Jump to content
Good Morning ×
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

 یہ کہانی سائرہ کی ہے۔ سائرہ جو ایک شریف لڑکی تھی مگر سب نے اس کو اتنا مجبور کیا کہ وہ تباہ ہو گئی۔

Slide1.thumb.JPG.f8deb5028099445ec4b0cf5eaa3d123c.JPG

Slide2.thumb.JPG.aeec9e6ec0901acbca6477b1d6e75020.JPG

Slide3.thumb.JPG.5e75f61fae701647b7f4457c8f0fb5c6.JPG

Slide4.thumb.JPG.be4b6ab640ec0e535e99150d2b7e2940.JPG

Slide5.thumb.JPG.ae5654ce07a2788b25357ddc50052db7.JPG

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے گولڈ  ممبرز اور ماسٹر ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے  گولڈ اور ماسٹر سیکشن میں  پوسٹ کی جا رہی ہے۔

 

 دیکھیں سیکس گرلز کے لیے بھی مزا ہے۔ مگر اگر وہ زبردستی ہو تو بہت اذیت اور نفرت فیل ہوتی ہے۔

اس کہانی میں وہی  بتانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ سیکس کے مزے کے لیے بوائز کئی بار گرلز کی زندگی برباد کر دیتے ہیں۔

باقی اگلی بار میں کوشش کروں گی کہ سیریس کہانی نہ لکھوں۔

مگر ایک اور بات ہے کہ اگر سیریس نہیں ہو گی تو کہیں ایسا تو نہیں لگے گا کہ میں الٹا سیکس کو پروموٹ کر رہی ہوں۔ بھئی میں تو منع کر رہی ہوں۔ کل کو یہی ممبر یہ نہ کہہ دیں کہ آپ ہی بولتی ہیں کہ بہت انجوائے کیا فلاں گرل نے تو اب کیا ہو گیا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

اچھی کہانی ہے اور ایک اور اچھی کاوش ہے ۔ جیسا لکھ رہی ہیں ٹھیک لکھ رہی ہیں ۔ خوامخواہ کنفیوز نہ ہوں ۔ ہر کسی کی اپنی اپنی پسند ہوتی ہے ۔ یہاں زیادہ تر قارئین کی پسند ہیجان انگیز ہلکی پھلکی کہانیاں ہیں جس میں دبا دب چدائی ہو ۔ لوڑے پھدی کی باتیں ہوں اور آخر میں ہو کہ سب ہنسی خوشی رہنے لگے ۔ نہ کہ معاشرتی مسائل زیر بحث آئیں  

بہرحال کہانی کی طرف آئیں تو کچھ ایسی ہے کہ لڑکی اپنے ہی گھر میں محفوظ نہیں ۔۔۔ جبکہ گھر اور فیملی تو ہوتا ہی پرورش، کفالت اور حفاظت کے لیے ہے

بہن ہے جسے اپنی پڑی ہوئی ہے، جان کر بھی انجان ہے اس توقع پر کہ شاید انتہائی برا نہ ہوجائے اور ماں کو بھی خوف ہے کہ رشتہ نہ خراب ہوجاِئے کچھ رشتہ داری کا معاملہ بھی ہے یا مجبوری ہے اور لڑکی کو دبایا جھٹلایا جارہا ہے

اور اس بات سے لڑکا کا حوصلہ اتنا بڑھا ہوا ہے کہ گھر میں گھس کر بدتمیزیاں اور بے باکیاں حد سے بڑھ جائے

لیکن میرا سوال یہ ہے کہ یہ تھوڑا زیادہ نہیں ہوگیا ۔ میرے خیال میں چھپ چھپا کر تو یہ کام کیے جاتے ہیں ایسی دیدہ دلیری ؟؟؟؟ کیا یہ کہانی بھی کسی سچی کیس سٹوری سے ماخوذ ہے ؟؟؟؟؟ یا آپ نے اس حد تک بے وقوف ماوں کا مشاہدہ کیا ہے

Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایسا ہر گھر میں تو نہیں ہوتا۔ مگر آپ نے ہی بولا تھا کہ ریپ گھر کے اندر ہی ہوتے ہیں اور گھر کے جاننے والا کوئی کرتا ہے۔

اصل میں میں جتنی بھی لڑکیوں کو جانتی ہوں ان کے ساتھ ان کے کزنز نے ہی بہت بدتمیزی کی۔ کئی کزن اچھے بھی ہوتے ہیں مگر کئی گھٹیا بھی ہوتے ہیں جیسا ارشد ہے۔

اوپر سے کئی بار گھر والے سمجھ نہیں رہے ہوتے کہ معاملہ اتنا سیریس ہے وہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تو تو میں میں والی بات ہے،ریپ کا تو کسی نے سوچا نہیں ہوتا جب تک ہو نہیں جاتا۔

میں نے ڈرامہ دیکھا کہ بچی سودا لینے جاتی ہے تو دکان والا گینگ ریپ کر دیتا ہے۔ اب گھر والوں نے تو سوچا نہیں تھا کہ دکان والا ایسا ہے۔

اوپر سے کوئی ایسی مجبوری بھی ہوتی ہے کہ وہ کھل کر اس بندے کو ڈانٹ نہیں سکتے۔

یہ سچی کہانی ہے کہ ایک لڑکی کو ایسے کزن نے تنگ کیا۔ مگر ریپ نہیں کیا مگر سیکس کی کوشش کئی بار کی۔

باقی یہ سچویشن میں نے خود بنائی ہے۔

ایڈمن میرا جمیل نوری فونٹ نہیں چلتا؟؟؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites
7 hours ago, TEHREEM said:

ایسا ہر گھر میں تو نہیں ہوتا۔ مگر آپ نے ہی بولا تھا کہ ریپ گھر کے اندر ہی ہوتے ہیں اور گھر کے جاننے والا کوئی کرتا ہے۔

اصل میں میں جتنی بھی لڑکیوں کو جانتی ہوں ان کے ساتھ ان کے کزنز نے ہی بہت بدتمیزی کی۔ کئی کزن اچھے بھی ہوتے ہیں مگر کئی گھٹیا بھی ہوتے ہیں جیسا ارشد ہے۔

اوپر سے کئی بار گھر والے سمجھ نہیں رہے ہوتے کہ معاملہ اتنا سیریس ہے وہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تو تو میں میں والی بات ہے،ریپ کا تو کسی نے سوچا نہیں ہوتا جب تک ہو نہیں جاتا۔

کہانیوں  میں شاید انتہائی کیس ہی بنایا جاتا ہے تبھی کہانی میں جان پڑتی ہے شاید ۔ اسلیے میرے تبصرے پر پریشان نہ ہوئے گا ۔۔۔ جو کہانی جس طرح سوچی ہے اسی طرح لکھیے گا

جو ہم نے ڈسکس کیا تھا وہ یوں تھا کہ زیادہ تر ریپ یا زیادتی کرنے والے قریب کے جاننے والے افراد ہوتے ہیں جیسے کزن، رشتہ دار، پڑوسی اور محلہ دار، والدین کے دوست کے بچے ، سہیلی کے بھائی وغیرہ اور وجہ ہوتی ہے کہ رابطے ممکن ہوتے ہیں اور کسی کو ان رابطوں پر اعتراض نہیں ہوتا

یہ زیادتی لڑکیوں کے ساتھ ہو یا بچوں کے ساتھ

لیکن کزن کی طرف سے ریپ  کے کیسز میں تو موقع تاڑا جاتا ہے ۔ ایسی کھلی دیدہ دلیری وہ بھی قریبی کزن کی طرف سےمیرے مشاہدے میں تو نہیں آئی ۔ بلکہ کزن کی طرف سے سیکس بہلا پھسلا کر ہوتا ہے

اگر ریپ ہو تو عموما کرنے والے  کی طرف سےشروع میں میسنے بن کر اعتماد جیتا جاتا ہے یا غیر محسوس طریقے سے فری  ہونے کی کوشش کی جاتی ہے یا اسی طرح کی چھیڑ خانی ضرور کرتے ہونگے جس سے مکرنا آسان ہو اور تنہائی میں موقع دیکھ کر شکار کیا جاتا ہے اگر لڑکی راضی نہ ہوپائے ۔ لیکن اگر لڑکی چیخے یا ڈانٹے تو ایسے کزن کی جان جاتی ہے ۔

اوباش لڑکے بھی گھر اور خاندان والوں کے سامنے شریف ہی بنتے ہیں ۔۔ مارکیٹوں یا دوسرے محلوں میں جاکر بدمعاشی دکھاتے ہیں ۔ یہ میرے ذاتی خیالات ہیں ۔۔ باقی ممکن تو کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔

 

اس بات کا مشاہدہ ضرور ہے کہ اگر لڑکی کو کالج سے آتے جاتے، یا مارکیٹوں میں گھومتے  کو ئی اور لڑکا چھیڑے یا تنگ کرے اور وہ والدین سے ذکر کریں تو والدین لڑکی ہی پر آنے جانے کی پابندی لگا دیتے ہیں ۔۔ اسلیے کئی لڑکیاں عموماََ ایسے موقع پر خاموش رہتی ہے ۔ کچھ ہماری متوسط طبقے کی لڑکیوں دبنے والی اور ڈرپوک بھی ہوتی ہیں اپنے پر جو گذری بتاتے بھی ڈرتی ہیں

7 hours ago, TEHREEM said:

میں نے ڈرامہ دیکھا کہ بچی سودا لینے جاتی ہے تو دکان والا گینگ ریپ کر دیتا ہے۔ اب گھر والوں نے تو سوچا نہیں تھا کہ دکان والا ایسا ہے۔

آپ غالباََ روگ ڈرامے کی بات کررہی ہیں ۔ ڈرامے کا موضوع اچھا تھا ۔ وہ واقعہ تھوڑا غیر فطری انداز میں تھا میرے نزدیک ۔ بچیوں کا ریپ عموماََ چھپ چھپا کر تو ہوتا ہے ۔ اپنی دکان میں لے جاکر نہیں کیا جاتا ۔ لیکن اس کہانی میں ایک تو بچی کا ریپ تھا اور موضوع میں اہم بات ماں کی لاپرواہی تھی ۔۔۔ اسی کہانی میں ایک ڈاکٹر بھی تھی جس کی جاب مصروفیات تھیں اور اس کا چھوٹا بیٹا چوکیدار سے زیادتی کا نشانہ بنتا رہا اور سیکس ورکر بن گیا

کہا جاتا ہے کہ متوسط طبقے میں ایسے واقعات کی بڑی وجہ ماں کا لاپروا رویہ ہوتا ہے ۔۔۔ اور ایلیٹ کلاس میں والدین بہت ہی مصروف ہوتے ہیں اور بچے ملازموں کے رحم وکرم پر ہوکر غیر محفوظ ہوتے ہیں ۔۔۔

آج کل بھی ایک ڈرامہ چل رہا ہے ۔۔۔ مقابل ۔۔۔ اسی قسم کا ۔۔۔ میرے خیال میں بہت ہی اچھی کہانی ہے 

 

7 hours ago, TEHREEM said:

یہ سچی کہانی ہے کہ ایک لڑکی کو ایسے کزن نے تنگ کیا۔ مگر ریپ نہیں کیا مگر سیکس کی کوشش کئی بار کی۔

باقی یہ سچویشن میں نے خود بنائی ہے۔

 

آپ کا مطلب ہے کہ ماں کی طرف سے اس معاملے کو نظرانداز کرنے کی سیچویشن آپ کی اپنی ہے اصل واقعہ نہیں ہے ؟؟؟؟

جس لڑکی کی سچی کہانی آپ بیان کررہی ہیں  جسے  اس کے کزن نے تنگ کیا ۔۔ کیا  اس کے کزن نے اسی طرح دیدہ دلیری سے تنگ کیا  ؟؟؟؟ 

Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

نہیں اتنا اوپن تو نہیں۔ بس چھیڑنا اور بہانے سے ٹچ کرنا۔

ایک دو بار اکیلی تھی تو زبردستی کی کوشش کی تھی۔

پھر اوپن دھمکی دی تھی کہ تم کو نہیں چھوڑوں گا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 یہ قسط بھی بہت افسوس والی ہے۔

مگر کیا کروں کہانی ہی بہت سیریس ہے۔

پلیز کمنٹ ضرور کرنا۔

Slide6.thumb.JPG.9acbcedb56b8f7e2d4cfabfefba25ec4.JPG

Slide7.thumb.JPG.8d8f4558fa1ab0d876f03e4f663d6549.JPG

Slide8.thumb.JPG.d0d81a2da4af2d79a1ac791ac8768ccf.JPG

Slide9.thumb.JPG.ede46a6d2c8d94630af7f64a752f3f55.JPG

Slide10.thumb.JPG.3f8d7052c020dd93886cebbd071f4cab.JPG

Slide11.thumb.JPG.dca1d149c3b0f2169ce89a8149781765.JPG

Slide12.thumb.JPG.f6dda0c911a6e4c0f149a9d7bdd28436.JPG

Slide13.thumb.JPG.bd774a6cb14c6fbe779bf407a89bbd8f.JPG

Share this post


Link to post
Share on other sites

majboor larki ki dastaan ache se sunai...

 

kuch detail ziyada likhti to ziyada maza ata...

 

dard ko ziyada achey tareeqe se beyaan karne se ye kahani dard naak ban jati...

 

khaier... jaisi b likhi bohat achi koshish thi

Share this post


Link to post
Share on other sites

 وہ جب میں سیکس سین بناتی ہوں تو سمجھ نہیں آتا کہ کیا لکھوں؟؟؟؟؟

بس اتنا لکھ دیتی ہوں کہ اس نے ڈال دیا اور کرنے لگ گیا۔ اب وہ ایک ایک سین بھی دو دو پیج مجھ سے لکھے ہی نہیں جاتے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Its the unspoken truth of our society. Nobody believes or support their women. Ugly truth. Nicely portrayed . good work jani

Share this post


Link to post
Share on other sites

 سب دوستوں کا شکریہ۔ جنہوں نے رپلائی کیا ہے۔

عاصمہ کا بھی شکریہ مگر پلیز اردو میں رپلائی کیا کریں۔

مجھے تو پہلے دن ہی یہی کہا تھا تب سے میں بڑی مشکل سے موبائل سے اردو میں ہی مسیج ٹائپ کرتی ہوں۔ اب تو سپیڈ بھی بن گئی ہے۔

سب کو اردو میں مسیج کرنا چاہیے۔ رومن ہو یا رسم الخط،ہو اردو۔

Slide14.thumb.JPG.767798e967a3680df5936a6d21143a9e.JPG

Slide15.thumb.JPG.68957f0bda4abfe792b7f98451656dec.JPG

Slide16.thumb.JPG.031532ee5e6adb4b70615af9a468a29b.JPG

Slide17.thumb.JPG.069bb450fd15229384dab645c636bc75.JPG

Slide18.thumb.JPG.485324ff502228ac201aa3e378c4a2aa.JPG

Slide19.thumb.JPG.fc382fd47c16c36b1276257310429af2.JPG

Slide20.thumb.JPG.01b78f18a770bd1db20e7ada4cc6f4c3.JPG

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

beautiful message

almost zeada call girls aisiay he banti hain

is society main izzat bachana bohat mushkal ha

it is a sad & harsh fact

larki mian change aisay he ata ha

phr kuch larkian sirf paisay ko prefer karti hain

aur kuch badla leti hain

good work

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...