۔۔۔
عاصم نم آنکھوں سے الگ ہوا۔۔۔۔۔۔۔میں نے اسے قینچی لانے کا کہا۔۔۔۔اور اپنا پلاسٹر اتارنے لگا۔۔۔میرا زخم کافی جلدی مندمل ہوا تھا۔۔۔جس سے میرے ڈاکٹر بھی حیران تھے ۔۔۔۔اپنی بے ہوشی کے درمیان مجھے ان کی باتیں سننے کا موقع ملتا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنے میں عاصم نے ایک سیٹی سی بجائی ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں چیتا بھی وہیں پہنچ گیا ۔۔۔۔سینے پر پاؤچ باندھے آج وہ مسلح کھڑا تھا۔۔۔۔مجھے ہوش میں دیکھ کر وہ بھی خوش ہو گیا۔۔اتنے میں وسیم اور شاکر بھی آ گئے ۔۔۔سب مسلح تھے ۔۔اور۔۔۔ان سب کے چہرے افسردہ تھے ۔۔۔۔میں سب سے مل کر خاموشی سے بیٹھ گیا۔۔۔اور عاصم کی طرف دیکھا ۔۔۔وہ سمجھ گیا تھا کہ میں کیا پوچھنے والا ۔۔۔
۔۔" راجہ صاحب ۔۔۔اسرائیل سے چار بندوں کی ٹیم یہاں پہنچی تھی۔۔۔۔۔ممبئی کی انڈر ورلڈ سے انہوں نے مقامی گینگ کو ہائر کیا ۔۔۔۔اور بھاری رقم کے عوض انہوں نے آپ پر حملہ کرنے کی پلاننگ کی تھی۔۔۔" حملہ کے اگلے دن ہی وہ اسرائیلی واپس چلے گے ۔۔۔
مجھے انداز ہ تھا کہ یہ وہی لوگ ہوں گے ۔۔۔۔عمران صاحب کی باتوں کو میں نے ہلکا لیا تھا۔۔۔۔۔۔مگر غلطی ہو گئی تھی ۔۔۔اور اب پچھتانے سے کیا ہو سکتا تھا۔۔۔میں نے دوبارہ عاصم کی طرف دیکھا۔۔اب کی بار آنکھوں میں سرخی تھی۔۔کاٹ تھی۔۔۔
۔۔" راجہ صاحب ۔۔۔۔ انڈرورلڈ میں تین روز تک خون کی ندیاں بہی ہیں ۔۔۔۔۔چیتے نے کسی کو معاف نہیں کیا ۔۔۔۔جس ڈان نے ان اسرائیلیوں سے رقم لی تھی ۔۔۔۔اس کی لاش آج بھی اس علاقے کے چوک میں ٹنگی ہے ۔۔۔۔مقامی پولیس کو ہمت نہیں ہے کہ اسے اتار سکے ۔۔۔۔۔۔۔باقی جتنے بھی بڑے ڈان تھے ۔۔۔۔ان میں جو ہمیں ماہانہ دے رہیں ہیں ۔۔۔زندہ ہیں ۔۔۔جس نے کوئی پس و پیش کی تھی۔۔اسے اس کے علاقے میں ہی نشان عبرت بنا دیا ہے ۔۔۔۔۔اب ممبئی میں سب سے بڑے ڈان کی سیٹ پر ناصر کو بٹھا دیا ہے ۔۔۔وہی سب کو کنٹرول کر رہا ہے ۔۔۔۔
میں مطمئن ہو گیا تھا ۔۔۔۔کلدیپ کا ایک انتقام تو پورا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔اب صرف دوسرا باقی تھا۔۔۔۔میں نے عاصم سے کہا کہ میرا پاسپورٹ اور پرانی سیٹنگ واپس بنائے ۔۔۔۔اب یہاں سےاپنا دانا پانی اٹھ گیا ہے ۔۔۔بس سفر کی تیار ی کرنی ہے ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلے ہفتے میں پھر سے تیار تھا۔۔۔۔ایسی فضاؤں میں جانے کے لئے ، جہاں کا ذرہ ذرہ میرے ملک کا دشمن تھا۔۔۔۔۔۔جہاں پیدا ہونے والے ہر بچے کو میرے ملک سے نفرت سکھائی جاتی تھی۔۔۔۔
میرے پاسپورٹ کے ساتھ عاصم نے اپنا پاسپورٹ بھی ساتھ رکھا ۔۔۔۔میں نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔" یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔" ۔۔
۔"جگر ۔۔۔۔اکیلا بھیجنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔" ساتھ ہی چلیں گیں ۔۔۔عاصم کا لہجہ اٹل تھا۔۔۔میں نے اسے غور سے دیکھا ۔۔۔اور پھر عمراں صاحب سے بات کرنے کا سوچا ۔۔۔وہی عاصم کو روک سکتے تھے ۔۔میری ہمت نہیں تھی کہ اپنے یار کو منع کر سکوں۔۔عمران صاحب نے بھی ایک مشن میرے حوالے کرنا تھا۔۔۔۔۔
ایسا ہی ہوا ۔۔۔۔میں نے عمران صاحب سے بات کر کے عاصم کو رکوا دیا۔۔۔۔۔شرط یہی تھی کہ جب ضرورت پڑے گی تو اسے ضرور بلواؤں گا۔۔۔
میرا حلیہ بدل چکا تھا۔۔۔۔۔مگر سینے کی آگ بتدریج روشن تھی ۔۔۔۔آنکھوں کی سرخی سے اب مجھے خود خوف آتا تھا۔۔۔۔ایسے ہی ایک اندھیری صبح تھی ۔۔۔۔جب ہم سب ائیرپورٹ پر اکھٹے تھے ۔۔۔۔۔میرے آگے اور پیچھے مسلح گاڑیوں کا ہجوم تھا۔۔۔درمیان میں عاصم اور چیتا کے ساتھ میں کھڑا تھا۔۔۔۔ہم سب لپٹ کر ملے ۔۔۔۔۔۔بے تحاشہ روئے ۔۔۔۔۔سینوں میں اک آگ سی روشن تھی ۔۔۔ہماری فیملی کا ایک فرد کم ہو گیا تھا۔۔۔۔اتنے میں سمرن بھی ایک گاڑی سے اتر آئی ۔۔۔وہ بھی مجھ سے لپٹ کر رونے لگی۔۔۔۔میں نے اس ڈھارس دیتے ہوئے عاصم کو اس کا خیال کرنے کا کہہ کر پلٹ آیا۔۔۔۔۔پاسپورٹ پکڑے میں مین گیٹ سے اندر داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔۔پلٹ کر دیکھنا میرے لئے مشکل تھا۔۔۔محبت کرنے والوں کو ایسے چھوڑ کر جانا کیسے آسان تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ لوگ پھر مجھے کہاں دکھنے والے تھے ۔۔۔۔۔۔میرے ایک آنسو پر خون کے دریا بہانے والے ۔۔۔۔میرے جگر کے ٹکڑے ۔۔۔۔۔۔میری خوشی کا سامان تھے ۔۔۔
میں بغیر پلٹے چلتا رہا ۔۔۔۔۔۔آنسو پھر نکل پڑے تھے ۔۔۔۔۔۔ساتھ چلنے والوں نے مجھے حیرت سے دیکھا تھا۔۔۔۔مگر انہیں کچھ خبر نہیں کہ باہر سے زیادہ تو اندر آنسو گر رہے ہیں ۔۔
بورڈنگ کاؤنٹر سے کارڈ دیتے ہوئے مجھے کلرک نے غور سے دیکھا۔۔۔۔میں نے کارڈ پکڑا ۔۔۔۔اور سیکورٹی چیک کرواتے ہوئے جہاز میں آن بیٹھا۔۔۔۔

ہیں معرکے ہمیں سے زندہ ۔۔۔۔۔سرفروش ہیں جانباز ہیں۔۔۔
جب رکے اک سمندر تھے۔۔۔۔جب اٹھے اک طوفان ہیں۔۔۔
غموں کے اندھیروں سے گزر کر ۔۔۔۔مسکرانے والے انسان ہیں۔
پہاڑوں کو ٹھوکروں سے اڑا دیں ۔۔۔وہ فولاد ۔۔وہ چٹان ہیں۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×