Jump to content
URDU FUN CLUB
Ghost Rider

ڈاکٹر ہما از پنک بے بی

Recommended Posts

 

ڈاکٹر ہما ایک28 سال کی ایک بہت ہی خوبصورت اور جوان لڑکی تھی۔ بے حد گوری رنگت، چکنا جسم، چھوؤ تو ہاتھ پھسلتا ہی جائے جسم پر سے، ایسا لگتا تھا کہ جیسے دودھ اور مکھن سے تراشا ہوا جسم ہو اسکا۔ مناسب قد ، لمبے سیاہ بال، ہلکی سی نیلی آنکھیں، بےحد خوش مزاج اور ہنس مکھ لڑکی۔ ویسا ہی شوہر اسے ملا تھا ۔انور بھی اپنے حسن اور وجاہت میں اپنی مثال آپ تھا۔ مناسب قد، گورا رنگ، مضبوط جسم اور پیار کرنے والا۔ دونوں کی جوڑی خوب جچتی تھی۔ جو بھی دیکھتا تو دیکھتا ہی رہ جاتا اور انکی جوڑی کی تعریف کیئے بنا نہ رہ سکتا تھا۔ اگرچہ ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کر چکی ہوئی تھی اورشادی کو بھی ڈیڑھ سال ہو چکا تھا مگر دیکھنے میں ابھی بھی ایک کمسن معصوم سی لڑکی ہی لگتی تھی ۔ دل کی بہت اچھی تھی ۔ غرور اور بدمزاجی تو اسکے مزاج میں دور دور تک نہیں تھی ۔ کسی کو تکلیف دینے کاتووہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔ دوسروں پر بہت جلدی اعتبار کر لینے اور انکی باتوں میں آجانے والی نیچر تھی ہما کی۔ تعلق اسکا ایک متوسط گھرانے سے تھا جو کہ انتہائی شریف لوگ تھے۔ والد اسکے ایک سرکاری ملازم تھے۔ اپنی زندگی میں پیسہ سے زیادہ انہوں نے عزت ہی بنا ئی تھی۔ 

تعلیم مکمل ہونے کے بعد جب ہما کی شادی کی بات چلی تو انکے ایک بہت جگری دوست نے اپنے بیٹے کا رشتہ پیش کیا جسے ہما کے والد نے بخوشی قبول کر لیا۔ اپنے والد کے فیصلے کو مانتے ہوئے اس نے ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے ابو کے دوست کے بیٹے سے شادی کو ہاں کر دی تھی ۔ اسکے ابو کے دوست کا بیٹا انور ایک فرم میں انجینئر تھا۔ اچھی جاب تھی۔ انور کے والد گاؤں میں ہی رہتے تھے اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کے لیے اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ۔ کبھی دل کرتا تو شہر میں آجاتے کچھ دن انور کے پاس رہنے کے لیےاور پھر واپس چلے جاتے۔ ساٹھ پینسٹھ سال کی عمر میں بھی چوہدری کرامت مکمل فٹ آدمی تھے۔ بڑا بیٹا عابد بھی پڑھا لکھا تھا مگر اب اپنے باپ کے ساتھ گاؤں میں ہی رہ گیا ہوا تھا اور اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ ہما بھی اس خاندان میں آکر بہت ہی خوش تھی۔ ساس اسکی تھی نہیں جس سے کسی بات پر اونچ نیچ ہوتی اور سسر تو تھے ہی بہت اچھے انسان ۔

 

 

ہما اپنے شوہر انور کے ساتھ بہت خوش تھی۔ وہ اسکا بہت خیال رکھتا تھا۔دونوں شہر میں ایک بلڈنگ کی چوتھی منزل کے فلیٹ میں رہتے تھے۔ اس سے اوپر کی منزل ابھی زیر تعمیر تھی جس میں بلڈنگ کے سیکورٹی گارڈ رہتے تھے۔ ہما شادی کے ایک سال بعد تک ہما گھر پہ ہی رہی مگر شوہر کے ڈیوٹی پر چلے جانے کے بعد اسکا دل نہیں لگتا تھا۔ آخر اس نے جاب کرنے کا فیصلہ کیا۔ انور نے بھی خوشدلی سے اسے اجازت دے دی۔ کیونکہ وہ بھی اپنی خوبصورت بیوی کی خوشی میں ہی خوش تھا۔

 

اپنی سہولت اور وقت کو دیکھتے ہوے ہما نے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں کام کرنے کا ارادہ کیا۔ اسے شہر کے ایک اچھے پرائیویٹ ہسپتال میں نوکری مل گئی۔ مناسب تنخواہ تھی جس کی دونوں کو ہی کوئی خاص فکر نہیں تھی کیونکہ وہ تو صرف اپنا ٹائم ہی پاس کرنا چاہتے تھے۔ ہسپتال میں ظاہر ہے کہ تینوں شفٹوں میں کام ہوتا ہے تو اسکی ڈیوٹی بھی تبدیل ہونے لگی۔ سوٹ تو انکو صبح کی ڈیوٹی ہی کرتی تھی اور رات کے لیے بھی دونوں نے فیصلہ کیا کے کام چلایا جا سکتا ہے۔ مگر شام کی ڈیوٹی سے ہما نے باہم مشورہ سے انکار کر دیا۔ ہسپتال کی انتظامیہ نے بھی زیادہ زور نہیں دیا اور جیسے وہ ڈیوٹی کرنا چاہتی تھی اسے کرنے کی اجازت دے دی۔ آخر ہسپتا ل بھی ہما جیسی ایک خوبصورت لیڈی ڈاکٹر کو کیسے جاب سے فارغ کر سکتے تھے۔ بس اب اسی طرح کام چلنے لگا کہ ہما ہسپتا ل میں صرف مارننگ اور نائیٹ ڈیوٹی کرتی۔ رات کو انور خود آکر اسے چھوڑ جاتا اور صبح کو آکر واپس لے جاتا۔ 

ہما کوڈیوٹی کرتے ہوے تین ماہ ہوے تو ایک لیڈی ڈاکٹر جاب چھوڑ گئی اور اسکی جگہ ایک نوجوان ڈاکٹر نے جوائن کیا۔ ڈاکٹر زمان ایک خوبصورت اور بہت متاثر کن شخصیت کا مالک تھا۔ امیر گھرانے کا تھا اور صرف شوق سے اس ہسپتال میں پرائیویٹ ڈیوٹی کرنے لگا تھا۔ ڈاکٹر ہما سے وہ عمر میں چھوٹا تھا اور ویسے بھی دو سال جونیئر ہی تھا۔ مگر دونوں میں اچھی بننے لگی۔ 

 

 

 

 

ڈاکٹر زمان کو پہلے دن ہی ہما بہت اچھی لگی اور اسکے دل کو بھا گئی۔ جب اسکو پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو بھی اسکو کوئی مایوسی یا پریشانی نہیں ہوئی۔ کیونکہ درحقیقت زمان ایک کھلاڑی نوجوان تھا جسکا مشغلہ ہی نوجوان اور خوبصورت لڑکیوں کو اپنے چنگل میں پھنسا کر اپنی ہوس پوری کرنا تھا۔ اور ہما اپنی خوبصورتی اور معصومیت کی وجہ سے ہر طرح سے اسکے میعار پہ پوری اترتی تھی بلکہ اسکی زندگی میں آنے والی تما م لڑکیوں سے بڑھ کر تھی۔ پہلے دن ہما کو دیکھتے ہی زمان نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہما کے خوبصورت جسم کا مزہ لے کر رہے گا۔ جیسے بھی ہو وہ اس حسین بدن کو حاصل کرے گا۔ 

 

 

 

 

 

اپنے اس مقصد پر اس نے پہلے دن سے ہی عمل کرنا شروع کر دیا۔ دھیرے دھیرے ہما کے ساتھی دوستی کرنے لگا۔ دونوں ڈکٹرز میں بات چیت یا ہنسی مزاق ہونا کوئی بڑی بات نہیں تھی کیونکہ ایک شفٹ میں وہ دو ہی ڈاکٹرز ہوتے تھے اور باقی کا عملہ الگ ہوتا تھا۔ دونوں کے آفس اگرچہ الگ الگ تھے مگر دونوں اکٹھے بھی بیٹھ سکتے تھےاس پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ جب ہما کی نائیٹ ڈیوٹی ہوتی تو وہ بھی اپنی نائیٹ ڈیوٹی ہی لگواتا۔ بس ایک طرح سے ہسپتال میں دو دو ڈاکٹرز کے تین گروپ بنے ہوئے تھے جو کہ ایک ساتھ ہی ڈیوٹی کرتے تھے۔ اسی وجہ سے زمان نے اپنا ساتھی ہما کو بنا لیا تھا۔ 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

پرائیویٹ ہسپتال میں رات کو کام تو اتنا زیادہ نہیں ہوتا تھا بس جیسے ہی وہ اپنے اپنے کام سے یعنی مریض دیکھنے سے فارغ ہوتے اور کسی ایک کے آفس میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگتے۔ آخر دونوں نے اور کرنا ہی کیا تھا۔ کبھی زمان چائے منگواتا تو کبھی ہما اور کبھی کچھ کھانے پینے کا پروگرام بھی بن جاتا تو وہ بھی چلتا رہتا اور بس ایسے ہی ہنسی کھیل میں ہما کی ڈیوٹی گزرنے لگی۔ وہ اب اپنے فارغ پن سے بھی نجات پا چکی تھی اور زمان کی شکل میں اسے ایک اچھا دوست بھی مل گیا تھا۔ 

 

 

 

 

 

 

ہما ایک لڑکی تھی تو زمان کی اسکے اندر دلچسپی کو وہ کیسے محسوس نہ کر پاتی۔ اسے بھی احساس ہونے لگا کہ زمان اسکو پسند کرتا ہے اور اسی لیے وہ اسکے اردگرد ہی منڈلاتا رہتا ہے۔ ویسے بھی عورت بھی تو آخر انسان ہی ہوتی ہے نا تو جیسے مرد کا دل باہر نظر آنے والی کسی بھی خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر مچل جاتا ہے تو ایسے ہی عورت کا بھی کسی پرائے مرد کو دیکھ کر اس میں دلچسپی لینا بھی کوئی بڑی یا بری بات تو نہیں نا۔ اور یہ اکثر ایسا ہوتا ہے۔ مگر مردوں کے برعکس عورتیں اپنی اس قسم کی پسند کو بڑے سلیقے سے اپنے دل میں ہی چھپا جاتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال ہما کی بھی تھا۔ اسے بھی زمان اچھا تو لگتا تھا مگر وہ کوئی بھی قدم آگے بڑھانے سے ڈرتی یا جھجکتی تھی۔ 

 

 

 

 

 

ہما لباس کے معاملے میں فیشن کا کافی خیال رکھتی تھی اور جب سے جاب پر آنے لگی تھی زمان کے ساتھ تو اور بھی اپنے پہناوے کا خیال رکھتی تھی۔۔ فیشن کے مطابق ہی کپڑے پہننے کا شوق تھا اسکو۔۔ ہر طرح کے کپڑے پہننے کی اجازت تھی اسکو اپنے شوہر کی طرف سے۔۔ وہ اکثر قمیض، شلوار یا ٹائٹس، لیگی یا جینز پہنتی تھی۔ ہر لباس ہی اسکے کھلتے ہوئے خوبصورت جسم پر جچتا تھا۔۔ جب بھی ٹائٹس پہنتی تو اسکے جسم کے نشیب و فراز دلوں پر بجلیاں ہی گراتے تھے۔ اور ایسی ہی بجلیاں ڈاکٹر زمان کہ گھائل کر چکی ہوئی تھیں۔ 

ڈیوٹی پر موجود ایک نرس زیب سے ہما کی اچھی دوستی تھی وہ بھی ہما کو چھیڑتی کہ زمان اسکو پسند کرنے لگا ہے ۔ 

زیب: ڈاکٹر ہما آپ نے نوٹ نہیں کیا شائد کہ ڈاکٹر زمان ہر وقت آپکے اردگرد ہی پھرتے رہتے ہیں ۔ 

زیب نے اُس وقت یہ بات کی جب زمان ایک مریض کو دیکھنے گیا ہوا تھا۔ اسکی بات سن کر ہما کے گورے گورے چہرے پہ ایک ہلکا سا سرخ رنگ لہرا کر گزر گیا اور وہ دھیرے سے مسکرا کر بولی۔

ہما۔ تو میں کیا کروں۔ 

زیب: ڈاکٹر صاحبہ کرنا تو آپکو وہی پڑے گا جو ڈاکٹر زمان چاہیں گے۔ 

ہما ہنس پڑی اور زیب کی طرف مصنوعی غصے سے دیکھتی ہوئی بولی۔۔ کیا مطلب ہے تمھارا۔۔۔ تم خود کرلو جو کرنا ہے اسکے ساتھ ۔۔ یا جو وہ کہتا ہے۔ ۔

زیب مسکرائی۔۔ ہائےےےےے۔۔۔ میں تو فوراََ تیار ہوجاؤں اگر زمان صاحب مجھے ایک بار بھی اشارہ کر دیں۔ ۔

ہما بھی اسکی بات پر ہنسنے لگی ۔۔۔ اور تھوڑی شرماتی ہوئی بولی ۔۔۔ تم تو ایسے کر رہی جیسے تمھارے اندر کوئی بہت ہی زیادہ آگ لگی ہوئی ہو۔ ۔ لگتا ہے کہ تمھارا دل ڈاکٹر زمان پہ آگیا ہے۔۔

زیب ہنسی۔۔۔ کیا کرؤں ڈاکٹر زمان ہیں ہی اتنے ہینڈسم اور سمارٹ کہ ان پہ دل آجانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔۔۔ 

ہما۔۔۔ پھر تمھارے اس عاشق کا کیا جو اکثر تمکو ملنے آتا ہے ۔۔۔۔۔ راشد۔۔

زیب۔۔ ہو تو ہے ہی ۔۔۔۔۔۔ پر اس دل کا کیا کرؤں ۔۔۔ زیب اپنے بائیں ممے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی ۔۔

ہما بھی اس سب بات چیت کو حسبِ معمول انجوائے کر رہی تھی۔۔ تو پھر کہہ کیوں نہیں دیتی ان سے اپنا حالِ دل۔۔

زیب۔۔ کیا فائدہ کہنے کا ڈاکٹر ہما۔۔ زیب اپنے چہرے پر تھوڑی شرارت اور تھوڑی مایوسی لاتی ہوئی بولی۔

ہما ۔۔ کیوں ۔۔ فائدہ کیوں نہیں۔۔

زیب ہما کو آنکھ مارتی ہوئی بولی۔۔۔ کیونکہ ڈاکٹر زمان کا دل تو آپ پر آیا ہواہے۔۔ 

ہما بھی شرما کر ہنسنے لگی۔۔ اور بولی۔۔ جی نہیں میں ایک شادی شدہ لڑکی ہوں۔۔ مجھ سے کیا مطلب اسکو۔

زیب۔۔ ارے ہما جی۔۔۔ زمان صاحب کو جو مطلب ہے وہ تو ایک شادی شدہ لڑکی بھی پورا کر سکتی ہے۔۔

ہما شرماتی ہوئی۔۔ جی نہیں مجھے کسی کا کوئی مطلب پورا نہیں کرنا۔۔ میں اپنے میاں جی کے ساتھی ہی خوش ہوں

زیب ہنسی۔۔ ڈاکٹر ہما آپکی شرماہٹ بتا رہی ہے کہ آپکے دل میں بھی کچھ کچھ ہوتا ضرور ہے زمان صاحب کو لے کر۔۔ اور ہوتا بھی ہے تو کیا ہوا۔۔ ان شادی شدہ مردوں کی طرح ایک شادی شدہ لڑکی کو بھی پوری اجازت ہے اور حق ہے کہ وہ بھی اپنے من پسند مرد سے انجوائے کر سکے ۔۔

ہما ہنسنے لگی ۔۔۔ تو مجھے گھر سے نکلوائے گی زیب ۔۔ زیب بھی اس بات پر ہنسنے لگی ۔

زیب۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ ایک بات کہوں ۔۔ ویسے آپ ہو بہت لکی۔

ہما مسکرائی۔۔ وہ کیسے۔

زیب۔۔ وہ ایسے کہ آپکو شوہر ملا تو بہت خوبصورت اور اسکے بعد عاشق ملا تو وہ شوہر سے بھی بڑھ کر۔۔

 

ہما اسکی بات پر شرما گئی اور ہنسنے لگی۔۔

 

  

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×