Jump to content
URDU FUN CLUB
Story Maker

خونی رشتے ۔۔۔۔۔۔ پارٹ 2۔۔۔۔۔

Recommended Posts

خونی رشتے ۔۔۔۔۔۔ پارٹ 2۔۔۔۔۔ پہلی قسط
اگلی صبح میں دیر سے اٹھا تھا ۔ کھڑکی سے دھوپ چمک رہی تھی ،کمرے میں ہر طرف گلاب کی خوشبو بسی تھی ۔۔۔۔ ثناء میرے برابر میں بے سدھ لیٹی تھی اور رات کی تکان اور درد اس کے چہرے پر نمایا ں تھا ۔۔۔میں بے اختیار اس کے چہرے پر جھک گیا اور چومنے لگا ۔ کچھ ہی دیر میں وہ کسمسانے لگی اور آنکھیں کھول دیں ،مجھے اپنے اوپر جھکا دیکھ کر مسکرا دی ۔۔۔ میں کچھ دیر بعد اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔ باتھ روم میں سے نکلنے ہی والاتھا کہ دروازے پر دستک کی آواز ہوئی ۔ اور کوئی دروازہ کھول کر اندر آیا ۔ اتنے میں میں تولیہ لپیٹے باہر نکل آیا ۔ چاچی کمرے میں آ چکی تھی ، اور ثناء کے قریب بیٹھیں حال چال پوچھ رہی تھیں ۔۔مجھے دیکھ کر مسکرائیں اور ثناء سے کہا کہ جاؤ تم بھی فریش ہو جاؤ ۔۔۔وقار کا فون آیا تھا وہ ایک گھنٹے تک ناشتہ لے کر پہنچیں گے ۔ ثناء یہ سن کراٹھنے لگی اور لڑ کھڑا گئی ، چاچی نے اس کوسہارا دے کر باتھ روم تک پہنچا دیا اور میری طرف پلٹیں ، ان کی آنکھیں چمک رہیں تھیں ، اور سرخ ہونٹوں پر شرارت مچل رہی تھیں ۔۔وہ تیزی سے میری طرف بڑھیں اور مجھ سے لپٹ گئیں ۔ میں نے بھی باتھ روم کی طرف دیکھتے ہوئے ان کو بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔وہ گرم جوشی سے لپٹی جا رہی تھیں ۔ اور میں بھی جوابی کارؤائی میں اپنے ہاتھ ان کی کمر اور چوتڑ کو دبار ہا تھا ۔۔۔۔ میرا تولیہ نیچے گر گیا تھا ۔۔اور ہتھیار دوبارہ سے انگڑائی لینے لگا ۔۔۔چاچی نے یہ دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگی ۔۔۔ثناء کسی بھی وقت آ سکتی تھی اور گھر میں سب لوگ موجود تھے ۔ اس وقت کوئی بھی مہم جوئی نقصان کا باعث تھی ۔۔چاچی نے میرا ہتھیار تھاما اور کہنے لگیں ۔۔۔۔دیکھو اِسے پھر سے تیار ہے ۔۔ رات کُوئی کسر رہ گئی تھی کیا۔۔۔۔میں نے کہا کہ سامنے آپ ہوں اور اسے ہوشیاری نہ آئے یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔چاچی نے میرے ہونٹوں کو چوما اور کہا کہ ابھی چلتی ہوں ۔۔۔ثناء آ جائے تو اسے تیار کرتی ہوں ۔۔ اس کے گھر والے بھی آنے والے ہیں ۔ شام کو ولیمہ بھی ہے ۔ میں نے کہاٹھیک ہے ۔۔۔۔اور پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔ ثناء فریش ہو کر آئی تو چاچی آ کر اسے تیار کرنے لگیں ۔۔میں بھی کپڑے پہن کر نیچے آ گیا ۔ابو اٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔میں ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا ۔۔انہوں نے مجھے تھپکی دی اور حال پوچھا ۔۔میں نے سب خیر کی رپورٹ سنائی ۔۔ تھوڑی ہی دیر میں گھر میں ہل چل مچ گئی تھی ۔۔۔ڈائننگ ٹیبل سجنے لگی بھیا نیچے آگئے تھے اور کچھ دیر میں خالہ اور وقار بھی پہنچ گئے ۔۔ ثناء نیچے نہیں آئی تھی ۔۔مناہل اور ربیعہ اپنا ناشتہ لے کر اوپر چلے گئے جہاں بھابھی بھی تھی اور باقی لوگ نیچے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کرنے لگے ۔۔۔ ناشتے کے بعد امی خالہ کو لے کر اپنے کمرے میں لے گئیں اور ہم سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے چائے کا انتظار کرنے لگے ۔۔چائے پی کر وقار اور خالہ تو واپس چلے گئے بھیا اور ابو لان اور کیٹرنگ والے کی طرف گئے اور ہم اپنے کمروں میں واپس آ گئے ۔۔۔بھابھی ابھی تک ثناء سے باتیں کر رہی تھیں ، ان کے چہرے کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ ان کی رات بھی اچھی گزری تھی ۔ میں بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا ۔۔بھابھی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئیں ۔۔ثناء ابھی تیار بھی نہیں ہوئی مگر اس کو چہرہ جگمگا رہا تھا ۔۔آنکھوں میں محبت تیر رہی تھی اور اس پر شرماہٹ کے بادل سایہ کیے ہوئے تھے ۔۔میں اس کے قریب ہو کر بیٹھ گیا تھا ۔اور اس کے نازک ہاتھوں کو تھام لیا ۔۔۔وہ سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد میں بیڈ پر لیٹ گیا اور اسے بھی خود سے لِپٹا لیا ۔۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم نیند کی وادیوں میں کھو گئے ۔شام کو ولیمہ تھا ۔۔ہم سب تیار ہو کر وہاں پہنچ چکے تھے۔۔۔ ہر طرف لائٹس چمک رہی تھی ۔۔۔ہم اسٹیج پر بیٹھے تھے ، جب میری نظر سعدیہ پر پڑی تھی (پہلے حصے میں وقار کے اسکول میں اسپورٹس کی ٹیچر) ۔ وہ بھی آج کافی تیار ہو کر آئی ہوئی تھی ۔اپنی مضبوط جسامت میں پنک کلر کی ساڑھی پہنے وہ سب سے نمایا ں تھی ۔اٹھی ہوئی چھاتیاں اور پتلی کمر سے اترتے ہوئے اس کی بیک کافی گول مٹول سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔میں نے اسے آنکھوں سے اشارہ کیا تو وہ اسٹیج پر آکر ثناء کے برابر میں بیٹھ گئی۔۔۔ اس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی ۔۔۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ اپنے ہاتھ کو کان سے لگاتے ہوئے موبائل کا اشارہ کے کے نیچے اتر گئی ، تھوڑی ہی دیر میں میسج کی ٹون بجی تھی ، میں نے دیکھا تو سعدیہ کا ہی میسج تھا ۔۔۔جوڑی مبارک ! ان صاحبہ کے عشق میں ہمیں نہ بھول جانا ۔کوشش کر کے اسکول کا چکر لگاؤ کسی سے ملوانا بھی ہے ۔۔میں نے اوکے کا میسج لکھ کر سینڈ کر دیا ۔۔۔۔ ہر طرف خوشیاں گونج رہیں تھی ، قہقہے اور مسکراہٹیں تھیں ۔۔۔کھانا شروع ہوا اور کھانے کے بعد مہمانوں کی واپسی بھی شروع ہو گئی تھی ۔ ثناء آج اپنے گھر واپس جا رہی تھی ۔ اور ایک دو دنوں کے بعد اسے آنا تھا۔ ہم بھی گھر واپس لوٹ آئے ۔ تھکن سے برا حال تھا ۔کچھ دیر ابو اور امی کے ساتھ نیچے بیٹھا تھا۔۔۔۔اور پھر اوپر آ کر بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔کچھ ہی دیر میں چاچی روم میں آئیں ، چائے کے دو کپ ان کے ہاتھ میں تھے ۔۔۔آ کر برابر میں بیٹھ گئیں ۔۔میرے چہرے پر تھکن دیکھ کر پوچھنے لگیں کہ ثناء کی یاد آ رہی ہے میرے راجہ کو، ایک دن بھی نہیں رہ پارہے اس کے بغیر ۔۔۔میں مسکرا دیا اور اٹھ کر بیڈ سے ٹیک لگا دی ۔۔۔۔چائے پی کر چاچی میرے اور قریب ہو گئیں اور سر دبانے لگیں ۔۔ ان کے نرم نرم ہاتھ جیسے چھوتے جا رہے تھے درد ۔ویسے ہی غائب بھی ہو رہا تھا ۔میں آنکھیں بند کر بیڈ سے ٹیک لگائے ہوا تھا۔۔اور وہ میری سائیڈ پر بیٹھیں دونوں ہاتھوں سے سر دبا رہی تھی ۔۔ ان کے جسم سے اٹھنے والی حرارت مجھے دور سے بھی محسوس ہو رہی تھیں ۔۔۔اور چوڑیوں کی چھن چھن میرے کانوں میں کھنک رہی تھی ۔۔۔۔ ان کے جسم سے مچلنے والی خوشبو مجھے بلا رہی تھی ۔۔۔پکار رہی تھی ۔۔۔۔میں نے آنکھیں بند کیے ہوئے ہی ایک ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا اور ان کی ران پر پھیرنے لگا ۔۔۔۔۔میرے سر کا درد اب غائب ہو چکا تھا اور اس کی جگہ سنسناہٹ نے لے لی تھی ۔۔جو پیشانی سے ہوتی ہوئی پورے جسم میں دوڑ رہی تھی ۔۔۔۔میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔مسرت آمیز لہریں پورے بد ن میں پھر رہی تھیں ۔۔۔میری آنکھیں اُسی طرح بند تھیں ۔میں نے ہاتھ بڑھا کر ان کی ایک چھاتی کو تھام لیا اور اور دبانے لگا ۔۔۔۔جو نرم روئی کے گالے کی طرح مچل رہی تھی ۔۔۔۔چاچی کے ہونٹوں سے گرم سسکیاں بھی اب میرے چہرے سے ٹکرا رہی تھی۔۔۔ میں نے دوسرا ہاتھ بڑھا کر ان کی کمر پر پھیرنے لگا ۔۔بہت عجیب سی فیلنگ تھی ۔۔شادی کے بعد دوسری رات تھی ۔۔اور ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے بے وفائی ہو رہی ہو ۔۔مگر چاچی کے چہرے پر بکھری ہوئی چاہت اور محبت مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔۔۔ میں بھی ان کے چھاتی پر دباؤ بڑھا کر مسلنے لگا ۔۔۔۔۔ساتھ ساتھ دوسری چھاتی کو بھی تھام لیا ۔۔۔۔ دوسرا ہاتھ ان کی کمر پر گردش کر رہا تھا ۔۔چاچی اب اوپر کو ہوتی ہوئیں مجھ پر جھکتی جا رہی تھیں ۔۔۔اور پھر ان کے گرم ہونٹ مجھے اپنے چہرے پر محسوس ہوئے ۔۔پیشانی کو چومتے ہوئے۔۔۔ پورے چہرے کو اپنی لپیٹ میں لے کر وہ میرے ہونٹوں تک جا پہنچیں ۔۔۔۔۔اور پھر اپنے ہونٹوں سے میرے ہونٹ تھام لیے ۔۔۔میری تھکن ختم ہونے لگی تھی ۔۔۔۔اور جسم میں توانائی دوڑنا شروع ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔میں نے ان کے گرد بازو لپیٹتے ہوئے انہیں اپنے اوپر کھینچ لیا ۔۔۔وہ بیڈ پر میر ے ساتھ ہی لیٹی ہوئی میرے ہونٹوں کو چوم رہی تھی ۔۔۔ہم اپنے گردوپیش سے بے خبر ہو چکے تھے ۔۔۔چاچی کے ریشمی بال بھی خوشبو بکھیرتے ہوئے کھل رہے تھے ۔۔۔ چاچی کے ہونٹ میرے ہونٹوں کو تھام رہے تھے ، کھینچ رہے تھے ۔۔۔۔اور ان کی نرم و ملائم بڑی بڑی چھاتیاں میرے سینے میں دبی ہوئی تھیں ۔۔۔اور اور میرے دونوں ہاتھ ان کی کمر پر گھومتے ہوئے ان کی چوتڑوں کو دبار ہے تھے ۔۔۔۔۔۔میں خود پر ان کا وزن بڑھتا ہوا محسوس کر رہاتھا ۔۔ان کی ایک ٹانگ اٹھ کر میرے اوپر آ چکی تھی ۔۔۔۔ وہ پوری گرم جوشی سے میرے ہونٹوں کو چوم رہی تھی ۔۔میں نے بھی جواب میں ان کے ہونٹوں سے رس کشید کرنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔ساتھ ہی زبان بھی ان کے منہ میں داخل کرنے لگا۔۔۔۔میرا ایک ہاتھ ان کے چوتڑوں کو دبار رہا تھا تو دوسرا ان کے بالوں کو کھول رہا تھا ۔۔۔نیچے سے ہتھیار بھی تننے لگا تھا۔۔۔۔چاچی اب میرے دائیں بائیں گھٹنے رکھ کر میرے اوپر بیٹھ گئی تھی اور دونوں ہاتھوں سے میری شرٹ کے بٹن کھولنے لگیں ۔۔۔۔ان کا چہرہ سرخ ہوچکا تھا ۔۔اور آنکھوں میں شہوت صاف نظر آرہی تھی ۔۔۔۔پیچھے کو گرے ہوئے کھلے بال انہیں اور خوبصورت بنا رہے تھے ۔۔۔میری شرٹ اتار کر وہ میری پینٹ کی طرف بڑھ گئی اور جلد ہی میری ٹانگیں بھی آزاد تھی۔۔۔میرے جسم پر ایک بھی کپڑا نہیں تھا ۔۔۔ہتھیار نے بھی چاچی کے ہاتھوں کے لمس کو پہچان لیا تھا اور اب فل اسپیڈ سے تننے لگا تھا۔۔۔۔چاچی پھر سے مجھ پر جھک گئیں اورمنہ کو چومتی ہوئی نیچے کو آنے لگیں ۔۔۔گردن کو چومتی ہوئی سینے پر آگئیں اور نپلز کو ہونٹوں سے چومنے اور چوسنے لگیں ۔۔۔۔میرے پورے جسم میں سنسناہٹ پھیلنے لگی ۔۔۔۔۔چاچی تھوڑی دیر بعد میری آنکھوں میں دیکھتی اور پھر سے نپلز کو چوسنے لگ جاتیں ۔۔۔۔ان کے تھوک کے گیلے پن کو میں اپنے سینے پر محسوس کر رہاتھا ۔۔۔نیچے سے ہتھیار فل کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔اور اوپر بیٹھی ہوئی چاچی کو اٹھا نے کی کوشش میں مصروف تھا۔۔۔۔جسے چاچی نے بھی محسوس کر لیا تھا۔۔وہ تھوڑا نیچے کو ہوتی گئیں ۔۔اورٹانگوں پر بیٹھ گئیں ۔۔۔اب ہتھیار ان کے سامنے کھڑا۔۔ سلامی دے رہا تھا ۔۔۔چاچی نے دونوں ہاتھوں سے ہتھیار تھام رکھا تھا۔۔اوراپنے ہاتھوں کو اس پر آگے پیچھے کر رہی تھی۔۔۔۔اپنا چہرہ آگے کی طرف کرتے ہوئے تھوک اکھٹا کرتی ہوئیں اس پر گرایا اور دونوں ہاتھوں سے پورے ہتھیار پر مسلنے لگیں۔۔۔۔ہتھیار فل جوبن پر تھا اور چاچی کے دونوں ہاتھوں سے نکلنے کی کوشش میں تھا ۔تھوک سے ملتے ہوئے چاچی کے ہاتھوں نے اسے سرخی مائل کر دیا ۔۔چاچی اب آگے کو ہوئیں اور ہتھیار کو منہ میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگیں ۔۔۔ان کو پورا منہ کھل چکا تھا ۔۔اور صرف ٹوپا ہی ان کے منہ میں گھس پایا تھا ۔۔۔وہ اسی کے اوپر اندرسے اپنی زبان مسل رہی تھی ۔۔۔۔پھر ٹوپا باہر کی طرف نکالا اور چاروں طرف سے اس پر زبان پھیرنے لگیں ۔۔ان کا انداز ایسا تھا کہ جیسے تیزی سے گھلتی ہوئی قلفی کو بچانے کے لئے چاروں طرف سے چوسا جا رہا ہو ۔۔۔۔چاچی نیچے جڑ سے اپنی زبان پھیرنا شروع کرتیں اورٹوپے تک آ پہنچتی ۔۔۔۔۔یہ سلسلہ ایسے ہی کچھ دیر جاری رہا۔۔ہتھیار فل کھڑا سنسنا رہا تھا۔۔۔۔میری برداشت اب ختم ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔میں نے چاچی کو اپنے اوپر کھینچا اور اپنے برابر اوپر لے آیا اور ساتھ ہی دونوں ٹانگوں کو گھماتے ہوئے بیڈ سے نیچے کر دیں۔۔۔اور چاچی کو اپنی گود میں اٹھا یا ۔۔چاچی نے اپنی ٹانگیں میرے گرد لپیٹ دیں تھی اور بازو میری گردن کے گرد باندھ دیئےتھے ۔۔۔میں انہیں اٹھا ئے پہلے کمرے کے دروازے کی طرف گیا ۔۔دروازہ لاک کر کے لائٹ بند کی اور نائٹ بلب آن کرتے ہوئے بیڈ پر آنے لگا ۔۔۔چاچی کی سیاہ آنکھوں کی چمک مجھے صاف محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔انہیں بیڈ پر گرا کر میں بھی اوپر چڑھ آ یا تھا ۔۔ٹائم کم تھا اور مقابلہ سخت ۔۔۔۔۔میں نے وقت ضائع کیے بغیر انہیں بٹھایا اور ان کی قمیض اتارنے لگا ۔۔چاچی نے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے ۔۔۔۔قمیض نکلتے ہیں ان کی جاندار چھاتیاں میرے سامنے تھی ۔۔نرم ملائم گوری چِٹی ۔۔۔۔دودھ سے بھری ہوئی۔۔۔بریزر میں پھنسی ہوئی ۔۔۔۔میں نے جلدی سے ہک کھول کر انہیں آزاد کیا ۔۔۔۔۔اور ان کی دونوں ٹانگوں پھیلا کر ان کے درمیان بیٹھ گیا ۔۔اور ان کی مچلتی ہوئی ایک چھاتی کو تھام کر منہ میں ڈالنے لگا ۔۔۔۔میں دونوں ہاتھوں سے انکی مچلتی ہوئی چھاتی کو دبوچ کر منہ میں گھسانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔چاچی نے ہاتھ بڑھا کر تکئے تھام کر اپنے پیچھے رکھے اور نیم دراز ہو کر میری حرکتیں دیکھنے لگیں ۔۔۔۔میں ان کی چھاتی کو منہ میں گھسانے کی ناکام کوشش کے بعد اب 
صرف نپلز ہی چوس رہا تھا۔۔۔۔اور دوسرے ہاتھ سے دوسری چھاتی کو تھامنے لگاتھا۔۔۔چاچی کے دونوں ہاتھ میرے بالوں پر گردش کر رہے تھے اور ۔۔۔گرم سسکیاں مجھے مزید پرجوش کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔اور میں پہلے سے زیادہ جوش سے ان کے ممے چوستا ۔۔۔۔۔چاچی کا نچلا بدن بھی اب بے چین ہوا چلا تھا ۔۔۔۔وہ بار بار اپنی کمر کو اوپر کی طرف اٹھا رہی تھیں ۔۔۔میں ان کی یہ بے چینی سمجھ رہا تھا۔۔۔مگر ابھی ان مموں سے میرا دل نہیں بھرا تھا ۔۔۔۔میں چاچی کے مموں کو اپنے تھوک میں لت پت کر چکا تھا۔۔۔چاچی اپنے ہونٹ کاٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔اورتیزی سے میرے سر کو اپنے مموں پر دبا رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔ان کے انگلیاں میرے بالوں کو کھینچی ہوئی دباؤ بھی دے رہی تھی۔۔مجھے درد ہوا تھا ۔۔تو میں نے اپنے دانوں سے ان کے نپلز کو ہلکا ہلکا کاٹنا شروع کر دیں ۔۔چاچی کے ایک سریلی سے سسس۔۔۔۔سسکاری نکلی ۔۔۔۔اور منہ سے ایک دم راجہ نکلا۔۔۔۔۔میں نے متناسب دباو سے کاٹنے کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔۔جس کے جواب میں ان کی مستقل سسکاری نکلتی ۔۔۔۔۔۔۔میں ان کے دونوں مموں کو باری باری چوس رہا تھا ۔۔۔ہتھیار چاچی کی شلوار کی پرواہ کئے بغیر ان کی چوت پر دباؤ بڑھا رہا تھا ۔۔۔جس سے چاچی کی بے چینی اور بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔پورے کمرے میں گرمی سی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔پچھلی رات کے لگے ہوئے گلاب کے پھول اب بھی اپنی خوشبو پھیلا رہے تھے ۔۔۔ وقفے وقفے سے چاچی کی سسکاری نکل رہی تھی ۔۔۔میں نیچے کی طرف ہو کر ان کی الاسٹک لگی شلوار کو کھینچنے لگا۔۔۔چاچی نے بھی اپنی کمر اٹھا دی ۔۔۔وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے مموں کو سمبھالنے کی کوشش میں مصروف تھیں ۔۔جو میرے ہاتھوں کے لمس کے بغیر بے چین ہورہے تھے ۔۔۔انہیں بھی کپڑوں سے آزاد کر کے میں ان کی چوت کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔جو گیلی ہوئی لگی تھی ۔۔۔۔میں نے ایک اپنے ہاتھ کی مٹھی میں ان کی چوت کو تھام لیا ۔۔۔ساتھ ہی اپنا انگوٹھا اندر داخل کرتے ہوئے انگلی کو چوت کے دانے پر مسلنے لگا۔۔۔چاچی کی سسکاری بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ اپنے ہونٹوں کو کاٹتے ہوئے ۔۔۔مموں کو تھامے ہوئے ۔۔۔۔مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ میں کچھ دیر ان کی چوت سے کھیلتا رہا اور پھر میری نظران کی طرف پڑ گئی ۔۔۔۔ان کو اپنی جانب تکتا دیکھ کر مجھے عجیب سا احساس ہوا اور میں اوپر کو اٹھ کر ان سے لپٹ گیا ۔۔۔میں پوری شدت سے ان کے چہرے کو چوم رہا تھا ۔۔۔۔ان کے ہونٹوں کو چوس رہا تھا۔۔۔چاچی بھی میری اس شدت کا ساتھ دینے کی کوشش کرنے لگی اور اپنے دونوں ہاتھ سےمیری کمر کو بھینچنے لگیں ۔۔۔۔۔ہم دونوں اپنے کپڑوں سے آزاد ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے ۔۔۔چاچی کے فل دودھ سے بھرے ہوئے ممے میرے سینے پر گڑئے ہوئے گدگدی کر رہے تھے ۔۔۔۔اور نیچے سے تنا ہوا ہتھیار چاچی کی ٹانگوں کے درمیاں پھنسا ہوا تھا ۔۔جس کی گرمی چاچی کی چوت کو پگھلا رہی تھی ۔۔۔۔۔چاچی نے اپنا ہاتھ بڑھا کر میرا ہتھیار تھام لیا اور اسے اپنی چوت کے لبوں پر رگڑنے لگیں ۔۔۔ٹوپا فل پھولا ہوا تھا۔۔۔۔۔اور ہتھیار کی شافٹ جوش جذبات سے لرز رہی تھی ۔۔۔یہ وہی ہتھیار تھا جس نے پہلی مرتبہ چاچی کی چیخیں نکلوائیں تھیں۔۔۔۔۔اور آج پھر چاچی کے چہرے پر اس کی پیاس جاگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔چاچی کے ہونٹ لرز رہے تھے اور بے اختیار سسکاریاں نکل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں اب اٹھ کر بیٹھ گیا اور چاچی کے ٹانگیں دائیں بائیں پھیلا کر ان کے درمیان بیٹھ گیا ۔۔۔ایک ہاتھ سے تھوڑا تھوک ٹوپے پر ملا اور چوت پر ٹکا دیا ۔۔۔چاچی نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا اور ڈھیر سارا تھوک اکھٹا کر میرے ہتھیار پر مسلنے لگیں ۔۔۔چوت کی گرمی باہر تک آ کر ٹوپے پر محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ سے ہتھیار کو تھامتے ہوئے ٹوپے کو اندر دھکا دیا ۔۔ٹوپے پہلے سے زیادہ پھولا ہوا تھا۔۔۔ٹوپا پھنستا ہوا اندر گھسا تھا ۔۔۔چاچی کی ایک سس۔۔۔۔افف۔۔۔۔آہ نکلی تھی ۔۔میں دباؤ بڑھا کر آدھا لن اندر گھسا دیا تھا ۔۔اور آگے کو ہوتے ہوئے اپنے پیروں پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔میرے دونوں ہاتھ چاچی کے گھٹنے پر تھے ۔۔۔جو تھوڑے سے اوپر کو اٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔میں نے پاؤں کے بل بیٹھتے ہوئے ہتھیار کو دوبارہ سے کھینچ کردوبارہ دھکا دے دیا تھا۔۔۔ساتھ ہی چاچی کے ممے مچل کر اوپر کو اچھلے تھے۔۔ ۔چاچی کی چوت ابھی بھی میرے ہتھیار کے لئے کافی زیادہ تنگ تھی ۔۔۔۔جس کا اندازہ چاچی کی ۔۔۔آہ۔۔۔۔افف۔۔۔۔اور سسکاری سے بخوبی ہو رہا تھا۔۔۔۔۔میں نے آدھا لن اندر گھسا دیااتھا ۔۔۔اور چاچی کے گھٹنے پر ہاتھ رکھے اس کو تیزی سے آگے پیچھے کر رہا تھا ۔۔۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی دھکے لگاتے ہوئے میں چاچی کی ٹانگوں کو اور اوپر اٹھا کر ان کے سینے سے لگا چکا تھا ۔۔۔۔۔اور کچھ اور ہتھیار اندر گھسا دیا ۔۔۔جس سے چاچی کی آہوں میں او ر اضافہ ہو گیاتھا۔۔۔چاچی کے لمبے بال بیڈ پر بکھرے ہوئے تھے اور ان کے درمیان ان کا چہرہ سرخ ہورہا تھا ۔۔بار بار ہونٹ کھل بند رہے تھے اور سسکیاں منہ سے جاری تھیں ۔۔۔۔میں پانچ منٹ ایسے ہی دھکے دیتا رہا ۔۔۔اور پھرہتھیار باہر کھینچ کر چاچی کو اٹھانے لگا۔۔۔۔ایک ہاتھ سے کھینچ کر میں انہیں گھوڑی بنا چکا تھا۔۔۔ان کے گول مٹول سے چوتڑ دمک رہے تھے ۔۔۔۔۔چاچی کے بالوں کو اکھٹا کر کے پیچھے ان کی پتلی کمر پر ڈال دیا ۔۔۔جس سے تھوڑے ہی نیچے گولائی میں پھیلے ہوئے چوتڑ مجھے دعوت عام دے رہے تھے ۔۔میں نے گوشت سے بھرے ہوئے چوتڑوں میں ہتھیار پھنسا کر چوت پر جمایا اور آگے کو ہوتا چلا گیا ۔۔۔۔ہتھیارپھنستا ہوا ندر جا چکا تھا ۔۔چاچی تھوڑی سی آگے کو جھکی۔۔۔۔۔میں نے ان کی کمر کو تھامتے ہوئے جھٹکے دینے شروع کر دیے تھے ۔چاچی کی سسکیاں نکل رہی تھیں ۔۔۔اور یقینا ان کے بھاری بھرکم ممے بھی ہل ہل کر نیچے سے مجھے شاباش دے رہے تھے ۔۔۔ میں جھٹکوں کی اسپیڈ بڑھاتا گیا ۔۔۔۔چاچی کے بال دوبارہ سے نیچے کو گر چکے تھے اور ان کی پتلی کمر صاف واضح ہوئی وی تھی ۔۔۔۔۔ساتھ ہی چاچی کی آہوں اور سسکیوں نے مجھے اور گرما رہی تھیں ۔۔۔۔میرے بھرپور جھٹکے سے ان کے چوتڑ بھی ہل رہے تھے ۔ میں جھٹکے بڑھاتا جا رہے تھا ۔۔اسپیڈ کے ساتھ کبھی ہتھیار آدھے میں ہی واپس ہو جاتا اور کبھی آدھے سے زیادہ اندر گھستا تھا ۔۔۔جس سے چاچی کی افف۔۔۔آہ۔۔۔۔کی آواز نکلتی تھی ۔۔۔۔میرے جھٹکے کے اسپیڈ چاچی روک نہیں پارہی تھیں اور آگے کو لیٹتی چلی گئیں ۔۔۔۔میں بھی ہتھیار نکالے بغیر ان کے اوپر سوار تھا اور اب دائیں بائیں پاؤں رکھے اپنے پورے وزن سے اندر جھٹکے مار رہا تھا ۔۔۔بیڈ برے طریقے سے لرز رہا تھا ۔۔۔۔اور اس کے اسپرنگ بھی میرے جھٹکوں کو واپس اچھال رہے تھے ۔۔۔چاچی کی سسکیاں اور آہیں بڑھتی جارہی تھی ۔۔۔۔ان کی چوت کی دیواریں ٹائٹ اور لوز ہو رہی تھیں ۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں انہوں نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی دروازے پر دستک نے مجھے نے اختیار اٹھنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔

قسط نمبر 2 ۔۔۔۔۔۔۔
میں بیڈ سے اتر کر سائیڈ پر بیٹھا اور زور سے پوچھا کون ۔۔۔۔۔اتنے میں بھابھی کی آواز آئی ۔۔راجہ میں ۔۔۔۔میں سمجھ گیاکہ چاچی کے سسکیوں نے بھابھی کو بلوا لیا ہے ۔۔میں نے لائٹ آن کیے بغیر دروازہ کھولا اور بھابھی کو اندر کھینچ لیا ۔۔اس سے پہلے کہ بھابھی کو اندر کا کچھ بھی اندازہ ہوتا ۔۔میں ہلکا سے جھک کر بھابھی کو اپنی بانہوں میں اٹھا چکا تھا ۔۔۔اور سیدھا بیڈ پر آ کر چاچی کے ساتھ لٹا دیا ۔۔۔چاچی جو فارغ ہو کر گہرے سانس لے رہی تھیں ۔۔۔بھابھی کی طرف کروٹ لے کر کہنے لگیں ۔۔۔آگئیں تم بھی ۔۔۔۔۔ہاں شہریار باہر گئے تھے تو میں نے سوچا کے فائدہ اٹھا لیا جائے ۔۔۔راجہ اکیلا ہو گا ۔۔۔۔مگر آپ پہلے ہی مصروف تھیں ۔۔ان دونوں کو دیکھ کر مجھے پر جوش بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔چاچی تو فارغ ہو گئی تھیں مگر میں تو آدھے میں ہی رک گیا تھا ۔۔۔۔میں نے بھابھی کی طرف سرکتے ہوئے ان کی طرف لیٹنے لگا ۔۔۔۔اب بیچ میں بھابھی ۔۔ایک طرف چاچی اور دوسری طرف میں تھا ۔۔۔۔بھابھی نے چاچی کے ننگے مموں کو تھامتے ہوئے ان کے چہرے کو چومنے لگیں ۔۔۔۔۔۔جبکہ میں ان کی کمر سے چپک کر ان کے چھوٹے چھوٹے گول مٹول مموں کو دبانے لگا ۔۔۔بھابھی نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور پھر اپنی امی کی طرف مصروف ہو گئیں ۔بھابھی نے ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہنا تھا ۔۔میں نے بھابھی کی ٹی شرٹ کو اوپر اٹھایا اور ٹراؤزر نیچے کرنے لگا۔۔۔بھابھی کی ایک ٹانگ چاچی کے اوپر تھی ۔۔۔وہ اس ٹانگ پر زور دے کر تھوڑا سا اٹھیں اور میں نے ان کے چوتڑ ننگے کر کر دئیے ۔۔۔۔چاچی نے بھی اب اپنی بیٹی کو خود سے لپٹا لیا تھا ۔۔میں بھابھی کی چھوٹی اور گول مٹول گانڈ پر اپنا ہتھیاررگڑ رہا تھا۔۔ساتھ ہی آگے ہاتھ بڑھا کر ان کی چوت کو مسلنے لگا ۔۔۔۔۔ جو کہ نرم و ملائم اور بالوں سے پاک تھی ۔۔۔۔۔کچھ دیر باہر سے مسلتے ہوئے میں نے ایک انگلی اندر داخل کر دی۔۔۔بھابھی کی بے اختیار ایک سسکی نکلی ۔۔۔چاچی نے بھی نیچے کی طرف جھانکا۔۔۔۔اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ان کی چوت کو انگلی سے تیار کرنے کے بعد میں نے بھابھی کو چاچی کے اوپر کی طرف ہونے کا کہا اور وہ تھوڑی سے اٹھتی ہوئی چاچی کے اوپر لیٹنے لگیں ۔۔۔میں نے بھی اسی ٹائم ان کے ٹراؤزر کو کھینچ کر اتار دیا ۔۔اور ادھر چاچی نے بھی ان کی ٹی شرٹ اتار دی تھی ۔۔۔۔۔اب دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے سے چمٹی ہوئی تھیں ۔دونوں کے ننگے بدن ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے ، خوبصورتی اور رنگت میں ایک جیسے۔۔۔فرق تھا تو بس سائز کا ۔۔دونوں ایک دوسرے کے چہرے اور ہونٹوں کو چوم اور چوس رہے تھے ۔۔۔دونوں حد سے زیادہ گرم اور پرجوش تھے ۔۔۔میں نے ڈھیر سارا تھوک اکھٹا کیا اور ہتھیار کو پورے طریقے سے گیلا کر دیا ۔۔۔۔اورچاچی کی ٹانگوں کو پھیلاتے ہوئے ان کے درمیان آ گیا ۔۔جبکہ چاچی کے بالکل اوپر بھابھی ان کی طرف منہ کئے ہوئے اور ٹانگیں دائیں بائیں کرتی ہوئی لیٹی تھی ۔۔۔میں نے بھابھی کی پتلی کمر پر ہاتھ پھرتے ہوئے ان کی گانڈ کو تھام لیا اور دونوں ہاتھو ں سے دبانے لگے ۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں لال کر دیا ۔۔۔چاچی کے دونوں ہاتھ بھابھی کی کمر پر رینگ رہے تھے ۔۔۔۔میں نے بھابھی کی گانڈ کو کھولتے ہوئے چوت کے سوراخ کو دیکھااور ہتھیار کے ٹوپے کو مزید گیلا کر کے اس کے منہ پر رکھ دیا ۔۔۔۔بھابھی نے فورا پلٹ کر دیکھا اور بے اختیار اٹھنے کی کوشش کی ۔۔چاچی کے ہاتھ ان کی کمر پر ہی تھے ۔۔وہ اٹھ نہ سکیں ۔۔۔انہیں شاید اندازہ نہیں تھا کہ اندر ٹوکن ٹائم چلا ہوا ہے ۔۔۔۔ان کی باری جلدی ہی آ جائے گی ۔۔۔۔چاچی نے بھی نیچے سے بھابھی کے ہونٹوں کو جکڑ کر چومنے لگیں ۔۔۔۔ بھابھی کچھ گھبرائی ہوئی تھی ۔۔میں نے بھی زور دے کر ٹوپا اندر گھسا دیا ۔۔بھابھی ایک زوردار آہ ۔۔۔افف۔۔۔آئی ۔۔۔کے ساتھ آگے کو ہوئی تھیں ۔۔۔و ہ خود تو بری طرح سے ہلی تھیں ساتھ ہی چاچی کو بھی ہلا دیا ۔۔دونوں کے گول مٹول ممے آپس رگڑ کھا گئے تھے ۔۔۔۔۔۔بھابھی نے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی تھی ۔۔مگر چاچی اب ہوشیار تھیں ۔۔۔۔میں نے دوبارہ سے جھٹکا دیا ۔۔۔اور بھابھی کے منہ سے ۔۔۔افف۔۔امی ۔۔۔مر گئی۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔ نکلا ۔۔۔۔۔چاچی ان کی کمر کو بھی سہلارہی تھیں۔۔۔اورہونٹوں کو چوم بھی رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔تسلیاں تو دینی تھیں ۔۔۔میں نے ہتھیار باہر کھینچا اور دوبارہ آدھا اندر گھسا دیا ۔۔۔۔۔بھابھی یہ پہلے بھی آدھا لے چکی تھیں ۔۔مگر آج پورا لینا تھا ان کو ۔۔۔۔آدھا گھسا کر میں آہستہ آہستہ دباؤ دینے لگا ۔۔۔بھابھی کی زوردار درد سے بھر ی ہوئی آہیں نکل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ان کے چھوٹی سے گول گانڈ لال ہوئی تھی ۔۔چوت درد سے پھڑ پھڑ ا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور ممے اپنی ہی امی کے جمبو سائز کے مموں پر دبے ہوئے تھے ۔۔۔میرا ہتھیار اندر سے جکڑا ہوا تھا ۔۔میں آہستہ آہستہ ہلانے لگا ۔۔۔بھابھی ابھی افف۔۔آہ۔۔۔۔سس کی آوازیں نکال رہی تھی ۔۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کرنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔میرے آگے کے دھکے کے ساتھ بھابھی کی کمر آگے کو بڑھتی تھی جس سے ان کے ممے بھی چاچی کے مموں پر رگڑ کھاتے تھے ۔۔۔۔میں اب چھوٹے اور تیز اسٹروک مار رہا تھا ۔۔۔۔بھابھی مستقل ہل رہی تھی ۔۔اور ۔۔۔۔آہیں بھر رہیں تھی ۔۔۔۔۔چاچی نے انہی سمبھال لیا تھا ۔۔۔۔ایک مرتبہ بھابھی نے تھوڑا اٹھ کر چاچی کے مموں کو ہاتھوں سے پکڑنا چاہا ۔۔۔مگر میرے زوردار جھٹکے سے دوبارہ چاچی کے اوپر لیٹ گئیں ۔۔۔۔۔۔۔بھابھی کی سسکیاں بڑھ رہی تھی ۔۔میرے جھٹکوں سے دونوں ماں بیٹی ہل رہی تھی ۔۔۔۔۔ بھابھی کے منہ سے کبھی سسکی نکلتی تو کبھی آہ ۔۔ان کی سریلی آوازیں میرا جوش اور بڑھنالگیں ۔۔۔کچھ ہی دیر وہ بھی فارغ ہو چکی تھی۔۔۔میں ایک مرتبہ پھر سے تشنہ رہ چکا تھا ۔۔۔۔۔میں تھک کر بھابھی کے برابر لیٹ گیا ،،وہ بھی چاچی سے اٹھ کر میرے طرف منہ کر لیٹ گئیں ۔۔۔ان کی گرم سانسیں چڑھیں ہوئی تھی ۔۔۔ان کے نرم و نازک ہونٹ میرے چہرے پر گردش کر نے لگے ۔۔۔۔ میں نے بھی ہاتھ بڑھا کر ان کی کمر کو تھا م لیا ۔۔۔چاچی بھی اٹھ کر میری ٹانگوں کے درمیاں آ گئیں اور ہتھیار کو دیکھنے لگیں جو اب مرجھانے لگا تھا ۔۔۔۔۔چاچی نے اسے منہ میں بھرنے کی کوشش کی اور دوبارہ سے چومنا شروع کر دیا ۔۔۔ ادھر بھابھی آدھے سے زیادہ مجھ پر گری ہوئی تھی ۔۔ان کے چھوٹے گول مٹو ل اٹھے ہوئے ممے مجھے سینے پر کھب رہے تھے ۔۔اور وہ پوری شدت سے میرے ہونٹوں کو چوم رہی تھیں ۔۔۔۔۔ میں نے انہیں تھوڑا سا اوپر کھینچا اور ان گول مٹول ، سختی سے تنے ہوئے مالٹے جیسے مموں کو چومنے لگا ۔۔۔گلابی رنگ کے نپلز ہوشیاری سے کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔میں آہستہ سے دونوں مالٹوں کو چوم اور چوس رہا تھا ۔۔نیچے سے چاچی نے دوبارہ ہتھیار تیار کر دیا تھا ۔۔۔۔چاچی کوجانا تھا وہ کافی دیر سے آئی ہوئی تھیں ۔۔میں نے سوچا کہ انہیں دوسری بار فارغ کر دوں ۔۔۔بھابھی کو ابھی کچھ دیر تھی ۔۔۔میں نے بھابھی کو سائیڈ پر کرتے ہوئے اٹھا اور چاچی کو لیٹنے کا اشارہ کر دیا ۔۔۔وہ ابھی ایکدم جوش میں آگئیں اور اپنے دونوں مموں کو تھامتی ہوئی بیڈ پر لیٹنے لگیں ۔۔۔۔ ان کے بڑے بڑے ممے بھی خوشی سے مچل اٹھے ۔ میرا ہتھیار بھی اب خون کی روانی سے پھٹا جا رہا تھا ۔۔دو مرتبہ میں درمیان میں رکا تھا۔۔میں نے چاچی کو لٹاتے ہوئے ان کی دونوں ٹانگیں اٹھاکر کندھے پر رکھ دیں ۔۔۔ اور ہتھیار کو تانتے ہوئے سیدھا جھٹکا دے مارا ۔۔۔چاچی کا منہ ایک دم کھلا اور بند ہوا ۔۔۔۔اور ۔۔۔ان کے ممے دوبارہ سے مچل کر اچھلے تھے ۔۔۔۔۔اور منہ سے بے اختیار آہ۔۔۔۔۔نکلی ۔۔۔۔۔میں نے ٹائم ضائع نہیں کیا اور جھٹکے پر جھٹکے مارتا گیا ۔۔۔چاچی کی سسکیاں بلند ہو رہی تھی ۔۔وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے مموں کو سمبھال رہی تھی ۔۔۔۔۔۔بھابھی ساتھ بیٹھی حیرت سے یہ منظر دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔اور اپنے دونوں مالٹوؤں کو مسل رہی تھی ۔۔۔۔۔ میری اسپیڈ تیز سے تیز تر ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ چاچی کی سسکیاں بھی اب آہوں میں بدل رہی تھی ۔۔۔۔آہ۔۔۔۔اف۔۔۔راجہ ۔۔۔۔کبھی وہ ہونٹوں کو کاٹنے لگتی ۔۔۔۔۔کبھی دونوں مموں کو مسلتیں ۔۔جو بار بار ان کے ہاتھوں سے نکل رہے تھے ۔۔۔۔۔چاچی کا پیٹ برے طریقے سے تھرک رہا تھا ۔۔۔میں تھوڑا وقفہ کرتے ہوئے رکا اور ان کی ایک ٹانگ کو نیچے لٹا کر دوسری کو ویسے ہی سیدھا اوپر اٹھا دیا تھا ۔۔۔۔۔اور اٹھی ہوئی ٹانگ کو اپنے دونوں بازوؤں میں تھام کر جھٹکوں کی مشین چلا دی ۔۔۔۔چاچی کی آہ۔۔۔۔۔۔ائی ۔۔۔۔۔افف۔۔۔۔کی آوازیں بلند ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں ہائے کی آواز بھی شامل ہو گئی ۔۔۔۔۔۔اب افف۔۔۔ہائے ۔۔۔۔آہ۔۔۔۔راجہ ۔۔۔۔کی گردان جاری تھی ۔۔میں نے تھوڑی دیر میں ان کی دونوں ٹانگیں ہوا میں بلند کر اپنے بازووں میں تھام لیں اور نیچے۔۔سے میں نے رکے بغیر دھکو ں کی مشین چلائی ہوئی تھی ۔ افف ۔۔آہ۔۔۔ہائے ۔۔چاچی کی آہوں سے کمرہ گونج رہا تھا ۔۔میں پوری قوت سے چاچی کےچوتڑ سے ٹکراتا تھا۔۔۔۔اور اب میرے منہ سے بھی غراہٹ نکلی ۔۔۔جس کے بعد جھٹکے اورطوفانی ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔۔بیڈ بھی برے طریقے سے کانپ رہا تھا ۔۔۔۔جس پر بیٹھی بھابھی بھی ہل رہی تھیں ۔۔۔اور چاچی ۔۔۔۔افف۔۔۔ہائے ۔۔۔آہ۔۔۔کے علاوہ صرف ہر جھٹکے سے کانپ ہی رہی تھیں ۔۔۔۔۔ میرا وقت قریب تھا اور شاید طوفانی جھٹکوں سے چاچی بھی دوبارہ فارغ ہونے لگیں تھیں ۔۔اب وہ اوپر کی طرف منہ کھول کر ایسے آواز نکال رہی تھیں جیسے ہوا سے آکسیجن کھینچ کر اندر لے رہی ہوں ۔۔۔میرے جھٹکے کچھ اور تیز ہوئے تھے ۔۔۔اور پھر سارا خون اکھٹا ہو کر نیچے کی طرف دوڑنے لگا ۔۔۔۔۔۔اور پھر ایک زوردار غراہٹ کے ساتھ میں فارغ ہونے لگا ۔۔۔میرے ساتھ ہی چاچی بھی فارغ ہورہی تھی ۔۔۔۔۔ کچھ دیر میں جنوں سرد ہوا۔۔۔ا ور میں بیڈ پر بے سدھ لیٹتا چلا گیا ۔۔۔۔چاچی کی بھی اب بس ہو چکی تھیں ۔۔وہ میرے گالوں پر بوسہ دیتے ہوئے کہنے لگیں راجہ میں چلتی ہوں ۔۔تمہارے چاچا بھی انتظار کر رہے ہوں گے ۔۔۔۔صوفیہ تمہارے ساتھ ہی ہے ۔۔۔اور اس کے ساتھ وہ اٹھ کر کپڑے پہننے لگیں اور چلی گئیں ۔۔
میں کچھ دیر تک سانس بحال کرتا رہا ۔۔۔۔اور پھر بھابھی کو اپنے اوپر کھینچ لیا ۔۔۔۔بھابھی کا ریشم جیسا نرم و ملائم جسم مجھے سے ملا ہوا تھا ۔۔۔اور سینے پر ان کے کڑک تنے ہوئے مالٹے گڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔میں ان کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے دونوں ہاتھ پیچھے لے گیا اور چوتڑوں کو دبانے لگا۔۔۔۔۔میں دونوں ہاتھوں سے ان کو چوتڑوں کو دباتا اور بھینچتا جا رہا تھا ۔۔بھابھی کی سسکیاں میرے چہرے پر پڑ رہی تھیں ۔۔۔۔کچھ دیر بعد انہوں نے بھی جواب دیا اور میرے ہونٹوں کو چومنے لگیں ۔۔۔۔اور اپنی زبان میرے منہ میں ڈالی جسے میں بے صبری سے چوسنےلگا تھا ۔۔۔۔ان کاتھوک بغیر کسی رکاوٹ کے میرے منہ میں جا رہاتھا۔۔پھر مین نے بھی اپنی زبان ان کے منہ میں ڈال دی جسے وہ کسی بچے کی طرح چوسنے لگیں ۔۔۔۔۔میرے پورے بدن میں ایک سنسنی پھیل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔نیچے سے ہتھیار کھڑا ہونے لگ گیا تھا۔۔۔۔نیچے سے اس نے دستک دے دی تھی ۔۔۔۔بھابھی تھوڑا اوپر کی طرف اٹھیں اور اپنے مالٹوں کا رخ میرے منہ کی طرف کر دیا ۔۔۔میرے ہاتھ بھابھی کی کمر پر تھے ۔۔۔اور بھابھی اپنے ایک مالٹے کو پکڑے مجھے رس پلانے کی کوشش کر رہی تھیں ۔۔میں بھی سختی سے تنے ان مالٹوں کا رس پینے لگا۔۔۔بھابھی باری باری دونوں مالٹے چیک کروا رہی تھیں ۔۔۔۔اور میں بھی پوری مشاقی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔۔ساتھ ہی اپنے ہاتھوں سے ان کی نرم ڈبل روٹیوں کو بھی دبا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی ہم ایک دوسرے میں سمائے رہے ۔۔۔پھر میں انہیں خود سے اتار کر سائیڈ پر لٹا دیا ۔۔۔ اب ہم دونوں ایک دونوں ایک دوسرے کی طرف کروٹ لئےلیٹے ہوئے تھے ۔۔میں کچھ تھکن محسوس کر رہا تھا ۔۔۔اور شاید یہ بات بھابھی نے بھی محسوس کر لی تھی ۔۔ہم دونوں کچھ دیر ایسے ہی باتیں کرتے رہے ۔۔۔پھر بھابھی اٹھی کہ میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں ۔۔۔اور ٹراؤزر پہن کر نیچے جانے لگیں ۔۔۔۔۔میں بیڈ پر لیٹا اسی طرح کی سوچوں میں مصروف تھا ۔۔۔۔رات کے 12 بج چکے تھے ۔۔ سعدیہ کا خیال آیا تو اسے کال ملائی ۔۔۔۔وہ جاگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔رسمی بات کے بعد میں اپنے مطلب پر آ گیا تھا۔۔۔آج تم نے مجھے کسی سے ملوانے کی بات کی تھی ۔۔۔۔۔۔ہاں ۔۔وہ میری ایک کزن ہے ، شہر سے آئی ہوئی ہے۔گاؤں دیکھنے کے لئے ۔۔۔۔تم ہو گے تو زارا کواچھے سے یہاں کی سیر کروا سکتے ہو ۔۔۔اسی بہانے ایک بار مجھ سے بھی مل لو گے۔۔۔۔میں اس کا مطلب سمجھ گیا تھا ۔۔۔کہا کہ اچھا اب اپنی کزن کو چارہ بنا کر استعمال کروگی ۔۔۔۔ نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔سمر کیمپ کا اینڈ چل رہا ہے ۔۔میرے پاس ٹائم کم ہوتا ہے۔۔۔تو تم آ کر اسے کمپنی دے سکتے ہو ۔۔باقی وہ اتنی بد صورت بھی نہیں ہے ۔۔دیکھو گے توخود چاہت کرو گے ۔۔۔اچھا ٹھیک ہے ۔۔اپنی کزن کی تعریفیں بند کرو۔۔۔ایک دو دنوں میں چکر لگاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔فون بند کر کے ثناء کو کال ملائی ۔۔وہ شاید میری کال کا ہی انتظار کر رہی تھی ۔۔۔ اس کی سریلی آواز کان میں گونجی تو دل ایک دم کھل اٹھا تھا ۔ اْن کے ہاں بھی کافی مہمان آئے ہوئے تھے ۔۔۔وہ مجھے کل بلا رہی تھی ۔۔۔میں نے آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔بھابھی ابھی تک نیچے ہی تھیں ۔۔۔۔۔میں کچھ دیر دیر لیٹا سوچتا رہا ۔۔پھرشارٹس پہن کر نیچے ہی چل پڑا ۔۔۔۔۔

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے


قسط نمبر 3۔
بھابھی کی طرف سے !!!:۔
راجہ کے پاس سے اٹھ کر میں نیچے آ چکی تھی ۔۔۔ مناہل اور ربیعہ شاید سو چکی تھیں ۔۔۔۔جبکہ ساس صاحبہ کے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی۔ان کے کمرے پر دستک دے کر کھانے کا پوچھا۔انکل بھی قریب ہی بیٹھے تھے ۔۔انہوں نے چائے کا کہا ۔۔۔کچن میں پہنچ کر چائے رکھ دی ۔۔۔دودھ کم تھا ۔۔۔چائے بنا کر انکل کو دی اور خود کچن میں واپس آ گئی۔۔۔۔فریج سےفروزن کباب نکال کر مائیکرو ویو میں رکھ دئے اور سیب نکال کر جوس بنانے لگی ۔۔۔۔اتنے میں دروازے پر آہٹ ہوئی ۔۔دیکھا تو راجہ تھا ۔۔۔۔اٌسے پیاس لگی رہی تھی ۔۔۔میں نے فریج سے پانی نکال کر دیا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔۔۔۔پانی پی کر راجہ واپس جانے کے بجائے وہیں کھڑا رہا ۔۔۔میں سمجھی کہ شاید کچھ بات کرنا چاہ رہا ہے ۔۔مگر کچھ ہی دیر میں وہ میرے پیچھے آ کر کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔اور ایک ہاتھ میری کمر سے گزار کے سینے پر رکھ چکا تھا ۔۔۔ساتھ ہی اس کے چہرہ میری گردن کے قریب آیا ۔۔۔۔اس کی گرم سانسیں میری گردن سے ٹکرائی تھیں ۔۔۔۔میں ایک دم پیچھے کو ہونے لگی ۔۔۔۔مگر میں اس کےاور قریب ہو چکی تھی ۔۔۔۔اس کے فرنٹ سے بالکل میری بیک ٹچ ہو چکی تھی ۔میرے گول گول چوتڑ اس کے جسم میں دھنسے ہوئے تھے۔۔۔۔۔میں نے کہنی کے استعمال سے اسے پیچھے ہٹا نا چاہا ۔۔مگر کہنی کے اٌٹھتے ہی۔۔وہ دوسرا ہاتھ بھی میری بیک سے گزار کر سینے پر رکھ چکا تھا ۔۔۔۔۔میرے دونوں بالز اس کی ہاتھوں کے نیچے دبی ہوئی تھی ۔جسے وہ مسلنے کی کوشش میں مصروف تھی ۔۔۔میری ایک سسکاری سی نکلی تھی ۔۔۔میں نے آخر بیچارگی سے کہا کہ ۔۔۔یہاں نہیں کمرے میں چلتے ہیں ۔۔۔کوئی بھی آ سکتا ہے ۔۔۔۔مگر راجہ اسی انداز میں مجھ سے چمٹا رہا ۔۔۔اور دونوں ہاتھوں کو میری بالز پر گھمانے لگا۔۔۔۔۔۔کچھ دیر تو میں سن کھڑی رہی ۔۔۔۔۔پھر میرے جسم میں بھی سنسناہٹ شروع ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔اس کی گرم سانسیں میرے گردن سے ٹکرا رہی تھی ۔بجلی کی لہر پورے بدن میں پہنچ رہی تھی ۔۔ اس نے چومنا بھی شروع کر دیا ۔۔۔۔۔مسرت آمیز لہریں میرے پورے بدن میں دوڑنے لگیں تھی ۔۔۔۔۔میں نے سوچا کہ جلدی سے کام ختم کیا جائے تاکہ اوپر واپس جا سکیں ۔۔۔میں تھوڑا سا آگے کو جھک کر کام کرنے لگی ۔۔۔مگر اس لمحے اس کا ہتھیار مجھے اپنے گول مٹول گوشت سے بھرے ہوئے چوتڑ پر محسوس ہوا ۔۔جو کہ اپنی سختی پر آتا جارہا تھا ۔۔۔۔۔اس نے میری ٹی شرٹ میں دونوں ہاتھ ڈال کر میری بالز کو تھام لیا تھا اور اب ۔۔۔۔۔آہستہ سے انہیں دبا کر بھینچ رہا تھا ۔۔۔جیسے کسی آم کوچوسنے سے پہلے نرم کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ میری بھی مزاحمت ختم ہو رہی تھی ۔۔۔اور آس پاس سے توجہ ہٹ کر صرف بیک پر ٹکے ہو ئے ہتھیار پر تھی ۔۔۔جو کہ اپنا دباؤ بڑھاتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔راجہ کا ایک ہاتھ اب میری ٹی شرٹ میں پھنسی ہوئی بالز کو سمبھال رہا تھا ۔۔۔۔جبکہ دوسرا ہاتھ اس نے نیچے لے جا کر ٹراؤزر میں گھسا دیا تھا۔۔۔۔اور میری چوت کے اوپر انگلیاں پھیرنے لگا۔۔۔۔۔۔اس حالت میں میرا کام کرنا ناممکن سا ہو رہا تھا ۔۔۔میں بھی سلپ پر کہنی رکھ کر تھوڑی سی اور جھک گئی ۔جس سے میرے گانڈ اور زیادہ نکل کر سامنے آگئی تھی۔۔۔۔۔راجہ کی انگلی ماہرانہ انداز میں میری چوت پر گھوم رہی تھی ۔۔۔۔ جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ میری بالز کی سختی کو ماپ رہا تھا ۔۔۔۔میں اسی حالت میں کھڑی ہو گئی اوراپنا چہرہ پیچھے کی طرف موڑنے لگی ۔۔راجہ سمجھ گیا تھا ۔۔۔اور اس نے اپنی زبان باہر نکال دی تھی ۔۔۔۔میں بھی چہرہ پیچھے گھمائے اس سے زبان لڑا نے لگی ۔۔۔۔۔۔۔اس کا ہتھیار اب شاید فل تن چکا تھا اورشارٹس پھاڑ کر نکلنے کو بےتاب تھا ۔۔۔۔۔۔میں نے اپنے ہاتھوں کو پیچھے کیا۔۔۔اور شارٹس کے اوپر سے اس کے ہتھیار پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔۔۔۔جو کہ کسی راڈ کی مانند سختی سے اکڑا ہوا تھا۔۔۔۔اور موٹائی مجھے پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔مجھے لگا کےشارٹس میں پھنسے ہونے کی وجہ سے اسے تکلیف ہو رہی ہو گی ۔۔۔۔اور راجہ کو میں کیسے تکلیف دے سکتی تھی ۔۔۔لہذا دونوں ہاتھ سائیڈوں پر جما کر شارٹس نیچے گھسیٹ لیا ۔۔۔۔اس کے ساتھ گرم بھاری بھرکم راڈ فل سختی کے ساتھ مجھ سے ٹکرایا تھا۔۔۔ پہلے سے زیادہ لمبا اور موٹائی میں پھولا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔راجہ نے بھی میرے ٹراؤزر والے کو ہاتھ کو نیچے زور دیا اور ٹراؤزر بھی نیچے کر دیا ۔۔۔۔۔اب میں اس کے ہتھیار کی گرمی کو اور زیادہ محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔ساتھ ہی ہم دونوں کے زبان آپس میں لڑائی جاری رکھی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔اسی حالت میں راجہ نے اپنی ایک انگلی میری چوت کے لبوںمیں داخل کر دی ، میرے منہ سے ایک سسکاری نکلی ۔۔چوت گیلی سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔میں نے اپنی ٹانگیں بھینچ لی ۔۔۔۔راجہ کی حرکت جاری تھی ۔۔۔وہ انگلی کو آگے پیچھے حرکت دے رہا تھا ۔۔۔۔۔اور پھر اٌسے کیا ہوا ۔۔۔اس نے ہاتھ کھینچا اور دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھاتے ہوئے میری ٹی شرٹ اتار دی ۔۔۔۔میں ایکدم سمٹ گئی ۔۔۔ہم ایک کچن میں کھڑے تھے ۔۔۔جہاں کوئی بھی کسی وقت آ سکتا ہے ۔۔۔مگر ہم دونوں کو کسی بات کا احساس نہیں تھا ۔۔۔یہاں صرف جذبات تھے ۔۔۔شدت تھی ۔۔۔۔اور لذت تھی ۔۔۔۔۔۔۔میری ٹی شرٹ اتارنے کے بعد اس کے دونوں ہاتھ میری بالز کے گرد گھومنے لگے ۔۔۔۔۔۔وہ نپلز کو ہلکا سا کھینچ رہا تھا ۔بالز کو بھینچ رہا تھا۔۔مسل رہا تھا ۔۔۔۔۔جس سے ایک لذت آمیز لہر سی دوڑ جاتی تھی ۔۔۔۔۔۔مجھے اپنے چوتڑ پر اس کا گرم گرم ہتھیار اب بھی محسوس ہو رہا تھا جو کبھی چوتڑ کے درمیان آتا تو میں کانپ سی جاتی تھی ۔۔جتنے میرے چوتڑ نرم ملائم تھے ۔۔اس کا ہتھیار اتنا ہی سخت تھا۔۔۔۔اس نے بھی چوتڑ کے درمیانی لکیر میں ہلکے ہلکے سے دھکے دینے شروع کئے ہوئے تھے ۔۔۔۔راجہ کا ہتھیار میرے چوتڑ کے درمیان سے پھنسا ہوا گذر رہا تھا اور کچن کی سلپ کے نچلے کیبنٹ سے ٹکرا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔میں اپنا ایک ہاتھ نیچے لے گئی اور اس کے ہتھیار کو پکڑنے لگی ۔۔۔۔ہتھیار فل گرم اور تیار تھا ۔۔۔۔میری پوری مٹھی میں مشکل سے اس کاٹوپا آتا تھا ۔۔میں دوسرا ہاتھ بھی نیچے لے گئی اور دونوں ہاتھوں سے اس کےہتھیار کا مساج کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔ہاتھوں میں تھوڑا تھوک لے کر ملنے لگی تھی ۔۔۔۔۔مگر سامنے ہی دیسی گھی کا ڈبا رکھا تھا۔۔میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھایا اور ایک بڑا ٹکرا لے کر اسکے ہتھیار پر ملنے لگی ۔۔۔۔فضاء میں دیسی گھی کی مخصوص مہک پھیل چکی تھی ۔۔۔۔۔اور راجہ بھی جھٹکا کھا چکا تھا ۔۔جبھی اس نے میری بالز کی نپلز کو تیزی سے کھینچا تھا ۔۔۔۔میری ایک سسکاری نکلی ۔۔۔اور پھر میں اس کے ہتھیار کی طرف متوجہ ہوئی جو کہ دیسی گھی سے چمکنے کے بعد اور پھولتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔اب میں راجہ کے ہتھیار کے گرد خود کو آگے پیچھے کرنی لگی جو کہ میری ٹانگو ں میں پھنسا ہوا تھا ۔۔۔۔راجہ نے مجھے اپنی طرف گھمایا تھا اور ایک دفعہ پھر ہم ایکدوسرے کے ہونٹوں پر ٹوٹ چکے تھے ۔۔نرم و ملائم رسیلے ہونٹ ایک دوسرے سے مل رہے تھے ۔۔۔اس کے دونوں ہاتھ میری ٹراؤزر میں پھنسی ہوئی رانوں کو بھینچ رہے تھے ۔۔۔۔میرے چوتڑ کو دبا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔اور ہم دونوں کے ہونٹ آپس میں ٹکر ا رہے تھے ۔۔۔۔ہم دونوں ہی ہار ماننے کو تیار نہیں تھے۔۔۔۔ہمارے تھوک ایک دوسرے میں مکس ہو رہے تھے ۔۔۔۔کچھ تھوک نیچے کو گرتے ہوئے میری بالز پر گرا تھا ۔۔۔جس کے ساتھ ہی راجہ بھی قدرے جھک گیا اور میری بالز کو چوسنے لگا۔۔۔۔وہ کسی بے صبرے بچے کی طرح جلدی جلدی چوس رہا تھا ۔۔جس سے کچن میں چْس ۔۔چس کی آواز گونج رہی تھی ۔۔۔۔میں نے بھی اس کے سر پر ہاتھ جما دیا ۔۔۔اس کے چوسنے میں اتنی شدت تھی کہ میری سسکاریاں کنٹرول نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ایک مرتبہ تو نپلز پر اتنی زور کے دانت لگے تھے کہ میری چیخ نکل گئی ۔۔۔۔راجہ کے دونوں ہاتھ میرے چوتڑ پر جمے ہوئے تھے ۔وہ وقفے وقفے سے ٹراؤزر میں پھنسی میری صحت مند رانوں کو بھی دبا دیتا تھا ۔۔۔اس کے جسم کی گرم حرارت پوری شدت سے مجھ میں ٹرانسفر ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔اوراوپر کی طرف وہ پوری شدت سے میری بالز کو چوس رہا تھا ۔۔۔میرا پورا سینہ اس کے تھوک سے گیلا ہو چکا تھا ۔۔میری نپلز لال سرخ ہو کر اب درد کر رہی تھیں۔۔۔ہم دونوں آپس میں گم ہوچکے تھے ۔۔۔۔۔راجہ نے مجھے اٹھایا اور سلپ کے کونے پر بٹھا دیا ۔۔میرا ٹراؤزر اس نے گھٹنے تک سرکا دیا تھا۔۔میں دونوں ہاتھ سلپ پر رکھ کر پیچھے کو ہوئی اورراجہ نے میری ٹانگیں اٹھا کر پاؤں سلپ کے کنارے پر ہی ٹکا دئیے۔یہ انگلش کے ایم کی شکل بن چکی تھی ۔۔۔میری چوت کے لب بالکل اس کے سامنے تھے ۔۔۔۔۔وہ تھوڑا سا جھک کر چوت پر اپنے ہونٹ رکھنے لگا۔۔۔میری ایک تیز سسکاری نکلی اور میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر دبانے لگی ۔۔۔۔۔پہلے تو وہ اپنے ہونٹوں سے چومتا رہا اور پھر اور چوت کے دانے کو کھینچتا رہا۔۔۔۔میری سسکاریاں اب میرے کنٹرول سے باہر ہو چکی تھی ۔۔۔مجھے فکر نہیں تھی کہ کوئی سن لے گا یا کچن میں آ جائے گا ۔۔۔میرے پورے جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔اس نے کچھ دیر چوت کے دانے کو ہونٹوں سے چوسنے کے بعد اپنی زبان اندر داخل کردی ۔۔۔۔میرے منہ سے پھر ایک آہ نکلی ۔اوئی۔۔۔آہ۔۔۔سس۔۔۔۔۔میں نے اور شدت سے اس کا سر دبا دیا ۔۔۔۔۔میری چوت اب قدرے پانی چھوڑنے لگی ۔۔۔۔اور اسکی زبان مجھے اندر گھومتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔کچھ دیر وہ ایسے ہی زبان اندر گھماتا رہا اور پھر باہر سے چوت کے دانے کو کھینچنے لگا۔۔۔۔لذت کی شدت سے میرا جسم کپکپا رہا تھا ۔۔۔۔۔ساتھ ہی اس نے دو انگلیاں ملا کر اندر داخل کردیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ایک دم اوپر کو اٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنے ہونٹ میری چوت کے دانے پر رکھے ہوئے انگلیاں تیزی سے اندر باہر کر رہا تھا ۔۔۔۔مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ میں چھوٹنے والی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔راجہ کے انگلیاں کی اسپیڈ بڑھتی جا رہی تھی ۔وہ اب اوپر کی طرف کو اٹھ چکا تھا اور میرے چہرے کی طرف دیکھتا ہوا۔۔وہ انگلی اندر تک گھسا کر اوپر کی طرف جھٹکا دیتا تھا ۔۔۔۔۔جس سے میر ا لطف اور بڑھ جاتا تھا ۔۔۔میری جسم میں لرزش بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔میں فارغ ہونے کے قریب ہی تھی ۔۔۔۔۔میں تیزی سے آگے کو ہو کر راجہ سے لپٹنے لگی ۔۔۔۔۔۔مگر نیچے سےاس کی انگلی کی اسپیڈ میں کوئی کمی نہیں آئی تھی ۔۔۔وہ اتنی ہی تیزی سے اندر باہر کر رہاتھا ۔۔میں پاؤں کے بل سلپ پر بیٹھی اس سے لپٹ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔اسے تیزی سے بھینچنے لگی ۔۔۔۔اور خود میں سمانے لگی ۔۔۔۔اور پھر ایک زور دار آواز کے ساتھ میری پانی چھوٹا تھا ۔۔۔۔۔۔راجہ نہیں رکا تھا ۔۔اس کے پورا ہاتھ بھیگ رہا تھا ۔۔۔۔۔میرا بدن کچھ دیر تک کانپتا رہا اور پھر نارمل ہونے لگا ۔۔۔۔مجھے راجہ پر بہت پیار آیا تھا ۔۔آج تک ایسا لطف مجھے نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔میں سلپ سےاتر ی اور سیدھی اس کے قدموں میں جا بیٹھی ۔۔۔۔جہاں دیسی گھی میں لتھڑا ہوا اس کا ہتھیار لہرا رہا تھا ۔۔۔۔۔میں نے بے اختیار ہو کر اسے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔دیسی گھی کی مہک میرے نتھنوں میں گھسی تھی ۔۔۔۔اور نمکین سا ذائقہ میرے زبان پر لگا تھا۔۔۔۔۔اس کا ٹوپا میں باوجود کوشش کے اندر نہیں لے پار ہی تھی ۔۔میرے پورے ہونٹ کھلے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔مگر وہ اندرجانے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔۔۔آخر میں نے کوشش ترک کی اور چاروں طرف سے اسے چومنے اور چوسنے کی کوشش کی ۔۔۔ایک نظر اوپر راجہ کی طرف دیکھا ۔۔۔وہ مسکراتی آنکھوں سے میری شدت دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔اس نے میرے سر کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انہیں اکھٹا کرنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔میں نے تھوڑی ہی دیر میں اس کے پورے ہتھیار سے دیسی گھی صاف کر لیا تھا ۔۔۔۔میں نے ہتھیار کو اوپر کی طرف اٹھایا ہوا تھا اور جڑ سے زبان پھیرتی ہوئی ٹوپے تک آتی تھی ۔۔۔۔۔۔اس کے ہتھیار میری کلائی کی لمبائی کے برابر اور موٹائی میں قدرے موٹا تھا ۔۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی میں اسکا ہتھیار چوس کر اپنے تھوک سے گیلا کر چکی تھی ۔۔۔۔راجہ نے مجھے اٹھایا اور ایک مرتبہ پھر خود سے لپٹا لیا تھا ۔۔۔۔۔اس کا ہتھیارمیری ٹانگوں کے درمیان لرز رہا تھا ۔۔۔۔۔اور اس کی آنکھیں صاف مجھے کہ رہی تھی انجن چلنے کے لئے تیار ہے ۔۔۔۔راجہ مجھے گھما کر پیچھے سے لپٹ رہا تھا ۔۔مجھے دونوں بازؤں میں سمیٹ رہا تھا۔۔۔اور پھر کچھ دیر گردن اور میری کمر چومنے کے بعد اس نے مجھے جھکا دیا ۔۔۔۔میرے دونوں ہاتھ سلپ پر تھے اور دونوں ٹانگیں پھیلا کر میں آدھی جھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میری دونوں بالز سختی سے تنی ہونے کے باوجود ہوا میں لہرا رہی تھی ۔ہلکی ہلکی باؤنس ہو رہی تھی۔لمبے سیاہ بال پتلی کمر پر پھیلے ہوئے تھے۔۔اور کمر سے نیچے اترتے ہوئے گولائی میں پھیلی ہوئی گانڈاس وقت کھلی ہوئی تھی ۔صحت مند اور گوشت سے پر رانیں اس وقت پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔میں دونوں پیر زمیں پر جما چکی تھی ۔۔۔راجہ میرے پیچھے پوزیشن لے چکا تھا ۔۔۔۔اس نے ایک ہاتھ میں تھوڑا سے گھی لے کر پیچھے سے میری چوت پر مل دیا ۔۔۔۔۔میں آئندہ محسوس ہونے والے درد ، تکلیف اورمزے کی درمیان مست ہوئی وی تھی ۔۔۔۔۔راجہ نےاپنا گھوڑا میری چوت کے لبوں پر سیٹ کیا ۔۔۔جو کہ اس وقت پھڑ پھڑا رہے تھے ۔۔۔۔میری کمر پر ہاتھ کا دباؤ دے کر مزید جھکا دیا ۔۔جس سے میری گانڈ اور اوپر کو اٹھ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔راجہ کے گھوڑے کا ٹوپا چوت کے لبوں پر جما ہوا تھا ۔۔۔۔۔راجہ نے گانڈ کے اطراف پر ہاتھ رکھ کر مجھے قابو کر لیا تھا ۔۔۔۔۔اس کے دباؤ کے ساتھ ہی درد کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔اس نے زور لگاتے ہوئے ٹوپا میری چوت کے لبوں میں پھنسا دیا تھا۔۔میں شدت درد سے کراہ اٹھی تھی ۔آئی۔۔امی ۔۔۔۔۔افف۔آہ۔۔۔۔۔میں نے بے اختیار آگے ہونے کی کوشش کی تھی مگر راجہ کے ہاتھ مضبوطی سے مجھے قابو میں کیئے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔راجہ نے دباؤ اور بڑھا یا تھا اور مجھے اپنی چوت پھٹتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میری آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا۔۔۔۔۔اور منہ سے آہیں نکلتی جا رہی تھی ۔۔آہ ۔افف۔ہائے۔۔۔۔راجہ کچھ دیر رکا رہا اور اور پھر دوبارہ سے دھکا دینے لگا۔۔میں نے نیچے ہاتھ بڑھا کر ہتھیار کو چھوا تو۔۔اس کا آدھا ہتھیار اندر اتر چکا تھا ۔۔۔میری چوت پانی چھوڑے جارہی تھی ۔۔۔۔۔راجہ نے ہتھیار باہر نکالا اور ٹوپا اندر رکھ کر زور دار پریشر سے دوبارہ اندر دھکیل دیا۔۔۔اب کی بار میں اپنی چیخ نہیں روک پائی تھی ۔۔۔بھنچی ہوئی آواز کے ساتھ میری سریلی چیخ پورے کچن میں گونج چکی تھی ۔۔۔۔اور اف۔۔۔آہ۔۔امی مر گئی۔۔کے ساتھ بے اختیار سسکیاں نکل رہی تھی ۔۔۔۔۔راجہ کچھ دیر ایسے ہی ہتھیار کو آگے پیچھے ہلاتے رہا تھا ۔۔۔میری سسکیاں بڑھتی جارہی تھی ۔۔۔۔میں نے اپنے ہاتھ سلپ پر لٹا کر اوپر اپنا سر ٹکا دیا ۔۔۔۔۔راجہ نےگانڈ کو اسی طرح جکڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔اور اس کا موٹا ہتھیار میری ٹانگوں میں سے گذرتا ہوا چوت میں پھنسا ہوا تھا۔۔۔۔اور چوت پانی چھوڑے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میرے ممے ہوا میں جھوم رہے تھے ۔۔۔نپلز خوشی سے اکڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔اور بال کمرپر بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں ٹانگیں لرز رہی تھی ۔۔۔۔۔راجہ اسی طرح سے ان آوٹ کرتے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور میری سسکیاں کچن میں گونج رہی تھی ۔۔۔۔۔۔قریب تین منٹ تک راجہ ایسے ہی سکون سےاندر باہر کر رہا تھا ۔۔۔۔اور پھر میری ایک اور چیخ نکلی تھی ۔۔۔آہ۔۔۔افف۔۔اوہ۔۔۔۔راجہ نے اب کی بار دھکا دیتے ہوئے کچھ اور اندر ہتھیار گھسایا تھا ۔۔۔۔چوت کچھ اور چرِی تھی ۔۔۔۔۔مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ میری پہلی سہاگ رات ہے ۔۔۔۔۔راجہ ابھی اسی طرح اسی انداز میں ان آوٹ کرنے لگا تھا ۔۔۔۔میری کراہیں بے اختیار تھیں ۔۔۔۔۔مجھے بتائے بغیر ہی نکل رہی تھی ۔۔۔اور راجہ ان سب سے بے فکر میری خوبصورت گول مٹول سی گانڈ پر اپنی ہتھیلیاں جمائے دھکے دیتا جارہا تھا ۔۔۔۔۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ راجہ نے اپنے ہاتھ اٹھا دیے اور میرے بازوؤں کے درمیان سے گزار کے میری بالز تھام لیں ۔۔۔جو اسی کے ہاتھوں کے انتظار میں تھی ۔۔۔۔۔اب میری دونوں بالز اس کے ہاتھ میں جکڑی ہوئی تھی۔۔۔اور چوت کے لبوں میں اس کا ہتھیار پھنسا ہواتھا ۔۔۔۔منہ سے بے اختیار سسکیاں جاری تھی ۔۔۔میں نے تھوڑی سی گانڈ پیچھے کو اٹھا کر اپنا سر اٹھا لیا ۔۔۔۔۔اور دونوں ہاتھ اٹھاکر موڑتے ہوئے اس کے سر پر رکھنے کی کوشش کی ۔۔۔جس کا خمیازہ مجھے بھگتنا پڑا تھا ۔۔۔راجہ کچھ اور آگے ہوا تھا ۔۔اور میری ایک اونچی کراہ گونجی تھی ۔۔۔۔آہ۔۔۔۔اف۔۔۔مر گئی ۔۔۔۔۔اب اس ظالم ہتھیار کا کافی حصہ میں اندر لے چکی تھی ۔۔۔راجہ کے دھکے بے قرار ہو چلے تھے ۔۔۔۔۔اس نے مزید اسپیڈ دینے سے پہلے اپنا ہتھیار باہر کھینچ لیا ۔۔اور میری ایک ٹانگ اٹھا کر اوپر سلپ پر رکھ دی ۔۔۔۔۔۔اب میری ایک ٹانگ زمیں پر ایک اور اوپر سلپ پر تھی ۔۔۔اور راجہ کی طرف کچھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ۔۔۔راجہ نے دوبارہ ہتھیار تھام کر ٹوپے کو چوت کے لبوں پر جما کر دھکا دیے دیا ۔۔۔۔۔اس کے ہتھیار پھنستا پھنساتا اندر گھس چکا تھا ۔۔۔میری ایک اور سسکی نکلی تھی ۔۔اف۔۔۔آہ۔۔۔سس ۔۔۔۔۔چوت پہلے سے کچھ تنگ لگ رہی تھی ۔۔۔اور راجہ کا ہتھیار پہلے سے زیادہ موٹا ۔۔۔۔راجہ کے دھکے اب پہلے سے زیادہ تیز تھے ۔۔۔اور میری آواز اس سے بھی زیادہ تیز ۔۔۔۔۔۔راجہ نے مجھے کچھ آگے کو جھکایا اور خود بھی اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر سلپ پر رکھ دی تھی ۔۔۔۔۔۔اب اس کا ہتھیار اور اندر تک مار کر رہا تھا ۔۔اور مجھے اندرگہرائی تک درد کی لہر دوڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔میری سسکیاں کئی بار منہ میں ہی دب جاتی تھی ۔۔۔۔۔۔چوت سے پانی بہتا ہوا نیچے ٹانگوں تک جا رہا تھا ۔۔۔۔۔راجہ کے طوفانی جھٹکے اسی طرح جاری تھے ۔۔۔۔پانچ منٹ کی دھوم دھام چدائی کے بعد میں تھکنے لگی تھی ۔۔۔۔۔کئی بار ایسا لگا تھا کہ میں چھوٹنے لگی ہوں ۔۔۔مگر راجہ کے ہتھیار سے ٹکرا کر میرا پانی ہی رک جاتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔میں پیچھے راجہ کی طرف مڑ کر دیکھنے لگی ۔۔۔راجہ بھی سمجھ گیا تھا ۔۔۔وہ پیچھے ہٹا اور مجھے سیدھا کرکے سلپ پر بٹھا دیا ۔۔۔اب میں اس کی طرف منہ کر کے سلپ پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔مائیکرو ویوو کب کا بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔سیب کے چھلکے کچن میں ہر طرف بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔سب کام ادھورے تھے ۔۔۔۔اور مکمل صرف ہمارا عشق ہونے والا تھا ۔۔۔۔۔۔بس راجہ کے فارغ ہونے کی دیر تھی ۔۔۔۔۔۔میری تو بس ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔چوت کو تھوڑی ہی دیر کا آرام ملا تھا ۔۔۔۔۔راجہ کا چہرہ بھی سرخ ہو چلا تھا ۔۔صاف پتا چل رہا تھا کہ یہ رکنا اسے پسند نہیں ہے ۔۔۔اور اس کا بدلہ اس نے اگلے دور میں ضرور لینا ۔۔۔۔۔ راجہ بے چینی سے چاروں طرف نظر دوڑا رہا تھا ۔۔۔ایک طرف میٹرس دیکھ کر وہ تیزی سے اس کی طرف لپکا اور فرش پر بچھا دیا ۔۔۔میں بھی سلپ سے اتری تھی ۔۔۔۔اور اسی تیزی کے ساتھ بیٹھتی چلی گئی ۔۔ٹانگوں نے جواب جو دے دیا تھا ۔۔۔۔۔راجہ قریب آیا اور سہارا دے کر میٹرس پر لے گیا ۔۔۔میں گھوڑی بننے کی پوزیشن میں تو تھی نہیں۔۔۔لہذا جاتے ہی سیدھا لیٹ کر ٹانگیں پھیلا دیں ۔۔۔راجہ بھی قریب آ کر ٹانگیں اٹھا چکا تھا ۔۔۔۔۔ٹانگیں اس کے کندھے پر ٹکی ہوئی تھی ۔۔۔۔راجہ کا الٹا ہاتھ حرکت میں آیا اور ہتھیار کو سمبھالتا ہوا چوت پر سیٹ کر دیا ۔۔سیدھے ہاتھ سے میری ٹانگوں کے سمبھالے ہوئے ۔۔۔۔۔ساتھ ہی ایک برق رفتار جھٹکاپڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔آدھا ہتھیار اندر گھس چکا تھا ۔۔۔میرا منہ ایک دم کھلا اور بند ہوا تھا ۔۔میں میٹرس پر کچھ اوپر کھسک چکی تھی ۔۔۔۔۔ایک زور دار کراہ ۔۔۔۔آہ۔۔۔افف۔۔۔اآئی ۔۔۔۔۔کچن میں گونجی تھی ۔۔۔۔۔۔راجہ تو اوپر کی طرف چڑھتا آیا تھا ۔۔۔۔۔دونوں ٹانگیں ہوا میں ہونے کے بعداب گانڈ بھی کچھ اور اوپر اٹھ چکی تھی ۔۔۔۔۔اور اسی کے ساتھ ہی راجہ نے نیچے کی طرف دھکا لگایا ۔۔۔۔اس کا ہتھیار اس کے بھاری بھرکم وزن کی اسپیڈ کو سمیٹتے ہوئے اندر کی طرف کو لپکا تھا ۔۔۔۔۔ساتھ ہی راجہ نے ہاتھ بڑھا کر میری دونوں بالز کو بھی پکڑ لیا تھا ۔۔۔جس کو پکڑنے کا انداز ایسا تھا کہ نچوڑنے کا ارادہ ہو ۔۔۔۔۔۔ ایک تو چوت کا درد اور اوپر سے میرے دونوں ممے راجہ کے ہاتھوں میں پھنسے ہوئے تھے۔۔۔چیختی نہیں تو کیا کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس چیخ کے ساتھ ہی راجہ نے دھواں دار چدائی شروع کر دی ۔۔۔اب میں صر ف۔۔۔آہ۔۔۔۔افف۔۔ہائے۔۔۔کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔اور یہ وہی وقت تھا جب میری سسکیاں تبدیل ہونے لگی ۔۔۔۔جہاں آہ ۔۔۔افف۔۔۔کی آواز نکلتی تھی ۔۔وہاں اوئی ۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔کی سریلی آواز ایک لے میں گونج رہی تھی ۔۔جس کے درمیان میں راجہ کے دھکوں کے دھپ دھپ کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔۔۔میری اوئی ۔۔۔۔اوئی کی مستقل آواز نے راجہ کا زور اور بڑھا دیا تھا ۔۔اس کے جھٹکے پہلے سے زیادہ گہرے اور اسپیڈ میں تھے ۔۔۔۔۔۔میری جان نکلنے لگی تھی ۔۔۔ایسے لگ رہا تھا کہ میں چھوٹنے والی ہوںاور ۔۔۔۔بہت پریشر سے چھوٹوں گی ۔۔۔۔۔میں نے راجہ کے ہاتھ اپنے مموں کے اوپر سے ہٹا دیا ۔۔اور اسے خود سے لپٹانے لگی ۔۔۔۔۔۔راجہ بھی میرے قریب آیا ۔۔۔۔میری ٹانگیں اوپر کو اٹھتی ہوئی اور اوپر آچکی تھی ۔۔اس کا درد بھی ساتھ شامل ہو گیا ۔۔۔۔۔۔راجہ کے طوفانی جھٹکے بھی شدت میں تھے ۔۔۔اورمیں سراسر تکلیف میں۔۔۔۔۔۔بس اوئی ۔۔۔اوئی کی آوازیں تھیں جو میرے درد کو زائل کرنے میں مدد کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ان اوئی اوئی کی آوازوں میں ایک درد بھی تھا ۔۔۔۔۔راجہ کے چہرہ اور زیادہ لال ہو چکا تھا ۔۔۔۔وہ بھی شاید فارغ ہونے کے قریب تھا ۔۔۔۔۔۔وہ پورا میرے اوپر جھکا ہواتھا ۔۔اور پورے وزن سے ہتھیار اندر اتار رہا تھا ۔۔۔۔میں کب تک یہ ظلم سہ پاتی۔۔۔۔میری ایک چیخ نکلی اور میں چھوٹنے لگی ۔۔۔۔چوت میں پانی کا ایک سیلاب آیا تھا۔۔۔۔اور راجہ کا جہاز اس میں تیرتا ہوا اندر لپکا تھا۔۔۔۔۔پھسلتا ہوا۔۔۔ڈگمگاتاہوا ۔۔۔۔۔سمبھلتا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کاہتھیار اب کافی تکلیف دینے لگاتھا۔۔۔۔میں نے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہر ہ تھام لیا ۔۔۔۔۔اوراس ٹائم ایک زور دار جھٹکا مجھے اوپر دھکیل چکا تھا ۔۔۔۔۔راجہ کے ہتھیار سے ایک فوارہ چھوٹا تھا ۔۔۔۔۔۔جو میرے پانی سے مکس ہوتا ہوا اندر تک پہنچا تھا ۔۔۔۔اور اس کے بعد جو چوت سے پانی بہنا شروع ہو ا تو نکلتا ہی رہا ۔۔۔۔اگلے کچھ جھٹکے میں نے اپنی آخری برداشت پر جھیلے تھے ۔۔۔۔راجہ ابھی بھی پانی چھوڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ کچھ اور سیلاب بہانے کے بعد وہ رکا تھا ۔۔۔۔راجہ کا چہرہ لال سرخ ہوچکا تھا ۔۔۔وہ میری ٹانگیں چھوڑ کے میرے ساتھ لیٹا اور مجھے خود سے لپٹا دیا ۔۔۔پسینے میں بھیگے دو بدن آپس میں چپک چکے تھے ۔۔۔۔۔۔ایک طرف سختی تھی تو دوسری طرف نرم و ملائم جان تھی ۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ایسے لیٹے رہے ۔۔اور پھر سمبھل کر راجہ نے مجھے اپنی مضبوط بانہوںمیں اٹھایا اور اوپر کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔۔


قسط نمبر 4 ۔
اوپر آ کر میں بھابھی کے کمرے کی طرف چلا گیا ۔۔۔بھیا ابھی تک نہیں آئے تھے ۔۔انہیں بیڈ پر لٹا کر اپنے کمرے میں آیا اور جاتے ہی سونے لیٹ گیا ۔۔۔۔۔اگلے دن لیٹ آنکھ کھلی تھی ۔۔۔فریش ہو کر نیچے آیا تو پتا چلا کہ ابا جان شہر واپس جا چکے ہیں ۔۔۔ اور بھیا چاچا کے ساتھ کھیتوں کی طرف چلے گئے ہیں ۔۔۔میں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا ۔۔۔۔۔امی اور چاچی بھی میرے انتظار میں تھیں ۔۔۔ناشتہ ختم کر کے لاؤنج میں آ گیا ۔۔۔باقی لوگ بھی ساتھ ہی چلے آئے تھے ۔۔۔۔۔میں نے امی کو بتایا کہ آج ثناء کے ہاں جانا ہے ۔۔۔تو کون کون میرے ساتھ جائے گا۔۔۔۔امی نے کہا کہ بہنوں کو لے جاؤ ۔۔۔۔۔شہریار شام کو چکر لگا کر انہیں واپس لے آئے گا ۔۔۔باقی تم چاہو تو رات وہیں ہی رک جانا ۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلایا اور چائے ختم کر کے اوپر آ گیا ۔۔۔۔۔کچھ دیر بیڈ پر لیٹا رہا ۔۔۔سعدیہ کو کال ملائی ۔۔۔وہ شہر کی طرف واپس جا رہی تھی ۔۔۔۔۔یوم دفاع قریب تھا ۔۔۔۔اور ان کے ٹریننگ کیمپ کی طرف سے آرمی شو کے موقع پر ایک پرفارمنس تیار کی جارہی تھی جس میں اس نے حصہ لینا تھا ۔۔اس نے زارا کا نمبر مجھے دیا کہ اس سے رابطہ کر لینا ۔۔۔۔وہ اسکول کے ساتھ ہاسٹل میں رہ رہی ہے ۔۔۔۔۔میں نے کہا ٹھیک ہے ۔۔۔اور پھر کچھ دیر آرام کرنے لیٹ گیا ۔۔۔۔دوپہر کو اٹھا ۔۔۔۔اور ثناء کی طرف جانے کے لئے تیار ہونے لگا ۔۔۔۔۔مناہل اور ربیعہ کو بھی کہ دیا کہ جلدی تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔۔قریب ایک گھنٹے میں ہم تیار ہو کر کار میں بیٹھے تھے ۔۔۔راستے سے میں نے کچھ فروٹ اور مٹھائی خریدی اور اپنے سسرال جا پہنچا ۔۔۔وہ لوگ میرا ہی انتطار کر رہے تھے ۔۔۔خالہ نے میری بلائیں لیں ۔وقار بھی شہر کی طرف گیا ہوا تھا۔۔خالہ نے مجھے اپنے قریب بٹھایا ۔۔۔کچھ دیر حال چال پوچھنے کے بعد کھانا شروع ہو گیا ۔۔۔کھانے کے بعد مجھے ثناء کے کمرے کی طرف لے جایا گیا ۔۔۔جہاں وہ تیار ہوئی بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔میں دروازہ بند کر کے اس کی طرف پلٹا ۔۔۔۔۔وہ شرم کے مارے گھونگھٹ نکالے بیٹھی ۔۔۔۔قریب بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھاما جو کہ کچھ گرم ہورہا تھا ۔۔۔میں نے طبیعیت پوچھی تو پتا چلا کہ ہلکا بخار ہے ۔۔۔میں نے اسے بیڈ پر لٹا دیا ۔۔۔۔اور ساتھ ہی کروٹ لے کر لیٹ گیا ۔۔۔وہ ابھی بھی مجھ سے شرما رہی تھی ۔ نظریں چرا رہی تھیں ۔۔۔۔ میں اس سے باتیں کرتا رہا اور وہ ہاں اور ناں میں سرہلاتی رہی ۔۔کچھ دیر بعدباتیں کرنے کے بعدہم نیند میں کھو گئے ۔۔۔۔شام کے ٹائم اٹھے ۔۔۔اس کی طبیعیت ابھی تک نرم گرم تھی ۔۔۔۔خالہ کچھ دیر بعد چائے لے کر آ گئی ۔۔۔۔۔اور ثناء کو اٹھا کر میڈیسن کھلانے لگیں ۔۔۔ساتھ ہی وہ مجھے سے باتیں بھی کرتی جارہی تھیں ۔۔۔۔شہری بھیا آ چکے تھے ۔۔۔۔۔اور ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے ۔۔۔یہ سن کر میں اٹھ گیا اور ڈرائنگ روم کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔وہاں مناہل اور ربیعہ کے قہقہوں سے کمرہ گونج رہا تھا ۔۔میری شادی سے وہ دونوں بہت خوش تھیں ۔۔۔۔اور میں تھا کہ مصروفیت میں ٹائم ہی نہ نکال سکا تھا ۔ان کے لئے ۔۔۔شادی کے لئے شاپنگ بھی شہری بھیا نے ہی کروائی تھی ۔۔۔۔۔خیر میں ان کے ساتھ آ کر بیٹھا تو ۔۔۔۔مناہل حیرت سے مجھے دیکھنے لگی ۔۔اور پھر شہری بھیا سے کہنے لگی ۔۔کہ یہ دیکھیں انہیں ٹائم مل گیا ہے ہمارے لئے ۔۔۔لگتا ہے بھابھی نے دھکے دے کر کمرے سے نکال ہے ۔۔۔شہری بھیا ہنسنے لگے ۔۔۔میں چپ ہی رہا۔۔کہتا بھی تو کیا کہتا ۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی وہ دونوں مجھ پرطنز کرتیں رہیں ۔انہیں باتوں میں رات ہو گئی ۔۔۔۔۔پھر شہری بھیا کے موبائل پر امی کا فون آیا کہ آنےکی کرو۔۔۔رات ہو رہی ہے ۔۔۔ شہری نے مجھے کہا کہ جاؤ خالہ کو بلاؤ ۔۔۔ہم اجازت لے کر چلتے ہیں ۔۔۔۔اتنے میں خالہ بھی ڈرائنگ روم میں آگئیں ۔۔۔۔۔اور شہری بھیا نے انہیں امی کے فون کے بارے میں بتایا اور جانے کی اجازت مانگی ۔۔۔۔خالہ نے کہا کہ ٹھیک ہے اگر راجہ یہیں رات رہ لے تو بہتر ہو گا۔۔۔۔کل ثناء کے ساتھ بھیج دیں گے ۔۔۔بھیا نے کہا کہ ٹھیک ہے ۔۔یہ جب تک چاہے رہ سکتا ہے ۔۔خالہ مسکرا دیں ۔۔۔بھیا مناہل اور ربیعہ کو لے کر گھر کی طرف چلے گئے ۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد میں ثناء کے کمرے کی طرف آیا تھا ۔۔۔۔گھر میں ہم تینوں کے علاوہ کوئی بھی نہ تھا ۔۔وقار شہر کی طرف گیا تھا اور ایک دو دنوں تک آنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا ۔۔۔میں ثناء کے پاس پہنچا تو خالہ بھی آچکی تھیں ۔۔۔۔ ہم وہیں بیٹھے کچھ دیر باتیں کرتے رہے ۔۔۔خالہ نے ثناء کی طبیعت کا پوچھا کے کیسے خراب ہوئی ۔۔۔کھانے پینے میں بے احتیاطی ہوئی تھی کیا ۔۔۔۔میں نے کہا کہ نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ۔۔بس ویسے ہی ۔۔۔۔خالہ اسے اپنی طبیعیت کا خیال رکھنے کا کہ کر واپس جانے لگیں ۔۔۔۔اور آرام کرنے کا کہا ۔۔۔۔رات کے دس بجے تھے ۔۔۔خالہ نے دودھ کا ایک جگ بھر کے سرہانے رکھ دیا تھا ۔۔۔اور دروازہ بند کر کے چلی گئیں تھی ۔۔۔۔ثناء اٹھ کر باتھ روم چلی گئی ۔۔اور کچھ دیر میں کپڑے تبدیل کر کے آ گئی تھی ۔۔۔اب وہ ایک بلیک کلر کے نائٹی میں تھی ۔۔۔جس سے اس کا دودھیا جسم جھلک رہا تھا ۔۔۔۔وہ قریب آ کر پاس بیٹھی تو میں نے اسکو تھام کر اپنےقریب کھینچ لیا ۔۔۔۔اس کے آدھے پاؤں بیڈ سے نیچے تھے ۔۔۔میں اس کے اوپری حصے کو تھامتے ہوئے تکیہ پر لایا تھا اور اس کا سر تکیہ پر رکھ دیا ۔۔۔۔اس کے جسم میں ابھی بھی حدت تھی ۔۔۔میں اس کے چہرہ پر جھک کر چومنے لگا ۔۔۔اس کی آنکھیں بند تھیں ۔۔اور ہونٹ لرز رہے تھے ۔۔۔۔میں اس کی آنکھوں کو چومتا ہوا۔۔ناک اور ہونٹوں پر آیا تھا ۔۔۔۔۔۔ثناء کے دونوں ہاتھ سائیڈوں پر تھے ۔۔۔ کچھ دیر ایسے ہی اس کے ہونٹوں کو چومتا رہا ۔۔۔۔اور پھر اس کے قریب لیٹ کر اپنی طرف کروٹ کروادی ۔۔۔ وہ ویسے ہی شرم سے نظریں جھکائے کروٹ لئے ہوئے تھی ۔۔۔میں نے ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور سہلاتا ہوا نیچے آنے لگا۔۔۔بازو آگے کی طرف کر دئیے تھے ۔۔۔اس کی پتلی کمر ریشم کی طرح نرم و ملائم تھی ۔۔۔ساتھ ہی تھوڑی سی اٹھے ہوئے اور باہر کو نکلے ہوئے چوتڑ تھے ۔۔۔۔۔ثناء اب تک بے سدھ ہی تھی ۔۔۔۔تھوڑا اور کھسک کر اس کے قریب ہو گیا ۔۔اب اس بیک سائیڈ بھی میری رینج میں تھے ۔۔۔میں اس پر بھی ہاتھ پھیرتا اور ۔۔۔۔ساتھ ساتھ اس کی صحت مند رانوں پر بھی ہاتھ پھیر دیتا ۔۔۔میں نے اسے تھوڑا قریب کرتے ہوئے خود سے چمٹا لیا ۔۔۔۔اس کی بدن کی حدت مجھے اور گرم کر رہی تھی ۔۔۔اس کے بدن سے اٹھنے والی صندلی خوشبو مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔۔۔اس کے نائٹی میں سےچھوٹے ٹیبل ٹینس کی بال کی مانند ٹھوس ممے اپنے پورے غرور سے کھڑے ہوئے تھے ۔دونوں مموں کے درمیان بنتی ہوئی گہرائی اسے مزید خوبصورت بنا رہے تھے ۔۔۔میں نے آہستہ سے انہیں چھوا تو ثناء کانپ سی گئی تھی ۔۔۔میں نے اس کی نائٹی کے بٹن کھولے تو چمکتی ہوئی دو چاندی کے پیالے میرے سامنے تھے ۔۔۔۔گلابی نپلز۔۔۔۔۔اور ان کے ساتھ ہی گورے اور تنے ہوئے ممے ۔۔۔۔۔میں نے اپنی پوری ہتھیلی اس کے اوپر رکھی تو وہ تھوڑے سے باہر نکلے ہوئے تھے۔۔۔۔۔میں نے اس کے بازو اٹھا کر اپنی گردن پر رکھ دئیے ۔۔۔۔اوراس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔۔۔کیا نرم ہونٹ تھے جیسے کسی گلاب کی پنکھڑی ہوں ۔۔۔۔میں پہلے تو آہستہ سے چومتا رہا ۔۔۔۔پھر اپنے ہونٹ سے اس کے ہونٹوں کو دبوچ کر کھینچنے لگا ۔۔۔۔۔۔اور ایک ہاتھ پیچھے مستقل اس کی کمر اور رانوں پر گھوم رہا تھا۔۔۔۔ثناء کی سانسیں تیز ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ بھی جذبات میں گرم ہو چلی تھی ۔۔۔۔۔۔میں اس کے ہونٹوں کا مزید رس پینے لگا ۔۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ پیچھے لے جا کر اس کے چوتڑ پر رکھے ۔۔۔۔کیا غضب کے نرم ملائم اور گوشت سے بھرے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ثناء تھوڑی سی اور آگے کو ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ نیچے لے جا کر اپنی پینٹ کی زپ کھول دی اور ٹانگوں کو حرکت دیتے ہوئے پینٹ نیچے دھکیلنے لگا ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر میں پینٹ اتار چکا تھا ۔۔۔اسی طرح انڈر وئیر بھی نیچے گھسیٹ لیا۔۔۔۔۔۔اب اوپر شرٹ تھی ۔۔جو کہ اچھی نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔اس لئے اسے بھی سائیڈ کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔ثناء کی آنکھیں اب تک بند ہی تھیں ۔۔۔۔۔اسی لئے اسے شاید اندازہ ہوا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی نائٹی کے بٹن کھولے تو ہوئے تھے ۔۔۔بس بازو نکالنے کی دیر تھی ۔۔۔سنگ مرمر سے تراشیدہ ایک خوبصور ت جسم میرے سامنے تھا ۔۔۔جس کا گولائیں ۔۔۔۔گہرائیاں ۔۔۔کسی کو بھی پاگل بنانے کے لئے کافی تھیں ۔۔۔۔بڑی کالی سیاہ آنکھیں ۔۔۔۔جن کی لرزش۔۔۔۔اونچی پرغرور ناک ۔۔۔۔۔گول مٹول گال ۔۔جس پہ پڑتا ہوا ایک چھوٹا سا ڈمپل ۔۔۔۔۔پتلی گردن ۔۔۔اور اس نے نیچے چھوٹی پہاڑیوں جیسے اس کے ممے۔۔۔اس سے نیچے سفید بے داغ۔۔۔۔ستوان پیٹ ۔۔۔۔موٹی اور صحت مند رانیں ۔۔۔اور ان کے درمیان ایک چھوٹی سی ریشمی سیپی ۔۔۔۔۔۔جس پر ہلکے سے گولڈن بال ۔۔۔۔۔۔۔دودھیا جسم روشنی میں چمکتا ہوا اور بھی خوبصورت لگ رہا ۔۔۔میں نے دل ہی دل میں اس کے حسن کو نہارا ۔۔۔۔۔۔اس کو دیکھ کر دل میں پہلی خواہش یہی تھی کہ بس سامنے ہو اور بندہ دیکھتا جائے ۔۔۔۔۔۔۔وقت اور لمحے جسے دیکھتے ہوئے ٹہر جائے ۔۔ایسی ہی تھی ثناء ۔۔۔۔۔۔میرا دل کہ رہا تھا کہ اسے بانہوں میں بھر لوں اور پھر کبھی خود سے الگ نہ کروں ۔۔۔۔۔۔میں نے اس کے بازوؤں کو اپنی گردن کے گرد گھیر ا ڈلوایا اور اسے خود میں سمیٹ لیا۔۔۔۔اس کے نوکیلے ممے میرے سینے میں دبے ہوئے تھے ۔۔۔اور سانسیں میری سانسوں سے مل کر مجھے زندگی بخش رہی تھی ۔۔میں نے ایک ٹانگ اٹھا تے ہوئے اس کی ٹانگوں کے اوپر رکھ دی۔۔۔وہ دوبارہ سے کانپی تھی ۔۔۔۔میرا کھڑا ہوا ہتھیاراب ہم دونوں کے درمیان تھا ۔۔۔جسے میں نے اس کی ٹانگوں کے درمیان رکھ دیا تھا ۔۔۔۔میں بے اختیار ثناء کو چومنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔اس کے ہونٹوں کی لالی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔تھوڑی دیر میں میں نے اسے کہا کہ اپنی زبان باہر نکالو ۔۔۔۔اس نے زبان نکالی جو تھوڑی ہی نکل پائی تھی ۔۔۔میرے ہونٹ بمشکل پہنچے پائے تھے ۔۔۔میں نے کہا کہ اور نکالو ۔۔اور اب میں اس کی زبان کو اپنے ہونٹوں میں دبا کر اپنی زبان سے ٹکرا رہا تھا ۔۔۔۔یقینا وہ بھی مزے میں ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔جبھی تو تھوڑی سی اور زبان باہر نکلی تھی ۔۔اب میں نے زبان کو اور اچھے سے چوسنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔ثناء کا اوپر ی ہاتھ اٹھا تھا اور میری کمر پر آیا تھا۔۔۔۔۔۔کچھ دیر تھک اس کی زبان چوسنے کے بعد میں نے اسے سیدھا لٹا دیا اور اس کی سائیڈ پر آتے ہوئے اس کر گردن کو چومنے لگے ۔۔۔۔۔جہاں جہاں میرے ہونٹ لگتے تھے وہاں کی حدت مجھے محسوس ہونے لگتی ۔۔۔۔میں گردن سے ہوتا ہوا اس کے کندھے پر آیا اور پھر سینے پر اٹھی ہوئی نو کیلی چٹانوں پر آیا تھا ۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ سے اس کے ایک ممے کو تھا ما اور چومنے لگا ۔۔تھوڑی دیر میں دونوں مموں کو چوم کر اب چوسنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔وہ میرے سر پر ہاتھ رکھے اب تک بند آنکھوں میں ہی لیٹی رہی تھی ۔۔۔۔۔دونوں ممے بے تحاشا سفید، گورے اورسختی میں جمے ہوئے ۔۔۔۔اور ان پر گلاپی رنگ کے نازک سے چھوٹے نپلز تھے ۔۔۔میں آہستہ آہستہ سے اس کے نپلز کو چوس رہا تھا ۔۔۔اس کی جسم میں بے چینی شروع ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔وہ پیروں کی ایڑی کو بیڈ پر آہستہ سے رگڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میرا ہتھیار بھی تنا ہوا تھا ۔۔۔اسے بھی اپنی پسند کی چیز نظر آ گئی تھی ۔۔۔بس احتیاط سے کام لے رہا تھا ۔۔۔۔۔میں آہستہ سے ممے چوسنے کے بعد نیچے آیا اوراس کی ناف سے ہوتا ہوا ٹانگوں کے درمیان چھوٹی سی سیپی پر آیا تھا ۔۔۔۔جو نرمی اور گرمی میں پہلے سے زیادہ پھولی ہوئی تھی ۔۔۔۔میں نےاس کی ٹانگوں کو کھولتےہوئے اپنے ہونٹ اس پر رکھ دئے ۔۔۔۔ثناء نے ٹانگیں بھینچنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔میں کچھ دیر ایسے ہی اس کے چوت کے اوپری دانے پر اپنی زبان رگڑتا رہا ۔اور پھر زبان کی نوک اس کی چوت میں داخل کر دی ۔۔۔۔ثناء کی ایک سسکی نکلی تھی ۔۔۔۔۔میری زبان سے نمکین سا پانی ٹکرایا تھا ۔۔۔۔۔میں نے اسی طرح سے زبان کوکو سیدھ تانتے ہوئے آگے پیچھے کرتا رہا ۔۔۔ساتھ ہی اوپر ہاتھ بڑھا کر اسے مموں کو پکڑ لیا ۔۔۔ثناء کی گھٹی گھٹی سی سسکاری کمرے میں گونج رہی تھی ۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔کیسا مزہ ہے اور کیسی لذت ہے ۔۔میں دل جمعی سے اسے زبان سے چود رہا تھا۔۔۔۔اس کی بے قراری بھی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔پانچ منٹ تک میں ایسے ہی کرتا رہا ۔۔اس نے ایک دم ٹانگیں اوپر اٹھا کر پھر گرا دیں ۔۔۔۔اور ساتھ ہی چوت میں نمکیں پانی بہتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔میں نے اپنی ایک انگلی اندر داخل کر دی اور ہلانے لگا۔۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ شانت ہو چکی تھی اور میں واپس اوپر کی طرف پلٹ پڑا ۔۔۔۔۔ثناء کے ہاتھ پکڑ کر میں نے اپنے ہتھیار پر رکھا ۔۔۔جو اس کے جسم کی حدت سے کہیں زیادہ گرم تھا ۔۔۔۔۔ثناء نے اسے پکڑنا چاہا مگر اس کے نازک ہاتھوں کی بس کی بات نہیں تھی ۔۔۔اسے دوسرے ہاتھ کو لانا تھا۔۔۔۔مگر اس نے چھوڑ دیا ۔۔۔اور میرے گال پر ایک بوسہ دیا اور میرے قریب کھسک آئی ۔۔۔میری ایک بات مانیں گے ۔۔۔اس کی منمنائی آواز میرے کانوں میں آئی تھی ۔۔۔۔ میں اس کی ایسی موقع پر فرمائش پر حیران ہوا ۔۔۔۔۔کیا ہوا کچھ چاہیے کیا ؟ ۔۔۔ میری طبیعیت بہت خراب ہے ۔۔۔نیچے بہت درد ہے ۔۔۔اگر آپ آج نہ کریں تو ۔۔۔۔۔میں دوائی لے رہی ہوں کل تک ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔مجھے اپنی جان پر بے اختیار پیار آیا تھا ۔۔۔۔میں نے اسے خود سے لپٹا دیا ۔۔۔کوئی بات نہیں ۔۔تم نے اچھا کیا جو مجھ پر اعتماد کر کے پہلے بتا دیا ۔۔میں نے اس کے اوپر چادر ڈالی دی ۔۔۔اور سلانے لگا ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ سو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔شاید دوائیوں کا اثر بھی تھا ۔۔۔۔۔
میں اکیلا بیڈ پر لیٹا سوچوں میں گم ہو گیا ۔۔۔رات کے کوئی ایک بجے کا ٹائم تھا ۔۔۔سعدیہ کسی ڈیفنس شو میں شہر گئی تھی ۔۔۔اور زارا کا نمبر دے گئی تھی ۔۔میں نے اپنا نام لکھ کر اسے میسج کر دیا کہ صبح اٹھ کر کال کرے ۔۔۔۔۔ثناء نے مجھے درمیاں میں چھوڑ ا تھا ۔۔۔جو گرمی لن میں چڑھی ہوئی تھی ۔۔وہ اتنی آسانی سے اترنے والی نہیں تھی ۔۔۔۔ساتھ ہی میرے لئے نئی جگہ تھی ۔۔۔مجھے نیند بھی نہیں آ رہی تھی ۔۔۔میں اسی طرح سے اٹھ کر باہر نکل آیا۔۔گھر میں اکثر اندھیرا تھا ۔۔۔میں موبائل کی لائٹ جلا کر ڈرائنگ روم کی طرف آیا ۔۔۔اور صوفے پر بیٹھ کر موبائل استعمال کرنے لگا ۔۔۔میں نے ڈرائنگ روم کی لائٹ نہیں جلائی تھی ۔۔۔۔۔کچھ میلز وغیرہ چیک کررہا تھا۔۔۔اچانک میں نے دروازے پر کھٹ پٹ کی آواز سنی۔۔۔خالہ شاید باہر سے گزر رہی تھیں ۔۔۔۔ڈرائنگ روم میں روشنی دیکھ کر اس طرف آ رہی تھیں ۔۔۔دروازے میں پہنچ کر انہوں نے کہا راجہ ہو ۔۔۔اندھیرے میں کیوں بیٹھے ہو ۔۔۔اور لائٹ کی طرف جانے لگیں ۔۔میں ایک دم گھبرا گیا ۔۔۔میں کچھ بھی نہیں پہنے بیٹھا تھا ۔۔۔۔میں نے منع کیا خالہ لائٹ آن نہ کریں ۔۔۔آنکھوںمیں چبھن ہو رہی ہے کافی ۔۔۔۔خالہ لائٹ کے قریب ہی رکیں تھیں۔۔۔اور پھر واپس آئیں ۔۔۔۔میرے صوفے کے ساتھ ہی رکھی کرسی پر آئیں اور میرے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ہوا طبیعیت ٹھیک تو ہے ۔۔میں نے کہا جی بالکل ٹھیک ہے ۔۔بس نیندنہیں آ رہی تھی ۔۔ثناء نے دوائی لی تھی وہ سوگئی ہے ۔۔میں کال کرنے یہاں آ گیا ۔۔۔۔ میں نے موبائل ساتھ ٹیبل پر سیدھ رکھ دیا ۔۔اسکرین آن تھی جس سے ہلکی بلیو لائٹ اوپر کو اٹھ رہی تھی ۔۔مگر مجھ سے زیادہ اس روشن کا رخ خالہ کی طرف تھا۔۔۔اب وہ مجھے مزید کلئیر نہیں دیکھ پاتیں ۔۔۔۔۔اتنے میں خالہ کی آواز گونجی ۔۔۔راجہ بیٹا ۔۔مجھے بھی تم سے بات کرنی تھی ۔۔۔۔میں نے کہا کہ جی بولیں ۔۔ثناء کے بارے میں ۔۔۔وہ بہت نازک طبیعیت ہے ۔۔۔حساس بھی بہت ہے ۔۔۔تم بھی تھوڑا احتیاط سے کام لو ۔۔۔نئی نئی شادی ہے ۔۔۔اس لئے کچھ دن رک جاؤ تو بہتر ہے ۔۔۔۔۔میں کچھ سمجھا نہیں تھا ۔۔۔میں نے کہا خالہ کچھ سمجھا نہیں ۔۔۔۔۔خالہ نے ایک ہاتھ میرے گھٹنے پر رکھا ۔۔۔میرا سانس رکنے لگا ۔۔۔۔اور کہا کہ میں میاں بیوی کے تعلق کی بات کر رہی ہوں ۔۔۔اس میں کچھ ٹائم وقفہ کر لو ۔۔۔ثناء کو ٹھیک ہونے دو۔۔۔۔۔میں نے کہا جی خالہ ایسے ہی ہو گا۔۔۔خالہ کو شاید اب شک ہو گیا تھا کہ میں نے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا ۔۔مگر ان کا ہاتھ اب تک میرے گھٹنے پر ہی تھا۔۔اور پھر ان کی آواز آئی ۔۔مجھے پتا ہے اس کو بخار کیوں چڑھا ہے ۔۔اور ساتھ ہی انہوں نے گھٹنے والے ہاتھ کو اٹھاتے ہوئے اوپر ران کی طرف ٹچ کیا ، جیسےغلطی سے ہوا ہو ۔۔۔اور اب انہیں کنفرم تھا کہ میں نیچے سے بالکل ننگا ہوں ۔۔۔۔۔میں نے کہا کہ جی کیوں بخار ہے ۔۔۔۔۔؟ خالہ کی آواز آئی ۔۔پہلی رات اسے شاید بہت درد ہوا تھا ۔۔۔وہ پچھلی رات بھی یہاں کراہتی رہی تھی ۔۔۔۔خالہ اب کچھ اور قریب کھسک آئی تھی ۔۔۔ان کی آنکھوں کی چمک مجھے واضح نظر آ رہی تھی ۔۔جیسے وہ اپنے شکار کو دیکھ رہی ہوں ۔۔۔ساتھ ہی ان کا ہاتھ میرے ہاتھوں پر آیا تھا ۔۔وہ ہاتھوں کو دباتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔بیٹا ۔۔اس معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔کوئی بھی جلد بازی ہمیشہ کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے ۔۔۔میں نے کہا خالہ آئندہ احتیاط سے کام لوں گا۔۔۔خالہ کی آواز کا لوچ بڑھ چکا تھا ۔خالہ کی آواز بہت ہی سریلی اور لذت آمیز تھی۔۔آواز جتنی آہستہ تھی مجھے اتنی ہی سیکسی بھی لگ رہی تھے ۔۔۔مگر مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ ایسا دن بھی آئے گا ۔۔۔۔۔خالو کے جانے کے بعد خالہ بھی ایک سال سے ترسی ہوئی تھی ۔۔۔میں نے مزید کنفر م کرنے کے لئے اپنا ہاتھ کو پکڑے ان کے ہاتھ کو تھوڑا سا پیچھے لایا اور اپنے ہتھیار سے ٹکرا یا ۔۔۔۔۔خالہ نے ہاتھ کھینچنے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔۔خالہ نے جب اتنی ہمت کر لی تھی تو آگے میری باری تھی ۔۔۔۔اور اب مجھے پہل کرنی تھی ۔۔۔۔۔مجھے سمجھ آ گیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی کمی اور خود کی پیاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر آئیں ہیں۔۔۔اور راجہ پیاسا بھیج دے ۔۔یہ بھی ناممکن تھا ۔۔۔۔خالہ کا سراپا میری آنکھوں کے سامنے لپک رہا تھا ۔۔۔اس سے پہلے میں نے انہیں اس انداز میں نہیں دیکھا تھا ۔۔مگرآپ سوچ سکتے تھے کہ جب ان کی بیٹی اتنی خوبصورت ہو تو ماں کیسی ہو گی ۔۔۔بلاشبہ وہ انہی عورتوں میں سے تھیں جو وقت کے ساتھ اور بھی حسین ہوتی جاتی ہے ۔۔۔۔نمکین ۔۔۔۔اور گرم۔۔۔۔خالہ کی ہائیٹ چاچی سے کچھ لمبی تھی ۔۔۔۔۔ان کے نرم ہاتھ اب بھی میرے ہاتھوں میں تھے ۔۔۔ان کی دل کی چاہت میرے ہاتھ میں ٹرانسفر ہو رہی تھی ۔۔۔۔ خالہ کی سینے کی پہاڑیاں سیدھی کھڑی ہوئی دعوت دے رہی تھں کہ آو مجھے فتح کرلو ۔۔۔۔۔خالہ کے سلکی نائٹ سوٹ میں وہ پھنسی ہوئی باہر نکلنے کو بے تاب تھیں۔۔۔۔۔۔کمر پر بندھی ڈوری ان کی کمر کو واضح کر رہی تھی ۔۔۔اور اسی کے ساتھ کرسی کے اوپر گولائی میں دائرہ بناتی ہوئی ان کی بیک ۔۔۔۔۔۔میں نے خالہ کا ہاتھ دوبارہ اپنے ہاتھوں میں لیا ۔۔۔اوراٹھتے ہوے کہا کہ مجھے شاید آپ سے کچھ سیکھنا ہی پڑا تھا ۔۔۔۔خالہ بھی میرے ساتھ ہی اٹھی تھیں ۔۔۔۔ان کے سینے کے پہاڑ اب کھل کر سامنے آئے تھے ۔۔۔۔کیا گول مٹول اور موٹے موٹے تھے ۔۔۔۔۔۔ان کے بڑے سے نپلز سلکی سوٹ کے باہر بھی اپنا نشان چھوڑ رہے تھے ۔۔۔۔۔ساتھ ہی کچے دودھ کی ایک مہک میرے نتھنے سےٹکرائی تھی ۔۔۔۔میرا ہتھیار اب بالکل ہی جوش میں آنے لگا تھا ۔۔۔۔خالہ تھوڑی قریب آئی تھیں ۔۔۔کہنے لگیں کہ میں کیا سکھاؤں گی ۔۔۔۔۔۔ ؟ وہی لوچ تھا آواز میں ۔۔۔وہی سیکسی سا انداز تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور شاید کچھ شرارت بھی ۔۔۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ ان کی کمر کے گرد گھمایا اور قریب کھینچ لیا ۔۔۔۔وہی جو کچھ دیر پہلے آپ مجھے سمجھا رہی تھیں ۔۔۔۔خالہ کی دودھ کی دکانیں بہت بڑی تھی۔۔۔انہوں نے مجھے کافی دور ہی روکا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔خالہ کا پیٹ نہ ہونے کے برابر تھا ۔۔۔۔۔اور میں اب پیچھے سے ان کی موٹی اور گول گانڈ کو بھی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔کیا گھماؤ تھا ۔۔۔۔کیا گولائی تھی ۔۔۔۔۔بالکل کسی سانچے میں ڈھلی ہوئی ۔۔۔۔۔نہ ایک انچ زیادہ گوشت نہ ایک انچ کم ۔۔۔۔۔۔۔میں نے ان کی سلکی سوٹ کی ڈوری کو کھینچا تھا ۔۔۔۔ڈوری کھینچے کی دیر تھی ۔۔۔۔۔خالہ مجھے سے لپٹ چکی تھی ۔۔۔ان کی ہائیٹ مجھ سے تھوڑی ہی کم تھی ۔۔۔۔ان کے گرم سانسیں میرے چہرے سے ٹکرا ئی تھی ۔۔۔۔ان کی دودھ کی تھیلیاں میری سینے سے ٹکرائیں تھی ۔۔کیا اسپیڈ اور کیا ہی پریشر تھا۔۔۔۔۔خالہ اپنے پاؤں پر اٹھتی ہوئیں میرے چہرے کے بوسے لے رہے تھے ۔۔۔جو گرمی اور حدت سے مجھے بھی پگھلا رہے تھے ۔۔۔۔نیچے سے ہتھیار تن چکا تھا۔۔۔۔میں آج خالہ کو کچھ رعایت دینے کے حق میں نہیں تھا ۔۔ایک تو سال کی پیاس ۔۔۔۔۔اور وہ خود میرے پاس آئیں تھی ۔۔۔۔میں نے ان چوتڑ کے گرد اپنی بازو کے گھیرا بناتے ہوئے زمین سے تین انچ اوپر اٹھا لیا ۔۔اب وہ میرے چہرے کےسامنے تھیں ۔۔۔۔اور اسی گرمی سے چوم رہی تھی ۔۔میں اسی طرح انہیں سیدھ اٹھائے کھڑا تھا ۔۔۔دودھ کے بڑے گول مٹول ممے میرے سینے ٹکرا کر اوپر کو اٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔جن کے لمبے سے براؤن نپل میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔میں اسی طرح انہیں اٹھائے صوفے کی طرف بڑھا ۔۔۔ان کی آواز آئی کہ میرے کمرے کیطرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں اسی طرح انہیں خود سے لپٹائے ان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔دروازہ انہوں نے ہی کھولا تھا ۔۔میرے دونوں ہاتھ ان کےچوتڑ کے گرد تھے ۔۔۔۔اندر خوشبودارمہک میرے سامنے تھی ۔ہلکی گرین لائٹ جلی تھی ۔۔۔۔۔۔بیڈ پر سرخ چادر بچھی ہوئی تھی ۔۔۔ایک طرف چھوٹا صوفہ اور کئی کشن رکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔میں بیڈ کی طرف آیا اور خالہ کو بیڈ پردھکیل دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔خالہ نے میرے ہتھیار کی طرف دیکھنے کی کوشش کی ۔۔۔مگر میں نے انہی سیدھ لٹا کر ان کے اوپر چڑھ آیا ۔۔۔۔ان کے چہرے کو چومنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔ا ور پھر ان کے ہونٹوں کو ۔۔۔وہ بہت ہی گرم تھیں ۔۔۔۔بہت ہی جذباتی بھی ۔۔۔۔۔۔بہت ہی بھرپور انداز سے مجھے جواب دے رہیں تھیں ۔۔۔۔درمیان میں اغ۔۔اغغ کی آوازیں آتیں ۔۔۔۔۔وہ بہت ہی شدت سے میرے چہرے ، ہونٹوں اور اب زبان کو چوس رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔میرا وحشی پن باہر آ رہا تھا ۔۔۔میں نے بیڈ پر لٹا کر نیچے اتر آیا ۔۔۔۔ڈریسنگ ٹیبل سے آئل کی شیشی اٹھا لیا اور نیچے کو دباتے ہوئے ان کے سینے پر رخ کر دیا ۔۔۔۔تیل کی موٹی دھار ان کے سینے پر گری تھی ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اسی طرف گراتے ہوئے ناف کی طرف اور نیچے لایا تھا ۔۔۔۔اور پھر ان سینے کے پاس آ کر ان کے بے تحاشا بڑے اور موٹے مموں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔۔تیل نے انہیں چمکا دیاتھا ۔۔۔اب وہ پہلے سے زیادہ باؤنس ہو رہےتھے ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اپنے پورے زور سے انہیں مسلنا اور بھنچنا شروع کر دیا ۔۔۔خالہ کی گرم گرم سسکاریاں نکل رہی تھی ۔۔۔وہ ان عورتوں میں سے تھی۔۔۔جو برداشت کم کرتی تھیں ۔۔۔جو بھی محسوس ہو۔۔فورا ہی آوازسے اس کا اظہار کر دیتی تھی ۔۔۔۔میری ہاتھ کی سختی بڑھتی تو ۔۔۔اوئی کی آواز بھی آ جاتی تھی۔۔۔۔۔۔میں تیزی سے ان کے دونوں مموں کو مسلتے ہوئے نیچے کی طرف آیا تھا ۔۔جہاں ان کی صاف ستھری چوت میرا انتطار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے ٹائم ضائع کیے بغیر اپنی تیل میں بھیگی ہوئی انگلی ان کے اندر گھسا دی۔۔۔۔۔کیا تنگ چوت تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔گرمی اور آگ کی بھٹی بنی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی خالہ کی ایک اونچی سی آہ ۔۔۔۔۔نکلی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے بغیر رکے ہوئے انگلی کو اندر مارنا شروع کر دیا ۔۔۔ساتھ ہی انگوٹھے سے چوت کے اوپر کے دانے کو بھی مسل رہا تھا ۔۔۔۔خالہ کی سسکار یاں ۔۔۔۔اور آہوں نے مجھے اور گرما دیا ۔۔۔۔وہ بہت ہی گرم اور پیاسی تھی ۔۔۔۔میرا ہتھیار بھی یہ آواز سن کر اب پہلے سے زیادہ پھول رہا تھا ۔۔۔شاید اسے زیادہ خوشی تھی ۔۔۔۔۔ٹوپا بھی لال سرخ ہوا مست ہورہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔خالہ اب اپنی کمر کو بھی اوپر کو اچھال رہی تھیں ۔۔۔۔۔4 منٹ گزرے تھے کہ خالہ کے منہ سے چنگھاڑیں نکلنے لگیں ۔۔۔۔۔۔اور پھر میرے ہاتھ پر ان کاپانی گرا تھا ۔۔۔وہ کافی زیادہ پانی چھوڑ رہی تھیں ۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد وہ سرد ہونے لگیں ۔۔۔میں نے ان کی چوت کو خشک کیا اور بیڈ پر چڑھ آیا ۔۔۔۔ان سے کچھ دیر تک زبان لڑانے کے بعد میں نیچے کو آیا تھا ۔۔۔خالہ کی ٹانگیں تھوڑا اٹھاتے ہوئے پھیلا دی تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔ ایک بڑا کشن ان کی کمر کے نیچے رکھ کر چوت کو اوپر کی طرف اٹھا دیا تھا ۔۔۔۔۔ٹانگوں کوتھوڑا اور اٹھا کر میں درمیاں میں پنجوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔۔۔درمیاں میں اچھا خاصا فاصلہ تھا ۔۔۔۔۔جسے میرے ہتھیار کی لمبائی نے سمبھال رکھا تھا ۔۔۔۔۔اور موٹائی کو تو اب چوت نے جھیلنا تھا ۔۔۔۔خالہ اب تک میرا ہتھیار دیکھ نہیں پائیں تھیں۔۔۔۔میں نے تھوڑا سا تھوک ٹوپے پر رکھا اور چوت کے لبوں پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔
خالہ کی پوری چوت میرے ٹوپے کی پیچھے چھپی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔خالہ نے ایک تکیہ اپنے سر کے نیچے رکھ کر سر تھوڑا سا اٹھا دیا تھا ۔۔۔میں نے خالہ کی ٹانگوں کواپنے بازؤں میں سمبھالا اور ٹوپے پر دباؤ بڑھا دیا ۔۔۔۔ٹوپ اوپر کو سلپ ہو تھا ۔۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ سے اسے پکڑا اور چوت پر رکھ کر اندرگھسا دیا ۔۔۔ٹوپا تباہی مچاتا ہوا اندر گھسسا۔۔۔خالہ کی چوت کے لب کھنچ چکے تھے ۔۔چِر چکے تھے ۔۔۔۔اور بیچ میں ٹوپا پھنسا ہوا تھا ۔۔۔۔خالہ کے منہ سے ایک چیخ نکلی تھی ۔۔۔۔اوئی ماں ۔۔۔مر گئی ۔۔۔۔اف۔۔۔۔ہائے ۔۔۔۔انہی اندازہ نہیں تھا کہ یہ کیا اندر گھسا تھا ۔۔۔۔۔خالہ خوف کے عالم میں نیچے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔میں نے زور بڑھایا اور دو تین انچ اندر اتار دیا ۔۔۔خالہ کا سراوپر کی طرف اٹھا تھا ۔۔۔اور ساتھ ہی ان کی ہائے ۔۔۔۔ہائے شروع ہوگئی ۔۔۔اف۔۔۔۔اوئی امی ۔۔۔۔مر گئی ۔۔۔۔۔ہائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خالہ نے اٹھنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔مگر ناکام ہوئی ۔۔۔۔۔پھر میرے بازؤں سے اپنی ٹانگیں چھڑوانے لگیں ۔۔۔میں نے ٹانگوں پر اور زور دے کر دائیں بائیں پھیلا دیا ۔۔۔انہیں اور درد ہوا ۔۔اور ساتھ ہی کچھ اور لن اندر گھسا دیا ۔۔۔۔ان کی ایک تیز ہائے نکلی ۔۔۔اف مرگئی ۔۔۔ ہائے ۔۔اوئی ماں ۔۔۔۔۔اب وہ بیڈ پر ہاتھ مارنے لگیں ۔۔۔درد برداشت کرنے کی کوشش میں مصروف ۔۔۔۔۔۔۔ان کے بڑے سے گوشت سے بھرے پرے ممے سہمے ہوئے تھے ۔۔۔ساکت اور ہلکے سے ہل رہے تھے ۔۔۔اور سڈول رانیں ہلکی سی لرزش میں تھیں ۔۔۔۔خالہ کا ایک مخصوص ڈائیلاگ تھا ۔۔۔اوئی امی ۔۔۔۔اوئی امی ۔۔۔کا ۔۔۔وہ ہر کچھ دیر بعد کراہتیں اور اوئی امی کہتی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے ہتھیار باہر کھینچا تھا ۔۔۔اوردوبارہ سے دباؤ دیتے ہوئے اندر گھسا دیا ۔۔۔اب کی بار ہتھیار آدھا گھسا تھا ۔۔۔۔۔ساتھ ہی خالہ کی اوئی ماں ۔۔۔مر گئی ۔۔۔۔۔۔۔افف۔۔۔ہائے ۔۔۔۔۔۔یہ کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد میں اتنا ہی ہتھیار کو رواں کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔خالہ کے مّموں نے اوپر کی طرف ایک باؤنس لیا تھا ۔۔۔۔۔۔اپنے پورے وزن کے ساتھ اوپر کو اچھلے اور پھر نیچے کو گرے تھے ۔۔۔۔۔خالہ کی ہائے ہائے پورے کمرے میں گونج رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ان کی آنکھیں پانی سے بھر چکیں تھیں ۔۔۔۔۔۔خالہ کی ٹانگیں میں نے اور اوپر اٹھا دی تھیں ۔۔۔اور آگے کو ہوتے ہوئے ان کے چہرے کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ان کی ٹانگیں میری کمر کے پیچھے تھیں ۔۔۔اور میرے آگے بڑھتے ہوئے وہ بھی اوپر کو اٹھ رہی تھیں ۔۔۔۔۔میں ان کے چہرے تک پہنچا ۔۔۔ان کے چہرے کو تھاما جو پسینے میں لت پت تھا ۔۔۔۔۔۔میری کمر اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔ان کے ہونٹوں کو دبوچتے ہوئے ۔۔میں نے پورا ہتھیار اندر اتار دیا ۔۔۔۔۔بلاشبہ خالہ میرے نیچے سے تڑپی تھی ۔۔۔۔مجھے اچھالنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔مگر ایسا کیسے ہو سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی آنکھیں پھیلی ہوئی میں صاف دیکھ رہا تھا ۔۔۔جس سے پانی بہہ نکلا تھا ۔۔۔۔۔ان کے ہونٹ میرے ہونٹوں میں دبے ہوئے تھے ۔۔۔اور سینے پر ان کے بڑے سے ممّےکھبے ہوئے تھے ۔۔۔۔خالہ کی ہمت نےجواب دے دیا تھا ۔۔۔ان کی آنکھوں کا پانی بہے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔میں نے ان کے لب آزاد کئے تھے ۔۔۔تو وہ چپ ہی رہی تھیں ۔۔۔میں کچھ دیر ایسے ہی رہا اور ان کےہونٹوں کو چومتا رہا ۔۔۔ان کا پورا چہرا آنسوؤں سے بھیگا تھا ۔۔اسے چوم چوم کر صاف کرنے لگا۔۔۔۔ان کی سسکیاں دم توڑ چکیں تھیں ۔۔۔۔۔۔میں تھوڑا سا اٹھا اور ان کے سینے پرآیا ۔۔۔جہاں دودھ کی گوری گوری دکانیں اور براؤں نپل میرا منتظر تھا ۔۔۔۔دونوں ہاتھوں سے ان کے ایک ایک ممّے کو سمبھالتا ہوا ۔۔۔۔۔میں ان کے نپلزکو اپنی انگلی انگوٹھے کی مدد سے کھینچ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اور وہ بھی بری طریقے سے ہل کر مجھے شاباش دے رہے تھے ۔۔۔۔۔نیچے سے خالہ کی چوت میرے ہتھیار میں پھنسی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔کانپ رہی تھی ۔۔۔۔سسک رہی تھی ۔۔۔۔۔پانی چھوڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے دونوں ہاتھ ان کے مموں پر جمائے اور ہتھیار کو تھوڑا سا باہر کھینچا تھا۔۔۔۔۔خالہ میں جان آ گئی تھی ۔۔۔۔۔اوئی امی ۔۔۔۔۔مجھے چھوڑو ۔۔۔۔۔۔۔اٹھو ۔۔۔۔۔ہائے مر گئی ۔۔۔۔افف۔۔۔۔۔۔میں نے دوبارہ سے ہتھیار اندر مارا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ممے اوپر اچھلنے لگے مگر میرے ہاتھوں نے پکڑ کر کر رکھا ۔۔۔۔میں اب تین انچ ہتھیار باہر کھینچتا اور دوبارہ اندر جما دیتا ۔۔۔۔خالہ کی افف۔ہائے بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔کبھی وہ فریاد کرتیں ۔۔کبھی چیخنے لگتیں۔۔۔۔۔میں اب آدھا ہتھیار باہر نکالتا اور دوبارہ گھسا دیتا ۔۔۔۔۔خالہ کی چوت کی پٹائی جاری تھی ۔۔۔۔۔۔۔اور ان کے ہائے ۔۔۔ہائے ۔۔۔۔اف۔۔۔۔اوئی مرگئی بھی جاری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پانچ منٹ گزرے تھے کی خالہ کی چوت نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔لن اندر ایک نئی اسپیڈ سے گھسا تھا ۔۔۔خالہ کو اور درد ہوا تھا۔۔۔میں کچھ دیر ایسے ہی لن اندر رکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔اور خالہ کو کروٹ دیتے ہوئے سائیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔۔۔ایک ٹانگ ان کے اوپر ہی تھی ۔۔۔ان کا چہرہ اپنی طرف موڑا جس میں شکوہ بھری آنکھیں مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔اور شاید حیرت بھی کہ ان کی بیٹی نے مجھے کیسے جھیلا تھا ۔۔۔۔۔۔اور یہ بھی کہ وہ بخار میں کیوں لیٹی تھی وہ ۔۔۔۔
کچھ دیر ایسے ہی لیٹے رہا ۔۔۔خالہ نے نیچے ہاتھ بڑھا یااور خود تھوڑی پیچھے ہوتے ہوئے لن کو باہر نکالنے لگی ۔۔۔۔ان کی ایک گہر ی سانس نکلی تھی ۔۔۔۔۔لن ان کے سامنے تھے ۔۔۔۔انہیں کے پانی میں مہکتا ہوا ۔۔۔انہوں میرے درمیان لن اوپر کی طرف لائیں ۔۔جو کہ ان کے پیٹ سے اوپر پہنچ رہا تھا ۔۔۔۔اور پھر اپنی ٹانگوں کے درمیان رکھتی ہوئی مجھے سے لپٹ گئیں ۔۔۔۔ان کے بھاری بھرکم ممّے مجھ سے ٹکرائے تھے ۔۔ساتھ ہی میرے چہرے پر بوسے کی ایک بوچھاڑ تھی ۔۔۔۔وہ میرے اوپر چڑھی آ رہی تھی۔۔۔۔۔چوم رہی تھی ۔۔۔بھنبھور رہی تھیں ۔۔۔ان کی برس کی پیاس ایسے بجھے گی ۔۔انہیں بھی نہیں پتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ہم ایکدوسرے کو ایسے ہی چومتے رہے ۔۔۔پھر خالہ اٹھ کر بیٹھیں اور میرے ہتھیار کا جائزہ لینے لگیں ۔۔۔ان کی کلائی جتنا موٹا اور لمبا بھی اتنا ہی ۔۔۔۔وہ حیرت سے مجھے اور پھر میرے ہتھیار کو دیکھتیں ۔۔۔پھر کپڑے سے صاف کر کے منہ میں لینے کی کوشش کی ۔۔مگر ناکام ۔۔۔آخر کارچاروں طرف سے چومنا اور چوسنا شروع کردیا ۔۔۔ہتھیار اور ہوشیار ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔میری طوفانی دھکے ابھی باقی تھے ۔۔۔۔۔جن کا خالہ کو اندازہ بھی نہیں تھا ۔۔۔انہوں نے اب تک صر ف اسے اپنے اندر رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ابھی اس کی طوفانی اسپیڈ باقی تھی ۔۔۔۔۔۔میں بھی لیٹے ہوئے ان کی کمر پھر ہاتھ پھیرتا رہا ۔ساتھ ساتھ چوتڑ کو دباتا جا رہا تھا ۔۔۔کچھ دیر میں ہتھیار سختی سے اور تن گیا تھا ۔۔۔۔۔خالہ دوبارہ میری بانہوں میں سما رہی تھیں ۔۔۔راجہ آرام سے کرنا ۔۔۔مجھ سے اتنا درد برداشت نہیں ہوتا ۔۔یہ نہ ہوثناء بھی سن لے ۔۔۔۔۔میں نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ بے فکر رہیں ۔۔۔اس کے ساتھ ہی اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔خالہ کو گھوڑی بنانے لگا ۔۔۔۔بلکہ نیچے تین ، چار تکیے جما کر انہیں کمان کی طرح موڑ دیا تھا ۔۔۔۔اب ان کے ممے بیڈ پر تھے ۔۔اور پیٹ کے بل تکیے پر لیٹی تھیں ۔۔بیچ میں سے اٹھی ہوئی ۔۔۔اور ٹانگیں اس طرح بیڈ پر تھیں ۔۔۔۔۔میں ان کے پیچھے آیا تھا ۔۔۔۔اپنی جسم کے تھوڑے وزن کے ساتھ ان کے چوتڑ پر بیٹھا جو کہ گوشت سے بھرپور گول مٹول تھے ۔۔۔۔۔ساتھ ہی ہتھیار کو چوتڑ کے درمیانے سے ان کی چوت پر ٹکا دیا ۔۔اور دباؤ بڑھانے لگا ۔۔۔۔لن اندر تک گھسا کر باہر کھینچا اور پھر پہلے جھٹکا پڑا تھا ۔۔۔۔خالہ آگے کو جھکی تھی ۔۔۔۔ان کے چوتڑ آگے کو لپکے تھے ۔۔۔۔۔خالہ کے منہ سے دوبارہ ائی امی ۔۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔افف۔۔۔ہائے ۔۔۔۔۔کی آواز نکلی تھی ۔۔۔۔۔میں کچھ دیر تک درمیانی اسپیڈ سے کرتا رہا اور پھر اسپیڈ تیز ہوتی گئی ۔۔۔۔خالہ کو پورا جسم کپکپاہٹ میں تھا ۔۔۔۔۔ان کے چوتڑ اوپر کو اچھلتے تھے ۔۔۔۔۔۔ان کے ممے بیڈ پر رگڑ کھا رہے تھے ۔۔۔۔۔چہرہ تھوڑا سا اٹھا ہوا تھا ۔اور اوئی امی ۔۔اوئی امی ۔۔۔ہائے ۔افف۔۔دونوں بازو سائیڈ پر بستر کی چادر کو مٹھی میں جمائے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔میں نے اسپیڈ اور بڑھا دی تھی ۔۔۔اور اب خالہ ایک کورس میں ۔۔۔۔اوئی امی ۔۔۔مر گئی ۔۔۔۔افف۔۔۔ہائے ۔۔۔ہائے مر گئ ۔۔۔۔گائے جارہی تھی ۔۔۔۔۔آواز جتنی سریلی تھی اتنا ہی درد بھی تھا ۔۔۔۔میں اپنے پیروں کے بل پر تھا ۔۔۔۔۔اور گھٹنے سے موڑ کر خود کو بٹھایا ہواا تھا ۔۔۔۔۔۔اندر زور دیتا تو بیڈ کے اسپرنگ نیچے کو ہوتے اور پھر واپس اچھالتے جس کے جواب میں بھی اسی اسپیڈ اور طاقت سے دے رہاتھا ۔۔۔میں نے آگے جھک کر خالہ کے بال پکڑ لیے تھے ۔۔اور سر کو تھوڑا اور پیچھے کھینچ لیا تھا۔۔۔۔۔میری اسپیڈ اب بڑھتے ہوئے طوفانی ہونے جارہی تھی ۔۔۔جس کے ساتھ خالہ کی کراہیں اور تیز ہونے لگیں تھی ۔۔۔۔اور پھر انہوں نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔مگر میرا اب رکنے کا ارادہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔میں نےاسپیڈ طوفانی ہی رکھیں ۔۔۔اب خالہ کی رکنے کی آوازیں بھی ساتھ تھی ۔۔۔۔بس کر دو راجہ ۔۔۔۔راجہ بس۔۔۔۔اوئی امی ۔۔۔مر گئی ۔۔۔۔ہائے ۔۔۔اف۔۔۔ مگر مجھے فارغ ہونا تھا ۔۔۔زیادہ جوش آیا تو پیچھے سے خالہ کی دونوں ٹانگیں بازو میں اٹھا لیں ۔۔۔آدھی ٹانگیں خالہ کی میرے بازؤوں میں تھی ۔۔۔اور باقی جسم بیڈ پر رگڑ کھا رہا تھے ۔۔۔۔۔۔اور جھٹکے سے خالہ کو جسم بھی آگے کو لپکتا ۔۔۔۔مگر میں ٹانگوں سے کھینچ کر دوبارہ انہیں واپس لاتا ۔۔۔۔۔اوئی امی۔۔۔۔ہائے ۔۔۔ہائے ۔۔۔افف۔۔۔۔۔ کی آوازیں ہی کمرے میں گونج رہی تھی ۔۔۔خالہ اب بیڈ کی چادر کو کھینچ کر آگے نکلنے کی کوشش بھی کرتیں ۔۔۔مگر میرا زور زیادہ تھا ۔۔۔میں واپس انہیں وہیں کھینچتا ۔۔۔۔میرے جھٹکوں کے ساتھ اب غراہٹ بھی نکلنے لگی تھی ۔۔میں نے ٹانگیں چھوڑ کر بیڈ پر ڈالی دیں اور خود ان کی کمر کی طرف سے اوپر سوار ہو گیا ۔۔۔۔دونوں ہاتھ ان کے کندھوں پر جما کر نیچے سے دھکوں کی مشین چلا دی ۔۔۔۔خالہ کی سسکیاں اب میری غراہٹ میں دب رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔مجھے روکنا اب ان کے بس میں نہیں تھا ۔۔۔۔ اور پھر میرے ہتھیار سے پانی کا پہلا قطرہ نکلا جو ان کے اندر تک پہنچا تھا ۔۔۔۔میں کچھ رک کر دوبارہ اندر جھٹکا دیا ۔۔۔اور پھر پانی بہنا شروع ہوا ۔۔۔۔۔۔خالہ کی پوری چوت اب پانی سے بھری ہوئی تھی ۔۔جس میں ان کا پانی بھی مکس تھا ۔۔۔۔۔۔میں کچھ دیر تک پانی نکالتا رہا ۔۔۔پھر نڈھال ہو کر بیڈ پر گر گیا ۔۔۔۔۔خالہ چپ چاپ پڑی تھیں ۔۔۔شاید میرے چھوٹنے کو غنیمت جا ن رہی تھیں ۔۔۔۔۔میں کچھ دیراور لیٹا رہا ۔۔۔میرا ارادہ ایک مرتبہ دوبارہ کا تھا ۔۔۔مگر خالہ معافی مانگنے تک پہنچی ہوئی تھیں ۔۔۔۔لہذا اٹھااور الوداعی بوسہ دیتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites


قسط نمبر5 ۔۔۔۔۔
اگلی صبح کافی دلکش تھی ۔۔۔۔مجھے ثناء نے جھنجھوڑ کر اٹھایا تھا ۔۔۔۔۔ناشتہ اْسی نے بنایا تھا ۔۔۔۔ڈائننگ ٹیبل پر پہنچا تو ثناء ناشتہ لگا رہی تھی ۔۔۔خالہ کا پوچھا تو بتایا کہ کہنے لگی کہ رات انہیں بھی بخار ہو گیا تھا ۔۔۔میں نے کہا کہ رات کو تو بالکل ٹھیک تھیں یہ اچانک کیا ہو گیا ۔۔۔۔ثناء کیا جواب دیتی ۔۔۔بس کندھے اچکا دیئے ۔۔۔۔ثناء کی اپنی طبیعیت اب بہتر تھی ۔۔۔وہ پہلے کی طرح ہشاش بشاش اور چہک رہی تھی ۔۔۔۔ناشتہ کر کے ہم چائے لئے خالہ کے کمرے کی طرف چلے گئے ۔۔۔رات میں یہاں آ چکا تھا ۔۔۔مگرکسی دوسری حیثیت سے ۔۔۔اور اب داماد کی حیثیت تھی ۔۔۔خالہ بیڈ پر چادر اوڑھے لیٹی تھی ۔۔۔۔میں ساتھ کرسی رکھ کر بیٹھ گیا ۔۔اور ثناء بیڈ پر ان کے قریب جا بیٹھی ۔۔۔خالہ نے ہمیں دیکھ کر آنکھیں کھولی ۔۔۔۔پہلے ثناء کو دیکھا اور پھر مجھے ۔۔۔۔ساتھ ہی اٹھ کر بیٹھنے لگیں ۔۔۔۔۔میں نے طبیعیت پوچھی تو کہا کہ اب ٹھیک ہے بس رات کو اچانک جسم میں درد ہوا اور صبح تک بخار ہوا ۔۔۔خالہ کی آنکھوں میں شرارت اور محبت منڈلا رہی تھی ۔۔۔۔۔ان کی باتوں کی ٹون بدل چکی تھی ۔۔۔۔۔چہرے کی خوبصورتی پہلے سے زیادہ چمک رہی تھی ۔۔ایسے جیسے کوئی بڑی محنت کے بعد کچھ پا لیتا ہے ۔۔۔میں کچھ دیر بیٹھا رہا ۔۔پھر خالہ نے مجھے کہا کہ راجہ بیٹا ایک کام ہے ۔۔۔صبح وقار کا فون آیا تھا ۔۔۔اسے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے ۔۔۔وہ شہر میں کوئی نئی جگہ خرید رہا ہے ۔۔۔وہ پیسے اسے دینے ہیں ۔۔۔میں نے کہا جی خالہ کوئی بات نہیں ۔۔میں پہنچا دوں گا ۔۔سعدیہ بھی وہیں تھی ۔۔اس سے ملنے کا دل کر رہاتھا ۔خالہ نے ثناء کوکہا کہ تمہاری الماری میں پیسے رکھے ہیں وہ کسی بیگ میں ڈال کر راجہ کو دے دو۔۔۔۔ثناء اٹھی اور باہر چلی گئی ۔۔۔خالہ کی کشش اور آنکھوں کی مستی مجھے کھینچ رہی تھی ۔۔۔میں کرسی تھوڑی قریب کر کے بیڈ کے پاس آیا اور خالہ پر جھک گیا ۔۔۔ان کے بدن سے گرمی اور کچے دودھ جیسی مہک نکل رہی تھی ۔۔میں نے خالہ کو بانہوں میں بھر کے ان کا چہرہ چومنے لگا ۔۔۔۔۔ساتھ ہی ان کے موٹے مموں کو دبانے لگا ۔۔۔خالہ اب بھی تیار تھیں ۔۔مگر ٹائم کم تھا ۔۔۔میں بھی جلدی جلدی چومنے کے بعد اٹھا اور باہر چل پڑا ۔۔۔۔۔ثناء کے کمرے میں پہنچا تو وہ الماری کے نچلے سیف سے رقم نکال رہی تھی ۔۔یہ کچھ پچاس لاکھ کے قریب کی رقم تھی ۔۔ساتھ کچھ سائنڈ چیک بھی تھے ۔۔۔۔ثناء نے رقم بیگ میں ڈال کر دے دی ۔۔۔۔میں نے اسے بھی بانہوں میں بھر کے بیڈ پر جا بیٹھا ۔۔۔گود میں بٹھا تے ہوئے اسےخود سے لپٹا لیا ۔۔۔وہ بھی اب کچھ شوخی میں تھی ۔۔۔۔میرے چومنے پر چہرہ چھڑوانے لگی ۔۔۔۔کچھ دیر ہماری ایسی ہی شوخیا ں رہیں ۔۔پھر پوچھنے لگی شہر سے کیا لائیں گے ۔۔۔میں نے بھی شرارتی انداز میں ۔۔۔تمہارے بھائی کو واپس لاؤں گا ۔۔۔۔۔ثناء پھر ۔۔نہیں میرے لئے کیا لائیں ۔۔۔۔تمہارے لئے تمہارا بھائی ہی لاؤں گا۔۔۔کیوں اچھا نہیں لگتا کیا ۔۔۔۔لانے کے لئے کچھ رشوت دینی پڑی گی ۔۔پھر سوچیں گے ۔۔۔۔ثناء : اچھا اب آپ کو بھی رشوت چاہئے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔ہاں ایک چما دائیں گال پر ایک بائیں گال پر ۔۔۔۔۔وہ جھجکتی ہوئی قریب آئی تھی ۔۔اور پھر ایک نرم ریشم جیسے ہونٹ میرے گالوں پر ٹکرائے تھے ۔۔۔دونوں گالوں کے بعد میں آنکھیں کھولنے ہی والا تھا کہ میرے ہونٹ سے اس کے ہونٹ ٹکرائے تھے ۔۔۔۔اور یہ بونس آپ کے لئے ۔۔۔۔۔اب کیا لائیں گے ۔۔۔۔میں نے کہا کہ جب لاؤں گا تو دیکھ لوں گا۔۔۔۔اب چلتا ہوں اور رات تک واپس آ جاؤں گا ۔تیار رہنا ۔۔۔آج کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔۔۔۔وہ شرما کر خالہ کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔کل بھیا گاڑی لے کر گئے تھے ۔۔۔۔مجھے ویسے ہی گھر جانا تھا ۔۔۔۔گھر پہنچا ۔۔امی کو بتا کر بھیا سے گاڑی کی چاپی لی اور تیار ہو کر شہر کی طرف چل پڑا ۔۔۔دو سو کلومیٹر کا راستہ تھا ۔۔۔میں اسپیڈ بڑھاتا گیا ۔۔۔۔۔ دوگھنٹے میں ٹول پلازہ کراس کر کے شہر میں داخل ہو چکاتھا ۔۔۔وقار کو فون ملا کر وائرلیس ہینڈ سیٹ کان سے لگا دیا ۔۔۔۔وقار نے اسٹیشن کے قریب ہی ہوٹل لے رکھا ۔۔۔میں نے گاڑی اس طرف گھما دی ۔۔۔۔۔اور ساتھ ہی سعدیہ کو بھی کال ملا دی ۔۔وہ بستر میں ہی تھی ۔۔۔۔آج دوپہر کو ہی یوم دفاع کا ایک پروگرام تھا جس میں ان کی ٹیم کو پرفارم کرنا تھا ۔۔۔ابھی وہ آرام کے موڈمیں تھی ۔۔۔میں نے ایڈریس پوچھ کر کال کاٹ دی ۔۔ابھی اسے نہیں بتایا تھا کہ میں آس پاس ہی ہوں ۔۔۔۔وقار کے پاس پہنچا تو وہ ابھی اٹھ کر ناشتہ کر رہاتھا ۔۔۔مجھے دعوت دی مگر میں صرف چائے کا کہہ کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔اس نے خالہ اور ثناء کا پوچھا ۔۔۔میں نے سب ٹھیک کی رپورٹ سنا دی ۔۔۔۔وقار نے بتایا کہ یہاں شہر کے وسط میں وہ ایک نیا گھر لے رہا ہے ۔۔اور شادی کے بعد سب گھر والوں کی شفٹنگ کا ارادہ ہے ۔۔۔۔میں نے بیگ اس کے حوالے کر دیا ۔۔اور پوچھا کہ واپسی کا کیا پروگرام ہے ۔۔اس نے بتایا کہ پیمنٹ کرنے کے بعد نام میں جگہ کروانے میں دو چار دن لگے گیں ۔۔۔میں نے کہاٹھیک ہے شام کو ملتے ہیں۔۔۔ میں بھی کالج کے دوستوں سے مل کر آتا ہوں ۔۔ گاڑی کی چابی اٹھا کر میں باہر نکل آیا ۔۔۔سعدیہ کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچا تو وہ کسی پوش علاقے کا تھا ۔۔۔ہر طرف کوٹھیاں اور بنگلوں کی لائن لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔ان کے گھر کے سامنے پہنچا تو وہ کسی عالیشان بنگلے سے کم نہیں تھا ۔۔مجھے معلوم تھا کہ سعدیہ کے ابو بھی آرمی کے اونچی پوسٹ پر ہیں ۔۔اور وہ یہاں اکیلی رہتی ہے ۔۔۔میں نے بنگلے کا ایک چکر لگا یا ۔۔۔پچھلی باؤنڈر ی سے مجھے گیپ نظر آ گیا تھا ۔۔۔میں گاڑی پچھلے بنگلے کے سامنے لگا کر اندر آیا اور ٹہلتا ہوا دیوار کے قریب پہنچا ۔۔۔۔دائیں بائیں نظر دوڑائی ۔۔۔مگر یہ ایلیٹ کلاس کے جاگنے کا ٹائم تو تھا نہیں ۔۔۔۔۔۔میں تھوڑا تیز چلتا ہوا دیوار کے ساتھ چلا تھا۔اور ہلکا سا دوڑتے ہوئے۔۔ایک ہاتھ دیوار پر جما کر دونوں پیروں کو اچھالتا ہوا دیوار کے پار آ گیا ۔۔۔سرپرائز دینے کا فل ارادہ تھا ۔۔۔۔یہ پچھلی لان کا حصہ تھا ۔۔۔میں دبے قدموں سے اندر کی طرف چل پڑا ۔۔گھر اندر سے بھی اتنا ہی خوبصورت تھا ۔۔۔نچلے پورشن خالی تھا ۔۔۔میں اسی طرح اوپر والے حصے میں آیا ۔۔وہاں معلوم ہو رہا تھا کہ کوئی رہتا ہے ۔۔۔ایک طرف اوپن کچن ساتھ ہی ڈائننگ ٹیبل ۔۔۔اور برابر میں تین کمرے ایک ساتھ ۔۔۔۔جس کمرے میں لائٹ جل رہی تھی ۔۔۔۔میں پہلے اسی کی طرف بڑھا ۔۔دروازہ اندر سے لاک نہیں تھا ۔۔۔میں نے آہستہ سے ناب گھمائی اور اندر قدم رکھا ۔۔۔۔۔کمرہ مسحور کن خوشبو سے مہکا ہوا تھا ۔۔بیڈ پر چادر بے ترتیب تھی ۔۔۔۔۔اور ساتھ ہی اٹیچ باتھ سے شاور گرنے کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔۔مطلب میدان صاف تھا اور تیار بھی تھا ۔۔۔میں نے جوگرز اتارے اور شرٹ اتار کر پینٹ بھی اتار دی ۔۔۔۔اورساتھ ہی باتھ روم کی طرف قدم بڑھا دئیے ۔۔۔میرے کانوں نے گنگنانے کی آواز سنی تھی ۔۔۔جو سعدیہ کے علاوہ کسی اور کی نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے دروازے کو کھولا اور جھری سے اندر کا جائزہ لیا ۔۔۔۔شیشے کے ایک بوتھ میں شاور گر رہا تھا ۔۔۔۔اور سعدیہ کے گورا بدن اس میں سے جھلک رہا ۔۔۔میں دبے قدموں اندر آیا تھا ۔۔۔اور گلاس ڈور کوآہستگی سے سلائیڈ کرنے لگا۔۔۔۔سعدیہ کا منہ دوسری طرف اور ۔۔اس کی آنکھیں بند تھیں ۔۔نیم گرم پانی اس کے ایتھلیٹ جسم پر سے پھسل رہا تھا ۔۔۔سیاہ لمبے بال اس کی پتلی کمر سے نیچے تک پہنچ رہے تھے ۔۔۔اور پیچھے کو نکلی ہوئی اور اٹھی ہوئی گانڈ بتا رہی تھی کہ اس نے کافی اسکواٹ کے بعد یہ فٹنس حاصل کی تھی ۔۔۔چوتڑ کے دونوں حصے خوب مضبوط اور ٹھوس لگ رہے تھے ۔۔۔اس کی سڈول رانیں بھی پوری خوبصورتی سے بنی ہوئی تھیں۔۔ہر مسلز کے گروپ الگ الگ نظر آ رہے تھے ۔۔شاید اس کی چھٹی حس نے کوئی اشارہ دیا ۔۔۔سعدیہ اچانک پلٹی تھی ۔۔۔۔اس کی خوبصور ت آنکھیں ایک لمحے کے لئے پھیلی تھی ۔۔۔۔دونوں ہاتھ اس کے سینے پر سختی اور غرور سے کھڑے مموں پر آئے تھے ۔۔۔۔دوسرے لمحے میں اس کی آنکھوں میں شناسائی آ چکی تھی ۔۔۔میں اندر داخل ہو گیا ۔۔۔اور بانہوں میں گھیر لیا ۔۔۔۔راجہ تم ۔۔یہاں کیسے ۔۔۔وہ بھی اچانک ۔۔سعدیہ ہکا بکا ہو چکی تھی ۔۔اوریہی میں چاہتا تھا۔۔۔۔میری مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی ۔۔۔۔میں نے جواب دینے کے بجائے پانی کے نیچے آ کر ۔۔۔۔اس کے ہونٹوں پر ہونٹ جما دئیے ۔۔یہ سرپرائزنگ کِس تھی ۔۔۔۔۔وہ بھی مجھے مس کرتی تھی ۔۔۔جبھی اچھل کرمیری گردن میں بازو گھمائے اور اپنی مضبوط ٹانگیں میرے کمر کے گرد باندھ دیں ۔۔۔۔۔اس کے ٹھوس اور گول ممے میرے سینے پر دب سے گئے تھے ۔۔۔۔ہم دونوں بہت شدت سے کسنگ کر رہے تھے ۔۔۔۔جذبات میں بھریں ہوئی ۔۔۔۔تھوک میں گندھی ہوئی ۔۔۔۔۔نرم اور ملائم ہونٹ کا آپس میں ٹکراؤ جاری تھا۔۔۔۔اور اوپر سے نیم پانی گرم ہمیں تسکین کرنے کی پوری کوشش میں تھا ۔۔میرا ہتھیار نیچے سے تننے لگا ۔۔۔۔۔اسے بھی اسکول میں گذرا ہوا وقت یاد آ رہا تھا ۔۔۔۔۔سعدیہ ہونٹ چومتے ہوئے ۔میرےچہرے کو بھی نشانہ بنا رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کی شدت بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔کسی لڑاکی بلی کی طرف وہ نوچنے کی کوشش میں تھی ۔۔۔میں بس اپنا دفاع کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں پر روکنے کی کوشش میں تھا ۔۔۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی لڑائی جاری رہی ۔۔۔میں نے نیچے سے ہاتھ سعدیہ کی گرم اور سخت چوتڑ پر جما کر انہیں بھینچنے لگا۔۔۔۔پہلی ملاقات میں سعدیہ کے ہاتھوں کا ٹچ اور چال کچھ مردانہ سی لگتی تھی ۔۔۔مگر جب وہ اس حال میں ہو تو بہت گرم اور جذباتی ہوتی تھی ۔۔۔۔۔جسم کا ہر لمس عجب لطف دیتا تھا ۔۔۔۔۔میں بے رحمی سے اس کے بدن کے ہر گوشے کو دبا رہا تھا ۔۔۔۔مگر اس پر اس سختی کا کوئی اثر نہیں تھا ۔۔۔کچھ دیر ہم ایسے ہی پانی میں کھڑے رہے۔۔پھر پانی سے نکل آئے ۔۔سعدیہ نے تولیہ لے کر میرا جسم خشک کرنے لگی۔۔۔اور پھر اپنا بدن بھی خشک کیا ۔ساتھ ہی میں نے اسے اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیا۔اور پھر ہم باہر نکل کر بیڈ پر چلے گئے ۔۔۔۔جہاں پر اس کی خوشبو بسی ہوئی تھی ۔۔بیڈ پر اسے پھینک کر میں بھی اوپر چڑھ آیا ۔۔۔وہ مسکراتی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔بیڈ پر گرتے ہی ہم دونوں گتھم گتھا ہو چکے تھے ۔۔۔یہ دو وحشتوں کا ٹکراؤ تھا ۔۔۔۔اس کی گرمی دیکھ کر میں پیچھے کیسے ہٹ سکتا تھا ۔۔۔لہذا اسی وحشت سے جواب دینے لگا۔۔۔۔۔۔ہم دونوں ہی ایکدوسرے پر سوار ہونے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔۔کبھی وہ میرےاوپر آ پڑتی ۔۔۔اور کبھی میں پر سوار جاتا ۔۔۔۔وہ اپنی اِسکِلز کا بھرپور استعمال کر رہی تھی ۔۔۔اور میں فقط اپنا دفاع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے داؤ کافی منفرد تھے جن سے بچنا مشکل ہو رہاتھا ۔۔۔۔شروعات اس کی طرف سے تھی ۔۔۔ ۔۔۔ایسے میں وہ میرے اوپر سوار ہوئی تھی۔۔۔دونوں بازؤں کودائیں بائیں دبائے ہوئے اپنی پوری طاقت لگائے ہوئے تھی ۔۔۔۔اس کے لمبے سیاہ بال آگے کو گرے ہوئے تھے ۔۔اور گورے ٹھوس ممے سامنے کو ِدکھ رہے تھے ۔۔۔۔میرے دونوں ٹانگیں آزاد تھیں ۔۔۔میں نے ٹانگیں اٹھا کر اس کی گردن میں قینچی ڈال کر اسے پیچھے کھنچنے لگا۔۔۔۔۔۔اس نے میرے بازوؤں چھوڑ کرٹانگیں پکڑیں ۔۔۔خود کو آزاد کرتے ہوئےمیری ٹانگوں کو بل دے کر مجھے الٹا کردیا اور ساتھ ہی ٹانگوں کو اوپر کی طرف فل موڑتی ہوئی میری پشت پر آئی تھی ۔۔۔۔میری کمر پر بیٹھتے ہوئے اس ایک ہاتھ سے نے پیچھے سے گردن پر لاک لگایا ۔۔۔اور دوسرا ہاتھ میری ٹانگ کو دبوچے ہوئے تھا جو مکمل طور پر اوپر کو لگی ہوئی درد کر رہی تھی ۔۔۔۔۔یہ مشکل داؤ تھا ۔۔۔اور اب سعدیہ مجھ سے ہار ماننے کا کہ رہی تھی۔۔۔۔میں جہاں ہلکا سا ہلتا ۔۔۔وہ میری گردن پر دباؤ بڑھا دیتی تھی ۔۔۔۔اس کے سخت ممے مجھے اپنے کندھے پر جمے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔میں نے دونوں ہاتھ گردن پر جمے ہاتھ پر رکھے اور زور لگاتے ہوئے کروٹ بدل لی ۔۔درد کی ایک لہر میری ٹانگ سے ابھری تھی ۔۔۔۔مگر ہار ماننا میری فطرت میں نہ تھی ۔۔۔۔کروٹ بدلتے ہوئے سعدیہ بیڈ پر گری تھی ۔۔۔میری ٹانگ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی تھی ۔۔۔۔اب میری باری تھی ۔۔میں برق رفتاری سے حرکت میں آیاتھا ۔۔۔۔بائیں بازو کو اس کے سینے سے گزارکر اسے اپنے اوپر کھینچا اور دائیں بازو کالاک اس کی گردن پر لگا چکا تھا ۔۔۔اس نے ٹانگیں اچھال کر میرے پیچھے آنے کی کوشش کی تھی مگر۔۔۔میں نے اپنی ٹانگوں سے اس کی ایک ایک ٹانگ کو قابو کر لیا تھا ۔۔۔اس نے زور آزمائی کی کوشش کی ۔۔مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم دونوں بیڈ پر ایسے تھے کہ میرا بائیں بازو اس کے سینے پر اسکے ٹھوس مموں پر جما ہوا تھا ۔۔۔دائیں بازو اس کی گردن کو قابو کیے ہوئے تھے ۔۔۔اور دونوں ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں سے ۔۔میرا ہتھیار اس کے چوتڑ کے نیچے ہی دبا ہوا تھا ۔۔۔۔۔وہ کچھ اور کوشش کرتی رہی پھر اپنے چہرہ کو میری طرف گھمایا ۔۔میں بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔وہ شرارتی نگاہوں سے دیکھتی ہوئی میرے ہونٹوں کو چوم چکی تھی ۔۔۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں آزاد کر دیں ۔۔۔وہ بھی پلٹی اور مجھ پرٹوٹ چکی تھی ۔۔۔۔پورا چہرہ اس کے تھوک سے بھیگنے لگا تھا ۔۔۔۔۔میرے جسم میں لذت آمیز لہریں گھوم رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں بھی اس کی کمر کو تھام کر خود سے لپیٹے لگا ۔۔۔۔کچھ دیر بعد وہ چومتی ہوئ نیچے کو آئی اورسینے پر اپنے نشان گاڑتی ہوئی ناف سے نیچے آنے لگی ۔۔۔وہ چومتے ہوئے نظریں مجھ پر جمائے ہوئے تھی ۔۔۔جس میں شہوت ، دیوانگی اور محبت سب ہی جذبے تھے ۔۔۔۔۔میں بھی محبت بھری نظروں سے اس دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔میرا ہتھیار اب اس کے مموں کو ٹکرا رہا تھا ۔۔وہ کچھ اور نیچے ہوئی اور اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔میرا ہتھیار بھی خوشی سے جھوم رہا تھا ۔۔۔سعدیہ میری رانوں پر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔۔اور لن پر تھوک پھینکتی ہوئی اسے گیلا کرنے لگی ۔۔۔۔۔ٹوپا منہ میں لینے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔مگر پھنسنے لگا تھا ۔۔۔۔پھر باہر نکالتے ہوئے قلفی کی طرح سے چوسنے لگی ۔۔۔۔۔ہتھیار بھی جوش جذبات سے پھولتا جا رہا تھا ۔۔۔۔سعدیہ تھوڑی اوپر کو ہوئی اور لن کے ساتھ متوازی بیٹھتی ہوئی اپنے دونوں مموں کے درمیان اس رکھنے لگی ۔۔۔وہ اپنے دونوں مموں میں پھنسے ہوئے ہتھیار کے اوپر ہل رہی تھی ۔۔۔اور جب ہتھیار اوپر کو آتا تو زبان نکل کر اس پر پھیرتی ۔۔۔۔ساتھ ہی تھوک پھینک کر اسے اور گیلا کرنے لگتی ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر وہ ایسے ہی کرتی رہی۔۔۔میں نے سر کے نیچے تکیہ رکھ کر تھوڑا سا اٹھ چکا تھا اور اس کی حرکتیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔وہ بھی وقفے وقفے سے مجھے دیکھتی اور دوبارہ سے مصروف ہو جاتی ۔۔۔اس کے ممے بھی اب گیلے ہو گئے تھے ۔۔۔اور ہتھیار کے تو مزے آئے ہوئے تھے ۔۔۔سعدیہ نے ہتھیار کے نیچے گولیوں پر بھی ہاتھ پھیرتی ہوئے چاٹنے لگی ۔۔۔یہ میرے لئے فرسٹ ٹائم تھا۔۔۔۔۔بڑی عجیب سی فیلنگ تھی ۔۔۔۔۔۔۔میں ایک بازو اپنے سر کے پیچھے رکھے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔پیچھے سے اس کی گول گانڈ اور پتلی کمر اوپر کو اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔کچھ دیر بعد سعدیہ اٹھی اور میرے ہتھیار کے اوپر آ کر پاؤں دائیں بائیں جما کر آہستہ سے بیٹھنے لگی ۔۔۔۔اس کا چہرہ لال سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔۔آنکھیں مجھ پر جمی ہوئی تھی ۔۔۔ہتھیار کو ایک ہاتھ سے تھامتی ہوئی۔۔۔وہ آہستگی سے بیٹھ رہی تھی ۔۔۔۔ٹوپے کو اوپر پہنچ کر کچھ رکی۔۔۔اور پھر تھوک نکال کر اپنی چوت پر ملا ۔۔اور پھرکچھ اور بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ٹوپا اندر گھسا تھا تو ایک سسکی نکلی ۔۔۔۔اوئی ۔۔افف۔۔۔۔۔اور پھر مجھے دیکھتے ہوئے بیٹھنے لگی ۔۔۔اس کا سکس پیک والا پیٹ بتا رہا تھا کہ اس نے سانس روک رکھی ہے ۔۔۔۔وہ کچھ دیراور نیچے ہوئی اور آدھا ہتھیار اندر اتار کر رک گئی ۔۔۔۔۔سسکیاں اب بھی جاری تھیں۔۔۔۔۔ساتھ ہی آگے کو جھکتی ہوئی میرے اوپر آنے لگی ۔۔۔میں نے اس کی مدد کی۔۔۔اب وہ میرے پیٹ کے اوپر تھی ۔۔۔گھٹنے بستر پر رکھ کر پاؤں پیچھے کی طرف تھے ۔۔۔۔اورممے میرے سینے پرٹچ ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔میں نے اب تک حرکت نہیں کی تھی ۔۔پہلا راؤنڈ اسی کو دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔وہ راجہ کہتی ہوئ میرے چہرے پر جھکی تھی اور میرے ہونٹ چومنے لگیں ۔۔۔میں نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے ۔۔اب وہ ہلکے ہلکے حرکت کر رہی تھی ۔۔۔میرے ہونٹوں کو چومتی ہوئی ۔۔۔۔اپنی کمر اوپر کو کر تی اور وہی آدھے ہتھیار کو باہر نکالتی ۔۔۔اور واپس جاتے ہوئے اندر کو کرتی ۔۔۔اس کی حرکت کافی آہستہ تھی ۔۔۔۔مگر آنے والا مزہ اس سے کہیں زیادہ تھا ۔۔۔۔سلو موشن کی وجہ سے میں ہر سیکنڈ محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔ 
میں اس کے کندھے ہر ہاتھ رکھے کر اسے تھوڑا اور نیچے دھکیلنے لگا۔۔۔۔۔مگر فورا ہی اس کی گھورتی نظریں مجھ پر آئیں ۔۔جیسے منع کر رہی ہوں ۔۔مین بھی رک گیا ۔۔۔۔۔وہ کچھ دیرایسے ہی آگے پیچھے ہلتی رہی تھی ۔۔۔۔ساتھ ساتھ سسکیاں بھی جاری تھیں۔۔۔۔۔۔۔اس کی چوت کا بھی گیلا پن بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔اور پانی بہتا ہوا میرے ہتھیار سے نیچے پھسل رہا تھا ۔۔۔۔۔میری برداشت اب لمحہ بہ لمحہ کم ہوتی جارہی تھی ۔۔۔۔۔۔کچھ زیادہ ہی سلو موشن میں سب چل رہا تھا ۔۔۔۔میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کے نیچے ہاتھ ڈال کر اس کو اٹھا لیا ۔۔۔۔۔وہ روکتی رہی ۔۔۔۔۔مگر میرا اب رکنے کا کوئی موڈ نہیں تھا ۔۔۔۔ہتھیار اب بھی اس کے اندر ہی تھا۔۔۔ اس نے میری گردن کے گرد اپنی بانہوں کا ہار بنا دیا ۔۔۔۔۔میں بیڈ سے پاؤں اتار کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ہتھیارتھوڑا آگے پیچھے ہوتا تو سعدیہ کی سسکیاں نکلتی ۔۔۔اف۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔۔میں بیڈ سے اتر کر کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔میں ساتھ والی دیوار کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔اور دیوار سے اس کی پشت لگاتے ہوئے پہلا جھٹکا دے چکا تھا ۔۔۔۔سعدیہ کی اونچی سسکی نکلی تھی ۔۔۔۔۔ائی ۔۔۔۔اف۔۔۔۔ہائے۔۔۔۔۔اس کا پوراوزن میرے بازوں میں تھا ۔۔۔۔اور اس کے بازو میرے گردن کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے تھے ۔۔۔میں نے ہتھیار کو اب حرکت دینی شروع کی ۔۔۔اور کچھ دیر تیز جھٹکے دینے کے بعد واپس آیا ۔۔۔اس بیڈ پر گراتے ہوئے ۔۔۔اس کی ٹانگیں اٹھا کر کندھے پر ٹکا چکا تھا ۔۔۔ساتھ ہی اس کے اوپر جھک کر اس کے مموں کو دبوچ لیا ۔۔۔وہ درد سے کراہی تھی ۔۔۔۔سس۔۔۔۔افف۔۔۔۔اور اس کے بعد میں نے پورا ہتھیار اندر اتار دیا ۔۔۔۔۔اسکی کی ایک تیز چیخ نکلی تھی ۔۔۔۔ہائے ۔۔اف۔۔۔۔امی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے باہر کھینچ کر دوبارہ سے گھسا دیا ۔۔۔وہ پھر اوپرکو اٹھی تھی ۔۔۔۔اس کے منہ با ر بار بند کھل رہا تھا ۔۔۔۔۔اس کے بعد میں نے گاڑی کے انجن کو سٹارٹ کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔میرے جھٹکے گہرے اور فل پاور کے ساتھ تھے ۔۔۔۔اسپیڈ درمیانی ہی رکھی تھی ۔۔۔۔۔سعدیہ کی۔۔ہائے ۔۔۔۔۔افف۔۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔پورے کمرے میں گونج رہی تھی ۔۔۔وہ مزے میں بھی چلا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔خود کو مزید انجوائے کروا رہی تھی ۔۔۔۔میں ساتھ ساتھ اس کے سخت مموں کو بھی دبا رہاتھا ۔۔۔۔۔میرے جھٹکے تیز ہونے لگے تھے ۔۔۔سعدیہ کی سسکیاں بھی بلندیوں پر تھی ۔۔۔۔ہائے ۔۔۔۔سس ۔۔۔اف۔۔۔۔راجہ۔۔۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں کندھوں سے اتاری ۔۔۔اور ایک ٹانگ کو سیدھا لٹاتے ہوئے دوسری کو بالکل سیدھا اوپر اٹھا چکا تھا ۔۔۔۔۔اور دوبارہ سے ہتھیار اندر روانہ کیا ۔۔۔۔وہ پھر سے منہ کھولے مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔اور میں نے پھر سے دھکے مارنا شروع کر دیے ۔۔۔وہ بھی میرے انتظار میں تھی ۔۔۔سسکنا شروع کر دیا ۔۔۔میں نےاس کی اٹھی ہوئی ٹانگ کو اور پیچھے کرتے ہوئے اس کے اوپر آنے لگا۔۔۔۔اس کی اسٹیچنگ تو کھلی ہوئی تھی ۔۔۔۔ٹانگ کو بالکل پیچھے کرتے ہوئے اس کے سر کے دائیں طرف لگا چکا تھا ۔۔میں خود بھی اس پر نیم دراز ہوا تھا ۔۔۔۔اور دائیں بائیں بازو جمائے ہوئے اس کے چہرے پر بڑھا تھا ۔۔اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا ۔۔۔۔۔۔اور نیچے سے جھٹکے بڑھا دیئے ۔۔۔اس کی سسکیاں اب میرے چہرے پرٹکر ا راہی تھی ۔۔۔۔وہ بھی بے صبری سے میرے قریب آنے کے انتظار کرتیں ۔۔۔جھٹکا پڑتے ہوئے میں اس کے ہونٹ چوم کر واپس ہوتا تھا ۔۔۔پھر اگلے جھٹکے پر ایسے ہی اس کے ہونٹ چومتا۔۔۔۔وہ بھی مجھے محبت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔مزے سے سسک تھی ۔۔۔۔۔۔درد سے کراہتی بھی تھی ۔۔۔۔میں نے کمر کے نچلے حصے کی اسپیڈ بڑھا دی تھی ۔۔۔۔سعدیہ کی سسکیا ں اور بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔۔اس کے پانی چھوڑنے کا ٹائم قریب تھا ۔۔۔وہ زبان باہر نکال کر میرے چہرے پر تھوک مل رہی تھی ۔۔۔۔سسکیاں اور آہیں بھر رہی تھی ۔۔۔اور کبھی اپنے سخت مموں کو مسلنے لگتی ۔۔۔۔۔۔میرے جھٹکے اور تیز ہوئے تھے ۔۔۔۔وہ منہ کھولے اونچی چیخنا شروع ہوئی ۔۔۔۔۔۔اوئی ۔۔۔اف۔۔۔۔۔سس ۔۔۔۔اس نے مجھے اپنے ساتھ لپٹانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔اور پھر کمر کو جھٹکا دیتی ہوئی پانی چھوڑنے لگی ۔۔۔۔میں نے بھی دو چار جھٹکے اور مارے اور۔۔۔۔اس کے قریب آ گیا ۔۔۔۔وہ کچھ دیر سانس برابر کرتی رہی ۔۔۔میں اس کے پچھلی سائیڈ پر تھا ۔۔۔اور گردن چوم رہا تھا ۔۔۔میرا ہتھیار اس کے گول سخت چوتڑ سے ٹکرا رہا تھا ۔۔۔۔میں نے دونوں ہاتھ اس کی کمر سے گزار کر اس کے ممے تھام لئے ۔۔۔۔۔اور دبا نے لگا ۔۔۔۔وہ بھی پیچھے چہرہ گھمائے مجھے چومنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔میرا ہتھیار اب تک ویسے ہی تنا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔میری رائیٹ سائیڈ پر ہی ڈریسنگ ٹیبل تھی ۔۔میں نے ایک ہاتھ بڑھا کر ویزلین اٹھا چکا تھا ۔۔۔۔۔سعدیہ کو ابھی تک کچھ خبر نہیں تھی ۔۔وہ مجھے چومنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ سے ڈبی کھولی اور کافی ساری ویزلین انگلی میں بھر کر لن پر لگانے لگا ۔۔۔پورے ٹوپے کو میں ویزلین سے لت پت کر چکا تھا ۔۔۔۔اوپر سے میں سعدیہ کو چوم رہا تھا ۔۔۔۔دوسرا ہاتھ میں نے نیچے سے گزار کر اس کے پیٹ کو پکڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔میرا ہتھیار اب تیار تھا ۔۔۔۔۔میں نے اسی ہاتھ سے سعدیہ کی اوپر ی ٹانگ تھوڑی سی آگے کو دھکیلی اور گانڈ کے سوراخ کو واضح کیا ۔۔اور ہاتھ سے اس کی رانوں کو دبا کر قابو کر لیا ۔۔۔۔۔میرے ہتھیار پہلے بھی اس کی گانڈ سے ٹکرا رہا تھا ۔۔۔مگر اب وہ ویزلین میں لت پت تھا۔۔۔۔سعدیہ کو کچھ عجیب سے احساس ہوا تھا۔۔۔مگر میں معصومیت سے اسے چومنے میں مصروف تھا۔
میں ابھی اسے اور تیزی سے چومنے لگا تھا ۔۔۔۔۔میں نے اپنی ٹانگ بھی اٹھا کر اس کے اوپر رکھ دی ۔۔۔نیچے ہتھیار کا ٹوپا اس کی گانڈ کے قریب ہی لہرا رہا تھا ۔۔۔۔میں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اس کے بازوؤں پر رکھا تھا ۔۔ساتھ ہی کمر کو آگے بڑھاتارہا ۔۔۔میں نے ہتھیار کے ٹوپے پر بے تحا شا ویزلین لگائی ہوئی تھی ۔۔ٹوپے اس کی گانڈ کے سوراخ سے ٹکرایا تھا وہ تھوڑی سی آگے کوہوئی تھی اور واپس آئی ۔۔۔۔۔یقینا ایک سرد لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی ہو گئی ۔۔۔میں نے اس کے اور رکھی ہوئی اپنی ٹانگ پر زور دیتے ہوئے ٹوپے پر زور دیا۔۔۔زور بلا کا تھا ۔۔۔۔ٹوپا پچک کی آواز کے ساتھ ہی اندر جا کر پھنسا تھا ۔۔۔۔۔سعدیہ کی ایک بلند چیخ نکلی ۔۔۔اوئی ۔۔۔امی۔۔۔۔مر گئی ۔۔۔۔۔۔۔وہ نیچے بے تحاشہ تڑپی تھی ۔۔۔۔۔آگے کو نکلنے کی کوشش تھی ۔۔۔مگر میں نے پورا وزن اس پر ڈال دیا ۔۔۔۔۔اس کا چہرہ لال ہو چکا تھا ۔۔۔اور چیخیں ابھی تک جاری تھی ۔۔۔۔۔اس نے دونوں پیچھے لے جا کر گانڈ کو تھامنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔مگرمیں نے اس کے ہاتھ بھی قابو کئے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔راجہ یہ کیا ہے ۔۔۔وہ رو رہی تھی ۔۔۔نکالواسے ۔۔۔۔۔میں نے کبھی نہیں کیا یہاں پر ۔۔۔سعدیہ کی گانڈ کے چھید نے ٹوپے کو ٹائٹ پکڑا ہوا تھا ۔۔۔۔اور اتنی آسانی سے چھوڑنے کا ارادہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔میں نے سعدیہ کو مموں کو بے رحمی سے نوچنا شروع کیا ۔۔تاکہ دھیان بٹے ۔۔۔مگر وہ اب بھی چیخے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ساتھ ساتھ بے تحاشہ چومے جا رہاتھا ۔۔۔۔3 ، 4 منٹ کے بعد اس کی چیخیں کچھ تھمی تھی ۔۔۔۔میرا نچلا حصہ ساکت ہی تھا۔۔۔۔۔اس کی گانڈ کی گرمی مجھے اچھے سے محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔اور سختی نے ٹوپے کو جکڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔وہ ابھی بھی اوئی ۔۔۔ہائے ۔۔۔۔۔۔مچائے ہوئے تھی ۔۔۔۔۔میں نے کچھ دیرانتظار کیا تھا ۔۔اور اب تھوڑا سا آگے کو ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔اس کی گانڈ اور زیادہ چِری تھی ۔۔۔اس کی پھر چیخ نکلی ۔۔۔۔اف ۔۔۔راجہ ۔۔۔نکالو اسے ۔۔۔بہت درد ہے ۔۔۔۔اف۔۔۔۔ہائے ۔۔۔ میرا فلحال ایسا کچھ ارادہ نہیں تھا ۔۔۔میں نے کروٹ تھوڑی اور لے کر کچھ انچ اندر اور کر دیا ۔۔۔۔وہ پھر سے تڑپی ۔۔۔۔میں اس کے ہونٹ جکڑ کے تھوک اندر پھینکے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
اس کی بے قراری کم ہونے میں نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔۔میں کچھ دیر اور ایسے ہی ساکت رہ کر اسے چومتا رہا ۔۔۔اس کےمموں کو بھنبوڑتا رہا ۔۔۔وہ بھی ہائے ۔۔۔۔ہائے کرتی رہی ۔۔۔۔اس کا چھید کھل بند ہوتا مجھے محسوس ہو رہا تھا ۔۔کچھ دیر بعد میں پھر ہتھیار کو آہستہ سے ہلانے لگا ۔۔۔ابھی آگے جانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔وہ بھی اف۔۔۔۔افف۔۔۔۔ہائے ۔۔۔۔۔کرتی رہی ۔۔۔وہ کافی برداشت کر چکی تھی ۔۔میں نے بازؤں پر دباؤ ختم کر کے وہ ہاتھ نیچے لے آیا اور آگے سے اس کی ٹانگوں میں ہاتھ بڑھا دیا ۔۔۔۔اس کی چوت کے اوپر درمیانی انگلی مسلتے ہوئے اندر داخل کر دی ۔۔۔۔اس کی سسکی نکلی ۔۔۔پیچھے سے ہتھیار اور آگے سے ہاتھ ۔۔۔۔میں کمر کو مستقل ہلائے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد مجھے لگا کہ اسے درد کم ہو گیا ہے ۔۔اس کی چیخیں اور کھلا ہوا منہ بند ہوا تھا ۔۔اس نے پیچھے کو مڑتے ہوئے کچھ رسپانس دیا تھا ۔۔۔۔۔یہ دیکھ کر میری ہمت بڑھی ۔۔۔میں نے اس کے پیٹ کو قابو کئے ہوئے ہاتھ کو کھینچا۔۔۔اور سعدیہ کو الٹا کر دیا ۔۔۔۔وہ بھی کروٹ لے کر الٹی ہوئی ۔۔۔۔۔میں اس کے ساتھ ہی تھا ۔۔۔ہتھیار اب تک اندر ہی تھا ۔۔۔وہ اب الٹی لیٹی تھی ۔۔۔۔اورپیچھے میں گھٹنے کے بل بستر پر کہنی جمائے اس کے پیچھے تھے ۔۔۔میں نے حرکت بڑھاتے ہوئے ہلنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔نیچے سے اسکی آوازیں نکلی رہی تھیں۔۔۔۔ہائے ۔۔۔۔اف۔۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔میں اب آہستہ سے اور زیادہ لیٹتا جا رہا ہے ۔۔جس کے ساتھ ہتھیار اور زیادہ اندر تک مار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔سعدیہ کی سسکیاں کم ہورہی تھی ۔۔۔۔اسے درد کی شدت کا اندازہ ہو چلا تھا ۔۔۔۔اور وہ خود کو سمبھالنے میں لگی تھی ۔۔میں ابھی تک آرام سے ہی کر رہا تھا ۔۔اب اس کی نچلی کمر پر ہاتھ جما کر اوپر صحیح سے بیٹھ گیا ۔۔۔اور سواری شروع کر دی ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی اسکی ہائے ۔۔۔۔ہائے ۔۔۔۔بھی بلند ہو گئیں ۔۔۔میرے جھٹکے بڑھتے جا رہے تھے ۔۔۔۔میرے چھوٹنے کا ٹائم بھی قریب تھا ۔۔۔۔میں نے اسپیڈ بڑھا دی۔۔۔اب سعدیہ کی سسکیوں اور آہوں کے ساتھ بیڈ کی چوں ۔۔۔چوں ۔۔۔۔بھی شامل ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔سعدیہ کی گول گانڈ پر میں ہاتھ رکھے اس تھوڑا پھیلائے ہوئے تھے ۔۔۔۔اوردھکے پر دھکے دئے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد اسپیڈ اور بڑھا دی ۔۔۔۔۔۔سعدیہ کی آہیں اور بلند ہونے لگیں ۔۔۔۔۔۔آئی ۔۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔اف۔۔۔۔ہائے ۔۔۔۔۔میرا ٹائم قریب تھا ۔۔۔میں نے بھی آخری کے جھٹکے ٹوپا باہر کھینچ کر مارے تھے ۔۔۔۔ٹوپا باہر کھینچتا اور آدھے تک دوبارہ اندر گھساتا ۔۔۔پھر باہر کھینچ کر دوبارہ اندر ۔۔۔۔۔۔۔ دو چار منٹ ایسے گذرے تھے کہ میرے پانی نکلنے والا ہوا ۔۔۔۔۔ایک فوارہ تھا ۔۔۔جوسیلاب کی طرح بہا ۔۔۔۔میں سعدیہ کے اوپر لیٹ چکا تھا اور اندر ہی فارغ ہو رہا تھا ۔۔کچھ دیر ایسے ہی لیٹا رہا ۔۔۔پھر کروٹ بدل کر ساتھ گرا ۔۔۔سعدیہ بھی سیدھی ہوئی ۔۔۔۔کچھ دیر تک گانڈ کو سہلاتی رہی ۔۔۔۔۔اور پھر مجھ پر کود پڑ ی ۔۔۔۔میرے اوپر بیٹھی ۔۔۔وہ سینے پر پنچ مار رہی تھی ۔۔۔۔بتا کر نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔۔آرام سے نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔میں نے اس کے ہاتھوں کو سمبھالتے ہوئے اس پکڑا اور خود سے چمٹا لیا۔۔۔۔۔۔ہم کچھ دیر ایسے ہی لیٹے رہے ۔۔۔۔۔اور بھی دوبارہ اٹھ کر نہانے چلے گئے ۔۔۔فریش ہو کر واپس آئے ۔۔۔۔تیار ہونے لگے ۔۔۔۔۔۔اتنی میں سعدیہ کا فون بجا تھا ۔۔۔ان کےایگزیبشن ڈائریکڑ کا فون تھا ۔سعدیہ نے جلدی آنے کا کہ کر فون بند کیا تھا ۔۔۔میں نے پوچھا تو اس نے مختصر تعارف بتا یا کہ آرمی نے ایک نیو لیڈیز وینگ بنایا ہے ۔۔جو اسپیشل سروس گروپ کی ایک ذیل شاخ ہے اور سعدیہ کو اس گروپ کی چیف بنایا گیا ۔۔۔وہ پہلے سے ہی کافی تمغے جیت چکی تھی ۔۔۔تو پھر وہ ہمارے گاؤں میں کیا کرنے آئی ہوئی تھی ۔۔۔۔آئی تو میں کسی اور کام سے تھی ۔۔مگر مجھے کور کے لئے کوئی جاب کرنی تھی ۔۔۔اس لئے میں نے تمہارے دوست کی وہ آفر قبول کر لی۔۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔اور آج کیا ہے ۔۔۔۔۔۔سعدیہ نے جواب دیا :آج دفائی ایگزیبیشن ہے جس میں لیڈیز ونگ کی پہلی مرتبہ پریڈ ہے ۔۔اور اسے ہی گروپ کو لیڈ کرنا ہے ۔۔۔۔سعدیہ نے مجھے سارا پروگرام بتا دیا تھا ۔۔۔ہم جلدی سے تیار ہو کر نکلے ۔۔سعدیہ کے پاس نیو ماڈل کی کار تھی ۔۔۔۔اور اسے وہی لے کر جانی تھی ۔۔میں نے اپنی کار وہیں چھوڑ کر اس کی گاڑی لے لی ۔۔۔پہلے ایک ہوٹل میں جا کر ہم نے کھانا کھایا ۔۔۔سعدیہ نے کہا کہ تم مجھے کینٹ کی طرف چھوڑ دو ۔۔اور شام کو 6 بجے تک ملو ۔۔میں اس سے پہلے ہی فارغ ہو چکی ہوں گی ۔۔۔میں نے کہا ٹھیک ہے ۔۔۔
اسے کینٹ پر ڈراپ کر کے میں ابا جان کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔وہ بھی مجھے شہر میں دیکھ کر حیران تھے ۔۔۔کچھ دیر ان سے بات چیت کرتا رہا ۔۔۔۔۔ان کا خیال تھا کہ نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر شہر آنا کیسے ممکن ہے ۔۔۔میں نے بتایا کہ انہی کے کام سے آیا ہوں ۔۔۔۔۔کچھ دیر انہیں کے ساتھ ٹائم گزارا ۔۔۔۔۔پھر کار میں بیٹھ کر کالج کے دوستوں کی طرف آیا ۔۔۔۔ان کے ساتھ ہنسی مذاق کر کے واپس کار میں وقار کی طرف چل پڑا ۔۔وقار نے پیمنٹ کر دی تھی ۔۔۔اور اب وہ فری تھا۔۔۔۔۔کچھ دیر بات چیت کی ۔۔۔ساڑھے پانچ کا ٹائم ہو چلا تھا ۔۔۔۔ہوٹل سے فاصلہ دس منٹ کا تھا ۔۔۔میں نے کار نکالی اور قریبی شاپنگ سینٹر جا پہنچا ۔۔۔سعدیہ کے لئے ایک خوبصورت ہار خریدا اور پھر خوشی خوشی کینٹ کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔ میں نے بیرئیر کراس کئے اور کینٹ کی پارکنگ میں گاڑی گھماتا گیا ۔۔۔۔گاڑی پر خصوصی اسٹیکر تھا ۔۔۔۔۔اس لئے زیادہ پوچھ گچھ نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ابھی میں پارکنگ میں گاڑی لگا ہی رہا تھا ۔۔۔کہ ایک لڑکی گھبرائی ہوئی گاڑی کے سامنے آئی تھی ۔۔میں نے بریک پر دباؤ بڑھا دیا ۔۔۔۔ٹائر چرچرائے تھے ۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی لڑکی سائیڈ ونڈو پر آ کر بولی ۔۔آئی نیڈ یور ارجنٹ ہیلپ ۔۔۔پلیز ۔۔۔۔۔ساتھ ہی گیٹ کھول کر بیٹھی اور کہنے لگی کہ پلیز چلیں یہاں سے ۔۔۔۔۔۔وہ واقعی کافی گھبراہٹ میں تھی ۔۔۔۔میں نے کچھ سوچا اور گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔۔۔۔مین روڈ پر کچھ آگے ہی گیا تھا کہ پیچھے سے دھماکے کی آواز آئی ۔۔۔۔۔شدت اتنی زیادہ تھی بھاری بھرکم گاڑی بھی ڈگمگا گئی تھی ۔۔۔میں نے بریک پر پاؤں رکھا۔۔۔اس لڑکی نے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا تھا ۔۔جہاں آگ کے شعلے اٹھ رہے تھے ۔۔۔۔اس کی گھبراہٹ کچھ کم ہوئی تھی ۔۔۔۔اس نے مجھےکہا کہ آپ مجھے ائر پورٹ کے پاس چھوڑ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔میں نے کوئی جواب نہیں دیااور جوابی پوچھا ۔۔۔۔آپ نے اب تک اپنا نام نہیں بتا یا ۔۔۔؟ لڑکی نے مجھے چونک کر دیکھا اور کہا میرانا م کرن ہے ۔۔۔میں اندر کینٹ میں کام کرتی ہوں۔۔۔کچھ لوگ میری پیچھے لگے ہوئے تھے ۔۔۔۔میں بغور لڑکی کا جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔وہ اپنی عمر سے کم دکھ رہی تھی ۔۔۔کم ازکم تیس سال عمر تھی ۔۔مگر 25 سے زیاہ نہیں لگتی تھی ۔۔۔۔آرمی انداز کے ایک ڈھیل ڈھالی شرٹ پہنی تھی ۔۔اور ساتھ ہی اسی کے حساب کا ٹراؤزر ۔۔۔۔۔اس کے شوز مجھے حیران کر رہے تھے ۔۔یہ فل بوٹ تھے جس کے اندر اس کے ٹراؤزر پھنسے ہوئے ۔۔۔یہ شوز اکثر ایکشن کے دوران یوز کیے جاتے تھے ۔۔۔۔۔نارمل استعمال میں نہیں تھے ۔۔۔۔لڑکی بار بار پیچھے کو مڑ کر دیکھ رہی تھی ۔۔۔سائیڈ مرر بھی اس نے نا محسوس ہونے والے انداز میں موڑ دیا تھا ۔۔اب وہ بھی اس سے پیچھے دیکھ سکتی تھی ۔۔۔۔میرے ذہن میں اس کا لہجہ کِلک کر رہا تھا ۔۔اس کی اردو کچھ صاف نہیں تھی ۔۔۔۔مجھے خود پر دیکھتے ہوئے بولی کہ سامنے دیکھ کر گاڑی چلائی ۔۔ایکسیڈنٹ نہ کروا بیٹھیں ۔۔میں نے سرجھٹک کر گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی ۔۔۔۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں ایک سرخ اسپورٹس کار میرے پیچھے آ چکی تھی ۔۔۔اسپیڈ کافی تیز تھی ۔۔۔کرن گھبرا کر بولی کہ پلیز آپ اسپیڈ اور بڑھا دیں ۔ورنہ یہ لوگ ہم تک پہنچ جائیں گے ۔۔۔ہم یونیورسٹی روڈ پر تھے ۔۔۔میں نے اسپیڈ بڑھا ئی ۔۔اور گاڑی کو اڑانے لگا ۔۔۔۔سرخ کار کا ڈرائیور بھی مشاق تھا ۔۔۔۔ہم دونوں گاڑیاں بھگائے جا رہے تھے ۔۔۔اتنے میں میرے فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔سعدیہ کا فون تھا ۔۔۔۔۔۔۔کرن پوچھنے لگی کہ کس کا فون ہے میں نے کہا کہ میری گرل فرینڈ ہے ۔۔کال اٹینڈ کی تو اس کی گھبرائی آواز کانوں میں گونجی ۔۔راجہ کہاں ہو تم ۔۔۔۔۔میں نے بتایا کہ کچھ دور 20 منٹ تک پہنچ جاؤں گا ۔۔۔اس نے کہا کہ ابھی وہیں رہو ۔۔میں خود آ جاؤں گی ۔۔یہاں ایک بلاسٹ ہوا ہے ۔اور حملہ آور نے اسلحہ ڈپو اڑانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔کوئی لڑکی ہے شاید ۔۔۔۔بھیس بدل کر آئی تھی ۔۔ابھی تلاش جاری ہے ۔۔۔میں نے کرن کی طرف دیکھا ۔۔وہ بھی مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔میں نے اوکے کہ کر کال کاٹ دی ۔۔۔۔۔۔سرخ کار میرے کار کے اوپر آ چکی تھی ۔۔اور سائیڈ پر دبانے کی کوشش میں تھی ۔۔۔لڑکی پر تو مجھے پورا شبہ ہو گیا تھا ۔۔مگر یہ سرخ کار نہیں پتا تھا کہ انہی کے ساتھ ہیں یا قانوں کے محافظ ۔۔۔اور مجھے ان کے ساتھ دیکھ کر کیا سوچیں گے ۔۔
میں نے پہلے اس سرخ کار کو بھٹکانے کی کوشش کی ۔۔۔میراکالج قریب ہی تھا ۔۔۔میں نے اس طرف کار موڑ دی ۔۔۔وہ کافی گنجان علاقہ تھا اور صرف جاننے والا ہی ان گلیوں سے واقف تھا ۔۔۔۔۔میں کالج روڈ پر پہنچتے ہی گلیوں میں گھس گیا ۔۔۔سرخ کار بھی تیزرفتاری سے پیچھے ہی آئی تھی ۔۔۔میں نے اپنا فوکس بس سامنے رکھے اور کار بھگاتا گیا ۔۔۔دن پندرہ گلیوں میں گھومنے کے بعد میں روڈ پر نکلا اور سیدھ ائرپورٹ نکلا ۔۔۔۔اس بلا سے جان چھڑوانی تھی ۔۔۔۔۔ائرپورٹ کے قریب پہنچا تو ایک خالی گراؤنڈ کے پاس لڑکی نے کہا کہ مجھے یہاں اتار دیں ۔۔۔۔میں نے گاڑی روکی ۔۔۔اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور شرٹ کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈال ایک پسٹل نکال لی ۔۔۔اور سرد آواز میں بولی کہ باہر آ جاؤ ۔۔۔۔۔اس بلا کو بھی میرے ہی پلے پڑنا تھا ۔۔۔۔کیا کرتا دروازہ کھول کر باہر نکلا ۔۔۔اس نے مجھے نشانے پر رکھا ہوا تھا اور پلک تک نہیں جھپک رہی تھی ۔۔۔مجھے سب سمجھ آ چکا تھا ۔یہ لڑکی دہشت گردوں کے گروہ سے تھی ۔۔۔۔۔بس اب صورت حال سے نمٹنا باقی تھا ۔۔۔۔۔میرے ہاتھ اٹھوا کر وہ میرے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔۔اس کا ہاتھ دوبارہ شرٹ کی جیب میں گیا تھا ۔۔۔اور اب کی بار سائلنسر نکلا تھا ۔۔۔وہ میری طرف نظریں گاڑے سائلنسر کی چوڑی چڑھا رہی تھی ۔۔۔۔فاصلہ اس نے پہلے ہی محفوظ رکھا ۔۔۔کسی بھی قسم کی ہوشیاری میں میں نے جان سے جانا تھا ۔۔۔۔۔لڑکی سانولی سلونی تھی ۔۔اور پر کشش بھی تھی ۔۔۔مگر یہ وقت عشق بگھارنے کا نہیں تھا ۔۔۔ اس کی آنکھیں فیصلہ کر چکیں تھی ۔۔۔اس نے پسٹل تان کر ٹرائگر دبا دیا ۔۔میں مستقل اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔اس کی چمک نے مجھے بتا دیا تھا ۔۔۔فائر ہونے سے ایک لمحہ پہلے میرا اوپری حصہ پیچھے زمین کی طرف گیا تھا ۔۔۔میں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر ٹیکے تھے اور ساتھ ہی اپنی ٹانگیں ہوا میں اچھالی تھی ۔۔۔یہ بیک جمپ کی سلو موشن تھی ۔۔۔۔اور ٹارگٹ کرن کا ہاتھ تھا ۔۔۔میرے دونوں پیر اس کے ہاتھوں سے ٹکرائے تھے ۔۔اور پسٹل ہوا میں لہرائی تھی ۔۔۔۔۔میرے لئے اتنا ٹائم کافی تھا ۔۔۔۔۔پیر زمین پر واپس آتے ہی میں آگے کو لپکا تھا اور کرن کے سامنے مخصوص فاصلہ پر جا پہنچا تھا ۔۔اب اسے پسٹل تک پہنچنے سے پہلے مجھے گرانا تھا ۔۔۔۔پیچھے سے گاڑی کی ایک آواز آئی تھی ۔۔۔کرن نے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا کہ کھیل ختم ۔۔۔میں پیچھے مڑا تھا ۔۔۔جو کہ میری غلطی تھی ۔۔۔اس کی لات میری پشت پر پڑی تھی اور میں اپنی کار سے ٹکرایا تھا ۔آنکھوں کے آگے تارے ناچ گئے ۔۔سمبھل کر پلٹا تووہ دوسرے وار کے لئے لپک رہی تھی ۔۔چہرے پر پڑنے والے اس پنچ کو میں نے بلاک کیا تھا ۔۔۔۔اور فرنٹ کک سے اسے دور دھکیل دیا ۔۔۔اس کی ساری معصومیت ختم ہو چکی تھی ۔۔اب وہ لڑاکی بلی کی طرح مرنے مارنے پر آگئی تھی ۔۔۔۔اور یہ لڑائی کسی کی جان لئے بغیر ختم ہونے والی نہیں تھی ۔۔وہ اپنے پیچھے ثبوت کے طور پر مجھے چھوڑنے والی نہیں تھی ۔۔۔۔۔دوسر ی کار ابھی تک وہیں کھڑی تھی ۔۔۔کوئی باہر نہیں آیا تھا ۔۔۔۔کرن دوبارہ سے حملہ آور ہوئی تھی ۔۔۔رائٹ سائیڈ پر کک کا جھانسا دے کر وہ میری بائیں سائیڈ پر آئی تھی ۔۔۔۔میں نے بھی اپنی کہنی گھمادی ۔۔وہ میرے قریب آ کر گردن پکڑنا چاہ رہی تھی ۔۔۔کہنی اس کے سر پر لگی تھی ۔۔۔۔میرا بازو بھی جھنجنا اٹھا تھا ۔۔۔۔وہ کچھ دیر غصے میں گھورتی رہی اور پھر میری طرف لپکی تھی ۔۔۔اب کی بار میں نے سائیڈ پر ہو کر بائیں کک گھمائی تھی ۔۔۔جو اس کے سر پر پڑی تھی اور اسے بھی پیچھے الٹا چکی تھی ۔۔۔۔یہ کک بھی اسے سر پر ہی پڑی تھی ۔۔۔بس اب فائنل ٹچ باقی تھا۔۔وہ شروع میں مجھے عام لڑکا سمجھ رہی تھی ۔۔۔مگر اب اس کی خود جان پر بنی ہوئی تھی ۔۔وہ دوبارہ اٹھی اور دونوں پیروں پر جمپ کرتی ہوئی سامنے آئی تھی ۔۔۔قریب آ کر پیچھے مڑی اور اپنی ٹانگ کو دائر ے کی شکل میں گھمایا ۔۔۔یہ لات میری پسلیوں میں پڑنے والی تھی ۔۔اور بلاک بہت ہی مشکل تھا ۔۔میں نے خود کو پیچھا اچھال کر اس کی ذد سے بچایا تھا ۔۔اور اب اسی اس اسپیڈ سے اس پر جھپٹا تھا ۔۔وہ مڑ کر سیدھی ہوتی ۔۔۔میں بیک سائیڈ سے گردن پر لاک لگا چکا تھا ۔۔۔اور ساتھ ہی اس کے ساتھ نیچے بیٹھتا چلا گیا ۔۔سعدیہ کے ساتھ کی گئی پریکٹس میرے کام آئی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرن کی سانسیں اب رکنے لگیں ۔۔۔وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا چکی تھی ۔۔۔اور پھر کچھ سیکنڈ میں ہی بے ہوش ہو گئی ۔۔۔۔۔میں نے کچھ دیر اور اپنا اطمینان کیا اور پھر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔میرا سر بھی گھوم رہا تھا ۔۔۔۔۔کپڑے مٹی میں بھرے ہوئے تھے ۔۔میں نے کپڑے جھاڑے ۔۔۔۔سامنے وہی سرخ اسپورٹس کار تھی ۔۔۔دروازہ اب تک بند تھا ۔۔مگر اندر جو بھی تھا اس نے میری ساری کارستانی دیکھی تھی ۔۔۔۔۔میں اپنی کار کے قریب بڑھا ۔۔۔۔۔مگر چکر آ رہا تھا ۔۔۔میں کار کے بونٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھتا چلا گیا ۔۔۔۔آنکھوں کے آگے اب بھی تارے ناچ رہے تھے ۔۔۔۔۔اتنے میں میں نے سرخ کار کا دروازہ کھلنے کی آواز سنی ۔۔۔۔۔چندھیائی ہوئی آنکھوں سے دیکھنے لگا ۔۔ایک معصوم سے چہرے والا نوجوان میرے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔ٹانگیں اچھی مار لیتے ہو کہاں سے سیکھی ہے ۔۔۔۔میں حیرت سے نظریں اٹھائیں ۔۔۔۔اس کی مسکراتی ہوئی آواز دوبارہ گونجی ۔۔۔۔۔۔
مجھے علی عمران ڈی ایچ ایم ایس سی(آکسن) کہتے ہیں ۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

قسط نمبر 6 ۔۔
میں آواز سن کر چونکا تھا ۔۔۔اس سے پہلے صر ف نام ہی سنا تھا اور اب وہ معروف شخصیت میرے سامنے تھی۔۔۔عمران نے ہاتھ بڑھایا اور پوچھا کہ چل سکتے ہو ۔۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔۔۔۔عمران نے کرن کو اٹھا کر اپنی کار میں ڈالا اورکہا کہ میرے پیچھے آؤ ۔۔۔۔اسپورٹس کار روانہ ہوئی اور میں بھی پیچھے اپنی کار میں چل پڑا ۔۔۔۔۔ہمارا سفر ایک دیو ہیکل عمارت کے سامنے ختم ہوا تھا ۔۔جس پر رانا تہور علی صندوقچی کی نیم پلیٹ لگی ہوئی تھی ۔۔۔عمران کی کار کا ہارن گونجا تھا ۔۔۔اور بڑا سا گیٹ کھلتا چلا گیا ۔۔۔۔اسپورٹس کار کے ساتھ اپنی کار لگا کر میں بھی اتر گیا ۔۔سامنے ہی حیرت کا دوسرا منظرمیرے سامنے تھا ۔۔۔ایک قد آور حبشی دونوں سائیڈ پربھاری بھرکم ریوالور لٹکائے عمران کے سامنےمؤدب آن کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔جوزف ۔۔یہ کار میں سے لڑکی کو لے جا کر روم میں بند کر دو ۔۔۔اس سے پوچھ گچھ کر نی ہے ۔۔۔جوزف نے پیچھے کارسے کرن کو کسی کاغذ کی گڑیا کی طرح اٹھایا اور اندر بڑھتا گیا ۔۔۔عمران میری طرف مڑا ۔۔۔آؤ لڑکے اندر چلیں ۔۔۔عمارت اندر سے بھی اتنی ہی خوبصورت اور کلاسک تھی ۔۔ہم اندر ایک کمرے میں پہنچے جہاں صوفے بچھے ہوئے ۔۔۔عمران نے بیٹھنے کا اشارہ کر کے خود سامنے بیٹھا گیا ۔۔۔ہاں تو شروع ہو جاؤ اپنے نام سے ۔۔۔میں نے اپنا نام بتا کر آگے کی کہانی سنا دی کہ کیسے میری دوست اسپیشل سروس گروپ میں تھی ۔۔۔اور اسے لینے گیا تھا کہ اس کرن سے واستہ پڑ گیا ۔۔عمران کی نگاہیں مجھے پر جمی ہوئی تھی ،وہ بغور میری بات سن رہا تھا ۔۔۔میں نے بات مکمل کی تو عمران نے بتایا کہ وہ بھی اسی دعوت میں شریک تھا ۔۔اس لڑکی کی حرکات مشکوک تھیں ، اس لئے اسں نے پیچھا شروع کیا ۔۔اتنے میں کمرے میں ایک اور حبشی داخل ہوا جو پہلے والے سے بھی ڈیڑھ گنا تھا ۔۔۔آ کر اس نے عمران کو سلام کیا اور ساتھ کھڑا ہو گیا ۔۔۔عمران نے مجھے بتایا کہ یہ جوانا ہے ۔۔اتنے میں عمران کے فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔عمران نے فون کان سے لگایا توآرمی بیس سے کسی کا فون تھا ۔۔۔عمران جیسے جیسے فون سنتا جا رہا تھا ۔اس کاچہرہ سرخ ہوتا جا رہا تھا ۔۔کچھ دیر بعد اس نے فون بند کر دیا اور میری طرف دیکھا ۔۔۔بلاسٹ میں اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنا یا گیااور ہمارے تین قیمتی جوان شہید اور 7 زخمی ہوئے ہیں ۔۔۔۔عمران نے جوزف کی طرف دیکھا اور کہا کہ اس لڑکی سے پوچھ گچھ کر کے مجھے فون کرنا ۔۔میں دانش منزل جا رہا ہوں ۔۔۔اس کیس پر مزید غور کرنا ہوگا ۔۔۔عمران اٹھنے لگا تو میں بھی آگے بڑھ گیا ۔۔اور کہنے لگا سرایک بات کی اجازت چاہئے ۔۔۔میں بھی اس کیس میں آپ کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں ۔۔عمران نے مجھے پھر غور سے دیکھا اور مسکرا کر کہا کہ ٹھیک ہے ۔۔ تم یہیں رہو میں تمہیں کانٹیکٹ کروںگا ۔۔اگر جانا چاہو تو نمبر جوزف کو دے جانا ۔۔میرے چہرے پر خوشی کے اثرات تھے ۔۔عمران میرے کندھے پر تھپکی دے کر آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
میں صوفے پر بیٹھ کر سوچنے لگا ۔۔۔اتنے میں سعدیہ کی کال آئی ، اسے میں نے اب تک کچھ نہیں بتایا تھا ۔۔بس اتنا کہا کہ وہ گھر چلی جائے میں رات کو آؤں گا ۔۔۔۔جوزف کمرے میں آیا تھااور کہنے لگا عمران صاحب نے کہا ہے کہ تمہیں ہر وقت ساتھ رکھوں ۔۔چلو ٹارچر روم میں اس لڑکی سے پوچھ گچھ کرتے ہیں ۔۔۔میں جوزف کے پیچھے چل پڑا اور جلد ہی کمرے کے اندر کا منظر میرے سامنے تھا ۔۔۔۔کرن کو ایک کرسی پر باندھا گیا تھا ۔۔وہ ہوش میں آچکی تھی ۔۔۔اور اپنے پیروں کو چھڑوانے کی کوشش میں تھی ۔۔۔جوزف ایک سائیڈ سے ٹارچر کے مختلف آلات لے کر اس کے سامنے ٹیبل پر رکھے اور پاس رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔میں بھی اس کے قریب جا کھڑا ہوا ۔۔کرن نے نفرت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھا اور پھر جوزف کو ۔۔۔اس کی نگاہوں میں حیرانگی تھی ۔۔پاکیشیا کے اس شہر میں ایک حبشی کے سامنے بندھا دیکھ کر اسے حیرت ہی ہونی تھی ۔جوز ف نے کہا کہ چلواگر خود سے تھوڑی بھی محبت ہے اور کاٹنے پیٹنے سے بچانا چاہتی ہو تو شروع ہو جاؤ ۔۔ہمارا باس راجہ تشدد کا ماہر ہے ، یہ شروع ہو گیا تو پھر تمہاری جلد، ہڈیاں ، اور جسم کا کوئی حصہ سالم نہیں بچے گا ۔۔۔پہلے تو میں حیران ہوا ۔۔پھر چہرے پر غصے اور خوفناک تاثرات لا کر آگے آ گیا ۔۔۔میں نے جاتے ہیں ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا تھا ۔۔۔عورت پر ہاتھ اٹھانا بہت مشکل تھا مگر وہ ملک دشمن تھی ، ہمارے محافظو ں کی قاتل بھی تھی ۔۔۔۔اور ساتھ ہی بال کھینچ کر جھٹکا دیا ۔۔۔۔جلدی سے منہ کھولو۔۔ورنہ ایک ایک کر پورے ناخن اکھاڑوں گا ۔۔یہ بازو توڑ کر۔اورر یہ آنکھیں نکال کر پاکیشیا کی گلیوں میں بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ دیا جائے گا۔۔۔۔کرن میری طرف دیکھ رہی تھی کہ بال چھوڑتے ہوئے کرسی پر ایک لات رسید کردی۔۔۔کرسی پیچھے کو گری تھی ۔۔۔۔۔۔جوزف آگے بڑھا اور کہنے لگے کہ سر عورت ذات ہے ،، ہلکا ہاتھ رکھیں ۔دیکھیں کتنی معصوم ہے ۔آپ کو کوئی غلط شک نہ ہوا ہو۔۔میں جوزف کی ٹیکنک سمجھ گیا تھا ۔دھاڑ کر بولا کہ مجھے کوئی شک نہیں ، یقین ہے ۔۔۔یہ کافرستانی ایجنٹ ہے ۔۔۔میں نے سامنے ٹیبل پر ایک اور لات ماری کہا کہ آدھے گھنٹے کا ٹائم ہے ۔۔میں دوبارہ آتا ہوں ۔۔۔۔یہ کہ کر باہر چلا آیا ۔۔۔جوزف میرے پیچھے آیا اور پانی کا گلا س لے کر واپس چلا گیا ۔۔۔۔وہ نرمی سے اسے رام کر رہا تھا ۔۔۔جو بھی تھا ہمارے لئے تو بہتر ہی تھا ۔۔۔جوزف کچھ دیر بعد واپس آیا اور ہنستے ہوئے کہا کہ بڑی مشکل سے اسے سمجھایا ہے کہ میں یہاں ملازم ہوں ۔۔اگر وہ ان کی بات مانی گی تو ٹھیک ہے ورنہ یہ بہت ظالم لوگ ہیں ۔۔وہ خود بھی پاکیشیا سیکرٹ سروس سے واقف تھی ۔۔۔کچھ دیر بعد قید خانے سے لڑکی کی چیخنے کی آواز آئی تو جوزف وہاں جانے لگا ۔۔میں بھی پیچھے جا کر دروازے پر رک گیا ۔۔۔کرن نے جوزف کو اپنا ہمدرد سمجھ لیا تھااور اب مختلف حیلے بہانوں سے اس کو راغب کرنے میں تھی ۔۔جوزف بھی زبردست ایکٹنگ کر رہا تھا ۔۔۔کرن نے اسے کہا کہ وہ اس جہاں میں اکیلی ہے اور اس کا کوئی رشتے دار نہیں ہے ، بس آرمی بیس میں جاب کی تلاش میں گئی تھی کہ راجہ نے اسے شک میں گرفتار کر لیا ۔۔جوزف اس کی بات پر سر ہلاتا جا رہا تھا ۔۔اور کچھ دیر بعد اس کی ہاں میں ہاں ملاتا گیا ۔۔۔کرن اپنے خیال میں اسے شیشے میں اتار چکی تھی ۔۔۔۔ساتھ ہی وہ اپنے نسوانی خطوط کو واضح کر رہی تھی ۔۔۔جوزف نے کہا کہ رات کو باس سو جاتے ہیں تو وہ واپس آ کر اسے چھڑواتا ہے ۔۔بعد میں وہ یہی کہے گا کہ اسے کچھ پتا نہیں ۔۔کرن اس پر ریشہ خطمی ہوئی جا رہی تھی اور جوزف بھی بھرپور ایکٹنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔جوزف باہر آیا اور مجھے دیکھ کر مسکرانے لگا ۔۔۔ہم کمرے میں آ کر بیٹھ گئے تھے ۔۔عمران کا فون آ گیا تھا ۔۔۔۔۔جوزف نے اپنا پلان عمران کو بتا دیا ۔۔۔۔عمران نے اسے کرن کی تصویر ٹائیگر کو بھیجنے کا کہاکہ وہ زیر زمین دنیا میں اس کے باقی دوستوں کا پتا چلائے گا۔۔۔۔رات شروع ہوچکی تھی ۔۔۔کھانا میں نے جوزف اور جوانا کے ساتھ ہی کھایا تھا ۔ساتھ ان کی نوک جھونک کو بھی انجوائے کیا۔ان کے کھانے بھی انہی کی طرح بے تحاشہ تھے ۔۔اس کے بعد جوانا باہر پہرے پر چلا گیا اور جوزف نے مجھے اشارہ کیا کہ چلو ٹارچر روم کی طرف چلتے ہیں۔۔۔جوزف نے مجھے ایک طرف سرویلنس روم میں جا کر بٹھایا ،جہاں سے پورے رانا ہاؤس دیکھا جا سکتا تھا ۔۔ایک مانیٹر اسکریں پر قید خانے کا منظر بھی تھا ۔۔کرن بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی ۔۔۔اس کے بعد جوز ف قید خانے کی طرف چلا گیا ۔۔۔ایک طرف ہیڈ فون رکھے ہوئے تھے ، میں نے وہ کان سے منسلک کر دئے ۔۔۔۔پہلی آواز دروازہ کھلنے کی ہی آئی تھی ۔۔کرن نے چونک کر دروازے کو دیکھا تھا اور جوزف کو دیکھ کر اس کے چہرے پر اطمینان کے تاثرات آ گئے ۔۔۔۔۔جوزف اس کے سامنے ٹیبل سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا ۔۔اور کہنے لگا کہ ہمیں دو گھنٹے تک انتظار کرنا ہو گا تا کہ باس سو جائے ۔۔۔۔کرن نے چہرے پر بے چارگی لاتے ہوئے کہا اچھا پلیز مجھے کھول دو ۔۔۔میرے ہاتھ پاؤں درد کر رہے ہیں ۔۔کچھ دیر میں تم سے باتیں کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔تم مجھے بہت اچھے لگ رہے ہو۔۔۔۔میں بھی سمجھ گیا تھا کہ کرن کے ارادے کس طرف جا رہے ہیں ۔۔۔جوزف نے آگے بڑھ کر اس کی رسیاں کھول دیں ۔۔۔کرن اٹھی اور اپنے ہاتھ پاؤں ملنے لگی ۔۔۔۔پھر جوزف کے سامنے آ گئی ۔۔۔۔۔کرن جوزف کے سامنے ایک چھوٹی بچی لگی رہی تھی ۔۔۔۔کرن نے جوزف کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے شکریہ ادا کرنے کی کوشش کی ۔۔۔کرن کے دونوں ہاتھوں میں جوزف کا ایک ہاتھ آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔جوزف خاموش کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔کرن مستقل اپنی لوچ دار آواز کے ساتھ اسے اپیل کر رہی تھی ۔۔۔۔ساتھ ہی اس کے بڑے جسم کی تعریف کرتے کر رہی تھی ۔۔۔۔۔مگر دو گھنٹے گزارنے تھے اور کرن کے پاس کرنے کا صرف ایک ہی کام تھا ۔۔۔۔اور کرن اسی کام کی طرف آئی تھی ۔۔۔وہ جوزف کے ہاتھوں کو چومتی ہوئی اس سے لپٹ چکی تھی ۔۔۔۔اور شکریہ ادا کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔۔۔جوزف بھی شاید تذبذب کا شکار تھا ۔۔۔اس نے کرن کو اٹھا کر ٹیبل پر کھڑا کردیا۔۔۔۔کرن نے گھٹنے کے بل بیٹھ کر جوزف کے سامنے آگئی تھی ۔۔۔اور جوزف کے گالوں کو چومنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔کرن سانولی رنگت میں ایک دلکش لڑکی تھی ۔۔۔بھرے گالوں کے ساتھ پتلے نقوش تھے ۔۔۔۔سیاہ موٹی موٹی آنکھیں ۔۔گھنی پلکیں اور لمبی ناک تھی ۔۔۔ٹھوڑی پر بنتا ہوا ڈمپل اسے مزید خوبصورت کرتا تھا ۔۔لمبے بال تھے ۔۔۔سینے پر بڑے سے ابھار ، پتلی کمر اور بھری ہوئے چوتڑ اسے لاکھوں میں ایک بنا رہے تھے ۔۔شاید اسی خوبصورتی کی وجہ سے اسے ایجنسی میں شامل کیا گیا ۔۔۔اور وہ اسی کو کام میں لا کر جوزف کو اپنے خیال میں دھوکہ دینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔کچھ دیر وہ جوزف کے گالوں کو چومتی ہوئی اسے اپنی بے لوث محبت کا یقین دلاتی رہی اور جوزف نے بھی دل میں کچھ ارادہ کر لیا تھا ۔۔۔اس نے اپنے بھاری بھرکم ہاتھوں کو اٹھایا اور کرن کی بیک پر رکھتے ہوئے اس کی کمر کو سہلانے لگا ۔۔۔۔کر ن کو اب یقین ہو گیا تھا کہ وہ جوزف کی ہمدردی حاصل کر چکی تھی ۔۔۔۔کرن اب اور زیادہ گرم جوشی سے جوزف سے لپٹی تھی ۔۔۔اس کے چہرے کو چومنے لگی ۔۔جوزف کا ہاتھ اب کچھ نیچے ہو کر کرن کے بھرے ہوئے چوتڑ پر چلے گئے تھے ۔۔۔۔اس کے ہاتھوں میں دبے ہوئے وہ چوتڑ کسی چھوٹی ڈبل روٹی کی طرح لگ رہے تھے ۔۔۔جوزف کے ہلکے سے دباؤ نے کرن کو سسکنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔ اسکی بے اختیار سسکیاں نکلی تھیں ۔۔۔کرن نے خود ہی پہل کی تھی ۔۔اور اپنےشرٹ کے بٹن کھولنے لگی تھی ۔۔۔۔شرٹ اتار کے وہ پھر جوزف سے لپٹ گئی ۔۔جوزف اب بھی آہستگی سے اس کی کمر کو سہلا رہا تھا ۔۔۔۔۔کرن کے سانولے رنگے کے گول ، گوشت سے بھرے ممے جوزف کے سامنے تھے ۔۔۔برا میں پھنسے ہونے کے باوجود بری طریقے سے مچل رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی کرن نے ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے برا بھی کھول دی ۔۔۔۔سیاہ بڑے سے نپل کے ساتھ اس کے ممے سامنے آئے تھے ۔۔۔کرن نے آگے بڑھتے ہوئے جوزف کے سر کو خود پر جھکانا چاہا ۔۔۔۔جوزف نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔۔اور اس کے مموں کو منہ میں لینے لگا ۔۔۔کرن کی آنکھیں بند ہو چلی تھی ۔۔۔وہ منہ کھولے گہر ی سانسیں لے رہی تھی ۔۔۔۔۔جوزف باری باری دونوں مموں کو چوستا رہا ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد دونوں ممے تھوک سے گیلے ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔ساتھ ہی جوزف نے اس کے ٹراؤزر کھولتے ہوئے نیچے کھینچ لیا ۔۔۔کرن کی بالوں سے پاک سڈول اور صحت مند رانیں سامنے تھی ۔۔پیچھے کو پرفیکٹ گولائی میں چوتڑ باہر کو نکلے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔جوزف اب سامنے سے اس کے مموں کو چوس رہا تھا اور پیچھے سے چوتڑ کو دبائی جا رہا تھا ۔۔کرن کی آنکھیں بند اور آہیں نکلنے لگی تھیں ۔۔۔۔۔جوزف کے ہاتھوں کی پکڑ بہت مضبوط اور سخت تھی ۔۔۔۔کرن نے خود پر جھکے ہوئے جوزف کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے ۔۔اب اس کی شرٹ اتارنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔جوزف تھوڑا الگ ہوا اور کرن نے بٹن کھول دئے ۔۔۔۔۔ساتھ ہی شرٹ اتار دی ۔۔۔میرے منہ میں ستائش کے الفاظ نکلے ۔۔۔کیا سیاہ ٹھوس بد ن تھا ۔۔۔۔کسی چٹان کی مانند ۔۔بازو کی تڑپتی ہوئی مچھلیاں ۔۔اور مضبوط سینہ ۔کسی ریسلر کا جسم لگ رہا تھا۔۔اور کرن کو بھی اب سوچنا چاہئے تھا۔۔۔ایسا بدن کسی ملازم کا تو نہیں ہو سکتا ہے ۔۔مگر اس کا ذہن اب شاید جوزف کے زیر اثر تھا ۔۔۔وہ بے اختیار جوزف کے لپٹی اسے چومی جا رہی تھی ۔۔جوزف کے سیاہ جسم میں عجب کشش تھی ۔۔۔ کرن بھی شاید اس کے رعب میں آگئی تھی ۔۔وہ ہر طرف سے بے نیاز بس جوزف پرٹوٹ پڑی تھی ۔۔۔۔۔جوزف نے بھی اسے بانہوں میں اٹھا لیا ۔۔۔کرن اسے کے بازؤوں میں کوئی ننھی بچی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔کرن کے کپڑے اترے ہوئے تھے ۔۔اور وہ جوزف کی بانہوں میں پھنسی اسے چومے جا رہی تھی ۔۔ جوزف نے اسے ٹیبل پر لٹایا اور اس پر جھک گیا ۔۔کرن کے چہرے پر جھکے ہوئے جوزف اسے چوم رہا تھا ۔۔کرن بھی اپنی حیثیت کے مطابق ساتھ دینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔جوزف اپنا ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر پھیرتا ہوا نیچے لے گیا ۔۔۔۔۔اور اپنی ایک انگلی کرن کی چوت میں ڈالنے لگا۔۔۔انگلی چوت سے ٹچ ہوئی تھی ۔۔۔کرن نے نیچے جھانکنا چاہا ۔۔مگر انگلی اندر داخل ہو گئی تھی ۔۔۔۔کرن کی ایک چیخ نکلی تھی ۔۔۔۔اس کے چوت کے لئے جوزف کے انگلی ہی کافی تھی ۔۔۔۔۔کرن سسکتے ہوئے اسے باہر نکالنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں پانی بھر چکا تھا ۔۔جوزف نے تھوڑی انگلی آگے کو بڑھائی تھی ۔۔۔۔۔کرن اوپر کو اٹھی تھی ۔۔۔اس کی ایک چیخ اور نکلی تھی ۔۔۔۔اسے سمجھے نہیں آ رہا تھا کہ و ہ کیا کرے ۔۔۔جوزف اس کے چہرے پر جھکا اسے چومے جا رہا تھا ۔۔۔ساتھ ہی اپنی انگلی کو اندر ڈالے چوت کو رواں کر رہا تھا ۔۔۔۔ٹیبل پر لیٹی کرنے کے ممے بھی ہل جل کر رہے تھے ۔۔اور سائیڈ پر کھڑا جوزف اس کے منہ کو اپنے ہونٹوں سے بند کئے ہوئے تھے ۔۔۔۔کرن نے ساتھ کھڑے جوزف کی رانوں پر ہاتھ پھیرنے شروع کئے ۔۔۔۔جوزف بہت عرصے سے عورت سے دور تھا ۔۔اب یہ لڑکی خود اس کے پاس آئی تھی ۔۔اور راز نکالنے کے لئے یہ ضروری بھی تھا ۔۔۔۔۔جوزف کا ایک ہاتھ حرکت میں آیا اور اس کا شارٹ نیچے کھسکتا چلا گیا ۔۔۔۔نیچے اس کا بیٹھا ہو گھوڑا سامنے تھا۔۔۔بیٹھی ہوئی حالت میں بھی کرن کی کلائی کے برابر تھا ۔۔۔اور موٹائی تو بے تحاشہ تھی ۔۔۔۔۔مجھے دل ہی دل میں کرن کے لئے ترس آیا ۔۔۔ کرن نے ابھی دیکھا تھا ۔۔پہلے تو اسے سمجھ نہیں آیا کہ یہ ہے کیا چیز ۔۔۔پھر وہ چیخ مارتی ہوئی ٹیبل سے کودی تھی ۔۔۔۔مگر جوزف کی پکڑ سے کہاں جاتی ۔۔۔۔جوزف اسے اٹھاتے ہوئے دوبارہ ٹیبل پر لا یا تھا ۔۔۔۔اور کہا کہ رانی جاتی کہاں ہو ۔۔۔۔ابھی تو تمہیں مجھ سے محبت تھی ۔۔۔۔۔کرن کی بولتی بند تھی ۔۔وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس گھوڑے جیسے لنڈ کو دیکھ رہی تھی ۔۔جو بیٹھی ہوئی حالت میں تھا ۔۔۔جوزف نے کرن کا ایک ہاتھ پکڑا اور اپنے لنڈ پر رکھنے لگا۔۔۔کرن کے ہاتھ کی مٹھی برابر تو اس لنڈ کا ٹوپ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔کرن کانپتے ہوئے ہاتھوں سے لنڈ کو سہلانے لگی ۔۔۔۔۔۔لنڈ نے بھی شاید اپنے کام کے ٹائم کو سمجھ لیا تھا ۔۔۔جلد ہی اس میں حرکت شروع ہوئی ۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں ایک موٹا تازہ جاندارقسم کا راکٹ اس کے سامنے تھا ۔۔۔۔۔کرن کا منہ خشک ہو چکا تھا۔۔۔۔اس کا چہرہ رونے والا ہو چکا تھا۔۔۔۔جوزف نے اس کے منہ پکڑ کر اپنے لنڈ پر رکھا ۔۔۔۔۔اور چوسنے کا کہا ۔۔۔۔مگر اس سے یہ کہا ں ہونا تھا ۔۔۔وہ اسے اپنے دونوں ہاتھ میں تھام ہی مشکل سے رہی تھی ۔۔۔لن کھڑا ہو کر کسی اژدھے کی طرح پھنکاریں مار رہا تھا ۔۔۔۔۔جوزف نے کرن کو ٹیبل پر سیدھ کیا اور اوپر چڑھ آیا اور اس کی ٹانگوں کے پاس بیٹھتے ہوئے اس پر جھک گیا ۔۔۔۔۔۔کرن کسی دیو کے نیچے دبی ہوئی گڑیا لگ رہی تھی ۔۔۔۔اس نے پہلے ہی سے رونا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔مگر اس قید خانے میں اس کی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا ۔۔۔جوزف نے اپنا جاندار لن تھامتے ہوئے اس کی چوت کے اوپر رکھا جو کے کرن کے پیٹ سے بھی اوپر تک پہنچ رہا تھا ۔۔۔۔اور چوت میں گھسنے کے بعد کہاں تک گھسنا تھا ۔۔یہ کسے معلوم تھا ۔۔۔۔۔ کرن کے ہائے ہائے ابھی سے شروع تھی ۔۔۔مگر وہ بھاگ کر بھی کہاں جا سکتی تھی ۔۔۔اب یہ اسے برداشت کرنا ہی تھا ۔۔۔۔۔۔۔جوزف اس کے اوپر جھک گیا تھا ۔۔۔اوراس کےسینے پر ہاتھ جما دئے ۔۔۔کرن کے بڑے سے ممے بھی جوزف کے ہاتھ کے نیچے چھپے ہوئے تھے۔۔۔۔۔نیچے سے لن کرن کی چوت پر ٹکا ہوا تھا ۔۔۔۔جوزف نے ٹوپے کو چوت کےسوراخ پر رکھ کر زور دینے لگا۔۔۔۔کرن اب بغیر رکے چیخیں مار رہی تھی ۔۔۔اور جوزف کے تو کان ہی بند تھے ۔۔۔۔جوزف نے زور دیا ۔۔۔مگر چوت کا سوراخ اس حبشی لن کو لینے میں ناکا م رہا ۔۔۔۔۔جوزف نے اس کے کندھے پر ہاتھ جما کر اسے اوپر جانے سے روکا اور نیچے سے دباؤ بڑھا تا گیا ۔۔۔۔۔چوت لمحہ بہ لمحہ کھل رہی تھی ۔۔۔جوزف کے زور کے آگے پھیلتی جا رہی تھی ۔۔۔چوت کے منہ پر جوزف کا لن دبا ہوا تھا۔۔۔۔اوراندر زور مار رہا تھا ۔۔۔۔۔۔کرن کی آنکھیں باہر امڈ آئیں تھیں ۔۔۔۔اور چیخوں سے پورا قیدخانہ گونج رہا تھا ۔۔۔وہ حتی الامکاں خود کوچھڑوانے کی کوشش بھی کر رہی تھی ۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔جوزف کے لن کاموٹا ٹوپا اندر گھسا تھا ۔۔۔ساتھ ہی خون کی کی ایک بوند سی باہر کو گری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرن بلند آواز میں چلا رہی تھی ۔۔ہاے امی ۔۔۔مر گئی ۔۔۔۔کوئی بچائے مجھے ۔۔۔میں مر گئی ۔۔۔۔جوزف نے ایک نہ سنی اور زور بڑھا تا گیا ۔۔۔لن کرن کی چوت کو چیرتا ہوا اندر گھسا تھا ۔۔۔۔ہائے بھگوان میں مر گئی مجھے بچا لو ۔۔۔۔۔۔۔یہ آخری آواز تھی ۔۔۔۔اور پھر کرن بے ہوشی میں چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔جوزف نے رکنے کے بجائے دباؤ بڑھا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔اور موٹا تازہ لن اندر پھنستا پھنساتا گزرنے لگا ۔۔۔۔جوزف نے کرن کے مموں سے ہاتھ اٹھاتے ہوئے اس کی رانیں سمبھالی رہی تھی ۔۔۔خون کے قطر ے اب بھی گر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔جوزف نے لن باہر نکالنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔مگر یہ کوشش بھی زور مانگ رہی تھی ۔۔۔۔۔باہر کھینچا ہوا لن پورا خون میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔۔۔جو جوزف نے دوبارہ اندر گھسایا تھا ۔۔۔۔کرن ایک تیز چیخ کے ساتھ ہوش میں آئی تھی۔۔۔اس کے دونوں ہاتھ اپنی چوت پر لپکے تھے ۔۔۔جیسے کسی سے بچانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کے بےاختیاری چیخیں نکلی رہی تھی ۔۔۔۔اور بھگوان کے بلاوے سے ایک بات تو ثابت ہو گئی تھی کہ وہ کافرستانی ہی ہے ۔۔وہ اوپر کو اٹھنے کی کوشش میں ٹانگیں ٹیبل پر مار رہی تھی ۔۔۔۔۔مگر یہ مشکل تھا ۔۔جوزف کی پکڑ سے نکلنا ۔۔۔وہ بھگوان کو پکار رہی تھی ۔۔ہائے بھگوان مجھے بچا لو ۔۔۔۔تبھی جوزف کے منہ سے آواز نکلی تھی ۔۔۔تم کافرستان سے کب آئی ہوئی ۔۔۔۔۔۔تین سال پہلے ۔۔۔کرن کے منہ سے خود بخود آواز نکل رہی تھی ۔۔۔۔۔ساتھ ہی جوزف دوبارہ سے لن کو ہلاتا ۔۔۔۔۔کرن کی پھر چیخیں نکلیں ۔۔۔۔اور یہاں پاکیشیا میں تمہار ا مقصد کیا تھا ۔۔۔۔۔۔کرن کے منہ سے ٹوٹے پھوٹ الفاظ نکلے تھے ۔۔۔۔دفاعی اداروں کو نشانہ بنانا اور عوام کا دل فوج سے خراب کروانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جوزف نے ہتھیار پھر کھینچا اور دوبارہ اندر گھسا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔تمہارے کتنے ساتھی ہیں یہاں پر ۔۔۔۔۔۔۔کرن کی آنکھیں اوپر چڑھی ہوئی تھی ۔۔۔اس کے منہ سے الفاظ کنٹرول نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔وہ پھر سسکتی ہوئ بولی کہ تین لڑکے اور تین لڑکی کا گروپ تھا ۔۔۔۔ جوزف اسی طریقے سے معلومات اکھٹی کرنے لگا تھا ۔۔ساتھ ہی لن بھی ہلاتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔کرن ایک مرتبہ تو فارغ ہو چکی تھی ۔۔اس کاپانی خون کے ساتھ باہرآیا تھا ۔۔۔۔جوزف نے کرن ٹیبل سے اٹھایا اور ساتھ کھڑا کر دیا ۔۔۔کمر اپنی طرف کرتے ہوئے کرن کا منہ ٹیبل کی طرف کر دیا اور اس کے ہاتھ ٹیبل پررکھوا کر جھکا دیا ۔۔۔اور پیچھے سے لن کو گھسانے لگا تھا ۔۔۔۔کرن آگے کو ہوتی ہوئی ٹیبل کے اندر گھسنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر آگے بھی راستہ نہیں تھا ۔۔آہنی ٹیبل نے روکا ہوا تھا ۔۔۔اور پیچھے آہنی لن ہی تھا ۔۔۔۔جو رکنے کے ارادہ میں نہیں تھا۔۔۔۔لن ایک مرتبہ پھر اس کی چوت کے لب پر رکا ہوا زور لگا رہا تھا ۔۔۔۔۔چوت کے لب اندر کو مڑ چکے تھے ۔۔۔اور پھراندر گھسا تھا ۔۔۔۔کرن ایک مرتبہ پھر ذبح ہوتی ہوئی بکری کی طرح چلائی تھی ۔۔۔۔۔دونوں ہاتھ اپنی گانڈ پر رکھ کر اسے پھیلانے لگی ۔۔۔مگر کتنا پھیلاتی ۔۔۔۔۔۔جوزف کا لن اس سے زیادہ ہی موٹا ہوتا ۔۔۔۔جوزف دوبارہ لن پھنسا کر دھکے دینے لگا ۔۔۔کرن بری طرح سے چلا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔مگر اس قید خانے میں اس کی چیخیں سننے والا کوئی نہ تھا ۔۔۔میں اسکریں پر یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔کرن کے چہرے کے خوفناک تاثرات میرے سامنے تھے ۔۔۔۔۔۔جوزف نے اس سے تقریبا ساری معلومات لے لی تھیں ۔۔۔۔۔اور اب بھرپور چدائی جاری تھی ۔۔۔۔۔۔کرن جوزف کے دھکوں کے باعث ٹیبل پر گرتی تھی ۔۔اور پھر اٹھتی ہوئی دوباہ ہاتھ جما دیتی ۔۔۔۔مگر اگلا دھکا اس کی چوت کو پھاڑتا ہوا اسے ٹیبل پر گرا دیتا ۔۔۔۔۔جوزف کی اسپیڈ تیز ہونے لگی تو کرن کے گرنے کا منظر بھی بڑھ گیا ۔۔۔۔۔کرن دوسری مرتبہ بھی فارغ ہو نے لگی تھی ۔۔۔۔اس کے پانی بہتا ہوا اسی کی ٹانگوں پر لکیر بنا رہاتھا ۔۔۔۔جوزف نے کرن کو کسی ننھی بچی کی طرح دوبارہ اٹھایا اور ٹیبل پر اسے لٹایا کہ ٹانگیں نیچے گری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔گانڈ ٹیبل کے کنارے پر ٹکی ہوئی تھی اور باقی ٹانگیں نیچے لگیں ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی جوزف نےدوبارہ سے لن اندر گھسا دیا ۔۔۔کرن دوبارہ سے تڑپی تھی ۔۔۔۔۔اس کی چوت اس حالت میں کافی تنگ تھی ۔۔اور لن پھر سے اس کی بجانے پر تلا ہوا تھا ۔۔۔۔جوزف نے کرن کے مموں کو سمبھالتا ہوا جھٹکے دینے لگا تھا ۔۔۔۔۔جوزف کے دھکوں سے آہنی ٹیبل بھی لرز رہا تھا ۔۔۔تو کرن کا کیاحال ہونا تھا ۔۔۔اس کا چلانا بھی کم نہیں ہو رہاتھا ۔۔۔۔کرن شایدشروع میں اس خیال میں تھی کہ سیکس کے دوران جوزف بے فکر ہوگا تو بھاگنے کی کوشش کرے گی ۔۔۔مگر اب جوزف اسے بھاگنے بھی دے تو وہ چلنے کی ہمت بھی نہیں رکھتی تھی ۔۔۔۔تین سے چار منٹ کے یہ طوفانی دھکے کرن کو ایک مرتبہ پھر فارغ ہو چکے تھے ۔۔۔اور جوزف کے لن اسی طرح سے تنا ہوا تھا ۔۔۔۔جوزف نے اب کر ن کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے سینے لگا دیں اور دوبارہ سے دھواں دار جھٹکے اسٹارٹ کردئے ۔۔۔کرن کے پہلے جھٹکے سےنکلنے والے آنسو اب خشک ہو چلے تھے ۔۔۔۔مگر چوت سے نکلنا والا پانی اب بھی بہے جا رہا تھا ۔کرن کی کراہیں کمرے میں پھیلتی جا رہی تھی ۔۔۔ہائے ۔۔اف۔۔۔۔۔اوئی ۔اوئی ۔۔اوئی۔۔۔جوزف کے آہنی لن کی سختی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا ۔۔۔۔وہ اب بھی جھٹکے پر جھٹکے دئے جا رہا تھا ۔۔۔۔کرن کی ہائے ہائے کم ہونے میں نہیں تھی ۔۔۔۔چیخ چیخ کر گلا بھی بند ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔مگر جوزف کا پانی نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔۔۔۔کرن چوتھی مرتبہ بھی فارغ ہو چلی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔جوزف ایک طرف ہو کر اپنا لن خشک کرنے لگا ۔۔۔جو کرن کے خونی پانی میں بھیگا ہوا تھا ۔۔۔۔۔کرن نے ٹیبل سے اترنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔دو قدم چلی اور ساتھ کھڑی دیوار سے ٹکرا کر گرتی چلی گئی تھی ۔۔۔وہ آگے سے جھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔کہ پیچھے سے جوزف آیا تھا ۔۔۔اس نے زمیں پر ہی اسے گھوڑی بناتے ہوئے اس کے پیچھے سے لن گھسا دیا تھا ۔۔۔کرن کی پھر بیٹھی بیٹھی چیخ نکلی تھی ۔ہائے ۔۔اف ۔۔ماں مر گئی ۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔اب جوزف کا شاید پانی نکلنے کے قریب تھا ۔۔۔اس کے جھٹکے دھواں دار ہوئے ۔۔۔۔۔پھر طوفانی ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔پھر اور طوفانی ہوئے تھے ۔۔۔۔کرن برے طریقے سے کانپ رہی تھی ۔۔۔۔معافی مانگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔کبھی گرتی ۔۔۔کبھی سنبھلتی ۔۔۔۔۔۔۔مگر جوزف اس کی کمر کو تھامے ہوئے اسے روندے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور پھر ایک زور دار چنگھاڑ کے ساتھ جوزف نے پانی چھوڑا تھا ۔۔۔۔جو کرن کی چوت میں بھرنے کے بعد اب نیچے گر رہا تھا ۔۔۔۔۔گرتے گرتے ایک چھوٹا تالاب بنا چکا تھا ۔۔۔۔۔کرن نے پلٹ کر جوزف کی طرف دیکھا ۔۔۔کہ شاید اب اس کی جان چھوٹ جائے ۔۔۔۔۔مگر جوزف کا ہاتھ حرکت میں آیا تھا ۔۔۔۔کرن کی گردن پر پڑنے والی اس کی گردن کو توڑ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ آگے کو گری تھی ۔۔۔۔اور بے سدھ ہو کر زندگی سے آزاد ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے جھوٹے نام کی خاطر سینکڑوں جانوں سے کھیلنے والی اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
رات کا اندھیرا ختم ہو چکا تھا ۔۔۔اگلی صبح قدرے روشن تھی ۔۔۔۔میں نے رات سعدیہ اور ثناء سے بات کر لی تھی ۔۔۔۔اور اب ناشتے کے بعد جوزف کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔جوزف نے مجھے یہ سب عمران کو بتانے سے منع کر دیا تھا ۔۔۔اور میں نے بھی ہامی بھر لی تھی ۔۔۔۔کرن سے ملنے والی معلومات عمران کو بتا دی گئی تھی ۔۔اور اب وہ خود رانا ہاؤس آ رہا تھا۔۔
کرن سے لی گئی معلومات کے مطابق یہاں ان کا چھ لوگوں کا گروپ تھا ، جس میں تین لڑکیاں اور تین ہی لڑکے کام کر رہے تھے ۔۔۔یہ یہاں سلیپنگ سیلز کے طور پر کام کر رہے تھے ۔۔۔یہ مشن کرن اور اس کے دو ساتھیوں کا آخری مشن تھا جس کے بعد انہیں واپس جانا تھا اور ان کی جگہ لینے بہادرستان کے راستے دو نئے ایجنٹ آ رہے تھے۔۔۔پچھلی رات میں ٹائیگر کرن کے دونوں ساتھیوں کو ٹریس کر چکا تھا ۔۔جو کرن کو آرمی بیس میں ڈراپ کر کے اسٹیشن کے قریب ہوٹل میں رہ رہے تھے ۔۔کرن کے آتے ہی انہوں نے سرحدی علاقے کی طرف جانا تھا ۔۔۔۔ٹائیگر نےبھی عمران کو کال کر کے پوری تفصیل بتادی تھی۔۔۔عمران نے اسے جوانا کو لے اسٹیشن جانے کا کہا اور خود رانا ہاؤس آ گیا ۔۔۔۔ٹائیگر جوانا کو لے کر اسٹیشن کی طرف چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔جہاں سے انہیں اغوا کرکے لانا تھا۔۔۔مگر انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی اور ٹائیگراور جوانا کے ہاتھوں مارے گئے ۔۔۔۔۔ٹائیگر اور جوانا رانا ہاؤس واپس آئے تھے ۔۔۔۔جہاں عمران ان کی واپس کا انتطار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔انہیں تفصیلی رپورٹ دینے کے بعد ٹائیگر وہیں بیٹھ گیا ۔۔۔اصل مسئلہ کرن کے گروپ کے باقی ممبرز کا تھا جن کا کرن کو بھی نہیں پتا تھا ۔۔ان میں دو لڑکیاں اور ایک لڑکا تھا ۔۔۔۔انہیں مخصوص ٹائم پر بہادرستان سے آنے والے گروپ کو وصول کرنا تھا اور کام سمجھانا تھا ۔یہ گروپ دھماکہ خیز مواد اور کافرستان سے فکس کئے ہوئے کچھ نئے ٹارگٹ لا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔میں کافی دیر سے بیٹھا عمران کو دماغ کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔۔میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا تھا ۔۔۔میں نے عمران سے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ میں اور ٹائیگر صاحب ان نئے آنے والے ممبرز کی جگہ لے سکیں ۔۔ہمار ا گاؤں شہر میں داخل ہونے سے پہلے آتا ہے اور ہر گاڑی وہاں ضرور رکتی ہے ۔۔ہم وہاں اچھے سے انہیں کور کر سکتے ہیں۔۔۔عمران نے میری طرف تحسین آمیز نظروں سے دیکھا ۔۔۔اور ٹائیگر کی طرف دیکھا ۔۔۔وہ پرجوش انداز میں بولا ۔۔باس ہو جائے گا۔۔ہمیں ٹائم کا اندازہ ہے ۔۔ہم پہلے سے پکٹنگ کر کے رکھیں گے اور انہیں دارالحکومت میں گھسنے سے پہلے ان کی جگہ لے لیں گے ۔۔۔عمران نے اٹھتے ہوئے کہا کہ کچھ ضروری بات ہو تو واچ ٹرانسمیڑ پر رابطہ رکھنا ۔۔اور پروگرام میں کچھ بھی تبدیل ہو تو پہلے بتا دینا ۔۔۔
میں بھی جذباتی ہو چلا تھا ۔۔۔میری زندگی کا پہلا واقعہ تھا اور اس قسم کے واقعات سے پالا پڑ رہا تھا ۔۔۔۔ہم تیار ہونے لگے تھے ۔۔۔۔ٹائیگر مجھے لے کر رانا ہاؤس کے اسلحہ خانے میں لے گیا ۔۔۔جہاں ہر طرف چھوٹے بڑے ہتھیار، اسپائی ڈیواسز اور دنیا بھر کا سامان سجا ہوا تھا ۔۔۔۔ٹائیگر نے ایک بیگ لے کر میں سامان بھرنا شروع کر دیا ۔۔۔مجھے سے ہتھیار چلانے کا پوچھا تو میں نے انکار کیا ، اس سے پہلے کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا ۔۔۔ٹائیگر نے کہا کہ بہت آسان ہے راستے میں خالی میدان دیکھ کر پریکٹس کروا دوں گا ۔میں نے ایک 9ایم ایم پسند کیا تھا۔۔۔۔۔ہم سامان اکھٹا کر چکے تھے ۔۔باہر گیراج کی طرف نکلے ۔۔جہاں مختلف انداز کی گاڑیاں کھڑی تھی ۔۔ٹائیگر نے مجھ سے کہا کہ اپنے حساب سے گاڑی پسند کر لو ۔۔۔مجھے سلور کلر میں آرمرڈ جیپ نظر آئی ۔۔میں اس کی طرف بڑھ گیا ۔۔چابی اندر ہی تھی ۔۔۔باہر نکلا تو جوزف میرا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔ہمارا بہت اچھا ٹائم گذرا تھا ۔۔۔میں اس سے گلے لگ گیا ۔۔۔وہ تھپکی دیتے ہوئے بولا کہ جب چاہو یہاں چکر لگا سکتے ہو ۔۔۔اور کبھی بھی ہماری ضرورت پڑے تو بلا جھجک یاد کر لینا ۔۔۔میں نے سر ہلادیا اور آ کر ڈرائیونگ سیٹ سمبھال لی ۔۔۔۔گاڑی بے آواز اور سبک رفتار تھی ۔۔۔ٹائیگر میرے برابر میں بیٹھا تھا ۔۔۔میں نے ہائی وے پر چڑھتے ہی ایکسیلیٹرپر پیر رکھ دیا تھا ۔۔۔گاڑی زناٹے سے بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔ٹائیگر نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور پھر سامنے نظر جمادی ۔۔۔۔دو گھنٹے کا سفر ڈیڑ ھ گھنٹے میں ختم کرتے ہوئے میں اپنے گاؤں پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔شام ہو چلی تھی اور رات کو ان لوگوں کی آمد متوقع تھی ۔۔۔۔۔یہ پورا علاقہ میرا دیکھا بھالا تھا ۔۔میں نے ایک پیٹرول اسٹیشن منتخب کیا تھا ۔۔۔پچھلا اسٹیشن بہت دور تھا ۔۔اور ہر آنے والا یہاں ضرور رکتا تھا ۔۔۔سامنے ہی ایک بڑا سا ہوٹل بھی تھا ۔۔۔ہوٹل میں رہنے کو کمرے بھی دستیاب تھے ۔۔۔۔ٹائیگر نےکھڑکی والا ایک روم مانگا اور ہم اس میں پہنچ گئے ۔۔۔کچھ دیر ریسٹ کیا ۔۔۔ٹائیگر نے اپنا بیگ کھولا اور ایک چھوٹا وائرلیس ہینڈ فری میری طرف بڑھا دیا ۔۔اب ہم ایک مخصوص فاصلے تک آسانی سے گفتگو کر سکتے تھے ۔۔۔یہ ایک اسکن کلر کا ہینڈ فری تھا جو کان کے اندر لگ کر باہر سے نظر نہیں آتا تھا ۔۔۔ہم نے باہر آ کر چائے پی ۔۔۔طے یہ ہو ا تھا کہ ہم میں سے ایک کھڑکی میں دوربین سے پیٹرول پمپ میں رکنے والی گاڑی کا جائزہ لے اور دوسرا سامنے ہوٹل میں بیٹھا نظر رکھے ۔۔۔میں نے ٹائیگر کو اوپر ہوٹل کے کمرہ میں بھیج دیا تھا اور خود ہوٹل کے باہر چارپائی پر بیٹھ گیا ۔۔۔میری نظر چاروں طرف گھوم رہی تھی ۔۔۔جیپ میں نے پیٹرول پمپ سے تھوڑا آگے کھڑی کی تھی ۔۔فوری تعاقب کی ضرورت پڑ سکتی تھی ۔۔۔۔آدھی رات ہو چکی تھی ۔۔۔مختلف گاڑیاں اور بسیں رک رہی تھیں ۔۔مگر ہمارے مطلب کی گاڑی اب تک نہیں آئی تھی ۔ہماری معلومات کے مطابق وہ پرائیوٹ گاڑی میں سفر کر رہے تھے ۔۔۔۔۔آدھی رات کے بعد ٹائیگر نے مجھے کہا کہ تم اوپر آ جاؤ میں نیچے آتا ہوں ۔۔۔میں اوکے کہ کر اوپر چل پڑا ۔۔۔۔کھڑکی کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر دوربین سمبھال لی ۔۔۔۔پیٹرول پمپ میری آنکھوں کے سامنے تھا ۔۔اور میں ہر بندے کا چہرہ بخوبی دیکھ سکتا تھا ۔ٹائیگر نیچے میری جگہ سمبھال چکا تھا۔۔۔۔مجھے بیٹھے ہوئے ایک گھنٹا گذرا تھا کہ ایک کار پیٹرول پمپ پر رکی تھی ۔۔۔۔کار کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ کافی سفر کر کے آئی ہے ۔۔۔۔ڈرائیونگ سیٹ سے ایک درمیانے قد کا شخص اترا تھا ۔۔جسے دیکھتے ہی میں مشکوک ہو چکا تھا ۔۔۔میں نے ٹائیگر کو مخاطب کیا کہ اس گاڑی کو چیک کر یں ۔۔۔ٹائیگر جیب سے سگریٹ نکالتا ہوا روڈ پار کرنے لگا۔۔۔اور اس کار کے قریب پہنچ کر سگریٹ ہونٹوں سے لگا لی ۔۔ساتھ ہی کار کے دروازے پر جھک کر پوچھنے لگا کہ بھائی صاحب ماچس ہو گئی ۔۔۔اس شخص نے شاید انکار میں سر ہلایا تھا ۔۔جبھی ٹائیگر نے دوسرےسوال میں ٹائم پوچھا تھا ۔۔۔اور اب اس شخص کی آواز مجھ تک بخوبی پہنچی تھی ۔۔۔اس کا لہجہ چغلی کھا رہا تھا کہ وہ مقامی نہیں ہے ۔۔ٹائیگر واپس پلٹا اور ان کی گاڑی کے قریب کچھ کیل گراتا ہوا واپس ہو گیا ۔۔۔۔ان کی گاڑی میں پیٹرول فل ہو چکا تھا ۔۔۔۔میں یہاں بیگ بند کر کے نیچے اتر چکا تھا۔۔۔۔۔تیز قدموں سے چلتاہوا روڈ پار کیا اور اپنی گاڑی کے قریب پہنچا ۔۔۔۔وہ گاڑی پیڑول پمپ سے تیزی سے نکلی تھی ۔۔مگر جلد ہی اس کی اسپیڈ آہستہ ہوئی اور مجھے سے کچھ فاصلے پر رک گئی۔۔۔دونوں آدمی باہر نکلے تھے اور جھنجھلاہٹ میں ٹائر کو ٹھوکر مارنے لگے ۔۔۔ٹائیگر کی آواز میرے کانوں میں پڑی تھی ۔۔راجہ ابھی کچھ نہ کرنا میں آ رہا ہوں ۔۔۔ان دونوں آدمیوں نے ڈگی سے اسٹپنی نکال کر کام شروع کر دیا تھا ۔۔۔دونوں ٹائر کے قریب بیٹھے جلدی کر رہے تھے ۔۔اس علاقے میں اندھیرا تھا۔۔مگر ہوٹل کی لائٹوں نے علاقے کو روشن بنا رکھا ۔۔۔۔ٹائیگر دبے قدموں چلتا ہوا کار کے قریب پہنچا ۔۔۔میں بھی یہاں سے سمبھل کرچلتا ہوا آگے جا رہا تھا ۔۔۔ہم دونوں ایک وقت میں ان کے اوپر پہنچے تھے ۔۔۔ٹائیگر کا مکہ اٹھا تھااور پوری قوت سے اپنی طرف والے بندے کی کنپٹی پر پڑا تھا ۔۔وہ اوغ کی آواز نکال کر لیٹتا چلا گیا ۔۔میں نے بھی یہی حرکت کرنے کی کوشش کی تھی مگر ہاتھ اوچھا پڑا تھا ۔۔۔وہ بندہ اٹھنے لگا ۔۔۔مگر ٹائیگر کی لات حرکت میں آئی تھی ۔۔۔اور کنپٹی پر بجنے والی اس لات نے اسے بھی ہوش ہ حواس سے بیگانہ کر دیا ۔۔۔ہم نے جلدی سے دونوں کواٹھا کر جیپ میں ڈالا ۔۔۔کار کی تلاشی میں ایک بیگ ملا جسے جیپ میں ڈال کر میں آگے روانہ ہو گیا ۔۔۔۔میں جیپ ڈرائیو کر رہا تھا اورٹائیگر پیچھے کار میں آ رہا تھا ۔۔۔ایک ویرانے میں ہم نے گاڑیاں روکی ۔اوران دونوں کی تلاشی شروع کی ۔۔۔۔۔دونوں نے پاکیشائی کاغذات حاصل کیئے ہوئے تھے ۔۔۔۔جن میں یہاں کے شناختی کارڈا ورڈرائیونگ لائسنس بھی تھے ۔۔ساتھ ہی ایک فائل ملی تھی جس میں کوڈ ورڈ میں کچھ لکھا ہوا ۔۔۔۔ان دونوں کی جیب سے ایک پرچی پر ایڈریس لکھا ہوا مل گیا ۔۔۔جہاں شاید ان کو پہنچنا تھا ۔۔۔۔شہر کا ہی ایک ماڈرن علاقہ تھا ۔۔۔۔ہمارے پاس ٹائم کم تھا ۔۔۔ٹائیگر نے اپنے بیگ سے سامان نکالا اور میرے قدوقامت کو دیکھتے ہوئے ایک کا میک اپ مجھ پر کرنا شروع کر دیا ۔۔کچھ دیر میں ہو ہو ویسا ہی ہو چکا تھا ۔۔۔میں نے اس کے کپڑے اتار ے اور وہ بھی چینج کر لئے ۔۔ٹائیگر اب اپنا حلیہ تبدیل کر رہا تھا ۔۔کچھ ہی دیر میں ایک شکل والے دو دوآدمی وہاں موجود تھے ۔۔۔۔ٹائیگر نے انہیں بے ہوشی میں ہی موت کے گھاٹ اتار دیا اور لاشیں وہی ویرانے میں پھینک دی ۔۔۔اور اس کے بعد شہر کی طرف روانہ ہوئے ۔۔۔راستے میں ٹائیگر نے عمران کو کال ملائی اور پوری صورتحال بتا دی ، ساتھ ہی ایڈریس بھی نوٹ کروا دیا ۔۔۔ہم نے جیپ ایک جگہ کھڑی کر کے دونوں کار میں ہی آگئے تھے ۔۔۔۔۔ہمار ا سفر تیزی سے رواں دوں تھا ۔۔۔میں عجیب سے سنسنی محسوس کر رہا تھا ۔۔۔صبح کا وقت تھا کہ ہم اس ایڈریس کے قریب پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔ہمیں ایک بک اسٹال کے قریب پہنچنا تھا ۔۔۔جہاں رسیونگ ہونی تھی ۔۔۔۔ہم نے اپنی پرسنل چیزیں اور بیگ وہیں جیپ میں چھوڑا تھا ۔۔۔۔میں کار میں ہی بیٹھا رہا ۔۔۔۔ٹائیگر بک اسٹال کے قریب پہنچا اخبار دیکھ رہا تھاکہ ایک بندہ اس کے قریب پہنچا۔۔اور کافرستانی نوٹ دکھا کر پوچھنے لگا کہ بھائی یہ نوٹ یہاں چلے گا ۔۔۔ٹائیگر چونک گیا اور کہا جی آئیے میرے ساتھ ۔۔۔۔اور کار کی طرف آنے لگا۔۔۔وہ بندہ بھی پیچھے ہی آ رہا تھا ۔۔۔پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھا اور راستہ بتانے لگا ۔۔۔ہم کچھ گلیاں گھوم کر ایک فلیٹ پر پہنچے تھے ۔۔۔۔۔اس بندے نے فلیٹ کی بیل بجائی اور ایک خوبصورت لڑکی نے دروازہ کھولا تھا ۔۔۔کھلے بال جن میں سے پانی ٹپک رہا تھا ، شاید نہا کر نکلی تھی ۔۔۔اس نے ہمیں نمستے کیا ، ہم نے بھی جواب دیتے ہوئے اندر قدم بڑھا دئے ۔۔۔اندر آ کر ڈرائنگ روم میں بیٹھے ۔۔۔وہ بندہ آ کر بے تکلف ہو گیاتھا ۔۔۔۔۔۔کوئی مسئلہ تو نہیں ہو اآنے میں ۔۔۔ٹائیگر نے انکار میں سر ہلادیا ۔۔اور اپنے نام تو بتاؤ ۔۔۔۔ہم نے شناختی کارڈوالے نام بتادئے ۔۔۔اس نے پھر کہا کہ یار اپنے اصل نام ۔۔۔۔میں نے راجہ بتایا اور ٹائیگر نے بھی ٹائیگر ہی کہا ۔۔۔ہمارے خیال میں یہ نام بھی چل سکتے تھے ۔۔۔اس بندے نے اپنا نام پرکاش بتا یا اور اس لڑکی کا آشا ۔۔۔۔دوسری لڑکی کہیں گئی ہوئی تھی ۔۔۔پرکاش نے کھانے کا پوچھا ، ہم نے بتایا کہ ہم کھا چکے ہیں ۔۔اس نے ہمیں آرام کرنے کا کہاکہ شام کو میٹنگ ہے اور باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔ہم بھی رات جاگے تھے ۔۔۔۔لیٹے اور سو گئے ۔۔۔۔۔دوپہر کو اٹھے اورفریش ہو کر باہر آگئے ۔۔آشا اور شکنتلا ہمارا ہی انتظار کررہی تھیں ۔۔۔پرکاش بھی انہی کے ساتھ تھا ۔۔۔۔ایک کمرے کو وہ میٹنگ روم کے طور پر استعمال کرتے تھے ۔۔۔جہاں سیٹلائیٹ فون ، انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ رکھے ہوئے تھے ۔۔۔وہاں بیٹھ کر ہم نے وہ بیگ کھولا اور وہ فائل ان کے حوالے کی ۔۔۔پرکاش کوڈنگ کا ماہر تھا ، وہ وہیں اسے ڈی کوڈ کرنے لگا ۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں وہ ڈی کوڈ کر چکا تھا.۔۔ کافرستانی سیکرٹ سروس کے چیف شاگل کا پیغام۔۔۔۔پیغام کیا تھا ۔۔غلاظت میں ڈوبے ہوئے الفاظ تھے ۔۔۔اکھنڈ بھارت کا کبھی نہ پورے ہونے والے مقاصد ۔۔۔اور ان سورماؤں کی تعریفیں ۔۔۔۔۔۔پیغام کے آخر میں پرکاش کے ذمے نیا کام لگایا گیا تھا ۔۔۔اور آشا اور شکنتلا کے ذمے ہماری گائیڈینس تھی ۔۔۔ہم بارود کے ماہر تھے ۔۔اور اگلی کارووائی میں انہیں ہماری مدد کرنا تھی ۔۔۔۔پرکاش اس شام اپنی ٹکٹ لینے چلا گیا تھا ۔۔۔۔آشا اور شکنتلا اپنے بیئر کے کین لے کر ہمارے ساتھ بیٹھیں تھی ۔۔۔فری ہونے کی کوشش کرتی رہیں تھی ۔۔۔۔ہم بھی اپنی طرف سے ان کا ساتھ دیتے رہے ۔۔۔۔پرکاش گھنٹے بعد واپس آیا تھا ۔۔اور بیگ پیک کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔جلد ہی وہ تیار ہو کر نکلنے لگا ۔۔۔۔۔ٹائیگر نے اس کی ٹکٹس دیکھ لیں تھیں اور جوزف کو میسج کر چکا تھا ۔۔۔۔پرکاش کچھ ہی دیر میں ہم سے پرجوش انداز میں ملا تھا ۔۔۔۔کہنے لگا کہ جلد ہی ملاقات ہو گئ ۔۔۔میں نے دل میں کہا کہ اب شاید کبھی نہ ملاقات ہو ۔۔۔تمہارے جہنم رسید ہونے کا ٹائم آ چکا ہے ۔۔۔۔۔پرکاش کے جانے کے بعد ہم باہر نکلے اور ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا ۔۔۔آشا میرے ساتھ فری ہو رہی تھی ۔۔۔اور شکنتلا ٹائیگر پر اپنی نسوانیت آزما رہی تھی ۔۔۔۔۔کھانا کھا کر وہ ہمیں شہر دکھانے لے گئیں ۔۔۔۔۔ہمارا ہی شہر ہمیں بڑے شوق دے دکھایا جا رہا تھا ۔۔ہم نے بھی بھرپور حیرت کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔۔۔
رات دیر سے واپسی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔آشا مجھے لئے ہوئے ایک بیڈ روم میں آگئی۔۔۔اور ٹائیگر شکنتلا کے ساتھ دوسرے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔جب آشا بڑے شوق سے میرے قریب آئی تھی ۔۔میں کروٹ بدل کر لیٹ گیا ۔۔اور ان حالات پر غور کرنے لگا ۔۔پرکاش کے بعد یہ دو لڑکیا ں ہی یہاں بچتی ہیں۔۔۔ان کا بعد یہ گروپ ختم ہو جائے گا۔۔ذہن میں ایک بات اور آئی تھی میں نے سوچا کہ عمران سے ڈسکس کروں گا۔۔ہم ایک دو راتیں مزید ان کے ساتھ رہنی تھی ۔۔ایسا نہ ہو کہ کچھ نئی بات سامنے آئے ۔۔یہ بھی کئی سالوں سے یہیں تھیں ۔۔کوئی راز انہیں نہ مل گیا ہو ۔۔۔۔انہیں سوچتے ہوئے میں نیند کی گہرائیوں میں جا رہا تھا ۔۔۔آشا بیڈ پر کروٹ لے رہی تھی ۔کسی بے چینی کا شکار تھی ۔۔۔۔اور پھر بے چینی کم ہونے لگی ۔۔۔وہ کروٹ لیتی ہوئی میرے پیچھے آئی تھی ۔۔۔۔اور میرے اوپر بازو رکھتی ہوئی لپٹنے لگی ۔۔۔میں کچھ دیر ایسے ہی لیٹا رہا ۔۔پھر کروٹ اس کی طرف کر لی ۔۔۔آشا بھرے بھرے جسم والی لڑکی تھی ۔۔۔۔صحت مند اور سڈول چہرے کے ساتھ ۔۔۔گہری سیاہ آنکھیں مجھے ہی دیکھ رہی تھیں ۔۔۔جس کی چمک مجھے بلا رہی تھی ۔۔۔۔میں بھی آگےکو ہو گیا ۔۔۔آشا مجھے سے لپٹتی ہوئی میرے چہرے کو چومنے لگی تھی ۔۔اسے میرے چہرے سے اثبات کا جواب مل گیا تھا ۔۔میں بھی اس کا ساتھ دینے لگا۔۔۔خود پر کھینچ کر اپنے اوپر سوا ر کرا لیا۔۔۔آشا کا پورا جسم نرم روئی کی مانند تھا ۔۔۔۔۔پورے جسم پر آدھے انچ کا زائد گوشت کی تہہ لگی ہوئی تھی ۔۔آشا بے قراری سے میرے چہرے کو چوم رہی تھی ۔۔۔میں پیچھے سے اس کی چوتڑ پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔۔جو گوشت سے پر اور پھیلے ہوئے تھے ۔۔۔اس کی کمر بھی گوشت سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔۔میں سختی سے اسے دباتا ہوا نیچے ران تک جا پہنچا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔آشا بھی سسکیاں لیتی ہوئی ۔۔۔چومے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے ساتھ ہی اس کی شلوار کو نیچے کی طرف کھسکانا شروع کر دیا تھا۔۔۔اور جلد ہی میرے ہاتھوں سے اس کو گرم گرم لمس ٹکرایا تھا ۔۔۔۔نرم گرم اور ملائم سی جلد تھی ۔۔۔۔۔ساتھ ہی اسے خود پر بٹھاتے ہوئے اٹھانے لگا۔۔۔۔۔وہ میرے اوپر بیٹھی ہی تھی کہ میں نے اس کی قمیض بھی اتار دی۔سرخ برا میں پھنسے ہوئے ممے میرے سامنے تھے ۔۔میں نے برا بھی اتار دی ۔۔۔۔۔گوشت سے بھرے ہوئے ، پھیلے ہوئے ۔۔۔ہلتے ، جلتے ، مچلتے ہوئے ممے میرے سامنے تھے ۔۔میں سمبھالنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا ۔۔۔مگر ممے تھے کہ مچلے جا رہے تھے ۔۔۔۔بکھرے جا رہے تھے ۔۔۔۔آخر مجھے اٹھناہی پڑا ۔۔۔آشا کو بیڈ پر لٹا تے ہوئے میں اس کے اوپر آیا تھا ۔۔۔۔اور مموں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتا ہوے چومنے لگا ۔۔۔۔میرا یہ چومنے چومنے سے کاٹنے پر مشتمل تھا ۔۔۔۔جس سے آشا کی سسکیاں ، کراہیں نکلنے لگیں۔۔۔۔۔آشا سمجھ رہی تھی کہ شاید بہت عرصے بعد مجھے کوئی لڑکی ملی ہے ، جس کی وجہ سے میں یہ کر رہا ہوں ۔۔۔مگر یہ اس وجہ سے نہیں تھا ۔۔۔میں اب ممے کے ساتھ اس کے نپلز کو بھی رگڑتا تھا ۔آشا بے قراری سے میرے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔ایک ہاتھ سے آشا کے مموں کو سمبھالے ہوئے میں اپنی شرٹ اتار نے لگا ۔۔۔۔اور جلدی ہی میرا اوپر بدن آزاد ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔آشا کی آنکھوں میں میرا کسرتی بدن دیکھ کر ستائش چمک رہی تھی ۔۔۔ٹھوس مسلزاور سخت بھرا ہو جسم اس کے سامنے تھے ، وہ بے اختیار ہو کر میرے کندھوں پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔۔کچھ دیربعد میں نے اس کی نچلی طرف ہاتھ بڑھانا شروع کر دیا ۔۔تھا ۔۔۔۔میرا ہاتھ اس کی ناف سے ہوتا ہوا اس کی مخملی چوت سے ٹکرایا تھا ۔۔۔۔موٹی اور صحت مند رانوں کے درمیاں کسی پتلی سی لکیر کی مانند ۔۔میں اوپر سے مٹھی میں دبوچتا ہوا ۔۔۔۔۔۔ایک انگلی اندر داخل کر چکاتھا ۔۔۔۔۔۔آشا کی ایک سسکی سی نکلی تھی ۔۔۔وہ بے اختیار اوپر کو ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی ایک ہاتھ لا کر میرے ہاتھ کو پکڑنے لگی ۔۔۔۔۔۔اس کے روکنے سے کب رکنے والا تھا ۔۔۔۔میں نے دوسری انگلی بھی ملا کر اندر گھسا دی ۔۔۔۔۔آشا کی سسکیاں بلند ہونے لگیں تھی ۔۔۔۔ساتھ ہی ممے بھی ہلنے لگے تھے ۔۔۔۔۔میں نے اس کی چوت کے دانے کو مسلتے ہوئے انگلی کی اسپیڈ بڑھا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔چند منٹ میں آشا کی سسکاریاں اور بلند ہو چکی تھیں ۔۔۔۔۔اور پھر وہ کمر کو بھی اوپر کو جھٹکے دینے لگی ۔۔۔۔۔کچھ مزید بلند سسکیاں نکالنے کے بعد وہ پانی چھوڑنے لگی ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر انگلی چلاتے ہوئے میں اوپر آیا اور اس کے برابر لیٹ گیا۔۔۔ایک ٹانگ اس کے اوپر رکھتے ہوئے میں اس کی سائیڈ پر لیٹا ہو ا تھا ۔۔۔آشا بھی مسکراتی ہوئی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔میرا ہتھیار بھی نیچے سے تیار ہی تھا ۔۔۔۔گھوڑے کی سواری کا ٹائم آچکا تھا ۔۔۔۔اور گھوڑی کی شامت کا بھی ۔۔۔۔میں نے پینٹ کا بٹن کھولتے ہوئے نیچے سرکانا شروع کر دیا ۔۔۔۔وہ بھی میری حرکت محسوس کر رہی تھی ۔۔دوبارہ سے میرے گالوں کو چومنے لگی تھی ۔۔۔۔میں نے آدھی پینٹ سرکائی اور باقی پاؤں کی حرکت سے اتار دی ۔۔۔انڈر وئیر اتار اتھا کہ ہتھیار سنسنا تا ہوا باہر کو لپکا تھا ۔۔۔۔اور آزاد فضاؤں میں آتے ہی مزید سخت ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔شاید آشا نے بھی گرم گرم ٹچ محسوس کر لیا تھا ۔۔وہ ہاتھ نیچے لے جانے لگی ۔۔مگر میں نے اس کے ہاتھوں کو اپنی گردن کے گرد لپٹا لیا ۔۔۔۔آشا کو میں نے اپنی طرف کروٹ دے دی ۔۔۔ہم دونوں کروٹ پر لیٹے ایکدوسرے کے سامنے تھے ۔۔۔۔۔میں نے آشا کی اوپر والی ران میں ہاتھ ڈال کر اس اٹھا لیا ۔۔۔۔۔نیچے سے اس کی چوت تک پہنچنے کا راستہ کلئیر تھا ۔۔۔اور ہتھیار تو پہلے ہی تیار ہو چکاتھا ۔۔۔۔آشا کی ران کو میں نے کافی اوپر اٹھا ہوا تھا ۔۔اس کی دوسر ی ٹانگ سیدھی تھی ۔۔۔۔میرا دوسرے ہاتھ آشا کے سر کے نیچے ہی تھا ۔۔۔آشا میرے ہونٹوں کو چومے جا رہی تھی کہ ۔۔۔میرا ہتھیار کا ٹوپا اس کی چوت کے لبوں پر لگا تھا ۔۔۔اس نے ایک سسکی لی ۔۔اوردوبارہ چومنے میں مصروف ہو گئی ۔۔۔۔دوبارہ سے ٹوپے نے دستک دی تھی ۔۔۔۔۔یہ تھوڑی پریشر کے ساتھ تھی ۔۔۔آشا کچھ اوپر کو اٹھی تھی ۔۔۔۔۔میں نے بھی اپنے ہاتھ اس کے سر کے گرد گھما کر اس خود سے چمٹا لیا تھا ۔۔۔اس کے گوشت سے بھرے ہوئے میرے سینے سے ٹکرا رہے تھے ۔۔۔۔اب کی بار ٹوپے نے سخت چوٹ ماری تھی ۔۔۔۔۔اور اندر گھسنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔مگراوپر کو سلپ ہو تھا ۔۔۔۔۔میں نے ٹانگوں کو اور کھولتے ہوئے اوپر کو اٹھایا تھا ۔۔۔اور تیسرے جھٹکے میں ٹوپے کو اندر گھسا چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔آشا کی ایک تیز چیخ نکلی تھی ۔۔۔اس نے اوپر کو اٹھنے کی کوشش کی ۔۔۔مگر میر ا لیفٹ ہینڈ اس کے کندھے اور سر کو قابو کئے ہوئے تھے ۔۔۔۔اس نے کروٹ بدلنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔مگر اس کی ایک لات نیچے اور دوسری میرے ہاتھ میں جکڑی ہوئی تھی ۔۔۔اسے میرے ہونٹ چومنا بھول چکے تھے ۔۔۔۔اورپیچھے کو کھسک رہی تھی ۔۔۔کہ میں نے ایک اور جھٹکا دیا تھا ۔۔۔۔دو انچ ٹوپا اندر تک جا چکا تھا ۔۔۔۔اس کی چوت نے ہتھیار کو جکڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔اورپھنسا ہوا ۔۔۔۔۔آشا کی ایک اور چیخ نکلی تھی ۔۔۔۔اسے نہیں سمجھ آیا کہ یہ کیا اندر گھسا تھا ۔۔۔۔وہ پھر سے چلائی تھی ۔۔۔۔اف۔۔مر گئی ۔۔۔۔۔اوئی ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے کچھ لمحے رک کر تھوڑا باہر کھینچا اور ٹوپ اندر رکھ کر ایک اور ضرب لگائی تھی ۔۔۔۔ہتھیار تین سے چار انچ چیرتا ہوا اندر پہنچا تھا ۔۔۔۔۔۔۔آشا کی پھر آہیں نکلی تھی ۔۔۔۔اف۔۔۔آئی ۔۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے میری گردن سے ہاتھ ہٹا کر نیچے لانے لگی تھی ۔۔۔۔۔میں نے اس کی کروٹ کو ختم کرتے ہوئے اسکو پیچھے لٹایا ۔۔۔۔۔اور ساتھ ہی اس کےاوپر لیٹنے لگا ۔۔اس کی ران کوچھوڑتے ہوئے دونوں ہاتھ اس کے اوپر لایا اور اس کے ہاتھ قابو کرلئے ۔۔۔۔آشا کے بڑے بڑے ممے مچل رہے تھے ۔۔۔اس کے سینہ بھی تیزی سے اوپر نیچے ہو رہا تھا ۔۔۔مگر نیچے سے اس کی چوت رو رہی تھی ۔۔۔۔سسک رہی تھی ۔۔۔۔۔ماتم کر رہی تھی ۔۔۔۔اس سے پہلے کافرستانی لنڈ سےاس کا پالا پڑا تھا ۔۔۔مگر یہ والا ہتھیار اس کی چوت کی بینڈ بجا چکا تھا ۔۔میرے حساب سے اس کی چوت کنواری ہی تھی۔۔۔۔اور اب اسے اپنی ماتا کی یاد آ رہی تھی ۔۔جسے وہ وقفے وقفے سے یاد کرتی تھی ۔۔۔ٹائیگر بھی شاید اسی مشن پر تھا ۔۔۔۔مجھے شکنتلا کی دبی دبی کراہیں سنائی دی تھیں ۔۔۔وہ بھی تکلیف میں تھی ۔۔۔۔۔۔۔مگر اس کی مدد کو اس کی دوست نے کب آنا تھا ۔۔۔اسے خود مدد کی ضرورت تھی ۔۔۔۔۔میں آشا کی ٹانگوں کے درمیان ہتھیار پھنسائے لیٹا تھا ۔۔۔۔اس کے دونوں ہاتھ بیڈ پر میرے ہاتھوں کے نیچے دبے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔سینے مستقل اوپر نیچے ہوتے ہوئے اس کے بڑے سے مموں کو مچلا رہا تھا ۔۔۔۔۔اور پتلے ہونٹوں سے سریلی آوازیں نکلی رہی تھی ۔۔۔۔ائی ۔۔اف۔۔۔۔۔ہائے مر گئی ۔۔۔۔۔ ہتھیار اب تک آدھے سے زیادہ باہر ہی تھا ۔۔۔میں جتنا زور دے رہا تھا اس کی تڑپ اور بڑھ رہی تھی ۔۔۔میں نے زور دیتے ہوئے آدھا ہتھیار اندر اتار دیاتھا ۔۔۔آشا کسی بن پانی کی مچھلی کی طرح مچلی تھی ۔۔۔۔۔اس کی منہ سے بے اختیار چیخ نکلی تھی ۔۔۔۔اوئی مر گئی ۔۔۔۔ہائے بھگوان کی یہ آواز کمرے میں گونجی تھی ۔۔۔۔۔میں آشا کے ہاتھ چھوڑ چکا تھا ۔۔۔۔وہ اب ان ہاتھوں سے مجھے اٹھانے سے تو رہی تھی ۔۔۔ساتھ ہی اس کے نیچے کو گرئے ہوے بڑے سے مموں کو اٹھاتے ہوئے دبوچ چکا تھا ۔۔۔۔اور نیچے سے کمر ہلانی شروع کر دی ۔۔۔آشا کی کراہیں اب بھی بلند تھیں ۔۔۔۔۔ماتا جی کےساتھ اب بھگوان بھی اسے یاد آ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔چوت کی دیواروں نے ہتھیار کے جکڑا ہوا تھا ۔۔اور پانی چھوڑے بغیر آگے بھیجنے پر رضامند نہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔میں بھی ٹوپ رکھ کر باہر نکالتا ہتھیار اور واپس اندر دھکیل دیتا ۔۔۔۔۔۔ہتھیار کو اب رواں ہونا چاہئے تھا۔۔۔۔۔۔مگر اس کی چوت پانی چھوڑنے کے باوجود پھنسی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔میں اسے کو نرم نرم مموں کو دبوچتا تھا تو الگ آواز نکلتی ۔۔۔۔اور ہتھیار کو دھکیلتا تو الگ آواز نکلتی ۔۔۔۔آشا مزے اور درد کی درمیانی کیفیت میں تھی ۔۔۔۔۔میں کچھ دیر آہستگی سے ہتھیار کو حرکت دے رہے تھا ۔۔۔۔اس کی کراہیں کچھ تھمی تھیں ۔۔۔مگر اب بھی وہ منہ کھولےآہیں بھر رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے ہتھیار باہر کو کھینچ لیا ۔۔۔اور آشا کو ہاتھ دے کر اٹھانے لگا ۔۔۔۔۔وہ سمجھ گئی تھی کہ پوزیشن چینج ہو رہی تھی ۔۔۔وہ اٹھی کر بیٹھی تھی ۔۔۔اس کے ممے سرخ ہوچکے تھے ۔۔۔شاید میرے ہاتھوں نے زیادہ سختی سے دبوچ لیا تھا ۔۔۔وہ بھی آہستہ سے مموں پر ہاتھ پھیرتی ہوئی سی ۔۔سی ۔۔کر رہی تھی ۔۔۔۔میں نے اسے گھوڑی بننے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔وہ آگے کو ہو کرگھوڑی بننے لگی تھی ۔۔۔افف۔۔کیا منظر تھا ۔۔اس کی گوشت سے بھری ہوئی نرم گانڈ میرے سامنے تھی ۔۔۔کیا دائروی اور گول مٹول بڑی سی گانڈ تھی ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی رانیں بھی بڑی سڈول اور گوشت سے پر تھیں ۔۔۔۔۔۔ وہ گھوڑی بن کر پیچھے دیکھنے لگی تھی ۔۔مگر میں اس کی گانڈ کا معائنہ کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔کچھ لمحوں بعد میں اٹھا اور اس کی کمر پر زور دے کر اور نیچے جھکا دیا تھا ۔۔۔اور گانڈ اور ہی اوپر کو اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔میں نے پیچھے آ کر اپنی ٹانگوں کو بیڈ کرتے ہوئے اس کی سیدھ میں آیا تھا ۔۔۔ساتھ ہی ٹوپا اس کی گانڈ کے نیچے سے اندر گیا تھا ۔۔۔چوت کے لبوں پر رکھ کر اس کی کمر کو تھام چکا تھا ۔۔۔۔۔او ر دباؤ بڑھانے لگا ۔۔۔۔تھوڑا سا دھکیلتاہوا ، پریشر کے ساتھ زور تھا ۔۔۔جس نے غڑاپ سے ٹوپے کو اندر جا پہنچایا تھا ۔۔۔۔۔آشا کی ایک سسکی نکلی تھی ۔۔افف۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔سس۔۔۔۔۔اور پھر میں نے کمر کوہلانا شروع کر دیا ۔۔۔۔اس کو چوت اب بھی تنگ ہی تھی ۔۔۔۔۔اور سسکیاں اب بھی بلند ہی تھیں ۔۔۔میں نے کمر کوہلاتے ہوئے جھٹکوں کی اسپیڈ تیز کرنی شروع کر دی تھی ۔۔۔۔جس کے ساتھ آشا کی گانڈ بھی مچلنے اور اچھلنے لگی تھی ۔۔۔۔میں ساتھ ہی ایک چپت اس کی گانڈ پر جمائی تھی ۔۔۔اس کی بے اختیار ایک سسکی نکلی تھی ۔۔۔ہائے ۔۔۔اور پھر میں ہر دو چار جھٹکوں کے بعد ایک چپت جماتا گیا ۔۔۔۔رفتہ رفتہ اس کی گانڈ بھی لال ہونے لگی تھی ۔۔۔اور چوت کی حالت بھی کچھ سمبھلنے لگی ۔۔۔۔۔تو میں نے دھکے اور جھٹکے سے دینا شرو ع کر دئے تھے ۔۔۔جس سے اس کے ممے بھی اچھلے اچھلے جاتے تھے ۔۔۔اور بلند چیخ نکلتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔مجھے تین سے چار منٹ ایسے ہی ہوچلے تھے ۔۔۔۔میں نے نیچے سے اس کی ٹانگوں میں ہاتھ ڈال کر اس کی ٹانگیں اٹھا لیں ۔۔۔اور کھڑا ہوتا ہوا آگے آتا گیا ۔۔۔۔۔ہتھیار اندر ہی تھا ۔۔۔اور میں اسے اسقدر اٹھا چکا تھا کہ اس کا سر بیڈ پر لگ رہا تھا ۔۔۔۔اس نے دونوں ہاتھ دائیں بائیں رکھے ہوئے خود کو بیلنس کیا تھا ۔۔۔۔ممے اس کے لٹکے ہوئے منہ تک پہنچنے کی کوشش میں تھے ۔۔۔۔ایک طرح سے وہ اب سر کے بل کھڑی تھی ۔۔۔اور ٹانگیں میرے ہاتھوں میں تھی۔۔۔۔۔ہتھیار اب تک اندر ہی تھا ۔۔۔میں اسے خود سے دور کرتا اور واپس اپنے ہتھیار سے ٹکراتا تھا ۔۔۔۔جب دور کرتا تو ہتھیار باہر کو آتا ۔۔۔اور جب زور سے خودپر مارتا تو ہتھیار اندر کو سفر کرتا ۔۔۔۔۔ساتھ ہی اپنی کمر کو حرکت دے کراضافی اسپیڈ دے دیتا ۔۔۔آشا کے لئے یہ نئی پوزیشن تھی ۔۔۔۔اسے اب سسکیاں بھرتے ہوئے خود کا بیلنس بھی قائم رکھنا تھا ۔۔۔جوہر جھٹکے کے ساتھ ہل جاتا تھا ۔۔۔۔۔بازو پر پڑنے والے زور نے اس کے کس بل کھول دئے تھے ۔۔۔۔۔ہتھیار اب آسانی سے نیچے کی طرف وار کرتا تھا ۔۔۔۔۔اور آشا کی جان پر بن جاتی تھی ۔۔۔۔اس کے گوشت سے پر چوتڑ بھی الٹے ہونے کی وجہ سے نیچے کو جھکے ہوئے تھے اور بری طرح سے لرزتے تھے ۔۔میں نے جھٹکے دیتے ہوئے اسپیڈ بڑھا دی تھی ۔۔۔۔۔آشا کی آہیں بھی بڑھنے لگی تھی ۔۔۔وہ شاید فارغ ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔میں نے تیزی سے اسے نیچے گرایا اور ہتھیار کو اندر گھساتا ہوئے اس کی گانڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔ساتھ ہی دھکے رواں دوں کر دئے ۔۔۔۔۔جیسے ہی ایک دو دھکے لگے تھے ۔۔۔آشا کی تیز سسکیاں نکلی اور وہ پانی چھوڑنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کافی عرصے بعد ملنے والے اس ہتھیار نے اسے جلدی جلدی پانی چھوڑنے پر مجبور کیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ساتھ والے کمرے میں شکنتلا بھی شاید ٹھنڈی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔وہاں کچھ سکون تھا ۔۔۔۔۔میں نےآشا سے باقی کل کا کہہ کر ایسے بیڈ پر گرا ۔۔اور نیند کی طرف جانے لگا۔۔۔


قسط نمبر7 ۔۔۔۔
صبح میں جلدی اٹھا تھا ۔۔۔بیڈ پر نظر دوڑائی تو آشا نظر نہیں آئی تھی ۔۔شاید باتھ روم کی طرف تھی ۔۔میں اٹھ کر باہر لاؤنج میں آیا ۔۔۔۔جہاں ٹائیگر کو ایکسر سائز کرتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔وہ اپنے انگوٹھے اور دو انگلیوں کے اوپر الٹا کھڑا ہوا ۔کمال بیلنس سے کھڑا ہوا تھا۔۔۔شرٹ اس کے جسم پر نہیں تھی ۔۔۔اور کسرتی جسم پسینے میں چمک رہا تھا ۔۔۔کچھ دیر میں دیکھتا رہا ۔۔ٹائیگر بھی سیدھا ہو گیا ۔۔۔تو اس کا مکمل جسم میرے سامنے تھا ۔۔۔۔کسی ٹھوس چٹان کی مانند ۔۔۔پورا جسم مسلز اور شریڈڈ تھا ۔۔۔۔میری آنکھوں میں تعریف دیکھ کر ٹائیگر بھی مسکرا دیا ۔۔۔مجھے کہنے لگا کہ آ جاؤ ساتھ ہی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔میں آگے بڑھ گیا ۔۔اور ٹائیگر مجھے الٹا کھڑا ہونے میں مدد کرنے لگا ۔۔۔میں دونوں ہاتھ فرش پر جما کر بیلنس قائم کرنے لگا ۔۔اور ٹائیگر نے ڈپس شروع کر دیے۔۔۔۔وہ اٌسی طرح اپنی تین انگلیوں پر ڈپس لگا رہا تھا ۔۔۔۔میں الٹا کھڑا حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ان تین انگلیوں کے اوپر وہ ڈپس سےا ٹھتے ہوئے وہ خود کو اوپر اچھالتا تھا ۔۔۔۔اور انہیں انگلیوں پر واپس آتا تھا ۔۔۔اس نے اپنی مخصوص اسپیڈ رکھی ہوئی تھی ۔۔ایک منٹ میں سو ڈپس کی ۔۔۔ پانچ منٹ میں وہ پانچ سو کا ہندسہ پورا کرچکا تھا ۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ مجھے ڈپس لگانے میں ہیلپ کرنے لگا ۔۔۔۔۔اسی طرح ہمیں آدھا گھنٹا ہو چکا تھا ۔۔۔۔شکنتلا بھی باتھ روم سے نکل کر کمرے سے نکلی تھی ۔۔۔ابھی تک نائٹ سوٹ میں ہی تھی ۔۔بالوں سے گرتا ہوا پانی اس کے پورے جسم پر سفر کر رہا تھا ۔۔اور سامنے والے کو دیکھنے کی دعوت دے رہا تھا ۔۔شکنتلا بلاشبہ آشا سے کہیں زیادہ حسین اور خوبصورت تھی ۔۔۔۔۔آشا کا جسم کچھ فربہی پر آمادہ تھا ۔۔جبکہ شکنتلا اسمارٹ ہونے کے ساتھ ساتھ نسوانی حسن سے پوری طرح لیس تھی ۔سیاہ جالی دار سوٹ میں سرخ برا اورپینٹی پہنے اس کا جسم قیامت ڈھا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اس کے بھرے ہوئے ممے سیدھ اٹھے ہوئے تھے ۔۔۔اور شاید برا کے بغیر بھی ایسی ہی اٹھان کے ساتھ ہوتے ۔۔۔۔پتلی کمر ، اور سامنے سے سلم پیٹ جس پر چھوٹی سی ناف ۔۔۔۔سڈول اور صحت مند رانیں جس پر پیچھے کو گولائی میں اٹھے ہوئے چوتڑ اس کے حسن کو چار چاند لگا رہے تھے ۔۔۔۔مجھے خود پر فوکس کئے ہوئے دیکھ کر اس نے مجھے اسمائل دی اور ٹائیگر کی طرف بڑھنے لگے ۔۔۔جو سرخ پسینے سے بھرے جسم میں ڈوبے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔شکنتلا کی ایک نظر نے مجھے بتا دیا تھا کہ اسے میری موجودگی میں کوئی اعتراض نہیں تھا ۔۔۔۔جس طرح شکنتلا ٹائیگر کی طرف بڑھی تھی ۔۔مجھے بھی گرمی چڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔۔اتنے میں ہمارے کمرے کا دروازہ بھی کھلا تھا ۔۔۔اور آشا بھی باہر کو آئی تھی ۔۔۔۔۔اوپر ہلکی ٹی شرٹ جس میں اس کے بڑے سے ممے پھنسے ہوئے صاف نظر آرہے تھے ۔۔ساتھ ہی ایک ہلکا ٹراؤزر جس میں اس کے بڑے سے چوتڑ نمایا ں اور ران پھنسی ہوئی تھی ۔۔۔وہ قریب آ کر ناشتہ کا پوچھنے لگی تھی ۔۔۔مگر جب پاس پہنچی تو شکنتلا کا موڈ دیکھا ۔۔۔جو کہ سراسر بغاوت پر آمادہ تھا ۔۔۔۔شکنتلا ٹائیگر کے قریب اس کے کے بازؤوں کو خو د کی گردن پر رکھے اس کے گالوں کو چوم رہی تھی ۔۔۔۔۔آشا نے بھی آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا تھا ۔جو کہ درست ہی تھا ۔۔۔میرے قریب آ کر وہ بھی مجھ پر جھکی تھی ۔۔۔اور گڈ مارننگ کس دینے کی کوشش تھی ۔۔میں بھی شکنتلا کو دیکھے گرم ہو چلا تھا ۔۔۔برابر جواب دینے لگا ۔۔۔۔۔ٹائیگر نے مجھے دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا ۔۔۔۔میں اشارہ سمجھ چکا تھا ۔۔۔۔اِدھر ٹائیگر نے شکنتلا کی کمر میں ہاتھ ڈال کراسے گود میں بھرا ۔۔۔اْدھرآشا میری گودمیں سما چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ٹائیگر مجھے اپنے بیڈ روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آگے چلتا گیا ۔۔۔۔میں آشا کواٹھائے ہوئے پیچھے ہو چلا ۔۔۔۔اندر داخل ہو ا تو سامنے ہی ایک جہازی سائز بیڈ میرے سامنے تھے ۔۔۔۔کمرے میں ہلکی ٹھنڈک تھی ۔۔۔۔۔ساتھ ہی مدھم لائٹ اور مسحور کن خوشبو اسے اور رومانوی بنا رہے تھے ۔۔۔۔ٹائیگر خود تو پسینہ نکال چکا تھا مگر اب شاید ان دونوں کا نمبر تھا ۔۔۔۔۔۔اور اس لئے اس نے شکنتلا کو بیڈ پر اچھا لا تھا ۔۔۔شکنتلا بیڈ پر گرنے کے بعد شرارتی آنکھوں سے ٹائیگر کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔اسے بلا رہی تھی ۔۔۔۔اسے پکار رہی تھی ۔۔۔۔میں بھی برابر میں آشا کو بیڈ پر بٹھا چکا تھا ۔۔اور بیڈ پر گھٹنے کے بل بیٹھی مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔میں بیڈ کے اور قریب ہوا تھا ۔۔۔۔آشا تھوڑی آگے کو ہوئی اور میری شرٹ کے بٹن کھولنے لگی ۔۔۔جلد ہی میرا بھی توانا سینہ اس کے سامنے تھا ۔۔۔وہ ستائشی نظروں سے دیکھتی ہوئی ۔۔۔اپنے ہونٹ میرے پاس لائی تھی ۔۔۔۔اور چومنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔مگر سامنے شکنتلا کو دیکھنے کے بعد مجھے اس میں مزہ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔نظریں اب بھی اسی کی طرف لپک رہی تھیں ۔۔۔اور وہ بھی شاید میری گرم نظریں بھانپ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔آشا تھوڑی سی اٹھتی ہوئی میرے ہونٹوں کو چوم رہی تھی ۔۔۔میں بھی اس کا ساتھ دینے لگا تھا ۔۔۔۔ادھر ٹائیگر بھی بیڈ پر آ چکا تھا ۔۔۔۔اور شکنتلا اسے اپنی بانہوںمیں لئے چومے جا رہی تھی ۔۔ٹائیگر نے بھی آہستہ آہستہ سے جوابی کارؤائی شروع کی ۔۔۔۔اور اس کی نائیٹ ڈریس کے اندر سے اس کی برا کھول دی ۔۔۔۔سیاہ جالی کے اندر سے گورے گورے بھرے بھرے ہوئے ممے باہر کو جھلکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں آشا کو چومتے ہوئے پیچھے بھی نظر مار رہا تھا ۔۔۔۔شکنتلا بہت خوبصورت جسم کی مالک تھی ۔۔۔اس کا انداز ، اس کی آواز اس کے حسن کو اور دو آتشہ کر رہے تھے ۔۔اس کے آواز کی کھنکھناہٹ مجھے اند ر سے بلا رہی تھی ۔اس کے جسم کا ہر انداز دعوت دینے والا تھا۔۔۔۔۔میں نظریں شکنتلا پر گاڑے آشا کی ٹی شرٹ پر ہاتھ گھمانے لگا ۔۔۔۔۔اس کے گوشت سے بھرے ہلتے جلتےممے ۔۔۔اپنے ہاتھ میں جکڑنے لگا ۔۔۔۔ساتھ ہی اس کی ٹی شرٹ بھی اتار دی ۔۔۔۔۔۔۔آشا کا گورا جسم۔۔۔اور اس پر بھرے ہوئے ممے سامنے تھے ۔۔۔میں بھی بیڈ پر گھٹنے رکھ کر بیٹھا ااور ممے تھام کر چوسنے لگا ۔۔۔ آشا کے نپلز کافی بڑے اور لمبے تھے ۔۔۔۔۔جبکہ شکنتلا کے گلابی رنگت میں چھوٹے چھوٹے تھے ۔۔۔۔میرے ممے چوستے چوستے۔۔۔۔۔ ٹائیگر شکنتلا کی پینٹی اتار چکا تھا ۔۔۔۔شکنتلا کی شدت جذبات سے نکلتی ہوئی آہیں کمرہ گرم کرنے لگیں تھیں ۔۔۔میں نے بھی ٹائیگر کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔اور آشا کولٹاتے ہوئے اس کے اوپر آیا اور اس کے ٹراؤزر کو کھینچ کر نیچے کر دیا اور اب اس کے اوپر جھکتے ہوئے دونوں مموں پر ٹوٹ چکا تھا ۔۔۔۔میری بےقراری دیکھ کر آشا بھی آہیں بھر رہی تھی ۔۔۔میں کوئی رعایت دئیے بغیراس کے مموں کو بری طرح سے رگید رہا تھا ۔۔۔۔اس کے نپلز کو اپنی انگلی کی مدد سے مسل ڈالتا ۔۔۔اور دونوں مٹھی میں دونوں مموں کو ایسے جکڑتا جیسے دودھ نکالنے کا پورا ارادہ ہو ۔۔۔۔آشا میرے سر پرہاتھ پھیرتے ہوئے آہیں بھررہی تھیں ۔۔۔۔۔۔ٹائیگر اب شکنتلا کی ٹانگوں کے درمیان اس کی پتلی سیپی جیسی چوت میں انگلی ڈالے ہلا رہا تھا ۔۔۔۔شکنتلا کی سسکیاں نکل رہی تھی۔۔۔۔وہ دونوں ہاتھوں میں اپنے منہ کو کھولے آوازیں نکال رہی تھیں ۔۔۔۔۔میں نے بھی ایک ہاتھ نیچے لے جا کر آشا کی چوت میں انگلی گھسا دی ۔۔۔وہ آہ نکالتی ہوئی اوپر کو اٹھی تھی ۔۔۔۔۔میں اب بھی اس کے مموں پر دانت گاڑتا ہوا نیچے سے انگلی ہلانے لگا تھا ۔۔۔۔۔آشا کی سسکیاں گونجنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔ٹائیگر بھی کچھ دیر بعد ہم پر نظر ڈال لیتا تھا ۔۔۔۔۔شکنتلا کے ممے بے قراری سے ہل رہے تھے ۔۔۔مچل رہے تھے ۔اس کی ہر حرکت پر یہ اٹھے ہوئے ممے برے طریقے سے باؤنس ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد شکنتلا نے زوردار آہوں میں پانی چھوڑا ۔۔۔۔۔۔اور پھر شکنتلا اٹھتے ہوئےٹائیگر کو لٹا کر اور اس کے اوپر جھک چکی تھی ۔۔اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے نیچے کو آئی تھی ۔اور اس کے جاندار سینے پر اپنے ہونٹوں سے خراج تحسین پیش کرنے لگی ۔۔۔۔ادھر میں نے انگلی کو اتنی تیزی سے حرکت دے رہا تھا کہ آشا کا پورا جسم لرز رہا تھا ۔۔۔وہ مستقل ہلے جا رہی تھی ۔۔جس سے اس کے خربوزے جیسے ممے بھی ہلے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔وہ اپنا ایک ہاتھ میرے بازو پر جمائے ہوئےتھی ۔۔اسے مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے ۔۔اورمیرا دوسرا ہاتھ اس کی چوت میں گھس رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔آشا کی سسکیاں بلند ہونے لگیں تھیں ۔۔۔۔وہ اپنی کمر کو جھٹکا دینے لگی تھی ۔۔۔۔میرے ہر جھٹکےکے ساتھ وہ بھی اوپر کو اٹھتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر ایک تیز آواز کے ساتھ اس کی چوت پانی چھوڑنے لگی تھی ۔۔۔۔ٹائیگر اور آشا بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے ۔۔۔ادھر میں آشا کے اوپر تھا ۔۔۔اور اْدھر شکنتلا ٹائیگر کے اوپر اس کے سینے کو چومتی نیچے کو جا رہی تھی ۔۔۔ٹائیگر کا ہاتھ حرکت میں آیا تھا اور آشا کے ہاتھ کو پکڑنے لگا تھا ۔۔۔آشا نے بھی اْسے مسکرا کر دیکھا تھا ۔۔۔۔۔اور مضبوطی سے تھا م لیا تھا ۔۔۔۔ظاہر ہے مجھے کیا اعتراض ہونا تھا ۔۔۔۔۔شکنتلا نے ٹائیگر کی پینٹ کی زپ کھولتے ہوئے اتارنے لگی تھی ۔۔۔۔انڈروئیر میں بڑا سا ابھار سامنے تھا ۔۔۔آشا نے بھی چونک کر ادھر دیکھا تھا ۔۔۔۔۔اور پھر اس کی نظر واپس مجھ پر پلٹی تھی ۔۔۔میں نے کوئی خاص رد عمل نہیں دکھایا تھا ۔۔۔۔ٹائیگر اور آشا نے ابھی بھی ایک دوسرے کے ہاتھوں کو تھاما ہوا تھا ۔۔۔شکنتلا نے اب انڈروئیر کو اپنے ہونٹوں سے چھوتے اور زبان کو اس پر پھیرتے ہوئے اپنے دانتوں سے انڈروئیر کو پکڑا ۔۔۔اور نیچے کو کھینچنے لگی ۔۔۔تھوڑی کوشش کے بعد وہ اس میں کامیاب ہوئی اور کچھ انڈروئیر نیچے ہوا تھا ۔۔۔نیچے ٹائیگر کاصحت مند اور موٹا تازہ لن انگڑائی لیتا ہوا اٹھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔شکنتلا جس انداز سے ٹائیگر پر جھکی ہوئ تھی ۔۔۔۔اسی شاندار انداز سے اس کی پیچھے کو گانڈ اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔آگے کو اپنے کام میں مصروف ہونے کا ساتھ ساتھ وہ اپنی گانڈ کو بھی ہلکے سے گردش دیتی تھی ۔۔۔۔ادھر آشا مجھے خود پر گرا رہی تھی ۔۔۔میں بھی اس کے اوپر وزن ڈال کر اس کے ہونٹوں کو چومنے لگے تھا ۔۔۔۔آشا کے ہاتھ میری کمر پر پھر رہے تھے ۔۔۔اس کی انگلیاں میری کمر پر دائرے بناتی ہوئی حرکت کر رہی تھی۔۔۔۔۔اور بڑے سے نرم گرم ممے میرے سینے کے نیچے دبے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔میں بھرپور طریقے سے اْسے اپنے وزن کے نیچے دبا رہا تھا ۔۔۔جس کا جواب وہ سسکیاں بھر کر دے رہی تھی ۔۔۔۔۔اْدھر ٹائیگر کا موٹا تازہ لن شکنتلا کے سامنے تھے ۔۔۔۔۔۔10 انچ کے قریب لمبا اور اچھا خاصا موٹا ۔۔۔۔۔شکنتلا اسے اپنے منہ میں لیتی ہوئی چوسے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کے چوسنے کا انداز اور آواز بڑی ہی دلنشین تھی ۔۔۔۔۔۔وہ چوستے ہوئے کبھی ہمیں دیکھتی اور کبھی ٹائیگر کی بند ہوتی آنکھوں پر نظر ڈالتی تھی ۔۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی چوسنے کے بعد ٹائیگر اٹھا تھا ۔۔۔۔اور شکنتلا کو بیڈ پر گراتے ہوئے اس کی ٹانگیں اٹھا چکا تھا ۔۔۔شکنتلا کی آنکھیں کسی شیرنی کی طرح چمک رہی تھی ۔۔جیسے اپنے شیر کو بلا رہی ہوں۔۔۔۔ٹائیگر نے بھی دونوں ٹانگوں کو سمبھالتے ہوئے لن اندر پھنسایا تھا ۔۔۔۔ٹوپا ہی اندر تھا کہ شکنتلا کی سریلی سی آواز کمرے میں گونجی تھی ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔اف۔۔اوئی۔۔۔۔کی یہ آواز مجھےبھی ہلا چکی تھی ۔۔۔میں نے شکنتلا اور آشا کے درمیان میں لیٹتے ہوئے آشا کی طرف کروٹ لے گیا ۔۔۔اور اپنے پینٹ کی زپ کھول چکا تھا ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی تھوڑا اٹھتے ہوئے پینٹ نیچے کھسکا دی۔۔۔۔۔۔آشا دلچسپی سے مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں اس کے منہ پر جھک گیا ۔۔۔او رنیچے سے اپنے ہتھیار کو آزاد کرنے لگا ۔۔۔۔شکنتلا کی آوازیں اب مستقل آنے لگیں تھیں ۔۔۔۔ٹائیگر اپنا آدھا لن اندر ڈالے مشین چلا چکا تھا ۔۔۔۔۔اس کی اسپیڈ قابل دید تھی ۔۔۔بیڈ پورے زور سے ہلتے ہوئے ہمیں بھی جوش دلا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور شکنتلا کی سسکیاں اور آہیں تو اپنی طرف کھینچ ہی رہی تھی ۔۔۔۔شنکنتلا نے اپنے ہاتھ میں اپنی ٹانگیں سمھالیں ہوئی تھی ۔۔اور منہ کھولے ہوئے آہ۔۔۔۔۔اف۔۔۔۔ہائے کی آوازیں نکال رہی تھی ۔۔اور ٹائیگر اوپر چڑھے اس کا بینڈ بجا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آشا کے برابر میں اس کی طرف کروٹ لیے لیٹا تھا ۔۔اس لئے صر ف شکنتلا کی آوازیں ہی آ رہی تھی ۔۔ان کی طرف میری پیٹھ تھی ۔۔۔۔میرا ہتھیار میرے ہاتھ میں پھنکار مار رہا تھا ۔۔۔میں نے ایک مرتبہ ہاتھ پھیر کر اس کی سختی چیک کی اور مطمئن ہو کر آشا کے اوپر آنے لگا ۔۔وہ اپنی ٹانگیں ملائے لیٹی تھی ۔۔۔میرا چہرہ اس کے منہ پر جھکا ہوا تھا ۔۔۔اور اس کے ہاتھ اب میرے کندھے پر آ کر تھامنے لگے تھے ۔۔۔۔میں نے سائیڈ سے اس کی ایک ٹانگ کو تھوڑا سا اٹھا یا اور اپنی طرف کروٹ کرتے ہوئے کھینچا ۔۔۔۔۔ساتھ ہی اس کی ٹانگ میرے ہاتھ میں قدرے اوپر اٹھ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اور نیچے سے ہتھیار اس کی پھولی ہوئی چوت پر دستک دے رہا تھا ۔۔۔آشا نے نیچے ہاتھ لے جا کر میرا ہتھیار تھاما تھا اوراپنی چوت پر سیٹ کیا ۔۔۔۔۔میں بھی نشانہ کا منتظر تھا ۔۔۔۔۔جیسے ہی دونوں آپس میں ٹکرائے میں نے زور بڑھا دیا ۔۔۔۔۔۔ہتھیار اندر گھسنے کے بجائے اوپر اٹھا تھا ۔۔۔آشا نے دوبارہ سے سیٹ کیا ۔۔اور اب میں نے اس کی ٹانگ کے نیچے سے اس کے بڑے بڑے چوتڑ پر ہاتھ رکھا اور اپنی طرف دھکیلا ۔۔۔۔ٹوپا اندر پھنسا تھا ۔۔۔۔آشا نے ایک گہر ی سانس لیتےہوئے ایک آہ بھری تھی ۔۔۔آئی ۔۔اف۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔۔ادھر شکنتلا کی گرما گرم چیخیں مجھے متوجہ کر رہی تھی ۔۔۔۔ٹائیگر نے اس کی ایک ٹانگ نیچے لٹاتے ہوئے دوسری ٹانگ اٹھائی ہوئی تھی ۔۔۔اور جھٹکے اسی اسپیڈ سے جاری تھی ۔۔۔۔۔۔جس کی طاقت شکنتلا کی درد بھری چیخوں سے بخوبی ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
ادھر میرا ٹوپا آشا کی چوت میں پھنس چکا تھا ۔۔۔۔وہ گہر ی سانس لیتے ہوئے آہ بھر رہی تھی ۔۔اوئی ۔۔آہ۔۔۔۔سس۔۔۔میں نے اس کی کروٹ کو ختم کرتے ہوئے اس پر زور دیتا ہوا اسے سیدھ لٹایا تھا ۔۔۔ساتھ ہی اس کے اوپر آتے ہوئے اس کے اوپر لیٹ چکا تھا ۔۔۔۔۔ہتھیار پوری اسپیڈ سے اندر کو لپکا تھا ۔۔۔۔آشا برے طریقے سےکانپی تھی ۔۔۔۔۔اور ایک گہری چیخ اس کے منہ سے نکلی تھی ۔۔۔جس کے بعد میں اپنے ہونٹ اس کے ہونٹ پر رکھ چکا تھا ۔۔۔اس کا فربہ اور نرم جسم میرے نیچے لرز رہا تھا ۔۔۔۔وہ مجھے خود سے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔رات اس نے آدھا لے کر بس کر دی تھی ۔۔۔۔مگر اب ایک ہی جھٹکے میں پورا اندر سما چکا تھا ۔۔۔۔ٹائیگر اور شکنتلا بھی ایک سیکنڈ کر رک کر اس آواز کو سننے لگے تھے ۔۔۔۔۔مگر میں نے آشا کا منہ پورے منہ سے بند کئے ہوے تھے ۔۔۔۔۔۔دونوں ہاتھ اس کے کندھے کے اوپر بیڈ پر رکھ کر ۔۔۔۔۔میں نےاپنے گھٹنے بیڈ پر ٹکائے ہوئے تھے ۔۔۔اور تھوڑا سا اٹھا ہوا ۔۔میں کچھ ہلا کر اور گھٹنے کے بل اٹھتے ہوئے ہتھیار کا کچھ حصہ باہر نکالا اور پھر گھسا دیا ۔۔۔۔۔۔آشا پھر سے اچھلی تھی ۔بلند چیخ کے ساتھ ۔۔۔۔اس نے ٹانگیں مار کر مجھے اٹھا نا چاہا تھا۔۔۔۔مگر یہ مشکل تھا ۔۔۔ادھر میں اس کے اوپر سے اٹھ کر اس کے بڑے سے مموں پر ہاتھ رکھے اس پر جھک گیا ۔۔مموں کو پوری ہتھیلی سے دبوچ چکا تھا۔۔۔۔اور ہتھیار باہر نکال کر ہلا نا شروع کردیا ۔۔۔۔۔آشا کی گرم گرم درد سے بھری ہوئی آوازوں نے شکنتلا کو بھی کھینچا تھا ۔۔۔۔وہ ہماری طرف دیکھنے لگی تھی ۔۔۔کہ ٹائیگر نے اسے اٹھا کر گھوڑی بنانا چاہا ۔۔۔۔وہ اٹھی اور ہمیں دیکھتی ہوئی ہماری طرف منہ کر کے گھوڑی بن گئی ۔۔۔۔۔اس کے بھاری بھرکم اٹھے ہوئے ممے اب ہوا میں تیر رہے تھے ۔۔۔۔اس کی آنکھوں کی حیرت مجھے صاف نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔شاید آشا کی درد بھری چیخوں پر حیرت تھی ۔۔جو متواتر جاری تھیں۔۔۔۔۔۔۔ٹائیگر اس کے چوتڑ کو تھامتا ہوا اندر گھسا تھا ۔۔۔شکنتلا کی ایک تیز سسکی نکلی تھی ۔۔۔وہ مستقل مجھے دیکھے جارہی تھی ۔۔۔اور میں نے بھی آشا پر بیٹھتے ہوئے اپنے ہتھیار کو باہر کھینچا اور دوبارہ اندر بھیجا ۔۔۔۔۔۔آشا اب اونچی آواز میں پکار رہی تھی ۔۔۔۔اف۔۔۔مرگئی ۔۔۔ہائے ۔۔۔۔سس۔۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔۔اور میں نے اب جھٹکے بڑھا دئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔جس سے آشا کی آواز بلند ہوئی ۔۔۔اور شکنتلا کی آنکھوں میں میرے لئے محبت چڑھنے لگی تھی ۔۔۔اس نے آشا کی چوت میں سے اندر باہر ہوتے ہوئے اس نے میرے ہتھیار کو دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔۔۔اور اب دیکھے ہوئےسسکیا ں بھر رہی تھی ۔۔۔۔جن میں میرے لئے دعوت بھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹائیگر کی اسپیڈ کی وجہ سے شکنتلا بھی آگے کو لہراتی اور پھر اپنی جگہ سمبھالتی ۔۔۔۔بیڈ کی چادر کو دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوئے وہ مستقل اوئی ۔۔۔اوئی ۔۔۔۔ہائے ۔۔۔۔افف۔۔۔۔کی سریلی آوازیں نکال رہی تھی ۔۔۔۔۔۔اور آشا ان سب سےانجان درد برداشت کرنے میں لگی تھی ۔۔۔اس کا فربہ جسم تھل تھل مچا رہا تھا ۔۔۔۔۔گوشت سے بھرے ہوئے ممے پورے زور سے ہل جل کر رہےتھے ۔۔اور وہ ایک ہاتھ اپنے منہ پر رکھتی ہوئی دوسرے ہاتھ سے مموں کو تھامنے کی کوشش کررہی تھی ۔۔۔۔۔جو بے دردی سے اوپر کو اچھلتے تھے ۔۔۔۔۔۔نیچے سے میں اس کی ٹانگوں کو ملائے اس میں ہتھیار کو گھسائی جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ٹائیگر شکنتلا کی کمر کو چھوڑتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ چکا تھا ۔۔اس کے جھٹکے طوفانی ہو چلے تھے ۔۔۔۔جس کے ساتھ شکنتلا کے ممے بھی اور تیزی سے ہلنے لگے تھے ۔۔۔۔۔۔میں نے بھی اسپیڈ بڑھا دی ۔۔۔اور بیک گراؤنڈ میں آشا کی درد بھری گھٹی ہوئی چیخیں بلند ہونے لگیں ۔۔۔۔۔۔۔شکنتلا کی آہوں اور چیخوں نے بتا دیا تھا کہ وہ قریب ہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے اندازہ لگاتے ہی اپنی اسپیڈ اور تیز کر دی تھی ۔۔۔میں چاہتا تھا کہ دونوں ساتھ ہی فارغ ہوں ۔۔۔اور نتیجہ میری مرضی کے مطابق ہی تھا ۔۔۔۔اِدھر آشا کی سسکیوں کے ساتھ ہی اس نے پانی چھوڑا تھا ۔۔۔اور اٌدھر شکنتلا بھی آگے کو لیٹتی ہوئی پانی چھوڑنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر تک ایسے ہی ماحول گرم رہا تھا ۔۔۔۔۔میں بیڈ پر آشا کے برابر لیٹا تھا ۔۔۔۔اور ادھر ٹائیگر بھی اٌسی طرف لیٹا تھا ۔۔۔۔۔ہم دونوں اب تک فارغ نہیں ہوئے تھے ۔۔۔۔درمیاں میں شکنتلا اور میں لیٹے تھے ۔۔جبکہ دونوں بیڈ کی سائیڈ ز پر آشا اور ٹائیگر تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکنتلا کے جسم کی گرمی اور کشش مجھے کھینچ رہی تھی ۔۔۔اس کے سختی سے تنے ہوئے ممے میں صاف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔بغیر برا کے وہ ایسے سیدھے کھڑے تھے ۔۔جیسے سالوں کی پریکٹس ہو ۔۔۔۔۔۔۔بالکل سیدھے اوپر کو اٹھے ہوئے ۔۔۔۔گول مٹول سے ۔۔۔۔جن پر چھوٹے گلابی نپل عجب منظر دکھا رہے تھے ۔۔۔۔شکنتلا کا ایک ہاتھ میرے سینے پر سے ہوتا ہوا نیچے کی طر ف ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ میرے اوپر جھکنے لگی تھی ۔۔۔۔۔اس کا خوبصورت چہرہ میرے سامنے آیا تھا ۔۔۔۔موٹی سیاہ آنکھوں میں میرے لئے محبت کا دریا ٹھاٹھیں مار رہا تھا ۔۔۔وہ میرے ہونٹوں پر جھکی تو مجھے اس کے ہونٹوں کا نرم ذائقہ محسوس ہو ا ۔۔۔۔۔میں بھی کسی شیرینی کی طرح چوسنے لگا ۔۔۔۔ٹائیگر بھی اٹھ چکا تھا۔۔۔ساتھ ہی ڈریسنگ ٹیبل سے وہ ویزلین لے کر اپنے لن پر لگا رہا تھا ۔۔۔اور شکنتلا ان سب سے بے خبر میرے ہونٹوں کو چومے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کے نیچےکو جھکے ہوئے میرے سینے سے ٹکرا رہے تھے ۔۔۔جن کی سختی بھی مجھے محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔آشا اب بھی گہر ی سانس لئے ہوئے لیٹی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ بار بار اپنی چوت پر ہاتھ پھیرتی اور اسےآہستہ آہستہ دباتی ۔۔۔شاید مساج کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ادھر شکنتلا نے ایک ہاتھ میرے سینے پر پھیرتے ہوئے میرے ہونٹوں کو جکڑا ہوا تھا ۔۔۔۔اٌدھر ٹائیگر اس کے پیچھے آ چکا تھا اور اس کی ٹانگوں کو صحیح سے گھماتے ہوئے مکمل گھوڑی بنا چکا تھا ۔۔۔۔شکنتلا نے اب تک پیچھے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔میرے ہونٹ اس کے ہونٹوںمیں دبے ہوئے تھے ۔۔میں نے نیچے سے ہاتھ بڑھا کر اس کے سختی سے تنے مموں کو تھامنا چاہا ۔۔۔۔جو واقعی کمال سختی سے تنے ہوئے اور گول مٹول سے تھے ۔۔۔میں نے اسے دباتے ہوئے ہاتھ پھیرنے لگا ۔۔۔۔۔شکنتلا کے ہونٹوں نے میرے ہونٹوں پر زور بڑھا دیا تھا ۔۔۔شاید اسے بھی میرا ٹچ اچھا لگا تھا ۔۔۔۔میں باری باری اس کے دونوں مموں کو دبا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔آشا بھی اب کروٹ لئے ہمیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ٹائیگر نے اپنا لن چکنا کر دیا تھا ۔۔۔۔اور اب شکنتلا کی اٹھی ہوئی گانڈ کے پیچھے پوزیشن سمبھال چکا تھا ۔۔۔اس نے دونون ہاتھ سے شکنتلا کی گانڈ کو پکڑا تھا ۔۔۔۔اور ایک متوازن زور دیتےہوئے اس کی گانڈمیں اپنا لن پھنسا دیا ۔۔۔۔شکنتلا بلبلا اٹھی تھی ۔۔اور بے اختیار مجھے پر گری تھی ۔۔اس کےسخت ممے میرے سینے پر دبے تھے ۔۔۔۔۔میں نے بھی آگے اس کی کمر کو تھامے ہوئے اسے خود پر دبا دیا ۔۔اور اس کے ہونٹوں کو دبوچ لیا ۔۔۔۔۔۔ٹائیگر نے لن اندر پھنساتے ہوئے اب تھوڑا آگے کو آیا تھا ۔۔۔۔۔۔شکنتلا کی گانڈ اچھے سے پیچھے کو اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔جس میں ٹائیگر کا لن دندناتے ہوئے جا رہا تھا ۔۔۔۔شکنتلا کی آنسو بھری آنکھیں میرے سامنے تھی ۔۔۔۔۔اور ہونٹ میرے ہونٹوں پر جمے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔ٹائیگر نے اب جھٹکے دینے شروع کیے تھے ۔۔۔جس کا اثر میرے سینے پر گڑے شکنتلا کے سخت مموں پر بھی پڑ رہا تھا ۔۔۔شکنتلا نے تھوڑا سا منہ اوپر اٹھا تے ہوئے ایک سسکاری بھری ہواور دوبارہ سے میرے منہ کو چومنےلگی ۔۔۔۔میں نے اس کے نیچے ہاتھ ڈالا اور اٹھاتے ہوئے اپنے اوپر لے آیا ۔۔۔ٹائیگر بھی ساتھ ہی آیا تھا ۔۔۔۔اور اب شکنتلا میرے اوپر گھوڑی بنی ہوئی تھی ۔۔۔اس کے پیچھے ٹائیگر جھٹکے مار رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور شکنتلا میرے اوپر جھکتے ہوئے میرے ہونٹوں کو چوم رہی تھی ۔۔۔یہ صورت حال میرے ہتھیار کے لئے کافی سود مند تھی ۔۔۔۔۔۔وہ بھی تیزی سے اٹھ کر سلامی دینے لگا ۔۔۔۔اور شکنتلا کی چوت سے ٹکرایا تھا ۔۔۔شکنتلا نے اوپر کو جھٹکا مارا تھا ۔۔۔۔اور پھر دوبارہ سے جھکنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔ٹائیگر کے تیز رفتار جھٹکوں کے ساتھ ہی شکنتلا بھی مجھ پر تیزی سے گرنے لگی تھی ۔۔۔اور پھر کچھ دیر بعد ٹائیگر نے جھٹکے اور بڑھا ئے اور ایک تیز آواز کے ساتھ فارغ ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے آخری جھٹکے نے شکنتلا کو مجھے پر مکمل گر ادیا تھا ۔۔اوروہ مجھ پر الٹی لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔ٹائیگر بھی فارغ ہوتے ہوئے اس پر جھکتا چلا گیا ۔۔۔۔۔۔کچھ سیکنڈ سانس برابر کر وہ اٹھا اور آشا کے برابر پہنچ گیا ۔۔۔۔۔۔جو اس کی برہم سانسوں کو اپنے نرم ہونٹوں سے بجھانے کی کوشش کر نے لگی ۔۔۔۔۔۔
اِدھر شکنتلا مجھے بے اختیار چومے جا رہی تھی ۔۔۔۔میری سائیڈ پر لیٹتے ہوئے اس نے مجھے خود سے لپٹانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔مگر میرے ہتھیار کو یہ بات پسند نہیں آئی تھی ۔۔۔ٹوپا شکنتلا کی چوت سے ٹکرایا اور وہ بے اختیار پیچھے کو ہوگئی ۔۔۔اسےمجھےسے ملنے سے پہلے اس سے نبٹنا تھا ۔۔اور اس نے وہی کیا تھا۔۔۔۔وہ ایک ہاتھ سے اسے تھامنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔مگر ایک ہاتھ میں سمانا میرے ہتھیار نے نہیں سیکھا تھا ۔۔۔وہ بڑی مشکل سےاس پر اپنے ہاتھ کو پھیرتی، مگر وہ پھر بھی باربار نکلا جاتا تھا ۔۔۔شکنتلا کے منہ سے ہربار اْف کی سریلی آواز نکلتی اور وہ اسے پھر تھام لیتی ۔۔کیا کھلاتے ہو اسے ۔۔۔بھگوان قسم پہلی بار دیکھا ہے ۔۔ایسا موٹا تازہ ہتھیار ۔۔۔۔۔۔بھگوان کی آواز پر میرا منہ کڑوا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔وہ اب اسے دونوں ہاتھوں سے سہلا کر سواری کرنے لگی تھی ۔۔۔۔۔ایک ٹانگ مجھ پر سے گزار کو سوار ہونے لگی ۔۔۔۔میں نے بھی سہار ا دیا ۔۔۔۔وہ دونوں پاؤں دائیں بائیں رکھے اوپر آ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔آدھی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔اور نیچے سے ہتھیار سیدھا کھڑا استقبال کو تیار تھا ۔۔۔۔۔وہ آہستگی سے بیٹھنے لگی تھی ۔۔۔ابھی چوت ٹوپے کے اوپر رکھے ہوئے سوچ رہی تھی کہ ایک تیز چیخ نے ہمیں چونکا دیا ۔۔۔اور شکنتلا بے اختیار میرے ہتھیار پر گری تھی ۔۔۔۔۔اور دوسر ی چیخ شکنتلا کے منہ سے نکلی تھی ۔۔۔۔۔میں نے دائیں طرف نظر گھمائی تو ٹائیگر آشا کو گھوڑی بنائے پیچھے سےاس کی چوت بجا رہا تھا اور پہلی چیخ آشا کے منہ سے نکلی تھی ۔۔۔۔۔جبکہ دوسر ی چیخ مارنے کے بعد شکنتلا اب ایک ہاتھ سے اپنا منہ بند کئے خودکو ساکت کئے ہوئے تھے ۔۔ دوسرے ہاتھ سے نیچے سے ہتھیار کو پکڑ کر خود میں جانے سے روکے ہوئے تھی ۔۔۔اس کے تنے ہوئے ممے ہلکے سے باؤنس ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔اور اپنی بڑی سیاہ آنکھوں میں پانی بھرے مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے نیچےسے اس کی سپورٹ کی ۔۔۔اور تھوڑا سا اوپر کو حرکت دی ۔۔۔۔وہ تیزی سے میرے سینے گری تھی ۔۔۔راجہ بس ۔۔۔۔۔تھوڑا ٹھہر جاؤ ۔۔۔۔۔میں نے بھی نیچے سے اس کے موٹے تازے سخت چوتڑ تھامے ہوئے اسے خود سے لپٹا لیا ۔۔اور تھوڑی دیر بعد ہی حرکت کر ڈالتا ۔۔۔۔۔وہ سسکی لیتی ہوئی مجھے پر اپنے مموں کو رگڑتی تھی ۔۔۔اور میرے ہونٹوں پر اپنا زور چلانے لگی ۔۔۔میں نےآہستگی سے کمر کو ہلانا شروع کیا تھا ۔۔۔۔شکنتلا کی سریلی آوازیں میرے کانوں میں گونج رہی تھیں۔۔۔۔وہ آدھے سے زیادہ ہتھیار اپنے اندر لے چکی تھی ۔۔۔اوئی ۔۔افف۔۔۔سس ۔۔ کی آوازیں مجھے سنا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔دائیں طرف سے آشا کی سسکاریں بھی میرے کانوں میں پڑ رہی تھیں ۔۔۔۔۔ٹائیگر کے جھٹکے کمال کے تھے ۔۔آشا گھوڑی بنی کانپ رہی تھی ۔۔۔اس کے بڑے سے ممے نیچے بری طریقے سے تھرک رہے تھے ۔۔۔۔اور کمر بھی بری طریقے سے ہچکولے کھا رہی تھی ۔۔۔بال بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔۔اور چہرہ لال سرخ ہوا ۔۔۔۔ٹائیگر کو روکنے کی بھرپور کوشش جا رہی تھی ۔۔۔۔مگر وہ بھپرئے ہوئے طوفان کی طرح بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔میں ان کو دیکھ رہا تھا کہ آشا نے میرا چہر ہ اپنی طرف گھمایا اور دونوں ہاتھوں میں تھا م کر خود کو اٹھانے اور بٹھانے لگی ۔۔۔ساتھ ہی اس کی گر م گرم بھرپور سسکی مجھے سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔۔۔میں بھی اس کی کمر کو تھامتے ہوئے اسے اٹھاتا بٹھاتا رہا ۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی رہا ۔۔میرے ہتھیار میں تناؤ بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔شکنتلا کی اسپیڈ سے میری تسلی نہیں ہو پا رہی تھی ۔۔آخر میں اسے گود میں اٹھائے اٹھ بیٹھا ۔۔شکنتلا کی گھٹی گھٹی سی آوازیں کانوں میں پڑی تھی ۔۔۔۔ہتھیار اور اندر تک گھس چکا تھا ۔۔۔میں اسے کمرسے خود سے لپٹائے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ساتھ پڑی ڈریسنگ ٹیبل پر اسے بٹھائے ہوئے ۔۔۔۔ایک زور دار جھٹکا مار چکا تھا ۔۔۔۔ڈریسنگ ٹیبل بری طریقے سے ہلی تھی ۔۔۔۔شکنتلا کی ٹانگیں ابھی بھی میری کمر کے گرد تھیں اور ہاتھ میرے گردن کے گرد لپٹے ہوئے تھے ۔۔۔میں نے اسے بٹھائے ہوئے جھٹکے بڑھا دئے ۔۔۔ساتھ ہی شکنتلا کی اف ۔۔۔ہائے ۔۔سس ۔۔۔۔اوئ ۔۔۔۔بڑھنے لگی ۔۔۔ادھر ٹائیگر آشا کو خود پر بٹھا ئے ، نیچے سے دھکے مار رہا تھا ۔۔۔آشا بار بار اونچی اچھلتی اور پھر نیچے اس کے لن پر گرتی ۔۔۔اس کے ممے بھی اب تھکنے لگے تھے ۔۔۔آج ہل ہل کر وہ بھی پریشان تھے ۔۔۔۔اور چوت تو معافی مانگنے پر تلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔مگر ٹائیگر آج اخیر کرنے پر تْلا ہوا تھا ۔۔۔۔ادھر شکنتلا بھی ڈریسنگ ٹیبل پر کچھ اچھا محسوس کر نہیں رہی تھی ، اس کی اسکن نیچے سلپ ہو کر رگڑ رہی تھی ۔۔۔اس نے مجھے اٹھانے کا اشارہ کیا ۔۔۔میں نے بھی اسے گود میں اٹھائے ہوا دائیں بائیں نظر دوڑانے لگا ۔۔۔۔۔جگہ نظر نہیں آئی تو بیڈ پر اس لٹاتے ہوئے اس کی ٹانگیں اوپر اٹھا دیں ۔۔۔دونوں ٹانگیں اٹھا ئے ہوئے میں اس اپنے بازوؤں میں تھام کر نیچے سے دھکے دینے لگا تھا ۔۔۔۔اس کے مموں سختی سے جمتے ہوئے جھٹکے کھا رہے تھے ۔۔۔۔میں نے ہاتھ بڑھا کر انہیں تھا ما اور مشین چلا دی ۔۔۔۔۔۔تین منٹ تک ایسے دھکے مار کر میں نے اس کی ٹانگیں دائیں بائیں پھیلا دی تھی ۔۔۔۔۔دونوں ٹانگیں دائیں بائیں پھیلائے وہ مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔ساتھ ہی سسکی بھر کر جوش دلاتی ۔۔۔۔میرے طوفانی جھٹکے اب بڑھنے لگے تھے ۔۔۔اس کے مموں کو دبوچے ہوئے میں ٹاپ گئیر لگاتا گیا ۔۔۔۔۔۔۔شکنتلا کی سسکاریں کمرے میں گونجنے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔اوئی ۔۔۔۔افف۔۔۔ہائے ۔۔۔۔ہائے ۔۔۔۔بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔۔اور پھر ایک تیز آواز کے ساتھ وہ فارغ ہونے لگی ۔۔۔۔میرا مزہ خراب ہو گیا ۔۔۔میرا بھی کچھ منٹ باقی تھے ۔۔۔اور شکنتلا نے بس کر دی تھی ۔۔۔۔۔میں ہتھیار باہر کھینچ کر بیڈ پر چڑھ گیا ۔۔۔۔۔آشا ٹائیگر پر سوار تھی ۔۔۔۔۔۔اسے جھکا کر ٹائیگر پر گرایا ۔۔۔۔۔وہ منمنا کر کچھ کہنے لگی تھی ۔۔۔۔مگر ٹائیگر نے اسے خود سے لپٹا لیا تھا ۔۔۔۔میرے ہتھیار پر شکنتلا کا پانی چمک رہا تھا ۔۔۔۔میں نے اس کے چوتڑ پھیلاتے ہوئے اندر ٹوپا ر کھا تھا ۔۔۔۔۔۔آشا نے وقت سے پہلے ہی چیخیں مارنی شروع کر دی تھیں ۔۔۔۔مگر مجھ پر کوئی اثر نہیں تھا ۔۔۔میں نے ٹوپ اندر جما کر گھسایا تھا ۔۔۔۔۔اس کے گانڈ کا سوراغ چیرا تھا ۔۔۔اور ٹوپا اندر جا کر پھنس گیا تھا ۔۔۔آشا کی چیخیں اب بھی نکل رہی تھیں ۔۔۔شکنتلا قریب آ کر اسے سہارا دینے لگی ۔۔۔اسے چوم کر بہلا رہی تھی ۔۔۔۔اور میں نے اندر گھساتے ہوئے جھٹکے مار نے شروع کردیے ۔۔۔گانڈ بہت ٹائٹ تھی ۔۔۔نیچے سے ٹائیگر بھی جما جما کر دھکے دینے لگا ۔۔۔آشا درمیان میں سینڈوچ بنی سسک رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اس کی پوری بوڈی دھم دھم بج رہی تھی ۔۔۔۔۔اور پھرمیری غراہٹیں نکلنا شروع ہوئی تھی ۔۔۔۔۔شکنتلا نے چونک کر مجھے دیکھا تھا ۔۔اور پھر میرے جھٹکے طوفانی ہوتے گئے ۔۔۔۔۔۔آشا کی آواز بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔کبھی نیچے سے اچھل کر اوپر کو جاتی اور پھر اوپر کا جھٹکا اسے نیچے گراتا ۔۔۔۔۔۔۔میر ا پانی نکلنے کا ٹائم ہو گیا ۔۔۔اور پھر میں اپنی غراہٹوں میں پانی چھوڑنے کا سلسلہ شروع کیا جو 10 سیکنڈ تک چلتا رہا ۔۔۔ٹائیگر بھی فارغ ہو چلا تھا ۔۔۔۔۔اور پھر ہم دونوں سائیڈ پر گرتے چلے گئے ۔۔۔پہلے میں ۔۔اور پھر آشا ہمارے درمیان سے بے دم ہو کر گر ی تھی ۔۔۔۔۔۔۔شکنتلا مجھ سے لپٹ کر چومنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آشا اب خوف زدہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ہم ایسے ہی لیٹے رہے ۔۔پھر نہانے گھسے اور فریش ہونے لگے ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد آشا اور شکنتلا ناشتے بنانے باورچی خانے میں گئے ۔۔۔۔۔اتنے میں ٹائیگر کی کلائی پر ضرب لگنے لگیں ۔۔وہ چونک کر اٹھا اور ایک سائیڈ پر جا کر مخصوص بٹن دبا کر کلائی کان سے لگا چکا تھا ۔۔۔عمران کی کال تھی ۔۔۔۔پرکاش کو جوزف نے اٹھا لیا تھا ۔۔۔ان کا اور کوئی سیٹ اپ یہاں نہیں تھا ۔۔ان لڑکیوں کے علاوہ ۔۔۔عمران نے ٹائیگر سے کچھ اور بھی کہا اور کال کاٹ دی ۔۔۔۔۔۔ٹائیگر میرے پاس آیا اورپرکاش کا بتایا کہ وہ جہنم رسید ہوچکاہے ۔۔۔اور اب یہیں دو لڑکیاں بچی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اتنے میں کھانےکی اطلاع آئی ۔۔ہم کھانا کھا کر بیٹھے تھے ۔۔۔کہ ٹائیگر نے ان سے کہا کہ ہم اپنے طور پر یہ شہر دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ دونوں بھی کافی تھک چکی تھیں ۔۔اس لئے خوشی سی اجازت دے ۔۔۔۔۔ہم باہر آئے اور اپنی کار پر بیٹھے ۔۔۔۔۔۔ٹائیگر نے ایک ریموٹ کنڑول نکال کر مجھے دیا ۔۔۔اور کار اسٹارٹ کر دی ۔۔۔اور کچھ فاصلہ پر آ کر کہا کہ بٹن دبا دو ۔۔۔۔میں نے آتے ہوئے ایک بم ان کے بیڈ کے نیچے لگا دئے تھے ۔۔۔۔۔۔میں نے بٹن دبا دیا اور ایک ہلکے دھماکے کی آواز میرے کانوں میں آئی ۔۔۔۔۔خس کم جہاں پاک ۔۔۔
ٹائیگر کار کی اسپیڈ بڑھا تا ہوا اپنی جیپ کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر میں ہم جیپ کے پاس پہنچے گئے تھے ۔۔قریب پہنچ کر کار روکی تو اگلے دروازہ کھول کر عمران کا مسکراتا ہوا چہرہ سامنے آیا تھا ۔۔۔۔۔عمران جیپ سے ٹیک لگائے ہمیں ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ہم کار سے اتر کر اس کی طرف بڑھے اور ہاتھ ملایا ۔۔اس کے بعد جیپ میں بیٹھ گئے ۔۔عمران نے پوچھا کہ ہاں راجہ اب تسلی ہو گئی ہے ؟ شوق پورا ہوگیا ۔۔۔۔۔میں نےکہا عمران صاحب شوق تو پورا ہو گیا ہے ۔۔۔امید ہے کہ آئند ہ بھی آپ سے ملاقات ہوتی رہے گی ۔۔۔میں اسی شہر کے کالج میں پڑھتا ہوں ۔۔۔۔عمران نے مسکراتے ہوئے سرہلادیا کہ ٹھیک ہے ۔۔۔پھر میرے ذہن میں وہی بات آئی جو پہلے سوچی تھی ۔۔۔۔عمران صاحب یہ لوگ بہادرستان سے ہمارے شمالی علاقہ جات میں داخل ہوں گے ۔۔۔وہاں ان کا کوئی سیٹ اپ ہو گا ۔۔اس کاخاتمہ بھی ضروری ہے ۔۔عمران نے کہا کہ ہاں میں نے وہاں کے ایجنٹ کے ذمے لگا دیا ہے ۔۔جیسے ہی معلومات ملے گی ۔۔اس کے خلاف بھی ایکشن ہوگا۔۔۔۔میں پھر عمران کی طرف دیکھتے ہوئے بولا کہ اس میں بھی میرا حصہ ہو گا ۔۔۔۔عمران نے مجھے دیکھا اور کہا کہ ٹھیک ہے ۔۔۔۔جلد ہی تم سے رابطہ کروں گا ۔۔۔ابھی تمہار ا کیا پروگرام ہے ۔۔۔۔۔میں نے اپنا پروگرام بتا دیا ۔۔۔کہ واپس گاؤں جا ؤں گا ۔۔عمران نے ٹائیگر سے کہا مجھے اپنے فلیٹ پر اتار کر اسے گاؤں چھوڑ دو ۔۔۔ٹائیگر اسی طرح عمران کو اتار کر مجھے لئے میرے گاؤں آیا ، اسے واپس جانا تھا ۔۔وہ دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے واپس پلٹ گیا ۔۔اور میں تیز قدموں سے ثناء کے گھر کی طرف چل پڑا ، جہاں خالہ اور ثناء دونوں میرے انتظار میں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×